Jump to content
URDU FUN CLUB
Last Chance ! Private Cloud Activation Last Date 15-11-2020 After Last Date Not include Previous Purchase in your Private Cloud

Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 10/25/2020 in all areas

  1. 11 likes
    کہانی لکھنا ایک مشکل کام ہے اور میں پچھلا پورا ہفتہ ڈسٹرب رہا، مجھے گھر بدلنا پڑا۔ اس سے قبل مجھے ملک بدلنا پڑا جس کا علم صرف جناب ایڈمن کو تھا۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ مجھے دوسرے ملک میں سیٹل کرنے میں ایڈمن کا بھی بڑا اہم کردار ہے۔ ان معاملات کی وجہ سے کام میں تعطل آیا ہے، بہرحال اب میں یورپ میں موجود ہوں اور سیٹل ہوں۔ کام کا یہاں کا روٹین پاکستان سے ٹف ہے مگر ہم کسی سے ڈرنے والے نہیں اور کام مکمل کرنے والے ہیں۔ ہوس کی آخری اپڈیٹ کچھ ہی دن دور ہے اور ہوس مکمل ہوجائے گی۔ اس کے بعد ہم پردیس اور کھپرو کی ملکہ کے ساتھ ساتھ نیا سلسلہ شروع کریں گے۔ بس دعاگو رہیے۔ اس کہانی میں آگے آنے والے موڑ بڑے ہی سنسنی خیز اور پرلطف ہیں۔ روحی اور اکری کی بہن کے ساتھ ساتھ نئے سے نئے معاملات سامنے آئیں گے۔ مگر یہ پہلی ترجیع نہیں، ہمارے مستقل سلسلے پہلی ترجیع ہوں گے۔
  2. 11 likes
    سب سے پہلی بات تو جناب یہ ہے کہ کہانی ہم نے فری شروع کی تھی اور یہ فری ہی رہے گی۔ ہم اس سے پیسہ نہیں کمانا چاہتے بس ہم فورم کی رونق چاہتے ہیں۔ مگر اگر کوئی اس کو چرا کر دوسری جگہوں پر اپنے نام سے لگائے یا پیسہ لے کر دوسرے گروپوں میں شئیر کرے تو ہمیں کیا فائدہ ہوا۔ ان سب کے باوجود ہم زبان کے پکے ہیں کہ اس کو مکمل کریں گے مگر اپنے سلسلے پہلی ترجیح ہوں گے۔ آپ یقین نہیں کریں گے کہ روز کام سے وقت نکال کر لکھنا اتنا مشکل ہے کہ دانتوں تلے پسینہ آ جاتا ہے۔ یورپ کی زندگی ویسے بھی ٹف ہے۔ یہ سب ہم سے جب چوری ہوتا ہے تو دل بڑا برا ہو جاتا ہے۔ لکھنے سے زیادہ توانائی چوری بچانے میں لگتی ہو تو بندہ توجہ کام پہ کیسے مرکوز کرے۔
  3. 9 likes
    اس کا انتظام جناب ایڈمن نے کر دیا ہے اور ایک دوست کو یہ کام سونپ دیا ہے۔ ان سے ایک فیس بھی طے ہو گئی ہے اور وہ کہانی ٹائپ کیا کریں گے۔ مگر مسلئہ املا کی غلطیوں کا اکثروبیشتر آتا ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ میں مکالمے الگ لکھنے کا عادی ہوں اور جملے کی سطریں اور دیگر اہم چیزوں کا بھی خیال کرتا ہوں۔مثال کے طور پہ ایسا لکھنا ہو کہ اس نے کہا میری تمہاری ہوں اور تم میرے۔ میں بولا کہ میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ میں بھی تم سے محبت کرتا ہوں۔یہ کہہ کر وہ چلی گئی اور میں نے اس کو کہا کہ تم پریشان نہ ہونا۔ وہ بولی اچھا ٹھیک ہے۔ میں اس کا ایسا لکھتا ہوں۔ اس نے کہا: میں تمہاری ہوں۔ میں بولا؛میں اعتراف کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ چلی گئی اور میں نے کہا: تم پریشان نہ ہونا۔ وہ بولی:اچھا ٹھیک ہے۔ دونوں میں تھوڑا سا بنیادی فرق ہے۔یہ جیسے جیسے وہ دوست سمجھتے جائیں گے مسلئہ حل ہوتا جائے گا۔
  4. 5 likes
    میں بھی کچھ کہتا ہوں برا نہ منانا ... بھئی بہت خوب اپنے ساتھ ہم سب کو چیمپئن مفتا خور کا تاج تو پہنا ہی دیا پر سونے پے سہاگہ کہ حرام خوری کی دستار بھی؟ یعنی مفت ویب سائٹ پر مفت کہانی کافی نہیں اب ہر نکما اس کو اپنی مشہوری کے لئے بھی دینا داس استعمال کرے؟ انٹرٹینمنٹ مقصد یہاں پورا نہیں ہوتا؟ کچھ لوگ ایسے لوگوں کا دفاع اس لئے کرتے ہیں کیونکہ اس میں انکا اپنا فائدہ اور مفتا ہوتا ہے ظاہری بات ہے اردو فن کلب وہاٹسپپ پر تو ہے نہیں تو وہاں پر بھی کچھ فری چنیل ہو - آپ بھی ان میں سے تو نہیں؟ پوچھ اس لئے رہا ہوں کہ آپکو ناحق ایسے چوروں کا دفاع کرنے کی کیا ضرورت پیش آگئی؟ اس سے پہلے تو آپکی پوسٹیں صفر ہیں - یعنی کھڑے ہوئے بھی تو کن کے لئے آواز اٹھائی - واہ بھئی! جو حقیقی محنت کر رہے - وقت اور پیسا لگا رہے ہیں ہیں وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ **** کی راہ میں تو نہیں نہ ہی مجبوروں کی مدد تحت؟ جب پورن پر عوام کی یہ حالت ہے تو کیا عجب ملک کی حالت خراب کیوں ہے ... ہم تو مفت کی مٹھ بھی کسی کا نقصان کرکے ہی مارتے ہیں ایںویں میں نہیں ہاہاہاہا
  5. 4 likes
    Update 001 ہیلو دوستو یہ کہانی میری اپنی کہانی ہے بچپن سے لے کر جوانی تک میں نے جو بھی تجربات کیے ان سب کو ایک کہانی میں سمیٹنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اس کہانی میں جو بھی واقعات ہونگے و سب کچھ مرچ مصالحے کے ساتھ ہیں لیکن ہیں سب سچے۔ اس کہانی میں کرداروں کے نام غلط ہونگے کیونکہ میں نہیں چاہتا اگر کوئی میرا جاننے والا اس کہانی کو پڑھ لیے تو مجھے پہچان جائے۔ سب سے پہلے تو آپ مجھ سے مل لیں۔ میرا نام وقاص ہے۔ شکل سے خوبصورت اور قد کاٹھ درمیانہ ہے۔ میں کراچی کا رہائشی ہوں۔ آگے چل کر کہانی کے دوسرے کرداروں کے بارے میں بھی بتاؤنگا۔ یہ کہانی اس وقت شروع ہوتی ہے جب میں دس سال کا تھا۔ سیکس کے بارے میں مجھے اسکول میں بہت چھوٹی عمر سے ہی پتہ چل گیا تھا۔ وجہ میرے چند دوست تھے۔ ہر انسان کی طرح مجھے بھی سیکس میں بہت دلچسپی تھی۔ اس وقت چائنا کے فونز نہیں آئے تھے۔ تو اگر کسی کو بلیو فلم دیکھنی ہو تو dvd یا cd پلیئر پر دیکھنا پڑتا تھا۔ اور ایسا موقع تبھی ہاتھ لگتا تھا جب گھر میں کوئی نہ ہو۔ میںنے اَپنی زندگی کی بلیو فلم اس وقت دیکھی تھی جب میرے لن سے منی بھی نہیں آتی تھی۔ خیر زندگی اسی طرح گزرتی گئی اور میں نے اپنی جوانی میں قدم رکھا۔ ہماری گلی میں ایک آنٹی ہوا کرتی تھیں۔ جن کا نام کنول تھا ۔ کنول آنٹی ویسے تو شادی شدہ اور بچوں والی عورت تھیں۔لیکن خوبصوتی میں اُن کے آگے جوان لڑکی بھی پھیکی پر جائے۔ آنٹی کا جسم بلکل کسی جوان لڑکی کی طرح کا تھا۔کوئی بھی انکو دیکھے تو دھوکہ کہا جائے کہ یہ عورت شادی شدہ ہے۔ کنول آنٹی کے تین بچے تھے اور تینوں بیٹیاں۔ آنٹی کے شوہر فیکٹری میں ملازم تھے۔ کنول آنٹی کے بہنوئی رحمت بھی ہماری ہی گلی میں رہتے تھے کرائے کے گھر میں۔ آنٹی کا ہمارے گھر اور ہمارا آنٹی کے گھر آنا جانا لگا رہتا تھا۔ مجھے آنٹی اتنی اچھی لگتی تھیں کے میں اپنے گھر سے زیادہ وقت اُن کے گھر میں گزارتا تھا۔ آنٹی بھی مُجھسے بہت پیار کرتی تھیں۔میں آنٹی کے گھر کے چھوٹے موٹے کام جیسے بازار سے سامان لے انا۔ٹینکی کی صفائی کر دینا وغیرہ کر دیا کرتا تھا۔ آنٹی k بہنوئی بھی اپنے بیوی بچوں کو گھر میں چھوڑ کر اکثر آنٹی کے گھر ہے ہوتے تھے۔ کبھی لڈو تو کبھی شطرنج کھیلتے رہتے تھے۔ میں جب جاتا تو میں بھی کھیل میں شامل ہو جاتا۔ رحمت انکل کو میں رحمت بھائی کہتا تھا حالانکہ ہماری عمروں میں اچھا خاصا فرق تھا۔وجہ یہ تھی k رحمت انکل بہت فرینک تھے کسی بھی بات کا بڑا نہیں مانتے تھے اور سیکس کے حوالے سے بھی بات چیت کرتے تھے۔ مجھے آنٹی بہت پسند تھیں اور میں انہیں چودنا چاہتا تھا۔ لیکن ڈر بھی لگتا تھا کہ اگر آنٹی برا مان گئیں اور میرے گھر میں بتا دیا تو میرے ابو مجھے جان سے مار دینگے۔ ایک دن آنٹی کی چھوٹی بیٹی کے ساتھ کھیل رہا تھا اور اسے گُدگُدی کر رہا تھا کہ وہ بھاگ کر آنٹی کے پاس چھپ گئی میں بھی بھاگ کے آنٹی کے پاس گیا اور اس کی پکڑنے لگا کے میرے ذہن میں ایک آئیڈیا آیا اور میں نے جان بوجھ کے آنٹی کی بیٹی کے ہاتھ کے بجائے اونٹنی کا دایاں تھن پکڑ لیا اور زور سے دبا کے چھوڑ دیا۔ اور ایسا بن گیا کے یہ غلطی سے ہوا ہے۔ آنٹی نے مجھے گھور کر دیکھا تو میں نے نظریں نیچے کر لیں۔ اور پھر گھر آ گیا۔ ایک دن میں اسکول سے آ کے اپنے معمول k مطابق آنٹی کے گھر پہنچا اور دروازے پر دستک دی تو میں عادت کے مطابق دروازے کی جھرری سے اندر جھانکنے لگا۔اور مجھے یہ دیکھ کر ایک جھٹکا سا لگا کے رحمت اُنکل اپنی شلوار کا ناڑا باندھتے ہوئے دروازہ کھولنے کا رہے تھے۔ پھر انکل نے دروازہ کھولا اور میں اندر گیا تو گھر میں انکل اور آنٹی کے علاوہ کوئی نہیں تھا یعنی آنٹی کی بیٹیاں کہیں گئی ہوئی تھیں۔اب میں اتنا بچہ بھی نہیں تھا جو یہ نہ سمجھ سکوں کہ میرے آنے سے پہلے یہاں کیا چل رہا تھا۔ خیر میں نے یہ بات اپنے تک ہی رکھی اور انکل اور آنٹی پر کچھ بھی ظاہر نہیں ہونے دیا۔ کچھ دیں ایسے ہی گذرے اور رحمت انکل نے اپنا گھر تبدیل کر لیا اور ہمارے علاقے سے دور چلے گئے۔ انکل کو گئے ابھی دو ہی دن ہوئے تھے کے میں اسی طرح آنٹی کے گھر میں بیٹھا آنٹی کے ساتھ لڈو کھیل رہا تھا۔آنٹی کی بیٹیاں میرے گھر پر تھیں۔ میں: آنٹی ایک بات کہوں؟ آنٹی: ہاں بول میں: رہنے دیں آپ برا ماں جائینگی آنٹی: ارے آج تک تیری کسی بات کا برا مانا ہے میں نے؟ میں: آنٹی آپ رحمت انکل کے ساتھ اکیلے میں کیا کرتی تھیں؟ آنٹی کے چہرے کا رنگ اچانک سے اُڈ گیا۔ آنٹی:کیا مطلب؟ میں: مُجھے سب پتہ ہے آنٹی،آپ فکر نہ کریں میں یہ بات کسی کو نہیں بتاؤنگا۔ آنٹی کچھ دیر کے لیے چپ ہو گئیں۔ آنٹی: وعدہ کر کے کسی کو نہیں بتائیگا۔ میں: پکہ وعدہ آنٹی۔ آنٹی نے میرے گال پر ایک کس کی۔ آنٹی: لیکن تُجھے پتہ کیسے چلا؟ میں نے آنٹی کو چند دیں پہلے کی ساری بات بتا دی۔ آنٹی: یار یہ رحمت بھی چُوتیہ ہے ایک نمبر کا۔ میں: آنٹی ایک اور بات پوچھوں؟ انٹی: ہاں وہ بھی پوچھ لے۔ میں: اونٹنی آپ نے ایسا کام کیوں کیا؟ آنٹی: تُجھے تو پتہ ہے تیرے انکل کا صبح سویرے كام پر جاتے ہے تو رات کو دیر سے آتے ہیں۔ اور تھکن کی وجہ سے آتے ہی سو جاتے ہیں۔ میں: تو آنٹی اب آپ کیا کرینگی؟ اب تو رحمت انکل بھی چلے گئے۔ آنٹی: کرینگے کچھ یہ ایسے ہی رہ لینگے۔ میرا دل کر رہا تھا کہ کاش آنٹی مجھے کہہ دیں کہ اب سے تو مجھے چود لیا کرنا۔لیکن آنٹی نے ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
  6. 4 likes
    ان تمام باتوں کے باوجود ہمارے پاس اس چوری کو روکنے کا بھی حل موجود ہے پرائیوئٹ کلاؤڈ میں ہم نے اسے ہی استعمال کیا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ کلاؤڈ میں چوری اب بھی ہو گی کیونکہ کچھ لوگ یہ تجربہ کرنا چاہیں گے۔ اور میری شدید خواہش ہے کہ کلاؤڈ میں چوری ہو ۔ تاکہ مجھے اس ممبر کے اکاؤنٹ کو بین کرنے کا موقعہ مل سکے ۔ پھر جب ممبر بین ہونے کے بعد نئی آئی ڈی سے نئی اپڈیٹ پڑھنے کے لیئے سابقہ تمام خریداری دوبارہ اپنے اکاؤنٹ میں خرید کر ایڈ کرے گا۔ وہی اس کی سزا ہو گی۔ کیونکہ اپڈیٹ حاصل کرنے کے لیئے سابقہ اقساط کی مکمل سیئریل کو دوبارہ سے خرید کرنا آسان کام نہیں ہو گا۔یہ سیکیورٹی ہم فری سیکشن میں استعمال نہیں کرنا چاہتے کیونکہ اس سے ہمارا ورک لوڈ بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔ اور ایک فری کی سٹوری کے لیئے ہم لکھنے کی محنت کے ساتھ ساتھ مزید ورک کیوں کریں۔ ؟ شاید اسی لیئے اسے ہم نے پرائیوٹ کلاؤڈ میں شامل کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ اسے ایسے ہی پوسٹ کیا جاتا رہے گا۔چوری ہوتی ہے تو ہوتی رہے ۔ البتہ اب سے ہماری توجہ اس کہانی کو بہت کم ملے گی اور اس کی اپڈیٹ بھی ہم تب دیں گے جب ہمارے پاس اضافی ٹائم میسر ہو گا۔
  7. 4 likes
  8. 3 likes
  9. 3 likes
    میرا نام صبا تاڑرڑ ہے میرا تعلق حافظ آباد کے ایک گاؤں سے ہے میرے والد صاحب ایک بنک منیجر ہیں والدہ ہاوس واہف ہیے بھائی مجھ سے بڑا ہے وہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں فنانس کے شعبے میں منجیر ہے کہانی اس وقت شروع ہوئی جب میری عمر 17 سال تھی اور میرا ایڈمیشن گورنمنٹ کالج آف کامرس گوجرانوالہ میں ہوا جو کہ گوجرانوالہ ڈویژن میں کامرس کی تعلیم کا سب سے بڑا اور پرانا ادارہ ہے وہ ستمبر 2013 کا دن تھا جب میں پہلے دن کالج میں داخل ہوئی میرا داخلہ میرے تایا ابو نے کروایا تھا وہ اس کالج کے سینیر پروفیسر تھے تایا ابو مجھے میری کلاس میں چھوڑ کر آئیے کلاس میں تقریباً 30 سے 35 لڑکیاں تھیں میں بھی جا کر ان کے ساتھ بٹھ گی اور ایک لڑکی میری طرف ہاتھ بڑھایا میرا نام نمرہ اور آپکا میں جھجک تے ہوئے کہا صبا اس نے ساتھ والی لڑکی سے تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ یہ صدف اتنے میں ایک پروفیسر کلاس میں داخل ہوئے اور اپنا تعارف پروفیسر قادر کے نام سے کروایا اور کلاس کو اپنا تعارف کروانے کا کہا تمام لڑکیوں نے اپنا نام اور میٹرک کے کے نمبر بتائے اس کے بعد پروفیسر صاحب بولے کہ اب آپ لوگ باتیں کریں اور کل آپ لوگ 9 بجے آہیں کیونکہ کل آپکی سنیر نے آپ کے لیے ویلکم پارٹی کا انتظام کیا گیا سو انجو یور سلف سارا دن ایسے ہی باتوں میں گذر گیا چھٹی کے بعد تایا ابو کے ساتھ ان کے گھر ہی چلی گئی تایا ابو گوجرانوالہ میں ہی رہتے تھے سیالکوٹ روڈجناح سٹیڈیم کے پاس اگلے دن میں تایا ابو کے ساتھ ہی کالج گی تقریباً 9.30 بجے ہم کار سے اتر ے ہی تھے کہ پروفیسر قادر کی کار بھی آ رکی تایا جی مصافحہ کیا پھر جی نے کہا کہ ڈپٹی آگیا کہ نہیں؟ نہیں وہ پرسوں تک آے گا شاید خیر ہم حال کی طرف چل پڑے تقریب 9بجے شروع ہوی اور 12 بجے تک ختم ہوی اس کے بعد ہمیں بتایا گیا کہ آپکو کون کون سے پروفیسر لیکچر لیں گے اور ہم گھر آ گے اگلے دن کالج گی تو پہلا لیکچر خالی ہی گذر گیا دوسرے لیکچر میں پروفیسر قادر آیے اور بزنس انفارمیشن ٹیکنالوجی کا لکچر ہوا تیسرا پھر خالی گزر گیا چوتھے انگلش کا پانچواں اردو کا چھٹا پھر خالی گزر گیا دوسرے دن پھر وہی شیڈول چھٹی کے وقت جب میں باہر آیی تو تایا ابو ایک لڑکے ساتھ کھڑے تھے وہ ہنڈا 125 پر بٹھا تھا ہیلمیٹ پہنا ہوا تھا شلوار قمیض میں ملبوس تایا ابو نے کہا کہ کل آو گے تو اس نے کہا جی ضرور پھر تایا جی نے میری طرف اشارہ کیا کہ یہ میری بھتیجی ہے اسے میرے گھر چھوڑ دینا میں نے ایوننگ سیکشن کے 2 لکچرر لینے ہے میں نے حیرت سے تایا جی کی طرف دیکھا تو انہوں نے کہا کہ کوئی بات نہیں یہ میرا شاگرد ہے میں ڈرتی ہوئے اس کے ساتھ بیٹھ گی اس نے بایک سٹارٹ کی اور ہم چل دیئے 25 منٹ کے خاموش سفر کے بعد ہم گھر پہنچ گئے میں بایک سے اتر کر شکریہ کہا اور اس کا نام پوچھا اس نے کہا کہ نام پوچھ کر آپ نے کیا کرنا ہے میں نے جواب دیا کہ اگر آنٹی نے پوچھا کہ کس کے ساتھ آی ہو تو کیا جواب دوں آپ آنٹی کو بتا دینا کہ ڈپٹی تھا میں اندر گی تو آنٹی نے تایا ابو کا پوچھا تو میں کہہ کے دو لکچر لینے کے بعد آہیں گے تو تم کس کے ساتھ آی ہو آنٹی نے پوچھا تایا ابو کا کوئی شاگرد تھا ڈپٹی نام کا اس کے ساتھ آی ہوں باہر دیکھو اگر وہ یہی ہے تو اس کو اندر بلاو جلدی میں نے گیٹ کھول کر باہر دیکھا تو وہ جا چکا تھا میں نے آ کر بتایا کہ وہ جا چکا ہے تو آنٹی نے فوراً فون کا ریسیور اٹھایا اور کوئی نمبر ڈائل کیا لیکن مطلوبہ نمبر بند جا رہا تھا آنٹی نے فون رکھا اور مجھے کہا کہ تم یونیفارم تبدیل کرو میں تمہارے لیے کھانا لگاتی ہوں میں نے کھانا کھایا اور کچھ دیر آرام کیا جب اٹھی اور باہر آی سامنے ایک لڑکی تایا ابو کے پاس بیٹھی باتیں کر رہی تھی جب میں ان کے پاس سے گزری تو تایا ابو نے کہا کہ سدرہ اس نے بھی ڈی کام شارٹ ہینڈ میں ایڈمیشن لیا ہے سدرہ نے مسکرا کر کہا کہ اس کا مطلب کہ پروفیسر ارباز کا عذاب بھی ان پر نازل ہوا کہ نہیں اس دفعہ تایا جی مسکرا کر کہا کہ کل پہلا لکچرر ہے اسکا ان کے ساتھ میں کچن میں گیی پانی پیا اور کچھ دیر بعد باہر نکل آئ تایا جی نے مجھ کہا کہ جاو سدرہ کو دروازے تک چھوڑ او میں اسکے ساتھ چل دی اور اس سے پوچھا کہ یہ ارباز کس بلا کا نام ہے سدرہ :ٹھنڈی آہ بھر کر یار وہ دلوں کی دھڑکن ہے اس دیکھ کر دل ڈھڑکنا بھول جاتا تم دیکھو گی تو سمجھ جاو گی خیر یہ بلا بھی ہماری وجہ سے آپ کے گلے پڑی ہے یار ابھی وقت نہیں ہے کل مل کر بتاو گی یہ کہہ کر وہ چلی گئی رات کے کھانے پر آنٹی نے تایا ابو سے کہا کہ دیکھ لیں آج آپکا ڈپٹی دروازے سے واپس چلا گیا ہے اندر نہیں آیا تایا ابو ارے بھی پہلے تو وہ آدمبرج وذیرستان سے 15 گھنٹے کا سفر طے کر کے آیا تھا دوسرا اس نے یونیورسٹی جانا تھا اس لیے اسکو جلدی تھی کل لازمی آے گا آنٹی وہاں خیریت سے گیا تھا اسکا ماموں ذاد اپنے قبلے کا سردار بنا ہے اسکی تقریب تاج پوشی گیا تھا 5 دن کے لیے کل لازمی آے گا اب کھنا کھاو اگلے دن جب پہلا لکچر شروع ہوا تقریباً 3 منٹ کے بعد ایک 20سالہ نوجوان کمرے میں داخل ہو آسمانی کلر کی کاٹن کی شلوار قمیض سیاہ شوز 5فٹ8انچ قد سرخ سفید رنگ سنہری آنکھیں چوڑا سینہ لمبی ناک کالے سیاہ بال چھوٹے چھوٹے ایک طرف کنگھی کیے ہوے ایک مردانہ وجاہت کا مکمّل عکس اسے دیکھتے ہی دل کی ڈھڑکن بے قابو ہو کر رہ گئی آنکھیں جھپکنے ہی بھول گئے اسے دیکھنے میں اس قدر محو ہوے کہ بیٹھنا ہی بھول گئ سب لڑکیاں اس نے اپنے سامنے رکھا ہوا ڈیسک بجا کر تمام لڑکیوں کو ہوش میں واپس لایا اور مجھ کمبخت سدرہ کی بات یاد آئی سچ کہہ تھا کمینی نے اس نے لب کھولے اور کہا کہ میرا آپکے 3 لیکچر ہوں گے پہلا فنانشل اکاونیٹینگ تیسرا انگلش شارٹ ہینڈ اورچھٹا جو پہلے 3 دن ہو گا اصول تجارت کا میرا نام سردار محمد ارباز اسلم ڈوگر ہے اور میں نے اپنا ڈی کام اسی کالج سے مکمل کیا ہے اور آپ لوگوں کے ساتھ تعارف وقت کے ساتھ ساتھ ہوتا رے گا صدف سلیم کون آپ میں سے صدف کھڑی ہوی ادھر آو یس سر صدفکو ایک چابی دی اور کچھ کہا صدف کمرے سے باہر نکل گئی آپ لوگ اپنی اپنی بکس اوررجسٹر نکالو اور لکچرر شروع ہو گیا لکچرر کس کمبخت کو سمجھ آنا تھا اسے دیکھ دیکھ کر دل کی حالت عجیب سی ہو رہی تھی اسی دوران صدف دوبارہ کلاس میں داخل ہوئ چابی اور بکس پروفیسر کو دی پروفیسر نے چابی پکڑی اور جانے کا اشارہ کیا صدف صدف نے پوچھا کہ سر یہ بکس کس کو دینی