Jump to content
URDU FUN CLUB

Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 05/12/2021 in all areas

  1. 18 likes
    وہ شمائلہ تھی، جس کی بالی مجھے کھیتوں سے ملی تھی اور میں نے اس کو لوٹائی تھی۔یہی وہ لڑکی تھی جس نے مجھ سے مدد مانگی تھی کہ اس کی جان فیضان نامی بندے سے چھڑوا دوں۔ میں نے اس کی مدد کی حامی بھی بھری تھی مگر اب لگتا تھا کہ اس کی مدد کرنے میں مجھے تاخیر ہو گئی تھی اور فیضان کا گروہ اس کی پھدی کا اجتماعی افتتاح کر چکا تھا۔ مجھے افسوس تو ہوا مگر اس میں میرا کسی قسم کا کوئی قصور نہیں تھا۔خود میں بھی مصروف تھا اور شہر سے باہر تھا تو اس کی مدد کیسے کر سکتا تھا۔بہرکیف یہ لڑکی میری مدد کر سکتی تھی۔اس سے کوئی نہ کوئی کام لیا جا سکتا تھا۔اگر وہ اپنا منہ بند رکھتی تو۔۔ فیضان بولا؛اگر تم اپنی کزن کو ہمارے پاس نہیں لا سکتیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ کل رات پھر سے آ جانا اور کل دو چار دوست اور بھی ہوں گے۔ وہ تڑپ کر بولی؛پلیز نہیں۔میں ہاتھ جوڑتی ہوں، ایسا مت کرو۔تم نے کتنے لوگوں کے سامنے مجھے ننگا کیا ہے،اب اور نہیں۔ فیضان لاپروائی سے بولا؛فیصلہ تم کو کرنا ہے جان من۔اب جاؤ،اس سے پہلے کہ ہم ایک ایک باری اور لگا لیں۔ وہ اٹھی اور تیزی سے نکل گئی۔فیضان نے سگریٹ سلگایا اور میری طرف بڑھایا۔میں نے انکار کر دیا تو اس نے صغیر کی طرف بڑھایا جس نے اسے تھام لیا۔صغیر بولا؛کیا خیال ہے کہ کل ہم ذرا اپنی جان نازلی کے پاس نہ چلیں۔ میں بولا؛مجھے کوئی مسلئہ نہیں۔ فیضان بولا؛آج کیا ہے،آج بھی کوشش کر لو۔ویسے بھی اپنے ہیرو کو آج مزا نہیں آیا۔ میں خاموش رہا تو فیضان بولا؛ایک اہم بات جانی۔ ہم سب ایک گروہ ہیں تبھی محفوظ ہیں۔ یہ سب راز کی باتیں ہیں،جتنی بچیاں ہم نے اس شہر میں چود رکھی ہیں، کسی نے نہیں،یہاں تک کہ سالار گروہ بھی ہم سے پیچھے ہے۔ میں چونکا اور بولا؛سالار؟ سالار گروہ کونسا ہے؟ سیلا بولا؛جانی!شہر میں جوان پھدیاں اتنی ہیں کہ ایک گروہ نہیں کئی گروہ یہ کام کر رہے ہیں۔مین فیضان اور دوسرا ایک گروہ جو خود کو گروہ کہتا ہے،سالار گانڈو کا گروہ ہے۔اس کو ہم ماڈلنگ گروہ کہتے ہیں۔ یہ گروہ پھدیوں میں نہیں لڑکیوں سے جھوٹی عاشقی اور پیسے میں ملوث ہے، جبکہ ہم میں تم کو بتا چکا ہوں کہ صرف جسم کے پجاری ہیں۔ہماری پہلی اور آخری ترجیع سیکس اور صرف سیکس ہے۔ فیضان بولا؛سالار میرا جگری تھا اور میرے ساتھ ہی تھا۔بس ایک لڑکی کے پیچھے اس نے مجھ سے علیحدگی اختیار کر لی۔میں نے بھی اس لڑکی کا گینگ ریپ کرنے کی کوشش کی مگر سالی حرامزادی بچ کر نکل گئی۔پتا نہیں کیسے کوئی انجان بندہ اس کو چھڑا کر لے گیا،بارش کی وجہ سے اس کی شکل بھی نہیں دکھ سکی۔ میں بری طرح چونکا۔سالا کہیں یہ ماہی کی بات تو نہیں کر رہا ۔ میں نے خود کو سنبھالا اور بولا؛اگر اس نے لڑکی کی وجہ سے تعلق توڑا ہے تو لڑکی بہت کمال کی ہو گی۔ فیضان لن مسل کر بولا؛ایسی ویسی، دو بہنیں تھیں،ایک ضوفی پارلر والی اور دوسری ماہ نور اس کی چھوٹی بہن۔سالار حرامی دونوں بہنوں کو اکیلے چودنا چاہتا تھا۔میں یہ کہتا تھا کہ ٹھکانے پہ لا اور سب کو مزے کروا۔وہ کہتا تھا کہ ضوفی کے پاس پیسہ ہے،وہ ہڑپنا چاہیے۔اس نے اندر ہی اندر چھوٹی والی سے گیم بنائی اور اچانک بولا کہ وہ صرف اس کی ہے اور اس پیسے پہ بھی اس کا ہی حق ہو گا۔مجھے بڑا غصہ آیا، میں نے اس کو سزا دینے کے لیے سوچ لیا کہ جب موقع ملی، چھوٹی والی کو راستے میں لٹا لوں گا، مگر ہاتھ سے پھسل گئی۔سالار کے ساتھ بڑی زور کی لڑائی ہوئی،بات مشکل سے تھانے سے بچی۔ سیلا بولا؛سنا ہے کہ سالار کا گینگ دونوں بہنوں کی بجا چکا ہے۔ماہ نور تو اب گھر سے نکلتی ہی نہیں،کالج تک بھی نہیں جاتی اور ضوفی کچھ دن پہلے رات بھر پارلر میں اکیلی تھی اور خبر یہ ہے کہ سالار کے چار لونڈے وہاں تھے۔ مجھ پہ جیسے بجلی گری،ضوفی کا رات بھر اکیلی پارلر میں ہونا اور چار لونڈوں کے ساتھ ۔۔۔۔مجھ پہ کپکپی طاری ہو گئی۔میں سیلے سے بولا؛تم کو کیسےپتا چلا؟ وہ بولا؛ان میں سے ایک لونڈے نے بتایا تھا کہ اس نے مال سپلائی کیا تھا؟ میں چونک کر بولا؛مال سے کیا مراد ہے تمہاری؟ اس بات کا جواب فیضان نے دیا، وہ بولا؛اتھری گھوڑی جو ایسے قابو نہ ہو رہی ہو اس کو نشہ دے کر قابو کیا جاتا ہے،ہمارا گروہ کسی بھی لڑکی کے ساتھ مار پیٹ نہیں کرتا، بلکہ سب کچھ پیار سے ہوتا ہے۔ جو زیادہ اڑی کرے،اس کو بےہوش یا مدہوش کر کے پہلی باری ذرا اس کو لائن پہ لایا جاتا ہے۔ وہ سمجھانے لگا کہ کیسے وہ لوگ ایسی لڑکیوں کو قابو کرتے ہیں جن سےیہ خدشہ ہو کہ گینگ ریپ کے بعد یہ سیدھا تھانے جائیں گی،ان کو نشہ دے کر گینگ ریپ کر کے ان کی ننگی تصویریں بنا لیتے ہیں تاکہ لڑکی چار بندوں میں چدنا قبول کر لے مگر پوری دنیا کے سامنے ننگی ہونا نہیں۔ میرا دماغ سائیں سائیں کرنے لگا۔مجھے لگا کہ میرے کانوں میں کسی نے پگھلا ہوا سیسہ ڈال دیا ہو۔ یہ سوچ کر ہی میری جان نکل رہی تھی کہ میری محبت ضوفی کے ساتھ کچھ ایسا غلط ہوا ہوگا۔وہ ایک اکیلی مگر مضبوط لڑکی تھی۔اس نے ایسے کئی معاملات اور مشکلات کا سامنا کیا تھا زندگی میں اور مجھے یقین تھا کہ اس بار بھی وہ کمزور نہیں پڑی ہو گی۔اس حرام زادے خود ساختہ جیمز بانڈ کی دی ہوئی اطلاع اور خبر میں بھی کوئی نہ کوئی جھول ہو سکتا ہے۔ یہ کونسا اس وقت وہاں تھا جب تک کوئی عینی شاہد نہ ہوتا اس بات میں کم از کم یہ تسلی تھی کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔انسان جب کسی بات کو جھٹلانا چاہے تو وہ اس کے لئے کئی جواز اور تاویلیں سوچ لیتا ہے۔میں بھی یہی کر رہا تھا اور تاویلیں سوچ رہا تھا کہ کیسے خود کو تسلی دوں کہ ایسا کچھ نہیں ہوا ہوگا۔اب تک تو یہ بس ایک قیاس آرائی تھی۔ ضوفی میرے لئے صرف کوئی لڑکی نہیں تھی بلکہ محبت کا احساس تھی میں بے شک اپنی ہوس پرستی کے ہاتھوں مجبور ہو کر ہر لڑکی کے اندر گھس جاتا تھا۔مگر دل میں ضوفی بستی تھی۔میرے چہرے کا رنگ اڑ گیا تھا اور میں شدید پریشانی کے عالم میں ان کو دیکھ رہا تھا۔ صغیر بولا؛ ایک بات تو بتا یاسر۔ تو بھی تو اسی مارکیٹ میں کام کرتا ہے۔تو ایسی دانہ پیس بہنوں کو کیسے نہیں جانتا؟ میں اب پھنس چکا تھا مجھے سمجھ داری سے اس کی بات کا جواب دینا تھا۔میں بولا؛ مجھے بڑی حیرت ہے کہ تم ان بہنوں کی بات کر رہے ہو جن کے متعلق مارکیٹ میں کبھی کسی نے غلط بات نہ سنی نہ کہی۔ان کو سرسری سا جانتا ہوں مگر زیادہ علیک سلیک نہیں ہے۔ فیضان ہنس کر بولا؛ بیٹے تجھے یہاں ایسی ایسی ملیں گی کہ جن کی پاکیزگی کی گواہی پورا زمانہ دیتا ہوگا اور ان پر ہر رات جب تک دو بندے نہ چڑھ جائیں ان کی صبح نہیں ہوتی۔ان دو بہنوں کی بھی گارنٹی کچھ ہفتے یا مہینوں تک پہلے کی تو تھی۔بہت سے بندے ان کے چکروں میں تھے۔ کافی لڑائی جھگڑا بھی ہوا تھا مگر اس کے باوجود یہ کسی نہ کسی طرح بچ نکلیں۔پھر بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی،چھوٹی والی جو زیادہ ہی اتھری تھی وہ سالار کے چکر میں پھنس گئی۔ میں اپنے تجسس کو بظاہر دلچسپی میں ڈھال کر بولا؛ وہ کیسے پھنس گئی؟ اس بات کا جواب سیلے نے دیا؛ بس ایک لڑکی ہمارے گروپ کے ہاتھ میں آئی تھی۔ اس لڑکی کا نام شبانہ تھا۔وہ اس چھوٹی والی کی سہیلی تھی اور فیضان اور سالار کی مشترکہ پھدی تھی۔سالار نے چپکے چپکے کے اس کو راضی کر لیا کہ وہ اگر اس چھوٹی والی سے اس کی دوستی کروا دے تو وہ اس کی جان چھوڑ دے گا۔بس اپنی جان بچانے کے لیے اس نے سالار کو چھوٹی والی سے اپنا کزن کہہ کر ملوادیا۔پیارے! تو سالار سے نہیں ملا ہے۔ وہ دیکھنے میں ہی کسی کروڑپتی باپ کا امیر زادہ بیٹا لگتا ہے۔وہ لڑکیوں کی پھدیاں چودتا کم ہے مگر ان کو لوٹتا بہت ہے۔لڑکی جب تک اپنے گھر کا سارا زیور اس کے ہاتھ پہ نہ رکھ دے وہ لڑکی کو معاف نہیں کرتا۔اسی لئے تو اس کے انگ انگ سے لگتا ہے کہ جیسے سالا کسی ریاست کا شہزادہ ہو۔جبکہ ہے ایک نمبر کا بھکاری اور بچپن کا گانڈو۔ مجھے یاد آنے لگا کہ کیسے ماہی اپنی سہیلی کے ساتھ بارش والی رات کو ایک بند گلی کی طرف گئی تھی۔ جہاں اس کی سہیلی تو غائب ہوگئی تھی اور اسے لڑکوں نے پکڑ لیا تھا۔اس کا تو صاف صاف مطلب یہی تھا کہ وہ لڑکی ہی ماہی کو اس طرف لے گئی تھی۔ خود کہیں غائب ہوگئی اور ماہی کو ان لڑکوں کے حوالے کردیا۔اس کی اس رات ایک حساب سے قسمت اچھی تھی کہ ان لڑکوں کے ہاتھوں گینگ ریپ ہونے سے بچ گئی۔دوسری طرف اس کی قسمت خراب بھی کہہ سکتے ہیں کہ میرے نیچے آ گری۔شاید اس کی قسمت میں ہی اس رات سیل تڑوانا لکھا تھا۔ قسمت بھی بندے سے کیا کیا کرواتی ہے۔ میں ان سے بولا؛ کیا تم میری سالار اور اس کے گروپ سے دوستی کروا سکتے ہو؟ اس بات پر تینوں چونکے اور اور فیضان بولا؛ تم کو ان سے کیوں دوستی کرنی ہے۔ویسے بھی وہ گروپ ہمارا ہی ٹوٹا گروپ ہے اور اس میں چار لونڈے ہیں بس۔ میں بولا؛ میں ان کے گروہ میں گھس کر بھی دیکھنا چاہتا ہوں کہ کیا چل رہا ہے؟ ان کو بھی علم نہیں ہوگا کہ میں تمہارا ساتھی ہوں اور ان کے راز بھی تم تک آ سکتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ اگر یہ دو بہنیں ان کے پاس ہیں تو ہمارے ہاتھ لگ جائیں۔ تینوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور سر ہلا کر فیضان بولا؛ تیری بات میں دم تو ہے پیارے۔اس کمینے سالار سے حساب بھی چکتا کرنا ہے۔ہماری بلی ہم ہی پر میاؤں کرنے لگ گئی ہے۔اس کے علاوہ ایک ترسے ہوئے لوگوں کا گروہ اور بھی ہے جو اکثر ہمارے رنگ میں بھنگ ڈالتا ہے۔یہ وہ ہیں جنہوں نے کبھی اپنی ماں کی پھدی سے نکلنے کے بعد پھدی کا تجربہ نہیں کیا،شدید ترسے ہوئے اور ندیدے قسم کے بندے ہیں۔کسی طرح اگر ان کو بھی نکیل ڈالی جائے تو ہمارا راستہ صاف ہو سکتا ہے۔ میں بولا؛ اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ تم لوگ مجھے اپنے گھروں سے بالکل آؤٹ رکھو اور یہ بات کسی کو پتہ نہ چلے۔یہاں تک تمہارے ساتھیوں کو بھی نہیں۔ تم تینوں کے علاوہ کوئی چوتھا نہیں ہونا چاہیے۔ صغیر بولا؛ مگر میری جان ابھی ابھی جس پھدی پہ ہما باجماعت چڑھے ہیں،اس نے تجھے یہاں دیکھ لیا ہے۔ میں بولا؛ تو اس کا علاج یہ ہے کہ میں اس کو کسی طریقے سے یقین دلا دوں گا کہ میں تم لوگوں کا ساتھی نہیں ہوں۔ فیضان بولا؛ اور یہ کام کیسے ہوگا؟ میں بولا؛ میں اس لڑکی سے کل ملوں گا اور تم لوگوں کے پاس اس کی جو کمزوری ہے وہ تم مجھے دے دو گے۔میں لڑکی کو یقین دلا دوں گا کہ میں تم لوگوں کا ساتھی نہیں ہوں اور اس کی جان تم سے چھڑانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ایک لڑکی تو ضائع ہوگی مگر ہم لوگ اگر سامنے والے گروہ ختم کر دیتے ہیں تو کئی لڑکیاں ہاتھ آجائیں گی۔تب ہم اس کو دوبارہ قابو کر لیں گے۔ مگر ہم دو دشمن گروہوں کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔اس کے بعد کھلا جنگل ہو گا اور ہمارا شکار۔ فیضان جھوم کر اٹھا اور بولا؛ واہ استاد واہ۔ تو تو ایک نمبر کا کمینہ اور عیار نکلا۔کیا ترکیب لایا ہے میں تو پہلی ہی ملاقات میں تیرا فین ہو گیا ہوں۔اس لڑکی کا نام شمائلہ ہے میں تجھے اس کی وہ تصویریں دیتا ہوں جن کی وجہ سے یہ ہم لوگوں کے نیچے لیٹتی ہے۔آگے کا کام تیرا۔تو جیسے چاہے مگر تجھے سالار اور اس دوسرے لونڈوں کے گروہ میں گھسنا ہو گا۔مجھے اس چھوٹی والی کی پھدی میں سے خون نکالنا ہے اور وہ بھی اس سالار کی آنکھوں کے سامنے۔تب ہی اس کو معلوم ہو گا کہ گروہ کے بیچ و بیچ میں سے کیسے لڑکی کو اپنے لیے الگ کرتے ہیں۔ صغیر بولا؛ اس سے پہلے ایک اور کام بھی ہے تجھے اس تھانے دار کی چھوٹی بیٹی کو نیچے لٹانا ہوگا۔مجھے ہر حال میں دونوں بہنیں چار چار لڑکوں کے نیچے ننگی چاہیئں۔ میں اس سے بولا؛ یہ تو کچھ بھی نہیں۔ میں تمہیں ایک ایسی پری لاکر دوں گا کہ جس کو دیکھتے ہی تم تینوں کے ہوش اور اوسان دونوں خطا ہو جائیں گے۔اس کا رنگ اور جسم تو کمال ہے مگر اصل بات یہ ہے کہ وہ ایسا پیس ہے کہ اس کو دیکھنے والوں کی آنکھیں اس کا باپ نکال لیتا ہے۔اس پر کبھی کسی برائی بندے کی نظر تک نہیں پڑی اور تم لوگوں کے بھائی نے اس کی کل ہی پہلی بار سیل کھولی ہے۔ تینوں تڑپے اور مچل اٹھے،فیضان بولا؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کبھی ایک وقت میں ایک سے زیادہ بندے کے نیچے نہیں آئی۔وہ مغرور بھی ہو گی اور اس میں انا بھی بہت ہوگئی۔ایسی ہی لڑکی تو بستر پر نیچے مزا دیتی ہے، جو خود کو کوئی چیز سمجھتی ہو۔ رات گئے میں اور صغیر وہاں سے نکلے تو صغیر بولا؛ کیوں نہ ہم ایک چکر میری جان کی طرف لگا لیں ہو سکتا ہے کہ آج بھی بات بن جائے۔ ہم تھانے دار مراد کے محلے میں گئے صغیر نے ایک پتھر گھر کی کھڑکی کی طرف پھینکا۔تھوڑی دیر بعد کمرے کی لائٹ دو دفعہ آن آف ہوئی۔اس کا مطلب یہ تھا کہ لڑکیاں اوپر ہی تھیں اور وہ ملنے کے لئے رضامند تھیں۔ حسب سابق صغیر نے اندر گھستے ہی نورین کو پکڑ لیا اور میرے اور نازلی کے سامنے ہی اس کے اوپر چڑھ گیا۔ہم دونوں شرم کے مارے اوپر چلے گئے۔رسمی سلام دعا کے بعد بعد خاموشی سے ادھر ادھر دیکھنے لگے۔میرے دماغ میں یہی چل رہا تھا کہ اس کی لینے کے لیے کی بندے ہاتھ میں لن پکڑ کر کھڑے ہیں۔میں کیسے اس معصوم کو چار بندوں کے نیچے لے آؤں؟ مگر ایک بات اور بھی تھی کہ اگر مجھے اپنی وفاداری ثابت کرنی تھی تو اس چھوٹی کے اندر تو ایک سے زیادہ لوڑے گھسانے تھے۔یہ میری مجبوری تھی۔ میں غائب دماغی سے بیٹھا تھا کیونکہ میں مسلسل ضوفی کے متعلق سوچ رہا تھا، مجھے سیلے کی دی ہوئی معلومات پہ شک تھا۔اسی لیے سالار کے گروہ میں گھسنا ضروری تھا۔ جتنی دیر صغیر لگا رہا تھا مجھے یقین تھا کہ صغیر نے ایک بار نہیں کیا ہوگا،وہ نورین کے ساتھ کم از کم دوسری بار کر رہا ہوگا۔ ورنہ جتنی لگ گئی تھی اتنی دیر میں تو بندہ فارغ ہو جاتا ہے۔صغیر واقعی ہی نورین کی پھدی کے ساتھ ظلم کر رہا تھا۔میں نازلی سے بولا؛کچھ زیادہ دیر نہیں ہو گئی شائد ہمیں اوپر بیٹھے ہوئے دو گھنٹے سے زیادہ ٹائم ہو گیا ہے۔ نازلی میری طرف دیکھ کر بولی؛ہر دفعہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ کئی دفعہ تو میں باہر بیٹھے بیٹھے سو جاتی ہوں۔مگر کیا کروں دیکھنا تو پڑتا ہی ہے۔ میں بولا؛ ہاں تم صحیح کہہ رہی ہو۔بہت دیر لگ گئی ہے۔ میں نازلی سے بولا؛ کیا ہمیں نیچے چل کر دیکھنا نہیں چاہیئے کہ اور کتنی دیر ہے؟ نازلی نے میری طرف دیکھا اور بولی؛میرا تو خیال ہے کہ ہمیں نیچے نہیں جانا چاہیئے میں بولا؛ کیوں؟ وہ نظریں چرا کربولی؛ بس۔ میں سمجھ گیا کہ وہ اس لیئے کہہ رہی تھی کہ نیچے صغیر اور اس کی بہن جس حالت میں ہمیں ملیں گے اس حالت میں ان کو دیکھنا مناسب نہیں ہے۔ میں بولا؛ پھر بھی ایک نظر دیکھ لینا چاہیے کہ سب خیریت ہی ہے نا کوئی مسئلہ تو نہیں ہو گیا؟ہمیں اس کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔دو گھنٹے مسلسل ہم ایک جگہ پر تو نہیں بیٹھ سکتے۔ وہ بولی؛ بات تو آپ کی ٹھیک ہے۔میں بھی چھت پر کبھی نہیں آئی ہمیشہ باہر ہی بیٹھتی ہوں چاہے مجھے کتنا ہی برا کیوں نہ لگے۔ یہ کہہ کر وہ بولی؛ چلیں پھر چلتے ہیں۔ ہم دونوں اسی طرح دبے پاؤں نیچے اترے اور کمرے کے پاس گئے۔کمرے کا دروازہ آدھا کھلا ہوا تھا اور کمرے کے اندر بڑی دھیمی سی روشنی تھی جو کھڑکی سے باہر آ رہی تھی، اس روشنی میں میں نے ہلکا سا اندر جھانکا تو نازلی نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور مجھے بولی؛ نہ دیکھیں مجھے بڑا عجیب لگے گا کہ میری بہن جو کر رہی ہے آپ کی نظر میں اس کی ساری عزت چلی جائے گی۔ میں اس سے بولا؛دیکھو ایسا مت سوچو۔میں جانتا ہوں کہ جو کچھ تمہاری بہن کر رہی ہے وہ صغیر کی محبت میں کر رہی ہے۔جھانکنا مجھے بھی نہیں چاہیئے لیکن اگر وہ لوگ نارمل بیٹھے ہیں تو ان سے پوچھنا چاہیے کہ انہیں اور کتنی دیر ہے اور ہمیں چلنا چاہیئے کہ نہیں۔ وہ بولی؛ ہاں بات تو آپ ٹھیک کر رہے ہیں۔ہم دروازہ کھٹکھٹا بھی تو نہیں سکتے۔ میں اور وہ یہ باتیں ایک دوسرے چونکہ سرگوشیوں میں کر رہے تھے اس لیئے دونوں کے منہ ایک دوسرے کے منہ کے پاس پاس تھے۔مجھے اس کی گرم سانسیں تھؤڑی تھوڑی محسوس ہو رہی تھیں۔میں نے کمرے کے اندر تھوڑا سا سر ڈالا تو مجھے نظر آیا۔ نورین بستر پر سیدھی لیٹی ہوئی تھی اور صغیر اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ کر بڑے ارام آرام سے دھکے لگا رہا تھا۔ مجھے حیرانی ہوئی کہ وہ ابھی تک رکا نہیں ہے تب مجھے احساس ہوا کہ وہ جان بوجھ کر اتنے آرام آرام سے نورین کو چود رہا ہے کہ دو تین گھنٹے آرام سے نکل جائیں جب جب وہ چھوٹنے والا ہوتا ہوگا وہ رک جاتا ہوگا اور جب لن تھوڑا سا نارمل ہوتا ہوگا تو دوبارہ نورین کو چودنے لگ جاتا ہوگا۔ اسی کلیے پر وہ چاہتا تھا کہ زیادہ سے زیادہ نورین کے ساتھ رہے اور جتنی دیر رہے اتنی دیر اس کی پھدی میں لن گھسائے رکھے۔کمینہ مجھے نازلی پہ نقب لگانے کا ٹائم دے رہا تھا، یہ الگ بات تھی کہ ضوفی والے معاملے کی وجہ سے میں مسلسل الجھا ہوا تھا اور نازلی پہ شہوت آ نہیں رہی تھی مگر اب لوڑے نے انگڑائی لی تھی۔ میں نے سر باہر نکال لیا اور بولا؛ ابھی وہ مصروف ہیں۔ نازلی بولی؛ وہ کیا کر رہے ہیں۔ میں بولا؛ میرا خیال ہے تم خود ہی دیکھ لو میں اپنے منہ سے کیا بتاؤں؟ نازلی بولی؛ بس میں سمجھ گئی کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ میں بولا؛ آپس کی بات ہے کیا تم نے کبھی یہ منظر دیکھا ہے؟ اس نے اچانک چونک کر مجھے دیکھا اور بولی؛ ہم اوپر چل کر بات کرتے ہیں۔یہاں ہمیں جس طرح بات کرنی پڑ رہی ہے اس میں مشکل ہو رہی ہے۔ وہ بالکل میرے کان کے پاس منہ لگا کر مجھے کہہ رہی تھی۔ میں نے تھوڑا سے چہرہ ہلایا تو اس کے ہونٹ میرے کان کے تھڑا سا نیچے ٹچ ہو گئے اس نے اچانک جھٹکے سے سر پیچھے کر لیا۔ میں نے جہاں پر اس کے ہونٹ لگے تھے وہاں پر ہاتھ رکھا اور اس کی طرف جھکتے ہوئے اس کے کان میں کہا؛مجھے اس بات کی امید نہیں تھی کہ تم خوش ہو کر مجھے ایسے کرو گی۔ اس نے اچانک ہی جہاں میرا ہاتھ تھا وہاں سے میرا ہاتھا ہٹایا اور اپنا ہاتھ رکھ کر اس جگہ کو ایسے رگڑا جیسے اپنے ہونٹوں کا نشان صاف کرنے لگی ہو۔ یہ کر کے وہ دوبارہ سرگوشی میں بولی؛لو مجھ سے غلطی ہو گئی تھی میں نے اپنی غلطی ٹھیک کر دی ہے۔ میں اس سے بولا؛ اچھا تو کیا ایسے غلطیاں ٹھیک ہو جاتی ہیں؟ وہ شرارت بھرے انداز میں بولی؛ہاں جی ایسے غلطی ٹھیک ہو جاتی ہے میں نے اچانک اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں پکڑا اور کس کے اس کے ہونٹوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دیئے۔اس نے اپنا منہ چھڑانے کی کوشش کی مگر میں نے اتنی زور سے اس کے منہ کو چوما کہ اس کے ہونٹ کھل گئے اور اس کا تھوک میرے منہ میں آ گیا۔ میں نے کم سے کم بھی دس بیس سیکنڈ کا زوردار چما لینے کے بعد اس کے ہونٹوں کو چھوڑا اور چھوڑتے ساتھ ہی اپنی انگلیوں سے اس کے ہونٹوں کو صاف کرتے ہوئے کہا کہ لو جی میں نے بھی اپنی غلطی کا نشان مٹا دیا۔ اس نے مجھے دھکا دیا اور تیزی سے سیڑھیاں چڑھ کر چھت پر جانے لگی۔میں بھی آرام آرام سے اس کے پیچھے چھت پر چلا گیا۔وہ میری طرف پیٹھ کر کے کھڑی تھی میں گیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو اپنی طرف موڑا اس نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی مگر میں نے اس کو چھڑانے نہ دیا اور اس کو اپنی طرف موڑ کر بولا؛یار میں نے مذاق کیا تھا۔ وہ مجھ سے بولی؛کسی لڑکی کے ہونٹوں پر چوم لینا مذاق نہیں ہوتا یاسر صاحب۔ میں بولا؛ یار مجھے پتہ ہے لیکن تم خود سوچو ہم کس عجیب سی صورتحال میں گھرے ہیں ہمارے سامنے ایک لڑکا اور لڑکی آپس میں جسمانی تعلق بنا رہے ہیں ہم تنہائی میں اک ساتھ دو گھنٹے بیٹھے ہیں۔جوانی اور اس طرح کے حالات کسی کو بھی بہکا دیتے ہیں۔میں بھی تھوڑا سا بہک گیا تھا کچھ بھی ہو جائے تمہاری بہن کے ساتھ اپنے دوست کو کرتے ہوئے دیکھ کر کچھ تو میری حالت بھی تو غیر ہوئی ہوگی نا۔اس نے میرے جذبات اور میرے احساسات کو مشتعل کیا ہوگا۔۔اسی لیے مجھ سے یہ غلطی ہو گئی۔ وہ روہانسی ہو کربولی؛ مگر پھر بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے۔مجھے یہ احساس ہو رہا ہے کہ آپ نے سوچا کہ بڑی کر رہی ہے تو چھوٹی کو میں کر کے دیکھتا ہوں۔وہ کونسا نیک پروین ہو گی۔ میں بولا؛ تمہیں برا لگا ہے تو میں تم سے معافی مانگتا ہوں۔اور تم نے دیکھا پہلے دو گھنٹے میں نے تم سے ایسی کوئی بات نہیں کی تھی۔یہ بھی بس ایک کمزور لمحے کی کمزور غلطی تھی۔اس کے لیے میں تم سے معافی مانگتا ہوں وہ بولی؛ میں نے آپکو معاف کیا کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ ایسا ہو جاتا ہے۔ میں بولا؛ تمہیں کیسے پتہ ہے؟ وہ بولی؛ بس مجھے اس طرح پتہ ہے کہ ابھی جو آپ نے سوال کیا تھا کہ میں نے کبھی کرتے دیکھا ہے تو میں نے ان کو کئی بار کرتے دیکھا ہے۔اور کئی بار ان کو کرتے دیکھ کر میری اپنی طبیعت خراب ہونے لگ جاتی ہے۔ میں اس سے بولا؛ کیا مطلب؟تمہیں کیا محسوس ہوتا ہے؟ وہ بولی؛ بس کچھ نہیں بہت عجیب سا محسوس ہوتا ہے۔ میں سمجھ گیا کہ وہ یہ کہ وہ یہ کہنا چاہتی کہ اپنی بہن کی پھدی چدتے دیکھ کر اس کی اپنی پھدی میں بھی کوئی نہ کوئی کلبلاہٹ پیدا ہوتی ہے۔ظاہر سی بات ہے لڑکی کا دل کرنے لگتا ہے اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے اور اس کی سانسیں بوجھل ہو جاتی ہیں اور اس کی شلوار بھیگ جاتی ہے۔ یہ ساری علامات تو میں سمجھتا تھا اور مجھے معلوم تھا کہ صغیر بھی انہی علامات کا استعمال کر کے نازلی کی پھدی مارنا چاہتا ہے۔ اس کو معلوم تھا کہ جو اپنی بہن کی پھدی چدتے دیکھتی ہوگی وہ کچھ نہ کچھ چدنے کی خواہش بھی ضرور رکھتی ہوگی۔ میں نازلی سے بولا؛ایسا ہونا عین فطری ہے اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں ہے۔تم نے دیکھ لیا نا میں نا چاہتے ہوئے بھی ایک غلطی کر بیٹھا۔اسی طرح تم جو کہہ رہی ہو تم سے بھی یہ غلطی ہو جاتی ہے۔یہ حالات اور وقت ایسا ہی ہے۔تم تو ایک چیز دیکھ کے بات کر رہی ہو بعض اوقات ایسی باتیں کرنے سے بھی انسان بہک جاتا ہے۔ وہ بولی؛ ہاں مجھے معلوم ہے جب میری نورین مجھے اپنا بتاتی ہے تو میں آپ کو بتا نہیں سکتی کہ کئی بار میرا دل کرتا ہے کہ میں اٹھ کر بھاگ جاؤں اور اگر میں نہ بھاگی تو پتہ نہیں مجھ سے کیا غلطی ہو جائے گی۔ میں بولا؛ تم بالکل فکر مت کرو۔اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں ہے۔یہ سب فطری تقاضے ہیں جو ہمیں اکثر بہکا دیتے ہیں تم پریشان نہ ہو۔ اس نے اس بات پہ سر ہلایا اور بولی؛ شکریہ۔آپ نے مجھے بڑا حوصلہ دیا ہے۔ میں اس سے بولا؛ ویسے آپس کی بات ہے تمہارے ہونٹ بہت میٹھے تھے۔ اس نے میرے سینے پہ ہلکا سا تھپڑ مارا اور بولی؛اب آپ بھی غلط بات کر رہے ہو۔ میں بولا؛ یار میں تو سچ کہہ رہاہوں۔تمہارے ہونٹ واقعی بہت میٹھے تھے۔ وہ بولی؛ کسی کے ہونٹ میٹھے نہیں ہوتے۔ میں بولا؛ تمہارے کم از کم میٹھے ہیں۔تم کبھی اپنے ہونٹوں کو خود چکھو تو تمہیں پتہ چلے۔ وہ ہنسی اور بولی؛میں اپنے ہونٹوں کو کیسے چکھوں؟ میں بولا؛ تم اپنے ہونٹوں کو پہلے میرے ہونٹوں سے جوڑو جب ان کا رس میرے ہونٹوں میں آ جائے گا تو میرے ہونٹوں پہ زبان پھیر کے دیکھو۔ اس نے مجھے زور سے دھکا دیا اور ہنستے ہوئے بولی؛کتنے چالاک ہو آپ یہ بھی آپ اپنا فائدہ ڈھونڈ رہے ہو اور ایسی باتیں کر کے آپ مجھے چکر دے رہے ہو۔مجھے پتہ ہے کہ آپ مجھے بہلا رہے ہو۔مگر میں اتنی آسانی سے بہلنے والی نہیں ہوں۔ میں بولا؛ یہ تو میں جانتا ہوں کہ تم اتنی آسانی سے بہلنے والی نہیں ہو اگر آسانی سے بہلنے والی ہوتی تو صغیر کب کا تم کو بہلا چکا ہوتا۔ وہ بولی؛ ہاں صغیر نے واقعی ہی بہت کوشش کی ہے مجھے پٹانے کی کئی بار جب میں اس کے ساتھ اک آدھ منٹ اکیلی ہوتی ہوں تو اس نے پوری ٹرائی کی ہے کہ مجھے شیشے میں اتار لے مگر میں نے اس کو کبھی بھی پلہ نہیں پکڑایا۔آخر میں کیوں اس کے ساتھ ایسا کروں جب کہ وہ میری بہن کے ساتھ پہلے ہی سب کچھ کر رہا ہے۔ میں بولا؛ تو تم یہ چاہتی ہو کہ وہ کم از کم صغیر نہ ہو تمہارا کوئی اپنا ہو۔ اس نے میری طرف دیکھا اور بولی؛میں ایسا نہیں چاہتی مگر ایک فطری بات ہے کہ مجھے بھی کل کو کسی مرد کے ساتھ شادی کرنی ہے اور یہ سب کچھ کرنا ہے تو کم از کم وہ مرد میرا ہی ہونا چاہیے۔وہ میری بہن کا نہیں ہونا چاہیے۔ اس کی بات سے میرے دماغ میں ایک جھماکا ہوا۔کچھ ایسی ہی بات مجھے ماہی نے کی تھی۔ اور وہ بھی کچھ ایسا ہی کر رہی تھی کہ میں اگر اس کی پھدی مار چکا ہوں تو پھر اب اسی کی مارتا رہوں اس کی بہن کی نہ ماروں۔اور اگر ضوفی کو پتہ چل جاتا کہ میں ماہی کی پھدی مار رہا ہوں تو وہ مجھے چھوڑ دیتی تا کہ میں پھر اس کی بہن کی مارتا رہوں اس کا نہ لوں۔یہ بات ضوفی کو کبھی قبول نہ ہوتی کہ میں دونوں بہنوں کو چودتا رہوں۔ ماہی بھی یہ بات پہلے کر چکی تھی تو شاید مجھے پھانسنے کے لیے کر رہی تھی کہ اس چکر میں مجھے شائد وہ راضی کر لے کہ میں اس سے شادی کر لوں اور ایک بار شادی ہو جاتی تو وہ مجھے کیسے اجازت دیتی کہ میں اس کی بہن کو بھی چود دوں۔ نازلی کی بات نے مجھے ایک بہت کام کی بات بتا دی تھی۔ میں اور نازلی ساتھ ساتھ بیٹھ گئے۔ اس کے ہونٹ چومنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ اس کا رویہ میرے ساتھ تھوڑا بےتکلفانہ ہو گیا ہے اور وہ شاید آنے والے دنوں میں پھر سے تھوڑا سا کھلے گی میرے ساتھ۔مگر ایک چیز میں نےبڑی عجیب محسوس کی کہ نازلی اور اس کی بہن نورین اچھی خاصی خوبصورت اور پڑھی لکھی لڑکیاں تھیں وہ صغیر کے چکر میں کیسے آ گئیں؟ میرے ذہن میں یہی بات آ رہی تھی کہ شاید صغیر کا کوئی جیک لگا ہے۔دوسرا نازلی کے ہونٹ چومنے میں مجھے ایک حوصلہ یہ بھی تھا کہ یہ کم از کم شور شرابہ یا زیادہ رولا نہیں کرے گی۔ زیادہ رولا نہ کرنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم دونوں اس کے گھر میں تھے۔اگر وہ کوئی چکر کرتی تو اس کے گھر والے جاگ جاتے اور مسئلہ ان کے لیے ہی بنتا۔میں اس وقت اگر نازلی کی عزت بھی لوٹ لیتا تو میرے سامنے وہ زیادہ چوں چراں نہیں کر سکتی تھی اور کرتی بھی کیسے؟میں اس وقت کچھ بھی کرنے کی پوزیشن میں تھا اور وہ دونوں بہنیں ہم دونوں لڑکوں کے نیچے لگی ہوئیں تھیں۔ان باتوں کا فائدہ اٹھا کر صغیر دونوں بہنوں کے ساتھ گندی بات اور غلط حرکات کر جایا کرتا تھا۔خیر یہ ان کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا بھی سمجھ سکتے ہیں۔ نازلی مجھ سے آنکھیں چرا رہی تھی۔ظاہر سی بات ہے اس کی وجہ یہی تھی کہ میں نے اس کے ہونٹوں کو اچانک ہی چوم لیا تھا۔ مگر میں یہ بھی محسوس کر رہا تھا کہ میرے ہونٹ چومنے سے وہ کچھ زیادہ برا محسوس نہیں کر رہی تھی۔ مجھے معلوم تھا کہ اگر کسی لڑکی کے ساتھ زبردستی کی جائے تو اس کا کیا ردعمل ہوتا ہے جب کہ نازلی کا ردعمل ایسا نہیں آ رہا تھا۔ مجھے اندازہ تھا کہ اس کے لیے یہ غیر متوقع ضرور تھا لیکن بہت زیادہ برا تجربہ نہیں تھا میں کچھ دیر اسکو دیکھتا رہا پھر بولا؛اک بات بتاؤ تم مجھے پسند کرتی ہو یا نہیں؟ وہ مجھے دیکھ کر ہنسی اور بولی؛ابھی ابھی تو ہم ملے ہیں آپ نے پہلی ملاقات میں یہ سوچ لیا کہ میں آپکو پسند کرنے لگوں گی کمال نہیں ہوگئی؟ میں بولا؛ پسند کرنے کے لیے پہلی دوسری ملاقات نہیں چاہیے پسند کرنے کے لیے اک خاص تعلق چاہیے اور میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ تم وہ تعلق محسوس کر رہی ہو میرے ساتھ؟ وہ ہنسی اور بولی؛ہو سکتا ہے کر رہی ہوں ہو سکتا ہے نہ کر رہی ہوں میں ابھی تو کچھ نہیں کہہ سکتی۔ میں بولا؛ چلو تم نہیں کچھ کہہ سکتی تو نہ کہو مگر میرا تو یہی خیال تھا کہ میں تمہیں اچھا لگتا ہوں اس لیے تم نے مجھے دل کی بہت ساری باتیں بتائی ہیں۔ وہ بولی؛ ہاں میں نے آپکو دل کی بہت ساری باتیں اس لیے بتائی ہیں کیونکہ مجھے احساس ہوا ہے کہ ایک تو آپ ہم دونوں بہنوں کی مدد کر سکتے ہیں۔دوسری بات مجھے یہ بھی احساس ہوا ہے کہ آپ صغیر کی نسبت اچھے انسان ہیں۔ میں بولا؛ یہ تمہیں کیوں لگا؟ وہ بولی؛ پتہ نہیں مجھے احساس ہوا کہ آپ اچھے انسان ہیں حالانکہ ابھی ابھی جو اپ نے کیا ہے وہ کبھی صغیر نے بھی نہیں کیا۔ میں ہنسا اور بولا؛ اچھا۔۔۔۔اس کے باوجود تمہیں لگتا ہے میں اچھا انسان ہوں۔ہو سکتا ہے میں نے تمہاری تنہائی کا فائدہ اٹھایا ہو۔ وہ بولی؛ ہاں وہ تو اٹھایا ہے۔لیکن کوئی بات نہیں میں اس جسارت کو معاف کر سکتی ہوں۔ میں بولا؛ تم اس کو اس لیے معاف کر سکتی ہو کہ میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں یا اس لیے کہ تمہیں بھی یہ اچھا لگا؟ وہ بولی؛ اس کا جواب میں پھر کبھی دوں گی۔مگر بس اتنا سمجھ لیں کہ میں آپ کی یہ گستاخی معاف کر سکتی ہوں۔ میں بولا؛ چلو ٹھیک ہے۔ تمہارا بہت شکریہ کہ تم یہ گستاخی معاف کر رہی ہو اب اگلی بات بتاؤ۔ وہ بولی؛ اگلی بات یہ ہے کہ میں صغیر کو بالکل پسند نہیں کرتی تھی اور صغیر کی حرکتیں بہت عجیب سی ہیں۔ میں بولا؛ ہو سکتا ہے میری حرکتیں اس سے بھی زیادہ خراب ہوں۔ وہ بولی؛ کیا مطلب؟ میں بولا؛ اچھا چلو اک بات بتاؤ۔ جو کام ابھی صغیر اور نورین کر رہے ہیں کیا وہ کام تمہارے نزدیک درست ہے؟ اس نے میری طرف دیکھا اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی؛ مجھے نہیں پتہ یہ صحیح ہے یا غلط ہے مگر میں یہ جانتی ہوں کہ جب کسی لڑکی کا کسی لڑکے کے ساتھ تعلق بن جاتا ہے تو لڑکا لڑکی آپس میں یہ کام کر لیتے ہیں جو دوسرے دیکھنے والے ہوتے ہیں وہ لڑکی کو بدکردار اور پتہ نہیں کیا کیا کہتے ہیں جب میری بہن نے یہ نہیں کیا تھا تو میں بھی سوچتی تھی اگر کسی لڑکی نے ایسا کر لیا ہے تو وہ بہت غلط اور گندی لڑکی ہے مگر اب لگتا ہے کہ ایسا ہو ہی جاتا ہوگا لڑکی کی مجبوری ہوتی ہوگی یا اس کا اپنا دل چاہتا ہوگا۔ اس کی بات سن کر میرا لوڑا تن گیا اور میں نے اس کی طرف دیکھا۔اس کی نظر بھی میری شلوار کے تنبو پہ پڑی اور وہ شرم سے دوسری طرف دیکھنے لگی۔ میرے دماغ میں صغیر کی بات گونجنے لگی کہ مجھے چھوٹی کو موقع ملتے ہی چودنا چاہیے۔ میں لن کو بٹھاتے ہوئےبولا؛ تو تمہارے نزدیک یہ چیز غلط نہیں ہے؟ وہ بولی؛ شادی سے پہلے یہ چیز غلط ہے یہ بات میں مانتی ہوں۔ لیکن شاید ایسا کرنے والے بے قابو ہو جاتے ہوں گے یا ان سے صبر نہیں ہوتا ہوگا میں ابھی تک نہیں جانتی کۃ وہ کونسی وجہ ہے جس کے پیچھے لڑکی اتنا بڑا کام کر لیتی ہے۔ میں بولا؛ اتنے بڑے کام سے تمہاری کیا مراد ہے؟ وہ بولی؛ اتنے بڑے کام سے مراد یہ ہے کہ اک بندے کے سامنے وہ اپنے۔۔ بس چھوڑیں۔ میں نے لن پہ ہاتھ جما لیا تاکہ اس کو نظر نہ آئے اوربولا؛ نہیں نہیں بتاؤ۔ وہ دانستہ دوسری طرف منہ کر کےبولی؛ ایک بندے کے سامنے اپنی شلوار اتار دیتی ہے اور اس کے بعد بندے کے ساتھ وہ سب کر لیتی ہے،جس کا سوچ کر پہلے اس کا سانس خشک ہو جاتا ہے۔ میں بولا؛ اچھا اب اک اور بات بتاؤ کیا تم نے اپنی بہن کے علاوہ بھی کسی کو ایسا کرتے دیکھا تھا؟
  2. 17 likes
    ایسے میں ایک ہی مشورہ دیا جا سکتا ہے کہ سب اپنی اپنی کہانیاں خود تشکیل دیں اور خود پڑھ بھی لیں۔ میں یہ بات تو سو فیصد دعوے اور ثبوت کے ساتھ جانتا ہوں کہ یہ کم از کم کسی کی سچی داستان نہیں ہے۔ کہانی میں ایک جملہ میں نے لکھا ہے جذباتی ہونے کے متعلق،یاسر اتنا جذباتی نہیں ہوا جتنا پڑھنے والے ہو رہے ہیں۔ محبت والی گولی ضوفی سے متعلق بس ہم اس حد تک کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ ہمارے ہیرو نے اس کے ساتھ اوپر اوپر سے کیا تھا تو اس کو ہیروئن کا درجہ مل گیا۔وہ سچی محبت ہوتی تو اس کے بعد ہر لڑکی پہ فل سٹاپ لگ جاتا۔ یہ کہاں ہوتا ہے کہ سچی محبت بھی ہو اور دس دس دیگر جنسی پارٹنر بھی۔ یہ سیکس کہانی ہے اس کو اس کے لوازمات کے ساتھ قبول کریں اور جو اس سے متفق نہیں ہیں وہ صبر کے علاوہ کیا کر سکتے ہیں۔
  3. 17 likes
    میرے لیے بڑا آسان ہے کہ کہانی لکھوں کی یاسر کی موج ہے کوئی مشکل نہیں۔ ایک کے بعد ایک لڑکی آئے اور یاسر مزے کرے۔ کہانی کو ٹوئسٹ کرنا اور الجھا کر سلجھانا یہ مغزماری کا کام ہے۔ سب کچھ ایسے ہونا کہ جو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں،یہ سائنس ہے۔
  4. 17 likes
    کل تک کوشش کرتا ہوں کہ اپڈیٹ آ جائے۔ دراصل ایک ہفتہ بیماری میں گزر گیا تو باقی دن بیماری کے بعد کام کے لوڈ کی نذر ہو گئے۔ خیر، میں کل تک اس کہانی کی ایک اپڈیٹ شئیر کر دوں گا۔
  5. 14 likes
