Jump to content
URDU FUN CLUB
Please Note ! UFC Site Move to New Hosting Server , Service Maybe disabled Some Days , Will be Back Soon as Possible

All Activity

This stream auto-updates     

  1. Yesterday
  2. doctor sahab, admin sahab shayed busy hein koee reply nahi de rahey request ka, mujbooran yaah request ker raha hoon. "Hawas Serial Novel Episode 12 is not available, When open using link it show Episode 11. Is this error or something else. Can you please fix this issue so I can carry on my readings. I bought all the available episodes uptill 20. Episode 20 says its not avalable as well. Thank you for writing and adding wounderfull stories. Waiting for your response." Please kuch response ker de jia ga. Episode 12 is missing.
  3. Last week
  4. بہت جلد ہی آپ لوگوں کے سامنے کھپرو کی ملکہ کی نئی قسط شائع ہو گی۔ انتظار کیجیے نئی سنسنی خیز قسط کا۔
  5. Guest

    Friend

    Plz koi dost mary help kara sex pe???
  6. Guest

    Sex Chat

    Yar me bhi dil ki baat karna chahta hon?
  7. بابا : مجھے تم سے سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے کی مجھے کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں سمجھے تم کو جو ملا ہے اسی سے کام چلاؤ کیونکی تم اسکے ہی لایک ہو . چھوٹا : ( غصہ ہوتے ہوئے ) مجھے آپکی خیرات نہیں چاہئے جو آپ نے مجھے دیا ہے وہ بھی سنبھال کر رکھو میں جا رہا ہوں یہاں سے آپکو کیا لگتا ہے آپکی کرسی پر اگر یہ بیٹھ جائیگا تو یہ مجھ سے بہتر بوسینیس کو سنبھال پائیگا . بابا : مجھے لگتا نہیں ہے میں جانتا ہوں یہ میرا ہر بوسینیس کو دوجونا کر دیگا . چھوٹا : زندہ رہیگا تب کرے گا نا . . . لالہ : یہاں سے دفعہ ہو جا نہیں تو تیرا فیصلہ میں یھی کر دونگا . بابا : ( ہاتھ سے لالہ کو اشارہ کرتے ہوئے ) میں نے جو کہا ہے وہ میرا آخری فیصلہ ہے جس کو بھی میرا فیصلہ منظور ہے وہ یہاں شونک سے بیٹھا رہ سکتا ہے جس کو اعتراض ہے وہ چھوٹے اور شمی كے ساتھ جا سکتا ہے باقی كے تمام موجود لوگ نے اک آواز میں اک ساتھ کہا " ہمیں آپکے فیصلے سے کوئی اعتراض نہیں ہے " اسکے بَعْد بابا كے اصرار پر آج پہلی باڑ میں بابا کی کرسی پر جاکے بیٹھ گیا اور مجھے جیسا بابا نے سمجھایا تھا میں نے سب کو ان کے حصے كے بوسینیس چلانے کو دے دیئے . کچھ دیر وہاں بیٹھنے بَعْد بابا آرام کرنے كے لیے چلے گئے اسلئے میں ان کو واپس ان کے کمرے میں چھوڑ آیا اور خود واپس آکے اپنے باقی لوگوں كے پاس جاکے بیٹھ گیا اور ہم سب کو ان کے کام کو چلانے كے بڑے میں سمجھانے لگا . رات کو سب ضد کرنے لگے کی میرے کرسی سنبھالنے کی خوشی میں جشن ھونا چاہئے اسلئے رات کو لڑکیوں کو بلایا جنہوں نے محفل میں چار-چااند لگا دیئے اور تمام آئے میحمانو کو مدھوش کر دیا . ایسی ہی کچھ دن گزر گئے اب میں سارا کام سیکھ چکا تھا . ہر کام کو میں بہت اچھے سے موقاممال کر رہا تھا جسے دیکھ کر بابا بھی بہت خوش ہو رہے تھے کی انکا فیصلہ سہی تھا . میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کی جہاں مجھے اک انفورمر بناکی بھیجا گیا تھا وہاں كے تمام گروہ کا اب میں ہیڈ بن گیا تھا . اب میں میری مرضی کا ملک تھا اسلئے اپنے طریقے سے اپنے بوسینیس کو چلانے میں لگ گیا کچھ ہی دن میں میں نے بوسینیس کو بڑھانا شروع کر دیا . میرے بوسینیس میں جتنی بھی رکاوٹ تھی سب کو میں نے ہٹا دیا تھا کیونکی جو بھی میرے کام كے بیچ میں آ رہا تھا میرے لوگ اسے ختم کرتے جا رہے تھے . اب تو یہ عالم تھا کی چھوٹا اور شمی بھی ڈر کر کہی اندیرجرواند ہو گئے تھے میری تاقال دن دن بڑھتی جا رہی اور میرا گینگ بھی بڑا ہوتا جا رہا تھا جس میں میں نے ہر کام كے لیے اِسْپیشَلِسْٹ رکھے ہوئے تھے جو میرے اک حکم كے گلاام تھے . میں طاقت كے نشے میں یہ بھی بھول چکا تھا کی مجھے خان نے کس مقصد سے یہاں بھیجا تھا . نا تو میرے دماغ میں نازی تھی نا ہی حنا اور نہی فضا تھی یہاں تک کی مجھے بیٹا ماننے والے بابا کو بھی میں بھول گیا . ایسی ہی مجھے کام کرتے ہوئے 1 مہینہ ہو گیا تھا . لیکن مہینے كے آخری دن جب تمام لوگ اپنے بوسینیس کی کمائی میرے پاس لے کے آئے تو میں نے ان سب کو انکا حصہ واپس دے دیا اور باقی کا تمام پیسہ بابا کی ہی طرح سیف میں رکھنے چلا گیا جو نیچے بابا كے کمرے كے نیچے جاتی اک سرنگ میں بنا ہوا تھا جہاں صرف میں ہی جا سکتا تھا کیونکی بابا نے صرف مجھے ہی وہاں جانے کا رستہ بتایا تھا . سب سے پہلے میں سارا پیسہ لے کے بابا كے پاس گیا اور ان کو حساب دیا . میں : بابا یہ تمام مہینے کی کلیکشن ہے . بابا : بیٹا یہ تو پہلے سے کافی جادا لگ رہی ہے تم نے سب کو انکا حصہ تو دے دیا ہے نا . میں : جی بابا سب کو دے دیا ہے . بابا : ٹھیک ہے بیٹا . . . اب مجھے نیچے لے کے چلو اور اک باڑ میرے سامنے تم مجھے سیف کھول کر دکھا دو تو مجھے بھی تسلّی ہو جائے گی . میں : جی بابا . اسکے بَعْد میں نے بابا کو انکی ویل چیئر پر بٹھایا اور ان کو نیچے بنی سرنگ میں لے گیا اور ان کو تمام سیف کھول کر دکھا دیئے جسے دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئے . بابا تمام سیف كے بڑے میں مجھے ساتھ ساتھ بتاتے بھی جا رہے تھے کی کہا کونسی چیج پڑی ہے . تبھی اک چھوٹے سے لوکر پر میری نظر گئی . میں : بابا اس میں کیا ہے . ( چھوٹے لوکر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) بابا : بیٹا اس میں ہماری بوسینیس کی ہی فائلز ہے جس میں ہماری تمام دشمنوں كے نام ہیں ساتھ ہی کچھ فائلز ایسی ہے جس میں ہماری پولیس میں کون-کون سے لوگ کام کرتے ہیں ان کے نام ہیں اور باقی کچھ ہماری vیدیشو میں جو لوگ کونٹیکٹس ہے انکی ڈیٹیلز ہیں . میں : تو بابا اپنائے وہ فائل مجھے پہلے کیوں نہیں ڈی دشمنوں کا بھی علاج کر دیتے . بابا : نہیں بیٹا ابھی وہ لوگ اندیرجرواند ہے تو رہنے دو تم اپنے کم پر دھیان دو جب وہ لوگ اپنی ٹانگ ادایینجی تو ان کو راستے سے ہٹا دینا . میں : جی بابا جیسا آپ کہے . . . . بابا آپکو اعتراض نا ہو تو کیا میں وہ لوکر بھی کھول کر دیکھ لوں . ( چھوٹے لوکر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) بابا : ( مسکراتے ہوئے ) اعتراض کیسا بیٹا اب تو سب تمہارا ہے جو چاھے کرو . میں : ( خوش ہوتے ہوئے ) شکریہ بابا . اسکے بَعْد میں نے جلدی سے لوکر کھولا اور اپنے دشمنوں کی فائل کھول کر دیکھنے لگا اس میں ہر آدمی کی فوٹو كے ساتھ تمام ڈیٹیل بھی ساتھ درج تھی جن میں تقریباً لوگوں کو میرے لوگ ختم کر چکے تھے . اسکے بَعْد میں نے دوسری فائل اٹھائی جس میں ہماری دوسرے ملقو میں کاحا-کاحا کونٹیکٹس ہے ان سب كے بڑے میں تھا . لیکن تیسری فائل وہ تھی جس میں ہماری پولیس میں کتنے لوگ کام کرتے تھے ان کے بڑے میں لکھا تھا . میں نے جلدی سے وہ فائل بھی نکالی اور 1-1 پیج پالتاکار دیکھنے لگا لیکن اک پیج كے آتے ہی میرے ہوش اُڑ گئے کیونکی میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا کی یہ انسان بھی دحوخیباز نیکالیجا مطلب یسی نے راعنہ کی اور میری خبر چھوٹے تک پوحونچایی تھی . میں حیراں پریشان اس فائل میں لگی تصویر کو دیکھ رہا تھا . میرا سارا بدن ٹھنڈا پڑ گیا تھا اور میں سمجھ نہیں پا رہا تھا کی میرے ساتھ یہ کیا ہو گیا ہے . کیونکی وہ تصویر کسی اور کی نہیں بلکہ انسپیکٹر خان اور رضوانہ کی تھی . یہ دونوں پر ہی میں نے اعتبار کیا تھا اور آج مجھے دونوں طرف سے اک ساتھ دھوکے کا جھٹکا لگا تھا . کیونکی خان وہ انسان تھا جس نے مجھے یہاں بھیجا تھا اِس گینگ کو ختم کرنے كے لیے اور رضوانہ وہ تھی جو میرے لیے سب کچھ چودنے کا دعوی کرتی تھی مجھ سے اپنی جان سے بھی جادا پیار کرنے کا دعوی کرتی تھی . اب مجھے ساری کہانی سمجھ میں آ رہی تھی کی کیوں رضوانہ میرے اتنے قریب آئی کیوں خان نے مجھے رضوانہ كے پاس ہی رہنے کو کہا اور کیوں مجھے تییار کرکے یہاں بھیجا گیا . رانا کی موت ، کانوں کی وافاداری ، ظلم کا خاتمہ سب ناٹک تھا خان کا . ان دونوں کی تصویر دیکھ کر میں غصے سے پاگل ہوا جا رہا تھا لیکن یہ بات میں بڑے شیخ صاحب ( بابا ) کو ظاہر نہیں کر سکتا تھا کی میں ان دونوں کو جانتا ہوں اور مجھے یہاں اک انفورمر بناکی انہوں نے ہی بھیجا ہے . میرا دماغ سن ہو گیا تھا کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کی اب میں کیا کروں کہا جاؤ کیونکی میں ان کے بنائی ہوئے جال میں پاس گیا تھا یہ اک عیسی دال-دال تھا جہاں رہ کر ہی میں زندہ رہ سکتا تھا کیونکی اگر اب میں اِس گینگ کو چودتا تو میرے لوگ ہی مجھے ختم کر دیتے ان سے بچ بھی جاتا تو اب میں بھی کانوں کا مجرم تھا کانوں مجھے کبھی معاف نہیں کرتا اور ظاہر سی بات ہے اب مجھے کانوں سے معافی ملنے کا بھی کوئی رستہ نہیں تھا . اسلئے جن لوگوں نے مجھے اِس مصیبت میں پھاسایا تھا ان کو ختم کرنے كے بڑے میں سوچنے لگا . اب میں یہ کام کر بھی سکتا تھا کیونکی اب میں اِس گینگ کا لیڈر تھا . لیکن ان کو اب میں ان کے ہی حاتحیار سے مرنا چاہتا تھا جیسا دھوکہ انہوں نے میرے ساتھ کیا تھا ویسا ہی دھوکہ ان کو دینا چاہتا تھا . میں اپنے ہی خیالوں میں کھویا ہوا تھا کی اچانک بابا کی آواز میرے کانو سے تاکرایی . . . بابا : کیا ہوا بیٹا کہا کھو گئے . . . میں : ( چونکتے ہوئے ) جی . . . جی کچھ نہیں بابا . بابا : کیا سوچنے لگے . . . . میں : کچھ نہیں بابا میں بس تاسvییری دیکھ رہا تھا . کیا یہ پولیس میں سب کم کرنے والے لوگ ہماری ہیں . بابا : بیٹا کسی زمانے میں یہ سب لوگ ہماری ہی تھے لیکن جب سے چھوٹا الگ ہوا ہے گینگ سے تو اسکے لوگ اسکے لیے کام کرتے ہیں اور ہماری لوگ ہماری لیے . میں : کیا بابا اس ڈیپارٹمنٹ میں ہماری لوگ بھی ہے . بابا : ہاں بیٹا اب بھی ہماری لوگ وہاں موجود ہے . میں نے یہ بات سنتے ہی جلدی سے لوکر بند کیا اور وہ فائل اٹھا كے لے آیا جس میں تمام انفورمیرس کی انفارمیشن تھی . . . . میں : بتاؤ بابا اس میں ہماری لوگ کون ہے . بابا : لیکن تمہیں آج پولیس میں ہماری انفورمر کی کیا ضرورت پڑ گئی اچانک . میں : بابا میں ہر جگہ سے گینگ کو مجبوظ کرنا چاہتا ہوں کہی کوئی کمزوری باقی نہیں رہنے دینا چاہتا اسلئے جو چھوٹے كے لیے کام کرتے ہیں ان کو ختم کروا دونگا جسے چھوٹے کا انفارمیشن راکیت ٹوٹ جائیگا . بابا : ( خوش ہوتے ہوئے ) یہ ہوئی نا بات . . . تم نے ٹھیک کہا اگر اسکا دھندا ختم کر دیا تو وہ بھی ختم ہو جائیگا . . . لیکن بیٹا یہ تم کروگے کیسے . میں : بابا آپ بس دیکھتے جائیے میں کیا کیا کرتا ہوں . بابا : ( مسکراتے ہوئے ) آج کیا بات ہے بہت دن بَعْد مجھے میرے پرانا شیرا نظر آ رہا ہے تمھارے اندر . میں : بس بابا اب تو آپکو پُرانے والے شیرا سے بھی قابل اور خطرناک بنکے دکھاؤںگا . اسکے بَعْد میں نے وہ فائل کو پکڑا اور بابا کو اوپر ان کے کمرے میں لے گیا اور بیڈ پر لٹا کر خود اپنے آفس میں آ گیا . کچھ دیر فائل کو اچھے سے دیکھنے كے بَعْد میں یاد کرنے لگا کی ہیڈ کوارٹرز میں میں نے ان سب لوگوں میں سے کس کو دیکھا ہے جو ہماری لیے کام کرتا ہے . لیکن افسوس کوئی بھی چہرہ میرے دیکھے ہوئے چہروں سے نہیں ملتا تھا سب نئے ہی چہرے تھے . اس کا مطلب خان نے صرف اپنے لوگوں سے ہی مجھے ملوایا تھا جو اسکے لیے کام کرتے تھے . میں اب آگے کیا کرنا ہے اسکے بڑے میں ہی سوچ رہا تھا . آج كے اِس حادثے نے کئی راز کھول دیئے تھے . اب مجھے اتنا تو پتہ چل ہی گیا تھا کی کون میرا اپنا ہے اور کون اپنا ہونے کا دکھاوا کر رہا ہے اک طرف خان اور رضوانہ تھے جو مجھ سے شیخ صاحب کی دولت کا پتہ نکلوانے كے لیے استعمال کر رہے تھے اور میرے سامنے میرے ہَم دَرْد بن رہے تھے . دوسری طرف بابا تھے فضا تھی نازی تھی حنا تھی جنہوں نے بنا کسی لالچ كے میری دیکھ بھال کی مجھے اتنا پیار دیا اور میں طاقت كے نشے میں چور سب احسان بھول گیا میرے بنا جانے وہ کیسے ہونگے اور مجھے کتنا یاد کرتے ہونگے . میں تو ان لوگوں کی جیممیواری بھی خان کو دے آیا تھا جانے ان لوگوں کا میرے بنا کیا حال ھوگا . یہاں آنے كے بَعْد میں نے اک باڑ بھی ان کے بڑے میں جاننا ضروری نہیں سمجھا نا ہی خان نے مجھے ان کے بڑے میں کچھ بتایا . اب مجھے خود کی خود-جارزی پر غصہ آ رہا تھا کی میں انکا پیار بھول گیا ان کے کیے ہوئے مجھ پر احسان بھول گیا . فر مجھے میری ان کے ساتھ گزاری ہوئی زندگی کا اک اک لمحہ یاد آنے لگا . کیسے بابا فضا اور نازی نے میری جان بچایی میری اتنے وقت تک دیخ-بحاال کی کیسے بابا نے مجھے اپنا بیٹا بنا لیا اور مجھ پر اپنے بیٹے سے بھی جادا اعتبار کیا . کیسے جب میں بیمار ہوا تھا تو حنا میرے لیے شہر سے ڈاکٹر لے کے آئی تھی اور میرے بیمار ہونے پر اپنے ابو سے جھگڑا کرکے اپنے ملازم میرے خیتو میں لگا دیئے تھے . وہ سب کچھ کسی فلم کی طرح میرے آنکھوں كے سامنے چلنے لگا . اب میں اکیلا بیٹھا روو بھی رہا تھا اور ان سب کو یاد بھی کر رہا تھا . وہ دن میرا اداسی كے ساتھ ہی گزرا مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو رہا تھا کی جانی-انجانی میں نے ان کو بھی مصیبت میں ڈال دیا ہے . رات کافی ہو گئی تھی اسلئے میں نے گھر جانے کا سوچا اور اپنی سوچو كے ساتھ میں گاڑی میں بیٹھ گیا . ڈرائیور نے مجھے میرے گھر كے سامنے اُتار دیا . میں نے بجھے ہوئے دِل كے ساتھ دروازہ خات-خاتایا تو روبی نے جلدی سے دروازہ کھولا اور اک دل-قاش مسکان كے ساتھ میرا سواجات کیا . روبی : آج بہت دیر کر ڈی تم نے کہا تھے اتنی دیر . میں : کہی نہیں بس ایسی ہی بیٹھا تھا آفس میں . روبی : ( میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے گھر كے اندر لے جاتے ہوئے ) کیا بات ہے آج میرا شیر اداس لگ رہا ہے کچھ ہوا کیا . میں : ( نا میں سر ہلاتے ہوئے ) بس ایسی ہی آج دِل اداس ہے روبی : ( مجھے بیڈ پر بٹھا کر گلے سے لگاتے ہوئے ) اگر تم کو برا نا لگے تو تم مجھے اپنی پریشانی کی وجہ بتا سکتے ہو اِس من ہلکا ہو جائیگا تمہارا . میں : نہیں کچھ نہیں ہوا بس ویسی ہی سر میں زرا دَرْد ہے . ( میں روبی کو اپنا بیٹا ہوا کل نہیں بتانا چاہتا تھا اسلئے بات کو گھوما دیا ) روبی : اچھا عیسی کرو كھانا کھا لو فر میں تمہارا موڈ اور سر دَرْد دونوں ٹھیک کر دونگی . میں : مجھے بھوک نہیں ہے تم کھا لو . روبی : ارے . . . ایسی کیسے بھوک نہیں ہے . بھوکی رہنے سے بھی سر میں دَرْد ہوتا ہے جانتے ہو . . . تم یھی بیٹھو میں كھانا لے کے آتی ہوں تمھارے لیے آج میں میری جان کو اپنے ہاتھوں سے خیلاونجی ( مسکراتے ہوئے وہ راسویی میں چلی گئی ) میں کچھ دیر اسکو جاتے ہوئے دیکھتا رہا فر میں واپس اپنی سوچو میں گم ہو گیا . کچھ ہی دیر میں روبی كھانا لے آئی اور میرے ساتھ آکے بیٹھ گئی اور اپنے ہاتھوں سے مجھے كھانا کھلانے لگی . اسکو اِس طرح كھانا کھلاتا دیکھ کر مجھے نازی اور فضا کی یاد آ گئی کیونکی جب میں ناراض ہو جاتا تھا تو وہ بھی مجھے ایسی ہی كھانا کھلاتی تھی . اسکو اتنے پیار سے كھانا کھلاتے دیکھ کر میں روبی کو نا نہیں کہہ پایا اور بھوک نا ہونے كے باوجود میں كھانا کھانے لگا ساتھ ہی میں نے بھی روتی اٹھائی اور اپنے ہاتھ سے روبی کو کھلانے لگا . یہ پہلی باڑ تھا جب میں روبی کو اتنے پیار سے دیکھ رہا تھا وہ مجھے اِس طرح كھانا کھلاتے دیکھ کر بہت حیران تھی اور بنا کچھ بولے وہ بھی كھانا کھانے لگی اب ہم دونوں اک دوسرے کو كھانا کھلا رہے تھے . کھانے كے بَعْد میں بستر پر لیٹ گیا اور روبی ہمیشہ کی طرح اپنا نائٹ گاؤں پہانکار آ گئی اور میرے ساتھ آکے لیٹ گئی . وہ آج بھی مجھے ویسے ہی پیار سے دیکھ رہی تھی جیسے پہلے دن ملی تھی تب دیکھ رہی تھی . میں : کیا دیکھ رہی ہو . روبی : دیکھ رہی ہوں تم کتنے بَدَل گئے ہو میں : کیا بَدَل گیا . روبی : پہلے تم نے کبھی مجھ سے یہ بھی نہیں پوچھا تھا کی میں نے کھایا یا نہیں اور آج تم نے خود مجھے كھانا کھلایا . میں : آج اسلئے کھلایا کیونکی میرا من تھا تم کو كھانا کھلانے کا میں جانتا ہوں تم میرے بَعْد ہی كھانا کھاتی ہو . روبی : ( بنا کچھ بولے مجھے گلے سے لگاتے ہوئے ) مجھے یہ والا شیرا بہت پسند ہے اور اسکو میں پہلے سے بھی جادا پیار کرنے لگی ہوں . مجھے تمہاری سب سے اچھی بات جانتے ہو کیا لگی . میں : کیا . . . . روبی : تم اب دوسروں کا بہت سوچتے ہو پہلے ایسی نہیں تھے . میں : روبی تم کو اک سوال پوچھو اگر برا نا منو تو . . . روبی : تمہاری کبھی کوئی بیٹ بری نہیں لگتی میری جان پوچھوں کیا پوچھنا ہے . میں : تم مجھے اتنا پیار کرتی ہو فر بھی کبھی اپنا حق نہیں جماعتی مجھ پر نا ہی تم نے کبھی میرے کام كے بڑے میں پوچھا نا کبھی یہ پوچھا کی میں کہا تھا کس کے ساتھ تھا عیسی کیوں . روبی : ( مسکراتے ہوئے ) کیونکی اک باڑ تم نے ہی کہا تھے کی اپنی اوقات میں رہا کرو میں کہا جاتا ہوں کیا کرتا ہوں اسے تم کو کوئی مطلب نہیں ہے اور ہر بات تم کو بتانی میں ضروری نہیں سمجھتا اسلئے تب سے میں ہمیشہ اپنی اوقات میں ہی رہتی ہوں . میں : پہلے جو بھی بولا تھا اسکو بھول جاؤ اور مجھے معاف کر دو . . . اب جو کہہ رہا ہوں وہ یاد رکھنا تم جب حق جماعتی ہو تو اچھا لگتا ہے عیسی لگتا ہے میرا بھی کوئی اپنا ہے . روبی : ( خوش ہوکے مجھے جور سے گلائی لگاتے ہوئے ) ہائے میں مر جاؤ . . . . آج تم میری جان لے کے رہوگے . . . . ایسی باتیں نا کرو کہی میں پاگل ہی نا ہو جاؤ خوشی سے . میں : ( روبی کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں سے پاکادتی ہوئے ) تم جب ہستی ہو تو بہت اچھی لگتی ہو اسلئے ہستی رہا کرو . روبی : ( خاموش ہوکے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) ہحممم میں : تم کو پتہ ہے تم بہت اچھی ہو . . . ( روبی کا ماتھا چُومتے ہوئے ) روبی : ( بنا کچھ بولے میرے اور پاس ساراکتی ہوئے اور اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے ) ہحممم میں نے اپنا چہرہ اسکے چہرے كے اک دم سامنے کر دیا اور ہلکی سے اسکے گال کو چوم لیا اس نے اپنی آنکھیں کھولی اور مجھے مسکرا کر دیکھنے لگی . میں نے اک باڑ فر سے اسکی گال کو چوم لیا . اِس بار اس نے بھی میرا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا اور بڑے پیار سے میرے ماتھے پر اور گالو کو چوم لیا . اب میں نے اسکے ہوتھو پر اپنے ہوتھ رکھ دیئے جسے میں اک دم مدھوش سا ہو گیا ہم دونوں کی آنکھیں اپنے آپ بند ہو گئی . کچھ دیر ہم دونوں اک دوسرے كے ہوتھو كے ساتھ اپنے ہوتھ جودکار لیتے رہے فر اس نے دھیرے دھیرے اپنے ہوتھو کو حرکت ڈی اور ہلکی سے اپنے ہوتھ کھول کر میرے نیچے والے ہوتھو کو اپنے ہوتھو میں سماں لیا اور دھیرے دھیرے چُوسنے لگی . میں نے بھی دھیرے دھیرے اسکے اوپر والے ہوتھ کو چُوسنا شروع کر دیا کچھ ہی دیر میں ہمارے چومنے میں کشش آنے لگی ہم دونوں اک دوسرے كے شدت سے ہوتھ چُوسنے لگے . اب ہم دونوں کی سانسیں بھی تیز ہونے لگی تھی . ہم دونوں نے اک دوسرے کو اتنی کسکر گلے سے لگا رکھا تھا جیسے اک دوسرے كے اندر سماں جانا چاھتے ہو . اسکے ہوتھ چُوستے ہوئے میں نے اسکی پیٹھ پر اپنے ہاتھ فیرنی شروع کر دیئے اِس پر وہ بھی اپنا اک ہاتھ میرے گلے میں ڈالے لیتی رہی اور دوسرے ہاتھ سے میری چھاتی پر ہاتھ فیرنی لگی . ساتھ ہی اس نے اپنی دونوں ٹانگوں میں میری ٹانگوں کو جکڑ لیا . کچھ دیر ایسی ہی لیتے رہنے كے بَعْد وہ میرے اوپر آکے لیٹ گئی اور فر سے میرے ہوتھ چُوسنے لگی . میں مزے سے مدھوش ہو گیا تھا اسلئے اپنے پُورا جسم ڈھیلا چھوڑ دیا . اب روبی مجھے پیار کر رہی تھی وہ کبھی میرے پورے چہرے کو چُومتی کبھی ہوتھو کو . اس نے میرے اوپر بیتحی-بیتحی ہی اپنا گاؤں اُتار دیا اب وہ صرف برا اور انڈرویئر میں تھی . کچھ دیر مجھے چومنے كے بَعْد اس نے میرے سر كے نیچے اپنا ہاتھ رکھا اور مجھے تھوڑا سا اوپر کی طرف اٹھا دیا . اسکا اشارہ سمجھتے ہوئے میں جلدی سے اٹھ گیا اس نے میرے ہوتھ چُوستے ہوئے ہی میری شرٹ كے بٹن کھولے اور فر دوبارہ میری چھاتی پر ہاتھ رکھ کر نیچے کو دبا دیا جسے میں واپس بیڈ پر لیٹ گیا . اب وہ دوبارہ میرے چہرے کو چوم رہی تھی اور نیچے كے طرف آ رہی تھی . میرے چہرے کو چُومتے ہوئے پہلے وہ گارڈن تک آئی اور فر میری چھاتی پر آکے چومنے اور چُوسنے لگی . میں مزے سے مادشوش ہوا پڑا تھا مجھے اسکے چھاتی پر چومنے اور چُوسنے سے بی-ینتیحا مزہ آ رہا تھا اب وہ اور نیچے کی طرف بڑھ رہی تھی . اب اسکے ہاتھ میری پینٹ کی بیلٹ پر تھے لیکن اسکے ہوتھ میرے پیٹ پر اپنا کمال دکھا رہے تھے . اس نے جلدی سے میری پینٹ کی بیلٹ کا بوکال کھولا اور فر اک ہی جھٹکے میں بیلٹ کو کھینچ کا پینٹ سے جدا کر دیا اور اسکو بیڈ سے نیچے فینک دیا . اب اس نے جلدی سے میری پینٹ كے حکک کھولے اور جھٹکے سے پینٹ کو گھٹنے تک نیچے کر دیا . اب وہ انڈرویئر كے اوپر سے ہی میرے لنڈ کو چوم رہی تھی اور اس پر ہاتھ فیر رہی تھی . میں مزے کی دُنیا میں سیر کر رہا تھا تبھی اس نے میرے پیٹ پر چومتی-چومتی جیبھ فیرنا شروع کر دیا اور دھیرے دھیرے نیچے کو آنے لگی . اب اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں میرے انڈرویئر میں پھنسا لی اور اسکو دھیرے دھیرے نیچے کی طرف کھینچنے لگی . کچھ ہی دیر میں میرا انڈرویئر بھی گھٹنے تک آ گیا تھا . میرا لنڈ لوہے کی طرح سخت ہوا پڑا تھا . وہ میرے لنڈ كے چاروں طرف چوم رہی تھی اور اپنی جیبھ فیر رہی تھی جسے مجھے بے حد مزہ آ رہا تھا . اسکے بَعْد اس نے اک ہاتھ سے میرے لنڈ کو پکڑا اور لنڈ کی ٹوپی پر ہلکے ہلکے چومنے لگی . میں نے مزے سے اپنا ہاتھ اسکے سر پا رکھ دیا ٹاکی وہ میرے پورے لنڈ کو موح میں لے سکے لیکن اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور واپس بیڈ پر رکھ دیا وہ ایسی ہی کچھ دیر تک میرے لنڈ کو چُومتی رہی اب اس نے اپنا تھوڑا سا موح کھولا اور ٹوپی كے چاروں طرف زبان کو گول گول گھمانے لگی . کچھ دیر ایسی ہی کرنے كے بَعْد اس نے اپنے اک ہاتھ سے میرے لنڈ کو پکڑا اور اک دم سے اپنا موح کھول كے میرا 1 / 2 لنڈ اپنے موح میں ڈال لیا جو اسکے حلق تک جا رہا تھا کچھ دیر ویسی ہی رہنے كے بَعْد اسکے لنڈ کو تھوڑا موح سے باہر نکالا اور موح كے اندر بھی وہ لنڈ پر اپنی زبان کو گول گول گھمانے لگی . ساتھ ہی اپنے موح کو بھی اب اس نے ہلانا شروع کر دیا تھا . کچھ دیر ایسی کرنے كے بَعْد وہ تیز-تیز میرے لنڈ کو چوس رہی تھی اور اپنے دونوں ہاتھ میری چھاتی پر فیر رہی تھی . میں مزے کی وادیو میں کھو چکا تھا اسلئے مجھے نہیں پتہ کب اس نے اپنی برا اور انڈرویئر اُتار ڈی تھی . کچھ دیر میرا لنڈ چُوسنے كے بَعْد روبی واپس میرے اوپر آکے لیٹ گئی اور فر سے میرے ہوتھ چُوسنے لگی ساتھ ہی اپنی چوت کو میرے لنڈ كے اوپر راجادنی لگی . میں نے جلدی سے اپنے ہاتھ نیچے کیا اور لنڈ کو پکڑ کر چوت کی موری پر ایڈجسٹ کیا لیکن روبی نے فر سے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور ہوتھ چُوستے ہوئے ہی نا میں سر ہلا دیا . اسکی چوت لگاتار پانی چھوڑ رہی تھی جسے میرے لنڈ بھی پُورا گیلا ہو گیا تھا . اب شاید اسے بھی برداشت کرنا مشکل ہو گیا تھا اسلئے اس نے خود اپنا اک ہاتھ نیچے لے جا کر میرے لنڈ کو پکڑا اور اسکو اپنی چوت کی موری پر سیٹ کر دیا اور واپس میرے گال کو چومنے لگی ساتھ ہی اسکے ہوتھ میرے کان كے اک دم پاس آ گیا . اتنے وقت میں یہ پہلا الفاظ تھا جو اسکے موح سے نکلا تھا . روبی : آرام سے ڈالنا دھیرے دھیرے جھٹکا مت مرنا . میں : ہحمممم روبی : جب میں رکنے کو کہو تو رک جانا ٹھیک ہے میں : ہہممم اسکے بَعْد اس نے میرے لنڈ پر اپنی چوت کا دبائو بڑھانا شروع کر دیا اور خود ساتھ ساتھ اوپر نیچے بھی ہونے لگی لیکن اسکی رفتار بہت دھیرے تھی . کچھ ہی دیر میں میرا 1 / 2 لنڈ اسکی چوت میں اُتَر چکا تھا . وہ 1 / 2 لنڈ کو ہی دھیرے دھیرے اندر باہر کر رہی تھی . اب مجھ سے برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا اسلئے اسکے منع کرنے كے باوجود میں نے اپنے دونوں ہاتھ اسکی گانڈ پر رکھ دیئے اور اک جوردار نیچے سے جھٹکا مارا جسے میرا لنڈ جڑ تک پُورا اسکی چوت میں اُتَر گیا . ساتھ ہی اک تیز سسس آاہہہح آییییییی روبی كے موح سے نکل گئی . روبی : کہا تھا نا جھٹکا مت مرنا . . . جنگلی کہی كے . . . . میں : ( مسکراتے ہوئے ) سوری . . . . مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا تھا . وہ بائن کچھ بولے واپس میرے ہوتھ چُوسنے لگی اور اب ویسے ہی میرے لنڈ پر بیٹھی تھی اب وہ صرف میرے ہوتھ چوس رہی تھی نیچے سے اپنی گانڈ نہیں ہلا رہی تھی . میرا پُورا لنڈ اسکے اندر ہی تھا جس کو اسکی چوت کی دیوارو نے سختی سے جاکدا ہوا تھا . تھوڑی دیر ایسی ہی رہنے كے بَعْد اب اس نے دھیرے دھیرے ہلنا شروع کر دیا جسے میرا لنڈ بھی اسکی چوت میں اندر باہر ہونے لگا . اب وہ میری چھاتی کو بار بار چوم رہی تھی اور ساتھ میں اپنی گانڈ بھی ہلا رہی تھی . اب اس نے میرے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں سے پکڑا اور میرے ہاتھ اپنے موممو پر رکھ دیئے جنہیں میں نے تھام لیا اور دبانے لگا اب اسکا اچھلنا بھی تیز ہو گیا تھا شاید وہ فارغ ہونے كے قریب تھی اسلئے اس نے تیز-تیز اپنی گانڈ کو ہلانا شروع کر دیا اسکے موح سے نکلنے والی سسس سسس بھی اب کافی تیز آواز میں نکل رہی تھی . میں نے بھی اسکے موممو کو چھوڑ کر صرف اسکے نپلز کو پکڑ لیا اور اپنی انجالیو سے دبانے اور مرودنی لگا . کچھ دیر ایسی ہی اوپر نیچے ہونے كے بَعْد روبی کا پُورا بدن جھٹکے کھانے لگا اور اسکا موح کھل گیا کچھ دیر كے لیے وہ فر سے میرے اوپر بیٹھ گئی اور ہلنا بند کر دیا تھوڑی دیر ایسی ہی رہنے كے بَعْد وہ میرے اوپر لیٹ گئی اور تیز-تیز سانس لینے لگی ساتھ ہی میری چھاتی پر اپنا ہاتھ فیرنی لگی . مجھے اپنے لنڈ پر پہلے سے جادا جییلاپان محسوس ہو رہا تھا . اب اس نے میرے دونوں ہاتھ جو اسکے موممو پر تھے وہاں سے اٹھا کر اپنی کمر پر رکھ دیا اور خود غم کر بیڈ پر آ گئی اور مجھے اوپر آنے کا اشارہ کیا . میں بنا چوت سے لنڈ کو باہر نکالے ویسے ہی غم کر اسکے اوپر آ گئے اب اس نے فر سے میرے ہوتھو پر حملہ کر دیا اور بری طرح سے میرے ہوتھ چُوسنے لگی . کچھ دیر ہوتھ چُوسنے كے بَعْد اس نے مجھے اپنے اوپر سے اٹھا دیا جسے لنڈ باہر نکل گیا . مجھے سمجھ نہیں آیا کی اس نے لنڈ کیوں باہر نکل دیا اسلئے ساوالییا نظروں سے اسکی طرف دیکھنے لگا . اس نے اک نظر مجھے مسکرا کر دیکھا اور فر وہ بھی بیڈ پر اٹھ کر بیٹھ گئی اور میرے دیکھتے ہی دیکھتے اب وہ کسی جانور کی طرح اپنے دونوں ہاتھوں اور دونوں گھٹنوں كے بل بیڈ پر کھڑی ہو گئی . میں اسکو کھڑا دیکھ رہا تھا کی اب وہ کیا کرتی ہے . اس نے اپنی گارڈن کو پیچھے گھمایا اور اک مسکان كے ساتھ مجھے پیچھے آنے کا اشارہ کیا . میں مسکرا کر اسکے پیچھے آ گیا اور جلدی سے اپنی شیرت-پینت اور انڈرویئر کو اپنے جسم سے آزاد کیا . اب میں نے اپنا پُورا لنڈ پیچھے سے اک ہی جھٹکے میں اسکی چوت میں ڈال دیا اور اسکو کمر سے پکڑ کر جھٹکے مارنے لگا اب وہ بلند آواز میں سسس سس کر رہی تھی . کچھ دیر ایسی ہی رہنے كے بَعْد اس نے میرا اک ہاتھ اپنی کمر سے ہٹایا اور اپنے سر پر رکھ دیا ساتھ میں میرے ہاتھ میں اپنے بال پکڑا دیئے اب میں سمجھ چکا تھا کی وہ کیا چاہتی ہے اسلئے میں نے اسکو بلو سے پکڑ لیا اور تیز-تیز جھٹکے مارنے لگا . . . اسکی سس . . . سس . . . اب اہح وووہح ایییی میں بَدَل چکی تھی پورے کمر میں اسکی آواز اور جھٹکو کی تھاپپ . . . . تھاپپ . . . کی آواز ہی گنج رہی تھی . اچانک اسکو چھوٹی ہوئے مجھے یاد آیا کی فضا کو چھوٹی ہوئے بھی میں نے یھی تصویر دیکھی تھی اسلئے میں نے اپنا دوسرا ہاتھ جو اسکی کمر پر تھا اسکی گانڈ پر رکھا اور اک جور دار تھپڑ اسکی گانڈ پر مارا . اس نے حیرانی سے میری طرف پالاتکار دیکھا اور اک قاتلانہ مسکان كے ساتھ مجھے سر ہلا کر دوبارہ مرنے کو کہا . اب میں نے اک ہاتھ سے اسکے بال پکڑے ہوئے تھے اور دوسری ہاتھ سے اسکی گانڈ پر تھپڑ کی برسات کر رہا تھا کچھ ہی دیر میں وہ دوسری باڑ بھی فارغ ہو چکی تھی اسلئے حاافتی ہوئے وہ بیڈ پر گر گئی تھی . میں بھی اسکے اوپر ہی لیتا ہوا تھا ہم دونوں کا جسم ہسینے سے نہایا ہوا تھا . کچھ دیر میں جب اسکی سانس درست ہو گئی تو میں نے اسکے اوپر لیتے ہی جھٹکے مارنے شروع کر دیئے اسلئے اس نے اسی پوسیشن میں اپنی دونوں تانجیی پھیلا لی ٹاکی لنڈ جڑ تک پُورا اندر جا سکے . اِس پوسشن میں مجھے اور روبی دونوں کو بے حد مزہ آ رہا تھا اسلئے میں نے تیز رفتار سے جھٹکے لگانے شروع کر دیا کچھ ہی دیر میں میں بھی اپنی منزل كے قریب پوحونچ گیا اور میرے ساتھ ہی روبی تیسری باڑ فر سے فارغ ہو گئی . میرے لنڈ پورے پریشر سے اسکی چوت میں میرا مال چھوڑ رہا تھا . ہم دونوں اب بری طرح تھک چکے تھے اور اک دوسرے كے اوپر پڑے اپنی سانس کو درست کر رہے تھے . ہم دونوں ہی اتنی جبردست چُدائی سے اتنا جادا تھک چکے تھے کی دونوں میں سے کسی کی بھی کپڑے پہن نے کی ہمت نہیں تھی اسلئے ہم دونوں ایسی ہی اک چادار اپنے اوپر لیکر لیٹ گئے . روبی بہت خوش تھی اور مجھے مسکرا کر دیکھ رہی تھی میں نے اسکو اک باڑ فر سے گلے سے لگا لیا . وہ گلے لگی ہوئی ہی میرے اوپر آکے لیٹ گئی اب ہم دونوں ہی خاموش تھے اور تھکے ہوئے تھے اسلئے کچھ ہی دیر میں ہی روبی میرے اوپر ہی سو گئی مجھے گلے لگا کے اور میں بھی اسکی کمر پر ہاتھ فیرتا ہوا جانے کب نیند کی وادیو میں کھو گیا . ہم دونوں سکون سے سوئے پڑے تھے کی کسی نے 1 / 2 رات کو ہمارا دروازہ خات-خاتایا جسے روبی کی جاگ کھل گئی اس نے فوراََ مجھے اٹھایا اور کپڑے پہاننی کا کہا میں نے جلدی میں صرف پینٹ پہنی اور دروازہ کھولنے چلا گیا . اتنی دیر میں روبی نے زمین پر بکھرے اپنے کپڑے اٹھائے اور باتھ روم میں بھاگ گئی . میں آنکھیں مالٹا ہوا دروازہ کھولا تو سامنے رسول اور میرا ڈرائیور کھڑے تھے . میں : کیا ہے یار اتنی رات تم کو کیا کام پڑ گیا ، اتنی اچھی نیند آ رہی تھی بیکار میں خراب کر ڈی . رسول : بھائی بابا کی طبیعت بہت خراب ہو گئی ہے وہ آپکو بلا رہے ہیں . یہ بات سن کر میری جھٹکے سے آنکھیں کھل گئی اور میں بائن کچھ بولے اندر شرٹ پہن نے چلا گیا . تب تک روبی بھی کپڑے پہانکار باہر آ چکی تھی . روبی : ( دروازے پر دیکھتے ہوئے ) کون ہے باہر شیرا . . . . میں : رسول ہے . . . بابا کی طبیعت خراب ہو گئی ہے اسلئے مجھے یاد کر رہے ہیں روبی : اُوں . . . . میں بھی چلتی ہوں آپ کے ساتھ . میں : نہیں تم رہنے دو میں تھوڑی دیر میں آ جاؤنگا تم دروازہ بند کرکے آرام سے سو جاؤ روبی : کوئی سریس بات تو نہیں ہے نا میں : یہ تو وہاں جاکے ہی پتہ چلے گا . روبی : ٹھیک ہے . . . اگر میری ضرورت ہو تو ڈرائیور کو بھیج دینا . میں : ( روبی کا سر چُومتے ہوئے ) ٹھیک ہے اب تم آرام کرو اور سو جانا . روبی : ( مسکراتے ہوئے ) ہحممم ٹھیک ہے . اسکے بَعْد میں تیز قدموں كے ساتھ گھر سے باہر نکل گیا اور رسول كے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر جلدی سے اپنے ٹھکانے پر پوحونچ گیا . وہاں لالہ ، گانی اور سوما پہلے سے موجود تھے . میں جلدی سے جاکے بابا كے پاس بیٹھ گیا . بابا : آ گیا تو شیرا . . . میں : جی بابا . . . آپ آرام کیجیے میں ڈاکٹر سے بات کرکے آٹا ہوں ( ڈاکٹر کو دیکھتے ہوئے ) کیا ہوا ہے بابا کو ؟ بابا : ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) اچھا . . . ڈاکٹر : ان کو سانس لینے میں تکلیف ہو رہی ہے میں : یہ ٹھیک تو ہو جائینگے نا . . . . اگر آپ کہے تو میں شہر سے اور ڈاکٹر بولوا لیتا ہوں . ڈاکٹر : اسکی کوئی ضرورت نہیں ہے آپ زرا میرے ساتھ آئی آپ سے بات کرنی تھی . میں : ( ڈاکٹر کو کمرے سے باہر لے کے جاتے ہوئے ) چلیے . . . . اسکے بَعْد میں اور ڈاکٹر باہر حل میں آ گئے میرے پیچحی-پیچحی لالہ ، گانی اور سوما بھی آ گئے جب کی رسول بابا كے پاس ہی بیٹھ گیا . میں : کہیے ڈاکٹر کیا بات ہے . ڈاکٹر : دیکھیے میں آپکو کوئی جھوٹا دلاسہ نہیں دینا چاہتا اسلئے آپکو سچ بتا رہا ہوں . ان کے باڈی میں کافی جولیان لگی تھی کچھ وقت پہلے آپکو تو پتہ ہی ھوگا . میں : یہ تو ہم جانتے ہیں اس میں نئی بتا کیا ہے . ڈاکٹر : شاید آپکو پتہ نہیں ہے لیکن 6 جولیو میں سے 5 جولیان تو آپْریشَن سے نکال ڈی تھی لیکن 1 گولی ان کے دِل كے پیچھے چلی گئی تھی اگر وہ گولی نکلتے تو انکی جان کو خطرہ ہو سکتا تھا اسلئے ڈاکٹرز نے وہ گولی نہیں نکالی اب اتنے دن سے وہ گولی وہاں رہنے کی وجہ سے پوری باڈی میں زہر فیل گیا ہے اسلئے اب انکا بچنا بہت مشکل ہے . معاف کیجیے لیکن اب ان کے پاس اب جادا وقت نہیں ہے . میں : دیکھیے ڈاکٹر صاحب آپ پیسے کی فکر مت کیجیے پانی کی طرح پیسہ بہا دونگا لیکن وہ جو اندر لیتا ہے وہ میرے لیے میرا باپ ہے ان کو کیسے بھی کرکے بچہ لیجیے میں نے آج تک کسی كے سامنے ہاتھ نہیں جوڑی لیکن آج جوڑ رہا ہوں پلیز . ڈاکٹر : سوری میں کچھ نہیں کر سکتا اب کافی دیر ہو گئی ہے . میں : اگر بابا کو کچھ ہوا تو تو بھی نہیں بچیجا یہ بات سمجھ لے . . . ایہہ لالہ لے جا اِس سیل کو اور اسکو ڈاکٹری سیکھا . اسکے بَعْد ہم واپس مایوس دِل كے ساتھ بابا كے پاس آکے بیٹھ گئے . بابا : کیا کہا ڈاکٹر نے . میں : بابا آپ ٹھیک ہو جائینگے کچھ نہیں ھوگا بابا : ( مسکراتے ہوئے ) تجھے جھوٹ بولنا بھی نہیں آٹا . کس کو جھوٹ بولا رہا ہے شیرا مجھے تیری راج-راج پتہ ہے . میں جانتا ہوں کی اب میرا آخری وقت آ گیا ہے اسلئے اب جو میں کہونگا وہ بہت دھیان سے سننا تم سب . میں : ( روٹ ہوئے ) عیسی مت بولو بابا آپ بہت جلد اچھے ہو جاؤگے . . . ایہہ رسول فوراً دوسرے ڈاکٹر کا انتظام کر . رسول : ہاں ابھی جاتا ہوں . بابا : اسکی کوئی ضرورت نہیں ہے میرے پاس بیٹھو تم سارے . میں : ( بابا کا ہاتھ پکڑ کر ان کے پاس بیٹھ طے ہوئے ) جی بابا حکم کیجیے . بابا : بیٹا شیرا اب یہ سب کاروبار یہ سارے لوگ سب تیری جیممیداری ہے میں تیرے کندہوں پر یہ سب کچھ چھوڑ کر جا رہا ہوں . میں : جی بابا . . . بابا : لالہ ، رسول ، سوما اور گانی آج سے تیرے دوست نہیں بھائی ہیں انکا خیال تجھے رکھنا ہے بستی میں جو لوگ ہیں وہ بھی تیرے اپنے ہیں ان کو کبھی کسی چیج کی کمی نا ہونے پائے . میں : جی بابا . . . . بابا : تم چارو بھی اسکی ہر بات منع جو یہ کہے گا وہ میرا حکم سمجھ کر ہر بات کی تعمیل کرنا ہمیشہ اس کا ساتھ دینا . ہمیشہ اس کے ساتھ وافادار رہنا . رسول ، لالہ ، گانی اور سوما : جی بابا . . . . ہم ہمیشہ ہر قدم پر شیرا كے ساتھ ہیں . اتنی بات کرکے بابا کی سانس اکھاڑنے لگی اور میری آنکھوں كے سامنے آخری کلمہ پڑھتی ہوئے مسکرا کر وہ دُنیا سے رخصت ہو گئے . ہم ان کے پاس بیٹھے رات بھر روٹ رہے لیکن اب کچھ بھی نہیں ہو سکتا تھا . جو چلا گیا وہ اب واپس نہیں آ سکتا تھا آج ہم سب اک باڑ فر سے یتیم ہو گئے تھے کیونکی جس نے سڑی عمر ہم کو پالا تھا اِس قابل بنایا تھا وہ انسان ہم کو چھوڑ کر جا چکا تھا اور ان کے جانا کی وجہ اوپر والا نہیں تھا بلکہ انکا ہی بیٹا چھوٹا تھا یہ بات یاد آتے ہی میرا خون کھولنے لگا . بابا كے پاس بیٹھے تمام لوگ روو رہے تھے لیکن وہ وقت رونے کا نہیں خود کو سنبھالنے کا تھا اسلئے میں نے اپنی آنکھ سے آنسو صاف کیے اور سب کو حوصلہ دینے لگا اور چُپ کروانے لگا . صبح ہم نے انکا کفن دفن کا انتظام کیا اور ان کو آخری قدم دیکی روٹ ہوئے واپس آ گئے ان کے جنازے میں سڑی بستی كے لوگ موجود تھے اک اک بڑا اور اک اک بوجورج روو رہا تھا کیونکی آج وہ انسان ان کو چھوڑ کر چلا گیا تھا جو ہمیشہ انکا خیال رکھتا تھا اب ہر انسان مجھے اک امید کی نظر سے دیکھ رہا تھا اور یہ بات اب سچ بھی تھی کیونکی بابا کی جگہ اب میں تھا ان کے سارے کام اب مجھے ہی پورے کرنے تھے ہماری تمام دشمنوں کو اب مجھے ہی ختم کرنا تھا . اپنی انہی سوچو كے ساتھ میں واپس ٹھکانے پر آ گئے اور اکیلا ان کے بیڈ كے پاس آکے بیٹھ گیا اور بابا کی سکھائی ہوئی باتوں کو یاد کرنے لگا . کچھ دیر بابا كے کمرے میں گزرنے كے بَعْد میں واپس لالہ ، سوما ، گانی اور رسول كے پاس آکے بیٹھ گیا وہ لوگ اب بھی بری طرح روو رہے تھے اسلئے سب کو چُپ کرواتا رہا . ہماری کچھ دن ایسی ہی ماتم میں گزرے . اِس وجہ سے ہم سب کا دھیان اپنی-اپنی دحاندحو سے ہٹ گیا تھا جسکا پھاییدا چھوٹے نے اٹھایا . اک دن مجھے فون پر میرے آدمی نے خبر ڈی کی ہماری vیدیش كے تمام کلیینتس نے ہمارا مال خریدنے سے منع کر دیا ہے کیونکی اب وہ تمام گنس اور دروججس کا بوسینیس ہماری ساتھ نہیں بلکہ چھوٹے كے ساتھ کرینگے . بابا كے جانے کی وجہ سے ہم ویسے ہی ٹوٹ چکے تھے اوپر سے چھوٹے نے موقی پر ایسی چال چل کر ہم سب کا بوسینیس بھی ختم کر دیا تھا . مجھے جس دن یہ خبر ملی میرے دِل میں دبی ہوئی نفرت اور غصہ افن پر پوحونچ گیا لیکن اِس وقت میں جوش میں آکے کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتا تھا اسلئے اپنے دماغ سے کام لیا . میں چاھے کچھ بھی تھا لیکن بابا جو جیممیداری مجھے سوومپکار گئے تھے اسے اب مجھے ہی پُورا کرنا تھا . میں نے فوراً سب گینگ کو کھنڈر پر بلایا . کچھ ہی دیر میں گینگ كے تمام لوگ جو ہماری ساتھ تھے وہ وہاں موجود ہو گئے . میں نے سب کو اک نظر دیکھا اور پِھر جاکے اپنی کرسی پر بیٹھ گیا میرے بیٹھنے كے بَعْد سب لوگ اپنی-اپنی کورسیو پر جاکے بیٹھ گئے . اسکے بَعْد میں نے بولا شروع کیا . میں : میں نے یہ میٹنگ اسلئے بولایی ہے کی جتنے دن ہم سب ماتم میں تھے چھوٹے نے ہمارا سارا بوسینیس تاکی-وور کر لیا ہے ہماری تمام vیدیشی کلیینتس نے ہم سے مال خریدنے سے منع کر دیا ہے کیونکی چھوٹا ان کو ہم سے کم قیمت میں مال سپلائی کر رہا ہے . رسول : سالا کمینہ اپنے باپ کی موت کا بھی لحاظ نہیں رکھ سکا . میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا چھوٹا اتنا گر سکتا ہے . میں : رسول جو انسان اپنے ہی باپ پر گولی چلا سکتا ہے اسکے گھاتیاپان کی حد کا اندازہ تم تو کیا کوئی بھی نہیں لگا سکتا . سوما : بھائی ہماری لیے بابا کی جگہ اب تم ہی ہو . . . تم بس حکم کرو کی کیا کرنا ہے . . . ہم سب لوگ تمھارے اک اشارے پر موت بن کر چھوٹے اور اسکے گینگ پر ٹوٹ پادیں گے اور آج ہی سیل کا قصہ ختم کر دینگے . میں : نہیں سوما . . . چھوٹا ابھی تک چُپ ہے کیونکی وہ جانتا ہے کی بابا كے مرتے ہی ہم لوگ اس پر پوری طاقت كے ساتھ اٹیک کرینگے اسلئے جب ہم وہاں جائینگے تو وہ بھی ہمارا ہی انتظار کر رہا ھوگا . اگر ہم ابھی گئے تو ہم میں سے کوئی بھی واپس نہیں آئیگا . بابا نے سکھایا تھا اگر دشمن کو ختم کرنا ہے تو اسکی طاقت ختم کردو پِھر دشمن بھی ختم ہو جائیگا . ہم کو انتظار کرنا ھوگا سہی وقت کا . رسول : تو تم کیا چاھتے ہو وہ سالا وہاں بابا کی موت کا جشن منائے ہمارا سارا بوسینیس لے جائے اور ہم یہاں ماتم مناتے رہے حیجادو کی طرح . میں : سب سے پہلے یہ پتہ کرو کی اسکے پاس مال آیا کہا سے ہے جہاں تک مجھے پتہ ہے افیم كے سارے کھیت تو ہماری قبضے میں ہے اور دوسرا کون ہے جو اسکو مال دے رہا ہے . لالہ : میں نے سب پتہ کروا لیا ہے اسکا اک خاص آدمی ہے پولیس میں جو اسکو ہمارا ہی پکڑا ہوا مال سپلائی کرتا ہے . میں : کون ہے وہ آدمی . . . لالہ : پتہ نہیں کوئی انسپیکٹر خان کرکے ہے نارکوتیکس ڈیپارٹمنٹ میں اسکی اچھی چلتی ہے . سالا ہمارا پکڑا ہوا مال ہی اسکو بیچ رہا ہے اور چھوٹا وہی مال آگے vیدیشو میں بیچ رہا ہے . رسول : یار ہم کو کیا وہ سالا کسی سے بھی مال خریدے ہماری دحاندحی کی تو یسی-تیسی ہو گئی نا اب آگے کیا کرنا ہے یہ سوچو . میں : اگر خان ختم ہو گیا تو سمجھو چھوٹے کو مال ملنا بھی بند ہو جائیگا اسلئے ہم کو پہلے خان کو ختم کرنا ھوگا . سوما : شیرا سہی کہہ رہا ہے سیل اِس خان کا ہی کچھ کرنا پڑیگا . رسول : شیرا بھائی حکم کرو میں جاتا ہوں اِس خان کو تھوکنی كے لیے . میں : ( انگلی سے نا کا اشارہ کرتے ہوئے ) تم کو کیا لگتا ہے خان اکیلا ھوگا اور تم کو بولیگا آؤ بھائی میں تمھارے باپ کا مال ہوں مجھے تھوک دو . . . . تم میں سے کوئی کہی نہیں جائیگا تم لوگ صرف بچہ ہوا دھندا سنبھالوں اور اسکو تھوکنی میں خود جاؤنگا . لالہ : ٹھیک ہے لیکن اسکے ساتھ پولیس والے بھی تو ہونگے نا تو اسکو ماریجا کیسے . میں : فکر مت کر وہ پولیکیوالا ابھی تک پیدا نہیں ہوا جو شیرا کو تھوک سکے اس حرام خور کو تو میں ہی مرونگا اسکا بھی توڑ میں نے سوچ لیا ہے اور اِس کام كے لیے میں آج ہی نکالونگا . رسول : ٹھیک ہے جیسا تم ٹھیک سمجھو . اسکے بَعْد کچھ دیر ایسی ہی باتیں چلتی رہی پِھر آخر تہہ یہ ہوا کی باقی سب لوگ دھندا سامبحالینجی اور میں خان کو مارنے جاؤنگا . اسکے بَعْد میں نے میٹنگ برخاست کی اور سب کو ان کے کام پر لگا دیا اور خود اپنی کار میں بیٹھ کر گھر آ گیا جہاں میں نے جلدی سے کپڑے پیک کرنے لگا . اچانک مجھے روبی کا خیال آیا جو گھر میں نہیں تھی اسکو بتائے بنا جانا مجھے سہی نہیں لگا اسلئے میں نے سوچا جاتے ہوئے اسے بھی مل کر جاؤنگا میں جانتا تھا وہ دن بھر کہا ہوتی ہے . اسلئے میں نے جلدی سے اپنے کپڑے بیگ میں ڈالے اور ساتھ میں کچھ حاتحیار اور پیسے بھی رکھ لیے . پِھر میں گھر كے باہر آ گیا جہاں گینگ كے تمام لوگ موجود تھے اور میرا ہی انتظار کر رہے تھے . رسول : یہ کیا شیرا تم ابھی ہی جا رہے ہو . میں : ہاں مجھے ابھی جانا ہے لیکن پہلے میں روبی سے ملنا چاہتا ہوں اسکے بَعْد جاؤنگا . لالہ : ٹھیک ہے پِھر ہم بھی تمھارے ساتھ ہی چلتے ہیں . اسکے بَعْد میں اپنی گاڑی میں آکے بیٹھ گیا اور میرے پیچھے تمام گادیو کا قافیلا چل پڑا . کچھ ہی دیر میں ہم یتیم کھانے كے باہر تھے . وہاں کچھ بچے اِدھر اُدھر غم رہے تھے . میں نے بچو کو دیکھ کر باقی سب لوگوں کو باہر ہی رکنے کا اشارہ کیا اور خود یتیم کھانے كے اندر چلا گیا جہاں باہر بچو کو پادحایا جا رہا تھا وہاں بہت سی لڑکیاں اور اوراتی بچو کو پڑھا رہی تھی . میں نے چاروں طرف نظر گھمائی تو اک پیڑ كے نیچے کچھ بچو کو پادحاتی ہوئی مجھے روبی نظر آئی . روبی کو دیکھ کر میرے چہرے پر اک مسکان آ گئی . اس وقت اسکا چہرہ بلیک بورڈ کی طرف تھا میں چُپ چاپ جاکے بچو كے ساتھ بیٹھ گیا جس پر سب بچے مجھے دیکھ کر ھسنے لگے . روبی بچو کو کچھ پڑھا رہی تھی اور میں بس خاموشی سے بیٹھا اسکو دیکھ رہا تھا تبھی اسکی آواز آئی . روبی : سب کو سمجھ آ گیا نا . میں : مجھے سمجھ نہیں آیا میڈم جی . . . روبی : ( پلٹ طے ہوئے ) شیرا تم یہاں . . . . میں : میڈم کوسشن مجھے سمجھ نہیں آیا دوبارہ سمجھاؤ . روبی : ( مسکراتے ہوئے ) آپ آفس میں چلیے میں ابھی آتی ہوں . میں : ( سلیوٹ کرتے ہوئے ) یس میڈم . . . . میری اِس حرکت پر سب بچے ھسنے لگ گئے اور روبی مجھے آنکھیں دکھانے لگ گئی اسلئے میں چُپ چاپ وہاں سے اٹھا اور جاکے اسکے آفس میں بیٹھ گیا آفس میں گھوستی ہی سامنے بابا کی تصویر لگی تھی میں ان کے نورانی چہرے کو دیکھ رہا تھا تبھی اچانک اک ہاتھ میرے کاندھے پر آکے رک گیا ساتھ ہی اک میٹھی سی آواز میرے کانو سے تاکرایی . روبی : آج کیا بات ہے سورج کہی غلط سائڈ سے تو نہیں نکل گیا جو تم نے یہاں درشن دے دیئے . میں : ایسی کوئی بات نہیں ہے میں بس تم سے ملنے كے لیے آیا تھا . روبی : ( میرے سامنے والی کرسی پر بیتحتی ہوئے ) نیت تو ٹھیک ہے جناب کی . . . آج دن میں بھی بڑا رومانٹک موڈ بنا ہوا ہے . میں : ( ہیسٹ ہوئے ) نہیں یار موڈ والی کوئی بات نہیں ایکچولی میں کچھ دن كے لیے باہر جا رہا تھا سوچا تم سے مل کر نہیں جاؤنگا تو تم کو برا لگے گا . روبی : ( اپنی کرسی سے کھڑی ہوکے میرے گال خیچتی ہوئے ) ہائے میری جان بڑا خیال رکھنے لگ گئے ہو میرا . میں : ( اپنے گال چورواتی ہوئے ) کیا کر رہی ہو یار بچے دیکھیں گے تو کیا سوچیں گے . روبی : آئے . . . ہائے تم کب سے لوگوں کی پرواہ کرنے لگ گئے . میں : جادا شہد مت تاپکاو اور میری بات سنو تم کو ہر وقت مذاق ہی سوجحتا ہے . روبی : اچھا مجھے مذاق سوجحتا ہے . . . اور وہ جو تم باہر کرکے آئے ہو وہ بَدی سییاانی حرکت تھی نا یس میڈم . . . یس میڈم . . . . . تب بچو نے نہیں دیکھا ھوگا کیا . میں : ( کان پاکادتی ہوئے ) اچھا بابا غلطی ہو گئی معاف کر دو آگے سے نہیں کرونگا . روبی : ( مسکراتے ہوئے ) دیٹس لائک آ گڈ بوائے . . . . اچھا بتاؤ یہاں کیسے آنا ہوا . میں : میں کچھ دن كے لیے باہر جا رہا ہوں روبی : ( اداس ہوتے ہوئے ) پِھر سے جا رہے ہو . میں : ارے میں ہمیشہ كے لیے نہیں جا رہا بس کچھ دن کی بات ہے پِھر واپس آ جاؤنگا . روبی : موبائل ساتھ لے کے جا رہے ہو نا . میں : ہحمم . . . کیوں . . . روبی : ٹھیک ہے جلدی واپس آ جانا اور اپنا خیال رکھنا اور مجھ سے روز بات کرنی پڑےگی . میں : ( ہاتھ جوڑی ہوئے ) اور کوئی حکم سرکا ر . روبی : ( مسکراتے ہوئے ) اب جلدی سے ادھر آؤ اور پپی دو پِھر جاؤ . . . بس اتنا ہی . . . . میں : ( حیران ہوتے ہوئے ) ابھی . . . . یہاں پر . . . . روبی : کیوں یہاں کوئی پریشانی ہے کیا . میں : نہیں پریشانی تو نہیں ہے لیکن کوئی بچہ دیکھ سکتا ہے نا . . . روبی : ( اپنی کرسی سے اٹھ طے ہوئے ) اک منٹ رکو . . . روبی نے جلدی سے جاکے دونوں پاردو کو دروازے كے آگے کر دیا جسے باہر سے کوئی بھی ہم کو نہیں دیکھ سکتا تھا پِھر وہ جلدی سے آکے میری گاڈ میں بیٹھ گئی اور اپنی دونوں باجو میرے گلے میں ہار کی طرح ڈال لی . میں : اِرادَہ کیا ہے سرکا ر . روبی : ( مسکراتے ہوئے ) کچھ خاص نہیں تمہاری پپی لینے کا دِل کر رہا ہے . میں : مجھ سے تو ایسی پوچھ رہی ہو جیسے میں نہیں کر دونگا تو نہیں لو گی . . . . میرا اتنا کہتے ہی اس نے اپنے ہوتھ میرے ہوتھو سے جوڑ دیئے اور اک دل-قاش انداز سے میرے ہوتھ چُوسنے لگی میں نے بھی اپنی دونوں باجو اسکی کمر میں لپٹ لی اور اسکو اپنے ساتھ اچھی طرح چپکا لیا جسے اسکے ممے مجھے میری چھاتی پر چوبحنی لگے . ہم دونوں بَدی شدت سے اک دوسرے كے ہوتھ چوس رہے تھے اور ہم دونوں کی مزے سے آنکھیں بند تھی . اچانک مجھے خیال آیا کی سب لوگ باہر میرا انتظار کر رہے ہیں اسلئے نا چاھتے ہوئے بھی میں نے روبی کو خود سے الگ کیا . روبی کچھ دیر ویسی ہی میرے گلے میں اپنی دونوں باجو ڈالے میری چھاتی پر سر رکھ کر بیٹھی رہی . فر وہ میرے اوپر سے اٹھ گئی اور سائڈ پر کھڑی ہو گئی . اسکے بَعْد میں اپنی کرسی سے کھڑا ہوا اور اک باڑ پِھر سے روبی کو گلے سے لگا لیا اسکے بَعْد ہم دونوں الگ ہوئے اور باہر آ گئے جہاں بچے اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے . روبی نے سب کو ڈانٹ کر انکی جگہ پر واپس بھیج دیا اور خود میرے ساتھ یتیم کھانے كے گاتے تک باہر آ گئی جہاں پر سب لوگ میرا انتظار کر رہے تھے . اسکے بَعْد سب سے گلے ملنے كے بَعْد سب کو کو ان کے حصے کا کام دوبارہ یاد کروا دیا فر آخر میں میں روبی كے پاس آیا اور اسکو بھی گلے لگا لیا . روبی : جلدی آ جانا میں تمہارا انتظار کروں گی . میں : ہحممم اپنا خیال رکھنا . روبی : ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) تم بھی اپنا خیال رکھنا اور مجھے فون کرتے رہنا . میں : ( مسکراتے ہوئے ) ٹھیک ہے . اسکے بَعْد سب کو الوداع کہہ کر میں واپس اپنی گاڑی میں آکے بیٹھ گیا اور اپنے سفر كے لیے راوانا ہو گیا . روبی گاتے پر کھڑی مجھے جاتا ہوا دیکھتی رہی . آج اتنے وقت كے بَعْد میں واپس اسی جگہ جا رہا تھا جہاں مجھے نئی زندگی ملی تھی . مجھے اپنے گاv گئے پورے ساوا سال ہو چکے تھے اور ان ساوا سالوں میں جانے کیا کیا بَدَل گیا ھوگا . میں تیز رفتار سے گاڑی بھاگا رہا تھا ساتھ میں بابا ، فضا ، نازی اور حنا كے بڑے میں بھی سوچ رہا تھا جانے وہ لوگ میرے بنا کیسے ہونگے . رستہ لمبا تھا اور وقت تھا جو بیتنی کا نام ہی نہیں لے رہا تھا اک اک پل میرے لیے اک صدی جیسا ہو گیا تھا . میں گاڑی بھی چلا رہا تھا اور اپنی بیتی ہوئی زندگی کو بھی یاد کر رہا تھا . اچانک میری نظر اسی پیٹرول پمپ پر پڑی جس پیٹرول پمپ سے میں نے پیٹرول بحاروایا تھا اور جب میں گھائل تھا تو وہاں پر کھڑے لڑکے نے میری مدد کرنے کی کوشش بھی کی تھی . وہاں کچھ لوگ تود-پحود کر رہے تھے . میں نے ان لوگوں کو دیکھ کر گاڑی وہی روک ڈی اور گاڑی سے باہر نکل آیا . وہاں پر کچھ لوگ اس لڑکے کو بری طرح مار رہے تھے . میں تیز قدموں كے ساتھ وہاں گیا اور جاتے ہی سامنے کھڑے ہوئے آدمی کو لات ماری جو اس لڑکے کو بری طرح پیٹ رہا تھا میری لات کھاتے ہی وہ دور جاکے زمین پر گر گیا . آدمی : کون ہے اوئے تو . . . میں : کیوں مار رہے ہو اِس لڑکے کو . . . . آدمی : سیل نے ہم سے بییااج پر پیسہ لیا تھا اپنی ماں كے علاج كے لیے اب اسکی ماں کو مرے کو اتنا وقت ہو گیا ہے اور ابھی تک ہمارا پیسہ واپس نہیں کیا . میں : کتنا پیسہ ہے . . . آدمی : 20 ، 000 اور اوپر سے 15 ، 000 بییاز . میں نے بنا کوئی سوال جواب کیے اپنے جیب میں ہاتھ ڈالا اور 50‬ ، 000 روپے كے نوٹ کا بوندیل اس آدمی كے موح پر پھینک دیا . میں : ( اپنی جیب سے گن نکل کر اسکو لوڈ کرتے ہوئے ) اب دفعہ ہو جاؤ یہاں سے نہیں تو تم میں سے کوئی بھی اپنی ٹانگوں پر چل کر یہاں سے نہیں جائیگا . آدمی : بادشاہو ہم کو ہماری پیسے مل گئے اب ہم نے اسے کیا لینا ہے . . . شکریہ . میں : ( انگلی سے جانے کا اشارہ کرتے ہوئے ) دفعہ ہو جاؤ . اسکے بَعْد میں نے نیچے پڑے اس لڑکے کو اٹھایا اور پیٹرول پمپ كے اندر لے گیا . میں : ( گھڑے سے پانی بھرتے ہوئے ) تم ٹھیک ہو . لڑکا : جی صاحب میں ٹھیک ہوں . . . مجھے سمجھ نہیں آ رہا آپکا یہ احسان میں کیسے اتارونجا . میں : میں نے تم پا کوئی احسان نہیں کیا یھی سمجھ لو تمہاری امی نے تمھارے لیے پیسے بھیجے تھے . لڑکا : شکریہ صاحب . میں : ( لڑکے کو پانی دیتے ہوئے ) کیا نام ہے تمہارا . لڑکا : ( پانی پیتے ہوئے ) جی . . . رستم . . . . میں : اک بات سمجھ نہیں آئی تمہارا تو یہ پیٹرول پمپ ہے نا پِھر تمھارے پاس پیسے کی کیا کمی ہے . لڑکا : صاحب یہ پیٹرول پمپ میرا نہیں شیرا بھائی جان کا ہے میں تو یہاں ملازم ہوں . میں : ( حیران ہوتے ہوئے ) کیا شیرا کا ہے یہ پیٹرول پمپ . لڑکا : جی صاحب پہلے شیخ صاحب کا ہوتا تھا لیکن آج کل اِس پیٹرول پمپ كے مایلک شیرا بھائی جان ہیں . میں : ( مسکراتے ہوئے ) تم نے دیکھا ہے شیرا کو . رستم : جی نہیں صاحب . . . بس نام ہی سنا ہے . . . بابا كے جنازے پر دور سے دیکھا تھا اک باڑ اسکے بَعْد کبھی نہیں دیکھا . میں : ( مسکراتے ہوئے ) تو اب نزدیک سے بھی دیکھ لو . . . . رستم : ( اپنی جگہ سے کھڑا ہوتے ہوئے ) آپ شیرا بھائی ہو صاحب جی . . . میں : ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) دُنیا تو یھی کہتی ہے . . . رستم : ( ہاتھ جوڑی ہوئے ) آپ اک دم بابا جیسے ہو صاحب بابا نے مجھے روزی ڈی اور آپ نے آج میری جان بچایی . میری یہ جان آج سے آپکی امانت ہے اگر کبھی میں آپ کے کام آ سکو تو اپنی خوش نصیبی سامجحونجا . . اسکے بَعْد نازی اور میں حنا كے کمرے سے باہر نکل آئے . نازی واپس طائز قدموں كے ساتھ سییدحیو سے نیچے اُتَر گئی اور میں اس دربان كے ساتھ دوسری سییدحیا اترتا ہوا حویلی كے دروازے كے پیچھے كے رستے پر آ گیا . دربان : کیا بھائی کتنی دیر لگا ڈی تم نے میری تو جان نکل رہی تھی ڈر سے . میں : تمہارا بوحوت-بوحوت شکریہ تم نے میری بہت مدد کی ہے ( اپنی جیب سے کچھ اور پیسے نکلتے ہوئے ) یہ لو رکھو . دربان : نہیں بھائی تم نے پہلے ہی کافی پیسے دے دیئے ہیں میں : ارے رکھ لے یار تیرے کام آئینگے . دربان : ( نظری نیچے کرکے مسکراتے ہوئے ) شکریہ . . . اور کوئی کام ہو تو یاد کر لینا . میں : فکر مت کرو شام کو ہی تم سے اک اور کام ہے مجھے . دربان : اچھا . . . اسکے بَعْد ہم دونوں پیچھے كے رستے سے حویلی كے باہر نکل گئے اور واپس حویلی كے سامنے والے دروازے پر آ گئے وہاں سے میں اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا اور وہ دربان اپنی جگہ پر جاکے بیٹھ گیا . میں نے گاڑی اسٹارٹ کی اور واپس حویلی كے پیچھے كے دروازے کی طرف لے گیا وہاں نازی پہلے سے کھڑی میرا انتظار کر رہی تھی اس نے اک چھوٹے سے بچے کو بھی پکڑ رکھا تھا . میں نے جلدی سے گاڑی کا دروازہ کھولا اور اسکو اندر آنے کا اشارہ کیا وہ بنا کچھ بولے مسکرا کر گاڑی كے اندر بیٹھ گئی . نازی : ( مسکراتے ہوئے ) یہ دیکھو ہمارا چھوٹا نییر . . . سندر ہے نا میں بنا کچھ بولے اس بچے کو اپنے گاڈ میں اٹھایا اور اسکو دیکھنے لگا بہت ہی معصوم اور خوبصورت تھا اسکا ناک اک دم فضا جیسا تھا اور آنکھیں اک دم میرے جیسی . آخر تھا بھی تو میرا خون اسکو میں جی بھر كے دیکھتا رہا اور خوشی سے میری آنکھوں میں آنسو آ گئے میں نے اسکو اپنے چہرے كے قریب کیا اور اسکا ماتھا چوم لیا اور واپس نازی کو پکڑا دیا . اسکے بَعْد میں نے گاڑی کو اپنے پُرانے گھر کی طرف واپس گھوما دیا جہاں اب قاسم رہتا تھا . نازی : ہم کہا جا رہے ہیں نییر . میں : ہم قاسم سے ملنے جا رہے ہے . نازی : نہیں میں وہاں کبھی نہیں جائوں گی اس ذلیل انسان کا میں موح بھی نہیں دیکھنا چاہتی . میں : تمھارے سامنے ہی سارا حساب برابر کرکے جاؤنگا میں . نازی بنا کچھ بولے نظری جھکا کر بیٹھ گئی . کچھ ہی دیر میں میں نے گھر كے سامنے گاڑی کو روک دیا . میں : نازی تم یھی بیٹھو میں ابھی آٹا ہوں . نازی : ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) اچھا . اسکے بَعْد میں گاڑی سے اترا اور جاکے گھر كے دروازے كے سامنے کھڑا ہو گیا . میں نے 1-2 باڑ دروازہ خات-خاتایا جب کسی نے دروازہ نہیں کھولا تو میں نے اک جوردار لات دروازے پر ماری جسے جھٹکے سے دروازے کا اک حصہ ٹوٹ گیا اور ہوا میں لاتاکنی لگا دروازہ کھل گیا تھا میں بنا کچھ بولے اندر چلا گیا اور چاروں طرف دیکھنے لگا پُورا گھر ویسے کا ویسا تھا لیکن سامان کافی بَدَل گیا تھا توتی-پحوتی چھی جو کی جگہ نئی اور مہنگی چیجی آ گئی تھی . ابھی میں گھر کو دیکھ ہی رہا تھا کی اک عورت میری طرف بھاگ کر آئی . بَعْد ہم کچھ دیر باتیں کرتے رہے پِھر وہاں سے پارتول بھڑوا کر اسکو کچھ پیسے دیئے پیٹرول پمپ کی مراممرت كے لیے اور کچھ پیسے اسکے خود كے علاج كے لیے . پِھر میں اپنے سفر كے لیے واپس نکل پڑا . میں قریب 9 گھنٹے سے لگاتار گاڑی چلا رہا تھا اسلئے بری طرح تھک گیا تھا اور مجھے بھوک بھی بہت لگ رہی تھی لیکن آس-پاس کہی بھی کوئی ہوٹل یا دھبا نہیں کھلا تھا جہاں میں كھانا کھا سکو اسلئے میں نے گاڑی چلاتے رہنا ہی مونساحیب سمجھا میں صبح تک لگاتار گاڑی چلاتا رہا . صبح میں اس شہر میں آ گیا تھا جہاں حنا اکثر مجھے علاج كے لیے لایا کرتی تھی . اسلئے گاڑی کو میں نے اسی شاپنگ مال كے سامنے روک دیا جہاں سے رضوانہ نے مجھے کپڑے دلوایی تھے میں نے جلدی سے گاڑی کو پارْک کیا اور اس مال میں چلا گیا صبح کا وقت تھا اسلئے پُورا مال خالی نظر آ رہا تھا وہاں کوئی بھی لوگ نہیں تھے بس دکان والے ہی آئے ہوئے تھے جو اپنا-اپنا مال سیٹ کر رہے تھے میں نے اک دکان میں جاکے نازی ، فضا ، حنا اور بابا كے لیے نئے کپڑے لیے اور کچھ اور سامان لے کے واپس گاڑی میں آکے بیٹھ گیا اور فر سے اپنا سفر شروع کر دیا . اس شہر سے میرا گاv پاس ہی تھا اسلئے جلدی ہی میں اپنے گاv کی سرحد میں گھس چکا تھا جہاں سے میرا گاv شروع ہوتا تھا . کچھ ہی دیر میں میں میرے گاv كے کافی قریب تک پوحونچ گیا تھا . لیح-لاحاتی کھیت اور تازی ہوا نے میری ساری تھکان کو اک دم غائب کر دیا گاv کی تازی ہوا میں سانس لیتے ہی جیسے میرا روم روم کھل اٹھا . میں نے گاڑی سائڈ پر روک ڈی اور کچھ دیر باہر آکے گاv کی تازہ ہوا اور خیتو کی حاریاالی کا مزہ لینے لگا وہی پاس ہی اک صاف پانی کا توبی-ویل تھا جہاں میں نے پانی پیییا اور چہرے کو دھو کر واپس اپنے سفر كے لیے نکل پڑا . اب کچھ ہی دوری رہ گئی تھی اور اب میں کسی بھی وقت میں میرے گاv تک پوحونچ سکتا تھا اسلئے اب میں نے اپنی گاڑی کی رفتار بھی بڑھا ڈی . مجھے گاv میں گھوستی ہی اک عجیب سی خوشی محسوس ہو رہی تھی یس لگ رہا تھا جیسے میں اپنے گھر واپس آ گیا ہوں . کچھ ہی دوری پر مجھے میرا کھیت نظر آیا جہاں میں کام کیا کرتا تھا . میں نے فوراً گاڑی روکی اور سب سے پہلے اپنے کھیت میں چلا گیا وہاں جاننی کی فصل اک دم تییار کھڑی تھی . میں کچھ دیر اپنے کھیت میں رکا اور فصل کا جاییزا لینے لگا اور سوچنے لگا کی ضرور یہ فصل نازی اور فضا نے وجاایی ھوگی فر واپس آکے اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا اور اپنی گاڑی کو اپنے گھر کی طرح داودا دیا آج میں بے حد خوش تھا اسلئے بار بار اپنے گھروالوں كے لیے خریدے ہوئے سامان کو بار بار دیکھ رہا تھا اور چوم رہا تھا . کچھ ہی دیر میں میں نے میری گاڑی میرے گھر كے سامنے روک ڈی . میں جلدی سے گاڑی سے اتارا اور اپنا بیگ اور گھروالوں كے لیے خریدا ہوا سامان نکالا اور تیز قدموں كے ساتھ اپنا گھر كے دروازے كے باہر کھڑا ہو گیا . میں بے حد خوش بھی تھا اور ڈر بھی رہا تھا کی جانے اتنے وقت كے بَعْد سب لوگ مجھے دیکھ کر کیسا بارتاv کرینگے . فضا تو ضرور مجھ سے ناراض ھوگی اور نازی تو ضرور میرے ساتھ جھگڑا تک کر لے گی لیکن ہاں بابا ضرور میرا ساتھ دینگے اور ان دونوں کو چُپ کروا دینگے ایسی ہی کئی ان-جینات خیال اور اپنے زور زور سے ڈھڑکتے دِل كے ساتھ میں نے دروازہ خات-خاتایا . کچھ دیر بَعْد اک عورت نے دروازہ کھولا اور میرے سامنے آکے کھڑی ہو گئی . عورت : ہاں کیا کام ہے . میں : جی میں نییر ہوں . . . عورت : ( بےرخی سے ) کون نییر . . . قصے ملنا ہے تم کو . میں : آپ کون ہو اور یہاں کیا کر رہی ہو . عورت : اری عجیب آدمی ہو میرے گھر میں مجھ سے پوچھ ہے ہو کی یہاں کیا کر رہی ہوں . . . تم ہو کون اور قصے ملنا ہے . میں : جی آپ بابا نازی یا فضا میں سے کسی کو بھی بلا دیجیئے وہ مجھے جانتے ہیں . عورت : یہاں اِس نام کا کوئی نہیں ہے دفعہ ہو جاؤ یہاں سے . اتنا کہہ کر اس نے میرے موح پر دروازہ بند کر دیا . مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کی یہ کیا ہوا سب لوگ کہا گئے اور یہ کون عورت تھی جو اتنی بےرخی سے مجھ سے بات کر رہی تھی . بابا کہا ہے ، فضا کہا ہے ، نازی کہا ہے ایسی ہی کئی سوال اک ساتھ میرے دماغ میں چل رہے تھے جن کا مجھے جواب ڈھونڈنا تھا . میں واپس اداس اور پریشان حالت میں واپس اپنی گاڑی كے پاس آ گیا اور سارا سامان واپس گاڑی میں رکھ دیا . کچھ دیر گاڑی میں بیٹھنے كے بَعْد میں سوچنے لگا کی اب میں کہا جاؤ اور قصے پوچھو ان سب لوگوں كے بڑے میں تبھی اچانک مجھے یاد آیا کی حنا مجھے ان سب کے بڑے میں بتا سکتی ہے . میں نے فوراً گاڑی اسٹارٹ کی اور گاڑی کو حنا کی حویلی کی طرف گھوما دیا . میں اس وقت کافی پریشان تھا اسلئے بہت تیز رفتار سے گاڑی چلا رہا تھا . کچھ ہی منٹ میں میں نے گاڑی کو چوودحاری کی حویلی كے سامنے روک دیا . سامنے مجھے 2 دربان بیٹھے نظر آئے . میں فوراً گاڑی سے اتارا اور ان دونوں كے پاس جاکے کھڑا ہو گیا . ان دونوں دربانو کو میں جانتا تھا اسلئے ان کو دیکھتے ہی میں نے فوراً پہچان لیا . دربان : کون ہو بھائی کیا کام ہے . میں : ارے بھائی مجھے بھول گئے کیا میں نییر ہوں یاد آیا . دربان : ( ساوالیا نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے ) کون نییر . . . کیا کام ہے . میں : یار بھول گئے میں تمہاری چھوٹی مالکن کو گاڑی چلانی سیکھتا تھا یاد ہے . دربان : ( کچھ یاد کرتے ہوئے ) ہاں . . . ہاں . . . یاد آ گیا تم حَیدَر بابا كے چھوٹے بیٹے ہو نا . میں : ہاں میں انہی کا بیٹا ہوں . . . مجھے تمہاری میم صاب سے ملنا ہے دربان : ( ہیسٹ ہوئے ) پاگل ہو کیا خود بھی مار کھاؤگے ہم کو بھی مار خیلواوجی انسے ملنے کی اجاجت کسی کو نہیں ہے . میں : لیکن مسئلہ کیا ہے یار پہلے بھی تو میں انسے ملتا ہی تھا نا . دربان : آج چھوٹی مالکن کی شادی ہے اسلئے آج انسے ملنے کی اجاجت کسی کو نہیں ہے . میں : کیا . . . آج حنا کی شادی ہے . دربان : ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) ہاں میں : دیکھو یار میرا اسے ملنا بہت ضروری ہے میری مجبوری کو سمجھو . دربان : ( آپَس میں بات کرتے ہوئے ) ٹھیک ہے لیکن اس میں ہمارا کیا پھاییدا . میں : ( اپنی جیب سے کچھ پیسے نکال کر دربان کو دیتے ہوئے ) اب تو مل سکتا ہوں نا . دربان : ( خوش ہو کر نوٹ گنتے ہوئے ) کتنا وقت لگے گا . میں : بس 10-15 منٹ جادا سے جادا . دربان : ٹھیک ہے لیکن جادا وقت مت لگانا یہ میرا ساتھی تم کو پیچھے كے رستے سے حویلی میں لے جائیگا لیکن اگر کسی نے تم کو پکڑ لیا تو ہم تم کو نہیں جانتے تم ہم کو نہیں جانتے بولو منظور ہے . میں : ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) منظور ہے اب چلو جلدی . اسکے بَعْد اک دربان مجھے حویلی كے پیچھے کی طرف لے گیا جہاں سے اک چھوٹا سا دروازہ تھا جس پر تعالی لگا ہوا تھا اس نے میرے سامنے جلدی سے تعالی کھولا اور پِھر ہم دونوں اندر چلے گئے وہ چارو طرف دیکھتا ہوا اور لوگوں کی نظروں سے بچہ کر اوپر تک لے آیا اور انگلی سے حنا كے کمرے کی طرف اشارہ کر دیا . دربان : ( انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے ) یہ والا کمرا ہے چھوٹی مالکن کا اب جلدی جاؤ اور جادا وقت مت لگانا کہی کوئی آ نا جائے نہیں تو دونوں مرینگے . میں : شکریہ . . . میں جلدی آ جاؤنگا . میں دبی پااv حنا كے کمرے میں چلا گیا اور کمرے کو اندر سے کنڈی لگا لی ٹاکی کوئی بھی باہر کا اندر نا آ سکے . میں نے جیسے ہی کمرے میں غصہ مجھے سامنے بیڈ پر حنا لیتی ہوئی نظر آئی جسکی حالت دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا تھا کی یا تو وہ بیمار ہے یا پِھر وہ سو رہی ہے . اسکے پاس ہی میرا کرتا پجامہ پڑا تھا جو اسکو میں نے پہاننی كے لیے دیا تھا جسے میں نے فوراً پہچان لیا . میں جلدی سے اسکے پاس گیا اور اسکو کاندھے سے ہلا کر اٹھایا . میں : ( دبی ہوئی آواز میں ) اٹھو حیناا . . . . حینا . . . . حیناا حنا : ( بنا میری طرف دیکھے ) دفعہ ہو جاؤ یہاں سے میں نے کہا نا میں یہ شادی نہیں کروں گی . یہ بات سن کر مجھے بھی جھٹکا لگا کی یہ حنا کیا کہہ رہی ہے . لیکن میں جاننا چاہتا تھا کی اصل ماجرہ کیا ہے حنا کیوں شادی سے منع کر رہی ہے . میں : ( حنا کو پکڑ کر اٹھاتے ہوئے ) حنا میں ہوں دیکھو مجھے اک باڑ . . . حنا : ( تھپڑ مارنے كے لیے اپنا ہاتھ اٹھاتے ہوئے ) نییر تممم . . . تم واپس آ گئے . میں : ( مسکراتے ہوئے ) ہا میں واپس آ گیا ہوں کیا ہوا ہے . . . تم نے یہ کیا حالت بنا رکھی ہے اپنی . ( اپنے ہاتھ سے حنا كے بکھرے ہوئے بال سنورتے ہوئے ) حنا : ( روٹ ہوئے مجھے گلے لگا کر ) مجھے لے چلو یہاں سے نییر میں یہاں اک پل بھی اب رہنا نہیں چاہتی . میں کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا کی ہوا کیا ہے . اسلئے بنا اسے کوئی اور سوال کیے میں اسکو چُپ کروانے لگا . کچھ دیر رونے كے بَعْد وہ چُپ ہو گئی پِھر میں نے پاس پڑے گلاس سے اسکو پانی پلایا . میں : اب ٹھیک ہو . حنا : ( پانی پیتے ہوئے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) ہحممم . . . . . میں : اب مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے یہاں . حنا : تمھارے جانے كے بَعْد تم نہیں جانتے یہاں بہت کچھ ہو گیا ہے میرے ساتھ بھی اور تمھارے گھروالوں كے ساتھ بھی . میں : کیا ہوا ہے بتاؤ تو سہی . . . حنا : تمھارے والد اور فضا اب اِس دُنیا میں نہیں ہیں . میں : ( حیرانی سے ) کیا . . . کب ہوا یہ سب کیسے ہوا . حنا : تمھارے جانے كے بَعْد بابا کی طبیعت بہت خراب رہنے لگی تھی اسلئے میں نے اور نازی نے مل کر ان کو اسپتال ایڈمٹ کروا دیا بیچاری نازی نے بہت انکی خدمت کی آخری وقت میں لیکن اوپر والے کی مرضی كے آگے کیا بھی کیا جا سکتا ہے وہ نازی اور فضا کو روتا ہوا چھوڑ کر چلے گئے . میں : ( اپنی آنکھ سے آنسو صاف کرتے ہوئے ) اور فضا . . . حنا : بابا كے جانے كے کچھ دن بَعْد ہی قاسم جیل سے رہا ہوکے واپس آ گیا اور آتے ہی اس نے دونوں لڑکیوں پر ظلم کرنے شروع کر دیئے . وہ پیسے كے لیے روز فضا کو مرتا تھا اس بے غیرت کو اتنا بھی ترس نہیں آیا کی فضا ماں بننے والی ہے اس نے تو یہاں تک انکار کر دیا تھا کی وہ بچہ اسکا نہیں ہے اور وہ فضا پر جاندی-جاندی یلجاام لگا كے روز اسکو مرتا تھا . ایسی ہی اک باڑ اس نے فضا كے پیٹ میں لات مار ڈی جسے اسکی طبیعت بہت جادا خراب ہو گئی بیچاری نازی بحاجی-بحاجی میرے پاس آئی ہم دونوں مل کر اسکو شہر لے کے گئے لیکن ڈاکٹر نے کہا کی فضا کو بچانا بہت مشکل ہے اور بچے کی جان کو بھی خطرہ ہے اسلئے آپْریشَن کرنا پڑیگا لیکن آپْریشَن كے بَعْد بچہ تو بچ گیا لیکن فضا کو ڈاکٹر بچہ نہیں سکے . لیکن اسکی نشانی آج بھی نازی كے پاس ہے . فضا كے کفن دفن كے بَعْد قاسم نے مکان اور کھیت پر قبضہ کر لیا اسکے بَعْد اس نے اک تاvایاف سے شادی کر لی بیچاری نازی اس بچے کو بھی سامبحالتی تھی اور دن بھر گھر کا کام بھی کرتی تھی بدلے میں اسکو 2 وقت کا كھانا بھی پُورا نہیں دیا جاتا تھا قاسم کی نئی بِیوِی روز نازی کو بہت مرتی تھی . پِھر اک دن اس باد-زاات عورت نے نازی کو بھی گھر نکل دیا . قاسم كے پاس جب پیسے ختم ہو گئے تو اس نے تمھارے کھیت میرے ابو کو بیچ دیئے . میں : ( روٹ ہوئے ) نازی اور فضا کا بچہ کہا ہے . حنا : ( اپنے آنسو پونچتی ہوئے ) یھی ہیں میرے پاس نازی اب حویلی میں ہی کام کرتی ہے . میں : کیا میں مل سکتا ہوں ان دونوں سے . حنا : ہاں ضرور مل سکتے ہو لیکن مجھے نیچے جانے کی اجاجت نہیں ہے تم رکو میں کسی کو بھیج کر نازی کو بولواتی ہوں . اسکے بَعْد حنا نے مجھے پردے كے پیچھے چوپنی کو کہا اور خود باہر کھڑے دربان سے نازی کو بلا کر لانے کا کہا اور واپس آکے گاتے بند کر لیا اور پِھر سے آکے میرے پاس بیڈ پر بیٹھ گئی . میں : حنا مجھے سمجھ نہیں آ رہا میں یہ تمہارا احسان کیسے اتارونجا تم نہیں جانتی تم نے میرے لیے کیا کیا ہے . حنا : پاگل ہو کیا میں نے کچھ نہیں کیا . . . یہ تو میرا فرض تھا تمھارے بَعْد انکا خیال مجھے ہی تو رکھنا تھا نا . میں : ( حنا كے دونوں ہاتھ چُومتے ہوئے ) شکریہ . . . تمہارا بوحوت-بوحوت شکریہ اگر میں کبھی تمھارے کسی کام آ سکو تو خود کو بہت خوش نصیب سامجحونجا . حنا : نییر جاننا نہیں چاہو گے میری شادی قصے ہو رہی ہے . من : ( ساوالیا نظروں سے حنا کو دیکھتے ہوئے ) کس كے ساتھ . . ؟ حنا : تمھارے انسپیکٹر خان كے ساتھ . یہ میرے لیے اک اور بڑا جھٹکا تھا کیونکی اسی کو تو میں یہاں مارنے آیا تھا . میں : کیا . . . حنا : میں اس بے غیرت انسان سے شادی نہیں کرنا چاہتی نییر کیونکی میں تم سے پیار کرتی ہوں اس کمینے نے میرے ابو کو بھی پتہ نہیں کیسے شادی كے لیے راضی کر لیا ہے جانتے ہو جس کمینے پر تم اپنے پریوار كے جیممیداری چھوڑ کر گئے تھے اس نے اک باڑ بھی آکے یہ نہیں دیکھا کی وہ لوگ زندہ ہے یا مر گئے . بس ڈاکٹر رضوانہ کبھی کبھی آتی تھی جو نازی اور فضا کو کچھ پیسے دے جایا کرتی تھی گھر خرچ كے لیے اسکے بَعْد اس نے بھی آنا بند کر دیا سنا ہے اسکی کسی کار ایکسڈینٹ میں موت ہو گئی تھی . مجھے وہ انسان بالکل پسند نہیں ہے جو انسان اپنی جیممیداری ٹھیک سے نہیں سنبھال سکتا کیا جارینتی ہے کی وہ میرا خیال رکھ لے گا . میں : تم مجھ سے پیار کرتی ہو حنا . . . ؟ ؟ حنا : ( مسکرا کر نظارے نیچے کرکے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) ہحممم . . . کیا تمہاری زندگی میں کوئی اور لڑکی ہے . میں : ( مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کی میں کیا جواب دوں لیکن حنا کا مجھ پر احسان تھا اسلئے میں نے بنا کچھ سوچے سمجھا اسکو ہاں کہنے کا فیصلہ کر لیا ) نہیں یار ایسی کوئی بات نہیں ہے مجھے بھی تم بہت پسند ہو . لیکن تم میری زندگی كے بڑے میں کچھ نہیں جانتی اک باڑ میرا سچ سن لو اسکے بَعْد جو تمہارا فیصلہ ھوگا مجھے منظور ھوگا . حنا : مجھے کچھ نہیں پتہ مجھے صرف اتنا پتہ ہے کی میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں تم مجھے جس حال میں بھی رکھو گی میں رہ لونگی اور بہت خوش رہونگی تمھارے ساتھ . میں : لیکن میں اک گینگسٹر ہوں اور میرا نام نییر نہیں شیرا ہے . حنا : تو کیا ہوا گینگسٹر شادی نہیں کرتے کیا . مجھے اسے کوئی پھڑک نہیں پڑتا میں بس تم سے پیار کرتی ہوں اسے جادا مجھے کچھ نہیں پتہ اب بولو مجھ سے شادی کروگے یا نہیں . میں : ( بنا کچھ بولے حنا کا چہرہ پکڑ کر اسکے ہوتھ چُومتے ہوئے ) مل گیا جواب . حنا : ( آنکھیں پھااد-پھاد کر مجھے دیکھتے ہوئے ) حا . . . . تبھی کسی نے دروازہ خات-خاتایا تو ہم لوگ دور ہوکے بیٹھ گئے . حنا نے مجھے دوبارہ پردے كے پیچھے چھپ جانے کا اشارہ کیا اور خود دروازہ کھولنے چلی گئی . اسکے بَعْد مجھے 2 آوازیں سنائی دینے لگی کیونکی میں پردے كے پیچھے تھا اسلئے کچھ بھی دیکھ نہیں پا رہا تھا ان میں سے اک آواز حنا کی تھی اور دوسری نازی کی تھی . نازی : اپنائے مجھے بلایا چھوٹی مالکن . حنا : کہا تھی اتنی دیر چل اندر آ تیرے لیے اک تحفہ ہے میرے پاس . نازی : کونسا تحفہ مالکن ؟ حنا : پہلے تو اندر تو آ پِھر دکھاتی ہوں اور آتے ہوئے دروازہ بند کر دینا اندر سے . نازی : اچھا . اسکے بَعْد کچھ دیر کمرے میں خاموشی چاہ گئی پِھر میں باہر نکلنے کا انتظار کرنے لگا کی کب حنا مجھے آواز دے اور میں باہر نکالو . نازی : بند کر دیا دروازہ چھوٹی مالکن . حنا : تجھے اک جادو دیخاو . نازی : کونسا جادو . حنا : شرط لگا لے تیری آنکھیں باہر آنے کو ہو جائینگی میرا جادو دیکھ کر . نازی : میں کچھ سمجھی نہیں مالکن . حنا : سمجھاتیں ہوں رک . . . اب دیکھ میرا جادو . . . 1 . . . . 2 . . . . 3 . . . . . 3 کہنے كے ساتھ ہی جھٹکے سے حنا نے میرے سامنے آیا ہوا پردہ ہاتا دیا . نازی مجھے آنکھیں پھاد-پھاد کر دیکھنے لگی اور میں بھی اتنے وقت كے بَعْد نازی کو دیکھ رہا تھا اسلئے اسی جگہ پر کسی پتھر کی طرح کھڑا اسکو دیکھنے لگا . نازی پہلے سے بہت کمزور ہو گئی تھی اور شاید روو-روو کر اسکے آنکھوں كے نیچے کالے داغ پڑ گئے تھے . ہم دونوں کی ہی آنكھوں میں آنسو تھے اور بنا پلک جھپکی اک دوسرے کو دیکھ رہے تھے . نازی بنا کچھ سوچے سمجھے بھاگ کر میرے پاس آئی اور میرے گلے سے لگ کر زور زور سے رونے لگی . میں بھی اسکے سر پر ہاتھ فیر کر اسکو چُپ کروانے لگا مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کی اسکو کیا کہو اور کہا سے بات شروع کروں . وہ کسی چھوٹے بچے کی طرح لگاتار سیساک-سیساک کر مجھ سے لیپتاک کر روو رہی تھی . میں نے حنا کو اشارہ سے پانی لانے کو کہا تو وہ بھاگتی ہوئی بیڈ كے پاس پڑا 1 / 2 گلاس پانی ہی اٹھا لائی میں نے وہ پانی نازی کو پلایا اور چُپ کروایا اور اسکو پکڑ کر بیڈ تک لے آیا اور اسکو بیڈ پر بٹھا دیا اور خود بھی اسکے ساتھ بیٹھ گیا . کافی دیر رونے كے بَعْد نازی کا من ہلکا ہو گیا تھا اسلئے اب وہ بہتر لگ رہی تھی . نازی : تم کہا تھے اتنے دن نییر تم نہیں جانتے تمھارے پیچھے ہماری ساتھ کیا کیا ہو گیا بابا اور فضا بھابی . . . ( اس نے پِھر سے رونا شروع کر دیا ) میں : میں سب جان گیا ہوں نازی مجھے حنا نے سب بتا دیا ہے . فکر مت کرو میں اب آ گیا ہوں نا تمھارے ساتھ جو برا ھونا تھا ہو گیا اب رونے کی انکی باری ہے جنہوں نے ہماری پریوار کو اتنا رلایا ہے . حنا : نازی اکیلی آئی ہو نییر کہا ہے . میں : تمھارے سامنے تو بیٹھا ہوں . حنا : ( ہیسٹ ہوئے ) تم نہیں ہمارا چھوٹا نییر . میں : ( ساوالیا نظروں سے حنا کو اور نازی کو دیکھتے ہوئے ) چھوٹا نییر . . . ؟ ؟ ؟ حنا : فضا كے بیٹے کا نام بھی ہم نے نییر ہی رکھا ہے کیونکی یہ نام ہم نے نہیں بلکہ خود فضا نے ہی رکھا ہے وہ چاہتی تھی کی اسکا بیٹا بڑا ہوکے تم جیسا بنے . نازی : ( اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے ) میں ابھی لے کے آتی ہوں . حنا : یہاں مت لے کے آنا اسکو . . . تم عیسی کرو حویلی كے پیچھے والے رستے پر پوحونچو ہم دونوں ابھی وہی آ رہے ہیں . میں : ابھی نہیں شام کو جائینگے . حنا : پاگل ہو گئے ہو شام کو خان اور اسکے لوگ یہاں آ جائینگے تب نکلنا نا-مومکین ھوگا . میں : کچھ نہیں ھوگا مجھ پر بھروسہ رکھو آج خان کو مارے بنا میں بھی یہاں سے جانے والا نہیں ہوں . حنا : وہ پولیس والا ہے اسکو مروجی تو سارے پولیکیوالی ہماری پیچھے پڑ جائینگے . میں : وان پولیکیوالا ہے تو اب میں بھی کوئی معمولی آدمی نہیں ہوں پولیس كے ہر ریکارڈ میں ہمارا نام شان سے موسٹ وانٹڈ کی لسٹ میں ٹوپ پر لکھا جاتا ہے ( مسکرا کر ) اب چاھے کچھ بھی ہو جائے اسکو مارے بنا مجھے چین نہیں آئیگا یا تو مر جاؤنگا یا اس حرام خور کو مار دونگا . حنا میں نے میرے پریوار كے 2 عزیز لوگ کھوئے ہیں اور وہ سب اس کمینے کی وجہ سے کیونکی میں جانے سے پہلے اپنے پریوار کی جیممیداری اسکو دیکی گیا تھا . ویسی بھی اسکے ساتھ میرا کچھ پرانا حساب بھی ہے وہ نقصان تو میں اسکو معاف بھی کر دیتا اگر اس نے میرے پریوار کا خیال رکھا ہوتا . لیکن یہاں آکے جو مجھے پتہ چلا ہے اسکے بَعْد اگر میں نے اسکو زندہ چھوڑ دیا تو لاحانت ہے مجھ جیسے بیٹے پر جو اپنے باپ کی موت کا بدلہ بھی نہیں لے سکا . حنا : میں ہمیشہ تمھارے ساتھ ہوں . نازی : نییر تم کو کیا لگتا ہے صرف خان ہی دوشی ہے بابا کی اور فضا بھابی کی موت کا . . . . تم نہیں جانتے قاسم نے بھی ہم پر کم ظلم نہیں کیے آج اگر فضا بھابی ہماری بیچ نہیں ہے تو وہ صرف اس کمینے کی وجہ سے نہیں ہے . میں : ( نازی کا ہاتھ پکڑ کر اسکو کھڑا کرتے ہوئے ) چلو پہلے یہ حساب ہی برابر کر لیتے ہیں . حنا : اب تم کہا جا رہے ہو . میں : میں زرا قاسم سے مل کر آٹا ہوں . . . تب تک تم کسی سے کچھ مت کہنا بس شادی كے لیے تییار ہو جاؤ . حنا : ٹھیک ہے لیکن شام تک تم آ جاؤگے نا . میں : ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) ہحممم . . . فکر مت کرو . حنا : ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) ٹھیک ہے جیسے تم کہو . میں : نازی تم نیچے جاؤ اور چھوٹے نییر کو لے کے تم مجھے حویلی كے پیچھے والے گاتے پر ملو . نازی : اچھا . . . اسکے بَعْد نازی اور میں حنا كے کمرے سے باہر نکل آئے . نازی واپس طائز قدموں كے ساتھ سییدحیو سے نیچے اُتَر گئی اور میں اس دربان كے ساتھ دوسری سییدحیا اترتا ہوا حویلی كے دروازے كے پیچھے كے رستے پر آ گیا . دربان : کیا بھائی کتنی دیر لگا ڈی تم نے میری تو جان نکل رہی تھی ڈر سے . میں : تمہارا بوحوت-بوحوت شکریہ تم نے میری بہت مدد کی ہے ( اپنی جیب سے کچھ اور پیسے نکلتے ہوئے ) یہ لو رکھو . دربان : نہیں بھائی تم نے پہلے ہی کافی پیسے دے دیئے ہیں میں : ارے رکھ لے یار تیرے کام آئینگے . دربان : ( نظری نیچے کرکے مسکراتے ہوئے ) شکریہ . . . اور کوئی کام ہو تو یاد کر لینا . میں : فکر مت کرو شام کو ہی تم سے اک اور کام ہے مجھے . دربان : اچھا . . . اسکے بَعْد ہم دونوں پیچھے كے رستے سے حویلی كے باہر نکل گئے اور واپس حویلی كے سامنے والے دروازے پر آ گئے وہاں سے میں اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا اور وہ دربان اپنی جگہ پر جاکے بیٹھ گیا . میں نے گاڑی اسٹارٹ کی اور واپس حویلی كے پیچھے كے دروازے کی طرف لے گیا وہاں نازی پہلے سے کھڑی میرا انتظار کر رہی تھی اس نے اک چھوٹے سے بچے کو بھی پکڑ رکھا تھا . میں نے جلدی سے گاڑی کا دروازہ کھولا اور اسکو اندر آنے کا اشارہ کیا وہ بنا کچھ بولے مسکرا کر گاڑی كے اندر بیٹھ گئی . نازی : ( مسکراتے ہوئے ) یہ دیکھو ہمارا چھوٹا نییر . . . سندر ہے نا میں بنا کچھ بولے اس بچے کو اپنے گاڈ میں اٹھایا اور اسکو دیکھنے لگا بہت ہی معصوم اور خوبصورت تھا اسکا ناک اک دم فضا جیسا تھا اور آنکھیں اک دم میرے جیسی . آخر تھا بھی تو میرا خون اسکو میں جی بھر كے دیکھتا رہا اور خوشی سے میری آنکھوں میں آنسو آ گئے میں نے اسکو اپنے چہرے كے قریب کیا اور اسکا ماتھا چوم لیا اور واپس نازی کو پکڑا دیا . اسکے بَعْد میں نے گاڑی کو اپنے پُرانے گھر کی طرف واپس گھوما دیا جہاں اب قاسم رہتا تھا . نازی : ہم کہا جا رہے ہیں نییر . میں : ہم قاسم سے ملنے جا رہے ہے . نازی : نہیں میں وہاں کبھی نہیں جائوں گی اس ذلیل انسان کا میں موح بھی نہیں دیکھنا چاہتی . میں : تمھارے سامنے ہی سارا حساب برابر کرکے جاؤنگا میں . نازی بنا کچھ بولے نظری جھکا کر بیٹھ گئی . کچھ ہی دیر میں میں نے گھر كے سامنے گاڑی کو روک دیا . میں : نازی تم یھی بیٹھو میں ابھی آٹا ہوں . نازی : ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) اچھا . اسکے بَعْد میں گاڑی سے اترا اور جاکے گھر كے دروازے كے سامنے کھڑا ہو گیا . میں نے 1-2 باڑ دروازہ خات-خاتایا جب کسی نے دروازہ نہیں کھولا تو میں نے اک جوردار لات دروازے پر ماری جسے جھٹکے سے دروازے کا اک حصہ ٹوٹ گیا اور ہوا میں لاتاکنی لگا دروازہ کھل گیا تھا میں بنا کچھ بولے اندر چلا گیا اور چاروں طرف دیکھنے لگا پُورا گھر ویسے کا ویسا تھا لیکن سامان کافی بَدَل گیا تھا توتی-پحوتی چھی جو کی جگہ نئی اور مہنگی چیجی آ گئی تھی . ابھی میں گھر کو دیکھ ہی رہا تھا کی اک عورت میری طرف بھاگ کر آئی . عورت : کون ہے تو اور اِس طرح میرے گھر میں گھسنے کی تیری ہمت کیسے ہوئی . میں : ( اس عورت کو گارڈن سے پکڑ کر اوپر ہوا میں اٹھاتے ہوئے ) جس گھر کو تو اپنا کہہ رہی ہے وہ میرا گھر ہے میرے بابا کا گھر جس پر تو اور تیرے مادرچود شوہر نے قبضہ کیا ہے اب یا تو تو اسکو باہر نکال نہیں تو میں تیری جان لے لونگا . عورت : ( ہوا میں پیر چلاتے ہوئے اور انگلی سے بابا كے کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) ودح . . . ودہاا . . . ودحااررر . . . . میں : ( بنا کچھ بولے اس عورت کو چھورتے ہوئے ) قاسسییمممم . . . . . باہر نکل . میرے جور سے اسکا نام پکارنے پر قاسم شراب كے نشے میں دحوتت لاد-خاداتا ہوا باہر آیا اسکے ہاتھ میں اب بھی شراب کی بوتتال تھی . قاسم : کون ہے اوئے . . . نییر تو یحا . . . . میں : میرے گھر والے کہا ہے قاسم . قاسم : کیا بتاو یار سب مر گئے میں نے ان کو بچانے کی بہت کوشش کی بابا تو میرے آنے سے پہلے ہی گزر چکے تھے فضا اور نازی بھی اک دن مر گئی . میں : ( غصے میں تیز قدموں كے ساتھ قاسم كے پاس جاکے اسکے موح پر تھپڑ مرتے ہوئے ) مادرچود جھوٹ بولتا ہے تونے مارا ہے میری فضا کو تونے گھر سے نکالا نازی کو در در کی ٹھوکر کھانے كے لیے سیل شرم آتی ہے کی تو اس فرشتے جیسے انسان کا بیٹا ہے . قاسم : میں . . . میں . . . میں کیا کرتا مجھے نبیلہ سے پیار جو تھا اور ویسے بھی فضا بہت گیری ہوئی لڑکی تھی سالی میری جیل جانے كے بَعْد دوسروں كے ساتھ سوتی تھی حرامزادی . میں : بحینچود اک باڑ اور تونے فضا کو گالی نکالی تو یھی گادح دونگا تجھے . قاسم : سالی بازارو کو بازارو ہی کہونگا نا پتہ نہیں کس کا پاپ میرے گلے ڈال رہی تھی کمینی . . . . اچھا ہوا مر گئی . ( ہیسٹ ہوئے ) میں : ( بنا کچھ بولے اپنی گن نکالی اور اسکے سر میں 2 فائر کر دیئے ) مادرچود . . . . اب بول . . . بول حرام خور فضا كے بڑے میں کیا بولیگا تو . . . . ( قاسم کی لاش کو لات مرتے ہوئے ) ایسی ہی لات ماری تھی نا فضا کو اب مار لات دکھا کتنی طاقت ہے تجھ میں دکھا مجھے . میں غصے میں پاگل ہو چکا تھا اور لگاتار اسکے پیٹ میں ٹھوکر مار رہا تھا مجھے اِس بات کی بھی پرواہ نہیں تھی کی وہ مر چکا ہے . تبھی مجھے نازی کی آواز سنائی ڈی . . . نازی : ( روٹ ہوئے ) بس کرو نییر وہ مر چکا ہے . میں : حرام خور فضا کو بازارو بولتا ہے . نازی : چلو یہاں سے تم کو میری قسم ہے چلو . میں بنا کچھ بولے ہاتھ میں گن پکڑے وہاں سے چلنے لگا تبھی میری نظر اس عورت پر پڑی جو زمین پر گیری پڑی تھی مجھے دیکھتے ہی وہ رینجتی ہوئے میرے پاس آ گئی اور میرے پیر پکڑ لیے . عورت : مجھے معاف کر دو مجھے جانے دو میں نے تو کچھ نہیں کیا . نازی : ( اس عورت کو لات مرتے ہوئے ) قاسم کو انسان سے جانور بنانے والی تو ہی ہے کمینی . میں : ( بنا کچھ بولے اپنی گن کو دوبارہ لوڈ کرتے ہوئے ) چلو نازی . . . ( یہ بولتے ہی میں نے 1 گولی اس عورت كے سر میں بھی مار ڈی اور نازی کو لے کے گھر سے باہر نکل آیا ) اسکے بَعْد ہم دونوں گاڑی میں آکے بیٹھ گئے اور نازی نے بچے کو اپنی گُڈی میں رکھ لیا اور فر سے میرے کاندھے پر سر رکھ کر رونے لگی . میں : چُپ ہو جاؤ نازی سب ٹھیک ہو جائیگا میں ہوں نا . نازی : مجھے سمجھ نہیں آ رہا میں کیا کہو نییر اک تم ہو جو غیر ہوکے بھی ہماری اپنے سے بڑھ کر نکالے اور اک یہ قاسم تھا جو میرا سگا بھائی ہوکے بھی اتنا بے غیرت نکلا . میں : ( نازی كے آنسو صاف کرتے ہوئے ) چلو چُپ ہو جاؤ اور مجھے بابا اور فضا كے پاس لے چلو ان کو مٹی دینا تو میرے نصیب میں نہیں تھا کم سے کم اک باڑ ان کو دیکھ کر آنا چاہتا ہوں . نازی : ( چُپ ہوتے ہوئے ) چلو گاv كے پُرانے کابراستان کی طرف گاڑی گھوما لو . اسکے بَعْد ہم دونوں پُرانے کابارستان کی طرف چلے گئے وہاں بابا اور فضا کی قبر كے پاس بیٹھ کر میں کافی دیر تک روتا رہا . کچھ دیر جی بھر كے روو لینے كے بَعْد اب کافی بہتر محسوس کر رہے تھا میں نے ان کے لیے خریدے ہوئے کپڑے انکی قبر پر ہی رکھ دیئے اور نازی كے پاس واپس آ گیا . نازی گاڑی كے پاس کھڑی تھی اور بچے کو چُپ کروا رہی تھی کیونکی شاید بچہ گولی کی آواز سے دَر گیا تھا اور لگاتار روو رہا تھا . نازی : نییر بہت بھوکا ہے کافی دیر سے اسکو دودھ نہیں ملا ہے اسلئے . میں : تو اب کیا کرے . نازی : ہمیں حویلی واپس جانا ھوگا وہاں میرے کمرے میں اسکی دودھ کی بوتتال ہے . میں : ٹھیک ہے ہم پہلے حویلی ہی چلتے ہیں . اسکے بَعْد میں اور نازی واپس حویلی كے پیچھے والے گاتے پر چلے گئے وہاں میں نے اپنی گاڑی کھڑی کی اور نازی كے پیچی-پیچی اسکے کمرے تک آ گیا . حویلی کا پچھلا حصہ اک دم خالی رہتا تھا اسلئے وہاں کسی كے آنے کا بھی ڈر نہیں تھا . اسلئے ہم بی-خاوف ہوکے نازی كے کمرے میں چلے گئے . نازی کا کمرا کچھ خاص نہیں تھا بہت چھوٹا سا کمرا تھا اور اک چارپائی كے علاوہ گنتی کا سامان تھا اور اک پرانا سا صندوق تھا جس میں شاید نازی اور بچے كے کپڑے تھے . میں جاکے سامنے پڑی چارپائی پر بیٹھ گیا اور نازی بچے کو بوتتال سے دودھ پلان لگی . دودھ پی کر کچھ ہی دیر میں وہ سو گیا . اسلئے نازی نے بچو کو چارپائی پر میرے ساتھ ہی لٹا دیا . میں : نازی مجھے بھی بھوک لگی ہے کچھ کھانے کو مل سکتا ہے . نازی : ( یہاں وہاں دیکھتے ہوئے ) تم رکو میں ابھی تمھارے لیے کچھ کھانے کو لاتی ہوں . اسکے بَعْد میں وہاں آرام سے بیٹھ گیا اپنے بچے کو دیکھنے لگا اور نازی كے آنے کا انتظار کرنے لگا . کچھ ہی دیر میں نازی اک پلیٹ كے ساتھ کمرے میں واپس آ گئی . نازی : ( مسکراتے ہوئے کمرے میں گھوستی ہوئے ) یہ لو جی كھانا آ گیا . میں : ( بنا کچھ بول مسکرا کر نازی سے پلیٹ لیتے ہوئے ) بہت بھوک لگی ہے یار کل رات سے کچھ نہیں کھایا میں نے . نازی : ( مجھ سے پلیٹ لیتے ہوئے ) ہٹو . . . میں کھلاتی ہوں . نازی نے مجھ سے پلیٹ لے لی اور خود مجھے اپنے ہاتھوں سے كھانا کھلانے لگی . میں نے بھی پلیٹ سے اک روتی اٹھائی اور سالان كے ساتھ روتی لگا کر نازی کو کھلانے لگا . ہم دونوں مسکرا رہے تھے اور اک دوسرے کو كھانا کھلا رہے تھے . كھانا کھانے كے بَعْد نازی نے برتن چارپائی كے نیچے رکھ دیئے اور ہم ہاتھ موح دھو کر واپس چارپائی كے پاس آ گئے اور بچہ سویا ہوا تھا اِس وجہ سے میں زمین پر ہی لیٹ گیا . نازی : ارے زمین پر کیوں لیٹ رہے ہو . میں : بچہ جاگ جائیگا اسلئے . . . نازی : رکو میں نیچے چادار بچھا دیتی ہوں پِھر تم آرام سے لیٹ جاؤ . اسکے بَعْد نازی نے زمین پر میرے لیے پرانی سی چادار بچھا ڈی اور میں اس پر لیٹ گیا کچھ دیر بَعْد نازی بھی میرے ساتھ آکے لیٹ گئی اور مجھے گلے سے لگا لیا . میں نے بنا کچھ بولے اسکو اک نظر دیکھا اور اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسکو اپنے اوپر لٹا لیا وہ بنا کچھ بولے میرے اوپر آ گئی اور میرے چہرے کو دیکھنے لگی . نازی : نییر تم اتنا وقت کہا تھے . میں : ( میں نے اپنی ساری اصلیت نازی کو بتا ڈی ) نازی : ہحممم تبھی میں سوچوں اتنی آسانی سے گولی کیسے چلا ڈی تم نے . میں : کیا تم مجھ سے ناراض ہو . نازی : کیوں ناراض کیوں ھونا ہے . میں : میں نے قاسم کو مر دیا اسلئے . . . نازی : میرے بس میں ہوتا تو میں اسکو کب کی مار چکی ہوتی اور تم نے کوئی غلط کام نہیں کیا اسکے جیسے گھٹیا انسان کو جینے کا کوئی حق نہیں تھا . لیکن نییر اک پریشانی ہو سکتی ہے . میں : کیا . . . . نازی : آج حنا کی شادی ہے تو یہاں بہت سے پولیکیوالی آئینگے نا اگر کسی کو پتہ چل گیا کی تم نے قاسم کو مارا ہے تو وہ لوگ تم کو پکڑ لینگے نا . . . میں : ( مسکراتے ہوئے ) آج کوئی بھی آ جائے مجھے پکڑ نہیں پائیگا اور تم دیکھنا شام کو تمھارے سامنے کتنے پولیکیوالو کو مار کر جاؤنگا میں یہاں سے . نازی : اپنا بھی خیال رکھا کرو تم کو کچھ ہو گیا تو تمھارے بَعْد میرا اِس دُنیا میں کون ہے بتاؤ . . . میں : ( مسکراتے ہوئے ) کیوں یہ چھوٹا نییر ہے نا . . . نازی : مذاق مت کرو نا تمہاری جگہ وہ تھوڑی لے سکتا ہے . اچھا ہاں یاد آیا تم تو مجھ سے ناراض تھے نا . میں : کس بات پر ناراض تھا مجھے تو یاد نہیں . نازی : بھول گئے . . . . میں : ( ساوالییا نظروں سے نازی کو دیکھتے ہوئے ) نہیں . . . مجھے نہیں یاد . . . نازی : تم کو میں نے تھپڑ مارا تھا اب یاد آیا . میں : ( کچھ یاد کرتے ہوئے ) ہاں یار میں تو بھول ہی گیا میں اب بھی تم سے ناراض ہوں . نازی : اچھا جی تو منانے كے لیے کیا کرنا پڑیگا . ( میرے سر میں اپنی انجالیا گھماتے ہوئے ) میں : جو پہلے کرتی تھی . ( مسکرا کر ) نازی : تم کبھی نہیں سدھر سکتے نا . . . میں : اب کیا کرے فطرت ہی کچھ ایسی ہے . نازی : اچھا ٹھیک ہے لیکن صرف اک ملے گا . میں : ٹھیک ہے تم اک ہی دے دو باقی میں خود لے لونگا . نازی : پہلے اپنی آنکھیں بند کرو مجھے شرم آتی ہے . میں : ( آنکھیں بند کرتے ہوئے ) ٹھیک ہے . . . . اسکے بَعْد نازی نے بنا کچھ کہے اپنے رسیلے ہوتھ میرے ہوتھ پر رکھ دیئے دھیرے دھیرے میں نے اپنے ہوتھ تھوڑے سے کھولے اور اسکے ہوتھو کو اپنے موح میں آنے کا رستہ دے دیا اور دھیرے دھیرے اسکے ہوتھ کو چُوسنے لگا . ساتھ ہی اپنے دونوں ہاتھ اسکی کمر پر رکھ دیئے . ہم کافی دیر اک دوسرے كے ہوتھ چُوستے رہے . نازی کی اور میرے دونوں کی سانسیں کافی تیز ہو گئی تھی اسلئے ہماری چومنے میں بھی شدت سی آ گئی تھی ہم دونوں اک دوسرے میں سماں جانے کو تییار تھے لیکن وہ جگہ ایسی نہیں تھی کی میں اسکے ساتھ کچھ کر سکتا اسلئے نا چاھتے ہوئے بھی میں نے خود کو قابو کیا اور اسکا چہرہ پکڑ کر خود سے الگ کیا لیکن نازی کی آنکھیں بند تھی اور وہ بہت جادا گرم ہو گئی تھی اسلئے بار بار میرے ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹا کر میرے ہوتھ چوس رہی تھی . اسلئے مجھے بھی خود کو قابو کرنا مشکل ہو رہا تھا نیچے سے میرا لنڈ بھی پینٹ پھاادنی کو تییار تھا . میں نے نازی کو کمر سے پکڑ کر نیچے لٹا دیا اور خود اسکے اوپر آ گیا . اب میں نے اسکو شدت سے چوم رہا تھا . وہ مجھے چوم رہی تھی اور باد-بادا رہی تھی . نازی : میں نے بہت انتظار کیا ہے تمہارا اب مجھ سے کبھی دور مت جانا . میں : ( نازی كے ہوتھ چُومتے ہوئے ) نہیں جاؤنگا . اسکے بَعْد میں نے نازی کا چہرہ چومنا شروع کر دیا اور چہرے سے ہوتے ہوئے میں اسکے گلے کو چومنے اور چُوسنے لگا . اس نے اک نظر مجھے دیکھا اور خود ہی میرا اک ہاتھ اپنے ممے پر رکھ دیا اور پِھر سے آنکھیں بند کر لی . اسکے بَعْد میں اسکے گلے کو چُوستے ہوئے اسکے ممے دبانے لگا نازی کی سانس اب کافی تیز ہو گئی تھی اور وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے میرے چہرے کو اپنے موممو پر دبا رہی تھی . میں نے اک ہاتھ سے کاندھے كے اک سائڈ سے اسکی قمیض کو نیچے کر دیا اور اسکے کاندھے کو چومنے اور چُوسنے لگا ساتھ ہی اپنے اک ہاتھ اسکی قمیض كے اندر ڈال کر اسکے پیٹ پر اپنا ہاتھ پھیرنی لگا . کچھ ہی دیر میں میرا ہاتھ بڑھتی ہوئے اسکے موممو كے اوپر آ چکا تھا اب میں اسکی برا كے اوپر سے ہی اسکے موممو کو دبا رہا تھا . نازی نیچے سے اپنی گانڈ اٹھا کر میرے لنڈ پر اپنی چوت کو رگڑ رہی تھی جسے میرا لنڈ بھی کھڑا ہونے کی وجہ سے دُکھنے لگا تھا . میں نے اپنا دوسرا ہاتھ بھی اسکی قمیض میں ڈال دیا اور اسکی برا کو اک جھٹکے سے قمیض كے اندر سے اوپر کر دیا جسے اسکے 1 / 2 ممے باہر آ گئے . اسکے نپل کسی تلوار کی طرح اک دم سخت ہو چکے تھے میں نے اپنی اک انگلی سے اسکے اک نپل کو ہلکا سا ہلایا اور پِھر اپنی انگلی اور انجوتحی کی مدد سے اسکے نپل کو پکڑ لیا اور مرودنی لگا . اسے شاید نازی کو بہت مزہ آیا تھا اسلئے اسکے موح سے اک تیز اہح نکل گئی . اس نے جلدی سے دونوں ہاتھ میری پیٹھ پر رکھے اور پیچھے سے میری قمیض کو پینٹ میں سے باہر کھینچنے لگے تھوڑے سے خیچااv سے میری قمیض پینٹ سے باہر آ گئی . اب اس نے اپنے دونوں ہاتھ میری قمیض كے اندر ڈال کر میری پیٹھ پر اپنے دونوں ہاتھ پھیرنی اور ناخن مارنے شروع کر دیئے . میں نے جلدی سے اسکی قمیض سامنے سے اوپر کردی جس میں نازی نے اپنی گانڈ اٹھا کر میری مدد کی قمیض اوپر ہوتے ہی اسکے گول گول ممے باہر آ گئے جس پر کسی بھوکی بچے کی طرف میں ٹوٹ پڑا اور انہیں چُوسنا شروع کر دیا . نازی آاہہح اُوں سسیی کرتی ہوئی میرا سر اپنے موممو پر دبا رہی تھی . میں اسکی نپل کو چوس اور کاٹ رہا تھا . مجھے اسکے نپل چُوسنے میں پریشانی ہو رہی تھی اسلئے میں نے اپنے ہاتھ دونوں پیچھے لے جا کر اسکی برا كے سٹاپ کو کھول دیا اور پِھر سے اسکے نپل چُوسنے میں لگ گیا . میں جانے کتنی دیر تک اسکے موممو کو چوستا رہا تبھی اس نے اپنے اک ہاتھ میرے کاندھے پر رکھا اور مجھے رکنے کا اشارہ کیا . میں نے اپنے چہرہ اوپر کرکے اسکو دیکھا اور رک گیا اور اسکے اوپر سے اٹھ گیا میرے ساتھ ہی وہ بھی اٹھ گئی اور میرے چہرے کو پکڑ کر فر سے میرے ہوتھ چُوسنے لگی اور ساتھ ہی میری شرط كے بٹن کھولنے لگی اسکا اک ہاتھ میری شرط كے بٹن کھول رہا تھا اور دوسرا ہاتھ میری چھاتی پر غم رہا تھا شرط کھولتی ہی اس نے جھٹکے سے میری شرط اُتار ڈی اور میری چھاتی پر چومنے لگی . میں نے بھی اسکی قمیض كے دونوں سییرو کو پکڑا اور اوپر کی طرف کھینچا جس پر اس نے اپنی دونوں بازو ہوا میں اوپر اٹھا ڈی پیچھے سے برا کھلی ہونے کی وجہ سے اسکی قمیض كے ساتھ اسکی برا بھی اُتَر گئی . اس نے اک نظر مجھے دیکھا اور نظری نیچی کرکے اپنے دونوں ہاتھ اپنی چھاتی پر رکھ لیے اور پِھر سے نیچے لیٹ گئی اور اپنی آنکھیں بند کر لی . میں واپس اسکے اوپر لیٹ گیا اور اسکے دونوں ہاتھ اسکی چھاتی سے ہٹا کر اپنی پیٹھ پر رکھ لیا اب اسکے دونوں ممے میری چھاتی كے نیچے دبی ہوئے تھے اور اسکے تییخی نپل مجھے اپنی چھاتی پر چُبھ رہے تھے . میں اسکا چہرہ چوم رہا تھا . کچھ دیر بَعْد میں پِھر سے نیچے کی طرف بڑھنے لگا اور اسکے کندہوں کو چومنے اور چُوسنے لگا . اسکا اب اک ہاتھ میری پیٹھ پر تھا اور دوسرا ہاتھ پیچھے سے میرے سر کو سہلا رہا تھا . اسکے نپل اِس وقت اک دم سخت ہوئے پڑے تھے اور باہر کو نکلے ہوئے تھے . میں نے اپنا اک ہاتھ اسکے اک ممے پر رکھا اور اسکے موممو کو اپنے ہاتھ سے پکڑ لیا . اب میں نے پکڑے ہوئے ممے پر اپنا چہرہ رکھا اور اسے شدت سے چُوسنے لگا میں اسکے نپل کو موح سے پکڑ کر چوس رہا تھا اور اپنے موح میں اندر کی طرف کھینچ رہا تھا جسکی وجہ سے اسکو انتہا مزہ آ رہا تھا اور اسکے موح سے سسس سسس نکل رہا تھا . نیچے سے اس نے اپنی دونوں تانجیی میری کمر پر رکھ لی تھی اور اپنی ٹانگوں کی مدد سے میری کمر کو جکڑ لیا تھا اب پینٹ كے اوپر سے میرے لنڈ کا نشانہ اسکی چوت كے اوپر تھا جس کو کی وہ اپنی گیلی ہوئی چوت سے بری طرح سے رگڑ رہی تھی . ادھر میرا لنڈ بھی اب باہر نکلنے کا رستہ تلاش کر رہا تھا اسلئے میں نے اپنی کمر کو تھوڑا سا اوپر اٹھا کر اپنی بیلٹ اور پینٹ كے بٹن کو اک ساتھ کھول دیا جس کو نازی نے اپنی ٹانگوں کی مدد سے میرے گھٹنے تک نیچے کر دیا . میرے لنڈ نے آزاد ہوتے ہی انڈرویئر میں اک ٹینٹ سا بنا لیا تھا جو سیدھا نازی کی شلوار كے اوپر سے اسکی چوت پر ٹھوکر مار رہا تھا . نازی کو شاید اِس ٹھوکر سے بی-ینتیحا مزہ مل رہا تھا اسلئے اس نے اپنے دونوں ہاتھ میری گانڈ پر رکھے اور میری گانڈ کو اپنی چوت پر دبانے لگی . میں نے دھیرے سے نازی كے کان میں کہا . . . . میں : شلوار بھی اُتار دوں . . . . نازی : ( بنا کچھ بولے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) ہحممم اسکے بَعْد میں نے جلدی سے اپنا انڈرویئر اور پینٹ دونوں کو اپنی ٹانگوں سے آزاد کیا اور اسکی شلوار کو نیچے کھینچنے لگا نازی نے بھی اپنی گانڈ اٹھ کے شلوار اترنے میں مدد کی . اب میں اور نازی دونوں اک دم جانام-جاات والی حالت میں تھے . نازی كے اوپر دوبارہ لیٹ طے ہی مجھے عیسی لگا جیسے لنڈ کو پانی میں ڈبو دیا ہو کیونکی نازی کی چوت بری طرح پانی چھوڑ رہی تھی اور پوری گیلی ہوئی پڑی تھی جس میں میرے لنڈ كے اوپر والے حیسو کو بھی اپنی پانی سے ناحلا دیا تھا میں نے تھوڑی سی اپنی گانڈ اوپر کی اور اپنے لنڈ کو چوت کی موری پر سیٹ کیا اور نازی کی طرف دیکھنے لگا . نازی : دَرْد نہیں ھوگا میں نے سنا ہے پہلی بار بہت دَرْد ہوتا ہے ؟ میں : ہحممم پہلی باڑ دَرْد ہوتا ہے اسکے بَعْد سب ٹھیک ہو جاتا پِھر بھی تم کو دَرْد ہو تو بتا دینا میں رک جاؤنگا ٹھیک ہے . نازی : اچھا . . . . اسکے بَعْد میں نے واپس اپنے لنڈ کو چوت كے نشانے پر رکھا اور چوت کی موری پر لنڈ سے دبائو بنین لگا . چوت سچ میں بہت ٹائیٹ تھی میرا لنڈ کی ٹوپی بھی اندر نہیں جا رہی تھی لنڈ بار بار پھسل کر اوپر کو چلا جاتا تھا . اسلئے میں نے نازی کی دونوں ٹانگوں کو پھیلا دیا اور لنڈ پر ڈھیر سارا تھوک لگا کر چوت پر تھوڑا سا جوردار نشانہ لگایا جسے لنڈ کی ٹوپی اندر چلی گئی اور نازی كے موح سے اک تیز سسسس کی آواز نکالی . میں کچھ دیر رک گیا اور نازی کا دَرْد کم ہونے کا انتظار کرنے لگا ساتھ ہی نازی کا چہرہ چومنے لگا . کچھ ہی دیر میں اسکا دَرْد غائب ہو گیا اور وہ پِھر سے میرے ہوتھو پر ٹوٹ پڑی اور بری طرح چُوسنے لگی . جب میں نے اسے بہتر حالت میں محسوس کیا تو میں نے تھوڑا جوردار اک اور جھٹکا مارا جسے 1 / 4 لنڈ اندر داخل ہو گیا اس نے پِھر سے دَرْد كے مارے اپنی آنکھیں بند کر لی اور میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر مجھے رکنے کا اشارہ کیا . میں پِھر سے کچھ دیر رک گیا اور اسکے نپلز کو چُوسنے لگا کچھ ہی دیر میں وہ تھوڑی بہتر لگنے لگی اور نیچے سے گانڈ ہلانے لگی جسے مجھے اندازہ ہو گیا کی اب اسکو پہلے سے بہت کم دَرْد ہو رہا ہے . اب میں اگے کو جور دے رہا تھا لیکن لنڈ آگے نہیں جا پا رہا تھا اسلئے میں نے اپنا لنڈ باہر نکال لیا اور پِھر سے ڈھیر سارا تھوک لنڈ پر لگایا اور لنڈ کو چوت میں داخل کر دیا لنڈ كے اندر جاتے ہی اسکے موح سے پِھر سے اک دَرْد بھری سسس آیییی کی آواز نکالی لیکن اب پہلے جتنا دَرْد نہیں تھا اب میں اگلے جھٹکے كے لیے کچھ دیر رک گیا اور اسکے نارمل ہونے کا انتظار کرنے لگا جب اسکا دَرْد پہلے سے کافی کم ہو گیا تو میں نے اپنے ہوتھ اسکے ہوتھ پر رکھ دیئے اور اسکے ہوتھ چُوسنے لگا کیونکی میں نہیں چاہتا تھا کی اگلے جھٹکے سے وہ چیخ پڑے اور اسکی آواز باہر کوئی سن لے اسلئے میں نے اسکو ہوتھو کو اپنے ہوتھو سے جکڑ لیا اور نیچے لنڈ کا اک جوردار جھٹکا مارا جسے لنڈ اسکی چوت کی سیل کو ٹوٹا ہوا اندر داخل ہو گیا اب قریب 1 / 2 سے جادا لنڈ اسکی چوت كے اندر تھا اور چوت کی دیوارو نے اسے بری طرح جکڑ رکھا تھا . میرا اندازہ سہی تھا لنڈ كے اندر جاتے ہی اس نے چیخنا چاہا تھا لیکن میرے ہوتھ اسکے ہوتھ كے اوپر ہونے کی وجہ سے اسکی آواز میری موح میں ہی دب گئی . وہ میرے کاندھے پر زور زور سے مرنے لگی اور ساتھ میں رونے لگی . میں : بس . . . بس . . . ہو گیا پُورا چلا گیا . نازی : سس آئی . . . باہر نکالو بہت دَرْد ہو رہا میں : بس 5 منٹ ویٹ کر لو لنڈ اندر جگہ بنا لے گا تو دَرْد بھی ختم ہو جائیگا . نازی : سس تھوڑی دیر كے لیے باہر نکال لو میری دَرْد سے جان جا رہی ہے . میں : ( نازی كے آنسو صاف کرتے ہوئے ) بس ہو گیا نا ابھی ٹھیک ہو جائیگا میں نے بولا تھا نا پہلی باڑ دَرْد ہوتا ہے اسکے بَعْد مزہ آئیگا . اسکا دھیان دَرْد سے ہٹانے كے لیے میں واپس اسکے ہوتھ اور چہرے کو چومنے لگا اسکو شاید کافی دَرْد ہو رہا تھا اسلئے اب وہ میرا ساتھ نہیں دے رہی تھی میں بنا ہیلے اسکے اوپر لیتا رہا اور اک باڑ پِھر سے اسکے نپلز کو چُوسنے لگا کیونکی میں جانتا تھا اسکے ممے ہی اسکا سب سے ویک پارٹ ہے جہاں اسکو سب سے جادا مزہ آٹا ہے . کچھ ہی دیر میں اسکا دَرْد اب پہلے سے کم ہو گیا اور اس نے بھی نیچے سے اپنی گانڈ کو اوپر کی طرف اٹھانا شروع کر دیا . نازی : اب اور اندر مت کرنا آگے ہی بہت دَرْد ہو رہا ہے بس اتنے سے ہی کر لو . میں : اچھا ٹھیک ہے اور اندر نہیں کرونگا . اب میرا لنڈ جتنا اندر تھا میں اسی کو تھوڑا سا باہر نکلتا اور پِھر سے پہلے جتنا ہی اندر کر دیتا کچھ دیر اسکو جھٹکو سے دَرْد ہوتا رہا لیکن پِھر اسکی چوت نے میرے لنڈ كے لیے رستہ کھول دیا اور اسکی چوت کی دیواروں کی پکڑ بھی پہلے سے ڈھیلی ہو گئی تھی . کچھ ہی دیر میں اسکو بھی مزہ آنے لگا اب وہ بھی میرا تھودا-تھودا ساتھ دینے لگی تھی لیکن جور سے جھٹکا نہیں مرنے دے رہی تھی شاید اسکو دَرْد ہو رہا تھا . میں اب اپنے لنڈ کو اسکی چوت میں جہاں تک جا سکتا تھا بنا دَرْد كے ڈالا اور اپنی گانڈ کو گول گول گھمانے لگا جسے اسکو بے حد مزہ آنے لگا . اب اس نے بھی اپنی دونوں تانجیی اٹھا لی تھی اور واپس میری کمر پر اپنی دونوں ٹانگوں کو لپٹ لیا تھا . نازی : ہاں ایسی ہی کرو مزہ آ رہا ہے جھٹکا مت مرنا دَرْد ہوتا ہے . میں : ہحممممم کچھ ہی دیر میں اسکو بے حد مزہ آنے لگا اور وہ فارغ ہونے كے قریب پوحونچ گئی . نازی : تیز کرو مجھے مزہ آ رہا ہے . میں : ہمممم اسکے بَعْد میں نے دھیرے دھیرے جھٹکے لگانے شروع کر دیئے کچھ دیر جھٹکے لگنے كے بَعْد اب اسکو بھی مزہ آنے لگا تھا اسلئے اب میں تھوڑا تیز-تیز جھٹکے مارنے لگا اور لنڈ کو بھی جتنا ہو سکتا تھا اندر سے اندر تک ڈالنے لگا . کچھ ہی دیر میں وہ فارغ ہو گئی اسکی گانڈ ہوا میں اکڑ گئی اور پِھر دھڑاام سے زمین پر گر گئی شاید وہ فارغ ہو چکی تھی اسلئے اب اسکی تانجیی بھی کانپ رہی تھی . میں کچھ دیر اسکی کمر پر ہاتھ فیرتا رہا اور اسکے نپل کو چوس کر پِھر سے اسے گرم کرنے لگا ساتھ ساتھ نیچے سے جھٹکے بھی مرتا رہا . اب میرا پُورا لنڈ اسکی چوت میں جا رہا تھا لیکن اسکو دَرْد نہیں ہو رہا تھا بلکہ مزہ آ رہا تھا اسلئے میں نے اسکی کمر كے نیچے ہاتھ ڈَلا اور چوت میں لنڈ ڈالے ہی پلٹ گیا اب وہ میرے اوپر تھی اور میں اسکے نیچے تھا اسکو کچھ سمجھ نہیں آیا کی کیا کرنا ہے اسلئے وہ مجھے ساوالیا نظروں سے دیکھنے لگی . میں : میرے لنڈ پر اوپر نیچے کرو اپنی چوت کو وہ کافی دیر کوشش کرتی رہی لیکن اسے ہوا نہیں سہی سے اسلئے میں نے اسکو اپنے اوپر لٹا لیا اور اسکی گانڈ پر ہاتھ رکھ کر اسکی گانڈ کو تھوڑا سا اوپر کو اٹھا دیا جسے میں نیچے سے جھٹکے لگا سکو میرے عیسی کرنے سے شاید اسکو اور بھی جادا مزہ آ رہا تھا اسلئے وہ میرے اوپر لیتی میری چھاتی کو چوم رہی تھی . کچھ ہی دیر میں وہ پِھر سے اپنی منزل كے قریب آ گئی اور جھٹکے کھاتے ہوئے میرے اوپر ہی فارغ ہوکے میری چھاتی پر ڈھیر ہو گئی اور تیز-تیز سانس لینے لگی . میں بھی اپنی مازیل كے قریب ہی تھا اسلئے میں رکنا نہیں چاہتا تھا اسلئے تیز-تیز جھٹکے مارنے جاری رکھے لیکن شاید اب اسکو دَرْد ہو رہا تھا . نازی : جھٹکے مت دو اب دَرْد ہو رہا ہے ویسی ہی پہلے جیسے جول-جولو کرو اس میں مزہ آٹا ہے . میں : ٹھیک ہے اسکے بَعْد میں اپنی گانڈ کو گول گول گھمانے لگا جسے لنڈ اندر چوت کی دیواروں ٹکرا رہا تھا . نازی : اندر جلن ہو رہی ہے اسکو پِھر سے گیلا کر لو نا . میں : ہحممم میں لنڈ کو چوت سے باہر نکالا اور اپنے ہاتھ پر ڈھیر سارا تھوک اکھٹا کرکے اپنے لنڈ پر لگا لیا اب میں نے لنڈ کو پِھر سے چوت كے نشانے پر رکھا اور دھیرے دھیرے اندر باہر کرنے لگا جسے نازی کو پِھر سے دَرْد ہونے لگی اسلئے اس نے سسس كے ساتھ اپنی پِھر سے آنکھیں بند کر لی . لنڈ ڈالنے كے بَعْد میں کچھ دیر ویسی ہی چوت میں لنڈ ڈالے پڑا رہا جب نازی کا دَرْد کم ہو گیا تو میں نے پِھر سے جھٹکے لگانے شروع کر دیئے اِس باڑ نازی بھی اپنی گانڈ کو نیچے کی طرف دبا رہی تھی اور ساتھ میں میرے ہوتھ چوس رہی تھی ہم دونوں ہی اب مازیل كے قریب تھے کچھ تیز اور زوردار جھٹکو كے ساتھ میں اور نازی دونوں اک ساتھ اپنی مازیل كے قریب پوحونچ گئے میرا لنڈ اک كے بَعْد اک جھٹکے سے پیچاریان مارنے لگا اور میرا سارا مال نازی کی چوت کی جیحراییو میں اترنے لگا میرے لنڈ کی ہر پیچاری كے ساتھ وہ مزے سے سسس آں سسس ووہ کر رہی تھی ہم دونوں بری طرح حاانف رہے تھے اور ہسینے سے بھیگے پڑے تھے وہ میری چھاتی پر سر رکھ کر اپنی سانس کو درست کرنے لگی کچھ دیر میں ہی ہم دونوں اک دم نارمل ہو گیا تھے اور میرا لنڈ بھی اپنی خورااک ملنے كے بَعْد شانت ہوکے بیٹھ چکا تھا . سانس كے درست ہونے كے بَعْد نازی میرے اوپر سے اٹھی اور میرا لنڈ پووکک کی آواز سے اسکی چوت سے باہر نکل آیا ساتھ ہی میرا اور اسکا مال بھی اسکی چوت سے بہتا ہوا میری ران پر گرنے لگا . ساتھ ہی میرے کانو میں نازی کی آواز تاکرایی . . . . نازی : ہائے یہ خون کہا سے آ گیا . میں : تمہارا نکلا ہے . . . جب پہلی باڑ کرتے ہیں تو نکلتا ہے . نازی : اتنا سارا خون . میں : کچھ نہیں ہوتا پہلی باڑ عطا ہے . اسکے بَعْد وہ بنا کچھ کہے کھڑی ہوئی اور ادھر اُدھر دیکھنے لگی اور پِھر صندوق کھول کر اک کپڑا اٹھا لائی جسے پہلے اس نے میری ران صاف کی اور پِھر اسی کپڑے سے اپنی چوت کو اچھے سے صاف کیا میں لیتا اسکو دیکھ رہا تھا اور مسکرا رہا تھا . وہ بھی مجھے دیکھ رہی تھی اور مسکرا رہی تھی . نازی : یہ کیا کیا ہے . . . . گندے کہی كے . . . . ( موح بنا کر ) میں بنا کچھ بولے اسکو دیکھ کر مسکرا رہا تھا . پِھر اس نے جلدی سے اپنے کپڑے اٹھائے اور کمرے میں ہی اک کون پر جاکے اپنی چوت کو پانی سے دھو کر صاف کرنے لگی . میں بھی کھڑا ہوا اور اسکے پیچھے چلا گیا اس نے پانی ڈال کر میرے لنڈ کو بھی اچھے سے صاف کیا جو کی اسکے خون اور ہم دونوں كے مال سے بھرا پڑا تھا . اسکے بَعْد ہم نے کپڑے پہنے اور واپس اسی چادار کی اک طرف جہاں صاف تھی وہاں جاکے لیٹ گئے نازی اِس باڑ بھی میرے اوپر ہی لیتی تھی اور میری چھاتی پر ہاتھ فیر رہی تھی . اب میں آنکھیں بند کیے لیتا تھا اور خان كے آنے کا انتظار کر رہا تھا کی کب خان آئے اور اسکو مار کر میں اپنے بوسینیس کا لوس اور میرے پریوار كے ساتھ ہوئی زادتی کا بدلہ لے سکو . میں نازی كے ساتھ سیکس کرکے کافی تھک گیا تھا اسلئے کچھ ہی دیر میں مجھے نیند نے اپنی آغوش میں لے لیا . ابھی مجھے سوئے ہوئے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کی میری جیب میں پڑا میرا فون بجنے لگا جسے اچانک میری جاگ کھل گئی . میں نے اپنے اوپر لیتی نازی کو جلدی سے سائڈ پر کیا اور خود بیٹھ کر جیب میں ہاتھ ڈال کر فون دیکھنے لگا . میں نے فون دیکھا تو ڈسپلے پر رسول لکھا تھا . میں نے جلدی سے فون کان کو لگایا اور نازی كے پس بیٹھ کر ہی رسول سے بات کرنے لگا . میں : ہاں رسول بھائی کیا حال ہے . رسول : میں خیریت سے ہوں بھائی تم کیسے ہو . میں : میں بھی ٹھیک ہوں . بتاؤ کیسے فون کیا تھا . رسول : بھائی مجھے ابھی خبر ملی ہے کی تمہارا شکار خان کی آج شادی ہے اور وہ اک گاv میں جا رہا ہے . میں : ( ہستے ہوئے ) یار تمہاری گارڈن بَدی لمبی ہے وہاں بیٹھے ہوئے بھی سب جگہ موح مارتے رہتے ہو . رسول : ( ہستے ہوئے ) بھائی میں تو تمہارا کام ہی آسان کر رہا ہوں جلدی سے سولتانپورا كے لیے نکل جاؤ وہاں آج خان ضرور آئیگا شادی کرنے كے لیے . میں : تمھارے خاباری نے تم کو یہ نہیں بتایا کی میں کہا ہوں . رسول : کہا ہو بھائی . . . ؟ میں : میں اِس وقت خان كے کبھی نا ہونے والے سسرال میں بیٹھا اسکا انتظار کر رہا ہوں . رسول : واہ . . . کیا بات ہے چاہ گئے یار شیرا بھائی . . . . لیکن یار تم کو پتہ کیسے چلا کی خان آج سولتانپورا آئیگا . میں : قسمت بھی کوئی چیج ہوتی ہے یار میں تو یہاں کچھ اور کام سے آیا تھا لیکن سالا پنگا کچھ اور ہی ہو گیا پِھر مجھے خان کا پتہ چلا تو میں یھی رک گیا . رسول : بھائی تم کو وہاں کس آدمی سے کام پڑ گیا اور وہاں تمہارا کون ہے . میں : یار یہ وہی گاv ہے جہاں مجھے نئی زندگی ملی تھی میں تو یہاں ان فرشتوں سے ملنے آیا تھا لیکن یہاں جب خان کا پتہ چلا تو میں یھی رک گیا . رسول : اچھا . . . تو یہ بات ہے . . . . بھائی آپکو کچھ بتانا تھا . میں : وہ چھوڑ پہلے میری بات سن . . . تجھ سے اک کام تھا یار رسول : حکم کرو بھائی جان حاضر ہے . میں : اصل میں یار اک پنگا ہو گیا ہے . رسول : کیا ہوا بھائی سب خیریت تو ہے . میں : ( کھڑا ہوکے کمرے سے باہر جاتے ہوئے ) یار اک منٹ ہولڈ کر . . . ( نازی کو دیکھتے ہوئے ) نازی تم رکو میں زرا بات کرکے آیا نازی : ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) ہحممم میں : یار رسول دراصل پنگا یہ ہوا ہے کی جس لڑکی سے خان کی شادی ہونے والی ہے وہ لڑکی مجھ سے پیار کرتی ہے اور وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہے اور جنہوں نے میری جان بچایی تھی وہ بھی اب اِس دُنیا میں نہیں رہے بیچاری انکی لڑکی اک دم اکیلی ہو گئی ہے . رسول : بھائی تو اس میں سوچنا کیسا آپ ان کو بھی یھی لے آؤ نا خان کو مرنے كے بَعْد . میں : وہی تو بتا رہا ہوں نا یار . . . . راسول : جی بھائی بولو . . . میں : خان یہاں اکیلا نہیں آئیگا اسکے ساتھ کافی لوگ ہونگے اگر مجھے کچھ ہو جائے تو ان دونوں کو میں وہاں گاv میں تمھارے پاس بھیج دونگا تم انکا خیال رکھنا . رسول : بھائی کیسی بات کر رہے ہو تم کو کچھ نہیں ھوگا تم ان کو خود لے کے آؤ گے اور مجھے تمھارے نشانے پر پُورا اعتبار ہے اور فر مجھے لگا شاید تم کو پتہ نہیں ھوگا اسلئے میں نے اس گاv میں اپنے کچھ آدمی بھی بھیجے ہیں جو آپکی مدد کر سکے . میں : ( حیران ہوتے ہوئے ) کیا . . . . کونسے آدمی کون لوگ آ رہے ہیں یہاں . . . رسول : بھائی مجھے لگا آپکو شاید پتہ نہیں ھوگا اسلئے ہم ہی خان کا گیم بجا دینگے اسلئے میں نے وہاں اپنے لوگ بھیج دیئے ہیں . میں : اچھا کیا اب مقابلہ برابری کا ھوگا وہ لوگ کب تک یہاں پوحونچ جائینگے . رسول : بھائی آپ لالہ کو فون کرکے پوچھ لو نا اپنے تمام لوگوں كے ساتھ وہی آ رہا ہے اب تو شاید پوحونچنی والے بھی ہونگے . میں : اچھا . . . چلو ٹھیک ہے اب تم فون مت کرنا . . . . ہم جلد ہی ملیں گے . اسکے بَعْد میں نے فون رکھ دیا اور آنے والے لمحے كے بڑے میں سوچنے لگا شام ہو چکی تھی پوری حویلی کسی نایی-ناویلی دلہن کی طرح روشنی سے جاج-ماجا رہی تھی خان كے بھی آنے کا وقت ہو گیا تھا . ابھی میں اپنی سوچو میں گم تھا کی پیچھے سے اچانک مجھے نازی نے پکڑ لیا اور میری پیٹھ پر اپنا سر رکھ لیا اور ویسے ہی مجھ سے چپک کر کھڑی ہو گئی . نازی : میں نے سب سن لیا ہے . . . جو کچھ تم اپنے دوست کو کہہ رہے تھے میں : ( پلٹ طے ہوئے ) کیا سن لیا ہے . . . نازی : میں تم کو اک بات بہت اچھے سے بتا دیتی ہوں میرا اِس دُنیا میں تمھارے اور نییر كے سوائے کوئی نہیں ہے اگر تم نے مجھے اکیلے کہی بھیجنے کا سوچا بھی تو میں خود اپنی جان لے لونگی . میں : بکواس مت کرو . . . . میں نے جو بھی کیا وہ صرف تمہاری حنا کی اور نییر کی سیفٹی كے لیے کیا تم جانتی ہو باہر خان كے کتنے لوگ آ گئے ہونگے . باہر کچھ بھی ہو سکتا ہے یار . نازی : مجھے نہیں پتہ جائینگے تو سب ساتھ جائینگے نہیں تو میں بھی نہیں جائوں گی . میں : یار نیچے جب جولیان چلنا شروع ہونگی تو میں تم تینوں کو سامبحالونجا یا انکا مقابلہ کرونگا . نازی : ( موح پھیرتا ہوئے ) مجھے کچھ نہیں پتہ . . . میں : اچھا بابا ٹھیک ہے جیسی تمہاری مرضی . . . اب تو خوش . . . . نازی : ( ہاں میں سر حیلاکی مسکراتے ہوئے مجھے گلے سے لگا کر ) ہحممم . . . تبھی پاتاخو کی اور ڈھول كے ناجادو کی آواز سنائی دینے لگی اور لوگوں کا شور-شارابا بھی سنائی دینے لگا . میں : لگتا ہے وہ لوگ آ گئے ہیں . . . چلو اب تم جلدی سے تییار ہو جاؤ تب تک میں گاڑی میں سے اسلا اور جولیان لے آٹا ہوں ٹھیک ہے . نازی : ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) اچھا . . . میں : کچھ بھی ہو جائے تم حویلی کی اس طرف نہیں آوجی سمجھ گئی تم نییر کو لے کے گاڑی میں بیٹھو میں حنا کو لے کے آٹا ہوں تم گاڑی كے پاس ہی ہمارا انتظار کرنا . . . . نازی : ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) ٹھیک ہے . . . . اپنا خیال رکھنا . میں نے بنا کچھ بولے اک نظر نازی کو مسکرا کر دیکھا فر پالاتکار جہاں نییر سویا ہوا تھا وہاں گیا اسکے ماتھے کو چُوما اور واپس دروازہ کھول کر تیز قدموں كے ساتھ باہر کی طرف نکل گیا . چھوٹے گاتے سے باہر جانے سے پہلے میں نے اک باڑ پِھر پلٹ کر دیکھا نازی اب بھی مجھے ہی دیکھ رہی تھی اسکے چہرے سے میرے لیے فکر صاف دکھائی دے رہا تھا . اسکے بَعْد میں باہر آیا اور اپنی گاڑی کی ڈگی میں سے حاتحیار نکلنے لگا . میں نے جلدی سے اپنا بیگ کھولا اس میں سے جلدی سے اک پین اور اک کاغذ کا ٹکڑا نکالا جس پر میں نے اپنے گاv تک جانے کا پتہ اور رستہ لکھا اور اسے اپنی جیب میں ڈال لیا . میں من ہی من دعا کرنے لگا کی اسکی ضرورت نا پڑے . اب میرا اک ہی ٹارگٹ تھا خان اور اسکے آدمی اسلئے اب میری کہی ہوئی بات پوری کرنے کا وقت آ گیا تھا . . . . یا تو مرنا تھا یا مار دینا تھا . میں نے اپنے بیگ میں سے اپنے کپڑے اک سائڈ پر کیے اور جلدی سے 2 پستول اٹھائی اور اسکی ماجزینی چیک کرکے میں نے دونوں پستول کو اپنے جوتوکی زوراابو میں ڈال لیا اک ریوالور میں میں نے جولیان بھری اور اسکے اپنی پینٹ میں بیلٹ كے پاس فیتت کر لیا . اب میرے پاس بیگ میں صرف 3 پستول ہی بچی جن میں سے اک کو میں نے کار كے آگے والے حصے میں اسٹایرینج ویل كے پاس رکھ دیا اور باقی 2 پستول کو میں نے اپنی پینٹ كے پیچھے والے حصے میں ٹانگ لیا اور اپنی شرط باہر نکال لی جسے کسی کو میری پستول نظر نا آئے . اسکے بَعْد میں نے گاڑی کی ڈگی کو بند کیا فر میں نے جلدی سے لالہ کو فون کیا کچھ ہی پل میں اس نے فون اٹھا لیا . میں : کہا ہے لالہ . . . لالہ : ( خوش ہوتے ہوئے ) بھائی خان کا کام کرنے جا رہا ہوں . . . سولتانپورا گاv میں . میں : خان کو مارنے كے لیے . . . لالہ : ہاں بھائی . . . کیوں مانتی ہو نا اپنے بھائی كے دماغ کو . . . تم اسکو کاحا-کاحا ڈھونڈ رہے تھے اور میں نے اسکو اک جھٹکے میں ڈھونڈ لیا . میں : میں سولتانپورا میں ہی ہوں تم جلدی سے جلدی یہاں پوحونچو شام ہونے والی ہے اور میں تمہارا ہی انتظار کر رہا ہوں . لالہ : بھائی اس کا مطلب تم پہلے سے وہی موجود ہو . میں : لالی جس اسکول میں تو مجھے پڑھا رہا ہے وہاں کا پرنسپل آج تک مجھ سے ٹیوشن لیتا ہے جو تم لوگ سوچتے ہو اسے پہلے وہ بات میں سوچ چکا ہوتا ہوں . لالہ : ( ہستے ہوئے ) بس بھائی اب تو گاv كے پاس ہی ہیں ہم کچھ ہی دیر میں پوحونچ جائینگے آپ بس ہمارا انتظار کرو ہم کچھ ہی دیر میں آ رہے ہیں . میں : ٹھیک ہے تم اندر ہی آ جانا میں اندر جا رہا ہوں . لالہ : پاگل جیسی بات مت کر یار بھائی تو اکیلا ہے اندر خان كے بہت لوگ ہونگے . میں : اب تو کتنے بھی لوگ ہو . . . بابا کی دعا سے آج میں سب پر اکیلا بھی بھاری ہوں . لالہ : بھائی بات تو سنو . . . اسکے بَعْد میں نے بنا اسکی کوئی بات سنے فون رکھ دیا اور بھاگتا ہوا حویلی کی آگے کی طرف چلا گیا جہاں گاتے پہلے سے کھلا ہوا تھا اور کافی لوگ دروازے كے سامنے کھڑے تھے . میں ان لوگوں كے ہوتے ہوئے اندر نہیں جا سکتا تھا کیونکی لوگ میری امید سے بھی جادا تھے . میں جلدی سے اک پیڑ كے پیچھے چھپ گیا اور سہی موقی کا انتظار کرنے لگا . تھوڑی دیر بَعْد اک پولیس والا مجھے پیڑ کی جانب آٹا ہوا دکھائی دیا اسلئے میں جلدی سے پیڑ کا تنا پکڑ کر اوپر چڑھ گیا . وہ آدمی جھومتا ہوا آ رہا تھا شاید وہ نشے میں تھا اس نے چاروں طرف دیکھا اور فر اپنی پینٹ کی زیپ کھول کر اسی پیڑ كے سامنے پیشاب کرنے لگا جسکے اوپر میں بیٹھا تھا . مجھے اک ترکیب سوجی میں نے جلدی سے اپنی تانجیی پیڑ کی شاخ میں پھاسایی اور اُلٹا ہوکے اس آدمی کو گارڈن سے پکڑ لیا اور اوپر کو خینچکار اسکی گارڈن کو جھٹکے سے مرود دیا وہ آدمی بنا کوئی آواز کیے وہی مر گیا اسکے بَعْد میں نے اس آدمی کو بھی پیڑ كے اوپر کھینچ لیا . فر اسکے سارے کپڑے وتاری اور اسکے کپڑے خود پہن لیے وہ آدمی وردی میں تھا اسلئے اگر اسکی وردی میں پہن لیتا تو مجھ پر کوئی بھی شاق نہیں کر سکتا تھا . لیکن مسئلہ اب پستول کو رکھنے کا تھا کیونکی شرط اندر کرنے کی وجہ سے پستول باہر سے دکھائی دے سکتی تھی اسلئے میں نے 2 پستول کو واپس اپنے جوتو میں ڈال لیا اور 2 پستول کو شرط كے اندر ویسے ہی رکھ لیا اور 1 پستول کو میں نے اپنی ٹوپی كے نیچے رکھ لیا . اب 3 پستول بچی تھی 2 میری خود کی اور اک اس پولیکیوالی کی سروس ریوالور جو شاید اندر میرے کام آ سکتی تھی . میں جلدی سے پیڑ سے نیچے اترا اور 2 ریوالور کو وہی پاس ہی اک جحادیو میں رکھ دیا اور 1 اس پولیکیوالی کی ریوالور جو اسکی وردی میں ہی فیتت تھی اسکو ویسے ہی رہنے دیا . اب میں بنا کوئی آواز کیے سامنے کھڑی بھیڑ میں شامل ہو گیا اور ان لوگوں كے ساتھ میں بھی اندر گھس گیا اب میں چاروں طرف دیکھ رہا تھا لیکن میری نظارے صرف خان کو ہی ڈھونڈ رہی تھی . تبھی اک پولیکیوالا میرے پاس آیا اور میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ دیا . آدمی : بھائی ماچس ہے کیا سگراتتی جلانی ہے . میں : ( نا میں سر ہلاتے ہوئے ) نہیں . . . ( میں نہیں چاہتا تھا کی وہ پولیکیوالا میرا چہرہ دیکھے اسلئے اسکی طرف پیٹھ کرکے ہی کھڑا رہا ) آدمی : کونسے ڈیپارٹمنٹ سے ہو جناب . . . . میں : نارکوتیکس ڈیپارٹمنٹ آدمی : نارکوتیکس سے تو میں بھی ہوں کیا نام ہے بھائی ( مجھے پلٹ طے ہوئے ) میں : ( اسکی طرف پلٹ طے ہوئے ) شیراا . . . . آدمی : ( اپنی پستول نکل کر میرے سر پر تانتی ہوئے ) کون ہے اوئے تو . . . میں : ( اسکے موح پر ہاتھ رکھ کر اسک سر میں جور سے کہنی مارتے ہوئے ) تیرا باپ . . . وہ آدمی بے ہوش ہوکے وہی گر گیا وہاں کافی لوگ تھے اسلئے میں نے اسکو کاندھے كے سہارا دیکی اپنے ساتھ کھڑا کر لیا اور اسکو کہی گرانے کی جگہ دیکھنے لگا . پاس ہی مجھے اک بڑا سا پھول دان نظر آیا میں نے اسکو اسکے پیچھے گرا دیا اور اندر چلا گیا جہاں جشن کا ماحول تھا سب لوگ ہاتھ میں جام لیے کھڑے تھے . میری نظارے چاروں طرف خان کو ڈھونڈ رہی تھی لیکن خان مجھے کہی بھی نظر نہیں آ رہا تھا . میں وقت ضایع نہیں کرنا چاہتا تھا اسلئے حل كے چاروں طرف گھومنے لگا اور وہاں کھڑے لوگوں كے حاتحیارو کا جاییزا لینے لگا جسے مجھے یہ پتہ چل سکے کی مجھ پر کتنے لوگ جولیان چلا سکتے ہیں . وہاں جاداتار لوگ تو ساڈے کپڑے میں ہی نظر آ رہے تھے صرف گنتی كے کچھ ہی لوگ تھے جو میری طرح وردی میں موجود تھے . میں نہیں چاہتا تھا کی جب میں خان پر گولی چالاو تو مجھ پر بھی جولیو کی باریش شروع ہو جائے اسلئے میں نے اک اک کرکے سب کو خاموشی سے ختم کرنے کا سوچا . میں جلدی سے جاکے اک پردے كے پیچھے چھپ گیا جہاں 2 پولیکیوالی کھڑے تھے . میں ان کے پیچھے سے گیا ان کے موح پر ہاتھ رکھا اور زور سے انکا سر خامبی میں مارا جسے وہ دونوں بے ہوش ہو گئے اسکے بَعْد میں نے دونوں کو پردے كے پیچھے ہی کھینچ لیا اور وہی گرا دیا اسکے بَعْد میں پردے كے پیچھے سے ہوتا ہوا آگے بڑھا تو مجھے اک اور آدمی وردی میں نظر آیا . میں نے جلدی سے جاکے اسکو بھی پیچھے سے پکڑ لیا اور اپنی دونوں باجو میں اسکی گارڈن کو پکڑ کر جھٹکے سے توڑ دیا اور اسکو بھی پردے كے پیچھے کر دیا . اب میں آگے نہیں جا سکتا تھا کیونکی آگے پردہ نہیں تھا اور لوگوں کی کافی بھیڑ بھی تھی اسلئے میں نے چاروں طرف نظر داودایی اور سامنے مجھے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے نظر آئے میں چپ چاپ جاکے ان لوگوں میں ہی بیٹھ گیا اور کسی کو شاق نا ہو اسلئے اک جام اپنے ہاتھ میں لوگوں کو دکھانے كے لیے پکڑ لیا . کچھ دیر وہاں بیٹھے رہنے كے بَعْد مجھے سییدحیو سے نیچے اترتا ہوا خان نظر آیا وہ سامنے جاکے سٹیج پر بیٹھ گیا اسکے پاس ہی چوہدری ( حنا کا باپ ) بھی کھڑا تھا . میرے پاس اچھا موقع تھا اسے مارنے کا لیکن میں چاہتا تھا کی اسکو پہلے پتہ چلے کی اسکو کیوں مارا گیا اسلئے میں نے اپنا ہاتھ پستول سے ہٹا لیا اور موح نیچے کرکے بیٹھ گیا ٹاکی وہ مجھے دیکھ نا سکے . ابھی مجھے وہاں بیٹھے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کی اک ہاتھ میرے کاندھے پر پڑا اور پیچھے سے آواز آئی . . . آدمی : اوئے خابیز تجھے یہاں بڑے لوگوں میں بیٹھنے کو کس نے بولا ہے چل باہر دفعہ ہو اور سکیورٹی کا خیال رکھ سیل کو ڈرو پینے کی پڑی ہے . میں : ( بن کچھ بولے اپنی کرسی سے کھڑا ہوتے ہوئے ) جی جناب . میں اُٹھ کر باہر جانے لگا تو اس آدمی نے پیچھے سے اک پستول میری پیٹھ پر رکھ ڈی . آدمی : اپنے آپ کو بہت ہوشیار سمجھتا ہے شیراا . . . تجھے کیا لگتا ہے تو یہاں آکے ہماری لوگوں کو ماریجا اور ہم کو پتہ بھی نہیں چلے گا اب بنا کوئی آواز کیے چپ چاپ میرے ساتھ چل نہیں تو یھی گولی مار دونگا . میں بنا کچھ بولے اسکے آگے چلنے لگا . وہ مجھے سییدحیو سے اوپر کی طرف لے گیا میں نہیں جانتا تھا کی وہ آدمی کون ہے اور مجھے کیسے جانتا ہے . میرے سیڑھیاں چادحتی ہوئے اس نے میری کمر پر لٹکی پستول بھی اُتار لی اور میری کمر پر ہاتھ رکھ کر چیک کرتے ہوئے میری قمیض میں موجود 2 پستول بھی نکل لی اب میرے پاس صرف 3 پستول تھی 1 جو میری ٹوپی میں موجود تھی اور باقی 2 میرے جوتتو میں تھی . میں چُپ چاپ دھیرے دھیرے سیڑھیاں چڑھ رہا تھا اور اس آدمی سے نزات پانے کا رستہ سوچ رہا تھا . آدمی : خان بھائی سہی تھے تو سالا یہاں ضرور آئیگا اور دیکھو آ بھی گیا یہاں مرنے كے لیے . میں : مادرچود ٹھوکنا ہے تو گولی چلا دماغ مت چاٹ میرا . آدمی : تو چل تو سہی بیٹا اتنی بھی کیا جلدی ہے مرنے کی . . . اک باڑ خان بھائی کا نکاح ہو لینے دے تجھے تو فرصت سے مرینگے سیل غدر . میں : غدر میں نہیں تیرا حرام خور خان ہے جس نے ہر قدم پر میرے ساتھ فریب کیا ہے . ہم لوگ باتیں کرتے ہوئے اوپر آ گئے وہ آدمی مجھے اک کمرے میں لے گیا جہاں پہلے سے کچھ لوگ موجود تھے . انہوں نے مجھے اک کرسی پر بٹھایا اور باندھ دیا ساتھ ہی میرے سر سے ٹوپی اُتار ڈی جس میں میں نے اک پستول بھی رکھی ہوئی تھی . آدمی : اوئے نواب یہ لے خان بحایجان کا تحفہ سنبھال کر رکھ میں ان کو بتاکی آٹا ہوں کی عاشق کتے کی موت مرنے کو خود ہی آ گیا ہے . میں : مرنے نہیں بحینچود تمہاری مارنے آیا ہوں اگر اک باپ کا ہے تو کھول میرے ہاتھ پِھر تجھے بتاتا ہوں کی میں یہاں مرنے آیا ہوں یا تم سب کی قبر بنین آیا ہوں . آدمی : میرے موح پر مکا مارتے ہوئے . . . . سسس زور سے تو نہیں لگی شیرا . میں : اگر میرے ہاتھ آزاد ہو گئے تو تجھے فرصت سے مارونجا بحینچود شیر کو باندھ کر مردانگی دکھاتا ہے سیل نا-مارد . نواب : ( مجھے لات مرتے ہوئے ) سیل میں گرمی بہت ہے یار اس کا تو علاج میں کرتا ہوں تو جا فاروخ یہاں سے اور خان بھائی کو لے کے آ . اسکے بَعْد وہ فاروخ نام کا آدمی کمرے سے باہر چلا گیا اب میرے آس-پاس کچھ لوگ موجود تھے جیحونی مجھ پر لاتی اور موکو کی برسات شروع کردی . میں بندھا ہوا تھا اسلئے جواب بھی نہیں دے سکتا تھا لیحاجا پڑا رہا اور انکی مار کھاتا رہا . کچھ دیر مجھے مارنے كے بَعْد وہ لوگ واپس بیڈ پر جاکے بیٹھ گئے اور شراب پینے لگے . میں نے زمین پر کرسی سے بندھا ہوا گرا پڑا تھا اور وہ لوگ مجھ سے اک دم بی-فیکار تھے میں نے اچھا موقع جان کر اپنے باندھے ہوئے ہاتھوں پر پُورا زور لگا دیا جسے میرے ہاتھوں پر بندھی رسی ٹوٹ گئی اور میرا اک ہاتھ آزاد ہو گیا میں نے جلدی سے اپنے دوسرے ہاتھ کی رسی بھی کھولی اور ویسے ہی پڑا رہا . اب میں سہی موقی كے انتظار میں تھا کی کب انکی مجھ سے نظر ہیٹ ٹاکی میں اپنے پیڑو کی رسی کھول سکو . لیکن کچھ ہی دیر میں فاروخ وہاں واپس آ گیا اسلئے میں واپس بندھی ہوئی حالت میں ہی رسی کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑے ہوئے لیتا رہا . فاروخ : اوئے کمینوں اپنے باپ کو اٹھا تو دیتے سالو اتنا مارنے کو کس نے بولا تھا . آدمی : یار ہم کیا کرتے سالا بہت کڑوا بولتا ہے ہمارا بھیجا گھوما رہا تھا اب دیکھ کیسے خاموش ہوکے پڑا ہے . فاروخ : خان بھائی نے بولا ہے کی نکاح كے بَعْد وہ اس کا بھی کام کر دینگے تب تک اسکو باندھ کر رکھو . آدمی : ٹھیک ہے . . . اسکے بَعْد اچانک فاروخ كے پیچحی-پیچحی وہاں خان بھی آ گیا . . . خان : ارے واہ آپ بھی شریک ہے جناب اِس مبارک موقی پر . . . بتانے کی زحمت اٹھایینجی کی کس خوشی میں یہاں آنا ہوا . میں : تیری مارنے آیا ہوں مادرچود . خان : ( ہستے ہوئے ) سیل تیری گرمی کبھی نہیں جائے گی نا . . . ( میرا موح پاکادتی ہوئے ) تو چیج کیا ہے یار سالا تجھے 5-5 گولی مارو تب بھی تو بچ جاتا ہے . کوئی بھی لڑکی ہو سالا تجھے دیکھتے ہی کپڑے اُتار کر کھڑی ہو جاتی ہے وہ سالی ڈوکتورنی . . . . کیا نام تھا اسکا . . . . ہاں یاد آیا رضوانہ . . . . وہ بھی سیل تیرے چکر میں پاس گئی اور مجھ سے بغاوت کر گئی اور رانا کو بھیج دیا تیرے پاس میری سچحایی بتانے کو . . . یہ تو اچھا ہوا کی وقت پر مجھے پتہ چل گیا اور میں نے رانا اور رضوانہ کو وقت پر ختم کروا دیا ورنہ میرا کام تو بہت خراب ہو جانا تھا . میں : کیا رضوانہ اور رانا کو تونے مروایا تھا اور مجھے گولی تم نے ماری تھی ؟ ( مطلب رضوانہ کا پیار جھوٹ نہیں سچ تھا اور میں اس بیچاری کو کتنا غلط سمجھ رہا تھا جس نے میرے لیے اپنی جان دے ڈی ) خان : حا . . . چھوٹے كے ساتھ پارٹنرشپ جو کرنی تھی . چل آج لگے ہاتھ تیری یادداشت کو بھی تھوڑا سا تازہ کر دیتا ہوں . میں : لیکن میرے ساتھ تونے دھوکہ کیوں کیا میں تو تیرا ساتھ دینے تک کو راضی تھا اور مجھے کچھ یاد بھی نہیں تھا . خان : دیکھ یار برا مت معاً لیکن بوسینیس کا اصول ہے اگر خود اوپر جانا ہے تو کسی نا کسی کو تو نیچے گرانا ہی پڑیگا میرے پاس مال تھا لیکن کوئی تاجدی قیمت دینے والا بوییر نہیں تھا اسلئے میں نے چھوٹے سے ہاتھ ملا لیا . لیکن تیرا شیخ بابا اِس بات کی اجاجت کبھی نہیں دیتا کیونکی دروججس کا سارا دھندا تو سنبھلتا تھا اور جب تک تو تھا تیرے بابا شیخ کو بھی ہم رستے سے نہیں ہٹا سکتے تھے کیونکی انکی ڈھال تو تھا . اسلئے ہم نے سوچا کی پہلے تجھے ہی رستے سے ہٹا دیتے ہیں فر بڈھا تو تیرے غم میں ہی مر جائیگا اور چھوٹے بھی بابا شیخ کی کرسی پر بیٹھ جائیگا لیکن افسوس وہ سالا بھی بچ گیا . میں : ( خان کی بات سن کر مجھے سب یاد آنے لگا کی کیسے میں اس دن ڈیل کرنے كے لیے جا رہا تھا جب پولیس کی اک جیپ میرے پیچھے پڑ گئی اور مجھے پر اندحا-دحوندح جولیان چلانے لگی جسے اک گولی میری گاڑی كے ٹائر پر لگی اور گاڑی کا بیلنس بگڑ گیا گاڑی اک چٹان كے ساتھ جاکے تاکاایی اور میرا اسٹایرینج ویل سے سر ٹکرا گیا اور وہ خان ہی تھا جس نے مجھے گاڑی سے نکال کر مجھ پر جولیان چالایی تھی اور فر مجھے مارا ہوا سمجھ کر گاڑی سمیٹ کھائی سے نیچے دھکہ دے دیا . مجھے سب کچھ یاد آ گیا تھا کی یھی وہ حرام خور تھا جس نے مجھ پر گولی چالایی تھی ) مادرچود آج تک وہ گولی نہیں بنی جو شیرا کو مار سکے اور حنا سے نکاح كے سپنے دیکھنا چھوڑ دے اسے پہلے ہی میں تجھے جہنم پوحونچا دونگا اور یاد رکھنا میری اک گولی بھی تیری گانڈ پھاادنی كے لیے کافی ہے . . . کیونکی شیرا کی مار اور شیرا کا وار کبھی خالی نہیں جاتا اور جس پر پڑتا ہے وہ آدمی ساری زندگی اٹھ نہیں سکتا . خان : ( ہیسٹ ہوئے ) سپنا اچھا ہے . . . سیل تو تو خود میرے رحم کرم پر ہے تو مجھے مریگا . . . میں چاہوں تو تجھے ابھی مسل سکتا ہوں لیکن پہلے نکاح ہو جائے فر آکے تیری خبر لیتا ہوں . ویسی بھی وہ حنا سالی بہت تعریف کرتی ہے تیری . . . تو دیکھنا تیرے سامنے حنا کو ننگی کرکے سوحااجراات ماناونجا اور پِھر اسکی آنکھوں كے سامنے تجھے گولی مرونگا . اوئے نواب اس کا خیال رکھنا بہت حرامی ہے دیکھنا یہ کھلنے نا پائے . نواب : جی خان صاحب . اسکے بَعْد خان کمرے سے باہر چلا گیا اور فاروخ کو میرے سامنے بتھ کر چلا گیا . میں : اوئے چوتیے . . . مجھے پانی پیلا بحوسدی كے . . . فاروخ : ( غصے سے میرا کولار پاکادتی ہوئے ) سیل چوتیا کس کو بولا . . . . میں : تیرے کو بولا گندی نالی كے کییدیی . . . فاروخ : ( غصے ) اووو . . . . کیوں مرنا چاہتا ہے سیل خان بھائی کا حکم نہیں ہوتا تو ابھی تجھے گولی مار دیتا . میں : سیل ہر کام خان کی گانڈ میں گھس کر ہی کرتا ہے یا خود میں بھی دم ہے . فاروخ : ( میرے پیٹ میں مکا مرتے ہوئے ) سیل دم دیکھنا ہے تجھے میرا دکھاتا ہوں تجھے دم . . . ( یہ بولنے كے ساتھ ہی اس نے 2 موکی اور میرے پیٹ مارے ) ہوا نکالی سیل . . . میں : کیوں بحوسدی كے تھک گیا یا گانڈ پھٹ گئی . . . . فاروخ : یہ مریگا آج میرے ہاتھ سے . . . ( یہ بولتے ہی اس نے میرے موح پر مکا مارا ) میں نے تیزی سے اپنا ہاتھ آگے کر لیا اور اسکا مکا ہوا میں ہی پکڑ لیا . جسے دیکھ کر اسکی آنکھیں باہر آنے کو ہو گئی . میں : مادرچود بولا تھا تجھے کی مجھے تھوک دے تو نہیں مانا . . . . اب دیکھ میں تم سب کی یہاں کیسے قبر بناتا ہوں . میں کرسی سے بندھا ہوا ہی کھڑا ہو گیا اور فاروخ کو بلو سے پکڑ کر اسکا سر کرسی پر زور سے مارا جسے کرسی بیٹھنے والی جگہ سے ٹوٹ گئی اور فاروخ زمین پر اپنا سر پکڑ کر گر گیا . اب صرف کرسی کی آگے والی تانجیی ہی میری ٹانگوں سے بندھی ہوئی تھی . اتنے میں وہاں بیٹھے سب لوگ کھڑے ہو گئے اور مجھے پاکادنی كے لیے میری طرف لاپکی جن میں سے اک کو میں نے گردن سے پکڑ کر دوسرے كے سر میں پکڑے ہوئے آدمی کا سر مارا وہ دونوں وہی گر گئے . تبھی اک آدمی چالاانج لگا کے میرے اوپر گر گیا جسے میں خود کو سنبھال نہیں سکا اور میں بھی زمین پر اسکے ساتھ ہی گر گیا . میں نے جلدی سے اسکا اک باجو پکڑا اور اپنی ٹانگ كے نیچے سے نکال کر ٹانگ کو موڑ دیا جسے اسکی گردن میرے گھٹنے پر آ گئی میرے پیر كے ساتھ کرسی کی ٹانگ باندھے ہونے کی وجہ سے میں ٹانگ کو موڑ نہیں سکتا تھا اسلئے میں نے اسکی گردن کو اپنی سیدھی ہوئی ٹانگ پر ہی دبا دیا اور گردن كے پیچھے کی طرف اپنے ہاتھ کا جور سے وار کیا جسے اسکی گارڈن ٹوٹ گئی اور اسکے موح سے خون نکلنے لگا اتنی دیر میں باقی بچے 2 لوگوں نے میرے سر میں شراب کی بوتتال پھودنی شروع کردی جسے میرے صرف میں سے بھی خون آنے لگا . اُن میں سے اک آدمی کا میں نے ہاتھ پکڑا اور نیچے کی طرف کھینچ لیا جسے وہ آدمی میرے اوپر ہی گر گیا میں نے شراب کی ٹوٹی ہوئی بوتتال اسکے ہاتھ سے چھن لی اور اسکے گلے میں ٹوٹے ہوئے حصے سے وار کیا جسے اسکی گردن میں کانچ دحاستی چلے گئے اور اس میں سے پانی کی طرح خون نکلنے لگا جب کی دوسرا آدمی دروازے کی طرف بھاگا میں نے ہاتھ میں پکڑی بوتتال ہوا میں اُچھل کر اسکے سر میں ماری جسے بوتتال پھوٹ گئی اور وہ دروازے میں جاکے لگا میں نے بیڈ كے سہارا لے کے خود کو کھڑا کیا اور جلدی سے اپنی ٹانگ سے بندھی کرسی کی ٹانگ کی رسی کو کھول دیا اب میں نے وہی کرسی کی ٹانگ اٹھائی اور اسکے سر میں ماری جسے کرسی کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور اسکے سر سے بھی خون نکلنے لگا . وہ آدمی زمین پر گر گیا اور مجھ سے رحم کی بحییخ مانگنے لگا میں نے ٹوٹی ہوئی کرسی کا ٹکڑا اٹھایا اور اسکے موح میں ڈال کر جور سے پیر کو کرسی كے باہر نکلے حصے پر دبا دیا جسے کرسی کا نیچے والا حصہ جو اسکے موح میں غصہ ہوا حلق تک کو چِیر گیا اور وہ وہی تڑپ تڑپ كے مر گیا . اب میں نے جلدی سے دوسری ٹانگ پر بندھی کرسی بھی کھولی اور کمرے میں بنے باتھ روم میں چلا گیا خود كے چہرے پر لگے زخم کو دیکھنے لگا پِھر میں نے اپنے سر کو پانی سے دھویا اور چہرے پر لگا خون صاف کیا . اسکے بَعْد میں جلدی سے باہر آیا اور پولیس والی وردی اُتار کر ان مرے ہوئے لوگوں کا کوات-پینت پہن لیا کیونکی لادایی كے دوران ان لوگوں کا کافی خون واردی پر لگ گیا تھا . میں حویلی كے اِس وقت آخری حصے میں کھڑا تھا جہاں سے حنا کا کمرا کافی دور تھا اسلئے میں بالکونی كے رستے سے پائپ پر لٹک کر حنا كے کمرے کی طرف چلا گیا . جہاں پہلے سے کافی لڑکیاں موجود تھی اور حنا کو تییار کر رہی تھی . اب میں حنا كے کمرے میں بھی نہیں جا سکتا تھا اسلئے پائپ كے سہارے ہی لٹکتا ہوا آگے کی طرف بڑھنے لگا جہاں نیچے مجھے حل اور سٹیج نظر آیا جہاں پر خان بیٹھا تھا . انچاایی کافی جادا تھی اسلئے میں سیدھا نیچے چالاانج نہیں لگا سکتا تھا اسلئے میں ادھر اُدھر کوئی رسی دیکھنے لگا جسے لٹک کر میں نیچے تک جا سکو کیونکی اب مجھے صرف خان کو ہی مرنا تھا . تبھی مجھے سامنے اک جھومر لٹکا ہوا نظر آیا مجھے بس وہاں تک کسی بھی طرح سے پہنچنا تھا کیونکی وہاں سے سٹیج کی اونچائی کافی کم تھی اور میں آسانی سے چالاانج بھی لگا سکتا تھا . میں نے ادھر اُدھر دیکھا اور پائپ كے سہارے حویلی کی چھت کی طرف بڑھنے لگا جسے لٹک کر میں اوپر کی اک بالکونی میں پوحونچ گیا بالکونی سے جھومر پر چالاانج لگانا آسان تھا اسلئے میں نے بالکونی کی رایلنگ پر پیر رکھ كے کھڑا ہو گیا اور نیچے جھومر كے اوپر چالاانج لگا ڈی . جھومر زنجیروں سے بندھا ہوا تھا اسلئے اس نے میرا وجان تو اٹھا لیا لیکن میرے گرنے سے بہت جور کی آواز ہوئی اور کافی بلب بھی ٹوٹ گئے جسے سب کا دھیان اوپر کی طرف چلا گیا . چوہدری : اوئے کون ہے اوپر . . . . جھومر سے نیچے کی دوری کافی کم تھی اسلئے میں نے بنا کوئی جواب دیا نیچے سٹیج پر چالاانج لگا ڈی اور میں سیدھا خان كے اوپر آکے گر گیا جسے اسکی کرسی ٹوٹ گئی اور خان کو کافی چوٹ آئی میں نے جلدی سے اپنے دے پیر کو اوپر اٹھایا اور اس میں تنگی اک پستول نکال کر خان كے سر پر رکھ ڈی . میں : مادرچود میں نے کہا تھا نا آج تو نکاح نہیں جہنم قبول کرے گا . خان : گن نیچے کر لے شیرا نہیں تو میرے لوگ یہاں کھڑے تمام لوگوں کو مار ڈالیں گے . میں : اگر تیرے اک آدمی کی بھی گولی چلی تو تیرا بھیجا یھی باہر نکال دونگا اسلئے اپنے کوٹو سے بول بندوق نیچے رکھ دے نہیں تو تیرا پوسٹ مارٹم میں یھی کھڑے کھڑے کر دونگا . خان : ( اپنے لوگوں کو گن نیچے کرنے کا اشارہ کرتے ہوئے ) نیچے کرو . . . میں : یہ ہوئی نا بات چل اب شرافت سے مجھے باہر لے کے چل تجھے تو میں اپنے گاv لے کے جاؤنگا جہاں سب تیرا سیکھ کباب بنایینجی سیل . . . تبھی فاروخ حنا كے سر پر بندوق لگاے سییدحیو سے اترتا ہوا نظر آیا . فاروخ : اتنی جلدی بھی کیا ہے شیرا . . . گن نیچے کر نہیں تو تیری ڈارلنگ تو گئی . چوہدری : یہ کیا بدتمیزی ہے خان صاحب اپنے آدمی سے کہو چھوڑ دے میری بیٹی کو نہیں تو اچھا نہیں ھوگا . خان : واہ فاروخ واہ . . . چُپ کر بدھی . . . سیل تیری بیٹی كے چکر میں ہم اپنی قربانی تو نہیں دے سکتے نا . . . . حنا : ( چلتے ہوئے سٹیج كے پاس آتے ہوئے ) سن لیا ابو . . . . یھی وہ لڑکا تھا نا جو آپ نے میرے لیے چھونا تھا . چوہدری : مجھے معاف کر دے بیٹی . . . فاروخ : اوئے تم باپ-بیتی اپنا ڈرامہ بند کرو . . . شیرا تجھے سنا نہیں میں نے کیا بولا کھوڈا نیچے کر نہیں تو میں اِس لڑکی کو گولی مار دونگا . چوہدری یہ سب دیکھ نہیں سکا اور جلدی سے فاروخ سے پستول چھن نے لگا . تبھی خان نے اپنی جیب سے پستول نکال کر چوہدری کو 3 گولی مار ڈی جسے چوہدری وہی زمین پر گر گیا ڈھیر ہو گیا . خان : شیرا اپنی پستول نیچے کر نہیں تو اگلی گولی حنا پر چلیں گی . میں اب مجبور تھا اسلئے چاہ کر بھی خان پر گولی نہیں چلا سکاتا تھا اسلئے اپنی پستول خان کو دے ڈی . حنا : ( روٹ ہوئے ) نہیں نییر عیسی مت کرو مار دو اِس کتے کو اس نے میرے ابو کو مارا ہے . خان نے مجھ سے پستول لے لی اور اک زوردار تماچا میرے موح پر مارا تبھی خان كے کچھ آدمیو نے مجھے پیچھے سے آکے پکڑ لیا اور اک رسی سے دوبارہ میرے ہاتھ باندھ دیئے . خان نے اپنی پستول واپس اپنی جیب میں ڈالی اور قاضی کو آواز لگائی . خان : قاضی صاحب کہا ہے یار جلدی کرو نکاح نہیں کروانا کیا ہمارا . قاضی : میں لڑکی کی مرضی كے خلاف اسکی شادی نہیں کروا سکتا یہ گناہ ہے . خان : گناہ کس بات کا قاضی صاحب آپ دیکھنا یہ لڑکی آپ کے سامنے مجھے قبول کریگی نہیں تو میں اس کے عاشق کو گولی مار دونگا . حنا : ( روٹ ہوئے ) نہیں . . . نییر کو کچھ مت کرنا تم جو بولوگے میں وہ کروں گی . خان : دیکھا قاضی صاحب میں نا کہتا تھا . . . چلیے نکاح کی تییاری کیجیے ابھی اور بھی بہت سے کام ختم کرنے ہیں . تبھی پیچھے سے اندحا-دحوندح جولیان چلنے کی آواز آنے لگی اور اک اک کرکے خان كے سب آدمیو پر جولیان چلنے لگی . مجھے یہ سمجھتے اک پل بھی نہیں لگا کی میرا یار لالہ آ گیا ہے اور میرے آدمیو نے پوری حویلی کو چاروں طرف سے گھیر لیا ہے اب حویلی كے چاپپی-چاپپی پر میرے آدمی بندوق لیے کھڑے تھے اور ساری بازی ہی پلٹ گئی تھی . لالہ : ( تالی باجاتی ہوئے ) کیا بات ہے بھائی یہاں تو پوری محفل لگی ہے لگتا ہے میں وقت پر ہی آ گیا . . . میں نے کہا کھن صاحب سلام قبول کیجیے لالہ کا . . . اگر آپ نہیں چاھتے کی میں آپکی گانڈ پر لات ماروں تو اپنے آدمیو کو پیار سے بولو کی میرے بھائی اور بھابی کو شرافت سے کھول دے نہیں تو یہ آپکی صحت كے لیے اچھا نہیں ھوگا . . . . ( مسکراتے ہوئے ) میں : ( مسکراتے ہوئے ) کہا مر گیا تھا سیل 5 منٹ اور نہیں آٹا تو ہماری لاشی ملنی تھی تجھے سالا کوئی کام کا نہیں ہے تو . . . . . لالہ : ( سٹیج پر چادحتی ہوئے ) اوئے کیا آدمی ہے سالا احسان تو مانتا ہی نہیں کسی کا . . . اب پاس گیا تو سارا بِل میرے نام پر پھاڑ رہا ہے . . . میں نے نہیں بولا تھا کی کچھ دیر روکجا میں آ جاؤ پِھر ساتھ میں مل کر اِس کتے کی گانڈ مارینجی تب تو بڑا چوودا ہوکے اکیلا ہی بھیڑ گیا تھا سب کے ساتھ . میں : اچھا ٹھیک ہے اب ناٹک مت چھوڑ اور آکے میرے ہاتھ کھول . لالہ : ( ادب سے میرے سامنے جھکتے ہوئے ) جو حکم میرے اکا . . . اسکے بَعْد لالہ نے پہلے کھن کو اک زوردار تماچا مارا اور پِھر میری رسی بھی کھول ڈی . حنا جلدی سے بھاگ کر میرے پاس آئی اور میرے گلے سے لگ کر رونے لگی . لالہ : ( مسکراتے ہوئے حنا کو دیکھ کر ) میں نے کہا سلام قبول کرو اپنے دیوار کا ہونے والی بھابی جی . حنا : ( مجھے گلے سے لگاے ہوئے لالہ کو دیکھنے لگی ) نییر یہ کون ہے . میں : ( مسکرا کر ) میرا بچپن کا دوست ہے لالہ : چلو خان صاحب مرنے كے لیے ریڈی ہو جاؤ اور ہم نے تو اپنے غریب کھانے میں کافی انتظام کیا تھا لیکن شیرا بھائی کا حکم ہے کی آپکو ٹھوکنا ہے . . . یہ لیلی مجنوں کو لگے رہنے دو آپ فی الحال میرے ساتھ ہی کام چلاؤ ابھی تو صرف میں ہی آپکی مارونجا . ( خان کی گانڈ پر لات مرتے ہوئے ) چل بحوسدی كے دیکھتا کیا ہے . . . شیرا کو بھابی سے فری ہونے دے تیری تو یھی ماریجا . . . بول بھائی شیرا اس کا کیا کرنا ہے . . . . تھوک دوں کیا . . . میں : نہیں . . . اسکو گاڑی میں ڈال اور لے کے چل اپنے ٹھکانے پر میرا موڈ بَدَل گیا ہے اب اسکو مارینجی نہیں بلکہ اسکی مارینجی ( آنکھ مارتے ہوئے ) اور پِھر ابھی تو اسے چھوٹے كے بھی بہت سے راز وجالوانی ہیں . لالہ : ( پلٹ طے ہوئے ) مجھے آج تو کچھ بادلا-بادلا سا لگ رہا ہے یار . . . میں : ( مسکراتے ہوئے ) سیل مجھے سب کچھ یاد آ گیا ہے . . . لالہ : ( ہوا میں فائر کرتے ہوئے ) اوئے یارا خوش کر دیا . . . . بببوورراااہہح . . . چل تو بھابی کو لے کے باہر آجا فر دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے . میں : تم لوگ چلو میں اپنی گاڑی میں ہی آؤنگا . لالہ : اوئے میں باہر سے ہی آیا ہوں وہاں تیری گاڑی نہیں کھڑی . میں : یار میری گاڑی حویلی كے پیچھے کھڑی ہے اور ساتھ میں میرے کچھ اور لوگ بھی ہیں جن کو ساتھ ہی لے کے جانا ہے . لالہ : اچھا تو تو چل میں زرا اپنے ہاتھ کی کھجلی ختم کر لوں . . . . ( اپنا ہاتھ کھجاتے ہوئے ) میں : ٹھیک ہے لیکن سیل جادا مت مرنا یہ اپنے جیسا نہیں ہے . . . زرا کرارے 4 ہاتھ پڑ گئے تو مر ہی نا جائے . . . . لالہ : ( خان كے موح پر مکا مرتے ہوئے ) تو جا یار مجھے ڈسٹرب مت کر ابھی میں بسی ہوں دیکھتا نہیں اتنے دن بَعْد تو کسی کو تسلّی سے دونے کا موقع ملا ہے . . . میں : اچھا ٹھیک ہے لیکن 5 منٹ میں باہر آ جانا اسکو لیکر جادا دیر نہیں کرنا . لالہ : ( خان كے پیٹ میں لات مرتے ہوئے ) تو جا نا یار میں آ جاؤنگا اس کے لیے تو 5 منٹ بھی بہت ہے اس میں ہی اسکی پھٹ كے ہاتھ میں آ جائے گی . . . ( زور سے ہستے ہوئے ) حنا اپنے ابو کو گلے لگا کر کافی دیر روتی رہی فر جب میں نے اسکے پاس جاکے اسکے آگے ہاتھ بڑھایا تو وہ بن کچھ بولے میرا ہاتھ پکڑ کر کھڑی ہو گئی . میں نے سب سے پہلے حنا كے آنسو صاف کیے اسکے بَعْد میں اور حنا جلدی سے حویلی سے باہر نکالے اور حویلی كے پیچھے کی طرف چلے گئے جہاں پر میں نے اپنی گاڑی کھڑی کی تھی گاڑی كے پاس ہی مجھے نازی بیٹھی ہوئی نظر آئی جو بار بار ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی اسکے چہرے سے میرے لیے فکر دور سے ہی دکھائی دے رہی تھی . مجھے اور حنا کو دور سے آٹا ہوا دیکھ کر جیسے اسکا چہرہ خوشی سے کھل گیا وہ تیز کامدو كے ساتھ نییر کو گاڈ میں اٹھائے ہماری طرف بڑھنے لگی اور آتے ہی مجھے گلے سے لگا لیا اور خوشی سے مسکرانے لگی . نازی : کتنی دیر کر ڈی آنے میں میں تو بہت ڈر گئی تھی . . . تم ٹھیک تو ہو نا . . . . میں : کیسا لگتا ہوں . . . نازی : یہ سر میں چوٹ کیسے لگی . . . میں : وہ سب جانے دو یہ تھوڑا بہت تو چلتا رہتا ہے اب تم جلدی سے گاڑی میں بیٹھو ہم کو ہماری نئے گھر جانا ہے . نازی : ( خوش ہوکے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) ہحممم چلو . . . حنا : لاؤ چھوٹا نییر مجھے دے دو اور تم آگے بڑے والے نییر كے ساتھ بیٹھ جاؤ . اسکے بَعْد میں اور نازی آگے بیٹھ گئے اور نییر کو حنا نے پکڑ لیا اور وہ خود ہی پیچھے بیٹھ گئی . میں جلدی سے گاڑی اسٹارٹ کی اور اسکو حویلی كے اگلی طرف لے آیا اور حویلی كے بڑے گاتے كے سامنے روک دیا جہاں میرے ساتحیو کی گادیو کا قافلہ پہلے سے موجود تھا . اسکے بَعْد میں نے اپنے آدمیو سے چلنے کا اشارہ کیا اور وہ لوگ میرا اشارہ پتے ہی اندر گئے اور لالہ اور خان کو لے آئے . لالہ نے کچھ ہی دیر میں خان کی بہت بری حالت کر ڈی تھی . خان كے چہرے سے اور سر سے پانی کی طرف خون ٹپک رہا تھا اور کچھ آدمی اسکو زمین پر گھاسیتکار لا رہے تھے . میں : اوئے سیل مار تو نہیں دیا اسکو . لالہ : ( اپنا ہاتھ رومال سے صاف کرتے ہوئے ) نہیں بھائی زندہ ہے کتا . . . اسکو تو ادیی پر لی-جاکار تسلّی سے سب بھائی مل کر مرینگے . میں : چل گاڑی میں بیٹھ چلنے کا وقت ہو گیا ہے . لالہ : ( مجھے سلیوٹ کرتے ہوئے ) او کے باس . . . اسکے بَعْد ہم سب گاڑی میں بیٹھے اور اپنے گاv ، اپنے گھر کی طرف گادیو كے قافلے کو بڑھا دیا . حنا مجھے کچھ اداس لگ رہی تھی لیکن نازی بہت خوش تھی اور اپنے نئے گھر کا سن کر بہت جادا ایکسائیٹڈ تھی . میری گاڑی سب سے آگے تھی اور باقی گادیان میری گاڑی كے پیچھے چل رہی تھی اور کچھ فاصلے پر تھی کچھ ہی دیر میں ہم اپنی گاv کی سرحد سے کافی دور نکل آئے تھے . ہم کو گاv سے نکالے اب کافی وقت ہو گیا تھا لیکن حنا مجھے اب بھی اداس لگ رہی تھی اسلئے میں نے اشارے سے اپنے ساتھ بیٹھی نازی کو اپنے پاس کیا اور اسکو پیچھے جانے کا اشارہ کیا ٹاکی دونوں باتیں کر سکے اور حنا کا بھی من بہل جائے . نازی چلتی ہوئی گاڑی میں ہی سیٹ کو نیچے کرکے پیچھے چلی گئی اور حنا كے ساتھ بیٹھ گئی اور کچھ ہی دیر میں دونوں کی باتیں شروع ہو گئی اور اب حنا بھی پہلے سے کافی بہتر نظر آ رہی تھی . میری ترکیب نے اپنا کم دکھا دیا تھا کیونکی 2 اوراتی اک ساتھ چُپ تو کبھی بیٹھ ہی نہیں سکتی اسلئے بیٹ ھونا لازمی تھا اسی طرح حنا کا موڈ بھی اب اچھا ہو گیا تھا . ایسی ہی گزرتے وقت كے ساتھ ہم اپنی رفتار سے منزل کو بڑھ رہے تھے کی اچانک مجھے سامنے اک چیک پوسٹ نظر آئی ہم وہ کراس کرکے نہیں جا سکتے تھے کیونکی ہم سب كے پاس کافی اسلا تھا اور خان كے ساتھ ہونے کی وجہ سے ہمارے پکڑے جانے کا بھی ڈر تھا اسلئے میں نے جلدی سے اپنی جیب سے اپنا فون نکالا اور لالہ کو فون کرکے اپنی گاڑی كے پیچھے آنے کا حکم دیا اور اپنی گاڑی کو اک جنگل کی طرف گھوما دیا میرے پیچحی-پیچحی ہی باقی جادیا بھی جنگل میں گھس گئی کچھ دور جاکے میں نے گاڑی کو روک دیا کیونکی مجھے آگے کس طرف جانا ہے یہ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا اسلئے میں نے گاڑی سے باہر نکل کر لالہ کی گاڑی کو بھی رکنے کا اشارہ کیا میرے نزدیک آکے اسکی گاڑی بھی رک گئی اور لالہ گاڑی سے باہر آ گیا . لالہ : ہاں بھائی یہاں بیچ جنگل میں کہا لے آیا یار اب آگے کہا جانا ہے . میں : یار آگے چیک پوسٹ تھی اسلئے میں نے گاڑی کو جنگل میں گھوما لیا لیکن اب آگے کس طرف جانا ہے یہ مجھے بھی سمجھ نہیں آ رہا شاید ہم بھٹک گئے ہیں . لالہ : لوح جی کر لو بات . . . اب بیچ جنگل میں کیا کرینگے یار دن بھی ڈھلنے والا ہے عیسی کرتے ہیں واپس چلتے ہیں وہاں سے ہائی وے پر ہو جائینگے . مایان : پاگل ہو گیا ہے کیا . . . آگے چیک پوسٹ تھی اسلئے تو میں نے گاڑی جنگل میں غصہ ڈی تھی اور تو پِھر سے وہی جانے کی بات کر رہا ہے اب تک یہ کتے ( خان ) كے چامچی بھی اسکو ڈھونڈنے نکل پڑے ہونگے . لالہ : پِھر کیا ہے یار سالا ڈرتا کون ہے اپنے پاس حاتحیار کی کمی ہے کیا سالا جو بھی آئیگا مار کر نکل جائینگے اور کیا چل بھائی واپس ہی چلتے ہیں . ابھی ہم دونوں بات ہی کر رہے تھے کی اچانک خان گاڑی سے موح باہر نکال کر چلایا . . . خان : کمینوں تم یہاں سے زندہ نہیں جا سکتے تم نے مجھے اغواہ کرکے اپنی موت کو داvات ڈی ہے ابھی تم مجھے جانتے نہیں ہو . لالہ : ( غصے میں ) ارے یار بھائی تو تو بھابی كے ساتھ مزے سے بیٹھ گیا اور یہ حرامی کو میرے ساتھ ڈال دیا سالا بھیجا کھا گیا میرا کتنا بولتا ہے یہ . . . . ( اپنے آدمیو سے ) یار کوئی گندا کپڑا ڈھونڈو اس کا موح باندھنے کو . . . مُنا ( ہمارا آدمی ) : بھائی اک ہی پٹی تھی وہ بھی یہ سالا کتا کاٹ گیا اور پٹی پھٹ گئی . لالہ : ( کچھ سوچتے ہوئے اور ہنس کر ) اس کا علاج تو میں کرتا ہوں . . . میں : ( ساوالیا نظروں سے لالہ کو دیکھتے ہوئے ) اوئے مار مت دینا یہ زندہ چاہئے مجھے سمجھا ابھی اسے بہت کچھ اگلوانا ہے . لالہ : بھائی فکر مت کر مار کون رہا ہے میرا تو کچھ اور ہی موڈ ہے ( آنکھ مرتے ہوئے ) . میں : کیا کرنے لگا ہے تو . . . لالہ : ( ہیسٹ ہوئے ) تو بس بھابی کو گاڑی سے باہر مت آنے دینا اسکی یسی-تیسی تو میں کرتا ہوں سالا موح کھولنے كے لایک نہیں رہیگا . . . . اتنا کہہ کر وہ اپنا جوتا اترنے لگا اور پِھر اپنی زورااب بھی اُتار لی اور پِھر سے جوتا پہن لیا اور اپنی گندی باد-بو-دار زورااب اٹھا کر اک جحاادی كے پیچھے چلا گیا میں نے بھی نازی اور حنا کو گاڑی سے باہر نکلنے سے منع کر دیا . کچھ دیر بَعْد لالہ جب ہنستا ہوا واپس آیا تو اسکی زورااب گیلی تھی اور اسے پانی ٹپک رہا تھا . میں : ( ہستے ہوئے ) یہ کیا ہے کمینے . . . لالہ : ( ہستے ہوئے ) اِس کتے کا موح بند کرنے کا علاج . . . چل بھائی موح کھول اس کا . . . لگے ہاتھ دونوں کام ہو گئے سالا میرا بھی کافی دیر سے پریشر بنا ہوا تھا سالا پیٹ بھی خالی ہو گیا اور اس کا بھی علاج ہو گیا . لالہ كے ساتھ بیٹھے آدمیو نے خان کا موح پکڑ لیا اور زبردستی پیشاب سے گیلی کی ہوئی زورااب کھن كے موح میں ڈال ڈی اور اسی پھٹی ہوئی پٹی کو دوبارہ اسکے موح پر باندھ دیا وہ کسی بن پانی کی مچھلی کی طرف چات-پاتا رہا تھا اور اپنی گارڈن کو ہوا میں ادھر اُدھر کر رہا تھا . سب یہ دیکھ کر زور-زور سے ہنس رہے تھے اور حنا اور نازی جو کی اب بھی گاڑی میں بیٹھی تھی وہ مجھے ساوالیا نظروں سے دیکھ رہی تھی . حنا : کیا ہوا سب ہنس کیوں رہے ہیں . میں : ( ہستے ہوئے ) کچھ نہیں تمھارے کام کی بات نہیں ہے . . . . یار ہم رستہ بھٹک گئے ہیں آگے کس طرف جانا ہے سمجھ نہیں آ رہا تم کو یہاں سے آگے جانے کا رستہ پتہ ہے کیا . نازی : ( بیچ میں بولتے ہوئے ) مجھے پتہ ہے کس طرف جانا ہے میں بچپن میں اسکول اسی رستے سے جایا کرتی تھی . میں : تو پہلے بتایا کیوں نہیں کتنی دیر سے ہم بیکار میں بھٹک رہے ہیں . نازی : ( موح بناتے ہوئے ) تم نے پوچھا ہی نہیں . . . میں : کیا یار تم بھی کمال ہو . . . ( اپنے سارے آدمیو سے ) چلو اوئے گاڑی میں بیٹھو سارے رستے کا پتہ لگ گیا ہے . اسکے بَعْد سب آدمی واپس گادیو میں بیٹھ گئے اور خان کو بھی واپس گاڑی میں ڈال لیا اور ہم سب نازی كے بتائے رستے پر آگے بڑھنے لگے اور کچھ ہی دیر میں ہم ہائی وے پر آ گئے ابھی ہمیں کچھ ہی دیر ہوئی تھی کی میرا فون بجنے لگا . میں نے جیب سے فون نکالا تو اسکریں پر روبی لکھا آ رہا تھا . مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کی نازی اور حنا كے سامنے روبی سے بات کیسے کروں لیکن فون اٹھانا بھی ضروری تھا اسلئے کچھ سوچ کر میں نے فون اٹھا لیا . میں : ہاں جی سرکا ر حکم کیجیے . . . روبی : کہا ہو تم . . . مجھے فون کیوں نہیں کیا . . . میں نے کہا تھا نا پوحونچ کر مجھے فون کر دینا . . . جانتے ہو کتنی فکر ہو گئی تھی تمہاری . . . . میں : بس . . . بس . . . بس . . . سانس تو لے لو . . . اک ہی سانس میں سب کچھ پوچھ لیا . . . یار مجھے بولنا کا موقع تو دو . . . روبی : ٹھیک ہے بولو . . . فون کیوں نہیں کیا اور واپس کب آ رہے ہو . میں : میں کل صبح تک واپس آ جاؤنگا اور جس کام كے لیے گیا تھا وہ پُورا ہو گیا ہے . . . روبی : سچحی . . . . کمال ہے اتنی جلدی واپس آ رہے ہو . . . میں : تم کہو تو 4-5 دن اور رک جاتا ہوں روبی : نہیں . . . میرے کہنے کا وہ مطلب نہیں تھا . . . . میں : اچھا اک کام کی بات سنو . . . روبی : ہحمم . . . . بولو . . . میں : میرے ساتھ کچھ مہمان بھی آ رہے ہیں جو ہماری گھر میں ہی رہینگے ہماری ساتھ . . . روبی : مہمان ہے تو ان کو حویلی میں رکھو نا گھر لانے کی کیا ضرورت ہے . میں : ارے یار وہ کام والے مہمان نہیں ہے میرے مہمان ہے اور بہت خاص ہے اب سے وہ بھی ہماری ساتھ ہی رہینگے تو تم ان لوگوں كے رہنے کا انتظام کر دینا ٹھیک ہے . . . روبی : ہحمم ٹھیک ہے لیکن تم نے یہ تو بتایا ہی نہیں کتنے لوگ ہیں . میں : ( ہستے ہوئے ) 2 عورت ہے اور اک چھوٹا سا شیر بھی ہے ان کے ساتھ . روبی : عورت کون ہے . . . میں : ارے یار تم کو آکے سب بتاونجا بس ابھی جتنا کہہ رہا ہوں اتنا کر لو . روبی : اچھا . . . جلدی آ جانا میں انتظار کروں گی . . . میں : ہحممم چلو اب فون رکھ دو میں گاڑی چلا رہا ہوں . . . روبی : ووحہو . . . . کتنی باڑ کہا ہے گاڑی چلاتے ہوئے بات نا کیا کرو . . . . میں : تمہارا بھی پتہ نہیں چلتا یار فون اٹھا لو تو مصیبت نا اٹھاؤ تو مصیبت . . . روبی : اچھا اب فون بند کرو اور دھیان سے گاڑی چلاؤ . اسکے بَعْد میں نے فون رکھ دیا اب مجھے اک نئی فکر ہونے لگی تھی کی میں گھر جاکے روبی کو ان دونوں كے بڑے میں کیا بتاونجا اسلئے آگے كے بارے میں سوچنے لگا اور چپ چاپ گاڑی چلانے لگا . کچھ دیر بَعْد ہم اک دحاابی پر رکے جہاں ہم سب نے مل کر كھانا کھایا . كھانا کھاتے ہوئے کچھ لوگ ہمیں عزیب نظروں سے گھور-گھور کر دیکھ رہے تھے لیکن میں نے نظر انداز کر دیا اور کھانے پر دھیان دینے لگا کیونکی اس وقت ہم سب کو بہت زور کی بھوک لگی ہوئی تھی . كھانا کھانے كے بَعْد ہم سب واپس اپنی گادیو میں بیٹھ کر اپنی منزل کی طرف بڑھنے لگے . کچھ دور جانے كے بَعْد مجھے لالہ کا فون آیا کی پولیس کی کچھ گادیان ہماری گادیو كے پیچھے آ رہی ہیں . یہ سن کر مجھے سمجھ آ گیا کی دحاابی پر وہ کون لوگ تھے جو ہم کو گھور-گھور کر دیکھ رہے تھے . اسلئے میں نے سب کو بنا کوئی خون-خاراب کیے وہاں سے شاانتی سے چلنے کا حکم دے دیا کیونکی اب رات كے وقت میں اک اور خون-خارابا نہیں چاہتا تھا اسلئے میں نے سب کو گولی چلانے سے منع کر دیا . لیکن وہ پولیس کی گادیان لگاتار اپنا سیرین باجاتی ہوئے ہماری گادیو كے پیچھے آ رہی تھی اور ہم کو رکنے كے لیے کہہ رہی تھی . کچھ دیر بَعْد ہماری سب سے پیچھے والی گاڑی پر فائر ہونے شروع ہو گئے . اب ہم لوگ کچھ نہیں کر سکتے تھے نا چاھتے ہوئے بھی ہم کو جواب میں گولی چلانی ہی تھی اسلئے اب چلتی گادیو میں ہی دونوں طرف سے فائر ھونا شروع ہو گئے میری گاڑی اس وقت سب سے آگے تھی اور میرے ساتھ نازی ، چھوٹا نییر اور حنا بھی تھی اسلئے میں نے صرف گاڑی چلانے پر ہی دھیان دینے لگا . کچھ دیر بَعْد اک پولیس کی جیپ پیچھے کی تمام گادیو کو اوور ٹیک کرتی ہوئی اک دم میرے برابر میں آ گئی اور لگاتار میری کار پر جولیان چلانے لگی میں نے جلدی سے حنا اور نازی کو نیچے جھکا دیا ٹاکی ان کو گولی نا لگ جائے لیکن اک گولی میرے کاندھے پر لگ گئی اور گاڑی کا بیلنس بیگاندیں لگا . میں نے جلدی سے اسٹایرینج كے سامنے رکھی اپنی ریvولیر اٹھائی اور سامنے والی جیپ پر جوابی جولیان چلانے لگا 5 ہی فائر میں میری ریوالور خالی ہو گئی تھی اور اب میرے پاس کارتوس بھی نہیں تھے کیونکی باقی حاتحیار اور کارتوس کار کیدیججی میں پڑے تھے اور کار روکنے کا میرے پاس موقع نہیں تھا . لیکن جیپ میں سے اب بھی فائرنگ جاری تھی اب میرے پاس دوسرا کوئی اسلا نہیں تھا اسلئے میں نے اک رسک اٹھایا میں نے اپنی گاڑی کی سپیڈ کم کی اور اپنی گاڑی کو اس جیپ كے اک دم ساتھ میں کر لیا اور نازی اور حنا کو جھکے رہنے کا کہہ کر جور سے اپنی گاڑی کو اس جیپ میں داخل دیا جسے انکی جیپ کا بیلنس بگڑ گیا اور وہ سامنے والی چھتاں میں جاکے ٹکرا گئی اور جیپ پلٹ گئی . اب میرا اس جیپ سے تو پیچھا چھوٹ گیا تھا لیکن میرے آدمیو کی گادیو كے پیچھے اب بھی کافی پولیس کی جیپ لگی ہوئی تھی اور دونوں طرف سے فائر ہو رہا تھا . میرے کاندھے میں بھی گولی لگ چکی تھی جس وجہ سے تیز دَرْد اٹھ رہا تھا اور اب مجھ سے گاڑی بھی نہیں چالایی جا رہی تھی لیکن فر بھی میں ہمت کرکے گاڑی چلاتا رہا . میری اب ہمت جواب دے رہی تھی کیونکی باجو سے کافی خون نکل رہا تھا اسلئے میں نے لالہ کی گاڑی کو ہاتھ سے اشارہ کرکے میری گاڑی كے باربار آنے کو کہا کچھ ہی سیکنڈز میں اسکی گاڑی رفتار پاکادتی ہوئی اک دم میری گاڑی كے ساتھ آ گئی . . . . . میں : ( چلاتے ہوئے ) میرے کارتوس ختم ہو گئے ہیں اور مجھے گولی بھی لگی ہے مجھے حاتحیار والا بیگ دے لالاا . . . . لالہ : ( ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے ) دیتاا ہو . . . . ہم دونوں نے اک ہی وقت پر چلتی کار کا دروازہ کھول دیا اور اپنی دونوں گادیو کو براباری پر لاکے میں نے اک ہاتھ سے حاتحیار والا بیگ اندر کھیچ لیا ساتھ ہی میں نے اپنے اک آدمی کو میری گاڑی میں آنے کو کہا ٹاکی وہ کار چلا سکے . ہم دونوں کی گادیو کی رفتار کافی تیز تھی اسلئے گاڑی برابر آنے میں دیکات ہو رہی تھی کچھ ایفرٹس كے بَعْد میں نے اس آدمی کو اپنی گاڑی میں کھینچ لیا . اب وہ میری جگہ گاڑی چلا رہا تھا اور میں ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا بیگ سے حاتحیار نکال رہا تھا بیگ کھولتے ہی میری نظر بازوکا پر پڑی میں نے جلدی سے اس میں بم لوڈ کیا اور اپنی جیب سے فون نکالا اور لالہ کو فون کیا . . . میں : لالہ اک آئیڈیا آیا ہے میں گاڑی کی چھت پر جا رہا ہوں جب میں اشارہ کرونگا تب اپنے آدمیو کو بولنا کی سب اپنی گاڑی کو بایی طرف کر لے اور اک دم سے اپنی سب گادیو کی رفتار بڑھا دے . . . لالہ : ٹھیک ہے . . . . بھائی میں ابھی سب کو فون کرکے کہہ دیتا ہوں . . . . اسکے بَعْد میں نے فون رکھ دیا اور لالہ كے اشارے کا انتظار کرنے لگا کیونکی اسکے بَعْد ہی میں گاڑی کی چھت پر جا سکتا تھا . تبھی مجھے حنا کی آواز آئی . . . حنا : نییر تم ٹھیک تو ہو نا . . . . میں : میں ٹھیک ہوں فکر مت کرو تم نیچے رہو . . . . حنا : تمہاری باجو سے تو بہت خون نکل رہا ہے . . . میں : کوئی بات نہیں ابھی سب ٹھیک ہو جائیگا تم دونوں نیچے رہو باہر فائرنگ ہو رہی ہے . . . . تبھی مجھے لالہ نے گاڑی سے ہاتھ باہر نکال کر اپنے ہاتھ کا انگوٹھا دکھاتی ہوئے ڈن کا اشارہ کیا . میں نے جلدی سے گاڑی کا دوسری طرف کا دروازہ کھولا اور بازوکا لیکر گاڑی کی چھت پر بیٹھ گیا اور بازوکا کو اپنے کاندھے پر سیٹ کر لیا اور پولیس کی بیچ والی گاڑی کی نشانہ لگایا تاکہ دھماکے سے آگے اور پیچھے دونوں طرف کی گادیا اُڑ جائے لیکن اسے پہلے مجھے میری آدمیو کو اشارہ کرنا تھا اسلئے میں کچھ سیکنڈز كے لیے اپنا بیلنس بناتا ہوا گاڑی کی چھت پر سیدھا کھڑا ہو گیا جسے میرے سب آدمیو نے مجھے دیکھ لیا اور اپنی ساری گادیو کو اک ساتھ بایی طرف کر لیا . میرے پاس یھی سہی موقع تھا میری اِس چال کو کوئی بھی پولیکیوالا سمجھ نہیں پایا اور وہ اک سیدھ میں ہی گاڑی چلاتے رہے تبھی میں نے بازوکا کا ٹریگر دبا دیا اور انکی بیچ والی جیپ پر فائر کر دیا . میرا آئیڈیا کامیاب رہا 3 جیپ دھماکے سے اک ساتھ اُڑ گئی اور باقی 7 جیپ نے وہی اپنی گاڑی کو روک لیا . لالہ یہ دیکھ کر کافی خوش لگ رہا تھا اور گاڑی كے شیشے سے موح باہر نکال کر زور زور سے چلا رہا تھا اور ان پولیکیوالو کو گالیان نکال رہا تھا . میں نے اک نظر مسکرا کر اسکو دیکھا اور پِھر بازوکا گاڑی كے اندر پھینک کر خود بھی گاڑی كے اندر جاکے بیٹھ گیا . گاڑی كے اندر آتے ہی حنا اور نازی نے میرا باجو پکڑ لیا اور دیکھنے لگی . . . حنا اور نازی : تم ٹھیک ہو نا . . . میں : میں اک دم ٹھیک ہوں تم دونوں فکر مت کرو یار . . . حنا : فکر کیسے نہیں کرے تم کو گولی لگی ہے دیکھو کتنا خون نکل رہا ہے اتنا کہہ کر اس نے خون والی جگہ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا ٹاکی خون رک سکے . . . حنا : ( ڈرائیور کو دیکھتے ہوئے ) اپنے آدمی سے کہو کسی ڈاکٹر كے پاس لے کے چلے خون بہت نکل رہا ہے . میں : بیچ ہائی وے میں اب میں ڈاکٹر کہا سے لے کے آؤ اب تو شہر جاکے ہی ڈاکٹر ملے گا اور تم لوگ فکر مت کرو یار میں اک دم ٹھیک ہوں . اسکے بَعْد کوئی خاص بات نہیں ہوئی حنا پورے رستے میری باجو پکڑ کر بیٹھی رہی . کچھ ہی دیر میں شہر آ گیا جہاں لالہ گن پوائنٹ پر اک ڈاکٹر کو اٹھا لایا جس نے میری باجو سے گولی نکالی اور گاڑی میں ہی میری مرہم پٹی بھی کردی . ڈاکٹر كے دیئے ہوئے پین کلر سے دَرْد تو کم ہوا ہی ساتھ ہی مجھے نیند آنے لگی اور میں سو گیا . صبح جب آنکھ کھلی تو ہم اپنی بستی كے کافی قریب تھے کچھ ہی دیر ہم بستی پوحونچ گئے جہاں رسول ہماری تمام ادمیو كے ساتھ ہمارا انتظار کر رہے تھے . جیسے ہی میری گاڑی رکی میرے سب لوگ داودکار میری گاڑی كے پاس آ گئے اور اک آدمی نے جلدی سے میری گاڑی کا دروازہ کھولا سامنے رسول اپنی سادا-باحار مسکان كے ساتھ میرا انتظار کر رہا تھا اس نے آتے ہی مجھے گلے سے لگا لیا . وہی پاس ہی میرے گھر كے باہر روبی بھی کھڑی تھی جو مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی . رسول : واہ بھائی واہ معاً گئے شیرا . . . کمال کر دیا یار تونے . . . . میں : میں نے کیا کیا یار . . . . رسول : بھائی اکیلے ہی اِس کتے کو اٹھا كے وہاں سے لے آیا یہ کیا چھوٹی بات ہے . . . لالہ : ( بھاگ کر ہماری پاس آتے ہوئے ) کمینوں مجھے کیوں بھول جاتے ہو . . . اور یہ تمہارا شیر وہی ڈھیر ہو جاتا اگر میں وقت پر نہیں آٹا . . . . بڑا آیا کمال کرنے والا . . . رسول : اچھاا . . . . ٹھیک ہے یار . . . . ویسے وہ ہمرا نیا مہمان ہے کہا زرا درشن تو کرواؤ . لالہ : ھونا کہا ہے وہی گاڑی میں پڑا ہے . میں : رسول یار تو ذرا اِس خان كے بچے کو دیکھ میں زرا روبی سے مل کر آٹا ہوں . رسول : ٹھیک ہے بھائی . . . اسکے بَعْد میں نے اپنی گاڑی کا پیچھے کا دروازہ کھولا اور نازی ، نییر اور حنا کو لیکر اپنے گھر کی طرف بڑھنے لگا . نازی اور حنا دونوں بڑے غور سے چاروں طرف كے ماحول اور لوگوں کو دیکھ رہی تھی . نازی : ہم لوگ یھی رہینگے کیا . . . میں : ہحممم کیوں جگہ پسند نہیں آئی کیا . . . نازی : نہیں وہ بات نہیں ہے لیکن یہاں پر بہت سارے لوگ ہیں تو ان سب کے سامنے عجیب سا لگتا ہے . اپنے گاv میں تو ہم چند ہی لوگ رہتے تھے نا . میں : ( مسکراتے ہوئے ) یہاں كے لوگ بھی بہت اچھے ہیں اور تمہارا خیال رکھینگے تم جیسے چاہو یہاں رہ سکتی ہو تم یہاں اک دم محفوظ ہو . حنا : یہاں پر سب لوگ تم کو شیرا کہہ کر کیوں بلا رہے ہیں . میں : کیونکی میرا اصل نام شیرا ہی ہے نییر نہیں بھول گئی میں نے تمہیں بتایا تو تھا . ایسی ہی باتیں کرتے ہوئے ہم سب میرے گھر كے سامنے پوحونچ گئے جہاں روبی گاتے كے سامنے کھڑی ہمارا انتظار کر رہی تھی . روبی کو دیکھتے ہی میں اسکو سائڈ پر لے گیا جہاں میں اسکو دونوں کی ساری کہانی بتادی اسلئے روبی نے بہت اچھے سے انکا سواجات کیا اور ان کو گھر كے اندر لے گئی . میں ان تینوں كے ساتھ بیٹھا تھا لیکن مجھے اس وقت بہت عجیب سا محسوس ہو رہا تھا اور میں اک عجیب سی دیماجی جنگ سے گزر رہا تھا سمجھ نہیں آ رہا تھا کی ان تینوں کو اک ساتھ یہاں کیسے رکھوں . اگر تینوں میں سے کسی نے بھی پوچھ لیا کی باقی 2 سے تمہارا کیا رشتہ ہے تو میں کیا جواب دونگا . ایسی ہی کئی سوال اب گھر آکے اک دم سے میرے دماغ میں چلنے لگے تھے . یوں تو ہم سب ساتھ میں بیٹھے تھے لیکن بولنے کی ہمت کوئی بھی نہیں کر پا رہا تھا حنا اور نازی نئے ماحول اور گزرے ہوئے وقت کی وجہ سے چُپ تھی ، روبی ان دونوں كے ساتھ میرے رشتے کو شاید سمجھ نہیں پا رہی تھی اسلئے چُپ تھی اور میں ان تینوں میں پاس گیا تھا کیونکی تینوں ہی مجھے پیار کرتی تھی اور میں کسی کا بھی دِل نہیں توڑنا چاہتا تھا . اک طرف حنا اور نازی تھی جو مجھ پر بھروسہ کرکے صرف میرے لیے یہاں تک آ گئی تھی دوسری طرف روبی تھی جو ہمیشہ سے ہی میرے ساتھ تھی اور ہمیشہ مجھے خوش رکھنے کی کوشش میں لگی رہتی تھی . ایسی ہی کئی سوال تھے جنکے جواب ہم میں سے کسی كے پاس نہیں تھے . تبھی رسول آ گیا اور اس نے ہماری بیچ بنی خاموشی کو اک دم سے توڑ دیا . رسول : یار تم لوگ یہاں بیٹھے اک دوسرے کی شکل ہی دیکھتے رہوگے یا کچھ کھانے پینے کا بھی موڈ ہے . . . بھائی اتنے لمبے سفر سے آئے ہو پہلے کچھ کھا لو . . . روبی : ہاں بحایجان میں کھانے پینے کا ہی انتظام کرنے جا رہی تھی . . . رسول : کوئی ضرورت نہیں ہے الی کی امی ( رسول کی بِیوِی ) نے سب انتظام کر دیا ہے شیرا نے آنے سے پہلے بتا دیا تھا اسلئے میں نے سب انتظام کروا دیا ہے اب آپ سب لوگ میرے گھر چلیے اور دعوت قبول فرمائے . . . اسکے بَعْد ہم سب رسول كے گھر چلے گئے جہاں ہمیشہ کی طرف الی میرے ساتھ آکے کھیلنے لگا اور چھوٹے نییر كے آ جانے سے وہ بھی کافی خوش لگ رہا تھا اور اسکے ساتھ کھیلنے میں لگ گیا . اسکے بَعْد حنا نازی اور روبی کو رسول کی بیگھوم كے پاس چور کر میں اور رسول اپنے ادیی پر چلے گئے جہاں خان کو باندھ رکھا تھا . ادیی پر سوما ، گانی اور لالہ پہلے سے موجود تھے جو شاید میرے آنے کا ہی انتظار کر رہے تھے . میں : لالہ یہ سوما کہا ہے نظر نہیں آ رہا . لالہ : ( مسکرا کر ) بھائی وہ اپنے نئے مہمان کی خاطر میں لگا ہوا ہے . میں : ایب . . . کمینوں جان سے مت مار دینا ابھی اسے چھوٹے خان کا مال کہا رکھا ہوا ہے اسکا بھی پتہ نکلوانا ہے . لالہ : بھائی اپنا کام تھا خان کو سوما تک پوحونچانا میں اپنا کام کر دیا ہے اب آگے تو جان سوما جانے اور تیرا خان جانے . . . میں تو كھانا کھانے جا رہا ہوں ( رسول کو دیکھ کر ) سالا بھوک سے جان نکل رہی ہے اور یہاں تو کسی کمینے نے كھانا تک نہیں پوچھا . خود تو مزے سے بریانی کھا آئے ہیں . رسول : سیل تو مہمان ہے جو تجھے انvیتایون کارڈ دیکی جاؤ . . . جا گھر چل جا اور جاکے كھانا تھووس لے . . . میں : ( ہستے ہوئے ) اچھا ٹھیک ہے جا كھانا کھا لے جاکے تب تک میں سوما سے مل کر آٹا ہوں . اسکے بَعْد ہم اس کمرے میں چلے گئے جہاں خان اور سوما تھے . سوما ، خان کو بری طرح مار رہا تھا اور کمرے كے باہر ہی خان كے چلانے کی آواز آ رہی تھی . ہم نے جیسے ہی کمرے کا دروازہ کھولا تو دیکھا خان زمین پر گرا پڑا تھا اور سوما اسے بری طرح ٹھوکر سے مار رہا تھا . میں : بس . . . بس . . . بس کر سوما مر جائیگا یار . . سوما : مرتا ہے تو مر جائے سالا لیکن آج اسے سارے مال کا پتہ نیکالواکی رہوں گا اِس حرامی کی وجہ سے سب سے جادا میرا نقصان ہوا ہے . اِس حرامی كے کوٹو نے میرے مال پر رائد ڈال کر سارا مال پکڑا تھا جانتا ہے بابا سے کتنی باڑ گالی کھائی ہے میں نے اِس حرامی کی وجہ سے اور اِس بحینچود نے سارا مال اپنے باپ چھوٹے کو دے دیا . مادرچود کو پیسے ہی چاہئے تھے تو میرے پاس نہیں آ سکتا تھا . اسکے بَعْد ہماری کافی پوچحنی پر خان نے اپنا موح کھول دیا اس نے چھوٹا شیخ كے سارے ادیی اور گودام ہم کو بتا دیئے جہاں وہ سارا مال رکھتا تھا اس کے علاوہ پولیس ڈیپارٹمنٹ میں خان كے کتنے لوگ تھے ان سب کے بڑے میں بھی اس نے ہم کو بتا دیا . خان کی ڈی ہوئی انفارمیشن سے لالہ ، گانی اور سوما نے چھوٹے خان کا سارا بوسینیس ختم کر دیا اور اسکے لگ بھگ سب آدمیو کو مار دیا تھا . اسکے سارے جودامو کا مال میرے آدمیو نے لوٹ لیا اور یہاں لے آئے جسے مارکیٹ میں ہم لوگوں کی مونوپولی ہو گئی تھی . اب ہم ہر غیر قانونی چیج کو اپنے پرائس اور اپنی کنڈیشن پر بیچنی لگے تھے . خان كے ڈیپارٹمنٹ كے سب لوگوں کو ہم نے اپنے پیسے کی طاقت سے خرید لیا اور اپنی طرف کر لیا اب وہ لوگ دوسرے ڈیلرز كے پکڑے ہوئے دروججس اور سارے حاتحیار ہم کو سپلائی کرتے تھے ان لوگوں كے ہمارے ساتھ مل جانے سے مال پکڑے جانے کی ٹینشن بھی ختم ہو گئی تھی . خان سے ساری انفارمیشن نکلوانے كے بَعْد ہم نے خان کو بھی ختم کر دیا . دیکھتے ہی دیکھتے کچھ ہی دن میں ہم نے مارکیٹ میں اپنی پہلے سے بھی مضبوط پوسشن حاصل کر لی تھی اب ہماری vیدیشی کلیینتس كے پاس بھی ہم سے مال خریدنے كے علاوہ کوئی رستہ نہیں تھا اسلئے انہوں نے مجھ سے معافی مانگ کر پِھر سے میرے ساتھ بوسینیس شروع کر دیا . اِس طرح ہم نے چھوٹے سیکھ کو پوری طرح برباد کر دیا تھا ساتھ ہی جو چھوتی-موتی گینگ تھے وہ یا تو ختم کر دیئے تھے یا اپنے ساتھ ملا لیے تھے . اب صرف انتظار تھا تو چھوٹے شیخ کو ختم کرنے کا لیکن ہماری بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھتے ہوئے وہ بھی انڈر گراؤنڈ ہو گیا تھا یا ملق سے فرار ہو گیا تھا . اب اسکے پاس نا پیسہ تھا نا ہی آدمی تھے اور نا ہی بوسینیس تھا بابا كے سکھائے ہوئے نیم كے دم پر ہم اب انڈرورلڈ میں سب سے اوپر آ گئے تھے . کچھ ہی ماحینو کی محنت كے بَعْد اک دن ہم کو چھوٹا شیخ بھی مل گیا جسے ہم سب بھائیو نے مل کر بَدی تسلّی سے تادپا-تادپاکی مار دیا . اسکے بَعْد ہمارے سارے وپونینت ختم ہو چکے تھے اب انڈرورلڈ میں ہم ہی ہم تھے . 