Jump to content
URDU FUN CLUB

Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 06/14/2020 in all areas

  1. 9 likes
    ل ن کی کمائی۔ سب نے کھائی اپڈیٹ 11۔ نشتر نے شاہ کے لن پر ھاتھ رکھتے ھوئے بڑی ادا سے کھا کہ مجھے دعوت میں نہی بلانا۔شاہ نے بڑے سلیقے سے اسکا ھاتھ اپنے لن سے ھٹایا اور کھاکہ اپ سے تو میں کل آفس میں بات کرلوں گا۔لیکن یہ حسینہ میرے سپنوں میں آتی ھے افس میں نہی۔۔۔ جس پر میڈم سلمیٰ نھال ھوگیئں۔پرسوں شام کی محفل طئے ھوئی اور واپسی ھونے لگی تو نشتر نے مجھ سے لفٹ مانگ لی کہ میری گاڑی شوھر لےگیا ھے میں نے اسے گھر ڈراپ کیا اور خود گھر جا کر سو گیا۔ صبح ایک نیا ھنگامہ میرا منتظر تھا کہ چمپا اور کانتا ھانپتی کانپتی میرے پاس روتی ھوئی آئیں کہ انکے والد کو سانپ نے کاٹ لیا ھے اور وہ تڑپ رھے ھیں جلدی سے کچھ کیجئے۔ انکو کسی سے پتہ لگا کہ میں سانپ کے کاٹے کا دم وعلاج کرتا ھوں تو وہ بڑی آس رکھ کر میرے پاس آئیں تھیں۔انکو پتہ تھا کہ صبح صبح میرا والک وناشتے کا وقت ھے مگر ایک انسیت سی جو ھوگئی تھی تو انکو مان تھا کہ میں انکی ھمدردی میں اپنی مصروفیات ترک کرکے بھی انکے کام آ ؤ ںگا۔ ویسے بھی وہ میرا اچھا فرمانبردار ھاری تھا۔ میں فوراً اپنا تھیلا اٹھائے انکے ساتھ چل پڑاجب ھم پھنچے تو مریض بے ھوش تھا انکے ھندو پنڈت اپنا سارا زور لگا چکے تھے مریض ٹھیک ھونے کے بجائے بےھوش ھوچکا تھاانکی ماں بین کر رھی تھی۔ نبضِ چل رھی تھی ایک کام اچھاکیا تھا کہ متاثرہ پاؤں ڈسی ھوئی جگہ سے زرا اوپر انھوں نے کپڑے سے باندھ رکھا تھا۔ میں نے فوراً پھٹکری پاوڈر نکال کر اسے پانی میں ملاکر پلانے کا کھا اور ان سے کھا کہ میں دم کرتاھوں شفا میرا رب دیتاھے۔ تمھارےسنت پنڈت اپنا سارا زور لگا چکے ھیں مگر کام نہی بنا ھے۔اگر تم اپنی آنکھوں سے اسے شفایاب ھوتے دیکھو توپھر تمھیں میرے رب کے پسندیدہ دین۔ دین اسلام کو اختیار کرناچاھیئے۔انھوں نے مشروط حامی بھری میں نے استاد حکیم ھوشو کا پیغام دین سنانے کے بعد انکے بتائے ھوئے طریقے پر دم کیا اور پھر اس کے پاؤں پر۔متاثرہ مقام پر اپنامنہ رکھ کر زھر چوسنا شروع کردیا۔ وہ کمی غریب لوگ اس کے پاؤں کو میرا منہ لگانے پر ھی بڑے متاثر ہوئے کہ میں نے کچھ ھی دیر میں گھونٹ بھر خون ایک طرف تھوکا اور پھر اس کے پاؤں پر دوبارہ منہ لگادیا اس درمیان آس پڑوس کے کافی سارے لوگ مرد وزن جمع ھوچکے تھے۔ میں نے دوبارہ تھوڑا سا خون چوس کر ھلدی کاپیسٹ بنا کر متاثرہ جگہ پر پٹی باندہ دی۔ پھٹکری والاپانی لوگوں کی مدد سے اس کے منہ میں زوری ڈالا گیا۔ میں ساتھ والی چارپائی پر بیٹھ کر پرامید نظروں سے آسماں کی طرف دیکھتے ھوئے دل میں دعا کرنے لگا کہ اے میرے رب میں بڑا گناھ گار ھوں لیکن استادوں کی سکھلائے طریقےاور تیری کلام سےدم کرنے پر اب تیری ذات سے امید لگائے بیٹھے ھیں تو اپنے حبیب کے صدقے شفا عطا فرما تاکہ میں انکو مسلمان کرنے کی ترغیب دےسکوں۔ سب ھی منتظر تھے نتیجے کے کہ کیا ھوتا راموں کاکا پرلوک سدھارتے ھیں کہ بارانی کا دم کام کرتا ھے۔۔۔کافی دیر گزری کہ راموں کاکا نے ایک ھچکی سی لی اور زوردار چیخ ماری پھر الٹی کردی جس میں انکے معدے میں موجود زھر باھر نکلا اور پھر وہ پرسکون ھوگئے۔ جب انکی نظر ادھر ادھر کے ھجوم سے ھوتے ھوئے مجھ تک پھنچی تو وہ ایکدم خوشی سے اٹھنے لگے تو میں نے انکے سینے پر ھاتھ رکھ کر انھیں ایساکرنے سے باز رکھتے ھوئے کھا کہ اپ آرام کرو۔ کوئی بات نہی۔ اپکی طبیعت اب آھستہ آھستہ بھتر ھوجائیگی۔ سب نے انھیں باتیں کرتادیکھ کر شکر ادا کیا اور ایک پڑوسی نے کھا کہ مسلمان جندہ باد۔۔۔ کچھ دن پھلے ھمارے بھی ایک پڑوسی کا بچہ پیدا ھوا تو وہ مسلسل روتا رھا سب ٹونے ٹوٹکے آزمائے گئے لیکن بچہ چپ ھو نہی ھورھاتھا۔ اگلے دن ایک مسلمان کو بلایاگیا۔ جیسے ھی اس نے اسکے کان میں اذان دی تو وہ بچہ ایکدم چپ ھوگیا تھا۔ اسلام سچامذھب ھے۔ میں اور میرا خاندان تو مسلمان ھونے کو تیار ھیں یہ فصل اترے تو کوئی پروگرام رکھتے ھیں اپنے گاؤں میں۔ اس پر چمپا کی۔ماں نے بھی کھا کہ ھم نے بھی ابھی اپنی انکھوں سے اسکی سچائی دیکھ لی ھے تو ھم بھی مسلمان ھوجائینگے۔ وھاں بیٹھے سنتوں نے جب سب کی رائے ایک طرف دیکھی تو لگے بحث کرنے تب چمپا نے کھا کہ آپ لوگوں نے گھنٹہ بھر تو زور لگا لیا تھاجبکہ بارانی نے تو پانچ منٹ میں ھی اپنے رب کانام پکارا تو ابو ٹھیک ھوگئے ھیں۔ اب یا تو تم بھی ھمارے ساتھ مسلمان ھوجاو یا خاموشی سے چلتے بنو سارا سال ھم سے دانے دنکے بتوں کے نام۔پر لےجاتے رھتے ھو اور ھمارا کام پڑا تو تمھارا رام اب سنتا ھی نھی۔ ھم تو بیزار ھوئے اپنے دھرم سے۔ راموں کاکا کو بھی ساری روداد سب کے سامانے بتائی گئی تو انھوں نے بھی اسلام قبول کرنے والی بات کی تائید کی انکے یہ جزبات دیکھ کر میں نے بھی ایک اعلان کیا کہ اگر تم سب لوگ واقعی مسلمان ھونا چاھتے ھو دل سے تو مولوی صاحب والوں کو بلانے اورپروگرام کرانے پر جوخرچ ھوگا وہ میری طرف سے ایک پنڈت بولا کہ تم خود کیوں نہی ان کو مسلمان کردیتے وہ کونسامشکل کام ھے میں نے کھاکہ مولوی زیادہ اچھی طریقے سے انکو سمجھا بجھا سکے گا۔ دین کے احکام سمجھا سکتا ھے۔ کچھ دیر بعد میں نے پنھل کو فون پر بولا کہ لڑکابھیجتا ھوں اسے پانچ کلو دودھ چائے بنانےکا دوسرا سامان بھی دینا۔ چمپانے کھابھی کہ آپ تکلیف نہ کریں ھم انتظام کرلیں گےاتنے سارے لوگ جمع ھوگئے ھیں راموں کاکا کی تیمارداری کو ویسے بھی اب مجھ پر فرض ھے۔ آخر کار سب کی صلاح سے شام تک ھی یہ پروگرام کرانے کا مشورہ فائنل ھوا تو میں نے مولوی نوراحمد شاھتاز صاحب کو فون کردیا کہ انکی تنظیم اسطرح کے نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر نہ صرف حصہ لیتی بلکہ نومسلموں کی بعد میں بھی خبر گیری کرتی رھتی ھے مساجد و مدارس بھی بنوادیتی ھے نومسلم آبادیوں کو۔ میں نے آس پڑوس کے مسلمان گاؤں والوں کو بھی اس نیک کام میں شامل کرنے کی خاطر فون پر دعوت دےدی۔ بلکہ اپنے زمیندار سلیم صاحب و میڈم سلمیٰ کو بھی اطلاع دے دی۔ انکا بھی موڈ اچھاتھا تو انھوں نے بتایا کہ نیکی کے اس کام میں کھانے کا اھتمام میری طرف سے ھوگا۔ادھر بیٹھے بٹھائے جب ان غریب بیچاروں نے اپنی اتنی عزت افزائی کا سنا تو وہ بھت خوش ھوئے۔ جو تھوڑا دورسے صرف راموں کاکا کی تیمارداری کو آ ئے تھے تو انھوں نے بھی اپنے دیگر رشتہ داروں کو اس پروگرام میں شرکت کرانے مسلمان کرانے کی بات کی تو میں نے کھا کہ جتنے زیادہ لوگ ھوں گے مسلمان اتنا ھی اچھا ھوگا۔ دوپھر تک میڈم سلمیٰ ایک درزن اور شاکرہ ونوشی کے ساتھ گاڑی میں آئی راموں کاکا کی تیمارداری کرنے کے ساتھ ساتھ وھاں موجود تمام عورتوں کے ناپ لینے کا بھی کھا جسمیں چمپانے بھرپور ساتھ دیا کہ زمیندارنی نے انکے مسلمان ھونے کے اعلانکی خوشی پر پہلی دفعہ سبکو نئے جوڑےدلوانے کا اھتمام کیا جبکہ میں جلسہ کے ٹینٹ ایکو وغیرہ کے انتظامات پر گیا ھوا تھا۔تب میڈم سلمیٰ نے فون پر مجھےیہ سب بتا کر پوچھا کہ شاکرہ ونوشی بھی کچھ کرنا چاھتی ھیں میں نے کھا کہ مردوں کے ان سلے جوڑے جوتے پھنانے کا اھتمام کرلیں۔ جس پر میری امید سے زیادہ جوڑوں وجوتوں کا آرڈر دیکر میرے گھر پر بھجوانے کی اطلاع بھی مجھے دےدی گئی بھرحال شام سے پھلے سارے انتظامات مکمل ھوگئے۔ پنھل کو بڑی حیرت ھو رھی تھی کہ یہ آج بارانی صاحب کو کیا ھوگیا کہ ھمارے گھراتنا بڑا ٹینٹ لگواکر مولویوں کو بلایا جارھا ھے۔ مولانا شاھتاز صاحب نے اپنےپر اثر بیان میں اسلام کی عظمتیں بتائیں ایک سو بندوں بشمول مردوں عورتوں وبچوں کو کلمہ پڑھا کر مسلمان کیا انھوں نے اپنی تنظیم کی طرف سےشادی شدہ بندوں کو گھرکے نئے برتن وغیرہ کاسامان فرا ھم کیا۔ میڈم سلمیٰ والوں کی طرف سےعورتوں کو سلے ھوئے مردوں کو ان سلے جوڑے میں پانچ سو روپے پیک کرکے دیے گئے۔ سلیم صاحب نے اپنے ھاریوں کو فی خاندان پچاس پچاس ھزار تک کے قرضے معاف کرنے کا اعلان کردیا۔ آس پڑوس کے مسلمان بھائیوں نے انکو ھار اجرکیں پھنانے کا اھتمام کیا۔ اور یوں سانپ کے ڈسنے کا علاج سو کے قریب لوگوں کے مسلمان ھونے کا سبب بن گیاسب ھنسی خوشی اپنے اپنے گھر روانہ ھوگئے۔ میڈم نوشی وشاکرہ نے اتنا اچھا انتظام کرنے اور مولانا کی اچھی تقریر سنوانے پر میرا شکریہ ادا کیا۔راموں کاکا اسلم بن گئے انکی بیوی سلیمہ جبکہ چمپا کا نام میں نے سفرہ اور کانتا کا نام زارا رکھوادیا۔ سب نے وھیں میدان میں مل بیٹھ کر کھانا کھایا۔ میڈم۔سلمی والوں نے بھی اسٹیٹس واسٹینڈر کو بالائے طاق رکھتے ھوئے نو مسلم خواتین کے ساتھ بیٹھ کر کھاناکھایا۔ نیکی کر دریا میں ڈال والی بات تھی۔ وہ رات بڑی پرسکون نیند سویامیں۔جاری ھے۔
  2. 9 likes
    مجھے قارئین کی بےتابی کا اندازہ ہے مگر کچھ مسائل درپیش ہیں اور آپ لوگ جانتے ہی ہیں ملکی حالات۔ اس لیے میں ان دنوں وقت نہیں دے پا رہا۔ میری اور جناب ایڈمن کی بات چیت بھی شاید دیر رات ہو پاتی ہے ۔ آج کل وہی میری طرف کی ذمہ داریاں بھی نبھا رہے ہیں۔ جتنی جلد ہو سکا میں کہانی کو آگے بڑھاؤں گا۔
  3. 8 likes
  4. 8 likes
    مانا کہ اپڈیٹ لیٹ ہے مگر اسکا مطلب یہ نہیں کہ جس کھیت سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کھیت کے خوشئہ گندم کو جلادو پرانے قاری ہونے کی بناء پر ہم تو یہی کہیں گے کہ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ اور مصنف کیلئے کہیں گے تو بھی اپڈیٹ ہفتہ وار رکھ
  5. 6 likes
    ایک ایسے نوجوان کی داستان جس کی زندگی کی کشتی اچانک ہی ان دیکھے طوفانوں کی زد میں آگئی اور وہ ان مشکلات سے نبردآزما ہونے نکل پڑا ۔ ایک انجان رستے کی طرف تن تنہا۔۔۔۔۔۔
  6. 6 likes
    جی اس تحریر کو اس نالائق یعنی میں نے اپروول کیا ہے ۔ اور ایک پہلی تحریر ہونے کے ناطے یہ کافی بہتر ہے ۔ املا کی لاتعداد غلطیاں سہی مگر ایک کوشش ہے کہ لکھا جائے ۔اور اگر ہم کسی کی حوصلہ افزائی نہیں کر سکتے تو اس کی ہمت کو بھی نہیں توڑیں ۔ ایک ننھا پودہ بہت کمزور ہوتا ہے اور آپ جیسے ممبرز ہی بعد میں کہتے ہیں کہ کوئی لکھنے کی کوشش ہی نہیں کرتا ۔ اور جب کوئی لکھے تو اس کی اصلاح کی بجائے تنقید کرتے ہیں۔
  7. 6 likes
    پرائی شادی میں ۔۔۔ دیوانہ کھانی نمبر 8 پارٹ ٹو سلام۔دوستو ۔۔ اس دفعہ لگتا ھے کھانی پسند نہی آ ئی لیکن یہ حقیقت پر مبنی ھے مصالحہ تو میں ویسے بھی کم کھاتا ھوتا ھوں۔ آ تے ھیں کھانی کی طرف ھم دوستوں نے نآجانے کے کئی بھانے کیے کہ کپڑے میلے ھوگئیے ھیں تھکاوٹ ھے وغیرہ ۔لیکن اسکے ابو نے کھا کہ ان لوگوں کی ڈیمانڈ ھے کہ کل والی بارات کی طرح سب کچھ ھونا چاھیئے تو تھوڑی سی قربانی کی ضرورت ھے ۔ باقی آپ دوستوں کی اسپیشل دعوت دی جائیگی۔ ھم نے کھا کہ یہ بات اگر میوا خاں خود کردے تو ھم۔مان جائیگیں کیوں کہ اسے پتہ ھے ھماری دعوت کا اب تو میوا خاں ھم۔میں پھنس گیا تھا اسے پتہ تھا کہ میرے یہ دوست تو پرانے عاشق ھیں۔ اب وہ ابآکے سامنے کیسے نہ کرسکتا اور ھمارے سامنے ھاں کرکہ اس نے بنڈ پھڑوانی تھی کیا ؟ کچھ لیت ولعل کے بعد ھم سب دوست مان ھی گئے تو دوستو ھم چلے اپنے پپو یار کی دوسری دلھن لینے جو کہ گاؤں سے لیکر آ نی تھی بھر حال ھم نے چائے پی اور ڈاٹسن گاڑی میں سوار ہوگئے تاکہ ڈھول کے ساتھ ٹھمکے شمکے لگانے کو کھلی جگہ مل سکے۔ باقی گاڑیاں بھی کل جتنی پوری کرنے کے واسطے چاچا نے بڑی محنت کی دوستوں کو۔ویسے ھر ایک کی یہی آواز ھوتی تھی کہ کاش ایسی خالہ ھمیں بھی مل جاتی۔۔۔ خیر سلامتی کے ساتھ دولھن کو گھر لایا گیا۔ اور پھر وھی سندھی ھمارے چند رواج ھوئے آدھی رات کو جب دولھا صاحب کے اندر جانے کی باری آئی تو پھلے والی ناراض تھی کہ تم نے مجھے نھی بتایا دولھا نے بولا کہ میں نے جب رات کو تمھارے کھنے پرساری باھر ھونے والی کھانی سنائی تھی واپسی پر اس میں اس بات کا ذکر تھا مگر تم سوگئی تھیں۔ وہ بولے کہ نا با با میں تو نہی جانے دوں گی اندر تم میرے ساتھ چل کر سو گے آج کی رات پھر تو ایک ھنگامہ کھڑا ھوگیا کل کی طرح آج بھی گھر بھرا ھوا تھا مھمانوں سے کہ کل والی دلھن راستہ بند کر کے بیٹھی ھے نئی دلھن کے کمرے کا۔ آ خر کار ابا کے آجانے اور امی کو بلا کر اکیلے میں ڈانٹ پلائی کہ یہ کیا تماشہ بنا لیاھے تم نے اگر تم اس سب میں شامل۔نہی ھو تو اس کو کمرے میں بھیجو یا پھر ابھی کہ ابھی طلاق لےلو لڑکے نے کل بھی چادر رنگین کردی تھی تو آج بھی تجھے چادر رنگین ملے گی ھاں۔۔ یہ کارگر دھمکی تھی جس نے اثر دکھایا۔ اب ایک طرف اماں پارٹی تھی تو دوسری طرف ابا پارٹی۔۔ بیچ میں ھوگئے ۔ھمارے پپو کے مزے۔ آگے کی کھانی دلھا کی زبانی کل کی طرح جب میں انگوٹھی لیکر اندر گیا تو ماحول تھوڑا ساکشیدہ لگا تھا مجھے لیکن دروازے کے پاس کل والی لڑکی نظر آ ئی تھی مجھے ۔۔ بھر حال اب میں نے کل کی طرح انگوٹھی پھنائی پھر ھاتھ پکڑ کر قریب کیا تو وہ سیدھا میرے گلے ھی لگ گئی۔باتیں بھی کرنے لگی کہ۔مجھے پتہ ھے کہ کل والی دلھن میرے آنے سے خو ش نہی مگر یہ تو بڑوں کے فیصلے ھیں۔ اب تم بتاؤ اس میں میرا کیا قصور۔ میں نے بولا تم بریک پکڑو بات کرنے دوگی تو میں جواب دینے جیسا رھوں گا۔ اس نے پھر کچھ کھنا چاھا تو میں نے ایک پینترا مارا کہ بھائی جو زیادہ اچھی طرح چدوائے گی میں تواس کو زیادہ لفٹ کراؤ ں گا۔ اسنے کھا کہ اچھا تو یہ بات ھے تو پھر تم ایمانداری سے بتانا مجھے کل کہ کس نے زیادہ مزہ دیا۔۔۔ میں نے کھا کہ کل کیوں میں ابھی آزما لوں گا۔ اس نےلمبا سا اچھھھا کھا اور اپنی قمیض اتار کر میری بھی شلوار اتار دی وہ تو بھت بولڈ۔نکلی مجھے لٹایا اور میرے اوپر آکر خود ھی مجھے اپنے بوبز تھما دئیے کہ کو کھیلواب۔۔۔۔۔۔ جتنا دم ھے اتناچوسو ۔۔۔۔۔۔ میرے تو وھم وگمان میں بھی نہ تھا کہ پھلی ھی رات یہ اتنا بولڈ ھوجائیگی ابھی میں ممے چوسنے میں مگن تھاکہ اس نے ھاتھ آگے بڑھآکر میرے لن کو تھام لیا اور لگی اسکی مٹھ مارنے میں تو ھواؤں میں اڑ نے لگا ۔۔۔ کہ یار یہ تو کھل کر کھیلنے کی عادی ھے تو مجھے تجسس ھوا کہ اسنے یہ کھا ں سے سیکھا تو پتہ چلا کہ اس نے کراچی میں بھی چند سال گزارے ھیں۔ اپنے رشتہ داروں کے یھاں اور وھاں پر اسکی ایک دوست تھی جو لسبین سیکس کی شوقین لڑکی تھی۔ جس نے سارے گر اسکو بھی سکھائے ھیں تو لامحالہ مجھے شک ھوا سیل پیک کا تو میری الجھن مجھے سوچ میں غرق ھوتا دیکھ کر وہ ھنس پڑی اور بولی فکر نہ کرو مجھے پتہ ھے کہ ھمارے خاندان میں صبح جو رنگین چادر دیکھی جاتی ھے وہ تم کو ویسی ھی ملے گی۔ افتتاح تم ھی کروگے لیکن میرا طریقہ چدائی زرا مختلف ھوگا میں کھتی ھوں کہ چدائی دل سے کی جائے۔ ایک کی بھی اگر رضامندی نہ ھو تو مزہ نہی آتا۔ میں نے اسکی باتوں سے اتفاق کیا اور اگلے اسٹیپس پر چل پڑا تو اس نے اگلہ حملہ کردیا کہ ھمارے لپس سے کسنگ شروع کردی اور ناف پر آکر بریک کردی ۔۔۔ پھر ھمیں اپنے اوپر کھینچ لیا اور ھم سے بھی وھی تقاضا کیا وہ تو جیسے ھماری استاد بن گئی اور ھم اسکے گرویدہ ہوگئے کہ خالہ نے واقعی ڈھونڈ کے کھلاڑی میدان میں اتارا ھے ۔۔۔ھم اسکی چھوٹے بوبس کو منہ میں لیکر پنک کلر کے نپلز چوسنے لگے تو وہ خوش ھوگئی اور ھم سے زور زورسے سے چوسنے کا کھنے لگی۔ اب ھم نے بھی ناف تک چسائی کی اور اگلے اسٹیپ پر جانے کی تیاری کرنے لگے اس نے پھلے ھی سلوار وغیرہ اتار لی تھی اور کھنے لگی کہ میں نے تمھیں پسند کیا تو خالہ کو بتایا تھا اب اس نے کھاکہ پھلے تیل یاتھوک لگا لو تاکہ مجھے زیادہ تکلیف نہ ھو ھم نے اس کی بات پر عمل کرتے تھوک سے کام چلایا اور جب اسکی لال لال چوت پر ھاتھ پھرتے اسکا نظارہ کیا تو اس نے کھا کہ بعد میں دیکھ لینا اب تو اسکی خارش ختم کرو یار ھم نے جیسے ھی اندر دھکیلا تو اسکی چیخ نکلی جو کہ مجھے بالکل مصنوعی سی لگی ۔میں نے کہ دیا کہ یار اتنا تو زور سے میں نے نھی جھٹکا لگایا جتنا تم نے شور مچایا تو کھنے لگی کہ یہ بھی تم کو پتہ ھونا چاھیئے کہ کچھ رشتہ دار دیواروں سے کان لگائے کھڑے ھوتے ھیں پھر جوھم نےپلنگ پے اودھم مچایا تو مت پوچھو اس کے ساتھ میں بھی چیخ رھاتھا۔ اسی پوزیشن میں کافی دیر گزر گئی تو اس نے بھی کھا کہ جتنی دیر تم آج لگآرھے ھو اتنی ھی ھر روز دیکھنا چاھتی ھوں میں ۔ جس میں چھپا طنز میں سمجھ تو گیا پر میں نے کھا ھم بھی کھوسہ رئیس ھیں۔ تم کو ھر روز ھی ایسا ٹف ٹائم ملے گا بس تم اماں کو خوش کردیا کرو۔ تاکہ گھر۔میں چک چک نہ ھو ۔۔ کافی وقت کے بعد ھم دونوں آگے پیچھے ھی فارغ ھوئے اور میں ایک سائیڈ پر ھو کر لیٹ گیاتو اس نے صاف ستھرائی میں بھی میرا ھاتھ بٹایا۔ چادر بھی بدلی اور مخصوص جگہ پر سے دوسری سفید چادر بھی اٹھا کر بچھادی اور مجھے دودھ کا گلاس بھی پلایا۔ مٹھائی اس نے آدھی اپنے منہ میں رکھ کر مجھے پاس بلایا اور مجھے مل کر کھانے کا کھا۔ اس نے یہ انکشاف بھی کیاکہ مجھے پتہ ھے کہ تم نے کل ایک ھی بار کیا ھے اسکے ساتھ اور پھر باتوں باتوں میں وہ سوگئی تھی اور تم بھی میں نے زور دیکر پوچھا کہ۔تم۔کو۔کس نے بتایا ھے پھر جو اس نے نشانیاں بتائیں لڑکی کی تو میں سمجھ گیا کہ یہ وہی لڑکی ھے جو کل پھلے والی بیگم کے کمرے میں صبح ھی صبح موجود تھی اور ابھی اندر آتے ھوئے بھی اسی لڑکی کو میں نے کمرے سے نکلتےدیکھا تھا۔ مجھے خاموش دیکھ کر بولی کہ کچھ نھی ھوتا ایسا مخبر ھر خاندان میں ھوتا ھے۔ لیکن اب میں ایسا نہی کروں گی جب تک تم نہ بولو کہ اب سوتے ھیں میں تب تک تمھارا ساتھ دوں گی ۔بس تم میرے گھر والوں کی عزت میں کمی نہی آنے دوگے تو مزے ھی مزے۔جب ھم نے کسنگ کی پھر چوماچاٹی کا دور چلا اور فائینل اسٹیپ کی طرف میں راغب ھوا تو وہ پلنگ سے نیچے اتر گئی اور گھوڑی بن کر بولی آج ایسا کرتے ھیں ھم تو دنگ رہ گئے یار ۔۔۔ اس نے کھا کہ تم نے بھی دوستوں کے ساتھ فلمیں دیکھی ھوں گی تو کیا ھم نہی دیکھ سکتیں اس پوزیشن میں زیادہ مزہ دوں گی کیونکہ میری گانڈ بھی بڑی ھے جب تمھارا لن اس سے ٹکرا کر اندر جائیگا تو زیادہ مزہ آ ئیگا ۔ ھم تو اسکی باتیں سن کر انگشت بدنداں ھوگئے کہ یار اس کو بھت آگئے تک پتہ ھے ھم نے بھی دیرنہ کی لن اندر پیلنا شروع کردیا اس نے کھااب اھستہ اھستہ رفتار تیز کردو کہ اب ھمیں بھی جم کے مزہ لیناھے۔۔۔ ھم نے خوب اودھم مچا یا پھر اسٹائل چینج کرتے پلنگ پر اسے اٹھاکر پھینکا اور خود نیچے کھڑے ھوکر اسکی گانڈ کے نیچے تکیہ رکھ کر اسکی چوت میں مشین چلادی ۔۔ اس کو شور مچانے میں بڑا مزہ آتا تھا یا کسی اورکو آواز پھنچاناچاھتی تھی ۔۔۔۔سانوں کی ۔۔۔۔ ھمیں بھی مستی چڑھی ھوئی تھی ایسی پارٹنر کے ساتھ سیکس کرنے کامزہ ھی اپناھوتا ھے جو خود بھی دل سے چاھتی ھو۔کچھ دیر اسی طرح گزری تو اسنے اپنی اٹھی ھوئی ٹانگیں نیچے گرادیں۔ پھر ھم اس کے فارغ ھونے کے بعد بھی لگے رھے تھے۔۔ منی نکلنے کےآخری وقت میں ھم نے بھی زوردار چیخ مار کر اسے خوش کردیا۔ بھر حال ھم کو اپنی خالہ پر بڑا پیار آ رھا تھا کہ بڑی فنکار اور سیکسی لڑکی اس نے ھمارے لیئے پسند کی ۔۔۔ باقی باتیں ویسے ھی معمول کے مطابق گزریں۔ اوکے ملتے ھیں آپ سے اگلی پرائی شادی میں ۔۔۔ جوکہ آپکے کمنٹس پر۔منحصر ھے کہ جتنی جلدی اور جتنے زیادہ ھوں گے اتنی ھی جلدی میں اگلی شادی میں لے چلوں گا۔ آ پ کو ویسے لکھاری کا بھی دل خوش ھوگا ۔کلب والے بھی اتنے ھی دل جمعی سے کام کریں گے۔ اپکو تو پتہ ھے کہ آپکے لائکس سے زیادہ کمنٹس فیول کاکام کرتے ھیں ۔۔ آپکابارانی تھنڈر۔۔۔۔
  8. 6 likes
    بس جی یہ فراغت میسر آنے تک ذرا بند ہے۔ امید ہے جیسے ہی فراغت ہو گی تو اس کی واپسی ہو گی۔ پردیس سن ۲۰۱۲ میں بند ہوئی تھی اور سن ۲۰۱۳ میں واپسی ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے اب تک سب نارمل چل رہا ہے۔
  9. 5 likes
    بھت اعلی۔۔۔ میرا شک صحیح تھا۔۔۔ کہ نوک پلک نہی ۔۔مختیاریا گل ودھ گئی اے ۔۔۔تے ڈانکٹر دسدا نئی سی پیا۔۔۔ھاھا۔۔واہ۔۔ ھیرو کو اٹھتے ھی بادلوں میں چدائی کرادی۔۔۔۔ گریٹ آ ئڈیا ڈاکٹر۔۔۔۔۔ھاں بھائی ھم دھاتی لوگ گنے کی کھیت میں چدائی کرادیتے۔۔۔ بغیر خرچے کے۔۔۔ھاھا۔۔۔ اور اپ نے تو چدائی کے واسطے اتنا خرچہ کرادیا۔۔۔ گڈ۔۔۔ھوگیا۔۔ میں تو سمجھا تھا کہ۔۔۔ دبئی میں روزی۔۔ ملے گی۔۔۔ مگر اپ نے عمدہ پلان سے( ٹائم گزرنے کے احساس والے جملے) اسکی۔۔۔۔۔ نہی اتروائی۔۔ تو کھانی کار کی مرضی ھے۔۔۔ ھم تو تصور ھی کرسکتے تھے۔۔۔(بابا ھم نے اپنے تصور کو مجبوراً روک ھی لیا ) بھر حال گڈ ھوگیا۔۔۔ میں نے سوچا کہ ڈاکٹر صاحب کوویلکم زر ا لمممممبا ۔۔۔دیں لیں ۔۔۔تاکہ انکادل۔لگا رھے۔۔۔۔ ھنس دے ،وسدے ۔۔۔تے لخھ دے رھو۔۔۔۔ ویلے نہ بیٹھو۔۔۔۔ ھاھاھاھا۔۔۔ ڈونٹ مائنڈ۔۔۔ویسے۔۔۔۔ ۔
  10. 5 likes
    گاؤں کی قاتل حسینہ بختو کو پولیس گاڑی میں بٹھا کر آج پھر نئے آ ئے اسسٹنٹ جیل سپرنٹینڈنٹ کے کمرہ خاص میں پھنچا دیا گیا تھا جھاں اس کو مرغن غزائیں کھانے کو دی گئیں۔ پھر اسے نھانے اور دی گئی نئی بریزی و پینٹی پھننے کو کھا گیا جبکہ نوجون افیسر کاشف نے کمرے میں آتے ھی اسے پوچھا کہ بختو پنجابن تو ھی ھے جس نے اپنے آشنا کے ساتھ مل کر شوھر کو قتل کیاپھر اسکی لاش صحن میں دفنا کر ۔۔وھیں اسکے سر پر چھ ماہ تک اپنے یاروں کے ساتھ رنگ رلیاں تم ھی مناتی تھی ۔۔۔بختو نےکھاجی سر۔۔۔۔ آفیسر نے اسے کھڑا کرکےکہا پچھلے افسران تیری بڑی تعریف کرتے ھیں ذرا ھم بھی دیکھیں تم میں کیاجادو بھرا ھے تیکھے نین نقش لال سرخ چھرہ بھرے ھوئے گال اس پر پتلی سی لمبی ناک بڑے بڑے سفید ممے کالے بریزر سے جیسے باھر نکلنے کو مچل رھے ھوں سڈول جسم باھر کو نکلی گانڈ بھری ھوئی رانیں ۔ کام تو بڑا پکا کیا تھاکیسے پکڑی گئیں؟ کیسے یہاں پھنچیں؟ اسنے کھا صاحب یہ باتیں ابھی چھوڑیں بس جس کام کے لیئے مجھے لایا گیا ھے وہ کریں بعد میں اپکو ساری کھانی سنادوں گی مجھے بھی چدائی کی بھت طلب ھورھی ھے۔ یہ سنتے ھی آفیسر کاشف نے کھا بڑی گرمی ھے تجھے۔۔۔ لوگ جیل میں آ کر لاغر ھوجاتے ھیں تو دن بدن رنگ نکالتی جارھی ھے۔ بختو نے کھا کہ جی یہ تو اپ جیسے افیسران کی مجھ پر خاص کرم نوازی ھے۔ پھر کاشف نے اسے کمر سے پکڑ کر بیک سائڈ سے جپھی ڈالی اسکے مموں پر ھاتھ پھیرااپنے لن کو اسکے چوتڑوں کے ساتھ رگڑا۔۔۔ بانھوں میں اٹھا کر بیڈ پر پٹخ دیا اوراسکے بریزی پھاڑتے ھوئے اسکے مموں کو منہ میں لیکر چوسا اسکے براون بڑے نپلزپر جب اس نے زبان پھیری بختو کو بھی بڑا مزہ آنے لگا تو اسں نے کاشف کے لمبے موٹے لن کو سلوارکے اوپر سے ھی پکڑلیا۔ کاشف نے پرجوش ھوتےاسکی نپلز کو دانتوں سے چک ماردیا بختو کی ھلکی چیخ نکلی مگر پھرسکون میسر آگیا کہ بڑے دنوں بعد اسکے مموں کو کسی نے سختی سے چوسا وکاٹا تھا۔ ایک گاؤں کی حسینہ جو اپنے شوھر اور اپنوں کی نظراندازی کا انتقام یوں لیتی رھی کہ اس کو مارنے کے بعد کئی ماھ تک وہ اسی جگہ چارپائی ڈال کرچدائی کراتی رھی جس کے نیچے اسکا شوھر دفن تھا۔ امید ھے کہ چند ھی اپڈیٹس میں کھانی ختم ھوجائیگی دوستو قاتل حسینہ کی حقیقی روداد جس میں خوف, ڈر ,چالاکی جنسی استحصال, انتقام ,خاندانی چپقلش اور بھت کچھ اگر آپ پڑھنا چاھتے ھیں تو کمنٹس کیجیئے۔۔۔ کیوں کہ لائک تو مجھ نالائق کو بھت مل جاتے ھیں بارانی کے نئے تھنڈر ۔ ۔۔۔چند دنوں کے اندر۔ اگر دوستوں نے کمنٹس میں رسپانس دیا اور ایڈمن سے اجازت ملی۔ تو 3...4جولائی سے نئی کھانی ھوگی شروع
  11. 5 likes
    " سن بھڑوے ، اگر تو ایک سیکنڈ كے لیے بھی روکا تو سب كے سب مل کر مرینگے تجھے . . . نہ ہی روکنا اور نہ ہی کچھ بولنا . . . . " میں نے دھیرے سے کہا . . . سمیرہ جب کاشف اور میرے بلکل قریب آ گئی تو میں نے اپنا دائیاں پیر اْٹھایا اور پُش اپ کرتے ہوے کاشف كے اوپر رکھ دیا ، . . . ، جس سے کاشف روک گیا " آپ فیزکس كے خلاف نہیں جا سکتے ، اب اوپر اٹھے ہو تو نیچے تو جانا پڑیگا ڈیو ٹو گریوٹی . . . " کاشف كی پیٹھ پر پیر سے دباؤ بڑھاتے ہوے میں نے کہا . . . . . . سمیرہ سمجھ گئی کی کچھ گڑبڑ ہے ، ورنہ . . . . . . اس نے آس پاس دیکھا تو اسے اس کے باقی ساتھی بھی پڑے دکھائی دیئے . . . . " یہ سب تم نے کیا کیا ؟ " " ہاں ،" " تمہاری اتنی ہمت کہ تم اپنے سیئنر پر ہاتھ اٹھاؤ ، " سمیرہ نے مجھ سے کہا اور پھر کاشف کی طرف دیکھ کر بولی " چلو کاشف ، اٹھو . . . " " یہ تو آج اٹھ چکا ہے. . . . . اب تیری باری ہے . . . " " ممے دبا دے ارمان ، چود دے اسے ، کیا پٹاخہ ہے ، چھوڑنا مت . . . . " یہ میں نے اندر ہی اندر سوچا اور سمیرہ سے کہا " ٹینس بال کے ریٹ کیا ہے . . . " " ہیں . . . . . " " زیادہ چوکنے کی ضرورت نہیں ہے ، جب زمین پر پڑے اِس گدھے سے تو چوت اور لنڈ کی بات کر سکتی ہے تو پھر ٹینس بال كے بارے میں بات کرنے میں کیا حرج ہے . . . . . . چل بتا تیرے ٹینس بال ٹائیٹ ہے یا ڈھیلے ڈھیلے . . . . " " ٹائیٹ . . . . " " سائز کیا ہے . . . " " کیا . . . . " ناک چڑا کر سمیرہ بولی ، " میں نہیں ڈرا ، اس لئے اپنا یہ بناوٹی غصہ اتار کر پھیک دے . . . . " یہ کہتے ہوئے میں نے کاشف کی طرف نظر ڈالی . . . . کمینہ زمین پر پڑا ہانپ رہا تھا ، اِس وقت اس کی سانسیں ہی اتنی تیز چل رہی تھی کہ وہ ہماری آواز نہیں سن سکتا تھا اور ہمیں دیکھنے كے لیے وہ اپنا سَر گھمائے ، اتنی اس میں طاقت نہیں بچی تھی . . . . . . . " سائز نہیں بتایا " میں نے اپنا سوال ڈھورایا . . . " تم اس طرح ان الفاظوں میں مجھ سے بات کیوں کر رہے ہو. . . . " وہ پریشان ہو کر بولی . . . " اس دن اسی گراؤنڈ میں سینڈل پہن کر جب میرے اوپر کود رہی تھی ، تب یہ سمجھ میں نہیں آیا تھا کیا تجھے ، روز کالج كے پیچھے والے گیٹ پر کھڑے ہوکر دوسروں کو گالی دینا ، کینٹین میں بیٹھے ایک بھوکے لڑکے كے چہرے پر سموسہ مالتے وقت تیرے دل میں یہ خیال کیوں نہیں آیا . . . . " " سوری . . . . " اپنی آنکھوں میں معافی کی طلب لیے سمیرہ بولی ، وہاں آس پاس کھڑے میرے سب دوستو کا ہنس ہنس کر برا حال ہو رہا تھا . . . جب سمیرہ نے سوری بولا تو اظہر اپنے جوشیلے اندازِ میں میرے پاس آیا . . . . " سوری سے کام نہیں چلے گا ، میں تو گانڈ ماروں گا . . . . " " ہمممممم. . . . . . " " اظہر تو ان سب کو سنبھال ، میں سمیرہ کو کونے میں لیکر جاتا ہوں . . . . " اظہر مجھ پر بہت چلایا ، مجھے بہت روکا اور کہا کہ تو سحرش میڈم كے مزے لیتا ہے ، سمیرہ کو میرے ساتھ بھیج دے ، . . . لیکن میں نہیں مانا اور سمیرہ کا ہاتھ زبردستی پکڑ کر ایک طرف لے گیا . . . . . ہمارا کالج دور سے دور لمبے چوڑے علاقے میں پھیلا ہوا تھا ، جہاں بےحد زیادہ ہریالی تھی ، جھاڑیاں ، درخت لمبی لمبی گھاس سب کچھ تھا . . . . " تمھیں اس وقت اجتماعی زیادتی ٹھیک لگے گی یا پھر . . . " چلتے چلتے جب ہم دونوں گراؤنڈ سے بہت دور آگئے تو میں نے سمیرہ سے پوچھا اور اس کا ہاتھ چھوڑ دیا . . . . . " ارمان ، میں کوئی رنڈی نہیں ہوں ، جو ہر کسی كے ساتھ وہ سب کچھ کروں . . . ." " مطلب کے زیادتی " " میں کیس کر دوں گی . . . . " " پھر تو زیادتی کرنا پڑے گی . . . . . " ابھی میں سمیرہ کو لیکر گھنی جھاڑیوں میں گھس رہا تھا ، جیسے جیسے ہم دونوں آگے بڑھ رہے تھے سمیرہ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو رہا تھا ، اور ایک جگہ پر آکر وہ روک گئی . . . . " میں شور مچا دوں گی اور کالج میں شکایت بھی کروں گی کہ تم نے میرے ساتھ مس ریپ کیا . . . . " سمیرہ کی بات پر میں مسکرایا اور کہا " میرے خیال سے میرے پیٹھ پر تمھارے سینڈل كے نشان ابھی تک موجود ہے اور اگر میں نے اس کی شکایت کی تو تمھارے ساتھ ساتھ تمھارے ان سارے دوستوں کی بھی زندگی برباد ہو جائے گی ، جو اس دن گراؤنڈ میں موجود تھے ، . . . " سمیرہ غصے سے میری طرف دیکھنے لگی اور سمیرہ کو دیکھ کر میں نے اندازہ لگایا کہ وہ مجھے اندر ہی اندر گالیاں دے رہی ہے . . . . . " کھڑی مت رہو ، جلدی چلو . . . . کیونکہ دو تین گھنٹوں سے پہلے میں نہیں فارغ ہوتا ، اور اگر دو رائونڈ مارنے کا سوچا تو پھر چھے سات گھنٹے پکے . . . . . " یہ سن کر تو سمیرہ کی حالت اور خراب ہو گئی ، وہ زمین آسمان ایک کر کے سوچنے لگی کہ مجھ سے کیسے بچا جائے ، وہ وہاں سے بھاگ بھی سکتی تھی ، لیکن اس کے قدم میری پٹائی والی دھمکی كے وجہ سے بندھے ہوئے تھے . . . . . وہ ڈری ہوئی تھی اور اس کا ڈر بڑھانے كے لیے میں نے ایک اور دھماکہ کیا . . . . . " جلدی سوچو ، کیوںکہ جب میں تمھارے ساتھ کبڈی کھیلوں گا تو اس کی ویڈیو بھی ریکارڈ کروں گا ، اور اگر اندھیرہ زیادہ ہوگیا تو ویڈیو کوالٹی اچھی نہیں آئیگی . . . . . " " پلیز ویڈیو ریکارڈ مت کرنا . . . . " اس کے قدم آخر کار میری طرف بڑھے ، وہ میرے پاس آکر بولی " میں بدنام ہو جائوں گی . . . . " " میں تو ہاسٹل میں ہر ایک کو وہ ویڈیو سینڈ کروں گا ، ساتھ ہی ساتھ فیس بک میں فیک آئی ڈی سے اپ لوڈ کرکے، سارے ٹیچرز کو ٹیگ بھی کروں گا . . . . " " پلیز ایسا مت کرنا . . . . " وہ روتے ہوئے بولی " اگر تم نے ایسا کیا تو میں خودکشی کر لوں گی . . . . " " خودکشی . . . . . " اس کی طرف دیکھ کر میں نے کہا " اور تم جیسوں کی وجہ سے جو اسٹوڈنٹ خودکشی کرتے ہے ، ان کے بارے میں کبھی سوچا ہے . . . آج پتہ چلے گا کہ گھٹ گھٹ کر اپنا سَر جھکا کر جینا کیسے کہتے ہے . . . .
  12. 5 likes
    ڈاکٹر صاحب!! مصروفیت کی وجہ سے کافی عرصہ سے آن لائن نہیں آسکا. دوسرا دن آیا ہوں تو اس کو پڑھا. آپ کے قلم سے لکھی ہوئ تحریر کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے....... کہانی کے سسپنس کو آپ دن بدن بڑھاتے جارہے ہیں جس سے کہانی میں دل چسپی مزید بڑھ گئ ہے... عبیرہ بہت چالاک ہے اور صحیح کرکے یاسر کو تنگ کرتے آئینہ دکھا رہی ہے لن ڈلا ہوا بھی نکل جاتا ہے. ہا ہا. یاسر ایک انا پرست بھی ہے اسے ٹھیس پہنچتی ہے تو عبیرہ کی میں سے لن نکال لیتا ہے جبکہ یاسر ہوس پرست ہے..... عبیحہ کا قصہ بھی بڑا مزے دار نکلا کہ یاسر کو اپنی شرافت کے بہروپ سے چکمہ دے دیا... جب کہ یاسر کتنوں کو کرچکا ہے کوئ اس سے بچی نہیں. کسی کے آنسو اسے روک نہ سکے کبھی کبھار ذائقہ بدلنا پڑتا ہے.. ایک چھوری اور ایک ہی موری بور کردیتی ہے ایک چھورا اور ایک ہی لوڑا کیا لڑکیوں کو بور نہیں کرسکتا لن ٹن گیا چوت تو دے ہی چکی ہو. گانڈ کا افتتاح کردیا جائے سالا صدف کے نام کی مٹھ ماررہا ہے مموں کے بوجھ سے قمیض پھٹنے والی ہوگئ میرا لن تو سٹپٹا گیا کیا کہنے آپ کے ڈاکٹر صاحب کیا جملے لاتے ہیں آپ. مزہ دوبالا ہوجاتا ہے سیکس کے دوران جو آپ مکالمہ بازی پیش کرتے ہیں اس کا تو کچھ پوچھیں نا... عبیحہ کچھ پوچھنے آئ تو لن ڈال کر پوچھا جارہا ہے ہا ہا ہا گھر سے آئے قیصر بھائ کے خط نے بھی بہت سارے انکشافات کیے. سب سے بڑا دھماکا تو صدف کی قیصر سے شادی کا ہوا اس کا تو سوچا بھی نہیں تھا... صدف کا قیصر کے ساتھ سیکس اور یاسر کا جھانک کر دیکھنا اففف کتنا مزہ آیا کچھ نہ پوچھیں دل تو ہمارا بھی بہت کرتا ہے کہ ایسا سیکس سین دیکھنے کو مل جائے خصوصاً شب عروسی کا ہا ہا پرائے گھر میں چدائ کا اشتہار لگادیا ہا ہا ہا. یاسر سمجھ رہا تھا کہ قیصر منہ بھی نہیں لگائے گا لیکن ہوا اس کے برعکس. حقیقی زندگی میں بھی ایسا ہوتا ہے. ایک لڑکی جس سے اس کے شوہر نے شادی کی اس کو پتاتھا کہ اس نے مروائ ہوئ ہے پھر بھی کرلی ڈاکٹر صاحب آپ کی محنت کی جتنی بھی تعریف کی جائے منظر نگاری, کردار نگاری میں آپ لاجواب ہو... سیکس کی جو کہانیاں جس گھسے پٹے انداز میں چل رہی تھیں کہ سیکس سیکس سیکس آپ نے ایک نئے انداز سے پیش کرکے ایک نئ جِلا بخشی ہے... اپڈیٹ کے بعد جو کمنٹس کی صورت میں گفت گو ہوتی ہے اس سے کہانی کا مزہ اور بڑھ ہوجاتا ہے .ایک قاری نے تین سوال کیے تو مجھے ایسے لگا کہ شاید یاسر کا یہ والا حصہ پوشیدہ رہ گیا ہے لیکن جس عمدگی سے آپ نے جواب دیا تو معلوم ہوا کہ آپ کی کہانی پر گرفت کتنی مضبوط ہے. آپ ہر لحاظ سے سوچ کر لکھتے ہیں... کئ ناسمجھ قارئین آپ پر تنقید کرتے ہیں لیکن شکر ہے آپ دل برداشتہ نہیں ہوتے. فورم آپ سے ہی ہم دم ہے..... ایک ایسی کہانی جس میں ہر سطر اپنے اندر دل چسپی لیے ہوئے ہیں اسے لکھنا کچھ آسان نہیں بہت لگن اور محنت چاہیے کہانی بہت ہی دلچسپ ہوگئ ہے... یاسر جن مشکلات میں پھنس گیا وہ بالآخر نکل ہی آئے گا.. یاسر کی جگہ لگتا ہے جیسے عبیرہ عبیحہ میں ہمارا لن جارہا ہو. ہا ہا ڈاکٹر صاحب سلام آپ کو....
