Jump to content
Private Cloud Activation Last Date 01-10-2020 After Last Date Not include Previous Purchase in your Private Cloud ×
URDU FUN CLUB
Private Cloud Activation Last Date 01-10-2020 After Last Date Not include Previous Purchase in your Private Cloud

All Activity

This stream auto-updates     

  1. Yesterday
  2. حسن و جمال بھی تو۔۔۔نرالا ھے شکریہ۔کمنٹس کا
  3. Dear Admin Please kuch nazar e karam kren or readers ko btaen k update kab tk possible hay I know doctor sahab kafi busy hain or dsra masla story churaye jane ki waja se ha kindly dekhen kia issue ha ASAP isper koi comment den please Your prompt response will be appreciated
  4. Salam Doctor sahab please update tou deden bhot dino se wait krraaha hn ye story per update k liye itna suspense dal kr rkh dia hay k bs hogai ha, ab is story ko me puri read krna chahta hn par kafi dino se update na hone ki waja se me nh parh paya. Kindly thori mehrbani krden update krden jald az jald Ye story mene 2 bar read krli ha par 2no dafa hi mjhe maza aya parhne me i really appreciate your efforts Thank you so much
  5. قسط نمبر2:۔ دوستوں یہاں سے کہانی سکپ کرتا ہوں سیدھے وہاں چلتے ہیں جہا ں میری ٹریننگ ختم ہوئی اور میں گھر جانے کے لیے تیار تھا۔ میرے استاد کرنل صاحب نے ایک نصیحت کی تھی کہ دماغ کو ٹھنڈا رکھوگے کبھی بھی ہارو گے نہیں جہاں تم نے جلد بازی اور گرم دماغ سے کام لیا وہاں تم ہار جاؤگے باقی تم اب ہر طرح تیار ہو۔ ان پندہ ماہ میں میرا گھر والوں سے کوئی رابطہ نہ تھا کیوں کہ ہم جنگلات میں ٹریننگ کرتے تھے۔ میں کبھی اپنی بہن نمرہ سے اور باقی سب سے اتناعرصہ جدا نہ رہا تھا لیکن روزانہ ٹریننگ 20گھنٹوں کی ٹریننگ نے مجھے سب کچھ بھلا رکھا تھا لیکن جیسے ہی میں گاڑی میں بیٹھا تو سب کی یا د آئی وہ ماں کا اپنے ہاتھ سے کھانہ کھیلانا، چھوٹی ماں کی گود میں سر رکھنا، نمرہ کے ساتھ مستی کرنا سب یا د آنا شروع ہوگیا۔ جب گھر پہنچا تو وہاں جشن کا سماں تھا سب گھر والے اکھٹے تھے اور کچھ رشتہ دار بھی تھے۔میں سب سے ملا لیکن مجھے نمرہ نظر نہ آئی میری بے چین نظریں نمرہ کو ڈھونڈ رہی تھی۔ لیکن وہ نظر نہ آئی میں نے امی سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ جب سے تم گئے ہو وہ بیمار رہنے لگی ہے اپنے کمرہ میں ہوگی میں وہاں بھاگا نمر ہ کے کمرہ میں وہا ں دیکھا تو نمرہ لیٹی پڑی تھی لیکن وہ نمرہ نہ تھی جس کو میں یہاں چھوڑ گیا تھا بہت بیمار لگ رہی تھی اور جیسے میں کمرہ میں گیا تو نمرہ نے آنکھیں کھول کر دیکھا لیکن کوئی بات نہ کی میں تڑپ گیا میری جان مجھ سے بات نہ کرے ایسا تو کبھی نہ تھا میں بھاگ کر اس کے پاس گیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اس نے صرف اتنا کہا کہ افی تم مجھے کیوں چھوڑ گئے تھے پھر ہم دونوں رونے لگ پڑے میں نے اس کو کھینچ کر گلے لگایا اور کافی دیر اس کو اپنے آپ سے چپکائے رکھا پھر باقی گھر والے بھی آگئے تو چھوٹی امی نے کہا کہ تم کے جانے کا اتنا اثر لیا کہ اتنا بیمار ہوگئی چل پھر بھی نہ سکتی ہے میں نے بولا اب میں آگیا ہوں نہ اب یہ ٹھیک ہوجائے گی جلد ہی۔ پھر سب کو دھیان آیا کہ میرے میں کتنا چینج آگیا ہے ان پندہ ماہ میں میرا قد تو پہلے ہی 6فٹ تھا اور باڈی مضبوط تھی لیکن اب میرے باڈی کی الگ ہی لک تھی بھرا جسم 6پیک مضبوط بازو اور لمبی مضبو ط ٹانگیں سرخ و سفید رنگ لمبے اور گھنے بال جو کہ ایک خاص ترتیب میں تھے۔ اس وقت میں ٹراؤز ر میں تھا۔ اور فٹنگ والی شرٹ پہن رکھی تھی جو کہ میری باڈی سے چپک رہی تھی جس وجہ سے میری باڈی نمایا ں لگ رہی تھی اور الگ ہی لک دے رہی تھی۔ امی نے بولا میرا بیٹابہت پیارا لگ رہا کسی کی نظر نہ لگے۔پھر رات کو جشن منایا گیا نیاز بانٹی گئی اور صدقے کے بکرے ذیبہ کیے گیے۔ اب مقابلہ کا دن قریب آرہا تھا تو میرا زیادہ تر وقت ٹریننگ میں ہی گزرتا تھا اب نمرہ پہلے سے بہت بہتر ہوگئی تھی اس کے چہرہ پر زندگی کی رونک لوٹ آئی تھی جب میں ٹریننگ سے فری ہوتا تو زیادہ وقت ہم ساتھ گزارتے آخر وہ دن بھی آگیا جس کا لوگ 25سالوں سے انتظار کر رہے تھے۔ پھر ایک بڑے میدان میں انتظام کیا گیا اور انتظام سابقہ سربراہ کی طرف سے ہوتا جو نیا سربراہ ہوتا اس پر اپنی دستار رکھ کر اس کو سارے اختیار سونپتا۔سب سے پہلے جو لوگ اہل تھے ان کی چھانٹی کی گئی جو کہ کیوں بڑے خاندانوں کے لوگ ہی حصہ لے سکتے تھے اور ان کی عمر اور باقی سب چیزوں کی پڑیا ل کی گئی تو مقابلے پر 51امیدوار بنے۔ اب ان کے درمیان تین مقابلہ جات ہونے تھے 1۔ نشانہ بازی 2۔ تیراکی 3۔لڑائی۔ مقابلے شروع ہوچکے تھے سب سے پہلے نشانہ بازی کا مقابلہ ہوا جس میں پہلے نمبر پر آیا تھا میری بچپن سے ہوئی ٹریننگ اور ماہر استاتذہ بہت کام آیا۔ دو سرا مقابلہ تیراکی کا ہوا جس میں تیسری نمبر پر آیا پہلے ان مقابلوں کا مقصد تھا کہ آخری مقابلہ میں کم امیدوار ہوں اب 20 امیدوار رہ گئے تھے جن کے درمیان مقابلہ ہونا باقی تھا ایک سابقہ سربراہ کا بیٹا شیر خان بھی تھا جو کہ تیراکی میں پہلے نمبر پر اور نشانہ بازی میں دوسرے نمبرپرآیا تھا اور وہ بھی اچھا اور طاقتور امیدوار تھا۔ ا سکے اور میرے نمبروں میں 2نمبر کا فرق تھا۔ پھر دوسرے دن مقابلہ شروع ہوئے اور میں جیتتا رہا اب آخری مقابلہ میرا اورشیر خان کا تھا جو کہ دوسرے دن ہونا تھا۔ گھر واپس آیا تو سب نے بہت مبارک دی نمرہ میرے گلے لگی۔ سب بہت خوش تھے۔ میرے جسم پر کافی ضربات آئیں تھیں کیونکہ مقابل بھی پتہ نہیں کیسی کیسی تیار ی کے ساتھ آئے تھے۔ لیکن مجھے ان ضربات کا کوئی اثر نہ تھا میرا جسم پتھر کی طرح ہوچکا تھا۔ اگر یہ ضربات کسی دوسرے کو لگتی تو وہ شاہد زندہ بھی نہ رہتا۔ لیکن مجھے اتنا مسئلہ نہ تھا۔ میں سونے چلاگیا صبح اُٹھا نماز پڑھی اور اپنے لیے دعا کی۔ اور سکون سے مقابلہ کی تیاری کرنے لگ پڑا کیونکہ کچھ دیر میں مقابلہ تھا۔ میرا حریف بھی بہت طاقتور تھا گھر میں سب سے ملا اور دعا لی سب نے بولا کہ ہم تب تک دعا کریں گیں جب تک تم جیت نہیں جاتے میری سب بہنیں اور دونوں مائیں تھیں۔ ہم جلوس کی شکل میں میدان میں گئے اور میں نے سجدے میں گر کر د عا کی میرے ابو نے کہا بیٹا آج مجھے یہ خوشی دے دے پھر کبھی تم سے کچھ نہیں مانگوں گا۔ میں کہا ابومیں اپنی پوری کوشش کروں گاابو بولے کوشش نہیں تم نے جیتنا ہے میں تم کا مقابلہ نہیں دیکھوں گامجھے جیت کا ڈھول سننا ہے۔ (یہ روایت تھی کہ جس خاندان کا امیدار جیتتا اس کی ایک خاص دھن بجائی جاتی) پھر میں اور شیر خان مقابلہ میں اُترے وہ واقع شیر خان تھالیکن میں نے بھی بتادیا کہ میں بھی کسی سے کم نہیں ہوں شروع شروع میں تو لوگوں میں جوش خروش رہا لیکن ہمارے لڑائی لمبی ہوتی گئی۔ ہمیں لڑتے ہوئے تین گھنٹے ہوچکے تھے۔کوئی بھی ہار ماننے کو تیار نہ تھا۔ لیکن آخر شیر خان غصہ میں آگیا اور یہی اس کی غلطی تھی آخر مجھے موقع مل ہی گیا اس نے مجھے راؤنڈ ہاوس کک ماری لیکن میں پہلے ہی پہلو کے بل ہوگیا میں نے اس کو گھوم کر نی لاک لگایا جو کہ میرا سپیشل تھا اس سے موت تو چھڑا سکتی تھی لیکن اور کوئی نہیں شیر خان نے بہت کوشش کی لیکن آخر کا ر اس کو ہار ماننا پڑی اور میں جیت گیا پہلے تو سب پر سکتہ ہوگیا کیونکہ شاہد کسی کو امید نہیں تھی کہ شیر خان ہارے گا۔ لیکن میں جیت گیا اور سجدے میں گرگیا اور رو رو کر شکر ادا کیا ادھر بہت شور و غل تھا آواز سنائی نہ دے رہی تھی فائرنگ آتش بازی ڈھول پتہ نہیں ابونے کیا کیا انتظام کیا ہوا تھا سب نے مجھے کندھوں پر اُٹھالیا اور میرے ارد گرد گھیرا ڈال کر ناچنے لگ گئے۔ آج رات میری دستار بندی تھی اور جشن تھا میں جلوس کی شکل میں حویلی پہنچے ہمار ا ڈیرہ جس کو ہمارے علاقہ میں بیٹھک بولتے ہیں گھر سے ساتھ ہی ہے اور تین کنال پر مشتمل ہے جس میں گھاس کے تین لان ہیں اور کئی کمرے ہیں مہمانوں کے لیے اور بیٹھنے کے لیے چھتریاں لگی ہوئی ہیں اور کرسیاں بنی ہوئی ہیں درمیان میں جگہ خالی ہے۔ وہاں پر ڈھول پر ناچ ہو رہا تھا فائرنگ ہورہی تھی ہر طرف جشن کا ماحول تھا میں کچھ دیر کے لیے رخصت لے کر حویلی گیا اور جیسے ہی حویلی داخل ہوا سب میری طرف دوڑے آئے اور مجھ سے لپٹ گئے سب نے بہت بہت مبارک باد دی۔
  6. Last week
  7. Doctor sahib please nazar e karam kary ap please....update di hai ya nai itna tu btady...agr di hai tu humy kyu nai show ho ri
  8. آخری قسط ھے ۔۔۔ تو زرا لمببببببی لکھنی ھے۔۔۔۔