ہیں (Ab poofesure ko us k nam sa pukra jay ga) ارباز یہ آپکی ہیں آپکے پاپا نے منگوائی تھی مجھ سے (sadaf ka bap saleem college ma principle ka peon tha ya books Arbaz na apni jaib sa khareed kar di thi joo ka uski car ma pari thi our zahir ya kia tha ka us ka bap na la kar di haa) صدف اوکے سر تقریباً 20 منٹ بعد لکچر ختم ہو گیا ارباز باہر نکل گیا تمام لڑکیاں ایک دوسرے سے ارباز کی پرسنیلٹی کی تعریفوں کے پل باندھ لگی خیر دوسرا لکچر ختم ہواپھر ارباز کا لکچرر شروع ہو گیا شارٹ ہینڈ پھر وہی حالت اس سے قبل مجھے عشق پیار محبت کے ناموں نفرت تھی میرے خیال میں یہ عشق پیار محبت نکاح کے بعد مرد عورت کے درمیان پیدا ہوتا ہے لیکن یہ کیا میں خود بار بار اس کو دیکھنا چاہتی ہوں کوئی اور اسے کیوں دیکھے جب کوئی لڑکی یوں پیار بھری نظروں سے اسے دیکھتی میرا دل کرتا ان کی آنکھیں نکال دوں خیر ایسا سوچ سکتی تھی کر کچھ نہیں سکتی تھی خیر چھٹا لکچرر بھی اسی سوچ میں گزر گیا چھٹی ہوئی تو میں تایا ابو کے پاس گئی اور بولی کہ چلیں تایا جی نے کہا کہ تمہیں بتایا تو تھا کہ میرے ایوننگ میں 2 لکچرر ہیں تو تم ڈپٹی کے ساتھ چلی جاو وہ باہر پارکنگ میں تمہارا انتظار کر رہا ہو گا اور سنو وہ آج بایک پر نہیں کار میں آیا ہے وہ گیٹ کے قریب ہی کھڑا ہے کالی ٹویوٹا ایکس ایل آی ہے 10 ماڈل جاو میں جیسے ہی بلاک سے باہر نکل تو مجھے گیٹ کے سامنے کار کھڑی دیکھ گی جیسے ہی میں کار کے نزدیک گی کار کا اگلا دروازہ کھلا میں نے اندر دیکھا تو سامنے ارباز ڈرائیونگ سیٹ پر موجود تھا میں دل میں دعا کی کہ کاش یہ ڈپٹی ہی ہو سر ڈپٹی آپ ہی ہو جی میں ہی ڈپٹی ہوں بیٹھے آپ کو گھر چھوڑ دوں میرے لبوں پر ایک مسکراہٹ آگی اور گاڑی میں بیٹھ گی دروازا بند کیا ارباز نے گاڑی آگے بڑھا دی اور ایم پی تھری آن کر دیا جہاں نواز بلوچ کی آواز میں ایک غزل شروع ہوئی مجھے تم سے کوئی گلہ نہیں کہ میں کہ یاد تم کو نہ آسکامگر اتنی بات بھی ضرور ہے کہ تمہیں نہ دل سے بھلا سکا یہ غزل بار بار سنتے ہم20 منٹ میں گھر پہنچ گئے کار سے باہر نکلنے سے پہلے میں نے کہا کہ آج آپکو اندر آنا پڑے گا کل بھی آنٹی خفا ہوی تھی اگر آپ نہ بھی دعوت دیتی تو میں نے پھر بھی جانا تھا کیونکہ کل رات میری اچھی طرح کلاس لی ہے آنٹی نے فون پر اور ویسے بھی آج انہوں نے میری فیورٹ ڈش مٹر قیمہ بنیا ہے یہ کہہ کر گاڑی سے اتر کر باہر آیا اور اندر چلا گیا آنٹی نے اسکا حال احوالِ پوچھا پھر کہا کہ تم دونوں ہاتھ منہ دھو لو میں کھانا لگاتی ہوں ہم نے ہاتھ منہ دھویا اور کھانے کی میز پر بٹھ گے اور کھانا شروع کر دیا کھانے کے دوران آنٹی نے ارباز سے پوچھا کہ وزیرستان خیریت سے گے تھے جی آنٹی وہ ماموں یوسف خٹک اپنے قبیلے کی سردار کے عہدے سے سبکدوش ہونے اور ان کے بڑے بیٹے تبریز خٹک قبیلے کا نیا سردار بنے کی خوشی میں وہاں ایک چھوٹا سا جشن تھا تو اپنے سردار بھائی کو تم نے کیا تحفہ دیا ہے ایک بریٹا 9 ایم ایم پستول اورایک ٹویوٹا کمپنی کا فور بای فور ڈالہ ھای لیکس دیا شادی ہو گئی تمھارے اس بھائی کی اگلے سال ہے تم کہو تو میں تمہارے لیے ایک خوبصورت اور دلکش لڑکی ڈھونڈوں وہ تمھارا بہت خیال رکھے گی ارباز کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور اپنا رونا صبظ کرتے ہوئے آنٹی جی جو میری دنیا تھی مجھ سے محبت کرنے والی میرا خیال رکھنے والی میری خاطر اپنے سب سے لڑنےوالی جب وہ چھوڑ چکی ہے مجھے تو اب اس دل میں کسی کو بسانا ناممکن سا ہو گیا ہے آنٹی نے ارباز کو اپنے کندھے سے لگاتے ہوئے کہا چپ کر جاو اب میرا بیٹا رونا نہیں جانے والوں کے ساتھ جایا نہیں جاتا وہ اپنی مرضی سے نہیں گی بلکہ وہ قدرت کے قانون کے آگے مجبور تھی اسی بات کی وجہ سے صبر کر رہا ہوں اگر خودکشی حرام نہ ہوتی تو کب کا کر چکا ہوتا اس سے ملنے کے لیے یہ بات کہہ کر وہ نم آنکھوں سے اٹھا اور چلا گیا میں نے بعد میں آنٹی سے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے تو آنٹی نے کہا کہ بہت خوش نصیب بھی ہے اور بہت بدنصیب بھی اسکے پیدا ہونے سے 5 ماہ قبل اسکا چچا فوت ہو گیا جسکی 3 ماہ قبل شادی ہوئی تھی پیدا ہوا منہ میں سونے کا چمچ لے کر باپ کی 750 ایکڑ زرعی اراضی ایک فلور ملز ایک راہس ملز5دوکانیں سیٹلائٹ ٹاؤن مارکیٹ میں اور 12 دال بازر میں اور گاوں میں ایک 4 کنال کی شاندار حویلی کا مالک تھا لیکن 2 ہفتے بعد اس کی ماں سلمی فوت ہو گی جو کہ آپ کے پروفیسر قادر کی اکلوتی بہن تھی بعد میں اسکی چاچی گل بدن جو بیوہ ہو گی تھی نے اس کو اپنی گود میں لے لیا وہ اپنی شوہر کی وفات کے بعد بہت اداس رہنے لگی تھی لیکن یہ اسکے لیے کھلونا بن گیا چچی بھتیجے کہ یہ پیار دکھ کر قادر نے اسلم کو گل بدن شادی کا کہا ادھر یوسف نے گلبدن کو اسلم سے شادی کرنے کا کہہ پہلے دونوں نہیں مانے لیکن بعد میں دونوں ہی مان گئے جب 6 سال کا ہوا تو اس نے شازیہ پروفیسر قادر کی بیوی سے اسکی اکلوتی بیٹی ماہرہ کا ہاتھ مانگ لیا خود سب کے سامنے سبھی مسکرا دیے شازیہ نے آگے بڑھ کر اسے پکڑا اور اپنی گود میں بٹھا کر پوچھا کہ تم ماہرہ سے شادی کیوں کرنا چاہتے ہو کیونکہ وہ آپکی طرح بڑی ہو کر بہت خوبصورت ہو گی شازیہ نے اسے پیار سے چوم کر اپنے گلے لگا لیا اور کہا کہ میں اپنی بیٹی کی شادی اپنے اس پیارے سے بھانجے کے ساتھ کروں گی گلبدن نے دیکھتے ہوئے قادر سے اسکی بیٹی کا ہاتھ مانگا اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے قادر اپنی اکلوتی بہن کی اکلوتی اولاد کو کیسے انکار کر سکتا تھا گل باجی میں اپنی اکلوتی بہن کی اکلوتی نشانی کو خود سے کیسے دور رکھ سکتا ہوں مجھے یہ رشتہ منظور ہے اسکے تقریباً 7 ماہ بعد ایک کار حادثے میں اسکے ماں اور باپ دونوں فوت ہو گئے اسکے بعد وہ ایک ہفتہ گاوں میں رہا پھر قادر اسے اپنے پاس شہر لے آیا لیکن یہاں آنے کے بعد یہ بیمار ہو گیا اسکے بیمار ہونے کے 3دن بعد ماہرہ بھی بیمار ہونا شروع ہوگئی دو ماہ کی کوششوں کے بعد دونوں تندرست ہونا شروع ہوے دونوں نے ایک ساتھ سکول شروع کیا اور ایک ہی سکول میں داخلہ لیا پر اہمری تک ایک ساتھ پڑھے بعد میں ارباز اپنے گاوں چلا گیا جہاں اس کے باپ کے دوست صابر نے تمام رشتہ داروں اور گاوں والوں کے سامنے اسکے سر پر اسکے باپ کی پگڑی رکھی اسکے بعد اس نے گاوں میں رہ کر اپنی تعلیم میڑک تک مکمل کی اور گاوں کے معاملات دیکھے اسکے بعد قادر کے چھوٹے بھائی ناصر کے کہنے پر دوبارہ شہر آگیا اور کامرس کالج میں قادر کے پاس داخلہ لے لیا ماہرہ نے ایف اے میں داخلہ لیا صبح ماہرہ کو کالج چھوڑنا اور بعد میں واپس لے کر آنا اس نے اپنے ذمے لیادونوں کے درمیان محبت پھر سے پروان چڑھنے لگی محبت کا عالم یہ تھا کہ ارباز کے تمام کام جسے اس کے منپسندکھانا بنانا اسکے کپڑے خود دھونا اسکے کمرے کی صاف صفای خودکرنا حالانکہ اس کے اپنے تمام کام ملازمہ کرتی تھی کالج جانے سے پہلے اسکا بیگ چیک کرنا یہاں تک کہ اسکے کپڑوں اور جوتوں کی کی خریداری بھی وہ اپنی پسند کرتی تھی دونوں بہت خوش تھے لیکن کس کی نظر لگ گئی اسکی خوشیوں کو کہ ماہرہ بھی ایک حادثہ میں چل بسی بس وہ دن اور آج کا دن یہ کبھی مسکرایا نہیں ڈیڑھ سال ہوگیا ہے اس حادثے کو دو مرتبہ خود کشی کی کوشش کی ہے قادر کے مطابق روز رات کو اسکی تصویر کو سینے سے لگا کر روتا رہتا ہے صبح اکثر اسکی آنکھیں سرخ ہوتی ہیں یہ کہہ کر آنٹی اٹھی اور برتن سمیٹنے لگی میں نے سوچا کہ کیسا دیوانہ ہے کچھ دیر ٹی وئ دیکھا اتنے میں ڈور بیل بجھی میں نے اٹھ کر باہر دیکھا تو سامنے سدرہ موجود تھی کیا حال ہے سدرہ میں ٹھیک تم سناؤ ہاں تو پھر سناو کیا حال ہے دل کا سچ کہا تھا آپ نے دل کی ڈھڑکن وہ میں ہی نہیں بلکہ ساری کلاس کی لڑکیاں اسکی دیوانی ہو گی ہیں آپ بتاو کہ یہ آپ پر کیسے عذاب بنا یار آج سے 3 سال پہلے جب میرا داخلہ کامرس کالج میں ہوا تھا ہمارا بیچ پہلا تھا جس میں لڑکیوں کو ڈی کام میں ایڈمیشن دیا گیا اس سے پہلے لڑکیاں بی کام اور ایم کام داخلہ لے سکتی تھیں ہماری کلاس کو شروع ہوے تقریباً 1 ماہ ہو گیا تھا ہمارا چوتھا لکچر تھا اصول تجارت کا آپکے تایا ابو کا تھا سر کلاس میں داخل ہوئے اور ان ساتھ ارباز بھی تھا سفید شرٹ گرے پینٹ نیلی ٹای جس پر جی سی سی جی کا لوگو تھا بہت خوبصورت لگ رہا تھا ابھی سر کو بیٹھے دو منٹ ہوئے تھے کہ باہر سے کسی پروفیسر نے سر کو باہر بلایا سر اٹھ کر باہر نکل گئے اور ارباز رجسٹر پر کچھ لکھنے لگا اور ہم نے یہ جانے بغیر کے سر باہر دروازے پر موجود ہیں شور مچانا شروع کر دیا 5 منٹ بعد اس نے اٹھ کر زور سے ڈیسک پر ایک ہاتھ مارا تمام لڑکیاں فورا خاموش ہو گی اس کے بعد اس نے کہا کہ یہ قدرتی بات ہے کہ عورت کی زبان جبڑوں کے درمیان کم ہی قید رہتی ہے لیکن آپکو کوئی شرم کوئی حیا ہے کہ نہیں کہ آپکے پروفیسر باہر دروازے پر موجود ہیں اور اتنا شور کر رہی ہیں کہ جسے بندہ سبزی منڈی میں ہے کلاس کے کچھ اصول ہوتے ہیں کچھ آداب ہوتے ہیں آپکے پروفیسر کلاس میں نہیں ہیں اپنا سبق یاد کریں اور آپ ہیں کہ شور کر رہی ہیں کونسا لکچرر ہے آپکا ایک لڑکی نے جواب دیا کہ بھائی اصول تجارت کا اس نے ہم سے کچھ سوالات کیے لیکن کسی کو بھی کوئی جواب نہیں آیا پھر وہ کلاس سے باہر نکلا ہم لڑکیوں شکر کیا چلو جان چھوٹی باہر جا کر اس نے سر سے پتہ نہیں کیا بات کی آور واپس آیا اور بولا کہ آج کے بعد آپکا اصول تجارت کا لکچرر سر آصف کی بجائے میں لوں گا اس نے ہمیں پہلا چیپٹر سمجیا اور ہمیں ہر چیز کی سمجھ آگئی یقین مانو کہ ہمیں 75 فضید لیکچر وہی یاد ہو گیا اس کا پڑھانے طریقہ بڑا زبردست تھا کہ اتنے میں ایک لڑکی عائشہ نے ساتھ والی لڑکی سے باتیں شروع کر دیں سر اسے کھڑے ہونے کا اشارہ کیا آور کلاس سے باہر نکل کا حکم دیا لیکن وہ نہیں نکلی آپکے والد کیا کرتے ہیں جی وہ تھانہ قلعہ دیدار سنگھ میں ایس ایچ او ہیں نذیر چیمہ کی بڑی بیٹی ہو عائشہ حیرانگی سے جی کروں کال آپکے والد کو کہ آپ بڑی بدتمیز ہیں وہ ہر ہفتے والے دن شام 7سے10 بجے تک میرے ڈیرے پر حاضری دیتا ہے گرلز اگر یہ کلاس سے باہر نہ نکلی تو آج کے بعد آپکا کوئی لیکچر نہیں ہو گا اس کے بعد وہ باہر نکل گیا اور اگلے دو لکچرر میں کوئی پروفیسر نہیں آیا اگلے دن پہلے 4 لکچرر میں کوئی نہیں آیا تو تمام لڑکیوں نے مل کر سر شفقت سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ جب تک عائشہ ارباز سے اپنے رویے کی معافی نہیں مانگ تی تب تک کوئی کلاس نہیں ہو گی کلاس میں آکر ہم نے عائشہ کی کلاس لی کہ یا تو وہ سر سے معافی مانگ لے یا پھر اپنا بستہ اٹھائے اور گھر جاہے عائشہ نے کہا کہ وہ مانگنے کے لئے تیار ہے پاپا کو مت بتایا جاے کہ میں نے کلاس میں سر سے بدتمیزی کی ہی ورنہ مجھے بہت ڈانٹ پڑے گی اپنے باپ سے عائشہ اور میں سر آصف کے پاس گئی اور پوچھا کہ سر ارباز کہاں ملیں گے وہ بوائز کے شارٹ ہینڈ بلاک کے کمرہ نمبر 11 میں ہو گا ہم بوائز بلاک میں گیی 2 فلور پر شارٹ ہینڈ بلاک تھا سیڑھیاں چھیڑتے ہی سامنے روم نمبر 11 تھا ہم دروازہ ناک کیا اور اندر داخل ہو گئے اندر کمرے میں کوئی پروفیسر نہیں تھا تمام طالب-علم اپنے اپنے کام میں مصروف تھے کمرے میں سانس لینے کی بھی آواز نہیں تھی اتنی خاموشی ہم نے ایک لڑکے سے بات کی ارباز سے ملنا ہے اس نے اٹھ کر پچھے دیکھا تو ایک لڑکے کو آواز دی شیخ ڈپٹی کدھر ہے شیخ نے کہا کہ وہ رانا عثمان اور رانا احسن اور رضا تارڑ پروفیسر حبیب کے کمرے میں چائے پی رہے ہوں گے اس لڑکے نے جواب دیا کہ آپ بوائز کے پچھے جا کر کرسیوں پر بٹھ جاہی ہم پچھے جا کربٹھ گیی اس نے ولید نامی لڑکے کو ان کو بلانے بھجا وہ لڑکا چلا گیا اور حیرت کی بات یہ کہ اس دوران ایک بھی لڑکے نے ہماری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا اور ہمیں غصہ آرہا تھا کہ ہمیں کیوں نہیں دیکھ رہا چند لمحوں بعد وہ لڑکا واپس آیا اور کہا کہ وہ وہاں نہیں ہیں پیچھے سے ایک آواز آئی کہ کنٹین می دیکھو وہاں ہوں گے ٥منٹ بعد دروازہ کھلا اور ولید کے ساتھ ارباز اور3 لڑکے کلاس میں داخل ہوئے عائشہ نے فوراً اٹھ کر معافی مانگنا چاہی تو اس نے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور ہمیں اپنے کمرے میں جانے کا کہا اور خود ہمارے پچھے کمرے میں آگیا کمرے میں آکر عائشہ نے سب سامنے ارباز معافی مانگ لی اور لکچرر شروع ہوگئے 5 دن بعد ہم نے سر مشتاق سے ارباز کے پارٹ ون کے نمبر کے بارے میں پوچھا تو پتہ چلا کہ جناب نے 91فصیدنمبر لے کر پنجاب بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن میں دوسری پوزیشن حاصل کی ہے اور دو ہفتے قبل بورڈ کی جانب سے یورپ کے 5 ممالک کی سیر کر کے آئے ہیں اس کے بعد اس نے ہمارا شارٹ ہینڈ آور فنانس اکاؤنٹینگ کا لکچرر لینا شروع کر دیا لیکن ایک بات تھی کہ کافی لڑکیوں نے اسے محبت بھرے خط لکھے لیکن اس نے کسی کا جواب نہیں دیا اسے ہی ہمارا تعلیمی سال مکمّل ہوا امتحان دیا آور تمام کلاس اچھے نمبر کے ساتھ پاس ہو گی اور ارباز نے اس دفعہ پھر بورڈ میں 90فصیدنمبر کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی اس کے بعد اس نے پنجاب یونیورسٹی گوجرانوالہ کمپیس میں شام کی کلاس میں ایڈمیشن لے لیا پارٹ ٹو میں اس نے ہمارا اکنامکس اور دفتری دستور العمل اورکمینو کیشن سکلز اور پاکستان سٹڈیز کا لکچرر لیے جو کہ ہفتے میں 3 3 دن ہوتے تھے اب ارباز بی بی اے کر رہا ہے اور پانچویں سمسٹر میں ہے اور میں بی کام کے تھرڈ سمسٹر میں ہوں اس کے بعد سدرہ چلی گئی اور میں اگلے دن کالج گی سارے دن پڑھائی کی واپسی پھر کار میں وہی غزل وہی آواز میں نے اسکی طرف ہاتھ بڑھایا اور کہا کہ مجھ سے دوستی کریں گے اس نے کہا کہ میں لڑکیوں سے دوستی نہیں کر تا چلیں اپنی شاگرد سے کر لیں دوستی اوکے ٹھیک ہے اب ہم دوست ہیں جی اسکے بعد میں نے اسے کچھ لطیفے سائے کہ چلو مسکرا ے تو سہی لیکن یہ کیا مسکرانا تو دور اس نے اپنے چہرے پر مسکراہٹ لانے کی کوشش بھی نہیں کی اس نے مجھے گھر چھوڑا اور آنٹی سے مل کر چلا گیا میں شام کو کامران کے ساتھ مارکیٹ گی اور 6 ہزار کی ایک خوبصورت گھڑی لے کر واپس آے کامران نے پوچھا کہ یہ کس کے لیے میں کہا کہ ارباز کے لیے او تو دیوداس صاحب کے لیے ہے وہ نہیں لے گا دیکھ لیں گے لیتا ہے یا نہیں اگلے دن واپسی پر میں نے اس کا باہیں ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا اور وہ گھڑی اس کو پہنا دی یہ میری دوستی کا پہلا تحفہ اسکا مطلب اب آپ کو بھی تحفہ دینا پڑے گا بتائیں کیا چاہیے آپکو ایک وعدہ کیا مطلب ہم گھر پہنچ چکے تھے کار سے اتر کر اندر گے منہ ہاتھ دھو کر کھانا کھایا ارباز جانے لگا تو آنٹی نے کہا کہ آج تمہارا پہلا لکچر 3 بجے ہے نہ اوپر کامران کے کمرے میں آرام کرو کچھ دیر وہ اٹھا اور ٹی وی لاؤنج میں جا کر ٹی وی دیکھنے لگا آنٹی اپنے کمرے میں چلی گئی میں آکر اس ساتھ بٹھ گی اور کہا کہ وعدہ یہ ہے کہ آج کے بعد آپ ماہرہ کو یا اپنے والدین کو یاد کر کے رویا نہیں کریں گے بلکہ ان کی بخشش کی دعا کیا کریں گے اور ہمیشہ مسکرایا کریں گے بس یہ میری زندگی کا سب حسین تحفہ ہو گا میرے لیے میرے دوست کی طرف سے ارباز کی آنکھیں بھر آہیں اور میرے کندھے پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا20 منٹ بعد جب وہ چپ ہوا تو سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور کہا کہ آج آخری بار جی بھر کر رو لیا ہوں آج کے نہیں روتا اور آج کے بعد مسکرایا کروں گا ہمیشہ میں نے چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا اسکے آنسو صاف کیے اور اسکی گال کو چوم لیا اور پھر اسکا سر اپنے کندھے پر رکھ دیا لیکن جسے ہی اس نے اپنا سر کندھے پر رکھ میرے جسم میں ایک عجیب سا کرنٹ لگنے لگا اور میں بے اختیار اسکی کمر کو تھپ تھپانے لگی میرے جسم کی کیفیت عجیب ہونے لگی شاید اس وجہ سے زندگی میں پہلی بار کسی مردکےجسم کا ٹچ تھا پھر اسے اٹھا کر منہ دھونے کا کہہ اس نے منہ دھویا اور میں نے تولیہ لے کر خود اسکا منہ صاف کیا اور اد کے لیے ٹھنڈا جوس لے کر آی اس نے جوس پیا اور یونیورسٹی چلا گیا اگلے دن جب وہ کالج آیا تو مسکرا رہا تھا اسکی مسکرانا دل میں اتر رہا تھا واپسی پر میں نے کہا کہ آج تمام لڑکیاں تم پر فدا ہو گی ہیں تم اپنی بتاو میں پہلے دن سے ہی آپ فدا ہوں ایسی ہی باتوں میں ہم گھر پہنچ گئے وقت اپنی رفتار سے تیزی سے دوڑنے لگا اور پتہ ہی نہیں چلا کہ کب اپریل کا مہینہ آخری ہفتے آیا اورہمیں رولنمبر سلپ مل گی کہ اگلے مہینے کی 13 تاریخ سے ہمارے سالانہ امتحانات شروع ہیں امتحان شروع ہو اور 2 جون کو ختم ہو گےاور 15 اگست تک گرمیوں کی چھٹیاں تھی لیکن آخری دن مجھے تایا ابو کی کالج البم سے ارباز کی تصویر مل گی جس میں وہ کھڑا ہاتھ میں پانی کی بوتل لیے مسکرا رہا ہے میں نے وہ تصویر نکالی اور اپنے بیگ میں رکھ لی مجھ تو ارباز سے بے انتہا محبت ہو چکی تھی لیکن اسکا پتہ نہیں گاوں واپس گی بھائی کا پرانا موبائل ہاتھ لگ گیا ابو جی والی پرانی سم اسمیں ڈالی اور روز رات کو 10 سے 2 بجے تک ارباز فون پر بات چیت اور اد کے بعد اسکی تصویر کو سینے سے لگا کر سو جاناجس دن اس سے بات نہ رات کروٹیں بدل میں گزر جاتی ہے سیکس کا پہلو ہماری گفتگو کے درمیان بالکل بھی نہیں تھا چھٹیاں ختم ہوی 5 دن بعد رزلٹ ملا73 فیصد نمبر لیے پارٹ ٹو میں ارباز نے ہمارے 4 لکچرر لیے پہلے ارباز مجھے صرف واپس لے کر جاتا تھا لیکن اب صبح کالج لے کر آنا اور واپس لے کر جانا وقت کا پہیہ پھر گوما اور آگیا 5 مارچ کالج میں تقریب تقسیم