Jump to content
URDU FUN CLUB

Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 02/07/2021 in all areas

  1. 10 likes
  2. 9 likes
  3. 9 likes
    رائٹرز کے پاس لکھنے کا ٹائم نہیں بن رہا ۔ ایسے تمام ممبرز جو خود کو فورم اپڈیٹ کی ٹائپنگ میں مدد کرناچاہتے ہیں وہ مجھ سے میرے وٹس اپ نمبر پر رابطہ کر لیں۔ان کو وائس ریکارڈنگ کی فائل دی جائے گی جس کو ان ممبرز نے ٹائپ کر کے مجھے واپس سینڈ کرنا ہو گا۔ اپڈیٹ حاصل کرنے کے لیئے اپنی اور فورم کی مدد کریں۔ واضح ہو کہ ان تمام ممبران کو کسی قسم کی کوئی مالی مدد نہیں ملے گی۔ +44 7706 626637
  4. 8 likes
    ۔ کہانی کا پہلا حصہ مجھے موصول ہو گیا ہے جو میں یہاں پوسٹ کر رہا ہوں۔واٹر مارک سے کچھ دشواری ہو سکتی ہے مگر کہانی کو چوری ہونے سے بچانے کا ایک یہی طریقہ ہے۔
  5. 8 likes
    پہلی اپڈیٹ مجھے سٹوری میکر کی طرف سے موصول ہو چکی ہے۔ باقی وہ جونہی مجھے دیتے ہیں میں ان کو پڑھ کر شئیر کر دوں گا۔ امید ہے آج رات کو ہو جائے گی۔
  6. 7 likes
    اس کہانی کو ابھی تھوڑا لمبا چلانا ہے کیونکہ یہ اکلوتی کہانی ہے فری سیکشن میں۔ ہم نیو کہانیاں سو سے دو سو صفحات تک فری سیکشن میں پوسٹ کر سکتے ہیں۔ یہ حسب وعدہ فری سیکشن میں پوسٹ کی جائے گی۔
  7. 7 likes
    ہوس کے اختتام کے بعد ہم ایک نئی کہانی شروع کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے ہمارے پاس دو پلاٹ ہیں۔ پہلے ایک کالج کی کہانی جہاں سازشیں،نفرتیں ،محبتیں اور انسان کی مکاریوں کا حال ہو گا۔ دوسری طرف ایک جرائم کو چھوڑ چکے انسان کی کہانی جس کو ایک حادثہ دوبارہ جرم کی دنیا میں لے گیا۔ قارئین کی کیا رائے ہے کہ کونسی کہانی شروع کی جائے۔
  8. 7 likes
    محترم دوستو کہانی خان صاحب ہی بھیج رہے ہیں میں صرف لکھ رہا ہوں۔ 22 February کو اچانک طبیعت خراب ہوئی جو کہ اب تک ناساز ہی ہے۔ قسط نمبر سوئم کے کچھ صفحات لکھ لیے ہیں کچھ باقی ہیں بہت جلد وہ بھی فائل اپلوڈ کردوں گا شکریہ
  9. 6 likes
    میں آڈیو فائلز دے چکا ہوں۔ سٹوری میکر جب فری ہوں گے ٹائپ کر کے دے دیں گے۔ اگر اب بھی اپڈیٹ لیٹ ہے تو جناب ہم خود انجان ہیں کہ کیسے تیز کی جائے۔ ہم مہینوں سے دنوں پہ تو لا چکے ہیں۔
  10. 6 likes
    میرے پاس ایک پلاٹ منشیات پہ ہے اور ایک پلاٹ جسم فروشی اور انسانی سمگلنگ پہ ہے۔ مگر وہ سب بہت ڈارک پلاٹ ہیں۔ میں تھوڑا سا لائیٹ سا پلاٹ لکھنا چاہ رہا ہوں۔ میں نے ایک ہلکا سا لائیٹ کرائم ناول گمشدہ شناخت لکھا تھا, اس جیسا پلاٹ ہو سکتا ہے۔ ایک مرڈر سیریز بھی ہو سکتی ہے جس کو میں نے کچھ سال پہلے لکھا تھا۔
  11. 6 likes
    ہاں جی میں نے کہانی درمیان سے شروع کی تھی۔ شروع کی کہانی میں معمولی سی مشاورت ضرور ہوتی تھی مگر پلاٹ اور مرکزی خیال میرا دیا گیا نہیں تھا۔ اس لیے عین ممکن ہے کہ دوسری کہانی میں عظمیٰ کا باپ مر گیا ہو۔
  12. 6 likes
    دیکھیں مجھے لوگ برا کہیں یا اچھا فرق نہیں پڑتا۔ کوئی مجھے منہ سے لاکھ برا کہے مگر بار بار میری لکھی کہانی کو پڑھنے آئے تو مجھے سمجھ لینا چاہیے کہ اس کی برائی میں دم نہیں۔ بہرحال سب کو جلد ہوس اور پردیس کی اپڈیٹ بھی موصول ہو جائے گی۔
  13. 6 likes
    بہت خوب! بالآخر اس کہانی کے قارئین کی بھی سنی گئی۔ ڈاکٹر صاحب آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ ساعتیں اس کہانی کی وائس ریکارڈنگ کو دیں اور سٹوری میکر کا بھی شکریہ جنہوں نے بے لوث اس کہانی کو لکھنے کا بیڑہ اٹھایا۔ امید ہے کہ یہ سلسلہ اب بلا تعطل جاری رہے گا
  14. 6 likes