  9. اسلام و علیکم دوستو ں میرا نام آفتاب خان ہے اور میں پنجاب کے ایک گاؤں نور پور سے تعلق رکھتا ہوں میں نے بہت سے سٹوری پڑھی ہیں اور کئی سالوں سے پڑھ رہا ہوں تو سوچا کیوں نہ میں بھی کوشش کروں تو دوستوں یہ میری پہلی کوشش ہے اس لیے کوئی غلطی ہوجائے تو درگزر کرئیے گا یہ پوری سچی تو نہیں کہہ سکتے لیکن اکثر کافی کچھ سچ بھی ہے سٹوری لازمی مکمل ہوگی اور ہفتے میں دو یا تین اقساط پوسٹ کروں گا۔ قسط نمبر1:۔ اب آتا ہوں سٹوری پر سب سے پہلے تعارف کروا دوں جیسا کہ آپ کو بتایا کہ میں پنجاب کے ایک گاؤں نور پور سے تعلق رکھتا ہوں میرے والد نام عثمان خان ہے ا ن کی عمر تقریباً47سال ہے صحت مند اور ہٹے کٹے اور مضبوط جسم کے مالک ہیں ہیں اور وہ ایک بڑے زمیندار ہیں گاؤں کی تقریباً تین حصے زمین کے مالک میرے والد ہیں اور ساتھ ہی فلور ملز اور کئی کاروبار کے مالک ہیں میری ماں صائمہ جن کی عمر 40سال ہے ایک گھریلو عورت ہیں زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہیں لیکن ایک بڑے زمیندار گھرانے کی ہیں حالانکہ گھر میں کئی نوکر اور نوکرانیاں ہونے کے باوجود خود سب کچھ سنبھالتی ہیں جس کی وجہ سے وہ بالکل صحت مندسمارٹ اور ایکٹو ہیں۔سدرہ میرے والد کی دوسر ی بیوی اور ہماری چھوٹی ماں ہیں جن کی عمر 35سال ہے وہ شہر کی پڑھی لکھی تعلیم یافتہ اور ایک بڑے گھر کی ہیں اور ان سے میری ایک بہن نوشے ہے جو کہ 19سال کی ہے۔نورمیری بڑی بہن جن کی عمر22سال ہے انہوں نے انگلش میں ماسٹر کیا ہے وہ ایک سنجیدہ ٹائپ لڑکی ہیں زیادہ شور شرابہ ان کو پسند نہیں۔ پھر میری بہن عائشہ جن کی عمر20سال ہے وہ ابھی کیمسٹری میں ماسٹر کررہی ہے وہ شوخ چنچل اور باتونی ہیں ان کی باتیں ختم نہیں ہوتی ہیں۔ پھر میری بہن نمرہ جس کی عمر18سال ہے اور میں ہم دونوں جڑواں ہیں اور بچپن سے ہی بہت قریب رہے ہیں میری سب سے زیادہ نمرہ سے ہی بنی ہے ہم دونوں اب ایک ہی یونیورسٹی سے گریجویشن کر رہے تھے ہم نے ایک ہی سکول سے اور ایک ہی کالج سے میٹرک اور انٹر کیا تھا تقریباً ہمارا وقت ساتھ ہی گزرتا جن کو معلوم نہ ہوتا ان کو یہی لگتا ہے ہم کپل ہیں ہماری کبھی لڑائی نہ ہوئی تھی۔ میں نمرہ کو پیار سے نمو کہتا اور وہ اِفی۔ ہمارا سارے گھر میں بہت پیار تھا حالانکہ ابو نے دوسری شادی کی تھی لیکن پھر بھی ہمارے گھر میں کبھی کسی بات پرلڑائی نہیں ہوئی کیونکہ چھوٹی ماں میرے ابو کے ایک دوست کی بیٹی تھی وہ بہت بیمار تھے جاتے وقت ان سے وہ نکاح کر گئے تھے پہلے ہمیں تھوڑی مشکل ہوئی پھر چھوٹی ماں کے پیار نے سب کو ہی پیار کرنے پر مجبور کردیا وہ ہم پر سب سے زیادہ جان دیتی تھیں۔ہم سب خوش تھے سب ایک دوسرے کو بہت خیال رکھتے تھے اور میں اکلوتا لڑکا تھا گھر میں اس لیے میری تو ہربات فوراً پوری کی جاتی لیکن میں نے کبھی بھی بے جا فرمائش نہیں کی تھی یہ ہمارا گھر تھا۔ اور میرا ایک ہی چچا تھا سلیمان جو کہ ساتھ والے گاؤں میں رہتے تھے ان کی فیملی میں ان کی بیوی مسرت، بیٹیاں نوشین، شہناز، عظمیٰ اور بیٹا علی ہے۔ ہمارا گھر 8کنال کی حویلی پر مشتمل ہے جس میں 40کمرے ہیں دس کمرے ایک ہی قطار میں ان کے آگئے برآمدہ۔ پھر ایک طرف ٹی لاؤنچ، سوئمنگ پول، کچن، باتھ سب آگے تھے باقی دس کمرے دوسرے منزل پر اور دس کمرے تیسری منزل پر تھے جن میں جو ماسٹر روم تھے ان کے ساتھ اٹیچ باتھ تھے ایک بڑی جم اور شوٹنگ جم بھی تھی جہاں پر ہر روز میں اور میرے ابو ٹریننگ کرتے تھے۔ اور میرے استاد مجھے ٹریننگ دیتے تھے۔ باقی کمرے ملازموں کے لیے ایک طرف بنے تھے جن میں اکثر میں پوری فیملی رہتی اور عورتیں اور مرد رہتے تھے۔جو پکے ملازمین تھے باقی کے گاؤں سے آتے تھے۔ ہمارے گاؤں کی صدیوں سے ایک پرانی روایت تھی کہ ہر 25سال بعدعلاقہ کی سربراہی نئے سربراہ کو سونپ دی جاتی جس میں تقریباً25گاؤں آتے تھے اور اس کے لیے باقاعدہ مقابلہ ہوتا تھا۔ تمام بڑے خاندان اس میں حصہ لیتے اور جو جیت جاتا وہ اگلے 25سال کے لیے ان تمام گاؤں کے سربراہ بن جاتے تھے ہرگاؤں کا ایک چھوٹا سربراہ ہوتا لیکن ان سب کے اوپر ایک بڑا سربراہ ہوتا جس کا فیصلہ آخری سمجھا جاتا۔ مقابلے میں حصہ لینے کے لیے تین شرائط پر ہونا لازمی تھا چونکہ پٹھانوں کا علاقہ تھا تو اس لیے 1۔ عمر زیادہ سے زیادہ 25سال ۔2۔ جسمانی لڑائی میں ماہر ہو 3۔ نشانہ بازی میں ماہر ہو۔ 4۔ تیراکی میں ماہر ہو۔ مقابلہ اس لیے کروایا جاتا کہ سربراہ کو طاقت ور ہونا چاہیے اگر خود اپنی حفاظت نہیں کرسکتا تو سربراہی کیسے سنبھالے گا۔ یہ سب آپ کو بتانے کا مقصد آپ سٹوری کو آسانی سے سمجھ سکیں میرے والد اس وقت سربراہ تھے اور ان کی خواہش تھی کے اگلاسربراہ میں بنوں تو اس لیے چھوٹے ہوتے ہی انہوں نے اس کی تیاری شروع کروا دی صبح نماز کے بعد فوراً میدان میں جاتا جہاں پر چار اُستاد تھے جن میں دو لڑائی کے ماہر تھے اور دو نشانہ بازی کے اُستاد تھے جنہوں نے باقاعدہ باہر کے کئی ملکوں سے ٹریننگ کی تھی دو گھنٹے ان کے ساتھ گزارتا پھر ایک خاص تیل کی مالش کرتا جو کہ خاص کر میرے لیے تیار کروایا گیا تھا جس سے میرا جسم مضبوط ہو اور نشوو نما اچھی ہو اور ہرقسم کی چھوٹ براداشت ہوسکے۔ کیونکہ بچپن سے ہی تیاری کررہا تھا اس لیے لڑائی میں، تیراکی میں اور ہرقسم کے نشانے میں ماہر ہوچکا تھا خالی ہاتھ یا ہتھیار کے ساتھ کسی بھی مشکل حالات میں لڑ سکتا تھامیں بہت محنت کرتا لیکن میرے والد پھر بھی مطمئن نہ تھے۔ وہ کہتے تھے کہ تم کو بہترین ہونا چاہیے مقابلہ میں ایک سے ایک ماہر ہوگا کیونکہ ہر ماہ ابو میری گارکردگی چیک کرنے کے لیے مجھ سے مقابلہ کرتے لیکن میں ان سے کبھی جیت نہ پاتا وہ آج بھی ماہر تھے کیونکہ وہ ہرروز مشق کرتے تھے اب بھی انہوں نے میری خاص نگرانی یہ رکھی کہ میں لڑکیوں کی طرف نہ دھیان دوں انہوں نے کہا تھا کہ ایک بار تم مقابلہ جیت جاؤ پھر جو چاہے کرنا تب تک انہوں نے مجھے ایک قسم میں باندھ دیا تھا۔ پھر انہوں نے اپنے ایک دوست سے بات کی جو کہ آرمی میں کرنل ریٹائر تھے اور انہوں نے کئی ملکوں میں اپنا اور ملک کا نام روشن کیا تھا مقابلہ میں ایک سال اور تین ماہ تھے مطلب 15ماہ تو انہوں نے کہا کہ میں اس کو اپنے ساتھ لے جاؤں گا اور ٹریننگ کرواؤن گا یہاں پر گھر میں رہ کر یہ ٹھیک طرح سے ٹریننگ نہ ہو سکے گی۔ جب گھر سے رخصت ہو رہا تھا تو سب سے زیادہ نمر ہ روئی میں نے اس کو تسلیاں دیں اور کہا کہ میں جلد آجاؤں گا۔ باقی سب کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے لیکن ابو نے کہا کہ بہادر لوگ نہیں روتے۔ پھر وہاں سے روانہ ہوگئے اور گلگت بلقستان کی وادیوں میں چلے گئے اور پھر میری ٹریننگ شروع ہوئی کرنل صاحب نے مجھے کہا کہ لڑائی یا کسی بھی معاملہ میں سب سے اہم چیز ہوتی ہے سٹیمنا ہوتا ہے جتنا سٹیمنا اتنا انسان طاقتور ہوتا ہے تم سٹیمنا اچھا ہے لیکن بہترین ہونا چاہیے تم گھنٹوں تک لڑو تب بھی تم کو تھکنا نہیں چاہیے تم گھنٹو ں بھاگوں تم کو تھکنا نہیں چاہیے باقی تم بچپن سے ٹریننگ کرتے آرہے ہو تم سب میں بہترین ہو لیکن میں تم کا سٹیمنا بڑھانے کی ٹریننگ دوں گا۔ پھر انہوں نے سخت ٹریننگ سے گزارہ مجھے ٹریننگ کا مطلب سمجھ آیا کہ پاکستانی آرمی کیسی ٹریننگ کرتی ہے نشانہ بازی میں تو میں بچپن سے ماہر تھا ہرقسم کا ہتھیار چلانا اور نشانہ لگانا سنائپر گن تک میں نے ٹریننگ کی تھی۔ اب میرا اتنا سٹیمنا تھا کہ گھنٹوں لڑ سکتا تھا گھنٹوں بھاگ سکتا ہے گھنٹو تیر سکتا تھا۔ ہر طرح کے حالات سے مقابلہ کرسکتا تھا۔اگر مجھ سے زیادہ کوئی طاقتور ہو تو کیسے لڑسکتے ہیں اس کی توانائی اس کے خلاف استعمال کرنا ہر چیز سیکھتا گیا۔کرنل صاحب نے مجھے یوگا بھی سکھایا جو کہ میری توانائی کو بہت آگے لے گیا۔ لیکن ایک چیز بتاتا چلوں کے دوستوں میں تھا انسان ہی کسی قسم کا سپرپاور ہیرو نہ تھا۔ لیکن اب میں اتنا ماہر تھا کہ کئی لوگوں سے کئی گھنٹے لڑ سکتا تھا دو ہزار میٹر تک ٹھیک نشانہ لگا سکتا تھا۔تیس منٹ سانس روک سکتا تھا۔ میرا جسم اتنا مضبو ط ہوچکا تھا کہ بڑی سے بڑی چوٹ کو برداشت کرسکتا تھا۔
  10. thanks janab main koshish karoon ga k aap ko zeyada wait na karna paray
  11. Wow Arif sahab Boht top ki story hai bhai Bus update de do kamal ki likh rahy ho jani
  12. Barani sb.. Abhi or wait karna hai...? Pehlay hi kafi zyada din ho gaye hai...
  13. ڈاکٹر صاب بڑے دل کے انسان ہیں،، وہ لازمی اس پر سوچیں گے،، اور کچھ نہ کچھ کریں گے اگر کہ دل ہی نہ ٹوٹ گیا ہوں۔۔ باقی چور چوری سے تو جا سکتا ہے ،،ہیرا پھیری سے نہیں۔۔ میں اس بات کے مکمل حق میں ہوں کہ فورم کی سیکیورٹی کے لیئے جو بہتر ہو کیا جائے شکریہ
