Jump to content
URDU FUN CLUB

Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 03/02/2020 in all areas

  1. 13 likes
    قارئین کی محبت اور پسند کا بہت شکریہ۔ مجھے افسوس ہے کہ ان دنوں میں لکھنے سے قاصر ہوں اور مجھے وقت نہیں مل پا رہا ہے کہ میں پوری طرح وقت دے سکوں۔ میری پوری کوشش ہے کہ میں ایک دو دنوں میں کچھ کام کھینچ سکوں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ میں ان دنوں رات کو گیارہ بارہ بجے گھر جا پاتا ہوں اور کئی بار دفتر میں ہی سونا پڑ جاتا ہے۔ کام کی زیادتی کی وجہ سے میں نیند بھی پوری نہیں کر پا رہا۔ مگر اچھی بات یہ ہے کہ مصروفیات آتی ہیں تو فراغت بھی آتی ہے۔ یہی زندگی ہے۔ تھوڑا کام معمول پہ آ جائے تو پھر سے سبھی سلسلوں کو ٹائم دوں گا۔
  2. 10 likes
    جناب سب سے بڑی مجبوری کرونا کی شکل میں آپ لوگوں کے سامنے ہے۔جب پہلا کیس سامنے آیا تھا میرا کام تبھی سے بڑھ گیا تھا اور تب سے میں لکھنے سے قاصر ہو گیا۔ جناب ایڈمن کو ساری صورتحال کا علم ہے اور میرے پچھلے سال کی روانگی کا بھی پرانے ممبرز کو علم ہو گا۔ہمارا کام خاصا مشکل ہو چکا ہے اور میں بھی اس کیمپ کا حصہ ہوں۔ گزشتہ سال میں اٹلی بھی اسی سلسلے میں گیا تھا مگر اندازہ نہیں تھا کہ کرونا نمودار ہو جائے گا۔ بہرحال سب بہتر ہو جائے گا اگر ہم نے احتیاط کی تو۔۔۔۔۔ ہاتھ دھوئیں، ہاتھ نہ ملائیں، اگر کھانسی یا زکام یا نزلہ ہو تو تنہائی اختیار کریں، میل ملاپ سے گریز کریں۔
  3. 9 likes
  4. 9 likes
    جب جب جہاں جہاں کام سے مہلت ملتی ہے تھوڑا تھوڑا اپنے سلسلے آگے بڑھا رہا ہوں۔ پردیس کے کل کچھ صفحات لکھے تھے اور کوشش ہے کہ آج ایک اپڈیٹ جتنا تو لکھ ہی لوں۔ باقی امید پہ دنیا قائم ہے۔
  5. 8 likes
    اس انتظار کو کورونا وائرس سے مشروط سمجھیے۔ کیونکہ بندہ اس کیمپ کا حصہ ہے۔دعا کیجیے کہ جلد اس سے بچت ہو سکے۔
  6. 8 likes
    کنٹین والی لڑکی قسط نمبر ۳ میں کچھ دیر اپنا سانس بحال کرتی رہی لذت آمیز تھکن سے میرا انگ انگ ٹوٹ رہا تھا، جونہی میری بے ترتیب سانسیں درست ہوئیں تو میں نے دیکھا کہ میری قمیض اور بنیان اتری ہوئی ہے اور شلوار بھی گھٹنوں تک آگئی ہے اور رقیہ باجی اپنی شلوار پہن چکی تھیں لیکن انکا سینہ ابھی تک عریاں تھا۔ میں نے دیکھا کہ رقیہ باجی مسکرا رہی ہیں اور اور انکی آنکھیں خوشی سے چمک رہی تھیں مجھے بہت شرم آئی۔ پھر رقیہ باجی نے کھونٹی سے میری قمیض اور بنیان اتار کر مجھے دی اور کہا میری جان کیا اس طرح رہوگی میں نے پھر شرم سے سر جھکا لیا۔ رقیہ باجی نے ایک بار پھر مجھے چوم کر کہا کہ تم شرماتی ہوئی بہت اچھی لگتی ہو۔ میں نے اپنے کپڑے پہنے اور رقیہ باجی کو کہا کہ آج مجھے جلدی جانا ہے اگر آپ اجازت دے دیں۔ رقیہ باجی ہنستے ہوئے کہنے لگیں کیوں نہانے کی اتنی جلدی ہے میری جان کو، پھر مسکرا کر کہنے لگیں اچھا جا، لیکن کل ٹائم پر پہنچ جانا۔ دوستو میں اپنے گھر تک 5منٹ کے مختصر فاصلے میں بھی پسینہ پسینہ ہوگئی۔ دل کا چور جو تھا ہر وقت یہ خیال آتا تھا کہ جو بھی لڑکی یا عورت مجھے دیکھتی مجھے خیال آتا ہے کہ جیسے اسے سب خبر ہے۔ گھر پہنچ کر سکون آیا، اس وقت گھر میں کوئی نہیں تھا۔ امی پرنسپل میڈم کے گھر کام کرنے گئی ہوئی تھیں اور تمام چھوٹے بہن بھائی ابھی اسکول میں ہی تھے۔ میں نے جلدی سے پہلے شلوار دھوکر دھوپ میں ڈالی اور پھر نہانے چلی گئی جتنی دیر میں نہا کر آئی تو شلوار سوکھ چکی تھی میں نے شکر ادا کیا کہ امی کے آنے سے پہلے شلوار سوکھ گئی تھی کیونکہ ہمارا چھوٹا سا گھر تھا اور امی یا بہنوں سے کوئی بھی چیز چھپانی مشکل تھی۔ ایک بجے چھوٹے بہن بھائی واپس آگئے اور 2بجے امی واپس آگئی۔ امی کو ہمیشہ ڈرائیور چاچا سرکاری سوزوکی ڈبے میں واپس چھوڑنے آتا تھا اس کا نام شفیق تھا اور ایبٹ آباد کا رہنے والا تھا اسکی عمر 50سال کی تھی اور وہ بابا کا دوست تھا اور انکے مرنے کے بعد ہمارا بہت خیال کرتاتھا۔ شفیق چاچا اسکو کے بالک ساتھ اور ہمارے گھر سے چند قدم کے فاصلے پر سرکاری کوارٹر میں رہتا تھا۔ اسکی بیوی صغریٰ چاچی بھی بہت اچھے دل کی عورت تھی اور میری امی کی واحد دوست تھی۔ شفیق چاچا نے مجھے دیکھا تو پہلے امی کو گاڑی تھیلا اتار کردیا جو شائد میڈم سعدیہ نے امی کو دیا تھا پھر میرے سر پر ہاتھ پھیر کر بولا بیٹا اگلے مہینے عائشہ (شفیق چاچاکی بیٹی) کی شادی ہے تم لوگوں نے ضرور آنا ہے، میں نے کہا کہ چاچا امی کہاں کہیں جانے دیتی ہے، تو شفیق چاچا ہنس کر بولا بیٹا یہ کہیں اور نہیں تمہارے گھر کی شاردی ہے تم لوگوں نے ضرور آنا ہے۔ میں نے تمہاری امی سے بات کرلی ہے میں نے امی کی طرف دیکھا تو انہوں نے اثبات میں سر ہلادیا۔ رات کو جب میں سونے کے لیے اپنی چارپائی پر لیٹی تو رقیہ باجی کے ساتھ گزارا ہوئے دن کا ایک ایک پل یاد آنے لگا۔ مجھے یقین ہی نہیں آرہاتھا کہ میں نے یہ سب کچھ کر لیا ہے کیونکہ اس وقت تک میری زندگی کے کسی بھی دریچے سے سیکس کی ہوا تک نہیں آتی تھی۔ آج جو بچیاں 15سال کی ہیں وہ ہماری زندگی کا تصور تک نہیں کرسکتیں، نہ موبائل نہ کمپیوٹر نہ ہی انٹر نیٹ اور نہ ہی کیبل۔ صرف پی ٹی وی اور ہمارے گھر میں وہ بھی نہیں تھا تو میرا جنسی تلذذ کا تجربہ مکمل طور پر خالص تھا اس میں کسی خارجی عوامل کا دخل نہیں تھا۔ اگلے چند دن بغیر کسی اہم واقعے کے گذر گئے رقیہ باجی نے بھی صرف ہلکی ہلکی چیٖھڑ چھاڑ پر اتفاق کیا کونکہ وہ بہت محتاط تھیں اور انہیں ڈر تھا کہ کہیں پرنسپل میڈم اچانک چھاپہ نہ ماردیں اور پرنسپل میڈم سے رقیہ باجی کی جان نکلتی تھی۔ پہلے تجربے کے بعد میری طلب میں بھی اضافہ ہو گیا تھا۔ لیکن سچی بات ہے کہ ڈر بھی بہت لگتا تھا۔ لیکن پھر ایک ایسا واقعہ ہوا جس کے بعد میری زندگی میں سیکس ایسے داخل ہو ا کہ آج تک نہیں نکلا۔ اگر کوئی اسلام آباد کو میرا ہم عمر یہ اسٹوری پڑھ رہا ہے تو اسے یاد ہوگا کہ اسلام آباد میں 80اور90 کی دہائی میں لوڈ شیڈنگ صر ف سردیوں کے مہینے میں ہوتی تھی اور اسکی وجہ راوال اور سملی ڈیم میں پانی کی کمی ہونا تھی۔ سردیوں کی ایک ایسی ہی شام کو ہم سب لوگ گھر پہ تھے دونوں بہنیں اور بھائی سرای کی وجہ سے دورے کمرے میں لحاف میں دبکے پڑے تھے اور میں اور امی ایک کمرے میں تھے کہ رات کو 6بجے دروازے پر دستک ہوئی جی ہاں 1980میں دسمبر شام کے 6بجے کا مطلب رات ہی تھا۔ امی کی ٹانگ میں شام سے درد تھا اور بستر میں لیٹی ہوئی تھی کیونکہ میں اس کی ٹانگیں دبا رہی تھی دونوں بھائی چھوٹے تھے تو انہیں دروازہ کھولنے سے منع کیا تھا۔ دستک کی آواز سن کر امی نے مجھے کہا کہ پوچھو کون ہے میں دروازے کے پاس جا کر بولی کون ہے، باہر سے ایک مردانہ آواز آئی جی میں خرم ہوں، میں نے کہا کہ کون خرم تو اس نے کہا جی میں شفیق ڈرائیور کا بیٹا، مجھے امینہ خالہ سے ملنا ہے۔ میں نے امی کو بتایا تو انہوں نے پہلے حیرت کا اظہار کیا اور پھر ماتھے پر ہاتھ مار کر کہنے لگیں ہا ں آج صغری نے کہا کہ وہ خرم کو بیھجے گی اسٹور دیکھنے۔ ہمارا گھر چونکہ اسکول کی دیوار کے ساتھ پرنسپل میڈم کے کہنے پر بنایا گیا تھا تو کمرے تو صرف 2تھے مگر بابا نے اسٹور اچھا بڑا بنایا تھا تاکہ بعد میں اسکو بھی کمرا بناسکیں لیکن زندگی نے ان کو مہلت نہ دی۔ خرم وہ ہی اسٹور دیکھنے آیا تھا تاکہ اگلے ماہ اسکی بہن عائیشہ کی شادی کو کچھ سامان وہاں رکھا جاسکے۔ میں نے امی کی بات سن کر دروازہ کھول دیا اور سے کہا کہ وہ اندر آجائے۔ ہمارے گھر میں دروازے کے ساتھ ہی کچا صحن تھا خرم جونہی اندر آیا تو ایکدم لڑکھڑا گیا میں نے فورا اس کو تھام لیا جونہی میں نے اسکو پکڑا اس نے بھی فوا مجھے پکڑ لیا پھر 10سیکنڈ میں وہ سنبھل گیا اور ہم دونوں نے ایک دوسرے کو چھوڑ دیا لیکن اس لمحات لمس سے میرے پورے جسم میں سنسنسی دوڑ گئی۔ ہم اندر کمرے میں داخل ہوئے تو خرم نے امی کے پاس جا کر سر کو نیچے جھکایا تو امی نے اس کے سر پر ہاتھ پھرتے ہوئے کہا کہ اتنے اندھیرے میں کیوں آگیا بیٹا، خرم نے کہا خالہ جب گھر سے چلا تھا تو بجلی تھی یہاں پہنچا تو چلی گئی پہلے سوچا کہ واپس چلا جاوں لیکن پھر سوچا کہ اسٹور تو بعد میں بھی دیکھ سکتا ہوں لیکن وہ بام آپ کو دینا ضروری تھا جو امی نے آپکی ٹانگوں کے درد کے لیے بھجوایا ہے، امی یہ سن کر صغری چاچی کو دعائیں دینے لگے اور مجھے کہا کہ بھائی کو کرسی لادے میں نے پاس پڑا موڑھا آگے رکھ دیا اور خود امی کے ساتھ چارپائی پہ بیٹھ گئی۔ کمرے مں لالٹین جل رہی تھی اور خرم بالکل اس کی روشنی تلے بیٹھا ہو ا تھا۔ تب میں اس کو پہلی بار دیکھا۔ خرم کی ستواں ناک تھی اور بڑی بھوری آنکھیں، اس کا رنگ سرخ و سفید تھا اور ہونٹوں پر باریک سی براون مونچھیں اس کا قد بھی خاصا لمبا تھا ، اسنے پہلے بام نکال کر امی کو دیا، پھر جیب سے ایک تھرمامیٹر نکالا او امی کو کہا کہ میری امی نے کہا تھا کہ آپ کا ٹمپریچر لے کر آنا ہے۔ امی نے کہا کہ صغری تو وہم کرتی ہے میں بالکل ٹھیک ہوں لیکن خرم نے امی کی ایک نہ سنی اور تھرما میٹر امی کے منہ میں ڈال دیا۔ خرم لاکھ امی کی دوست کا بیٹا تھا لیکن تھا تو مرد اور امی کو بیوہ ہوئے 4برس گزر چکے تھے امی اس کے اتنے قریب آنے پر جھینپ گئیں۔ میں نے بھی امی کو پہلی بار کسی غیر مرد یا جوان لڑکے سے بغیر پردہ کے بات کرتے دیکھا تھا لیکن اس وقت مجھے کوئی بات عجیب نہیں لگ رہی تھی امی کا ٹمپریچر بالکل نارمل تھا، خرم ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا بڑے عرصے بعد ہمارے گھر میں ایک مردانہ آواز گونج رہی تھی اور مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا۔ 10منٹ کے بعد لائٹ آگئی۔ امی نے کہا کہ صندل جا بھائی کو اسٹور دکھا دے۔ میں خرم کو لے کر باہر نکلی تو صحن عبور کرکے ہم اسٹور پہنچ گئے۔ جب میں نے اسٹور کا بلب جلانے کی کوشش کی تو پتہ لگا کہ اسٹور کا بلب فیوز ہے میں نے خرم کو کہا کہ تم رکو میں اندر سے لالٹین لے کر آتی ہوں، میں دوبارہ اندر آئی تو امی نے کہا کہ اب کیا ہوا میں نے کہا کہ اسٹور کا بلب فیوز ہے امی نے کہا کہ تو ٹھہر اندھیرے میں تیرا جانا مناسب .اور مجھے کہا کہ جلدی سے ایک کپ چائے بنادے اس کے لیے، میں کچن چلی گئی اور اسٹور کی طرف، جب میں نے چائے کا پانی رکھا اور کپ دھو کے رکھے تو دیکھا کہ چائے کی پتی نہیں ہے میں نے سوچا امی سے پوچھتی ہوں کہ قہوہ بنادوں؟ میں اسٹور کی طرف گئی تو مجھے اندر سے زور زور سے بولنے کی آوازیں آنے لگیں، میں دروازے کے ساتھ لگ کر کھڑی ہوگئی اور درز سے اند جھانکا تو میرا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ میں نے دیکھا کے خرم نے امی کو پیچھے سے جکڑا ہو ا ہے اور امی اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے زور لگار رہی ہیں میرے دل میں آیا کہ ابھی اندر گھسوں اور خرم کو 2تھپڑ لگادوں لیکن میں فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی۔ امی نے خرم کو کہا کہ شرم کرو میں تمہاری خالہ ہوں تمہاری امی کی دوست ہوں اور یہ کیا حرکت کر رہے ہو۔ خرم نے امی کا گال کو چومتے ہوئے کہا کہا کہ آپ مجھے بہت پیاری لگتی ہو آپ بہت خوبصورت ہو میں کافی دن سے آپ کو یہ کہنا چارہا تھا لیکن موقع نہیں ملا۔ امی نے اپنی گلابی اردو میں خرم سے کہا بچہ باز آجاو، ہم تمہاری امی کی عمر کا عورت ہے امارا5بچہ ہے شرم کر لو اب مجھے چھوڑ دہ ابھی صندل آجائے گا امرا کتنا بے عزتی ہوگا جوان بیٹی کے سامنے۔ خرم امی کی ساری باتیں سنی ان سنی کرتا رہا پھر اس نے امی کا چہرہ اپنی طرف کیا اور کہا کہ اچھا میں چھوڑ دوں گا لیکن آپ میری دو باتیں سن لو ورنہ پھر جو مرضی ہو میں نہیں ڈرتا اچھا ہے سب کو پتہ چل جائے۔ امی تھی تو ایک گھریلو عورت اس کی باتوں میں آگئی۔ امی نے دروازے کی طرف دیکھا اور پھر خرم کو کہا بولو اس نے امی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا آپ کو اپنے بچوں کی قسم ہے جو میں پوچھوں اس کا سچ سچ جواب دینا ہے یہ کہ کر اس امی کو دیوار کے ساتھ لگا دیا اور امی کے ہاتھ لالٹین لے کر ایک کنڈے کے ساتھ ٹانگ دی۔ اب لالٹین کی روشنی امی کے منہ پر پڑ رہی تھی اور خرم بالک ان کے سامنے کھڑا تھا خرم نے دونوں ہاتھ امی کے کندھوں پر رکھے ہوئے تھے اور اس کا جسم تقریباً امی کے جسم کے ساتھ ٹچ ہو رہا تھا۔ خرم نے امی سے پوچھا آپ کی عمر کتنی ہے امی نے ایک سیکنڈ سوچا اور کہا 34سال خرم نے کہا یہ تو کچھ عمر نہیں۔ پھر خرم نے کہا آپ کو اپنے بچوں کی قسم سچ سچ بتانا میری شکل کیسی ہے امی نے کوئی جواب نہیں دیا خرم نے کہا امینے جلدی کرو بچے آجائیں گے جب اس نے امینے کہا تو میں نے دیکھا کہ امی کے چہرے پر بالکل سرخی دوڑ گئی کیونکہ بابا پیار سے امی کو امینے کہتے تھے۔ امی نے کہا تم بہت خوبصورت ہو بیٹا تمہیں تو کوئی بھی لڑکی مل جائے گی،پھر میں نے دیکھا کہ نیم تاریکی میں خرم نے اپنا نچلا دھڑ امی کے ساتھ پیوست کردیا۔ میں نے دیکھا کہ امی کے منہ سے ہلکی سی سسکی نکل گئی، خرم نے کہا کہ امینے تم بہت خوبصورت ہو میں نے اپنی زندگی میں تم سے خوبصورت عورت نہیں دیکھی۔ امی کا رنگ پہلے ہی سرخ تھا مزید گلنار ہوگیا۔ خوبصورتی کی تعریف دنیا کی ہر عورت کی کمزوری ہے خرم نے نے پھر امی کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا اور امی کی دونوں آنکھیں چوم لیں۔ میں نے دیکھا کہ امی کے چہرے پر اب مزاحمت کم ہو رہی تھی کہ خرم نے بڑی آہستگی سے امی کے دونوں ممے قمیض کے اوپر سے دبانے شروع کردئے اور امی کو کہا کہ تم اتنی پیاری اور جوان ہو مرد کے بغیر کیسے زندگی گزاروگی امی نے کہا کہ میرے 5بچے ہیں اور ہمارے علاقے میں بچوں والی بیوہ شادی نہیں کرتی۔ لیکن اب کی امی کی آواز اور لہجے سے غصہ بالکل غایب ہوچکا تھا۔ خرم نے امی کی ناک سے اپنی ناک رگڑی اور کہا امینے جان آئی لو یو۔ امی نے سر جھکا کر کہا بے شرم اب جاو تم نے میرا سارا محنت ختم کر دیا ہے امی کے منہ سے یہ سن کر خرم نے امی کو زور سے جپھی ڈال دی۔خرم نیامیکو جپھی ڈالی ھوئی تھی اور خرم امی کے ہونٹوں میں ہونٹ ڈال کر چوس رھے تھے اور امی کی آگے سے قمیض اوپرکردی تھی اب امی کے دونوں بڑے بڑے گول مٹول چٹے سفید چھتیس سائز کے ممے بریزئیر سے آزاد تھے اور امی کی آنکھیں شرم سے مکمل طور پر بند تھیں۔ خرم کا ایک ھاتھامی کے ایک مْمے پر تھا اور دوسرا ھاتھ امی کی بْنڈ پر رکھا ہو تھا وہ اسے اوپر نیچے پھیر رہا تھا۔خرم مسلسلامی کے ہونٹ چوس رہا تھا پھرخرم نے امی کے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ علیحدہ کیے تو میں نے دیکھا کہ امی کی آنکھیں ابھی بند تھیں بند تھی اور وہ شائد 4سال بد ہونے والے اس جنسی مزے میں کھوئی ھوئی تھی اب خرم نے کی گالوں کو چومنا شروع کردیاوہ کبھیامی کے گالوں کو چومتا تو کبھی ان کے گال کو منہ میں بھر کر چوسنے لگ جاتا۔امی کا رنگ تو پہلے ھی چٹا سفید تھا اب بلکل سیب کی طرح لال ہوچکا تھا۔خرم نے اب زبان کا رخ امی کے کان کی لو کی طرف کیا جیسے جیسیخرم کی زبان امی کے کان کی لو سے ھوتی ھوئی کان کے پیچھے کی طرف جاتی تو وہ ایک جھرجھری سی لیتی اور اپنی پھدی والے حصہ کو خرم کے لن والے حصہ کے ساتھ جوڑ دیتی اور منہ سے عجیب عجیب سی آوازیں نکالتی پھر خرم نے تھوڑا نیچے ھوتے ہوئے امی کا نپل منہ میں لے کر اس چوسناشر وع کر دیا۔خر م مسلسل اپنی زبان سے نپل چوس رہا تھا۔ خرم اب اپنا ایک ھاتھامی کے پیٹ پر پھیر رہا تھا اور کبھی اپنی انگلی انکی ناف کے سوارخ میں پھیرنے لگ جاتا۔ پھر خرم نے اپنا ایک ہاتھ آہستہ آہستہ امی کی پھدی پر شلوار کے اوپر پھیرنا شروع کر دیا اور امی کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکل گئی۔امی کا ھاتھ مسلسل خرم کے بالوں کو مٹھی میں لیے ھوے تھا۔ پھر خرم نے اپنا ھاتھ امی کے ازاربند پر رکھ لیا اور انگلیوں سیاسکا سرا تلاش کرنے لگ گیا۔ امی نے ایک دم کہا نہیں نہیں بس کو اب کوئی آجائے گا، خرم نے یہ بات بھانپ لی کہ ا امی کو جنسی عمل پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ کسی کے آنے کا ڈر ہے تو وہ اور شہر ہوگیا۔ اس نے امی کو کہا امینے جان ابھی کوئی نہیں آتا اور کہا کہ آپ آواز لگاو کہ صندل چائے کمرے میں رکھ دو ہم وہیں آرہے ہیں۔ امی بھی اس کے ایسے ٹرانس میں تھی کہ انہوں نے آواز لگائی صندل بیٹا چائے کمرے میں رکھ دینا میں پیٹی ہٹوا کر آرہی ہوں۔ میں نے دروازے سے ذرا دور جا کر آواز لگائی جی امی پہلے چولہا تھوڑا خراب تھا اب دوبارہ پانی رکھا ہے 15منٹ لگے گیں، میں دربارہ کچن آئی اور نئے سرے سے چائے کا پانی رکھا اور دہ بارہ اسٹور روم کی طرف چلی گئی۔ اس وقت تک خرم امی کی شلوار اتار چکا تھا۔میری آنکھوں کے سامنے اب امی کی گوری گوری موٹی بھری بھری ننگی ٹانگیں اور گولڈن رنگ کے بالوں میں ڈھکی انکی پھولی ھوی پْھدی تھی یہ سین دیکھتے ھی میرا ھاتھ خود ھی اپنیپھدی پر چلا گیا جو پتہ نھی کتنی گرم تھی اور میں نے اس مسلنا شروع کردیا۔ خرم نے اپنا ایک ھاتھامی کی پھدی پر رکھا ہو ا تھا اور ھاتھ کی درمیانی انگلی کو پھدی کے اوپر نیچیکر رہا تھا امی اب بہت گرم ہوچکی تھی اور اپنے ھاتھ سے خرم کے ہاتھ کو اپنی پھدی پر دبارہی تھی۔ اب امی اپنی ٹانگوں کو مزید کھول کرخرم کے کے ھاتھ کو آگے پیچھے جانے کا راستہ دے رھی تھی۔ اچانک امی کی آنکھیں نیم بند ھونے لگ گئی اور منہ اور انہوں نے تیز آواز میں سسکیا ں بھرنی شروع کردین۔ خرم نے اپنے ھاتھ کی سپیڈ اور تیز کردی اچانک امی نے اپنی دونوں ٹانگوں کوخرم کے ھاتھ سمیت ذور سے آپس میں بھینچ لیا اور نیچے کی طرف جھکتی گئی اتنا جھکتی گئی کہ نیچے ھی پاوں کے بل پیشاب کرنے کے انداز میں بیٹھ گئی خرم بھی امی کے ساتھ ہی جھک گیا۔ پھر امی کے جسم نے ایک زور سے جھٹکا لیا اور ایک دم پرسکون ہوگیا۔ اب امی اور خرم دو منٹ یونہی لیٹے رہے اور پھر امی جلد ہی اٹھ گئی اور کہا جلدی کرو صندل آگئی ہوگی میں بھی جلدی سے کچن چلی گئی اور جتنی دیر میں امی اور خرم کپڑے پہن کر آتے میں بھی قہوہ لے آئی۔ امی نے کمرے میں آتے ہی صفائیاں دینی شروع کردین کہ مشکل سے جگہ نکل آئی ہے اور کل پر سوں خرم آکر سامان رکھ دے گا۔ امی اور خرم ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے، اور سچی بات ہے کہ مجھے امی پہ تو غصہ آرہا تھا لیکن خرم اور پیارا لگ رہا تھا۔ نہیں یہ کہہ کر امی ہمت کرکے اٹھیں اور لالٹین اٹھا کر اسٹور کی طرف چل دیں
  7. 7 likes
    بڑی مشکل سے اتنا لکھا تھا۔ بس امید ہ اگلے ہفتے کچھ کام بنے گا۔ یہ بھی سمجھیں اس لیے شئیر کیے کہ سب کو معلوم ہو کہ ابھی ہم زندہ ہیں۔ چاہے جس بھی حال میں ہوں۔
  8. 6 likes
    کومل باجی: اس وقت تو غصہ ہی بہت تھا اس پر اور درد بھی تھی اس لئے اور کچھ نہیں سوچ رہی تھی. بشریٰ باجی: لو اس بیچارے پر کس بات کا غصہ تھا تم نے خود اپنی مرضی سے سب کروایا تھا. کومل باجی: میں تو بس اس کو چھت پر روکنے گئی تھی کہ واپس چلا جائے ایسے ملنا ٹھیک نہیں ہے. میرے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ سب ہو جائے گا. بشریٰ باجی: اس کا بعد اس کی کوئی کال یا میسج نہیں آیا؟ کومل باجی: جب میں سو کر اٹھی تو دیکھا اس کی کافی مس کال اور میسج آے ہوۓ تھے. اور سب میں اس نے معافی مانگی ہوئی تھی کہ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن پتا نہیں یہ سب کیسے ہو گیا. بشریٰ باجی: ایسے ہی ارادہ نہیں تھا. مجھے تو لگتا ہے کہ وہ پورا پلان کر کے آیا تھا. کومل باجی: ہاں مجھے بھی یہی لگ رہا تھا اس لئے میں نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا. اس کے بار بار میسج آ رہے تھے لیکن میں کوئی جواب نہیں دے رہی تھی. رات کو سوتے وقت میں نے اس سب کے بارے میں سوچا تو مجھے عجیب سا مزہ آنے لگ گیا. ایسے لگا جیسے اس وقت ہونے والے سارے واقع کو سوچ کر نیچے میری پھدی گیلی ہو رہی ہے. لیکن پھر بھی میں نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا. اگلے دو تین دن تک وہ مسلسل میسج کرتا رہا اور کال بھی لیکن میں نے کوئی جواب نہیں دیا. پھر تین دن کے بعد دوپہر کے وقت ہی اس کا میسج آیا کہ میں تمھارے گھر کی چھت پر ہوں اور جب تک تم نہیں آؤ گی میں واپس نہیں جاؤں گا. میں گھبرا گئی. میں نے اسے میسج کیا کہ میں نے تم سے کوئی بات نہیں کرنی تم واپس چلے جاؤ. لیکن اس کا میسج آیا کہ ایک بار پلیز اوپر آ کر مجھے معاف کر دو تو میں واپس چلا جاؤں گا. میں نے چیک کیا تو امی اور ردا سو رہی تھی. میں چپکے سے چھت پر آ گیی. وہ ساتھ والوں کی چھت پر تھا. میرے روکنے کا باوجود وہ دیوار پھلانگ کر ہماری چھت پر آ گیا. وہ مجھے دوبارہ وہی ٹنکی کے ساتھ والی جگہ پر لے گیا کیوں کہ اس طرح چھت پر کھڑے ہوۓ کوئی بھی دیکھ سکتا تھا. بشریٰ باجی: تم دوبارہ کیوں چلی گیی جب تمہیں اس سے بات ہی نہیں کرنی تھی تو. کومل باجی: میں تو اس کو روکنے گئی تھی کہ ایسے چھت سے چلا جائے کسی نے دیکھ لیا تو اچھا نہیں ہو گا. بشریٰ باجی: اچھا پھر؟ وہاں پہنچ کر اس نے مجھے گلے لگا لیا اور مجھ سے معافیاں مانگنے لگا کہ آی ام سوری مجھے پتا نہیں چلا کہ سب کیسے ہو گیا.. میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا.. تم اتنی پیاری لگ رہی تھی کہ میں خود کو بھی نہیں روک سکا. میں نے خود کو چھڑایا اور کہا: چھوڑو مجھے اور یہاں سے دفع ہو جاؤ. مجھے سب پتا ہے تم اس دن سب سوچ کر آے تھے. وہ بولا جان تمہاری قسم میں صرف تمہیں دیکھنے کے ارادے سے آیا تھا لیکن جب چھت پر تمہیں دیکھا تو خود کو روک نہیں پایا. چمکتی دھوپ میں تم اور بھی خوبصورت لگ رہی تھی. اس نے پھر مجھے گلے لگا لیا اور روتے ہوے کہنے لگا آی ام سوری پلیز مجھے معاف کر دو. بس اس وقت تمھارے حسن نے مجھے پاگل کر دیا تھا اور مجھے کچھ پتا نہیں چلا اور سب کچھ خود ہی ہوتا چلا گیا. بشریٰ باجی: لڑکی کے حسن کی تعریف تو لڑکوں کا سب سے بڑا ہتھیار ہے. کومل باجی: مجھے بھی اس کا ایسے گلے لگانا اچھا لگ رہا تھا لیکن میں خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی اور اس کو کہ رہی تھی کہ مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی.. لیکن وہ مسلسل مجھے گلے لگاے ہوے کبھی مجھے آئ لو یو اور کبھی مجھے آئ ام سوری بول رہا تھا اور مجھے کہ رہا تھا کہ میں تمہیں کبھی چھوڑ کر نہیں جاؤں گا. پلیز مجھے معاف کر دو. آیندہ تمہاری مرضی کے بنا تمہیں ٹچ بھی نہیں کروں گا.. پلیز پلیز پلیز .... اس کی کافی منت سماجت کے بعد آخر میں نے کہا اچھا مجھے چھوڑو تو سہی میں نے تمہیں معاف کیا.. اس نے مجھے چھوڑا اور تھینک یو بول کر میرے ہونٹوں پر کس کرنا شروع کر دی. میں نے اس کو روکنا چاہا لیکن وہ نہیں رکا. میں بھی آہستہ آہستہ گرم ہو رہی تھی تو اس کا ساتھ دینے لگی. تھوڑی دیر کے بعد مجھے اس کا ہاتھ اپنے بوبز پر اور لن ٹانگوں میں محسوس ہوا جو مجھے اور زیادہ گرم کر رہا تھا. پھر اس نے مجھے گھمایا اور دیوار کے ساتھ لگا کر پیچھے سے گردن پر کس کرنا شروع کر دیا. میں آنکھیں بند کئے دیوار کے ساتھ لگی گردن پر اس کے ہونٹوں اور سانسوں کی گرمی اور نیچے گانڈ پر اس کے لن کی چبھن اینجوے کر رہی تھی. شائد مجھ سے زیادہ اس کو اس بات کا پتا چل گیا تھا کہ یہ میری کمزوری ہے اور اس طرح سے میں اتنی گرم ہو جاتی ہوں کہ کوئی بھی بات ماننے کو تیار ہو جاتی ہوں. وہ گردن پر کس کرتے کرتے میرے گالوں اور کان پر کس کرنے لگا.. کان پر کس کرتے ہوۓ بولا: جان نیچے سے شلوار اتار کر لگا لوں. اوپر اوپر ہی کروں گا. میں آنکھیں بند کئے ہوے ایسی گرم ہو رہی تھی کہ اس کو کسی بات سے نہیں روک پا رہی تھی. میں نے بس یہ کہا: ہمم.. بشریٰ باجی: لو جی یہ تم اس کو روکنے گئی تھی یا پھر سے چدنے؟ کومل باجی: میں گئی تو اس کو روکنے ہی تھی لیکن پھر حالات ایسے ہو گئے کہ میں کمزور ہوتی گیی. لیکن اس دن شائد کہیں میری چھٹی مجھے کہ رہی تھی کہ آج بھی یہ کچھ کیے بغیر نہیں جائے گا. اس نے مجھے کس کرنا ایک سیکنڈ کے لئے بھی نہیں روکا بس اپنا ایک ہاتھ میرے بوبز سے ہٹا کر نیچے لے کر گیا. مجھے تب پتا چل کہ میری شلوار اتر چکی ہے جب مجھے گرم لن اپنی ننگی ٹانگوں کے درمیان میں محسوس ہوا.. مزے سے میرے منہ سے سسکاری نکلی. وہ بھی بڑے پیار سے لن کو میری ٹانگوں کے درمیان پھنسا کر میری پھدی پر رگڑ رہا تھا. میری پھدی پہلے ہی گیلی ہو رہی تھی اور گرمی اور پسینے کی وجہ سے ٹانگوں میں اور بھی چکناہٹ پیدا ہو گئی تھی. ایسے میں وہ اپنا لن میری ٹانگوں میں سے نکالتا اور پھر جب آہستہ سے ٹانگوں میں سے گھسا دیتا تو لن میری پھدی کو رگڑتا ہوا ٹانگوں میں گھس جاتا. اسی طرح ایک دو منٹ کرنے کے بعد اس نے پھر میرے کان پر کس کرتے ہوۓ کہا: جان اندر ڈالوں ؟؟ آرام سے کروں گا... مجھے پچھلی دفع والا درد یاد تھا لیکن اس وقت میں جتنی گرم ہو چکی تھی میں کچھ بھی برداشت کرنے کو تیار تھی..اور اگر وہ خود کچھ دیر نہ کہتا تو شائد میں خود ہی اس کو اندر ڈالنے کا کہ دیتی. میں نے سسکاری لیتے ہوے بس اتنا ہی کہا: سی...ہمم...ڈال لو.. اس نے مجھے تین چار قدم پیچھے کیا اور میری کمر کو پکڑ کر آگے جھکا دیا. میں دونوں ہاتھ دیوار پر رکھ کر جھک گئی. وہ میرے پیچھے کھڑا ہوا تھا. پھر اس نے میری گانڈ کھولی اور پہلے گانڈ اور پھر پھدی کو انگلی لگا کر چیک کیا. پھر مجھے تھوکنے کی آواز آیی جیسے اس نے کسی چیز پر تھوک پھینکا ہو. مجھے پتا تھا کہ تھوڑی دیر میں لن میری پھدی میں جانے والا ہے اور پچھلی بار درد بھی مجھے یاد تھا لیکن اس وقت میں سب برداشت کرنے کو تیار تھی. اس نے اپنا لن میری گانڈ اور پھدی پر تین چار بار پھیرا اور پھر پھدی پر رکھ کر جھٹکا دیا تو اس کا لن پھسل کر میری ٹانگوں میں چلا گیا. اس نے میرا ایک ہاتھ پکڑ پیچھے کر میری گانڈ پر رکھا اور بولا اسے تھوڑا کھولو. میں نے ایک ہاتھ سے اپنی گانڈ کھولی اور اس نے ایک ہاتھ سے دوسری سائیڈ سے میری گانڈ کھولی. پھر اپنے دوسرے ہاتھ میں لن پکڑ کر میری پھدی پر سیٹ کر کے ہلکا سا دھکا لگایا تو لن میری پھدی پر اتر گیا.. میں درد کی وجہ سے دبی سی آواز میں چیخی اور ایک قدم آگے ہوی لیکن اس نے مجھے مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا اور ساتھ ہی ایک اور دھکا لگایا اور پورا لن میرے اندر اتار دیا. میری ایک اور ہلکی سی چیخ نکلی اور میں کھڑی ہو گیی لیکن وہ لن اندر ڈال کر مجھے مضبوطی سے پکڑ کر کھڑا رہا. میں نے کہا: نومی درد ہو رہا ہے پلیز آرام سے کرو تو اس نے کہا: جان آرام سے ہی کر رہا ہوں بس تھوڑا سا درد برداشت کر لو. اور پھر مجھے جھکا دیا. جب میں جھک گیی تو اس نے تھوڑا سا لن نکالا اور پھر اندر ڈال دیا.. وہ اسی طرح لن کو آرام آرام سے آگے پیچھے کرنے لگ گیا. جب لن اندر جاتا تو مجھے تھوڑا درد ہوتا اور میری سسکاری نکل جاتا. درد تو ہو رہا تھا لیکن اس میں بھی اتنا مزہ آ رہا تھا کہ میں نے اس کو ایک بار بھی نکالنے کا نہیں کہا. ایک دو منٹ کے بعد اچانک سے اس کی سپیڈ تھوڑی تیز ہو گئی اور پانچ چھ جھٹکے لگا کر اس نے لن نکال لیا اور پیچھے ہٹ گیا. میں نے کھڑی ہو کر شلوار اوپر کی اور کپڑے ٹھیک کر کے مڑی تو وہ اپنا لن ہاتھ میں پکڑ کر دبا رہا تھا بشریٰ باجی: تب تم نے لن نہیں دیکھا ؟ کومل باجی: میری طرف اس کی بیک تھی اس لئے مجھے ٹھیک سے نظر نہیں آیا. میں نے اس کو کہا: اب جلدی سے چلے جاؤ. کافی دیر ہو گئی ہے. اس نے اپنا ٹراؤزر اوپر کیا اور مجھے آئ لو یو بول کر چلا گیا. میں بھی دبے قدموں نیچے آئ اور غسل خانے میں گھس گئی. پسینے کے ساتھ ساتھ میری شلوار سے عجیب سی بو آ رہی تھی. نیچے درد بھی ہو رہا تھا لیکن آج مجھے رونا نہیں آ رہا تھا.. تھوڑی دیر بیٹھی کچھ دیر پہلے ہونے والے واقع پر سوچتی رہی اور پھر نہا کر سو گئی.. بشریٰ باجی: تو دوسری بار کیسا لگا؟ کومل باجی: دوسری بار پہلے سے زیادہ مزہ آیا. درد تو ہوا لیکن اس نے بڑے آرام سے اور پیار سے کیا تو شائد اس لئے زیادہ اچھا لگا. بشریٰ باجی: اچھا اس کے بعد اس سے فون اور میسیجز پر کیا باتیں ہوئی؟ کومل باجی نے موبائل آن کر کے ٹائم دیکھا اور بولی صبح کے پانچ بج رہے ہیں. کچھ باتیں کل کے لئے بھی چھوڑ دیں.. ابھی نیند بھی بہت آ رہی ہے اور صبح امی نے پھر جلدی جگا دینا ہے. بشریٰ باجی ہنستے ہوے بولی: تمہاری چدائی کی داستانیں سن کر سونے کو بلکل دل نہیں کر رہا. کومل باجی: مزید چٹ پٹی داستانیں کل رات کو.. ابھی شاباش سو جاؤ. اس کا تھوڑی دیر کے بعد کمرے میں بالکل خاموشی ہو گیی اور شائد دونوں سو گیی لیکن میری آنکھوں سے تو جیسے نیند ہی اڑ گئی تھی. میرا جسم پسینے سے بھیگ چکا تھا اور مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے بہت تیز بخار ہو نیچے ٹانگوں کر درمیان عجیب سا گیلا پن محسوس ہو رہا تھا. بار بار مجھے بشریٰ باجی اور کومل باجی کی باتیں اور اس میں استعمال ہونے والے الفاظ یاد آ ..رہے تھے. جسم کے ان حصوں کا جن کے بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں تھا، اس کا ایسے کھلم کھلا اور ایسے ناموں سے تذکرہ سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے جاری ہے...
  9. 6 likes
    کنٹین والی لڑکی قسط 5 میڈم عفیفہ پہلے تو حیرانی سے مجھے دیکھتی رہیں اور پھر کہنے لگیں صندل تو یہاں کیا کر رہی ہے۔ عائزہ بھی الف ننگی میز پر بیٹھی مجھے دیکھ رہی تھی۔ میڈم عفیفہ بھی بالکل ننگی تھیں اور ان کے کپڑے اس فرش پر پڑے تھے جس پر میں گری تھی۔ میں نے میڈم عفیفہ کو جواب دیا میڈم میں کلاس میں گئی تو وہاں کوئی نہیں تھا تو میں نے سوچا کہ آپ یہاں ہوں گی اس لئے آپ کو دیکھنے ادھر آگئی (میں جان بوجھ کر بشری کا ذکر گول کرگئی کہ میڈم اس بے چاری پر غصے نہ ہوں) میڈم نے میری بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور مجھے گھورنے لگیں، مجھے ان کی نگاہوں سے خوف آرہا تھا۔ جیسا کہ میں دوسری قسط میں بتا چکی ہوں کہ میڈم عفیفہ تقریباً وائس پرنسبل تھیں میڈم سعدیہ کے بہت قریب تھیں اور انکا غصہ پورے اسکول میں بہت مشہور تھا چونکہ ہمارا اسکول 12ویں جماعت تک یعنی ہائر اسکینڈری تھا اس لئے وہاں فرسٹ اور سیکنڈ ایر کی طالبات بھی تھیں وہ بھی میڈم عفیفہ کے غصے سے ڈرتی تھیں۔ میڈم عفیفہ کے میاں کا بہت پہلے انتقال ہوگیا تھا۔ میں میڈم کے گھورنے سے بہت نروس ہو رہی تھی، میڈم نے اپنی کڑک دار آواز میں پوچھا تو نے بک شیلف کے پیچھے سے کیا دیکھا، میں کچھ نہ بولی بلکہ سر جھکا کر کھڑی رہی۔ میڈم نے پھر غصے سے پوچھا گشتی منہ میں زبان نہیں ہے کیا کہ تیری ماں کو بلا کر بتاوں کہ تیری بیٹی یہاں جمیز بونڈ بن کر دوسروں کی ٹوہ لے رہی ہے۔ بول کیا دیکھا، میڈم کے اس طرح تیسری بار پوچھنے پر منہ سے نکل گیا جی وہ میں نے دیکھا کہ آپ عائزہ کو پیار کررہی ہیں۔ اور لائیبریری میں گرمی کی وجہ سے آپ نے کپڑے اتار دیے ہیں۔ میرا آخری جملہ سن کر میڈم کی ہنسی نکل گئی اور وہ کہنے لگی ارے واہ تو بہت چالاک نکلی یہ بہانہ تو میری سمجھ میں بھی کبھی نہیں آیا۔ آگے آ، میں میڈم کے پاس جا کر کھڑی ہوگئی، میڈم نے میرے ہونٹوں کو چٹکی سے لے کر مسل دیا میری سی نکل گئی پھر میڈم نے میرے گالوں کو چوم لیا اور پھر کہا تو تو بڑی نمکین ہے۔ اس تمام گفتگو کے دوران عائزہ بڑی خاموشی سے ساری باتیں سن رہی تھی۔ میڈم نے اسے کہا کیوں ری تو کیا یہاں ولیمے میں آئی نیچے اتر میز سے۔ عائزہ اتر کر میرے ساتھ کھڑی ہوگئی، پھر میڈم عفیفہ نے اسے کہا جا لایبریری کی کنڈی لگادے یہ نہ ہو کوئی اور تیسرا ٹپک پڑےجب تک عائزہ آئی میڈم میرے مموں پر ہاتھ پھرتی رہیں، عائزہ کے آنے کے میڈم نے مجھ سے پوچھا کہ جب میں عائزہ کو پیار کر ہی تھی تو تجھے کیسے لگا، میں خامو ش کھڑی رہی میڈم نے پھر غصے سے کہا بولتی کیوں نہیں۔ دوستو سچی بات یہ ہے کہ مجھے پتہ تھا کہ میڈم نے مجھے ایسے تو چھوڑنا نہیں بدلہ پر بھی اتر سکتی تھی، پھر میرے دل میں وہ خیال اور حکمت عملی آئی جس نے میری زندگی کا رخ ہی بدل دیا۔ میں خاموش کھڑی تھی میڈم نے اپنی ننگی لات آگے بڑھائی اور اپنے پیر سے میری پھدی کو اپنے پیر کے انگوٹھے سے مسل دیا اور کہا جواب دے، میری ہلکی سی چیخ نکل گئی۔ لیکن تب تک میں نے اپنی حکمت عملی تشکیل دے لی تھی۔ میں نے بڑی شرمیلی آواز میں کہا کہ جی اچھا لگ رہا تھا۔ میڈم نے کہا کہ واہ تو بڑی گرم ہے، کیوں اچھا لگ رہا تھا کیا عائزہ اچھی لگتی ہے تجھے۔ میں نے نفی میں سر ہلادیا میڈم کے چہرے پر شدید حیرانی کی لہر دوڑ گئی انہوں نے کہا اچھا پھر کیوں مزا آرہا تھا میں نے بڑی آہستہ آواز میں کہا کہ میڈم مجھے آپ اچھی لگتی ہیں بہت زیادہ۔ میڈم عفیفہ کے چہرے کا تو رنگ ہی بدل گیا انہوں نے مجھے اور قریب کرلیا اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔ اور کہا سچ کہہ رہی ہے، میں نے بھی دل کڑا کر کہا جی میڈم اور پھر ایک خیال برق کی طر ح میرے دماغ میں کوندا میں نے کہا کہ میڈم لاسٹ فنکشن والے دن سے آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہو۔ جب آپ نے سفید لان کا سوٹ اور شیفون کا ملٹی کلر ڈوپٹہ پہنا ہوا تھا۔ میڈم کا چہرہ تو گلنار ہوگیا اور انہوں نے مجھے اپنی بانہوں میں بھر لیا اور کہا اچھا تو جانو اب تک بتایا کیوں نہیں، میں نے کہا شرم آتی تھی میڈم نے پھر مجھے بازوں میں بھینچ لیا۔ پھر ان کو کچھ خیال آیا انہوں عائزہ کو کہا کپڑے تو پہن لے کہ وہ بھی میں پہناوں۔ عائزہ نے جلدی سے کپڑے پہن لیے۔ پھر میں نے میڈم کو کہا کہ میڈم 3بج گئے کوئی یہاں نہ آجائے۔ میڈم عفیفہ نے یہ بات سن کر کہا ہاں تو ٹھیک کہہ رہی ہے تو 2منٹ یہاں ٹھیر، پھر میڈم کپڑے اٹھا کر واش روم چلی گئیں، وہاں سے کپڑے پہن کر آیئں تو کہنے لگیں عائزہ اب تو نکل اور دیکھ اپنی زبان بند رکھنا۔ اس کے جانے کے بعد کہنے لگیں صندل تو میری جان ہے اور میری پکی جگر ہے۔ تو جمعے والے دن میرے گھر چکر لگانا میں تیری امی سے خود بات کرلوں گی۔ میں نے کہا ٹھیک ہے میڈم پھر میں نے ایک ایسا کام کیا جس کی مجھے خود بھی امید نہ تھی میں نے آگے بڑھ کر میڈم کی آنکھوں کو کس کردیا، میڈم تو نہال ہوگئیں اور کہا ہائے ظالم ایسے کرے گی تو میں رات تیرے ساتھ یہیں گزار دوں گی۔ اسی طرح کی باتیں کرتے ہوئے ہم دونوں باہر نکل آئے اور بڑے صیح وقت پر نکل آئے کیونکہ سامنے سے پی ٹی ٹچر میم رفعت آرہی تھیں، انہوں نے میڈم عفیفہ کو سلام کیا اور پاس کھڑی ہوگئیں، میڈم عفیفہ نے میری طرف دیکھ کر پیاری بچی ہے ، تب تک میں آگے نکل آئی۔ ہے۔۔ میڈم عفیفہ نے کہا ہاںکہا تم جاو اور دیکھو محنت کرو گی تو اپنی ماں اور مرحوم باپ کو خواب پورا کرسکوگی۔ میں نے کہا جی میڈم اور میں چل پڑی مجھے میڈم رفعت کی آواز آئی بہت اچھی اور ساری رات کروٹیں بدلتی رہی اور آج کے سارے ماجرے پر غور کرتی رہی اور آگے کی پلاننگ کرتی رہی، میں نے یہ بات ٹھان لی تھی کہ ہر حالت میں میڈم عفیفہ کو قابو کرنا ہے اور اب زندگی دب کر نہیں گزارنی۔ اس طرح کی باتیں سوچتے سوچتے مجھے نیند آگئی۔ اگلے دن کنٹین میں آدھی تفریح کے بعد میں اور رقیہ باجی جب کام کے پریشر سے فارغ ہوئے تو میں نے انہیں بلا کم و کاست ساری داستان سنا دی، میرا خیال تھا کہ باجی پریشان ہوجائیں گی۔ لیکن رقیہ باجی کے چہرے پر کوئی خوف نہ تھا انہوں نے کہا کہ اگر میڈم عفیفہ نے عائزہ کے ساتھ سیکس نہ کیا ہوتا تو یہ خطرے کی بات تھی لیکن اب وہ کوئی وار نہیں کرے گی بلکہ تعلقات کی کوئی راہ نکالے گی تو پریشان نہ ہو میری بنو تو بس جمعے کا انتظار کر پھر ہم آگے کی سوچیں گے۔ ویسے عفیفہ طاقتور اور بہت گرم عورت ہے تیرے کڑاکے نکال دے گی لیکن تو نے ایک ایسا وار کیا ہے وہ بچ نہیں سکتی۔ میں کہا باجی وہ کیا۔ انہوں نے کہا میری بنو آج تک میڈم عفیفہ نے جس لڑکی کے ساتھ بھی سیکس کیا ہوگا وہ زبردستی کا سودا ہوگا، لیکن تونے پیار کی وہ چھڑی گھمائی کہ وہ پاگل ہوگئی ہوگی اور اب وہ تجھے بہت عزیز رکھے گی کونہ عورت سب سے زیادہ پیار اس سے کرتی ہے جو اس کو چاہتا ہے ۔ بس اب تو ذرا سنبھل کر چلنا، میں نے کہا کہ رقیہ باجی بس اب رہنمائی کرتی رہنا وہ ہنستے ہوئے کہنے لگیں کیوں میں کوئی ٹریفک پولیس ہوں کہ راستہ دکھاتی رہوں۔ اسی طرح ہنسی مذاق میں دن کٹ گیا اور پھر ٹھیک دو دن بعد جمعہ آگیا۔ جمعے کے دن میڈم عفیفہ ایک ٹیکسی پر ہمارے گھر آگئیں وہ اسکول کے قریب رہتی تھیں انہوں انے امی سے بات کی ہوئی تھئی کہ کچھ پڑھائی کے لیے صندل کو لے کر جانا ہے امی بھی حیران تھیں کہ اتنی سخت عورت ہم پر مہربان کیسے ہوگئی، پھر میں میڈم کے ساتھ انکے گھر پہنچ گئی۔ جب میڈم نے بیل بجائی تو ایک بہت پیاری سی لڑکی نے دروازہ کھولا۔ اس لڑکی کی عمر کوئی 25سال تھی لیکن کین وہ لگتی 18سال کی تھی اس نے چارد نما حجاب سے چہرے کو کور کیا ہو تھا اور اسکی آنکھیں ہلکی سبز تھیں ناک ستواں اور بڑی کیوٹ سی سمائل اسکے چہرے پر تھی۔ میڈم نے اس کے سلام کا جواب دیا اور مجھے کہا یہ کہ صندل یہ میری بہو شازیہ ہے۔اور شازی یہ میری سٹوڈنٹ صندل ہے بہت اچھی بچی ہے میں نے کل تمہیں بتایا تھا نا اسکے بارے میں شازیہ نے میری طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا جی جی آپ نے بتایا تھا۔ ہم لوگ اندر آگئے، میڈم کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے تو تھوڑی دیر بعد شازیہ جوس کے دو گلاس لے آئی اور پھر اس نے میڈم کو کہا امی میں نے آپ کو بتایا تھا نہ آج جانے کا میڈم نے کہا ہاں ہاں بتایا تھا مگر کیسے جاو گی۔ شازیہ نے کہا جی عمیر آرہا ہے مجھے لینے کے لیے اور گڈو کو وہ صبح ہی لے گیا تھا، میڈم نے مجھے کہا کہ آج اس نے پنی امی کے گھر جانا ہے وہ یہیں جی ایٹ میں رہتی ہیں، پھر کہنے لگی گڈو اس کا بیٹا اور میرا پوتا ہے ابھی کلاس ون میں ہے۔ ابھی بات یہیں تک پہنچی تھی کہ داروزے پر بیل بجی شازیہ دروازے پر گئی تو واپسی پر اس کے ساتھ ایک اٹھارہ انیس سالہ نوجوان تھا جو اس کا بھائی اشعر تھا۔ اشعر ایک معصوم شکل کا خوبصورت لڑکا تھا جس کی شکل آج کے زمانے کے ہیرو شاہد کپور کی طرح تھی اس نے اپنی بہن کو کہا کہ بیگ لے آو تو چلتے ہیں پھر اس نے میڈم عفیفہ کے آگے سلام کے لیے سر کو جھکا یا تو میڈم نے اس کو گلے سے لگا لیا اور پھر اس کا ماتھا چوم لیا اور کہا ماشااللہ ہیرو لگ رہا ہے، اشعر کا چہرہ شرم سے سرخ ہوگیا۔ .یں نے کہا کہ میڈم آپکے گھر میں اور کون کون ہے۔ میڈم نے کہا کہ ایک بیٹی کی ابھی شادی ہوئی ہے وہ کراچی میں رہتی ہے اور دوسرا بیٹا فوج میں ہے ابھی پی ایم اے میں اتنی دیر میں شازیہ آگئی اور دونوں بہیں بھائی میڈم کی اجازت لے کر چلے گئے۔ میڈم نے کہا کہ میں دروازے بند کرکے آتی ہوں پھر میڈم دروازہ لاک کرے کے آگئیںکیڈٹ ہے۔ میں نے کہا تو شازیہ کیا شام کو آئے گی۔ میڈم نے کہا ہاں وہ شام تک اپنی امی کے گھر رکے گی اور میں نے تمہاری امی کو بتادیا تھا کہ تم شام تک میرے پاس رکو گی۔ یہ کہہ کر میڈم نے مجھے گود میں اٹھا لیا اور اسی طرح اٹھائے ہوئے اپنے کمرے میں لے گئیں۔ میڈم کو جی سکس فور میں ایک ای ٹائپ مکان ملا ہوا تھا جس کے کمرے بڑے بڑے تھے۔ کمرے میں جا کر میڈم نے مجھے گود سے اتارا اور کہا کہ میں زرا کپڑے بدل کر آتی ہوں تو میرا انتظار کر۔ یہ کہہ کر میڈم باتھ روم میں چلی گئی تو مجھے شاور کا پانی گرنے کی آواز آنے لگی۔ پھر تین منٹ بعد میڈم باہر نکلیں تو کیا غضب کی لگ رہی تھیں میڈم نے ایک کالی نیکر اور سفید ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی اور بال گیلے تھے اور کھلے ہوئے تھے۔ کچھ تو ویس بھی وہ بہت سیکسی لگ رہی تھیں کچھ میں بے بھی مبہوت ہونے کی اداکاری کی اور ٹک ٹک میڈم کو دیکھتی رہی، میڈم پر اس کا بڑا اثر ہوا اور میرے قریب آکے کہنے لگیں جگر کیا دیکھ رہی ہے اب نظر لگائے گی کیا، میں نے کہا آپ تو ہو ہی اتنی پیاری میں کیا کروں، یہ سن کر میڈم عفیفہ جیسی گھاگ عورت بھی جذباتی ہوگئی اور مجھے کہنے لگی سچ میں میں تجھے اتنی پیاری لگتی ہوں میں نے کہا آپکی قسم، یہ سن کر میڈم نے مجھے خود سے لپٹا لیا اور میرے چہرے پر بوسوں کی بارش کردی جب یہ بارش تھی تو میڈم نے کہا کہ میں بال سکھا لوں تو اتنی دیر میں نہالے۔ میڈم نے الماری سے ایک تولیہ نکال کر مجھے دیا اور میں باتھ روم چلی گئی واہ کیا باتھ روم تھا ہمارے باتھ روم سے تین گنا بڑا اور اس میں شاور بھی تھا میں کبھی شاور سے نہیں نہائی تھی ہمارے باتھ روم میں تو صرف بالٹی تھی۔ میں نے نہانے کے لئے کپڑے اتارے اور شاور کا گرم پانی کھول کر نیچے کھڑی ہوگئی اف کیا مزیدار نہانا تھا مزا آگیا۔ ابھی میں نہا رہی تھی کہ میڈم نے دروازے پر دستک دی اور کہا جگر جو کپڑے اتارے ہیں وہ دیدے، میں بے دروازے کی اوٹ سے انہیں اتارے ہوئے کپڑے پکڑا دئے۔ جب میں نہا کر فارغ ہوئی تو میں نے میڈم کے بتائے ہوئے کپڑے تلاش کیے جو کہیں نہ ملے پھر ایک سائیڈ پر ایک کالی نائٹی نظر آئی جو میرے گھٹنوں تک ہی آتی تھی۔ میں مجبورا وہ ہی پہن کر باہر نکل آئی۔ مجھے دیکھ کر میڈم کے منہ سے ایک سیٹی نکل گئی۔ میڈم نے مجھے پھر گود میں اٹھایا اور بستر پر لٹادیا۔میڈم نے پھر بڑے ہی رومینٹک لہجے میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی تم یقین نہیں کرو گیصندل جب سے میں نے تمہارے مموں کو دیکھا ہے مجھے یہ بہت اچھی لگے ہیں نہ یہ زیادہ بڑے ہیں نہ چھوٹے ان کا سائز قیامت ہے قیامت بالکل کچے امرود جیسا۔ اپنے مموں کی تعریف سن کر سرخ ہوتا ہوا ثمینہ کا چہرہ جزبات کی شدت سے مزید سرخ ہو گیا۔۔۔اور وہ میری طرف دیکھتے ہوئے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرنے لگی۔۔۔۔پھر انہوں نے نے براہِ راست میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہوئے کہا جان میری اگر تم ناراض نہ ہو تو میں کیا ان کو دیکھ سکتی ہوں؟ اور میرے جواب کا انتظار کیئے بغیر میری نائٹی کا واحد بٹن کھول دیا اور پھر۔۔۔۔ برا ہٹا کرمیرے مموں کو بالکل برہنہ کردیا میری چھاتیاں کافی گوری اور گول تھیں ان گول گول چھاتیوں پر ہلکے براؤن رنگ کے چھوٹے چھوٹے نپلز تھے جو اس وقت اکڑے ہوئے تھے۔میڈم میری طرف دیکھ رہی تھیں اور بہت گرم ہو گئی تھیں پھر انہوں نے ایکممے کو اپنے ہاتھ میں پکڑا اور پھر اس کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے منہ میں لے لیا۔اور اسے چوسنے لگیں۔ ممے کو منہ میں ڈالنے کی دیر تھی کہمیں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور نپل چوسنے کو انجوائے کرنے لگی، اس کے ساتھ ہی میرے منہ سے لذت آمیز ہلکی ہلکی کراہیں نکلنے لگیں۔۔اْف۔ف۔ میم۔۔آہ۔۔۔۔۔۔ میری کراہیں سن کرمیم نے نپل کو اپنے منہ سے ہٹایا۔۔۔۔اورمیری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔ صندل تمہیں مزہ آ رہا ہے۔۔۔۔ تومیں نے آنکھیں کھول کرکہا جی میڈم مجھے بہت مزہ آرہا ہے آپ ایسے ہی چوستی جاؤ اور میڈم کچھ اور جوش اور خوشی سے میرے دونوں مموں کو چوسنے لگ گئیں میرے مموں کوچوستے چوستے اب میڈم نے اپنا ایک ہاتھ میری رانوں کی طرف لے گئیں۔۔۔ انکا ہاتھمیری رانوں کی طرف بڑھا۔۔۔ایک دفعہ پھر میں نے اپنی آنکھیں کھولیں اور کہنے لگی میڈم آئی لو یو۔ میری بات سن کر وہ ایک دم سے جوش میں آ گئی اور بڑی ہی سیکسی آواز میں کہنے لگی۔ تو میرا جگر کا ٹوٹا ہے صندل تو پہلی لڑکی ہے جس نے میرا پیار میں بھر پور ساتھ دے رہی ہے۔اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے میری پھدی کی طرف جانے والی۔۔۔۔ اپنی انگلیوں کو جو اس وقت میری سڈول ننگی رانوں پر رینگ رہیں تھیں کے لیئے میری دونوں ٹانگوں کو کچھ مزید کھول دیا میڈم کی آنکھیں اس وقت بالکل لال ہوچکی تھیں اور ان میں ہوس کے سرخ ڈورے تیررہے تھے میڈم نے میرے ادھ کھلے ہونٹوں کو اپنے سیکسی ہونٹوں کو میں لے لیا اور ان کو چوسنے لگی کچھ ہی دیر میں انہوں نے اپنی زبان سے میرے ہونٹوں پر دستک دینی شروع کر دی یہ دیکھ کر میں نے اپنا منہ کھولا اور انکی زبان کو اپنے منہ میں لے لیااوران کی زبان کو چوسنے لگی۔۔ پھر کچھ دیر بعدمیری پھدی پر انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا۔۔۔اس پھدی کو پہلے بھی کسی نے چاٹا ہے یا میری پہلی دفعہ ہے تو میں شرماتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔ نہیں میم یہ پہلی دفعہ ہے (میں نے رقیہ باجی والا قصہ نہ میڈم کو سنایا تھا نہ سنانے کا ارادہ تھا) میڈم نے کہا کہ واہ سیل بند پھدی کا اپنا مزہ ہے اس اپنی انگلی کو میری ننگی چوت پر پھیرتے ہوئے بولیواہ واہ ریشم کی طرح نرم ہے۔ وہ چوت چیک کرنے لگی۔آج میری چوت کلین شیو تھی۔۔۔ چوت کے دونوں لب اندر کی طر ف مْڑے ہوئے تھے اور پھدی کی لکیر کے عین اوپر ایک موٹا سا پھولا ہوا دانہ تھا۔۔۔۔۔۔ انہوں نے میری کلین شیو پھدی پر ہاتھ پھیرا اور اپنی ایک انگلی چوت کے اندر داخل کر دی۔ پھر اس کے ساتھ ساتھ ہی میری چوت پر جھکی اوراس کے پھولے ہوئے دانے کو اپنے منہ میں لے لیا اور اسے چوسنے لگی۔جیسے ہی انہوں نے اس کے دانے کو اپنے ہونٹوں میں لیا۔۔۔۔ میں سسکی لیتے ہوئے کہنے لگی میم جی میری پھدی۔۔۔ کو زور سے چوسیں۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی وہ پہلے اس کے دانے کو اپنے ہونٹوں میں لیئے ہلکے ہلکے چوس رہی تھیں اب انہوں نے اس دانے کو اپنے دانتوں سے کاٹتے ہوئے چوت کو چوسنے کی رفتار تیز کر دی۔۔۔۔۔ ان کی اس حرکت سے میں تڑپنے لگی تھوڑی دی اس طرح کرنے کے بعد انہوں اپنی قمیض اتار دی اور اپنا انار کے سائز کا ممہ میرے منہ کے آگے کردیا اور اور کہنے لگیں اس کو چوس، میں اس وقت مستی کے عالم میں تھی میں نے بھی انکے ممے چوسنے شروع کردئے باجی کے ممے گندمی رنگ کے تھے اور ابھی مجھے چوستے ہوئے 2منٹ ہی ہوئے تھے کہ میم نے بھی ہلکی ہلکی چیخیں مارنی شروع کر دیں اور ساتھ ساتھ میرے چوتڑوں پر ہلکا ہلکا مساج شروع کردیا، پھر میڈم نے اپنی نیکر اتار دی تھوڑی دیر بعد میم نے ٹانگیں کھول دی اور ر میرے سر کو۔۔اپنی پھدی کی طرف دباتے ہوئے کہنے لگی اب تمہاری باری۔ ویسے شائد میں کبھی یہ کام نہ کرتی لیکن سچی میں اس قدر گرم ہوگئی تھی کہ میں اسی طرح ان کی چوت کو چومنا شروع کر دیا۔۔۔۔ کچھ ہی دیر بعد۔۔۔۔ میڈم نے نے اپنی پھدی کے دونوں لبوں کو کھول کر کہا صندل جان ادھر زبان ڈالواس کی یہ بات سن کر میں نے پھدی کے کھولے ہوئے لبوں پر نظرڈالی تو ان کی چوت کی دونوں پھانکوں کے درمیان والی جگہ آف وائیٹ پانی سے بھری ہوئی تھی۔۔۔ چنانچہ سب سے پہلے میں نینائٹی کے کونے سے ان کی چوت کے درمیان لگے آف وائیٹ پانی کو صاف کیا اور پھر چوت کی دیواروں کو چاٹنا شروع ہو گئی۔۔۔ ایسا کرتے ہی مزے اور جوش کے ماریان کے منہ سے ہیجان خیز آوازیں نکلنا شروع ہو گئیں اور وہ مستی بھرے لہجے میں کہنے لگی۔۔۔۔۔ صندل میرے شونا اور زور سے اور زور سے میری جان میرے جگر اور یوں میں ان کی پھدی کو مزید جوش سے چاٹنا شروع ہو گئی۔۔۔ میرے اس طرح چوت چاٹنے سے وہ بے قرار ہو گئیں اور۔۔۔ میرا سر پکڑ کر اپنی پھدی کی طرف دباتے ہوئے کہنے لگیہائے اتنا مزا، کبھی کسی نے دل سے نہیں کیا یہ کام صندل تونے میری خواہش پوری کردی ہائے میری پھدی۔۔۔اور میں نے محسوس کیا کہ ایسا کہتے ہوئے ان پر کپکی طاری تھی۔۔۔۔ اور وہ بار بار مجھ سے کہہ رہی تھی ہائے میری پھدی آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہا۔ ور پھر اس کے ساتھ ہی کانپتے ہوئے اس کی چوت نے ڈھیر سارا پانی چھوڑا اور پھر ٹھیک 10سیکنڈ بعد میری چوت نے بھی پانی چھوڑ دیا۔ کافی دیر تک تو ہم دونوں اسی طرح بے سدھ پڑے رہے، مزے کا عالم تھا مجھے بھی رقیہ باجی کے ساتھ کئے گئے سیکس سے 10گنا مزہ آیا تھا۔ پھر تقریباً پورے ایک گھنٹے بعد میڈم نے میرے بالوں میں بڑے پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کیا اور کہا صندل جان چل اٹھ نہاتے ہیں۔ پھر میں نے اور میڈم نے اکٹھے شاور لیا اور خوب مستیاں کرتے رہے۔ پھر میڈم نے لنچ کے لیء سالن گرم کیا جو شازیہ صبح جاتے ہی بناگئی تھی، لنچ کرکے ہم بستر پر لیٹ گئے۔ میں آپکو بتاچکی ہوں کے میں نے طے کرلیا تھا کہ اب فرنٹ فٹ پر کھیلنا ہے میں نے بستر کے سرہانے پر بنی بیک سے ٹیک لگالی اور میڈم کو کہا کہ عفو جی میری گود میں سر رکھ لو۔ میڈم نے پہلے تو عفو کہنے پر مجھے بڑے غور سے دیکھا اور اور پھر کہنے لگیں۔ بڑا اچھا لگا بڑے عرصے بعد کسی کا یوں پیار سے پکارنا۔ جب وہ میری گود میں سر رکھ کے لیٹ گئیں تو میں انکے گھنے بالوں میں انگلیاں پھیرنی شروع کردیں۔ کافی دیر ہم خالص زنانہ گفتگو کرتے رہے رشتہ داروں کے بارے اور دیگر اسی طرح کے موضوعات پر باتیں کرتے رہے۔ پھر میں نے کہا عفو جان ایک بات پوچھوں، میڈم نے کہا ہائے جب تو عفو جان کہتی ہے نا میرا دل کرتا ہے تجھے اپنے اندر چھپالوں۔ تو پوچھ جو تیرا دل کرے، میں نے کہا کہ لڑکیوں سے اس طرح کی دوستی کب سے شروع کی تو اس نے چونک کر کہا ارے یہ کیا سوال کردیا میں نے کہا سوری عفو جان اگر آپ کو برا لگا ہو۔ میڈم نے ایک دم سر اٹھا کر میری آنکھوں پر ایک ڈیپ کس کیا۔ اور کہا کہ صندل میری جان میں نے کئی لڑکیوں سے سیکس کیا ہے لیکین سب کے ساتھ ایک طرح کی زبردستی تھی مگر پیار صرف تیرے ساتھ ہوا میں تجھے سب کچھ بتاوں گی۔