انعامات تھی آج یونیفارم کی بجائے کپڑوں میں جانا تھا میں نے اس کے لیے کھاڈی کا لاہٹ پنک کلر سوٹ نارمل میک اپ اور نیچے وہیٹ سینڈل جیسے ہی میں تیار ہو کر آی تایا جی نے پوچھا کہ میرے ساتھ چلو گی یہ آپکے پروفیسر کو کال کریں اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتی آنٹی بولی یہ آپ بزرگوں کے درمیان کیا کرے گی آپ ارباز کو کال کریں بلکہ صبا تم ایسا کرو کہ خود ہی اسکو کال کرو کہ تایا ابو جا چکے ہیں تمہیں آکر لے جا تایا جی موبائل نکالا اور کال کی کچھ ریر بعد ارباز آیا میں باہر جا کر گاڑی میں بیٹھ گئی کیا بات ہے آج بہت خوبصورت لگ رہی ہو مای ڈیر فرینڈ میرا دل رکھنے کے لیے ایسا نہ کہو یار سچ میں آج بہت خوبصورت لگ رہی ہو میں نے شرما کر سر جھکا دیا تو اچھا جناب کو شرمنا آتا ہے اب چلیں کالج پہنچ گئے حال میں گے تھوڑی دیر کے بعد تقریب شروع ہوی مجھے تو بہت زیادہ بور ہونے لگی یہ دیکھتے ہی ارباز نے مجھے باہر آنے کا اشارہ کیا جب میں باہر آہی میں نے تایا جی کو بتا دیا کہ میں ارباز کے ساتھ واپس جا رہے ہیں کالج سے باہر نکل کر ارباز نے کہا کہ مجھے تو بھوک لگی ہے کچھ کھانے چلیں ہم صوفی بریانی کی طرف چل پڑے واپس مجھے گھر چھوڑنے کار سے اتر کر اندر داخل ہوا آنٹی کو سلام کیا آنٹی نے محلے میں ایک گھر جانا تھا ہمارے آتے ہی نکل گی ارباز جانے لگا تو میں نے اس کے گال پر پپی لی پپی لینے کے بعد میں واپس مڑی تو اس نے کہا کہ جب تم میری پپی لیتی ہو تو مجھے ماہرہ کی یاد آتی ہے وہ جب بھی میری پپی لیتی تھی تو میں اس کو لپ ٹو لپ کس کر دیتا تھا تو روکا کس نے ہے اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا اور اپنا ایک ہاتھ میری کمر پر رکھ دیا دوسرے میری گردن کے نیچے اور میرے لبوں سے اپنے لب ملا دے اور میرے نچلے ہونٹ منہ میں لے کر چوسنے لگا ہی تھا کہ اچانک اسکا موبائل بجنے لگا اس نے کال اٹینڈ کی تو دوسری طرف کسی لڑکی کے بولنے کی آواز آئی ارباز آج میری گاڑی والا نہیں آ سکتا کیا تم مجھ پک کر سکتے ہو او کے میں آتا ہوں یہ کہہ کر وہ پچھے ہٹا سوری دوست جانا پڑے گا وہ تو چلا گیا لیکن میرے دل میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا کر گیا میری مسمیوں کے نپل سر اٹھانے لگے اور نیچے چوت میں ایک گدگدی ہونے لگی شلوار میں ہاتھ ڈال کر دیکھا تو میری چوت گیلی گیلی محسوس ہو رہی ہے شلوار سے ہاتھ نکالا اور اپنے کمرے میں گی دروازہ اندر سے لاک کیا شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر قمیض اتاری اپنی برا اتاری پھر شلوار اور پینٹی بھی اتار دی میرا ہاتھ خود بخود میری چوت پر چلا گیا دوسرا چھاتی اور میں مدہوشی کے عالم میں اپنی چوت اور چھاتی کو مسلنے لگی ارباز کے سینے کے ساتھ لگنے لمس یاد آتے ہی میرا ہاتھ میں تیزی آئی اور میں اپنی چوت اور زور سے مسلنے لگی کہ جسم میں اکڑ پیدا ہوی اور آنکھیں باہر کو نکلنے آہیں اور ایک دم میری چوت سے میری زندگی کا پہلا آرگینزم ہوا میرا انگ انگ ایک سرور میں تھا کچھ دیر ایسے ہی گزارنے کے بعد جب جسم اور دماغ کو سکون ملا تو میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ یہ میں نے کیا کر دیا جس جسم کو ارباز کے جسم کے ساتھ ملاپ کے بعد فارغ ہونا چاہیے تھا وہ میں نے ہاتھ سے کیوں کیا کیوں میں نے اپنی کنوارہ جسم کی آگ کو خود بجھا اس آگ کو تو ارباز کو ٹھنڈا کرنا چاہیے تھا یہ میں نے کیوں کیا انہی سوچوں میں کب نیند میں گم ہو گئی پتہ نہیں چلا میری آنکھ اس وقت کھلی جب باہر گیٹ پر آنٹی نے بیل بجای میں نے اٹھ کر اپنا آپ صاف کیا اور کپڑے پہن کے باہر نکل کر گیٹ کھولا تو آنٹی موجود تھی آنٹی نے کہا کہ سو گی تھی ارباز تو آپ کے جانے کے فوراً بعد ہی چلا گیا تھا میں اپنے کمرے میں چلی گئی تھی اور پتہ ہی نہیں چلا کہ کب آنکھ لگ گئی اگلے دن صبح جب ارباز مجھے لینے آیا تو وہ مجھ سے نظریں چرا رہا تھا اور میں اس سے کالج کے بعد جب ہم واپس آہ رہےتھے تو ارباز نے کہا کہ میں آپ سے شرمندہ ہوں کہ کل میں آپ وہ حرکت کرنے لگا تھا جو ایک استاد اور شاگرد کو زیب نہیں دیتی پلیز مجھے معاف کر دیں میں نے کہا کہ پلیز آپ بھی مجھے معاف کر دیں کیونکہ اس حرکت میں میں بھی برابر کی شریک تھی اور مجھ سے اپنی نظریں نہ چرائیں میں آپکی ناراضگی برداشت نہیں کر سکتی ارباز نے مجھے گھر چھوڑا اور یونیورسٹی چلا وقت ایک پھر سے دوڑنے لگا آیا 16 اپریل کا دن جب ایک لڑکی نے اکنامکس کے لیکچر میں ارباز کو ساری کلاس کے سامنے پرپوز کر دیا اس نے اپنے داہنں ھاتھ میں سرخ گلاب لیے ایک گھٹنے زمیں پر رکھ کر فلمی انداز میں پرپوز کیا تو اگلے ہی لمحے ایک زوردار تھپڑ کی آواز بلند ہوی تھوڑی دیر بعد غضے سے اپنی مٹھیاں بھینچ تے ہوئے آپ کالج میں تعلیم حاصل کرنے آہی ہیں یا عشق کرنے اور نام کیا ہے آپکا جی سر تانیہ گوہر جی تو تانیہ میم مجھے بتائیں کہ آپ کا اور میرا رشتہ اس بات کی اجازت دیتا ہے میں آپکا استادِ ہوں اور استاد کی حیثیت روحانی باپ کی ہوتی ہے بتائیں مجھے تانیہ خاموش کھڑی رہی دو منٹ کی خاموشی کے بعد ارباز نے کلرک یوسف کو کال کر کے رولنمبر سلپ کا پوچھا اور ہمیں کہہ کہ کل آپ لوگ آ کر اپنی اپنی سلپ لے لیں اور آج کے بعد آنے کی ضرورت نہیں سلیبس مکمل ہو چکا ہے آپکا اور 23 اپریل کو آپکی جونیئر نے آپکی الوداعی تقریب کا اہتمام کیا ہے بس اس دن آنا ہے آپ نے اور 3 مئی کو اپکا پہلا پیپر ہے یہ کہہ کر ارباز کمرے سے نکل گیا ارباز کے جانے کے بعد ہم تمام لڑکیاں تانیہ گرد ہوی کہ تمہاری وجہ سے ایک 10 پہلے کلاسز ختم ہو گئی اور 2 سال کے بہترین رشتہ کو تم نے ایک پل میں برباد کر دیا کتنی ہی ایسی لڑکیاں تھی جو معاشی حالات کی وجہ سے تعلیم چھوڑنے لگی تھی اس نے تمام لڑکیوں کی مدد کی اور کسی کو اس بات کی خبر بھی نہیں ہونے دی تمہاری وجہ سے ہمارا سب سے بہترین استاد ہماری پوری کلاس سے نارض ہو گیا اور اب تمہیں رونا کس بات پر شروع کر دیا ہے اگر تم پر عشق کا اتنا ہی بھوت سوار تو کم از کم کالج ختم ہونے کے بعد اس کو کہیں اکیلے میں پرپوز کرتی نہ تم خود ساری کلاس کے سامنے ذلیل ہوتی نہ سر کو کرتی ابھی یہ باتیں ہو رہی تھی کہ ارباز نے دروازے پر دستک دی اور مجھے کہا کہ چلو میں آپکو گھر چھوڑ دوں لیکن سر ابھی تو 3 لکچر رہتے ہیں آپکو کہہ دیا کہ آب آپ کی کلاسز ختم اپنے اپنے گھروں میں جائیں صبا جلدی کرو میں آپکا گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں تمام سفر میں خاموشی سے گذر گیا ارباز نے مجھے گیٹ کے سامنے اتارا اور چلا گیا شام کو تایا ابو نے مجھ سے پوچھا کہ آج کلاس میں کوئی مسئلہ ہوا ہے کہ ارباز نے کلاسز ختم کر وا دی اور خود بھی کالج چھوڑ دیا میں نے پوچھا کہ واقعی ارباز کالج چھوڑ دیا ہاں پتہ نہیں آج کیا ہوا کہ اس نے کہا کہ میں آج کالج چھوڑ رہا ہوں کیونکہ میں اپنا بزنس شروع کرنے لگا ہوں نہیں تایا ابو ایسی کوئی بات نہیں دراصل آج کالج میں یہ معاملہ ہوا ہے اس کے بعد میں نے تمام واقعہ تایا جی کو بتا دیا تایا جی بھی کافی غصہ میں تھے اگلے دن میں تو کالج نہیں گیی الوداعی تقریب سے 2 دن پہلے تایا ابو نے ارباز کو فون کیا کہ تمہیں تقریب الوداعی میں لازمی شرکت کرنی ہے ارباز نے کہا کہ کہ لازمی شرکت کرے گا لیکن ایک درخواست ہے کہ میرے ڈی کام کے تینوں دوست الوداعی تقریب میں لازمی شرکت کریں تایا جی نے کہا کہ ٹھیک ہے میں انکو کال کر دیتا ہوں دو دن بعد تقریب تھی میں نے تقریب کے لیے بلیک ڈریس کا انتخابات کیا تقریب والے دن ہم 10 بجے کالج پہنچ گئے اور30: 10 پہ تقریب شروع ہو گئی ارباز تقریباً30: 11 بجے آیا اس نے سفید کاٹن کی شلوار قمیض پہن رکھی تھی جس میں وہ بہت خوب صورت لگ رہا تھا تقریباً 12 بجے اس نے سٹیج پر آ کے ایک تقریر کی تقریباً 10 منٹ اج اسکے الفاظ سننے کو دل کررہا تھا کیونکہ آج کے بعد اس نے جدا ہونا تھا اسکے بعد پرنسپل نے تقریر کی جس میں ارباز اور اسکے کاروبار کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور ہمارے بہترین مستقبل کے لئے امید کی خواہش کی اسکے بعد پرنسپل صاحب سٹیج سے اترے اور آگے بڑھ کر ارباز کو گلے لگایا کیونکہ 2 سال کا بہترین طالب-علم اور 5 سال کا بہترین پروفیسر تھا ہمیشہ 100 فضید رزلٹ دیا اس نے اسکے بعد ارباز تمام پروفیسرز کے ساتھ گلے ملا تمام پروفیسرز کی آنکھیں نم تھی کیونکہ ایک نہایت بہترین سٹوڈنٹ اور بہترین کولیگ کا تعلق تھا اسکے بعد جب وہ اپنے دوستوں راناعثمان اور رانا احسن سے ملا تو کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کرنے لگا تو رانا احسن بول پڑا کہ یار تاڑرڑ کا آج 11 بجے مڈٹرم کا ایگلزام ہے شام کو آے گا میرے گھر میں دعوت ہے تو بھی اپنا مڈٹرم کا پیپر دے آ شام کو اکھٹے ہوتے ہیں اس کے بعد سب نے کھانا کھایا اور تمام لڑکیاں اپنی اپنی ڈائری میں پروفیسرز سے الوداعی جملے لکھوانے لگی ارباز نے کسی لڑکی کی ڈائری پر دستخط نہ کہیے سوائے صدف اور میری اور صدف کو کہا کہ میں 6 سال بعد چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ صدف سلیم کو دیکھنا چاہتا ہوں اور آپ نے فیس کی ٹینشن نہیں لینی وہ تمام معاملات میں خود دیکھ لوں گا اور آپ کے والد کی بھی یہی خواہش ہے آپ نے میری اور اپنے والد کی خواہش پوری کرنی ہے اسکے بعد ایک گروپ فوٹو ہوی اور بعد میں تمام لڑکیاں ارباز اور دوسرے پروفیسر کے ساتھ اپنی اپنی تصاویر بنوائی اسکے بعد ارباز دیگر پروفیسر کے ساتھ پرنسپل کے کمرے چلا گیا اور میں اسکا انتظار کرنے لگی 20 منٹ بعد وہ واپس آیا ہم کار میں سوار ہو ے اور چل دیئے میں نے راستے میں چھپے الفاظ میں اپنی محبت کا اظہار کیا لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا اس نے مجھے گھر اتارا اور چلا گیا میرے امتحان شروع ہو گئے امتحان کے بعد میں اپنے گاؤں واپس چلی گئی ارباز اور بھائی رضا کی بیچلر ڈگری مکمل ہو گیا تھی ارباز نے اپنا دن رات اپنے نئے سٹیل ملز پر لگا دیا اور بھائی رضا نے ایم بی اے ایڈمیشن لے لیا اور میں نے بی اے شروع کر دیا پرائیویٹ ارباز کو جب بھی کال کرتی تو آگے سے مصروف ہوں کہہ کر فون بند کر دیتا اور میرے دل میں اسکے لیے ٹڑپ بھڑنے لگی تقریباً ایک سال بعد ارباز کا فون آیا اور میرا دل اچھل پڑا پہلے تو اس نے معزرت کی کہ وہ ایک سال سے مجھ وقت نہیں دے پایا کیونکہ وہ اپنے سٹیل ملز کو مارکیٹ میں متعارف کروانے میں مصروف تھا اب کام چل پڑا ہے اور اچھا منافع مل رہا ہے اور ایسے ہی ہمارے درمیان پھر سے بات چیت شروع ہو گئی اور 3 مہینے بعد ارباز نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارا کہیں رشتہ طے ہوا کہ نہیں میں نے جواب دیا کہ 2 رشتے آے تھے ایک امی کو پسند نہیں آیا اور دوسرا بھائی اور ابو اور تایا ابو کو اسکے بعد ارباز نے کہا کہ آج کے بعد میری آپ سے بات چیت نہیں ہو سکے گی میں نے حیران ہو کر پوچھا وہ کیوں تو آگے سے ارباز نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ باقی باتیں تم میری سہاگ رات کی سیج پر دلہن بن کر کرو یہ سنتے ہی میں نے شرما کر فون بند کر دیا پھر اس نے مسج کیا کہ کال پک کرو تو میں نے مسیج کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجھے شرم آ رہی ہے تھوڑی دیر بعد کال کرتی ہوں اور میں نے جا کر خوشی سے اپنی امی کو گلے لگا لیا تو امی نے کہا کہ خیریت ہے آج تو میں کہا کہ آپ نے بھائی کی شادی کی ڈیٹ فکس کر دی تو امی نے کہا کہ اگلے مہینے کے آخر میں کردی ہے تو میں نے دل میں سوچا جلدی کریں کیونکہ اس کے بعد جلد ہی آپکی بیٹی کی بھی چوت پھٹنے والی ہے امی نے کہا کہ کس سوچ میں گم ہو تو میں نے کہا کچھ نہیں بس ایک سہیلی پوچھ رہی تھی اسکے ایک گھنٹے بعد میں نے ارباز کو کال کی اور تھوڑی دیر بعد اس نے کال پک کی تو اس نے کہا کب رشتہ بھجو تو میں کہا کہ جب دل کرے تو ارباز نے جواب دیا کہ ٹھیک ہے میں 2 مہینے بعد رشتہ بھج تا ہوں تو میں نے جواب دیا کہ 2 مہینے بعد کیوں وہ اس لیے میری جان کہ ماموں قادر اور ماموں ناصر ناصر ماموں کے سالے کے بیٹے کی شادی میں شرکت کے لئے کل یورپ گے ہیں اور ڈیڑھ مہینے بعد آنا ہے تو آپ نہیں گے میں چلا گیا تو کاروبار کون دیکھے گا چلیں ٹھیک ہے اب سہاگ رات کو آپ سے بات ہو گی تو میں نے پوچھا کہ کیوں نہیں ہوسکے گی تو ارباز نے کہا کہ اس لیے کہ ہم دونوں ایک دوسرے متاثر کرنے کے لیے اپنی اپنی خوبیاں ایک دوسرے کے سامنے رکھیں گے اور اپنی خامیاں چھپائیں گے اکثر محبت کی شادیاں اسی وجہ سے ناکام ہوتی ہیں کہ اپنی خوبیاں دیکھا دیتے ہیں اور خامیاں چھپا لیتے ہیں اور بعد میں مسائل پیدا ہوتے ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ ہمارے درمیان اختلاف ہو یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا رات کو کھانا کھا کر اپنے کمرے میں آگی اور دروازہ بند کر دیا اور سونے کی کوشش کرنے لگی رات گیارہ بجے تک جب نیند نہ آی کیونکہ میرے زہن میں بار بار ارباز کی سہاگ رات والی بات یاد آرہی تھی دل میں ایک ڈر پیدا ہوا کہ اس رات تیری چوت کی سیل ٹوٹ جاے گی لیکن درد بہت زیادہ ہو گا لیکن دماغ کہتا کہ یہ تو ایک نہ ایک دن کھل ہی جاے گی پھر اس کے بعد مزے ہی مزے یہی سوچتے ہوئے مجھے اپنی ٹانگوں کے درمیان گیلا پن محسوس ہوا ایسے ہی دماغ میں آیا کہ کیوں نہ آج بھی اس دن کی طرح ہاتھ سے فارغ ہو جاوں لیکن دل کہتا نہیں تم نے اس دن خود سے وعدہ کیا تھا کہ آج پہلی اور آخری غلطی ہو گئی آج کے بعد اس جسم کی آگ کو صرف ارباز ہی ٹھنڈا کر گا یہ آگ مجھے جتنا جلائے گی سہاگ رات کو اسے ٹھنڈا کرنے کا اتنا ہی مزہ آے گا اسکے بعد میں کروٹیں بدلتے نہ جانے کب میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گی اسکے بعد بھائی کی شادی کی تیاریاں شروع کردی روز بازار جانا اور تھک ہار آ کے سو جانا شادی سے 3 دن پہلے جب ہم بازار سے واپس آے تو بھائی اور ابو کے درمیان کسی بات پر بحث جاری تھی بھائی یہ بات کہتے ہوئے اٹھ کر چلے گئے کہ کل تایا ابو آےگے میں ان سے بات کر لوں گا امی نے ابو سے پوچھا کہ کیا بات ہے تو ابو نےکہا کہ کچھ نہیں بس ایسے ہی الٹی صد کر رہا ہے اگلے دن دوپہر کو جب تایا ابو اور انکی فمیلی آی تو رضا بھائی نے کہا دیکھ لو تایا ابو مجھے اباجی اپنے دستوں کو نہیں بلانے دے رہے ابو فوراً میں نے کب منع کیا ہے کہ اپنے دستوں کو نہ بلاو میں تو بس تماش ینی اور ہلڑ بازی سے منع کر رہا ہوں تایا ابو فوراً ہی بولے کہ میری شادی پر تم نے کم ہلڑ بازی کی تھی رضا تم بلاو اپنے دستوں کو ویسے یہ کونسے دوست ہیں تمہارے کامرس کالج والے کمینے تم لوگوں کا گینگ بہت حرامی تھا ذرا خیال رکھنا مہندی والے دن جب تمام مہمان کھانے کھا چکے تھے اور بھائی کو مہندی لگا رہے تھے کہ اسکے موبائل پر ایک کال ای نمبر دیکھتے ہی بھائی کا چہرہ کھل اٹھا بھائی فوراً اٹھ کر باہر گیا تھا کہ اچانک ایک دم فائرنگ کی آواز بلند ہوی گھر کی تمام خواتین گھبرا کر جلدی سے باہر نکل آئی باہر نکل کر دیکھا تو سامنے تین کاریں کھڑی تھی اور سب سے آگے والی کی ڈگی کھلی ہوئی تھی اور ساتھ 3 لڑکے کھڑے تھے اور تینوں کے ہاتھوں میں اے کے 47 موجود تھی ان سب کی پیٹھ ہماری طرف تھی اور بھائی رضا سب سے پہلے والے کے گلے مل رہا تھا اس کے بعد بھائی رضا دوسرے کی طرف بڑھا تو اس نے اپنی بندوق ہوا میں بلند کی اور پوری میگزین خالی کر دی بھائی رضا اسکے گلے ملا اور اسکی چمی لے لی اسکے بعد بھائی پھر آگے بڑھا اور تیسرے نے بھی ہوائی فائرنگ کر دی اسکے بعد ان تینوں نے دوبارہ نئی میگزین لوڈ کی اور ایک ساتھ مل کر پھر ہوائی فائرنگ کر دی پھر درمیان والے نے پچھلی دونوں کاروں کو کوئی اشارہ کیا کہ ان میں سے انتہائی خوبصورت نوجوان 3 ڈانسر لڑکیاں باہر نکلی اور اگے بڑھ کر رضا کو جھک کر سلام کیا تو ان تینوں نے ایک بار پھر ہوائی فائرنگ کی اس کے بعد ان میں سے ایک لڑکی نے آگے بڑھ کر رضا بھائی کا گال چوم لیا اسکے بعد رضا بھائی نے ان لڑکیوں کو سامنے بنے ہوئے ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا جو کہ ہمارے مہمان خانے کے طور پر استعمال ہوتا تھا وہ لڑکیاں اس کمرے میں چلی گئی اسکے بعد بھائی نے ان تینوں سے کچھ بات کی تو وہ لڑکے بھی اس کمرے میں داخل ہو گئے اس کے بعد بھائی واپس آے اور تایا ابو سے کچھ کہا تو تایا جی نے ایک ہلکا سا تھپڑ بھائی کو مارا تو بھائی نے تایا جی کو گلے لگا لیا اسکے بعد بھائی واپس آیا تو بہت خوش تھا
  10. 3 likes
    یہ بات پہلے بیان ہو چکی ہے، چونکہ ایڈمن اور ڈاکٹر خان یہ نہیں چاہتے کوئی ان پر کسی اور کی کہانی سے کمانے کا الزام لگائے حالانکہ ڈاکٹر خان نے اس یتیم کہانی کے قارئین کے لئے اسکو اپنے قلم سے جاری رکھا- اصل مصنف کو بھی بارہا پیشکشیں کی کہ کسی طرح وہ کہانی جاری اور مکمّل کریں- مصنف نے بدلے میں کافی نیچ حرکتیں کی- بہرحال ان کے جھوٹے الزاموں کی وجہ سے یہ کہانی فری سیکشن میں ہے ورنہ اور گند ہی کرتے وہ لوگ جو سڑتے ہیں کہ ڈاکٹر خان نے کہانی کو چار چاند لگا دیے ورنہ اصل کا لیول ایسا نہ تھا
  11. 3 likes
    بھئی ایڈمن اور ڈاکٹر فیصل کا فیصلہ تو ان پر ہے لیکن آپکی معافی اس وقت اپنا معنی کھو گئی جب آپ نے اپنی چوری کو اس ویب سائٹ کی مشہوری کا سبب گردانا - جناب آپ ایڈمن سے پہلے بات چیت کرکے ایسا کوئی پلان لانچ کرتے تو کوئی دلیل یا جواز بنتا لیکن یہ روبن ہڈ والا بہانہ نہ بنائیں اچھی اور بہادری کی بات ہی کہ آپ آگے آئے اور آیندہ نہ کرنے کا وعدہ کیا - بس اتنا کافی ہے - فیصلہ ایڈمن اور ڈاکٹر فیصل کا....