  14. ڈاکٹر صاحب اپڈیٹ کر دے پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز پلیز
  15. Update==== 03 Jub main uss k bedroom may pohonchi to uss nay mujhay dhaka day ker apnay bed per gira diya aur mujh say poochnay lagi k "dekh uzma mujhay such bata tujhay yeh shoq kab say ho gaya hay teri choti moti chair chaar to samajh may aati hay lekin tu mujhay apnay sath sex karnay ka keh rahi hay yeh samajh may nahi aaya meray" Main : uss k gaal khainchtay huway bhabhi ab aap say keya parda thori bohot chair chaar to main aisay hee kar laiti hoon lekin keya karoon ab aap ka badan hee aisa hay dil kharab ho gaya" bhabhi nay sharmatay huway meri kamar per ghoonsa mara" kamini zeyada bakwas na kar chal phir dekhti hoon tujhay kitna kuch aata hay" main nay waqt na zaanya kartay huway saria bhabhi k hont choosnay shoroo kar diyeh pehlay to aisay hee apnay hont chuswati raheen phri unho nay bhi meray hont choosnay shoroo kar diya main hont choosnay k sath hee unn ki 38 size ki chatiyan bhi dabani shoroo kar deen unho nay aankhain khol kar mujhay dekha aur phir peechay ho kar apni qameez utaar dee aur bra ka huk khultay hee unn ki bari bari chatiyan uchal kar meray saamnay aagaeen jin ko main nay foran hee apnay hathon may thaam liya unho nay hath barha kar meri qameez ka daman pakar ker ooper karna shoroo kar diya main nay hath ooper kar k unn ko apni qameez utaarnay may madad kee ab hum dono oopri badan say nangay ho chukay thay main nay ek qadam aagay barhaya aur unn ki shalwaar bhi utaar kar alag kardee aur unn ko bed per hee lita diya ab main bhi apni shalwaar utaar kar unn k ooper hee lait gai aur hum dono nay ek doosray k hont choosnay shoroo kar diyeh meray hath unn ki chatiyon ko sehlatay huway unn ki choot per aachukay thay jaisay hee meri ungliyan unn ki choot k patlay patlay labo ko chuwa to saira bhabhi k badan ko ek jhatka sa laga aur unn k moo say ek aaaaahhhhhhh see nikli main unn ki chati ka ek nipple apnay moo may lay liya aur uss ko choosti hoi ungliyom say unn ki choot ko sehlanay lagi unn ki choot poori bheegi hoi thee main unn k gall choomti hoi neechay aanay lagi aur phir main nay jaisay apnay hont bhabhi ki choot per rakhay bhabhi thora sa kaanpi main nay apni zaban tezi say unn ki choot per phairni shoroo kar dee bhabhi ki siskiyon ki awaz buland honay lagi main nay angothay ki mada say unn ki choot k lub ko phailaya aur unn ki choot k daanay ko moo may bhar liya bhabhi nay tarap kar apnay dono hath meray sir per rakh liyeh aur apni taangain aur phaila deen mazay ki wajah say unn ka bura haal ho raha thaa aur phir qadrat oonchi aaaaaahhhhhhhhhh k sath hee wo farigh ho gaeen unn k jisim jhatkay laita huwa pursakoon ho gaya mera poora chehra unn k paani say bheega huwa thaa main nay unn k duppattay say apna chehra saaf keya aur unn k pass hee lait gai saira bhaabhi abhi nidhaal see pari thee jub uss nay apni saanso per qaboo paa liya to uth bethi aur uss nay mujhay zor say apnay aap say lipta liya aur mea cheha choomnay lagi Saira bhabhi " uzma tu to bari chupi rustam nikli keya maza diya hay tu nay qasam say mujhay kabhi itna maza nahi aaya aaj say tu meri pakki saheli ab main apnay pooray khandaan k kapray tujh say hee silwaoon gee lekin yeh abhi jo huwa hay hum dono k darmiyaan hee rehna chahyeh samjhi" Main : " bhabhi aap fiker na karo waisay bhi meri aadat nahi hay idher ki baat udhar karnay ki iss ghar ki baat aap kisi aur say nahi suno gee pakka wada acha ab main chalti hoon warna amma nay yaheen pohonch jana hay" yeh bol kar main apnay ghar aagai. ghar may amma mera hee intaizaar kar aheen thee mujhay