    ہر انسان کی زندگی ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جو ان چاہے اور انجانے میں اس سے سرزد ہوتے ہیں ۔ کچھ ایسا ہی میرے ساتھ ہوا جو میں آپ لوگوں سے شئیر کرنا چاہتا ہوں۔ پہلے تو اپنے تعارف کرا دوں۔میں نرسنگ کا سٹوڈنٹ ہوں اور ملتان شہر میں رہائش پذیر ہوں۔اب اپنی کہانی کا آغاز کرتے ہیں۔ سیکس کی دنیا سے میں اس وقت روشناس ہوا جب ابھی میں تقریباً گیارہ سال کا تھا۔ میں دینی تعلیم کے حصول کیلیے مدرسے جای کرتا تھا جب سکول سے واپس آتا تھا۔ مدرسی میں بہت ہی اچھے دوست بن گئے تھے ور زندگی آرام و سکون سے گزر رہی تھی۔ میرا ایک ساتھی طالب جس کا نام وحید تھا قد کا سانولا چٹا اور بہت ہی خوبصورت لڑکا تھا۔اس کی حرکتیں دیکھ کر محسوس ہوتا تھا جیسے وہ کوئی لڑکی ہو۔ کریمیں اور بلیچ بھی لگاتا تھا۔ اس نے تعلیم مکمل کر لی ا تھی اور اب اس کا آخری سال چل رہا تھا۔ مساجد میں پڑھے لوگ جانتے ہیں کہ جمعرات کے دن معمول سے ہٹ کر جلد چھٹی دے دی جاتی اور سب اپنے گھروں کو روانہ ہو جاتے تھے۔چند لڑکے صفائی کیلیے رکا کرتے تھے اور ان میں وہ لڑکا بھی شامل ہوتا تھا۔ خیر میں بھی گھر چلا جاتا اور یہ سب ایک سال سے جاری تھا۔ ایک دن چھٹی کے وقت کچھ لڑکے آپس میں بیٹھ کر گفتگو کر رہے تھے اور میں کھیل رہا تھا۔اچنک میرے کانوں میں آوز پڑی کہ استاد اور وحید کا کوئی چکر ہے تبھی تو استاد اسے روک لیتا ہے اور سب کو چھٹی دے دیتا ہے۔ یہ سنتے ہی میرے کن کھڑغہو گئے اور میں ان کی باتیں سننے کی کوشش میں لگ گیا۔ مجھے شک ہو گیا تھا کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے مگر وہاں تو سری دال ہی کالی تھی۔خیر جتنا میں نے سنا اس نے میرا تجسس بھرا دیا اور میں ان لڑکوں میں سے یک سے دوستی بڑھانے شروع کر دی جس کا نام نادر تھا۔ دن گزرتے گئے اور ہماری دوستی بڑھتی گئی۔ ب وہ مجھ سے ہر بات شئیر کرتا تھا۔مجھے اپنا پلان کمیں ہوتا نظر آ رہا تھا۔ یک دن باتوں ہی باتوں میں میں اس سے پوچھا کہ اک بات بتاؤں تمہیں اس نے بولا کہو۔ میں نے کہا لگتا ہے وحید کسی سے گانڈ مرتا ہے کیوں کہ دن بدن اس کی گانڈ موٹی ہوتی جا رہی ہے۔ اس نے کہا پاگل آہستہ بولو کوئی سن لے گا۔ میں نے کہا بتاؤ تو سہی کیا بات ہے۔ تب اس نے بولنا شروع کیا ۔ آگے کی کہانی اس کی زبانی سناتا ہوں۔ یہ تمہارے آنے سے پہلے کی بات ہے کہ اس وقت وحید نیا نیا آیا تھا۔ شروع میں استاد اس پر بہت توجہ دیتے تھے اور اس کی غلطیوں کو معاف کر دیتے تھے۔ اس سے اس کو شہ ملنا شروع ہو گئی اور وہ سب سے لڑتا جھگڑتا رہتا تھا۔ ایک دن کی بات ہے گرمیوں جب سب سو رہے تھے تو اس نے ایک لڑکے سے لڑائی شروع کر دی اور اسے بہت مارا۔ اس لڑکے نے استاد کے کمرے میں جا کر شکایت لگائی تو استاد نے اسے کمرے بلا لیا۔ انہوں نے دونوں کی بات سنی اور وحید کو کن پکڑ دیے۔تھوڑی دیر بعد استاد نے دوسرے لڑکے کو جانے دیا اور وحید کو کھڑا کر دیا۔ تم کیوں کر وقت لڑتے رہتے ہو استاد نے پوچھا۔ سر میں تو بس مزاق کر رہا تھا اور اس نے آپ کو بتا دیا وحید نے جواب دیا۔ تمہاری شرارتیں بڑھتی جا رہی ہیں اور اب تمہارا علاج کرنا لازمی ہے ۔ یہ کہ کر انہوں نے ڈنڈا اٹھایا اور اسے مارنے لگے ۔ وہ روتے ہوئے استانی آج معاف کر دیں آئندہ نہیں کروں گا۔استاد نہیں آج تمہارا دماغ درست کر کے چھوڑوں گا۔ استانی آپ کو کہو گے میں کروں گا آج معاف کر دو۔ ٹھیک ہے اب جیسا میں کہوں ویسا کرنا ہے تمہیں۔ ٹھیک ہے استاجی۔ میں نیند کر چکا تھا اور کچھ دیر میں دو بارہ کلاس لگنی تھی تو میں تھا اور منہ ہاتھ دھونے کیلیے نلکے کی طرف گیا جو کہ استاد کے کمرے کے پیچھے بنا ہوا تھا۔میں واپس آ رہا تھا کہ میں نے اک آواز سنی جو کہ چیخ سے مشابہہ تھی۔۔۔غور کیا تو استاد کے کمرے سے سنائی دی۔ بد قسمتی یا خوش قسمتی سے کھڑکی بند نہیں تھی اور میں اندر دیکھ سکتا تھا۔جیسے ہی میں نے اندر جھانکا میرا سانس اوپر کا نیچے رہ گیا اور میرے منھ سے نکلا اس تواڈی بہن نون۔۔۔۔
  15. 6 likes
    آپ کا گلہ درست ہے اور سبھی لوگ جو یہ گلہ کرتے ہیں وہ سچے ہیں کہ ہم بامشکل ہی سلسلے منیج کر رہے ہیں۔ بہرحال ایک اور کوشش کرنے کی ٹھانی ہے، ہم نے فورم کے ممبران سے ٹائپنگ میں مدد طلب کی ہے۔دیکھیں اس میں کتنی کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
  16. 6 likes
    آج سے اس کہانی کو سٹوری میکر ہی اپڈیٹ کیا کریں گے۔ ہم ان کو آڈیو فائل دیا کریں گے اور وہ اس کو ٹائپ کر کے مجھے بھیجا کریں گے۔ میں اس میں ضروری پروف ریڈنگ کے بعد اس کو فوری پوسٹ کر دیا کروں گا۔ اب اس میں امید ہے کہ کوئی تعطل نہیں آئے گا۔
  17. 5 likes
    wsy sofi k 7 ni kch hna chia vo is stry ke heroin hy bqi dr shb jnty han k vo kya krny wly han