  10. 6 likes
    کنٹین والی لڑکی قسط ۴ تھوڑی دیر بعد خرم چلا گیا پھر میں نے اور امی نے مل کر کھانا بنایا، چھوٹے بہن بھائی کھانا کھانے کے فوری بعد سوگئے۔ میں اور امی کچھ دیر باتیں کرتے رہے لیکن اس تمام گفتگو میں امی مجھ سے آنکھیں چراتی رہیں شائد انہیں احساس جرم ہورہا تھا، لیکن کبھی کبھی انکے چہرے پر ایک مسکراہٹ سی آجاتی۔ کوئی آدھی رات کا وقت تھا میں نیند کے خمار میں تھی کہ میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے اپنی چارپائی سے جھانکا تو امی کے بستر سے سسکیوں کی آواز آرہی تھی میں نے اٹھ کر 10واٹ کا بلب جلالیا۔ امی ایک دم چپ ہوگئیں ۔ میں امی کے پاس گئی اور انکے لحاف میں گھس گئی اور انکے چہرے پر پیا ر کیا اور کہا کہ مورے ولے جاڑے (امی کیوں رو رہی ہو) امی نے کہا کچھ نہیں بس آج تیرے ابو کی یاد بہت آرہی ہے۔ میں نے کہا امی ابو کی یاد تو اب مستقل آئے گی اب وہ کبھی واپس نہیں آسکتے۔میرے دل میں امی کے خلاف سارے جذبات ختم ہوگئے۔ میں نے کہا لیکن امی جان آپ نے بڑی ہمت سے اس ساری صورتحال کا مقابلہ کیا ہے آپ نے ہم بہن بھائیوں کو صحیح طریقے سے سنبھالا ہے اور ۔۔ کا شکر ہے کہ ہمیں کوئی مالی محتاجی نہیں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ امی نے اپنے آنسو پونچھے اور مجھے اپنے ساتھ زور سے بھینچ لیا اور کہنے لگیں بیٹا توصحیح کہہ رہی ہے ہمارا گزارا بہت اچھا ہورہا ہے لیکن میری بچی تو ابھی چھوٹی ہے تجھے اندازہ نہیں عورتوں کو تحفظ کی کتنی ضرورت ہوتی ہے اور اس کی کتنی ضروریات صر ف مرد ہی پوری کرسکتے ہیں۔ اگریہ بات امی نے میرے رقیہ باجی کے ساتھ پیار کرنے سے پہلے کہی ہوتی تو واقعی مجھے اس بات کی کوئی سمجھ نہیں آتی لیکن اب میں اس بات کو کچھ کچھ سمجھ سکتی تھی۔ پھر میں نے امی بڑی معصومیت سے پوچھا امی خرم نے اتنی دیر میں اسٹور دیکھا کیا زیادہ سامان رکھنا ہے۔ امی میرا سوال سن کر ایک دم چونک سی گئی اور مجھے غور سے دیکھا شاید وہ اندازہ کرنا چارہی تھیں کہ میں شام والے واقعے کے بارے کتنا جانتی تھیں لیکن میں نے کوئی تاثرات نہیں دیے۔ امی نے کہا نہیں اتنی دیر بھی نہیں لگی بس وہ اسٹور کی لمبائی ناپ رہا تھا، میں نے دل میں کہا مجھے معلوم ہے ہے کہ وہ کیا ناپ رہا تھا اور اوپر سے کہا جی امی، پھر امی رقیہ باجی، کنٹین کی نوکری اور پرنسپل میڈم کے بارے باتیں کرنے لگیں اور ہم لوگ باتیں کرتے کرتے سوگئے۔ صبح کنٹین پر پہنچی تو رقیہ باجی کافی مصروف نظر آرہی تھیں میں نے کہا کہ خیر آپ نے صبح صبح اتنا کام کرلیا کہنے لگیں کل شام میڈم کا ڈرئیوار آیا تھا کہ آج کوئی مہمان آئیں گے میڈم کے۔اس لیئے ایکسٹرا سموسے اور سینڈویچز چاہیئے۔ دوسرے اسکولوں کی کچھ ٹیچرز بھی آرہی ہیں۔ بس اب جلدی سے کام پر لگ جا۔ پھر تفریح تک کام کے علاوہ کوئی بات نہیں ہوئی، چھٹی تک رقیہ باجی خاصی تھک گئی تھیں اس لیے کوئی چھیڑ چھاڑ بھی نہیں کی اور خاموشی سے کنٹین بند کرکے گھر چلی گئیں۔ میں بھی ان کلاسز کی طرف چلی گئی جس کی ہدایت مجھے میڈم سعدیہ نے کی تھی تاکہ میں میٹرک کرسکوں ۔ جب میں کلا س پہنچی تو مجھے بشری ملی جو آٹھویں میں میری کلاس فیلو تھی، میں نے کہا کلاس ہورہی ہے تو اس نے کہا کہ آج کلاس نہیں ہوئی کیونکہ پرنسپل کے دوسرے اسکولوں سے مہمان آئے تھے۔ تو لائیبریری چلی جا میڈم عفیفہ وہاں گئی ہیں 10منٹ پہلے تو بس انکو بتادے تاکہ انکو پتہ رہے کہ توکلاس میں آئی تھی اور پڑھائی میں سنجیدہ ہے۔ میں جب لائیبریری پہنچی تو وہاں کوئی نہیں تھا میں جب واپس جانے لگی تو مجھے کونے میں پڑے بک شیلفوں کے پیچھے سے کسی کے بولنے کی آواز آئی میں دبے قدموں سے چلتی وہاں تک پہنچی تو آوازیں اور صاف سنائی دینے لگیں، میں نے بک شیلفوں کے پیچھے جھانکا تو وہاں 15*15کی جگہ تھی اور ایک اسکول یونیفارم میں ملبوس لڑکی اور ایک برقعہ پہنے ٹیچر کھڑی تھی، میں نے پوزشین بدلی تو مجھے دونوں کے چہرے صاف نظر آنے لگے۔ میڈم عفیفہ اور عائزہ دونوں ایک دوسرے سے بات کرہے تھے۔ میڈم کے چہرے پر نہایت سختی کے تاثرات تھے انہوں نے عائزہ کو کوگھورتے ہوئے کہا لگتا ہے تم سیدھی طرح نہیں بتاو گی کہ تم اس دن کنٹین کے اند کیا کرہی تھی لگتا ہے تمہاری امی کو بلانا پڑے گا۔ یہ سن کر میری تو جان نکل گئی کیوں کہ میں نے رقیہ باجی کو آواز لگا کر ہوشیار کیا تھا جو عائزہ نے بھی سنی تھی اگر اس نے میرا نام بھی لگادیا تو میں بھی پھنس جاوں گی۔ جوں جوں عائزہ بات کو ٹال رہی تھی میڈم عفیفہ کے چہرے پر درشتگی بڑھ رہی تھی انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے تو جا صبح تیری امی کو بلاتے ہیں۔ یہ سن کر عائزہ رونے لگی۔ پھر اس نے کہا میڈم میری امی کو نہ بتانا وہ مجھے اسکول سے اٹھا کر گھر بٹھا لیں گی، میں مرجاونگی۔ وعدہ کریں مجھے معاف کردیں گی میڈم عفیفہ نے کہا منظور ہے اب بتا کیا قصہ ہے۔ عائزہ نے میڈم کو ساری بات بتادی اور شکر ہے میرا کہیں نام نہیں لیا۔ جب میڈم نے یہ ساری بات سن لی تو کہا کہ چل وعدہ میں تیری امی کو نہیں بتاونگی لیکن مجھے تیرا معائنہ کرنا ہوگا کہ تیرے ساتھ اس کاروائی میں تیرے جسم پر کوئی داغ تو نہیں لگ گیا یا تجھے کوئی بیماری ہونے کاڈر تو نہیں ۔ عائزہ یہ انوکھی شرط سن کر حیران ہوگئی، مجھے بھی بہت حیرانی ہوئی، لیکن میں میڈم عفیفہ کا چہرہ دیکھ رہی تھی جس پر وہ ہی چمک تھی جو کنٹین کے کاونٹر کسی خوبصورت بچی کو دیکھتے ہوئے رقیہ باجی کے چہرے پر آجاتی تھی۔ میڈم عفیفہ نے بھی اپنا برقعہ اتار دیا اور برقعہ اترتے ہی انکا چست لباس سامنے آگیا، انکی چست قمیض میں انکے بڑے ممے نمایاں تھے۔ میڈم نے کہا عائزہ جلدی کر ان کے اس طرح گھرکنے پر عائزہ نے جلدی سے قمیض اتاردی اور کھڑی ہوگئی یہ میں پہلے بتاچکی ہوں کہ رقیہ باجی کے ساتھ سکیس کرنے والے دن بھی عائزہ نے بنیا ن پہنی تھی اور وہ برا ۔ میڈم عفیفہ جیسی نفیس اور شستہ لہجے والی زبان والی عورت کہ منہ سے گالی سن کر میں اور عائزہ دونوں دنگ رہ گئے اور عائزہ نے جلدی سے اپنی بنیان اتار دی۔ میڈم عفیفہ آگے بڑھیں اور اس سے پہلے کہ عائزہ سنبھلتی انہوں نے عائزہ کی شلوار بھی نیچے کو کھینچ دی۔ اب عائزہ بالکل ننگی انکے سامنے کھڑی تھی عایزہ کا خوبصورت بدن کر میڈم عفیفہ کے ہونٹوں سے ایک ہلکی سی سیٹی نکل گئی۔ جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکی ہوں کہ عائزہ ایک سیکسی جسم کی مالک تھا، گورا رنگ کیوٹ سے ممے پتلی کمر لمبے بال اور اسکی چوت سیاہ بالوں میں گھری ہوئی تھی بال کم تھے لیکن تھے ضرور، پھدی کلین شیو نہیں تھی۔ میڈم نے کہا کہ تم بہت گرم ہو میری جان۔۔ میڈم نے اس کو گلے سے لگلیا اور پھرانکی زبان عائزہ کے گالو ں سے ہوتی ہوئی اس کے ہونٹوں پر پہنچی اور پھر انہوں تو اس کچی کلی کے ہونٹوں کو اپنی زبان کے ساتھ ہلکا سا ٹچ کیا پھر اس کے نرم ہونٹوں پر اپنی زبان پھیرنا شروع کر دی اس کے ساتھ ہی عائزہ بھی گرم ہو گئی اور اس نے میڈم کی زبان کو اپنے منہ میں لے لیااور اسے چوسنے لگی۔ زبان چوسنے کے ساتھ ساتھ میڈم نے عائزہ کی چھاتیوں پر اپنا ہاتھ رکھا اور انہیں دبانے لگی۔۔۔ اور پھر کچھ دیر تک زبان چوستی رہیں۔ عائزہ نے لایئبریری کے دروازے کی طرف دیکھا تو میڈم نے اس کے گال کی پپی لیتے ہوئے کہا۔۔۔۔ میری جان اس وقت یہاں کوئی نہیں آئے گا یہ بات کہتے ہی میڈم نے نے بجلی کی سی تیزی کے ساتھ اپنے کپڑے اتارنے شروع کر دیئے۔۔۔۔اور کچھ ہی دیر میں وہ بھی ننگی ہو گئیں۔ میڈم کے ممے بڑے تھے کم از کم بیالس کے، ان کا رنگ گندمی تھا اور جسم بہت بھر بھرا تھا وہ موٹی تو نہیں تھی مگر پتلی تو بلکل نہیں تھی۔ انکی ٹانگوں پر ہلکے ہلکے بال تھے اور پھدی بالکل کلین شیو تھی انکے کندھے مظبوط تھے اور پیٹ نکلا ہو نہیں تھا اب دونوں آگے بڑھیں۔اور ایک دوسرے کے ساتھ گلے لگ گئیں میڈم عفیفہ اپنی بھاری چھاتیوں کو عائزہ کی چھوٹی چھاتیوں سے رگڑتے ہوئے کہہ رہی تھی۔۔۔ اتنی دیر کیوں لگائی مجھے ملنے میں سیکسی گڑیا اور اس کے ساتھ ہی میڈم عائزہ کی گردن کو بے تحاشہ چومنے لگی۔۔۔ پھر گردن سے ہوتی ہوئی وہ عائزہ کی چھاتیوں پر آئی اور انہیں چوسنے لگی۔۔۔ پھر وہ عائزہ کے پیٹ پر زبان پھیرتے ہوئے نیچے آئی اوراسکی پھدی پر آ کر رْک گئی میڈم اس کام کی بہت ماہر کھلاڑی لگ رہی تھی اس نے عائزہ کو بہت جلد گرم کردیا تھا ۔میڈم نے پھر عائزہ کو اپنے بازوں میں اٹھاکر کر کونے میں پڑی میز پر لٹادیا پھر اس کی چوت پر جھک گئی اور زبان نکال کر چوت چاٹنے لگی۔۔۔اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی دو انگلیوں کو بھی عائزہ کی چوت کے اندر باہر کرنے لگی۔ چوت چاٹنے کے کچھ ہی دیر بعد اسکی چوت نے ڈھیر ساری منی اگل دی عائزہ کے چھوٹنے کے کچھ دیر بعد تک بھی وہ اسکی پھدی میں انگلی مارتی رہی پھر اس نے عائزہ چوت کو ایک بوسہ دیا اور اس کی طرف دیکھتے ہوئے اس کے ساتھ میز پر لیٹ گئی۔ ۲ منٹ کے بعد میڈم نے کروٹ لی اور مشنری سٹائل میں لیٹی ہوئی عائزہ کے گلابی نپلز کو اپنی انگلیوں میں پکڑ لیا۔۔اس کی بھاری چھاتیوں پر نپلز کا سرکل بلکل چھوٹا اور گول دائرے کی شکل میں تھا چنانچہ میڈم نے بھی اسی دائیرے پر سرکل کی شکل میں زبان پھیرنا شروع کر دی اور اس کے ساتھ ہی اپنی ایک انگلی نیچے اس کے دانے پر لے گئیں اور اسے مسلنا شروع کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی بولی عائزہ مزہ آ رہا ہے عائزہ کے منہ سے کوئی جواب نہیں نکلا بس آہ اوئی جیسی آوازیں نکلاتی رہی۔ میڈم نے اس کے مموں سے منہ نکال کر اس کی ٹانگوں کو مزید کھول کر اس کی چوت دیکھنے لگیں۔ اس کی چوت بہت موٹی اور لب اندر کی طرف مْڑ کر آپس میں جْڑے ہوئے تھے۔۔۔اور دور سے پھدی کی لکیر ایسے نظر آ رہی تھی کہ جیسے دو پہاڑی ٹیلوں کے درمیان تھوڑی بڑی سی دراڑ پڑی ہو۔۔۔۔ اور عائزہ کی اس دراڑ سے ہلکا ہلکا پانی رس رہا تھامیڈم نے اسکی پھدی کو دیکھ کر اپنے ہونٹوں پر زبان پھیری اور پھر پہلے تو اس کی نرم پھدی پر جی بھر کے ہاتھ پھیرا کہ جس پرہلکے ہلکے بال تھے پھر میں اس کی ٹانگوں کی طرف آئی اور اس کی پھدی پر جھک کر اس کی چوت کو چاٹنے لگی۔ اس چوت چاٹائی سے عائزہ دھیرے دھیرے کراہنے لگی اور میری حالت بھی یہ سین دیکھ کر بہت خراب ہوگئی ۔ پھر کچھ دیر بعد میڈم نے میز پر لیٹ کر عائزہ کو اپنے اوپر لٹالیا اور اپنی پھدی اسکی پھدی سے رگڑنے لگیں ۲ منٹ مستقل اس رگڑائی کے بعد پہلے عائزہ نے جھٹکے مارنے شروع کئے اور پھر میڈم کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی اور ان کی کی چوت نے بھی ڈھیروں پانی چھوڑ دیا میں بے بھی اپنا ہاتھ شلوار میں ڈالا ہو ا تھا اور اپنی پھدی کو مسل رہی تھی مجھے اس ایسا لگا کہ میں بھی ڈسچارج ہو رہی ہوں میرا ہاتھ بک شیلف پہ تھا اور سارا زور بھی اسی پہ تھا ادھر میں ڈسچارج ہوئی ادھر بک شیلف گر گیا اور میں سیدھی دوسری طرف جا گری جہاں میز پر میڈم عفیفہ اور عائزہ ننگے پڑے ہوئے تھے۔ میڈم اور عائزہ بک شلیف گرنے کے ہلکے دھماکے سے چونک گئے اور مجھے سامنے گرے دیکھ کر دونوں ہی ہکا بکا رہ گئے۔
  11. 6 likes
    معزز قارئین مسلسل مصروفیات اور سفر میں ہونے ک کی وجہ کیوں کہ لکھنے کے ساتھ میں مریضوں کو بھی وقت دینا ہوتا ہے اور پھر دوسری سٹوریز کو وقت دینا بھی ضروری ہے دو دن تک اپڈیٹ پوسٹ کرنے پوری کوشش کرتا ہوں مزید کوئی مسلہ نہ ہوا تو
  12. 5 likes
    کنٹین والی لڑکی دوستو یہ اس فورم پر میری پہلی کہانی ہے بلکہ زندگی کی پہلی کہانی ہے ۔ میں اس کہانی کا راوی اس کہانی کے مرکزی کردار سے میری ملاقات کچھ عرصہ قبل ہوی مجھے اس کی زندگی کے واقعات اتنے دلچپسپ لگے کے میں نے انہیں آپ لوگوں کے لیے تحریری شکل دینے کا فیصلہ کیا ۔ اس لیے اگر اس کہانی میں کوی تکنیکی خامی اور کوتاہی ہو تو اس کے لیے معذرت خواہ ہوں ۔ اب کہانی کو اس کے مرکزی کردار کی زبانی شروع کرتے ہیں ۔ میرا نام صندل ہے اور میری عمر اس وقت چون برس ہے ۔میری کہانی کا آغاز آج سے تقریبا چالیس برس پہلے ہوا۔ میرے والد اسلام آباد کے ایک سرکاری گرلز اسکول میں مالی تھے ہم پانچ بہن بھاءی تھے تین بہنیں اور دو بھاءی۔ اسلام آباد کے ہر اسکول میں پہلے وسیع قطعہ اراضی بھی ہوتا تھا اور کھلی جگہ ہوتی تھی ۔ اسکول میں پہلے سے دو کوارٹر تھے جن میں ایک چوکیدار چاچا کے پاس تھا اور دوسرا ڈرایور کے پاس تھا۔ ابو نے پرنسپل میڈم سے بات کی تو انہوں نے ترس کھا کر ابو کو کہا کہ تم اسکول کی دیوار کے ساتھ جنگل کی طرف دو کمرے بنالو،ابو نے وہاں جگہ بنالی اور اپنی فیملی یعنی امی اور ہم سب کو بنوں کے ایک گاوں سے اسلام آباد لے آے ۔ پرنسپل بھی پٹھان تھیں اور ابو بھی پٹھان اس لیے وہ ہمارا بہت خیال کرتی تھیں ۔ جب امی یہاں آییں تو میں اس وقت دس سال کی تھی اور بہن بھاءیوں میں سب سے بڑی تھی ۔ ابو نے مجھے اسی اسکول میں داخل کرادیا ۔ جب میں نے آٹھویں جماعت پاس کی تو میری عمر چودہ برس تھی اسی سال میرے والد کا انتقال ہوگیا ۔ اور ہماری زندگی میں ایک بھونچال آگیا ۔ میری امی بالکل ان پڑھ تھیں انکا کوی بھاءی بہن نہیں تھا ابو کے بھاءی بھی انکے خلاف تھے تو ہمارے گاوں جانے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہو تا تھا ۔ اس موقع پر پرنسپل میڈم سعدیہ خٹک نے میری امی کو کہا کہ تم لوگ اس کمرے میں رہو اور تم میرے گھر میں کام کرلیا کرو تمہیں مہینے کے پیسے اور راشن دے دیا کروں گی ۔ امی تیار ہو گیءی ۔ابو کی وفتا چونکہ سروس کے دوران ہوی تھی اس لیے ہمیں پچیس ہزار روپے ملے جو اس وقت بہت مناسب رقم تھی امی نے میڈم سعدیہ کے کہنے وہ رقم بنک میں جمع کرادی۔ میرا اب پڑھای میں بالکل دل نہیں لگتا تھا ۔ پرنسپل میڈم نے مجھے اسکول کی کنٹین میں کام دلوادیا۔ امی کو بھی تسلی تھی کہ اسکول کے اندر ہر کام ہے اور اسکول بھی لڑکیوں کا ہے ، میری تنخواہ اس وقت تین سو روپے تھی ۔حیران نہ ہوں انیس سو اسی میں تین سو ایک بڑی رقم تھی جب آٹا ۲روپے کلو تھا ۔ کنٹین کو ایک پینتیس سالہ بیوہ رقیہ باجی چلاتی تھیں ،میں صبح چھ بجے کنٹین پہنچتی ، کنٹین کی صفاءی کرتی تمام برتن ترتیب سے لگاتی اور تلنے والے تمام آیٹم جیسے سموسے اور پکوڑے وغیرہ بھی رقیہ باجی کو دیتی اور ٹیچرز کو اسٹاف روم میں چاے بھی دے کر آتی ۔ مجھے تین ماہ گزر گیے تھے اور رقیہ باجی میرے کام سے بہت خوش تھیں امی بھی خوش تھیں کا میرے لاے ہوے اور میڈم سعدیہ کی طرف سے امی کو ملنے والی تنخواہ سے ہمارا گزارا ہو رہا تھا اور کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کو نوبت نہیں آتی تھی ۔ رقیہ باجی کا تعلق جھنگ سے تھا اور وہ بہت اچھی عادت کی تھیں انکے میاں کا پانچ سال پہلے انتقال ہوچکا تھا ، اگر آپ نے بھارتی اداکارہ نندتا داس دیکیھی ہوءی ہے تو بس سمجھ لیں کہ رقیہ باجی بالکل اس کی کاپی تھیں سانولی اور بہت نمکین ۔ جبکہ میڈم سعدیہ ایک مکمل پٹھانی تھیں سبز آنکھیں گورا رنگ اور بھرا ہوا جسم ۔ میری امی امینہ کا رنگ بھی گورا تھا اور آنکھیں بھوری اور جسم پانچ بچوں کے بعد بھی بے ڈول نہیں ہو ا تھا تاہم بھرا بھرا تھا ۔ میری عمر اس وقت پندرہ برس تھی جب یہ سب کچھ شروع ہوا میرا جسم دبلا تھا، آنکھیں براون تھیں اور بال بھی براون ۔ میرے ممے اسکوایش کی گیند سے ذرا بڑے تھے، میری رنگت بہت گوری تھی جیسی پٹھان لڑکیو ں کی ہوتی ہے ۔ ایک دن مجھے پرنسپل میڈم نے کہا کہ میرے کمرے میں آکر مجھ سے ملو ۔ جمب میں انکے کمرے میں گءی تو انہوں نے کہا کہ صندل تمہاری امی کی خواہش ہے کہ تم پڑھ لکھ کر استانی بنو یہی تمہارے باپ کی بھی خواہش تھی اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ ہے تم کنٹین سے فارغ ہو کر چھٹی کے بعد نویں کلاس کی لڑکیوں کے ساتھ لایبریری میں ہونے والی دو گھنٹے کی ایکسٹرا کلاس میں جایا کرو گی میں تمہارا میٹرک کا پرایوٹ داخلہ بھیج دونگی ۔ پھر بڑی رازداری سے کہنے لگی تم اور تمہاری ماں میرے گھر کے فرد میں تم لوگوں پر مکمل اعتماد کرتی ہوں اس لیے اگر تم اسکول میں کوءی بھی غلط حرکت یا کام دیکھو یا کسی کو میرے خلاف سازش کرتے دیکھو تو مجھے آکر بتاو اسی طرح کی کافی دیر باتیں کرتی رہیں اور پھر مجھے زبردستی ۱۰روپے بھی دیے۔ میں واپس کنٹین آی تاکہ رقیہ باجی کو بتادوں کہ میں چھٹی کے فوری بعد چلی جایا کرونگی تو میں نے دیکھا کہ کنٹین کا دروازہ بند تھا جو ایک خلاف معمول بات تھی چھٹی کے بعد بھی رقیہ باجی کو درواہ بند کرنے اور تمام کام سمیٹنے میں آدھا گھنٹا لگتا تھا ، میں دروازے کے قریب گءی تو مجھے رقیہ باجی کے باتیں کرنے کی آواز آءی ، میں تجسس میں مبتلا ہوگءی کہ یہ رقیہ باجی اس وقت کس سے بات کر رہی ہیں ، میں دروازے کے بالکل ساتھ لگ کر کھڑی ہوگی لیکن کچھ سناءی نہیں دیا ۔ پھر میں کنٹین کی بیک ساییڈ پر گءی اور وہاں ایک بڑی کھڑکی اس اندر جھانکا اور اندر کا منظر دیکھنے کے بعد میری جان نکل گءی ۔ اندر رقیہ باجی دسویں جماعت کی طالبہ عایزہ کے ساتھ کسنگ کرہی تھی ، عایزہ کا تعلق کشمیر سے تھا اور بڑی گوری چٹی لڑکی تھی عایزہ ایک بہت خوبصورت لڑکی تھی مگر اس کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا ابھی کچھ دن پہلے رقیہ باجی نے اس تاکید تھی کہ اگر اس نے پانے ادھار پیسے نہ ادا کیے تو وہ پرنسپل میڈم کو اس کی شکایت لگادیں گی اب وہ ہی عایزہ رقیہ باجی کے ساتھ کنٹین میں اکیلی موجود تھی ۔ رقیہ باجی عایزہ کو چوم رہی تھیں اور انکا ایک ہاتھ عایزہ کی کمر کو سہلا رہا تھا ۔عایزہ نے اس وقت اسکول یونیفارم پہنا ہوا تھا ۔ مجھے یہ سب بہت عجیب لگ رہا تھا ۔ رقیہ باجی نے اب عایزہ کی آنکھوں کو چومنا شروع کردیا اور ہاتھ اس کی قمیض کے اندر ڈال دیا ، رقیہ باجی نے پھر عایزہ کو کہا کہ بے بی قمیض اتار دو عایزہ یہ سن کر ایک دم چونک گءی اور ہلکلاتے ہوے کہنے لگی ، باجی آپ نے تو کہا کہ صرف کسنگ کریں گے اور آپ میرا ادھار معاف کردیں گی ۔ رقیہ باجی مسکراتے ہوے کہنے لگی ہاں صرف کسنگ مگر تمہارے بوبز پر یہ سنتے ہی میری نطر عایزہ کے مموں پر گءی اسکے بوبز بڑے تو نہیں تھے مگر بہت متناسب تھے ۔ عایزہ نے انکار میں سر ہلادیا تو رقیہ باجی نے کہا کہ پریشان نہ ہو صرف پانچ منٹ لگیں گے پھر تم لایبرری والی ایکسٹرا کلاس میں چلی جانا۔ عایزہ نے کہا نہیں مجھے جانے دیں میں آپکے پیسے اتار دوں گی ۔ رقیہ باجی کے چہرے پر غصے کے تاثرات ابھرے مگر ایک چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہوے کہنے لگیں اچھا بابا جیسی تمہاری مرضی ، پھر وہ اٹھ کر پیسوں کے بکس کی طرف گییں اور وہاں سے دس روپے کا نوٹ نکالا اور پھر عایزہ کے پاس آکر کہنے لگیں چلو تمہارا سب ادھار معاف اور یہ دس روپے بھی تمہارے میں صرف تمہارے مموں پر ۲ منٹ کسنگ کروں گی پھر تم چلی جانا ۔ عایزہ دس روپے کے نوٹ کو دیکھ کر کچھ سوچ رہی تھی تھی کہ رقیہ باجی نے دس کا نوٹ اس کے بیگ میں ڈالا اور عایزہ کو کنٹین میں پرانے صوفے پر بٹھادیا۔ جونہی عایزہ صوفے پر بیٹھی رقیہ باجی نے کوی لمحہ ضایع کیے بغیر اسکی قیمض اتار دی جونہی قمیص اتری توعایزہ کے گورے گورے بازو عریاں ہوگءے ۔ اور اندر سے ایک میلی سفید بنیان نکل آی۔ رقیہ باجی نے بنیان کو ہاتھ لگایا ہی تھا کہ عایزہ پھر بدک گءی اور کہا کہ بیان نہ اتاریں ، رقیہ باجی کے چپرے کو دیکھ کر میں اندازہ کرسکتی تھی کہ انہیں شدید غصہ آرہا ہے مگر وہ ایک پرانی کھلاڑی لگتی تھیں انہوں نے کہ بنیان اتار نہیں رہی پگلی اوپر کر رہی ہوں دیکھو ابھی تک کسنگ ہو بھی جاتی تمہی دیر کر رہی ہو ۔ یہ سن کر عایزہ چپ ہوگءی۔ رقیہ باجی باجی کے بنیان کو اوپر کیا تو عایزہ کے گلابی ممے انکے سامنے آگیے ۔ رقیہ باجی کے ہونٹوں سے ایک بااختیار سیٹی نکل گءی اور انہوں نے عایزہ کے داییں ممے کو منہ میں لیکر چوسنا شروع کردیا ۔ ادھر مجھے بھی اپنی ٹانگوں کے درمیان نمی محسوس ہونی شروع ہوگءی۔ رقیہ باجی کو ممے چوستے ہوءے ابھی کچھ ہی سیکنڈ گزرے تھے کہ عایزہ کی آنکھیں بند ہوگییں ۔ پھر اس کے منہ سے ہلکی ہلکی سسکیاں نکلنی شرو ع ہوگییں ، صاف دکھای دے رہا تھا کہ عایزہ کو بھی مزہ آنا شروع ہوگیا ہے ۔صوفے پر ترتیب کچھ اس طرح تھی کہ صوفے کی ہتھی پر جہاں بیٹھتے ہوءے بازو ٹکایا جاتا ہے وہاں عاٰیزہ نے سر رکھا ہوا تھا اسکی ایک ٹانگ رقیہ باجی کی گود میں تھی اور دوسری صوفے کی پشت کے ساتھ تھی ۔ ابھی رقیہ باجی کو ممی چوستے ہوءے مشکل سے دو منٹ ہی گذررے ہونگے کہ انہوں نے اپنی قمیض اتار دی اور اتنی ہی جلدہ سے اپنے برا کا ہک کھول دیا ۔ جتنی دیر انہوں نے یہ کارواءی کرنے کے لیے عایزہ کے مموں سے اپنا منہ ہٹایا تو عایزہ نے آنکھیں کھول دیں ۔ وہ بھی رقیہ باجی کو نیم برہنہ دیکھ کر دنگ رہ گءی ۔ میں نے بھی پہلی بار رقیہ باجی کو اس حالت میں دیکھا تھا۔ رقیہ باجی کے مموں کا سایز بیالس ہوگا اور وہ بالکل چاکلیٹی رنگ کے تھے انکا اور عایزہ کا بالکل بلیک اینڈ وایٹ کا امتزاج لگ رہا تھا ۔ اس سے پہلے کہ عایزہ کوءی سوال کرتی رقیہ باجی نے پھر اسکے مموں پر کسنگ شروع کردی ، عایزہ کو یقینا مزہ آرہا تھا کیونکہ اب اس نے مزاحمت بالکل ترک کردی تھی اور اب اسکے منہ سے صرف لذت بھری سسکاریاں نکل رہی تھیں ، رقیہ باجی نے اب عایزہ کر پیٹ پر کسنگ شروع کر دی تھی اور صاف لگ رہا تھا کہ عایزہ لذت کی وادیوں میں اتر چکی تھی ۔ رقیہ باجی نے عایزہ کیے پیٹ کو چومتے ہوءے اپنی زبان اسکی ناف میں گاڑ دی تو عایزہ کی ہلکی سی چیخ نکل گءی ۔ اب رقیہ باجی نے ایک خطرناک کھیل شروع کیا انہوں نے عایزہ کے مموں کو دوبارہ چوسنا شروع کیا اور اپنے ہاتھ سے عایزہ کی چوت کو شلوار کے اوپر سے مسلنا شروع کردیا ، عایزہ کے جسم نے لذت سے جھٹکے لینا شروع کیے تو رقیہ باجی نے اسکا ازار بند ڈھیلا کرنا شروع کردیا اور اتنی جگہ بنالی کے انکا ہاتھ اندر چلاگیا اب انہوں نے شلوار کو تھوڑا سا نیچے کردیا تو انہیں عایزہ کی پھدی نظر آی جومیں نہیں دیکھ سکتی تھی لیکن میں رقیہ باجی کے ہاتھ کی حرکتیں دیکھ سکتی تھی اب رقیہ باجی نے اپنا ایک مما عایزہ کے منہ کے بالکل قریب کردیا ۔پہلے تو عایزہ اپنا منہ دور لے جاتی لیکن جب رقیہ باجی نے اسکی چوت پر اپنی انگلی نچای تو اس نے بے خود ہو کر رقیہ باجی کا مما اپنے منہ میں لے کر اسے چوسنا شروع کردیا ۔ شاہد عایزہ کے جوان ہونٹوں کی طاقت تھی یا مزے کا عالم کہ رقیہ باجی کے منہ سے بھی ہلکی ہلکی سسکیاں نکلنے لگی تھیں ۔ پھردو منٹ بعد رقیہ باجی نے اپنے ممے عایزہ کے منی سے نکالے اور اپنے ہونٹ اسکی پھدہی پر رکھ کر وہاں کسن شروع کر دی اب تو عایزہ کو اپنا ہوش ہی نہ رہا ور اس منہ سے نکنلے والی آوازیں خاصی بلند ہوگییں اور اس نے رقیہ باجی کا سر زور سے پکڑ کر اپنی ٹانگوں میں بھینچ لیا کچھ ہی منٹ میں عایزہ نے ایک ہلکی سی چیخ ماری اور ڈسچارج ہوگءی۔ مگر صرف عایزہ ہی فارغ نہیں ہوی تھی میں بھی فارغ ہوگی تھی۔ ابھی عایزہ اور رقیہ باجی دونوں ننگی صوفے پر پڑی ہانپ رہی تھیں کہ مجھے اسکول اور کنٹین کے درمیان خالی پلاٹ پر آوزیں سناءی دیں میں نے مڑ کر دیکھا تو پرنسپل میڈم اسلامیات کی ٹیچر کے ساتھ کنٹین کی طرف آرہی تھیں اور تیزی سے کنٹین کے قریب آرہی تھیں مجھے جلدی کوءی فیصلہ کرنا تھا میں نے جلدی سے کنٹین کی کھڑکی سے رقیہ باجی کو آواز دی اور کہا باجی دروازہ جلدی کھولو خطرہ ۔،۔۔۔۔۔۔ جاری ہے Canteen wali larki 2.inp
  13. 5 likes
    کرونا وائرس اس وقت پوری دنیا میں کرونا وائرس کو عالمی وبا کا درجہ دیا جا چکا ہے۔ کرونا وائرس سے ہزاروں کی تعداد میں اموات ہو چکی ہیں۔ پاکستان میں بھی کرونا وائرس آ چکا ہے اور بدقسمتی سے ہم اس سے متاثر ہونے والے ممالک میں سرفہرست رہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ عوام میں سنجیدگی اور شعور کا فقدان ہے۔ یہ تھریڈ اس لیے شروع کیا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے متعلق معلومات کو یہاں شئیر کیا جائے تاکہ سبھی لوگ اس سے رہنمائی حاصل کر سکیں اور اپنے بچاؤ کی کوشش کریں۔ کرونا وائرس ایک وائرس ہے اور دنیا میں وائرس کی کوئی دوا نہیں ہوتی۔ وائرس کے خلاف جسم میں قدرتی طور پہ قوت مدافعت ہوتی ہے اور جسم خود سے اس سے صحت یاب ہو جاتا ہے۔ وائرس کے خلاف صرف ویکسین تیار ہوتی ہیں جن میں وائرس کمزور،غیر فعال یا مردہ حالت میں ہوتے ہیں۔ ان کو جسم میں داخل کیا جاتا ہے، یہ جسم کو وائرس کے لیے تیار کرتے ہیں اور بیماری آنے سے قبل ہی جسم کو بیماری کے خلاف اینٹی باڈیز بنانے پہ مجبور کرتے ہیں۔ چونکہ یہ کمزور،مردہ یا غیر فعال ہوتے ہیں تو بیماری نہیں پیدا کرتے۔ کرونا کا وائرس بھی ایسا ہی ایک وائرس ہے جو کہ کم و بیش ایک سو سال سے پایا جاتا ہے اور ہمیں فلو جیسی علامات سے دوچار کرتا ہے۔ جس سے ہم صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ وائرس بھی باہمی اختلاط سے اپنی ہیت تبدیل کرتے ہیں اور ان کے خلاف موثر پچھلی تمام اینٹی باڈیز غیر موثر ہو جاتی ہیں۔ جسم میں ان کے خلاف کوئی قوت مدافعت نہیں ہوتی تو جسم صحت یاب نہیں ہو پاتا۔ کرونا وائرس کیسے پھیلتا ہے؟ خوش قسمتی سے کرونا وائرس ہوا میں نہیں ہوتا،کم ازکم ابھی کی تحقیق سے یہی ثابت ہوا کہ کرونا رابطے سے پھیلتا ہے۔ رابطہ یعنی وائرس جسمانی رابطے سے ایک فرد سے دوسرے کو منتقل ہو، ہاتھ ملانے،چھونے یا بیمار شخص کے لعاب،کھانسی یا چھینک کے چھینٹوں سے یہ ایک فرد سے دوسرے کو منتقل ہو جاتا ہے۔ ایک متاثرہ شخص سے ہاتھ ملانے سے وائرس ایک ہاتھ سے دوسرے تک چلا جاتا ہے۔اگر ہاتھ کو دھو لیا جائے،قبل اس کے ہاتھ کو منہ ،ناک یا آنکھ تک لے جایا گیا ہو تو وائرس کا پھیلاؤ رک جاتا ہے۔ اسی طرح ایک متاثرہ شخص کی کھانسی کو اگر ماسک سے ڈھانپا ہوا ہو تو بھی وائرس منتقل ہونے سے بچ جائے گا۔ یہ کام کیونکہ مشکل ہے کیونکہ متاثرہ شخص کھانس کر یا چھو کر ہر چیز کو وائرس زدہ کر دے گا اور ان چیزوں کو جو جو چھوئے گا وہ بھی اس وائرس کو منتقل کر لے گا۔ اسی لیے سماجی رابطے سے گریز ہی اکلوتا حل ہے۔ جو جو فرد اپنے اندر کرونا والی علامات محسوس کرے وہ خود کو اکیلا کر لے تاکہ اس کی ترسیل کا باعث نہ بنے۔ جب سانس لینے میں دشواری محسوس ہونے لگے تو اس کا ٹیسٹ کروائیں۔ ہر انسان دن میں بار بار ہاتھ دھوئیں، ہاتھوں کو بیس سیکنڈ تک ملیں تب پانی بہائیں۔ہاتھوں کو منہ،آنکھ اور ناک سے دور رکھیں۔ سینی ٹائزر کا استعمال کریں۔ اگر دستیاب نہ ہو تو ڈیٹول،صابن،سرکہ اورسپرٹ کو مکس کر کے بنا لیں۔ سینی ٹائرز سے ہر اس سطح کو صاف کریں جہاں آپ کے ہاتھ لگتے ہوں جیسے دروازے کا ہینڈل، گاڑی کا سٹیرنگ،ہینڈل،گئیر اور دیگر ہر وہ جگہ جس پہ ہاتھ لگتے ہیں۔ عمومی طور پہ وائرس کسی سطح پہ زیادہ دیر یعنی چند منٹوں سے گھنٹوں تک ہی زندہ رہ پاتا ہے تو ایسی چیزوں کو بھی سینی ٹائزر سے صاف کریں۔ ہم ایک گنجان آباد ملک کے باشندے ہیں،اس لیے جہاں تک ممکن ہو خود کو اکیلا کر لینے ہی سے بچت ممکن ہے۔باہر سے آتے وقت ہاتھوں کو دھوئیں،جس جس چیز کو چھوا ہے،اس کو سینی ٹائز کریں، جو سامان لائے ہیں، اس کو صاف کریں۔بچوں کو چھونے سے گریز کریں۔بزرگوں سے فاصلہ کریں،ان کو محفوظ رکھیں۔ اجتماعات سے سختی سے گریز کریں۔ اس سلسلے میں کوئی سوال ہو تو یہاں پوچھ سکتے ہیں۔
  14. 5 likes
    میری بہن کی ایک لا پرواہی جس نے مجھے سیکس کی دنیا سے آگاہ کر دیا.. میرا نام ردا ہے اور یہ تب کی بات ہے جب میری عمر دس گیارہ سال ہو گی. میری ایک بڑی بہن ہے جس کا نام کومل ہے وہ مجھ سے پانچ چھ سال بڑی ہیں. میں ایک بہت معصوم اور بھولی بھالی طبیعت کی لڑکی تھی جس کو آس پاس کی دنیا کی کوئی خبر نہیں تھی. زیادہ دوستیاں بھی نہیں تھی اور زیادہ تر وقت گھر میں ہی پڑھائی یا ٹی وی دیکھنے میں گزرتا. مجھے پینٹنگ کرنے کا کافی شوق تھا اس لئے فارغ وقت بھی پینٹنگز میں گزار دیتی. ہر لڑکی کو ایک عمر کے بعد سیکس کی معلومات کا آہستہ آھستہ پتا چلنا شروع ہو جاتا ہے. میری عمر بھی ابھی اتنی نہیں تھی اور معصوم طبیعت کی وجہ سے میں ابھی اس حوالے سے انجان ہی تھی. لیکن ایک رات کو کچھ ایسا ہوا جس نے نا صرف مجھے سیکس کی دنیا سے آگاہ کیا بلکہ میری معصومیت اور سوچ کو بھی بدل دیا. دسمبر کی سرد راتیں تھیں اور میں کومل باجی کے ساتھ اپنے کمرے میں ایک ہی رضائی میں سوتی تھی. کیوں کہ مجھے اکیلے سونے میں ڈر بھی لگتا تھا اور سردی بھی. بشریٰ باجی ہماری پھوپھو کی بیٹی ہیں جو کہ کومل باجی سے ایک دو سال بڑی ہوں گی لیکن دونوں بچپن سے ہی بہت گہری دوست تھی. پھوپھو تقریبآ تین سال کے بعد ہمارے گھر آیی تھی اس لئے دونوں اتنے عرصے کے بعد ایک دوسرے کو مل کر بہت خوش تھی. آج جب میں سونے کے لئے آئ تو بشریٰ باجی اور کومل باجی دونوں رضائی میں لیٹی باتیں کر رہی تھی. بشریٰ باجی نے کہا یہ بھی ہمارے ساتھ سویے گی ؟ کومل باجی نے کہا ردا تم امی کے ساتھ سو جاؤ. میں نے کہا: امی نے ہی مجھے یہاں بھیجا ہے کہ جا کر بہنوں کے ساتھ سو جاؤ. بشریٰ باجی نے منہ بنا کر کومل باجی کی طرف دیکھا تو انہوں نے آنکھوں سے کچھ اشارہ کیا. میں چپ کر کے کومل باجی کے ساتھ رضائی میں آ کر لیٹ گئی. ہم تینوں ایک ہی رضائی میں تھی. کومل باجی درمیان میں تھی اور میں اور بشریٰ باجی ان کے دائیں بائیں لیٹی ہوئی تھی. وہ دونوں اپنے اپنے کالج کی باتیں کر رہی تھی. میں تھوڑی دیر سنتی رہی پھر بوریت کی وجہ سے سونے کو ہی ترجیح دی. تھوڑی دیر کے بعد میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گئی. رات کے کسی پہر میں میری آنکھ کھلی تو کمرے میں بلکل اندھیرا تھا اور کھسر پھسر کی آواز آ رہی تھی. مجھے اندازہ ہوا کہ یہ دونوں ابھی تک جاگ رہی ہیں. لیکن اب دونوں بلکل سرگوشی میں باتیں کر رہی تھی. میں پھر سے سونے کا سوچ ہی رہی تھی کہ میرے کان میں کچھ ایسے الفاظ ٹکراے کہ میری نیند ہی اڑ گئی. میں بلکل ساکت لیٹی ہوئی تھی اور کمرے کی خاموشی میں دونوں کی باتیں غور سے سننے کو کوشش کرنے لگی. تھوڑی دیر کی بعد مجھے ان کی سرگوشی میں ہونے والی باتیں لفظ با لفظ صاف سنائی دینے لگی. جیسے جیسے میں باتیں سن رہی تھی میرا جسم گرم ہو رہا تھا اور شدید سردی میں بھی پسینہ آ رہا تھا. مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں ہو رہا تھا کہ ایسا سب بھی ہو سکتا ہے. جب میری آنکھ کھلی تو ان دونوں کے درمیان یہ باتیں چل رہی تھی. بشریٰ باجی: اس کا کتنا بڑا ہے؟ کومل باجی: اب میں نے ناپ کر تو نہیں دیکھا لیکن بڑا ہے. بشریٰ باجی ہنستے ہوۓ: تین بار چدوانے کے بعد بھی سائز نہیں پتا. کومل باجی: یار بتایا نا کہ تینوں بار بس جلدی میں کرایا اور اتنا موقع نہیں ملا کہ غور سے دیکھ سکوں بشریٰ باجی: پہلی بار کہاں چدوایا تھا. کومل باجی: تینوں بار اپنے گھر کی چھت پر. بشریٰ باجی: چھت پر کہاں؟ کومل باجی: دو بار ٹنکی کے ساتھ والی جگہ پر اور تیسری بار سٹور میں چارپائی پر. بشریٰ باجی: زیادہ مزہ کہاں آیا؟ کومل باجی: سٹور میں چارپائی پر بشریٰ باجی: وہ کیوں؟ کومل باجی: چارپائی پر لیٹ کر سامنے سے کیا تھا اور پھر تیسری بار تھا تو ٹھیک سے گیا تھا. ٹنکی کے ساتھ پہلی دوسری بار تھا. درد بھی زیادہ ہوا اور پھر کھڑے ہو کر کیا تھا پیچھے سے. بشریٰ باجی حیرانگی سے: کیا مطلب؟ تم نے گانڈ مروائی ہے اس سے؟ کومل باجی: نہیں نہیں.. میرا مطلب اس نے پیچھے سے ڈالا تھا. بشریٰ باجی: پیچھے تو گانڈ میں ڈالتے ہیں. کومل باجی: ارے نہیں، وہاں نیچے زمین گرم تھی نا تو اس لئے اس نے مجھے کھڑے کھڑے جھکا کر پیچھے والی سائیڈ سے آگے ہی ڈالا تھا بشریٰ باجی: آگے کہاں ؟ کومل باجی: آگے کا مطلب آگے بشریٰ باجی: کچھ نام بھی ہوتا ہے آگے کا. کومل باجی: مجھے شرم آتی ہے. بشریٰ باجی: واہ رے میری شرمیلی.. چدواتے ہوۓ شرم نہیں آ رہی. نام لیتے ہوے آ رہی ہے. کومل باجی ہنستے ہوے: پھدی میں ڈالا تھا. بشریٰ باجی بھی ہنسنے لگ گیی. بشریٰ باجی: گانڈ نہیں مروائی؟ کومل باجی: اس کو تو بڑا شوق ہے. تیسری بار جب سٹور میں کیا تھا تو کافی کہ رہا تھا کہ پیچھے ڈالتا ہوں مزہ آے گا لیکن میں نہیں مانی. میں نے سنا تھا کہ پیچھے بہت درد ہوتا ہے اس لئے مجھے ڈر لگتا ہے. بشریٰ باجی: کس نے بتایا تمہیں؟ پہلے پہلے تو پھدی میں بھی درد ہوتا ہے. ایسے ہی گانڈ میں بھی ہوتا ہے لیکن گانڈ کا تو الگ ہی مزہ ہے. کومل باجی: آپ نے پیچھے کروایا ہوا ہے ؟ بشریٰ باجی: کافی بار. بلکہ پہلی بار تو ہمارے محلے کے ایک لڑکے نے گانڈ ماری تھی. اس نے بغیر بتایے گانڈ میں ڈال دیا. میں بلکل تیار نہیں تھی تو میں تو اچھل کر کھڑی ہو گئی. پھر میں نے اس کو گانڈ نہیں دی حالانکہ اس کا لن زیادہ بڑا اور موٹا نہیں تھا. کومل باجی: تو پھر تم کیوں کہ رہی ہو کہ گانڈ مروانے میں مزہ آتا ہے. بشریٰ باجی: وہ تو ایک بار میرے کالج کے لڑکے نے گانڈ ماری تو بڑا ہی مزہ آیا. حالاں کہ اس کا لن بھی بہت موٹا تھا. وہ کافی بار مجھے کہ چکا تھا لیکن میں نہیں ماں رہی تھی. پھر اس نے مجھے یقین دلایا کہ اگر مزہ نہیں آے گا تو نہیں کروں گا. بس پھر اگلی بار میں بھی کچھ ذہنی طور پر تیار تھی اور اس نے بھی ایسے طریقے سے گانڈ ماری کہ درد تو ہوا لیکن اس میں بھی مزہ تھا. کومل باجی: ایسا بھی کیا طریقہ تھا: بشریٰ باجی ہنستے ہوے: زیادہ سارا تھوک اور تیل لگا کر. بشریٰ باجی: میری چھوڑو اپنا بتاؤ کہ پہلی بار کیسے کیا تھا؟ کومل باجی: بتایا تو ہے کہ چھت پر ٹنکی کے ساتھ. بشریٰ باجی تھوڑا غصے میں بولی: یار جیسے میں نے اپنا تفصیل سے بتایا ہے ویسے بتاؤ. ہر بات تفصیل سے بغیر کسی شرم کے. کومل باجی: اچھا بابا بتاتی ہوں ویسے بہت ٹھرکی ہو گئی ہو تم اب. بشریٰ باجی: بس یار دو مہینے ہو گئے ہیں لن کی شکل نہیں دیکھی اس لئے ذرا ٹھرک چڑھا ہوا ہے. چلو اب شرافت سے سناؤ اور ٹھیک سے سنانا شرم اتار کر. کومل باجی ہنستے ہوے: اچھا بابا تو سنو. وہ تو میں نے تمہیں بتایا ہی تھا کہ وہ میری اکیڈمی میں پڑھتا ہے. وہیں ہماری دوستی ہوئی. کافی عرصے تک تو میں اس سے بس موبائل میسیجز پر بات کرتی تھی یا اکیڈمی میںتھوڑی بہت بات ہو جاتی تھی. ایک دن اس کا میسج آیا کہ اپنی چھت پر آو تمھارے لئے سرپرائز ہے. گرمیوں کی دوپہر کا وقت تھا اور گرمی بھی اپنے زوروں پر تھی. جب میں چھت پر پہنچی تو اس کو ساتھ والوں کی چھت پر دیکھ کر حیران ہو گیی. بشریٰ باجی: وہ وہاں کیسے آ گیا؟ کومل باجی: ساتھ والا گھر اس کے دوست کا ہے. بشریٰ باجی: اچھا پھر؟ کومل باجی: میں نے اس کو کافی روکا لیکن وہ دیوار پھلانگ کر ہماری چھت پر آ گیا. شکر ہے دوپہر کا وقت تھا تو کسی نے دیکھا نہیں. اس نے آتے ہی مجھے گلے لگا لیا اور گالوں پر کس کیا. میں اس کے اس طرح اچانک آنے پر گھبرائی ہوئی تھی. میں نے اس کو کہا کہ کوئی دیکھ لے گا تم جاؤ یہاں سے. اس نے ادھر ادھر دیکھا اور بولا سامنے والے کمرے میں چلتے ہیں. لیکن میں نے کہا کہ وہ سٹور روم ہے اور اس کا لوہے کا دروازہ بہت آواز کرتا ہے. اگر کھولا تو نیچے امی کو پتا چل جائے گا. پھر اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور ٹینکی کے پیچھے والی جگہ لے گیا. وہاں تو تمہیں پتا ہی ہے کہ تنگ سی جگہ ہے لیکن وہاں کہیں سے بھی ڈائریکٹ نظر نہیں آتا. اس نے مجھے دیوار کے ساتھ لگایا اور میرے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا اور بولا جان اتنا مس کر رہا تھا تمہیں اس لیے اس طرح ملنے آ گیا. میں نے کہا مجھے ڈر لگ رہا ہے کوئی آ جائے گا. تم جو یہاں سے. اس نے میری بات مکمل ہونے سے پہلے ہی میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے اور چومنا شروع کر دیا مجھے ڈر لگ رہا تھا اور میں نے اس کو روکنے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں رکا. یہ پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ ہمیں اتنا موقع ملا تھا ورنہ اکیڈمی میں تو بس چند سیکنڈ کے لئے نظروں سے بچ کر کس کر لی. کس کرتے کرتے اس میں اپنا ایک ہاتھ میرے بوبز اور دوسرا گانڈ پر رکھ کر دبانے لگا. نیچے سے اس کا لن کبھی میرے پیٹ پر چبھ رہا تھا تو کبھی میری ٹانگوں میں گھس رہا تھا. میں اتنی گرم ہو رہی تھی کہ اس کو روک ہی نہیں پا رہی تھی. میری آنکھیں بند تھی اور میں بس اس مومنٹ کو اینجوے کر رہی تھی. تھوڑی دیر کے بعد مجھے اپنی ٹانگوں کے درمیان میں اس کا لن گیلا اور گرم محسوس ہوا. میں نے ہاتھ نیچے کیا تو مجھے پتا چلا کہ میری شلوار تھوڑی سی اتری ہوئی ہے اور اس نے بھی پینٹ کی زپ کھول کے لن نکال کر میری ٹانگوں کے درمیان ڈالا ہوا ہے اور آگے پیچھے کر کے پھدی پر لگا رہا ہے. بشریٰ باجی: تمہیں پتا ہی نہیں چلا تمہاری شلوار اتارنے کا ؟ کومل باجی: نہیں میں اتنی مست ہو رہی تھی کہ مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ کب اس نے اپنا لن باہر نکالا اور کب میری شلوار نیچے کی. بشریٰ باجی: پھر؟ کومل باجی: میں نے اس کو جلدی سے پیچھے کیا لیکن اس نے مجھے مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا اور ہونٹوں پر کس کر رہا تھا. میں تھوڑی دیر کوشش کرتی رہی پھر میں بھی اس کے لن کو اپنی ٹانگوں میں دبا کر پھدی پر رب کرنے لگ گئی. میں نے سوچا کہ کونسا اندر ڈال رہا ہے تو ایسے ہی مزے تو لوں. اس دوران اس نے دو تین بار لن پھدی میں ڈالنے کی کوشش کی لیکن ایک تو میں دیوار کا ساتھ لگ کر سیدھی کھڑی ہوئی تھو اور دوسرا میری ٹانگیںبھی زیادہ کھلی ہوئی نہیں تھی. تو بس مجھے اس کا لن اپنی پھدی پر زور سے رب ہوتا محسوس ہوتا اور پھر پھسل جاتا. گرمی بھی بہت تھی اس لئے ہم دونوں پسینے میں ڈوبے ہوے تھے. تھوڑی دیر کے بعد اس نے میرے ہونٹوں کو چھوڑا اور گالوں سے کس کرتا کرتا میری گردن پر کس کرنا شروع کر دیا. گردن پر کس میرے لئے بلکل نیا تجربہ تھا. میں تو اور زیادہ پاگل اور مدہوش ہو گئی. گردن پر کس کرتے کرتے ہی اس نے مجھے گھمایا اور میرا منہ دیوار کی طرف کر کے میرے پیچھے سے گردن پر کس کرنے لگ گیا. اب میں دیوار کے ساتھ لگی ہوئی تھی اور وہ میرے پیچھے سے چپکا ہوا میری گردن پر بے تحاشا کس کر رہا تھا. اس کا لن جو پہلے آگے سے میری ٹانگوں میں پھدی کو لگ رہا تھا اب پیچھے سے میری ٹانگوں میں گھسا ہوا میری پھدی پر محسوس ہو رہا تھا. پہلے اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے کر کے مجھے پکڑا ہوا تھا اور میرے بوبز دبا رہا تھا. پھر وہ اپنا ایک ہاتھ نیچے لے کر گیا. اب اس کا لن کبھی میری پھدی پر لگ رہا تھا اور کبھی میری گانڈ پر چبھ رہا تھا. اس نے ایک دو بار لن پھدی میں ڈالنے کی کوشش کی لیکن لن پھدی پر لگ کر پھسل جاتا. میں اس دوران مزے میں مدہوش کھڑی ہوئی تھی. پھر اس نے مجھے اسی طرح پکڑے پکڑے دو قدم دیوار سے پیچھے کیا اور کندھے سے پکڑ کر آگے کو جھکا دیا. میں دیوار پر دونوں ہاتھ رکھ کر جھک گئی. بشریٰ باجی: اس نے تمہاری شلوار اتار دی. اپنا لن ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا اور تمہیں سمجھ نہیں آی کہ وہ کیا کرنا چاہ رہا ہے. کومل باجی: مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا کرنا چاہ رہا ہے. مجھے پتا تھا میری شلوار اتری ہوئی ہے اور اس کا لن بھی بار بار لگ رہا تھا. لیکن میں پھر بھی اس کو روک نہیں پا رہی تھی. میری تو مدہوشی میں یہ حالت تھی کہ اس کی ہر بات آنکھیں بند کر کے مان رہی تھی. بشریٰ باجی: اچھا پھر؟ کومل باجی: میں جیسے ہی دیوار پر ہاتھ رکھ کر جھکی تو وہ مجھ سے پیچھے ہٹ گیا اور پیچھے سے میری قمیض اٹھا کر میری کمر پر رکھی اور کمر سے دبا کر تھوڑا اور جھکا دیا. پھر پیچھے سے میری شلوار اور زیادہ نیچے کر دی. اس سے پہلے کہ میں کچھ ہوش میں آتی یا سمجھ پاتی کہ میرے پیچھے کیا چل رہا ہے. مجھے اس کا لن اپنی پھدی کو ٹٹولتا ہوا محسوس ہوا. پھر اس نے لن کو پھدی پر سیٹ کیا اور دونوں ہاتھوں سے میری کمر کو مضبوطی سے پکڑ لیا. کمر کو پکڑتے ساتھ ہی اس نے پیچھے سے لن کو دھکا لگایا اور اس کا لن میری پھدی میں گھس گیا. میں جو ابھی تک مزے میں مدہوش ڈوبی ہوئی تھی اس دردناک حملے کو برداشت نہیں کر سکی اور ہلکی سے چیخ مار کر کھڑی ہوگئی. اس نے مجھے کمر سے پکڑے رکھا اور دھکیلتے ہوے دیوار کا ساتھ لگا لیا لیکن لن کو پھدی سے نہیں نکلنے دیا. میں درد سے چلائی: نومی... یہ کیا کر رہے ہو.. باہر نکالو اسے بہت درد ہو رہی ہے اس نے مجھے اسی طرح مضبوطی سے پکڑے ہوے کہا: بس جان ہو گیا ہے .. بس بس .. تھوڑی سا اور کرنے دو .. تھوڑا جھکو یار. میں نے کہا: میری جان نکل رہی ہے.... پلیز چھوڑو مجھے.. پھر اس نے مجھے زبردستی جھکا کر تین چار بار پھدی میں لن آگے پیچھے کیا اور لن نکال کر پیچھے ہٹ گیا. مجھے بہت درد ہو رہا تھا تو میں وہیں اپنا پیٹ پکڑ کر زمین پر بیٹھ کر رونے لگ گئی. میں نے اسے دیکھا تو دوسری طرف منہ کر کے لن ہاتھ میں پکڑ کر ہلا رہا تھا. میں ہمت کر کے اٹھی اپنی شلوار اوپر کی اور کپڑے ٹھیک کر کے مڑی تو وہ اپنی پینٹ کی زپ بند کر رہا تھا. میں بس اس کو یہ کہ کر سیڑھیوں کی طرف آ گئی کہ تم جاؤ یہاں سے جلدی. میں پسینے سے شرابور ہو چکی تھی اور عجیب سے بدبو بھی آ رہی تھی. میں نیچے آتے ہی سب سے پہلے غسل خانے میں گھسی اور بیٹھ کر رونے لگ گئی. مجھے ایک تو اس پر غصہ تھا اور دوسرا درد کی وجہ سے بھی رونا آ رہا تھا. پھر میں آ کر سو گئی اور شام کو ہی اٹھی جاری ہے ...