dekhtay hee unn ka para charh gaya " aagai haramzaadi awara gardi kar k raat k khanay ko ager dair ho gai to dena jawab apnay bawa ko pata hay na wo 9.00 bajay khana khanay k aadi hain" naima nay mujhay isharay say apnay pass bulaya main bhi jaldi say kitchen may ja ghussi " saalan tayyar ho chuka hay aur aata bhi goondh diya hay main nay ab tu sirf roti bana lay main jub tak salad kaat rahi hoon" uss ki baat sun kar main nay itmainaan ki saans lee aur jaldi say tawa choolhay per rakh diya sub k leyeh rotiyaan daal kar main kitchen say baher aagai abba mian k aanay say pehlay main nay dinning table per khana laga diya naima nay salaad aur raita bhi table per rakh diya abba k aanay k baad sub hee table per aakar beth gae aur sub nay mil kar khana khaya main nay sub k leyeh chai charha dee chai pee ka kuch dair sub nay tv dekha aur phir sub apnay apnay kamron may chalay gae. subha school jatay waqt wo hee hero khara thaa lekin ab mujhay uss say nafrat see ho gai thee hina nay mujhay kohni maar kar uss ki taraf ishara bhi keya lekin main nay ussay ignore kar diya aur jaldi say school k ander chali gai Hina : " keya baat hay banno ka aaj mood kharab lag raha hay aaj to uss masoom ko bhi nahi dekha tu nay" hina nay muskuratay huway kaha main to waisay uss per buri tarah bigri hoi thee " masoom nahi hay wo ek number ka harami hay wo aai samajh ek hee jaisi parchiyaan sub larkiyon ko baant raha hay wo harami sala tujhay pata hay jo parchi uss nay mujhay dee thee wo hee parchi uss nay naima ko bhi dee ab bol hay wo bharosay k qabil kuta kaheen ka" hina hairani say mujhay dekh rahi thee Main : " ab ager ek lafz bhi tu nay uss ki himayat may bola to doon gee teray kaan k neechay haan" main nay ghussay may kholtay huway Hina : " na baba na meri bolti hay ab jooti uss k leyeh meray liyeh tujh say zeyada kon saga hay main to ab uss ka moo bhi na dekhon chal ab ghussa thook day aur bata koi nai taazi" uss nay kaan pakatay huway kaha Main : " uss k kaan khainchti hoi " yeh nai taazi keya hay main koi mohollay ki koser aunty hoon keya jo sub ki khaber rakhti phiroon gee tu suna hajjan bibi ka ab to natak nahi karti na wo" main nay uss ko shaarti nigahon say dekhtay huway kaha Hina : zor say hunsti hoi " nahi yaar ab to wo bilkul seedhi chal ahi hay lekin aaj kal kuch pareshan lag rahi hay mujhay lag raha hay k hamid nay koi naya darama kiya hay jo wo aaj kal kuch khamosh hay Main : " tu khamoshi say uss per nazer rakh uss ki darazon ki talasji lay waisay uss ki pakki saheli kon hay uss ka to pata kar " main nay uss say sargoshi kartay huway kaha Hina : " lay tujhay nahi pata k uss ki sirf saira bhabhi say hee to dosti hay main nay to suna hay k hamid say bhi wo ussi k ghar milti hay uss nay mujh per inkeshaaf kartay huway kaha Main : " uss ki peeth per goonsa maartay huway " to chal yeh to bohot acha ho gaya saira bhabhi say to apni pakki wali yaari hay main nay hina ko aankh maartay huway kaha phir school say chutti ho gai aur main apnay ghar aagai. dopehar may khanay say pehlay hina mujhay bulaanay aagai main ammi say pooch kar uss k sath chalti bani uss k kamay may pohonchtay hee hina nay darwaza band kar liya aur mujhay ek khat diya nmain nay jaldi say ussay khola aur parhna shoroo kiya meri jaan razia, tum iss ko mera aakhiri khat samjho 3 say 4 baar hum milain hain aur tum sirf mujhay kiss aur chatiyaan choosnay per hee tarkha rahi ho main tum say piyaar karta hoon aur tum say shaadi bhi kana chahta hoon aur jo kaam shaadi k baad karna hay wo pehlay karnay may kiya harj hay aur tum jo bhi karo gee apnay honay walay