1 سال كے اندیر-اندیر میں نے بابا كے فیصلے کو سہی ثابت کرتے ہوئے اپنے ہر بوسینیس کو 100 گنا بڑھا دیا تھا اب ہمیں پہلے جتنی پورے بوسینیس میں کمائی ہوتی تھی اسے جادا اب ہمیں اک اک بوسینیس میں ہونے لگی تھی . وہی دوسری طرف نام اور بڑھتی ہوئی شہرت نے مجھے پورے ملق میں موست-وانٹڈ قرار کروا دیا تھا کیونکی خان کی کیدناپینج سے لیکر مجھ پر کئی پولیکیوالو كے موردیرس كے کیس بھی چل رہے تھے ساتھ منی لاونجری ، حاتحیارو کی اور دروججس کی تاسکاری جیسے معاملے بھی اب میرے نام پر تھے اسلئے اب میرا اِس ملق میں رہنا سیف نہیں تھا لحاظہ مجھے سارا بوسینیس رسول ، لالہ ، گانی اور سوما میں بانٹ کر اِس ملق کو چھوڑنا تھا کیونکی اب اگر کچھ دن اور اِس ملق میں میں رہتا تو پولیس مجھ تک کبھی بھی پوحونچ سکتی تھی اور انکا مجھے گرافتار کرنے کا موڈ تو بالکل بھی نہیں تھا اور اِس باڑ میں اک اور پولیس ان کوونتیر كے لیے میں راضی نہیں تھا لیفازا میں نے ملق چھوڑنے کا فایلسا کر لیا . وہی دوسری طرف روبی ، نازی اور حنا اکیلی ہو گئی تھی میں ان کے ساتھ ہوکے بھی پوری طرح ان کے ساتھ نہیں تھا نا تو میں پوری طرح سے کسی کو اپنی کہہ پا رہا تھا اور نا ہی میں اب ان کو چور سکتا تھا اسلئے اک دن میں نے رسول سے اپنے دِل بات کرنے کی سوچی کیونکی ہم سب میں اک رسول ہی تھا جو نا صرف عمر میں مجھ سے بڑا تھا بلکہ وہ شادی-شودا بھی تھا اسلئے اک دن میں نے بات کرنے كے لیے رسول کو بلایا اور خود اپنے کیبن میں بیٹھ کر اسکے آنے کا انتظار کرنے لگا . رسول : ہا بھائی تم نے مجھے بلایا تھا . میں : ہاں یار تم سے اک دِل کی بیٹ کرنا چاہتا تھا سمجھ نہیں آ رہا کہا سے شروع کروں . رسول : ( میرے سامنے کی کرسی پر بیٹھ طے ہوئے ) بول بھائی کیا بات ہے میں : یار تو تو جانتا ہے کی میں یہ ملق چورکار جا رہا ہوں لیکن جانے سے پہلے میں اک الجھن میں ہوں . رسول : بتانا یار کیسی الجھن اب تو اپنی ساری پرابلمز بھی سولو ہو گئی ہے بوسینیس بھی ٹوپ پر چل رہا ہے اب کیسی الجھن . میں : یار جب سے حنا اور نازی یہاں آئی ہے میں بہت الجھ گیا ہوں . روبی ، حنا اور نازی تینوں ہی مجھے بہت پیار کرتی ہے اور ان تینوں نے ہی میرے لیے اپنا سب کچھ چھوڑ دیا ہے اب مجھے سمجھ نہیں آ رہا کی اپنے مطلب كے لیے ان کو ایسی چھورکار جانا سہی ھوگا یا نہیں . رسول : ہحممم بات تو تمہاری سہی ہے . . . یار میری مانو تو تم شادی کر لو ساری الجھن دور ہو جائے گی . میں : لیکن قصے کروں شادی یار تینوں ہی مجھے پیار کرتی ہیں اور کہی نا کہی تینوں ہی میرے برے وقت میں میرے ساتھ تھی اور میرا ہمیشہ ساتھ دیا بالکل تم سب کی طرح . رسول : ہحممم میری مانیجا تو اسے شادی کر جسے تو پیار کرتا ہے سامجحاا . . . . اور یار بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا . میں : ٹھیک ہے . . . اسکے بَعْد رسول مجھے میری سوچ كے ساتھ تنہا چھورکار وہ چلا گیا اور میں سوچنے لگا کی پیار کس کو کرتا ہوں . سچ تو یہ تھا کی میں تینوں سے پیار کرتا تھا لیکن اب میں تینوں سے شادی کیسے کرتا بس اسی قاش-م-قاش میں میں الجھا ہوا تھا لحاظہ میں نے یہ فیصلہ بھی ان تینوں پر ہی چھوڑ دیا اور وہاں سے سیدھا گھر چلا گیا . گھر پوحونچکار میں نے بہت ہمت سے گھر کا دروازہ خات-خاتایا کچھ دیر بَعْد حنا نے اک دل-قاش مسکان كے ساتھ دروازہ کھولا . حنا : آج جلدی آ گئے نییر . . . میں : ہاں آج کچھ خاص کام نہیں تھا اسلئے جلدی آ گیا . اسکے بَعْد میں نے چاروں طرف دیکھا تو مجھے صرف نازی نظر آئی جو نییر کو بوتتال سے دودھ پلا رہی تھی . لیکن مجھے روبی کہی نظر نہیں آئی . . . میں : روبی کہا ہے . . . حنا : وہ یتیم کھانے میں ہیں ابھی بچو کا اسکول چل رہا ہے نا اسلئے شام کو آئیگی . میں : اچھا . . . یار میں تم لوگوں سے اک ضروری بات کرنا چاہتا تھا یہ سن کر دونوں میرے پاس آکے کھڑی ہو گئی اور ساوالیا نظروں سے مجھے دیکھنے لگی . میں نے دونوں کو اک نظر دیکھا اور دونوں کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ ان کو بھی بیڈ پر اپنی دونوں طرف بٹھا لیا . میں : تم دونوں تو جانتی ہی ہو کی ہماری بڑھتی ہوئے بوسینیس اور میرے کماؤں کی وجہ سے میں پورے ملق میں موست-وانٹڈ ہوں اسلئے مجھے یہ ملق چھوڑنا ھوگا لیکن میں سوچ رہا ہوں اِس ملق سے میں اکیلا نہیں بلکہ شادی کرکے اپنی بِیوِی كے ساتھ جاؤ . حنا : ( خوش ہوتے ہوئے ) یہ تو بہت اچھی بات ہے کی تم نے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ویسی کون ہے وہ خوش-ناسییب . میں : یار اس کا فیصلہ میں نہیں بولکی تم تینوں مل کر کر ہی کر لو کیونکی میں جانتا ہوں تم ، نازی اور روبی تینوں ہی مجھے بی-ینتیحا پیار کرتی ہو میرے لیے تم نے اپنا سب کچھ داv پر لگا دیا اب مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے کی تم تینوں میں سے کسی کو بھی بیچ رستے میں ایسی ہی چورکار چلا جاؤ . حنا : ( ہستے ہوئے ) بس اتنی سی بات تو اس میں کنفیوز ہونے کی کیا بات ہے . . . چلو تمہاری اک مشکل تو میں آسان کر دیتی ہوں . . تم کو روبی اور نازی میں سے اک کو چننا ہے کیونکی مجھے لگتا ہے مجھ سے جادا تم کو یہ دونوں پیار کرتی ہیں . نازی : نہیں . . . مجھے لگتا ہے تم کو روبی اور حنا باجی زدہ پیار کرتی ہے . . . حنا : چلو جی ہو گیا فیصلہ . . . تم روبی سے ہی شادی کر لو وہ تم کو ہم دونوں سے جادا پیار کرتی ہے . میں : اور تم دونوں . . . نازی : ہم دونوں کی فکر مت کرو ہم دونوں یہاں محفوظ ہے نا تو فکر کیسی اور ویسے بھی روبی باجی كے جانے كے بَعْد یتیم كھانا سنبھالنے والا بھی تو کوئی ھونا چاہئے نا . انکی بات سن کر میں کچھ دیر سوچتا رہا اور پِھر بنا کچھ کہے بیڈ سے اٹھا اور چپ چاپ گھر سے باہر نکل گیا . میں اپنی گہری سوچ میں اتنا الجھا ہوا تھا کی مجھے پتہ ہی نہیں چلا کب میں یتیم کھانے تک پیدل ہی آ گیا . وہاں جاکے میں روبی سے ملا اور یھی بات روبی سے بھی کہی تو اسکا بھی جواب یھی تھا کی حنا اور نازی مجھے اسے جادا پیار کرتی ہے اسلئے میں ان دونوں میں سے کسی سے شادی کروں . اسکا جواب سن کے میں وہاں سے واپس گھر کی طرف چل دیا اور جانے کب میرے قدم مجھے بابا کی قبر تک لے آئے . وہاں میں کچھ دیر بیٹھا رہا اور اپنے ساوالو كے جواب حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا لیکن میں ناکام ثابت ہو رہا تھا پِھر میں اپنی گزری ہوئی زندگی کو دیکھنے لگا جب میں سب سے پہلے نازی سے ملا تھا وہاں اس نے کیسے پہلے میری جان بچایی پِھر فضا كے ساتھ میری بہترین دیخ-بحال کی جسے میں چند ماحینو میں اپنے پیڑو پر کھڑا ہو گیا کہی نا کہی میرا روم روم نازی اور اسکے پریوار كے احسان كے نیچے دبا ہوا تھا اور ویسی بھی اب اسکا میرے سوا کون تھا میں اسکو کیسے چھورکار جا سکتا تھا ، دوسری طرف حنا تھی جس نے میری اک چھوٹی سی دللگی کو پیار سمجھ کر میرے جانے كے بَعْد نییر اور نازی کا نا صرف خیال رکھا بلکہ میری غیر حاضری میں بابا اور فضا کی بھی ہمیشہ مدد کی وہ نہیں ہوتی تو آج شاید نازی اور نییر بھی زندہ نہیں ہوتے ، وہی روبی كے بڑے میں سوچتا تو وہ سب سے الگ تھی ساری دُنیا نے معاً لیا تھا کی میں مر چکا ہوں پِھر بھی وہ میرا انتظار کرتی رہی مجھے شادی کیے بنا بھی میری بیوہ بن کر وہ اپنی عمر گزرنے كے لیے تییار تھی اور میرے چلے جانے كے بَعْد اس نے میرے سپنے کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا اور اپنی سڑی زندگی یتیم کھانے كے نام کردی . دیکھا جائے تو میں ان تینوں کا ہی کہی نا کہی قرض دار تھا ان کے کیے ہوئے پیار اور احسان کو میں ایسی کیسے چھورکار جا سکتا تھا لحاظہ میں نے اک عیسی فیصلہ کیا جو شاید کسی نے بھی نا سوچا ہو . اک ناتییجی پر پھونچ کر میں خود کو کافی شانت محسوس کر رہا تھا اور بابا کی قبر كے پاس بیٹھا خوش ہو رہا تھا . تبھی پیچھے سے اک ہاتھ میرے کاندھے پر آکے رک گیا . میں نے پیچھے مودکار دیکھا تو یہ رسول تھا . رسول : بھائی کہا ہے تو دوپیحار سے میں گھر بھی گیا تھا لیکن حنا اور نازی نے بتایا کی تو بنا کچھ کہے وہاں سے چلا گیا میں نے سمجھا تو یتیم کھانے گیا ھوگا وہاں سے بھی روبی سے عیسی ہی جواب ملا تجھے کافی ڈھونڈا جب تو نہیں ملا تو میں جانتا تھا تو کہا ملے گا . میں : یار شام ہو گئی پتہ ہی نئی چلا میں یار آج خود کو کافی الجھا ہوا محسوس کر رہا تھا اسلئے سوچا یہاں آ جاؤ تو من شانت ہو جائیگا . رسول : میں جانتا ہوں یار . . . چل بتا پِھر کس کو پیار کرتا ہے تو اور قصے شادی کرے گا میں کل ہی قاضی کو بولوا لیتا ہوں . میں : تو قاضی کو بولوا لے میں نے میری ہم سفر کو چن لیا ہے . رسول : ( خوش ہوکے میرے گلے لگتے ہوئے ) ارے واہ بھائی خوش کر دیا کیا مست خبر سنائی ہے . . . . چل بتا کون ہے ہماری ہونے والی بھابی . . . میں : ( مسکرا کر ) کل نکاح پر دیکھ لینا رسول : یار تو کل ہی شادی کرے گا کیا . . . میں : ہاں کیوں . . . نہیں کر سکتا کیا . . . رسول : نہیں . . . نہیں یار ایسی بات نہیں ہے میرا مطلب تھا شادی اگر دحوم-دحاام سے ھوگی تو جادا بہتر ھوگا اور اسکے لیے تییاریان کرنے كے لیے وقت چاہئے . میں : ( کچھ سوچتے ہوئے ) اک ہفتہ بہت ہے کیا . . . . رسول : ہاں اک ہفتے میں تو میں سب انتظام کر دونگا . . . میں : تو ٹھیک ہے پِھر تہہ ہو گیا . . . . اسکے بَعْد میں اور رسول کار میں بیٹھ کر گھر آ گئے جہاں نازی روبی اور حنا میرا انتظار کر رہی تھی . رسول : لو جی آپکا مجرم پکڑ لایا ہوں اب خود ہی سنبھال لو میں تو چلا شادی کی تییاریان کرنے . . . مجھے بہت کام ہے . رسول کی بات سوننکار وہ تینوں میرے پاس آکے بیٹھ گئی اور مجھے ساوالییا نظروں سے دیکھنے لگی کیونکی رسول کی طرح وہ بھی جاننا چاہتی تھی کی میں قصے شادی کرنا چاہتا ہوں لیکن اُن میں سے کوئی بھی مجھ سے یہ سوال نہیں پوچھ رہی تھی شاید اُن میں کسی میں بھی دوسرے کا نعم سنے کی ہمت نہیں تھی اسلئے کچھ دیر میرے پاس خاموش بیٹھی رہنے كے بَعْد تینوں اپنی-اپنی کامو میں لگ گئی . میں جانتا تھا کی وہ تینوں ہی اندر سے بے حد اداس ہیں لیکن پِھر بھی میری خوشی كے لیے تینوں رسول کی بِیوِی كے ساتھ شادی کی شاپنگ میں لگ گئی . تہہ کیے ہوئے دن پوری بستی کو دلہن کی طرح سجا دیا گیا اور میری شادی بستی میں کرنا ہی تہہ ہوا کیونکی میرا بھی کوئی اپنا خاص رشتہ دار تو تھا نہیں جو بھی تھے یہ بستی والے اور میرے دوست میرے یار ہی تھے اسلئے میں نے بستی میں ہی شادی کرنے کا فیصلہ کیا جس کو سب نے خوشی-خوشی معاً لیا . لیکن ان گزرے دنوں میں سب مجھ سے آکے بار بار اک ہی سوال پوچھتے تھے کی دلہن کون ہے اور میں کسی کو کچھ نہیں بتا رہا تھا اسلئے سب اک عجیب سی الجھن میں شادی کی تییاریان کر رہے تھے . شادی والے دن قاضی نے دلہن کو بلانے کا کہا تھا تو سب میری طرف ساوالیا نظروں سے دیکھنے لگے کی اب میں کس کا نام لونگا . میں نے چاروں طرف نظر گھماکی دیکھا تو وہاں پر نا تو نازی تھی نا ہی روبی تھی اور نہیں ہی حنا تھی اسلئے میں نے رسول سے تینوں کا پوچھا . رسول : وہ تینوں گھر میں ہیں جو بھی تمہاری دلہن ہے اسکو جاکے خود لے آؤ . اتنا سن کر میں وہاں سے اٹھا اور چپ چاپ گھر كے اندر چلا گیا جہاں تینوں الگ-الگ بیٹھی ہوئی تھی اور اک دم خاموش تھی وہ کافی اداس لگ رہی تھی مجھے دیکھ کر وہ کچھ جادا ہی پریشان سی لگنے لگی . میں : کیا ہوا تم تینوں یہاں کیوں ہو . . . حنا : نییر بس کرو اب بہت ہو گیا ہے ہم تینوں کتنے دن سے دیکھ رہی ہے تم نا تو کچھ کہتے ہو نا کسی کی سنتے ہو آخر تم بتاتے کیوں نہیں کی تم نے کس کو چھونا ہے کتنے دن ہو گئے تم نے ہم تینوں کی جان سولی پر ٹانگ رکھی ہے سمجھ ہی نہیں آ رہا ہے کی تمھارے دِل میں کیا ہے . میں : ( زور سے ہستے ہوئے ) اگر میں کہو کی میں تم تینوں سے شادی کرنا چاہتا ہوں تو تم تینوں میں سے کسی کو اعتراض ہے کیا . . . میری یہ بات سن کر تینوں اک دوسرے کی شکل دیکھنے لگی ان کو شاید سمجھ نہیں آ رہا تھا کی وہ کیا کہے شاید کسی نے بھی مجھ سے ایسی جواب کی امید نہیں کی تھی اسلئے اب میرے جیسی ان تینوں کی حالت ہوئی پڑی تھی . روبی : تم پاگل تو نہیں ہو گئے ہو تم جانتے بھی ہو تم کیا کہہ رہے ہو یہ نا-مومکین ہے . میں : میں اک دم ٹھیک ہوں اور میں نے جو کہا وہ بھی اک دم سہی ہے میں تم تینوں كے بڑے میں سوچا لیکن کوئی بھی فیصلہ نہیں کر پایا اسلئے میں نے تم تینوں کو ہی چون لیا کیونکی میں جانتا ہوں تم تینوں میں سے کوئی بھی میرے بنا نہیں رہ سکتی اور اک کو خوش کرکے میں دو کا دِل نہیں توڑ سکتا . اب بتاؤ تم تینوں کو اسے کوئی اعتراض ہے یا نہیں . اتنا کہہ کر میں نے سب سے پہلے نازی کی طرف دیکھا تو اس نے نا میں سر ہلا دیا پِھر روبی کی طرف دیکھا تو اس نے بھی نا میں سر ہلا دیا اور لاسٹ حنا کی طرف دیکھا تو اس نے بنا کچھ کہے مجھے گلے سے لگا لیا . میں : اگر اعتراض نہیں ہے تو 5 منٹ میں ریڈی ہوکے باہر آ جاؤ باہر قاضی انتظار کر رہا ہے . اسکے بَعْد میں واپس باہر آ گیا اور اپنی جگہ پر جاکے بیٹھ گیا اور رسول اور لالہ کو ساری بات بتا ڈی تو میری بات سن کر ان کے بھی ہوش اُڑ گئے لیکن میری بات کو سمجھنے كے بَعْد وہ بھی معاً گئے اور میری خوشی میں وہ بھی خوش ہو گئے . کچھ دیر بَعْد تینوں تییار ہوکے آ گئی اور قاضی نے تھوڑے بہت ناٹک کرنے كے بَعْد میرا تینوں سے نکاح کروا دیا اسکے بَعْد میں نے ، میری بیویو نے اور نییر نے اک ساتھ یہ ملق چھوڑ دیا . اب میں اپنی تینوں بیویو كے ساتھ بہت سکون سے رہتا ہوں . مجھے میرا ملق چودے ہوئے 24 سال ہو گئے ہیں اور ان بیتی 24 سالوں میں مجھے حنا ، روبی اور نازی سے اک اک بیٹا ہوا ہے جو ابھی اسکولز اور کالج کی ایجوکیشن پوری کر رہے ہیں اور ہماری ساتھ ہی رہتے ہیں لیکن تینوں میں میری کوئی نا کوئی خوبی ہے لڑکیوں کا شونک سب کو ہی ہے جنسے انکی ماں ہمیشہ ہی پریشان رہتی ہیں لیکن وہ ہر باڑ مجھے ڈانٹ کھانے كے لیے آگے کرکے خود صاف بچ کر نکل جاتے ہیں . چھوٹا نییر بھی اب بڑا ہو گیا ہے اور وہ اور الی ( رسول کا بیٹا ) اب میرا بوسینیس سنبھالنے لگے ہیں . نییر دیکھنے میں کافی حد تک میرے جیسا ہے لیکن ناتوریویسی اک دم میری جوانی جیسا ہے اور تھوڑا گرم میزاز کا بھی ہے الی اک دم رسول جیسا ٹھنڈے دماغ کا ہے جو نییر کو ٹھنڈا کرنے میں لگا رہتا ہے . ہماری جانے كے بَعْد یتیم كھانا اب وہ کوئی نارمل یتیم كھانا نہیں رہا وہاں اب ہم نے اک شاندار اسکول اور بچو كے رہنے كے لیے اک عالیشان ہوسٹل بنوا دیا ہے جہاں بچے اچھی تعلیم حاصل کرتے ہیں کیونکی ہم ان بچو کو اپنے جیسا نہیں بنانا چاھتے . بستی بھی وہ پرانی ٹوٹی پھوٹی نہیں رہی ہم نے وہاں سب کے لیے اچھے اور شاندار اپارتمینٹ بناوا دیئے ہیں اور لوگوں كے روزگار كے لیے وہاں فاکتورییس اور ملز کھول ڈی ہیں جس کو لالہ ، سوما سنبھلتے ہیں . ارے ہاں ہماری بوسینیس کا بتانا تو میں بھول ہی گیا . ہم نے اب اپنا دروججس اور آرمس کا بوسینیس بند کر دیا ہے اور سارا پیسہ ریئل اسٹیٹ ، ہوتیلس ، کاسینو اور فائی نینس کمپنی میں لگا دیا ہے اور اپنے ہر غلط دحاندحی کو شاریفو والا بوسینیس بنا دیا ہے جس کو میرے ساتھ رسول ، گانی سنبھلتے ہیں . لالہ ، سوما اور گانی نے بھی شادی کر لی ہے اور سودحارنی کی پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن آج بھی ان کے اندر کا گندا کبھی کبھی باہر آ جاتا ہے جس کو مجھے اور رسول کو سنبھالنا پڑتا ہے . آج میں اک انڈرورلڈ دوں ہوتے ہوئے بھی اک نارمل بوسنیسمان کی زندگی گزار رہا ہوں اور اپنے پریوار كے ساتھ بہت خوش ہوں . -----The End-----
  8. رضوانہ : رک جاؤ نییر بس ایسی ہی رہو اب ہلنا مت . میں : ( اسکے ماتھے پر ہاتھ فیرتی ہوئے ) ٹھیک ہے . کچھ دیر ایسی ہی لیتے رہنے كے بَعْد اسکا اشارہ ملتے ہی میں فر سے شروع ہو گیا اور اِس باڑ میں جھٹکے بھی تھوڑے تیز لگا رہا تھا . اب رضوانہ کا دَرْد بھی پہلے سے بہت کم ہو گیا تھا اور وہ بھی میرا پُورا ساتھ دے رہی تھی کچھ دیر ایسی ہی جھٹکے لگانے كے بَعْد اک باڑ فر سے اسکا جسم عقد گیا اور اس نے اپنی گانڈ کو ہوا میں اٹھا لیا اور جھٹکے کھانے لگی اور فر بیڈ پر ڈھیر ہوکے تیز-تیز سانس لینے لگی . اب میں اسکو اوپر سے ہٹ گیا اور اسکو اٹھا کر اُلٹا لٹا دیا اور اسکی گانڈ کو اوپر کو اٹھایا میرا اشارہ سمجھ کر وہ گھوڑی كے جیسے اپنے ہاتھ اور گھٹنوں كے سہارے بیڈ پر کھڑی ہو گئی اب میں اسکے پیچھے آ گیا اور اپنے لنڈ فر سے اسکی چوت كے موح پر رکھا اور دھیرے دھیرے لنڈ کو اندر ڈالنے لگا اسکو اب بھی لنڈ ڈالنے پر دَرْد ہو رہا تھا جس وجہ سے اسکے موح سے اک سسسس کی آواز نکل رہی تھی . اب میں نے اک ہاتھ سے اسکے بال پکڑ لیا اور دوسرا ہاتھ اسکی گانڈ پر رکھ کر جھٹکے لگانے لگا اسکو شاید عیسی کرنے سے بہت مزہ آ رہا تھا اسلئے کچھ دیر میں وہ بھی میرا بھرپور ساتھ دینے لگی اب اسکو اپنے دَرْد کی کوئی پرواہ نہیں تھی اور مجھے بار بار جور سے کرو نییر . . . . . جور سے کرو نییر . . . . . بول رہی تھی میں بھی اب اپنی پوری رفتار سے جھٹکے لگا ہا تھا اسکو چھوٹی ہوئے میرا اسکے بال کھنچنا کافی پسند آیا تھا شاید اسلئے جب بھی میں اسکے بلو سے ہاتھ ہٹا لیتا تو وہ خود ہی میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے بلو پر رکھ لیتی . اسلئے میں بھی اب اسکے بال پکڑ کر تیز-تیز جھٹکے لگا رہا تھا پُورا کمرا اسکی سسس . . . . . سسس . . . . . آہا . . . . . ووہہہ . . . . . آیییی . . . . کی اوازو سے گنج رہا تھا . اب ہم دونوں مزے میں کھوئے ہوئے تھے میں اب فارغ ہونے كے قریب تھا اسلئے میں اب اپنی پوری رفتار سے جھٹکے لگا رہا تھا . کچھ ہی دیر میں میں اپنی منزل پر آ گیا اور ساتھ ہی اک باڑ فر اسکا جسم بھی جھٹکے کھانے لگا اور ہم دونوں اک ساتھ ہی فارغ ہو گئے میں فارغ ہونے كے بَعْد بہت تھک گیا تھا اسلئے اسکی پیٹھ پر ہی ڈھیر ہو گیا وہ بھی ویسے ہی بیڈ پر الٹی ہی لیٹ گئی اور اب ہم دونوں اپنی سانسو کو درست کرنے کی کوشش کر رہے تھے . میں اپنی آنکھیں بند کیے رضوانہ كے اوپر لیتا تھا اور وہ اپنے اک ہاتھ پیچھے لے جا کر میرے سر پر اپنے ہاتھ فیر رہی تھی کچھ دیر بَعْد جب ہم دونوں کی سانس ٹھیک ہو گئی تو میں اسکے اوپر سے حاتکار سائڈ پر لیٹ گیا وہ بھی ویسے ہی مجھ سے لپٹ کر سو گئی . اس رات بہت مزے کی نیند آئی ہم دونوں کو ہی ہوش نہیں تھا کی کہا پڑے ہیں . صبح جب میری جاگ کھلی تو رضوانہ کسی معصوم بچے کی طرح میرے ساتھ لیتی تھی اور مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی . میں : ( اپنی آنکھیں ملتے ہوئے ) صبح ہو گئی . رضوانہ : ہاں جی صبح ہو گئی . . . . . گڈ مارننگ سوئیٹ ہارٹ . میں : تم کب اٹھی . رضوانہ : تھوڑی دیر پہلے . میں : مجھے اٹھایا کیوں نہیں . رضوانہ : تم سوئے ہوئے اتنے پیارے لگ رہے تھے کی اٹھانے کا دِل ہی نہیں کیا . میں : ارے چلو تییار ہو جاؤ خان نے بلایا تھا اسکے پاس بھی جانا ہے . رضوانہ : ( مجھے گلے لگاتے ہوئے ) ممممم آج کہی نہیں جانا آج میں میری جان كے ساتھ رہونگی بس آج کوئی کام نہیں کرنا . میں : وہ تو ٹھیک ہے لیکن اگر نہیں جائینگے تو خان غصہ ہو جائیگا نا . رضوانہ : میں کیا کروں مجھ سے اٹھا ہی نہیں جا رہا . میں : کیوں کیا ہوا رضوانہ : ( ہیسٹ ہوئے ) اچھا کیا ہوا مجھے . . . کل رات کیا ہوا تھا . . . یاد کرو . . . . چلو . . . چلو . . . . میں : ( کچھ سوچتے ہوئے ) اچھا وہ . . . . جادا دَرْد ہو رہا ہے . رضوانہ : ( میرے ہوتھ چومکار نا میں سر ہلاتے ہوئے ) وہہوو . . . میں : چلو فر آج ساتھ میں نہاتے ہیں رضوانہ : ہحممم لیکن نیچے جلن ہو رہی ہے لگتا ہے آج تو کلینک جانا ہی پڑیگا . میں : کیوں کلینک میں کیا ہے . . . رضوانہ : وہاں سے اک کریم لانی ہے وہ لگاونجی تو ٹھیک ہو جائے گی . میں : تم آج آرام کرو گھر پر مجھے بتا دو کونسی کریم ہے میں لے آؤنگا . رضوانہ : ہحممم اچھا اور جب نرس پوچحیجی تو کیا بولوگے . میں : بول دونگا رضوانہ نے مانجوایی ہے . رضوانہ : ہو . . . رہنے دو میں خود ہی لے آونجی . . . تم تو جس کو نہیں بھی پتہ چلنا ھوگا اسکو بھی بتا دوگے . ( ہیسٹ ہوئے ) میں : چلو فر تیار ہو جاتے ہیں جانا بھی ہے رضوانہ : ٹھیک ہے چلو . اچھا سنو حیاد-قوارتیرس جاکے کسی کو ہماری بڑے میں کچھ مت بتانا ابھی . مناسب وقت آنے پر ہم سب کو بتایینجی ٹھیک ہے ابھی چُپ رہنا اور ہماری بڑے میں کسی سے کوئی بیٹ نا کرنا . میں : ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) ہحممم اسکے بَعْد میں نے جیسے چادار حاتایی بیڈ پر اک خون کا نشان لگا ہوا تھا جس کو میں اور رضوانہ دونوں دیکھ رہے تھے اور مسکرا رہے تھے رضوانہ سے ٹھیک سے چلا نہیں جا رہا تھا اسلئے وہ اپنی ٹانگ کو تھوڑی چودی کرکے چل رہی تھی اسکے اِس طرح چلنے پر میں اپنی ھسی روک نہیں پایا اور زور زور سے ھسنے لگا . رضوانہ : ( مسکراتے ہوئے ) حسسو مت سب تمہارا ہی کیا ہوا میں : میں نے بولا تھا کپڑے اُتار کر میرے ساتھ سونے کو . رضوانہ : اچھا . . . اچھا . . . ٹھیک ہے اب مجھے باتھ روم تک لے کے چلو دَرْد ہو رہی ہے . ( چوت کو سیحلیٹ ہوئے ) اسکے بَعْد میں نے اسکو گاڈ میں اٹھایا اور ہم دونوں نہانے چلے گئے وہاں ہم دونوں ساتھ نہائے میرا لنڈ تو اک بار فر سے کھڑا ہو گیا تھا لیکن رضوانہ کی حالت دیکھ کر میں اپنے جذبات قابو کر لیے اور فر ہم دونوں تییار ہوکے ہیڈکوارٹر چلے گئے . ناشتہ بھی ہم نے رستے میں ہی کیا . ہیڈ کوارٹر جاتے ہی خان میرے سامنے اپنے سوالوں کی دکان کھولے کھڑا ہو گیا . خان : آ گئے جناب رات کو کیا ہوا تھا یار رضوانہ : کچھ نہیں گھر والے یاد آ رہے تھے جناب کو میں نے سمجھا دیا ہے اب سب سیٹ ہے . خان : دیکھ لو اگر کوئی مسئلہ ہے تو میرے ساتھ تم رہ سکتے ہو . میں : نہیں کوئی مسئلہ نہیں وہ مجھے بس گھروالوں کی یاد آ رہی تھی . خان : ( رضوانہ کو دیکھتے ہوئے ) یہ تم کو کیا ہوا پیر میں چوٹ لگی ہے کیا رضوانہ : ہاں رات کو لائٹ چلی گئی تھی میں موم بتی لینے گئی تو وہاں سابجی پر پیر سلپ ہو گیا اور پیر میں موچ آ گئی . نییر نہیں ہوتا تو میں اٹھ بھی نہیں سکتی تھی . خان : اپنا خیال رکھا کرو یار اور تم کو میں نے کتنی باڑ بولا ہے کوئی نوکرانی رکھ لو . رضوانہ : ارے اکیلی تو ہوں میں اب اک انسان كے لیے کیا نوکرانی رکھوں . خان : چلو جاؤ ڈاکٹر صاحبہ پہلے اپنا علاج کرو تب تک میں تھوڑا نییر صاحب سے بات کر لوں . رضوانہ : ہحممم . . . . ( میری طرف دیکھتے ہوئے ) جب تمہارا کام ختم ہو جائے تو میرے پاس کلینک میں آ جانا ٹھیک ہے . میں : اچھا جی اسکے بَعْد خان مجھے اک عجیب سی جگہ لے گیا جہاں بہت ساری مشینز پڑی تھی میرے لیے یہ جگہ اک دم نئی تھی اسلئے میں چاروں طرف بڑے غور سے دیکھ رہا تھا وہاں کافی سارے لوگ ہاتھ میں چھوٹی چھوٹی مشینز پکڑے بیٹھے تھے اور اسکے ساتھ کچھ نا کچھ کر رہے تھے . میں : خان صاحب ہم یہاں کیوں آئے ہیں خان : یہاں میں تم کو ہر قسم کا سپی ڈیوائسس استعمال کرنا سکحاونجا جو آگے جاکے تمھارے کام آئیگا . اور انکی مدد سے تم مجھ تک اس گینگ کی انفارمیشن بھی بھیج سکتے ہو . میں : اچھا . . . اسکے بَعْد پُورا دن وہ مجھے الگ-الگ قسم کی چھوٹی چھوٹی مشینز كے بارے میں بتاتا رہا اور مجھے ان کو استعمال کرنا بھی سییخاتا رہا میں ہر چیج کو بڑے دھیان سے سمجھ رہا تھا اور اسکو اپنے دماغ میں بیٹھانے کی کوشش کر رہا تھا . وہاں بیٹھے لوگ مجھے ان اوزارو کو استعمال کرنا بھی سیکھا رہے تھے اور میری ضرورت كے مطابق مجھے وہ سامان دے بھی رہے تھے جس کو میں خود اک باڑ استعمال کرکے دیکھ رہا تھا اور فر میں اک چھوٹے سے بیگ میں وہ تمام سامان کو ڈال رہا تھا . میرا پُورا دن وہی ڈیوائسس کو دیکھنے اور وہ کیسے کام کرتے ہیں اسکو سمجھنے میں ہی گزرا اسکے بَعْد شام کو میں اور رضوانہ گھر آ گئے . آتے ہی رضوانہ مجھ پر کسی بھوکی جانور کی طرح ٹوٹ پڑی اور ہم فر سے چُدائی میں لگ گئے . اب یہ ہمارا روز کا روٹین سا ہو گیا تھا کی دن میں میں خان سے ٹریننگ لیتا اور شام سے لیکر صبح تک ہم کو بس بہانہ چاہئے تھا چُدائی کرنے کا اب رضوانہ میرے بنا اک پل بھی نہیں رہتی تھی . کچھ ہی دن میں وہ مجھ سے بہت جادا جود سی گئی تھی اور مجھے بے پناہ پیار کرنے لگی تھی . اکثر جب بھی میں خان سے ٹریننگ لے رہا ہوتا تو رضوانہ کسی نا کسی بہانے سے میرے پاس آ جاتی . مجھے پتہ ہی نہیں چلا کی 15 دن کیسے گزر گئے اور میری ٹریننگ بھی مکمل ہو گئی آخری دن خان نے ایسی ہی مجھے اپنے کیبن میں بلایا وہاں اسکے پاس اک آدمی بیٹھا تھا جو مجھے دیکھتے ہی کھڑا ہو گیا اور حیرانی سے گھورنے لگا . خان : بیتحو-بیتحو یار اب یہ اپنا ہی آدمی ہے اسے درنی کی ضرورت نہیں . میں : خان صاحب آپ نے مجھے بلایا تھا . خان : ہاں نییر اب تمہاری ٹریننگ تو پوری ہو ہی گئی ہے اسلئے میں نے سوچا تمھارے جانے کا انتظام بھی کر دوں . میں : ( چونکتے ہوئے ) جانے کا . . . کہا جانا ہے مجھے . خان : ارے بھائی تم کو تمھارے گینگ تک نہیں پوحونچانا کیا . . . . میں : اُوں اچھا ہاں . . . تو بتاییی کب جانا ہے خان : کل جانا ہے میں : ( کرسی سے کھڑا ہوتے ہوئے ) کالل . . . . اتنی جلدی . . . خان : کیوں کیا ہوا کل جانے میں کوئی پریشانی ہے کیا . میں : جی نہیں ایسا بات نہیں ہے بس میں اک باڑ وہاں جانے سے پہلے اپنے گھروالوں سے ملنا چاہتا تھا . خان : ٹھیک ہے فر تم آج ہی اپنے گاv ہو آؤ اور اپنے گھروالوں سے مل آؤ لیکن صبح تک واپس آ جانا کیونکی مجھے خبر ملی ہے کی کل رات کو تمھارے پُرانے ساتھی لالہ ، گانی اور سوما شہر میں آ رہے ہیں دروججس کی ڈیل کرنے كے لیے اور تم کو انکی نظروں كے سامنے لانا ضروری ہے . تبھی تم اس گینگ تک پوحونچ پاؤگے . میں : جی اچھا . . . لیکن میں ان کے سامنے پوحونچونجا کیسے . خان : اسلئے تو تم کو یہاں بلایا ہے ان سے ملو یہ ہے راعنہ ( سامنے کرسی پر بیٹھے اس آدمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) رانا : سلام شیرا بھائی ( مجھ سے ہاتھ ملاتے ہوئے ) میں : ڈبلیو . سلام جناب . خان : یہ پیشی سے اک دروجج ڈیلر ہے اور ہمارا خاباری بھی ہے . تم اس کے ساتھ وہاں ڈیل کرنے جاؤگے اور وہاں ان کے لوگوں کا مال لوتوجی اور ان کے آدمیو کو ختم کروگے باقی سب کام میں نے اسکو سمجھا دیا ہے . میں : جی ٹھیک ہے . خان : اب تم گاv چلے جاؤ اور اپنے گھروالوں سے مل آؤ . میں : ٹھیک ہے . خان : اور سنو . . . ہمارے پاس وقت نہیں ہے اسلئے صبح تک یاد سے واپس آ جانا کیونکی صبح ہوتے ہی تم کو رانا كے ساتھ جانا ہے . میں : ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) جی اچھا . . . اسکے بَعْد وہ دونوں کمرے میں بیٹھے رہے اور میں باہر آ گیا . مجھے یہ سب اتنے جلدی ہونے کی امید نہیں تھی میں نے تو سوچا تھا کچھ دن اور میں اپنے گھروالوں كے پاس رہ لونگا لیکن یہاں تو خان نے مجھے بس اک رات کا ہی وقت دیا ہے اور اب تو رضوانہ بھی ہے جو مجھے بی-ینتیحا محبت کرتی ہے اسکو میں کیسے سامجحاونجا . میں اپنی انہی سوچو میں تھا کی میرے قدم خود ہی رضوانہ كے کیبن کی طرف مجھے لے گئے . میں : کیا میں اندر آ سکتا ہوں ڈوکتورنی صاحبہ . رضوانہ : ( مسکراتے ہوئے ) ارے تم آج اتنی جلدی فری ہو گئے . اور یہ کیا تم کو اندر آنے كے لیے مجھ سے اجاجت لینے کی ضرورت کب سے پڑنے لگ گئی . . . چلو اندر آؤ . میں : ویسے ہی سوچا تم کوئی کام کر رہی ھوگی . رضوانہ : ( اپنی کرسی سے کھڑے ہوکے میرے پیچھے آتے ہوئے ) میری جان تمھارے لیے تو وقت ہی وقت ہے بتاؤ کیا خدمت کروں میری جان کی . . . ( پیچھے سے میری گال چُومتے ہوئے ) میں : مجھے تم سے کچھ کہنا ہے . رضوانہ : کیا ہوا تم پریشان لگ رہے ہو سب ٹھیک تو ہے . میں : میں آج گاv جا رہا ہوں اسکے بَعْد کل صبح مجھے مشن كے لیے نکلنا ہے . رضوانہ : ( میری کرسی کو اپنی طرف گھماتے ہوئے ) کیا . . . . اتنی جلدی . . . . میں : ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) ہحمم . . . اسکے بَعْد ہم دونوں خاموش ہو گئے اور رضوانہ واپس اپنی جگہ پر جاکے بیٹھ گئی اور اپنا سامان سمیٹنے لگی . مجھے اسکا اِس طرح کا بارتاv عجیب سا لگا . میں : کیا ہوا ناراض ہو . رضوانہ : نہیں . . . ناراض کیوں ھونا ہے بس تھوڑی سی اداس ہوں سوچا نہیں تھا تم اتنی جلدی چلے جاؤگے . میں : اداس کیوں ہو . . . ارے میں جلدی واپس آ جاؤنگا نا . رضوانہ : میں نے سوچا تھا تم کچھ دن میرے پاس ہی روکوجی . میں : خان نے آج ہی مجھے بتایا میں بھی کیا کروں . رضوانہ : ( اپنا سارا سامان اپنے بیگ میں ڈالتے ہوئے ) چلو چلیں . میں : کہا چلیں رضوانہ : گھر میں تمہاری پیکنگ کرنے اور کہا میں : اور تمہارا کام . . . . رضوانہ : آج کوئی کام نہیں بس آج میں تمھارے ساتھ رہنا چاہتی ہوں . اسکے بَعْد رضوانہ نے جلدی چھوٹی لے لی اور ہم دونوں گھر كے لیے نکل گئے . رضوانہ پورے رستے خاموش اور اداس ہی بیٹھی تھی جو مجھے سچ میں اچھا نہیں لگ رہا تھا . میں : کیا ہوا ہے رضوانہ اب ایسی اداس مت بیٹھو یار . رضوانہ : میں ٹھیک ہوں ( میرے کاندھے پر اپنا سر رکھتے ہوئے ) میں : اک بات بولو . . . رضوانہ : ہحمممم میں : تم ایسی اداس بیٹھی اچھی نہیں لگتی رضوانہ : تو کیا تمھارے جانے کی خوشیاں ماناو . میں : تم کو پتہ ہے تم جب ہستی ہو تو بہت سیکسی لگتی ہو میری تو نیت ہی خراب ہو جاتی ہے . رضوانہ : ( ہیسٹ ہوئے ) ووو . . . . . تنگ مت کرو نا نییر . اک تو پہلے موڈ خراب کر دیا اب ہنسا رہا ہو . میں : میں نے کیا کیا یار یہ تو خان نے ہی مجھے جو بولا میں نے تم کو بتا دیا . رضوانہ : ( رونے جیسا موح بناتے ہوئے ) مت جاؤ نا . . . . نییر . میں : جانا تو پڑیگا کیا کرے مجبوری ہے . رضوانہ : میں تمھارے بنا کیسے رہونگی کبھی سوچا ہے . میں : ممممم چلو اک کام کرتے ہیں تم بھی میرے ساتھ ہی چلو . رضوانہ : کہا چالو . . . میں : میرے گاv اور کہا . . . رات وہاں ہی رہینگے اور صبح تک واپس آ جائینگے . رضوانہ : میں . . . . میں کیسے . . . میں : کیوں گاv جانے میں کیا پریشانی ہے رضوانہ : پریشانی والی بات نہیں ہے تمھارے گھر والے مجھے پسند نہیں کرتے اسلئے ان کو شاید میرا وہاں رہنا اچھا نا لگے . میں : ارے وہ لوگ بہت اچھے ہیں یار تم فکر مت کرو کوئی کچھ نہیں کہے گا . رضوانہ : لیکن . . . میں : لیکین-ویکین کچھ نہیں تم ساتھ آ رہی ہو . . . مطلب آ رہی ہو . . . ویسے بھی میرے پاس اک ہی دن بچہ ہے کل صبح کو تو مشن كے لیے نکلنا ہے اور میں چاہتا ہوں میں اپنا جادا سے جادا وقت اپنے چاہنے والو كے ساتھ گزاروں جن میں اب تم بھی ہو . رضوانہ : ( مسکرا کر میری گال چُومتے ہوئے ) اچھا . . . . ٹھیک ہے میں بھی چلتی ہوں . میں : یہ ہوئی نا بات رضوانہ : تم کو پتہ ہے تم بہت ضدی ہو . میں : ہاں ہوں . . . کوئی اعتراض رضوانہ : ( مسکرا کر نا میں سر ہلاتے ہوئے ) ووہہوو . . . . میں : اچھا رضوانہ میں سوچ رہا تھا جانے سے پہلے گھروالوں كے لیے تھوڑا سامان خرید لوں تو کیا ہم پہلے بازار چلیں اگر تم کو اعتراض نا ہو تو . رضوانہ : حا-حا ضرور کیوں نئی ویسے بھی اتنے دن بَعْد گھر جا رہے ہو خالی ہاتھ تھوڑی نا جاؤگے . اسکے بَعْد کوئی خاص بیٹ نہیں ہوئی ہم حیاد-قوارتیر سے سیدھا مارکیٹ چلے گئے وہاں میں نے نازی ، فضا اور بابا كے لیے بہت سارا سامان خریدا . فر ہم گھر آ گئے اور آتے ہی رضوانہ مجھ پر ٹوٹ پڑی اور پاجلو کی طرح مجھے چومنے لگی فر ہم نے اک باڑ سیکس کیا اور اسکے بَعْد میں تھک کر سو گیا لیکن رضوانہ میری اور اپنی پیکنگ کرنے لگی رہی . شام کو جب میں سو کر اٹھا تو رضوانہ نے سب کچھ ریڈی کر دیا تھا اسکے بَعْد میں بھی ناحاکار تییار ہوا اور فر ہم دونوں گاv كے لیے نکل پڑے . پورے رستے میں اپنی گاv کی لائف اور گاv والو كے بڑے میں رضوانہ کو بتاتا رہا . کچھ ہی گھنٹے میں ہم میرے گاv میں آ چکے تھے آج اتنے دن بَعْد اپنے گاv میں آکے مجھے بہت خوشی ہو رہی تھی . ویسی تو یہ گاv میرا نہیں تھا لیکن جانے کیوں اب اِس گاv سے بھی پیار ہو گیا تھا اسکی مٹی کی خوشبو مجھے اک عجیب سا سکون دیتی تھی . کچھ ہی دیر میں میں نے میرے گھر كے سامنے گاڑی روکدی جہاں نازی گھر كے باہر باندھے پاشووو کو چارہ ڈالنے میں مصروف تھی . میں نے جلدی سے کار بند کی اور اک مسکراہٹ كے ساتھ گاڑی کا دروازہ کھولا . پہلے تو نازی مجھے غور سے دیکھتی رہی اور جب اسے یقین ہو گیا کی یہ میں ہی ہوں تو وہ چاری کا ٹوکرا وہی فینک کر میری طرف بھاگنے لگی اور آکے مجھے گلے سے لگا لیا . نازی کو گلے لگا کے میں بھی یہ بھول گیا کی میں نازی سے ناراض تھا . آج تو بس دِل کھول کر سب سے ملنا چاہتا تھا . نازی : تم کہا سے ٹپک پڑے . . . . . اتنے دن بَعْد کہا سے یاد آ گئی ہماری . میں : ارے پاگل لڑکی آس-پاس بھی دیکھ لیا کر . نازی : ( رضوانہ کو دیکھ کر جلدی سے مجھ سے الگ ہوتی ہوئی ) اُوں معاف کیجیے ڈوکتورنی جی . . . . میں نے آپکو دیکھا نہیں . رضوانہ : ( ہیسٹ ہوئے ) کوئی بات نئی . . . جب کوئی اپنا بہت دن بَعْد ملتا ہے تو قابو نہیں رہتا خود پر میں سمجھ سکتی ہوں . میں : اب ساری باتیں یھی کرنی ہے یا اندر بھی جانے ڈوگی . نازی : ( اپنے سر پر ہاتھ مرتے ہوئے ) اوہ میں تو بھول ہی گئی چلو اندر آؤ . اسکے بَعْد ہم تینوں گھر كے اندر آ گئے اور نازی کا شور سن کر سب سے پہلے فضا باہر آئی تو اسکی بھی حالت کچھ نازی جیسی ہی تھی . مجھے دیکھتے ہی اسکا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا جیسے ہی وہ میرے پاس آنے لگی تو میرے ساتھ کھڑی رضوانہ کو دیکھ کر اس نے اپنے قدم وہی روک لیے اور دور سے ہی مجھے اور رضوانہ کو سلام کیا . ہم دونوں نے بھی فضا کو ادب سے سلام کیا اور اتنا میں نازی کمرے كے اندر بھاگ گئی جہاں بابا ہوتے تھے . میں نے بھی جلدی سے نازی كے پیچی-پیچی ہی کمرے میں چلا گیا بابا سے ملنے كے لیے . مجھے دیکھتے ہی بابا کا چہرہ بھی خوشی سے کھل اٹھا میں اب ان کے پاس جاکے بیٹھ گیا اور ادب سے ان کو سلام کیا انہوں نے نے بھی میرے ماتھے کو چوم لیا . میں : کیسے ہیں آپ بابا . بابا : بیٹا اب تم آ گئے ہو تو اب تندرست ہو گیا ہوں . تم کیا آ گئے عیسی لگتا ہے گھر میں رونق آ گئی . ہم نے تم کو بہت یاد کیا بیٹا . میں : ( مسکراتے ہوئے ) اِس گھر کی راوناک تو آپ سے ہے بابا . میں نے بھی آپ سب کو بہت یاد کیا . عیسی اک بھی دن نہیں گیا جب آپکی یاد نا آئی ہو . بابا : بیٹا ہمارا تو گھر ہی سونا ہو گیا تھا تمھارے جانے كے بَعْد . وہ پگلی نازی تو دروازہ نہیں بند کرنے دیتی تھی کی نییر ہی نا آ جائے . نازی : کیا بات ہے آتے ہی بابا كے پاس بیٹھ گئے ہو باہر نہیں آنا کیا جناب . . . ہم بھی آپ کے انتظار میں ہیں . میں : ہاں بس . . . بابا کو مل کر آٹا ہوں . بابا : چلو بیٹا میں بھی تمھارے ساتھ باہر ہی چلتا ہوں . میں : جی بابا چلیے ( بابا کو اٹھاتے ہوئے ) بابا : کیا بات ہے بیٹا کام بہت جلدی ختم ہو گیا تمہارا . خان صاحب بھی آئے ہیں کیا . میں : جی نہیں بابا خان صاحب نہیں آئے . اور وہ اتنے دن تو میں ٹریننگ كے لیے گیا ہوا تھا . کل مجھے میرے اصل کام پر بھیجا جا رہا تھا تو میں نے سوچا جانے سے پہلے آپ سب سے مل کر جاؤ . ویسی بھی آپ - سب کی بہت یاد آ رہی تھی . بابا : ( اداس ہوتے ہوئے ) اچھا کیا بیٹا جو ملنے آ گئے . . . . کل فر سے جا رہے ہو بیٹا . میں : جی بابا جب میں بابا کو لے کے باہر آیا تو شاید رضوانہ نے میرے جانے كے بڑے میں فضا اور نازی کو پہلے ہی بتا دیا تھا اسلئے انکا خوشحال چہرہ فر سے اداس ہوا پڑا تھا . میں : ارے کیا ہوا آپ سب نے موح کیوں لاتکا لیا . فضا : کل تم فر سے جا رہے ہو ہم نے تو سوچا تھا کی سارا کام ختم کرکے ہی آئے ہو . میں : ( کرسی پر بابا کو بیتتھاتی ہوئے ) ہاں جی کل نکلنا ہے اور کام بھی جلدی ہی ختم کر دونگا فکر مت کرو . نازی : واپس کتنے دن میں آؤ گے میں : پتہ نہیں کچھ دن لگ سکتے ہیں اسلئے میں نے سوچا کی جانے سے پہلے سب سے ملتا ہوا چالو . اچھا بابا یہ ڈاکٹر رضوانہ ہے جنکے پاس میں شہر میں رہتا ہوں . رضوانہ : ( بابا کو ادب سے سلام کرتے ہوئے ) میں : بابا یہ بھی آج میرے ساتھ یھی رک جائے تو آپکو کوئی اعتراض تو نہیں بیچاری اتنی دور سے مجھے چودنے آئی ہیں . بابا : نہیں نہیں بیٹا کیسی باتیں کر رہے ہو بھلا مجھے کیا اعتراض ھوگا یہ بھی تو ہماری نازی جیسی ہی ہے اور یہ تمہارا اپنا گھر ہے بیٹا رہو جتنے دن تم چاہو . رضوانہ : جی شکریہ بابا جی میں بس کل نییر كے ساتھ ہی چلی جائوں گی . نازی : ویسی بابا نییر پہلے سے کافی بدلا ہوا نہیں لگ رہا . بابا : نہیں بیٹا یہ تو پہلے جیسا ہی ہے نازی : ووحہوو . . . . کپڑے تو دیکھو نا نییر كے بابا ( مسکراتے ہوئے ) گندا لگ رہا ہے نا . فضا : ( مسکرا کر ) چُپ کر پاگل اتنا اچھا تو لگ رہا ہے ویسے بھی شہر میں رہنے کا کچھ تو اثر آئیگا . اسکے بَعْد سارا دن ایسی ہی گزرا رات کو بابا اپنی عادت كے مطابق جلدی سو گئے لیکن نازی ، فضا اور رضوانہ کو چین کہا تھا وہ تینوں مجھے پوری رات گھیرکار بیٹھی رہی اور میرے گزرے 15 دنوں كے بڑے میں مجھ سے پوچحتی رہی ایسی ہی ساری رات باتوں کا سیل-سیلا چلتا رہا . تینوں آج خوش بھی تھی اور اداس بھی تھی . لیکن میں مجبور تھا نا ان کو مکمل خوشی دے سکتا تھا نا ہی انکی اداسی کو دور کر سکتا تھا . باتیں کرتے ہوئے جانے کب صبح ہو گئی پتہ ہی نہیں چلا اب مجھے اپنے وعدے كے مطابق جانا تھا . میرا بالکل جانے دِل نہیں تھا اور نا ہی گھر میں کسی کو مجھے بھیجنے کا دِل تھا لیکن فر بھی بابا کی ڈی ہوئی زبان کو مجھے پُورا کرنے كے لیے جانا تھا . صبح بابا بھی جلدی اٹھ گئے اور اٹھ طے ہی مجھے اپنے کمرے میں بلا لیا میرے پیچحی-پیچحی نازی ، فضا اور رضوانہ بھی اسی کمرے میں آ گئی . میں : جی بابا آپ نے مجھے بلایا تھا . بابا : ( ہا میں سر ہلاتے ہوئے ) بیٹا اب تم تھوڑی دیر میں چلے جاؤگے اسلئے وہاں جاکے اپنا خیال رکھنا . میں : جی بابا . . . آپ سب لوگ بھی اپنا خیال رکھنا رضوانہ : ( پیچھے سے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے ) نییر تم فکر مت کرو میں ہوں نا تمہاری غیر موجودجی میں میں یہاں آتی رہونگی اور ان کو کسی چیج کی کمی نہیں ھوگی یہ میرا تم سے وعدہ ہے . میں : ( مسکرا کر ) شکریہ بس اب میں چین سے جا سکتا ہوں . فضا : بابا مجھے دَر لگ رہا ہے . پتہ نہیں وہ لوگ کیسے ہونگے . . . . آپ اک باڑ خان صاحب سے بات کرکے دیکھیے نا انہیں کہہ دیجیئے کی ہمیں نہیں نییر کو نہیں بھیجنا . میں : بچو جیسی بات مت کرو فضا تم جانتی ہو بابا نے وعدہ کیا تھا اور ویسے بھی خان کی مدد کرکے میں بھی تو ہمیشہ كے لیے آزاد ہو جاؤنگا فر تو ہمیشہ كے لیے یہاں ہی رہوں گا اور رہی میری بات تو اوپر والے کا کرم سے میں اکیلا بھی پوری فاوز پر بھاری ہوں . نازی : باس-باس . . . . جب دیکھو لڑنے پر آمادہ رہتے ہو . وہاں جاکے اپنا کھانے پینے کا خیال رکھنا اور ہو سکے تو ہمیں فون کرتے رہنا اور اپنی خایر-خابر دیتے رہنا . میں : ( نا میں سر ہلاتے ہوئے ) نہیں نازی میں فون نہیں کر پاؤنگا . نازی : ( آنکھیں دکھاتی ہوئے ) کیوں . . . وہاں فون نہیں ہے کیا . . . . میں : خان صاحب نے بولا تھا کی وہاں جاکے جب تک میرا مشن پُورا نہیں ہو جاتا میں کسی کو نہیں جانتا اور میرا کوئی نہیں . فضا : کیوں کوئی نہیں ہم ہیں نا . . . . میں : ( اپنے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے ) ارے ان لوگوں کو میں اپنی کوئی کمزوری نہیں دکھا سکتا انکی نظر میں تو میں شیرا ہی ہوں نا جسکا آجیی-پیچحی کوئی نہیں . بابا : ( اپنے دونوں ہاتھ ہوا میں اٹھاتے ہوئے ) ملک میرے بیٹے کی حفاظت کرنا . . . . نازی بیٹا وہ میں جو تبیز لے کے آیا تھا نییر كے لیے وہ لے آؤ زرا . نازی : ابھی لائی بابا میں : کونسا تبیز بابا بابا : بیٹا یہ بہت مبارک تبیز ہے بہت دعا كے ساتھ بنایا گیا ہے یہ تمہاری ہر بری بلا سے حفاظت کرے گا . نازی : ( تیز قدموں كے ساتھ کمرے میں آکے بابا کو تابیز دیتے ہوئے ) یہ لو بابا . بابا : ( میرے گلے میں تابیز باندھ کر میرا ماتھا چُومتے ہوئے ) خوش رہو بیٹا . اب تم تییار ہو جاؤ تمھارے جانے کا وقت ہو گیا . میں : جی بابا . اسکے بَعْد میں اور رضوانہ جلدی سے تییار ہونے میں لگ گئے اور نازی اور فضا میرے اور رضوانہ كے لیے ناشتہ بنین لگ گئی . تییار ہوکے ہم سب نے ساتھ میں ناشتہ کیا اور اسکے بَعْد فر وہی ڈھیر سارے آنسو اور بیش-کیمت دوواو كے ساتھ مجھے vیدا کیا گیا . کار میں رضوانہ بھی خود کو رونے سے روک نہیں پائی اور تمام رستے وہ بھی میرے کاندھے پر سر رکھ کر روتی رہی . یقینا ان سب كے دِل میں جو میرے لیے پیار تھا وہی میرا جانا مشکل کر رہا تھا میرا دِل چاہ رہا تھا کی میں نا کر دوں اور میں نا جاؤ . لیکن میں عیسی چاہ کر بھی نہیں کر سکتا تھا اسلئے اپنے دِل کو مضبوط کرکے میں نے کار کی رفتار بڑھا ڈی اب میں جلدی سے جلدی شہر پہنچنا چاہتا تھا . سب گھر والے اور رضوانہ كے بڑے میں سوچتے ہوئے جلدی ہی میں نے کار کو شہر تک پوحونچا دیا . میں : رضوانہ ہم شہر آ گئے ہیں اب بتاؤ تم بھی میرے ساتھ حیاد-قوارتیرس چالوجی یا تم کو گھر چھوڑ دوں . رضوانہ : ( اپنے آنسو پونچھتے ہوئے ) میں بھی تمھارے ساتھ ہی چلتی ہوں نا گھر میں کون ہے جسکے پاس جاؤ . میں : ٹھیک ہے . اسکے بَعْد ہم حیاد-قواتیرس پوحونچ گئے جہاں خان اور رانا ہمارا پہلے سے انتظار کر رہے تھے میں نے رضوانہ کو اسکے کیبن میں جانے کا اشارہ کیا لیکن وہ فر بھی میرے پیچحی-پیچحی خان كے کیبن میں ہی آ گئی . میرے کمرے میں گھوستی ہی خان نے تالیو كے ساتھ میں میرا سواگت کیا . خان : ( تالی باجاتی ہوئے ) واہ بھائی واہ کیا زبان کا پکا آدمی ہے دیکھ رانا تجھے بولا تھا نا یہ صبح آ جائیگا . رانا : صاحب آپکو پکا یقین ہے یہ شیرا ہی ہے . خان : میرا دماغ مت خراب کر تجھے جو بولا وہ کر فالتو میں اپنا دماغ مت چلا سمجھا . رانا : جی معاف کر دیجیئے غلطی ہو گئی . رضوانہ : خان تم نییر کو کہا بھیج رہے ہو . خان : سوری میڈم یہ سیکریٹ ہے آپکو نہیں بتا سکتا . رضوانہ : ( مجھے دیکھتے ہوئے ) اپنا خیال رکھنا اور جاتے ہوئے مجھے مل کر جانا . میں : ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) اچھا . اسکے بَعْد رضوانہ کمرے سے باہر چلی گئی اور میں رانا كے ساتھ والی کرسی پر آکے بیٹھ گیا . خان اپنی کرسی سے کھڑا ہوا اور جلدی سے تیز قدموں كے ساتھ کمرے كے باہر کھڑے گارڈ کی طرف گیا اور اسے دور جاکے کھڑے ہونے کا بول دیا اور فر واپس اپنی کرسی پر آکے بیٹھ گیا . میں اور رانا دونوں خان کو بڑے غور سے دیکھ رہے تھے . خان نے مجھے اک مسکان كے ساتھ دیکھا اور بولا . . . خان : ہاں تو نییر مل آئے گھروالوں سے . میں : جی مل آیا . خان : اب میرے کام كے لیے تییار ہو . میں : ہاں جی اک دم تییار ہوں خان : بہت خوب . . . تو ٹھیک ہے فر ابھی تھوڑی دیر میں نکلنا ہے اسے پہلے میرے ساتھ آؤ . . . رانا تم یھی بیٹھو اور ہو سکے تو اپنے لیے چائے کوفی منگوا لینا یار . رانا : جی کوئی بات نہیں میں ٹھیک ہوں آپ اپنا کام ختم کر لے . خان : ( میرے کاندھے پر ہاتھ مرتے ہوئے ) چلو میرے ساتھ آؤ . میں بنا کوئی جواب دیئے اپنی کرسی سے کھڑا ہوا اور ساوالیا نظروں كے ساتھ خان كے پیچحی-پیچحی چلنے لگا . خان مجھے اک کمرے میں لے گیا جہاں صرف اک ٹیبل اور دو کورسیان لگی ہوئی تھی . خان : تم اندر بیٹھو میں ابھی آٹا ہوں . میں : جی اچھا . کچھ دیر انتظار کرنے كے بَعْد خان اک بیگ كے ساتھ کمرے میں آ گیا اور بیگ کو ٹیبل پر میرے سامنے رکھ دیا اور میرے دیکھتے ہی دیکھتے بیگ کھول کر اس میں سے سامان نکلنا شروع کیا . خان : اپنے جھوٹے اتارو اور یہ جھوٹے پہن لو . میں : کیوں . . . ان میں کیا خرابی ہے ابھی نئے ہی لیے ہیں . خان : جو میں جھوٹے تم کو دے رہا ہوں یہ فیشن كے لیے نہیں بلکہ ان میں ترانسمیتیر لگا ہے اسے مجھے پتہ چلتا رہیگا کی تم کہا ہو . میں : ( اپنے جھوٹے اُترتے ہوئے ) اچھا پہن لیتا ہوں . خان : ( ٹیبل پر اک ہینڈ پستول رکھتے ہوئے ) یہ گن ہے تمہاری سیفٹی كے لیے ضرورت پڑے تو ہی چلانا لیکن یاد رکھنا اب تم نییر ہو اور نییر پشاور قاتل نہیں ہے . میں : ( گن اٹھاتے ہوئے ) جی اچھا . خان : ( اک لاکٹ نکلتے ہوئے ) یہ دیکھنے میں لاکٹ جیسا ہے لیکن اصل میں کیمرہ ہے اسے پہن لو . . . تم ان لوگوں كے ساتھ جہاں بھی جاؤ اپنے لاکٹ سے کھیلنے كے بہانے انکی اور نئے لوگوں کی تاسvییری لیتے رہنا . میں : ٹھیک ہے . خان : جو تم کو ٹریننگ میں سکھایا تھا وہ سب یاد ہے نا . میں : جی سب یاد بھی ہے اور میں اب سب ڈیوائسس استعمال بھی کر سکتا ہوں . خان : ٹھیک ہے . میں : لیکن خان صاحب وہ تصویریں میں آپ تک پوحونچاونجا کیسے . خان : میں تم کو ہر ہفتے تمھارے فائٹ کلب پر ملوں گا وہاں ہر بار تم اپنا لاکٹ اِس دوسرے لاکٹ سے بَدَل دینا تاکہ تمھارے لاکٹ سے تاسvییری لیکر میں ان کو دیvولپ کروا سکو اور تم دوسرے لاکٹ سے اور نئی تصویر لے سکو . میں : جی اچھا . . . . لیکن مجھے کیسے پتہ چلے گا کی آپ مجھے کب اور کہا ملو گے . خان : تم بس اپنے فائٹ کلب میں آ جایا کرنا وہاں تم کو میرا کوئی نا کوئی آدمی مل جائیگا جو تم کو میرا ملنے کا وقت اور جگہ بتا دیگا . میں : ٹھیک ہے . خان : وہاں جاکے لڑکی اور طاقت كے نشے میں مت ڈوب جانا اور جب بھی موقع ملے ثبوت اکٹھی کرتے رہنا تاکہ میں ان لوگوں کو سجا دلوا سکو . میں : ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) جی اچھا . خان : اب تم رانا كے ساتھ جاؤ وہ تم کو تمہاری منزل تک پوحونچا دیگا اور اک ضروری بات تم میرے لیے کام کرتے ہو یہ بات کبھی غلطی سے بھی کسی کو مت بتانا نہیں تو وہ لوگ تم کو وہی ختم کر دینگے . میں : ہحممم خان : اب تم رانا كے ساتھ جاؤ اور اسکے ساتھ جاکے ڈیل کرو یاد رکھنا تم کو وہاں جاکے لادایی کرنی ہے کسی بھی بہانے سے سمجھ گئے . میں : ہاں سب سمجھ گیا . خان : کچھ بھی سمجھ نہیں آیا تو فر سے پوچھ لو لیکن وہاں جاکے کوئی گڈبڈ مت کرنا تم نہیں جانتے تم پر میں کتنا بڑا داv کھیل رہا ہوں اگر تم نے کوئی غلطی کی تو میری جان بھی خطرے میں آ جائے گی کیونکی ان لوگوں کی پوحونچ کا تم کو اندازہ نہیں ہے یہاں میرے اسٹاف میں بھی ان لوگوں نے اپنے کچھ کتے پل رکھے ہیں اسلئے میں نے تمہاری ٹریننگ کو اک دم ٹوپ سیکریٹ اور صرف اپنے بھروسے كے ادمیو كے ساتھ پُورا کروایا ہے . میں : آپ فکر نا کرے سب ویسے ہی ھوگا جیسا آپ چاھتے ہیں مجھے پر بھروسہ کیا ہے تو بھروسہ رکھیے اور میرے پیچھے سے میرے گھروالوں کو کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہئے . خان : انکی فکر تم مت کرو میں خود انکا خیال رکھونگا اور دیخونجا کی ان کو کسی بھی چیج کی کمی نا ہو . میں : جی شکریہ . اسکے بَعْد میں اور خان واپس خان كے کیبن میں چلے گئے جہاں رانا میرا انتظار کر رہا تھا . میں : خان صاحب میں اک منٹ آیا جانے سے پہلے اک باڑ ڈاکٹر صاحبہ سے مل آؤ . خان : جاؤ لیکن جلدی آنا . اسکے بَعْد میں رضوانہ كے کیبن میں چلا گیا جہاں وہ شاید میرا ہی انتظار کر رہی تھی میرے کیبن میں آتے ہی اس نے دروازہ اندر سے بند کیا اور مجھے گلے لگا لیا . رضوانہ : جا رہے ہو . میں : ہحممم بس تم کو ملنے كے لیے ہی آیا تھا . رضوانہ : کہا جا رہے ہو . میں : پتہ نہیں خان نے مجھے بھی نہیں بتایا بس اتنا پتہ ہے رانا كے ساتھ جانا ہے . رضوانہ : ٹھیک ہے کوئی بات نہیں . وہاں اپنا خیال رکھنا اور اگر ممکن ہو تو مجھے فون کر لینا جب بھی موقع ملے . میں : اچھا . . . ٹھیک ہے اب میں جاؤ . رضوانہ : ہہمم جاؤ میں : مجھے چھودوجی تو جاؤنگا رضوانہ : رک جاؤ 2 منٹ ڈھنگ سے گلے بھی نہیں لگانے دیتے . . . . ( کچھ دیر مجھے گلے سے لگا کر ) ہحممم اب ٹھیک ہے اب جاؤ ( میرے ہوتھ چُومتے ہوئے ) میں : تم بھی اپنا خیال رکھنا اور رونا مت . رضوانہ : ( مسکرا کر ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) ہحممم اسکے بَعْد میں اور رضوانہ خان كے کیبن تک آ گئے اور خان كے کیبن تک مجھے چھوڑ کر رضوانہ ہاتھ حیلاکار مجھے الوداع کہتی ہوئی واپس اپنے کیبن کی طرف چلی گئی . میں گاتے کھول کر خان كے کیبن میں چلا گیا . خان : تمہارا میلنا-میلانا ہو گیا . میں ( ہیسٹ ہوئے ) جی ہو گیا جناب . خان : شکر ہے . . . ( ہاتھ جوڑی ہوئے ) چل بھائی رانا کھڑا ہو جا اور لگ جا کم پر اسکو میں نے سب سمجھا دیا ہے اور تو بھی کوئی لفڈا مت کرنا . رانا : جناب آگے کبھی جاد-باد ہوئی ہے جو اب ھوگی . خان : پہلے تو اکیلا ہوتا تھا اِس باڑ یہ بھی تیرے ساتھ ہے . رانا : فکر نا کرے جناب میں ساتھ ہوں نا سب سنبھال لونگا . خان : اسکو وہاں پوحونچانی كے بَعْد مجھے فون کر دینا اور مجھے اس کے پل پل کی خبر چاہئے سمجھا . رانا : ( اپنا دایاں ہاتھ سر پر رکھتے ہوئے ) او کے باس . . . . چلو بھائی شیرا آپکو آپکی منزل تک پوحونچا دوں . اسکے بَعْد میں اور رانا اک کار میں بیٹھے اور اپنے نئے سفر كے لیے راوانا ہو گئے میں نہیں جانتا تھا کی مجھے کہا بھیجا جا رہا ہے اور وہ لوگ کون ہے اور کیسے ہونگے کیا وہ مجھے اپنے ساتھ لے کے جائینگے یا نہیں . مجھے یہ بھی نہیں پتہ تھا کی جس سفر پر مجھے بھیجا گیا ہے وہاں سے میں زندہ لوتونجا بھی یا نہیں . ایسی ہی کئی سوال میرے دماغ میں چل رہے تھے . لیکن اِس وقت میرے پاس کسی سوال کا جواب نہیں تھا لیکن تیزی سے جوزرنی والے وقت كے پاس میرے ہر سوال کا جواب تھا . اب میں چپ چاپ بیٹھا اپنی آنے والی مازیل کا انتظار کر رہا تھا جہاں مجھے جانا تھا . راعنہ گاڑی کو تیز رفتار سے بھاگا رہا تھا اور میں کھڑکی سے اپنا چہرہ باہر نکالے ٹھنڈی ہوا کا مزہ لے رہا تھا . مجھے نہیں پتہ کب میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گیا . جانے میں کتنی دیر سوتا رہا لیکن راعنہ كے ہلانے سے میری آنکھ کھل گئی . . . رانا : شیرا بھائی ایئرپورٹ آ گیا ہے اترو . . . میں : ( دونوں ہاتھوں سے آنکھیں ملتے ہوئے ) کیا . . . . رانا : بھائی ایئرپورٹ آ گیا فلائٹ پاکادنی ہے نا گاڑی سے اتارو . . . . میں : ( اپنے دونوں ہاتھ اپنے موح پر فیرتی ہوئے ) ہاں چلو . . . اسکے بَعْد میں اور رانا گاڑی سے اُتَر گئے رانا نے جلدی سے گاڑی کی پچھلی سیٹ سے اسکا اور میرا سوٹ کیس نکالا اور میری طرف بڑھنے لگا . میں نے اپنا سوٹ کیس پکڑ لیا اور اس نے اپنا . فر ہم نے گاڑی کو وہی چھوڑ دیا اور ہم دونوں ایئرپورٹ كے اندر آ گئے . یہ جگہ میرے لیے اک دم نئی تھی میں ٹھیک ہونے كے بَعْد پہلے کبھی ایسی جگہ پر نہیں آیا تھا . رانا نے مجھے اک جگہ کی طرف اشارہ کرکے بیٹھنے کو کہا اور خود کسی سے ملنے چلا گیا . میں ایئرپورٹ پر اک خالی جگہ پر بیٹھ گیا اور چارو طرف دیکھ رہا تھا وہاں كے لوگ جو غم رہے تھے اور سکیورٹی گارڈ جو لوگوں کو چیک کر رہے تھے . اک جگہ پر سب کے سامان کو اک مشین ( سکانیر ) میں ڈال کر چیک کیا جا رہا تھا اسلئے مجھے اپنے سامان کی فکر ہونے لگی کیونکی اتنا تو مجھے دیکھ کر ہی سمجھ آ گیا تھا کی میرے سامان بھی ضرور چیک ھوگا اور میرے پاس پستول بھی تھی اور خان كے دیئے ہوئے ترانسمیتیرس بھی جسے خان مجھ تک پوحونچ سکے . ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کی رانا 2 گارڈ جنکے پاس حاتحیار تھے ان کے ساتھ میری طرف آ رہے تھا مجھے لگا شاید ان لوگوں نے رانا کو پکڑ لیا . اسلئے میں نے جلدی سے اپنا اک ہاتھ جاکٹ میں ڈال لیا جس طرف پستول تھی اور اپنا ہاتھ پستول پر رکھ لیا . رانا : چلو بھائی کام ہو گیا 10 منٹ بَعْد فلائٹ ہے اپنی . . . میں : ( چین کی سانس لیکر اپنا ہاتھ جاکٹ سے باہر نکلتے ہوئے ) اچھا . . . لیکن یہ لوگ کون ہے . رانا : بھائی یہ خان صاحب كے ہی لوگ ہیں ہم کو یہاں کوئی پریشانی نا ہو اسلئے . . . میں : اچھا . . . میں تو سمجھا تم کو انہوں نے پکڑ لیا . رانا : ( مسکرا کر ) نہیں بھائی سب ٹھیک ہے آپ بی-فیکار ہو جائے . میں : ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) ہحممم یار رانا ویسے ہم کیا شہر سے باہر جا رہے ہیں . رانا : ( ہیسٹ ہوئے ) بھائی آپکو خان صاحب نے کچھ نہیں بتایا . میں : ( نا میں سر ہلاتے ہوئے ) رانا : کوئی بات نہیں . . . . چلو چلیں دیر ہو رہی ہے . اسکے بَعْد کوئی خاص بات نہیں ہوئی جلدی ہی ہم رَن وے پر آ گئے جہاں ہمارا چھوٹا سا پلین آل ریڈی تییار کھڑا تھا . ہم دونوں کو وہ دونوں لوگ بنا سکیورٹی چیک كے اک چھوٹے سے پلین تک چھوڑ گئے جہاں صرف میں اور رانا ہی بیٹھے تھے باقی تمام پلین خالی پڑا تھا . میں ہر چیج کو بَدی حیرانی سے دیکھ رہا تھا کیونکی یہ سب کچھ میرے لیے اک دم نیا تھا . خیر کچھ ہی گھنٹے كے بَعْد ہم ہماری منزل تک پوحونچ گئے . فلائٹ سے اترنے كے بَعْد میں رانا كے پیچحی-پیچحی ہی چل پڑا کیونکی میں نہیں جانتا تھا کی اسکے بَعْد کہا جانا ہے . فلائٹ سے اترنے كے بَعْد ایئرپورٹ پر اک کار پہلے سے موجود تھی جس میں میں اور رانا بیٹھ گئے . باہر رات ہو گئی تھی لیکن اتنی جادا روشنی اور بادی-بادی بلڈنگس تھی جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی میں نے جلدی سے کار کا گلاس نیچے کیا اور باہر دیکھنے لگا . رانا : بھائی کیا کر رہے ہو شیشہ بند کرو کوئی دیکھ سکتا ہے . میں : یہاں ہم کو کون جانتا ہے یار دیکھنے دو نا اچھا لگ رہا ہے . رانا : بھائی آپ کے لیے یہ شہر اجنبی ہے لیکن آپ اِس شہر كے لیے اجنبی نہیں ہو آپ کے اِس شہر میں صرف دوست ہی نہیں دشمن بھی بہت ہے . میں آپ کے لیے ہی کہہ رہا ہوں . میں : ( بنا کچھ بولے شیشہ اوپر کرتے ہوئے ) ٹھیک ہے . . . . ویسی کیا تم میرے بڑے میں سب کچھ جانتے ہو . رانا : بھائی اِس شہر میں شاید ہی کوئی عیسی ہو جس نے شیرا بھائی کا نام نہیں سنا ہو . میں : ویسے اب ہم جا کہا رہے ہیں . رانا : ہوٹل میں جہاں ہم نے رکنا ہے فر کل شام کو ڈیل ہے تو وہاں جانا ہے . میں : اچھا . . . اسکے بَعْد ہم دونوں کار میں خاموش بیٹھے رہے اور کچھ دیر بَعْد کار نے ہم کو اک بہت اونچی بِلڈنگ كے سامنے اُتار دیا یہ اک بے حد شاندار ہوٹل تھا . اندر رانا كے ساتھ میں ہوٹل كے اندر چلا گیا وہاں ہم دونوں كے لیے پہلے سے روم بُک تھے . رانا مجھے شام کو تییار رہنے کا بولکار اپنے کمرے میں چلا گیا . میں بھی سفر سے تھک گیا تھا اسلئے روم میں آتے ہی سو گیا . صبح میں دیر سے اٹھا اور ناشتہ منگوانے كے بَعْد میرے پاس اب کرنے کو کوئی کام نہیں تھا اسلئے اپنا وقت ٹی وی دیکھ کر گزرنے کی کوشش کرنے لگا . لیکن آج مجھ سے وقت کاٹے نہیں کٹ رہا تھا . میں اکیلا بہت جادا بور ہو رہا تھا اسلئے وقت سے پہلے ہی نہا کر تییار ہو گیا اور شام کو رانا کا انتظار کرنے لگا . خیر شام کو رانا نے میرا دروازہ خات-خاتایا اور اِس باڑ اسکے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے . وہ سب لوگ مجھے بَدی حیرانی سے دیکھ رہے تھے لیکن مجھے کسی کا بھی چہرہ یاد نہیں تھا شاید رانا سہی تھا یہاں كے کافی لوگ مجھے جانتے تھے . ہم سب تیز قدموں كے ساتھ لفٹ کی طرف بڑھنے لگے . لفٹ میں رانا كے ساتھ کھڑے لوگ مجھے بَدی حیرانی سے دیکھ رہے تھے . کچھ دیر بَعْد ہم ہوٹل سے نکالے اور کار میں بیٹھ گئے . کار میں بیٹھنے كے بَعْد آگے جانے کیا ہونے والا ہے یہ سوچ کر میری دِل کی دھڑکن کافی تیز ہو گئی تھی اور مجھے گھبراہٹ سی ہو رہی تھی اسلئے میں پانی کی بوتتال سے بار بار پانی پی رہا تھا . کچھ ہی دیر بَعْد گاڑی اک عزیب سی جگہ آکے رک گئی . یہ جگہ باہر سے کسی کھنڈر جیسی لگ رہی تھی اور کافی پرانی سی عمارت تھی جو لگتا تھا کی بہت وقت سے بند پڑی ہو آس-پاس کافی کچرا جمع ہوا پڑا تھا . میں اس جگہ کو غور سے دیکھنے لگ گیا . اسکے بَعْد سب لوگ گاڑی سے اُتَر گئے لیکن جب میں بھی گاڑی سے اترنے لگا تو راعنہ نے مجھے روک دیا . رانا : بھائی آپ کار میں ہی بیٹھو . . اگر ہم لوگ 5 منٹ میں واپس نہیں آئے تو آپ اندر آ جانا اور جو بھی ملے ملے تھوک دینا سیل کو اور یاد رکھنا آپکو پیسے اور دروججس دونوں اٹھانے ہیں . میں : ٹھیک ہے یاد رکھونگا . فر وہ لوگ چلے گئے اور میں گاڑی میں بیٹھا ہوا اپنی گھڑی میں وقت دیکھنے لگا . اب مجھے 15 منٹ گزرنے کا انتظار تھا . میں نے جلدی سے اک باڑ فر اپنی کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈَلا اور پستول کو نکال کر اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا اور اس میں سے ماجزینی نکال کر جولیان چیک کی اور فر سے ماجزینی کو پستول میں ڈال دیا اور اپنی پستول کو لوڈ کر لیا ساتھ ہی دوسری جیب سے سائلنسر نکال کر پستول کی نالی پر لگا دیا ٹاکی گولی چلنے کی آواز کم سے کم ہو . میں اندر سے گھبرا بھی رہا تھا اور ان لوگوں سے سامنا کرنے كے لیے بےقرار بھی تھا . میں کبھی گھڑی کی طرف دیکھ رہا تھا کبھی اس ٹوٹی سی عمارت کی طرف . اب مجھ سے انتظار کرنا مشکل ہو رہا تھا اسلئے میں نے جلد بازی میں گاڑی کا گاتے کھولا اور 10 منٹ ہونے پر ہی اپنی پستول ہاتھ میں لیے اس عمارت میں گھس گیا لیکن اندر گھوستی ہی مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کی کس طرف جانا ہے کیونکی وہاں سے 3 رستے نکل رہے تھے اور اندھیرا بھی کافی تھا کیونکی رات ہونے لگی تھی . تھوڑا آگے جانے پر مجھے سامنے والے رستے پر کچھ روشنی نظر آئی اسلئے میں دیوار کا سہارا لے کے سامنے والے رستے کی طرف بڑھنے لگا . وہاں مجھے سامنے 2 لوگ نظر آئے جو میری طرف پیٹھ کرکے کھڑے تھے . میں نے اپنی بندوق کا پہلا نشانہ بائیں طرف کھڑے آدمی کی کھوپڑی پر لگایا اور پستول کا ٹریگر دبا دیا اک جھٹکے كے ساتھ پستول سے گولی نکالی اور اس آدمی كے بھیجے سے ار-پار ہو گئی وہ آدمی وہی زمین پر گر گیا . اتنے میں دوسرا آدمی جو اسکی دوسری طرف کھڑا تھا اسکو گرتا دیکھ کر اسکی طرف بڑھا تو میں نے اپنا دوسرا نشانہ اسکے سر میں لگایا لیکن وہ جھک کر تھوڑا اوپر کو دیکھنے لگا اور اپنی گارڈن چاروں طرف گھمانے لگا . اسلئے گولی اسکے سر کی جگہ اسکے گلے میں لگی جسے وہ زمین پر گر گیا اور تڑپنے لگا . میں جلدی سے اسکے پاس گیا اور اک گولی اور اسکے سر میں مار ڈی . اس آدمی كے پاس جانا ہی میری سب سے بَدی غلطی تھی . وہاں جاتے ہی میری طرف جولیان چلنے لگی . میں نے جلدی سے خود کو بچانے كے لیے دیوار كے پیچھے ہو گیا . کچھ دیر جولیان چلانے كے بَعْد وہ لوگ رک گئے میں نے دھیرے سے اپنی گارڈن باہر نکالی اور ان لوگوں کی پوسیتشن چیک کرنے لگا . اُن میں سے 3 لوگ جس بانچ پر دروججس اور پیسے پڑے تھے اسکے پیچھے چھپے ہوئے تھے اور 2 لوگ اک خامبی كے پیچھے تھے جن پر جہاں میں کھڑا تھا وہاں سے نشانہ لگانہ بہت مشکل تھا . باقی رانا اور جو لوگ میرے ساتھ کار میں یہاں آئے تھے انکا کوئی نام نشان نہیں تھا . میری نظارے رانا اور اسکے ساتھ آئے لوگوں کو تلاش کر رہی تھی لیکن وہاں کوئی بھی مجھے نظر نہیں آ رہا تھا . تبھی ان لوگوں نے فر سے جولیان چلانی شروع کردی اسلئے مجھے فر سے دیوار كے پیچھے جانا پڑا . اب میں اس جگہ پر اکیلا تھا اور وہ 5 لوگ تھے میں سوچ رہا تھا کی ان کو کیسے ختم کروں اسلئے اپنی نظر چاروں طرف داودا رہا تھا کی لیکن وہاں مجھے کچھ بھی عیسی نظر نہیں آ رہا تھا جسے میں ان کو باہر نکال سکو . تبھی مجھے خیال آیا میں نے زمین سے اک پتھر اٹھایا اور اوپر بند پڑے لاتاکتی ہوئے پنکھے پر نشانہ لگا كے جور سے پتھر مارا . پتھر کی تننننن کی آواز سے سب کی نظر اوپر چلی گئی جسے مجھے میری پوسیشن بدلنے کا موقع مل گیا . میں نے جلدی سے چالاانج لگا کر اک خامبی كے پیچھے چلا گیا . یہاں سے میں صرف 2 لوگوں پر سہی نشانہ لگا سکتا تھا میں نے جلدی سے ٹیبل كے نیچے بیٹھے آدمی پر نشانہ لگایا اور گولی چلا ڈی گولی سیدھا اسکے پیٹ میں لگی اور وہ گر گیا اور تادپنی لگا . اسکے پاس جو دوسرا آدمی وہ اپنے ساتھ والے کو گولی لگنے سے شاید دَر گیا اسلئے کھڑا ہوکے اپنے دوسرے ساتھی کی طرف بھاگنے لگا میں نے جلدی سے اپنا نشانہ لگایا اور اسکو دوسری طرف پوحونچنی سے پہلے ہی ڈھیر کر دیا . اب مجھے باقی 3 کو بھی مرنا تھا . لیکن جہاں میں کھڑا تھا وہاں سے میں ان تک نہیں پوحونچ سکتا تھا اسلئے میں نے جولیان ضایع کرنا مناسب نا سمجھا اور وہی کھڑے ہوکر انکی اگلی چال کا انتظار کرنے لگا . تبھی اُن میں سے اک کی آواز آئی . . . آدمی : اوئے کون ہے تو سیل . . . . کیوں گولی چلا رہا ہے . . . پولیکیوالا ہے کیا . . . سیل ہر باڑ ھڈی پوحونچاتی تو ہیں اِس باڑ تجھے تیرا حصہ نہیں ملا جو یہاں موح مارنے آ گیا ہے . سیل ہم شیخ صاحب كے لوگ ہے اور یہ مال بھی انکا ہے ہم کو جانے دے ورنہ تیری لاش کا بھی پتہ نہیں چلے گا . میں خاموش رہا اور چُپ چاپ ان کے باہر نکلنے کا انتظار کرنے لگا . وہ لوگ کچھ دیر ایسی ہی چلاتے رہے . کافی دیر بَعْد جب میری طرف سے کوئی آواز نہیں آئی تو ان لوگوں نے فر سے جولیان چلانی شروع کردی اب کی باڑ میں نے جواب میں کوئی گولی نہیں چالایی اور ان کے باہر نکلنے کا انتظار کرنے لگا . کچھ دیر بَعْد اُن میں سے اک آدمی خامبی كے پیچھے سے باہر آیا اور میز كے پاس آکے رک گیا اور اِدھر اُدھر دیکھنے لگا . اب کی باڑ میں نے اسے پُورا موقع دیا کی وہ بیگ کو بند کر سکے . فر اس نے اپنے دوسرے ساتھی کو بھی ہاتھ سے اشارہ کیا اور وہ بھاگتا ہوا بندوق تعنے میری طرف بڑھنے لگا . میں یھی چاہتا تھا میں نے جلدی سے خامبی كے پیچھے سے باہر نکلا اور سب سے پہلے جو میری طرف آ رہا تھا اسکے پیر میں گولی ماری وہ وہی گر گیا اور تڑپنے لگا اتنا میں جو دوسرا آدمی میز كے پاس کھڑا اس نے دونوں بیگ اٹھائے اور خامبی کی طرف بھاگنے لگا میں نے اسکی پیٹھ میں 2 گولی ماری وہ بھی وہی گر گیا اب میں نے اپنا نشانہ اس لیتے ہوئے آدمی پر لگایا جسکے پیر میں گولی لگی تھی اِس باڑ میں نے سیدھا اسکے ماتھے پر گولی ماری . دونوں آدمی ختم ہو چکے تھے اور اب صرف اک آدمی بچہ تھا اور میز كے پاس ہی پیسے والا اور دروججس والا بیگ گرے پڑے تھے . اِس باڑ میں نے آواز لگائی . . . میں : مجھے پتہ ہے تو اکیلا ہی بچہ ہے اگر یہاں سے نکلنا چاہتا ہے تو نکل جا مال کو بحولجا وہ میرا ہوا . وہ آدمی : لیکن اسکی کیا جارینتی ہے کی تم گولی نہیں چالاوجی . میں : سیل میں تجھے ٹی وی بیچ رہا ہوں جو جارینتی چاہئے . . . . . نکلنا ہے تو نکل جا نہیں تو تجھے مار کر تو میں یہ مال حاصل کر ہی لونگا . وہ آدمی : ٹھیک ہے مال تم رکھ لو لیکن گولی مت چلانا . میں : منظور ہے اپنی پستول پھینک کر باہر آجا . اسکے بَعْد وہ آدمی نے میز کی طرف اپنی پستول فینک ڈی اور سر پر ہاتھ رکھ کر باہر آ گیا . میں نے جلدی سے تھوڑا سا باہر نکال کر اپنی پستول کا نشانہ اسکے دِل پر لگایا اور گولی چلا ڈی وہ آدمی بھی وہی ختم ہو گیا . اسکے بَعْد میں دھیرے سے باہر آیا اور جھک کر دھیرے دھیرے آگے میز کی طرف بڑھنے لگا جسکے پاس دونوں بیگ گرے پڑے تھے میں نے چاروں طرف دیکھا وہاں مجھے کوئی بھی نظر نہیں آ رہا تھا اسلئے میں نے جلدی سے دونوں بیگ اٹھائے اور رانا اور اسکے لوگوں کو ڈھونڈنے لگا لیکن مجھے وہ کہی نظر نہیں آئے اسلئے میں اس خاندار سے باہر نکل آیا . اب میں نے چاروں طرف دیکھا لیکن باہر بھی سوائے گاڑی كے کوئی نہیں تھا . میں نے دونوں بیگ گاڑی میں رکھے اور کار اسٹارٹ کی ٹاکی واپس ہوٹل جا سکو . تبھی کار كے کابیناتی میں کسی فون کی گھنٹی کی آواز سنائی ڈی جو شاید کافی دیر سے بج رہا تھا . میں نے جلدی سے کابیناتی کھولا اور فون باہر نکالا اور فون اٹھا کر اپنے کان سے لگایا دوسری طرف سے جو آواز سنائی ڈی وہ جانی-پیحچانی سی لگی . یہ تو خان تھا . . . . . میں : ہیلو . . . . خان : ہاں بھائی شیرا کیا خبر ہے . میں : خان صاحب مجھے رانا اک ڈیل پر لے کے گیا تھا جہاں اک مسئلہ ہو گیا ہے خان : وہ سب مجھے پتہ ہے یہ بتاؤ دونوں بیگ کہا ہے . میں : میرے پاس . . . خان : اُن میں سے کوئی زندہ تو نہیں بچہ . میں : نہیں میں نے سب کو ختم کر دیا . . . خان : اچھا کیا . . . . اب تم یہاں سے اپنے ہوٹل چلے جاؤ جہاں تم رکے ہوئے ہو . میں : لیکن رانا اور اسکے لوگ جانے کہا چلے گیا ہیں میں نے ان کو سب جگہ ڈھونڈ لیا ہے کوئی بھی نہیں ملا مجھے . خان : کوئی بات نہیں ان کو میں نے ہی بولا تھا کی نکل جانے کو وہاں سے . میں : ٹھیک ہے فر اب میرے لیے کیا حکم ہے . خان : تم بس اپنے ہوٹل جاؤ اور کل رات تک انتظار کرو رانا خود ہی تمھارے پاس آ جائیگا . . . ویسی تمہارا نشانہ بہت اچھا ہے . میں : شکریہ . . . ویسی آپکو کیسے پتہ کی میرا نشانہ اچھا ہے . خان : میں تم سے دور ضرور ہوں لیکن تمہاری پل پل کی خبر میرے پاس پوحونچتی ہے اور ویسی بھی یہ تو پورے انڈرورلڈ میں مشہور ہے کی شیرا کا نشانہ کبھی نہیں چوکتا . . . نہیں تو پہلی باڑ حاتحیار اٹھانے والا آدمی ڈھنگ سے گولی بھی نہیں چلا سکتا اور تم نے سب کو 8 گولی میں ہی ختم کر دیا . یہ جان کر اچھا لگا کی تمہارا نشانہ اب بھی جبردست ہے . میں : شکریہ . . . . جناب یہ پیسے اور دروججس کا کیا کرنا ہے . خان : ابھی تم اسکو اپنے پاس ہی رکھو ہوٹل میں جب کل رات کو رانا آئیگا تو اسکو دے دینا اور تم اب میری اجاجت كے بنا ہوٹل سے باہر مت جانا یہ فون بھی مجھ سے بات کرنے كے بَعْد توڑ دینا سمجھ گئے . میں : ٹھیک ہے . اسکے بَعْد خان نے فون بند کر دیا اور میں نے اس فون کو وہی تودکار پھینک دیا فر میں واپس ہوٹل میں آ گیا . اب مجھے اگلے دن تک صرف انتظار کرنا تھا کیونکی اور کوئی کم میرے پاس کرنے کو نہیں تھا . میں باہر بھی نہیں جا سکتا تھا کیونکی خان نے مجھے باہر جانے سے منع کیا تھا . ایسی ہی میں نے اگلا سارا دن صرف ٹی وی دیکھ کر اور سو کر ہی گزارا . اگلی شام کو کسی نے میرے روم کا دروازہ خات-خاتایا تو میں نے جلدی سے پہلے اپنی پستول نکالی اور اسکو اپنی کمر كے پیچھے ٹانگ لیا اور آہستہ سے دروازہ کھول دیا سامنے رانا کھڑا تھا جسکے ساتھ 2 اور آدمی تھے . میں : تم ہو . . . یار کل کہا چلے گئے تھے کچھ بتایا بھی نہیں . رانا : بھائی خان صاحب کا آرڈر تھا کی اگر وہ لوگ کچھ ناٹک کرے تو پیسے وہی چھوڑ کر چلے جانا . میں : ٹھیک ہے رانا : بھائی وہ دونوں بیگ کہا ہے . میں : ( انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے ) بیڈ كے نیچے پڑے ہے نکال لو . رانا : ( جھک کر بیڈ كے نیچے دیکھتے ہوئے ) ٹھیک ہے . . . . بھائی آپ جلدی سے تییار ہو جاؤ ابھی نکلنا ہے . میں : اب کہا جانا ہے . رانا : ( دونوں بیگ باہر نکلتے ہوئے ) بھائی وہ لوگ جن کا یہ مال ہے وہ اس آدمی کا چہرہ دیکھنا چاھتے ہیں جس نے انکا مال لوٹا تھا اور ان کے لوگ مارے تھے . میں : مطلب مجھے . . . کچھ جاد-باد تو نہیں ھوگی . رانا : بھائی فکر مت کرو آپ کے ہی پُرانے ساتھی ہیں آپکو کیا ھونا ہے . ویسی بھی شیخ صاحب کا مال ہر کوئی نہیں لوٹ سکتا . میں : تو کیا میں اب شیخ صاحب سے ملنے والا ہوں . رانا : نہیں بھائی ابھی تو آپکو بس لالہ بھائی اور گانی بھائی ہی ملیں گے . میں : ٹھیک ہے . . . جانا کہا ہے رانا : آپ کے پُرانے کلب میں جانا ہے بھائی میں : ٹھیک ہے اسکے بَعْد میں جلدی سے باتھ روم میں گیا اور تییار ہو كے باہر آ گیا . فر میں رانا اور باقی وہ 2 لوگ کار میں بیٹھ کر نکل پڑے . کچھ دیر بَعْد کار پارکنگ والی جگہ پر روک ڈی گئی اور ہم سب باہر نکل آئے . رانا مجھے اک عجیب سی جگہ لے کے گیا جہاں بہت تیز میوزک بج رہا تھا . ہمیں وہاں کھڑے 2 لوگوں نے دوسرے گاتے سے اندر جانے کا اشارہ کیا تو ہم لوگ دوسری طرف سے اندر چلے گئے . وہاں گاتے پر ہم سب کی اچھے سے تلاشی لی گئی اور میری پستول وہی باہر ہی نکال لی گئی . اب مجھے سچ میں ڈر لگ رہا تھا کیونکی اب ہم میں سے کسی كے پاس بھی حاتحیار نہیں تھے . بڑھتی ہوئے ہر قدم كے ساتھ میرے دِل کی دھڑحکان بھی بڑھ رہی تھی . لیکن رانا اک دم خوش اور بہت سکون سے مسکراتا ہوا چل رہا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو . ہم لوگوں كے پیچھے 4 لوگ گنس لیے چل رہے تھے انہوں نے ہمیں اک کیبن میں بٹھا دیا جسکے سامنے والی کرسی خالی پڑی تھی . ہم چاروں اپنے سامنے پڑی کورسیو پر بیٹھ گئے . میں کمرے کو دیکھنے لگا جو کافی شاندار طریقے سے سجایا گیا تھا اسکی ہر چیج کافی قیمتی لگ رہی تھی . تبھی رانا کی آواز آئی . . . رانا : بھائی اب سب آپ کے اوپر ہی ہے سنبھال لینا . میں : بحینچود وہ جو باہر تیرا باپ کھڑا تھا اس نے میری پستول لے لی ہیں اب ان کو کیا میں ٹیبل کرسی سے سامبحالونجا چوتیے . . . . رانا : بھائی آپ کے ہاتھ جودتا ہوں یہاں ہاتھ مت اٹھانا نہیں تو بہت مسئلہ ہو جائیگا ہم میں سے کوئی بھی زندہ باہر نہیں جائیگا . میں : تو سیل یہاں میری کیا قربانی دینے كے لیے لایا ہے مجھے . تبھی پیچھے سے کیبن کا گاتے کھلا اور 5-6 لوگ اندر آئے جنہوں نے ہم سب کے سر پر بندوق تان ڈی اسلئے ہم سب لوگ ہاتھ اوپر کرکے اپنی-اپنی جگہ سے کھڑے ہو گئے . میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کی ان کو کیسے سامبحالو کی تبھی دوبارہ کیبن کا دروازہ کھلا اور 2 اور لوگ اندر آ گئے ان کو میں پہلے دیکھ چکا تھا یہ لالہ اور گانی تھے جو شیخ كے ہوتیلس اور کلبس سنبھلتے تھے . وہ دونوں شاید بھاگ کر آئے تھے اسلئے انکی سانس پھولی ہوئی تھی . آتے ہی وہ دونوں مجھے بڑے غور سے دیکھنے لگے اور میرے پاس آکے میرے سر پر لگی بندوق کو جھٹکے سے اُدھر کر دیا اور جس نے میرے سر پر بندوق تان رکھی تھی اسکو تھپڑ مار کر گالیان دینے لگے . . . . گانی : بحینچود اتنا بھی نہیں پتہ اپنے لوگوں پر بندوق نہیں تانتی یہ تو اپنا بھائی ہے شیرا ( مجھے گلے لگاتے ہوئے ) لالہ : ( میرے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے ) اوئے تو کہا تھا یارا اتنے وقت سے ہم سب نے تجھے کتنا ڈھونڈا . جاپانی تو تیرے پیچھے پاگل سا ہوا پڑا تھا شیخ صاحب بھی پریشان ہو گئے تھے ہم نے تو سوچا تو مر مک گیا ھوگا . گانی : کیا ہوا یار تو ہم کو ایسی کیوں دیکھ رہا ہے . رانا : میں نے اپنا وعدہ پُورا کیا اب مال میں رکھ سکتا ہوں . لالہ : اوئے تو نہیں جانتا تونے ہم کو ہماری طاقت دے ڈی ہے جا رکھ لے شیخ صاحب کا انعام سمجھ کر . گانی : رانا رک اوئے . . . تونے بتایا نہیں ہمارا مال لوٹنے کی ہمت کس نے کی تھی . میں : میں نے . . . . لالہ : اوئے تونے . . . . وہی میں سوچ رہا تھا یہ شیر کا شکار کون کھا گیا . میں : شیر کا شکار صرف شیرا ہی کھا سکتا ہے . گانی : سچ کہا یار تونے . . . . لیکن یار تو اتنے وقت تک تھا کہا پر . رانا : بھائی جان ان کو پچھلا کچھ بھی یاد نہیں ہے یادداشت اک دم صاف ہو چکی ہے . لالہ : تجھے یہ ملا کہا پر یہ بتا . میں : کچھ مہینے پہلے میں اک غریب کسان کو ملا تھا ادحماری اور جاخمی حالت میں جنہوں نے نا صرف مجھے بچایا بلکہ میری مرہم پٹی بھی کی مگر جب تک مجھے ہوش آیا تو مجھے کچھ بھی یاد نہیں تھا . ( میں نے ان کو وہی بتایا جو کھن نے مجھے کہنے کو بولا تھا ) گانی : یار کہا رہتا ہے وہ غریب کسان ہم کو بتا اسکا گھر بھر دینگے نوتو سے جس نے ہمارا یار ہم کو لوٹا دیا اسکی 7 پوشتو کو کام نہیں کرنا پڑیگا . رانا : وہ اب اِس دُنیا میں نہیں رہے بھائی جان . اسلئے یہ شہر آئے تھے کام کی تلاش میں میرے اک آدمی نے ان کو پہچان لیا تو ہم نے ان کو اپنے ساتھ کام پر لگا لیا . لالہ : ( رانا کو دھکہ دیتے ہوئے ) اوئے بحینچود توو کام دیگا شیرا کو . . . سیل اوقات کیا ہے تیری . . . 2 تاکی کا ڈیلر ہے . گانی تھوک دے اِس مادرچود کو . رانا : ( لالہ كے پیر پاکادتی ہوئے ) معافی بھائی جان میں تو بس ان کو آپ تک ہی پوحونچانا چاہتا تھا اور کچھ نہیں . گانی : تیرا مقصد نیق تھا لیکن تونے ہمارا مال لوٹنے کی اور ہماری آدمی مروانی کی غلطی کیسے کی اسکو تو کچھ یاد نہیں ہے لیکن تو تو سب جانتا تھا نا . لالہ : ( مجھے کیبن سے باہر لے کے جاتے ہوئے ) چل آ بھائی تجھے تیری اصل جگہ دیخاو اسکو گانی سنبھل لے گا . میں : پہلے اسکو جانے دو اس نے کچھ نہیں کیا ان لوگوں کو میں نے مارا تھا . گانی : ٹھیک ہے بھائی تو کہتا ہے تو معاف کیا ( رانا کو لات مرتے ہوئے ) چل بھاگ جا بحوسدی كے اور دوبارہ نظر مت آنا مجھے . . . اِس باڑ تو شیرا کی وجہ سے بچ گیا اگلی باڑ ہماری مال پر ہاتھ ڈالنے كے بارے میں سوچا بھی یاد رکھنا جو بخشنا جانتے ہیں وہ جان لینا بھی جانتے ہیں . رانا : ( میرے پیر پاکادتی ہوئے ) آپکا بوحوت-بوحوت شکریہ شیرا بھائی . میں : چل جا یہاں سے . لالہ : یار گانی تو شیرا کو لے کے چل میں یہ خوش خبری ابھی سب کو دیکی آٹا ہوں . اسکے بَعْد میں اور گانی کیبن كے باہر کلب میں اوپر آ گئے . جہاں اک کانچ كے گلاس سے نیچے کا تمام نظارہ دکھائی دے رہا تھا . میں اس کانچ كے پاس کھڑا ہوکے نیچے ناچتے لادکی-لادکیو کو دیکھنے لگا جو میوزک کی رحیتحیم پر تھڑک رہے تھے . گانی : ( شراب کا گلاس میری طرف کرتے ہوئے ) یہ لے بھائی تیرے ملنے کی خوشی میں میں : نہیں شکریہ میں پیتا نہیں ہوں . گانی : ( حیران ہوتے ہوئے ) اوئے میرے دارو كے ٹینکر تیری طبیعت تو ٹھیک ہے تو تو کورلی بھی دارو سے کرتا تھا تجھے کیا ہو گیا یار . میں : مجھے کچھ یاد نہیں ہے اور میں جب سے ٹھیک ہوا ہوں تب سے میں نے ڈرو کو ہاتھ تک نہیں لگایا اسکو پینا تو دور کی بات ہے . گانی : ٹھیک ہے بھائی تیری مرضی . . . . ویسی کیا دیکھ رہا ہے نیچے . . . . کوئی پاٹولا ( سندر لڑکی ) پسند آیا ہے تو بتا اٹھا لیتے ہیں سالی کو . . . . ( میرے کاندھے پر ہاتھ مرکر ہیسٹ ہوئے ) میں : نہیں یار میں تو ایسی ہی دیکھ رہا تھا ( مسکراتے ہوئے ) تبھی لالہ بھی وہاں آ گیا . لالہ : بتا میرے یار کیا سوا کرے تیری . . . اوئے تیرا ہاتھ ابھی تک خالی ہے یار گانی دارو دے بھائی کو . . . . اتنی مدت بَعْد اپنے غریب کھانے میں آیا ہے شیرا . گانی : ( نا میں سر ہلاتے ہوئے ) صاحب نے چھوڑ ڈی ہے یار لالہ : ہیں . . . . . اوئے سچی . . . زرا موح ادھر کرنا شیرا . . . ہاہاہاہاہا میں : ہاں میں دارو نہیں پیتا لالہ : بھائی شیر خون نا پیلے تو ہم معاً سکتے ہیں لیکن شیرا ڈرو نا پئے یہ بات تو ہماری بھی سمجھ سے باہر ہے . . . کیا یار اس بدھی نے ہماری یار کا بیدا-جارک کر دیا ہے . میں : دوبارہ اس بوجورج كے لیے کبھی غلط لفظ مت نکلنا . . . . اس انسان نے مجھے نئی زندگی ڈی ہے سمجھے . . . گانی : ارے یار غصہ کیوں ہوتا ہے بھائی لالہ تو مذاق کر رہا تھا چل اب نہیں بولیگا جانے دے . . . معاف کر دے یار . لالہ : ( کان پکڑ کر اٹھاک-بیتھاک نکلتے ہوئے ) لے بھائی بس تبھی اک آدمی وہاں آیا اور اس نے گانی كے کان میں کچھ کہا اور چلا گیا . گانی : یار شیرا تجھے جاپانی اور سوما بلا رہے ہیں . میں : کہا پر . . . گانی : وہی . . . . یار تیری پرانی مان-پاساند جگہ پر اور کہا . . . . لالہ : تو بھی نا گانی یار اسکو کچھ یاد نہیں ہے اور تو لگا ہے اپنی چاول مارنے . ( میری باجو پاکادتی ہوئے ) چل بھائی میں تجھے لے کے چلتا ہوں . میں : ٹھیک ہے چلو لیکن یار میری گن تو واپس کر دو تمھارے ادمیو نے تلاشی لیتے ہوئے نکال لی تھی . ( ہیسٹ ہوئے ) گانی : ارے یار اتنی سی بات یہ لے تو میرا کھوڈا ( گن ) رکھ لے میں نے کل ہی نیا خریدا ہے اگر پتہ ہوتا تو آ رہا ہے تو تیرے لیے بھی اک ایسی منگوا لیتا . میں : نہیں یار تونے اپنے لیے مانجوایی ہے تو میں یہ نہیں لے سکتا اسکو تو ہی رکھ . گانی : ارے یار کیا لڑکی جیسے ناٹک کر رہا ہے یہ لے رکھ چلا كے دیکھنا اک دم مکھن ہے مکھن ریپید فائر ہے گرمان آٹومَیٹِک 12 رائونڈ ہے جب تک سامنے والا کی اک گولی نیکالیجی تیری 6 جولیان نکل چکی ہونگی . . . . یہ لے رکھ ( زبردستی میری بیلٹ میں پھاساتی ہوئے ) میں : شکریہ گانی بھائی . . . . گانی : اوئے یہ شاریفو كے چونچالی کہا سے سیکھ کر آیا ہے یار چل ادھر آ یارو کو شکریہ ایسی بولتے ہیں . . . ( مجھے گلے لگاتے ہوئے ) لالہ : اگر تمہارا لیلی مجنوں کا رومینس ختم ہو گیا ہو تو ہم لوگ چلیں . میں : ہا . . . ہا . . . چلو . . . . اسکے بَعْد میں اور لالہ دونوں کار میں بیٹھ کر نکل پڑے . کچھ ہی دیر میں لالہ مجھے آبادی سے نکال کر ایسی جگہ لے گیا جہاں نا تو کوئی اونچی بِلڈنگ تھی نا ہو کوئی چکا-چوندح تھی . رستہ اک دم سنسان تھا اندھیری رات اپنے پورے شباب پر تھی . صرف ہیڈ لائٹ ہی تھی جسکی روشنی سے ہمیں سامنے کا نظر آ رہا تھا ورنہ آس-پاس کہی کوئی آبادی نہیں تھی اسلئے مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے پوچھ لیا . . . میں : لالہ ہم کہا جا رہے ہیں ؟ لالہ : بھائی تم کو بتایا تو تھا كے جاپانی اور سوما بھی تجھ سے ملنا چاھتے ہیں . میں : اور کتنا دور ہے . . . . لالہ : بس 15 منٹ آنکھ بند کرکے بیٹھ اور سمجھ پوحونچ ہی گئے ( گاڑی کی سپیڈ بڑھتے ہوئے ) کچھ ہی دیر میں گاڑی اپنی فل سپیڈ پر تھی عیسی لگ رہا تھا جیسے گاڑی ڈائوڈ نہیں رہی بلکہ اُڑ رہی ہے لالہ اک دم میرے جیسے گاڑی چلا رہا تھا . شاید اسلئے مجھے بھی ایسی تیز گاڑی چلانے کی عادت تھی . لالہ نے 15 منٹ سے بھی کم وقت میں اک بستی میں گاڑی کو غصہ دیا جہاں گلیاں بے حد تنگ تھی لوگ سڑکوں پر ہی بیٹھ کر اپنا سامان بیچ رہے تھے لالہ کو اور مجھے دیکھ کر سب لوگ حیران ہو رہے تھے اور ہاتھ اٹھا کر مجھے سلام کر رہے تھے مجھے بار بار سب کے سلام کا جواب دینا پڑ رہا تھا اسلئے جب تک گاڑی اس گلی سے گزرتی رہی میں نے اپنا ہاتھ ہوا میں اٹھا کر ہی رکھا . کچھ ہی دیر میں اک ایسی جگہ لالہ نے گاڑی روک ڈی جو باہر سے دیکھنے میں کسی گوڈاؤن جیسا لگ رہا تھا لیکن اندر سے بہت شور آ رہا تھا . میں بڑے غور سے اس جگہ کو دیکھنے لگا مجھے جانے کیوں وہ جگہ مجھے جانی-پیحچانی سی لگ رہی تھی . میں : لالہ یہ کونسی جگہ ہے . . . لالہ : چل بھائی تجھے مردو والا کھیل دکھاتا ہوں ( کار روکتے ہوئے ) میں : ( کار کا گاتے کھولتے ہوئے ) چل . . . . اسکے بَعْد میں اور لالہ اس جگہ كے اندر چلے گئے وہاں بہت جادا بھیڑ تھی یہاں تک کی سہی سے کھڑے ہونے کی بھی جگہ نہیں تھی لوگ اک دوسرے پر چڑھ رہے تھے اتنا بورا حال تھا تبھی لالہ نے اپنی جیب سے فون نکالا اور کسی کو فون کیا . . . . لالہ : ہیلو . . . . بحینچود بولاانی سے پہلے یہ تو بتا دیتا کی یہاں دبا كے مارنا ہے ہم کو . . . . لالہ : ہاں ساتھ ہی آیا ہے . . . یار کہا سے آئے یہاں پیر رکھنے کی جگہ نہیں ہے . . . . لالہ : سالا اسی لیے میں یہاں آٹا نہیں ہوں . . . . لالہ : اچھا ٹھیک ہے . . . . لالہ : او کے بھائی 5 منٹ میں ملتے ہیں باس اسکے بَعْد اس نے فون کاٹ دیا . . . . . لالہ : چل بھائی شیرا اس کے بیچ میں سے ہی نکلنا پڑیگا . . . . جانتا ہے تیری اور جاپانی کی یہ من پسند جگہ ہے تم دونوں سارا دن یھی پڑے رہتے تھے . . . . ( ہیسٹ ہوئے ) یار تو یہاں سارا دن رہتا کیسے تھا مجھے تو یہ سمجھ نہیں آ رہا یہ بھیڑ میں نکلتے ہوئے میری تو جان نکل جائے گی تو پتہ نہیں کیسے جاتا تھا . لالہ کی یہ بات سن کر جانے مجھے عیسی کیوں لگا کی میں پہلے بھی ہوا میں فائر نکال کر رستہ صاف کر چکا ہوں اسلئے میں نے فوراً لالہ سے کہہ دیا . . . میں : تو بولے تو رستہ میں صاف کروں . . . . لالہ : ( حیران ہوتے ہوئے ) کیسے . . . . میں : ( اپنی گن نکلتے ہوئے ) تو بس دیکھتا جا . . . میں اس گاتے كے سامنے جاکے کھڑا ہو گیا اور سب لوگ شور مچا رہے تھے کوئی جانے کا رستہ نہیں دے رہا تھا میں نے 2-3 باڑ آواز لگائی لیکن کوئی نہیں سنا اسلئے میں نے گن کو ہوا میں اوپر اٹھایا اور اک فائر نکال دیا . سب کی نظر پیچھے میری طرف دیکھنے لگی اور مجھے دیکھتے ہی سب نے ہاتھ اٹھا کر شیرا . . . . شیرا . . . . شیرا . . . . کرنے لگے اور میرے لیے رستہ چھوڑ دیا میں نے پالاتکار لالہ کی طرف دیکھا اور بس مسکرا دیا . جواب میں وہ بھی مجھے دیکھ کر مسکرایا اور میرے کاندھے پر تھپکی مرتے ہوئے مجھے شاباشی دینے لگا . اسکے بَعْد میں نے جیسے ہی چلنا شروع کیا وہاں پر کچھ لوگ نے ہوا میں اپنی باندوکی تان لی اور جولیان چلانی شروع کر ڈی ساتھ ساری بھیڑ میرے نام کا نعرہ بلند کرنے لگی . میں اور لالہ جب آگے گئے تو سامنے مجھے اک بڑا سا پنجرا نظر آیا جس میں 2 لوگ آپس میں لڑ رہے تھے . آگے جاتے ہی میرے اور لالہ كے لیے وہاں بیٹھے لوگوں نے کورسیان خالی کردی اور سب لوگ وہاں میرا حاال-چال پوچحنی لگے ہم دونوں وہاں کرسی پر بیٹھ کر ان دونوں لڑنے والے آدمیو کا میچ دیکھنے لگے . جانے کیوں مجھے یہاں آکے اک عجیب سی خوشی ہو رہی تھی جیسے مجھے گاv جاتے خوشی ہوتی تھی مجھے عیسی لگ رہا تھا جیسے میں اپنے گھر ہی آ گیا ہوں . میں کرسی پر آرام سے بیٹھا تھا کی اتنے میں اک گھنٹی کی تنننن کی آواز سے فائٹ شروع ہو گئی . سب لوگوں نے دونوں فائیٹرز پر اپنا داv لگانا شروع کر دیا . میں بڑے غور سے دونوں فائیٹرز کو دیکھ رہا تھا جو گھنٹی کی آواز سے ہی اک دوسرے پر ٹوٹ پڑے تھے اور لادنا شروع ہو گئے تھے . کچھ دیر فائٹ ایسی ہی چلتی رہی تبھی فائٹ كے بیچ میں پیچھے سے میرے کاندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا . میں نے پلٹ کر دیکھا تو یہ جاپانی تھا جیسا کی مجھے خان نے بتایا تھا کی اِس پورے گینگ میں یھی میرا سب سے جگری دوست تھا . میں اسکو دیکھتے ہی فوراً اپنی کرسی سے کھڑا ہو گیا اور اسکو مسکرا کر دیکھنے لگا . وہ بنا کچھ بولے مجھے غور سے دیکھ رہا تھا وہ مجھے دیکھ کر روو بھی رہا تھا اور مسکرا رہا تھا اور فر اس نے مجھے اپنی طرف کھینچ کر گلے سے لگا لیا . جاپانی : ( روٹ ہوئے اور مسکرا کر ) بھائی تو کہا چلا گیا تھا یار تجھے کتنا ڈھونڈا میں نے . میں : بس یار کیا بتاو جانے دے بہت لمبی کہانی ہے فر کبھی بتاونجا . جاپانی : شیرا تو یہاں کیوں بیٹھا ہے چل اوپر آجا اپنے آفس میں وہاں سے فائٹ دیکھیں گے . میں : ( لالہ کو دیکھتے ہوئے ) چل لالہ چلتے ہیں . اسکے بَعْد ہم تینوں وہاں سے اٹھے اور سیدحیا چادحتی ہوئے اک الیشان سے کمرے میں آ گئے جسکی سامنے کی پوری دیوار کسی کانچ كے گلاس کی بنی تھی جسے ہم ار-پار دیکھ سکتے تھے میں کیبن میں گھوستی ہی گلاس كے پاس جاکے کھڑا ہو گیا اور نیچے ہو رہی فائٹ دیکھنے لگا . اوپر سے نیچے کا نظارہ اور بھی شاندار دکھائی دے رہا تھا . تبھی مجھے جاپانی کی آواز آئی . جاپانی : شیرا بھائی یہاں کیوں کھڑا ہے یہ لے یہ ٹی . وی میں لیو فائٹ دیکھ لے . ( بڑا سا ٹی وی آن کرتے ہوئے ) میں : ( پالاتکار ٹی وی میں دیکھتے ہوئے ) یہ تو اور بھی صاف نظر آ رہا ہے . جاپانی : بھائی اب تو بیٹھ کر فائٹ دیکھ میں تھوڑا کام کر لوں ( پریشان ہوتے ہوئے ) اسکے بَعْد وہ لوگ بیٹھ کر باتیں کرنے لگے اور میں بیٹھا آرام سے ٹی وی میں فائٹ دیکھنے لگا . فائٹ ختم ہوتے ہی کچھ لوگ جاپانی كے کیبن میں آ گئے اور آتے ہی 1 آدمی نے زور زور سے ہسنا شروع کر دیا . میں نے نوٹ کیا کی ان لوگوں كے آنے سے جاپانی کچھ اور جادا پریشان ہو گیا تھا . اُن میں سے اک آدمی جاپانی سے : جاپانی بھائی تیرا فیگھتیر آج پِھر سے ہار رہا ہے . جاپانی : چھوڑ نا یار سالی تقدیر ہی خراب ہے ( کچھ کاغذ كے ٹکڑوں کو پھادتی ہوئے ) میں : کیا ہوا جاپانی پریشان لگ رہا ہے بھائی جاپانی : کچھ نہیں یار یہ تو چلتا رہتا ہے تو آرام سے فائٹ دیکھ میں تھوڑی دیر میں آٹا ہوں لالہ اس کا خیال رکھنا . لالہ : ( ہاتھ ہلتے ہوئے ) او کے . . . . میں : کیا ہوا لالہ یہ پریشان کیوں لگ رہا تھا سب ٹھیک تو ہے . لالہ : کچھ نہیں یار اس نے اپنا بیدا-جارک خود کیا ہے کتنی باڑ بولا ہے کی یہ فائٹ کلب اس کے بس کا نہیں ہے . اِس دحاندحی کو چھوڑ کر میرے ساتھ کلب میں آ جائے لیکن یہ مانتا ہی نہیں . میں : یہ بتا مسئلہ کیا ہے . لالہ : ھونا کیا ہے یار ابھی جو لوگ آئے تھے نا ان کے ساتھ اسکی بیتتینج چلتی ہے کارودو روپییا داv پر لگتا ہے اور ہر باڑ اس کا فیگھتیر ہار جاتا ہے جاپانی اِس وقت کافی لوس میں چل رہا ہے اب اگلے ہفتے بابا کو حساب دینا ہے بس اسلئے یہ پریشان ہے . میں : کیا ہم جاپانی کی مدد نہیں کر سکتے . لالہ : ( اپنی کرسی میرے پاس کرتے ہوئے ) میری جان ابھی تو تو آیا ہے اتنی جلدی یہ سب پنگے میں مت پڑ تو بس عیش کر یار . میں : لیکن یار جب میں تھا تب بھی کیا یہ فائٹ کلب ایسی ہی لوس میں چلتا تھا ؟ لالہ : نہیں یار جب تو تھا . . . . تب تو یھی بابا کا ٹوپ بوسینیس ہوتا تھا اس وقت یہاں سب اچھا تھا لیکن آج تیرے ہی بنائی ہوئے سب فیگھتیر شمی كے لیے کام کرتے ہیں اور اسکی طرف سے فائٹ کرتے ہیں . اسلئے تو جاپانی كے پاس لڑنے كے لیے اسٹرونگ فیگھتیر نہیں ہے . میں : یہ شمی کون ہے . لالہ : وہی بندہ جو ابھی ہنس رہا تھا پاجلو کی طرح . میں : ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) ٹھیک ہے . . . اچھا مجھے فائٹ كے رولز بتا میرے پاس اک فیگھتیر ہے . لالہ : ( جور سے ہیسٹ ہوئے ) رولز کونسے یار . . . . کوئی رول نہیں ہے جب تک سامنے والا فیگھتیر اپنے پیڑو پر کھڑا ہونے لایک ہے تب تک فائٹ چلتی رہتی ہے . میں : ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) سمجھ گیا . . . اک کام کر شمی کو بول اک اور فائٹ رکھ لے اور یہاں كے فیورٹ فیگھتیر کو بلا لے جو بھی اسکے پاس ہے . لالہ : ( حیرانی سے مجھے دیکھتے ہوئے ) بھائی تو کیا کرنے والا ہے . میں : حساب برابر کرنے کا وقت آ گیا ہے . لالہ : ( پریشان ہوتے ہوئے اور ساتھ ہی فون اٹھا کر کسی کو فون لگاتے ہوئے ) جلدی اوپر آ یار شیرا کا کچھ مسئلہ ہے . . . اسکے بَعْد کچھ دیر کیبن میں خاموشی چھائی رہی اور تھوڑی دیر میں جاپانی اوپر آ گیا . جاپانی : ہاں کیا ہوا لالہ : شیرا بھائی جان کچھ فرما رہے ہیں . جاپانی : ( ساوالیا نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے ) کیا بات ہے شیرا . . . . میں : شمی کو بول اپنے بیسٹ فیگھتیر کو لے کے آئے آج یہاں فر سے فائٹ ھوگی . جاپانی : نہیں یار آگے ہی بہت پیسہ ہار چکا ہوں بابا میری جان لے لینگے اگر ان کو پتہ چل گیا تو . . . . میں : مجھے پر اعتبار ہے تو فائٹ رکھ لے تجھے ہارنے نہیں دونگا جاپانی : تجھ پر تو جان سے جادا اعتبار ہے یار لیکن یہ تو بتا فیگھتیر کون ہے . میں : رنگ میں دیکھ لینا . . . ابھی جتنا بولا ہے اتنا کر . اسکے بَعْد جاپانی کچھ دیر میرے سامنے خاموش کھڑا کچھ سوچتا رہا اور فر بنا کچھ بولے واپس نیچے چلا گیا اور کچھ دیر بَعْد اسکے ساتھ شامی اور اسکے آدمیو كے ساتھ دوبارہ اوپر آ گیا . شامی : ( مجھ سے ہاتھ ملاتے ہوئے ) کیا حال ہے شیرا بھائی آپکا نام بہت سنا تھا درشن پہلی باڑ ہوئے ہیں . میں : جناب آج کی اک فائٹ اور رکھ لیتے ہیں شامی : آپکا حکم سر آنکھوں پر لیکن بابا کا حکم ہے کی یہاں ہفتے میں اک ہی فائٹ ھوگی دوسری فائٹ کی اجاجت نہیں ہے مجھے بابا سے پوچھنا پڑیگا . میں : بابا سے پوچحنی کی ضرورت نہیں ہے جب میں کہہ رہا ہوں تو جارینتی بھی میری ہے . شامی : وہ تو ٹھیک ہے لیکن داv پر کیا لگاؤ گے آپ لوگوں کا آج کا کلیکشن تو جاپانی ہار چکا ہے ( مسکراتے ہوئے ) میں : اگر میں ہار گیا تو میں سامنے بیٹھا ہوں تمھارے جو چاھے کر سکتے ہو لیکن اگر جیت گیا تو میرے جیتنے كے بَعْد تم نے جو بھی جاپانی سے جیتا ہے سب واپس کرنا پڑیگا . شمی : ( ہیسٹ ہوئے ) میں اتنا چوتیا لگتا ہوں کیا جو اک جان کا سودا کارودو میں کرونگا . جاپانی : ( بیچ میں بولتے ہوئے ) اگر ہم یہ فائٹ ہار گئے تو ہمارا فائٹ کلب آپکا . شمی : یہ ہوئی نا مردو والی بات مجھے منظور ہے لالہ : گھنٹہ منظور ہے . . . . تم دونوں پاگل تو نہیں ہو گئے ہو اتنا بڑا داv کھیل رہے ہو وہ بھی بابا سے اجاجت لیے بیجایر . جاپانی : جو ھوگا میں دیکھ لونگا مجھے میرے یار پر آج بھی پُورا اعتبار ہے ( میرے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے ) لالہ : تم دونوں پاگل ہو گئے ہو جاپانی یار اک باڑ فر سوچ لے بہت لفڈا ہو جائیگا . میں : کچھ نہیں ھوگا یار بھروسہ کر مجھ پر لالہ : ( سر جحاتاکتی ہوئے ) تم جو مرضی کرو لیکن یاد رکھنا کچھ پنگا ہوا تو بابا کو جواب تم دونوں دوجیی میں نے بول دینا ہے کی میں نے منع کیا تھا تم دونوں کو . جاپانی : ٹھیک ہے . . . . جو ھوگا دیکھا جائیگا ( مسکراتے ہوئے ) شامی : ٹھیک ہے فر اِسْپیشَل فائٹ ہے تو اِسْپیشَل رنگ بھی ھونا چاہئے کیا کہتے ہو . . . جاپانی : اِسْپیشَل رنگ ہی ھوگا شمی بھائی ( میری طرف مسکرا کر دیکھتے ہوئے ) اسکے بَعْد شمی وہاں سے چلا گیا اور میں اور جاپانی نیچے رنگ میں چلے گئے جہاں ہم نے اک اِسْپیشَل فائٹ اننوونکی کر ڈی . جسکے جواب میں وہاں كے لوگوں نے شور ماچاکی اپنی خوشی کا اظہار کیا . اسکے بَعْد جاپانی اپنے لوگوں کو کچھ سمجھانے چلا گیا اور میں واپس اوپر کیبن میں آکے بیٹھ گیا . آتے ہی لالہ فر سے میرے پاس آ گیا اور مجھے سمجھانے میں لگ گیا . لالہ : یار اک باڑ فر سوچ لو تم بہت جالدبااازی کر رہے ہو کچھ مسئلہ نا ہو جائے . میں : کچھ نہیں ھوگا یار فکر مت کر . لالہ : لیکن تم جس فیگھتیر پر اتنا بڑا داv کھیل رہے ہو وہ فیگھتیر ہیں کون میلوا تو دے یار . میں : ( مسکرا کر ) لے مل لے فر . . . فیگھتیر تیرے سامنے بیٹھا ہے . لالہ : ( حاد-باداکار کھڑا ہوتے ہوئے ) شیرا تیرا دماغ تو ٹھیک ہے یار تو ابھی اتنی بَدی بیماری سے واپس آیا ہے . . . . نہیں . . . نہیں . . . . یار تو رہنے دے تو ان فائیٹرز کا مقابلہ نہیں کر پائیگا اور ویسے بھی جاپانی بھی تجھے لڑنے کی اجاجت نہیں دیگا . میں : تو فکر مت کر کچھ نہیں ھوگا یار میں ہوں نا سب سنبھال لونگا اور اپنے یار کو اتنا کمزور مت سمجھ . . . . اپنے ہی جیتیں گے . . . . آج سالا چانجیز کھن بھی کیوں نا آ جائے سالا اپنے پیڑو پر چل کر نہیں جائیگا . لالہ : دیکھ یار تو ہمارا یار ہے اسلئے روک رہے ہیں ہمارا کام پیسہ لگانا ہے یار خود رنگ میں اتارکار لادنا نہیں ہے . میں : کیا میں نے پہلے کبھی فائٹ نہیں کی اِس رنگ میں ؟ لالہ : کی ہے یار بہت فائٹ کی ہے اور آج تک تو کبھی ہارا بھی نہیں لیکن پہلے اور اب میں بہت فرق ہے یار اب تو تجھے کچھ یاد بھی نہیں ہے تو کیسے لادیجا اسکے فیگھتیر كے ساتھ . میں : ( کچھ سوچتے ہوئے ) ابھی فائٹ میں بہت وقت ہے . . . . اک کام کر اگر میری پرانی فائٹ کی کوئی ویڈیو پڑی ہے تو لے کے آ میں دیکھنا چاہتا ہوں . لالہ : اچھا ابھی لاتا ہوں اسکے بَعْد میں اکیلا کیبن میں بیٹھا تھا اسلئے واپس شیشے كے پاس آکے نیچے دیکھنے لگا جہاں جاپانی كے تمام لوگ لگے ہوئے تھے نیا رنگ تییار کرنے میں . میں بس یھی سوچ رہا تھا کی میں نے لڑنے كے لیے ہاں تو بول دیا ہے لیکن کیا میں لڑ بھی سکتا ہوں یا نہیں . اندر سے مجھے بھی ڈر لگ رہا تھا لیکن ان لوگوں كے دِل میں جگہ بنین کا میرے پس اسے اچھا موقع نہیں تھا اسلئے میں نے لادایی كے لیے ہاں بول دیا تھا . کچھ ہی دیر بَعْد لالہ واپس آیا اسکے ہاتھ میں اک بڑا سا کارٹون تھا جس میں بہت سی سی . ڈ پڑی تھی . لالہ : لے بھائی تیرا کام کر دیا ہے آج تک تونے جتنی بھی فائٹ لڑی ہے ان سب کی ویڈیو فوٹیج اس میں موجود ہے آرام سے بیٹھ کر دیکھتا رہ . میں : ٹھیک ہے لالہ : اور کچھ چاہئے . . . . میں : ( نا میں سر ہلاتے ہوئے ) شکریہ . اسکے بَعْد میں وہ کارٹون میں سے ویڈیو سی ڈی نکل کر پلیئر میں لگانے لگا اور اپنی پرانی زندگی کو یاد کرنے کی کوشش کرنے لگا . لیکن افسوس مجھے کچھ بھی یاد نہیں آ رہا تھا اسلئے میں بس اپنے داv-پیچ ہی غور سے دیکھنے لگا جو شاید میری فائٹ میں کام آ سکتے تھے مجھے نہیں پتہ تھا کی یہ داv- پیچ میرے کسی کام بھی آ سکتے ہیں یا نہیں لیکن فر بھی میں اِس فائٹ کو جیتنے كے لیے سب کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا . اسکے بَعْد فائٹ شروع ہونے کا وقت آ گیا نیچے لوگوں کی بھیڑ بھی بڑھنے لگی تھی اور سب تییاریان بھی مکمل ہو چکی تھی رنگ بھی تییار تھا اور شمی کا فیگھتیر اور شمی بھی نیچے آ چکے تھے . لیکن میں ابھی تک انہی ویڈیو فوتتیجی کو ہی دیکھ رہا تھا تبھی لالہ کیبن میں آ گیا . لالہ : بھائی سب کچھ ریڈی ہے . میں : ہاں چلو میں بھی ریڈی ہوں . لالہ : یار اک بات فر سوچ لے تجھے یہ فائٹ لڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے میں : ضرورت ہے لالہ اپنے لیے نہیں اپنے یارو كے لیے آج شیرا لادیجا اور نا صرف لادیجا بلکہ جییتیجا بھی . لالہ : ( مجھے گلے لگاتے ہوئے ) کون بولتا ہے تو پہلے جیسا نہیں رہا . اسکے بَعْد میں نے اپنی شرط اُتار ڈی اور صرف جینس پینٹ پہنا ہوا سیدحیو سے نیچے اُتَر گیا تب تک شامی کا فیگھتیر بھی رنگ میں آ چکا تھا جو اِس رنگ کا اب فیورٹ . بن چکا تھا اور اک بھی فائٹ نہیں ہارا تھا . میرے نیچے اُترتے ہی ریفاری نے میرا نام پکارا جس پر سب لوگ نے ہاتھ ہوا میں اٹھا کر میرے نام کا نعرہ بلند کر دیا . لالہ میرے پیچھے میرا نام پوکارتی ہوئے آ رہا تھا لیکن مجھے جاپانی کہی بھی نظر نہیں آ رہا تھا میری نظری چارو طرف جاپانی کو ڈھونڈ رہی تھی اسلئے میں نے لالہ کو اشارے سے جاپانی كے بارے میں پوچھا تو اس نے رنگ كے اندر اشارہ کیا . اسکے بَعْد میں بنا کوئی جواب دیئے رنگ کی طرف بڑھ گیا جہاں شامی اور شامی کا فیگھتیر موجود تھے . میرے رنگ كے پاس آتے ہی جاپانی میرے پاس آکے کھڑا ہو گیا اور میرا اک ہاتھ پکڑ کر ہوا میں اوپر اٹھا دیا . . . . جاپانی : بھائی آج دکھا دے پرانا شیرا . . . . میں : ( مسکرا کر جاپانی کو گلے لگاتے ہوئے ) کوشش کرونگا . . . اسکے بَعْد میں رنگ كے اندر چلا گیا جہاں شامی کا فیگھتیر میرے سامنے آکے کھڑا ہو گیا وہ قد میں اور شریر میں مجھ سے لگ بھگ دوجونا تھا لیکن فر بھی وہاں پر موجود تمام لوگ شیرا . . . شیرا . . . . شیرا . . . . . نام پکار رہے تھے جسے مجھے بہت حوصلہ مل رہا تھا . فیگھتیر : شمی صاحب یہ لادیجا میرے ساتھ . شامی : ہاں بھائی کیا کرے کچھ لوگوں کو شہید ہونے کا شونک ہوتا ہے . فیگھتیر : ( ہیسٹ ہوئے ) لوگوں نے تجھے شیر بولا اور تو آ گیا پنجرے میں مرنے كے لیے ، آج تو اِس شیر کی بھی قربانی ھوگی . . . . میں : ( ہیسٹ ہوئے ) ہاتھی کتنا بھی بڑا ہو جائے شیر کا شکار نہیں کر سکتا مُنا اور ویسی بھی قربانی بکرے کی ڈی جاتی ہے شیر کی نہیں شیر اپنی خورااک خود ڈھونڈ لیتا ہے . فیگھتیر : دیکھتے ہیں آج کون کس کو خورااک بناتا ہے تیرے جیسے کتنے ہی آئے اور دھول چاٹ کر چلے بھی گئے . لیکن میں وہی کا وہی کھڑا ہوں . میں : تو کھڑا ہے کیونکی تیرا شیرا سے سامنا نہیں ہوا تھا آج تیرا یہ کھڑے رہنے کا وہم بھی دور ہو جائیگا کیونکی فائٹ كے بَعْد تو کھڑا ھونا تو دور کی بات ہے کیڑی کی طرح رینجنی لایک بھی نہیں بچیجا . اسکے بَعْد شمی اور جاپانی رنگ سے باہر چلے گئے اور ریفیری ہم دونوں کا نام اعلان کرنے كے بَعْد وہ بھی رنگ سے باہر چلا گیا . اب رنگ کا دروازہ باہر سے بند ہو گیا تھا اور میں گھنٹی بجنے کا انتظار کرنے لگا تبھی اوپر سے پانی برسنے لگا جیسے باریش ہو رہی ہو . میں نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا تو اوپر بہت سارے فووواری لگے ہوئے تھے جنسے باریش جیسے پانی نکل رہا تھا کچھ ہی دیر میں رنگ کی زمین پوری طرح گیلی ہو گئی . اب میں اور وہ فیگھتیر دونوں رنگ كے الگ-الگ کون میں کھڑے تھے . تبھی گھنٹی کی تنننن سے آواز ہوئی اور وہ فیگھتیر میری طرف بھاگا اور جمپ لگا کے میرے اوپر کود پڑا . اسے بچنے كے لیے میں نے اپنی کروٹ بَدَل لی جسے وہ جاکے لوہے کی جالی سے ٹکرا گیا . میں نے جلدی سے پالاتکار اک ٹانگ ہوا میں اٹھائی اور اسکی پیٹھ میں مار ڈی . جب میں دوبارہ اسکو ٹانگ مارنے لگا تو وہ پلٹ گیا اور اس نے میری ٹانگ پکڑ لی اسے پہلے کی وہ کچھ کر پتہ میں نے اپنی باڈی کا سارا ویٹ اسی پکڑی ہوئی ٹانگ پر ڈال دیا اور اسکے ہاتھ پر کھڑا ہوکے اوپر کو اُچھل گیا ساتھ ہی اپنا گھٹنا اسکے موح پر مارا جسے اسکے ناک سے خون نکلنے لگا . اب میں اسے کچھ دور کھڑا تھا اور اسکے اگلے حملے کا انتظار کر رہا تھا . وہ اپنے ہاتھ سے اپنا ناک صاف کرتے ہوئے فر سے میری طرف غصے سے بڑھنے لگا . میں نے گیلی زمین کا فائدہ اٹھایا اور جلدی سے نیچے زمین پر فصال گیا جسے میری دونوں تانجیی اسکی ٹانگوں كے سامنے آ گئی میں نے اپنی اک ٹانگ اسکے گھٹنے كے جوڑ پر جور سے ماری جسے وہ خود کو سنبھال نہیں پایا اور میرے اوپر ہی گر گیا . میرے اوپر گرتے ہی اس نے میرا گلا پکڑ لیا اور میرا گلا دبانے لگا . میں نے کافی کوشش کی لیکن اسکے ہاتھ کی پکڑ کافی مضبوط تھی . اسکے گلا دبانے سے نیچے پڑے پانی سے مجھے سانس لینے میں تکلیف ہو رہی تھی . میں نے جلدی سے اپنے دونوں ہاتھ اسکے موح پر رکھے اور اپنے ہاتھ کی 2 انجالییا اسکی آنكھوں پر مار ڈی جسے کچھ پل كے لیے اسے دیکھنا بند ہو گیا میرے لیے اتنا وقت کافی تھا میں نے جلدی سے اسکو پلٹ دیا اور خود اسکے اوپر آ گیا تھا اب میں نے اسکی اک ہاتھ سے گارڈن پکڑی اور دوسرے ہاتھ سے اسکے چہرے پر موکی مرنے لگا لیکن شاید میرے موکو سے اسکے چہرے پر کچھ خاص اثر نہیں ہو رہا تھا اسلئے میں نے اپنی کہنی کو اسکے سر میں جور سے مارا جسے اسکے سر سے خون نکلنے لگا . مجھے میرا یہ داv کام کا لگا اسلئے میں نے بار بار اپنی کہنی اسکے سر میں مارنی شروع کردی . 5-6 باڑ سر میں چوٹ کھانے كے بَعْد اس نے اپنی دونوں باجو اوپر کر لی اور اپنا سر بچہ لیا اب میں نے اپنی جگہ بدلی اور اسکا پیر پکڑ لیا اور الٹی ڈائیریکشن میں گھمانے لگا جسے شاید اسکو انتہا دَرْد ہوا تھا اسلئے اس نے اپنا دوسرا پیر جور سے میرے پیٹ میں مارا اور میں دور جاکے گر گیا . میں فر سے کھڑا ہو گیا اور اسکے کھڑے ہونے کا انتظار کرنے لگا اسے باڑ اس نے کچھ وقت لیا کھڑا ہونے میں اور لوہے کی جالی کو پیکڈ کر وہ فر سے کھڑا ہو گیا میں اب اسے کافی فاصلے پر تھا میں اب سوچ رہا تھا کی اسکو کیسے دوبارہ گراو تبھی مجھے ویڈیو فوتتاجی کا اک موو یاد آیا جو میں نے کافی ویڈیو میں استعمال کیا تھا میں نے دور جاکے کھڑا ہو گیا اور کسی جانور کی طرح اپنے دونوں ہاتھوں پر اور گھٹنوں پر بیٹھ گیا وہ پورے غصے كے ساتھ میری طرف بڑھنے لگا . وہ جیسے ہی میری طرف بھاگا میں بھی نیچے جھک کر بھاگنے لگا اور ہوا میں اُچھل کر کسی میندحاک کی طرح اس پر کود پڑا میرا کندھا اسکے پیٹ میں لگا جسے وہ وہی زمین پر گر گیا . اب میں اسکو اٹھانے نہیں دینا چاہتا تھا اسلئے جلدی سے اسکے پاس گیا اور اسکا سر اپنی دونوں ٹانگوں میں دبا کر جور سے کھینچ دیا اسے ڈیتھ لوک کہا جاتا ہے . وہ کچھ دیر اپنے حاتح-پایر ہلاتا رہا لیکن اب اسکی سانس ٹوٹنے لگی تھی میں نے جب دیکھا کی وہ اک دم بے جان سا ہونے لگا ہے تو میں نے اپنی پکڑ سے اسکو آزاد کر دیا . اِس باڑ وہ کھڑا نہیں ہو سکتا تھا کافی دیر انتظار کرنے كے بَعْد بھی جب وہ کھڑا نہیں ہوا تو رنگ کا گاتے کھل گیا اور جاپانی اور لالہ رنگ میں آ گئے اور مجھے اپنے کندہوں پر اٹھا لیا . وہ دونوں میرے جیتنے سے بہت خوش تھے اور باہر لوگوں کی بھیڑ صرف میرا ہی نام پکار رہی تھی . تبھی رنگ میں شمی آ گیا . . . شمی : ( پھکی ھسی كے ساتھ ) مبارک ہو شیرا بھائی جاپانی : اب بولو شمی بھائی کیا کہتے ہو . . . افسوس ! ! ! آپکا پیسہ اور آپکا فیگھتیر دونوں کام سے گئے . اب اپنا اگلا پچھلا سب حساب برابر . شامی : ( اپنے ماتھے سے پسینہ صاف کرتے ہوئے ) ٹھیک ہے . . . . اسکے بَعْد شمی اپنے زمین پر پڑے فیگھتیر کو اک لات مار کر رنگ سے چلا گیا اور میرے دوست میرے آنے کی اور جیتنے کی خوشی میں لگ گئے . فر جیسے ہی میں رنگ سے باہر آیا تو وہاں پر کھڑے لوگوں نے مجھے اوپر اٹھا دیا اور پورے فائٹ کلب میں میرا نام پکارا جانے لگا . کچھ دیر میں ایسی ہی ان لوگوں كے ساتھ اپنی خوشی مناتا رہا فر اوپر سے مجھے لالہ نے اشارہ کیا اور اوپر آنے کو کہا تو میں وہاں كے لوگوں کا شکریہ اڈا کرکے واپس اوپر آ گیا . لالہ : آجا میرے شیر آج تو تونے کمال کر دیا یار تو نہیں جانتا تونے شمی کو کتنا بڑا لوس دیا ہے . میں : میں نے یہ فائٹ لوس یا پروفیتی كے لیے نہیں دوستی كے لیے کی تھی . جاپانی : ( گلاس میں شراب ڈالتے ہوئے ) جانتا ہوں یار لیکن کچھ بھی بول سیل شمی کی شکل دیکھنے والی تھی عیسی لگ رہا تھا جیسے کسی نے اسکی یججات لوٹ لی ہو . . . میں : چل اب جو ھونا تھا ہو گیا کل سے تو یہاں نئے لڑکے بلا جن کو میں فر سے ٹریننگ دونگا . لالہ : لیکن یار تو کیسے . . . . . میں : کیوں مجھے کیا ہے میں اگر لڑ سکتا ہوں تو لادنا نہیں سیکھا سکتا کیا . جاپانی : وہ بات نہیں ہے یار لیکن پہلے تو بابا سے اجاجت لے لے گا تو بہتر ھوگا . میں : ہاں یار یہ بابا کا نام بہت سنا ہے کون ہے یہ بابا ان سے کب ملوں گا میں . لالہ : شیرا بابا وہ ہے جنہوں نے نے تیری میری ہم سب کی پرورش کی ہے یہ سب کچھ بابا کا ہی تو ہے . میں : کیا بابا جانتے ہیں میں واپس آ گیا ہوں . جاپانی : میرے دوست جو بھی ہوتا ہے وہ سب کچھ بابا کو پتہ ہوتا ہے میں : تو مجھے بابا سے بھی میلواو نا یار لالہ : ابھی نہیں یار کچھ دن تو ہماری ساتھ ہی رہ فر بابا سے بھی مل لینا کیونکی ابھی بابا ملق سے باہر گئے ہوئے ہیں . اسکے بَعْد میں کچھ دن وہاں رہا اور سب لوگوں كے ساتھ گھلنے ملنے کی کوشش کرنے لگا میں وہاں كے تمام لوگوں کا دِل جیت بھی لیا تھا لیکن میرا مقصد یہاں سے انفارمیشن کلیکٹ کرنا تھا اسلئے اب میرا سارا دن ہوتیلس میں اور رات فائٹ کلب میں گزرنے لگی تھی . میرے بہت کوشش کرنے كے بَعْد بھی میں کسی بھی طرح کی انفارمیشن نہیں نکال پا رہا تھا کیونکی سب مجھے کسی مہمان کی طرح ٹریٹ کر رہے تھے وہ لوگ مجھے اپنے جشن میں اور پارٹی میں تو شامل کرتے تھے لیکن اپنے بوسینیس کی کوئی بھی بات میرے سامنے نہیں کرتے تھے . کچھ دن ایسی ہی گزرنے كے بَعْد اک دن مجھے لالہ سے پتہ لگا کی چھوٹے شیخ ( شیخ صاحب کا بیٹا ) واپس آ رہا ہے اور مجھ سے ملنا چاہتا ہے . کیونکی مجھے پچھلا کچھ بھی یاد نہیں تھا اسلئے میں یوز بھی اپنا دوست اور ہمدرد ہی سمجھ رہا تھا یھی آگے چل کر میری سب سے بَدی غلطی ثابت ہوئی . میں روز کی طرح اپنے ہوٹل كے روم میں تییار ہو رہا تھا کی کسی نے میرا روم نوک کیا جب دروازہ کھولا تو مجھے پتہ چلا کی چھوٹا شیخ نے مجھے نیچے لالہ كے کیبن میں بلایا ہے . میں فوراً تییار ہوکے نیچے چلا گیا . نیچے جاتے ہی 2 گارڈ نے مجھے روک لیا اور میری تلاشی لینے لگے . یہ دونوں لوگ میرے لیے نئے تھے کیونکی لالہ كے سب آدمیو کو میں جانتا تھا . میری تلاشی لینے كے بَعْد انہوں نے میری گن نکال لی اور میرے لیے کیبن کا دروازہ کھول دیا اور میں بنا کچھ بولے چپ چاپ اندر چلا گیا . اندر کرسی پر اک آدمی بیٹھا جس نے ٹیبل پر اپنی دونوں تانجیی رکھی ہوئی تھی اور اسکے پاس ہی لالہ اپنے دونوں ہاتھ باندھے کھڑا تھا . سب سے عجیب بات تو یہ تھی کی آج وہاں روز کی طرح لالہ کا اک بھی آدمی موجود نہیں تھا سب لوگ ہاتھ میں حاتحیار پکڑے تھے اور سب نئے چہرے تھے . چھوٹا شیخ : ( اپنی سگراتتی جلاتے ہوئے ) وہوو . . . . تو میرے آدمی سہی کہہ رہے تھے شیرا سچ میں واپس آ گیا ہے بھائی واہہ . میں : ( ادب سے سلام کرتے ہوئے ) جی . . . آپ نے مجھے یاد کیا تھا . چھوٹا : ارے یہ سلام کرنا کب سے سیکھ لیا اپنے تو پُرانے دوست ہیں یار . . . چلو یہاں آؤ بیٹھو . میں : ( کرسی پر بیٹھ طے ہوئے ) جی شکریہ . . . . چھوٹا : تو تم کو پرانا کچھ بھی یاد نہیں ہے ہحممم . میں : ( نا میں سر ہلاتے ہوئے ) جی نہیں . . . . چھوٹا : ہحمم . . . . تو یہ بات ہے . . . . ( اپنے آدمیو کو اشارہ کرتے ہوئے ) میں : ( کچھ نا سمجھنے والے انداز میں ) مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا آپ نے بس مجھ سے یھی پوچھنا تھا . چھوٹا : نہیں یار میں تو تمھارے لیے اک تحفہ لایا تھا سوچا تم کو پسند آئیگا . میں : جی کونسا تحفہ چھوٹا : چلو آؤ تم کو تمہارا تحفہ دیخاو . . . . ( میرے پاس آتے ہوئے ) تم جاننا نہیں چاہو گے تم کو گولی کس نے ماری تھی . میں : ( چونکتے ہوئے ) کیا . . . . آپ جانتے ہیں . . . . کون ہے وہ کمینہ اس سیل کو تو میں زندہ دفن کر دونگا جس نے میری یہ حالت کی ہے . ( غصے سے ) چھوٹا : بھائی تمہارا دشمن ہمارا دشمن . . . . میرے آدمی تو اسکو وہی تھوک دیتے جہاں وہ ہم کو ملا تھا فر سوچا تم کو پہلی باڑ مل رہا ہوں ٹھیک ہونے كے بَعْد خالی ہاتھ جاؤنگا تو تم کو اچھا نہیں لگے گا اسلئے تمھارے لیے اسے اعلی تحفہ نہیں ہو سکتا تھا اسلئے تمھارے لیے بچاکی رکھا ہے . میں : کون ہے وہ حرام خور کیا نام ہے اسکا بتاؤ مجھے شیخ صاحب آپکا احسان مند رہیگا یہ شیرا . چھوٹا : خود ہی چل کر دیکھ لینا . اسکے بَعْد چھوٹا شیخ ، میں اور لالہ ساتھ میں شیخ كے آدمی نیچے چلے گئے اور فر ہمارے لیے کارز آ گئی میں ، لالہ اور چھوٹا شیخ اک گاڑی میں بیٹھے تھے باقی سب آدمی پیچھے دوسری گادیو میں آ رہے تھے . میرے بار-بر پوچحنی پر بھی چھوٹا شیخ مجھے اس آدمی کا نام نہیں بتا رہا تھا . ادھر میرے اندر اک عجیب سا طوفان جاگ گیا تھا میں بی-قرار ہوا جا رہا تھا اس آدمی کو اپنے ہاتھوں سے گولی مرنے كے لیے جس نے میرا اتییت میری شاکسیات مجھ سے چین لی تھی . آج اگر مجھے میرے بڑے میں کچھ بھی یاد نہیں تھا تو اسکا زیممیدار وہی آدمی تھا . اب مجھے انتظار تھا اس پل کا جب میرا اور اس آدمی کا سامنا ھوگا جس نے مجھے گولی ماری تھی . کچھ دیر بَعْد ہماری کار اک الیشاان مکان كے سامنے رک گئی . گاڑی كے رکتے ہی لوگ گاڑی سے اُتَر گئے میں نے اپنی کوٹ كے سائڈ میں ہاتھ ڈالا ٹاکی میں گن نکال سکو اور جاتے ہی اس آدمی پر گولی چلا سکو جس نے میری یہ حالت کی تھی . لیکن کوٹ میں ہاتھ ڈالتے ہی مجھے یاد آیا کی میری پستول تو چھوٹے شیخ كے آدمیو نے لے لی تھی . میں : ( پلٹ طے ہوئے ) شیخ صاحب مجھے میری گن چاہئے چھوٹا : ارے بھائی اتنی بھی کیا بی-سابری پہلے اندر تو چلو تم کو تمہاری گن بھی مل جائے گی . فر جو دِل چاھے کر لینا اسکے ساتھ . میں : ٹھیک ہے اسکے بَعْد ہم سب لوگ گھر كے اندر چلے گئے . اندر جانے كے بَعْد ہم سب کو شیخ نے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود اپنے دو گارڈز كے ساتھ سییدحیو سے اوپر چلا گیا . اس وقت انتظار کا اک اک پل میرے لیے کئی سال كے انتظار جیسا ہو رہا تھا میں چاہتا تھا کی جلدی سے جلدی وہ انسان میرے سامنے آ جائے اور اسکی جان لے لوں تاکہ میرے دِل کو کچھ قرار آ سکے . میں خاموش ہوکے گارڈن نیچے لاتکایی بیٹھا تھا میرے ساتھ لالہ اور جاپانی بیٹھے تھے باقی كے تمام لوگ صوفے كے آس-پاس کھڑے ہوئے تھے . کچھ ہی دیر میں چھوٹا شیخ اک مسکان كے ساتھ سییدحیو سے نیچے اترتا ہوا نظر آیا . اسکے پیچھے کچھ لوگ اک آدمی کو پکڑ کر نیچے لا رہے تھے اسکے چہرے کو اک کالے نقاب سے دھکا ہوا تھا اور دیکھنے سے لگ رہا تھا جیسے وہ آدمی اسکو گھسیٹ کر نیچے لا رہے تھے عیسی لگ رہا تھا جیسے وہ بے ہوش ہو . کچھ ہی دیر میں وہ لوگ اسکو اٹھا کے نیچے لے آئے اور اک کرسی پر بٹھا دیا . تبھی چھوٹا شیخ میرے پاس آیا اور گن نکال کر مجھے پکڑا ڈی . چھوٹا : ( مجھے گن دیتے ہوئے ) لے بھائی شیرا اپنا تحفہ قبول کر اور تھوک دے سیل کو . میں : ( گن پاکادتی ہوئے ) شیخ صاحب کیا میں اِس حرام خور کا چہرہ دیکھ سکتا ہوں اک باڑ اگر آپکو اعتراض نا ہو تو . چھوٹا : ضرور یار کیوں نہیں . . . . . ( اپنے آدمی کو اشارہ کرتے ہوئے ) نقاب ہٹاؤ اس کا . میں : ( چونکتے ہوئے ) یہ تو رانا ہے شیخ صاحب . چھوٹا : ٹھیک پہچانا یہ راعنہ ہی ہے سالا پولیس کا خبری ہے مجھے پتہ چلا ہے کی اسی نے تمہاری انفارمیشن پولیس تک پوحونچایی تھی . میں : ( گن نیچے کرتے ہوئے ) لیکن شیخ صاحب یھی تو مجھے یہاں تک لے کے آیا تھا یہ کیسے پولیس کا خاباری ہو سکتا ہے اگر یہ پولیس کا خبری ہوتا تو مجھے پولیس تک لے کے جاتا یہاں کیوں لاتا . . . . آپکو کسی نے غلط انفارمیشن ڈی ہے . لالہ : ہاں شیخ صاحب شیرا سہی کہہ رہا ہے چھوٹا : ( اپنی گن نکلتے ہوئے ) میں نے جو بولا وہ کرو . . . تم لوگ اپنا بھیجا مت چلاؤ سمجھے . میں : خان صاحب آپکو اتنا یقین کیسے ہیں . چھوٹا : ( غصے سے اپنی پستول میرے سر پر رکھتے ہوئے ) تجھے سنا نہیں میں نے کیا بولا تو اسکو تھوک نہیں تو میں تجھے تھوک دونگا . 3 جنی تک کا وقت دیتا ہوں تجھے . . . اگر تیری گولی نہیں چلی تو میری چلیں گی . میں : شیخ صاحب میری بات سنیے اک باڑ . . . . چھوٹا : 1 . . . . . . . . جاپانی : یار تو پاگل ہو گیا ہے تھوک دینا سیل کو اس کے لیے کیوں اپنی جان سے کھیل رہا ہے . میں گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا اور فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کی راعنہ کو بچاو یا خود کو اگر میں رانا پر گولی نہیں چلاتا تو شیخ مجھے مار دیتا لیکن اب میں کوئی اپرادحی نہیں تھا اسلئے چاہ کر بھی اس پر گولی نہیں چلا سکتا تھا . ابھی میں اپنی ہی سوچو میں گم تھا کی شیخ کی آواز میرے کانو سے تاکرایی . چھوٹا : 2 . . . . . . . . میں : ( اپنی گن نیچے کرتے ہوئے ) شیخ : تجھ سے گولی نہیں چلیں گی نییر . . . . ( میرے ہاتھ سے گن لیتے ہوئے اور رانا کو اپنی پستول سے گولی مارتے ہوئے ) شیخ نے میرے سامنے رانا کو مار دیا . لیکن یہ بات میرے لیے کسی جھٹکے سے کم نہیں تھی کی شیخ کو میری اصلیت پتہ تھی کیونکی اس نے مجھے شیرا نہیں نییر کہہ کر پکارا تھا . اس کا مطلب خان كے دفتر میں کوئی تھا جو شیخ کا آدمی تھا اور اسکو میرے بڑے میں سب کچھ بتا رہا تھا . جاپانی : شیخ صاحب یہ نییر نہیں شیرا ہے . شیخ : کھا گئے نا دھوکہ تم سب بھی . . . . جس کو تم شیرا سمجھ رہے ہو وہ شیرا نہیں نییر ہے اسکو ہمارا کم تمام کرنے كے لیے ہی پولیس نے یہاں بھیجا ہے . . . . جاپانی : ( چونکتے ہوئے ) کیا . . . . نہیں . . . نہیں . . . شیخ صاحب آپکو کسی نے غلط انفارمیشن ڈی ہے یہ شیرا ہی ہے میں اپنے دوست کو پہچاننی میں دھوکہ نہیں کھا سکتا . . . . شیخ : جو گیا تھا وہ شیرا تھا لیکن اب جو واپس آیا ہے یہ شیرا نہیں نییر ہے سمجھا . . . لالہ : لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے شیرا مر جائیگا لیکن پولیس کا ساتھ کبھی نہیں دیگا آپ سے جادا ہم شیرا کو جانتے ہیں . شیخ : ٹھیک ہے اگر یہ شیرا ہے تو پوچھوں اسکو بابا کا سیف کہا ہے اور انہوں نے سارا سونا کہا رکھا ہوا ہے . . . اب یہ بات تو صرف شیرا ہی جانتا ہے نا . . . اگر یہ شیرا ہے تو اسکو ثابت کرنی ھوگی یہ بات . میں : میرا یقین کرو شیخ صاحب میں شیرا ہی ہوں لیکن مجھے پچھلا کچھ بھی یاد نہیں ہے میں سچ کہہ رہا ہوں . شیخ : ٹھیک ہے فر یاد کر لو آرام سے جب تک تم کو یاد نہیں آ جاتا تب تک تم اِس گھر سے باہر نہیں جا سکتے ( اپنے آدمیو کو اشارہ کرتے ہوئے ) ڈال دو اسکو رانا کی جگہ پر اور اسکو تب تک مارو جب تک یہ سب کچھ بتا نہیں دیتا . اسکے بَعْد شیخ كے آدمیو نے مجھے پکڑ لیا اور اوپر اک کمرے میں لے گئے جہاں مجھے اک کمرے میں بند کر دیا گیا جسکا دروازہ لوہے کا بنا تھا . میں اندر سے چیلاتا رہا اور دروازہ کھولنے کی ناکام کوشش کرتا رہا . لیکن دروازہ بند ہونے كے بَعْد کسی نے میری بات نہیں سنی . ابھی مجھے کمرے میں داخل ہوئے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کی دروازے كے نیچے سے دھواں آنے لگا جسے مجھے عزیب سی گھٹن ہونے لگی اور لگاتار کھانسی آنے لگی . وہ عزیب قسم کی گیس تھی جسے کچھ ہی دیر میں میری آنکھوں كے سامنے اندھیرا چاہ گیا اور میں بے ہوش ہو گیا . مجھے نہیں پتہ میں کتنی دیر وہاں زمین پر بے ہوش پڑا رہا لیکن جب مجھے ہوش آیا تو میں کرسی سے بندھا پڑا تھا . میرے چاروں طرف بہت سارے لوگ کھڑے تھے اور اک انگریز آدمی میری باجو کو رویی ( کاٹن ) سے صاف کر رہا تھا . میں : کون ہو تم اور مجھے بندھا کیوں ہے کھولو مجھے . . . انگریز : ریلکس ! ! ! ابھی سب ٹھیک ہو جائیگا . ( دوسرے آدمی سے اک انجیکشن لیتے ہوئے ) میں : حرام خور کھول مجھے . . . ( اپنے آپ کو چحودانی کی ناکام کوشش کرتے ہوئے ) انگریز : کام ڈاؤن ! ! ! ابھی سب ٹھیک ہو جائیگا . شیخ : آخری باڑ پوچھ رہا ہوں بابا کا سیف کہا ہے اور اسکو کیسے کھولتے ہیں بتا نہیں تو کچھ دیر بَعْد تو سب کچھ خود ہی بتا دیگا . میں : میں نے بولا نا مجھے کچھ یاد نہیں اک باڑ بات سمجھ میں نہیں آتی . شیخ : ڈاکٹر یو کین کنٹینیو یہ ایسی نہیں بتائےگا سالا بہت پرانا پاپی ہے . اسکے بَعْد وہ انگریز ڈاکٹر نے مجھے وہ انجیکشن لگا دیا جسے مجھے اک عجیب سا نشہ چاہنے لگا میرے چاروں طرف کی چیجی مجھے گول گول گھمتی ہوئی نظر آنے لگی میں بولنا چاہ رہا تھا لیکن مجھ سے بولا نہیں جا رہا تھا اور بہت تیز نیند آ رہی تھی . انگریز : ( میرے گال تھاپ-تھاپاتی ہوئے ) کیا نام ہے تمہارا . میں : ( انگریز کو غور سے دیکھتے ہوئے ) ہحمممم . . . انگریز : کیا نام ہے تمہارا . میں : کبھی شیرا کبھی نییر میں دونوں ہوں حاحاحاحاحاحاحاحا انگریز : تم کو یہاں کس نے بھیجا ہے میں : ( زور-زور سے ہیسٹ ہوئے ) انگریز : تم کو یہاں کس نے بھیجا ہے میں : تیری ماں نے . . . . حاحاحاحاحاحاحاحا شیخ : ( مجھے تھپڑ مرتے ہوئے ) ڈوس بڑھاؤ ڈاکٹر . . . انگریز : ( اک اور انجیکشن مجھے لگاتے ہوئے ) تم کو یہاں کس نے بھیجا ہے میں : بابا نے ( یہاں میں گاv والے بابا کا ذکر کر رہا ہوں ) حاحاحاحاحاحاحا شیخ : ( چونکتے ہوئے ) تم کو بابا نے کس لیے یہاں بھیجا ہے میں : تیری مارنے كے لیے بحوسدی كے . . . . حاحاحاحاحاحاحاحا اسکے بَعْد مجھے کچھ یاد نہیں کیونکی میری آنکھوں كے آگے اندھیرا چاہ گیا اور میں فر سے بے ہوش ہو گیا . جب آنکھ کھلی تو میں واپس اسی کمرے میں تھا جہاں مجھے پہلے رکھا گیا تھا اور میرے سامنے جاپانی بیٹھا تھا اور میرے موح پر پانی مار رہا تھا . جاپانی : اٹھ جا میرے باپ سالا کب سے سویا پڑا ہے . میں : ( اپنی آنکھیں صاف کرتے ہوئے ) جاپانی تو یہاں . . . جاپانی : ہاں میں . . . اب بات سن میری یہ سب سیل پاگل ہو گئے ہیں لیکن میں جانتا ہوں تو میرا بھائی ہے میرا شیرا . میں : تو یہاں کیسے آیا . جاپانی : وہ سب چھوڑ یہ لے میری گن اور یہ کچھ پیسے رکھ لے تیرے کام آئینگے اور یہ لے میری گاڑی کی چابی . . . اب تو یہاں سے نکل جا تیرا یہاں رہنا ٹھیک نہیں ورنہ چھوٹا شیخ اور اسکے آدمی تجھے تھوک دینگے . میں : لیکن تو . . . . جاپانی : میری فکر مت کر یار تیرے ویسے ہی مجھ پر بہت احسان ہے آج بہت مدت كے بَعْد موقع ملا ہے یاری کا حق اڈا کرنے کا اب تو یہاں سے جا اور یہاں چلے جانا یہاں تو اک دم سیف رہیگا اور تجھے تیرے ہر سوال کا جواب بھی مل جائیگا جو تو اکثر سب سے پوچحتا رہتا ہے اور اِس جگہ كے بڑے میں کسی کو کچھ بھی مت بتانا ( اک پرچی میرے ہاتھ میں دیتے ہوئے ) اسکے بَعْد مجھے کمرے كے باہر فائر کی آواز سنائی دینے لگی . میں پوری طرح ہوش میں تو نہیں تھا فر بھی چلنے كے قابل تھا مجھے جاپانی نے پکڑ کر جلدی سے کھڑا کیا اور اپنی کوٹ کی جیب سے اک اور گن نکال لی اور میرے آگے آکے کھڑا ہو گیا . اور کمرے كے باہر میرا ہاتھ پکڑ کر لے گیا باہر نیچے بہت سے لوگ تھے جو فائر کر رہے تھے . وہی بالکونی میں کچھ جاپانی كے لوگ بھی تھے جو جواب میں فائر کر رہے تھے لیکن نیچے کھڑے لوگوں کی تعداد بہت جادا تھی اور اوپر کھڑے لوگ گنتی میں بس 5-6 ہی تھے . تبھی اک گولی آکے جاپانی كے پیٹ میں لگی . جسے وہ وہی گر گیا میں نے اسکو جلدی سے سنبھالا اور جاپانی کی ڈی ہوئی پستول سے میں نے بھی نیچے کھڑے لوگوں پر فائر کرنا شروع کر دیا . جاپانی : تو رہنے دے شیرا تو جا یہاں سے ہم لوگ سنبھال لینگے . میں : پاگل ہو گیا تجھے گولی لگی تو چل میرے ساتھ جو ھوگا دیکھا جائیگا . جاپانی : نہیں یار اپنا ساتھ یھی تک تھا اب تو جا میں ان کو جادا دیر نہیں روک پاؤنگا اور یاد رکھنا چھوٹا شیخ تجھ پر میرا اُدھار ہے جب ہاتھ لگے تو سیل كے بھیجے میں گولی مرنا میری طرف سے . یہاں کسی پر بھی بھروسہ مت کرنا سب سیل کتے ہیں میری بات یاد رکھنا . میں : ( روٹ ہوئے ) یار تو کیسے بات کر رہا ہے تجھے کچھ نہیں ھوگا تو چل میرے ساتھ ان سب کو میں اکیلا ہی دیکھ لونگا اور شیخ کو تو خود مریگا . جاپانی : ( ہیسٹ ہوئے ) شیر کی آنکھ میں آنسو اچھے نہیں لگتے تو جا یہاں سے . تبھی اک گولی میری گارڈن کو چھو کر نکل گئی جسے میری گارڈن سے خون نکلنے لگا اور دَرْد کی اک تیز لہر میرے پورے بدن میں ڈائوڈ گئی . یہ دیکھ کر جانے جاپانی کو کیا ہوا اس نے مجھے پیچھے دھکہ دے دیا جسے میں زمین پر گر گیا اور خود کھڑا ہوکے اندحا-دحوندح نیچے کھڑے لوگوں پر جولیان برسانے لگا . نشے كے انجیکشن کی وجہ سے میں چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پا رہا تھا اسے پہلے کی میں کھڑا ہوتا جاپانی سییدحیو سے نیچے اترنے لگ گیا اور ان لوگوں پر اپنی دوسری پستول سے بھی جولیان چلانے لگا . جب تک میں واپس اپنے پیڑو پر کھڑا ہوا نیچے سب لوگ مر چکے تھے . اور جاپانی سییدحیو میں پڑا تڑپ رہا تھا اسکے پورے بدن سے پانی کی طرح خون نکل رہا تھا . میں داوائی كے نشے میں لاد-خاداتا ہوا سییدحیو سے نیچے کی طرف آیا اور جاکے جاپانی کو دیکھا تو وہ بھی مجھے چھوڑ کر جا چکا تھا . میں نے آج اپنی جینجادی کا سب سے قیمتی دوست کھو دیا تھا جس نے زندگی كے ہر موڑ پر میرا ساتھ دیا تھا . میری آنکھوں میں آنسو اور دِل میں چھوٹے شیخ كے لیے بی-ینتیحا نفرت تھی . میں نے اپنے آنسو صاف کیے اور اپنے دوست جاپانی کا سکاف جو وہ ہمیشہ اپنے ہاتھ پر باندھتا تھا اسے اُتار کر اپنے ہاتھ پر باندھ لیا اور وہاں سے سیدھا گھر كے باہر نکل گیا اور جلدی سے جاپانی کی کار میں بیٹھ گیا . میں نے کار اسٹارٹ کی اور اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر جاپانی کی ڈی ہوئی پرچی کو دیکھنے لگا . اس میں لکھا پتہ دیکھا اور اپنی کار کو تیز رفتار سے داودا دیا میں نہیں جانتا تھا کی جاپانی نے مجھے کہا بھیجا ہے . میں کافی دیر سے گاڑی چلا رہا تھا اور اب میں اس علاقے سے کافی دور بھی نکل آیا تھا اچانک مجھے یاد آیا کی آج كے ہوئے اِس حادثے كے بڑے میں خان کو بتا دوں اور اب آگے کیا کرنا ہے یہ بھی پوچھ سکو . لیکن فر مجھے رانا کی یاد آئی اور اتنا تو میں سمجھ گیا کی ضرور خان كے آفس میں ہی کوئی خبری ہے جو میری پل پل کی خبر چھوٹے شیخ تک پوحونچا رہا ہے اسلئے میں نے خان کو بھی اس ٹھکانے كے بڑے میں بتانا ٹھیک نہیں سمجھا کیونکی یہ ممکن تھا کی کوئی خان کا فون بھی تابب کر رہا ہو . یھی سب سوچتا ہوا میں لگاتار گاڑی کو داوداتا رہا کچھ گھنٹے کی ڈرائیو كے بَعْد مجھے ہائی وے پر اک پارول پمپ نظر آیا وہاں میں نے رک کر اپنی گاڑی میں فیول بحاروایا . میں : سنیے یہاں کوئی ٹیلی فون ہے مجھے اک فون کرنا ہے . لڑکا : جی صاحب اندر ہے کر لیجیے فون . میں : ( گاڑی سے باہر نکلتے ہوئے ) شکریہ . لڑکا : صاحب آپکو تو بہت چوٹ لگی ہے اور آپکی گارڈن سے خون بھی نکل رہا ہے . میں : کوئی بات نہیں یہ ٹھیک ہو جائیگا میرا چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوا تھا . لڑکا : برا نا منو صاحب تو میرا گھر پاس ہی ہے اگر آپ چاھے تو میں آپکی پٹی کروا سکتا ہوں . میں : نہیں کوئی بات نہیں شکریہ . اسکے بَعْد وہاں پڑے اک پانی كے گھڑے سے پہلے میں نے اپنا موح دھویا اور اپنی گارڈن پر لگا خون صاف کیا . کیونکی اِس بات کو آب کافی وقت ہو گیا تھا اسلئے زخم سے خون نکلنا بند ہو گیا تھا اور میری گارڈن پر لگا خون بھی سُوکھ گیا تھا . اسکے بَعْد میں پیٹرول پمپ كے اندر چلا گیا اور خان کا نمبر دیل کیا . خان : ہیلو . . . . میں : ہیلو خان صاحب میں نییر بول رہا ہوں . خان : نییر تم . . . یہ کس کا نمبر ہے میں : خان صاحب یہ اک پیٹرول پمپ کا نمبر ہے اور یہاں بہت گڈبڈ ہو گئی ہے خان : کیا ہوا . . . . اسکے بَعْد میں نے ساری بات تفصیل سے خان کو بتا ڈی . . . خان : ہحممم یار یہ تو بہت گڈبڈ ہو گئی ہے اور تمہاری بات اک دم سہی ہے مجھے بھی لگتا ہے کوئی نا کوئی میرے دفتر میں ہی ہے جو چھوٹا شیخ سے ملا ہوا ہے . اس کمینے خبری کی وجہ سے ہی میرے سب سے خاص انفورمر راعنہ کی جان گئی ہے . خیر کوئی بات نہیں وہ سب میں سنبھال لونگا . اب تم یہ بتاؤ کی اب تم کہا ہو . میں : پتہ نہیں خان صاحب ابھی تو میں اسی شہر میں ہوں ( میں نے جھوٹ بولا کیونکی جاپانی نے مجھے اس جگہ كے بڑے میں کسی کو بھی بتانے سے منع کیا تھا ) خان : تم کچھ دن كے لیے اندیر-جرواند ہو جاؤ کچھ دن بَعْد مجھ سے کونٹیکٹ کرنا اور میرے موبائل پر فون کرکے بتانا کی تم کہا ہو پِھر میں تم کو تمہارا اگلا قدم بتاونجا تب تک چھوٹے شیخ کو بھول جاؤ . میں : جی ٹھیک ہے . . . اسکے بَعْد میں نے فون بند کیا اور باہر آ گیا جہاں وہ لڑکا کھڑا میرا ہی انتظار کر رہا تھا . میں نے اسکو فیول كے پیسے دیئے اور واپس اپنی کار میں آکے بیٹھ گیا . اور واپس اپنی کار کو تیز رفتار سے داودا دیا . مجھے میری مازیل پر پوحونچتی-پوحونچتی رات ہو گئی تھی . جاپانی نے جہاں کا مجھے پتہ دیا تھا میں نہیں جانتا تھا کی اس نے مجھے کہا بھیجا ہے اسلئے میرے دماغ میں اب بھی کئی سوال غم رہے تھے . کچھ ہی دیر میں میں اپنی منزل پر پوحونچ گیا جو اک بستی سی لگ رہی تھی . وہاں کافی گھروں میں روشنی نظر آ رہی تھی لیکن مجھے جتنا پتہ دیا گیا تھا وہ صرف اس بستی تک کا ہی تھا اگے مجھے پتہ نہیں تھا کی کونسے گھر میں جانا ہے کیونکی وہاں مجھے بہت سے گھر نظر آ رہے تھے . میں کار سے اترا اور اک گھر کا دروازہ خات-خاتایا . کچھ ہی دیر میں دروازہ کھل گیا . اس گھر میں سے اک آدمی باہر آیا . میں : جی اتنی رات کو آپکو تکلیف دینے كے لیے معافی چاہتا ہوں در-اسال مجھے رسول سے ملنا تھا . ابھی میں نے اپنی بات بھی موقاممال نہیں کی تھی کی میرے سامنے کھڑا آدمی مجھے دیکھ کر خوش ہو گیا اور میرے گلے سے لگ گیا . آدمی : شیرا بھائی تم زندہ ہو . میرے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کی یہ آدمی مجھے کیسے جانتا ہے . میں : کیا آپ مجھے جانتے ہیں . آدمی : کیسی باتیں کر رہے ہو بھائی تم کو یہاں کون نہیں جانتا تم تو ہماری اپنے ہو . باہر کیوں کھڑے ہو اندر آؤ . میں : جی شکریہ . میری کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کی یہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے یہ آدمی مجھے کیسے جانتا ہے . تبھی اک عورت میری طرف آئی اور ادب سے مجھے سلام کیا اور میرے سامنے پانی کا اک گلاس رکھ دیا اور واپس اندر چلی گئی . اس خاتون نے نقاب کیا ہوا تھا اسلئے میں اسکا چہرہ نہیں دیکھ پایا . تبھی وہ آدمی میرے پاس آیا . آدمی : تم یھی بیٹھو میں ساری بستی کو بتاکی آٹا ہوں کی ہمارا شیرا واپس آ گیا ہے اور ہماری دعا رنگ لے آئی ہے . میں : اچھا لیکن تمہارا نام کیا ہے آدمی : کمال ہے 4 دن ہم سے دور کیا ہوئے اب تم میرا نام بھی بھول گئے ہو . میں رسول ہوں تمھارے بچپن کا ساتھی . تم بیٹھو میں ابھی آیا . میں چپ چاپ وہاں بیٹھا رہا ساتھ ہی پانی پینے لگا اور چاروں طرف نظر داوداکار اس گھر کو دیکھنے لگا گھر کچھ خاص نہیں بنا ہوا تھا اک دم میرے گاv كے گھر جیسا تھا . تبھی اک چھوٹا سا بچہ میرے پاس آیا . بچہ : آپ شیرا چچا ہو نا . میں : ( اس بچے کو اٹھا کر اپنی گاڈ میں بیتھاتی ہوئے ) ہاں جی بیٹا میں شیرا ہوں لیکن آپ مجھے کیسے جانتے ہو . بچہ : ( انگلی سے اک کمرے میں اشارہ کرتے ہوئے ) امی نے بتایا مجھے کی آپ میرے شیرا چچا ہو . میں : اچحا . . . . یہ تو بہت اچھی بات ہے اور آپکا نام کیا ہے . بچہ : میرا نام الی ہے آپکا نام کیا ہے شیرا چچا . میں : ( ہیسٹ ہوئے ) اچھا جی . . . . تم تو بہت پیاری باتیں کرتے ہو . ابھی میں اس بچے سے بات ہی کر رہا تھا کی باہر مجھے لوگوں کا شور سنائی دیا اسلئے میں نے اس بچے کو اپنی گاڈ میں اٹھایا اور باہر جاکے دیکھنے لگا . باہر بہت سے لوگ جمع ہو گئے تھے جو مجھے بَدی حیرانی سے دیکھ رہے تھے . تب ہی اس بھیڑ میں سے اک بڈھی سی عورت میرے سامنے آکے کھڑی ہو گئی اور مجھے بڑے غور سے دیکھنے لگی . فر بڑے پیار سے مجھے گلے سے لگا لیا اور میرا ماتھا چوم لیا ساتھ ہی مجھے دعا دینے لگی . اماں : ( روٹ ہوئے ) کہا چلا گیا تھا بیٹا اپنی اماں کو چھوڑ کر اور اتنا وقت تو تھا کہا جانتا ہے ہم نے تجھے کتنا یاد کیا اور تیری سلامتی كے لیے کتنی دعائیں کی تھی . میں : میرا ایکسڈینٹ ہو گیا تھا جسے میری یادداشت چلی گئی تھی . آپ لوگ کون ہے اور مجھے کیسے جانتے ہیں . اماں : مجھے پہچانا نہیں شیرا میں اماں ہوں . میں : ( نا میں سر ہلاتے ہوئے ) مجھے یہاں جاپانی نے بھیجا ہے . اماں : جاپانی . . . . ہے کہا وہ نا-موراد تو واپس آ گیا ہے اور اس نے ہمیں بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا . اسکے بَعْد میں نے اپنی ساری کہانی اماں کو اور وہاں کھڑے تمام لوگوں کو سنا ڈی اور ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کی جاپانی كے ساتھ کیا ہوا یہ سن کر سب لوگ بے حد دُکھی ہو گئے . اماں : کیا تقدیر ملی ہے ہمیں اک بیٹا واپس ملا تو دوسرا بیٹا دور چل گیا . میں : اماں میں نے اسے بہت کہا تھا ساتھ چلنے كے لیے لیکن وہ منع ہی نہیں اور خود ان لوگوں سے میرے لیا لدتا رہا . میرے لیے اپنی جان قربان کر ڈی . اماں : عیسی ہی تھا وہ تجھ پر تو جان دیتا تھا اور تم دونوں کی دوستی کو کون نہیں جانتا . میں : ( روٹ ہوئے ) اماں مجھے بہت افسوس ہے کی میں جاپانی كے لیے کچھ کر نہیں پایا . اسکے بَعْد کافی دیر وہاں سب لوگ کھڑے رہے اور سب لوگ مجھ سے تاراح-تاراح كے سوال پوچھتے رہے رات کافی ہو گئی تھی اسلئے اماں نے سب کو جانے کا کہہ دیا اور مجھے واپس رسول كے ساتھ اک گھر میں بھیج دیا جو مجھے بتایا گیا کی یہ میرا ہی گھر ہے . اسکے بَعْد میں اس گھر كے اندر چلا گیا اور پورے گھر کو بڑے غور سے دیکھنے لگا . گھر کافی شاندار تھا اور وہاں رکھی ہر چیج کافی قیمتی لگ رہی تھی . اس گھر کی اک اک چیج مجھ سے جڑی تھی لیکن جانے کیوں مجھے کچھ بھی یاد نہیں تھا . میں اس گھر کی اک اک چیج کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا اور پہچاانی کی کوشش کر رہا تھا . کچھ دیر یحا-واحا گھومنے كے بَعْد میں اپنے بستر پر آکے لیٹ گیا اور دن بھر ہوئے تمام حادثوں كے بڑے میں سوچنے لگا . کچھ ہی دیر میں مجھے نیند آ گئی اور میں سکون کی نیند سو گیا . صبح اپنی عادت كے مطابق میں جلدی اٹھ گیا اور ناحا-دحو کر تییار ہو گیا اسکے بَعْد رسول کا بیٹا الی مجھے اسکے گھر بلانے كے لیے آ گیا وہاں میں نے رسول نے اور الی نے ساتھ مل کر ناشتہ کیا . فر رسول مجھے وہی بیٹھنے کا کہہ کر خود کہی چلا گیا . میں بھی اب اک دم فارغ تھا اسلئے الی كے ساتھ کھیلنے میں لگ گیا . کچھ دیر بَعْد رسول واپس آ گیا . رسول : چلو شیرا چلیں . میں : کہا چلنا ہے . رسول : تم چلو تو سہی بہت سے لوگ ہیں جو تمہارا انتظار کر رہے ہیں . میں : اچھا چلو . . . . رسول : سنو پہلے یہ کپڑے بَدَل لو اور یہ جوتتی اور لاکٹ بھی اُتار دو . میں : لیکن کیوں رسول : صبار کرو تم کو تمھارے سب سوالوں کا جواب مل جائیگا . اسکے بَعْد میں کپڑے بادالکار اور رسول كے دیئے کپڑے پہانکار رسول كے ساتھ گھر سے باہر نکل گیا جہاں باہر اک کار ہمارا انتظار کر رہی تھی ہم دونوں چپ چاپ اس کار میں جاکے بیٹھ گئے . کچھ دیر بَعْد کار نے ہم کو اک خاندار كے باہر اُتار دیا . میں : رسول یہ کونسی جگہ ہے . رسول : ( خوش ہوتے ہوئے ) تم چلو تو سہی میں ساوالییا نظروں سے رسول کو دیکھتا ہوا اسکے پیچی-پیچی چلنے لگا . خاندار كے اندر گھوستی ہی باہر مجھے باہر کچھ لوگ کھڑے نظر آئے جنکے ہاتھ میں باندوکین تھی . ان کو دیکھتے ہی میں الرٹ ہو گیا اور اپنا ہاتھ پیچھے اپنی گن كے اوپر رکھ لیا ٹاکی ضرورت پڑنے پر میں جلدی سے گن نکال سکو . لیکن وہاں تو سب اُلٹا ہو گیا تھا وہ لوگ مجھے دیکھتے ہی خوش ہو گئے اور باری-باری مجھ سے گلے ملنے لگے . وہ سب لوگ مجھے دیکھ کر بہت خوش تھے . اسکے بَعْد اک آدمی جلدی سے اک قبر كے سامنے جاکے کھڑا ہو گیا اس نے اک نظر مجھے مسکرا کر دیکھا اور فر قبر پر لگے اک پتھر کو گھوما دیا جسے قبر کسی دروازے کی طرح کھل گئی فر وہ آدمی مجھے پیچھے آنے کا اشارہ کرکے نیچے اُتَر گیا . میں بھی باقی لوگوں كے ساتھ اس قبر كے اندر اُتَر گیا جو کی باہر سے قبر جیسی لگتی تھی لیکن اندر سے اک خوفیا رستہ تھی لیکن مجھے یہ نہیں پتہ تھا کی یہ رستہ جاتا کہا ہے میں بس ان کے پیچی-پیچی چل رہا تھا . کچھ ہی دیر میں ہم اک الیشان جگہ پر کھڑے تھے وہاں نیچے بہت سے لوگ پہلے سے موجود تھے سب نے باری-باری آکے مجھے گلے سے لگایا اور جاپانی کا افسوس کیا میرے ساتھ . اسکے بَعْد وہ لوگ مجھے اک کمرے میں لے گئے جہاں اک بوجورج بیڈ پر لیتے ہوئے تھے جنکے اک طرف خون کی بوتتال لگی تھی شاید وہ بہت جادا گھائل تھے اور ان کے باجو میں سوما ، گانی اور لالہ بھی بیٹھے تھے . ان کو وہاں دیکھ کر میں بے حد حیران تھا کی یہ لوگ یہاں کیسے ہیں . میں : تم دونوں یہاں کیسے . لالہ : سب بتاتے ہیں پہلے بابا سے تو مل لے یار . میں : ( چونکتے ہوئے ) کیا یہ بڑے شیخ صاحب ہے ؟ سوما : ہاں بھائی بابا : ( ہاتھ اُٹھا کر مجھے پاس آنے کا اشارہ کرتے ہوئے ) یہاں آؤ بیٹا . میں : ( بابا کا ہاتھ چُومتے ہوئے ) لیکن چھوٹا تو بول رہا تھا یہ دبئی میں ہیں . بابا : ( میرا ہاتھ پاکادتی ہوئے ) یہاں بیٹھو بیٹا میں جانتا ہوں تمھارے دماغ میں بہت سے سوال ہے اور آج میں تم کو تمھارے ہر سوال کا جواب دونگا . اس نے تمھارے ساتھ ہی نہیں بلکہ ہم سب كے ساتھ بھی دھوکہ کیا ہے . لیکن پہلے یہ بتاؤ تم اتنا وقت تک تھے کہا پر اور وہ کون فرشتے تھے جیحونی تم کو بچایا . میں نے بابا کو اپنی گزری ہوئی تمام زندگی كے بڑے میں سچ-سچ بتا دیا . اسکے بَعْد میں اپنے سوالوں كے جواب چاہتا تھا اسلئے میں نے باری-باری بابا سے سوال پوچحنی شروع کر دیئے . بابا : اب پوچھوں بیٹا کیا پوچھنا چاھتے ہو میں : بابا آپ تو چھوٹے كے والد ہیں فر آپ کے ساتھ اس نے دھوکہ کسلیے کیا . . . . بابا : وہ انسان کسی کا وافادار نہیں اسکا پیسہ ہی مذہب ہے اور مکاری ہی ایمان ہے . میں : لیکن بابا آپکی ایسی حالت کیسے ہوئی . بابا : بیٹا میں بہت پہلے جان گیا تھا کی وہ میری جگہ لینے كے لیے کسی بھی حد تک گر سکتا ہے اسلئے میں نے اپنی کرسی کا وارث اسے نہیں بلکہ تمہیں بنانا چاہتا تھا . لیکن اس کو یہ بات پتہ چل گئی اور اس نے دُنیا کو یہ بتایا کی میں دبئی میں ہوں جب کی مجھے اپنے ہی قیلی میں قید کر دیا کچھ دن بَعْد اس نے میری تمام دولت كے بڑے میں مجھ سے پوچھا جب میں نے نہیں بتایا تو اس نے مجھے بھی گولی مار ڈی اب میرے بَعْد میرے وارث تم تھے اسلئے اس نے تم پر بھی دھوکے سے حملہ کروا دیا تم کو اپنے رستے سے ہٹانے كے لیے . جس میں تم تو بچ گئے لیکن تمہاری یادداشت ختم ہو گئی اوپر والے کرم سے میں بھی بچ گیا فر میرے یہ بچے تم کو بہت دن تک تلاش کرتے رہے لیکن تمہاری کوئی خبر نہیں ملی . . . چھوٹے کو شاق نا ہو اسلئے سوما ، لالا ، گانی اور جاپانی اسکی گینگ میں کام کرتے رہے صرف اسلئے کی اسکی ساری خبر مجھ تک پوحونچتی رہے . فر اک دن اچانک سے تم بھی واپس آ گئے لیکن تم کو کسی کی کوئی خبر نہیں تھی تمھارے واپس آ جانے سے چھوٹے کی کرسی کو سب سے بڑا خطرہ ہو گیا اسلئے اس نے ہر طریقے سے تم کو نقصان پوحونچانی کی کوشش کی . . . رنگ میں بھی تمھارے خلاف جو فیگھتیر کھڑا ہوا تھا اسکو تمہیں مارنے كے لیے کہا گیا تھا لیکن تم نے یوز ہی مار دیا فر تمہاری کار میں اس نے بمب لگوایا لیکن تم اس دن گھر سے باہر ہی نہیں نکلے اور تم فر بچ گئے جب جاپانی کو یہ بات پتہ چلی تو اس نے تم کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑا بہانے سے ہمیشہ لالہ یا جاپانی تمھارے ساتھ رہے . اسکے بَعْد جاپانی نے تمہیں اپنے ساتھ رکھ لیا اور ہر قدم پر بنا تمہیں پتہ چلے تمہاری حفاظت کرتا رہا . میں : لیکن بابا انہوں نے تو مجھے بھی کبھی کچھ نہیں بتایا . بابا : بیٹا جیسے تم واپس آئے تھے تم کو یہ سب بتانا خطرے سے خالی نہیں تھا کیونکی تم پر نظر رکھی جا رہی تھی اسلئے میں نے ہی ان کو تمہیں کچھ بتانے سے منع کیا تھا . میں : اک بات سمجھ نہیں آئی آپکو میرا پتہ کیسے چلا . بابا : ( مسکراتے ہوئے ) بیٹا تم لوگوں کو میں نے پیدا نہیں کیا تو کیا ہوا لیکن تم کو میں نے پالا ہے اور تم سب کی میں راج-راج جانتا ہوں . میں : بابا اب میرے لیے کیا حکم ہے . بابا : ( اپنے تکیے كے نیچے ہاتھ ڈال کر گن نکلتے ہوئے ) اک مییان میں 2 تالواری نہیں رہ سکتی شیرا تم کو اسے ختم کرنا ھوگا اور میری کرسی سامبحالنی ھوگی . میں : بابا وہ آپکا بیٹا ہے بابا : میرے بیٹے اِس وقت میرے ساتھ موجود ہیں . جس کو میں تمہیں ختم کرنے كے لیے بول رہا ہوں وہ میرا تو کیا کسی کا بھی بیٹا نہیں ہے . مجھے افسوس ہوتا ہے ایسی اولاد پر ، اک تم لوگ ہو جو صرف میری پارvارسیح كے لیے اپنی جان تک داوو پر لگانے کو تییار رہتے ہو میرے لیے اک وہ ہے جو کرسی كے لیے اپنے ہی باپ کو مرانا چاہتا ہے . میں : جی بابا جیسا آپ چاہیں گے ویسا ہی ھوگا . بابا : ( مسکراتے ہوئے ) مجھے تم سے یھی امید تھی بیٹا . اسکے بَعْد بابا کو ہم نے آرام کرنے دیا اور ہم سب باہر آکے بیٹھ گئے آج میں بہت خوش تھا کیونکی اک مدت كے بَعْد مجھے سکون ملا تھا میں اب اپنے بڑے میں سب کچھ جان چکا تھا . میں : یار لالہ تم لوگوں سے میں اکثر اتنے سوال پوچحتا تھا کبھی تو مجھے بتا دیتے لالہ : یار ہم کیا کرتے بابا کا حکم تھا جب تک تو ٹھیک نہیں ہو جاتا تجھے کچھ نا بتایا جائے جانتا ہے اگر چھوٹے کو تیرے بڑے میں پتہ نا چلتا تو اب بھی تجھے ہم لوگوں نے کچھ نہیں بتانا تھا لیکن افسوس اس کمینے کو تیرے بڑے میں سب پتہ چل گیا اور اسی چکر میں جاپانی کو اپنی جان جاوانی پڑی . میں : یار میں سچ کہتا ہوں اگر مجھ پر نشے کا اثر نہیں ہوتا تو میں جاپانی کو خرچ بھی نہیں آنے دیتا . سوما : ہم جانتے ہیں یار تو ہم سب كے لیے اپنی جان بھی داv پر لگا سکتا ہے لیکن کیا کرتے دوست تو اک قورا کاغذ بنکے واپس آیا تھا تجھے یہ سب کچھ بتاتے بھی تو کیسے . میں : کوئی بات نہیں یار تم لوگوں نے ٹھیک کیا اسکے بَعْد باقی کا دن ایسی ہی گزرا لیکن آج میں بہت خوش تھا اور دِل کو اک تسلّی تھی کی میرا بھی کوئی ہے . اور سب سے بَدی بات مجھے میرا سکون مل گیا تھا کیونکی جو سوال ہمیشہ میرے دماغ میں گھومتے رہتے تھے اور مجھے پریشان کرتے تھے انسے آج مجھے نجات مل گئی تھی میرا دِل چاہ رہا تھا کی میں اپنی یہ خوشی بابا ، نازی ، فضا ، حنا اور رضوانہ كے ساتھ بھی بانتو لیکن افسوس میں ان لوگوں سے بہت دور تھا . میرا دِل چاہ رہا تھا کی کاش وہ بھی آج میرے ساتھ ہوتے تو یہ دیکھ کر کتنا خوش ہوتے کی میرا بھی اک پریوار ہے جس میں ان سب لوگوں کی طرح یہ لوگ بھی بی-ینتیحا پیار کرتے ہیں . ایسی سوچو كے ساتھ میرا پُورا دن گزر گیا شام کو رسول ہم سب كے لیے كھانا لے آیا جو ہم سب نے مل کر کھایا . اسکے بَعْد میں رسول كے ساتھ واپس اپنی بستی میں آ گیا اور اپنے گھر میں جاکے سکون سے سو گیا . رات کو میں سکون سے سویا پڑا تھا کی اچانک کسی نے میرا دروازہ خات-خاتایا جسے اک دم سے میری جاگ کھل گئی . میں اپنی آنکھیں مالٹا ہوا دروازے كے پاس پوحونچا اور دروازہ کھول دیا سامنے اک لڑکی کھڑی تھی جو مجھے آنکھیں پھاڑے گھور-گھور کر دیکھ رہی تھی . اسکے پیچھے رسول اور باقی کچھ اور لوگ کھڑے تھے . وہ لڑکی شاید کہی باہر سے آئی تھی کیونکی اسکے ہاتھ میں اک چھوٹا سا بیگ تھا اور باقی كے کچھ بڑے بیگس رسول نے اٹھا رکھے تھے . میں : رسول تم اتنی رات کو یہاں . . . اور یہ کون ہے . . . رسول : یہ . . . وہ . . . ( نیچے دیکھ کر مسکراتے ہوئے ) اسے پہلے کی رسول اپنی بات پوری کرتا وہ لڑکی نے بنا کچھ بولے مجھے اپنے گلے سے لگا لیا اور رونا شروع کر دیا . مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کی یہ لڑکی کون ہے اور مجھے اِس طرح گلے لگا کر کیوں روو رہی ہے . رسول : ( اپنی آنكھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے ) اہم . . . اہم . . . اچھا شیرا بھائی صبح ملیں گے . لڑکی : ( مجھے گلے لگاے ہوئے ہی ) چلو اندر . . . . مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کی اتنی رات کو یہ کون لڑکی ہے جو اِس طرح میرے گھر میں گھس آئی ہے اور مجھے پر اتنا حق جاتا رہی ہے . وہ لڑکی میرے دیختی-دیختی گھر كے اندر چلی گئی اور میں اسکے باقی بیگس اٹھا کر گھر كے اندر لے آیا . اسے پہلے کی میں اس لڑکی سے کچھ پوچحتا وہ فر سے آکے مجھ سے چپک گئی اور اس نے اک ساتھ مجھ سے کئی سوال پوچھ لیے . لڑکی : ( میرا چہرہ پکڑ کر چُومتے ہوئے ) کہا چلے گئے تھے مجھے چھوڑ کر ، میری یاد نہیں آئی تم کو ، جانتے ہو تم نے مجھے کتنا رلایا ہے ، کیا ہوا عیسی کیوں دیکھ رہے ہو مجھے جیسے پہلی باڑ دیکھا ہو . میں : ( اسکو خود سے دور کرتے ہوئے ) یہ کیا بیہودگی ہے کون ہو تم . . . . لڑکی : اچحا . . . تو اب میں کون ہو گئی ہوں . . . . شابااش . . . کیا بات ہے کوئی نئی ڈھونڈ لی ہے کیا جو اب مجھے پہچاننا بھی بند کر دیا ہے . میں : دیکھیے مجھے کچھ بھی یاد نہیں ہے ایکسڈینٹ كے بَعْد سے میری یادداشت جا چکی ہے . لڑکی : ( بیڈ سے اُٹھ کر میرے پاس آتے ہوئے ) ہائے . . . . یہ کیسے ہو گیا . اسکے بَعْد میں اسکو ساری بات فر سے بتا ڈی جس کو وہ بڑے غور سے سن رہی تھی . لڑکی : شیرا تم کو میں بھی نہیں یاد . میں : ( نا میں سر ہلاتے ہوئے ) نہیں . . . مجھے پچھلا کچھ بھی یاد نہیں ہے . لڑکی : ( پریشان ہوتے ہوئے ) اُوں . . . . . معاف کرنا مجھے پتہ نہیں تھا . . . مجھے صرف اتنا ہی بتایا گیا کی میرا شیرا واپس آ گیا ہے تو میں خوشی سے پاگل ہو گئی تھی اور مجھ سے صبح تک بھی انتظار نہیں ہوا اسلئے میں فوراً چلی آئی . میں : آپکا نام کیا ہے . لڑکی : میرا نام روبینہ ہے لیکن صرف تم مجھے پیار سے روبی بلاتے تھے . میں : اچھا . . . تم کرتی کیا ہو روبی : میں یتیم بچو کی دیخبحاال کرتی ہوں اور ان کو پادحاتی ہو . . . . تمھارے جانے كے بَعْد یھی میری زندگی تھی . میں : کیا تم میری بِیوِی ہو . روبی : ( مسکراتے ہوئے ) کہہ تو تم بہت سال سے رہے ہو کی شادی کرینگے لیکن ابھی تک وہ دن آیا نہیں ہے . میں : تم نے كھانا کھا لیا . . . روبی : تم کو دیکھتے ہی ساری بھوک مٹ گئی . . . . اب تو صبح ہی کھائینگے دونوں ساتھ میں . . . خیر جانے دو یہ سب . . . اب کافی رات ہو گئی ہے باقی باتیں صبح کرینگے . . . میں کپڑے بدلنے جا رہی ہوں اسکے بَعْد سو جاتے ہیں ٹھیک ہے . میں : ٹھیک ہے میرے گھر میں اک ہی بیڈ تھا اسلئے میں نے اسکو اپنے بستر پر سُلانا ہی مناسب سمجھا اور خود اپنا بستر صوفے پر لگا لیا . اتنی دیر میں روبی بھی کپڑے بادالکار آ گئی تھی جو مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی . روبی : کیا کر رہے ہو جناب . میں : بستر کر رہا ہوں اپنا . روبی : صوفے پر . . . . میں : ہاں جی بیڈ پر آپ سو جانا میں صوفے پر سو جاؤنگا . روبی : ( مسکراتے ہوئے ) ہائے تم اتنے شریف کب سے ہو گئے . . . کوئی ضرورت نہیں صوفے پر سونے کی چلو یہاں آؤ اور میرے ساتھ آکے سو جاؤ . میں : کیا پہلے بھی ہم ساتھ میں سوتے تھے . روبی : ہاں بابا . . . . پہلے بھی ساتھ میں ہی سوتے تھے اب چلو آؤ یہاں اور آکے سو جاؤ میں تم کو کھا نہیں جائوں گی . میں : ٹھیک ہے اسکے بَعْد میں اسکے ساتھ جاکے لیٹ گیا وہ میری طرف موح کرکے لیتی ہوئی تھی اور مجھے ہی دیکھ رہی تھی اور مسکرا رہی تھی . میں اسکو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا اور یاد کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن افسوس مجھے کچھ بھی یاد نہیں آ رہا تھا . لڑکی دیکھنے میں کافی خوبصورت تھی بادی-بادی آنکھیں ، پاتلی سے ہوتھ ، تیکھا سا لیکن بہت چھوٹا سا ناک اور گالو پر پڑنے والی بلو کی چھوٹی سی لت تو اُف اک دم جانلیوا تھی . میں کافی دیر اسکو دیکھتا رہا اور وہ مجھے دیکھ رہی تھی اور مسکرا رہی تھی اسلئے میں نے ہی بات شروع کی . میں : کیا ہوا روبی . روبی : ( نا میں سر ہلاتے ہوئے ) مجھے اپنی قسمت پر یقین نہیں ہو رہا کی تم واپس آ گئے ہو جانتے ہو تمھارے بنا اک اک دن میں نے موت جیسا گزارا ہے . میں : اب تو واپس آ گیا ہوں نا روبی : لیکن اب تم پہلے جیسے نہیں ہو . میں : کیوں پہلے میں اور اب میں کیا پھڑک پڑا ہے اور میں پہلے کیسا تھا . روبی : ممممم . . . پہلے بہت بدمعاش تھے ہمیشہ مجھے ستاتے رہتے تھے اب تو . . . . میں : اب تو کیا . . . . روبی : ( مسکراتے ہوئے ) کچھ نہیں جانے دو . . . اک بات بولو اگر تم کو اعتراض نا ہو تو . میں : ہحممم بولو . روبی : تم کو گلے لگانے کا بہت دِل کر رہا ہے اگر تم کو اعتراض نا ہو تو . یہ بات سن کر جانے کیوں میں نے خود اسے گلے لگا لیا . یہ پہلی باڑ تھا جب میں خود اسکو اپنے گلے سے لگایا تھا . میرے بنا کچھ بولے اِس طرح گلے لگانے سے وہ بھی بہت خوش ہو گئی اور اس نے بھی اپنی اوپر والی باجو میری کمر میں دالکار مجھے جور سے پکڑ لیا . کچھ دیر وہ ایسی ہی میرے ساتھ گلے لگی لیتی رہی فر اچانک مجھے عیسی محسوس ہوا جیسے وہ روو رہی ہو اسلئے میں نے فوراً اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں سے پکڑ کر اوپر کیا تو وہ سچ میں روو رہی تھی . میں : ( اُٹھ کر بیتحتی ہوئے ) کیا ہوا روو کیوں رہی ہو . . . میرا تم کو گلے لگانا برا لگا ؟ روبی : ( آنسو صف کرتے ہوئے اور نا میں سر ہلاتے ہوئے ) نہیں بہت اچھا لگا اور یہ تو خوشی كے آنسو ہیں . . . جانتے ہو اِس پل کا میں نے کتنا انتظار کیا ہے . میں : مجھے معاف کر دو میں بھی تم کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا تھا لیکن اس دن جانے میں کیوں چلا گیا اور اسکے بَعْد میرے ساتھ یہ سب ہو گیا . میں تو تمہارا دَرْد بھی نہیں بانٹ سکتا کیونکی مجھے کچھ بھی یاد نہیں ہے . روبی : کوئی بات نہیں اب میں آ گئی ہوں نا تم کو سب یاد آ جائیگا . اور آگے سے مجھے کبھی چھوڑ کر کبھی مت جانا . میں : ( کان پاکادتی ہوئے ) نہیں جاؤنگا . اسکے بَعْد ہم دونوں فر سے لیٹ گئے اِس بار وہ میرے اوپر لیتی تھی اور میری گال پر اپنے نازک سے ہاتھ فیر رہی تھی . روبی : تم نے موچی صاف کردی اپنی . میں : ہحممم کیوں اچھا نہیں لگ رہا . روبی : نہیں . . . نہیں . . . بہت اچھے لگ رہے ہو . اُلٹا میں تو خود تم کو اسے صاف کرنے کو کہتی تھی لیکن تم ہمیشہ یہ کہہ کر منع کر دیتے تھے کی موچھ كے بنا شیر اچھا نہیں لگے گا . اب خود ہی دیکھو میرا شیر کلین شیو کتنا سیکسی لگتا ہے . ( میری گال چُومتے ہوئے ) میں : ( بنا کچھ بولے مسکراتے ہوئے ) کمال ہے آج تک تو لڑکیاں ہی سیکسی ہوتی تھی اب لڑکے بھی سیکسی ہو گئے ہیں . . . روبی : ( مسکراتے ہوئے ) تم تو میرے سب کچھ ہو . . . . میری جان ہو . میں : جانتی ہو مجھے 2 دن ہو گئے یہاں آئے ہوئے اور تم مجھے آج ملنے آئی ہو . روبی : میں کیا کرتی مجھے رسول بھائی جان نے بتایا ہی آج ہے نہیں تو تم کو کیا لگتا ہے میں رکنے والی تھی کیا . تم کو نہیں پتہ میں نے تمھارے بنا یہ وقت کیسے نکالا ہے تم ساتھ ہوتے تھے تو عیسی لگتا تھا میری ہر خوشی میرے پاس ہے میں ہمیشہ محفوظ ہوں لیکن تمھارے جانے كے بَعْد تو جیسے میری دُنیا ہی لوٹ گئی تھی میں سارا دن روتی رہتی تھی اور یھی تمھارے گھر میں ہی پڑی رہتی تھی فر اک دن رسول بھائی جان کی بِیوِی اسمہ بھابی نے مجھے سمجھایا اور میں نے تمھارے ادھوری سپنے کو ہی اپنا مقصد بنا لیا . میں : میرا سپنا . . . . کونسا . روبی : تمہاری خواہش تھی کی تم اپنا اک یتیم كھانا کھولو جہاں تمام بی-گھار بچو کو اچھی تعلیم اور اچھا كھانا پینا مل سکے اسلئے میں نے بابا کی اجاجت سے تمہارا سپنا پُورا کیا اور تمھارے نام سے اک یتیم كھانا کھول دیا بس اب میں سارا دن انہی بچو کو پادحاتی رہتی ہوں . میں : یہ تو تم بہت نیق کام کر رہی ہو . اسکے بَعْد ہم صبح تک ایسی ہی باتیں کرتے رہے صبح کب ہوئی ہم دونوں کو پتہ ہی نہیں چلا لیکن اک رات میں میں روبی كے بہت نزدیک آ گیا تھا اس میں اک عجیب سا اپناپن تھا جس نے میرے دِل میں اسکے لیے جگہ بنا ڈی تھی . کچھ دیر ایسی ہی باتیں کرنے كے بَعْد ہم دونوں صبح جلدی تییار ہو گئے کیونکی ہمیں بڑے شیخ صاحب ( بابا ) سے ملنے بھی جانا تھا . اسکے بَعْد ہم صبح بابا سے ملنے چلے گئے وہاں کوئی خاص بیٹ نہیں ہوئی بابا روبی سے یتیم کھانے كے بڑے میں پوچھتے رہے . بابا ہم دونوں کو اک بار فر ساتھ دیکھ کر بہت خوش تھے . اسکے بَعْد روبی مجھ سے کہی گھومنے چلنے کی ضد کرنے لگی اسلئے بابا سے مل کر وہاں سے ہم اک جیپ میں بیٹھے اور گھومنے چلے گئے . میں روبی سے باتیں کرتے ہوئے گاڑی چلا رہا تھا کی اچانک اک کار تیز رفتار سے میرے پاس سے گزر گئی اور آگے جاکے کچھ دوری پر سڑک كے بیچ میں رک گئی جس نے مجھے بھی چونکا دیا اور میں نے بھی اپنی جیپ روک ڈی . اسے پہلے کی میں کچھ سمجھ پتہ سامنے کھڑی کار کا دروازہ کھلا اور اس میں سے کچھ لوگ نکلے اور میری جیپ پر اندحا-دحوندح جولیان چلانے لگے . میں اِس اچانک ہملے كے لیے تییار نہیں تھا نا ہی انسے مقابلہ کرنے كے لیے اس وقت میرے پاس کوئی حاتحیار تھا . 1 گولی جب جیپ كے سامنے والے کانچ پر لگی تو میں نے روبی کو پکڑ کر نیچے کر دیا ٹاکی گولی روبی کو نا لگ جائے اور جیپ کو رورس میں پیچھے کی طرف چلانے لگا . روبی : شیرا یہ کون لوگ ہے جو پاجلو کی طرح ہم پر جولیان چلا رہے ہیں . میں : پتہ نہیں شاید چھوٹے شیخ كے لوگ ہیں . روبی اِس طرح اچانک ہوا حملے سے بہت جادا ڈر گئی تھی اسلئے میں نے وہاں سے نکلنا ہی مناسب سمجھا . میں پوری رفتار سے گاڑی پیچھے کی طرف داودا رہا تھا اور وہ لوگ لگاتار ہماری جیپ پر جولیان چلا رہے تھے . اب ہم انسے کافی دور آ گئے تھے اسلئے وہ لوگ واپس کار میں بیٹھ گئے اور کار کو ہماری طرف بحاجاانی لگے . میں نے بھی گاڑی گھوما کر روڈ کی جگہ جنگل میں جیپ کو غصہ دیا تھا . میں نے اپنی جیپ بند کی اور روبی کو جیپ سے وتارکار تھوڑی دوری پر اک پیڑ كے پیچھے کھڑا کر دیا جسے سامنے سے وہ کسی کو نظر نہیں آ سکتی تھی . میں : تم یھی رکو میں ابھی آٹا ہوں . روبی : کہا جا رہے ہو شیرا ان کے پاس حاتحیار ہے . میں : ڈرو مت کچھ نہیں ہوتا ان کے پاس حاتحیار ہے تو شیرا خود اک حاتحیار کا نام ہے . روبی : مت جاؤ نا . . . مجھے ڈر لگ رہا ہے . میں : ( اسکی گال کو سیحلیٹ ہوئے ) کچھ نہیں ھوگا فکر مت کرو میں بس ابھی آ رہا ہوں . تب تک وہ کار بھی جنگل كے باہر رک چکی تھی اور اس میں بیٹھے تمام لوگ جنگل كے اندر آ چکے تھے . وہ 5 لوگ تھے اور سب کے ہاتھ میں پستول تھی اسلئے میں سامنے سے انکا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا . اسلئے میں نے اک ترکیب سوچی اور اک پیڑ پر چڑھ گیا جسکی لاتایین نیچے زمین پر لٹک رہی تھی . میں نے پیڑ پر چڑھ کر کچھ لاتاو کو پکڑا اور انکا اک پھندا بنا لیا . پیڑ بہت گھنا تھا اسلئے نیچے سے مجھے کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا لیکن میں سب کو دیکھ پا رہا تھا اُن میں سے 2 لوگ جلدی سے جیپ كے پاس آئے اور اندر دیکھنے لگے جب جیپ خالی ملی تو 1 آدمی وہی کھڑا ہو گیا اور باقی 4 لوگ ادھر اُدھر مجھے ڈھونڈنے لگے . جو 1 آدمی جیپ كے پاس کھڑا تھا اس تک میں آرام سے پوحونچ سکتا تھا اسلئے میں نے وہ لاتاو کا بنایا ہوا پھندا نیچے پھینکا اور اس آدمی كے گلے میں ڈال کر جھٹکے سے اوپر کھینچ لیا وہ آدمی وہی مر گیا . فر میں نے پیڑ سے نیچے چالاانج لگائی اور جیپ كے نیچے گھس گیا اور باقی كے لوگوں کا انتظار کرنے لگا تبھی 2 لوگ واپس آتے ہوئے نظر آئے . مجھے نیچے سے صرف 4 تانجیی ہی نظر آ رہی تھی اسلئے میں نے نیچے سے وہ دونوں لوگوں کی ٹانگوں کو پکڑ کر کھینچ دیا جسے وہ دونوں گر گئے . میں نے جلدی سے باہر نکلا اور پوری طاقت كے ساتھ اپنے دونوں گھٹنے ان دونوں كے سر میں مارے جسے وہ دونوں بھی وہی ڈھیر ہو گئے . میں نے جلدی سے ان دونوں کو داخل کر جیپ كے نیچے کر دیا ٹاکی ان کے ساتھی ان کو دیکھ نا سکے . اب صرف 2 لوگ بچے تھے جو نا-جانی کہا چلے گئے تھے . میں واپس پیڑ پر چڑھ کر انکا انتظار کرنے لگا کچھ دیر انتظار کرنے كے بَعْد جب کوئی نہیں آیا تو میں نے پیڑ سے نیچے اترنے کا سوچا . تبھی 1 آدمی سامنے سے عطا ہوا نظر آیا اسلئے میں وہی رک گیا . وہ آدمی چاروں طرف دیکھنے لگا شاید وہ اپنے ساتحیو کو تلاش کر رہا تھا . میں اس پر بھی حملہ کرنا چاہتا تھا لیکن وہ آدمی مجھ سے کچھ دوری پر کھڑا تھا اسلئے اسکو پاس بلانے كے لیے میں نے اس آدمی کو نیچے پھینک دیا جس کو میں نے لاتاو کا پھندا لگا کے مارا تھا . میری یہ ترکیب کم کر گئی وہ داودتا ہوا آیا اور اپنے آدمی کو دیکھنے لگا اسے پہلے کی وہ اوپر دیکھتا میں نے اسکے اوپر چالاانج لگا ڈی . لیکن اِس اچانک حملے سے اسکی گن سے فائر نکل گیا جسکی آواز پورے جنگل میں جوج گئی . میں نے جلدی سے اسکی گن پکڑی اور اسکے موح میں اسکی پستول ڈال کر فائر کر دیا وہ بھی وہی ڈھیر ہو گیا . لیکن اب جو آخری بچہ تھا وہ شاید الرٹ ہو گیا تھا گولی کی آواز سن کر اسلئے میں جانتا تھا کی وہ اپنی کار كے پاس ہی بحاجیجا اسلئے میں فوراً تیزی سے بھاگتا ہوا اسکی کار كے پاس چلا گیا . میں اسکو مارنے كے چکر میں یہ بھی بھول گیا کی روبی میرے ساتھ تھی جس کو میں نے جنگل میں اکیلا چھوڑ دیا ہے . کچھ ہی دیر میں وہ آدمی مجھے روبی كے ساتھ نظر آیا اس نے روبی كے سر پر گن لگا رکھی تھی اور مجھے آواز لگا رہا تھا . آدمی : شیرا جہاں بھی ہے باہر آجا نہیں تو یہ لڑکی گئی سمجھ . میرے پاس بھی اب اک پستول تھی لیکن میں روبی کی جان کا جوخیم نہیں لے سکتا تھا اسلئے چپ چاپ باہر آ گیا اور پستول کو پیچھے اپنی بیلٹ میں سیٹ کر لیا تاکہ اسکو پستول نظر نا آئے . آدمی : سامنے آکے کھڑا ہوجا . میں : لڑکی کو چھوڑ دے . آدمی : نہیں تو کیا کر لے گا اگر میں چاہوں تو تم دونوں کو یھی دفن کر سکتا ہوں . میں : تیرے جیسے کتنے ہی آئے اور آج زمین كے 4 فیٹ نیچے پڑے ہیں اسلئے مجھے غصہ مت دلا اور اسکو چھوڑ دے تیری جان بخش دونگا نہیں تو سیل تادپا-تادپاکی مرونگا . آدمی : ( ہیسٹ ہوئے ) رسی جل گئی لیکن بل نہیں گیا غصہ آ گیا تو کیا کر لے گا . . . . لگتا ہے تجھے گولی مار کر ہی یہاں سے لے کے جانا پڑیگا تو زندہ تو چلے گا نئی . یہ سن کر روبی کو جانے کیا ہوا اس نے اس آدمی کی کلائی پکڑی جس میں اس نے گن پکڑی تھی اور جھٹکے سے گھوما دیا اور بھاگ کر میری طرف آ گئی . اب وہ آدمی اکیلا تھا اور اسکے ہاتھ سے گن گر چکی تھی میں نے جلدی سے زمین پر گیری اسکی پستول کو ٹھوکر مار کر دور پھینک دیا اور اسکی طرف غصے سے بڑھا اور جاتے ہی میں نے اسکی ناک پر اپنے سر کی ٹکر ماری جسے اسکے ناک سے خون نکلنے لگا . اب میں نے اسکی اک باجو کو پکڑا اور سیدھا کرکے گھوما دیا اور اپنے گھٹنے كے جوڑ میں پھنسا لیا اور الٹی طرف کھینچ دیا جسے اسکا ہاتھ ٹوٹ گیا وہ دَرْد سے چیخ اور چلا رہا تھا . اب یھی میں نے اسکے دوسرے ہاتھ كے ساتھ بھی کیا اور اب اسکے دونوں ہاتھ ٹوٹ چکے تھے وہ زمین پر گرا ہوا روو رہا تھا اور چلا رہا تھا میں جلدی سے اس پیڑ كے پاس گیا جہاں وہ لاتایین لٹک رہی تھی وہاں سے میں نے کچھ لاتایین تودی اور انکا اک پھندا بنا لیا اور واپس آکے اسکے اک پیر میں ڈال دیا جب کی دوسرا سییرا میں نے جیپ كے پیچھے باندھ دیا . میں نے روبی کو ساتھ لیا اور ہم دونوں جلدی سے جیپ میں بیٹھ گئے . اب میں تیز رفتار سے جیپ چلانی شروع کر ڈی اور بندھا ہونے کی وجہ سے وہ آدمی بھی سڑک پر جاشیت ٹا ہوا ہماری ساتھ آ رہا تھا . کچھ ہی دیر میں ہم اپنے علاقے میں پوحونچ چکے تھے جہاں سب لوگ اسکو غور سے دیکھ رہے تھے . تبھی رسول اور میرے کچھ لوگ داودتی ہوئے میری جیپ كے پاس آئے . رسول : شیرا یہ آدمی کون ہے . میں : مجھ پر حملہ ہوا تھا آج . . . 5 لوگ تھے بس یھی بچہ ہے . رسول : کیا بات کر رہا ہے تم دونوں ٹھیک تو ہو . میں : ہم ٹھیک ہے . . . . لیکن اس کا کیا کرنا ہے اب . رسول : کرنا کیا ہے اسکو تو میرے حوالے کردے . روبی : بھائی جان جادا مت مرنا پہلے ہی شیرا نے اسکو بہت مارا ہے . رسول : ( ہستے ہوئے ) اچھا بھابی . . . . شیرا تو خاندار پر چلا جانا بابا كے پاس اسکو میں دیکھ لونگا . میں : ٹھیک ہے . . . اسکے بَعْد میں نے فر سے جیپ داودا ڈی اور اپنے گھر كے سامنے لاکے جیپ کو روک دیا . فر ہم دونوں جیسے ہی جیپ سے اترے تو باقی كے لوگ ہماری پاس آ گئے اور ہمارا حاال-چاال پوچحنی لگے . میں نے روبی کو اماں كے پاس چودا اور خود خاندار پر چلا گیا . وہاں لالہ پہلے سے موجود تھا جس نے مجھے گلے لگا کر میرا استقبال کیا . فر ہم دونوں بابا كے پاس چلے گئے . بابا کو میں نے تمام حادثے كے بڑے میں بتا دیا . بابا : ہحممم تو وہ ذلیل انسان یہاں تک پوحونچ گیا ہے بیٹا اسلئے میں تم کو کہتا تھا کی تم اب اپنی کرسی سنبھال ہی لو ٹاکی یہ روز روز کا خون خراب تو بند ہو جائے . جب تک میری کرسی خالی رہیگی کوئی نا کوئی اسکو حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہیگا . میں : تو بابا میرے لیے کیا حکم ہے . بابا : میں چاہتا ہوں کی تم میری کرسی کو سنبھال لو . . . پتہ نہیں اب میں اور کتنے دن ہوں میں چاہتا ہوں کی میرے ہوتے ہوئے ہی تم میری کرسی پر بیٹھ جاؤ . میں : لیکن بابا ابھی میں ٹھیک کہا ہوا ہوں مجھے کچھ بھی یاد نہیں ہے . بابا : نہیں ٹھیک ہوئے تو نا سہی . . . تمہیں اب تک کا تو سب کچھ یاد ہے نا بس اتنا ہی کافی ہے باقی میں تم کو سب بتا دونگا . لالہ : ہاں شیرا بابا ٹھیک کہہ رہے ہیں . میں : ٹھیک ہے بابا . . . . جیسا آپ بہتر سمجھے . میری یہ بات سن کر بابا بہت خوش ہوئے اور مجھے گلے سے لگا لیا . بابا : لالہ جاؤ جاکے میٹنگ کا اعلان کرو اور سب کو یہاں بلاؤ اور بتا دو کی میرا وارث آ گیا ہے اپنی کرسی سنبھالنے كے لیے . لالہ : جی بابا ابھی سب کو فون کر دیتا ہوں . بابا : شیرا بیٹا میرے پاس آؤ اور میں تم کو ہماری بوسینیس کا تمام راز بتا دیتا ہوں لیکن پہلے جاکے دروازہ بند کرکے آؤ . اسکے بَعْد میں نے دروازہ بند کر دیا اور بابا كے پاس جاکے بیٹھ گیا بابا نے مجھے تمام بوسینیس كے بڑے میں بتایا اور یہ بھی بتایا کی کونسا بوسینیس کیسے چلانا ہے اور اسکو کون آدمی بہتر چلا سکتا ہے . ساتھ ہی انہوں نے مجھے تمام دولت اور پیسے كے بڑے میں بتایا فر انہوں نے آج تک کمائے تمام سونے كے بڑے میں مجھے بتایا جسکے پیچھے چھوٹا پڑا تھا اور مجھے بابا نے یہ بھی بتایا کی تمام دولت کہا پر پڑی ہے اور ہر سیف کو کھولنے کا طریقہ کیا ہے . شام ہونے تک ہماری دحاندحی سے جڑی تمام لوگ وہاں موجود تھے جن میں چھوٹا شیخ اور شمی بھی تھا . سب کا عزت كے ساتھ استقبال ہوا اور ان کو حل میں بتھ دیا گیا . میں بابا كے ساتھ ہی تھا کیونکی بابا اب چل نہیں پاتے تھے اسلئے ہم نے انہیں ویل چیئر پر بٹھا دیا اور میں خود ویل چیئر کو چلا کر بابا کو حل تک لیکر گیا . بابا كے آتے ہی سب لوگ بابا كے لیے کھڑے ہو گئے اور بابا نے ہاتھ كے اشارے سے سب کو بیٹھنے کو کہا . کچھ دیر سب لوگ بابا کی طبیعت پوچھتے رہے . اسکے بَعْد بابا نے کام کی بات شروع کی . بابا : آپ سب اتنے کم وقت میں یہاں آئے اسکا شکریہ . 1 آدمی : بابا لیکن اپنے آج اتنے دن بَعْد ہم سب کو اک ساتھ کیسے یاد فرمایا . بابا : آپ سب تو جانتے ہی ہیں کی اب مجھ میں وہ طاقت نہیں رہی کی میں اپنا اتنا پھیلا ہوا بوسینیس ایمپائر سنبھال سکو اسلئے میں نے اپنا یہ سارا بوسینیس آپ میں سے ہی کسی اک کو دینے کا فیصلہ کیا ہے . چھوٹا : اس میں فیصلہ کیا کرنا ہے بابا آپکا بیٹا میں ہوں تو آپکی کرسی پر پہلا حق بھی میرا ہے . بابا : بیٹا ہو جانے سے کابیلیات نہیں آ جاتی . میں اپنی کرسی اسکو دونگا جو نا صرف میری کرسی کو سنبھال سکے بلکہ میرے بنائی بوسینیس کو بڑھا بھی سکے . آدمی : اگر چھوٹا نہیں ہے تو فر وہ کون ہے بابا . بابا : آج كے بَعْد سے شیرا ہی میری کرسی سامبحالیجا اس کا ہر حکم میرا حکم ہے اب سے یہ جس کو جو بھی دھندا دیگا اسکو وہی سنبھالنا ھوگا اور مہینے کی ساری کمائی لاکے تم سب پہلے کی طرح اب شیرا کو دوگے جس میں سے شیرا تم لوگوں کا حصہ تم کو دیگا . میرا نام سنتے ہی وہاں بیٹھے تمام لوگ خوش ہو گئے اور میرے لیے تالیان بجانے لگے تبھی شمی اور چھوٹے کا موح غصے سے لال ہو گیا . چھوٹا : بابا آپ یہ ٹھیک نہیں کر رہے میرا حق آپ کسی اور کو کیسے دے سکتے ہیں .