  15. 5 likes
    میڈم عفیفہ کہنے لگیں یار ہم لوگ لاہور کے رہنے والے ہیں،۰۲ سال کی عمر میں میری شادی ہوئی اور میں اسلام آباد آگئی۔ میری تعلیمی قابلیت اس وقت ایف اے تھی اور میرے میاں وزارت تعلیم میں اسسٹنت تھے۔ میرے میاں نے مجھے شادی کے بعد بی اے کروایا اور پھر بی ایڈ بھی کروایا۔ ۸ سال بعد میرے میاں نے محکمانہ ترقی کا امتحان دیا اور سییکشن آفیسر ہوگئے اور ہمیں یہ والا گھر مل گیا۔ اس وقت بندے کم تھے اور اسلام آباد میں نوکریاں زیادہ تھیں میرے میاں نے مجھے ٹیچر کروادیا۔ بعد میں ہمیں یہ بڑا مکان مل گیا۔ جب میں ۵۳ سال کی تھی یعنی میری شادی کے ۵۱ سال بعد میرے میاں کی ڈیتھ ہوگئی، اس وقت کچھ رشتہ داروں نے مدد کی اور یہ مکان مجھے مل گیا۔ میاں کے انتقال کے ۳برس بعد تک تو مجھے زندگی کی صحیح سمجھ ہی نہیں آئی۔ لیکن بعد میں ہر رات کو میاں کی کمی کھلنے لگی۔ مگر میں نے بڑے صبر سے کام لیا۔ ۳ سال بعد لاہور میں ایک شادی تھی میں بچوں کو لے کر امی کے گھر چلی گئی۔ بیوہ ہونے کے بعد میرا اچھی طرح سے تیار ہونے کو دل نہیں کرتا تھا لکین میری بھابی نے مجھے ضد کرکے تیار کردیا۔ ہم مہندی کی تقریب میں پہنچے تو وہاں میری ایک کزن فرخندہ مجھے ملی وہ میری بڑی اچھی دوست بھی تھی اس نے مجھے اپنے بیٹے سے ملوایا جو کوئی ۶۱ سال کا تھا۔ شانی نام تھا اس کا، اور میرے فیورٹ ہیرو وحید مراد کی کاپی تھا۔ اس کی عادت بھی بہت اچھی تھی اور پورے فنکشن میں اس نے ہنسا ہنسا کر میرا برا حال کردیا۔ اور ہماری اچھی خاصی بے تکلفی ہوگئی۔ برات والے دن جب ہم سب لوگ گاڑیوں میں بیٹھنے لگے تو مجھے بچوں کو تیار کروانے میں دیر ہوگئی۔ جب میں باہر نکلی تو عورتوں والی پہلی بس نکل چکی تھی، جس گاڑی میں امی جارہی تھیں تینوں بچوں کو انہوں نے اپنے پاس بٹھا لیا۔ اور پھر ایک چھوٹی کوسٹر آئی جس میں کافی سامان تھا اس میں سامان کے بعد پیچھے والی بڑی سیٹ خالی تھی امی نے کہا تو اور شانی اس میں آجاو۔ میں نے بھابی کی طرف دیکھا تو کہنے لگیں ہاں ہاں کوئی بات نہیں شانی اپنا بچہ ہے اس کے ساتھ آجاو۔ میں مجبورا بیٹھ گئی چار گھنٹے کا سفر تھا میں اور شانی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ اب بس میں ڈرائیور کے علاوہ ہم دونوں ہی تھے اور ڈرائیور بھی ہمیں سامان کی وجہ سے صاف نظر نہیں آرہا تھا۔ کچھ دیر تک تو ہم ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے پھر میں نے وہ سوال کردیا جس سے ایک سارا موضوع ہی بدل گیا۔ میں نے کہا کہ شانی تیری منگنی ہوئی کہ نہیں اس نے کہا کہ نہیں بھابی ابھی کہاں ابھی تو فرسٹ ائر میں آیا ہوں، میں نے کہا کوئی بات نہیں تو اتنا پیارا ہے تجھے تو کوئی ھی اپنی بیٹی دے دیگا۔ اس نے کہا واقعی کیا میں پیارا ہوں میں نے کہا اور نہیں تو کی۔ اس نے کہا اچھا جی کیا چیز ہے میری۔ میں نے کہا تیری آنکھیں، ہیرو کٹ بال تری ناک ہر چیز، اس پر اس نے مسکراتے ہوئے کہا بھابی آپکی ۳چیزیں بھی بہت پیاری ہیں۔ میں نے کہا اچھا جی وہ کونسی کہنے لگا آپکی آنکھیں، آپکے ہونٹ اور یہ کیوٹ سے گال اور ہاں آپکے بال بھی۔ میں نے کہا بے شرم بھابی کو ایسے دیھتے ہیں کیا، اس نے کہا بھابی ہیں توبی اتنی پیاری۔ ابھی آدھا گھنٹہ بھی نہ گزرا تھا کہ مجھے سردی لگنی شروع ہوگئی میں نے کہا شانی کمبل لانا بھول گئے ہم، اس نے کہا ٹھریں بھابی میں ڈرائیور سے پتا کرتا ہوں وہ آگے گیا اور ۲ منٹ بعد ایک چھوٹا سے کمبل لے کہ آگیا میں نے کہا اس سے کیا ہوگا کہنے لگا بھابی آپ اوڑھ لو میری خیر ہے میں گزارا کرلوں گا۔ میں کمبل اوڑھ کر بیٹھ گئی لیکن ۵منٹ بعد میں نے دیکھا کہ شانی کو سردی لگ رہی ہے مگر وہ ضبط کرکے بیٹھا ہوا ہے میں نے کہا کہ شانی بیٹا سردی لگ جائے گی اچھا ادھر پاس ہوجاو کمبل میں ہاتھ تو ڈال لو وہ میرے بالکل قریب ہو کر بیٹھ گیا اور اس نے ہاتھ کمبل میں ڈال لیے۔ پھر اس نے میرے یاتھ پکڑلیے میرے ہاتھ ٹھنڈے تھے جبکہ شانی کے ہاتھ بالکل گرم تھے میں نے کہا یہ کیا کرہے ہو اس نے کہا آپ کے ہاتھ گرم کرہا ہوں شانی کے ہاتھوں پر بڑے گھنے مردانہ بال تھے اور مججھے ایسے ہاتھ بہت پسند تھے۔ کچھ ہی دیر بعد اس نے اپنی ایک ٹانک کو میری ٹانگ کے ساتھ جوڑ دیا چونکہ میری سیٹ بالکل کھڑکی کے ساتھ اس لیے میں کوئی مزاحمت نہیں کرسکی، اور خاموش رہی۔ لیکن چونکہ میاں کے بعد یہ میرا اپنے جسم پر پہلا مردانہ لمس تھا اس لئے میرے جسم میں ایک لذت انگیر جھرجھری دوڑ گئی تو شانی نے کہا کیا ہو ا میں نے کہا کچھ نہیں اور میں نے ہاتھ چھڑا لیے اور کہا کہ بس گرم ہوگئے ہیں، تو شانی اپنے ہاتھ میری گود میں رکھ دئے اور کہا لیکن مجھے سردی لگ رہی ہے میں نے آپ کے ہاتھ گرم کئے اب آپ میرے ہاتھ گرم کردو۔ یہ کہہ کر اس نے ہاتھ میری گود میں رکھد دئے، ہم کچھ دیر بالکل خاموش بیٹھے رہے پھر شانی بولا بھابی آپ واقعی میں بہت پیاری ہیں میں نے کہا کیا بھابی بھابی لگا رکھی ہے میں خالہ ہوں تیری، تیری ماں کی کزن ہوں اور تو میرے بیٹے سے بھی چھوٹا ہے۔ میرا یہ تیز لہجہ سن کر وہ ایک دم گبھرا سا گیا اور خاموش ہو کر بیٹھ گیا اور اپنے ہاتھ باہر نکال لئے ۔ تھوڑی دیر بعد میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ منہ پھلا کہ بیٹھا ہوا تھا اور بہت ہی کیوٹ لگ رہا تھا اور صندل جان مجھے اس پر بے تحاشہ پیار آگیا۔ میں نے کہا اوئے ہوئے بچہ ناراض ہوگیا۔ یہ کہہ کر میں نے اس کے سرخ گال پر ایک چٹکی لی اور اسے کہا اچھا لا میں تیرے ہاتھ گرم کردوں وہ قریب ہو کر ایک دم میرے گلے لگ گیا اور مھجے اپنی بانہوں میں جکڑ کر کہنے لگا۔ تھینک یو سو مچ آپ بہت سویٹ ہو اور یہ کہہ کر مجھے چوم لیا، ہائے یار میرے تن بدن میں ایک آگ سی لگ گئی۔ میں نے کہا شانی یہ کیا کر رہے ہو پیچھے ہٹو لیکن اس نے پورے ۳ منٹ تک مجھے چمٹائے رکھا۔ اور میری ساری سانسیں بے ترتیب ہوگئیں۔ پھر اس مے میرے ہاتھ کو چوم لیا اور کہنے لگا کیا آپ مجھ سے دوستی کرو گی، میں نے کہا جی نہیں بالکل نہیں۔ تو اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا قسم سے میری کوئی دوست نہیں پلیz کہ صندل میں اس وقت بالکل پگھل چکی تھی لیکن یہ بات تو نہیں سمجھے گی۔ کیونکہ تو ابھی مرد کے پیار سے آشنا نہیں اور تیرا ابھی سیکس کا پہلا تجربہ ہے۔ پھر اس نے میرے جواب کا انتظار کئے بعگیر اپنے ہاتھ کو کمبل کے نیچے سے میرے مموں پر پھیرنا شروع کردیا۔ اف اس کا لمس اتنا پیارا تھا کہ میں بتا نہیں سکتی۔ پھر اس نے میری قمیض کے اندر ہاتھ ڈال کر میرا پیٹ سہلانا شروع کردیا۔ اب میرے منہ سے ایک تیز سسکی نکل گئی اور وہ سمجھ گیا کہ میں گرم ہو چکی ہوں۔ اس نے قمیض اوپر کی اور اور پھر برا تک پہنچ کر اپنے ہاتھوں سے میرے دونوں ممون کو باری باری سہلا نا اور دبان شروع کردیا اور پانا دوسرا ہاتھ میری شلوار میں گھسا دیا کیونکہ شادی کے فنکشن کی وجہ سے میں نے غراراہ ٹائپ شلوار پہنی ہوئی تھی اس کا ہاتھ اند جا کر سیدھا میری پھدی سے ٹکرایا جو پہلے ہی گیلی ہوچکی تھی۔ شانی بولا خالہ جی آپ جتنی پیار ہو اتنی ہی گرم بھی ہو، میں نے سن کر شرما کر اپنا منہ نیچے کر لیا۔ کچھ دیر میرے ممے دبانے اور چوت سہلانے کے بعد اس نے اپنی زپ کھولی اور انڈر وئر نیچے کرکیے اپنا لن باہر نکال لیا۔ میں نے کہا شانی نہ کر پلیز ڈرائیور دیکھ لے گا، اس نے کہا آپ چیک کر لو سامان کی وجہ سے وہ ہمیں نظر نہیں آرہا وہ ہمیں کیسے دیکھ سکتا ہے۔ پھر اس نے میرا ہاتھ اپنے لن پر رکھ دیا اف ایک بڑا بالکل جوان لن اتنے لمبے عرصے کے بعد میرے ہاتھ میں تھا میں نے تو اپنے اوپر قابو کھودیا اور کہا شانی اتنا بڑا؟ سردی کے دن تھے بس میں اندھیرا ہو چکا تھا اور آس پاس بھی کوئی نہ تھا میں نے دل میں کہا عفو ہمت کرے۔ میں نے شانی کی طرف دیکھا اور اس کے لن کو مٹھی میں پکڑ کر مسلنے لگی اس کا بھی لذت سے برا حال ہوگیا۔ پھر ہم دونوں نے کسنگ شروع کردی اس کے ہونٹوں کا رس بہت میٹھا تھا کنوار ے جوان ہونٹ۔ پھر اس نے آگے بڑھ کر مجھے سیٹ پہ لٹا دیا اور کہا ہیاں سے کسی کو کچھ نظر نہیں آئے گا۔ پھر وہ میرے اوپر جھک گیا۔ اور میں زبان نکال کر اس کے گال چاٹنے لگی۔۔۔۔اور پھر اس کے گال چاٹتے چاٹتے میں اپنی زبان کو اس کے کان کے قریب لے گئی۔۔۔۔اور اس کے کان کی لو کو چاٹ کر اس کے کان میں سر گوشی کی اور۔۔۔ اسے کہنے لگی شانی تم نے میری ساری ریاضت ختم کردی۔ میری سرگوشی سن کر شانی کے جذبات بھی مزید بھڑک اْٹھے اور اس نے بھی مجھے چما دیا اور وہ بھی سرگوشی میں کہنے لگا۔۔۔۔ مجھے بھی تمہاری چوت چاہیئے میری جان اس کی بات سن کر پھر سے میری چوت کْھل بند ہونے لگی۔اور شانی کا لن سہلاتے سہلاتے میرا جی مچلنے لگا۔ اور اس کے ساتھ ہی اس کا ہاتھ سرکتا ہوا میری چوت کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔اور اس نے میری چوت کو اپنی مٹھی میں لیا۔۔۔اور اسے دبا کر بولا۔۔۔۔ اْف جانآپ کے نیچے تو آگ لگی ہوئی ہے۔ شانی بس کے فرش پر بیٹھ گیا۔۔۔۔ اور میرے چوتڑ پکڑ کو مجھے تھوڑا اوپر اْٹھنے کو کہا۔۔۔ جیسے ہی میں نے اپنی ہپس اوپر کی۔۔۔۔۔شانی نے میری شلوار اتار دی۔۔۔۔اور اس کے ساتھ بڑے غور سے میری ننگی رانوں کی طرف دیکھنے لگا۔اس نے باری باری میری دونوں رانوں کو چوما۔۔ پھر وہ آگے بڑھا اور اپنے منہ کو میری رانوں کے بیچ میں لے آیا۔۔اور زبان نکال کر میری نرم رانوں کو چاٹنے لگا۔۔۔۔ اس کی زبان کا لمس پاتے ہی میں نے ہلکا ہلکا کراہنا شروع کر دیا۔۔۔ پھر رانوں سے ہوتی ہوئی اس کی زبان میری چوت کی طرف بڑھنے لگی۔۔۔۔۔۔ اور۔۔اور۔۔۔ کچھ ہی سیکنڈز کے بعد اس کی زبان میری گرم پھدی سے ٹکرا رہی تھی۔۔۔۔ اور پھر اس نے میری چوت کو چاٹنا شروع کر دیا۔ شروع کر دیا۔۔۔۔ میں بیان نہیں کر سکتی کہ شانی کے اس کام سے مجھے کتنا مزہ مل رہا تھا۔۔۔ اور اس کی زبان کے نیچے کس طرح سے میں تڑپ رہی تھی۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی میری پھدی نے دوبارہ سے رسنا شروع کر دیا۔۔۔ یہ دیکھ کر اس نے میری چوت کے ہونٹوں کو اپنے منہ سے نکالا اور دوبارہ سے میری پھدی سے رسنے والے جوس کو چاٹنا شروع کر دیا۔۔۔مجھے اس کام سے بہت مزہ مل رہا تھا لیکن عین اس وقت میری پھدی نے لن کے لیئے تڑپنا شروع کر دیا۔۔ تب میں سیٹ سے ا وپر اْٹھی اور اس کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔ اب بس کر دو۔۔۔۔ اس نے میری بات سنی ان سنی کر دی اور پھر سے اپنی زبان کو میری چوت کے اندر باہر کرنے لگا۔اس نے مجھے گھوڑی بننے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔اور میں سیٹ پر ہی گھوڑی بن گئی۔۔ اب وہ میرے پیچھے آیا اور۔۔اپنی لن کی نوک کو میری چوت کے لبوں پر رکھا۔۔۔۔اس کے لن کی نوک کر میری چوت پر رکھتے ہی میرے منہ سے ایک سسکی نکل گئی۔۔۔۔ جسے سن کر وہ کہنے لگا کیا ہوا بھابی جان۔ابھی تو میں نے اپنے لن کو اندر ڈالا ہی نہیں تو میں جسے اس وقت لن کو اپنے اندر لینے کی شدید طلب ہو رہی تھی۔۔۔۔ پیچھے مْڑ کر اس کی طرف دیکھااور کہا جلدی کر نہ یار میری بات سن کر اس نے ایک زبردست گھسا مارا۔۔۔جس سے اس کے پورے کا پورا لن میری چوت میں اتر گیا۔۔۔ اور اس کیساتھ ہی میرے منہ سے بلند آواز میں۔۔۔۔ چیخ نکلی۔۔۔اوئی ماں۔۔۔۔۔ مر گئی میں۔ لیکن شکر ہے اس گاڑی کا ڈیک فل آن تھا۔اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے لن کو میری چوت میں ان آؤٹ کرنا شروع کر دیا۔۔۔ وہ جب بھی زور کا گھسہ مارتا۔۔۔ تو اس کا لن میری چوت کے پتہ نہیں کس کونے میں لگتا کہ جسے کھا کر میری میری چوت پانی پانی ہو جاتی۔۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ساتھ۔آپ ہی آپ میرے منہ سے۔۔۔ نہایت سیکسی۔۔۔زبردست اور دل کش قسم کی سسکیان برآمد ہونا شروع ہو جاتیں۔۔۔ اور پھر کچھ دیر بعد اس نے اپنے گھسوں کی رفتار تیز کر دی۔۔۔۔ اور اس کے ہر گھسے سے میں خود کو ہواؤں میں اْڑتا ہوا محسوس کرنے لگی۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی بار بار میرے منہ سے ہیجان سے بھر پور اور شہوت انگیز طریقے سے اس کا نام نکلنے لگا۔شانی شانی میری جان شانی۔ پھر ہم دونوں ایک ساتھ ہی فارغ ہوگئے۔ پھر ہم دونوں نے اپنے سانس درست کیے اور پھر کپڑے صحیح کرے کے بیٹھ گئے مجھ پر تو اتنی غنودگی طاری تھی کہ میں فورا سوگئی۔ ایک گھنٹہ بعد آنکھ کھلی تو گاڑی ایک ریستوران نے باہر رکی ہوئی تھی میں نے دیکھا گاڑی میں نہ ڈرائیور تھا نہ شانی میں گبھر کر نیچے اتری تو دیکھا کا بارات کی گاڑی بھی وہیں پر تھی ہم سب لوگ ایک ریستوران پر اکٹھے ہوگئے تھے۔ پھر میری امی آگئیں اور کہنے لگیں عفو سفر کیا رہا میں نے شرما کر امی بہت سکون سے گزرا میں تو سو ہی گئی تھی۔ امی کہا چل اب گاڑی میں جگہ بن گئی آگے میرے ساتھ ہی جانا یوں میں امی کے ساتھ بیٹھ گئی اور جاتے ہوئے شانی کو منہ چڑا دیا۔ز
  16. 5 likes
    ہم نے اس کو نہ کبھی آف ہونے دیا ہے اور نہ دیں گے۔ میری پوری کوشش ہے کہ میں جلد از جلد کچھ لکھوں۔ میں نے لیپ ٹاپ منگوایا ہے جو شاید آج ڈیلیور ہو جائے۔ اس کے بعد میں جتنا ممکن ہو سکا لکھتا رہوں گا۔
  17. 5 likes
    دوستو میرا نام نعمان ہے لیکن سب پیار سے نومی بلاتے ہیں میری فیملی میں میں ابو امی اور ایک بھائی ہیں ابو کا نام ریاض ہے ان کی اپنی دوکان ہے لیڈیز کپڑوں کی ہم لوگ منڈی بہاؤ الدین کے رہنے والے ہیں لیکن ابو کے کام کی وجہ سے گجرات میں شفٹ ہونا پڑا بھائی اور ابو دوکان سنبھالتے ہیں دوستو میری اور بھائی کی عمر میں دس سال کا فرق تھا کیونکہ بھائی کی پیدائش کے بعد میری ایک بہن ہوی جو کہ پیدائش کے وقت ہی انتقال کر گی اس کے بعد ایک اور بھائی ہووا اوروہ بھی وفات پا گیا ابو امی کہتے ہیں کہ کافی زیادہ منت اور دعا کے بعد میں پیدا ہووا اس لیے میں سارے خاندان کا اور سب سے زیادہ امی کا لا ڈلہ تھا اور زیادہ پیار کا مجھے یہ نقصان ہووا کہ مجھے ہمیشہ گلی محلے کے لڑکوں سے تھڑا دور رہنے کی تلقین کی جاتی اسی لیے میں بڑا تو ہو رہا تھا لیکن سیکس ایسی سب باتو ں کا دور دور تک پتہ نہیں تھا زیادہ بور نا کرتے ہوئے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف باقی لوگوں کا انٹرو ان کی آمد پر کرواتا جاوں گا دوستو بات ہے تب کی جب بھای کی شادی ہوی شروع شروع کے دن تھے سب بہت زیادہ خوش تھے کیونکہ گھر میں نیا فرد شامل ہووا تھا سب سے زیادہ میں کیونکہ بھابھی میری پھوپھو کی بیٹی تھی اور میری بہت اچھی دوست جب بھی ہمارے گھر آتی میرے لیے کافی کچھ لاتی بھابھی تتلے والی گاوں کی رہنے والی تھی گاوں کی خوبصورتی کے بھی کیا کہنے 5.8 انچ قد گورا رنگ تقریبا چھتیس کے ممے گول گول چوتڑ بہت ہی خوبصورت تھی بھابھی میں بہت خوش سارا دن ان کے پاس بیٹھا رہتا اور باتیں کرتا رہتا ایک دو بار میں کمرے میں گیا تو بھائی بھی کمرے میں تھا اور میرے جاتے ہی بیڈ سے اٹھ بیٹھا میں نے زیادہ غور نا کیا اسی طرح ایک دن رات کے وقت سب اپنے اپنے کمرے میں سو رہے تھے کہ مجھے رات کو کچھ گھبراہٹ ہونے لگی میں اٹھا اور کچن میں پانی پینے گیا ہمارے گھر کا نقشہ کچھ یوں ہے کہ میرے کمرے کے ایک طرف بھائی کا کمرہ ایک طرف امی ابو کا کمرہ بھائی کے کمرے کے ساتھ کچن ہے ہمارے کمروں کے آگے برامدہ ہے اور اس کے آگے صحن تو جیسے ہی میں بھائی کے کمرے کے آگے سے گزرہ تو مجھے اندر سے کچھ آوازیں آی جیسے کوئی کراہ رہا ہو میں نے ایک سائیڈ پے ہو کے بھائی کے کمرے کی کھڑکی کے ساتھ کھڑا ہو کہ سننے کی کوشش کی تو وہ آواز بھابھی کی تھی مگر مجھے سمجھ نہیں آیا کہ بھابھی کراہ کیوں رہی ہیں میں نے ادھر اُدھر کافی جگہوں سے دیکھنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا فر میں نے کان لگا کہ سنا تو کراہنے کی آوازیں بند ہو چکی تھی البتہ بھائی کی آواز آی کہ کیوں ایسے شور مچاتی رہتی ہو کوئی سن لے گا تو بھابھی کی آواز آئی کہ کہ اتنا بڑا لن کبھی اپنی گانڈ میں لو تو تمہیں سمجھ آ جائے کیا ہو جاتا اگر دو دن رک جاتے ایک تو میرے ویسے وہ والے دن چل رہے ہیں اوپر سے تمہیں اپنی پڑی ہے بھائی بولے کیا کروں جان ابھی کچھ ہی تو دن ہوئے ہیں شادی کو اتنے سالوں کا مال جمع ہوا ہے جب تک سارا نکلے گا نہیں سکون کہاں آنا ہے میری سمجھ میں کچھ بھی نا آیا کہ یہ سب چل کیا رہا ہے ابھی بھابھی کراہ رہی تھی ابھی ایسے باتیں کر رہی ہیں اور یہ کیا باتیں کر رہی ہیں میں اسی کشمکش میں اپنے کمرے میں آ گیا اور سوچنے لگ گیا کہ یہ سب چل کیا رہا ہے پہلے تو سوچا صبح بھابھی سے ہی پوچھ لو گا مگر پھر سوچا کہ وہ کیا کہیں گی کہ یہ باہر کھڑا ہو کر ہماری باتیں سنتا ہے آخر کار جب کوئی سمجھ نا آئی تو میں نے سوچا کہ صبحو باجی مونا سے پوچھو گا باجی مونہ کا اصلی نام میمونہ تھا لیکن سب پیار سے مونہ بلاتے تھے وہ ہماری گلی میں دو گھر چھوڑ کر تیسرے گھر میں رہتے تھے ان کی امی آنٹی بلقیس جو کہ ہمارے گھر میں کام کرتی تھی باجی مونہ مجھ سے 7 سال بڑی تھی ان کی عمر کچھ 22 سال کے قریب تھی باجی مونہ کی کچھ ایک سال پہلے شادی ہوئی تھیان کا زوہر باہر ہوتا تھا شادی کے بعد صرف 4 دن وہ رکا تھا اور 5 دن وہ واپس قطر چلا گیا تھا تب سے لے کر اب تک باجی اپنی امی کے گھر پر ہی رہتی تھی آنٹی بلقیس کے شوہر کا نام انکل جواد تھا جو کہ مستری کے ساتھ مزدوری کرتا تھا کافی غریب تھے آنٹی بلقیس کا ایک بیٹا تھا جو کہ باجی مونہ سے بڑا تھا ایک دن کام پر جاتے ہوئے اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا اوراس کی وفات ہو گی اب گھر میں صرف آنٹی انکل اور باجی مونہ ہی تھے میں ان کا انٹرو اس لیے کروا رہا ہوں کیونکہ ان سب کا تعلق کہانی سے ہے کیونکہ اپنے گھر کے علاوہ واحد آنٹی بلقیس کا گھر تھا جہاں مجھے جانے کی آزادی تھی صبح چونکہ اتوار تھا تو میں 9 بجے اٹھا اور منہ ہاتھ دھو کہ ناشتہ کیا تب تک آنٹی بلقیس ہمارے گھر آ گی اور میں ان کے گھر چلا گیا جا کہ دیکھا کہ باجی مونہ اڈے پر بیٹھی کام کر رہی تھی جو کہ مجھے دیکھ کہ کافی خوش ہوی وہ مجھی پیار سے نومی کی بجائے بابو بلاتی تھی مجھے دیکھتے ہی باجی بولی.
  18. 5 likes
    کینٹین والی لڑکی قسط 2 رمیز حیدر میری آواز سنتے ہی رقیہ باجی اپنے کپڑے ٹھیک کرے ہوئے کھڑکی کی طرف آیئیں اور مجھے کنہے لگیں کیا ہو ا، میں نے کہا کہ پرنسپل صاحبہ آرہی ہیں یہ سن کر رقیہ باجی کا رنگ ایک دم زرد پڑگیا اس نے اپنے تمام کپڑے ٹھیک کرتے ہوئے دروازہ کھول دیا اور جلد ہی ایک تولیا گیلا کرے کے اپنے منہ پر پھیرا اور اسی تولیے سے جلدی عائزہ کا منہ بھی صاف کرنے لگیں۔ابھی رقیہ باجی نے تولیہ رکھا ہی تھا کہ پرنسپل میڈم اور ا سلامیات والی میڈم عفیفہ کنٹین کے اندر داخل ہوگئیں۔ پرنسپل میڈم سعدیہ کو دیکھتے ہی ہم تینوں نے سلام کیا۔ میڈم سعدیہ نے ہمارے سلام کا جواب دیا اور بڑی حیرانی سے عائزہ کو دیکھتے ہوئے کہنے لگیں تم یہاں کیا کر رہی ہو، عائزہ ابھی جواب سوچ ہی رہی تھی کہ رقیہ باجی نے کہا کہ میڈم یہ اپنا کھانا گرم کراوانے آئی تھی۔ میڈم سعدیہ نے کہا رقیہ تمہیں معلوم نہیں کنٹین کے اندر لڑکیوں کا داخلہ سختی سے منع ہے۔ رقیہ باجی نے نظریں جھکا کر کر کہا میڈم میں معافی چاہتی ہوں، آئیندہ ایسا نہیں ہوگا۔ جب میڈم سعدیہ اور رقیہ باجی کے درمیان یہ بات ہو رہی تھی تو میں نے دیکھا کہ میڈم عفیفہ بڑی گہری نظروں سے عائزہ کا جائزہ لے رہی تھیں اور انکی تمام توجہ عایزہ کے یونیفارم پر آئی شکنوں پر تھی۔ عائزہ نے بھی انکی نظریں محسوس کرلیں تھیں یہی وجہ تھی کہ وہ میڈم عفیفہ سے آنکھیں چرا رہی تھی۔ ہ میڈم عفیفہ کی عمر 45سال کے لگ بھگ تھی انکا جسم صحت مند تھا اور گندمی رنگت کی حامل تھیں وہ میڈم سعدیہ کے بہت قریب تھیں اور ہر مشورے میں شامل ہوتی تھیں کئی لڑکیوں کو سزا یا سخت ڈانٹ کے لیے میڈم سعدیہ میڈم عفیفہ کے حوالے کردیتی تھیں ۔ میڈم سعدیہ اوررقیہ باجی کی گفتگو کا رخ اب دیگر معاملات کی طرف مڑ گیا تھا وہ کنٹین کی صفائی اور کھانے پینے کی اشیاء کے معیار پر بات کر رہی تھیں۔ میڈم سعدیہ واپس جانے کے لیے مڑیں اور عائزہ سے پوچھا تم نے کھانا کھالیا عائزہ نے ہکلاتے ہوئے جواب دیا ج جی میڈم۔ میڈم سعدیہ نے اس کہا کہ تم اپنی کلاس میں جاو اور آئیندہ کھان کنٹین کے باہر سے دیا کرو عائزہ ہاں میں سر ہلاکہ اوکے میم کہتی ہوئی فوراًباہر چلی گئی۔ پھر میڈم سعدیہ نے میری امی کا پوچھا اور کہا کہ وہ آج بیماری کی وجہ سے کام پر نہیں آئی اس کی ٹانگ کا درد کیسا ہے میں نے کہا جی بہتر ہے پھر دونوں کنٹین سے باہر نکل کر لیب کی طرف مڑگئیں۔ انکے جاتے ہی رقیہ باجی نے کہا آج تو نے بڑے ٹائم پر آواز لگائی، لیکن ایک منٹ رک، یہ تونے خطرہ خطرہ کیوں کہا، میں خاموش کھڑی رہی۔ رقیہ باجی یہی واسل درشتگی سے دوبارہ پوچھا تو میں نے کہا کہ میں آدھے گھنٹے سے کھڑکی میں کھڑی تھی، یہ سن کر رقیہ باجی کا رنگ پیلا پڑگیا اور وہ دھم سے صوفے پر بیٹھ گئی، 2منٹ تک مکمل سناٹا رہا۔ پھر رقیہ باجی نے مجھے پاس بلا کر صوفے پر بٹھایا اور میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر رونے لگی اور بار بار کہہ رہی تھی صندل مجھے معاف کردو میں بہک گئی تھی۔ میں نے انکے آنسو پوچھے اور کہا کوئی بات نہیں، پھر رقیہ باجی کہنے لگیں میرے میاں ے انتقال کو کتنے برس بیت گئے بعض اوقات خود پر قابو نہیں رہتا لیکن تو یہ بات ابھی نہیں سمجھے گی جب تیری شادی ہوگی تو تجھے ان معاملات کا پتہ چلے گا انکی یہ بات سن کر میں شرما گئی اور میر ا چہرہ بالکل سرخ ہو گیا۔ رقیہ باجی نے میرا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیکر میری آنکھوں کو چوم لیا اور کہنے لگی میری بنو شرماتی ہوئی کتنی خوبصورت لگتی ہے، میں اور شرماگئی، رقیہ باجی نے ایک دم مجھے گلے سے لگا لیا اور کہا میری جان وعدہ کر یہ میرا راز کبھی کسی کے آگے نہیں کھولے گی۔ سچی بات تھی کہ رقیہ باجی کا رویہ پہلے دن سے میرے ساتھ بہت اچھا تھا اور مجھے اس نوکری کی وجہ سے بڑی سہولت تھی میں نے کہا کہ میں وعدہ کرتی ہوں باجی کسی کو نہیں بتاونگی۔ یہ سن کر رقیہ باجی نے ایک بار پھر میری آنکھوں کو چوم لیا اور میرا ہاتھ زور سے دبایا۔ اور مجھے اپنے سینے کے ساتھ بھینچ لیا۔۔۔ اْس کے اس طرح گلے لگانے سے میرے سینے کے ساتھ اس کے موٹے ممے میری چھاتیوں کے ساتھ پریس ہو گئے۔ اسے سینے سے سینہ لگانے سے مجھے ایک نئی ایک نئی چیز محسوس ہوئی۔ ابھی ہم بات کر رہے تھے کہ ہمارے اسکول کی جمعدارنی مارتھاکنٹین کی صفائی کرنے آگئی، میں اس سے جھاڑو مر وا کر فارغ ہوئی تھی کہ 3بج گئے میں نے رقیہ باجی سے کہا کہ میں اب جاوں امی انتظار کر رہی ہوں گی ویسے بھی انکی طبعیت خراب ہے۔ رقیہ باجی نے کہا اوکے۔ جب میں رات کو سنے کے لیے لیٹی تو پھر سارا منظر میری آنکھوں میں پھرنے لگا اور مجھے لگا کہ میں دوبارہ ڈسچارج ہو رہی ہوں پھر بڑے مزے کی نیند آئی۔ اگلے دن جمعرات تھی جلدی چھٹی ہوگئی۔ جمعے کو چھٹی کے دن میں نے بہن کے ساتھ مل کر کپڑے دھوئے امی کو دوائی دی۔ ہفتے کے دن جب میں کام پر پہنچی تو رقیہ باجی کی آنکھوں میں ایک خاص چمک تھی اور خوش لگ رہی تھیں میں نے تھوڑی دیر بعد پو چھا باجی کیا بات ہے آج بڑی خوش لگ رہی ہیں کہیں عائزہ تو نہیں آرہی آج دو بارہ، تو رقیہ باجی چپ کر ایسی کوئی بات نہیں تو کیا اب بلیک میل کرے گی کیا، میں نے کہا کہ نہیں باجی میں تو مزاق کر رہی تھی۔ چھٹی کے بعد جب ہم کام سمیٹ رہے تھے تو میں نے نوٹ کیا کہ رقیہ باجی میرے بالکل ساتھ ساتھ چپک کر کام کر رہی تھیں اور بہانے بہانے سے میرے جسم بالخصوص میرے چوتڑوں کو ہاتھ لگا رہی تھیں، کچھ دیر تک تو میں نے برداشت کیا پھر میں نے کہا رقیہ باجی یہ آج آپ کیا کر رہی ہو تو انہوں نے ایک دم کام سے ہاتھ روک دئے اور میرے کندھوں پہ ہاتھ رکھ کر کہنے لگیں صندل جان اب مجھ سے برداشت نہیں ہوتا تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو، میں نے کہا کہ پہلے تو کبھی آپ نے یہ بات نہیں کی اب کیا ہوا ہے آپ کو، رقیہ باجی کہنے لگیں پہلے میں تم سے اس موضوع پر بات کرنے سے جھجکتی رہی لیکن اس دن تم نے مجھے اور عائزہ کو دیکھ لیا تھا اب ہمارے درمیان پہلے والا تکلف نہیں رہا۔ ابھی میں کوئی جواب سوچ ہی رہی تھی کہ رقیہ باجی نے دروازہ بند کرد یا اور مجھے اپنی بانہوں میں جکڑ لیا۔ باجی نے اپنے مموں کو بڑی زور سے میرے ساتھ پریس کیا اور پھر اپنی بڑی سی چھاتیوں کو میری چھاتیوں پر رگڑنے لگی۔۔ اس کے اس طرح چھاتی رگڑنے سے میرے اندر ایک انجانی سا کرنٹ دوڑنے لگیا۔ اور میں مزے سے بے حال ہو کر تیزی سے سانس لینے لگی۔۔ میری یہ حالت دیکھ کرباجی نے اپنی چھاتیوں کو میری چھاتیوں کے ساتھ رگڑتے ہوئے کہا صندل جان تمہیں مزہ آ رہا ہے، میری آنکھیں بند ہو چکی تھیں اور میرے منہ سے ہلکی سی جی نکلی۔ اسے سن کر باجی نے میرے ایک گال کو چوما۔۔۔ اور کہنے لگی صندل۔۔ اس طرح چھاتیاں رگڑنے سیمجھے تمہارے چھوٹے چھوٹے ممیبھی بڑا مزہ دے رہے ہیں۔ تو میں نے ویسے ہی مستی سے اس سے پوچھا وہ کیسے؟ تو وہ کہنے لگی وہ ایسیمیری جان میری کیوٹ چھوٹی پر ی کہ میرے بڑے بڑے اور تمھارے چھوٹے چھوٹے ممے آپس میں ٹکرا کر ہم دونوں کے جسموں میں آگ لگا رہے ہیں، پھر باجی رقیہ نے اپنی قمیض اتار کر کرسی پہ رکھ دی۔۔اور میری طرف دیکھا۔میں بڑے غور سیان کی ننگی چھاتیوں کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ اور میں نے ابھی تک اپنی قمیض کو نہ اتارا تھا، مھے یوں کھڑے دیکھ کر انہوں نے مجھے غصے سے کہا کہ تم بھی اتارو نہ قمیض، میں انکی آواز سے ایک دم سے چونک پڑی باجی میری طرف دیکھ کر بولی سچ کہہ رہی ہوں صندل جانو۔۔۔۔ تمہارے سینے پر لگی یہ چھوٹی چھوٹی چھاتیں دیکھنے کا بڑا دل کر رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ آگے بڑھی۔۔۔۔اور اس نے میری قمیض اتار کر کنٹین میں لگی کھونیٹوں پر ٹانگ دی۔میں برا نہیں پہنتی تھی لیکن بنیان لازمی پہنتی تھی رقیہ باجی نے فوراً بنیان بھی اتار دی اور میری ننگی چھاتیوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیا۔۔۔ اور انہیں ہولے ہولے دبانے لگی۔۔۔ مجھے اپنی چھاتیوں پر اس کے ہاتھوں کا لمس بہت ہی اچھا رہا تھا اور مزے کے مارے بے اختیار میرے منہ سے۔۔۔ہائے۔۔ہائے کی آوازیں نکل رہیں تھیں جسے سن کر وہ بھی مست ہو گئی۔۔اور میری چھوٹی چھوٹی چھاتیوں کو دباتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔۔ مزہ آ رہا ہے تو میں نے ایک گرم آہ بھرتے ہوئے کہا جی باجی بہت زیادہ۔ میری بات سن کر وہ کہنے لگیں جان تمہاری چھاتیوں کو پکڑنے سے مجھے بھی بڑا مزہ آ رہا ہے آج تک ان کو دور سے ہی دیکھا تھا،اور پھر بڑی مستی سے میری چھاتیں کو دبانے لگی، کچھ دیر تک وہ میری چھاتیوں کو دباتی رہی، پھر اچانک ہی مجھ پر شہوت نے اتنا غلبہپالیا کہ میں نے شرم کو بالئے طاق رکھ ہاتھ بڑھا کر انکے مموں کو پکڑ لیا اور دبانے لگی چونکہ یہ مری پہلی بار تھی تو میں نیان کے مموں کو کچھ زیادہ ہی زور سے دبا دیا تھا۔۔تبھی میں نے رقیہ باجی کی ہلکی سی چیخ سنی اور وہ کہنے لگی آرام سے میری جان لیکن چونکہ اس وقت مجھ پر پوری طرح سے شہوت سوار تھی اس لیئے میں نے اس کی بات سنی ان سنی کر دیاور انکے سانولے فل سائز مموں کو اپنی مْٹھی میں پکڑ کر مسلسل دباتی رہی۔۔۔ کچھ دیر تک تو وہ مجھے آرام سے دبانے کو کہتی رہیں۔ پھرانکو زیادہ مزہ آنے لگا کیونکہ وہ پرانی کھلاڑی تھیں اور اس دفعہ جب میں نے ان کی چھاتیوں کو دبایا تو وہ میرے ساتھ چمٹ گئیں اور مجھے ہیجان انگیز آواز میں کہنے لگیں ظالم مادیا ہے تو تو بڑی گرم نکلی میری گوری محبوبہ۔ واقعی جب میں نے دیکھا تو میر جسم بالکل گورا تھا اور باجی کا گیرا سانولہ تو بڑا دلفریب امتزاج لگ رتھا بڑا جان لیوا۔ باجی نے اپنی بات کہتے ہی اپنے نچلے دھڑ کو میرے ساتھ جوڑ لیا اور میری ران کے ساتھ اپنی پھدی کو جوڑ کر رگڑنے لگی۔۔ اْف اس وقت ان کی چوت بہت گرم ہو رہی تھی اور اس کی چوت کا میری ران کے ساتھ جْڑنا تھا کہ۔۔ خود میرے اپنے اندر۔۔۔ خاص طور پر میری چوت میں بھی ایک ہلچل مچنا شروع ہو گئی۔اور مجھے ایسا لگا کہ جیسے کسی نے میری دونوں رانوں کے بیچ والے حصے میں آگ لگا دی ہو میں نے اس مزے سے مجبور ہوکر کر باجی کا ہاتھ پکڑا اور شلوار کے اوپر سے ہی اپنی پھدی پر رکھ دیا۔۔۔باجی نے اپنے ہاتھ پہ جیسے ہی میری چوت کو محسوس کیا تو اس نے ایک دم سے میری چوت کو اپنی مْٹھی میں۔پکڑا اور اسے دبانے لگیں۔۔۔۔ اس کے یوں دبانے سے میرے منہ سے ہلکی ہلکی چیخں نکلنے لگیں۔ا ور میں نے ایک ہاتھ اپنے منہ پہ رکھ لیا۔ باجی اپنی چوت کو میری ران پر رگڑتے ہوئے کہنے لگیں صندل جان آئی لو یو مجھے اس کا جواب تو نہیں آیا فوری طور پر مگر میں نے باجی کی آنکھوں کو چوم لیا، اس سارے عمل کے کیساتھ ساتھ کی باجی پھدی کو میری پھدی کے ساتھ جوڑ دیا اور اوپر نیچے ہونا شروع ہوگئی سسکیاں اور ہلکی چیخیں باجی کی بھی نکل رہی تھیں پھر باجی کو خود سیدھی لیٹ گئیں اور مجھے اپنے اوپر لٹالیا باجی نے اپنے ممے بالکل میرے منہ کے آگے کردئے میں انکا اشارہ نہ سمجھی تو انہوں نے میرا منہ پکڑ کر اپنے ایک ممے پر رکھ دیا میں نے بباکی سے ان کا سانولا بڑا سا مما چوسنا شروع کر دیا تو انے جسم نے لذت کے مارے ایک جھر جھری لی اور مجھے اور زور سے چمٹا لیا اور ساتھ ہی ہی میری شلوار کے اندر ہاتھ ڈال کر میرے چوتڑوں پر پیھرنے لگی تھوڑی دیر میں میرا ازاربند ڈھیلا ہو گیا اور باجی کا ہاتھ زیادہ اندر گھس گیا ۔۔ تھوڑے ہی وقت میں دوسری باجی میری ننگی پھدی کو اپنی مْٹھی میں لیئے مسلسل بھینچ رہی تھی اور میں باجی کے ممے چوسنے کے ساتھ ساتھ انکی پھدی کو زور سے کجارہی تھی کہ باجی نے اپنی ایک انگلی میری گیلی چوت پر پھرنا شروع کردی اف میرا تو لذت سے برا حال ہوگیا۔ ابھی ہم دونوں دیوانہ وار اپنے اس جنسی عمل میں مشغول تھیں کہ کچھ ہی دیر بعد ہم دونوں کے سانس چڑھنے لگے۔۔۔۔اورمیرے منہ سے بے ربط قسم کی باتیں نکلنے لگیں۔۔۔۔سس۔۔سس۔۔۔۔اوئی۔۔۔۔۔۔۔ اْف۔ف۔ف۔ف۔۔۔۔۔اوہ۔۔اوہ ہ ہ۔ اور پھر جلد ہی میری چوت میں لگی آگ سرد ہونا شروع ہو گئی۔۔۔ اور پھر ہم دونوں کی پھدیوں میں پانی آتے ہی باجی نے میری چوت اور میں نیانکی چوت سے ہاتھ اٹھالیے۔ اور جھٹکے مارتے ہوئے اپنی اپنی پھدیوں سے پانی چھوڑنے لگیں۔۔۔۔۔۔ اور۔۔ پھر جب ہماری پھدیوں سے پانی نکلنا رْک گیا۔۔۔ تو باجی مجھ سے الگ ہو گئی۔۔اور صوفے پر بیٹھ کر لمبے لمبے سانس لینے لگی۔۔ جبکہ میری حالت بھی ان سے الگ نہ تھی۔
  19. 5 likes
    اسلام و علیکم تمام دوستوں سے معذرت کے وعدے کے مطابق آپ ڈیٹ نہ دے سکا۔ کبھی کبھی حالات ایسے ہو جاتے ہیں ۔ پچھلے ہفتے میرے دادا کی ڈیتھ ہو گئی ۔ جس کی وجہ سے میں اپنا وعدہ پورا نہ کر سکا ۔ ابھی چند دن پنجاب میں ہوں واپس جا کر آپ سے کیا گیا وعدہ پورا کر دوں گا سب دوستوں سے ایک بار پھر معذرت خواہ ہوں
  20. 5 likes
    اپڈیٹ نمبر 20 ڈاکٹر انور جیل کے دروازے سے باہر نکلا تو ایک طرف یاسمین گاڑی لے کے موجود تھی جبکہ دوسری طرف آفرین ایک گاڑی لیے موجود تھی۔ انور نکلا تو پہلے اس کی نظر آفرین پہ پڑی، اس نے آنکھوں سے ہی اس کی آمد کا شکریہ ادا کیا جس کے جواب میں آفرین نے اسے دوسری طرف دیکھنے کا اشارہ کیا۔ انور کی نظر یاسمین پہ پڑی تو وہ بے دلی سے اس کی طرف بڑھا۔ یاسمین اسے جیل سے باہر دیکھ بہت خوش ہوئی لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی انور بولا؛ یاسمین میں پہلے ثمرین کی وجہ سے تم سے یہ بات نہیں کر پایا، یاسمین نے اسے ٹوکا اور بولی؛ ہم گھر جا کے بات کرتے ہیں، انور نے اس کی بات ان سنی کرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی؛ میرے خیال میں اب اس شادی کو مزید گھسیٹنے کا کوئی مطلب نہیں۔ پہلے مجھے عائشہ کا خیال تھا ورنہ میں یہ شادی ختم کر چکا ہوتا۔ یاسمین نے ایک غضبناک نظر آفرین پہ ڈالی اور انور کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کے بولی؛ انور پلیز ایسے مت کرو، یہ عورت بس تمہیں استعمال کرے گی اور پھر چھوڑ دے گی۔ انور اسے بولتے چھوڑ کے واپس چل پڑا اور آفرین کی گاڑی میں بیٹھ کے چلا گیا۔ آفرین نے کچھ دنوں کے لیے ہوٹل میں ایک کمرہ لیا تھا جہاں وہ انور کو لے کے گئی۔ انور کمرے میں داخل ہوا تو کمرے میں پھولوں سے سجاوٹ کی گئی تھی اور ویلکم ہوم کا خوبصورت سا کارڈ بنا کے سامنے آویزاں کیا گیا تھا۔ انور یہ سب دیکھ کے جہاں خوش تھا وہیں حیران بھی تھا۔ آفرین نے اسے بانہوں میں بھر کے چوما اور بولی؛ کچھ دنوں کے لیے یہی ہمارا گھر ہے۔ وقاص نے انور کے آبائی گھر کے باہر گاڑی روکی اور دروازے پہ لگی بیل بجائی۔ ایک معمر خاتون نے دروازہ کھولا جو وقاص کے مطابق یقیناً انور کی ماں تھی۔ وقاص نے سلام کیا اور بولا؛ آنٹی میں انور کا دوست ہوں اور ایک کام کےسلسلے میں لاہور سے یہاں آ رہا تھا تو انور نے آپ کے لیے یہ مٹھائی بھیج دی۔ آنٹی نے اس کے ہاتھ سے مٹھائی کا ڈبہ لے کر چائے کی پیشکش کی جسے اس نے رسمی حیل و حجت کے بعد قبول کر لیا۔ چائے پیتے وقت انور کا باپ بھی وہیں موجود تھا۔ وقاص نے خوش مزاجی سے بتایا کہ انور کے گھر ان لوگوں کا بہت تذکرہ ہوتا ہے، انور، یاسمین اور ماریہ ان لوگوں کے بارے میں کافی بات کرتے ہیں۔ ماریہ کا نام سن کے انور کے باپ کے چہرے پہ ناگواری کے تاثرات نمودار ہو گئے۔ وقاص نے آنٹی کو مخاطب کر کے کہا؛ آنٹی لگتا ہے انکل کو ماریہ کچھ خاص پسند نہیں ہے؟ اس کے سوال کا جواب آنٹی کی بجائے انکل نے دیا؛ بہت تیز جا رہے ہو میاں، لگتا ہے کم وقت میں بہت کچھ جاننا چاہتے ہو؟ انور کے دوست ہی ہو یا کوئی اور؟ وقاص نے اس کے سوال کا سنجیدگی سے جواب دیا؛ اب آپ جان ہی گئے ہیں تو بتا دیں جو آپ کو معلوم ہے۔ میرا نام وقاص ہے اور میں عائشہ کے قتل کی تحقیقات کر رہا ہوں۔ انکل نے سخت لہجے میں جواب دیا؛ ہم کچھ نہیں جانتے۔ وقاص نے غصے سے کہا؛ انور آپ کا بیٹا ہے اور عائشہ آپ کی پوتی تھی جس کے قتل کے الزام میں وہ کیس بھگت رہا ہے۔ میرا تو ان سے کوئی تعلق نہیں پھر بھی میں قاتل کو ڈھونڈنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہوں اور اس دوران مجھ پہ قاتلانہ حملہ بھی ہو چکا ہے۔ اگر آپ اب بھی کچھ نہیں بتانا چاہتے تو جیسے آپ کی مرضی۔ اس کی جذباتی تقریر سے انکل کچھ نرم پڑ گئے اور بولے؛ اس رات کیا ہوا وہ تو ہم نہیں جانتے لیکن اتنا ضرور جانتے ہیں کہ اس میں ماریہ کا ضرور کوئی کردار ہو گا کیونکہ وہ ایک مکار اور بدکردار عورت ہے۔ وقاص نے ان کا شکریہ ادا کیا اور واپسی کی راہ لی۔ واپسی پہ اس نے اکرام کو کال کی اور ہوچھا؛ جس دن تم پرویز کا پیچھا کر رہے تھے اس دن پرویز کے علاوہ تم نے اندرون میں کسے دیکھا تھا؟ پرویز بولا؛ ماریہ کو دیکھا تھا جو کسی دوکان سے کچھ خرید رہی تھی۔ وقاص بولا؛ بلاؤ اسے تفتیش کے لیے، میں بھی پہنچ رہا ہوں۔ وقاص خونخوار نظروں سے ماریہ کو دیکھ رہا تھا اور ماریہ اس کے سامنے بیٹھی خوف سے کانپ رہی تھی۔ وقاص نے اس سے پوچھا کہ فلاں تاریخ وہ اندرون لاہور میں کیا کر رہی تھی؟ ماریہ نے بتایا کہ اس کی ماں ٹیکسالی میں رہتی ہے جس سے ملنے وہ وہاں گئی تھی۔ وقاص نے پوچھا؛ تم نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی؟ ماریہ بولی؛ کوئی مناسب رشتہ نہیں ملا۔ وقاص بولا؛ کوئی پرانا افیئر؟ ماریہ نے نفی میں سر ہلایا۔ وقاص نے پوچھا؛ کبھی سیکس کیا ہے؟ ماریہ نے غصے سے نہ میں جواب دیا۔ وقاص نے لیڈی کانسٹیبل کو بلایا اور ماریہ کا مکمل میڈیکل چیک اپ کروانے کا کہا۔ میڈیکل چیک اپ کے مطابق ماریہ نہ صرف سیکسوئلی ایکٹو تھی بلکہ ایک بچہ بھی پیدا کر چکی تھی۔ وقاص کے لیے یہ ایک حیران کن خبر تھی۔ اس نے مزید تحقیق کے لیے وقاص کی ماں کے گھر کا رخ کیا۔ ماریہ کی ماں خاصی بیمار تھی اور اس کی دیکھ بھال کے لیے ایک نرس معمور تھی۔ وہاں پہنچ کے وقاص پہ انکشاف ہوا کہ ماریہ کی ماں قوت گویائی سے محروم ہو چکی تھی اور اس کی یاداشت بھی کافی کمزور تھی۔ وقاص نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن محض اتنا ہی جان پایا کہ وہ شادی شدہ ہے اور اس کا شوہر اسے یہاں نہیں آنے دیتا۔ وقاص مایوس ہو کے واپس آنے لگا تو اس کی نظر کمرے میں لگی ایک تصویر پہ پڑی۔ وہ تصویر کو قریب سے دیکھ رہا تھا تو ماریہ کی ماں نے اشاروں سے کچھ بتانے کی کوشش کی جس کا ترجمہ وہاں موجود نرس نے کچھ یوں کیا؛ یہ کہہ رہی ہیں کہ ان کی بیٹی جوانی میں بہت خوبصورت تھی۔ وقاص نے دوبارہ تصویر کو غور سے دیکھا تو اس کے چہرے پہ پریشانی کے آثار نمودار ہو گئے۔ اس نے جیب سے موبائل نکالا اور کال ملا کے باہر کی جانب بھاگا۔ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے وہ بولا؛ اکرام، انور اس وقت کہاں ہو گا؟ اکرام بولا؛ وہ آفرین کے ساتھ ہوٹل میں ہے۔ وقاص بولا؛ تم جلد از جلد وہاں پہنچو، اس کی جان خطرے میں ہے۔ وقاص پوری رفتار سے گاڑی چلا کے ہوٹل پہنچا تو انور کی لاش نے اس کا استقبال کیا۔ انور کے گلے پہ بھی ویسا ہی کٹ لگا تھا جیسا اس سے پہلے عائشہ اور سجاد کے گلے پہ پایا گیا۔ لاش کے پاس پولیس اور فرانزک کی ٹیمیں ابتدائی کاروائی کے لیے موجود تھیں۔ وقاص نے ہوٹل کے مینیجر سے پوچھا؛ کیا آپ سے کسی نے کمرے کی ڈپلیکیٹ چابی لی؟ مینیجر نے اس امکان کو سختی سے مسترد کر دیا۔ وقاص وہاں سے نکلا اور ایف آئی اے آفس کی طرف روانہ ہو گیا۔ راستے میں اس نے اکرام کو کال کی اور بولا؛ سب لوگوں کو کل انور کے گھر اکٹھا کرو۔ جاری ہے
  21. 5 likes
  22. 4 likes
    آپکی پسندیدگی کا بہت شکریہ.. جیسا کہ آپکو ابھی تک اندازہ ہو گیا ہو گا کہ یہ کہانی ایک ایسی کم عمر لڑکی کی سیکس کے سفر کی ہے جس کو سیکس کے بارے میں معلومات اس کی بہن اور کزن کی آپس میں ہونے والی باتوں سے ہوئی.. میری کوشش ہے کہ یہ کہانی حقیقت کے قریب تر ہو.. کیوں کہ یہ کہانی ایک کم عمر لڑکی کی ہے تو اس میں سیکس سین اسی حساب سے ہوں گے جو کہ حقیقت میں اس عمر کے لڑکے لڑکیوں میں ہوتا ہے.. جہاں پر ضرورت ہو گی وہاں پر بھرپور سیکس سین بھی آئیں گے..