  12. 3 likes
    جناب انتظار تو کیجیے۔ ہم ہمیشہ وہ کام تب کرتے ہیں جب کسی نے سوچا نہ ہو۔ یہ کیا بات ہوئی کہ ایک دن یاسر جاتا اور ایک سین ہو جاتا؟ یہ تو سب نے سوچا ہوا تھا، سین تو وہ ہے کہ ماہی بھیگی ہوئی ملی اور کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ کیا ہو گا اور کیا کچھ ہو گیا۔
  13. 3 likes
    Update======14 apnay flate may dakhil huwa to ghar may moj masti wala mahol bana huwa thaa neelum k teeno bhai mastiyaan kar rahay thay aur wo charon chila raheen thee "bus" meri awaz sun kar wahan ek dum khamoshi ho gai wo teeno sakoon say beth kar tv dekhnay lagay Neelum: shuker hay yeh tum say to dartay hain ek ghantay say ghar sir per uthaya huwa thaa inho nay tum fresh ho jao hum khana laga rahay hain" uss ki baat sun kar main fresh honay chala gaya wapas aaya to khana lag gaya thaa hum sub nay mil kar khana khaya khana khaa kar hum tv laounge may beth gae jahan neelum aur nuzhat kapray dikhanay lageen unn dono nay aaj hee shopping kee thee meray leyeh bhi 4 t shirt aur 2 jeanz lay kar aaeen thee wo dono main nay waheen apni shirt utar ker unn ki lai hoi tshirt charha lee blue colour ki thee mujhay achi lagee shabnum nay hath say ok ka nishan banaya nudrat nay meri baaqi k tshirts aur paints bhi utha kar kamray may lay gai shabnum bhi uss k sath hee chali gai main tv dekhnay laga jub wo sub apnay kamron ki taraf chal diyeh to main bhi utha aur apnay kamray may aagaya main nay mobile check kiya ustani g k 3 sms thay main nay unhain parha phir main nay uss per likhna shoroo kiya "hello g bolain" Ustani g : haan ab pocho jo poochna hay tumhari aankhon may dekh kar baat karna sub say mushkil kaam hay Main : haan wo main aap say afyoon ki baat pooch raha thaa Ustani g : afzal afyoon khaa kar tahira k sath sex karta hay jiss ki wajah say wo jaldi farigh nahi hota ek gahnta lagta hay ussay farigh honay may aur tahira 30 minute may hee thandi par jati hay wo bhi kiya karay afzal uss ki sookhi choot may laga rehta hay aur lund ki rager say ussay dard hota hay jub afzal ko maza nahi aata to wo zaberdasti iss ko nochta aur maarta hay subha tahira ka jor jor dard karta hay phir ghar k kaam bhi hotay hain wo her roz sex k leyeh tayyar nahi hoti to iss baat per unn ki laraiyaan hoti hain kai baar ussay samjhaya lekin wo kehta hay afyoon k baghair ussay sex karnay may maza nahi aata ab akhiri din ka to sub tumhain pata hay Main : afyoon ki ussay lat kaisay lag gai aur kiya ussay tahira ki marzi ki koi parwa nahi thee Ustani g : aurat ki marzi uss ki jhushi ki parwa kon karta hay aadmi ko to bus apna paani nikaalna hota hay wo kaheen bhi nikaalay aurat ko takleef ho rahi hay ya nahi uss ko dard ho raha hay to bhi koi baat nahi bus unn ka paani nikalna chahyeh wo jazbati ho rahi thee Main : chalain koi baat nahi ab uss k leyeh koi behter insaan dhoond lain gay hum sub theek hay na lekin ustani g ek baat poohon ager aap bura na maanai to aap ki shaadi ko kitna arsa ho gaya hay Ustani g : taqreeban 12 saal tum jo pooh rahay ho wo main jaanti hoon hamaray ghar olaad na honay ki wajah tumharay ustaad ki kamzori hay lekin wo yeh maantay nahi hain aur na hee apna checkup karatay hain samjha samjha kar thak chuki hoon wo kehtay hain k meray bhaiyon k jo bachay hain wo bhi to meray hee hain apna elaaj karanay k bajae kabhi kiss baba say kabhi kiss baba say taaveez kabhi koi ganda kbhi koi dhaaga lay aatay hain bus abhi ek mazar per 7 jumairaat jaeen gay Main : aaj kal k zamanay may bhi aisay log hotay hain kash main aap ki koi madad kar sakta Ustani g : dara tum hee to meri aakhiri umeed ho sirf tum hee meri madad kar saktay ho main sirf tum per hee bharosa kar sakti hoon mujhay apni izzat apni jaan say bhi zeyada aziz hay samjhay Main : lekin main kaisay aap ki madaa kar sakta hoon Ustani g : mujhay maa bana kar sirf tum hee ho jo mujhay badnaam nahi karo gay abhi tumharay ussatd her jumairaat maghrib k baad jaeen gay aur isha k baad aaeengay 5 jumairat k baad tum mujhay maa bana dena main tumhara yeh ehsan zindagi bhar nahi bhooloon gee aur iss ki jo bhi qeemat tum mujh say mango gay wo main doon gee main waada karti hoon tum say bolo karo gay meri khuwahish poori meri sooni god ko sirf tum hee bhar saktay ho Main : acha theek hay mujhay sochnay ka waqt dain main baad may batoon ga aap ko main nay phone band kar diya aur so gaya subha main dukaan per gaya ustaad nay mujhay bulaya aur apnay pass bethnay ka ishara kiya main beth gaya Ustaad : dekh yaar dara tu mera shagird hee nahi mera chota bhai bhi hay tujh say koi parda nahi rakha main nay tu meray ghar bhi aata jata hay samajh lay tu ghar ka fard hay tujhay to pata hee hay k hamaray gher koi bacha nahi hay kiya karain sub ooper walay ki marzi hay mujhay meray bhai nay ek dargah ka bataya hay k wahan wazifa karnay say olaad ki khushi mil jaati hay main her jumairat ko maghrib k baad jaoon ga aur isha k baad aaoon ga tujhay uss doran meray ghar ka khayal rakhna hay abhi mujhay sirf shak hay k meray chotay do bhaiyon ki nazer teri ustani ko lay kar kuch achi nahi hay bus mera bhai ussay kuch hona nahi chayeh samjha uss ka khas khayal rakhna Main : ustaad ka hath thaamtay huway " ustaad aap nay mujh per jo bharosa kiya hay nay ussay main apni jaan day kar bhi qaim rakhoon ga ustani g ko koi choo bhi nahi sakta aap bayfiker ho jaeen Ustaad g : meri peeth thapaktay huway " shabash mujhay tujh say yeh hee umeed thee aaj subha to koi khas kaam nahi hay lekin 2 bajay k baad ek pooray flate ki wiring karni hay wo tum karna baaqi k kaam main sunbhal loon ga jub fainal conection kar lo to mujhay ek nazer check kara dena bus theek hay Main : kuch jhijhaktay huway "ustaad mujhay 11 bajay tak ek kaam say jaana hay main 1 bajay tak wapas aajaoon ga ager aap ki ijaazat ho to Ustaad : khush hotay huway haan haan koi masla nahi tu chala ja lekin time per wapas aajana samjha main nay ghari dekhi 11 bajnay may 5 minute kam thay main seedha nafisa k gher ki taraf chal para wahan main building k gate per pohoncha hee thaa k naeem uncle ki car buildin say baher nikli sadaf bhi aagay bethi thee main unn ko jatay huway dekhnay laga phir main nafisa k flate per pohonch gaya main nay gate knok kiya darwaza nafisa nay hee khola main ander dakhil ho gaya uss nay gate lock kiya aur mujhay lay kar apnay kamray may aagai main bed per take laga kar beth gaya Main : "main nay abhi ammi ko mamoo k sath jatay huway dekha thaa" Nafisa : mujh say nazrain milaati hoi "kuch lay kar aaoon aap k leyeh" Main nay uss ka hath paker ker ussay apni janib khainch liya wo seedhi meri god may giri main nay ussay banhon may kastay huway uss k hont apnay honto say mila diyeh uss nay ek jhurjhuri see lee aur nujh say lipat gai aur khud bhi meray hont choosnay lagi main nay uss ki chatiyon ko qameez k ooper say hee dabana shoroo kar diya thaa uss ki girift aur sukht go gai main nay ussay alag kiya aur uss ki qameez paker ker ooper uthanay laga uss nay apnay hath ooper kar liyeh aur main nay uss ki qameez utaar dee phir main nay apni paint aur tshirt bhi utaar dee main nay uss ki shalwaar aur baaqi bachay kapray bhi utaar diyeh ab wo meray saamnay bilkul nangi khari thee main nay ussay apnay sath lita liya aur uss ki chatiyaan masalnay laga aur uss k nasheelay hont choosnay laga phir main uss k gall garden aur kaan ki lo ko choomta huwa uss ki chatiyon per aagaya meri her harkat say wo machal rahi thee tarap rahi thee main uss ko lita kar uss ki taangain phaila deen aur uss ki choot per zaban phairi uss nay ek dum apni gaand hawa may uthaa dee "aaaaaaaaahhhhhhhhhhhh yeh keya kiya tum nay main nay" uss ki baat ko ignore kartay huway tezi say apni zaban uss ki choot k labo per phairni shoroo kardee kabhi main uss ki choot k lab apnay honto may bhar laita kabhi chatnay lagta uss nay dono hath meray sir per rakhay huway thay aur musalsal apni choot meray moo per rager rahi thee main nay angoothay say uss ki choot k lub kholay aur uss ki choot k daanay ko moo may lay liya AAAAAAAAAAAAHHHHHHHHHHHH keya kiya kar rahay ho aaaaaaaahhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhh aur uss ka jisim zor say kaanpa aur phir wo jhatkay laiti hoi farigh ho gai meray pooray moo per uss ka paani laga huwa thaa main nay uss ki shalwaar say hee apna moo saaf kiya wo aankhain band keyeh huway pari gehray saans lay ahi thee main nay uss k gall per hath phaira uss nay aankhain khol ker mujhay dekha phir sharma kar aankhain band karleen main nay apnay hont uss k labon per rakh diyeh uss nay meray hont choosnay shoroo kar diyeh main nay uss say tail ka pooha uss nay mujhay deka aur pooha keyon tum nay tail ka kiya karna hay main nay uss ki chatiyon say khailtay huway kaha jani aaj tumhara first time hay na aur main nahi chahta k tum ko zeyada takleef ho bus iss leyeh tail ki zarurat hay" wo uthi aur pni ammi k kamray say tail lay aai main nay uss may say acha khasa tail apnay lund per lagaya aur tail may doobi hoi ungliyaan uss ki choot per bhi phair deen phir ussay apni taraf khainch liya uss ki taango ko phaila ker unn k darmiyaan aagaya aur apnay lund ka topa uss ki ubhri hoi choot k surakh per rakha uss ka dupatta uss k moo may daal diya phir halka sa zor lagaya lund ka topa uss ki choot k lab khol kar ander chala gaya wo zor say machli aur uss k moo say ghoo ghoo ki awazain aanay lageen main nay phir thora zor lagaya lund uss ki seal per aakar ruk gaya main nay uss ka chehra thap thapaya ussay hosla diya uss ki chatiyan ragernay laga jub wo relex hoi to main nay apna lund thora baher nikala aur ek karara jhatka maara wo ek dum uchli main nay ussay apnay neechay daba rakha thaa uss ki aankhon say musalsal aansoo beh rahay thay main uss k hont choosta raha uss ki chatiyaan choosta raha uss k badan ki kapkapahat kuch kam hoi to main nay halka halka hilna shoroo kiya uss k chehray per ab bhi dard hee nazer aaraha thaa kuch dair may wo bhi mazay lainay lagi main nay apni raftaar barha dee uss nay mujhay zor say bheench liya aur uss ki choot bhi mera lund dabanay lagi phir wo zor say chillai aur uss ki choot ka pani meray lund say hota huwa meray tato ko bhigonay laga main nay uss ki choot say apna lund baher nikaal liya aur uss ki choot aur apna lund achi tarah saaf kar k ussay ghori banaya aur dobara lund uss ki choot may daal diya wo see see karti rahi lekin main nay poora lund daal hee diya aur jhatkay maarna laga ab meri raftaar kaafi tez ho gai thee wo aahain bhar rahi thee 20 minute ki zordaar chudai k baad hum dono ek sath hee farigh ho gae aur waheen ek sath hee lait gae Main : ukhri saanso k sath " haan nafisa maza aaya tumhain ya nahi Nafisa : wo bhi kaafi tez saansain lay rahi thee " mujhay to andaza bhi nahi thaa k itna dard hota hay yaar lekin aakhiri raound may maza bohot aaya lekin ab mujhay lagta hay k main theek say chal bhi nahi paoon gee" main nay ussay apni taraf karwat dee aur ussay khud say lipatatay huway kaha tum bayfiker raho main sub sunbhal loon ga samjheen main utha aur ussay god may utha liya wo cheekhti rahi main nay koi jawab nahi diya aur ussay bath room may lay jaa ka kamod per bitha diya aur ussay pishab karnay ka kaha wo sharma rahi thee lekin uss nay pishab kar liya main nay shower khola aur thora neem garam paani balti may bharnay laga phir main nay uss ki taangain phaila kar ussay bitha diya aur khoob garam paani uss ki choot per daalnay laga uss ki choot ko ungli say khol kar ander bhi khoob paani dala phir ussay achi tarah nehla kar toliyeh say uss ka badan saaf kar k bed per lay aaya bus wo mujhay dekhay jaa rahi thee phir main nay ussay 2 pain killer aur ek pregnicy roknay wali tablets bhi khila deen aur phir kitchen may jaa kar doodh garam karnay rakh diya aur khud fatafat naha kar kitchen say doodh lay kar aaya ek cup ussay diya aur doosra khud piya phir uss k honto ko kiss kar k wapas dukaan chala gaya. main nay ghari dekhi to 1.20 ho rahay thay main jaldi say dukaan pohoncha aur ek larkay ko sath lay kar uss ghar may chala gaya aur wahan kaam karnay laga shaam ko 7 bajay kaam khatam huwa to main nay ustaad ko phone kar diya unho nay aakar conection check kiyeh aur mujhay shabash dee aur ghar ki laights on kar deen ustaad ko wahan say 4000/ milay uss may say unho nay mujhay 1500/ day diyeh main ghar jaanay k leyeh nikla aur phir seedha nafisa ko dekhnay chala gaya naeem uncle ghar may hee thay unho nay mujhay ander bulaya main seedha aunty k pass ja kar beth gaya unn ki khairiyat poochi Aunty : beta tum theek ho Main g aunty main din may bhi aaya thaa to pata chala k aap uncle k sath abhi hospital gai hain main issi leyeh abhi aaya hoon Aunty : duaeen deti hoi "sadaf aray bhai dara k leyeh chai to lay aao aaj baychari nafisa kaam kartay huway gir gai uss k paon may moch aagai uss say to chala bhi nahi jaa raha hay bukhaar may pari hay ander" itnay may sadaf chai lay ker kamray may dakhil hoeen main ehtaraman khara ho gaya Sadaf : ishara karti hoi "aray betho chai piyo zeyada garam nahi hay aapa aap bhi lain na chai uss nay naeem uncle ko bhi ek cup pakra diya main nay chai khatam kee phir uncle say hath mila kar aur aunty aur sadaf ko salam kar k baher aagaya.
  14. 3 likes
  15. 2 likes
    Update bhejain Dr. Shb bht intezar karwa diya hy apna plz update story
  16. 2 likes
    علمِ چُدائی راجہ شاہی کے قلم سے پہلی قسط
  17. 2 likes
    آپ نے ایک اور بات کی تھی کہ میں وائس سینڈ کروں اور کوئی اور اس وائس کو سن کر کہانی لکھ دے تو اس کے لیے دو تین بھائیوں نے اپنی دستیابی ظاہر کی تھی لیکن اس پر آپ کا کوئی جواب نہیں آیا اور آخری بات اگر میری کوئی بات بری لگی ہو تو اس کے لیے میں ہاتھ جوڑ کر آپ سے معذرت خواہ ہوں
  18. 2 likes
    حضور کبھی بھی پہلی ترجیح رہی ہی نہیں ہے آپکی لیکن ایک بات یا ایک پھر ایک تجویز سمجھ لیں کہ آپ ریڈرز کو ایک ٹائم فریم دے دیں کہ ایک ماہ بعد یا دو ماہ بعد یا پھر سال بعد اس کی اپڈیٹ ملے گی پھر کم از کم ریڈرز جھوٹی امید میں تو نہ رہیں کہ آج اپڈیٹ آرہی ہے کل اپڈیٹ آرہی ہے جب آپ ٹائم فریم دے دیں گے تو سب کو پتہ ہوگا اس کی اپڈیٹ کب کب آنی ہے
  19. 2 likes
    محترم جناب ڈاکٹر صاحب. سلام عقیدت. کم وبیش 3 ماہ وطن عزیز میں گزار کر ایک بار پھر تلاش معاش میں واپس کویت چلا آیا ہوں. باوجود کو شش آپ سے ملا قات کی حسرت ہی رہی. امید رکھتا ہوں کہ اگلے برس آپ سے شرف ملاقات حاصل ہو جائے گا. میں نے اس کہانی کو بہت بار پڑھا ہے... اس کا وہ حصہ جو شیخو صاحب نے لکھا.... اور پھر اس کو تکمیل تک پہنچانے میں مصروف آپ کی کاوش انتہائی عمدہ ہے.... کہنے دیجئے کہ آپ کے تخیل اور زور قلم کا جواب نہیں... ہر کوئی اپنے اپنے انداز سے سوچتا اور گمان کرتا ہے کہ کہانی کے کردار کو اس طرح ہونا چاہیے.... لیکن ظاہر ہے کہ اس کے خالق تو آپ ہیں اور اس کے کس کردار کو کس طرح دکھایا جائے... یہ بھی آپ کو ہی علم ہے. میں ایک طالب علم ہونے کے ناطے آپ کی کاوش ات کو سراہتا ہوں.. اور دعا گو ہوں... اس گزارش کے ساتھ کہ چوروں اور جعلسازوں کی سزا دلداروں کو نہ دی جائے... محبتوں کے ساتھ اکھڑ منڈا کویت
  20. 2 likes
    sab khaniyan bahtreen hain. hawas bi bohat achi thi Pardyas ka intzar hay.update slow hony say motion toot jata hay aap ki majbori, hum intzrar karain gay. Thanks
  21. 2 likes
    Part 14 Ma drawing room ma jaa kar sofe par beth gaya or aunty Fozia darwaza kholne ka liye bahir ki taraf chali gae.Ma bhi unke peche lapka. Darwaze par Saim or Sara khare the. Khair kissa mukhtasir wo aaye hum na Khela or Wapis aapne aapne gharn ki taraf chale gae. Koi khass Wakiya pesh nahi aaya. Bas jab bhi moka milla Nazia ka saath thori bohot masti karta raha. Next day saim or Hira ka ghar khoob halla gulla machaya lekin masti ka moka nahi milla.wahan sa waapsi par ma madam or Nazia nikle to ma madam sa bola Me:Zara gari ......... Hospital ki taraf mor Lein. Madam boli Madam:kheriyaat to ha naa??? Me:jee khairiyat hi ha??? Kuch der baad hum hospital ma us larke ka pass majood the jo Nazia ko blackmail karta tha. Uski waalidah uske pass bethi hui thi. Mere kehne ka mutabik madam na uski ami ko apni baatoon ma laga Liya or uske bed sa thora door le gae. Ma or Nazia uske mazeed Kareeb ho gae. Phir madam na uski baazo jis plaster charha hua tha us par Zoor sa thapki di or pucha Me:aur Sunao kya haal chaal hn dost??? Usne aik aah bhari or bola Larka:AAAAAHHHHH SSSSSSSIIIII ab kya chahta ha sale??? Me:wo pics dekhne aaya hn jin ki bina par tu uchaal raha tha Larka:agar naa dikhao to???? Ma na uski tango ka bech majood uske lun or tattoo ko pakra or Zoor sa daba diya. Uska chehre dard or bardasht ki waja sa laal hone laga.Ma na 2 sa 3 mint tak uske lun or taato ko daba kar rakha to wo dard bhari awaz ma bola Larka:acha acha ruko dikhata hn. Ma na zoor sa aik dafa uske lun or tattoo ko dabaya or phir chor diya or bola Me:koi hoshiyaari nahi dekhana warna??? Larka meri baat ko nazarandaaz karte hue bola Larka:Mom mera iPad kahan ha??? Uski Ami boli Ami:beta mere bag ma ha ruko deti hn Kuch der baad pics meri aankhoo ka saamne thi. Un ma Nazia or wo Larka aik dusara ka gale lage hue hn. aik pic ma larka Nazia ka boobs daba raha tha jabke dusari pic ma uski phudi ko kaproo ka upar sa masal raha tha. Ma na bari Bari dono ki taraf dekha to dono na apne sar jhuka liye. Ma na pics delete kardi or phir uski plaster charhi baazo ka haath ko pakar kar zoor sa hila diya or bola Me:or kahan kahan save ki hn ye pics??? Larka:kahin bhi nahi. Bas isi iPad ma hi save thi ye dono pics Ma na aik dafa phir uska toote baazoo ka haath hilaya to wo dard sa chilla utha.uski ami or madam hamari taraf aa gae. Uski ami pareshaani sa boli Ami:kya hua beta??? Us ke jawab dene sa Pehle ma bola Me:kuch nahi aunty wo ghalti sa mera haath iski injury sa touch ho gaya tha. Phir ma us larke ki taraf delete hue bola Me:I am really sorry bro. Larka karahte hue bola Larka:it's OK bro Me:ok phir hum chalte hn. Take care and stay blessed. Phir uski ami sa chand rasmi baatein ki or Wapis ghar aa gae. Pehle Nazia ko uske ghar chora phir hum ghar aa gae. Phir aagle din hamare ghar aana tha un teeno na. Aaj meri kismat na saath diya or madam ko factory sa call mausool hui ka workers kissi masale par ahtajaaj par utar aaye hn.Madam ko emergency ma wahan jaana par gaya.Ma to khushi ka maare uchalne koodne laga.3 ghante intazaar ka baad Pehle Nazia hi puhnchi.Ma usse Lekar drawing room ma aa gaya. Drawing room ma enter hote hi ma na usse apni taraf khenchaa or aik haath uski kamar ma daala or dusara haath uske sar ka peche lejaakar uska chehra apne chehra ka Kareeb kiya or uske upari hont ko apne laboo ma daba Liya. Usne bhi mere nechele hont ko chusane shuru kar diya. Aahista Aahista ma na apni zuban uske mu daali to wo Josh sa meri zuban ko chusane lag gae jabke ma na apna haath uski kamar sa hata kar uski gaand par rakha or uski naram o mulayam rui jaise gaand ka maaze lene laga.aik dafa phir meri kismat phut gae. Abhi uski gaand ka maaze lete hue thori der hi hui thi ka bell ki awaz na hum dono ko mazeed aage barhne sa rok diya. Ma apna sar peet kar reh gaya. Shayad meri kismat ma kiss sa aage barhna likha hi nahi tha. Hasab e tawako darwaze par saim or Sara hi the. Phir 4 ghante tak Kabhi carom Khela to Kabhi chupan chupae or kabhi lawn ma cricket khelte rahe phir apne apne ghar ko chale gae or ma jo madam ka jaane ki khushi mana raha tha ab unki waapsi ka wait karne laga.ma sofe par betha TV dekhte dekhte soo gaya. Meri aankh us wakat khuli jab mujhe apne rukhsaaro par kissi ka naram o mulayam haath mehsoos hue. Ma harbra kar uth betha.Madam neche carpet par bethi hui thi or mere rukhsaaro pa payar sa haath pher rahi thi or payar bhari nazarroo sa mere chehre ko tak rahi thi. Mujhe jaagte dekh kar madam boli Madam:chalo utho khana khaa lo or thora bohot parh bhi lo. Teen din sa kitaabo ko haath bhi nahi lagaya ha. Ma aankhe malta hua uth betha.Madam kitchen ki taraf chali gae or ma washroom ma ghus gaya. Fresh hokar khaana khaya or phir kitaabein Lekar parhane bethe gaya. Aik ghanta parhane ka baad ma TV dekhne lag gaya. Madam apne room ma thi. Kuch der baad wo bhi aakar mere saath sofe par beth gae or TV dekhne lagi. Kuch der khamoshi sa TV dekhta raha phir ma bola Me:Madam factory ma kya maslaa hua tha??? Madam:pechle Kuch maah sa factory ko loss ho raha tha jiski waja sa mujhe manager na mashwara diya ka Sasha mulazameen ko factory sa nikal dete hn taake unko di jaane waali taankhuwaa bach jae or hamara jo loss hua ha wo compensate ho jae ga. Or hame raw material ka liye paise bhi mil jaen ge.lekin mazdoor nahi maan rahe or ahtajaaj par utar aaye hn. Me:mazdooron ko nibhane ka ilawa koi hal nahi ha kya???? Madam:iske ilawa koi hal nahi mil raha naa. Raw material khareedne ka liye paise hi nahi ha Me:mazdoor kitne ha factory ma??? Madam:kuch 2500 ka Kareeb hn Me:baki staff accountants,managers,gatekeepers,sweepers or dusare workers wo kitne hn??? Madam:500 ka Kareeb to hnge hi?? Me:yani 3000 total workers hn Madam:hn bilkul Me:aik mazdoor ki mahana tankhawa??? Madam:18000 ruppees Me:manager ki 80000 Me:aik mazdoor ko nikalein gi to 18000 bache ga or aik manager ko nikalein gi to 80000 bache ga.mazdoor ka bache bhooke mar jaen ge or manager apne account ma jama kiya maal apne bachoo ko Khela sakta ha. Madam:lekin manager ka bagair factory nahi chal sakti naa. Me:aap kitna parhi hn??? Madam:MBA kiya hua ha Me:apni MBA ki degree ka achaar daalein gi kya??? Khud kiun nahi factory ki manager bn jaati Madam:lekin mera experience nahi ha??? Me:wo manager bhi Kabhi inexperienced tha lekin Aaj wo Itna experienced ha ka agar aap usko apni factory sa nikalein gi to Kai factories use managing director ka uhdaa dene ka liye tayaar hn gi. Madam:wo to theek ha lekin manager ko nikalne sa sirf 80000 bache ga or humme 40 sa 50 laakh ki zaroorat ha Me:aik hal ha iska lekin wo aap par munhasir ha ka aap apne workers ko kaise is baat par raazi karti hn Madam:is maah factory ka tamaam workers ko aadhi taankhuwaa dein.yani average agar 9000 rupees per worker kaatein gi to ban jae ga 27 laakh rupees accountants wagaira ki zayada ho gi yani 30 ka areeb Kareeb ho gae. Baki factory ka Purana saman wagaira bech dein or apne aik do coustmers sa advance maang Lein naa Madam:agar workers naa maanein to??? Me:unhe samjhaeye ga ka aap unse ye paise udhaar le rahi ha jaise hi profit aaya unhe aik taankhuwaa jitna bonus diya jae ga. Madam:theek ha tumhara mashwara maan kar dekh lete hn Me:ye sab Kuch apni nigraani ma kijiye ga. Madam:acha jee.chalo ab soo jao raat bohot ho gae ha. Me:ok Mari to ma na chawal hi thi lekin mujhe nahi pata tha ke..........