  9. ڈاکٹر : بس ہو گیا نییر اب آپ اٹھ سکتے ہیں . میں : بس اتنا ہی تھا اور کچھ نہیں . ڈاکٹر : ( مسکرا کر نا میں سر ہلاتے ) وحہو . . . چلو اب آپ باہر جاکے بیٹھو میں خان سے بات کرکے ابھی آتی ہوں اسکے بَعْد میں وہاں سے کھڑا ہوا اور نرس مجھے اور نازی کو اک کمرے میں چھوڑ گئی جہاں سامنے پڑے صوفے پر ہم دونوں بیٹھ گئے اور ڈاکٹر ریحانہ کا انتظار کرنے لگے . کچھ دیر بَعْد ہی ڈاکٹر ریحانہ اور خان دونوں اک ساتھ کمرے میں آئے جنکے ہاتھ میں کچھ پیپرز تھے اور وہ آپس میں کسی بیٹ پر بحث کر رہے تھے . کمرے میں آتے ہی میرے سامنے دونوں نارمل ہو گئے اور مجھے مسکرا کر دیکھنے لگے . خان : چلیے جناب آپکو گھر چھوڑ آٹا ہوں . میں : بس اتنا سا ہی کام تھا . خان : ہاں جی بس اتنا سا ہی کام تھا باقی آپکا اور کچھ ضرورت ھوگی تو فر آنا پڑیگا . میں : آ تو میں جاؤنگا لیکن میرے کھیت . خان : ارے اسکی فکر تم مت کرو کچھ دن كے لیے نئے آدمی رکھ لو نا یار . میں : صاحب آدمی رکھنے کی حیثیت ہوتی تو میں خود کام کیوں کرتا خان : ارے تم فکر مت کرو اب تم میرے ساتھ ہو پیسے کی فکر مت کرو تم کو جو بھی چاہئیے ہو مجھے فون کر دینا تمہارا کام ہو جائیگا . اسکے بَعْد اس نے مجھے اپنا کارڈ دیا جو میں نے جیب میں ڈال لیا فر ریحانہ نے نازی کو میرے لیے کچھ داواییان بھی ساتھ ڈی اور ساتھ ہی کچھ حیدایاتین بھی ڈی کی کس وقت مجھے کونسی داوائی دینی ہے . ڈاکٹر : نییر ویسے تو میں نے نازی کو سب سمجھا دیا ہے وہ تم کو وقت پر دوا دیتی رہیگی فر بھی میں ہفتے میں اک باڑ یا تو تم خود اپنے چیک-وپ كے لیے یہاں آ جاؤ یا فر مجھے تمھارے گاv آنا پڑیگا بتاؤ کیسے کرنا پسند کروگے . میں : جی میں ہر ہفتے شہر نہیں آ سکتا بہتر ھوگا آپ ہی آ جائے . ڈاکٹر : ( مسکرا کر ) کوئی بات نہیں فر میں خان اور نازی اسی دروازے سے باہر نکل گئے جہاں سے آئے تھے . لیکن حیرت کی بات یہ تھی کی صبح جب ہم یہاں آئے تھے تو باہر بہت سے ملازم کام کر رہے تھے لیکن اب وہاں کوئی آدمی موجود نہیں تھا پُورا دفتر خالی پڑا تھا میں : خان صاحب یہاں صبح کچھ لوگ کام کر رہے تھے نا وہ کہا گئے . خان : وہ یھی کام کرتے ہیں اب ان کے گھر جانے کا وقت ہو گیا تھا اسلئے چلے گئے اندر ہمارا اپنا سیکریٹ حیادقوارتیر ہے . اندر میری مرضی كے بنا کوئی نہیں جا سکتا . میں : اچھا ٹھیک ہے . ایسی ہی باتیں کرتے ہوئے ہم باہر نکل گئے اور جیپ میں بیٹھ گئے خان ڈرائیور کی ساتھ والی سیٹ پر آگے بیٹھا تھا جب کی میں اور نازی فر سے پیچھے ہی بیٹھ گئے نازی واپس میرے ساتھ چپک کر بیٹھی تھی اور میرے کاندھے پر سر رکھا تھا پورے رستے کوئی خاص بات نہیں ہوئی . جب ہم گھر آئے تو فضا باہر ہی کھڑی تھی جو شاید ہمارا ہی انتظار کر رہی تھی جیپ کو دیکھتے ہی اسکا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا اور جیپ كے رکتے ہی وہ تیز قدموں كے ساتھ ہماری طرف آئی اور جیپ كے اندر دیکھنے لگی . فر ہم سب گھر كے اندر چلے گئے جہاں بابا حل میں ہی کرسی پر بیٹھے تھے شاید وہ بھی میرا ہی انتظار کر رہے تھے . بابا : آ گئے بیٹا . ( خان کی طرف دیکھتے ہوئے ہاتھ جودکار ) خان صاحب آپکا بوحوت-بوحوت شکریہ جو آپ نے مجھے میرا بیٹا واپس کر دیا . خان : بابا جی آپ بوجورج ہے شرمندہ نا کرے ہاتھ جودکار ( بابا كے ہاتھوں کو پاکادتی ہوئے ) میں نے آپ سے کہا ہی تھا کی اگر یہ بے گناہ ہے تو اسے کچھ نہیں ھوگا . فضا : خان صاحب آپ بیٹھیے میں چائے لے کے آتی ہوں ( نازی کو اشارے سے بلاتے ہوئے ) فر میں بابا اور خان وہی حل میں ہی کورسیو پر بیٹھ گئے اور خان میرے بڑے میں بابا سے پوچحتا رہا . خان : بابا جی مجھے آپ سے اکیلے میں کچھ بات کرنی ہے . بابا : جی ضرور . . . . ( میری طرف دیکھتے ہوئے ) بیٹا جاکے دیکھو چائے کا کیا ہوا . میں : جی بابا ( اور میں اُٹھ کر راسویی میں چلا گیا ) خان اور بابا میں کیا بات ہوئی مجھے نہیں پتہ لیکن راسویی میں گھوستی ہی فضا فکرمندی سے میرا موح پکڑ کر میرے سر کی چوٹ دیکھنے لگی اسکو شاید آتے ہی نازی نے سب کچھ بتا دیا تھا اسلئے اسکے چہرے پر بھی میرے لیے فکر صاف جھلک رہی تھی . فضا : یہ خان کتنا کمینہ ہے دیکھو کتنی چوٹ لگ گئی . میں : ارے تم تو ایسی ہی گھبرا جاتی ہو کچھ نہیں ہوا میں اک دم ٹھیک ہوں زرا سی خراش ہے ٹھیک ہو جائے گی . فضا : اور کہی تو چوٹ نہیں لگی . میں : ( مسکرا کر نا میں سر ہلاتے ہوئے ) وحہو . . . . فر ہم کچھ دیر ایسی ہی راسویی میں کھڑے رہے اور نازی دن بھر کیا کیا ہوا وہ سب فضا کو بٹاتی رہی میں بس پاس کھڑا دونوں کی باتیں سنتا رہا اور مسکراتا رہا تبھی مجھے بابا کی آواز آئی تو میں فوراً باہر چلا گیا جہاں بابا اور خان بیٹھے تھے . بابا : بیٹا خان صاحب کہہ رہے ہیں کی اب تم آزاد ہو لیکن جب بھی ان کو تمہاری مدد کی ضرورت ھوگی تو تم کو جانا پڑیگا تم کو کوئی اعتراض تو نہیں ہے . میں : بابا آپ حکم کیجیے آپ جو کہیں گے وہی میری مرضی ھوگی . بابا : ٹھیک ہے بیٹا . . . . دیکھیے خان صاحب میں نے کہا تھا نا آپ سے . ( مسکرا کر ) خان : جی جناب آپ سہی تھے . میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کی شیرا جیسا انسان اتنا بَدَل سکتا ہے آج سچ میں مجھے بے حد خوشی ہے کی یہ اک نیق انسان کی زندگی گزار رہا ہے . ابھی ہم باتیں ہی کر رہے تھے کی اک کالے رنگ کی کار ہماری دروازے كے سامنے آکے رک گئی . جسے ہم سب کا دھیان باہر کی طرف گیا . یہ کار تو حنا کی تھی جس میں میں اسکو کار چلانی سییخاتا تھا . تبھی کار كے پیچھے والا گاتے کھلا اور حنا باہر نکلی مجھے دیکھتے ہی اسکے چہرے پر اک مسکان آ گئی اور وہ سیدھا ہی اندر چلی آئی . اس نے آتے ہی ادب سے سب کو سلام کیا فر بابا سے دعا لی . حنا : بابا دیکھ لو آج فر نییر نہیں آئے مجھے گاڑی سکھانے كے لیے . ( رونے جیسا موح بناکی ) بابا : ارے بیٹی وہ آج کچھ کام تھا اسلئے شہر جانا پڑا نییر کو . خان : یہ محترمہ کون ہے ( گھورتی ہوئے ) بابا : یہ ہماری گاv كے سارپانچ کی بیٹی ہیں جن کو نییر کار چلانی سییخاتا ہے . خان : اچھا یہ تو بہت نیق بات ہے . بابا جی اب مجھے بھی اجاجت دیجیئے فر کبھی ملاقات ھوگی . بابا : اچھا بیٹا آتے رہنا . ( مسکرا کر ) فر خان اور بابا باتیں کرتے ہوئے دروازے تک چلے گئے اور میں حنا كے پاس ہی بیٹھا رہا اتنے میں نازی چائے لے کے آ گئی اور حنا کو دیکھتے ہی اسکا پڑا چڑھ گیا . لیکن فر بھی اس نے حنا کو سلام کیا اور ٹیبل پر چائے رخدی . نازی : آپ یہاں کیسے حنا جی . حنا : وہ آج نییر جی حویلی نہیں آئے تو میں نے سوچا میں ہی چلی جاتی ہوں . یہاں آئی تو پتہ چلا کی آپ لوگ بھی ابھی شہر سے آئے ہو . نازی : جی ابھی آئے ہیں اور بہت تھکے ہوئے ہیں . حنا : یہ سر میں کیا ہوا نییر . میں : کچھ نہیں بس چھوٹی سی چوٹ لگ گئی تھی ( میں نے حنا کو کچھ بھی نہیں بتایا تھا اپنے بڑے میں اسلئے یہ بات بھی چحوپانی پڑی ) حنا : خیال رکھا کرو نا اپنا . دکھاؤ کتنی چوٹ لگی ہے . نازی : اسکی کوئی ضرورت نہیں ہے چوٹ لگی تھی پٹی ہو چکی ہے اب کیا پٹی کھول کر دکھائیں گے . حنا : میرا مطلب تھا کی انکا ٹھیک سے خیال رکھا کرو . نازی : ( غصے میں ) ہم ٹھیک سے ہی خیال رکھتے ہیں . حنا : ہاں وہ تو میں دیکھ ہی رہی ہوں تم کتنا خیالوں رکھتی ہو تبھی اتنی چوٹ لگ گئی ہے . میں : ( دونوں کو شانت کرنے كے لیے ) ارے تم ہر وقت لڑنے کیوں لگ جاتی ہو . کچھ نہیں ہوا زرا سی خراش ہے بس اور حنا میں اگر تم کو کل گاڑی چلانی سکحاو تو کوئی مسئلہ تو نہیں . حنا : جی نہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے پہلے آپ ٹھیک ہو جائیے گاڑی سیکھنے كے لیے تو ساری عمر پڑی ہے مجھے پتہ ہوتا کی آپکو چوٹ لگی ہے تو میں ڈاکٹر ساتھ ہی لے کے آتی . ( میرا ہاتھ پاکادتی ہوئے ) میں : نہیں اسکی کوئی ضرورت نہیں اب میں اک دم ٹھیک ہوں ( مسکراتے ہوئے ) نازی کو شاید حنا کا اِس طرح میرا ہاتھ پکڑنا اچھا نہیں لگا تھا اسلئے اس نے چائے کا کپ حنا پر گیرا دیا . حنا : ( دَرْد سے کرحاتی ہوئے ) سس آیییی . . . . نازی : اوہ معاف کرنا کپ ہاتھ سے فصال گیا میں : حنا جادا تو نہیں لگی ( حنا كے گھٹنے سے شلوار پکڑ کر جحادتی ہوئے ) حنا : کوئی بات نہیں میں ٹھیک ہوں ( فکی مسکان كے ساتھ ) میں : نازی یہ کیا کیا تم نے نازی : میں جان-بوجحکار نہیں کیا معاف کر دو . حنا : کوئی بات نہیں . . . . باتھ روم کہا ہے میں : نازی ان کو باتحروم لے جاؤ اور صاف کرو اچھے سے . نازی : ( غصے سے مجھے دیکھتے ہوئے حنا کو اندر لے کے چلی گئی ) اِس طرف آؤ تبھی بابا بھی خان کو رخصت کرکے اندر آ گئے . بابا : یہ حنا بیٹی کہا گئی ابھی تو یھی تھی . میں : کچھ نہیں بابا وہ زرا نازی كے ہاتھ سے کپ فصال گیا تھا اسلئے حنا پر چائے گر گئی بس وہی دحولوانی لے کے گئی ہے . بابا : اچھا . . . یہ نازی بھی نا اسکو خیال رکھنا چاہئیے گھر آئے مہمان پر کوئی چائے گراتا ہے بھلا . میں : کوئی بات نہیں بابا اس نے جان-بوجحکار تو گرائی نہیں اور فر غلطی تو کسی سے بھی ہو سکتی ہے . کچھ دیر بَعْد حنا اور نازی باہر آ گئی اور میں حنا کو دیکھ کر ہسی بنا نہیں رہ سکا کیونکی اس نے میرے کپڑے پہنے تھے جو اسکو کافی بَدی تھی . حنا کو دیکھ کر بابا بھی ھسنے لگے اور حنا خود بھی مسکرائے بنا نا رہ سکی . نازی غصے سے لال ہوئی پڑی تھی اور وہ بنا کچھ بولے ہی اندر چلی گئی . بابا : ارے بیٹی یہ نییر كے کپڑے کیوں پہن لیے . حنا : بابا وہ میرے کپڑے خراب ہو گئے تھے تو دونے سے میری ساری شلوار گیلی ہو گئی تھی اور مجھے اندر ان کے ہی کپڑے نظر آئے تو میں نے وہی پہن لیے . بابا : کوئی بیٹ نہیں . حنا : اچھا بابا میں اب چلتی ہوں ( مسکراتے ہوئے ) بابا : اچھا بیٹا . . . . معاف کرنا وہ نازی میں تھوڑا بچپنا ہے اسلئے اس نے تمھارے کپڑے خراب کر دیئے . حنا : کوئی بات نہیں بابا اسی بہانے مجھے نییر كے کپڑے پہنے کا موقع مل گیا ( ہیسٹ ہوئے ) عیسی لگ رہا ہے ابو كے کپڑے پہنے ہو بہت ڈھیلی اور بڑے ہے . میں : ارے کوئی بات نہیں گھر تک تو جانا ہے ویسی بھی تم نے کونسا پیدل جانا ہے باہر کار میں ہی تو جانا ہے فکر مت کرو کوئی نہیں دیکھے گا . ( مسکراتے ہوئے ) حنا : کیسے جاؤ . . . آج تو لگتا ہے پیدل ہی جانا پڑیگا . میں : ( حیرانی سے ) کیوں باہر کار ہے نا حنا : صرف کار ہی ہے ڈرائیور نہیں ہے مجھے لگا آپ آج بھی کار چلانی سکحاوجی اسلئے ڈرائیور کو میں نے تب ہی بھیج دیا تھا . بابا : ارے کوئی بات نہیں بیٹی نییر تم کو گاڑی میں گھر چھوڑ آئیگا فر تو ٹھیک ہے نا . حنا : ہاں یہ ٹھیک رہیگا . ( مسکراتے ہوئے ) چلو نییر فر چلتے ہیں ( کار کی چابی میری اور بڑھتے ہوئے ) میں : ( کار کی چابی پکڑ کر ) ہاں چلو . . . ( مسکراتے ہوئے ) بابا میں زرا حنا کو گھر تک چھوڑ کر ابھی آٹا ہوں . بابا : اب بیٹا جب جا ہی رہے ہو تو گاڑی چلانی بھی سیکھا دینا اسی بہانے یہ بھی خوش ہوکے جائے گی . حنا : ارے واہ یہ تو اور بھی اچھا ہے چلو آج میں بھی نییر بنکے ہی گاڑی چالاونجی . ( ہیسٹ ہوئے ) میں : ٹھیک ہے پہلے چلو تو سہی . گھر سے نکلتے ہوئے میں نے پالاتکار دیکھا تو نازی مجھے راسویی میں کھڑی غصے سے دیکھ رہی تھی . جسکے غصے کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا اسلئے میں نے واپس گردن سیدھی کی اور حنا كے ساتھ اسکی کار کی طرف چل پڑا . آج جانے کیوں اِس طرح نازی کا بارتاv مجھے کچھ عجیب سا لگ رہا تھا کیونکی وہ اک خوش-میزاز اور تامییزدار لڑکی تھی لیکن آج جانے اسکو کیا ہو گیا تھا جو وہ حنا كے ساتھ ایسی پیش آ رہی تھی . ابھی میں اپنی انہی سوچو میں گم تھا کی مجھے حنا کی آواز آئی . . . حنا : جناب اب ساری رات کار كے سامنے ہی کھڑا رہنا ہے یا چلنا بھی ہے . میں : ( حنا کی طرف چونک کر دیکھتے ہوئے ) کیا . . . . . ہاں چلو بیٹھو . حنا : آپ بھی نا . . . ( مسکراتے ہوئے ) میں : میں بھی کیا . . . . حنا : کچھ نہیں جلدی بیٹھو . میں : اچھا اسکے بَعْد میں اور حنا کار میں بیٹھے اور میں نے کار اسٹارٹ کر ڈی اور کچھ دیر بنا کچھ بولے کار چلاتا رہا تھوڑی دیر میں ہی ہم حویلی كے پاس آ گئے . حنا : ارے حویلی کیوں لے آئے مجھے ( رونے جیسی شکل بناکی ) میں : گھر نہیں جانا آپ نے . حنا : بابا نے کچھ اور بھی کہا تھا نا آپ بھول گئے کیا ( مسکراتے ہوئے ) میں : اور کیا کہا تھا بابا نے یھی کہا تھا کی حنا کو گھر چھوڑ آؤ بس . . . حنا : ( اپنے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے ) وہوو . . . بابا نے یہ بھی تو کہا تھا کی کار چلانی بھی سکھا دینا مجھے . . . بھول گئے کیا . میں : ارے ہاں میں تو بھول ہی گیا تھا . حنا : اب چلو گاڑی گھماؤ میدان کی طرف ابھی اتنی جلدی نہیں میں نے گھر جانا . میں : اچھا . . . . ( مسکراتے ہوئے ) اسکے بَعْد میں نے کار کو موڑ لیا اور وہی سے ہی ہم میدان کی طرف نکل گئے حنا مجھے بار بار دیکھ کر آج مسکرا رہی تھی اور کافی خوش لگ رہی تھی . میں نے کار چلاتے ہوئے دیکھا کی وہ بار بار میری پہنی ہوئی قمیض کو دیکھ رہی تھی . . . میں : اک بات بولو حنا جی اگر آپکو برا نا لگے تو . . . حنا : آج تک آپکی کوئی بات کا برا منع ہے جو اب مانونجی بولو . . . ( مسکراتے ہوئے ) میں : آپ پر میرے کپڑے بہت اچھے لگ رہے ہیں . . . ( مسکراتے ہوئے ) حنا : اگر آپکو برا نا لگے تو یہ کپڑے میں رکھ لوں . میں : کیوں نہیں ضرور اگر آپکو پسند ہے تو . . . . لیکن آپ میرے کپڑوں کا کریں گی کیا . . . حنا : شکریہ . . . پسند بھی آئے ہیں اور . . . . میں : اور کیا . . . حنا : ان کپڑوں میں آپکی مہک بھی ہے جو مجھے بہت پسند ہے ( نظری جھکا کر مسکراتے ہوئے ) میں : لیکن آپ انکا کریں گی کیا یہ تو مردانہ کپڑے ہے . . . . حنا : آپ پاس ہوتے ہو تو خود کو بہت محفوظ محسوس کرتی ہوں . . . یہ کپڑے جب میرے پاس ہونگے تو عیسی لگے گا آپ میرے پاس ہو . میں : اچھا جیسا آپکو اچھا لگے ( مسکراتے ہوئے ) حنا : نییر داوائی تو ٹائم پر لے رہے ہو نا جو ہم نے شہر سے لی تھی . میں : کونسی داوائی ( کچھ سوچتے ہوئے ) ارے ہاں یاد آیا حنا : شکر ہے یاد تو آ گیا ( مسکراتے ہوئے ) اب بتاؤ داوائی لی یا نہیں . میں : ( اداس موح بناکی نا میں سر ہلاتے ہوئے ) بھول گیا . حنا : ووہحوو . . . . کیا کروں میں تمہارا ( رونے جیسا موح بناکی ) میں : کچھ نہیں کرنا کیا ہے ( مسکراتے ہوئے ) اب یاد نہیں رہتا تو کیا کروں میں بھی . حنا : اچھا تم اک کام کر سکتے ہو میں : کیا حنا : کل سے اپنی داواییان مجھے لیک دے دو میں آپکو روز داوائی دے جایا کروں گی میں : لیکن اگر آپ روز گھر آئینگی تو شاید نازی اور فضا کو اچھا نہیں لگے گا . حنا : ( کچھ سوچتے ہوئے ) ہحمم . . یہ تو ہے . . . عیسی کروں گی صبح آپ کھیت میں اکیلے ہوتے ہو نا دن میں آپکو کھیت میں آکے آپکی داوائی دے جایا کروں گی اور شام کو کار میں دے دیا کروں گی فر تو ٹھیک ہے . . . . ویسی بھی ہم ملتے تو روز ہی ہے . ( مسکراتے ہوئے ) میں : ہاں یہ ٹھیک رہیگا . ایسی ہی باتیں کرتے ہوئے ہم کچھ ہی دیر میں ہم اسی کچے رستے پر پوحونچ گئے جو رستہ میدان کی طرف جاتا تھا . حنا بھی اس رستے کو دیکھ کر اک دم خاموش ہو گئی شاید اسکو اس دن والی بات یاد آ گئی تھی جب وہ میری گاڈ میں بیٹھی تھی اور اسکے وچھالنی سے میرا لنڈ اسکی گانڈ میں جور سے چبھا تھا . میں نے اک نظر حنا کی طرف دیکھا اور فر گاڑی اسی کچے رستے پر بڑھا ڈی کچھ دیر وچھالنی كے بَعْد ہم میدان میں آ گئے اسلئے میں نے کار روک ڈی . میں : حنا جی میدان آ گیا اب آپ میری سیٹ پر بیٹھ جائے اور کار چلانی شروع کرے جیسا میں نے آپکو اس دن سکھایا تھا . حنا : اس دن جیسے گاڑی نہیں سیکھا سکتے . میں : اس دن جیسے کیسے میں سمجھا نہیں . حنا بنا کچھ بولے میرے دونوں ہاتھ اسٹایرینج ویل سے ہٹا کر دھیرے سے سڑک کر میرے پاس آئی اور تھوڑی سی کار كے اندر ہی کھڑی ہوکے میری اک ٹانگ پر بیٹھ گئی اور فر اپنی گانڈ کو تھوڑا سا خیسکاکار میری دونوں ٹانگوں پر بیٹھ گئی . حنا : ایسی سییخانی کو کہہ رہی تھی . . . میں : اچھا ٹھیک ہے اب آپ چلاؤ . حنا كے میری گاڈ میں بیٹھ طے ہی اسکے نازک بدن کا وہی گرم احساس مجھے اپنی ٹانگوں پر ہونے لگا . میں نے اپنے دونوں ہاتھ اسکی کمر سے نکالے اور واپس اسٹایرینج ویل پر اسکے ہاتھوں كے اوپر رکھے دیئے اسکی نرم اور نازک تانجی میری ٹانگوں كے ساتھ جڑی ہوئی تھی جو مجھے بے حد مزہ دے رہی تھی . کچھ دیر ایسی ہی کار چلانے كے بَعْد اس نے خود ہی میرے ہاتھ اسٹایرینج ویل سے ہٹاکر اپنی رانو پر رکھ دیئے جسے میں نے فوراً تھم لیا میرے ہاتھوں كے چُنی سے شاید اسکو جحاتاکا سا لگا جسے وہ تھوڑا سا ہیل گئی لیکن بنا کچھ بولے وہ کار چلاتی رہی اب مجھ سے بھی صبار نہیں ہو رہا تھا اسلئے میں نے دھیرے دھیرے اسکی رانو پر ہاتھ فیرنا شروع کر دیا جسے اس نے اپنی تانجیی چودی کر لی . میرا چہرے اسکی گردن پر تھا جسے چومنے کا مجھے بار بار من کر رہا تھا اسلئے میں نے اپنے چہرے کو ہلکا سا نیچے کی طرف جھکایا اور اپنے ہوتھ اسکی گردن پر رکھ دیئے اسکو بھی شاید میرے ہوتھو کا احساس اپنی گردن پر ہو گیا تھا لیکن وہ بنا کچھ بولے گاڑی چلاتی رہی نیچے سے میرے لنڈ نے بھی جاگنا شروع کر دیا تھا جو اسکی تانجیی پھیلا لینے کی وجہ سے سیدھا اسکی چوت پر دستک دے رہا تھا وہ بھی شاید میرے لنڈ کو نیچے سے محسوس کر رہی تھی اسلئے بار بار اپنی گانڈ کو ہلا کر اسکو اپنی چوت كے اوپر ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کر رہی تھی . تمام عمل میں ہم دونوں ہی خاموش تھے میں لگاتار اسکی رانو پر ہاتھ فیر رہا تھا اور وہ بنا کچھ بولے گاڑی چلا رہی تھی تبھی اسکی دھیمی سی آواز میرے کانو سے تاکرایی . . . . حنا : اک ہاتھ سے آپ بھی اسٹایرینج پکڑ لو مجھ سے اکیلے سنبھالا نہیں جا رہا میں : ( بنا کچھ بولے اک ہاتھ اسکی جنگ ( ران ) سے اُٹھا کر اسٹایرینج پاکادتی ہوئے ) ہحممم . . . اب اس نے اپنا دایاں ہاتھ نیچے کر لیا اور میرا بیان ہاتھ جو اسکی جنگ ( ران ) پر تھا اس پر رکھ دیا . مجھے لگا شاید اسکو میرا چنا برا لگا ہے اسلئے اس نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھا ہے اسلئے میں نے اپنا ہاتھ وہی اسکی جنگ پر ہی روک دیا اور بنا کوئی حرکت کیے وہی رکھا رہنے دیا جب کی بائیں ہاتھ سے میں گاڑی چلا رہا تھا . لیکن میں غلط تھا جب میں نے ہاتھ روکا تو اس نے خود ہی میرے ہاتھ کو پکڑ کر اپنی جنگ پر وپیر-نیچی فیرنا شروع کر دیا اور ہاتھ کو اوپر کی طرف لے جانے لگی جسے میرا ہاتھ اسکے پیٹ پر آ گیا میں نے اپنا ہاتھ اسکے پیٹ پر فیرنا شروع کر دیا تبھی مجھے اسکی نا بھی کی موری محسوس ہوئی جس پر میں نے اپنی انگلی روک ڈی اور نا بھی كے چاروں طرف گول گول گھومنے لگا جسے اسکی سانس اک دم تیز ہو گئی اور اس نے اپنی گارڈن اوپر کی طرف کرکے اپنا سر میرے کاندھے پر رکھ دیا . اب اس نے خود ہی بنا کچھ بولے اپنا دوسرا ہاتھ بھی اسٹایرینج سے ہٹا لیا اور اپنی قمیض تھوڑی سی اوپر اٹھا کے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی قمیض میں ڈال دیا . اسکے پیٹ کا گرم اور نازک لامز میرے ہاتھوں کو ملتے ہی مجھے بہت اچھا محسوس ہوا اسکے پیٹ بے حد نازک اور کسی مخمل کی طرح ملائم تھا . اب میں سیدھا اسکے پیٹ پر ہاتھ فیر رہا تھا اور وہ آنکھیں بند کیے میرے کاندھے پر سر رکھے بیٹھی تھی . دھیرے دھیرے میرا ہاتھ اوپر کی طرف جانے لگا جسے اسکی سانس اور تیز چلنے لگی اب اسکا گاڑی چلانے پر کوئی دھیان نہیں تھا اسلئے میں نے گاڑی کو روک دیا اور بند کر دیا لیکن وہ اب بھی ویسے ہی بیٹھی رہی . میں نے اپنا دوسرا ہاتھ بھی اسٹایرینج سے ہٹا لیا اور اسکی جنگھو ( رانو ) پر رکھ دیا اور ہاتھ اوپر سے نیچے فیرنی لگا . اب جو ہاتھ میرا اسکی قمیض كے اندر تھا اسکو میں نے اوپر کی جانب بڑھانا شروع کیا اور تھوڑا سا اوپر جاکے میرے ہاتھ اسکی برا تک پوحونچ گئے جسکے اوپر سے ہی میں نے اسکے دائیں ممے کو تھم لیا اور دھیرے سے دبا دیا جسے اسکو اک جھٹکا سا لگا اور اسکے موح سے اک تیز سسس آں نکل گئی . شاید اسکو میرے ہاتھ اسکو اپنے موممو پر اچھا لگا تھا اسکے ممے کافی بڑے تھے جو میرے اک ہاتھ میں پورے نہیں آ رہے تھے لیکن فر بھی مومما جتنا ہاتھ میں آ رہا تھا میں اسکو لگاتار دبائے جا رہا تھا . تبھی میں نے اپنا دوسرا ہاتھ اسکی جنگھو كے درمیان چوت كے اوپر رکھ دیا اسکو میرے اِس حملے کی امید نہیں تھی اسلئے اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے میرے ہاتھ کو پکڑ لیا اور اپنی دونوں تانجیی بند کر لی . میں نے اپنے ہوتھو سے دھیرے دھیرے اسکی گردن کو چومنا شروع کر دیا اور اسکی گردن سے بڑھتی ہوئے میرے ہوتھ اسکی گال پر آ گئے اور اب میں وہاں دھیرے دھیرے چوم رہا تھا وہ اپنی آنکھیں بند کیے میری گاڈ میں بیٹھی تھی میرے کاندھے پر سر رکھ کر اور میرے ہاتھ اسکے بدن پر اپنا کمال دکھا رہے تھے . کچھ دیر بَعْد میں نے دھیرے سے اپنا ہاتھ اسکی شلوار كے اندر ڈالنے کی کوشش کی لیکن ازار بند بندھا ہونے کی واجاحا سے ہاتھ اندر نہیں جا پا رہا تھا اسلئے اس نے خود ہی اپنا پیٹ اندر کی طرف سکوڑ لیا تاکہ ہاتھ اندر جانے کی جگہ مل سکے اب میرا ہاتھ دھیرے دھیرے اندر کی طرف جانے لگا اور میری انجالیا پر اب اسکی چوت كے بال ٹکرانے لگے . اب میں نے اپنا ہاتھ تھوڑا اور اگے کو سارکایا تو میرا ہاتھ اسکی نارما اور نازک چوت تک پوحونچ گیا جسے اسکو اک جھٹکا سا لگا اور اسکے موح سے صرف سسس ہحممممم ہی نکل پایا . میرا اب اک ہاتھ اسکے برا كے اوپر سے موممو کو دبا رہا رہا اور دوسرا ہاتھ اسکی سالوار میں غصہ اسکی چوت كے ساتھ چید-چھاد کر رہا تھا . اسکی چوت لگاتار پانی چھوڑ رہی تھی جسے میرا پُورا ہاتھ كے انجالیا گیلی ہو چکی تھی . لیکن میں فر بھی اسکی چوت كے دانے پر اپنی انگلی سے کمال دکھاتا رہا . کچھ ہی دیر میں اسکی تانجیی کمپنی لگی اس نے اچانک میری طرف اپنا چہرہ کیا اور میری گالو کو ہلکے ہلکے چومنا شروع کر دیا اور فر اچانک جیسے اسکی سانس رک گئی ہو اس نے اپنی آنکھیں جور سے بند کر لی اور اپنی گانڈ کو اوپر کی طرف اٹھا دیا میرا پُورا ہاتھ اسکی چوت كے نکلنے والے پانی سے بھیگھ چکا تھا اب کچھ دیر گانڈ کو ہوا میں اٹھائے جھٹکے کھانے كے بَعْد اک دم سے میری گاڈ میں واپس گر گئی اور تیز-تیز سانس لینے لگی میں نے بھی اپنا ہاتھ اسکی چوت پر روک لیا لیکن دوسرے ہاتھ سے ہلکے ہلکے اسکے موممو کو دباتا رہا . اب وہ آنکھیں بند کیے میرے کاندھے پر اپنا سر رکھے بیٹھی اور مسکرا رہی تھی شاید وہ فارغ ہو گئی تھی . میں نے اب اپنا بیان ہاتھ اسکی شلوار میں سے دایاں ہاتھ اسکی قمیض میں سے نکل لیا اور اسے اسکی کمر سے پکڑ کر تھوڑا اوپر اٹھا دیا ٹاکی میں اسکی شلوار خیچکار تھوڑا نیچے کر سکو . جیسے ہی میں نے اسکی شلوار کو تھوڑا نیچے کی طرف کھچا اس نے میرے دونوں ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ دیئے اور میری آنکھوں میں دیکھنے لگی اسکی آنکھیں اس وقت نشے اور واسنا سے اک دم نشیلی ہوئی پڑی تھی . اچانک اس نے اپنا دایہ ہاتھ اوپر کیا اور میرے سر كے پیچھے لے جا کر میرے چہرے کو اپنے چہرے پر جھکا دیا اور میرے ہوتھو پر اس نے اپنے ہوتھ رکھ دیئے اسکے ہوتھ اک دم گلاب کی پانخودیو كے جیسے نازک اور راسبحاری تھے . میں نے فوراً اپنا تھوڑا سا موح کھول کر اسکے دونوں نازک ہوتھو کو اپنے موح میں قید کر لیا اور جبردست طریقے سے چُوسنے لگا کچھ دیر تو وہ اپنا موح سختی سے بند کرکے بیٹھی رہی پِھر اس نے بھی اپنا موح کھول دیا جسے میری جیبھ کو اسکے موح میں جانے کا رستہ مل گیا . وہ کسی بحوخی شیرنی کی طرف میری جیبھ پر ٹوٹ پڑی اور بہت جور سے میری زبان کو چُوسنے لگی . عیسی نہیں تھا کی میں نے پہلے کسی كے ہوتھ نہیں چُوسے تھے لیکن جو قاشیش اسکے ہوتھ چُوسنے میں آ رہی تھی ویسا مزہ نا فضا كے ہوتھو میں آیا تھا نا ہی نازی كے ہوتھو سے وہ لگاتار میرے ہوتھو کو بری طرف چوس اور کاٹ رہی تھی . اچانک اس نے خود ہی اپنی گانڈ تھوڑی سی اوپر کی اور میری گاڈ میں بیتحی-بیتحی ہی اپنی شلوار کو گھٹنے تک خینچکار اُتار دیا . اب اس نے خود ہی میرا ہاتھ اپنی نرم اور حد سے جادا گوری ٹانگوں پر رکھ دیا اسکا بدن میری سوچ سے بھی جادا گورا تھا . ہلاکی جہاں ہم تھے وہاں اک دم اندھیرا تھا لیکن پِھر بھی اسکا بدن اِس قدر چمک رہا تھا کی مجھے اسکی گوری جانگھی اندھیرے میں بھی صاف نظر آ رہی تھی . میں اسکی چوت دیکھنا چاہتا تھا لیکن اس نے میری پہنی ہوئی قمیض کو آگے کی طرف کیا ہوا تھا جسے میں اسکی چوت نہیں دیکھ پا رہا تھا . لیکن اسکی گانڈ نیحی سے لگاتار اپنا کمال دکھا رہی تھی جس نے میرے لنڈ کو اک دم لوہے جیسا کھڑا کر دیا تھا . اب کی باڑ میں نے اسکی جانگھو کو سیحلیٹ ہوئے اپنا ہاتھ قمیض كے اندر لیجاکار اپنا ہاتھ اسکی نرم اور نازک کسی گلاب كے پھول کی طرح کھلی ہوئی چوت پر رکھ دیا جو حد سے جادا پانی چھوڑ رہی تھی میں نے کچھ دیر اسکی چوٹ کو سہلایا جسے اسکے موح میں سے اک ممممم سسس کی آواز نکالی جو میرے موح میں ہی دب گئی . اب میں نے حنا کو اسکی کمر سے پکڑا اور تھوڑا اوپر کیا ٹاکی اپنا پجامہ بھی نیچے کر سکو . میرے یشااری کو سمجھتے ہوئے اس نے جلدی سے اپنی کمر کو تھوڑا سا ہوا میں اٹھا دیا جسے میں نے جلدی سے اپنا پجامہ اور انڈرویئر نیچے کر دیا . لنڈ آزاد ہوتے ہی کسی بھوکی شیر کی طرح سر اٹھائے کھڑا ہو گیا جو کسی سپرنگ کی طرح اوپر کو ہوا اور سیدھا حنا کی چوت کو چوم کر نیچے آ گیا . میرے لنڈ کا اپنی چوت پر احساس ہوتے ہی اس نے پِھر سے اک وووو کیا سختی سے میرے باجو کو پکڑ لیا جو میں نے اسکی کمر پر ڈالا تھا . اب میں نے اسکی قمیض کو گانڈ سے تھوڑا اوپر کیا اور اسے پِھر سے اپنی گاڈ میں بٹھا لیا اب میرا لنڈ سیدھا اسکی چوت كے موح پر دستک دے رہا تھا اور اندر جانے كے لیے مجھ سے باجااوات کر رہا تھا شاید اس سیل کو مجھ سے بھی جادا جلدی تھی . اسلئے میں نے بھی اسے جادا انتظار کروانا مناسب نہیں سمجھا اور اپنا ہاتھ نیچے لے جا کر اسکی اور اپنی ٹانگوں کو پوری طرح پھیلا دیا ٹاکی لنڈ اور چوت کا ملن ہو سکے اور ساتھ ہی اپنے لنڈ کو اسکی چوت پر راجادنا شروع کر دیا . حنا کی چوت میری امید سے بھی جادا پانی چھوڑ رہی تھی . جس نے کچھ ہی پلو میں میرے لنڈ کو اک دم گیلا کر دیا . ہم دونوں میں یہ جو کچھ بھی ہو رہا تھا اک دم خاموشی سے ہو رہا تھا نا وہ کچھ بول رہی تھی نا میں . جب کچھ دیر تک میں اپنے لنڈ کو اسکی چوت پر راجادتا رہا تو اسکا صبار جواب دینے لگا اور آخر اس نے میرے کان میں دھیرے سے کہا . . . حنا : نییر پیچھے کی سیٹ پر چلے اب مجھ سے اور برداشت نہیں ہو رہا . میں : ہحممم چلو . اسکے بَعْد ہم دونوں آگے والی سیٹ کو تھوڑا نیچے کرکے کار كے اندر سے ہی پیچھے والی سیٹ پر آ گئے . حنا کو مجھ سے جادا جلدی تھی اسلئے وہ مجھ سے پہلے پیچھے چلی گئی اور جلدی سے اپنی قمیض اوپر کرکے پیچھے سے اپنی برا کو بھی کھول دیا اور اپنے بادی-بادی ممے آزاد کر دیا جو برا کی قید سے آزاد ہوتے ہی کسی خرگوش کی طرح اُچھل کر باہر آ گئے . ان کو دیکھ کر میرے بھی موح میں پانی آ گیا اور میں پیچھے جاتے ہی اسکے موممو پر ٹوٹ پڑا میں نے اسکا اک مومما اپنے ہاتھ سے پکڑ لیا اور دوسرا مومما اپنے موح میں لے کے چُوسنے لگا اور وہ میرے نیچے لیتی میرے سر پر ہاتھ فیر رہی تھی اور اپنے موح سے سسس اُوں ااہہح نیییررررر کرتے رہو ہو اور پتہ نہیں کیا کیا بولے جا رہی تھی . میں باری باری اسکے دونو موممو كے ساتھ انصاف کر رہا تھا کیونکی میں نہیں چاہتا تھا کی دونوں میں سے کوئی بھی مجھ سے ناراض ہو کی میں نے کسی اک پر جادا محنت کی اور دوسرے پر کم محنت کی . اس وقت کار میں کافی اندھیرا تھا اوپر سے میری ہائیٹ جادا ہونے کی وجہ سے میں کار میں پُورا بھی نہیں آ رہا تھا اسلئے میں نے پیچھے کا دروازہ کھول دیا اور نیچے بیٹھ کر اسکی چوت کو دیکھنے کی کوشش کرنے لگا . میں چاہتا تو تھا کی میں اسکے خوبصورت بدن كے اک اک حصے كے ساتھ کھیلوں لیکن اک تو ہمارے پاس وقت کم تھا اور دوسرا اندھیرا بھی کافی تھا اسلئے مجھے کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا . اسلئے میں اندازے سے اسکی ٹانگوں كے بیچ بیٹھ گیا اور اسکی چوت جس پر تھودی-تھودی بال اگے ہوئے تھے اسے چوم لیا جسکا اثر حنا پر کافی ہوا اور اسکے موح سے اک تیز سسسسس ااہہہ نیررر نکالی اب میں نے اسکی تانجی تھوڑا فولڈ کی اور انہیں کھول دیا اور نیچے بیٹھ کر اسکی چوت کو چُوسنے لگا ابھی مجھے کچھ ہی منٹ ہوئے تھے اسکی چوت کو چُوستے ہوئے کی اس نے اک دم سے مجھے بلو سے پکڑ لیا اور اوپر کی طرف کھینچ لیا اسکا پُورا بدن کسی سوکھے پتے کی طرح کانپ رہا تھا اس نے اندازے سے میرا چہرہ پکڑا اور پِھر سے میرے ہوتھو کو چُوسنا شروع کر دیا اور پِھر مجھے اپنے گلے سے لگا لیا ساتھ ہی حنا کی اک میٹھی سے آواز میرے کانو میں مجھے سنائی ڈی . حنا : نییر مجھے اپنی بنا لو میں تمھارے پیار كے لیے کب سے تڑپ رہی ہوں . میں : پاکا . . . . حنا ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) ہحممم پکا . . . جلدی کرو مجھ سے اب اور برداشت نہیں ہو رہا . میں نے بھی اسے اور انتظار کروانا مناسب نہیں سمجھا اور اپنا اک ہاتھ نیچ لے جا کر اسے اسکی چوت كے موح پر رکھ دیا لنڈ کا توپد چوت پا ٹچ ہوتے ہی حنا نے مجھے اپنی باھو میں کس كے پکڑ لیا اور پِھر سے میرے کان میں اسکی دھیرے سے آواز آئی . حنا : نییر آرام سے کرنا میں اب تک کنواری ہوں . میں : اچھا . اسکے بَعْد میں اپنے گھٹنوں پر بیٹھ گیا اور اپنے لنڈ پر ڈھیر سارا تھوک لگا لیا ویسی تو اسکی چوت سے اتنا پانی بہہ رہا تھا کی مجھے میرے لنڈ کو اور گیلا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی لیکن پِھر بھی احتیاات كے لیے میں نے اپنے لنڈ کو گیلا کر لیا اور اسکی چوت كے موح پر رکھا کر ہلکا سا زور لگایا جسے اسکے موح سے پِھر اک سسس آرام سے نییر . . . . نکلا . اسکی چوت کافی تنگ تھی جسے میرا ٹوپا پھسل کر نیچے کی طرف چلا گیا . میں نے پِھر سے اپنا لنڈ اسکی چوت كے موح پر رکھا اور انداز سے ہلکا سا جھٹکا لگایا جسے لنڈ کا ٹوپا اندر چلا گیا ساتھ ہی اسکے موح سے پِھر اک آاییییییی آرام سے نییر دَرْد ہو رہا ہے . . . . کی آواز نکالی میں نے اسکی طرف کوئی دھیان نا دے کر اپنے ٹوپی کو چوت میں ہی رہنے دیا اور اسکے کچھ نارمل ہونے كے انتظار کرنا لگا . کچھ دیر بَعْد جیسے ہی وہ تھوڑا نارمل ہوئی میں اسکے اوپر لیٹ گیا اور اسکے ہوتھو کو چُوسنا شروع کر دیا وہ بھی میرا پُورا ساتھ دینے لگی تبھی میں نے اک اور جھٹکا مارا اور میرا 1 / 4 لنڈ اندر چلا گیا اس نے جلدی سے میرے موح سے اپنا موح ہٹایا اور پِھر سے چیخنا شروع کر دیا ساتھ ہی مجھے دھکہ دے کر اپنے اوپر سے ہٹانے لگی . . حنا : آاییییی . . . . . نییر بہت دَرْد ہو رہا ہے مجھ سے نہیں ھوگا جلدی سے باہر نکالو بہت دَرْد ہو رہا ہے . میں : ( اسکے سر پر ہاتھ پھیرتا ہوئے ) بس ہو گیا تھوڑا سا برداشت کر لو پِھر مزہ آنے لگے گا . اگلا جھٹکا میں تب ہی مرونگا جب تم خود بولوگی . . . . . جب تک دَرْد کم نہیں ہوتا تب تک ہم ایسی ہی رہینگے . حنا : اور اندر مت کرنا کچھ دیر ایسی ہی رہو بہت دَرْد ہو رہا ہے . اسکے بَعْد میں کچھ دیر ویسی ہی رہا اور اسکے دونوں موممو کو چوس کر اسکا دَرْد کچھ کم کرنے لگا کچھ ہی دیر میں اسکی بھی دَرْد بھری چییخی آہو میں بدلنے لگی اور وہ پِھر سے مجھ سے اپنے ممے چوسواکار گرم ہونے لگی ساتھ ہی میرے سر پر ہاتھ پھیرتا ہوئے میرے سر کو اپنے موممو پر دبانے لگی . حنا : اب کچھ آرام ہے نییر اب کرو لیکن دھیرے کرنے ابھی بھی دَرْد ہو رہا ہے . میں : اچھا اسکے اتنا کہتے ہی میں نے اپنے دونوں ہاتھ اسکے موٹے موممو پر رکھے اور اک اور زوردار جھٹکا مارا جسے میرا لنڈ اسکی چوت کی سیل ٹوٹا ہوا 1 / 2 سے جادا اندر چلا گیا . اس کے ساتھ ہی سنے کار میں اپنے پیر پاتاکنی شروع کر دیئے لیکن میرے سمجھانے پر وہ پِھر سے نارمل ہو گئی اور میں اسکا دَرْد کم کرنے كے لیے پِھر سے اسکے ممے چُوسنے لگا . کچھ دیر بَعْد جب وہ نارمل ہوئی تو میں نے اپنا لنڈ اسکی چوت سے باہر نکالا جو اسکے چوت كے خون اور ڈھیر سارے پانی سے نہایا ہوا تھا . میں : حنا کوئی گندا کپڑا ھوگا کار میں ؟ حنا : ہاں شاید ھوگا کار کی سیٹ كے نیچے چیک کرو . میں نے اندھیرے میں اندازے سے کار کی سیٹ كے نیچے ہاتھ گھمایا تو مجھے اک کپڑا مل گیا اب جانے وہ کیا تھا لیکن میں نے اسے اپنا لنڈ اور حنا کی چوت اچھے سے صاف کی اور پِھر سے اپنے لنڈ پر تھوک لگا کے حنا کی چوت میں اپنا 1 / 2 لنڈ ڈال دیا . جسے اسکے موح سے پِھر اک تیز ااایییییی سسسس آرام سے کرو دَرْد ہو رہا ہے . . . . . کی آواز نکالی جس پر میں نے جادا دھیان نہیں دیا اور پِھر سے اسکے ممے چُوسنے لگا کچھ ہی دیر میں اسے بھی مزہ آنے لگا تو اس نے بھی نیچے سے اپنی گانڈ کو اوپر کی طرف اٹھانا شروع کر دیا جسکے جواب میں میں نے بھی اپنا 1 . 2 لنڈ اسکی چوت میں دھیرے دھیرے اندر باہر کرنا شروع کر دیا . کچھ ہی دیر میں حنا پِھر سے میرا ساتھ دینے لگی . اب میرا لنڈ قریب 3 / 4 حنا کی چوت كے اندر باہر ہو رہا تھا اور وہ ہلکی پھولکی دَرْد اور مزے كے ساتھ چُدائی کا مزہ لے رہی تھی ساتھ میں سسس ااہہہہ وووہہہہ جیسی آوازی نکال رہی تھی . کچھ ہی ڈھکوں كے بعد اسکا بدن اکادنی لگ گیا اور اس نے مجھے کس کر گلے سے لگا لیا ساتھ ہی پِھر سے میرے ہوتھ چُوسنے شروع کر دیئے اب وہ بھی اپنی گان اٹھا-اٹھاکار میرا ساتھ دے رہی تھی اسلئے میں نے بھی اپنے ڈھکوں کی افطار بڑھا ڈی جسے کچھ ہی دیر میں میرا پُورا لنڈ اسکی چوت كے اندر باہر ہونے لگا . جیسے ہی میرا پُورا لنڈ اسکی چوت میں گیا اسکی چوت نے اک جبردست جھٹکے كھانا شروع کر دیا اور کچھ ہی ڈھکوں میں وہ جھڑ گئی . اب میں نے اسکی چوت سے لنڈ باہر نکالا اور اسے ڈوگی اسٹائل میر کر لیا اور پیچھے سے اپنا لنڈ اسکی چوت پر ایڈجسٹ کرکے اسکی چوت میں ڈھکے مرنے لگا . اسکی موتی گانڈ اب میرے ہاتھ میں تھی اور میرا لنڈ اسکی چوت کی دھجیاں اڑا رہا تھا . میں اس وقت کار كے باہر کھڑا تھا اور وہ کار كے اندر ڈوگی اسٹائل میں چودا رہی تھی ساتھ ہی اسکے موح سے لگاتار سسس ااہہہہ زور سے کرو نیرر . . . . . . . جیسی اوازی نکل رہی تھی . میں اب پوری رفتار سے اسکی چوت میں ڈھکے لگا رہا تھا اور اسکے نیچے کی طرف بادی-بادی موممو کو پکڑ کر مسل رہا رہا تبھی اسکا بَدَل پِھر سے اکادنی لگا اور اسکی سیسکاریان بھی بڑھنے لگی کچھ ہی دیر میں وہ پِھر سے جھڑ گئی جسے اسکی تانجی کمپنی لگی اور وہ کار كے اندر ہی پیٹ كے بل لیتکار لامبی-لامبی سانس لینے لگی ہم دونوں کا ہی بدن اس وقت ہسینے میں نہائے ہوئے تھے . اب وہ پِھر سے سیدھی ہوکے پیٹھ كے بل لیٹ گئی اور اس نے خود ہی اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنی تانجی پکڑ کر کار کی چھت سے لگا ڈی میں نے اب اپنی دونوں تانجیی کار کی سیٹ پر رکھی اور پِھر سے اپنا لنڈ اسکی چوت میں ڈال دیا اور ڈھکے مارنے لگا اس نے مجھے پِھر سے اپنے اوپر کھینچ لیا اور میرے موح کو اپنے موممو پر دبانے لگی میں نے بھی کسی بھوکی بچے کی طرح اسکے موممو پر ٹوٹ پڑا . اب میرا موح اسکے موممو پر کمال دکھا رہا تھا اور نیچے میرا لنڈ اسکی چوت میں اپنا جلوہ دکھا رہا تھا . تبھی ہمیں دور سے اک ہیڈ لائٹ چمکتی ہوئی نظر آئی اور اک ہارن کی آواز سنائی ڈی جسے حنا نے فوراً پہچان لیا . حنا : یہ تو ابو کی جیپ کا ہارن ہے . میں : جلدی سے کپڑے پہنو ساتھ ہی میں نے کار کا دروازہ اندر سے بند کر لیا اور ہم دونوں جلدی سے اپنی-اپنی کپڑے پہاننی لگے . ( اس وقت دوستو یقین کرو اگر میرے ہاتھ میں بندوق ہوتی تو گولی مار دیتا کمینوں کو سالو نے کیا ٹائم پر انٹری ماری تھی پورے موڈ کی ایسی تیسی کرکے رکھ ڈی تھی . میرا یہ دَرْد میرا وہی ریڈر بھائی سمجھ سکتا ہے جسکے ساتھ عیسی ہوا ہو باقی سب کو تو اِس وقت ھسی آ رہی ھوگی کی بچھڑے كے ساتھ کلپد ہو گیا ) حنا جلدی سے اُٹھ کر کار كے اندر سے ہی آگے والی سیٹ پر چلی گئی اور جلدی سے اپنی شلوار پہاننی لگی اور اپنے کپڑے ٹھیک کرنے لگی تب تک میں بھی اپنے کپڑے پہن کر آگے والی ڈرائیونگ سیٹ پر آ چکا تھا . . . حنا : یہ تو ابو کی جیپ ہے یہ یہاں کیسے آ گئے اب کیا ھوگا . میں : ڈر لگ رہا ہے ( مسکرا کر ) حنا : جب آپ ساتھ ہوتے ہو تب ڈر نہیں لگتا ( مسکرا کر ) اتنا میں وہ جیپ ہماری پاس آکے رکی اور اس میں سے اک آدمی نکال کر باہر آیا . آدمی : ( گاڑی كے دروازے پر ہاتھ سے نیچے اشارہ کرتے ہوئے ) چھوٹی مالکن آپ ابھی تک گاڑی سیخ رہی ہے بڑے ملک آپکو بلا رہے ہیں انہوں نے کہا ہے کی باقی کل سیخ لینا . حنا : اچھا . . . تم چلو ہم اسی کار میں آ رہے ہیں آدمی : جی جیسی آپکی مرضی مالکن . . . فر وہ آدمی واپس جیپ میں بیٹھ گیا اور ہم نے بھی اسکے پیچھے ہی اپنی کار دودا لی . حنا پورے رستے میرے کاندھے پر اپنے سر رکھا کر بیٹھی رہی اور مجھے دیکھ کر مسکراتی رہی اور کبھی کبھی میرے گال پر چوم لیتی . کچھ دیر میں حویلی آ گئی تو باہر کھڑے دربان نے ہماری کار دیکھتے ہی بڑا داوازا جلدی سے کھول دیا میں گاڑی حویلی كے اندر لے گیا اور گادیا کھڑی کرنے کی جگہ پر گاڑی روک ڈی . تبھی سارپانچ وہاں آ گیا . جسے دیکھتے ہی حنا جلدی سے کار سے اُتَر گئی . ہلاکی اسے چلنے میں تکلیف ہو رہی تھی لیکن اس نے اپنے ابو پر کچھ بھی ظہیر نہیں ہونے دیا . سارپانچ : بیٹی آج تو بہت دیر کردی مجھے فکر ہو رہی تھی . حنا : اب میں بچی نہیں ہوں ابو . . . بَدی ہو گئی ہوں ایسی فکر نا کیا کرو اور ویسی بھی نییر میرے ساتھ ہی تو تھے . ( مسکرا کر ) سارپانچ : ارے یہ کس کے کپڑے پہنے ہے . حاحاحاحاحاحاحا حنا : وہ میں ان کو لینے ان کے گھر گئی تھی تو وہاں بابا جی چائے پی کر جانے کی ضد کرنے لگے وہاں چائے پاکادتی ہوئے میرے ہاتھ سے چائے کا کپ گر گیا تھا جو میرے کپڑوں پر گر گیا ( حنا نے جھوٹا بولا ) اسلئے انہوں نے مجھے اپنے کپڑے دے دیئے پہن نے كے لیے . . . . اچھے ہے نا ( مسکراتے ہوئے ) سارپانچ : اچھا . . . اچھا اب تاریفی بند کرو اور چلو میں نے كھانا نہیں کھایا تمہاری وجہ سے . ( حنا كے سر پر ہاتھ فیرتی ہوئے ) میں گاڑی سے اُترتے ہوئے دونوں باپ بیٹی کو باتیں کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا اور ان دونوں کی باتیں سن کر مسکرا رہا تھا . میں : معاف کیجیے سارپانچ جی آج تھوڑا دیر ہو گئی . یہ لیجیے آپکی امانت کی چابی . سارپانچ : ( چابی پاکادتی ہوئے ) کوئی بات نہیں . . . . ارے یہ تمھارے سر میں کیا ہوا میں : کچھ نہیں وہ زرا چوٹ لگ گئی تھی . ( اپنے ماتھے پر ہاتھ فیرتی ہوئے ) سارپانچ : ( میرے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے ) اپنا خیال رکھا کرو میں : جی ضرور . . . حنا : ابو وہ گاڑی والی بات بھی تو کرو نا ان سے . سارپانچ : ارے ہاں میں تو بھول ہی گیا . . . . بیٹا وہ حنا کتنے دن سے پیچھے پڑی ہے اسکو نئی گاڑی لے کے دینی ہے . . . تو مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کی کونسی گاڑی اسے لے کے دوں تم بتاؤ اس کے لیے کونسی گاڑی اچھی رہیگی . میں : کوئی بھی گاڑی لے دیجیئے . . . بس اتنا خیال رکھنا کی گاڑی چھوٹی ہو جسے ان کو ( حنا کو ) بھی چلانے میں آسانی رہیگی . حنا : ابو آپ اصل بات تو بھول ہی گئے یہ والی نہیں ساتھ جانے والی بات پوچھوں نہ . . . . . سارپانچ : آپ خود ہی پوچھ لو مہرانی صاحبہ . . . ( حنا كے آگے ہاتھ جوڑی ہوئے ) حنا : نییر جی وہ میں سوچ رہی تھی کی آپ کو ہم سے جادا سمجھ ہے گادیو کی تو آپ بھی ہماری ساتھ ہی شہر چلیں نا نئی گاڑی لینے كے لیے ( مسکراتے ہوئے ) میں : ( چونکتے ہوئے ) میں . . . میں کیسے . . . . نہیں آپ لوگ ہی لے آئی مجھے خیتو میں بھی کام ہوتا ہے نا . سارپانچ : ارے بیٹا معاً جاؤ نہیں تو یہ سارا گھر سر پر اٹھا لے گی . جہاں تک خیتو کی بات ہے تو میں اپنے ملازم بھیج دونگا 1-2 دن كے لیے وہ لوگ تمھارے کھیت کا خیال رکھینگے جب تک تم ہماری ساتھ شہر رہوگے . میں : ٹھیک ہے . . لیکن اک باڑ بابا سے پوچھ لونگا تو بہتر ھوگا . سارپانچ : تمھارے بابا کی فکر تم نا کرو میں ہوں نا میں کل ہی جاکے بات کر آوجا فر پرسو ہم شہر چلیں گے . اب تو کوئی اعتراض نہیں تم کو . میں : جی نہیں . . . اچھا سارپانچ جی اب اجاجت دیجیئے کافی رات ہو گئی ہے سب لوگ کھانے پر انتظار کر رہے ہونگے . سارپانچ : ٹھیک ہے . . . . رکو تم کو مانسی چھوڑ آئیگا . . . مانسیی . . . ( اپنے ملازم کو آواز لگاتے ہوئے ) مانسی : جی ملک ( داودکار سارپانچ كے سامنے آتے ہوئے ) سارپانچ : نییر کو ان کے گھر چھوڑ آؤ جیپ پر . مانسی : جی . . . ٹھیک ہے ملک . اسکے بَعْد مانسی مجھے جیپ پر گھر تک چھوڑ گیا اور میرے گھر آتے ہی نازی مجھے کھا جانے والی نظروں سے گھور-گھور کر دیکھنے لگی لیکن وہ بول کچھ نہیں رہی تھی اور ایسی ہی غصے سے مجھے گھورتی ہوئی چپ چاپ فضا كے کمرے میں چلی گئی . تبھی فضا بھی راسویی میں سے آ گئی . . . فضا : آ گئے نییر بہت دیر کردی . ( مسکراتے ہوئے ) میں : کچھ نہیں وہ زرا حنا کو گاڑی سیکھا رہا تھا تو دیر ہو گئی . فضا : تمھارے اتنی چوٹ لگی ہے اک دن نہیں سییخاتی تو کیا ہو جانا تھا . میں : نہیں وہ بابا نے حنا کو بول دیا تھا تو میں منع کیسے کرتا اسلئے سوچا جب آ گیا ہوں تو گاڑی چلانی بھی سیکھا ہی دیتا ہوں . فضا : وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن کچھ اپنا بھی خیال رکھا کرو . میں : ( چاروں طرف دیکھتے ہوئے ) تم ہو نا میرا خیال رکھنے كے لیے . . . ( مسکواکار ) فضا : اچھا اب جادا پیار دکھانے کی ضرورت نہیں ہے چلو جاؤ جاکے نہا لو فر ساتھ میں كھانا کھائینگے . میں : اچھا . . . . اسکے بَعْد میں نہانے چلا گیا اور فضا بھی واپس راسویی میں چلی گئی . کچھ دیر بَعْد میں جابا نہا کے باہر آیا تو فضا اکیلی ہی کھانے کا سب سامان ٹیبل پر رکھ رہی تھی . میں : نازی دکھائی نہیں دے رہی وہ کہا ہے . فضا : وہ اندر ہے کمرے میں کہہ رہی تھی بھوک نہیں ہے اسلئے كھانا نہیں کھائے گی . اب تم تو جلدی آؤ مجھے بہت بھوک لگی ہے چلو آج ہم دونوں كھانا کھا لیتے ہیں . ( مسکرا کر ) میں : تم كھانا شروع کرو میں زرا نازی کو دیکھ کر آٹا ہوں . فضا : اچھا . . . میں جب فضا كے کمرے میں گیا تو نازی اندر الٹی ہوکے گانڈ اوپر کرکے لیتی تھی اور بار بار تکیے کو تود-مارود رہی تھی . میں نے اک نظر اسکو دیکھا اور واپس کھانے كے ٹیبل كے پاس آ گیا . میں : فضا زرا نازی کی کھانے كے تھالی بنادو میں ابھی اسکو كھانا کھلاکے آٹا ہوں . فضا : ٹھیک ہے . . . لیکن وہ تو کہہ رہی تھی بھوک نہیں ہے . میں : تم كھانا تو لگاؤ باقی میں کھلا لونگا اسکو فضا : ٹھیک ہے . فر فضا نے نازی کی کھانے کی تھالی مجھے دے ڈی اور میں وہ تھالی لے کے کمرے میں چلا گیا اندر ابھی بھی نازی ویسی ہی الٹی ہوکے لیتی ہوئی تھی . میں : لگتا ہے آج بہت غصہ ہو ( مسکراتے ہوئے ) نازی : تم سے مطلب . . . میں : اچھا تو مجھ سے غصہ ہو . . . نازی : میں کیوں کسی سے غصہ ہونے لگی . میں : اچھا . . . تو فر كھانا کھانے کیوں نہیں آئی . . . نازی : مجھے بھوک نہیں ہے میں : ٹھیک ہے تھوڑا سا کھا لو میں تمھارے لیے كھانا لے کے آیا ہوں . نازی : ( اُٹھ کر بیتحتی ہوئے ) کس نے بولا تھا کھانے لین کو نہیں كھانا مجھے تم جاؤ یہاں سے . میں : ایسی کیسے جاؤ تم کو كھانا کھلائے بنا تو نہیں جاؤنگا . ( مسکراتے ہوئے ) نازی : اب میرے پاس کیا لینے آئے ہو جاؤ اسی باندریا کو جاکے كھانا کھلاؤ جسکے ساتھ بَدی حس-حس كے باتیں ہو رہی تھی . میں : اچہاا . . . . تو اسلئے ناراض ہو . . . ہاہاہاہاہا نازی : حسسو مت مجھے بہت غصہ چڑاہا ہوا ہے . میں : ٹھیک ہے غصہ مجھ پر اتارو نا فر کھانے نے تمہارا کیا بیجادا ہے دیکھو کیسے مایوس ہوکے تھالی میں پڑا ہے بچارہ . نازی : ( ہیسٹ ہوئے ) نییر تم جاؤ نا مجھے بھوک نہیں ہے . میں : اچھا چلو آج صبح جیسے کرتے ہیں . نازی : صبح جیسے کیا میں : جیسے تم نے مجھے كھانا کھلایا تھا اپنے ہاتھوں سے میں بھی تم کو ویسے ہی کھلاتا ہوں فر تو ٹھیک ہے . نازی : تم جاؤ نا نییر مجھے نہیں كھانا . میں : ( بیڈ پر بیٹھ طے ہوئے اور تھالی میں سے روتی کی برکی تودکار نازی كے موح كے سامنے کرتے ہوئے ) میں نے تم سے پوچھا نہیں کی تم کو بھوک ہے یا نہیں چلو اب موح کھولو . . . . نازی : ( مسکرا کر موح کھولے ہوئے ) آپ نے کھایا . . . میں : ( نا میں سر ہلاتے ہوئے ) نازی : کیاآ . . . چلو آپ بھی موح کھولو میں کھلاتی ہوں ( مسکرا کر ) اسکے بَعْد ایسی ہی ہم نے اک دوسرے کو كھانا کھلایا اور اک دوسرے کو پیار سے دیکھتے رہے . میں : ویسی تم حنا سے کس بات پر غصہ تھی . نازی : جانتے ہو اس کمینی نے کونسے کپڑے پہنے تھے میرے چائے گرانے كے بَعْد . میں : میرے کپڑے پہنے تھے تو کیا ہوا . نازی : نا صرف آپ کے کپڑے پہنے تھے بلکہ اس نے وہ کپڑے پہنے تھے جو میں نے خود آپ کے لیے بڑے پیار سے سییلی تھے . اسلئے مجھے غصہ آ رہا تھا . میں : کوئی بات نہیں اسکو کپڑوں سے خوش ہو لینے دو تمھارے پاس تو تمہارا نییر خود ہے فر کسی سے جلن کیسی . . . . ہے نا نازی : ( خوش ہو کر مجھے گلے سے لگاتے ہوئے ) اب غصہ نہیں کروں گی . میں : چلو اب جلدی سے كھانا ختم کرو فر سونا بھی ہے بہت رات ہو گئی ہے نا . نازی : اک بات بولو برا نہیں مانو گے تو . . . . میں : ہاں بولو نازی : وہ جب آپکے ساتھ ہوتی ہے تو مجھے عیسی لگتا ہے جیسے آپ مجھ سے دور ہو گئے ہو . میں : کسی سے بات کر لینے کا مطلب یہ نہیں ہوتا نازی کی میں اسکا ہوں . . . میں صرف اور صرف اِس گھر کا ہوں بس مجھے اتنا پتہ ہے . نازی : مطلب صرف میرے ہو . ( مسکراتے ہوئے ) میں : اچھا اب دور ہوکے بیٹھو فضا دیکھ لے گی تو کیا سوچیگی . نازی : ( دور ہوکے بیٹھ طے ہوئے ) یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں . . . ہا ہا ہا ہا میں : اسلئے کہتا ہوں تم میں ابھی بچپنا ہے نازی : ( نظری جھنکار مسکراتے ہوئے ) میں : اچھا اب میں چلتا ہوں ٹھیک ہے بہت رات ہو گئی ہے تم بھی سو جاؤ اب . نازی : میرے والے کمرے میں جاکے سونا آج ٹھیک ہے . میں : ہہمم اچھا . . . ( تھالی لے کے کھڑا ہوتے ہوئے ) نازی : ارے یہ آپ کیوں لے کے جا رہے ہو چودو میں لے جائوں گی ( تھالی مجھ سے لیتے ہوئے ) میں : ٹھیک ہے اسکے بَعْد میں کھڑا ہوا اور جیسے ہی کمرے سے باہر جانے لگا نازی کی آواز میرے کانوں سے تاکرایی جس نے میرے قدم روک دیئے . نازی : آج موح میٹھا نہیں کرنا ( مسکرا کر ) میں : کرنا تو ہے لیکن . . . . فضا دیکھ سکتی ہے اسلئے ابھی رہنے دیتے ہیں ( مسکرا کر ) نازی : سوچ لو . . . . ایسا موقع فر نہیں دونگی ( مسکراتے ہوئے ) میں : کوئی بات نہیں مجھے کچھ کرنے كے لیے موقی کی ضرورت نہیں صرف مرضی ہونی چاہئیے . اتنے میں فضا کی آواز آ گئی تو ہم دونوں چُپ ہو گئے . . . . فضا : ( کمرے میں آتے ہوئے ) ارے نازی نے كھانا کھایا یا نہیں . میں : کھا لیا ( مسکراتے ہوئے ) فضا : کیا بات ہے جب میں نے بولا تھا تو نہیں کھایا تم آئے تو کھا بھی لیا . نازی : عیسی کچھ نہیں ہے بھابی وہ بس یہ ضد کرکے بیٹھ گئے تو كھانا پڑا . فضا : اچھا اب چلو راسویی میں تھوڑا کام کروا دو میرے ساتھ فر سونا بھی ہے . نازی : اچھا ابھی آئی بھابی . میں : میرے لیے اور کوئی حکم سرکا ر . . . . ( مسکراتے ہوئے ) فضا : جی . . . آپ جائیے اور جاکے اپنے نئے کمرے میں سو جائیے آرام سے ( مسکرا کر ) میں : جو حکم . . . . آج بابا كے پاس نہیں سونا کیا . فضا : نہیں وہ بابا کہہ رہے تھے کی اگر نییر دوسرے کمرے میں سونا چاھے تو سلا دینا نہیں تو یہاں بھی ( بابا كے کمرے میں ) سوییجا تو مجھے کوئی اعتراض نہیں . میں : تو میں کہا سو فر . . . فضا : جہاں تم چاھتے ہو سو جاؤ آج تو سارا دن میں اکیلی ہی لگی رہی نازی بھی تمھارے ساتھ شہر چلی گئی تھی تو مجھے بھی بہت نیند آ رہی ہے . نازی : تو بھابی آپ سو جاؤ نا ویسی بھی بابا نے جادا کام کرنے سے منع کیا ہے نا آپکو . فضا : تو فر گھر کا باقی بچہ ہوا کام کون کرے گا . نازی : میں ہوں نا سنبھل لونگی آپ جاؤ جاکے سو جاؤ . ( مسکراتے ہوئے ) فضا : اچھا . . . ٹھیک ہے ( مسکراتے ہوئے ) نازی سونے سے پہلے یاد سے نییر کو دودھ گرم کرکے دے دینا میں نے اس میں داوائی ڈال ڈی ہے . نازی : اچھا بھابی . اسکے بَعْد نازی راسویی میں چلی گئی اور فضا اپنا بستر کرنے لگی میں بھی اپنے نئے کمرے میں جاکے لیٹ گیا اور سونے کی کوشش کرنے لگا اور دن بھر ہوئے سارے کامو كے بڑے میں سوچنے لگا . تھوڑی دیر میں ایسی ہی بستر پر لیتا کرواتے بدلتا رہا لیکن مجھے نیند نہیں آ رہی تھی . کچھ دیر بَعْد نازی بھی دودھ کا لے کے میرے کمرے میں آ گئی . نازی : سو گئے کیا . میں : نہیں جاگ رہا ہوں کیا ہوا نازی : یہ داوائی والا دودھ لائی ہوں آپ کے لیے پی لو . میں نے بنا کچھ بولے دودھ پکڑ لیا اور پینے لگا . اور نازی ایسی ہی میرے پاس کھڑی مجھے دیکھتی رہی اور مسکراتی رہی . میں : لوح جی یہ دودھ تو ہو گیا اب آپ کے دودھ کی باری ہے . نازی : ( چونکتے ہوئے ) میرا کونسا دودھ میں : پاس آؤ نازی : ( نا میں سر ہلاتے ہوئے ) اب کوئی شرارت مت کرنا بھابی جاگ نا جائے . میں : جاکے دیکھ کر آؤ اگر وہ سو گئی تو واپس آ جانا . ( مسکراتے ہوئے ) نازی : میں ابھی دیکھ کر آئی ہوں بھابی تو کب کی سو گئی ہے میں نے جلدی سے نازی کی باجو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا جسے وہ خود کو سنبھال نہیں سکی اور میرے اوپر آکے گیری جس کو میں نے اپنی دونوں باجو میں تھام لیے . نازی : کیا کر رہے ہو چودو مجھے بھابی جاگ جائے گی . میں : نہیں جاجیجی ابھی تم خود ہی تو دیکھ کر آئی ہو . نازی : فر بھی جاگ گئی تو . . . مجھے ڈر لگتا ہے چودو نا میں : اچھا موح میٹھا کرواؤ فر جانے دونگا . نازی : لیکن صرف اک ٹھیک ہے . میں : ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) ہحمم . . . نازی میرے اوپر لیتی ہوئی تھی اور اس نے بھی اپنی سیحماتی میں آنکھیں بند کر لی فر میں نے اسکے چہرے کو اپنے ہاتھ سے پکڑا اور اپنے ہوتھ اسکے نازک اور رسیلے ہوتھو پر رکھ دیئے . میرے ہوتھ اسکے ہوتھو كے ساتھ ملتے ہی اس نے اپنا پُورا بدن ڈھیلا چھوڑ دیا جسے میں نے اسکے ہوتھ چُوستے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ اسکی کمر پر رکھ دیئے اور سختی سے اسکو اپنی باجو میں قید کر لیا اب میں کبھی اسکے نیچے والا ہوتھ چوس رہا تھا کبھی اسکے اوپر والا ہوتھ چوس رہا تھا وہ بس اپنی آنکھیں بند کیے ہوئے میرے اوپر لیتی ہوئی تھی اور اپنے دونوں ہاتھ میری چھاتی پر رکھے ہوئے تھے . مجھے اسکا نازک اور نرم بدن مدھوش سا کرتا جا رہا تھا جسے میں خود پر قابو نہیں کر پا رہا تھا اسلئے میں نے اسکے ہوتھ چُوستے ہوئے ہی اسکو پالتایا اور بستر کی دوسری طرف گرا دیا اور خود اسکے اوپر آ گیا اسکی سانس لگاتار تیز چل رہی تھی اور اب وہ بھی میری پیٹھ پر اپنے ہاتھ فیر رہی تھی . میں حنا كے ساتھ ہوئی چُدائی سے ویسے ہی گرم تھا اس پر مجھے نازی جیسا نازک بدن فر سے مل گیا اسلئے میں بہت جلدی گرم ہو گیا . اب میرا اک ہاتھ نازی کی گردن پر غم رہا تھا اور دوسرا ہاتھ اسکے سر كے نیچے تھا جسے میں نے اسکے سر کو اوپر اٹھا رکھا تھا ٹاکی ہوتھ چُوسنے میں آسانی رہے . نیچے میرا لنڈ بھی پوری طرح کھڑا ہو چکا تھا جو نازی کی ٹانگوں كے بیچ میں پھنسا ہوا تھا اب میں نے اپنے اک ہاتھ جو اسکی گردن پر تھا اسے نیچے لے جانا شروع کیا اور اسکے اک ممے کو پکڑ لیا جسے نازی نے فوراً اپنے ہاتھ سے جھٹک دیا میں نے فر سے اپنا ہاتھ اوپر لے جا کر دوبارہ اسکے ممے کو تھام لیا اور دبانے لگا جسے اک باڑ فر نازی نے پکڑ لیا اور نیچے کو جھٹک دیا ساتھ ہی آنکھیں کھول کر میری آنکھوں میں دیکھا اور نا میں اشارہ کیا لیکن میں اس وقت اتنا گرم ہو گیا تھا کی کچھ بھی سمجھنے کی حالت میں نہیں تھا اسلئے میں نے اک باڑ فر نازی كے ممے کو سختی سے تھام لیا اِس باڑ نازی نے کچھ نہیں کھا اور میری آنكھوں میں دیکھ کر مجھے نا اشارہ کرتی رہی . فر میں نے اپنا ہاتھ نیچے لے جا کر نازی کی قمیض زرا اوپر کی اور اپنا ہاتھ اندر ڈالنے کی کوشش کرنا لگا جسے نازی نے اپنے ہوتھ میرے ہوتھو سے الگ کیے اور اپنے دونوں ہاتھوں سے میرا ہاتھ پکڑ لیا . نازی : مت کرو نا میں : کچھ نہیں ہوتا میرا دِل ہے . اسکے بَعْد میں نے نازی كے دونوں ہاتھوں کو اپنے اک ہاتھ سے پکڑ لیا اور اوپر کر دیا ساتھ ہی دوسرا ہاتھ نیچے لیجاکار زبردستی اسکی قمیض میں ڈال دیا اور اسکے پیٹ پر فیرنی لگا ساتھ ہی دوبارہ اسکے ہوتھ چُوسنے لگا . میرا ہاتھ جیسے ہی اسکی برا تک پوحونچا اس نے اپنا اک ہاتھ چھڑا لیا اور میرے موح پر تھپڑ مار دیا ساتھ ہی ڈر کر اپنا اک ہاتھ اپنے موح پر رکھ لیا . نازی : نییر معاف کر دو میں نے جان-بوجحکار نہیں مارا وہ غلطی سے ہاتھ اٹھ گیا . میں : ( نازی كے اوپر سے ہٹ طے ہوئے ) جاؤ یہاں سے . . . نازی : نییر معاف کر دو میں نے جان بوجحکار نہیں مارا . میں : ( غصے میں ) میں نے بولا نا جاؤ یہاں سے . اتنا بولنے كے ساتھ ہی میں نے اسکی باجو پکڑی اور اپنے بستر سے اسکو کھڑا کر دیا . نازی : نییر جادا جور سے لگا کیا . میں : جاؤ یہاں سے غلطی میری تھی جو تم پر اپنا حق جاتا رہا تھا . نازی : ( روٹ ہوئے ) عیسی مت بولو نییر غلطی تو مجھ سے ہو گئی معاف کر دو . ( میرا ہاتھ پاکدتی ہوئے ) مجھے وہاں کس نے کبھی چھوا نہیں اسلئے غلطی سے ہاتھ اٹھا گیا . اب کچھ بھی کر لو میں کچھ نہیں کہونگی . میں : مجھے بہت نیند آئی ہے تم جاؤ اور جاکے سو جاؤ مجھے اب کچھ نہیں کرنا جو ملا اتنا کافی ہے . ( اپنا ہاتھ نازی كے ہاتھ سے جحاتاکتی ہوئے ) اسکے بَعْد میں واپس اپنے بستر پر لیٹ گیا اور نازی روتی ہوئی کمرے سے چلی گئی . مجھے اس وقت سچ میں بہت غصہ آ گیا تھا کیونکی میں نے نازی سے یسی-کوچ کی کبھی امید نہیں کی تھی لیکن اسکے اِس طرح مجھ پر ہاتھ اٹھانے سے جانے کیوں مجھے بہت برا لگا . کچھ دیر ایسی ہی میں بستر پر لیتا رہا اور فر تھوڑی ہی دیر میں مجھے نیند آ گئی لیکن 1 / 2 رات کو اچانک مجھے عجیب بے چینی سی محسوس ہونے لگی اور میری جاگ کھل گئی میرا پُورا بدن ہسینے سے بھیگا پڑا تھا میرے سر میں بہت تیز دَرْد ہو رہا تھا جیسے ابھی پھٹ جائیگا اور مجھے بہت تیز چکر بھی آ رہے تھے عیسی لگ رہا تھا جیسے پُورا کمرا گھوم رہا ہو . میرا پُورا بدن ٹوٹنے لگا میں ہمت کرکے اٹھا لادخاداتی ہوئے پاس پڑے ماتکی سے تھوڑا سا پانی پی لیا اور کچھ اپنے سر میں بھی ڈال لیا تھوڑی دیر باڑ مجھے اک الٹی آئی تو تھوڑا سکون آیا اسکے بَعْد میں آکے فر سے بستر پر لیٹ گیا . پانی پینے سے مجھے کچھ سکون ملا اور کچھ ہی دیر میں مجھے فر سے نیند آ گئی . صبح کسی كے ہلانے سے میری جاگ کھلی تو دیکھا فضا مجھے اٹھا رہی تھی میرے سر میں اب بھی تیز بہت دَرْد تھا اور میرا پُورا بدن ٹوٹ رہا تھا مجھ سے آنکھیں کھولی نہیں جا رہی تھی اور اُن میں تیز جلن ہو رہی تھی . جب میں نے آنکھیں کھولی تو بابا نازی اور فضا میرے پاس ہی کھڑے تھے . وہ تینوں بَدی فکار-ماندی سے مجھے دیکھ رہے تھے . فضا : نییر تمہیں تو بہت تیز بخار ہے میں : پتہ نہیں ہو گیا ھوگا میرے سر میں بھی بہت دَرْد ہو رہا ہے . فضا : یہ لو داوائی کھا لو ٹھیک ہو جاؤگے . نازی : میں سر دبا دوں . میں : ضرورت نہیں ہے . بابا : آج بیٹا کھیت نہیں جانا اور گھر پر ہی آرام کرنا . میں : جی بابا . اسکے بَعْد میں نے داوائی کھائی اور سب نے مجھے کھیت نہیں جانے دیا اور گھر میں ہی آرام کرنے کا بول دیا . اسلئے اب میں باہر نہیں جا سکتا تھا اور دن بھر گھر میں اپنے کمرے میں ہی بیٹھا رہا . کچھ دیر فضا میرا سر اپنی گاڈ میں رکھا کر دباتی رہی جسے مجھے کافی آرام مل رہا تھا فر جب مجھے تھوڑا سکون ملا تو میں نے فضا کو روک دیا اور وہ بھی باہر چلی گئی اور گھر كے باقی کامو میں لگ گئی . نازی بار بار میرے سامنے آ رہی تھی اور اپنے کان پکڑ کر معافی مانگ رہی تھی لیکن رات کا واقییا یاد آتے ہی میرے چہرے پر اسکے لیے غصہ آ جاتا اور میں اسکی طرف دیکھتا بھی نہیں تھا . دوپیحار کو حنا مجھ سے ملنے گھر آ گئی جسے فضا نے سیدھا میرے کمرے میں ہی بھیج دیا . حنا : کیا ہوا نییر آج کھیت نہیں گئے آپ میں تو آپکو داوائی دینے کھیت گئی تھی . میں : کچھ نہیں وہ زرا بخار آ گیا تھا اسلئے . . . حنا : کیا . . . . اور آپ نے مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا . میں : ارے اس میں بتانے جیسا کیا تھا ہلکا سا بخار تھا شام تک ٹھیک ہو جائیگا . حنا : داوائی لی ؟ میں : ہاں صبح فضا نے دے ڈی تھی . حنا : اچھا آپ آرام کرو شام کو میں فر آونجی . ( میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے ) اسکے بَعْد حنا چلی گئی اور میں اسکو کمرے سے باہر نکلتے ہوئے دیکھتا رہا . سارا دن ایسی ہی کمرے میں گزر گیا اور شام کو حنا اپنے وعدے كے مطابق فر آ گئی لیکن اِس بار اسکے ساتھ اک ڈاکٹر بھی تھا . کچھ دیر وہ لوگ باہر بابا كے پاس بیٹھے رہے اور فر ڈاکٹر ، حینی ، اور فضا کمرے میں آ گئے . یہ وہی ڈاکٹر تھا جسکے پاس حنا مجھے شہر میں دکھانے كے لائی لے کے گئی تھی جس کو میں نے دیکھتے ہی پہچان لیا . ڈاکٹر نے آتے ہی پہلے میرا چیک-وپ کیا اور فر مجھ ڈی ہوئی داوائی كے بڑے میں پوچحنی لگا جو ڈاکٹر رضوانہ نے مجھے روز کھلانے كے لیے ڈی تھی . ڈاکٹر : آپکو یہ داواییان کس نے ڈی ہے . فضا : جی شہر سے ان کے اک دوست آئے تھے ان کے ساتھ اک ڈاکٹر آئی تھی اس نے ڈی ہے . . . کیوں کیا ہوا . ڈاکٹر : آپ جانتی ہے یہ داوائی کس کم كے لیے ہیں . فضا : ہاں جی ڈاکٹر نے انکی یادداشت كے لیے انہیں یہ داواییان ڈی ہے یہ ہر بات بھول جاتے ہیں اسلئے . . . . ڈاکٹر : ( مسکراتے ہوئے ) یہ داواییان یادداشت واپس لین كے لیے نہیں بلکہ دماغ کی تمام یادداشت کو ختم کرنے كے لیے ہے . فضا : ( چونکتے ہوئے ) کیا . . . . . ڈاکٹر : یہ تو اچھا ہوا کی ان کے بلڈ میں شراب اتنی جادا ہے جس وجہ سے جب انہوں نے داوائی کھائی تو داوائی ان کو سوٹ نہیں ہوئی اور انکی طبیعت خراب ہو گئی نہیں تو یہ اگر روز ایسی ہی یہ داوائی لیتے رہتے تو ان کو جو اب تھوڑا بہت یاد ہے وہ بھی صاف ہو جانا تھا . یہ بات ہم سب كے لیے کسی جھٹکے سے کم نہیں تھی . سب کے دماغ میں اک ہی بات تھی کی کیوں ڈاکٹر رضوانہ نے مجھے غلط داوائی ڈی . آخر کیوں خان جیسا نیق اور اماندار انسان میرے ساتھ عیسی کر رہا ہے . اب میری سمجھ میں آ رہا تھا کی رات کو مجھے اتنی بیچینی کیوں ہوئی آخر کیوں میرے سر میں اتنا جبردست دَرْد ہوا یہ سب ڈاکٹر رضوانہ کی ڈی ہوئی داوائی کا ہی کمال تھا . ابھی میں اسی بات پر سوچ ہی رہا تھا کی حنا کی آواز آئی . حنا : یہ کونسے بیفکوف ڈاکٹر كے پس لے کے گئے تھے آپ لوگ نییر کو اگر انہیں کچھ ہو جاتا تو کبھی سوچا ہے . فضا : ( پریشان ہوتے ہوئے ) مجھے تو خود کچھ سمجھ نہیں آ رہا نہیں تو انکا برا تو ہم سوچ بھی نہیں سکتے . ڈاکٹر : کوئی بات نہیں ابھی تو صرف اک ہی ڈوس اندر گئی تھی اسلئے جادا کچھ اثر نہیں ہوا . یہ میں آپکو کچھ داوائی لکھ کر دیتا ہوں آپ لوگ لے آئی اور انہیں دینا شروع کر دیجیئے اور باقی یہ والی داوائی انہیں دوبارہ مت دینا . حنا : ( داوائی کی پرچی پکڑ کر ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) کوئی بات نہیں میں کسی کو بھیج کر ابھی شہر سے منگوا لیتی ہوں . فضا : ہمیں معاف کر دو نییر ہمیں نہیں پتہ تھا کی اس خابییز نے تم کو غلط داوائی ڈی ہے ہم تو اسے نیق انسان سمجھ کر بھروسہ کر بیٹھے . میں : کوئی بات نہیں اس میں آپکا کیا قصور ہے . اب جواب تو خان کو دینا ہے . فضا : اب گھر میں گھوسکار تو دکھائے کمینہ تانجیی توڑ دونگی اسکی . میں : کوئی کچھ نہیں بولیگا اسکو . . . ابھی مجھے یہ بات جاننے دو کی اس نے عیسی کیوں کیا . فر ڈاکٹر نے مجھے اک انجیکشن لگایا جسے کچھ ہی دیر میں میرا بخار بھی اُتَر گیا اسکے بَعْد حنا نے بھی اپنے ڈرائیور کو ڈاکٹر کو شہر چودنے كے لیے بھیج دیا ساتھ ہی وہ داوائی کی پرچی بھی اسکو دے ڈی . جب تک ڈرائیور نہیں آیا حنا اور فضا میرے پاس ہی بیٹھی رہی لیکن نازی کمرے كے باہر ہی کھڑی رہی اسکو سب اندر بلاتے رہے لیکن وہ اندر نہیں آئی بس دروازے پر کھڑی مجھے دیکھتی رہی . میرے دماغ میں بس انسپیکٹر خان اور ڈاکٹر رضوانہ کا ہی خیال تھا میرے دماغ میں اِس وقت اک ساتھ کئی سوال چل رہے تھے . فر اچانک اِس ڈاکٹر کی کہی ہوئی بات یاد آئی کی مجھے میرے خون میں ملی شراب نے بچایا . لیکن میں تو شراب پیتا ہی نہیں فر میرے خون میں شراب کیسے آئی . ایسی ہی کئی سوال تھے جنکے جواب مجھے چاہئیے تھے مجھے صرف اک ہی انسان پتہ تھا جو میری بیتی ہوئی زندگی كے بڑے میں جانتا تھا جسے میں اپنے بڑے میں جان سکتا تھا کی میں کون ہوں اور میری اصلیت کیا ہے اسلئے میں نے سوچ لیا تھا کی اب انسپیکٹر خان سے ہی اپنی اصلیت پتہ کرونگا . حنا اور فضا میرے پاس بیٹھی رہی اور میرے بڑے میں ہی باتیں کرتی رہی لیکن میں بس اپنے ہی خیالوں میں گم تھا اور آنے والے وقت كے بڑے میں سوچ رہا تھا . جانے کب مجھے نیند آ گئی اور میں سو گیا مجھے پتہ ہی نہیں چلا . رات کو جب میری جاگ کھلی تو میں اُٹھ کر بیٹھ گیا میرے پاس ہی کرسی پر فضا بیتحی-بیتحی ہی سو گئی تھی میں اٹھ کر کھڑا ہوا تو میں نے خود کو بہت تازہ محسوس کیا جیسے مجھے کچھ ہوا ہی نہیں . میں نے فضا کو اٹھانا سہی نہیں سمجھا اسلئے اسکو دھیرے سے سیدھا کرکے کرسی پر بٹھایا اور اک باجو اسکی گردن میں ڈالی اور دوسری اسکی ٹانگوں كے نیچے سے لیجاکار اسے گاڈ میں اٹھا لیا اور بیڈ پر اچھے سے لٹا دیا وہ اب بھی نیند میں تھی اور سوئی ہوئی بہت معصوم لگ رہی تھی . اسکے چہرے پر آنے والی لت اسکی خوبصورتی کو اور نکھار رہی تھی میں نے اسکے خوبصورت چہرے سے وہ بل کی لت کو انگلی سے سائڈ پر کیا اور اسکے معصوم چہرے کو دیکھنے لگا اور دن بھر ہوئے سارے حالات كے بڑے میں سوچنے لگا کی کیسے فضا نے سارا دن میری خدمت کی . وہ شاید ٹھیک ہی کہتی تھی کی دُنیا كے لیے اسکا شوہر قاسم تھا لیکن اصل میں وہ مجھے اپنا شوہر مانتی تھی . اک وافادار بِیوِی کی طرح ہمیشہ میرا اتنا خیال رکھتی تھی . میں نے ہلکی سے اسکے ہوتھو کو چوم لیا جسے اسکی آنکھیں کھل گئی اور وہ مسکرا کر مجھے دیکھنے لگی . فضا : آپ اٹھ گئے جان . . . اب کیسا محسوس کر رہے ہیں . میں : بہت اچھا محسوس کر رہا ہوں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں مجھے . لیکن یار تم کیوں جاگ گئی سو جاؤ ابھی بہت رات باقی ہے . فضا : میں تو آپ کے پاس ہی بیٹھی تھی . . . . جان پتہ ہی نہیں چلا کب آنکھ لگ گئی . میں : کوئی بات نہیں اب تم آرام کرو . فضا : نہیں آپ یہاں سو جاؤ میں اب اس کمرے میں جاکے سو جائوں گی . میں : کیوں یہاں سو جوگی تو کچھ ہو جائیگا . فضا : ھوگا تو کچھ نہیں پر ابھی آپکو آرام کی ضرورت ہے . میں : تمھارے اوپر لیٹ جاتا ہوں نا اسے جادا آرام تو دُنیا میں نہیں ھوگا . فضا : ( میرے دونوں گال پکڑ کر کھینچتے ہوئے ) ٹھیک ہوتے ہی بدمعاشی شروع کردی ( مسکراتے ہوئے ) اب آپ اوپر لیٹنا تو بھول ہی جائیے کچھ وقت كے لیے . میں : کیوں . . . . . فضا : وہ اسلئے کیونکی اب میرے ساتھ کوئی اور بھی ہے . . . میں نہیں چاہتی میرے چھوٹے نییر کو آپکی کسی شرارت کی وجہ سے تکلیف ہو . ( مسکراتے ہوئے ) لیکن ہاں ساتھ ضرور لیٹ سکتی ہوں . میں : اچھا مطلب اب پیار کرنا بھی بند . . . ( رونے جیسا موح بناتے ہوئے ) فضا : صرف کچھ ماحینو كے لیے اسکے بَعْد جیسے چاھے پیار کر لینا . ( میرے ہوتھ چُومتے ہوئے ) اسکے بَعْد ہم ایسی ہی کچھ دیر باتیں کرتے رہے اور فر فضا اپنے کمرے میں جاکے سو گئی اور میں بھی واپس اپنے بستر پر آکے لیٹ گیا اور کچھ دیر میں داوائی كے نشے کی وجہ سے دوبارہ سو گیا . میرے 2-3 دن ایسی ہی گزرے بابا نے مجھے کھیت پر بھی نہیں جانے دیا اور میں سارا دن گھر پر ہی بیٹھا رہتا . لیکن نازی سے اب میں دوری بناکی رکھنے لگا تھا وہ ہر وقت مجھ سے بات کرنے کی کوشش کرتی لیکن میں ہر باڑ اسکی بات کو ان سنا کر دیتا . ہاں اتنا ضرور تھا کی روز شام کو حنا میرا پتہ لینے آتی اور میرے ساتھ تھوڑا وقت گزرتی میری وجہ سے وہ نئی گاڑی لینے بھی نہیں گئی کیونکی وہ چاہتی تھی کی میں ٹھیک ہوکے اسکے ساتھ شہر چل سکو . جتنے دن میں کھیت نہیں گیا اتنا دن حنا نے اپنے ملازموں کو میرے کھیت میں لگاے رکھا ٹاکی میری جایر-موجودجی میں وہ لوگ میرے کھیت کا خیال رکھے . مجھے اب گھر میں پڑے ہوئے 3 دن ہو گئے تھے اور فر اگلی صبح ڈاکٹر رضوانہ آ گئی میرا چیک-وپ کرنے كے لیے . اس وقت بابا سیر کرنے گئے ہوئے تھے اسلئے فضا نے اور نازی نے آتے ہی اسکو سنانی شروع کردی . میں بھی اس وقت سو رہا تھا لیکن فضا اور نازی کی اونچی آواز سے میری جاگ کھل گئی اور میں اُٹھ کر اپنے کمرے سے باہر چلا گیا تو وہاں فضا اور نازی ڈاکٹر رضوانہ سے جحاجاد رہی تھی اور رضوانہ نظری جھنکار سب سن رہی تھی . میں : کیا ہوا شور کیوں مچا رکھا ہے . ( آنکھیں ملتے ہوئے ) فضا : تم اندر جاؤ نییر مجھے بات کرنے دو . ( غصے میں ) رضوانہ : اب آپ کیسے ہیں . میں : ارے ڈاکٹر آپ . . . جی میں اک دم ٹھیک ہوں . ( مسکراتے ہوئے ) فضا : یہ جھوٹی ہم-داردی اگر آپ نا دکھائے تو ہی اچھا ہے اگر آپکو نییر کی اتنی ہی فکر ہوتی تو آپ اسکو کبھی غلط داوائی نا دیتی . ہم نے آپ پر اور انسپیکٹر خان پر اتنا بھروسہ کیا اور آپ نے ہماری ساتھ کتنا فریب کیا . کبھی آپ نے سوچا اگر آپکی غلط داوائی سے ان کو کچھ ہو جاتا تو . . . . رضوانہ : جی کچھ نہیں ہوتا ان کو . . . . آپ لوگ اک باڑ میری بات سن لیجیے . نازی : ہمیں اب آپکی کوئی بات نہیں سنی مہربانی کرکے آپ یہاں سے چلی جاؤ . رضوانہ : ( پریشان ہوکے اپنے پرس سے موبائل نکلتے ہوئے ) اچھا ٹھیک ہے میں چلی جائوں گی لیکن اک باڑ میری بات سن لیجیے پلیز . نازی : اب کیا جھوٹی کہانی سنانی ہے . رضوانہ : ( فون پر نمبر دیل کرتے ہوئے ) بس 2 منٹ دیجیئے مجھے . رضوانہ : ( فون پر ) کہا ہو تم . . . . . جلدی سے شیرا كے گھر آؤ . . . . مجھے نئی پتہ . . . . ہاں ٹھیک ہے . . . . اچھا . . . . . او کے ( فون رکھتے ہوئے ) فضا ، نازی اور میں ہم تینوں رضوانہ كے جواب کا انتظار کر رہے تھے اور ساوالیا نظروں سے اسکی طرف دیکھ رہے تھے . رضوانہ : دیکھیے میں نے کوئی بھی کام غلط نہیں کیا میں نے وہی کیا جو مجھے انسپیکٹر خان نے کہا . نییر جیسا اب ہے ویسا ہی سڑی عمر رہے اسلئے اسکی پرانی یادداشت میتنی ضروری تھی کیونکی اگر اسکی یاداشات واپس آتی ہے تو فر یہ آج جیسا نہیں رہیگا ممکن ہے فر یہ نییر بھی نا رہے اور فر سے شیرا بن جائے . کیونکی اسکی پرانی زندگی میں یہ اک بہت بڑا اپرادحی ہے . خان کو بھی اسکی ایسی ہی ضرورت ہے وہ پُرانے شیرا پر بھروسہ نہیں کر سکتا لیکن نییر پر کر سکتا ہے کیونکی وہ اسکو اک ایسی مشن پر بھیجنا چاہتا ہے جہاں یہ جائیگا شیرا بن کر لیکن ھوگا نییر ہی . فضا : میری تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا آپ کیا کہہ رہی ہے . ( پریشان ہوتے ہوئے ) رضوانہ : نییر آج اک نیق-دیل انسان ہے اس میں کوئی شاق نہیں میں نے ہی اس کا لائی دیتیکتور ٹیسٹ کیا تھا اس میں اس نے مجھے وہی سب بتایا جو آپ لوگوں نے خان کو بتایا تھا . لیکن اس کے دماغ کی اسکیننگ کرکے مجھے پتہ چلا کی اسکی یادداشت واپس آ سکتی ہے اگر اسکو اسکی پرانی زندگی یاد کاروائی جائے تو اور آج بھی اس کے دماغ كے صرف اک حصے سے یادداشت ختم ہوئی ہے اگر اسکو اسکی پرانی زندگی میں واپس لے کے جایا جائے تو اسکی وہ یادداشت واپس آ سکتی ہے اور اسی وجہ سے آج بھی اسکو اپنی پرانی زندگی کی کافی چیجی آج ہی یاد ہے اور اس کے دماغ كے انٹرنل میموری میں اسٹور ہے اسلئے آج بھی یہ لادایی کرنا ، گاڑی چلانا ، حاتحیار چلانا اور باقی کام جو یہ بچپن سے کرتا آیا ہے اسکو آج بھی یاد ہے اور آج بھی یہ ویسی ہی بہت مہارت كے ساتھ سب کام کر لیتا ہے اگر یہ وہاں جاکے شیرا بن گیا تو فر یہ ہماری کسی کا کام نہیں رہیگا . فضا : ان کو بھیجنا کہا ہے ( ساوالییا نظروں سے ) رضوانہ : وہی تو میں بتا رہی ہوں کی خان اسکو اس کے گینگ تک پوحونچا دیگا جہاں یہ خان کا انفورمر بن کر اس کے گینگ کی خبر ہم تک پوحونچاییجا . اسے خان اس کے سارے گینگ کو ختم کر سکتا ہے . ابھی رضوانہ بات ہی کر رہی تھی کی گھر كے سامنے اک جیپ آکے رکی اور سب لوگ اک ساتھ دروازے كے باہر دیکھنے لگے . جیپ میں سے خان اترا اور سیدھا گھر كے اندر آ گیا فضا اور نازی اب بھی اسے غصے سے دیکھ رہی تھی . رضوانہ : اچھا ہوا تم آ گئے ان کو داوائی كے اور مشن كے بڑے میں بتاؤ . ( غصے سے ) خان : معاف کیجیے میں نے آپ سے کچھ باتیں راز رکھی لیکن میں نے آپ کے بابا کو سب بتا دیا تھا اور انکی اجاجت سے ہی اسکو یادداشت کی داوائی دلوائی تھی . فضا : ( حیرانی سے ) بابا جانتے تھے غلط داوائی كے بڑے میں . خان : جی جانتے تھے . . . میں نے ہی ان کو منع کیا تھا کی ابھی کسی سے کچھ نا کہے . نازی : آنے دو بابا کو بھی ان سے تو ہم بات کریں گی پہلے تم یہ بتاؤ یہ ڈوکتورنی کیا کہہ رہی ہے نییر كے بڑے میں ان کو کہا بھیجنا ہے تم نے . خان : میں نے آپ سے پہلے ہی کہا تھا کی آج نییر کچھ بھی ہے لیکن اس کے پُرانے پاپ اسکو اتنی آسانی سے نہیں چودیں گے اسکو کانوں کی مدد کرنی پڑےگی تبھی یہ آزاد ہو سکتا ہے . میں : ( جو اتنی دیر سے خاموش سب کی باتیں سن رہا تھا ) کیا کرنا ھوگا مجھے . خان : ہماری مدد کرنی ھوگی تمھارے گینگ کا صفایا کرنے میں . میں : گینگ کونسا گینگ خان : ( اپنے کوٹ کا بٹن بند کرتے ہوئے ) یہ لوگ ہر برا کام کرتے ہیں دروججس بیچنی سے لے کے حاتحیار بچنے تک ہر گناہ میں انکا نام ہے . ان کے نام ان-جیننات کیس ہیں لیکن کوئی ثبوت نہیں ہے اسلئے ہمیشہ بڑی ہو جاتے ہیں . میں : تو آپ مجھ سے کیا چاھتے ہیں . خان : مجھے ثبوت چاہئیے جو مجھے صرف تم ہی لیک دے سکتے ہو . میں : میں ہی کیوں اپنے پاس تو اتنے لوگ ہے کسی کو بھی شامل کر دیجیئے ان لوگوں میں . . . . خان : کیونکی تم ان کے پُرانے آدمی ہو تم پر وہ لوگ آسانی سے بھروسہ کر لینگے نئے آدمی کو وہ اپنے پاس تک نہیں آنے دیتے . تم اپنی پرانی زندگی میں شیخ صاحب یا تمھارے لیے بابا كے ریگھت-حاند تھے اسلئے جہاں تم پوحونچ سکتے ہو میرا کوئی آدمی نہیں پوحونچ سکتا . میں : ٹھیک ہے لیکن اسکے لیے میری یادداشت ختم کرنے کی کیا ضرورت تھی میں تو ویسے بھی آپکا کام کرنے كے لیے تییار تھا . رضوانہ : کیونکی تمھارے دماغ کی سککانینج کرکے مجھے پتہ چلا کی اگر تم کو تمہاری پرانی زندگی میں لے کے جایا جائے تو تمہاری یادداشت لوٹ سکتی ہے فر نا تم نییر رہوگے نا ہی یہ تمھارے گھر والے . مطلب صاف ہے فر تم ان لوگوں میں جاکے ہماری مدد نہیں کروگے اپنی پرانی جینجادی میں ہی لوٹ جاؤگے بس اسلئے تمہاری پرانی یادداشت مٹا رہے تھے تاکہ تم کو تمھارے یہ گھر والے اور تمہاری نیقی یاد رہے . خان : سیدھی سی بات ہے ہم کو نییر پر اعتبار ہے شیرا پر نہیں . تبھی بابا بھی گھر آ گئے . . . . بابا : ارے خان صاحب آپ کب آئے . خان : ( ادب سے سلام کرتے ہوئے ) جی بس ابھی وہ تھوڑا مسئلہ ہو گیا تھا . نازی : بابا آپکو سب پتہ تھا تو ہم کو کیوں نہیں بتایا ( غصے سے ) بابا : بیٹی میں نے جو کیا اس کے بھلے كے لیے کیا میں نہیں چاہتا تھا کی یہ بھی قاسم کی طرح جیل میں اپنی زندگی گزارے . میں : بابا آپ نے جو کیا ٹھیک کیا لیکن مجھے اِس داوائی کی ضرورت نہیں ہے میں آپکا بیٹا ہوں اور آپکا ہی بیٹا رہوں گا اور یقین کیجیے میں خان کا ہر حالت میں ساتھ دونگا . خان : سوچ لو . . تم پر میں بہت بڑا داv کھیلنے جا رہا ہوں کچھ گڈبڈ ہوئی تو . . . . میں : ( بیچ میں بولتے ہوئے ) آپ کو مجھ پر بھروسہ کرنا ھوگا . خان : ٹھیک ہے . . . ویسی بھی میرے پاس اور کوئی رستہ ہے بھی نہیں . . . . میں : تو کب جانا ہے مجھے فر . . . خان : ارے اتنی جلدی بھی کیا ہے تم ابھی اِس لائق نہیں ہو کی وہاں تک بھیج دوں اسکے لیے پہلے تم کو ٹرینڈ کرنا پڑیگا ہر چیج سییخانی پڑےگی . رضوانہ : کیوں نا آپ کچھ دن كے لیے ہماری پاس شہر آ جائے وہاں ہم آپکو سب کچھ سیکھا بھی دینگے . فضا : کتنے دن کا کام ہے . ( پریشان ہوتے ہوئے ) خان : جادا نہیں بس کچھ ہی دن کی بات ہے . بابا : خان صاحب آپکو ہم سے اک وعدہ کرنا ھوگا خان : ( ساوالیا نظروں سے بابا کو دیکھتے ہوئے ) کیسا وعدہ جناب . . . بابا : یھی کی آپکا مشن پُورا ہو جانے كے بَعْد آپ سہی سلامت نییر کو واپس بھیج دینگے . اب یہ ہماری امانت ہے آپ کے پاس . خان : جی بی-فیکار رہیے میرا کام ہوتے ہی میں خود اسے آزاد کر دونگا اور یہاں تک کی پولیس ریکارڈز سے اس کا نام بھی مٹا دونگا . اسکے بَعْد پولیس ریکارڈز میں شیرا مر جائیگا اور فر یہ نییر بنکے اپنی ساری زندگی چین سے آپ سب كے ساتھ گزار سکتا ہے . بابا : ٹھیک ہے . خان : کچھ دن كے لیے نییر کو میرے پاس بھیج دیجیئے تاکہ اسکو میں اس کا کام سیکھا سکو اسکے بَعْد اسکو میں مشن پر بھیج دونگا . میں : میرے جانے كے بَعْد انکا خیال کون راخیجا . خان : تم انکی بالکل فکر نا کرو یہ اب میری جیممیداری ہے ان کو کسی چیج کی کمی نہیں ھوگی یہ میں وعدہ کرتا ہوں . میں : ٹھیک ہے فر میں کل ہی آ جاتا ہوں خان : جیسا تم ٹھیک سمجھو . اچھا جناب ( بابا کی طرف دیکھتے ہوئے ) اب اجاجت دیجیئے . بابا : اچھا خان صاحب . اسکے بَعْد ڈاکٹر رضوانہ اور خان دونوں چلے گئے اور میں دونوں کو جاتے ہوئے دیکھتا رہا . بابا اک دم شانت ہوکے کرسی پر بیٹھے تھے جیسے وہ کسی گہری سوچ میں ہو . میں : کیا ہوا بابا بابا : بیٹا مجھے سمجھ نہیں آ رہا کی تم کو ایسی خاتراناک جگہ پر بھیجو یا نہیں . میں : ارے بابا آپ فکر کیوں کرتے ہیں اپنے بیٹے پر بھروسہ رکھیے کچھ نہیں ھوگا . بابا : اک تم پر ہی تو بھروسہ ہے بیٹا . . . . لیکن تمہاری فکر بھی ہے کہی تم کو کچھ ہو گیا تو مجھ غریب كے پاس کیا بچیجا . میں : کچھ نہیں ھوگا بابا . فضا : بابا آپکو اتنے خطرناک کام كے لیے خان کو ہاں نہیں بولنا چاہئیے تھے جانے وہ لوگ کیسے ہونگے . بابا : شاید تم ٹھیک کہہ رہی ہو بیٹی لیکن میں بھی کیا کرتا اک بیٹا آگے ہی جیل میں بیٹھا ہے دوسرے کو بھی جیل کیسے بھیج دیتا اسلئے مجبور ہوکے میں نے ہاں کہا تھا . نازی : لیکن بابا اگر وہاں نییر کو کچھ ہو گیا تو . . . . فضا : ( بیچ میں بولتے ہوئے ) ایسی باتیں نا کرو نازی ویسی ہی مجھے ڈر لگ رہا ہے . میں : ارے آپ سب تو ایسی ہی گھبرا رہے ہو کچھ نہیں ھوگا . . . مجھے بس آپ لوگوں کی ہی فکر ہے . بابا : تم بس اپنا خیال رکھنا بیٹا . . . . . ہمیں اور کچھ نہیں چاہئیے ( میرے سر پر ہاتھ فیرتی ہوئے ) ایسی ہی ہم کافی دیر تک باتیں کرتے رہے شام کو حنا فر سے میرا پتہ لینے آ گئی میں نے اسے کچھ دن علاج کروانے کا بتا کر شہر جانے کا بہانہ بنا دیا جس پر پہلے وہ ناراض ہوئی لیکن فر وہ معاً گئی اور کچھ وقت اسکے ساتھ بیتانے كے بَعْد وہ بھی چلی گئی . اگلے دن وعدے كے مطابق صبح خان نے جیپ بحیجدی مجھے لینے كے لیے . بابا نازی اور فضا نے مجھے بہت ساری دعائیں اور بھیگی آنكھوں كے ساتھ رخصت کیا . میں تمام رستے نازی . بابا ، فضا اور حنا كے بڑے میں ہی سوچتا رہا اور ان کے ساتھ بتائے وقت كے بڑے میں ہی یاد کرتا رہا . مجھے نہیں پتہ تھا کی جہاں میں جا رہا ہوں وہاں سے واپس آؤنگا یا نہیں لیکن ان لوگوں كے ساتھ بتائے وقت نے میرے دِل میں ان لوگوں كے لیے بی-ینتیحا پیار پیدا کر دیا تھا . ویسی تو یہ لوگ میرے کوئی نہیں تھے لیکن فر بھی یہ مجھے میرے اپنوں سے بڑھ کر تھے اور آج میں جو کچھ بھی کرنے جا رہا تھا ان لوگوں كے لیے ہی کرنے جا رہا تھا . آج میرے پاس جو زندگی تھی وہ ان لوگوں کا ہی " احسان " تھا . ایسی ہی میں اپنی ہی سوچو میں گم تھا کی مجھے پتہ ہی نہیں چلا کب ہم شہر آ گئے اور کب اک گھر كے باہر گاڑی رکی . میں : یہ کونسی جگہ ہے یہ تو خان کا دفتر نہیں ہے . ڈرائیور : آپکو خان صاحب نے یھی بلایا ہے . میں : اچھا . . . اسکے بَعْد میں جیپ سے اترا اور اس گھر میں چلا گیا جو دیکھنے میں سارپانچ کی حویلی جیسا بڑا نہیں تھا لیکن کافی شاندار بنا ہوا تھا . گاتے كے باہر 2 پولیکیوالی بندوق تھامی کھڑے تھے جنہوں نے مجھے دیکھتے ہی چھوٹا گاتے کھول دیا . میں جب اندر گئے تو گھر كے چاروں طرف لگے خوشبودار پھولوں نے میرا ویلکم کیا سامنے اک کانچ کا بڑا سا گاتے لگا تھا جسے میں دحاکیلتا ہوا اندر چلا گیا . گھر کافی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا میں چاروں طرف نظارے گھماکار گھر کی خوبصورتی دیکھ رہا تھا تبھی اک میٹھی سے آواز میرے کانو سے تاکرایی . . . . رضوانہ : گھر اچھا لگا ( مسکراتے ہوئے ) میں : جی بہت خوبصورت گھر ہے . . . . کیا یہ خان صاحب کا گھر ہے ( چاروں طرف دیکھتے ہوئے ) رضوانہ : جی نہیں یہ میرا گھر ہے . . . ارے آپ کھڑے کیوں ہو بیٹھو . میں : لیکن مجھے تو خان صاحب نے بلایا تھا رضوانہ : اب کچھ دن آپکو بھی یھی رہنا ہے یھی ہم آپکی ٹریننگ بھی مکمل کروایینجی اور یہ اک سیکریٹ مشن ہے اسلئے خان نے دفتر میں کسی کو بھی اس کے بڑے میں نہیں بتایا . میں : اچھا . . . لیکن خان صاحب ہے کہا . رضوانہ : آپ بیٹھیے وہ آتے ہی ہونگے . میں : ٹھیک ہے . رضوانہ : یہاں آپکو رہنے میں کوئی اعتراض تو نہیں . میں : جی نئی مجھے کیا اعتراض ھوگا میں تو کہی بھی رہ لونگا . ابھی میں اور رضوانہ باتیں ہی کر رہے تھے کی خان بھی اپنے ہاتھ میں اک فائل تھامے ہوئے آ گیا اور آتے ہی ٹیبل پر فائل فینک ڈی اور دحاد سے صوفے پر گر گیا . خان : ہاں جی جناب آ گئے میں : جی . . . بتاییی اب مجھے کیا کرنا ہے خان : یار تم ہر وقت جلدی میں ہی رہتے ہو کیا . . . . میں : نئی . . . وہ آپ نے کام كے لیے بلایا تھا تو سوچا پہلے کام ہی کر لے . خان : کچھ کھاؤگے . . . . میں : جی نہیں مہربانی . خان : یار شرماؤ مت اپنا ہی گھر ہے . . . . میں : جی نہیں میں گھر سے کھا کر آیا تھا . . . خان : چلو جیسی تمہاری مرضی . . . اچھا یہ دیکھو تمھارے لیے کچھ لایا ہوں . میں : ( ساوالیا نظروں سے خان کو دیکھتے ہوئے ) جی کیا . . . خان : ( اُٹھ کر میرے ساتھ صوفے پر بیٹھ طے ہوئے ) یہ تمھارے پُرانے دوستو کی تاسvییری ہیں جنکے ساتھ اب تم کو کام کرنا ہے . ( فائل کھولتے ہوئے ) یہاں سے دوستو میں کچھ نئے لوگوں کا انٹرودکشن آپ سب سے کروا دوں ٹاکی آگے بھی آپکو کہانی سمجھ آتی رہے : - شیخ صاحب { بابا } : - اجی- 58 سال ، دکھانے میں کافی رووبدار انسان ، کام- گینگ کا میں لیڈر ، شیرا جیسے باقی سب لوگ اس کے لیے ہی کام کرتے ہیں . انیس ( چھوٹا شیخ ) : - اجی- 32 سال ، شیخ کا بیٹا اور اک لا-پارواح قسم کا انسان اسلئے شیخ کوئی بھی کام اسکو سوومپنا ضروری نہیں سمجھتا . ہر وقت دروججس كے نشے میں اور لڑکیوں میں ڈوبا رہتا ہے . مُنا ( جاپانی ) : - اجی- 28 سال ، شیرا کا جگری دوست ہے اور دیکھنے میں جاپانی جیسا لگتا ہے اسلئے جاپانی نام سے انڈرورلڈ میں مشہور ، کام- دروججس ایجنٹ اور آرمس ایجنٹ كے ساتھ ڈیل فکس کرنا اور فائٹ کلب میں شیرا کا پارٹنر . رسول : - اجی-34 سال ، کام- شیرا كے بَعْد شیرا کا سارا کام یھی سنبھلتا ہے . سوما : - اجی-25 سال ، کام- vیدیشی کلیینتس كے ساتھ دروججس اور آرمس کی ڈیل فکس کرنا اور تمام ایجنٹس سے پیسہ کلیکٹ کرکے شیخ صاحب تک پوحونچانا . لالہ اور گانی : - اجی-34-28 سال ، کام- ہوتیلس اور کلبس سنبھالنا . میں بڑے غور سے باری-باری سب لوگوں کی تاسvییری دیکھ رہا تھا اور ان کو پہچاانی کی کوشش کر رہا تھا لیکن مجھے کسی کا بھی چہرہ یاد نہیں آ رہا تھا . تبھی خان نے اک ایسی تصویر ٹیبل پر فینکی جس کو میں اٹھائے بنا نہیں رہ سکا . یہ تو میری تصویر تھی لیکن میں نے اس تصویر میں موچھ رکھی ہوئی تھی اسلئے میرا ہاتھ خود ہی اپنے چہرے پر چلا گیا جیسے میں اپنے ہاتھ سے اپنے چہرے کا جاییزا لے رہا ہوں کی کیا یہ میری ہی تصویر ہے . خان : کیا ہوا کچھ یاد آیا اپنے بڑے میں . میں : ( نا میں سر ہلاتے ہوئے ) کیا یہ میری تصویر ہے خان : جی حوجور یہ آپکی ہی تصویر ہے اور ان تصویروں کو اچھے سے دیکھ لو تم کو اب عیسی ہی فر سے بنا ہے . میں : لیکن آپ نے بتایا نہیں میں وہاں تک پوحونچونجا کیسے . خان : اسکا بھی اک رستہ ہے میں : کونسا رستہ خان : تمہارا پرانا دوست جاپانی جو فائٹ کلب سنبھلتا ہے وہاں سے تم تمہاری دُنیا میں انٹری کر سکتے ہو . ویسی بھی شیرا اس فائٹ کلب کا سب سے فاvرووتی فیگھتیر ہیں ( مسکراتے ہوئے ) میں : تو کیا مجھے وہاں جاکے لادنا ھوگا . خان : ( مسکراتے ہوئے ) عیسی ہی کچھ . میں : میں سمجھا نہیں آپ کہنا کیا چاھتے ہیں . خان : تم کو وہاں جاکے وہاں كے ان کے لوگوں کو مرنا ھوگا اور انکا مال لوٹنا ھوگا ٹاکی ان لوگوں کا دھیان تمہاری طرف جائے اور وہ تم کو پہچان لے . میں : کیا میں بنا کوئی وجہ انسے لادایی کروں . خان : واحاج میں بنا دونگا . تم کو تو بس جاکے لادایی کرنی ہے . میں : ٹھیک ہے . اسکے بَعْد وہ تاسvییری مجھے دے کر خان واپس چلا گیا اور اب میں اکیلا بیٹھا ان تصویروں کو دیکھ رہا تھا اور اپنی پرانی زندگی کو یاد کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن مجھے کچھ بھی یاد نہیں آ رہا تھا . ایسی ہی میں اپنی سوچو میں گم بیٹھا ہوا تصویر دیکھ رہا تھا کی مجھے پتہ ہی نہیں چلا کب ڈاکٹر رضوانہ میرے پاس آکے بیٹھ گئی . رضوانہ : کہا کھو گئے جناب . ( میرے موح كے سامنے چوکتی باجاتی ہوئے ) میں : جی کہی نہیں بس وہ میں اپنی پرانی زندگی كے بڑے میں یاد کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن کچھ بھی یاد نہیں آ رہا . رضوانہ : کوئی بات نہیں جایسی-جایسی تم اپنے بڑے میں جانوجی تم کو یاد آٹا جائیگا . ویسی تم کو سچ میں تمھارے گھروالوں كے بڑے میں بھی کچھ نہیں یاد . میں : ( مسکرا کر نا میں سر ہلاتے ہوئے ) آپ کے گھر میں کون-کون ہے . رضوانہ : کوئی بھی نہیں میرے امی ابو کی کار ایکسڈینٹ میں ڈیتھ ہو گئی تھی تب سے اکیلی ہی ہوں ( مسکرا کر ) میں : کوئی بھی نہیں ہے . میرا مطلب پتی یا بچے . رضوانہ : نہیں . . . . ( مسکرا کر ) ان سب چھی جو كے لیے وقت تب ہی مل سکتا ہے جب ڈیوٹی سے فرصت ملے یہاں تو سارا دن ہیڈ کوارٹر میں لوگوں کا علاج کرنے میں ہی وقت نکل جاتا ہے . میں : ہاں جب آپ کے لوگ ایسی ہی کسی پر حملہ کرینگے تو علاج تو کرنا ہی پڑیگا انکا . رضوانہ : اچھا وہ . . . . ھاھاھاھاھاھاھاھ نہیں ایسی بات نہیں ہے وہ تو خان نے تمہارا ٹیسٹ لینا تھا بس اسلئے . . . . اور ویسی بھی تم نے کونسی کسر چھوڑی تھی . میں : میں نے کیا کیا میں تو بس ہلکا فولکا ان کو دور کیا تھا خود سے . ( مسکرا کر ) رضوانہ : رہنے دو . . . رہنے دو . . . اس دن ہیڈ کوارٹرز میں تم نے ہماری لوگوں کی کیا حالت کی تھی پتہ ہے مجھے . میں نے ہی علاج کیا تھا انکا بچھڑے 5 لوگوں كے تو فریکتوری تک آ گئے تھے باڈی میں . عیسی بھی کوئی کسی کو مرتا ہے . میں : ( نظری نیچے کرکے مسکرا کر ) وہ اک دم مجھ پر حملہ ہوا تو مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا کی کیا کروں اسلئے میں نے بھی حملہ کر دیا . رضوانہ : ہاں جی . . . . اور جو ہاتھ میں آیا اٹھا كے مار دیا . . . حاحاحاحاحاحاحا میں : ( بنا کچھ بولے مسکرا کر ) رضوانہ : چلو تم بیٹھو میں کچھ کھانے كے لیے لاتی ہوں . میں : آپ کیوں . . . کوئی نوکر نہیں ہے یہاں پر . رضوانہ : جی نہیں آپ کے خان صاحب کو کسی پر بھروسہ بھی تو نہیں ہے اسلئے سارا کام مجھے ہی کرنا پڑیگا ( رونے جیسا موح بناکی ) میں : کوئی بات نہیں میں ہوں نا میں آپکی مدد کر دونگا . رضوانہ : ( حیران ہوتے ہوئے ) تم کو كھانا بنانا آٹا ہے . میں : جی فی الحال تو كھانا ہی آٹا ہے لیکن آپ سییخایینجی تو بنانا بھی سیخ جاؤنگا . رضوانہ : ہاہاہاہاہا رہنے دو تم کھاتے ہوئے ہی اچھے لگوجی بنا میں خود لونگی . اسکے بَعْد رضوانہ راسویی کی طرف چلی گئی اور میں اسکو جاتے ہوئے دیکھتا تھا . لیکن میری شایتانی نظر کا میں کیا کروں جو نا چاھتے ہوئے بھی غلط وقت پر غلط چیج دیکھتی ہے . رضوانہ کو جاتے ہوئے دیکھ کر میری نظر سیدھا اسکی گانڈ پر پڑی جو اسکے چلنے سے اوپر نیچے ہو رہی تھی اسکی جینس کی فییتینج سے گانڈ کی گولائی كے اُبھار اور بھی وجہ طور پر نظر آ رہے تھے . جسے میرے لنڈ میں بھی حرکت ہونے لگی اور وہ جاگنے لگا . میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے لنڈ کو تھام لیا اور اک تھپڑ مارا کی سیل ہر جگہ موح اٹھا کے گھسنے کو تییار مت ہو جایا کر وہ ڈاکٹر ہیں حنا یا فضا نہیں جسکی گہرائی میں تو جب چاھے اُتَر جائے . لیکن میرا لنڈ تھا کی بیٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا میری نظروں كے سامنے بار بار رضوانہ کی گانڈ کی تصویر آ رہی تھی اور میرا دِل چھا رہا تھا کی اسکی خوبصورت ابھری ہوئی گانڈ كے دیدار میں اک باڑ فر سے کروں . اسلئے نا چاھتے ہوئے بھی میں کھڑا ہوکے راسویی کی طرف چلا گیا تاکہ چپکے سے رضوانہ کی موتی سی اور باہر کو نکالی ہوئی گانڈ کو جیی-بحارکار دیکھ سکو . ابھی میں راسویی كے گاتے تک ہی پوحونچا تھا کی اچانک رضوانہ ہاتھ میں کھانے کی تیرے لے کے باہر آ گئی اور مجھ سے ٹکرا گئی جسے ساری سابجی کی جراvی مجھ پر اور رضوانہ پر گر گئی اور کچھ برتن بھی زمین پر گرنے سے ٹوٹ گئے . سابجی کی جراvی اسکے اور میری دونوں کی قمیض پر گر گئی تھی . وہ میرے سامنے پلیٹ لے کے اب بھی کھڑی تھی . ہم دونوں ہی اِس اچانک تاکرااv كے لیے تییار نہیں تھے اسلئے جلدبازی میں میں نے اسکے سینے سے جریاvی صاف کرنے كے لیے اپنے دونوں ہاتھ اسکی چھاتی پر رکھ دیا اور وہاں سے ہاتھ فیرکار صاف کرنے لگا . میرے اک دم وہاں ہاتھ لگانے سے رضوانہ کو جیسے جھٹکا سا لگا اور پیچھے ہو گئی ساتھ ہی اس نے اپنے دونوں ہاتھ سے تیرے بھی چھوڑ ڈی جو سیدھا میرے پیر پر آکے گیری . یہ سب اتنا اچانک ہوا کی ہم دونوں ہی کچھ سمجھ نہیں پائے . رضوانہ : آپکو لگی تو نہیں . ( فکرمندی سے ) میں : جی نئی میں ٹھیک ہوں معاف کیجیے وہ میں نے آپ پر سابجی گرا ڈی . رضوانہ : کوئی بات نہیں . . . . ( اپنے ہاتھ سے اپنے ٹوپ سے جراvی جحادتی ہوئے ) لیکن آپ یہاں کیا کرنے آئے تھے . میں : جی وہ میں نے سوچا آپکی مدد کر دوں اسلئے آ رہا تھا ( نظری جھکا کر ) رضوانہ : ( مسکراتے ہوئے ) کوئی بات نہیں . . . اسلئے میں نے آپکو کہا تھا آپ کھاتے ہوئے ہی اچھے لگیں گے . كھانا تو سارا گر گیا اب کیا کرے . میں : آپ کوئی پھل کھا لیجیے میں تو پانی پی کر بھی سو جاؤنگا . ( مسکراتے ہوئے ) رضوانہ : پانی پی کر کیوں سو جاؤگے . اب اتنی گئی گزری بھی نہیں ہوں کی كھانا دوبارہ نہیں بنا سکتی . میں : رہنے دو رضوانہ جی دوبارہ محنت کرنی پڑےگی آپکو . رضوانہ : كھانا تو كھانا ہی ہے نا نییر کیا کر سکتے ہیں . ( کچھ سوچتے ہوئے ) ممممم چلو عیسی کرتے ہیں باہر چلتے ہیں کھانے كے لیے فر تو ٹھیک ہے . ( مسکرا کر ) میں : جیسی آپکی مرضی ( مسکرا کر ) رضوانہ : چلو فر تم بھی کپڑے بَدَل لو میں بھی چینج کرکے آتی ہوں . میں : اچھا جی . اسکے بَعْد ہم دونوں کپڑے پہانکار تییار ہو گئے اور میں باہر حل میں بیٹھ کر رضوانہ کا انتظار کرنے لگا . کچھ دیر بَعْد رضوانہ بھی تییار ہوکے آ گئی . اس نے سفید کلر کا سوٹ پہن رکھا تھا جس میں وہ کسی پری سے کم نہیں لگ رہی تھی جیسے ہی وہ میرے سامنے آکے کھڑی ہوئی تو اسکے بدن سی نکلنے والے خوشبو نے مجھے مدھوش سا کر دیا . رضوانہ : میں کیسی لگ رہی ہوں . ( مسکرا کر ) میں : اک دم پری جیسی ( مسکرا کر ) رضوانہ : ھاھاھاھاھاھاھاھ شکریہ . ارے تم نے فر سے وہی گاvوالی کپڑے پہن لیے . میں : جی میرے پاس یھی کپڑے ہیں رضوانہ : ( اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے ) اوہ میں تو بھول ہی گئی تھی کی تم کو نئے کپڑے بھی لے کے دینے ہیں . میں : نئے کپڑوں کی کیا ضرورت ہے میں ایسی ہی ٹھیک ہوں . رضوانہ : نییر اب تم شیرا ہو اور شیرا ایسا کپڑے نہیں پہانتا خان نے مجھے بولا بھی تھا تمھارے کپڑوں كے لیے لیکن میں بھول ہی گئی . چلو پہلے تمھارے لیے کپڑے ہی لیتے ہیں اسکے بَعْد ہم كھانا کھانے جائینگے ٹھیک ہے . میں : ٹھیک ہے . فر ہم دونوں رضوانہ کی کار میں بیٹھ کر بازار چلے گئے پورے رستے میں بس رضوانہ کو ہی دیکھ رہا . اسکے بدن کی خوشبو نے پوری کار کو مہکا دیا تھا . اس خوشبو نے مجھے کافی گرم کر دیا تھا اسلئے میں پورے رستے اپنے لنڈ کو اپنی ٹانگوں میں دبائے بیٹھا رہا تاکہ رضوانہ کی نظر میرے کھڑے لنڈ پر نا پڑ جائے . اب مجھے رضوانہ كے ساتھ بیٹھے ہوئے حنا كے ساتھ بتائے لمحے یاد آ رہے تھے جب میں اسکو کار چلانی سییخاتا تھا . تھوڑی دیر بَعْد ہم بازار آ گئے اور وہاں رضوانہ نے پارکنگ میں گاڑی کھڑی کی اور فر وہ مجھے اک بَدی سی دکان ( شوروم ) میں لے گئی جہاں اس نے میرے لیے بہت سارے کپڑے خریدے . رضوانہ كے جد کرنے پر میں نے باری-باری سب کپڑے پہن کر دیکھے اور رضوانہ کو بھی اپنا یہ نیا بدلہ ہوا روپ دکھایا جس کو دیکھ کر شاید رضوانہ کی بھی آنکھیں کھلی کی کھلی ہی رہ گئی . میں بھی اپنے اِس نئے روپ سے بہت حیران تھا کیونکی اب تک میں نے گاv كے سییدحی-شاادحی کپڑے ہی پہنے تھے . لیکن خود کو آج ایسی بدلہ ہوا دیکھ کر مجھے اک عجیب سی خوشی کا احساس ہو رہا تھا اور میں بار بار خود کو شیشے میں دیکھ رہا تھا اور خود ہی مسکرا بھی رہا تھا . میں : کیسا لگا رہا ہوں رضوانہ جی . رضوانہ : ( مسکرا کر میری جاکٹ کا کلر ٹھیک کرتے ہوئے ) یہ ہوئی نا بات اب لگ رہا ہے کی شیرا اپنے رنگ میں آیا ہے . میں : یہ بھی آپکا ہی کمال ہے ( مسکرا کر ) رضوانہ : چلو اب كھانا کھانے چلتے ہیں . میں : ہاں جی چلیے . ویسی بھی بہت بھوک لگی ہے رضوانہ : بھوک لگی ہے . . . . . پہلے کیوں نہیں بتایا چلو چلیں . اسکے بَعْد میں اور رضوانہ شاپنگ بیگس اٹھائے اپنی کار کی طرف جا رہے تھے کی اچانک 4 لوگوں نے ہم کو گھیر لیا اور رضوانہ کو اپنی طرف خینچکار اسکے گلے پر اک نوکدار چاکو لگا دیا میں اِس اچانک حملے کو سمجھ نہیں پایا کی یہ لوگ کون ہے اور ہم سے کیا چاھتے ہیں . میں : کون ہو تم لوگ ( غصے سے ) اک آدمی : سیدھی طریقے سے سارا مال نکال اور ہم کو دے نہیں تو یہ لڑکی جان سے جائے گی . میں : ٹھیک ہے یہ لو سب تم رکھ لو ( اپنے شاپنگ بیگ انکی طرف فینکتی ہوئے ) لیکن ان کو چھوڑ دو . وہ آدمی : سیل ہم کو چوتیا سمجھا یہ کچرا نہیں پیسہ نکال . میں : میرے پاس پیسے نہیں ہے ان کو جانے دو . میرا اتنا کہنا تھا کی اس نے اپنے چاکو کا دبائو رضوانہ كے گلے پر بڑھا دیا جسے دَرْد سے رضوانہ کی آنکھیں بند ہو گئی اور اس نے کرحاتی ہوئے مجھے کہا . . . . رضوانہ : آاہ . . . . ( دَرْد سے کرحاتی ہوئے ) نییر مارو ان کو یہ لوگ چور ہے . رضوانہ کا اتنا کہنا تھا کی میں ان لوگوں پر ٹوٹ پڑا جو میرے سامنے کھڑا تھا میں اسکو گارڈن سے پکڑ لیا اور اپنا سر اسکی ناک پر جور سے مارا اور وہ وہی گر گیا . اتنے میں ساتھ کھڑے آدمی نے چاکو سے مجھ پر حملہ کیا جسے میں نے اسکی کلائی پکڑ کر ناکام کر دیا اور اسکو اپنی طرف خینچکار اپنی کہنی اسکے سر میں ماری اور ساتھ ہی اسکا موح نیچے کرکے اپنا گھٹنا اسکے موح پر مارا وہ بھی وہی گر گیا تبھی جس نے رضوانہ کو پکڑا تھا اس نے رضوانہ کو مجھ پر داخل دیا اور اپنے بچے ہوئے 1 ساتھی كے ساتھ وہاں سے پارکنگ کی طرف بھاگ گیا . میں نے جلدی سے رضوانہ کو تھام لیا اور اسے گرنے سے بچہ لیا . میں : آپ ٹھیک ہو . رضوانہ : ( اپنے گلے پر ہاتھ رکھا کر ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) میں : کیا ہوا آپکو لگی ہے کیا . ( اسکا ہاتھ اسکے گلے سے ہٹا طے ہوئے ) میں : یہ تو خون نکل رہا ہے . میں اسکو چھودونجا نہیں سالا . . . . . رضوانہ كے کچھ کہنے سے پہلے ہی میں ان لوگوں كے پیچھے بھاگ گیا وہ لوگ کار پارکنگ میں گھس گئے تھے . اب میں ان کو جلدی سے جلدی پکڑنا چاہتا تھا اسلئے میں کارو كے اوپر سے چالاانج لگاتا ہوا ان کے پیچھے بھاگنے لگا . وہ دونوں پارکنگ کی الگ-الگ ڈائیریکشن میں بھاگ رہے تھے لیکن مجھے دوسرے آدمی سے کوئی مطلب نہیں تھا مجھے اس آدمی پر سب سے جادا غصہ تھا جس نے رضوانہ كے گلے پر چاقو رکھا تھا اسلئے میں اسکی طرف اسکے پیچھے بھاگنے لگا جلدی ہی پارکنگ ختم ہو گئی اور وہ اک دیوار كے سامنے آکے رک گیا میں نے جلدی سے اک کار کی چھت سے کود کر اسکے اوپر چالاانج لگا ڈی جسے میرے دونوں گھٹنے اسکے پیٹ میں لگے اور وہ وہی گر گیا میں نے فر اسکو کھڑا کیا اور اسکا سر جور سے دیوار میں مارا جسے دیوار پر گول گول خون کا نشان سا بن گیا میں نے فر سے اسکو کھڑا کیا اور فر اسکو دیوار کی طرف داخل دیا اسکے فر سے سر ٹکرایا . ایسی ہی میں نے کئی دفعہ اسکا سر دیوار میں مارا لیکن اب وہ بے ہوش ہو چکا تھا . اتنے میں رضوانہ میرے پیچھے بھاگتی ہوئی آئی اور مجھے پکڑ لیا . رضوانہ : کیا کر رہے ہو نییر چھوڑ دو وہ مر جائیگا . میں : اس نے چاقو کیسے لگایا گارڈن پر آپکی . رضوانہ : ( مجھے پیچھے کھینچتے ہوئے ) میں اب ٹھیک ہوں نییر چلو یہاں سے . اسکے بَعْد لگ بھگ کھنچتی ہوئی رضوانہ مجھے پارکنگ سے باہر لے آئی . باہر آکے میں رک گیا اور اب میں کافی شانت ہو چکا تھا . میں نے رک کر اپنے دونوں ہاتھ رضوانہ کی گارڈن کی سائڈ پر رکھ دیئے اور اسکی گارڈن اوپر کرکے اسکا گھائو دیکھنے لگا وہ بھی کسی بچے کی طرح میرے سامنے معصوم سا چہرہ لیے اپنی گارڈن اٹھائے کھڑی ہو گئی . میں : بہت دَرْد ہو رہا ہے کیا . رضوانہ : میں ٹھیک ہوں نییر فکر مت کرو . ( مسکراتے ہوئے ) میں : چلو گھر چل کر مرہم پٹی کرتا ہوں آپکی . رضوانہ : ( بنا کچھ کہے مسکراتے ہوئے ) ہحممم فر ہم دونوں واپس کار كے پاس آ گئے اور میں نے اپنے زمین پر جییری ہوئے شاپنگ بیگ اٹھائے اور وہ بھی کار میں رکھ دیئے . میں : کار میں چالاو . رضوانہ : ( بنا کچھ بولے چابی میری طرف کرکے مسکراتے ہوئے ) ہحممم . فر میں اور رضوانہ گھر کی طرف نکل گئے پورے رستے ہم خاموش تھے اور رضوانہ مجھے ہی دیکھے جا رہی تھی اور مسکرا رہی تھی . میں : کیا ہوا ایسا کیا دیکھ رہی ہیں . رضوانہ : کچھ نہیں . . . . . اک بات پوچھو . . . . میں : ہاں پوچھی . . . . رضوانہ : تم نے اس آدمی کو اتنا کیوں مارا میں : مرتا نہیں تو کیا پیار کرتا . . . . آپکی گارڈن پر چاکو لگایا اس نے اور دیکھو کتنا خون بھی آ گیا تھا آپ کے . رضوانہ : تم نے صرف اسلئے اسکو اتنا مارا . میں : مار کھانے والے کام کیے تھے اسلئے مارا میں نے اسکو . رضوانہ : اتنی فکر میری آج تک کسی نے نہیں کی . ( روٹ ہوئے ) میں : ( گاڑی کو بریک لگاتے ہوئے ) ارے رضوانہ جی آپ رونے کیوں لگی کیا ہوا . رضوانہ : ( اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے ) کچھ نہیں . . . میں : ( پیچھے پڑی پانی کی بوتتال رضوانہ کو دیتے ہوئے ) یہ لو پانی پی لو . رضوانہ : ( بوتتال پاکادتی ہوئے ) شکریہ . کچھ دیر میں وہ ٹھیک ہو گئی اسلئے میں نے فر کار اسٹارٹ کی اور گھر کی طرف بڑھنا شروع کر دیا . لیکن رضوانہ اب بھی مجھے ہی دیکھے جا رہی تھی اور مسکرا رہی تھی . اچانک مجھے خیال آیا . میں : رضوانہ جی . . . . رضوانہ : ہحممم میں : ان کمینوں كے چکر میں كھانا لینا تو بھول ہی گئے ( مسکرا کر ) رضوانہ : اری ہا . . . آپکو تو بھوک بھی لگی تھی . . . . کوئی بات نہیں یہاں سے لیفٹ موڑ لو یہاں بھی اک اچھا ریسٹورنٹ ہے وہاں سے لے لینگے . میں : ٹھیک ہے . اسکے بَعْد میں اور رضوانہ ریسٹورنٹ چلے گئے جہاں سے ہم نے كھانا پیک کروا لیا اور فر ہم واپس گھر کی طرف چلے گئے . گھر آکے میں نے پہلے سارا سامان کمرے میں رکھا اور فر رضوانہ سے میڈیکل بکس لیکر اسکے کمرے میں ہی اسکے زخم پر داوائی لگانے لگا . رضوانہ مجھے بس دیکھ کر مسکراتی رہی . فر ہم دونوں نے ساتھ كھانا کھایا . کھانے كے بَعْد رضوانہ میرے ساتھ بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے کی ضد کرنے لگی اسلئے میں بھی اسکے پاس ہی بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے لگا . رضوانہ اور میں ہم دونوں ساتھ میں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے لیکن کوئی بھی ڈھنگ کا پروگرام نہیں آ رہا تھا اسلئے ہم نے کچھ دیر ٹی وی دیکھنے كے بَعْد بند کر دیا . رضوانہ : تم کو نیند آ رہی ہے کیا . میں : ( نا میں سر ہلاتے ہوئے ) آپکو آ رہی ہے . رضوانہ : نہیں . . . چلو فر باتیں کرتے ہیں . . . . میں : اچھا . . . جیسی آپکی مرضی . رضوانہ : ( کچھ سوچتے ہوئے ) تم کو ڈانس آٹا ہے میں : ( نا میں سر ہلاتے ہوئے ) مجھے اک ہی طریقے سے ہاتھ پیر چلانا آٹا ہے وہ ابھی آپ کچھ دیر پہلے دیکھ ہی چکی ہے . رضوانہ : چلو میں سییخاتی ہوں دوسرے طریقے سے بھی ہاتھ پیر حیلایی جا سکتے ہیں . ( مسکراتے ہوئے ) اسکے بَعْد رضوانہ نے اک میوزک چلا دیا اور مجھے اپنے سامنے کھڑا کر لیا فر میرا اک ہاتھ اپنی کمر پر رکھ دیا اور دوسرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام لیا اور اس نے اپنے اک ہاتھ میرے کاندھے پر رکھ لیا اور رضوانہ نے مجھے دھیرے دھیرے ہلانا شروع کر دیا میں بھی جیسے وہ مجھے ہلا رہی تھی ہلنا شروع ہو گیا . جب رضوانہ میرے ساتھ مجھ سے چپک کر کھڑی تھی تب مجھے ڈانس کا نہیں اسکے جسم کا میرے جسم كے ساتھ جڑی ھونا جادا مزہ دے رہا تھا . وہ بڑے پیار میرے کاندھے پر ہاتھ فیر رہی اور میرا ہاتھ خودبخود اسکی کمر کو سیحلا رہا تھا مزے سے میری آنکھیں بند ہو گئی تھی اور میں نے اسے کمر سے پکڑ کر اپنے اور قریب کر لیا جسے اسکے نوکیلے ممے مجھے اپنی چھاتی پر چبھتی ہوئے محسوس ہونے لگے اسے مجھے بھی میری جینس پینٹ میں ہلچل سی محسوس ہونے لگی لیکن جینس اتنی ٹائیٹ تھی کی میرا لنڈ سہی سے کھڑا نہیں ہو پا رہا تھا بس جینس كے اندر ہی مچل رہا تھا اور باہر آنے کا رستہ تلاش کر رہا تھا . کچھ دیر ہم ایسی ہی اک دوسرے کا ہاتھ تھامے ناچتے رہے فر اس نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور اپنی دونوں باجو میرے گلے میں کسی ہار کی طرح ڈال ڈی ایسی ہی میری آنكھوں میں دیکھتی ہوئی اپنا اور میرا بدن دھیرے دھیرے ہلانے لگی . رضوانہ : اک بات بولو میں : ہحممم رضوانہ : تمہاری آنکھیں بہت اچھی ہے نشیلی سی . . ( مسکراتے ہوئے ) میں : مجھے تو آپکی آنکھیں پسند ہے کتنی بادی-بادی ہے جیسے کسی حیرانی کی آنکھیں ہو . رضوانہ : ( شرما کر نظارے جھکاتے ہوئے ) شکریہ فر کچھ دیر كے لیے ہم دونوں خاموش ہو گئے اور ایسی ہی ڈانس کرتے رہے . ڈانس تو اسکے لیے تھا میں تو اسکے جسم کی گرمی کا مزہ لے رہا تھا . ہم دونوں اک دوسرے سے اک دم چپکے ہوئے تھے بس ہم دونوں كے چہرے کچھ انچ كے فاصلے پر تھے لیکن فر بھی ہم اک دوسرے کی سانسوں کی گرامی اپنے چہرے پر محسوس کر رہے تھے . اب مجھ سے بھی اور برداشت نہیں ہو رہا تھا اسلئے میں آگے بڑھنے کا سوچ کی رہا تھا کی اچانک لائٹ چلی گئی اور پورے کمرے میں اندھیرا ہو گیا جسے ہم دونوں کا دھیان اک دوسرے سے حاتکار اندھیرے کی طرف گیا اسلئے میرے نا چاھتے ہوئے بھی رضوانہ مجھ سے الگ ہو گئی . . . . رضوانہ : وہوو فر سے لائٹ چلی گئی . . . . تم رکو میں روشنی كے لیے کچھ لے کے آتی ہوں میں : رہنے دو نا ایسی ہی ٹھیک ہے اندھیرے میں کیا نظر آئیگا رضوانہ : مجھے اندھیرے میں ڈر لگتا ہے . . . بس 2 منٹ میں آ رہی ہوں میں : ٹھیک ہے جلدی آنا . . . رضوانہ : بس 2 منٹ ایسی گئی اور ایسی آئی . میں کیا سوچ رہا تھا اور کیا ہو گیا جیسے کسی نے میرے ارمانوں پر پانی فیر دیا ہو میں اپنے دِل میں بجلی والو کو گالیان نکال رہا تھا کی حارامخورو نے ابھی لائٹ بند کرنی تھی کچھ دیر رک جاتے تو ان کے باپ کا کیا جاتا تھا . پورے کمرے میں چاروں طرف اندھیرا تھا بس کھڑکی سے ہلکی سی چاند کی روشنی کمرے كے اندر آ رہی تھی . وہ بھی بہت کم کیونکی کھڑکی كے آگے پردہ لگا ہوا تھا . میں نے سوچا کی کمرے میں گرامی ہو رہی ہے اسلئے کھڑکی سے پردہ ہٹا دوں تاکہ تازی ہوا بھی آ سکے اور روشنی بھی . ابھی میں پردہ ہٹانے كے لیے اک قدم ہی آگے بڑھایا تھا کی اچانک مجھے رضوانہ کی چیخ سنائی ڈی میں نے فوراً چیخ کی طرف بھاگتا ہوا گیا . اک تو اندھیرا تھا اوپر سے کچھ نظر بھی نہیں آ رہا تھا اسلئے میں نیچے پڑی چیجو سے تاکرواتا ہوا دیوار کو پکڑ کر آگے کی طرف بڑھنے لگا . آواز راسویی کی طرف سے آئی تھی اسلئے میں اندازے سے اس طرف بڑھ رہا تھا . اک تو آج میرا یہاں پہلا دن تھا اوپر سے جگہ بھی میرے لیے نئی تھی اسلئے مجھے سہی سے رستے کا اندازہ نہیں ہو رہا تھا یسی وجہ سے جاجاح-جاجاح چیجی مجھ سے ٹکرا رہی تھی کچھ دیر بَعْد میں رضوانہ کو آواز لگاتا ہوا راسویی كے پاس آ ہی گیا . میں : رضوانہ جی کہا ہو آپ رضوانہ : ( کرحاتی ہوئے ) میں یہاں ہوں آیییی . . . . سیی . . . . میں : کیا ہوا چوٹ لگی کیا رضوانہ : ( روٹ ہوئے ) ہاں بہت جور سے لگی ہے میں : ( برتنوں سے ٹکراتے ہوئے ) کیا ہوا چوٹ کیسے لگ گئی . رضوانہ : نییر اس طرف نہیں دوسری طرف آؤ جہاں تم ہو وہاں برتن ہے . . . . میں : ( گھومتے ہوئے ) اچھا . . . رضوانہ : وہ شام کو جو سابجی گیری تھی نا میں نے بازار جانے کی جلدی میں اٹھائی نہیں تھی بس اس پر ہی پیر فصال گیا اور میں گر گئی . مجھ سے اٹھا نہیں جا رہا . . . . ( روٹ ہوئے ) میں جیسے ہی رضوانہ كے پاس پوحونچا میں نے نیچے بیٹھ کر اندھیرے میں ہاتھ اِدھر اُدھر گھمایی تو رضوانہ کا چہرے سے میرا ہاتھ ٹکرایا میں جلدی سے بنا کچھ بولے اسکو اپنی گاڈ میں اٹھا لیا اور کھڑا ہو گیا . رضوانہ : ( کرحاتی ہوئے ) ایییی . . . . . آرام سے . . . میں : اب جانا کس طرف ہے رضوانہ : تم چلو میں بٹاتی ہوں میں : کیا پاحیلینوما گھر بنایا ہے رضوانہ : ( اپنی دونوں باجو میرے گلے میں ڈالتے ہوئے ) میں نے تھوڑی بنایا ہے جیسا گورنمنٹ . نے مجھے دیا میں نے لے لیا . میں : اسے اچھا تو میرا گھر تھا جہاں کم سے کم ہاتھ پیر تو نہیں تاکرااتی تھے اندھیرے میں رضوانہ : تم کو بھی چوٹ لگی کیا میں : تھوڑی سی پیر میں لگی ہے وہ آپ چِلائی تو میں گھبرا گیا کی جانے کیا ہوا ہے اسلئے جلدی سے آپکی آواز کی طرف بھاگا بس اسی جلدی میں میز سے پیر ٹکرا گیا . رضوانہ : جادا چوٹ تو نہیں لگی میں : پتہ نہیں میں نے دیکھا نہیں . رضوانہ : یہاں سے اب لیفٹ غم جاؤ . . . . میرے کمرے میں چل کر مجھے دکھاؤ کتنی چوٹ لگی ہے . میں : ( ہیسٹ ہوئے ) دیکھوں گی کیسے ہاتھ کو ہاتھ نظر تو آ نہیں رہا چوٹ کیا دکھے گی . رضوانہ : فکر مت کرو یہاں اکثر لائٹ چلی جاتی ہے فر تھوڑی دیر میں آ جاتی ہے . ایسی ہی ہم باتیں کرتے ہوئے دھیرے دھیرے رضوانہ كے کمرے میں آ گئے اور رضوانہ نے ہی گاتے کھولا اور فر میں نے رضوانہ کو دھیرے سے اسکے بیڈ پر رکھ دیا . . . . رضوانہ : ( دَرْد سے کہاتے ہوئے ) ایییی . . . نییر کمر میں اور پیچھے بہت دَرْد ہو رہی ہے ہلا بھی نہیں جا رہا . میں : اب اندھیرے میں تو کچھ کر بھی نہیں سکتے یار لائٹ آنے دو فر دیکھتے ہیں . رضوانہ : ارے یار جس کام كے لیے گئے تھے وہ تو کیا ہی نہیں . میں : کونسا کام رضوانہ : موم بتی یار ( ہیسٹ ہوئے ) میں : جانے دو کوئی بات نہیں اگے ہی موم بتی كے چکر میں اتنا تماشہ ہو گیا اب ایسی ہی ٹھیک ہے . دیکھا میں نے منع کیا تھا نا لیکن آپ ہی بول رہی تھی کی 2 منٹ کا کام ہے . اب دیکھو آپکا ہی کام ہو گیا ( ہیسٹ ہوئے ) رضوانہ : ( میرے کاندھے پر تھپڑ مرتے ہوئے ) اک تو مجھے چوٹ لگ گئی ہے اوپر سے میرا مذاق اڑا رہے ہو جاؤ میں نہیں بولتی تم سے . میں : اچھا-اچھا معافی ڈوکتورنی صاحبہ . رضوانہ : جاؤ معاف کیا . . . اچھا یہ تم مجھے ڈوکتورنی صاحبہ کیوں بلاتے رہتا ہو میں : اب آپ ڈوکتورنی ہو تو ڈاکٹر ہی بولانجا نا رضوانہ : ڈاکٹر میں صرف حیاد-قواتیرس كے میرے کلینک میں ہوں یہاں گھر پر نہیں میں : تو فر میں یہاں آپکو کیا بولاو . رضوانہ : ممممم صرف رضوانہ بلا سکتے ہو میں : اچھا تو صرف رضوانہ جی اب ٹھیک ہے ( ہیسٹ ہوئے ) رضوانہ : ( ہیسٹ ہوئے ) نییر تم جانتے ہو آج بہت مدت كے بَعْد میں نے اتنی خوشی پائی ہے تم کیا آئے میری زندگی میں عیسی لگتا ہے زندگی فر سے روشن ہو گئی . میں : میں نے بھی آج پہلی باڑ اتنی مستی کی ہے . رضوانہ : ( کرحاتی ہوئے ) آہہ میری پیٹھ سسس میں : کیا ہوا بہت دَرْد ہے کیا . رضوانہ : اگر کمر کو ہلاتی ہوں تو دَرْد ہوتا ہے ویسے ٹھیک ہے میں : رکو لگتا ہے کمر اٹک گئی ہے . رضوانہ : مجھے بھی عیسی ہی لگتا ہے . . . . اک کام کرو میری کمر کو جھٹکا دو ٹھیک ہو جائے گی . میں : ٹھیک ہے آپ میرا سہارا لے کے کھڑی ہونے کی کوشش کرے رضوانہ : میں گر جائوں گی نییر میں : میں ہوں نا فکر مت کرو اِس بار پکڑ لونگا آپکو . نہیں گروجی بس میرا ہاتھ مت چھوڑنا . رضوانہ : ٹھیک ہے اسکے بَعْد رضوانہ میرے ہاتھ كے سہارے بیڈ پر دھیرے دھیرے گھٹنے كے بل کھڑی ہونے لگی لیکن اسکو کھڑے ہونے میں دَرْد ہو رہا تھا اسلئے میں نے اپنے دونوں ہاتھ اسکی کمر میں ڈالے اور اسکی دونوں باجو اپنے گارڈن پر لپٹ لی اب میں نے جھٹکے سے رضوانہ کو کھڑا کیا . . . رضوانہ : آاہہح سس میں : اب کیسا لگ رہا ہے رضوانہ : پہلے سے بہتر ہے لیکن دَرْد ابھی بھی حالکی-حالکی ہو رہی ہے . میں نے بنا رضوانہ سے پوچھے اسکی پیچھے سے قمیض اٹھائی اور اسکی ننگی پیٹھ پر ہاتھ فیرنی لگا رضوانہ کو شاید اِس طرح میرے ہاتھ لگانے کی امید نہیں تھی اسلئے اسکو اک جھٹکا سا لگا اور وہ مجھ سے اور جور سے چپک گئی . اب میں اسکی کمر کو پیار سے سیحلا رہا تھا اور وہ خاموش ہوکے میرے گلے میں اپنی باحی ڈالے گھٹنے كے بل کھڑی تھی . کچھ ہی دیر میں ہم دونوں کی سانس تیز ہونے لگی اور رضوانہ نے میرے کاندھے پر اپنا سر رکھ لیا اسکی تیز ہوتی سانسو کی گرامی میں اپنی گارڈن پر محسوس کر رہا تھا . میں نے بھی اِس موقی کا فائدہ اٹھانا ہی مناسب سمجھا اور اپنا ہاتھ اوپر کی جانب بڑھانے لگا . اب میرا ہاتھ اسکی برا كے اسٹراپ كے نیچے كے تمام حصے کی سیر کر رہا تھا . شاید اسکو بھی مزہ آ رہا تھا اسلئے وہ خاموش ہوکے بس میرے کاندھے پر اپنا سر رکھا کر لیتی ہوئی تھی اسکے نازک ہوتھو کا لمس مجھے اپنی گارڈن پر محسوس ہو رہا تھا . میں چاہتا تھا کی وہ میری گارڈن کو چومے لیکن وہ بس میری گارڈن سے اپنے ہوتھ جوڑی کھڑی تھی اور آگے نہیں بڑھ رہی تھی اسلئے میں نے ہی پہل کرنا مناسب سمجھا میں نے اب اپنے دونوں ہاتھ اسکی قمیض میں ڈال لیے اور دونوں کو اسکی پیٹھ پر وپیر-نیچی گھمانے لگا ساتھ ہی میں نے اپنی گارڈن ہلکی سی نیچ کو جھکا کر اپنے ہوتھ اسکی گالو پر رکھ دیا اور دھیرے دھیرے اپنے ہوتھ اسکی گالو پر گھمانے لگا یہ عمل شاید اسکو بھی مزہ دے رہا تھا اسلئے اس نے اپنا چہرہ تھوڑا سا اوپر کی جانب کر لیا تاکہ میرے ہوتھ اچھے سے اسکی گال کو چھو سکے . کچھ دیر ایسی ہی کرنے كے بَعْد مجھ سے برداشت کرنا مشکل ہو گیا تھا اسلئے میں نے دھیرے دھیرے اسکی گال کو چومنا شروع کر دیا . اب میرے ہاتھ نیچے اسکی کمر پر اپنا کمال دکھا رہے تھے اور ہوتھ اسکی گال پر . اسکی طرف سے کوئی ورودھ نا ہونے پر میں نے آگے بڑھنے کا سوچا اور اسکی گال سے ہوتا ہوا سائڈ سے اسکے ہوتھو کو بھی چومنے لگا پہلے تو اس نے اپنے ہوتھ سختی سے بند کر لیے لیکن بار بار میرے وہاں چومنے پر اس نے بھی اپنے ہوتھو کو تھوڑا سا کھول دیا . کچھ دیر ایسی ہی کرنے كے بَعْد میں نے اپنا اک ہاتھ آگے کی طرف کیا اور اسکے پیٹ کو سہلانے لگا اسکا نرم نازک پیٹ مجھے اور بھی مزہ دے رہا تھا . میرا عیسی کرنا شاید اسکے صبار كے باندھ کو توڑنے كے لیے کافی تھا اس نے اپنی اک باجو میری گارڈن سے نکالی اور میری کمر میں دالکار مجھے اور جور سے اپنے سے چپکا لیا . اور اپنی گارڈن کو دوسری طرف کرکے میرے دوسرے کاندھے پر رکھ لیا . شاید اب وہ چاہتی تھی کی میں اسکی دوسری گال کو بھی ویسے ہی چوموں اسلئے میں نے وہی عمل اسکی دوسری گال كے ساتھ بھی شروع کر دیا لیکن اِس بار وہ خود اپنی گال کو میرے ہوتھو سے جوڑ رہی تھی اور کوشش کر رہی تھی کی جلدی سے جلدی میں اسکے ہوتھو تک آؤ لیکن میں اِس بار اسکی گال کو ہی چوم رہا تھا . نیچے میرا لنڈ پوری طرح جاگ گیا تھا اور جینس میں جحاتپاتا رہا تھا باہر نکلنے كے لیے . اب اک نئی چیج ہوئی اس نے جو ہاتھ میری کمر پر رکھا تھا پیچھے سے اسکو میری ت-شرت میں ڈال دیا اور میری پیٹھ کو سہلانے لگی دوسرا ہاتھ اسکا اب بھی میری گارڈن پر ہی لپٹا ہوا تھا میں نے موقی کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنا ہاتھ جو اسکی پیٹھ سہلا رہا تھا اسکو تھوڑا اوپر کی طرف کرنے کی کوشش کی لیکن اسکی قمیض پیٹ سے بے حد تنگ ہونے کی وجہ سے میرا ہاتھ اوپر کی طرف نہیں جا رہا تھا کیونکی اس نے ٹائیٹ فییتینج کا سوٹ پہنا ہوا تھا . اسلئے میں نے اسکی قمیض اترنے کی کوشش کی لیکن اِس باڑ اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور گارڈن کو نہیں میں ہلایا . لیکن اب مجھ سے صبار کرنا مشکل ہو رہا تھا اسلئے میں نے اپنے اک ہاتھ سے اسکا چہرہ اوپر کیا اور اپنے چہرے كے سامنے لے آیا اب ہم دونوں کی سانسیں اک دوسرے كے چہرے سے ٹکرا رہی تھی میں نے اپنا ناک اسکی ناک سے ہلکا سا ٹکرایا اور فر پیچھے کو ہو گیا اس نے جلدی سے میرا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا اور میرے ہوتھو کو پہلے ہلکی سے چوم لیا اور فر بری طرح چُوسنے لگی . اب میں نے اپنے دونوں ہاتھ اسکی کمر پر رکھ لیا اور اس نے فر سے اپنی دونوں باجو میرے گلے میں ہار کی طرف ڈال لیے اور لگاتار میرے ہوتھو کو چُوسنے لگی اسکے چومنے میں اتنی قاشیش تھی کی مجھے سانس لینے میں بھی تکلیف ہونے لگی تھی اسلئے میں نے اپنا چہرہ پیچھے کر لیا لیکن اس نے فر سے میرا چہرہ پکڑ لیا اور میرے ہوتھو پر ٹوٹ پڑی اب اس نے اپنے دونوں ہاتھ میری ت-شرت كے گول گلے پر رکھ لیا جیسے اپنے دونوں ہاتھوں کو میری ت-شرت كے گلے سے لٹکا دیا ہو . میں سمجھ چکا تھا کی اب وہ مکمل گرم ہو چکی ہے اسلئے میں نے اک باڑ فر اسکی قمیض کو اوپر اٹھانے کی کوشش کی اِس باڑ اس نے میرا ہاتھ نہیں پکڑا لیکن میرے ہوتھو کو چُوستے ہوئے ہی گارڈن کو نہیں میں ہلانے لگی . میں نے اپنا موح پیچھے کر لیا اس نے فر سے میرے ہوتھ چُوسنے چاھے تو میں نے گارڈن موڑ لی اِس باڑ اس نے زبردستی میری گارڈن کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑا اور میرے فر سے ہوتھ چُوسنے لگی ساتھ ہی میرا اک ہاتھ پکڑ کر اپنے دائیں ممے پر رکھ دیا . اسکے ممی کو چھٹی ہی مجھے اور اسکو بھی جیسے کرنٹ سا لگا کیونکی اسکا ممے حنا كے ممے سے بھی بڑے تھے ان کو دبانے سے ہی موممو کی سختی کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا . میں اب دونوں ہاتھوں سے اسکی قمیض كے اوپر سے اسکے ممے دبا رہا تھا اور وہ میرے ہوتھ چوس رہی تھی . تبھی اچانک لائٹ آ گئی . ( یقین کرو دوستو اس وقت مجھے اتنا غصہ آ رہا تھا بییجلی والو پر کی کوئی بییجلی بورڈ کا ملازم سامنے ہوتا تو سیل کا لنڈ کاٹ کر پھینک دیتا . کمینوں نے ہر باڑ غلط تیممینج پر ہی انٹری ماری . کچھ غصہ مجھے اپنی قسمت پر بھی آ رہا تھا کی سالا ہر باڑ میرے ساتھ ہی عیسی کیوں ہوتا ہے . ) لائٹ آنے کا ناتییزا یہ ہوا کی جو رضوانہ پور-قاشیش سے میرے ہوتھ چوس رہی تھی اور مجھ سے ممے ماسالوا رہی تھی وہ اک دم روشنی ہو جانے سے گھبرا گئی اور مجھ سے دور ہو گئی اور بیڈ پر بیٹھ کر اپنے سر پر ہاتھ رکھ لیا . میں سمجھ نہیں پا رہا تھا کی رضوانہ کو اچانک کیا ہو گیا ابھی تو یہ اک دم ٹھیک تھی . میں : کیا ہوا رضوانہ رضوانہ : ( پریشان ہوتے ہوئے ) تم جاؤ یہاں سے . میں : لیکن ہوا کیا رضوانہ : ( چلاتے ہوئے ) میں نے کہا نا تم جاؤ یہاں سے اک باڑ میں بات سمجھ نہیں آتی . اسکا اِس طرح مجھ پر چلانا مجھے اچھا نہیں لگا اسلئے میں بنا کوئی جواب دیا اسکے کمرے کا گاتے جور سے دیوار پر مرتا ہوا باہر نکل گیا اور اپنے کمرے میں جاکے لیٹ گیا . میرا دِل بییجلی والو کو ہزار گالیان دے رہا تھا اور خود پر افسوس بھی ہو رہا تھا کی میرے پاس 2 اتنے حَسِین موقی آئے جو میں نے ایسی ہی ضایع کر دیئے . ساتھ ہی مجھے رضوانہ کا بارتاv بھی پریشان کر رہا تھا کیونکی میں نے اسکو جب بھی دیکھا تھا مسکراتے ہوئے دیکھا تھا لیکن آج اچانک اسکو غصہ کس بات پر آیا آخر کیوں اس نے میرے ساتھ عیسی بارتاv کیا . مجھے لگا شاید میں نے جلدی کر ڈی اسلئے وہ ناراض تھی اور میری سب سے بَدی غلطی یہ تھی کی میں ہر لڑکی کو فضا اور حنا جیسا ہی سمجھ رہا تھا ممکن تھا وہ مجھے پسند نہیں کرتی . اور آخر پسند کرتی بھی کیوں اسکی نظر میں میں اک اپرادحی ہوں انپادح-جاوار ہوں جس کو کپڑے پہاننی تک کی عقل نہیں اور وہ خود اتنی بَدی ڈاکٹر ہے اتنی خوبصورت ہے . . . بھلا وہ مجھے پسند کیوں کریگی اسلئے میں نے وہاں رہنا مناسب نا سمجھا اور اپنا بیگ پیک کرنے لگا ساتھ ہی جلدی سے اپنے گاv والے تھایلی میں سے انسپتیکتور کھن کا کارڈ نکالا اور بیڈ كے پاس پڑے فون سے خان کا نمبر دیل کر دیا . خان : ہیلو . . . ہا رضوانہ بولو اِس وقت کیسے فون کیا . میں : جی میں نییر بول رہا ہوں . خان : ہاں نییر بولو کیا ہوا کچھ چاہئیے کیا . میں : جی آپ میرے رہنے کا انتظام کہی اور کر دینگے تو بہتر ھوگا . خان : ارے کیا ہوا رضوانہ نے کچھ کہہ دیا کیا . میں : جی نہیں انہوں نے کچھ نہیں کہا بس میرا یہاں دِل نہیں لگ رہا آپ عیسی کرے مجھے میرے گاv ہی بھجوا دے تو بہتر ھوگا یہاں بڑے لوگوں میں مجھے عجیب سا لگتا ہے میں تھاحرا زاحیل-جاوار بھلا میرا یہاں کیا کام . خان : کیسی بچو جیسی بات کر رہے ہو میں نے وہاں تم کو اسلئے رکھا ہے کی کل سے تمہاری ٹریننگ کروا سکو نا کی تم کو وہاں چحوتتیان بیتانے كے لیے سمجھے . میں : جی مجھے آپکی ہر بات منظور ہے لیکن اب یہاں نہیں رہنا چاہتا آپ چاھے تو میں آپ کے دفتر میں صوفے پر سو جاؤنگا لیکن یہاں مجھے نہیں رہنا . خان : تم رضوانہ سے بات کرواؤ میری . میں : جی وہ اپنے کمرے میں سو رہی ہے . خان : ٹھیک ہے فر صبح ہوتے ہی اسکو بولنا مجھ سے بات کرے . اور نییر یار آج کی رات تم کیسے بھی وہاں گزار لو کل میں تمہارا کہی اور انتظام کر دونگا ٹھیک ہے . میں : جی شکریہ . اسکے بَعْد میں نے فون رکھ دیا اور وہی صوفے پر بیٹھا گارڈن نیچے کیے آنکھیں بند کرکے اپنی غلطی پر پاچحتانی لگا کی میں یہاں آیا ہی کیوں تھا . تبھی مجھے کچھ جییلاپان اپنے پیر پر محسوس ہوا میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو رضوانہ میرے پیڑو كے پاس موح نیچے کرکے بیٹھی تھی اور شاید روو رہی تھی اسلئے اسکے آنسوں میرے پیڑو پر گر رہے تھے . میں : ارے رضوانہ جی آپ . . . آپ روو رہی ہے . . . . دیکھیے میں اپنی غلطی پر شرمندہ ہوں آگے سے ایسی غلطی نہیں ھوگی . رضوانہ : ( روٹ ہوئے ) ہاں غلطی ھوگی بھی کیسے مجھے چھوڑ کر جو جا رہے ہو . میں : جیی . . . کیا رضوانہ : میں نے سب سن لیا ہے جو تم خان کو بول رہے تھے . میں : جی میری غلطی تھی اسلئے میرا یہاں رہنا سہی نہیں ہے . مناسب ھوگا میں یہاں سے چلا جاؤ . آپ روییی مت اگر آپ کہے گی تو میں ابھی چلا جاؤنگا لیکن آپ روییی مت . رضوانہ : جاکے بھی دکھاؤ . . . . . ( میرے دونوں ہاتھ مضبوطی سے پاکداتی ہوئے ) مجھے معاف نہیں کر سکتے نییر ( روٹ ہوئے میرے گھٹنے پر اپنے چہرہ رکھتے ہوئے ) میں : ( کچھ نا سمجھنے والے انداز میں ) جی آپ کیا کہہ رہی ہے مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا . رضوانہ : میں اک دم گھبرا گئی تھی نییر اور اسی چکر میں تم پر غصہ ہو گئی . تم سے پہلے کوئی میرے اتنا قریب نہیں آیا کبھی اسلئے اچانک جب تم پاس آئے تو میں ڈر گئی تھی اور سب کچھ بھول کر تم پر غصہ ہو گئی . میں : کوئی بات نہیں ویسی بھی غلطی میری تھی ( مسکراتے ہوئے ) آپ نیچے کیوں بیٹھی ہے پہلے آپ اوپر آکے بیٹھو اور رونا بند کرو رضوانہ : ( میرے ساتھ بیٹھے ہوئے اور بنا کچھ بولے مجھے گلے لگاتے ہوئے ) ایم سوری نییر میں اپنی غلطی پر شرمندہ ہوں مجھے تم پر اِس طرح چلانا نہیں چائیے تھا . میں : کوئی بات نہیں . . . ویسی میں آپ سے ناراض نہیں ہوں رضوانہ جی . رضوانہ : فر مجھے چھوڑ کر کیوں جانا چاھتے ہو . میں : ( رضوانہ کی باجو اپنے گلے سے نکلتے ہوئے ) ٹاکی وہ غلطی دوبارہ نا ہو . رضوانہ : اگر کوئی اب تمھارے بنا نا رہ سکتا ہو تو . . . . اور اب تم کچھ بھی کر لو میں منع نہیں کروں گی میں ڈر گئی تھی سوری . . . . میں : کوئی کسی كے بنا نہیں مرتا رضوانہ جی . . . . . اور آپ نے ٹھیک کیا . میرے جیسا انپادح-جاوار آپ کے کسی کام کا نہیں . رضوانہ : ( فر سے مجھے گلے لگاتے ہوئے ) مجھے نہیں پتہ تم میں عیسی کیا ہے لیکن اب میں تم سے دور نہیں رہ سکتی . 1 دن میں جانے تم نے مجھ پر کیا جادو کر دیا ہے . مجھے چھوڑ کر مت جاؤ پلیز . . . . میں : لیکن اب تو میں نے خان کو بول دیا ہے رضوانہ : اسکی فکر تم مت کرو میں ہوں نا خان کو میں دیکھ لونگی بس کل تم نہیں جاؤگے سمجھے . یھی رہوگے میرے پاس . . . . میں : جیسی آپکی مرضی . . . . لیکن آج كے بَعْد میں آپکے کمرے میں نہیں آؤنگا . رضوانہ : ٹھیک ہے مت آنا اب میں بھی اس کمرے میں نہیں جائوں گی وہی رہونگی جہاں تم رہوگے . چلو اب میری قسم کھاؤ مجھے چھوڑ کر نہیں جاؤگے . میں : آپ جب جانتی ہے کی جو چیج ہو نہیں سکتی فر اسکے لیے قسم کیوں دے رہی ہے . رضوانہ : تم خان کا کام کر دو فر تم آزاد ہو اسکے بَعْد ہم دونوں رہ سکتے ہیں یہاں ہمیشہ كے لیے . میں : جی نہیں میں یہاں نہیں رہ سکتا کام ہونے كے بَعْد میں میرے گھر چلا جاؤنگا میرے گاv میں میری یہ زندگی اب انکی ڈی ہوئی ہے . آج اگر میں زندہ ہوں تو یہ انکا ’ ’ احسان " ہے مجھے پر . رضوانہ : کیا میں بھی اس پریوار کا حصہ نہیں بن سکتی . میں تمھارے لیے اپنا سب کچھ چودنے کو تییار ہوں . میں : ( ہیسٹ ہوئے ) کہنا بہت آسان ہے رضوانہ جی لیکن کرنا بہت مشکل . رضوانہ : ٹھیک ہے فر تم خان کا کام کر دو اسکے بَعْد میں بھی یہ ناوکاری چھوڑ دونگی جہاں تم رکھو گی جس حال میں رکھو گی میں رہنے کو تییار ہوں . اور آج كے بَعْد خود کو انپادح-جاوار مت کہنا . میں : لیکن میرے پاس آپکو دینے كے لیے کچھ بھی نہیں ہے اپنا گھر بھی نہیں سب کچھ بابا کا ہے . رضوانہ : کون کہتا ہے تمھارے پاس کچھ نہیں تمھارے پاس اتنا پیار کرنے والا دِل ہے اور اک لڑکی کو اسے جادا کچھ نہیں چاہئیے ہوتا . تم نہیں جانتے نییر اتنے سال میں نے کیسے گزارے ہے آج میرے پاس سب کچھ ہوکے بھی کچھ نہیں ہے . بچپن میں ہی ماں باپ گزر گئے پِھر بَدی ہوئی تو ڈاکٹر بن گئی اور اب سارا دن دوسروں کا خیال رکھتی ہوں لیکن اصل میں آج تک کسی نے میرا خیال نہیں رکھا میں بچپن سے اکیلی ہی رہتی آ رہی ہوں . آج تم آئے میری زندگی میں اور جیسے میرا خیال رکھا عیسی کبھی کسی نے نہیں کیا میرے لیے . اب میری قسمت دیکھو اک انسان ملا جو میری اتنی فکر کرتا ہے میرے لیے لدتا ہے اور میں نے اسکو بھی ناراض کر دیا اور اب تم بھی مجھے چھوڑ کر چلے جاؤگے . ( فر سے روٹ ہوئے ) میں : نہیں جاؤنگا اب رونا بند کرو چلو . ( رضوانہ کی گال پر لگے آنسو صاف کرتے ہوئے ) رضوانہ : میری قسم کھاؤ . میں : اگر لوٹ کر واپس آ گیا تو نہیں جاؤنگا اگر نہیں آ سکا تو . . . . رضوانہ : ( میرے موح پر ہاتھ رکھتے ہوئے ) عیسی مت بولو ( فر سے مجھے گلے لگاتے ہوئے ) میں : اچھا ٹھیک ہے رضوانہ جی کافی رات ہو گئی ہے اب آپ سونے جاؤ میں بھی سو جاتا ہوں صبح خان نے بلایا بھی ہے . رضوانہ : ٹھیک ہے . وہ بنا کچھ بولے اٹھی اور میرے بستر پر جاکے بیٹھ گئی اور میں بس اسکو دیکھ رہا تھا . میں : رضوانہ جی آپ یہاں سویینجی . رضوانہ : ( بنا کچھ بولے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) میں : ٹھیک ہے فر میں یہاں سو جاتا ہوں . ( صوفے پر لیٹ طے ہوئے ) رضوانہ : چُپ کرکے یہاں آؤ نہیں تو میں فر سے رونے لگ جائوں گی . میں : ( صوفے سے اٹھتے ہوئے ) اب کیا ہوا رضوانہ : لائٹ اوف کرو اور یہاں آکے لیٹو میرے ساتھ . ( مسکراتے ہوئے ) میں : لیکیننن . . . . رضوانہ : لیکین-ویکین کچھ نہیں چلو لائٹ اوف کرکے یہاں آؤ . میں بنا کچھ بولے گیا اور لائٹ اوف کرکے آ گیا اور بنا کچھ بولے رضوانہ كے ساتھ لیٹ گیا رضوانہ میری طرف موح کرکے لیتی تھی اور مسکرا رہی تھی . رضوانہ : نییر ابھی تک ناراض ہو . میں : نہیں توو . . . . . کیوں . رضوانہ : پاس آؤ نا میرے . میں : ( کروٹ بادالکار رضوانہ كے قریب جاتے ہوئے ) اب ٹھیک ہے رضوانہ : ( میرے ہوتھ چُومتے ہوئے ) رات کو بھی جینس ت-شرت پہانکار سونے کا موڈ ہے . میں : تو کیا پہنو تم نے ہی تو گاv والے کپڑے پہن نے سے منع کیا تھا . رضوانہ : ارے آج ہی تو اتنے سارے کپڑے لے کے آئے ہیں جاؤ جاکے شورتس پہن لو . میں : ( کچھ نا سمجھنے والے انداز میں ) شورتس کیا . . . رضوانہ : رکو میں لیکر آتی ہوں . رضوانہ اٹھی اور جاکے میرے شاپنگ بیگس میں جھانکنے لگی 5-6 بیگس میں دیکھنے كے بَعْد اس نے اک میں ہاتھ ڈَلا اور دیکھ کر میری طرف فینک دیا . رضوانہ : جاؤ یہ پہن آؤ . . . رات کو ٹائیٹ کپڑے پہانکار نہیں سونا چاہئیے . میں : اچھا . . . ( اُٹھ کر باتھ روم میں جاتے ہوئے ) جب میں کپڑے بادالکار واپس آیا تو رضوانہ اک چادار لیے لیتی ہوئی تھی . میں : ارے اتنی گرمی میں چادار کیوں لی ہے . رضوانہ : پاس آؤ گے تو پتہ چلے گا نا . . . میں : ( بنا کچھ بولے بیڈ پر لیٹ طے ہوئے ) اب ٹھیک ہے . رضوانہ : ( میری چیسٹ پر ہاتھ فیرتی ہوئے ) ممممم باڈی اچھی بنائی ہے . میں : شکریہ . رضوانہ : چلو اب تم بھی چادار میں ہی آ جاؤ . میں : کیوں . . . رضوانہ : آؤ گے تو پتہ چلے گا نا . میں بنا کچھ بولے رضوانہ كے ساتھ چادار كے اندر آکے لیٹ گیا اور اندر جاتے ہی مجھے اک جھٹکا سا لگا کیونکی رضوانہ نے اندر کچھ نہیں پہنا تھا اور اک دم ننگی تھی . وہ میرے چادار كے اندر آتے ہی مجھ سے لپٹ گئی اسکی بَدی اور ٹھوس چھاتیان میرے سینے میں ڈھنسنے لگی اسکے نپل اک دم سخت ہوئے پڑے تھے جو مجھے اپنے سینے پر محسوس ہو رہے تھے . اسکے نازک جسم کا لامز ملتے ہی مجھ پر اک عجیب سی مدہوشی چاہنے لگی اور میں نے اسکو اپنی باھو میں جکڑ لیا . اب اِس باڑ وہ میری گال کو چوم رہی تھی اور میری چھاتی پر ہاتھ فیر رہی تھی . دھیرے دھیرے وہ میرے اوپر آکے لیٹ گئی اور میرے چہرے کو چومنے لگی نیچے میرا لنڈ فر سے جاگ گیا تھا اور شورتس میں ٹینٹ بنائی کھڑا ہو گیا تھا . جس کو رضوانہ نے اپنی رانو میں قید کر رکھا تھا . اب وہ دھیرے دھیرے میری گالو سے ہوتے ہوئے میری گردن پر چوم رہی تھی اور نیچے کی طرف جا رہی تھی کچھ ہی دیر میں وہ میری چھاتی پر آ گئی اور چومنے لگی . مجھ پر اک عجیب سا مدہوشی کا نشہ حاوی ہو رہا تھا اسلئے میں نے اسکو کمر سے پکڑ لیے اور اوپر کی طرف کھینچا . میرے اشارے کو سمجھتے ہوئے وہ واپس اوپر آ گئی اور میری آنكھوں میں دیکھنے لگی اور میرے ہوتھو کو چومنے لگی میں نے جلدی سے اسے کمر سے پکڑ کر پلٹ دیا اب وہ میرے نیچے تھی اور میں اسکے اوپر . میں نے اسکے ہوتھ چُوسنے شروع کیا جسکا اس نے بھی بھرپور ساتھ دیا اسکا اک ہاتھ میری پیٹھ کو سہلا رہا تھا اور دوسرا ہاتھ میرے سر كے بلو سے کھیل رہا تھا . ہم دونوں کو ہی اِس وقت کوئی ہوش نہیں تھا اسکے ہوتھ چُوستے ہوئے میں نے اسکے اک ممے کو اپنے ہاتھ میں تھام لیا اور اسکو دبانے لگا . کچھ دیر میرے ہوتھو کو چُوسنے كے بَعْد اس نے میرے سر کو اپنے اک ہاتھ سے نیچے کی طرف دبایا شاید وہ چاہتی تھی کی میں اب اسکے موممو کو بھی اسکے ہوتھو کی طرح چوسو . میں جلدی سے نیچے جاکے کسی جنگلی کی طرح اسکے بادی-بادی موممو پر ٹوٹ پڑا اور اسکے نپلز کو زور زور سے چُوسنے لگا . وہ کسی بن پانی کی مچھلی کی طرح میرے نیچے پڑی تڑپ رہی تھی اور سسیی . . . . . سسیی . . . . . کی آواز نکل رہی تھی وہ کبھی میرا سر پکڑ کر اک ممے پر رکھتی تو کبھی دوسرے ممے پر . میں بھی اسکے دوننو موممو کو باری-باری چوستا جا رہا تھا . تھوڑی دیر ممے چُوسنے كے بَعْد میں تھوڑا اور نیچے کی طرف جانے لگا اور اسکے پیٹ پر چومنے اور چُوسنے لگا . میں نے جیسے ہی اپنی زبان اسکی نہ بھی ( نیول ) میں ڈالی اسکو اک جھٹکا سا لگا اور اس نے اپنا پیٹ اندر کی طرف کھینچ لیا اور میرا سر پکڑ کر اپنے پیٹ پر دبا دیا شاید اسکو بھی مزہ آ رہا تھا کچھ دیر اسکی نا بھی کو چُوسنے چاٹنے كے بَعْد میں اور نیچے جانے لگا اور اسکی چوت كے اوپر جہاں بال ( ہئیرز ) تھے وہاں چومنے لگا میرا عیسی کرنے سے اس نے اپنی دونوں تانجیی آپس میں جوڑ لی . میں نے اک جھلک گارڈن اٹھا کے اوپر کی طرف دیکھا تو اسکی آنکھیں بند تھی میں نے اسکی دونوں رانو پر اپنے ہاتھ رکھے اور دھیرے دھیرے انہیں کھولنے لگا میرا اشارہ ملتے ہی وہ کسی چابی لگے کھلونے کی طرح اپنی دونوں تانجیی کھولتی چلی گئی اسکی چوت اک دم صاف اور کلین تھی اس پر بال کا کوئی نامو-نیشاان نہیں تھا آج تک میں نے جتنی بھی چوت کو چودا تھا سب پر جنگل وجا ہوا تھا یہاں تک کی حنا کی چوت پر بھی تھودی-تھودی بال تھے لیکن رضوانہ کی چوت اک دم صاف اور گوری چھٹی تھی . اب میں نے اپنا موح سیدھا اسکی چوت پر رکھا اور وہاں چوم لیا . اسکی چوت لگاتار پانی چودنے کی وجہ سے بہت گیلی ہو گئی تھی اور میرے چومنے سے کچھ پانی میرے ہوتھو پر بھی لگ گیا تھا . لیکن میرا چوت پر چومنا رضوانہ كے لیے کسی جھٹکے سے کم نہیں تھا وہ اک دم اُچھل سی گئی اور اپنا سر اوپر کی طرف اٹھا دیا . میں نے اپنا اک ہاتھ اسکی چھاتی پر رکھ کر اسے فر سے لٹا دیا اور واپس اسکی چوت کو چومنے لگا اسکی تانجیی کمپنی لگی تھی اور بار بار وہ اپنی تانجیی بند کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن میں نے اسکی دونوں ٹانگوں کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا . کچھ دیر بَعْد جب وہ تھوڑی ٹھیک ہو گئی تو میں نے اپنا موح کھولا اور اسکی پوری چوت کو اپنے موح میں بھر لیا اور چُوسنے لگا اسکے موح سے اک جوردار سسسس اُوں کی آواز نکالی اور اس نے میرا سر اپنی چوت پر دبا دیا ساتھ ہی اپنی گانڈ کو اوپر کی طرف اٹھانے لگی . میں اب لگاتار اسکی چوت کو چوس رہا تھا اور اسکا اک ہاتھ نے سختی سے مجھے میرے بلو سے پکڑ رکھا تھا اور اپنی چوت پر دبا رہی تھی کچھ دیر چُوسنے كے بَعْد اسکے جسم نے اک جھٹکا کھایا فر دوسرا جھٹکا اور ایسی ہی جھٹکے کھاتی ہوئی اس نے ہوا میں اپنی گانڈ اوپر کو اٹھا لی اور کچھ دیر ایسی ہی رہنے كے بَعْد وہ اک دم سے بیڈ پر گر گئی اور تیز-تیز سانس لینے لگی شاید وہ فارغ ہو گئی تھی . اب اس نے مجھے میرے بالو سے پکڑا اور اوپر کی طرف کھینچا میں جیسے ہی اوپر کو ہوا وہ فر سے میرے ہوتھو پر ٹوٹ پڑی اور بے تحاشہ مجھے چومنے اور میرے ہوتھ چُوسنے لگی . شاید اسکو عیسی کرنے سے بی-یتیحان مزہ آیا تھا کچھ دیر مجھے چومنے كے بَعْد اس نے اپنے ہاتھ نیچے کیا اور پیچھے سے میری شورتس کو نیچے کر دیا اور میری گانڈ پر اپنا ہاتھ فیرنی لگی . فر اپنا ہاتھ آگے لاکر آگے سے بھی میرے شورتس کو نیچے کر دیا اور فر اپنے پیر کی مدد سے شورتس کو میری ٹانگوں سے آزاد کر دیا اب ہم دونوں صرف اک چادار میں قید تھے اس نے اپنی تانجیی فایلایی ہوئی تھی اور میرا لنڈ سیدھا اسکی چوت كے موح پر اپنی دستک دے رہا تھا . اسکے ہوتھ چُوستے ہوئے ہی میں نے اپنا ہاتھ نیچے کیا اور اپنا لنڈ پکڑ کر نشانے پر رکھ دیا . اس نے جلدی سے اپنا موح میرے ہوتھو سے آزاد کیا اور میرے کان میں دھیرے سے بولی . . . . رضوانہ : نییر آرام سے کرنا میں نے پہلے کبھی کیا نہیں . میں : کبھی بھی نہیں . رضوانہ : ( مسکرا کر نا میں سر ہلاتے ہوئے ) وحہوو . میں نے فر سے اسکے ہوتھو کو اپنے ہوتھو میں قید کر لیا اور دھیرے سے اپنے لنڈ کا دبائو اسکی چوت کی موری پر دیا لیکن اسکی چوت کی موری اتنی تنگ تھی کی میرا لنڈ پھیسالکار اوپر کی طرف چلا گیا میں نے فر سے اپنے لنڈ پر ڈھیر سارا تھوک لگایا اور فر لنڈ کو نشانے پر رکھا لیکن لنڈ فر سے پھسل کر اوپر کو چلا گیا . میں : تم پکڑ کر خود ڈالو . رضوانہ : ( مسکرا کر ) اچھا . . . رضوانہ نے میرے لنڈ کو پکڑا اور دھیرے سے میرے کان میں بولی . رضوانہ : یہ تو بہت بڑا ہے اندر کیسے جائیگا . میں : چلا جائیگا پہلی باڑ تکلیف ھوگی فر آرام سے چلا جائیگا . رضوانہ : مجھے مت سکھاؤ میں ڈاکٹر ہوں . لیکن نییر یہ سچ میں بڑا ہے اور موٹا بھی جادا لگ رہا ہے بہت دَرْد ھوگا . میں : میں آرام سے کرونگا . رضوانہ : ٹھیک ہے جلدی مت کرنا پلیز . فر میں نے اپنے لنڈ کو نشانے پر رکھا اور اِس باڑ زرا جور سے جھٹکا دیا جسے لنڈ کی ٹوپی اندر چلی گئی اور رضوانہ نے اک سسس كے ساتھ اپنی آنکھیں بند کر لی اب میں کچھ دیر رکا اور فر سے اک جھٹکا دیا اِس باڑ تھوڑا سا اور لنڈ اندر گیا اور کہی جاکے اٹک گیا میں جور لگا رہا تھا لیکن اندر نہیں جا رہا تھا میں نے اپنا لنڈ باہر نکالا اس پر فر سے تھوک لگایا اور اِس باڑ زرا جور سے جھٹکا دیا اِس باڑ لنڈ کچھ اگے چلا گیا لیکن رضوانہ کی دَرْد سے چیخ نکل گئی سسسس آاییییی بہت دَرْد ہو رہا ہے نییر جلدی باہر نیکاالو ( روٹ ہوئے ) میری جان نکل رہی ہے پلیز . . . . اس نے اپنے دونوں ہاتھوں كے بادی-بادی ناخن میرے کندہوں میں گدا دیئے . جسے مجھے بھی بے حد دَرْد ہوا . میں : بس ہو گیا اتنا ہی دَرْد تھا اب نہیں ھوگا . رضوانہ : اک باڑ باہر نیکاالو پلیز میری دَرْد سے جان نکل رہی ہے . میں نے بنا کچھ بولے لنڈ باہر نکال لیا اور رضوانہ لگاتار روئے جا رہی تھی میں بس اسکے اوپر لیتا اسکو چُپ کروا رہا تھا اور اسکو چوم رہا تھا . وہ کافی دیر ایسی ہی روتی رہی . رضوانہ : میرا موح سُوکھ رہا ہے پیاس لگی ہے میں نے بنا کچھ بولے پاس پڑا پانی کا گلاس اٹھایا اور پانی کو موح میں بھر لیا اور اپنے ہوتھ اسکے ہوتھو پر رکھ دیئے وہ دَرْد سے کرہا رہی تھی اور سس . . . سس کر رہی تھی میں نے اپنے ہوتھ جیسے ہی اسکے ہوتھو پر رکھے تو اس نے اپنی آنکھیں کھول ڈی اب میں نے اپنے موح والا پانی اسکے موح میں گرانے لگا اور وہ بنا کوئی حرکت کیے وہ پانی پینے لگی جب پانی ختم ہو گیا تو میں نے گلاس اسکو دیا تاکہ وہ پانی پی سکے . رضوانہ : گلاس سے نہیں موح سے پلاؤ . میں کچھ دیر اسکو ایسی ہی اپنے موح میں بھر کر پانی پلاتا رہا اسکو شاید میرا عیسی کرنا بہت اچھا لگا تھا اب وہ بھی مسکرا رہی تھی اور آرام سے پانی پی رہی تھی . رضوانہ : باس اب آگے بھی ایسی ہی پانی پیا کروں گی ( مسکراتے ہوئے ) میں : اب دَرْد ٹھیک ہے رضوانہ : دَرْد اب پہلے سے کچھ کم ہے لیکن ابھی بھی بہت تیز جلن ہو رہی ہے اندر میں : اک باڑ پُورا ڈال لو گی فر دَرْد نہیں ھوگا . رضوانہ : میں نے بولا بھی تھا آرام سے کرنا لیکن تم تو اک دم جنگلی ہو . میں بنا کچھ بولے اسکو دیکھتا رہا اور اسکے ہوتھ چومکار اپنا لنڈ فر سے نشانے پر رکھا اور ہلکا سا جھٹکا دیا اب لنڈ ٹوپی سے تھوڑا اور آگے تک بنا کوئی رکاوٹ اندر چلا گیا لیکن رضوانہ کو ابھی بھی دَرْد ہو رہی تھی . رضوانہ : کچھ دیر ایسی ہی رہو جب دَرْد ٹھیک ہو جائیگا فر ہلانا اندر . میں : اچھا . کچھ دیر میں ایسی ہی اندر لنڈ ڈالے اسکے اوپر پڑا رہا اور ہم اک دوسرے كے ہوتھ چُوستے رہے تھوڑی دیر بَعْد اس نے خود ہی نیچے سے اپنی گند کو ہلانا شروع کر دیا تو میں سمجھ گیا کی اب اسکا دَرْد کم ہو گیا ہے اسلئے میں نے بھی دھیرے دھیرے لنڈ کو اندر باہر کرنے لگا لیکن چوت اب بھی کافی تنگ تھی اسلئے میرا 1 / 2 سے تھوڑا کم لنڈ بھی اندر پھاس-پھاس کر جا رہا تھا . کچھ دیر دھیرے دھیرے جھٹکے لگانے كے بَعْد جب اسکے چہرے پر سے دَرْد ختم ہو گیا تو میں نے اپنی رفتار کچھ تیز کردی اور لنڈ کو بھی اور اندر تک ڈالنے کی کوشش کرنے لگا . لیکن اب رضوانہ کو اتنا دَرْد نہیں ہو رہا تھا یا شاید وہ دَرْد کو برداشت کر رہی تھی . رضوانہ : اور کتنا رہ گیا ہے باہر . میں : بس تھوڑا سا ہی باقی ہے . رضوانہ : عیسی کرو اک ہی باڑ میں پُورا ڈال دو میں دَرْد برداشت کر لونگی . میں : پکا رضوانہ : ( بنا کچھ بولے میرے ہوتھ چومکار ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) ہحممم . میں اپنے لنڈ کو ٹوپی تک باہر نکالا اور اک ہی باڑ میں جوردار جھٹکا چوت كے اندر مارا لنڈ پورے سے تھوڑا سا کم اندر تک چلا گیا لیکن کچھ لنڈ ابھی بھی باہر باقی تھا . لیکن رضوانہ كے موح سے اک باڑ فر سے سس . . . . آیییی . . . . . . . کی اوازی نکلنے لگی .