  23. 4 likes
    کمنٹس اس بات کا ثبوت ہے کہ کہانی اپلوڈ ہو رہی ہے۔ آپ ری فریش کیجیے کہانی امیج فارمیٹ میں ہوتی ہے۔ بہت شکریہ جناب۔ میں بھی بہت مصروف ہوں ان دنوں۔ پتا نہیں کیا بات ہے کہ فرصت میسر ہی نہیں آ رہی۔ بہرحال یہ دن بھی گزر جائیں گے۔
  24. 4 likes
    چند ماہ سے میری مصروفیت کچھ بڑھ گئ ہے تو ایک کمنٹ تک نہیں کر پارہا. سوچ آتی ہے کہ آپ کیسے چیزوں کو وقت دے دیتے ہیں. یہ آپ کا خاصہ ہے. جس طرح اور قارئین آپ کی اپڈیٹ کا شدت سے انتظار کرتے ہیں. میں بھی اتنا ہی کرتا ہوں. بس ذکر نہیں کرتا. کہانی کی قسط تو پڑھ لی کسی طرح وقت نکال کر. آپ نے جس طرح اس قسط کو لکھا ہے یقین مانیں ایک نئ بلندی پر پہنچادیا ہے. سونیا کو رام کرنے کے لوازمات کا آپ نے جس طرح ذکر کیا بہت ہی خوب. بہت سے قارئیں کو اس سے نئ راہیں ملی گیں. یہی تو خاصہ ہے آپ کا کہ مزے کے ساتھ زندگی کے اسرار و رموز بھی سمجھادیتے ہیں. پھدی کی خوشبو واہ لن خواہ مخواہ ہی پھدی لینے سے رہ گیا آج تو اخیر ہی ہوگئ عبیحہ سے پہلے عبیرہ, مہری سے پہلے ماں ضوفی سے پہلے ماہی واہ واہ. یاسر تھوڑا ڈر گیا ہے پیریڈز کی وجہ سے ہا ہا. یاسر کی خود کلامی کے تو کیا ہی کہنے ڈاکٹر صاحب سلام ہے آپ کو
  25. 4 likes
    میری طرف سے ایک اچھی سٹوری لکھنے اور مکمل کرنے پر مبارکباد قبول کریں.اگر یہ کہانی کہیں اور پوسٹ نہیں تو آپ کی نئی کہانی کی پہلی قسط پر آپ کو فورم کے رائٹر گروپ میں شامل کیا جائے گا. جس سے آپ کو مزید سہولیات دستیاب ہوں گی
  26. 4 likes
    مسٹر ظفر صاحب میں غیر جانبداری سے پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ دو ممبرز نے سوال جواب کر کے اور ایک ممبر نے ان دونوں میں مداخلت کر کے تینوں ممبرز نے غلط کیا۔ اگر آپ نے اس پوسٹ پر جوابی کمنٹ کرنے کی بجائے اسے ریپورٹ کیا ہوتا ۔ تو اس ممبر کو نان ریفنڈایبل وارننگ ایشو ہو چکی ہوتی۔ اور اگر اس کی طرف سے معذرت پوسٹ نہ آتی تو اسے بین بھی کیا جا سکتا تھا۔ مگر آپ نے جوابی رپلائی کر کے اپنا حساب برابر کر لیا۔ اور آپ کے کمنٹس کو بھی میں نے ہی اپررو کیا تھا ۔ اور اگر آپ اپنا کمنٹس دوبارہ ریڈ کریں ۔ تو وہ بھی سخت الفاظ پر مشتمل تھا۔بہرحال آئیندہ اگر کبھی کسی بھی ممبر کی طرف سے ایسی صورتحال ہو تو جواب دینے کی بجائے اس پوسٹ کو ریپورٹ کریں ۔ ریپورٹ کرنے کا آپشن ہر پوسٹ پر موجود ہے۔ تاکہ اس پر مناسب ایکشن لیا جا سکے۔
  27. 3 likes
    شکریہ ڈاکٹر صاحب اگر اب بھی آپ اپ ڈیٹ نہ دیتے تو بھی سب کو آپ کی مصروفیت کا علم ہے آپ جس محاذ پر کام کر رہے ہیں وہ اس سے بہرحال بہتر ہے سدا خوش رہیں
  28. 3 likes
    ڈاکٹر صاحب وقت کے انتہائ پابند ہیں. ان کو س جیسے ہی وقت میسر ہوگا وہ اپڈیٹ دیں گے میں خود بھی اگلی قسط کا شدت سے منتظر ہوں. روحی اور سونیا کے سیکس کا سوچ کر ابھی سے ہی جنسی ہیجان پیدا ہوجاتا ہے. ویسے آج کل بڑا ہی دل کررہا ہے ہا ہا
  29. 3 likes
    وجہ یہی کہ یہ آگے جا کر انسسٹ نہ ہو. یہاں انسسٹ کی اجازت نہیں ہے
  30. 3 likes
    جناب اس وقت سچ بات ہے کہ دل نہیں کر رہا لکھنے کو کچھ ذاتی مزاج اور کچھ اس کرونا کی وجہ سے میرے پاس وقت ہی وقت ہے ۔ پر دل ساتھ نہیں دے رہا کوشش کروں گا کہ اگلے ہفتہ میں کوئی آپ ڈیٹ دے دوں
  31. 3 likes
    بلکل درست کہا ۔ اب دیکھو ۔ میرے والد آج سے 20 سال پہلے دنیا چھوڑ گے ۔ اور پھر انسان کے پاس بس صبر ہی رہ جاتا ہے سب دوستوں کا شکر گزار ہوں
  32. 3 likes
    انا للہ وانا الیہ راجعون بھائی، دنیا کا نظام ہے جو آیا اس نے جانا بھی ہے
  33. 3 likes
    You are an awesome writer sir. I am grateful to you for you for sparing your precious time for us. Regards!
  34. 3 likes
    ایک طرف آج بھائی کی سہاگ رات چل رہی تھی جب کہ دوسری طرف میں اپنی فیس بک پر پھنسی ایک لڑکی کو بڑی مشکلوں سے سیکس کی طرف لے ہی آیا تھا۔ کچھ ہی منٹوں پر ہم دونوں لائیو کال پر آ چکے تھے۔ وہ انتہائی گرم شہوانی جذباتوں میں ڈوبی ہوئی تھی جبکہ میں بھائی کے کمرے سے نکلنے والی بھابھی کی سسکاریوں کی بدولت بے حد گرم ہوچکا تھا۔ جیسے جیسے ہماری بات چیت آگے بڑھتی گئی ویسے ویسے ہم مزید قریب آتے جا رہے تھے۔ اب مجھے بھابھی کی سسکاریوں کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ لیکن وحیدہ اب مکمل موڈ میں آچکی تھی۔ مختصر وقت ہی میں وحیدہ اپنے خوبصورت جسم کو مجھے دکھا کر مزید بڑھکا چکی تھی جیسے ہی ہم دونوں فون سیکس کی بدولت فارغ ہوئے ہم نے ملنے کا پلان بنا لیا تھا۔(لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہ لاہور کی تھی اور میں کراچی میں رہائش پذیر تھا۔) کچھ ہی دیر کے بعد میں یونہی سوگیا۔ اگلا دن اتوار تھا جس کی وجہ سے میری چھٹی تھی اس لیے میں دن چڑھے سوتا رہا میں اور بھابھی قریب ہی ایک نجی سکول میں پڑھاتے تھے۔ بھائی ریلوے میں بطور ٹی ٹی تھے۔ اس لیے وہ صبح جلدی اپنی ملازمت پرنکل جاتے تھے جبکہ ہم دونوں بھابھی اور دیور اکھٹے سکول کیلئے چلے جاتے تھے۔ اکثر دکاندار ہم دونوں کو میاں بیوی سمجھ بیٹھتے تھے کیونکہ ہم دونوں میں بہت بنتی تھی۔ ایک مرتبہ ہم ایک سگنل پر رکے تو وہاں چوڑیاں بیچنے والی اماں ہماری طرف آئی اور بولی: *** جگ جگ جییو! سدا سلامت رہو ! دو پُتر تیری وہٹی جنے(پیدا کرے) بھابھی مانگنے والی اماں کی باتیں سن کر مسکراتی ہوئی میری پیٹھ پر اپنا چہرا رگڑتی ہوئی بولیں: دیور جی! آمین تم کہو گے یا میں کہوں؟ بھابھی کی بات سن کر میں بھی زور زور سے ہنسنے لگا۔ اسی طرح کے اور بھی کئی واقعات ہوئے جنہیں فلحال گوش گزار کرنا مناسب نہیں۔شاید اسی وجہ سے قدرت نے ہمارا مستقبل ایک ساتھ لکھا تھا۔ بھابھی(مجھے جھنجھوڑتے ہوئے): اٹھ بھی جاو یاسر! میں: ہوں۔۔۔ اچھا نا۔۔۔ بھابھی (مجھے دوبارہ سوتا ہوا دیکھ کر ) : جاگتے ہو یا پانی گراوں؟ میں: اچھا نا۔۔۔ اٹھتا ہوں میں اس وقت ٹراوزر اور ایک ٹی شرٹ میں الٹا لیٹا ہوا تھا مجھ پر چادر بھی نہیں تھی البتہ جب میں جیسے سیدھا ہوا تو بھابھی جو کہ مجھے جگانے کیلئے تھوڑی سی جھکی ہوئی تھی جس سے ان کی قمیض سے چھلکتے پستان مجھے دھندلے دھندلے دکھائی دے رہے تھے۔ اکثر بائیک پر آؤٹنگ کے لیے جاتے وقت مجھے بھابھی کے چھتیس سائز کے پستان اپنی کمر پر محسوس ہوتےتھے اسی لیے میں بھی کبھی کبھی جان بوجھ کر ہلکی اور کبھی اچانک بریک لگا کر خود کو جنسی تسکین پہنچاتا تھا۔ مجھے اس وقت بھابھی کے پستان دھندلے اس لیے دکھائی دے رہے تھے کیونکہ میں ابھی مکمل طور پر بیدار نہیں ہوا تھا۔ جیسے ہی میرا ذہن مکمل بیدار ہوا تو میں نے بھابھی کی طرف دیکھا تو ان کی نظریں میرے چہرے کی بجائے میرے زیریں جسم پر مرکوز تھیں۔ میں بھابھی کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے جب اپنے زیریں جسم کی جانب دیکھا تھا تو ٹراوزر پر میرے ببر شیر نے الٹی کی ہوئی تھی شاید بھابھی میرے ببر شیر کی منی کو چھوٹا پیشاب سمجھ بیٹھی تھیں۔ جیسے ہی ہماری نظریں چار ہوئیں بھابھی خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گئیں۔ سارا دن بھابھی مجھ سے کوئی بھی بات کیے بنا ہی اپنے کاموں میں مصروف رہی پھر میں اپنے کولیگ دوست کے بلانے پر اس کے پاس چلا گیا۔ شام کے وقت جب گھر آیا تو بھابھی کہیں جانے کے لیے تیار تھیں۔ان کے چہرے پر کچھ متفکر انہ سوچ کی لہریں چھائی ہوئ تھیں۔ میں نے قیمے والے سموسے بھابھی کو پکڑاتے ہوئے بھابھی سے پوچھا: بھابھی! کہیں جا رہی ہیں؟ بھابھی : ہاں! وہ ڈاکٹر کے پاس جانا تھا(ان کے ماتھے پر شکنیں گہری ہوگئیں) میں پریشان ہوتے ہوئے: خیریت بھابھی؟ آپ گر تو نہیں گئی؟ کیا ہوا آپ کو؟ میرے اچانک ایک ساتھ سوالات پوچھنے پر بھابھی کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی: نہیں دیور جی! بس معمولی سا چیک اپ کروانا تھا۔ میں : بھابھی! آپ کچھ چھپا رہی ہیں! بھابھی: اچھا! تم بھی ساتھ چلو! خود ہی تمہیں یقین آ جائے گا کہ میں کہیں بھی نہیں گری میں: آپ کس کے ساتھ جا نے والی تھیں؟ بھابھی: وہ ! پڑوس والی مہناس آنٹی کے ساتھ مہناس آنٹی ہماری گلی کی سب سے زیادہ ایکٹو خاتون تھیں جنہیں گلی میں رہنے والے ہر فرد کے متعلق سب کچھ معلوم ہوتا تھا۔ ماسوائے میرے(ہاہاہاہاہاہاہاہا) میں: اچھا! ٹھیک ہے جائیں۔ واپسی پر میں ساری رپورٹ مہناس آنٹی سے ہی لوں گا۔ بھابھی میری بات سن کر تھوڑا سا مسکرائیں اور دروازے پر پہنچ کر اچانک رک گئیں۔ میں: کیا ہوا؟ بھابھی: باتوں باتوں میں ،سموسوں کا یاد ہی نہیں رہا میں: جب آپ آو گی تب اون میں گرم کر کے کھا لیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ طوبیٰ اور میں یونیورسٹی میں ایک ساتھ پڑھے اور اپنی تعلیم مکمل کی ۔ ایک دن اسرار بھائی یونیورسٹی میں فئیر ویل پارٹی میں فیملی کی طرف سے انوائیٹ کرنے پر آئے تو وہاں انہوں نے طوبیٰ کو پسند کرلیا۔ بھائی کچھ دن مجھ سے طوبیٰ کے متعلق باتیں کرتے رہے جب انہوں نے طوبیٰ کے متعلق اپنی پسندیدگی کا اظہار مجھ سے کیا تو میں پہلے بھائی کے دئیے ہوئے شاک سے نکل نہ سکا پھر بھائی کی خوشی میں بے حد خوش ہوگیا ویسے بھی طوبیٰ کو میں نے کبھی بھی اس نظر نہیں دیکھا تھا اس لیے میرے لیے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ جب یہ بات اسرار بھائی نے مہناس آنٹی سے کی تو وہ ہم دونوں بے آسرا بھائیوں کی بطور سرپرست بن کر طوبیٰ کے گھر اسرار بھائی کارشتہ لے کر چلی گئیں۔ چند ہی دنوں میں بھائی کے سسرال والوں نے بھائی کو کلین چٹ دے دی یوں دو مہینوں میں بھائی کی منگنی طوبیٰ سے ہوگئی۔ شادی سادگی سے ہوئی کیونکہ ہمارا کوئی بھی والی وارث نہیں تھا۔ شادی والے دن میں نے بھائی کو خوب تنگ کیا اور جب طوبیٰ ہمارے چھوٹے سے گھر میں بطور نئے فرد کے داخل ہوئی تو میں نے طوبیٰ پر بھابھی اور دیور کا رشتہ بروئے کار رکھنے کی بجائے دوست کا ظاہر کیا۔ جس پر وہ بے حد خوش ہوئی۔ طوبیٰ کے گھر میں اس کے والد جوکہ ریٹائرڈ نیوی آفیسر ، والدہ ہاوس وائف لیکن سوشلسٹ بہت تھی مطلب ہر کٹی پارٹی میں پائی جاتی تھیں۔وہ اس شادی کے خلاف تھی لیکن مہناس آنٹی کی وجہ سے وہ اس رشتے کو انکار نہ کرسکیں۔ دوسری وجہ طوبیٰ اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ سے ان کا ارادہ یہ تھا کہ وہ اپنے داماد کو گھر جمائی رکھیں گے جب انہوں نے دیکھا کہ ہم صرف دو بھائی ہیں تو زیادہ انکار نہ کرسکیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کافی وقت گزر چکا تھا طوبیٰ ابھی تک واپس نہیں آئی تھی بھائی بھی ابھی تک واپس نہیں آئے تھے ۔ میں فارغ ہی تھا اس لیے اپنے کمرے سے اٹھا اور کچن میں جا کر ایک سموسے کو اون میں رکھ کر گرم کرنے لگا۔ سموسہ کھاتے ہوئے میں واپس اپنے کمرے کی طرف جانے لگا تو بھابھی کا کمرا کھلا ہوا دیکھ کر غیر ارادی طور پر ان کے کمرے کی جانب چل پڑا۔ بھابھی کا ڈبل بیڈ دیکھ کر ناجانے کیوں مجھے وحیدہ کا خوبصورت جسم بھابھی کے بیڈ پر دکھائ دینے لگا تھا۔ جیسے ہی میں بھابھی کےکمرے میں داخل ہوا روم فریشنر کی تیز خوشبو میرے ناک نتھنوں سے ٹکرائی۔ انتہائی محسور کن خوشبو محسوس کرکے میرے جسم کا انگ انگ مجھے بھابھی کے بیڈ کی جانب بڑھنے پر مجبور کرتا چلا گیا۔ طوبیٰ کی دلہن بنی تصویر سائیڈ ٹیبل پر موجود تھی جس پر وہ مسکرا رہی تھی جبکہ دوسری جانب دوسری تصویر میں بھائی بھی دلہا بنے کھڑے مسکرا رہے تھے۔ یہ دو الگ الگ تصاویر تھی لیکن مجھے بھابھی کی دلہن بنی تصویرکچھ زیادہ ہی پرکشش محسوس ہو رہی تھی۔ میں غیر محسوس انداز میں بھابھی کے بیڈ پر بیٹھ کر بھابھی کی تصویر کو دیکھنے لگا پھر خود ہی میرے ہاتھ آگے بڑھے اور بھابھی کی تصویر کو تھام لیا۔ میں بھابھی کو مسلسل غور سے دیکھے جا رہا تھا میرے اندر آہستہ آہستہ بھائی اور بھابھی کی چدائی کی فلم چلنے لگی ۔ مجھے ناجانے کیوں بھائی سے اب حسد ہونے لگا تھا شاید بھابھی تصویر میں عروسی جوڑا پہنے مزید خوبصورت لگ رہی تھیں یا شاید وجہ کچھ اور تھی میں نے تصویر ی فریم کو واپس اپنی جگہ رکھ کر بھابھی کی الماری کی طرف قدم بڑھائے جیسے ہی ہینڈل کو گھمایا تو الماری لاک ہونے کی وجہ سے نہ کھل سکی۔ میں کچھ مایوس ہوا کیونکہ میرا ارادہ اپنے اندر اٹھنے والی شہوانی خواہشات کو بھابھی کی برا یا پینٹی کے ذریعے پورا کرنا تھا ۔ اچانک میرا دل زور سے دھڑکا میں اب آہستہ آہستہ بوجھل قدموں سے اٹیچ باتھ روم کی جانب بڑھنے لگا۔ باتھ روم میں جیسے ہی میں داخل ہوا مجھے بھائی اور بھابھی کےکپڑے ٹخنی کے ساتھ لٹکے ہوئے نظر آئے۔ میں تیزی سے بھابھی کے کپڑوں کی طرف لپکا۔ بھابھی کے کپڑوں کے نیچے برا یا پینٹی نہیں تھی میں کچھ مایوس سا ہوا پھر میری نظر اچانک بیسن کے نیچے لگے وال پر پڑی جہاں بھابھی کی پینٹی موجود تھی۔ میں نے فوراً بھابھی کی پینٹی کو اٹھایا اور اپنے نتھنوں سے لگا لیا۔میرے دل میں ہونے والی بے چینی اچانک سے ختم ہوتی چلی گئی۔کچھ دیر تک یونہی کھڑے رہنے کے بعد میں واپس پلٹا اور باتھ روم کا دروازہ بند کرتےہوئے جلدی سے اپنا ٹراوزر اتارتے ہوئےباتھ روم کے فرش پر بیٹھ کر بھابھی کی ان دھلی پینٹی کو پہلے اپنے ناک سےلگا کر اچھے سونگھ کر (شاید تھوڑا بہت چاٹ کر) اپنےنیم کھڑے لن پر لپیٹ کر اپنے لن کو ہلکا ہلکا سہلانے لگا۔ جیسے جیسے میرے لن پر بھابھی کی پینٹی حرکت کر رہی تھی مجھے اپنے لن میں مزید تناو محسوس ہونے لگا تھا بھابھی کی مخملی پینٹی میرے لن کو ٹھنڈک پہنچا رہی تھی۔ میرا ہاتھ اس وقت تک چلتا رہا جب تک میرے لن سے نکلنے والی منی بھابھی کی پینٹی میں مکمل جذب نہ ہوگئی۔ منی کے نکلتے ہی میرے دماغ نے کام کرنا شروع کردیا تھا ۔ میرا ضمیر مجھے ملامت کر رہاتھا جبکہ میں اپنے لن کی منی کو بھابھی کی پینٹی سے ٹپکتا ہوا بھی دیکھ رہا تھا۔ میں نے جلدی سے ہوش مندی سے بھابھی کی پینٹی کو اپنے لن سے الگ کیا جس پر میرا لن ناراض ہوتے ہوئے ایکدم سے سکڑ گیا۔ میں نے بھابھی کی پینٹی سے ہی اپنے لن سے ٹپکنے والی منی کو باتھ روم کے فرش سے صاف کیا اور فوراً بھابھی کی پینٹی کو جیسے تیسے کرکے بیسن پر دھو کر واپس اپنی جگہ لٹکاکر اپنا ٹراوزر جلدی سے پہنا اور باتھ روم سے باہر نکل آیا۔ جیسے ہی کمرے سے باہر نکلا میرے سامنے اچانک بھابھی آگئیں۔ میں ایکدم سے گھبرا گیا تھا میرے چہرے پرپھیلی بدحواسی دیکھ کر بھابھی بولیں: کیا ہوا؟ میں: وہ ۔۔۔ وہ۔۔۔ کچھ بھی نہیں بھا۔۔۔ بھی بھابھی: کیا بات ہے یاسر؟ میرے دماغ نے بجلی کی رفتار سے ایک بہانہ گھڑ لیا تھا میں:میرا واش روم میں پانی نہیں آ رہا تھا اس لیے آپ کا واش روم استعمال کرنے آیا تھا۔ بھابھی: او۔۔۔ اچھا۔۔۔ میں بھابھی کو مطمئن کرکے اچانک سے کنی کترا کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ کچھ دیر کے بعد مجھے پھر سے بھابھی کی سسکاریاں سنائی دینے لگیں لیکن میں خاموشی سے لیٹا ہی رہا۔ بھابھی کی سسکاریاں سنتے سنتے ناجانےکب میری آنکھ لگی صبح بھابھی مجھے پھر سے جگانے آئی ہوئی تھیں رات کو بھابھی کی پینٹی میں اپنے ببر شیر کا پانی بہانے کے بعد میں انتہائی پرسکون ہوچکا تھا شاید اسی وجہ سے میری لاکھ کوشش کے باوجود میں جلدی جاگ نہ سکا۔ اب بھابھی مجھے تین مرتبہ جگا چکی تھیں چوتھی مرتبہ جب وہ مجھے جگانے آئیں تو مجھے ان کے جسم سے اٹھنے والی خوشبو نے میرے دماغ کو ایکدم سے وہ سارا واقعہ یاد دلا دیا تھا میں اچانک سے کروٹ لیتا ہوا سیدھا ہوگیا۔ میں نیم وا آنکھوں سے بھابھی کی طرف دیکھنے لگا تھا جبکہ ان کی نظریں میرے ببر شیر پر ہی تھیں۔ میں کچھ دیر ان کے انہماک کو بغور دیکھتا رہا پھر جاگنے کی اداکاری کرتے ہوئے اٹھ بیٹھا۔ بھابھی نہائی ہوئی لگ رہی تھی دروازے پر پہنچ کر بھابھی مجھ سے بولیں بھابھی: یاسر! اب جلدی سے میرے واش روم میں جا کر نہالینا کیونکہ پہلے ہی دیر ہوچکی ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ آج تم زیادہ دیر لگا و گے نہاتے ہوئے۔ میں بھابھی کی بات پہلے نہ سمجھ سکا پھر جب بھابھی کے باتھ روم میں گھساتو بھابھی کی معانی خیز بات کی حقیقت معلوم ہوگئی۔آج بھابھی نے پھر سے اپنی اتری ہوئی پینٹی کو اسی جگہ اتار کر رکھ دیا تھا جہاں کل دوسری پینٹی موجود تھی۔ میں بھابھی کے اس عمل پر بہت زیادہ شاک ہوگیا تھا۔ پھر ناجانے کیوں میری شہوانی خواہشات میرے ضمیر پر غالب آ گیا۔ میں ایک مرتبہ پھر بھابھی کی اتری ہوئی گیلی پینٹی کو اپنے لن پر چڑھا کر صبح صبح پھر سے مٹھ لگا چکا تھا۔ سکول جاتے ہوئے بھابھی خود ہی مجھ سے کافی زیادہ جڑ کر بیٹھی ہوئی تھیں۔ میں دیر ہونے کی وجہ سے بائیک تیز چلاتا ہوا سکول کی طرف جا رہا تھا تب بھابھی میرے کان کے قریب بولیں: رات کو جھوٹ کیوں بولا تھا یاسر؟ میں بھابھی کی بات سن کر ایکدم سے گڑبڑا سا گیا اور اچانک سے بریک لگا دی جس پر وہ میری کمر سے اور بھی چپکتی چلی گئیں۔ بھابھی: یاسر! یہ کیا طریقہ ہے؟ اگر میں نے تمہیں نہ پکڑا ہوتا تو میں گر ہی جاتی۔ میں: سوری بھابھی! بلی کا بچہ سامنے آ گیا تھا اس لیے بریک لگائی تھی بھابھی بدمزہ ہوتے ہوئے بولیں: اچھا اب چلو تو صحیح! پہلے ہی دیر ہوچکی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھائی: یاسر! محکمے والوں نے میری ڈیوٹی میرے انکار کرنے کے باوجود رات کی لگا دی ہے یہ بات میں نے تمہاری بھابھی کو بتائی ہے تو اس کا بھی یہی کہنا تھا کہ آج ہم دونوں بچت کریں گے تب ہی تمہاری شادی کر پائیں گے اس لیے میں نے سوچا ہے کہ جب اکٹھی چھٹیاں ملیں گی تب میں گھر آیا کروں گا۔ میں: بھائی! اس کی کیا ضرورت تھی؟ ہم تینوں ملکر کما تو رہے ہیں نا! اوور ٹائم کرنے سے آپ بھابھی کو وقت نہیں دے پاو گے بھائی: بالکل! ایسا ہی ہے لیکن دن بدن مہنگائی ہونے کی وجہ سے مجھے اوور ٹائم کرنا پڑے گا۔ بھائی کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولے: ویسے بھی میرے سسرال والے اب بچوں کی ڈیمانڈ کرنے لگے ہیں اگر ایک دفعہ بچے اس گھر میں آگئے تو ہمارا دھیان بچوں کی طرف ہو جائے گا اس لیے میں یہی چاہتا ہوں کہ جلد از جلد تمہاری شادی کروا دوں لیکن شادی کروانے سے پہلے چار پیسے جمع کرنا ہوں گے۔ بھابھی : ہم یاسر کی شادی دھوم دھام سے کریں گے ۔ بھائی: بالکل! کیوں کہ یہ ہمارے گھر کی آخری شادی ہوگی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں رات کو دس بجے کے قریب وحیدہ سے ویڈیو کال پر پہلے بات چیت کرنے لگا پھر آہستہ آہستہ ہماراموضوع سیکس کی طرف چل پڑا وحیدہ مجھے اپنا جسم دکھا رہی تھی میں اسے دیکھ کر اپنے ببر شیر کونہار رہا تھا تب مجھے ایسا لگا جیسا کسی نے دروازہ کھولا ہو میں نے غیر محسوس انداز سے دروازے کی طرف دیکھا تو دروازہ بند تھا۔ وحیدہ کی کال ساڑھے گیارہ بجے بند ہوئی تو میں سونےکیلئے لیٹ گیا۔ اگلی صبح خلاف معمول مجھے بھابھی جگانے نہیں آئیں میں جب تیارہوکرباہر آیا تو بھابھی ناشتہ تیار کر رہی تھیں۔ میں نے سلام کیا اور واپس آ کر ٹی وی لگا لیا۔ سکول جاتے ہوئے طوبیٰ بھابھی بولیں: واپسی پر ہم مما کی طرف چلیں گے مما سے کچھ بات کرنی تھی۔ میں: ٹھیک ہے۔ میں سارا وقت خاموشی سے لان میں موجود لگی کرسی پر بیٹھا رہا کیونکہ جب ہم وہاں پہنچے تو وہیں پر بھابھی کی والدہ اور والد موجود تھے ۔پھر ضروری بات کرنے کیلئے بھابھی اور ان کی والدہ اندر چلی گئیں پھر کچھ دیر کے بعد بھابھی کے والد بھی اٹھ کر اندر چلے گئے۔ کافی دیر کے بعد بھابھی باہر آئیں تو صاف صاف نظر آ رہا تھا کہ وہ روئی روئی نظر آ رہی تھیں۔ واپسی پر سفر خاموشی سے کٹا۔ میں اس دوران مختلف اندازوں اور خدشوں پر غور کرتا رہا۔گھر پہنچتے ہی بھابھی اپنے کمرےمیں جا کر فوراً ہی کمرے کو لاک کر لیا۔ بھابھی جب کافی دیر اپنے کمرے سے باہر نہ نکلیں تو میں نے ایک کاغذ پر لکھا: میں کھانا باہر سے لےکر آ جاوں گا۔ کچھ دیر تو میں بازار میں بلاوجہ گھومتا رہا پھر تھک ہار کر مچھلی پک کروا کر گھر کیلئے روانہ ہوگیا۔ گھر پہنچا تو بھابھی ابھی تک کمرے میں موجود تھیں ۔میں نے مچھلی کو پلیٹوں میں ڈا ل کر چپاتیاں اور چٹنی لے کر بھابھی کے کمرے کی ہی طرف بڑھ گیا۔ جیسے ہی میں نے دروازے کا ہینڈل گھما یا دروازہ کھلتا چلا گیا۔ بھابھی کپڑے تبدیل کرچکی تھیں اور بیڈ پر بیٹھی کسی سےفون پر بات کر رہی تھیں: میں جانتی ہوں مجھے ہی کچھ کرناہوگا۔ مجھے دیکھ کر فون پر آہستگی سے بولیں: میں بعد میں بات کرتی ہوں۔ بائے میں نے کھانا ٹیبل پر لگا دیا اور واپس پانی لینے کے لیے چلا گیا۔ بھابھی تب تک منہ ہاتھ دھوکر آ گئیں۔ بھابھی: مجھے آواز دے لیتے یاسر! میں: نہیں بھابھی! میں نے آپ کوتنگ کرنا مناسب نہیں سمجھا میں صوفے پربیٹھ گیا تب بھابھی نے کرسی قریب کرنے کی بجائےمیرےساتھ ہی صوفے پر بیٹھ گئیں۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ میرے ساتھ کافی جڑ کر بیٹھی ہیں حالانکہ صوفے پر تین افراد بآسانی بیٹھ سکتے تھے۔ مطلب ہمارےدرمیان فاصلہ ہوسکتاتھا لیکن فاصلہ رکھنےکی بجائےفاصلہ بھابھی نے خود ختم کردیا ۔ کچھ دیر ہم دونوں خاموش ہی رہے پھر مجھ سے رہا نہیں گیا: بھابھی! میں نہیں جانتا کہ آپ کی لائف میں کیا چل رہا ہے؟ کبھی آپ ڈاکٹر کے پاس چلی جاتی ہو پھر اپنی مما کے گھر جاتی ہو تو واپسی پر روئی ہوئی نظر آتی ہو۔گھر پہنچ کر کمرے کو لاک کر کے پھر سے روتی رہی ہو۔ بھائی میری شادی کی وجہ سے اوور ٹائم کرنے لگے ہیں حالانکہ بیویوں کو اوور ٹائم سے الرجی ہوتی ہے جبکہ آپ نے بھائی کے فیصلے پر تنقید کرنے کی بجائے ان کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔ آخر چل کیا رہا ہے؟ بھابھی کچھ دیر خاموشی سے کھانا کھاتی رہیں پھر بعد میں بولیں: وقت آنے پر سب کچھ بتا دوں گی یاسر میں بدمزہ ہوتے ہوئے بولا: بھابھی! آپ پہلے میری اچھی دوست ہیں بعد میں بھابھی! اب آپ سچ سچ سب کچھ بتائیں گی یا میں ناراض ہوکر اپنے کمرے میں چلا جاوں بھابھی: میں بہت مجبور ہوں یاسر! بھابھی یہ کہہ کر میرے کندھے پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔ کچھ دیر رونے کے بعد وہ مجھ سے الگ ہوئیں اور مجھ سے بولیں: میں برتن دھو کرآتی ہوں۔ میں بھی ان کی بات سن کر یہی سمجھا کہ وہ مجھے بتانا نہیں چاہتی اس لیے میں اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگلے دن بھابھی نے چھٹی کرلی جبکہ میں سکول چلا گیا۔ دن کو واپس گھر آنےکی بجائے میں اپنے دوست کے پاس بیٹھا رہا۔ وہ بھی مجھے میری متفکر اور گہری سوچوں میں گم دیکھ کر بار بار مجھ سے میری پریشانی پوچھتا رہا لیکن میں اسے کیا بتاتا کہ پریشانی کیا ہے؟ کیونکہ مجھے خود معلوم نہیں تھا۔ گھر آیا تو بھابھی نے کھانے کا پوچھا تو میں نے انکار کر دیا۔ طبیعت بوجھل ہونے کی وجہ سے میں خاموشی سے اپنے کمرے میں جا کر لیٹ گیا۔ ناجانے رات کے کس پہر مجھے محسوس ہواکہ کسی نے مجھ پرچادر اوڑھا ئی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح جب آنکھ کھلی تو مجھ پر چادر موجود تھی میں تھوڑا سا حیران ہوالیکن گھر میں میرے علاوہ بھابھی بھی موجود تھیں اس لیے یہی سوچ کر خاموش ہوگیا کہ وہ کمرےمیں مجھے دیکھنےآئی ہوں گی مجھے بغیر چادر کے سوتا دیکھ کر چادر اوڑھا دی ہوگی۔ ہم دونوں سکول جا رہے تھے تب بھابھی نے مجھ سے سوری بول دیا۔میں خاموش ہی رہا۔ رات کے گیارہ بجے مجھے وحیدہ کی کال آئی میں سوئے جاگے اس کی کال اٹینڈ کی تو وہ بولی: آئی وانٹ یور ہارڈ ڈک اِن مائی پُسی میں: میرا ذرا سا بھی دل نہیں ہے۔ سونے دو وحیدہ؛ میں نے کون سا سچ مچ تم سے سیکس کرنے کا بول دیا ہے میں: میرا موڈ نہیں ہے وحیدہ وحیدہ: گو ٹو ہیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح مجھے بھابھی جگا رہی تھی جبکہ میں وحیدہ کی رات والی بات (آئی وانٹ یور ہارڈ ڈک ان مائی پسی ) کو خواب میں سچ کرنے پر تلا ہوا تھا اسی وجہ سے بھابھی کے جگانے پر بیڈ پر اپنے ببر شیر کو رگڑنے لگا ۔ تب مجھے اپنے کان پر بھابھی کے گیلے ہونٹ محسوس ہوئے لیکن میں خواب سمجھ کر اور تیزی سے اپنے لن کو بیڈ پر رگڑتا گیا۔ جب بھابھی کو اندازہ ہوگیا کہ میں ایسے جاگنے والا نہیں ہوں تب انہوں نے مجھےبازووں سے پکڑ کر سیدھا کر دیا۔ جس کی وجہ سے میری آنکھ کھل گئی۔ بھابھی ایک مہین لیکن انتہائی باریک نائٹی زیب تن کیے ہوئے مجھ پر جھکے ہوئے مجھے جگا رہی تھیں۔ ہماری آنکھیں ایک دوسرے سے چار ہوچکی تھی آہستہ آہستہ بھابھی مجھ پر جھکتی جا رہی تھیں جبکہ ان کے آج کے سراپا حسن کو دیکھ کر پاگل ہوا جا رہا تھا۔ دوسری طرف میرا لن شہوانی خواب دیکھنے کی وجہ سے کھڑا تھا اب بھابھی کو اپنے اوپر جھکتے ہوئے دیکھ کر مکمل تن چکا تھا۔ اچانک میرے ذہن نے کام کرنا شروع کیا تو میں فوراً بھابھی سے تھوڑا سا دور ہٹا عین اسی وقت بھابھی رک گئیں۔ میرے پیچھے سرکنے سے شاید وہ شہوانی جذبات کے ٹرانس سے باہر نکل آئی تھیں۔بھابھی فوراً میرے کمرے سے نکل کر اپنے کمرے میں چلی گئیں۔ میں کچھ دیر خاموش بیڈ پر بیٹھا رہا اور سوچتا رہا کہ کچھ دیر پہلے ہم دونوں کے درمیان کیا ہونے والا تھا؟ شام کے وقت میں ٹی وی دیکھ رہا تھا تب بھابھی مجھ سے بولیں: میں آنٹی سے مل کر آتی ہوں۔ میں: اچھا کچھ دیر کے بعد وہ ایک فائل پکڑے اپنے کمرے میں چلی گئیں۔کافی وقت گزر گیا تو میں اٹھا اور بھابھی کے کمرے کی طرف گیا تو بھابھی کے رونے کی آوازیں سنائی دے رہی تھی۔ میں نے کمرے میں جھانکا تو بھابھی بیڈ پر بیٹھی ہوئی اپنا چہرہ اپنی ٹانگیں میں چھپائے رو رہی تھیں۔ میں فوراً آگے بڑھ کر بھابھی کے پاس پہنچ کر بھابھی کے پاس بیٹھ گیا۔ میں: بھابھی! بھابھی کے رونے میں تیزی آ گئی میں کچھ دیر خاموش رہا پھر جھجکتے ہوئے بھابھی کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولا: بھابھی! بھائی سے جھگڑا ہوا ہے؟ بھابھی نے کوئی جواب نہ دیامیں بیڈ کے پاس پڑے پانی کے جگ کو دیکھا جوکہ خالی تھا میں نے گلاس کو اٹھایا اور کچن سے پانی بھر کر لے آیا اور بھابھی کے پاس دوبارہ بیٹھتے ہوئے بولا: طوبیٰ! چپ کر جاو! اور پانی پیو بھابھی اب کچھ خاموش ہوئیں تو میں نے ان کو پانی کا گلاس پکڑا دیا۔ وہ چند گھونٹ پینے کے بعد گلاس کو سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔ میں نے بیڈ پر کھلی ہوئی فائل کو دیکھ کر معاملہ کچھ نہ کچھ سمجھ ہی لیا تھا۔ میں نے آگے بڑھ کر فائل کو اٹھا لیا اور پڑھنےلگا۔ انڈین اور پاکستانی ڈرامے دیکھ دیکھ کر پریگنسی رپورٹ کو پڑھنے کا تجربہ ہوچکا تھا۔ جیسے جیسے رپورٹ پڑھتا گیا مجھ پر بھائی کی مردانہ کمزوری کا انکشاف ہوچکا تھا۔ میں نے فائل کو بند کیا اور سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے خاموشی سے اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح جاگا تو بھابھی اور بھائی باتیں کر رہے تھے۔ میں نہا کر سکول کیلئے تیار ہوکر باہر آیا تو بھائی اور بھابھی کے درمیان بات چیت اب جھگڑے میں تبدیل ہوچکی تھی۔ جھگڑے میں اتنی شدت آئی کہ اچانک بھائی نے بھابھی کو یک مشت طلاق دینے کی دھمکی دے دی۔ پہلے تو مجھے کچھ سمجھ نہ آئی لیکن سمجھ آئی تو تب بھابھی روتی ہوئی اپنے کمرے میں بھاگ گئیں۔ میں اٹھا اور بھائی کو ایک ساتھ پانچ چھ تھپڑ لگا دئیے۔ میں: بھائی! آپ نے یہ کیا کردیا؟؟؟ بھائی میرے تھپڑوں کی بدولت ہوش میں آ چکے تھے۔ وہ بھی اب صوفے پر دھب کر بیٹھتے ہی اپنا سر تھام چکے تھے۔ کچھ ہی لمحوں میں بھائی بھی رونے لگے۔ میں اب دو عزیز ہستیوں کے درمیان پھنس چکا تھا۔ اب کس کو سنبھالنا ہے یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ میں بھی اب خاموشی سے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا۔ ایک طرف بھائی زارو قطار روئے جا رہا تھا جبکہ دوسری جانب طوبیٰ بھابھی اپنے کمرے میں روئے جا رہی تھیں۔ دن تو جیسے تیسے گزرا بھائی اٹھےاور گھر سے باہر نکل گئے۔ بھابھی مسلسل کمرے میں ہی موجود رہیں اور روتی رہیں۔ میں نے تھوڑی سی ہمت کی اور بریڈ (ڈبل روٹی) کو توے پر رکھ کر تھوڑا سا پکایا اور دو انڈے پکا کر بھابھی کے کمرے میں چلا گیا۔ کافی سمجھانے کے باوجود بھابھی نے کچھ بھی نہیں کھایا۔ میں نے انڈے اور بریڈ کو وہیں چھوڑ کر واپس ہال میں آ کر بیٹھ گیا۔ رات ہوچلی تھی لیکن بھائی کا کوئی علم نہیں تھا کہ وہ کہاں گئے ہیں۔ مجھے بھابھی کے کمرے سے چیزوں کی اٹھاک پٹھاخ کی آواز یں سنائی دینے لگی تو میں ان کے کمرے میں گیا تو بھابھی اپنے جہیز میں لائے سوٹ کیس کو بند کرنے کی کوشش کر رہی تھیں لیکن بند نہیں ہو رہا تھا۔ میں آگے بڑھ کر بھابھی کو پکڑ لیا اور بولا: بھابھی ! کیا کر رہی ہیں؟ بھابھی: مر گئی تمہاری بھابھی! (زور سے چلاتے ہوئے بولیں) تمہارے بھائی سے اولاد ہی مانگی تھی۔ بدلے میں طلاق دینے کی دھمکی دے دی۔ بھابھی کچھ خاموش ہوئی پھر بولنے لگیں: تم مردوں کے پاس بس یہی ایک ہی ہتھیار ہے اپنی بیوی کو چپ کروانے کا۔ میں: بھابھی! غصے میں انہوں نے سب بول دیا وہ تو آپ سے بہت پیار کرتے ہیں بھابھی ہنکارتے ہوئے: پیار۔۔۔ وہ مجھ سے؟؟؟ نو نیور۔۔۔ میں پچکارتے ہوئے بولا: بھابھی! غصہ چھوڑ دیں۔۔۔ بھائی بھی صبح سے رو رہے تھے اب ناجانے کہاں چلے گئے ہیں بھابھی بھائی کا سن کر کچھ خاموش ہوئیں تو میں نے فون نکال کر بھائی کو کال کی۔ چند ایک کالز کے بعد بھائی نے کال اٹینڈ کی میں: بھائی! کہاں چلےگئے ہو؟ واپس گھر آئیں بھائی: اپنی طوبیٰ بھابھی کا خیال رکھنا۔۔۔ میں: بھائی! بات سنیں۔۔۔ خدا کے واسطے گھر واپس آ جائیں آرام سے بیٹھ کر بات کرتے ہیں ہر مسئلے کاکوئی تو حل ہوگا نا بھائی: یاسر! کوئی حل نہیں ہے۔ میں جانتا ہوں کہ میں طوبیٰ کو اولاد کا سکھ نہیں دے سکتا ۔۔۔ میں: میں آپ کا علاج کرواوں گا۔۔۔ بس اب آپ گھر واپس آ جائیں بھائی: علاج کروانےکے لیے ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ طوبیٰ کی امی نے ایک مہینے کا وقت دیا تھا۔ جبکہ علاج کے لیے کم از کم اڑھائی یا تین مہینے درکار ہیں۔ میں: پھر بھی بھائی! واپس تو آئیں بھائی : میرے بھائی! صرف ایک حل ہے۔ میں اپنی آنکھیں کبوتر کی طرح بلی کو دیکھ کر بند کرلوں ۔ میں: بھائی! میں آپ کی بات نہیں سمجھا بھائی: اپنی پیاری بھابھی کو مناو کہ ڈاکٹرز کا طریقہ زیادہ بہتر رہے گا۔ میں تو بارہا بار کوشش کرچکا ہوں لیکن اب ہماری ازدواجی زندگی کا فیصلہ اسی کے ہاتھ میں ہے۔ میں: میں بھابھی سے بات کرتا ہوں۔ آپ پریشان نہ ہوں۔ میں نے کال بند کی اور اپنے دوست کو کال ملاتے ہوئے گھر سے باہر نکل گیا۔ واپسی پر میں کچھ مطمئن اور کچھ سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔ میں بھابھی کے سامنے بیٹھ کر بھائی کی میڈیکل رپورٹ پڑھنے لگا: بھابھی! اگر ہم بھائی کی بات مان لیں اور ۔۔۔ بھابھی میرے قریب سے اٹھ کر کچن میں چلی گئیں۔ میں فائل کو بند کرکے بھابھی کے پیچھے پیچھے کچن میں چلا گیا۔ میں: بھابھی! بھابھی نے مڑ کر میری طرف دیکھا اور روتے ہوئے بولی: وہ جو چاہتے ہیں وہ میں دل سے کر نہیں پاوں گی یاسر! میں: میرا پاس ایک حل ہے کہ آپ دونوں ٹیسٹ ٹیوب بے بی پروسیس کے ذریعے والدین بن جائیں۔ بھابھی: میں نے بھی یہی کہا تھا لیکن وہ نجانے کیوں انکار کر رہے ہیں۔ میں: اچھا! چلیں اب چپ کر جائیں میں ان سے بات کرتا ہوں میں اپنے کمرے میں آکر بھائی کو کال کی اور مفصل گفتگو کرنے کے باوجود بھائی بضد رہے۔ میں: بھائی! آخر مسئلہ کیا ہے؟ بھائی: ہمارے پاس وقت انتہائی کم ہے اور ۔۔ میں طوبیٰ سے بے حد محبت کرتا ہوں۔ میں اسے خود سے دور جاتا نہیں دیکھ سکتا یاسر! میں بھائی کو سمجھاتے ہوئے بولا: وہی تو ۔۔۔ میں بھی یہی کہہ رہا ہوں بھائی! آپ بھابھی سے محبت کرتی ہیں اور بھابھی آپ سے۔ اولاد کے لیے سب سے موزوں طریقہ ٹیسٹ ٹیوب پروسیس رہے گا۔ بھائی: میں نے مختلف ڈاکٹر زسے بات کی ہے سب نے میرا ٹیسٹ کیا اور اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اوپر والے کی مرضی سے میں لاکھ کوشش کے باوجود باپ نہیں بن سکتا۔ بھائی نے مجھے حیران کردیا کیونکہ سہاگ رات سے اب تک بھائی اور بھابھی کی چدائی کی آوازیں میں اپنے کمرے تک سنتا آ رہا تھا۔ اب اچانک باپ نہ بننا میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ بھائی کچھ توقف کے بعد بولے: میں نے اسی لیے طوبیٰ کو خلع لینےکا کہا لیکن وہ انکار کرتی رہی اور آج صبح وہ سب میرے منہ سے نکل گیا ۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اس مسئلے کا مستقل حل کیا ہوگا؟ میں: بھائی! کیا ایک مرتبہ پھر ہم کسی اچھے ڈاکٹر کو چیک کروا لیں؟ بھائی گہری سانس لیتے ہوئے بولے: تمہیں معلوم ہے نا کہ میرا کراچی سے لاہور آنا جانا لگا رہتا ہےکراچی سے لاہور تک کے تمام بہترین ڈاکٹرز میں چیک کروا چکا ہوں۔ پیرفقیرپر میں یقین نہیں کرتا کیونکہ ہم تینوں اچھے سے جانتے ہیں کہ ان کے پاس جانے سے کیا ہوگا۔ میں: بھائی! اب کیا ہوگا؟ بھائی: میں خود پریشان ہوں کہ اس مسئلے کا حل کیا ہوگا؟ میں: بھابھی اپنے گھر گئیں تھیں تو بہت روئی روئی لگ رہی تھیں۔ بھائی: ہوں۔۔۔۔ میں: چلیں کل بات ہوگی۔ بھائی:ایک منٹ۔۔۔(کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد) ایک مستقل حل میری نظر میں ہے۔اگر تم غلط نہ سمجھو تو میں خاموش ہی رہا بھائی دوبارہ بولے:کل ہماری ایک اپائٹمنٹ ہے۔۔۔ میں: پھر؟ بھائی: میری بات کا بُرا نہ ماننا ۔۔۔ میری جگہ کل ۔۔۔ تم طوبیٰ کے شوہر بن کر چلے جانا کچھ دیر تو بھائی کی بات میر ی سمجھ میں نہیں آئی جب سمجھ آئی تب میرے کانوں میں بھائی کی آواز گونجی: جیسے تم دونوں میاں بیوی کی طرح آوٹنگ کرتے ہو ویسے ہی اس مرتبہ اس پروسیس میں تم طوبیٰ کے شوہر بن جاو بھائی: کیا ہوا میرے بھائی؟ صرف تم ہی ہمارے گھر کو ٹوٹنے سے بچا سکتے ہو۔ ۔۔ ہوسکے تو اسے پہلی اور آخری غلطی سمجھ کر ، کر ڈالنا۔ میں نے بھائی کی مزید بات نہ سنی اور غصے کی حالت میں کال بند کردی۔ رات تو جیسے تیسے کٹی، بھائی کی چند ایک مرتبہ کالز آئی لیکن میں نے ریسو نہ کی پھر بھائی کے میسجز آتے رہے جن میں وہ مجھے سمجھاتے رہے۔ لیکن میں خاموشی سے بیٹھا رہا۔ غصہ کم نہ ہوا تو اٹھا اور واش روم میں جا کر شاور کے نیچے کھڑا ہوگیا۔ آنکھیں بند کیے بس بھائی کی باتیں سوچتا رہا پھر آہستہ آہستہ ناجانے کیوں میری بند آنکھوں کے سامنے بھابھی کا اندیکھا ننگا جسم تیرنے لگا۔ آہستہ آہستہ میرے ذہن میں مختلف واقعات فلم بن کر چلنے لگے۔ کافی وقت گزرنے کے بعد احساس ہوا کہ شاور سے پانی گرنا بند ہوچکا ہے تب اپنی غلطی کا ادراک ہوا کہ پانی کی ٹینکی سے پانی ختم ہوچکا ہے۔ میں نے اپنے تنے ہوئے ببر شیر کو دیکھا اور مسکرا دیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ طوبیٰ میرے نیچے دبی ہوئی تھی اس کا چہرہ غصے سے لال ہوچکا تھا جب کہ میں اس کی آنکھوں میں مسلسل دیکھے جا رہا تھا۔ میرے چہرے پر کمینی مسکراہٹ تیر رہی تھی جس کی وجہ صرف بھائی کے میسجز تھے۔ طوبیٰ: تمہیں شرم نہیں آئی اپنے بھائی کی بیوی کو یوں ۔۔۔ میں نے طوبیٰ کو بولنے نہ دیا ۔ میں نے اپنے ہونٹ طوبیٰ کے ہونٹوں سے ملا دئیے۔ کچھ دیر تو طوبیٰ شدید مزاحمت کرتی رہی پھر بےبس ہونے کے بعد خاموشی سے اپنے ہونٹ چسوانے لگی۔ کچھ دیر طوبیٰ کے ہونٹوں کا رس کشید کر، میں طوبیٰ کی باریک نائٹی کے ڈوریں دوسرے ہاتھ سے کھولنے لگا جس پر طوبیٰ نے مزاحمت کرنی چاہی تو میں نے طوبیٰ کے دونوں ہاتھوں کو ایک ہاتھ سے پکڑ لیا۔ اسی دھینگا مستی میں طوبیٰ کے پستانوں کو کئی بار ہاتھ لگا ۔ نائٹی کے نیچے طوبیٰ کا خوبصورت ، سفید اور بے داغ جسم پر صرف دو کپڑے موجود تھے۔ ایک برا اور ایک پینٹی۔ طوبیٰ اب پھر سےمیری منتیں کرنے لگی تھی جس پر میں نے بھائی کا نام لیتے ہوئے اسے چپ کروا دیا۔ میں: مجھے کل رات ہی بھائی نے تمہارا شوہر بننے کا کہہ دیا تھا۔ یہ رہا ثبوت میں نے بھائی کا ایک میسجز سامنے کرتے ہوئے ،خود ہی پڑھنا شروع کردیا۔ میسج پڑھنے کے بعد میں نے موبائل کو لاک کیا اور سائیڈ پر رکھ کر طوبیٰ کی طرف متوجہ ہوا۔ طوبیٰ اب کسی سوچ میں گم تھی تب میں نے اس کی ٹانگوں سے پینٹی کو اتارنا شروع کیا تو وہ اچانک گہری سوچ سے باہر نکل آئی اور بولی: تم مجھے بدکردار اور اپنے بھائی کو گرا ہوا سمجھ رہے ہو ، ہے نا؟ میں: ہرگز نہیں ۔۔۔ میں بس اس لیے یہ سب کرنے کے لیے آیا ہوں تاکہ آپ دونوں کا گھر ٹوٹنے سے بچ سکے۔ساری رات مجھے بھائی سمجھاتے رہے۔ میں ان کو یا آپ کو نیچ یا گرا ہوا نہیں سمجھا۔میں اچھے سے جانتا ہوں کہ یہی مستقل اور رازدرانہ حل ہے۔ باقی اب یہ فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں۔ میں طوبیٰ کو آزاد چھوڑتے ہوئے دوبارہ بولا: وقت آپ کے پاس بھی کم ہے اور جلد بازی میں ہمیشہ کام خراب ہوتا ہے۔ اب دو طریقے ہیں۔ مجھے اپنا شوہر سمجھ کر راز داری سے تعلق بنا لیں یا ہسپتال چل کر ٹیسٹ ٹیوب پروسیجر کے ذریعے پھر سے میری ہی بدولت اپنے گھر کو بچا لیں۔ فرق بس اتنا ہوگا کہ ۔۔۔ طوبیٰ نے اٹھ کر مجھے بیڈ پر گرا لیا اور میرے ہونٹوں کو چومنے لگی۔ میں بھابھی کے فیصلے سے مطمئن ہوگیا۔ بھابھی میرے ہونٹوں کو چوم لینے کے بعد بولیں: یہ تعلق ہمیشہ قائم رہے گا۔ میں نے بھابھی کی بات سن کر بھابھی کو اپنے جسم سے الگ کیا اور خود ان کے اوپر آتے ہوئے میں نے اپنے اور بھابھی کے درمیان فاصلہ ختم کردیا اور بھابھی کو اپنے بازووں میں بھر لیا۔۔۔ بھابھی نے پوری گرم جوشی کے ساتھ میرے ہونٹوں کو چومتے ہوئے اپنی زبان میرے منہ میں داخل کر دی۔۔۔اور میں نے بھابھی کی زبان کو ویلکم کہتے ہوتے زبان چوسنا شروع کر دی۔۔۔ میں ساتھ ساتھ بھابھی کی گانڈ اور کمر پر ہاتھ پھیری جا رہا تھا۔۔۔ اب جب بھابھی مجھ سے چدنے ہی والی تھی تو میں نے دل میں سوچا کہ اب بھابھی کہنا ٹھیک نہیں۔۔۔اب میں اسے اس کے نام سے ہی پکاروں گا۔۔۔ کافی دیر کسنگ کرنے کے بعد میں نے طوبیٰ کو کندھوں سے پکڑ کر پیچھے ہٹایا تو وہ الٹتی پتھلتی ہوئی سانسوں کے ساتھ مجھے دیکھنے لگی۔۔۔میں نے ہاتھ بڑھا کر طوبیٰ کے کپڑے اتارنے شروع کر دیے۔۔۔چند سیکنڈ بعد طوبیٰ میرے سامنے مادر زاد ننگی کھڑی تھی۔۔۔طوبیٰ ایک بہت ہی سیکسی اور خوبصورت فگر والی لڑکی ثابت ہوئی۔۔۔اس کا فگر 37۔27۔36b تھا۔۔۔ آنکھوں کا رنگ سیاہ۔بال بھی گھنے لمبے سیاہ۔اوپر سے سیکس کی بھوک نے اس کے چہرے پر ایسا نکھار ڈالا کہ میرا لن پورا اکڑ گیا۔اور ٹراؤزر میں ایک تمبو بن گیا۔۔۔جسے دیکھ کر طوبیٰ کی آنکھوں میں چمک سی آ گئی۔۔۔اس نے آگے بڑھ کر ٹراؤزر کے اوپر سے ہی میرا لن اپنے ہاتھوں میں پکڑا اور میرے ہونٹ کو چوم کر بولی اٹھ گیا میرا شیر۔۔۔ طوبیٰ کے منہ سے یہ باتیں سن کر مجھے ایک عجیب سا مزہ آ رہا تھا۔۔۔