shoher k sath hee karo gee na to phir tum nakhray keyon dikha rahi ho ab jub milo to yeh soch kar milna k uss din hamari suhaag raat honi chahyeh. ab tak sirf tumhara, HAMID main nay khat hina ko wapas kar diya aur uss say poocha k "razia kahan hay aur kiya kar rahi hay" uss nay bataya k kal say moo phula kar bister per ondhi pari hay aur tujhay pata hay k kal sadia aapa bhi aaeen theen iss nay unn say mashwara kiya thaa unho nay saaf mana kardiya hay k wo tujhay dhoka day kar teri izzat say khelna chahta hay bus ek baar uss ki marzi poori ho gai wo foran tujhay chor day ga" Main : " phir razia baji nay keya jawab diya aapa ko" main ishtiaq bharay lehjay may kaha Hina : aankhain nachatay huway kaha "uss waqt to unho nay aapa ki baat maan lee lekin pata nahi keyon mujhay aisa lag aha hay k yeh hamid say zarur milain gee aur uss ki marzi bhi poori karain gee aaj hee amma say hair removing cream mangwai hay Main : hina meri jaan ab iss per zeyada nazer rakhna aur jaisay hee yeh ghar say niklay hum iss ka peecha karain gee samjhi" main nay ussay apni baanhon may bhartay huway kaha uss k baad koi khas kaam to thaa nahi main wahan say nikli aur seedhay saira bhabhi k ghar ja pohonchi sehan may koi nazer nahi aaya main nay kamray may bhi jhanka lekin wahan bhi koi nahi thaa main nay ooper serihyon per ja kar dekha to mujhay kisi aadmi k hunsnay ki awaz aai main nay zara see garden nikal ka dekha to mujhay ek jhatka sa laga wo jo bhi thaa bhabhi ko uss nay apni banho may bhara huwa thaa aur bhabhi ki chatiyaan uss aadmi nay pakri hoin thee Bhabhi : hamid ek baat ka khayal karna k razia ko shuk nahi honay dena k tu uss ko chodnay k baad chor day ga samjha Hamid : meri jaan hum dono nay mil kar iss mohollay ki 4 larkiyon k sath yeh hee khail khaila kisi ko shak huwa jo iss ko ho ga waisay bhi wo to kam aqal hay aisi lachay daar baatain banaoon ga k wo kuch soch hee nahi sakay gee " hamid nay qehqaha laga kar kaha bhabhi bhi uss k sath hunsnay lageen Bhabhi : kuch sochtay huway razia ki ek couson hay uzma aaj kal main uss ko dana daal rahi hoon bari garam larki hay wo dua kar k wo phans jae tujhay aish kara doon gee" bhabhi ki baat sun kar mujhay ghussa to bhohot aaya lekin main khamosh rahi itnay may mujhay hamid ki awaz aai acha jani ab main ghar chalta hoon kal aaoon ga razia ki choot ka iftetah karnay main jaldi say ghar say baher nikal gai. saira bhabhi k ghar say jaisay hee hamid baher nikla main seedhi saira bhabhi k ghar may dakhil ho gai wo waheen sofay per betheen thee mujhay dekhtay hee muskura kar aagay barheen mujh say galay milnay k leyeh main nay unn ko roka aur zordaar thapper unn k moo per maara wo ek jhatkay say ek taraf ho gaeen jaisay hee wo seedhi hoeen main nay doosray gaal per bhi ek thaper day maara wo phati phati aankhon say mujhay dekhnay lageen Main : " randi ki bachi tu nay apnay yaar hamid k zaryeh jo chakla iss ghar may khola hay na uss ko foran band kar day warna tujhay gali k beechon beecha nanga kar ka nachaoon gee samjhi aur ager kal ghalti say bhi razia ko mamooli sa bhi nuqsaan pohonchaya to main khud saudia phone kar k teray shohar ko teray saaray kartoot bata doon gee haram ki bachi kal jo bhi karna soch samajh kar karna aur jahan tak uss harami hamid ki baat hay main abhi jaa kar apnay bhai ko batati hoon wo tujhay bhi aur teray uss bharway ko bhi ghar may ghuss kar maaray ga" main ghussay k maaray poori kaanp rahi thee saira bhabhi nay jhat say neechay beth kar meray paon pakar leyeh aur zaroqataar ronay lageen " mujhay maaf kar day uzma tu sirf ek baar meri baat sun lay phir koi faisla