  13. 5 likes
    بھائی میری واپسی ہو گئی ہے ۔ جلد ۔محبت کے ساتھ حاضر ہوں گا
  14. 5 likes
    صبح پڑھی تھی آپ کی تحریر تو سوچا آپ کو مشورہ دوں لیکن میں رک گیا. مشورہ یہ تھا کے لکھو جیسی بھی ہے لکھ دو کچھ نا کچھ. کسی کی سننا مت. اس دنیا میں بہت سے ایسے افراد ہیں جو خود کچھ نہیں کر سکتے لیکن اگر کوئی کچھ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کو بھی نہیں کرنے دیتے. تو ایک ہی بات کہوں گا جو ہم سے کہی جاتی ہے. ڈٹ جاؤ بس کسی کی مت سنو. اور رکنا تب جب آپ کو آپ کی منزل مل جاۓ. باقی معزرت اگر کسی کو میری بات اچھی نہیں لگی تو.
  15. 5 likes
    میری ممااپنے وقت کی بڑی مشہور پورن سٹار تھیں اور گھر میں مما، میں اور مماکے بوائے فرینڈ رہتے تھے۔رات کو ہم تینوں پول میں اکٹھے ہی نہاتے اور پھر مما اور انکل(مما کے بوائے فرینڈ) چھت پرسونے کے لیے چلے جاتے ۔ہم ایک بڑے گرم اور مرطوب ٹروپیکل جزیرے پر رہتے تھےجہاںساحل سمندر پر برہنہ جسم فراوانی سے نظر آتے تھے۔مما اور انکل رات کو چھت پر سیکس کرتے تھے تو اکثر میں بھی مکمل طور پر برہنہ ہو کر ان کے پاس چلی جاتی تھی ۔میرا عریاں بدن دیکھ کر انکل کا اکثر بے قابو ہو جاتا تھااور ان کی مما کو چودنے کی سپیڈ بھی بڑھ جاتی تھی ایک دن میں سو کر اٹھی تو انکل ننگے ہی میرے کمرے میں آگئے ۔ انہوں نے کیمرا پکڑا ہوا تھا اور ان کا لن فل ٹائٹ اوپر نیچے ہل رہا تھا ۔انکل کہنے لگے اٹھو چھت پر چلتے ہیں بارش میں تمہارا فوٹو شوٹ کرتے ہیں آج ۔ انکل ابھی تو کوئی اچھا ڈریس بھی نہیں ہے میرے پاس۔۔۔میں نے مایوس سی آواز میں کہا تو انکل کہنے لگے کہ ڈریس کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی تو میں انکل کا مطلب سمجھ کر شرماتی ہوئی ہنسنے لگی ۔ ، اس دن میں صرف پینٹی پہن کر سوئی تھی انکل کی بات سن کر میں نے پینٹی اتاری اور بالکل ننگی ہی چھت پر چلی گئی۔۔انکل اپنا ٹائٹ لن ہلاتے ہوئے میرے پیچھے آنے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر قارئین کو یہ آغاز پسند آیا ہو تو کمنٹ کریں تاکہ اس دن کی مکمل روداد آپ تک پہنچ سکے میں آگے بھی اپنی برہنہ پن اورجنسی اخلاط سے بھرپور شب و روز کی ڈائیری آپ سے شئیر کرتی رہوں گی
  16. 5 likes
    گاؤں کی قاتل حسینہ میرا نام بخت پری تھا لیکن بچپن ھی سے مجھے رشتہ دار بختو بختو کھتے تھے میری عمر 22سال ہے اور میں شادی شدہ ہوں. میرے شوہر این۔ایل۔سی ٹرالر چلاتے جو کہ ملتان سے کراچی لائین پر چلتے ہیں. میں اپنے ساس - سسر کے ساتھ ملتان کے قریب نواحی گاؤں میں اپنے سسرال میں رہتی ھوں. شوہر کا نام شبیر ھے انکے ایک چچا کی سندھ میں بھی زمین ھے کھیتی باڑی بھی کرتے ہیں اور میرے شوھر شبیر نے بھی کچھ زمین وھاں لے رکھی ھے تو یہ وھاں کا بھی چکر لگا لیتے ھیں تو اس وجہ سے میں کئی کئی ماہ لنڈ کو ترستي رہتی ہوں. ویسے تو میرے ارد گرد گلی محلے میں بہت سارے لنڈ رہتے ہیں پر ساس - سسر کے ہوتے یہ میرے کسی کام کے نہیں. میری گلی کے سارے لڑکے مجھے پٹانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں. میرے ممے لڑکوں کی نیند اڑانے کے لئے کافی ہیں. میری بڑی سی گانڈ دیکھ کر لڑکوں کی حالت خراب ہو جاتی تھی اور وہ کھڑے کھڑے لنڈ کو ہاتھ میں پکڑ لیتے ہیں. میرے ریشمی لمبے بالوں میں پتہ نہیں کتنوں کے دل اٹكے پڑے ہیں تب میرا جسم بڑا سیکسی کشش رکھتا تھا میری پتلی کمر، میرے گلابی گلابی ہونٹ، لڑکوں کو میرے گھر کے سامنے کھڑے رہنے کے لئے مجبور کر دیتے ہیں. سب مجھے پٹانے کے ہتھکنڈے استعمال میں لاتے رہتے تھے پر میں کسی سے نہیں پٹ رہی تھی۔ میرے شوھر جب باھر ھوتے تو ان کا ایک ڈرائیور دوست کمال ان کی بھیجی رقم ھمارے گھر پھنچا کر مجھ سے رسید پر سائین لیتا تھا تاکہ بعد میں حساب کتاب میں آسانی رھے۔ دوسرے سب عاشقوں کی طرح یہ بھی مجھ پر ڈورے ڈالتا تھا لیکن حالات ایسے نہی بن رھے تھے میں نے بھی آنکھوں سے اسے پسندیدگی کا سگنل دے دیا تھا اس نے مجھے کہا کہ وہ مجھ سے تنھائی میں ملنا چاہتا ہے، مگر میں نے انکار کر دیا. کچھ دن کے بعد جب وہ دوبارہ پیسے دینے آیا تو اتفاق سے سسرگھر پر نہی تھے ساس سو رھی تھیں اس بات کا جب اسے بتایا تو کمال نے مجھے گلے لگا لیا جلدی سے چمیاں لیں کھا کہ دو دن سے میرا گھر خالی ھے میں اکیلا ہی ملتان شھر سے اتنا دور آیا ہوں، تیرا دیدار کرنے باقی ساری فیملی لاھورشادی میں گئی ھوئی ھے۔ کمال نے یہ بھی کہا کہ وہ مجھے چودنا چاہتا ہے بے شک ایکبار ہی سہی. اب تو مجھے بھی اس پر ترس سا آنے لگا تھا۔ کچھ تو مجھے کھجلی تھی دوسرا احساس کہ وہ اتنی دور سے مجھے پیسے دینے آتا ھے( یہاں ایک جملہ۔۔۔ من حرامی۔۔ تے ھجتاں ڈھیر۔۔۔).اگلے مہینے میری بہن کے لڑکے کی شادی تھی جس کے لئے مجھے اور میری ساس نے شاپنگ کے لئے ملتان شھر جانا تھا. مگر کچھ دنوں سے میری ساس کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی تو اس نے مجھے اکیلے ہی ملتان چلی جانے کو کہا. جب میں نے اکیلے ملتان جانے کی بات سنی تو ایک دم سے مجھے اس کمال کا خیال آ گیا. میں نے سوچا کہ اسی بہانے اپنے عاشق کو بھی مل آتی ہوں. میں نے نہاتے وقت اپنی جھاٹے صاف کر لیں اور پوری سج - سنور برقعہ پھن کر بس میں بیٹھ گئی اور راستے میں ہی کمال کو فون کر دیا. اسے میں نے ایک کسی ھوٹل میں بیٹھنے کے لئے کہا اور کہا میں ہی وہاں آ کر فون کروں گی. پھر ایڈریس رکشہ والے کو سمجھا دینا۔ میں آپ کو کمال کے بارے میں بتا دوں0 5 سال کا لگتا تھا. اس کے سر کے بال سفید ہو چکے تھے پر اسکی باڈی اسکا لھجہ اور اس کا چہرہ مجھے اس سے ملنے کو مجبور کر رہا تھا. بس سے اترتے ہی میں رکشہ لے کر وہاں پہنچ گئی جہاں پر وہ میرا انتظار کر رہا تھا. اس نے مجھےکبھی برقع میں نہی دیکھا تھااس لئے میں تو اسے پہچان گئی پر وہ مجھے نہی پھچان سکا میں اس سے تھوڑی دور بیٹھ گئی وہ ہر عورت کو آتے ہوئے غور سے دیکھ رہا تھا مگر میں نے برقع پھنا ھوا تھا میں دیکھناچاھتی تھی کہ ھمارے گاؤں کاتو کوئی نہی آیا ھوا تھوڑی دیر کے بعد میں ھوٹل سے باہر آ گئی اور اسے فون کیا کہ باہر آ جائے. میں تھوڑی چھپ کر کھڑی ہو گئی اور وہ باہر آ کر ادھر ادھر دیکھنے لگا. میں نے اسے کہا - تم اپنی گاڑی میں بیٹھ جاؤ، میں آتی ہوں. وہ اپنی گاڑی میں جاکر بیٹھ گیا، میں نے بھی ادھر ادھر دیکھا اور اس کی طرف چل پڑی اور جھٹ سے جا کر اس کے پاس والی سیٹ پر بیٹھ گئی. مجھے دیکھ کر وہ حیران رہ گیا اور کہا - تم ہی تو اندر گئی تھی، پھر مجھے بلایا کیوں نہیں؟ میں نے کہا - اندر بہت سارے لوگ تھے، اس لیے! اس نے دھیرے دھیرے گاڑی چلانی شروع کر دی، اسکے کھنے پر میں نے برقعہ اتاردیا اس نے مجھے پوچھا - اب تم پھلےکس بازار جانا چاهوگی؟ میں نے کہا جھاں تم۔لے چلو، بس خیال رکھنا کہ مجھے جلدی ھے ، اور مجھے شاپنگ کرکے واپس بھی جانا ہے. اس نے کہا اگر تم برا نا مانو تو میں تمہیں کچھ تحفہ دینا چاہتا ہوں. کیا تم میرے ساتھ پھلےمیرے گھر چل سکتی ہو؟ اس کاملتان میں ہی ایک شاندار بنگلہ تھا. پہلے تو میں نے انکار کر دیا پر اس کے مزید زور ڈالنے پر میں مان گئی. پھر ہم اس کے گھر پہنچے. مجھے احساس ہو چکا تھا کہ اگر میں اس کے گھر پہنچ گئی ہوں تو آج میں ضرور چدنے والی ہوں. میں گاڑی سے اتر کر اس کے پیچھے پیچھے چل پڑی. اندر جا کر اس نے مجھے پوچھا - کیا پیوگی تم بختو؟ "کچھ نہیں! بس مجھے تھوڑا جلدی جانا ہے!" وہ بولا - نہیں ایسے نہیں! اتنی جلدی نہیں .. ابھی تو ہم نے اچھے سے باتیں بھی نہیں کی! "اب تو میں نے تمہیں اپنا فون نمبر دے دیا ہے، رات کو جب جی چاہے فون کر لینا .. میں اکیلی ہی سوتی ہوں." "پلیز! تھوڑی دیر بیٹھو تو سہی!" میں نے کچھ نہیں کہا اور صوفے پر بیٹھ گئی. وہ جلدی سے کولڈرنک لے آیا اور مجھے دیتے ہوئے بولا - یہ کولڈرنک ہی پی لو پھر چلی جانا. میں نے وہ مشروب لے لیا. وہ میرے پاس بیٹھ گیا اور ہم ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے. باتوں ہی باتوں میں وہ میری تعریف کرنے لگا. وہ بولا. جب تمھارے گھر میں تمہیں دیکھتا تھا تو سوچتا تھا کہ اوپر والے نے تمھیں بڑی فرصت سے بنایا ھے۔ رہنے دو! جھوٹی تعریف کرنے کی ضرورت نہیں ہے جی! میں نے کہا. اس نے بھی موقع کے حساب سے میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا - سچ میں بختو، تم بہت خوبصورت ہو. میرا ہاتھ میری ران پر تھا اور اس پر اس کا ہاتھ! وہ دھیرے دھیرے میرا ہاتھ رگڑ رہا تھا. کبھی کبھی اس کی انگلیاں میری ران کو بھی چھو جاتی جس سے میری پیاسی جوانی میں ایک بجلی سی دوڑ جاتی. اب میں مدہوش ہو رہی تھی. مگر پھر بھی اپنے اوپر قابو رکھنے کا ڈرامہ کر رہی تھی جسے وہ سمجھ چکا تھا. پھر اس نے ہاتھ اوپر اٹھانا شروع کیا اور اس کا ہاتھ میرے بازو سے ہوتا ہوا میرے بالوں میں گھس گیا، میں چپ چاپ بیٹھی مدہوش ہو رہی تھی اور میری سانسیں گرم ہو رہی تھی. اس کا ایک ہاتھ میری پیٹھ پر میرے بالوں میں چل رہا تھا اور وہ میری تعریف کئے جا رہا تھا. پھر دوسرے ہاتھ سے اس نے میری گال کو پکڑا اور چہرہ اپنی طرف کر لیا. میں نے بھی اپنا ہاتھ اپنی گال پر اس کے ہاتھ پر رکھ دیا. اس نے اپنے ہونٹوں کو میرے ہونٹوں پر رکھ دیا اور میرے ہونٹوں کا رس چوسنا شروع کر دیا. مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب میں اس کا ساتھ دینے لگی. پھر اس نے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا اور مجھے اپنی گود میں بٹھا لیا. اب میرے دونوں چوچے اس کی چھاتی سے دب رہے تھے. اس کا ہاتھ اب کبھی میری گانڈ پر، کبھی بالوں میں، کبھی گالوں میں، اور کبھی میرے ممو پر چل رہا تھا. میں بھی اس کے ساتھ کس کر چپک چکی تھی اور اپنے ہاتھ اس کی پیٹھ اور بالوں میں گھما رہی تھی. کچھ دیر تک ہم دونوں ایسے ہی ایک دوسرے کو چومتے - چاٹتے رہے. پھر اس نے مجھے اپنی باہوں میں اٹھا لیا اور بیڈروم کی طرف چل پڑا. اس نے مجھے زور سے بیڈ پر پھینک دیا اور پھر میری ٹانگیں پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا. وہ میری دونوں ٹانگوں کے درمیان کھڑا تھا. پھر وہ میرے اوپر لیٹ گیا اور پھر سے مجھے چومنے لگا. اسی دوران اس نے میرے بالوں میں سے ہیئر رنگ نکال دیا جس سے بال میرے چہرے پر بکھر گئے. مجھے یہ سب بہت اچھا لگ رہا تھا، اب تو میں بھی شہوت کی آگ میں ڈوبے جا رہی تھی. پھر اس نے مجھے پکڑ کر کھڑا کر دیا اور میری قمیض کو اوپر اٹھایا. میری برا میں سے میرے ممے جیسے پہلے ہی آزاد ہونے کو تڑپ رہے تھے. وہ برا کے اوپر سے ہی میرے ممےمسل رہا تھا اور چوم رہا تھا۔پھر اس نے میری قمیض اتروادی. پھر اس کا ہاتھ میری شلوار تک پہنچ گیا. جس کا ناڑا کھینچ کر اس نے کھول دیا. میری زیر جامہ چڈی بہت ٹائیٹ تھی جسے اتارنے میں اسے بہت مشکل ہوئی. مگر چڈي اتارتے ہی وہ میرے گول گول چوتڑ دیکھ کر خوش ہو گیا. اب میں اس کے سامنے برا میں تھی. اس نے میری ٹانگوں کو چوما اور پھر میری گانڈ تک پہنچ گیا.میں الٹی ہو کر لیٹی اور وہ میرے چوتڑوں کو زور زور سے چاٹ اور مسل رہا تھا. اب تک میری شرم اور خوف دونوں غائب ہو چکے تھے اور پھر جب غیر مرد کے سامنے ننگی ہو ہی گئی تھی تو پھر چدائی کے پورے مزے کیوں نہیں لیتی بھلا. میں پیچھے مڑی اور گھوڑی بن کر اس کی سلوار، جہاں پر لنڈ تھا، پر اپنا چہرہ اور گال رگڑنے لگی. میں نے اس کی قمیض کھولنی شروع کر دی تھی. جیسے جیسے میں اس کی قمیض کھول رہی تھی اس کی چوڑی اور بالوں سے بھری چھاتی سامنے آتی جارھی تھی. میں اس پر دھیرے دھیرے ہاتھ پھیرنے لگی اور چومنے لگی. دھیرے دھیرے میں نے اس کی قمیص اتار دی. وہ میرے ایسا کرنے سے بہت خوش ہو رہا تھا. مجھے تو اچھا لگ ہی رہا تھا. میں مست ہوتی جا رہی تھی. میرے ہاتھ اب اس کی شلوار تک پہنچ گئے تھے. میں نے اس کا ناڑہ کھولا اور سلوار نیچے سرکا دی. اس کا لنڈ انڈروئیر میں کسا ہوا تھا. ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے انڈرویئر پھاڑ کر باہر آ جائے گا. میں نے اپنی ایک انگلی اوپر سے اس کے انڈرویئر میں گھسا دی اور نیچے کو کھیںنچا. اس سے اس کی جھانٹوں والی جگہ، جو اس نے بالکل صاف کی ہوئی تھی دکھائی دینے لگی. میں نے اپنا پورا ہاتھ اندر ڈال کر انڈرویئر کو نیچے کھینںچا. اس کا 7 انچ کا لنڈ میری انگلیوں کو چھوتے ہوئے اچھل کر باہر آ گیا اور سیدھا میرے منہ کے سامنے ہلنے لگا. اتنا بڑا لنڈ اچانک میرے منہ کے سامنے ایسے آیا کہ میں ایک بار تو ڈر گئی. اس کا بڑا سا اور لمبا سا لنڈ مجھے بہت پیارا لگ رہا تھا اور وہ میری پیاس بھی تو بجھانے والا تھا. میرے ہونٹ اس کی طرف بڑھنے لگے اور میں نے اس کے ٹوپے کو چوم لیا. میرے ہوںٹھوں پر نرم - گرم احساس ہوا جسے میں مزید محسوس کرنا چاہتی تھی. تبھی کمال نے بھی میرے بالوں کو پکڑ لیا اور میرا سر اپنے لنڈ کی طرف دبانے لگا. میں نے منہ کھولا اور اس کا لنڈ میرے منہ میں سمانے لگا. اس کا لنڈ میں مکمل اپنے منہ میں نہیں گھسا سکی مگر جو باہر تھا اس کو میں نے ایک ہاتھ سے پکڑ لیا اور مسلنے لگی. کمال بھی میرے سر کو اپنے لنڈ پر دبا رہا تھا اور اپنی گانڈ ہلا ہلا کر میرے منہ میں اپنا لنڈ گھسیڑنے کی کوشش کر رہا تھا. تھوڑی ہی دیر کے بعد اس کے دھکوں نے زور پکڑ لیا اور اس کا لنڈ میرے گلے تک اترنے لگا. میری تو حالت بہت بری ہو رہی تھی کہ اچانک میرے منہ میں جیسے سیلاب آ گیا ہو. میرے منہ میں ایک مزہ گھل گیا، تب مجھے سمجھ میں آیا کہ کمال جھڑ گیا ہے. تبھی اس کے دھکے بھی رک گئے اور لنڈ بھی ڈھیلا ہونے لگا اور منہ سے باہر آ گیا. اس کا مال اتنا زیادہ تھا کہ میرے منہ سے نکل کر گردن تک بہہ رہا تھا. کچھ تو میرے گلے سے اندر چلا گیا تھا اور بہت سارا میرے چھاتی تک بہہ کر آ گیا. میں بےسدھ ہوکر پیچھے کی طرف لیٹ گئی. اور وہ بھی ایک طرف لیٹ گیا. اس درمیان ہم تھوڑی رومانی باتیں کرتے رہے. تھوڑی دیر کے بعد وہ پھر اٹھا اور میرے دونوں طرف ہاتھ رکھ کر میرے اوپر جھک گیا. پھر اسنےمجھے اپنے اوپر کر لیا اور میری برا کی ہک کھول دی. میرے دونوں کبوتر آزاد ہوتے ہی اس کی چھاتی پر جا گرے. اس نے بھی بغیر دیر کئے دونوں ممے اپنے ہاتھوں میں تھام لئے اور باری باری دونوں کو منہ میں ڈال کر چوسنے لگا. وہ میرے مموں کو بڑی بری طرح سے چوس رہا تھا. میری تو جان نکلی جا رہی تھی. تھوڑی دیربعد وہ اٹھا اور میری ٹانگوں کی طرف بیٹھ گیا. اس نے میری چڈی کو پکڑ کر نیچے کھینچ دیا اور دونوں ہاتھوں سے میری ٹانگیں پھیلا کر کھول دی. وہ میری رانوں کو چومنے لگا اور پھر اپنی زبان میری چوت پر رکھ دی. میرے بدن میں جیسے بجلی دوڑنے لگی. میں نے اس کا سر اپنی رانوں کے بیچ میں دبا لیا اور اس کے سر کو اپنے ہاتھوں سے پکڑ لیا. اس کا لنڈ میرے پیروں کے ساتھ چھو رہا تھا. مجھے پتہ چل گیا کہ اسکا لنڈ پھر سے تیار ہے اور سخت ہو چکا میں نےکمال کی بانہہ پکڑی اور اوپر کی اور کھینچتے ہوئے کہا - میرے اوپر آ جاؤ راجہ .. وہ بھی سمجھ گیا کہ اب میری پھدی لنڈ لینا چاہتی ہے. وہ میرے اوپر آ گیا اور اپنا لنڈ میری چوت پر رکھ دیا. میں نے ہاتھ میں پکڑ کر اس کا لنڈ اپنی چوت کے منہ پر ٹكايا اور اندر کو کھیںنچا. اس نے بھی ایک دھکا مارا اور اس کا لنڈ میری چوت میں گھس گیا. میرے منہ سے آہ نکل گئی. میری چوت میں میٹھا سا درد ہونے لگا. اپنے شوہر کے انتظار میں اس درد کے لئے میں بہت تڑپی تھی. اس نے میرے ہونںٹھ اپنے ہوںٹھوں میں لئے اور ایک اور دھکا مارا. اس کا سارا لنڈ میری چوت میں اتر چکا تھا.میرا درد بڑھ گیا تھا. میں نے اس کی گانڈ کو زور سے دبا لیا تھا کہ وہ ابھی اور دھکے نہ مارے. جب میرا درد کم ہو گیا تو میں اپنی گانڈ ہلانے لگی. وہ بھی لنڈ کو دھیرے دھیرے سے اندر - باہر کرنے لگا. کمرے میں میری اور اس کی سسكاریاں گونج رہی تھی. وہ مجھے بےدردي سے پیل رہا تھا اور میں بھی اس کے دھکوں کا جواب اپنی گانڈ اٹھا - اٹھا کر دے رہی تھی. پھر اس نے مجھے گھوڑی بننے کے لئے کہا. میں نے گھوڑی بن کر اپنا سر نیچے جھکا لیا. اس نے میری چوت میں اپنا لنڈ ڈالا. مجھے درد ہو رہا تھا مگر میں سہ گئی. درد کم ہوتے ہی پھر سے دھکے زور زور سے چالو ہو گئے. میں تو پہلے ہی جھڑ چکی تھی، اب وہ بھی جھڑنے والا تھا. اس نے دھکے تیز کر دئے. اب تو مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے یہ کمال آج میری چوت پھاڑ دے گا. پھر ایک سیلاب آیا اور اسکا سارا مال میری چوت میں بہہ گیا. وہ ویسے ہی میرے اوپر گر گیا. میں بھی نیچے الٹی ہی لیٹ گئی اور وہ میرے اوپر لیٹ گیا. میری چوت میں سے اس کا مال نکل رہا تھا. پھر اس نے مجھے سیدھا کیا اور میری چوت چاٹ چاٹ کر صاف کر دی. ہم دونوں تھک چکے تھے اور بھوک بھی لگ چکی تھی. اس نے قریبی ہوٹل میں فون کیا اور کھانا گھر پر ہی منگوا لیا. میں نے اپنے چھاتی اور چوت کو کپڑے سے صاف کیا اور اپنی برا اور پینٹی پہننے لگی. اس نے مجھے رکنے کا اشارہ کیا اور ایک گفٹ میرے ہاتھ میں تھما دیا. میں نے کھول کر دیکھا تو اس میں بہت ہی پیارا، دلکش سوٹ تھا جس کے ساتھ برا وپینٹی بھی تھی جو وہ میرے لئے لایا تھا.پھر میں نے وہی برا اور پینٹی پہنی اور اپنے کپڑے پہن لیے. تبھی بیل بجی، وہ باہر گیا اور کھانا لے کر اندر آ گیا. ہم نے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا. اس نے مجھے کہا - چلو اب تمہیں شاپنگ کرواتا ہوں. وہ مجھے مارکیٹ لے گیا. پہلے تو میں نے شادی کے لئے شاپنگ کی، جس کا بل بھی کمال نے دیا. اس نے مجھے بھی ایک بے حد خوبصورت اور قیمتی کپڑوں کا جوڑا لے کر دیااور بولا - جب اگلی بار ملنے آؤگی تو یہی جوڑا پہن کر آنا۔پھر وہ مجھے بس اسٹینڈ تک چھوڑ گیا اور میں بس میں بیٹھ کر واپس اپنے گاؤں اپنے گھر آگئی۔۔شادی پر میرے شوھر گھر ائے وہ ایک ھفتہ ھی ٹھر سکے جس میں سے دو دن ھم نے سیکس کیا اسنے ایک عادت یہ پکڑلی تھی کہ سیکس کرتے ھوئے چماٹیں مارتاتھا جو کہ مجھے بھت بری لگتی تھیں وہ گانڈ مارنے کی کوشش کرتا رھا میں مسلسل منع کرتی رھی۔مگر آخری رات اس نے غصے میں مجھے مارا بھی اور گانڈ میں بھی لن ڈال گیا مجھےتکلیف دے کرگیا۔۔۔ پھلے مجھے چوت میں خارش تھی اب تو رہ رہ کر اسکا گانڈ میں زبردستی لن ڈالنا اوپر سے تھپڑیں مارنا یاد آتا تھا۔ جس سے مجھ میں انتقام کا جذبہ بڑھنے لگا اسکے بعد تو ھم کمال سے روزانہ فون پر باتیں کرتے تھے سسر کے آنے جانے کے اوقات کار کو دیکھ کر اپنی ملاقات رکھ لیتے۔ایسے ھی ایک ملاقات کے دوارن ھمارا گھر کا دروازہ اچانک سے کھلا اور آنے والے نے ھمیں ننگا ایک دوسرے میں پیوستہ پایا۔۔۔ لیکن۔۔۔۔ جاری ھے
  17. 5 likes
    تمام ڈیٹا چور ممبرز نوٹ کر لیں! ۔ اردو فن کلب کی انتظامیہ کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ کچھ بدنیت ممبرز اردو فن کلب کا پریمیم ڈیٹا چرا کر اپنے بنائے گئے مختلف پیڈ گروپس میں پیسے لے کر سیل کر رہے ہیں ۔یاد رہے کہ اردو فن کلب کے پریمیم سیریز اور پریمیم ناولز اردو فن کلب فورم کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جو فورم کے پریمیم رائیٹرز کی محنت ہے اور صرف وقتی تفریح کے لیئے فورم پر آن لائن دستیاب ہیں اسے کسی بھی طرح سے کاپی یا ڈاؤن لوڈ کرنے یا کسی دوسرے دوست یا ممبر سے شیئر کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ۔فورم پر جو ممبرز اسے چوری کر کے اپنے گروپس میں سیل کر رہے ہیں ۔ یا اپنے دوستوں سے شئیر کر رہے ہیں ۔ ان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ ڈیٹا چوری نہ کریں۔اور کسی دوسرے ممبر سے بھی شئیر نہ کریں ۔ ڈیٹا شیئر یا چوری کرنے والہ ممبر اس بات کا عملی اقرار کرے گا کہ وہ بروز قیامت فورم انتظامیہ، سٹوری رائیٹر اور فورم ایڈمن کے تمام گناہوں کا اکلوتا وارث ہو گا۔اور بروز قیامت اپنی تمام نیکیاں (جو بھی اس کے نامہ اعمال میں ہوئیں ) بروز قیامت مجھے دینے کا پابند ہو گا۔ اگر کوئی ممبر اب بھی چند پیسوں کے عوض ایسا کرتا ہے اور گناہ جاریہ کا سبب بنتا ہے ۔ تو اس قیمت کو ایگری کرتے ہوئے چوری کر سکتا ہے ۔مجھے اس قیمت یا ایگری منٹ پر اجازت دینے میں کوئی اعتراض نہیں ۔ شکریہ ایک ڈیٹا چور ممبر کے گروپ کی کچھ اسکرین شارٹس یہاں شیئر کی جا رہی ہیں
  18. 5 likes
    پرائی شادی میں ۔۔۔ دیوانہ کھانی نمبر 7 پارٹ ٹو میں کاسو کا دوست راجو جب میں مولبی کو واپس چھوڑنے جا رھا تھا تو اسپیشل گولیاں منگوانے کے لیئے کچھ پیسے دے بتا یا کہ لازمی لے کر آناتب تک شام ھوچکی تھی۔ میں نے اس کو دیتے ھوئے کھا کہ کھانے کے گھنٹے بعد کھانا اور میچ کھیلنے سے کم ازکم گھنٹہ پھلے کھا لینا۔ اب میں چلتا ھوں تو اسں نے کہا کہ میں تیرے والد سے چھٹی لے چکا ھوں تم آج ساری رات میرے ساتھ ھو۔ اس نےکھاکہ میرے ساتھ رھنا یار مجھے ڈرلگ رھا ھے کھیں ایسا نہ ھو کہ لن کام ھی نہ کرے اور میں کچھ بھی نہ کر پاؤں صبح وہ اپنے گاؤں کی لڑکیوں کو بتائیگی کہ رات کچھ بھی نہ ھوسکا اب یہ نیا کام ھوگیا کہ مھمان عورتوں نے کمرے میں جو کہ گھر کا واحد جھگی کمرہ تھا میں بیٹھ کر گانے گانے شروع کردئیے۔ ادھر کاسو گولی کھا آچکا تھا اور ایک دوست نے چرس کی بھری سگریٹ بھی اسے پلادی تھی۔ یعنی اثر گولی کا ڈبل ھوچکا تھا۔ لن اسکا کھڑا ھوگیا تھاخود بخود اب وہ بولے کہ تو جا ان پوڑھیو کو اٹھا ورنہ میں نے آ کےانکے سامنے ھی شروع ھوجانا۔ جب میں اسکی ماں کے پاس گیاکہ اب بس کرو دولھا کو نیند آرھی ھے اسے سونا ھے تو اسکی خالہ بولی کہ سوجائے باھر ھی میری تو ابھی واری ھی نہی آئ گانے سنانے کی میں تو ضرورگاونگی۔ایک اور عورت بھی بولی کہ ھاں میں بھی رھتی ھوں۔ کاسو نے دو بار جاکر پیشاب کیا کہ اسی بھانے سے عورتیں سمجھ جائیں۔ خیر آدھی رات کے بعدانکی مجلس ٹوٹی اور جھگی نما کمرہ خالی کردیا گیا۔ تب تک دولھا دولھے کی ماں اسکی بیگم اور میں جاگ رھے تھے باقی سب سوگئیے تھے۔ دولھے نے خود مجھے کھا کہ اب سب سے پھلے کیاکام کرنا چاھیے میں تو خود غیر شادی شدہ تھا مجھے تو ادھر ادھر کی سنگتوں سے جو معلوم تھا یا جب اپنے یار سے ملنے کے سین فلموں میں دیکھے تھے بتا دئیے اسے۔ اس نے جاتے ھی کپڑے اتارے مائی کے سامنے اپنے کن کو مٹھ مارتے بولا جلدی کپڑے اتار میں نے اندر ڈالنا ھے بیگم بھی اسکی کوئ مزاج تھی نیچے اتری یہ سمجھا کہ کپڑے اتارنے کے لئے نیچے اتری ھے ہر جب تک یہ سمجھتا اس نے جوتی اتار کر سیدھے اسکے لن پر ماردی اس نے درد کے مارے منہ پھیر لیا تو دوسری جوتی گانڈ پر پڑی ۔ھائے گھوڑا ھائے گھوڑا کی آواز میں نے باھر بھی سن لی تھی۔ اسکی ماں نے آواز دے کر پوچھا کہ کیا ھوا تو دولھا۔ بولی اماں تو چپ رہ یہ ھم میاں بیوی کا مسئلہ ھے۔اور ایک اور جوتی مارنے کی آواز سنائی دی۔ پھر اسکی دولھن کی آواز آ ئی بھن چود پھلے گفٹ دی جاتی ھے پھر مائی کو منت شنت کرتے ھیں پھر جپھی شپھی ڈالی جاتی ھے اس کے کپڑے خود اتارے جاتے ھیں۔ آخر میں گھوٹ اپنے کپڑے اتارتا ھے ۔ اور تو اپنے کپڑے پھلے اتار بیٹھا ھے۔ بے شرم تو نے کیا اپنی ھارن سمجھا ھوا ھے جس کو جھاں دل ھو اپکڑ کر لٹا دیا۔ میرے ساتھ شادی ھوئی ھے تیری رئیسانی کے ساتھ ۔یں تیرے سارے کس بل نکال دوںگی ھاں۔۔ اور جو تو ۔۔۔ کرمی۔ نگھی۔ ڈولی۔ ھرمن کو کھیتوں میں پکڑا کر کھڑا ھوجاتا ھے نا اب وہ سب نہی چلی گا۔۔ میں تیرا لن ھر روز سونگھا کروں گی ھاں۔۔ خبردار جو اب سے کسی اور کی گانڈ یاچوت ماری تو نے۔ اس نے کھا کہ ابھی ابھی کپڑے پھن اور جا کر دودھ کاگلاس لیکر آ ۔ کاسو اتنا ڈرو تھا یہ مجھے اس رات پتہ چلا۔ وہ مسکین صورت بنا کر باھر نکلا تو اسکی ایک ھاتھ لن پر تھا ۔جھاں ابھی بھی درد ھو رھاتھا۔ ماں کو بولا کہ دودھ کا گلاس مانگ رھی ھے اب آدھی رات کو تیرے پسند کی کرادی نا تو نے ۔۔۔ بڑے گھر کی لڑکی کرادی تو نے اب ھر فرمائش پوری کرنی پڑے گی ورنہ سارے گاؤں میں بےعزتی کراتی پھریگی۔ اب آدھی رات کو اور تو کچھ نہ بن سکا ایک بکری کے تھنوں پر ھاتھ مارا ۔۔۔ کچھ دیر بعد اسکا دودھ اترا۔۔۔ یعنی دوسرے لفظوں میں بکری کی منتیں شنتے کیئے پھر اس نے دودھ نیچے اتارا۔۔ دودھ اندر کیکر ھمارا دولھا ندر گیا تب تک وہ کچھ ٹھنڈی ھوگئی تھی اس نے کھا کہ میں چرس کے نشے میں تھا ۔۔ اب غصہ چھوڑ اور کام کا راستہ بنا ۔۔ جو تیرے خون والے کپڑے دکھا کر میری اماں اپنے رشتے داروں کو فخر سے دکھاسکے کہ میرے پٹ نے بھی جنگ لڑی ھے۔۔ پھر صبح تک اس نے ایک ھی میچ کھیلا لیکن اس نے بھی چیخیں نکلوادی تھیں۔ بقول اس کے۔ فقط آپکا بارانی تھنڈر۔
  19. 4 likes
    واہ ڈاکٹر صاحب واہ کیا خوبصورت کہانی تخلیق کی ہے آپ کا ہیرو بہت تیز چیز ہے ہر کسی سے کارڈز لے رہا ہے لگتا ہے یہ کہانی لمبی چلے گی اور بہت مزے دار بھی ہو گی Best of luck Nice story
  20. 4 likes
    قاتل حسینہ اپڈیٹ 1 میں نے فوراً ھاتھ جوڑ کر اس سے معافی مانگنے والا انداز اپنا یا ۔اور اسے خاموش رھنے کااشارہ کردیا۔۔میری بڑھتی منتیں دیکھ کر کچھ سوچ میں پڑگیا۔۔۔ وہ میرا رشتہ دار شاکر تھا جو اسکول کے زمانے سے میرا عاشق تھا۔ لیکن اس نے مجھے کبھی ٹچ بھی نہی کیا تھا۔ وہ میرا سچا عاشق تھا۔ میرے رشتے کے واسطے بھی اسنے کوشش کی تھی مگر میرے والدین مجھے جلدی بیاہنا چاھتے تھے ۔جبکہ وہ پڑھائی کرنے باھر ملک ویزہ لگوا چکا تھا اور وہ کچھ بن جانے کے بعد مجھے اپنانا چاھتاتھا۔ اس نے کمال کو تو گلے سےپکڑ کر باھر بھگا دیا تھا لیکن مجھے کپڑے پھنا کر باتیں نصیحتیں کرنے لگا جب کہ میں مسلسل رو رہی تھی اسنے آگے بڑھ کر ٹشو سے میرے آنسو صاف کئے تو میں اسکے ساتھ چمٹ گئی اور چیخ چیخ کر رونے لگی اپنے میاں کے گلے شکوے کیئے کہ مارتا ھے۔ گانڈ میں چودتا ھے یہ جو پیسے لیکر آتا ھے اس سے میری جاسوسی کرواتا تھا۔ اس نے بڑی مشکل سے چپ کرایا مجھے کھنے لگا میری نظروں میں تمھاری بڑی عزت تھی۔میں تو خالہ اماں والوں سے ملنے آیا تھا۔ مجھے کیا پتہ تھاکہ تم گلچھڑے اڑا رھی ھو ۔کچھ دیر نصیحتیں کرنے کے بعد اس نے اجازت چاہی تو میں کہنے لگی کھانے کا وقت ہوگیا ہے کھانا کھا کر چلے جانا۔اس سے انکار نہ ہوسکا۔ میں کچھ دیر بعد کھانا لے آئی۔ دونوں نے مل کر کھانا کھایا اس دوران بھی دونوں باتیں کرتے رہے لیکن اب میں کافی حد تک نارمل ہوچکی تھی۔ شائد رونے سے میرا من ہلکا ہوگیا تھا بات چیت کے دوران شاکرسے ہنسی مذاق بھی شروع کردیا۔ اور کہنے لگی کہ مجھے معلوم ہے اسکول کے زمانے میں تم بھی مجھ پر بہت مرتے تھے۔ یہ بات سنتے ہی شاکر کے منہ سے غیر ارادی طورپر نکل گیا کہ اسکول کے دور میں ہی نہیں اب بھی تم پر بہت مرتا ہوں۔ یہ بات سنتے ہی میں چپ ہوگئی۔ اسے لگا کہ ابھی میں اسے تھپڑ ماردوں گی اور کہوں گی کہ ابھی یہاں سے دفع ہوجاﺅ، لیکن میں نے کچھ نہ کہا بلکہ خاموشی کے ساتھ کھانا کھاتی رہی، کھانے کے بعد برتن بھی خاموشی سے اٹھائے اب شاکر نے مجھ سے اجازت چاہی تومیں کہنے لگی کہ چائے لاتی ہوں پی کر چلے جانا۔ ھم خاموشی سے بیٹھ کر چائے پینے لگے اب اس نے مزید آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا اس نے مجھ سے پوچھا کہ شبیر تو گذشتہ کئی ماھ سے تمہارے پاس نہیں آیا۔ تو تم کب سے اس بڈھے کمال کو مزہ کرارھی تھیں، میں نے کھا کہ وہ ھر ماہ شبیر کے بھیجے پیسے دینے آتا ھے اور کھتا ھے کہ وہ جاسوسی بھی کرتاھے۔ اس کو غلط سلط رپورٹ دیدیگا،اور شبیر اسکا بھت قرضئی بھی ھوگیا ھے۔ مجھے کھتا اگر تم مجھے خوش رکھوگی تو میں غلط رپورٹنگ بھی نہی کروں گا مزید بھی قرض دیتا رھوں گا۔ اسے یہ بات سنا کر میں خاموش رہی شاکر نے کھا کہ پھر تو ھمیں بھی ایک بار مزے کرنے دو نا۔ میں نے خاموشی سے اسکی طرف دیکھا اس نے ایک بار پھر اپنا سوال دہرایا تو بھی میں خاموش رہی اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا جیسے ہی شاکر نے میرا ہاتھ پکڑا مجھے جیسے کرنٹ لگ گیا ہو۔ فوراً اپنا ہاتھ چھڑوایا لیکن خاموش رہی شاکرمزید آگے بڑھا۔ اور میری ران پر ہاتھ رکھ دیا تو میں نے ہاتھ پیچھے کردیا اور کہنے لگی شاکر کیا کررہے ہو۔اس نے کوئی جواب نہ دیا اور دوبارہ اپنا ہاتھ میری ران پر رکھا اور اس کو پھیرنا شروع کردیا۔ میں نے ران پرسے اسکا ھاتھ ہٹانا چاہا تو شاکر نے میرے ہونٹوں پرکس کردی میں تھوڑی سی تلملائی مگر بولی کچھ نا۔ شاکر نے دوبارہ کسنگ شروع کردی اب میں نے کھا ، نا کرو شاکر نا کرو ایسا ٹھیک نہیں ہے۔( میں کہتی رہی اوپری دل سے) مگر شاکر نے اپنا کام جاری رکھا تھوڑی دیر کے بعد میں نے بھی شاکر کا ساتھ دینا شروع کردیا.اس نے میرے ممے قمیض کے اوپر ھی سے پکڑے تو بھی میں نے ناں ناں کی مگر شاکر باز نہ آیا.تو میں تو خود چدنا چاھتی تھی کمال نا سھی شاکر ھی سھی۔۔ تب میں نےخود کو تقریباً شاکر کے حوالے کردیا۔ وہ مزید آگے بڑھا اور میری قمیص میں ہاتھ ڈال کر ممے پکڑ لئے اف ف ف ف ف یہ کتنے ٹائٹ ھیں شاکر نے کھا پھر میری قمیص اور برا اتار دی اور حیرانگی سے دیکھتا رہ گیا سرخ کلر کے اڑتیس سائز کے گول اور ٹائٹ ممے تھے میرے جن کے نپل گلابی کلر کے تھے شاکر نے میرے نپلز پر زبان پھیرنا شروع کردی تو میں آﺅٹ آف کنٹرول ہوگئی اور ام م م م م م م ‘ آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ‘ س س س س س س س س س کی آوازیں نکالنے لگی شاکر نے اس کے بعد میرے ناف پر بھی کسنگ کی تو میں کانپنے لگی شاکر نے میری شلوار اتاری واہ کیا بات ہے اسکےمنہ سے نکل گیا گول گول رانیں اور ان کے درمیان میں گلابی کلر کی چوت ‘ میں نے اپنے بال ایک روز قبل ہی صاف کئے تھے شاکر نے اس بار پھر اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھے اور ہاتھ ٹانگوں پر پھیرنا شروع کردیا اب میں بے حال سی ہو رہی تھی شاکر نے میرے ہونٹوں پر کاٹنا شروع کردیا پانچ منٹ تک اس نے ہونٹوں‘ اور کانوں پر کسنگ کی تو میں نڈھال ہوگئی اور اپنا پورا جسم ڈھیلا چھوڑ دیا شاکر نے وھیں صوفے پر مجھے لٹا یا تو میں کہنے لگی بیڈ پر چلتے ہیں۔میں اسے لے کر اپنے بڑے بیڈ میں آگئی شاکر نے دوبارہ ہونٹوں پر کسنگ شروع کی اس کے بعد کانوں پر کسنگ کی پھر پستانوں کی طرف ہوگیا ایک کو ہاتھ میں پکڑ لیا اور آہستہ آہستہ دبانا شروع کردیا جبکہ دوسرے کے نپل کو منہ میں لے کر چوسنا شروع کردیا پھر دوسرے کا نپل منہ میں لیا اور چوسنا شروع کردیا میں مسلسل ام ‘ س س س س س سی سی س ‘ آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہاو او ہ ہ ہ ‘ کی آوازیں نکال رہی تھی پانچ منٹ تک پستان چوسنے کے بعد شاکر نے پیٹ پر کسنگ شروع کردی جب اسکے ہونٹ ناف کے قریب پہنچے تو میں مزے میں جیسے سمٹ گئی۔ میں نے شاکرکے سر کو پکڑ کر اوپر کرنے کی کوشش کی۔ مگر شاکر لگا رہا۔ اس کے بعد اس نے میری یعنی بختو کی رانوں پر زبان پھیرنا شروع کی تو میں اٹھ کر بیٹھ گئی۔ اور کہنے لگی شاکر اب یہ مزید برداشت نہیں ہوگا۔ لیکن شاکر نے کھا کہ میری اتنی سالوں کی چاھت ھو اب پردیس سے آ یا ھوں تو کچھ تو منہ بند رکھنے کا اچھا سا انعام دو۔ شاکرنے مجھے زبردستی لٹا دیا اور میری رانوں پر زبان پھیرنے لگا۔ میں مستی میں ادھر ادھر سر مار رہی تھی اور منہ سے ش ش ش ش ش ش شاکر نہ کرو کہہ رہی تھی پھر شاکر نے پنڈلیوں پر کسنگ کی تو میں دوبارہ اٹھ گئی ۔میں کھنے لگی پردیس سے ظالم یہ کیا سیکھ آ یاھے تو ۔۔۔ تب اسے پکڑ کر اپنے اوپر لٹا لیا میں نے اس کے ہونٹوں پرہونٹ رکھ دیئے۔اور ہاتھ کے ساتھ میرے جسم کو ٹٹولنے لگا میں نے اپنی زبان اس کے منہ میں ڈالی تو اس نے زور زور سے چوسنا شروع کردی پھر کچھ دیر کے بعد میں کہنے لگی شاکر اب بس کرو مجھ سے اب مزید برداشت نہیں ہورہا۔ شاکر ٹانگوں کے درمیان میں بیٹھ گیا اور اپنا لن چوت پر رکھ کر اوپر اوپر رگڑنے لگا۔ جس سے میں مستی میں پاگل ہورہی تھی، اور سیکسی آوازیں نکال رہی تھی۔ کچھ دیر کے بعد میری چوت نے پانی چھوڑنا شروع کردیا اور میری چوت چکنی ہوگئی۔ شاکر نے اب اپنا لن چوت کے اندر کرنے کا فیصلہ کیا۔ایک زور دار جھٹکا مار دیا جس کے ساتھ ہی شاکر کا آدھے سے زیادہ لن میری چوت میں چلا گیا۔ کئی دنوں سے اس کی بھرپور انداز میں چوت نہ چدنے کی وجہ سے کافی ٹائٹ ہوگئی تھی اور شاکرکاموٹالن اس کے اندر جانے سے کافی تکلیف بھی ہورہی تھی۔ میری چوت اتنی گرم تھی کہ اسے لگا کہ جیسے اسکالن کسی آگ کی بھٹی میں چلا گیا ہو۔ پہلے جھٹکے کے ساتھ ہی میری ایک ھلکی چیخ بھی بلند ہوئی تھی، اور ساتھ ہی نیچے سے ہل گئی۔ اورشاکر کالن چوت کے اندر سے باہر آگیا۔ جیسے ہی میری نظر لن پر پڑی تو میں کہنے لگی شاکر اتنا بڑا لن میں برداشت نہیں کرسکوں گی۔شاکر نے مجھ کو سمجھایا کہ کچھ نہیں ہوگا، تو کہنے لگی شاکر ذرا آرام سے کرو،مجھے تکلیف ہورہی ہے۔ شاکرنے دوبارہ اپنے لن کو اس کی چوت کے منہ کے اوپر رکھا اور فوری طورپر پہلے سے بھی زور دار جھٹکا دیا۔اور شاکرکا آٹھ انچ کا لن میری چوت کے اندر چلا گیا۔اس بار میں نے پہلے سے بھی زیادہ بلند چیخ ماری۔ لیکن اس نے فورامیرے منہ پر ھاتھ رکھدیا،میں نے اسکے نیچے سے نکلنے کی کوشش بھی کی۔ مگر اس بار شاکر نے میری اس کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔وہ کچھ دیر کے لئے وھیں رک گیا۔ اور میرے اوپر ہی لیٹ کر مجھ کو کسنگ کرنے لگا۔ میں کچھ دیر میں نارمل ہوگئی کچھ دیر کے بعد اس نے اپنے لن کو حرکت دینا شروع کی۔ اور لن کواندر باہر کرنا شروع کردیا۔اب بختو کو بھی مزہ آرہا تھا اور نیچے سے وہ اپنی گانڈ کو اٹھا اٹھا کر شاکرکا ساتھ دے رہی تھی اس نے اپنا نیچے والا ہونٹ اپنے دانتوں میں دبا رکھا تھا اب اسکی حرکت میں آہستہ آہستہ تیزی آرہی تھی۔اور میری طرف سے جواب میں بھی تیزی آتی جارہی تھی۔پانچ سات منٹ کی مسافت پر بختو کی منزل آگئی۔ اور اس کی چوت سے تیزی کے ساتھ پانی بہنے لگا مگر ابھی شاکر کی منزل بہت دور تھی۔ تاہم شاکر کچھ دیر کے لئے بختو کے اوپر لیٹ گیا۔ کچھ سمے ھی گذرا ھوگا کہ اب میں پھر سےشاکر کو چومنے چاٹنے لگی۔ شاکر بھی اس کا اسی طریقے کے ساتھ جواب دے رہا تھا۔ کچھ دیر کے بعد میں دوبارہ تیار ہوگئی ، اور شاکر نے دوبارہ سیکسی سفر کا آغاز کردیا۔ اب کے بار اسکے جھٹکوں میں اھستہ اھستہ زیادہ تیزی آتی گئی اور میں بھی اسی سپیڈ کے ساتھ اسکا ساتھ دے رہی تھی۔ مزید کچھ دیر کے بعد میں دوبارہ فارغ ہوگئی، مگر میں اسے کہنے لگی کہ تم جاری رہو، شاکر نے مزید پانچ منٹ لئے اور فارغ ہونے کے قریب آگیا۔ اس نے بتایا تو میں کہنے لگی کہ اندر نہ چھوٹنا ، باہر نکل آﺅ۔ شاکر نے اپنا لن باہر نکال لیا اور فارغ ہوکر میرے ساتھ پہلو میں لیٹ گیا ۔کافی دیر یوں ھی پڑے رھنے کےبعد بختو شاکر کے ڈھیلے پڑے لن پر پھر اپنا ہاتھ پھیر رہی تھی۔ اس دوران باتیں شروع ہوئیں میں نے بتایا کہ شبیر کا لن زیادہ سے زیادہ پانچ انچ کا ہے۔ اور وہ بھی کافی باریک ہے میں آج تک سمجھتی رہی کہ تمام مردوں کے لن اتنے ہی ہوتے ہیں۔ اس کے بعد کمال کے ساتھ کرنے میں بھی بہت مزہ لیتی رہی ہوں۔ مگر تین مھینوں سے اس کے ساتھ بھی سیکس نہیں کیا تھا اج ھی موقع ملا تھا۔ جس کے باعث میں سیکس کا ذائقہ ہی بھولتی جارہی تھی۔ آج تمہارا لن دیکھا ہے جو اتنا بڑا ہے، مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ حقیقتاً انسان کا ہی لن ہے۔ یہ موٹا بھی بہت ہے۔شاکر نے کہا کہ فلموں میں تو اس سے بھی بڑے بڑے لن ہوتے ہیں تم نے کبھی فلم نہیں دیکھی تو میں کہنے لگی نہیں کبھی دل ہی نہیں کیا۔پھر ھم دونوں نے کسی کو نہ بتانے کے وعدے وچن کیئے اور اسی طرح چھپ چھپا کر ملنے کا پلان بنایا ۔ اس رات شاکر نے مزید ایک بار سیکس کیا اور پھر رات کو ساڑھے چار بجے کے قریب شاکرمیرے گھر کے پچھلے دروازےسے نکلا اور اپنے گھر جاکر سو گیا اگلے دن صبح ھی صبح وہ میری ساس سسر سے ملنے اگیا کہ وہ انکا بھی رشتہ دار ھی تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ رات آ یا تھا دروازہ بجاتا رھا، مگر کسی نے کھولا ھی نہی۔جس پر ان کو شک بھی نہ ھوسکا ۔میرے گھر والوں نے اسکی دعوت کرنے کاعندیا دیا تو اس نے مجھے دیکھتے ھوئے کھا کہ رات تو ھوکر گیا ھوں۔ کھنے لگادو تین دن بعد کوئی مناسب ٹائم دیکھ کر اپ کو آ نے کا بتا دوں گا، وہ اپنی گھڑی جو رات یہیں بھول گیا تھا وہ بھی مجھ سے گلے مل کر لے گیا۔ ھفتہ بھر انتظار کے بعد وہ ایک دن چند کلو آ م کاتحفہ لایا خالہ والوں کے لئیے ۔۔ دراصل وہ مجھ سے آج کی رات آنے کا پروگرام سیٹ کرنے آیا تھا۔ میں نے کھا کہ اگر بارش ھوگئی تو بڈھا پھر نئی سوتا ساری رات چکر لگاتا رھتا ھے۔ رنگ میں بھنگ ڈال دے گا۔ اور تیرا آنا مشکوک نہ ھو جائے۔۔ اس نے سوچتے ھوئے کھا کہ چائے پینے تک کوئی نہ کوئی راستہ نکالتا ھوں ویسے تیرا کیا موڈ ھے تو میں بولی جو سجناں دا موڈ ھوے اسیں تیار آ ں۔۔میرا اشارہ وہ سمجھ گیا۔ اس نے خالہ سے باتوں باتوں میں اپنی دعوت کا پوچھا تو خالہ نے کھا کہ پتر تو ھی نہی آیا،ھم تو تیرے جواب کے منتظر ہیں۔ایسا کرتے ھیں کہ کل کا شام کا انتظام کرلیں آپ لوگ میرے گھر والے لاھور گئے ھوئے ھیں تو میں ویسے بھی دوپھر کا کھانااج کل نہی کھا تا ھوں۔ تو کل شام کا ٹائم مناسب ھوگا۔ خالہ نے کھا کہ دوپھر کو آجایا کر۔۔۔تیری خالہ کاگھر ھے اسے اپناھی گھر سمجھ جب تک تیرے گھر والے لاھور سے واپس نہی آتے۔ تو دوپھر کاکھانا ھماری طرف ھی آکر کھایا کر۔ اسنے مجھے آنکھ مارتے ھوئے کھا ۔۔۔۔ جی اچھا خالہ جی۔ اسنے کھاکہ بختو نہ تنگ ھوجائے۔ میرے روز کے آنے جانے سے تو میں نے کھا کہ تندور تو ویسے ھی گرم ھوتی ھے دو روٹیاں تیری بھی لگ جایاکریں گی، مجھے کیا۔ تو کھانے والا بن ٹائم سے آجایا کر۔ اسنے اشارے سے مجھے پوچھا کہ یہ لوگ کس وقت کھانا کھا کر سوتے ھیں تاکہ میں وہ ٹائم سیٹ کروں۔۔ میں نے فون کا اشارہ کردیا اور کھا کہ بتادوں گی۔اس نےاپنا وزیٹنگ کارڈ خالہ سےچھپا کر مجھے پکڑا دیا۔ اور چائے پی کر جانے لگا توخالہ نے اپنی گولیاں لادینے کا کھااور پیسے دینے لگیں تو اس نے کھاکہ پیسے آپ رھنے دیں میں لا دیتا ھوں۔ مجھے آنکھ مارتے ھوئے کھا کہ اپکو بھی کچھ منگواناھے تو میں نے کھا کہ کنڈوم لیتے آ نا۔ اسنے اپنے منہ پر ھاتھ رکھ کر مجھے چپ ھونے کا اشارہ کردیا۔اور زور سے بولا ٹھیک ھے، میں بدن درد کی گولیاں اپکو بھی لادیتا ھوں۔میں سمجھ گئی اور اپنے کاموں میں لگ گئی۔ کچھ ھی دیر میں وہ دوائیاں لیکر سیدھا کچن میں ھی آگیا اور مجھے جپھی ڈال کر بولا بختو تیری ساس نے تو مجھے ایک اچھا سا آئیڈیا دے دیا ھے۔ یہ لے نیند کی گولیاں ھیں رات کو ایک کپ چائے میں ایک گولی ڈال کے پلا دینا پھر ساری رات مزے کریں گے، یہ میرے لئیے نئی بات تھی۔ تو میں نے کھا کہ یہ زائقہ چائے کا بدل دے گی۔ وہ فوراً بولا جھلی گھبرانا بالکل نہی، بس زرا چینی زیادہ کردینا۔کچھ نھی ھوتا۔ بس پچھلا دروازہ کھلا رکھنا میں سمجھ جاؤ ں گا کہ لائن کلیئر ھے۔ اپ تو میری موجیں لگ گئیں میں نے شام کا کھانا پکاکر اپنی جانٹھیں دوبارہ سے صاف کیئں، اور رات کو چائے میں گولی ملاکر بڈھا بڈھی دونوں کو پلادی۔ اور لگی انتظار کرنے کہ کب وہ نیند کی وادی میں جائیں اور میں اپنے یار کے بانھوں کا مزہ لے سکوں۔ آدھی رات کے قریب وہ میرے بستر پر تھا اس نے مجھے آج کھل کر چودنے کا پلان بنایا تھا وہ بولا کہ اب اوازیں بھی ان کو ننیند سے نہی جگا سکتیں۔ لیکن میں نے پھر بھی احتیاط کی خاطر کمرے کی کنڈی لگالی۔اس نے سب سے پھلے میرے کپڑے اتارےپھر اپنے بھی کپڑے اتار پھینکےاور مجھے بانھوں میں جکڑ کر، سارے کمرے میں چکر لگایا، پھر میرے لبوں پر فرنچ کس شروع کر دی۔میں نے بھی بھر پور ساتھ دیا میں جو اتنی دنوں کی ترسی ھوئی تھی آج کھل کر سیکس کرنے کا موقع ملا تو میں بھت خوش ھوئی۔ اس نے مجھے گھما کر پچھلی طرف سے جپھی ڈال لی، اور میری موٹی گانڈ کی دراڑ میں اپنا لن چسپاں کر دیا ۔ اپنے دونوں ہاتھوں سے میرے دونوں مموں کو خوب رگڑے لگانے لگا، کبھی میرے پیٹ تو کبھی مموں پر ھاتھ پھیرتا گیا۔ مجھے گرمی بھت چڑھ گئی تو میں نے اسے اپنےسامنے لٹا دیا، اس نے مجھے لن چوسنے کاکھا، پھلے تو میں نے انکار کیا مگر اسکے بار بار اصرار کرنے پر میں نے تھوڑا سا اسکا۔لن منہ میں لے لیا اور انجانوں کی طرح اسےچوستےھوئے دانت بھی لگائے اسکے لن پر جس سے وہ سمجھا کہ۔مجھے کچھ زیادہ پتہ نہی چدائی کا۔ تب اس نے پہلی بار مجھے ایسے مزے سے روشناس کروایا کہ۔ مت پوچھیں ۔۔اس نے میری چوت کو چاٹنا شروع کردیا اور لگا مجھے طریقے سکھانے۔ اب ھم 69 کی پوزیشن میں ایک دوسرے کی چاٹ رھے تھے۔ کچھ دیر بعد اس نے مجھے سیدھا لٹا دیا اور میری ٹانگیں اٹھا کر میری گیلی پڑی چوت میں اپنالن دھکیل دیا۔ جس کی تیز رگڑ سے مجھے کچھ تکلیف تو ھوئی مگر میں مزے کی خاطر برداشت کرگئی۔ پھر اس نے آھستہ آھستہ سارا لن ھی میری چوت میں پیل دیا اور لگازور دار جھٹکے مار نے۔ میں نے اسے طیش دلاتے ھوئے کھا کہ اس رات جیسے طاقتور نھی اج تیرے جھٹکے۔ پھر تو اس نے مشین چلا دی کچھ دیر بعد اب میری برداشت جواب دینے لگی۔ میں نے کھا بھی کہ کمر درد ھو رھی ھے ،تو اس نے کھا کہ تو نے ھی کھا تھا اس دن جیسے جاندار گھسے نہی، تو اب برداشت کر تھوڑی دیر تک جب میں چھوٹوں گا تبھی تیری جان چھوٹے گی۔ کافی دیر تک وہ مجھے اسی پوزیشن میں چودتارھا، پھر اسنے خود ھی پوزیشن چینج کی۔اور مجھے گھوڑی بناکر چودنے لگا۔ ایک دفعہ زوردار جھٹکوں کے درمیان میری گانڈ میں بھی گھسا دیا اس نے، میں فورا اٹھ کھڑی ھوئی اور اس سے ناراضگی کا اظھار کیا۔ اب وہ تو آدھے میں پھنچاھواتھا۔ بڑی منتیں شنتیں کیں تب جاکر میں پھر سے گھوڑی بنی، اسے سمجھایا کہ یہی تو میرا شبیر کے ساتھ جھگڑا ھے۔ وہ گانڈ مارتا ھے اور مجھے یہ اچھا نہی لگتا۔اس نے پھر معذرت کی۔ لیکن میرے دل میں شک پڑگیا تھا کہ اگلی دفعہ اس نے پھر یہ کام کرنا ھے۔ خیر کوئی پانچ منٹ بعد اس نے زوردار جھٹکوں کے بعد میری چوت میں اندر ھی منی نکال دی۔ جس پر میں نے پھربرھمی کا اظھار کیا اور اس کو چلے جانے کا کہ دیا۔۔ اس نے اس رات بڑی منتیں کیں لیکن میرے دل میں وہ خیال بیٹھ چکا تھا تو میں نے اسے دوبارا چدائی نہی کرنے دی۔۔ ھاں اس نے کسنگ کی تو میں نے منع نہ کیا۔۔۔ اگلے دن دوپھر کو وہ پھر آدھمکا کہ کھانا کھانے آیا ھوں۔ میرے ساس سسر سنتے بھی اونچا تھےاور دوپھر کو سوتے تھےشاکر نےپھر بستر پر چلنے کو کھا تو۔میں نے اسکی غلطیاں یاد کرائیں،لیکن پھر میں نے اس کے قسم وغیرہ کھانے پر اسکے ساتھ سیکس کرانے کوراضی ھوگئی۔ تب اس نے جیب سے ایک انگوٹھی نکال کر،مجھے تحفے میں دی۔ اور کسنگ سے نئی چدائی کا اغاز کردیا اس نے مجھے ننگا کرنے کے بعد میری گول گول رانوں پر ھاتھ پھیرتے ھوئے میری تعریف کرنا شروع کر دی۔اب اس نے مجھے اپنے لن کی سواری کرانی چاھی تومیں اس کے اوپر سوار ھوگئی اسکے ھونٹوں کو چوسا اسکے پیٹ پر۔میری چوت رکھی ھوئی تھی جسے اس نے اپنے ھاتھ سے اوپر اٹھا کر ایک ھاتھ کا انگوٹھا اندر کردیا۔ جس سے مجھے بھی بڑا مزہ آیا۔تومیں نے اسی پر اوپر نیچے کرناشروع کردیا۔ کچھ دیر بعد اسنے مجھے پیچھے کرتے ھوئے اپنے لن پر بٹھا دیا۔ اسکا لن سیدھا میری بچہ دانی تک سے ٹکرا رھا تھا۔ جس سے مجھے بھی بڑا اچھا لگا، تب میں نےاسکے کندھوں پر ھاتھ رکھ کر، اپنی چوتڑوں کو اوپر نیچے کرکے کبھی سائیڈوں سے تو کبھی سیدھا لن اندر لیتی رھی۔ اس نے مجھے پھر سے گھوڑی بننے کا کھا تو میں بدک گئی، اوراسے غصہ دکھاتے ھوئے کھا کہ میں نے اتر جانا اور کچھ بھی نہی کرنے دینا۔ تب اسنے کھا کہ ٹھیک لگی رھو۔ میں نے اس کے اوپر جھکتے ھوئے اہنے ممے اسکے منہ کے قریب کردئیے، اسنے بڑے شوق سے ایک ممے کو منہ میں لے لیا۔ اب مجھے ڈبل۔مزہ۔محسوس ھونے لگا،کہ ایک تو میری چوت میں لن اندر باھر ھو رھا تھا دوسراوہ میرا کبھی ایک پستان منہ لیتا کبھی دوسرا۔ کوئی دس منٹ اسطرح کرتے رھنے سے ایک دفعہ اس نے مجھے چوتڑوں سے پکڑ کر زرا اونچا کیا، اور پھر خود ھی نیچے سے دھکے لگانے لگا۔ اسطرح بھی زبردست مزہ آنے لگا۔کچھ ھی دیر بعد اس نے مجھے کھا کہ میں انے لگا ھوں تو میں نے کھا کہ رات کی طرح اندر مت نکالنا۔ اگر دوستی رکھنا چاھتے ھو تو اس نے کھا کہ یار گولیاں لادوں گا مجھے اندر چھوڑنے میں بڑا مزہ آتا ھے۔لیکن میں نے انکارمیں سر ھلا دیا، تو اسنے چند جھٹکوں کے بعد میرے اندر سے لن نکال کر میری چوت ایک سائیڈ پر کردی اور منی نکلنے کے بعد پھر میرے اندر لن ڈالا دیا تو مجھے بھی جوش چڑھا ھواتھا۔ میں نے دوبارہ گرم جوشی سےکچھ بار اوپر نیچے ھوکر اپنی بھی منی نکال دی۔ اسکے بعد اسکو روانہ کردیا۔اب تو اسنے معمول بنا لیا ھر روز دوپھر کو کھانے کے بھانے آتا اور مجھے چود جاتا۔ ھمارا یہ پلان کوئی دس بارہ دن چلا ھوگا۔ کہ ایکدن اسکی بھن اپنے خالہ سے ملنے آگئی۔ اس وقت میں کچن میں تھی کہ خالہ نے اس سے پوچھا کہ تم لوگ کب آ ئے لاھور سے تو اس نے انکشاف کیا کہ ھم لوگ تو لاھور گئے ھی نہی۔ تب میری ساس کو شک ھونے لگا کہ دال۔میں کچھ کالا ضرور ھے۔ میں نے اس وقت انکی یہ باتیں نہی سنیں تھیں۔ ساس نے بھی مجھ پر ظاھر نہ ھونے دیا اور اسے چائے وغیرہ پلواکر روانہ کردیا۔ ھم لیلی مجنوں بنے ھوئے تھے، اس دن جب شاکر آیا تو ھم اپنی روٹین کے مطابق کمرے میں گھسے ھوئے مزے لے رھے تھے کہ میری ساس نے کھڑکی میں سے ھمیں دیکھ کر گالیاں دینی شروع کردیں۔ شاکر کی تو اس نے وہ بے عزتی کردی کہ اسے کھا کہ تو مجھ سے جھوٹ بولتا رھا کہ گھرو الے لاھور گئے ھوئے ھیں، تب اس نے وہ ساری باتیں دھرادیں جو میں نے اوپر بتادیں۔ وہ پرچا کٹوانے کی دھمکی کا سنتے ھے بھاگنے کی کی اسنےکہ اسطرح تو اسکے دوبارہ باھر جانے کے چانسز ختم ھوجائیں گے۔ لیکن مجھے تو اپنی ساس کے سامنے کانی کرگیا تھا۔ وہ تو شکر ھے کہ سسر صاحب کھیں باھر گئے ھوئے تھے۔ اس نے مجھے لکڑی سے خوب مارا۔ میں نے منتیں ترلیں کیں کہ دوبارہ غلطی نہی ھوگی۔ کچھ دیر وہ مجھے مارتی رھیں پھروہ گر پڑیں تو میں نے انکو سھارا دیکر چارپائی پر ڈالا انکو پانی پلایا۔ انکے ھاتھ پاؤں پرمالش کی، تب جاکر انکے حواس بحال ھوئے۔ تو مجھے کھا کہ کپڑے تو پھن لے کوئی آ گیا تو بدنام ھوجائیں گے۔مجھ سے پوچھا کہ یہ کھانی کیسے شروع ھوئی تو میں نے کھا کہ جب اپ نے دوپھر کا کھانا کھلانےکا کھا اسدن سے کھانا دیکرمیں تو اپنے کمرے۔میں چلے جاتی تھی تو یہ ایکدن بھانا کرکے اندر آیا کہ موبائیل چارجر تھوڑی دیر کے لیے دینا اور پھر مجھ سے باتیں کرنے لگا۔ شبیر کب اتا ھے کب تجھے خوش کرتا ھے وغیرہ تب اس نے مجھے زبردستی پکڑ کر چوم لیا اور پھر مجھے کھا کہ اگر میں اسکی بات نہی مانوں گی تو مجھے بدنام کر دے گا۔اسطرح میں اسکے جال۔میں پھنس گئی تو ساس نے مجھ سے موبائیل بھی لے لیا۔ اور کھا کہ اپنوں سےکبھی نہی مروانی چاھیئے، تجھے پتہ یہ اب اپنی جان چھڑانے کو تجھ پر ھی سارا الزام لگا دیگا۔میں نے بھی موقع دیکھ کر اسکے پاؤں پکڑلئے کہ شبیر کو مت بتانا۔ شاکر نے تو مجھے طلاق لینے تک کا کہ دیا تھا کہ میں تجھ سے شادی کرلوں گا۔ تب میری ساس نے کھا کہ ایسے لوگ صرف اپنامطلب پورا کرتے ھیں۔ اور اگر میں نے دوبارہ تیری کوئی شکایت سنی تو میں ضرور شبیر کو تیری شکایت لگادوں گی۔ اسطرح کوئی دو ھفتے پھر خاموشی سے گزر گئے، لیکن چوت پھر بے سکون ھوگئی۔ اب کمال کے دن بھی پورے ھوچکے تھے آنے کے لیکن وہ بھی ڈر کے مارے نہی آ یا۔ کسی انور نام کے لڑکے کو پیسے دے کر بھیجا لیکن میں نے کاغذ پرسائن دینے سے انکار کردیا اور اھستہ آواز میں بولتے اسے پیغام بھیجا، کہ ڈرو نہی آکر سائین لےجاو۔ وہ بھی چالاک قسم کا لڑکا تھا میرا اشارہ سمجھ گیا اس نے دوبارہ پیسے گننے کے بھانے سے کھاکہ آپ فون بھی نہی اٹھاتی ھو تو میں نے کھا کہ فون تو اماں کے پاس ھے۔میں نے پیسے سسر کو پکڑا کر گننے میں اسے مصروف کردیا، اور انور سے کھا کہ اسے چاھیئے کہ مجھے دوسرا فون لادے۔ پچھلے دروازے کے اوپر سے آج شام کی نماز کے وقت جب بجلی جاتی ھے، اوپر سےپھینک سکتا ھے۔اس نے سر ھلا دیالیکن انور بھی جاتے جاتے مجھے آنکھ مارگیا۔ میں نے بھی صرف مسکرانے پر اکتفا کیا۔ کہ میرے سسر گر چہ ان پڑھ تھے سنتے بھی کم تھے نظر انکی کمزور تھی، لیکن سامنے بیٹھے ھوئے تھے۔ اور میں شام کے انتظار میں گھڑیاں گننے لگی میری چوت اب ھر وقت مجھے تنگ کرتی تھی کہ اسکو روز کا نشہ شاکر نے لگا دیا تھا۔۔۔۔ جاری
  21. 4 likes
    ل ن کی کمائی ۔۔۔ سب نے کھائی اپڈیٹ 12 اگلے دن میڈم سلمی کے عاشق آفیس سپرٹینڈنٹ شاہ جی نے اسپیشلی مجھے فون کرکے یاد دلایا کہ یار تم ضرور آنا۔ اپسراؤں کی محفل ھے کوئی آپ جیسا ھینڈسم تو ھو انکو منہ دینے کے واسطے۔ میں نے پرسوں رات والی میڈم نشتر کا پوچھا تو وہ بڑی نخوت سے بولے کہ ھم اپنا الگ لیول اسٹینڈرڈ رکھتے ھیں۔ میڈم سلمیٰ جسے مناسب سمجھے گی خود ھی بلا لیگی۔بھرحال میڈم سلمیٰ نے شام کے قریب مجھے ساتھ لیا آ گے جاکر ھم نے میڈم نوشی کو ساتھ بٹھا لیا۔ میڈم سلمیٰ نےانکشاف کیا کہ شاہ نے بھی کوئی گروپ بنا رکھا ھے بازیاں لگاتے رھتے ھیں اس دن تمھارا اسٹیمنا دیکھ کر شاید وہ آج تم پر ڈورے ڈالیں گے تم ھشیار رھنا۔ سلمیٰ نےشاکرہ اور صابرہ کو بھی فون کرکے بتایا کے ساتھ چلیں گے۔ واہ یار شاہ جی نے تو بڑا اھتمام کیاھواتھا۔ جاتے ھی اجرکیں چادریں اوڑھاتے ھوئے ویلکم کیا بنگلے کے سارے لان کو پھولوں سے سجایا ھواتھا۔ میڈم سلمیٰ کو اسپیشل گیسٹ کے طور پر متعارف کرایا گیا۔ سب آ فیس کے تیس مارخاں اکھٹے کئے ھوئے تھے۔ گلاس سر شام ھی کھنکتے نظر آرھے تھے ۔ میں نے تو معذرت پیش کی مگر نوشی نے ایک گھونٹ پینے کے بعد گلاس رکھ دیا تھا۔ تکہ بوٹی کے دو الگ الگ اسٹال لگے ھوئے تھے۔پکانے والے لڑکے گرما گرم سیخوں پر بوٹیاں پکا کر تھال میں ڈالتے جاتے کھانے والے اپنی اپنی پلیٹ میں ڈالتےاور گھومتے پھرتے کھاتے باتیں کرتے جاتے۔ تھوڑیی دیر گزری ھوگی کہ اسلام آباد سے تشریف لآنے والی اپسراؤں کو ویلکم کا شور بلند ھوا۔ شاہ جی نے ھمارا تعارف کرایا اور پھر کچھ دیر میں ڈانس پروگرام شروع ھوگیا۔ پھلے سنگل پرفارم کیا اسلام اآبادی اپسراؤں نے ھمارے گروپس میں سلمی اور نوشی نے اچھا ڈانس کیا بعد ازاں کپل میں ڈانس کرنے کا سب کو کھا گیا۔ شاہ جی نےمیڈم سلمیٰ کو ۔۔۔ مائی ڈریم لیڈی کم ودھ می۔۔۔۔ کے جذباتی جملے کےساتھ جب ھاتھ بڑھایا تو وہ انکار نہ کرسکیں ۔ ویسے بھی وہ لال ساڑی میں آج خوب جچ رھی تھیں۔ چنداسٹیپس ساتھ ساتھ لینے کے بعد شاہ جی نے سلمی کی لپ کس کرنی شروع کردی۔ میڈم نوشی نے اپنے لیئے ایک الگ سا پارٹنر چن لیا تھا اتنے میں شاہ جی نی ایک اپسرا کو میری طرف اشارہ کرتے بھیج دیا اس مہ جبیں نازک بدن نازک اندام نے اپنی نازک سی بازو اگے کرتے ھوئے جب مجھے ڈانس پارٹنر بننے کی دعوت پیش کی تو میں نے اسکی نازک انگلیاں پکڑ قصداً اپنی طرف کھینچاتو وہ شاید اس بات کی توقع نہی کر رھی تھی بے اختیار ھوکرسیدھی میری جھولی میں آ گری ۔میں نے فوراً اسے بانھوں میں اٹھاتے ھوئے اپنے کھڑے لن سے ٹچ کرادیا۔ اس نے جلدی سے میری آنکھوں میں جھانکا اور ڈانس اسٹیپ میں لھراتے ھوئے میرے کان میں سرگوشی کی کہ تم تو ابھی سےتیار ھو میدان جنگ تو ابھی اندر سجے گا۔ انگریزوں واے سلو سلو ڈانس اسٹیپس مجھےکوئی خاص پسند نہی تھے لیکن ماحول کے مطابق برداشت کرتے ھوئے میں نے اس اپسرا کو خوار کرنے کا من بنا لیا ۔۔ اسکا نام فرح تھا گورا چٹا جسم کتابی چھرا ڈمپل پڑتے خوبصورت گال پتلے پتلے ھونٹ اوپری ھونٹ کے بائیں کنارے پر پیارا سا تل ھائی سوسائٹی گرل تھی وہ دبلی پتلی باڈی کے ساتھ گانڈ ایسے اوپر کو اٹھی ھوئی جیسے سانچے میں ڈھال کر اوپر کو بڑھادی گئی ھو۔ میں جان بوجھ کر اسے زرا زرا دیر بعد اپنے قریب کھینچ لیتا اور اپنے لن کو اسکے چڈوں سے ٹچ کردیتا۔ ایک ھاتھ میرا تھوڑی تھوڑی دیر بعد اسکی گانڈ پر چکر مارلیتا تھا۔اس نے اگلے اسٹیپ میں اپنی گانڈ پر رکھے۔ میرے ھاتھ کو پکڑ کر اپنے پیٹ پر رکھدیا میں نے اس صورتحال کا ایک اور فائدہ اٹھایا کہ اسے اچانک سے بیک سائیڈ سے اپنے ساتھ جوڑ لیا بظاھر ھم نے ایک ھاتھ دائیں سائیڈ لمبا نکالاھواتھا لیکن اصل کھانی نیچے چل رھی تھی کہ میں اسکی گانڈ پر اپنا لن رگڑ رھا تھا وہ کچھ دیر تو ادھر ادھر کرکے اپنی گانڈ کی دراڑ میں مجھے اپنا لن پھنسانے نہی دے رھی تھی لیکن کچھ دیر بعد تو اسے بھی مزہ آنے لگا تو اسنے جیسے ھی ھلنا بند کیامیں نے فوراً اپنالن اسکی گانڈ کےدراڑ میں لگا دیا اسکی نرم نرم چوتڑوں پر جب لن نے اپنا پہلا جادو بھرا چکر لگایا تو اسنے بھی پیچھے کی طرف گانڈ کو نکالا اور خوب رگڑا میرے لن پر جب میں نے محسوس کیا کہ فرح پرجوش ھوچکی ھے تو میں نے اسے اپنے آپ سے دور کر کے ڈانس کے اسٹیپ بدل لیئے۔ اس نے سرگوشی میں کھا کہ پلیز ونس اگین ۔۔ ٹچ مائی ایس ۔۔۔ لیکن میں نے اسے کھا کہ انجوائے دس ایکشن پلیز۔۔۔ کچھ وقت کے بعد میوزک بند کردیا گیا اور کھانے کے میزوں کی طرف سب کو مدعو کیاگیا۔ شاہ جی نے اسپیشلی سلمی کو اپنے اسلام ابادی دوستوں سے۔ملوایا کوئی کسی افیسر کہ بیوی تھی تو کوئی خود آفیسر تھی۔ کھانے کے بعد سب کو اندر ھال۔میں چلنے اور انجوائے کرنے کی شرط یہ بتائی گئی کہ مرد حضرات بنیان وچڈی میں اور خواتین پینٹی وبریز ی میں ھی اندر جاسکیں گی۔ جسے اعتراض ھو وہ یہیں سے تشریف لے جاسکتے ھیں۔ تیس کے قریب مھمانوں میں سے بارہ ھی اندر پھنچے ھمارا گروپ تو پھلے ھی ایسے کاموں میں ماھر تھا۔ اندر جانے پر شاہ جی نے سب کو ڈرنک پیش کیں ھلکے سروں والا میوزک نے سماں باندھا ھوا تھا میں نے ان سے جام وصول کیا اور صابرہ کو پکڑا دیا اندر بڑا سارا حال تھا دبیز قالین رنگین پردوں سے مزین جا بجا سیکسی اشتھا انگیز فلمی ایکٹریس کی عریاں تصاویر آویزاں تھیں۔ مرد وزن کو آمنے سا منے بٹھادیا گیا میڈم سلمی کو اپنے سامنے بٹھا کر دل کی بھڑاس نکالنے کی خاطر بے سری آواز میں اشعار پڑھتے ھوئے انکا ھاتھ پکڑلیا اور چومتے ھوئے آنکھوں پر لگا لیا اور انکو جھٹکے سے اپنے اوپر کھینچ لیا۔ وہ اپنے دھن میں سیدھی بیٹھی تھیں کہ اس اچانک جھٹکے سے جام سمیت انکے اوپر ایک طرح سے گر ھی گیئں۔ اب شاہ جی نے لپ لاک لگاتے ھوئے انکے ھونٹوں کو چوسنا شروع کردیا کبھی نچلا ھونٹ کبھی اوپر والا کچھ دیر بعد شاہ جی نےسلمی کی چوتڑوں پر ھاتھ پھیرتے ھوئے اپنے لن کے ساتھ چمٹا لیاتھا اور پھر انھوں نے فوراً اپنی چڈی کی ایک سائیڈ سےلن باھر نکال کر سلمی کی پینٹی کے اوپر سے ھی رگڑنا شروع کردیا۔اس نے بے صبری کا مظاھرہ کرتے ہوئے سلمیٰ کی آنکھیں چومنا شروع کردیں۔لیکن میڈم سلمیٰ بھی کھلاڑی تھی مفت چدنا اسنے سیکھا ھی نھی تھا۔ اس نے اسکا لن ھاتھ میں پکڑے ھوئے سب کو متوجہ کیا اور کھا کہ اسکا تیل دس منٹ میں نکالنے کا کوئی مجھ سے شرط رکھے گا۔اگر نہ نکال سکی تو بازی لگانے والے کو ڈبل ۔میں نے شہہ دینے کی خاطر کھا کہ یہ نہی ھوسکتا شاہ جی پندرہ منٹ سے زیادہ ٹائم نکال جائیگا۔ تم بھلے اپنا سارا زور لگا لو۔ میں دس ھزار دونگا اگر شاہ جی کو تم دس منٹ میں فارغ کردو۔ ھمارے پلان کے مطابق دوسرے گروپ کے ظفر نے دس منٹ پر بیس ھزار کی بازی لگالی۔ جس پر ندیم نے اپنے باس کے پندرہ منٹ پرپچاس کی بازی لگا دی۔مجھے اوروں سے بھی بازی کی توقع تھی لیکن باقی سب تماشہ دیکھنے لگ گئے۔ تو اب اگر میڈم سلمیٰ دس منٹ میں شاہ جی کی منی نکوالیتی ھے تو تیس ھزار جیت جائیگی۔ ورنہ ھمیں ڈبل ملیں گے۔ اگر شاہ جی دس منٹ تک برداشت کرگیا اور معاملہ آگے چلا گیا تو پھر ظفر والی بازی ھوتی۔ بھرحال سب نے اس گیم میں دلچسپی دکھائی اور شاہ جی کے گروپ والے سامنے آنے لگے انکو شہ دینے لگے ادھر شاکرہ صابرہ نوشی نے بھی سلمیٰ کو مشورے دئے تو سلمی نے فوراً اپنی بریزی اتاردی اور شاہ جی کے کچھ بولنےسے پھلے ھی اسکے منہ میں اپنا ایک ممہ دیدیا اور ھاتھ سے لن کو اپنے انگوٹھے اور چھوٹی انگلی کے درمیان پکڑکر مٹھ مارنے لگی ایک منٹ بعد ھی اسکےلن کو باقی انگلیوں سے ٹوپی کے قریبی نرم حصے کو بھی رگڑنے لگی جس سے اسکے منہ کےتاثرات بدلنے لگے جسکا اشارہ اسے صابرہ نے کردیا تو سلمیٰ نے جلدی سے 69کی پوزیشن پکڑلی اور اسکے لن کو اپنے گرم منہ کا لمس دیا اور ساتھ ھی ساتھ اسکے ٹٹوں کو بھی ھاتھ پھیرتی رھی جبکہ اسکی گلابی چوت کی پنکھڑیوں میں شاہ جی اپنی زبان داخل کرچکے تھے۔ کبھی چوت کے دونوں لبوں کو ملا کر اپنے منہ میں لیکر سک کرتا کبھی اپنی زبان کو اندر باھر کرتا ادھر سات منٹ ھونے والے تھے کہ سلمیٰ نے اخری داؤ کھیلنا شروع کردیا پورا لن حلق تک لیکر جو اسنے دو چار دفعہ زور زور سے اندر باھر لیا تو شاہ جی برداشت نہ کرسکے دراصل وہ پھلے سے ھی خوار ھوتے رھے تھے انکی آرزو بھی تھی کہ سلمیٰ اسکا لن منہ میں لے اسطرح دو طرفہ حملہ میں جیسے ھی سلمی کو لگا کہ منی نکلنے والی ھے اس نے لن کے ٹوپے پر زبان چاروں طرف پھیرتے ہوئے اسکے ٹوپی پر زور دیا تو ایک زبردست پچکاری کے ساتھ منی باھر کو نکلی جسے سلمیٰ نے سب کو دکھایا اور جلدی سے اسکے اوپر سے ھٹھ گئی۔ یہ گیم میں ھار گیاتھا لیکن ابھی شروعات تھی۔ شاہ جی کے گروپ نے اسے برداشت کرنے کی آوازیں بھت دیں تھیں لیکن سلمی کاجادو زور تھا ان سے۔۔اب ندیم نے نوشی کو کس کرتے ھوئے اپنی بانھوں میں جکڑ لیا تو نوشی بولی کہ اگر اس کو میںنے دس منٹ میں فارغ کردیا تو کون میرے ساتھ بازی لگاتا ھے۔ دوسری طرف ظفر شاکرہ کے مموں کو چوستے ھوئے بولا کہ ھم بھی اس حسینہ کو دس منٹ میں ھی خلاص کردے گا ۔۔ ھے کوئی شرط رکھنے والا توصابرہ و سلمی نے دس دس ھزار کی بازی لگا دی جس پر شاہ جی نے اپنے گروپ والوں پر پچاس پچاس ھزار کی بازی لگا دی۔ میں نے ثائم کیپر کی زمہ داری میں اپنے ساتھ فرح کو شامل کرلیا۔ اب فرح اورمیں قریب قریب بیٹھ کر ریسلنگ میچ کی طرح قریب سے انکی چدائی دیکھنے لگے ۔ فرح نے کھا کہ ھم تو وھاں اپنے کلب میں چھوٹی موٹی بازی لگا لیتے تھے جیسے شیمپین کی بوتل۔ یاسب کے لیئے بھنا گوشت۔وغیرہ ۔۔۔ میں نے کھا کہ یہ تو کچھ نہی یہاں تو لاکھوں کی بازی لگتی ھے۔ ظفر اور ندیم نے شاید یہ اسکیم بنائی تھی کہ ھم ایک جیسے اسٹیپ کرتے رھیں گے اور ایک دوسرے سے باتیں کرتے رھیں تو زیادہ ٹائم نکال سکیں گے ۔ لیکن وہ ان دونوں کی سکنگ ٹرکس کو نہی جانتے تھے نوشی نے لن منہ۔میں لیکر جب اپنے ھونٹوں کو سختی سے بھینچ کر زرا زرا کرکے اسکے لن کو ۔منہ سے باھر نکالتے ھوئے اسکی آنکھوں میں جھانکتے جب اپنی انگلی ندیم کے گانڈ کی رنگ پر پھیری تو اسکی سسکاریاں نکلنے لگیں دوسری طرف شاکرہ نے اپنے ممے اپنے ھاتھوں سے پکڑنے کے بعد انکے درمیان جب ظفرکو لن رگڑنے کی آفر کی تو اس نے بھت سارا تھوک اپنے ھاتھ پر ڈال کر اسکے مموں کو چکناکیا اور اس کے ھاتھوں کو مزید آپس میں جوڑا تو وہ ایک قسم کی گانڈ بن گئی اور وہ اسمیں لن رگڑنے لگآ۔ شاکرہ نے کچھ دیر بعد ایک اور کام کیا کہ چھوٹا تکیہ اپ نےسر کے نیچے رکھ کرمنہ کھول کر اسکے اگے پیچھے ھوتے لن کو اپنے منہ کا بھی لمس کرانا شروع کرادیا تو وہ شرط ورت بھول کر ایسا مزے میں منھمک ھواکہ اسکی رفتار میں یکدم تیزی آگئی وہ شاکرہ کے بڑے بڑے مموں کی نرم کلیویج سے گزرتے لن کو جب اسکے نرم ھونٹوں سے ٹچ ھوتے ھوئے جب زبان کی گرمی اور واپسی میں شاکرا جب ھونٹوں کو سختی سے بھینچ لیتی اسکے ظفر کے لن کی ٹوپی کے نرم حصے پر جب وہ زبان گھوماتی تو اسکی تو انتھا ھوجاتی۔ کوئی سات منٹ بعد ظفر تو بے اختیار ھوکر شاکرہ کے۔منہ میں ھی منی نکال بیٹھا یہ بیچارہ تو چوت کو چاٹ بھی نہ سکا۔ شاہ جی بازی ھار گیا۔ دوسری طرف ندیم۔نے چالاکی دکھاتے 69 کی پوزیشن میں نوشی کی چوت چٹائی شروع کر رکھی تھی زر ادیر بعد اس نے جلدی سے لن کو نوشی کی چوت میں ڈال دیا جس پر نوشی نے سسکیاں نکالیں تو ندیم سمجھا کہ اس نے بڑ اتیر مارلیا ھے اسنے اپنی جھٹکوں کی رفتار تیز کردی اور قالین پر دھکے مارتے نوشی کے کھسکنے پر اشتعال میں اکر اور زیادہ زور سے جھٹکے مارنے لگ جاتا۔ اٹھواں منٹ ھوگاجب نوشی نے اخری پینترا کھیلتےھوئے نڈیم کی کمر کے گرد اپنی لاتیں کس دیں اور اسکو کھینچ کر اپنے لب اسکے لپس پر رکھ کر فرنچ کس شروع کردی اس نے بھی اسکے ھونٹوں کو کاٹنا شروع کردیا اس درمیان نوشی نے لاتوں کو جب تھوڑا سا ڈھیلا کیا تو اس نے اسی حالت میں لن کو باھر نکال۔کر جب زور سے واپسی کی تو اندھا دھند زور لگنے کی وجہ سے لن چوت کے بجائے نوشی کی گانڈ میں گھس گیا اور اسنے ایک چیخ ماردی کہ اچانک اسکی گانڈ میں اتنالمبا لن گھس گیا تھا لیکن جب ندیم کو احساس ھوا تو وہ مزے کی انتھا پے پھنچ گیا اس نے جان بوجھ کر ادھر ھی دو چارجھٹکے ھی مارے ھوں گے کہ اسکی منی کی پچکاری سب کے سامنے قالین پر گرتی نظر آئی۔ کیونکہ جیسے ھی ندیم نے مزید زور سےجھٹکا مارنے کہ خاطر لن باھر نکالا نوشی نے اسکی کمر پر سے لاتیں ھٹا دیں تو گانڈ کا سوراخ نیچے ھوگیا اور تیزی سےواپس آتے لن کو چوت کی نرم لبوں کا لمس ملا تو وہ مزے کی انتھا پر تو پھلے ھی تھا یکدم رگڑا لگتے ساتھ ھی اسکے لن نے شاندار پچکاری ماری جو آدھی نوشی کے پیٹ پر جبکہ باقی قالین پر گرتی نظر آئی۔۔۔۔ نوشی فورا اسکے نیچے سے نکلی اور سلمی نے کل کی طرح رقم اسکی سائیڈ کردی۔ ندیم اپنے لن پر ھاتھ رکھ کر اپنی منی کو ٹشو سے صاف کرتے ھوئے نوشی کو پیار بھری نظروں سے دیکھنے لگا۔۔جسے ھم گروپ والے خوب سمجھتے تھے۔ ایک دفعہ اور چودنا چاھتاھے۔ مگر تب تک شاہ جی نے سلمی کوایک دفعہ پھر پکڑ کر کسنگ شروع کردی تھی جسکا مطلب تھا کہ وہ سلمی کے ساتھ ایک اور بازی کھیلناچاھتا ھے جبکہ اکرم نے میڈم صابرہ کو کھیلنے کی ترغیب دے ڈالی ۔۔ صابرہ نے اکرم کو اپنے ممے چوسنے کو کھا تو وہ فوراً اسکے اوپر گرگیا اور بریزر میں سے ایک مما نکال کر چوسنے لگا۔ میڈم سلمیٰ نے فرنچ کس کرنے کے بعد ایک ھاتھ سے مجھے مخصوص اشارہ کردیا تو میں نے شرط لگادی کہ اگر پندرہ منٹ کے اندر شاہ جی نے سلمیٰ کو فارغ کردیا تو میں پچاس ھزار روپے دونگا۔۔اگر شاہ جی فارغ ھوگئے تو میڈم سلمیٰ مجھے ایک لاکھ دیگی۔۔ جس پر شاہ جی گروپ والے تپ گئے کہ ھمارے شاہ جی کی بولی اتنی کم کیوں ۔۔۔ان میں ایک بولا اب کی بار شاہ جی آدھے گھنٹے تک ٹکے رھیں گے میں نے کھا کہ لگاؤ بازی پھر۔ میں اپنی بازی واپس۔لے لوں گا اگر مجھ سے اوپر کی بولی دوگے تو۔۔۔ تو ندیم نے تپ کر ایک لاکھ لگا دئیے کہ شاہ جی پندرہ منٹ میں سلمی کو فارغ کردیں گے۔ نوشی نے اسکے مقابلے میں ڈیڑھ لاکھ لگا دئیے شاکرہ نے دو لاکھ کی بولی دی تو ظفر نے ڈھائی لاکھ کی بولی دے دی۔دوسری طرف میں نے ایک لاکھ میڈم صابرہ پر لگا دئیے جبکہ اکرم نے دولاکھ کی بولی لگا دی کہ صابرہ نے اگر اسے پھلے فارغ کردیا تو وہ دےگا ورنہ صابرہ کے ھارنے پر میں دوں گا۔۔ میں نے حامی بھر دی۔۔ صابرہ اکرم کے گیم میں ٹائم لمٹ نہی تھا فقط جلدی کسی کی فراغت پر گیم ختم ھونی تھی۔ لیکن اصل ضد سلمیٰ اور شاہ جی کے درمیان ھونے والی سیکسی ریس پر لگی ھوئی تھی۔۔۔ اسلام اباد والیاں تو ھکا بکا ھو کر صرف اپنی چوتوں کو مرد اپنے لنڈوں کو اپنے ھاتھوں سے رگڑ رھے تھے۔ اس سے قبل وہ پھر بھی ایک دوسرے کو کس کرلیتے تھے۔ گیم کی سچویشن کے حساب سے انگلش گانوں کا میوزک چلا دیا گیا تھا جس میں مائیکل جیکسن کی اوہ یس یس بے بی سک یس کی بیٹس بھت نشہ آ ور لگ رھی تھیں۔ بھرحال ماحول بڑا گرم ھوچکا تھا ایک ایک اور جام کا دور چلا ھم تو ٹھرے گنوار جو پیتا بھی نہ تھا منگواتا تھاتو جوس۔ اب کے میڈم سلمی نے شاہ کو ننگا سیدھا لٹا کر اس کی رانوں پر چساڑے شروع کردیے اسکی لن کی آس پاس کی ھر جگہ کو اسنے منہ میں لیکر چوسا لیکن لن کو صرف انگلیوں سے رگڑا ٹٹوں کو چوستے ھوئے جب وہ منہ میں لیکر کھینچ کر چھوڑتی تھی تو کھہچ کی دلکش آواز بلند ھونے پر شاہ کی سسکی نکل جاتی تھی۔ دونوں کے پاس پندرہ منٹ کا طویل وقت تھا وہ جس طرح چاھیں پوزیشن بدلیں مگر ایک دوسرے کو ایسا سیکس کریں کہ دوسرا مخمور ھوکر منی نکال بیٹھے ٹائم کے اندر ورنہ دوسری پارٹی نے جیت جانا تھا۔ ادھر صابرہ نے اکرم کو 69 کی پوزیشن میں کرلیا تھا اور دونوں ایک دوسرے کو سکنگ کرتے ھوئے مزے لے رھے تھے۔ دوسری طرف شاہ جی نے سلمی کی چوت کے لبوں کو دونوں ھاتھوں سے پکڑ ایکدوسرے سے دورکرکے اپنی لمبی زبان سے اسکی چوت کو چود و چاٹ رھا تھا کبھی زبان کے ساتھ انگلی بھی گھسا کر مزہ لےلیتا تھا کچھ وقت کے بعد سلمی نے شاہ کو کھڑ اکرکے اسکے لن کو اپنے حلق تک اندر لینے کا عمل شروع کر دیا تھا۔ کافی دیر بعد شاہ نے سلمی کو گھوڑی بنا کر چودنا شروع کردیا تو اس نے بھی خوب پیچھے کو دھکے مارے قریبا گیارہ منٹ بعد سلمی نے اسے نیچے سیدھا لٹاکر اسکے لن پر خود سواری شروع کردی بڑے مزے سے سارا لن اندر لیکر جب اس نے بھر پور اندازمیں نیچے اوپر ھونے کاعمل شروع کردیا تو شاہ جی کے تاثرات بدلنا شروع ھوگئے تب سلمی نے ایک اور پینترا بدلا کہ اس نے لن چوت میں لئیےھوئے رخ پھیرلیا۔ یعنی اس کی گانڈ شاہ جی کی منہ کی طرف ھوگئی تھی جبکہ اس کامنہ شاہ جی کی پیروں کی طرف اس نے بڑے مزے سے اسکے پاؤ ں پر ھاتھ رکھ کر گانڈ اوپر کو اٹھائی اور ٹوپے تک باھر لن کو نکال کر جب دوبارہ نیچے کو آ ئی تو غڑاپ کی اواز کے ساتھ سارا لن اندر گھسا تو شاہ جی کی تو بس کرادی یہ سین کبھی کسی نے ان کے ساتھ کیا ھی نہ تھا ۔۔۔ کہ اآپکو آپکی من پسند گانڈ بھی نظر آرھی ھو اور اسکی چوت میں لنڈ بھی اندر باھر ھوتا آپ اپنی انکھوں سے دیکھ رھے ھوں اتنی موٹی روئی کی طرح نرم سفید گانڈ بار بار آ کر آپکا لنڈ اپنے اندر لے لیتا ھو اور پیٹ تک پر جس کی نرمی محسوس ھوسکے تو پھر کیا کہنے۔۔۔ اب سلمی نے جمپ کھانابند کرکے لنڈ پر واپسی کی طرف پھسلنا شروع کردیا تو اب وہ شاہ کی پیٹ کی طرف جاتی لنڈ باھر کی طرف نکلتا جب وہ پھر پاؤ ں کی طرف زور لگا کر پھسلتی تو لنڈ پھر سے اندر سلمی پرانی کھلاڑی تھی اسکے لن کے اخری ارتعاشی جھٹکے اس نے محسوس کرتے ھی تیزی سےاس عمل کو جاری رکھا ندیم وظفر نے بھی محسوس کرلیا تھا کہ صاحب ھمارا تو جا رھا ھے انھوں نے کئی جملے بولے کہ صاحب کے خیالات بدل جائیں مگر سلمی کی چوت کا جادو سر چڑھ کر بول رھا تھا انکی تو صرف باتیں تھیں جبکہ ادھر پورا لن اندر باھر ھو رھا تھا بلکہ چوت کے نرم لب تو اسکے مثانے اور پیٹ تک کو سیراب کر رھے تھے کیوں کہ چوت کی مزی سے ساری جگہ پھسلن والی ھوکر مزہ دے رھی تھی۔ جیسے ھی سلمی کو احساس ھوا کہ منی نکل رھی ھے تو اس نے فوراً لن کو چوت سے نکال کر خود شاہ کے پیٹ کی طرف ھوگئیں اور ھاتھ سے لن سیدھا کھڑا کردیا تاکہ سب دیکھ سکیں کہ منی نکل رھی ھے۔ دوسری طرف صابرہ نے اکرم کے لن پرسواری کی شروعات کردی تھی۔ اکرم تو صابرہ کے مموں پر ھاتھ رکھے اوپر نیچے ھوتے وقت انکی بدلتی ھیئت کو چھوتے رھنے کا مزہ لے رھاتھا کے صابرہ نے اچانک جمپنگ روک کرلن اندر لیئے اسکے اوپر لیٹ گئی اور لپ کسنگ شروع کردی اب صابرہ کے نرم گرم ممے اسکے سینے سے ٹچ ھورھےتھے۔ صابرہ نے اب چوت کو تھوڑا اوپر اٹھا اٹھا کر جب لن کو چوت کی نرم لبوں کی رگڑائی دی تو اس نے پوزیشن بدلنے کی بھت کوشش کی مگر لپس پر لاک ھونٹوں کا۔۔۔۔ ٹانگوں اور لن پر وزن چوت کا۔۔۔ تو بے چارہ قابو ھوگیا۔ اور زرا سی دیر میں اسکے لن نے صابرہ کے سامنے خراج کے قطرے پیش کرنا شروع کردیئے۔ جیسے ھی صابرہ کواپنے اندر گرما گرم منی محسوس ھوئی وہ فوراً سیدھی کھڑی ھوئی جس سے سب نے دیکھا کہ اکرم کے لن سے منی کا اخراج ھوگیا تھا۔ یہ والی بازی تو میں جیت گیا تھا۔ اس دفعہ فرح بولی تم لوگ آپس میں ھی کھیلتے رھوگے یا ھمیں بھی مزہ لینے دوگے۔ میڈم سلمی نے کھا کہ جس میں ھو زرا دم وہ چوت لے لن کے خم اس اشتھا آمیز جملے پر شاہ جی نے کھاکہ میں اپنی مھمان فرح پر بازی لگانے کو تیار ھوں۔ میڈم سلمی نے کھا کہ بارانی ھماری طرف سے یہ میچ کھیلے گا۔اس پرمیں پچاس ھزارکی بازی لگاتی ھوں تو شاہ جی بولے میں ایک لاکھ لگاتا ھوں جس پر نوشی بولی کہ میں ڈیڑھ لاکھ لگاتی ھوں اس گروپ کے ظفر ندیم اکرم نے بھی لاکھ لاکھ لگا دئیے تو اسطرح چھ لاکھ کی بازی لگ گئی۔ اگر فرح نے بارانی کو پھلے فارغ کردیا تو چھ لاکھ اسکے ھوگئے اور اگر میں جیتتا ھوں تو میرے اوپری کمائی کا پیسہ تھا تماشہ ۔مقصود تھا ۔۔۔اور مجھے تو اپنے والد کو مقدمہ و جیل سے چھڑانا اور اپنی گاؤں کی زمینوں کوواپس حاصل کرنے اور رشتہ داروں کے غرور کو توڑنا تھا کہ جوکہتےتھےکہ بارانی ڈر کر شھر بھاگ گیا ھے۔ بھر حال میڈم فرح نے مجھے ایمپریس کرنے کو پھلے اپنی ایک ٹانگ اٹھاکر اپنی پینٹی اتاری اور پھر اپنی گوری چٹی رانوں پر ھاتھ پھیرتے ھوئے پنکی چوت کی نرم لبوں پر ھاتھ پھیرا جبکہ میں بیٹھا سکون سے دیکھ رھا تھا۔ پھر اسنےخود ھی اپنی لمبی انگلیوں سے چوت کو سھلاتے سھلاتے اپنی بیچ والی انگلی اندر ڈال لی۔ اسکی مخروطی شکل والی انگلی جب کچھ دیر اندر باھر کنے کے بعداس نے باھر نکالی تو اسے اپنے منہ میں ڈال کر چوستے ھوئے مجھے پیار بھری نظروں سے دیکھنے لگی۔ میں نے اپنی بنیان نکال کر اپنی تھائیز پر زور زور سے ھاتھ مارکر پٹاخے جیسی آوازیں نکالیں۔ پھر اپنی چڈی کی ایک سائیڈ میں سے اپنے لن کے ٹوپے کو باھر نکال کر اس پر ھاتھ رگڑنے لگا۔میرےلن کےگلابی موٹے ٹوپے کو دیکھ کر اسکی آنکھوں میں آتی چمک میں دیکھ چکا تھا ۔ مجھے بھی جلدی نہی تھی کہ اس گیم میں ٹائم کی لمٹ نہی تھی فقط جس نے جس کی جلدی نکلوادی۔ کچھ ھی دیر میں فرح نے آگے بڑھ کر میرے لن کے ٹوپے پر اپنی زبان پھیرنی شروع کر دی۔ میں نے اسکی چٹی نرم کمر پر ھاتھ پھیرتے پھیرتے بریزی کے ھک بھی کھول دئیے۔ اور ھاتھ نیچے لیجاکر اسکے نرم نرم درمیانے سائز کے بوبز کو سھلانا چالو کردیا۔ اس درمیان اس نے میری چڈی کھینچ کر نکال دی اور اس سے برآمد ھونے والے کوبرا لن کو دیکھ کر اسکی آنکھیں پھٹنے کی حد تک پھیل گئیں۔ ان بلیو ایبل آ بگ سائز ڈک آئی سا ھیئر۔۔۔ میں نے بھی فوراً کہ دیا یو لائک دس سو سک ھم فاسٹ۔۔۔دس ٹائم ھی اسٹینڈ فار یو سک ھم ناؤ۔ ندیدوں کی طرح ایکدم اس نے دونوں ھاتھوں کی مٹھیوں کو اوپر نیچے کرکے میرے لن کو پکڑا اور پھر بھی کافی سارا لن باقی رہ گیا تو اس نے ٹوپے کے نرم حصوں پر اپنے پتلے گلابی ھونٹ رکھ دئیے چاروں طرف اپنی نرم زبان پھیرنی شروع کردی اور نیچے رکھے اپنے ھاتھوں سے میرے لن کو مٹھ مارنے والے انداز سے ھلانے لگی۔ اب میں نے بھی اسے 69کی پوزیشن میں اپنے اوپر اسے کھینچ لیا اور اسکے چوت کی نرم لبوں پر اپ ے ھونٹوں کا جادو چلاناشروع کردیا۔ جلد ھی اسکی مزی نکل کر اسکی کیفیت مجھ پر ظاھر کرگئی۔ لیکن اسکی لن چسائی بڑی نفاست سے جاری تھی۔ جو مجھے بڑی اچھی لگی۔ جتنالن اسکی ھتھیلیوں سے باھر تھا اسکو منہ۔میں لیکر چوسنا جاری رکھا۔ کبھی صرف زبان سے ٹوپے کے ساتھ کھیلنا اور کبھی لن کو منہ میں اندر لیکر اپنے ھونٹوں کو بھینچ لینا جیسے رس چوس لیناچاھتی ھے۔میں نےبھی اسکی چوت میں زبان اندر باھر کرنا شروع کردی تھی جس کا اسے بھی بڑ امزہ آرھا تھا اسنے پوزیشن چینج کرنے کی خاطر پھلو بدلا اور مجھے اپنی سلم سی گانڈ کا نظارہ کراتے ھوئے کھا ۔یو لائک ٹو سک مائی ایس ھول دس ٹائم۔۔ ان دس گیم آ ئی وانا فک یو ر نائس انڈ پنکی پسی دس ٹائم۔۔۔ اوکے۔۔۔نیکسٹ ٹائم آئی ٹیسٹ یو ر ایس ھول ۔۔۔۔ اوہ یو لائیک مائی پسی ۔۔۔یس یس۔۔۔ اور پھر میں نے اسے وھیں لٹا کر اس کی ہیاری چوت پر ھاتھ پھیرا اور اسکے آسے پاسے کو انگلیوں سے ٹٹول کر پنکھڑیوں جیسے لبوں کو کھولا اور اپنے لن کے ٹوپے کو اسپر سیٹ کرکے نشانہ باندھ کر شاہ جہ کی طرف دیکھ کر پوچھا سائیںاں اجازت ھے توھاڈی مھمان دی کھول دیاں۔۔ اس نے کھا ارام نال یار ۔۔۔پرونیاں دی ہاڑ ئی نہ دیں۔۔۔ ھاھا۔۔ میںنے اھستہ اھستہ سے اسکے چوت کے اوپری حصے پر لن کو پھیرنا شروع کردیا۔ اندر نہی ڈالا۔ اوپر سے جب میرا لن اسکی چوت کے لبوں سے لن رگڑتا ھوا اگے کو جاتا تو لن کو دونوں طرف سے مزہ آتا۔ جب بھی میں پیچھے کو واپس آتا تو فرح منہ کھلتی جیسے اب تو اندر جائےگا ۔لیکن میں جاتے ھوئیے پھر تھواڑا لن کو اوپر کی طرف کردیتا جس کی وجہ سے وہ اندر گھسنے کے بجائے اوپر کو پھسل جاتا۔۔۔ ایسا کرتے کرتے ایک دفعہ میں نے ایکدم اندر ڈالا تو فرح کی کان ہھاڑ چیخ نکل گئی۔ اوپر رگڑنے سے لن تو چکناتھا لیکن ایک تو وہ اسکے لیئے تیار نہی تھی دوسرا اتنا لمبا موٹا لن ایکدم ھی سارےکاسارا اندر بچہ دانی تک ایک ھی تیز رفتار سے گھسا تو اس کی چیخ ھی نکل گئی میں وھیں اندر ڈال کر شانت ھوگیا۔ فرح نےکھا بھت ظالم ھو تھوڑا تھوڑا کرکے ڈالتے تو اچھا نہ ھوتا میں نے کھا جوش میں ھوش ہی نہ تھا تیری چوت ھی اتنی پیاری پیاری سی لگی لیکن اب ارام سے کروں گا۔۔ اس نے کھا کہ مجھے بھی سروس کرتے پانچ سال ھوگئیے لیکن اتنالمبا موٹا لن اج تک نھی ملا تھا۔ ایر مجھ سے دوستی کرو میں تمھیں اسلام اباد کی لال ولال پھاڑی چوتیں دکھلا دوں گی۔ میں نے کھا وہ بعد کی باتیں ھیں ابھی جو اندر کی اھے اسے انجوائے کرو اور مجھے کرنے دو تم فون نمبر لیجانا پھر رات کو بات کرنا۔ اوکے کھ کر اس نے مجھے مشین چلا دینے کی اجازت دے دی۔ لیکن میں نے ارام ارام سے اندر باھر کرنا شروع کردیا اسطرح دیکھنے والے کو مزہ نہی آتا نا تو ناظرین کی فرمائش آنے لگی کہ کم فاسٹ ان۔ آؤٹ فاسٹ کم آ ن بارانی فاسٹ فاسٹ ۔ جب میڈم سلمی بھی انکی ھمنوا ھوگئی تو میں نے فرح کو گھوڑی بنانے کا فیصلہ کیا اور پیچھے سے کھڑے لن کے ساتھ جب میں اندر ڈالنے کی تیاری میں تھاتو فرح نے اپنی گانڈ میرے لن پر مسلنا شروع کیا لیکن میں نے اسے ساکن حالت میں کرکے ایک زور دار طریقے سے جھٹکا مارا تو اسکی چوت میں میرا آدھا لن گھسنے میں کامیاب ھوا۔۔ پھر تو میں نے مشین ھی چلا دی آ ڈینس کی فرمائش پر فرح اس سے کمفرٹ نہ تھی لیکن لوگوں کی آ ھ اوہ کی آوازیں سن کر کچھ دیر تک وہ بھی برداشت کرتی رھی لیکن پھر اسنے پوزیشن چینج کرنا کا اشارہ دیا ۔ میں پیچھے ھٹا تو اس نے مجھے نیچے لٹا کر پھر سے میرے لمبے لن کی چسائی کی اور پھر آھستہ آھستہ اوپر کی طرف پیشقدمی کرتے کرتے میرے سینے پر اکر میرے چھوٹے سے مموں کو اپنے دانتوں سے کچمچ کرنے لگی۔ جس سے مجھےبڑی لزت محسوس ھوئی تو میری سسکاری نکل گئی۔ فرح نے میری گردن پھر کانوں پر پپیاں دیناشروع کیں ھوئیں تھیں ۔ جبکہ نیچے سے میرا لن اندر جانے کو اتاولا ھورھاتھا۔۔۔۔ آخر کار فرح اپنے چماچاٹی کے سفر میں جب میرے ھونٹوں تک پھنچی تو میں نے بھی اسے بانھوں میں بھر کر اپنے سینے سے چمٹا لیا اسکے نرم ونازک لبوں کو چوسنے لگا اور اسکے نرم گرم بوبز کو اپنے سینے پر محسوس کرتے ھوئے اپنے لن کو بھی نیچے سے نشانے پر کرکے گھسے لگانے شروع کردیے۔ تھوڑی سی دیر میں میرے لن نے اپنے من پسند سوراخ چوت کو پالیا اور تھوڑا سا اندر جانے کی راہ ھموار کرلی تھی۔ تو میں نے فرح کی آنکھوں میں جانچتے ھوئے نیچے سے زرا زور کا دھکا مارا تو لن سیدھا اندر تک گیا مگر بڑے پیار سے اس نے مزے میں آکر میری آنکھوں کے درمیان پپی دی۔۔۔۔۔اور بولی یو آر ریئلی آ گڈ فکر۔۔۔ میں نے تو نشانے پر گن لگادی ھاف اسپیڈ میں بنا رکے ۔۔۔ اتنا اسے مزہ دیا کہ وہ تو آ ھ اوہ کرنے لگی اسکا بھی اسٹیمنا اچھاتھا کہ اب تک وہ برداشت کرتی جارھی تھی ۔ میں نے اب ایک اور پینترا بدلہ کہ اسے اپنے سینے سے چمٹا کر اسکی پیٹھ پر انگلیاں پھیرتے ھوئے سلوموشن میں لن اندر باھر بھی جاری رکھے ھوا تھا کہ میرا ھاتھ اسکی گانڈ پر گھومتا جب اسکی رنگ پر سے گزرا تو اسکی زبردست قسم کی سسکی مجھے اسکا ویک پوائنٹ یاد دلا گئی ۔اس نے کان میں سرگوشی بھی کردی کہ۔۔۔۔۔ رب مائی ایس رنگ ونس اگین ۔۔۔ تو میں نے اپنی بڑی انگلی اسکے منہ میں دیکر زرا سی چسوائی اور پھر سیدھا اسکی گانڈ کے سوراخ پر پھیرنی شروع کردی جس سے میں اسکی آرزو ئے گانڈ چدائی کو اجاگر کرنے لگا زرا دیر بعد جب میں نے انگلی اسکی ایس ھول۔میں داخل کی تو مزے سے اچھل سی پڑی جسکی وجہ سے میرا لن اسکی چوت میں سے باھر نکل گیا۔ مگر اس نے خود اسے اپنے ھاتھ سے پکڑ کر دوبارہ سے میرا لن اپنی چوت میں گھسوا لیا۔ تب تو میری موجیں لگ گیئں ۔۔ لمبے لن کو چوت میں اور لمبی انگلی کو گانڈ میں گھسائے مزے لے رھا تھا۔ لنڈ اندر جائےتو انگلی باھر کو نکالتا انگلی اندر کی طرف جاتی تو لن باھر کی طرف۔۔ اس پر یہ کے میں نے اسکا ایک۔ممہ منہ میں پکڑے چوسنا شروع کردیا۔اس سہہ جھتی حملے کے سامنے وہ زیادہ دیر تک نہ ٹک سکی اور جلد ھی شدید اندازمیں اوپر نیچے ھونے لگی جبکہ میں نے اس دوران اپنی انگلی کی اندر باھر کی رفتار بڑھادی۔۔۔ اور کچھ دیر بعد فرح نے ایک زرودار چیخ کے ساتھ اپنی منی نکالنی شروع کر دی تو میں نے اسے کمر سے پکڑ کر اپنے لن سے اونچا کردیا تاکہ سب اسکی رستی چوت کامشاھدہ کرسکیں۔۔۔۔ واو واٹا گریٹ مؤ منٹ ڈیر۔۔۔ آ ئی وانا ونس مور ۔۔۔ پلیز ۔۔۔۔ فک۔مائی ایس۔۔۔۔۔ جیسے جملے وہ بولتی رھی۔۔۔ مگر میڈم سلمیٰ نے پیسے اپنے بیگ میں سنبھالتے ھوئے گیم اوور ھونے اور محفل کے اختتام کااعلان کردیا۔۔۔ جب ھم وھاں سے رخصت ھوئے تو رات ک آخری پھر چل رھاتھا میرے اوطاق پر نوشی بھی میرے ساتھ ھی اتر گئی کہ اب یہ ایک دو گھنٹے میں اپنے سسر کے سامنے نہی جاناچاھتی بعد میں چلی جاؤ ں گی میں اسکی چالاکی سمجھ رھاتھا۔ لیکن بولا کچھ نہی کہ چلو ابھی نا سہی تو صبح کا اغاز اچھا ھوجائیگا۔۔ ھم گھر میں داخل ھوئے تو پنھل نوشی کو دیکھ کر ایک دفعہ پھر للچائی نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔میں اندر جاتے ھی واشروم میں جاکر خوب نھایا اور جاکر بستر پر لیٹ گیا۔۔۔مجھے نہی پتہ چلا کہ کب نوشی بھی آکر میرے بستر میں گھس گئی تھی ۔ ویسے میں اج اپنے پکے کمروں میں سویا تھا ۔۔۔ میری آنکھ نوشی کی لن چسائی پر کھلی تھی جب وہ اسے پورا منہ میں لیکر باھر ایک جھٹکے سے چھوڑتی تو مزہ آجاتاہے اور اسی عمل نے مجھے جگایا۔۔۔ لیکن میں اسک جارحانہ موڈ دیکھ کر خود بھی جلدی ایکشن میں آگیا۔۔۔ اور اس کی گانڈ پر ھاتھ پھیرتے ھوئے بولا کہ تیری آگ رات کو نہی بجھی تھی کیا۔۔۔ وہ بولی میری چھوڑ اپنی بات کر رات تونے اسکے ویک پوائنٹ سے اسپر فتح پالی تھی ۔۔۔لیکن مجھے پتہ تھا کہ تو ابھی فارغ نہی ھواتو صبح بڑے جاندار جھٹکے دےگا اسی لیئے تو میں یہاں رہ گئی مگر تم تو نھانے کے بعد ایسے بے ھوش سوئے تھے کہ میری طرف توجہ ھی نہ کی ۔۔۔ابھی بھی دن کے گیارہ بج چکے ھیں۔ ۔۔ پنھل دو دفعہ ھوکر گیا مگر اپ اٹھ ھی نہی رھے تھے۔۔ مجھے بھی شرارت سوجی تو میں نے کھا کہ پھر تو تونے پنھل سے خوب مالش کروالی ھوگی۔۔۔ تو وہ مسکر اکر بولی وہ تو رات ھی ھوگئی تھی۔ مگر مجھے گانڈ اپ سے ھی مروانی ھے کیا زوردارجھٹکے مارتے ھو یار ۔۔ کہ نانی یاد آجاتی ھے۔۔ میں نے کھاپھر دیر کس بات کی بن جا گھوڑی میں پلنگ سے نیچے اتر کر کھڑا ھوگیا اور لن کو نشانے پر رکھ کر زبردست قسم کا جھٹکا مارتے ھوئے اسکی گانڈ میں لن پیل دیا۔ اسکی ھلکی سی چیخ نکلی بولتی ظالماں کش تے خیال کیتا کر۔۔۔ چھوٹی جی میری بنڈ اے۔۔لیکن اب مین کھاں سننے والا تھا میں نے تو وہ دھما چوکڑی مچادی کہ غڑپا غڑپ کی آواز بھت زور سے سنائی دینے لگی۔ مجھے سفرہ کا خیال آیا تھا کہ۔میں نے فوراً دروازے کی طرف دیکھا تو کنڈی لگی دیکھ کر میں مطمئن ھوگیا ۔۔۔ اب نوشی جو میری نکلوانے آ ئی تھی اسکی پھٹی دیکھو کہ جب میرا نکلنے والی ھوگئی تو وہ بولی کہ میں تھک گئی ھوں اسٹائل چینج کرتے ھیں ۔۔میری تو ساری منی واپس چلی جاتی ھے ۔۔ پھر نئے سرے سے جب ردھم بنے۔۔۔۔۔ ھم نے اب نیچے فرش پر کرنے کاپلان بنایا اور اسنے مجھے سیدھ لٹاکر 69 کی پوزیشن بنالی زرا دیر بعد۔میں اسے لن کی سواری شروع کرادی میرا ایک انگوٹھا اسکی چوت میں اور لن اسکی گانڈ کی سیدھ میں پڑا ھواتھا جیسے ھی وہ نیچے کو آتی تو ڈبل مزے میں سرشار ھوجاتی اور فوراً دوبارا اوپر ھوکر ۔۔۔ پھر نیچے کو جھکتی تھی۔اسی طرح کرتےکرتے کوئی بیس منٹ بعد ھی میں اسکی گانڈ میں فارغ ھوگیا اور اسکی چوت کاپانی۔میرے انگوٹھے کو تر کرنے لگا۔۔۔اس نے نیچے ھو کر میرے گالوں کو چوما اور تھینک یو بولنے لگی۔ میں بھی چوں کہ رات کا ادھورا تھا تو بھرپور شاد ھوا۔ اس نے میرے گود میں بیٹھتے ھوئے کھا کہ مجھے الیکشن کے بعد تمھارےساتھ گاؤں میں کیا ھوا وہ حالات بتاؤ میں نے کھا کہ میں زرا نھا دھو لوں اس میں اماں ابا کے نام بھی آ ئینگیں نا تو اچھانہی لگتا کہ اماں کا تذکرہ اس حالت میں کروں وہ بولی کہ۔میں جب تک ناشتہ بنوالاتی ھوں میں نے کلیجی منگوالی تھی۔ پنھل سے ۔۔ میں ھنس پڑا تو اس نے حیرت سے میری طرف دیکھا تو میں بولا کہ ھاں پنھل اب تمھاری بات کیوں نہی مانےگا۔۔۔مفت کی چوت جو مل جاتی ھے اسے۔۔۔ وہ مجھے مارنے کو بھاگی میری طرف لیکن میں بھاگ کر واشروم میں گھس گیا اور دروازہ بھی بند کرلیا اسنے دروازہ پیٹا مگر میں نے نہی کھولا۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ھے ۔
  22. 4 likes
    محترم یہ کون سا پیڈ سیکشن ہے یا پیڈ کہانی ہے جو معیار کو جانچا جائے ، اور ایک نئے رائٹر کی جب پہلی پوسٹ ہی ریجکٹ کر دی جائے گی تو وہ کیونکر لکھے گا۔ خیر آپ اپنی جگہ ٹھیک ہو سکتے ہیں مگر الفاظ کا چنائو وہ کیا کریں جس سے کسی کی دل آزاری نہ ہو ،شکریہ
  23. 4 likes
    میں نے منہ ہاتھ دھویا تو وہ ناشتہ لے کے آگی ناشتے میں لسی اور دیسی گھی کے پراٹھے اور ساتھ کڑام تھا یہ کشمیری ساگ ہوتا ہے میں نے اور آمنہ نے مل کے کھانا کھایا اس کے بعد آمنہ زعفران کا قہوہ بنا کے لائی میں نے قہوہ پیا اور باہر نکلا باغ میں آیا تو دیکھا آمنہ لکڑیاں اُٹھا رہی تھی میں نے اس کو اس کام سے روکا اور خود تمام لکڑیاں اُٹھائی اور اور کچھ کاٹنے والی تھی تمام کاٹ کے اُٹھا کے کمرے رکھیں اس دوران بارش ہونا شروع ہوگی میں گیلا ہوگیا تو آمنہ نے کپڑے بدلنے کا کہا مجھے میں نے اس سے ایک قمیض لی اور ایک بڑی سی چادر لی چادر کا تہبند بنایا اور قمیض پہن لی وہ مجھے اس حالت میں دیکھ کے ہنسنے لگ گی میں نے اس کو پکڑ لیا تو وہ مجھ سے خود کو چھڑا کے کمرے میں چلی گی میں بھی اس کے پیچھے چلا گیا جیسے ہی کمرے میں گیا اس کو اپنی باہوں میں بھر لیا وہ بھی پورے جوش سے میرے ساتھ چمٹ گی اور میرے ہونٹ چوسنے لگی میں نے اس کی شلوار اُتاری فیرن اُپر کی اور اس کے سوراخ پر اپنا عضو رکھا تو وہ سرخ آنکھوں سے مجھے دیکھ رہی تھی میں نے ایک زور دار دھکے سے اپنا عضو اس کے اندر کر دیا اور اس کے ہونٹ چومتے ہوۓ اس کو دھکے دینے لگا وہ میرے ہونٹوں کو کاٹنے لگ گی اور میرے کوہلوں پر ناخن مارنے لگی مجھے اندازا ہوگیا کے یہ فارغ ہونے والی ہے میں نے اپنی رفتار بڑا دی اس حالت میں ہم ایک ساتھ فارغ ہوۓ جب فارغ ہوۓ تو مجھے اپنے کوہلوں پر جلن کا احساس ہوا میں اس کے اوپر سے اور اپنی پیٹھ سہلانے لگ گیا آمنہ کو بھی پتہ چل گیا اس نے میری پیٹھ دیکھی اور افسوس کرنے لگ گی میں نے کہا کوئی بات نہیں اس کے بعد نہاۓ اور کھانا کھایا آمنہ مجھے تہبند میں دیکھ کر بار بار ہنستی تھی میں نے جب پوچھا کیا ہوا تو بولی آپ کو ٹھنڈ نہیں لگتی میں نے کہا لگتی ہے لیکن اس کے بہت سے فوائد بھی ہیں جیسے کے ایمرجنسی میں اپنی بیوی سے پیار کر لے بندا وہ ہنسنے لگی اور بولی یہ تو سب سے بڑافائدا ہے میں کہا جی ہاں رات کھانے کے بعد آمنہ میرے پاس آئی اور بولی اس کی ماہواری شروع ہوگی ہے تو میں نے اس کو اپنے ساتھ لٹایا اور بولا تو کیا ہوا ہم باتیں تو کر سکتے ہیں یہ سن کر وہ بہت خوش ہوئی اور مجھے چومنے لگی پھر اس نے بتایا کے اس والد آرمی کے ساتھ کام کرتے تھے اور یہ ڈاکٹر بننا چاہتی تھی اس کی ماں کے مرنے کے بعد یہ گھر آگی یہاں ہندو میجر کی اس پر نظر پڑھی اور اس نے اس سے زیادتی کی جس کو ہم نے بعد میں مار دیا ہم باتیں کرتے کرتے نجانے کب سو گے تہجت کے وقت میں اُٹھا بہت پیار سے آمنہ کو خود سے الگ کیا کے اس کی نیند نا ٹوٹ جاۓ اور بستر سے اُٹھا نماز پڑھی اور فجر پڑھی فجر کے بعد اذکار کر رہا تھا تو میری نظر آمنہ پر پڑھی تو نجانے کب سے مجھے دیکھ رہی تھی میں نے پوچھا کیا دیکھ رہی ہو تو مسکرا کرکہنے لگی کچھ نہیں وہ اُٹھی کھانا تیارکرنے لگی اس دوران میں نے گنز دیکھی جو یہاں ڈینپ کی تھی وہ آمنہ کو بتائی کہاں پڑھی ہیں ساتھ گولیاں گرنیڈ وغیرہ اس کے بعد میں آمنہ کگلے ابو کے پاس بیٹھ گیا باتیں کرنے لگا انہوں نے بتایا کے ریاسی کاایک برگیڈئر کہتا ہے کشمیر ہمارا ہے یہاں کے مسلمانوں کی جان مال بچے بیوی سب پر ہمارا حق ہے اور 30 تاریخ کو بی بی سی کا نمائندہ اس کا انٹرویو کرنے آرہا ہے میں نے کھانا کھایا اور وہاں سے نکلا اور اس ہندو کے گھر گیا جس کی بیٹی کو بچایا تھا میں نے اس سے یہی بات پوچھی تو اس نے کہا ایسا کہا ہے اس نے اور واقع انٹرویو ہے اس کا وہ مجھے کہتا ہے آپ بیٹھو اور دودھ پیو اس کی بیٹی میرے لیے دودھ لائی اور مجھے دیکھ کر مسکرانے لگی ہندو خود تو باہر چلا گیا لیکن لڑکی نا گی وہ مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی بار بار میں نے پوچھا کیا بات ہے تو کہتی ہے آپ مجھے اچھے لگتے ہو میں نے کہا میں بہت خطرناک ہوں ڈر نہیں لگتا وہ کہتی ہے نہیں آپ سے کیسا ڈر آپ جان بھی لےلو میں نے کہا میں ایسا ویسا نہیں وہ کہنے لگی جیسے بھی لیکن مجھے آپ سے پیار ہے مجھے لگ رہا تھا کے مجھ سے غلطی ہوگی ہے یہاں آکر میں وہاں سے نکلنا چاہتاتھا اس وقت ہندو بابا آگیا میں وہاں سے نکل گیا اور اپنی ہائیڈ پر آیا یہقں پہنچ کر مجھے حیدر کی بہت یاد آئی کافی دیر یہاں بیٹھا رہا جس گولیاں اور گرنیڈ وغیرہ تھے اُٹھاۓ اور نکل آیا وہاں سے گھر آیا تو آمنہ میرا انتظار کر رہی تھی رات ہوگی وہ کھانا لائی میں نے خاموشی سے کھانا کھایق اور نمازیں پڑھی اور لیٹ گیاآمنہ میرے پاس آئی اور مجھے کہنے لگی کیا بات ہے تو میں نے بتایا حیدر کی یاد آرہی ہے آمنہ میرا ماتھا چوما اور میرے ساتھ لپٹ گی خاموشی سے ایسے ہی میں سوگیا اگلے دن نمازوں کے بعد میں آمنہ سے ملا تو آمنہ نے مجھے اپنے ساتھ لگا کے بھینچ لیا میں اس سے الگ ہوا تو وہ پھر میرے سینے سے لگ گی میں نے پوچھا کیا بات ہے تو وہ کہتی ہے آپ جارہے ہو پھر نجانے کب لوٹو میں نے اس کو کچھ باتیں سمجھائی وہ مجھے باغ کے آخر تک چھوڑنے آئی میں وہاں سے نکلا اور ریاسی کی طرف چل پڑا رستے میں نمازیں پڑھی اور رات کو ریاسی پہنچ گیا کل بی بی سی کے نمائندے نے آنا تھا وہاں ایک مسلمان فوجی تھا اس کے گھر گیا اور اس کے پاس رات رکا اگلے دن اس سے کہا اپنی وردی دو اس سے وردی لی اور برگیڈ میں پہنچ گیا یہاں پی ٹی ہو رہی تھی اور ایک کمرے کے باہر کچھ سول لوگ کھڑے تھے میرے پاس گن لوڈ تھی تقریباً 10 بجے تھے میں نے برسٹ پر سیفٹی کی اور سامنے جتنے بھی تھے سب کو مادیا گرنیڈ نکالے اور 2 گرنیڈ پھینکے اب میرا رخ برگیڈئر کے کمرے کی طرف تھا میں اندر گیا اور برگیڈئر کے کمرے میں جا کے اس کو برسٹ مارا اور کہا تیرے باپ ابھی زندہ ہیں وہاں سے نکلتے کوۓ ایک سونے کی مورتی اُٹھا لی اور نکل برگیڈ کی بیرونی دیوار کی طرف نکلنے کی کوشش کرنے لگا لیکن فائرنگ بہت شدید ہو رہی تھی میں نے پوزیشن لی اور اسالٹ میں فاءر کرتے ہوۓ بھاگنے لگا کھڑے کو تو یہ نشانہ بنا سکتے تھے لیکن متحرک کو نہیں بنا سکتے تھے میں نے بھاگتے ہوۓ گرنیڈ پھینکے اور دیوار پھلانگ کر نکل آیا جنگ کی طرف آرمی ہیلی پر جنگل کی طرف نکل آئی میں وہاں سے نکلنا چاہتا تھا جتنی جلدی ہوسکے عصر سے پہلے پہلے ریاسی ضلع چھوڑ دیا میں نے اور نمازیں پڑھی اور بنا رکے چلتا رہا تمام رات چلنے کے بعد اپنی ہائیڈ پر آیا اور یہاں سے گولیاں گرنیڈ لیے اور ہندو کے گھر چلا گیا یہاں پہچا کھانا کھایا اور نکلنے لگا تو وہ لڑکی پھر میرے سامنے آگی اور مجھے روکنے لگ گی
  24. 4 likes
    نام قعقاع عمر21 سال کام عسکریت ہے 14 سال کی عمر میں اس فیلڈ میں داخل ہوا تھا اچھے برے حالات بھی دیکھے کامری(سیاچن) سے لے کر شکرگڑھ تک سارا بارڈر ایریا جانتا ہوں کچھ عرصہ افغانستان رہا. معالعہ کا بہت شوق ہے اکثر اپنے ساتھ ایک کتاب لے کر ضرور جاتا مشن پر. بچپن سے بچوں والے رسالے پڑھے پھر خواتین والے ڈائجسٹ پھر داستان ایمان فروشوں کی اور اس جیسی بہت سی کتابیں. سال بعد چھٹی پر گھر آنے کے بعد نیٹ پر یہی کہانیاں پڑتا ہوں. ابھی تک عورت کے وجود سے نااشنانہ ہوں امید ہے رہوں گا. لکھنے کا بھی شوق ہے اگر زندگی نے موقع دیا تو ضرور لکھوں گا لگتا نہیں موقع ملے. فلحال بارڈر ایکشن ٹیم کا حصہ ہوں. میرا نام کے علاوہ باقی سب سہی تعارف ہے.
  25. 4 likes
    تمام دوستوں کو آپ ڈیٹ کا انتظار ہے ۔ صرف 2 ۔ 4 دن انتظار کر لائیں ۔ پھر پہلے کی طرح ہر دوسرے دن ایک آپ ڈیٹ دوں گا کہ جلد لیپ ٹاپ کے لوں گا۔ شکریہ
  26. 4 likes
    اور اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے میں نے سمیرہ سے کہا . . . . " سائز کیا ہے تیرے مموں کا . . . . " " کیا . . . " اس نے مجھے تھپڑ مارنے كے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا ، تو میں نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑ لیا . . . " سن، اپنا ہاتھ سنبھال . . . " اس کے ہاتھ کو جھٹکا دیتے ہوئے میں نے کہا . . . . میری اِس حرکت سے وہاں سگریٹ پیتی ہوئی ایک لڑکی كے ہاتھ سے سگریٹ چھوٹ کر زمین پر گر گیا ، جس کو اُٹھا کر میں نے ایک چھوٹا سا کش لگایا جیسے کہ اظہر نے بتایا تھا اور دھویں کو اس کے چہرے پر چھوڑتے ہوئے بولا . . . . . " ایک سگریٹ نہیں سنبھل پا رہی ہے تو ، پھر میرا لنڈ کیسے پکڑے گی . . . . تجھے نہیں چودوں گا . . . تو ریجکٹ . . . . " میں جب ان پانچوں سے باتیں کر رہا تھا تب شروع شروع میں اظہر دور کھڑا تماشہ دیکھ رہا تھا ، لیکن بَعْد میں وہ بھی وہی آ گیا اور سمیرہ کو دیکھ کر بولا . . . . " ایک بات بتا تو ، تجھے پیار کرنے كے لیے وہ گدھا ہی ملا . . . " اور ہم دونوں ہنس پڑے ، اظہر نے بولنا جاری رکھا " تیرے اُس بوائے فریںڈ کو بیسٹ گدھا آف یونیورس کا ایوارڈ ملنا چاہئے . . . . کمینہ سات سال سے انجینرنگ کر رہا ہے . . . . " ہم دونوں ایک بار پھر زور سے ہنسے ، آج ہنسنے کی باری ہماری تھی ، کل جیسے میں چپ چاپ کھڑا سب برداشت کر رہا تھا آج وہی حالت ان پانچوں کی تھی . . . . . " سنو او لڑکیوں . . . . دوباہ ادھر دکھی تو یہی سب کا ریپ کر دوں گا اور چوت کا بھوسڑا بنا دوں گا . . . . چلو بھاگوں یہاں سے . . . . " " روکو تم دونوں ، آنے دو کاشف اور اس کے دوستو کو . . . " ایک لڑکی غصے میں بولی . . . . . ہم نے ان چوتیے سینیرز کی بچیوں کو چھیڑا تھا ، جس سے معملات خراب تو ھونے ہی تھے . . . لڑائی تو ہونی ہی تھی . . . تو پھر میرے خاص دوست اظہر نے سوچا کہ جب مقابلہ ھونا ہی ہے تو کیوں نہ فل مزہ لے لیا جائے اور اس کے بَعْد میں نے زمین سے مٹی اٹھائی اور سب سے پہلے سمیرہ كے چہرے پر لگائی ، وہ غصے سے پوری لال ہوکر مجھے گھورتی رہی ، . . . . " یہ اُس دن كے سموسے کا بدلہ اور کل والے پنگے كے لیے . . . . . " میں بولتے بولتے روک گیا ، کیونکہ ہمیں بچپن سے یہی سکھایا جاتا ہے لڑکیوں کی عزت کرو ان کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آؤ . . . لیکن جب لڑکیاں ہی تمہاری مارنے پر لگی ہو تب کیا کرنا چاہئے یہ کسی نے آج تک نہیں بتایا تھا . . . . " چھوڑ دے یار ارمان ورنہ یہی رَو پڑے گی یہ . . . " " جاؤ ، تم پانچوں کو میں نے معاف کیا ، اور جس کو بلانا ہے بلا لینا . . . . . " وہ پانچوں اپنا پیر پٹخ کر وہاں سے رفہ دفعہ ہو گئی اور ان كے جانے كے بَعْد سب سے پہلے میں نے جو کام کیا وہ یہ تھا کہ خود کو تھوڑا جھکا لیا ، بہت دیر سے دَرْد سہتے ہوئے اسٹریٹ کھڑا تھا اور پھر کالج كے اندر جانے كے لیے جیسے ہی گھوما تو دیکھا کہ وہاں آس پاس بہت سے اسٹوڈنٹ کھڑے ہو کر ہم دونوں کو اپنی آنکھیں پھارے دیکھ رہے ہے ، وہ سب ہاسٹل میں رہنے والے فرسٹ ایئر كے اسٹوڈنٹ تھے اور وہاں اُن میں کچھ لڑکیاں بھی موجود تھی . . . . " یار یہ لوگ تو مجھے ہیرو سمجھ رہے ہوں گے. . . . " سگریٹ کو دور پھیک کر میں نے کہا . . . . " چل جا یار ، یہ مجھے ہیرو سمجھ رہے ہوںگے . . . کیوںکہ جو کیا میں نے کیا ، تونے کیا کیا . . . . " " ویسے ایک بات بتا . . . " سہارے كے لیے میں نے اظہر كے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور کالج كے اندر داخل ہوا " کاشف اور اس کے غنڈوں سے کیسے نپٹنا ہے . . . . " " ایک کتا خرید لیتے ہے اور جب وہ سب ہماری طرف آئیں گیں تو ہم کتے کو چھوڑ دیں گے . . . . کیا بولتا ہے . . . " " کچھ زیادہ نہیں ہوگیا . . . " بولتے بولتے میں روکا ، اور کلاس كے اندر چلنے كے لیے اشارہ کیا اور نہ چاہتے ہوئے بھی میں سی ایس کلاس كے اندر داخل ہوگیا ، آج بھی اظہر کا دوست ہم سے پہلے وہاں موجود تھا اور مجھے دیکھ کر اس نے ایک جھٹکے میں کہہ دیا کہ " وہ نہیں آئی ہے . . " " چوتیا . . . " میں نے اسے گلیاں بکی ، . . . اظہر کا دوست تھا اس لئے صرف گلیاں دی میرا دوست ہوتا تو جان سے مار دیتا ، کمینہ آہستہ آواز میں بھی تو بول سکتا تھا کہ سارہ آج بھی نہیں آئی ، اس طرح ایک جھٹکے میں بول کر دل توڑ دیا کمینے نے اپنی کلاس میں آ کر میں چپ چاپ بیٹھ کر سامنے کلین بورڈ کی طرف دیکھنے لگا ، اُس وقت جوش میں آ کر میں نے ان پانچ لڑکیوں کو ٹائٹ تو کر دیا تھا، لیکن اب مجھے دَر لگنے لگا تھا . . . . لیکن ان سب کی کل کی حرکت سے مجھ میں اتنی ہمت تو آ ہی گئی تھی کی اب میں چپ چاپ ہو کر مار نہیں کھا سکتا . . . . " ایک مکا تو ضرور کسی کو ماروںگا اور وہ بھی پوری طاقت لگا کر . . . . " " کیا ہوا ، کس کو مارے گا . . . " " کچھ نہیں ، سامنے دیکھ سر آ گئے ہے . . . " سامنے سر کو دیکھ کر اظہر جمائی لیتے ہوئے بولا " یہ پھر دماغ کی لسی بناۓ گا. . . " وہ پیریڈ HMI کا تھا اور جو سر اُس سبجیکٹ کو پڑھاتے تھے ان کا نام مجھے آج تک نہیں پتہ چلا ، ہم لوگ اسے کسی بھی نام سے بلا لیتے تھے جیسے کہ پکاؤ ، کجھور ، ڈبو ، وغیرہ وغیرہ . . . . وہ جب بھی کلاس لینے آتا تو ایک بات جو ہمیشہ میرے ساتھ ہوتی اور وہ یہ تھی کہ میں ہمیشہ گہری نیند میں چلا جاتا بھلے ہی میں بارہ گھنٹے ہی سو کر کیوں نہ آیا ہوں . . . . . . اُس دن بھی میں نیند کی آغوش میں چکر لگا رہا تھا کہ اظہر نے مجھے جگایا . . . . " کیا ہوا . . . " اپنی آنکھیں مسلتے ہوئے میں نے پوچھا . . . " وہ سوال کر رہا ہے ، جاگ جا . . . " " میری باری آئیگی تو جگہ دینا . . . " " یار اٹھ . . . " میرے پیر پر زور سے لات مارتے ہوئے اظہر نے کہا . . . . . " تھوڑی بہت تو عزت دے ٹیچرز کو . . . " " ٹھری مال پروسیس سمجھ میں آیا کسی کو . . . " اُس نے ہم سب سے پوچھا اور آدھی کلاس نے نہ میں جواب دیا . . . . " کوئی بات نہیں ، آگے دیکھو " " سر . . . . " ایک لڑکا کھڑا ہوا " جب یہی سمجھ نہیں آیا تو آگے کیا دیکھے . . ." " گھر میں بُک کھول کر پڑھنا ، آسان ہے سب سمجھ میں آ جائیگا . . . . " اُس لڑکے کو بیٹھا کر اُس نے اپنا لیکچر جاری رکھا اور میں پھر سونے لگا. . . . جس لڑکے نے ابھی کہا تھا کہ " جب یہی سمجھ نہیں آیا تو آگے کیا سمجھ میں آئے گا . . . " اس کا نام میں نے تو کبھی کسی سے نہیں پوچھا لیکن اکثر بات چیت کرتے وقت کچھ لوگ اس کو شاکر کے نام سے پکارتے تھے . . . . . . " آج کون سی لیب ہے . . . " میں نے اظہر سے پوچھا . . . . کالج شروع ہوئے ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے تھے لیکن اتنے ہی دنوں میں مجھ میں بہت زیادہ تبدیلی آ گئی تھی . . . .