اسی دوران طوبیٰ میری شرٹ اتار کر ایک طرف پھینک چکی تھی۔۔۔پھر اس نے اپنے ہاتھ میرے دونوں کولہوں کے پاس سے ٹراؤزر پر رکھے اور میری ٹانگوں کے درمیان زمین پر بیٹھتے ہوئے اس نے میرا ٹراؤزر اتار دیا۔۔۔انڈروئیر تو میں نے پہنا نہیں تھا۔۔۔اس لیے ٹراؤزر اترتے ہی لن ایک جھٹکا کھا کر سیدھا ہوا اور اس کے منہ کے سامنے جھومنے لگا۔۔۔یہ دیکھ کر طوبیٰ ایک دم اٹھی اورطوبیٰ چلتی ہوئی سامنے الماری کی طرف گئی اور وہاں سے ایک چھوٹی سی عجیب قسم کی شیشی اٹھا کر میرے پاس آئی اور میرے اکڑے ہوئے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر شیشی کا ڈھکن اتارا تو میں نے آخر پوچھ ہی لیا۔۔۔ کیا کرنے لگی ہوطوبیٰ۔۔۔تو وہ بولی کہ سہاگ رات سے اب تک اسی پرگزارا کرتی آئی ہوں آج پھر سے ان لمحات کو یادگار بنانے کیلئے اسپرے لگانے لگی ہوں۔۔۔اس سے تمہاری ٹائمنگ بڑھ جائے گی۔۔۔ہم لوگ خوب مزہ کریں گے۔۔۔ طوبیٰ نے میرے لن کو ٹوپی سے پکڑ کر اوپر اٹھایا اور لن کی نچلی جانب ٹوپی کے پاس دو بار اسپرے کیا اور انگلی کی مدد سے ہلکا ہلکا مساج کر دیا۔۔۔اسی طرح اس نے لن کی چاروں سائیڈوں پر ہلکا ہلکا اسپرے مار کے مساج کر دیا۔۔۔اور بولی اب اگلے چند منٹ تک لن کی طرف دیکھنا بھی نہیں اس کا اثر بیس منٹ بعد شروع ہو گا۔۔۔اور وہ اسپرے کی شیشی ایک طرف سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے خود بیڈ پر لیٹ گئی اور اپنے دونوں بازو کھول کر مجھے اشارہ کیا۔۔۔مجھے لن پر ہلکی ہلکی جلن ہو رہی تھی۔۔۔جس کا ذکر میں نے اس سے کیا تو اس نے بتایا کہ یہ نارمل ہے ایسا میری سہیلی نے بتایا تھا کہ یہ ہوتا ہے لیکن صرف تھوڑی دیر۔۔۔اس کے بعد لن ہلکا سا سن ہو جائے گا۔۔۔اور پھر بے شک جب تک دل کرے چدائی کرو۔۔۔اتنا کہہ کر پھر اس نے اپنے بازو کھول دیے اور میں اس کے اوپر لیٹ کر بازؤوں میں سما گیا۔۔۔جیسے ہی طوبیٰ کے اکڑے ہوئے نپلز میرے بالوں بھرے سینے سے لگے۔میرے اندر بجلی سی کوند گئی۔۔۔میں نے اپنی زبان باہر نکالی اور طوبیٰ کی گردن کو ایک ایک ملی میٹر سے چاٹنے لگا۔۔۔طوبیٰ نے میری زبان کا ٹچ اپنی گردن پر محسوس کرتے ہی اپنے دونوں ہاتھوں کو میری کمر پر رکھتے ہوئے اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر پھیرتے ہوئے اپنے مموں کو دائیں بائیں ہلاتے ہوئے میرے سینے پر رگڑنے لگی۔۔۔ میرا لن پورے جوش میں آ کر طوبیٰ کی رانوں میں دبا ہوا تھا۔۔۔میں اس کی گردن کو چاٹتا ہوا نیچے اس کے کندھوں تک آیا اور وہاں سے اس کے مموں کی گولائیوں تک آ گیا۔۔۔پہلے میں دائیں ممے کو چاٹنے لگا۔۔۔پھر میں نے باری باری اس کے دونوں ممے چاٹ لیے لیکن نپلز کو بلکل نہیں چھیڑا۔۔۔میں جیسے ہی ممے کو چاٹتا ہوا نپلز تک پہنچتا۔تو اسے ٹچ کیے بنا دوسرے ممے کی گولائی کو چاٹنا شروع کر دیتا۔۔۔جب چار پانچ بار میں ایسی ہی کرنے کے بعد ممے کو چاٹتا ہوا نپل تک پہنچا تو طوبیٰ نے غصے سے میرے سر کے بالوں کو اپنی مٹھی میں جھکڑا اور نیچے اپنے نپل کی طرف دبایا۔۔۔میرے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔۔۔میں جان چکا تھا کہ اب طوبیٰ مزے اور لذت میں پوری طرح سے خوار ہو چکی ہے۔۔۔ میں نے طوبیٰ کا ایک نپل منہ میں لے لیا۔۔۔۔۔واؤ۔۔۔۔۔اوووو۔۔۔۔نپل منہ میں لیتے ہی میرا لن پھنکاریں مارنے لگا۔۔۔میں باری باری دونوں نپل منہ میں لیکر چوسنے لگا۔۔۔اب طوبیٰ کے بدن میں بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔میری کوشش تھی کہ طوبیٰ کا پورا مما منہ میں لے لوں۔۔۔پر یہ ممکن نہیں تھا۔۔۔کیونکہ میرا منہ بہت چھوٹا اور طوبیٰ کا مما منہ کی مناسبت کافی بڑا تھا۔اور اس ٹائم تو ویسے بھی سخت ہو رہا تھا۔۔۔میں نے نپل کو دانتوں سے ہلکا سا کاٹا تو وہ کراہ اٹھی۔۔۔۔آہ۔ہ۔آہہہ۔۔۔یاسر۔۔۔۔ررر۔۔۔۔آرام سے۔۔۔۔میری جان۔۔۔۔آرام سے۔میں نے طوبیٰ کے ممے چوستے ہوئے ہی اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے تنے ہوئے لن پر رکھ دیا۔۔۔اس نے فوراً ہی میرے لن کو مٹھی میں دبا لیا۔۔۔میں نے اپنا ایک ہاتھ نیچے لیجا کر طوبیٰ کی پھدی پر رکھ دیا۔۔۔پھدی فل گیلی ہو رہی تھی۔۔۔میں زور زور سے مموں کو چوسنے اور نپلز کو کاٹنے کے ساتھ ساتھ اپنے ہاتھ سے اس کی پھدی کو مسلنے لگا۔۔۔طوبیٰ یہ مزہ برداشت نہ کر سکی اور سسکنے لگی۔۔۔آہ۔ہ۔آہہہ۔۔۔یاسر۔۔۔ایسے ہی۔۔۔افففف۔۔۔میں نے اپنی دو انگلیاں پھدی کے اندر گھسا دیں اور زور زور سے پھدی کے دانے کو اپنے انگوٹھے سے مسلنے لگا۔۔۔طوبیٰ کیلئے برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔شاید یہ کسی پرائے مرد سے سیکس کی شہوت تھی جو وہ اتنی جلدی منزل تک پہنچ گئی اور اس نے ایک جھٹکے سے اپنی دونوں ٹانگوں کو بھینچ لیا اور زور زور سے جھٹکے کھاتے ہوئے چھوٹ گئی اور اس کی پھدی سے پانی بہنے لگا۔۔۔چونکہ طوبیٰ کا کمرہ ساؤنڈ پروف تھا تو اس بات کا کوئی ڈر نہیں تھا کہ آواز کہیں باہر سنی جا سکتی ہے۔۔۔ طوبیٰ اب فارغ ہو چکی تھی۔۔۔جبکہ میرا لن اب فل جان پکڑ چکا تھا۔۔۔طوبیٰ اٹھی اور مجھے لٹاتے ہوئے خود میرے اوپر آ گئی۔اور چٹا چٹ میرے گالوں کے کئی بوسے لے ڈالے۔۔۔پھر بولی یاسر میری جان میں بہت خوش ہوں کہ تم نے مجھے اتنا مزہ دیا۔۔۔اب میری باری ہے کہ میں تمہیں مزہ دوں۔۔۔یہ کہہ کر وہ میری ٹانگوں کے درمیان بیٹھ کے میرے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر سہلاتے ہوئے بولی۔۔۔مجھے تمہارا لن بہت پسند آیا ہے۔۔۔کچھ دیر تو وہ میرے لن کو ایسے ہی سہلاتی رہی۔۔۔پھر جب مجھ سے برداشت نہ ہوا تو میں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے آگے لن کی طرف دبایا تو وہ سمجھ گئی کہ میں کیا چاہتا ہوں۔۔۔مجھے دیکھتے ہوئے وہ بولی کہ لگتا ہے جانو کو اپنا لن چسوانا ہے۔۔۔میں نے مخمور نگاہوں سے اسے دیکھا اور اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔پھر اس نے اپنا پورا منہ کھولا اور میرے لن کی ٹوپی کو اپنے منہ کے اندر لے لیا۔۔۔میرے منہ سے مزے کی شدت سے ایک سسکی نکل گئی۔۔۔طوبیٰ نے میرا لن منہ سے باہر نکالا اور میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس نے اپنی لمبی زبان باہر نکالی اور اس کی نوک سے میرے لن کے سوراخ کے اندرونی حصے کو چھیڑنے لگی۔۔۔کچھ دیر ایسے ہی چھڑنے کے بعد طوبیٰ نے دوبارہ میرا لن منہ میں ڈال لیا اور بڑے پیار سے چوسنے لگی۔۔۔اس کے منہ کی گرمی کو اپنے لن پر محسوس کر کے میری حالت خراب ہو گئی۔۔۔اس نے میرے لن کی صرف ٹوپی اپنے منہ میں رکھی اور اپنے ہونٹوں کو بند کر کے منہ کے اندر سے ہی لن کے سوراخ اور ٹوپی پر اپنی زبان گھمانے لگی۔۔۔میں لذت کی انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔۔۔ اصل چیز یہ احساس تھا جو میرے مزے کو بڑھا رہا تھا۔۔۔طوبیٰ کچھ دیر اسی طرح میرے لن کی ٹوپی کو چوستی رہی۔۔۔پھر آہستہ سے اپنا تھوڑا منہ اور کھولا اور میرے لن کو اپنے منہ کے اندر اتارنا شروع کر دیا۔۔۔جتنا لن منہ میں جا سکتا تھا اتنا لینے کے بعد اس نے تھوڑا زور لگایا تو لن کی ٹوپی اس کے حلق کو جا لگی جس کیوجہ سے اسے ابکائی سی آئی اور اس نے فوراً ہی میرا لن باہر نکال دیا۔۔۔ پھر اس نے دوبارہ لن کی ٹوپی کو منہ میں لے کر چوسا اور اوپر سے لے کر جڑ تک لن کو چاٹا۔۔۔اسی طرح چاٹنے کے بعد اس نے جتنا لن منہ میں جا سکتا تھا لے لیا اور باقی لن کو ہاتھ کی گرفت میں رکھتے ہوئے پوری شدت سے چوسنے لگی۔۔۔ اس انداز میں چوسنے سے اس کا گال پِچک کر اندر ہو جاتے۔اور اس کا چہرہ لال ہو جاتا تھا۔۔۔وہ اب اتنی طاقت سے چوپا لگا رہی تھی کہ مجھے صاف محسوس ہوا کہ میرے لن سے مزی کا ایک قطرہ پوری شدت سے رگڑ کھاتا ہوا باہر جا رہا ہے۔۔۔جیسے ہی وہ قطرہ باہر آیا تو طوبیٰ نے اپنی زبان سے اس قطرے کو لپیٹا اور منہ میں لیکر ایسے چسکے لینے لگی جیسے کسی چیز کی مٹھاس یا کھٹاس چیک کی جاتی ہے۔۔۔کچھ دیر لن چوسنے کے بعد طوبیٰ اٹھی اور میرے سینے کے اوپر بیٹھ گئی۔۔۔ چند لمحے وہ میری آنکھوں میں دیکھتی رہی اور پھر اپنی دونوں ٹانگیں کھول کر اپنی ہاتھ کی دو انگلیاں اپنی پھدی میں ڈال کر بولی دیکھو کیسے لیک کر رہی ہے۔۔۔میں نے طوبیٰ کی گانڈ کے نیچے دونوں ہاتھ رکھے اور اسے آہستہ سے اپنی طرف کھینچا تو وہ میرے اتنے قریب آ گئی کہ اس کی پھدی میرے منہ سے صرف دو انچ کے فاصلے پر تھی۔۔۔میں نے اسے اور آگے کھینچا اور اس کی پھدی پر ناک لگا کر اس کی مہک لینے لگا۔۔۔طوبیٰ میری حرکتوں کو غور سے دیکھ رہی تھی۔۔۔وہ بولی یاسر کبھی پہلے پھدی ماری ہے سچ سچ بتانا تو میں نے کہا ۔۔۔ نہیں طوبیٰ! تم میری پہلی سیکس پارٹنر بننے جا رہی ہو طوبیٰ: ہمیشہ کے لیے میں یہ سن کرطوبیٰ کی ٹانگوں کے درمیان آ گیا اور لن کو پکڑ کر پوری طرح گیلی پھدی پر رگڑنے لگا۔۔۔ پھر اس کی پھدی کے دانے کو رگڑتے ہوئے محسوس ہوا کہ جیسے ب وہ منزل کے بلکل پاس ہے تو میں نے آخری دفعہ اس کی پھدی کے دانے کو رگڑا اور لن کو پھدی کے سوراخ پر سیٹ کیا۔۔۔طوبیٰ کی آنکھیں مزے سے بند تھیں اور وہ اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر ایسے ہلا رہی تھی کہ کسی بھی طرح لن پھدی کے اندر چلا جائے۔۔۔میں نے اس کی ٹانگیں تھوڑا اور اوپر اٹھائی اور لن کو پھدی پر سیٹ کرتے ہوئے ایک زور کا جھٹکا مارا۔اور لن اس کی پھدی میں گھسا دیا۔۔۔طوبیٰ کیلئے بھی یہ جھٹکا آخری ثابت ہوا اور اس کی پھدی نے لرزتے ہوئے فوارے کی طرح پانی چھوڑ دیا۔۔۔طوبیٰ اتنی زور سے چھوٹی تھی کہ اس کی آنکھیں اوپر چڑھ گئیں اور پاؤں کی انگلیاں اکڑ گئی تھیں۔۔۔ طوبیٰ کے اس طرح چھوٹنے سے اتنا پانی نکلا کہ میرے ٹٹوں تک کو بھگو گیا۔۔۔اس کی اپنی پھدی کا بھی برا حال تھا۔۔۔میں نے ٹشو لیکر اس کی پھدی اور اپنے لن کو صاف کیا۔ پھدی کو صاف کرتے ہوئے جیسے ہی میرے ہاتھ نے اس کے دانے کو چھوا تو طوبیٰ کے منہ سے سسکاری نکل گئی۔۔۔ میں نے لن کو صاف کر کے دوبارہ اس کی پھدی میں ڈال دیا۔۔۔ابھی تھوڑا لن باہر ہی تھا کہ مجھے لگا کہ جیسے لن کسی نرم دیوار سے ٹکرا گیا ہے۔۔۔ساتھ ہی طوبیٰ کے منہ سے دوبارہ سسکیاں جاری ہو گئیں۔۔۔اففففف۔آہہہ۔آہہہ۔۔۔میرا اندازہ تھا کہ یہ ضرور طوبیٰ کی بچہ دانی ہو گی۔جس سے میرا لن ٹکرا کر رک رہا ہے۔۔۔ میں نے وہیں پہ رہ کر لن اندر باہر کرتے ہوئےطوبیٰ سے پوچھا۔۔۔کیا ہوا جان۔تکلیف ذیادہ ہو رہی ہے۔۔۔تو وہ بولی۔۔۔ نہیں یاسر! یہ احساس پہلی مرتبہ ہو رہا ہے۔ مجھے اپنے لن میں اکڑاہٹ بڑھتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔اور میں پورے جوش کے ساتھ اس کے گھسے مارنے لگا۔۔۔میرے ہر جھٹکے کے جواب میں وہ صرف ایک بات ہی کہتی۔۔۔اور تیز ۔۔یاسر۔۔۔اور تیز۔۔۔ میں نے پاس پڑا ہوا ایک چھوٹا تکیہ کھینچ کر اس کی گانڈ کے نیچے رکھ کر اس کی ٹانگیں اس شدت کے ساتھ اٹھائیں کہ طوبیٰ کے گھٹنے اس کے کندھوں کے ساتھ جا لگے۔۔۔میں نے پھر سے لن اندر ڈالا اور سٹارٹ سے ہی فل سپیڈ میں دھکے مارنے شروع کر دیے۔۔۔میرے طاقتور گھسوں کی وجہ سے میرے ٹوپے کی نوک بار بار طوبیٰ کی بچہ دانی کے ساتھ ٹکرا رہی تھی۔۔۔اور پھر جیسے ہی میرا لن طوبیٰ بھابھی کی بچہ دانی پر ٹھوکر مارتا۔۔۔نیچے سے وہ تڑپ سی جاتی اور پھر پہلے سے بھی ذیادہ سیکسی انداز میں وہی لذت آمیز راگ الاپتی کہ جسے سن کر میرا جوش مزید بڑھ جاتا۔۔۔اب مجھے طوبیٰ کو چودتے ہوئے چھ،سات منٹ گزر چکے تھے۔۔۔ہر گھسے پر ایسا لگتا کہ جیسے طوبیٰ کی پھدی میرے لن کو اندر سے جھکڑ رہی ہے۔۔۔اور ایک بار پھر اس کا جسم اکڑنا شروع ہو گیا۔۔۔میں نے اس کے کندھوں کو مضبوطی سے پکڑا اور ساتھ ہی اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں جھکڑ کر پوری جان سے ایک گھسہ مارا۔۔۔اس گھسے سے یہ ہوا کہ میرا لن پوری طاقت کے ساتھ جڑ تک اندر گیا اور لن کی ٹوپی طوبیٰ کی بچہ دانی کے اندر جا گھسی۔۔۔طوبیٰ کے منہ سے ایک لرزہ خیز چیخ نکلی جو کہ ہونٹ دبے ہونے کیوجہ سے میرے منہ کے اندر ہی دم توڑ گئی۔۔۔طوبیٰ کا جسم فل اکڑ چکا تھا۔۔۔میں چند سیکنڈ وہیں پر رک کر اس کے مموں کو مسلتا اور چوستا رہا جس سے اس کی سانس میں دوبارہ تھوڑی بحالی ہوئی اور اس نے زور سے مجھ اپنی بانہوں میں کس لیا۔۔۔طوبیٰ اب اتنی چودائی کے بعد کافی تھک چکی تھی۔۔۔میں نے خود کو اس کی بانہوں سے آزاد کروایا اور اپنا لن باہر نکال کر اس کو ڈوگی سٹائل میں ہونے کو کہا۔۔۔وہ کافی تھک چکی تھی اور درد بھی محسوس کر رہی تھی اس لیئے فوراً اٹھ کر ڈوگی سٹائل میں آ گئی اور اپنے گھٹنے تھوڑے سے آگے کر کے اپنی گانڈ کو باہر نکال دیا۔۔۔واہ۔ہ۔ہ۔۔۔کیا نظارہ میرے سامنے تھا۔۔۔طوبیٰ کی موٹی سیکسی گانڈ بلکل میرے سامنے تھی۔۔۔اس کے گول مٹول گورے گورے چوتڑ مجھے اپنی طرف بلا رہے تھے۔۔۔اس کی گانڈ کا چھوٹا سا سوراخ اتنا سیکسی اور پیارا لگ رہا تھا کہ میں نے بے اختیار اس پہ اپنا انگوٹھا پھیرنا شروع کر دیا۔۔۔طوبیٰ کی گانڈ اور پھدی اب دونوں میرے سامنے تھیں اور مجھے اپنی طرف بلا رہی تھیں۔کہ آ جاؤ ہمیں چود ڈالو۔۔۔میں نے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اس کے چوتڑوں کو کھول لیا اور اپنا لن اس کی پھدی میں ڈال دیا۔طوبیٰ کے منہ سے مزے اور درد سے ملی سسکی نکل گئی۔۔۔آہ۔آہہہ۔۔۔میں نے پہلے طوبیٰ کو آہستہ آہستہ چودنا شروع کیا پھر اپنی سپیڈ بڑھاتا گیا۔۔۔مجھے اب اس کی پھدی میں اپنا لن جاتا بھی نظر آ رہا تھا اور اس کی گانڈ کا سوراخ بھی نظروں کے سامنے تھا۔اب طوبیٰ بھی فل مزے میں آ گئی تھی اور میرے ہر گھسے کے جواب میں اپنی گانڈ کو پیچھے کی طرف دھکیلتی تھی۔۔۔لن جب پھدی سے باہر آتا تو اس کے پانی سے لتھڑا ہوتا تھا۔۔۔ایک دفعہ پھر مجھے محسوس ہوا کہ جیسے اس کی پھدی میرے لن کو اندر سے پکڑ رہی ہے۔لیکن لن اس میں سے پھسلتا ہوا بچہ دانی سے ٹکرا جاتا اور ٹوپی بچہ دانی کے اندر تک چلی جاتی۔۔۔ طوبیٰ کی گانڈ کا کھلتا،بند ہوتا ہوا سوراخ مجھے اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔۔۔میرا دل چاہا اور کچھ نہیں تو اس میں اپنی ایک انگلی ہی ڈال کر دیکھوں کہ کتنی ٹائٹ ہے۔۔۔طوبیٰ اب فل تھک چکی تھی اس لیے اس نے اپنا سر آگے بیڈ پر ڈال دیا جس سے اس کی گانڈ اور باہر کو نکل آئی اور اس کا سوراخ میرے جی کو للچا گیا۔۔۔مجھ سے اب برداشت نہیں ہوا تو میں نے اپنی انگلی کو تھوڑا سا تھوک لگا کر اس کی گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر انگلی تھوڑی اندر کر دی۔۔۔پہلے تو اسے تھوڑا سا شاک لگا اور اس نے مڑ کر میری آنکھوں میں دیکھا لیکن پھر وہ اپنا سر آگے کر کے دوبارہ پیچھے کو دھکے مارنے لگی۔۔۔اب وہ مزے کی انتہاء کو پہنچی ہوئی تھی اور پتہ نہیں کیا اول فول بک رہی تھی۔۔۔ اب مجھے بھی لگ رہا تھا کہ میں چھوٹنے کے قریب ہوں۔اور طوبیٰ کی یہ باتیں میرے لیے سونے پر سہاگا ثابت ہوئیں۔۔۔میں نے طوفانی رفتار سے گھسے مارتے ہوئے ایک دفعہ اپنا لن باہر نکالا اور حقیقتاً بنڈ والا زور لگا کر پورا لن اندر گھسا دیا۔اور ساتھ ہی طوبیٰ کے کندھوں کو پکڑ کر اپنی طرف دبایا جس سے لن اس کی بچہ دانی میں گھس گیا۔۔۔طوبیٰ کیلئے بھی یہ آخری جھٹکا ثابت ہوا اور اس نے پانی چھوڑ دیا۔۔۔ساتھ ہی میرے لن نے منی کی پہلی پچکاری ماری اور پھر مارتا ہی گیا۔۔۔طوبیٰ کی بچہ دانی منی سے بھرنا شروع ہو گئی۔مجھے یوں لگ رہا تھا کہ جیسے منی کا دریا بہہ رہا ہو۔۔۔جیسے ہی لن سے منی کا آخری قطرہ نکلا۔میں نے طوبیٰ کے کندھوں کو چھوڑ دیا اور وہ بے سدھ ہو کر آگے گر گئی۔۔۔میں اس کے اوپر ہی لیٹ گیا۔۔۔تھوڑی دیر بعد میں اٹھا اور ٹشو سے اس کی پھدی اور اپنے لن کو صاف کیا۔۔۔پھر میں نے طوبیٰ کو ہلایا تو وہ جیسے نشے میں بولی۔۔۔ہوں۔اوں۔۔۔ میں نے کہا طوبیٰ میں جا رہا ہوں کافی دیر ہو گئی ہے ۔۔۔ تو طوبیٰ نے آنکھیں کھولیں اور مجھے پکڑ کر اپنے اوپر گراتے ہوئے بولی۔۔۔نہیں جان!ہمیں سکول سے بہت دیر ہوچکی ہے ۔۔۔ میں نے سامنے لگی وال کلاک کو دیکھا وقت دیکھنے پر احساس ہوا کہ اس چدائی کھیل میں ٹائم کا پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔میں طوبیٰ کو ایک طرف کھسکا کر اس کی سائیڈ میں ہی لیٹ گیا۔۔۔مجھے لیٹتا دیکھ کر طوبیٰ نے کروٹ بدلی اور اپنا سر میرے بازو پہ رکھتے ہوئے مجھ سے لپٹ کر سو گئی۔۔۔میں بھی کافی تھک گیا تھا۔اس لئیے کب آنکھ لگی پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔ ہم دونوں ایکدوسرے کی بانہوں میں لپٹے ہوئے سوئے رہے آنکھ اس وقت کھلی جب مجھے اپنے ببر شیر پر گیلا پن محسوس ہوا۔ میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو طوبیٰ میرے لن پر جھکی ہوئی میرے لن کو چوس رہی تھی۔ میں خاموشی سے طوبیٰ بھابھی کو اپنا لن چوستے ہوئے دیکھنے لگا۔ طوبیٰ نے میری طرف لن چوستے ہوئے دیکھا، اکثر پورن ویڈیوز میں یہ منظر کافی مرتبہ دیکھا لیکن آج لائیو اپنے ساتھ ہی اپنی ہی بھابھی کے ساتھ یہ سین انتہائی دلکش تھا کہ میں لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا۔ میں نے کچھ لمحے بھابھی کو لن چوسنے دیا۔پھر بھابھی کو اپنے اوپر آنےکو اشارہ کیا۔ جس پر وہ سیکسی انداز میں بیڈ پر گھٹنوں کے بل چلتی ہوئی میرے ننگے وجود پر آ کر بیٹھ گئیں۔ میرا لن بھابھی کی گانڈ کو ٹچ ہو رہا تھا جبکہ بھابھی کی گیلی پھدی میرے نچلے پیٹ پر مکمل جڑی ہوئی تھی۔ بھابھی کے تنے ہوئے پستانوں کے نپلز میری توجہ اپنی طرف مبذول کروا دی۔ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بھابھی کے نپلز کو چھیڑنے لگا۔ بھابھی آہستہ آہستہ نیچے کو جھکنے لگی جس کی وجہ سے بھابھی کے پستان میرے چہرے کے انتہائی قریب آ گئے۔میں نے باری باری بھابھی کے پستانوں کو اپنے منہ میں بھر کر بچوں کی مانند چوسنے، چاٹنے اور ہلکا ہلکا نپلز کو کاٹنے لگا۔ بھابھی کےمنہ سے آہستہ آہستہ لذت آمیز سسکاریاں نکلنے لگیں۔ ۔۔ میں بھی پرسکون انداز میں بھابھی کے پستانوں سے مزہ لینے میں مصروف تھا جیسے مجھے کہیں جانے کی کوئی جلدی نہیں تھی یا کسی کے آ جانے کا ڈر نہیں تھا اکثر لڑکے یا جوان پہلی چدائی کے دوران ہی جلدی چھوٹ جاتے ہیں ان کی وجوہات ہی یہی ہوتی ہیں کہ ان کو پکڑے جانے کا ڈر ہوتا ہے۔ یا ان کے ذہن پر اتنا دباو ہوتا ہے کہ وہ خود کو مرد ثابت کرنے کے کوشش میں ناکام ہوجاتے ہیں۔ کچھ دیر طوبیٰ بھابھی کے مموں کو چوس لینے کے بعد میں نے ان کے پستانوں کو اپنے منہ سے باہر نکالا تو ان کی آنکھوں میں جھلکتی سرخی صاف ظاہر کر رہی تھی کہ انہیں کس قدر لطف حاصل ہوا ہے۔ وہ مزید نیچے جھکتے ہوئے میرے ہونٹوں کو چوم لینے کے بعد آہستہ سے میرے لن کو اپنے ہاتھ میں تھام کر مسلنے کے بعد اپنی پھدی میں گھسا لیا۔ ایک لمبی سی سسکاری کے بعد وہ آہستہ آہستہ میرے لن پر اوپر نیچے ہونے لگیں۔ جیسے جیسے ان کا ردھم بن رہا تھا مجھے ان کی رفتار میں تیزی آتی محسوس ہونے لگی تھی چند ہی ثانیوں میں کمرے میں تیز سسکاریاں گونجنے لگی تھیں۔ میرے لن پر مسلسل بھابھی کی پھدی تنگ ہوتی ہوئی محسوس ہورہی تھی شاید اسی وجہ سے میرے دل کی دھڑکن بے چین ہوتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔ مزید کچھ ہوتا بھابھی کے موبائل پر کال آئی بھابھی میرا لن اپنی پھدی میں لیے میرے پیٹ پر دوازنو ہوکر بیٹھ گئیں : ہیلو (سپیکر آن کرتے ہوئے) نہیں جان! میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی اس لیے ابھی تک نہیں گئی۔ بھائی: یاسر کہاں ہے؟ بھابھی: وہ موبائل کا چارجر لینے بازار گیا ہے۔ بھائی: اچھا۔ وہ آئے تو اس کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس لازمی جانا۔پلیز بھابھی: اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔ بھائی: اگر وہ نہ مانے تو زبردستی لے جانا ۔ میں نے کال بند ہوتے ہی بھابھی کو تھام کر بیڈ پر لیٹا دیا اور خود پاس پڑے اسی چھوٹے تکیے کو بھابھی کی گانڈ کے نیچے رکھتے ہوئے تکیے کو دیکھا جس پر بھائی اور بھابھی دلہا اور دلہن بنے ہوئے مسکرا رہے تھے۔ میں نےلن کو بھابھی کی پھدی میں گھسانے کے بعد پہلے آہستہ پھر طوفانی رفتار سے گھسے مارتے ہوئے آخری دھکوں کے وجہ سے پورا زور لگا کر پورا لن اندر گھسا دیا۔اور ساتھ ہی طوبیٰ کے کندھوں کو پکڑ کر اپنی طرف دبایا جس سے لن اس کی بچہ دانی میں گھس گیا۔۔۔طوبیٰ کیلئے بھی یہ آخری جھٹکا ثابت ہوا اور اس نے پانی چھوڑ دیا۔۔۔ساتھ ہی میرے لن نے منی کی پہلی پچکاری ماری اور پھر مارتا ہی گیا۔۔۔طوبیٰ کی بچہ دانی منی سے بھرنا شروع ہو گئی۔ ہم دونوں ایکدوسرے کی بانہوں میں کافی دیر لپٹے رہے طوبیٰ مجھے پرسکون کرنے کے لیے مسلسل میرے جسم کو سہلاتی رہی جب کہ میرے لن کو طوبیٰ کی پھدی جھکڑے ہوئے تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھائی بھی جانتے تھے کہ وہ باپ صرف میری وجہ سے بنے ہیں وہ اپنا بیٹا اپنی ساس کو پکڑا کر خود مٹھائی لینے کے لیے ہسپتال سے باہر نکل گئے جب کہ میں اور طوبیٰ بھابھی کمرے میں اکیلے رہ گئے۔ طوبیٰ بھابھی ماں بننے کے بعد مزید خوبصورت دکھائی دینے لگی تھیں جبکہ ان کا بھر ابھرا جسم مجھے پھر سے دعوت گناہ دے رہا تھا میری ہوس ناک آنکھیں محسوس کرکے وہ تنک کر بولیں: ایک ہفتہ تو صبر کرلو جان! بھائی بس یہ نہیں جانتے تھے کہ ان کی بیوی اپنا جسم اپنے دیور کو ہر روز ہر رات دے کر اپنا گھر بچا پائی ہے۔ بچپن کی غلطیوں سے انسان کبھی بھی نہیں سیکھتا ۔ یہ کہانی ہر ہزارگھر میں سے دو کی ہے ۔ آج کوئی طوبیٰ کسی دیور کی ہوس کا شکار بنی کل سدرہ بنے گی۔ یوں یہ جنسی کھیل چلتا رہے گا اور یوں ہر مرتبہ صرف عورت ہی مجبور ہوکر دوسرے مردوں کے سامنے ذلیل ہوتی رہے گی۔
  35. 3 likes
    شکریہ دوست ۔ آپ نے بلکل ٹھیک کہا ۔ کہ مجھے ایسے لوگوں کو جواب نہیں دینا چاہیے ۔ اس کے لیے میں سب سے معذرت خواہ ہوں ۔ کہ میں نے غلط اور گرے ہوئے الفاظ استمعال کیے اصل میں ایک ماہ سے ایسا وقت گذارا کہ دماغ بلکل آؤٹ ہے ۔ اللہ نے چاہا تو چند دن میں آپ کو بہت ساری اور اچھی آپ ڈیٹس ملیں گئیں ۔ میں ایک بار پھر سب سے معذرت چاہتا ہوں
  36. 3 likes
    بڑی مشکل سے اتنی کہانی لکھ پایا ہوں۔
  37. 2 likes
  38. 2 likes
    Agreed. Bilkul Dr Sahab k pass time تھا tau lagatar 4 din ye story post ki thi. Dr. Sahab jhot ni bolty dosro ki Tarha ye pakka ہے. Apna bohat sara khayal rakhein ڈاکٹر. Sahab. Salamti ki dhero duayein
  39. 2 likes
    آپ کی بات بلکل درست ہے ۔ چونکہ پہلے کبھی ایسے کہانی نہیں لکھی تھی تو بہت سی باتیں رہ جاتی ہیں ۔ اب کوشش کروں گا کہ ان میں ہی ایسی ترتیب دوں کہ بہت سے واقعات جو رہ گے اور سیکس اور کہانی کے لحاظ سے بیان ہونے چاہیے تھے کو ان میں بیان کروں ۔ کل واپسی ہو جائے گی میری ۔ پھر کچھ نہ کچھ آپ ڈیٹ دوں گا
  40. 2 likes
    بابا جی کی اپڈیٹ بابا جی کی مرضی
  41. 2 likes
    آپ کی تصانیف بہت عمدہ ہیں۔ کوٸ آسان سا طریقہ بتاٸیں کہ آسانی کے ساتھ کسی بھی ناول کی فیس ادا کرکے پڑھا جا سکے ۔ شکریہ
  42. 2 likes
    ایسے کیسے چلے گا بھائی اپڈیٹ تو لمبی دو اور اس کو کسی جگہ پہ اینڈ کرو ایک چدائی چار اپدیٹ میں ہو گی نا تو ہمارے لنڈ بھی بیٹھ جائیں گے تھیم اچھا ہے اس کو لمبا بلا سکتے ہو لیکن اپڈیٹ بھرپور دو
  43. 2 likes
    اپڈیٹ نمبر 21 (آخری اپڈیٹ) ۔ اگلے روز اس کیس سے جڑے سبھی کردار ڈاکٹر انور کے گھر موجود تھے۔ سب کی توجہ کا مرکز وقاص تھا کیونکہ اسی نے سب کو یہاں اکٹھا کیا تھا۔ وقاص نے پر اعتماد لہجے میں اپنی بات شروع کی؛ 28 اگست کی رات 12 بجے ڈاکٹر انور نشے میں دھت اپنے گھر پہنچے اور سیدھا ثمرین کے کمرے کی طرف گئے۔ کمرے سے ثمرین اور رمیض کی باتوں کی آواز آ رہی تھی۔ ڈاکٹر انور غصے سے اپنے کمرے کی طرف گئے اور سرجیکل آلات والا بیگ کھول کے اس میں سے ایک سرجیکل چاقو نکالا اور واپس ثمرین کے کمرے کی طرف پلٹے۔ کمرے کا دروازہ کھولتے ہی انہوں نے اپنی بیٹی کو ایک غیر مرد کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دیکھا تو وہ آپے سے باہر ہو گئے۔ انہوں نے غصے سے پھنکارتے ہوئے آگے بڑھ کے رمیض پہ قاتلانہ حملہ کیا۔ رمیض اور ثمرین اس حملے کے لیے ذہنی طور پہ تیار تھے اس لیے انہوں نے اپنے بچاؤ کی بھرپور کوشش کی۔ اس ہاتھا پائی کے نتیجے میں تینوں کے جسم پہ خراشیں لگیں لیکن رمیض کچھ زیادہ زخمی ہو گیا۔ انور اور رمیض کے درمیان زور آزمائی جاری تھی، اسی وقت ثمرین نے پلاسٹک کا بیگ اٹھا کے اپنے باپ کے سر پہ دے مارا۔ بیگ کی شدید ضرب لگنے سے انور ہوش سے بیگانہ ہو گیا اور بیگ میں بھی دراڑ پڑ گئی۔ رمیض اور ثمرین نے مل کے انور کے بے ہوش جسم کو اٹھایا اور گھسیٹ کے اس کے کمرے میں لے جا کے بیڈ پہ لٹا دیا۔ انور کی شرٹ رمیض کے خون سے رنگین تھی جس کے نشان بیڈ کی چادر پہ بھی ملے۔ اس کے بعد کیا ہوا وہ ڈاکٹر انور کو واقعی یاد نہیں تھا کیونکہ وہ بے ہوش ہو چکے تھے۔ انور کو لٹانے کے بعد ثمرین اور رمیض کو اس چاقو کا خیال آیا جو انور کے ہاتھ میں تھا۔ ثمرین نے واپس جا کے اپنے کمرے سے چاقو اٹھایا اور دھو کے واپس بیگ میں رکھ دیا۔ پھر اس نے اپنی الماری سے ایک دوپٹہ نکالا اور اس کا ایک حصہ پھاڑ کے رمیض کے زخم پہ لپیٹ دیا۔ اس کے بعد رمیض وہاں سے چلا گیا اور ثمرین اپنے بیڈ پہ سو گئی۔ ثمرین کو یقین تھا کہ انور کو صبح کچھ یاد نہیں ہو گا کیونکہ جب بھی وہ نشے میں ہوتا تھا اسے اگلے دن کچھ یاد نہیں ہوتا تھا۔ آفرین نے اسے ٹوکا اور بولی؛ اس کے بعد جو ہوا وہ شاید تجمل کو پتہ ہو۔ تجمل بولا؛ ہاں یہ سچ ہے کہ میں نے ہی انور کو کال کر کے رمیض کے بارے میں بتایا تھا لیکن میں نے اس معصوم لڑکی کو نہیں مارا، ہاں میں یہ بتا سکتا ہوں کہ اسے کس نے مارا! وقاص بولا؛ کس نے؟ آپ کی خوبصورت بیوی نے؟ میرا مطلب ہے سابقہ بیوی نے؟ تجمل بولا؛ نہیں، آفرین میں اتنی جرأت نہیں ہے۔ وقاص نے پوچھا؛ پھر آپ کے خیال میں کون ہو سکتا ہے؟ تجمل نے ماریہ کی طرف اشارہ کیا اور بولا؛ اس عورت نے ثمرین کا قتل کیا ہے۔ وقاص جھٹ سے بولا؛ بالکل غلط جواب، ایک ماں اپنی بیٹی کو کیسے مار سکتی ہے؟ سب کو حیرت کا جھٹکا لگا اور سب نے وقاص کی طرف ایسے دیکھا جیسے وہ احمق ہو۔ وقاص ماریہ کے پاس پہنچا اور بولا؛ ٹھیک کہہ رہا ہوں ناں میں مس ماریہ؟ ثمرین آپ کی بیٹی تھی ناں؟ ماریہ کے چہرے کی ہوائیاں اڑ گئیں۔ وقاص نے اپنی بات جاری رکھی؛ ماریہ کی ماں ایک طوائف تھی اور ان کی رہائش انور کے آبائی گھر کے پاس تھی۔ انور اور ماریہ کا بچپن سے ہی ناجائز رشتہ تھا جو جوانی تک جاری رہا۔ انور کے گھر والوں کو یہ رشتہ کسی طور قبول نہیں تھا اس لیے انہوں نے انور کی شادی یاسمین سے کر دی۔ انور نے شادی کے بعد بھی ماریہ سے تعلق بنائے رکھا اور اسی تعلق کے نتیجے میں ماریہ نے ایک بچی کو جنم دیا جس کا نام ثمرین تھا۔ حاضرین کو حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا جبکہ ماریہ نے وقاص کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے مزید نہ بولنے کی استدعا کی۔ وقاص نے اس کی التجا کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی؛ شادی کے تین سال بعد تک بھی جب اولاد نہ ہوئی تو پتہ چلا کہ یاسمین بانجھ ہے اور اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ ڈاکٹر انور کے لیے یہ ایک نہایت موزوں صورتحال تھی۔ عائشہ کی پیدائش کے بعد انور نے یاسمین کو بتایا کہ وہ یتیم خانے سے ایک 15 دن کی بچی کو گود لے رہا ہے۔ یاسمین کو اس پہ بھلا کیا اعتراض ہو سکتا تھا وہ تو الٹا خوش ہو گئی کہ وہ ایک بیٹی کی ماں بن جائے گی۔ پھر جب انور نے اپنا کلینک کھولا تو ماریہ کو نرس بنا کے اپنے پاس لے آیا۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یاسمین کو شک کیوں نہیں ہوا جب بچی فطری طور پہ اس کے پاس جانے کی بجائے اپنی ماں کے پاس جاتی ہوگی؟ شک تو لازمی ہوا ہوگا لیکن ڈاکٹر انور نے چالاکی سے معاملہ سنبھال لیا ہو گا۔ لیکن سچ کب تک چھپ سکتا تھا؟ 18 سال بعد ایک دن یاسمین نے ماریہ اور انور کو پیار کا کھیل کھیلتے ہوئے دیکھ لیا۔ صحیح کہہ رہا ہوں ناں مس یاسمین؟ یاسمین نے غصے سے اس کی طرف دیکھا اور بولی؛ کیا کر رہے ہیں آپ؟ پہلے ہم لوگ کم پریشان ہیں جو ایسے سب کے سامنے ہماری تذلیل کر رہے ہیں؟ وقاص نے اس کے سوال کا جواب دینے کی بجائے خود ایک سوال داغ دیا؛ پنڈی میں تھی ناں آپ؟ یاسمین نے نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھا اور بولی؛ کیا؟ وقاص بولا؛ قتل کے وقت پنڈی میں تھی ناں آپ؟ یاسمین نے ہاں میں جواب دیا۔ وقاص بولا؛ وہ ہی تو میں تھوڑا سا کنفیوز ہوں کہ جس سرجری کے لیے آپ وہاں گئی تھیں وہ تو پہلے ہو چکی تھی۔ ایمرجنسی تھی تو ایک جونیئر ڈاکٹر نے وہ آپریشن پہلے ہی کر دیا تھا۔ ساتھ ہی اس نے ہسپتال کے کچھ کاغذات یاسمین کو دکھائے۔ یاسمین نے اس کی بات سے اتفاق کیا۔ پھر اس نے ڈائیوو بس کا ریکارڈ دکھایا جس سے یاسمین واپس لاہور آئی اور بولا کہ آپ 12 بجے سے پہلے گھر پہنچ چکی تھیں۔ اور جب آپ پہنچیں سکیورٹی گارڈ ٹوائلٹ گیا ہوا تھا اس لیے اس نے آپ کو دیکھا نہیں۔ یاسمین جھنجلاہٹ سے بولی؛ کیا کہنا چاہتے ہیں آپ؟ کیا لینا دینا ہے اس سب کا اس کیس سے؟ کیا لینا دینا ہے؟ وقاص نے برہم انداز میں کہا؛ کوئی لینا دینا نہیں تو آپ اتنا غصہ کیوں کر رہی ہیں؟ وقاص نے اپنی کہانی جاری رکھی؛ یاسمین اپنے گھر پہنچ گئی لیکن کسی کو اس بات کا پتہ نہیں تھا۔ رات کے 12 بجے وہ باتھ روم میں نہا رہی تھی جب اس نے غصے میں ادھر ادھر ٹکراتے ڈاکٹر انور کے قدموں کی آواز سنی۔ جب تک وہ باتھ روم سے باہر آئی ثمرین اپنے بستر میں سو چکی تھی۔ یاسمین کے لیے انور سے اس کے دھوکے کا بدلہ لینے کا یہ بہترین موقع تھا۔ اس نے حالات کا بخوبی جائزہ لیا اور اپنے ذہن میں ایک خطرناک پلان بنایا۔ پھر اس نے سرجیکل لباس اور دستانے پہنے اور سرجیکل کٹ سے باہر پڑا ہوا وہی چاقو اٹھایا جو کچھ دیر پہلے ڈاکٹر انور کے ہاتھ میں تھا اور ثمرین کو قتل کر دیا۔ یاسمین بولی؛ بکواس ہے یہ، پہلے انور پہ قتل کا الزام لگایا اور اب مجھ پہ، تم نکلو میرے گھر سے۔ اتنا کہہ کہ اس نے وقاص کو دھکے دینے شروع کر دیے۔ ایک لیڈی کانسٹیبل نے آگے بڑھ کے اسے روکا اور قابو کر کے بٹھا دیا۔ تجمل نے ایک بار پھر لقمہ دیا؛ تو پھر سجاد کو کس نے اور کیوں قتل کیا؟ وقاص بولا؛ ثمرین کو قتل کر کے جب یاسمین اس کے کمرے سے باہر نکلی تو سجاد بیچارہ اپنی موت کو ڈھونڈتا ہوا نیچے سے گزر رہا تھا۔ اس کی نظر یاسمین پہ پڑی تو وہ وہیں ساکت ہو گیا کیونکہ یاسمین کے ہاتھ میں خون آلود چاقو تھا اور اس کے سرجیکل لباس پہ بھی خون کے چھینٹے تھے۔ یاسمین نے سجاد کو پیسوں کا لالچ دے کہ اسے قتل کے ثبوت مٹانے کے لیے مدد کرنے پہ آمادہ کیا۔ سجاد نے یاسمین کے کہنے پہ اس جگہ سے صوفے ہٹائے اور لکڑی کا فرش اکھاڑا جہاں سے اس کی اپنی لاش ملی۔ اس کا مطلب ہے جب اس نے لاش چھپانے کے لیے جگہ بنا لی تو یاسمین نے اسے ہی اس جگہ سلا دیا اور سب کچھ واپس اپنی جگہ پہ رکھ دیا۔ اس بار آفرین نے مداخلت کی اور بولی؛ ایک کمزور سی عورت اتنا سب کچھ کیسے کر سکتی ہے؟ وقاص نے سب کو یاد دلایا کہ یاسمین ایک آرتھوپیڈک سرجن ہے اور صاف اور سیدھے کٹ لگانے میں مہارت رکھتی ہے۔ اور اسی مہارت کا استعمال کر کے اس نے پہلے ثمرین اور سجاد کو قتل کیا اور پھر اپنے شوہر ڈاکٹر انور کو بھی قتل کر دیا۔ وقاص نے اپنی بات جاری رکھی؛ انور کے کمرے کا لاک نہ تو توڑا گیا اور نہ ہی ڈوپلیکیٹ چابی کا استعمال کیا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ قاتل ڈاکٹر انور کی مرضی سے ان کے کمرے میں داخل ہوا۔ دراصل ڈاکٹر یاسمین طلاق کے کاغذات لے کے اپنے شوہر سے ملنے گئی اور دھوکے سے اس کا قتل کر دیا۔ ایڈووکیٹ یونس جو اب تک خاموشی سے یہ سب سن اور دیکھ رہا تھا گرجدار آواز میں بولا؛ پھر میرے بیٹے رمیض کو کس نے مارا؟ وقاص بولا؛ اے ایس آئی راشد علی نے۔ یونس نے حیرت زدہ لہجے میں پوچھا؛ وہ کیوں مارے گا میرے بیٹے کو؟ وقاص بولا؛ وہ پہلے دن سے جانتا تھا کہ ثمرین کا قتل یاسمین نے کیا ہے لیکن چونکہ وہ یاسمین کے جسم سے فیض یاب ہو رہا تھا اس لیے اس نے ہر اس ذریعے کو مٹا دیا جس سے ہم اصل قاتل تک پہنچ پاتے۔ وقاص کی بات سنتے ہی یاسمین نے خونخوار شیرنی کی طرح اس پہ حملہ کر دیا اور زبان کے ساتھ ہاتھ بھی چلانے لگی۔ لیڈی کانسٹیبل نے آگے بڑھ کے اسے دبوچا اور وقاص نے اپنی بات جاری رکھی؛ یاسمین نے پہلے دن ہی راشد کی ہوس پرستی کو بھانپ لیا تھا اس لیے اس نے اسے پیسوں کے ساتھ اپنا جسم بھی پیش کر کے اپنے ساتھ ملا لیا۔ رمیض نے قتل کے اگلے ہی روز راشد سے رابطہ کر کے اسے بتایا کہ ثمرین کا قتل اس کے باپ نے کیا ہے لیکن تب تک راشد بک چکا تھا۔ راشد نے مکاری سے رمیض کو روپوش کر دیا اور یاسمین کے کہنے پہ اسے قتل کرنے سے گریز کیا۔ یاسمین کا خیال تھا کہ اگر عدالت انور پہ ثمرین کے قتل کی فرد جرم عائد کر دیتی ہے تو رمیض کو گواہ کے طور پہ پیش کیا جا سکتا ہے اور اگر انور ضمانت پہ باہر آ جاتا ہے تو اسے رمیض کے ہاتھوں قتل کروایا جا سکتا ہے۔ لیکن ان کا منصوبہ اس وقت ناکام ہوا جب میں اور اکرام پرویز کا پیچھا کرتے ہوئے اس جگہ جا پہنچے جہاں رمیض روپوش ہوا تھا۔ وہیں رمیض اور راشد نے مجھ پہ قاتلانہ حملہ کیا اور اس کے بعد راشد نے پرویز کو بھی قتل کر دیا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر پرویز میرے ہاتھ لگ گیا تو ساری بات کھل جائے گی۔ پھر جب رمیض میرے ہاتھ لگا تو راشد نے اسے بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یاسمین نے ڈھٹائی سے ایک بار پھر مداخلت کی اور بولی؛ یہ سب بکواس ہے اور ایک من گھڑت کہانی ہے۔ آپ کے پاس کیا ثبوت ہے جس سے آپ اپنی اس کہانی کو سچ ثابت کر سکیں؟ وقاص نے فاتحانہ مسکراہٹ چہرے پہ سجا کے اکرام سے وہاں موجود ایل ای ڈی آن کرنے کا کہا۔ پھر اس نے سب کو مخاطب کر کے کہا کہ ابھی جو تصویریں آپ دیکھنے والے ہیں وہ انتہائی قابل اعتراض ہیں لیکن ان کے علاوہ ہمارے پاس کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ یہ تصویریں ان ویڈیوز میں سے نکالی گئی ہیں جو راشد کے موبائل میں موجود تھیں۔ آپ سب کے علم میں ہو گا کہ راشد ایک لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں اس وقت ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کی حراست میں ہے، وہیں سے مجھے وہ ویڈیوز ملیں جن میں سے کچھ تصویریں میں آپ لوگوں کو دکھا رہا ہوں۔ پہلی تصویر میں یاسمین ننگی کھڑی تھی اور اسکے بازو ایک رسی کی مدد سے چھت کے ساتھ لگی ایک ہک کے ساتھ بندھے ہوئے تھے۔ اس کے ساتھ تصویر میں راشد موجود تھا جس کے جسم پہ کپڑے نہیں تھے اور ہاتھ میں ایک باریک سی چھڑی تھی۔ دوسری تصویر میں یاسمین گھٹنوں کے بل بیٹھی راشد کا لن چوس رہی تھی۔ تیسری تصویر میں یاسمین ٹیبل پہ اوندھی پڑی تھی اور راشد کے ہاتھ میں بیلٹ تھی جس سے غالباً وہ اس کی تواضع کر رہا تھا۔ تمام تصویروں میں راشد اور یاسمین کے نجی اعضاء کو کالے رنگ سے چھپایا گیا تھا۔ وقاص نے ایل ای ڈی بند کر دی اور بولا؛ ہاں تو مس یاسمین اور کوئی ثبوت چاہیے؟ یاسمین سر جھکا کے بیٹھی رہی اور کوئی جواب نہ دیا۔ وقاص بولا؛ آپ لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ اگر یاسمین نے تفتیشی آفیسر کو اپنے ہاتھ میں کیا ہوا تھا تو اسے ایف آئی اے کے پاس جانے کی کیا ضرورت پڑی؟ اس کا جواب بہت سادہ ہے، راشد وائلڈ سیکس کا شوقین ہے اور اسے عورت کو تکلیف دینے میں مزہ آتا ہے۔ یاسمین کے لیے جب اس کی اذیت ناقابل برداشت ہو گئی تو اس نے ایف آئی اے کے پاس جانے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ جانتی تھی کہ راشد اب اپنے بچاؤ کے لیے بھی اس کیس کو حل نہیں ہونے دے گا۔ لیڈی کانسٹیبل نے یاسمین کو ہتھکڑی پہنائی اور اپنے ساتھ لے گئی۔ جاتے جاتے یاسمین نے ایک کمینی فاتحانہ مسکراہٹ چہرے پہ سجا کے ماریہ کی طرف دیکھا جو اپنا سب کچھ لٹ جانے پہ آنسوؤں سے تر چہرہ لیے غم کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ عدالت نے تمام شواہد کی بناء پر یاسمین اور راشد کو سزائے موت کا حکم جاری کیا۔ صائمہ نے راشد سے طلاق لے کے وقاص سے شادی کر لی اور عزت اور محبت سے بھرپور زندگی گزار رہی ہے۔ ماریہ اور آفرین تنہا زندگی گزار رہی ہیں اور انور کی یاد میں آنسو بہا کے دن رات یاسمین کو کوستی ہیں۔ ختم شد
  44. 2 likes
    dr sab maza aa gya ap ki last kuch updates ka..story to sari hi achi chal rahi ha.. bas zara thora jaldi kaam se free ho k hum logoon per b mehrbani kerien koi lambi lambi updates send ker dyen ...shukriya...!!
  45. 2 likes
    ڈاکٹر صاحب آج الفاظ نہیں مل رہے کچھ لکھنے کے لئے۔۔ پردیس کے بعد یہ دوسرا موقع ہے کہ مجھے اپنی پرانی آئی ڈی یاد کرکے لاگ ان ہونا پڑا۔ میں آپ کا اور آپکے قلم کا بہت پہلے سے گرویدہ ہوں لیکن۔۔۔ یہاں بات ہی کچھ اور ہے ایک ایسی کہانی جو پہلے ہی سے کسی اور نے کافی اچھے طریقے سے شروع کی تھی اور ہم اُس کی بھی تعریف کرنے پر مجبور تھے وجہ۔۔ اُس کا خالص دیہاتی انداز اور سادہ سا انداز۔۔۔۔ لیکن۔۔۔ پھر کچھ وقفے اور ممبران کی درخواست پر آپ نے اسے شروع کیا تو جیسے سو فیصد والی کہانی کو پانچواں گیئر لگ گیا اور آج ہم یہ لکھنے پر آپکی محبت میں مجبور ہیں کہ کہانی پانچ سو فیصد بہترین ہو گئی ہے۔ بہت ہی ہائی کلاس کہانی ایک مرتبہ پھر ڈاکٹر صاحب کے قلم سے جسے ہم مدتوں یاد رکھیں گے اور میں یہ بھی کہنے پر مجبور ہوں کہ اب رومینس سے زیادہ میں اِس کو ایکشن تھرلر بنتا دیکھ رہا ہوں اب یاسر ہمیشہ ایک سنجیدہ ہیرو کی شکل میں نظر آئیں گے اور جیسا ڈاکٹر صاحب نے کہا ہے مجھے یقین ہے اب ایسے نئے نئے موڑ آئیں گے کہ قارئین حیران رہ جائیں گے اور رہنا بھی چاہیے کیوں کہ یہی تو ڈاکٹر صاحب کی خاص الخاص خوبی ہے۔۔ سدا خوش رہیں اور ایسے ہی اپڈیٹ دیتے رہیں ۔ ۔۔ بہت نوازش ڈاکٹر صاحب۔۔۔
  46. 2 likes
    @Mani09 bro, Kahan ghayeb hain, Sab khereat hai na? Update b itni late ho gayee.....
  47. 2 likes
    ابھی مجھے اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی. سمجھانے کا مقصد کہ آپ اپنی انرجی پازیٹو استعمال کریں. تمام کمنٹس اور ممبرز کی ایکٹو یٹی انتظامیہ کی نظر میں ہوتی ہے. ہلکے پھلے طنز پر مبنی پوسٹ اپررو کر دی جاتی ہیں . بے فکر رہا کریں کسی کو بھی غلط حرکت کا موقعہ نہیں دیا جائے گا
  48. 2 likes
    Ary wah Kiya update di he. kafi time laga dia is bar update me. lekin der aye darost aye. ab next update jaldi deny ki koshish ki jey ga.