  10. نازی : اچھا بھابی بابا نے مجھے آپ کے لیے کچھ حیدایاتین ڈی ہے . فضا : ( كھانا کھاتے ہوئے ) کیا کہا بابا نے نازی : وہ شام کو بابا نے مجھے کمرے میں بلایا تھا تو کہہ رہے تھے کی اب ہماری گھر میں کوئی بَدی بوجورج عورت تو ہے نہیں جو تمہاری بھابی کا خیال رکھ سکے اسلئے میں ہی ابسی تمہارا خیال راخونجی . فضا : ( ہستی ہوئی ) اچھا جی . . . . . خود کو سنبھال نہیں سکتی میرے خیال راخیجی . نازی : ( چیدتی ہوئے ) حسسو مت نا بھابی میں سچ کہہ رہی ہوں اب سے آپ نا تو راسویی میں جادا کام کریں گی نا ہی کوئی سااف-سافائی کریں گی . فضا : چلو جی . . . . تو كھانا کون بنائےگا گھر کون صاف کرے گا مہرانی جی . نازی : میں ہوں نا میں سب سنبھال لونگی اتنا تو آپ سے کام سیخ ہی لیا ہے فضا : کوئی بات نہیں کل صبح دیکھ لینگے تم کتنے پانی میں ہو . ( ہیسٹ ہوئے ) نازی : ہا . . . ہا . . . . دیکھ لینا فضا : مذاق چھوڑ نا نازی میں کر لونگی تو رہنے دے تجھ سے اکیلے نہیں سنبھالا جائیگا یہ سب . نازی : آپ بھی تو سامبحالتی ہو نا . . . فر میں بھی سنبھال لونگی فکر نا کرو . فضا : لیکن ابھی تو مجھے بس دوسرا مہینہ لگا ہے تم سب ابھی سے مجھے بستر پر ڈال رہے ہو یہ تو غلط ہے ابھی تو میں کام کرنے لایک ہوں سچ میں . نازی : میں کچھ نہیں جانتی بابا کا حکم ہے انہی کو جاکے بولو مجھے نا سناؤ ہاں . فضا : ( مجھے دیکھتے ہوئے ) تم ہی سمجھاؤ نا اسے میں : ( ابھی تک چپ چاپ بس انکی باتیں سن رہا تھا ) یار میں کیا سامجحاو بابا کا حکم ہے تو میں کیا بول سکتا ہوں اس میں . فضا : ٹھیک ہے سب مل کر مجھے مریض بنا دو ( رونے جیسا موح بناتے ہوئے ) نازی : یہ ہوئی نا بات ( فضا کا گال چُومتے ہوئے ) میری پیاری بھابی . ایسی ہی ہم باتیں کرتے ہوئے كھانا کھاتے رہے فر کھانے كے بَعْد میں تابیلی میں پاشووو کو باندھنے چلا گیا اور فضا اور نازی راسویی میں کام نیبتانی میں لگ گئی . میں میرے سب کام سے فارغ ہوکے جب اندر آیا تب تک نازی اور فضا بھی لگ بھگ اپنا سارا کم نیبتا چکی تھی . تبھی فضا نے مجھے اشارے سے راسویی میں بلایا . جب میں اندر گیا تو نازی وہاں نہیں تھی اور فضا مجھے کچھ پریشان سی لگ رہی تھی . میں : کیا ہوا پریشان ہو ؟ فضا : جان اک اور جاد-باد ہو گئی ہے ( موح رونے جیسا بناتے ہوئے ) میں : کیا ہوا سب خیریت تو ہے فضا : آج سے نازی بھی میرے ساتھ میرے کمرے میں سویا کریگی ٹاکی رات کو اگر مجھے کسی چیج کی ضرورت ہو تو میری مدد کر سکے . میں : تو اس میں رونے جیسا موح بنین کی کیا بات ہے یہ تو اچھی بات ہے تم نے تو مجھے بھی بیکار میں درا دیا . فضا : ناحیی . . . . . جان تم میری بات نہیں سمجھے . میں : اب کیا ہوا ہے یار بابا ٹھیک ہی تو کہہ رہے ہیں اب میں یا بابا تو تمھارے ساتھ سو نہیں سکتے نا اسلئے نازی اک دم سہی ہے . فضا : لیکن فر میں میری جان کو پیار کیسے کروں گی ( رونے جیسا موح بناتے ہوئے ) میں : اچھا تو عیسی بولو نا فر . . . . . فضا : یہ بابا نے تو سب گڈبڈ کر دیا اب ہم کیا کرینگے . ( میرے کاندھے پر سر رکھتے ہوئے ) میں : میں سوچتا ہوں کچھ آج-آج کا دن کیسے بھی گزار لو کل دیکھیں گے ٹھیک ہے فضا : کل رات بھی ہم نے پیار نہیں کیا ایک دوسرے کو اور ایسی ہی سو گئے تھے جان . . . . میں : اب کر بھی کیا سکتے ہیں مجھے بس اک دن دو کچھ سوچتا ہوں میں تم بھی کچھ سوچو . فضا : ہہممم میں : یہ نازی کہا ہے فضا : تمہارا بستر کرنے گئی ہے ( مسکراتے ہوئے ) میں : تبھی تم اتنا چپک كے کھڑی ہو . فضا : کیوں اب چپک بھی نہیں سکتی . . . . . میری جان ہے ( مجھے جور سے گلے لگاتی ہوئی ) میں : اچھا اب چودو نہیں تو نازی آ جائے گی تو کیا سوچیگی . فضا : مممممم تھوڑی دیر باس . . . . فر چلے جانا ویسی بھی رات کو سونا ہی تو ہے . میں : جیسی تمہاری مرضی . ( فضا کو گلے سے لگاتے ہوئے ) اتنا میں نازی کی آواز آئی اور ہم کو نا چاھتے ہوئے بھی الگ ھونا پڑا . نازی : کیا بات ہے آج تم بھی راسویی میں ( مجھے دیکھتے ہوئے ) برتن دحولوانی آئے ہو کیا . فضا : جی نہیں ان کو میں نے بلایا تھا نازی : کیوں کوئی کام تھا تو مجھے بلا لیتی . فضا : ارے نہیں وہ بس کل سے تم دونوں نے ہی کھیت جانا ہے تو ان کو سب کام اچھے سے سمجھا رہی تھی اور کونسا سامان میں نے کہا رکھا ہے وہ سب بتا رہی تھی . نازی : وہ سب تو ان کو پہلے سے ہی پتہ ہے بھابی تم تو ایسی کر رہی ہو جیسے ہم پہلی باڑ کھیت جا رہے ہیں ( ہستی ہوئی ) فضا : نہیں فر بھی بتانا تو میرا فرض ہے نا . فر ہم تینوں راسویی سے اپنی-اپنی کمروں میں چلے گئے اور کمرے میں جاتے ہوئے فضا بار بار مجھے پالاتکار دیکھتی رہی اور میں بس اسکو دیکھ کر مسکراتا رہا . فر میں بھی اپنے کمرے میں آکے اپنے بستر پر لیٹ گیا اس رات چُدائی والا کام تو ہو نہیں سکتا تھا اسلئے میں بھی کروٹ بدلتا ہوا آخر سو ہی گیا . صبح میں اور نازی تییار ہوکے کھیت چلے گئے اور اپنی-اپنی کامو میں فضا والے کام بھی شامل کرکے اپنا کام بانٹ لیا . دوپیحار کو میں اور نازی كھانا کھا رہے تھے تبھی حنا بھی وہاں آ گئی . حنا : سلام جناب . . . . لگتا ہے میں غلط وقت پر آ گئی ( مسکراتے ہوئے ) میں : ڈبلیو . سلام چھوٹی مالکن ( کھانے سے اٹھتے ہوئے ) حنا : ارے اٹھو مت بیٹھے رہو كھانا کھاتے ہوئے اٹھنا نہیں چاہئے پہلے كھانا کھا لو میں باہر انتظار کر رہی ہوں میں : باہر کیوں یھی آ جائیے . . . . آپ بھی آئی نا ہماری ساتھ ہی كھانا کھا لیجیے . حنا : نہیں شکریہ میں کھا کر آئی ہوں آپ لوگ کھاؤ میں حنا کی وجہ سے جالدی-جالدی كھانا ختم کرنے لگا کی تبھی نازی مجھے دھیمی آواز میں بولی . . . . نازی : یہ چڑیل یہاں کیوں آئی ہے . میں : مجھے کیا پتہ میں نے تھوڑی بلایا ہے تمھارے سامنے تو بات ہوئی ہے ابھی جاکے دیکھتے ہوں نازی : مجھے اسکی شکل پسند نہیں ہے جلدی دفعہ کرو اسے یہاں سے چین سے كھانا بھی نہیں کھانے دیتی ( موح بناتے ہوئے ) میں : ارے تو کیا ہو گیا اب آ گئی ہے تو اسکو دھکہ مارکار تو نہیں نکال سکتے نا . نازی : ( ہوا میں سر جحاتکاتی ہوئے ) حہووہح . . . میں كھانا کھانے كے بَعْد باہر چلا گیا اور باہر آکے سامنے دیکھنے لگا تو مجھے حنا نظر نہیں آئی تبھی مجھے بایی اور سے کسی نے پکارا تو میرا دھیان اس طرف گیا جب میں نے دیکھا تو حنا پانی كے نالے كے پاس میں بیٹھی ہوئی دور سے مجھے ہاتھ ہلا رہی تھی . میں بھی اس طرف ہی چلا گیا . جب جاکے دیکھا تو وہ اپنی شلوار گھٹنوں تک اوپر کیے ہوئے ٹھنڈے پانی میں پیر دوبایی بیٹھی تھی اور مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی . میں بھی اسکے پاس ہی چلا گیا . حنا : ہاں جی ہو گیا آپکا كھانا . میں : ملک كے کرم سے ہو ہی گیا جی آپ بتاؤ یہاں کیسے آنا ہوا کوئی کام تھا تو مجھے بلا لیتی . حنا : جیسے میرے بلانے سے تم آ جاؤگے نا ( مسکراتے ہوئے ) میں : ( اپنا سر کھجاتے ہوئے ) اب اک باڑ مشروف تھا تو اس کا مطلب یہ تھوڑی کی ہر بار مصروف رہوں گا . فارماییی کیا کر سکتا ہوں میں آپ کے لیے . حنا : پہلے یہ بتاؤ داوائی لی یا نہیں . میں : کونسی داوائی حنا : ارے بابا جو کل تم کو ڈاکٹر نے ڈی تھی وہ والی داوائی اور کونسی تم بھی نہ . . . . میں : اچھا وہ تو میں بھول ہی گیا ( مسکراتے نظارے نیچے کرتے ہوئے ) حنا : بہت خوب شااباش . . . . فر میرا یہاں رکنا ہی بیکار ہے میں چلتی ہوں فر . میں : ارے ناراض کیوں ہوتی ہو میں آج سے ہی داوائی لینی شروع کر دونگا پکا . حنا : ( اپنا ہاتھ آگے کرتے ہوئے ) وعدہ کرو . میں : وعدہ ( سر ہاں میں ہلاتے ہوئے ) حنا : ایسی نہیں میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھو فر پکا والا وعدہ کرو تب مانونجی . میں : اچھا یہ لو اب ٹھیک ہے ( اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے ) حنا : ہحممم اب ٹھیک ہے . ( مسکراتے ہوئے ) اسکا ہاتھ جیسے ہی میں نے اپنے ہاتھ میں لیے دِل میں اک عجیب سی جھرجھری سی پیدا ہو گئی . اسکا ہاتھ بے حد کومل اور ملائم تھا جب کی میرے ہاتھ کھیت میں کام کرنے کی وجہ سے کچھ سخت ہو گئے تھے ان چند پلو میں جب میں نے اسے چوہا تو دِل میں خیال آیا کی اس کا ہاتھ اتنا نازک ہے کاش کی میں اسے اک باڑ گلے سے لگا سکتا . ابھی میں اپنی سوچو میں ہی گم تھا کی حنا نے مجھے دوسرے ہاتھ سے کاندھے سے پکڑ کر ہلایا . . . . . حنا : کہا کھو گئے جناب . میں : کہی نہیں وہ میں بس ایسی ہی . . . . حنا : لگتا ہے میرا ہاتھ آپکو کافی پسند آیا ہے ( شرارتی ھسی كے ساتھ ) میں : جی . . . . میں سمجھا نہیں . حنا : نہیں میں دیکھ رہی ہوں کافی دیر سے ہاتھ چحودانی کی کوشش کر رہی ہوں آپ چھوڑ ہی نہیں رہے . . . . حاحاحاحاحاحاحاحا میں : ( شرمندہ ہوتے ہوئے ) اوہ معاف کرنا مجھے خیال ہی نہیں رہا حنا : کوئی بات نہیں . . . اچھا مجھے آپ سے اک کام تھا میں : ہاں جی بولئے کیا کر سکتا ہوں میں آپ کے لیے حنا : وہ مجھے بھی گاڑی سیکھنی تھی اگر آپکو کوئی تکلیف نا ہو تو سیکھا دینگے میں پیسے بھی دینے کو تییار ہوں . میں : بات پیسے کی نہیں ہے حنا جی . . . . لیکن میں ہی کیوں آپ کے ابو كے پاس تو بہت سارے لوگ ہے جو آپکو کار چلانی سیکھا سکتے ہیں آپ مجھ سے ہی کیوں سیکھنا چاہتی ہے . حنا : ابو كے لوگ مجھے گاڑی چلانی سیکھا سکتے ہیں لیکن مجھے چلانی نہیں آڈانی سییخنی ہے اس دن جیسے . میں : دیکھیے سکھانے میں مجھے کوئی تکلیف نہیں لیکن وہ بابا نے سارے کھیت کی جیممیداری مجھے دے رکھی ہے تو ایسی میں کام چھوڑ کر آپکو گاڑی چلانی کیسے سیکھا سکتا ہوں دیکھیے برا مت مانییجا لیکن میں بابا كے حکم کی نا-فارمانی نہیں کر سکتا . حنا : ممممم ( کچھ سوچتے ہوئے ) تو فر آپ مجھے شام کو سیکھا سکتے ہیں کھیت كے کام سے فارغ ہونے كے بَعْد . میں : سیکھا تو سکتا ہوں لیکن بابا سے پوچھنا پڑیگا . حنا : ( چیدتی ہوئے ) کیا تم بھی . . . 20-20 لوگوں کو اک جھٹکے میں گرا دیتے ہوں 5-5 آدمیو کا کام اکیلے کر لیتے ہو لیکن ابھی بھی ہر کام بابا سے پوچ-پوچ كے کرتے ہو تم اب بڑے ہو گئے ہو بچے تھوڑی نا ہو . میں : وہ بیٹ نہیں ہے لیکن مجھے اچھا لگتا ہے بابا سے اور فضا جی اور نازی سے ہر کام پوچھ کر کرنا . ( مسکراتے ہوئے ) حنا : ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی . . . . . اچھا فر میں چلتی ہوں میں : ( مجھے بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کہو اسکو ) ہہممم . . . حنا : داوائی وقت پر لیتے رہنا اور اگلے ہفتے اک باڑ فر میرے ساتھ تم کو شہر چلنا ہے بھولنا مت ٹھیک ہے . میں : نہیں حنا جی یہاں خیتو میں بہت کام ہے میں ایسی شہر نہیں جاتا میں تو بس اگر کچھ سامان لینا ہو یا فر کوئی کام ہو تبھی جاتا ہوں حنا : ہاں تو میں کونسا تم کو گھمانے لے کے جا رہی ہوں تم کو ڈاکٹر كے پاس ہی لے کے جانا ہے بس اور کچھ نہیں فر واپس آ جائینگے . میں : اچھا فر میں آپکو سوچ کر بتاونجا حنا : ٹھیک ہے اچھا اب کافی وقت ہو گیا میں چلتی ہوں گھر میں کسی کو بولکار بھی نہیں آئی . میں : اکیلی آئی ہو تو میں گھر تک چھوڑ آؤ . . ؟ حنا : نہیں رہنے دو آپ اپنا کام کرو میں چلی جائوں گی . کوئی صاف کپڑا ملے گا پیر پونچھنے ہے . میں : یہ لو ( میں نے اپنے گلے کا ساافا اسکو دے دیا ) حنا : ارے یہ نہیں کوئی اور کپڑا دو اِس کپڑے سے تم اپنا موح صاف کرتے ہو میں اسے اپنے پیر تھوڑی نا صاف کروں گی میں : کوئی بات نہیں ویسے بھی آپ کے پیر صاف ہے اسے پونچھ لیجیے اور کوئی کپڑا اِس وقت ہے نہیں میرے پاس . حنا : ( مسکرا کر میرے ہاتھ سے ساافا لیتے ہوئے ) شکریہ . فر اسکو میں کھیت كے فاتاک تک چھوڑ آیا اور پیچھے نازی کھڑی ہم دونوں کو گھور-گھور کر دیکھتی رہی جب اسکو میں چھوڑ کر واپس آیا تب بھی نازی مجھے گھور-گھور کر دیکھ رہی تھی لیکن بول کچھ نہیں رہی تھی اچانک میری اس پر نظر پڑی . . . . میں : کیا ہوا مجھے ایسی کھا جانے والی نظروں سے کیوں دیکھ رہی ہو . نازی : تم اِس سارپانچ کی لڑکی پر کچھ جادا ہی مہربان نہیں ہو رہے میں : ارے کیا ہوا ملنے آئی تھی تو ساتھ بیٹھ کر بات کرنے سے کونسا گناہ ہو گیا مجھ سے . نازی : اپنا سافا کیوں دیا اسکو ( غصے سے مجھے دیکھتے ہوئے ) میں : اسکے پیر گیلی ہو گئے تھے اسلئے پونچھنے كے لیے نازی : مجھے تو کبھی اپنا رومال بھی نہیں دیا اسکے لیے گلے کا سافا وتارکی دے دیا . . . ویسے پیر گیلی کیوں ہو گئے تھے مہرانی كے ؟ میں : وہ نالے میں پیر دالکار بیٹھی تھی اسلئے . . . . نازی : ( غصے سے ) پیر نہیں اس کا گلا دوبونا چاہئے تھا پانی میں . میں : ( ہیسٹ ہوئے ) تم اسے اتنا جلتی کیوں ہو . نازی : جلے میری جٹی . . . . میں کیوں جلنے لگی بس مجھے یہ ایسی ہی پسند نہیں . ویسے یہ کیا کام سے آئی تھی یہاں میں بھی تو سنو . میں : ( سوچتے ہوئے ) کچھ نہیں وہ بس کہہ رہی تھی کی میں اسکو کار چلانی سکحاو اور کچھ نہیں . نازی : تم نے کیا کہا . . . . اور تم نے کار چلانی کب سیخ لی اور جو اسکو سییخاوجی ؟ میں : ( پریشان ہوتے ہوئے ) ارے اس دن شہر گیا تھا نا رستے میں یہ ملی تھی اسکی کار خراب ہو گئی تھی تو میں نے ٹھیک کردی تھی ( میں نے نازی کو حنا كے ساتھ جانے والی بات نہیں بٹائی ) اسلئے وہ ساتھ میں شکریہ کرنے آئی تھی اور بول رہی تھی کی میں اسکو بھی کار چلانی سکحاو لیکن میں نے منع کر دیا . نازی : اچھا کیا جو منع کر دیا اس کا کوئی بھروسہ نہیں . ( خوش ہوتے ہوئے ) میں : اچھا چلو اب کام کر لیتے ہیں باتیں گھر جاکے کر لینگے . نازی : ٹھیک ہے فر ہم دونوں دن بھر خیتو كے کام نیبتانی میں لگے رہے شام کو جب گھر آئے تو سارپانچ كے کچھ لوگ گھر كے باہر کھڑے تھے . جنہیں میں نے اور نازی دونوں نے دور سے ہی دیکھ لیے نازی : یہ تو سارپانچ كے لوگ ہے یہاں کیا کر رہے ہیں . میں : کیا پتہ چلو چل کر دیکھتے ہیں اب یہ یہاں کیا لینے آیا ہے . میں اور نازی تیز قدموں كے ساتھ گھر آ گئے اندر دیکھا تو بابا اور سارپانچ بیٹھے باتیں کر رہے تھے . میں نے دونوں کو جاکے سلام کیا جب کی نازی سیدھا راسویی میں فضا كے پاس چلی گئی اور میں بھی بابا كے پاس ہی کرسی پر بیٹھ گیا . بابا : آ گئے بیٹا میں : جی بابا بابا : بیٹا سارپانچ صاحب تم سے کچھ بات کرنا چاھتے ہیں . میں : جی فارماییی . . . . کیا کر سکتا ہوں میں سارپانچ : بیٹا تم سے اک کام تھا وہ میری بیٹی چاہتی ہے کی تم اسکو گاڑی چلانا سکھاؤ . میں : جی . . . میں ہی کیوں آپ کے پاس تو اتنے سارے لوگ ہے کسی کو بھی بول دیجیئے ویسی بھی میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے مجھے کھیت بھی سنبھالنا ہوتا ہے . سارپانچ : میں نے تو بہت سمجھایا اپنی بچی کو لیکن وہ بچپن سے تھوڑی ضدی ہے اک باڑ کچھ فارماییش کر دے فر سنتی نہیں ہے کسی کی . میں تمہارا قرض معاف کرنے کو تییار ہو بس تم اسکو کار چلانی سیکھا دو میں : ( بابا کی طرف ساوالیا نظروں سے دیکھتے ہوئے ) جی آپ بابا سے پوچھی بابا : بیٹا میں کیا کہو تم دیکھ لو اگر تمھارے پاس فارغ وقت ہوتا ہے تو سیکھا دینا سارپانچ : یہ ہوئی نا بات بہت اچھے تو فر میں اگلے ہفتے ہی میری بیٹی کو نئی کار خرید دونگا تب تک تم میری کار پر ہی اسکو کار چلانی سیکھا دینا فر کل سے سیکھا دوگے نا . میں : دین-بحار تو میں کھیت میں الجھا رہتا ہوں شام کو ہی وقت نکال پاؤنگا اسے پہلے نہیں سارپانچ : ٹھیک ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں . یہ کچھ پیسے ہیں تمہارا میحنتانا ( 1 نوتو کا بوندیل ٹیبل پر رکھتے ہوئے ) بابا : سارپانچ صاحب اسکی کوئی ضرورت نہیں آپ نے قاسم کا قرض معاف کر دیا یھی بہت ہے یہ پیسے ہمیں نہیں چاہئے آپ واپس رکھ لیجیے . سارپانچ : ٹھیک ہے تو فر میں چلتا ہوں ( پیسے جیب میں واپس ڈالتے ہوئے ) . فر سارپانچ وہاں سے چلا گیا اور فضا اور نازی دونوں مجھے راسویی سے گھور-گھور کر دیکھے جا رہی تھی لیکن بابا كے پاس بیٹھے ہونے کی وجہ سے دونوں نا تو راسویی سے باہر آئی نا ہی مجھ سے کوئی بات کی میں بھی چپ چاپ نظارے جھکائے بیٹھا رہا . بابا : بیٹا تم کار چلانی جانتے ہو ؟ میں : جی بابا وہ جس دن میں شہر گیا تھا تب رستے میں سارپانچ کی بیٹی کی کار خراب ہو گئی تھی تو میں نے اسکی کار ٹھیک کر ڈی تھی فر کافی دور تک چالاکی بھی ڈی تھی شاید اسلئے وہ مجھ سے کار سیکھنا چاہتی ہے ( میں یہ سب فضا کو سنانے كے لیے کہہ رہا تھا ) بابا : وہو میں کیا پوچھ رہا ہوں تم کیا جواب دے رہے ہو . . . میں نے پوچھا تم کو کار چلانی کہا سے آئی ؟ میں : پتہ نہیں بابا یاد نہیں بابا : اچھا چلو کوئی بات نہیں . . . اب تم آرام کرو تھکے ہوئے ہوگی میں بھی زرا باہر سیر کر لوں . . . . کھانے بن جائے تو آواز لگا دینا میں پڑوس میں حَیدَر صاحب كے ساتھ زرا سیر کر رہا ہوں یھی پاس میں . میں : اچھا بابا . بابا كے گھر سے نکلتے ہی فضا اور نازی دونوں میرے پاس آکے کھڑی ہو گئی اور غصے سے مجھے گھورنے لگی . فضا : اچھا تو اسلئے جلدی آ گئے تھے اس دن شہر سے . میں : ارے کیا ہوا کیوں غصہ کر رہی ہو بیکار میں فضا : مجھے بتایا کیوں نہیں کی حنا كے ساتھ آئے تھے تم میں : یار میں آنا نہیں چاہتا تھا لیکن وہ زبردستی ساتھ لے آئی ( میں نے فضا کو یہ نہیں بتایا کی میں گیا بھی حنا كے ساتھ ہی تھا ) فضا : میں نے سوچا نہیں تھا کی تم مجھ سے بھی جھوٹ بول سکتے ہو میں : بیکار میں جھگڑا نا کرو چھوٹی سی بات تھی نہیں بتایا تو کیا ہوا یار نازی : ہاں بھابی آج دن میں بھی وہ چڑیل ملنے آئی تھی میں : تو میں نے تو اسکو منع کیا ہی تھا نا یار اب مجھے کیا پتہ تھا وہ اپنے باپ کو بھیج دے گی . ٹھیک ہے اگر تم کو نہیں پسند تو نہیں سکحاونجا اسکو کار چلنی . . . . اب تو خوش ہو دونوں . فضا : اب بابا نے ہاں بول دیا ہے تو سیکھا دینا ( موح دوسری طرف کرکے بولتی ہوئی ) ایسی ہی ہم تینوں کافی دیر لادایی کرتے رہے فر وہ دونوں راسویی میں چلی گئی اور میں کرسی پر بیٹھا دن بھر كے بڑے میں سوچنے لگا جانے کیوں مجھے بار بار اپنے ہاتھوں میں حنا کا وہی کومل احساس بار بار ہو رہا تھا . تھوڑی دیر بَعْد فضا اور نازی نے كھانا بنا لیا اور بابا کو بلانے كے لیے باہر آ گئی . لیکن اب وہ میری طرف دیکھ بھی نہیں رہی تھی جب کی میں اسکے پاس ہی کھڑا تھا . میں : اب تک ناراض ہو . فضا : میں کون ہوتی ہوں ناراض ہونے والی جو تمہارا دِل کرے وہ کرو میں : ایسی کیوں بات کر رہی ہو یار آگے کوئی کام بنا تم سے پوچھے کبھی کیا ہے جو اب کرونگا . ییقین کرو میں سچ میں نہیں جانتا تھا کی وہ سارپانچ کو گھر بھیج دے گی آج دن میں بھی میں نے اسکو منع کر دیا تھا . فضا بنا میری بات کا جواب دیا بابا کو 2-3 باڑ آواز لگاکے اندر چلی گئی . مجھے اسکا اِس طرح کا بارتاv میرے ساتھ بہت برا لوگا . لیکن میں چُپ رہا پر اسکو منانے كے لیے کوئی اور طریقہ سوچنے لگا . رات کو ہم نے تینوں نے مل کر ہی كھانا کھایا لیکن دونوں آج اک دم خاموش تھی اور چپ چاپ كھانا کھا رہی تھی میں جانتا تھا کی دونوں مجھ سے ناراض ہے اسلئے مجھ سے بات نہیں کر رہی ہے . میں نے فضا کو منانے كے لیے كھانا کھاتے ہوئے ہی اک طریقہ سوچا میں نے جان-بوجحکار چمچ نیچے گرا دیا اور ٹیبل سے نیچے جھک گیا اور چمچ اٹھانے كے بہانے فضا کی رانو پر ہاتھ رکھ دیئے اور سہلانے لگا اس نے اپنا گھٹنا جھٹک دیا میں نے فر سے اسکے گھٹنے پر ہاتھ رکھ دیا اور فر سے اپنا ہاتھ فیرنی لگا اس نے فر سے میرا ہاتھ جحاتاکنی كے لیے اپنی ٹانگ ہِلائی لیکن اِس باڑ میں نے اپنا ہاتھ جحاتاکنی نہیں دیا بلکہ سیدھا ہاتھ اسکی چوت پر رکھ دیا اس نے دونوں تانجیی اک دم سے بند کر لی اور میرا ہاتھ اپنی ٹانگوں كے بیچ میں دبا لیا . اب میں اپنا ہاتھ ہلا بھی نہیں پا رہا تھا تبھی مجھے فضا کی آواز آئی نیچے جاکے سو گئے ہو کیا اوپر آؤ جانے دو دوسرا چمچ لے لو اور اس نے اپنی تانجیی کھول ڈی ٹاکی میں اپنا ہاتھ باہر نکال سکو لیکن میں نے ہاتھ نکلنے سے پہلے اپنی انجالیو سے اسکی چوت کو اچھے سے مرود دیا اور فر اوپر آکے اپنی کرسی پر بیٹھ گیا . جب اوپر آیا تو میرے چہرے پر اک مسکان تھی اور اسکے چہرے پر مسکان اور دَرْد دونوں تھے جیسے وہ اشارے سے کہہ رہی ہو کی مجھے نیچے دَرْد ہو رہا ہے . میں نے اسکی طرف مسکرا کر دیکھا اور فر سے كھانا کھانے لگ گیا ہلاکی اس وقت ہماری ساتھ نازی بھی بیٹھی تھی لیکن میں نے ابھی فضا كے ساتھ کیا کیا یہ صرف میں اور فضا ہی جانتے تھے نازی کو اِس بڑے میں کوئی خبر نہیں تھی کیونکی وہ تو مزے سے اپنا كھانا کھا رہی تھی . تھوڑی دیر بَعْد میں نے نیچے سے پیر لمبا کیا اور اسکے پیر پر رکھ دیا اس نے اک پل كے لیے میری طرف دیکھا اور فر خاموشی سے كھانا کھانے لگی میں نے تھوڑی دیر اپنے پیر سے اسکے پیر کو سہلایا اور فر اپنا پیر اوپر کی طرف لے جانے لگا وہ مجھے اشارے سے نہیں کہنے لگی لیکن میرا پیر دھیرے دھیرے اوپر کی طرف جا رہا تھا اور اسکی ٹانگوں كے بیچ میں لے جاکے میں نے اپنا پیر روک دیا اب میرے پیر کا انجوتحی کا نشانہ اسکی چوت پر تھا میں نے دھیرے دھیرے كھانا بھی کھا رہا تھا اور ساتھ میں پیر كے انجوتحی سے اسکی چوت کو ماسال رہا تھا . فضا کی نا چاھتے ہوئے بھی مزے سے بار بار آنکھیں بند ہو رہی تھی اور وہ مجھے بار بار سر نہیں میں حیلاکار نا کا اشارہ کر رہی تھی اور میں بس اسکو دیکھتا ہوا مسکرا رہا تھا . اسکی چوت اب پانی چودنے لگی تھی جسے اسکی شلوار بھی گیلی ہونے لگی تھی اور مجھے بھی اسکی چوت کا جییلاپان اپنے پیر كے انجوتحی پر محسوس ہو رہا تھا . میں نے لگاتار اسکی چوت كے دانے کو مسلتا جا رہا تھا اب فضا نے بھی اپنی دونوں تانجیی پوری طرح سے کھول ڈی تھی . کچھ دیر کی راجدایی كے بَعْد وہ فارغ ہو گئی جسے اسکے موح سے اک جور سے سسییی کی آواز نکل گئی . میں نے جلدی سے اپنا پیر ہٹا لیا اور نیچے رکھ لیا تاکہ میرے پیر پر نازی کی نظر نا پڑ جائے . نازی : کیا ہوا بھابی ٹھیک تو ہو . فضا : ہاں ٹھیک ہوں وہ بس مرچی کھا لی تھی تو موح جل رہا ہے نازی : اچھا . . . لوح پانی پی لو . میں : ( مسکراتے ہوئے ) پانی نہیں ان کو کچھ مٹا کھلاؤ ٹاکی مٹا بول سکے فضا : مجھے تو آپکا ہی مٹا پسند ہے آپ نے موح مٹا نہیں کروایا اسلئے پانی سے کام چلانا پڑ رہا ہے ( مسکرا کر دیکھتے ہوئے ) میں : کھانے كے بَعْد میٹھا كھانا اچھا ہوتا ہے موح سے کادواحات نکل جاتی ہے . فضا : آج تو کھانے كے بَعْد موح مٹا کر ہی لونگی ( شرارتی ھسی كے ساتھ ) نازی : تم دونوں یہ کیا میتھا-میتھا کر رہے ہو مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا چلو دونوں چپ چاپ كھانا کھاؤ میں : اچھا ٹھیک ہے . فر ہم تینوں نے مل کر كھانا کھایا اور کھانے کھاتے ہوئے فضا مجھے بار بار بس مسکرا کر دیکھتی رہی مجھے یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کی جو فضا تھوڑی دیر پہلے مجھے ڈھنگ سے دیکھ بھی نہیں رہی تھی وہ اب مجھے بار بار مسکرا کر پہلے کی طرح بڑے پیار سے دیکھ رہی ہے اب اسکی آنکھوں میں میرے لیے پیار ہی پیار تھا . کھانے كے بَعْد میں بابا كے پیر دبانے چلا گیا اور فضا اور نازی راسویی كے کامو میں لگ گئی تھوڑی دیر بَعْد نازی میرا بستر کرنے آ گئی تو میں نے اچھا موقع دیکھ کر فضا كے پاس جانے کا سوچا اور میں تیز قدموں كے ساتھ فضا كے پاس چلا گیا . میں : ہاں جی اب بھی ناراض ہو . فضا : ( پلٹ کر ) نییر میں تم کو بہت مارونگی فر سے عیسی کیا تو . میں : ( ہیسٹ ہوئے ) کیا کیا میں نے فضا : اچھا بتاو کیا کیا ( میرے لنڈ کو پاکادتی ہوئے ) میں : آں دَرْد ہو رہی ہے چودو نا ( ہیسٹ ہوئے ) فضا : ( لنڈ کو چھوڑ کر میرے گلے میں اپنی دونوں باحی ہار کی طرح دالکار ) نہیں چھودتی کیا کر لوگے میں : نازی آ جائے گی ( مسکراتے ہوئے ) فضا : نہیں آئیگی میں نے ہی اسکو تمہارا بستر کرنے بھیجا ہے . میں : اچھا . . . فر اک پپی دو نا . . . فضا : ( مسکراتے ہوئے ) نا دوں تو . . . . میں : ( شلوار كے اوپر سے ہی اسکی چوت پر ہاتھ رکھتے ہوئے ) لے تو میں یہ بھی لونگا اور تم مجھے روک نہیں سکتی جانتی ہو نا فضا : سسس جان نا کرو نا ہاتھ ہٹاؤ پہلے وہاں سے فر جو مرضی لے لینا میں : ( ہاتھ کو چوت پر ہی رکھے ہوئے ) یہ بھی لے سکتا ہوں فضا : کیا بات ہے آج جناب کی نیت ٹھیک نہیں لگ رہی ( مسکراتے ہوئے ) میں : تم کو دیکھتے ہی نیت خراب ہو جاتی ہے کیا کروں . فضا : ممممم ٹھیک ہے آج فر کرے ؟ میں : لیکن کیسے نازی ساتھ ھوگی نا تمھارے فضا : اسکی فکر تم نا کرو تم بس رات کو کوٹھری میں آ جانا اور سو مت جانا ٹھیک ہے میں : ٹھیک ہے آ جاؤنگا لیکن تم وہاں آوجی کیسے فضا : اسکی فکر تم نا کرو میں آ جائوں گی اسکے سو جانے كے بَعْد ویسے بھی وہ بہت گہری نیند میں سوتی ہے تو صبح سے پہلے نہیں اتحیجی میں : ہحمممم چلو ٹھیک ہے فر اب جلدی سے پپی دو . فضا : میں بھی تمہاری میرا سب کچھ تمہارا جہاں چاھے وہاں پپی لے لو میں نے منع تھوڑی کیا ہے . میں : نہیں آج تم کرو پہلے فر میں کرونگا فضا : ٹھیک ہے تھوڑا نیچے تو جھکو میں : نہیں آج اک نئے طریقے سے کرینگے فضا : کیسے ؟ میں : ( فضا کی کمر کو دونوں باجووو سے پکڑ کر ہوا میں اٹھاتے ہوئے ) ایسی . . . . اب دیکھو تمہارا چہرہ میرے چہرے كے برابر ہو گیا ہے فضا : ہحممم ( اور فر فضا نے خود ہی اپنے رسیلے ہوتھ میرے ہوتھو پر رکھ دیئے اور اپنی آنکھیں بند کر لی ) تھوڑی دیر میں اور فضا اک دوسرے كے ہوتھ چُوستے رہے فر میں نے فضا کو نیچے اتارا تو اسکی سانس بہت تیز-تیز چل رہی تھی شاید وہ گرم ہو گئی تھی فر اس نے مجھے باہر جانے کو کہا اور خود راسویی كے باقی کامو میں لگ گئی . میں باہر کھلی ہوا میں بیٹھا کھلے آسمان میں تیم-تیماتی تاروں نہارنے لگا تھوڑی دیر میں نازی بھی کمرے سے باہر آ گئی اور سیدھا راسویی میں فضا كے پاس چلی گئی فر میں بھی اپنے کمرے میں آکے بستر پر لیتا سب کے سو جانے کا انتظار کرتا رہا کی کب رات ہو اور کب میں فضا كے ساتھ مزے کی وادیو کی سیر کروں نیند تو میری آنکھوں سے کوسو دور تھی لیکن فر بھی نازی کو دکھانے كے لیے میں بس چپ چاپ آنکھیں بند کیے ہوئے اپنے بستر پر پڑا رہا . کچھ دیر بَعْد فضا اور نازی بھی اپنے کمرے میں سونے كے لیے چلی گئی اور میں آدھی رات کا انتظار کرنے لگا . مجھے انتظار کرتے ہوئے کافی دیر ہو گئی تھی اسلئے میں بس اپنے بستر پر پڑا فضا كے آنے کا انتظار کر رہا تھا کیونکی اسکی عادت تھی وہ ہمیشہ مجھے خود بلانے آتی تھی . میری نظر دروازے پر ٹکی ہوئی تھی لیکن ذہن میں بار بار حنا کا خیال آ رہا تھا . میں اپنے آپ سے ہی کئی سوال پوچھ رہا تھا اور فر خود سے ہی جواب تالااشنی کی کوشش کر رہا تھا . اِس وقت مجھے فضا كے بڑے میں سوچنا چاہئے تھا لیکن جانے کیوں مجھے حنا یاد آ رہی تھی . اِس وقت میں دو تارافا سوچ میں پھنسا ہوا تھا آنکھیں باہر دروازے پر فضا کو تلاش رہی تھی اور ذہن حنا کو . ابھی میں اپنی سوچو میں ہی گم تھا کی دروازے پر مجھے اک سایہ نظر آیا اندھیرا ہونے کی واجاحا سے میں چہرہ ٹھیک سے دیکھ نہیں پا رہا تھا . میں بس تاروازی کی طرف نظر تیکایی اس سائے کو ہی دیکھ رہا تھا کی کب وہ مجھے بلائے اور میں اسکے پاس جاؤ . لیکن اک عجیب بات ہوئی اس لڑکی نے پہلے سر گھماکی دایی-باایی دیکھا فر کمرے كے اندر آ گئی جب کی فضا کبھی بھی اندر نہیں آتی تھی وہ تو باہر کھڑی ہوئی ہی اشارہ کرکے مجھے بلاتی تھی . یہ جاننے كے لیے کی یہ کون ہے اور یہاں اِس وقت کیوں آئی ہے میں نے فوراً اسکو اپنے پاس آٹا دیکھ کر اپنی آنکھیں بند کر لی جیسے میں گہری نیند میں سو رہا ہوں . جب وہ لڑکی تھوڑا اور قریب آئی تو مجھے حالکا-حاکلا چہرہ نظر آنے لگا یہ تو نازی تھی . میں سوچ میں پڑ گیا کی اِس وقت یہ یہاں کیسے آ گئی اور فضا نے تو مجھے کہا تھا کی وہ اس کے سو جانے كے بَعْد آ جائے گی . اب میں یہ سوچ کر پریشان تھا کی کہی اِس وقت فضا یہاں آ گئی اور اس نے نازی کو یہاں دیکھ لیا تو وہ کیا سوچیگی میرے بڑے میں . لیکن فر بھی میں سونے کا ناٹک کرتے ہوئے وہاں پڑا رہا . کچھ دیر نازی نے بابا کو دیکھا جو گہری نیند میں سو رہے تھے اور خراٹے مار رہے تھے فر وہ پلٹ کر گئی اور دھیرے سے دروازہ بند کر دیا اور کنڈی لگاکے میری طرف آئی اور مجھے غور سے دیکھنے لگی میں آنکھیں بند کیے ہوئے لیتا رہا فر وہ دھیرے سے میرے بستر پر بیٹھ گئی اور کچھ دیر مجھے دیکھتی رہی فر جو سائڈ میں تھوڑی سی جگہ تھی وہاں میرے ساتھ ہی کروٹ لے کے لیٹ گئی کیونکی اسکے جگہ کم تھی اور اب اسکے ہوتے ہوئے میں تھوڑا پیچھے ساراکار جگہ بھی نہیں بنا سکتا تھا . کچھ دیر وہ ایسی ہی لیتی تھی اور فر اپنا اک ہاتھ میری چھاتی پر رکھ لیا اور دوسرے ہاتھ کی انجالیو سے میرے گال سہلانے لگی فر دھیرے سے اپنی اک ٹانگ میری جانگھ كے اوپر رکھ لی اور اپنی باجو کو میرے پیٹ سے گزار لیا جیسے وہ لیتے ہوئے کو ہی مجھے سائڈ سے گلے لگا رہی ہو . اسے اسکے ممے مجھے اپنے کندہوں پر محسوس ہونے لگے . میں فر بھی ویسے ہی لیتا رہا اصل میں میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کی جو مجھ سے اندھیرے میں غلطی ہوئی تھی اسکا اس پر کیا اثر ہوا ہے اور وہ کس حد تک جاتی ہے . کچھ دیر وہ میرے ساتھ ایسی ہی پڑی رہی فر تھوڑا اوپر کو ہوتے ہوئے میری گال پر اپنی انجالیا کی مدد سے میرے چہرے کو اپنی طرف کیا اور کچھ دیر مجھے دیکھتی رہی اسکی سانس تیز چل رہی تھی جو مجھے اپنے چہرے پر بھی محسوس ہو رہی تھی . فر اس نے دھیرے سے میرے کان میں کہا نازی : جاگ رہے ہو کیا میں خاموش ہوکے لیتا رہا جب اسے یقین ہو گیا کی میں سویا پڑا ہوں تو اس نے میری گال پر ہلکی سے چوم لیا اس نے میرا چہرہ اپنی انجالیو کی مدد سے اپنی طرف کیا ہوا تھا اور مجھے چومنے كے بَعْد جیسے اسکی انجالیو سے جان ہی ختم ہو گئی ہو اسکی سانس بھی بہت تیز چل رہی جو مجھے اپنے چہرے پر میسوس ہو رہی تھی . اسکے ہاتھ اور انجالیا کانپ رہی تھی کچھ دیر وہ ایسی ہی میرے کاندھے پر اپنا سر رکھا کر میرے ساتھ لیتی رہی اور اپنے کامپتی ہاتھوں سے میری چھاتی پر اپنا ہاتھ فیرتی رہی فر وہ اٹھی اور ہلکی سے میرے کان میں بولی . . . . نازی : جو تم نے مانگا تھا میں نے دے دیا ہے اگلی باڑ تم کو مانگنے کی ضرورت نہیں ہے . اس نے فر اک باڑ میری گال پر چوم لیا اور اِس باڑ اس نے ہلکے ہلکے سے 15-16 بار میرے گال کو لگاتار چوما . مجھ سے اب اور صبار نہیں ہو رہا تھا میرا لنڈ بھی کھڑا ہوکے پاجامی میں ٹینٹ بنا چکا تھا اسلئے میں نے کروٹ لے لی اور اسکے چہرے كے سامنے اپنا چہرہ کر دیا ساتھ ہی اسکی کمر میں اپنے ہاتھ ڈال لیا جیسے لیتے ہوئے ہی اسکو گلے سے لگا رہا ہوں . اب وہ پوری طرح میری باھو میں تھی اور میرا لنڈ اسکی ٹانگوں كے بیچ پھنسا ہوا تھا میری اِس حرکت سے وہ اک دم ڈر گئی اور وہی سن ہو گئی جیسے جم گئی ہو . مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا کی وہ مجھے سوتا ہوا سمجھ کر ہی یہ سب کر رہی تھی یہ میں نے کیا کیا اسلئے فر سے بنا کوئی حرکت کیے ویسے ہی لیتا رہا ٹاکی اسکو یھی لگے کی میں نے نیند میں ہی کروٹ لی ہے . کچھ دیر میں ویسے ہی اسکو اپنی باھو میں لیے پڑا رہا اسکا سر میری نیچے والی باجو پر تھا جو میں نے گھوما کر اسکی پیٹھ كے پیچھے رکھا ہوا تھا اور دوسرے ہاتھ میں نے اسکی کمر پر رکھا ہوا تھا اور میری اک ٹانگ اب اسکے اوپر تھی . کچھ دیر وہ ایسی ہی بنا کوئی حرکت کیے میرے ساتھ لیتی رہی جب اسے یقین ہو گیا کی میں سویا ہوا ہوں تو اس نے فر سے اک باڑ میرا نام پکارا اور وہی جملہ فر سے دہرایہ . . . نازی : نییر جاگ رہے ہو کیا . . . . جب میری طرف سے کوئی جواب نہیں آیا تو اسے یقین ہو گیا کی میں نے نیند میں ہی کروٹ لی ہے اب وہ مجھ سے اور چپک گئی اور اپنی اک باجو میری کمر میں ڈال کر میرے اور قریب ہو گئی اسکی چھاتیا اب مجھے اپنے سینے پر محسوس ہو رہی تھی اور اسکی گرم سانسیں مجھے اپنے گلے پر محسوس ہو رہی تھی اس نے ہلکا سا اپنی چہرہ اٹھایا اور فر سے میری گال پر اک باڑ فر چوم لیا اب اس نے میرا اک باجو جو اسکی کمر پر تھا اسکو اک ہاتھ سے اٹھایا اور اسکو اپنے ہاتھوں میں تھام لیا فر دھیرے دھیرے میرے ہاتھ پر اور میرے ہاتھ کی انجالیو پر چومنے لگی . فر خود ہی میرا ہاتھ اپنی گال پر رکھا کر اپنے گال سہلانے لگی اسکے گال بہت نازک تھے جن کا احساس مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا . فر اس نے ہلکی سے میری ٹانگ جو میں نے اسکے اوپر رخدی تھی اسکو دھیرے سے نیچے کی اور دحاکیلا تاکہ وہ اپنے اوپر سے میری ٹانگ ہٹا سکے . اب صرف میرا نیچے والا باجو ہی اسکے سر كے نیچے تھا جس پر وہ سر رکھے ہوئے لیتی رہی . کافی وقت گزر گیا لیکن اب اس نے کوئی حرکت نہیں کی اور وہ ایسی ہی میرے کاندھے پر اپنے سر رکھا کر لیتی رہی شاید وہ مجھے دیکھ رہی تھی . تھوڑی دیر لیتے رہنے كے بَعْد وہ اٹھی اور دھیرے سے بستر پر پہلے بیٹھی اور فر میرے چہرے پر 2-3 بار چوم لیا اور فر وہ کھڑی ہوکے چلی گئی فر مجھے دروازہ کھلتا ہوا دکھائی دیا اور وہ باہر کو نکل گئی . میں بس اسکو جاتے ہوئے دیکھتا رہا . مجھے اب یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کی یہ نیا قصہ کونسا کھل گیا یہ کہا سے آگئی میں تو فضا کا انتظار کر رہا تھا . کافی دیر میں ایسی ہی لیتا رہا لیکن فضا نہیں آئی میں نے سوچا چل کر دیکھتا ہوں کی کیا ہوا ہے آنا تو فضا کو چاہئے تھے یہ نازی کہا سے آ گئی اسلئے میں بستر سے اٹھا اور دبی قدموں كے ساتھ فضا كے کمرے کی طرف بڑھنے لگا وہاں جاکے دیکھا تو فضا اور نازی کی آواز آ رہی تھی . فضا : نازی کب تک بیٹھی رہوگی آدھی رات ہو گئی ہے اب تم بھی سو جاؤ نازی : بھابی آپ سو جاؤ مجھے ابھی نیند نہیں آ رہی جب نیند آئیگی تو سو جائوں گی فضا : جیسی تمہاری مرضی مجھے تو بہت نیند آ رہی ہے میں سونے لگی ہوں . نازی : اچھا بھابی آپ سو جاؤ میں بھی تھوڑی دیر میں سو جائوں گی میں باہر کھڑا ان دونوں کی باتیں سن رہا تھا اب مجھے سمجھ آ گیا کی فضا کیوں نہیں آ سکی کیونکی نازی جاگ رہی تھی . میں واپس اپنے کمرے میں آکے اپنے بستر پر لیٹ گیا اب مجھے خود پر غصہ آ رہا تھا کی اتنا اچھا موقع تھا میں نازی کو چھوڑ سکتا تھا لیکن میں نے اسکو جانے کیوں دیا اب نا مجھے فضا ملی نا ہی نازی یھی سب باتیں میں سوچ رہا تھا کچھ دیر میں مجھے نیند نے اپنی آغوش میں بھی لے لیا . صبح جب میری جاگھ کھلی تو میں اپنے روز كے کامو سے فارغ ہوکے تییار ہو گیا صبح ناشتے پر میں اور نازی ساتھ میں بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے اور فضا اندر راسویی میں تھی . جیسے ہی فضا مجھے ناشتہ دینے آئی تو میں نے غصے سے اسکی طرف دیکھا جس پر اس نے گندا سا موح بنا لیا اور نازی کی طرف اشارہ کیا فر میرا اور نازی کا ناشتہ رکھا کر واپس راسویی میں چلی گئی . نازی مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی اور ناشتہ کر رہی تھی . میں : کیا بات ہے آج بڑے ڈانٹ نکل رہے ہیں تمھارے . نازی : لوح جی اب میں ہنس بھی نہیں سکتی میں : تمھارے ڈانٹ ہے جتنے چاھے دکھاؤ نازی : ہحممم . . . . آج تم بَدی دیر تک سوتے رہے میں : پتہ نہیں رات کو نیند بہت اچھی آئی . یہ سن کر نازی شرما سی گئی اور موح نیچے کر لیا اور مجھ سے پوچھا . . . نازی : کیوں رات کو کیا خاص تھا میں : پتہ نہیں لیکن بہت اچھی نیند آئی ( زور سے بولتے ہوئے . . . کیونکی میں فضا کو یہ سب سنا رہا تھا ) نازی : زور سے کیوں بول رہے ہو میں بہری نہیں ہوں دھیرے بھی تو بول سکتے ہو نا میں : اچھا . . . اچھا باتیں ختم کرو اور جلدی سے ناشتہ کھاؤ فر کھیت بھی جانا ہے . اسکے بَعْد ہم دونوں خاموش ہوکے ناشتہ کرتے رہے اور فضا بار بار راسویی میں سے چہرہ نیکاالکار مجھے دیکھ رہی تھی اور اپنے کانو پر ہاتھ لگا رہی تھی میں نے چہرہ گھوما لیا اور اپنا ناشتہ ختم کرنے لگا . ناشتہ کرکے ہم اٹھے تو فضا فوراً میرے پاس آئی فضا : کتنے بجے تک واپس آؤ گے میں : جتنے بجے روز آٹا ہوں آج کیوں پوچھ رہی ہو فضا : نہیں کچھ نہیں ویسی ہی بس میں : ( نازی کی طرف دیکھتے ہوئے ) چلے نازی نازی : ہاں چلو ( مسکراتے ہوئے ) فضا بار بار نازی كے پیچھے کھڑی اپنے کانو پر ہاتھ لگا رہی تھی اور مجھ سے رات كے لیے معافی مانگ رہی تھی لیکن میں اسکی طرف دھیان نہیں دے رہا تھا . فر میں اور نازی کھیت كے لیے نکل گئے اور دن بھر کام میں لگے رہے . شام کو نازی سب سامان سمیٹ رہی تھی اور انکی مکمل جگہ پر سارا سامان رکھ رہی تھی . میں دن بھر كے کام اور خیتو کی مٹی سے کافی گندا ہوا پڑا تھا اسلئے نالے میں اپنے ہاتھ پیر اچھے سے دھو رہا تھا میرے ساتھ نازی بھی اپنے ہاتھ پیر دونے كے لیے آ گئی اور میرے پاس ہی بیٹھ گئی . نازی كے حاتح-پایر دونے كے بَعْد میں نے اسکی طرف مسکراتے دیکھا اور اسکی طرف اپنے سافا کر دیا جسے اس نے ہنس کر پکڑ لیا اور اپنے ہاتھ اور باجو پونچھنے لگی . ابھی اس نے اپنی باجو ہی پونچی تھی کی میں نے اسے اپنا سافا واپس کھینچ لیا وہ ساوالیا نظروں سے میری طرف دیکھنے لگی میں نیچے بیٹھا اور خود اسکے پیر اور تانجیی پونچھنے لگا اور اسکی طرف اک بار نظر اٹھا کے دیکھا وہ مجھے ہی دیکھ کر مسکرا رہی تھی . ہم دونوں میں کوئی بات نہیں ہو رہی تھی بس اک دوسرے سے مسکرا کر آنکھوں ہی آنکھوں میں بات کر رہے تھے . اسکے ہاتھ پیر صاف کرنے كے بَعْد میں اپنے پیر پونچھ رہا تھا کی اس نے میرا سافا کھینچ لیا اور گردن سے نہیں میں اشارہ کیا اور خود میرے پیر پونچنی لگی مجھے اسکی یہ ادا بہت اچھی لگی اور میں پیار بھری نظروں سے اسکی طرف دیکھنے لگا وہ بس مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی اور اپنے کام میں لگی ہوئی تھی میں نے اسکو اسکی دونوں باجو سے پکڑا تو وہ مجھے دیکھنے لگی . میں : پاس آؤ نازی : ( نظری جھنکار ) پاس ہی تو ہوں میں : اور پاس آؤ نازی : ( تھوڑا اور نزدیک آتے ہوئے ) اب ٹھیک ہے . میں : اور پاس نازی : کیا ہے کیوں تنگ کر رہے ہو میں : سنا نہیں کیا کہا میں نے نازی : ( نا میں سر ہلاتے ہوئے ) میں نے اسے کاندھے سے پکڑا اور اپنے سینے سے لگا لیا . نازی : ( تیز-تیز سانس لیتے ہوئے ) چودو نا کوئی آ جائیگا میں : کوئی نہیں آئیگا نازی : ( خاموشی سے میرے سینے سے لگی رہی ) ہحممم میں : اک پپی دو نا نازی : تھپڑ كھانا ہے ( ہیسٹ ہوئے ) میں : کیوں نازی : ووہہوو ( نا میں سر ہلاتے ہوئے ) میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اسکے چہرے کو پکڑا اور اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا . وہ خاموش ہوکے کچھ دیر میری آنكھوں میں دیکھتی رہی اور فر اپنی آنکھیں بند کر لی . شاید وہ بھی یھی چاہتی تھی میں دھیرے دھیرے اپنا چہرہ اسکے چہرے كے قریب لے گیا اس وقت اسکی سانس بہت تیز چل رہی تھی . میں : آنکھیں کھولو نازی : ( آنکھیں کھولتے ہوئے ) ہحممم میں : نہیں . . . . . ( مسکراتے ہوئے ) نازی : ( مسکراتے ہوئے نا میں سر ہلاتے ہوئے ) میں : ٹھیک ہے فر تھپڑ ہی مار دو میں تو کرنے لگا ہوں نازی : ( فر سے آنکھیں بند کرتے ہوئے ) میں نے اپنے ہوتھو نازی كے نرم اور راسییلے ہوتھو پر رکھ دیئے جسے اسے اک جھٹکا سا لگا . کچھ دیر اس نے اپنے ہوتھو کو سختی سے بند کرے رکھا اور میرے ہاتھوں کو پکڑے رکھا جسے میں نے اسکے چہرے کو پکڑا تھا . کچھ دیر اسکے ہوتھو كے ساتھ اپنے ہوتھ جوڑی رکھے اب دھیرے دھیرے اسکے ہوتھ جو سختی سے اک دوسرے سے جڑی ہوئے تھے اب کچھ ڈھیلی محسوس ہونے لگے میں نے سب سے پہلے اسکے نیچے والے ہوتھ کو چُوسنا شروع کر دیا وہ میرا ساتھ نہیں دے رہی تھی لیکن منع بھی نہیں کر رہی تھی میں لگاتار اسکے نیچے والے ہوتھ کو چوس رہا تھا اب دھیرے دھیرے اس نے بھی میرے اوپر والے ہوتھ کو چُوسنا شروع کر دیا میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اسکا چہرہ آزاد کر دیا لیکن وہ اب بھی میرے ہوتھو سے ہوتھ جوڑی بیٹھی تھی اور اپنی دونوں آنکھیں بند کیے بیٹھی تھی اب ہم دونوں اک دوسرے کو شدت سے چوم اور چوس رہے تھے . ہم دونوں کی آنکھیں بند تھی اور ہم اک دوسرے میں کھوئے ہوئے تھے مجھے نہیں پتہ کب اس نے مجھے گلے سے لگایا اور کب میں زمین پر لیٹ گئے اور وہ میرے اوپر آکے لیٹ گئی ہم دونوں کسی عجیب سے مزے كے نشے میں مدھوش تھے میرے دونوں ہاتھ اسکی کمر پر لپٹے تھے اور اس نے اپنی دونوں باجو میرے گلے میں کسی ہار کی طرف ڈال رکھی تھی اور میرے اوپر لیتی ہوئی تھی . ہمیں دُنیا کو کوئی ہوش نہیں تھا ہم دونوں بس اک دوسرے میں ہی گم تھے . تبھی مجھے اک کار کا ہارن سنائی دیا جسے ہم دونوں کی اک دم آنکھ کھل گئی نازی خود کو اِس طرح میرے اوپر لیتا دیکھ کر گھبرا سی گئی اور جلدی سے مجھ سے الگ ہوکے میرے اوپر سے اٹھ گئی اسکے دونوں ہاتھ بری طرح کانپ رہے تھے . اسکا اور میرا موح ہم دونوں کی تھوک سے بری طرح گیلا ہوا پڑا تھا میں زمین پر پڑا اسکو دیکھ رہا تھا وہ نظارے جھکائے کھڑی تھی اور اک دم خاموش تھی . میں : کیا ہوا نازی : ( نا میں سرے ہلاتے ہوئے ) دیر ہو رہی ہے گھر چلے . . . . . ( اپنا موح اپنی چننی سے صاف کرتے ہوئے ) میں : ہاں چلو ہم دونوں کو ہی سمجھ نہیں آ رہا تھا کی اک دوسرے کو اب کیا کہے . تبھی اس کار کا ہارن اک بار فر سے سنائی دیا . ہلاکی جہاں ہم دونوں تھے وہاں اندھیرا تھا اسلئے ہم کو کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا میں نے جلدی سے کھڑے ہوکے اپنے کپڑے جحاادی جس پر مٹی لگ گئی تھی اور فر میں اور نازی کھیت كے فاتاک کی طرف بڑھنے لگے . وہاں ہمیں اک کار نظر آئی جسکے پاس اک لڑکی کھڑی تھی . میں نے پاس جاکے دیکھا تو یہ حنا تھی جو مجھے دیکھ کر ہاتھ ہلا رہی تھی اور مسکرا رہی تھی . نازی : آپ اسے بات کرو میں کھیت کا باقی سامان سہی سے رکھا کر آتی ہوں . میں : اچھا نازی واپس چلی گئی اور میں کار کی طرف بڑھنے لگا مجھے دیکھتے ہی حنا كے چہرے پر مسکان آ گئی اور مجھے دور سے دیکھ کر ہی بولی . . . . حنا : آ گئے جناب . . . وقت مل گیا ہمارے لیے میں : جی وہ میں کام میں مصروف تھا . . . کہیے کیسے آنا ہوا حنا : ارے اتنی جلدی بھول گئے ( آنکھیں دکھاتی ہوئے ) میں : کیا بھول گیا ؟ حنا : کل ابو آپ کے گھر آئے تھے نا کچھ وعدہ کیا تھا آپ نے ان کے ساتھ یاد آیا . میں : اچھا ہاں یاد آ گیا . . . . گاڑی چلانی سییخانی ہے تم کو . حنا : جی حضور بَدی مہربانی یاد کرنے كے لیے میں : ( مسکراتے ہوئے ) یار ضروری ہے کیا آپ کے ساتھ یہ ڈرائیور تو آیا ہی ہے اسی سے سیخ لو نا . حنا : جی نہیں . . . . مجھے آپ سے ہی سییخنی ہے اور آپ ہی سکحاوجی . یہ تو بس مجھے یہاں تک چودنے كے لیے آیا ہے . میں : اُوں اچھا . . . . اتنے میں نازی بھی وہاں آ گئی . . . نازی : ( مجھے مسکرا کر دیکھتے ہوئے ) سب کام ہو گیا اب گھر چلیں . . . میں : ہحممم چلتے ہیں ( مسکرا کر نازی کو دیکھتے ہوئے ) حنا : اُوں میڈم . . . . آپکو جانا ہے تو جاؤ نییر نہیں جائینگے نازی : ( غصے سے حنا کو دیکھتے ہوئے ) کیوں . . . . تم ہوتی کون ہو ان کو روکنے والی یہ میرے ساتھ ہی جائینگے سمجھی سارپانچ کی بیٹی ہو اس کا مطلب یہ نہیں کی سارا گاv تمہارا گلاام ہے . حنا : اوقات میں رہ کر بات کرو سمجھی . . . . نازی غصے میں اسکو کچھ بولنے والی تھی تبھی مجھے بیچ میں بولنا پڑا دونوں کو شانت کرنے كے لیے کیونکی دونوں ہی جحاجدی پر اتارو تھی جس کو مجھے روکنا تھا . . . . . . میں : یار دونوں چُپ ہو جاؤ کیوں لادایی کر رہی ہو . نازی تم حنا کو غلط مت سمجھو یہ صرف کار چلانی سیکھنے آئی ہے اور کچھ نہیں اسلئے گھر جانے كے لیے منع کر رہی تھی . نازی : تو ہر بات کہنے کا طریقہ ہوتا ہے یہ کیا بات ہوئی حنا : تو میں نے کیا غلط بولا جو تم مجھ سے لادایی کرنے پر آمادہ ہو گئی . میں : دونوں اک دم چُپ ہو جاؤ اب کوئی نہیں بولیگا نہیں تو نا میں تمھارے ساتھ جاؤنگا نا تمھارے سمجھی . . . . . ( دونوں کی طرف انگلی کرتے ہوئے ) حنا اور نازی : ( دونوں ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) میں : نازی کل بابا نے وعدہ کیا تھا سارپانچ جی کو اسلئے مجھے جانا ھوگا لیکن پہلے میں تم کو گھر چھوڑ دیتا ہوں ٹھیک ہے . نازی : نہیں میں چلی جائوں گی آپ جاؤ ان کے ساتھ حنا : چلو نییر چلیں میں : نہیں . . . . نازی میرے ساتھ آئی تھی میرے ساتھ ہی جائے گی رات ہونے والی ہے اِس وقت اس کا اکیلے جانا ٹھیک نہیں . حنا : ارے تم تو بیکار میں ہی گھبرا رہے ہو یہ کوئی بچی تھوڑی ہے چلو اک کم کرتے ہیں اسکو میرا ڈرائیور گھر چھوڑ آئیگا فر تو ٹھیک ہے . میں : میں نے بولا نا میرے ساتھ ہی جائے گی تم کار میں ہماری گھر کی طرف چلو ہم پیدل آ رہے ہیں . حنا : جب کار ہے تو پیدل کیوں جاؤگے چلو پہلے اسکو کار میں گھر چھوڑ دیتے ہیں فر ہم کار سیکھنے چلیں گے . میں : ( نازی کی طرف ساوالیا نظروں سے دیکھتے ہوئے ) ٹھیک ہے . نازی : ( ہاں میں سر حیلاکی مجھے مسکرا کر دیکھتے ہوئے ) ہحممم ٹھیک ہے . . . . حنا : ( اپنے ڈرائیور سے ) بشیر تم جاؤ مجھے نییر گھر چھوڑ دینگے ابو پوچھے تو کہہ دینا میں 2-3 گھنٹے تک گھر آ جائوں گی . ( مجھے دیکھتے ہوئے ) اتنا وقت کافی ھوگا نا میں : ہحممم کافی ہے . نازی : ( حیراں ہوتے ہوئے ) 2-3 گھنٹے . . . . تو فر نییر كھانا کب کھائینگے . میں : ارے فکر مت کرو میں جلدی ہی واپس آ جاؤنگا تب ساتھ میں ہی کھائینگے روز جیسے ٹھیک ہے ( مسکرا کر نازی کو دیکھتے ہوئے ) نازی : اچھا . . . لیکن جادا دیر مت کرنا اور اپنا خیال رکھنا . حنا : اب چلیں یا سڑی رات یھی کھڑے رہنا ہے میں : ہاں . . . ہاں . . . چلو اب حنا کا ڈرائیور چلا گیا اور میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا اور میرے ساتھ حنا بیٹھ گئی اور پیچھے نازی بیٹھی تھی . میں نے کار میں بیٹھ طے ہی کار كے تمام حیسو كے بڑے میں حنا کو بتانا شروع کر دیا اور وہ بڑے دھیان سے بیٹھی سن رہی تھی ساتھ میں نازی بھی موح آگے کرکے بڑے غور سے میری باتیں سن رہی تھی . فر میں نے کار اسٹارٹ کی اور اسٹایرینج کو سنبھالنے كے بڑے میں حنا کو بتانے لگا . . . . حنا : تھوڑا سا میں بھی چالاو میں : ہاں ضرور یہ لو اب تم سنبھالوں اور کار سنبھالنے کی کوشش کرو . نازی : تم سچ میں کار بہت اچھی چلا لیتے ہو میں : شکریہ ( مسکراتے ہوئے ) تبھی حنا اپنی سیٹ پر بیٹھی ہوئی ہی ٹیڑھی سی ہوکے اسٹایرینج سنبھالنے لگی جسے گاڑی اک طرف کو جانے لگی اسلئے میں نے فوراً اسٹایرینج خود سنبھال لیا اور گاڑی کو سہی طرف چلانے لگا میں نے فر سے حنا کو سنبھالنے كے لیے کہا تو وہ فر سے نہیں سنبھال پائی اور اس نے کار کو اک طرف گھوما دیا جسے کار سڑک سے نیچے اترنے ہی والی تھی میں نے فر سے اسٹایرینج سنبھالا اور کار کو واپس روڈ پر لے آیا . حنا : ( جحالاکار ) نہیں سنبھالا جا رہا میں : ارے ابھی تو پہلا دن ہے پہلے دن نہیں سنبھال پاؤگی کچھ دن کوشش کرو فر سیخ جوگی فکر مت کرو . کچھ دیر میں ایسی ہی حنا کو کار چلانی سییخاتا رہا فر ہمارا گھر آ گیا تو میں نے گھر كے سامنے کار روکدی . نازی کار سے اتاری اور میرے پاس آکے کھڑی ہو گئی میں نے کار کا شیشہ نیچے کیا تو نازی نے کھڑکی میں سے موح اندر کیا اور بولی . . . نازی : جلدی آ جانا جادا دور مت جانا میں کھانے پر تمہارا انتظار کروں گی ( مسکراتے ہوئے ) میں : ہاں بس تھوڑی دیر میں آ جاؤنگا فر كھانا ساتھ میں ہی کھائینگے حنا : آپکی باتیں ہو گئی ہو تو چلیں . میں : ہا . . ہا . . ضرور . . . نازی : اندر بھی نہیں آؤ گے میں : بس تھوڑی دیر میں ہی آ رہا ہوں تم جاؤ اور بابا کو بتا دینا نہیں تو فکر کرینگے ٹھیک ہے نازی : ہحممم . . . . . اچھا . . . نازی مسکراتے ہوئے اندر چلی گئی اور میں نے کار فر سے اسٹارٹ کی اور حنا کی طرف دیکھتے ہوئے . . . میں : ہاں جی حنا جی اب کہا چلیں بتاییی . . . حنا : مجھے کیا پتہ آپ بتاؤ کہا سکحاوجی میں : کوئی کھلا میدان ہے آس-پاس حنا : ہا ہے نا گاv كے باہر جہاں اکثر بچے کھیلنے جاتے ہیں اِس وقت وہاں کوئی نہیں ھوگا وہاں میں آرام سے سیخ سکتی ہوں ( مسکراتے ہوئے ) میں : ٹھیک ہے فر وہی چلتے ہیں . کچھ ہی دیر میں کار گاv كے باہر آ گئی اور وہاں سے دو رستے نکلتے تھے اک پتلہ رستہ جو آگے جاکے پکی سڑک سے ملتا تھا اور دوسرا رستہ کافی اباد-خااباد سا تھا جو آگے جاکے میدان میں کھلتا تھا . مجھے حنا نے بتایا کی مجھے اسی ٹوٹے رستے پر کار لے کے جانی ہے فر میدان آ جائیگا تو میں نے اسکے کہنے كے مطابق کار اسی رستے پر داودا ڈی . رستہ ٹوٹا ہونے کی وجہ سے ہم دونوں کار كے ساتھ اپنی سیٹ پر بیٹھے اُچھل رہے تھے کچھ سامنے اندھیرا ہونے کی وجہ سے مجھے آگے کا کوئی بھی کھڈہ دکھائی نہیں دے رہا تھا بس ہیڈ لائٹ کی روشنی سے تھوڑا بہت دکھائی دے رہا تھا . جھٹکو کی واجاحا سے حنا كے گول گول ممے بھی اُچھل رہے تھے جس پر بار بار میری نظر پڑ رہی تھی حنا نے مجھے کاندھے سے پکڑ رکھا تھا ٹاکی وہ سامنے شیشے سے نا ٹکرا جائے . کچھ ہی دیر میں ہم میدان میں آ گئے . . . . میں : لوح جی آپکا میدان آ گیا اب آپ میری سیٹ پر آکے بیٹھو اور میں آپکی سیٹ پر بیتحونجا فر آپ کار چلانا اور میں دیخونجا . حنا : میں کیسے چالاو مجھے تو آتی ہی نہیں کچھ جاد-باد ہو گئی تو . . . . میں : ارے ڈرتی کیوں ہو میں ہوں نا سنبھال لونگا ویسی بھی تم چالاوجی نہیں تو سکحوجی کیسے . حنا : اچھا ٹھیک ہے . میں : اب تم میری سیٹ پر آکے بیٹھو فر میں جایسی-جایسی تم کو بتاونجا تم وایسی-وایسی چلانا ٹھیک ہے . حنا : ہحممم اب ہم دونوں نے اپنی سیٹ بَدَل لی اور اک دوسرے کی جگہ پر آ گئے میں نے دوبارہ اسکو گاڑی كے تمام پرزو كے بڑے میں بتایا فر حنا کو کار چلانے کو کہا . حنا نے کار چلانی شروع کی اب اس نے صرف اسٹایرینج پکڑا تھا باقی نیچے کا سارا کنٹرول میرے ہاتھ میں تھا میں نے اپنا اک پیر بریک پر رکھا ہوا تھا احتیاط كے لیے . لیکن اس نے جیسے ہی کار چلانی شروع کی اس نے اک دم کلوچ چھوڑ دیا جسے گاڑی جھٹکے سے بند ہو گئی . کافی باڑ اس نے ٹرائی کیا لیکن ہر باڑ گاڑی جھٹکے سے بند ہو رہی تھی کیونکی کبھی وہ جھٹکے سے کلوچ چھوڑ دیتی تھی کبھی ریس نہیں دیتی تھی . اب وہ بھی پریشان ہونے لگی تھی . حنا : مجھے لگتا ہے میں کبھی نہیں سیخ پائوں گی ( رونے جیسا موح بناکی ) میں : فکر مت کرو آج تو پہلا ہی دن ہے کچھ وقت لگے گا لیکن سیخ جوگی حنا : کیسے سکحونجی گاڑی تو شروع ہوتی نہیں مجھ سے . . . . پتہ نہیں ابو نے بھی کیسی خاتارا گاڑی ڈی ہے کہا بھی تھا نئی گاڑی خرید دو . میں : ارے کچھ نہیں ہوتا گاڑی ایکدم ٹھیک ہے . . . چلو اک کم کرو میں ڈرائیور سیٹ پر بیٹھ جاتا ہوں تم میری گاڈ میں بیٹھ کر چلاؤ فر نیچے پیر سے میں تم کو کلوچ چھوڑنا سکھاتا ہوں پہلے . حنا : ( پریشان ہوکے ) ٹھیک ہے اب میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا اور حنا آکے میری گاڈ میں بیٹھ گئی . اسکے میری گاڈ میں بیتحتی ہی مجھے اک جھٹکا سا لگا اسکا بدن بہت نازک اور کومل تھا اسکی کمر اک دم سوراحیدار تھی اک دم پتلی سی جب کی اسکی گند کافی چودی تھی اور باہر کو نکالی ہوئی تھی سائڈ سے لیکن بے حد نازک تھی . میں نے اسکی کمر كے سائڈ سے اپنے دونوں ہاتھ نکالے اور اسٹایرینج تھام لیا جس پر اس نے پہلے سے ہاتھ رکھے ہوئے تھے . اب ہم دونوں کی تانجیی اک دم جڑی ہوئی تھی اور میں نے اپنے ہاتھ اسکے ہاتھوں پر رکھے ہوئے تھے میں نے اپنے موح اسکے کاندھے پر رکھا ہوا تھا . ہم نے فر سے کار اسٹارٹ کی اور اِس باڑ کار سہی چلنے لگی . اب وہ بڑے آرام سے بیٹھی کار چلا رہی تھی اور خوش ہو رہی تھی . . . . حنا : ( خوش ہوکے ہیسٹ ہوئے ) دیکھو نییر میں کار چلا رہی ہوں میں : دیکھا میں نے کہا تھا نا تم بیکار میں اداس ہو رہی تھی . حنا : لیکن یہ حاندیل مجھ سے سیدھا کیوں نہیں چلتا میں : دھیرے دھیرے یہ بھی سنبھالنا آ جائیگا . ویسے میڈم اسے حاندیل نہیں اسٹایرینج کہتے ہیں ( ہیسٹ ہوئے ) حنا : اچھا مجھے پتہ نہیں تھا . فر وہ ایسی ہی بیٹھی کار چلاتی رہی اور میں اسکے نازک بدن اور اسکے بدن کی خوشبو میں کھویا رہا نیچے سے میرے لنڈ نے بھی سر اٹھانا شروع کر دیا تھا جس کو شاید چوت کی خوشبو مل گئی . کچھ دیر بَعْد حنا کو شاید گانڈ كے نیچے میرا لنڈ چوبحنی لگ گیا اسلئے وہ اپنی گانڈ کو اِدھر اُدھر ہلانے لگی جسے میرے لنڈ کو بی-ینتیحا مزہ آیا اور وہ اک دم لوہے کی طرح سخت ہوکے کھڑا ہو گیا لیکن کیونکی اوپر حنا بیٹھی تھی اسلئے وہ سیدھا نہیں کھڑا ہو سکا اور آگے کی طرف مڑ گیا اور چوت کی موری پر دستک دینے لگ گیا . جایسی-جایسی لنڈ نیچے جھٹکا کھاتا وہ سیدھا چوت پر ٹھوکر مرتا جسے حنا کو اک جھٹکا سا لگتا اور وہ تھوڑا اوپر کو ہو جاتی اور فر بیٹھ جاتی . ہم دونوں ہی خاموش تھے اور کار چلا رہے تھے اور حنا چپ چاپ میری گاڈ میں بیٹھی تھی اور نیچے سے میرا لنڈ اپنے ہی کام میں لگا تھا کیونکی کچھ دن سے اسے بھی اسکی خورااک نہیں ملی تھی . تھوڑی دیر ایسی ہی بیٹھے رہنے كے بَعْد حنا نے خود اپنی گانڈ کو میرے لنڈ پر مسلنا شروع کر دیا شاید اب اسکو بھی مزہ آنے لگا تھا . حنا : اب تم چلاؤ مجھ سے نہیں چالایی جا رہی اب میں دیکھوں گی . میں : ٹھیک ہے وہ اب بھی میری گاڈ میں بیٹھی تھی اور نیچے دیکھ رہی تھی لیکن اسکی آنکھیں بند تھی اس نے اپنے دونوں ہاتھ میرے ہاتھوں پر رکھے ہوئے تھے میں کافی دیر ایسی ہی کار چلاتا رہا اور وہ بس میری گاڈ میں بیٹھی رہی بیچ-بیچ میں اسکی سانس تیز ہو جاتی اور وہ گانڈ کو ہلانے لگتی جیسے اسکو اندر سے جھٹکے لگ رہے ہو اور فر شانت ہوکے بیٹھ جاتی لیکن زبان سے وہ اک دم خاموش تھی . اب میرا لنڈ بھی دَرْد کرنے لگ گیا تھا کیونکی وہ حنا کی گانڈ كے نیچے مدا پڑا تھا اسلئے اسکو اپنی گاڈ سے اٹھانے كے لیے میں نے اسے پوچھا . . . میں : اب کافی وقت ہو گیا ہے باقی کل سیخ لینا اب گھر چلیں . حنا : ہحممم ( وہ اب بھی موح نیچے کیے اور نظارے جھکائے بیٹھی تھی ) حنا اب بھی میری گاڈ میں ہی بیٹھی تھی شاید وہ اٹھنا نہیں چاہتی تھی اسلئے میں نے بھی اسے اٹھنے كے لیے نہیں کہا اور ایسی ہی گاڑی گھوما ڈی . اب گاڑی میدان سے نکال کر اسی اباد-خااباد کچے رستے پر تھی جہاں سے ہم آئے تھے . میں سوچ رہا تھا کی یہاں شاید حنا مجھے اترنے كے لیے کہے گی اسلئے کچھ پل كے لیے کار روکدی اور اسکے جواب کا انتظار کرنے لگا لیکن وہ کچھ نہیں بولی اور ایسی ہی موح نیچے کیے ہوئے بیٹھی رہی اسلئے میں نے بھی بنا کچھ بولے اس رستے کی طرف گاڑی بڑھا ڈی . رستہ کچا ہونے سے گاڑی فر سے وچھالنی لگی اور ساتھ ہی نازی بھی وچھالنی لگی اک جگہ ایسی آئی جہاں کار جور سے وچھالی ساتھ ہی حنا بھی کافی اوپر کو اُچھل گئی جس کو میں نے کمر میں ہاتھ دالکار پکڑ لیا اور سر پر چھت لگنے سے بچایا . لیکن اسکے وچھالنی سے میرے لنڈ کو کھڑے ہوکے اپنا سر اٹھانے کی جگہ مل گئی وہ کسی ڈنڈے کی طرح کار کی چھت کی طرف موح کیے کھڑا ہو گیا جس پر حنا بیٹھ گئی اور اک تیز سسس كے ساتھ اس نے سامنے دیکھا اور میرے ہاتھوں پر اپنی انجالیو كے ناخن گدا دیئے جسے مجھے بھی دَرْد ہوا اور میرا ہاتھ چل گیا شاید میرا لنڈ اسکی گانڈ کی موری پر چبھا تھا جسکی وجہ سے اسے بے حد دَرْد ہوا اگر ہم دونوں کی شلوار بیچ میں نا ہوتی تو میرا لنڈ سیدھا اسکی گانڈ میں ہی گھس جاتا ابھی میں اپنے خیالوں میں ہی تھا کی مجھے حنا کی آواز آئی حنا : روکو . . . . روکو . . . . کار روکو . . . سس آئی . . . . میرے سر میں لگی بہت دَرْد ہو رہا ہے ( میں جانتا تھا وہ جھوٹ بول رہی ہے کیونکی چھت تک اسکے سر کو میں نے پوحونچنی ہی نہیں دیا تھا تو لگتی کیسے ) میں : کیا ہوا ٹھیک تو ہو . حنا : کچھ نہیں مجھے اُدھر بیٹھنے دو نہیں تو فر سے چھت سر میں لگ جائے گی رستہ خراب ہے اسلئے اب آپ ہی چلاؤ باقی میں کل سیخ لونگی میں : ٹھیک ہے میں نے کار روکی اور وہ باہر نیکالار ساتھ والی سیٹ پر آکے بیٹھ گئی میں لجااتار اسکے چہرے کو ہی دیکھ رہا تھا لیکن اسکی نظر اک دم سامنے تھی اسکے چہرے پر اب بھی دَرْد محسوس ہو رہا تھا ہلاکی وہ اپنے دَرْد ظاہر نہیں کر رہی تھی فر بھی اسکے چہرے سے صاف پتہ چل رہا تھا کی اسکو اب بھی تکلیف ہو رہی ہے . اسکی تکلیف میرے لنڈ سے بھی دیکھی نہیں گئی اور وہ بھی بیٹھنے لگا میں من ہی من اپنے لنڈ کو گلیاں دے رہا تھا کی سیل اتنی جور سے گھسنے کی کیا ضرورت تھی حالکی-پحولکی مزے بھی تو لے سکتا تھا . ایسی ہی خود سے باتیں کرتے ہوئے میں کار چلانے لگا سارے رستے ہم خاموش رہے ہم دونوں میں اسکے بَعْد کوئی بات نہیں ہوئی . تھوڑی دیر میں حویلی بھی آ گئی اور کار کو دیکھتے ہی سارپانچ كے آدمیو نے بڑا گاتے کھول دیا جسے کار اندر آ سکے . سامنے سارپانچ باغ میں تہل رہا تھا شاید وہ حنا کا ہی انتظار کر رہا تھا ہمیں دیکھ کر سارپانچ بھی تیز قدموں كے ساتھ ہماری طرف آنے لگا . میں نے کار کھڑی کی اور چابی نکال کر سارپانچ کی طرف بڑھنے لگا میرے ساتھ ہی حنا بھی سارپانچ كے پاس آ گئی . میں : یہ لیجیے سارپانچ جی آپکی امانت ( کار کی چابی سارپانچ کو دیتے ہوئے ) سارپانچ : کیسا رہا پہلا دن ( مسکراتے ہوئے ) میں : جی یہ تو حنا جی ہی بتا سکتی ہے حنا : بہت اچھا تھا ابو اب تو مجھے اسٹایرینج سنبھالنا بھی آ گیا ہے تھودا-تھودا . ( مسکراتے ہوئے ) سارپانچ : ارے آئیگا کیسے نہیں تم تو میری بہت ہوشیار بیٹی ہو ( حنا كے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے ) میں : اچھا جی اب اجاجت دیجیئے گھر میں سب انتظار کر رہے ہونگے سارپانچ : ارے ایسی کیسے ناحی-ناحی كھانا یھی خاکی جانا حنا : ہاں نییر جی كھانا یھی خاکی جانا میں : جی آج نہیں فر کبھی آج میں گھر بولکار آیا ہوں اسلئے سب لوگ میرا کھانے پر انتظار کر رہے ہونگے . سارپانچ : ارے بچا-خوچا تو روز کھاتے ہو آج ہماری یہاں شاہی كھانا بھی کھا كے دیکھو تم نے زندگی میں کبھی نہیں کھایا ھوگا . حنا : ( بیچ میں بولتے ہوئے ) ابو آپ فر شروع ہو گئے . . . میں نے آپکو کچھ سمجھایا تھا اگر یاد ہو تو . . . سارپانچ : اچھا ٹھیک ہے نہیں بولتا بس اب تو خوش ( اتنا کہہ کر سارپانچ اندر چلا گیا ) میں : ٹھیک ہے حنا جی کل ملاقات ھوگی اب اجاجت دیجیئے . حنا : ابو كے اِس طرح كے بارتاv كے لیے معافی چاہتی ہوں میں : ارے کوئی بات نہیں آپ معافی مت مانجیی . . . . حنا : ویسی اگر یہاں كھانا کھا جاتے تو بہتر ہوتا ( مسکراتے ہوئے ) میں : آج نہیں فر کبھی آپکی روتی اُدھار رہی ہم پر ( مسکراتے ہوئے ) اچھا اب اجاجت دیجیئے . حنا : اچھا جی کل ملیں گے فر . . . . ( ہاتھ ہلاتے ہوئے مسکرا کر ) اتنا کہہ کر میں گاتے کی طرف بڑھ گیا اور حنا وہی کھڑی مجھے دیکھتی رہی . گاتے پر کھڑے ملازم نے چھوٹا دروازہ میرے جانے كے لیے کھول دیا اور میں حویلی سے باہر نکل گیا میں اپنی سوچو میں گم تھا اور میرے قدم گھر کی طرف بڑھ رہے تھے . میرے دماغ میں اِس وقت کئی سوال تھے جنکے جواب مجھے جاننے تھے . کہا میں فضا كے ساتھ تھا اور بیچ میں یہ نازی اور حنا کہا سے ٹپک پڑی اور اب نا تو میں پوری طرح نازی كے ساتھ تھا نا ہی فضا كے ساتھ اور نا ہی حنا كے ساتھ یہ تینوں ہی مجھے اک جیسی لگنے لگی تھی . تینوں میرے لیے فکرمند رہتی تھی اور میرا خیال رکھنے کی پوری کوشش کرتی تھی مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کی تینوں میں کس کو اپنا کہو اور کس کو بیگانہ سمجھ کر بھول جاؤ . اپنی ہی سوچو میں گم کب میں گھر پوحونچ گیا مجھے پتہ ہی نہیں چلا . جب گھر آیا تو نازی اور فضا گھر كے باہر ہی کھڑی تھی شاید وہ میرا ہی انتظار کر رہی تھی . ان کو میں نے اک نظر دیکھا تو دونوں نے ہی اپنی ساداباحار مسکان كے ساتھ میرا سواجات کیا . نازی : یہ کیا تم پیدل آئے ہو تم تو کار پر گئے تھے نا . میں : ارے حنا جی کو چھوڑ کر بھی تو آنا تھا اسلئے کار بھی واپس وہی دے آیا فضا : یہ سارپانچ نے تم کو پیدل ہی بھیج دیا اسے اتنا بھی نہیں ہوا کی کسی ملازم کو کہہ کر تم کو گھر تک کار پر چھوڑ جائے اسکی ساحابزادی کو مفت میں کار چلانی سیکھا رہے ہو . میں : ارے کوئی بات نہیں پیدل آ گیا تو کیا ہو گیا . نازی : باپ-بیتی دونوں اک جیسے ہیں احساان-فاراموش کہی كے . میں : ارے تم دونوں كے ساوال-جاواب ختم ہو گئے ہو تو مجھے اندر جانے دو یار بھوک لگی ہے . نازی : ہحممم چلو ہم نے بھی تمہاری وجہ سے كھانا نہیں کھایا . ( مسکراتے ہوئے ) فضا : چلو پہلے تم نہا لو فر ہم كھانا کھا لینگے تب تک میں كھانا گرم کرتی ہوں کچھ دیر بَعْد میں میں نہا لیا اور فضا اور نازی نے مل کر كھانا بھی گرم کر دیا اور سب كھانا ٹیبل پر لگا دیا تھا . ہم تینوں كھانا کھانے بیٹھ گئے . نازی : تو کیا سکھایا اس حیروینی کو ماسٹر جی نے ( مسکراتے ہوئے ) میں : کار ہی سییخانی تھی وہی سکھائی اور کیا فضا : فر سیخ گئی نا وہ کار چلانی میں : ابھی اتنی جلدی کہا ابھی تو کچھ دن لگیں گے نازی : ہائے تو کیا روزہ جاؤگے اس بھوتنی کو سکھانے كے لیے ؟ میں : ہحممم اب تو روز اسی وقت ہی گھر آؤنگا کچھ دن . فضا : یہ بابا بھی نا اتنا نہیں دیکھتے کی اک اکیلا انسان سارا دن کھیت میں کم کرکے آیا ہے اب اسکو اک نئے کم پر اور لگا دیا ہے . میں : ارے تو کیا ہو گیا میں نے کبھی تم کو شکایت تو نہیں کی نا . . . فضا : یھی تو رونا ہے تم کبھی شکایت نہیں کرتے . لیکن ہمیں تو دکھتا ہے نا تم ہماری لیے کتنی محنت کرتے ہو جو کام کسی اور انسان كے تھے وہ کام تم کو کرنے پڑ رہے ہیں . میں : ( مسکراتے ہوئے ) کوئی بات نہیں . . . میں بہت خوش-ناسییب سمجھتا ہوں خود کو جو مجھے اتنے اچھے گھر والے ملے تم لوگوں كے لیے تو کچھ بھی کر سکتا ہوں . نازی : قسمت تو ہماری اچھی ہے جو ہم کو تم مل گئے میں : اچھا-اچھا اب جادا باتیں نا بناؤ اور چُپ کرکے كھانا کھاؤ . فر ہم تینوں خاموش ہو گئے اور چپ چاپ كھانا کھانے لگے . تبھی مجھے کچھ رینگتا ہوا اپنے لنڈ پر چادحتا محسوس ہوا میری فوراً نظر نیچے چلی گئی تو اک گورا سا پیر مجھے اپنے لنڈ پر پڑا ہوا محسوس ہوا جو میرے لنڈ کو دبا رہا تھا میری نظر فوراً اوپر کو گئی تو فضا كھانا کھا رہی تھی اور ساتھ میں مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی . میں سمجھ گیا کی یہ پیر فضا کا ہی ہے جو میری ہی حرکت مجھ پر دوحرا رہی ہے . کچھ دیر بَعْد مجھے اسکا دوسرے پر بھی اپنے اوپر محسوس ہوا اب وہ دونوں پیر سے میرے لنڈ کو رگڑ رہی تھی اور دبا رہی تھی . مجھے مزہ بھی آ رہا تھا اور دَرْد بھی ہو رہا تھا کیونکی حنا کافی دیر لنڈ پر گانڈ رکھا کر بیٹھی رہی تھی اب فضا بھی لنڈ کو دبا رہی تھی اسلئے میں نے اسکے دونوں پیر وہاں سے ہاتھ دیئے اور اسکی طرف دیکھ کر نہیں میں سر ہلایا . اسکو لگا شاید میں اب تک رات کو اسکے نا آنے کی وجہ سے ناراض ہوں اسلئے اس نے فر سے اپنے اک کان پر ہاتھ لگاے اور منت بھری نظروں سے مجھے دیکھا جسکا میں نے بنا کوئی جواب دیئے نظارے کھانے کی پلیٹ پر کر لی اور كھانا کھانے لگا . تھوڑی دیر ہم ایسی ہی كھانا کھا رہے تھے کی فضا نے چمچ نیچے گرا دیا . . . فضا : نییر میرا چمچ گر گیا زرا اٹھا کے دینا میں : اچھا رکو دیتا ہوں . میں جیسے ہی نیچے جھکا مجھے فضا کا ہاتھ نظر آیا جو اس نے اپنی گاڈ میں رکھا ہوا تھا اس نے میرے نیچے جھکتے ہی قمیض کو اک طرف کیا اور اپنی دونوں تانجیی چوڑی کر لی اور مجھے انگلی سے پاس بلانے لگی میں جیسے ہی پاس گیا تو اس نے میرے بلو کو پکڑ لیا اور میرا موح اپنی چوت پر دبا دیا اور اپنی دونوں تانجیی بند کر لی . اسکی چوت کی خوشبو مجھے میری سانسو میں جاتی محسوس ہوئی اور میں مدھوش ہونے لگا میرا لنڈ اک بار فر سے سر اٹھانے لگا لیکن تبھی اس نے میرا موح ہٹا دیا اور میرے بال چھوڑ دیئے . میں نے اسکا گرایا ہوا چمچ اٹھایا اور واپس اوپر آکے بیٹھ گیا . میں : یہ لو تمہارا چمچ فضا : مل گیا تھا نا ( مسکراتے ہوئے آنکھ مار کر ) میں : ہحممم میں واپس كھانا کھانے میں لگ گیا تبھی فضا نے فر سے میرے آدھے کھڑے لنڈ پر اپنے دونوں پیر رکھ دیئے اور پیڑو سے میرے لنڈ کو پکڑ لیا اور اوپر نیچے کرنے لگی یہ مزہ میرے لیے اک دم نیا تھا اسلئے میرا لنڈ اسکے اِس طرح کرنے سے اک دم کھڑا ہو گیا جسے فضا اپنے پیڑو کی مدد سے بار بار اوپر نیچے کر رہی تھی . مجھے بہت مزہ آ رہا تھا اسلئے میں مسکرا کر فضا کو دیکھ رہا تھا ساتھ میں كھانا کھا رہا تھا اِس پورے عمل میں ہم تینوں خاموش تھے تبھی نازی بولی . . . نازی : بھابی میں سوچ رہی تھی کیوں نا میرا کمرا ہم نییر کو دی دی ویسے بھی میں تو آپ کے پاس سوتی ہوں رات کو . فضا : ( اک دم اپنے پیر میرے لنڈ سے حاتاتی ہوئے ) ہحمم ٹھیک ہے . . . تم کو کوئی اعتراض تو نہیں ( میری طرف ساوالیا نظروں سے دیکھتے ہوئے ) میں : نہیں جیسا آپ دونوں ٹھیک سمجھو مجھے تو سونا ہے کہی بھی سو جاؤنگا میرے لیے تو یہ کوٹھری بھی اچھی تھی . ( مسکراتے ہوئے ) فضا : ٹھیک ہے کل فر جب تم کھیت چلے جاؤگے تو میں تمھارے لیے نازی والا کمرا تییار کر دونگی . نازی : میں ابھی کر دیتی ہوں نا كھانا کھانے كے بَعْد ویسے بھی میرے پاس کام ہی کیا ہے . فضا : نہیں ابھی بہت رات ہو گئی ہے کل میں تمھارے پیچھے سے سب کر دونگی . نازی : ٹھیک ہے جیسے آپکی مرضی . ( مسکراتے ہوئے ) اسکے بَعْد ہم تینوں نے اپنا كھانا ختم کیا اور فضا نے بھی کوئی حرکت نہیں کی میرے ساتھ شاید وہ نازی كے اک دم بولنے سے ڈر گئی تھی . کھانے كے بَعْد میں بابا كے پاس چلا گیا اور اسکے پیر دبانے لگا اور نازی اور فضا راسویی میں اپنا باقی کام ختم کرنے لگ گئی . تھوڑی دیر بَعْد نازی کمرے میں آ گئی میرا بستر کرنے كے لیے تب تک بابا بھی سو چکے تھے اور میں بھی کمرے سے باہر نکالنے کی سوچی آج میرا لنڈ مجھے کافی پریشان کر رہا تھا اسلئے میں نے سوچا کیوں نا جب تک نازی میرا بستر کرتی ہے تھوڑے سے فضا كے ساتھ مزے لیے جائے اسلئے وہاں سے میں جانے لگا تو نازی نے مجھے روک لیا . . . . نازی : کہا جا رہے ہو میں : ایسی ہی کہی نہیں زرا باہر ٹہلنے جا رہا تھا نازی : میرے پاس ہی بیٹھو نا باتیں کرتے ہیں میں : ہحممم ٹھیک ہے ( میں فضا كے پاس جانا چاہتا تھا لیکن نازی نے مجھے وہی بٹھا لیا اسلئے میں باہر نہیں جا سکا . ) نازی : جانتے ہو تم بہت اچھے ہو سب کے بڑے میں سوچتے ہو . میں : تم بھی بہت اچھی ہو . . . . نازی : اچھا جی مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا . ( ہیسٹ ہوئے ) میں : تم کو برا تو نہیں لگا آج ( میں نے کھیت میں چومنے كے بڑے میں پوچھ رہا تھا ) نازی : ( نا میں سر ہلاتے ہوئے ) ووہہو . . . . میں : فر سے کر لوں ( ہیسٹ ہوئے ) نازی : تھپڑ كھانا ہے . . . ( مسکراتے ہوئے ) میں : ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) ہحممم نازی : ( سر حیلاکی پاس آنے کا اشارہ کرتے ہوئے ) میں نازی كے سامنے جاکے کھڑا ہو گیا اور اسکا اک ہاتھ خود ہی پکڑ کر اپنے گال پر مارنے لگا جسے نازی نے دوسرے ہاتھ سے پکڑ لیا اور نا میں سر ہلایا فر میرا موح اک ہاتھ سے پکڑ کر میری گال کو چوم لیا لیکن بہت ہلکی سے . نازی : اب خوش . . . میں : مزہ نہیں آیا ( اپنے گال کو سیحلاکار نا میں سر ہلاتے ہوئے ) نازی : باقی کل . . . ٹھیک ہے ( مسکراتے ہوئے ) میں : اور آج کا کیا . . . . نازی : آج کا ہو چکا ہے اگر یاد ہو تو . . . ( مسکراتے ہوئے ) چلو اب باہر جاؤ مجھے کام کرنے دو کب سے تنگ کر رہے ہو . میں : تم نے ہی کہا تھا میرے پاس بیٹھو باتیں کرتے ہیں . نازی : تو میں نے بات کرنے کا بولا تھا وہ سب نہیں . . . . . گندے ( موح بناتے ہوئے ) ایسی ہی ہنستا ہوا میں باہر آیا اور سیدھا فضا كے پاس چلا گیا جو برتن دھو رہی تھی . میں چپکے سے پیچھے سے گیا اور اسکو پیچھے سے پکڑ لیا جسے وہ اک دم ڈر گئی اور ہاتھ میں پاکادی ہوئی تھالی زمین پر گرا ڈی . تبھی نازی کی آواز آئی . . . نازی : ( کمرے میں سے ہی آواز لگا کے ) کیا ہوا بھابی . . . فضا : ( چلاتی ہوئی ) کچھ نہیں نازی اک موٹا سا چوہا چڑھ گیا تھا مجھ پر ( میرے گال پاکادتی ہوئے ) میں ڈر گئی تو تھالی گر گئی ہاتھ سے . نازی : اچھا . . . . فضا : ( دھیمی آواز میں ) یہ کوئی طریقہ ہے کسی کو پیار کرنے کا ڈرا دیا مجھے . میں : ( ہیسٹ ہوئے ) ٹھیک ہے اگلی باڑ آواز لگاتا ہوا آؤنگا کی فضا میں آ رہا ہوں . فضا : جی نہیں دحیندحورا پییتنی کو تو نہیں کہا میں نے بس ایسی اچانک نا پکڑا کرو میں ڈر جاتی ہوں . . میں نے تمام بات-چییت كے دوران فضا کو پیچھے سے پکڑا ہوا تھا اور وہ ساتھ ساتھ برتن دھو رہی تھی ساتھ میں مجھ سے باتیں بھی کر رہی تھی . میں : جان کل آئی نہیں تم ساری رات میں تمہارا انتظار کرتا تھا ( رونے جیسی شکل بناکی ) فضا : ہائے . . . . ( میری گال کو چُومتے ہوئے ) میری جان میرا انتظار کر رہے تھے . میں نے تو سنا تھا بہت مزے سے سوئے رات کو . ( ہیسٹ ہوئے ) میں : مذاق نا کرو یار بتاؤ کیوں نہیں آئی فضا : میں کیا کرتی رات کو نازی سونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی کیسے آتی . . . آدھی رات کو اسکو نہانا یاد آ گیا . . . جانتے ہو ساری رات میں بس اس کے سونے کا ہی انتظار کرتی رہی . میں : خیر جانے دو کوئی بات نہیں . فضا : اچھا سنو میں نے ہماری ملنے كے بڑے میں کچھ سوچا ہے . میں : کیا سوچا ہے . فضا : میری اک سہیلی ہے فاطمہ نام کی اسکی ساس یہ نیند کی داوائی کھاتی ہے ( مجھے اک داوائی کا پتہ دکھاتی ہوئے ) میں : تو اِس داوائی کا ہم کیا کرینگے . فضا : رات کو میں اک گولی نازی کو دودھ میں میلاکی سلا دونگی فر وہ صبح سے پہلے نہیں اتحیجی اور ہم رات بھر مزے کرینگے ( مسکرا کر میری گال چُومتے ہوئے ) میں : کچھ جاد-باد تو نہیں ھوگی فضا : کچھ نہیں ھوگا فکر مت کرو میں نے اپنی سہیلی سے سب پوچھ لیا ہے . میں : کیا پوچھا اپنی سہیلی سے اور کیا کہا تمہاری سہیلی نے ؟ فضا : اسکی ساس یہ داوائی اسلئے کھاتی ہے کیونکی اسکو نیند نا آنے کی بیماری ہے اور میں نے یہ بولکار یہ داوائی لی ہے کی ہماری بابا کو بھی نیند بہت کم آتی ہے تو اس نے خود ہی مجھے یہ پٹا دے دیا اور کہا کی جابا بابا کو نیند نا آئے تو ان کو 1 گولی دودھ كے ساتھ دے دینا وہ سو جائینگے آرام سے . میں : تمہاری سہیلی کو ہم پر شاق تو نہیں ہوا ؟ فضا : ( نا میں سر ہلاتے ہوئے ) تم اپنی فضا کو اتنی پاگل سمجھتے ہو میں : اچھا ٹھیک ہے جیسا تم ٹھیک سمجھو ( فضا کی گال چُومتے ہوئے ) فضا : چلو اب تم باہر جاؤ نازی آنے والی ھوگی ہم رات کو ملیں گے ٹھیک ہے میں : اچھا جاتا ہوں ( جاتے ہوئے فضا كے دونوں موممو کو دباتے ہوئے ) فضا : ( دَرْد سے ) سسسس رات کو آنا فر بتاونجی ( ہیسٹ ہوئے ) میں راسویی سے باہر نکل گیا اور واپس اپنے کمرے میں آ گیا نازی ابھی تک میرے کمرے میں ہی تھی اور الماری سے میرے کپڑے نکال رہی تھی . . . میں : یہ کیا کر رہی ہو نازی نازی : کچھ نہیں . . . . تم کو کل میرے والا کمرا دینا ہے تو تمھارے کپڑے میرے کمرے میں رکھنے جا رہی ہوں . میں : اچھا . . . لیکن یہ کام تو فضا بھی کر سکتی تھی . نازی : ہر کام بھابی کو بولتے ہو اگر کوئی کام میں کر دونگی تو کیا ہو جائیگا . میں : تم سے تو بحث کرنا ہی بیکار ہے جو دِل میں آئے وہ کرو باسس نازی : ہحممم جب جیت نہیں سکتے تو لڑتے کیوں ہو . ( مسکراتے ہوئے ) میں : اچھا اب جالدی-جالدی یہ سب ختم کرو فر مجھے سونا ہے بہت تھک گیا ہوں اسلئے نیند آئی ہے نازی : اچھا میں بس جا رہی ہوں تم سو جاؤ آرام سے . تھوڑی دیر میں نازی میرے سارے کپڑے لے کے چلی گئی اور میں بستر پر لیتا فضا کا انتظار کرنے لگا ساتھ ہی دن بھر جو کچھ ہوا اسکے بڑے میں سوچ کر مسکرا رہا تھا . میرا دماغ کبھی نازی كے بڑے میں سوچ رہا تھا کبھی فضا كے بڑے میں تو کبھی حنا كے بڑے میں کیونکی یہ تینوں ہی میری جینجادی میں اک عجیب سی خوشی لے کے آئی تھی تینوں ہی اپنی-اپنی جگہ پر کامال-دحامال تھی خوبصورتی میں کوئی کسی سے کم نہیں تھی . انہی تینوں كے بڑے میں سوچتے ہوئے جانے کب میں سچ میں سو گیا مجھے پتہ ہی نہیں چلا . . . مجھے لیتے ہوئے کافی دیر ہو گئی تھی اور مجھے پتہ نہیں چلا کی کتنی دیر سے میں سو رہا تھا لیکن اچانک کسی كے گال تھاپ-تھاپانی سے میری جاگ کھل گئی اندھیرا ہونے کی وجہ سے میں دیکھ نہیں پا رہا تھا کی یہ کون ہے تبھی مجھے اک میٹھی سی آواز آئی . . . فضا : جان سو گئے تھے کیا میں : ہاں آنکھ لگ گئی تھی شاید نازی سو گئی کیا فضا : ہاں آج تو سلا ہی دیا اسکو . . . مجھے لگ ہی رہا تھا تم سو گئے ہوگی کیونکی میں کتنی دیر سے کھڑی تم کو باہر سے بلانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن تم کوئی جواب ہی نہیں دے رہے تھے . . . خیر جانے دو یہ بتاؤ نیند آئی ہے کیا ؟ میں : نہیں اب تو میں جاگ گیا ہوں . . . تم کھڑی کیوں ہو بیٹھو نا فضا : وحہو میں بیٹھنے نہیں آئی چلو باہر کہی بابا ہی نا جاگ جائے . میں : رک جاؤ پہلے اپنی جان کو گلے تو لگا لوں ( فضا کی باجو پکڑ کر جور سے اپنی طرف کھینچا جسے وہ میرے اوپر دھڑاام سے گر گئی ) فضا : وہوو جان میں منع تو نہیں کر رہی ہوں . . . لیکن یہاں نہیں باہر چلو نا . . . ( میری گال کو سیحلیٹ ہوئے ) میں : اچھا چلو . . . . ہم دونوں اک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر باہر آ گئے لیکن فر فضا نے کمرے سے باہر آکے مجھے ہاتھ سے رکنے کا اشارہ کیا اور واپس کمرے میں اندر چلی گئی اور بابا كے بستر كے پاس کھڑی ہوکے ان کو دیکھنے لگی شاید وہ یہ تسلّی کر رہی تھی کی بابا سوئے یا نہیں فر وہ مجھے لے کے اپنے کمرے كے طرف گئی اور مجھے باہر کھڑا کرکے اندر چلی گئی اور نازی جو اسکے ہی بیڈ پر سوئی ہوئی تھی اسکو اچھے سے دیکھ کر آئی فر واپس آکے اپنے کمرے کو باہر سے بند کیا اور کنڈی لگا ڈی اور میری طرف پالاتکار مسکرانے لگی ساتھ ہی اپنی دونوں باجو ہوا میں اٹھا ڈی . میں نے بھی آگے بڑھ کر اسکو اپنے گلے سے لگا لیا اور ہمیشہ کی طرح اسکو گلے سے لجاکار سیدھا کھڑا ہو گیا جسے اسکے پیر ہوا میں جھل گئے اس نے بھی اپنی دونوں باجو میرے گلے ہار کی طرح ڈال رکھی تھی اور میری گردن پر لٹکی سی ہوئی تھی میں نے اسکو اسکی کمر سے پکڑ رکھا تھا اور ہم ایسی ہی چل بھی رہے تھے اور اک دوسرے كے گال بھی چوم رہے تھے . پہلے میں نے اسے ہماری كھانا کھانے والی ٹیبل پر بٹھا دیا وہ اب بھی مجھے ویسی ہی پکڑی ہوئی تھی اور بار بار میرے دونوں گالو کو چوم رہی تھی . فضا : جان تمھارے بنا اب اک پل بھی چین نہیں آٹا مجھ سے ناراض نا ہوا کرو میں : میں کب ناراض ہوا تم سے ؟ فضا : ( میرے دونوں گال پکڑ کر ) اچھا . . . صبح جب میں کان پکڑ کر مافیان مانگ رہی تھی تب میری طرف کون نہیں دیکھ رہا تھا بتاؤ زرا . میں : اچھا . . . وہ میں تو ایسی ہی تم کو تنگ کر رہا تھا فضا : جان بہت مشکل سے تم مجھے ملے ہو تم ناراض ہوتے ہو تو دِل کرتا ہے ساری دُنیا نے مجھ سے موح موڑ لیا ہے تم نہیں جانتے میں تم کو کتنا پیار کرتی ہوں تم تو میرے سب کچھ ہو . میں : اچھا . . . . بتاؤ کتنا پیار کرتی ہو ( مسکراتے ہوئے ) فضا : پیار بتایا نہیں کرکے دکھایا جاتا ہے ( مسکرا کر میرے ہوتھو کو چُومتے ہوئے ) میں : تو کرکے ہی دکھا دو ویسے بھی اب تو تمہارا ہی ہوں میں . فضا : جان یہاں نہیں اوپر کوٹھری میں چلتے ہیں نا میں : ٹھیک ہے فر میں لے کے جاؤنگا تم کو . . . . منظور ہے فضا : ( کچھ نا سمجھنے جیسا چہرہ بناتے ہوئے ) کیا . . . . . میں : ( فضا کو گاڈ میں اٹھاتے ہوئے ) ایسی . . . . . فضا : ( دَر کر چونکتے ہوئے ) جانننن . . . . . . . میں : کیا ہے دَر کیوں رہی ہو . . . . . گروجی نہیں فضا : ( مسکرا کر اپنی دونوں باجو میرے گلے میں ڈالتے ہوئے ) ممممم جانتی ہوں . . . . تم نے اک دم اٹھایا تو ڈر گئی تھی . جانتے ہو مجھے آج تک کسی نے بھی ایسی نہیں اٹھایا . میں : ( فضا کو گاڈ میں اٹھا کے سیدحیا چادحتی ہوئے ) کسی نے بھی نہیں . . . فضا : ( نا میں سر ہلاتے ہوئے ) میں : چلو اب سے ہم جب بھی کوٹھری میں جائینگے ایسی ہی جائینگے . . . . فضا : جو حکم میری سرکا ر کا . . . . . ( ہیسٹ ہوئے ) میں : ( اپنا جملہ فضا كے موح سے سن کر ہیسٹ ہوئے ) میری بلی مجھے ہی میاووو . . . . فضا : ہحممم جان بھی میرا . . . . میری جان كے جملے بھی میرے ( مسکراتے ہوئے ) میں : جان کوٹھری کا دروازہ کھولو فضا : پہلے مجھے نیچے تو اتارو فر کھولتی ہوں میں : ووحہوو ایسی ہی کھولو فضا : ( عجیب سا موح بناکی کوٹھری کی کنڈی کھولتے ہوئے ) جان آپ بھی نا . . . . . ہم دونوں اب کوٹھری میں آ گئے تھے اور فضا اب بھی میری گاڈ میں ہی تھی . میں چاروں طرف نظر گھوما رہا تھا ٹاکی فضا کو لٹا سکو لیکن وہاں لیتنی کی کوئی بھی جگہ نہیں تھی اور زمین بھی مٹی سے گندی ہوئی پڑی تھی . فضا : کیا ہوا جان میں : جان لیتینجی کہا یہاں تو بستر بھی نہیں ہے فضا : جان وہ جس دن تم شہر سے آئے تھے ، تب نازی اوپر آئی تھی نا تو اس نے یہاں بستر پڑا دیکھا تھا جو اس نے رات کو اٹھا کے نیچے رکھ دیا تھا کیونکی اب تم بھی نیچے ہی سوتے ہو میں : تو میں اپنی جان کو پیار کہا کروں فر . . . فضا : آپ مجھے نیچے وتارو میں نیچے سے جاکے بستر لے آتی ہوں جلدی سے میں : ممممم ( کچھ سوچتے ہوئے ) رہنے دو ایسی ہی کر لینگے فضا : جان جسم اور کپڑے گندے ہو جائینگے ایسی تو . . . دیکھ نہیں رہے یہاں کتنی دھول ہے . میں : کھڑے ہوکے کرینگے نا . . . . ( مسکراتے ہوئے ) فضا : ( کچھ نا سمجھنے جیسا موح بناتے ہوئے ) کھڑے ہوکے کیسے کرینگے . میں : تم بس دیکھتی جاؤ . فضا : اچھا مجھے نیچے تو وتارو . . . . جان ایسی مزہ نہیں آئیگا . . . . بس 2 منٹ لگیں گے میں بستر لے آتی ہوں نا . . . میں : اچھا ٹھیک ہے یہ لو . . . ( گُڈی سے فضا کو اتارکار زمین پر کھڑی کرتے ہوئے ) فضا تیز قدموں كے ساتھ واپس نیچے چلی گئی اور میں کوٹھری کا اوپر والا گاتے کھول کر باہر کی ٹھنڈی ہوا کا مزہ لینے لگا ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی کی مجھے کسی کی سیدحیان چڑھنے کی آواز آئی میں نے اک باڑ مودکار دیکھا تو یہ فضا تھی جسکے ہاتھ میں اک گدا اور اک چادار اور اک تکیہ تھا . آتے ہی اس نے اک پیار بھری مسکان كے ساتھ مجھے دیکھا اور آنكھوں كے اشارے سے مجھے بستر دکھایا . میں : لاؤ میں بچھا دیتا ہوں فضا : جان آپ رہنے دو میں کر لونگی . میں : کوئی بات نہیں دونوں کرینگے تو جلدی ہو جائیگا فر ہم دونوں مل کر جلدی سے بستر بیچھانی لگے بستر كے ہوتے ہی فضا جلدی سے کھڑی ہو گئی اور اپنا دوپٹہ سائڈ پر رکھ دیا جو اب بھی اسکے گلے میں لٹک رہا تھا فر ہم دونوں جلدی سے بستر پر بیٹھ گئے تو اس نے مجھے دھکہ دے کر بستر پر لٹا دیا اور خود میرے اوپر آ گئی . میں : آج کیا بات ہے بہت جلدی میں ہو . فضا : مجھ سے اور انتظار نہیں ہو رہا ( میرا چہرہ چُومتے ہوئے ) میرا چہرہ چُومتے ہوئے فضا سیدھا میرے ہوتھو پر آئی اور اس نے جلدی سے اپنا موح کھول کر میرے دونوں ہوتھ اپنے موح میں قید کر لیے اور بری طرح چُوسنے لگی اسکی سانس لگاتار تیز ہو رہی تھی اور اسکے چومنے میں شدت سی آتی جا رہی تھی اب وہ بہت پیار سے میرے ہوتھو کو چوس رہی تھی ساتھ ہی اپنی زبان میرے دونوں ہوتھ پر فیر رہی تھی ہم دونوں کی مزے سے آنکھیں بند تھی کچھ دیر میرے ہوتھ چُوسنے كے بَعْد اس نے میرے موح كے اندر اپنی رسیلی زبان داخل کر ڈی جسے میں نے موح کھول کر اپنے موح میں جانے کا رستہ دے دیا اور مزے سے اسکی زبان چُوسنے لگا بہت مییتھا-مییتھا سا زاییکا تھا اسکی زبان کا . زبان چُوستے ہوئے اس نے میرے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑے اور اپنی کمر پر رکھ دیئے . میں کبھی اسکی زبان چوس رہا تھا کبھی اسکے رس سے بھرے ہوئے ہوتھ اور ساتھ ہی اسکی کمر پر اپنے دونوں ہاتھ فیر رہا تھا لیکن آج مجھے اسکی قمیض كے بیچ میں کچھ چُبھ رہا تھا . . . . میں : ( اپنا موح اسکے موح سے الگ کرتے ہوئے ) جان یہ کیا ہے ہاتھ پر چُبھ رہا ہے فضا : زیپ ہے جان آج میں نے آپ کے لیے نیا سوٹ پہنا ہے ( مسکراتے ہوئے ) کھول دو پریشانی ہو رہی ہے تو . . . ( واپس میرے ہوتھو پر اپنے ہوتھ رکھتے ہوئے ) ہم فر سے اک دوسرے كے ہوتھ چُوسنے لگے میں اپنا ہاتھ لگاتار اوپر کی طرف لے جا رہا تھا ٹاکی مجھے زیپ کا جوڑ مل سکے تبھی میرا ہاتھ فضا كے گلے پر پوحونچا تو مجھے اسکا جوڑ مل گیا جس کو میں کھینچتا ہوا نیچے تک لے گیا اب اسکی پوری پیٹھ اک دم بی-پاردا تھی اور میرے ہاتھوں کا لامز اسے اپنی ننگی پیٹھ پر ہوتے ہی اس نے اک ٹھنڈی آں بھری اور فر سے میرے موح سے اپنا موح جوڑ دیا میں اب لگاتار اسکی پیٹھ پر ہاتھ فیر رہا تھا لیکن بار بار اسکی برا کا سٹاپ میرے ہاتھوں سے ٹکرا رہا تھا اسلئے میں نے اسکو بھی کھول دیا اب فضا کی پیٹھ اک دم ننگی تھی جو اک دم چکنی تھی اس پر اپنے ہاتھ اور اپنی انجالیا فیرتی ہوئے ایسی لگ رہا ہا جیسے کسی مخمل پر ہاتھ فیر رہا ہوں . اسکو گلے لگاتے ہوئے میری انجالیا اسکے جسم میں دہنس رہی تھی جسے اسے انتہا مزہ آ رہا تھا . فضا : جان جب آپ میری پیٹھ پر انجالیا جادااتی ہو تو انتہا مزہ آٹا ہے اور کرو . . . میں : ہحممم عیسی کرو تم الٹی ہوکے لیٹ جاؤ آج میں تم کو پیار کرونگا تم بس لیتی دیکھتی رہنا ٹھیک ہے فضا : ( میرے اوپر سے حاتکار میرے ساتھ الٹی ہوکے لیٹ تی ہوئی ) ہحممم اب وہ الٹی ہوکے لیتی تھی اور میرے سامنے اسکی دودھ جیسی نرم اور نازک پیٹھ تھی . میں اسکے اوپر آکے لیٹ گیا اور اسکے گلے كے پیچھے چومنے لگا وہ بس آنکھیں بند کیے لیتی تھی میں کبھی اسکے گلے پر چوس رہا تھا کبھی کاٹ رہا تھا میرے بار بار کاٹنے پر وہ سس سس کر رہی تھی لیکن اس نے مجھے اک باڑ بھی کاٹنے سے نہیں روکا شاید اسکو بھی میرے اِس طرح کرنے سے مزہ آ رہا تھا فر میں دھیرے دھیرے نیچے آنے لگا اور اسکی پیٹھ کو چوس-چوس کر کاٹنے لگا اسکی پوری پیٹھ میری تھوک سے گیلی ہو گئی تھی لیکن وہ بس خاموش ہوکے لیتی تھی اور مزے سے آنخان بند کیے . فضا : جان اپنی اور میری قمیض اُتار دو نا مجھے ان سے ولجحال ہو رہی ہے میں آپکا جسم اپنے جسم كے ساتھ جدا ہوا محسوس کرنا چاہتی ہوں . میں : ٹھیک ہے رکو ( میں جلدی سے کھڑا ہوا اور اپنے سارے کپڑے جلدی سے اترنے لگا ) فضا : ( گارڈن پیچھے کرکے مجھے کپڑے اترتا ہوا دیکھتی ہوئی ) جان تمہارا بدن دینو-دین اور بھی سخت ہوتا جا رہا ہے . ( مسکراتے ہوئے ) میں : وہ کھیت میں کام کرتا ہوں نا اسلئے . . . . فضا : جانتے ہو اب پہلے سے بھی جادا مزہ آٹا ہے ( مسکرا کر آنکھیں دوبارہ بند کرتے ہوئے ) میں نے جیسے ہی اپنے سارے کپڑے وتاری اور فضا كے اوپر لیتا تو فضا بولی . . . . فضا : جان میرے بھی آپ ہی اُتار دو نا مجھ میں اب ہمت نہیں ہے میں نے جلدی سے اسکو سیدھا کرکے بستر پر ہی اٹھا کے بٹھایا اور اسکی قمیض اترنے لگا اس نے بھی میری مدد كے لیے اپنی دونوں بانہیں ہوا میں اٹھا ڈی . کیونکی میں نے پہلے ہی اسکی برا کا اسٹراپ کھول دیا تھا اسلئے اسکی قمیض كے ساتھ اسکی برا بھی اُتَر گئی اور اسکے بادی-بادی اور سخت ممے وچھالکار باہر آ گئے اسکے نپل انگور کی طرح اک دم سخت اور کھڑے تھے . جسے میں گھور-گھور کر دیکھنے لگا مجھے اِس طرف گھورتا دیکھ کر اسکے اپنے دونوں ہاتھ اپنے موممو پر رکھ لیے . فضا : جان ایسی مت دیکھا کرو مجھے شرم آتی ہے ( موح نیچے کرکے مسکراتے ہوئے ) میں : کمال ہے . . . مجھ سے بھی شرم آتی ہے ( غور سے اسکا چہرہ دیکھتے ہوئے ) فضا : اچھا لو باس خوش ( اپنے دونوں ہاتھ ہوا میں اُٹھا کر ) میں : ہحممم چلو اب لیٹ جاؤ فضا : جان یہ بھی اُتار دو نا تنگ کر رہی ہے ( بچو جیسی مسکان كے ساتھ اپنی شلوار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) میں نے جلدی سے اسکی سالوار بھی اُتار ڈی اور وہ جلدی سے واپس الٹی ہوکے لیٹ گئی شاید وہ فر سے وہی سے شروع کروانا چاہتی تھی جہاں سے میں نے بند کیا تھا . اسلئے میں بھی بنا کچھ بولے اسکے اوپر ایسی ہی لیٹ گیا . اِس طرح بنا کپڑے كے اک دوسرے كے ساتھ جوڑتی ہی ہم دونوں كے بدن کو اک جھٹکا سا لگا جسے ہم دونوں كے موح سے اک ساتھ آں نکل گئی اسکی گانڈ بے حد نازک اور ملائم تھی جسکا مجھے پہلی باڑ احساس ہوا تھا . کیونکی پہلے میں ہمیشہ اسکے اوپر تب ہی لیٹ ٹا تھا جب وہ سیدھی ہوکے لیتی ہوئی ہوتی تھی اسلئے یہ احساس میرے لیے نیا تھا . میں : تمہاری گانڈ بہت ملائم ہے کسی جادی کی طرح فضا : ( آنکھیں بند کیے ہی ہیسٹ ہوئے ) میرا سب کچھ ہی آپکا ہے جان جو چاھے کرو . میں واپس تھوڑا نیچے کو ہوا اور فر سے اسکی پیٹھ کو چُوسنے چاٹنے اور کاٹنے لگا جسے فر سے اسکے موح سے سس سس نکل رہا تھا . اب میں سائڈ سے ہاتھ نیچے لے جا کر اسکے موممو کو بھی دبا رہا تھا اور اسکی کمر پر اپنے ہوتھ اوپر نیچے فرا رہا تھا ساتھ ہی اب میں نیچے کی طرف جا رہا تھا جسے شاید اسکا مزہ بادتا جا رہا تھا اسلئے وہ بار بار اپنی گانڈ کی پاحادیو کو کبھی سخت کر رہی تھی کبھی اوپر کو اٹھا رہی تھی . تبھی میں نے سوچا کیوں نا اسکی گانڈ پر چوم کر دیکھوں میں اک بار اسکی گند پر چوم لیا جسے اسے اک جھٹکا سا لگا اور اسکے موح تیز سسسس نکل گیا اس نے پالاتکار اک بار مجھے دیکھا فر بنا کچھ بولے واپس تکیے پر سر رکھ دیا اور آنکھیں بند کر لی شاید وہ بھی دیکھنا چاہتی تھی کی میں آگے کیا کرتا ہوں کچھ دیر میں ایسی ہی اسکی گانڈ کو چومتا رہا فر اچانک میں اپنا موح کھول کر اک باڑ ہلکی سے اسکی گانڈ کی پاحادی کو ہلکا سا چوس کر کاٹ لیا جسے اسکو انتہا مزہ آیا اور اس نے اپنے دونوں ہاتھ پیچھے لی-جاکار میرا چہرہ پکڑ لیا . فضا : اہح . . . جاانننن . . . . میں : کیا ہوا اچھا نہیں لگا فضا : بہت اچھا لگا تبھی توی برداشت نہیں کر پائی . میں : فر ہاتھ ہٹاؤ اپنے فضا بنا کچھ بولا اس نے میرے چہرے كے آگے سے اپنے ہاتھ ہٹا دیئے اور میں واپس اسکی گانڈ کی پاحادیو کی چُوسنے اور کاٹنے لگا وہ بس مزے سے اپنا سر بار بار تکیے پر مار رہی تھی اور مزے سے اُوں . . . . اہہح . . . . . . سسسس . . . . . سسسسس . . . . . کر رہی تھی . اچانک میں نے اسکی دونوں گانڈ کی پاحادیو کو کھولا اور اس میں اپنا موح دالکار اسکی گانڈ کی موری پر اپنی زبان کی نوک لگائی اور فوراً سسسس ااہہح کرتے ہوئے پلٹ گئی اور میرے چہرہ اپنے ہاتھوں سے پکڑ لیا . . . فضا : جان کیا کر رہے تھے پاگل ہو گئے ہو وہ گندی جگہ ہوتی ہے میں : تم کو مزہ نہیں آیا فضا : بات مزے کی نہیں ہے لیکن صرف میرے مزے كے لیے تم ایسی جگہ مجھے پیار کرو تو مجھے آپ کے لیے برا لگے گا میں : میں نے کیا پوچھا ہے تم کو مزہ آیا یا نہیں . . . . صرف ہاں یا نا میں جواب دو فضا : ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) میں : بس فر واپس الٹی ہوکے لیٹ جاؤ فضا : ٹھیک ہے اچھا آپ انگلی سے کر لو بس لیکن زبان نہیں ڈالنا وہاں وہ گندی جگہ ہے آپکو میری قسم ہے . میں : اچھا ٹھیک ہے اب لیٹ تو جاؤ نا . . . فضا بنا کچھ بولے واپس الٹی ہوکے لیٹ گئی اور میں اپنی انگلی کو اپنے موح میں دالکار گیلی کرکے واپس اسکی گانڈ کو کھول کر اپنی گانڈ کی انگلی اسکی موری پر اوپر نیچے گھمانے لگا جسے اسکو فر سے مزہ آنے لگا . میں : جان اچھا لگ رہا ہے ؟ فضا : ہہمممم میں ایسی ہی کافی دیر فضا کی گانڈ کی موری پر انگلی فیرتا رہا اور اسکی گانڈ كے موتی-موتی پہاڑوں کو اوپر سے چومتا رہا جسکے لیے فضا نے بھی مجھے منع نہیں کیا وہ اپنی آنکھیں بندہ کیے بس سس سس اور آہہ اُوں کر رہی تھی . یہ مزہ ہم دونوں كے لیے اک دم نیا تھا . میں جب بھی فضا کی گانڈ کی موری پر اپنی انگلی فیرتا تو کبھی وہ اپنی موری کو سختی سے بند کر لیتی کبھی کھول دیتی جس کو دیکھ کر مجھے بھی اچھا لگ رہا تھا تبھی میں نے سوچا کیوں نا اس کے اندر انگلی ڈال دوں اسلئے میں نے موری كے کُھلتا کا انتظار کیا اور جیسے ہی اس نے اپنی موری کو تھوڑا سا ڈھیلا کیا تو میں نے اپنے ناخن تک انگلی اسکی گانڈ کی موری میں دال ڈی جسے شاید اسے بھی مزہ آیا تھا اس نے جور آہا کیا اور فر تیز-تیز سانس لینے لگی . میں : جان دَرْد تو نہیں ہو رہی فضا : بہت مزہ آ رہا ہے جان انگلی کو حالکا-حالکا دباؤ اچھا لگتا ہے ایسی کرتے ہو تو . میں اسکے بولے موتیبیق اپنی انگلی کو ہلکے ہلکے دبانے لگا جسے میری انگلی اور اندر تک جانے لگی گیلی ہونے کی وجہ سے میری 1 / 2 انگلی اسکی گانڈ كے اندر تھی جس کو میں بار بار اندر باہر کر رہا تھا تبھی مجھے لگا جیسے وہ نیچے اپنا ہاتھ لیجاکار اپنی چوت ماسال رہی ہے شاید اسلئے اسکو مزہ آ رہا تھا . فر میں واپس اسکے اوپر لیٹ گیا اور اسکی گانڈ سے اپنی انگلی باہر نکال لی . میں نے سوچا کیوں نا اسکی گانڈ میں اپنا لنڈ ڈال کر دیکھوں کی کیسا لگتا ہے اسلئے میں نے ڈھیر سارا تھوک اپنے لنڈ پر لگایا اور تھوڑا تھوک اور اسکی گانڈ پر لگایا اور لنڈ کو میں نے جیسے ہی گانڈ کی موری كے نشانے پر رکھا فضا کو اک دم جھٹکا سا لگا اور وہ فوراً پلٹ گئی . فضا : کیا کر رہے تھے . میں : کچھ نہیں لنڈ ڈال کر دیکھ رہا تھا اندر . فضا : پاگل ہو گئے ہو یہ اتنا بڑا اندر نہیں جائیگا میں : ارے کوشش تو کرنے دو پکا اگر نہیں جائیگا تو میں نہیں دالونجا اور ویسی بھی تم کو انگلی سے مزہ آ رہا تھا نا تو اسے ( لنڈ ) سے بھی مزہ آئیگا . فضا : نہیں جان یہ بہت بڑا ہے اول تو اندر جائیگا نہیں اگر زبردستی کروگے تو مجھے بہت دَرْد ھوگا میں نے پہلے کبھی پیچھے لیا نہیں . میں : بس اک باڑ کوشش کرنے دو پکا اگر دَرْد ھوگا تو نہیں کرونگا فضا : وعدہ کرو جب میں روکونجی تو رک جاؤگے . میں : وعدہ ( مسکراتے ہوئے ) فضا : ( بنا کچھ بولے واپس الٹی ہوکے لیٹ طے ہوئے ) ہحممم جان آرام سے کرنا مجھے ڈر لگ رہا ہے یاد رکھنا آپکو قسم ڈی ہے میں : ہا ہا یاد ہے دھیرے ہی کرونگا فضا : اچھا کرو لیکن بہت آرام سے اسکا سگنل ملتے ہی میں نے اپنے گھٹنوں پر بیٹھ کر فر سے اپنے لنڈ کو نشانے پر رکھا اور تھوڑا سا لنڈ پر دبائو دیا لنڈ فصال کر اوپر کو چلا گیا . شاید فضا سچ کہہ رہی تھی کیونکی موری سہی میں بہت تنگ تھی . میں نے فر سے لنڈ کو نشانے پر رکھ کر تھوڑا جور سے دبائو دیا لیکن موری بالکل بھی نہیں کھل رہی تھی . میں واپس فضا كے اوپر لیٹ گیا اور فضا سے موری تھوڑی ڈھیلی کرنے کو کھا اس نے ہاں میں سر ہلایا تو میں واپس اپنی جگہ پر آکے بیٹھ گیا اِس باڑ میں نے سوچا کیوں نا جھٹکا لگایا جائے اسلئے میں نے فر سے لنڈ کو نشانے پر رکھا اور گند کو اچھے سے دونوں ہاتھ سے پھیلا دیا اب میں اک ہلکا سا جھٹکا مارا جسے 1 / 2 ٹوپی لنڈ کی اندر چلی گئی اور فضا کو شاید دَرْد ہوا جسے اسکے موح سے اک ہلکی سی سسس نکل گئی مگر وہ فر بھی خاموش رہی . اب میں دھیرے دھیرے جھٹکے مرنے لگا اور لنڈ کا دبائو موری پر ڈالنے لگا مگر جب بھی میں دبائو موری پر ڈالتا تو فضا موری کو ٹائیٹ کر لیتی تھی جسے مجھے اندر ڈالنے میں پریشانی ہو رہی تھی میں واپس فضا پر لیتا اور فضا سے کہا . . . میں : جان ایسی تو نہیں جا رہا تم تھوڑا ڈھیلا کرو موری کو اور اب میں ہلکی سے جھٹکا دونگا تم چیلنا مت نہیں تو سب اٹھ جائینگے . فضا : ( ہاں میر سر ہلاتے ہوئے پاس پڑا اپنا دوپٹہ اپنے موح كے پاس رکھ لیا ) ہحممم کرو لیکن جان جادا جور سے جھٹکا نا دینا ورنہ دَرْد ھوگا مجھے . میں : اچھا فکر مت کرو . میں اب واپس اپنی جگہ پر آیا اور لنڈ پر فر سے ڈھیر سارا تھوک لگایا اور لنڈ کو موری پر رکھا فضا نے بھی اِس باڑ موری کو ڈھیلا چھوڑا ہوا تھا میں نے فر سے گانڈ کی پاحادیو کو دونوں طرف فایلایا اور لنڈ کو اِس باڑ زرا جور سے جھٹکا دیا جسے لنڈ کی ٹوپی اندر چلی گئی اور فضا کو اک جھٹکا سا لگا جسے وہ تھوڑا اوپر کو ہو گئی اور اس نے اپنا دوپٹہ اپنے موح پر جور سے دبا لیا اس نے اپنا ہاتھ پیچھے کرکے مجھے رکنے کا اشارہ کیا . میں ویسے ہی لنڈ گانڈ میں ڈالے کچھ دیر كے لیے رک گیا اور فضا كے اگلے اشارے کا انتظار کرنے لگا . جب اسکا دَرْد کم ہو گیا تو اس نے اپنا موح دوپاتتی میں چحیپایی ہی ہاں میں سر ہلایا میں نے فر سے لنڈ باہر نکالا اور اس پر تھوک لگاکے اندر کر دیا اور فر دھیرے دھیرے میں جھٹکے لگانے لگا فضا کا مجھے چہرہ نہیں دِکھ رہا تھا لیکن شاید اسکو دَرْد ہو رہا تھا کیونکی وہ بار بار اپنا سر تکیے پر دایی-بایی مار رہی تھی اور چہرہ دوپاتتی سے چھیپا رکھا تھا ادھر میرا بھی 1 / 2 لنڈ اسکی گانڈ میں جا چکا تھا اور میں اپنے 1 / 2 لنڈ کو ہی فضا کی گانڈ میں اندیر-باحار کر رہا تھا . کچھ دیر بَعْد فضا کی آواز آئی . . . فضا : جان رکو . . . اب میں آپ کے اوپر آتی ہوں ایسی کرنے میں مجھے بہت دَرْد ہو رہا ہے . میں بنا کچھ بولے اسکے اوپر سے ہٹ گیا اور میرا لنڈ پوکک کی آواز كے ساتھ اسکی گانڈ سے باہر آ گیا . اب میں نیچے لیٹ گیا اور فضا میرے اوپر آ گئی اسکا پُورا چہرہ پسینہ سے گلہ ہوا پڑا تھا اور اک دم لال ہوا پڑا تھا . اسکے اوپر آتے ہی ہم دونوں نے اک دوسرے کو دیکھا اور دونوں ہی مسکرا دیا فر اس نے میرے لنڈ کو پکڑا جو چھت کی طرف موح کیے پوری طرح کھڑا جس کو اس نے ہاتھ سے پکڑ کر پہلے دیکھا فر اک دھیرے سے تھپڑ میرے لنڈ پر مار دیا اور میری طرف مسکرا کر دیکھنے لگی . اب اس نے میرے لنڈ کو موح میں لے کے اچھے سے چوسہ اور ڈھیر سارا تھوک میرے لنڈ پر لگایا اور کچھ تھوک اس نے خود اپنی گانڈ میں بھی لگایا فر آنکھیں بند کرکے دھیرے دھیرے میرے لنڈ پر بیٹھنے لگی اسکے چہرے سے صاف پتہ چل رہا تھا کی اسکو بہت دَرْد ہو رہا ہے لیکن فر بھی وہ لنڈ کو دھیرے - دھیرے اندر لینے لگی اور جب 1 / 2 سے تھوڑا سا جادا لنڈ اندر چلا گیا تو اس نے اک باڑ نیچے موح کرکے لنڈ کو دیکھا اور فر میری چھاتی پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر وپیر-نیچی ہونے لگی مجھے اسکے عیسی کرنے سے بی-ینتیحا مزہ مل رہا تھا اور میں نے مزے سے آنکھیں بند کی ہوئی تھی تبھی کچھ جھٹکو كے بَعْد وہ اک دم سے میرے اوپر لیٹ گئی اور اپنے رسیلے ہوتھ فر سے میرے ہوتھ پر رکھ کر چُوسنے لگی میں آنکھیں بند کیے لیتا رہا اور وہ میرے ہوتھ چستی رہی تبھی اس نے جور دار تھاپ كے ساتھ اپنی گانڈ کو میرے لنڈ پر دبایا اور وہ میرے لنڈ پر بیٹھ گئی . جسے میرا پُورا لنڈ اسکی گانڈ میں اک دم سے چلا گیا . کچھ دیر وہ ایسی ہی پُورا لنڈ اپنی گانڈ میں لیے میرے اوپر لیتی رہی اور میرے ہوتھ چستی رہی فر دھیرے دھیرے اس نے ہلنا شروع کیا اور اب وہ میرے لنڈ کو ٹوپی تک باہر نکلتی اور فر سے پُورا اک ہی باڑ میں اندر ڈال لیتی کافی دیر تک وہ ایسی ہی کرتی رہی فر اسکی شاید تانجیی تھک گئے تھی اسلئے اس نے اپنے ہوتھ میرے ہوتھو سے ہٹا کر مجھے اوپر آنے کو کہا تو میں بنا کچھ بولے اسکو کمر سے پکڑ کر بیٹھ گیا اور فر اسکو ایسی ہی پلٹ دیا لنڈ جیسے اندر تھا ویسے ہی رہا اب میں اوپر تھا اور وہ نیچے . اب میں نے دھیرے -دحییری جھٹکے دینے شروع کر دیئے کچھ دیر وہ جھٹکے برداشت کرتی رہی فر شاید اسکو دَرْد ہونے لگا تھا اسلئے اس نے خود ہی ہاتھ نیچے لی-جاکار لنڈ کو گانڈ سے باہر نکالا اور اپنی چوت میں ڈال دیا . اب اسکا اشارہ سمجھتے ہوئے میں نے اسکی چوت میں جھٹکے لگانے شروع کر دیئے اس نے اپنی دونوں باجو میرے گارڈن پر لپٹ لی اور اپنی دونوں تانجیی میری کمر پر رکھ لی جسے ہم دونوں اک دوسرے سے چپک سے گئے تھے کچھ دیر بَعْد ہی میرے جھٹکو میں خود ہی تیزی آ گئی اور اسکے موح سے سسس سسس اُوں اہہح جیسے لفظ نکلنے لگ گئے کچھ تیز جھٹکو كے ساتھ پہلے وہ فارغ ہوئی اور اسکے کچھ ہی دیر بَعْد میں بھی اسکے اندر ہی فارغ ہو گیا اور اسکے اوپر ہی لیتا سانس لینے لگا ہم دونوں ہسینے سے بری طرح نہائے ہوئے تھے اور دونوں کی سانسیں بہت تیز چل رہی تھی . کچھ دیر ہم ایسی ہی اک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے رہے فضا بار - بار مجھے دیکھتے ہوئے میرے ہوتھو کو چوم رہی تھی . میں : جان مزہ آیا . . . فضا ( بنا کچھ بولے آنکھیں بند کرکے میرے ہوتھ چُومتے ہوئے ) پوچحنی کی ضرورت ہے میں : بتاؤ نا پیچھے والے میں آیا کی نہیں . . . فضا : ( اپنی آنکھیں کھول کر میرا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں سے پاکدتی ہوئے ) مزہ . . . . میری جان نکل گئی تھی تم کو مزے کی پڑی ہے جانتے ہو کتنا دَرْد ہوا تھا . . . . اب فر سے کرنے کو کبھی مت کہنا . . . . جانے کہا سے ایسی الٹی خیال تم کو آتے ہے اور تمہاری فارماییش پوری کرنے كے چکر میں میری جان نکلنے کو ہو جاتی ہے . میں : جان ہم کرتے ہیں تو اور لوگ بھی تو کرتے ہونگے نا فضا : کرتے ہونگے ان کو مرنے دو پر ہم نہیں کرینگے . میں : ( رونے جیسا موح بناتے ہوئے ) لیکن کیوو . . . . فضا : ( اپنا ہاتھ نیچے لے جا کر میرا لنڈ پاکادتی ہوئے ) اس کا سائز دیکھا ہے جو لوگ پیچھے کرتے ہیں ان کے شوہر کا یہ اتنا بڑا نہیں ہوتا سمجھے . . . میں : ( اداس موح بناکے ) ٹھیک ہے نہیں کرینگے فضا : ( چیدحتی ہوئے ) جان تمہاری یھی عادت مجھے پسند نہیں یا تو تمہاری ہاں میں ہاں ملاؤ . . . اگر نا بولتی ہوں تو گندا سا موح بنا لیتے ہو میں : ہاں تو میں نے کیا کہا ہے ٹھیک ہے نہیں کرینگے نا بس بات ختم . ( غصے جیسا موح بناکی اٹھ کر بیٹھ طے ہوئے ) فضا : ( اٹھ کر میری ٹانگ پر بیٹھ طے ہوئے میرے چہرہ اپنی طرف کرکے ) میری جان مجھ سے ناراض ہے میں : ( نا میں سر ہلاتے ہوئے ) نہیں . . . . فضا : اچھا کر لینا جب دِل کرے نہیں روکونجی . اب تو ہنس کر دکھاؤ تم جانتے ہو تم ہیسٹ ہوئے ہی اچھے لگتے ہو ( مسکرا کر ) میں : ( مسکرا کر فضا كے ہوتھ چُومتے ہوئے ) تم بھی ہستی ہوئی بہت اچھی لگتی ہو . فضا : جان چلو اب بہت دیر ہو گئی ہے نیچے چلتے ہیں . میں : رکو نا جان اک باڑ اور کرینگے نا فضا : پاگل ہو گئے ہو آج نہیں . . . . . . ویسی بھی ہم بہت دیر سے یہاں ہے . جان بیٹ کو سمجھو نا میں منع تھوڑی کرتی ہوں بس اب کافی وقت ہو گیا ہے اور ویسی بھی تم نے بھی تو صبح کھیت جانا ہے نا اگر سوووجی نہیں تو بیمار پڑ جاؤگے اسلئے اب ہم دونوں جاکے بس سوئیں گے ٹھیک ہے . ( مسکرا کر ) میں : ہحممم ٹھیک ہے چلو کپڑے پہن لیتے ہیں اور نیچے چلتے ہیں . . . . . اسکے بَعْد ہم دونوں نے کپڑے پہنے اور اپنی-اپنی کمرے میں آ گئے فضا نے اپنے کمرے کی کنڈی کھولی اور میں بس اسکو اندر جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا اس نے بھی اک باڑ پالاتکار مجھے دیکھا اور اک پیاری سی مسکان كے ساتھ اپنے ہوتھو کو چومنے جیسے کیا جیسے وہ مجھے چوم رہی ہو اور فر جلدی سے اندر چلی گئی میں بھی چپ چاپ اپنے کمرے میں آیا تو بابا کو سوتا ہوا دیکھ کر چُپ چاپ اپنے بستر پر آکے لیٹ گیا اور جلدی ہی مجھے نیند نے اپنی آغوش میں لے لیا . اگلی صبح میں اٹھا اور روز کی طرح تییار ہوکے کھیت چلا گیا آج میں اکیلا ہی کھیت میں تھا کیونکی نازی کی جاگ دیر سے کھلی تھی رات کی داوائی کی وجہ سے اسلئے میں نے اسے اپنا ساتھ کھیت پر لانا مناسب نہیں سمجھا اور اسکو گھر پر ہی چھوڑ آیا تاکہ وہ اور فضا مل کر میرا کمرا تییار کر سکے اور نازی بھی گھر میں رہ کر فضا كے کامو میں مدد کر سکے . آج کھیت میں مجھے بھی کوئی خاص کام نہیں تھا بس نئی فصل اگانے كے لیے کھیت کو پانی لگانے کا کام تھا جو میں نے دوپیحار تک مکمل پُورا کر دیا اور اب میں خالی بیٹھا تھا اسلئے میں نے بھی گھر واپس جانے کا من بنا لیا اور میں بھی جلدی ہی گھر آ گیا . ابھی میں گھر آ ہی رہا تھا کی مجھے دور سے گھر كے باہر کچھ گادیا کھڑی نظر آئی . جانے کیوں لیکن ان جادیو کا قافلہ دیکھ کر مجھے اک عجیب سی بیچینی ہونے لگی اور میں تیز قدموں كے ساتھ گھر کی طرف بڑھ گیا . گھر میں جاتے ہی مجھے کرسی پر کچھ لوگ بیٹھے نظر آئے . ( دوستو یہاں سے میں اک نیو چاراکتور کا تھوڑا سا انٹرودکشن آپ سب سے کروانا چاہونگا ٹاکی آپکو کہانی مکمل طور پر سمجھ آتی رہے . ) نام : انسپیکٹر . واحد خان ( خان ) ایج : 43 سال ، ہائیٹ : 5 . 11 اک اماندار پولیکیوالا جو ظلم اور مجرم سے سخت نفرت کرتا ہے اسکی زندگی کا مقصد صرف اور صرف ظلم کو ختم کرنا ہے . خان : ( مجھے دیکھ کر ) آئی جناب ہماری تو آنکھیں ترس گئی آپ کے دیدار كے لیے اور آپ یہاں دیرا ڈالے بیٹھے ہیں . میں : ( کچھ نا سمجھنے والے انداز میں ) جی آپ لوگ کون ہے اور یہاں کیا کر رہے ہیں . خان : ( کرسی سے کھڑے ہوتے ہوئے ) ارے کیا یار شیرا اپنے پُرانے دوست کو اتنی جلدی بھول گئے اور یہ کیا موچی کیوں صاف کردی تم نے . . . . چلو اچھا ہے ایسا بھی اچھے دکھتے ہو . ( مسکراتے ہوئے آنکھ مارکار ) میں : جی کون شیرا کس کا دوست میں تو آپکو نہیں جانتا خان : ہحممم تو تم شیرا نہیں ہو فر یہ کون ہے . ( ٹیبل پر پڑی تصویروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) میں : ( بنا کچھ بولے تاسvییری اٹھا کے دیکھتے ہوئے ) یہ تو اک دم میرے جیسا دکھتا ہے ( حیران ہوتے ہوئے اور اپنے چہرے پر ہاتھ فیرتی ہوئے ) خان : اچھا یہ نیا ناٹک شروع کر دیا . یہ تم جیسا نہیں دکھتا تم ہی ہو سمجھے اب اپنا ڈرامہ بند کرو . بابا : صاحب جی میں نے کہا نا یہ میرا بیٹا نییر ہے کوئی شیرا نہیں ہے آپ نے جو تاسvییری دکھائی ہے وہ بس میرے بیٹے کا ہم شکل ہے اور کچھ نہیں یہ معصوم بہت سییدحا-سادحا ہیں کوئی اپرادحی نہیں ہے یہ . خان : آپ چُپ رہیے ( انگلی دکھاتی ہوئے ) میں نے آپ سے نہیں پوچھا میں : ( خان کا کلر پاکادتی ہوئے ) اوئے تمیز سے بات کر سمجھا . . . . اگلی باڑ میرے بابا کو انگلی دکھائی تو ہاتھ توڑ دونگا تیرا . خان : ( ہیسٹ ہوئے ) ارے اتنا غصہ اچھا بھائی نہیں کہتے کچھ آپ کے بابا کو . . . . . دیکھو فاروخ تیور دیکھو اس کے وہی غصہ وہی نشیلی آنکھیں . . . . اور یہ لوگ کہتے ہیں یہ شیرا نہیں ہے بابا : نییر ہاتھ نیچے کرو یہ بڑے صاحب ہے تمیز سے پیش آؤ ( غصے سے ) میں : جی معاف کر دیجیئے ( نظری جھکا کر ہاتھ کلر سے ہٹا طے ہوئے ) خان کبھی بابا کو اور کبھی مجھے بَدی حیرانی سے بار بار دیکھ رہا تھا اور مسکرا رہا تھا . لیکن مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا . خان : واہ بھائی کیا رووب ہے وہ بھی شیرا پر . . . . ( حیران ہوتے ہوئے ) کیونکی میں نے تو سنا تھا وہ آدمی پیدا نہیں ہوا جو شیرا کو جھکا سکے ( اپنے ساتھ والے پولیس والے کو دیکھتے ہوئے ) میں : ( اپنے ہاتھ جوڑی ہوئے ) دیکھیے جناب میرے بابا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے آپ مہربانی کرکے یہاں سے جائیے . خان : چلے جائینگے میری جان اتنی بھی کیا جلدی ہے پہلے تسلّی تو کر لوں میں : کیسی تسلّی خان : اگر تم شیرا نہیں ہو تو اپنی قمیض اتارو کیونکی ہم جانتے ہیں کی شیرا كے کاندھے كے پیچھے اک شیر کا تاتو گدا ہوا ہے . میں : اگر نہیں ہوا تو فر آپ یہاں سے چلے جائینگے خان : جی بالکل حضور آپ بس ہماری تسلّی کروا دے فر ہم آپکو چہرہ تک نہیں دکھائیں گے . میں : ٹھیک ہے ( قمیض اُترتے ہوئے ) دیکھ لیجیے اور تسلّی کر لیجیے . ( میں نہیں جانتا تھا کی میری پیٹھ پر اِس قسم کا کوئی نشان ہے بھی یا نہیں اسلئے میں نے خان كے کہنے پر فوراً قمیض اُتار ڈی ) خان : ( چاروں طرف میرے گول گول گھومتے ہوئے ) ہحممم ( میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا کر ) تو شطیر تو بہت ہے لیکن آج پاس گیا بچے تیرا شیر ہی تجھے مروا گیا . . . . . حاحاحاحاحاحاحا ( تالیان باجاتی ہوئے ) میں : جی کیا مطلب ( گھمکار خان کی طرف دیکھتے ہوئے ) خان : تونے مجھے بھی ان بھولے گاv والو کی طرح چوتیا سمجھا ہے جو تیری باتوں میں آ جاؤنگا میں : میں آپکا مطلب نہیں سمجھا آپ کہنا کیا چاھتے ہیں . خان : مطلب تو حاوالت میں میں تجھے اچھے سے سامجحاونجا بابا : ( کھڑے ہوتے ہوئے ) دیکھیے جناب یہ میرا بیٹا نییر ہی ہے صرف شکل اک جیسی ہو جانے سے کرم اک جیسے نہیں ہوتے ہیں یہ بچارہ تو کھیت میں محنت کرتا ہے بہت سیدھا لڑکا ہے کبھی کسی سے اونچی آواز میں بات بھی نہیں کرتا میری ہر بات مانتا ہے آپ گاv میں کسی سے بھی پوچھ لیجیے بہت بھلا لڑکا ہے اس نے کوئی گناہ نہیں کیا . خان : ( مجھے کندہوں سے پکڑ کر گھماتے ہوئے ) یہ دیکھیے جناب آپ جسے اپنا بیٹا کہہ رہے تھے وہ اک انڈرورلڈ کا موسٹ وانٹڈ گینگسٹر شیرا ہے اس نے بہت سے لوگوں کا قتل کیا ہے یہ اتنا شطیر ہے کسی انسان کی جان لینے كے لیے اسکو کسی حاتحیار کی بھی ضرورت نہیں ہر طرح کا حاتحیار چلا لیتا ہے یہ اس کا ساتییک نشانہ اسکی اندیروورد میں پہچان ہے . اب اِس تاتو اور یہ گولیوں كے نشان کو دیکھ کر تو آپکو تسلّی ہو گئی ھوگی کی یہ آپکا بیٹا نییر نہیں بلکہ شیرا ہے جس کو ہم اتنے ماحینو سے ڈھونڈ رہے ہیں . بابا : دیکھیے صاحب میں آپکو سب سچ-سچ بتا دونگا لیکن آپکو وعدہ کرنا ھوگا کی آپ یہ بات کسی کو نہیں بتایینجی . خان : ( کرسی پر واپس بیٹھ طے ہوئے ) میں سن رہا ہوں کہیے کیا کہنا ہے آپکو . جب بابا نے انسپیکٹر خان کو میرے بڑے میں بتانا شروع کیا تو میں بھی ان کے پاس ہی قمیض پہانکار بیٹھ گیا . کیونکی اکثر میں جب بھی نازی اور فضا سے اپنے بڑے میں کچھ بھی پوچحتا تو وہ اکثر تال جاتی اور مجھے میرے بڑے میں سچ نہیں بٹاتی اور میرے سینے پر جو نشان تھے وہ جولیو كے تھے یہ بات بھی مجھے آج ہی پتہ چلی تھبی کیونکی نازی اور فضا نے مجھے یھی بتایا تھا کی مجھے ایکسڈینٹ میں چوٹ لگنے سے یہ سینے پر نشان ملے تھے . اب آخر مجھے بھی اپنے جاننا تھا کی میں کون ہوں اور میرا سچ کیا ہے . تبھی بابا نے پہلے فضا کو اور فر نازی کو اک ساتھ آواز دے کر باہر بلایا دونوں موح کو ڈھک کر باہر آ گئی اور جہاں میں بیٹھا تھا میرے پیچھے آکے چپ چاپ کھڑی ہو گئی . میں نے پالاتکار دونوں کو اک نظر دیکھا اور فر سیدھا ہوکے بیٹھ گیا . بابا : بیٹا انسپیکٹر صاحب کو نییر كے بڑے میں سب سچ-سچ بتا دو . فضا : لیکن بابا وہ . . . . میں . . . وہ . . . . . ( کچھ سوچتے ہوئے ) خان : جی آپ گھابراییی نہیں کھل کر بتاییی میں جاننا چاہتا ہوں کی آپ مجھے کیا سچ بتانا چاہتی ہے . فضا : ( اک لمبی سانس چھوڑتی ہوئے ) ٹھیک ہے صاحب لیکن وعدہ کیجیے کی اسکے بَعْد آپ نییر کو کچھ نہیں کہیں گے . خان : ( اپنا کوٹ سہی کرتے ہوئے ) میں کوئی وعدہ نہیں کرونگا لیکن ہاں اگر یہ بے گناہ ہے تو اسے کچھ نہیں ھوگا . فضا : ٹھیک ہے خان صاحب . . . . . نازی جاؤ وہ بیگ لے آؤ جو ہم نے چحوپاکی رکھا تھا . نازی : ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) اچھا بھابی . . . یہ سن کر مجھے بھی جھٹکا لگا کی یہ کونسے بیگ كے بڑے میں بات کر رہی ہے جسکے بڑے میں میں نہیں جانتا اور انہوں نے مجھے کبھی کیوں نہیں بتایا . فر فضا نے بولنا شروع کیا اور خان صاحب ہمیں نہیں پتہ نییر کا اصل نام کیا ہے اور یہ کون ہے ہاں یہ سچ ہے کی ہمارا اسے زاتی کوئی تعلق نہیں ہے . ہم کو جب یہ ملا تو یہ بری طرح خون میں لاتھ-پاتھ تھا اور اسے پانچ جولیان لگی ہوئی تھی اور اپنی آخری سانسیں گن رہا تھا اسکو ہم انسانیت كے ناتے گھر لے آئی فر اسکی جولیان نکالی اور اسکی مرہم پٹی کرکے اس کا علاج کیا . 3 مہینے تک یہ بے ہوش تھا اسکے بَعْد اسکو ہوش آیا لیکن تب تک یہ اپنی یادداشت کھو چکا تھا اور اسے اپنے بڑے میں کچھ بھی یاد نہیں تھا . ( تبھی نازی اک کالا بیگ لے آئی ) نازی : یہ لو بھابی . ( بیگ فضا کو دیتے ہوئے ) فضا : ( نازی کو دیکھتے ہوئے ) ٹیبل پر رکھ دو بیگ کو . . . . ( گھمکار كھانا سے بات کرتے ہوئے ) خان صاحب ہمیں یہ بیگ نییر كے کاندھے پر لٹکا ملا تھا یہ بے ہوش تھا اسلئے ہم نے اسکی امانت کو سنبھال کر رکھ دیا تھا ( بیگ کھولتے ہوئے ) جب ہم نے اس کے بڑے میں معلوم کرنے كے لیے بیگ کھولا تو اس میں یہ حاتحیار اور یہ ڈھیر سارے پیسے پڑے ملے یہ دیکھ کر ہم اک باڑ تو گھبرا گئی تھی کی جانے یہ کون ہے اور اس کے پاس ایسا سامان کیا کر رہا ہے لیکن فر بھی انسانیت كے ناتے ہمارا یہ فرض تھا کی ہم اسکی جان بچاتی اسلئے ہم نے پولیس میں خبر نا کرکے پہلے اسکو بچانا ضروری سمجھا . . . ہم نے سوچا تھا کی جب یہ ہوش میں آ جائیگا تو اسکو ہم جانے كے لیے کہہ دینگے . خان : ( بیگ میں دیکھتے ہوئے ) وااح کیا بات ہے اتنا سارا پیسہ ، یہ آٹومَیٹِک حاتحیار . . . اور آپ لوگ کہتے ہیں کی یہ شیرا نہیں ہے . فضا : جناب میری پوری بات تو سن لیجیے وہی تو میں آپکو بتا رہی ہوں . . . . جب یہ ہمیں ملا تو بہت بری طرح زخمی تھا میں اور نازی ( انگلی سے نازی کی طرف اشارے کرتے ہوئے ) اسکو اُٹھا کر اپنے گھر لے آئی تھی تاکہ اسکی جان بچایی جا سکے 3 مہینے تک یہ بے ہوش پڑا رہا اسکے بَعْد جب یہ ہوش میں آیا تب اس نے پہلا لفظ جو بولا وہ تھا " بابا آپکا بیٹا آ گیا . . . " جب بابا اس کے پاس گئے تو ان کے پریوار كے بڑے میں اور انکا نام پوچھا لیکن اسکو کچھ بھی یاد نہیں تھا یہ سب کچھ بھول چکا تھا کیونکی اس کے سر میں کافی گہری چوٹ آئی تھی اسلئے . میرے شوہر بھی اک شرابی اور جوواری قسم كے انسان ہے اور وہ آج کل جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں . بابا ہمیشہ میرے شوہر سے دُکھی رہتے ہیں لیکن جب اس نے میرے سسر کو ( بابا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) بابا کہا تو بابا کا دِل پگھل گیا اور انہوں نے نییر کو اپنا بیٹا بنا لیا بابا نے ہم سے کہا کی اسکو پچھلا کچھ بھی یاد نہیں ہے اور جانے یہ کون ہے تو کیوں نا اسکو ہم اپنا لے اور یہ ہماری ہی گھر میں رہے کیونکی بابا کو اس میں اپنا بیٹا نظر آٹا ہے جیسا بیٹا وہ ہمیشہ سے چاھتے تھے . تب سے لے کے آج تک یہ اِس گھر کا بیٹا بن کر اک بیٹے كے سارے فرض نبھا رہا ہے ہمیں نہیں پتہ کی ان کے اتییت میں یہ کون تھے اور انہوں نے کیا کیا ہے . لیکن آج کی تاریخ میں یہ اک محنتی انسان ہے جو اپنا خون-پاسینا اک کرکے اپنے پریوار کا پیٹ بھرنے كے لیے كے لیے دن رات کھیت میں محنت کرتا ہے آج یہ اک معصوم انسان ہے کوئی اپرادحی نہیں . جناب آپکا مقصد تو ظلم کو ختم کرنا ہے نا تو ان کے اندر کا شیرا تو کب کا مر چکا ہے کیا آپ اک معصوم انسان کو اک اپرادحی کی سزا دینگے ؟ خان : آپ نے جو کیا وہ انسانیت کی نظر سے قابل تعریف ہے لیکن جس کو آپ اک بحولا-بحالا معصوم انسان کہہ رہی ہو وہ اک پشاور اپرادحی ہے . آج میں اسکو چھوڑ بھی دوں تو کل اگر اسکی یادداشت واپس آ گئی تو اسکی کیا جارینتی ہے کی یہ اپنی دُنیا میں واپس نہیں جائیگا اور کوئی گناہ نہیں کرے گا آپ نہیں جانتی اس نے کتنے لوگوں کا قتل کیا ہے یہ آدمی بہت خطرناک ہے اسکو میں ایسی کھلا نہیں چھوڑ سکتا . بابا : صاحب میں مانتا ہوں کی اولاد كے دکھ نے مجھے خود غرض بنا دیا تھا لیکن یہ برا انسان نہیں ہے . . . . میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کی اگر اب یہ کوئی بھی گناہ کرے تو آپ مجھے فانسی پر چڑاہا دینا . نییر میرا بیٹا ہے اسکی پوری جیممیداری میں لیتا ہوں ( میرا ہاتھ پکڑ کر ) خان : ( اپنے سر پر ہاتھ فیرتی ہوئے ) پتہ نہیں میں ٹھیک کر رہا ہوں یا غلط لیکن فر بھی میں اسکو اک موقع ضرور دونگا . بابا ، نازی ، فضا : ( اک آواز میں اپنے ہاتھ جودکار ) آپکا بہت احسان ھوگا صاحب . خان : احسان والی کوئی بیٹ نہیں بس اسکو کل میرے ساتھ اک باڑ شہر چلنا ھوگا میں ڈاکٹر سے اس کے دماغ کا چیک-وپ کروانا چاہتا ہوں ساتھ میں اس کا لائی دیتیکتور ٹیسٹ بھی کرونگا . کیونکی مجھے آپ پر تو بھروسہ ہے لیکن اِس پر نہیں . فضا : کس بات کا چیک-وپ صاحب ( حیرانی سے ) اور یہ لائی کیا ہے ( فضا کو لائی دیتیکتور کہنا نہیں آیا ) خان : لائی دیتیکتور ٹیسٹ سے ہم یہ پتہ کر سکتے ہیں کی انسان جھوٹ بول رہا ہے یا سچ اور اس کا چیک-وپ میں اسلئے کروانا چاہتا ہوں کی مجھے جاننا ہے اسکی یادداشت کب تک واپس آئیگی اسکے بَعْد اسکو میری مدد کرنی ھوگی . میں : ( جو اتنی دیر سے خاموش سب سن رہا تھا ) کیسی مدد صاحب . خان : تم کو کانوں سے معافی اتنی آسانی سے نہیں ملے گی اس کے بدلے میں تم کو ہماری مدد کرنی ھوگی تمھارے باقی گینگ والو کو پاکادوانی میں . میں : ٹھیک ہے صاحب اب جو بھی ہے یھی میرے اپنے ہے اور ان کے لیے میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں . خان : تو ٹھیک ہے فر ابھی میں چلتا ہوں صبح ملاقات ھوگی تییار رہنا اور ہاں اگر بھاگنے کی کوشش کی تو یاد رکھنا مجرم کو پناہ دینے والا بھی مجرم ہی ہوتا ہے تمھارے گھروالوں نے تمہاری جارینتی لی ہے اگر تم بھاگی تو تم سوچ نہیں سکتے میں انکا کیا حال کرونگا . بابا : یہ کہی نہیں جائیگا صاحب آپ بی-فیکار ہوکے جائے . . . . میں نے کہا نا میں اسکی جیممیداری لیتا ہوں . خان : ٹھیک ہے فر میں چلتا ہوں . میں : خان صاحب یہ بیگ بھی لے جائیے یہ اب میرے بھی کام کا نہیں ہے . خان : ( حیران ہوتے ہوئے ) لگتا ہے شیرا سچ میں مر گیا . اسکے بَعْد خان اور اسکے ساتھ جو پولیکیوالی آئے تھے وہ سب میرا بیگ لیکر چلے گئے اور ہم سب ان کو جاتا ہوا دیکھتے رہے . فر بابا نے مجھے اپنے گلے سے لگا لیا اور فضا اور نازی مجھے دیکھ کر مسکرا بھی رہی تھی اور ساتھ میں روو بھی رہی تھی میں بھی ان کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا . بابا : بیٹا ہمیں معاف کرنا ہم نے تم سے تمہاری اصلیت چھپائی . میں : بابا کیسی بات کر رہے ہیں معافی مانگ کر شرمندہ نا کرے مجھے آپ نے جو میرے لیے کیا اسکا احسان میں مرتے دم تک نہیں چکا سکتا . بابا : ( میرے سر پر ہاتھ رکھا کر مجھے دعا دیتے ہوئے ) بیٹا تم ہمیشہ خوش رہو اور ابد رہو . فر بابا اپنے کمرے میں چلے گئے اور میں فضا اور نازی كے پاس ہی بیٹھ گیا . وہ دونوں مجھے لگاتار دیکھ رہی تھی لیکن کچھ بول نہیں رہی تھی . میں : ایسی کیا دیکھ رہی ہو تم دونوں . فضا : کچھ نہیں آج اک پل كے لیے لگا جیسے ہم نے تم کو کھو دیا ( فر سے روٹ ہوئے ) میں : ارے تم رونے کیوں لگی ( فضا كے دونوں ہاتھ پاکدتی ہوئے اور نازی کی طرف دیکھ کر ) نازی پانی لے کے آؤ نازی : ابھی لائی . نازی كے جاتے ہی فضا نے مجھے گلے سے لگا لیا اور فر سے رونے لگی میں : ارے کیا ہوا رونے کیوں لگ گئی . فضا : جان تم نہیں جانتے میں بہت ڈر گئی تھی . میں : اس میں درنی کی کیا بات ہے میں ہوں نا تمھارے پاس کہی گیا تو نہیں اور فکر نا کرو اب میں کہی جاؤنگا بھی نہیں اب سڑی زندگی میں نییر ہی رہوں گا . اتنے میں نازی پانی لے آئی اور ہم دونوں جلدی سے الگ ہوکے بیٹھ گئے . اسکے بَعْد کوئی خاص بیٹ نہیں ہوئی رات کو ہم نے خاموشی سے كھانا کھایا اور سونے چلے گئے . نازی کی نیند کی داوائی کی وجہ سے طبیعت خراب ہو گئی تھی اسلئے فضا نے دوبارہ اسکو وہ گولی نہیں ڈی اور اس رات ہم سب سکون سے سو گئے . بابا نے مجھے نازی كے کمرے میں نہیں سونے جانے دیا اور اپنے پاس ہی سلایا . اگلے دن صبح جب میں اٹھا تو سب جاگ رہے تھے نازی اور فضا راسویی میں تھی اور بابا باہر سیر کر رہے تھے . میں جب اُٹھ کر باہر آیا تو نازی اور فضا ناشتہ بنا رہی تھی اور ساتھ ہی فضا نازی كے پاس کھڑی اسکو کچھ سمجھا رہی تھی . میں : ارے آج اتنی جلدی ناشتہ کیسے بنا لیا . فضا : ارے بھول گئے تم نے آج شہر جانا ہے نا اسلئے تمھارے لیے بنایا ہے جاؤ تم جلدی سے ناحاکار تییار ہو جاؤ فر میں ناشتہ لگا دیتی ہوں . میں : لیکن شہر جانا کیوں ہے میں نہیں جاؤنگا شہر مجھے کھیت میں کام ہے . فضا : کھیت کی تم فکر نا کرو اک دن نہیں جاؤگے تو آسمان نہیں ٹوٹ جائیگا پہلے تم شہر جاؤ اور خان كے ساتھ جاکے اپنا علاج کرواؤ انکا صبح آدمی آیا تھا وہ کہہ رہا تھا کی خان صاحب 8 بجے تم کو لینے آئینگے . میں : مجھے اسے کوئی واسطہ نہیں رکھنا میں نہیں جاؤنگا فضا : بچو جیسے ضد نا کرو نییر میں بھی تو ہوں تمھارے ساتھ . میں : تم بھی . . . کیا مطلب فضا : ارے میں بھی تمھارے ساتھ ہی چالونجی واپسی میں ہم دونوں ساتھ ہی آئینگے نازی : ( بیچ میں بولتے ہوئے ) دیکھو نا نییر میں منع کر رہی ہوں بھابی کو لیکن یہ سن ہی نہیں رہی اِس حالت میں انکا شہر جانا ٹھیک ہے کیا میں نے تو کہا ہے تمھارے ساتھ میں اکیلی ہی چلی جائوں گی لیکن نہیں میری بات ہی نہیں سن رہی . میں : تم دونوں ہی خاموش ہو جاؤ اور اپنا کام کرو کوئی شہر نہیں جائیگا نا تم نا میں سمجھی . ابھی ہم بات ہی کر رہے تھے کی اک جیپ ہماری دروازے كے سامنے آکے رک گئی . جس میں سے خان باہر نکلا اور باہر کھڑا ہوکے دروازہ خات-خاتانی لگا . میں : کون ہے ( دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے ) خان : جلدی چلو لیٹ ہو رہا ہے . میں : ( راسویی سے باہر نکلتے ہوئے ) جی صاحب آپ خان : ارے تم ابھی تک تییار نہیں ہوئے میں : مجھے کہی نہیں جانا میں یھی رہوں گا خان : ارے تم کو اریسٹ نہیں کر رہا ہوں یار تم کو بس ڈاکٹر کو دکھانا ہے اور شام تک واپس گھر چھوڑ جاؤنگا تمھارے اور کچھ نہیں . ڈرو مت کچھ کرنا ہوتا تو کل ہی تمہارا نمبر لگ جانا تھا . میں : لیکن خان صاحب میں اک دم ٹھیک ہوں فر آپ مجھے شہر کیوں لے جا رہے ہیں اور ویسے بھی بنا یادداشت كے میں آپ کے کس کام کا ہوں بتاؤ . خان : ارے عجیب پاگل آدمی ہے یار یہ ( نازی کی طرف دیکھتے ہوئے ) اب آپ ہی سامجحاییی اسکو میں باہر ویٹ کر رہا ہوں 10 منٹ میں تییار ہوکے باہر آ جاؤ . نازی : ہا نییر یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں زرا یہ بھی تو سوچو تم ٹھیک ہو جاؤگے علاج کروانے سے فر تم کو جو جابحراحات سے چکر آتے ہیں وہ بھی آنا بند ہو جائینگے . میں : لیکن نازی اب بھی تو میں ٹھیک ہی ہوں نا نازی : بحث نا کرو جیسا کہتی ہوں چپ چاپ کرو اور فر تم ڈر کیوں رہے ہو میں بھی تو چل رہی ہوں تمھارے ساتھ . خان : ہاں یہ ٹھیک رہیگا آپ بھی ساتھ ہی چلو . نازی : ( خوش ہوتے ہوئے ) میں ابھی تیار ہوکے آتی ہوں چلو نییر تم بھی جاؤ اور جاکے تیار ہو جاؤ . اتنے میں بابا آ گئے سیر کرکے جن کو خان نے ادب سے سلام کیا اور فر بابا کو میرے شہر نا جانے كے بڑے میں بتایا تو بابا كے اصرار پر میں شہر جانے كے لیے راضی ہو گیا اور فر میں اور نازی ، انسپیکٹر خان كے ساتھ اسکی جیپ میں بیٹھ کر شہر كے لیے روانہ ہو گیا . فضا دروازے پر کھڑی مجھے دیکھتی رہی ہو اور مسکرا کر ہاتھ حیلاکار الوداع کہتی رہی . جیب میں بیٹھ طے ہی خان كے سوال-جاواب شروع ہو گئے . خان : یار شیرا کل تمھارے پاس اتنا اچھا موقع تھا تم بھاگے کیوں نہیں . نازی : ( بیچ میں بولتے ہوئے ) انکا نام نییر ہے شیرا نہیں بہتر ھوگا آپ بھی ان کو نییر کہہ کر ہی بلائے . خان : جی معاف کیجیے . . . ہاں تو نییر صاحب رات کو آپ بحاجیی کیوں نہیں . میں : صاحب میں میرے پریوار کو چھوڑ کر کیسے جا سکتا تھا . خان : پریوار . . . . ھاھاھاھاھاھاھاھ اچھا ہے . . . ویسی تم میرے پہلے امتحان میں پاس ہو گئے ہو اب میں تم پر بھروسہ کر سکتا ہوں . میں : جی کونسا امتحان خان : کل میرے آدمیو نے پورے گاv کو گھیر رکھا تھا اگر تم بھاگنے کی کوشش بھی کرتے تو وہ لوگ تم کو وہی بھوں دیتے لیکن تم نہیں بحاجیی مجھے اچھا لگا . میں : جب بابا نے کہا تھا کی میں نہیں جاؤنگا تو کیسے جاتا . خان : ہحممم اب تو بس تم اک بار ٹھیک ہو جاؤ تو میں تم پر اپنا داv کھیل سکتا ہوں . میں : کونسا داv خان : یار تم جلدی میں بہت رہتے ہو صبار کرو دھیرے دھیرے سب پتہ چل جائیگا . میں : اب ہم کہا جا رہے ہیں ؟ خان : پہلے تمہارا لائی دیتیکتور ٹیسٹ ھوگا اسکے بَعْد تمھارے چیک-وپ كے لیے جائینگے . میں : ٹھیک ہے . اسکے بَعْد کوئی خاص بات نہیں ہوئی پیچھے میں اور نازی اک دوسرے كے ساتھ بیٹھے تھے نازی پورے رستے میرے کاندھے پر اپنا سر رکھا کر بیٹھی رہی اور میرا ہاتھ پکڑ کر رکھا . فر ہم کو خان اک عجیب سی جگہ لے آیا جو باہر سے تو کسی دفتر کی طرح لگ رہا تھا جہاں بہت سے ملازم کام کر رہے تھے . فر ہم چلتے ہوئے اک دروازے كے پاس پوحونچ گئے جسکے سامنے کچھ نمبر لکھے تھے خان نے کچھ نمبر دبائے اور گاتے خود ہی کھل گیا . اندر عجیب سا ماحول تھا وہاں بہت سے لوگ بندوق تعنے کھڑے تھے میں اور نازی سڑی جگہ کو دیکھتے ہوئے خان كے پیچحی-پیچحی جا رہے تھے . تبھی اک پولیس والا داودتا ہوا آیا اور مجھ پر حملہ کر دیا خان نے جلدی سے نازی کو اپنی طرف کھینچ لیا جو میرا ہاتھ پکڑے چل رہی تھی . مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کی یہ کیا ہوا اس پولیکیوالی نے لاتی اور موکی مجھ پر برسانے شروع کر دیئے میں کچھ دیر زمین پر لیتا رہا اور مار کھاتا رہا فر جانے مجھے کیا ہوا میں نے اس پولیکیوالی کا پیر پکڑ لیا اور جور سے گھوما دیا وہ ہوا میں پلٹ گیا اور دھڑاام سے زمین پر گیرا فر میں نے اپنی دونوں تانجیی ہوا میں اٹھائی اور جھٹکے سے دونوں پیڑو پر کھڑا ہو گیا اتنے میں 3 پولیس والے میری اور لاپکی جس میں سے اک نے مجھے پیچھے سے پکڑ لیا باقی جو 2 سامنے سے آئے ان کو میں نے گلے سے پکڑ رکھا تھا میں نے سامنے والے دونوں آدمیو کی دیوار کی طرف دھکہ دیا اور پیچھے والے كے موح پر جور سے اپنا سر مارا جسے وہ اپنا ناک پکڑ کر وہی بیٹھ گیا تبھی اک اور پولیکیوالا بھاگتا ہوا آیا جسکے ہاتھ میں لوہے کا سریا تھا جیسے ہی وہ مجھے ساریی سے مرنے لگا میں نے سریا پکڑا لیا اور گھماکار اسکے کاندھے پر وہی سریا جور سے مارا اتنے میں اک پولیکیوالا جو زمین پر گرا پڑا تھا وہ اٹھا اور اس نے اک کانچ كے برتن جیسا کچھ اٹھا لیا اور پیچھے سے میرے سر میں مارا . میں فوراً اس اور پلٹ گیا اور غصے سے اسکو دیکھنے لگا تبھی مجھے عیسی محسوس ہوا جیسے میرے سر سے خون نکل رہا ہے میں نے اپنے سر پر ہاتھ لگایا اور اپنے خون کو انجالیو پر لجاکار اسکا مکا بنا لیا اور جور سے اس آدمی كے موح پر مارا فر اسکو کاندھے پر اُٹھا کر الماری پر فینک دیا جسے الماری كے دونوں دروازے اندر کو دہنس گئے فر میں نے پاس پڑی اک چیئر اٹھائی اور سامنے گرے ہوئے دونوں پولیس والو کو کھڑا کرکے ان کے سر وہ چیئر ماری جسے چیئر ٹوٹ گئی اور میرے ہاتھ میں اسکا اک ٹوٹا ہوا ڈنڈا سا رہ گیا اب میں نے چاروں طرف دیکھا لیکن مجھ پر حملہ کرنے والے تمام لوگ زمین پر گرے پڑے تھے اور دَرْد سے کرحا رہے تھے میں ہاتھ میں کرسی کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ پکڑے اور آدمیو كے آنے کا انتظار کرنے لگا کی اب کون آئیگا لیکن تبھی پُورا کمرا تالیو کی جاد-جاداحات سے گنج اٹھا میں نے پالاتکار دیکھا تو یہ خان تھا جو مجھے دیکھ کر خوش ہو رہا تھا اور تالیان بجا رہا تھا . خان : واہہ کیا بات ہے لوہا آج بھی گرم ہے . میں : خان صاحب یہ کون لوگ ہے جنہوں نے مجھ پر حملہ کیا . خان : یہ میرے لوگ ہے ان کو میں نے ہی تم پر حملہ کرنے کو کہا تھا . میں : لیکن کیوں ( غصے میں ) خان : ( اپنے ناخن دیکھتے ہوئے ) کچھ نہیں میں نے شیرا کی طاقت كے بڑے میں سنا تھا دیکھنا چاہتا تھا بس اسلئے . ( مسکورکار ) میں : ( غصے سے خان کو دیکھتے ہوئے ) ہہووہہ یہ کوئی طریقہ ہے کسی کی طاقت آزمانے کا . نازی : ( خان سے اپنا ہاتھ چھڑاکر چلاتے ہوئے ) تم اک دم پاگل ہو کل بابا نے کہا تھا نا کی یہ پہلے جیسے نہیں ہے اب بَدَل گئے ہیں فر بھی تم نے ان پر حملہ کروایا دیکھو سر سے خون آ رہا ان کے ( اپنے دوپاتتی سے میرا سر کا خون صاف کرتے ہوئے ) ہمیں کوئی علاج نہیں کروانا نییر چلو یہاں سے یہ سب كے سب لوگ پاگل ہے . خان : دیکھیے معافی چاہتا ہوں لیکن اسکو آزمانا ضروری تھا اب عیسی نہیں ھوگا میں وعدہ کرتا ہوں چلیے آئی میرے ساتھ . اتنا کہہ کر وہ اک کمرے میں چلا گیا اور ہاتھ سے ہم کو بھی پیچھے آنے کا اشارہ کیا ہم بنا کچھ بولے اسکے پیچھے چلے گئے نازی نے اپنا دوپٹہ میرے سر پر ہی پکڑ کر رکھ لیا اور دوسرے ہاتھ سے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور ہم دونوں خان كے پیچھے چلے گئے جہاں بادی-بادی مشین پڑی تھی . تبھی اک عورت مسکراتے ہوئے میرے پاس آئی جس نے سفید کوٹ پہنا تھا اور دیکھنے میں ڈاکٹر جیسی لگ رہا تھی . ڈاکٹر : ہیلو مائی سیلف ڈاکٹر ریحانہ قریشی . ( اپنا ہاتھ آگے بڑھتے ہوئے ) میں : جی کیا ڈاکٹر : معافی چاہتی ہوں میں بھول گئی تھی آپکو انگریزی نہیں آتی میرا نام ڈاکٹر ریحانہ ہے اور آپ . میں : ( ہاتھ ملاتے ہوئے ) نییر الی . ڈاکٹر : ( کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) بیٹھیے جناب . میں : ( بنا کچھ بولے کرسی پر بیٹھ طے ہوئے ) آپ میرا علاج کریں گی ؟ ڈاکٹر : ( میرا چہرہ پکڑ کر میرے سر کا زخم دیکھتے ہوئے ) ہحممم ہاں جی میں ہی کروں گی لیکن پہلے آپ کے زخم کا علاج کر دوں خون نکل رہا ہے ( مسکراتے ہوئے ) فر ڈاکٹر ریحانہ نے میرے زخم پر پٹی بندھی اور میں بس بیٹھا اسکو دیکھتا رہا وہ مجھے دیکھ کر لگاتار مسکرا رہی تھی اور میں اسکی بادی-بادی نیلی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا اک عجیب سی قاشیش تھی اسکے چہرے میں میں بس اسکے چہرے کو ہی لگا تر دیکھے جا رہا تھا . فر اس نے میری باجو پاکادی اور اک انجیکشن سا لگا دیا جو مجھے لگا شاید میرے سر كے دَرْد كے لیے ھوگا لیکن انجیکشن كے لگاتے ہی مجھ پر اک عجیب سا نشہ چاہنے لگا اور میری آنکھوں كے آگے اندھیرا چاہنے لگا مجھے بہت تیز نیند آنے لگی جیسے میں کئی راتوں سے سویا ہی نہیں ہوں . اسکے بَعْد میری آنكھوں كے سامنے اندھیرا چاہ گئے اور مجھے جب ہوش آیا تو میں اک بیڈ پر لیتا ہوا تھا میرے پاس میرا ہاتھ پکڑ کر نازی بیٹھی ہوئی تھی اور ریحانہ اور خان میرے سامنے کھڑے مسکرا رہے تھے . میں : میں یہاں کیسے آیا میں تو کرسی پر بیٹھا تھا نا . خان : معافی نییر جی معافی آپ سچ کہہ رہے تھے لائی دیتیکتور ٹیسٹ كے بَعْد ہم کو بھروسہ ہو گیا جناب ( ہاتھ جودکار ) لیکن کیا کرے بھائی ہماری بھی ڈیوٹی ہے شاق کرنے کی بیماری سی پڑ گئی ہے اچھا تم اب ریسٹ کرو کچھ چاہئے ہو تو ڈاکٹر ریحانہ کو بول دینا ٹھیک ہے . فر خان تیز قدموں كے ساتھ کمرے سے باہر نکل گیا اور ہم سب اسکو دیکھتے رہے . فر میں نے بستر سے کھڑے ہونے کی کوشش کی لیکن میرے ہاتھ پیر جواب دے رہے تھے جیسے اُن میں کوئی جان ہی نا ہو میں چاہ کر بھی اٹھ نہیں پا رہا تھا اسلئے میں نے سب سے اک كے بعد اک سوال پوچحنی شروع کر دیئے . میں : لائی دیتیکتور ٹیسٹ ہو بھی گئے اور مجھے پتہ بھی نہیں چلا . اور اب میں کہا ہوں اور یہاں آیا کیسے ؟ ریحانہ : آپکو ہماری لوگ یہاں لائے ہیں آپ گھابراییی نہیں آپ اک دم میحفوس ہے ( مسکراتے ہوئے ) میں : کیا اب میں گھر جا سکتا ہوں ( بستر سے اٹھ طے ہوئے ) ریحانہ : ارے لیتے رہیے ابھی دوا کا اثر ہے تو کچھ دیر باڈی میں کمزوری رہیگی ہو سکتا ہے چکر آئے لیکن تھوڑی دیر میں ٹھیک ہو جاؤگے تو آپ گھر چلے جانا . میں : ( نازی کا ہاتھ پاکادتی ہوئے ) تم ٹھیک ہو نازی : ( مسکرا کر ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) ہحممم میں : ہم کتنی دیر سے یہاں ہے نازی : صبح سے میں : اب وقت کیا ہوا ہے نازی : شام ہونے والی ہے میں : کیا میں اتنی دیر سویا رہا . ریحانہ : باتیں بَعْد میں کر لینا پہلے کچھ کھا لو ( مسکراتے ہوئے ) بتاؤ کیا کھاؤگے میں : ( نازی کی طرف دیکھتے ہوئے ) تم نے كھانا کھایا نازی : نہیں تمھارے ساتھ خاونجی . ریحانہ : آپ باتیں کرو میں آپ کے لیے کچھ کھانے کو بھیجتی ہوں فر ریحانہ چلی گئی اور میں اسکو جاتے ہوئے دیکھتا تھا تبھی نازی کو جانے کیا ہوا وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی اور بیڈ پر میرے اوپر آکے لیٹ گئی اور مجھے گلے سے لگا لیا . میں : نازی کیا ہوا نازی : ( نا میں سر ہلاتے ہوئے ) کچھ نہیں بس تم کو گلے لگانے کا دِل کر رہا تھا سو لگا لیا . میں : وہ تو ٹھیک ہے لیکن وہ ڈوکتورنی آ گئی تو . نازی : ممممم بس تھوڑی دیر فر سہی ہوکے بیٹھ جائوں گی . میں : نازی اک پپی دو نا نازی : ( میری چھاتی پر تھپڑ مرتے ہوئے ) کھڑا ہوا نہیں جا رہا فر بھی سودحارتی نہیں بدمعاش . میں : ( ہیسٹ ہوئے ) لوح یار اب تم سے نہیں تو کیا ڈوکتورنی سے پپی مانگو . نازی : ( میرا گلا دباتے ہوئے ) مانگ کر تو دکھاؤ کسی اور سے پپی . . . . تمہارا گلا نہیں دبا دونگی بڑے آئے ڈاکٹر سے پپی مانگنے والے ( مسکراتے ہوئے ) میں : تو فر پپی دو نا نازی : ممممم ٹھیک ہے لیکن صرف اک . میں : ہاں ٹھیک ہے اک ہی دے دو باقی گھر جاکے لے لونگا . ( مسکراتے ہوئے ) نازی : تم سدھر نہیں سکتے نا ( ہیسٹ ہوئے ) میں : ( نا میں سر ہلاتے ہوئے اور مسکراتے ہوئے ) ووہہوو تبھی گاتے خات-خاتانی کی آواز آئی تو نازی جلدی سے اپنی جگہ پر بیٹھ گئی . ریحانہ اک نرس كے ساتھ اندر آئی نرس كے ہاتھ میں اک بَدی سی تیرے تھی جس میں شاید وہ ہماری لیے كھانا لائی تھی . نازی نے کھڑی ہوکے نرس سے پلیٹ پکڑ لی اور فر نرس اور ریحانہ نے مل کر مجھے بستر پر بٹھا دیا فر اک کتوری میں ریحانہ مجھے خیچادی کھلانے لگی جو شاید نازی کو اچھا نہیں لگ رہا تھا اسلئے وہ عجیب سے موح بناکی کبھی ریحانہ کو کبھی مجھے گھور-گھور كے دیکھ رہی تھی . نازی : ڈوکتورنی جی لےیی میں کھلا دیتی ہوں آپ رہنے دیجیئے . ڈاکٹر : ( مسکراتے ہوئے ) ٹھیک ہے یہ لو . ( مجھے دیکھتے ہوئے ) نییر آپ آرام سے كھانا کھا لو اسکے بَعْد آپ کے کچھ ٹیسٹ کرنے ہے نرس یھی ہے جب آپ كھانا کھا لو تو بتا دینا فر میں آپ کے کچھ ٹیسٹ کروں گی ٹھیک ہے . میں : ( کھاتے ہوئے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) ہحممم اسکے بَعْد میں نے اور نازی نے مل کر كھانا کھایا اب میں کافی بہتر محسوس کر رہا تھا کمزوری بھی محسوس نہیں ہو رہی تھی میں اب بنا کوئی سہارے كے اپنے پیڑو پر کھڑا ہوا اور نرس ہم کو اک ٹھنڈے سے کمرے میں لے گئی جہاں اک بَدی سی مشین تھی اور اسکے پاس ڈاکٹر ریحانہ فائلز ہاتھ میں لیے ہی کھڑی تھی . اس نے اک نظر مجھے مسکرا کر دیکھا اور فر مشین پر لیتنی کا اشارہ کیا میں چپ چاپ اس مشین پر لیٹ گیا . ڈاکٹر : اسكندر کوئی لوہے کی چیج تو نہیں تمھارے پس میرا مطلب ہے کوئی گھڑی چین یا انگوٹھی پہنی ہے تم نے اِس وقت . میں : ( نا میں سر ہلاتے ہوئے ) جی نہیں ڈاکٹر : اچھا چلو اب اپنی آنکھیں بند کرکے کچھ دیر كے لیے لیٹ جاؤ فر میں آرام سے وہاں لیتا رہا اور اک روشنی میرے سر سے لے کے پیر تک بار بار گزرتی رہی کچھ ہی پل میں مجھے اک تیچہ کی آواز آئی اور اسکے بَعْد اگلی آواز ریحانہ کی تھی جو میرے کانو سے تاکرایی .