  27. 4 likes
    یہ کیا ہے یہ اپ ڈیٹ تو پہلے ہو چکی ہے اب دوبارہ سے اس کو رپیٹ کس لئے کیا گیا ہے
  28. 4 likes
    زبردست اپ ڈیٹ تھی بہت خوب کہانی میں تسلسل برقرار رکھو اور اپنے بارہ مصالحے کا صحیح استعمال کرو گڈ لک
  29. 4 likes
    ل ن کی کمائی ۔۔۔ سب نے کھائی اپڈیٹ 7 میں ماضی کے جھروکوں سے اپکو اپنے گھر گاؤں والوں اور اپنے استاد حکیم ھوشو کے چیدہ چیدہ واقعات بتا رھاتھا کہ راموں کاکا کے فون نے مجھے ماضی سے حال میں لاپھینکا۔۔ بھر حال اس نے آدھا دن انتظار کے بعد فون پر مجھے ساریوں چاول بیج کی تھیلیاں اسکے گھر پرچھوڑ جانے کا کہ دیا کیوں کہ وہ اب کسی کے ساتھ موٹر سائیکل پربازار کام سے جا رھاتھا۔ اور مجھے بتایا کہ اسکی بیٹی چمپا گھر پر ھوگی اسے دے جانا کہ رات بھر بیج کو بھگونا پڑتا ھے ۔ میں اسکی بیٹی کا سنتے ھی خوش ھوگیا کہ وہ بیس سالہ حسین مٹیار تھی رنگ کی سانولی ستواں ناک پتلی کمر موٹی سی گانڈ کے ساتھ ساتھ اسکے تنے ھوئے ممے بڑے خوبصورت لگتے تھی ۔جب وہ گھاگھرا چولی پھن مٹک مٹک کر چلتی ھے تو جیسے خزاں میں بھار آجائے۔ اور جب لال ٹیکہ ماتھے پے سجائے تیکھی نظروں سے آپکی اور دیکھے تو مرد کیوں نہ اسکی چال پر مر مٹنے کو تیار ھو جائے۔ میں نے بھینس کا تازہ دودھ دو تین گلاس پیا اور پھر ورزش کی خاطر آٹھ تھیلیاں ایک کٹے میں رکھ کر اپنے کاندھے پر لاد کر راموں کے گھر کی طرف پیدل ھی چل دیا جو کہ وھاں سے قریباً ایک کلومیٹر دور تھا۔ حالاں کہ میں انکا کمدار بالا۔افیسر تھا لیکن میں اکثر ان لوگوں کے ساتھ اپنے منصب کا لحاظ کئے بغیر کئی کام اپنے ھاتھ سے کردیا کرتا تھا جس سے یہ لوگ خوش بھی ھوجاتے تھے۔۔۔جب میں اسکے گھر کے قریب پھنچا تو مجھے اندر سے کسی کی رونے کی آواز آئی تو مجھے بڑی حیرت ھوئ کہ اتنے میں ایک زوردار تھپڑ بھی دے ماری کسی نے اور آواز آئی کہ جلدی کپڑے اتار اور ھمیں کرنے دے ورنہ ھم تجھے بدنام کردیں گے اور پھر تجھ سے کوئی بھی شادی نہی کرے گا۔ میں گھر کی پچھلی سائیڈ پر بنے کھڑکی طرف جلدی سے چھپ چھپا کر پھنچا کہ دیکھوں ماجرا کیا ھے۔ پچھلے ھی۔مھینے زمیندار سے کھلواکر میں نے یہ آٹھ گھر تعمیر کروائے تھے ان ھاریوں کے لئے جبکہ انکی چھت لوھے کی پتریوں سے بنائی گئی تھی جبکہ بج جانے والی اینٹیں انکے ٹوٹے بھی بیک سائیڈ پر موجود تھے۔ کھڑکی میں پردہ تھا لیکن ایک کونے سے میں اندر کا۔منظر دیکھنے میں کامیاب رھا۔ اندر کا منظر کچھ یوں تھا کہ چمپا کی قمیض آگے سے پھٹی ھوئی تھی وہ ایک ھاتھ سے اپنے 34 سائز کے گول۔مٹول ممے چھپانے کی ناکام کوشش کر رھی تھی کیوں کہ اس کے مموں پر پنک۔کلر کی نپلز گاھے بہ گاھے نظر آجاتی تھیں جبکہ ایک ھاتھ سے کبھی اپنے آنسو صاف کرتی تو کبھی اپنی سلوار کو سختی سے پکڑتی اور مزاحمت کرتی نظر آرھی تھی ۔ جبکہ اس کا منگیتر شنکر اپنے کسی یار کے ساتھ اس کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش میں مصروف تھے شنکر کے یار کے ھاتھ میں بڑا سا چاقو بھی نظر آرھاتھاچمپا نے شنکر کو بھگوان کی قسمیں بھی دیں اسے اپنے سچے پیار کی بھی یاد دلائی مگر شنکر اور اسکا دوست پر ھوس نگاھوں سے اسکے جسم کو دیکھ رھے تھے ۔اچانک شنکر نے چمپا کی شلوار میں ھاتھ ڈال کر کھینچا ۔ شلوار میں ناڑا کوئی اچھی قسم کا باندھا ھوا تھا کہ وہ تو نہی ٹوٹا لیکن چمپا ضرور آگے ھوکر انکے قدموں میں گر پڑی شنکر کا دوست جو کہ ایک خوبصورت شکل وصورت کا کوئ سترہ اٹھارہ سال کا نوجوان نظر آرھا تھا نے چمپا کی ٹانگ پکڑ کر چاقو سے اسکی سلوار کا پائنچا ھی پھاڑ دیا اور کچھ زخمی بھی کردیا اسے ۔۔۔۔پھر اسنے دوسرا پائنچہ بھی پھاڑ دیا اور نیچے بیٹھ کر اسکی لال لال کنواری چوت کا نظارہ بھی کر تا رھا۔ جبکہ شنکر اسکے مموں پر ھاتھ پھیر رھا تھا وہ منتیں ترلے کر رھی تھی کہ اسکی بدنامی ھوجائیگی اسے چھوڑ دیا جائے۔ جب اس گورے لڑکے نے اسکی جانٹھوں بھری کنواری چوت پر ھاتھ رکھا تو اس نے چاقو کی پرواہ کئے بغیر اسکے ھاتھ کو پکڑ کر چک۔ماردیا جس پر اس لڑکے نے چیخ مارتے ھوئے کھڑے ھوکر اس کی گردن پر چاقو سے وار بھی کردیا لیکن ھلکا سا زخم ھی لگا۔پایا ۔۔۔جس سے خون نکلنے بھی لگا لیکن ان کو اسکی پرواہ کب تھی انکے ذھنوں ہر تو اس وقت واسنا سوار تھی کہ کیسے اب اس الھڑ مٹیار کو چودا جائے۔اب اس نے شنکر کو کھا کہ اسکی ٹانگیں باندھ دے اور خود اسکے ھاتھ کو پکڑ لیا۔ جب وہ اسکی ٹانگیں پکڑ رھا تھا تو میں نے ایکشن میں آنے کا فیصلہ کیا تو میں نے اینٹوں کے دو ٹوٹے اوپر چھت کی طرف پھینکے جن سے زور دار دھماکہ سا ھوا۔جبکہ دو اندر کی طرف بھی ۔۔شنکر دروازے کی طرف جبکہ وہ لڑکا کھڑکی کی طرف گالیاں دیتا ھوا آیا کہ کون کنجر ھے میں کاٹ کر رکھ دوں گا جب تک وہ میری طرف گھوم کر دیکھتا میں اپنےمنہ پر رومال باندھ چکا تھا جیسے ھی اسکا منہ میری طرف ھوا میں چونکہ نیچے کی طرف کھڑا تھا میں نے اس کے چاقو والے ھاتھ پر ایک اینٹ دے ماری اور دوسری اس کے سر پر دے ماری ۔اسکے کراھنے کی آواز سنکر شنکر بھی کھڑکی پرطرف آ پھنچا۔ اسکو بھی میں نے سر میں اینٹ دے ماری۔جس سے اسکے سر سے خون بھنا شروع ھوگیا اور وہ گھبرا کر پیچھے کو گر گیا جبکہ وہ لڑکا مرنے مارنے پر اتر آیا تھا میں کھڑکی سے اندر جمپ مار کر اندر گیا تو چمپا جلدی سےاٹھ کر میرے پیچھے ھوگئی۔ وہ گورا لڑکا بولا کہ اچھا یہ تیرا یار ھے جس کو تو پھلے ھی ٹائم دیکر بلا بیٹھی تھی اب دیکھنا میں اسکی کیا حالت کرتا ھوں اسکی اس بات پر۔مجھے بڑا غصہ آیا تھا کہ اس نے مکے تان کر مجھے لڑنے کی ترغیب دی میں نے تاک کرایک ھی لات ماری جو اسکے پیٹ میں لگی اور وہ پیچھے کو ھوگیا لیکن پھر مکے لھرانے لگا میں نے چشم۔زدن میں ایک دفعہ پھر لات مارنے کا انداز اپنایا تو وہ اپنے دفاع میں بازوں منہ کے سامنے لے آیا تو میں نے موقعہ کا بھرپور فائیدہ اٹھاتے ھوئے اسکے پیٹ میں ایک زوردار مکہ جڑ دیا وہ اوغ اوغ کی آواز نکالتے۔ ھوئے پیچھے کی طرف گرا لیکن پھر کھڑا ھوا اور ایک دفعہ۔پھر مکے لھرانے لگا اب کہ میں نے اسے مکہ مارنے کا موقع دیاتو اسنے میرے منہ پر۔مکہ جڑدیا۔ لیکن میں نے اسے برداشت کرتے ھوئے اسکے دوسرے ھاتھ کو قابو کرلیا اور موڑ کر اسے پیٹھ کی طرف سے اپنے قابو میں کرلیا اس نے جان چھڑانے کو جب زور لگایا تو اسکی گانڈ میرے لن سے ٹکراتی رھی واہ کیا نرم۔ملائم۔گانڈ تھی لڑکے کی کہ اس لڑائی والیے ماحول میں بھی میرا۔لن اسکی نرمی سے کھڑا ھوکر اس کے پچھواڑے سے ٹکرا رھی تھی ۔ اس نے جب دیکھا کہ اس پر زور نہی چل رھا تو اس نے شنکر کو آواز دی کہ بھن چود اس کو مار اس کے آواز دینے سے چمپا کو بھی جیسے ھوش آگیا اور اس سے پھلے کہ شنکر کچھ کرتا اس نے اینٹ اٹھاکر اس کے سر پر دے ماری اور پھر اس نے دوسری اینٹ اٹھا کر اس لڑکے کے بھی پیٹ پر ماردی وہ دردکی شدت سے بلبلاتا ھوا جب پیچھے کو ھوا تو پھر میرے لن سے ثکراگیا۔ اب میں نے چمپا کو کھاکہ ان کی شلواریں اتار دے اور خود جاکر دوسرے کپڑے پھن کر آجائے(تب اسکو اپنی ننگی ھونے کا خیال ایا) پھر انکو دیکھتے ھیں۔ جب اس نے شنکر کی سلوار اترای تو ہ نیم بے ھوش پڑا تھا جبکہ دوسرے کو میں نے قابو کیا ھواتھا اس کی بھی جب سلوار اتری تو میں اسکی لال رنگ کی موٹی گانڈ دیکھ کر بھت خوش ھوا اور چمپا کے کمرے سے جانے کے بعد تو میں نے اسے پیچھے سے گھسے بھی مارنے شروع کر دئے ۔تو اس نے کھا کہ استاد مجھے چھوڑ دے جو بولے گا میں راضی خوشی کرالوں گا۔ میں نے کھا کہ میں گانڈ بڑے شوق سے مارتا ھوں تو اس نے کھا کہ میں دینے کو تیار ھوں مگر میری یہاں سے جان چھڑا دے میں نے کھا کہ پھر میرا ساتھ دے آج رات میرا مھمان بن جا تو کل۔کو بخیر وخوبی چلے جانا ۔یہ۔بات سننے کی دیر تھی کہ اس نے میرے لن کے ساتھ اپنی گانڈ مسلنا شروع کردی جسکا۔مجھے بڑا مزہ آنے لگا مگر ۔زرا دیر بعد ھمیں عورتوں کی آوازیں آنے لگیں تو میں نے اس گورے لڑکےکو اپنے سے دور کیا اس نے بھی جلدی سے اپنی سلوار پھننی شروع کر دی۔۔ تب تک چمپا شنکر کی ماں کو ساتھ لے کر نمودار ھوئی (ان دونوں کی نظر بھی میرے کھڑے لن پر پڑی تو چمک بھی۔مجھے نظر آ ئیے انکی آنکھوں میں) اور اپنے لڑکے کی حالت دیکھ کر اس کی طرف بھاگی اس نے اسکے منہ پر ھاتھ پھیر کر اس جگایا اور مجھے نا پھچانتے ھوئے رحم کی بھیک مانگنے لگی کہ اب اور مت مارو میں اسکو یہاں سے دور بھیج دوں گی آئندہ یہ چمپا کے یا سکی بھن کے آس پاس بھی نظر نہی ائےگا۔ میں نے چمپا کے پھٹے ھوئے کپڑے اسکے ھاتھ سے لے لیے شنکر کی سلوار جبکہ اس لڑکے کی قمیض اترواکر اسے بھی اپنے قبضے میں لے لیا ۔۔ اور اسکی ماں کے سامنے اسے بے عزت کرتے ھوئے کھا کہ اس لڑکے کو لیکر کمدار کی اوطاق پر شام تک پھنچ جانا شرافت سے ورنہ میں پولیس کے حوالے کر دونگا تم دونوں کو پولیس کا۔نام سن کر شنکر کی تو ھوائیاں ھی اڑگیئں اس نے جلدی سے اپنی ماں کے سھارے وھاں سے جانے کی کی اور اس لڑکے کو بھی ساتھ لیکر نکل گیا ۔ انکے کمرے سے نکلتے ھی چمپا۔نے میرے منہ سے رومال ھٹا یا اور مجھ سے چمٹ گئی اور اپنے ممے میرے سینے سے رگڑنے لگ گئی جس پر میرا لن پھر اٹھ کر سلامی دینے لگا۔ چمپا۔کا۔قد چونکہ مجھ سے کم تھا اسلیئے میرا لن اسکی ناف میں ٹکرا رھا تھا ۔ میں نے کھا کہ۔کیا کر رھی ھو کوئی آجائے گا تو بولی کہ بھلے آجائے اب مجھے کوئی پرواہ نہیں تم جو ھونا میرے ساتھ ۔اب سے میں تیری داسی ھوں ۔ اور میرے لن پر ھاتھ پھر کر بولی میں اسکو دیکھ لوں تم نے تو میرا سب کچھ دیکھ لیا تو میں نے اشارے سے ھاں کردی اس نے جلدی سے میری سلوار کا ناڑا کھولا اور میرے لن کو ھاتھ۔میں لےکر تعریفی نظروں سے دیکھتے ھوئے بولی یہ تو گھوڑے جتنا لمبا اور موٹا ھے کیا میں اسکو چوم لوں میرے ھاں کھنے پر اس نے اسکی ٹوپی ھی کو۔منہ۔میں لیا اور چوپنے لگی ۔۔میں نے کھا کہ اب بس کر اگر پورا مزہ۔لینا۔ھے تو آنا کبھی اوطاق پر اکیلے تو تجھے پورا مزہ دوں۔ اسنے جوابا کھا جب تو بلائے گامیں آجاؤ نگی۔میں نے کھا کہ پھلی دفعہ اپنی ماں کے ساتھ آنا تاکہ پھر تجھ پر کوئ شک۔نہ۔کرے۔۔۔ اس نے کھا کہ میرے کپڑے دے جا میں اپنی اماں اور ابا کو اس کمینے کے کرتوت بھی بتاؤں گی وہ تو میرا رشتہ شنکر کے ساتھ کرنا چاھ رھے تھے۔ میں نے کھا کہ میرا بتانا تو کہنا کہ وہ اس وقت آیا جب یہ دونوں مسٹنڈے اسکی عزت لوٹنا چاھتے تھے تو اسنے انکو اینٹیں مار کر تیری جان چھڑائی اور پھر تو شنکر کی امی کو موقع دکھانے کولے آ ئی۔۔۔۔ ۔میں وھاں سے سیدھا اپنی اوطاق پر پھنچا ساری کھانی اسے سنائی اور میڈم سلمی کو آج کی پارٹی میرے طرف سے ھونے کی خبر بھی دی اور انھیں کھا کہ وہ اپنے فرینڈز کو یھاں بلوالے گیم۔بھی ادھر ھی کھیلیں گے جسکی اس نے ھامی بھری اور میں نے ھوٹل پر تین کلو بکرا کڑھائی کا آرڈر بھی لکھوایا کہ اسکو بناتے آتے بھی گھنٹہ لگ جانا تھا۔میں نے واشروم جاتے اپنے گاؤں کے چوکیدار پنھل کودو لڑکوں کے آنے اور انکو چائے پانی پلانے کا بتایا اور کھا کہ ان کو اندر آنے کے بعد واپس جانے کی اجازت نہیں وہ سمجھ گیا تو میں نھانے سے پھلے اپنے لن پر تیل خاص کی مالش کرنے لگا۔ جب میں نھاکر نکلا تو پنھل۔نے بتایا کہ دونوں چھوکرا لوگ کو چائے پانی۔پلا۔کر روم۔میں بٹھا دیا ھے ۔ جنریٹر چلانے کے بعد میں ان سے ملنے گیا تو مجھےنئے لڑکے نے اپنا نام دھرم اور زات بھاگڑی بتائی تب میںنے کھا کہ اتنا گورا چٹا کیسے تو اس نے بتایاکہ وہ پاس کے زمیندار کےخربوزوں کی بوائی اور چنڈائی ٹھیکے پر لیتے ھیں مجھے پارلر سے فیشل کرانے کا بھی شوق ھے۔ شنکر نے بتایا کہ اسکا باپ وبھائی مجھ سے ملنے آئے ھیں۔ میں اسے لیکر باھر جاکر ان سے ملاقات کی انکو گھر سے ساری بات پتہ چل چکی تھی۔ انھوں نے بھی منتیں ترلے کیئے کہ اس کو ھم دور بھیج دیں گے اور یہ آئیندہ چمپا یا اسکے خاندان کانام۔بھی نہ لے گا۔مئں نے کھا کہ میں تو آفیسران کو بلا چکا ھوں اب جو وہ فیصلہ کریں تو شنکر کے بھائی نے میرے پاؤں پکڑ لیئے کہ آپ مائ باپ ھیں کوئی راستہ نکالیں آپ جو حکم کریں گے میں پورا کردیا کروں گا۔ میں نے کھادیکھنا پھرمکر نہ جانا اپنی بات سے بھر حال میں نے شنکر کو اس تاکید کے ساتھ جانے دیا کہ وہ اب اس علاقے میں مجھے نظر نہی آ ئیگا۔ رات کو دس بجے کے قریب میڈم سلمیٰ اپنے دو دوستوں کے ساتھ آ گیئں۔ ایک نیا چھرہ تھا ان کے ساتھ لیکن میں نے آگے بڑھ کر انکا استقبال کیا اور پھر چائے کا دور چلا تعارف کرتے پتہ چلا کہ انکا نام نوشی ھے جس پر میں نے غور سے دیکھا کہ کھیں وھی پھلے والی تو نھی۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہاکیا بات ھے اتنا غور سے دیکھ رھے ھو تومیں نے کھا کہ ایک نوشی پھلےمجھے برت کر میرے نیچے سے گزر چکی ھے میں سمجھا کہ وھی تو نہی مگر آپ تو الگ چیز ھو۔ پھر سب نے کھانے کا من بنا لیا ۔۔پنھل کو میں نے کھا کہ ٹیبل پر کھانالگا دو اپنا اور اس لڑکے کا بھی نکالو ۔باقی وہ سمجھدار تھا۔ کھانے کے بعد وسکی کا دور چلا اور موج میں آتے ھی گیم روم میں چلے آئے میں نے لائٹ بند کرکے دھرم پررعب ڈالنے کے لئیے آج دن کی ساری کھانی بیان کی اور اسکے بدلے میں اسکو پولیس کےحوالے کرانے یا اس پر کتے چھوڑنے کی دھمکی دےدی. پنھل کی پڑھائی گئی پٹی کے مطابق ۔اس نے مکمل تعاون کی یقین دھانی کروائی اور جب لائٹ میں نے ان کی تو وہ ایک گول میز پر چھوٹی سی انڈر وئیر میں ننگا بیٹھا تھا۔۔ اس کے وھم وگمان میں بھی نہ ھوگا کہ میرے ساتھ عورتیں ھوں گیئں وہ بھی ھائی سوسائٹی کی جو انکے لباسوں سے ظاھر تھیں ۔ بھر حال وہ ایک ٹیبل پر بیٹھا تھا ۔ اس وقت اسکی ناصرہ کی طرف گانڈ تھی اور سلمی کی طرف منہ تھا میں اسکی دائیں جانب جبکہ نوشی اسکی بائیں جانب کھڑی تھی۔ ناصرہ نے ایک ھاتھ اسکی پیٹھ پر پھیرنا شروع کیا جبکہ دوسرے ھاتھ میں پکڑے شراب کے گلاس سے زرا زرا دیر بعد گھونٹ بھرتی اور سلمی نے اسکی منہ اور گالوں پر ھاتھ پھیرتے اس کے منہ پر کس کرنا شروع کردیا اسکے لال ھونٹ دیکھنے میں بھی بڑے خوبصورت لگتے تھے ۔جبکہ میں نے اسکی گانڈ پر ھاتھ پھیرتے ھوئے اندر ویئر کے اندر سے گانڈ کی سوراخ کی طرف اھستہ سے پیش قدمی جاری رکھی نوشی نے دوسری طرف سے اسکا کچھا ھی اتار دیا وہ اب مکمل ننگا ھمارے درمیان موجود تھا کہ سلمی نے اسکو چھوٹے چھوٹے ممے پر ھاتھ پھیرا تو اسکا لن بھی کھڑا ھوگیا جسے شاکرہ نے منہ میں لے کر چوسنا شروع کردیا ۔نوشی نے اب اسکے پیٹ پر ھاتھ پھیرا جبکہ دھرم بیچارہ اس تین طرفی حملے میں زیادہ دیر ثابت قدم نہ رھ سکا اس نے سلمی کے منہ پر زور سے کس کردیا جبکہ شاکرہ کے منہ میں ھی منی اگل دی جو کہ کچھ اس کے منہ میں گئی اور کچھ اسکے گالوں پر بہہ گئی۔۔ اور شانت ھو کر رھ گیا ۔ اب اس نے دل پکڑ لیا کہ یہ تو مزے کاگیم ھے۔ اس نے کھا کہ وہ شاکرہ کی چوت چاٹنا چاھتا ھے ۔لیکن سلمی نے کھا کہ پھلے دام پھر کام ۔۔۔ میں نے کہا یہ دس منٹ میں شاکرہ کو فارغ کردے گا۔میں دس ھزار دوں گا۔ دھرم تو دس ھزار کی شرط سنکرایکدم پرجوش ھوگیا لیکن سلمی نے کھا کہ اگر نہ فارغ کر سکا تو میں دس ھزار دوں گی شاکرہ نے میری حمایت کردی جبکہ نوشی نے سلمی کی ۔اسطرح شاکرہ کی دس منٹ میں فراغت یا نا فراغت ہر چالیس ھزار کی شرط لگ گئی یہ سب کچھ دھرم کے لیئے تو نیا نیا تھا لیکن پرجوش تھا اس نے جلدی سے شاکرہ کو ٹیبل پر کھینچ کر سلوار اتارنے میں مدد کی پھر اسکی ٹانگیں کھول کر اسکی چوت پر منہ رکھ دیا اور ایک ھاتھ سے اسکی بریزی بھی اتار دی اور لگا اسکے مموں کو ھاتھوں سے رگڑنا۔ اس نے ان کو منہ میں بھی لینا چاھا تو میں نے کھا کہ گیم میں صرف چوت چاٹی کی لگی ھے دس منٹ میں اسے فارغ کردو تو دوسرے گیم میں پھر نیا کچھ ۔۔ اس نے خوب زور سے شاکرہ کی چوت کو چاٹنے کے ساتھ ساتھ اسکی گانڈ پر بھی ھاتھ پھیرنا شروع کردیا۔ خرانٹ آنٹیوں کو وہ بیچارہ کیاجنتا تھاوہ تھوڑی دیر بعد ایسی آوازیں نکالتی جیسے بس اب گئی کہ اب گئی وہ اس کے چوتڑوں کے درمیان اسکی چوت کے دانے کو بھی کبھی کبھی دانت سے پکڑ لیتا تھا جوکہ شاکرہ کو واقعی مزہ دے جاتا تھا۔ لیکن اسکی کمزوری سے تو وہ ناواقف تھا اسنے اسکی چوت کے دونوں لبوں کو انگلیوں سے جدا کرکہ اب اس کو زبان سے چودنا شروع کردیا تھا لیکن جس کو میرا دس انچ لمبا ڈھائ انچ موٹا لنڈ لینے کی عادت رھی ھو اسکو پتلی چھوٹی سی زبان نے کیا اثر دکھانا تھا۔ دس منٹ پورے ھونے پر دونوں کو جدا کردیا گیا اور سطرح میں اور شاکرہ بیس ھزار ھار گئے۔ویسے شاکرہ نے کھا بھی اگر دو منٹ اور کام جاری رکھتا تو میں گئی تھی۔۔اب آیا گیم کا دوسرا مرحلہ سلمی نے کھا کہ اگر دھرم نے اس بارن کو دس منٹ میں فارغ کردیا تو میں بیس ھزار دوں گی شاکرہ اور نوشی نے کھا کہ وہ بھی بیس بیس ھزار دیں گی اس گھوڑے کویہ چھوکرا دس منٹ میں ھرا سکتا ھے کیون کہ یہ بڑی پرجوش چسائی کرتا ھے دھرم۔نے۔کھا کہ۔مجھے کیا کیا کرنے کی اجازت ھوگی۔انھوں نے کھا کہ جو تیرا دل کرے۔۔تو وہ پر جوش ھرکر میرے ننگے لن کو جو ابھی پورا کھڑا نہی تھا منہ میں لیکر چوسنا شروع ھوگیا۔پھلے سرف ٹوپے کو اور پھر سارے لن کو چوسنے لگ پڑا۔۔میں نے بھی ھاتھ لمبے کرکہ اسکی گول۔مٹول موٹی گانڈ کو پکڑ کر اسں پر ھاتھ پھیرنا شروع کردیا۔ اب جب میرا لن فل جوبن پر آگیا تو اسکو احساس ھوا کہ یہ میں کدھر پھنس گیا ھوں کیونکہ نہ وہ منہ۔میں پورا لیےسکتا تھا نہ ھی سرف ٹوپا چوسنے سے کام بن سکتا تھا۔۔سلمی نے آٹھ منٹ گزر جانے کا اعلان کیا تو دھرم اچانک میرے ٹٹے چوسنا شروع کر دیئے لیکن مجھے فارغ نہ کرسکا اور ٹائم پورا ھوگیا۔۔۔ سلمی نے ھمیں دور کردیا۔ اورچالیس ھزار اٹھا۔کر ھینڈبیگ میں رکھ لیئے۔ دھرم نے کچھ سوچ کر کھا کہ اگر اسے پانچ چھ ۔منٹ اور مل جائیں تو وہ اس کو فارغ کردے گا۔ میں نے کھا کہ شرط کی رقم ڈبل کردو تو ٹھیک ورنہ میں جیت گیا ھوں کیا۔دھرم نے کھا مجھے بھی اس میں سے کچھ ملےگا تو سلمی نے کھا جس پارٹی کو تو جتا ئیگا وہ چند ھزار تو تجھے بھی دے دیگی ۔۔تو اس نے کھاکہ مجھے ایک موقعہ دو اس بار میں لازمی اس کو ھرادوں گا عورتوں نے سوچا کہ آدھا تو یہ ھوا پڑا ھے کیونکہ مجھے اسکی گانڈ پر ھاتھ پھیرتے انھوں نے دیکھ لیا تھا ۔جبکہ دھرم نے دوپھر کو اسکی گانڈ پر گھسے مارنا یاد آیا تو اسنے سوچا کہ اگر میں گانڈ کے اندر لے لون تو اسکو زیادہ مزہ آ گیا تو وہ شرط جیت سکتا ھے۔ یہ سب سوچ کر ان تینوں نے کھا کہ ھماری بھی شرط ھے کہ تو بھی اس میں حصہ ڈال تو میں نے کھا کہ تم سب جتنا لگاؤ گی اتنا میں اکیلا دوں گا ھارنے پر۔لیکن جیتنے پر میں اس چھورے کو کچھ نہ دوں گا۔ بھر حال کچھ دیر بعد رقم ڈبل ھوکر ایک لاکھ بیس ھزار ھوگئی ۔۔شاکرہ نے دھرم کو کھا کہ اگر اسکو ھرا دے تو دس ھزار میں تجھے الگ سے دوں گی۔اب اگر میری منی اگلے دس منٹ میں دھرم نکالنے میں کامیاب ھوتا ھے تو میں ھار جاؤ ں گا بصورت دیگر جیت میری پکی۔ اس نے ان سے تیل۔مانگا انھوں نے میری طرف دیکھا تو ۔میں نے کھا کہ تمھاری پارٹی الگ ھے اب تم جانوں اور تمھاراکام نوشی کے بیگ سے ایک لوشن کی بوتل برآمد ھوئی جو کہ انھوں نے دھرم کے حوالے کردی تو میں نے کھا کہ پہلے تھوڑا لگا کر چیک کرلو جلن نہ کرادے ۔تو دھرم نے مجھے تعریفی نظر سے دیکھا اور پھر تھڑا سا لوشن میرے لن پر اور کچھ اپنی انگلی ہر ڈال کر اپنی گانڈ میں لگا کر دیکھا پھر اوکے کہ دیا ۔۔۔اور میرے لن پر بھت سارالوشن لگا کر میری مٹھ مارنے لگا پھر جب سلمی نے پانچ منٹ گزر جانے کا بولا تو اس نے دل پکڑ کر ایک فیصلہ کیا اور مجھے سیدھا لٹا کر میرے لن پر خود بیٹھنے کا فیصلہ کرلیا جو میری خواھش کی عین مطابق تھا۔۔مجھے بھی اسکی موٹی گانڈ تو دوپھر سے مارنے کا شوق تھا۔ اب جب اس نے مجھے لٹا کر میرے لن پر کافی لوشن لگا کر بیٹھنا شروع کیا تو اھستہ اھستہ پھلے ٹوپی اندر گیئ اور پھر زرا اوپر اٹھ کر دوبارہ نیچے کو زور دیا تو آدھا لن اسکی گانڈ میں چلا تو گیامگر درد کی لھریں بھی اسکے چھرے سے عیاں ھونے لگی۔۔نوشی نے اسے جوش دلاتے ھوئے کھا کہ شاباش تم کرسکتے ھو ھمت کرو میں بھی تمھیں دس ھزار الگ سے دوں گی۔ بیس ھزار کا الگ سے سوچ کر اس نے پرجوش ھوکر زور سے نیچے بیٹھنے کی زبردست غلطی کردی۔ کیونکہ میرے موٹے لن نے تو اسکی گانڈ کو چرتے ھوئے اپنی جگہ بنا لی لیکن اس کی گانڈ پھٹ گئی اور اس سےخون بھی نکلنے لگا اس نے جوش میں آ ٹھ دس دفعہ تو اوپر نیچے ھوکر مجھے مزہ دینے کی کوشش کی مگر پھر اسکی ٹانگیں جواب دے گئیں اور وہ تھک کر سائڈ پرلیٹ گیا۔مگر لن بدستور اسکی گانڈ میں تھا۔ کیوں کہ اصولی طور پر جو کرنا تھا اسی نے کرنا تھا مجھے تو اس نے منی نکال۔کر فارغ کرناتھا۔ اب سلمی نے بھی اسے جوش دلایا کہ باقی دو۔مںٹ ھیں جلدی کرلو وہ فارغ ھونے والے ھیں۔ اس نے زرا سی دیر بعد بعد پھر میرے لن پر سواری شروع کردی لیکن مقررہ وقت پورا ھونے تک وہ۔مجھے فارغ نہ کراسکا اور حیرت سے مجھے تکتے ھوئے کھا کہ یار میری اس گانڈ کی گرمی نے کسی کو پانچ منٹ سے زیادہ دیر نہ کروائی ھوگی مگر تم عجیب ھو کہ اتنی بڑی چکنی گانڈ دیکھ کر بھی نہی فارغ ھوئے میں تو حیراں ھوں۔مجھے اس سے علیحدہ کردیا گیا۔ اور میرا کھڑا لن اب اھستہ اھستہ مرجھانے لگا۔ بھر حال سبکی سبکی ھوئی اور میں نے پیسے لیکر ایک سائڈ پر رکھ دئیے۔ اتنے میں نئی آئی نوشی نے کھا کہ وہ ایک اور شرط رکھنے کو تیار ھے کہ میں دعویٰ سے کھتی ھوں کہ یہ چھوکرا کچھ بھی کرلے بارن کو نہی ھراسکےگا۔میں ابھی بھی ایک۔لاکھ کی شرط رکھتی ھوں سلمی نے کھا کہ میرے پاس باقی دس ھزار ھیں ۔شاکرہ نے بھی دس ھزار کی آفر کی اور اس طرح ایک دفعہ پھر سے میرے نہ چھوٹنے پر ایک۔بیس کی شرط لگ گئی۔ اب کے۔میںنے شاطرانہ چال چلتے ھوئے دھرم کی گانڈ پر ھاتھ پھیرتے ھوئے اسکی گانڈ میں انگلی گھیسڑ کر گول گول گھمائ جس پر تیل میں چھپ کر لگا چکا تھا ۔ خواتین نے ھنستے ھوئے کھا کہ اتنا لمبا لے نے کے بعد اس پر یہ تیری چھوٹی انگلی کیا اثر کرے گی۔ لیکن میں نے اسے ٹیبل پر گھوڑی بننے کو کھا اور خود اسکے پیچھے سیدھا کھڑا ھوگیا۔ اب اھستہ سے اسکی گانڈ میں لن گھسانا شروع کردیا ۔اسکی چکنی گانڈ تو پھلے بھی اسے لے چکی تھی تو اب اسے کیا پرواہ ھونی تھی۔لیکن جب زرا دیر بعد میں نے جھٹکوں کی رفتار بٹھادیا تو اسکی بھی چیخیں نکلنا شروع ھوگیئں اور اسے بھی مزہ آنے لگا اس نے بھی نیچے اپنی مٹھ مارنی شروع کر دی ۔ می۔ نے اب اسکی پیٹھ پر ھاتھ پھیرتے ھوئے اس کا منہ اپنی طرف کیا اور اس کے مموں کو فرنچ کس کرنے لگا اب حالت یہ تھی کہ۔میرالن اسکی گانڈ میں تھا جبکہ میرے منہ میں اسکے ھونٹ تھے اور میرے تیز رفتار گھسے بھی جاری تھے۔ اب چال یہ تھی کہ میں ھارتا تو ھی میں سارے پیسے بچا سکتاتھا۔ ادھر ھمیں فل جوش میں دیکھ کر ان خواتین نے بھی جوش پکڑا اور ناصرہ نے نوشی کے ممے چوسنے شروع کردیے جبکہ سلمی نے نوشی کی چوت چاٹنی شروع کردی۔۔ میں نے اھستہ دھرم کے کان میں کھاکہ۔مزہ آرھا ھیے کہ نھی اس نے کھا مزہ تو بھت آ رھاھے لیکن گانڈ بھی پھٹ رھی ھے یہ تم نے کیا گیم شروع کر دی ھے۔میں نے کھا یہ خواتین جایئں پھر تجھے بتا دوں گا اب تو ایسا کر جب میں تیری کمر پر چک۔ماروں تو توچیخ مارکر اٹھ جانا اور میرا لن منھ میں لیکر چوسنامیں ایک۔منٹ میں چھوٹ جاؤں گا۔ اور تیری جان چھوٹ جائے گی۔اس نے اثبات میں سر ہلایا اور میں نے اسکا منھ چھوڑ کر زبردست گھسے مارنے شروع کر دئیے اور غیر محسوس طریقے سے اپنی گانڈ میں بھی انگلی مارنا شروع کردی زراسی دیر بعد میںنے اسکی پیٹھ پر چومتے چومتے ایک چک۔مار دیا ۔جس پر اس نے زور سے سسکاری بھر اور پھر چیختے ھوئے میرے سامنے سے اٹھ گیا ۔اور پھر جلدی سے منہ پھیر کر میرا لن منہ۔میں لیکر زور زور سے چوسنے لگا میں نے انکو دکھانے کی خاطر نہی نہی یار نہی کی سدا لگائی اور پھر ایک زوردار پچکاری ۔میرے لن سے نکلی جو اسکے منہ میں جاکر ھی لگی ھوگی کہ اس نے جلدی سے لن۔اپنے منہ سے نکالا اور ھرے ھرے کے نعرے لگاتے اپنی جیت کا جشن منانے لگا۔۔۔ جبکہ آ نٹیاں حیرت سے میری منی نکلتی دیکھ رھی تھیں ۔۔۔ اسکا مظلب تھاکہ میں گیم۔ھار گیا تھا لیکن رقم جیت گیا تھا۔۔۔ سلمیٰ نے سب پیسے میری طرف کے ٹیبل ہر رکھ دئیے جبکہ اچھا انٹر ٹین کرنے پر دھرم کو بھی ایک ھزار کا کڑک نوٹ دیا اور چلنے کو اٹھ کھڑی ھوئی ۔۔دوسری خواتین نے بھی انکی دیکھا دیکھی کپڑے پھنے اور میں انکو گاڑی تک چھوڑنے باھر ایک چڈی میں ھی باھر چلا گیا ۔۔ جب میں واپس روم میں آ یاتو حسب توقع پنھل دھرم کی گانڈ میں دھماچوکڑی لگائے بیٹھا تھا میں نے اپنی جیتی رقم یکجا کی اور اسے کبٹ میں رکھ کر تالا۔مارکر جیسے ھی مڑا مجھے پنھل کی چیخ سنایی دی۔۔۔۔۔ جاری ھے ابھی تو اصل کمائی شروع ھوئی ھے ۔ ملتے ھیں آپکے گرما گرم کمنٹس میں۔۔۔۔
  30. 4 likes
    ل ن کی کمائی ۔۔ سب نے کھائی اپڈیٹ 6 میڈم افروزی نے بیٹھتے ھی کھا کیا ھے بھن چودا میرے پیچھے کیوں پڑا ھے ۔جب تجھ میں مردانہ دم ھی نہی تو کیوں سب کے سامنے ماں چدوانے پھنچ جاتاہے۔میں تجھے جانتی ھوں صدف نشے میں بکواس کرنے آجاتا ھے۔باقی کھڑا تجھ سے لن بھی نہی ھوتا ۔ اتنی ساری گالیاں سننے کے بعد میں تو سمجھا کہ اب آفیسر نے گولی مار دینی مگر وہ تو ھاتھ باندھ کر بولا یار تیرا دیدار کرنے اور تیری گالیاں سننے کے واسطے تو کچھ ناکچھ کرنا پڑتا ھے۔اس نے اٹھ کر افروزی میڈم کو جپھی ڈالی چاھی تو وہ آسکر ھاتھ پکڑ کر بولی چل آجا تجھے کچھ نیا دکھاتی ھوں۔اور دونوں ڈولتے ڈولتے ھمارے ھی اس گھر کی طرف پڑے جھاں دوسری مھمان لڑکیوں کی رھائش تھی۔ باقی لوگوں کو پولیس نے روک دیا مگر میں تو میزبان تھا۔دونوں جب وھاں پھنچے تو میڈم نے آواز دی نوشی او نوشی۔جلدی آ تیری نتھ کھولنے والا بھڑوا آ گیا ھے۔۔اور اس بات پر دونوں خود ھی قہقہ لگانے لگے۔نوشی نے جب کمرے میں جھانکا تو یہ دونے کرسیاں چھوڑ کر زمین پر بیٹھے تھے جبکہ۔میں کھڑکی سے ڈرامہ دیکھنے کھڑا تھا۔۔نوشی کی الھڑ جوانی دیکھ کر ۔میرا بھی من خراب ھونے لگا ۔۔یہ موٹے ۔موٹے ممے ۔۔ جیسے شرٹ سے باھر آنے کو تلملا رھے ھوںشرٹ کا اوپر والے وابٹنک بھی کھلا تھا جس کی وجہ سے اسکی پنک کلر کی بریزی بھی نظر آرھی تھی۔۔ ڈرنک ھونے کی وجہ سے چہرہ لال سرخ ھورھا تھا۔گول مٹول سا چھرہ بھرے بھرے گال ۔جینز کی پینٹ جس میں اسکے توانا چوتڑ آنکھوں کو گرما رھے تھے۔۔ زور سےبولی جی جی میڈم ابھی تو میں نے ایک ھی تھیلی کھولی ھے۔بیٹھ ادھر آ دیکھ میرا پرانا عاشق جس کا اب لن بھی نہی اٹھتا لیکن خارش بھی نہی جاتی ۔ اسکو زرا اپنا جلوہ دکھا اسکی ٹھرک پوری کرا۔۔۔یہ کتا ویسےجانے والا نہی۔۔میں نے جلدیسے ایک رلی دے دی نوشی کو کہ یہ لوگ خالی زمیں پر بیٹھے ھوے تھے ۔ میری طرف بڑی نشیلی نظروں سے دیکھا اور بولی تو بھی موالیوں کی فلم دیکھے گا میں نے سر ھلا دیا تو بولی جاایک جگ میرے کمرے میں بھرا پڑاھے وہ لادے تو پھر آج تجھے بھی شھری مال دیکھنے کو مل سکتا۔ میں نے ٹھیک کھا اور چل دیا تو مجھے ایک آئیڈیا ذھن میں آیا کہ کیوں نہ حکیم ھوشو پر ایک احسان کردوں اور گرو دکشنا بھی قبول کرالوں۔۔میں سب سے پھلے ھوشو کو بلا لایا اور پولیس والے کو بولا کہ ایسپی صاحب نے اندر بلایا ھے۔۔ میں نے ھوشو کو راستے میں منا لیا تھا کہ پیک مال کھلادوں تو گرو دکشنا میں قبول ھوسکتی تو اس نے کھا کہ دونوں سوراخ سے مزا دیگی تو ٹھیک ورنہ میں تجھے سارے گر نہی سکھاؤں گا۔۔میں نے کھا کہ آپ کی اپنی بھی تو کچھ ھمت ھونی چاھیئے۔ بھرحال جب ھم جگ گلاس لیکرا ندر داخل ھوے تو نوشی آفیسر کا لن چوس رھی تھی جبکہ وہ افروزی میڈم کی چوت چاٹ رھا تھا۔ ھوشو کو دیکھ کر آفیسر نے بولا یہ کون ھے اور اندر کیوں ھے تو میں نے کھا کہ چانڈیو صاحب کا خاص بندہ ھے اور میڈم نوشی نے منگوایا ھے۔میں آپکا خدمت گار اور ایک گلاس بھر اسکی طرف بڑھادیا جو اس نے ھاتھوں پکڑ تو لیا لیکن نشے میں دھت ھونے کی وجہ سے منہ کی طرف نہ کہ جاسکا تب حکیم نے انٹری دی کہ میں آپکی ھیلپ کردوں تو اس نے اثبات میں سر ہلایا تو اس نے گلاس پکڑ لیا اور اسکو افروزی کی چوت پر تھوڑی سی شراب گرا کر اسے کھا کہ اب چوس تو اس آئیڈیا سےافروزی بھت خوش ھوئ ھوشو نے باقی گلاس افروزی کے منہ سے گلاس لگا دیا اور مجھے نوشی کی شرٹ کھولنے کا اشارہ کردیا ۔۔ ابھی میں نے دو بٹن ھی کھولے تھے کہ پولیس والا جو باھر کھڑا تھا اس نے آواز دی کہ ایس ایچ او وزٹ پر آیا ھے کچھ اطلاع دینی ھے۔ تو ایسپی نے غصے کا اظہار کرتے ھوئے کھا کہ بھن چود کو بولو ڈسٹرب نہ کرے صاحب مصروف ھے ۔۔ اور میری گاڑی سائڈ پر کھڑی کردو اب صبح ھی چلیں گے اور تم گاڑی میں جاکر بیٹھو۔۔ یہ گاؤں کی پولیس تھی جھاں ایس پی بادشاہ ھوتا ھے۔۔ فوراً یا سر بول کر کھڑکی سے ھی بات سن کر چلا گیا۔۔ اس نے ھوشو کو دیکھ کر کھا یار چانڈیو بڑا اچھا آئیڈیا تھا تیرا پھر پلا کچھ اور ساقیا۔۔اس نے کھا اب اس سے بھی اچھا مزہ لوگے۔۔۔ اس کے سر ھلانے پر ھوشو نے افروزی کی چوت کو انگلی ڈال کر زرا کھولا اور گلاس سے بھت سارای شراب چوت کے اندر انڈیلی اور صاحب کا۔منہ اس سے جوڑ دیا اور وہ جیسے بلی دودھ پیتی ھے ایسے زبان نکال کر چوت چاٹنے لگا۔ اور مست ھوگیا۔ اور۔مجھے کھنے لگا کہ یہ لوگ ابھی تھوڑی دیر میں انٹا غفیل ھوجائیںگے۔۔۔پھر اپنی مرضی چلے گی۔ اس نے پھر ایک اور کام کردیا۔ میرے کو لن نکالنے کا کہ کر اس پر بھی شراب انڈیل کر افروزی کے منہ میں ڈال دیا۔اور گلاس مجھے پکڑا کر بولا تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد پھر لگا لیاکرنا۔۔افروزی نے بھی کھا یار چانڈیو تو تو بڑا سیانآ ھے۔۔۔ یار ۔۔۔۔۔تو نوشی جو کہ آفیسر کی منی گالوں پر سجائے ھوئی تھی نے کھا کہ مجھے بھی پلاؤ چانڈیو۔ ھوشو نے کھا تجھے تو اسپیشل چیز کھلاتا ھوں اور پھر اپنے لنڈ کو ایک خاص قسم کا تیل لگا کر جس کی خوشبو بھی سیکسی سی لگ رھی تھی اس کے سامنے کردیا اور اس نے منہ۔میی لیکر چوسنا شروع کر دیا اسنے دونوں ھاتھوں سے اسکا لن پکڑا ھواتھا اور پھر بھی اسکا کچھ حصہ اسکے منہ میں تھا تو خوش ہوگئی زور سے بولی افروزی دیکھ میں گھوڑے کی اپنی چوس رھی ھوں ۔۔۔تو پرانی رانڈ ھے لیکن یہ دیکھ کتنا بڑا ھے۔۔ افروزی نے میرا لن منہ سے نکالا اور ادھر دیکھنے لگی پورا بارہ انچ ھے سالے کا وہ بھی تعریف کرتے بولی واقعی گاؤں دیہاتوں میں بھی چدکڑ اچھے مل۔جاتے ھیں اب اسکو دیکھ میرے پارٹنر کو میں کب سے چوہے لگا رھی ھوں۔مگر اس کو پرواہ نہیں ۔۔اب تک تو میں دو کو فارغ کردیا کرتی ھوں کیا کھاتے ھو یار ۔۔ تو آگے جاری بھت پھدیاں پھاڑے گا ۔۔کبھی آ نا کراچی جوھر میں میرااڈا ھے تیرے پر تو میں شرطیں رکھا کروں۔۔ زرا سکو بڑا بھی کرلے اس جیسا گھوڑا بنوالےابھی تو چھوکرا ھے بھت کچھ کرسکتا ھے۔۔۔اس کی طرح نہ ھونا ۔ افسر کی طرف اشارہ کرتے ھوے بولیں جو اب سو رھا تھا ۔ اسکے منہ پر افروزی کی منی لگی ھوئی تھی جبکہ اپنا لن بھی منی سے لتھڑا ھو اتھا اور وہ موالی بے پرواہ پڑا ھوا تھا ۔جبکہ دو چوتیں اور دو ھم استاد شاگرد کھڑے لنوں کے ساتھ موجود تھے۔۔ افروزی نے اب مجھے لن چوت میں ڈالنے کا کہ کر ٹانگیں اٹھادیں۔۔ میں نے اسکی چوت کپڑے سے صاف کی اورپھر سوکا ھی لن پیل دیا جس پر اسکی سسکاریاں نکل گئیں۔۔ ھوشو نے جلدی سے گلاس اسکے منہ سے لگا دیا اور وہ سب درد شرد بھول کر پینے میں مگن ھوگئی۔۔ دوسری طرف نوشی نے بھی پوز چینج کرنے کو کھا کہ تو ھوشو نے اسکے بڑے بڑے مموں پر بھی تھوڑی سی شراب ڈالی اور دونوں مموں کو جوڑ کر اس کے درمیان اپنا لن رگڑنے لگا۔۔ میں نے نوشی کو کھا کہ۔منہ کھول کر اندر بھی لیتی جا نا۔۔۔ تو ھوشو نے تعریفی نظروں سے مجھے دیکھا ۔۔اب پوزیشن ایسی تھی کہ میں افروزی کی چوت چود رھا تھا جبکہ استاد نوشی کے ممے جو اسی نے پکڑ کر جوڑے ھوے تھے ان سے لن گزار کر نوشی کا۔منہ چود رھا تھا۔۔استادنے کھا پارٹنر بدلی کرنا ھے تو میں نے اثبات میں سر ہلایا تو اس نے کھا کہ گانڈ ادھر کر تجھے راز کی بات سکھاؤں مجھے حیرت تو بھت ھوئی کہ یہ کونسا سکھانے کا ٹائیم ھے ہر استاد تو استاد ھوتا ھے کھیں بھی کبھی کچھ بتا سکتا ھے ۔۔ اور اس نے اپنی انگلی تھو سے گیلی کرکہ سب کے سامنے میرے گانڈ میں ڈالدی ۔اور اندر باھر کرنے لگا۔۔ یہ دیکھ کر افروزی ھنس پڑی کہ واہ یار گانڈو بھی ھے تو ۔۔۔ تو حکیم۔نے کھا کہ یہ میرا شاگرد ھے اور ادھر میں نے اسکا چور سئچ لگایا ھے ۔۔ واقعی زرا سی دیر بعد زوردار قسم کے جھٹکے مارتے آخری ٹائم پر باھر نکال کر اسکی پیٹ پر ھی فارغ ھوگیا ۔۔۔ اور اسی وقت افروزی بھی جسم اکڑا کر پانی چھوڑ بیٹھی۔۔۔ استاد ھوشو نے کھا کہ دیکھا دو دن تیری گانڈ میں دوا لگا کر لکڑی ایسے ھی نہی رکھی تھی جب تو سمجھے کہ فارغ ھونا ھے کسی کو بول یا خود اپنی انگلی سے دس بارہ دفعہ اندر باھر کرے گا تو سمجھو تیرا کام ھوگیا۔۔میں نے اس پر شکریہ ادا کیا اور بولا کہ اب اس کو لمبا اور موٹا بھی کرادے نا یار ۔۔تو اس نے یاد کرایا کہ اوپر چھت پر اسکی کام کے لیئے دوا رکھی ھے دو دن کے بعد وہ تیار ھو جائیگی پھر لگانا شروع ۔۔۔ اب اس نے نوشی کو میرے حوالے کرتے ھوئے افروزی کو الٹا لیٹنے کو کھا اور اپنے لن پر تھوڑا تیل لگایا جب میں نے حیرت کا اظہار کیا کہ جلدی والا تیل کیوں لگایا تو اس نے گھڑی کی طرف اشارہ کیا کہ بھت وقت ھوگیا ھے۔ اور بنا دیر کے افروزی کی گانڈ میں لن پیل دیا جس پر اس نے ایک چیخ ماری لیکن ھوشو نے جلدی سے اس کے منہ ہر ھاتھ رکھ دیا۔۔ لیکن باھر سے پولیس والی آواز آئی۔۔۔ چھا تھیو رن چھو پئی رڑ کرے۔ تو میں نے بھاری آواز میں جواب دیا کہ کھیر آ بابا ۔۔خیر اب نوشی کو میں نے دیکھا تو وہ نشے میں دھت تھی اور اس کو کچھ پتہ نہیں چل رھا تھا گلاس بھی اسکے ھاتھ میں تھا لیکن شراب زمین پر گر رھی تھی ۔استاد نے کھا کہ چوت پر خراب ڈال کر آج پیل دے اس کو پرواہ نہ ھوگی اور میں نے جلدی سے استاد کی بات پر عمل۔کرتے جلدی سے لن اندر ڈالا تو اسکو کچھ پرواہ نہ ھوئی اور میں نے ٹانگیں اٹھاکر سائیڈ پر کرکے پیچھے بیٹھ کر چوت مارنی شرع کردی۔مجھے اس اسٹائل پر کچھ بعد مزہ نہی آنے لگا تو میں نے اسکی ٹانگیں اوپر اٹھا کر لن چوت میں ڈال کر دجکم۔پیل شروع کردیا ۔۔لیکن میں تھوڑی دیر میں ھی تھک گیا کیوں کہ نوشی کو تو کوئی ھوش نہ تھا جو کرناتھاخود ھی کرناتھا جو کام دونوں کے تعاون سے مزہ دیتا ھے وہ اب مجھے نہی آرھا تھا۔لیکن۔میرے دماغ میں فوری طور پر اپنی گانڈ کا خیال آیا تو میں نے اسکی نرم نرم گانڈ پر ھاتھ پھیرتے ھوئے سوچا کہ آج ھوشو کو کنواری گانڈ دلوادے نہی تو اس نے پھر میری۔مارنی ھی۔مارنی ھے ۔تو میں نے استاد کے سامنے تعریف کرتے ھوئے گانڈ میں انگلی کی تو وہ کسمسا۔کر منع کرنے لگی کہ نہی یار گانڈ میں نہی۔۔ تو میں نے انگلی نکال دی لیکن میرا حربہ اپنا کام کرچکا تھا۔۔ھوشو نے مجھے خوشی سے دیکھتے ھوئے پھر انگلی گیلی کرکہ میری گانڈ گھسا دی اور مجھے خاموش رھنے کا اشارہ کرتے ۔ھوئے افروزی کی گانڈ سے لن نکال کر مجھے ادھر جانے کا کھا تو میں نے زوردار جھٹکوں سے کام۔بھگتانا چاھا تو ھوشو نے اشارہ دیا کہ منی اس کے اندر مت چھوڑنا ورنہ صبح اگر انکوائری ھو تو ھمارا کچھ بھی نانکلے۔۔۔مجھے بھی شرارت سوجھی تو میں نے جب منی نکلنے والی ھوگئی تو آفیسر کے۔منہ پر اگل دی ۔۔حکیم مسکرا ادیا اور جلدی سے اپنی جیب سے ایک اور تیلکی شیشی۔۔نکالکر اسکی گانڈ کے آس پاس لگا دی اور جادو بھری زبان سے چوسنے لگا ۔ اور۔مجھے کھڑکی دروازےبند کرنے کا کھا ۔۔میں سمجھ گیا کہ اب کیا سین ھونے والا ھے میں نے جلدی سے نوشی کی شرٹ اٹھا کر اس مے منہ میں ڈال کر اسکے شرٹ کے بازو پیچھے کرکہ باندھ دیے تاکہ چیخ مارنے پر کپڑا منہ سے نکل نہ سکے۔۔ استاد میں مجھے متشکر نظروں سے دیکھتے ھوئے اب پھر اپنے لن پر گرمائش پیدا کرنے والا تیل۔لگایا۔۔۔ استاد سے ایک چیز اور میں نے اس رات سیکھی کہ بڑی جیب ھو جس میں مختلف قسم کے تیل ھمیشہ پاس موجود ھوں بھرحال استاد نے اب انگلی اس کی گانڈ میں ڈالی اور گرمائش پیدا کرنے والا تیل بھی اندر پھنچا دیا لیکن اب اسکو کوئ پرواہ نہ تھی ۔۔وہ فل ٹن یا جسے کھیں کہ ڈرنک تھی بے حس پڑی تھی ۔اسکےبڑے بڑے چوتڑ ابھی بھی چمک رھے تھے ۔ میں ان پر۔ھاتھ پھیرنے لگا اور اسکے دونوں پاٹوں کو کبھی علیحدہ کردیتا کبھی انکو جوڑ دیتا تھا ۔۔ایسا کرتے کرتے ھوشو نے ایک دفعہ مجھے بولا کہ۔میں انکو علیحدہ کر کہ زور سے ایک دوسرے سے مخالف سائیڈ میں کھینچوں تاکہ بیچ میں گانڈ کے سوراخ میں وہ اپنالنڈ داخل کرسکیں۔ میں نے بھی مزے کی خاطر ساتھ یا اور پکڑ کر بیٹھ تو اس نے موری میں ڈالتے ھوئے کھا یہ بارن کی طرف سے گرو دکشنا ۔ گھپ کرکہ ادھا لن گانڈ میں گھس تو گیا لیکن نوشی کی حالت کردی اس نے اس۔نے چیخ تو بڑی زور کاری ھوگی لیکن شرٹ منہ۔میں ھونے کی وجہ سے گھٹی گھٹی سی آواز نکلی تھی۔لیکن اس کے آنسو نکلتے دیکھ کر۔مجھے اندازہ ھوا کہ۔کتنی تکلیف میں ھے وہ لیکن استاد ھوشو نے بھی آ ؤ دیکھا نا تاؤ فورا دوسرا بھی شاندار جھٹکا مار کر سارے کا سارا لن اندر پیل دیا ۔۔ اس کی ٹانگوں پر ھوشو تھا کمر کی طرف میرا وزن تھا لیکن وہ بھی اچھی خاصی طاقتور تھی۔۔۔ وہ مچھلی کی طرح تڑپی اور ھمارے شکنجے سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی لیکن استاد ساتھ تھا تو کیا پرواہ اس نے پیچھے سے اسکی ٹانگیں اٹھائیں اور اپنی بغلوں میں پکڑ لیں جب کہ۔میں اسکی کمر پر سوار ھوگیا ھوشو کچھ دیر تک تو کوئ بھی حرکت نہ کی ۔اور پھر اھستہ اھستہ آگے پیچھے ھونے لگا لیکن بھت معمولی سی حرکت ۔۔اب تیل بھی شاید اپنا اثر دکھانے لگا اس کی چوت و گانڈ دونوں میں آج ٹھکائ خوب ھوئی تھی تو اب وہ بھی پرسکون ھوگی تھی اور اب جو ھوشو نے اھستہ سے گیر بدلی کرکہ اسپیڈ بڑھائی تو اس کے نشے سب اتر گیئے اور وہ ایک دفعہ پھر آوازیں نکالنے لگی اور جب چوتھے گیر میں اسپیڈی جھٹکے لگنے لگے تب تو اس نے گالیاں بھی دینا شروع کردیں تھیں اب وہ منہ سے کپڑا ھٹا کر ھوشو کو ھلاشری بھی دینے لگی کہ بھن چود تجھے میں دیکھ لوں گی مجھ رانڈ کو تونے گانڈ میں لن ڈالا کیسے ۔۔۔ اگر مارکیٹ میں بات کھل گئی تو پھر تو ھر ایک میری گانڈ ھی مارے گا۔۔۔ مگر ھم۔نے اسے تسلی دی کہ ھم تو دیھاتی لوگ ھیں چانڈیو کے حکم سے ادھر ھی کام روزگار کرتے ھیں ھمارا کب کراچی آنا ھوگا اور تجھے کون بدنام کرے گا یہ تیرے دونوں جاننے والے تو بے ھوش پڑے ھیں باقی ھم تو تیرے عاشق ھیں کیسے چاھیں گے کہ تجھ سے جدا ھوجائیں ۔۔ اور اب اسے بات سمجھ آنے لگی مگر باتیں کتنی ھی میٹھی کیوں نا ھوں گانڈ میں جو فٹ لمبا لن اندر باھر ھورھا تھا اصل۔مسئلہ تو اسکا تھا ۔۔کیوں کہ وہ سیدھاجاکر ناف سے بھی اوپر ھٹ کر رھاتھا تھوڑی دیر بعد اس نے ٹانگوں کی پوزیشن چینج کروالی لیکن باقی کچھ نہ کھا ھوشو کے کھنے پر میں نے گلاس میں بچا کھچا شراب بھی اسکے منہ میں ڈالا تو اسکو کچھ فرحت محسوس ھوئی ۔تو میں نے استاد کو کھا کہ جلدی کرو صبح ھونےوالی ھے تو اس نے کھا کہ دو منٹ اور صبر اب اس نے اسکی ٹانگیں اسکے سر کے پاس رکھواکر خود اپنی پنجوں اور آگے سے اپنے بازوؤں پر اپنا وزن ڈال کر جو اس نے مشین چلائی نا تو نوشی کی پھلے تو مزے والی سسکاریاں نکلیں لیکن کچھ دیر اسے احساس ھوا کہ یہ تو میں ڈبل پھنس گئی ھوں ایک تو گانڈ اوپر کی طرف اس پر مستزاد یہ کہ اسی کی ٹانگیں اسی کے سر پر وہ تھک گئی اس پوزیشن میں لیکن استاد نے کہا یک منٹ بس بس ۔۔اور تھا دھن دھم لن اندر باھر جیسے فوجی نہی پش آپ نکالتے ویسے وہ اوپر نیچے ھوکر کن کو ایک ھی ردھم میں اندر باھر کر رھے تھے۔ اور میںبھت کچھ سیکھ رھا تھا ۔۔ کہ سیکس کرتے رحم بالکل نہی کرنا جس کا تھوڑی دیر میں اگلے کو مزہ آنا شروع ھوجائےگا۔اب تو استاد نے اسکی بس کی بس کرادی تھی لیکن اب منی نکلے تو جان چھوٹے۔اخت استاد نے مجھے کھا کہ یار تیری طرح میرا بھی سوچ گانڈ میں لگا ھے ۔جلدی سے انگلی ڈال میں اسی پوز میں چھوٹناچاھتا ھوں ۔میں نے بھی دیر نہ کرتے ھوئے اپنی انگلی کو تھوک لگایا اور پنے ھی استاد کی گانڈ میں گھسا کر اندر باھر کرنے لگا ۔واقعی اندر سے بڑی نرم وملائم تھی استاد کی گانڈ مجھے بھی بڑا مزہ آنے لگا اور میں شور سے شروع ھوگیا ۔جب تک استاد نے آواز دیکر مجھے بلایا نھی میں لگا رھا۔۔اس فرمائیں استاد اسکی گانڈ میں خوب اندر تک جاکر پھر باھر نکال کر زور سے اندر کرتا تھا۔۔ اب جو استاد فارغ ھواتو منی کو اسکی گانڈ پر ملنے کا مجھے حکم دیا کہ اس سے اسکے زخم مندمل ھوجائیں گے۔۔ لیکن یہ صبح ڈیوٹی مشکل کرسکےگی۔مجھے اور تجھے بھی شکل گم کرنی پڑے گ۔ صبح ھوسکتا کہ یہ شکایت لگا دے۔ اب تو یہ ڈرنک ھوکر یکجا پڑے ھیں ۔ میں نے کھاکہ کیوں نا سب کو اپنے اپنے کمرے میں پھنچا دیں تاکہ جب صبح ان کو دوسرے جگانے آ ئیں تو انکو ھماری کوئ نشانی نہ مل سکے۔۔ پھر ھم نے دونوں عورتوں کو کپڑے پھنا کر اپنے پنے کمرے میں پھنچایا اور ایسپی کو صاف ستھرا کرکہ پولیس والے کو بلواکر گاڑی میں بٹھاکر صاحب کے بنگلے پر لیجانے کا حکم ان کی طرف سے سنا دیا۔ کہ تمھارے صاحب نے مجھے ایسا بولاتھا اب وہ کچھ نہ بول سکا ۔۔ ھوشو تو اندھیرے کا فایدہ اٹھاتے اشرف سموں کے اوطاق کی طرف چلاگیا جب کہ میں بھی گھر کی چھت پر جاکر سوگیا۔۔اب صبح جب پولنگ کا وقت شروع ھو اتو سب کو اپنے اپنے کینڈیڈیٹ کے واسطے ووٹروں کی منتوں کی پڑ گئی رات کو کیا ھوا کیا نہی اسکی کسی کو پرواہ ھی نہی تھی۔ ایک تو ھمارا پریزائڈنگ آفیسر ایسا ڈرپوک تھا کہ جھاں کچھ بحث وتکرار شروع ھو وھاں سے یہ بھاگ کر لیڈیز والی بوتھ پر آجائیں۔مجھے دھوپ کی تپش نے اٹھنے پر مجبور کردیا تو میں بھی تماشہ دیکھنے پھنچ گیا کسی کی پاس شناختی کارڈ نہی تو کسی کا نام ووٹنگ لسٹ میں شامل نہی اس پر بحث گرم تھی اور ایجنٹ اپنے اپنے کینڈیڈیٹ کے ساتھ رابطے میں تھے ۔۔کہ دوپھر کھانے کے وقت ایک عجیب وغریب کام کردیا چانڈیو کے حکم سے ۔۔۔ ھوا کچھ یوں کہ کھانے کا وقفہ تو سرکاری طور پر الاؤ ھی نہی تھا تو کچھ عملے نے کھان کھایا دوسرے کام کرتے رھے پھر کچھ دیر بعد دوسرے گروپ نے کھاناکھایا جبکہ چانڈیو کی طرف سے پریزائڈنگ آفیسر و اسٹنٹ کو الگ روم میں کھانا سب کے بعد دیا گیا۔۔ جس میں سٹیج باتھ روم کا بھی انتظام تھا جیسے اسکولوں میں ہیڈماسٹر صاحب کے روم ھوتے ھیں۔ اب اسکی بدقسمتی دیکھیں کہ جب کھانا کھانے کے بعد وہ ھاتھ دھونے کو اٹھا تو چانڈیو کے بندے نے کھاکہ صاحب موبائیل مجھے دیں اور آپ ھاتھ دھو لیں وہ سادہ بندہ جیسے ھی واشروم میں ھاتھ دھو نے اندر گیا ایک بندے نے اسکے پیچھے سے دروازہ بند کرکہ کنڈی لگادی۔اب اسکا موبائیل تو پھلے ھی دوسرے کے پاس تھا ۔اسسٹنٹ تو ان سے ملا ھواتھا شاید ۔۔یا دھمکی سے سمجھ گیا تھا ۔ باھر نکل کر اس نے انکی مرضی کے مطابق کام جاری رکھا ۔۔جن کا نام لسٹ میں نہی تھا اور جس کو صبح سے ووٹ ڈالنے کی اجازت نہ تھی وہ بھی دھڑا دھڑ ووٹ ڈالنے لگے۔۔ ادھر لیڈیز میں بھی افروزی وغیرہ نے بھی خوب رنگ دکھایا۔۔جھاں بارہ پندرہ سو ووٹ تھے وھاں بیلٹ باکسز میںچار ھزار سے بھی زیادہ ووٹ ڈال دئیے گئے ھوں گے۔۔وھاں پریزائیڈنگ آفیسر دروازہ بجا بجا کر چیخیں مار مار کر تھک چکا تھا لیکن کمرے کابھی دروازہ بند کردیا گیا تھا۔۔۔۔ لیکن وہ کیا بولتے ھیں کہ نھلء پر دھلا ضرور ھوتا ھے کہ مرزا گروپ والوں کو جب اس چالاکی کا پتہ چلا تو وہ ویگو میں ھرکارے بٹھا کر پولنگ بوتھ پھنچ گیا لیکن جب تک اگلوں نے سب بھر تو دیئے تھے اس نے پریزائڈنگ آفیسر جو تھائی دلوائی۔۔وہ اپنی رام کھانی ابھی سنا ھی رھا تھا کہ مرزا کے بندوں نے جو اسلحہ سے لیس تھے بیلٹ باکسز آٹھ اٹھاکر اپنی گاڑیوں میں ڈالنے شروع کردیے وہ بھی اٹھے اور فوراً فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر روانہ ہوگئے اور اسکو کھ اکہ عملے کو پیسے دیکرجلدی سے ڈی سی آفیس پھونچو اس نے کھا سائیں میرے پاس گاڑی نہی اور سرکاری گاڑی رات دیر سے آئیگی مجھ پر رحم کرو میری نوکری کا سوال ھے جس پر اس نے جواب دیا جب وہ جعلی ووٹ ڈال رھے تھے تو واشروم میں گانڈ مروا رھا تھا اب مجھے کھانیاں مت سنا گاڑی تیرا مسئلہ ھی میرا نہی ان کو رزلٹ میرا بندہ صبح سنا دے گا۔ اور گاڑی بھگا لے گیا۔ اب وہ سر پکڑ کر پریشان بیٹھگیا کہ ان بڑے بڑے مگر مچھوں کہ درمیان ایک سرکاری ماستر کیا کرسکتا تھا۔۔۔ اب گاؤں والے اس سے رزلٹ مانگتے تھے چانڈیو کی چالاکی اب ساری دھری کی دھری رھ گئی۔اگلے بیلٹ باکس ھی لےگئے پولیس بھی خاموش تماشائی تھی ۔ رابطے کا واحد ذریعہ فون تھا وہ بھی اب نہی رھا تھا۔ اتنے میں چانڈیو بھی آگئے اور بظاھر اپنے ھی بندوں کو لعن طعن کرنے لگے ۔افروزی کو بلوایا اس پر بھی غصہ اتار کہ تم کو لن لینے کی پڑی ھے مجھے الیکشن کی پڑی ھے۔۔۔ جلدی کرو پریزائیڈنگ کو آفس پھنچاو تاکہ یہ شکایت تو لگائے ۔ اب اس نے سب کو جلدی جلدی پیسے بانٹے اور سب کو کھا کہ میرے ساتھ چل کر گواھی دو کہ یہ زوری بیلٹ باکسز اٹھوا کر لے آیا لیکن کوئی بھی تیار نہی ھوا یہاں ایک ضرور ھو اکہ افروزی نے مجھے بلوا۔کر فون نمبر دیا ور کھا کہ کبھی کراچی آ و تو میرے پاس ضرور آنا ۔۔میں نے بادل ناخواستہ نمبر لے ھی لیا۔۔۔ اور اب جب میں نے نوشی کو دیکھا تو وہ منڈلا کر چل رھی تھی مجھے دیکھ کر اسنے شعلہ بار نظروں سے مجھے دیکھا اور افروزی میڈم کو ھماری شکایت بھی لگائی ۔۔لیکن اتنے سارے ہنگامے۔ برپا ھوئے کہ اب اسکی بات پر کون توجہ دے ۔۔اخر سب نے اپنی اپنی راہ لی۔۔۔اور ھم گانڈ ماری کی واردات کے باوجود صاف بچ گئے۔۔۔ طبیعت ناساز ھے اس لئیے آج اتنے پر ھی اکتفا کرتے ہیں۔املاء کی مسٹیکس میں چیک۔نہی کرسکا ھوں سوری۔۔۔ملتے آپکے کمنٹس مین
  31. 3 likes
    وہاں مجھے اظہر کا وہ دوست بھی دکھائی دیا جو سارہ کی کلاس میں پڑھتا تھا . . . . . " سن نہ یار . . . . " میں نے اظہر كے دوست کو بلایا اور اس نے میری دکھتی رگ پر ہاتھ تو رکھا ہی ساتھ ہی ساتھ میرے دل پر خنجر مارتے ہوئے بولا . . . " ارمان تجھے پتہ چلا یا نہیں . . . . سارہ نے خودکشی کرنے کی کوشش کی ہے . . . . " " ہاں معلوم ہے . . . کوئی وجہ معلوم چلی کہ اس نے ایسا کیوں کیا . . . " " عشق ، محبت کا چکر ہے دوست . . . . تو بھول جا اسے . . . " جتنی آسانی سے اس نے مجھے کہہ دیا اتنی ہی آسانی سے میں نے اس کی بات کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیا اور اس سے پوچھا کی سارہ کس اسپتال میں ہے . . . . " پتہ نہیں . . . . لیکن چھٹی ہونے تک کسی سے پوچھ کر تجھے بتا دوں گا . . . . " " شکریہ ، اب چلتا ہو . . . " " چل ٹھیک ہے . . . " وہاں سے میں سیدھے اپنی کلاس میں آکر بیٹھ گیا ، یہ سوچ سوچ کر دِل بیٹھا جا رہا تھا کہ سارہ نے کس كے پیار میں اپنی جان دینے کی کوشش کی ہے . . . . " وہ اسے بہت پیار کرتی ہے ، اس کا مطلب میں یا میرے ارمانوں كے لیے اس کے دِل میں کوئی جگہ نہیں . . . . " میں اس وقت خود سے ہی سوال جواب کئے جا رہا تھا . . . . " لیکن اس دن کلاس میں تو وہ مجھے دیکھ رہی تھی . . . . " میں اس وقت جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ میں بدلنے کی کوشش کر رہا تھا ، اس وقت مجھے بلکل بھی یہ خیال نہیں تھا کی فیزکس والے سر کلاس میں آ چکے ہے . . . . " ہیلو ، تم . . . " " ہیں . . . . " اظہر نے مجھ سے سرگوشی کی تو میں ہوش میں آیا . . . . " کیا ہیں ہیں لگا رکھا ہے ، پڑھنا ہے تو چُپ چاپ پڑھو ورنہ باہر جاؤ . . . " " میں نے تو ایک لفظ بھی نہیں بولا . . . " اس فیزکس والے سر کو دیکھ کر میں نے خود سے کہا . . . . . " آپ فیزکس كے خلاف نہیں جا سکتے . . . " کسی نے بھی اپنے دماغ کا استمعال کر کے کچھ بھی سر کو سنایا تو اسے یہی جواب ملا . . . . یہ جواب صرف اسے ہی نہیں بلکہ کئی اور بھی اسٹوڈنٹ کو ملا . . . جب بھی کوئی اُلٹا سیدھا سوال کرتا تو سر اس پر اپنا بھارم مار کر کہتے کہ " آپ فیزکس كے خلاف نہیں جا سکتے . . . . " اور پھر سب خاموش ہو جاتے . . . . سوال تو میرے دماغ میں بھی تھا لیکن اس وقت میں نہیں پُوچھ پایا شاید سارہ کی وجہ سے . . . . . . سر کی بھی اک عجیب اور بڑی گھٹیا عادت تھی وہ کلاس ختم ہونے سے کچھ دیر پہلے ایک ایک اسٹوڈنٹ سے اس دن جو پڑھایا گیا ہو اسے بتانے کو کہتے . . . جو بتا دیتا وہ بیٹھ جاتا تھا لیکن نہ بتانے والے کو سر فیزکس ڈیپارٹمنٹ میں بلاتے اور وہاں ، عزت کی دھجیاں اڑاتے . . . . " تم بتاؤ . . . . " میں چُپ چاپ کھڑا ہوا اور دماغ کو کھنگال کر سوچنے لگا کہ میں اِس بارے میں کچھ جانتا ہو یا نہیں . . . . . تھیوری آف ریلاٹیویتی كے ٹاپک پر سبجیکٹ تھا لیکن کچھ دن پہلے میں نے کسی اخبار میں کچھ پڑھا تھا اور جو پڑھا تھا وہی سر كے سنا دیا. . . . . " سر ، میرا اک سوال ہے . . . کچھ دن پہلے میں نے پڑھا تھا کہ کچھ چیزیں ایسی بھی ہے جن کی ویلوسیٹی لائٹ كے ویلوسیٹی سے بھی تیز ہے اور اگر ایسا ہے تو پھر آیسٹن کا قانون غلط ہو گیا ، آپ کیا کہتے ہے اِس بارے میں . . . . " " آیسٹن ہو یا کوئی عام آدمی ، کوئی بھی فیزکس كے قانون كے خلاف نہیں جا سکتا . . . بیٹھ جاؤ . . . " " تھینک یو سر" اس دن بہت سے اسٹوڈنٹ سر كے جال میں آ گئے . . . میں چاہتا تھا کہ اظہر بھی اس جال میں پھنس جائے لیکن کمینہ ہوشیار نکلا اور جب سر نے اسے کھڑا کیا تو لمبا چوڑا حساب اس نے دے دیا . . . . . " بڑے غور سے سن رہا تھا سر کا بورنگ لیکچر . . . . . " " مطلب . . . . " " اس کا لیکچر سنے بنا تو اتنا سب کچھ کیسے بول سکتا ہے . . . " " یہ سب تو مجھے پہلے سے معلوم تھا مجھے . . . " کندھے اچکا کر وہ بولا . . . . " میں آج راحیلہ کی کلاس اٹینڈ نہیں کروںگا . . . . " اپنا بیگ بند کرتے ہوئے شوکت نے ہم دونوں سے کہا . . . . " کیوں جا کر گانڈ مروانی ہے . . . " " کمینے . . . " اظہر کو ایک تھپڑ مار کر شوکت نے کہا " جب دیکھو تب گالی بکتے رہتے ہو . . . . " " تو اس کو چھوڑ اور یہ بتا کہ آج راحیلہ میڈم کی کلاس کیوں چھوڑ رہا ہے . . . . سنا ہے بہت ہارڈ سبجیکٹ ہے آج . . . " میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ وہاں سے جائے ، کیوںکہ شوکت كے ساتھ رہنے سے کلاس بورنگ نہیں لگتی تھی . . . " بھائی آ رہا ہے گاؤں سے اور تین بجے انہیں ریلوے اسٹیشن لینے جانا ہے ، . . . " " جب کام تین بجے ہے تو پھر ابھی کیوں جا رہا ہے ، . . . " " بس جا رہا ہوں . . . . کمرے کی صفائی بھی کرنی ہے ، ورنہ بھائی روم میں آکر میرا حال چال بَعْد میں پوچھے گا اس سے پہلے مجھے بولے گا کہ چل پہلے روم صاف کر . . . " " آج تیرے روم میں ہی روکنے کا ارادہ ہے کیا ان کا . . . . " میرے اندر ایک الگ ہی کھچڑی پک رہی تھی جس میں مرچ مسالے ڈالتے ہوئے شوکت بولا . . . " نہیں ، چار بجے ان کی ٹرین ہے . . . " " آج رات میں تیرے روم میں ہی گزاروں گا. . . . " " کیوں . . . " میرے اچانک اس طرح کہنے سے شوکت تھوڑا چونک سا گیا ، " کیوں ، تو آج اس کے روم میں کیوں رات گزارے گا . . . . " اظہر نے مجھے ٹوکا . . . " کام ہے کچھ . . . " " لونڈے بازززز . . . " ایک ردھم میں گاتے ہوئے اظہر نے کہا . . . . " دراصل میں سوچ رہا تھا کہ سارہ جس اسپتال میں ہے ، وہاں جا کر اسے دیکھ آؤں . . . " " شوکت ، لڑکا تو گیا ہاتھ سے . . . " مسکراتے ہوئے اظہر نے کہا " پھر میں بھی چلتا ہوں . . . " پھر کیا تھا ہم تینوں نے اپنا بیگ اٹھایا اور نکل گئے شوکت كے روم کی طرف . . . . پورے راستے میں نے پلان بنایا کہ مجھے اسپتال جا کر اصل میں کرنا کیا ہے ، لیکن پھر یاد آیا کہ ہمیں تو اس اسپتال کا نام تک نہیں پتہ جس میں سارہ ایڈمٹ ہے . . . . . " یار تو کس لیے میرے ساتھ آیا ہے . . . " بائیک پر بیٹھے ہوئے ہی میں نے کہنی سے اظہر کو مارا . . . . " تیرے ساتھ اس اسپتال میں جاؤں گا ، جہاں سارہ ایڈمٹ ہے . . . " " کیسے جائیگا ، پہلے یہ تو پتہ کر کہ سارہ ہے کس اسپتال میں . . . . " کالج سے شوکت كے روم تک کا سفر صرف آدھا گھنٹہ تھا،
  32. 3 likes
    ڈاکٹر خان صاحب میں اس سائٹ کا خاموش قاری تھا پر آپ کی یہ سٹوری نے مجھے مجبور کر دیا ہے ک میں اس پر کمنٹ کروں کمنٹ نا کرنا زیادتی ہو گی کہانی کے ساتھ میں نے آج ہی اکاؤنٹ بنایا ہے لا جواب کہانی لکھ رہے ہیں آپ شیخو سے بہتر لکھ رہے ہو آپ نے مردہ کہانی میں جان ڈالی ہے آپ اس کہانی کو پورا ضرور کرنا اور ہاں ہیرو سب کی ماںبہن کو چود رہا ہے اس کی بہن کیوں بچی ہوئی ہے ابھی تک اس پر بھی کچھ لکھیں آپ کی اپڈیٹ کا انتظار رہے گا
  33. 3 likes
    میں نے آگ جلائی اور چاۓ پکانے لگ گیا جب سب کپڑے بدل کے آۓ تو میں بھی کپڑے بدلنے چلا گیا جب ٹھنڈ سے جسم کانپ رہا تھا سب کامیں چاۓ بنائی سب نے پی اور کھانے کی تیاری کرنے لگے اس دوران باقی پارٹی بھی آگی انہوں نے کپڑے بدلے چاۓ پی اور آرام کرنے لگے دو بھائیوں کو ڈیوٹی لگائی کھانا بنانے کی وہ کھانا بنانے لگ گے باقی آرام کرنے لگ گے میں بھی سوگیا عصر سے کچھ دیر پہلے اُٹھے کھانا کھایا اور نمازیں پڑھی بارش رک گی تھی میں نے اِن سب کو کہا کے میں آج واپس جا رہا ہوں راجوری اور اِن کو کچھ نصیحتیں کیں اور وہاں سے نکل آیا میں رات بھر چلتا رہا دن ہونے سے پہلے میں آمنہ کے گھر پہنچ گیا آمنہ مجھ دیکھ کے بہت خوش ہوئی اس کے ابو سے ملا کھانا کھایا اور سو گیا ظہر کے وقت آمنہ نے بہت پیار سے مجھ جگایا تو مجھے شرارت سوجی میں نے اس کوپکڑ کر نیچے لٹایا اور خود اس کے اوپر لیٹ گیا وہ خاموش رہی میں اس کے ہونٹوں کو چومتا رہا کافی دیر تو اس نے بہت پیار سے مجھے پیچھے کیا اور کہا کے ابھی آپ نمازیں پڑھیں رات کو میں أؤں گی پر میں کہاں چھوڑنے والا تھا میں پھر سے ہونٹوں کو چومنے لگا پہلے تو وہ لیٹی رہی لیکن میری بیتابی دیکھ کر وہ بھی بھرپور جواب دینے لگی آمنہ جب بھی بھرپور گرم ہوجاتی تو اس کی آنکھیں سرخ ہوجاتی اور اس کے گال بھی سرخ یوجاتے تھے میں نے اب اس سے الگ ہوا تو اس نے مجھے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا اور مجھے چومنے لگی ساتھ ساتھ میرے کپڑے اُترنے لگی میں اب اس کو تنگ کرنے کے موڈ میں تھا میں پھر سے کھڑا ہوا اور کپڑے پہنے تو آمنہ نے مجھے پیچھے سے چمٹ کر چومنے لگی میں اس سے الگ ہوا تو اس نے مجھے دھکا دیا چارپائی پر اور میرے اوپر آگی اور میری شلوار کو کھولا اور اپنی شلوار اُتاری اور میرے اُپر آگی اور مجھے چومتی رہی پھر ایک ہاتھ سے میرے نفس کو اپنے سوراخ پر رکھا اور نیچے بیٹھ گی کافی دیر تک بنا کچھ کیے وہ مجھے چومتی رہی پورے چہرے کو پھر اس نے اوپر نیچے ہونا شروع کردیا میں نے کیوروٹ لی اور اس کو نیچے لٹایا اور انتہائی جارہانہ امداز میں جھٹکے دے رہا تھا وہ بہت حوصلے سے برداشت کرتی رہی پھر ہم ایک ساتھ فارغ ہوۓ تو وہ مجھے اپنے سینے سے لگا کر دبانے لگی اس کی یہ ادا بہت پسندی تھی جب بھی میں فارغ ہونے لگتا تو وہ مجھے اپنے ساتھ لگا کے دبالیتی پورے جوش سے میں اس کے اُوپر سے اُتر نے لگا تو اس نے روک دیا کافی دیر تک مجھے کس کرتی رہی میں بھی چومتا رہا نجانا کب آنکھ لگ گی اور میں سو گیا عصر کے وقت آمنہ نے مجھے جگایا وہ نہاکے آئی تھی سخ سوٹ میں بہت پیاری لگ رہی تھی اس نے اوپر ایک فیرن پہنی تھی اور مجھے کپڑے دیے کے میں بھی نہا لوں میں نے کپڑے لیے اور نہانے چلا گیا نماز کے بعد اس نے مجھے دود دیا دودھ پینے کے بعد میں اس کے ابو کے ساتھ باتیں کرتا رہا اورمغرب کی نماز کا وقت ہوگیا میں نے نماز پڑھی آمنہ نے گوشت بنایا تھا کھانا کھانے کے بعد میں آمنہ کے ساتھ باغ میں چہل قدمی کرنے لگا اور آمنہ کو بہت پیار سے سمجھایا کے میری شہادت پر افسوس نہیں کرنا بلکہ اللہ کا شکر ادا کرنا ہے اور اگر بیٹا ہوا تو اس کو میرا جانشین بنانا اس ایک مکمل مسلمان بنانا اور تربیت میں کوئی کم مت رہے آمنہ کا ہاتھ میرے ہاتھ میں تھا میں نے اس کو گن چلانے کی پوزیشنیں سکھائی جس کو وہ بچوں کی طرح سیکھ رہی تھی کافی دیر تک بعد ہم واپس آۓ نماز پڑھی اور آمنہ میرے لیے دودھ لے آئی میں نے آمنہ کو دیکھا اس نے کالے رنگ کا سوٹ پہنا تھا جو بہت خوبصورت لگ رہا تھا اس کے سفید رنگ میں میں نے اس کو پکڑا اور اپنے اوپر کھینچ لیا وہ کٹی پتنگ کی طرح میری باہوں میں گی آمنہ میرے ہونٹ چومتے لگی اور میں برابر جواب دے رہا تھا اور ساتھ ساتھ آمنہ کے جسم کو ناپ رہا تھا اس کے کوہلوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ جر زوروں سے دبایا تو اس نے میرے ہونٹوں کو کاٹنا شروع کردیا اس کی بیتابیاں بڑتی جارہی تھی میں اس سے الگ ہوا اور جلدی جلدی کپڑے اُتارے اس نے بھی اپنے کپڑے اُتارے اور مجھ پر جھپٹ پڑھی مجھے چومتی جارہی تھی یہاںاور ساتھ کاٹتی بھی تھی مزے اور تکلیف سے میں بے حال ہو رہا تھا میں نے پکڑنا چاہا تو اس نے میرا ہاتھ جھٹک دیا اور پھر سے شروع ہوگی اور میرے ہونٹوں کو چومنے اور کاٹنے لگی کافی دیر تک یہ سلسلہ چلتا رہا جب وہ تھک گی تو میں نے اس کو نیچے لٹایا اور خود اس کے اوپر آیا اور اس کے ہونٹوں کو چومتے ہوۓ اس کے سوراخ پر اپنا عضو رکھا اور ایک جھٹکے میں اندر کر دیا آمنہ کو تکلیف تو ہوئی لیکں خاموشی سے برداشت کر گی میں آہستہ آہستہ جھکٹے دے رہا تھا جبکے آمنہ مجھ سے جوش میں تھی میں نے کافی دیر اس کو تڑپایا اس سے پہلے وہ اوپر آتی میں نے اپنی رفتار بڑا دی اب وہ دیوانہ وار مجھ سے لپٹ رہی تھی میرا دونوں ہاتھ اس کے پستانوں پر تھے اور انھیں ذوروں سے مسل رہا تھا اور ساتھ ساتھ کاٹتا بھی تھا آمنہ کا بدن سرخ ہو گیا تھا آنکھیں سرخ اور چہرے کے تاثرات سے لگتا تھا کے اس کانزول قریب ہی ہے میں نے پورے جوش سے اس کو مسل رہا تھا ایک دم اس کا جسم کانپنے لگا اور اس نے مجھے اپنے ساتھ دبایا میں نے دھکوں کی رفتار کم نا کی اس دوران میں بھی فارغ ہونے کے قریب تھا جیسے ہی آمنہ پرسکون ہوئی ہوئی میں فارغ ہونے لگ گیا اس کو جیسے ہی یہ محسوس ہوا تو آمنہ نے میرے ہونٹ چومتے ہوۓ مجھے دبا اپنے جسم کے ساتھ اس کا سینہ میرے سینے کے ساتھ دب گیامیں فارغ ہوا تو آمنہ میرے بالوں میں انگلیاں پھیرتی رہی جب سے پاکستان سے آیا تھا بال نہیں تھے کٹواۓ میرے بالوں کو سنوارتے ہوۓ وہ میرے ہونٹ چومتے رہی اور میری داڑھی میں انگلیاں پھیرنے لگی مجھے اس نے دودھ دیا جو میں نے آدھا پیا باقی اس کو دیدیا اس کے بعد ساری رات کبھی آمنہ اوپر تو کبھی میں آمنہ تھک گی لیکن اس نے افف تک نا کہا منہ سے تہجت سے کچھ دیر قبل ہم اُٹھے آمنہ نے پانی گرم کیا اور میرے ساتھ غسل کیا غسل کے دوران میں اس کے ساتھ مستاں کرتا رہا اور وہ میرے حرکت کا بھرپور جواب دیتی غسل کے بعد میں نے نماز پڑھی کچھ دیر تلاوت کی پھر فجر پڑھی اور فجر کے بعد آمنہ کو اپنی باہوں میں بھر کے سو گیا 11 بجے میری آنکھ کھلی تو میں نے آمنہ کو آواز دی جیسے ہی آمنہ کو میرے جاگنے کا پتہ چلا اس نے مجھ کہا آپ منہ ہاتھ دھولو میں کھانا لے کے آتی ہوں
  34. 3 likes
    میں نے جب زرا غصے سے کہا تو بوڑھا بولا کے آپ تو چلے جائیں گے لیکن آرمی اور پولیس میری بیٹی کو اُٹھا کے لے جاۓ گی میں اور حیدر ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے میں نے حیدر کو کہا اس کو باہر لےجا کر زبح کر دیں گے وہ بولا ٹھیک ہے ہم جانے لگے تو بوڑھا ہاتھ جوڑ کے بولا کے بھگوان آپ کا بھلا کرے میں نے ہنس کے کہا اچھا انہوں نے ہمیں بکریوں کا دودھ دیا یہ بکر وال تھے ہم نے دودھ پیا اور فوجیوں کی جیبوں سے جو پیسے نکلے وہ سب اِن کو دے دیے میں نے حیدر کو کہا جیپ لے کے خالی جگہ کی طرف آؤ اور اس کے اندر دوسرے دونوں فوجی بھی ڈال لیے میں نے اس افسر کو بیچ روڑ پر لیٹا کر ذبح کر دیا اور اس کی لاش گھسیٹتا ہوا گاڑی کے پاس لے گیا اس کی لاش گاڑی میں ڈالی اور ایک بوبی ٹریپ لگا دیا 4 گرنیڈ لگا کے اور واپس اس ہندو کے گھر گے اور اس کو بولا کے کل کپڑے لے کے آنے ہے تم نے اس کو پیسے دیدے بارش ہو رہی تھی کیچڑ اور خون سے کپڑے لت پت تھے تقریباً بارہ بجے ہم واپس ہائیڈ پر آۓ کپڑے سارے گیلے ہوگے تھے ایک ایک جوڑا تھا سوٹوں کا وہ نکالا پہنا اور سوگے تہجت پڑھی پھر فجر تقریباً صبح 8 بجے کے قریب دھماکے کی آواز سنائی دی اس کے بعد میں نے سیٹ چلایا اور شکاری لگائی سیٹ پر افسر چیخ چیخ کر زخمی ہونے کا بتا رہا تھا اور امداد مانگ رہا تھا جب امداد پہنچی اور سارا کام مکمل ہوتا تو ایک صوبیدار نے ساری کاروائی سنائی کے کیسے جیپ میں لگے گرنیڈ پھٹے اور 8 فوجی پھر مارے گے اور تقریباً اتنے ہی زخمی ہوۓ ناشتہ کرنے کےبعد ہم سوگے بارش ہو رہی تھی مسلسل اور سردی کا بھی احساس ہو رہا تھا میں نے حیدر کو کہا کے اگر تمہیں پیر پنجال کا کمانڈر بنا دوں تو وہ ہنسنے لگا اور بولا مجھے کمانڈری نہیں لینی مجھے بس ایک سپاہی بن کے لڑنا ہے میں ہنسنے لگا آج سارا دن اندر رہنا تھا باہر بلکل بھی نہیں نکلنا تھا آرمی کتوں کی طرح جگہ جگہ ہمیں سونگھ رہی تھی ایک مہینے میں اتنے حملے آرمی کی جیسے گردن پکڑ لی ہو کسی نے ظہر عصر پڑھی اور پھر مغرب عشاء اس کے طعد ہم نکلے اور اُس بوڑھے کے گھرگے اس نے ہمیں کپڑے دیے اور بتایا کے آرمی اس کی گلی سے پوچھ تاچھ کرتی رہی اور جب گاڑی کے پاس گے تو دھماکا ہوا اور اُن میں سے کافی مارے گے ہم وہاں سے نکلے آۓ مجھے اندازا تھا کے اب أرمی را کو میدان میں اُتارے گی رات آرام کیا اگلے دن بھی وہی روٹین عصر کے بعد میں نکلا باہر اکیلا بارش رک گی تھی لیکن بادل بنے ہوۓ تھے میں اُسکھ فوجی کے پاس گیا اس سے بات چیت کی اس کو ایک بوتل شراب اور کچھ پیسے دیے تو اس نے بتایا کے را اب یہاں کے تمام کشمیریوں پر نظر رکھ رہی ہے میں نے اس پوچھا کے را کا ہیڈکوارٹر کہاں ہے اس نے بتایا کے اوڑی میں ہے لیکن بہت سخت سکیورٹی ہے وہاں پورا برگیڈ ہے میں نے اس سے اجازت لی اور نکل آیا ہائیڈ پر آیا حیدر سے بات کی اور کنٹرول روم میں ایچ ایم کے بندوں کا پتہ مانگا جوساتھ کام کریں تو وہاں سے بتایا گیا اُن کا اڈریس اب ہمیں انتظار تھا اپنی ڈیمانڈ کا جو دو دن میں آجانی تھی اس دوران ایچ ایم والوں سے رابطہ کیا اور اوڑی کیمپ کی مکمل معلومات لینے کا کہا تو انہوں نے کہا وہ پورہ برگیڈ ہے کیا کرنا ہے وہاں میں نے اُن کو کہا آپ معلومات لو باقی بعد کی بات ہے انہوں نے معلومات لی اس دوران ہماری ڈیمانڈ آگی میں نے پیر پنجال پلوامہ پام پورا ان سب علاقوں سے تما گوریلے اکٹھا کیے ان میں سے 12 لڑکے چنے ان سب کو بتایا کے یہ ون سائیڈ مشن ہے واپس ناممکن ہے تقریباً وہ سب تیار ہوگے میں نے کہا کے 2 پیکا اور2 آرپی جی سیون 20 راکٹ اور 600 گولیاں ہم نے کیمپ کو 3 حصہ تقسیم کیا ایک پر پکا والے ایک پر راکٹ والے اور بیرکوں اور دفاتر کی طرف میں نے انٹری کرنی تھی انٹری کے لیے پاکستان سے آۓ تربیت یافتہ لےکے جانے تھے وادی کا کمانڈر حذیفہ بکروال تھا اس نے کہا کے یار یہ تو بہت بڑا کیمپ ہے اپنا نقصان ہوگا میں نے کہا اللہ پر توکل رکھا سب اچھا ہوگا ہم نے اپنا منصوبہ مکمل تیار کر لیا ہم نے ہفتے کی رات طے کی کیونکہ اس رات انڈین آرمی کو شراب ملتی ہے اور وہ سب نشے میں ہونگے آج جمعرات ہے میں نے اور حیدر نے اپنی اپنی میگزینیں بھری اور سارا دن تلاوت کی نمازیں پڑیں رات کو میں نے حیدر کو لیا اور آمنہ کے پاس چلا گیا آمنہ مجھے دیکھ کے بہت خوش ہوئی اپنی ابو کے سامنے وہ کنٹرول کر گی ورنہ وہ وہیں مجھے لیپٹ جاتی مجھے کمرے میں لے کے گی اور دروازے پر ہی مجھ سے لپٹ گی میں نے کہا ساری رات اپنی ہی ہے تو وہ شرما گی کھانا وغیرہ کھانے کے نعد وہ سرخ کپڑوں میں آئی اور بے حد خوبصورت لگ رہی تھی میں نے بھاگ کے اُس دبوچ لیا تو ہنسنے لگی اور ساتھ ہی مجھے شدت سے کس کرنے لگی آہستہ آہستہ وہ شدت سے میرے ہونٹوں کو نوچنے لگی کافی دیر تک کس کرنے کے بعد اس نے کپڑے اُتے نیچے کچھ نہیں پہنا تھا اس نے وہ میرے اوپر آئی اور کہنے لگی کے مجھے کرنے دیں سب کچھ تو میں نے کہا کرو اس نے میرا ماتھا چوما اور پھر سارا چہرا چوما اس کے بعد میری چھاتی چومی اور ساتھ ہی ایک ہاتھ نیچے لےجاکے میرے عضو کو اپنے سوراخ پر رکھا اور آہستہ سے نیچے ہوئی کافی دیر کس کرنے کے بعد وہ اوپر نیچے ہونے لگی اور میں نے اس کی چھاتیوں کو زوروں سے دبانا شروع کیا تو وہ سسکیاں لینے لگی اور ساتھ ہی اپنے اختتام کو پہنچ گی اور زور زور سے سانس لینے لگی میں نے انتہائی پیار سے اس کو نیچے اوتارا میں ابھی تک فارغ نہیں ہوا تھا اس نے جب محسوس کیا تو مجھے اپنی باہوں میں زور سے دبایا اور کس کرنے لگی میں بھی جواب دینے لگ گیا پھر اس نے مجھے کہا آپ اندر کرو میں نے دوبارہ اندر کیا اور پیار سے اس کی چھاتیاں چوسنے لگا میں نے ہونٹ ہٹاۓ تو جہاں ہونٹ رکھتا تھا وہ جگہ سرخ ہوجاتی تھی میں نے اس کی انکھوں میں دیکھا تو ایک دفعہ اور کل کے بارے میں سوچ کے دل ایک دفعہ کانپ گیا کے میں اگر وہاں سے نا لوٹا تو؟؟؟؟ پھر سوچا اپنا سب کچھ اس موت کے لیے ہی چھوڑا ہے عورتیں تو پاکستان میں بھی مل جاتی اس سوچ میں ہی میرا موڈ ختم ہوگیا اور میں سائیڈپر لیٹ گیا آمنہ نے جب یہ دیکھا تو وہ میرے اُپر آئی اور مجھ سے لپٹ گی میرے ہونٹوں کو چوم کے کہنے لگی کیا بات ہے مجھ سے ناراض ہیں میں نے کہا نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں بس دل نہیں ہے اس نے پھر سے مجھے چومنا شروع کیا اور کافی دیر چومتی رہی یہقں تک کے میرا پجر سے موڈ بن گیا جب اس کو یہ محسوس ہوا تو اس نے مجھے اوپر کھینچ لیا اس کے بعد میرے عضو کو اپنے اندر اوتار لیا اب میں نے بھرپور جوش سے جھٹکے لگانے شروع کیے جیسے ہی میں اوپر اُٹھنے کی کوشش کرتا تو وہ مجھے خود پر گرا لیتی اس دوران مجھے اپنے نزول کا احساس ہوا وہ ابھی فارغ اہوئی ہی تھی جب اس کی میرا احساس ہوا تو اس نے بھرپور طریقہ سے مجھے پیار سے اپنے ساتھ دبا لیا اور میں فارغ ہوگیا کچھ دیر بعد وہ نیچے سے نکلی اور دودھ لے آئی گرم کر کے اس میں زعفران ڈالی تھی میں نے پی لیا اور وہ برتن رکھ کے کے آگی اور میرتے ساتھ لیٹ گی
  35. 3 likes
    کہانی کا سٹارٹ اچھا ہے اور اب املا میں بھی بہتری ہو رہی ہے ۔ گڈ ورک
  36. 3 likes
    Boht acha start hai umeed hai app ki ye kahani b achi hogi.