    کچھ چیزیں راز ہوتی ہیں اور اس میں کچھ لوگوں کا پردہ ہوتا ہے۔ ثبوت دینے کا مطلب ہے کہ میں کسی کو یوں ہی سر راہ شرمسار کر دوں۔ کسی کا پردہ اگر قائم ہے تو قائم رہنا چاہیے۔ یہ کوئی سچی کہانی نہیں ہے کیوں کے پہلے دن سے اس کہانی کو صرف جنسی ہیجان اور لطف کی نیت سے لکھا گیا تھا۔ تمام موڑ اور ٹوئسٹ غیر حقیقی اور محض زیب داستان کے لیے تھے۔ بس میں سب سے ایک ہی بات کہوں گا کہ ابھی صبر رکھیں اور کچھ وقت حوصلے سے کہانی پڑھیں۔ میں ایک جھٹکے میں سب کو خوش کر سکتا ہوں مگر کہانی برباد ہو جائے گی اور تجسس کی ماں چد جائے گی۔ ماہی کے سیکس سے جو تانے بانے بنے تھے وہ سب ضائع ہو جائیں گے۔
  6. 14 likes
  7. 14 likes
    تمام قارئین کا شکریہ۔ میں اب بہتر ہوں۔دراصل مجھے کرونا کا شبہ ہوا تھا مگر اللہ کا شکر ہے کہ وہ کرونا ثابت نہیں ہوا۔ اس دوران حالت کافی خراب تھی،پرانے قاری جانتے ہیں کہ میں ڈسٹ الرجی کا مریض ہوں تو اکثر مٹی یا دھول سے کوئی نہ کوئی مسلئہ ہو جایا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ موسم میں اچانک تبدیلی بھی طبیعت میں خرابی کا باعث بن جاتی ہے۔ بہرحال جلد میں اس کی نیو اپڈیٹ شائع کروں گا۔
  8. 12 likes
    جناب ریپ کون ڈیزرو کرتی ہے؟ اس دنیا میں جس جس کا ریپ کیا جاتا ہے کہ اس کے ساتھ یہ ظلم یا زیادتی نہیں۔ یہاں تک کہ ایک پیشہ ور بھی ریپ کی حقدار نہیں ہوتی۔ جس کسی کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے وہ انتہائی غلط اور تکلیف دہ ہوتا ہے۔ وہ اچھی لڑکی ہے اور اس کے ساتھ برا نہیں ہو سکتا یہ ضروری نہیں ہے۔ اچھے اور مخلص لوگوں کے ساتھ بھی غلط ہو جایا کرتا ہے۔ میں جس طرف کہانی لے کر جا رہا ہوں اس میں نے کہا تھا کہ صبر رکھنا ہوگا کیونکہ بہت سے پیچیدہ مسائل آئیں گے جن کا حل بھی نکلے گا۔ یاسر اب لڑکیوں کے پیر پکڑ کر رو رو کر معافی نہیں مانگا کرے گا بلکہ منظم گروہوں کے ساتھ مقابلہ کرے گا۔ ایک اپڈیٹ یا 1 قسط سے بندہ اگلی کہانی کا اندازہ نہیں لگا سکتا۔ہم لوگوں کو عادت یہ ہے کہ ہم ایک لائن پڑھ کے اگلے کی مہینوں کی کہانی کا اندازہ لگا دیتے ہیں۔ جو ہوگا وہ سرپرائز ہوگا اور سب کے لیے قابل قبول بھی ہوگا۔
  9. 12 likes
    میں چونک گیا،وہ جو کوئی بھی تھی مجھے جانتی تھی۔میرے تو ٹٹے شارٹ ہو گئے تھے کہ وہ کون ہو سکتی ہے۔اچانک دروازے کی طرف فیضان نمودار ہوا،اس نے دیکھ لیا تھا کہ میں نے لڑکی کو الٹا لٹا لیا ہے اور پیچھے سے اس کی گانڈ میں رکھا ہوا ہے۔ وہ ہنس کر بولا؛ ہاں بھائی یاسر چڑھ گئے ہونا ہماری جان پہ؟ میں اس لڑکی کے اوپر لیٹتے ہوئے بولا؛ ہاں ہاں دیکھ لو میں چڑھا ہوا ہوں اس کے اوپر۔اس کو بھی تو کہو کہ ذرا تعاون کرے،اس نے تو منہ ہی پھیر لیا ہے۔ میں نے اس کے چوتڑوں کے درمیان گھسا دیا اور پھدی کے لبوں سے مسلتے ہوئے ایسے کرنے لگا کہ جیسے پیچھے سے اس کی پھدی مار رہا ہوں۔وہ دبلی پتلی اور لمبے قد کی لڑکی تھی۔اس کی گاںڈ بھی زیادہ بھاری نہیں تھی۔میں اس کے کندھے تھام کر اس کے گالوں کے پاس منہ رکھ کر بولا؛ دیکھو ان کو نہیں معلوم ہونا چاہیے کہ میں نے تمہارے اندر نہیں ڈالا ہوا۔میں پہلی بار ان کے پاس آیا ہوں۔ وہ ہلکا سا کپکپا کر بولی؛ مجھے پتا ہے کہ آپ پہلی بار یہاں آئے ہو؟کیونکہ میں تیسری دفعہ آئی ہوں۔ہمیشہ یہاں فیضان اور اس کے دوسرے دوست ہوتے ہیں۔جن کو میں پہلے سے اچھی طرح جانتی ہوں۔ میرا لن اس کی گاںڈ میں رگڑ کھاتے کھاتے گیلا ہوا جا رہا تھا کیونکہ بےشک میں چودنے کی اداکاری کر رہا تھا مگر پھدی اور لنڈ کا ملاپ تو اداکاری نہیں تھا۔وہ تو سو فیصد اصلی تھا۔لن کے گھسنے سے پھدی کی لیس نکل رہی تھی۔اچانک وہ مچلی اور بولی؛ یاسر بھائی رکیں،اندر جانے لگا ہے۔ شاید رگڑتے ہوئے لن پھدی کے سوراخ پر جم گیا تھا۔پہلی بار ایسا ہو رہا تھا کہ میں لن مسل تو رہا تھا مگر گھسانے کا ارادہ نہیں تھا۔ایک بات تو طے تھی کہ یہ جو بھی تھی میں اس کو پہلے سے چود نہیں چکا تھا۔ ایسا ہوتا تو وہ آسانی سے ڈلوا لیتی۔دوسری بات اس نے ابھی تک اپنا نام نہیں بتایا تھا۔یعنی وہ بھی اب تک اپنی شناخت ظاہر کرنے میں تذبذب کا شکار تھی۔وہ چاہ رہی تھی کہ اب بھی اپنا نام مجھے نہ بتائے۔یہ بھی ممکن تھا کہ وہ چاہ رہی ہو کہ مروانی بھی نہ پڑے اور نام بھی نہ بتانا پڑے۔میرے ذہن میں ایک بات آئی کہ ایک وقت میں ایک کام ہو سکتا ہے۔یا تو نام بتا دے یا کم از کم مجھے تو مزہ لینے دے۔ میں اس کی کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا؛ تم مجھے اپنا نام بتاؤ تم کون ہو؟ اس کے ہلکے سے رو نے کی آواز آئی اور وہ بولی؛ بس میں وہ بد نصیب ہوں جو ان کے چنگل میں پھنس گئی ہوں۔فیضان نے پہلے مجھے دھوکا دیا۔مجھے دھوکے سے ایک گھر میں لے جا کر میرے ساتھ غلط کام کیا۔اب میری مجبوریوں کا فائدہ اٹھا کر دوستوں کے ساتھ بھی۔۔۔ وہ سسک کر چپ ہو گئی۔ یہ کہانی تو اس کے بنا کہے ہی مجھے سمجھ آ گئی تھی،اس نے صفائی سے اپنا نام اب بھی چھپا لیا تھا۔ اچانک ایک جھٹکا زور کا لگ گیا اور لن کا سر پھدی کے سوراخ میں اٹک گیا۔اس کی ہلکی سی چیخ نکل گئی۔وہ درد سے مچل کر بولی؛ اندر گھس رہا ہے۔واپس پیچھے کریں جلدی سے۔ میں نے باہر نکالنے کا سوچا مگر عین اس وقت جنسی شہوت نے جوش مارا اور لوڑے نے دماغ کو توجیع پیش کی کہ یار اس کی پھدی دس بندے چود چکے ہیں اور گیارہ ہو جائیں تو کیا مسئلہ ہے۔میری جگہ کوئی انجان ہوتا تو اس وقت دھمادھم اس کی پھدی پھاڑ رہا ہوتا۔مجھے جان پہچان والا ہونے کی کیا سزا ہے۔ عجیب منطق ہے اس کی جان پہچان والا ہوں تو بس گھسے لگاؤں اور اگر انجان ہوتا تو ڈلوا لیتی؟ میں نے جھٹکا مار کر اندر گھسا دیا۔وہ سچ مچ کی چیخی۔میں نے لن باہر کو کھینچا اور پھر سے دھکا دیا۔ اس بار لن جڑ تک پھدی میں گھس گیا۔میں نے ایک ہاتھ سے کندھا پکڑا اور دوسرے ہاتھ کمر کو پکڑ کر اس کو پوری جان لگا کر چودنا شروع کر دیا۔چارپائی کی کھٹ کھٹ اور اس کی درد بھری آہوں کی آوازیں کھلے دروازے سے باہر جانے لگیں۔ باہر سے آواز آئی؛لڑکی مار نہ دینا۔ابھی کچی کلی ہے۔ ایک قہقہ لگا اور فیضان کی آواز سنائی دی؛ابھی تو ہم نے دو چار دفعہ ہی لی ہے۔استاد رحم۔۔ میں نے رفتار کم کر دی اور لن نکال لیا تو لڑکی تڑپ کر سیدھی ہو گئی اور اٹھ بیٹھی، دبی دبی آواز میں روتے ہوئے بولی؛ تم نے بھی ان کی طرح۔۔۔ میں سرگوشی میں بولا؛ مجبوری کو سمجھو۔ان سے دوستی بنا رہا ہوں۔ان کو شک نہیں ہونا چاہیے۔مجھے معلوم ہے کہ تم کسی مجبوری میں آئی ہو گی،مجھے اپنی سائیڈ پر سمجھو۔جلدی لیٹوں کوئی آ نہ جائے،کھلا دروازہ ہے۔ میں نے لڑکی کو چت لٹا دیا اور اس کے اوپر لیٹ گیا۔اس نے چہرے کو ابھی تک نقاب میں چھپایا ہوا تھا۔ میں اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا؛ مجھے غلط نہ سمجھنا وہ غلطی سے گھس رہا تھا تو مجھ سے رہا نہیں گیا۔پہلی بار کسی لڑکی کے سوراخ پر رکھا ہوا تھا تو ۔۔۔تم سمجھتی ہو کہ ایسی خواہش تو ہر مرد میں ہوتی ہے۔پھسل گیا اور کچھ میں بھی جنسی شہوت کے ہاتھوں بہک گیا۔ میں نے اس کے مموں پر ہاتھ رکھا تو اس نے جھٹک دیا اور ہلکا ہلکا سا روتے ہوئے بولی؛ یہ بھی تم دکھاوے کو دبا رہے ہو گھٹیا انسان؟کام پورا کر لیا ہے اور مجھے ان سے الگ ہونے کا جھانسہ دے رہے ہو۔تم بھی ان جیسے ہو۔ میں نے لن ہاتھ سے پکڑ کر اس کی پھدی پہ رکھا تو وہ تڑپ کر بولی؛ پھر سے کیوں اندر گھسا رہے ہو؟ میں بولا؛ دیکھو جو ہونا تھا ہو گیا۔تم کسی انجان سے بھی تو کروا لیتیں،اب تم چپ چاپ مجھ سے بھی کروا لو۔میرے کرنے نہ کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔تم اگر یہ سوچتی ہو کہ ایک بندہ کم ہونے سے گنتی میں فرق پڑ جائے گا تو ایسی کوئی بات نہیں۔تم باکرہ تو پہلے بھی نہیں رہی ہو۔اس وقت اہم یہ ہے کہ ان کو شک نہیں ہونا چاہیے۔ تم مانو یا نہ مانو،میں ان کا ساتھی نہیں ہوں۔تم مجھے جانتی ہو تبھی تو تم سے کہہ رہا ہوں۔دروازہ کھلا ہے جو آئے گا،ہم کو کام کی بجائے کھسر پھسر کرتے دیکھے گا تو شک ہو جائے گا۔انھوں نے تمہاری شناخت بھی ظاہر نہیں کی تو سمجھ لو کہ وہ ابھی پورا بھروسہ نہیں کرتے۔ اسی بات چیت کے دوران میں نے جھٹکا دیا تو وہ پھر سے درد سے چلائی لڑکی ابھی واقعی کھلی ہوئی نہیں تھی۔ پہلے جھٹکے پہ ہی اس کی چیخیں نکل گئیں اور درد سے مچل کر بولی؛ اوئی امی ۔۔۔ہائے درد ہو رہا ہے۔پلیز نکال لو۔۔باہر۔۔آئی۔۔امی۔۔ہائے۔۔ میں نے اس کی ٹانگوں کو کھول کر دھکا لگایا تو اس کی ایک اور چیخ نکلی۔ چیخ پہ فیضان اندر آ گیا اور بولا؛ رحم کر یار۔ میں اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر بولا؛ کڑی میں ہی جگرا نہیں ہے۔ فیضان بولا؛ اچھا تو آخر میں باری لگا لینا،تھوری رواں ہونے دے۔ میں اس کے اوپر سے اترا تو فیضان میرا لن دیکھ کر ہنس کر بولا؛ او بھائی اتنا بڑا ڈالے گا تو بچی روئے گی ہی نا۔ لڑکی بھی پھدی پہ ہاتھ رکھ کر اٹھ بیٹھی اور سسکیاں بھرنے لگی۔ میں ناڑا باندھتے ہوئے بولا؛ بس اب موڈ خراب ہو گیا ہے۔میں کوئی حوصلے والی لڑکی ڈھونڈتا ہوں، اس نے تو سارا مزا کرکرا کر دیا۔ میں کمرے سے باہر نکلا تو فیضان گھس گیا۔ جس لڑکے نے دروازہ کھولا تھا،وہ چائے بنا کر لایا تھا۔ چائے پیتے ہوئے صغیر بولا؛ یہ اپنا سیلا بھائی ہے،سیلا خبری۔یہ لڑکیوں کا بی بی سی ہے۔شہر کی ہر لڑکی کا اس کے پاس پورا ریکارڈ ہے جس کا نہیں ہے لا کر دے سکتا ہے۔ سہیل عرف سیلا پی سی او چلاتا تھا اور اس دور میں یہ بہت بڑا دھندہ تھا۔ سیلا چائے پیتے ہوئے بولا؛ آج تیرا لحاظ کیا ہے کہ الگ کمرے کا اہتمام کیا ہے ورنہ لڑکی کو یہیں سامنے ہی ہم باریاں لگاتے ہیں،پہلی بار ہی پوری ننگی کر کے۔ میں بولا؛ میں نے کبھی باریاں نہیں لگائیں تو بڑا عجیب محسوس ہوا۔ صغیر بولا؛ میرا تو پہلی بار کھڑا ہی نہیں ہوا تھا چار بندوں کے سامنے چودنا،مگر جب لڑکی کو چار بندوں نے میرے سامنے چود دیا تو مجھے بھی ہشیاری آ گئی۔کڑی بھی وہ کمال کا آئٹم تھی۔چار بندوں نے وجائی مگر اس نے اف تک نہ کی۔ساری رات ایک اترتا تو دوسرا چڑھتا۔ابھی مہینہ پہلے ہی اس کا بچہ پیدا ہوا ہے۔پتا نہیں کس کا ہے۔ ہاہاہا۔ میں حیرت سے بولا؛شادی شدہ تھی؟ صغیر بولا؛اس وقت نہیں تھی،ہم سے چدتے چدتے حمل ہو گیا تو فوری اس کے گھر والوں نے ویاہ کر دیا۔سات مہینے بعد ہی بچہ ہو گیا ہے۔ میں نے افسوس کیا، دل ہی دل میں اور بولا؛شہری تھی؟ وہ بولا؛ ہاں ہاں۔استانی تھی، یہیں پاس کے سکول میں۔اپنے یار کامران کی سہیلی تھی۔ فیضان نکلا اور لن سے کنڈوم اتارتے ہوئے بولا؛ چل بھئی صغیر تو جا۔سیلا لاسٹ میں جائے گا،اس نے ممے گندے کرنے ہوتے ہیں۔ صغیر اٹھا اور اندر گھس گیا۔مجھے معلوم ہوا کہ سیلا لڑکیوں کے مموں پہ منی بہاتا تھا،اس لیے سب اس کو آخر میں بھیجتے تھے۔ یہ سبھی عام طور پہ لڑکی کی پھدی میں نہیں چھوٹتے تھے اور حسب خواہش کنڈوم بھی استعمال کرتے تھے۔اگر کسی کو پھدی میں چھوٹنے کی خواہش ہوتی تو وہ آخر میں جاتا تھا۔ فیضان لن دھو کر پتلون کی زپ بند کرتے ہوئے بولا؛ ہم کو تو اب چس ہی مل کر چودنے میں آتی ہے۔جب ایک لڑکی پہ چار چار بندے چڑھتے ہی نا تو اس بھوسڑی کی جو اکڑ نکلتی ہے وہ الگ ہی سواد ہے۔یہاں سو بندوں سے یہوانے کے بعد بھی ایسی اکڑتی ہیں جیسے کنواری دوشیزہ ہوں۔ میں بولا؛ یار یہ گینگ ریپ نہیں کہلاتا؟ وہ بولا؛ ہاں بالکل اگر دیکھا جائے تو۔ مگر ہم اسی کو چودتے ہیں جو چدنے کا خود شوق رکھتی ہے۔بس ہم ذرا اس کا شوق باجماعت چود کر پورا کر دیتے ہیں۔ایک لڑکی دس سال میں دس بندوں سے مروانی ہوتی ہے تو ہم ایک سال میں دس سے چدوا کر اسے فارغ کر دیتے ہیں۔ویسے آپس کی بات ہے،جب دوسری مل جائے تو پہلی کو ہم جانے دیتے ہیں۔ایک لڑکی کو جی بھرنے تک ہی روکتے ہیں۔یہ تین دفعہ آ چکی ہے، جس دن اس کی شرم، رونا دھونا اور اکڑ ختم ہو گئی۔اس دن سے یہ دل سے اتر جائے گی۔ سیلا بولا؛یار! جو چس پہلی بار لڑکی کو چار بندوں میں یہوانے کی آتی ہے، ہلی بار جب ایک کے بعد ایک انجان بندہ اس پہ چڑھتا ہے تو وہ مزا۔۔۔آئے ہائے۔۔جس نے اس کی چس لے لی، وہ پیار محبت والی چس کو بھول جائے گا۔ وہ دونوں حرامزادے گینگ ریپ کے شیدائی تھے۔میں بولا؛ کسی نے کبھی رولا نہیں کیا؟ وہ بولا؛ کیوں نہیں کیا۔اس والی نے بھی بڑا رولا کیا۔ چھ مہینوں پہلے سے میں اس کو یاروں سے چدوانے کی کوشش کر رہا تھا،اب قابو آئی ہے۔میں تو اس کو سال پہلے سے چود چکا ہوں۔ ایک بات اور اس کام میں مزا تو ہے پر خطرہ بھی ہے اور کئی بار تو بات جان پہ بن جاتی ہے۔اوپر سے دشمنیاں الگ پیدا ہو جاتی ہیں۔ میں بولا؛ لڑکی کے لواحقین سے؟ وہ بولا؛ ہاں کبھی کبھی لواحقین بھی۔ ایک دو بار تو بات خون خرابے تک پہنچی۔ہم دونوں نے بھی بڑی مار کھائی ہوئی ہے،باز ہم پھر بھی نہیں آئے۔لواحقین کی بجائے زیادہ تر اس کے ناکام عاشقوں یا حاسدوں سے رولا بنتا ہے۔وہ لونڈے جو ان لڑکیوں کو بس دیکھ کر مٹھ لگاتے ہیں ان کو ہم کو دیکھ کر حسد محسوس ہوتا ہے۔ان کے ساتھ جھڑپیں ہوتی ہیں۔ صغیر بھی ناڑا باندھتا ہوا نکلا اور بولا؛ بڑی ہی ٹائیٹ پھدی ہے اس کی۔تیسری بار چود کر بھی لؤڑا رواں نہیں ہوا۔ فیضان ہنسا اور بولا؛ ہے بھی تو دبلی پتلی سی۔ سیلا اٹھا اور کمرے میں گھس گیا۔صغیر بولا؛ اب پیارے ایک کام تیرے ذمے ہے۔ اس تھانے دار کی چھوٹی بیٹی تو ہمارے نیچے لائے گا۔ میں چونکا اور بولا؛ میں کیسے؟ صغیر بولا؛ بس جیسے یہ آئی ہے۔تو اگلی بار کوشش کر کے دیکھ۔ڈلوا لے تو ٹھیک نہیں تو پھر ایک ہی راستہ ہے۔ میں بولا؛ وہ کیا؟ صغیر بولا؛ تو بڑی پہ چڑھنا اور چھوٹی پہ میں۔ اب میں سمجھا کہ صغیر مجھے ساتھ کیوں لے گیا تھا۔سیلا نکلا اور ساتھ ہی لڑکی بھی چادر اوڑھ کر نکلنے لگی۔ فیضان نے اس کو روکا اور بولا؛ اگلی جمعرات کو پھر سے آنا۔ وہ رو کر ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی؛ بس فیضان بس کرو۔تم نے کہا تھا کہ یہ آخری بار ہو گا۔میں تین بار آ چکی ہوں۔اب کی بار میں خودکشی کر لوں گی۔ فیضان اس کا مما دبا کر بولا؛ مر جانا ہمارے کام نہ آنا خود غرض عورت۔ اس کی بات پر قہقہ پڑا۔فیضان بولا؛ ایک شرط پر تم کو چھوڑ سکتا ہوں۔اگلی بار ننگی ایک اور تصویر اتروا لو اور پھر بھلے سے موج کرو۔ وہ چیخ کر بولی؛ نن نہیں نہیں۔یہ میں نہیں کر سکتی۔ فیضان بولا؛ تو پھر چپ چاپ اس وقت تک آتی رہو جب تک ہم سب تم سے بے زار نہیں ہو جاتے یا پھر اپنی خالہ کی بیٹی نجیبہ سے ہماری دوستی کروا دو۔ وہ زمین پر بیٹھ کر رونے لگی۔روتے روتے مجھے جھٹکا لگا اور میں نے اس کو پہچان لیا۔اس کے ساتھ ہوئی سرسری سی ملاقات بھی یاد آ گئی۔پہلی بار میں نے پھدی پہلے ماری تھی اور لڑکی کو پہچانا بعد میں تھا۔
  10. 12 likes
    میرے دماغ نے کام شروع کیا کہ یار کیا ہوا لڑکیوں کو سو قسم کے مسلئے ہوتے ہیں۔ضروری نہیں ہے کہ ضوفی حاملہ ہی ہو۔سو قسم کی ایام کی باقاعدگی اور سو قسم کے الگ انفیکشن ہو جاتے ہیں۔اس دور میں کپڑے ہی استعمال ہوتے تھے ایام میں۔یہ پیڈز کا سلسلہ نہیں ہوتا تھا۔اس لیے نسوانی مسائل ہوتے رہتے تھے۔ضوفی کو بھی ایسا ہی کوئی مسلئہ ہو گا۔ پھر یہ بھی تو معلوم نہیں تھا کہ وہ کونسی دوائیاں لے رہی تھی۔پتا چلے اپنی ماں کے لیے بلڈپریشر کی لے رہی ہو اور میں نے ایسے ہی کچھ غلط سلط سوچ لیا ہو۔ مجھے ترکیب سوجھی،میں اس میڈیکل سٹور والے کے پاس گیا اور بولا؛ بھائی ایک دوائی کو کر دی ہے کیا؟ وہ ناسمجھی سے بولا؛ کس کی؟ میں بولا؛ ابھی میری بیوی جو ڈاکٹر غزالہ کی پرچی لائی تھی،تم نے ایک مس کر دی۔وہ ذرا لیبارٹری میں ہے ،مجھےبولی، ایک کم ہے۔ وہ سوچ کر بولا؛ تین ہی تو تھیں،ایک درد کی،ایک انفیکشن کی اور ایک پریڈز نارمل کرنے کی۔ میں سوچتے ہوئے بولا؛ اچھا،میں شاپر میں جھانکتا ہوں۔ میں اس طرف چل پڑا۔کچھ تو حوصلہ ہوا تھا کہ کم از کم حمل والا سین تو نہیں۔پھر تھوڑا سا الجھا کہ درد ہونا،انفیکشن ہونا اور پیریڈز بےقاعدہ ہونا بھی کوئی اچھی خبر نہیں تھی۔ مجھے سویرا یاد تھی جس کے ساتھ بھی ایسا ہوا تھا۔ جب اسد نے اس کے ساتھ کیا تھا تو اس کو انفیکشن ہو گیا تھا۔انفیکشن کی وجہ صرف پھدی مروانا نہیں ہوتا تھا مگر ایسا ہو بھی سکتا تھا۔مجھے ضوفی پر کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں تھا وہ اپنے جذبات کو قابو رکھنے والی لڑکی تھی۔ایسا نہ ہوتا تو کئی بار میرے نیچے لیٹنے اور میرے لن سے اپنی پھدی کی چھیڑ چھاڑ پر بڑی آسانی سے اپنی ٹانگیں کھول دیتی۔جیسے اس کے علاوہ کئی لڑکیوں نے اپنی ٹانگیں کھول لی تھیں۔ایک بار بس ٹانگیں کھلنے کی دیر ہوتی تھی،اٹھا میں خود ہی لیتا تھا۔ جب عبیحہ،عبیرہ،مہری جیسی پڑھی لکھی اور بی انتہا ذہین تین شہری لڑکیوں کو میں نے لؤڑا تن دیا تھا تو ضوفی بھی کوئی زیادہ مشکل شکار نہیں تھی۔اس کو بخشنے کی شاید ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کے معاملے میں سنجیدہ تھا۔مجھے کم از کم دل سے یہ احساس تھا کہ ایک دن اس سے شادی کرنی ہے تو کیوں بندہ ایسے ہی پہلے اس کے ساتھ بھی وہی کام کرے ،جو بیسیوں کے ساتھ کر چکا ہے۔ میں اس طرف کو ہو گیا، جہاں وہ جا رہی تھی ۔اس کا رخ بیوٹی پالر کی طرف ہی تھا۔کچھ ہی منٹ بعد میں اس جگہ پہنچ گیا جہاں وہ جاتی ہوئی نظر آرہی تھی۔اس کی چال دیکھ کر ایک چیز تو میں سمجھ گیا کہ کچھ تو ایسا ہے جو پہلے جیسا نہیں ہے۔وہ تھکی تھکی اور احساس زیاں کے ساتھ چل رہی تھی۔میں نے اس کی چال دیکھی تھی وہ بااعتماد اور خود مختار لڑکی تھی۔اس نے جس طرح خود کو اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر سنبھالا تھا، وہ قابل ستائش تھا۔وہ مضبوط اعصاب کی لڑکی تھی اور جلدی پریشان نہیں ہوتی تھی۔مگر اس وقت تو لگتا تھا کہ جیسے وہ ٹوٹ چکی ہے۔یہ سب بیماری کی وجہ سے نہیں ہوسکتا تھا بلکہ کوئی اور وجہ تھی۔ میں ادھر ادھر سے جو بھی معلومات اکٹھی کر رہا تھا وہ درست نہیں تھی۔یا کم از کم اس معلومات میں ایسا نہیں تھا کہ مجھے صحیح صورتحال پتہ لگے۔وہ ناکافی تھی جس پر مجھے بس تکے یا قیاس آرائیاں کرنی پڑتی تھیں۔۔مجھے اب اس سے بات کرنی چاہیے تھی۔ میں ایک گلی گھوم کر اس کے سامنے آگیا۔وہ سر جھکائے جا رہی تھی اور میرے پاس سے بنا تاثر کے گزر گئی۔مجھے اس کا نام لے کر اس کو پکارنا پڑا۔وہ سپاٹ سے انداز میں رکی اور میری طرف ایسے دیکھا ،جیسے مجھے پہچاننے کی کوشش کر رہی ہو۔اس کے اس انداز نے مجھے اندر تک چیر کے رکھ دیا۔مانا کہ میں ایک دو مہینے اس سے دور رہا تھا۔مگر اب ایسا بھی نہیں تھا کہ وہ مجھے پہچانے ہی نہ۔ اچانک جیسے اسے احساس ہوا اور وہ بولی؛ یاسر ؟؟؟ اس کا یاسر ،کہنا ایسا تھا جیسے وہ مجھے وہاں دیکھ کر حیران ہو گئی ہو۔وہ سوالیہ انداز میں میرا نام پکار رہی تھی۔جیسے پوچھ رہی ہو کہ تم یہاں کیسے؟ کمال ہے یہیں تو دکان ہے میری۔ مجھے اس محلے میں دیکھ کر اس کی حیرانی بڑی عجیب و غریب تھی۔ شاید وہ خود اپنے حواس میں نہیں تھی اور مجھے سامنے دیکھنا بھی اس کے لیے عجیب تھا۔جیسے میری تو دور دور تک کوئی توقع ہی نہیں ہو۔ اچانک ہی اس کے چہرے کا زاویہ بدلا اور اس کے چہرے پر تلخی نظر آنے لگی۔ایک چہرہ جو ہمیشہ آپ کو دیکھ کر خوش ہوتا ہو ،آپ کو دیکھتے ہی کھل جاتا ہو، اس پر تلخی آپ کے دل پر چھریاں چلا دیتی ہے۔مگر پتہ نہیں کیا بات تھی ،میں جیسے اس تلخی کے لئے ذہنی طور پر تیار تھا۔شاید میں اس دن سے اس تلخی کے لئے تیار تھا جب سے میں نے ماہی کی پھدی ماری تھی۔ میرے لاشعور میں یہ بات کہیں نہ کہیں ضرور تھی کہ ایک نہ ایک دن یہ بات ضوفی کو پتا چل جانی ہے۔ میں بولا؛ تم مجھے دیکھ کر ایسے حیران کیا ہو رہی ہو؟ وہ تلخی سے بولی؛ حیران نہ ہوں تو کیا ہوں۔میرے راستے سے ہٹو۔ وہ پاس سے گزر کر جانے لگی تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو روکنے کی کوشش کی تو اس نے اچانک ہی مڑ کر میرے منہ پر تھپڑ دے مارا اور زہر خوردہ لہجے میں بولی؛ ہاتھ مت لگانا مجھے۔ اس کے چہرے پر زلزلے کی کیفیت تھی۔ میں اتنا تو عورت شناس تھا کہ سمجھ سکتا تھا کہ میرے منہ پہ تھپڑ مارنا اس کی نفرت نہیں بلکہ شکوہ تھا۔ اگر اسے ماہی کی پھدی والی بات چل گئی ہوتی تو وہ مجھ پہ تھوک دیتی مگر اس نے تھپڑ مار کر اپنی مایوسی،بےبسی اور تنہائی کا شکوہ کیا تھا۔ میں نے بہت لڑکیوں سے تھپڑ کھائے تھے مگر یہ پہلا موقع تھا کہ اس تھپڑ کا درد نہیں تھا۔درد مارنے والی کو ہوا ہو گا۔ مجھے کسی ایسی کی تلاش تھی ،جو مجھے اندر کی بات بڑی تفصیل سے بتا سکے۔ایسی دو ہی لڑکیاں ہو سکتی تھی ایک تو اس کے بعد پارلر میں کام کرنے والی لڑکی،دوسری اس کی بہن ماہی۔ ماہی سے مجھے سچ کی امید نہیں تھی کیونکہ وہ جو بھی بات بتاتی اس میں اپنا مفاد رکھ کر بتاتی۔پارلر والی لڑکی کو البتہ دیکھا جا سکتا تھا۔مجھے ان دونوں میں سے کسی کو اپنے کام کے لئے استعمال کرنا تھا۔ان دونوں سے ہی مجھے صحیح معلومات مل سکتی تھی۔ میرا دماغ الجھ گیا تھا کہ آخر کار یہ ہو کیا رہا ہے۔ضوفی کے ساتھ کوئی سنگین مسلئہ تھا اور وہ مسلئہ نفسیاتی الجھن کا بھی تھا، وہ جسمانی کے ساتھ ساتھ ذہنی طور پہ شدید اپ سیٹ تھی۔اس کا لباس،چال، بولنا سب بدلا ہوا تھا۔وہ شدید چڑچڑی ہو چکی تھی۔ جس طرح شرابی غم غلط کرنے کے لئے میخانے کا رخ کیا کرتا ہے۔مجھے کسی نہ کسی جوان جسم کی طرف جانا تھا۔میرا دماغ پھدی میں لن ڈال کر کام کرتا تھا۔ میں صغیر کی طرف گیا،جس نے مجھے اپنا پتہ نیو مارکیٹ کی طرف بتایا تھا۔میں اس کی مارکیٹ کی طرف گیا تو اس کی دکان مجھے بنا کسی مشکل کے مل گئی۔وہ بڑی خوش دلی سے ملا اور بولا؛ میں سوچ رہا تھا کہ تیرا پتہ کروں؟ میں بولا؛ کیوں خیریت تو میرا کیوں پتہ کرنا چاہتا تھا؟ وہ بولا؛ آج یاروں کی طرف ایک دعوت تھی اس لئے میں نے سوچا کہ تجھے بھی ساتھ لے چلوں۔ میں بولا؛ کس قسم کی دعوت ہے؟ صغیر ہنسا اور بولا؛ بڑے ہی اسپیشل قسم کی دعوت ہے۔تو خوش ہو جائے گا۔ میں اس کے ساتھ چل پڑا۔اس کے ساتھ گزری ہوئی پچھلی رات بھی بڑی ہیجان انگیز گزری تھی۔وہ تھانے دار مراد کی بیٹیوں کے ساتھ رات گزارتا تھا۔جبکہ وہ حرام زادہ خود نجانے کس کس کی بہو بیٹیاں چودتا اور چدواتا پھرتا تھا۔ ہم چل پڑے تو میں اس سے بولا؛ یار وہ تھانے دار کی بیٹیوں کا جب سے میں نے سنا ہے۔میں تو بالکل پریشان ہی ہوگیا ہوں۔جس دن کوئی تھانے دار کے ہتھے چڑھ گیا۔اس کی خیر نہیں ہے۔ وہ ہنس کر بولا؛ اب اتنا رسک تو لینا پڑتا ہے۔ میں بولا؛ بڑی عجیب بات نہیں ہے کہ وہ گھر آتا ہے اور سو جاتا ہے۔اس کو خبر بھی نہیں ہوتی کہ کیا چل رہا ہے؟ صغیر بولا؛ اس بے خبری کی بھی ایک وجہ ہے۔ اس نے ہاتھ سے پینے کا اشارہ کیا۔یعنی وہ شراب نوشی کر کے آتا ہے۔صغیر بولا؛ اس حرام زادے نے تین چار ٹھکانے اور بنا رکھے ہیں۔جہاں اس نے دو چار رکھیلیں رکھی ہوئی ہیں۔ایک تو وہاں نیو سوسائٹی والی سائیڈ پر اور ایک پرانے قبرستان کی گلی کے ساتھ کمہار محلے میں۔ مجھے نیو سوسائٹی والے گھر کا معلوم تھا۔ وہ مہری کی ماں کا گھر تھا۔ صغیر بولا؛ وہی پر شراب اور ٹھکائی کر کے آتا ہے۔گھر پہنچتے ہی بے ہوش ہو کر گر جاتا ہے۔اس کے بعد چاہے ایک بندہ چڑھے یا دس،وہ مردار سویا رہتا ہے۔اس کو یہ احساس بھی ہے کہ وہ تھانے دار ہے تو کسی کی جرات نہیں ہوگی ،اس کے گھر کی طرف دیکھنے کی۔اسی خود اعتمادی میں وہ مارا جاتا ہے اور اس کی بیٹیوں کی ماری جاتی ہے۔ ہم باتیں کرتے کرتے ایک دکان کے کنارے پہنچ گئے، جس کے اوپر چوبارہ بنا ہوا تھا۔صغیر نے بیل دی تو کچھ منٹوں بعد ایک لڑکے نے دروازہ کھول دیا۔ ہم دونوں اندر داخل ہو گئے۔سیڑھیاں چڑھ کر ہم اوپری منزل پر آگئے۔وہاں ایک لڑکا اور موجود تھا اور اسے دیکھ کر میں چونک گیا۔وہ فیضان تھا۔وہی فیضان جو کئی معاملات میں ذکر میں آتا رہا تھا۔اس کے ساتھ میری ماضی میں ایک معمولی سی جھڑپ ہوئی تھی، جب وہ سویرا کو چودنے کھیتوں میں آیا تھا اور میں نے اسے بھگا کر سویرا کی پھدی ماری تھی۔ اس بات کو کچھ سال ہو چکے تھے اور میرا حلیہ بھی بدل چکا تھا مگر وہ اب بھی ویسا ہی تھا۔اس نے بھی مجھے شاید پہچان لیا تھا۔وہ مجھ سے بولا؛ کیسے ہو دوست؟ اس نے میری طرف ہاتھ بڑھایا اور بولا؛ صغیر سے تمہارے بارے میں سنا تو ملنے کا اشتیاق ہوا۔ میں بولا؛ ہاں میں نے بھی کچھ کچھ سنا تھا تمہارے متعلق۔ وہ ہنسا اور بولا؛ کس سے سویرا سے؟ میں ہنس کر بولا؛ نہیں اس نے تو تمہارا نام بھی نہیں بتایا تھا۔ وہ ہنس کر بولا؛ کیونکہ اس وقت اس کو میں نے اپنا فرضی نام بتایا تھا مگر پھر اصل بھی چھپا نہیں رہ سکا۔ہماری دکان نیو مارکیٹ میں ہے تو کالج کی لڑکیاں گزرتی ہیں۔نام پتا چل ہی جاتا ہے۔ صغیر بولا؛ چلو یہ تو اچھا ہے کہ تم دونوں ایک دوسرے سے واقف ہو۔ایک انکشاف میں تم پر کر دیتا ہوں یاسر۔کچھ ہفتے پہلے فیضان اور میں تمہارے پنڈگئے تھے اور ہم دونوں نے عظمیٰ پر چڑھائی کی تھی۔میں نے تمہارے متعلق بتایا تھا کہ اس کی سیل میرے ایک کلاس فیلو نے کھولی تھی۔اس کو عظمیٰ بڑی پسند آئی تھی تم تو خود بھی جانتے ہوں کہ وہ کمال کا پیس ہے۔بس ہر بندے کے نیچے لیٹ کر اس نے اپنی ویلیو خراب کر لی ہے۔ فیضان مجھ سے بولا؛ تم سناؤ تمہارا سویرا سے رابطہ ہے؟ میں بولا؛ نہیں اس دن کے بعد بس ایک دو بار مجھے ملی، مگر اس نے دوبارہ دینے سے انکار کر دیا۔اس کو کوئی اندرونی مسئلہ بھی ہو گیا تھا۔جس کی وجہ سے ڈلواتے ہوئے اسے تکلیف ہوتی تھی۔ فیضان بولا؛ چلو اچھی بات ہے۔ اس کی ماں بہت خرانٹ عورت تھی۔بڑی مشکل سے میں نے اس کو پھنسایا تھا اور کھیتوں میں لے گیا تھا۔بعد میں نخرے کرنے لگی کے تم مجھے چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔تمہارے جانے کے بعد اس دیہاتی لڑکے نے میرا ریپ کر دیا۔ میں بولا؛ تم کو غصہ تو بہت آیا ہوگا۔ وہ ہنس کر بولا؛ ہاں اس وقت تو بہت غصہ آیا تھا۔مگر سیدھی سی بات ہے وہ کونسا میری بیوی یا بہن لگتی تھی۔ یہاں ہم کتنی لڑکیوں کی لیتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں۔ میں نے ایک پورا منظم گروہ بنایا ہوا ہے یاروں کا۔یہ سارا پلان میرا تھا۔دو چار سال پہلے میں نے ایک لڑکی کی لینی تھی تو اس کا ایک محلے داربندہ جو پہلے سے اس کوشش میں تھا، اس سے جھگڑا ہو گیا۔بڑا رولا ہوا،اس نے مجھے مارا پیٹا اور کچھ میں نے یار بیلی بیچ میں ڈالے ،اس کو مارا ،اس میں لڑکی کہیں پیچھے رہ گئی اور لونڈوں کی لڑائی بن گئی۔ایک دن مجھے مل گیا کوئی سال بعد۔میں نے پوچھ لیا کہ ہاں بھئی وہ لڑکی چود لی پھر۔اس نے سچ بتا دیا کہ نہیں۔میں نے گلہ کیا کہ مجھے بھی نہیں لینے دی اور خود بھی نہیں چودی۔پھر میں نے اس لڑکی کو دوبارہ سے پھنسایا اور چودا ۔جب لڑکی قابو آ گئی تو اس بندے کے پاس گیا اور اس کو کہا؛تیری میری دشمنی اس لڑکی کی پھدی کی تھی نا۔میں نے مار لی ہے، اب چاہے تو میرے ساتھ دشمنی کو جاری رکھ یا ساتھ چل،تو بھی اس کی پھدی مار لے۔بندہ فوراً چل پڑا ساتھ۔ اس لڑکی کو اس بندے کو ساتھ لے جا کر مل کر چودا۔تب سے خیال آیا کہ کیوں نہ ایک گروہ بنایا جائے۔جس میں ایسے بندے ہوں جو بچیاں چود رہے ہوں۔اس طرح سب کی بچیاں ایک جگہ سب کو مل جائیں اور ہر ایک کو الگ الگ محنت نہ کرنی پڑے۔ اب تک کم ازکم دس یار بیلی ہیں اور ہمارے نیچے کم از کم بیس بائیس لڑکیاں ہیں۔ایک سے بڑھ کر ایک دانہ پیس۔آج بھی ایک بس پہنچنے والی ہے اور تو اپنا یار ہے،پہلی باری تیری۔ اسی وقت بیل بجی اور ایک لڑکا نیچے گیا۔ ایک لڑکی چادر میں لپٹی،چہرے کو چھپائے کمرے میں گھس گئی۔ فیضان بولا؛چل بھئی یاسر۔جلدی کر،پیچھے تین بندے ہیں۔لڑکی کے پاس مشکل سے ایک گھنٹہ ہے۔ ایک اصول یاد رکھنا،پانی باہر نکالنا ہے۔لڑکی کی شناخت صیغہ راز ہے،اس لیے اندر اندھیرا ہے۔ میں کمرے میں گھسا تو اندر مکمل اندھیرا تھا اور لڑکی میری طرف پیٹھ کر کے بیٹھی تھی۔ میرا لن تن گیا تھا، میں نے لڑکی کی کمر پہ وزن دیا تو وہ الٹی لیٹ گئی۔ میں نے اس کی شلوار اتار کر اس کی قمیض ہٹا کر اس کی پھولی گانڈ کے درمیان تنا لن رکھا۔وہ سسک کر بولی؛یاسر بھائی۔۔۔پلیز نہیں۔۔
  11. 12 likes
    تمام قارئین کو عید مبارک۔ اس عید الفطر سب کو تگڑی عیدی ملے گی۔ کھپرو کی ملکہ کی نئی قسط شائع ہو چکی ہے۔ پردیس اور ہوس بھی جلد پیش کی جائے گی۔ اس کہانی کی اگلی قسط بھی جلد شائع کی جائے گی۔
  12. 11 likes
    ایسا نہیں ہے کیونکہ کہانی بار بار تبدیل نہیں کی جا سکتی ۔پہلے سے جگہ چھوڑی ہوتی ہے کہ اس کڑی کو چند مہینوں بعد وہاں سے جوڑنا ہے۔ ضوفی کا معاملہ سلجھے گا اور بڑا مزا آئے گا مگر یاد رکھیں تاریک راتوں کے بعد ہی اجلی صبح ہوتی ہے۔ کہانی کا ایک پلاٹ تشکیل دیا ہے جس کا خلاصہ کل کی اپڈیٹ میں ہو جائے گا۔
  13. 11 likes
    کہانی میں دیر اس لیے ہو گئی کیونکہ اپڈیٹ کو ذرا لمبا کیا ہے۔چونکہ کہانی کے کچھ حصے سٹوری میکر صاحب ٹائپ کرتے ہیں تو ان کی دی گئی اپڈیٹ کی ترتیب ذرا سی درست کرنا ہے۔کچھ واقعات کو تھوڑا سا درست کرنا تھا تاکہ ایسا محسوس نہ ہو کہ یہ بات پہلی ہونی چاہیے تھی یا یہ واقعہ پہلے ہونا تھا۔جیسے میں ان کو چند واقعات پوسٹ کرنے کے لیے دیتا ہوں اور پھر ان کو کہانی میں کسی دن شامل کر دیتا ہوں، اس لیے ترتیب کا تھوڑا سا دھیان رکھنا ہوتا ہے۔ جب ایک سے زیادہ افراد کی ٹائپنگ ہو تو ایسے مسائل سامنے آ جاتے ہیں۔ خیر، ایک اچھی اپڈیٹ بس ہلکی سی ردوبدل کے ساتھ پوسٹ کر دی جائے گی۔ اس انتظار کے لیے معذرت۔
  14. 11 likes
    کہانی کا یہ حصہ ریڈرز کی اپنی ذہن کی اختراع ہے کہ شاید ایسا ہو آگے۔ ان کا قیاس درست بھی ہو سکتا ہے اور کہانی اس سے مختلف بھی ہو سکتی ہے۔ سب کے ذہن میں ان کی سوچ کے مطابق ایک خاکہ ہوتا ہے کہ اب یہ ہو گا اور اس طرح کہانی چلے گی۔ بس رائیٹر کو اس سوچ سے الگ لکھنے کی محنت کرنا ہوتی ہے۔
  15. 11 likes