  49. 2 likes
    محبت تو واقعی بڑا لطیف اور پاکیزہ جذبہ ہے۔ مگر کیسے معلوم ہو گا کہ یہ واقعی محبت ہے۔ اس کا آزمانے کا کیا طریقہ ہے اور کیسے کوئی یہ طے کر سکتا ہے کہ اس کی محبت سچی ہے اور کیسے کوئی یہ جانچ سکتا ہے کہ اس کی محبت بس جسمانی بھوک۔ مذکورہ کہانی میں اگر ہمارے کردار کو محبت کا دعویٰ ہے تو اس دنیا میں ہر لڑکی اس کے لیے بے معنی ہونی چاہیے۔ جس سے محبت ہو اس کے سوا دنیا میں سب اندھیر لگتا ہے۔ مگر کسی سے محبت بھی ہو اور ہر نئی لڑکی کی لینے کا بھی دل چاہے اور جس سے محبت ہو اس کو بھی کرنے کو دل مچلتا رہے تو ہم اسے محبت کم از کم نہیں سمجھ سکتے۔ یہ وقتی ابال یا وقتی جوش یا جسمانی کشش ہو سکتی ہے ،محبت شاید نہیں کہلائی جا سکتی۔
  50. 2 likes
    قسط نمبر پانچ۔ بیڈ پر جان شیر لیٹا ہوا تھا ۔۔اور زرتاش اس کے اوپر بیٹھی ہوئی اپنے جسم کو ہلا رہی تھی ۔۔۔جان شیر کی آنکھیں بند تھیں ۔۔اور دونوں کے جسم کے پر ایک بھی کپڑ ا نہیں تھا ۔۔۔زرتاش کی جذبات میں مہکتی ہوئی آوازیں اور سسکاریاں پورے کمرے میں گونج رہی تھیں ۔۔۔۔کچھ دیر کی ہول میں جھانکنے کے بعد میں اٹھ گیا ۔۔۔۔گل بانو کچن کی طرف چلی گئی اور چائے بنا نے لگی ۔۔۔۔میں واپس اپنے مہمان خانے میں آ گیا ۔۔۔اور عمران صاحب کو کال ملانے لگا۔۔دوسری ہی گھنٹی پر عمران صاحب کی چہکتی ہوئ آواز کانوں میں پڑی تھی ۔۔۔حقیر ، فقیر ، بندہ عاجز راجہ ،مہاراجہ کی خدمت میں سلام عرض کرتا ہے ۔۔۔۔ میں نے سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا عمران صاحب راجہ تو آپ ہیں ۔۔۔ہم تو بس آپ سے محبت کرنے والے ہیں ۔۔۔۔اور پھر اپنی کل کی کارستانی سنانے لگا ۔۔۔۔ٹائیگر کے جانے کے بعد سے لے کر اس حویلی کے پرخچے اڑانے تک ۔۔۔میں سب کچھ سناتا چلا گیا ۔۔میں سب کچھ سنا کر چپ ہوا۔۔ تو کچھ دیر تک اسپیکر پر خاموشی رہی ۔۔پھر میں کھنکارا تو عمران صاحب کی آواز آئی ۔۔۔ مجھے رات ہی اس حویلی کی رپورٹ مل چکی تھی ۔۔ میں سمجھا شاید تمہارا اور ٹائیگر کا کارنامہ تھا ۔۔۔مگر تم تو اکیلے ہی میدان مار گئے ۔۔۔خیر گل بانو ابھی تمہارے ساتھ ہے ؟۔۔۔۔عمران صاحب کی خوشی سے بھرپور آواز میرے کانوں میں آئی تھی ۔۔ جی عمران صاحب وہ میرے ساتھ ہی ہے ۔۔اب آگے کیا کرنا ہے ۔۔۔میں اس کی دوست کی طرف ٹہرا ہوا ہوں ۔۔۔۔ میں ٹائیگرکوبھیجتا ہوں اس ایڈریس پر ۔۔تم جب تک وہیں رہو ۔۔اور آنکھیں کھلی رکھو ۔۔۔انڈیا کی ہماری سرحد پر دراندازی بڑھ رہی ہے ۔۔ہو سکتا ہےاس ایریے پر بھی اس کی حرکت نظر آ جائے ۔۔۔ جی عمران صاحب میں بالکل ہوشیار رہوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے بعد عمران نے فون بند کر دیا ۔۔ گل بانو چائے لے کر آ چکی تھی ۔۔۔۔۔ہم بیڈ پر بیٹھے چائے پی رہے تھے ۔۔۔اور ساتھ ہی زرتاش اور جان شیر کے تعلق پر بھی بات کر رہے تھے ۔۔۔۔دونوں آپس میں کزن تھے ۔۔۔مگر جان شیر کی عمر کچھ کم لگ رہی تھی ۔۔۔وہ16 سال کا ہی تھا ۔۔۔اور زرتاش کم از کم 27 کی تھی ۔۔۔اور صحت مند اور بھرپور لڑکی تھی ۔۔۔۔گل بانو میری دلچسپی کو بھانپ چکی تھی ۔۔اور شرارتی انداز میں پوچھ رہی تھی ۔۔کہ جناب کے کیاارادے ہیں ۔۔۔میں کیا کہتامیری مسکراہٹ ہی اس کو جواب دے چکی تھی ۔۔۔گل بانو چائے کا کپ رکھتی ہوئی میری گود میں سر رکھنے لگی ۔۔۔راجہ آج کی رات میرے نام ۔۔۔وعدہ رہا کہ کل زرتاش یہاں تمہارے ساتھ اسی بیڈ پر ہو گی ۔۔۔۔ابھی تک مجھے بھی جان شیر کے تعلق کا نہیں پتا تھا ۔۔آج رات اس سے پوچھوں گی ۔گل بانو کی آواز میں اک خمارتھا ۔۔۔۔۔۔ میں بھی اس پر جھک گیا ۔۔اور اپنے اثبات کے بوسے ثبت کرنے لگا ۔۔۔شام ہو چکی تھی۔۔۔7 بجے کا ٹائم تھا ۔۔۔۔ادھر ہم نے چائے پی کر ختم کی تھی ۔۔ادھر جان شیر نے دروازے پر دستک دی ۔۔۔میں نے اندر آنے کا کہا ۔۔گل بانوایسے ہی میری گود میں سر رکھے بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔جان شیر اندر آ کر ٹھٹکا ۔۔۔اور پھر کھانے کا پوچھنے لگا ۔۔۔میں نے گل بانو کو کچن میں بھیجا اور جان شیر سے قریب کی مارکیٹ کا پوچھا ۔۔۔۔ مجھے کچھ شاپنگ کرنی تھی ۔۔۔یہ ٹراؤزر اور جیکٹ میں کب تک پہنچتا ۔۔۔۔۔۔۔جان شیر نے کہا کہ راجہ بھائی میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں ۔۔۔۔۔میں بھی اٹھ کر تیار ہو گیا ۔۔۔اور دونوں لڑکیوں کو ایک گھنٹے تک کا کہ کر باہر آگئے۔۔۔جیپ ابھی تک ویسے ہی تھی ۔۔میں نے ہتھیار بیگ میں ڈال کر اندر رکھے تھے ۔۔بیگ گھر میں رکھتے ہوئے میں نے نے ایک سائیلنسر لگا ہوا پسٹل اٹھا لیا ۔۔بریٹا کمپنی کا یہ ایم نائن پسٹل بہت زبردست تھا ۔اور سائلنسر لگنے کے بعد بے آواز ہو جاتا تھا ۔۔۔۔۔رات بھی اس نے اچھا ساتھ دیا تھا ۔۔۔۔میں نے پسٹل اور کچھ میگزین لے کر باہر آ گیا ۔۔جان شیر جیپ کے قریب ہی کھڑا تھا ۔۔۔۔۔اور پھر کچھ دیر میں ہم سڑکوں پر پھر رہے تھے ۔۔یہ علاقہ بھی اسی طرح پہاڑوں میں گھرا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔جلدہی ہم ایک مارکیٹ میں پہنچے تھے ۔۔جہاں ملکی اور غیر ملکی سامان وافر مقدار میں موجود تھا ۔۔۔۔ہم نے جیپ باہر کھڑی کی اور مارکیٹ کے اندر چلے گئے ۔۔۔جان شیر مجھے مہمان کے طور پر متعارف کروا رہا تھا ۔۔۔۔میں نے اپنے لئے مقامی کپڑے ، واسکٹ اور جوگرز خریدے ۔کپڑے میں نے وہیں چینچ کر لئے ۔۔۔اس محدود سے علاقے میں مختلف حلئے میں پھرنا اپنے لئے خود مشکل کو دعوت دینا تھی ۔۔۔۔۔۔جان شیر کو بھی شاپنگ کروائی اور پھر گل بانو اور زرتاش کے لئے ایک سوٹ خرید لئے ۔۔ ہمارے شہروں کے مقابل وہاں چیزیں کافی اچھی اور معیاری لگ رہی تھی ۔۔۔۔ ہم باہر نکلے ۔۔۔جان شیر مجھے اپنےایک دوست کی دکان پر لے گیا ۔۔۔وہاں پختون مہمان نوازی ہوئی ۔۔۔۔ہلکی پھلی ریفریشمنٹ کر کے میں باہر نکلا تو میں نے جیپ کے پاس منڈلاتے ہوئے دو آدمیوں کو دیکھا ۔۔۔جبکہ ایک بندہ پیچھے ون ٹو فائیو میں بیٹھا دیکھ رہا ۔اور کچھ فاصلہ پر ایک ہنڈا بائک اور کھڑی ہوئی تھی ۔۔دونوں آدمی چہرے مہرے سے کرخت اور جنگجو ٹائپ لگ رہے تھے ۔۔انہیں شاید کسی کی تلاش تھی ۔۔میں نے جان شیر کو واپس دکان میں بھیجا کہ میں کچھ دیر میں آتا ہوں ۔۔۔۔۔مجھے پہلی فرصت میں جیپ تبدیل کر لینی چاہئے تھی ۔۔مگر اب غلطی ہو چکی تھی ۔۔۔۔اور اسے سدھارنا تھا ۔۔میں نہیں چاہ رہا تھا کہ یہاں بھی کوئی ہنگامہ آرائی ہو ۔۔ان میں سے ایک بندہ واپس بائک پر جا بیٹھا تھا ۔۔میں بھی ان کے قریب سے ایسے گزرا جیسے کوئی اجنبی تھا ۔۔۔اور ڈرائیونگ سیٹ کے قریب پہنچتے ہیں ایک جمپ مار کر اندر بیٹھا ۔۔دوسرے لمحے جیپ غراتی ہوئی اور سڑک پر ٹائروں کے نشان بناتی ہوئی آگے بڑھی ۔۔۔۔وہ اکیلا آدمی پیچھے اپنی بائک کی طرف دوڑا تھا۔۔۔۔۔اتنی دیرمیں نے کافی فاصلہ طے کر لیا ۔۔۔۔میں نے اسپیڈ تیز ہی رکھی اور جدھر راستہ دکھائی دیا ادھر سماتا گیا ۔۔۔۔۔۔جیپ کی گھن گرج اورٹائروں کے چیخنے کی آواز آ رہی تھی ۔۔۔۔اور جیپ اسپیڈ میں کبھی دائیں طرف گھوم جاتی اور کبھی بائیں طرف ۔۔۔میں کافی دیر اپنے تعاقب کو جھٹلاتا رہا ۔۔پندرہ منٹ کی محنت کے بعد میں مطمئن سا ہوگیا ۔۔۔۔۔۔رات بڑھتی جار ہی تھی ۔۔ ۔۔۔میں نے قریب پیٹرول پمپ کا راستہ پوچھا اور اس طرف چل پڑا ۔۔۔جیپ میں فیول فل بھر کر میں قریبی اسٹور میں چلا گیا۔۔اور کسی مکینک کا پوچھا ۔۔۔میں چاہ رہا تھا کہ یہ گاڑی کسی مکینک یا شوروم میں دے کر کوئی عارضی کار لے جائے ۔۔۔اس جیپ کو گھر لے جانا بھی خطرے سے خالی نہیں تھا۔۔۔۔۔مگر یہاں اگر کوئی شوروم تھا بھی تو اب بند ہو چکاہو گا۔۔میں کچھ دیر ایسے ہی ٹہلتا رہا جب میری نظر ایک چادر پوش لڑکی پر پڑی تھی ۔۔تیز تیز قدموں سے چلتی ہوئی وہ بار بار پیچھے کو دیکھتی اور پھر آگے کو بڑھ جاتی ۔۔۔۔لڑکی کی انداز گھبراہٹ اور تیزی والا تھا۔۔۔۔اس کے چلنے کا انداز ایسا تھا کہ گاڑیوں کی اوٹ لے کر بڑھ رہی تھی ۔۔اور پیچھے سے فورا دیکھ لینا مشکل تھا ۔۔۔۔اتنے میں پیچھے ایک سفید مرگلہ کو میں نے تیزی سے آتے دیکھا ۔۔۔۔وہ تیزی سے آ کر چوک پر رکی اور اندر بیٹھے بندےباہر سر نکالے جھانکنے لگے ۔۔۔۔۔۔۔لڑکی اسے دیکھ کر دبک چکی تھی اور اتفاقا وہ میری جیپ کے پاس ہی تھی ۔۔۔میں کچھ دیر سوچتا رہا ۔۔۔۔پھرجیپ کیطرف بڑھا اور اسٹارٹ کی ۔۔۔۔ساتھ ہی ہلکی سی آگے بڑھا ئی ۔۔۔۔میری امید کے مطابق ہی وہ لڑکی اچانک تیزی سے آگے آئی اور میرے ساتھ والے سیٹ پر بیٹھنے لگی ۔۔۔۔۔مدد مانگتے ہوئے اس کا لہجہ مجھے چونکا گیا تھا ۔۔میں نے اسے پچھلی سیٹ پر لیٹنے کا اشارہ کیا ۔۔۔اور جیپ کو اسپیڈ دے دی ۔۔وہ لڑکی اگلی سیٹوں کے درمیان سے اچکتی ہوئی پچھلی سائیڈ پر چلی گئی ۔۔۔۔میں تیز رفتاری سے چوک پر پہنچا اور ابھی دائیں بائیں جانے کا سوچ ہی رہا تھا ۔۔۔۔کہ بائیں طرف سے ون ٹو فائیو کی دونوں بائیک اپنی گھن گرج کے ساتھ رکی تھی ۔۔۔۔پیچھےبیٹھے بندے کی چادر میں سے میں نے کلاشنکوف کی نالی جھانکتی ہوئی دیکھی ۔۔۔۔جو اب اس کے ہاتھو ں میں جگہ بنا رہی تھی ۔۔۔اور ادھر دائیں طرف وہی سفید مرگلہ ابھی بھی انتظار میں تھی ۔۔۔۔میں نے دائیں طرف جانے کا سوچا تھا ۔۔اگر خاموشی سے مرگلہ کے برابر سے نکل جاتا تو کیا برائی تھی ۔۔۔۔۔مگر ہر کام میری مرضی کا ہونا بھی کوئی لازمی نہیں تھا ۔۔۔۔۔ادھر میں نے گاڑی دائیں طرف گھما کر اسپیڈ دی ۔۔اور ادھر وہ بائک والا بندہ کلاشنکوف اپنے ہاتھوں میں تھام چکا تھا ۔۔۔۔جیپ پور ی اسپیڈ سے مرگلہ سے کراس ہو رہی تھی کہ پیچھے سے کلاشنکوف کا برسٹ جیپ کے پیچھے پڑا ۔۔۔۔۔۔لڑکی چیخ مارتی ہوئی سیٹ سے نیچے گری تھی ۔۔۔۔اور سفید مرگلہ نے بھی چیخ کی آواز سن لی تھی ۔۔۔۔اس نے بھی ایک جھٹکا کھایا تھا اور ہمارے پیچھے آئی ۔۔۔۔۔اگلے تین منٹ تک میں گاڑی کا حصہ بن گیا ۔۔میری نظر سڑک پر اور ہاتھ اسٹیرنگ پر جم گئے ۔۔۔۔اور جیپ ہوا میں اڑتی ہوئی کبھی سڑک کے ادھر لہرا تی اور کبھی سڑک کے بائیں طرف ۔۔میں اسپیڈ میں جتنا زگ زیگ ہوسکتا تھا ۔۔بھگائے جا رہا تھا ۔۔۔۔مرگلہ کا ڈرائیور بھی مشاق تھا ۔۔۔اور یہاں کے روڈ بھی جانے پہچانے تھے اس کے لئے ۔۔وہ اس کا بھرپور فائد ہ اٹھار ہا تھا ۔۔۔۔۔میں نے لڑکی کی طرف دیکھا ۔۔۔اس کی چادر اتر چکی تھی ۔۔۔اور خوف میں ڈوبا ہو اچہر ہ مجھے تک رہا تھا ۔۔۔۔آنکھیں التجا کر رہی تھیں کہ میں اس کی جان بچاؤں ۔۔۔۔۔میں نے نظریں دوبارہ سڑک پر جما دی اور اسپیڈ اور بڑھانے لگا ۔۔۔۔بائک والے زیادہ مشاق تھے ۔۔اور وقفے وقفے سے شارٹ کٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مرگلہ سے آگے آ چکے تھے ۔۔۔ایک بائک خطرناک حد تک قریب آئی تھی ۔۔۔اور ساتھ ہی ڈرائیونگ سائڈ پر دو تین فائر پڑے ۔۔۔چھن چھن کی آواز کے ساتھ گولیاں جیپ کی باڈی سےٹکرائیں تھی ۔۔دوسری بائک بھی جیپ کی اسپیڈ کم ہونے کا فائد ہ اٹھاتی ہو ئی ساتھ لپکی تھی ۔۔اس پر سے بھی فائر ہوئے تھے ۔۔۔۔۔۔میں نے ایک نظر پیچھے ڈالی ۔۔سفید مرگلہ کو کچھ دیر تھی ۔۔اوروہ شاید ان بائک والوں کوپہلے موقع دینا چاہ رہی تھی ۔۔۔۔میں نے ریس سے پاؤں اٹھاتے ہوئے بریک پر پور ا زور ڈال دیا ۔۔ساتھ ہی ہینڈ بریک بھی کھینچ دی ۔۔جیپ کے چاروں ٹائر کالے رنگ کے نشان بناتے ہوئے روڈ کو پکڑ چکے تھے۔۔۔۔۔ایک دھماکے کی آواز کے ساتھ دونوں بائک جیپ سے ٹکرائی تھی ۔۔۔۔۔ایک بائک کااگلا ٹائر پچک کر ایک بندے کو ہوا میں اور ایک کو جیپ میں گھسا چکے تھے ۔۔۔دوسری بائک کا بھی یہی حال تھا۔۔۔۔اس کا سوار جیپ سے کئی گز دور ہوا میں اڑتا ہو ا گر ا۔۔اور لڑکی بھی اڑتی ہوئی آگےآئی اور دونوں سیٹ کے درمیاں خود کو روکتی ہوئی بری طرح سے پھنسی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے ہینڈ بریک نیچے کی اور دوبارہ سے ایکسلیڑ دبا دیا ۔۔۔۔بائک والے اپنی منزل پا چکے تھے ۔۔۔سفید مرگلہ نے بھی اپنی اسپیڈ بڑھا دی ۔۔۔۔۔۔وہاں سے برسٹ کی تڑ تڑاہٹ گونجی تھی ۔۔۔۔۔شاید خوفزدہ کرنا چاہ رہا تھا ۔۔۔۔۔میں نے اسپیڈ بڑھائی اور پھر سے ہوا میں اڑنے لگا ۔۔۔۔ساتھ ہی دائیں ہاتھ سے اسٹیرنگ تھامتا ہوا ۔۔پسٹل نکال لیا ۔۔۔سیفٹی لاک ہٹانے کے بعد میں نےبائیں ہاتھ کو پیچھے گھمایا اور فائر کیا ۔۔۔۔جوزف نے مجھے مرر میں دیکھتے ہوئے فائر کی پریکٹس کروائی تھی ۔۔۔۔۔لہذا پہلی گولی ہی کار کے سامنے والے حصے پر پڑی تھی ۔۔۔کار تھوڑی سی ڈگمگائی اور پھر اور تیز ہوئی ۔ساتھ ہی انہوں نے بھی جوابی فائر سے جواب دیا ۔۔۔۔۔۔۔پسٹل کا دوسرا فائر کار کے شیشے میں پڑا تھا۔۔۔مگر کوئ شکار نہیں ہوا ۔۔۔۔میرے اندازے کے مطابق کار میں تین بندے تھے ۔۔۔ایک ڈرائیور اور دو بندے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے ۔۔۔۔جو آدھے باہر نکلتے ہوئے فائر کرتے اور پھر اندر گھس جاتے ۔۔۔۔۔لڑکی نے میرے ہاتھ میں پسٹل دیکھ کر مجھے کہا کہ مجھے دو میں ان کو روکتی ہوں ۔۔۔۔میں نے ایک نظر لڑکی کو دیکھا اور پھر پسٹل پکڑا دیا ۔۔۔۔۔وہ جیپ کےپچھلی سیٹ سے سر اٹھائے ہوئے وقفے وقفے سے فائر کرنے لگی ۔۔۔۔لڑکی نے اگلے تین چار منٹ میں اپنی نشانہ بازی کا بہترین مظاہر ہ کیا اور کار کا اگلا ٹائر برسٹ کر دیا ۔۔۔۔۔۔مرگلہ بری طریقے سے لہرائی اور روڈ کے کنارے رک گئی ۔۔۔۔۔پیچھے والے بندے باہر آئے اور کافی دیر تک ہماری طرف فائر کرتے رہے ۔۔۔لیکن اب ہم ان کے ہاتھ آنے والے نہیں تھے ۔۔۔۔میں دس منٹ تک مزید ڈرائیو کرتارہا۔۔۔۔اور پھر گاڑی ایک چوک سے اندر کو موڑتے ہوئے اندھیر ے میں روک دی ۔۔۔۔گاڑی سے باہر آیا ۔۔۔سانس برابر کی ۔۔۔۔اتنے میں لڑکی بھی باہر آ گئی ۔۔۔اس کے چہرے کے تاثرات اب کافی بہتر تھے ۔۔وحشت اتر چکی تھی ۔۔۔میں نے بھی دوبارہ سے اس کا جائزہ لیا ۔۔۔وہ لڑکی مجھے مقامی نہیں لگی تھی ۔۔اور پھر اس لڑکی کی آواز گونجی ۔۔تمہار ا نام کیا ہے ؟ تم اس علاقے کے تو نہیں لگتے ہو ۔۔ہمت والے بھی ہو ۔۔ہتھیار چلانا بھی جانتے ہو۔۔۔اور مدد کرنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہو۔۔۔ میں نے اپنا تعار ف کروایا اور کہا کہ میں ایک سیکورٹی ایجنسی میں کام کرتا ہوں ۔۔۔۔ایک مقامی سردار مجھے شہر سے اپنی حفاظت کے لئے لایا تھا ۔۔اس کے ساتھ تین ماہ کا کنٹریکٹ تھا۔۔جو کہ ختم ہو چکا ہے ۔۔کل میں واپس اسلام آباد چلا جاؤں گا۔۔۔۔تم اپنا بتا ؤ یہ لوگ کون تھے جو تمہارے پیچھے لگے ہوئے تھے۔۔۔(لڑکی کو اب تک اندازہ نہیں تھا کہ ان دو میں سے ایک پارٹی میرے پیچھے بھی پڑی تھی )۔۔۔۔۔لڑکی نے اپنا نام ثریا خانم بتایا اور کہا کہ وہ یہاں بزنس کرتی ہے ، امپورٹ ایکسپورٹ کا ۔۔۔اور ساتھ ہی مختلف ملکوں کی کنسلٹینسی کرتی ہے یعنی اس علاقے سے لوگوں کو مختلف ممالک میں بھیجتی ہے ۔باہر کے ممالک میں ان علاقوں کے مزدورں کی بڑی مانگ ہے ۔ ۔۔اور یہ لوگ کون ہیں جو تمہارا پیچھے کر رہے تھے۔۔۔میں نے پوچھا ۔۔ یہ یہیں کے مقامی با اثر لوگ ہیں اور مجھے اغوا کر کے اپنے مطالبات منوانا چاہتے ہیں ۔اور میں ان کی بات ماننا نہیں چاہتی ۔۔۔۔ثریا نے جواب دیا ۔۔۔۔ رات کافی گزر چکی تھی ۔۔ثریا نے مجھ سے درخواست کی کہ میں اسے اس کے گھر چھوڑ وں ۔۔میں نے حامی بھر لی ۔۔۔اور تیزی سے اس کے بتائے ہوئے ایڈریس پر پہنچنے لگا۔۔۔۔میں نے گاڑی اس مطلوبہ مکان کے سامنے روکی جو کہ ایک بڑے رقبے پر پھیلا ہوا تھا ۔۔۔۔۔ثریا جیپ سے اترنے لگی تو مجھے خیال آیا اور میں نے اس کی گاڑی کا پوچھا ۔۔میں جیپ چھوڑ کر گاڑی بدلنا چاہ رہا تھا ۔۔۔۔ثریا نے اپنے گھر کا دروازہ کھولا ۔۔اور جیپ اندر لے گیا ۔۔۔۔اندر سرمئی کلر کی ہنڈا سوک کھڑی تھی ۔۔ماڈل نیو تھا ۔۔میں نے جیپ کھڑی کر کے کار کی چابی لے لی ۔۔۔ثریا میرے قریب ہی تھی ۔۔۔مجھے سے لپٹ کر میرے گالوں پر بوسہ دیا اورپوچھا کہ اگر تمہیں کچھ ٹائم کے لئے یہاں کام مل جائے تو ۔۔۔۔۔معاوضہ تمہاری مرضی کا ہوگا۔۔۔۔۔تم میرے دوست کی طرح میرے ساتھ رہو گے اور مشورہ دیتے رہنا ۔۔۔۔۔میں نے حامی بھر لی ۔۔۔ثریا نے رات وہیں رہنے کا کہا مگر میں نے منع کیا کہ کچھ ضروری کام ہے ، میں کل چکر لگاتا ہوں ۔۔۔ثریا نے مجھے اپنا نمبر دیا اور ایک مرتبہ پھر مجھے سے لپٹتی ہوئی کہنے لگی ۔۔راجہ پہلی ملاقات میں کسی پر بھروسہ نہیں کرتی ۔۔مگر تم پھر بےاختیار بھروسہ کرنے کا دل کرتا ہے ۔۔۔۔۔کل ضرور آنا میں انتظار کروں گی ۔۔۔۔میں نے سرہلاتے ہوئے واپس ہونے لگا۔۔ہنڈا سوک اچھی حالت میں تھی ۔۔۔میں آدھے گھنٹے میں زرتاش کے گھر کے سامنے تھے ۔۔۔اندر پہنچا تو سب پریشان بیٹھے تھے ۔۔۔۔۔۔جان شیر پہنچ چکا تھا ۔۔۔اور گل بانو کو بتا دیا تھا کہ میں مارکیٹ سے اچانک غائب ہو گیا ۔۔۔۔۔میں نے بہانہ بناتے ہوئے انہیں مطمئن کیا ۔۔۔اور پھر ہم کھانے پر بیٹھ گئے ۔۔۔۔بھوک تو میری اڑ ہی چکی تھی ۔۔۔پھر بھی کچھ نوالے توڑ کر میں نے گل بانو سے چائے کا کہہ کر اپنے روم میں آگیا ۔۔کی گئی شاپنگ جان شیر لے آیا تھا ۔۔۔میں باتھ روم گیا اور شاور لینے لگا۔۔۔شاور کے نیچے کھڑے کھڑے پچھلے واقعات میرے ذہن میں پھر سے گھوم رہے تھے ۔۔۔۔وہ لڑکی کا لہجہ کچھ چغلی کھا رہا تھا ۔۔۔ساتھ ہی اس کا پسٹل چلانے کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ ہتھیاروں سے اچھی طرح واقفیت رکھتی ہے ۔۔۔کچھ دیر بعد اس کا سڈول جسم میرے سامنے کوندا تھا۔۔۔۔میں نے جلدی سے شاور ختم کیا اور باہر نکل آیا ۔۔۔۔۔گل بانو کمرے میں آچکی تھی ۔۔اس سے چائے کا کپ پکڑ کر میں بیڈ پر جا بیٹھا ۔۔۔۔۔۔گل بانو بھی اوپر کو بیٹھتی ہوئی بیڈ سے ٹیک لگا چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے چائے کاکپ اٹھا لیا ۔۔۔۔گل بانو نے دوبارہ سے پوچھا کہ آج آپ کہاں چلے گئے تھے ۔۔میں نے مختصر اسے سب قصہ سنا دیا ۔۔۔۔زرتاش کے سامنے تو کچھ کہ نہیں سکتا تھا ۔۔۔وہ بھی متفکر ہوگئی کہ یہ کون سی مصیبت یہاں آن پڑی ہے ۔۔۔۔۔۔اس نے مجھ سے ثریا کا پوچھا تو میں نے اس کا حلیہ بتا دیا ۔۔۔۔۔۔بڑی خطرناک لگتی ہے ۔۔۔گل بانو بڑ بڑائی تھی ۔۔۔بچ کے رہیئے گا ۔۔۔۔۔۔میں نے ہنس کر کہا کہ کچھ نہیں ہونا۔۔۔میں نے اسے یہ نہیں بتایا کہ اس نے مجھے کل بلایا تھا ۔۔۔چائے پی کر میں نے کپ سائیڈ پر رکھ دیا ۔۔تو گل بانو مجھے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔نگاہیں شوخ تھی ۔۔اور مسکراہٹ شرارت سے بھری ہوئیں ۔۔۔میں نے بھی اس کے لئے بانہیں پھیلا دی ۔۔۔۔۔اپنی مخصوص مہک اور گرمی کے ساتھ وہ مجھ سے لپٹی ہوئی تھی ۔۔۔ کپڑوں سے باہر نکلتی ہوئی گرمی مجھ میں سرائیت کرتی جا رہی تھی ۔۔۔میں نے بیڈ سے ٹیک لگائی تھی ۔۔۔۔جبکہ گل بانو میرے برابر میں ہی مجھ پر گری ہوئی تھی ۔۔۔۔اس کا نرم نرم جسم مجھ پر ٹکا ہوا تھا ۔۔۔ہم دونوں کے چہرے ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے ۔۔۔۔ہونٹوں کی آپس میں لڑائیاں جا رہی تھیں ۔۔۔کل کی ادھوری ملاقات آج پوری ہونے جا رہی تھی ۔۔۔۔میں نے بھی بھرپور شدت سے حملہ کیا تھا ۔۔۔اور گل بانو کو بیڈ پر لٹاتے ہوئے اس کے اوپر آیا تھا۔۔۔اس نے لیٹنے ہی اپنے ہاتھ اٹھا کر میرے سر پر رکھ دیئے ۔۔میں اس کے ہونٹوں کو چومتا ہوا ۔۔اس کے سینے کے بھرے بھرے ابھاروں کو ٹٹول رہا تھا ۔۔۔جو آج اپنی نرمی اور گرمی سے مچلے جا رہےتھے ۔۔۔۔دونوں ہاتھ اس کے سینے پر گردش کررہے تھے ۔۔۔اسے بھنبھور رہے تھے ۔۔اور گل بانو کو سسکنے پر مجبور کر رہے تھے ۔۔۔۔کھلے گلے کی یہ قمیض جہاں ا س کے بڑے بڑے مموں کو سمبھالنے سے قاصر تھی ۔۔۔وہیں اس کے مموں کو اوپر کو اٹھنے کا راستہ بھی دیتی تھی ۔۔اور اب بھی میرے ہاتھ کی زور آزمائیوں سے اس کی گردن کی طر ف سے گہری کلیویج بنی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔میں نے اسے اٹھاتے ہوئے بٹھا یا اور پھر قمیض اتار دی ۔۔نیچے برا میں نرم نرم گولائیا ں میری منتظر تھیں ۔۔برا اتار کر ۔۔۔۔میں بھی جلد باز بچے کی طرح جلدی سے تھا متا ہوا منہ میں ڈالنے لگا۔۔۔۔۔بھاری بھرکم سی یہ چھاتیاں مجھے لفٹ نہیں کر وا رہی تھیں ۔۔۔میں بھی دونوں ہاتھوں میں اسے قابو کرنے کی کوششو ں میں مصروف تھا ۔۔۔گل بانو کا چہر ہ لال ہو ا جا رہاتھا ۔۔۔اور سسکیاں نکال کر مجھے داد دے رہی تھی ۔۔۔میں نے اچھی طرح سے اس کی چھاتیوں کا رس پیا اور ۔۔۔پھر نیچے کو اترنے لگا۔۔۔۔شلوار نیچے کھینچنے کے بعد پہلے سے بھی زیادہ صاف اور پھولی ہوئی سیپی میرے سامنے تھی ۔۔۔ گل بانو اپنی ٹانگیں بند کرتے ہوئے اسے چھپانے لگی ۔۔۔مگر میں نے اس کی ٹانگیں اوپر اٹھا کر نیچے سے راستہ بنا لیا ۔۔اور ایک انگلی اندر ڈال کر ہلانے لگا ۔۔۔۔۔گل بانو کی چوت گیلی ہونا شروع ہو گئی تھی ۔۔میں کچھ دیر دیر انگلی ہلاتا رہا ۔۔۔اور پھر اس کی ٹانگیں نیچے کرتے ہوئے لیٹا دی ۔۔۔اور اس کے اوپر بیٹھتا ہوااس کے چہرہ پر جھک گیا ۔۔ساتھ ہی اپنی شرٹ اتارنا شروع کر دی ۔۔۔جلد ہی میرا اوپر بدن ننگا ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔میں سائیڈ پر لیٹا اور پینٹ بھی اتارنے لگا ۔۔۔۔انڈررئیر اتارنے کے بعد ہتھیار سامنے تھا ۔۔۔۔کل شام کی پیاس پوری نہ ہونے کا باعث روٹھا روٹھا تھا ۔۔۔گل بانو بھی میری طرف دیکھ رہا تھا ۔۔ایک مرتبہ پھر اس کی سانسیں رکنےلگی تھی ۔۔۔میں دوبارہ سے اس کے اوپر جا بیٹھا تھا ۔۔۔اس طرح کہ میرے جسم کا زور میری ٹانگوں پر ہی رہے ۔۔ہتھیار اس کے دونوں گوشت سے پر مموں کے درمیان سکون سے لیٹا ہوا تھا ۔۔۔۔گل بانو نے اپنے سرکے نیچے ایک تکیہ اور لگایا اور تھوڑا سا اٹھ کر دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔ہتھیار اسکے مموں کے درمیان سے ہوتا ہوا اس کے منہ تک پہنچ رہا ۔۔۔گل بانو نے منہ کھول اور میں نے تھوڑا سا آگے بڑھا دیا ۔۔۔ہتھیار گل بانو کے منہ پر جا کر رک گیا تھا ۔۔۔ٹوپے کی آگے کی نوک کے علاوہ کچھ بھی اس کے منہ میں نہیں جا رہا تھا ۔۔۔۔۔گل بانو اسی پر زبان پھیرنے لگی ۔۔۔اور دونوں ہاتھ سے اپنے مموں کو اکھٹا کرتی ہوئی میرے ہتھیار پر دبانے لگی ۔۔۔۔ایک نرم نرم سااحساس مجھے لگا تھا ۔۔۔۔گل بانو نے اپنے ممے میرے ہتھیار کے گرد دبا دئیے تھے ۔۔میں نے آگے پیچھے حرکت کرنی شروع کی ۔۔۔جو اس کے منہ پر ختم ہوتی تھی ۔۔۔۔جہاں اس کے ہونٹ میرے ہتھیار کی نوک اور ٹوپے کو روکتے اور لبیریکیٹ کرتے ۔۔۔۔میں نے تھوڑی اسپیڈ تیز کی ۔۔۔۔اور تیزی سے حرکت دینے لگا۔۔۔۔اب میں ٹوپ کو بالکل پیچھے لے جاتا ۔۔۔۔اور گل بانو اپنے مموں کوسے آگے کا راستہ بند کردیتی ۔۔۔ٹوپے کی سختی سے ہتھیار پھنستا ہوا اندرجاتا ۔۔۔۔۔کچھ دیر تک ایسے ہی ہوتا رہا ۔۔۔پھر میں اس کے اوپر سے ہٹتا ہوا ساتھ لیٹ گیا ۔۔۔۔اور گل بانو کو اوپر آنے کا اشارہ کیا۔۔گل بانو جلدی سے اٹھی میر ے ٹانگوں پر بیٹھتی ہوئی ہتھیار کو اپنے ہاتھ میں تھام اور اس پر تھوک پھینکتی ہوئی گیلا کرنے لگی ۔۔۔۔کچھ تو ہتھیار پہلے ہی گیلا تھا ۔۔۔اور مزید اب ہو گیا تھا ۔۔۔اس کے بعد پھر ہتھیار کی سید ھ میں آتے ہوئے اس پر بیٹھنے لگی ۔۔ہتھیار نے کافی اوپر ہی اس کی چوت کو اور گل بانو کو بیٹھنے سے روک دیا تھا ۔۔۔گل بانو نے ٹوپے پر چوت رکھ کر ہلکی سی بیٹھی تھی ۔۔۔۔نہایت تیزی سی ٹوپے اندر کو لپکا تھا ۔۔گل بانو تھوڑی سی اور بیٹھی اورکچھ اور اندر غڑاپ سے گھسا تھا ۔۔۔گل بانوکی ایک تیز سسکی نکلی ۔۔۔اوہ ۔۔۔۔سس ۔۔۔۔اور پھر اپنے گھٹنے پر ہاتھ رکھتی ہوئی خود کو روکے رکھا۔۔۔کچھ دیر تک وہ مزید اس پوزیشن پر رہی ۔۔۔۔۔۔۔اور پھر مزید بیٹھنے لگی ۔۔۔۔کچھ دیر تک آہیں بھرتی ہوئی وہ آدھے ہتھیار کو اندر لے چکی تھی ۔۔۔۔گل بانو کا منہ سرخ ہو چکا تھا ۔۔و ہ ضبط کرتی ہو ئی خود کو اس پوزیشن پر روکے ہوئی تھی ۔۔۔اس کے ممے بھی اس کے ساتھ ہی ساکت ہوئے وے تھے ۔۔۔۔۔گل بانو کی ہمت برداشت دینے لگی تو وہ آگے کو ہوتی ہوئی گھٹنے رک کر مجھ پر بیٹھنے گئی ۔۔۔اس کے دونوں گھٹنے بیڈ پر میری ارد گرد تھے ۔۔۔۔اور بھاری بھرکم ممے میرے اوپر گرے پڑے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔ساتھ ہی گل بانو کے منہ سے ایک ساتھ کئی سسکاریاں نکلیں ۔۔۔۔وہ اپنے ہاتھ میرے سینے پر رکھ کر سہار ا لے رہی تھی ۔۔۔۔میں نے پیچھے ہاتھ بڑھا کر اس کے چوتڑ تھام لیے اور دبانے لگا۔۔۔۔گول اور نرم میدے جیسے یہ چوتڑ میرے ہاتھ کے لمس سے لال ہونے لگے تھے ۔۔۔۔گل بانو میرے سینے پر ہاتھ رکھے ہلکے ہلکے سے اوپر نیچے ہو رہی تھی ۔۔۔میرا ٹوپ ہی اس کی چوت کے منہ میں پھنسا ہوا تھا ۔۔اور اپنی پوری موٹائی کے ساتھ آگے پیچھے حرکت کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔میں نے چوتڑ سے ہاتھ ہٹا کر اس کے بازوؤں کے نیچے سے اس کے ممے دبوچ لئے جو میرے چہرے پر نرم اسفنج کی طرح پھرے جار ہے تھے ۔۔۔۔ساتھ ہی اسے منہ میں پکڑنے لگا ۔۔۔۔گل بانو کی گرم گرم سسکاریاں اور آہیں اب بھی نکلی جا رہی تھی۔۔۔وہ کچھ دیر اپنا زور لگانے کے بعد مدد طلب نظروں سے مجھے دیکھنے لگی ۔۔۔میں نےلیٹی ٹانگیں سمیٹیں ۔۔۔۔اور ۔۔گھٹنے اوپر کردئیے ۔۔۔۔ساتھ ہی کمر کو اچھالتے ہوئے پہلا جھٹکا پڑا تھا ۔۔۔۔۔گل بانو کی ایک تیز چیخ نکلی وہ تھوڑی سی اوپر کو اچھلی تھی ۔۔۔ممے بھی اپنے پورے وزن کے ساتھ ہوا میں اچھلے تھے ۔۔۔۔۔۔اوروہ دوبارہ سے نیچے آئی تھی ۔۔جہاں پہلے سے زوردار جھٹکا اس کا منتظر تھا ۔۔۔وہ پھر سے چیختی ہوئی اچھلی تھی ۔۔۔اور اب ٹانگوں پر زور دے کر خود کو اوپر روکے ہوئی تھی ۔۔۔پھر کچھ دیر بعد خود ہی نیچے ہونے لگی ۔۔۔۔میں نے بھی اب تھوڑے تھوڑے وقفے بعد گہرے جھٹکے مارنے شروع کر دیا ۔۔جو بجلی کی سی تیزی اندر گھستے اور گل بانو کو اوپر تک اچھال دیتے ۔۔۔۔اور اس کی آہوں کو بے اختیار نکال باہر کرتے ۔۔۔۔تین چار بار درمیانی اسپیڈ میں دھکے دیتے ہوئے ایک تیز جھٹکا ۔۔۔گل بانو اسی طرح میرے سینے پر ہاتھ رکھے تھوڑی سی مجھ پر جھکی ہوئی ۔۔۔پیچھے سے چوتڑ کو باہر نکالے ہوئے اندر کی طرف کمان کی طرح مڑی ہوئی تھی ۔۔آگے سے ممے میرے چہرے سے ٹکرا رہے تھے ۔۔۔۔گل بانو کافی آگے کو ہو کر بیٹھی ہوئی تھی ۔۔جس کی وجہ سے صرف آدھا ہتھیار ہی مار کر پاتا تھا ۔۔۔۔۔میں نے گل بانو کی صحت مند رانیں پکڑے ہوئے اسے تھوڑا سا نیچے کیا ۔۔۔۔ساتھ ہی جھٹکے کا نمبر تھا۔۔۔گل بانو ۔۔اوہ ہ ہ ۔۔۔۔اوئی ۔۔۔کی آواز نکالتی ہی اوپر کو اچھلی ۔۔۔۔پھر میں نے مستقل جھٹکوں کی مشین چلا دی ۔۔۔۔گل بانو کی سسکیاں نکلتی گئیں ۔۔وہ میرے سینے پر ہاتھ رکھے ایسے اچھل رہی تھی ۔۔۔جیسے کوئی اناڑی پہلی مرتبہ گھوڑے پر بیٹھا ہو اور اونچے نیچے رستے پر گھوڑا بھاگ رہا ہو۔۔۔۔کچھ دیر بعد گل بانو تھکنے لگی تو میں نے اس طرح اسے سائیڈ پر لٹا یا اور خود اوپر آ گیا ۔۔۔۔اس کی ٹانگیں میری کمر کے گرد لپٹی ہوئی تھیں ۔۔۔۔جب میں نے ہتھیار کو اندر تک گھسایا تھا ۔۔گل بانو ایک تیز چیخ مارتی ہوئی اوپر کو کھسکی تھی ۔۔۔۔۔مگرمیں نے دونوں ہاتھ اس کے ممے پر جما کر ممے دبوچ لیا ۔۔۔۔ہتھیار باہر کھینچے ہوئے دوبارہ سے گھسایا تھا ۔۔۔گل بانو پھر سے چلائی تھی ۔۔۔۔میری ٹانگوں پر ہاتھ رکھے وہ زور لگا کر مجھے دھکیلنے کی کوشش میں تھی ۔۔۔۔۔میں نے ممے زور سے دبوچتے ہوئے اوپر کو کھینچے اور پھر چھوڑے ۔۔۔۔۔دوبارہ سے جکڑ کر ایسےکھینچے کہ اوپر آتے ہوئے صرف نپلز ہی میرے ہاتھ میں بچتے اور وہ بھی کافی اوپر تک کھنچے چلے آتے ۔۔۔تیسرا جھٹکے پر ایسے ہی آہ نکلی تھی ۔۔۔۔اور پھر اس کی آہوں نے کمرہ گرما دیا ۔۔۔۔نیچے سے جھٹکے بھی اسی اسپیڈ سے جاری تھی ۔۔۔۔۔۔۔گل بانو کو پورا بد ن لرزرہا تھا ۔۔۔بیڈ بھی کپکپانے لگا تھا ۔۔۔گل بانو کے بال بے ترتیب ہونے لگے ۔۔۔۔۔اور چہر ہ سرخ سے سرخ تر ہوتا گیا ۔۔۔۔اگلے پانچ منٹ میں نے ٹھہر ٹھہر کر گہرے گہرے جھٹکے مارے جو اندر تک گل بانو کو ہلا دیتے ۔۔۔۔۔۔انہیں آہو ں اور سسکیوں میں گل بانو فارغ ہوئی تھی ۔۔۔۔۔مگر میری منزل دور تھی ۔۔۔کچھ دیر ایسے ہی جھٹکے مارتے ہوئے میں رکا ۔۔۔اور گل بانو کو گھوڑی بنانے لگا ۔۔۔۔تکیہ نیچے رکھتی ہوئ وہ اوندھے منہ لیٹی اور پیچھے سے چوتڑ کو اٹھا دیا ۔۔۔۔میری پکڑ سے سرخ ہوئے چوتڑ اب اوپر کو اٹھے ہوئے تھے ۔۔۔۔میں پیچھے کی طرف آیا اور ۔۔ہتھیار کے ٹوپے کو چوت کے منہ پر رکھا اور دھکا دے دیا ۔۔۔۔۔گل بانو کچھ آگے کو ہلی ۔۔میں نے کمر کو پکڑتے ہوئے پور ا ہتھیار اندر دھکیل دیا ۔۔۔۔۔گل بانو بس آہوں اور سسکیوں سے ہی جواب دے سکتی تھی ۔۔سو دینا شروع کر دیا ۔۔۔اور میں نے تیز رفتاری سے گھڑ سواری شروع کر دی ۔۔۔۔جھٹکے تیز ہوئے تو گل بانو کا چہر ہ بھی بیڈ پر لگنے لگا ۔۔وہ اٹھ کر اپنے بازؤوں پر کھڑی ہو گئیں ۔۔۔گانڈ تھوڑی سی پیچھے سے جھک گئی تھی ۔۔میں بھی تھوڑا جھک کر اسی تیزی سے جھٹکے مارنا لگا۔۔۔گل بانو نے اپنی ہتھیلی میں بیڈ شیٹ دبوچے ہوئے مستقل آگے کو ہلی جا رہی تھی ۔۔اور پیچھے سے بغیر رکے ہتھیار گھستا جار ہا تھا ۔۔۔۔گل بانو کے ممے بھی آگے سے بار باراچھلے جا رہے تھے ۔۔۔۔۔تھوڑی دیر بعد گل بانو ہاتھ اٹھا کر کھڑی سی ہوگئی اور۔۔اپنے دونوں ہاتھ پیچھے لے جا کر میرے سر پر رکھ دئے ۔۔۔وہ بیڈ پر گھٹنے کے بل چوتڑ نکالے کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔اور میں پیچھے اسی تیزی سے جواب دے رہا تھا ۔۔۔کچھ دیر ایسے جھٹکے دینے کے بعد میں تھکنے لگا۔۔۔تو پوزیشن تبدیل کر دی ۔۔گل بانو کولٹا کر اس کے ٹانگیں اٹھا دی ۔۔۔اور اپنے کندھے پر رکھ دی ۔۔۔ساتھ ہی اس کے چوتڑ کھینچ کر تھوڑا ساہوا میں اٹھا دیا ۔ اسے کی چوتڑ ہوا میں لہرا رہی تھی ۔۔۔جبھی میں نے پہلا جھٹکا مارا تھا ۔۔۔۔۔گل بانو کا منہ ایک دم سے کھلا اور بند ہوا۔۔۔اس کے بعد میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ۔۔۔اور دھکے پر دھکے دیتا رہا ۔۔۔گل بانو کی سسکیاں بھی اتنی ہی بلند تھی ۔۔۔وہ بار بار مجھے آہستہ ہونے کا کہتی ۔۔۔مگر یہ مشکل تھا۔۔۔اس کے ممے اچھل اچھل کر تھکنے لگے تھے ۔۔۔۔۔میرے جھٹکے اب تیز سے تیز ترہوتے جارہے تھے ۔۔میرے فارغ ہونے کا ٹائم قریب تھا ۔۔۔اور پھر میرے جھٹکے طوفانی ہوئے ۔۔۔۔۔گل بانو کی دہائیاں اسی طرح جاری تھی ۔۔۔۔وہ بھی فارغ ہونے کے قریب تھی۔۔۔۔میرے منہ سے ایک غراہٹ نکلی تھی ۔۔۔ہتھیار پورا کا پور ا اندر جا کر ٹٌھکا تھا ۔۔۔۔گل بانو پھر سے چلائی تھی ۔۔۔۔اور پھر چند اور طوفانی جھٹکوں کے بعد میرا خون نیچے کر طرف اکھٹا ہونا شروع ہوا ۔۔۔۔ایک تیز فوارہ نکلا جو گل بانو کی چوت میں جا کرٹکرایا تھا ۔۔۔۔ساتھ ہی گل بانو نے بھی پانی بہا کر مجھے خراج تحسین پیش کیا۔۔۔۔۔میں کافی دیر تک پانی نکالتا رہا ۔۔جھٹکے اسی طرح جاری تھے ۔۔۔اور پھر ساتھ لیٹ کر سانس برابر کرنے لگا۔۔۔۔۔۔گل بانو اسی طرح مجھ سے لپٹ گئیں اور ہم نیند کی وادیوں میں گرتے چلے گئے ۔۔۔۔۔ قسط نمبر6 ۔ اگلی صبح دیر سے اٹھا ۔۔۔فریش ہو کر روم میں آیا تو گل بانو ابھی تک سو رہی تھی ۔۔۔۔میں باہر آیا تو جان شیر اور زرتاش کی ہنسی میرے کانوں میں پڑی ۔۔وہ دونوں کسی بات پر ہنس رہے تھے ۔۔مجھے آتا دیکھ کر زرتاش اٹھی ۔۔اور ناشتے کا پوچھا ۔۔میں نے چائے کا کہا اور جان شیر کے برابر جا بیٹھا ۔۔۔۔جان شیر کا مذاق اور لطیفے اب بھی جاری تھے ۔۔۔۔میری ذہن تھکن تیزی سے ختم ہونے لگی ۔۔۔۔زرتاش چائے لے آئی ۔۔میں نے چائے پی کر زرتاش اور جان شیر کو بتایا کہ ایک دوست کی طرف جانا ہے ۔۔میں دوپہر تک آ جاؤں گا ۔۔وہ کچھ فکر مند سے ہو گئے ۔۔مگر میں نے مطمئن کرتے ہوئے کہا آپ لوگ فکر نہ کریں میں دوپہر میں لازمی پہنچ جاؤں گا۔۔۔۔ باہر آ کر کار میں بیٹھا اور ثریا خانم کی طرف چل پڑا ۔۔۔۔اس کے گھر کے سامنے گاڑی روکی تو دروازہ کھلتا چلا گیا ۔۔۔۔میں گاڑی اندر لے گیا ۔۔ثریا خانم بے چینی سے میرے انتظار میں تھی ۔۔۔۔میں چاروں طرف نظر دوڑاتے ہو ئے اندر بڑھ گیا۔۔۔۔۔ڈرائنگ روم میں بیٹھتے ہوئے ثریا خانم میرے سامنے بیٹھی تھی ۔۔۔۔رات والی ڈری سہمی ثریا نہیں ۔۔بلکہ پراعتماد ، پر غرور اور خود کو محنت سے تیار کی ہوئی ثریا خانم تھی ۔۔میں کچھ دیر ایسے ہی اسے دیکھتا رہا۔۔۔۔۔پھر ثریا بولی ۔۔راجہ تمہاری رات والی ہمت اور بہادری نے مجھے بہت متاثر کیا ہے ۔۔۔۔۔۔میں اب تک یہاں اکیلی ہی تھی ۔۔اور تم جیسے ہی کسی دوست اور پارٹنر کی ضرورت تھی ۔۔۔۔اگر ہوسکے تو کچھ وقت میرے ساتھ رہو ۔۔اگر تمہارا دل مطمئن ہو جائے تو ٹھیک ۔۔ورنہ جب چاہو چھوڑ کر چلے جانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ثریا کا لہجہ التجائیہ تھا ۔۔میں نے ہامی بھر لی ۔۔۔۔۔۔اور پوچھا کہ تم کام کیا کرتی ہو ، اور میں کس طرح تمہاری مدد کر سکتا ہوں ۔۔۔۔۔ راجہ۔ ایک تو کنسٹرکشن کا کام ہے ۔۔ہم مختلف ممالک میں سول انجینئر اور دوسرے اسٹاف کو بھیجتے ہیں ۔۔۔۔۔اور ان پر ہمارا کمیشن بنتا ہے ۔۔۔۔مگر آجکل ایک مسئلہ ہوا ہے ۔۔ہم نے کچھ مہینے پہلے سول انجینئرز افغانستان میں بھیجے تھے ۔۔۔مگر وہاں ان پر کچھ حملے ہوئے اور اب وہ کام روک کر واپس آنے پر زور دے رہے ہیں ۔۔۔۔کنسٹریکشن سائٹ تقریبا مکمل ہی ہے ۔۔۔مگر انجینئرز کی وجہ سے مزدور وغیرہ بھی کام کرنے سے انکار کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔ ان کی سیکورٹی کے لئے میں کچھ بندے ہائر کر افغانستان بھیجنا چاہ رہی تھی ۔۔۔رات کو جن لوگوں نے مجھ پر حملہ کیا تھا ۔۔میں اسی کام کے لئے ان کے پاس گئی تھی ۔۔مگر وہ مجھے اکیلا جان کر شیر ہوگئے ۔۔۔میں بڑی مشکل سے جان چھڑا کر وہا ں سے نکلی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر میری تم سے ملاقات ہو گئی ۔۔۔۔تم ہی کوئی مشورہ د و۔۔۔۔۔ثریا نے ایک سانس میں پوری کہانی سنا دی تھی ۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے اس کا میں کچھ سوچتا ہوں ۔۔۔کہ کیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔۔۔۔ چلو آؤ تمہیں یہ عمارت دکھا دوں ۔۔۔۔ثریا مجھے لے کر عمارت کے اندرونی حصے کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔ایک کھلے ہال کی چاروں طرف کمرے سے تھے ۔۔۔۔اور مختلف حصوں سےآوازیں اور باتوں کی آواز آ رہی تھی ۔۔رات کو یہ جگہ بہت خاموش سی لگی تھی ۔۔ایک کمرے میں ثریا مجھے لئے پہنچی تو اندر کافی لڑکے گیارہ ، سال سے لیکر 15 سال کی عمر کے بیٹھے ہوئے تھے ۔۔۔مجھے کچھ عجیب سا احساس ہوا یہ سب ذہنی معذور تھے ۔۔۔کچھ کی رالیں ٹپک رہی تھیں اور کچھ اپنے گردوپیش سے بے خبر اپنی دنیا میں تھے ۔۔۔۔۔۔ثریا نے مجھے بتایا کہ یہ بھی اس کا ایک خواب ہے ۔۔وہ ان ذہنی معذور کو ملک کے مختلف حصوں سے اکھٹا کرکے ان کی پرورش کرتی تھی ۔۔۔میں نے ان کے کام کرتی ہوئی کچھ عورتوں کو دیکھا جو مقامی ہی تھی ۔۔۔اس کے بعد وہ مجھے لئے عمارت کے ایک اور حصے کی طرف بڑھ گئی جہاں میں نے 13 سے 16 سال کے لڑکوں کو دیکھا ۔۔۔۔۔ایک بڑے سے ہال میں ایک طرف ان کے بستر لگے ہوئے تھے ۔۔۔جبکہ دوسری طرف بلیک بورڈ اور کتابوں کے شیلف لگے ہوئے تھے ۔۔۔جہاں ان کی تعلیم و تربیت کا انتظا م تھا ۔۔۔بچے حیرت سے مجھے دیکھ رہے تھے ۔۔جبکہ ثریا کو دیکھتے ہوئے ان کے چہرے پر خوف کےتاثرات تھے ۔۔شاید وہ اس سے ڈرتے تھے ۔۔یہاں میں نے استاد مقامی اور غیر مقامی دونوں دیکھے تھے ۔۔۔۔ ہم یہاں سے پھر باہر کی طرف نکلے ۔۔۔مجھے کچھ چیز بہت بے چین کر رہی تھی ۔۔ایسا لگ رہا تھا کہ کچھ نگاہیں مجھے مستقل گھور رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔ہم باہر ہال میں نکلے تو میں نے اوپر کی طرف دیکھا ۔۔اوپر ی منزل پر مجھے لگا کہ کوئی اچانک سائیڈ پر ہوا ہے ۔۔۔۔ثریا مجھے لئے ایک اور حصے پر گئی جہاں کچھ اور لوگ تھے ۔۔یہ عمر میں بیس سے 25 سال کے تھے ۔۔اور ان کی تعداد بھی 30 کے قریب تھی ۔۔۔۔۔ راجہ یہ لڑکے میں نے سیکورٹی کے لئے اکھٹے کئے تھے ۔ہمیں ایک مکمل سیکورٹی ایجنسی بنانے کی ضرورت تھی ۔۔۔۔۔۔ان میں سے کچھ یتیم ہیں اور کچھ کے والدین مختلف خود کش دھماکوں میں مارے گئے تھے ۔۔۔اس لئے ان کا بھی کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔۔یہاں ان کو روزگار اور کھانے پینا سب اچھے سے ملتا ہے ۔۔ اس کے بعد ثریا مجھے لئے ہوئے واپس آئی ۔۔۔میں نے اسے سراہتے ہوئے اس کی تعریف کی اور کہا کہ میں ذہنی طور پر کافی متاثر ہوا ہوں۔۔۔۔تم کافی خدمت خلق کا کام کر رہی ہو ۔۔۔۔اب میرا بھی فرض بنتا ہے کہ تمہاری مدد کی جائے ۔۔۔۔ثریا نے میرے لئے چائے منگوائی اور ٹٹولتی ہوئی نظروں سے میرا جائز ہ لینےلگی ۔۔۔۔ میں بڑے ہی اطمینان سے چائے پیتا ہوا بولا ۔۔تو ابھی تمہیں کچھ ایسا انسٹرکٹر چاہیے جو ان لڑکوں کو جلد از جلد تربیت دے ۔۔۔۔تاکہ تم آئند ہ اپنے انجینئرز اور اسٹاف کو تحفظ فراہم کر سکو۔۔۔۔۔ ہاں ، تمہاری تو سیکورٹی ایجنسی بھی ہے ۔۔تمہارے پاس کوئی ایسا انسٹرکٹر ہو جو ہفتوں میں انہیں ٹرین کرسکے ۔۔۔۔۔میں نے بتایا کہ ہاں انسٹرکٹر تو ہے ، مگر وہ غیرملکی ہیں اور بہت زیادہ پیسے لے کر کام کرتے ہیں ، اس کے علاوہ مجھے اپنے باس سے بھی بات کرنی ہوگی ۔۔۔۔ ثریا بولی جو بھی ان کا معاوضہ ہو گا ۔۔میں دینے کو تیار ہوں ۔ بس تم اپنے باس سے بات کر لو۔۔۔۔میں نے موبائل نکالتے ہوئے عمران صاحب کا فون ملا دیا ۔۔ جلد ہی عمران کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی تھی ۔۔۔۔۔باس یہاں ایک دوست کو انسٹرکٹر کی ضرورت ہے ، دوست بہت قریبی ہے اور بہت قابل بندہ چاہئے ۔۔۔۔معاوضہ حسب فرمائش دیا جائے گا۔۔۔عمران صاحب نے جواب دیا کہ اگر زیادہ جلدی ہے تو دو بندے بھجوا دیتا ہوں ۔۔کام جلدی نبٹ جائے گا ۔۔۔میں نے ثریا سے پوچھا کہ دو بندے چلیں گے ۔۔۔۔۔ اس نے بھی ہامی بھر لی ۔۔۔عمران نے مجھے کہا کہ کل صبح تک بندے پہنچ جائیں گے ۔۔۔ ثریا ایک دم سے خوش ہو گئی تھی ۔۔اور میرے آگے بچھی بچھی جا رہی تھی ۔۔۔۔راجہ تمہارے آتے ہی میری قسمت چمک گئی ہے ۔۔ اب تم بتاؤ کہ تمہار ا کیا ارادہ ہے ، تم میرے ساتھ کام کرنے کو تیار ہوں ۔۔۔۔ خادم آپ کا ہر حکم بجالانے کو تیارہے ۔میں نے جواب دیا۔۔ثریا میرے صوفے پر آ کربیٹھی ۔میرے بازو پر اپنا وزن منتقل کرتے ہوئے ۔اور قریب ہوتے ہوئے کہنے لگی ۔۔کل رات میری کمپنی کے انجینئرز کی میٹنگ ہے ۔ کچھ غیرملکی انجینئرز بھی آ رہے ہیں ۔ ۔۔میں چاہتی ہوں کہ تم ایک رات کے لئےوہاں کی سیکورٹی کے لئے انچارج سمبھالو ۔ہمیں دشمنوں کی طرف سے بہت خطرہ ہے ۔۔اور ڈر ہے کہ وہ ضرور حملہ کریں گے ۔۔بس یہ سمجھو کو یہ میری دلی خواہش ہے ۔۔میں سب سے زیادہ تم پر بھروسہ کر سکتی ہوں ۔۔۔۔ثریا کی آوا ز میں لوچ اور چہرے پر انداز دلبرانہ ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔میں کچھ دیر اس کے چہرے کو دیکھتا رہا اور پھر سر ہلا دیا ۔۔وہ ایک دم خوش سی ہو گئی اور کہنے لگی کہ آج شام ہم یہاں سے نکلیں گے ۔۔تم چاہو تو کپڑے لے لو ۔۔ہم کل تک واپس آئیں گے ۔۔اور اگر تمہیں وہ جگہ پسند آ جائے تو تم کچھ ٹائم وہاںمیری جگہ سمبھال لینا ۔۔۔میں نے کہاکہ ٹھیک ہے ابھی میں چلتا ہوں ۔۔۔شام تک آ جاؤں گا۔۔۔۔ثریا بھی اٹھ کھڑی ہوئی اور مجھے گیٹ تک رخصت کرنے آئی ۔۔۔۔ میں نے کار نکالی اور گل بانو کی طرف پہنچا ۔۔ ۔۔دروازے پر دستک دی ۔۔۔اور پھر اندر جا پہنچا ۔۔گل بانو جاگ چکی تھی ۔اور باہر ڈرائنگ روم میں بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔گل بانو نہا دھو کر تیار ہو کر ترو تازہ لگ رہی تھی ۔۔ مجھے دیکھ کر ایک دم سے کھل اٹھی ۔۔میں قریب پہنچا تو مجھ سے لپٹ کر ایک بوسہ دیا ۔۔۔اور کہنے لگی کہ تیار ہو جاؤ ۔۔۔کمرے میں کوئی انتظار کر رہا ہے ۔۔۔۔میں تھوڑا حیران ہوا ۔۔ایک خیال تو یہ آیا کہ ٹائیگر آچکا ہے ۔۔۔مگر وہ آتا تو پہلے مجھے فون کرتا ۔۔۔۔گل بانو نے مجھے مہمان خانے میں دھکیلا۔۔