  37. 3 likes
    سلام ۔۔۔۔۔ دوستوں کے کمنٹس ھی لکھاری کےمزید سنوارنے نکھارنے میں مددگار سنگ میل ثابت ھوتےھیں ۔۔ فقط آپکا بارانی تھنڈر
  38. 3 likes
    پرائی شادی میں ۔۔۔ دیوانہ کھانی نمبر 8 پارٹ ون خالہ ھو تو ایسی۔۔۔ دو سھاگ راتیں اس چلبلے دوست کو ھم رئیس کم نوھانی پپو سے زیادہ مخاطب کرتےتھے۔ پتلی سی ناک اور ڈمپل پڑتے گال پر تو دوست مزاق مزاق میں چمیاں دیتے رھتے تھے لیکن کچھ ۔۔۔۔۔۔ آج اسکی شادی ھے یار لیکن گانڈو کی قسمت گانڈو نہی تھی۔۔۔ ھاھا ھمیں ولیمے میں کام کرتے سارا دن گزر گیا اور ھمارا پسندیدہ مشغلہ پہلی رات کی کھانی سب سے پھلے سننے کا بھی موقعہ مھمانوں کی زیادتی کی وجہ سے میسر نہی ھوسکا تھا ۔ جس کی بڑی وجہ کا اندازہ بھی اپکو کھانی پڑھنے سے ھوجائیگا۔ جب شام کے پانچ بجے تو ھمیں حیرانگی ھوئی جب اسکا باپ ایک دفعہ۔پھر دولھا کی۔گاڑی سجائے ڈھول۔باجے والوں کو لیکر ھمارے پاس آیا ۔اور بولا کہ چلو بارات تیار ھے ۔ ھم نے کھا کہ اگر یہ بارت ھے تو کل کیا تھی۔ وہ ھنس پڑے اور پپو کو ھماری طرف بھیج دیا۔ ھم ھکا بکا کھڑے تھے کہ اس نے کھا کہ آج بھی کل کی طرح نہی ناچے تومیں تمھیں رات کی کھانی نہی سناؤ گا یہ دھمکی تو ھمارے لئیے پرانی تھی کہ ھر دوست کام نکلوانے کی خاطر کھتا رھا ھے ۔مگر پھر خود ھی پیٹ درد کے مارے سنا ھی دیتا تھا۔بھرحال آتےھیں پھلی رات کے احوال پر ھمارے اس دوست کی بیوٹی خوب صورتی خاندان بھر میں مشھور تھی نازک اندام سا پتلا۔ ستواں ناک لال لال پتلے ھونٹ آواز میں لوچ پن اوپر سے غضب اسکی چال جیسے لڑکی چل رھی ھو۔ موٹی سی گانڈ لیکن شھر بھر کا شھزادہ تھا ۔اچھا اوپر سے پٹواری کا بیٹا تھا۔ کنجوس بھی نہی تھا ۔ کسی بھی دکان پر جاتا دوستوں کے ساتھ تو بل اسی نے دینا ھوتا اگر کوئی اور دوست دیتا تو کھتا ماں رئیس اھیاں ۔تو وری چھو دیندے پیسہ ۔۔۔ ایسا چلبلہ تھا ھمارا دوست17 سال کی عمر میں بھی اسکے ھاتھ بڑے نرم۔ونازک ملانے والے کوایسالگتا جیسے کسی لڑکی سے ھاتھ ملالیا بیمار پڑی دادای کی خواھش پر اسکی شادی رکھی گئی۔ پیسے والی پارٹی تھی کوئی پرواہ نہ تھی شادی سے ایکدن پھلے مھندی والی رات مردوں کی بھی ایک محفل رکھی گئی تھی جسمیں ناچو لڑکے کراچی سے اسکے ایک رشتہ دار نے منگالیئے تھے۔ جب انھوں نے ٹھمکے لگائے تو ادھر کے ٹھرکی وڈیرے شراب پی کر غل غپاڑہ کرتے رھے۔ کچھ نے آخر میں کھلم کھلا اپنی اپنی پسند کے لڑکے کو زوری ھاتھ سے پکڑا اور اپنی گاڑی میں بیٹھا بھی لیا۔ ۔لیکن ان سب کی اگلے دن شادی میں ناچنے والی پوزیشن نہی رھی۔۔۔ھاھا۔۔۔ بھر حال جب برات روانہ ھوئی تو ھمی دوست ان کے کام آئے دولھا کے سامنے ٹھمکے لگانا اور جیسے تیسے ناچنا انڈین گانوں پر ۔۔ رات کو جب سب تھک تھک کے اپنے گھروں کو روانہ ھوئے تو میوا نے۔مجھے بلاکر اندر بیٹھک میں بٹھا لیا اور دیگر رشتہ دار دوستوں کو رخصت کرنے کے بعد اس نے بڑا سیریس ھو کر کھا کہ یار گانڈ مارنا اور بات ھے اور آج تو مامے کی بیٹی ھے یہ تو گھر کی عزت کا مسئلہ ھے اسکی کیسے لوں تو کوئی مشورہ دےگا تو ھم نے وھی کھانی سنائی کہ جس پر مجھے تھپڑ پڑے تھے یاد ھے نا اپکو۔۔۔ ھاھا اس نے آخر کار ھمی سے گولی منگوائی دودھ منگوایا مجھے بھی پلایا اور خود بھی گولی کھا لی اب مجھے کھا کہ اب یہ گھنٹہ میرے ساتھ بیٹھے رھو کچھری کرتے ھیں ۔میں نے کئی بھانے کئیے کہ جانا ھے لیکن پپو اس وقت میرے ساتھ اکیلا بیٹھا آگے کے پلان پر مشورے لے رھا تھا جبکہ۔ھم دونوں کو خبر نہی تھی کہ کل کیا ھونے جارھاھے۔ اسکی آواز بھی لڑکیوں جیسی تھی میں نے کھا کہ موٹی آواز بنا جس سے تیرا رعب تو بنے ایسا نہ ھو کہ وہ تجھے کھدڑا ھی نہ سمجھنے لگے آگے کی کھانی اسی کی زبانی۔ رات کو دو بجے کے لگ بھگ اماں نے ھی مجھے بیٹھک سے بلا کر کمرے میں انگوٹھی والی ڈبیا پکڑا کر روانہ کیا ۔ میں نے اندر داخل ھوکر سلام کیا کوئی جواب نہ ملا لیکن ھم نے بھی ڈھٹائی سے زور سے دوبارہ سلام کیا ۔جس پر ھلکے سے جواب ملا ھم نے گھونگٹ اٹھا کر جب انگوٹھی پہنائی تو ھم اپنے سے بھی کم عمر لڑکی کو دیکھ کر اپنی اماں کی پسند پر بھت خوش ھوئے ۔ اماں نے بھائ کی لڑکیوں میں سے جو مجھے پسند تھی وہ کرواکر دی تھی۔ چھوئی موئی سی بن کر بیٹھی تھی جب ھم نے ھاتھ پکڑلیا اور اپنی طرف کھینچا تو نخرے کرنے لگی ھم نے بھی ریئسانی دب دی کہ میرے طرف آتی ھے تو ٹھیک ورنہ میں اماں کو بلا تا ھوں ۔ کیوں کہ مجھے پتہ تھا کہ وہ میری اماں سے میری طرح بھت ڈرتی ھے۔ ھم نے پھر اسکو بانھوں میں بھرا پپیاں شپیاں لیں بارانی کے بتائے ھوئے اسٹیپ پر عمل کرتے جب ھم لپ کسنگ پر آئے تو اس نے کھاکہ ھم نے یہ کبھی کیا نھی ھم کو نہی کرنا۔ میں نے کھا کہ پرواہ نہ کر میں نے بھی کسی سے سیکھا ھے۔۔(یہ سکھانے والا میں نہی تھا) ھاھا۔ تو بھی سیکھ جائیگی اھستہ اھستہ پھر ھم نے اسکے چھوٹے چھوٹے مموں پر ھاتھ پھیرا اس سے کپڑے اتروائے اپنے بھی جب اس نے ھمارے کھڑےلن کو دیکھا تو معصومیت سے بولتی اپکو پیشاب لگا ھے جلدی سے کر آؤ۔ میں نے کھاکہ تم کو کیسے پتہ کہ مجھے پیشاب لگا ھے تو بولتی کہ ھم نے دیکھا جب چھوٹے بچے کو پیشاب لگتا تھا اتو اماں بولتی جا اسکو پیشاب کرا لاو ۔ ھم نے ھنس کر اسے جپھی ڈالی اسکے چھوٹے ممے کو منہ میں ڈال کر چوسنا شروع کردیا۔ پھر ھم اسکی پیٹ کی طرف پپیاں لیتے پھنچ گئے اس کی ناف میں جب زبان لگائی تو اس نے چھی چھی کرتے ھمیں ھٹایا کہ گندی جگہ کومت چومو ریئس کامنہ خراب ھوجائیگا۔ بھر حال ھم نے اسے اپنے اوپر لٹایا اس کے منہ اور مموں کو پھر سے چوسا اسے گرم کیا اور پھر اسے اپنے نیچے کر کہ اسکی چوت پر ھاتھ پھیرا جس سے اسے سخت گدگدی محسوس ھوئی اور اس کی ھنسی نہ بند ھو مجھے بارانی پر سخت غصہ آرھا تھا کہ یہ اسنے ھمیں کس کام پر لگادیا تھا جسکی ھماری بیگم کو خبر ھی نہ تھی ۔ ھم۔نے اپنے لن کو ھاتھ میں لیکر اسکی چوت پر رکھا اوپر اوپر سے رگڑنے لگا پھر ایک دم جوش میں آکر جو زوردار جھٹکا مارا تو اسکے منہ کو بند رکھنے والا اسٹیپ تو ھم کو یاد ھی نہ تھا تھا۔ زبردست چیخ کے ساتھ وہ تڑپ کر ھمارے نیچے سے نکل گئی اور ھم ھکا بکا اسے دیکھنے لگے کہ یہ کیا ظلم ھوگیا ھم سے کیوں کہ اسکی چوت سے خون نکل رھا تھا۔ سچی بات ھے کہ ھم نے اسی وقت بارانی کو دس گالیاں بکیں کہ یہ تو اس نے بتایا ہی نہیں تھا کہ خون بھی نکلے گا لڑکی کا اور خون نظر آ ئے تو کیا کرناھوگا۔ بھر حال وہ بھی رئیس کی لڑکی تھی روتی بھی تھی اور منہ پر ھاتھ بھی خود ھی رکھ لیتی تھی۔ کچھ دیر ایسی ھی گزری تو ھم نے پھر دل۔میں سوچا کہ کا اگر آج نہی چودا تو اسپر رعب کیسے بیٹھے گا اور دوسرے اماں والے صبح چادر کو چیک کرتے تھے کہ کچھ ھو ابھی یا لڑکے میں ھی دم نہی۔۔۔ ھم نے پھر اسے پٹایا کہ یہ ایک دفعہ کا درد ھوتا ھے پھر مزے ھی مزے لیکن اس کے نخرے تھے کہ نہی بھت درد ھوتا ھے ھم نہی کروانا۔ اب ھم نے پینترا بدلہ کہ چلو نھی کرتے آؤ جپھی ڈال کر سوجاتے ھیں ۔ وہ اسپر راضی ہوگئی اور ھم نے اسے اپنے ساتھ لٹالیا پھر کوئی آدھ گھنٹے بعد اس کی کمر پر ھاتھ پھیرتے گانڈ کے ساتھ جب اپنا لن ٹچ کیا تو اس نے کچھ نہ کھا تو ھم نے پھر سے مستی شروع کردی اب ھم باھر باھر سے لن رگڑ رھے تھے ۔ میں نے اسے کھا کہ دیکھ تو اپنے ریئس کا دل نہ دکھانا سب کام پیار محبت و برداشت سے ھی ھوتے ھیں اس نے وعدہ کیاوہ اب برداشت کرلےگی۔ھم نے باھر سے رگڑائی کے عمل میں ایک دم سے اندر کی طرف جب لن کو آرچ کردیا تو اس بار بھی اسکی ھلکی چیخ نکلی مگر پھر اس نے دانت بھینچ لیئے اور برداشت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کرنے لگی۔ اب ھمارا تولڑکوں والاتجربہ تھا ڈالنے کے بعد رک جانے کا سبق تو ھم نے سیکھا ھی نہ تھا ۔ دے مار ساڈے چار۔ کام کھینچ رکھا ۔ کچھ دیر تک تو وہ ضبط کرتی رھی لیکن آخر کب تک اس نے ھمارے ایک زبردست گھسے پر پھر مشتعل ھوکر چیخ ماری ۔ اور ھمیں کھا کہ رئس زرا سکون کر گانڈ پھاڑے گا کیا۔ ھم نے جلدی سے نیچے دیکھا کہ کھیں ھم گانڈ میں تونھی مشین چلا رھے ۔ لیکن لن تو ھمارا چوت میں ھی تھا۔ زرا سکون لینے کے بعد جب ھم نے دوبارہ دھکے لگانے شروع کیئے تو کمرے سے باھر ھمیں کچھ زور زور سے باتیں کرنے اور لڑائی جیسی صورتحال محسوس ھوئی مگر ھم نے اپنا کام جاری رکھا ۔ کچھ دیر۔ بعد ھماری بیگم نے بھی ھمارا ساتھ دیتے ھوئے نیچے سے گھسے لگانے شروع کر دی اور ھم دونوں ایک ساتھ منی نکال کر فارغ ھوئے ھی تھے کہ ھمیں دروازہ بجانے کی آواز آ ئی ھم نے کھا زرا صبر بابا۔۔۔ بھرحال جب ھم کپڑے پھنے باھر کی صورتحال کا جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ ھماری خالہ نے ھنگامہ مچایا ھوا ھے کہ تم نے میری بیٹی کا رشتہ بچپن میں مجھ سے کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اب اپنی گھروالی کی باتوں میں آکر اسکے بھائی کے گھر سے رشتہ کرلیا ھے ۔جس پر اس نے احتجاجاً صبح سے کچھ نہی کھایا اور اب ابا سے کھنے لگی کہ مجھے زھر دے دے یا میری لڑکی کو بھی بیاہ لے آ۔ جس پرمیری ماں بضد تھیں کہ جو ھوناتھا سو ھوگیا۔ لیکن میرے ابو نے مجھ پر سارا ملبا ڈال دیا تھا کہ اگر اس نے ھاں کردی تو میں یہ بھی کرلوں گا میری بھن کی بیٹی ھے آخر۔ تازہ تازہ ایک پھدی مارے بیٹھا تھا اور اب ایک اور پھدی کے ملنے کے امکانات پیدا ہوگئے تھے مجھے اب خاندان کی روایت کے مطابق نا تو کرنی نھی تھی ۔ لیکن خالہ کھتی تھی کہ ابھی اسی وقت چلو میں لڑکی دیتی ھوں میرے ھاں کرنے پر اماں کو غصہ تو بھت آیا مجھ پر لیکن دوسرے لوگوں کے سامنے مجھے اب وہ پٹیاں بھی نہی پڑھا سکتی تھیں۔ان سے اور کچھ نہ ھوا تو اندر جاکر چادر اٹھا لائی اورایک طرح سے اشارا دیا کہ دیکھنا ایسی چادر اگر مجھے دوبارہ نہی ملی تو میں تیرا جینا حرام کر دوں گی۔۔ میرا ابا بھی بات کی تہہ تک پھنچ کر بولا صرف تیرے سائڈ والے ھی پاکباز ھیں کیا۔۔ ھمارا خاندان بھی کچھ ایسا ویسا نھی ھاں۔۔۔ انکی تو ضد پڑگئی جبکہ میں سوچ رھا تھا کہ بیٹا تیری اب خیر نہی اگر کل بھی رڑیاں باھر نہی گیئں تو پھر سمجھ لے ۔۔۔۔ تیری اماں ھی تیری دشمن ۔۔ خیر خالہ کو تسلی دی کہ صبح ولیمہ ھوتے ھی شام کو تیرے گھر ھم پھنچ جائینگے۔ تب کھیں ماحول ٹھنڈا ھوا اور ھمیں پھر کمرے میں دھکیل دیا گیا اس نے پوچھا کہ۔کہا۔باتیں ھوئیں ھم۔نے ساری اسٹوری سنائی۔اس دوران بیگم ھماری سوگئی تھی اور ھم نئی چوت کے بارے میں سوچتے سوچتے اس کے قریب ھوگئے اور جپھی ڈال کے سوگئے۔۔صبح سویرے خالہ میری نے تو فردا فردا سب کو بتایا کہ آج تم نے جانانہی شام کو میری لڑکی کی بھی شادی ھے۔ اور با با میرا ولیمے کے انتظامات کے ساتھ میرے لیئے اپنا کمرہ خالی کرکہ اسکی سجاوٹ میں لگ گئیے مجھے بھی کام میں لگا دیا گیا۔۔ پلنگ ارجنٹ میں بڑے شھر سے لانے کے لیئے الگ پارٹی روانہ کردی گئی۔ نئی دولھن لانے کے چکر میں اسکی رسومات کی اکسی کو خیال ھی نہ آیا جس پر اماں والی پارٹی نے ھلہ گلہ شروع کردیا۔۔۔ تھا کھنے لگیں کہ ایک۔تو سنبھالی نہی جاتی چلیں ھیدوسری غیبت کو گلے لگانےاور اس طرح نئے آنے والے مھمانوں کو بھی یہ چک چک سے پتہ چلتا جارھا تھا کہ۔مابدولت کو دوسری دفعہ سھاگ رات کے مزے لوٹنے کا موقع آج ھی میسر آرھاھے کئی رشتہ دریاؤں کو یہ مسرت آمیز خوشخبری سنائی گئی۔ میں نے دو دفعہ کمرے کا چکر لگایا کہ رات وہ بات پوری سننے سے پھلے ھی سوگئی تھیں۔ اسکو مطمئن کرسکوں۔لیکن اسکی سھیلیاں اسے گھیرے ھوئے تھیں۔ لیکن ایک ایسی بھی تو تھی جو سب سے الگ مجھے تاڑ رھی تھی۔ مجھے رشک بھری نظروں سے دیکھتے ھوئے۔۔۔۔۔۔۔ جاری ھے ۔
  39. 3 likes
    ہاہاہاہاہا.... خاموشی کسی وجہ سے ہے. بس جلد ہی آوازیں آئیں گی. اپڈیٹ بہت ہی لاجواب ہے. حالانکہ بہت لمبی اپڈیٹ ہوتی ہے پر پڑھتے وقت بہت چھوٹی لگتی ہے.خوش رہو.
  40. 3 likes
    Sab doston ko salam, Aj he is fourm pe register howa hon to ye post dekhi jis me apna taruf karwaya gaya to socha me na chez bhe apna hissa dalta chalon. Mera name umair afridi Age 32 years Married hon alhamdulillah Qualification master in computer science Job/designation.... Department of Tourism (Tourism in Pakistan through government sector) se taluq hai. Mature women ka dil dada hon, aik bohat arsy se sex related stories parhta aya hon. Baqi agr kisi ko kuch janna ho to banda hazir hai. Wasalm
  41. 3 likes
    پسند کرنے کا شکریہ۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ ہم کہانی کو مکمل کریں۔
  42. 3 likes
    ۔ل ن کی کمائی ۔ سب نے کھائی۔ اپڈیٹ 8 ۔شروع والے صفحات کے حذف شدہ میں سے چیدہ چیدہ۔۔۔ جب میں نے میز والوں کی طرف دھیان سے دیکھا توپنھل اپنی ٹانگ پکڑ کر بیٹھا جب کہ دھرم ھنس رھا تھا۔ اس نے بتایا کہ صاحب جی یہ آپکی طرح مجھے گھوڑی بنا کر چودنے کی کوشش کرتے ہوئے میز کے کنارے ٹکرایا تو چیخ مارا۔۔۔اسےنیچے اتر کر پنھل کی۔مالش کرنے کا کہ دیا میں نے۔۔۔ دھرم نے کچھ بات کرنی چاھی تو میں نے کھا کہ صبح بات کریں گے۔ صبح جب میں اپنی جھگی میں دیسی انڈے کچے ھی پی رھا تھا تو دھرم ناشتہ کر کے میرے پاس آیا ۔ کھنے لگا کہ صاحب جی میرے والے زمیندار بھی شرطیں لگانے کے شوقین ھیں اگر میرا حصہ رکھو تو میں مقابلہ رکھوا سکتا ھوں۔میں نے کھا کہ ٹایم و تاریخ میری مرضی کی ھوگی تو ٹھیک ورنہ مجھے زیادہ شوق نہیں۔ اس نے میری کچی جھگی اسمیں پھرتے مرغے مرغیاں اور باھر بھیڑ بکریوں کا فارم دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا۔ میں نے اسے کھا کہ اگر وہ جانا چاھے تو چلا جا ئے رات تم نے میرا گیم میں اچھا ساتھ دیا ھے اس لیئے میں نہی روکوں گا۔ اسنے کھا نہی مجھے کوئ جلدی نہی ھے اگر وہ میرا چاقو واپس مل جائے تو اچھا ھوگا۔ میں نے پنجاب سے منگوایا ھے۔ جسپر میں نے بتایا کہ وہ ابھی تو نہی مل سکتا ھے۔۔۔ لیکن اس کی واپسی کی بھی فیس ھوگی۔ جس پر اس نے اپنی گانڈ پر ھاتھ رکھ کر کھا کہ میں تو ابھی حاضر ھوں ھم بھاگڑی ھے ھم بھاگنے والوں میں سے نہی ۔میں نے کھا کہ کچھ سیل پیک مال کھلا تو میں تیری بھادری مانوں گا ۔ اس نے کھا کہ کچھ اسکیم لڑاتا ھوں تو ایک دفعہ میرے ساتھ گاؤں چل تو پھر تجھے یہ میمیں آنٹیاں سب بھول جائیں گیں۔۔۔ میں نے ھنستے ھوئے کہا کہ بے وقوف یھی تو میری کمائی کا ذریعہ ھیں اور کبھی کبھی سیل مال بھی مل جاتا ھے ان کے تھرو۔۔۔ تجھے کیا پتا کچھ بڑے گھرانوں میں تو اپنی اولاد گھوم رھی ھے۔۔ اسے بڑی حیرت ہوئی کہ ایسا کیسے ھوسکتا ھے۔ ۔میں نے اسے بتایا کہ میں نے بینک جانا ھے رقم۔جمع کرانے میں گاڑی پر جاسکتا ھوں لیکن وھاں گاڑی پارک کرنے میں زرا مسئلہ ھوتا ھے ۔ اگر وہ مجھے بینک تک لے چلے تو بات بھی ھوجائیگی۔ ھم بینک میں رقم جمع کرواکر واپس آنے لگے تھے کہ ایک حسینہ مہ جبیں بینک میں داخل ھوئی تو بینک منیجر نے اس کو بھی اپنے روم میں بلوالیا۔ میڈم کرن سے میرا تعارف کراتے ھوئے کھا کہ ان کا بھی لائیو اسٹاک میں بھیڑ بکریوں کا فارم ھے آپ ان سے اپنامسئلہ ڈسکس کر سکتی ھیں۔ جس پر اس نے چشمہ اتار کر بڑے غور سے مجھے دیکھا۔ میں نے دیکھا تو اس کے سفید چھرے پر اوپر والے ھونٹ بائیں جانب ایک خوبصورت تل نظر ایا۔ اسکے پتلے پتلے گلابی ھونٹ بھت دلکش نظارہ پیش کر رھے تھے۔ جبکہ بڑے بڑے ممے پنک بریزر سے نکلنے کو بیتاب نظر آ ئے۔ اس کے ھپس بھی موٹے اور قدرے اوپر کو اٹھے ھوئے نظر آتے تھے۔ اس نے اپنے ممے کو مجھے گھورتے دیکھ کر دھیمی آواز میں کھا کہ لگتا ھے تازہ دودھ پینے کا بھی بھت تجربہ رکھتے ھو ۔ میں نے کھا کہ میں سب کچھ مشروط کرتا ھوں۔ اس نے ۔۔۔۔ سب کچھ پر ۔۔۔ کافی زور دیا۔۔۔۔ پھر اپنامسئلہ بیان کرتے ھوئے کھا کہ میں نے بینک۔منیجر کے کھنے پر پھلی دفعہ بکریاں پالنے کا فارم کھولا ھے۔ جنکی تھرو خریداری کی ھے اس نے کل ایک بڑے قد کا بکرا بھیجا جو اپنا پیشاب خود پی رھا ھے۔ جس سے مجھے حیرت ھوئی ۔۔۔ میں نے کھا کہ یہ خصی بکرا ھے جسکے بچپن میں ہی ٹٹے ایک مخصوص وقت اور انداز میں باندھ د ئیے جاتے ھیں ۔جس سے یہ بکرا افزائش نسل کے کام کا نہی رھتا ۔البتہ قربانی کے وقت یہ بکرے بھت اچھی رقم دے جاتے ھیں۔ میں نےاس کو میرے فارم کو وزٹ کرلینے آفر کی۔۔۔ اس نے کچھ دن بعد آنے کا کہ کر وزٹنگ کارڈ دیا جسے میں نے چوم کر رکھ لیا۔ جسے اسنے پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ھوئی چل پڑی ۔۔۔ دھرم نے بتایا کہ یہ میڈم کرن میرے زمینداروں کے ڈیرے پر کچھ دن پھلے ھی آئی تھی۔ اسکے ساتھ دو دوشیزائیں بھی تھیں ۔۔ بڑے نخرے کرنی والی رانڈ ھے یہ اس نےمیرے سامنے سامنے ھی دو بندوں کاایک ھی وقت میں لن لیا تھا ۔ جلدی منی نکل جانے پر انکو گالیاں بھی خوب دی تھیں جس پر لڑائی شروع ھو گئی بچل وڈیرے نے پھر اسکو لڑکیوں سمیت اپنی گاڑی میں روانہ کردیا تھا۔ بھرحال واپسی پر ھمیں پنھل نے گیٹ پر ھی چمپا اور اسکے خاندان کی آمد کے بارےمیں بتایا تو ۔۔دھرم نے گیٹ سے ھی بھاگنے میں ھی عافیت جانی۔ رامون کاکا نے پاؤں پر ھاتھ رکھ کر میرا شکریہ ادا کیا اور اسکی ماں نے کھاکہ چمپا آپکی اوطاق پر خدمات سر انجام دینے کی خواھش بھی رکھتی ھے۔ میں نے کھاکہ صفائ اور دودھ چوائی پنھل کرلیتا ھے۔۔ ھاں باقی کپڑوں کی دھلائی واستری وغیرہ کے کام اسے بتائے جاسکتے ھیں لیکن مجھ سے تنخواہ طئے کرلیں۔۔۔ جس پر چمپا نے کھا کہ وہ پیسے نھی لے گی۔ تو میں نے کھا کہ اس طرح روز آنے جانے سے تمھارا خاندان ھی بدنام ھوگا۔۔۔ اور اگر پیسے لوگی تو کبھی چمپا کبھی کانتااجایا کرے گی اسکی ماں بھت کم پیسوں کی ڈیمانڈ کی میرے سرھلانے پرجلدی سے ھامی بھر ی اور جانے لگے تو چمپانے کھا کہ آپ تینوں زمین پر چکر لگاؤ میں زرا کچن کی صفائی کردوں پھر جاتے ھوئے مجھے ساتھ لے جانا مجھے اسکی یہ چالاکی اچھی لگی۔ ان لوگوں کے جانے کے بعد کپڑے چینج کرکہ ابھی واشروم سے نکلا ھی تھا کہ چمپا آکر مجھ سے لپٹ گئی اور اپنے بنا بریزر والے ممے میرے ساتھ مسلنے لگی مجھے بھی بڑا اچھا لگا میںنے بھی اسکی کمر پر ھاتھ پھیرا کچھ دیر بعد اس نے میرے لن پر ھاتھ مار کر کھا کہ اس کو چوسنا ھے میں نے کھا کہ تمھاری بھن نا واپس اجائے۔ تو اس نے کھا کہ مجھے تمھارے چوکیدار پنھل سے ڈر لگتا ھے تم میرے بھن کی پرواہ نہ کرو یں اسے سنبھال لوں گی۔ میرے بھی منہ۔سے نکل گیا کہ تم پنھل کی فکر نہ کرو وہ۔میری بھن ھے اسے میں سنبھال لوں گی۔۔۔ اچھا کہ کر وہ ایک دفعہ پھر میرے گلے لگ گئی میںنے اسے قمیص اوپر کرنے کو کھا تو اس نے نا صرف اپنی اتاری بلکہ میری بھی قمیص اتار دی۔ اب جو اسکے ننگے ممے میرے سینے ٹکرائے تو مت پوچھو کہ کتنا مزہ آیا۔ اس کا قد کوئی پانچ فٹ ھوگا ۔میرے مقابلے میں کم تھا تو میں نے اسے اپنے سینے لگا کر جب اسکی گانڈ کے پاس ھاتھ لیجاکر اوپر کی طرف دھکیلا تو اسکے نپلز میرےننگے سینے سے رگڑتے ہوئے جب اوپر کی طرف آ ئیے تو بڑا مزہ آیا۔ میں نے دو چار بار ایسا کیتا تو اسے بھی بڑا مزہ آیا اگلی دفعہ جب اسے اوپر اٹھایا تو اسنے اپنے ایک ممے کو انگلیوں یں پکڑ کرکہا کہ صاحب جی اس کو چوس بھی لیں تو مزہ ڈبل ھوجائیگا۔ میں ایک دفعہ پھر اسکی ھشیاری کاقائل ھوگیا اب جب میں اسے اوپر اٹھایا کرتا تو وہ اپناایک ممہ میرے منہ دے دیتی جسے میں چوس لیتا ۔۔ اسی مزے میں ھم مگن تھے کہ پنھل نے اچانک کمرے میں انٹری دی اور موبائیل مجھے پکڑا دیا کہ کب سے کالیں آرھی ھیں۔ میں نے بدستور چمپا کا ایک ممہ منہ میں ڈالے ھوئے تھا جبکہ چمپا جھینپ رھی تھی میں نے پنھل کو آواز دی کہ اسکو دیکھو یہ کل سے کپڑے دھونے وغیرہ آیا کرے گی اسکو روکنا مت اور تنگ بھی مت کرنا مجھے شکایت ملی تو ٹھیک نہی ھوگا۔ اس نے جی سائیں کھا چمپا کو بھی تسلی ھوگئی۔ میں نے کال اٹینڈ کی تو شاکرہ کی کال تھی جس نے کھاکہ آج شام۔میرے بنگلے پر دعوت ھے اور میرے شوھر کےچینی دوست کی بیوی جو کل ھی چائینہ سے آئی سے بھی اپکو ملوانا ھے۔ یس کھ کر جب میں نے کال۔کاٹی تو چمپا نے کھا کہ میں بھی آپکے ساتھ چلوں۔ تو ۔یں نے کھا کہ پھلے تو ماحول کو سمجھ اپنے گھر والوں کا اعتماد پکا کر ۔۔۔پھر اھستہ اھستہ تجھے بھی گروپ میں شامل کرلیں گے۔۔۔ پنھل نے سیٹی بجاکرسگنل دیا کہ کوئ آرھا ھے تو ۔یں نے جلدی سے ق یو پکڑا کر چمپا کو واشروم میں دھکیلا اور خود اپنی قمیص پہننے کی وجہ سے میں دروازے میں داخل ھوتی کانتا کو نہی دیکھ سکا تھا۔۔ لیکن جب چمپا کہ باھر نکلنے پر کانتا نے ھنس کر کھا کہ قمیص توسیدھی پھن لیتے تو مجھے احساس ھوا کہ یہ میرے پیچھے آکر کھڑی ھونے کیوجہ مجھے نظر نہی آسکی تھی۔ بھر حال وہ روانہ ھوئے تو میں نے لن کو تیل کی مالش کرنے بیٹھ گیا۔ شام۔کو۔میڈم۔سلمی کی ویگو میں ھم زرا جلدی شاکرہ کے ڈیفنس والے بنگلےہھنچ گئے جس سے وہ تھوڑاحیران تو ھوئی مگربولی کچھ نہی ھم جب اسکے لان میں داخل ھوئے تومجھے حیرت کا جھٹکا لگا کہ ایک بڑے سارے ٹب میں خوشبودار پتیوں والے پانی کے درمیاں ایک بڑی خوبصورت آنکھوں والی حسینہ صرف پینٹی و بریزر میں نھانے کا لطف اٹھارھی تھی۔ میں جیسے اسکے سحر میں کھو سا گیا اور پچھلی طرف سے اسکے قریب جا پھنچا ۔جب اسے احساس ھوا کہ کوئی اسکے پیچھے ھے تو وہ ایکدم کھڑی ھوئی تو میں نے اسکے بڑے بڑے ممے قریب سے جاکر دیکھے۔ شاکرہ نے ھمارے تعارف انگلش۔میں کروایا۔ تو وہ حسینہ بولی ھم کو اردو بولنا اچا لگتی ھے ۔ ھم فل اڑدو آتی ھے تم انگلس مت بولا کر ھم سے۔۔۔ جس پر ھم سب نے قہقھہ لگایا اور اسے ویلکم کیا ۔وہ۔مسکرائ تو میں نے اسکے منہ کے ڈمپل پڑتے دیکھ کر نائس ۔۔ بیوٹی فل فیس کا ریمارک دی تو اس نے مجھے ٹب جوائن کر نے کی آفر دی لیکن میرا موڈ نہی تھا کہ ابھی تو گھر سے نھا دھوکر آیا تھا۔۔ میں قریبی کرسی پر بیٹھ کر اس کے نظارے سے آنکھیں سیکنے لگا ۔اس نے مجھے دکھانے کی خاطر اپنے 36 سائز کے بڑے مموں پر ھاتھ لگائے اور انکی نپلز مجھے زرا دکھا کر پھر چھپالیئے۔ پھر اس نے اپنے مھینے پیٹ پر ھاتھ پھیرا مجھے دکھا کر اپنے ناف میں انگلی پھیری اچانک اس نے پیٹ کے بل۔ھوکر اپنی ھپس ک ابھی مجھے دیدار کرادیا اسکے بڑے بڑے چوتڑ اس کی سلم باڈی سے۔میچ نہی کر رھے تھے۔۔ مجھے بھت بڑے لگے تو میں نے۔۔۔۔
  43. 3 likes
    پرائی شادی میں ۔۔۔ دیوانہ کھانی نمبر 7 پارٹ ون آج کی کھانی آدھی نکاح والے مولبی کی زبانی میں اپنے مدرسہ میں بیٹھا کچھ مطالعہ کر رھاتھا کہ دو بندے میرا نام لیکر مجھے پوچھنے آگئے ۔جب میں نے کہا کہ میں ھی ھوں مولبی عاشق تو کھنے لگے کہ سائیں نکاح پڑھانے جانا ھے میں نے کھا کہ چلے چلیں گے آپ بتائیں کہ کس وقت جانا ھے اور کون مجھے لینے آ ئیگا۔ ان میں ایک نے کھا کہ سائیں لڑکا ھمارا تھوڑا اڑیل قسم کا ھے ۔نخرے کرتا ھے ۔ می نے کھا کہ تم لوگ راضی خوشی نہی کروارھے کیا۔۔ تو کھا گیا کہ ھے تو راضی خوشی مگر مسئلہ ھے میںنے کھا کہ پھلے مسئلے حل کرو پھر نکاح کروالینا۔۔مگر وہ دیھاتی قسم کے لوگ تھے ضدی ٹائپ انھوں نے کھا کہ اب ھم لوگوں کو دعوت دے چکے ھیں ۔اور کل کے دن میں نکاح ھوگا رات کوپھر جو ھوگا ھم سنبھال لینگے ۔سب صرف نکاح پکا پڑھا دینا باقی اسکی ماں سب سنبھال لیگی۔ اور ساتھ ھی دھمکی بھی دی کہ آپ پکا نکاح نہی پڑھاسکتے تو ھم کسی دوسرے مولبی کو دیکھ لیں گے۔ اب جاتے گاھک کو دیکھ کر میں نے کھا کہ میرا نکاح ایسا ھوتا ھے کہ جن چھوڑے بھوت چھوڑے پر میرے نکاح والے کاغذ نہ چھوڑیں۔ یہ سرکاری ھیں۔ اب تمھارا چھوکرا ایک دفعہ اس پر سائین کردے پھر اسکا باپ بھی نہی چھڑا سکتا۔ ان کو یہ دلاسہ دیکر ٹائم فکس کرکہ میں نے ان کو روانہ کیا۔ خود سوچنے لگا کہ کیا زمانہ آگیا ھے لوگ شادی کے لیے پریشان ھیں اور انکا لڑکا راضی نہی ۔۔۔ خیر اگلے دن وقت مقرر پر ایک بندے نے مجھے موٹر سائیکل پر سوار کیا اور ھم روانہ ھوگئے ۔کوئی دو گھنٹے کے سفر میں میرا تو انجر پنجر ھل کہ رہ گیا۔ کچے راستوں پر جھمپ۔ کھا کھا کہ میر اسر درد کرنے لگا ۔۔جب انکے دور دراز گھر پھنچے جھاں پر کچھ لوگ نکاح کی محفل میں شریک ہونے آئے تھے تو انکے ساتھ مجھے بھی بٹھا دیا گیا۔۔۔ کوئی گھنٹہ گزر گیا تو میں نے کھا کہ بھائی کھاں ھے دولھا لیکر آ ؤ تو نکاح پڑھایئں میں واپس بھی جاناھے توپتہ چلا کہ صاحب نھانے نھرپر گیئے ھیں ابھی آتے ھیں۔ مجھے پھر حیرت ھوئی کہ واہ یار کیا زمانہ آگیا ھے۔۔ خیر جب دولھا آیا تو اس کے ساتھ ڈھول بجانے والے بھی آگئے اور بجانا شروع ہوگئے میں نےکھابھی کہ پھلےمجھے نکاح پڑھالیں نے دو ۔ پھرتم نے جو تماشہ کرنا وہ کرتے رھنا ۔۔۔مگر انھوں ڈھول بجانے والے نے مجھے کھا کہ ھمیں بھی دھاڑی بنا لینے دو ۔ پھر یہ مانےیا نہ مانے۔ سندھیوں کا ماحول تھا خیر کوئ آدھا گھنٹہ وہ سمع خراشی کرتے رھے میں سوائے انتظار کے کچھ نہی کر سکتا تھا۔ جب وہ اپنے رواج ھلکے کر چکے تو پھر انھوں نے کھا کہ اب اسکو دو رکعت نفل نماز بھی آپ پڑھاؤ۔میں نے کھا کہ اس میں کون سی مشکل ھے نھا کہ آیا ھوا ھے مسجد جاکر دو رکعت نماز شکرانہ ادا کرلے۔ بڑھے بوڑھےکھنے لگے کہ نہی جی ھم میں رواج ھے کہ مولبی ھی پڑھتا ہے۔۔ میں نے کھا کہ شاباش تم کو ھو یار۔۔۔ شادی تمھارے لڑکے کی تو نفل میں پڑھوں ۔۔۔ پھر ایک لڑکے نے جو تھوڑا سلجھا ھو لگتا تھا کھنے لگا کہ سائیں چلیں مسجد ۔۔۔ میں اپکو سمجھاتا ہوں طوعاً و کرہاً میں چلا دولھا کے ساتھ ۔جب مسجد پھنچے تو کھا گیا کہ آپ بھی وضو کریں تو آپکی دیکھا دیکھی لڑکا بھی وضو کرلے گا۔ میں نے بھی سمجھا کہ شاید وڈیرے کا لڑکا ھے کبھی وضو نہی کیاھوگا۔ تبھی یہ چاھتے ھیں کہ مولبی وضو کرے تو وہ بھی نقل کرلے گا۔ اب نفل کی باری آئی تو اس میں بھی جیسا میں کرتا گیا۔ دولھا بھی ویسا ھی کرتا گیا۔ اب واپس آ گئے کہ اب تو نکاح پڑھایئں تو کھا گیا کہ دولھا والدہ کے پاؤں پڑنے گیا ھےہ اجازت لینے مجھے بھت کوفت ہوئی کہ عجیب لوگ ھیں سارے کام ابھی یاد آرھے ھیں۔ مجھے دو گھنٹے واپس سفر کر کے واپس بھی جانا ھے۔ خیر ھوئی کہ زرا دیر بعد دولھا صاحب ھار شارپھن کے ھمارے سامنے آموجود ھوئے۔ ھم نے دیر نہ۔کرتے ھوئے جلدی سے فارم بھرا گواہ اور وکیل کو اندر بھیجا کہ دولھن سے پوچھ آئیں اور دستخط بھی لے آئیں۔ ان لوگوں کو روانہ کرکہ۔ھم نے دولھا کو اللھمینی پڑھانی شروع کی تو وہ تو بھت تیز نکلا مجھ سے آگے آگے کلمے پڑھ کر سنانے لگا ۔۔ پاس بیٹھے لوگ واہ واہ کرنے۔لگے۔ مجھے حیرت تو ھوئ کہ کھا۔ تودورکعت نماز نہی آتی تھی اور کھاں سارے کلمے فر فر سنادئیے بھر حال اب جو اندر فام لے گئے تو مایوس واپس آئے تو مجھے شک ھوا کہ اندر ھی اندر مسئلہ کوئی اور ھے تو بیٹا پھنس گیا ھے ان لوگوں میں آکر ۔۔ میںن روڈ بڑا دور گاڑی بھی کوئی نہی اب انھی کی رحم وکرم پر ھے سب کچھ خیر جب وہ لوگ قریب پھنچے تو انھوں نے انکشاف کیا کہ دلھن اپنی نانی کے گھر چھپ کر چلی گئی ھے اور نانی راضی نھی۔ اس شادی سے اب کیا کیا جائے ۔ پھر فیصلہ ھواکہ دوتین بڑے جائیں اور اسے منائیں اب کل لوگوں کو دعوتیں دے رکھی ھیں۔ اب تو وڈیرے کی عزت کا مسئلہ بن جائیگا۔ میں نے بھی کھا کہ جاؤ یارجلدی کرو بات کو ایک طرف کرو۔۔ انھوں نے کھا کہ تم سائیں کو چائے پلاو ھم زرا نانی کو منا کر آتے ھیں۔جب میں نے معلوم کرایا کہ نانی کا گھر کھاں ھے تو پتہ چلا کہ وہ تو دس کلومیٹر میٹر دور کے ایک گاؤں میں ھے۔ وھی ایک گاڈی تھی اس گاؤں میں جس پر وہ لوگ وھاں چلے گئے تھے ۔ خداخدا کرکہ وہ لوگ واپس آ ئے ۔انگوٹھالگواکر جب ھم نے دوسرے گواھوں سے سائن لیئے تب تک دولھا صاحب غائب ہوگئے تھے ۔ مجھے بڑا غصہ آ یا کہ عجیب لوگوں میں پھنس گیا ھوں ۔ دولھا میاں جھاڑیوں میں جاکر چھپ گئیے تھے کہ میرے فلاں ماموں کو نھی بلایا گیا تو میں ھاں نہی کروں گا۔ کوئی گھنٹہ بھر اس نے ضایع کیا ماموں صاحب نے آکر شرط شرائط میں سب کو الجھا دیا۔۔۔ قصہ مختصر کہ دولھا کے دوستوں نے بیچ میں پڑھ کر نکاح نامے پر دستخط کروائے اور ایک دوست کو اس نے پابند کیا کہ یہ آج رات میرے ساتھ ٹھرے گا مجھے کچھ کام ھے اس سے تو دوستو کھانی کا اگلا حصہ بھی پڑا مضحکہ خیز ھے ۔۔۔ ملتے ھیں آ پ سے اگلی قسط میں۔ فقط بارانی تھنڈر
  44. 3 likes
    بہت عمدہ جناب میں پچھلے ایک ہفتے سے بہت مصروف ہوں اور کام کی زیادتی کی وجہ سے آن لائن نہیں ہو پا رہا۔ آپ کی کہانی تاحال میں نہیں پڑھ سکا۔ کسی دن فرصت سے ایک ہی نشست میں پڑھ کر کمنٹ کروں گا۔
  45. 3 likes
    دوست یہاں کسی کے ساتھ رہ رہا ہوں۔ تو آپ ی غلطیوں کی وجہ سے ایک سال سے کافی نقصان اٹھا چکا ہوں ۔ اب مجبوری ہے کیا کروں کہ ساری زندگی چیزوں کو تالوں میں رکھنا نہیں سیکھا اسوجہ سے ابھی بھی غلطیاں کرتا توں
  46. 3 likes
    ارمان ، اسٹینڈ اپ . . . . " سحرش میڈم نے مجھے آواز دی ، لیکن کیوں . . . نہ تو میں نے پوری کلاس میں کچھ بولا اور نہ ہی کسی سے بات کی ، . . . اس کلاس میں اس وقت سب سے خاموش بچہ میں ہی تھا ، پھر مجھے کیوں کھڑا کیا " جے وی ایم کیا ہے ؟ " اپنی جگہ پر میں ٹھیک طرح سے کھڑا بھی نہیں ہو سکا تھا کہ انہوں نے سوال کر دیا. . . . سحرش میڈم كے اِس سوال کا جواب دینا تو دور کی بات تھی میں نے تو یہ لفظ ہی پہلی بار سنا تھا . . . . . " چُپ کیوں ہو جواب بتاؤ ، ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو بتایا تھا . . . . " " میم ، وہ میں بھول گیا . . . . ایک بار دوبارہ بتا دیں . . . " کچھ دیر تک سحرش میڈم کو دیکھا ، پھر سامنے کی دیوار کو دیکھا ، اور جب کچھ نہیں سوجھا تو کچھ دیر اِس انتظار میں چپ چاپ کھڑا رہا کہ شاید میرے دائیں بائیں بیٹھے شوکت اور اظہر میں سے کوئی دھیرے سے بول دے ، . . . لیکن جب کوئی سہارا نہیں ملا تو سحرش میڈم كے آگے میں نے سرنڈر کر دیا . . . . . " جاوا ورچل مشین . . . . اب یاد رکھنا . . . " مسکراتے ہوے انہوں نے کہا ، مجھے جواب انہوں اِس اندازِ میں بتایا جیسے کہ میٹرکس مووی انہوں نے بنائی ہو . . . . " ابھی بیٹھ جاؤ . . . " غرور بھری آواز میں وہ بولی . . . اس کے بَعْد انہوں نے اپنا لیکچر دوبارہ شروع کر دیا ، آدھی کلاس غور سے سن رہی رہی تھی اور آدھی کلاس سحرش میڈم کی طرف دیکھ کر اپنے خیالوں میں کھوئے ہوئے تھے . . . . " ابھی میں کچھ معمولی سے سوالات کرنے جا رہی ہوں . . . . " " ارمان . . . . " " یس میم . . . " ایک بار پھر قربانی کا بکرا میں ہی بنا . . . " کچھ نارمل سوالات پُوچھ رہی ہوں تم سے ، امید ہے کہ مجھے جواب ملیں گے . . . " " میں کوشش کروں گا . . . " " ونڈوز ایکس پی کیا ہے . . . " " مطلب . . . " " مطلب کی تمہارے خیال سے ونڈوز ایکس پی کیا ہے ؟ " " وہ تو اوپریٹنگ سسٹم ہے ، ll بس اتنا ہی معلوم ہے . . . " " سہی ، اچھا یہ بتاؤ ، کمپیوٹر یوز کرتے ہو . . . " سامنے کی کرسی پر اپنی گول مٹول گانڈ کو ٹکا کر اگلا سوال کیا . . . " بلکل کرتا ہوں . . . " " تو بتاؤ کہ کسی بھی ڈاکومینٹ کو پرنٹ کرنے كے لیے شارٹ کٹ طریقہ کیا ہے . . . . " " کنٹرول + پی . . . . " ادھر ایک طرف میں نے جواب دیا اور وہی دوسری طرف اپنے بڑے بھائی کا دل ہی دل میں شکریہ ادا کیا ، کیونکہ انہی كے بدولت ہی میں نے اِس سوال کا جواب دیا تھا . . . . . سحرش میڈم كے دو سوالوں کا جواب کیا دیا ، انہوں نے مجھے کمپیوٹر کی دُنیا کا گاڈ فادر سمجھ لیا اور پھر ایک كے بَعْد ایک سوال پوچھتی گئی ، اور میں ہر بار یہی بولتا " سوری میم . . . . " سی ایس سبجیکٹ کا کوئی تھیوری ایگزام نہیں تھا ، یہ سبجیکٹ مکمل پریکٹیکل بیسڈ تھا اور جس سبجیکٹ کا صرف پریکٹیکل ہو تو اس کا پریکٹیکل ایگزام والے دن كے علاوہ کسی اور دن پڑھنا ہماری نظر میں گناہ تھا ، اور یہ گناہ میں کیسے کرتا ، اس لیے سحرش میڈم كے باقی سوالات پر صرف دو لفظ منہ سے نکلے " سوری میم . . . " " پڑھنا سٹارٹ کر دو ، ورنہ فیل کر دوں گی . . . بیٹھ جاؤ . . . " انہوں نے فیل کرنے کی دھمکی دے کر بیٹھ جانے کا کیا بولا ، میرا دل ہی بیٹھ گیا ، اور میں چُپ چاپ کسی لوٹے پیٹے انسان کی طرح بیٹھ گیا . . . . . " ارمان ، سحرش میڈم پر ٹرائی کر ، یہ سیٹ ہوجائے گی . . . " سحرش میڈم كے کلاس سے جانے كے بَعْد اظہر نے بولا " اسے سیٹ کر کیا کروں گا ، کمینی چودتے وقت آئی ٹی پی کا فل فوم پوچھ رہی ہوگی " " یار اس سے اچھا مال نہیں ملے گا ، " " سارہ ڈارلنگ ہے نہ . . . . " " اپنے ارمانوں پر قابو رکھو بیٹا ارمان ، ورنہ . . . . . " " ورنہ . . . . " " یہ پھر آ گئی . . . " اظہر كا اِس طرح سے اچانک ٹاپک تبدیل کرنے سے میں چونکا " کیا ہوا . . . " " یہ صائمہ ، پھیر آ گئی سامنے . . . " میں نے سامنے کی طرف نظر گھمائی تو دیکھا کہ سامنے وہی لڑکی کھڑی تھی ، جو کالج كے پہلے دن ہی نخرے دکھاتی ہوئی انٹرودکشن کلاس چلا رہی تھی ، اظہر ویسے تو کلاس کی کسی لڑکی کو گالی نہیں دیتا تھا ، لیکن صائمہ کو دیکھتے ہی اس کا دماغ گرم ہو جاتا اور اس کے منہ سے صائمہ كے لیے پیار بھرے الفاظ نکل جاتے . . . . . . " اتنے دن ہوگئے ہے اور ہم سب ایک دوسرے کا نام بھی نہیں جانتے . . . . " منہ بناتے ہوئے وہ بولی . . . . صائمہ نہ زیادہ موٹی تھی اور نہ ہی زیادہ پتلی . . . لیکن اس کا چہرہ اور اس کی عادتیں ڈھنگ کی ہوتی تو شاید ہم کچھ سوچتے. . . . پیریڈ خالی جا رہا تھا اور انٹرودکشن کا دور آگے بڑھتے ہوئے اظہر تک آیا . . . . " اب تمہاری باری . . . . " اظہر کی طرف انگلی دکھاتے ہوئے صائمہ بولی . . . . اپنے اظہر بھائی جوش میں آ گئے اور سینہ چوڑا کرتے ہوے کھڑے ہو کر بولے کہ جس کو بھی میرے بارے میں جاننا ہے وہ میں آکر مجھ سے ڈابے پر مل لے . . . . " کیا . . . " ناک چڑاتے ہوئے صائمہ بولی ، . . . " حویلی میں ملنا پھر بتاؤں گا ، "کیا . . . . " " یہ تو بہت بدتمیز ہے . . . " اِس وقت میری دونوں آنکھیں دونوں طرف دیکھ رہی تھی ، میں کبھی صائمہ کا چہرہ دیکھتا تو کبھی اظہر کا اور مجھے نہ جانے کیا سوجا میں نے اظہر كے کان میں دھیرے سے بولا . . . " تیرے لیے پرفیکٹ ہے . . . " " زندگی بھر مٹھ مار لوں گا ، لیکن اسے نہیں چودوں گا . . . . " اظہر تو صائمہ کو دھمکی دے کر چُپ ہوگیا ، جاری ہے . . . .