karna hamid nay mujhay apnay jaal may phasaya hay mujhay blaickmail kar k wo yeh sub kuch karta hay dekh tujhay allah ka wasta meray shohar ko phone nahi karna meri zindagi barbaad ho jae gee tujhay teri ammi ki qasam hay" kiss qadar jhooti aur makkar aurat thee wo ager main nay uss ki baatain apnay kaano say na suni hoteen to bharosa kar bhi laiti uss per main nay ussay dhaka day kar apnay aap say door keya aur garaj kar boli " band kar apna naatak main teri baaton may aanay wali nahi mujhay jaldi say hamid ka address bata abhi k abhi aur ager tu nay uss ko pehlay say kuch bhi bataya to main ussi waqt saudia phone kar doon gee aur sun razia kal teray pass aae gee to ussay hamid ki poori suchai bata kar bhej dena ager kal razia ki shalwaar utri to tujhay iss mohallay say nanga kar k baher nikaaloon gee main khud samajh laina kutya ki bachi" main apnay ghar aanay k leyeh nikli lekin soch rahi thee k aisa keya karoo k kal razia ki izzat bhi bach jae aur bhabhi ka parda bhi chak ho jae phir achanak meray zehan may ek idea aaya hamid ka address meray pass hee thaa main nay jaldi say apni qameez phaari baalon ko bikhera ek chapple utha kar gali k konay may phainki aur dorti hoi ghar may dakhil ho gai amma nay kitchen k darwazay say jo meri halat dekhi to ghabra kar bhaagti hoi meray pass aagai " keya huwa meri bachi yeh keya haal bana rakha hay tu nay " amma ki baat sun kar poora ghar hee baray kamray may aagaya main amma say lipat kar ronay lagi itna may bhai aur abba mian bhi aagae bhai nay mera baazoo pakra aur mujhay apni taraf ghumaya aur mujh say poocha " darnay ki koi zarurat nahi hay bus mujhay yeh bata k keya huwa hay" main nay rotay huway batana shoroo kiya k main saira bhabhi k ghar unn ki qameez ka gala poochnay gai thee wahan koi hamid naam ka aadmi bhi thaa wo aur bhabhi gandi harkatain kar rahay thay mujhay dekhtay hee bhabhi nay hamid say kaha k iss larki ko pakar lo aur jaldi say iss k kapray utaar do aur iss k sath bhi bura kaam karo warna yeh pooray mohollay may sub ko bata day gee aur main badnaam ho jaoon gee uss aadmi nay mujhay pakar liya aur bhabhi mera kapray utaarnay lageen main nay poori taaqat say unn ko dhaka diya aur bari mushkil say bach bacha kar aai hoon" bhai nay ek dum mujhay galay laga liya " bus mera beta kuch nahi huwa tujhay allah ka shukur hay tum theek thaak ho ab dekh yeh tera bhai keya karta hay uss haramzaadi k sath aur uss hamid ko to main zinda gaar doon ga" wo jaisay hee baher janay lagay abba nay unn ka hath paker liya " nahi beta g yeh baat ghussay say nahi aqal say karni paray gee tum ek kaam karo saira k mian ko abhi phone karo aur ussay saira ki poori suchai bata do uss ko bolo k wo apni biwi ko khud sunbhalay warna hum police may complain karnay jaa rahay hain aur uss ko yeh bhi bol dena k abhi k abhi apni biwi ko uss k maikay bhej day" bhai jaan nay ussi waqt furqaan bhai (saira bhabhi k shoher) ko phone ka k saari sooat-e-haal say aagah keya wo bhai jan ki baat sun kar ghussay may aagae unho nay bohot moazrat kee aur yaqeen dilaya k saira ko wo aaj hee uss k ghar rawana karwa dain gay aur call band kar dee.
  16. Head Misstress Serial Novel Complete

    $15.00

  17. Bilkul sahi kaha..bohat kuch seekhne ko mil raha ha..aur har insan ki zindagi esy waqyat se bhari hui ha
  18. کہا ی کافی لاجواب ہے۔ اپڈیٹ بھی دے دیں تو مزا آ جائے۔
  19. i m a new reader plzzzzzzzzzzzzzzzzzzzzzzzzzzzzzzzz update storyyyyyyyyyyyyyy its tooooooooooooooooooooooooooooooooooooooooooo much interesting storyyyyyyyyyyyyyyyyyyy
  1. Load more activity

Announcements

×
×
  • Create New...