    Update میرے لن کا فائر ضائع گیا۔۔۔۔ جب میں نے گھسا مارا اسی وقت صنم یکدم آگے کو ہو گئی اور لن اپنا سا منہ کے کر رہ گیا۔۔۔۔ صنم نے اپنے ممے میرے منہ کے عین اوپر کر لیے اس کے لٹکتے ممے ان پر اس کے نپل پکے انگور کی طرح چمک رہے تھے۔۔۔ میں نے اپنا منہ کھولا اور گردن کو اثھا کر دائیں ممے کا نپل اپنے لبون میں لے کر کھینچا ۔۔۔۔ صنم نے جلدی سے اپنا ایک ہاتھ اٹھا کر مما پکڑ لیا اور میرے اوپر گرنے والے انداز میں آ گئی جس سے مما میرے منہ کے اوپر آ گیا ۔۔۔۔ نرم وملائم مما مولٹی فوم جیسا تھا اس میں میرا منہ دھنس گیا۔۔۔ وہ ایک بار پھر اوپر ہوئی جس سے اس کا نپل میرے منہ سے نکل گیا ۔۔۔ اس نے اپنی زبان نکالی میری گردن پر پھیرتے ہوئے نیچے کی طرف جانے لگی۔۔۔ چومتی جاتی زبان پھیرتی جاتی نیچے کی طرف اپنا سفر جاری رکھا ۔۔۔ اب کی بار وہ میرے ساتھ بائیں طرف گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی تھی ۔۔۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر اس کی گانڈ پر رکھا اور پھیرنے لگا۔۔ اس نے میرا ہاتھ جھٹک دیا اور پھر زبان کا جادو جگاتے ہوئے ناف تک جا پہنچی۔۔۔ ساتھ ہی اس نے میرا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا اور اچھی طرح اس کی لمبائی موٹائی ماپنے لگی۔۔۔۔ اس کے ممے لہرا رہے تھے اس کی زبان میرے جسم پر چل رہی تھی ۔۔۔ ناف کے اردگر گرد جب اس نے اپنی زبان پھیری میرا جسم کانپ کر رہ گیا ۔۔۔۔ ایسا مزہ میں نے اج تک کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔۔۔ اس کا ہاتھ میرے لن پر اوپر نیچے ہو رہا تھا اس کی زبان میری ناف کے کناروں پر چل رہی تھی۔۔۔ یہ حملے میرے لیے جان لیوا تھے اگر میں سانس نہ روکتا تو آج چودنے سے پہلے ہی لں سے فوارا پھوٹ پڑنا تھا۔۔۔۔ بہت مشکل سے خود کو سنبھال رہا تھا اچھی طرح ناف کے اردگرد جی جگہ کو تر کرنے کے بعد اس نے اپنی زبان کو اور نیچے کھسکایا اور لن پر پہنچ گئی۔۔۔۔۔ اب اس نے اپنی گانڈ کا رخ میری طرف کیا اور میرےپیٹ پر لیٹنے کے انداز میں بیٹھ گئی۔۔۔۔ اپنی زبان لن کی جڑوں میں پھیرنے لگی لن کو ہاتھ سے دائیں بائیں گھماتی جاتی اور زبان سے چاٹتی جاتی۔۔۔۔ دوسرا ہاتھ اس نے میرے ٹٹوں پر رکھ اور گولیوں سے کھیلنے لگی اور گردن گھما کر میری طرف دیکھ کر مسکرائی۔۔۔ پھر یکدم اس نے لن کو ایک سائیڈ پر کیا اور گوٹیوں کو منہ میں پھر کیا آہ اہ اففف کیا مزہ تھا ۔۔۔ اس کے ملائم لب اور زبان کا کھردرا پن جب ٹٹوں پر زبان لگی تو میرا ٹٹے سچ میں شاٹ ہو گئے ۔۔۔ آج مجھے اس کہاوت کی سمجھ ائی جس میں کہتے ہیں کہ ٹٹے شاٹ ہوگئے کیسے شاٹ ہوتے وہ مجھے آج حقیقی معنوں میں سمجھ آئی۔۔۔۔ ٹٹوں کو چوپنے لگی لولی پوپ کی طرح جب گول گول منہ کو ٹٹوں کی گولیوں کو گھماتی تو میری منی لن کی طرف جانے کو بے چین ہو جاتی ۔۔۔۔۔ میں خود پر قابو پایا اور سانس روکی اور اس کی گانڈ کی طرف دھیان دیا ۔۔۔۔ گانڈ کی پھاڑیوں کے نیچے اس کی ابھری ہوئی دو موٹی موٹی پتیوں کی صورت میں پھدی نظر ائی۔۔۔۔ اس کی پھدی کو دیکھتے ہی میں اپنا ہاتھ اگے بڑھایا اور پھدی کے لبوں کو کھول کر پھدی کا معائنہ کیا۔۔۔۔ اندر لال گلابی پھول کی طرح کھلتی پھدی دیکھ کر میرے منہ میں پانی آگیا ۔۔۔۔ اپنے ہونٹ پر زبان پھیری اور ہونٹوں کو جو خشک ہو چکے تھے ان کو تر کیا۔۔۔ پھر اپنا منہ گردن کو تھوڑا اٹھا کر اس کی پھدی میں گھسا دیا ۔۔۔۔ پھدی کی مہک میرے اندر اتری تو کچھ سکون ملا ۔۔۔ میں نے منہ پھدی میں گھسا یا اس نے لن کی ٹوپی پر زبان پھیر کر مجھے شاباش دی۔۔۔ بس پھر کھیل شروع ہو گیا میں نے ہونٹوں سے پھدی کے ہونٹوں کو کھینچنا شروع کر دیا اس نے زبان سے لن کی ٹوپی کو چاٹنا۔۔۔۔ وہ لن کو پوری طرح اوپر سے نیچے تک چاٹتی جاتی پھر ٹوپی کو منہ میں لے چوپالگاتی اور دوبارہ زبان اوپر سے نیچے پھیرتی۔۔۔ میں نے بھی اپنی زبان اس کی پھدی میں داخل کر دی زبان کے داخل ہوتے ہی اس نے پھدی کو کس لیا۔۔۔۔ اور لن کو منہ میں بھر لیا اور چوسنے لگی۔۔۔ اب وہ مسلسل لن کو چوسنے لگی جتنا منہ میں جاسکتا تھا لے رہی تھی ۔۔۔۔ اور میں اس کی پھدی کا رس پی رہا تھا اس کی پھدی پھڑپھڑا رہی جو اس کے فک گرم ہونے کی علامت تھی۔۔۔ میں اپنی سپیڈ تیز کر دی اس کی سپیڈ بھی ساتھ ہی تیز ہو گئی ۔۔۔ کوئی 5 منٹ اس طرح 69 کی پوزیشن میں رہنے کے بعد اس کے جسم نے جھٹکے کھائے ۔۔۔۔ اگر میں بر وقت پیچھے نہ ہوتا تو میرا منہ اس کی منی سے بھر جانا تھا۔۔۔ اس نے جوش میں سارا لن منہ میں لے لیا میں نے بھی نیچے سے گھسا مار دیا ۔۔۔۔ لن اس کے گلے تک پہنچ گیا ادھر اس نے پانی چھوڑا ادھر اس کو کھانسی آئی ۔۔۔ جلدی سے لن کو منہ سے نکال کر وہ ایک سائڈ پر گر گئی اور سانس بحال کرنے لگی۔۔۔ میں اس کی طرف منہ کر کے بولا سچ میں صنم تم بہت کمال ہو ۔۔۔۔ وہ اکھڑی سانس اور کھانستے ہوئے بولی ابھی تو بہت کچھ باقی ہے میرے راجہ۔۔۔ میں بھی اب اور دیر نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے اس کی ٹانگیں پکڑیں اور کھول کر ان کے بیچ میں آگیا لن کو پھدی پر سیٹ کیا اور اس کی انکھوں میں دیکھا اس نے ہاں کا اشارہ کیا ۔۔۔۔ ایک جاندار گھسا مارا لن شڑڑڑپ کی اواز کے ساتھ پھدی کی گہرائی میں اتر گیا۔۔۔۔ اگر وہ اپنے منہ پر ہاتھ نہ رکھتی تو اس کی چیخ بہت دور تک جانی تھی۔۔۔ اس نے منہ سے ہاتھ ہٹایا اور بولی بندیاں تراں نہیں کر سکدا تو ۔۔۔ میں نے اس کی ٹانگوں کو اس کے مموں سے لگایا اور ہونٹ اس کے لبوں پر رکھ پھر لن کو ٹوپی تک باہر نکالا اور اسی رفتار سے اندر گھسا دیا ۔۔۔۔ اس کے بعد تو پھدی پر تابڑ توڑ گھسے مارنے شروع کر دئیے ۔۔۔۔ اس نے اپنے بازوں میری کمر کے گرد لپیٹ لیے اور گھسے برداشت کرنے لگی۔۔۔۔ گھسوں کی رفتار زیادہ ہونے کی وجہ سے میں اس پوزیشن میں جلد ہی تھک گیا۔۔۔ اس لیے میں نے اس کی ٹانگوں کو چھوڑا اور ایک ٹانگ اٹھا لی دوسری کو لمبا کر دیا ۔۔۔ ایک ٹانگ پکڑ کر پھر اے گھسے مارنے لگا اس کے مموں میں بھونچال آگیا وہ اچھل اچھل کر اپنی بے تابی کی دوہائی دے رہے تھے۔۔۔ اس کی درد بھری آہیں ختم ہو گئیں اور اب مزے کی سسکیوں میں بدل گئیں تھیں۔۔۔ کچھ ہی دیر میں اس نے باقاعدہ مجھے زور سے کرنے کے لیے اکسانا شروع کر دیا۔۔۔ بلوووو آہہہہہہ آہہہہ اففففف او ہوووو رررر زوررررر نااااللللل کر آہ ایتھے مار اہہہ آہہہ ۔۔۔۔ میں میرے منہ سے بھی بے ربط آوازیں نکلنے لگ گئیں۔۔۔ اتنی دیر کی خواری کی وجہ سے اب مجھ سے بھی اور روکا نہ گیا۔۔۔ چند ہی منٹ اور گھسے مارنے کے بعد جیسے ہی اس کی پھدی نے میرے لن پر اپنی گرفت کسی میرے لن میں بھی منی بھرنا شروع ہوگئی۔۔۔ پھدی کے سارے مسام لن کے گرد کس گئے میں نے آخری زوردار گھسے مارے اس کی پھدی نے پانی کی برسات جیسے ہی لن پر کی لن نے بھی پھدی کی گرماہٹ کے سامنے ہتھیار پھینک دئیے اور میں اس کے اوپر گرتا گیا۔۔۔ لن سے پانی کا فوارہ نکل کر اس کی پھدی کو بھرنے لگا۔۔۔ میں اس کے اوپر لیٹا فارغ ہو رہا تھا اس نے مجھے اپنی باہوں میں کسا ہوا تھا۔۔۔۔ وہ بہت جذبات سے میرے منہ کو چومنے لگی۔۔۔ کبھی آنکھوں کو چومتی کبھی پیشانی کص کبھی گال چومتی کبھی لبوں پر پاری کرتی۔۔۔ جب دو جسموں کی گرمی ایک دوسرے کے اعضائے تناسل میں اتار لی تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔ ہن بتا تینوں مزہ ایا کہ نہیں ۔۔۔ میں نے ہمممم کیا۔۔۔ اس نے میری پیٹھ پر ہلکا سا تھپڑ مارا اور بولی گونگا ہو گیا ایں منہ اچ زبان ہے نا اس سے بول یہ کیا مج کی طرح ہممم لگا رکھی ہے۔۔۔ میں مسکرایا اور بولا مج نہیں کٹا ہوں تمہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ مج کا لن نہیں ہوتا۔۔۔ اس نے میرے منہ پر ہاتھ رکھا اور بولی گندا کتنی گندی باتیں کرتا ہے۔۔۔ ہم ایک دوسرے سے اٹکھیلیاں کرنے لگے میں نے اس کے ممے دبایا اس نے آںکھیں مٹکائیں اور بیٹھ کر میرا لن پکڑ کر کھینچا جو اب مردہ ہو چکا تھا۔۔۔۔ مردہ سے مراد یہ نہیں کہ ختم ہو چکا تھا بلکہ سو گیا تھا۔۔۔ اس نے لن کو پکڑا اور میری طرف دیکھتے ہوئے منہ پر ہاتھ رکھ کر بولی آہا یہ اتنا سا ہو گیا۔۔۔۔ پھر بولی دیکھا اس کی اکڑ کیسے ختم کی میں نے ۔۔۔۔ میں نے کہا ہاں جی تمہاری پھدی نے بیچارے کا سارا خون نچوڑ لیا۔۔۔ اس نے آںکھیں نکالتے ہوئے کہا تیوں چنگی گل نیں آندی۔۔۔ میں نے کہا پھدی کو پھدی نہ کہوں تو کیا کہوں اب اگر ان کو ان کے ناموں سے نہیں بلائیں گے تو کیا کہیں گے۔۔۔۔ اس نے اپنے کپڑے اٹھائے اور پہننے لگی ۔۔۔ میں نے اس کی دیکھا دیکھی اپنی شلوار اٹھائی اور بیٹھے بیٹھے ٹانگیں سیدھی کیں اور شلوار پہن لی۔۔۔۔ وہ کپڑے پہن کر میری طرف دیکھتے ہوئے بولی میں تمہیں بہت سیدھا سمجھتی تھی لیکن تم بہت کمینے ہو اتنی گندی باتیں کرتے ہو ۔۔۔ میں نے دانت نکالتے ہوئے کہا شکریہ جو تم نے اتنی تعریف کی۔۔۔ اس نے ایک مکا گھما کر میرے کندھے پر مارا ۔۔۔۔ میں نے ایسا ری ایکشن دیا جیسے بہت درد ہوئی ہو کندھے پر ہاتھ رکھ کر دوہرا ہو گیا۔۔۔ وہ بہت تیز تھی میرے ایک اور مارتے ہوئے بولی زیادہ ڈرامے نہ کر نیہں تاں منہ توڑ دیا گی تیرا۔۔۔ میں سیدھا ہو گیا اور کہا کتنی ظالم ہو یار تم ۔۔ مجھ معصوم پر کتنا ظلم کر رہی ہو۔۔۔ اس نے اوہو کرتے ہوئے کہا معصوم اور تو توبہ توبہ اگر تمہارے جیسے ایک دو اور ہو جائیں ہمارے گاؤں میں تو لڑکیاں تو لڑکیاں عورتیں بھی نہ بچیں سب کی مار لیں۔۔۔ میں نے معصوم منہ بناتے ہوئے کہا توبہ ہے یار کتنے بڑے الزام لگا رہی ہو اب ایسا بھی نہیں ہوں میں۔۔۔ اس نے کہا سب جانتی ہوں تمہارے بارے میں تم کتنے معصوم ہوں اگر ہماری ماؤں کو پتہ چل گیا نہ تمہارا تو جب تم گاؤں آ یا کرو گے تو ہمارے اوپر گھر سے باہر نکلنے پر پابندی لگا دیا کریں۔۔۔ میں نے کانوں کو ہاتھ لگائے کتنی لمبی لمبی چھوڑتی ہو لیکن دل میں ڈر گیا کہ کیا سچ میں میرا نام ایسا ہو گیا ہے۔۔۔۔ اس نے کہا ابھی تک یہ بات ہم لڑکیوں کے درمیان ہے اس لیے تم بچے ہوئے ہو ورنہ ۔۔۔۔ اس نے ہاتھ لہرایا میرا خون خشک ہو رہا تھا اس کی باتیں سن کر سالی کو پتہ نہیں کیا پتہ تھا۔۔۔ میں نے کہا چل جا یار تیری مار لی تو یہ سمجھنے لگ گئی ہو کہ میں ہر ایک کی مارتا پھر رہا ہوں۔۔۔ تمہاری بھی اس لیے ماری کہ اس دن تم نے میرے ساتھ زیادتی کی تھی ۔۔۔ وہ ہنستے ہوئے بولی کتنے معصوم بن رہے ہو میرے شاتھ ژیادتی کی شدقے یاواں شوہنے تے کنا معشوم اے ۔۔۔۔ تو کہیڑا اوس دن مزا نیں لیا اور جیسے اس دن میری ہی ماری تھی تم نے مجھے سب پتہ ہے تم کہاں سے آ رہے تھے اور کس کی مار کر آئے تھے۔۔۔۔ میرے پا س کوئی جواب نہیں تھا ابھی میں جواب سوچ ہی رہا تھا کہ کومل کی آواز آئی نییی جلدی آ تیری امی ا گئی اے۔۔۔ صنم نے مجھے کہا تم ادھر ہی بیٹھے رہو جب تک یقین نہ ہو جائے کہ امی چلی گئی ہیں باہر نہ نکلنا۔۔۔ اور وہ اپنے کپڑے درست کرتی چلی گئی میں بیٹھا کچھ دیر اس کی باتوں ہر غور کرتا رہا پھر آہستہ آہستہ بیٹھے بیٹھے دوسری سمت جانے لگا۔۔۔۔ تھوڑا آگے جا کر کھیت سے نکل گیا سامنے کھالا تھا جو خشک تھا میں اس میں اتر گیا ۔۔۔ سب بھائی جانتے ہیں کہ کھالے زمین کے اندر کھیت سے کچھ گہرے ہوتے ہیں اور جو نہری پانی والا ہوتا ہے وہ کچھ زیادہ ہی گہرائی میں ہوتا ہے یہ بھی کافی گہرا تھا کہ اگر میں اس میں اس میں کھڑا ہو کر چلتا تو بھی باہر سے نظر نہیں آ سکتا تھا۔۔۔ میں کھالے میں چلتا ہوا کافی آگے نکل گیا اور اپنا رخ ٹیوب ویل کی طرف کیا اور ٹیوب ویل پر چلا گیا۔۔۔ وہاں جا کر کپڑوں سمیت ہی نہانے لگا نہانے کے بعد وہاں اپنے کزن کے پاس بیٹھ کر کچھ دیر گپ شپ لگائی اور واپس گاؤں کی طرف آنے لگا۔۔۔ رستے میں ہمارے ٹیوب ویل سے تھوڑے فاصلے پر ایک ڈھاری تھی جس کو کچھ لوگ چاہ بھی کہتے ہیں باقی زبانوں میں کچھ اور کہا جاتا ہوگا ۔۔۔ چاہ اصل میں کھوہ کو کہتے ہیں ہمارے گاؤں کے کچھ لوگ اپنے کھیتوں میں ہی گھر بنا کر رہتے تھے اس وقت تو کچھ گھر ہی رہتے تھے اب تو تو تقریبآ آدھے سے زیادہ گاوں باہر نکل گیا ہے۔۔۔ خیر اس کھوہ کے پاس سے گزر کر جب میں اگے گیا تو مجھے ایک کماد کے کھیت میں ہل چل محسوس ہوئی ۔۔۔۔ میں رک گیا کیونکہ گرمی کے موسم میں اکثر سانپ وغیرہ نکل اتے تھے یا کماد کی فصل کو خراب کرنے کے لیے ثور آ جاتے تھے جس کو ہمارے ہاں باہرلا کہتے ہیں ۔۔۔۔ جب غور کیا تو کچھ اور ہی سین محسوس ہوا جیسے کوئی مسلسل ایک ردھم سے ہل رہا ہو۔۔۔ میں نے بلا سوچے سمجھے اندر جانے کا فیصلہ کر لیا ۔۔۔ میں اندر گھس گیا سنبھل سنبھل کر یا یہ کہ لیں پھونک پھونک کر قدم بڑھاتے ہوئے گیا تاکہ میرے اندر آنے کا کسی کو پتہ نہ چلے۔۔۔ ابھی کوئی پانچ قدم ہی اندر گیا تھا کہ مجھے ایک لڑکے کے پیٹھ نظر آئی جو زور زور سے گھسے لگا رہا تھا ۔۔۔۔ تھوڑا جھک کر دیکھا تو نیچے مجھے رنگین کپڑے نظر آئے مطلب کہ بازو تھے جو اگے کو جھک کر نیچے زمین پر لگے ہوئے تھے۔۔۔ لڑکے کو میں نے پہچان لیا تھا میں نے آگے جانے کا فیصلہ کیا ابھی ایک قدم بڑھایا تھا کہ اس لڑکے گردن گھما کر پیچھے دیکھا ۔۔۔ اس نے مجھے دیکھا میں نے اسے دیکھا دونوں کی نظریں ملیں اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی اس نے آ نکھوں سے اشارہ کیا آجا۔۔۔۔ میں نے اسی طرح اشارے سے پوچھا کون یے ۔۔ اس نے تھوڑا ایک طرف ہو کر مجھے اس کی گانڈ دکھائی گوری چٹی گانڈ اففف دیکھ کر ہی لن اکڑ گیا۔۔۔ آپ لوگ کیا سمجھ رہے ہیں وہ کون تھا ۔۔۔ ہاں جی وہ میرا کزن میر ایار فجا تھا جو سارا دن بس پھدیوں کے چکر میں ہی رہتا تھا ۔۔۔۔ اس کا لن گوری گانڈ والی لڑکی کی پھدی میں جا رہا تھا سپیڈ سے گھسے مار رہا تھا ۔۔۔ میں ایک قدم اگے بڑھا اس نے مجھے دوسری طرف سے انے کا اشارہ کیا میں اس کے اشارے کی سمت دیکھا تو وہاں رستہ صاف تھا میں ادھر ہوا فجے نے اس لڑکی کے بال پکڑ کر پیچھے کق کھینچ لیے جس سے اس کا دھیان کہیں اور نہ گیا اور میں فجے کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔۔۔۔ فجے نے ایک دو زوردار گھسے مار کر میری طرف دیکھا اور نیچے دیکھتے ہوئے اشارہ کیا اتار لے ہن ۔۔۔ میں سمجھ گیا میں ناڑا کھول کر لن نکال لیا فجے نے لن نکالا اور میں اس کی جگہ لن اس کی پھدی پر سیٹ کیا فجے نے بال چھوڑ دئیے۔۔۔۔ وہ پیچھے کھسکا میں نے گھسا مارا لن کی ٹوپی ہی اندر گئی وہ لڑکی تڑپی آہہہ فجے آرام نال ۔۔۔۔ میں نے فجے کی طرف مڑ کر دیکھا وہ میرے کندھے پر منہ کر بولا ہن برداشت کر تینوں میرا پتہ اے ناں ۔۔۔ فجے اگے ہو کر میرا لن دیکھا اور اس کی انکھوں میں حیرت پھیل گئی۔۔۔ لیکن میں اس کی حیرت کو لن کہ ٹوپی پر رکھا اور پھر ایک زوردار گھسنے مارنے سے پہلے اگے جھک کر اس لڑکی کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔۔ پوری طاقت سے گھسا مارا اور لن آدھے سے زیادہ اندر گھس گیا۔۔۔ میرا لن فجے سے بہت بڑا تھا فجے کا لن پتلا سا تھا جبکہ میرا لن اس سے تین گنا موٹا تھا اس لیے اس کی پھدی میں میں پھنس گیا تھا۔۔۔ اس لڑکی کی ٹانگیں کانپنے لگ گئیں اس نے پیچھے مڑ کر دیکھنے کی کوشش کی لیکن میرے ہاتھ کی گرفت نے اس کو یہ موقع نہ دیا۔۔۔ میں ایک بار پھر لن کو ٹوپی تک باہر نکالا اور اپنی گانڈ کی مدد سے ایک جاندار گھسا مارا لن اس کی پھدی کی گہرائی میں اپنی تمام موٹائی اور لمبائی سمیت گھس گیا ۔۔۔ دوسری طرف وہ لڑکی نیچے بیٹھتی گئی میں بھی اس کے اوپر لیٹتا گیا ۔۔۔ پھر بغیر رکے گھسے مارنے لگا بہت تیز تیز گھسے مارنے شروع کر دئیے فجے نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ مجھے آرام سے کرنے کا اشارہ کیا۔۔۔ لیکن میں نے کوئی ردعمل نہ دیا اگر میرا ہاتھ اس لڑکی کے منہ پر نہ ہوتا تو اب تک پورا گاؤں وہاں ا چکا ہوتا جتنا وہ تڑپ رہی تھی مچل رہی تھی۔۔۔ جھکنے سے تو لن کی رگڑ کم لگتی ہے لیکن جس طرح وہ گری ہوئی تھی گانڈ کے نیچے اے جب لن پھدی میں جاتا ہے تو بہت زیادہ رگڑ لگاتا ہے ۔۔۔ ادھر سے تو ان کو بھی بہت رگڑ لگتی ہے جو بہت ذیادہ چدوا چکی ہوں جبکہ مجھے تو یہ اتنی زیادہ چدی ہوئی نہیں لگی تھی۔۔۔ میں نے کوئی دو منٹ مسلسل اسی سپیڈ اے گھسے مارے تھے کہ اس کی جسم کی ہلچل رک گئی میں نے بھی ہاتھ اس کے منہ سے ہٹا دیا ۔۔۔۔ اب لن کو بھی پھدی نے اپنے اندر جگہ دے دی تھی اس لیے قدرے روانی سے جا رہا تھا۔۔۔۔ میں اس کے اوپر لیٹا گھسے لگا رہا تھا اب وہ بھی ساتھ دینے لگی تھی۔۔۔۔ لیکن اس نے ابھی تک میرا چہرہ نہیں دیکھا تھا ۔۔۔ اس نے مزے سے گانڈ کو پیچھے دھیکیلنا شروع کر دیا۔۔۔ اففف اتنا مزہ کبھی بھی نہیں آیا تھا شاید آج زیادہ مزہ اس لیے آیا تھا کافی عرصہ بعد کوئی ٹائٹ پھدی ملی تھی ۔۔۔ میں نے اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر گھسے مارنے شروع کر دئیے دوسری طرف وہ بھی اپنی گانڈ کو پیچھے دھکیل کر لن کو اندر لے رہی تھی ۔۔۔ مجھے اپنا خون ٹانگوں کی دوڑتا محسوس ہونے لگا اس کی پھدی بھی ٹائٹ ہو گئی لن کو اپنی گرفت لینے لگی ۔۔۔۔ جیسے ہی اس کی پھدی نے پہلا قطرہ بہایا میں لن باہر نکالا اور گانڈ کی دراڈ میں رکھ کر گھسا مارا ۔۔۔۔ اففففف لن پھسل کر اندر گھس گیا اندازے سے گانڈ کے سوراخ کا نشانہ لیا جو کہ سیدھا بیٹھا۔۔۔۔ لن آدھے سے زیادہ گانڈ میں اتر گیا اس کا جسم کانپ کر رہ گیا اس کی چیخ نیچے زمین میں دب گئی۔۔۔۔ کچھ پسینے کی وجہ سے اور کچھ اس کی پھدی کے پانی سے گیلا لن آسانی سے گانڈ میں گھس گیا ۔۔۔۔ اس کی گانڈ بھی مجھے پھدی سے کھلی تھی پتہ نہیں وہ کس سے مرواتی رہی تھی فجا تو ہرگز نہیں ہو سکتا۔۔۔ جیسے ہی لن آدھے سے زیادہ اندر گیا لن کی اکلوتی آنکھ نے اپنے آنسو بہانا شروع کر دئیے ۔۔۔۔ ادھر لن آنسو بہا رہا تھا ادھر اس کی رونے کی سسکیاں نکل رہی تھیں۔۔۔ لن نے جب اپنا اخری قطرہ بھی بہا دیا تو میں اس پر سے اٹھا اور گانڈ کو دیکھا جو کافی پھولی ہویی تھی اور اس کی موری بھی کھلی تھی۔۔۔ میں پیچھے ہو کر اپنا ناڑا باندھنے لگا وہ بھی سیدھی ہوئی جیسے ہی اس کی نظر مجھ پر پڑی اس کی چیخ نکل گئی ۔۔۔ میں نے پیچھے دیکھا تو فجا غائب تھا میں نے اگے بڑھ کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور بولا چپ ہو جاؤ کوئی آگیا تو تمہاری بدنامی ہو گی۔۔۔ وہ چپ تو ہو گیی لیکن اس کی آ نکھوں میں غصہ تھا اس نے مجھے اشارے سے دوسری طرف سے نکلنے کا کہا اتنے میں باہر سے آواز آئی کون اے۔۔۔۔ میں آواز سنتے ہی دوسری طرف نکل پڑا اور کماد کے اندر ہی اندر چلتا ہوا بہت اگے نکل گیا ۔۔۔۔ کوئی ایک ایکڑ بعد ایک پگڈنڈی آئی میں اس پر چل پڑا اور گاؤں آگیا۔۔۔ گاؤں آکر میں گھر آیا اور اپنے کپڑے لیے شہر ساتھ والے گاؤں جانے کے لیے ایک کزن سے سائیکل لی اور چلا گیا۔۔۔ وہاں جانے کا ایک مقصد تو یہ تھا کہ اگر اس لڑکی نے میرا نام لے دیا تو میں وہاں سے ہی نکل جاؤں گا دوسرا وہاں حمام تھا اور دھوبی بھی ہوتا تھا وہاں سے کپڑے استری کروا کر پہن سکتا تھا اور نہا بھی سکتا تھا۔۔۔ میں وہاں گیا اور نہا دھو کر نیا سوٹ پہن کر سائیکل پر بیٹھا گھر واپس آگیا۔۔۔ واپس آ کر فجے کو ڈھونڈا لیکن گھر کے قریب قریب وہ نہ تھا۔۔۔ سب کزنوں سے پوچھا اور پھر دوکان کی طرف گیا رستے میں صنم کے گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے مجھے چھنو اور صنم دونوں ایک ساتھ صنم کے گھر سے نکلتی ملیں ۔۔۔۔ میں نے ایک نظر صنم پر ڈالی اور پھر چھنو پر صنم نے کوئی ردعمل نہ دیا لیکن چھنو مسکرائی ۔۔۔ میں سر جھکا کر آگے نکل گیا دوکان پر مجھے فجا مل گیا ۔۔۔ فجا کا بازو پکڑا اور اس کو کھینچ کر ایک ظرف لے گیا ۔۔۔ فجا پوچھتا رہا کیا ہوا کیوں اس طرح کھینچ رہا ہے۔۔۔ جب سب سے دور ہو گئے تو میں نے کہا گانڈو تو مجھے وہاں چھوڑ کر بھاگ آیا ۔۔۔ وہ بولا فیر کی ہویا تو پھدی مار لئی نا ہن کی پریشانی۔۔۔ میں نے بہن چود وہاں اس نے چیخ مار دی تھی اور باہر کوئی آ گیا تھا۔۔۔ میں بڑی مشکل اے چھپ کر آیا ہوں وہاں سے۔۔۔ تجھے کچھ نہیں پتہ تو ادھر نہیں تھا۔۔۔ وہ ہنستے ہوئے بولا سالیا تو کی سمجھنا ایں میں ایویں ای وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔ میں تھوڑا دور ہی تھا جب اس نے چیخ ماری تھی اس کی امی آئی تھی باہر اس نے پوچھا تھاکون اے۔۔۔۔ میں اس کی چیخ سن کر بھاگ کر وہاں آگیا تھا اس سے پہلے کہ کوئی اور اندر جاتا میں سب سے پہلے اندر گیا ۔۔۔۔ جب وہاں گیا تو وہاں وہ اکیلی تھی اس نے مجھے گالیاں دیں جو میرے لیے عام بات ہے۔۔۔ لیکن مجھے جب یہ تسلی ہو گئی کہ تو وہاں نہیں ہے تو سب سیٹ ہو گیا ۔۔۔ اس کو باہر لایا اس نے سب کو بتایا کہ سانپ تھا جس سے ڈر کر میں گر گئی تھی کیونکہ اس کے سارے کپڑے گرد آلود ہق چکے تھے۔۔۔ میں سب کچھ سن کر پر سکون ہو گیا اور ہم کچھ دیر وہاں رکے اور واپس گھر آگئیے ۔۔۔ دوسرے دن جب سب گھر والے بھی جانے کو تیار ہو گئے تو ہم سب شہر واپس آ گئے۔۔۔ شہر آ کر بھی مجھے چھنو اور ناہید سے ناملنے کا دکھ رہا ۔۔۔ لیکن خود کو یہ کہہ کر تسلی دی کہ کوئی نہ تجھے کون سا ان سے پیار ہے ۔۔۔ تجھے تو پھدی سے غرض ہے جو ایک نہیں دو دو مل گئیں ایک دن میں اتنا بہت ہے۔۔۔ گھر پہنچے ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ شانی اور اس کی امی دونوں ا گئیں اور اس کی امی میری امی کے پاس بیٹھ کر ہمارے دادا یعنی کہ میرے ابا کے چاچا کی ڈیتھ کا افسوس کرنے لگی۔۔۔ ابا کے چاچا میرے دادا کے بھایی میرے بھی تو دادا ہی لگتے تھے۔۔۔ وہ کافی دہر بیٹھیں گی یہ سوچ کر میں باہر نکل گیا مارکیٹ جا گیا وہاں سب دوستوں نے محفل جمائی ہوئی تھی سب گپ شپ ہنسی مذاق کر رہے تھے۔۔۔۔ میں بھی ان میں شامل ہو گیا ان سب نے مجھ سے افسوس کا اظہار کیا میں ۔۔۔۔ کا حکم مانا کہہ کر افسردگی کا اظہار کیا۔۔۔ وہ سب چپ ہوگئے تھے کچھ دیر بعد سب نارمل ہو گیا۔۔۔ وہاں کوئی ایک گھنٹہ ضائع کرنے کے بعد میں گھر واپس آگیا۔۔۔ گھر آتے ہی میں اندر گھس کر سو گیا۔۔۔ امی نے مجھے اٹھا کر دودھ پلایا میں دودھ پیتے ہی پھر سو گیا۔۔۔ صبح اپنے وقت پر اٹھا تو جسم ٹوٹ رہا تھا پورے جسم میں درد ہو رہی تھی۔۔۔ پھر بھی اٹھنا تو تھا ہی اسلیے اٹھ کر ضروری حاجات سے فارغ ہو کر میں باہر نکل گیا۔۔۔ لیکن پورا جسم درد کی شدت سے کانپنے لگا زیادہ دور نہیں گیا تھا اس لیے واپس اگیا۔۔۔ گھر آتے آتے میری بس ہو گئی جیسے ہی میں گیٹ سے اندر آیا میری آںکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔۔۔۔ بڑی مشکل سے خود کو سنبھالا اور برآمدے تک آیا وہاں چارپائی کے اوپر بیٹھنے کی کوشش میں گر گیا پھر دماغ ماؤف ہوتا چلا گیا ۔۔۔ میرے ہوش سے بیگانہ ہونے کے بعد جو کچھ مجھے بعد میں پتہ چلا وہ بتاتا ہوں۔۔۔ میں چارپائی پر گرتے ہی بے ہوش ہو گیا امی اس وقت کچن سے باہر آ رہیں تھیں اور باجی برآمدے میں ہی بیٹھی تھیں۔۔۔ مجھے گرتا دیکھ کر باجی نے چیخ ماری امی کے ہاتھ میں چائے کے کپ تھے جو ابا جی کو دینے ان کے کمرے میں جا رہیں تھیں۔۔۔ امی نے کپ نیچے گرائے اور بھاگ کر میرے پاس آ گئیں۔۔۔ باجی بھی اٹھ کر میرے پاس آئیں اور میرے ہاتھ پیر مسلنے لگیں منہ پر پانی کے چھینٹے مارے لیکن کچھ فرق نہ پڑا ۔۔۔ امی اور باجی کی آواز سن کر ابا جی اور بھا ہاشم بھی اندر سے نکل آئے۔۔۔ بھاہاشم کو ابا جی نے کہا جاؤ ڈاکٹر کو بلا کر لاؤ۔۔۔ ہمارے ٹاؤن میں ایک ڈاکٹر رہتا تھا جو قریب ہی تھا بھا اس کو بلا لائے۔۔۔ اس نے چیک کیا نبض وغیرہ بھی چیک کیا اور کہا کچھ نہیں ہوا بس ایسے ہی چکر وغیرہ آگیا کوئی مسئلہ تو نہیں ہے پھر بھی چیک کروا لینا ایک بار کچھ ٹیسٹ لکھ کر دئیے کروانے کے لیے اور کہا یہ ابھی ہوش میں آجائے گا۔۔۔ دوسری طرف شانزل کی امی نے ڈاکٹر کو ہمارے گھر سے نکلتے دیکھا تو وہ بھی آگئی۔۔ پیچھے پیچھے شانزل بھی آ دھمکی اسی طرح ایک دو ہمسائیہ عورتیں اور بھی آ گئیں ۔۔۔ امی اور باجی رونے لگ گئیں تھیں جن کی آواز سے وہ لوگ آئے ۔۔۔ خیر کوئی ایک گھنٹے بعد مجھے ہوش آیا تو اپنے اردگرد اتنے لوگوں کو دیکھ کر پریشان ہوگیا۔۔۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا ہو رہا ہے میں ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔۔۔ میرا سر امی کی گود میں تھا اور وہ سر دبا رہی تھیں باجی بھی ساتھ بیٹھی تھیں۔۔ دوسری عورتیں اور شانزل کی امی شانزل ساتھ والی چارپائیوں پر بیٹھی تھیں۔۔۔ میں نے آنکھیں کھولی تو امی نے میرا ماتھا چوما اور شکر ادا کرنے لگیں۔۔ میں نے جلدی سے اٹھنے کی کوشش کی تو پھر سر چکرانے لگا میں لیٹ گیا۔۔۔ اتنی دیر میں بھا ہاشم بھی آگیا اس کے ہاتھ جوس کے پیکٹ تھے اس نے ایک پیکٹ میں سٹرا لگا کر مجھے دیا میں نے تھوڑا سا اٹھ کر جوس پیا ۔۔۔ جوس پینے سے اندر کچھ حرارت سی آگئی میرے دماغ نے کام کرنا شروع کیا ۔۔ اسی وقت اباجی ڈیوٹی پر جانے کے لیے تیار ہو گئے اور بھا ہاشم بھی تیار ہو گئے۔۔۔ بھا ہاشم نے ہمارے ساتھ والے ایک گاؤں میں پرائیویٹ سکول بنایا ہوا تھا جہاں وہ روز شہر سے جاتے تھے۔۔۔ وہ بھی چلے گئے اور اباجی نے جاتے جاتے امی کو تاکید کی کہ مجھے دودھ میں شہد ملا کر پلائیں اور یخنی بھی دن پلائیں خاص تاکید یہ تھی کہ مجھے گھر سے باہر نہ نکلنے دیں۔۔۔ امی نے جھٹ باجی کو دودھ گرم کر کے اس میں شہد ڈال کر لانے کا کہا ۔۔۔ خیر سارا دن اسی طرح لیٹے گزرا مجھے بھی کچھ آرام کرنے موقع مل گیا۔۔۔ میں کافی سوچتا رہا کہ یہ سب کیسے ہوا جب امی نے پوچھا کہ کل تو نے کیا کھایا تھا تو یاد آیا کہ کل دن میں تو کچھ بھی نہیں کھایا تھا بس دو دو پھدیاں ہی ماری تھیں۔۔۔ پھر یہ بھی یاد آیا کہ شہر آ کر بھی کچھ نہیں کھایا رات کا کھانا بھی نہیں کھایا۔۔۔ مجھے سمجھ آ گئی اور امی کو بھی بتا دیا کل صبح کا ناشتہ کیا ہوا تھا ۔۔۔ امی نے کہا بس پھر اسی وجہ سے تمہیں چکر آیا اور تم گر گئے تھے۔۔۔ خیر کسی نہ کسی طرح وہ دن اور رات گزر گئے ۔۔۔ اگلی صبح تروتازہ اٹھا اور باہر نکل گیا سوچا کیوں نہ آج کہیں آنکھ مٹکا کیا جائے صبح صبح ٹاؤن کی عورتیں خوب اپنی گانڈ مٹکاتی پھر رہی ہوتی تھیں ۔۔۔ میں نکل پڑا آج کافی صحت مند محسوس کر رہا تھا اس کہ وجہ ایک دن میں ملنے والی غذا تھی۔۔۔ میں آج جان بوجھ کر مختلف گلیوں میں گھوم کر نہر والی سائیڈ پر گیا رستے میں کئی آنٹیوں کہ مست گانڈ دیکھی ایک دو کے مموں کے نظارے بھی ہوئے ۔۔۔ کچھ گھروں میں عورتیں خود صبح کے وقت گھر کے سامنے لگے پودوں پر پانی سے چھڑکاؤ کرتی تھیں اس وقت ان کے جسم کا انگ انگ چمک رہا ہوتا تھا۔۔۔ کئی تو فرش دھو رہی ہوتی تھیں اس وقت جو ان لٹکتے غبادے منظر پیش کرتے تھے میںرے جیسے کا لوڑا وہ دیکھ کر ہی پھٹنے والا ہو جاتا تھا۔۔۔ ویسا ہی اس دن بھی ہوا میں آخری گلی میں اسی آس پر گیا کہ کوئی ممے کا نظادہ ہی مل جائے میں جانتا تھا کہ اس وقت اس گلی میں اکثر ایک آنٹی گھر کے باہر پائپ پکڑے کھڑی ہوتی ہیں اور وہ بہت ماڈرن لباس پہنتی تھیں۔۔۔ اکثر ہی وہ بغیر دوپٹے کے ہوتی تھیں ان بڑے بڑے ممے کپڑوں کو پھاڑ کر باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہوتے تھے۔۔۔ میں جب ان کے سامنے پہنچا تو اپنی آنکھیں جھپکانا بھول گیا ۔۔۔ سفید سوٹ پہنے ہوئے تھی وہ اور پانی سے گیلے کپڑے یہاں تک کہ ان کے ممے بھی صاف نظر آ رہے تھے ۔۔۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہ ننگی ہیں میں یہ ہی دھوکا کھا گیا تھا اس لیے تو منہ کھولے آنکھیں پھاڑے ان کو مموں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ میں وہیں رک کر دیکھنے لگا میں اتنا کھو گیا تھا کہ مجھے یہ بھی پتہ نہ چلا کہ اس آنٹی نے مجھے آواز بھی دی ہے۔۔۔ خیر مجھے کندھے سے پکڑ کر ہلانے پر ہوش آیا تو میں نظر گھمائی تو وہ حسن وجمال کی پیکر کھلکھلاتے لبوں سے گویا ہوئی۔۔ کیا ہوا اس طرح کیا دیکھ رہے ہو ۔۔ میں اس کی اور مدھرتا میں کھو گیا ۔۔۔ پھر نہ بولا اتنی سریلی آواز لگتا تھا جیسے کوئی کوئل نغمہ کناں ہو جیسے کسی موسیقار نے کوئی تار چھیڑ دیا ہو۔۔۔ وہ پھر مسکراتے ہوئے گویا ہوئیں کیا ہوا ہے لگتا ہے بہت پسند آگئی ہوں۔۔۔ میں نے ان کی آنکھوں میں دیکھا وہاں شرارت نظر آئی۔۔۔ مجھے کندھے سے ہلا کر بولی ابھی جاؤ تمہارے انکل آفس چلے جائیں تم آنا پھر تم سے بات کروں گی ۔۔۔ میں جانے لگا تو اس نے آواز دی اور ہاں تمہیں خوش کر دوں گی۔۔۔ میں کچھ سمجھی اور کچھ ناسمجھی کی حالت میں وہاں سے چل دیا اور نہر کنارے چلنے لگا ۔۔۔ اپنی واک کا کوٹا پورا کرنے کے لیے آگے نکل گیا جہاں اکثر دل پشوری کرنے جاتا تھا شہر کی حدود سے نکل کر ساتھ ساتھ فصلوں میں لگے ٹیوب ویل پر جہاں اکثر و بیشتر عورتیں اور لڑکیاں نہا بھی رہی ہوتی تھیں اور کپڑے بھی دھو رہی ہوتی تھیں ۔۔ وہاں مجھے کچھ خاص نہ ملا تو واپسی کا رستہ ناپا۔۔۔ ابھی میں ٹاؤن کے پاس نہر سے اتر کر نرسری کے پاس ہی پہنچا تھا کہ مجھے آواز سنائی گل سنیں۔۔۔ میں اپنا وہم امجھا اور آگے بڑھ گیا لیکن ابھی ایک قدم ہی چلا تھا کہ پھر آواز آئی تینوں ای آں گل سن ایدھر آ۔۔۔ میں گردن گھما کر آواز کی سمت دیکھا تو مجھے دائی کی بیٹی نظر آئی جس کی ایک بار پھدی بجا چکا تھا نمکین تھی۔۔ رنگ تو سانولا تھا پر جسم کمال تھا اس کو دیکھ کر لن نے انگڑائی لی ۔۔۔ ایک بات ذہن میں آیا اس آنٹی نے بھی بلایا ہے وہاں جانا ہے لیکن لن صاحب بضد تھے نہ کاکا نہ پھدی ملدی پئی اگر نہ بجائی تو بہت برا ہوگا۔۔۔۔ میں لن کا غلام ٹھہرا سو چل دیا جیسے ہی میں مڑا وہ نرسری میں غائب ہو گئی۔۔۔۔ لیکن میں جانتا تھا کہاں ہو گی چنانچہ میں بغیر ڈرے اس کے پیچھے ہی اپنی مطلوبہ جگہ پہنچ گیا۔۔۔ جیسے ہی اندر اترا دیکھا تو وہ اپنے کپڑے اتار رہی تھی مجھے دیکھ کر سرگوشی میں بولی جلدی کر ٹیم نیں ہیگا۔۔۔ میں نے بھی ٹراوزر نیچے کیا لن پھنکارتے ہوئے باہر نکل آیا اس نے قمیض اور شلوار دونوں اتار دیں ۔۔۔ اس کے مموں کی اکڑں دیکھ کر میرے منہ میں پانی بھر آیا میں آگے بڑا اور اس کے مموں کو پکڑ لیا اور دبانے لگا ۔۔۔ اس نے میرے ہاتھ جھٹکے اور لن کو دیکھنے لگی پھر اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اسکا معائینہ کیا ۔۔۔ ساتھ ہی آہستہ سے بولی اے وڈا نیں ہو گیا۔۔ میں نئی او ای اے ۔۔۔ وہ بولی نئی اس دن تاں اے ادا ڈا نیں سی ۔۔ میں تینوں ایویں لگدا اے۔۔۔
  16. 11 likes
    میرے پاس پروف ریڈنگ کا وقت نہیں ہے۔میں یونی کوڈ ورژن کل دے دوں گا اس کو بعد میں فائنل کر کے ریموو کر دوں گا۔ یہ بھی صرف انتظار کی کوفت سے بچانے کے لیے۔
  17. 10 likes
  18. 9 likes
    نہیں ایسی بات نہیں ہے ان کے پاس واقعات ہوتے ہیں۔جن کی کوئی ترتیب نہیں ہوتی۔ وہ بس ایک واقعہ سن کر اس کو ٹائپ کر دیتے ہیں اور بعد میں میں انکی ترتیب درست کر کے اس میں کچھ مزید ٹائپنگ کر کے جوڑ کر پھر آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ جو آڈیو ان کو ملتی ہے اس میں سمجھ ان کو بھی کچھ نہیں آتا ہوگا کہ یہ کہاں سے کہاں جا رہا ہے۔ جیسے ایک آڈیو میں ان کی فیضان کے ساتھ باتیں ہوں گی۔ دوسری میں ماہی کے ساتھ کوئی بات چیت ہو رہی ہوگی اور تیسری میں کسی اور کے ساتھ۔ بیچ کی ساری کہانی غائب ہو گئی کہ فیضان کہاں اور وہ افراد ان کو کہاں ملے۔ سیکس سین کا آغاز اور اختتام ہوگا درمیان سے پورا غائب ہو گا۔ یعنی یاسر کسی کے اوپر چڑھا اور پھر اٹھا۔چڑھنے سے پہلے اور اٹھنے کے بعد کا سین ہوگا،درمیان کا مکمل حذف ہوگا۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ میں زیادہ تر آڈیو ڈرائیونگ کے دوران بھیجتا ہوں۔جو جو سین ذہن میں آرہا ہوتا ہے وہ میں بھیجتا رہتا ہوں۔درمیان کے تانے بانے میں لیپ ٹاپ پر خود ہی جوڑتا ہوں ۔
  19. 9 likes
    میں ان باتوں کا برا نہیں مناتا اور مجھے یاد بھی نہیں رہتا۔ رائے دینے کا حق سبھی کو مگر جب ایک واقعہ رونما ہو جاتا ہے تو اس کے پیچھے کچھ لمبی پلاننگ کی گئی ہوتی ہے۔ میں چونکہ اگلے چھ مہینوں کی کہانی کے متعلق جانتا ہوں تو میرا ردعمل دوسرا ہوتا ہے۔
  20. 9 likes
    دیکھیں سب کی اپنی اپنی پسند ہے۔ جب ماہی کے ساتھ سیکس ہوا تھا تو بڑا مسلئہ اٹھا تھا،ضوفی کو لے کر بھی شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ اگلی کہانی کس رخ جاتی ہے یہ جانے بغیر ہی قاری رائے بنا لیتے ہیں کیونکہ کہانی ان کی سوچ کے مطابق نہیں ہوتی۔ یہ سب ان کے لیے کبھی کبھی ناقابل قبول ہو جاتا ہے کہ میں اس کا انجام ایسا چاہتا ہوں۔ مشہور ڈرامہ خدا اور محبت کی مثال لے لیں کہ اس میں سب چاہتے تھے کہ لڑکی ہیرو کو مل جائے مگر وہ مر گئی۔ تو سوچ کے برعکس ہونا عین ممکن ہے۔
  21. 9 likes
    جو ہو گا وہ کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہو گا۔کیونکہ ضوفی والا معاملہ بڑا پیچیدہ ہو گا۔
  22. 9 likes
    اپڈیٹ تقریباً تیار ہو چکی ہے امید ہے کل تک اپلوڈ ہو جائے گی آپ کی محبتوں کا شکر گزار ہوں خان صاحب نے بیماری کو دیکھ کر اس کو اگنور کر دیا تھا اس لیے بھلے چنگے ہیں
  23. 8 likes
  24. 8 likes
    یہ تو اچھی بات ہے کہ کہانیاں نسل در نسل منتقل ہوتی رہیں۔ آپ پردیس پڑھتے تو معلوم ہوتا کہ اس کو بارہ سال ہونے والے ہیں۔ بارہ سال سے وہ مسلسل چل رہی ہے۔
  25. 8 likes
    جواب تھا شمائلہ۔ بہت آسان تھا جواب،کیونکہ شمائلہ نے پہلی بار فیضان کا نام لیا تھا۔ اس کی تصویریں تھیں جن کی وجہ سے وہ بلیک میل ہو رہی تھی۔ فیضان نے تصویریں کا اشارہ کیا تھا۔ سب کلیئر تھا۔ پھر ایک اشارہ یہ بھی تھا کہ اس کے ساتھ ملاقات تھی یاسر کی،اس نے لڑکی کے رونے سے پہچانا تھا۔ آپ کا انعام آپ کو موصول ہو جائے گا۔ آپ کو پیڈ سیکشن کی ایک کہانی پڑھنے کو مل جائے گی۔
  26. 8 likes