  47. 3 likes
    بھائ واہ.... چھا گیا میرا بھائ. میں سب کام کاج چھوڑ کر اپڈیٹ پڑھتا ہوں کہ میرے بھائ نے کیا گل کھلاۓ ہیں ہا ہا ہا بہت خوب تھی آج کی اپڈیٹ.
  48. 3 likes
    جناب دل پہ لینے کی کوئی بات نہیں ہے اور نہ ہم نے کبھی کسی کی رائے کو اس انداز میں لیا ہے کہ اس کے خلاف دل میں کوئی رنجش پیدا کر لیں۔ شیخو صاحب دستیاب ہوتے تو یہ مسلئہ ہوتا ہی کیوں؟ ہم نے تو کسی کو نہیں روکا اور نہ کوئی کسی کو روک سکتا ہے۔ مگر وہ مہینوں میسر نہ ہوں تو بالاخر کسی کو تو کمان سنبھالنی ہو گی۔ میں ان دنوں بےحد مصروف ہوں مگر کم از کم میسر ہوں۔ جناب ایڈمن سے بھی رابطہ ہے اور فورم میں بھی تانکا جھانکی کر لیا کرتا ہوں۔ مجھ سے کوئی بات کرے تو اس کا جواب بھی دیتا ہوں۔ ہاں کہانیاں اپنی فرصت پہ مکمل ہوں گی۔ اس میں ظاہر ہے کہ میں فراغت میسر آنے تک قاصر ہوں کہ کوئی پیش رفت ہو۔ مگر ہر حال میں میں جواب دہ ہوں اور سب کے سامنے ہوں۔ گلہ کرنا ہے تو گلہ کیجیے،ناراض ہونا ہے تو ناراض ہویئے،ہم کو سب قبول ہے۔ کیونکہ یہ فورم صرف کہانیوں کے لیے نہیں، رابطوں کے لیے بھی ہے۔ اس سے غائب ہونے کا مطلب ہے کہ میرا سب سے رابطہ ختم۔ جو کہ گوارہ نہیں۔ پرانے قاری جانتے ہوں گے کہ ایک بار پردیس سوا سال کے لیے بند کیا گیا تھا کیونکہ میں میسر نہیں تھا۔ مگر میرا رابطہ بہرحال سب سے تھا اور وقتاً فوقتاً جتنی بساط ہوتی کام چلانے کی کوشش کرتا۔
  49. 3 likes
    یاسر کا کہانی میں ذریعہ معاش بنانے کی خاطر اس کو وہ کام دیا گیا تھا۔ اب وہ ملک بدر ٹائپ جگہ پہ ہے تو کام کی فکر کیا کرے، اس لیے وہ حصہ حذف کر دیا کہ وہ کام کی فکر کرے۔ کام کی فکر سکندر جیسے لوگوں کو ہوتی ہے کہ پوری کہانی میں سیکس کم ہے اور کام دھندے میں ہی سکندر دکھائی دیتا ہے۔ ایسے حال میں کام کی فوقیت واضع ہوتی ہے۔ یاسر کی محبوبہ اس کو تب تب یاد نہیں آتی جب جب کسی اور کی قربت میسر ہو، یہاں تو قربتوں کا انبار لگا ہوا ہے۔ اس لیے اس کو ہلکا ہلکا سا کہیں کہیں کسی حوالے سے یاد کیا ہوا ہے، باقی اس کا نئے ماحول کی نئی لڑکیوں میں الجھا دکھایا گیا ہے۔ جھگڑالو پن تو یہاں بھی ہے کہ وہ ارسلان سے الجھا ہوا ہے،عبیحہ سے متھا لڑایا ہوا ہے۔
  50. 3 likes
    لن کی کمائی ۔۔۔ سب نے کھائی۔ اپڈیٹ 5 سفرہ اور زارا کی دو دفعہ کی زبردست چدائی کے بعد میں نے پاڑے کے ایک دو لڑکے بھی چکھا دیئے توحکیم صاحب کا مجھ پر اعتماد بحال ھوگیا اور اس نے مجھے تیلوں کی افادیت کے علاؤہ سانڈے کے تیل لگانے کابھی کھا۔۔ تاکہ مجھے گھوڑا بنایا جاسکے۔۔ زارا کو تو بعد میں چسکا سا پڑگیا تھا ۔۔جب کبھی ھاتھ درد کے بھانے بیٹھک میں پھنچ جاتی تھی۔۔۔ اس کھانی سنانے کےدوران حکیم ھوشو گاھے بہ گاھے میری پٹی کو بھی ھاتھ لگا کر چیک کر رھا تھا۔۔ میں نے اسے شکایت کی کہ میر ان کا حصہ سن ھوگیا ھے اور بھت کھچاو محسوس کر رھا ھوں ۔۔۔اس نے کھا کہ اگر میری طرح شرط رکھ کر چدائی کرنی ھے تو تین دن تک برداشت کر پھر بھلے عیاشی کرنا۔۔۔ مجھے ابھی تو عامر سے بدلہ لینے کا جذبہ چڑھا ھوا تھا۔۔۔ حکیم نے مجھے دوسری طرف منہ کراکے میری گانڈ کے رنگ پر ھاتھ پھیرتے پھیرتے لکڑی نکال کر ایک دم انگلی گھسائی تو میں پھدک کر آگے کو ھوگیا ۔۔لیکن اس نے جو دوا انگلی پر لگائی تھی اس کی وجہ سے شدید جلن شروع ہوگئی ۔۔اس نے کھا کہ زرا برداشت کر لیا کر کنجر اگر انگلی باھر نہ نکلتی تو جلن نہ ھوتی ۔۔میں نے اسے کھاکہ میں نے نہی سیکھی حکمت تم بس یہ پٹی کھول دو مجھے بھت تکلیف ھورھی ھے۔۔ایسا لگتا جیسے نیچے کا دھڑ ھے ھی نھی۔۔ اس نے کھا کہ ابھی تو اس میں میں ایک تیل ڈالوں گا وہ تجھے اتنی ٹھنڈک دے گاکہ نہ پوچھ۔۔میں نے کھا تو پھر جلدی کر اب میں ہی بدکوں گا۔اس نے ایک اسکیل ٹائپ کوئ چیز اٹھائی اس کو پانی سے گیلا کرکہ پٹی اور میرے جسم کے درمیان اھستہ سے گھمانا شروع کیا جیسے جگہ بنا رھا ھو۔۔۔ پھر اس نے سرسوں کے تیل میں سفید سا کچھ۔ملاکر پٹی اور میرے جسم کے درمیان اس اسکیل کے ذریعے جو خال بنا یا تھا اس میں تیل ڈالناشروع کردیا۔ میں تھوڑی دیر تو بڑا خوش ھوا ۔۔لیکن کوئ منٹ بعد مجھے ایسا لگا جیسے میں برف کی نادی پر بیٹھ گیا ھوں ۔ اب وہ ناقابل برداشت ھوتا جارھاتھا۔ میرے بدلنے تیور دیکھ کر ھوشو باھر کمرے سے باھر چلا گیا اور کنڈی بھی لگا گیا ۔۔ میں نے اسکی منتیں کرنے کے بعد گالیاں تک دے ڈالیں لیکن اس پر کچھ اثر نہ ھوا۔۔ پھر میرے ذھن میں ایک خیال آیا اور میں نے پٹی خود ھی کھول دینے کا فیصلہ کیا۔ میں نے اسی اسکیل کو لیکر اس پٹی کو جو باھر سے پلاستر کی طرح سخت ھوچکی تھی ۔کاٹنا مارنا شروع کردیا۔ اور ایک کونے اسکو کاٹنا بھی شروع کردیا ۔۔۔ کافی دیر میری خاموشی اختیار کرنے کی وجہ سے حکیم کو تشویش ھوئ تو دروازہ کھول کر دیکھا تو میں ایک طرف سے پٹی کھول یا پھاڑ چکی تھا ۔۔اس نے کھا بھی کہ میری محنت برباد مت کر۔۔ دس منٹ اور بس لیکن میں نہ۔مانا اور بدستور اپناکام جاری رکھتے ھوئے ساری پٹی کھل لی جس پر حکیم نے بھت برا منایا۔۔ جب ساری پٹی کھل گئی تو میں نے دیکھا کہ میری ناف سے نیچے کا سارا حصہ یا گوشت پلپلہ سا ھوگیا تھا جسے ھم کھیں کہ کچا ھوگیا تھا۔۔ اور تھوڑی سی دیر کے بعد اب اس میں خارش سی شروع ہوگئی اب اس نئی افتاد ہر میں پھر پریشان ھوگیا کہ جھاں کھرک کروں وھاں سے خون آنا شروع ھوجائے۔ میں نے پریشانی کا اظہار کیا تو چڑ کر کھنے لگا کہ اب خود ھی علاج کرو مجھے کچھ نہی پتہ۔ میں کمرے میں ادھر ادھر گھومتے ہوئے ھوا لینے لگا کہ شاید کچھ افاقہ ھوجائے۔ لیکن کوئ خاص فرق نہ پڑھا ۔ تو میں نے کمرے سے باھر جانے کا فیصلہ کیا بغیر سلوار کے جب میں باھر نکلا تو ٹھنڈی ھوا کے جھونکے سے پھلے تو بڑا چکنا چکنا سا فیل ھوا ۔لیکن پھر تھوڑی دیر میں وہ بھی ناقابل برداشت ھونے لگا تو میں نے واپس کمرے میں آکر حکیم صاحب کے پاؤں چھو کر معافی مانگی کہ استاد مجھ پر رحم کرو میں اسے کب تک جھیل سکوں گا ۔کچھ کرو تو حکیم ھوشو بولا کہ آیا نہ تو لائن پر میں تو تجھے گھوڑا بنانا چاھتا ھوں لیکن تو نے گوشت کچا کرواکر اپنا ھی کام خراب کردیا ھے ۔اب اس پر وہ سامنے وال شیشی لیکر آ ؤ میں تیل لگا دیتاھوں ۔ لیکن اس وعدے پر کہ کل تو باقی کے علاج میں جلدی نہی مچائے گا۔ میں نے حامی بھری تو اس نے تیل لگا کر مجھے الٹا لیٹ جانے کا حکم دیا تو مجھے بات ماننی پڑی اب چونکہ تیل لگ کر میرا جسم سیٹ ھوگیا تھا تواس نے میری گانڈ کی رنگ ہر انگلی پھیری اور زرا سی دیر بعد وہ اسی رنگ کو چاٹ رھا تھا۔۔عجیب سی فیلنگ آرھی تھی۔ اچانک میرے پیٹ میں گیس سی بنی اور میں نے پھوس ماردی ۔ھاھا جو کہ سیدھی اس کے منہ میں گھس گئی چونکہ ھوشو جو زبان سے میری گانڈ چاٹ رھا تھا ۔اچھل کر پیچھے ھوا اور ناک پر ھاتھ رکھتے ھوئے بڑبڑانے لگا۔۔ مجھے بڑی ھنسی آئی ۔ وہ تپ کے مجھے دیکھنے لگا کہ کنجر بتانہی سکتا تھا میں نے کھا استاد پتہ ہی نہیں چلا۔اور نکل گئی۔ بھرحال اسکے بعد ھم الگ الگ چارپائی پرسوگئے۔صبح ابو ناشتہ لیکر آئے جب میں سو رھا تھا اور پٹیاں وھاں گری دیکھ کر حیرانگی سے حکیم سے پوچھنے لگے تو وہ بولے کہ اس کے زخم پر دوا لگائی۔ ابو کو میری شلوار تھوڑی سی نیچے کرکہ دکھایا کہ یہ کب ھوئے تو اس نے بتایا کہ دوا لگائ تھی جلن نہ برداشت کر سکنے پر آدھے میں پٹی کھول دی جس سے بدن پلپلہ ھوگیا ھے۔لیکن آج سب سیٹھوجائے گا تو اسے دو دن میرے پاس چھوڑ پھر گھوڑا بنا دوں گا۔۔ ابو نے کھا کہ ٹھیک لیکن خیال رکھنا یہ۔میرا لاڈلا بیٹا ھے اسکے ساتھ کچھ الٹا پلٹا کام مت کردیا میں جانتا ھوں تیری خصلٹ کو اس نے وعدہ کیا کہ کچھ نہی ھوگا بس اب خوش لیکن بھت دن ھوئے کوئ نیا شکار نہی کھلایا تو نے ۔۔ابو نے کھا کہ رات چانڈیو نے اس پولنگ کی زمہ داری مجھ پر سونپی ھے اور کھا ھے کہ ایک گھر خالی کراؤ میرے الیکشن والی رات اسپیشل مھمان بھیجوں گا ۔اس میں یونی ورسٹی کی چھوریاں بھی ھونگی ۔بس ایک ھفتہ صبر کر پھر پورانے ساری کثر نکالیں گے۔ پھر انھوں نے مجھے جگایا اور منہ ھاتھ دھونے کا کہ دیا۔حکیم نے ساری باتیں دھرائی جو اوپر بیان کردہ ھیں تو ابو نے مجھے تلقین کہ بیٹا جیسے حکیم صاحب کھتے ھیں کرتا جا تاکہ تو بھی اچھی حکمت سیکھ سکے۔حکیم۔نے کھا کہ گھر۔میں کہ دو کہ اسکو چائے بالکل نہ۔پلائ جائے دیسی گھی ۔لسی ۔کالے چنے ۔مسور کی دال۔ بکرے کا گوشت یا دیسی وغیرہ اسکی خوراک میں شامل کردو۔۔ ایک مھینے میں تیرا لاڈلا گھوڑا بن سکتا ھے۔۔۔ناشتے کے بعد حکیم نے کھا کہ آج ھم اسکے جائیں گے۔پھر زمین کا چکر لگائیں گے۔ ابو نے ساتھ جانے کی اجازت دے دی ۔اور ھم زرا فاصلے پر چھوٹی سی پھاڑی کی طرف چل پڑے۔۔ ایک جگہ پر ماجھی دیکھ کر حکیم نے کھا کہ یہ تو بھت بڑی ھے ۔کوئ برتن ھوتا تو میں اتار لیتا اسکے موم سے تیرا علاج زبردست ھوجاتا۔میں نے کھا کہ قریب ھی۔میرے دوست کا گھر ھے اس کے گھر سے ہرات لے آتا ھوں۔ ان کو بھی تھوڑی سی دے دینگے۔جب میں ہرات لینے گیا تو میرا دوست تو اسکول گیاھواتھا۔لیکن اسکے باپ نے مجھے پرات لینے کہ وجہ پوچھی تو حکیم کا بتانے پر اس نے بھی ساتھ چلنے کا عندیہ دیا ۔ھم۔دونوں جب اس مقام کے قریب پھنچے تو دیکھا کہ حکیم ھوشوکے اس پاس تو مکھیوں کا ھجوم ھے۔اس نے ھمیں دور ھی رھنے کا کھتے ھوئے بتایا کہ میں تھوڑی دیر میں لے کر آتا ھوں۔ میرے ساتھ دوسرے آدمی کو دیکھ کر اس کو میں نےتعارف کروایا کہ یہ اشرف سموں ھیں میرے دوست کے ابو ھیں۔ابھی پچھلی سیزن میں یہ لوگ یہاں جاری بن کر آئے ھیں۔اس نے چائے پینے کی دعوت دی اور کھا کہ میری بیٹی کو پیٹ درد کی دوا بھی دےدینا۔ حکیم نے اس بتایا کہ روٹی پانی کا انتظام کر تو ھم آ ئیں بھی صحیح چائےنہ میں پیتا ھوں نہ یہ۔۔ اسکی حامی بھرنے پر ھوشو نے اسے تھال۔میں رکھی ماکھی ساتھ لیجانے کو دیئے کہ میں وھاں بیٹھ کر اس سے شھد نکالوں گا تم چلو۔۔ ھم زرا اس طرف کا چکر لگا کر آتے ھیں۔ پھر ھم پھاڑی کی دوسری طرف آگئے کچھ جڑی بوٹیاں اکھیڑتے ھوئے حکیم۔نے وھاں نیولے دیکھ کر مجھے کھا کہ اگر تو دو سانڈے زندہ پکڑ سکے تو میں تجھے اس کا تیل نکالنے کا طریقہ بھی سکھا دوں گا اور یہ لن لمبا موٹا کرنے میں بھی بھت کار آمد ھے۔مئں نے کھا کہ یہ تو بھت مشکل۔کام ھے یہ بھاگتے بھت تیز ھیں اور یہ تو سانپوں کو کھاتے ھیں لیکن اگر اشرف چاچا کو کھا جائے تو شائد وہ کچھ کرسکیں ۔۔جس حکیم۔نے کھا کہ ھاں یہ تونے صحیح کھا ھے خیر ھم دو اسکول کے قریب پھنچے تو بریک کا بیل۔بج گیا ۔میں نے حکیم ھوشو کو کھا کہ آج تجھے اپنے دوستوں سے ملاتا ھوں لیکن اس نے مجھے خبردار کیا کہ انھے میرا حکیم ھونے کا۔مت بتانا۔۔ ھم جب قریب پھنچے تو میرے دونوں دوست بھاگ کر مجھ سے ملے ۔مئں نے عامر کا پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ وہ احسن کے ساتھ چیز یں لینے گیا ھے۔ میں نے ماسٹر دو دن کی مزید چھٹی لی اور واپس آنے لگے تو سامنے سے عامر اور احسن آتے دکھائ دئے احسن نے آج سفید کپڑے پھنے تھے ۔اس کی رنگت بھی سرخ سفید تھی ۔اسکی مٹکتی چال دیکھ کر حکہم۔نے کھا کہ اگر تو یہ ککڑ مجھے کھلا دے تو میں تیری گرو دکشنا معاف کرسکتا ھوں ۔مئں نے کھا کہ اسکے بھائ عامر سے میں بدلہ لیلوں تو پھر کچھ کیا سکتا ھے۔۔ حکیم نے مجھے گھور کر کچھ دیر دیکھا اور پھر کھا کہ جا پھر اپنے دوستوں کو بتا کر آ کہ آنے والی جمعرات کو تو ایک دفعہ پھر عامر کے ساتھ مٹھ مارنے کا مقابلہ کرے گا۔ اور عامر کی ایسی گانڈ مارے گا کہ وہ پھر تجھ سے ھی مروایا کرے گا۔ جا۔۔۔اتنے میں عامر اور احسن ھمارے قریب پھنچ گئے تھے ۔عامر نے طنز کیا کہ سنا ھے کہ بارن تیرے ابھی تک زخم ھی ٹھیک نہی ھورھے۔ میں نے آنے والی جمعرات کا چیلنج اسے دے دیا تو احسن نے بولا کہ کس چیز کا چیلنج ھے میں بھی دیکھوں گا یہ مقابلہ اب عامر نے کھا نھی نھی تو مت آنا میں نپٹ لوں گا اس سے پھلے کے زخم بھرتے نہی اور نخرے دیکھ بارن کے۔۔۔میں نے بھی کھا کہ دیکھ لوں گا لیکن احسن تو ضرور آنا ۔ حکیم نے احسن ھاتھ ملاتے ھوے زرا دب دیا اس کا ھاتھ۔ میں اپنے دوستوں کو بھی چیلنج والی بات بتاکر آیا تو ان ھوں نے بتایا کہ یار اسکا کوئ پکا بندوبست اس نے تو کئی لڑکوں کی اس بھانے گانڈ مارلی ھے۔میں نے کھا کہ اس ھفتے اسکی ساری ھیکڑی میں نکال دوں گا۔۔ پھر ھم سموں کے گھر پر پھنچے تو حکیم ھوشو نے لسی پینے کے مریضہ بلوایا تو اس نے گھر میں چل کر دیکھنے کا بولا کہ انکی ماں زمیں پر گھاس کرنے گئی ھے آپ دونوں گھر۔میں ھی آجائیں ۔جب ھم اندر گئے تو لڑکی تو جیسے کوئلے کے کان میں ھیرا تھی۔۔ یہ لمبی گردن اس پر پتلا سا ناک لمباسا چھرہ گول گول بڑے سے ممے جو برا سے آزاد تھے دیھات میں ان چیزوں کا زیادہ خیال نہی رکھا جاتا تھا۔ حکیم اسکا ھاتھ پکڑ کر نبض دیکھی اور کھا کہ کب سے یہ حالت ھے تو اس نے کھاکہ دو دن ھوئے ھیں ۔ حکیم نے مجھے سائیڈ پر لی جاکر کھا کہ تو چاچے اشرف کو بتا کہ اس کی مالش کرنی ھوگی اب تیرے سامنے اچھا نہی لگے گا تو تو اس کو نیولہ پکڑنے کے واسطے ساتھ لیجا ۔میں جب تک یہ پکی پکائی کھیر کھاتا ھوں۔میں نے کھا کہ پھر مجھے کھانی بتانی پڑے گی تو اس نے حامی بھری ۔۔میں نے سندھی میں چاچے اشرف کو ساری صورتحال بتائی تو اس نے میری بات مان لی اور میرے ساتھ ایک جال اور کے بال وپر اور گردن وغیرہ لیکر ھم چل پڑے۔۔ ادھر حکیم نے سکینہ کو کھا سیدھی ھوکر لیٹ جا کہ مجھے تیری مالش کرنی ھوگی اور ھاتھ پر تیل لگ آکر مالش کرنے لگا اس نے اھستہ اھستہ ھاتھ مموں کی طرف لیجانے شروع کر دیئے تو سکینہ کی منہ سے سسکاری نکلی وہ ھوشو کے ارادے تو سمجھ گئی تھی وہ بولی کہ ابا آجائیں گے تو اس نے کھا کہ اس کو کسی کام سے باھر بھیج دیا ھے اور میرے سامنے اب بھانے مت بنا میں نے دیکھ لیا ھے کہ تیرے پیٹ میں نہی چوت میں درد ھورھا ھے۔۔ اس نے کھا کہ تم یہ کیسے دعویٰ کرسکتے ھو تو حکیم نے کھا کہ میرا تیس سالہ تجربہ ھے۔ اور ھوشو نے اپنے ھاتھ پر تیل مزید لگا کر اسے مموں کو بھی تیل لگا دیا۔اب اس نے بھی تعاون کرنا شروع کردیا ھوشو نے جلدی سے اسکی قمیض اترواکر ناف تک میں تیل لگا دیا اور اب اسکی بیک سائیڈ پر تیل لگاتے لگاتے اس کی ھپس پر بھی ھاتھ پھیرنا شروع کیا ھی تھا کہ سکینہ نے خود ھی شلوار اتار دی۔ھوشو اسکی۔موٹی گانڈ دیکھ کر پاگل ھوگیا اور اسکی گانڈ پر زبان پھیرنے لگا۔ دونوں سوراخوں کے بیچ جب اس کی زبان متحرک ھوئی تو سکینہ چھوڑنی والی ھوگئی ھوشو نے پوچھا کہ کتنا عرصہ ھوگیا یار جو ملے ھوئے تو اس نے کھا کہ سوا مھینہ ھوگیا ھے ۔کہ اس نے چکر نھی لگایا۔ اور میں خمار میں ھوں کہ مجھے اس کی عادت ھوگیئی ھی وہ ایک نشہ کر کے آتا ھے جس سے وہ کافی دیر مجھے چودتا ھے تب جا کر مجھے سکون ملتا ھے۔ کب سے یہ چکر چل رھا ھے تو اس نے کھا کہ تین سال پھلے جب مجھے طلاق ھوئی تھی تب سے یہ اسی محلے کا تھا.اس کا میری امی کے ساتھ بھی چکر چل رھا ھے ۔ اب جانے اسکو کیا ھوا ھے کہ مھینے بھر سے ادھر آیا نہی۔جب آتا ھے تو بھت سارا سامان لیکر آتا ھے ابو کا خیال ھے کہ یہ مجھے سے شادی کر۔لیگا۔اب ھوشو نے اسکی چوت میں تیل لگانا شروع کردیا تو وہ بھی مست ھونے لگی ھوشو نے انگلی سے اسے چودنا شروع کردیا۔ تھوڑی دیر بعد ھوشو نے دوسری پھر تیسری اور چوتھی بھی ڈالدی اور سکینہ کی سسکاریاں اب چیخوں میں بدل گئی تھیں۔ ھوشو نے اب اسے الٹا لٹا کر دوسرے ھاتھ سے اسکی گانڈ پر بھی ھاتھ پھیرنا شروع کر چکا تھا۔ کچھ دیر بعد اس کا بدن ایکدم اکڑ گیا لیکن ھوشو نے اپنی انگلیوں کے اندر باھر کرنے کے عمل کو نہ روکا ۔اس نےتب تک یہ عمل جاری رکھا جب تک اسکی انگلیاں اسکی چوت سے نکلنے والے پانیوں سے تر نہ ھوگیئں۔ھوشو نے چالاکی سے دوسرے ھاتھ کا انگوٹھا بھی اس کی گانڈ کی سوراخ میں داخل کردیا تھی جب وہ فل۔مزے میں تھی اور اسکی چوت پانی چھوڑ رھی تھی۔اسکو بڑا جھٹکا لگا لیکن ھوشو معلوم کرچلا تھا کہ کنواری گانڈ ھے۔اب اسکو لائن پر لانا تھا جب اسکا پانی نکل چکا تو وہ شانت ھوئی اور ھوشو کو گلے لگا کر بولی تم نے تو مجھے چھڑا ھی دیا ۔ھوشو نے کھا کہ اب مجھے خوش کردو ۔تواس نے کھا تم حکم کرو کیسے خوش ھوگے۔جب ھوشو نے گانڈ پر ہاتھ پھرتے ھوئے کھا کہ۔مجھےتوادھرسے کرنےمیں زیادہ مزہ آتا ھے تو اس نے کھا کہ میں نے ادھر سے کبھی لیانہی ایسا کرو کہ مجھے ایک دفع آگے سے کروپھر میں دوں گی۔اب ھوشو نے اسکے ھونٹوں پر زبان پھیری اور کسنگ کرنا شروع کردی۔ پھر اسکے مموں پر زبان پھیری ۔اسکے بعد کالے کالے نپلز کو چوسنے لگا تو سکینہ کہ منہ سے اوہ اوہ آھ آ ھ کی آوازیں نکلنا شروع ھوگئیں۔ھوشو کا سر زور سے اپنے مموں پر جکڑدیا۔اس نے کھا۔۔یار تم کھا سےسیکھ کر آئے ھو۔ تم۔نے تو میرے تراہ نکال دیا اتنا پیار تومجھے کبھی میرے یار نے نہی کیا۔اب جلدی سے میری چوت میں ڈالو تاکہ۔میری آگ بجھ سکے۔اس نے کہاکہ ابھی تو پارٹی شروع ھوئی ھے۔ابھی تو تمھے ایک اور مزہ بھی دلاؤنگا۔یہ چھوکرا میرا شاگرد ھے جب دل کرے اسےکےذریعےبلوالینا جب تک میں ادھرھوں۔لیکن ایک بات بتا دوں وہ تیرا یار تجھ سے کبھی شادی نہی کرے گاوہ تجھے لارے لگا رھا ھےاب اس نے اسے سیدھا لٹا کر ٹانگیں اٹھا دیں اسنے انکھی ںبند کر لیں وہ سمجھ رھی تھی کہ اب تو چدائی ھوگی لیکن اسے اس وقت جھٹکا لگا جب ھوشو کی زبان اسکو اپنی چوت کے پردوں سے ٹکراتی محسوس ھونے لگی اس نے حیرت سے آنکھیں کھولیں کہ ایسے توکبھی اس نے سوچا بھی نہ تھاکہ کوئ اسکی چوت چاٹ سکتا ھے۔وہ مزے کی انتھا پر تھی جب ھوشو نے کھا کہ کیسامزہ ھے تو اسنے کھا یار کمال ھے ایسا تو کبھی میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔اب ھوشو نے اسکا ھاتھ اپنے لن پر رکھا تو وہ اسے مٹھ مارنے والے انداز میں آگے پیچھے کرنے لگی۔ھوشو نے اس کھا کہ اب میرا بھی لن منہ میں لیکر مجھے شاد کردو۔ تو اس نے خوشی خوشی منہ کھل دیا جس پر ھوشو نے مستی میں آکر زور سے اسکے منہ میں ڈالا جو سیدھا اسکے حلق تک چلا گیا اور اسے زبردست قسم کی ابکائ محسوس ھوئ اس نے جلدی سے منہ سے نکالا اور الٹی جیسے ھو وئی تھی۔انسانوں کی طرح کرو یار اس نے اسےکھا کہ ایک تو گھوڑے جیسا تمھارا لن ھے اور تم ایسے اچانک ڈالوگے تو برا تو لگے گا۔ اب اس نے ھاتھ سے پکڑ کر منہ میں لینا شروع کردیا۔تو زرا دیر بعد ھوشو نے اسکی ٹانگیں اٹھا کر لن کو اسکی چوت پر سیٹ کرکے ایک جھٹکا ۔امارا تو آدھا لن اسکی چوت میں ڈل گیا اب ھوشو نے تیز تیز گھسے مارنے شروع کردیے زرا سی دیر میں وہ پھر چھوٹ گئی تو ھوشو نے اب اور بھی تیز تیز گھسے مار مار کر اسکی پھدی کا پھدا بنا دیا۔ اسی تسلسل سے دھکے مارنے میں مگن کو جب ھمارے بولنے کی آواز آ ئیے تو وہ میرا اشارہ سمجھ گیا تھا کہ ھم آگئے ھیں ۔۔اس نے تیز دھکے مار کر اسی کی چوت میں منی نکال کر جلدی سے ۔باھر آگیا تھا ۔جب وہ ھمارے پاس پھنچا تو ھمارے ھاتھ میں دو مردہ نیولے دیکھ کر بولا یار اتنی جلدی واہ ۔میں نے کھا کہ ان کو پچھلے دس سالوں کا تجربہ تھا ۔میں تو فقط تھوڑا دور کی جھاڑیوں سے ان کو بھگانے میں لگا تھا۔ھم انکی چھوٹی اوطاق میں بیٹھ کر شھد نکال کر بوتل میں ڈالنے لگے جبکہ اشرف کھانا لینے چلا گیا۔۔جب تک کھانا آتااتنے میں اشرف کی بیوی اور چھوٹی بیٹی جو کہ کاکی ہری لگتی تھی بھی آگئیں اور اس کی بیوی کے ھاتھ میں وہ رومال موجود تھا جس پر ھوشو کی۔منی لگی ھوئی تھی جو ھمارے آنے پر جلدی جلدی میں وھیں چھوڑ آیا اتھا ۔اس نے کھا کہ ایک کی مالش کردی ھے تو اب میرے پیٹ میں درد اٹھ رھے ھیں۔ ھوشو نے کھا کہ ابھی تو دوا ختم ہوگئی ھے البتہ کل رات تک نئی دوا بنا لوں گا تم بارن کی اوطاق پر میں رھتا ھوں تو کسی کو بھیج کر منگوالینا تو اسنے کھا کہ اگر میں خود ھی آجاوں گی یہ پڑوس میں ھی تو ھے ۔ھوشو نے کھا کہ سکینہ کو بھی ساتھ لے آنا ۔۔دوبارہ دوا لگ جائیگی تو پھر مکمل ٹھیک ھوجائیگی۔ انکی باتوں کے دوران اشرف اور میں نےسارا شھد بوتلوں میں ڈال کر ۔ موم کو ھی ایک تھیلی میں ڈال لیا تھا ۔۔پھر ھاتھ دھو کر ھم نے کھانا کھایا اور کچھ دیر آرام کرنے کے بعد حکیم ھوشو نے نیولےپر تیل ڈالا اور اسکو ڈبل تھیلی میں ڈال کر وھاں سے لیکر چل پڑے۔اپنی اوطاق پراکر اس نے مجھے چھت پر چڑھا کر بولا کہ اسکو ایسی جگہ پر رکھنا کہ اس کو سار دن دوپ لگتی رھے اور کسی کو باھر سے دکھائی بھی نہ دے ۔۔بھر حال رات کواس نے پھر میری پٹی کردی اور گانڈ میں لکڑی بھی ڈال کر کھڑا کردیا اور مجھے سکینہ کہ کھانی سنائی جو میں اپکواوپر بتاچکا ھوں۔بھر حال اگلے دن اس نے مجھے بلا۔نے کا کھا اور مجھے چھت پر دوا کے دیکھنے کا کہ دیا پھر شام سے زرا پھلے میرے ابو کو آتے دیکھ مجھے حیرت تو ھوئ کہ عام طور پر میرے ابو اس وقت آتے نہی لیکن مجھے آج شام کو ھے اس نے موم کے ساتھ تیل کی دو چار اقسام ملاکر میرے کو ھلکی پٹی باندھی اور ایک دوا پینے کو دی اور آج نہ اس نے گانڈ میں کچھ رکھا اور نا چوسی بلکہ مجھے کھا کہ کل تیرا سخت مقابلہ ھے آج جلدی سوجا تاکہ کل اسکول جاسکے۔۔ باقی ناشتے ٹائم ہر میں تجھے سمجھا دوں گا۔اب گھر جا ۔مجھے حیرت تو ھو رھی تھی لیکن عامر سے بدلہ لینا ھے یہ سوچ کر میں جلدی سے گھر آگیا آج بھی زیر ناف پٹی بندھی تھی لیکن سخت نہ تھی کیونکہ آج موم جامہ کیا ھوا تھا۔ اس رات میرے ابو اور اس نے جو شکار کھیلا تھا اور ایک وقت میں دونوں چھنالوں کو فارغ کیا تھا اسکی کھانی کمنٹس میں فرمائش پر سناؤں گا۔۔ ویسے بھی اس نے جو مجھے دوا کھانے کو دی تھی وہ تو کھاتے ھی مجھے نیند آگئی تھی مجھے بعد میں ھوشو نے سنائی تھی۔ بھر حال میں اگلے دن اسکول گیا تو عامر نے کھا کہ آگیا پھر توچدنے میں نے کھا لگ پتہ جائیگا آج۔۔اس نے کھا کہ تو نے احسن کو بھی بتا کرچھانہی کیا ۔۔ وقت مقررہ پر اس نے احسن کو گھر بھیجنا چاھا ۔مگر میں نے اس کے عاشق ولوا کو بھی بتا دیا تھا کہ مقابلہ تم نے اور احسن بھی دیکھنا ھے تو کماد میں چھپ کر اجانا۔ تو اس طرح ھم بظاھر چار جنے تھے لیکن مجھے معلوم تھا کہ دو اور بھی کھیں چھپ کر دیکھ رھے ھیں۔ پلان کے مطابق میں نے کھا کہ اس دفعہ جو سب سے آخر میں چھوٹے گا وہ ھارنے والے کو چودے گا۔ عامر نے بھت بحث کی مگر ھم تین ایک طرف ھوگئے تھے تو اس کو ماننا پڑی۔۔ اب ھم نے اپنے پنے لن کو تھوک لگا کر رو برو بیٹھ کر مٹھ کا مقابلہ شروع کردیا ۔ آج چوں کہ میں پر اعتماد تھا تو میں نے سیکسی کچھری کرنا شروع کردی ۔کہ عامر تونے کس کس کی گانڈ ماری میرے بعد تو وہ پرجوش لھجے میں مین بولا کہ تیرے یہ دونوں دوست بھی چد چکے ھیں مجھ سے پر آج اتنے دنوں بعد تیری گوری چٹی گانڈ مارنے کا مزہ بھی لوں گا۔ اس دوران ھمارا ھاتھ اپنے لنڈ پر اوپر نیچے ھورھاتھا۔ کہ اچانک عامر چھوٹ گیا اور ھم۔نے جیت کا نعرہ لگایا۔۔ تو عامر نے کھا کہ نہی تم نے مجھے باتوں میں لگایا تھا دوستوں نے کھا بھی کہ تو ھار چکا ھے ا شرافت سے گانڈ مرواو۔ تو اس نے کھا کہ وہ میرا اور اسکا مسئلہ ھے دوستوں نے کھا کہ نہی ھم سب کے سامنے گانڈ مروائی جائیگی۔اتنے میں وڈیرے کا بیٹا ولوا بھی نکل کر سامنے آگیا ۔ وہ زرا لڑاکو قسم کا تھا تو اس نے مداخلت کرتے ہوئے کھا کہ بات کیا ھے ساری بات اس کو بتائ گئی تو اس نے بھی عامر کو کھا تم۔مقابلہ ھار چکے ھو۔ عامر نے کھا کہ میں دوبارہ مقابلہ کروں گا۔اگر یہ پھر جیت گیا تو میں اسکو دوں گا میں نے حامی بھری لیکن دو شرطیں بھی رکھ دیں وہ کون سی تو میں نے کھا کہ اگر میں ھارگیا تو یہاں موجود سب دوستوں سے چدوائگا ۔لیکن اگر میں جیتا ان دوستوں کے کرنے کے بعد میں عامر اور احسن دونوں کو چودوں گا۔ وہ اس بات پر بڑا تپ گیا لیکن ولوا میری چال سمجھ گیا تھا ۔ عامرنے کھا کے احسن تو گھر چلا گیا ھے ۔جس پر ولوا نے کھا کہ یار تو فکر نہ کر تو ھی جیتے گا اگر پھر بھی ھار گیا تو میں۔ احسن کو بلا دوں گا۔ وہ اس حوصلے افزائی سے خوش ھوگیا ۔۔ اور میں نے ایک اور چالاکی کی کہ اسکو اپنی جیب سے تیل نکال کر دیا کہ اسے لگانے سےجلدی کھڑا ھوجایے گا۔اور وہ۔میری چال میں آگیا ۔اس نے ھاتھ پر تیل لیکر لن پر لگالیا اور میں نے شیشی لگی ڈھکن پر ایسے ھاتھ کیا جیسے تیل لگ گیاھو اور ھمارے اسکول کا سب سے بڑا مٹھ مقابلہ شروع ھوگیا ۔دوا ملے تیل نے جلد ھی اثر دکھانا شروع کردیا ۔اور عامر کا چھرہ لال ھوگیا اور وہ بڑا زور لگا کر منی روکنے کی کوشش کر رھا تھا کہ ولوا نے کھا کہ اگر عامر جیت گیا تو میں بارن کی گانڈ سب سے پھلے ماروں گا ۔مجھے اسکی سفید گانڈ مارنے کا بھت شوق ھے۔ اس طرح کی سیکسی باتوں کے درمیان عامر نے اچانک اپنا ھاتھ روک کر لن کو سرے سے پکڑ لیا تھا ۔۔کہ تم سیکسی باتیں مت کرو۔۔ لیکن ھم سب نے دیکھ لیا تھا کہ اسکی منی نکل چکی ھے جو اسکی انگلیوں کے پورکے درمیاں سے نکلنے والی منی سے ظاھر ھورھاتھا۔اور ھم سب ایک دفعہ پھر جیت کے نعرے مارے تو اچانک عامر نے اٹھ کر دوڑنا شروع کردیا میرے دوست اسکے پیچھے بھاگے لیکن ولوا وھیں بیٹھا ھنس رھاتھا تو میں نے کھا کہ تو کیوں ھنس رھا تھا تو اس نے کھا کہ عامر کی سلوار تو میرے پاس ھے اور جس طرف یہ بھاگا ھے وھیں پر تو احسن چھپا بیٹھاھے۔۔۔ھاھا ۔ اسی طرح تھوڑی سی دیر میں وہ دونوں دوست عامر کو پکڑ لائے اور انکے ساتھ احسن بھی تھا۔۔عامر بھاگ گیا تھا ان سے لیکن پھر سلوار کا خیال آنے پر اس نے سوچا کہ گھر تک جاتے جاتے تو سارے گاؤں والوں کو لگ پتہ جانا تھا کہ ڈاکٹر کا بیٹا ننگا بھاگ رھاتھا۔اب میں نے آؤ دیکھا نا تاؤ عامر کو اپنے نیچے کرکہ تیل لگاکر اسکی گانڈ پر اپنا لن سیٹ کردیا اور ایک زبردست جھٹکے سے اندر ڈال دیا ۔رامر کی چیخیں نکلتی رھیں لیکن مجھ پر تو جنون سوار تھا میں نے اپنی اکام جاری رکھا ۔اور اس دفعہ چونکہ میں خود تیل لگا چکا تھاتو میں جلدی ھی فارغ ھونے والا ھوگیا۔۔ لیکن پھر بھی پانچ منٹ تک میں اسکی گانڈ لن گھیسڑ تا اور احسن کو دکھا دکھا کر چودتا رھا۔ جب میں فارغ ھوا تو پھیر شکیل نے اسکو پکڑ لیا۔ اور میں دوسرے کنارے پر بیٹھ کر تماشہ دیکھنے لگا۔۔۔ اور پھر اس کے بعد نصیر نے بھی اپنا بدلہ چکا دیا۔۔۔ جب نصیر کام۔کر رھا تھا تو ولوا۔نے کھا کہ یار اس کی حالت ہوگئی ھے میں تو نہی کروں گا تو میں نے اسے کھا کہ اگر احسن کو کرنا ھے تواس کو کانا کرنے کے لیئے آج چودنا ضروری ھے ورنہ یہ کام پھر نہی ھوسکتا۔اسظرح جب ولوا نے بھی اسکو چودا تواب عامر چلنے جیسا نہی تھا تھا تو میں نے حکیم کی صبح کو دی ھوئی دوائ بھی یہ کہہ کر لگا دی کہ اس سے آرام جلدی آجائیگا۔اور میں نے ولوا کے کھنے پر احسن کو معاف کردیا کہ اب اسکو نہی چودنا ورنہ شرط کے مطابق تو ھم اسکے حقدار تھے۔اور ساتھ ھی عامر کو سھارا دے کر لیجانا والا بھی تو کوئی چاھیئے تھا۔ بھرحال کچھ دیر بعد عامر کی جلن کچھ ہم ھوئ اور وہ گھر کو جانے لگے تو ولوا نے کھا کہ خبردار اگر کوئ الٹی سیدھی بات کی ھم میں سے کسی کا بھی نما کیا تو تم دونوں بھائیوں ہر میں کتوں کی بچھ کروادو گا اسکے بعد تین دن تک تو عامر بخار کے بھانے کر کہ گھر نہ نکلا اور ھمارے گروپ کے سامنے تو وہ بالکل بھی سر اونچا کرکہ نہ بولا اور اس دوا کا اثر بھی ھوا۔کہ اب عامر کو گانڈ میں خارش ھوتی رھتی تھی جب تک وہ انگلی مارکر یا کسی گانڈ نہ مروالیتا تھا۔جس کا سب سے زیادہ فائدہ ولوا نے اٹھایا تھا کہ احسن کہ۔مارنی کے چکروں میں وہ اسکے بڑے بھائ کو چودنا شروع ھوگیا تھا۔۔اور اس طرح میں نے شرط رکھ چدائی اور کئی سارے مٹھ کے مقابلے بھی جیتے اور وہ سانڈے کاتیل بھی اسنے مجھے لگانا سکھ ادیا تھا پھلی رات تو لن پر بھت زیادہ جلن ھوئی تھی۔ لیکن اس گانڈ میں لکڑی کا راز اس نے مجھے کھا کہ خود آجا یا احسن کو میرے نیچے سلا تو میں تیرے کو بتاؤں۔۔۔اخر کار مجھے ولوا کے ساتھ صلاح کرکے احسن کی اوطاق پر چودنے کا پلان بنا لیا لیکن اب اگلے جمعرات کو الیکشن تھے تو اس لیئے ھوشو کو زرا صبر کرنے کا کہ دیا۔الیک شن والے دن سے ایک دن پھلے میرے شادی شدہ بھائ کے گھر جو خالی کرکہ وڈیرے کے خاص چمچوں کے حوالے کردیا گیا اور ھماری اوطاق پر بھی گھماگھمی بڑھ گئی تھی۔۔۔ جبکہ اس رات میں پھلی دفعہ ٹھرے سے بھی متعارف ھوا کہ جسے لوکل شراب بھی کھتے ھیں۔ الیکشن سیے ایک دن پھلے میڈم افروزی کی معیت میں چار پانچ جل پریاں ھمارے پولنگ بوتھ پر خدمات سر انجام دینے یونیورسٹی سے پھنچ گیئی تھیں وہ ساری رات ھنگامہ خیز تھی ایک طرف کامورے ھماری اوطاق پر جمع ھورھے تھے دوسری طرف چاروں کینڈیڈیتوں کی طرف سے خواتین کے لیئے تحفے تحائف آرھے تھے جو کہ۔میرے ذریعے بھیجے جارھے تھے کہ ایک کالی ویگو میں مرزا فورس کے ھرکارے پھنچ گئے اور انھوں نے چاروں طرف پوزیشنیں سنبھال لیں۔ وہ جیسے جنگ کرنے آئے ھوں ۔ ایک تو ھمیں پریزائڈنگ آفیسر ایسا۔ملا تھا کہ صفا لل تھا۔۔ اس نے جلدی سے آرمڈ فورسز کو بلوالیا کال۔کرکہ کہ ھنگامہ ھونے والا ھے ۔ خیر ھتھیار تو دوسروں کے پاس بھی تھے لیکن ان کا رعب ڈالنے کا ایک انداز تھا جس کی بعد میں انکو سزااسی پولنگ بوتھ سے ھار کی صورت میں بھگتنا پڑی۔ ان کا یہ ڈرامہ کوئ آدھا گھنٹہ چلا کہ فراز نے پھنچ کر سب کو روانہ کردیا۔ اب ایک پولیس والا جو کہ کسی بڑی رینک پر تھا اس نے کھا کہ میں نے افروزی میڈم کو ابھی چودنا ھے وہ بھی رات کو دو بجے وہ فل ٹن تھا۔ جب چانڈیو کو پتہ چلا تو وہ بھی آ کر سمجھانے لگا کہ یار ابھی تو میری بات مان لے اب ضد چھوڑ دے تو وہ نشے میں بولنے لگا کہ کل کون جیتتا وہ کل دیکھیں گے مجھے تو ابھی اسی وقت افروزی کی مارنی ھے۔۔اب ایک ھنگامہ لگ گیا جو عملہ آیا تھا پولنگ سٹیشن کا وہ تو ایک طرف ھوگئے ۔پولیس والے ایک طرف اور گاؤں والے ایک طرف۔ایسے میں میڈم افروزی کو بلوایاگیا جبکہ انکو اصل بات سے لاعلم رکھا گیا تھا۔جب وہ رات کے اندھیرے میں فیروزی کلر کے کپڑوں میں ملبوس سب کے سامنے آکر بیٹھی تو کیوں کہ لن کھڑے ہوگئے ۔اور ایک زبردست بات یہ کہ وہ بھی فل ٹن تھیں۔لیکن وہ بڑے سلیقے سے پولیس والے کے سامنے ایسے بیٹھی کہ اس کے بڑے بڑے سفید ممے گلے کے کلیویج سے صاف نظر آرھے تھے پولیس آفیسر کی تو رال بھنے لگی ۔۔ایک۔مجمعہ لگ گیا۔۔ جاری ھے ۔
×
×
  • Create New...