  22. 2 likes
    Wedy janab last update 6 September ko aai thi or aj 29 October hu gi ha .... or janab ne 10 October ko kaha tha k update aa jaye gi is bat ko b 19 din hu gaye han .... bura mat mana bhai . Agr khani nai lekh hu rhi to bs kr do ... ap ki to shuro he main bs hu gi ha ......janab ki masrofyat ziyada ha yo ek msg kr do k kahani itne month k leye update nai hu gi .... kam iz kam logon ko pata to hu ga k kahani nai aani ... .....muje laghta ha k ap ka apna interest nai ha ye kahani lekhne main...........agr bura laga hu to sorry .......
  23. 2 likes
    سلام۔ امید کرتا ہوں آپ اور ڈاکٹر صاحب خیریت سے ہونگے اور میری معزرت اور معافی کھلے دل سے تسلیم بھی کرینگے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ مجھے یہ کہانی یم سٹوری اور اردو فنڈا پر ملی اور اس وقت میں نے اسکو قسط وار پوسٹ کرنا شروع کیا۔ جب وہاں کہانی کی آپڈیٹ نہیں ایی تو میں نے بہت تلاش کے بعد اپکی ویب پرسے کہانی کاپی کی۔ میں نے کسی بھی جگہ پر اپنے اپکو اس کہانی کا ورایٹر ظاہر نہیں کیا بلکہ بہت سے لوگ جو مجھ سے سارہ دن انبکس میں اپڈیٹ کے متعلق پوچھتے تھے تو میں انکو یہی بتاتا تھا کہ اس کہانی کا رایٹر مصروف ہے۔ اس وجہ سے اپکی یہ بات ٹھیک نہیں کہ میں لوگوں کو اپنے نام سے اسٹوری دے رہا ہوں۔ بلکہ اپکے ویب کے واٹر مارک کے ساتھ ہی پوسٹ کرتا تھا۔ جن لوگوں نے مجھ سے اس کہانی کے ویب کا پوچھا میں انکو اپکے ویب ایڈریس بھی دیا کرتا تھا۔ ایک رایٹر کہانی لکھتا ہی اس لیے ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس کو پڑھ لیں۔ میں نے بھی اسی وجہ سے اسکو پوسٹ کیا کہ کہانی بہت اچھی ہے تو چلو لوگوں کی تفریح کے لیے اسکو پوسٹ کردی جاے۔بزاتِ خود میں اب تنگ اگیا تھا کیونکہ لوگ انبکس میں بہت تنگ کرتے تھے ۔ اس وجہ سے سوچھا تھا اس کہانی کہ مکمل ہونے کے بعد کویی اور نہیں پوسٹ کرنی۔اب آپ سے التماس ہے کہ آپ اور ڈاکٹر صاحب فیصلہ کرلیں۔ میری نظر میں رایٹر کے نزدیک اہمیت اس بات کی ہونی چاھیے کہ کس طرح زیادہ لوگوں تک میری تحریر پہنچھے۔اور فیس بک آج کل کے دور میں سب سے سستا اور آسان زریعہ ہے۔ باقی میں نے آبھی اس ویب پر اکاونٹ بنایا تاکہ اپ لوگوں کے سامنے اپنا نقطہ نظر رکھ سکوں۔ آپ لوگ اگر کہتے ہو کہ فیس بک پر یہ اسٹوری نہیں ہونی چاھیے تو میں اسکو پھر آپڈیٹ نہیں کرونگا۔
  24. 2 likes
    ہم ایسے چور عناصر کی بدولت سسٹم کو سخت سے سخت کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی نہ کسی طرح ان سے چھٹکارا مل سکے۔ بہرحال یہ فری کہانی ہے سب کو فری میں ملنی ہے پھر بھی چوری کی پتا نہیں کیا تک ہے؟
  25. 2 likes
    میرا خیال ہے پاکستان میں بھی انسسٹ سیکس کا وجود ہے۔ لیکن خیالی انسسٹ کی بہتات ہے۔ جس گھر میں جوان بہن بھائی ہوں تو بھائی کو اگر بہن کی براء /پینٹی کہیں پڑی نظر آ جائے۔ یا اس کے پیڈز، ہیر ریمونگ کریم وغیرہ تو لازمی بات ہے وہ گرم ہو گا۔ دوسرا 12 سے 20 سال تک کے بچوں کو اپنے والدین کو سیکس کرتے دیکھنی کی بھی بڑی جستجو ہوتی ہے۔ اور تقریبا 95 فیصد دانستہ یا نا دانستہ ایک آدھ بار دیکھنے میں کامیاب ہو ہی جاتے ہیں۔ گھر میں بہن اگر ڈوپٹے کے بغیر پھر رہی ہے تو اس کے ممے دیکھنا۔ یا اگر وہ جھکی ہے اور گلا کھلا ہے تو مموں کو دیکھ لینا عام بات ہے۔
  26. 2 likes
    Ye to DR sab aap ki shafkat hogiiiii ALLAH PAK AAAP KO SEHAT O TANDRUSTI JESI HAZARO NAIMATO SAY NAWAZAY AMEEN
  27. 2 likes
    dear admin iss story k page barha dain ya mujhay tareeqa bata dain ek page per 3 updates kar dain thanks
  28. 2 likes
  29. 2 likes
    Update mare Jan suspense man daal ka kahan gae
  30. 2 likes
    نوراں کنجری..... دسمبر کے اوائل کی بات ہے جب محکمہ اوقاف نے زبردستی میری تعیناتی شیخو پورےکے امیر محلے کی جامعہ مسجد سے ہیرا منڈی لاہور کی ایک پرانی مسجد میں کر دی. وجہ یہ تھی کے میں نے قریبی علاقے کے ایک کونسلر کی مسجد کے لاوڈ سپیکر پے تعریف کرنے سے انکار کر دیا تھا. شومئی قسمت کے وہ کونسلر محکمہ اوقاف کے ایک بڑے افسرکا بھتیجا تھا. نتیجتاً میں لاہور شہر کے بدنام ترین علاقے میں تعینات ہو چکا تھا. بیشک کہنے کو میں مسجد کا امام جا رہا تھا مگر علاقے کا بدنام ہونا اپنی جگہ. جو سنتا تھا ہنستا تھا یا پھر اظھار افسوس کرتا تھا محکمے کے ایک کلرک نے تو حد ہی کر دی. تنخواہ کا ایک معاملہ حل کرانے اس کے پاس گیا تو میری پوسٹنگ کا سن کے ایک آنکھ دبا کر بولا، .قبلہ مولوی صاحب، آپ کی تو گویا پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں.’ میں تو گویا زمین میں چھ فٹ نیچے گڑ گیا’ پھر الله بھلا کرے میری بیوی کا جس نے مجھے تسلی دی اور سمجھایا کہ امامت ہی توہے، کسی بھی مسجد میں سہی. اور میرا کیا ہے؟ میں تو ویسے بھی گھر سے نکلنا پسند نہیں کرتی. پردے کا کوئی مسلہ نہیں ہوگا. اور پھر ہمارے کونسے کوئی بچے ہیں کے ان کے بگڑنے کا ڈر ہو۔ بیوی کی بات سن کر تھوڑا دل کو اطمینان ھوا اور ہم نے سامان باندھنا شروع کیا. بچوں کا ذکر چھڑ ہی گیا تو یہ بتاتا چلوں کے شادی کے بائیس سال گزرنے کے باوجود الله نے ہمیں اولاد جیسی نعمت سے محروم ہی رکھنا مناسب سمجھا تھا. خیر اب تو شکوہ شکایت بھی چھوڑ چکے تھے دونوں میاں بیوی. جب کسی کا بچہ دیکھ کر دل دکھتا تھا تو میں یاد الہی میں دل لگا لیتا اور وہ بھلی مانس کسی کونے کھدرے میں منہ دے کر کچھ آنسو بہا لیتی۔ سامان باندھ کر ہم دونوں میاں بیوی نے الله کا نام لیا اور لاہورجانے کے لئے ایک پرائیویٹ بس میں سوار ہوگئے. بادامی باغ اڈے پے اترے اور ہیرا منڈی جانے کے لئے سواری کی تلاش شروع کی. ایک تانگے والے نے مجھے پتا بتانے پر اوپر سے نیچے تلک دیکھا اور پھر برقع میں ملبوس عورت ساتھ دیکھ کر چالیس روپے کے عیوض لے جانے کی حامی بھری. تانگہ چلا تو کوچبان نے میری ناقص معلومات میں اضافہ یہ کیہ کر کیا کہ ‘میاں جی، جہاں آپ کو جانا ہے، اسے ہیرا منڈی نہیں، ٹبی گلی کہتے ہیں پندرہ بیس منٹ میں ہم پوہنچ گئے. دوپہر کا وقت تھا. شاید بازار کھلنے کا وقت نہیں تھا. دیکھنے میں تو عام سا محلہ تھا. وہ ہی ٹوٹی پھوٹی گلیاں، میلے کرتوں کےغلیظ دامن سے ناک پونچھتے ننگ دھڑنگ بچے، نالیوں میں کالا پانی اور کوڑے کے ڈھیروں پے مڈلاتی بےحساب مکھیاں. سبزیوں پھلوں کے ٹھیلے والے اور ان سے بحث کرتی کھڑکیوں سے آدھی باہرلٹکتی عورتیں. فرق تھا تو صرف اتنا کے پان سگریٹ اور پھول والوں کی دکانیں کچھ زیادہ تھیں. دوکانیں تو بند تھیں مگر ان کے نۓ پرانے بورڈ اصل کاروبار کی خبر دے رہے تھے۔ مسجد کے سامنے تانگہ کیا رکا، مانو محلے والوں کی عید ہوگیی. پتہ نہیں کن کن کونے کھدروں سے بچے اور عورتیں نکل کر جمع ہونے لگیں. ملی جلی آوازوں نے آسمان سر پے اٹھا لیا. ‘ابے نیا مولوی ہے’ ‘بیوی بھی ساتھ ہے. پچھلے والے سے تو بہتر ہی ہوگا’ ‘کیا پتہ لگتا ہے بہن، مرد کا کیا اعتبار؟’ ‘ہاں ہاں سہی کہتی ہے تو. داڑھی والا مرد تو اور بھی خطرناک’ عجیب طوفان بدتمیز تھا. مکالموں اور فقروں سے یہ معلوم پڑتا تھا کے جیسے طوائفوں کے محلے میں مولوی نہیں، شرفاء کے محلے میں کوئی طوائف وارد ہوئی ہو. اس سے پہلے کے میرے ضبط کا پیمانہ لبریز ہوتا، خدا خوش رکھے غلام شببر کو جو ‘مولوی صاحب’ ‘مولوی صاحب’ کرتا دوڑا آیا اور ہجوم کو وہاں سے بھگا دیا. پتہ چلا کے مسجد کا خادم ہے اور عرصہ پچیس سال سے اپنے فرائض منصبی نہایت محنت اور دیانت داری سے ادا کر رہا تھا. بھائی طبیعت خوش ہوگیی اس سے مل کے. دبلا پتلا پکّی عمر کا مرد. لمبی سفید داڑھی. صاف ستھرا سفید پاجامہ کرتا، کندھے پے چار خانے والا سرخ و سفید انگوچھا. پیشانی پے محراب کا کالا نشان، سر پے سفید ٹوپی اور نیچی نگاہیں. سادہ اور نیک آدمی اور منہ پے شکایت کا ایک لفظ نہیں. بوڑھا آدمی تھا مگر کمال کا حوصلہ و ہمّت رکھتا تھا۔ سامان سمبھالتے اور گھر کو ٹھیک کرتے ہفتہ دس دن لگ گئے. گھر کیا تھا. دو کمروں کا کوارٹر تھا مسجد سے متصل. ایک چھوٹا سا باورچی خانہ، ایک اس سے بھی چھوٹا غسل خانہ اور بیت الخلا اور ایک ننھا منا سا صحن. بہرحال ہم میاں بیوی کو بڑا گھر کس لئے چاہیے تھا. بہت تھا ہمارے لئے. بس ارد گرد کی عمارتیں اونچی ہونے کی وجہ سے تاریکی بہت تھی. دن بارہ بجے بھی شام کا سا دھندلکا چھایا رہتا تھا. گھر ٹھیک کرنے میں غلام شببر نے بہت ہاتھ بٹایا. صفائی کرنے سے دیواریں چونا کرنے تک. تھوڑا کریدنے پے پتا چلا کے یہاں آنے والے ہر امام مسجد کے ساتھ غلام شبّیرگھر کا کام بھی کرتا تھا. بس تنخواہ کے نام پے غریب دو وقت کا کھانا مانگتا تھا اور رات کو مسجد ہی میں سوتا تھا. یوں اس کو رہنے کی جگہ مل جاتی تھی اور مسجد کی حفاظت بھی ہوجاتی تھی ایک بات جب سے میں آیا تھا، دماغ میں کھٹک رہی تھی. سو ایک دن غلام شببر سے پوچھ ہی لیا ‘میاں یہ بتاؤ کے پچھلے امام مسجد کے ساتھ کیا ماجرا گزرا؟’ وہ تھوڑا ہچکچایا اور پھر ایک طرف لے گیا کے بیگم کے کان میں آواز نہ پڑے میاں جی اب کیا بتاؤں آپ کو؟ جوان آدمی تھے اور غیر شادی شدہ بھی. محلے میں بھلا حسن کی کیا کمی ہے. بس دل آ گیا ایک لڑکی پے. لڑکی کے دلال بھلا کہاں جانے دیتے تھے سونے کی چڑیا کو. پہلے تو انہوں نے مولانا کو سمجھنے بجھانے کی کوشش کی. پھر ڈرایا دھمکایا. لیکن مولانا نہیں مانے. ایک رات لڑکی کو بھگا لے جانے کی کوشش کی. بادامی باغ اڈے پر ہی پکڑے گئے. ظالموں نے اتنا مارا پیٹا کے مولانا جان سے گئے’. غلام شبّیر نے نہایت افسوس کے ساتھ ساری کہانی سنائی پولیس وغیرہ؟ قاتل پکڑے نہیں گئے؟’ میں نے گھبرا کر پوچھا’ غلام شبّیر ہنسنے لگا. ‘کمال کرتے ہیں آپ بھی میاں جی. پولیس بھلا ان لوگوں کے چکروں میں کہاں پڑتی ہے. بس اپنا بھتہ وصول کیا اور غائب. اور ویسے بھی کوتوال صاحب خود اس لڑکی کے عاشقوں میں شامل تھے لاحول ولا قوّت الا باللہ…..کہاں اس جہنم میں پھنس گئے.’ میں یہ سب سن کر سخت پریشان ہوا’ آپ کیوں فکر کرتے ہیں میاں جی؟ بس چپ کر کے نماز پڑھیں اور پڑھاہیں. دن کے وقت کچھ بچے آ جایا کریں گے. ان کو قران پڑھا دیں. باقی بس اپنے کام سے کام رکھیں گے تو کوئی تنگ نہیں کرتا یہاں. بلکہ مسجد کا امام اچھا ہو تو گناہوں کی اس بستی میں لوگ صرف عزت کرتے ہیں.’ غلام شبّیر نے میری معلومات میں اضافہ کرتے ہوے بتایا تو میری جان میں جان آئی انہی شروع کے ایام میں ایک واقعیہ ہوا. پہلے دن ہی دوپہر کے کھانے کا وقت ہوا تو دروازے پے کسی نے دستک دی. غلام شبّیر نے جا کے دروازہ کھولا اور پھر ایک کھانے کی ڈھکی طشتری لے کے اندر آ گیا. میری سوالیہ نگاہوں کے جواب میں کہنے لگا ‘نوراں نے کھانا بھجوایا ہے. پڑوس میں رہتی ہے’ میں کچھ نا بولا اور نا ہی مجھے کوئی شک گزرا. سوچا ہوگی کوئی الله کی بندی. اور پھر امام مسجد کے گھر کا چولھا تو ویسے بھی کم ہی جلتا ہے. بہرحال جب اگلے دو دن بھی یہ ہی معمول رہا تومیں نے سوچا کے یہ کون ہے جو بغیر کوئی احسان جتاے احسان کیے جا رہی ہے.عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں ہی تھا جب غلام شبّیر کو آواز دے کے بلایا اور پوچھا ‘میاں غلام شبّیر یہ نوراں کہاں رہتی ہے؟ میں چاہتا ہوں میری گھر والی جا کر اس کا شکریہ ادا کرآے’ غلام شبّیر کے تو اوسان خطا ہو گئے یہ سن کر. ‘ میاں جی ، بی بی نہیں جا سکتی جی وہاں میں نے حیرانی سے مزید استفسار کیا تو گویا غلام شبّیر نے پہاڑ ہی توڑ دیا میرے سر پے ‘ میاں جی ، اس کا پورا نام تو پتا نہیں کیا ہے مگر سب اس کو نوراں کنجری کے نام سے جانتے ہیں. پیشہ کرتی ہے جی’ ‘پیشہ کرتی ہے؟ یعنی طوائف ہے؟ اور تم ہمیں اس کے ہاتھ کا کھلاتے رہے ہو؟ استغفراللہ! استغفراللہ’ غلام شبّیر کچھ شرمسار ہوا میرا غصّہ دیکھ کر. تھوڑی دیر بعد ہمّت کر کے بولا: میاں جی یہاں تو سب ایسے ہی لوگ رہتے ہیں. ان کے ہاتھ کا نہیں کھاییں گے تو مستقل چولھا جلانا پڑے گا جو آپ کی تنخواہ میں ممکن نہیں یہ سن کر میرا غصّہ اور تیز ہوگیا. ‘ہم شریف لوگ ہیں غلام شبّیر، بھوکے مر جایئں گے مگر طوائف کے گھر کا نہیں کھاییں گے میرے تیور دیکھ کر غلام شبّیر کچھ نہ بولا مگر اس دن کے بعد سےنوراں کنجری کے گھر سے کھانا کبھی نا آیا جس مسجد کا میں امام تھا، عجیب بات یہ تھی کے اس کا کوئی نام نہیں تھا. بس ٹبی مسجد کے نام سے مشهور تھی. ایک دن میں نے غلام شبّیر سے پوچھا کے “میاں نام کیا ہے اس مسجد کا؟” وہ ہنس کر بولا، “میاں جی الله کے گھر کا کیا نام رکھنا؟” پھر بھی؟ کوئی تو نام ہوگا. سب مسجدوں کا ہوتا ہے.” میں کچھ کھسیانا ہو کے بولا’ بس میاں جی بہت نام رکھے. جس فرقے کا مولوی آتاہے، پچھلا نام تبدیل کر کے نیا رکھ دیتا ہے.آپ ہی کوئی اچھا سا رکھ دیں.” وہ سر کھجاتا ہوا بولا. میں سوچ میں پڑ گیا. گناہوں کی اس بستی میں اس واحد مسجد کا کیا نام رکھا جائے؟ “کیا نام رکھا جائے مسجد کا؟ ہاں موتی مسجد ٹھیک رہے گا. گناہوں کے کیچڑ میں چمکتا پاک صاف موتی.” دل ہی دل میں میں نے مسجد کے نام کا فیصلہ کیا اور اپنی پسند کو داد دیتا اندر کی جانب بڑھ گیا جہاں بیوی کھانا لگاے میری منتظر تھی اب بات ہوجاے قرآن پڑھنے والے بچوں کی. تعداد میں گیارہ تھے اور سب کے سب لڑکے. ملی جلی عمروں کے پانچ سے گیارہ بارہ سال کی عمر کے. تھوڑے شرارتی ضرور تھے مگر اچھے بچے تھے.نہا دھو کے اور صاف ستھرے کپڑے پہن کے آتے تھے. دو گھنٹے سپارہ پڑھتے تھے اور پھر باہر گلی میں کھیلنے نکل جاتے. کون تھے کس کی اولاد تھے؟ نہ میں نے کبھی پوچھا نا کسی نے بتایا. لیکن پھر ایک دن غضب ہوگیا. قرآن پڑھنے والے بچوں میں ایک بچہ نبیل نام کا تھا. یوں تو اس میں کوئی خاص بات نا تھی. لیکن بس تھوڑا زیادہ شرارتی تھا. تلاوت میں دل نہیں لگتا تھا. بس آگے پیچھے ہلتا رہتا اور کھیلنے کے انتظار میں لگا رہتا. میں بھی درگزر سے کام لیتا کے چلو بچہ ہے.لیکن ایک دن ضبط کا دامن میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا. اس دن صبح ہی سے میرے سر میں ایک عجیب درد تھا. غلام شبّیر سے مالش کرائی، پیناڈول کی دو گولیاں بھی کھایئں مگر درد زور آور بیل کی مانند سر میں چنگھاڑتا رہا. درد کے باوجود اور غلام شبّیر کے بہت منع کرنے پر بھی میں نے بچوں کا ناغہ نہیں کیا. نبیل بھی اس دن معمول سے کچھ زیادہ ہی شرارتیں کر رہا تھا. کبھی ایک کو چھیڑ کبھی دوسرے کو. جب اس کی حرکتیں حد سے بڑھ گیئں تو یکایک میرے دماغ پر غصّے کا بھوت سوار ہوگیا اور میں نے پاس رکھی لکڑی کی رحل اٹھا کر نبیل کے دے ماری. میں نے نشانہ تو کمر کا لیا تھا مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کے رحل بچے کی پیشانی پر جا لگی خون بہتا دیکھ کر مجھے میرے سر کا درد بھول گیا اور میں نے گھبرا کر غلام شببر کو آواز دی. وہ غریب بھاگتا ہوا آیا اور بچے کو اٹھا کے پاس والے ڈاکٹر کے کلینک پر لے گیا. خدا کا شکر ہوا کے چوٹ گہری نہیں لگی تھی. مرہم پٹی سے کام چل گیا اور ٹانکے نا لگے. خیر باقی بچوں کو فارغ کر کے مسجد کے دروازے پے پوہنچا ہی تھا کے چادر میں لپٹی ایک عورت نے مجھے آواز دے کر روک لیا. میں نے دیکھا کے وہ عورت دہلیزپۓ کھڑی مسجد کے دروازے سے لپٹی رو رہی تھی چالیس پینتالیس کا سن ہوگا. معمولی شکل و صورت. سانولا رنگ اور چہرے پے پرانی چیچک کے گہرے داغ. آنسوؤں میں ڈوبی آنکھیں اور گالوں پر بہتا کالا سرما. زیور کے نام پے کانوں میں لٹکتی سونے کی ہلکی سی بالیاں اور ناک میں چمکتا سستا سرخ نگ کا لونگ. چادر بھی سستی مگر صاف ستھری اور پاؤں میں ہوائی چپپل .کیا بات ہے بی بی؟ کون ہو تم؟” میں نے حیرانگی سے اس سے پوچھا’ .میں نوراں ہوں مولوی صاحب.” اس نے چادر کے پلو سے ناک پونچھتے ہوئے کہا’ نوراں؟ نوراں کنجری؟” میرے تو گویا پاؤں تلے زمین ہی نکل گیئ. میں نے ادھر ادھر غلام شبّیر کی تلاش میں نظریں دوڑائیں مگر وہ تو نبیل کی مرہم پٹی کرا کے اور اس کو اس کے گھر چھوڑنے کے بہانے نجانے کہاں غایب تھا جی. نوراں کنجری!” اس نے نظریں جھکاے اپنے نام کا اقرار کیا. مجھے کچھ دیر کے لئے اپنے منہ سے نکلنے والی اس کے گالی جیسی عرفیت پے شرمدگی ہوئی مگر پھر خیال آیا کے وہ طوائف تھی اور اپنی بری شہرت کی زمہ دار. شرمندگی اس کو ہونی چاہیے تھی، مجھے نہیں. پھر اچانک مجھے احساس ہوا کے میری موتی جیسی مسجد میں اس طوائف کا نا پاک وجود کسی غلاظت سے کم نہیں تھا باہر نکل کے کھڑی ہو. مسجد کو گندا نا کر بی بی”، میں نے نفرت سے باہر گلی کی جانب اشارہ کیا. اس نے کچھ اس حیرانگی سے آنکھ اٹھا کے میری طرف دیکھا کے جیسے اسے مجھ سے اس رویے کی امید نا ہو. ڈبڈبائی آنکھوں میں ایک لمحے کے لئے کسی انکہی فریاد کی لو بھڑکی. لیکن پھر کچھ سوچ کر اس نے آنسوؤں کے پانی میں احتجاج کے ارادے کو غرق کیا اور بغیر کوئی اور بات کئے چلی گی. میں نے بھی نا روکا کے پتا نہیں کس ارادے سے آیئ تھی. اتنی دیر میں غلام شبّیر بھی پوھنچ گیا .کون تھی میاں جی؟ کیا چاہتی تھی؟” غالباً اس نے عورت کو تو دیکھا تھا مگر دور سے شکل نہیں پہچان پایا’ نوراں کنجری تھی. پتا نہیں کیوں آی تھی؟ مگر میں نے بھی وہ ڈانٹ پلائی کے آیندہ اس پاک جگہ کا رخ نہیں کرے گی.” میں نے داد طلب نظروں سے غلام شبّیر کی طرف دیکھا مگر اس کے چہرے پر ستائش کی جگہ افسوس نے ڈیرے ڈال رکھے تھے وہ بیچاری دکھوں کی ماری اپنے بچے کا گلہ کرنے آی تھی میاں جی. نبیل کی ماں ہے . بچے کی چوٹ برداشت نہیں کر سکی. اور آپ نے اس غریب کو ڈانٹ دیا.” غلام شبّیر نے نوراں کی وکالت کرتے ہوئے کہا تو نبیل نوراں کا بیٹا ہے.