میں اندر پہنچا تو زرتاش کمرے میں سرخ جوڑے میں آنکھیں بند کئے ہوئے لیٹی ہوئی تھی ۔۔۔۔سینے کا مدھم زیرو بم اس کے اونچے ابھاروں کو اور بھی اٹھا دیتا۔۔۔۔بے تحاشہ اونچائی سے کھڑے ہوئے یہ ابھار قمیض میں بری طریقے سے پھنسے ہوئے تھے ۔۔۔میں بتا چکا تھا کہ زرتاش گل بانو سے بھی کچھ صحت مند تھی ۔۔۔اور اس کے جسم کی خاص بات اس کے گول گول سرخ سیبوں جیسے گال۔ جس پر چھوٹے چھوٹے سرخ دانے اس کے حسن کو چار چاند لگا دیتے ۔۔۔۔گولڈن کلر کے لمبے بال ۔۔۔۔سینےپر بھاری بھرکم ممے جو گل بانو سے بھی ڈیڑھ گنا بڑے تھے ۔۔۔۔اور بڑے سے چوتڑجو پوری گولائیوں میں پھیلے ہوئے تھے ۔۔۔۔زرتاش کی بند آنکھیں آہستگی سے لرز رہی تھی ۔۔اور سینہ سانس لیتے ہوئے دھمک بجا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔میں نے لائٹ بند کی اور نائٹ بلب جلاتے ہوئے بیڈ پر چلا آیا ۔۔۔میری ساری تھکن اتر چکی تھی ۔۔۔۔بیڈ پر آتے ہوئے میں شرٹ اتار کر پھینک چکا تھا۔۔۔۔زرتاش کو دور سے دیکھتے ہی میرے بدن میں اک آگ سی جل اٹھی تھی ۔۔۔۔اور بے اختیار اپنے ہوش کھوتا چلا جا رہا تھا ۔۔۔زرتاش مجھ سے بھی زیادہ گرم تھی ۔۔جب سے جان شیر کے ساتھ اس کو دیکھا تھا ۔۔میرےاپنے اوسان خطا تھے ۔۔۔۔۔۔اور زرتاش کو اپنے بیڈ پر دیکھتے ہوئے میں کھنچا چلا جا رہا تھا ۔۔اس کے قریب جاتے ہی میں نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا ۔۔۔جو کہ گرمی سے تپی ہوئی تھی ۔۔سرخ سرخ ہونٹ مجھے اپنی طرف کھینچ رہے تھے ۔۔۔۔۔میں نے بھی ان کی بات سنی اور ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دئے ۔۔زرتاش تھوڑی سی ہلی تھی ۔۔۔۔اس کے سانس کا زیرو بم ایک دم اٹھا تھا ۔۔۔۔اس کی پلکیں لرزیں اور اس نے آنکھیں کھول دی ۔۔۔ہر ے رنگ کی یہ آنکھیں ۔۔۔جن میں اس وقت مستی نا چ رہی تھی ۔۔۔مجھے پگھلائے جا رہی تھی ۔۔۔پھر میں اختیار اس کے چہرے پر ٹوٹ پڑا ۔۔۔میں نے اس کے پورے چہرے کو چوم چام کر گیلا کر دیا ۔۔۔۔زرتاش کی آنکھیں کھل گئیں تھیں ۔۔۔ہونٹوں کو چومتے ہوئے وہ بھی میرا ساتھ دینے لگی ۔۔۔کیا چاشنی تھی اس کے ہونٹوں میں ۔۔۔۔ساتھ ہی ایک ہاتھ میں نے اس کے سینے پر رکھا جو کہ سختی سے تنا ہوا تھا۔۔۔۔اس کے بعد مجھے کچھ ہوش نہیں تھا ۔۔میں نے اس کی قمیض کیسے اتاری ۔۔۔۔کیسے شلوار اتاری ۔مجھے یاد نہیں ۔۔۔۔۔بس کچھ سیکنڈ بعد وہ لباس فطر ت میں میرے سامنے تھی ۔۔۔گورا بدن میرے سامنے چمک رہا تھا ۔۔۔۔بڑے سے ممے اپنی پوری اٹھان کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے ۔۔۔۔موٹی موٹی رانوں کے درمیان صاف ستھری سی سیب کی قاش رکھی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔میں نے دونوں ہاتھ اس کے ممو ں پر رکھے ہوئے اپنا چہرہ اس کی ٹانگوں کے درمیان لے گیا ۔۔۔۔۔چوت کو اوپر سے چومتےہوئے میں نے بوسہ دیا ۔۔۔اور ساتھ دونوں ہونٹوںمیں چوت کے لبوں کو دبوچنے کی کوشش کی ۔۔۔۔زرتاش کی ایک سریلی سی سسکی نکلی تھی ۔۔۔۔۔بےاختیار وہ اوپر کو اٹھی تھی ۔۔۔کچھ دیر تک میں ایسےہی چومتا رہا پھر ایک انگلی اندر داخل کر دی ۔۔۔اس کی چوت بہت ہی تنگ تھی ۔۔گل بانو سےبھی زیادہ ۔۔۔۔۔اور پھولی ہوئی بھی اس سے زیادہ ۔۔۔۔۔میری انگلی کےاندر جاتے ہی اس کی سسکی سی نکلی تھی ۔۔۔۔ایک ہاتھ نیچے مصروف کرتے ہوئے میں چہر ہ اوپر لے گیا ۔۔جہاں زرتاش کے بڑے سے خربوزے میر ے منتظر تھے ۔۔۔۔میں نے انہیں چومنا اور چاٹنا شروع کر دیا ۔۔۔۔نپلز بار بار میرے منہ سے نکلے جاتے اور میں انہیں اپنے منہ کے نیچے دبا کرقابو کرنے کی کوشش کرتا ۔۔۔۔۔۔زرتاش کی آنکھیں لال ہونا شروع ہو گئیں تھی ۔۔۔۔اور منہ سے سسکیاں ایسے ہی بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔۔کچھ دیر اور ہوئی ہو گی کہ ایک تیز سسکی کے بعد اس نے پانی چھوڑ دیا ۔۔۔۔ میں ویسے ہی بیڈ پر لیٹ گیا ۔۔زرتاش تھوڑی سی میری سائڈ پر کروٹ لے چکی تھی ۔۔۔اپنی نرم نرم ریشمی ٹانگ میرے اوپر رکھی تھی ۔۔۔۔اور چہرہ میرے چہرے کے اوپر تھا ۔۔ایک مخصوص گرم مہک مجھ سے ٹکرائی تھی ۔۔۔۔زرتاش اپنی ایک ٹانگ کو میری پینٹ کے اوپر گردش دے رہی تھی ۔۔۔اور اوپر سے چہرے کو چوم رہی تھی ۔۔اس کے ایک مما میرے سینے سے لگا ہوا تھا ۔۔۔۔۔میں اپنا ایک ہاتھ اس کی بیک پر لے گیا ۔۔اور بیک پر ہاتھ پھیرنے لگا ۔۔۔نیچے سے میرا ہتھیار اپنی اکڑ میں آتا جارہا تھا ۔۔۔میں نے آہستگی سے پینٹ نیچے سرکانے لگا ۔۔۔ایک ہاتھ تھا ۔۔کچھ دیر لگی ۔۔۔۔اور پھر ہتھیار اچھلتا ہوا زرتاش کی ران سے ٹکرا یا تھا ۔۔وہ ایکدم ہلی تھی ۔۔۔۔میں نے باقی پینٹ کو بھی پیروں سے کھینچ کر پھینک دیا ۔۔ہتھیار اپنی پوری سختی سے تنا ہوا تھا ۔۔۔۔زرتاش نے نیچے ہاتھ لے جا کراسے تھامنا چاہا تھا ۔۔۔اور پھر وہ ایک دم پیچھے ہٹی تھی ۔۔۔اور نیچے کو جھکی ۔۔۔۔ہتھیار کو تھامنے کی کوشش کی مگر وہ اس کی مٹھی میں آنے سے قاصر تھا ۔۔۔دوسر ا ہاتھ لگا کر وہ اسے قابو کر پائی تھی ۔۔۔۔اور دونوں مٹھیاں ایکدوسرے کے اوپر رکھ کربھی آدھے سے زیادہ ہتھیار باہر ہی تھا ۔۔۔زرتاش نے پیچھے مڑ کر مجھے دیکھا ۔۔اس کی نگاہوں میں حیرت اور خوف کےآثار تھے ۔۔۔ابھی تک اس نے صرف جان شیر کا ہی دیکھا اور لیا تھا ۔۔۔۔۔وہ دونوں ہاتھوں کو باری باری ہتھیار پر پھیرنے لگی ۔۔۔ہتھیار بھی اور مستی میں آئے جا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔زرتاش تھوڑی سی نیچے کو ہوئی اور اپنے منہ کو ہتھیار کی سیدھ میں لا کر منہ میں لینے لگی ۔۔۔۔ٹوپے کی نوک ہی جا سکی تھی ۔۔۔۔اور زرتاش اسے ہی چوسنے لگی ۔۔ایک لذت بھری لہر میرے جسم میں دوڑ رہی تھی ۔۔۔۔۔زرتاش بار بار اسے اور اندر لینے کی کوشش کرتی اور اپنے دانت میرے ہتھیار پر گاڑتی ۔۔۔۔۔میں اسے دیکھ ہی رہاتھا ۔۔دونوں ہاتھوں میں ہتھیار تھامے ہوئے درمیاں میں اس کے بڑے سے ممے جھول رہے تھے ۔۔۔۔۔گوشت سے پْر یہ کسی پانی سے بھرے ہوئے غبارے کی طرح لہرا رہے تھے ۔۔۔زرتاش کچھ دیر تک ہتھیار کو چوستی رہی ۔۔ساتھ ہی تھوک نکا ل کرٹوپے پر گراتی جا رہی تھی جو بہتا ہو نیچے تک آتا ۔۔اورزرتاش اسے پورے ہتھیار پر مل کر گیلا کرنے لگتی ۔۔۔اس کی آنکھوں کی چمک بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔۔ساتھ ہی جسم کی بے چینی اورحرکت بھی ۔۔۔۔۔دونوں ہاتھ ہتھیار پر ہونے کے باجود جسم کے مختلف اعضاء ہل ہل کر اپنی بےچینی مجھے بتا رہے تھے ۔۔۔۔جبکہ میری اپنی حالت بھی ایسی ہی تھی ۔۔۔۔زرتاش کے جسم کی نکلتی گرمی مجھے میں شامل ہونے کا بعد اب آتش فشاں کا روپ دھار چکی تھی ۔۔۔۔اور میں اسے کنٹرول کرنے کی کوشش میں ناکام ہوئے جار ہا تھا ۔۔۔تبھی میں نے زرتاش کا ہاتھ پکڑکر اسے خود پر کھینچا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ لہراتی ہوئی مجھ پر آئی تھی ۔۔۔ہونٹوں سے ہونٹ ٹکرائے ۔۔۔۔بھاری گول ممے میرے سینے پر دب کر زرتاش کو مجھ دور کرنے کی کوشش میں تھے ۔۔۔۔مگر وہ پورے زور سے مجھ تک پہنچ ہی گئی ۔۔۔۔۔میں نے اس کی ٹانگیں بھی اپنی ٹانگوں میں دبوچ لیا ۔۔۔۔۔۔نیچے کہیں ہتھیار ہمارے درمیاں لیٹا اپنی جگہ بنانے میں مصروف تھا ۔۔۔۔میں نے اسی طر ح زرتاش کی ٹانگوں کو جکڑے کروٹ لی تھی ۔۔۔۔۔زرتاش نیچے آئی تھی ۔۔اور میرے پورے جسم کا وزن اس کے اوپر تھا ۔۔۔میں نے اس کی ٹانگیں چھوڑی اور سائیڈ پر ٹیک لگا کر اپنا وزن سمبھال لیا ۔۔۔۔۔زرتاش کے بازو اٌسی طرح میری گردن کے گرد لپٹے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔میں نے اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے جکڑ لیاتھا۔۔۔ایک ہاتھ نیچے لے کر گیا اور ٹوپے کو زرتاش کی چوت پر ٹکا دیا ۔۔۔۔۔۔بھری بھری رانوں کے درمیان یہ چھوٹی سی سیپی اس وقت گیلی اور پانی سے بھری ہوئی تھی ۔۔۔۔۔میری کمرتھوڑی سی اٹھی ہوئی تھی ۔۔ٹوپے کو اوپر رکھنے کے بعد میں واپس ہاتھ اوپر لے گیا تھا ۔۔۔میرے ہاتھ اس کے کندھے پر تھے ۔۔۔جبکہ اس کے ہاتھ میری گردن کے گر د گھیرا ڈالے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔میں نے زرتاش کے ہونٹوں کو دوبارہ سے جکڑ ا ۔۔۔۔۔۔۔۔اور نیچے کمر کو حرکت دی ۔۔۔۔ہتھیار کا موٹا ٹوپا ایک سیکنڈ کے لئے چوت کے لبوں پر رکا تھا ۔۔۔مگر پیچھے سے آنے والے پریشر سے آگے کو لپکا ۔۔اور چوت کےلبوں کو چیرتا ہوا اندر جا پھنسا ۔۔۔۔۔۔زرتاش تڑپ کراٹھی تھی ۔۔۔۔۔مجھے اچھالنے کی کوشش میں آدھا ہتھیاراور اندر اتر گیا ۔۔۔۔۔۔۔زرتاش کی آنکھیں ایک لمحے کےلئے پھیلیں اور آنسو کے قطرے نیچے کو بہے ۔۔۔۔۔۔میں اسی طرح ہونٹ جکڑے اوپر لیٹا ہوا تھا ۔۔۔۔اس کی آوازیں اندر ہی دب رہی تھی ۔۔۔۔اس نے ہاتھ کاگھیرا کھول کر اٹھانے کی کوشش کی مگر ۔۔اس کے بازو کے پیچھے میرا ہاتھ تھا ۔۔وہ گھیرا کھول بھی دیتی تو ہاتھ پیچھے نہیں آتے ۔۔۔۔۔۔میں کچھ دیر ہتھیار وہیں روک کے رکھے لیٹا تھا۔۔۔۔اور پھر کمر کو اٹھا کر ہتھیار کو باہر نکالنےلگا۔۔۔۔۔پھنسی ہوئ چوت بھی ساتھ ہی آنا چاہ رہی تھی ۔۔مگر زرتاش کے وزن نے بیچ بچاؤ کروادیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں ٹوپ تک باہر نکلا کردوبارہ سے اندر دھکیلنے لگا ۔۔۔۔پانی سے بھری ہوئی چوت نے عجیب سی آواز نکالی اور دوبارہ سے ہتھیار اندر جا پھنسا ۔۔۔زرتاش کے منہ سے اب بھی ممم ۔ممم کی آوازیں آرہی تھی ۔۔۔۔میں کچھ دیر تک ایسے ہی ہتھیار کو باہر نکالتا اور ٹوپا اندر رکھ کر دوبارہ گھسا دیتا ۔۔۔۔۔۔زرتاش کی آنکھیں اک ٹک مجھ پر ہی جمی ہوئی تھی ۔۔۔جس میں پانی کے ساتھ قدرے غصے والا پیار بھی دِکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔میں نے آہستگی سے اِن آؤٹ جاری رکھی ۔۔۔۔۔اگلے پانچ منٹ تک میں ایسے ہی ہلکے ہلتا رہا ۔۔۔۔جب زرتاش نیچے سے پھر ہلنے لگی ۔۔۔وہ تھوڑی سی اوپر کو اچھلی تھی ۔۔۔میں اشارہ سمجھ گیا تھا ۔۔میں نے جھٹکے تھوڑے اور تیز کر دئے ۔۔۔اور پھر ایک زبردست وائبریشن کے ساتھ زرتاش کا جسم ہلا اور چوت میں پانی کا سیلاب آیا ۔۔وہ کافی دیر تک جھٹکے کھا کر میرے ہتھیار کوخراج تحسین پیش کرتی رہی تھی ۔۔۔۔میں نے ہتھیار کو باہر نکالا۔۔اورزرتاش کے ہونٹوں سے ہونٹ اٹھاتا ہوا ساتھ کروٹ لے گیا ۔۔۔۔زرتاش کے منہ سے ایک آہ۔۔نکلی ۔۔۔ایک دو گہرے گہرے سانس لئے ۔۔۔دونوں ہاتھ نیچے لے جا کر چوت پر پھیرا ۔۔۔۔اور پھر مجھ پر سوار ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے پورے چہرے پر اس کے بوسوں کی بوچھاڑ تھی ۔۔ اس کے سریلی آواز میں راجہ کی گردان تھی ۔۔۔۔میری ناک کو کاٹتی ہوئی ۔۔۔۔ میری ٹھوڑی کو چومتی ہوئی ۔۔۔۔۔اور پھر ہونٹوں کو دباتی ہوئی ۔۔۔۔۔۔میرا پورے چہر ہ اس کے نشانے پر تھے ۔۔۔اور میں اس کی کمرپر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کے چوتڑ دبائے جا رہا تھا۔۔۔۔نیچے ہتھیار اب تک دبا ہوا تھا ۔۔۔ تبھی دروازے پر دستک ہوئی تھی ۔۔۔ گل بانو نے اندر جھانکا۔۔اور اندر آنے کا پوچھا ۔۔۔میں نے ہاں کردی ۔۔۔۔اور جب وہ اندر آئی تو میں بھی حیران تھا ۔۔۔۔۔اس کے جسم پر ایک بھی کپڑا نہیں تھا ۔۔اور پیچھے کا منظر اور بھی دیکھنے والا تھا۔۔۔۔ وہ جان شیر کو گھسیٹتے ہوئے اور کھینچتے ہوئے لا رہی تھی ۔۔۔جان شیر بھی کپڑوں کے بغیر تھا ۔۔گل بانو نے زرتاش میرے حوالے کر کے جان شیر پر قبضہ جما لیا تھا ۔۔۔۔۔اور شاید یہ لوگ بھی پہلی شفٹ لگا چکے تھے ۔۔۔جان شیر بری طرح سے شرما رہاتھا ۔۔۔۔مگر گل بانو اس سے زور آور تھی ۔۔۔ اسے کھینچتی ہوئی بیڈ تک لئے آئی ۔۔۔۔۔بیڈروم میں پہلے ہی لائٹ مدھم تھی ۔۔۔۔۔پھر بھی جان شیر شرما رہا تھا ۔۔۔۔گل بانو نے جان شیر کو جھک کر اٹھایا اور بیڈ پر پھینکا دیا ۔۔۔۔کل تو اکیلے اکیلے زرتاش کے ساتھ تھے ۔۔تب شرم نہیں آرہی تھی ۔۔۔اور اب بہت آ رہی ہے ۔۔۔ جان شیر ایک دم جھینپ سا گیا۔۔۔اور چونک کر مجھے دیکھنے لگا ۔۔۔مگر میں نے زرتاش کی طرف نظر گھما دی ۔۔۔۔گل بانو بہت شوخ ہو رہی تھی ۔۔۔۔جان شیر کے قریب لیٹتے ہوئے اس پر سوار ہو گئی ۔۔۔۔اس کے ممے لہرا رہے تھے ۔۔۔۔اس نے جان شیر کا ہاتھ پکڑا ور اپنے سینے پر رکھ کر دبانے لگی ۔۔۔۔۔۔اور میں زرتاش کی طرف متوجہ ہو گیا ۔۔جو خود بھی یہ سب حیرت سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔ کچھ دیر تک زرتاش میرے اوپر سوار رہی۔۔۔اور ادھر گل بانو جان شیر کے اوپر تھی ۔۔۔۔۔۔۔گل بانو نے جان شیر لے لن کو ہوشیار کر دیا تھا ۔۔۔۔7 انچ کا یہ لن لمبائی اور موٹائی اس کی عمر سے بڑا ہی لگ رہا تھا۔۔۔گل بانو اسے اچھے طریقے سے دبا دبا کر موٹا کررہی تھی ۔۔۔۔اور پھر اس کے اوپر سے اٹھ سائیڈ پر آئی ۔۔۔۔زرتاش کو کھینچتے ہوئے جان شیر کی طرف دھکیلا ۔۔۔۔۔۔یہ لو ابھی اس کے مزے لو ۔۔۔۔۔اور میرے اوپر بیٹھنے لگی ۔۔۔میں حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔میرے سینے پر ہاتھ رکھے وہ ٹوپے پر بیٹھی تھی ۔۔۔۔سسکاری لیتے ہوئے اور مزید نیچے آنے لگی ۔۔۔۔میں نے پیر بیڈ پر جما کر گھٹنے اٹھا دیئے ۔۔۔۔۔وہ آدھے ہتھیار لئے اب رکی ہوئی تھی ۔۔۔جب میری کمر اوپر کو اچھلی تھی ۔۔۔۔اور پورا ہتھیار اندر تک پھنستا ہوا ہو گھسا تھا ۔۔۔جڑکی طرف سے ہتھیار اور زیادہ موٹا تھا ۔۔۔اور چوت میں جا کر جکڑا جا چکا تھا ۔۔۔میں جب نیچے آیا تو گل بانوبھی میرے ساتھ ہی بیٹھی چلی گئی تھی ۔۔۔۔۔۔اس کے منہ سے ایک چیخ نکلی تھی ۔۔۔۔۔جان شیر اور زرتاش نے ہمیں چونک کر دیکھا تھا ۔۔۔۔۔اور پھرمصروف ہو گئے ۔۔۔۔۔۔گل بانواپنی کمر کوپکڑے ابھی تک کراہ رہی تھی ۔۔۔۔میں نے دوبارہ سے اسے جھٹکا دیتے ہوئے ہوا میں اچھالا ۔۔۔وہ اچھلی اور دوبارہ میرے اوپر گری ۔۔۔۔اس کے بعد اگلے تین منٹ تک میں نے اسے بیٹھنے نہیں دیا ۔۔دھکے پر دھکے دیتا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بھی اچھل اچھل کر بے حال ہوئی جا رہی تھی ۔۔۔اس کے ممے بھی بری طرح مچلے جا رہے تھے ۔۔۔۔۔۔جان شیر اور زرتاش حیرت سے ہمیں دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔اور پھر جان شیر اٹھا ۔۔۔۔زرتاش نے تھوک سے اس کا لنڈ گیلا کر دیا تھا۔۔۔۔۔وہ اٹھ کر گل بانو کے پیچھے آیا ۔۔۔اور اسے مجھے پردھکیلنےلگا۔۔۔۔اچھلتی کودتی گل بانو آگے کو ہوئی اور میرے سینے پر ٹک گئی ۔۔۔۔۔پیچھے سے جان شیر نے بہت سا تھوک اپنے لنڈ پر پھینکا اور گل بانو کے چوتڑ کھولتے ہوئے گانڈ کے سوراخ پر ٹکا کر دھکا دے دیا ۔۔۔گل بانو ایک دم تڑپی تھی ۔۔۔اور اٹھنے کی کوشش کی مگر جان شیر کے دونوں ہاتھ اس کی کمر پر زور ڈالے ہوئے تھے ۔۔۔گل بانو کی آنکھوں میں پانی آچکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔اس کے نرم ممے میرے سینے پر دبے ہوئے تھے ۔۔۔۔اور پیچھے سے جان شیر اس کی گانڈ بجائی جا رہا تھا ۔۔۔زرتاش پیچھے سے آ کر جان شیر سے لپٹ گئی ۔۔۔جان شیر اور زیادہ تیز ہو گیا ۔۔۔گل بانو گیلی آنکھوں کے ساتھ مجھے دیکھی جا رہی تھی ۔۔۔۔آگے سے میرا ہتھیار جڑ تک اندر پھنسا ہوا تھا ۔۔۔اور پیچھے سے جان شیر ٹھوک رہا تھا۔۔۔۔ کچھ دیر بعد گل بانو کا درد کم ہوا تو میں نے بھی نیچے سے حرکت شروع کر دی ۔۔۔۔۔اور گل بانو کی کراہوں نے بھی اسپیڈ پکڑ لی ۔۔۔زرتاش اس کے قریب آئی تھی ۔۔اور اس کے بالوںکو اکھٹا کر پیچھے کمر پر ڈال دیا ۔۔۔۔۔گل بانو نے میرے سینے پرہاتھ رکھتی ہوئی اٹھنے لگی ۔۔۔۔نیچے سے اس کے ممے مچلے جا رہے تھے ۔۔دونوں طرف کے جھٹکے تیز تھے ۔۔۔۔جس کا اثر مموں پر بھی اسی انداز میں پڑ رہا تھا ۔۔۔۔جو اسے اچھالے جا رہا تھا ۔۔۔نیچے سے زرتاش بھی اس کے مموں کو دبوچے ہوئے نپلز کو مسلے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔جان شیر شاید فارغ ہونے والا تھا ۔۔۔۔۔اس نے اسپیڈ بڑھا دی تھی ۔۔۔۔۔۔اور پھر گل بانو اور جان شیر ایک ساتھ ہی فارغ ہوئے ۔۔۔۔۔ جان شیر نے گل بانو کو مجھ پر سے سہارا دےکر اٹھایا اور ساتھ بیڈ پر لیٹ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔دونوں بری طرح سے آپس میں لپٹ ہوئے تھے ۔۔۔۔زرتاش پھر سے میرے پاس آنے لگی ۔۔۔میں نے اٹھتے ہوئے اس اپنی جگہ پر لٹا یا ۔۔۔اور ساتھ ہی دونوں ٹانگیں اٹھا کر اس کے سینے سے لگا دی ۔۔۔۔موٹی موٹی رانوں کے درمیان چوت کا سوراخ بہت ہی چھوٹا لگا رہا تھا۔۔۔۔۔اور پھر میرا ہتھیار کا ٹوپا اس پر جا رْکا۔۔۔۔ٹوپا اندر دھکیلتے ہوئے ہوئے میں آگے بڑھا تھا ۔۔۔۔۔زرتاش کے منہ سے ایک بلند اوئی نکلی تھی ۔۔۔۔۔اندر جا کر رکا ۔۔۔اور پھر مزید اور اند ر دھکا دے دیا ۔۔۔۔۔زرتاش کا منہ ایک دم سے کھلا تھا ۔۔۔آنکھیں بند ہوئی تھیں ۔۔۔منہ سے ایک اور اوئی ۔۔۔آہ ہ ۔۔۔نکلی۔۔وہ پورا ہتھیار اپنے اندر لے چکی تھی ۔۔میں کچھ دیر تک رکا رہا ۔۔۔اور پھر ہلکے سے دھکے دھکے دینا شروع کر دیا ۔۔۔۔زرتاش کے منہ سے بے اختیار سسکیاں نکل رہی تھی ۔۔۔۔ممے بار بار اوپر کو اچھلے جا رہے تھے ۔۔۔۔۔ٹانگیں اٹھ کر میرے کندھے پر ٹک گئیں تھی ۔۔۔۔۔۔میں نے ہلکے ہلکے دھکے مارتا ہوا کچھ تیز ہو ا۔۔۔۔۔زرتاش کی آواز بھی ساتھ ہی اونچی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔میں نے اس کے بازو پکڑ کر کھینچے اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا ۔۔۔۔۔وہ اپنی بانہوں کا گھیرا بنا کر مجھے سے لپٹی تھی ۔۔۔۔۔۔ساتھ ہی میں اٹھ کر بیڈ سے نیچے اتر گیا۔۔۔۔ساتھ پڑی ایک الماری کے ساتھ اس کی ٹیک لگا کر ایک ٹانگ چھوڑی دی ۔۔۔۔اب وہ ایک ٹانگ پر کھڑی تھی ۔۔۔اور دوسری ٹانگ میرے ہاتھ میں اٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔میں نے دوسرے ہاتھ سے اس کے چہرے کو تھامتے ہوئے دوبارہ سے اسپیڈ پکڑ لی ۔۔۔گل بانو نے مجھے اٹھتے ہوئے حیرت سے دیکھا تھا اور پھر اپنے کام میں مصروف ہو گئی ۔جان شیر اور وہ اگلے راؤنڈ کی تیار ی کر رہے تھے ۔۔۔۔۔ میں نے زرتاش کو ایسے ہی کھڑےکھڑے تیز اور پوری شدت کے جھٹکے مارے ۔۔اور پھر دوبارہ بیڈ پر لا کر گھوڑی بنا دیا ۔۔۔۔۔ادھر جان شیر بھی اٹھ کر گل بانو کو گھوڑی بنا کر اس کے پیچھے آیا تھا ۔۔۔دونوں ساتھ ساتھ ہی تھی ۔۔۔اور بلاشبہ زرتاش گل بانو سے بہت زیادہ خوبصور ت تھی ۔۔۔پتلی کمرکےساتھ ہی پوری گولائی میں بڑی سی گانڈ تھی ۔۔۔جبکہ ممے بھی گل بانو سے زیادہ فربہ تھے ۔۔۔۔۔۔۔ جان شیر اور میں نے ایک ساتھ سواری شروع کی تھی ۔۔۔۔۔اور شاید گل بانو اور زرتاش بھی اسے انجوائے کر رہی تھی ۔۔۔۔تبھی دونوں کے منہ سے سریلی آہیں اور سسکیاں نکلیں تھی ۔۔۔۔۔۔ دو تین منٹ کے ہم دونوں ہی اسپیڈ پکڑ چکے تھے ۔۔۔۔جان شیر گل بانو کی پشت پروزن ڈالے دھکے دئے جا رہا تھا ۔۔۔جبکہ میں اس کے پیچھے کھڑے ہو کر دھکے دے رہا ۔۔۔۔زرتاش اور گل بانو کی سسکیاں پورے کمرے میں گونج رہی تھی ۔۔۔۔۔میں نے زرتاش کے گولڈ ن بال پیچھے کو کھینچ کر ایک ہاتھ میں پکڑ لیا تھا ۔۔۔نیچے سے دونوں کے ممے بھی ہلنے کا مقابلہ پیش کررہے تھے ۔۔۔۔۔زرتاش کی سریلی آواز مجھے اور زیادہ جوش میں لا رہی تھی ۔۔۔۔جان شیر کے جھٹکے تیز تر ہوتے گئے تھے ۔۔۔گل بانو بار بار آگے کو گرتی اور پشتو میں اسے کچھ کہتی ۔۔۔۔میں نے بھی زرتاش کی رانوں کے اندر ہاتھ ڈال کر تھام لیں ۔۔۔۔ساتھ ہی میرے جھٹکے بھی تیز ہوئے ۔۔۔۔۔جان شیر دوبارہ سے فارغ ہو رہا تھا ۔۔۔اور شاید گل بانو بھی ۔۔۔اس نے چیختے ہوئے اسے اور ہلہ شیر ی دی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔اب راجہ کی باری تھی ۔۔۔۔میرا پہلا طوفانی جھٹکا زرتاش کو بیڈ پر الٹا گرا چکاتھا۔۔۔۔ساتھ ہی میں بھی اوپر کوآتا ہوا اس کےپیچھے آیا تھا ۔۔۔۔اورنرم نرم چوتڑ پر ہاتھ رکھے بیٹھتا چلا گیا ۔۔۔۔۔دونوں پیر اس کے دائیں بائیں جمائے میرا ہر جھٹکا طوفانی ہوئے چلا تھا ۔۔۔۔۔۔جا ن شیر نے بھی مجھے دیکھ کر اور اسپیڈ پکڑی تھی ۔۔۔گل بانو بھی کراہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔اور پھر میرے منہ سے پہلی غراہٹ نکلی تھی ۔۔۔۔۔زرتاش کا پورا جسم کانپا تھا ۔۔۔۔ اس کی چوت سے پانی کا ایک قطرہ نکل کر پھسلا تھا۔۔۔۔۔ادھر جان شیر نے حیرت سے میری غراہٹ کو دیکھا اور پانی چھوڑنے لگا ۔۔۔۔گل بانو بھی ساتھ ہی فارغ ہو رہی تھی ۔۔۔۔ ادھر زرتاش کی چیخیں بلند ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔اس کے پانی نکلنے لگا تھا ۔۔۔۔مگر نکلنےکا راستہ بند تھا ۔۔وہاں میرا گھوڑا پوری اسپیڈ سے بھاگے جا رہاتھا ۔۔۔۔اور پھر میری دو تین اور غراہٹ نکلی ۔۔۔اور پھر میرے ہتھیار سے بھی پانی کا فوارا نکلا ۔۔۔۔زرتاش ایکدم سے پھر اچھلی تھی ۔۔۔۔۔۔اور پھر کئی منٹ تک میں پانی چھوڑتا رہا۔۔۔۔۔۔۔زرتاش پیچھے مڑ کر شکر ادا کررہی تھی ۔۔۔۔اور پھر میں نے ہتھیار نکال کر ساتھ لیٹ گیا ۔۔۔۔اب سب ہی سکون میں تھے ۔۔جوش سرد ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔کچھ دیر میں ہم چاروں ایسے ہی سوچکے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ قسط نمبر 7۔۔۔ دو گھنٹے کی نیند کر کے میں اٹھا تو شام کے چھ بج چکے تھے ۔ بیڈ پر میں اکیلا تھا ۔۔۔۔۔۔باقی سب اٹھ کر جا چکے تھے ۔۔۔۔ ۔۔ثریا کی مس کالز آئی ہوئی تھیں ۔۔میں نے گل بانو کو کہا کہ وہ یہیں رہے یا اپنے ماموں کے گھر چلی جائے ۔۔مجھے دو دن کا کچھ کام ہے ۔۔میں واپس آ کر اسے کال کروں گا ۔۔۔۔گل بانو اداس سی تھی ۔۔مگر میرا کام بھی ضروری تھا ۔۔میں نے اپنا بیگ سمبھالا ۔۔۔بھاری چیزیں میں نے وہیں نکال دیں ۔۔۔۔کچھ جاسوسی کے آلات اور ، خصوصی فون اور اپنا پسٹل لے کر میں نے بیگ بند کیا اور ۔۔باہر نکل آیا ۔۔۔۔جان شیر ، زرتاش بھی باہر کھڑے تھے ۔۔۔۔۔انہیں پتا چل گیا تھا کہ میں جا رہا ہوں ۔۔۔۔۔سب کچھ افسردہ تھے ۔۔۔جان شیر میرے ساتھ جانے پر بضد تھا ۔۔مگر میں نے اسے روکا ۔۔۔۔۔دو ہی دونوں میں ہم اچھے دوست بن گئے ۔۔میں نے انہیں بتایا کہ میں واپس پہنچ کر انہیں کال کروں گا ۔۔پھر یہ تینوں میرے گھر آئیں گے ۔۔۔اور ہم مل کر ایک ہفتے ساتھ گزاریں گے ۔۔اور میں انہیں اپنے شہر کی سیر کرواؤں گا ۔۔۔۔دروازے سے نکلا تو گل بانو قریب آ کر لپٹ گئی ۔۔۔اس کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں اسے تسلی دیتا ہوا کار میں بیٹھا اور بیک کرتا گیا ۔۔۔۔۔۔زرتاش اور جان شیر دروازے پر کھڑے ہاتھ ہلا رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔میں تیز رفتاری سے کار چلاتا ہوا ثریا کی طرف پہنچا تھا۔۔ وہ میرے انتظار میں تھی ۔۔اس کا حلیہ بھی تبدیل ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔۔فیشن ایبل کپڑوں کے بجائے اب وہ روایتی لباس میں ملبوس تھی ۔۔۔۔ایک بڑی سی چادر اس کے برابر میں رکھی ہوئی تھی ۔۔۔۔میرے لئے بھی ایک لباس تیار تھا ۔۔ملیشا رنگ کی قمیض اور ہم رنگ گھیر دار شلوار ۔۔اور اوپر مخصوص پگڑی باندھے میں کچھ دیر میں تیار ہو چکاتھا ۔۔۔ثریا کےساتھ بھی ایک بڑا بیگ تیار تھا ۔۔۔۔۔ثریا نے اپنے اسسٹنٹ کو بلا کر اسے سب کام سمجھا دیا تھا ۔۔۔ہم نکلنے کے لئے تیار تھے ۔۔۔ثریا نے اب تک مجھے جگہ نہیں بتائی تھی ۔۔۔مگر میں اندازہ لگا چکا تھا ۔۔۔۔میں کار کی طرف بڑھا تو ثریا نے مجھے منع کیا ۔۔۔۔اور ایک اور گاڑی کی طرف اشارہ کیا کہ ہم اس پر جائیں گے ۔۔۔۔جنرل موٹرز کی یہ ہمر ایچ 3 گاڑی کافی بھاری بھرکم اور اٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔میں نے ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھولا ۔۔اور اندر بیٹھ گیا ۔۔۔اندر سے بھی گاڑی کافی جدید تھی ۔۔۔اسٹیرنگ کے ساتھ ایک بڑی سی اسکرین جس پر پچھلا منظر نظر آرہا تھا ۔ساتھ ہی ایک بڑا سا کنٹرول پینل تھا۔۔۔۔۔میں حیرت سے گاڑی دیکھ رہا تھا۔۔ڈرائیونگ سیٹ کے دروازے کے اندر کی طرف ایک ایم پی فائیو لگی ہوئی تھی ۔۔۔چھوٹی ایس ایم جی کی یہ گن اندر دروازے میں فکس ہوئی تھی۔۔۔جبکہ اسٹیرنگ کے ساتھ ہی نیچے ایک ہولسٹر میں گلاک پسٹل لگی ہوئی تھی ۔۔جو ایک سیکنڈمیں ہاتھ میں آکر فائر کرنے کے لئے تیار تھی ۔۔۔۔ مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ باہر سے یہ سیاہ گاڑی بلٹ پروف بھی ہے ۔۔۔۔۔اتنے میں ثریا دوسرا گیٹ کھول کر اندر داخل ہوئی ۔۔۔۔میں نے انجن اسٹارٹ کیا تو ایک ہلکی سی آواز ابھری ۔۔۔گاڑی بہت اچھی کنڈیشن میں تھی ۔۔اور شاید انجن بھی خصوصی تھا ۔۔۔۔۔میں نے جیپ باہر نکالی ۔۔اور سفر شروع ہو گیا ۔۔۔۔۔ہم انگور اڈہ روڈ پر سفر کر رہے تھے ۔۔۔۔شام کے اندھیر ے پھیل چکے تھے ۔۔۔۔روڈ پر ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر تھی ۔۔۔۔میں مناسب اسپیڈ سے گاڑی چلاتا رہا۔۔۔۔۔45 منٹ کے سفر کے بعد لیفٹ سائیڈ پر ایک کچا روڈ آیا تو ثریا نے مجھے اس پر مڑنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔ا ب کچے کا سفر شروع تھا ۔۔۔۔کچھ دیر کے سفر کے بعدرہائشی ایریا شروع تھا ۔۔۔۔یہ ایک سرحد ی گاؤں تھا ۔۔گاؤں سے نکلنے کے بعد ثریا نے مجھے گاڑی روکنے کا کہا ،۔۔میں نے گاڑی روک دی ۔۔۔۔ہم اندھیرا ہونے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔۔ثریا اپنے ہینڈ سیٹ پر کسی کو میسج کر رہی تھی ۔۔اور شاید کچھ دیر بعد وہاں سے جواب آیاتو اس نے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔آگے کا راستہ بہت ناہموار تھا ۔۔۔سخت گھپ اندھیرے میں لائٹ بند کئے وہ سفر شروع تھا ۔۔ثریا کے ہاتھ میں ایک موبائل تھا جس کی روشنی وہ وقفے وقفے سے سامنے مارتی اور مجھے کچھ رستے کا اندازہ ہوتا ۔۔۔۔اگلے آدھے گھنٹے کا یہ سفر بہت تھکا دینے والا تھا ۔۔کچے پر سفر ختم ہوا تھا ۔۔اس کے بعد ہم واپس روڈ کی طرف آئے تھے ۔۔ ۔۔جہاں آگے ایک کار ہمارے انتظار میں تھی ۔۔۔۔ہمیں آتا دیکھ کر وہ آگے بڑھ گئی ۔۔۔۔ثریا نے مجھے اس کے پیچھے جانے کا کہا ۔۔۔۔۔۔ہم مین روڈ پر سفر کر نے لگے ۔۔۔۔۔اور پھر رہائش علاقہ آنے سے پہلے ہی اگلی گاڑی ایک طرف سنسان رستے پر مڑ گئی ۔۔۔اور دس منٹ کے مزید سفر کے بعدایک بڑے سے کمپاؤنڈ کے اندر جا کر رکی تھی ۔۔۔۔۔میں نے بھی گاڑی پیچھے روکی ۔۔۔ثریا بھی بیگ لئے اتری تھی ۔۔۔۔یہ پورا ایریا اندھیر ے میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔۔کمپاونڈ کی باونڈری کچھ اونچی بنی ہوئی تھی ۔۔۔اور اندر ایک بڑی سی عمارت ہماری منتظر تھی ۔۔۔۔۔ثریا مجھے لئے اندر پہنچی۔۔۔دروازے سے اندر ہی ہمارا انتظار ہو رہا تھا ۔۔۔سرخ ساڑھی پہنے ایک قاتل حسینہ اور اس کےدائیں بائیں تھری پیس سوٹ پہنے ہوئے دو آدمی ۔۔مکارانہ مسکراہٹ کے ساتھ استقبال کر رہے تھے ۔۔۔۔۔ثریا جا کر سرخ ساڑھی والی کے گلے لگ گئی ۔۔۔جبکہ دونوں آدمی میری طرف بڑھے ۔۔۔گرم جوشی سے ملتے ہوئے سفر کا پوچھنے لگے۔۔۔۔۔ثریا بھی میری طرف مڑی اور تعارف کروایا کہ یہ راجہ ہے ، سیکورٹی چیف ہے ۔۔اور اس کے کارنامے میں خود بھی دیکھ چکی ہوں ۔۔۔اور سرخ ساڑھی والی کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگی کہ یہ ہماری کمپنی کی ڈائریکٹر ہے ۔۔مس غزالہ ۔۔۔اور یہ ان کے اسٹنٹ اور کولیگ ہیں ۔۔۔۔میں نے بھی مصنوعی مسکراہٹ سے دونوں کی طرف دیکھا ۔۔۔سرخ حسینہ کی نگاہیں مجھ پرکھبی ہوئی تھی ۔۔۔کچھ سیکنڈ تک ایکسرے کرنےکے وہ آگے بڑھی اور ثریا کو لے کر اندر بڑھ گی ۔۔۔۔جبکہ ان کے اسٹنٹ مجھے لئے ڈرائنگ روم کیطرف چلے گئے ۔۔۔جہاں میرے تعارف کے بہانے انہوں نے میرا چیدہ چیدہ انٹرویو لیا ۔۔۔۔۔میں بھی تسلی سے جواب دیتا رہا ۔۔۔۔اس کے بعد میری اسکلز کی باری آئی ۔۔۔وہ بھی میں نے مختصرا بتا دی ۔۔۔۔وہ بار بار موجودہ حالات کے بارے میں میری رائے اور خیال جاننے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔اور میں نے ان کو مایوس نہیں کیا تھا ۔۔۔۔میرے سارے جواب ان کی مرضی کے مطابق تھے ۔۔۔آدھے گھنٹے کے سوال و جواب کے بعد وہ کچھ مطمئن سے ہوئے ۔۔۔۔۔ اس کے بعد کھانے کا دور شروع ہوا ۔۔۔ثریا نے اپنا حلیہ تبدیل کر لیا تھا ۔۔اب وہ بھی جینز اور شرٹ پہنے اور میک اپ کے ٹچز لگانے کے بعد خوش و خرم اور شوخ نظر آرہی تھی ۔۔۔۔کھانا کافی پرشکوہ تھا ۔۔۔ٹیبل پر کچھ بئیر اور الکوحل لوازمات بھی رکھے ہوئے تھے ۔جس کا میں نے ان کو پرہیز بتا یا ۔۔۔ثریا کی ساری خدمت خلق کے پردے ایک ایک کر اترتے جا رہے تھے ۔۔۔۔اور اندر سے کراہیت بھرا چہرہ سامنے آ رہا تھا ۔۔۔۔۔ثریا بار بار ہنس ہنس کر میری طرف اشارہ کرتی اور مجھے اپنی سب سے بڑی دریافت بتا تی ۔۔۔۔۔کھانے کے دور ختم ہو ا ۔اورپھر کچھ دیر باتوں کا سلسلہ شروع ہوا ۔۔۔ایک گھنٹے تک بات چیت چلی۔۔اس کے بعد ثریا اٹھی ۔۔اور کہنے لگی کہ میں تھکی ہوئی ہوں ۔۔مس غزالہ تمہیں کمرہ دکھا دیں گی ۔۔۔۔ہم صبح ملتے ہیں ۔۔۔اس کے بعد وہ اٹھی اور ان دونوں آدمیوں کے ساتھ اٹھ کر چلی گئی ۔۔۔۔۔میں اسے ایک نظر دیکھتا ہی گیا ۔۔۔۔ایک ہی رات میں وہ کافی پینترے بدل چکی تھی ۔۔ غزالہ اٹھ کر میرے پاس آئی تھی ۔۔۔۔تھوڑی گوری رنگت کے ساتھ سیاہ کالی آنکھیں ۔۔۔جو اب بھی مجھے جانچنے کی پوری کوشش میں مصروف تھیں ۔۔۔۔غزالہ کچھ لمبی قد کی تھی ۔۔۔پتلی صراحی دار گردن ۔۔۔متناسب ابھرا ہوا سینہ ۔۔اور پتلی کمرکے ساتھ ۔۔۔۔میری آنکھوں میں دیکھتی ہوئی ۔۔۔۔میرے سامنے آئی تھی ۔۔۔آئیے آپ کو آپ کا کمرہ دکھا دیتی ہوں۔۔۔غزالہ کی چال دیکھ کر۔۔۔۔میری نظریں بھٹک رہی تھیں ۔۔۔۔جسم میں سنناہٹ سی دوڑ رہی تھی ۔۔۔ایک کمرےکے سامنے رکتے ہوئے وہ مڑی تھی ۔۔۔۔یہ آپ کا کمرہ ہے ساتھ ہی میرا کمرہ ہے ۔۔اگر کچھ چاہئے تو بتا دیجئے گا۔میں نے اوکے کہہ کر اندر کمرے میں داخل ہو گیا ۔۔۔۔۔کمرہ اندر سے اتنا ہی اچھا بنا ہوا تھا ۔۔۔میں نے شوز اتارے اور بیڈ پر ڈھیر ہو گیا ۔۔۔۔آج کی تھکاوٹ اور نئے آنے والے واقعات میرے ذہن میں گھوم رہے تھے ۔۔۔سب کچھ بہت تیزی سے ہو رہا تھا ۔۔اور جواب بھی اسی رفتار سے دینا بنتا تھا ۔۔۔۔میں خود کو ذہنی طور پرتیار کررہا تھا۔اپنے موبائل پر موجود ایک بٹن دبا چکاتھا ۔۔دانش منزل میں میری منزل کی لوکیشن پہنچ چکی تھی ۔جو کہ افغانستان کا علاوہ شکین تھا ۔۔۔۔۔۔اس کے بعد اِنہیں سوچوں میں نیند میں جاچکا تھا۔۔۔ آدھی رات ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔جب میری آنکھ کھلی تھی ۔۔چہرے پر کچھ گیلے پن کا احساس ہوا تھا ۔۔۔ساتھ ہی نرم نرم سے ہونٹ ٹکرائے تھے۔۔۔۔۔میں نے پوری آنکھیں کھولتے ہوئے اسے دیکھا تھا ۔۔۔غزالہ اپنے فطری لبا س میں بیڈ پر تھی ۔میری طرف کروٹ لئے وہ مجھ پر جھکی ہوئی تھی۔۔۔۔۔آنکھوں میں شہوت اور مستی ناچ رہی تھی ۔۔۔میری آنکھیں کھلتے دیکھ کر وہ اور تیز ہوئی تھی ۔۔میں نے مدافعت چھوڑ کر خود کو اس کے حال پر چھوڑ دیا تھا ۔۔مجھے کچھ دن مزید یہاں رہنا تھا ۔۔اور جانے کیا معاملات پیش آئیں ۔۔اگر غزالہ میری طرف ہو جاتی ہے تو کیا برائی تھی ۔۔۔۔۔غزالہ کچھ دیر میرے چہرے پر جھکنے کے بعد اب میری شرٹ کے بٹن کھول رہی تھی ۔۔ بٹن کھلنے کے بعد توانا سینہ اس کے سامنے تھا ۔۔۔ غزالہ نے تحسین بھری نگاہوں سے مجھے دیکھا اور پھر سینے کو چومنے لگی ۔۔۔۔میرے بدن میں مزے کی لہریں پھرنے لگیں ۔۔۔اس کے نرم نرم ہونٹ میرے سینے پر گیلے پن کے نشان چھوڑتے جا رہے تھے ۔۔۔۔۔سائیڈ سے غزالہ نے ایک ٹانگ میرے اوپر رکھتی ہوئی اوپر آئی ۔۔۔اس کا ہلکا پھلکا بدن میرے بدن پر آکر رکا تھا ۔۔۔۔نیچے سے ہتھیار میں بھی جان آنی شروع ہو گئی۔۔۔جو پینٹ کو ابھارتا جارہا تھا۔۔۔غزالہ نے بھی اس تبدیلی کو محسوس کر لیا تھا۔۔۔۔وہ اپنی کمر کو میرے اوپر ہلا رہی تھی ۔۔۔۔میں نے بھی ہاتھوں کو حرکت دینے کا سوچا۔۔۔اوراپنے اوپرغزالہ کی کمر پر ہاتھ پھیرتا ہوا نیچے لے گیا ۔۔جہاں نرم نرم چوتڑ میرے منتظر تھے ۔۔۔میں نے دباتے ہوئے زیادہ زور لگایا تھا جبھی غزالہ کی ایک آہ نکلی ۔۔۔۔غزالہ چومتی ہوئی نیچے کو چلی جارہی تھی ۔۔۔ناف تک پہنچی تو میں نے روک دیا ۔۔اور واپس اوپر کھینچتے ہوئے اس کے ہونٹوں سے ہونٹ ملائے اور کروٹ بدل لی ۔۔۔اب غزالہ میرے نیچے تھی ۔۔۔اس کے چھوٹے چھوٹے ممے مجھے دعوت دے رہے تھے ۔۔۔میں تھوڑا سا نیچے کھسکا اور اس کے ممے چوسنے لگا۔۔۔اک ہاتھ سے تھامتے ہوئے ایک ایک ممے کو میں منہ میں لینے کی کوشش کرتا ۔۔اور پھر باہر کی طرف کھینچتا ۔۔غزالہ میرے سر پر ہاتھ رکھے سسکیاں بھررہی تھی ۔۔۔میں غزالہ کے اوپر لیٹا ہوا تھا ۔۔۔چہرہ اس کے مموں پر رکھتے ہوئے میں ہاتھ پیچھے لے گیا اور پینٹ اتارنے لگا۔۔۔اور پھر ایک کہنی ٹیک کر ایک ہاتھ سے نیچے تک کھینچی دی ۔۔۔۔ساتھ ہی انڈروئیر بھی اتار دیا ۔۔۔۔ہتھیار تیار تھا ۔۔میں کچھ دیر اور اس کے ممے چوستے رہا ۔۔پھر جب بے چینی بڑھنے لگی ۔۔۔اور وہ میرے سر پر ہاتھ رکھے اسے اوپر کی طرف زور لگانے لگتی ۔۔۔۔۔ساتھ ہی نیچے ہاتھ بڑھا کر ہتھیار کو تھامنے کی کوشش کرتی ۔۔۔مگر میں نے ا س کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے گی ۔ ۔۔۔جواب میں اس نے میری پیٹھ پر اپنی ایڑی کا دباؤ ڈال زور لگانے لگی۔۔۔میں نے اس کی طرف دیکھا تو شرارت سے اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔۔۔میں نے بدلہ اس کے ممے پر دانت گاڑ کر لیا تو وہ بلبلا اٹھی ۔۔۔۔اور جلدی سے ایڑی ہٹا دی ۔۔۔اس کی بے چینی مجھے بھی بے چین کئے جا رہی تھی ۔۔۔میں نے اٹھتے ہوئے اس کی ٹانگیں اٹھا کر سینے سے لگا دی ۔۔۔غزالہ دونوں ہاتھوں میں اپنی ٹانگیں پکڑے مجھے دیکھی جا رہی تھی ۔۔اپنے ہونٹ پر زبان پھیرے جا رہی تھی ۔۔ میں نے غزالہ کی ٹانگیں اٹھا کر خود بھی پوزیشن سمبھال لی تھی ۔۔۔ہتھیار تنا ہو لہرا رہا تھا ۔۔میں نے ٹوپا چوت کے لب پر سیٹ کر کمر کودھکا دیا ۔۔چوت کے لب کھلے تھے ۔۔۔اور ٹوپ اپنی پوری موٹائی کے ساتھ فکس ہو چکا تھا ۔۔۔۔غزالہ ایک دم سے اوپر کو اٹھی تھی ۔۔۔۔منہ کھلا تھا ۔۔۔اور پھر ایک سسکاری بھری ۔۔۔۔اس نے ٹانگیں چھوڑ کو دونوں ہاتھ سر پر رکھ لیے تھے ۔۔۔اورمنہ کھولے کھولے گہری سسکاری بھرنے لگی ۔۔۔میں نے دھکے دیتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھا ۔۔۔اور آدھے ہتھیار کو منزل پر پہنچا دیا ۔۔۔۔غزالہ کا منہ پھر سے کھلا تھا اور کافی دیر تک کھلا ہی رہا ۔۔۔میں نے ایک ہاتھ کی انگلیاں اس میں ڈال دیں اور وہ چوسنے لگی ۔۔۔۔تیسرے دھکے میں پورا ہتھیار اندر پہنچ چکا تھا ۔۔۔۔۔غزالہ نے میری انگلیوں پر زوردار دانت گاڑے تھے ۔۔۔۔اور پھر مم مم کرتی ہوئی سر پیچھے تکیہ پر ڈال دیا ۔۔۔۔میں نے ہاتھ باہر نکالا اور ٹانگ پر رکھتے ہوئے دباو بڑھا دیا ۔۔۔ساتھ ہی ہتھیار کو باہر نکال کر دوبارہ دھکیل دیا ۔۔غزالہ دوبارہ سے سر اٹھا کر اٹھی تھی ۔۔۔۔نیچے دیکھنے کی کوشش کی ۔۔۔۔میں نے اب ہلکے ہلکے اِ ن آؤٹ شروع کر دیا تھا ۔۔۔غزالہ کی چوت بے تحاشہ پانی چھوڑتی جا رہی تھی ۔۔۔۔ساتھ ہی اس کی سسکاریاں بھی بلند ہو رہی تھیں ۔۔۔۔میں نے بھی اسپیڈ بڑھا دی ۔۔۔۔اور گہر ے گہرے جھٹکے مارنے لگا ۔۔۔۔ہر جھٹکے کے ساتھ بیڈ بھی ہلتا ۔۔میں نے گھٹنے کے بل سے اٹھتے ہوئے اب اپنے پیروں کے بل پر آگیا ۔۔۔اور اس کے اوپر آ تے ہوئے نیچے کو جھٹکے مارنے شروع کئے ۔۔۔۔ہر جھٹکے کے ساتھ غزالہ کی مخصوص آواز نکلتی ۔۔۔۔کچھ دیر تک میں نے ایسے ہی جھٹکے مارے ۔۔۔پھراس کی ٹانگوں کو اپنے کندھے پر رکھے ہوئے اسے اٹھا لیا ۔۔۔ہلکی پھلکی غزالہ میری گردن میں ہاتھ ڈالے اٹھ چکی تھی ۔۔۔۔اس کے پیر میری گرد ن پر اور نیچے سے چوت میرے ہتھیار کے سامنے آئی تھی ۔۔۔۔۔۔میں بیڈ سے اتر آیا ۔۔۔اورجھٹکے مارنا شروع کر دیے ۔۔۔۔ہر جھٹکے کے ساتھ وہ پیچھے کو جاتی اور پھر واپس آتے ہوئے ہتھیار اند ر لے کر آتی ۔۔۔۔میرے جھٹکے اسے اچھالے جا رہے تھے ۔۔۔۔۔ساتھ ہی منہ سے سسکاریاں نکالتی ہوئی میری ہمت بڑھانے لگی ۔۔۔میرے جھٹکے اور بڑھنے لگے۔۔ہتھیار کے اوپر سے اچھلتی ہوئی غزالہ واپس بھی اسی کے اوپر پھسلتی ہوئی آتی ۔۔۔۔وہ تھکنےلگی ۔۔تو میں نے بیڈ پر اتارتے ہوئے اسے گھوڑی بنادیا ۔۔بیڈ پر پیر جما کر میں اسے کے پیچھے آیا تھا ۔۔۔اور ہتھیار گھساتے ہوئے اسپیڈ مارنے لگا۔۔۔۔غزالہ میری توقع کے برخلاف زیادہ گرم اور برداشت کا مظاہر ہ کر رہی تھی ۔۔۔۔اب بھی وہ پیچھے کو ہوتی ہوئی میرا ساتھ دینے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔سسکیاں مجھے اور تیز ہونے پر اکسا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔میں بھی جوش میں آتا جا رہا تھا ۔۔۔بہت دنوں بعد ایسا پارٹنر ملا تھا ۔۔۔۔ جو رکنے کے بجائے گھوڑے کو ایڑ لگانے کا کہ رہا تھا ۔۔۔میں نے بھی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔۔۔۔کمر پر ہاتھ جمانے کے بعد طوفانی دھکے شروع کئے ۔۔۔۔غزالہ چلائی تھی اور بلند آواز سے ہی سسکیاں لیں ۔۔۔۔۔جن میں مزے کے ساتھ اور تیز ہونے کا اشارہ بھی تھا ۔۔۔وہ ابھی تک فارغ نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔۔اور نہ ہی جلد ہونے کا ارادہ لگ رہا تھا ۔۔۔اس کے بعد میں نے بھی کچھ نہیں دیکھا۔۔۔میں نے بھی دھکوں کی مشین چلا دی ۔۔۔۔۔اگلے پانچ سے سات منٹ کیسے گذرے مجھے نہیں پتا ۔۔۔اس کے چلانے کی آواز ۔۔۔۔اس کے آگے گرنے کا منظر سب سلو موشن میں تھا ۔۔بیڈ پر ہاتھ مارتے ہوئے روکنے کا منظر۔۔۔۔۔۔وہ فارغ بھی ہوچکی تھی ۔۔۔۔مجھے رکنے کا بھی کہ رہی تھی ۔۔۔۔۔مگر میرے کانوں میں کوئی آواز نہ آئی ۔۔۔۔۔میرے دھکے اسی طوفانی رفتار سے جاری تھے ۔۔وہ آگے ہاتھ ٹیکتی ہوئی نکلنے کی کوشش کرتی ۔۔مگر یہ بھی مشکل تھا ۔۔۔مجھے بس اپنے جسم کے خون کی دھڑکن سنائی دے رہی تھی ۔۔جو آہستہ آہستہ بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔کنپٹی میں خون دوڑ رہا تھا ۔۔کانوں میں غزالہ کے چلانے کی آواز ہلکی ہو کر سنائی دے رہی تھی ۔۔۔۔اور پھر یہ سارا خون اور دھڑکن نیچے کی طرف جانے لگا۔۔ٹوپے اور زیادہ پھولنے لگا۔۔۔اور پھر ایک فوارہ چھوٹا۔۔۔۔سیلاب بہا ۔۔۔ بند ٹوٹا تھا ۔۔۔۔میں نے ایک دو جھٹکے اور مارے تھے ۔۔۔اور پھر غزالہ کے اوپر لیٹتا چلا گیا ۔۔۔۔۔وہ پسینے پسینے ہوئی وی تھی ۔۔۔۔مجھ سے زیادہ وہ ہانپ رہی تھی ۔۔۔منہ سے ابھی کراہیں جاری تھی ۔۔۔۔میں نے سائیڈ پر کروٹ لی ۔۔اور سیدھا ہو گیا ۔۔غزالہ نے مجھے خوف زدہ نظروں سے دیکھا۔۔۔ہتھیار کو دیکھا ۔۔۔اپنے کپڑے اٹھا ئے اور لڑکھڑاتی ہوئی کمرے سے نکلتی چلی گئی ۔۔۔۔۔۔ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ اگلی صبح مجھے ثریا نے اٹھایا تھا ۔ نیند میری آنکھوںمیں بھری ہوئی تھی ۔۔۔۔ثریا نے مجھےزور سے ہلایا اور جلدی سے تیار ہونے کا کہنے لگی ۔۔بیڈ پر میرا نیا لباس رکھا ہوا تھا۔۔۔۔۔میں باتھ روم بڑھ گیا اور فریش ہو باہر آیا ۔۔۔۔۔بلیک پینٹ کوٹ پہن کر خود کو آئینہ میں دیکھا ۔تھوڑا شرمایا ۔اور۔بال بنا کر باہر نکل آیا ۔۔۔اور اب میں نے اس عمارت میں زندگی دوڑتی ہوئی دیکھی ۔عمارت پوری روشن تھی ۔۔اور ملازموں اور دوسری آوازیں بلند آرہی تھیں ۔۔۔۔۔ثریا ڈرائنگ روم میں میرا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔ میں وہاں پہنچا تو کہنے لگی راجہ مجھے واپس جانا ہے جلدی ۔۔۔۔اب سے مس غزالہ ہی تمہاری نگرانی کریں گے ۔۔۔اس کے بعدثریا مجھے لئے ہوئے باہر نکلی جہاں غزالہ ایک آدمی کے ساتھ کھڑی تھی ۔۔۔۔ثریا کے پہنچتے ہیں وہ آدمی جیپ کی طرف بڑھا اور ڈرائیونگ سیٹ سمبھال لی ۔۔۔ثریا بھی جاکر جیپ میں بیٹھی گئی ۔۔اور ہاتھ ہلاتی ہوئی رخصت ہوئی ۔۔۔۔ میں مڑا تو غزالہ میر ی منتظر تھی ۔۔۔اس کا لہجہ اور موڈ سخت تھا ۔۔مجھے اپنے پیچھے آنے کا کہہ کر وہ عمارت کی پچھلی طرف چلی گئی جہاں 15 لوگوں کا ایک گروپ میرے سامنے تھا ۔۔۔۔۔تین لائنوں میں پندرہ لوگوں کا یہ گروپ مقامی جنگجوؤں کا تھا ۔۔۔جو بھاری رقوم کے عوض یہاں سیکورٹی کے لئے لائے گئے تھے ۔۔