    Update وہ دونوں تمہارے جانے کے بعد آ گئے ڈنگی نے صنم کی جم کر چودائی کی صنم کی آواز باہر گلی میں سنائی دی یا کسی نے جا کر صنم کی ماں کو بتایا یہ پتہ نہیں چلا یہ ضرور پتہ چلا کہ ڈنگی نے صنم کی گانڈ بھی ماری تھی جس کی وجہ سے صنم کی آواز بلند ہوئی بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ اس کی چیخیں نکلوا دیں ۔۔۔۔ میں نے اس کی بات ٹوکتےہوئے کہا آواز سن کر صنم کی ماں نہیں آ سکتی یہ ضرور کسی نے اس کو جا کر بتایا ہوگا ۔۔۔ فجا نے کہا پہلے پوری گل سن تا لے پھر اپنی ٹانگ گھسانا۔۔۔ میں نے کہا چل بتا ۔۔۔ فجا بولا چھنو کو بھی یہ شک تھا کہ صنم نے تجھ کو دی ہے شک نہیں بلکہ اس کو پورا یقین ہے کہ صنم نے تجھ کو دی اس لیے چھنو نے اس کی ماں تک یہ بات کسی کے ذریعے پہنچائی اور پہنچانا والی کو اس نے پیسے دئیے تھے کہ اس کا نام نہ آئے ۔۔۔۔ صنم کی ماں بہت چالاک تھی اس نے اپنی بیٹی کو بچانے کے لیے سارا الزام چھنو پر لگایا چھنو کی ماں کو الٹا چھنو کی شکایت لگا دی ڈنگی تو بھاگ گیا تھا صنم کی ماں نے اس کو پہچانا یا نہیں لیکن اس کے بعد ڈنگی اور صنم کی ملاقات نہیں ہوئی ۔۔۔۔ باقی پھر تو جانتا ہے چھنو کی ماں پھر کیسی ہے اس نے خوب ہنگامہ کیا پہلے چھنو سے پوچھا چھنو نے سارا معاملہ بتا دیا بس بیچ میں تمہارا اور اپنا ذکر گول کر گئی تھی۔۔۔۔ میں یہ سب سن کر حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکا کہ فجے کو یہ سب اتنی تفصیل سے کیسے پتہ ہے اور اندر کی باتیں بھی لیکن میں نے اس سے یہ پوچھنا مناسب نہ سمجھا۔۔۔۔ پھر ہم وہاں سے نکل کر دکان والی سائیڈ پر چلے گئے ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگ گئے ۔۔۔ میں اس سے کہا یار مجھے اس کی بات کی سمجھ نہیں آتی کہ صنم کے ساتھ میں نے کچھ نہیں کیا لیکن تم بھی کہہ رہے ہو پہلے بھی تم نے کہا تھا اب تم نے کہا چھنو کو بھی شک ہے لیکن یار میں نے اس کی نہیں لی۔۔۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ایک دن کماد میں کوئی تھی جس نے خود مجھے بے بس کر دیا تھا میں اس کی نہیں کی بلکہ اس نے زبردستی مجھے دی میں نے اس کا چہرہ تک نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔ میں نے فجے کو یہ نہیں بتایا کہ مجھے وہ صنم ہی لگتی ہے اس کے ابھار اس کے اٹھلاتے چوتڑ اس کی بڑی بڑی آنکھیں اور ایک دن اس کے جسم سے اٹھتی خالص زنانہ خوشبو جو ہر ایک کی الگ الگ ہوتی ہے ان سب باتوں سے میں نے بھی یہ ہی نتیجہ اخز کیا تھا کہ وہ صنم ہے۔۔۔۔ اب میں صنم سے تنہائی میں ملنے کے بارے میں غور کرنے لگا اس کے لیے بھی مجھے کسی سے مدد درکار تھی لیکن اچھی فجے کو نہیں بتانا چاہتا تھا ۔۔۔۔ ہم دکان پر گئے وہاں ایسے ہی گپ شپ کرتے رہے پھر گھر آ کر سو گئے۔۔۔ دوسرے ختم تھا صبح اٹھتے ہی ہمارے ذمہ کام لگا دییے گئے پھر وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا اور ختم ہو گیا۔۔۔ ختم مسجد میں دلوایا جو کہ چھنو کے گھر کے ساتھ ہی تھی وہاں میں نے چھنو اور صنم دونوں کو چھنو کی چھت پر دیکھا جو مجھے ہی دیکھ رہی تھیں ۔۔۔۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا اور گلی میں ایسے ہی ایک چکر لگانے کے لیے گیا چھنو تو نکلی لیکن صنم چھنو کے گھر سے نکل رہی تھی اس نے مجھے سمائل دی جس میں بہت کچھ واضح تھا ۔۔۔ میں اس کو دھیمی آواز میں کہا مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔۔۔ اس نے گلی میں نظر دوڑائی اور بولی ختم کے بعد تم شازی لوگوں کی بیری کے پاس آ جانا ہم لوگ ادھر جا رہے ہیں ۔۔۔ میں نے ہاں میں سر ہلایا اور نکل گیا۔۔۔ اب مجھے جلدی لگ گئی تھی کہ جلدی سے اس سب سے فارغ ہوں اور صنم سے ملنے کے لیے جاؤں ختم کا ٹائم صبح 10 بجے کا رکھا گیا تھا جب کہ اب 11 بج چکے تھے لیکن ابھی تک تقریر ہی جاتی تھی۔۔۔ جیسے تیسے ختم ہوا میں چپکے سے وہاں سے نکلا اور پگڈنڈی کے راستے اپنی مقررہ جگہ پہنچ گیا لیکن وہاں مجھے کسی کا نام ونشاں نہ ملا میں بیری کے نیچے رک کر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔۔۔۔ مجھے تھوڑا دور ایک پی ٹی آر پر کچھ عورتیں کپڑے دھوتی نظر آئیں ۔۔۔ پی ٹی آر جس کو ہم لوگ پٹیر کہتے ہیں اور کچھ لوگ بمبا بھی کہتے ہیں واقف ہر کوئی ہوتا ہے بس سمجھنے میں مشکل ہو سکتی ہے یہ بمبے ہمارے گاؤں میں کافی تھے کیونکہ ہمارے گاؤں میں بجلی لیٹ آئی تھی اس لیے تقریباً ہر مربع میں ایک تھا۔۔۔۔ میں ایسے ہی غور سے ادھر دیکھنے لگا کچھ دیر میں وہاں سے کوئی اٹھا تو مجھے سمجھنے میں ذرہ بھی دیر نہ لگی کہ وہ کون ہے میں نے جب تسلی کرلی کہ وہ صنم ہے تو میں فوراً بیٹھ گیا کیونکہ اگر صنم کے علاوہ کوئی دیکھتا تو مسئلہ ہو سکتا تھا۔۔۔۔ 5 منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ مجھے قدموں کی آواز آئی میں نے آواز کی سمت دیکھنا شروع کردیا جلد ہی مجھے صنم کی جھلک دکھائی دی ۔۔۔۔ میں اٹھنے لگا پھر خود ہی بیٹھ گیا کیوں کہ وہ اکیلی نہیں تھی اس کے ساتھ کوئی تھا جس کو میں نے ابھی تک دیکھا نہیں تھا کیونکہ وہ جو بھی تھی اس کے پیچھے تھی۔۔۔ صنم چلتی ہوئی بیری کے نیچے آ گئی اور رک کر بولی کومی تو انج کر ایتھے رک اور بیر توڑ میں آوندی آں۔۔۔۔ مجھے بھی پتہ چل گیا کہ اس کے ساتھ کون تھا فجے کی دوست کومل تھی اب مجھے ساری بات سمجھ گئی کہ فجے کو اتنی ساری باتیں کہاں سے پتہ چلتی ہیں ۔۔۔۔ صنم اس کو یہ کہہ کر میری ظرف آئی اور دیکھ کر کہا میں اوس درخت دے تھلے چلی آں تو وی نیواں نیواں اوتھے آجا فیر کر لیں جو گل کرنی ہووو گی۔۔۔ میں اس کے ہاتھ کے اشارے کی سمت دیکھا ایک ٹاہلی کا درخت گندم کی فصل جے بیچوں بیچ کھڑا تھا وہ نیچے بیٹھی اور پھر کومل کو کہا نی گل سن کوئی آوے تاں سنبھال لیں۔۔۔ کومل نے چل ہن جا چھیتی آیں ۔۔۔ صنم کوڈی ہو کر چلنے لگی میں نے بھی اس کی تقلید کی اور اور ہم اپنی مطلوبہ جگہ پہنچ گئے۔۔۔۔ صنم وہاں جا کر بیٹھ گئی اور سستانے لگی میں بھی اس کے پیچھے پہنچ کر بیٹھ گیا اور اپنی کمر پر ہاتھ رکھ کر سانس لینے لگا۔۔۔ صنم نے میرے کول اتنا ٹیم نیں ہے جو گل کرنی ہے جلدی کر لے۔۔۔ میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ایک نہیں دو باتیں پوچھنی ہیں لیکن مجھے دوسری بات سے کوئی غرض نہیں تم بتاؤ یا نہ بتاو پہلی بات جو پوچھو وہ سچ سچ بتا دینا۔۔۔۔ یہ کہہ کر میں کھسکتے ہوئے اس کے قریب ہو گیا اس کا بھی ایک مقصد تھا کہ اگر وہ اس مقصد سے آئی ہے تو لگے ہاتھوں اس کی بھی مار لوں گا۔۔۔۔۔ اس نے کوئی ردعمل نہ دیا بس میری طرف بڑے معنی خیز انداز سے دیکھتی رہی۔۔۔ میں جیسے ہی اس کے قریب ہوا اس کے جسم سے نکلنے والی خوشبو نے مجھے اپنی طرف متوجہ کر لیا۔۔۔ یہ خوشبو میرے ذہن ودماغ پر اس دن بھی ایسے ہی حاوی ہو گئی تھی مجھے اب یقین ہو گیا تھا کہ اس دن صنم ہی تھی ۔۔۔ اس کا جسم پسینے سے شرابور تھا جس کی وجہ سے اس کے مموں سے نکلنے والی زنانہ خوشبو کافی پھیلی ہوئی تھی۔۔۔ میں نے اپنے ہواس کو بحال رکھتے ہوئے پوچھا صنم سچ سچ بتانا ۔۔۔ وہ بولی پوچھو گے بھی یا نہیں۔۔۔ میں نے کہا اس دن کماد میں نقاب کیے تم ہی تھی نا۔۔۔ وہ مسکرائی اور بولی کیوں تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں تھی۔۔۔ میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکا اور مزید قریب ہو گیا اور بولا تمہارے جسم سے اٹھتی یہ مدہوش کر دینے والی خوشبو مجھے چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ میرے ہوش اڑانے والی مجھے نیئے جہاں سے متعارف کروانے والی میرے اندر سیکس کی بھوک بڑھانے والی اپنے مر مریں جسم سے میرے اندر ہلچل مچانے والی اپنی انتہا کے خوبصورت جسم کے خدوخال سے مسحور کر دینے والی کوئی اور نہیں بلکہ تم ہو۔۔۔ تمہارے جسم کے اتار چڑھاؤ ایک ایک انگ ایک ادا ایک عضو مجھے یاد ہے۔۔ میں جس زاویے سے بھی دیکھوں مجھے تم لگتی ہو۔۔۔ وہ صرف مسکرانے پر ہی اکتفا کر رہی تھی اس کی آنکھوں کی چمک سے اس کے اندر اٹھتے جوار بھاٹے کا اندازہ کیا جا سکتا تھا۔۔۔۔ میں کچھ اور اس کے قریب کھسک گیا اپنی آنکھوں کو بند کیا اس کے جسم سے اٹھتی پسینے اور اس کے بدن کی آتشیں خوشبو میرے اندر تک کو سلگانے لگی میں اس سے بات کرنا بھول کر اس پر زور خوشبو کو اپنی نتھنوں سے اپنے اندر اتارنے لگا اور اپنی ناک خوشبو کے منبع کی طرف بڑھا دی۔۔۔۔ آہہہ جیسے جیسے میرا چہرہ قریب ہوتا جا رہا تھا مجھ پر نشہ سا طاری ہو رہا تھا مجھے گرمی کا احساس ہونے لگا اپنے ناک کے بالکل قریب بھاپ سی اٹھتی محسوس ہوئی جو سیدھی نتھنوں سے ٹکرا رہی تھی اتنی مسحورکن گرمی اس گرمی میں لپٹتی شہوت انگیز مہک نے میرے جذبات میں بھونچال پیدا کر دیا۔۔۔۔۔ میں رکا اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھایا ناک کی سیدھ میں شہوت سے معطر چشمے پر رکھ دیا افففففف اتنی نرم و گداز دو پھولوں کی وادی کہ میرے ہاتھ کی انگلیاں پھسل کر وادی میں گھس گئیں ۔۔۔۔ میں کبھی دائیں طرف کی پتی کو انگلیوں سے رگڑتا تو کبھی بائیں طرف کی پتی کو الٹی سائیڈ سے میری انگلیاں بھیگ گئیں میں ہاتھ پیچھے ہٹانا چاہا تو مخروطی ہاتھ نے بڑی نرمی سے میرے ہاتھ کو وہیں دبا دیا۔۔۔۔ اک احساس جاودانی لیے میں نے اپنے ہاتھ سے دو پھولوں کی وادی کے رقبہ کو ماپنا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔ اگر پیمائش کرنے کے لیے ایسا نرم وگداز رقبہ ہو اور پیمائش بھی اپنے ہاتھوں سے کرنی ہو تو کون انکار کر سکتا ہے۔۔۔۔ میں نے بھی دونوں پھولوں کے ارگرد گرد ہاتھ چلانے شروع کر دئیے کمال کے گول گول پھول تھے دونوں ہی کسی بھی چاردیواری کی بندش سے آزاد تھے ۔۔۔۔ میں نے ہاتھ کی دو بڑی انگلیوں سے ایک پھول کے ابھری ہوئی کونپل کو پکڑ کر کھینچا صنم کے منہ سے بے اختیار سی نکلا اس نے میرا ہاتھ دبا دیا اور اپنا چہرہ میرے چہرے کے قریب لے آئی اس کی سانس کی حدت مجھے اپنے بائیں گال پر آگ برساتی محسوس ہوئی۔۔۔۔ میں نے ایک کونپل سے سے کھیلنے کے بعد اپنے ہاتھ کو پھول سے اتار اپنے ہاتھ کی پشت سے رگڑ لگاتے ہوئے وادی سے گزر کر دوسرے گول مٹول سے پھول جیسے ممے پر ہاتھ کی پشت سے رگڑ لگائی اور اسی طرح سے دو انگلیوں میں نپل کو کس لیا اور مسلنے لگا میری آنکھیں ابھی بھی بند تھیں لیکن جذبات جاگ چکے تھے میرا گھوڑا بھی اپنی گردن گردن اکڑا کر سر کو دائیں بائیں مار رہا تھا۔۔۔۔ دوسرے ممے کو مسلنا صنم سے برداشت نہ ہوا اس نے اپنےہونٹ میرے بائیں گال پر رکھ دئیے۔۔۔۔ صنم کے ہونٹ اپنی گرماہٹ میرے گال پر انڈیلنے لگے ہونٹوں کی گرفت سخت ہو گئی گال کو کھانے کے انداز میں دبانے لگی ساتھ ساتھ اپنا ایک ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھ کر دبانے لگی ۔۔۔۔ میں نے ابھی کچھ اور کرنے کا ہی سوچ رہا تھا کہ صنم اٹھی اور میری گود میں اپنی ٹانگیں دائیں بائیں رکھ کر بیٹھ گئی اور میرے چہرے کو چومنے لگی۔۔۔۔۔ اس کے چومنے سے میرے چہرے پر جا بجا تھوک لگ گیا اس نے میری پیشانی پر اپنے نرم ہونٹوں چمی کی بہت پیار سے اس نے میرے بالوں میں انگلیاں پھیریں میرے بال پیچھے کیے اور جھک کر میری آنکھوں کو باری باری چوما پھر دونوں گال چومے اس کے بعد ٹھوڑی کو پر اپنی ہونٹ رکھ کر ایک چوسا لگایا۔۔۔۔ اوپر وہ چوما چاٹی کر رہی تھی نیچے اسکی پھدی لن سے رگڑ کھا رہی تھی ۔۔۔۔ مجھے اندازہ تھا کہ وہ کتنی جوشیلی ہے اس نے میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے اپنی زبان نکال کر میرے منہ میں ڈال دی زبانیں گتھم گتھا ہو گئیں کبھی اس کی زبان میری زبان کے گرد لپٹ جاتی کبھی میری زبان اس کی زبان کے گرد کس جاتی ایک دوسرے کی زبان کا ذائقہ اندر اتارنے لگے ۔۔۔۔ اس کے ہر انداز میں جوشیلہ پن تھا اک پیاس تھی زبانیں چوستے ہوئے اس نے اپنا ہاتھ نیچے کیا اور میں ناڑا کھول کر لن باہر نکال لیا اپنی گانڈ اٹھا کر وہ اوپر ہو گئی اور لن کی مٹھ لگانے لگی ساتھ ساتھ کسنگ جاری رکھی ۔۔۔۔۔ مجھے بھی مزہ آنے لگا میں نے اپنے ہاتھوں سے اس کے اوپر نیچے ہلتے مموں کو کپڑوں کے اوپر سے پکڑ کر دبانا شروع کر دیا جتنے زور سے میں ممے دباتا اس سے دگنے زور سے وہ میرا لن مسلتی ۔۔۔۔۔ میں بھی جوش میں اس کے ممے دبانے کے ساتھ ساتھ اس کی کسنگ کا جواب دے رہا تھا۔۔۔۔ اس نے اپنی قمیض اوپر کی ممے باہر نکال دییے۔۔۔۔ میں نے جھٹ ممے پکڑے اور نپل دبانے لگ گیا۔۔۔ اس نے اپنی آنکھیں بند کر سئیی کی اور شلوار نیچے کر لن کو اپنی ٹانگوں میں پھنسا لیا۔۔۔ اس کے بیٹھنے سے ممے میرے منہ سے نیچے ہو گئے جن کو اس نے اپنے ہاتھوں کی مدد سے اوپر کر میرے ہونٹوں پر رگڑا۔۔۔۔ میں نے اپنی زبان نکالی اور مموں کا رس چھکھنے لگا۔۔۔۔ اپنی زبان سے ایک ممے کے نپل کو اچھی طرح رگڑا دوسرے کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر دبانے لگا۔۔۔ اس نے مزے سے آنکھیں بند کیں اور میرا سر اپنے دودھیا مموں پر دبا دیا۔۔۔ میں نے اپنی زبان نپل کے ارد گرد پھیرتے ہوئے پورے ممے کو تر کر دیا۔۔۔ وہ مسلسل اپنی ٹانگوں کو میرے لن پر اس طرح رگڑ رہی تھی کہ لن پھدی کے لبوں مو چھو جاتا تھا پھدی کی گرمی محسوس کر کے میرا لن جھومنے لگتا۔۔۔۔ لن کی خواری بڑھتی جا رہی تھی ادھر صنم کا جوش بھی دوگنا ہو گیا تھا۔۔۔۔ اب وہ لن کو پھدی کے لبوں میں گھسانے کی کوشش کر رہی تھی اس نے اٹھ کر لن کو پھدی میں لینے کی کوشش بھی کی لیکن میں نے ناکام بنا دی۔۔۔۔۔ لن جو صرف پھدی کے اوپر ہی رگڑ کھانے دی۔۔۔ میں مسلسل اس کے مموں سے رس کشید کر رہا تھا اایک ہاتھ اس کی گانڈ کے نیچے رکھ دیا تھا جس سے اس کو لن پھدی میں لینے سے باز رکھ رہا تھا ۔۔۔۔ ایک ممے کے نپل سے کھیلنے کے بعد میں اس کا دوسرا مما اپنے لبوں میں لیا اور جتنا ہو سکتا تھا اندر لے گیا اور چوسنے لگا۔۔۔۔ اس کی آواز اب سسکیوں میں بدل گئی تھی اب پھدی کو لن دیوانہ وار رگڑنے لگی۔۔۔ لن پھدی کے لبوں میں اوپر نیچے ہونے لگا تھا جس سے اس کے دانے کو رگڑ لگ رہی تھی ۔۔۔ اس سے میں بھی فل جوش میں آ گیا ایک پھدی کے لبوں کی نرمی اوپر سے پھدی سے نکلنے والے پانی کی گرمی دونوں مجھے مدہوش کر رہی تھیں۔۔۔ لیکن اس سے پہلے کہ میں کچھ سوچتا اس نے جنونی انداز میں میرا سر اپنے مموں پر دبانا شروع کر دیا اس کے منہ سے غوں غوں کی آواز آنے لگی ۔۔۔۔ لن پر پھدی کو زور زور سے مارنے لگی اس نے اتنی زور سے میرا سر اپنے مموں میں دبایا کہ میرا سانس لینا محال ہو گیا۔۔۔ کچھ ہی لمحوں میں اس کا سانس اکھڑا اور مجھے اپنے لن اور ٹانگوں پر گرم گرم مادے کا احساس ہوا اس کے جسم جھٹکے کھائے ۔۔۔۔ اس نے اکھڑی سانسوں میں کہا بلوووو ۔۔۔ میں نے کہا ہوں۔۔۔ وہ پھر بولی بلووو تو کی کھانا ایں ۔۔۔۔ اے سب کتھوں سکھیا تو ۔۔۔ میری بس کروا دتی سی اس دن تو اج وی لگدا اے تو چھیتی جان نہیں چھڈنی۔۔۔ میں صرف مسکراتا رہا۔۔۔ وہ میری گود سے نیچے اتری اور اپنی شلوار ساری اتار کر رکھ دی اور میری طرف اپنی کمر کر کے لن پر اپنی پھدی ایڈجسٹ کرتے ہوئے بولی جلدی کر کوئی آ جاؤ گا۔۔۔ بہت دیر ہو گئی اے ۔۔۔ میں نے بھی سوچا سچ کہہ رہی کھیت میں اتنی دیر کرنا مناسب نہیں ۔۔۔۔ لن کو اس کی پھدی پر سیٹ کیا اس نے خود ہی اپنے ہاتھ سے لن کو پکڑ کر پھدی کے لبوں پر رکھا اور پیچھے کی طرف دھکا لگایا ۔۔۔ جب اس نے دھکا لگایا اسی وقت میں نے بھی دھکا لگا دیا لن گھڑپ کی آواز سے اس کی پانی سے بھری پھدی میں اتر گیا۔۔۔۔ اس نے گردن گھما کر میری طرف دیکھا لیکن بولی کچھ نہیں۔۔۔ سیدھی ہوئی اور آگے پیچھے ہلنے لگی لن بڑی روانی سے پھدی میں جا رہا تھا ۔۔۔۔ اس کی گانڈ کی شیپ بہت کمال تھی گول مٹول چٹی سفید گانڈ چمکدار جلد جو پسینے سے بھیگی ہونے کی وجہ سے اور بھی دلکش مںظر پیش کر رہی تھی۔۔۔ اوپر سے جب لن پھدی میں جاتا تو گانڈ کا سکڑنا افففف ۔۔۔ میں اپنے ہاتھ بڑھا کر اس کی گانڈ کو تھام لیا اور خود آگےپیچھے کرنے لگا۔۔۔۔ لن صنم کی پھدی میں روانی سے جا رہا تھا گھپ گھپ گھپ کی آوازیں آ رہی تھیں ۔۔۔۔ وہ ٹانگیں کھول کر جھکی ہوئی تھی اس کے ممے قمیض سے باہر تھے میں نے اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھایا اس کے اوپر جھک کر اس کا دایاں مما پکڑ لیا دوسرے ہاتھ سے اس کی گانڈ ہر آہستہ آہستہ تھپڑ مارنے لگا۔۔۔۔ لن کو رگڑ نہیں مل رہی جس سے مزہ کرکرا ہو گیا ۔۔۔ میں نے لن نکال کیا صنم سے گردن پیچھے کر میری طرف دیکھا اور کھڑی ہو گئی جس سے اس کا مما ہاتھ سے نکل گیا۔۔۔۔ لیکن وہ فوراً بیٹھ گئی جب اس کو احساس ہوا کہ کھڑا ہونے سے وہ باہر کسی کی نظر میں آ سکتی ہے۔۔۔ میری طرف منہ کر کے میری رانوں پر ہاتھ رکھ کر بیٹھتے ہوئے پوچھا کی ہویا۔۔۔ میں کہا مزا نہیں آ رہا کچھ اور کرتے ہیں یہ کہتے ہوئے میں نے اس کی پھدی کی طرف دیکھا جو اس کی منی سے لتڑی ہوئی تھی۔۔۔ وہ میری گود میرے دونوں طرف ٹانگیں کر چڑھ گئی اور میرے ہونٹوں کو چومنے لگی چھوٹی چھوٹی پاریاں کرنے کے بعد بولی اب کیسے مزا ائے گا جناب کو۔۔۔۔ میں نے اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں کے چوسا اور بولا کچھ نیا کرتے ہیں تیری بہت کھلی ہے اس کو ٹائٹ کرو گی تو مزا زیادہ آئے گا۔۔۔ اس کو یہ بات بہت بری لگی وہ ہتھے سے اکھڑ گئی اور بولی کی مطلب اے تیرا میری کھلی اے میں ہر اک توں یواہندی پھرنی آں۔۔۔ وہ میری گود سے اتر گئی اور اپنی شلوار پہنے لگی۔۔۔ میں جلدی سے اس کے پاس ہوا اور بولا میری بات تو سن ۔۔۔ میری بات تو سن وڈا آیا تو چل پراں ہٹ میرے نیڑے ناں آیں میں تیوں دساں۔۔۔ میں نے دل میں سوچا لے بھئی بلو آ تاں گئی ہن اپنا کم شروع کر۔۔۔ میں اس کو اپنے نیچے گرایا اور اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر کہا چپ اب پہلے میرے بات سن بعد میں بولنا جو بھی بولنا ہو۔۔۔۔ میں جو کہہ رہا ہوں وہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے جو تم سمجھ رہی ہو تمہارا یہ خوبصورت بدن آہ جب پیچھے سے کر رہا ہوں نہ تو تمہارے گول گول خوبصورت دودھ نظر نہیں آ رہے میری جان ان کو دیکھ کر ہی تو مزہ آتا ہے ۔۔۔۔ ایسے میں مجھے یہ لگ رہا یے جیسے تمہاری کھلی زیادہ ہے بس ایسے ہی منہ سے نکل گیا تمہارے جسم کا ایک ایک عضو اپنی جگہ کمال ہے تم حسن کی دیوی ہو میں تمہارے بارے میں ایسا سوچ سکتا ہوں بھلا ۔۔۔۔ یہ کہتے ہوئے میں نے اپنے چہرے پر دکھ بھرے تاثرات پیدا کئیے اور مزید گویا ہوا صنم اگر اب بھی تم سمجھتی ہو کہ میں ایسا سوچ سکتا ہوں تو جیسے تم چاہو ۔۔۔۔۔ میں نے اس کے منہ سے ہاتھ ہٹا دیا اس نے لمبا سانس چھوڑا میں اس کے اوپر سے یٹ کر ساتھ لیٹ گیا۔۔۔ سانس بحال کرنے کے بعد وہ اسی طرح لیٹے لیٹے میرے اوپر آ گئی اس کے فوم جیسے نرم نرم ممے میرے سینے پر لگے اس نے میرا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑا اور میرے بالون میں انگلیاں پھیرتے ہوئے مسکرائی اس کا چہرہ جذبات کی شدت سے تمتما رہا تھا ہونٹ کپکپا رہے تھے ۔۔۔۔ آنکھوں میں ایک جنون برپا تھا اس کے دل کی دھڑکن مجھے اپنے سینے میں واضح سنائی دے رہی تھی۔۔۔ اس نے اپنے کپکپاتے ہونٹ میری پیشانی پر رکھے چوم لیا اس کے بعد آہستہ آواز میں گویا ہوئی ۔۔۔۔ بلو میری جان تمہیں مزا نہیں آ رہا تھا مجھے کھل کر بتاتے میں تمہیں اتنا مزہ دیتی کہ سب کچھ بھول جاتے میرے راجہ اس نے اپنی ہی بات مکمل نہیں اور میرے گال چومنے لگی۔۔۔۔ اس کے انداز میں دیوانہ پن جھلک رہا تھا اس اس کے سینے کی رگڑ مجھے سکون بہم پہنچا رہی تھی میرا لوڑا جو نیم مردہ ہو گیا تھا اب سر اٹھانے لگا۔۔۔۔ اب صنم نے میری آنکھوں کو باری باری چوما پھر اپنے زبان میری ٹھوڑی ہر رکھ کر پھیرنے لگی آنکھوں میں شہوت بھرے جذبات لیے اس نے اپنے دائیں ہاتھ کے انگلی کو میری پیشانی سے پھیرتے ہوئے کان کی لو تک پھر وہاں سے میرے ہونٹوں تک لائی اور اپنے انگوٹھے کو میرے ہونٹوں ہر پھیرا اور مسکراتے ہوئے اپنی لمبی زبان نکالی اور بولی میں آج تمہارا خون پی جاؤں گی۔۔۔ میں نے کہا سوہنیو پی جاؤ سارا خون یہ جان تمہاری ہی تو ہے میرے جسم سے سارا خون میرے میں لن سے سارا رس نچوڑ لو ۔۔۔۔ اس اپنے لب کھولے میرے ہونٹوں کے قریب آئی آنکھوں میں شرارت لیے میں نے بھی ہونٹ کھولے لیکن اس نے اپنا ہاتھ میرے لبوں پر رکھا اور نہ میں سر ہلایا۔۔۔۔ اس نے اپنے آپ کو تھوڑا اوپر اٹھایا اس کے ممے قمیض کے گلے کو پھاڑ کر باہر نکلنے کی کوشش میں جھول رہے تھے اس کی گہری کلیویج سفید مموں کے درمیان کھائی سا منظر پیش رہی تھی۔۔۔ میں اس کے مموں کی بناوٹ اور اس ہوشربا منظر میں کھویا تھا کہ اس نے اپنے گلے کے سامنے ہاتھ رکھا اور نہ کی انداز میں انگلی ہلائی ۔۔۔ وہ اٹھ کر میرے اوپر بلکل لن کے قریب اپنی گانڈ رکھ کر بیٹھ گئی اور میری قمیض کے بٹن کھولنے لگی جب سارے بٹن کھل گئے تو اس نے اپنے دونوں ہاتھ میرے سینے پر قمیض کے اندر ڈالے اور پیار سے پھیرنے لگی۔۔۔۔ اس لن نے اپنا اکڑ دکھانی شروع کر دی سیدھا کھڑا ہونے کی بجائے اس کی گانڈ کی جھک کر دراڑ کے ساتھ جا لگا۔۔۔۔ لن کو محسوس کر کے وہ تھوڑا اوپر ہوئی اپنی قمیض کو گانڈ سے ہٹایا اور لن کو اپنے نیچے لے لیا پھر سامنے کی طرف جھکی اپنی زبان میرے سینے پر بالکل درمیان میں رکھ دی۔۔۔ ابھی میرے سینے پر بال نہیں اگے تھے کوئی اکا دکا ہی تھے صاف سینہ تھا اس نے زبان سے میرا سینہ چاٹنا شروع کر دیا۔۔۔۔ اپنے ہاتھوں میرے دونوں نپلز کے اوپر لے گئی اب منظر یہ تھا کہ میرا لن اس کی گانڈ کے نیچے لیٹا تھا جس کی ٹوپی پھدی کے قریب تھی اور گانڈ کی نرمی میں مست تھا اس کی زبان میرے سینے پر اپنا تھوک لگا رہی تھی اور ہاتھ نپلز پر تھے ۔۔۔۔ میں مستی میں ڈوب رہا تھا اس کی ایک ایک ادا میرے جوش کو بڑھا رہی تھی۔۔۔ پھر اس نے نیچے سے لن کے اوپر اپنی گانڈ کو رگڑنا شروع کر دیا اور دونوں نپلز کو ایک ساتھ اپنی انگلیوں میں پکڑ کر مسلنے لگی۔۔۔ میری تو جان پر بن آئی ایسا مزا دل کیا ابھی لن پھدی میں گھسا دوں ۔۔۔۔ میری آنکھیں مزے کی شدت سے جلنے لگیں وہ ہاتھوں کے انگوٹھوں اور ایک ایک انگلی سے ایک روانی سے نپل مسلے جا رہی تھی گانڈ کو بھی اسی طرح سے رگڑ رہی تھی اپنی زبان سے بھی چوسائی کر رہی تھی اس نے اتنا چوسا کہ میری قمیض کا گلا تھوک سے بھیگ گیا۔۔۔۔ میں نے اس کی گانڈ پر ہاتھ رکھے اور اس کو اگے پیچھے ہلانے لگا اس کی پھدی سے نکلنے والا گاڑا لیس دار پانی میری ناف پر لگ رہا تھا ۔۔۔۔ اب تو باقاعدہ میں کوشش شروع کر دی کہ لن کو کسی طرح اس کے کسی بھی سوراخ میں ڈال دوں لیکن وہ یہ موقع نہیں دے رہی تھی۔۔۔ اس نے اپنی زبان کا رخ بدلا اور قمیض کے اندر ہی گھماتے ہوئے دائیں طرف والے نپل ہر پہنچ گئی اس زبان نپل کے ساتھ ساتھ اردگر گھمانے لگی۔۔۔۔ میرا جسم کانپ کر رہ گیا ابھی اس سے ہی سنبھل نہیں پایا تھا کہ اس نے نپل کو اپنے منہ میں بھر کیا اور چوسنے لگی ۔۔۔۔ اب مجھ سے برداشت کرنا مشکل ہو گیا تھا وہ کافی اگے جھک گئی تھی میں لن کو ہاتھ میں پکڑا اور اس کی پھدی کا انداز سے نشانہ لیا اور ٹوپی کو پھدی کے لبوں پر لگا دیا جو خوش قسمتی سے نشانے پر تھی اور نیچے سے گانڈ اٹھا کر گھسا مارا لیکن لن صاحب ہوا میں ہی رہ گئے۔۔۔۔
  27. 8 likes
    مسلئہ کہانی نہیں ہے بلکہ صرف لکھنے کا ہے۔ میں اس وقت بھی ٹائپنگ میں لگا ہوا ہوں۔ جلد شائع ہوں گی۔
  28. 7 likes
    Premium Violation Members جیسا کہ تمام ممبرز کو معلوم ہے کہ پریمیم ممبرز پر بھی کچھ رولز لاگو ہوتے ہیں۔جن میں پریمیم ڈیٹا کی چوری سر فہرست ہے۔جس کی خلاف ورزی پر پریمیم ممبر اپنے پریمیم اکاؤنٹ سے محروم ہو جاتا ہے۔ماضی میں بھی بہت سے لاتعداد پریمیم ممبرز رولز کی خلاف ورزی پر اپنے پریمیم اکاونٹ سے محروم ہو چکے ہیں۔جن کو فورم پر ڈسکس نہیں کیا جاتا تھا۔ مگر اب ہم نے سوچا کہ ایسے تمام ممبرز جو پریمیم رولز کے خلاف فورم سے پریمیم ڈیٹا چوری کر یں گے۔ فورم ان کے اکاؤنٹ بھی بین کرے گا ۔ اور ان ممبرز کو فورم میں نمایاں بھی کرے گا۔ تاکہ دوسرے ممبرز جو اس رولز کو سیئریس نہیں لیتے ۔۔۔۔۔وہ اپنے پریمیم اکاؤنٹ کا رسک نہ لیں۔ کیونکہ ایک بار پریمیم اکاؤنٹ بین ہونے کے بعد اس کو دوبارہ ری سٹور نہیں کیا جاتا۔ اور پریمیم ممبر کے تمام خریدے گئے ناولز اور اپڈیٹس پریمیم اکاؤنٹ کے ساتھ ہی ختم ہو جاتے ہیں۔اس ممبر کےکسی نئے اکاؤنٹ سے دوبارہ رجسٹریشن پر اس ممبر کو کسی بھی سیئریل کی اپڈیٹ پڑھنے کے لیئے دوبارہ سے سابقہ اپڈیٹس بھی ساتھ ہی لینا پڑیں گی۔جو کہ ان ممبرز کے لیئے ایک تکلیف دہ امر ہو گا۔۔۔ اب سے ایسے تمام پریمیم ممبرز جو اپنے پریمیم اکاؤنٹ سے محروم ہوں گے ان کو اس تھریڈ میں اپڈیٹ کیا جاتا رہے گا۔تاکہ سب کو آگاہی ہوتی رہے ۔رولز کو فالو کریں۔ اور انجوائے کریں۔تاکہ آپ کا پریمیم اکاؤنٹ محفوظ رہے۔ ۔۔۔۔ایڈمنسٹریٹر
  29. 7 likes
    بہت خوب جناب۔ بہت خوشی ہوئی جان کر کہ آپ بھی صاحب قلم ہیں جناب احساسِ گناہ بھی ایک بڑی نعمت ہے اور میں بھی اسی احساس کے زیر اثر ہوں۔ لکھنے کا شوق ہے لکھا بھی ہے مگر پوسٹ کرنے کی ہمت نہیں ہے۔ میری لکھی ہوئی تمام تحریریں میرے پاس محفوظ ہیں۔ یوں سمجھ لیجئے کہ لکھ کر اپنے شوق کی تکمیل کی ہے۔ البتہ پوسٹ کرکے تمام پڑھنے والوں کے گناہ کی ذمہ داری اٹھانے سے قاصر ہوں۔
  30. 7 likes
    میں نے لڑکیوں کی کافی کہانیاں لکھی ہیں مگر ان کی زبانی نہیں لکھی ہیں۔ کیونکہ شاید اکثریت مرد ہوتے ہیں تو لڑکی کی زبانی کہانی ان کو زیادہ مزا نہیں دیتی۔ ایک لڑکی نے دس بندوں سے کروا لیا تو وہ بات نہیں بنتی جو ایک بندے نے دس لڑکیوں کو کر لیا۔ اس سوچ کے پیش نظر کہانی مرد کی زبانی زیادہ رسپانس حاصل کرتی ہے۔
  31. 7 likes
    نانی سے سیکھی دانائی اپڈیٹ 1.. میرا نام ساراں ھے عمر بقول نانی کے بیس سال، میرے دو بڑے بھائی جو ابو کے ساتھ شکار پر گئے ھوئے تھے دو مجھ سے چھوٹی بہنیں تھیں جو کہ بعد میں ھم سے بچھڑ گئیں ۔ والدہ کا تین سال پہلے انتقال ھوچکا تھا، میں نانی اور اپنے چاچیوں کے ساتھ گھر پر ھی رہتی تھی۔ صاف سفید گندمی رنگت، شوخ چنچل ھر ایک سے جلدی فرینک ھوجانے والے مزاج کے سبب پورے علاقے میں مقبول تھی۔ گندمی رنگ کی وجہ سے بھی میں سب سے جدا تھی کیوں کہ باقی اکثر لڑکیاں سیاہ رنگت والی تھیں۔ سیکسی بم ، بڑے بڑے ہپس، سیکسی باڈی پر درمیانے سائز کے ممے تھے جنھیں میرے چاھنے والوں نے چوس چوس کر کھینچ کھانچ کر، پھلا کر بڑا سائز کردیا تھا۔ خوش قسمتی سے میں نے بچپن سے نوجوانی تک کے ابتدائی کچھ سال شھر میں اپنے رشتے داروں کے پاس بھی گذارے تو میری جان پہچان کریموں سے کچھ بہتر تھی دوسری چھوکریوں کی نسبت۔ باتیں کرنے اور جنس مخالف کو متاثر کرنے کا میرا ٹیلنٹ سب سے الگ تھا۔۔۔ دوسرے ملاحوں کی طرح میرے ابو اور بھائیوں کو بھی اپنی کشتی لینے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ جسے پورا کرنے کے لیئے وہ میرے بھائیوں سمیت لمبی لمبی مسافتوں اور گہرے پانیوں میں مچھلیاں پکڑنے والی بڑی کشتیوں پر اکثر مھینوں کے حساب سے سفر کرتے تھے۔ ھمارے ملاحوں کے کئی خاندان وھاں آباد تھے۔ لمبی مسافت پر جانے والی کشتی میں کھانے پکانے کے بہانے چند عورتوں کو بھی لے جایا جاتا تھا۔ لیکن ایک روایت یا چالاکی یہ کی جاتی تھی کہ دوسرے خاندان یاکم ازکم اسی کشتی پر ان عورتوں کے کسی بھی قریبی رشتہ دار نا سوار ھوں۔ کیوں کہ سب کو پتہ تھا کہ ان کے ساتھ اکثر جنسی تعلقات قائم کرلئے جاتے تھے تو کہیں کوئی غیرت نا دکھانے لگ جائے بیچ سمندر میں تو یہ بھی ایک پرانی روایت چلی آرہی تھی۔ ھم لڑکیاں بالیاں بھی فارغ نہی بیٹھتی تھی ، آپ کو تو پتہ ہی ھے کہ سمندر میں کنارےسے کتنی اندر کرکے بڑی کشتیاں اپنے لنگر گراتی تھیں L.B.O.Dچین کے تعاون سے بنائی گئی ایک سیم نالے کے چوڑے کنارے کو بھی بطور پورٹ استعمال کیا جاتا تھا۔ پھر وھاں سے ھم جیسی لیبر آئی ھوئی مچھلیوں کو نسل و سائز کے حساب سے الگ کرتی تھیں اور انکو گوداموں تک چھوٹی کشتیوں سے پھنچوانے میں مدد فراھم کرتی(یعنی لوڈ و ان لوڈ کرتی)۔ ھر بڑی کشتی والے نے اپنا اپنامنشی رکھا ھوتا تھا جو دھاڑیاں لکھتا اور ھفتہ وار ادائیگیاں کرتا تھا۔ بیڈمی اور زیرو پوائنٹ کے نام والے علاقے میں ھم سمندر کنارے رھنے والے وہ ملاح (ماھی گیر, اکثریت جاھل ان پڑھ لوگ تھے) جنھیں آئے دن سمندری طوفانوں اور تیز ھواوں کی عادت سی تھی۔ لیکن سرکاری اھلکار پولیس یا روینیو آفیسران تپے داروں کے ذریعے سمندری طوفان سے ڈراتے اور نام نہاد کیمپوں میں ان غریبوں کو لے جانے آجاتے تھے، تاکہ وھاں میڈیا کے ذریعے اپنے بڑوں یا مالی معاونت کرنے والی NGOS کو متاثرین کی کثیر تعداد جمع کر دکھائیں، پھر ان کے لیئے مالی امداد یا کپڑے لٹھے کے علاوہ کھانے پینے کے بندوبست کے نام پر فنڈ ھڑپ کرتے رھیں۔ گزشتہ کئی سالوں کے تجربات کے بعد اب تو پولیس والوں کے کہنے پر لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے کو تیار نا ھوتے تھے، تو وہ لوگ اب رینجرز اھلکار جو قریبی چوکی کے ھوتے جنھیں عوام فوجی کہتے تھے بھیج کر، کبھی پیار سے اور کبھی زبردستی گاؤں خالی کروالیا کرتے۔ چند دن کے کیمپ والی زندگی گزارنے کے بعد جب واپس گھروں کو اپنے خرچے پر لوٹتے تو چور اچکوں کی دست برد سے بمشکل ھی کوئی گھر بچا ھوتا، جو کہ عام بات تھی۔ لیکن جس 1999 والے طوفان کے واقعات میں اپکو بتانا چاھ رھی ھوں، اسمیں واقعی بڑی تباھی مچی تھی۔ سمندر کا پانی کئی کلو میٹر دور اس چائنہ پل کو بھی لے اڑا تھا۔ پیچھے رہ جانے والے بھادر فوجی نوجوانوں کی گاڑیاں بھی سمندر کی بڑی لہروں کی نظر ھوگئیں تھیں۔ گاؤں کے گاؤں صفحہ ہستی سے ختم ھوگئے تھے۔ قدرت کے رنگ دیکھیں کہ ایک ڈرائیور پانچ دن بعد (جب پانی کافی سارا واپس چلا گیا) امدادی کاروائیوں والے فوجی جوانوں کو ایک پل کےاندر اس حالت میں ملا کہ اس کی پیٹھ کا اکثر گوشت مچھلیاں یا دوسرے جانور نوچ نوچ کر کھا چکے تھے بے ھوش مگر زندہ تھا، اور ایک بچہ جسے اسکی ماں نے بڑی سی ھنڈیاں میں ڈال کر رب سوھنے کے حوالے کردیا تھا، یہ دونوں اتنے بڑے طوفان میں بھی زندہ سلامت رھے بلکہ تادم تحریرحیات ہیں۔ بھر حال آتے ھیں کھانی کی طرف، میری ٹولی کے چاروں لڑکیوں کے حسن وجمال سیکسی بدن اور لفٹ کرانے کے چرچے جوانوں اور شوقینوں میں بہت عام تھے۔ میں چونکہ انکی کمدار تھی تو مجھ سے پوچھ کر لڑکیاں کسی بھی کشتی پے جاتی کام کرنے، کروانے۔ میرا ایک فوجی افسر یار بھی تھا میں اسکے ساتھ کیسے پھنسی یہ آگے جاکر بتاؤں گی مگر اس وجہ سے بھی میرا دوسروں پر رعب قائم تھا۔ طوفان کے سبب سمندر کے کنارے پر مسلسل پانی کے اضافے کی وجہ سے ھمارے علاقے میں کافی دنوں سے کام بند پڑے تھے تو فاقوں کے سبب نانی نے مجھے کہا کہ چل منشی سے تیرا حساب کتاب بھی لے آئیں گے اور تیرے والد والی کشتی کی خیر خبر بھی معلوم کر آئیں گے۔ منشی الانے کی مجھے پھنسانے کی اب تک کی ساری تدبیریں ناکام ھوچکی تھی لیکن آج اسکا دن تھا۔ ھمیں آتا دیکھ کر لیبر کو بھگا دیا اور میرے ایک ھفتے کے پیسے دے کر دوسرے ھفتے کے روک لیئے یہ اعتراض لگا کر کہ تم نے کشتی کے نچلے ٹینک میں ٹھیک سے صفائی نہی کی۔ کچھ نہی نکالا ( کچھ وہ چھوٹی مچھلی جسے کشتیوں والے بڑے مال کی موجودگی میں اھمیت نہی دیتے ھیں جو لیبر سے پھنکوا دیتے تھے لیکن آس پڑوس کے لوگ اسے جمع کر سکھانے کے بعد مرغی فیڈ والوں کو بیچتے ھیں)۔ میں انکاری ھوگئی کہ یہ تو ھو نہی سکتا ھماری ٹولی اپنا کام ایمانداری سے کرتی ھے مگر اس نے کہا کہ چلو میں تمھیں دکھاتا ھوں کہ اندر کتنی بدبو وسڑن پھیلی ھوئی ھے۔ نانی مجھے ڈانٹتے کہا کہ تم لاپروائی سے کیوں کام کرتی ھو تو میں نے بھی ضد پکڑ لی کہ ایسا ھو ہی نہی سکتا۔ تو اس نے مجھے آنکھیں دکھاتے ھوئے نانی سے کہا کہ تم چل کر خود دیکھ لو۔ منشی بڑا خرانٹ تھا اسے پتہ تھا کہ نانی تو اب رسی سے اوپر چڑھنے سے رھی تو مجھے ہی اسکے ساتھ اکیلا جانا پڑے گا۔ بھر حال نانی کو پھٹے پر بٹھا کر میں الانے منشی کے ساتھ کشتی کی اوپری منزل پر چلی گئی۔ پہلی منزل پر ایک سانولا سا کچی عمر کا پپو سا لڑکا جال کی صفائی ومرمت میں مصروف تھا۔ جسے منشی نے کہا پرو ھم نیچے ٹینک میں جا رھے ہیں تو کسی کو نیچے مت آنے دینا۔ ٹنکی صاف تھی، مگر منشی کی نیت خراب تھی پہلے میں نییچے اتری اسکے بعد منشی نے نیچے آتے ھی مجھے پیچھے سے اپنی بانہوں میں کس کر پکڑ لیا۔ اور لگا میری موٹی گانڈ کے درمیان اپنا لن رگڑنے، اور آگے کی طرف اپنے ھاتھوں سے میرے بوبز کو بھی دبانے لگا۔ میں نے زور سے کسمسا کر اپنی جان چھڑائی اور اسے گالی دی کہ بہن چود تو نے نانی کو جھوٹ کیوں بولا، اب وہ واپس جاکر میری ٹولی کی دوسری لڑکیوں کو گالیاں دینے کے علاوہ تیری میری اس اکیلے وزٹ کا بھی بتائیں گی۔ منشی خرانٹ سی ہنسی میں بولا کہ وہ سب بھی میری کانیاں ھے لیکن ایک تو نہی ھاتھ آرھی تھی تو میں نے یہ موقع بنایا ہے اب تو تعاون کرے تو میرا واعدہ کے تیری کوئی دھاڑی کبھی خالی نہی ھوگی۔ میں نے کہا رہنے دے یہ لارے لپے کسی اور کو دینا۔ میں ساراں ھوں، ساراں ملاح ۔ جس کے حسن کے چرچے ھیں ھر طرف اور میں ھر کسی کو گھاس نہی ڈالتی۔ اس نے فوراً ایک جیب سے کچھ رقم نکالی اور گن کر ،کچھ نوٹ مجھے دینے لگا تھا کہ میں نے ساری رقم جھپٹا مار کر اس کے ھاتھ سے ساری رقم چھین لی اور کہا کہ منظور ھے تو ٹھیک ھے ورنہ میں جا رھی ھوں واپس۔ اس نے کہا یہ لگ بھگ دس ھزار ھوں گے تو ٹھیک نہی کر رھی، پرائے پیسے ہیں۔ میں نے تلخ لہجے میں کہا تو حرام خور منشی کسی نا کسی کھاتے میں اسکا حساب کتاب برابر کر ہی لےگا، دوسری بات تو جو میری چڈ مارنا چاہ رھا ھے نا وہ بھی پرائی امانت ہے۔ وہ جل بھن گیا، لاجواب ھوکر زرا دیر خاموش ھوگیا۔ بعد میں نخوت سے بولا تو جو اتنے نخرے کرنے والی بنی پھرتی ھے نا آج کل۔ مجھے پتہ ھے کہ تو کس فوجی افسر کے ساتھ سیٹ ھے تو اسلئے نخرے زیادہ کرنے لگی ھے۔ میں نے شوخی میں آکر کہ ہی دیا کہ وہ فوجی افسر تمھاری طرح صرف غریبوں کو لارے لپے لگا کر سوکھا پھٹوں یا گھاس پھونس میں نہی چودتا۔۔۔ ھاں۔ مجھے سامان اور پیسے بھی دیتا اور نرم بسترپر سلا کر فکنگ کرتا ھے۔ الانے نے کھا چل ٹھیک ھے اب جلدی سے چولا اتار تاکہ میں لن کو تیرے اندر ڈال کر سکون حاصل کروں، ورنہ دیر ھوجانی،ادھر تیری نانی بھی اوپر ہی نا آجائے، آخر وہ بھی پرانی چدکڑ ھے۔ میں نے کھا کہ نیچے تیل لگا ھوا ھے میرے کپڑے خراب ھوجانے ھیں تو کھڑے کھڑے ھی کر ، جو کرسکتا ہے کرلے۔ اس نے آؤ دیکھا نا تاؤ۔ دھوتی کھول کر نیچے بچھادی اور خود اس پر لیٹ گیا جبکہ مجھے اپنے کھڑے لن پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ میں نے تھوک نکال کر اسکے موٹے لمبے لن پر ملا اور کچھ دیراسکی مٹھ لگائی پھر اپنا چولا اوپر اٹھایا، تو میری چوت کی لال لال پنکھڑیاں اور بالوں سے صاف چوت دیکھ کر حیرت سے اسکی آنکھیں پھٹنے والی ھوگئیں۔ ساراں ھی چھا۔۔۔ ایتری مکھن ملائی چڈ ۔ کتھا آندی اتھی ۔ ( ساراں تو مکھن ملائی نرم چوت کہاں سے لائی ) میں نے کہا کہ یہ میرے فوجی یار کا کمال ھے جب بھی شھر جاتا ہے میرے لیئے فیئر لولی اور بال صفا کریم ضرور لاتا ھے۔ اس نے جلدی سے میری چوت پر حظ لینے کیلئے کچھ دیر تک ھاتھ پھیرنا اور انگلی اندر ڈالنے کی کوشش کی تو میں نے اسکے ھاتھ جھٹکے پھر اپنی چوت اسکے موٹے لن پر سیٹ کرنے لگی تو میری چوت کی نرم پنکھڑیاں محسوس کرتے اسکی مزے والی سسکاریاں نکلنے لگیں جب میں نیچے کی طرف آھستہ آھستہ دبانے لگی تو،اتنی صاف شفاف بالوں سے پاک چوت الانے منشی نے شاید ھی کبھی ماری ھو، اس کا تو مزے کی وجہ سے منہ ھی کھل گیا۔ آھ اوھ اھھھھ اففف واہ ساراں واہ ۔ تیری چوت کا تو میں دیوانا ھوگیا، باقی لڑکیاں تو بال بھی صاف نہی کرتیں اور انکی چوت تو اتنی نرم بھی نہی ھوتی۔ اسکے لن کی موٹائی کی وجہ سے مجھے کچھ تکلیف تو ھوئی اندر لینے میں کیونکہ پچھلے کئی دنوں سے میں چدئی نہی تھی۔ ذرا سی دیر اوپر نیچے ھونے سے اسکالن میری چوت میں رواں ھوگیا۔ اب میں نے بھی اوپر نیچے ھوکر اسکے موٹے لن کو انجوائے کرنا شروع کردیا۔ میں جب لن باھر نکال کر ٹوپی ایریا سے تیز واپس نیچے کو کرتی تو لن میرے اندر غڑاپ کرکے گھستا تو بڑا مزہ آتا مجھے۔ جبکہ الانے منشی کے ھاتھ میرے بوبز کو کپڑوں کے اوپر سے ہی مسلنے میں مصروف تھے، میرا پسندیدہ انداز تھا سیکس میں۔ کچھ دیر بعد میں اسکے لن پر گھوم گئی اب میری بڑی گانڈ اسکے منہ کی طرف ھوئی تو وہ لگا میرے چوتڑوں پر ھاتھ پھیرنے اور میں نے تیزی سے اوپر نیچے ھونا شروع کردیا۔ میں ابھی اسکے گوڈوں پر ھاتھ رکھ کر آٹھ دس مرتبہ ہی اوپر نیچے ھوئی ھوں گی کے اسکی بس ھوگئی اور وہ میرے اندر ھی چھوٹ گیا اسکی گرم منی کااحساس ھوتے ھی میں جلدی سے سیدھی اٹھ کھڑی ھوئی اور لگی اسے گالیاں دینے ،،،، بھن چود اندر نہی چھٹنا تھا۔ بھر حال تب تک میری چوت کا سارا ملبہ بھی میں نے اس پر گرایا اور کھڑے کھڑے پیشاب بھی کردیا، حالانکہ میرا مزہ پورا نہی ھوا تھا۔ اس نے ایک دفعہ اور کرنے کی التجا کی مگر میں نے کہا بس پھر کسی اور وقت ابھی نہی، اتنے میں باھر والا لڑکا زور سےفوجیوں کے آنے کی اطلاع دینےلگا۔ ان لوگوں کے لیے رینجرز اھلکار بھی فوجی ھی تھے۔ ھم باہر نکلے تو اھلکار سب کو بتا رھا تھا کہ حالات تشویشناک حد تک خراب ھوچکے ھی، پانی بھی دیکھو کتنا اوپر چڑھ آیا ھے، نکلو جلدی یہاں سے جان ہے تو جھان ھے۔ دوسروں کی طرح ھمیں بھی بڑی فوجی گاڑی میں بٹھایا کہ ھم لوگ جلد از جلد ایل بی او ڈی کے بندتک پہنچنیں جہاں سندہ سرکار کی بھیجی گئی گاڑیاں سرکاری ریلیف کیمپ تک لے جانے کے لیئے ائی ھوئی تھیں، باقی سارا گاؤں خالی کرالیاگیاتھا۔ میں اور نانی اگلی سیٹوں پر جبکہ منشی اور وہ لڑکا پچھلی طرف بٹھا دیئے گئے جب ایل بی او ڈی جسکو مقامی لوگ چائنہ بند بھی کہتے ہیں تک ھم پہنچے تو تین بڑی مزدا گاڑیوں میں ھمارے گاؤں کے کئی لوگ کھچا کھچ بھرے ھوئے تھے۔ میں اور نانی اپنی چھوٹی بہنوں کو ڈھونڈنے لگیں سب گاڑیوں کے پاس جاکر پوچھا آوازیں دیں، مگر کہیں سے کوئی پتہ نا چلا۔ میں گھروں کی طرف بھاگی مگر کچھ آگے جاکر مجھےخالد نے اطلاع دی کہ وہ تمھاری چاچی والوں کے ساتھ پہلے گاڑیوں میں چلی گئیں ھوں گی شاید، جھگیوں میں اب کوئی بھی نہی ھے۔ اتنی دیر میں باقی دو گاڑیاں تو نکل گئیں ھی اب جلدی آجاؤ یہ اسطرف کی آخری گاڑی ھے۔ نانی اور مجھے ڈالے کے پاس بمشکل کھڑے ھونے کی جگہ ملی تھی جبکہ باقی گاڑی میں بچے بوڑھے مرد وزن کھچا کھچ بھرے ھوئے تھے۔ تیز ھواوں کی سرسراہٹ کی وجہ سے کان پڑی آواز سنائی نہی دے رہی تھی۔ میں ڈالے کے قریب بمشکل کھڑی ھوسکی تھی اس کے ساتھ ھی پردہ لگا ھوا ھواتھا، اور ایک دو مرد داھنے طرف اور ایک دو میری والی طرف ڈنڈے اور پردے کو پکڑنےاور حفاظت کی خاطر کھڑے تھے۔ ھمارے گاؤں سے قریب ترین شھر بھی 100کلومیٹر کے لگ بھگ دور تھا، روڈ بھی کچا کھڈوں والا تھا۔ ذرا سی دیر میں بارش بھی شروع ھوگئی، کافی آگے جاکر اچانک ایک موڑ پر گاڑی موشن چھوڑ گئی اور بند ھوگئی، اب پیچھے کھڑے لوگوں نے نیچے اتر کر دھکے لگانے شروع کردئیے، مگر گاڑی کا انجن سٹارٹ نہی ھو رھا تھا۔ اتنے میں دیکھا تو دور سے ایک ٹریکٹر گزر رھا تھا ایک بندہ آوازیں دیتا بھاگ کر اس تک پھنچا اور مدد مانگ لی پیچھے کھڑے لوگوں کی استدعا پر اس نےھماری گاڑی مزدا کو ٹوچن کرلیا۔ اور پیچھے دو کھڑے بندے بھی ٹریکٹر پر ڈرائیور کے ساتھ ھی بیٹھ گئے۔ اب جو میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ، الانو منشی اور وہ پپو پرو ھی پردے کے پیچھے کھڑے تھے۔ شام ھوئی گھپ اندھیرے میں کھڑے ھم تھک گئے نانی کو میں نے دھکم پیل کرکے بٹھا ہی لیا اور نانی کے ساتھ ہی میں پیچھے والے ڈالے پر بیٹھ گئی۔ کچھ دیر بعد مجھے ایسا محسوس ہوا کہ کوئی میری پیٹھ پر ھاتھ پھیر رھا ھے۔ میں بدک کر کھڑی ھوئی تو پیچھے سے منشی کی آواز آئی کہ ساراں خیر ھے خیر، تھک جاؤ گی بیٹھ جاو۔ بیٹھ جاو۔ ابھی سفر بھت باقی ھے۔ نانی جھاندیدہ عورت تھی، میرے بدکنے کی وجہ سمجھ گئی تھیں تو بولی ساراں سستی نا ھوجانا، مفت میں نا مروانا، نا مزے لینے دینا۔ ناں اماں ناں ، توں ماٹھ کر ۔ چپ ھوجا میں بولی منشی کی آواز سن کر میں پھر بیٹھ گئی۔ اب اس کی گستاخیاں بڑھ گئیں بارش تو بند ھو چکی تھی مگر رات کا اندھیرا بھت تھا۔ کچھ دیر بعد مجھے ایک ھاتھ اپنی پیٹھ اور ایک اپنی ران پر سرکتا محسوس ھوا۔ تومیں پھر بدک کر کھڑی ہوگئی۔ میرے کھڑے ھونے میرا پاوں بھی اگے بیٹھی نانی کے ھاتھ پر آگیا۔ تو اس نے گالی دیتے ھوئے کہا کہ آرام سے بیٹھ نہی سکتی ، ھاتھ چپاٹ دیا، بدتمیز چھوری۔ میں نے پیچھے مڑکر گالی دی کہ یہ کون کنجر ھے جو سکون سے بیٹھنے نہی دیتا۔ کچھ دیر بعد پھر منشی کا ھاتھ میرے ھاتھ پر سرکنے لگا اور اس نے بڑی چالاکی سے جلدی سے کوئی نوٹ میری مٹھی میں دے دیا۔ میں نے حاضر دماغی سے کام لیتے ھوئے نوٹ کو جلدی سے اپنے بریزی میں پھنچانے کے ساتھ ھی پیچھے مڑکر یہ بھی کہ دیا کہ یہ صرف ایک ھاتھ کے ھیں ، دوسرا ھاتھ تو دوسرا نوٹ۔ منشی بولا بڑی چالاک ھے تو، میں نے کھا دیکھ بابو ایک ھاتھ سے تو نے گاڑی کا ڈنڈا پکڑا ھوا ھے اسے تو جمپوں کی وجہ سے چھوڑ نہی سکتا تو ۔۔دوسرا ھاتھ تو کسی اور کا ھوا نا۔ زرا سی دیر میں میری مٹھی میں دوسرا نوٹ بھی پہنچ گیا اور اسکے ساتھ ھی میرے پیٹ پر ھاتھ پھر نے لگا۔ جبکہ ایک ھاتھ میری کمر پر چلنا شروع ھوگیا۔ اب حالت یہ تھی کہ آگے والا ھاتھ میرے بوبز اور پیٹ پر جبکہ پیچھے والا ھاتھ میری گردن سے لیکر گانڈ تک گھوم رھا تھا۔ کافی دیر بعد منشی کی سرگوشی سنائی دی کہ تو اپنا ایک ھاتھ پیچھ نکالنے کی کوشش کر میں نے ایک ھاتھ پیچھے کی طرف نکالا۔۔۔ تو منشی نے اپنا ننگا لن میرے ھاتھ میں پکڑا دیا۔۔ میں اسکو آگے پیچھے کرتے گویا اسکی مٹھ مارنے لگ گئی۔ کچھ دیر بعد ایک بڑے سے جمپ پر جب گاڑی اچھلی تو ظاھر ھے کہ پکڑا ھوا لن بھی میرے ھاتھ سے پھسل گیا۔ ذرا سی دیر بعد جب مجھے پیچھے سے اشارہ ملا کہ ھاتھ پیچھے نکالو تو اب جو لن میرے ھاتھ میں دیا گیا وہ منشی والا نہی تھا۔ کیونکہ ابھی چند گھنٹے پہلے ھی تو میں اس لن کو اپنی مکھن ملائی چوت میں برت چکی تھی، میں نے فوراً ھاتھ کھینچ لیا۔ منشی کی آواز آئی کہ اب کیا ھوا تو میں بولی کہ نیا نوٹ ، نیا کام ، نیا لن ۔ منشی نے ایک گالی نکالی مگر تیز ھواوں کی وجہ سے مجھے نہی لگتا کہ کسی اور نے سنی ھوگی۔ بھرحال کچھ دیر بعد ایک اور نوٹ میری مٹھی میں پھنچ گیا، پھر سے میرا ھاتھ پیچھے نکل گیا۔ اب مجھے بھی مستی چڑھنےلگی کہ واہ ساراں تیرے عاشق اتنے سخت حالات میں بھی تیرے ساتھ سیکسی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ کچھ دیر بعد منشی نے سرگوشی میں کہا کہ زرا وقفہ کر، اگر پرو لڑکے کیساتھ میرا لائیو شو دیکھنا ھے تو دو منٹ بعد پیچھنے دیکھنا۔ زرا دیر بعد جب میں نے کھڑے ھوکر پیچھے دیکھا تو وہ پپو لڑکا شلوار اتار کر گاڑی کی سیڑھی پر گھوڑی بناھوا تھا، جبکہ ایک ھاتھ سے اس نے ڈالے کو پکڑا اور دوسرے سے نچلی سیڑھی کو قابو کر کے اپنا ننگا پچھواڑہ منشی کی طرف اونچا کیئے ھوئے تھا، جبکہ منشی نے ایک ھاتھ سےڈالا، دوسرے ھاتھ سے اسکی کمر کو آگے پیچھے کر کے لن کی سیدھ میں لاتا اور غڑپ سے لن اندر باھر کر رھا تھا۔ پرو کوئی پرانا چتو تھا کہ اتنی سی جگہ اور زبردست جمپوں میں بھی گانڈ مروا رھا تھا۔ بھر حال دونوں پوری مہارت و دلچسپی کے ساتھ اپنے اپنے کام میں مصروف و ایکسپرٹ تھے۔ زرا دیر بعد میں نے چادر ھٹا کر جو پھر دیکھا، تو اب منشی نے پرو کا ایک پاؤں اپنے کندھے پر رکھا ھوا ھے اور زرا نیچے جھک کر خوب دھما چوکڑی سے اسکی گانڈ میں لن اندر باھر کرنے میں لگاھوا ھے۔ پرو بھی کچڑا سا نرم نازک اندام والا تھا مگر بڑی برداشت سے منشی کا موٹا لن اندر باہر کر وارھا تھا۔ جمپ میں اسکا لن بھی باھر نکل جاتا تھا، بہت دیر میں نے انکا شو دیکھا مگر تیز ھواوں اور جمپوں کی بنا پر کچھ خاص جم نہی رھا تھا انکا۔ کافی دیر بعد مجھے پھر منشی کی سرگوشی سنائی دی کہ ساراں تیرے بنا مزہ نہی، تو ایک دفعہ پھر مٹھ مار دے، میں برجستہ بولی کہ تو میری مٹھی پھر سے گرم کردے، میں تیرا لن گرم کردوں گی۔ چار وناچار اس نے پھر دو نوٹ میری مٹھی تک پہنچائے اور میں نے ایک ھاتھ پیچھے کی جانب کیا۔ دوبارہ التجا پر میں نے دوسرا ھاتھ بھی پیچھے کیا اور منشی کا لن بھی پردیے کے پیچھے سے ھاتھ میں لے لیا اب سچویشن کچھ ایسی بنی کہ میرے پیروں میں آگے کیطرف نانی بیٹھی ھوئی تھی جبکہ میں دونوں پیچھے نکالے ھاتھوں میں دو جاندار لن پکڑے بیٹھی تھی اب میں دونوں ہاتھوں سے انکی مٹھ مارنے میں پھر سے لگ گئی ۔ گھپ اندھیرے کی وجہ سے شاید کسی کو کچھ نظر تو نہی آرھا تھا ویسے بھی درمیان میں چادر لگی ھوئی تھی، لیکن لنڈ والوں کو تو مزہ آہی رھا ھوگا نا۔ میرے جیسے نرم ونازک ھاتھوں والی جب انکے لنڈ کی جڑ سے لیکر ٹوپے تک رگڑائی کر رھی تھی، تو وہ کب تک اپنے آپ کو قابو کرتے ویسے بھی وہ اپنا پانی نکالنے کیلئے کافی خجل خوار ھو چکے تھے۔ آخر کب تک وہ میرے نرم وگداز ہتھیلی کے جادو سے بچ پاتے کچھ دیر بعد اچانک پرو کے لن سے جو منی کی پچکاری نکلی سیدھی میرے آگے بیٹھی نانی کے بازو پر گری ، ساتھ ھی زرا سی دیر تیز ھواوں کے باوجود منی کی خوشبو گاڑی میں پھیلی۔ نانی میری تو ہتھے سے ہی اکھڑ گئی، گالیوں کی بوچھاڑ شروع کردی، کافی دیر بعد بھی جب وہ خاموش نا ھورھی تھی تو میں نے حالات کے سنگینی کے پیش نظر چپکے سے اپنی بریزی سے دو نوٹ نکال کر نانی کے چھرے سے لگائے تو ایک دم جیسے انکو بریک لگ گیا، جھپٹا مارکے فوراً نوٹ سنبھالنے لگیں جبکہ بولتی بھی انکی بند ھوگئی۔ آگے ایک جمپ پر انکے لنڈ میرے ھاتھ سے پھسل گئے، ایک دفعہ پھر جب سب اچھل کر نیچے لگے تو بچوں کی چیخیں نکل گئیں، عورتیں ڈرائیور کو گالیاں دینے لگیں۔ اتنے میں ایک بچے نے کہا کہ مجھے پیشاب لگا ھے ایک نے کہا کہ بڑا پیشاب کرنا ھے تو اب کیا کیا جائے، میں نے راز نا کھل جائے فوراً پیچھے اطلاع دی کہ بچوں کو پیشاب لگا ھے۔ منشی نے جذبات پر قابو پاتے بمشکل کہا کہ گاڑی تو اب روکنا مشکل ھے بچوں کو ڈالے پر لے آؤ۔ تم پیچھے سے بچے کو پکڑ لینا ھم اسکی للی پکڑ کر پیشاب کروالیں گے۔ اس کی بات میری سمجھ میں آگئی تو میں نے پیشاب والےبچے کو گود میں اٹھا کر ڈالے پر بٹھا لیا اور اسکی قمیض کا دامن اوپر کیا تو میری ھنسی ھی نکل گئی، اسکی للی ھی میرے ھاتھ میں لگی بچے نے تو سلوار پہنی ھی نہی تھی۔ اس نے پردے کے ھٹتے ھی تیزی سے پیشاب کی دھار جو چھوڑی ۔۔۔ تو پتہ کیا ھوا۔۔۔۔؟..ھھاھاھھھا باقی آئیندہ ۔
  32. 7 likes
    سلام ڈاکٹر صاحب امید ہے اپ خیریت سے ہوگے میں نے اج اپنا اس فورم پر اپنا اکاونٹ بنایا ہے اور یہ (وہ بھولی داستان جو پھر یاد اگئ تو جب یہ ختم کر دی کچھ دنوں میں تو اگلے اپڈیٹ پڑھنے کے لئے مستقل اکاونٹ بنا لیا ۔اور اپکے لکھنے کا انداز میرے ایک بہت پرانے اور مجھے بہت معزز لکھاری طاھر جاوید مغل سے ملتی جلتی لگتی ہے آپکی اور میں اسکی کہانیاں بہت پہلے سے پڑھتا ایا ہو اور مجھے پڑھنے کا شوق جاسوسی ڈائجسٹ میں اسکی کہانیوں سے ہوا اب میں کافی ٹایم سے پڑھنا چھوڑ چکا ہو کتابیں اور رسالے اسی موبائل اور سٹڈی کی مصروفیت سے ۔۔لیکن پھر ایک دن فیسبک پھر کسی پیچ پہ یہ سٹوری ملی (وہ بھولی داستان جو پھر یاد اگئ) تو وہاں پڑھتا گیا اور 70 قسط سے اگے نہیں ملی تو بہت جہگوں پے سرچ کیا کچھ ہاتھ نہیں ایا لکین پھر ایک دن کچھ اپڈیٹ ملی اور اس میں بیک گراونڈ میں اردو فن کلب لکھا تھا تو سرچ کر دیا تو یہاں مل گئ اور جو ہی دیکھے اگلے اپڈیٹ تو خوشی کی انتہا نہ رہی او دیکھا نہ توء پڑھنا شروع کر دیا اور دو 4 دن میں سب کچھ پڑھ لیا لوگوں کی باتیں اور اپکی نت نئی اپڈیٹ جو کہ بہت مزیدار تھی ۔اور اپکی ایک خوبصرتی یہ کہ اسکو صرف سیکس کہانی نہیں رہنے دی اور اس میں سسپنس اور نت نئے رنگ بھر دئیں بہت اچھی لگی اور یہ میرا پہلا کمینٹ ہے کسی ایسے انلائں فورم پر ۔۔۔۔۔
  33. 7 likes
    کہانی میں ابھی اتنے ٹوئسٹ باقی ہیں کہ سانس اٹک جائے گی اور بندہ سوچتا رہ جائے گا کہ یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں۔ ضوفی کا تعلق یاسر کے ساتھ کیا صرف کنواری ہونے سے مشروط تھا؟ خیر میں تفصیل نہیں شئیر کر سکتا بس دل تھام لیجیے جھٹکے شدید ہوں گے جناب۔
  34. 6 likes
    کہانی کی رفتار واقعی ہی کچھ سلو کی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ پیچیدہ معاملات ہیں ان میں بھرپور اور تفصیلی مقالمے ضروری ہے تاکہ صحیح طرح سمجھا سکے کہ کس طرح کس کس کو باتوں میں الجھا کر کیسے کیسے اپنے مقصد کے لئے استعمال کیا جانا ہے۔ علی حمزہ صاحب آپ کو ایڈمن اس کہانی کی ایک پوسٹ شیئر کر دیں گے آپ ان سے ان کے نمبر پر رابطہ کرلیں ۔
  35. 6 likes
    میں اس بندے کو انعام دوں گا جس کا اندازہ ٹھیک لگا۔ اب تک کے سبھی اندازے پاس پاس بھی نہیں ہیں۔ ایک دوست کا پچھلا انعام بھی رہتا ہے، وہ اپنا نام مجھے بھیجیں، میں ان کو کوئی کہانی ارسال کر دوں گا۔
  36. 6 likes
    ل ن کمائی۔۔ سب نے کھائی اپڈیٹ 15.2 نوشی میری لاڈلی چدکڑ جس نے کئی دفعہ شرطوں میں ایسا ساتھ دیا کہ میں مقابلے جیت جاتاتھا، (تفصیلات پچھلی اقساط) نوشی نے کہا کہ تم صرف اتنی مہربانی کرو کہ گیٹ پر آکر خود ھمیں ریسیو کرو، میں نے حیرت سے کہا کہ یہ ضروری ہے کیا؟ نوشی نے کہا کہ سرپرائز ہے یار اور میں نہی چاھتی کہ تیرا چوکیدار تجھ سے پہلے سرپرائز دیکھ لے(ھھھا) مزاق مت کرو یار! اتنی رات گئے نشے کی حالت میں تم کیسے کچے راستے پر گاڑی چلا سکتی ھو، اس نے کہا یہ میری دوست جو ھے نا گوری چٹی ضدی میم ہے اسکی خواہش ہے کہ ۔۔۔ ۔آج کی گرمی کل پر مت چھوڑو۔۔۔ھاھاھا۔ اتفاق سے پچھلے ویک اینڈ پروگرام سے واپسی پرجب تم رات گئے مجھے چوک پر چھوڑ گئے تھے، تو میری یہ نئی پڑوسن ثانی اسپتال سے اپنی ماں کو ایمرجنسی ٹریٹمنٹ کرواکر گھر واپس لیکر جا رہی تھی تو مجھے گاڑی سے اترتے دیکھ کر، پھر گلی میں ساتھ جاتے اس نے کہا سچ بتانا رات کے اس وقت کہاں سے آرہی ھو۔ میں نے چڑ کر کہا کہ چدوا کر آرہی ھوں، تمھیں کیا لینا دینا تو اس نے منہ پر ھاتھ رکھ لیا اور کہنے لگی کہ بے شرم ایسی باتیں سرعام نہی کرتے، تم ادھر آؤ ،میرے گھر، وہاں سکون سے باتیں کرتے ہیں تمھارا بھی اکثر خاوند نہی ھوتا گھر پر، میراتو ویسے ہی قطر میں ھے۔ میں نے کہا کہ زرافریش ھو کر آتی ہوں تو اس نے کہا کہ میں چائے بنالیتی ہوں جب تک، اثبات میں سر ھلاتی میں چل دی، تو میرے ذہن میں اسکا جملہ ہتھوڑے کی طرح لگا، میرا خاوند تو ھوتا ہی قطر میں ہے، اسکے پیچھے کا کرب مجھے محسوس ھوا۔۔۔؛؛؛؛؛؛ اچانک پیں پیں ھارن بجنے کی آوازیں آئیں! سلسلہ کلام ٹوڑتے ھوئے۔۔ نوشی چہکی کہ بارانی ھارن سنا، ھم پہنچ گئے ہیں، جلدی آؤ تم گیٹ پر ایک نہی دو سرپرائز دونگی۔ پیں پیں ھارن پر ھارن۔۔ میں اسوقت ایک پتلی سی شلوار میں ملبوس تھا مگر اب کیا ھوسکتا تھا وہ کچھ ٹائم ھی نہی دے رہی تھیں، میں نے گیٹ تک دوڑ لگا دی، وہ واقعی نشے میں دھت ھونے کی وجہ سے ھارن پے ھان بجارہی تھیں۔ قوئی امکان تھا کہ میرے چوکیدار نے اس بدتمیزی پر ضرور کچھ نا کچھ گالم گلوچ کرنی تھی؟ آگے وہ بھی بڑے گھر والیاں ھیں خاموش انہوں نے بھی نہی رھنا تھا، تو بات بڑھ جانی تھی؟ اتنے شور پر آس پڑوس والےچوکیدار کیاسوچیں گے۔ پیں پیں ھارن سے ھاتھ ہی نہی اٹھایا انہوں نے ۔۔ رموں سویا ھوا تھا سردی کے راتیں دو کا وقت ۔۔۔ جب تک رموں اٹھتا! تب تک میں پہنچ گیا تھا گیٹ پر۔ گارڈاسوقت مجھے گیٹ پر دیکھ کرمتعجب تو بڑا ھوا، مگر میں نے کہا کہ ان لوگوں نے مجھے فون کردیا تھا تم بس آرام کرو۔ اب جب باھر نکل کر میں نے دیکھا تو اسٹیرنگ پر کوئی نیا چہرہ دکھائی دیا مگر تھا بڑا حسین چہرہ۔ ابھی میں گاڑی کے قریب ہی پہنچا تھا کہ ایکدم سے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھلا، کسی نے مجھ پر یکدم چھلانگ لگا دی، میں اس اچانک پڑی افتاد پر پریشان تھا کہ زرا سی دیر میں محسوس ھوا کہ جس نے مجھ پر چھلانگ لگائی ہے وہ کوئی نرم ونازک بدن والی لڑکی ہے، اس سے بھی بڑا حیرت انگیز انکشاف یہ ھوا کہ اسکے سارے اعضاء جو میرے بدن سے ٹچ ھورھے تھے وہ کپڑوں سے خالی تھے، اور یہ سب کچھ آنا فانا ھوا تھا۔ جب تک میں صورتحال سے واقف ھوا تب تک نوشی میرے گود میں سوار ھوکر نا صرف مجھے چمٹ چکی تھی بلکہ میرے ھونٹ بھی اس نے اپنے قبضے میں کر لیئے تھے۔ اب حالت یہ تھی کہ رات کو دو بجے مین گیٹ کے باھر ایک گاڑی سے نکلنے والی لڑکی ننگ دھڑنگ نشے میں دھت مجھ سے چمٹی ہوئی ھے جبکہ اسکی ایک ساتھی گاڑی میں ہی موجود تھی ۔ انکو سمجھانے کے واسطے میں کچھ بولنا چاہ رھا تھا۔ مگر بولنے والی جگہ پر تو نوشی کا قبضہ تھا،اسکا جنون ہی تھا کہ اتنی لمبی کس ھوگئی کہ وہ جان ہی نا چھوڑ رہی تھی۔ پھر اچانک سے رموں کی آواز آئی ۔۔۔ صاحبان اندر تشریف لے آئیں، آس پاس کے چوکیدار بھی اتنےایمرجنسی ھارنوں پر ضرور سن گن لینے آتے ہوں گے۔ تو نوشی کو کچھ ھوش آیا اور اس نے جلدی سے میرے ھونٹوں سے قبضہ ختم کیا، چوکیدار کو بولا کہ گیٹ کے اوپر کی سرچ لائٹ بند کرو، جب ھم گاڑی اندر لے جائیں تو پھر چلا دینا، ثانی نے کہا کہ تم تو آجاو گاڑی میں ننگی ھو، نوشی بولی نہی میں تو اپنے یار کی گود میں ھی اندر جاؤں گی، مجھے بدستور چمٹی ھوئی تھی۔ میں نے اسکے کان میں کہا کہ بے شرم چوکیدار کیا سوچے گا، تو نوشی چہک کر بولی مجھے پتا ہے کتنا حاجی صاب ہے تیراچوکیدار، پہلے بھی تو ہمیں چھپ چھپا کر دیکھتا رہتا ہے۔ کہتی اندر لے چل پھر تجھے ایک اور سرپرائز بھی دوں گی میں نے کہا یہ سرپرائز کیا کم ہے کہ میں نے(آج تک تو نہی پڑھا اردو فن کلب میں کہ کوئی لڑکی ننگی ہی گاڑی چلاتی اتنی دور آئی ھو رات کے دو بجے)ھاھا(چدوانے۔۔ پر یہ آخری والا آھستہ سےدل میں کہا۔۔یارسمجھاکرو) نوشی بولی اندرچل تو سہی مال دیکھ وہ بھی بڑی بیباک ہے میری طرح۔ نیاپنچھی لائی ھوں تیرے واسطے صرف ایک رات چد سکی ھے، باقی تفصیل اسی کی زبانی سن لینا۔ میں اسے گود میں اٹھائے جب برآمدے پہنچا تو میں نے گاڑی کے پاس سے گذرتے ھوئےکہا کہ آجائیں اندر اور کوئی نہی ہے۔ نوشی بولی بدھو میاں ! وہ بھی میری طرح ننگی ہے اسےگود میں اٹھا کر لاؤ، جب تک میں کھانے پینے کا سامان گاڑی سے نکال لاتی ھوں ، مجھے حیرتِ میں ڈال کر خودگود سے اتر گئیں میری تصورات میں بھی نہی تھا کہ نوشی ایسا ہی دوسرا سرپرائز بھی دے سکتی ہے۔۔ بھرحال بارانی کی تو آج لکی رات تھی۔۔! یک ناشد ۔۔۔ دو شد ۔۔۔۔ ادھر میری حالت یہ تھی کہ۔میرے بدن پر سوائے ایک ھلکی سی شلوار کے اور کچھ نا تھا اور شلوار بھی تمبو بنی ھوئی تھی۔ میں میں یہ بولتے کہ جیھڑو حال حبیباں۔۔ تیھڑی پیش پریاں ۔۔۔ ( جیسے دوست چاھیں میں اسی حال حاضر) میں نے تعظیمی کورنش بجالاتے ھوئے ڈرائیونگ سائیڈ کے دروازے کو کھولا تو ثانی نے صرف ٹانگیں باھر نکالتے ھوئے اپنے بازو اوپر کی طرف اٹھا کر ۔۔۔ مانو۔۔۔ ھم پر بجلی گراتے پنک کلر کے برا میں قید اپنے 36 سائز کے چھوٹے مموں کا دیدار کراتے، فرمائش کی کہ ہمیں گودی میں جانا ہے۔ کیا آپ نوشی کی طرح ھمیں بھی گودی لے لیں گے۔ میں برجستہ بولا ۔۔ زہے نصیب۔۔ گودی تو کیا ھم تو اپ کی خاطر بھی کر سکتے ہیں۔۔ وہ ہنس دیں ہر طرف جیسے جلترنگ سے بج گئے ھوں، ڈمپل پڑتے گورے گال ھمارے دل کو چھو سےگئے، پھر وہ مسکراتی ھماری گودی میں تشریف لے آئیں۔ اور ھمارے اوپری ننگے جسم سے جب وہ ریشمی جسم ٹکرایا، بجلیاں سی کوند گئیں سارے جسم میں, جیسے نرم روئی کا گولا اٹھا لیاھو ھم نے، اس نے بھی اپنی نرم وگداز بانھیں ھماری گردن میں حمائل کر لیں، اسطرح انکی لطیف وکثیف ممے جب ھمارے ننگے سینے سے ٹکرائے تو شہوت انگیز جذبات کا پارہ سو سے جاٹکرایا، اور نیچے تمبو والے بانس نے بھی ھمیں اپنے مقام خاص تک رسائی کی اپیل دے ڈالی۔ بارانی اس گڑیا کو برآمدے میں رکھے صوفوں تک لے تو آیا مگر اترنے کے بجائے ثانی ھم سے اور چمٹ گئیں۔ بارانی کے سینے کے بالوں میں سر گھماتے دونوں پیٹھ پر پھیر رہی تھیں۔ ایک بات کی طرف اچانک ہی میرا دھیان گیا کہ اس کاقد چھوٹا ھونے کی وجہ اسکا سر میرے کندھوں تک آرھا تھا، جبکہ نیچے اسکی پنک پینٹی کے اندر سے چوت کی گرمی میرے لن کو بخوبی محسوس ھورہی تھی، ٹانگیں اسکی میری کمر کے گرد لپیٹی ھوئی تھیں۔ اب اس نے ذرا اوپر کو ھوکراپنے نرم ونازک ھاتھوں سے میرےسر کو نیچے کرتے میرے ھونٹوں پر اپنے نرم و شربتی ھونٹ رکھ کر کسنگ شروع کردی تھی۔ اس درمیان نوشی نے گاڑی سے کچھ شاپر نکال کر باورچی خانے پہنچائے اور کچھ وہیں صوفوں کے پاس لئیے ایک ھاتھ میں ڈی ویڈی لیکر، برآمدے میں لگی بڑی سکرین سے اسے کنیکٹ کرکے چلانے لگی۔ ہاتھ میں ریموٹ لیکر وہ ھمارے ساتھ والے صوفے پر براجمان ھوگئیں۔ جب فلم شروع ھوئی تو نوشی بولی کہ ھم روزانہ رات کو مووی دیکھتے آپس میں لسبین فلمی سین کاپی کرتے ہیں۔ آج اس فلم میں لسبین سیکس کے بعد جب، اک مرد کے دو پارٹنر لڑکیوں کے ساتھ فکنگ سین شروع ھوئے تو ثانی بولی کہ کاش کبھی ایسا رئیل کر سکوں، مگر بدنامی سے ڈر لگتاہے۔ تو میں نے اسکو گارنٹی رازدرای دیتے ادھر آنے اور مزے لینے کی آفر کردی، شہوانی جذبات وخواہشات زوروں پر تھیں تو اسی وقت ادھر آنے کا فیصلہ کیا۔ سرپرائز کا آئیڈیا پچھلے موڑ پر گاڑی میں ہی کپڑے اتار کرپورا کیا، ان تھیلوں میں ھمارے کپڑے وغیرہ ہیں۔ بوتل تکے بریڈ بھی اٹھا لائے، وقفے میں کھالیں گے۔ کچھ توقف کے بعد نوشی نے ثانی کو میری گود سے اتارا اور پھر میرے سامنے ہی لسبین سیکس شروع کر دیا، دونوں نے ایک دوسرے کی چوت پر دھاوا بول دیا تھا۔ میں چپکے سے جاکے ٹھنڈی بوتل پانی کی اٹھا لایا تاکہ کی جنگ کے درمیان پیاس کی آس ھو۔ جو سین فلم میں دکھاتے یہ بھی اس کی کاپی کرتے رھے، آخر سین بدلی ھوا۔(میں خاموشی سے دونوں کو دیکھ رھا تھا)اتنے میں وہ سین شروع ھوگیا۔ ( لڑکے نے لڑکی کا مما ھاتھ میں جبکہ دوسرا مما منہ لے رکھا تھا، دوسری لڑکی کی چوت میں لن گھسیڑ رکھا تھا جبکہ دوسرے ھاتھ سے دوسری لڑکی کی چوت میں دو انگلیاں ڈالے گھما رھا تھا، دوسری لڑکی پہلے والی لڑکی کی بوبس کی ھاتھوں سے رگڑائی کر رھی تھی) جس کی زیر اثر ان کا من میرے پاس آنے کا بنا تھا۔ ثانی نے شہوت انگیز آواز میں کھا کہ اپنے کو بھی یہ سین کرنا ھے۔ نوشی اور میں یکجا بولے ادھر ھی کریں یا اندر چلیں تو اس نے اندر کی طرف اشارہ کیا، میں نے اسے اپنے بانھوں میں اٹھا لیا اور اسے اپنے مخصوص کمرے میں اندر لے آکر گھومنے والی خاص ٹیبل پر اسے لٹایا۔ ثانی کی میرے ساتھ پہلی واری تھی تو نوشی سے زیادہ شہوت بھی ثانی کو چڑھی ھوئی تھی اب اس نے پھلے میری شلوار اتار دی، پھر اپنی پینٹی اور برا کو اتار پھینکا۔ میرے کھڑے لن کو ننگا دیکھ کر حیرت سے آنکھیں باھر آنے لگیں تھیں ثانی کی، بولتی تعجب ہے کہ اتنے موٹے اور کھمبے جتنے لن کے ساتھ تم گھومتے پھرتے کیسے ھو (یہ بولتےھوئے) لن کو فوراً منہ میں لے لیا۔ کچھ دیر بعد میں نے اسے لٹا دیا اور اس کی چوت پر اپنا منہ لگا دیا اسکی سلکی چوت جس پر تازہ شیو کی ھوئی تھی بال کا نام ونشان نہی تھا چوسنے میں بڑا مزہ دے رھی تھی جب میں نے اسکے چوت کے دانے کو دانتوں میں پکڑا تو بولی، نوشی یہ تمھارا بارانی یار تو بڑا مزہ دینا جانتا ھے نوشی تیرے بغیر کسی نے ھمارا چوت نہی چاٹا تھا ۔ میں نے اسکی چوت کے دونوں لبوں کو پکڑا اور زبان اسکی چوت میں اندر باھر کرنے لگا تو اسکی سسکاریاں بلند ھونے لگیں اسے بڑا مزہ آنے لگا اس نےمیرے سر کے بالوں میں ھاتھ پھیرا اور کچھ دیر بعد اسے ارگیزم آنے لگا تو اسنے میرے سر کو پکڑ کراپنی چوت کے ساتھ زور سے بھنچ دیا۔ زرا دیر بعد اسکا پانی نکل کرمیری ناک سے ٹکرا کر باھر آنے لگا، پھر اسے میں نے ٹیبل کے ایک کونے میں کردیا اور خودکھڑا ھوگیا۔ اب اسکی چوت بالکل میرے لن کے سامنے تھی میں نے دو انگلیاں اندر ڈال کر لن کی جگہ بنائی اور تھوڑا سا پیچھے ھٹ کر لن کا ٹو پا، اسکی چوت کے دانے پر رگڑنا شروع کردیا جس کا ھم دونوں کو بڑا مزہ آیا۔ کچھ دیر ایسے کرتے رھنے کے بعد میں نے اپنے بڑے قد کا فائدہ اٹھایا اور اس کے منہ پر اپنا منہ رکھ کر کسنگ شروع کردی زراسی دیر میں اس نے بھی میرا اوپر والا ھونٹ اپنے منہ میں لیکر چوسنا شروع کردیا۔ کچھ ہی دیر گذری ھوگی کہ ثانی نے پھر میرا لن ھاتھ میں پکڑا اور منہ میں لیکر چوسنا شروع کردیا اس نے بڑی وارفتگی سے مجھے دیکھتے ھوئے لن کو پرجوش انداز سےمنہ میں لیکر سکنگ جاری رکھی ھوئی تھی کہ اس درمیان نوشی جو اپنے کپڑے اتار چکی تھی نے صوفے پر بیٹھے ھوئے اپنی دونوں ٹانگیں کھول کر انگلی سے اپنی چوت کو سہلانا شروع کر دیا اور مجھے کہنے لگی ۔۔۔ کدی ادھروں وی پھیرا مارجا سوھنیا۔۔ایتھے وہ اک بووا کھلا پیاجے۔؟ ھاھھاھ میں برجستہ بولا۔۔ نواں بوہا کھول لیئی۔۔ کٹا بن لیئی تے فیر پرانے بوہے نو وی کھول لینے آں۔۔۔۔ اب میں نے ثانی کی چوت کے اندر ڈالنے کا من بنایا تو اسکے منہ سے اپنا لن نکالا۔ اور اسکے اوپر ھوکر اسکے ھونٹوں کو چوسنا شروع کردیا، زرا دیر بعد لپ کس کے ساتھ تھوڑا تھوڑا لن کو بھی حرکت دینا شروع کیا۔ جب تھوڑا پیچھے ھٹ کر میں آگے کو ھوتا تو بالکل آرام سے تھوڑا سا لن اندر ڈال دیا کرتا ۔ لیکن پھر ایک دفعہ اس کے منہ پر لپ کس کا ڈھکن لگایا اور ایک زوردار جھٹکا مارتا ہوا لن اسکی چوت میں گھسا دیا۔ اتنا لمبا و موٹا لن اسکی برداشت سے باھر تھا مگر اب وہ ماھی بے آب کی طرح تڑپنے لگی ادھر ادھر بھت اس نے کوشش کی کہ میری گرفت سے نکل جائے مگر ایک تو قد چھوٹا اور دوسرا میں نے اسے چاروں شانے چت کیا ھوا تھا۔ جب کچھ دیر گزر گئی تو میں نے اس کے لب ازاد کیئے تو اس نے کھا کہ آرام سے کر ظالم میں کوئی بھاگی نہی جارھی ھوں۔ میں نے کھا کہ یار تم نے مزہ ھی اتنادیا کہ میں اپنے آپ کو روک نہ سکا۔ میں نے سوچا ایک ھی دفعہ میں تم کو تکلیف ھوگی پھر مزے ھی مزے۔ وہ کچھ دیر تو تکلیف کا اظھار کرتی رھی مگر پھر اس نے بھی نیچے سے ھلنا شروع کردیا تو میں نے بھی گھسے مارنا چالو کردیئے۔ بڑے قد کا اس دن مجھے بڑامزہ آیا کہ ثانی کا سارا نرم گرم جسم میرے بدن کے نیچے سما گیا تھا۔ ٹیبل کے کونے پر میں جب اسکی ٹانگیں اسکے پیٹ پر رکھواکر جھٹکا مارتا تو میرا لن اسکی چوت میں پورا کا پورا اندر باھر ھوجاتا تھا۔ میں تھوڑا بھی گانڈ کو باھر کی طرف کھینچتا تو لن میرا باھر نکل جاتا تھا اور جب میں اپنی گانڈ کو واپس نیچے کی طرف دھکیلتا تو بڑی نرمی وپیار سے پورا لن اسکی چوت میں گھس جاتا۔ جب پورا لن بچہ دانی تک پہنچتا تو اس کی ھوں ھوں کی آواز بڑامزہ دیتی مجھے۔ ایسے ہی پیار پیار سے میں نے اسے کوئی بیس منٹ اسی پوزیشن میں رکھا تو وہ چھوٹ گئی۔ اور اب اسکااندر چپچپاھٹ زیادہ ہوگئی تھی ۔ میں نے پاس پڑے ھوئے کپڑے سے اسکی چوت کو اندر تک صاف کیا اور پھر سے لن اندر داخل کردیا۔ اب کی بار میں نے اسکی ٹانگیں بھی اپنے سینے کےپاس جکڑ لیں تھیں، زبردست قسم سے دھکوں کی مشین چلادی۔ زرا سی روانی پیدا ھونے پر اس نے بھی بھرپور ساتھ دینا شروع کر دیا۔ ٹانگیں تھک جانے کاجب اس نے کھا، تو میں نے اسکی ٹانگوں کو نیچےسائیڈوں پر کرکے پھر سے مشین چلا دی۔ اب کے بار اسے بھی مزہ آنے لگا تو اس نے میری کمر پر ایک ھاتھ پھیرنا شروع کردیا، کیونکہ وہ دائیں سائڈ پر تھی تو بایاں ھاتھ اسنے میری کمر پر پھیرا، پھیرتے پھیرتے انگلی اسکی میری گانڈ سوراخ کو ٹچ کرگئی جومیرا ویک پوائنٹ تھا۔ جس سےمیں منزل کے قریب ھوگیا اور بے تحاشا جھٹکے مارنے شروع کردئیے۔ اس نے پیٹ کے بل ھوکر خود بھی نیچے سے گانڈ اوپر اٹھا اٹھا کر میرا ساتھ دیا اور آخر کار میں زبردست جھٹکا مارتا ہوا اسکی چوت میں اندر ھی چھوٹ گیا اور میری گرم منی جب اس کے اندر گئی تو وہ بھی میرے ساتھ ھی چھوٹ گئی۔۔ کافی دیر میں اسکے پورے جسم کو سمیٹے اسکے اوپر لیٹا رھا اسکی پپیاں لیتا رھا۔ اس نے واقعی بڑا مزہ دیالن اندر ہی تھا کہ میں نے اسے بانھوں میں اٹھاکے صوفے پر جب اتارا تو اسکی چوت سے بھت سارا پانی بہہ نکلا۔ کچھ دیر میں ھی ھم تینوں بیٹھ کر کھانا کھا رھے تھے تو میں نے نوٹ کیا کہ ثانی کے بوبس کو تو میں ٹچ ہی ناکرسکا ھوں۔ کھانے کے بعد چائے کا دور چلا،کھانے کے برتن نوشی سمیٹ کر جیسے ھی باورچی خانے میں گھسی میں نے پھر سے ثانی کو گود میں اٹھا لیا اور اسے آنکھ مارتے ھوئے کھا کہ میرے لن کو سنبھال میں زرا ممے چوس لوں۔ ثانی سمجھ تو گئی تھی کہ زاویہ تبدیل ھوا ھے لیکن اس نے مجھے کان میں تھینکس کھاکہ اتنا بھرپور چدائی والابندہ مجھے آج تک نہی ملا تھا۔ تم اپنانمبر دو مجھے پرسنل بات کرنی بعد میں۔ نوشی کے سامنے ھم نے لپ کسنگ شروع کردی تھی۔ پھر میں اسکی بوبس پر حملہ آور ھوگیا ۔۔۔ بس کیا بتاؤں یار کیا مکھن ملائی تھی جیسے گولا گنڈا جو بچپن میں چوساکرتے تھے۔۔۔ھر سک۔پر الگ ہی قسم کا ذائقہ منہ میں رس گھولنے لگتا تھا۔ ادھر میڈم نوشی نے نیچے والا کھمبا تیار کرکے خود ہی اپنی چوت میں گھسوالیا تھا۔۔۔اور اب وہ فلم والی صورتحال بن گئی تھی کہ میرا لن نوشی کی چوت میں ڈرلنگ کر رھا تھا, میرے منہ میں ثانی کا ممہ تھا، جبکہ ثانی کے ھاتھ نوشی کے مموں پر رگڑائی کرنے میں مصروف ھوگیا تھا۔ نوشی پہلے ہی فل ٹن تھی اور اب باورچی خانے سے شاید ایک دو پیگ اور مار آئی تھی تو اکدم جوش میں آکر تیزی سے جھٹکے مارتے فارغ ھوگئی۔ لیکن یہ شراکت شاید ثا نی کو زیادہ پسند ناآئی تھی تو نوشی کے نکلتے ہی اس نے جلدی سے پوزیشن بدلی کی اور مجھے 69 پر لے آ ئی۔ میں نے اس کی چوت چاٹی جبکہ اس نے میرےلن کو منہ میں لے کر خوب اچھی طرح چوسا اور پھر مجھے سیدھا لیٹنے کا کہ دیا۔ میرے سیدھے کھڑے لن پر اس نے تھوڑا سا تھوک لگایا اور پھر چوت کی سیدھ میں کرکے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نیچے بیٹھنے لگی۔ واہ کیا مزہ آیا تھوڑا تھوڑا کر کے میرا لن ثانی کی چھوٹی نرم گرم چوت میں گم ھو رھا تھا۔ مجھے ثانی کی ایک رات کی دلھن والی کہانی سننے کا جو شوق ھوا۔ اب اسی پوزیشن میں وہ کھانی سنانی شروع ھوئی قطری کی آمد سےپسند کرنے تک اور پھر ایک رات کی چدائی تک ساری کھانی سناڈالی (میں پھر کسی ماضی والے چیپٹر میں بتا دوں گا) تو کوئی دس پندرہ منٹ بعد میں نے اسے متوجہ کیا کہ جناب میرے اس لن کا بھی کچھ سوچو جس پر آپ چڑھ کر بیٹھی کھانی سنا رھی ھیں تو بولی ڈسٹرب نہ کرو،خاموش پڑے رھو اندر ڈال کےمجھے اسی اینگل میں مزہ آرہا ھے۔ شوھر سے فون سیکس تک اس کی ساری کھانی اختتام پذیر ہوئی تو اس نے اوپر نیچے ھوکر اب میرے لن کو مزید اندر لینے لگی تو بڑا مزہ دینے لگی اتنی دیر بیکار پڑا رھنے کی وجہ سے جو لن نے مرجھانا شروع کردیا تھا وہ دوبارہ جوبن پر آیا۔ مگر اس نے مجھے کوئی حرکت کرنے سے منع کردیا اور میرے کندھوں پر اپنے ھاتھ رکھ کر اپنی گانڈ اوپر نیچے کرنے لگی جس کی وجہ سے میرا لن بھی نیچے رہ جانے کے بعد جو غڑاپ سے اندر جاتا تو بڑا مزہ آتا۔ آخر کار اس نے جوش میں آکر زبردست قسم کے اٹھک بیٹھک شروع کردی زراسی دیر بعد اسے میں نے اسے اوپر ھی روک کر جب نیچے سے اپنا فن دکھایا زوردار جھٹکوں سے اسکی بس ہی کرادی، اسی پوزیشن میں اسکی منی نکلوادی تو آخری غڑاپ کے ساتھ ھی ثانی مجھ پر ڈھے سی گئی ۔۔۔ پھر ھمدونوں نے ھلکی سی چیخ کی آواز ابھرنے پر آس پاس دیکھا تو نوشی منظر سے غائب تھی۔۔ ثانی کپڑے اٹھائے واشروم گھس گئی، جبکہ میں نے باھر برآمدے میں جاکر دیکھا تو رموں کرشنا کو گھوڑی بنا کر اسکی گانڈ میں دھکم پیل کر رھاتھا رموں اس وقت کرشنا کامنہ پیچھے کرواکر اسکے ھونٹ بھی چوس رھاتھا۔ جبکہ اسکا ایک ھاتھ اسکے مہین پیٹ پر گھوم رھا تھا دوسرے ھاتھ سے۔ وہ اسکی مٹھ مار رھا تھا، یہ تین طرفہ حملہ تھا جس سے کرشنا کا مزے کے مارے بار بار چیخ نکل جاتی تھی۔ بعد ازاں پتا چلا کہ جب تیز ھارن بجائے گئے تھے تو کرشنا بھی واڑے والے کمرے سے اٹھ کر رموں کے پاس صورتحال معلوم کرنے آگیا تھا، بڑی گاڑی میں دو ننگی خواتین کی آمد کا سن کر، شنکر کا تجسس اسے ھماری چدائی دیکھنے کھینچ لایا۔ نتیجتاً شنکر کو لائیو شو دکھانے کے بدلے ایک دفعہ پھر رموں کے نیچے لگنا پڑا۔ تمام صورتحال معلوم کرنے کے بعد جب میں کمرے میں واپس آیا تو ثانی کپڑے پہن کر بدمست سوئی نوشی پر چادر ڈال رہی تھی۔ بھر حال نوشی ھمیں کمرے کے اک صوفے پر ننگی ہی سوئی ھوئی مل گئی، ٹن ھونے کی یہی خرابی تھی کہ اس نے باورچی خانے میں جاکر پھر پیگ لگا لیئے تھے اور جلدی فارغ ھو کے بے سدھ سوگئی تھی۔ میں نے ثانی سے کہا کہ چلو ھم بھی سوجاتے ھیں تو کہنے لگی کہ مجھے صبح سویرے جاکر امی کو دوا دارو ناشتہ بھی دینا ہوتا ہے، ابھی سوگئی تو دو گھنٹے بعد جاگنا مشکل ھوجائیگا۔ میں سر جھکا کر سینے پر ھاتھ رکھ کر بولا جو آپکا حکم۔۔ آج کی رانی صاحبہ۔۔ وہ میرے اس انداز پر ایک دفعہ پھر کھکھلا کر ہنس دی تو سارے گھر میں جیسے جلترنگ بجنے لگے۔ شنکر جو اس درمیان فارغ ھوچکا تھا دروازہ بجا کر اس نے کہا صاحب کوئی کام تو نہی، میں نے کہا کہ ایک تو رموں کو بولو نہا دھوکر ہمیں چائے پلائے، دوسرا تم نے صبح چھ بجے میم صاحب کے ساتھ دو کلو تازہ دودھ لیکر جاناہے۔ نہی نہی اسکی ضرورت نہیں۔۔۔ ثانی، شنکر کے جانے پر بولی مگر میں نے کہا کہ اماں تمھاری بیمار رہتی ہے انکی طاقت کے لیئے بہتر رھےگا۔ وہ خوش ھوکر پھر سے میری گودی میں چڑھ بیٹھی، میں نے کہا چلو یہ تو بتاؤ کہ نوشی تمھاری رازدار کیسے بنی۔ ثانی میں اپنی شادی کی ساری کہانی تو تم کو سنا چکی ھوں تو اب کیا تھا کہ میرے شوھر کا بڑا بھائی جسکے آسرے وہ مجھے چھوڑ کر گئے تھے، اک مھینے بعد ہی مجھ پر ڈورے ڈالنے لگے، بات بات پر میری تعریف کرنا بن کہے مجھے اپنی بیگم سے چھپ چھپاکر گفٹ لادینا وغیرہ۔ جو مجھے بالکل پسند نہی تھا، میرے شوہر صفدر بٹ کا تو مجھ سے ھر دوسرے تیسرے دن فون پر رابطہ ھوتا رہتا تھا بلکہ ھم فون پر لمبی سیکسی باتیں کرنے کے عادی سے ھوگئے تھے۔ یہاں میں اپنی انگلیوں کا استعمال کرتی اور وہاں وہ مٹھ مار کر اپنے آپ اپکو ٹھنڈہ کرلیتے تھے۔ میں نے انکو ساری صورتحال بتادی بلکہ ایک دفعہ کیمرہ چالو کرکے انکو لائیو بھی دکھا دیا کہ کیسے وہ چھپ چھپا کر مجھے گفٹ دے جاتے ھیں۔ تو وہ کافی پریشان ھوگئے اب ان سے اختلاف بھی نہی رکھ سکتے تھے بٹوارا ھونا ابھی باقی تھا وہ پردیس میں تھے اور میرا ساتھ رہنا بھی اب مناسب نہی تھا۔ کچھ دن بعد اچانک سے میرے ابو کا انتقال ھوگیا اور اماں بیمار رہنے لگیں تو اسی بہانے صفدر بٹ نے مجھے کہا کہ اپنا ضروری سامان زیورات تک خاموشی سے بڑے بیگ میں رکھ کر ماں کے گھر ساتھ لے جاؤ کمرے کو تالا لگا کر تم اپنی اماں کے پاس شفٹ ھوجاو، میں سارا خرچہ بھیجتا رھوں گا، تم پرواہ نا کرو۔ تو اسی طرح ایک دن میں بٹ کے ساتھ فون سیکس میں مصروف تھی کہ نوشی آگئی اور مجھے ننگی ھوکر سیکس کرتے کھڑکی سے دیکھتی رہی۔ اسکے بعد توہماری دوستی چل پڑی اب کبھی میں اسکے گھر تو کبھی وہ میرے گھرپر سیکس کے ساتھ انگلش موویز بھی دیکھتی اور اس میں سیکسی سین کی کاپی بھی کرتے تھے۔ اسی دوران نوشی تمھارے لن کا تمھاری ٹائمنگ کا بھی ذکر کرتی رہتی تھی جسکی وجہ سے میرے بھی دل میں تم سے ملاقات کا سیکس کا اشتیاق پیدا ھوتا رہا۔ لیکن اج تو عملی طور پر تم نے مجھے وہ خوشی دی ہے کہ جو میرا شوہر بھی نہی دے سکا تھا، تم واقعی بستر پر بہترین پارٹنر ھو نے کے ساتھ اگلے کے جذبات کا بھی خیال رکھتے ھو۔ میں زور سے قہقہہ مار کر ہنس پڑا اور کہا کہ ابھی تو تم نے بارانی کی بریانی کے چاول چکھے ہیں، پوری دیگ تو ابھی باقی ہے۔ رموں بڑا ھشیار آدمی تھا وہ چائے کے ساتھ خشک میوہ جات بھی لے آیا تھا، چائے پینے کے بعد۔ ثانی نے مجھے پھر سے لٹا دیا اور میرے بدن کو ننگا کرکے سارے جسم پر پپیاں کرنا شروع کردیں، سحر کا وقت ھو اور اک چھوٹے سے قد اور نرم۔گرم ریشمی جسم والی حسین لڑکی جسم پر بیٹھی میرے انگ انگ پر پپیاں لے رہی تھی تو میرے جسم میں تو جیسے شہوت کی چیونٹیاں دوڑنے لگیں۔ کچھ دیر بعد میں نے اسے نیچے لٹا لیا اور اسکے سوفٹ مموں کو منہ۔میں لیکر چوسنے بھنبھوڑنے لگا، جیسے جیسے میں اسکے بوبز کو چوستا اسکے بھورے نپلز کو دانتوں سے کاٹنے کی حد تک چک۔ مارتا ویسے ویسے اسکی سسکیوں میں اضافہ ھوتا جاتا تھا، وہ بھی خوب میرا ساتھ دینے لگی۔ کچھ دیر بعد اس نے کہا کہ نوشی بولتی ہے کہ تم شرط رکھ کر لڑکیوں سے چدائی کرتے ھو اور لڑکیاں تم سے پہلے ڈسچارج ھوکر شرط ھار جاتی ہیں۔ میں نے کہا کہ ہاں کیا تم رکھوگی شرط مجھ سے۔۔۔ وہ زور سے ہنسی اور کہنے لگی میں نے ایک اور تجویز سوچی ہے تمھارے واسطے، جس میں مزے بھی ہیں اور پیسے بھی لیکن کچھ شرائط بھی ھیں اس گیم والی کے میں نے حیرت کا اظہار کرتے ھوئے کہا کہ اچھا!!!! اسکی شرائط یعنی چدائی بھی کروائے گی اور شرائط بھی اسکی واہ۔۔!وا !!! ثانی بولی کسی کو بتانا نہی اک بہت مشہور لاہوری کھلاڑی، ثنا میری بہت کلوزدوست ہے جمناسٹک کے شوق میں دیر سے شادی کی ہے اس نے مگر بچے نہی ھورہے، کسی دن اسے بلوا کر ایسی ہی میٹنگ کروادوں گی بڑا مزہ دیتی ہے اسکی لچکیلی کمر، تو مجھے امید ہے کہ تم اس میں تخم ڈال کر اپنی من پسند رقم بھی کما سکو گے۔ میں نے کہا کہ میں اکثر چدائی پیسوں کی خاطر ہی کرتا ھوں کیوں کہ میرا اتنا دور شہر آنے کا مقصد ہی کمائی کرنی ہے تاکہ میں اپنے باپ کے نام بچل بارن کو روشن کرسکوں۔ اپنا بارن گوٹھ بنوا سکوں جس میں میرے رشتےدار میرے بناکر دیئے گئے گھروں میں رہیں اور میری ماں کا خواب پورا ھو کہ میرے بیٹے بارانی کی ۔۔۔ ۔۔۔۔ کمائی۔ اپنے پرائے۔۔۔۔ سب نے کھائی۔ اب میں نے اسے کہا کہ آج کی رات تو تیری فری کی ہے آجا صوفہ چدائی دکھاؤں تجھے وہ حیرت کے مارے کچھ ناسمجھتے ھوئے بھی نیچے صوفے پر آگئی، جبکہ میں نے چپکے سے تیل کی شیشی بھی قریب کرلی۔۔دھمال ڈالنے کی فل تیاری کے ساتھ۔۔۔ (سی یو نیکسٹ)
  37. 6 likes
    اپڈیٹ وہ بولی ہہہا اے میں لیا سی۔۔ میں۔۔۔ ہمممم وہ لن کو ایک ہاتھ کی مٹھی میں لے کر دوسرے ہاتھ کو اس پر پھیرتے ہوئے بولی۔۔ ایک بات کہوں ۔۔۔ میں ۔۔۔ کہو۔۔ بولی مینوں اوس دن بہت مزہ آیا تھا ساتھ ہی شرمانے لگی۔۔۔ میں نے بیٹھے بیٹھے آگے ہو کر اس کو گلے لگایا جس سے اس کے ایک ہاتھ سے لن نکل گیا۔۔۔ میں نے اس کے ممے پکڑے سہلانے لگا وہ میرے لن کی مٹھ مارنے لگی۔۔۔ کچھ دیر ایسسا کرنے کے بعد میں نے اس کو لٹایا اور لن کو اس کے منہ کے قریب لے آیا ۔۔۔ اس نے ہاتھ کی مدد سے منہ سے تھوک لیا اور لن پر لگایا پھر تھوک لیا لگایا لن کو اچھی طرح سے تر کرنے کے بعد مٹھ مارنے لگی ۔۔۔ میں نے تھوڑا اوپر ہو کر لن اس کے منہ کے بالکل قریب کر دیا۔۔۔ اس نے اشارے سے پوچھا کیا۔۔؟ میں نے لن کی ٹوپی اس کے ہونٹوں سے لگادی ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں چمک آگئی اس نے اپنی زبان نکالی اور لن کی اکلوتی آنکھ پر لگا دی۔۔۔ میرے جسم نے جھرجھری لی لیکن مزہ بھی بہت آیا۔۔۔ پھر اس نے لن سے نکلنے والا تھوڑا بہت پانی زبان سے اچھی طرح چاٹا اور زبان کو ٹوپی پر پھیرنے لگی۔۔۔ میں نے مزے سے آ نکھیں بند کر لیں اور ہاتھ اس کے سخت سانولے مموں پر رکھ دئیے اور ممے دبانے لگا۔۔۔ وہ کچھ دیر ٹوپی سے مستی کرنے کے بعد آگے بڑھی اس نے لن پر جڑ والی سائیڈ سے اوپر تک زبان پھیرنی شروع کر دی ۔۔۔ لن کی ٹوپی کو ہاتھ میں پکڑے وہ زبان کو نیچے سے اوپر تک لاتی اور لن کے رنگ کے اردگرد زبان گھماتی۔۔۔ میں مزے کی انتہا کو پہنچ رہا تھا ایسا مزہ اب تک دو بار ہی لے پایا تھا۔۔۔ اس کی زبان میں جادو تھا اگر میری جگہ کوئی اور ہوتا تو اب تک اسکا منہ اپنے پانی سے بھر چکا ہوتا۔۔۔ میں نے بھی پیش قدمی کا فیصلہ کیا اس کے مموں پر جھکا لیکن اس نےمجھے پیچھے ہٹایا اور خود بیٹھ گئی مجھے لیٹنے کا کہا میں نے نیچے دیکھا تو گھاس کا بستر بنا ہوا تھا میں بے فکر ہو کر لیٹ گیا۔۔۔ وہ میرے لن پر جھک گئی اور منہ کے اندر ایک سائیڈ سے ٹکرا کر نکالتی لن پھٹنے والا ہو جاتا۔۔۔ کبھی دائیں سائیڈ سے کرتی کبھی بائیں سے کویی چھ سات بار کرنے کے بعد اس نے لن اپنے منہ میں بھر لیا ۔۔۔ جتنا اندر لے سکتی تھی لیا لن اس کے گلے تک گیا اس نے لیا پھر ایک دم باہر نکالا اففففففف یہ چیز میرے اندر آگ لگا گئی۔۔۔ اتنا مزا کہ بیان نہیں کر سکتا ایک بار نہیں اس نے تین چار بار ایسے ہی کیا اس کے منہ سے تھوک باہر ٹپکنے لگا اس کی آنکھوں سے بھی پانی نکل رہا تھا اس نے ہاتھ سے منہ صاف کیا آنکھیں پونجھ لیں۔۔۔ پھر وہ میرے اوپر آ گئی دونوں طرف ٹانگیں رکھیں اور لن کے اوپر آکر لن کو ہاتھ سے پکڑا اور پھدی پر سیٹ کیا۔۔۔ وہ آرام سے اندر لینا چاہتی تھی لیکن مجھ سے اب مزید انتظار نہیں ہو رہا تھا ۔ ۔۔۔ لن نے جب پھدی کو چھویا پھدی کی گرمی کا احساس ہوا میں نیچے سے گھسسا مارا آدھا لن اندر گھس گیا ۔۔۔ میں نے اس کا چہرہ دیکھا اس نے سختی سے ہونٹ بھینچے ہوئے تھے آنکھیں بند تھیں۔۔۔۔ دوسرے گھسے سے پہلے ہی س نے لن پر دباؤ ڈالا اور خود ہی بیٹھ گئی۔۔۔ جب بیٹھ گئی تو اس نے ہاتھ لگا کر چیک کیا جب اس کو تسلی ہو گئی کہ سارا چلا گیا ہے اس نے آنکھیں کھول لیں۔۔۔۔ اس کی انکھوں میں فخر تھا ساتھ ہی وہ میرے اوپر لیٹ گئی اور اپنی زبان میری گردن پر پھیرنے لگی۔۔۔ لیکن میں نے اس کو نیچے سے گھسے مارنے شروع کر دئیے۔۔۔ لن پھنس پھنس کر جارہا تھا اس کی پھدی ٹائٹ تھی یا اب ہو گئی تھی لیکن مزہ دے رہی تھی۔۔۔ اس کی زبان مسلسل میری گردن پر چل رہی تھی جس سے میرے پورے جسم میں گدگدی ہو رہی تھی۔۔۔ جتنا تیز وہ زبان چلاتی اتنی تیزی سے میں گھسے مارتا۔۔۔ اس پوزیشن میں گھسا اچھا نہیں لگ رہا تھا اس لیے میں نے اس کی کمر کے گرد بازو ڈالے اور اس کو گھما کر اپنے نیچے کر لیا ۔۔۔ اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں اور اندھا دھند گھسے مارنے لگا۔۔۔ اتنے تیز گھسے مارے کہ میری کمر درد کرنے لگ گئی اس کی بھی پھدی نے پانی چھوڑ دیا ۔۔۔۔ پھدی گیلی ہونے سے لن شڑپ شڑپ کی آواز سے پھدی میں گھس رہا تھا۔۔۔۔ اس کے ممے بھی ہل رہے تھے لیکن زیادہ سخت ہونے کی وجہ سے لٹک نہیں رہے تھے۔۔۔ میں نے اب اس کی ایک ٹانگ اٹھائی دوسری بالکل سیدھی کی اور گھسے شروع کر دئیے ۔۔۔ کوئی 5 منٹ کی مزید چودائی کے بعد مجھے لگا کہ اب فارغ ہونے والا ہوں تو لن نکال لیا۔۔۔۔ اس کو الٹا ہونے کو کہا تو اس نے کہا جب فارغ ہونے لگو تو مجھے دکھانا ہے ۔۔۔ میں نے ہممم کیا وہ گھوڑی بنی میں لن اس کی گانڈ کے نیچے سے پھدی میں گھسایا اور دھے دھکے پے دھکا شروع کر دیا۔۔۔ اس کی گانڈ کو دونوں سائڈ سے پکڑ گھسے لگانے لگا۔۔۔ آج وہ کویی آواز نہیں نکال رہی تھی۔۔۔ میں اس کے منہ آواز نکلوانےکے چکر میں مسلسل گھسے لگا رہا تھا ۔۔۔ مجھے اپنا ٹائم قریب نظر آیا اس کی پھد ی لن پر سخت ہونے لگی وہ جھٹکے کھا کر فارغ ہونے لگی۔۔۔ میں رک گیا جب وہ فارغ ہو گئی تو میں نے پھر سے سپیڈ پکڑی اور سپیڈی گھسے شروع کر دیے کچھ ہی دیر بعد مجھے خون اپنی ٹانگوں میں جمع ہوتا محسوس ہوا۔۔۔ میں دو چار جاندار گھسے مارے اور لن باہر نکال کر اس کو سیدھا کیا وہ ایک دم لن کو ہاتھ میں پکڑ کر مٹھ مارنے لگی۔۔۔۔ ایک دو تین چار اور لن کی آنکھ سے ایک زودار پچکاری نکلی جو سیدھی اس کے منہ پر جاگری ۔۔۔ اس نے جلدی سے لن کا رخ اپنے مموں کی طرف کیا اور باقی کے قطرے اس کے مموں پر گرنے لگے اس نے مٹھ مار مار کر اچھی طرح لن سے آخری قطرہ بھی نچوڑ کر اپنے مموں پر گرایا۔۔۔ اس کے بعد اس نے لن کو اپنے منہ لے کر چوسنا شروع کر دیا میں اس کی حرکات کو دیکھ کر حیران ہو رہا تھا ۔۔۔ وہ اپنے کام میں مگن تھی اس نے ایک بار پھر زبان سے لن کی ٹوپی پر اکلوتی آنکھ پر زبان پھیرنے شروع کر دی اور جو قطرے رہ گئے تھے وہ چوس لیے۔۔۔ لیکن اس کی اس حرکت سے لن پھر سے جوش میں آگیا لیکن مجھے لگنے لگا کہ میں اگر اب کچھ کروں گا تو واپس گھر نہیں جا سکوں گا۔۔۔ پتہ نہیں جیسی کمزور ہو گئی تھی سالی مجھے کہ ایک بار چدائی کے بعد کی جسم میں ایسے لگ رہا تھا جیسے جان ہی نہیں رہی۔۔۔ میں خود پر قابو پایا اس کو کہا کوئی آ نہ جائے اب چلتا ہوں۔۔۔ اس نے لن کی ظرف اشارہ کیا اور بولی یہ تو کچھ اور آکھ رہا اے۔۔ میں نے کہا اس کی سنیں گے تو پھر تم ایک بار نہیں کئی بار کئی لوگوں کو پھدی دو گی اور ہو سکتا ہے مجھے بھی گانڈ مروانی پڑ جائے۔۔۔ وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسنے لگی اور بولی جا اوئے کوئی حال نیں تیرا وی۔۔۔ مجھے ایک دم خیال آیا کہ اس کا نام تو پوچھا ہی نہیں اور نہ ہی اس نے بتایا۔۔۔ میں اس سے نام پوچھنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ اس نے میرے منہ پر ہاتھ رکھا اور ٹراؤزر پکڑا دیا خود تیزی سے اپنے کپڑے پہننے لگی ۔۔۔ میں نے بھی اس کی دیکھا دیکھی ٹراؤزر پہن لیا اس نے تھوڑا سا باہر نکل کر دیکھا ۔۔۔ پھر مجھے جانے کا کہا۔۔۔ میں وہاں سے کھسک کر باہر نکلا اور ایک طرف چل دیا ۔۔۔۔ ابھی چند ہی قدم چلا تھا کہ ایک سائیڈ سے تیزی سے کتا نکلا اور میرے سامنے آ کر گھورنے لگا۔۔۔ کتوں سے مجھے بہت ڈر لگتا تھا میری ہوا کتے کو دیکھ کر ٹائٹ ہو گئی۔۔۔۔ وہ تو بھلا ہو ایک اور کتے کا جو اس پر بھونکا اور پیچھے لگ گیا دونوں ایک دوسرے کے آگے پیچھے بھاگتے چلے گئیے۔۔۔۔ میں وہاں سے نکل کر گھر آیا نہایا کچھ تازگی آئی ناشتہ کیا اور ٹیوشن پڑھنے چلا گیا ۔۔۔ پھر کئی دن یہ ہی روٹین رہی ٹیوشن گھر گراؤنڈ کچھ نہ ہوا لیکن حقیقت یہ تھی کہ میں ڈر گیا تھا مجھے جو اس چکر آیا پھدی اور پھر دوسرے دن پھدی مارنے سے باز نہ آیا تو وہاں بھی مجھے کمزوری کا احساس ہوا۔۔۔۔۔ اس کے لیے میں نے ایک دوست سے مشورہ بھی کیا لیکن اس نے جو علاج بتایا وہ مہنگا تھا اس لیے بس چپ ہی ریا۔۔۔ اسی طرح پندرہ بیس دن نکل گئے ان دنوں میں نے باقاعدگی سے دودھ پیا اور موقع ملتے ہی دودھ میں شہد ملا کر پی لیتا ۔۔۔ لن بہت تنگ کرنے لگا تھا کچھ سکون نہ تھا جب بھی اکیلا بیٹھتا لن صاحب جھٹکے سے کھڑے ہو جاتے۔۔۔۔ ایک دن جب لن نے زیادہ تنگ کیا تو ٹیوشن سے واپسی پر ایک کوشش کرنے کا سوچا ۔۔۔۔ میں تہمینہ کے چکر میں بلوچ ہاؤس کی طرف جانے کی پلاننگ کرتا ہوا گھر آیا۔۔۔ گھر آ کر کتابیں رکھیں پانی پیا اور باہر نکل گیا۔۔۔ یہاں ایک بات بتاتا چلوں کیونکہ ابھی میٹرک کا رزلٹ نہیں آیا تھا اس لیے میں صبح کے وقت ٹیوشن پڑھنے جاتا تھا۔۔۔۔ گھر سے نکل کر میں بلوچ ہاوس کی طرف چل پڑا مارکیٹ پہلے آتی تھی اس لیے وہاں ہم سب ایک بار حاضری ضرور لگواتے تھے اس لیے میں بھی ایسے ہی مارکیٹ پر رکا وہاں سے کچھ چیونگم لیں منہ میں ڈالیں چیونگم چباتا میں ابھی نکل ہی رہا تھا کہ مجھے آواز آئی بات سنو۔۔۔۔ میں نے آواز کی سمت دیکھا تو ایک نقاب پوش عورت مجھے بلا رہی تھی۔۔۔ میں نے دائیں بائیں دیکھا جب یقین ہو گیا کہ وہ مجھے ہی بلا رہی تو میں اس کے پاس گیا۔۔۔ میں۔۔۔ جی۔۔ عورت ۔۔۔ یہ مجھے اندر شاپ سے کچھ سامان لا دو۔۔۔ اس نے مجھے لسٹ پکڑائی میں جو کسی کا کام کرنا بھی حرام سمجھتا تھا بلکہ اب بھی سمجھتا ہوں پتہ نہیں کیسے اس کو انکار نہ کر سکا۔۔۔ انکار نہ کر سکنے کی بھی ایک وجہ تھی مجھے یہ آواز سنی ہوئی لگ رہی تھی۔۔۔۔ خیر میں اندر گیا سامان لیا اور باہر آیا تو وہ عورت مجھے ایک طرف جاتی ہوئی نظر آئی ۔۔۔۔ مجھ بڑا غصہ آیا کہ مجھے سامان کا کہہ کر یہ خودکدھر جا رہی ہے کیسی عجیب عورت ہے۔۔۔۔ خیر میں غصے میں اس کے پیچھے چل پڑا وہ آگے آگے چلتی جارہی تھی میں کافی فاصلے پر اس کے پیچھے بھاگنے کے انداز میں جا رہا تھا۔۔۔۔ میں قریب سے قریب ہوتا گیا اور چند فٹ فاصلہ رہ گیا۔۔۔ میں نے ان کو آواز دی بات سنیں۔۔ لیکن اس نے ایسا ردعمل دیا جیسے میں اس سے نہیں کسی اور سے مخاطب ہوں۔۔۔ لیکن میں نے ایک بات نوٹ کی کہ وہ گانڈ کو بہت مٹکا کر چل رہی تھی۔۔۔ میری نظر گانڈ کے نشیب و فراز پر پڑی تو ٹھرک پن جاگ اٹھا۔۔۔۔ میرا سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا اور میں اسی فاصلے سے گانڈ کی مٹک مٹک دیکھتے ہوئے چلنے لگا۔۔۔۔ دوپہر کا وقت سنسان گلی اور اس میں چلتی آگ میرے اندر آگ لگا رہی تھی۔۔۔ میرا لن جو پتہ نہہں کب سے ترس رہا تھا یہ نظارہ دیکھ کر اپنا سر پھڑپھڑانے لگا۔۔۔ بڑی مشکل سے خود کو کسی غلط حرکت سے باز رکھے میں اس کے پیچھے چلتا رہا یکدم وہ چلتا پھرتا نظارہ رک گیا۔۔۔۔ میری نظر گانڈ پر اٹک گئی میں بھی اس کے پاس جا کر رک گیا لیکن میری نظر اببھی بھی گانڈ کی بناوٹ پر تھی۔۔۔ ایک بار پھر مجھے آواز سنائی دی صرف دیکھتے کی رہو گے یا آج بھی بھاگ جاو گے۔۔۔ بس تم ٹھرک ہی جھاڑ سکتے ہو لگتا ہے اندر سے فارغ ہو۔۔۔ میں نے نظر اٹھا کر دیکھا بات کو سمجھا تو بہت کچھ سمجھ میں آتا گیا ۔۔۔۔ ہاں جی صیح سمجھے آپ لوگ یہ وہی آنٹی تھی جس نے مجھے بلا یا تھا لیکن میں اس دائی کی لڑکی کی پھدی مار کر سیدھا گھر پہنچ گیا تھا ۔۔ اس کے بعد میں کافی دن اس سے سب سے بچنے کی کوشش کرتا رہا لیکن آج لن نے مجھے مجبور کر دیا۔۔۔۔ اس لیے لن کے لیے پھدی کا شکار ڈھوندنے نکلا تھا۔۔۔ اب یہ بات آنٹی کو تو سمجھا نہیں سکتا تھا نہ یہ کہہ سکتا تھا کہ میں بہت ماہر ہوں ۔۔۔ ا س لیے معصوم بن گیا اور کہا وہ ہہہہہ نا میں ڈر گیا تھا ۔۔۔ وہ عورت بولی چل آجا یہ سامان اندر کمرے میں رکھ دو ۔۔۔ میں ۔۔۔ جی اچھا کہتا اس کے پیچھے چلتا ہو اندر چلا گیا۔۔۔۔ کیا گھر تھا میں نے تو ایسا گھر اپنی زندگی میں بھی نہیں دیکھا تھا کمرے میں لے گئی جو شاید ان کا ڈرائنگ روم تھا ۔۔۔۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی ٹھنڈک کا حساس ہوا نیچے پاؤں قالین میں دھنس رہے تھے اتنا سافٹ قالین کمرے ایک خوشبو سے بھرا تھا۔۔۔ وہ مجھے کہنے لگی اندر آجاؤ جو میں وہاں پڑے صوفے پر بیٹھنے کی سوچ رہا تھا اس کی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔ اس نے مجھے ہاتھ سے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا میں سامان والا شاپر ہاتھ اسی طرح پکڑے آگے جانے لگا ۔۔۔ وہ رک گئی اور بولی بدھو وہ سامان تو رکھ دو۔۔۔ میں نے جلدی سے سامان وہاں ہی رکھ دیا میں صیح معنوں میں کہوں تو پنجابی کا ایک لفظ ہے بوندل جانا جس کا مطلب ہوتا کچھ سمجھ نہ آنا بیوقوفانہ حرکات کرنا۔۔۔ اس وقت میری بھی وہی حالت تھی جیسے اس نے کہا سامان تو رکھ دو بدھو۔۔۔ میں گھر کو اندر سے دیکھ کر ایسا رعب میں آیا کہ بس سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کیا کروں بہت مرعوب ہوگیا تھا۔۔۔ میں سامان کو وہیں رکھ دیا یہ دیکھے بغیر کہ وہاں کیا پڑا ہے ایک دم کڑچ کی آواز آئی اور کوئی چیز ٹوٹ گئی۔۔۔ کسی چیز کے ٹوٹنے کی آواز مجھ پر بم بن کر گری میری ٹانگیں کانپنے لگیں میں کبھی اس کی طرف دیکھتا تو کبھی نیچے جہان سامان رکھا تھا۔۔۔ اصل میں جہاں سامان رکھا تھا وہاں ایک ٹیبل پڑی تھی جس پر گلدان تھا جو ٹوٹل کرسٹل کا تھا اور ٹیبل شیشے کی بنی ہوئی تھی۔۔۔ جب میں سامان والا شاہر رکھا تو وہ اس گلدان سے ٹکرایا اور گلدان ٹھا کی آواز سے ٹیںل پر گرا اور گلدان ٹوٹ گیا۔۔۔ لیکن کمال جاؤں اس عورت کر اس نے بجائے غصہ کرنے کے اپنے ماتھے کر ہاتھ مارا اور بولی اف یار تم بھی نہ ۔۔۔ میں اس گلدان کو اٹھانے کے لیے جھکا تو وہ بولی ایسے کی رہنے دو میں خود کر لوں گی تم آجاو۔۔۔ میں افسردگی سے سر جھکائے اس کے پیچھے چل پڑا وہ ایک کمرے میں داخل ہوئی ۔۔۔ میں بھی اس کے پیچھے کمرے میں داخل ہو گیا آہ کمال کا کمرہ تھا کیا خوبصورت بستر لگا تھا ۔۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی جو چیز سب سے پہلے مجھے نظر آئی وہ تھی اس کا خوبصورت بیڈ اور اس پر بچھی شیٹ ایسا آج تک میں نے ڈراموں اور فلموں میں ہی دیکھا تھا۔۔۔ پینڈو ہونے کی وجہ سے میرے لیے یہ اب بہت ہی فلمی سا تھا۔۔۔ میں نے اتنا خوبصورت بیڈ ایسا شاندار کمرا پھر اس کمرے کے دیواروں پر لگی پینٹنگز اور دبیز پردے ایک سائیڈ پر ڈبل سیٹڈ صوفہ پڑا تھا ۔۔۔۔ کمرے کے ایک طرف ایک شیٹ سی لگی تھی جس میں چھوٹا دروازہ لگا تھا یہ میرے لیے بہت حیران کن تھا کہ کمرے میں یہ سب کیا ہے۔۔۔ دوسری طرف ایک انتہائی خوبصورت ڈریسنگ ٹیبل پڑا تھا میں پینڈو جس کو سنگھار دان کا پتہ تھا جو کہ ایک بڑا سا شیشہ ہوتا تھا سب گھر والے اس میں چہرہ دیکھ کر بال بھی بناتے اور عورتیں اپنے منہ پر کوئی کریم وغیرہ لگا لیتیں وہ بھی کبھی کبھار جب کوئی شادی وغیرہ ہوتی۔۔۔ اس وقت کی سادگی آج کے دور کی عورتوں کو کہیں کہ یہ کر لو تو وہ ہمیں احمق سمجھنے لگتی ہیں ۔۔۔ کپڑے رکھنے کے ٹرنک کا پتہ تھا سونے کے لیے چارپائی مل جاتی تھی۔۔۔۔ برتنوں کے لیے گاؤں میں ایک ڈولی ہوتی تھی یہاں آکر کچن میں الماری کا پتہ چلا۔۔۔۔ ایسا بندہ جس نے زندگی میں کبھی بیڈ پر لیٹ کر نہ دیکھا ہو اس کو میٹرس کی نزاکت کا کہاں احساس ہوتا ہے وہ کیا جانے دبیز قالین کی شان اس کو کہاں پتہ ہوگا شاہی بیڈ کیا ہوتا ہے میں اس وقت اس کمرے کی سیٹنگ اور کمرے میں بچھے قالین تو ایک طرف وہاں لگی پینٹنگز بیڈ کی خوبصورتی جو کسی شہنشاہ کا بیڈ لگ رہا تھا کم از کم مجھے تو ایسا ہی لگ رہا تھا ۔۔۔ آپ لوگ بھی کہیں گے کہ کہاں بور کر رہا ہوں اب کہانی کی طرف آتے ہیں۔۔۔ میں کمرے کی خوبصورتی میں اس قدر کھو گیا کہ یہ بھول ہی گیا اس وقت کہاں ہوں ۔۔۔۔ میں کمرے کے درمیان میں کھڑا ہونقوں کی طرح کبھی گھوم کر دائیں دیکھتا تو کبھی بائیں۔۔۔ میں ابھی شاید اور بھی کھویا رہتا میرے کانوں میں آواز آئی بس یا ابھی کچھ رہتا ہے جس کو دیکھنا باقی ہے۔۔۔ میں نے چونک کر آواز کی سمت دیکھا پھر دیکھتا ہی رہ گیا دماغ سائیں سائیں کرنے لگا آنکھیں چندھیا گئیں دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو گئی سانس لینا بھول گیا۔۔۔۔ اک پرشباب جسم ایک حسین چہرہ گلبدن نازنین میرے پاس الفاظ نہیں جو اس حسن کی مورت کے لیے استعمال کر سکوں۔۔۔ اس وقت پاکستانی پنجابی فلم انڈسٹری میں سب سے خوبصورت اداکارہ جو مجھے پسند تھی وہ اداکارہ نور تھی۔۔۔۔ اگر اس وقت وہ بھی سامنے ہوتی تو میں اسے گھاس نہ ڈالتا اتنا حسین چہرہ آنکھوں میں کاجل لگائے لبوں پر کپ سٹک سینے دوپٹہ غائب گلے میں نہ تھا۔۔۔ سینہ کے نشیب و فراز ادارہ صائمہ کے جیسے تھے بال لمبے جو اس نے ایک سائڈ پر آگے کو ڈالے ہوئے تھے۔۔۔۔ کھکا گلا جس میں سے جھانکتے اس ابھار اپنی قید سے رہائی کی دوہائی دے رہے تھے۔۔۔ میں بت بنا کھڑا اس حسن کی مورت کو تک رہا تھا میرا گلا خشک ہو گیا تھا دماغ کی نسیں نارمل ہونے لگیں ۔۔۔ میں جو کسی پری کے خیال سے سہم گیا تھا چہرے پر نظر پڑی غور کیا تو سمجھ آئی یہ کوئی پری نہیں لیکن پری پیکر حسینہ ہے۔۔۔۔ میرا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ اس کی خوبصورتی کو اپنے اندر اتار لوں۔۔۔ مجھے کھویا دیکھا کر پھر بولی اب بس بھی کرو یا مجھے نظر لگانی ہے ۔۔۔ میں شرمندہ سا ہو گیا لیکن اس کے حسن کی تعریف نہ کرتا تو رستہ جلدی کیسی کھلتا ۔۔۔۔ میں۔۔۔۔ تیرے حسن کی تعریف کیا کروں۔۔ تیرے حسن می تعریف کیا کروں۔۔۔ حسن کا شاہکار ہو تم۔۔ تیرا حسن میری جان تیرا حسن میری روح میری آنکھ کا نور ہو تم۔۔۔ تیر ےحسن کی کیا تعریف کروں۔۔۔ تیرے جسم کی خوشبو تیرے بدن کی نازکی گلاب کا پھول ہو تم تیرے حسن کی کیا تعریف کروں۔۔ تیرا بدن چمکتا موتی تیری آنکھ کی روشنی چاند کا ٹکڑا ہو تم تیرے حسن کی کیا تعریف کروں۔۔ تیرے لبوں کی لالگی تیرے سینے کی ابھارگی میری روح کی غذا ہو تم تیرے حسن کی کیا تعریف کروں۔۔۔ تیرے گیسوؤں کی لمبائی تیری گردن کی بنائی دہکتی ہوئی آگ ہو تم تیرے حسن کی کیا تعریف کروں۔۔۔ مجھے پتہ نہیں کیا ہوا کہ میری زبان سے نکلنے والے یہ الفاظ فل بدیح تھے کیسے نکلے کیوں آئے یاد نہیں یاد تھا تو صرف یہ کہ یہ الفاظ کس کےلیے آئے صرف یہ یاد تھا کس کے لیے ادا ہوئے ۔۔۔۔ میرے منہ سے اور نکلتے چلے جاتے اگر اس ماہ رح ماہ پروین کا مکھن جیسا ملائم ہاتھ میرے منہ پر نہ آتا۔۔۔ اس کے لب ہلے پھول کی پتیوں کی طرح الفاظ نکلے بس کر جاو اتنی تعریف ۔۔۔۔۔۔۔ شاید وہ کچھ اور بھی کہنا چاہتی تھی میں نے اس کے منہ پر انگلی رکھ دی وہ چپ ہوئی میں نے کہا۔۔۔ آپ کی خوبصورتی کا میں دیوانہ ہو گیا ہوں آپ کا فگر آپ کے لب کیا بتاؤں میری جان نکال رہے ہیں ۔۔۔ لبوں کی نزاکت مجھے چوسنے کی دعوت دے رہے ہیں آپ کے یہ لمبے سیاہ بال کسی حسین پری کو بھی مات دیتے ہیں۔۔۔ میں تو آپ کو دیکھ کر مبہوت رہ گیا تھا آپ اس جہاں کی تو لگتی ہی نہیں ۔۔ آپ تو پرستان کی پریوں کی سردار لگتی ہیں۔۔۔۔ آپ پر یہ دل فدا ہو گیا عاشق تو پہلے ہی تھا اب پاگل دیوانہ بھی ہو گیا ہے۔۔۔ وہ شرمانے لگی میں نے کچھ مزید پتے پھینکنے کا سوچا اور بولا ۔۔۔ آپ کسی سولہ سال کی کم سن حسینہ سے کسی طور کم نہیں اپ کی خوبصورت آواز ہر سو ترنم پھیلاتی ہے۔۔۔۔ وہ جھکی اور میرا ہاتھ اپنے لبوں سے ہٹایا اور اپنے لب میرے ہونٹوں پر رکھ دئیے۔۔۔ کچھ دیر چوسنے کے بعد پیچھے ہوئی ایسا لگ رہا تھا جیسے کئی میل کا سفر پیدل طے کر کے آیا ہوں۔۔۔۔ اس کا سینہ بھی دھونکنی کی طرح اتھل پتھل ہو رہا ٹھا۔۔۔ میرے لب ہلے۔۔۔ سینہ ان کا کمال ہے ابھار اس کے لاجواب ہیں سینے کے موتی کی قسمت ہائے شباب پر ایک شباب ہے۔۔۔ وہ بے قابو ہونے لگی اس کی بے تابی کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں ۔۔۔ اس نے مجھے دھکا دیا بیڈ پر گرایا خود اوپر آئی۔۔۔۔ میرے منہ ہونٹ گال غرض ہر جگہ چومنے لگی۔۔۔ اس کا آدھا جسم میرے اوپر تھا اس کے ممے میرے سینے میں مرہم کا کام کر رہے تھے ۔۔۔ یہ میرے الفاظ کا نتیجہ تھا کہ مجھے کچھ بھی نہ کہنا پڑا اس کو بھی کچھ سوچنے می ضرورت نہ ہوئی سب کچھ شروع ہو گیا اب انتہا کیسے ہونی ہے میں یہ سوچنے لگا۔۔۔۔ اس کے بڑے بڑے ممے مجھے سکون دے رہے تھے مزے ہی مزے کی لہریں نکل دہی تھیں۔۔۔ میں نے ہاتھ نیچے سے نکالا اس کی کمر ہر رکھا اور پھیرنے لگا۔۔۔ وہ دیوانہ وار مجھے چومنے لگی ہونٹوں سے انصاف کرنے کے بعد وہ میری گردن پر ٹوٹ پڑی گردن کو چومنے لگی۔۔۔ کان کی لو کو منہ میں لےکر چوسا ایک کان پھر دوسرے کان کی ۔۔۔ میرا ببر شیر نیچے سے اپنا سر اس کی ٹانگوں سے ٹکرانے لگا۔۔ حالانکہ میں انڈر وئیر بھی پہنا تھا ۔۔۔۔ پھر بھی اس کو بھی لن کی دستک کا پتہ چل چکا تھا ۔۔۔۔ جلدی سے وہ اوپر اٹھی اور میرے کپڑے اتارنے لگی ۔۔۔۔ میں جب انڈر وئیر میں رہ گیا تو اس نے مجھے کہا۔۔۔۔۔
  38. 6 likes
    واہ جی آپ نے تو آتے ہی اتنے خوبصورت تبصرے سے اک آگ ہی لگا دی . شازی کو چولیں ہلانے سے زیادہ مزہ "کچھ اور ہی ہلانے میں " آتا ہے جی. ہی ہی ہی لیکن اگر آپ سب دوستوں نے ڈاکٹر ہماء کی جگہ مجھے رکھ کر تسکین حاصل کرنا شروع کر دی تو میرا کیا ہو گا اور میری بلّی تو معصوم اتنا ظلم برداشت ہی نہ کر سکے رحم کریں جی اس بے چاری پر ہی ہی ہی
  39. 6 likes
    لیں جی آپ کی انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور آج تو میں نے آپ کو دو بار دے دی ہے وہ بھی اتنی لمبی لمبی . اپڈیٹ اب تو خوش ہیں ناں؟ ہی ہی ہی اب آپ سب دوستوں نے مجھے یہ بتانا ہے کہ کس کس کو کتنا مزہ آیا جب آپ سب اپنا دیتے ہیں مجھے باری باری نقطہ نظر تو میرے بدن میں بھی بھوک چمک اٹھتی ہے اور تب ------------------ بیچارے میرے میاں صاحب کی شامت شروع ہو جاتی ہے ہی ہی ہی
  40. 6 likes
    زندگی میں ہم سبھی کو بیک وقت خوش نہیں کر سکتے۔ کہانی میں کچھ چیزیں اچانک بند ہو جاتی ہیں اور دوسری چل پڑھتی ہیں کیونکہ یک شخصی آپ بیتی میں یہ خامی ہے کہ اس میں دوسری طرف کیا چل رہا ہے وہ دکھانے کی کوئی کھڑکی نہیں ہوتی۔ مثلاً اگر یہ یاسر کی زبانی نہ سنائی جا رہی ہوتی تو میں ضوفی والا معاملہ یاسر کے شہر سے باہر ہوتے ہوئے بھی سنا ڈالتا۔ اب پیچھے خالہ کے گھر کیا رولا ڈالا ہے جس کو اچانک بریک لگائی ہے وہ بھی سنانے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ اس لیے ہاتھ بندھے ہونے کی وجہ سے اس وقت کا انتظار کرنا پڑے گا جب خالہ والا کٹا یاسر کے سامنے کھلے گا اور اس کی کزن والا معاملہ بھی سامنے آئے گا۔
  41. 6 likes
    پردیس اور آہنی گرفت کے متعلق رائے دیجئے گا تاکہ علم ہو سکے کہ نئے شامل ہونے والے ممبران کو کیسی لگی۔
  42. 6 likes
    لڑکی کا نام بتانے والے کو انعام سے نوازا جائے گا۔
  43. 6 likes
    کہانیاں اتنی سی مہلت میں لکھی جا سکتیں تو کیا ہی بات تھی۔ اس کے لیے لیپ ٹاپ،وقت،تنہائی اور یکسوئی درکار ہوتی ہے۔
  44. 5 likes
    نانی سے سیکھی دانائی سے چدائی سررر سررر تیزھوائیں ۔۔۔۔ ھر طرف گھومتی کچی جھگیوں کے چھتی اڑاتی ۔۔۔ سرررررر۔۔۔ طوفانی ھواوں سے ھم لڑکیاں اتنا نہی گھبراتیں تھیں ۔۔۔ جتنا ھم سرکاری گاڑیوں میں آنے والے پولیس یا رینجرز اہلکاروں سے۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ وہ ھمارے ملاح خاندانوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے کا کھتے محفوظ مقامات پر لیجانے کے وعدے کرتے تھے مگر کچھ لوگوں کو ایک گاڑی میں اور کچھ کو دوسری سرکاری گاڑیوں میں ٹھونستے تھے۔۔۔۔ کچھ کو ایک شھر کے مقام پر کیمپ میں بھیجتے اور کچھ کو دوسرے شھر۔۔۔۔ اسطرح ھم ملاح لوگ ان پڑھ ھونے کی وجہ سے ۔اکثر بچھڑے رھتے اور پھر کیمپس میں بھی جب آفیسرز وزٹ کرتے تبھی کچھ ڈھنگ سے کھانا ملتا تھا۔۔۔ ورنہ وہ لوگ کسی دوکمرے والے اسکول کو کیمپ بنا کر ۔۔۔۔ پچیس سے تیس افراد تک اس میں بٹھاتے رھائش دیتے ۔۔۔لنگر کے نام پر دال روٹی اور گدلہ پانی ملتا رھتا۔۔اس کیمپ پر مجھ جیسی مٹیار۔۔ چڑھتی ۔۔۔۔ جوانی ۔۔۔کپڑوں سے باھر دکھتے سینے کے ابھار۔۔۔ فیشن سے پاک مگر قدرتی طور پر چمکدار چھرے والیاں۔۔۔بے پردہ گھومتی۔۔۔ اور کھیں بھی چولی اٹھا کر پیشاب کرنے بیٹھ جانے والیاں ذرا لفٹ دینے کے سگنل دینے والیوں کو مال زیادہ ملتا اور اکثر شھری بابو کیمپ انچارج کے ساتھ۔۔اسکا گفٹ اس کو پہلے ملتا۔۔۔ دوسرے لفظوں میں ھمارا ( بھڑوا) ھم جیسیو ں کے پاس انٹرویو کے بھانے قریب بھی آتے۔۔۔اپنی آنکھیں سیکتے اور کچھ گفٹ پیکٹ بھی دے جاتے۔۔۔۔ جنکے ساتھ بچے ھوتے وہ زیادہ خواری دیکھتے تھے۔۔ ایسی ھی طوفانی رات کی گرما گرم چدائی کھانی۔۔۔۔ چلتی گاڑی میں شروعاتی چدائی کا احوال اسکے بعد امدادی کیمپ تک پھنچنے اور بعد کی راتوں کی کھانیاں میں آپکو بتاؤں گی۔۔۔ کہ نانی سے میں نے کیا سیکھا۔ ...ںانی نے رات کو ھی مجھے گاڑی کے ڈالے کے ساتھ چدواتے پتانہی کیسے دیکھ لیا۔۔۔ تو زور زور سے بولی۔۔۔۔ مفت کی چدائی سے باز آجا ساراں ۔۔ اپنی چوت کی قدر کرلے۔۔۔ ۔ آپکے رسپانس پر ھم اپنی الھڑ جوانیاں۔۔۔ اسکی کھانیاں۔۔۔ سنائیں گے۔۔۔۔ ایڈ من اور موڈییریٹر حضرات کی اجازت و حوصلہ افزائی سے۔۔ فقط اس فورم کی نئی لکھاری۔۔ جان
  45. 5 likes