ایسی حرکتیں کرے گا تو سزا تو ملے گی. جیسی ماں ویسا بیٹا”. میں نے اپنی شرمندگی کو بیہودگی سے چھپانے کی کوشش کی. ایک لمحے کو خیال بھی آیا کے بچہ تو معصوم ہے اور پھر میں نے زیادتی بھی کی تھی. مگر پھر اپنے استاد ہونےکا خیال آیا تو سوچا کے بچے کی بھلائی کے لئے ہی تو مارا ہے. کیا ہوا. اور پھر ایک طوائف کو کیا حق حاصل کے مسجد کے امام سے شکایت کر سکے .کتنے بچے ہیں نوراں کے؟” میں نے بات کا رخ بدلنے کی کوشش کی’ مسجد میں پڑھنے والے سب بچے نوراں کے ہیں میاں جی. اس کے علاوہ ایک گود کا بچہ بھی ہے. بس اس محلے میں صرف نوراں اپنے بچوں کو مسجد بھیجتی ہے. باقی سب لوگوں کے بچے تو آوارہ پھرتے ہیں.” غلام شبّیر کی آواز میں پھر نوراں کی وکالت گونج رہی تھی. میں نے بھنا کر جواب دینے کا ارادہ کیا ہی تھا کے کوتوال صاحب کی گاڑی سامنے آ کر رکی. خود تو پتا نہیں کیسا آدمی تھا مگر بیوی بہت نیک تھی. ہر دوسرے تیسرے روز ختم کے نام پر کچھ نہ کچھ میٹھا بھجوا دیتی تھی. اس دن بھی کوتوال کا اردلی جلیبیاں دینے آیا تھا. گرما گرم جلیبیوں کی اشتہا انگیز مہک نے میرا سارا غصہ ٹھنڈا کر دیا اور نوراں کنجری کی بات آیی گیی ہوگیی یہ نبیل کو مار پڑنے کے کچھ دنوں بعد کا ذکر ہے. عشاء پڑھا کے میں غلام شبّیر سے ایک شرعیی معاملے پر بحث میں الجھ گیا تو گھر جاتے کافی دیر ہوگیی. مسجد سے باہر نکلے تو بازار کی رونق شروع تھی. بالکونیوں پر جھلملاتے پردے لہرا رہے تھے اور کوٹھوں سے ہارمونیم کے سر اور طبلوں کی تھاپ کی آواز ہر سو گونج رہی تھی. پان سگریٹ اور پھولوں کی دکانوں پر بھی دھیرے دھیرے رش بڑھ رہا تھا. اچانک میری نظر نوراں کے گھر کے دروازے پرجا پڑی. وہ باہر ہی کھڑی تھی اور ہر آتے جاتے مرد سے ٹھٹھے مار مار کر گپپیں لگا رہی تھی. آج تو اس کا روپ ہی دوسرا تھا. گلابی رنگ کا چست سوٹ، پاؤں میں سرخ گرگابی، ننگے سر پے اونچا جوڑا، جوڑے میں پروۓ موتیے کے پھول، میک اپ سے لدا چہرہ، گہری شوخ لپ سٹک، آنکھوں میں مسکارا اور مسکارے کی اوٹ سے جھانکتی ننگی دعوت لاحول ولا قوت اللہ باللہ” میں نے طنزیہ نگاہوں سے غلام شبّیر کی جانب دیکھا. آخر وہ نوراں کا وکیل جو تھا’ چھوڑئیے میاں جی. عورت غریب ہے اور دنیا بڑی ظالم.” اس نے گویا بات کو ٹالنے کی کوشش کی. مگر میں اتنی آسانی سے جان چھوڑنے والا نہیں تھا یہ بتاؤ میاں، جب اس کے گاہک آتے ہیں تو کیا بچوں کے سامنے ہی…………………….؟” میں نے معنی خیز انداز میں اپنا سوال ادھورا ہی چھوڑ دیا میاں جی، ایک تو اس کے بچے صبح اسکول جاتے ہیں اور اس لئے رات کو جلدی سو جاتے ہیں. دوسرا، مہمانوں کے لئے باہر صحن میں کمرہ الگ رکھا ہے.” غلام شبّیر نے ناگوار سے لہجے میں جواب دیا استغفراللہ! استغفراللہ!”. میں نے گفتگو کا سلسلہ وہیں ختم کرنا مناسب سمجھا کیوں کے مجھے احساس ہو چکا تھا کے غلام شبّیر کے لہجے سے جھانکتی ناگواری کا رخ نوراں کی جانب نہیں تھا اس کے بعد نوراں کا ذکر میرے سامنے تب ہوا جن دنوں میں اپنے اور زوجہ کے لئے حج بیت الله کی غرض سے کاغذات بنوا رہا تھا. اس غریب کی بڑی خواہش تھی کے وہ اور میں الله اور اس کے نبی پاک کی خدمت میں پیش ہوں اور اولاد کی دعا کریں. میرا بھی من تھا کے کسی بہانے سے مکّے مدینے کی زیارت ہوجاے. نام کے ساتھ حاجی لگا ہو تو شاید محکمے والے کسی اچھی جگہ تبدیلی کر دیں. زوجہ کا ایک بھانجا انہیں دنوں وزارت مذہبی امور میں کلرک تھا. اس کی وساطت سے درخواست کی قبولی کی کامل امید تھی. کاغذات فائل میں اکٹھے کیے ہی تھے کے غلام شبّیر ہاتھ میں کچھ اور کاغذات اٹھاے پوھنچ گیا .میاں جی………ایک کام تھا آپ سے. اجازت دیں تو عرض کروں.” اس نے ہچکچاتے کہا’ ہاں ہاں میاں، کیوں نہیں. کیا بات ہے؟” میں نے داڑھی کے بالوں میں انگلیوں سے کنھگی کرتے ہوئے اس کو بیٹھنے کا اشارہ کیا میاں جی، آپ کی تو وزارت میں واقفیت ہے. ایک اور حج کی درخواست بھی جمع کرا دیں.” اس نے ہاتھ میں پکڑے کاغذات میری جانب بڑھاے دیکھو میاں غلام شبّیر، تم اچھی طرح جانتے ہو کے میں گھر بار تمہارے ذمے چھوڑ کر جا رہا ہوں. اور پھر تمہارے پاس حج کے لئے پیسے کہاں سے آے؟” میں نے کچھ برہمی سے پوچھا .نہیں نہیں میاں جی. آپ غلط سمجھے. یہ میری درخواست نہیں ہے. نوراں کی ہے.” اس نے سہم کر کہا’ کیا؟ میاں ہوش میں تو ہو؟ نوراں کنجری اب مکّے مدینے جائے گی؟ اور وہ بھی اپنے ناپاک پیشے کی رقم سے؟ توبہ توبہ.” میرے تو جیسے تن بدن میں آگ لگ گیی یہ واہیات بات سن کر میاں جی. طوائف ہے پر مسلمان بھی تو ہے. اور وہ تو الله کا گھر ہے. وہ جس کو بلانا چاہے بلا لے. اس کے لئے سب ایک برابر”. اپنی طرف سے غلام شبّیر نے بڑی گہری بات کی اچھا؟ الله جس کو بلانا چاہے بلا لے؟ واہ میاں واہ. تو پھر میں درخواست کیوں جمع کراؤں؟ نوراں سے کہو سیدھا الله تعالیٰ کو ہی بھیج دے”. میں نے غصّے سے کہا اور اندر کمرے میں چلا گیا زوجہ کا بھانجا بر خوردار نکلا اور الله کے فضل و کرم سے میری اور زوجہ کی درخواست قبول ہو گیئ. ٹکٹ کے پیسے کم پڑے تو اسی بھلی لوک کے جہیز کے زیور کام آ گئے. الله کا نام لے کر ہم روانہ ہوگئے. احرام باندھا تو گویا عمر بھر کے گناہ اتار کے ایک طرف رکھ دیے. الله کا گھر دیکھا اور نظر بھر کے دیکھا. فرائض پورے کرتے کرتے رمی کا دن آ گیا. بہت رش تھا. ہزاروں لاکھوں لوگ. ایک ٹھاٹھیں مارتا سفید رنگ کا سمندر. گرمی بھی بہت تھی. میرا تو دم گھٹنا شروع ہوگیا. زوجہ بیچاری کی حالت بھی غیر ہوتی جا رہی تھی. اوپر سے غضب کچھ یہ ہوا کے میرے ہاتھ سے اس غریب کا ہاتھ چھوٹ گیا. ہاتھ کیا چھوٹا، لوگوں کا ایک ریلا مجھے رگیدتا ھوا پتا نہیں کہاں سے کہاں لے گیا. عجب حالات تھے. کسی کو دوسرے کا خیال نہیں تھا. ہر کوئی بس اپنی جان بچانے کے چکّر میں تھا. میں نے بھی لاکھ اپنے آپ کو سمبھالنے کی کوشش کی مگر پیر رپٹ ہی گیا. میں نیچے کیا گرا، ایک عذاب نازل ہوگیا. ایک نے میرے پیٹ پر پیر رکھا تو دوسرے نے میرے سر کو پتھر سمجھ کر ٹھوکر ماری. موت میری آنکھوں کے سامنے ناچنے لگی. میں نے کلمہ پڑھا اور آنکھیں بںد کی ہی تھیں کے کسی الله کے بندے نے میرا دایاں ہاتھ پکڑ کے کھینچا اور مجھے سہارا دے کر کھڑا کر دیا میں نے سانس درست کی اور اپنے محسن کا شکریہ ادا کرنے کے لئے اس کی طرف نگاہ کی. مانو ایک لمحے کے لئے تو بجلی ہی گر پڑی. کیا دیکھتا ہوں کے میرا ہاتھ مضبوطی سے تھامے نوراں کنجری کھڑی مسکرا رہی تھی. ‘یہ ناپاک عورت یہاں کیسے آ گیی؟ اس کی حج کی درخواست کس نے اور کب منظور کی؟’ میں نے ہاتھ چھڑانے کی بہت کوشش کی مگر کہاں صاحب. ایک آہنی گرفت تھی. میں نہیں چھڑا سکا. وہ مجھے اپنے پیچھے کھینچتی ہوئی ایک طرف لے گیی. اس طرف کچھ عورتیں اکٹھی تھی. اچانک میری نظر زوجہ پر پڑی جس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ بیتاب نگاہوں سے مجمع ٹٹول رہی تھی. ہماری نظریں ملیں تو سب کلفت بھول گیی. میں دوڑ کر اس تک پہنچا اور آنسو پونچھے .کہاں چلے گئے تھے آپ؟ کچھ ہوجاتا تو؟’ پریشانی سے الفاظ اس کے گلے میں اٹک رہے تھے’ بس کیا بتاؤں آج مرتے مرتے بچا ہوں. جانے کون سی نیکی کام آ گیی. میں تو پاؤں تلے روندا جا چکا ہوتا اگر نوراں نہیں بچاتی.’ میں نے اس کو تسلی دیتے ہوئے کہا .نوراں؟ ہماری پڑوسن نوراں؟ وہ یہاں کہاں آ گی؟ آپ نے کسی اور کو دیکھا ہوگا’. اس نے حیرانگی سے کہا’ ارے نہیں. نوراں ہی تھی’. میں نے ادھر ادھر نوراں کی تلاش میں نظریں دوڑایئں مگر وہ تو نجانے کب کی جا چکی تھی. بعد میں بھی اس کو بہت ڈھونڈا مگر اتنے جمے غفیر میں کہاں کوئی ملتا ہے خدا خدا کر کے حج پورا ھوا اور ہم دونوں میاں بیوی وطن واپس روانہ ہوے. لاہور ائیرپورٹ پر غلام شببر پھولوں کے ہاروں سمیت استقبال کو آیا ہوا تھا بہت مبارک باجی. بہت مبارک میاں جی. بلکہ اب تو میں آپ کو حاجی صاحب کہوں گا.’ اس نے مسکراتے ہوئے ہم دونوں کو مبارک دی تو میری گردن حاجی صاحب کا لقب سن کراکڑ گیی. میں نے خوشی سے سرشار ہوتے ہوے اس کے کندھے پے تھپکی دی اور سامان اٹھانے کا اشارہ کیا ٹیکسی میں بیٹھے. میں نے مسجد اور گھر کی خیریت دریافت کی تو نوراں کا خیال آ گیا. .میاں غلام شببر، نوراں کی سناؤ’. میرا اشارہ اس کی حج کی درخواست کے بارے میں تھا’ .اس بیچاری کی کیا سناؤں میاں جی؟ لیکن آپ کو کیسے پتا چلا؟’ اس نے حیرانگی سے میری جانب دیکھا’ .بس ملاقات ہوئی تھی مکّے شریف میں.’ میں نے اس کے لہجے میں چھپی اداسی کو اپنی غلط فہمی سمجھا’ مکّے شریف میں ملاقات ہوئی تھی؟ مزاق نا کریں میاں جی. نوراں تو آپ کے جانے کے اگلے ہی دن قتل ہوگیی تھی.’ اس نے گویا میرے سر پر بم پھوڑا .,قتل ہوگیی تھی؟’ میں نے اچھنبے سے پوچھا’ جی میاں جی. بیچاری نے حج کے لئے پیسے جوڑ رکھے تھے. اس رات کوئی گاہک آیا اور پیسوں کے پیچھے قتل کر دیا غریب کو. ہمیں توصبح کو پتا چلا جب اس کے بچوں نے اس کی لاش دیکھی. شور مچایا تو سب اکٹھے ہوئے. پولیس والے بھی پہنچ گئے اور اس کی لاش پوسٹ مارٹم کے لئے لے گئے. ابھی کل ہی میں مردہ خانے سے میّت لے کے آیا ہوں. آج صبح ہی تدفین کی اس کی.’ غلام شببر کی آواز آنسوں میں بھیگ رہی تھی .قاتل کا کچھ پتا چلا؟’ میں ابھی بھی حیرانگی کی گرفت میں تھا.’ پولیس کے پاس اتنا وقت کہاں میاں جی کے طوائفوں کے قاتلوں کو ڈھونڈہے. اس بیچاری کی تو نمازجنازہ میں بھی بس تین افراد تھے: میں اور دو گورکن.’ اس نے افسوس سے ہاتھ ملتے ہوئے کہا .اور اس کے بچے؟ ان کا کیا بنا؟’ میں نے اپنی آنکھوں میں امڈ تی نمی پونچھتے ہوئے دریافت کیا’کوئی لڑکا پیدا ہوتا ہے تو زیادہ تر اسے راتوں رات اٹھا کر کوڑے کے ڈھیرپر پھینک دیا جاتا ہے. وہ سب ایسے ہی بچے تھے. نوراں سب جانتی تھی کے کس کے ہاں بچہ ہونے والا ہے. بس لڑکا ہوتا تو اٹھا کر اپنے گھر لے آ تی. کہنے کو تو طوائف تھی میاں جی مگر میں گواہ ہوں. غریب جتنا بھی کماتی بچوں پے خرچ کر دیتی. بس تھوڑے بہت الگ کر کے حج پے جانے کے لئے جمع کر رکھے تھے. وہ بھی اس کا قاتل لوٹ کر لے گیا یہ بتاؤ غلام شببر، جب میں نے اس کی درخواست جمع کرانے سے انکار کیا تو اس نے کیا کہا؟’ مجھ پے حقیقتوں کے در کھلنا شروع ہو چکے تھے بس میاں جی، کیا کہتی بیچاری. آنکھوں میں آنسو آ گئے. آسمان کی جانب ہاتھ اٹھاے اور کہنے لگی کے بس تو ہی اس کنجری کو بلاے تو بلا لے’. مجھ پر تو پوچھو گھڑوں پانی پڑ گیا. تاسف کی ایک آندھی چل رہی تھی. ہوا کے دوش میری خطائیں اڑرہی تھیں. گناہوں کی مٹی چل رہی تھی اور میری آنکھیں اندھیائی جا رہی تھیں آپ کیوں روتے ہیں میاں جی؟ آپ تو ناپاک کہتے تھے اس کو.’ غلام شبّیر نے حیرانگی سے میری آنسوں سے تر داڑھی دیکھتے ہوئے کہا کیا کہوں غلام شببر کے کیوں روتا ہوں. وہ ناپاک نہیں تھی. ناپاک تو ہم ہیں جو دوسروں کی ناپاکی کا فیصلہ کرتے پھرتے ہیں. نوراں تو الله کی بندی تھی. الله نے اپنے گھر بلا لیا.’ میری ندامت بھری ہچکیاں بند ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں اور غلام شببر نا سمجھتے ہوئے مجھے تسّلی دیتا رہا ٹیکسی محلے میں داخل ہوئی اور مسجد کے سامنے کھڑی ہوگیی. اترا ہی تھا کے نوراں کے دروازے پے نظر پڑی. ایک ہجوم اکٹھا تھا وہاں ‘کیا بات ہے غلام شببر؟ لوگ اب کیوں اکٹھے ہیں؟’ میاں جی میرے خیال میں پولیس والے ایدھی سنٹر والوں کو لے کے آے ہیں. وہ ہی لوگ بچوں کو لے جاییں گے. ان غریبوں کی کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہیں ہے.’ غلام شببر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا میں نے زوجہ کا ہاتھ پکڑا اور غلام شببر کو پیچھے آنے کا اشارہ کرتے ہوئے نوراں کے دروازے کی جانب بڑھ گیا .کہاں چلے میاں جی؟’ غلام شببر نے حیرانگی سے پوچھا’ نوراں کے بچوں کو لینے جا رہا ہوں. آج سے وہ میرے بچے ہیں. اور ہاں مسجد کا نام میں نے سوچ لیا ہے. آج سے اس کا نام نور مسجد ہوگا
  31. 2 likes
  32. 2 likes
    نان پیڈ ممبران کے لیے بونس اپڈیٹ۔۔۔ نان پیڈ ممبران نے اپنی آرا سے آگاہ کیا۔ اگر وہ اسی طرح کہانیوں میں شامل ہوتے رہے تو فورم انتظامیہ مستقل بنیادوں پر ہائی کلاس کہانیاں نان پیڈ ممبران کے لیے شائع کرنے کا سوچ سکتی ہے۔ مگر ابھی بھی نان پیڈ کی نسبت پیڈ ممبران نے زیادہ گرم جوشی دکھائی۔ جلد ہی ایک اور مکمل کہانی شئیر کی جائے گی۔ اگلی اپڈیٹ آخری ہو گی تو دل تھام کر بیٹھیں اور عریشہ کی کنواری کم سن بہن علیشہ کے جلوے ملاحظہ فرمائیں۔
  33. 2 likes
    نئی قسط حاضر ہے جناب
  34. 2 likes
    آج کی نئی قسط۔۔۔ بونس سمجھ لیں۔ Updated 2 pages
  35. 2 likes
    نئی قسط حاضر ہے۔ کمنٹس کا بے صبری سے انتظار رہے گا۔ خاص طور پر نان پیڈ ممبرزکے کمنٹس کا انتظار رہے گا۔
  36. 2 likes
    ابھی تک نان پیڈ ممبرز نے کوئی کمنٹ نہیں کیا۔ شاید وہ یہ چاہتے ہیں کہ کہانی کو نان پیڈ سیکشن میں پوسٹ ہی نہ کیا جائے۔ کہانی پر درجنوں ممبرز کے ویوز ہیں مگر کمنٹ کسی کے نہیں ہیں۔
  37. 2 likes
    زبردست جناب۔ بہت عمدہ جناب۔ کیا ہی بات ہے۔ مزا ہی آ گیا۔ اس کہانی میں واقعی بڑی سادگی سے ایک ٹین ایج کی محبت سے امیدیں، دوستی کے رشتے کا غلط استعمال اور لوگوں کی مفاد پرستی کو دکھایا گیا ہے۔ عریشہ کا نامناسب اور مطلبی رویہ اوراچانک سے سیکس، پھر سیکس بھی نہایت بےمزا ۔بہت گرے ہوئے انداز میں کسی کا بچہ شاہ زیب جو اس سے محبت کرتا ہے پر تھوپنا۔ احسن اور اس کے سارے گھر والوں بشمول فیروزے کا اس کی اچھائیوں کو حق سمجھ کر وصول کرنا مگر اس کا نوکر سمجھ لینا اور حقارت آمیز سلوک کرنا بہت غلط ہے۔
  38. 2 likes
    یار لوگ کتنے گھٹیا ہوتے ہیں۔ کوئی اگر خلوص شو کرے تو اس کو باپ کا نوکر سمجھ لیتے ہیں۔ یہ لڑکی تو مجھے زہر لگنے لگ گئی ہے۔ فیروزے بھی بہت گھمنڈی لگ رہی ہے۔ مزا تب آئے کہ شاہ زیب فیروزے کو کر دے۔ تب ان کو پتا چلے۔ کہانی کا سٹارٹ اچھا ہے واقعی الگ اور نیچرل سٹوری ہے۔ سادہ سی لگ رہی ہے جیسے آس پاس کی ہو ۔ سٹوری میکر گڈ یار ویری گڈ۔ اچھی بات ہے کہ یہ یو ایف سی کی اوریجنل سٹوری ہے۔ فری ممبرز کو رپلائی دینا چاہیے تاکہ رائٹرز اور بھی ہائی کلاس یہاں پوسٹ کریں۔
  39. 2 likes
    اس وقت صبع کے آٹھ بجے تھے اور رش کی وجہ سے کمرہ ء عدالت کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔ ہم سب (انکل لوگ ) ۔۔۔۔ اور شیدے کے سارے گھر والے بھی عدالت میں موجود تھے نبیلہ کے باکرہ ( کنواری) ہونے کی میڈیکل رپورٹ بھی آ گئی تھی۔۔اس کے علاوہ میں نے نبیلہ کے بالغ ہونے کا ثبوت (ووٹر لسٹ بھی اپنے وکیل کو دے رکھی تھی) ۔۔ اور اس کے ساتھ ساتھ میڈم تانیہ کے ساتھ خصوصی تعلق ہونے کی وجہ سے ہمارے بارے میں اس نے نبیلہ کو اچھا خاصہ موٹی ویٹ کر رکھا ۔۔۔۔ کچھ ہی دیر کے بعد جج صاحب کمرہ عدالت میں آ گئے۔۔۔۔۔اس وقت عدالت میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔۔۔۔ پھر جیسے ہی ہمارے کیس کے بارے میں پکارا ہوا۔۔۔تو میرے سمیت ہم سب کے دل دھک دھک کرنے لگے۔ کہ دیکھو نبیلہ کیا بیان دیتی ہے اگر اس کا بیان ہمارے حق میں ہوا۔۔ تو اسی وقت کیس نے ختم ہو جانا تھا اور اگر ۔۔۔۔۔ یہ سوچتے ہی مجھے ایک جھرجھری سی ا ٓگئی۔اور میں اس سے آگے نہ سوچ سکا۔۔۔۔۔۔۔۔ادھر جج صاحب نے نبیلہ کو کٹہرے میں طلب کیا ۔۔۔۔اور پھر اس سے حلف لینے کے بعد ۔۔۔ ۔۔۔ عدالت میں نبیلہ کی آواز گونجی وہ کہہ رہی تھی کہ جناب میں ایک عاقل او ر بالغ لڑکی ہوں اور اپنی مرضی سے امجد کے ساتھ گئی تھی جس کی وجہ سے میرے والدین نے امجد اور اس کے گھر والوں پر ناجائز پرچہ کروا دیا تھا گھر سے جانے کی وجہ میرے گھر والوں کی مجھ پر ناجائز پابندیاں تھی۔۔اس کے بعد وہ دس منٹ بولتی رہی ۔ نبیلہ کا بیان ختم ہونے کے بعد ۔۔۔۔۔ عدالت کی طرف سے اس پر سوال و جواب کیئے گئے۔۔۔ اور پھر جج صاحب نے نبیلہ کی میڈیکل رپورٹ اور دیگر ثبوت دیکھنے کے بعد اس نے امجد کو باعزت بری کر تے ہوئے ہم پر درج ایف آئی آر کو بھی ختم کر دیا۔۔۔۔فیصلہ سنا کر جیسے ہی جج صاحب ریٹائیرنگ روم میں گئے۔۔۔۔مبارک سلامت کا ایک شور ا ُٹھا اور پھر۔۔۔۔ایک دوسرے کے ساتھ گلے ملنے کے بعد ۔۔۔۔۔ سب لوگ اپنے اپنے گھرو ں کو چلے گئے۔۔۔ اور پھر کچھ دیر بعد میں بھی گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔۔۔ابھی میں نے کچہری کا گیٹ عبور ہی کیا تھا کہ مجھ پر قیامت ٹوٹ پڑی۔۔۔ ایک ساتھ بہت سارے لوگ مجھ پر پل پڑے ۔۔اور مجھ پر مکوں تھپڑوں اور ٹھڈوں کی برسات شروع ہو گئی ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔کوئی مجھے لاتیں مار رہا تھا تو کوئی ڈنڈوں سے پیٹ رہا تھا اور کوئی ویسے ہی گالیاں دے رہا تھا ایسے میں ۔۔۔ اپنے آپ کو بچانے کے لیئے ۔۔۔میں پاگلوں کی طرح فضا میں ہاتھ پاؤں چلا رہا تھا لیکن بے سود۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے میں اچانک ہی ایک زور دار ڈانڈا میرے سر پر لگا۔۔۔۔۔ جس کی وجہ سے میرا سر گھوم گیا اور میں تیورا کر زمین پر گر گیا۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔اور زمین پر گرتے انہوں نے مجھ پر ٹھڈے برسانے شروع کر دیئے۔۔اس وقت میرے انگ انگ سے درد پھوٹ رہا تھا اور میرے ناک منہ سے خون رس رہا تھا ۔۔۔ میں جو پہلے ہی نیم بے ہوش سا تھا۔۔۔ان ٹھڈوں اور لاتوں کو مزید برداشت نہ کر سکا ۔۔ ۔۔۔اور پھر آہستہ آہستہ میری آنکھیں بند ہوتی چلی گئیں ۔۔۔میں نے آنکھیں کھولنے کی بڑی کوشش کی ۔۔۔۔لیکن۔۔۔ میرے پیوٹے من بھر کے ہو گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر آہستہ آہستہ میری آنکھیں ۔۔۔۔۔۔۔بند ہو نے لگیں ۔۔اسی دوران میں نے ۔۔۔ آخری دفعہ آنکھیں کھولنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے تیرے ہونٹوں کی پھولوں کی چاہت میں ہم دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے۔۔۔۔۔۔ سولیوں پر ہمارے لبوں سے پرے تیرے ہونٹوں کی لالی لپکتی رہی تیرے ہاتھوں کی چاندی دمکتی رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ........................ ختم شد .........................