میں نے ان کے سامنے ایک چکر لگایا اور جائزہ لینے لگا۔۔۔غزالہ ان کے سامنے چھوڑ کر واپس چلی گئی ۔۔۔۔۔ میں نے ان میں سے ایک ہوشیار شخص کو بلایا اور اسے اپنا نمبر ٹو بنا دیا ۔۔۔۔اور اسی طرح سے تمام لوگوں کے نمبر مختص کر دیئے ۔۔۔۔باقی لوگوں کو ایکسرسائز پر لگا کر میں نمبر ٹو کو ساتھ لئے چل پڑا ۔۔اس سے مجھے پتا چلا کہ انہیں رہائش یہیں دی ہوئی ہے ۔۔ہر ہفتے بعد ان میں سے کچھ گھر جا کر مل آتے ہیں ۔۔باقی ہر مہینے ان کو بھاری رقوم مل جاتیں ہیں ۔۔نمبر ٹو مجھے لئے اسلحہ خانہ گیا ۔۔جہاں راکٹ لانچر سے لے کر مشین گن تک ، پسٹل سے لے ایم فور اے تک تمام مشہور ماڈل رکھے ہوئے تھے ۔۔۔۔ساتھ ہی ایمونیش کا بھرپور اسٹاک بھی تھا ۔۔۔۔میں باہر آیا اور ان سب لوگوں کی ڈیوٹیاں بھی تقسیم کر دی ۔۔۔۔کچھ کو دن کے پہرہ پر اور کچھ کو رات کے پہرہ پر ۔۔۔۔سامنے اور پیچھے کیطرف مورچے سیٹ کروائے ۔۔اور 3 لوگوں کو دور مار رائفل کے ساتھ عمارت کی چھت پر بھیج دیا ۔۔۔۔وائرلیس سیٹ سب میں تقسیم کر دیئے گئے تھے ۔۔۔۔۔اتنے میں مجھے ملازم نے میسج دیا کہ غزالہ میڈم نے بلایا ہے ۔۔۔۔میں نمبر ٹو کو وہیں چھوڑ کو اندر بڑھ گیا ۔۔۔۔۔اندر میٹنگ چل رہی تھی ۔۔۔۔میں بھی جا کر اندر بیٹھ گیا ۔۔۔اگلے دو دنوں تک وہاں ایمرجنسی نافذ کی جارہی تھی ۔۔۔۔غیرملکی لوگ نے آج سے آنا شروع کرنا تھا ۔۔۔اور آج رات کی میٹنگ کے لئےسارا سیٹ اپ اور ذمہ داریاں سمجھائی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔غزالہ ایک سخت گیر باس کی صورت میں بات کر رہی تھی ۔۔۔۔مجھے بھی احتیاط اور ہوشیار رہنے کا کہا گیا ۔ساتھ ہی میٹنگ کے دوران درمیانی فلور پر جانے پر بھی پابندی لگادی ۔۔۔۔ساتھ ہی بتایا کہ آنے والے مہمانوں کے ساتھ ان کی اپنی سیکورٹی بھی ہو گی لہذامجھے ان سے بھی کوآپریٹ کرنا تھا ۔۔عمارت کی چھت پر ایک ہیلی پیڈ بناہوا تھا ۔۔اور اکثر مہماں وہیں اتریں گے ۔۔کچھ مقامی لوگ بائی روڈ آنے والے تھے ۔۔۔۔۔۔میں سر ہلاتا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔اس کے بعد میٹنگ ختم ہوئی ۔۔اور میں باہر آیا ۔۔ایک بائک لے کر میں نےپوری بلڈنگ کا ایک چکر لگا لیا ۔اور حملے کی جگہوں کا جائز ہ لینے لگا۔۔۔۔اس کے واپس اپنے گروپ میں پہنچ کر ان کے ساتھ رہا ۔۔۔۔دوپہر کا کھانا ان کے ساتھ ہی آیا تھا ۔۔۔ہم نے مل کر کھانا کھایا۔۔۔۔کھانے کے بعد مقامی قہوہ آیا ۔۔ میں تمام نمبرز کی ڈیوٹی مختص کر کے اندر آ گیا تھا ۔۔ڈرائنگ روم کے ساتھ ہی میں نے مانیٹرنگ روم بنایا تھا ۔اسلحہ خانے سے مجھے جیمر بھی مل گئے تھے ۔۔جو کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں سگنل جام کردیتے تھے ۔۔اندر تین بڑی اسکرین لگی ہوئی تھی ۔۔۔ایک اسکریں سامنے کا منظر اور ایک عمارت کی بیک کا منظر پیش کر رہی تھی ۔۔جبکہ تیسر ی اسکرین پرعمارت کی چھت کا ہیلی پیڈ تھا ۔۔۔۔۔۔اور پھراگلے دو گھنٹے میں مہمانوں کی آمد شروع ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔دو ہیلی کاپٹر اترے تھے ۔۔۔ایک میں سے پینٹ کوٹ میں ملبوس اونچے لمبے لوگ اترے تھے ۔۔۔جبکہ دوسرے سے آرمی کی یونیفارم میں 8 لوگوں کو ایک گروپ کودا تھا ۔۔سر پر ہیلمٹ اور ہتھیاروں سے فل لیس یہ کمانڈوز کا دستہ تھا۔۔ان کے پھرتی اور چلنے کا انداز بتا رہا تھا کہ یہ اسپیشل فورس کے لوگ ہیں ۔۔۔ہیلی کاپٹر سےا ترے ہی انہوں نے نے پینٹ کوٹ والوں کے گرد گھیرا ڈال دیا تھا ۔۔اور چاروں طرف دیکھتے ہوئے بڑھنے لگے ۔۔ہیلی کاپٹر واپس اڑ گیا تھا۔۔۔سیڑھی سے نیچے اترنے کے بعد وہ میری نگاہوں سے اوجھل ہو گئے ۔۔۔۔۔میٹنگ آج شام ہی تھی ۔۔۔میں متفکر انداز میں اپنے مانیٹرنگ روم میں بیٹھا سوچ رہا تھا ۔۔۔ ثریادوپہر سے پہلے اپنےگھر پہنچ چکی تھی ۔۔جب اسے ملازم نے بتایا کہ باہر راجہ کے مہمان آچکے ہیں ۔۔۔ثریا جلدی سے اٹھی اور باہر کی طرف چلی ۔۔۔جہاں ایک بڑی سی جیپ کے اندر سے دو دیوہیکل حبشی اتر رہے تھے ۔۔جیپ سے اتر کر وہ سامنے کی طرف آئے جہاں ثریا اک حیرت سے انہیں دیکھ رہی تھی ۔۔اسے اندازہ نہیں تھا کہ راجہ جنہیں بھیجے گا وہ ایسے لمبے چوڑے اور بڑے ڈیل ڈول والے ہوں گے ۔۔۔ثریا آگے بڑھی اور ان کا استقبال کرتی ہوئی اندر لے آئی ۔جلد ہی تعارف کا مرحلہ طے ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ جوزف اور جوانا کے جسم سے بہت متاثر ہوئی تھی ۔اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ اگر یہ لوگ اس کا ساتھ دیں تو کوئی مشکل نہیں ہے ۔۔۔اور اسے لگ رہا تھا کہ اب اس کا مشن جلد مکمل ہو جائے گا۔۔۔۔جلد ہی ثریا نے ان کے لئے کھانے کی ٹرالی اور چائے منگوائے ۔۔۔جوانا اب تک خاموش ہی تھا ۔۔۔۔اور جوزف آہستگی سے ثریا کے سوالوں کے جواب دے رہا تھا ۔۔۔ثریا نے بتایا کہ راجہ دوسرے کام سے گیا ہوا ہے ۔۔۔اور اس نے آپ دونوں کی بہت تعریفیں کی ہیں ۔۔۔۔۔جوزف ہاں میں سر ہلا رہا تھا ۔۔۔اس کے بعد ثریا نے انہیں ان کے کمرے دکھائے اور آرام کے لئے بھیج دیا ۔۔۔۔۔۔شام کو ثریا خود ان کو اٹھانے کے لئے گئی ۔۔اس نے اپنی ڈریسنگ تبدیل کر لی تھی ۔۔۔اوراب وہ چاہ رہی تھی کہ جوزف اور جوانا میں سے کوئی اس کی طرف مائل ہو جائے ۔بلیک کلر کی ساڑھی اور کھلے بلاؤز میں وہ قیامت ڈھا رہی تھی ۔۔۔۔اس لئے بڑی ہیجان انگیز ڈریسنگ کئے ہوئے وہ سامنے آئی تھی ۔۔۔جوزف اور جوانا کو ساتھ لئے ہوئی وہ ڈرائنگ روم میں پہنچی ۔۔۔۔رات کاکھا نا کافی پرتکلف تھا۔۔۔ثریا نے اس کے بعد الکوحل مشروبات منگوانے چاہے ۔۔۔مگر دونوں نے منع کر دیا ۔۔۔ جوانا کسی کام سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔اور ثریا اٹھ کر جوزف کے قریب آ بیٹھی ۔اپنے ہاتھ میں موبائل کو گھماتے ہوئے ۔۔ جوزف سے اس ملک میں رہنے کے تجربے کے بارے میں پوچھنے لگی ۔۔۔۔جوزف نے کم سے کم لفظوں میں بتا دیا کہ وہ اپنے ملک میں سیکورٹی اداروں میں کام کررہے تھے ۔۔۔یہاں کسی تربیتی مشن پر آئے تھے کہ یہ ملک پسند آگیا ۔۔اس کے بعد یہیں کے ہو گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ثریا کے ہاتھ سے موبائل گرا تھا ۔۔۔اور اس نے اپنی ساڑھی کا پلو گراتے ہوئے دوسرا سوال کیا تھا ۔۔۔صرف یہ ملک پسند آیا یا یہاں کے لوگ بھی پسند آئے ۔۔۔۔۔۔جوزف اشارہ سمجھ گیا تھا ۔۔۔۔۔کہنے لگا کہ ملک میں سب ہی شامل ہوتا ہے ۔۔۔۔اس کے بعد ثریا کا اگلا سوال اس سے بھی خطرناک لہجے اور آواز میں تھا۔۔۔صرف شراب سے پرہیز ہے یا شباب سے بھی پرہیز کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جوزف کا پیمانہ لبریز ہو چکاتھا ۔۔۔اس نے جواب دیا کہ پسند پر ڈیپنڈ ہے ۔۔۔اگر کوئی خوبصورت ہو تو کیسے دور رہا جا سکتا ہے ۔۔۔۔ثریا بھی سمجھدار تھی ۔۔اور قریب ہوئی تھی ۔۔۔ادھر جوزف نے اپنا ہاتھ بڑھا کر ثریا کا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔جو جوزف کے بڑے سے ہاتھ میں کسی بچے کا ہاتھ لگ رہا تھا ۔۔۔جوزف نے ثریا کے ہاتھ کو اپنی طرف کھینچا تھا ۔۔۔ثریا کسی کھلونے کی طرح کھینچتی ہوئی جوزف کے قریب پہنچی ۔۔۔جوزف نے کمر سے پکڑ کرثریا کواٹھا یا اور اپنی گود میں بٹھا لیا۔۔۔کالی ساڑھی میں ثریا کا گورا بدن جھانک رہا تھا ۔۔۔۔اور اب ساڑھی کا پلو بھی کھلنے لگا تھا ۔۔۔۔۔۔جوزف نے ثریا کے پلّو کوالگ کرتے ہوئے کہا کہ ایک مسئلہ ہے ۔۔۔جو چیز مجھے پسند آتی ہے ۔۔میرے بھائی کو بھی وہی پسند ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ثریا سمجھ چکی تھی ۔۔۔۔اس کی بولتی بند ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔جوزف کے دیوہیکل جسم سے ہی اسے خوف آ رہا تھا ۔۔۔۔اور اب جوانا کاسوچ کر وہ کانپ اٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔۔جوزف نے اس کے بلاؤز پر ہاتھ ڈال دیا تھا ۔۔۔۔اور پھر پیچھے سے اس کی ڈوری کھلتے ہی گورے چٹے گول مٹول سے ممے باہر کو اچھل کر گرے تھے ۔۔۔۔ثریا گم سم سی ہو رہی تھی ۔۔۔۔وہ جسے بہت آسان سمجھ رہی تھی ۔۔۔وہ اب اس کی جان پر بننے جا رہا تھا ۔۔۔۔۔جوزف نے اسے اٹھاکر سامنے کھڑا کیا ۔۔۔ثریا جوزف کے سامنے چپ چاپ کھڑی تھی ۔۔۔۔۔جب جوزف نے اس کے مموں کو پکڑ کر کھینچا اور کمر سے نیچے ہاتھ پھیرتا ہوا ۔۔۔پیٹی کوٹ بہت خوبصورتی سے اس کی کمر سے نیچے گول سے چوتڑ پر فکس ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔جوزف نے ایک مرتبہ پیٹی کوٹ کے اوپر سے ہی چوتڑ دبائے اور پھر پیٹی کوٹ نیچے اتارنے لگا۔۔۔۔ثریا نے ایک پاؤں اٹھایا اور پھر دوسرا بھی ۔۔۔۔۔پیٹی کوٹ بھی اتر چکا تھا ۔۔۔۔۔۔نیچے سرخ پینٹی تھی ۔۔۔جو آنےوالے وقت کے پیش نظر گیلی ہونا شروع ہو چکی تھی ۔پینٹی اتار کر۔۔۔۔۔جوزف نے ایک بازو بڑھا کر ثریا کے چوتڑ کے گرد لپیٹا اوراٹھا کر خود سے لگا لیا۔۔۔ساتھ ہی اپنے کمرے کی طرف چل پڑا ۔۔۔۔اور جب جوزف نے ثریا کو بیڈ پر اچھالا تھا ۔۔۔تو وہ حیران ہی رہ گئی۔۔۔۔۔جہاں جوانا پہلے سے کپڑے اتارے تیار بیٹھا تھا ۔۔۔۔ثریا کے دماغ میں بجلی سی کوندی تھی ۔۔۔۔اپنے خیال میں اسنے جوزف کو شکار کیا تھا ۔۔۔۔مگر یہ دونوں پہلے سے ہی تیار تھے ۔۔۔۔۔۔جوانا نے خود پہلے اٹھ کر اسے جوزف کے پاس جانے کا موقع دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔اور جوانا کو پہلے سے ہی اس بات کا اندازہ تھا کہ اگر ثریا خود جوزف کے پاس نہ گئی تب بھی جوزف اسے تیار کرکے یہاں لے آئے گا۔۔۔۔۔۔ ثریا کی ساری ہوشیاری اور مکاری ہوا ہونے لگی تھی ۔۔۔اس کے دماغ میں خطرے کی گھنٹی بج اٹھی تھی ۔۔۔اس رات راجہ کا ملنا ۔۔۔اگلے ہی دن ملنے چلے آنا ۔۔۔اور مشکل ترین کام کے لئے فورا تیار ہو جانا ۔ثریا کے ساتھ چپ چاپ چلے جانا۔۔۔۔۔۔ان انسٹرکٹرز کا فورا مل جانا ۔۔۔۔اور اب پہلے سے ساری صورتحال کے لئےتیار رہنا ۔۔۔۔اس کے دماغ کے خطرے کے سائرن کا اب کوئی فائدہ کچھ نہیں تھا ۔۔۔اس کے کپڑے تو اتر چکے تھے ۔۔۔۔۔۔ادھر جوزف بھی کپڑے کے بوجھ سے آزاد ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔ثریا پھٹی پھٹی نگاہوں سے دونوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ایک طرف ٹرک جیسی جسامت تھی ۔۔جبکہ دوسری طرف رکشے جیسی ثریا ۔۔۔۔۔۔۔ جوانا اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔۔ساتھ ہی اس کا موٹا اور لمبا سانپ سنسناتے ہوئے سامنے آیا تھا ۔۔۔ثریا نے تیزی سے کمرے سے باہر نکلنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔مگر جوزف نے ایک ہاتھ سے پکڑتے ہوئے اس بیڈ پر دوبارہ اچھال دیا ۔۔۔جوزف کا ہتھیار بھی کھڑا ہونےلگا تھا ۔۔۔۔ثریا بیڈ کے کنارے پر تھی ۔۔۔جہاں ایک طرف جوزف اور دوسری طرف جوانا آن کھڑے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔دونوں کے موٹے اور لمبے لنڈ ہوا میں لہرا رہے تھے ۔۔۔۔ثریا نے انہیں ہاتھ میں تھاما ۔۔۔اور باری باری منہ میں لینے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔۔۔اس کے ہاتھوںمیں مشکل سے سماتے ہوئے یہ لنڈ اب ثریا منہ میں لئے چوس رہی تھی ۔۔جلد ہی دونوں لنڈ اپنی پوری سختی پر آ چکے تھے ۔۔۔۔۔۔ جوانا بیڈ کے کنارے جا لیٹا تھا ۔۔۔۔۔ثریا اس کے اوپر جھکی ہوئی اس کے لنڈ کو چوسے جا رہی تھی ۔۔۔پیچھے سے جوزف نے لنڈ تھامے ہوئے ثریا کی چوت میں گھسایا تھا ۔۔۔۔درد سے کراہتی ہوئ ثریا جوانا پر گری تھی ۔۔۔۔۔مگر دونوں پر اس کے رونے پیٹنے کا کوئی اثر نہیں تھا۔۔۔جوزف نے ثریا کی کمرکو پکڑےواپس کھینچا ۔اور دوبارہ سے لنڈ گھسائے ٹھوکنے لگا۔۔۔۔۔ثریا کے منہ میں جوانا کا لنڈ پھنسا ہوا تھا ۔۔۔اور آنکھیں پھیلی ہوئی تھی ۔۔۔جوزف نے پوری قوت سے دھکے مارتے ہوئے اس کی چوت کو کھلا کر دیا تھا ۔۔۔۔ثریاایک مرتبہ فارغ ہو نے لگی تھی ۔۔۔۔۔جوزف پیچھے ہٹا تھا ۔۔۔۔اور جوانا نے ثریا کو تھامتے ہوئے خود پر سیدھ لیٹا دیا ۔۔دونوں پاؤں دائیں بائیں رکھے ثریا جوانا پر بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔نیچے سے جوانا نے اپنےلنڈ کو ثریا کی گانڈ پر رکھتے ہوئے اندر دھکا دیا۔۔۔ثریا اوپر اچھل کر اٹھنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔مگر جوانا نے دوسرا ہاتھ اس کے گرد لپیٹ دیا ۔۔۔۔ثریا کے منہ سے ایک چیخ نکلی ۔۔۔درد کی ایک تیز لہر اس کی گانڈ سے نکلی تھی ۔۔۔۔گانڈ کا سوراخ پورا کھل کر جوانا کے لنڈ کولینے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔کچھ تو لنڈ اندر جا چکا تھا ۔۔۔۔۔باقی جوانا کے دھکے نے اندر دھکیل دیا ۔۔۔دبلی پتلی سی ثریا جوانا کے اوپر بری طریقے سے اچھلی جا رہی تھی ۔۔منہ سے بے اختیار سسکیاں اور کراہیں نکل رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔اور جوانا بغیر رکے جھٹکے پر جھٹکے دئے جا رہا تھا ۔۔۔۔ثریا کی کمر کے کس بل بھی ڈھیلے ہو چکے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ثریا نے جوانا کی منت کرتے ہوئے اسے روکا ۔۔۔اور خود ہی شرافت سے اس کی طرف منہ کر کے بیٹھنے لگی ۔۔۔۔اب کی بار ثریا نے آگے کی طرف لے کر اپنی بچت کرنی چاہی تھی ۔۔۔۔اور جوانا کے لن کو چوت میں لے کر بیٹھنےلگی ۔۔۔جوانا نے بھی اچھل کر جھٹکا مارا تھا ۔۔۔ساتھ ہی ثریا اس کے لن پر گری اور سینے پر ہاتھ رکھ کر خود کو سمبھالنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جوانا نے ابھی دھکے اسی طرح جاری رکھے تھے ۔۔۔اور ثریا کراہیں لیتی ہوئی خود کو سمبھالتی رہی ۔۔۔۔۔۔۔ادھر جوزف پیچھے سے ثریا کی گانڈ کے چوتڑ کھولتے ہوئے اندر اپنا لنڈ گھسا چکا تھا ۔۔۔۔ثریا کے منہ سے پھر چیخ نکلی اور آنسو بھی ب ثریادوپہر سے پہلے اپنےگھر پہنچ چکی تھی ۔۔جب اسے ملازم نے بتایا کہ باہر راجہ کے مہمان آچکے ہیں ۔۔۔ثریا جلدی سے اٹھی اور باہر کی طرف چلی ۔۔۔جہاں ایک بڑی سی جیپ کے اندر سے دو دیوہیکل حبشی اتر رہے تھے ۔۔جیپ سے اتر کر وہ سامنے کی طرف آئے جہاں ثریا اک حیرت سے انہیں دیکھ رہی تھی ۔۔اسے اندازہ نہیں تھا کہ راجہ جنہیں بھیجے گا وہ ایسے لمبے چوڑے اور بڑے ڈیل ڈول والے ہوں گے ۔۔۔ثریا آگے بڑھی اور ان کا استقبال کرتی ہوئی اندر لے آئی ۔جلد ہی تعارف کا مرحلہ طے ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ جوزف اور جوانا کے جسم سے بہت متاثر ہوئی تھی ۔اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ اگر یہ لوگ اس کا ساتھ دیں تو کوئی مشکل نہیں ہے ۔۔۔اور اسے لگ رہا تھا کہ اب اس کا مشن جلد مکمل ہو جائے گا۔۔۔۔جلد ہی ثریا نے ان کے لئے کھانے کی ٹرالی اور چائے منگوائے ۔۔۔جوانا اب تک خاموش ہی تھا ۔۔۔۔اور جوزف آہستگی سے ثریا کے سوالوں کے جواب دے رہا تھا ۔۔۔ثریا نے بتایا کہ راجہ دوسرے کام سے گیا ہوا ہے ۔۔۔اور اس نے آپ دونوں کی بہت تعریفیں کی ہیں ۔۔۔۔۔جوزف ہاں میں سر ہلا رہا تھا ۔۔۔اس کے بعد ثریا نے انہیں ان کے کمرے دکھائے اور آرام کے لئے بھیج دیا ۔۔۔۔۔۔شام کو ثریا خود ان کو اٹھانے کے لئے گئی ۔۔اس نے اپنی ڈریسنگ تبدیل کر لی تھی ۔۔۔اوراب وہ چاہ رہی تھی کہ جوزف اور جوانا میں سے کوئی اس کی طرف مائل ہو جائے ۔بلیک کلر کی ساڑھی اور کھلے بلاؤز میں وہ قیامت ڈھا رہی تھی ۔۔۔۔اس لئے بڑی ہیجان انگیز ڈریسنگ کئے ہوئے وہ سامنے آئی تھی ۔۔۔جوزف اور جوانا کو ساتھ لئے ہوئی وہ ڈرائنگ روم میں پہنچی ۔۔۔۔رات کاکھا نا کافی پرتکلف تھا۔۔۔ثریا نے اس کے بعد الکوحل مشروبات منگوانے چاہے ۔۔۔مگر دونوں نے منع کر دیا ۔۔۔ جوانا کسی کام سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔اور ثریا اٹھ کر جوزف کے قریب آ بیٹھی ۔اپنے ہاتھ میں موبائل کو گھماتے ہوئے ۔۔ جوزف سے اس ملک میں رہنے کے تجربے کے بارے میں پوچھنے لگی ۔۔۔۔جوزف نے کم سے کم لفظوں میں بتا دیا کہ وہ اپنے ملک میں سیکورٹی اداروں میں کام کررہے تھے ۔۔۔یہاں کسی تربیتی مشن پر آئے تھے کہ یہ ملک پسند آگیا ۔۔اس کے بعد یہیں کے ہو گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ثریا کے ہاتھ سے موبائل گرا تھا ۔۔۔اور اس نے اپنی ساڑھی کا پلو گراتے ہوئے دوسرا سوال کیا تھا ۔۔۔صرف یہ ملک پسند آیا یا یہاں کے لوگ بھی پسند آئے ۔۔۔۔۔۔جوزف اشارہ سمجھ گیا تھا ۔۔۔۔۔کہنے لگا کہ ملک میں سب ہی شامل ہوتا ہے ۔۔۔۔اس کے بعد ثریا کا اگلا سوال اس سے بھی خطرناک لہجے اور آواز میں تھا۔۔۔صرف شراب سے پرہیز ہے یا شباب سے بھی پرہیز کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جوزف کا پیمانہ لبریز ہو چکاتھا ۔۔۔اس نے جواب دیا کہ پسند پر ڈیپنڈ ہے ۔۔۔اگر کوئی خوبصورت ہو تو کیسے دور رہا جا سکتا ہے ۔۔۔۔ثریا بھی سمجھدار تھی ۔۔اور قریب ہوئی تھی ۔۔۔ادھر جوزف نے اپنا ہاتھ بڑھا کر ثریا کا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔جو جوزف کے بڑے سے ہاتھ میں کسی بچے کا ہاتھ لگ رہا تھا ۔۔۔جوزف نے ثریا کے ہاتھ کو اپنی طرف کھینچا تھا ۔۔۔ثریا کسی کھلونے کی طرح کھینچتی ہوئی جوزف کے قریب پہنچی ۔۔۔جوزف نے کمر سے پکڑ کرثریا کواٹھا یا اور اپنی گود میں بٹھا لیا۔۔۔کالی ساڑھی میں ثریا کا گورا بدن جھانک رہا تھا ۔۔۔۔اور اب ساڑھی کا پلو بھی کھلنے لگا تھا ۔۔۔۔۔۔جوزف نے ثریا کے پلّو کوالگ کرتے ہوئے کہا کہ ایک مسئلہ ہے ۔۔۔جو چیز مجھے پسند آتی ہے ۔۔میرے بھائی کو بھی وہی پسند ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ثریا سمجھ چکی تھی ۔۔۔۔اس کی بولتی بند ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔جوزف کے دیوہیکل جسم سے ہی اسے خوف آ رہا تھا ۔۔۔۔اور اب جوانا کاسوچ کر وہ کانپ اٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔۔جوزف نے اس کے بلاؤز پر ہاتھ ڈال دیا تھا ۔۔۔۔اور پھر پیچھے سے اس کی ڈوری کھلتے ہی گورے چٹے گول مٹول سے ممے باہر کو اچھل کر گرے تھے ۔۔۔۔ثریا گم سم سی ہو رہی تھی ۔۔۔۔وہ جسے بہت آسان سمجھ رہی تھی ۔۔۔وہ اب اس کی جان پر بننے جا رہا تھا ۔۔۔۔۔جوزف نے اسے اٹھاکر سامنے کھڑا کیا ۔۔۔ثریا جوزف کے سامنے چپ چاپ کھڑی تھی ۔۔۔۔۔جب جوزف نے اس کے مموں کو پکڑ کر کھینچا اور کمر سے نیچے ہاتھ پھیرتا ہوا ۔۔۔پیٹی کوٹ بہت خوبصورتی سے اس کی کمر سے نیچے گول سے چوتڑ پر فکس ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔جوزف نے ایک مرتبہ پیٹی کوٹ کے اوپر سے ہی چوتڑ دبائے اور پھر پیٹی کوٹ نیچے اتارنے لگا۔۔۔۔ثریا نے ایک پاؤں اٹھایا اور پھر دوسرا بھی ۔۔۔۔۔پیٹی کوٹ بھی اتر چکا تھا ۔۔۔۔۔۔نیچے سرخ پینٹی تھی ۔۔۔جو آنےوالے وقت کے پیش نظر گیلی ہونا شروع ہو چکی تھی ۔پینٹی اتار کر۔۔۔۔۔جوزف نے ایک بازو بڑھا کر ثریا کے چوتڑ کے گرد لپیٹا اوراٹھا کر خود سے لگا لیا۔۔۔ساتھ ہی اپنے کمرے کی طرف چل پڑا ۔۔۔۔اور جب جوزف نے ثریا کو بیڈ پر اچھالا تھا ۔۔۔تو وہ حیران ہی رہ گئی۔۔۔۔۔جہاں جوانا پہلے سے کپڑے اتارے تیار بیٹھا تھا ۔۔۔۔ثریا کے دماغ میں بجلی سی کوندی تھی ۔۔۔۔اپنے خیال میں اسنے جوزف کو شکار کیا تھا ۔۔۔۔مگر یہ دونوں پہلے سے ہی تیار تھے ۔۔۔۔۔۔جوانا نے خود پہلے اٹھ کر اسے جوزف کے پاس جانے کا موقع دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔اور جوانا کو پہلے سے ہی اس بات کا اندازہ تھا کہ اگر ثریا خود جوزف کے پاس نہ گئی تب بھی جوزف اسے تیار کرکے یہاں لے آئے گا۔۔۔۔۔۔ ثریا کی ساری ہوشیاری اور مکاری ہوا ہونے لگی تھی ۔۔۔اس کے دماغ میں خطرے کی گھنٹی بج اٹھی تھی ۔۔۔اس رات راجہ کا ملنا ۔۔۔اگلے ہی دن ملنے چلے آنا ۔۔۔اور مشکل ترین کام کے لئے فورا تیار ہو جانا ۔ثریا کے ساتھ چپ چاپ چلے جانا۔۔۔۔۔۔ان انسٹرکٹرز کا فورا مل جانا ۔۔۔۔اور اب پہلے سے ساری صورتحال کے لئےتیار رہنا ۔۔۔۔اس کے دماغ کے خطرے کے سائرن کا اب کوئی فائدہ کچھ نہیں تھا ۔۔۔اس کے کپڑے تو اتر چکے تھے ۔۔۔۔۔۔ادھر جوزف بھی کپڑے کے بوجھ سے آزاد ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔ثریا پھٹی پھٹی نگاہوں سے دونوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ایک طرف ٹرک جیسی جسامت تھی ۔۔جبکہ دوسری طرف رکشے جیسی ثریا ۔۔۔۔۔۔۔ جوانا اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔۔ساتھ ہی اس کا موٹا اور لمبا سانپ سنسناتے ہوئے سامنے آیا تھا ۔۔۔ثریا نے تیزی سے کمرے سے باہر نکلنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔مگر جوزف نے ایک ہاتھ سے پکڑتے ہوئے اس بیڈ پر دوبارہ اچھال دیا ۔۔۔جوزف کا ہتھیار بھی کھڑا ہونےلگا تھا ۔۔۔۔ثریا بیڈ کے کنارے پر تھی ۔۔۔جہاں ایک طرف جوزف اور دوسری طرف جوانا آن کھڑے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔دونوں کے موٹے اور لمبے لنڈ ہوا میں لہرا رہے تھے ۔۔۔۔ثریا نے انہیں ہاتھ میں تھاما ۔۔۔اور باری باری منہ میں لینے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔۔۔اس کے ہاتھوںمیں مشکل سے سماتے ہوئے یہ لنڈ اب ثریا منہ میں لئے چوس رہی تھی ۔۔جلد ہی دونوں لنڈ اپنی پوری سختی پر آ چکے تھے ۔۔۔۔۔۔ جوانا بیڈ کے کنارے جا لیٹا تھا ۔۔۔۔۔ثریا اس کے اوپر جھکی ہوئی اس کے لنڈ کو چوسے جا رہی تھی ۔۔۔پیچھے سے جوزف نے لنڈ تھامے ہوئے ثریا کی چوت میں گھسایا تھا ۔۔۔۔درد سے کراہتی ہوئ ثریا جوانا پر گری تھی ۔۔۔۔۔مگر دونوں پر اس کے رونے پیٹنے کا کوئی اثر نہیں تھا۔۔۔جوزف نے ثریا کی کمرکو پکڑےواپس کھینچا ۔اور دوبارہ سے لنڈ گھسائے ٹھوکنے لگا۔۔۔۔۔ثریا کے منہ میں جوانا کا لنڈ پھنسا ہوا تھا ۔۔۔اور آنکھیں پھیلی ہوئی تھی ۔۔۔جوزف نے پوری قوت سے دھکے مارتے ہوئے اس کی چوت کو کھلا کر دیا تھا ۔۔۔۔ثریاایک مرتبہ فارغ ہو نے لگی تھی ۔۔۔۔۔جوزف پیچھے ہٹا تھا ۔۔۔۔اور جوانا نے ثریا کو تھامتے ہوئے خود پر سیدھ لیٹا دیا ۔۔دونوں پاؤں دائیں بائیں رکھے ثریا جوانا پر بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔نیچے سے جوانا نے اپنےلنڈ کو ثریا کی گانڈ پر رکھتے ہوئے اندر دھکا دیا۔۔۔ثریا اوپر اچھل کر اٹھنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔مگر جوانا نے دوسرا ہاتھ اس کے گرد لپیٹ دیا ۔۔۔۔ثریا کے منہ سے ایک چیخ نکلی ۔۔۔درد کی ایک تیز لہر اس کی گانڈ سے نکلی تھی ۔۔۔۔گانڈ کا سوراخ پورا کھل کر جوانا کے لنڈ کولینے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔کچھ تو لنڈ اندر جا چکا تھا ۔۔۔۔۔باقی جوانا کے دھکے نے اندر دھکیل دیا ۔۔۔دبلی پتلی سی ثریا جوانا کے اوپر بری طریقے سے اچھلی جا رہی تھی ۔۔منہ سے بے اختیار سسکیاں اور کراہیں نکل رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔اور جوانا بغیر رکے جھٹکے پر جھٹکے دئے جا رہا تھا ۔۔۔۔ثریا کی کمر کے کس بل بھی ڈھیلے ہو چکے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ثریا نے جوانا کی منت کرتے ہوئے اسے روکا ۔۔۔اور خود ہی شرافت سے اس کی طرف منہ کر کے بیٹھنے لگی ۔۔۔۔اب کی بار ثریا نے آگے کی طرف لے کر اپنی بچت کرنی چاہی تھی ۔۔۔۔اور جوانا کے لن کو چوت میں لے کر بیٹھنےلگی ۔۔۔جوانا نے بھی اچھل کر جھٹکا مارا تھا ۔۔۔ساتھ ہی ثریا اس کے لن پر گری اور سینے پر ہاتھ رکھ کر خود کو سمبھالنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جوانا نے ابھی دھکے اسی طرح جاری رکھے تھے ۔۔۔اور ثریا کراہیں لیتی ہوئی خود کو سمبھالتی رہی ۔۔۔۔۔۔۔ادھر جوزف پیچھے سے ثریا کی گانڈ کے چوتڑ کھولتے ہوئے اندر اپنا لنڈ گھسا چکا تھا ۔۔۔۔ثریا کے منہ سے پھر چیخ نکلی اور آنسو بھی بہہ نکلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب دونوں نے اپنے جھٹکے شروع کر دیئے تھے ۔۔ثریا کبھی ادھر گری ۔۔۔کبھی اْدھر گرتی ۔۔۔۔وہ دومرتبہ پانی چھوڑ چکی تھی ۔۔۔مگر دونوں حبشی اسی طرح اس کی ٹھوکنے پر لگے ہوئے ہے ۔۔۔دس منٹ بعد دونوں کھڑے ہو گئے تھے ۔۔۔جوزف نے ثریا کو گود میں اٹھا لیا تھا ۔۔۔۔اور چوت میں اب اس کا لنڈ تھا ۔۔۔پیچھے سے جوانا اس کی گانڈ بجا رہا تھا ۔۔۔۔ثریا پیچھے سے درد اور آگے سے مزے سے کراہ رہی تھی ۔۔۔۔۔اور پھر وہ وقت آیا جب دونوں ایک ساتھ فارغ ہوئے ۔۔۔۔۔چوت میں پانی کا ایک سیلاب آیا ۔۔۔۔اور پوری چوت کو بھرنے کے بعد اب نیچے گر رہا تھا ۔۔۔۔ثریا نے سکھ کا گہر ا سانس لیا ۔۔۔۔اتنے میں ایک میسج کی آواز آئی تھی ۔۔جوزف ثریا کو اتار کر اپنے بیگ کی طرف بڑھا ۔۔فون پر میسج دیکھ کر جوانا سے بولا راجہ کا میسج ہے ۔۔۔کچھ ایمرجنسی ہے شاید ۔۔۔۔۔ ثریا نے باہر کو نکلنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔مگر جوزف کا ہاتھ دوبارہ بیگ میں گیا تھا ۔۔اور اب کی بار پسٹل نکلی تھی ۔۔۔۔۔نشانہ بے خطا تھا ۔۔۔اور ثریا کی گردن کے آر پار ایک سوراخ بن چکا تھا ۔ثریاعرف مالا کا اختتام ہو چکا تھا۔۔۔۔اتنے میں فون کی گھنٹی بجی ۔۔۔جوزف نے پسٹل جوانا کی طرف پھینک کر کہا کہ یہ عمارت کلئیر کر دو۔۔۔۔جوانا تیزی سے باہر نکلا ۔۔۔۔اور جوزف نے فون کان سے لگا لیا ۔۔۔۔دس منٹ بعد عمران وانا ائیر بیس پر اتر رہا تھا۔۔۔۔۔جوزف نے اپنا بیگ اٹھا یا اور تیزی سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھتا چلا گیا ۔۔۔عمران کو لے کر اسے راجہ کی طرف پہنچنا تھا۔۔۔۔۔۔ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ہہ نکلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب دونوں نے اپنے جھٹکے شروع کر دیئے تھے ۔۔ثریا کبھی ادھر گری ۔۔۔کبھی اْدھر گرتی ۔۔۔۔وہ دومرتبہ پانی چھوڑ چکی تھی ۔۔۔مگر دونوں حبشی اسی طرح اس کی ٹھوکنے پر لگے ہوئے ہے ۔۔۔دس منٹ بعد دونوں کھڑے ہو گئے تھے ۔۔۔جوزف نے ثریا کو گود میں اٹھا لیا تھا ۔۔۔۔اور چوت میں اب اس کا لنڈ تھا ۔۔۔پیچھے سے جوانا اس کی گانڈ بجا رہا تھا ۔۔۔۔ثریا پیچھے سے درد اور آگے سے مزے سے کراہ رہی تھی ۔۔۔۔۔اور پھر وہ وقت آیا جب دونوں ایک ساتھ فارغ ہوئے ۔۔۔۔۔چوت میں پانی کا ایک سیلاب آیا ۔۔۔۔اور پوری چوت کو بھرنے کے بعد اب نیچے گر رہا تھا ۔۔۔۔ثریا نے سکھ کا گہر ا سانس لیا ۔۔۔۔اتنے میں ایک میسج کی آواز آئی تھی ۔۔جوزف ثریا کو اتار کر اپنے بیگ کی طرف بڑھا ۔۔فون پر میسج دیکھ کر جوانا سے بولا راجہ کا میسج ہے ۔۔۔کچھ ایمرجنسی ہے شاید ۔۔۔۔۔ ثریا نے باہر کو نکلنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔مگر جوزف کا ہاتھ دوبارہ بیگ میں گیا تھا ۔۔اور اب کی بار پسٹل نکلی تھی ۔۔۔۔۔نشانہ بے خطا تھا ۔۔۔اور ثریا کی گردن کے آر پار ایک سوراخ بن چکا تھا ۔ثریاعرف مالا کا اختتام ہو چکا تھا۔۔۔۔اتنے میں فون کی گھنٹی بجی ۔۔۔جوزف نے پسٹل جوانا کی طرف پھینک کر کہا کہ یہ عمارت کلئیر کر دو۔۔۔۔جوانا تیزی سے باہر نکلا ۔۔۔۔اور جوزف نے فون کان سے لگا لیا ۔۔۔۔دس منٹ بعد عمران وانا ائیر بیس پر اتر رہا تھا۔۔۔۔۔جوزف نے اپنا بیگ اٹھا یا اور تیزی سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھتا چلا گیا ۔۔۔عمران کو لے کر اسے راجہ کی طرف پہنچنا تھا۔۔۔۔۔۔ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ رات کے نو بجے تھے ۔۔میٹنگ شروع ہو چکی تھی ۔۔۔اور میں بھی پوری طرح سے تیار تھا ۔ ۔۔پہرہ داروں کی ڈیوٹیا ں تبدیل ہو گئیں تھی ۔۔۔۔۔دن کے پہرہ دار سونے جا رہے تھے ۔میں نے ان کو گھر جانے کا کہا کہ کل آپ لوگ آ جائیں ۔۔آج کے لئے ہم کافی ہیں ۔۔۔وہ مطمئن ہو کر گھر روانہ ہو گئے ۔ ۔۔۔رات کے پہرہ دار کھانا کھا کر آچکے تھے ۔۔۔میں نے وائیرلیس پر سب کی پوزیشن چیک کی ۔۔۔سب حاضر تھے ۔۔۔۔یہ کل آ ٹھ لوگ تھے ۔۔تین لوگ عمارت کی چھت پر اسنائپر لئے ہوئےتھے ۔۔۔عمارت کی چھت پر جانے کے لئے بیک سائیڈ کا ایک راستہ بنایا گیا تھا ۔۔جبکہ سیکنڈ فلو ر مکمل طور پر اوپر اورنیچے سے بند ہو چکا تھا ۔۔۔۔اب نہ کوئی اوپر سے سیکنڈ فلور پر جا سکتا تھا ۔۔اور نہ ہی نچلی طرف سے ۔۔۔عمارت کے سامنے کمپاؤنڈ میں گاڑیاں کھڑی تھیں ۔۔جبکہ کمپاؤنڈ کا مین دروازہ بھی بند کر دیا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔بیک سائیڈ پر دو بندے پہرے پر تھے ۔۔جبکہ سامنے کی طرف تین بندے تھے ۔۔۔۔میں نے چاروں طرف کا ایک چکر لگایا ۔۔۔اور پھر واپس اپنے مانیٹرنگ روم میں آ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔حرکت میں آنے کا ٹائم آ گیا تھا ۔۔۔میں نے اپنا لباس تبدیل کر لیا ۔۔کچن سے قہوہ بن کر پہلے میرے لئے آیا تھا ۔۔۔میں نے تین قہوے کے کپ اور رکھ کر کہا کہ یہ میں اوپر لے جا رہا ہوں باقی تم نیچے بانٹ دینا ۔۔۔میں نے ایک پلیٹ میں قہوے رکھے اور عمارت کی بیک پر چلا گیا ۔۔۔رستے میں بے ہوشی کی دوا ملا چکا تھا ۔۔۔۔۔اوپر جا کر تینو ں کو قہوے دئے وہ بھی حیران تھے کہ میں خود قہوے لایا ہوں ۔۔قہوے دے کر میں نے چھت کا چکر لگایا ۔۔ایک طرف کے کمرے کی لائٹ جل رہی تھی ۔۔۔۔مجھے اندازہ ہوا کہ اسی طرف میٹنگ چل رہی ہے ۔۔کچھ دیر کے بعد اوپر کے تینوں اسنائپر بے ہوش ہو چکے تھے ۔۔میں نیچے گیا اور اپنا بیگ لے آیا ۔۔میرے پاس پوری رات کا ٹائم تھا ۔۔میں نے رسی اور آنکڑا نکال لیا تھا ۔۔۔اپنی بیلٹ سے رسی کو منسلک کرنے کے بعد میں نے آنکڑاچھت پر فکس کر دیا ۔۔۔۔اور ساتھ ہی دیوار پر پاؤں جمائے میں نیچے اترنے لگے ۔۔۔کچھ ہی دیر میں کھڑکی کے قریب آ چکا تھا ۔خصوصی مائکرو فون کھڑکی کے ہول کی طرف سیٹ کرکے میں نے ہیڈ فون کان سے لگادیا تھا۔۔اور اب کلئیر آواز کے ساتھ یہ سب ریکارڈ اور میں سن بھی رہا تھا ۔۔۔۔۔بڑی سی میز کے سامنے را کا چیف میرے سامنے تھا۔۔جس کے ساتھ آئی بی کاچیف بیٹھا ہو ا تھا ۔۔اور دوسرے کل شام آئے ہوئے آفیسر تھے ۔۔جبکہ دوسر ی طرف غزالہ اور وہ دونوں نام نہاد انجینئر بیٹھے ہوئے تھے ۔۔۔را کا چیف غزالہ کو پوجا کے نام سے پکار رہا تھا۔۔۔اس نے ثریا کی کارگردگی پوچھی تھی ۔۔۔ثریا کا اصل نام مالا تھا۔۔۔۔اور اب پوجا بڑی تفصیل سے اسے مالا کی کارگردگی سنا رہی تھی کہ کیسے اس نے ذہنی معذوروں کواکھٹا کر کے انہیں خود کش بمبار کے لئے تیار کیا تھا ۔۔۔جبکہ دوسری طرف کم عمر لڑکوں کو ذہنی تربیت کے ساتھ جسمانی تربیت کے لئے اسے انسٹرکٹر مل گئے تھے ۔۔اور اگلے ہی ہفتے یہ ٹارگٹ پر حملہ کے لئے تیار تھے ۔۔۔را کا چیف بار بار سرجیکل اسٹرائک کا لفظ استعمال کررہا تھا ۔۔موجودہ حالات میں جس طرح پوری دنیا میں انڈیا اکیلا ہو چکاتھا ۔۔۔وادی کاشمیر میں اپنے بے پناہ ظلم کی وجہ سے وہ ہر جگہ بری طرح زلیل ہو رہا تھا ۔۔یہاں تک اس کے اپنے لیڈر بھی اس پر انگلی اٹھار ہے تھے ۔۔اور اب یہ سرجیکل اسٹرائک ہی اس کی عزت بچا سکتے تھے ۔۔۔۔را کے چیف نے مالا کے لئے بھاری مالیت کے چیک اوراس کے پرو موشن کا بھی اعلان کیا ۔۔۔اس کے بعد چیف نے پوجا کو پاکستان کے مختلف شہروں میں ٹارگٹس لکھوانے شروع کر دیے ۔۔۔جس کو سن کر میرے تن بدن میں آگ لگتی جا رہی تھی ۔۔۔۔پوجا اپنے سامنے رکھی فائل پر سب نوٹ کرتی جا رہی تھی ۔۔۔اگلے دو گھنٹے تک یہ میٹنگ چلتی رہی تھی ۔۔۔میں ایک مرتبہ اوپر کا چکر لگا کر آچکا تھا ۔۔سب اوکے تھا ۔۔۔میٹنگ ختم ہونے لگی ۔۔۔اور پھر شراب کا دور شروع ہوا ۔۔۔پوجا اپنے ہاتھ سے سب کو سرو کر رہی تھی ۔۔۔۔۔اس کے بعد چیف نے اپنے جانے کی اعلان کیا ۔۔۔۔میں ایک دم بوکھلا گیا ۔۔پوجا نے تو کل تک ان کے رکنے کا بتایا تھا ۔۔مگر یہ تو آج رات ہی واپسی پر بضد تھے ۔۔۔۔۔اور پھر میرے سامنےہی را کے چیف نے ہیلی کاپٹر کے لئے فون کیا ۔۔۔۔۔میرے پاس ٹائم بہت کم تھا ۔۔ایک بار یہ لوگ ہاتھ سے نکل جاتے تو پھر کبھی ہاتھ نہ آتے ۔۔۔۔۔میں تیزی سے اوپر چڑھا اور چھت پر پہنچا ۔۔۔بیگ سے ایس ایم جی اٹھاتے ہوئے پیچھے کندھے پر پہن لی ۔۔پسٹل اور ہینڈ گرنیڈ اٹھاتے ہوئے پاؤچ پر لگا دئیے ۔۔۔۔پلان بنانے کاٹائم نہیں تھا۔۔اب بس آن دی اسپاٹ فیصلہ کرنا تھا ۔۔۔میں نے خصوصی فون پر ایک میسج سینڈ کیا ۔۔۔اور تیار ہونے لگا۔۔۔ میں فی الحال انڈین کمانڈوز سے مڈبھیر نہیں چاہ رہا تھا۔۔۔میرے اندازے کے مطابق یہ کمانڈوز آدھے تھرڈ فلور کی طرف ہو ں گے اور آدھے نیچے فرسٹ فلور کی طرف بیٹھے ہوں گے ۔۔۔اگر میں اسی کھڑکی سے اندر داخل ہو جاتا ہو تو را کے چیف کو اڑایا جا سکتا تھا ۔۔۔میں نے پسٹل ہاتھ میں لی اور رسی سے نیچے اترنے لگا ۔۔۔۔۔جلد ہی میں کھڑکی کے اوپر کھڑا ہوا تھا ۔۔۔۔میرے دل کی دھڑکن میرے کانوں میں سنائی دے رہی تھی ۔۔۔۔میں نے سائلنسر لگے پسٹل سے کھڑکی پر تین چار فائر اکھٹے کیے ۔اور سوراخ سے۔۔ہینڈ گرنیڈ کی پن کھینچ کر اندر اچھال دیا ۔۔۔۔۔چند ہی سیکنڈ میں ایک دھماکے کی آواز آئی ۔۔۔کھڑکی کا شیشہ چکنا چور ہو چکاتھا ۔۔اور اندر سے چیخنے اور چلانے کی آواز آئی ۔۔ساتھ ہی میں نے رسی سے جھولتے ہوئے اندر جمپ کی ۔۔جمپ کے ساتھ ہی میں رول ہوا تھا اور قریب ہی اوٹ میں ہو گیا ۔۔۔ایک جھلک میں میں نے دیکھ لیا تھا کہ کرسی اور ٹیبل الٹے ہوئے تھے ۔۔جن کے پیچھے را کا چیف اور باقی لوگ پناہ لیے ہوئے تھے ۔۔۔میں نے اوٹ سے ہوتے ہوئے ٹیبل سے جھانکتے ہوئے سر پر سنگل فائر کیے ۔۔۔وہ اوغ کی آواز نکالتا ہوا گرا تھا ۔۔۔اتنے میں دروازہ کھلا اورکمانڈوز اندر داخل ہوئے ۔۔۔آتے ہیں انہوں نے میرے ستون پر ایک برسٹ مارا تھا ۔پلستر کا کافی حصہ ہوا میں اچھلا ۔۔۔کمانڈوز نے آتے ہیں ان لوگوں کو اپنی اوٹ میں باہر نکالنا شروع کر دیا تھا ۔۔یہ دیکھ کر میں نے ہاتھ باہر نکلا اور پسٹل کا رخ اس طرف کرتے ہوئے بٹن دبا دیا ۔دو چیخیں اور ابھری تھیں ۔۔۔اور اب کی بار میں نے پوجا کی چیخ صاف سنی ۔۔۔۔۔ساتھ ہیں ایک اور برسٹ ستون پر پڑا تھا ۔۔۔میرے منہ سے ایک کراہ نکلی ۔۔۔ایک گولی میرے بازو کو چھیدتی ہوئی نکل گئی تھی ۔۔۔اب یہاں رکنا مشکل تھا ۔۔سامنے کھڑکی تھی ۔۔۔اور رسی بھی جھول رہی تھی ۔۔۔میں نے تیزی سے دوڑ لگائی اور کھڑکی پر پاؤں رکھتا ہوا رسی سے جھول گیا ۔۔اور ساتھ ہی اوپر کی طرف چڑھنا شروع کر دیا ۔۔۔میرے پیچھے فائر ہوئے تھے ۔۔مگر خوش قسمتی سے کسی گولی نے نہیں چھو ا۔۔۔میں تیزی سے اوپر پہنچااوررسی بھی اوپر کھینچ لی ۔۔۔۔ساتھ ہی پسٹل رکھتا ہوا ایس ایم جی نکال لی ۔۔۔اور سیڑھیوں کی طرف بھاگا۔۔۔۔ایک سائیڈ کے اسٹیپ میں جمپ کرتا ہوا اترا تھا ۔۔۔اب سیکنڈ فلور کے ہال کی اوپر سیڑھی پر پوزیش سمبھال چکا تھا ۔۔وہی ہوا تھا ۔۔کمانڈوز کھڑکی سے پلٹ کر واپس اوپر جانے کے لئے آئے تھے ۔۔مگر میں پہلی ہی تیار تھا ۔۔پہلا برسٹ کے ساتھ ہی سامنے والے دو کمانڈوز نیچے گر ے تھے ۔۔۔میں صر ف ہیڈ شاٹ کی کوشش میں تھا ۔۔۔سینے پر سب کے بلٹ پروف جیکٹ تھی ۔۔تیسرا کمانڈو اوٹ لینے بھاگا تھا کہ پیچھے سے گولیاں اس کے جسم میں کئی سوراخ کر گئی تھیں ۔۔میں نے ہال میں دیکھا پوجا اور اس کے ساتھ کے دونوں ایجنٹ اذیت زدہ چہروں کے ساتھ پڑے ہوئے تھے ۔۔جبکہ را اور آئی بی کاچیف اپنے ایک ساتھی کے ساتھ فرسٹ فلور پر تھا ۔۔ساتھ ہی پانچ کمانڈوز بھی زندہ تھے ۔۔۔میں واپس چھت پر پہنچا اور اسنائپر سنبھال لی ۔۔بیک سائیڈ پر مقامی گارڈ کھڑے تھے ۔۔سب سے پہلے ان کو نشا نہ بنایا ۔۔۔اس کے بعد سامنے والے گارڈ زکو ۔۔اتنے میں میں نے ہیلی کاپڑ کی آواز سنی تھی ۔۔۔جو تیزی کے ساتھ قریب آتی جا رہی تھی ۔۔۔میں نےایک لمحے کو سوچا اورپھر اسنائپر کارخ ہیلی کاپڑ کی طرف کر دیا ۔۔پہلا فائر ڈرائیور کی سائیڈ پر کیا ۔۔۔اور پھر پیٹرول ٹینک پر ایک کے بعد ایک فائر ۔۔ایک زبردست دھماکے کے ساتھ آگ کا گولا نکلا اور ہیلی کاپٹر چکراتا ہوا گرنے لگا۔۔۔پیچھے آتا ہوا ہیلی کاپڑ یہ دیکھ کر مڑا اور واپس ہو گیا۔۔۔۔میرے بازو سے بہتے خون بڑھ رہا تھا ۔اور ہاتھ سن ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔۔میں نے کپڑا لے کر اسے باندھنے کی کوشش کی ۔۔۔۔کچھ دیر کے لئے خون کا اخراج رک گیا ۔تھا ۔۔میں چھت کی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔۔اوپر کے اسنائپر والے آدمی ہوش میں آنا شرو ع ہو گئے تھے ۔۔۔میں نے پسٹل نکال کر انہیں بھی راہ عدم روانہ کیا ۔۔۔۔۔اور کچھ دیرٹیک لگائے بیٹھا رہا ۔۔۔پسٹل ری لوڈ کر میں اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔چھت سے نیچے دیکھنے لگا۔۔۔۔اور بے اختیار نیچے بیٹھ گیا ۔۔۔کمانڈوز باہر کمپاؤنڈ میں پوزیشن سمبھال چکے تھے ۔۔۔۔۔تین چار برسٹ ایک ساتھ پڑے تھے ۔۔چھت کا وہ حصہ اکھڑنے لگا ۔۔۔۔میں بیٹھے بیٹھےسیڑھی سے نیچے کی طرف جانے لگا۔۔۔۔۔ہینڈ گرنیڈ نکال کر ہاتھ میں پکڑ لیے ۔۔۔دوسرے فلور سے نیچے ہی مجھے کپڑے کی ایک جھلک نظر آئی تھی ۔۔۔میں نے ہینڈ گرنیڈ کی پن کھینچی اور نیچے چھوڑ دیا ۔۔۔ٹن کی آواز کے ساتھ گرنیڈ نیچے گرا اور پھر ایک دھماکے کی آواز آئی ۔۔ایک چیخ میں نے واضح طو ر پر سنی تھی ۔۔۔۔ساتھ ہی فائرنگ کا ایک تیز برسٹ پڑا ۔۔۔۔دو سے تین رائفلز میری طرف گرج رہیں تھی ۔۔۔۔۔ایک گولی میرے ٹانگ میں لگی تھی ۔گن وہیں چھوڑ کر ۔۔میں واپس اوپر کی طرف بڑھا ۔۔اور خود کو کھینچتا ہوا اوپر پہنچا۔۔۔۔۔۔۔چھت سے جھانکا تو کمانڈوز باہر کھڑی گاڑی کے قریب پوزیشن لیتے ہوئے را کے چیف اور آئی بی چیف کو لئے گاڑی میں بٹھا رہے تھے ۔۔۔۔۔اسنائپر استعمال ہو سکتی تھی ۔۔مگر اس کے لئے مجھے سر اٹھا نا پڑتا ۔۔۔اور یہ ہو نہیں سکتا تھا ۔۔۔میں ایک ٹانگ پر زور دیتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔ ۔۔ان دونوں چیف کو میں چھوڑ نہیں سکتا تھا ۔۔۔چاہے جان ہی کیوں نہ دینی پڑی ۔۔۔میں چھت کے کنارے کی طرف بڑھا ۔۔۔ساتھ ہی نیچے سے جی ایل (گرنیڈ لانچر) سے فائر ہوئے تین چار گرنیڈ چھت پر گرے ۔۔۔۔۔میں رسی لئے کھڑکی کی سائیڈ پر بھاگا ۔۔۔۔اور رسی کاآنکڑا چھت پر ٹانگتے ہوئے نیچے کودا ۔۔زخمی ہاتھ سن ہو چکا تھا ۔۔۔ ایک ہاتھ سے بڑی مشکل سلپ ہوتاہوا میں زمین پر پہنچا ۔۔۔اور پسٹل سمبھالتے ہوئے عمارت کے سامنے جانے لگا۔۔۔۔۔۔گاڑی مڑی ہوئی کمپاؤنڈ سے نکل رہی تھی ۔۔۔۔اور گاڑی کے دروازے سے کمانڈوز پیچھے کو گن نکالے کھڑے تھے ۔۔۔مجھے دیکھتے ہی ایک برسٹ ان کی گولیوں سے نکلا تھا ۔۔ایک گولی کندھے سے نکلی اور دوسری سینے میں لگی ۔۔میں بے دم ہو کر نیچے گرپڑا۔۔۔کمپاؤنڈ کے گیٹ سے گاڑی کا اگلا حصہ نکل رہا تھا ۔۔۔اور میں بے بسی سےانہیں جاتا ہوا دیکھ رہا تھا ۔۔۔تبھی ایک دیوہیکل جیپ چنگھاڑتی ہوئی سامنے نمودار ہوئی تھی ۔۔۔۔اپنی پوری اسپیڈ سے سامنے والی گاڑی سے ٹکرائی ۔۔۔اور اسے دھکیلتی ہوئی واپس اسی جگہ لے آئی ۔۔۔۔میں نے پچھلے حصے سے جوانا کو مشین گن لئے ہوئے اترتے ہوئے دیکھا۔۔۔دونوں ہاتھوں میں ایک ایک مشین گن لئے ہوئے جوانا کودا تھا ۔۔گولیوں کی بیلٹ اس کے کندھے سے پیچھے کو جھول رہی تھی ۔۔۔۔اور پھر گولیوں کی بارش شرو ع ہوئی ۔۔۔کمانڈوز نے باہر نکلنے کی کوشش کی مگر شہد کی مکھی کے چھتے کی طرح سینکڑوں سوراخ لئے جیپ کی کھڑکی سے باہر لٹک گئے۔۔۔۔جوانا نے چاروں طرف سے جیپ کو جالی دار بنا دیاتھا ۔۔اور اب اندر شاید ہی کوئی جاندار بچاتھا ۔۔۔۔تبھی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے جوزف نے اپنی دیوہیکل جیپ کو آگے بڑھا یا اور زبردست دھماکے سے سامنے والی گاڑی کو گرا دیا ۔۔۔۔۔جواناکی فائرنگ اب تک جاری تھی ۔۔۔ گاڑی نے آگ پکڑ لی تھی ۔۔میرے وطن کو سرجیکل اسٹرائک کا نشانہ بنانےوالے اپنی ہی آگ میں جل رہے تھے ۔۔اور اپنی قوم کو پیغام دے رہے تھے کہ کبھی اس ملک کی طرف میلی نگاہوں سے مت دیکھنا۔۔۔۔۔ جوزف کے ساتھ والی سیٹ کا دروازہ کھلا تھااور میں نے عمران کو اترتے ہوئے دیکھا جو اپنی بے مثال مسکراہٹ کے ساتھ میری طرف بڑھ رہا تھا۔۔۔اس کی نگاہوں میں میرے لئے جو بھی تھا وہ دیکھ کر میری آنکھیں سکون سے بند ہوتی چلی گئیں۔۔۔۔۔ ختم شد ۔۔۔۔۔۔ The End
×
×
  • Create New...