    ل ن کمائی۔۔۔ سب نے کھائی اپڈیٹ ۔۔ 15.1 زرشا کو رخصت کرنے کے بعد میں نے جانوروں کے باڑے کی طرف چکر لگایا تو دیکھا کہ شنکر فون کان سے لگائے باتیں کرتے ھوئے بکریوں کو چارا بھی کھرلی میں ڈال رھا تھا۔ دودہ نکالنے والا گوالا بھی اپنے کام میں مصروف تھا۔ تب میں گھنٹہ دو آرام کرلینے کا سوچ کر واپس اپنے اے سی روم میں آگیا۔ قریبا گھنٹے ڈیڑھ بعد موبائل پر کال نے مجھے جگایا، میں نے دیکھا تو شنکر کی کال تھی۔ بارانی : حیرت سے کہ کیا ھوا خیر تو ھے۔ شنکر : آپ سے ایک صلاح لینی ہےآپ آئے نہی اسطرف۔ بارانی : آیا تھا مگر تم کسی سے کال پر مصروف تھے تو میں کمرے میں آکر سوگیا تھا۔ شنکر : آرام پورا ھوگیا ھو تو میں آکر پاؤں دبا دوں. بارانی : میں مطلب سمجھ گیا کہ بات تو کوئی خاص ھے جس واسطے وہ میری خدمت تک بھی کرنا چاہ رھا ھے۔ بارانی : نے کہا کہ آتے ھوئے باورچی کو تازہ دودھ کی چائے بنا کر لانے کا بول دے، خود واشروم میں گھس گیا۔ بارانی : فراغت کے بعد کمرے میں آیا تو چائے اور شنکر دونوں موجود تھے۔ بارانی : چائے کا گھونٹ لیتے بولا۔۔۔ ھاں شنکر تم بولو کیا صلاح کرنی تھی۔ شنکر : آپکے باڑے میں کانچی نسل لمبے کانوں والی بکریاں بھت ھیں تو میں نے سوچا کہ اگر آپ کہو تو اسکاسودا کرلیں ایک واپاری ھے میرے رابطے میں، اس پر کچھ پیسے بھی باقی ھیں، جو وہ دینے میں آنا کانی سے کام لے رھا ہے۔ تو سوچا کہ سودا کرادوں، اگر آپکاموڈ ھوپارٹی اچھی ہی لیکر آئیگا۔ بارانی : اچھی بات ہے تمھارا ادھار بھی نکل آئے گا اور مجھے بھی اماں کو گاؤں پیسے بھیجنے ہیں تو سودا کرادے، مگر پیسے کیش میں لوں گا چیک یا ادھار نہی ھوگا۔ شنکر : استاد سودا کیش ہی ھوگا اور اگر اسکا گول مٹول پپو لڑکا ساتھ آیا تو کوئی چکر چلا کر میرا ایک بدلہ بھی لینا ہے اس سے۔ بارانی : وہ کیسے تفصیل بتائے گا تو بات کی سمجھ آئیگی سہی سے۔ شنکر : پہلے میں فون کرکے پارٹی کو لوکیشن بتا کر بلا لوں جب تک وہ آئیں آپکو تفصیلات بتادوں گا۔ شنکر : پھر کوئی پلان بنالینا ، آپ تو ویسے بھی چدائی پلان بنانے کے ماہر ھو، میں نے مسکرا کر اثبات میں سر ھلا دیا۔ شنکر : نے دینو گجر کو میرے ڈیرے کا پتہ بتا کر بلا لیا کہ آکر بکریاں دیکھ جاو، بات سمجھ میں آگئی تو ابھی سودا مار لینا۔ شنکر : یوں گویا ھوا کہ کچھ ماہ پہلے اتفاق ایسا ھوا کہ میں سول اسپتال کراچی میں داخل کسی رشتے دار کا حال احوال معلوم کرنے بس میں چڑھا تو رش ھونے کی وجہ دوسرے لوگوں کی طرح کھڑا ھونا پڑا، دھکم پیل میں سب ایک دوسرے سے ٹکرا رھے تھے لیکن میرے آگے ایک گورا چٹا موٹا سا لڑکا تقریباً میرا ھم عمرھوگا کھڑا تھا، گانڈ پیچھے کو بہت نکلی ھوئی تھی۔ شنکر : دھکم پیل میں جب میں ایک دو دفعہ اس کے پچھواڑے سے ٹکرایا تو اسکی نرم گداز گانڈ سے جا لگنے کا مسحورکن احساس مجھے تو ھوا سو ھوا، لن نے بھی ھشیاری پکڑلی۔ شنکر : مگر آگے والے نے اسکا کوئی برا نہی منایا، کافی دیر اسی دھکم پیل میں رہنے کے بعد مجھے واضح طور پر محسوس ھوا کہ میرا لن اسکی گانڈ کی دراڑ میں جا پھنساھے، اور جب گاڑی جھٹکا کھاتی ھے تو میں آگے پیچھے ھونے سے مزے کے گھسے لے لیتا تھا۔ پپو لڑکا : بھی ادھر ادھر ڈر ڈر کے دیکھ لیتا تھا کہ کوئی اور تو نہی نوٹ کر رھا اس گھسا ماری کو۔ شنکر : اب جو میں نے اسکے لباس پر غور کیا تو دیکھا کہ اس نے وائٹ کاٹن کے پتلے کپڑے پہنے ھوئے تھے، جس میں سے اسکا گورا بدن صاف جھلک رھا تھا گانڈ اسکی بڑی موٹی تھی چوتڑ پھولے ھوئے روئی کی طرح نرم تھے۔ شنکر : لیکن اس کی گانڈ کی دراڑ میں میرا لن کسی بڑے جھٹکے کے لگنے پر ہی اندرتک مساں پہنچا کرتا تھا۔ شنکر :جب جب کھیں میرا لن اسکے سوراخ سے ٹکرا پاتا تھا، تب اسکو بڑا مزہ آتا کہ اسکا بدن جھر جھری لے لیتا تھا، کچھ دیر بعد اس نے ھاتھ پیچھے کر کے اپنی قمیض میرے سامنے سے اوپر اٹھا دی تاکہ میرا لن اور گھرائی تک جاسکے۔۔ شنکر : لڑکا کسی کھاتے پیتے گھرانے کالگتا تھا، وہ زیادہ مزہ لینے کے چکر میں سائڈ والی سیٹ کے اوپر ھاتھ رکھ کر بڑی ھشیاری سے زرا جھک بھی گیا۔ شنکر : جبکہ میں غریب کھڑے لن کے ساتھ اسکی اس پوزیشن کی وجہ سے ساتھ چپک سا گیا۔ شنکر : کافی دیر بعد بس کنڈیکٹر نے رش میں گھس کر کرایہ وصول کرنا شروع کیا تو اس موٹے نے زرا سنبھل کر سیدہے کھڑے ھوکر آھستہ سے مجھے کہا کہ میرا وی کرایہ دے دیں تے دکان تے میرے نال چلیں پھر ھور مزے دیاں گا۔ شنکر : اب ایسا بندہ جس کا کھڑا لن اگلے کی چوتڑوں کی گھرائیںوں کے اندر ھو، مزے کی وادیوں میں گم ھو، وہ کرایہ دینے کا کیسے انکار کرسکتا ہے۔ شنکر : میں نے پوچھا کہ جانا کتھے توں سوھنیا، سول اسپتال موڑ ، اسنے اتنا بولتے ہی جلدی سے منہ آگے کر لیا اور مزید پیچھے ھوکر کلینڈر کو راستہ دینے کے بھانے میرے لن کے پھر قریب آگیا۔ شنکر : کرایا دینے کے بعد جب کچھ کھڑے لوگوں میں سکون ھوا تو۔ شنکر : اب دوبارہ سے اسکی دونوں ہپس کے درمیان میرے لن کی موجودگی بھی مجھے بڑا مزہ دے رہی تھی۔ اب تو ھر جھٹکے پر وہ پیچھے کو اور میں آگے کو زور لگاتا تھا۔ کافی دیر ھم ایسے ہی مزے لیتے ھوئے سول اسپتال موڑ پر اتر گئے تو اس نے مجھے ایک طرف چلنے کا اشارہ کیا تو میں سوچنے لگا کہ اس گنجان آباد بازار میں یہ کھاں سے گوشہء تنھائی ڈھونڈ پائے گااور میں مزے لے سکوں گا۔ وہ چپ چاپ آگے چلتا رہا، اور میں اسکی خوبصورت ہپس کا اوپر نیچے ھونا دیکھتارھا۔ میں آج چدائی کے چکر میں بڑا خوار ھورھا تھا، بس میں بھی کام مکمل نا ھوسکا، اب کوئی سبیل بنتی نظر نہی آرھی تھی، لیکن موٹے کی چدائی کے آس پر، دل بولا مور مور چل اسکے ساتھ۔ شنکر : تھوڑا آگے جاکر اس نے میرا نام پوچھا اور اپنا نام زیبی گجر بتایا کالج کا شاگرد تھا۔ مجھے اپنی کٹی ھوئی جیب دکھائی کہ دیکھو میں کوئی ایسا ویسا لڑکا نہی ھوں، کبھی کبھی مزا لینے اور شوق پورا کرنے کو چدوا لیتا ھوں، میری جیب پچھلی گاڑی میں کٹ چکی تھی تو میں نے آپ سے کرایہ دلوایا، میں نے کہا کہ یار کوئی بات نہی دوستی میں سب چلتا ھے۔ شنکر : مگر تیری ہپس بڑی موٹی ھونے کے ساتھ ساتھ بڑی نرم و گداز بھی ہے کیا لگاتا ھے اسے، اس نے برجستہ جواب دیا ۔۔۔ مکھن زیبی : نے اپنی گانڈ پر ھاتھ لگاتے ھوئے کہا کہ اگر مزید اسکے مزے لینے ھیں، تو وٹا واری میں مجھے بھی تیری گانڈ دینی ھوگی۔ شنکر : میں نے فٹ سے کہا ابھی چل کہیں خالی جگہ دیکھ کر مزے کرلیتے ہیں۔ زیبی : یار دکان کو بہت دیر ھوچکی ھے ابھی نہی چلتے، تم میری دکان پر چلو۔ گواہی دو ابا مطمئن ھوجائے۔ زیبی :اگر ابا مجھے وصولی پر بھیجتا ھے تو پھر مزے لینے چلے جائیں گے تمھیں کرایا بھی دے دوں گا تجھے (گانڈ پر ھاتھ مارتے ھوئے) تحفہ بھی دے دوں گا۔ شنکر : میں تو اسپتال بیمار پرسی کرنے آیا ھوں مائٹ کی، ملاقات کا وقت نا ختم ھو جائے تمھاری اس گواہی کے چکر میں۔ زیبی : کس وارڈ میں ھے تمھارا مریض اس نے چلتے چلتے پوچھا پھر جب اسے ٹراما سینٹر اور بیڈ نمبر بتایا تووہ بولا کہ وہاں اپنا ایک عاشق (گانڈ پر ھاتھ مارتے) دوست ھے، تیری ملاقات کا کام بعد میں بھی ھوجائےگا تو مہربانی کر ابے سے میری جان چھڑا۔ ایسی باتیں کرتے کرتے ھم اسکی دودہ دہی والی دکان پر پھنچ گئے۔ دینو گجر بھت غصے میں تھا ھمیں دیکھتے ھوئے زیبی کو اک شاندار سی گالی دی۔ پھر ساری کھانی زیبی نے سنائی اور میں تو صرف ہونقوں طرح منڈھی ھلا ھلا کر اسکی تائید کرتا رھا۔ دینو گجر : تمہارے اس دوست کے پاس موبائل نہی تھا کہ تم مجھے فون کرکے ہی بتا دیتے تا کہ میں بکرے لینے والی پارٹی کو گھنٹہ بھر بعد بلوالیتا، ابتک وہ کسی اور واپاری کے ہتھے چڑھ گئے ھوں گے۔ زیبی : سوری ابا یہ تو ھمارے ذہن میں نہی آیا۔ شنکر : بکریوں کا ذکر سن کر تو میرے بھی اب کان کھڑے ھوگئے۔ شنکر : کیا کرنا تھا بکریوں کا چاچا ؟ یار سودا کرانا تھا ایک پارٹی لینا چاہ رہی تھی. دینو گجر : میں گھوم پھر کر فارموں والے سے دلوا دیتا ھوں، آج کل زرا مارکیٹ تیز ھے۔ چار پیسے کمیشن کے اچھے مل جاتے ھیں۔ شنکر : میرے بھی ایک دو فارم والے جان پہچان والے ھیں، اگر ضرورت ہو تو مجھے ایک دن پہلے آگاہ کردینا، سودا مار لیں گے۔ دینو گجر : خوش ھوکر بولے کہ یہ تو اچھی بات ھے، اپنا نمبر دے دینا زیبی کو اسطرح تو مجھے بھی فارموں پر زیادہ گھومنا نہی پڑے گا۔ دینو گجر: اچھی نسل کے بکرے دیکھ کر مجھے بتا دینا میں گاھک سے سودا کرلوں گا، تمھیں ھر سودے پر پانچ ھزار دوں گا۔ پھر انہوں نے کرسی سے نیچے اترتے ھوئے کہا کہ اپنے دوست کو دودھ والی بوتل پلاو میں زرا وصولی کرنے جا رھا ھوں۔ زیبی : بوتل پینے کے بعد اس نے مجھے کرائے کے پیسے دینے کی کوشش تو کی۔۔ مگر میں نے چدائی کے آسرے لینے سے انکار کردیا، اسپتال میں اپنے لیاری کے عاشق شیدی سونو کا نام بتا کر کہا اسے کہنا زیبی گجر نے بھیجا ھے، آنکھ مارتے ھوئے بولا کہ تحفہ واپسی میں اکھٹے چلیں تو لے لینا۔ شنکر : تحفہ وصول کرنے کے چکر میں واپسی آیا تو اسکا ابابیٹھا تھا۔ اسنے مجھ سے بکریوں کے باڑے کے بارے میں معلومات لیں اگلے دن کا ہی ایک سودا پکاکر لیا، زیبی کا پوچھنے پر بتایا کہ کافی دیر آپکا انتظار کرکے وہ تو رئیس کھبڑ کی گاڑی میں چلا گیا۔ قصہ مختصر اسکے بعد میں نے دو چار سودے کروائے تو، لیکن میری کمیشن کے بارے میں بھانے بازی کرتا کہ دکان پر آنا زیبی دے دے گا۔ دکان پر جاؤ ں تو زیبی نہی ملتا، تحفہ یا چھورا چدائی تو گیا بھاڑ میں کمیشن کے پیسے بھی نہی مل رہے تو آج ساری اگلی پچھلی کثریں پوری کروادیں، لن کی دعائیں لے لیں۔ ھاھا بارانی : تیرے تحفے تحائف کے چکر میں میرا فارم نا بدنام کرادینا، بولا کہ استاد آپ ایسی پلاننگ بناو کہ شکار بھی مرے اور بھوکے بھی نا رھیں۔ اسی قسم کی باتیں کرتے ھوئےھم بکریوں کے باڑے میں چلے گئے اور کچھ خوبصورت رنگوں والے خصی بکروں کو الگ سائیڈ والے کمرے میں باندہ دیا، تاکہ اگر اس کمرے( واڑے) بکریاں پسند نا آئیں، تو خصی مال دکھا کر اچھے دام حاصل کرسکیں۔ کافی دیر بعد دینو گجر، زیبی اور اسکے ساتھ دو سوٹڈ بوٹڈ سے آدمی گاڑی سے اتر کر فارم میں آگئے، زیبی کو انکے ساتھ دیکھ کر شنکر بڑاخوش ھوا۔ اس نے آگے بڑھ کر انکا استقبال کیا میرا تعارف کرایا حال احوال پوچھنے کے بعد میں نے پلان کے مطابق کہا کہ آپ کو مال پسند آگیا تو کیش پر ادھر ہی سودا ھوگا۔ جس پر دینو گجر بڑا جز بز ھوا، میں نے کھا کہ سودا خوشی کا ہے میں تو اسے بڑی منڈی میں بھیجتا ھوں اچھی قیمت مل جاتی ھے یہ تو اس شنکر کی فرمائش پر آپکو دکھادیا ، نہی تو میں کسی کو ڈیرے پر نہی بلواتا۔۔دوسرے جانوروں کو نظر لگ جاتی ہے۔۔ انھوں نے گھوم پھر کر مال پسند کیا چھ سات دانے باھر نکلوائے اور دام لگنے لگے۔ بارانی : ھمارے سودے کے درمیان ایک لاکھ کا فرق ھورھا تھا، میں اڑ ھی گیا۔ شنکر :مجھے سائڈ پر لے جاکر بولاکہ استاد گنجائش رکھ نہی توپپو لڑکا امپریس بھی نہی ھوگا اور ھاتھ سے آج بھی نکل جائے گا۔ بارانی : اب جب میں نے بغور زیبی کاجائزہ لیا تو واقعی مست مال تھا، چٹا رنگ لال لال گال، بھرا بھرا چہرا، چھوٹا سا ناک لیکن گانڈ بھت زیادہ باھر نکلی ھوئی تھی، چلتے وقت اٹک مٹک کرتی دور سے نظر آجاتی تھی۔ شنکر :ظالم نے زیبی کو میرے پاس ہی بلا یا اور کہا کہ تیرے ابے کو بھی سودا کرنا نہی آتا، اگلی پارٹی کو ساتھ نہی لایاجاتا پہلے سودا آپس میں طئے ھوجائے تو پھر چار پیسے رکھ کر اگلے کو مال دیاجاتا ھے۔ زیبی : یار میں تو ابا کو بولتا رہتا ھوں کہ ایسا نا کرے مگر وہ کہتے کہ ھم سیدا سیدھا کام کرتے ھیں۔ شنکر : بہانے سے اسکے گالوں پر ھاتھ مارتے بولا میں تیری خاطر بارانی سے کچھ کنسیشن کرا سکتا ھوں مگر مجھے اس دن والا تحفہ آج ہی چاھیئے ھوگا۔ زیبی : مسکر اکر ادھر ادھر دیکھتے ھوئے آھستہ سے بولا یار ادھر کہاں۔۔ پرائی جگہ میں مجھے چودنے کاخواب دیکھ رھا ھے۔ شنکر : بولا کہ تو ھاں کرے تو ٹھیک ھے ورنہ رقم میں اتنے فرق کی وجہ سے یہ سودا آج نہی ھوگا۔ شنکر : زیبی کے اثبات میں سر ھلاتے ہی اس نےمجھے بیس کا اشارہ کرتے ھوئے دینو کو پاس بلایا، تو میں نے ایک ھاتھ شنکر اور ایک زیبی کے نرم کندھے پر رکھتے ھوئے بولا کہ ویسے تو میں رعایت کرنے کا حامی نہی ھوں مگر زیبی و شنکر کی دوستی کی خاطر میں بیس ھزار کم کردوں گا۔ دینو گجر : بیس نہی چالیس میں نے کہا کہ بیس تو تو نے شنکر کے دینے ھیں پچھلی سوداوں کے، وہ بڑا جز بز ھوا مگر پھر کہنے لگا کہ ٹھیک ھے ڈن کرو میں گاڑی بھیجتا ھوں مال اس میں لوڈ کرادینا، صبح رقم مل جائیگی۔ بارانی : با آواز بلند بولا میں نے پہلے وضاحت کردی تھی کہ سودا پڑ پر ھی ھوگا، اس گیٹ کو کراس کرنے کے بعد نا وہ ریٹ ھوگا نا مال۔ شنکر : نے دینو گجر کو تجویز دی کہ مال صحیح ریٹ پر مل رھاھے آپ زیبی کو ادھر ہی چھوڑ جائیں گاڑی والے کو بقایا رقم دے کر بھیج دیں، تو میں زیبی کے ساتھ مل کر مال لوڈ کروادوں گا۔ آپکا بندہ ادھر ھونے سے سودا بھی نہی ٹوٹے گا اور بکریوں کے ساتھ زیبی کو بھی واپس بھیج دیں گے۔ چائے پی کر وہ رخصت ھونے لگے تو میں نے دینو کو کہا کہ شنکر کا پچھلا بقایا کمیشن دوگے تو آئندہ تم سے ڈیل ھوگی ورنہ تو یہ آخری ھے۔آئندہ کسی کو مت لیکر آنا یہاں یہ دھمکی کام کرگئی اس نے اسی وقت بیس ھزار نکال کر شنکر کو دیکر رازی کیا۔ اب اصل کام کی طرف توجہ دیتے ہیں کہ ھم نے زیبی کو کیسے گھیرا، پلان کے مطابق میں انھے باڑے کے درمیان بنے ھوئے کمرے میں بٹھا کر بولا کہ تم لوگ بیٹھو میں یہ رقم زرا گاؤں بھیج کر آتا ھوں، انکے سامنے میں اپنی کار میں سوار ھوکر مین گیٹ سے نکلا۔ شنکر : میرے جاتے ہی اس دن کے بس میں لیے جانے والے مزے کی یادیں تازہ کرتے ھوئے اسکی رانوں پر ہاتھ پھیرنے شروع کر دیئے، زیبی نے کچھ نا کہا مگر اک دو دفعہ تھوڑے تھوڑے وقفے سےاٹھ کر آس پاس کا جائزہ لیا۔ کسی کو نا پا کر، مطمئن ھوکر اس نے بھی شنکر کی رانوں پر ھاتھ پھیرتے ھوئے بولا کہ یار جلدی سے مزے کرلیں، ابو کی بھیجی ھوئی گاڑی نا آجائے اور پھر سے رنگ میں بھنگ ڈل جائے۔ اس درمیان میں پلان کیمطابق پچھلے دروازے سے کمرے کے درمیان موجود دو دروازوں والے واشروم میں پھنچ گیا تھا۔ بارانی : دروازے کی اک درز سے انکی تمام کارروائی دیکھ رھا تھا، شنکر نے اسکی فرمائش پر پہلے خود سارے کپڑے اتار دیئے، اور لگا اسے اپنی گانڈ دکھانے۔ کچھ ہی دیر میں اس نے زیبی کی شلوار بھی اتروادی اور پھر اسکی نرم نرم گانڈ پر مزے مزے سے ایک ھاتھ پھیرتے ھوئے، دوسرے ھاتھ سے اسکی مٹھ مارنے لگا۔ زیبی کا لن تو کوئی خاص بڑا نہی تھا مگر جس چیز کا نظارہ سب سے دلکش تھا اس میں وہ تھی اسکے سانچے میں ڈھلی سی، خوبصورت رانیں جبکہ پچھلی سائیڈ سے اسکی ہپس ایسے اوپر کی طرف اٹھی ھوئی تھیں جیسے کسی سوئمنگ پول میں لگےڈھلوان، کہیں سے بھی اس پر جاؤ، آپ نے پھسل کر تلاب میں ہی جانا یا گرنا ھوتا ھے۔ شنکر کچھ دیر اسکی مٹھ مارتے رھنے کے بعد، اٹھ کر اسکے سامنے گھوڑی بن گیا اور اسے کہا کہ اپنا لن میرے اندر ڈال دے، زیبی کو اتنا جلدی اسکی آفر پر زرا حیرت تو ھوئی ھوگی، لیکن تازہ مٹھ لگائی تھی شنکر نے اسکی، تو ھمارے پلان کیمطابق زیبی پہلے مزہ مل جانے کے چکر میں آگیا تھا۔ اب اس نے بنے شنکر کو صوفے پر سے ہی اپنے قریب کیا اور اسکی لالم لال گانڈ پر ھاتھ پھیرتے ھوئے اسکی تعریفیں کرنے لگا، ادھر شنکر کو جلدی تھی کہ یہ چود کر شانت ھوجائے تو پھر ھم استاد شاگرد مل کر اسکی بجائیں گے۔ آخر کار شنکر نے پاس پڑی ھوئی تیل کی شیشی اٹھا کر خود ہی اپنی گانڈ پر تیل ملا اور زیبی کے لن پر بھی مالش کردی اور پھر کچھ دیر میں زیبی نے اپنے لن کو شنکر کی گانڈ میں اک جھٹکے سے داخل کردیا، شنکر ایسے ھلکے سے چلایا جیسے کہ اسے بہت درد ھو رہا ھو، حالانکہ کئی دفعہ وہ بارانی کا بڑا لن لے چکا تھا۔ زیبی : اسکے آھستہ انداز میں چیخنے سے بھت خوش ھوا، اور اگلا جھٹکا اور بھی زور داز انداز سے مارنے کو زرا اوپر کو ھوا تو۔۔ اسکی خوبصورت روئی کی طرح سفید بڑے ننگے چوتڑ بارانی کو پہلی بار دیکھنے کو ملے کیوں کہ صوفے کے بالکل پیچھے واشروم کے دروازے سے لائیو شو دیکھ رہا تھا۔ بارانی : جھٹکے وہ شنکر کی گانڈ میں مار رھا تھا لیکن اس دوران پیچھے سے اسکی موٹی گانڈ کے ھلنے جلنے سے روئی جیسے گوشت میں جو ارتعاش پیدا ھوتے تھے اسکا فقط نظر آنا ہی مجھے مزہ دے رھے تھے، دل تو کرتا تھا کہ ابھی سے انٹری ماروں، اسکے خوبصورت چوتڑوں میں اپنالن پیل دوں، مگر یہ ھمارے پلان کے خلاف تھا تو میں صبر کرکے کسی اچھے موقع کے انتظارِ میں رہا۔ زیبی : نے اب پینترا بدلا اس نے کاوچ پر شنکر کو منہ کے بل لٹا دیا خود اس کی ٹانگوں کے پاس بیٹھ گیا اور اس کے چوتڑوں پر تیل لگا کر ھاتھ پھیرنے لگا، گانڈ تو شنکر کی بھی بھلی تھی مگر اسکے مقابلے آج وہ بہت چھوٹی لگ رہی تھی۔ زیبی نے اب جوش میں آکر اپنی قمیض بھی اتار دی تو اسکا گورا گورا بھرا بھرا بدن، بھرے ھاتھ، خوبصورت سفید گردن پر لال لکیر بنی ھوئی تھی، بڑے چوتڑ ایک دفعہ پھر میرے سامنے تھرکنے لگے، کیوں کہ اب اس نے شنکر کی گانڈ میں لن گھسا دیا، اورگھسے مارنے کی شروعات کردی تھی۔ کچھ ہی دیر گذری ھوگی کہ زیبی کی سانسیں تیز ھونے لگیں اور ساتھ ہی اسکی دھکوں کی رفتار بھی، کوئی زیادہ دیر نا ھوئی تھی کہ زیبی آھ ھ اوھ ھ کرتے کرتے شنکر کی گانڈ میں ہی فارغ ھوگیا۔ زیبی بڑا خوش تھا کہ کہ بہت دنوں بعد کسی گانڈ میں پورا اندر کر کے منی نکالی ہے، آگے کے مراحل کا ابھی اسے علم نا تھا کہ کیا ھونے والا ھے۔ لڑکا بڑ انفاست پسند تھا جلدی سے اٹھا اور ٹیبل سے ٹشو اٹھا کر پہلے شنکر کی لال لال گانڈ کو صاف کیا، پھر اپنے لن کو صاف کرکے صوفے پر ڈھے سا گیا۔ شنکر : نے زرا دیر بعد اس کی دو چار پپیاں لیں اسکی رانوں کو سہلاتے ھوئے اسے اپنا لن ھاتھ میں پکڑایا، زرا دیر مٹھ مروائی اور پھر اسے پلان کے مطابق کاؤچ پر الٹا لیٹنے کا بولا تو جیسے ہی زیبی کا منہ نیچے کی طرف ھوا اسنے اسکی گانڈ پر تیل ڈال کر مالش شروع کر دی، جبکہ مجھے بھی باھر آنے کا اشارہ کردیا۔ میں دبے پاؤں پاس آکر شنکر کے پیچھے کھڑا ھوگیا پھر شنکر کے ھاتھ زیبی کی گانڈ سے ھٹوا کر میں نے اسکی نرم نرم چوتڑوں پر ھاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔ ھائے ھائے دوستوں کیا بتاوں ایسا مزہ آیا، مانو جیسے اسفنجی فوم کو ھاتھ میں لے لیا، کچھ تیل کی چکناھٹ بار بار ھاتھ پھسل سے جاتے اندر کی طرف، جہاں اسکی گانڈ کا لال سوراخ ھمارے جذبات کو مزید بھڑکانے کو موجود تھا۔ بارانی : اتنی بڑی اور نرم گانڈ دیکھ کر میرا دل چاھ رہا تھا کہ اسکو چاٹنا شروع کردوں کئی دن بعد چھوٹا سوراخ دیکھا تھا ایک تو بڑے ہپس پر سے ھاتھ پھسلتا جب تک سوراخ پر آتا تھا تو الگ ہی قسم کا سواد ملتا، اسپر یہ شنکر کابنایا ماحول بڑا مزہ دے رھا تھا کہ اتنی خوبصورت چٹی بے داغ گانڈ ھماری آنکھوں کے سامنے ھل رہی تھی، ابھی تو سرپرائز والے مرحلے باقی تھے تو صبر سے کام لیتے ھوئے، میں نے ابھی صرف ایک انگوٹھا ھی اسکی گانڈ کی ربڑ پر رکھا تھا کہ شنکر نے میرے جذبات کو سمجھتے ھوئے جلدی سے سر کے اشارے سے مجھے منع کردیا، پھر شنکر نے اشارے سے مجھے کہا کہ اب مجھے اندر ڈالنا ہے۔ شنکر : جلدی سے آگے کو ھوا جبکہ ھاتھ میرے میں زیبی کے چوتڑ دھنسے ھوئے تھے کہ میں نے زور لگا کر ایک اسطرف دوسرے کو دوسری طرف دبا رکھا تھا، شنکر نے موقعے کا فائدہ اٹھاتے فوراً اپنے لن کو رنگ پر رکھ کر زرا سا اندر کی طرف دبایا تو وہ گڑپ کی آواز کے ساتھ بڑی آسانی سے اندر چلا گیا، میں نے شنکر کو اس نے مجھے بڑی حیرت سے دیکھامگر بولےکچھ نہی۔ بارانی : جب میں نے چوتڑ پر سے ھاتھ ھٹائے تو شنکر جو دوبارہ اندر کرنے زرا پیچھے ھوا تھا، تو اب اسکے موٹے چوتڑ گانڈ کی موری اور شنکر کے لن کے درمیان رکاوٹ سے بن گئے۔ بارانی : تب میں نے آھستہ سے ھاتھ پیچھے کھینچ لیئے اور شنکر زرا آگے ھوکر پھر سے اک جھٹکا مارا مگر زیبی کو کوئی خاص فرق نہی پڑا تھا، وہ جیسا پڑا تھا آگے کو منہ کرکے ویسے ہی پڑا رھا۔ شنکر : نے اب بھت گھسے لگائے تکیے کو بھی نیچے دیا اسکے،شنکر کا لن کوئی زیادہ لمبانا تھا تو اسکی بڑی بڑی ہپس کی نرمی تو لن کے آسے پاسے محسوس ھوتی، مزا بھی دیتی تھیں، مگر اندر ڈالنے والاچس کم تھا اس عمل میں، صاف پتا چل رھا تھا کہ لن اندر چوٹ نہی مار رھا تھا بلکہ شنکر اسکی نرم گرم چوتڑوں میں اپنالن گھما گھما کر خوش ھو رھا تھا۔ اب اس نے مجھے اشارہ کہ میں آگے کو دھکا لگاؤں یعنی جب شنکر اندر ڈالے تو پیچھے سے دھکا لگاوں تاکہ اسکا لن اسکے اندر جاسکے۔ زیبی کے موٹے ہپس جب شنکر کی رانوں سے ٹکراتے تو شنکر کے لن کے مزید آگے جانے کے راستے محدود ھوجاتے تھے، کیوں کہ لمبائی کم تھی مسا مساں گیٹ تک جاتا تھا۔ شنکر کے لن کی ٹوپی کے بار بار نرم گرم ہپس کی رگڑائی سے وہ مزے کے عروج پر تھا کہ اس نے مجھے پھر سے دھکے لگانے کا اشارہ کیا تو میں نے اک نئی ٹل آزمانے کا سوچتے ھوئے(میرا لن جو میں ننگا کر چکا تھا اور شنکر اس پر مٹھ کے انداز میں ھاتھ بھی چلاتا رہا تھا) بڑی چالاکی سے شنکر کی گانڈمیں گھسا دیا اور اسے حرکت کرنے منع کردیا، زرا دیر بعد جب میرا لنڈ شنکر کی گانڈ میں پوری طرح گھس کر اپنی جگہ بنا چکا تو میں اب آگے کو جھٹکا مارتا تو لن میرا جاتا شنکر کی گانڈ میں تھا مگر اثرات زیبی کی گانڈ تک محسوس ھوتے۔ بارانی : کیوں کہ ادھر میرا زور تو شنکر کی گانڈ تک لگتا مگر زیبی کی اندر شنکر کا ہی لن مزید موری کے اندر تک جانے لگا تھا، لیکن جاتا پھر بھی صرف ٹوپی تک۔ اب زیبی کی سسکاریاں بھی بڑھ گئی تھیں، ھم نے ایک چالاکی اور کی تھی کہ شنکر کھڑے سے انداز میں اسکو ایسے چود رھے تھے کہ لن کے علاوہ شنکر کی باڈی کا کوئی حصہ زیبی کو نا چھوئے تاکہ جب پارٹنر بدلے تو ایکدم پتہ نا چل سکے۔ کافی دیر بعد شنکر نے اشارے سے مجھے کہا اسکی منی نکلنے والی ھے تو ۔ بارانی : اگلی دفعہ جب شنکر نے لن باھر کی طرف نکالا تو شنکر جلدی سے پیچھے آگیا اور میں فرنٹ پر ھوگیا۔ بارانی کے چھکے تو پھر آپکو پتہ بڑے بڑوں کی نیند اڑا دیتی ہے، یہ تو ایک گول مٹول پپو سا لڑکا ہی تھا۔ بارانی : اب میں نے ھاتھ پھیرتے پھیرتےپھر سے اسکے چوتڑوں کو دو سائیڈوں پر کرتے ھوئے مضبوطی سے پکڑا، میرا لن تیل سے لتھڑا ھوا تو تھا ہی، زیبی کی گانڈ بھی تیل سےگیلی لگی پڑی تھی۔ مگر تصور کریں جب ایک انچ ڈیڑھ انچ لن کے بجائےاچانک سے اٹھ انچ کا موٹا لن وہ بھی فل رفتار سے اندر گھسے تو کیا ھوا ھوگا ۔۔ ھاھاھا ۔ زیبی کی زوردار چیخ نکلی، لیکن چیخ کی پرواہ کس کو تھی میں بھی کتنی دیر سے خجل خوار ھو رہا تھا اسکی نرم ملائم چوتڑوں پر ھاتھ پھیر پھیر کر، گانڈوں کو دیکھ دیکھ کر۔ تیسری چوتھی بار تیز رفتاری سے میرا لن اسکی گانڈ کی رنگ کی گولائیوں کو چیرتا ھوا جب اندر پیٹ تک پہنچا تو اسکو گانڈ رنگ کے چر جانے سے بے انتھا درد ھوا ھوگا۔ کیوں کہ یہ اسکی لاعلمی میں ھو اتھا تو جب تک اسکی گانڈ کو احساس ھوا کہ پارٹنر بدل چکا ہے تب تک اسکی گانڈ کے سوراخ کے کنارے بھی چیرے جاچکے تھے جن سے خون بھی نکل رھا تھا، اور اب تک ناجانے کتنی بار اندر باھر ھوچکا تھا، اور میرے اندازے میں ھر دھکہ پہلے سے زیادہ جاندار تھا، اور خوب اندر تک جاتا تھا کیونکہ میں بھی اب فل جوش پر تھا۔ ایسے ہی ایک تیز جھٹکے پر چیختے جب اسنے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔۔اور مجھے اپنی گانڈ پر سوار دیکھا تو۔۔۔ حیرت اور خوف کے مارے اسکی آنکھیں پھیل گئیں اور پھر وہ بے ھوش ہی ھوگیا۔ لیکن مجھے احساس نا ھوسکا تھا کیوں کہ ایک تو الٹا لیٹنے کی وجہ سے اسکامنہ ویسے ہی نیچے کی طرف تھا اور سب سے بڑی بات کہ گانڈ کاسوراخ جو اب رواں ھوچکا تھا تو میرے لیئے تو کوئی رکاوٹ ہی نا تھی، میں تو مزے کےجھٹکے جاری رکھے ھوئے تھا۔ مگر شنکر جو اسکی ھذیانی چیخوں کو سن چکا تھا اور اب ایکدم سےخاموشی، چھا جانے پراسے تشویش ھوئی۔۔۔ توشنکر جلدی سے اپنی شلوار اوپر سیٹ کرکے آگے زیبی کے منہ کی طرف گیا۔ اسے بے سدھ دیکھ کر اس نے چیخ کر مجھے (سندھی زبان) میں خبردار کیا کہ استاد چھورا مرگیا، لگتا کہ مر ہی گیاہے، اسکی گھبراہٹ دیکھ کر اور اسکا جملہ سن کر لامحالہ مجھ پر بھی اثر ھونا تھا۔ لیکن میرا لن صاب بھی اس مزے کے اونچی، روئی کے مافق نرم چوٹی(یعنی اسکی گانڈ) پر سے اترتے اترتے میں دو چار دھکے مزید مار چکا تھا۔ شنکر نے جلدی سے اسے ھلایا اسکے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے مگر اسے ھوش نا آسکی۔ اتنے میں دھڑام سے دروازہ کھلا، میں تو حیرت سے آنے والے کو دیکھنے لگا جبکہ شنکر ڈر وخوف کے مارے چیخ مار بیٹھا۔۔۔ ( ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نیا نیا نکاح ھوا ھے تو چھوارے اور بریانی مزید کھلاتے ہیں آپکو ۔ھاھا) حالت کمرے کی یہ تھی کہ گول مٹول پپو زیبی گجر چھورا۔۔۔ ننگا صوفہ کاوچ پر بے ھوش پڑا ھوا تھا اسکی گانڈ سے خون بھی رس رھا تھا، شنکر قمیض کے بغیر جبکہ بارانی کھڑے لن کے ساتھ ننگ دھڑنگ تھا۔ آنے والا میرا ہی سیکورٹی گارڈ رموں تھا۔۔۔ جسے اسطرح اندر آمد پر میں نے ڈھیر ساری گالیوں سے نوازا، اس نے معذرت کرتے کہا بھی کہ صاحب جی میں سمجھا آپ تو باھر گئے ہیں تو مہمانوں کو باڑے میں سانپ نے نا کاٹ لیا ھو، اس لیئے میں بنا اجازت کمرے میں گھس آیا۔ اتنی دیر میں میرا بھی غصہ کنٹرول ھوچکا تھا تو میں نےاسے کہا کہ میرا حکیمی تھیلا ادھر لیکر آؤ اور ٹھنڈی بوتل پانی کی بھی لیکر آؤ۔ مین گیٹ بند کردو اور جب تک مجھ سے نا پوچھ لو تو کسی کو اندر نہی آنے دینا، وہ جی سر کہتے باھر بھاگا۔ میں نے اپنے ذھن میں آنے والے نئے پلان کیمطابق شنکر کو بولا کہ شلوار اتار اور لن کھڑا کر جلدی جلدی، اسنے شلوار تو میرے کہنے پر اتار دی مگر ٹینشن والے ماحول میں اب لن کھڑا کرنا۔۔۔ھاھا اسے تو یہ فکر کھائے جا رہی تھی کہ دینو گجر کے آدمی بقایا رقم اوربکروں کے لیئے گاڑی لیکر پہنچنے والے ھوں گے، جبکہ انکا شھزادہ زیبی (اسکےخیال میں)اسکے سامنے چدنے سے مرا پڑا تھا۔ شنکر : اگر رقم کی وجہ سے اسکا باپ دوبارہ آجاتا ہے ، تو بلانے والا سودا کرانے اور زیبی کو یہیں چھوڑ کر جانے کا مشورہ دینے والا تو شنکر ہی تھا۔ ان ساری باتوں کا اظہار جب اس نے مجھ سے کیا تو میں نے کہا کہ پہلی بات تو یہ ھے کہ خوف کو دل سے نکال دے۔۔۔ کچھ نہی ھوا لڑکے کو، مرا نہی ہے بس چوٹ اندر تک کچھ زیادہ لگ گئی ہے ابھی زندہ ہے یہ دیکھ اسکا پیٹ اوپر نیچے ھو رھا ھے، مطلب سانس چل رہی ہے۔ دوسری بات یہ کہ دینو گجر تیرا اصل پتہ نہی جانتا۔ تیسری بات یہ ھے کہ اگر لڑکا ھوش میں آنے کے بعد اڑی کرتا نخرے دکھاتا ھے تو اسکا سد باب کرنے کے لیئے اب تو اسے دوبارہ چود اور میں اسکی مووی بناوں گا۔ بارانی : یہ تیرا کانا بھی ھوجائیگا، اور اگر کسی سے بات کرے گا تو اسکی خود چدائی کا ثبوت اپن اپنے ھاتھ میں رکھیں گے۔ لیکن میری اتنی تسلی دینے کے بعد بھی اسکا لن نہی کھڑا ھوسکا تو میں نے کہا کہ چل اتنا تو کرسکتا ہے کہ اسکی چمیاں لے ، گانڈ پر ھاتھ پھیر، اسکے اوپر ننگا لیٹ، اسکے ھاتھ میں لن پکڑا تاکہ تیری اس سے یاری ثابت ھو جائے اور میرا ڈیرہ بچ جائے۔ بارانی : موبائل سے اسکی ننگی تصاویر بنا رھا تھا تو اسی وقت رموں بھی آگیا، اس نے بھی ننگی موٹی گانڈ کے ساتھ دو چار تصاویر نکلواتے وقت اپنے دانتوں کی خوب نمائش کی، جیسے شکاری ھرن وغیرہ مارنے کے بعد اسکے مردہ شریر کے ساتھ فوٹو نکلواتے ہیں۔ شنکر : کا تو لن کھڑا نا ھوسکا مگر اس دوران ھاتھ پھیرنے اور اتنا چکنا چھورا دیکھنے سے رموں کا راکٹ لانچر تیار ھوگیا تھا، فوٹووں کے سوا کچھ بھی کرنے سے میں نے منع کردیا۔ رموں کو تسلی دی کہ یہ اب شنکر کا پکا یار بن جائیگا، اسکا آنا جانا لگا رھے گا تو تمھیں بھی کبھی ناکبھی یہ تحفہ مل ھی جائے گا۔ رموں : کچھ سمجھتے اور کچھ ناسمجھتے ھوئے سر ھلا کر واپس جانے لگاتو میں نے اسے متوجہ کرتے ھوئے کہا کہ۔۔ ماما اب اس کو کپڑے تو پہناتے جاؤ، یہ ھاتھی ایک جنے کے بس کا روگ نہی۔ رموں : زرا بے زاری سے کہنے لگا آپ بھی تو ھونا۔۔؟ بارانی : میں تو کیمرہ مین ھوں گا، ویسے کیا تو اس بے ھوش چھورے کو بھی چود سکتا ھے۔ رموں : آپ حکم کرو میں دونوں چھوروں کو ابھی چود ڈالوں۔ بارانی : انکی مدد سے پہلے تولیئے سے زیبی کے بدن سے تیل کی چکناھٹ ختم کی, پھر بڑی مشکل سے لڑکے کو قمیض پہنائی، اسکی گانڈ کے زخموں پر اسپرٹ سے صفائی کے بعد پائیوڈین لگا کر اسے چارپائی پر شفٹ کردیا تو میں نے رموں کو باھر جانے کا حکم دینے کے بعد اپنے حکیمی تھیلے سے ایک تیز بو والی دوا کا قطرہ اسکی ناک میں ڈالا تو حسب توقع زرا دیر کے بعد موٹو کو زور دار چھینکیں لگ گئیں۔ ھوش میں تو آگیا مگر اب چھینکیں نا بند ھوں تو یہ اک نئی پریشانی لاحق ھوگئی اسے۔۔ اتنی تیز اور دیر تک چلنے والی چھینکوں نے باقی سارے درد وغیرہ اسے بھلا دیئے، اب اس پریشانی سے نکلنے کو پھر میں نے خوشبو سنگھائی تب کہیں جا کے اسکی چھینکیں بند ہوئیں، اس دوران شنکر جو چائے بنوانے گیا تھا جب اندر آیا۔ زیبی : اسے سامنے دیکھا تو فورا ہی اسے سب کچھ یاد آگیا، اس نے تیزی سے اٹھتے گالیاں دیتے ھوئے پکڑنے اور مارنے کی کوشش کی، شنکر دبلا پتلا تھا تو اس نے دوڑ کر دو چار چکر صوفوں کے گردا گرد کاٹنے کے بعد باھر کو چھلانگ لگا دی، جبکہ زیبی موٹو زرا سی دیر میں ہی ہانپنے لگ گیا۔۔۔ زیبی : پکڑائی میں نا آنے پر اسے دھمکیاں دینے لگا کہ میں اپنے دوستوں سے تیری پٹائی کروادوں گا ھاں۔۔ میں کالج کے لڑکے تیرے پیچھے لگوادوں گا تو مجھے جانتا نہی میں PHES سوسائٹی کا رہنے والا ہوں۔ ابھی چاھوں تو پولیس کا چھاپا پڑوادوں اس ڈیرے پر تو کیا سمجھتاہے۔ ظالم ! پلاننگ کر کے مجھے اپنے سانڈ یار سےچدوا دیا۔ زیبی : شدت جذبات سے روہانسا ھو کر بولا گھوڑے کا لن ہے اسکے پاس ابھی تک گانڈ درد کر رھی ھے،(شنکر غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا کمی کاری قسم کا پہلے بھی اسکی دو پھڈوں میں پھنسنے پر میں نے جان چھڑائی تھی) ڈر کے مارے ھاتھ باندھتے بولا۔ سوری، سو سوری ۔۔ یار میں تو اپنے مزے میں مگن تھا مجھے کیا پتا تھا کہ بارانی اتنی جلدی اور پچھلے دروازے سے آجائیں گے۔ لیکن شنکر کے ھاتھ باندھنے پر تو اسکا دماغ اور بھی خراب ھوگیا، دوبارہ اسنے پولیس کی دھمکی دی تو میں نے پھر مجبوراً جیب سے موبائیل نکال کر جب اسے اسکے ننگے وڈیو، فوٹوز دکھائے، کبھی شنکر تو کبھی رموں اسکی گانڈ پر ھاتھ پھیر رھیے ھیں تو موٹے کی ھوا نکل گئی۔ بارانی : اگر یہ بات کسی اور سے کہی یا پولیس کیس بنانے کی کوشش کی تو یہ رنگین فوٹوز چھپواکر کالج کی گیٹ پر Pسوسائٹی میں لگوانا میرا کام ھے۔ زیبی : شرمندہ ھو کر بولا نہی نہی یار استاد آپ تو غصہ ہی کرگئے میں تو ویسے ہی زراسنا رہاتھا اسے، زرابھرم رکھ رھا تھا اس پر۔ زیبی : لیکن میں کیا کروں میری گانڈ میں کبھی اتنا بڑا اور موٹا لن گیا ہی نہی تھا ابھی تک درد ھورہا ھے میں نے اسے پین کلر گولی چائے سے کے ساتھ کھلوائی۔ زیبی :آپ حکمت کا کام بھی جانتے ھو کیا ؟ شنکر : ایسا ویسا، کچھ تجھے اندازہ ھوگیا ھے کہ بارانی کی دوا اندر ۔۔ مریض کا دم باھر۔۔ ھاھھاھھا ھاھاھا ھاھاھا اس مزاحیہ جملے پر ھم سب ہی کھل کھلا کر ہنس پڑے اور کمرے کا ماحول پھر سے خوش گوار ھوگیا۔ زیبی : مجھے درد شاید لمبے لن کی وجہ سے اتنا نہی ھو جتنا کے گانڈ پھٹنے سے ھوا تھا ظالم ھو بڑے تم نے میری گانڈ پھاڑ دی آج۔۔ میں نے تو موٹی گانڈ پر پتلے لنوں کی رگڑائی سے کئی شرطیں جیتی ھیں، کئی لڑکوں کا اندر تک پہنچتا ہی نہی، خاص کر۔ (شنکر کیطرف اشارہ کرتے) بولا : ایسے لڑکوں سے جو موٹی گانڈ کے باھر چوتڑوں کی گرمائش کے مزے میں ہی شرط ھار جاتے ھیں۔ شنکر : میرے استاد بارانی بھی شرط لگا کر چودتے ھیں کئی بڑے گھرانوں کی خواتین ان سے چداتی ہیں شوق سے۔ زیبی :کتنی ٹائمنگ ھے تیرے استاد کی میرے علاقے میں بھی کئی چدکڑ لڑکے لڑکیاں ہیں، مگر سالے لڑکوں نے نشے پتے میں اپنا بر احال کرلیاھے، میں دس منٹ پورے لگاسکتا ھوں۔۔ شنکر :ھاھا بس۔۔ میرے استاد تو چالیس پچاس منٹ تک کی شرط لگاتے ھیں۔۔ اتنے میں باھر گاڑی کے ھارن کی آوازیں آئیں تو زرا سی دیر میں رموں بتانے بھی آگیا میں نے اس باڑے کی سائڈ والا گیٹ کھولنے کا بتاکرشنکر کو نگرانی کا بولا۔ جبکہ اس درمیان زیبی بھی اٹھ کھڑا ھوا تو میں نے اسے ایک دوا کی شیشی دیتے ھوا کہا کہ یہ طاقت کی دوا بھی پی لو۔۔ پھر میں تمھیں کچھ خاص بکرے بھی دکھاتا ھوں جو امیدہے تمھیں پسند آئیں گے۔ زیبی : ھاں اگر پسند آگئے تو لیتے دیتے رھتے ھیں ھم۔۔ ھمممم میں نے بڑی معنی خیز نظروں سے اسے دیکھتے ھوئے کہا جیسے شنکر کی پہلے لی اور پھر اسے دی۔ زیبی : زر اگڑ بڑا کر۔۔۔ ھاھا یار میرا یہ مطلب نہی تھا میں تو کاروبار کی بات کر رھا تھا۔ پھر وہ میرے قریب آ کر بولا ویسے یار مجھے درد اور تیری شکل دیکھ کر حیرت سے چکر ، نا ، نا آتے تو میں یہ تیرا بڑا لن انجوائے ضرور کرتا۔ بارانی : تو جب تیرا کرے آجایا کر ھم تجھے خوش کردیں گے، اس نے ادھر ادھر دیکھتے ھوئے کہا کہ مجھے تیرا نمبردے، پر شنکر نہی ھوگا اس محفل میں۔ زیبی : میں ے بھی اک بدلہ لینا ہے نیا نیا چھورا آیا ھے کالج میں، پہلے کہیں باھر ملک میں رھتے تھے وہ لوگ، بڑے نخرے کرتا ھے اسکی کزن اور سلمان سر عام لڑکیوں کو کالج میں بولتاھے اتنی ٹائمنگ لگاؤں گا۔ اسے گھیرنا ہے کسی دن، بارانی : تو ھمیں دوست بنا لے، تو ھم بھی یاروں ثابت ھوں گے ھاں یار ۔ زیبی : اس بات پر خوش ھوکر اسنے مجھے جپھی ڈالی تو بارانی نے موقع سے فائدہ اٹھاتے اسکے ھونٹوں پر کس کرڈالی، اسی وقت شنکر بھی اسی طرف آرھا تھا، پکارا استاد بڑی بات ھے۔۔ یار یاری پکی ھوگئی ۔ بھر حال جب زیبی نے خصی بکرے دیکھے تو بڑا خوش ھوا کہ آپ نے پہلے کیوں نہی دکھائے یہ والے۔۔ بارانی : انکی اوقات کے حساب سے وہ صحیح تھے یہ انکو پسند بھی آتے تو ہائی ریٹ ھونے کی وجہ سے انہوں نے دو ہی مشکل سے لینے تھے۔ زیبی : باپ کی کال آئی تو اس نے ڈرائیور سے اسی ھزار لینے کا کہ دیا۔ جبکہ اس نے بھی سرپرائز دکھانے کا بول کر کال کاٹ دی اور پھر۔۔ابو کو بکرے دکھانے کے واسطے اس نے اپنی موبائیل سے ان بکروں کے کافی سارے فوٹوز لیئے۔ بارانی : میں نے جاتے جاتے موقع دیکھ کر اس کی گانڈ پر پھیرتے ھوئے کہا کہ میں ابھی تک تشنہ ادھورا ھوں کام مکمل نہی ھوسکا تھا،،،، ھاھاھا اس نے برجستہ کہا کہ لے۔۔۔او ماما۔۔ ساڈی بنڈ پاٹ گئی جے تے توں ھلے وی ۔۔ خلاص نہی سی ھویاں۔۔۔ بارانی : پکارا ۔۔۔شنکر ۔۔۔ اوے شنکر۔۔۔ تو زیبی بولا کہ اسے کیوں لاتے ھو بیچ میں، میں نے کہا کہ یار وہ گواھی دے سکتا میری طرف سے کہ تیرے بے ھوش ھوتے ہی سارا کام چھوڑ دیا تھا۔ بھر حال ابو کو میرا سلام کہنا اور بتا دینا کہ آئندہ سودا کرنے زیبی آئیگا تو سودا کروں گا ورنہ نہی۔۔ میری اس بات پر وہ بڑا خوش ھوا۔۔۔ اور جاتے جاتے کہنے لگا کہ ملتے ہیں آپ سے ایک دو دن میں۔۔ بارانی : ویلکم ویلکم ۔۔۔ بارانی : انکو رخصت کرنے کے بعد جب میں شام کی وکا۔پر نکلنے لگا تو دیکھا کہ گیٹ کے پاس والے کمرے میں رموں نے شنکر کو لٹا رکھا ہے اور گڑوی میں چوب تیزی سے مدھانی چلا رہا ھے، مجھے دیکھ کر رموں نے پھت سے دانتوں کی نمائش کی، جبکہ میں نے صرف مسکرانےپر اکتفاء کرتے وہاں سے چل دیا۔۔۔ بارانی: یہ کوئی رات ایک ڈیڑھ کاٹائم ھوگا جبکہ میں سکون سے سورہا تھا کہ موبائیل فون بینے لگا پہلے تو میں نے نا اٹھانے کا فیصلہ کیا کہ نیند بڑی اچھی لگ رہی تھی، مگر جب پانچویں بار بھی بیل آئی تو پھر میں نے اٹھ کر کال اٹینڈ کر ہی کی تو آگے سے نوشی کی نشے میں دھت آواز آئی کہ مجھے اور میری پڑوسن ثانی کو ابھی ابھی چدوانا ہے بس ۔۔۔ میں نے کہا کہ ٹائم دیکھو کیا، ھو رھا ھے اور اتنی دور میں ابھی نہی آسکتا، اور یہ کون ہے ثانی۔ نوشی : یار گلو بٹ قطری سیٹھ کی گھر والی ھے، بس ھم ابھی آرہے ہیں،ے شنکر شنکر : میرے بھی ایک دو فارم والے جان پہچان والے ھیں، اگر ضرورت ہو تو مجھے ایک دن پہلے آگاہ کردینا، سودا مار لیں گے۔ دینو گجر : خوش ھوکر بولے کہ یہ تو اچھی بات ھے، اپنا نمبر دے دینا زیبی کو اسطرح تو مجھے بھی فارموں پر زیادہ گھومنا نہی پڑے گا۔ دینو گجر: اچھی نسل کے بکرے دیکھ کر مجھے بتا دینا میں گاھک سے سودا کرلوں گا، تمھیں ھر سودے پر پانچ ھزار دوں گا۔ پھر انہوں نے کرسی سے نیچے اترتے ھوئے کہا کہ اپنے دوست کو دودھ والی بوتل پلاو میں زرا وصولی کرنے جا رھا ھوں۔ زیبی : بوتل پینے کے بعد اس نے مجھے کرائے کے پیسے دینے کی کوشش تو کی۔۔ مگر میں نے چدائی کے آسرے لینے سے انکار کردیا، اسپتال میں اپنے لیاری کے عاشق شیدی سونو کا نام بتا کر کہا اسے کہنا زیبی گجر نے بھیجا ھے، آنکھ مارتے ھوئے بولا کہ تحفہ واپسی میں اکھٹے چلیں تو لے لینا۔ شنکر : تحفہ وصول کرنے کے چکر میں واپسی آیا تو اسکا ابابیٹھا تھا۔ اسنے مجھ سے بکریوں کے باڑے کے بارے میں معلومات لیں اگلے دن کا ہی ایک سودا پکاکر لیا، زیبی کا پوچھنے پر بتایا کہ کافی دیر آپکا انتظار کرکے وہ تو رئیس کھبڑ کی گاڑی میں چلا گیا۔ قصہ مختصر اسکے بعد میں نے دو چار سودے کروائے تو، لیکن میری کمیشن کے بارے میں بھانے بازی کرتا کہ دکان پر آنا زیبی دے دے گا۔ دکان پر جاؤ ں تو زیبی نہی ملتا، تحفہ یا چھورا چدائی تو گیا بھاڑ میں کمیشن کے پیسے بھی نہی مل رہے تو آج ساری اگلی پچھلی کثریں پوری کروادیں، لن کی دعائیں لے لیں۔ ھاھا بارانی : تیرے تحفے تحائف کے چکر میں میرا فارم نا بدنام کرادینا، بولا کہ استاد آپ ایسی پلاننگ بناو کہ شکار بھی مرے اور بھوکے بھی نا رھیں۔ اسی قسم کی باتیں کرتے ھوئےھم بکریوں کے باڑے میں چلے گئے اور کچھ خوبصورت رنگوں والے خصی بکروں کو الگ سائیڈ والے کمرے میں باندہ دیا، تاکہ اگر اس کمرے( واڑے) بکریاں پسند نا آئیں، تو خصی مال دکھا کر اچھے دام حاصل کرسکیں۔ کافی دیر بعد دینو گجر، زیبی اور اسکے ساتھ دو سوٹڈ بوٹڈ سے آدمی گاڑی سے اتر کر فارم میں آگئے، زیبی کو انکے ساتھ دیکھ کر شنکر بڑاخوش ھوا۔ اس نے آگے بڑھ کر انکا استقبال کیا میرا تعارف کرایا حال احوال پوچھنے کے بعد میں نے پلان کے مطابق کہا کہ آپ کو مال پسند آگیا تو کیش پر ادھر ہی سودا ھوگا۔ جس پر دینو گجر بڑا جز بز ھوا، میں نے کھا کہ سودا خوشی کا ہے میں تو اسے بڑی منڈی میں بھیجتا ھوں اچھی قیمت مل جاتی ھے یہ تو اس شنکر کی فرمائش پر آپکو دکھادیا ، نہی تو میں کسی کو ڈیرے پر نہی بلواتا۔۔دوسرے جانوروں کو نظر لگ جاتی ہے۔۔ انھوں نے گھوم پھر کر مال پسند کیا چھ سات دانے باھر نکلوائے اور دام لگنے لگے۔ بارانی : ھمارے سودے کے درمیان ایک لاکھ کا فرق ھورھا تھا، میں اڑ ھی گیا۔ شنکر :مجھے سائڈ پر لے جاکر بولاکہ استاد گنجائش رکھ نہی توپپو لڑکا امپریس بھی نہی ھوگا اور ھاتھ سے آج بھی نکل جائے گا۔ بارانی : اب جب میں نے بغور زیبی کاجائزہ لیا تو واقعی مست مال تھا، چٹا رنگ لال لال گال، بھرا بھرا چہرا، چھوٹا سا ناک لیکن گانڈ بھت زیادہ باھر نکلی ھوئی تھی، چلتے وقت اٹک مٹک کرتی دور سے نظر آجاتی تھی۔ شنکر :ظالم نے زیبی کو میرے پاس ہی بلا یا اور کہا کہ تیرے ابے کو بھی سودا کرنا نہی آتا، اگلی پارٹی کو ساتھ نہی لایاجاتا پہلے سودا آپس میں طئے ھوجائے تو پھر چار پیسے رکھ کر اگلے کو مال دیاجاتا ھے۔ زیبی : یار میں تو ابا کو بولتا رہتا ھوں کہ ایسا نا کرے مگر وہ کہتے کہ ھم سیدا سیدھا کام کرتے ھیں۔ شنکر : بہانے سے اسکے گالوں پر ھاتھ مارتے بولا میں تیری خاطر بارانی سے کچھ کنسیشن کرا سکتا ھوں مگر مجھے اس دن والا تحفہ آج ہی چاھیئے ھوگا۔ زیبی : مسکر اکر ادھر ادھر دیکھتے ھوئے آھستہ سے بولا یار ادھر کہاں۔۔ پرائی جگہ میں مجھے چودنے کاخواب دیکھ رھا ھے۔ شنکر : بولا کہ تو ھاں کرے تو ٹھیک ھے ورنہ رقم میں اتنے فرق کی وجہ سے یہ سودا آج نہی ھوگا۔ شنکر : زیبی کے اثبات میں سر ھلاتے ہی اس نےمجھے بیس کا اشارہ کرتے ھوئے دینو کو پاس بلایا، تو میں نے ایک ھاتھ شنکر اور ایک زیبی کے نرم کندھے پر رکھتے ھوئے بولا کہ ویسے تو میں رعایت کرنے کا حامی نہی ھوں مگر زیبی و شنکر کی دوستی کی خاطر میں بیس ھزار کم کردوں گا۔ دینو گجر : بیس نہی چالیس میں نے کہا کہ بیس تو تو نے شنکر کے دینے ھیں پچھلی سوداوں کے، وہ بڑا جز بز ھوا مگر پھر کہنے لگا کہ ٹھیک ھے ڈن کرو میں گاڑی بھیجتا ھوں مال اس میں لوڈ کرادینا، صبح رقم مل جائیگی۔ بارانی : با آواز بلند بولا میں نے پہلے وضاحت کردی تھی کہ سودا پڑ پر ھی ھوگا، اس گیٹ کو کراس کرنے کے بعد نا وہ ریٹ ھوگا نا مال۔ شنکر : نے دینو گجر کو تجویز دی کہ مال صحیح ریٹ پر مل رھاھے آپ زیبی کو ادھر ہی چھوڑ جائیں گاڑی والے کو بقایا رقم دے کر بھیج دیں، تو میں زیبی کے ساتھ مل کر مال لوڈ کروادوں گا۔ آپکا بندہ ادھر ھونے سے سودا بھی نہی ٹوٹے گا اور بکریوں کے ساتھ زیبی کو بھی واپس بھیج دیں گے۔ چائے پی کر وہ رخصت ھونے لگے تو میں نے دینو کو کہا کہ شنکر کا پچھلا بقایا کمیشن دوگے تو آئندہ تم سے ڈیل ھوگی ورنہ تو یہ آخری ھے۔آئندہ کسی کو مت لیکر آنا یہاں یہ دھمکی کام کرگئی اس نے اسی وقت بیس ھزار نکال کر شنکر کو دیکر رازی کیا۔ اب اصل کام کی طرف توجہ دیتے ہیں کہ ھم نے زیبی کو کیسے گھیرا، پلان کے مطابق میں انھے باڑے کے درمیان بنے ھوئے کمرے میں بٹھا کر بولا کہ تم لوگ بیٹھو میں یہ رقم زرا گاؤں بھیج کر آتا ھوں، انکے سامنے میں اپنی کار میں سوار ھوکر مین گیٹ سے نکلا۔ شنکر : میرے جاتے ہی اس دن کے بس میں لیے جانے والے مزے کی یادیں تازہ کرتے ھوئے اسکی رانوں پر ہاتھ پھیرنے شروع کر دیئے، زیبی نے کچھ نا کہا مگر اک دو دفعہ تھوڑے تھوڑے وقفے سےاٹھ کر آس پاس کا جائزہ لیا۔ کسی کو نا پا کر، مطمئن ھوکر اس نے بھی شنکر کی رانوں پر ھاتھ پھیرتے ھوئے بولا کہ یار جلدی سے مزے کرلیں، ابو کی بھیجی ھوئی گاڑی نا آجائے اور پھر سے رنگ میں بھنگ ڈل جائے۔ اس درمیان میں پلان کیمطابق پچھلے دروازے سے کمرے کے درمیان موجود دو دروازوں والے واشروم میں پھنچ گیا تھا۔ بارانی : دروازے کی اک درز سے انکی تمام کارروائی دیکھ رھا تھا، شنکر نے اسکی فرمائش پر پہلے خود سارے کپڑے اتار دیئے، اور لگا اسے اپنی گانڈ دکھانے۔ کچھ ہی دیر میں اس نے زیبی کی شلوار بھی اتروادی اور پھر اسکی نرم نرم گانڈ پر مزے مزے سے ایک ھاتھ پھیرتے ھوئے، دوسرے ھاتھ سے اسکی مٹھ مارنے لگا۔ زیبی کا لن تو کوئی خاص بڑا نہی تھا مگر جس چیز کا نظارہ سب سے دلکش تھا اس میں وہ تھی اسکے سانچے میں ڈھلی سی، خوبصورت رانیں جبکہ پچھلی سائیڈ سے اسکی ہپس ایسے اوپر کی طرف اٹھی ھوئی تھیں جیسے کسی سوئمنگ پول میں لگےڈھلوان، کہیں سے بھی اس پر جاؤ، آپ نے پھسل کر تلاب میں ہی جانا یا گرنا ھوتا ھے۔ شنکر کچھ دیر اسکی مٹھ مارتے رھنے کے بعد، اٹھ کر اسکے سامنے گھوڑی بن گیا اور اسے کہا کہ اپنا لن میرے اندر ڈال دے، زیبی کو اتنا جلدی اسکی آفر پر زرا حیرت تو ھوئی ھوگی، لیکن تازہ مٹھ لگائی تھی شنکر نے اسکی، تو ھمارے پلان کیمطابق زیبی پہلے مزہ مل جانے کے چکر میں آگیا تھا۔ اب اس نے بنے شنکر کو صوفے پر سے ہی اپنے قریب کیا اور اسکی لالم لال گانڈ پر ھاتھ پھیرتے ھوئے اسکی تعریفیں کرنے لگا، ادھر شنکر کو جلدی تھی کہ یہ چود کر شانت ھوجائے تو پھر ھم استاد شاگرد مل کر اسکی بجائیں گے۔ آخر کار شنکر نے پاس پڑی ھوئی تیل کی شیشی اٹھا کر خود ہی اپنی گانڈ پر تیل ملا اور زیبی کے لن پر بھی مالش کردی اور پھر کچھ دیر میں زیبی نے اپنے لن کو شنکر کی گانڈ میں اک جھٹکے سے داخل کردیا، شنکر ایسے ھلکے سے چلایا جیسے کہ اسے بہت درد ھو رہا ھو، حالانکہ کئی دفعہ وہ بارانی کا بڑا لن لے چکا تھا۔ زیبی : اسکے آھستہ انداز میں چیخنے سے بھت خوش ھوا، اور اگلا جھٹکا اور بھی زور داز انداز سے مارنے کو زرا اوپر کو ھوا تو۔۔ اسکی خوبصورت روئی کی طرح سفید بڑے ننگے چوتڑ بارانی کو پہلی بار دیکھنے کو ملے کیوں کہ صوفے کے بالکل پیچھے واشروم کے دروازے سے لائیو شو دیکھ رہا تھا۔ بارانی : جھٹکے وہ شنکر کی گانڈ میں مار رھا تھا لیکن اس دوران پیچھے سے اسکی موٹی گانڈ کے ھلنے جلنے سے روئی جیسے گوشت میں جو ارتعاش پیدا ھوتے تھے اسکا فقط نظر آنا ہی مجھے مزہ دے رھے تھے، دل تو کرتا تھا کہ ابھی سے انٹری ماروں، اسکے خوبصورت چوتڑوں میں اپنالن پیل دوں، مگر یہ ھمارے پلان کے خلاف تھا تو میں صبر کرکے کسی اچھے موقع کے انتظارِ میں رہا۔ زیبی : نے اب پینترا بدلا اس نے کاوچ پر شنکر کو منہ کے بل لٹا دیا خود اس کی ٹانگوں کے پاس بیٹھ گیا اور اس کے چوتڑوں پر تیل لگا کر ھاتھ پھیرنے لگا، گانڈ تو شنکر کی بھی بھلی تھی مگر اسکے مقابلے آج وہ بہت چھوٹی لگ رہی تھی۔ زیبی نے اب جوش میں آکر اپنی قمیض بھی اتار دی تو اسکا گورا گورا بھرا بھرا بدن، بھرے ھاتھ، خوبصورت سفید گردن پر لال لکیر بنی ھوئی تھی، بڑے چوتڑ ایک دفعہ پھر میرے سامنے تھرکنے لگے، کیوں کہ اب اس نے شنکر کی گانڈ میں لن گھسا دیا، اورگھسے مارنے کی شروعات کردی تھی۔ کچھ ہی دیر گذری ھوگی کہ زیبی کی سانسیں تیز ھونے لگیں اور ساتھ ہی اسکی دھکوں کی رفتار بھی، کوئی زیادہ دیر نا ھوئی تھی کہ زیبی آھ ھ اوھ ھ کرتے کرتے شنکر کی گانڈ میں ہی فارغ ھوگیا۔ زیبی بڑا خوش تھا کہ کہ بہت دنوں بعد کسی گانڈ میں پورا اندر کر کے منی نکالی ہے، آگے کے مراحل کا ابھی اسے علم نا تھا کہ کیا ھونے والا ھے۔ لڑکا بڑ انفاست پسند تھا جلدی سے اٹھا اور ٹیبل سے ٹشو اٹھا کر پہلے شنکر کی لال لال گانڈ کو صاف کیا، پھر اپنے لن کو صاف کرکے صوفے پر ڈھے سا گیا۔ شنکر : نے زرا دیر بعد اس کی دو چار پپیاں لیں اسکی رانوں کو سہلاتے ھوئے اسے اپنا لن ھاتھ میں پکڑایا، زرا دیر مٹھ مروائی اور پھر اسے پلان کے مطابق کاؤچ پر الٹا لیٹنے کا بولا تو جیسے ہی زیبی کا منہ نیچے کی طرف ھوا اسنے اسکی گانڈ پر تیل ڈال کر مالش شروع کر دی، جبکہ مجھے بھی باھر آنے کا اشارہ کردیا۔ میں دبے پاؤں پاس آکر شنکر کے پیچھے کھڑا ھوگیا پھر شنکر کے ھاتھ زیبی کی گانڈ سے ھٹوا کر میں نے اسکی نرم نرم چوتڑوں پر ھاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔ ھائے ھائے دوستوں کیا بتاوں ایسا مزہ آیا، مانو جیسے اسفنجی فوم کو ھاتھ میں لے لیا، کچھ تیل کی چکناھٹ بار بار ھاتھ پھسل سے جاتے اندر کی طرف، جہاں اسکی گانڈ کا لال سوراخ ھمارے جذبات کو مزید بھڑکانے کو موجود تھا۔ بارانی : اتنی بڑی اور نرم گانڈ دیکھ کر میرا دل چاھ رہا تھا کہ اسکو چاٹنا شروع کردوں کئی دن بعد چھوٹا سوراخ دیکھا تھا ایک تو بڑے ہپس پر سے ھاتھ پھسلتا جب تک سوراخ پر آتا تھا تو الگ ہی قسم کا سواد ملتا، اسپر یہ شنکر کابنایا ماحول بڑا مزہ دے رھا تھا کہ اتنی خوبصورت چٹی بے داغ گانڈ ھماری آنکھوں کے سامنے ھل رہی تھی، ابھی تو سرپرائز والے مرحلے باقی تھے تو صبر سے کام لیتے ھوئے، میں نے ابھی صرف ایک انگوٹھا ھی اسکی گانڈ کی ربڑ پر رکھا تھا کہ شنکر نے میرے جذبات کو سمجھتے ھوئے جلدی سے سر کے اشارے سے مجھے منع کردیا، پھر شنکر نے اشارے سے مجھے کہا کہ اب مجھے اندر ڈالنا ہے۔ شنکر : جلدی سے آگے کو ھوا جبکہ ھاتھ میرے میں زیبی کے چوتڑ دھنسے ھوئے تھے کہ میں نے زور لگا کر ایک اسطرف دوسرے کو دوسری طرف دبا رکھا تھا، شنکر نے موقعے کا فائدہ اٹھاتے فوراً اپنے لن کو رنگ پر رکھ کر زرا سا اندر کی طرف دبایا تو وہ گڑپ کی آواز کے ساتھ بڑی آسانی سے اندر چلا گیا، میں نے شنکر کو اس نے مجھے بڑی حیرت سے دیکھامگر بولےکچھ نہی۔ بارانی : جب میں نے چوتڑ پر سے ھاتھ ھٹائے تو شنکر جو دوبارہ اندر کرنے زرا پیچھے ھوا تھا، تو اب اسکے موٹے چوتڑ گانڈ کی موری اور شنکر کے لن کے درمیان رکاوٹ سے بن گئے۔ بارانی : تب میں نے آھستہ سے ھاتھ پیچھے کھینچ لیئے اور شنکر زرا آگے ھوکر پھر سے اک جھٹکا مارا مگر زیبی کو کوئی خاص فرق نہی پڑا تھا، وہ جیسا پڑا تھا آگے کو منہ کرکے ویسے ہی پڑا رھا۔ شنکر : نے اب بھت گھسے لگائے تکیے کو بھی نیچے دیا اسکے،شنکر کا لن کوئی زیادہ لمبانا تھا تو اسکی بڑی بڑی ہپس کی نرمی تو لن کے آسے پاسے محسوس ھوتی، مزا بھی دیتی تھیں، مگر اندر ڈالنے والاچس کم تھا اس عمل میں، صاف پتا چل رھا تھا کہ لن اندر چوٹ نہی مار رھا تھا بلکہ شنکر اسکی نرم گرم چوتڑوں میں اپنالن گھما گھما کر خوش ھو رھا تھا۔ اب اس نے مجھے اشارہ کہ میں آگے کو دھکا لگاؤں یعنی جب شنکر اندر ڈالے تو پیچھے سے دھکا لگاوں تاکہ اسکا لن اسکے اندر جاسکے۔ زیبی کے موٹے ہپس جب شنکر کی رانوں سے ٹکراتے تو شنکر کے لن کے مزید آگے جانے کے راستے محدود ھوجاتے تھے، کیوں کہ لمبائی کم تھی مسا مساں گیٹ تک جاتا تھا۔ شنکر کے لن کی ٹوپی کے بار بار نرم گرم ہپس کی رگڑائی سے وہ مزے کے عروج پر تھا کہ اس نے مجھے پھر سے دھکے لگانے کا اشارہ کیا تو میں نے اک نئی ٹل آزمانے کا سوچتے ھوئے(میرا لن جو میں ننگا کر چکا تھا اور شنکر اس پر مٹھ کے انداز میں ھاتھ بھی چلاتا رہا تھا) بڑی چالاکی سے شنکر کی گانڈمیں گھسا دیا اور اسے حرکت کرنے منع کردیا، زرا دیر بعد جب میرا لنڈ شنکر کی گانڈ میں پوری طرح گھس کر اپنی جگہ بنا چکا تو میں اب آگے کو جھٹکا مارتا تو لن میرا جاتا شنکر کی گانڈ میں تھا مگر اثرات زیبی کی گانڈ تک محسوس ھوتے۔ بارانی : کیوں کہ ادھر میرا زور تو شنکر کی گانڈ تک لگتا مگر زیبی کی اندر شنکر کا ہی لن مزید موری کے اندر تک جانے لگا تھا، لیکن جاتا پھر بھی صرف ٹوپی تک۔ اب زیبی کی سسکاریاں بھی بڑھ گئی تھیں، ھم نے ایک چالاکی اور کی تھی کہ شنکر کھڑے سے انداز میں اسکو ایسے چود رھے تھے کہ لن کے علاوہ شنکر کی باڈی کا کوئی حصہ زیبی کو نا چھوئے تاکہ جب پارٹنر بدلے تو ایکدم پتہ نا چل سکے۔ کافی دیر بعد شنکر نے اشارے سے مجھے کہا اسکی منی نکلنے والی ھے تو ۔ بارانی : اگلی دفعہ جب شنکر نے لن باھر کی طرف نکالا تو شنکر جلدی سے پیچھے آگیا اور میں فرنٹ پر ھوگیا۔ بارانی کے چھکے تو پھر آپکو پتہ بڑے بڑوں کی نیند اڑا دیتی ہے، یہ تو ایک گول مٹول پپو سا لڑکا ہی تھا۔ بارانی : اب میں نے ھاتھ پھیرتے پھیرتےپھر سے اسکے چوتڑوں کو دو سائیڈوں پر کرتے ھوئے مضبوطی سے پکڑا، میرا لن تیل سے لتھڑا ھوا تو تھا ہی، زیبی کی گانڈ بھی تیل سےگیلی لگی پڑی تھی۔ مگر تصور کریں جب ایک انچ ڈیڑھ انچ لن کے بجائےاچانک سے اٹھ انچ کا موٹا لن وہ بھی فل رفتار سے اندر گھسے تو کیا ھوا ھوگا ۔۔ ھاھاھا ۔ زیبی کی زوردار چیخ نکلی، لیکن چیخ کی پرواہ کس کو تھی میں بھی کتنی دیر سے خجل خوار ھو رہا تھا اسکی نرم ملائم چوتڑوں پر ھاتھ پھیر پھیر کر، گانڈوں کو دیکھ دیکھ کر۔ تیسری چوتھی بار تیز رفتاری سے میرا لن اسکی گانڈ کی رنگ کی گولائیوں کو چیرتا ھوا جب اندر پیٹ تک پہنچا تو اسکو گانڈ رنگ کے چر جانے سے بے انتھا درد ھوا ھوگا۔ کیوں کہ یہ اسکی لاعلمی میں ھو اتھا تو جب تک اسکی گانڈ کو احساس ھوا کہ پارٹنر بدل چکا ہے تب تک اسکی گانڈ کے سوراخ کے کنارے بھی چیرے جاچکے تھے جن سے خون بھی نکل رھا تھا، اور اب تک ناجانے کتنی بار اندر باھر ھوچکا تھا، اور میرے اندازے میں ھر دھکہ پہلے سے زیادہ جاندار تھا، اور خوب اندر تک جاتا تھا کیونکہ میں بھی اب فل جوش پر تھا۔ ایسے ہی ایک تیز جھٹکے پر چیختے جب اسنے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔۔اور مجھے اپنی گانڈ پر سوار دیکھا تو۔۔۔ حیرت اور خوف کے مارے اسکی آنکھیں پھیل گئیں اور پھر وہ بے ھوش ہی ھوگیا۔ لیکن مجھے احساس نا ھوسکا تھا کیوں کہ ایک تو الٹا لیٹنے کی وجہ سے اسکامنہ ویسے ہی نیچے کی طرف تھا اور سب سے بڑی بات کہ گانڈ کاسوراخ جو اب رواں ھوچکا تھا تو میرے لیئے تو کوئی رکاوٹ ہی نا تھی، میں تو مزے کےجھٹکے جاری رکھے ھوئے تھا۔ مگر شنکر جو اسکی ھذیانی چیخوں کو سن چکا تھا اور اب ایکدم سےخاموشی، چھا جانے پراسے تشویش ھوئی۔۔۔ توشنکر جلدی سے اپنی شلوار اوپر سیٹ کرکے آگے زیبی کے منہ کی طرف گیا۔ اسے بے سدھ دیکھ کر اس نے چیخ کر مجھے (سندھی زبان) میں خبردار کیا کہ استاد چھورا مرگیا، لگتا کہ مر ہی گیاہے، اسکی گھبراہٹ دیکھ کر اور اسکا جملہ سن کر لامحالہ مجھ پر بھی اثر ھونا تھا۔ لیکن میرا لن صاب بھی اس مزے کے اونچی، روئی کے مافق نرم چوٹی(یعنی اسکی گانڈ) پر سے اترتے اترتے میں دو چار دھکے مزید مار چکا تھا۔ شنکر نے جلدی سے اسے ھلایا اسکے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے مگر اسے ھوش نا آسکی۔ اتنے میں دھڑام سے دروازہ کھلا، میں تو حیرت سے آنے والے کو دیکھنے لگا جبکہ شنکر ڈر وخوف کے مارے چیخ مار بیٹھا۔۔۔ ( ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نیا نیا نکاح ھوا ھے تو چھوارے اور بریانی مزید کھلاتے ہیں آپکو ۔ھاھا) حالت کمرے کی یہ تھی کہ گول مٹول پپو زیبی گجر چھورا۔۔۔ ننگا صوفہ کاوچ پر بے ھوش پڑا ھوا تھا اسکی گانڈ سے خون بھی رس رھا تھا، شنکر قمیض کے بغیر جبکہ بارانی کھڑے لن کے ساتھ ننگ دھڑنگ تھا۔ آنے والا میرا ہی سیکورٹی گارڈ رموں تھا۔۔۔ جسے اسطرح اندر آمد پر میں نے ڈھیر ساری گالیوں سے نوازا، اس نے معذرت کرتے کہا بھی کہ صاحب جی میں سمجھا آپ تو باھر گئے ہیں تو مہمانوں کو باڑے میں سانپ نے نا کاٹ لیا ھو، اس لیئے میں بنا اجازت کمرے میں گھس آیا۔ اتنی دیر میں میرا بھی غصہ کنٹرول ھوچکا تھا تو میں نےاسے کہا کہ میرا حکیمی تھیلا ادھر لیکر آؤ اور ٹھنڈی بوتل پانی کی بھی لیکر آؤ۔ مین گیٹ بند کردو اور جب تک مجھ سے نا پوچھ لو تو کسی کو اندر نہی آنے دینا، وہ جی سر کہتے باھر بھاگا۔ میں نے اپنے ذھن میں آنے والے نئے پلان کیمطابق شنکر کو بولا کہ شلوار اتار اور لن کھڑا کر جلدی جلدی، اسنے شلوار تو میرے کہنے پر اتار دی مگر ٹینشن والے ماحول میں اب لن کھڑا کرنا۔۔۔ھاھا اسے تو یہ فکر کھائے جا رہی تھی کہ دینو گجر کے آدمی بقایا رقم اوربکروں کے لیئے گاڑی لیکر پہنچنے والے ھوں گے، جبکہ انکا شھزادہ زیبی (اسکےخیال میں)اسکے سامنے چدنے سے مرا پڑا تھا۔ شنکر : اگر رقم کی وجہ سے اسکا باپ دوبارہ آجاتا ہے ، تو بلانے والا سودا کرانے اور زیبی کو یہیں چھوڑ کر جانے کا مشورہ دینے والا تو شنکر ہی تھا۔ ان ساری باتوں کا اظہار جب اس نے مجھ سے کیا تو میں نے کہا کہ پہلی بات تو یہ ھے کہ خوف کو دل سے نکال دے۔۔۔ کچھ نہی ھوا لڑکے کو، مرا نہی ہے بس چوٹ اندر تک کچھ زیادہ لگ گئی ہے ابھی زندہ ہے یہ دیکھ اسکا پیٹ اوپر نیچے ھو رھا ھے، مطلب سانس چل رہی ہے۔ دوسری بات یہ کہ دینو گجر تیرا اصل پتہ نہی جانتا۔ تیسری بات یہ ھے کہ اگر لڑکا ھوش میں آنے کے بعد اڑی کرتا نخرے دکھاتا ھے تو اسکا سد باب کرنے کے لیئے اب تو اسے دوبارہ چود اور میں اسکی مووی بناوں گا۔ بارانی : یہ تیرا کانا بھی ھوجائیگا، اور اگر کسی سے بات کرے گا تو اسکی خود چدائی کا ثبوت اپن اپنے ھاتھ میں رکھیں گے۔ لیکن میری اتنی تسلی دینے کے بعد بھی اسکا لن نہی کھڑا ھوسکا تو میں نے کہا کہ چل اتنا تو کرسکتا ہے کہ اسکی چمیاں لے ، گانڈ پر ھاتھ پھیر، اسکے اوپر ننگا لیٹ، اسکے ھاتھ میں لن پکڑا تاکہ تیری اس سے یاری ثابت ھو جائے اور میرا ڈیرہ بچ جائے۔ بارانی : موبائل سے اسکی ننگی تصاویر بنا رھا تھا تو اسی وقت رموں بھی آگیا، اس نے بھی ننگی موٹی گانڈ کے ساتھ دو چار تصاویر نکلواتے وقت اپنے دانتوں کی خوب نمائش کی، جیسے شکاری ھرن وغیرہ مارنے کے بعد اسکے مردہ شریر کے ساتھ فوٹو نکلواتے ہیں۔ شنکر : کا تو لن کھڑا نا ھوسکا مگر اس دوران ھاتھ پھیرنے اور اتنا چکنا چھورا دیکھنے سے رموں کا راکٹ لانچر تیار ھوگیا تھا، فوٹووں کے سوا کچھ بھی کرنے سے میں نے منع کردیا۔ رموں کو تسلی دی کہ یہ اب شنکر کا پکا یار بن جائیگا، اسکا آنا جانا لگا رھے گا تو تمھیں بھی کبھی ناکبھی یہ تحفہ مل ھی جائے گا۔ رموں : کچھ سمجھتے اور کچھ ناسمجھتے ھوئے سر ھلا کر واپس جانے لگاتو میں نے اسے متوجہ کرتے ھوئے کہا کہ۔۔ ماما اب اس کو کپڑے تو پہناتے جاؤ، یہ ھاتھی ایک جنے کے بس کا روگ نہی۔ رموں : زرا بے زاری سے کہنے لگا آپ بھی تو ھونا۔۔؟ بارانی : میں تو کیمرہ مین ھوں گا، ویسے کیا تو اس بے ھوش چھورے کو بھی چود سکتا ھے۔ رموں : آپ حکم کرو میں دونوں چھوروں کو ابھی چود ڈالوں۔ بارانی : انکی مدد سے پہلے تولیئے سے زیبی کے بدن سے تیل کی چکناھٹ ختم کی, پھر بڑی مشکل سے لڑکے کو قمیض پہنائی، اسکی گانڈ کے زخموں پر اسپرٹ سے صفائی کے بعد پائیوڈین لگا کر اسے چارپائی پر شفٹ کردیا تو میں نے رموں کو باھر جانے کا حکم دینے کے بعد اپنے حکیمی تھیلے سے ایک تیز بو والی دوا کا قطرہ اسکی ناک میں ڈالا تو حسب توقع زرا دیر کے بعد موٹو کو زور دار چھینکیں لگ گئیں۔ ھوش میں تو آگیا مگر اب چھینکیں نا بند ھوں تو یہ اک نئی پریشانی لاحق ھوگئی اسے۔۔ اتنی تیز اور دیر تک چلنے والی چھینکوں نے باقی سارے درد وغیرہ اسے بھلا دیئے، اب اس پریشانی سے نکلنے کو پھر میں نے خوشبو سنگھائی تب کہیں جا کے اسکی چھینکیں بند ہوئیں، اس دوران شنکر جو چائے بنوانے گیا تھا جب اندر آیا۔ زیبی : اسے سامنے دیکھا تو فورا ہی اسے سب کچھ یاد آگیا، اس نے تیزی سے اٹھتے گالیاں دیتے ھوئے پکڑنے اور مارنے کی کوشش کی، شنکر دبلا پتلا تھا تو اس نے دوڑ کر دو چار چکر صوفوں کے گردا گرد کاٹنے کے بعد باھر کو چھلانگ لگا دی، جبکہ زیبی موٹو زرا سی دیر میں ہی ہانپنے لگ گیا۔۔۔ زیبی : پکڑائی میں نا آنے پر اسے دھمکیاں دینے لگا کہ میں اپنے دوستوں سے تیری پٹائی کروادوں گا ھاں۔۔ میں کالج کے لڑکے تیرے پیچھے لگوادوں گا تو مجھے جانتا نہی میں PHES سوسائٹی کا رہنے والا ہوں۔ ابھی چاھوں تو پولیس کا چھاپا پڑوادوں اس ڈیرے پر تو کیا سمجھتاہے۔ ظالم ! پلاننگ کر کے مجھے اپنے سانڈ یار سےچدوا دیا۔ زیبی : شدت جذبات سے روہانسا ھو کر بولا گھوڑے کا لن ہے اسکے پاس ابھی تک گانڈ درد کر رھی ھے،(شنکر غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا کمی کاری قسم کا پہلے بھی اسکی دو پھڈوں میں پھنسنے پر میں نے جان چھڑائی تھی) ڈر کے مارے ھاتھ باندھتے بولا۔ سوری، سو سوری ۔۔ یار میں تو اپنے مزے میں مگن تھا مجھے کیا پتا تھا کہ بارانی اتنی جلدی اور پچھلے دروازے سے آجائیں گے۔ لیکن شنکر کے ھاتھ باندھنے پر تو اسکا دماغ اور بھی خراب ھوگیا، دوبارہ اسنے پولیس کی دھمکی دی تو میں نے پھر مجبوراً جیب سے موبائیل نکال کر جب اسے اسکے ننگے وڈیو، فوٹوز دکھائے، کبھی شنکر تو کبھی رموں اسکی گانڈ پر ھاتھ پھیر رھیے ھیں تو موٹے کی ھوا نکل گئی۔ بارانی : اگر یہ بات کسی اور سے کہی یا پولیس کیس بنانے کی کوشش کی تو یہ رنگین فوٹوز چھپواکر کالج کی گیٹ پر Pسوسائٹی میں لگوانا میرا کام ھے۔ زیبی : شرمندہ ھو کر بولا نہی نہی یار استاد آپ تو غصہ ہی کرگئے میں تو ویسے ہی زراسنا رہاتھا اسے، زرابھرم رکھ رھا تھا اس پر۔ زیبی : لیکن میں کیا کروں میری گانڈ میں کبھی اتنا بڑا اور موٹا لن گیا ہی نہی تھا ابھی تک درد ھورہا ھے میں نے اسے پین کلر گولی چائے سے کے ساتھ کھلوائی۔ زیبی :آپ حکمت کا کام بھی جانتے ھو کیا ؟ شنکر : ایسا ویسا، کچھ تجھے اندازہ ھوگیا ھے کہ بارانی کی دوا اندر ۔۔ مریض کا دم باھر۔۔ ھاھھاھھا ھاھاھا ھاھاھا اس مزاحیہ جملے پر ھم سب ہی کھل کھلا کر ہنس پڑے اور کمرے کا ماحول پھر سے خوش گوار ھوگیا۔ زیبی : مجھے درد شاید لمبے لن کی وجہ سے اتنا نہی ھو جتنا کے گانڈ پھٹنے سے ھوا تھا ظالم ھو بڑے تم نے میری گانڈ پھاڑ دی آج۔۔ میں نے تو موٹی گانڈ پر پتلے لنوں کی رگڑائی سے کئی شرطیں جیتی ھیں، کئی لڑکوں کا اندر تک پہنچتا ہی نہی، خاص کر۔ (شنکر کیطرف اشارہ کرتے) بولا : ایسے لڑکوں سے جو موٹی گانڈ کے باھر چوتڑوں کی گرمائش کے مزے میں ہی شرط ھار جاتے ھیں۔ شنکر : میرے استاد بارانی بھی شرط لگا کر چودتے ھیں کئی بڑے گھرانوں کی خواتین ان سے چداتی ہیں شوق سے۔ زیبی :کتنی ٹائمنگ ھے تیرے استاد کی میرے علاقے میں بھی کئی چدکڑ لڑکے لڑکیاں ہیں، مگر سالے لڑکوں نے نشے پتے میں اپنا بر احال کرلیاھے، میں دس منٹ پورے لگاسکتا ھوں۔۔ شنکر :ھاھا بس۔۔ میرے استاد تو چالیس پچاس منٹ تک کی شرط لگاتے ھیں۔۔ اتنے میں باھر گاڑی کے ھارن کی آوازیں آئیں تو زرا سی دیر میں رموں بتانے بھی آگیا میں نے اس باڑے کی سائڈ والا گیٹ کھولنے کا بتاکرشنکر کو نگرانی کا بولا۔ جبکہ اس درمیان زیبی بھی اٹھ کھڑا ھوا تو میں نے اسے ایک دوا کی شیشی دیتے ھوا کہا کہ یہ طاقت کی دوا بھی پی لو۔۔ پھر میں تمھیں کچھ خاص بکرے بھی دکھاتا ھوں جو امیدہے تمھیں پسند آئیں گے۔ زیبی : ھاں اگر پسند آگئے تو لیتے دیتے رھتے ھیں ھم۔۔ ھمممم میں نے بڑی معنی خیز نظروں سے اسے دیکھتے ھوئے کہا جیسے شنکر کی پہلے لی اور پھر اسے دی۔ زیبی : زر اگڑ بڑا کر۔۔۔ ھاھا یار میرا یہ مطلب نہی تھا میں تو کاروبار کی بات کر رھا تھا۔ پھر وہ میرے قریب آ کر بولا ویسے یار مجھے درد اور تیری شکل دیکھ کر حیرت سے چکر ، نا ، نا آتے تو میں یہ تیرا بڑا لن انجوائے ضرور کرتا۔ بارانی : تو جب تیرا کرے آجایا کر ھم تجھے خوش کردیں گے، اس نے ادھر ادھر دیکھتے ھوئے کہا کہ مجھے تیرا نمبردے، پر شنکر نہی ھوگا اس محفل میں۔ زیبی : میں ے بھی اک بدلہ لینا ہے نیا نیا چھورا آیا ھے کالج میں، پہلے کہیں باھر ملک میں رھتے تھے وہ لوگ، بڑے نخرے کرتا ھے اسکی کزن اور سلمان سر عام لڑکیوں کو کالج میں بولتاھے اتنی ٹائمنگ لگاؤں گا۔ اسے گھیرنا ہے کسی دن، بارانی : تو ھمیں دوست بنا لے، تو ھم بھی یاروں ثابت ھوں گے ھاں یار ۔ زیبی : اس بات پر خوش ھوکر اسنے مجھے جپھی ڈالی تو بارانی نے موقع سے فائدہ اٹھاتے اسکے ھونٹوں پر کس کرڈالی، اسی وقت شنکر بھی اسی طرف آرھا تھا، پکارا استاد بڑی بات ھے۔۔ یار یاری پکی ھوگئی ۔ بھر حال جب زیبی نے خصی بکرے دیکھے تو بڑا خوش ھوا کہ آپ نے پہلے کیوں نہی دکھائے یہ والے۔۔ بارانی : انکی اوقات کے حساب سے وہ صحیح تھے یہ انکو پسند بھی آتے تو ہائی ریٹ ھونے کی وجہ سے انہوں نے دو ہی مشکل سے لینے تھے۔ زیبی : باپ کی کال آئی تو اس نے ڈرائیور سے اسی ھزار لینے کا کہ دیا۔ جبکہ اس نے بھی سرپرائز دکھانے کا بول کر کال کاٹ دی اور پھر۔۔ابو کو بکرے دکھانے کے واسطے اس نے اپنی موبائیل سے ان بکروں کے کافی سارے فوٹوز لیئے۔ بارانی : میں نے جاتے جاتے موقع دیکھ کر اس کی گانڈ پر پھیرتے ھوئے کہا کہ میں ابھی تک تشنہ ادھورا ھوں کام مکمل نہی ھوسکا تھا،،،، ھاھاھا اس نے برجستہ کہا کہ لے۔۔۔او ماما۔۔ ساڈی بنڈ پاٹ گئی جے تے توں ھلے وی ۔۔ خلاص نہی سی ھویاں۔۔۔ بارانی : پکارا ۔۔۔شنکر ۔۔۔ اوے شنکر۔۔۔ تو زیبی بولا کہ اسے کیوں لاتے ھو بیچ میں، میں نے کہا کہ یار وہ گواھی دے سکتا میری طرف سے کہ تیرے بے ھوش ھوتے ہی سارا کام چھوڑ دیا تھا۔ بھر حال ابو کو میرا سلام کہنا اور بتا دینا کہ آئندہ سودا کرنے زیبی آئیگا تو سودا کروں گا ورنہ نہی۔۔ میری اس بات پر وہ بڑا خوش ھوا۔۔۔ اور جاتے جاتے کہنے لگا کہ ملتے ہیں آپ سے ایک دو دن میں۔۔ بارانی : ویلکم ویلکم ۔۔۔ بارانی : انکو رخصت کرنے کے بعد جب میں شام کی وکا۔پر نکلنے لگا تو دیکھا کہ گیٹ کے پاس والے کمرے میں رموں نے شنکر کو لٹا رکھا ہے اور گڑوی میں چوب تیزی سے مدھانی چلا رہا ھے، مجھے دیکھ کر رموں نے پھت سے دانتوں کی نمائش کی، جبکہ میں نے صرف مسکرانےپر اکتفاء کرتے وہاں سے چل دیا۔۔۔ بارانی: یہ کوئی رات ایک ڈیڑھ کاٹائم ھوگا جبکہ میں سکون سے سورہا تھا کہ موبائیل فون بجنے لگا پہلے تو میں نے نا اٹھانے کا فیصلہ کیا کہ نیند بڑی اچھی لگ رہی تھی، مگر جب کوئی چوتھی پانچویں بار بھی بیل آئی تو پھر میں نے مجبورا اٹھ کر کال اٹینڈ کر ہی لی تو۔۔۔ تو میری چہیتی حسینہ نوشی کی نشے میں دھت آواز آئی کہ مجھے اور میری پڑوسن ثانی کو ابھی ابھی چدوانا ہے بس ۔۔۔ میں نے کہا کہ ٹائم دیکھو کیا، ھو رھا ھے اور اتنی دور میں ابھی نہی آسکتا، اور یہ کون ہے ۔۔۔۔ ثانی۔ نوشی : یار گلو بٹ قطروالےکی گھر والی ھے، بس ھم ابھی آرہے ہیں، گاڑی میں سمجھے کہ نہی بس بس۔۔۔ نوشی :تو میرا یار ہے نا! کیا یاد کرے گا مجھے، صرف ایک رات کی چدی لڑکی ملے گی تجھے آج بس۔۔ میں زبان اس سے کرچکی ھوں بسس۔ پھر نشے میں دھت لہک لہک کر بولی ۔۔۔ او ماما۔۔ اکھ پٹ لہور آیا۔۔جے۔۔ ۔لہوری کڑی لیکے۔یہےکے ھاھا (باقی آئیندہ)
  46. 5 likes
    شکریہ نومی صاحب۔۔۔ بریانی کے لیئے سامان جمع کیا جارھا ھے۔۔۔ بس زرا چاول گھی بوٹیاں شوٹیاں پیاز ٹماٹروں کی خریداری کے واسطے۔۔ایڈمن صاحب سے ایڈ مل جائے تو۔۔۔ کام شروع۔۔۔ کرسکتے ھیں ھم۔۔۔ بیگانی شادی کے سلسلے میں بھی کئی دعوتوں کا مزید اضافہ ھوچکا ھے۔۔۔ ل ن کی کمائی ۔۔۔ جس۔ جس نے کھائی ان سب کا احوال ۔۔۔ابھی باقی تھا۔ دیکھیں اب جو مرضی سجناں دی۔۔۔
  47. 5 likes
    کیا ایسا ہی کچھ ہونے جارہا ہے کہانی میں؟
  48. 5 likes
    یاسر تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے۔ پرانے دوست چھوڑ گئے،نئے بن رہے ہیں۔ یہ رابطہ تو صغیر کی بدولت قائم ہوا۔ فیضان وہاں ہو گا اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا۔شمائلہ سے مدد کا وعدہ کیا مگر اپنی مدد پہلے کے تحت اسے دوسرے شہر فرار ہونا پڑا۔اسے تو بس ایک سیکس کی دعوت ملی اس نے قبول کر لی۔ اس نے کبھی ملتی کو نہ نہیں کی۔ اب وہ ان کے ساتھ مل کر ان کے رنگ میں رنگتا ہے یا رنگ میں بھنگ ڈالتا ہے یہ وقت بتائے گا۔ فیضان،مراد،چوہدری اسد اکری سب کا کوئی نہ کوئی لنک ہے۔ یہ سب تب سے طے ہے جب سے میں نے لکھنا شروع کیا تھا۔
  49. 5 likes
    جی جناب میں پردیس بی پڑھ رہا ہوں اس کا تو لیول ہی اور ہے ڑاکٹر صاب میں آپ کا بہت بڑا فین ہوں سر آپ نے اس نا چیز کے میسج کا جواب دیا میرے لئے یہ اعزاز کی بات ہے سر میں ایک خاموش ریڈر ہوں یہ تو میں آپ کی محبت میں سامنے ایا ہوں سر اللہ پاک آپ کو ہمیشہ خوش رکھیں ڈاکٹر صاب آخری بات یہ جو کہانی لمبی کرنے والی بات ہے میں نے مذاق میں کی تھی اگر کسی کا بھی دل دوکھا ہے تو دل سے معذرت آپ کے لیے دواگو شیخ صاحب
  50. 5 likes
    آپ سب دوستوں کو گزشتہ عید مبارک امید کرتی ہوں کہ آپ سب کی عید خوشیوں بھری گزری ہو گئی اور اپنوں کے ساتھ مل کر خوب موج مستی بھی کی ہو گی شائد ان لمحوں میں اپنی شازی کو بھی شائد بھول بیٹھے ہوں اسی لیے آپ سب کے لیے ایک بہت لمبی اپڈیٹ لے کر آئی ہوں پسند آئے تو رائے ضرور دیجیئے گا بہت شکریہ
×
×
  • Create New...