  11. بات آج سے کچھ سال پرانی ہے . رات کا وقت تھا اور پاحادی رستہ تھا باریش بہت تیز ہو رہی تھی . سنسان سڑک پر میں تیز رفتار سے اپنی کار بھگا رہا تھا . پولیس میرا پیچھا کر رہی تھی اور میری گاڑی پر جولیو کی بوچھاڑ ہو رہی تھی میری پیٹھ پر اور کاندھے پر بھی 2 گولی لگی ہوئی تھی لیکن میں فر بھی بہت تیز رفتار سے کار چلا رہا تھا کی اچانک کسی پولیس والے کی گولی میری کار كے ٹائر پر لگی اور میری گاڑی جو کی تیز رفتار میں تھی جاکے اک پاحادی سے ڈھلان کی طرف نیچے بڑھنے لگی اور اک پیڑ كے سہارے میری کار ہوا میں لٹک گئی اب میں اور میری کار اک گہری کھائی اور اک کمزور سے پیڑ پر لٹک رہے تھے میں نے بہت کوشش کرکے کار کو پیچھے کی طرف رورس کیا اور گاڑی کو کھائی میں جانے سے بچہ لیا لیکن اسے پہلے کی میں کار سے باہر نکلتا پولیس کی جیپ کھائی كے پاس آکے رک گئی اور تبھی میری آنکھوں كے سامنے بھی اندھیرا چاہنے لگا اسکے کچھ پل بَعْد جب مجھے ہوش آیا تو مجھے اپنے سینے میں تیز دَرْد ہو رہا تھا اور میری پوری قمیض خون سے بھیگ گئی تھی شاید ان پولیکیوالو نے مجھے کار سے وتارکار گولی مار ڈی تھی اور پِھر مجھے واپس کار میں بٹھا کر ڈھلان کی طرف کار کو دھکہ دے رہے تھے . میں اس وقت 1 / 2 بے ہوش تھا اور 1 / 2 ہوش میں تھا پِھر بھی خود کو بچانے کی پوری کوشش کر رہے تھا . میں نے کار کو سنبھالنے کی بہت کوشش کی لیکن سنبھال نہیں پا رہا تھا بریک پر اپنے پاؤ کا پُورا دبائو دینے كے باوجود بھی گاڑی گھسٹ کر پاحادی سے نیچے جا گیری اور دھڑااام کی آواز كے ساتھ پانی میں گر گئی اور کار کا اسٹایرینج میرے سر میں لگا اور بیہوشی نے مجھے اپنی آغوش میں پوری طرح لے لیا اسکے بَعْد کیا ہوا کیا نہیں مجھے کچھ نہیں یاد . میں نہیں جانتا میں کب تک اس پانی میں رہا اور پانی کا تیز باحااv مجھے اور میری گاڑی کو کہا تک باحاکی لے گیا . جب آنکھ کھلی تو خود کو اک چھوٹے سے کمرے میں پایا لیکن جب میں نے چارپائی سے اٹھانے کی کوشش کی تو میرے حاتح-پایر میرا ساتھ نہیں دے رہے تھے اور زور لگانے پر پورے شریر میں دَرْد کی اک لہر دودھ گئی . اتنا میں اچانک اک بڈھا آدمی میرے پاس جلدی سے آیا اور میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا کر مجھے لیتنی کا اشارہ کیا . بابا : بیٹا تم کون ہو کیا نام ہے تمہارا ؟ میں : ( مجھے کچھ بھی یاد نہیں تھا کی میں کون ہوں بہت یاد کرنے پر بھی کچھ یاد نہیں آ رہا تھا کی میری پیچھالی زندگی کیا تھی اور میں کون ہوں . اسلئے بس اس بدھی آدمی کو اور اِس جگہ کو دیکھ رہا تھا کی اچانک اک آواز میرے کانو سے تاکرایی ) بابا : کیا ہوا بیٹا بتاؤ نا کون ہو تم کہا سے آئے ہو ؟ میں : مجھے کچھ یاد نہیں ہے کی میں کون ہوں . . . . . ( اپنے سر پر ہاتھ رکھا کر ) یہ جگہ کونسی ہے بابا : بیٹا ہم نے تمہیں پانی سے نکالا ہے میری بیٹی اکثر ندی کنارے جاتی ہے وہاں اسکو کنارے پر پڑے تم ملے . جب تم ان کو ملے تو بہت بری طرح زخمی اور بے ہوش تھے وہ اور میری بہو تمہیں یہاں لے آئی . میں : اچھا ! ! ! ! ! ! بابا میں یہاں کتنے دن سے ہوں ؟ بابا : بیٹا تم کو یہاں 3 مہینے سے جادا ہونے والے ہیں تم اتنے دن یہاں بے ہوش پڑے تھے . جتنا ہو سکا میری بیٹی اور بہو نے تمہارا علاج کیا ہم غریبوں سے جتنا ہو سکا ہم نے تمہاری خدمت کی . میں : عیسی مت کہیے بابا آپ نے جو میرے لیے کیا آپ سب کا بوحوت-بوحوت شکریہ . لیکن مجھے کچھ بھی یاد کیوں نہیں ہے . بابا : بیٹا تمھارے سر میں بہت گہری چوٹ تھی جس کو بھرنے میں بہت وقت لگ گیا ممکن ہے اس گھائو کی وجہ سے تمہاری یادداشت چلی گئی ہو . اتنے میں اک لڑکی کی آواز سنائی ڈی . . . . بابا اکیلی-اکیلی قصے بات کر رہے ہو . . . . ساتہیا گئے ہو کیا اور کمرے میں آ گئی . ( میری نظر اس پر پڑی تو میں نے سر سے پیر تک اسکو دیکھا اور اسکا پُورا جاییزا لیا ) دکھانے میں پتلی سی لیکن لمبی ، کالے بال ، بادی-بادی آنکھیں ، گورا رنگ ، کالے رنگ کا سالوار قمیض جسپر چھوتی-چھوتی پھول بنے تھے اور کاندھے سے کمر پر بندھا ہوا دوپٹہ چال میں عزیب سا بی-دحانجاپان . بابا : - دیکھ بیٹی ان کو ہوش آ گیا ( خوش ہوتے ہوئے ) نازی : - ارے ! ! ! آپکو ہوش آ گیا اب کیسے ہو . . . کیا نام ہے آپکا . . . . کہا سے آئے ہو آپ ( اک ساتھ کئی سوال ) بابا : بیٹی ذرا سانس تو لے اتنے سارے سوال اک ساتھ پُوچھ لیے پہلے پوری بات تو سنا کر . نازی : - ( موح بنا کر ) اچھا بولو کیا ہے ؟ بابا : - بیٹی ان کو ہوش تو آ گیا ہے لیکن ان کو یاد کچھ بھی نہیں ہے یہ سب اپنا پچھلا بھول چکے ہیں . نازی : - ( اپنے موح پر ہاتھ رکھتے ہوئے ) ہائے ! اب ان کے گھروالوں کو کیسے دحوندحینجی ؟ اتنے میں بابا میری طرف دیکھتے ہوئے . بابا : - بیٹا تم ابھی ٹھیک نہیں ہو اور بہت کمجور ہو اسلئے آرام کرو یہ میری بیٹی ہے نازی یہ تمہاری اچھے سے دیخ-بحاال کریگی اور تم فکر نا کرو سب ٹھیک ہو جائیگا . ہم سب تمھارے لیے دعا کرینگے . ( اور دونوں باپ بیٹی کمرے سے باہر چلے گئے ) یہ بات میرے لیے کسی جھٹکے سے کم نہیں تھی کی نا تو مجھے یہ پتہ تھا کی میں کون ہوں اور نہیں کچھ مجھے میرا پچھلا کچھ یاد تھا اوپر سے میں 3 مہینے سے یہاں پڑا ہوا تھا . اک ہی سوال میرے دماغ میں بار بار آ رہا تھا کی میں کون ہوں . . . . آخر کون ہوں میں اچانک میرے سر میں دَرْد ہونے لگا اسلئے میں نے اپنی پرانی زندگی كے بڑے میں جادا نہیں سوچا اور اپنے زخموں کو دیکھنے لگا میری باڈی کی کافی جگہ پر پٹی بندھی ہوئی تھی . میں اِس پریوار كے بڑے میں سوچ رہا تھا کی کتنے نیق لوگ ہے جنہوں نے یہ جانتے ہوئے کی میں اک اجنبی ہوں نا صرف مجھے بچایا بلکہ اتنے مہینے تک مجھے سنبھالا بھی اور میری دیخ-بحاال بھی کی . میں اپنی سوچو میں ہی گم تھا کی اچانک مجھے کسی كے قدامو کی آواز سنائی ڈی . میں نے سر اٹھا کے دیکھا تو اک لڑکی کمرے میں آتی ہوئی نظر آئی یہ کوئی دوسری لڑکی تھی بابا كے ساتھ جو آئی تھی وہ نہیں تھی وہ شاید بحااجکار آئی تھی اسلئے اسے سانس چڑاہا ہوا تھا . . . یہ فضا تھی جو یہ سن کر بھاگتی ہوئی آئی تھی کی مجھے ہوش آ گیا ہے . میں نے نظر بڑھکے اسے دیکھا . . . . دکھانے میں نا جادا لمبی نا جادا چھوٹی ، رنگ گورا ، نشیلی سی آنکھیں ، پیلے رنگ کا سالوار قمیض اور سر پر سالییکی سے دوپٹہ اوڑھی ہوئے لیکن وہ دوپٹہ بھی اسکی چھاتیو کی بناوٹ کو چھپانے میں ناکام تھا ) میں ابھی اسکے روپ رنگ ہی غور سے دیکھ رہا تھا کی اچانک اک آواز نے مجھے چونکا دیا . انٹرودکشن ? نییر ( شیرا ) : - اجی- 26 سال ، ہائیٹ - 6 . 1 " ( میں ہیرو ) حَیدَر الی ( بابا ) : - ایج 65 سال ، دبلا اور پتلہ ( بڈھا سائڈ رول میں ہی رہیگا ) ناز ( نازی ) : - اجی- 22 سال ، حییگھت- 5 . 6 " فیجوری- 34-28-36 ( بابا کی بیٹی ) قاسم : - اجی- 31 سال ، حییگھت- 5 . 8 " ( بابا کا بیٹا اک شرابی اور لوندیا بعض جو اب ان کے ساتھ نہیں رہتا ) فضا : - اجی-29 سال ، حییگھت- 5 . 2 " فیجوری- 36-30-38 ( قاسم کی بِیوِی ) فضا : اب کیسے ہو ؟ میں : ٹھیک ہوں . . . . آپ نے جو میرے لیے کیا اسکا بوحوت-بوحوت شکریہ . فضا : کیسی بات کر رہے ہو . . . یہ تو میرا فرض تھا . . . لیکن مجھے بابا نے بتایا کی آپکو کچھ بھی یاد نہیں ؟ میں : ( نہیں میں گردن ہلاتے ہوئے ) جی نہیں . فضا : کوئی بات نہیں آپ فکر نا کرو آپ جلد ہی اچھے ہو جاؤگے میں : آپکا نام کیا ہے ؟ فضا : ( اپنا دوپٹہ سر پر ٹھیک کرتے ہوئے ) میرا نام فضا ہے میں بابا کی بہو ہوں میں : اچھا . . . . . آپ کے پتی کہا ہے ؟ فضا : وہ تو شہر میں اک مل میں کام کرتے ہیں اسلئے سال میں 1-2 باڑ ہی آ پتے ہیں . ( فضا نے مجھ سے جھوٹ بولا ) میں : کیا میں باہر جا سکتا ہوں ؟ فضا : ہلا تو جا نہیں رہا باہر جاؤگے کوئی ضرورت نہیں چُپ کرکے یھی پڑے رہو اور فر جاؤگے بھی کہا ابھی تو آپ نے کہا کی کچھ بھی یاد نہیں ہے کچھ دن آرام کرو اِس بیچ کیا پتہ آپکو کچھ یاد ہی آ جائے تو ہم آپ کے گھروالوں کو آپکی خبر پوحونچا سکے . میں : ٹھیک ہے . فضا : بھوک لگی ہو تو کچھ کھانے کو لاؤں ؟ میں : نہیں میں ٹھیک ہوں . فضا : ٹھیک ہے فر آپ آرام کرو کچھ چاہئیے ہو تو مجھے آواز لگا لینا . اِس طرح وہ کمرے سے باہر چلی گئی اور میں پیچھے سے اسکو دیکھتا رہا . میں ہلاکی چل نہیں سکتا تھا لیکن فر بھی میں نے ہمت کرکے اٹھانے کی کوشش کی اور بیڈ پر بیٹھ گیا اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا اور ٹھنڈی ہوا کا مزہ لینے لگا . باہر کی حَسِین وڈیا اُونچے پہاڑ اور ان پر سفید چادر کی طرح فایلی ہوئی برف اور ان پہاڑوں كے بیچ ڈوبتہ ہوا سورج کسی کا بھی دِل مہ لینے كے لیے کافی تھے میری آنکھیں بس اسی حَسِین منظر کو من ہی من نہار رہی تھی . میں کافی دیر باہر قدرت کی سوندارتا کو دیکھتا رہا اور فر دھیرے دھیرے سورج کو پہاڑوں نے اپنی آغوش میں لے لیا اور نیلے صاف آسمان میں چھوتی-چھوتی موتیوں جیسے تارے تیم-تیمانی لگے . میں یہ تو نہیں جانتا کی میں کون ہوں اور کہا سے آیا ہوں لیکن دِل میں ابھی بھی یھی آس تھی کی کیسے بھی مجھے میری زینجادی کا کچھ تو یاد آئے تاکہ میں بھی میرے پریوار میرے اپنوں كے پاس جا سکو . جانے انکا میرا بنا کیا حال ہو رہا ھوگا . میں اپنی انہی سوچو میں گم تھا کی کسی نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر مجھے چونکا دیا . فضا : كھانا تییار ہے اگر بھوک لگی ہو تو كھانا لیکر آؤ میں : نہیں مجھے بھوک نہیں ہے فضا : ھائے اللہ ! ! ! ! آپ نے اتنے دن سے کچھ نہیں کھایا ہے خود کو دیکھو ذرا کتنے زخمی اور کمزور ہو اگر كھانا نہیں کھاؤگے تو ٹھیک کیسے ہوگی بولو . . . میں : لیکن مجھے بھوک نہیں ہے آپ لوگ کھا لو . . . فضا : ایسی کیسے نہیں کھاؤگے اگر آپ كھانا نہیں کھاؤگے تو ہم بھی نہیں کھائینگے ہماری یہاں مہمان بحوخا نہیں سو سکتا میں : اچھا عیسی ہے کیا . . . . ٹھیک ہے فر آپ میرا كھانا دالکار رکھ دو مجھے جب بھوک ھوگی میں کھا لونگا فضا : ( اپنی کمر پر ہاتھ رکھا کر ) جی نہیں ! ! ! ! میں ابھی كھانا ڈال کر لا رہی ہوں آپ ابھی میرے سامنے كھانا کھائینگے اسکے بَعْد آپکو لیپ بھی لگانہ ہے . میں : ٹھیک ہے جی جیسے آپکی مرضی . ( کچھ سوچتے ہوئے ) سنیے ذرا ! ! ! ! فضا : ہاں جی ( پالاتاکار مجھے دیکھتے ہوئے ) اب کیا ہوا ؟ میں : کچھ نہیں یہ لیپ کونسا لگایینجی آپ میرے فضا : ( مسکراتے ہوئے ) آپ کے جو یہ زخم ہے ان پر دوا لگانے کی بات کر رہی تھی میں . میں : اچھا ( اور میری نظری فضا کو کمرے سے باہر جاتے ہوئے دیکھتی رہی ) کچھ ہی دیر میں فضا كھانا لے آئی اور میں نے آج جانے کتنے دن بَعْد پیٹ بھر كھانا کھایا تھا . کچھ دیر بَعْد نازی کھانے کی تھالی لائی گئی اور فضا اور نازی دونوں کمرے میں آ گئی اک کٹورا ہاتھ میں لیے . فضا : ارے آپ ابھی تک لیتے نہیں . . . كھانا کھا لیا نا میں : ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) ہاں جی كھانا کھا لیا بہت اچھا بنایا تھا كھانا فضا : شکریہ ! ! ! اب چلیے لیٹ جائیے تاکہ ہم دونوں آپ کے لیپ لگا سکے ( اور فضا اور نازی نے مجھے مل کر لیتا دیا ) میں : جب میں بے ہوش تھا تب بھی آپ دونوں ہی مجھے داوائی لگاتی تھی ؟ نازی : جی ہاں اور کون ہے یہاں میں : میرا مطلب ہے کوئی آدمی نہیں لگاتا تھا مجھے نازی : جی نہیں بابا تو اب خود ہی بَدی مشکل سے چال-فیر پتے ہیں اور بھائی جان باہر ہی رہتے ہیں گھر کم ہی آتے ہیں جاداتار اسلئے ہم دونوں ہی آپکو داوائی لگاتی تھی اور . . . . . میں : اور کیا ؟ نازی : کپڑے بھی ہم ہی آپ کے بدلتی تھی ( نظارے جھکاتے ہوئے ) میں : اچھا فضا : اچھا چودو یہ سب وہ والی بات تو کرو نا ان سے میں : کونسی بات ؟ فضا : وہ ہمیں آپکا اصل نام تو پتہ نہیں ہے اسلئے ہم دونوں نے آپکا اک نام سوچا ہے اگر آپکو اچھا لگے تو . . . . میں : کیا نام بتاییی ؟ فضا : " نییر " نام کیسا لگا آپکو ؟ میں : جو آپکو اچھا لگے رکھ لیجیے مجھے تو کوئی بھی نام یاد نہیں ویسی یہ نام رکھنے کوئی خاص واجاحا ؟ فضا : آپ موت کو مات دے کر فر سے اِس دُنیا میں لوٹے ہو اور ہمیں پانی میں بہتے ہوئے ملے تھے اسلئے ہم نے سوچا کی آپکا نام بھی ہم " نییر " ہی رکھ دے . میں : موت کو مات سے کیا مطلب ہے آپکا ؟ نازی : ارے کچھ نہیں بھابی تو بس کہی بھی شروع ہو جاتی ہے آپ بتاییی آپکو نام کیسا لگا ؟ میں : اگر آپ لوگوں پسند ہے تو مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے فضا : تو فر ٹھیک ہے . . . . آج سے جب تک آپکو اپنا اصل نام یاد نہیں آ جاتا ہم سب كے لیے آپ " نییر " ہو . میں : جیسی آپکی مرضی ( ہلکی سی مسکراہٹ كے ساتھ ) فضا : نازی کل یاد کروانا مجھے انکی دادحی اور بال بھی کاتینجی اتنے ماحینو سے یہ بے ہوش تھے تو دیکھو انکی دادحی اور بال کتنے بڑے ہو گئے ہیں برا مت منع لیکن ابھی آپ کسی جوجی-بابا سے کم نہیں لگ رہے ہو کوئی اجنبی دیکھے تو ڈر ہی جائے ( دونوں آپس میں ہی ھسنے لگی ) نازی : کوئی بات نہیں بھابی یہ کام میں کر دونگی بابا کی دادحی بناتے اور بال کٹ طے ہوئے میں اب ماہر ہو گئی ہوں اِس کام میں میں : ( میں دونوں کا چہرہ دیکھ کر صرف ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) ٹھیک ہے نازی : چلو " نییر " جی کپڑے وتارو میں : ( چونکتے ہوئے ) کیوں کپڑے کیوں وتارو ؟ نازی : داوائی نہیں لگوانی آپ نے ؟ میں : ارے ہاں میں تو بھول ہی گیا ( اور اپنی قمیض كے بٹن کھولنے کی کوشش کرنے لگا ) فضا : آپ رہنے دیجیئے روز ہم خود ہی یہ سب کام کر لیتی تھی آج بھی کر لینجی آپ اپنے حاتح-پایر جادا حیلاییی مت نہیں تو دَرْد ھوگا . میں : ( خاموشی سے صرف ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) نازی : فکر مت کیجیے ہم روز آپ چادار ڈال دیتے تھے داوائی لگانے سے پہلے ( اسکے چہرے پر یہ بات کہتے ہوئے مسکراہٹ اور شرم دونوں تھی ) دونوں نے میری قمیض اتاری اور پجامہ بھی اُتار دیا جو میرے پیر سے تھوڑا اونچا تھا شاید فضا كے پتی کا ھوگا یا فر بابا کا ھوگا اور میری ٹانگوں پر اک چادار ڈال ڈی . میں داوائی لگواتی ہوئے بھی اپنی پیچھالی زندگی كے بڑے میں سوچ رہا تھا لیکن مجھے کوشش کرنے پر بھی کچھ یاد نہیں آ رہا . . . . . . میں بس اپنی ہی سوچو میں گم تھا کی اچانک مجھے اک کومل ہاتھ اپنے سر پر اور آنکھوں پر گھمتا محسوس ہوا ساتھ ہی ( اک آواز آئی کی اب آنکھیں مت کھولنا ) فر دوسرا ہاتھ اپنی باجو پر اور 2 ہاتھ اک ساتھ چادار كے اندر آتے ہوئے میری ٹانگوں سے رینجتی ہوئے جنگھو پر محسوس ہوئے میری آنکھیں بند تھی فر بھی میں صاف محسوس کر رہا تھا کی جب 2 ہاتھ میری جنگھو پر چل رہے تھے تو میرے لنڈ میں کچھ حرکت ہوئی جو کی اکڑ رہا تھا اور اِس حرکت كے بَعْد جو ہاتھ میری جنگھو پر داوائی لگا رہے تھے اُن میں اک عجیب سی کمپن میں نے محسوس کی . . . . . مجھے اس وقت نہیں پتہ تھا کی یہ احساس کیا ہے لیکن مجھے اسے سکون بھی مل رہا تھا اور اک عجیب سی بیچینی بھی ہو رہی تھی . . . اِس میلی-جولی احساس کو شاید میں سمجھ نہیں پا رہا تھا کی یہ میرے ساتھ کیا عجیب سی بات ہوئی اور چند سیکنڈز میں میرا لنڈ پوری طرف کھڑا ہوکے چھت کو سلامی دے رہا تھا اور لنڈ ماحاراج نے چادار میں اک لمبو بنا دیا تھا . اچانک اک ہاتھ میرے لنڈ سے ٹکرایا کچھ پل كے لیے اس نے میرے لنڈ کو پکڑا اور فر اک دم سے چھوڑ دیا ساتھ ہی اک مٹھی سی آواز میرے کانو سے تاکرایی . بھابی باقی لیپ آپ ہی لگا دو میں نے نیچے تو لگا دیا ہے اب میں سونے جا رہی ہوں . شاید یہ آواز نازی کی تھی . اسکے بَعْد مجھے نیچے وہ عجیب سے مزے والا احساس نہیں محسوس ہوا میں ویسی ہی آج بنا کسی کپڑے كے صرف چادر میں لپٹا ہوا سو رہا تھا فضا جاتے ہوئے 2 کمبل بھی میرے اوپر ڈال گئی یہ کہہ کر کی یہاں رات میں اکثر ٹھنڈ ہو جاتی ہے . فضا نے بھی مجھے کپڑے نہیں پہنایی اور ایسی ہی کھٹکی بند کرکے چلی گئی شاید اسکی نظر بھی میرے کھڑے ہوئے لنڈ پر پڑ گئی تھی میری اس وقت آنکھیں تو بند تھی لیکن پیڑو کی دور ہوتی ہوئی آواز سے میں نے انداذہ لگا لیا تھا کی شاید اب کمرے میں کوئی نہیں سوائے میرے اور میری تنہائی كے . رات کو مجھے نیند نے کب اپنی آغوش میں لے لیا میں نہیں جنت علیہ السلام اباح مجھے ناشتہ کروانے كے بَعْد فضا اور نازی نے میری شیو بھی کی اور بال بھی کاٹ دیئے . شیشے میں اپنا یہ نیا روپ دیکھ کر مجھے خوشی بھی ہو رہی تھی اور بے چینی بھی ہوئی . لیکن دِل میں اب یھی سوال بار بار آکے مجھے بیچین کر دیتا تھا کی میں کون ہوں . . . . آخر کون ہوں میں . ایسی ہی دن گزرنے لگے اب میرے زخم بھی کافی بھر گئے تھے اور اب میں چالنی-فیرنی كے قابل ہو گیا تھا . لیکن 1 بات مجھے ہمیشہ پریشان کرتی وہ تھے میرے سینے پر گولی كے نشان . . . زخم بھر گیا تھا لیکن نشان ابھی بھی باقی تھا میں جب بھی نازی یا فضا سے اس نشان كے بڑے میں پوچحتا تو وہ بات گول کر جاتی اور مجھے اس نشان كے بڑے میں کچھ بھی نہیں بٹاتی میں بابا سے یہ بات نہیں پوچھ سکتا تھا کیونکی عمر كے ساتھ انکی نظر بہت کمجور ہو چکی تھی اسلئے انہیں دکھائی بھی کم دیتا تھا . میں سارا دن یا تو کھڑکی كے سامنے کھڑا باہر كے نظارے دیکھتے یا فر گھر میں دونوں لڑکیوں کو گھر کا کام کرتے دیکھتا رہتا لیکن فر بھی فضا مجھے گھر سے باہر نہیں جانے دیتی تھی . مجھے پرانا کچھ بھی یاد نہیں تھا میری پرانی زندگی اب بھی میرے لیے اک قورا کاغذ ہی تھی . نازی اب مجھے داوائی نہیں لگاتی تھی لیکن فضا روز مجھے داوائی لگانے آتی تھی اور ایسی ہی بنا کپڑوں كے اوپر کمبل ڈال کر سلا جاتی . آج داوائی لگاتے ہوئے فضا بہت خوش تھی اور بار بار مسکرا رہی تھی اسکی اِس خوشی کا راز پوچھے بنا میں خود کو روک نہیں پایا . میں : کیا بات ہے آج بہت خوش لگ رہی ہو آپ فضا : جی آج میرے شوہر آ رہے ہے 5 مہینے بَعْد میں : ارے واہ یہ تو بہت خوشی کی بات ہے . فضا : ہاں جی ( نظارے جھکا کر مسکراتے ہوئے ) آپ سے اک بات کہو تو آپ برا تو نہیں مانینجی ؟ میں : نہیں بالکل نہیں بولئے کیا کر سکتا ہوں میں آپکے لیے ؟ فضا : وہ آج میرے شوہر قاسم آ رہے ہیں تو اگر آپ برا نا مانے تو آپ کچھ دن اوپر والی کوٹھری میں رہ لینگے . . . اور ہو سکے تو ان کے سامنے نا آنا . میں : ( بات میری سمجھ میں نہیں آئی ) کیوں ان کے سامنے آ جاؤنگا تو کیا ہو جائیگا ؟ فضا : بس ان کے سامنے مت آنا نہیں تو وہ مجھے اور نازی کو غلط سامجحینجی اور شاق کرینگے اصل میں ویسی تو وہ بہت نیق-دیل ہے لیکن ایسی انکی جایر-حازری میں ہم نے اک مرد کو رکھا ہے گھر میں تو وہ آپ کے بڑے میں غلط بھی سوچ سکتے ہیں نا اسلئے . میں : کیا آپ نے ان کو میرے بڑے میں نہیں بتایا ہوا ؟ فضا : نہیں میں نے آپ کے بڑے میں ان کو کچھ بھی نہیں بتایا کبھی . مجھے غلط مت سمجھنا لیکن میری بھی مجبوری تھی میں : کوئی بات نہیں ! ! ! ٹھیک ہے جیسا آپ ٹھیک سمجھے فضا : میں ابھی آپکا بستر کوٹھری میں لگا دیتی ہوں وہاں میں آپکو كھانا بھی وہی دے جائوں گی کچھ چاہئیے ہو تو روشاندان میں سے آواز لگا دینا راسویی میں اور کسی کمرے میں نہیں یاد رکھنا بھولنا مت ٹھیک ہے . میں : ( میں سر ہاں میں ہلاتے ہوئے ) فضا جی آپ کے مجھ پر اتنے احسان ہے اگر آپ نا ہوتی تو آج شاید میں زندہ بھی نہیں ہوتا اگر میں آپ کے کچھ کام آ سکو تو یہ میری خوش کیسماتی ھوگی . آپ میری طرف سے بی-فیکار رہے میری وجہ سے آپکو کوئی پریشانی نہیں ھوگی . فضا : آپکا بوحوت-بوحوت شکریہ آپ نے تو اک پل میں میری اتنی بَدی پریشانی ہی آسان کردی . فر وہ باہر چلی گئی اور میں بس اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا . میں واپس اپنے بیڈ پر لیٹ گیا تھوڑی دیر میں میرا بستر بھی کوٹھری میں لگ گیا اور میں اوپر کوٹھری میں جاکے لیٹ گیا . کوٹھری جادا بَدی نہیں تھی فر بھی میرے لیے کافی تھی میں اس میں آرام سے لیٹ سکتا تھا اور غم فر بھی سکتا تھا . وہاں میرا بستر بھی بڑے سلییکی سے لگا ہوا تھا اب میں ایسی جگہ پر تھا جہاں سے مجھے کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا لیکن میں سارے گھر میں دیکھ سکتا تھا کیونکی یہ کوٹھری گھر كے اک دم بیچ میں تھی اور گھر كے ہر کمرے میں ہوا كے لیے کھلے ہوئے روشاندان سے میں کسی بھی کمرے میں جھانک کر دیکھ سکتا تھا . آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کی وہ سارے گھر کی اک بند چھت تھی . فضا كے جانے كے کچھ دیر بَعْد میں نے باری-باری ہر روشاندان کو کھول کر دیکھا اور ہر کمرے کا جاییزا لینے لگا . پہلے روشاندان سے جھانکا تو وہاں بابا اپنی چارپائی پر بیٹھے ہوئے ہووکا پی رہے تھے . دوسرے روشاندان سے میں راسویی میں دیکھ سکتا تھا . تیسرا کمرا شاید نازی کا تھا جہاں وہ بیڈ پر بیٹھی شاید کاغذ پر کسی کی تصویر بنا رہی تھی پینسل سے . چوتھا کمرا میرا تھا جہاں پہلے میں لیتا ہوا تھا جو اب فضا صاف کر رہی تھی شاید یہ فضا اور قاسم کا تھا اسلئے . کوٹھری كے پیچھے والا روشاندان کھول کر دیکھا تو وہاں سے مجھے گھر كے باہر کا سب نظر آیا یہاں سے میں کون گھر میں آیا ہے کون باہر گیا ہے سب کچھ دیکھ سکتا تھا . میں ابھی بستر پر آکے لیتا ہی تھا اور اپنی ہی سوچو میں گم تھا کی اچانک اک تانگا گھر كے باہر آکے رکا اور اس میں سے اک آدمی ہاتھ میں لال اتیچی لیے اترا . شاید یہ قاسم تھا جسکے بڑے میں فضا نے مجھے بتایا تھا . دیکھنے میں قاسم کوئی خاص نہیں تھا چھوٹے سے قد کا اک دبلا پتلہ سا آدمی تھا فضا اسکے مقابلے کہی جادا سندر تھی . وہ تانجیی سے اتارکار گھر میں داخل ہو گیا میں بھی واپس اپنی جگہ پر آکے واپس لیٹ گیا اور میری کب آنکھ لگی مجھے پتہ نہیں چلا . شام کو اچانک کسی كے چلانے سے میری جاگ کھل گئی میں نے اُٹھ کر دیکھا تو قاسم بہت جاندی-جاندی گلیاں دے رہا تھا اور فضا سے پیسے مانگ رہا تھا . فضا لگاتار روئے جا رہی تھی اور اسکو کہی جانے كے لیے منع کر رہی تھی . لیکن وہ بار بار کہی جانے کی بات کر رہا تھا اور فضا سے پیسے مانگ رہا تھا اچانک اس نے فضا کو تھپڑ مارا اور گلیاں دینے لگا اور کہا کی اپنی اوقات میں رہا کر رنڈی میرے ماملو میں ٹانگ ادایی تو اٹھا کے گھر سے باہر فینک دونگا 5 مہینے میں سالی کی بہت زبان چلنے لگی ہے . تجھے تو آکے ٹھیک کرونگا . اور قاسم تیز قادمکو كے ساتھ گھر كے باہر نکل گیا . فضا وہی بیڈ پر بیٹھی روو رہی تھی . یہ دیکھ کر مجھے بہت برا لگا لیکن میں مجبور تھا فضا نے ہی مجھے گھر كے نیچے آنے سے منع کیا تھا اسلئے میں بس اسکو روٹ ہوئے دیکھتا رہا اور قاسم كے بڑے میں سوچنے لگا . فضا ہمیشہ میرے سامنے قاسم کی تعریف کرتی تھی اور اس نے مجھے قاسم اک نیق-دیل انسان بتایا تھا اسکے اِس طرح كے بارتاv نے یہ صاف کر دیا کی فضا نے مجھے قاسم كے بڑے میں جھوٹ بولا تھا . کافی دیر تک فضا کمرے میں روتی رہی اور میں اسکو دیکھتا رہا . رات کو فضا میرے لیے كھانا لے کے آئی اور چہرے پر اپنی سدا بہار مسکان كے ساتھ . لیکن میں اِس مسکان كے پیچھے کا دَرْد جان گیا تھا اسلئے شاید فضا کی حالت پر اداس تھا فر بھی میں نہیں چاہتا تھا کی اسکو میری وجہ سے کسی قسم کا دکھ ہو اسلئے اسکو کچھ نہیں کہا . لیکن نا چاھتے ہوئے بھی میرے موح سے یہ سوال نکل گیا . میں : آپ کے شوہر آ گئے ؟ فضا : ہاں جی آ گئے تبھی تو آج میں بہت خوش ہوں . ( بناوٹی مسکراہٹ كے ساتھ ) میں : اچھی بات ہے میں تو چاہتا ہوں آپ سب لوگ ہمیشہ ہی خوش رہے . فضا : میں آپ کے لیے كھانا لائی ہوں جلدی سے كھانا کھا لو نہیں تو ٹھنڈا ہو جائیگا میں : آپ نے کھا لیا فضا : ہاں جی میں نے قاسم كے ساتھ ہی کھا لیا تھا میں : میرا تو آپکو دیکھ کر ہی پیٹ بھر گیا اب اِس کھانے کی ضرورت مجھے بھی نہیں فضا : ( چونکتے ہوئے ) کیا مطلب ؟ میں : آپ نے مجھ سے جھوٹ کیوں بولا تھا قاسم كے بڑے میں . . . معاف کرنا لیکن میں نے آپ کے کمرے میں جھانک لیا تھا . [ فضا یہ سن کر خاموش ہو گئی اور موح نیچے کرکے اچانک روو پڑی . میری سمجھ میں نہیں آیا کی اسکو چُپ کیسے کرواو اسلئے پاس پڑا پانی کا گلاس اسکے آگے کر دیا . کچھ دیر رونے كے بَعْد فضا چُپ ہو گئی اور پانی کا گلاس ہاتھ میں پکڑ لیا . میں : جب آپکو پتہ تھا کی قاسم عیسی گھٹیا انسان ہے تو آپ نے اسے شادی ہی کیوں کی ؟ فضا : ہر چیج پر ہمارا جور نہیں ہوتا مجھے جو ملا ہے وہ میرا نصیب ہے میں : آپ چاھے تو مجھ سے اپنی دِل کی بات کر سکتی ہے آپ کے دِل کا بوجھ ہلکا ہو جائیگا فضا : ( نظری جھکا کر کچھ سوچتے ہوئے ) اِس دِل کا بوجھ شاید کبھی ہلکا نہیں ھوگا . شادی كے شروع میں قاسم ٹھیک تھا فر اسکی دوستی گاv كے سارپانچ كے خیتو میں کام کرنے والے لوگوں سے ہوئی ان کے ساتھ رہ کر یہ روز شراب پینے لگا جوا کھیلنے لگا اس کے گھٹیا دوستو نے قاسم کو کوٹھے پر بھی لے جانا شروع کر دیا . قاسم رات-رات بھر گھر نہیں آٹا تھا . لیکن میں سب کچھ چپ چاپ سہتی رہی کہتی بھی تو کس کو مجھے اناتھ کا تھا بھی کون جو میری مدد کرتا . وقت كے ساتھ ساتھ قاسم اور برا ہوتا گیا اور وہ روز شراب پی کر گھر آٹا اور کوٹھے پر جانے كے لیے مجھ سے پیسے مانگتا . ہم جو کھیتی کرکے تھوڑا بہت پیسہ کماتے ہیں وہ بھی چین کر لے جاتا . اک دن قاسم نے مجھ سے کہا کی میں اسکے دوستو كے ساتھ رات گزاروں جب میں نے منع کیا تو قاسم نے مجھے بہت مارا اور گھر چھوڑ کر چلا گیا . کچھ دن بَعْد قاسم نے چوودحاری كے گودام سے اپنے دوستو كے ساتھ مل کر اناج کی کچھ بوریا چورایی اور بیچ ڈی اپنے راندیباازی كے شونک كے لیے . صبح پولیس اسکو اور اس کے دوستو کو پکڑ کر لے گئی اور اسکو 5 منتھ کی سزا ہو گئی . اب یہ باہر آیا ہے جیل سے تو اب بھی ویسا ہے میں نے سوچا تھا شاید جیل میں یہ سدھر جائیگا لیکن نہیں میری تو قسمت ہی خراب ہے ( اور فضا فر سے رونے لگ گئی ) میں : ( فضا كے کاندھے پر ہاتھ رکھا کر ) فکر مت کرو سب ٹھیک ہو جائیگا . اگر میں آپ کے کسی بھی کام آ سکو تو میری خوش-کیسماتی سامجحونجا . فضا : ( میرے کاندھے پر اپنے گال سہلا کر ) آپ نے کہہ دیا میرے لیے اتنا ہی کافی ہے میں : پہلے جو ہو گیا وہ ہو گیا لیکن اب خود کو اکیلا مت سمجھنا میں آپ کے ساتھ ہوں فضا : کب تک ساتھ ہو آپ . . . . تب تک ہی نا جب تک آپکی یادداشت نہیں آتی اسکے بَعْد ؟ میں : ( کچھ سوچتے ہوئے ) اگر یہاں سے جانا بھی پڑا تو بھی جب بھی آپ لوگوں کو میری ضرورت ھوگی میں آؤنگا یہ میرا وعدہ ہے فضا : ( حیرانی سے مجھے دیکھتے ہوئے ) چلو اِس دُنیا میں کوئی تو ہے جو میرا بھی سوچتا ہے . . . ( مسکراتے ہوئے ) شکریہ ! ! ! اسکے بَعْد کوٹھری میں خاموشی چاہ گئی اور جب تک میں كھانا کھاتا رہا فضا مجھے دیکھتی رہی . فر وہ بھی مجھے داوائی لگاکے نیچے چلی گئی . آج بھی میں صرف اک کمبل میں پڑا تھا اندر جسم ننگا تھا میرا . میں اب نیچے فضا کو بستر پر اکیلے لیتا ہوا دیکھ رہا تھا . شاید قاسم آج بھی گھر نہیں آیا تھا اِس بار جو فضا نے قاسم كے بڑے میں بتایا تھا وہ سہی تھا . فضا ابھی بھی جاگ رہی تھی اور بار بار روشاندان کی طرف دیکھ رہی تھی شاید وہ کچھ سوچ رہی تھی لیکن اسے نہیں پتہ تھا کی میں بھی اسکو دیکھ رہا ہوں . ایسی ہی کافی دیر تک میں اسے دیکھتا رہا فر مجھے نیند آنے لگ گئی اور میں سونے كے لیے واپس اپنے بستر پر لیٹ گیا کچھ ہی دیر میں مجھے نیند آ گئی . 1 / 2 رات کو جب میں گہری نیند میں سو رہا تھا کی اچانک کسی نے دھیرے سے کوٹھری کا دروازہ کھولنے سے میری جاگ کھل گئی . لالتین بند تھی اسلئے میں اندھیرا ہونے كے کرن یہ دیکھ نہیں سکتا تھا کی یہ کون ہے اسے پہلے کی میں پوچھ پتہ اس انسان نے میرے پیر کو دھیرے سے ہلایا . مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا کی یہ کون ہے اور اِس وقت یہاں کیا کر رہا ہے . میں یہ جاننا چاہتا تھا کی یہ اِس وقت یہاں کیا کرنے آیا ہے اسلئے خاموش ہوکے لیتا رہا . فر مجھے میری ٹانگوں پر اس انسان كے لمبے بال محسوس ہوئے . اسے مجھے اتنا تو پتہ چل ہی گیا تھا کی یہ کوئی لڑکی ہے . یہ یا تو فضا تھی یا فر نازی کیونکی اِس وقت گھر میں یھی 2 لڑکیاں موجود تھی . مگر میرے دِل میں ابھی یہ سوال تھا کی یہ یہاں اِس وقت کیا کرنے آئی ہے . میں ابھی اپنی ہی سوچو میں گم تھا کی اچانک وہ لڑکی میرے ساتھ آکے لیٹ گئی اور میرے گالو کو سہلانے لگی . اندھیرا ہونے کی وجہ سے مجھے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا . فر اچناک وہ ہاتھ میری گالو سے رینگتا ہوا میری چھاتی پر آ گیا اور میری چھاتی كے بالو کو سہلانے لگا اور ہاتھ نیچے کی طرف جانے لگا میں نے ہاتھ کو پکڑ لیا تو شاید اس لڑکی کو یہ احساس ہو گیا کی میں جاگ رہا ہوں اسلئے کچھ دیر كے لیے وہ رک گئی اور اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا . میں نے دھیرے سے پوچھا کی کون ہو تم اور اِس وقت کیا کر رہی ہو . ہاتھ فر سے میرے سینے سے ہوتا ہوا میرے ہوتھو پر آیا اور اک انگلی میرے ہوتھو پر آکے رک گئی جیسے وہ مجھے چُپ رہنے کا اشارہ کر رہی ہو . میری ابھی بھی کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کی وہ لڑکی جو ابھی میرے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی دھیرے سے اس نے کمبل اک طرف سے اٹھایا اور کھسک کر کمبل میں میرے ساتھ آ گئی اسکے اِس طرح مجھ سے چیپاکنی سے اور اسکے گرم شریر كے احساس سے میرے شریر میں بھی حرکت ہونے لگی اور میرے سوئے ہوئے لنڈ میں جان آنے لگی یہ اک عجیب سا ماجہ تھا جو میں نا تو سمجھ پا رہا تھا نا ہی کچھ بول پا رہا تھا . فر اسکی اک ٹانگ میری ٹانگوں کو سہلانے لگی اور اس لڑکی کا ہاتھ میرے گلے سے ہوتا ہوا سے چھاتی اور پیٹ پر گھومنے لگا اور اچانک وہ لڑکی میرے اوپر آ گئی اور میرے گالو کو دھیرے دھیرے چومنا شروع کر دیا . مزے سے میری آنکھیں بند ہو رہی تھی اس لڑکی كے ہوتھو کا گرم احساس میرے لیے بے حد مازیدار تھا اسکے ہوتھ میری گردن اور گالو کو چوس اور چوم رہے تھے . ساتھ میں نیچے میرے لنڈ پر وہ لڑکی اپنی گانڈ راڈار رہی تھی جسے میرے لنڈ لوہے جیسا کڑک ہو گیا تھا . میں مزے كے وادیو میں کھو رہا تھا کی اچانک اک مٹھی سی لیکن بے حد دھیمی آواز میرے کانو سے تاکرایی . تم مجھے پہلے کیوں نہیں ملے نییر میں جانے کب سے پیاسی ہوں میری پیاس بجھا دو . آج مجھے خود پر قابو نہیں ہے میں اک آگ جل رہی ہوں مجھے سکون چاہئیے مجھے آج پیار چاہئیے . میں نے بس اتنا ہی کہہ پایا کی کیا کروں میں . اس لڑکی نے میرے چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام لیا اور دھیرے سے اپنے نچلے ہوتھ سے میرے دونوں ہوتھو کو چھو لیا اور کہا پیار کرو مجھے تم نے کہا تھا نا کی جب بھی مجھے تمہاری ضرورت ھوگی میری مدد کروگے تو آج مجھے تمہاری سب سے جادا ضرورت ہے میں جل رہی ہوں میرے اندر کی آگ کو بجھا دو . یہ بات میرے لیے کسی جھٹکے سے کم نہیں تھی کیونکی یہ بات میں نے فضا کو کہی تھی . اسے پہلے کی میں کچھ بول پتہ فیزی نے اپنے گرم ہوتھ میرے ہوتھو پر رکھ کر انہیں چوم لیا اور میرے سکھ ہوئے ہوتھو پر اپنی رسیلی جیبھ سے انہیں گیلا کرنا شروع کر دیا . میں نے بھی اپنے دونوں ہاتھ اسکے کمر كے یرد-جیرد باندھ لیا اور اپنی آنکھیں بند کر لی اور اپنے تپتے ہوتھ اسکے ہوتھو سے ملا دیئے جسے فضا نے چُومتے ہوئے دھیرے دھیرے چُوسنا شروع کر دیا . کچھ ہی دیر میں ہم دونوں اک دوسرے كے ہوتھو کو بری طرح چوس اور چاٹ رہے تھے وہ میرے ہوتھو کو بری طرح چوس رہی تھی اور ان کو کاٹ رہی تھی کبھی وہ میرا نیچلا ہوتھ چستی اور کاٹ لیتی کبھی اوپر والا ہوتھ چستی فر کاٹ لیتی . ہم جس مزے کی دُنیا میں تھے اس میں نا اسے کوئی ہوش تھا نا ہی مجھے ہم بس دونوں ہی اک دوسرے میں سماں جانا چاھتے تھے . میرے دونوں ہاتھ اسکی پیٹھ کی رید کی ھڈی کو سہلا رہے تھے اور اسکی گانڈ لگاتار میرے لنڈ کو مسل رہی تھی . اچانک اس نے میرے دونوں ہاتھ پکڑ کر اپنی چھاتی پر رکھ دیئے اور میرے ہاتھوں کو اپنی چھاتی پر دبانے لگی میں نے بھی اسکے ٹھوس اور بڑے موممو کو تھام لیا اور انہیں جور سے دبانے لگا جسے اسکے موح سے اک سسیییی کی آواز ہی نکل سکی اور وہ فر میرے ہوتھو کو چُوسنے لگ گئی میرا ہاتھ بار بار اسکی چھاتی سے رینگتا ہوا اسکی کمر تک جاتا اور فر اسکے موٹے موممو کو تھم لیتا اچانک وہ رک گئی اور لگ بھگ میرے لنڈ پر اپنی بَدی گانڈ رکھ کر بیٹھ گئی اور اپنی قمیض اور برا کو یکساتھ اوپر کر دیا اور فر میری چھاتی كے اوپر لیٹ گئی اسکے نازک اور گرم ممے جو ہر طرح سے بی-پاردا میری چھاتی سے چپکے ہوئے تھے انہوں نے مجھے اک عجیب سا مزہ دیا اب میں اسکے ننگے موممو کو دبا رہا تھا اور اسکی ننگی کمر کو سہلا رہا تھا اسکو نپل انگور کی طرح سخت ہو چکے تھے جنہیں جب میں نے پکڑا تو اک آں اسکے موح سے نکل گئی اور اس نے میرے کان كے پاس موح لیک کہا کی " انہیں چوسو نییر اب رہا نہیں جا رہا " میں نے تھوڑا نیچے سڑک کر اسکے اک ممے کو تھام لیا اور انجوتحی سے اسکے نپل کو کوریدنی لگا اور اندازے سے اسکے ممے کا جاییزا لینے لگا وہ کافی بڑے تھے لیکن اسکے نپل چھوٹے مگر بہت سخت ہو گئے تھے . اسکے مومما میرے اک ہاتھ میں پُورا نہیں آ رہا تھا اچانک اس نے میرے سر كے بال پکڑ کر میرے موح کو اپنے ممے پر جور سے دبا دیا اور میں نے اپنا موح کھول کر اسکے نپل کو اپنے موح میں جانے کا رستہ دے دیا میں کسی چھوٹے بچے کی طرح اسکے نپل کو چوس رہا تھا اور کاٹ رہا تھا وہ لگاتار موح سے عجیب سے آوازیں نکال رہی تھی . اچانک اس نے اپنی قمیض اور برا دونوں اک ساتھ پوری طرف سے اُتار ڈی لیکن شلوار ابھی بھی اس نے پہنی ہوئی تھی . میں لگاتار زور زور سے اسکے نپل کو چوس اور کاٹ رہا تھا اور میرے ہاتھ اسکی گانڈ کی دونوں دوز پاحادیو کو بار بار دبا رہے تھے اسکا بدن بے حد نازک اور ملائم تھا . وہ بس میرے سر پر ہاتھ فیر رہی تھی اور میرے ماتھے کو بار بار چوم رہی تھی . اچانک مجھے یاد آیا کی میں اک لڑکی کو بلو سے پکڑ کر بری طرح زور زور سے چودا کرتا تھا اور وہ چلایا کرتی تھی . دوستو یہ وہ پہلی یاد تھی جو مجھے واپس ملی تھی وہ بھی فضا کی وجہ سے . میں نے فوراً اسکی سالوار کو کھول دیا اور فضا کو اسکے کھلے بلو سے پکڑ کر نیچے پٹک دیا اور خود اسکے اوپر آ گیا . شاید میرے اندر کا سیکس کا جانور فر سے جاگ گیا تھا اسے پہلے کی فضا کچھ کہہ پتی میں نے اسکی دونوں تانجی اٹھائی اوپر ہوا میں اور اپنا موح اسکی چوت سے لگا دیا جو اسکے لیے کسی جھٹکے سے کم نہیں تھا اسکے موح سے اک جوردار ااہہہ نکالی اور اس نے میرے سر کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا اور اپنی چوت پر دبا دیا میں لجاتاار اسکی چوت کو چوس رہا تھا اور اوپر لگے دانے کو کاٹ رہا تھا اور اپنی جیبھ سے چھیڑ رہا تھا . اسے بے حد مزہ آ رہا تھا جسکی وجہ سے اسکی چوت بہت جادا پانی چھوڑ رہی تھی اور میرا پُورا موح اسکی چوت سے نکالے پانی سے بھیگ چکا تھا فر بھی میں لگاتار اسکی چوت کو چُوسے جا رہا تھا اچانک اسکی تانجیی اکڑ گئی اور اس نے اپنی ٹانگوں میں میرے موح کو داباکار اپنی گانڈ ہوا میں اٹھا لی میں سانسیں بھی نہیں لے پا رہا تھا فر بھی میں نے اسکی چوت کو چُوسنا جاری رکھا . اچانک اسکی گانڈ نے اوپر کی طرف اک جھٹکا لیا اب اسکی تانجی لگ بھگ بری طرح کانپ رہی تھی اور کچھ سیکنڈز كے بَعْد وہ دھڑاام سے نیچے گر گئی اور میرے موح اسکی ٹانگوں کی گرفت سے آزاد ہو گیا . اب وہ بستر پر پڑی زور زور سے سانس لینے لگی میں اب بھی اسکی چوت کو چوس رہا تھا لیکن اب وہ شانت ہو گئی تھی اچانک اس نے میرے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں سے تھما اور اشارے سے اوپر آنے کو کہا میں اسکے اوپر آ گیا اور اپنے ہاتھ سے اپنے موح پر لگا اسکی چوت کا پانی صاف کرنے لگا تو اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور اک طرف کر دیا اور میرے چہرے کو فر سے تھام کر میرے ہوتھو کو فر سے چُوسنا شروع کر دیا اب لگ بھگ وہ میرا پُورا چہرہ چاٹ رہی تھی . کچھ ہی دیر میں وہ فر سے گرم ہونے لگی اور تھوڑی دیر پہلے نیچے جو حرکت اسکی گانڈ میرے لنڈ كے ساتھ کر رہی تھی اب وہی حرکت اسکی چوت نے میرے لنڈ كے ساتھ کرنی شروع کر ڈی تھی وہ بار بار نیچے سے اپنی گانڈ اُٹھا کر میرے لنڈ پر اپنی چوت كے ہونٹھ رگڑ رہی تھی مجھے اسکی اِس حرکت سے انتہا مزہ مل رہا تھا میں نے فر سے اسکے موممو کو تھام لیا اور چُوسنا شروع کر دیا اب وہ بھی نیچے سے زور زور سے اپنی چوت کو میرے لنڈ پر راجادنی لگی شاید اسکی چوت اب چُدوانے كے لیے لنڈ چاہتی تھی . جانے کتنے وقت کی پیاسی چوت تھی اک باڑ جھڑنے سے کہا شانت ہونے والی تھی . میں جب اسکے ممے كے نپل کو چُوسنے اور کاٹنے میں لگا تھا تو اس نے اپنا ہاتھ نیچے لیجاکار میرے لنڈ کو تھام لیا اور اچانک اسکے موح سے نکل گیا . . . اتنا باداا اس نے دوسرا ہاتھ میرے کاندھے پر رکھ اور میرا چہرہ اوپر کیا اور کان میں بولا فضا : نییر یہ اتنا بڑا اور موٹا کیسے ہو گیا . . . داوائی لگاتے ہوئے تو کبھی اتنا بڑا نہیں ہوا تھا . میں : پتہ نہیں شاید آج ہم اِس طرح ساتھ ہے اسلئے ہو گیا ھوگا فضا : میں چاٹی ہوں تم اپنا یہ میرے اندر ڈالو اور مجھے خوب پیار کرو لیکن آرام سے اندر ڈالنا میں نے بہت وقت سے کیا نہیں اور تمہارا ہے بھی بہت بڑا . میں : ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) ٹھیک ہے اس نے میرے لنڈ کو سیٹ کرکے اسکو اپنی چوت کی موری پر رکھ دیا اور دوسرا ہاتھ دھیرے سے میری گانڈ پر رکھا کر دبا دیا اب لنڈ کا ٹوپا ہی اسکی چوت سے چھوا تھا کی اس نے اک اہہح بھری اور میرے کان میں بولی دھیرے سے ڈالو جب رکنے کو بولو تو رک جانا . میں نے تھوڑا جور لگایا تو لنڈ سلپ ہوکے اوپر کو چلا گیا اس نے میرے لنڈ کو پاکادکی فر نشانے پر رکھا اور کہا اب لگاؤ جور . میں نے فر اک کوشش کی اِس باڑ لنڈ کا ٹوپا اندر چلا گیا اور اس نے مجھے روکنے كے لیے دوسرے ہاتھ سے میرے کاندھے کو دبا دیا . میں کچھ دیر كے لیے رک گیا فر کچھ دیر بَعْد اس نے فر سے جور لگانے کا کہا تو میں نے اک جھٹکا مارا جسے میرا 1 / 4 لنڈ اندر چلا گیا اور اسکے موح سے بس اک سسیییی روکو-روکو اک باڑ باہر نکالو کی آواز نکالی . فضا : نییر یہ بہت بڑا اور موٹا ہے تھوڑا گیلا کر لو نہیں تو مجھے دَرْد ھوگا میں : ٹھیک ہے تم کر دو گیلا اس نے تھوڑا سا تھوک اپنے ہاتھ میں جمع کیا اور میرے لنڈ پر اچھی طرح تھوک لگا ڈی اور گیلا کر دیا باقی بچہ تھوک اس نے اپنی چوت پر مل دیا . اب فر سے اس نے لنڈ کو نشانے پر رکھا اور میری گانڈ کو دبا دیا یہ اشارہ تھا کی میں فر سے جور لگاو اِس باڑ جب میں نے جھٹکا مارا تو لنڈ فیسلتا ہوا 1 / 2 اندر چلا گیا اور رک گیا . اسکے موح سے فر اک سییییی کی آواز نکالی اور اس نے میرے کان میں کہا " یہ تو بہت موٹا ہے مجھے دَرْد ہو رہا ہے تھوڑا آرام سے کرو " اب میں نے اسکے موح کو پاکادکی اسکے ہوتھ چُوسنے شروع کر دیئے تاکہ اگلے جھٹکے پر وہ چیخ نا دے اب اسکے دونوں ہوتھ میرے موح میں قید تھے اور میں نے اک جوردار جھٹکا لگایا جو کی اسکی چوت کی دیوارو کو پیچھے دحاکیلتا ہوا پُورا لنڈ اندر چلا گیا اس نے اچانک سے اپنا موح اوپر کی طرف کر لیا اور اسکا موح اک دم سے کھل گیا اور اک تیز اہہح اسکے موح میں ہی دابکی رہ گئی اس نے اپنے سر کو دایی-بایی مرنا شروع کر دیا اسلئے میں نے اب اسکے موح کو آزاد کر دیا تو اسکے موح سے نکلا سییی آییی مر گئی اممیییی آں . میرا اندازہ سہی تھا کیونکی اگر اسکا موح آزاد ہوتا تو نیچے سے کوئی بھی اسکی چیخ سن سکتا تھا . عیسی نہیں تھا کی فضا کنواری تھی لیکن شاید اسکے پتی کا لنڈ کافی چھوٹا تھا یا فر وہ اتنے وقت سے چودی نہیں تھی تو اسکی چوت اندر سے بند ہو گئی تھی اسلئے اسکو جادا دَرْد ہو رہا تھا . اب میں کچھ دیر كے لیے فر رک گیا اور لنڈ کو اندر اپنی جگہ بنانے كے لیے تھوڑا وقت دیا تاکہ چوت میرے لنڈ کو پوری طرح اکسیپٹ کر لے اور فضا کو دَرْد نا ہو . اب میں لنڈ فضا کی چوت میں ڈالے آرام سے اسکے ممے چوس رہا تھا اور فضا میرے سر پر اور پیٹھ پر اپنے نازک ہاتھ فیر رہی تھی اب فضا کا دَرْد بھی ٹھیک ہو گیا تھا اسلئے اس نے نیچے سے اپنی گانڈ کو اوپر کی طرف اٹھانا شروع کر دیا میں نے بھی دھیرے دھیرے جھٹکے لگانے شروع کر دیئے . کچھ دیر بَعْد ہم دونوں کی اک رحیتحیم سی بن گئی جب لنڈ باہر کو جاتا تو وہ اپنی گانڈ بھی نیچے کو لے جاتی جب لنڈ اندر کو دحاخیل ہوتا تو وہ بھی اپنی گانڈ اوپر کو اٹھا دیتی ہم دونوں مزے کی وادیو میں کھوئے ہوئے تھے اک دوسرے کو بری طرح چوم اور چاٹ رہے تھے . اچانک فضا نے مجھے جور سے جھٹکے مرنے کو کہا میں نے بھی دحیری-دحییری اپنے جھٹکو میں تیزی پیدا کی اب نیچے تھاپپ . . . تھاپپ . . . تھاپپ کی اوازی آ رہی تھی فضا کی چوت بری طرح پانی چھوڑ تھی اب اس نے اپنی گانڈ کو نیچے سے جور سے ہلانا شروع کر دیا میں بھی اب اسکو اور تیزی سے جھٹکے لگا رہا تھا فضا نے اپنی دونوں تانجیی ہوا میں اٹھا کے میری کمر كے یرد-جیرد لاتیپ لی اچانک اسکی تانجیی فر سے کمپنی لگی اور اس نے مجھے جور سے اپنے گلے سے لگا لیا میں نیچے سے لگاتار جور سے جھٹکے لگاے جا رہا تھا اور اک تیز اہہہ نییر میرییی جاننننننننن کہتی ہوئی فضا ٹھنڈی پڑ گئی میں ابھی بھی ٹھنڈا ہونے كے کہی قریب نہیں تھا اسلئے جھٹکے لگاتا رہا اب فضا نے مجھے اوپر سے ہٹنے کا اشارہ کیا اور خود میرے اوپر آ گئی اور میرے لنڈ کو پکڑ کر چوت کی موری پر سیٹ کرکے اک آں كے ساتھ لنڈ پر بیٹھی چلی گئی . اب اسکی چوت نے اک ہی جھٹکے میں پُورا لنڈ اندر لے لیا تھا بنا فضا کو کسی قسم کا دَرْد دیئے شاید اب اسکی چوت کھل گئی تھی . اب وہ میرے اوپر تھی اور میں نیچے لیتا تھا فضا اوپر نیچے ہو رہی تھی اسکے اِس طرح سے کرنے سے اسکی بَدی گانڈ تھاپپ . . . . . تھاپپ کی آواز پیدا کر رہے تھے اب وہ میرے اوپر لیٹ گئی اور فر سے میرے ہوتھ چُوسنے لگی نیچے سے اسکی گانڈ لگاتار جھٹکے لگا رہی تھی میں نے اسکے موممو کو اپنے دونوں ہاتھوں سے تھام لیا اور اسکی نپلز کو اپنے انجوتحی اور انگلی کی مدد سے مرودنی لگا جس میں اسے شاید بہت مزہ آ رہا تھا کچھ ہی دیر میں اسکے جھٹکے جوردار ہو گئے وہ لگاتار تیزی سے اوپر نیچے ہو رہی تھی میں نے بھی نیچے سے اب جھٹکے لگانہ شروع کر دیا تھا وہ مزے سے میری چھاتی پر ہاتھ فیر رہی تھی اور جھٹکے لگا رہی تھی کچھ ہی دیر میں وہ آں . . . . . آں کرتی ہوئی فر سے ٹھنڈی پڑ گئی اور میری چھاتی پر ہی لودکا گئی اور تیز-تیز سانس لینے لگی . تھوڑی دیر لیتنی كے بَعْد اس نے میرے کان میں کہا نییر آپکا ہوا نہیں میں نے نا میں سر ہلا دیا اس نے فر میرے کان میں بولا آدمی ہو یا جانور میرا شوہر اتنی دیر میں 5 بار ٹھنڈا ہو جاتا آپ اک بار بھی نہیں ہوئے لگتا ہے آج مجھے بھی میرا اصل مرد مل ہی گیا اور اتنا کہہ کر اس نے فر سے میرے ہوتھ چوم لیے اور مجھے اوپر آنے کا کہا . میں اب اپنی پرانی آئی ہوئی یاد کی طرح اسکو چھوڑنا چاہتا تھا اسلئے اسکی باجو پکڑ کر اسکو اٹھایا اور گھوما کر اسکو دونوں گھٹنوں پر دونوں ہاتھوں پر کسی جانور کی طرح کھڑا کر دیا اسکو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کیونکی یہ طریقہ اسکے لیے شاید نیا تھا . میں نے اندھیرے میں اندازے سے اسکی چوت کو ڈھونڈ کر لنڈ کو نشانے پر رکھا کر اک جوردار جھٹکا لگایا میرے لنڈ اسکی چوت کو کھولتا ہوا اندر چلا گیا اسکے موح سے اک " آایییییی سسییی آرام سے کرو " کی آواز نکالی . اب میں نے اسکی بَدی سی گانڈ کو اپنے دونوں ہاتھوں میں تھما اور تیز-تیز جھٹکے لگانے شروع کر دیئے جو اسکو اور بھی مازیدار لگے . اب میں نے اک ہاتھ سے اسکے لمبے بلو کو پکڑ لیا تھا اور دوسرے ہاتھ سے اسکی گانڈ پر تھپڑ مرتے ہوئے اُسکی بری طرح چھوڑنا شروع کر دیا اسکے لیے یہ سب نیا تھا اسلئے اسکو میرے عیسی کرنے سے دَرْد بھی ہو رہا تھا اور مزہ بھی بہت آ رہا تھا اسلئے اس نے اک ہاتھ سے اپنا موح بند کر لیا ٹاکی آواز نیچے نا جائے اب میں بری طرح سے اسکو چھوڑ رہا تھا اور اسکے موح سے صرف ممممم . . . . ممممم کی آواز نکل رہی تھی میرے ان تیز جھٹکو سے وہ 2 باڑ اور جحادح چکی تھی لیکن میری اتنی جبردست چُدائی سے وہ فر گرم ہو جاتی تھی اب میں بھی مانزییل كے قریب ہی تھا اسلئے اپنی رفتار میں اور اضافہ کر دیا اب میں نے اک ہاتھ سے اسکے لمبے بال پکڑے تھے اور دوسرا ہاتھ نیچے سے اسکے ممے کو تھامی زور زور سے دبا رہا تھا اور اچانک اک تیز باحاv میرے لنڈ میں پیدا ہوا مجھے عیسی لگا جیسے میرے لنڈ میں سے کچھ نکلنے والا ہے اسلئے میں نے اپنی رفتار فل سپیڈ کردی . . . پوری کوٹھری میں تیز تھاپپ . . . . . تھاپپ کی آواز آ رہی تھی . لیکن اب ہمیں نیچے آواز جانے کی بھی پرواہ نہیں تھی اور ہم دونوں اپنی مانزییل کو پانا چاھتے تھے اچانک میرے لنڈ نے پہلا جھٹکا لیا اور اک پچکاری میرے لنڈ سے نکالی اور فضا کی چوت میں گیری پہلی كے بَعْد دوسری فر تیسری فر چھوتی ایسی ہی میرے لنڈ نے کئی جھٹکے کھائے اور کافی سارا گادا مال فضا کی چوت میں ہی چھوڑ دیا فضا بھی اب ٹھنڈی ہو چکی تھی لیکن اسکی چوت اب بھی میرے لنڈ کو اندر کی طرف دبا رہی تھی جیسے میرے لنڈ کو اندر سے چوس رہی ہو اور اک بھی کترا باہر نکلنا اسے منظور نا ہو . فضا اب اپنا موح بستر پر گرائے حاانف رہی تھی میں بھی تیز-تیز سانس لے رہا تھا مزے کا یہ طوفان تھم چکا تھا . ہم دونوں ہی تیز سانسو كے ساتھ اک ساتھ بستر پر لیتے تھے فضا میرے سینے پر سر رکھے میرے پیٹ پر ہاتھ فیر رہی تھی اور میرے سینے کو اسکو ہوتھ چوم رہے تھے . اچانک دروازہ پر کسی کی دستک ہوئی تو ہم دونوں ہی چونک گئے اندھیرے میں جالدی-جالدی فضا اپنے کپڑے ڈھونڈنے لگی اور اپنے ساتھ میں میرے بھی کپڑے اٹھا کے نیچے بھاگ گئی . دروازے پر لگاتار دستک ہو رہی تھی لیکن اِس حالت میں فضا دروازہ نہیں کھول سکتی تھی لیحاجا اس نے پہلے کپڑے پہنے فر دروازہ کھول دیا میں نے روشاندان سے دیکھا تو یہ قاسم تھا جو گھر آیا تھا اندر دحاخیل ہوتے ہی اس نے فضا کو دھکہ مارا اور اندر دحاخیل ہو گیا اور فضا کو گلیاں دینے لگا کی کہا مر گئی تھی اتنی دیر سے دروازہ خات-خاتا رہا تھا . چل جا اور میرے لیے كھانا بنا بھوک لگی ہے مجھے . یہ بات مجھے بہت بری لگی کیونکی قاسم فضا سے ایسی بات کر رہا تھا لیکن میں کچھ نہیں کر سکتا تھا . فضا بھی سر جھکائے راسویی میں چلی گئی . میں نے کچھ دیر فضا کو راسویی میں دیکھا جہاں وہ قاسم كے لیے كھانا پڑوس رہی تھی . لیکن آج اک نئی چیج میں نے اس میں دیکھی تھی اکثر جو فضا قاسم کی گلیاں سن کر رونے لگ جاتی تھی آج وہی فضا ماند-ماند مسکرا رہی تھی اور بار بار روشاندان کی طرف دیکھ رہی تھی . شاید وہ میرے بڑے میں سوچ رہی تھی . کچھ دیر میں فضا کو دیکھتا رہا فر بستر پر آکے ننگا ہی لیٹ گیا . کب نیند نے مجھے اپنی آغوش میں لیا مجھے پتہ ہی نہیں چلا . آج میں کافی دیر تک سوتا رہا . جب آنکھ کھلی تو اسی کوٹھری میں خود کو پایا اور رات والا سارا سین کسی فلم کی طرح میری آنکھوں كے سامنے آ گیا لیکن ابھی بھی دِل میں کئی سوال تھے کی رات عیسی کیوں ہوا آخر فضا نے عیسی کیوں کیا . میں اپنی سوچو میں ہی گم تھا کی کسی نے کوٹھری کا دروازہ خات-خاتایا تو میرا دھیان خود پر گیا کیونکی رات كے بَعْد میں ننگا ہی سو گیا تھا میں نے جلدی سے سامنے پڑے کپڑے پہنے اور دھیمی سی آواز میں آ جاؤ کہا . میرے کہنے كے ساتھ ہی دروازہ کھل گیا اور نازی کوٹھری میں آ گئی . نازی : آج تو جناب بہت دیر تک سوتے رہے ( مسکراتے ہوئے ) . میں : ہاں وہ آج جاگ ہی نہیں کھلی ( سر پر ہاتھ فیرتی ہوئے ) نازی : چلو اچھی بات ہے ویسے بھی آپ نے کونسا کہی جانا ہے میں : آج آپ دودھ کیسے لے آئی روز تو فضا جی لاتی ہے نا نازی : کیوں میرے ہاتھ سے دودھ پی لینے سے کچھ ہو جائیگا کیا . میں : نہیں ایسی بات تو نہیں ہے نازی : بھابی آج راسویی كے کام میں مشروف تھی اسلئے انہوں نے مجھے دودھ دے کر بھیج دیا میں : اچھا . . . ویسی ناز جی مجھے آپ سے اک بات کرنی تھی اگر آپ سب کو برا نا لگے تو . . . . . نازی : مجھے بھی آپکو کچھ بتانا ہے میں : جی بولئے کیا بیٹ ہے نازی : وہ ہم کل سے کھیت جا رہے ہیں فصل کی کاتایی شروع کرنی ہے فصل تیار ہو گئی ہے اسلئے . . . میں : یہ تو بہت اچھی بیٹ ہے . . . . کیا میں بھی آپکی مدد کر سکتا ہوں ؟ نازی : ( ہیسٹ ہوئے ) آپ چلنے فیرنی لگ گئے ہو اس کا مطلب یہ نہیں کی آپ ٹھیک ہو گئے ہو ابھی کوئی کام نہیں چُپ کرکے آرام کرو میں : سارا دن یہاں پادی-پادی کیا کروں آپکی بَدی مہربانی ھوگی اگر آپ مجھے بھی اپنے ساتھ خیتو میں لیجایی وہاں میں آپ سب کو کام کرتا دیکھتا رہوں گا تو میرا دِل بھی بہل جائیگا لے چلیے نا ساتھ مجھے بھی . نازی : بات تو آپکی ٹھیک ہے لیکن قاسم بھائی کو ہم سب نے آپ کے بڑے میں کچھ نہیں بتایا اِس طرح آپ ہماری ساتھ چلوگے تو ان کو کیا کہے گی ہم کی آپ کون ہو اور فر بابا بھی پتہ نہیں آپکو ساتھ لے جانے کی اجاجت دینگے یا نہیں میں تو یہ بھی نہیں جانتی میں : ویسی قاسم بھائی کہا ہے نازی : ( موح بناتے ہوئے ) ھونا کہا ہے ہونگے اپنے آوارہ دوستو كے ساتھ وہ گھر پر کبھی تیک کر تھوڑی بیٹھ طے ہے . بس نام کا ہی بیٹا دیا ہے اللہ نے ہمیں اگر وہ کام کرنے والے ہوتے تو ہم کو خیتو میں یہ سب کام کیوں کرنا پڑتا سب نصیب کی بات ہے . میں : آپ نے میرے لیے اتنا کچھ کیا ہے اک احسان اور کر دیجیئے ہو سکتا ہے میں قاسم بھائی کی تھوڑی بہت کمی ہی پوری کر دوں ویسی بھی آپ دونوں لڑکیاں اتنا کام اکیلے کیسے کروگی میں آپ دونوں کی مدد کر دونگا خیتو میں . . . . معاً جائیے نا نازی : ( کچھ سوچتے ہوئے ) ٹھیک ہے میں بھابی سے اور بابا سے بات کرتی ہوں تب تک آپ یہ دودھ پی لیجیے . میں : ٹھیک ہے فر نازی نیچے چلی گئی اس نے پہلے فضا سے اور فر بابا سے بات کی میرے لیے تو وہ لوگ معاً گئے میں یہ سب روشاندان سے بڑے آرام سے اوپر سے بیٹھا دیکھ رہا تھا . فر نازی اوپر آئی اور اس نے مجھے نیچے بلایا کی بابا آپکو بلا رہے ہیں . میں بابا كے کمرے میں گیا تو بابا ہمیشہ کی طرح چارپائی پر بیٹھے حقہ پی رہے تھے اور کچھ سوچ رہے تھے . میں : ہاں جی بابا جی آپ نے مجھے یاد کیا بابا : ہا بیٹا پہلے تو یہ بتاؤ کی اب تمہاری طبیعت کیسی ہے میں : بابا جی بہت بہتر ہوں اب میں . اب تو میرے تمام زخم بھی بھر چکے ہے بابا : بیٹا یہ تو بہت اچھی بات ہے . اچھا میں نے تم سے کچھ بات کرنے كے لیے بلایا ہے میں : جی بولئے بابا : بیٹا میرے 2 ہی بچے ہے اک یہ نازی اور اک میرا بیٹا قاسم لیکن قاسم اب ہاتھ سے نکل گیا ہے . سوچا تھا اسکا نکاح ہو جائیگا تو سدھر جائیگا لیکن وہ کچھ وقت بَعْد فر سے ویسا ہو گیا . اب وہ 5 مہینے بَعْد جیل سے نکال کر آیا ہے تو بھی اس میں کوئی سدھر نظر نہیں آ رہا . میرے دِل پر یہ بوجھ ہے کی انجانے میں میں نے اپنی بہو کی زندگی بھی برباد کردی ایسی ناکارہ انسان كے ساتھ اسکی شادی کرکے وہ بیچاری اک بہو كے ساتھ ساتھ اک بیٹے كے فرض بھی نبھاتی چلی آ رہی ہے جب سے اِس گھر میں آئی ہے . فضا نے اِس گھر کو بھی سنبھالا میری بھی اچھے سے دیخ-بحاال کی اور خیتو کا کام بھی سامبحالتی ہے . اب کل سے خیتو میں کاتایی شروع ہو رہی ہے اور ہر باڑ کی طرح قاسم خیتو کا کام سنبھالنے کی جگہ اپنے آوارہ دوستو كے ساتھ ہی گھمتا رہتا ہے . یہ اک بدھی کی یلتیججا ہی سمجھ لو آج مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے اگر تم برا نا منو تو کچھ دن جب تک خیتو میں کاتایی کا کام چل رہا ہے تب تک تم ان دونوں لڑکیوں كے ساتھ چلے جایا کروگے انکی مدد كے لیے . تمہارا مجھے بدھی پر وپکار ھوگا . میں : بابا جی آپ مجھے عیسی بولکار شرمندہ نا کرے میری اک اک سانس آپ سب کی کرجدار ہے آج میں زندہ ہوں تو آپ سب کی مہربانی سے ہوں اگر میں آپ لوگوں كے کچھ کام آ سکو تو یہ میرے لیے بَدی خوشی کی بات ہے میں کل سے روز ان کے ساتھ کھیت چلے جایا کرونگا . بابا : جیتے رہو بیٹا اللہ تمہیں لمبی عمر دے . . . مجھے تم سے یھی امید تھی آج سے تم بھی میرے بیٹے ہو ( میرے سر پر ہاتھ فیرتی ہوئے ) میں : لیکن بابا قاسم بھائی سے آپ کیا کہوگے کی میں کون ہوں کہا سے آیا بابا : بیٹا میں اب بھی اِس گھر کا ملک ہوں مجھے کسی کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے ( اتنے میں نازی بیچ میں بولتے ہوئے ) نازی : اسکی فکر آپ لوگ نا کرے میں ہوں نا میں سنبھال لونگی قاسم بھائی کو وہ کچھ نہیں کہیں گے میں : ٹھیک ہے بابا : بیٹی انکا بستر بھی میرے کمرے میں لگا دو آج سے یہ بھی اِس گھر کا بیٹا ہے اب اسکو قاسم سے چھپ کر رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے آج سے یہ بھی میرے ساتھ میرے کمرے میں ہی سویینجا . تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں نییر بیٹا . . ؟ ؟ ؟ میں : ( نا میں سر ہلاتے ) نہیں مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے ایسی ہی سارا دن نکل گیا اور شام کو میں بابا كے کمرے میں بیٹھا ان کے پیر دبا رہا تھا کی قاسم گھر آ گیا . پہلے تو وہ مجھے دیکھ کر تھوڑا حیراں ہوا فر بابا سے پوچھا کی کون ہے تو بابا نے اسے جھوٹ بولا کی جب تو جیل میں تھا تب میری طبیعت خراب ہو گئی تھی اِس ناوجاوان نے میری بہت دیخ-بحاال کی تھی اور مجھے سنبھالا تھا اِس بچھڑے کا دُنیا میں کوئی نہیں تھا یہ ناوکاری کی تلاش میں تھا اسلئے میں اسکو بھی اپنے گھر میں لے آیا . قاسم یہ بات سن کر آج-بابولا ہو گیا اور کہنے لگا کی آپ کیسے کسی اجنبی کو گھر میں اٹھا کے لا سکتے ہو . وہ میرے سامنے ہی بابا سے جھگڑا کرنے لگا میں وہاں بس خاموش بیٹھا سب سنتا رہا . انت میں بابا نے یہ کہہ کر بات ختم کردی کی میں اب بھی اِس گھر کا ملک ہوں مجھے کسی سے اجاجت لینے کی ضرورت نہیں کی میرے گھر میں کون رہیگا کون نہیں جس کو میرا فیصلہ منظور نہیں وہ یہ گھر چھوڑ کر جا سکتا ہے . قاسم کی یہ بات سن کر غصے سے آنکھیں لال ہو گئی تھی لیکن فر بھی وہ خود کو بی-باس سا محسوس کرکے پیر پاتاکتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا اور رات بھر گھر نہیں آیا . رات کو میں اپنے بستر پر پڑا آنے والے دن كے بڑے میں سوچ رہا تھا اور بہت خوش تھا کی کل صبح مجھے بھی گھر سے باہر نکلنے کا موقع مل رہا ہے کیونکی اتنے ماحینو سے میں بس اک خییدکی سے ہی سڑی دُنیا دیکھا کرتا تھا . ویسی تو میں یہاں کئی ماحینو سے تھا لیکن آج پہلی باڑ میں اِس گھر سے باہر نکل رہا تھا باہر کی دُنیا سے میں اک دم انجان تھا . یہ سب باتیں مجھے اک عجیب سی خوشی دے رہی تھی . انہی سوچو كے ساتھ میں کب سو گیا مجھے پتہ ہی نہیں چلا . لیکن 1 / 2 رات کو فر میری جاگ کھل گئی . فر وہی عجیب سا احساس مجھے محسوس ہونے لگا پاجامی كے اندر میرا لنڈ فر سے سخت ہوا پڑا تھا اور مجھے بیچین سا کر رہا تھا لیکن آج مجھے مزے کی وادیو میں لےجانے والی فضا ساتھ نہیں تھی . آج کوئی میرے بدن کو چوم نہیں رہا تھا . خود میں اک عجیب سا خالیپان سا محسوس کر رہا تھا . آج مجھے فر اسی نازک بدن کی ضرورت تھی جس نے کل رات میرے بدن كے ہر حصے كے ساتھ کھیلا تھا اور اک عجیب سا مزہ مجھے دیا تھا . اک پل كے لیے میرے دِل میں آیا کی آج اگر فضا نہیں آئی تو میں اسکے کمرے میں چلا جاؤ اور فر انہی مزے کی وادیو میں کھو جاؤ لیکن میری اسکے کمرے میں جانے کی ہمت نہیں ہوئی اسلئے بستر پڑا فضا کا انتظار کرتا رہا . لیکن فضا نہیں آئی اور میں فر سے انہی نیند کی وادیو میں کھو گیا . صبح جب میری آنکھ کھلی تو خود کو بہت خوش محسوس کر رہا تھا کیونکی آج میں باہر کی دُنیا دیکھنے والا تھا . میں جلدی سے بستر سے اٹھا اور تیار ہونے لگ گیا لیکن پہن نے كے لیے میرے پاس کپڑے نہیں تھے . اسلئے میں اداس ہوکے واپس کمرے میں آکے بیٹھ گیا . تبھی نازی کمرے میں آئی اور مجھے کاندھے سے حیلاکی بولی . . . نازی : جانا نہیں ہے کیا کھیت میں . . . . کل تو اتنا بول رہے تھے آج آرام سے بیٹھے ہو کیا ہوا ؟ میں : کیسے جاؤ میرے پاس پہن نے كے لیے کپڑے ہی نہیں ہے نازی : ( ہستی ہوئی ) بھابی نے کل ہی قاسم بحایجان كے کچھ کپڑے نکل دیئے تھے آپ کے لیے . وہ جو سامنے الماری ہے اس میں سب کپڑے آپ کے ہی ہے بس پورے آ جائے آپکا قد کونسا کم ہے ( ہیسٹ ہوئے ) میں : کوئی بیٹ نہیں میں پہن لونگا حسسو مت نازی : ٹھیک ہے جلدی سے کپڑے پہن لو فر کھیت چلیں گے ہم آپکا باہر انتظار کر رہی ہے میں : ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) ٹھیک ہے اب جاؤ تو میں کپڑے پہنو . نازی : اچھا جا رہی ہوں لامبووووو ( ہستی ہوئی زیبح دکھا کر بھاگ گئی ) فر میں جلدی سے کپڑے پہن کر تییار ہو گیا . قمیض مجھے کافی تنگ تھی اسلئے میں نے قمیض كے بٹن کھول کر ہی قمیض پہن لی اور پجامہ مجھے پیڑو سے کافی اونچا تھا میں ایسی ہی کپڑے پہانکار باہر نکل آیا جب مجھے فضا اور نازی نے دیکھا تو زور-زور سے ھسنے لگ گئی میں نے وجہ پوچھی تو دونوں نے کچھ نہیں میں سر ہلا دیا . اسکے بَعْد میں بھی سر جھٹک کر نازی اور فضا كے ساتھ کھیت كے لیے نکل گیا . آج میں بہت خوش تھا اور ہر طرف نظر گھماکی دیکھ رہا تھا . گاv كے سب لوگ مجھے عجیب سی نظروں سے گھور-گھور کر دیکھ رہے تھے اور ہنس رہے تھے اسکی وجہ شاید میرا پہناvا تھی . لیکن گاv والو كے اِس طرح مجھ پر ہسنا نازی اور فضا کو برا لگا تھا اسلئے دونوں کا چہرہ اترا ہوا تھا اور چہرہ زمین کی طرف جھکا ہوا تھا . کچھ دیر میں ہم کھیت پوحونچ گئے وہاں سرسوں كے لہلہاتے پیلے پھول ، جیحو کی فصل اور اسکا سنہرا رنگ اور یہ کھلا آسمان دیکھ کر میری خوشی کا ٹھکانا ہی نہیں تھا میں کسی چھوٹے بچے كے طرح دونوں بہے فیلایی خیتو میں بھاگ رہا تھا کیونکی میرے لیے یہ سب نظارہ نیا تھا . کچھ دیر میں اِس قدرت کی سوندارتا کو نیحارتا رہا فر میرا دھیان نازی اور فضا پر گیا جو کی خیتو میں کام کرنے میں لگی تھی اور مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی . مجھے خود پر تھوڑی شرمندگی ہوئی کی میں یہاں ان کے ساتھ کم کروانے آیا تھا اور یہاں مستی کرنے لگ گیا . اسلئے میں واپس ان کے پاس آ گیا اور انسے کام كے لیے پوچحنی لگا انہوں نے جو سرسوں اور جیحو کی فصل کاٹ لی تھی اور اسکی جاتھاری سی بنا لی تھی . جس کو مجھے اُٹھا کر اک جگہ جمع کرنا تھا اور بَعْد میں صاف کرکے بوریو میں بھرنا تھا . ایسی ہی سارا دن میں ان کے ساتھ کم کرتا رہا . شام کو جب ہم گھر آ رہے تھے تب نازی فضا كے کان میں کچھ بول کر کہی چلی گئی اور مجھے فضا كے ساتھ گھر جانے کا بول گئی مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا کی نازی کہا گئی ہے لیکن فر بھی میں اور فضا گھر كے لیے چل پڑے . کافی دور تک ہم دونوں خاموشی سے چلتے رہے اب ہم دونوں میں اس رات كے بَعْد اک جھجھک تھی اور اب بھی میرے دماغ میں وہی رات والا سین تھا میں فضا سے پوچھنا چاہتا تھا کی اس نے عیسی کیوں کیا . لیکن اسے پہلے کی میں کچھ بول پتہ فضا خود ہی بول پڑی . فضا : نییر اس رات كے لیے مجھے معاف کر دو میں جذبات میں بہہ گئی تھی اور خود پر قابو نہیں رکھ پائی میں : کوئی بات نہیں لیکن مجھے تو وہ احساس بہت اچھا لگا تھا فضا : ( چونکتے ہوئے ) نہیں یہ گناہ ہے ہم وہ سب نہیں کر سکتے کیونکی میں شادی شدہ ہوں اور اس دن جو ہماری بیچ ہوا وہ صرف اک شوہر اور اسکی بِیوِی كے بیچ ہی ہو سکتا ہے کسی اور كے ساتھ یہ سب کرنا جونحا ہوتا ہے سمجھے بدھو . . . . میں : ٹھیک ہے میں سمجھ گیا فضا : اس رات جو ہوا وہ آپ بھی بھلا دیجیئے اور ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا مجھ سے بہت بڑا گناہ ہو گیا تھا قاسم کی مار نے مجھے اندر سے توڑ دیا تھا لیکن آپ کے پیار كے 2 میٹھے بول نے مجھے بہکا دیا تھا . لیکن آگے سے ہم عیسی کچھ نہیں کرینگے ٹھیک ہے میں : ٹھیک ہے ایسی ہی باتیں کرتے ہوئے ہم گھر آ گئے اور ہماری گھر آنے كے کچھ دیر بَعْد نازی بھی آ گئی اسکے ہاتھ میں اک تھیلہ تھا جس کو اس نے چھپا لیا اور بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا کی یہ کیا لے کے آئی ہے فر بھی چُپ رہا اور آکے بستر پر لیٹ گیا فضا راسویی میں چلی گئی رات كھانا بنین كے لیے . اتنے میں نازی میرے پاس آ گئی اک فیتہ لیکر اور اس نے میرا ماپ لیا . مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کی نازی کیا کر رہی ہے اسلئے ہاتھ پیر فیلایی کھڑا رہا جیسے وہ کھڑا ہونے کو کہتی ہو رہا تھا لیکن وہ بس اپنے کام کیے جا رہی تھی لیکن میرے کوئی بھی سوال کا جواب نہیں دے رہی تھی . ماپ لیکر نازی واپس اپنے کمرے میں چلی گئی اور میں واپس بستر پر لیٹ گیا . آج میرا پُورا بدن دَرْد سے ٹوٹ رہا تھا . رات كے کھانے كے بَعْد مجھے بستر پر پڑتے ہی نیند آ گئی . شاید کسی نے سچ ہی کہا ہے کی جو مزہ محنت کرکے روتی کھانے میں ہے وہ حرام کی روتی کھانے میں نہیں آ سکتا . اگلے دن صبح جب میں اٹھا تو میرے بستر كے پاس 2 نئی جوڑی کپڑے پڑے تھے اب بات میری سمجھ میں آ گئی کی نازی نے رات بھر جاگ کر میرے لیے نئے کپڑے سلے ہیں میں وہ کپڑے اٹھائے باہر آیا اور نازی کو شکریہ کہا . تو اس نے صرف اتنا ہی کہا کی اب دیکھتی ہوں تم پر کون ہنستا ہے . میں آج بہت خوش تھا اور نئے کپڑے پہانکار کھیت كے لیے نکل رہا تھا . آج کوئی مجھ پر نہیں ہنس رہا تھا لیکن آج فضا اور نازی مجھے دیکھ کر بہت خوش تھی . شاید کل گاv والو کا مجھ پر ہسنا ان کو برا لگا تھا اسلئے انہوں نے میرے لیے نئے کپڑے سلے تھے . ایسی ہی میں نازی اور فضا تینوں پُورا دن خیتو كے کام میں لگے رہے . دن گزرنے لگے روز میں نازی اور فضا كے ساتھ کھیت جاتا اور انکی مدد کرتا . قاسم روز دن بھر اپنے آوارہ دوستو كے ساتھ گھمتا رہتا اور رات کو کوٹھے پر پڑا رہتا . بابا میرے کام سے مجھ سے بہت خوش رہتے تھے لیکن قاسم مجھ سے نفرت کرتا تھا اسلئے میری موجودجی میں بہت کم گھر پر رہتا . لیکن اک نئی چیج جو میں نے محسوس کی تھی وہ یہ کی اب فضا مجھ سے دور-دور رہنے لگی تھی لیکن نازی میرا بہت خیال رکھنے لگی تھی کسی پتنی کی طرح . جب کبھی پاس كے خیتو میں کام کرنے والی کوئی عورت مجھ سے ہنس کر بات کر لیتی تو نازی کا چہرہ غصے اور جلن سے لال ہو جاتا اور بنا واجاحا مجھ سے جحاجادنی لگ جاتی . کچھ ہی دن میں ہم نے مل کر سڑی فصل کی کاتایی کر ڈی تھی اب فصل بیچنی کا وقت تھا . اسلئے میں نے نازی سے پوچھا کی اب اِس فصل کا کیا کرینگے تو اس نے کہا کی ہم سب گاv والے اپنی فصل گاv كے بڑے زامیندار کو بیچتی ہیں . فضا : زمیندار ہر سال اپنے حساب سے فصل کی قیمت لگاتا ہے اور خرید لیتا ہے ایسی ہی ہم سب کا کسی طرح گزارا ہو جاتا ہے . میں : لیکن اگر تم کسی اور کو یہ فصل بیچو تو ہو سکتا ہے کی تم کو جادا پیسے ملے . نازی : یہ بات ہم سب جانتے ہیں لیکن اسکے لیے ہم کو شہر جانا پڑیگا جو ہماری لیے ممکن نہیں کیوں کی ہم لڑکیاں اکیلی کیسے شہر جائے اور زمیندار یہ بات کبھی برداشت نہیں کرے گا کی گاv کا کوئی بھی اپنی فصل باہر بیچی وہ اپنے غنڈے بھیج کر اس کسان کو بہت بری طرح سے مرتا ہے . میں : ( یہ سن کر جانے کیوں مجھے غصہ آ گیا اور میرے موح سے نکل گیا ) مر گئے مرنے والے . . . شیر کی جان لینے كے لیے فاولاد کا کلیجہ چاہئیے . نازی : ( حیران ہوتی ہوئی ) ایسی بولی تم نے کہا سے سیکھی ؟ میں : پتہ نہیں جب تم نے مار-پییت کا نعم لیا تو خود ہی موح سے نکل گئی ایسی ہی باتیں کرتے ہوئے ہم گھر آ گئے دیکھا فضا کمرے میں بیٹھی روو رہی تھی . ہم بحاجکار اسکے پاس گئے اور پوچھا کی کیا ہوا روو کیوں رہی ہو . فضا : قاسم ابھی آیا تھا اس نے کہا کی اِس بار سڑی فصل بیچنی وہ جائیگا میں : تو اس میں رونے کی کیا بات ہے یہ تو اچھی بات ہے نا وہ گھر کی ذمہ داری اٹھا رہا ہے فضا : نہیں وہ اگر فصل بیچیجا تو سارا پیسہ جووی اور شراب اور کوٹھے میں اڑا دیگا فر سال بھر ہم سب کیا کھائینگے . کچھ بھی ہو جائے یہ فصل قاسم کو مت بیچنی دینا نییر میں تمھارے آگے ہاتھ جودتی ہوں . میں : تم گھبراؤ مت جیسا تم چاہتی ہو ویسا ہی ھوگا لیکن رونا بند کرو اتنے میں قاسم کچھ آدمیو كے ساتھ گھر آیا اور اناز کی بوریا اتحوانی لگا تو بابا نے اسکو منع کیا لیکن اس نے انکی بات کو ان سنی کرتے ہوئے بوریا اتحوانی میں ان آدمیو کی مدد کرنے لگا . میں یہ سب کچھ بیٹھا دیکھ رہا تھا . اتنے میں بابا نے مجھے آواز لگائی اور قاسم کو بوریا لےجانے سے روکنے کا کہا تو میں کھڑا ہوا اور دروازے كے پاس جاکے رک گیا ، میں : قاسم جب بابا منع کر رہے ہیں تو تم کیوں فصل بیچ رہے ہو بابا خود اپنے حساب سے بیچ لینگے نا ان آدمیو کو یہاں سے جانے کا کہو . قاسم : بکواس مت کر کمینے آیا بڑا دلال سالا اب تو مجھے سکحاییجا کی کیا کرنا چاہئیے اور کیا نہیں پہلے میرے گھر پر قبضہ کر لیا اب اِس اناج كے پیسے پر قبضہ کرے گا عیسی کبھی نہیں ہونے دونگا میں بودحدحا تو پاگل ہے . چل میرے کام میں داخل نا دے نہیں تو یھی زندہ گاد دونگا تجھے . میں : دیکھو قاسم پیار سے کہہ رہا ہوں معاً جاؤ بابا کی بات مجھے غصہ نا دلاؤ قاسم : تو ایسی نہیں مانےگا نا رک تیرا علاج کرتا ہوں میں اس نے ان آدمیو کو آواز لگائی تو ان لوگوں نے آکے مجھے دونوں باجو سے پکڑ لیا اور قاسم نے اور اک اور آدمی نے مجھے مرنا شروع کر دیا . میرے پیٹ میں اور موح پر گھوسو کی جیسے برسات سی ہو گئی . میرے موح سے خون نکل رہا تھا آنکھیں بند ہو رہی تھی کی اچانک اک لوہے کا سریا مجھے میرے کاندھے پر لگا شاید کسی نے پیچھے سے مجھے ساریی سے مارا تھا . دَرْد کی اک تیز لہر میرے پورے بدن میں بہہ گئی اور موح سے بس اک آں ہی نکل پائی اور میں زمین پر نیچے گر گیا اور سب لوگ مجھے دیکھ کر ہنس رہے تھے . نازی اور فضا کو بھی 2 ادمیو نے پکڑ رکھا تھا وہ دونوں روو رہی تھی اور قاسم کو روک رہی تھی لیکن قاسم کسی کی بھی بات سنے کو تیار نہیں تھا . اچانک میری آنکھیں بند ہونے لگی اور میری آنکھوں كے سامنے اک تصویر سی دودھ گئی جس میں میں اک ساتھ کئی لوگوں کو پیٹ رہا ہوں یہ دیکھ کر میں نے اچانک سے آنکھیں کھولی تو مجھے اک لات میری چھاتی کی طرف بڑھتی ہوئی محسوس ہوئی . میرے ہاتھ اپنے آپ اس پیر كے نیچے چلا گیا اور میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اس پیر کو جور سے گول گھوما دیا وہ آدمی اک تیز دَرْد كے ساتھ زمین پر غم کر گر گیا اسکا پیر گرنے كے بَعْد بھی ویسا ہی اُلٹا تھا شاید اسکا میں نے پیر پوری طرح سے توڑ دیا تھا . اب میں نے اپنی دونوں تانجیی ہوا میں گول گھوما كے اپنے ہاتھ كے سہارے اک جھٹکے سے کھڑا ہو گیا . اتنے میں اک اور آدمی جسکے ہاتھ میں سریا تھا وہ مجھے مرنے كے لیے میری طرف لپکا میں نے اپنی اک ٹانگ ہوا میں اُٹھا کر اسکے موح پر ماری تو وہ وہی گر گیا اور اسکے موح سے جیسے خون کا فوارہ سا نکل گیا . جیسے ہی میں نے پلٹ کر باقی ادمیو کی طرف نظر گھمائی تو سب اپنی-اپنی حاتحیار چھوڑ کر بھاگ گئے . قاسم وہی کھڑا میرے سامنے کانپ رہا تھا میں اسکی طرف بڑھا تو نازی اور فضا بیچ میں آ گئی اور مجھے اسکو مرنے سے منع کیا . میں نے اپنی انگلی اسکے موح كے پاس لیک نہیں میں اشارہ کیا اور پِھر نیچے زمین پر پڑی تمام اناج کی بوریو کو انکی جگہ پر واپس رکھ دیا اور واپس اپنے کمرے میں آکے بابا كے پس بیٹھ گیا . قاسم تیز قدموں كے ساتھ گھر سے باہر نکل گیا اب پورے گھر میں اک شانتی سی چاہ گئی کوئی کچھ نہیں بول رہا تھا تھوڑی دیر میں نازی كے ساتھ فضا بھی کمرے میں آ گئی سب مجھے حیرانی سے دیکھ رہے تھے . بابا : بیٹا تمہارا بوحوت-بوحوت شکریہ آج تم نا ہوتے تو میری بچیو کی سال بھر کی محنت جایا ہو جاتی میں : آپ نے مجھے بیٹا کہا تھا نا تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کی اک بیٹے كے ہوتے اسکے گھروالوں کی محنت جایا ہو جائے بابا : ( میرے سر پر ہاتھ فیرتی ہوئے ) تم سدا خوش رہو بیٹا . فضا بیٹی دیکھو نییر كے کتنے چوٹ لگی ہے اسکو دوا لگا دو نازی : کوئی بات نہیں بابا دوا میں لگا دیتی ہوں . فضا : ( میری طرف دیکھتے ہوئے ) لیکن آپ نے عیسی لادنا کہا سیکھا ؟ میں : پتہ نہیں جب وہ لوگ مجھے مار رہے تھے تو پتہ نہیں میرے سامنے اک تصویر سی آئی جس میں میں بہت سارے لوگوں کو اک ساتھ مار رہا تھا بس اسکے بَعْد کیا ہوا تم نے دیکھا ہی لیا ہے . نازی : ویسے کچھ بھی کہو مزہ آ گیا کیا مارا ہے . . . . واہہ اب وہ لوگ کم سے کم 6 مہینے بستر سے نہیں اٹھیں گی فضا : چل پاگل کہی کی تجھے مزے کی آگ لگی ہے مجھے تو اب یہ ڈر لگ رہا ہے کی زمیندار کیا کرے گا نییر نے اسکے آدمیو کو مارا ہے . میں : آپ فکر نا کرو اب اِس گھر کی طرف کوئی انگلی بھی اٹھا کے نہیں دیکھ سکتا زمیندار تو کیا اسکا باپ بھی اب کچھ نہیں کر سکتا . میں ہوں نا . فضا : لیکن ہم کو آپکی بھی تو فکر ہے نا . . . آپکو کچھ ہو گیا تو . . . . دیکھو آج بھی آپکو کتنی چوٹ لگ گئی ہے کہی کچھ ہو جاتا تو . . . . وہ تو غنڈے موالی ہے انکا نا آگے کوئی نا پیچھے کوئی لیکن آپکا اب اک پریوار ہے . میں : ارے آپ لوگ فکر کیوں کر رہے ہو کچھ نہیں ہوا مجھے تھوڑی سی خراش آئی سب ٹھیک ہو جائیگا کچھ دن میں . ایسی ہی کچھ دیر بَعْد نازی نے میرے داوائی لگا ڈی . اور فر ہم سب كھانا خاکی سو گئے اگلے دن میں نازی اور فضا شہر جاکے فصل بیچ آئے اور ہمیں زمیندار سے دوجونی قیمت ملی فصل کی جسے سب لوگ بہت خوش تھے . فر ہم نے شہر سے ہی گھر کا ضروری سامان خریدا اور نازی کہنے لگی کی اسکو نئے کپڑے لینے ہے سب کے لیے . اسکی جد كے کرن ہم تینوں اک دکان پر گئے جہاں سب کے لیے کپڑے خریدنے لگ گئے . اتنے میں فضا کو اک چکر سا آیا اور وہ میرے کاندھے پر گر گئی جسے میں نے زمین پر گرنے سے پہلے ہی سنبھال لیا . اس نے صرف اتنا ہی کہا کی کمزوری کی وجہ سے چکر آ گیا ھوگا اور ہم سب فر سے کپڑے دیکھنے میں لگ گئے . ایسی ہی سارا دن خرید دری کرنے كے بَعْد بس میں گھر آ گئے . آج گھر میں سب بہت خوش تھے سوائے قاسم كے . میں نے اک جوڑی کپڑے اٹھائے اور قاسم کو دینے اسکے کمرے میں چلا گیا لیکن اس نے وہ کپڑے زمین پر فینک دیئے . میں نے بھی جادا اسکو کچھ نہیں کہا اور کمرے سے باہر آکے بابا كے پس بیٹھ گیا جہاں نازی بابا کو نئے کپڑے دکھا رہی تھی . تھوڑی دیر بَعْد میں اور بابا ہی کمرے میں بیٹھے تھے . رات کو سب نے مل کر كھانا کھایا اور سو گئے قاسم آج بھی گھر میں نہیں تھا . ابھی میری آنکھ ہی لگی تھی کی کسی نے مجھے کاندھے سے پکڑ کر ہلایا تو میری جاگ کھل گئی . یہ فضا تھی جو مجھے اٹھا رہی تھی اور باہر چلنے کا اشارہ کر رہی تھی . میں اسکے پیچحی-پیچحی کمرے كے باہر آ گیا . میں : کیا ہوا اتنی رات کو کیا کام ہے فضا : مجھے آپ سے اک ضروری بات کرنی تھی میں : اِس وقت . . . بولو کیا کام ہے فضا : اک جاد-باد ہو گئی ہے سمجھ نہیں آ رہا ہے کیسے کہو میں : کیا ہوا کھل کر بتاؤ نا فضا : وہ میں ماں بننے والی ہوں میں : تو یہ تو خوشی کی بات ہے اس میں میری نیند کیوں خراب کی یہ بات تو تم صبح بھی بتا سکتی تھی فضا : ( جحونجحلیٹ ہوئے ) آپ بات نہیں سمجھ رہے . . . . میں آپ کے بچے کی ماں بننے والی ہوں میں : کیا . . . . . . . ( حیرانی سے ) یہ کیسے ہو سکتا ہے . . . . فضا : اس دن وہ سب ہوا تھا نا شاید تب ہی ہو گیا . میں : یہ بھی تو سکتا ہے کی یہ قاسم کا بچہ ہو فضا : مجھے پُورا یقین ہے یہ آپکا بچہ ہے کیونکی قاسم جب سے جیل سے آیا ہے اس نے مجھے ہاتھ تک نہیں لگایا . جانے اس دن مجھے کیا ہو گیا تھا . . . . ( یہ کہتے ہوئے وہ چُپ ہو گئی ) میں : تو کسی کو کیا پتہ یہ کس کا بچہ ہے تم بول دینا قاسم کا ہے اور کیا . میں بھی کسی سے کچھ نہیں کہونگا فضا : نہیں قاسم کو پتہ چل جائیگا اور وہ سب کو بول دیگا کی یہ میرا بچہ نہیں ہے . کیونکی اس نے تو مجھے چھوا بھی نہیں تو میں ماں کیسے بن گئی ( پریشان ہوتے ہوئے ) میں : چلو جو ھوگا دیکھا جائیگا ابھی تم بھی سو جاؤ بہت رات ہو گئی ہے ہم صبح کچھ سوچ لینگے تم فکر نا کرو میں تمھارے ساتھ ہوں فضا : پکا میرے ساتھ ہو نا میں : ہا بابا فضا : مجھے چھوڑ کر کبھی مت جانا نییر میں تمھارے بنا بہت اکیلی ہوں ( مجھے گلے لگاتے ہوئے اور روٹ ہوئے ) میں : نہیں جاؤنگا میری جان چُپ ہو جاؤ ( اسکے ماتھے کو چُومتے ہوئے ) اب جاؤ جاکے تم بھی سو جاؤ بہت رات ہو گئی فضا : ( ہاں میں سر ہلتے ہوئے اور میرے گال کو چوم کر ) اچھا آپ سو جاؤ اب . فر ہم اک دوسرے سے الگ ہوئے اور اپنی-اپنی کمرے میں جاکے بستر پر لیٹ گئے نیند دونوں کی آنکھوں سے کوسو دور تھی شاید آج ہم دونوں ہی اک ہی چیج كے بڑے میں سوچ رہے تھے . میرے اندر اس دن كے سوئے جذبات آج فر جاگ گئے تھے . لنڈ فر سے کھڑا ہو گیا تھا فر وہی اک عجیب سا احساس محسوس ہونے لگ گیا تھا لیکن خود کو قابو کرتے ہوئے میں نے آنکھیں بند کر لی اور سونے کی کوشش کرنے لگا . میں اب بس آنے والے دن كے بڑے میں سوچ رہا تھا میرے دماغ میں کئی سارے سوال تھے جن کا جواب صرف آنے والے وقت كے پاس تھا . میں اپنی سوچو كے ساتھ بستر پر آکے لیٹ گیا اور جلدی ہی نیند نے اپنی آغوش میں مجھے لے لیا . صبح بابا جلدی جاگ جاتے تھے اور انکی آواز سے میری بھی آنکھ کھل جاتی تھی . میں دن كے ضروری کامو سے فارغ ہوکے فضا اور نازی كے ساتھ کھیت پر کام كے لیے نکل گیا . دن بھر ہم تینوں خیتو میں کم کرتے رہے اور شام کو جب گھر آئے تو بابا نے ہم سب کو گہری فکر میں ڈال دیا . کیونکی قاسم کل رات سے گھر نہیں آیا تھا یہ سن کر ہم تینوں كے ہوش بھی اُڑ گئے کیونکی لاکھ لڑنے -جحاجدنی كے بَعْد بھی وہ دن میں کم سے کم اک باڑ تو گھر آ ہی جاتا تھا . بابا کی بات سن کر مجھے بھی قاسم کی چنتا ہو رہی تھی اور میں اسکو ڈھونڈنے كے بڑے میں ہی سوچ رہا تھا . کی بابا نے مجھے کہا . . . . . . بابا : نییر بیٹا قاسم رات سے گھر نہیں آیا ہے . . . . جانے یہ لا-پارواح انسان کو کب عقل آئیگی . میں : بابا آپ فکر نا کرے میں ابھی جاتا ہوں اور قاسم کو ڈھونڈ کر لاتا ہوں . فضا : میں بھی آپ کے ساتھ چالو ؟ میں : نہیں آپ گھر میں ہی رکو بابا كے پاس میں ابھی قاسم بھائی کو لیکر آٹا ہوں . فضا : آپ اپنا بھی خیال رکھنا میں : اچھا فر میں قاسم کو گاv بھر میں ڈھونڈتا رہا شام سے رات ہو گئی تھی لیکن قاسم نہیں ملا تھا . میں نے اسکے تمام اددو پر بھی دیکھا جہاں وہ اکثر شراب پینے اور جوا کھیلنے جاتا تھا لیکن وہاں بھی کسی کو قاسم كے بڑے میں کچھ نہیں پتہ تھا . تبھی مجھے اک آدمی ملا جس نے مجھے بتایا کی قاسم اکثر کوٹھے پر بھی جاتا ہے . میں نے قاسم کو برحال وہی ڈھونڈنے جانے کا فیصلہ کیا . آج میں پہلی باڑ ایسی کسی جگہ کی طرف جا رہا تھا . میرے دِل میں ہزاروں سوال تھے لیکن اِس وقت مجھے قاسم کو ڈھونڈنا تھا اسلئے اپنے اندر کی بے چینی کو میں نے در-کینار کر دیا اور کوٹھے کی طرف بڑھ گیا . میں تیز قدموں كے ساتھ کوٹھے کی طرف جا رہا تھا اور دِل میں ڈر بھی تھا کی کہی کوئی یہ بات فضا یا نازی کو نا بتا دے کی میں بھی کوٹھے پر گیا تھا جانے وہ میرے بڑے میں کیا سوچیگی . میں اپنی سوچو میں ہی گم تھا کی اچانک مجھے اک عمارت نظر آئی جو پوری طرح جاج-ماجا رہی تھی لائٹ کی روشنی كے ساتھ منو صرف اس عمارت كے لیے ابھی بھی دن ہے باقی تمام گاv کی رات ہو چکی ہے . عمارت سے بہت شور آ رہا تھا میری سمجھ میں بھی نہیں آ رہا تھا کی قاسم كے بڑے میں قصے پوچھو . میں نے گاتے كے سامنے کھڑے اک کالے سے آدمی سے قاسم كے بڑے میں پوچھا . . . . میں : سنیے آدمی : اندر آ جاؤ جناب باہر کیوں کھڑے ہو میں : نہیں میں باہر ہی ٹھیک ہوں مجھے بس قاسم كے بڑے میں پوچھنا تھا وہ کہی یہاں تو نہیں آیا آدمی : ( جور سے ہیسٹ ہوئے ) صحاب یہاں تو کتنے ہی قاسم روز آتے ہیں اور روز چلے جاتے ہیں . آپکو اگر پوچھنا ہے تو اندر امینا بائی سے پوچھو . میں : ٹھیک ہے آپکا بوحوت-بوحوت شکریہ . اس آدمی نے مجھے اندر جانے كے لیے رستہ دیا اور میں اپنے جوڑو سے دھڑکتی دِل كے ساتھ چاروں طرف نظر داوداکار دیکھا کی کہی مجھے کوئی دیکھ تو نہیں رہا اور فر سیدحیا چڑھ گیا . اندر بہت تیز گانو کا شور تھا اور لوگوں کی واح-واحی کی آوازیں آ رہی تھی . جیسے ہی میں اندر پوحونچا تو وہاں اک بہت ہی سندر سی لڑکی چھوتی-چھوتی کپڑوں میں ناچ رہی اور اسکے چارو طرف بیٹھے لوگ اس پر نوتو کی باریش سی کر رہے تھے . کوئی آدمی اسکی چولی میں نوٹ ڈال رہا تھا تو کوئی اسکے گھاگھری کی ڈوری كے ساتھ نوٹ لاتکا رہا تھا . وہ لڑکی بس مست ہوکے گول گول گھومے جا رہی تھی جیسے اسکو کسی كے بھی ہاتھ لگانے کی کوئی پرواہ ہی نا ہو . اچانک وہ لڑکی ناچتی ہوئی میرے اور آئی اور خود کو سنبھل نا سکی اور مجھ پر گرنے کو ہوئی میں نے فوراً آگے بڑھ کر اس لڑکی کو تھام لیا اور گرنے سے بچایا . جب میں اسے نظر بڑھکے دیکھا تو وہ ہسینے سے لاتھ-پاتھ تھی اور اسکی سانس بھی پھولی ہوئی تھی . میں : آپ ٹھیک تو ہے آپکو لگی تو نہیں ؟ لڑکی : ھائے . . . اب جاکے تو قرار آیا ہے آپ نے جو تھام لیا ہے . میں : ( مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا کی کیا جواب دوں اسلئے بس مسکرا دیا ) لڑکی : ھائے تمہارا بدن کتنا کاسا ہوا ہے . . . . کون ہو تم . . . . یہاں پہلی باڑ دیکھا ہے میں : میرا نام نییر ہے میں قاسم بھائی کو ڈھونڈنے كے لیے آیا ہوں وہ تو کل رات سے گھر نہیں آیا . . . لڑکی : اوہ اچھا وہ قاسم . . . . آپ اندر چلے جائیے اور شبنم سے پوچھئے وہ اسکا خاص ہے ( آنکھ مار كے ) میں : شکریہ آپکی بہت مہربانی جی میں اندر کمرے میں چلا گیا جہاں بہت ساری لڑکیاں بیٹھی ہوئی تھی . میں وہاں شبنم کا پوچحنی جانے لگا تو اک بودحیا نے مجھے روک دیا کی ایہہ ناوابزاادی اندر کہا غصہ چلا آیا ہے یہ لڑکیاں انتظار میں ہے کوئی اور باہر والی میں سے کوئی ڈھونڈ جاکے . مجھے اسکی کہی ہوئی بات سمجھ نہیں آئی اسلئے اسی سے پوچھا کی میں شبنم جی کو ڈھونڈ رہا ہوں . بودحیا : شبنم جیی ( جور سے ہستی ہوئی ) کون ہے ری تو چیخنے ؟ میں : میرا نام نییر ہے اور شبنم جی سے ملنا ہے شبنم : بول چیخنے کیا کام ہے میں ہوں شبنم میں : جی میں قاسم کو ڈھونڈ رہا تھا تو باہر والی لڑکی نے بتایا کی آپکو معلوم ھوگا قاسم كے بڑے میں وہ رات سے گھر نہیں آیا ہے گھر میں سب اسکی فکر کر رہے ہے . شبنم : وہ تو کافی دن سے یہاں بھی نہیں آیا . ویسی بھی اس کنگال كے پاس تھا کیا . . . نا سیل کی جیب میں دم تھا نا حاتحیار میں ( برا سا موح بنا كے ) . میں : یہاں نہیں آیا تو کہا گیا شبنم : مجھے کیا پتہ اسکی بِیوِی کو جاکے پوچھ . اب مجھے کوئی امید نظر نہیں آ رہی تھی کی جو مجھے قاسم كے بڑے میں بتا سکے میں وہاں سے باہر نکل آیا . کسی کو بھی قاسم كے بڑے میں نہیں پتہ تھا . میں پوری رات اسکو دحوندح-دحوندح کر تھک چکا تھا اور میرے پیر بھی چال-چال کر جواب دے چکے تھے . اب نا تو مجھ میں چلنے کی ہمت تھی نا ہی قاسم کا کچھ پتہ چلا تھا میں نے گھر واپس جانے کا فیصلہ کیا اور بو-جحال دِل كے ساتھ واپس گھر آ گیا جب گھر آیا تو گھر كے باہر پولیس کی گاڑی کھڑی تھی جس کو دیکھ کر نا-جانی کیوں اک پل كے لیے میں چونک گیا . بابا اور فضا تھاانیدار سے کچھ بات کر رہے تھے مجھے ان کو دیکھ کر کچھ سمجھ نہیں آیا اسلئے وہاں جاکے سارا معاملا پتہ کرنا بہتر سمجھا . جب میں وہاں پوحونچا تو جانے کیوں تھاانیدار مجھے غور سے دیکھنے لگا جیسے کچھ یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہو . لیکن فضا نے مجھے آنكھوں سے ہی چُپ رہنے کا اشارہ کیا اور میں بس پاس جاکے کھڑا ہو گیا اور تھانیدار کو سلام کیا . تھانیدار : ڈبلیو . سلام ، یہ کون ہے . بابا : جناب یہ میرا چھوٹا بیٹا ہے . تھانیدار : ( کچھ یاد کرتے ہوئے ) تم کو میں نے پہلے بھی کہی دیکھا ہے . میں : جی نہیں صاحب میں تو آپکو پہلی باڑ مل رہا ہوں . تھانیدار : کیا نام ہے تیرا ؟ بابا : جناب اس کا نام نییر ہے بہت سییدح-سادحا لڑکا ہے کوئی بری عادت نہیں اسکو . تھانیدار : اوہ اچھا-اچھا بیٹا ہے تمہارا . . . . فر یہ کوئی اور ہے اسکو دیکھ کر کسی کی یاد آ گئی جو یک-دام اس کے جیسا تھا . اتنے میں فضا نے نازی کو اشارہ کیا اور وہ مجھے لے کے اندر چلی گئی . یہ سب کیا ہو رہا تھا مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا . . . یہ تھانیدار یہاں کیوں آیا ہے اتنی رات کو ، کسی نے بھی مجھ سے قاسم كے بڑے میں کیوں نہیں پوچھا ایسی ہی میرے اندر کئی سوال اک ساتھ کھڑے ہو گئے تھے . اچانک میری نظر جیپ میں بیٹھے قاسم پر پڑی تو میں اسکی اور جانے لگا لیکن نازی نے مجھے باجو سے پکڑ لیا اور اندر آنے کا اشارہ کیا . میں بنا کوئی سوال کیا چپ چاپ اسکے ساتھ اندر آ گیا . میں : یہ سب کیا ہو رہا ہے اور یہ قاسم کو کہا لے کے جا رہے ہیں ، تھانیدار مجھے ایسی کیوں دیکھ رہا تھا ؟ نازی : اک تو تم سوال بہت کرتے ہو . . . . ابھی کچھ مت بولو بس اندر چلو بابا بات کر رہے ہیں نا . . . میں : اچھا ٹھیک ہے ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) کچھ دیر بَعْد تھانیدار بھی چلا گیا اور ان کے ساتھ قاسم بھی لیکن میں بس خاموش ہوکے اپنے ساوالو کا جواب جاننے كے لیے بے قرار ہوکے بابا اور فضا کا انتظار کرنے لگا . کچھ دیر میں بابا اور فضا بھی گھر كے اندر آ گئے . میں : بابا یہ سب کیا ہو رہا ہے اور یہ قاسم کو کہا لے کے جا رہے ہیں ؟ بابا : بس بیٹا جانے کونسے گناہوں کی سزا مل رہی ہے مجھ بدھی کو جو بڑھاپے میں یہ دن دیکھنے کو مل رہے ہیں ( اپنے سر پر ہاتھ رکھا کر بیٹھ طے ہوئے ) میں : کیا ہوا ہے بابا کوئی مجھے کچھ بتاتا کیوں نہیں . نازی : وہ بھائی جان نے ہماری فصل سارپانچ کو بیچ ڈی تھی اور اسے پیسے لے کے جووی اور شراب میں اڑا دیئے تھے اب سارپانچ اپنے پیسے واپس مانگ رہا ہے لیکن قاسم بھائی نے وہ سب پیسے خرچ کر دیئے اسلئے اس سارپانچ نے اپنے پیسے نکلوانے كے لیے پولیس کو بلا لیا اور وہ ان کو پکڑ كے لائی گئی ہے . میں : تو ہم ان کے پیسے واپس کر دیتے ہیں نا اس میں کیا ہے آخر وہ اِس گھر کا بیٹا ہے ویسی بھی ہماری پاس فصل كے کافی پیسے بچے ہوئے ہیں بابا : نہیں بیٹا قاسم كے لیے ہم بہت باڑ پیسے دے چکے ہیں اب ضرورت نہیں ہے شاید جیل میں رہ کر ہی اسے عقل آ جائے . میں : بابا میں سارپانچ سے بیٹ کرکے آٹا ہوں قاسم بھائی كے لیے شاید وہ معاً جائے ؟ بابا : نہیں بیٹا وہ بہت بی-ریحام انسان ہے وہ نہیں مانےگا تم بھی ان سب چککارو میں نا پادو تو بہتر ھوگا . ( اور مایوس قدموں كے ساتھ اپنے کمرے میں چلے گئے ) میں : مانےگا بابا ضرور مانےگا نازی میں ابھی آیا . نازی : نہیں نییر وہ بہت گھٹیا قسم کا انسان ہے جانے دو میں : مجھ پر بھروسہ ہے یا نہیں ؟ نازی : ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) سب سے جادا تم پر ہی تو بھروسہ ہے . میں : بس فر چُپ رہو میں ابھی آٹا ہوں میں سارپانچ کی حویلی کی طرف چلا گیا . جب میں حویلی كے گاتے پر پوحونچا تو اک دربان نے مجھے روک دیا . دربان : کیا کام ہے اندر کہا غصہ چلے آ رہا ہے ؟ میں : مجھے سارپانچ سے ملنا ہے بلاؤ اسکو . دربان : انکی اجاجت كے بنا انسے کوئی نہیں مل سکتا اور تو ہے کون جو اتنا رووب جھاڑ رہا ہے چل دفعہ ہوجا یہاں سے . میں : ( دربان کی گردن پاکادتی ہوئے ) میں بولا مجھے ابھی سارپانچ سے ملنا ہے گاتے کھول نہیں تو تیری گردن توڑ دونگا سامجحاا . . . . دربان : کھولتا ہوں بھائی میری گارڈن تو چودو . . . . جاؤ اندر . جب میں حویلی كے اندر گیا تو اسکی شان شوکت سے ہی انداذہ لگایا جا سکتا تھا کی جانے کتنے ہی غریبوں کا خون چوس کر اِس انسان نے اتنا پیسہ جمع کیا ہے حویلی کی ہر چیج سے پیسہ جھلک رہا تھا . اندر سے حاvییلی بہت ہی عالیشان اور شاندار تھی جہاں میں کھڑا تھا وہاں سے چاروں طرف رستے دکھائی دے رہے تھے مجھے کچھ سمجھا نہیں آ رہی تھی كے اب میں کس طرف جاؤں میں وہیں کھڑا ہو کر انتظار کرنے لگا کی کوئی نظر آئے تو میں سارپانچ کا پوچھو ابھی میں اسی شاشو پنج میں تھا كے مجھے حویلی كے لیفٹ سائڈ سے کسی کی خانختی ہنسی کی آواز سونایی ڈی اس ہنسی كے بَعْد فوراً ہی کافی سڑی لارکیون كے کھلکھلا کر ہنسنے کی آواز آئی میرا رخ خود-ب-خود اس طرف ہو گیا جہاں سے آوازیں آ رہیں تھیں . مجھے وہاں کچھ لڑکیاں آپس میں اتحخیلیان کرتی نظر آئی . میں نے اپنے قدم انکی طرف بڑھا دیئے اسے پہلے کی میں انسے کچھ پوچھ پتہ کچھ لوگوں نے آکے مجھے پیچھے سے پکڑ لیا . اسے پہلے کی میں اپنا ہاتھ اٹھاتا ان لڑکیوں میں سے اک لڑکی نے آگے بڑھ کر ان لوگوں کو حکم دیا کی مجھے چھوڑ دیا جائے اور سب لوگوں نے سر جھکا کر اس لڑکی کا حکم معاً لیا اور مجھے چھوڑ دیا . . . . لڑکی : ہاں جی کون ہو آپ اور اندر کیسے آئے . . . . . . میں : جی مجھے سارپانچ جی سے ملنا ہے لڑکی : ابو تو گھر پر نہیں ہے بتاؤ کیا کام ہے میں انکی بیٹی ہوں میں : ( کچھ سوچتے ہوئے ) جی کچھ نہیں فر میں چلتا ہوں معاف کیجیے آپکو میری وجہ سے پریشانی ہوئی لڑکی : تم کو پہلی باڑ دیکھ رہی ہو تم کون ہو اور یہاں نئے آئے ہو کیا ( ساتھ ہی ان لوگوں کو انگلی سے جانے کا اشارہ کرتے ہوئے ) میں : جی میرا نام نییر ہے میں حیدر الی کا چھوٹا بیٹا اور قاسم الی کا چھوٹا بھائی ہوں لڑکی : ہحممم تم نے ابھی تک بتایا نہیں کی تم کو ابو سے کام کیا تھا اور اتنی رات گئے اِس طرح کیوں آئے . ؟ میں نے لڑکی کو سارا مسئلہ بتا دیا اور انکی رقم دھیرے دھیرے کرکے لاوتانی کی بات بھی کہہ ڈی اور اسکو میری مدد کرنے کو کہا . . . . لڑکی : ٹھیک ہے میں دیکھتی ہوں کیا کر سکتی ہوں آپ کے لیے . میں : آپکا بوحوت-بوحوت شکریہ لڑکی : اب بہت رات ہو گئی تم اپنے گھر جاؤ صبح ابو آئینگے تو میں انسے بات کرکے دیکھوں گی کی کیا ہو سکتا ہے میں : ٹھیک ہے جی آپکا مجھ پر احسان ھوگا اگر آپ میری مدد کر دینگی تو . میں خوشی-خوشی گھر کی طرف جا رہا تھا لیکن بار بار مجھے اس لڑکی کا چہرہ آنکھوں كے سامنے نظر آ رہا تھا . کچھ تو تھا اس لڑکی میں جو مجھے اپنی اور کھینچ رہا تھا . . . . لڑکی انتہا خوبصورت تھی . . . . . . گول سا چہرہ ، چہرے پر بلو کی پتلی سی لت جو بہت قاتلانہ لگتی تھی . . . بادی-بادی ہیرنی جیسی آنکھیں . . . گلاب کی پانخودی جیسے پاتلی سے راس-بحاری ہوتھ جب ہستی تھی تو گالو میں جادحی سے پڑتے تھے جو اسکی خوبصورتی میں چار-چااند لگاتے تھے شاید یہ پہلی لڑکی تھی گاv میں جو میں نے اتنی ساجی-ساواری ہوئی دیکھی تھی اور اسکے بات کرنے کا سلیقہ بھی بہت اچھا تھا . میں اس لڑکی كے بڑے میں ہی سوچتا ہوا پتہ نہیں کب گھر كے سامنے آ گیا میرا دھیان تب ٹوٹا جب نازی نے مجھے ہلا کر کہا . . . . نازی : اب اندر بھی آنا ہے یا آج رات یھی دروازے پر ہی گزرنی ہے ؟ میں : ( چونکتے ہوئے ) ہاں آٹا ہوں نازی : کیا بات ہے آج بڑا مسکرا رہے ہو حویلی پر ہی گئے تھے نا یا فر تم نے بھی قاسم بھائی کی طرح کہی اور جانا شروع کر دیا ہے ( مجھے چحیدتی ہوئے ) میں : کہی اور سے کیا مطلب ہے تمہارا تم کو میں عیسی لگتا ہوں کیا . . . . ہاں حویلی پر ہی گیا تھا اور اک خوش خاباری لے کے آیا ہوں نازی : ( حیرانی سے ) کیا خوشخاباری ؟ میں : وہ میں جب حویلی پر گیا تھا تو مجھے سارپانچ کی بیٹی ملی تھی وہ کہہ رہی تھی کی وہ اپنے ابو سے بات کریگی اور ہماری مدد بھی کریگی بہت اچھی ہے وہ نازی : نییر تم کتنے بھولے ہو . . . تم آج كے بَعْد کبھی حویلی نہیں جاؤگے سمجھے میں : کیوں کیا ہوا میں نے کچھ غلط کیا کیا ؟ نازی : نہیں تم نے کچھ غلط نہیں کیا بس آج كے بَعْد اس لڑکی سے مت ملنا میں : وہ جب ہماری مدد کر رہی ہے تو غلط کیا ہے ملنے میں یہ تو بتاؤ نازی : میں نے جو تم کو کہا وہ تمہیں سمجھ نہیں آیا نا ٹھیک ہے جو تمھارے دِل میں آئے کرو لیکن مجھ سے بات مت کرنا آج كے بَعْد سمجھے میں : ( پریشانی سے ) یار لیکن ہوا کیا بتاؤ تو سہی نازی : کچھ نہیں ہوا بس تم آج كے بعد وہاں نہیں جاؤگے نہیں تو میں تم سے بات نہیں کروں گی . وہ لوگ اچھے لوگ نہیں ہے نییر . میں : ٹھیک ہے جو حکم سرکا ر کا نازی : ( ہستی ہوئی ) تم جب میری بات معاً جاتے ہو نا تو مجھے بہت اچھے لگتے ہو دِل کرتا ہے کی . . . . . میں : کی . . . ؟ کیا دِل کرتا ہے ؟ نازی : کچھ نہیں بودحو چلو اب اندر چلو كھانا کھا لو تمہاری وجہ سے میں نے اور بھابی نے بھی كھانا نہیں کھایا لیکن تم کو کیا تم تو جاؤ اپنی اس سارپانچ کی بیٹی كے پاس . . . . . میں : ارے تم دونوں نے كھانا کیوں نہیں کھایا ؟ نازی : ہم نے سوچا آج ہم سب ساتھ میں ہی كھانا کھا لے ( نظری جھکا كے مسکراتے ہوئے ) میں : بابا نے كھانا کھا لیا ؟ نازی : ہاں وہ تو كھانا کھا كے سو بھی گئے بس ہم ہی دو پاگل بیٹھی ہے جو اپنے بدھو کا انتظار کر رہی ہے لیکن تم کو تو حویلی والی سے ہی فرصت نہیں ہے ہماری یاد کہا سے آئیگی . . میں : ( مسکراتے ہوئے ) جادا مت سوچا کرو . . . . چلو مجھے بھی بہت بہت بھوک لگی ہے . کھانے كے وقت میں نے اک نئی چیج نازی اور فضا میں دیکھی دونوں مجھے عزیب سی نظروں سے دیکھ رہی تھی اور مجھے دیکھ کر بار بار مسکرا رہی تھی میں نے بھی 1-2 باڑ پوچھا کی کیا ہوا لیکن دونوں نے بس نا میں سر ہلا دیا . رات کو کھانے كے بَعْد دونوں راسویی میں کام کر رہی تھی اور میں کمرے میں بیٹھا تھا کی فضا نے اشارے سے مجھے باہر آنے کا کہا . میں : کیا ہوا فضا : نیند تو نہیں آ رہی ؟ میں : یہ پوچھنے كے لیے باہر بلایا تھا فضا : ( مسکراتے ہوئے ) نہیں کچھ اور بات تھی میں : ہاں بولو کیا کام ہے فضا : ( جحونجحولیٹ ہوئے ) ہر وقت کام ہو تبھی بولاو یہ ضروری ہے کیا میں : نہیں میں نے عیسی کب کہا بولو کیا ہوا فر فضا : کچھ نہیں بس تم سے کچھ بات کرنی ہے میں : ہا بولو فضا : ابھی نہیں رات کو جب سب سو جائینگے تب اکیلے میں میرے کمرے میں آ جانا تب بات کرینگے میں : ابھی بتا دو نا کیا بات ہے فضا : ہر بات کا اک وقت ہوتا ہے . . . . رات کو مطلب رات کو . . . . ٹھیک ہے میں : ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) ٹھیک ہے اور کوئی حکم ؟ فضا : نہیں جی بس اتنا ہی بس اب سو مت جانا رات کو میں انتظار کروں گی تمہارا ٹھیک ہے میں : ٹھیک ہے مجھے رات کو سب کے سو جانے كے بَعْد اپنے کمرے میں آنے کا کہہ کر فضا چلی گئی اور میں واپس اپنے کمرے میں آ گیا اور اپنی چارپائی پر لیٹ گیا . ساتھ میں نازی كے سو جانے کا انتظار کرنے لگا تاکہ میں فضا كے کمرے میں جا سکو . ویسی تو قاسم كے جیل سے جانے سے فضا کو اور باقی گھروالوں کو دُکھی ھونا چاہئیے تھا لیکن 1 ہی دن میں نا-جانی کیوں سب ایسی بارتاv کر رہے تھے جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو شاید سب نے قاسم کو بھلا دیا تھا . آج فضا بھی مجھ سے بات کرتے ہوئے بہت خوش نظر آ رہی تھی . جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو . . . ابھی میں یھی بات سوچ ہی رہا تھا کی اچانک مجھے یاد آیا کی فضا نے اس دن رات کو کہا تھا کی وہ ماں بننے والی ہے ضرور اسی مسئلے پر بات کرنے كے لیے مجھے بلایا ھوگا . لیکن فر میں نے سوچا کی یار میں تو خود ہر بات فضا اور نازی سے پوچھ کر کرتا ہوں میں بھلا اسکی کیا مدد کر سکتا ہوں . یھی سب سوچتے ہوئے کافی وقت گزر گیا اور میں بس اپنے بستر پر پڑا ان سب باتوں كے بڑے میں سوچ رہا تھا کی اچانک مجھے باہر سے کسی كے چہیی . . . . چہیی . . . . کی آواز سنائی ڈی . میں نے آنکھیں کھول کر باہر دیکھا تو فضا دروازے پر کھڑی مسکرا رہی تھی اور ہاتھ حیلاکار مجھے باہر بلا رہی تھی . میں نے اشارے سے اسکو نازی كے بڑے میں پوچھا کی کیا وہ سو گئی تو اس نے بھی سر ہلا کر ہاں میں جواب دیا اور ساتھ ہی مجھے انگلی سے پاس آنے کا اشارہ کیا جیسے ہی میں اپنی چارپائی سے کھڑا ہوا تو فضا پالاتکار چلنے لگی میں جانتا تھا وہ کہا جا رہی ہے اسلئے میں بھی اسکے پیچھے ہی چل دیا . وہ بنا پیچھے دیکھے سیدھا اپنے کمرے میں چلی گئی اور اپنے کمرے کی لائٹ بند کر ڈی اور نائٹ بلب آن کر دیا . مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا کی اس نے اگر بات کرنی ہے تو کمرے میں اندھیرا کیوں کر رہی ہے . ابھی میں نے کمرے میں پہلا قدم ہی رکھا تھا کی فضا نے میرے دائیں ہاتھ کو پکڑ کر جلدی سے اندر کھینچا اور باہر کی طرف موح کرکے دایی-باایین دیکھا اور کمرا اندر سے بند کر دیا مجھے بس کنڈی لگانے کی آواز سنائی ڈی فر فضا میری طرف پلتی اور اک مسکراہٹ كے ساتھ مجھے دیکھنے لگی میں نے بھی مسکرا کر اسے دیکھا . فضا : کیا ہوا ایسی کیا دیکھ رہا ہو . میں : وہ تم نے کچھ ضروری بات کرنی تھی نا . فضا : بٹاتی ہوں پہلے وہاں چلو ( بیڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) میں : اچھا . . . لوح آ گیا جی اب جلدی بتاؤ . فضا : تم کو کوئی گاڑی پاکادنی ہے کیا ؟ میں : نہیں تو کیوں فضا : تو فر ہر وقت اتنا جلدی میں کیوں رہتے ہو 2 پل میرے ساتھ نہیں گزار سکتے ؟ میں : ایسی بات نہیں ہے . میں بس جلدی كے لیے اسلئے کہہ رہا تھا کی کوئی آ نا جائے کوئی ہم کو ایسی دیکھے گا تو اچھا نہیں سوچیگا نا اسلئے بس اور کوئی بات نہیں . ( مسکراتے ہوئے ) فضا : اچھا یہ بتاؤ میں تم کو کیسی لگتی ہوں میں : بہت اچھی لگتی ہو . . . تم ، نازی اور بابا تو بہت اچھے ہو میرا بہت خیال بھی رکھتے ہو . فضا : وہوو . . . ( سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے ) کیا کروں میں تمہارا میں : کیا ہوا اب میں نے کیا کیا فضا : میں نے صرف اپنے بڑے میں پوچھا ہے سب کے بڑے میں نہیں صرف میرے بڑے میں بتاؤ میں : ممممم تم بہت بہت بہت اچھی ہو . . . . خوش ( مسکراتے ہوئے ) فضا : ایسی نہیں بابا . . . میرا مطلب دیکھنے میں کیسے لگتی ہوں . میں : دیکھنے میں بھی تم سندر ہو . . . . تم بتاؤ تم کو میں کیسا لگتا ہوں ؟ فضا : ہائے . . . . ایسی سوال مت پوچھا کرو دِل باہر نکلنے کو ہو جاتا ہے . تم تو مجھے میری جان سے بھی جادا پیارے ہو تم نہیں جانتے تم میرے لیے کیا ہو . . . جانتے ہو جب تم نہیں تھے تو میں ہمیشہ رات کو روتی رہتی تھی نیند بھی نہیں آتی تھی خود کو بہت اکیلا محسوس کرتی تھی میں : اور اب ؟ فضا : اب تو مجھے بہت سکون ہے تمھارے آنے سے جیسے مجھے سارے جہاں کی خوشیاں مل گئی ہے . . . . . . . . جانتی ہو ہر لڑکی تم جیسا پتی چاہتی ہے جو اسکو بہت سارا پیار کرے اسکی ہر بات مانے اسکا خوب خیال رکھے ہر تکلیف میں اسکے ساتھ کھڑا ہو تم میں وہ سب خوبیان ہے . میں : ارے . . . . مجھ میں عیسی کیا دیکھ لیا تم نے . . . . خود ہی تو کہتی ہو میں بودہو ہوں . فضا : نہیں پاگل وہ تو میں مذاق میں کہتی ہوں تم بہت اچھے ہو ( میرے گال کھینچ کر ) میں : ایسی مت کیا کرو یار ( اپنے گالو کو سیحلیٹ ہوئے ) میں کوئی بچہ تھوڑی ہوں جو میرے گال کھینچ رہی ہو . فیزی : میں نے کب کہا بچے ہو . . . تم بچے نہیں میری جان تم تو میرے ہونے والے بچے كے باپ ہو . ( میرے ہوتھو کو چُومتے ہوئے ) میں : ہاں بچے سے یاد آیا اس کا اب ہم کیا کرینگے ؟ فضا : کرنا کیا ہے میرا بچہ ہے میں پیدا کروں گی اور کیا میں : لیکن اگر کسی کو پتہ چل گیا کی یہ قاسم کا بچہ نہیں تو . . . ؟ فضا : کچھ بھی پتہ نہیں چلے گا وہ تو ویسے بھی جیل میں ہے جب تک وہ باہر نیکالیجا ہمارا بچہ چلنے فیرنی لگے گا ویسی بھی وہ آیا تھا نا کچھ دن كے لیے یہاں تو میں بول دونگی کی اسکا ہے . تم فکر مت کرو میں نے سب کچھ سوچ لیا ہے اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا . میں : لیکن اس دن تو تم کہہ رہی تھی کی وہ جو تم نے اس دن کوٹھری میں میرے ساتھ کیا تھا جیل سے آنے كے بَعْد قاسم نے تمھارے ساتھ اک باڑ بھی نہیں کیا تو فر اسکو پتہ نہیں چل جائیگا ؟ فضا : کچھ پتہ نہیں چلے گا اس شرابی کو اپنی ہوش نہیں ہوتی وہ میری پرواہ کہا سے کرے گا کچھ ھوگا تو کہہ دونگی کی قاسم نے نشے میں میرے ساتھ کیا تھا ویسی بھی نشے میں اسکو کونسا ہوش ہوتی ہے . . . . اب اگر تم کو تمھارے سارے سوالوں کا جواب مل گیا ہو تو مہربانی کرکے بیڈ پر لیٹ جاؤ کب سے جن کی طرح میرے سر پر بیٹھے ہوئے ہو . ( ہستی ہوئی ) میں : وہ تو ٹھیک ہے لیکن تم جانتی ہو جب مجھے سب کچھ یاد آ جائیگا تو ہو سکتا ہے میرے گھر والے مجھے یہاں سے لے جائے تب تم کیا کروگی ؟ فضا : کوئی بات نہیں میں تمہیں یہ تو نہیں کہا کی مجھ سے شادی بھی کرو . تم جتنا وقت بھی میرے ساتھ ہو میں بس اس ہر پل کو جی بڑھکے جینا چاہتی ہوں تمھارے ساتھ اور فر تم چلے جاؤگے تو کیا ہوا تمہاری نشانی تو ہمیشہ میرے پاس رہیگی نا جس میں میں ہمیشہ تمہارا عکس دیکھوں گی . میں : جیسی تمہاری مرضی . فضا : چلو اب باتیں بند کرو اور لیٹ جاؤ میرے ساتھ . میں : یہاں کیوں میں تو باہر بابا كے پاس سوتا ہوں نا . فضا : آج اک دن میرے پاس سو جاؤگے تو طوفان نہیں آ جائیگا چلو چُپ کرکے لیٹ جاؤ نہیں تو میں تم سے بات نہیں کروں گی . میں : اچھا ٹھیک ہے لیٹ رہا ہوں . فضا : اسلئے تم مجھے بہت پیارے لگتے ہو جب میری ہر بات اتنی آسانی سے معاً جاتے ہو ( مسکراتے ہوئے ) . میرے بیڈ پر لیٹ طے ہی فضا نے میرا بیان ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا اور اپنی گال سہلانے لگی اور میں کروٹ لے کے اسکی طرف موح کرکے لیٹ گیا . یہ دیکھ کر اس نے بھی میری طرف کروٹ کر لی . اب ہم دونوں كے چہرے اک دوسرے كے پاس تھے یہاں تک کی ہم اک دوسرے کی سانس کی گرماہٹ اپنے چہرے پر محسوس کر رہے تھے . فضا : میں تمھارے اوپر آکے لیٹ جاؤ . میں : ( ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ) ہحممم . . . فضا : ایسی نہیں تم خود مجھے اپنے اوپر لو . میں : ٹھیک ہے ( میں نے فضا کو کمر سے پکڑ کر اپنے اوپر لٹا لیا ) فضا : چلو اب اپنی آنکھیں بند کرو میں : کر لی اب . . فضا : اب کچھ نہیں بس موح بند کرو نہیں تو مجھے کرنا پڑیگا . میں : وہ کیسے ( مسکراتے ہوئے ) فضا : بول کر بتاو یا کرکے بتاو ؟ میں : جو تم کو اچھا لگے فضا : پہلے اپنی آنکھیں بند کرو مجھے شرم آتی ہے . میں : تم کو شرم بھی آتی ہے ( ہیسٹ ہوئے ) فضا : مممممم . . . . آنکھیں بند کرو نا نییر میں : اچھا یہ لو اب . . . . . . فضا : ہحمم تو اب پوچھوں کیا پوچھ رہے تھے میں : میں پُوچھ رحاا تھا کیی . . . . . ( اچانک فضا نے اپنے ہوتھ میرے ہوتھو پر رکھ دیا ) فضا اپنے راسبحاری اور نازک ہوتھ کچھ دیر ایسی ہی میرے ہوتھ كے ساتھ جوڑ کر میرے اوپر پڑی رہی . فر کچھ دیر بَعْد اس نے میرے چہرے کو اپنے ہاتھوں سے پکڑ لیا اور میری آنکھوں پر ، ماتھے پر ، ناک پر ، گالو پر ہلکے ہلکے چومنے لگی . کچھ دیر وہ میرے چہرے کو ایسی ہی دھیرے دھیرے چُومتی رہی فر وہ رک گئی اور میری آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا . میں کچھ دیر ایسی ہی اسکے اگلے قدم کا انتظار کرتا رہا تبھی مجھے میرے ہوتھو پر کچھ جییلاپان محسوس ہوا جیسے میرے ہوتھو پر کچھ رنگ رہا ہو . فر فضا نے اپنا ہاتھ بھی میری آنکھوں سے اٹھا دیا یہ فضا کی زبان تھی جو وہ میرے ہوتھو پر فیر رہی تھی اور میرے ہوتھو کو اپنی راسبحاری زبان سے گلہ کر رہی تھی . اب مزے سے میری خود ہی آنکھیں بند ہو گئی اور دھیرے دھیرے میرا موح کھلنے لگا . میرے موح نے فضا کی زبان کو خود ہی اندر آنے کا رستہ دے دیا اور اب میں دھیرے دھیرے فضا کی زبان کو چوس رہا تھا اور اپنے دونوں ہاتھ فضا کی کمر پر اوپر نیچے فیر رہا تھا . یہ مزہ میرے لیے اک دم انوکھا تھا اسے میری سانسیں بھی تیز ہونے لگی اور میرے پاجامی میں بھی حرکت شروع ہو گئی . میرا سویا ہوا لنڈ اب جاگنے لگا تھا . میں نے اپنے دونوں ہاتھوں فضا کو جور سے اپنے گلے سے لگا لیا اور نیچے اپنی دونوں تانجیی پھیلا کر فضا کی ٹانگوں کو اپنی ٹانگوں میں جکڑ لیا . اب ہم دونوں ہی مزے کی وادیو میں کھو چکے تھے ہم دونوں باری-باری اک دوسرے كے ہوتھ چوس رہے تھے اور کاٹ رہے تھے . پورے کمرے میں ہماری چومنے سے پوچھ . . . پوچھ . . . جیسی اوازی آ رہی تھی . ادھر فضا کا بدن بھی گرم ہونے لگا تھا اس نے سالوار كے اوپر سے اپنی چوت کو میرے لنڈ پر راجادنا شروع کر دیا تھا جسے میرا لنڈ اب پوری طرح سے جاگ چکا تھا اور اپنے اصل روپ میں آ چکا تھا . فضا بار بار میرے لنڈ کو اپنی ٹانگوں كے بیچ میں دبا رہی تھی . ویسی تو یہ احساس مجھے پہلے بھی محسوس ہو چکا تھا لیکن جانے آج کیا خاص تھا کی مجھے اس دن سے بھی جادا مزہ آ رہا تھا . اچانک فضا نے میرے چہرہ پکڑا اور میرے اوپر اُٹھ کر میرے لنڈ پر بیٹھ گئی ساتھ ہی مجھے بھی بٹھا لیا . اب ہم دونوں بیٹھ کر اک دوسرے كے ہوتھ چوس رہے تھے فضا نے اپنا موح میرے ہوتھو سے ہٹایا اور میرے موح کو پکڑ کر اپنے گلے پر لگا دیا میں نے اسکے اشارے کو سامجحکار اسکے گلے پر چُوسنا اور کٹنا شروع کر دیا ادھر وہ میری قمیض كے بٹن جالدی-جالدی کھول رہی تھی . فضا : اپنے ہاتھ اوپر کرو میں تمہیں بنا کپڑوں كے گلے سے لگانہ چاہتی ہوں . میں نے بھی اسکی مدد كے لیے اپنی دونوں باحی اوپر ہوا میں اٹھا ڈی تاکہ اسکو آسانی ہو جائے اور اس نے میری قمیض اُتار ڈی اب میرا اوپر کا بدن اک دم ننگا ہو چکا تھا . قمیض كے اُترتے ہی وہ کسی جنگلی بلی کی طرح میرے سینے پر ٹوٹ پڑی اور میری چھاتی پر کبھی چوم رہی تھی کبھی کاٹ رہی تھی اور کبھی کاٹی ہوئی جگہ کو چوس رہی تھی ساتھ میں نیچے سے وہ بار بار میرے لنڈ پر اپنی چوت کبھی دبا رہی تھی تو کبھی رگڑ رہی تھی جسے اسکی شلوار اک دم گیلی ہو گئی تھی اسکا جییلاپان مجھے بھی میرے لنڈ پر محسوس ہو رہا تھا . اب اس نے میرے سینے پر ہاتھ رکھا کر پیچھے کو دبایا اور اب میں فر سے بیڈ پر لیٹ چکا تھا اور وہ میرے اوپر آکے فر سے لیٹ گئی لیکن اِس باڑ وہ میری پوری چھاتی کو جاجاح-جاجاح چوس رہی تھی اور چوم رہی تھی . مجھے اسکی اِس حرکت سے بہت مزہ مل رہا تھا . اب مجھ سے برداشت کرنا بہت مشکل ہو رہا تھا . میں نے اسے گردن سے پکڑ کر گلا دبانے جیسے انداز میں اوپر کی طرف لایا اور اسکے ہوتھ جبردست طریقے سے چوس لیے جیسے اسکے موح سے الگ کرنا چاہتا ہوں . اب میں نے اسکو بلو سے پکڑا اور بیڈ پر پٹک دیا اور خود اسکے اوپر آ گیا . میں اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا کی کیا