  40. 2 likes
  41. 2 likes
    یقین کرو دوست میں نے آپ کے یہ کمنٹس کوئی 18 واری پڑھے ہیں ہر دفعہ پڑھنے کا ایک نیا مزہ آیا ہے خاص کر کہانی میں آنے والی ہر لڑکی یا عورت کے بارے میں پڑھ کر ۔۔۔ واہ واہ مزہ آ گیا۔۔۔ کمنٹس کے لیئے شکریہ جناب ۔اور شکر ہے کہ اس ٹھنڈے فورم پر کسی نے کمنٹس بھی کیے جہاں تک اصل کہانی کا تعلق ہے تو بھائی یہ بھی اصل کہانی ہی ہے ہاں آپ کے منورنجن کے لیئے اس میں سیکس سین زیادہ ڈال رہا ہوں ورنہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ اصل واقعہ حجم میں تھوڑا ہوتا ہے سو بھائی دو چار پھدیاں ہور مارن دے فیر دشمن کو بھی دیکھ لیں گے کی آناں اے؟
  42. 1 like
    بہت اچھی کہانی ہے جناب مزہ آ گیا اگلی اپ ڈیٹ کا انتظار رہے گا شکریہ
  43. 1 like
    Dr khan shb kesy hn ap bht acha lihkta hn apka lhkna hma pasnd hy kindly update ka bra mn bh bta dain besabri sa intezar hy update ka kindly reply kr ka zaror btay ga thnx Regards Hadi
  44. 1 like
    اپڈیٹ پلیززززززززززززززززززززززززز
  45. 1 like
    قسط نمبر 25 ،خرم نے اپنا شاپر وہاں میز پر رکھا اور وہیں بیٹھ گیا اس کوارٹر میں دو کمرے ایک کچن ایک باتھ روم بنا ہوا ،ساتھ میں ایک اور کوارٹر تھا مگر وہ ابھی خالی بند پڑا ہوا تھا ، - خرم کو پیشاب آیا وہ باتھ روم گیا وہاں سے نکل کر باہر آگیا کوٹھی کے چاروں طرف صحن میں پودے اور گھاس لگی ہوئی صرف گیٹ اور کار پورچ کی جگہ پکا ٹائلیوں والا فرش تھا ،کوارٹر ز ایک نکڑ ق پر بنے ہوئے تھے ، بالی اپنے کمرے سے نکلی اور خرم سے بولی آؤ کوٹھی میں چلیں کھانا بنانا ہے مجھے تم بھی کچھ کھا لو دوپہر ہوگئی ہے ، اندر آگئے تو کوٹھی پوری فلی ایئرکنڈیشن تھی اندر آتے ہی ٹھنڈی ہوا نے اس کا استقبال کیا، خرم نے بالی سے پوچھا یہ ٹھنڈی ہوا کہاں سے آ رہی ہے ،بالی نے بتایا کہ پوری کوٹھی میں ایئرکنڈیشن سسٹم ہے اب صاحب لوگ آئیں ہیں تو آن کیا ہے ،خرم نے اچھا ،پھر وہ کچن میں آگیا بالی کے ساتھ ،بالی اس سے اس کے گھر والوں کے بارے میں گاؤں کے بارے میں پوچھتی رہی خرم بتاتا رہا ،سب اپنے اپنے کمروں میں تھے ،بالی نے باتوں کے ساتھ ساتھ کھانا تیار کر لیا ،ڈائننگ ہال میں کھانا لگا دیا اور کچن میں لگے ہوئے انٹر کام پر کہہ دیا کے کھانا لگ گیا ،سب ڈائننگ ہال میں کھانا کھانے لگ گئے ،بالی نے خرم کو کا کہا کہ میں خالد کو کھانا دیکر آتی ہوں جو کہ گیٹ کے ساتھ بنے چھوٹے سے کمرے میں سارا دن رہتا ہے ،پھر بالی نے برتن سمیٹ کر رکھے اور اپنا اور خرم کا کھانا لیکر کوارٹر پر آگئی ان دونوں نے کھانا کھایا دوپہر کا وقت تھا سب کھانا کھا کر اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تھے چوہدری ریاست اپنی گاڑی نکال کر کہیں چلے گئے ،خرم گاؤں میں دوپہر کو کھیلنے کا عادی تھا اسے تو دوپہر کو نیند نہیں آتی ،پوری کوٹھی ڈبل سٹوری تھی وہ چلتا ہوا کوٹھی کے اندر آگیا پھر اسکا ہال کے سائیڈ پر بنی ہوئی سیڑھیوں کی طرف دھیان گیا وہ ان کے ذریعے اوپر والے پورشن میں آگیا کافی سارے کمرے تھے اوپر بھی ابھی تو خرم کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ اسی طرف بنے ہوئے ٹیرس کی طرف گیا وہاں سے اسے چھت کی طرف جاتی سیڑھیاں نظر آئیں وہ اوپر آگیا سورج کی تیپش سے چھت پر گرمی کافی تھی مگر خرم کے لیے یہ نظارہ ہی بڑا دلچسپ تھا دور دور تک بڑی کوٹھیاں نظر آ رہیں تھیں رنگ برنگے نظارے تھے اس کۓ لیے کچھ دیر پوری چھت پر ٹہلنے کے بعد اسے کچھ سمجھ نہیں آئی کہ اب کیا کرے وہ نیچے کی طرف آگیا ٹیریس کے پاس سے گزرا تو اسے ٹیرس کے پاس بنی ہوئی کھڑکی اندر سے گانا چلنے کی آواز سنائی دی یہ گانا وہ اکثر چوہدری کمال کے کمرے میں رکھے ہوئے میوزک پلیئر پر سن چکا تھا اس کو تجس ہوا کہ ادھر اس کمرے میں کون ہے کھڑکی کے قریب ہوا دیکھا تو پردہ گرا ہوا تھا اور کھڑکی کی شیشے والی گرل بھی بند تھی لیکن گانے کی آواز پھر بھی - سنائی دے رہی تھی خرم وہاں سے ہٹنے لگا تھا کہ اچانک پردہ تھوڑا سا سائیڈ پر ہوگیا اندر تیز روشنی والی لائٹیں جل رہیں تھیں خرم نے جھجکتے ہوئے اندر کی طرف دیکھا تو اندر کا منظر اسے دنگ کر دینے کے لیے کافی تھا اندر چوہدری کمال جو کہ صرف ،ایک (چڈی )جس کا بعد میں پتا چلا کہ اسے انڈرویئر کہتے ہیں، میں تھا اور باقی جسم سارا ننگا تھا اس کے ساتھ ایک نسوانی بدن تھا جو کہ سرخ کلر کی پینٹی اور بریزیر میں تھا اس کی کھڑکی کی طرف پشت تھی اور اس گانے کے ہلکے ہلکے سروں پر ڈانس کر رہے تھے ،جب وہ نسوانی بدن ڈانس کرتے ہوئے گھوما اور خرم کی نظر اس پڑی تو اسکا منہ کھلا رہ گیا وہ کوئی اور نہیں چوہدری کمال کی چاچی مہرو بیگم تھیں جو اپنے شوہر کے نو عمر بھتیجے کے ساتھ انتہائی بے شرمی سے ڈانس کر رہی تھی اور کمال کے ہاتھ مہرو بیگم کے جسم پر حرکت کر رہے کبھی وہ اپنی چاچی کے چھوٹے سے بریزیر میں قید ابلتے مموں کو دبا رہا تھا تو کبھی چاچی کے موٹے مگر سڈول چوتڑوں کو دبا رہا تھا اس کمرے بیڈ نہیں تھا ایک دو مشینیں پڑی ہوئی تھیں جس کا خرم کو ابھی نہیں پتا تھا کہ کس لیے ہیں ،وہ دونوں ڈانس کرتے کرتے ایک بار پھر سے پردے کے قریب آئے ایک بار تو خرم ڈر گیا کہیں انکو پتا ہی نہ چل گیا ہو مگر وہ ڈانس میں اتنے مگن کہ انہیں پتا ہی نہیں چلا کہ انکے جسم پردے سے رگڑ کھا کر گِیے جس کی وجہ سے پردہ تھوڑا سا اور سرک گیا تھا ٹیریس کی مخالف طرف سورج ہونے کی وجہ سے اس طرف سایہ بنا ہوا تھا جس وجہ سے خرم کے وہاں کھڑے ہونے کا انکو پتا نہیں چلا ویسے بھی وہ دونوں ایک دوسرے میں اتنے مگن تھے کہ انکو اردگرد کا کوئی ہوش نہیں تھا پھر اچانک کمال مہر و بیگم کے جسم سے الگ ہوا اور میوزک پلیئر کی طرف گیا اور ایک گانا جو کہ تیز تھا وہ لگا دیا اور مہرو بیگم کو کچھ اشارہ کیا خود پاس پڑے سٹال پر بیٹھ گیا مہرو بیگم نے گانے کی سروں پر ڈانس شروع کردیا وہ بہت خوبصورت انداز میں ڈانس کر رہی تھی ،پھر کمال نےڈانس کرتی ہوئی © -
  46. 1 like
    نئی لیکن آخری قسط حاضر ہے۔۔۔
  47. 1 like
    راستے بھر میں چوہدری مجھے کچھ پریشان سا دکھائی دیا۔۔۔۔اور اس کے متعلق میں نے اس سے پوچھا بھی ۔۔۔۔ لیکن وہ میری بات کو ٹال گیا۔۔۔ پھر حسبِ معمول رات کے کھانے پر سب لوگ اکھٹے بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے تو اچانک ہی چوہدری نے تائی اماں کی طرف دیکھا اور پھر بڑی سنجیدگی کے ساتھ کہنے لگا ۔۔ آج جب میں اس منڈے کو لے کر ڈیرے پر گیا تھا ۔۔۔تو یہ منڈا تو ٹیوب ویل پر نہانے لگ پڑا لیکن میں حسبِ معمول لمبڑوں کے ڈیرے پر حقہ پینے چلا گیا ۔۔۔تو اتفاق سے وہاں پر نوراں کے گاؤں کا چوہدری برکت بھی بیٹھا تھا مجھے وہاں دیکھ کر وہ بڑا خوش ہوا اور پھر مجھ کہنے لگا کہ وہ میری ہی طرف آ رہا تھا ۔۔۔ اس پر میرے کان کھڑے ہو گئے اور میرے پوچھنے پر وہ کہنے لگا۔۔۔۔ کہ نوراں کے سسرال والوں نے اسے معاملہ سلجھانے کے لیئے بیچ میں ڈالا ہے۔۔۔۔اس کے بعد چوہدری نے سامنے پڑے ہوئے گلاس سے پانی پیا اور پھر کہنے لگا اس سلسلہ میں کل دوپہر کو چوہدری برکت کے ساتھ نوراں کے سسرال کے ساتھ پنڈ کے معزز بندوں کی پریا بھی ہمارے گھر آ رہی ہے۔۔۔ ۔ اتنی بات کر کے وہ خواتین کے کی طرف مخاطب ہو کر کہنے لگا۔۔۔ ۔۔ کہ اب مجھے یہ بتاؤ کہ کیا مجھے نوراں کو ان کے ساتھ ٹور دینا چایئے یا ۔۔۔ کل چوہدری کو اپنے ہاں آنے سے منع کر دوں؟؟؟؟۔۔۔ اس پر آنٹی بات کرتے ہوئے بولیں ۔۔۔ بھائی صاحب اس کا اصل فیصلہ تو نوراں بیٹی نے ہی کرنا ہے لیکن میرے خیال میں شادی کے بعد بیٹیاں اپنے گھر میں ہی اچھی لگتی ہیں۔۔۔ آنٹی کی بات سن کر چوہدری نے اپنا بڑا سا سر ہلایا اور پھر نوراں کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔۔۔کیوں پتر تیری کی صلاح اے؟؟؟؟؟؟۔۔۔ ؟ چوہدری کی بات سن کر نوراں نے اپنا سر جھکا لیا ۔۔۔۔اور پھر چوہدری کے بار بار پوچھنے پر بس اتنا ہی بولی ۔۔۔ کہ ابا جیسا آپ کرو گے مجھے منظور ہے۔۔۔ نوراں کی بات سن کر تائی اماں کہنے لگی ۔۔۔ لیکن میں نے اپنی بیٹی کو صرف چوہدری برکت کی وجہ سے ہر گز نہیں جانے دینا۔۔بلکہ ان لوگوں کے ساتھ میں اپنی کڑی کو ٹوروں گی تو کسی گل کے ساتھ ۔۔ٹوروں گی ۔۔۔۔تو اس پر چوہدری شیر نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔ اوئے نیک بختے !۔۔ ظاہر ہے کچھ شرائط کے ساتھ ہی میں ان کے ساتھ دھی رانی کو ٹوروں گا نا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ اسکے بعد وہ سب لوگ نوراں کو بھیجنے کے لیئے مختلف شرائط پر غور و خوض کرنے لگے۔۔۔ آخر کافی بحث و تمہید کے بعد انہوں نے تین چار نکاتی شرائط نامہ تیار کیا۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی طے پایا کہ نوراں کے سسرالیوں کو ایک دو دن رکھ کر۔۔۔ پھر نوراں کو ان کے ساتھ جانے دیا جائے۔۔۔۔ جب سب باتیں طے ہوں گئیں ۔۔۔۔تو اچانک ہی آنٹی نے میری طرف دیکھا اور چوہدری سے کہنے لگی ۔۔۔۔ بھائی صاحب ایک بات تو بتاؤ اور وہ یہ کہ کیا۔۔۔ اس دوران یہ لڑکا بھی اسی گھر میں رہے گا؟ تو اس پر تائی اماں کہنے لگی ۔۔۔ یہ منڈا بھی ہمارا بیٹا اور مہمان ہے اس لیئے اس نے ادھر نہیں رہنا تو پھر یہ کہاں جائے گا؟ تائی اماں کی بات سن کر آنٹی کہنے لگیں ۔۔آپا جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ نوراں کے سسرال والے کس قدر شکی مزاج اور وہمی لوگ ہیں تو اس صورت حال میں ان لوگوں کے ہوتے ہوئے اگر یہ لڑکا بھی ادھر ہی رہا تو جانے وہ لوگ اس کے بارے میں کیا باتیں کریں؟ آنٹی کی اس بات پر تائی اماں غصے میں بولیں ۔۔۔ باتیں کرتے ہیں تو کرتے رہیں ۔۔۔ ۔۔۔ لیکن یہ ہمارا مہمان ہے اور۔۔۔ ۔۔۔۔ ابھی تائی اماں نے اتنی ہی بات کی تھی کہ ۔۔۔۔آگے سے ان کی بات کو کاٹتے ہوئے چوہدری کہنے لگا۔۔۔۔ صائقہ ٹھیک کہہ رہی ہے نیک بخت ۔۔تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ نوراں پتر کے سسرال والے کس قدر شکی مزاج کے لوگ ہیں اس لیئے ان لوگوں کے ہوتے ہوئے اس منڈے کا یہاں رہنا ٹھیک نہیں ہو گا۔۔۔ اس پر تائی اماں مزید غصے میں آ کر بولی تو ہم کیا کریں۔۔ اسے گھر سے نکال دیں کیا ؟ تو اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے چوہدری کہنے لگا او ہو نیک بختے ۔۔۔ اس کو گھر سے نکالنے کا کس نے کہا ہے۔۔ہم تو بس یہ بات کر رہے ہیں ۔۔۔۔کہ پریا کی موجودگی میں منڈے کو اس گھر میں موجود نہیں ہونا چایئے۔۔ اسے یہاں دیکھ کر جانے وہ کیا سوچیں ۔۔۔۔ کیا بات کریں ۔۔۔اس لیئے میری تجویز ہے کہ جتنے دن نوراں کے سسرالی یہاں رہیں گے یہ منڈا اپنے ڈیرے پر رہے گا ۔۔ کچھ در و کد کے بعد آخر کابینہ نے چوہدری کی یہ بات منظور کر لی کہ جتنے دن نوراں آپا کے سسرال یہاں رہیں گے ۔۔۔ اتنے دن میں ان کے ڈیرے پر رہوں گا - اگلی صبع ناشتے کے بعد اپنی بغل میں دو تین ناول دابے میں چوہدری کے ساتھ ان کے ڈیرے پر پہنچ گیا میرے خیال میں چوہدری نے عزیز کو میرے آنے سے متعلق پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا اسی لیئے جیسے ہی ہم ڈیرے پر پہنچے تو وہاں پہلے سے ہی میرے لیئے ایک رنگلا پلنگ بچھا ہوا تھا اور اس پلنگ کے اوپر سرخ رنگ کی ایک نئی چادر بھی پڑی ہوئی تھی۔۔۔۔۔اور سرہانے کے غلاف پر گلاب کے پھول کی کڑھائی ہو ئی ۔۔۔ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔ ۔ وہاں پہنچ کر چوہدری اور عزیز کچھ دیر بیٹھ کر اپنے اپنے کاموں سے واپس چلے گئے۔۔۔۔ اور پھر ان لوگوں کے جاتے ہی رضو کہیں سے ان ٹپکی اور میرے پاس آ کر کہنے لگی ۔۔۔ بھائی جان جتنے دن آپ اس ڈیرے پر رہیں گے اس دوران اگر آ پ کو کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بلا تکلف مجھ سے کہہ دینا۔۔تو میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔ باقی باتیں چھوڑو ۔۔ مجھے یہ بتاؤ کہ تمہاری دوست مینا کہاں ہے؟ تو وہ ہنس کر بولی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی آتی ہی ہو گی۔۔۔۔پھر کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد وہ یہ کہتے ہوئے اُٹھ کر چلی گئی کہ ۔۔۔گھر کے کام وغیرہ کر کے تھوڑی دیر بعد آتی ہوں ۔۔۔ اس کے جانے کے بعد میں نے ایک ناول کھولا اور اسے پڑھنے لگ گیا ۔۔۔۔ابھی مجھے ناول پڑھتے ہوئے ایک گھنٹہ ہی ہوا تھا کہ رضو دوبارہ سے میرے پاس آ کر کھڑی ہو کر پوچھنے لگی کہ مجھے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟ تو اس پر میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ مینا کہاں ہے؟ میری بات سن کر اس کے چہرے پر ایک شرارت آمیز مسکراہٹ دوڑ گئی اور وہ ہنستے ہوئے بولی ۔۔۔۔ اب تک تو اسے آ جانا چاہیئے تھا لیکن شاید آپ کی وجہ سے یا پھر گھر میں آنے والے مہمانوں کی وجہ سے۔۔۔۔۔ اس نے آج ادھر کا رُخ نہیں کیا ۔۔۔اور پھر میری طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔ اچھا یہ بتائیں کہ آپ کو کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟ تو میں نے اس کو پانی کا کہہ دیا کچھ دیر بعد وہ اپنی بغل میں میں گھڑا لیئے میرے پاس آ گئی اور اس گھڑے کو پلنگ کے پاس رکھتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔ لو جی آپ کے لئے میں گھر کا سب سے ٹھنڈا گھڑا لے لائی ہوں تا کہ آپ رج رج کے پانی پیو ۔۔۔ پھر تھوڑا رک کر بولی ۔۔۔اور کوئی چیز چاہئے تو وہ بھی بتا دو۔۔۔۔؟ تو میں نے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انکار کردیا۔۔۔چنانچہ میری بات سن کر وہ واپس چلی گئی۔۔۔۔۔ ۔۔ شام ہوا چاہتی تھی کہ جب میں نے کرنل آفریدی سیریز کے ایک جاسوسی ناول کو ختم کیا چونکہ کرنل آفریدی کا یہ ناول خاصہ ہیوی تھا اس لیئے اس کو ختم کر کے سستانے اور اپنی آنکھوں کو تھوڑا ریسٹ دینے کے لیئے میں پلنگ پر دراز ہو کر لیٹ گیا ۔ ۔۔ اس وقت دھوپ ابھی باقی تھی جو کہ درخت کی ٹہنیوں سے چھن چھن کر میرے چہرے پر پڑ رہی تھی چنانچہ دھوپ اور مکھیوں سے بچنے کے لیئے جو کہ بار بار میرے منہ پر بیٹھنے کی کوشش کر رہیں تھیں۔۔۔۔۔ میں نے پاس پڑی کتاب کو کھول کر اس سے اپنے چہرے کو ڈھانپ لیا۔۔۔ ۔۔۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد عزیز بھی اپنا ٹانگہ لے کر آ گیا ۔۔۔ اور پھر گھوڑے کو تانگے سے الگ کر کے اس نے اسے میرے بلکل سامنے والے درخت کے ساتھ باندھ دیا ۔ اور پھر گپ شپ کے لیئے میری طرف بڑھا۔۔۔۔لیکن میرے چہرے پر کتاب پڑی دیکھ کر وہ یہ سمجھا کہ میں سویا ہوا ہوں ۔۔۔اس لیئے وہ بنا رکے وہاں سے چلا گیا ۔۔اسی دوران رضو بھی ادھر آ گئی۔۔۔ چنانچہ اس کے قریب آنے پر عزیز نے اسے ہدایت دیتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ کہ پتر گھوڑے کو دانہ پھکا ڈال کے پانی بھی پلا دینا۔۔ ۔۔۔ میں جھٹ آرام کرنے لگا ہوں ۔۔۔ میں پلنگ پر لیٹے ہوئے کتاب کے نیچے سے یہ سب مناظر دیکھ رہا تھا ہدایت دینے کے بعد عزیز تو اپنے گھر کی طرف چلا گیا۔۔۔ عزیز کے جاتے ہی میں اپنے چہرے پر رکھی کتاب کو اُٹھا کر رضو سے ہیلو ہائے کرنے ہی لگا تھا کہ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ اچانک رضو نے گردن گھما کر بڑے ہی مشکوک انداز میں چاروں طرف دیکھنا شروع کر دیا ۔۔۔رضو کے اس طرح مشکوک انداز میں دیکھنے سے میں ٹھٹھک گیا ۔۔۔اور اسی حالت میں پڑے رہنے کا فیصلہ کر لیا ۔۔۔ پھر میرے سامنے رضو نے گھوڑے کو چارہ ڈالنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔ چارہ ڈالنے کے بعد وہ اپنی جگہ سے اُٹھی اور ایک دفعہ پھر سے چاروں اورھ دیکھنا شروع کر دیا ۔۔۔۔ ۔۔۔۔اور پھر خا ص کر میرے پلنگ کی طرف دیکھتے ہوئے ۔۔۔وہ میری طرف بڑھنے لگی۔۔۔۔اور پھر چلتی ہوئی میرے پاس آ کر رُک گئی۔۔۔۔اور میرے سرہانے کھڑے ہو کر کہنے لگی۔۔۔۔ ۔۔۔ بھائی جان۔۔۔۔ آپ سو رہے ہو کیا؟۔۔۔اس کی آواز کا اتار چڑھاؤ اور اس کا لہجہ اس بات کی چغلی کھا رہا تھا کہ وہ کسی واردات پر ہے اور میرے خیال میں ۔۔۔۔۔ اس عمر میں سوائے اپنے یار سے ملنے ملانے کے اور واردات بھلا کیا ہو سکتی ہے؟ ۔۔۔ادھر میرے سرہانے کھڑی رضو ۔۔ کے بار بار پکارنے پر بھی جب میں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔۔۔ تو وہ ۔۔۔ میرے اور قریب آ کر اونچی آواز میں کہنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔ لو بھائی جان ۔۔۔۔ مینا بھی آ گئی ہے۔۔۔ لیکن میں نے اس کے اس انکشاف کا بھی کوئی جواب نہ دیا۔۔۔۔۔اور بدستور سوتا بنا رہا ۔۔پھر اسی طرح اس نے دو تین آوازیں اور لگائیں ۔۔۔۔ لیکن جب میری طرف سے اس کو کوئی رسپانس نہ ملا۔۔۔۔۔تو وہ تھوڑا آگے بڑھی ۔۔۔ اور میرے منہ سے کتاب ہٹا کر بولی ۔۔۔ مجھے پتہ ہے کہ آپ جاگ رہے ہو۔۔۔لیکن میں نے کوئی جواب نہ دیا ۔۔۔بلکہ کچھ ہی سیکنڈز کے بعد ہلکے ہلکے خراٹے بھی لینے شروع کر دیئے۔۔۔ وہ کچھ دیر تک وہیں کھڑی بڑے غور سے میری طرف دیکھتی رہی ۔۔۔ اور پھر میرے سونے کے ناٹک سے وہ مطئن ہو گئی ۔۔۔اور اس نے بڑی احتیاط کے ساتھ کتاب کو دوبارہ میرے چہرے پر بلکل ویسے ہی رکھ دیا کہ کہ جیسے وہ پہلے پڑی ہوئی تھی ۔۔۔۔اور پھر دبے پاؤں چلتے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔۔۔ راستے بھر میں چوہدری مجھے کچھ پریشان سا دکھائی دیا۔۔۔۔اور اس کے متعلق میں نے اس سے پوچھا بھی ۔۔۔۔ لیکن وہ میری بات کو ٹال گیا۔۔۔ پھر حسبِ معمول رات کے کھانے پر سب لوگ اکھٹے بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے تو اچانک ہی چوہدری نے تائی اماں کی طرف دیکھا اور پھر بڑی سنجیدگی کے ساتھ کہنے لگا ۔۔ آج جب میں اس منڈے کو لے کر ڈیرے پر گیا تھا ۔۔۔تو یہ منڈا تو ٹیوب ویل پر نہانے لگ پڑا لیکن میں حسبِ معمول لمبڑوں کے ڈیرے پر حقہ پینے چلا گیا ۔۔۔تو اتفاق سے وہاں پر نوراں کے گاؤں کا چوہدری برکت بھی بیٹھا تھا مجھے وہاں دیکھ کر وہ بڑا خوش ہوا اور پھر مجھ کہنے لگا کہ وہ میری ہی طرف آ رہا تھا ۔۔۔ اس پر میرے کان کھڑے ہو گئے اور میرے پوچھنے پر وہ کہنے لگا۔۔۔۔ کہ نوراں کے سسرال والوں نے اسے معاملہ سلجھانے کے لیئے بیچ میں ڈالا ہے۔۔۔۔اس کے بعد چوہدری نے سامنے پڑے ہوئے گلاس سے پانی پیا اور پھر کہنے لگا اس سلسلہ میں کل دوپہر کو چوہدری برکت کے ساتھ نوراں کے سسرال کے ساتھ پنڈ کے معزز بندوں کی پریا بھی ہمارے گھر آ رہی ہے۔۔۔ ۔ اتنی بات کر کے وہ خواتین کے کی طرف مخاطب ہو کر کہنے لگا۔۔۔ ۔۔ کہ اب مجھے یہ بتاؤ کہ کیا مجھے نوراں کو ان کے ساتھ ٹور دینا چایئے یا ۔۔۔ کل چوہدری کو اپنے ہاں آنے سے منع کر دوں؟؟؟؟۔۔۔ اس پر آنٹی بات کرتے ہوئے بولیں ۔۔۔ بھائی صاحب اس کا اصل فیصلہ تو نوراں بیٹی نے ہی کرنا ہے لیکن میرے خیال میں شادی کے بعد بیٹیاں اپنے گھر میں ہی اچھی لگتی ہیں۔۔۔ آنٹی کی بات سن کر چوہدری نے اپنا بڑا سا سر ہلایا اور پھر نوراں کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔۔۔کیوں پتر تیری کی صلاح اے؟؟؟؟؟؟۔۔۔ ؟ چوہدری کی بات سن کر نوراں نے اپنا سر جھکا لیا ۔۔۔۔اور پھر چوہدری کے بار بار پوچھنے پر بس اتنا ہی بولی ۔۔۔ کہ ابا جیسا آپ کرو گے مجھے منظور ہے۔۔۔ نوراں کی بات سن کر تائی اماں کہنے لگی ۔۔۔ لیکن میں نے اپنی بیٹی کو صرف چوہدری برکت کی وجہ سے ہر گز نہیں جانے دینا۔۔بلکہ ان لوگوں کے ساتھ میں اپنی کڑی کو ٹوروں گی تو کسی گل کے ساتھ ۔۔ٹوروں گی ۔۔۔۔تو اس پر چوہدری شیر نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔ اوئے نیک بختے !۔۔ ظاہر ہے کچھ شرائط کے ساتھ ہی میں ان کے ساتھ دھی رانی کو ٹوروں گا نا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ اسکے بعد وہ سب لوگ نوراں کو بھیجنے کے لیئے مختلف شرائط پر غور و خوض کرنے لگے۔۔۔ آخر کافی بحث و تمہید کے بعد انہوں نے تین چار نکاتی شرائط نامہ تیار کیا۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی طے پایا کہ نوراں کے سسرالیوں کو ایک دو دن رکھ کر۔۔۔ پھر نوراں کو ان کے ساتھ جانے دیا جائے۔۔۔۔ جب سب باتیں طے ہوں گئیں ۔۔۔۔تو اچانک ہی آنٹی نے میری طرف دیکھا اور چوہدری سے کہنے لگی ۔۔۔۔ بھائی صاحب ایک بات تو بتاؤ اور وہ یہ کہ کیا۔۔۔ اس دوران یہ لڑکا بھی اسی گھر میں رہے گا؟ تو اس پر تائی اماں کہنے لگی ۔۔۔ یہ منڈا بھی ہمارا بیٹا اور مہمان ہے اس لیئے اس نے ادھر نہیں رہنا تو پھر یہ کہاں جائے گا؟ تائی اماں کی بات سن کر آنٹی کہنے لگیں ۔۔آپا جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ نوراں کے سسرال والے کس قدر شکی مزاج اور وہمی لوگ ہیں تو اس صورت حال میں ان لوگوں کے ہوتے ہوئے اگر یہ لڑکا بھی ادھر ہی رہا تو جانے وہ لوگ اس کے بارے میں کیا باتیں کریں؟ آنٹی کی اس بات پر تائی اماں غصے میں بولیں ۔۔۔ باتیں کرتے ہیں تو کرتے رہیں ۔۔۔ ۔۔۔ لیکن یہ ہمارا مہمان ہے اور۔۔۔ ۔۔۔۔ ابھی تائی اماں نے اتنی ہی بات کی تھی کہ ۔۔۔۔آگے سے ان کی بات کو کاٹتے ہوئے چوہدری کہنے لگا۔۔۔۔ صائقہ ٹھیک کہہ رہی ہے نیک بخت ۔۔تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ نوراں پتر کے سسرال والے کس قدر شکی مزاج کے لوگ ہیں اس لیئے ان لوگوں کے ہوتے ہوئے اس منڈے کا یہاں رہنا ٹھیک نہیں ہو گا۔۔۔ اس پر تائی اماں مزید غصے میں آ کر بولی تو ہم کیا کریں۔۔ اسے گھر سے نکال دیں کیا ؟ تو اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے چوہدری کہنے لگا او ہو نیک بختے ۔۔۔ اس کو گھر سے نکالنے کا کس نے کہا ہے۔۔ہم تو بس یہ بات کر رہے ہیں ۔۔۔۔کہ پریا کی موجودگی میں منڈے کو اس گھر میں موجود نہیں ہونا چایئے۔۔ اسے یہاں دیکھ کر جانے وہ کیا سوچیں ۔۔۔۔ کیا بات کریں ۔۔۔اس لیئے میری تجویز ہے کہ جتنے دن نوراں کے سسرالی یہاں رہیں گے یہ منڈا اپنے ڈیرے پر رہے گا ۔۔ کچھ در و کد کے بعد آخر کابینہ نے چوہدری کی یہ بات منظور کر لی کہ جتنے دن نوراں آپا کے سسرال یہاں رہیں گے ۔۔۔ اتنے دن میں ان کے ڈیرے پر رہوں گا - اگلی صبع ناشتے کے بعد اپنی بغل میں دو تین ناول دابے میں چوہدری کے ساتھ ان کے ڈیرے پر پہنچ گیا میرے خیال میں چوہدری نے عزیز کو میرے آنے سے متعلق پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا اسی لیئے جیسے ہی ہم ڈیرے پر پہنچے تو وہاں پہلے سے ہی میرے لیئے ایک رنگلا پلنگ بچھا ہوا تھا اور اس پلنگ کے اوپر سرخ رنگ کی ایک نئی چادر بھی پڑی ہوئی تھی۔۔۔۔۔اور سرہانے کے غلاف پر گلاب کے پھول کی کڑھائی ہو ئی ۔۔۔ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔ ۔ وہاں پہنچ کر چوہدری اور عزیز کچھ دیر بیٹھ کر اپنے اپنے کاموں سے واپس چلے گئے۔۔۔۔ اور پھر ان لوگوں کے جاتے ہی رضو کہیں سے ان ٹپکی اور میرے پاس آ کر کہنے لگی ۔۔۔ بھائی جان جتنے دن آپ اس ڈیرے پر رہیں گے اس دوران اگر آ پ کو کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بلا تکلف مجھ سے کہہ دینا۔۔تو میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔ باقی باتیں چھوڑو ۔۔ مجھے یہ بتاؤ کہ تمہاری دوست مینا کہاں ہے؟ تو وہ ہنس کر بولی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی آتی ہی ہو گی۔۔۔۔پھر کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد وہ یہ کہتے ہوئے اُٹھ کر چلی گئی کہ ۔۔۔گھر کے کام وغیرہ کر کے تھوڑی دیر بعد آتی ہوں ۔۔۔ اس کے جانے کے بعد میں نے ایک ناول کھولا اور اسے پڑھنے لگ گیا ۔۔۔۔ابھی مجھے ناول پڑھتے ہوئے ایک گھنٹہ ہی ہوا تھا کہ رضو دوبارہ سے میرے پاس آ کر کھڑی ہو کر پوچھنے لگی کہ مجھے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟ تو اس پر میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ مینا کہاں ہے؟ میری بات سن کر اس کے چہرے پر ایک شرارت آمیز مسکراہٹ دوڑ گئی اور وہ ہنستے ہوئے بولی ۔۔۔۔ اب تک تو اسے آ جانا چاہیئے تھا لیکن شاید آپ کی وجہ سے یا پھر گھر میں آنے والے مہمانوں کی وجہ سے۔۔۔۔۔ اس نے آج ادھر کا رُخ نہیں کیا ۔۔۔اور پھر میری طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔ اچھا یہ بتائیں کہ آپ کو کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟ تو میں نے اس کو پانی کا کہہ دیا کچھ دیر بعد وہ اپنی بغل میں میں گھڑا لیئے میرے پاس آ گئی اور اس گھڑے کو پلنگ کے پاس رکھتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔ لو جی آپ کے لئے میں گھر کا سب سے ٹھنڈا گھڑا لے لائی ہوں تا کہ آپ رج رج کے پانی پیو ۔۔۔ پھر تھوڑا رک کر بولی ۔۔۔اور کوئی چیز چاہئے تو وہ بھی بتا دو۔۔۔۔؟ تو میں نے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انکار کردیا۔۔۔چنانچہ میری بات سن کر وہ واپس چلی گئی۔۔۔۔۔ ۔۔ شام ہوا چاہتی تھی کہ جب میں نے کرنل آفریدی سیریز کے ایک جاسوسی ناول کو ختم کیا چونکہ کرنل آفریدی کا یہ ناول خاصہ ہیوی تھا اس لیئے اس کو ختم کر کے سستانے اور اپنی آنکھوں کو تھوڑا ریسٹ دینے کے لیئے میں پلنگ پر دراز ہو کر لیٹ گیا ۔ ۔۔ اس وقت دھوپ ابھی باقی تھی جو کہ درخت کی ٹہنیوں سے چھن چھن کر میرے چہرے پر پڑ رہی تھی چنانچہ دھوپ اور مکھیوں سے بچنے کے لیئے جو کہ بار بار میرے منہ پر بیٹھنے کی کوشش کر رہیں تھیں۔۔۔۔۔ میں نے پاس پڑی کتاب کو کھول کر اس سے اپنے چہرے کو ڈھانپ لیا۔۔۔ ۔۔۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد عزیز بھی اپنا ٹانگہ لے کر آ گیا ۔۔۔ اور پھر گھوڑے کو تانگے سے الگ کر کے اس نے اسے میرے بلکل سامنے والے درخت کے ساتھ باندھ دیا ۔ اور پھر گپ شپ کے لیئے میری طرف بڑھا۔۔۔۔لیکن میرے چہرے پر کتاب پڑی دیکھ کر وہ یہ سمجھا کہ میں سویا ہوا ہوں ۔۔۔اس لیئے وہ بنا رکے وہاں سے چلا گیا ۔۔اسی دوران رضو بھی ادھر آ گئی۔۔۔ چنانچہ اس کے قریب آنے پر عزیز نے اسے ہدایت دیتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ کہ پتر گھوڑے کو دانہ پھکا ڈال کے پانی بھی پلا دینا۔۔ ۔۔۔ میں جھٹ آرام کرنے لگا ہوں ۔۔۔ میں پلنگ پر لیٹے ہوئے کتاب کے نیچے سے یہ سب مناظر دیکھ رہا تھا ہدایت دینے کے بعد عزیز تو اپنے گھر کی طرف چلا گیا۔۔۔ عزیز کے جاتے ہی میں اپنے چہرے پر رکھی کتاب کو اُٹھا کر رضو سے ہیلو ہائے کرنے ہی لگا تھا کہ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ اچانک رضو نے گردن گھما کر بڑے ہی مشکوک انداز میں چاروں طرف دیکھنا شروع کر دیا ۔۔۔رضو کے اس طرح مشکوک انداز میں دیکھنے سے میں ٹھٹھک گیا ۔۔۔اور اسی حالت میں پڑے رہنے کا فیصلہ کر لیا ۔۔۔ پھر میرے سامنے رضو نے گھوڑے کو چارہ ڈالنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔ چارہ ڈالنے کے بعد وہ اپنی جگہ سے اُٹھی اور ایک دفعہ پھر سے چاروں اورھ دیکھنا شروع کر دیا ۔۔۔۔ ۔۔۔۔اور پھر خا ص کر میرے پلنگ کی طرف دیکھتے ہوئے ۔۔۔وہ میری طرف بڑھنے لگی۔۔۔۔اور پھر چلتی ہوئی میرے پاس آ کر رُک گئی۔۔۔۔اور میرے سرہانے کھڑے ہو کر کہنے لگی۔۔۔۔ ۔۔۔ بھائی جان۔۔۔۔ آپ سو رہے ہو کیا؟۔۔۔اس کی آواز کا اتار چڑھاؤ اور اس کا لہجہ اس بات کی چغلی کھا رہا تھا کہ وہ کسی واردات پر ہے اور میرے خیال میں ۔۔۔۔۔ اس عمر میں سوائے اپنے یار سے ملنے ملانے کے اور واردات بھلا کیا ہو سکتی ہے؟ ۔۔۔ادھر میرے سرہانے کھڑی رضو ۔۔ کے بار بار پکارنے پر بھی جب میں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔۔۔ تو وہ ۔۔۔ میرے اور قریب آ کر اونچی آواز میں کہنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔ لو بھائی جان ۔۔۔۔ مینا بھی آ گئی ہے۔۔۔ لیکن میں نے اس کے اس انکشاف کا بھی کوئی جواب نہ دیا۔۔۔۔۔اور بدستور سوتا بنا رہا ۔۔پھر اسی طرح اس نے دو تین آوازیں اور لگائیں ۔۔۔۔ لیکن جب میری طرف سے اس کو کوئی رسپانس نہ ملا۔۔۔۔۔تو وہ تھوڑا آگے بڑھی ۔۔۔ اور میرے منہ سے کتاب ہٹا کر بولی ۔۔۔ مجھے پتہ ہے کہ آپ جاگ رہے ہو۔۔۔لیکن میں نے کوئی جواب نہ دیا ۔۔۔بلکہ کچھ ہی سیکنڈز کے بعد ہلکے ہلکے خراٹے بھی لینے شروع کر دیئے۔۔۔ وہ کچھ دیر تک وہیں کھڑی بڑے غور سے میری طرف دیکھتی رہی ۔۔۔ اور پھر میرے سونے کے ناٹک سے وہ مطئن ہو گئی ۔۔۔اور اس نے بڑی احتیاط کے ساتھ کتاب کو دوبارہ میرے چہرے پر بلکل ویسے ہی رکھ دیا کہ کہ جیسے وہ پہلے پڑی ہوئی تھی ۔۔۔۔اور پھر دبے پاؤں چلتے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔۔۔
  48. 1 like
    بہت خوب بہترین معلومات ہیں یہ اور کولہوں سے لن گذار کر سیکس کرنے والی تمام پوزیشنز اینل کے متبادل کے طور پر سوچی جاسکتی ہیں میرے خیال میں تو کشش اینل میں نہیں ہوتی بلکہ کولہوں میں ہوتی ہیں عورت کے پستان اور کولہے ہی سب سے زیادہ دلفریب ہوتے ہیں انہی کو دیکھنے اور دبانے میں بے حد لطف آتا ہے اینل سے تو پرھیز ہی بہتر ہے کہ یہ سیکس صاف ستھرا ہرگز نہیں کچھ لوگ اینل سے پہلے اینیما کا پراسس تجویز کرتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں کہ یہ اس سے اینل سیکس محفوظ ہوجاتا ہے لیکن جب سیکس ذہن پر سوار ہو تو اتنے جھنجھٹ کا ٹائم کہاں ہوتا ہے - اسلیے میں نہیں سمجھتا کہ اینیما کا پراسس کوئی کر پاتا ہو گا نتیجہ یہی لگتا ہے کہ اینل سیکس ایک غلیظ احساس سے ہی ہو پاتا ہے سیکس کہانیاں لکھنے والے تو اینل چاٹنے کو بھی پروموٹ کرتے ہیں جو طبی نقطۃ نگاہ سے انتہائی خطرناک ہے
  49. 1 like
    سیکس کے بعد عورت کی خاموشی کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نے چود چود کر اسے لاجواب کر دیا ہے۔ غیر متوقع چدائی سے آنکھ کھلنے سے بہتر کوئی چیز نہیں،اگر آپ جیل میں نہ ہوں تو۔ جب بیوی گھر پر ہو تو وہ مرد کا رائٹ ہینڈ ہوتی ہے اور بیوی نہ ہو تو رائٹ ہینڈ بیوی ہوتا ہے۔ سیکس سافٹ وئیر کی طرح ہوتا ہے،جہاں کچھ لوگ اسے پیسے دے کر حاصل کرتے ہیں وہاں ہزاروں مفت میں ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں۔ محفوظ ترین سیکس کرنا آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ سمجھدار لوگ کبھی دوستوں سے پیٹھ نہیں موڑتے۔ (دوست پٹھان بھی ہوسکتے ہیں۔) بےوقوف لڑکیاں وہ ہوتی ہیں تو مردوں کو متاثر کرنے کے لیے ذہانت کا استعمال کرتی ہیں۔ جس طرح ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے جو اس کی کامیابی کی ذمہ دار ہوتی ہے ۔اسی طرح ہر گھوڑی بنی عورت کے پیچھے ایک مرد کھڑا ہوتا ہے جو اسے چودنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ بنا محنت اپنی من پسند لڑکی کی شلوار گیلی کرنے کا آسان طریقہ یہی ہے کہ دھوبی بن جایا جائے۔ ایماندار سیاستدان ڈھونڈنا ویسا ہی ہے جیسے کنواری گشتی تلاش کرنا۔ انسانیت پر بھروسا کنوارے پن جیسا ہوتا ہے،بالغ ہونے تک ختم ہو ہی جاتا ہے۔
  50. 1 like
    Wah g wah te shah g shah kia baat ha jaani aaj hamain pata chala k jasmin waqaee horny ha buhat germa garam thread ha jaan-e-maan I M IN
×
×
  • Create New...