  18. 5 likes
    تھینکس آپ سب کا ہے کہ آپ اب تک کہانی سے جڑے ہوئے ہیں شکرگزار ہوں کہ آپ میری طبیعت کیلئے دعاگو بھی ہیں جلد قسط نمبر دوئم اپلوڈ ہوگی قسط نمبر دوئم کے کچھ صفحات رات کو لکھ لیے تھے مزید کچھ لکھ کر خان سر کو دے دوں گا آپ سب کا شکر گزار ہوں
  19. 5 likes
    جناب کہانی تو میری ہی ہے اور اگر پسند نہیں آئی تو کوشش کروں گا کہ آگے ذرا بہتری لاؤں۔ جو موڑ میں لانا چاہتا ہوں وہ جلد سامنے آئے گا۔ یہ ایک قسم کی تہمید ہے۔
  20. 5 likes
    جی محترم میں نے پہلی ریکارڈنگ ٹائپ کرکے استاد محترم کو بھیج دی ہے۔ وہ پروف ریڈنگ کے بعد اپلوڈ کردیں گے میں 23 فروری سے کافی حد تک ایزی ہو جاوں گا، پھر اس کے بعد امید ہے کہ کہانیوں کی اپڈیٹ میں تاخیر کا دورانیہ کم ہو جائے گا۔
  21. 4 likes
    معزز دوستو میں پارٹ ٹائم دکان بھی دیکھتا ہوں اس لیے وہاں کی بھی مصروفیات بھی ساتھ ساتھ دیکھنا اور انہیں مکمل کرنا بھی ہوتا ہے۔ آزادکشمیر میں اب لاک ڈاون دوبارہ نافذ کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے کام کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے اپڈیٹ لیٹ ہو رہی ہیں امید کرتا ہوں آپ سب دوست میرے کام کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے ہمارے ساتھ تعاون کریں گے۔ شکریہ
  22. 4 likes
  23. 4 likes
    رضیہ نے فٹافٹ کھونٹی پر ٹنگے کپڑے اتار کر پہنے اور باتھ روم سے نکل کر تیز تیز قدموں سے صحن کی طرف آئی اور ساتھ ہی آواز لگائی اماں چھیتی نال آ بارش شروع ہو گئی جے۔ لیکن اماں تو اس وقت تک گھوڑے بیچ کر سو گئی تھی۔ رضیہ نے خودی جلدی جلدی صحن میں رسیوں پر ٹنگے کپڑے اتار کر اندر کئے اور بھاگتی ہوئی چھت کی سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ نعمان کمرے میں جا کر انتظار کی سولی پر لٹکا تھا کیونکہ اسے لگ رہا تھا کہ آج بھابھی کے ساتھ کچھ نہ کچھ تو ہو گا۔ پہلے صبح اور اب کھانے کے دوران اسے اچھے سے اندازہ ہو چکا تھا کہ بھابھی بھی اس میں انٹرسٹڈ ہے۔ بارش شروع ہوئی تو وہ کمرے کی کھڑکی میں آ کر کھڑا ہو گیا اور سارے دن کے حبس کے بعد بارش سے ہوئی ٹھنڈک سے لطف اندوز ہونے لگا۔ بارش کی رفتار وقت کے ساتھ تیز ہوتی جا رہی تھی اور اسکے ساتھ ساتھ فضاء میں ٹھنڈک سی اتر گئی تھی لیکن اسکے اندر لگی آگ پر اس موسم نے تیل کا کام کیا تھا اور اسے ایسے لگنے لگا تھا جیسے اس کے ٹٹوں میں منی کا گرم لاوا ٹھاٹھیں مار مار کر نکلنے کی کوشش کر رہا ہو۔ اچانک اسے بھابھی کی آواز سنائی دی جو تیز آواز میں کام والی اماں کو دھلے ہوئے کپڑے اتارنے کا کہہ رہی تھی۔ اچانک حویلی کی لائٹ چلی گئی، ایسے موسم میں لائٹ نہ جانا حیران کن ہوتا۔ آسمان پر چمکتی بجلی تھوڑی تھوڑی دیر بعد چمکتی جس سے ماحول میں ایک لمحے کو پراسرار سی روشنی پھیلتی اور پھر دوبارہ اندھیرا چھا جاتا۔ اس روشنی کی آنکھ مچولی میں نعمان کی نظر رضیہ پر پڑی جو تیز تیز قدموں سے صحن میں قدم رکھ رہی تھی۔ اس نے صحن میں شیڈ میں موجود ایمرجنسی لائٹ جلائی اور اسکی روشنی میں تیزی سے رسیوں سے کپڑے اتار کر شیڈ میں پڑی چارپائی پر پھینکنے لگی۔ نعمان کافی دیر سے اندھیرے میں کھڑا تھا جس سے اسکی آنکھیں اندھیرے کی عادی ہو گئی تھیں اور اب اسے واضح نظر آ رہا تھا۔ رضیہ کی پیٹھ نعمان کے کمرے کی طرف تھی اور بارش نے رضیہ کے باریک لان کے سوٹ کو اس کے جسم سے چپکا دیا تھا۔ بھاگتی دوڑتی رضیہ کے بڑے بڑے نرم چوتڑ اسکی ہر حرکت کے ساتھ ایسے تھرتھراتے کہ نعمان کو اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہونے لگتا۔ رضیہ کا قمیض اس کی گانڈ کر دراڑ میں پھنس گیا تھا جس سے اسکی گانڈ کی دونوں پھاڑیاں صاف الگ الگ ہلتی نظر آ رہیں تھیں۔ نعمان کا ہاتھ خود بخود اس کے لن تک پہنچ گیا جو اب پورے جوبن میں تنا کھڑا تھا۔ نعمان کا دل کر رہا تھا کہ ابھی جائے اور بھابھی میں گھس جائے لیکن وہ رضیہ کے بلاوے انتظار میں تھا۔ رضیہ نے صحن والے سارے کپڑے اتار کر چارپائی پر پھینکے دئیے تھے اور اس نے اپنا رخ موڑا اور نعمان کے کمرے کی طرف چل پڑی۔ ابھی تک نعمان کو بھابھی کی گانڈ کے نظارے مل رہے تھے پر اب جو نظارا ملا اس سے تو نعمان لو لگا کہ بیٹے آج تو تو گیا۔ اسے لگا کہ وہ یہیں کھڑے کھڑے فارغ ہو جائے گا۔ رضیہ نہا رہی تھی جب بارش شروع ہوئی اور جلدی جلدی اس نے لان کا باریک سا سوٹ پہنا تھا اوراس افراتفری میں اسے اپنا براء پہننے کا خیال ہی نہیں آیا تھا۔ اور نعمان کے سامنے جو منظر تھا وہ تباہ کن تھا۔ رضیہ کی مغرور اکڑی ہوئی چھاتیاں ایسے تن کر کھڑی تھی جیسے انہیں احساس ہو کہ ان کے وار سے کوئی آدم زاد بچ ہی نہیں سکتا۔ ان کا سائز تو کمال تھا ہی لیکن اصل چیز ان کی بالکل پرفیکٹ سختی تھی۔ نہ تو رضیہ کی چھاتیاں اتنی نرم تھی کہ اسکے سینے پر لٹک رہی ہوں اور نہ اتنی سخت تھی کہ چلتے وقت ہلیں ہی نہ۔ اور لان کی بھیگی قمیض میں وہ ننگی ہی نظر آ رہی تھیں۔ اور نعمان اندھیرے میں اپنے کمرے کے دروازے میں کھڑا بھابھی کو اپنے کمرے کی طرف تیزی سے آتے دیکھ رہا تھا۔ نعمان کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا تھا اور وہ پلکیں جھپکائے بغیر رضیہ کی قمیض میں چھلانگیں مارتی اسکی چھاتیوں کو بھوکے بچے کی طرح اپنی طرف بڑھتے دیکھ رہا تھا۔ جاری ہے۔۔۔۔۔۔
  24. 4 likes
    Update میں بولا جو بولنا ہے سچ بول اور جلدی بول میری پاس تیری فالتو بکواس سننے کا وقت۔ نہیں ہے۔ تو بولا یار تو سمجھ نہیں رہا ہے جو میں کہہ رہا ہوں وہ سچ ہے ۔ میں نے کہا چل ٹھیک ہے اب تو اپنی زبان بند کر اور اپنا بوتھا لے کر یہاں سے نکل میں خود پتہ کر لوں گا کیا معاملہ ہے۔ تو ایویں ای گانڈ نہ مروا لینا اپنی۔ اس کو برا تو لگا ہو گا لیکن وہ چپ کر کے کھڑا ہوا چند قدم چلا اور پھر واپس آیا اور بولا دیکھ بلو میری بات سمجھنے کی کوشش کر ۔۔ میں نے کھڑے ہو کر کہا تو جاتا ہے یا تیری گانڈ پھاڑوں سالیا چل نکل مجھے پتہ ہے کہا معاملہ ہے کون تھا وہاں تو بلا وجہ میرے لن پر نہ چڑھ مجھے تیری نصیحت کی ضرورت نہیں ۔ چل شاباش اور سن یہ جو تو کہہ رہا ہے نا ساتے پنڈ کو میرا اور چھنو کا یا جس کا بھی تو کہہ رہا ہے لن تے چڑھ گیا سب میرا کسی سے بھی تعلق جوڑتے پھرو مجھے کوئی پرواہ نہیں کیونکہ جب میرا کسی سے کوئی چکر ہوا تو تیری بنڈ پہلے ماروں گا باقی کسی کی بعد میں اور تو جو چن چڑھاتا پھر رہا ہے نہ صنم کے ساتھ مجھے سب پتہ ہے ۔ اس کے رنگ اڑ گئیے یہ سب سن کر وہ بدلی ہوئی آواز میں بولا کی مطلب تیرا ۔ میں نے پھر کہا جو کہا تو نے سن لیا صنم کی جو مارتا ہے نہ میں سب جانتا ہوں اپنا ڈرامہ بند کر اور مجھے سب سچ سچ بتا معاملہ کیا ہے۔ وہ میری بات کا جواب دینے کی بجائے ایک دم پریشان ہو گیا اور تیز تیز قدم اٹھاتا نکل گیا۔ میں بھی کچھ دیر وہاں بے مقصد بیٹھا رہا ۔ اور غور کرتا رہا کہ اس کی بات اگر سچ ہے تو واقعی بڑا پنگا ہو جانا ہے۔اگر نہیں تو اس نے یہ بات کیوں کی۔ پھر میں نے دماغ میں سارا سین دھرایا چھنو کی پھدی میں لن اتارنے سے پہلے اور بعد کے واقعات پر غور کیا ۔تو مجھے یاد آیا کہ کوئی آیا تھا جس سے چھنو سے بات کی اور کہا تھا تو جا میں آوندی آں۔ میں سوچا اگر اس کا پتہ لگ جائے اس کا پتہ لگ جائے کہ وہ کون تھا تو سب کچھ پتہ چل جائے گا۔ سارا معاملہ سلجھ جائے گا۔ ایک بات تو واضح ہو گی کہ ڈنگی جھوٹ بول رہا تھا اس سارے جھمیلے سے میرا کوئی تعلق نہیں تھا ۔ یہ سارا رائتہ کسی اور کا پھیلایا ہوا تھا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ خود سے ہی سارے معاملے کا پتہ لگایا جائے ۔ میں وہاں سے نکل کر گاوں کی طرف روانہ ہوا تو مجھے کوئی عورت آتی دکھایی دی۔ شوخ رنگ کے کپڑے جو دور سے ہی چمک کر پہننے والے کے ذوق کا پتہ دے رہے تھے ۔چال میں ایک مستانہ پن اور اردگرد سے بے خبر اپنی مستی سے چلی آ رہی تھی۔ میں اپنی عادت سے مجبور تھا میں نے اس کے فگر کو سمجھنے کی کوشش کی جان گیا کہ ایک سیکس بم ہے ایک دم پٹاخہ ٹائپ کا فگر جو دیکھنے والے کو بار بار دیکھنے پر مجبور کر دیتا ہو گا۔ وہ مجھ سے کافی فاصلے پر تھی اور میں ویسے بھی ٹاہلی کے نیچے چھاوں میں تھا ایک تو وہ اپنی مستی میں گم تھی اس کا دھیان ہی کہیں اور تھا ۔ اتنے فاصلے کے باوجود بھی میں نے اس کے فگر کو جج کر لیا تھا۔ لیکن اس کا چہرہ مجھے نظر نہیں آ رہا تھا ۔ جیسے جیسے وہ قریب آتی جا رہی تھی اس کا فگر مجھے اپنی ظرف متوجہ کرتا جا رہا تھا۔ اس کے سینے پر لگے دو تربوزوں کی اچھل کود مجھے واضح محسوس ہونے لگ گئی اس کا رخ ساتھ والے کھیت کی طرف تھا ۔ جب اس کا فاصلہ کم رہ گیا تو مجھے غور کرنے کی ضرورت نہ پڑی کیونکہ اس قاتل فگر کی مالک سیکس کی پڑیا نہیں بلکہ پٹاری کو میں نے پہچان لیا ۔ یہ وہ ہی گورے جسم بڑے بڑے سفیدی کے پہاڑوں والی موٹے چوتڑوں والی اور پوری دلجمعی سے چدوانے والی تھی۔ جس نے مجھے سیکس سے روشناس کرایا۔ میرا مطلب جس کو چدواتے دیکھ کر مجھے سیکس میں دلچسپی ہوئی جس کے ہوشربا چدائی کے سین سے میری للی میں بھی خارش شروع ہوئی تھی۔ ہاں جی آپ لوگ بھی صحیح سمجھے وہ عاصمہ ہی تھی جس پہلی بار کماد میں میں نے اپنے بھا سے چدواتے دیکھا تھا جب میں 10سال کا تھا ۔ سوری میں اکیلے نے نہیں بالکہ ناہید اور میں نے دیکھا تھا جب پہلی بار میری للی ناہید کی گانڈ میں گی تھی۔ میں اس کو دیکھ کر مبہوت ہو گیا ۔ پتہ نہیں کئی لوگ ہمیشہ ہی جوان رہتے ہیں جب پہلی بار اس کو چدواتے دیکھا تھا جیسی تب تھی ویسی ہی اب تھی وہی فگر وہی چال وہی رنگت اور وہی بے فکری ۔ وہ چلتی ہوئی بے نیازی سے گندم کے کھیت میں گھس گئی اور تیزی سے بیٹھ گئی ۔ میں جو اس کے فگر کی حشر سامانیوں میں کھویا ہوا تھا اس کے بیٹھنے سے ہوش کی دنیا میں آیا اور سوچنے لگا کہ کیا کروں اس کے پیچھے جاوں یا نہ جاؤں کیوں کہ مجھے پہلے دن سے ہی اس کے جسم سے کھیلنے کا شوق پیدا ہو گیا تھا اس دن سے جس دن اس کے خربوزوں کو اچھل کود کرتے دیکھا تھا۔ میں ابھی یہ سوچ رہا تھا کہ وہ اٹھ کھڑی ہوئی کمال کی لاپرواہ تھی اس کو کوئی فکر نہیں تھی کہ کوئی دیکھ بھی رہا تھا یا نہیں ۔ وہ اٹھی تو میں بھی تیزی سے ٹاہلی کے نیچے سے نکل کر اس طرف چلا جدھر سے اس نے نکلنا تھا ۔ وہ بھی باہر آ گئی اور میں بھی اس کے سامنے پہنچ گیا وہ مجھے دیکھ کر چونکی اور بولی واہ بھئی واہ ہیرو کدھر نوں میں نے کہا کہیں بھی نہیں بس ایسے ہی بولی ایسے ہی کیسے جا تو رہے ہو کہیں نہیں بتانا تو نہ بتاؤ میں بولا ایسی موئی بات نہیں تو اس نے کہا چل فیر دس دے تیرے ارادے ٹھیک نہیں لگدے کہیڑے چکراں اچ ایں میں اس کی چہرہ شناسی پر حیران ہوا کہ ہے تو ان پڑھ لیکن بہت چالو چیز ہے میرا چہرہ دیکھ کر اندازہ لگا لیا۔ لیکن وہ یہ نہیں سمجھ پائی کہ میں اس کے چکر میں ہی تھا۔ میں نے کہا ایسی کوئی گل نیں بس ٹاہلی کے نیچے چھاوں میں سویا تھا ادھر شور کی اواز آرہی تھی تو سوچا دیکھوں ےو صحیح کیا مسئلہ ہے کون لڑ رہا ہے ۔ اس ہہہہوں کیا اور بولی چل نہ دس ہن تو وی جوان ہو گیا ایں ۔ چل جا فیر میں وی جانی آں میں اس کو روکنا چاہتا تھا لیکن ںیں روک پایا روکتا بھی کیسے کیا کہتا پھدی دے مینوں ۔ میں کہہ بھی دیتا اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ اس نے بھا کو بتا دینا ہے ۔اور پھر جو میرے ساتھ ہونا تھا وہ میں ہی جانتا ہوں۔ خیر وہ چلی تو میں نے اس کے پیچھے دیکھا اس کی گانڈ دو الگ الگ حصوں میں بٹی اوپر نیچے ہو رہی تھی اور میرا لن اس کو دیکھ کر کھڑا ہو گیا۔ وہ چلتی ہوئی رکی پیچھے مڑ کر دیکھا اور میری نظر کی سمت دیکھا تھوڑا غصے کا ردعمل دیا اور پھر چل پڑی لیکن اب اس کی چال میں ایک الگ ہی رنگ تھا۔ پہلے کی نسبت زیادہ مٹک رہی تھی۔ خیر وہ چلتی ہوئی دور نکل گئی لیکن میں وہیں کھڑا رہا مجھ یکدم گرمی کا احساس ہوا تو پتہ چلا کہ پسینہ میرے پاوں تک پہنچ چکا ہے ۔ مطلب میں پسینے سے شرابور ہو چکا تھا۔ تو وہاں سے چلا گھر گیا نلکا چلایا پانی پیا اور اپنی تائی سے کھانا مانگا ۔ میں ابھی کھانا ہی رہا تھا کہ تائی بولی ویکھی ناں اوو اپنی چھنو نیں اوہدی ماں نے اج کسے نوں آودی بیثھک اچ ویکھ لیا اے کی زمانہ آ گیا اے پتہ نیں کی ویکھیا آے تاں ہن ۔۔۔۔۔ جاندا اے میری تاں سٹی گم ہو گئ پیٹ پی بھوک مٹ گئی ۔ اور ڈرتے ڈرتے پوچھا کون سی کوئی پتہ چلا۔ تو تائی بولی پتہ نہیں کون سی پر جدوں او آئی او بھج گیا سی۔ تے لڑکی کون سی ۔ تائی نے بتایا کہ وہ لڑکی صنم تھی لیکن لڑکا پتہ نہں کون تھا۔ مجھے سکھ کا سانس آیا کہ مجھے نیں دیکھا کسی نے اور نہ کی شک ہے کسی کو میرے اور چھنو کے بارے میں میں ابھی یہ ہی سوچ تھا کہ تائی بولی بچہ تو وی بچ کہ رہیا کر بڑے چکر لانا ایں اوہناں دی گلی دے ویکھیں کوئی نواں نہ چن چڑھا دیں۔ میں نے کہا لو جی ہن اس میں میں کہاں سے آ گیا ۔ میں آپ کو ایسا لگتا ہوں اپ بھی نہ ایسے ہی شک کرتی رہتی ہیں۔ تائی بولی نہ بچہ نہ مینوں تیرے پیو نے آکھنا اے تیرے کول ای آندا سی تو وی خیال نیں رکھیا تے ویکھ لے ہن کی کم وکھا دتا۔ جے تو کوئی ایسا ویسا کم کیتا تے۔ میں تاں تینوں سمجھا رہی آں۔بچہ باقی تیری مرضی۔۔۔ میں ساری باتیں سنتا رہا تائی اور بھی نصیحتیں کرتی رہی میں سنتا رہا ۔ کچھ دیر میں فجا آیا اور مجھے اشارے سے باہر بلایا۔ میں اس کے پیچھے کھانا کھانے کے بعد گیا تو وہ ہماری سیکرٹ جگہ جہاں ناہید کے ساتھ پہلی دفعہ کیا تھا اس طرف جا رہا تھا میں بھی اس کے پیچھے چل پڑا۔۔ فجا وہاں پہنچ کربیری کے نیچے بیٹھ گیا میں بھی وہاں گیا تو اس نے بیٹھنے کو کہا میں بھی بیٹھ گیا ۔ اس نے کہا ماماں تیرے لن نوں سکون نیں اج فیر تو چھنو نوں ملن گیا سی۔ میں نے کہا کی گل اے صحیح صحیح بتا ہوا کیا ہے۔۔ تو یہ سب کیوں بول رہا ہے۔ تو اس نے کہا اس کی ماں نے کسی کو دیکھا ہے وہ جو کہہ رہی ہے کہ کوئی ان کی بیٹھک میں تھا اور بھاگ گیا۔ مجھے پکا یقین ہے تو ہی ہوگا۔ ہن تو مان یا مان۔ میں نے کہا یہ سچ ہے کہ میں چھنو سے ملنے گیا تھا لیکن میں بہت پہلے وہاں سے نکل گیا تھا اور میں دروازے سے نکلا تھا اس وقت تک اس کی ماں نیں آئی تھی۔ فجا بولا سچی بتا اگر کوئی مسئلہ ہے تو یں سنبھال لوں گا باقی اگر جھوٹ بولو بے تو میں کوئی مدد نیں کر سکوں گا۔ میں نے کہا یار تیرے سامنے جھوٹ کیوں بولوں گا بھلا۔ یہ ہی سچ ہے جو تمہیں بتا دیا اب وہاں کون تھا کیا ہوا وہاں میں کچھ نیں جانتا میں تو اس وقت شازی لوگوں کی بیری کے نیچے بیر کھا رہا تھا اچھی جب واپس آیا تو یہ سب شور سنا اور کچھ نیں۔ اس کہا چل ثھیک ہے آجا فیر دکان پر چلتے ہیں ہم دکان پر جانے کے لیے چھنو کی گلی سے گزرے چھنو کی ماں ملی اس نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور سب گھر والوں کے حال چال پوچھے ۔ فجا بھی یہ سب دیکھ کر مطمئن ہو گیا تھوڑا آگے جا کر بولا اب مجھے یقین ہو گیا کہ وہ تو نہیں کوئی اور تھا۔۔۔۔۔۔۔
  25. 4 likes
    اپڈیٹ اس نے مجھے پیچھے دھکیلا مجھے ایسا لگا جیسے کوئی بہت بڑا خزانہ ہاتھ سے نکل گیا ہو۔ میں اسی سوچ میں تھا کہ اس ما ہ رخ نے میرے سر پر ہاتھ رکھا ۔ میں نےاس کی طرف دیکھا تو اس حسینہ کے چہرے پر چودیں کے چاند کی سی چمک اور آنکھوں میں طلوع آفتاب کی سی لالگی تھی۔ اس پری چہرہ میری جان من میرے جذبات میں ہلچل پیدہ کرنے والی حسیں مورت کے چہرے کا اک اک لوں چیخ چیخ کر اس کے جذبات کی عکاسی کر رہا تھا۔ اس نے جھک کر میرے کندھوں کو تھام کر اپنے مقابل کھڑا کیا ۔اور اپنی نازک پنکھڑیوں کے سے لبوں کو جنبش دی اور پھولوں کی طرح الفاظ نکلے ۔ میری جان میرے راجہ اے غلط اے گندی جگہ نوں کیوں چمن لگیا سی۔ میں بولا تمہارے جسم کا انگ انگ ایک ایک عضو میرے لیے قابل تعریف ہے دل کرتا ہے تمہیں سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخن تک چوموں تم سمجھ نہیں سکتی میرے لیے تم کیا ہو ۔ تم میری زندگی تم ہی میری بندگی تم میری پریت ہو اس نے مجھے ٹوکتے ہوئے میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے سی دیا اور اپنی لمبی زبان میرے منہ میں داخل کر دی ۔ ساتھ ہی مجھے پیچھے دھیکیلا اور اپنے نیچے گرا لیا۔ نیچے گر نے سے اس بھرا بھرا سینہ میرے سینے سے لگ کر اندر تک میرے جذبات کو بھڑکانے لگا۔۔ اابھی میں اس کے مومی سینے کا ابھاروں کے لمس میں کھویا تھا کہ اس نے اپنی رانوں کو بھینچ کر میرے کب سے جھٹکے کھاتے گھوڑے کو دبا لیا اور اپنے چوت کو اس پر مچلنے لگی جو کہ اس قمیص کے کپڑے سمیت میرے لن کو جو دو تہوں میں تھا اپنے اوپر دبا رہی تھی۔ مجھ سے ابھی برداشت کرنا مشکل ہو گیا میں نے اس کو گھماکر اپنے نیچے کیا اور شلوار کا ناڑا کھول لیا۔ اس کی قمیض کو جو کہ چوت کو چھپانے کی کوشش میں تھی اوپر کیا اور اپنی قمیض کو اپنے دانتوں میں دبا لیا ۔ ساتھ کی ناہید کی ٹانگوں کو اٹھا کر چوت کو واضح کیا اور لن کو چوت کے پھولے ہوئے لبوں پر رگڑا ۔ ناہید نے نیچے سے گانڈ اٹھا کر اپنی چوت میں لن لینے کی کوشش کی لیکن اس کا نشانہ مس ہو گیا۔ چوت کے لبوں میں نیچے سے اوپر تک لن کی ٹوپی کو پھیرتا رہا ٹوپی چوت کے پانی سے تر ہو گئی ساتھ ہی ناہید کی تڑپ بھی بڑھتی گئی ۔ اس کی سسکاریاں نکلنے لگ گئیں اس نے کہا بلووو نہ کر ہن پا وی دے میری بس ہو گئی اے ۔ بلو کی کردا بلو تے چاہیندا ای آ ای سی لن سیدھا کیا اور نشانہ ٹکایا اور دھے دھکا دیا اور لن اپنی معشوقہ کے اندر بہت گہرائی میں جا ٹکرایا ایک آہہہہ کی آواز کے ساتھ ناہید نے اپنا منہ ہاتھ رکھ کر بند کیا ۔ اس کے چہرے پر درد کے واضح آثار تھےیکن میں نے اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پھر لن نکالا اور پہلے سے بھی زیادہ زور سے ڈال دیا۔ وہ پھر تڑپی اس بار اس نے مجھے اپنے اوپر گرا لیا اور بولی آرام نہ کر بلو کیوں مینوں مارنا اے میں کی وگاڑیا اے تیرا۔ بلو پر تو پھدی کا نشہ سوار تھا اوپر سے اتنی ٹائیٹ پھدی نیچے سے لن پیچھے نکال اور پھر زور سے ڈالا ناہید جو کچھ بولنے لگی تھی اس کی آواز بللللوووااااا۔ کییی کککرر دااا پییییااا ایں میں بدل گئی ۔۔۔ میں نے اس کے شربتی ہونٹوں سے شربت پینا شروع کر دیا۔ اس اس نے اپنے ہاتھ میری کمر پر رکھ کر اپنی طرف سے جھے جھٹکے مارنے سے روکنے کی کوشش کی ۔ لیکن جب لن ہو پھدی میں تو بندہ بہت طاقتور کو ہو جاتا ہے اور لن تو اپنا رستہ خود ڈھونڈ لیتا ہے۔ میں نے نیچے سے ہلنا شروع کر دیا بس پہلے سے سپیڈ کم تھی۔ اس نے ہونٹ چومنے کے ساتھ ساتھ میں نے ایک ہاتھ سے اس کے ممے تھام لیے اور ان کو دبانا شروع کر دیا۔ وہ تین طرفہ وار کی وجہ سے مچلنے لگ گئی جلد ہی اس کی سسکاریاں شرور ہو گئیں۔ جو مجھے روک رہی تھی اس کی میری کمر پر گرفت ڈھیلی ہو گئی ساتھ ہی میری سپیڈ تیز ہو گئی۔ وہ پہلے ہی بہت برداشت کر چکی تھی اس کچھ ہی دیر کے بعد اس کی آواز میں لڑکھڑاہٹ آنے لگ گئی آآآاہہہہ بللللوووووو ننننہہہہ کر آہہہہ آہہہہ اوووووئیہہ ماااارررر دتتتااا ایییی مینوں کجھ ہوئئئییی جااان ننددداااا اایییی اااہہہہ ااممممییی مممممممممم ۔ اور ساتھ ہی اس کا جسم اکڑنا شروع ہو گیا اور اس کے ناخن میری کمر پر گڑھ گئیے ۔ نیچے اس کی نرم سے چوت بھی مجھے سخت لگنے لگی جس نے میرے لن کو کسنا شروع کر دیا میرے لیے گھسا مارنا مشکل ہو گیا۔ لیکن اس کی سسکاریاں تیز ہوتی گئیں اور وہ اپنے مزے کے عروج پر جا پہنچی اور ایک زور دار جھٹکا کھاکر اپنی گاند کو اٹھا کر لن کو اپنی بچہ دانی میں لے کر اپنی چوت کی دیواروں سے لن پر ابلتے پانی کی برسات شروع کر دی۔ کچھ دیر وہ ایسے ہی مجھے جکڑے فارغ ہوتی رہی جب وہ پرسکون ہوئی تو میں نے پھر سے لن کو اندر باہر کرنا شروع کر دیا اور اس بار لن آسانی سے اور سپیڈ سے اندر جاتا اور اس کی بچہ دانی سے ٹکراتا اس نے پھر سے ہائے ہائے ااآآاہہ درد ہو رہا ہے کہنا شروع کر دیا اس کو چودتے ہوئے مجھے 10 منٹ ہو گئے تھے اس نے کہا میری ٹانگیں درد کر رہی ہیں ۔ میں اوپر سے اترا اور اس کو الٹا کر لیکن وہ لیٹ گئی میں نے اس کی گانڈ کو پکڑ کر اوپر کیا ۔ لیکن وہ پھر ویسے ہو گئی تو میں نے اس کو سمجھایا کہ اپنی گانڈ باہر نکالو اس کو سمجھ آئی کہ نہیں لیکن اس نے اپنی گانڈ اوپر کر لی ۔ اس کی موٹی تازی پلی ہوئی گانڈ دیکھ کر میرے لن میں اس کی سیر کرنے کی خواہش جاگی۔لیکن ابھی ایسا کرنے سے خود کو روکا یہ سب کسی اور موقع کے لیے چھوڑ دیا۔ پھر ناہید کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اس کو دبایا تو اس کی پھول جیسی چوت کے لب مجھے نظر آئے میں نے لن کو پکڑ کر اس کی سختی چیک کی اور چوت میں گھسا دیا اس نے چونکہ اپنی ٹانگیں جوڑ رکھی تھیں اس لیے لن پھنس کر بہت زیادہ رگڑ کھاتے ہوئے اندر گیا۔ اس نے میری طرف منہ کر کے کہا ہولی کر لے یہ کون سا بھاگی جا رہی ہے ۔ لن اندر رگڑ کھاتے ہوئے گیا اور میرے سپیڈ بھی شروع ہو گئ میں نے نان سٹاپ گھسے مارنے شروع کر دییے۔ لن اس کی چوت میں جاتا رگڑ لگاتا ہوا واپس آتا میری رانیں اس کے چوتڑوں سے ٹکراتیں تھپ کی آواز آتی کچھ ہی دیر میں اس کی آواز کے سر بدل گئیے۔ ناہید بولنے لگ گئی۔بلوووو آہہہآہہہہ انج ای کر آہہ اہہہ اہتھے ماررر بببہت مزززااا آ ریییااا واا۔اہہہ ااہہہہ اس نے اپنی گانڈ ہلا ہلا کر لن لینا شروع کر دیا۔ میں بھی مزے کی انتہا کو پہنچ رہا تھا اس لیے میری گھسے مارنے کی رفتار بھی بہت تیز ہو چکی تھی ۔ اب مسلسل تھپ تھپ ہو رہی تھی۔ ناہید بھی مزے لے لے کر چدوا رہی تھی۔میں مزے کی انتہا کو پہنچ گیا ادھر اس نے بھی اپنی گانڈ کو زور زور سے پیچھے میرے لن پر مارنا شروع کر دیا اور ایک جھٹکے سے میں نے لن نکالا اور مزے کی انتہا میں پہنچا ہوا تھا پھر چوت کا نشانہ لے کر گھسا دیا اور گھپپپپپ گھپپپپ کی آواز سے لن کو اندر باہر کرنے لگا۔ میری ٹانگوں میں خون کی گردش تیز ہو گئی اور میرے منہ سے آہہہ اااہہہہممم کی اواز نکلی ادھر اس نے بھی کہا آہہہہہہ بببلللووووؤ ہہہممممممممم میں آیک زوردار جھٹکا مارا سارا لن اس کی چوت میں گھسا دیا اس نے لن کو جکڑ لیا اور فارغ ہونے لگ گئی جیسے ہی میں اپنی انتہا کو پہنچا میں نے لن نکالا اور اس کی گانڈ پر رکھ دیا اور اور ہاٹھ آگے بڑھا کر اس کے دودھ پکڑ لیے۔ میرے لن سے گرم گرم لاوا نکل کر اس کی گانڈ پر گرنے لگا وہ بھی اپنی ٹانگوں کو بھینچتے ہوئے نیچے گر گئی جب ساری منی اس کی گانڈ پر گرا دی تو ایک سائڈ پر ہو کر کھڑا ہو گیا۔ وہ بھی سیدھی ہوئی میری طرف دیکھ کر بولی بلو مینوں چھڈ تا نیں دیں گا ۔ میں نے کہاتینوں کی لگدا اے۔ بولی مینوں لگدا اے تو ۔۔۔۔ میں نے کہا کی۔۔ تو بولی میرا دل کہندا اے نہیں۔ چھڈدا پر ڈر لگدا اے ۔ چھنو نے کئی گلاں کیتیاں نے کہ تو۔۔۔۔ تے اوہ۔۔ مجھے سب سمجھ آ گئی تھی لیکن میں نے اس کو محسوس نہ کروایا اور بولا تمہں مجھ پر یقین نہیں ہے ۔ وہ بولی ایسی کوئی گل نیں مینوں بہت یقین اے بالکہ خود سے زیادہ یقین ہے۔ تو پھر ایسا کیوں سوچ رہی ہو بولی میں نیں سوچ رہی تو تاں ناراض ہو گیا ایں میں نے کہا نیں ناراض نہیں ہوا بس دکھ ہوا کہ تم مجھے ایسا سمجھتی ہو جو کر کسی کی پھدی مارتا پھرے گا۔ اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کہا آہہہ گندہ تو کتنی گندی باتیں کردا ہے۔ کوئی ایویں وی بولدا ہے میں نے کہا اور کیا پھدی کو پھدی نہ کہوں تو کیا کہوں۔ اس نے چھیی گندیاں گلاں نا کر بسس میں نے اس چھیڑنے کے لیے کہا ابھی بھی تو تمہاری پھدی ماری ہے ۔ اس مے شرماتے ہوے مجھے کہا تو جا شہر جا کے توبڑا گندہ ہو گیا ایں ۔ اچھا ہن جا کوئی آ نہ جائے میں نے کہا اک واری ہور کرن دے ناں بولی نیں جییی انا شوخا نہ بن ہن جا میں نے آگے ہو کر اس کے بازو پکڑ کر کھڑا کیا اور اس کے ہونٹوں پر اپنی زبان پھیرتے ہوئے کہا۔ جاؤں وہ بولی ہوووں جاوو میں نے پھر اس کے ہونٹوں پر زبان پھیری اور ہونٹ چوم کر کہا جاؤں اس نے اپنے ہاتھ سینے پر رکھ کر کہا ہہہہہہوووں جاؤ نہ میں نے کہا مجھے سمجھ نیں ائی بولی دل تاں نیں کردا کہ تینوں جاں دیواں پر ۔۔۔۔۔ پر کیا بتاو نہ تو اس نے کہا کچھ نیں بس ہن جاو اسی وقت مجھے بھی یاد ا گیا کہ چھنو نے کہا تھا کہ وہ بھی ائے گی ۔تو میں نے اس کے ہونٹوں چومنا شروع کر دیا کچھ دیر ہونٹوں کا رس پینے کے بعد میں میں نے اپنی شلوار اٹھائی پہنی اور ناڑا باندھنے لگ گیا ۔ اس نے بھی اپنی شلوار پہن لی۔ اور میں ایک بار پھر اس کے پاس گیا اس کے ہونٹ چومے اور باہر نکل آہا اور چھنو اور ناہید کے بارے میں سوچتے ہوئے گاؤں کی طرف چل پڑا۔۔۔۔ جیسے ہی میں گاوں کی حدود میں داخل ہوا مجھے بہت سی آوازیں ایک ساتھ آنے لگیں جیسے کوئی لڑ رہا ہو ۔ میں نے اپنے قدموں کی رفتار بڑھا دی اور تیز تیز چلتا ہوا گاوں میں داخل ہوا ۔ تو مجھے پتہ چلا کہ کوئی چھنو کی ماں گالیاں دے رہی ہے میں ان کے گھر کی طرف جانے لگا کہ پتہ کروں کیا معاملہ ہے ۔ جیسے ہی میں اس طرف چلا تو مجھے سامنے سے ڈنگی آتا دکھائی دیا اس نے مجھے دیکھتے ہی ہاتھ کے اشارے سے روکا ۔ اور تقریباً بھاگتے ہوئے میری طرف آیا اور مجھے بازو سے کھینچ کر ایک طرف لے گیا میں پوچھتا رہا کیا ہوا اس کو ماں بہن کی گالیاں بھی دیں تو وہ بولا لن تے بعد اچ چٹھ لیں پہلے ایتھوں چل تیری بند نہیں ماردا۔ جیسے ہی ہم دوسری گلی میں پہنچے تو اس نے کہا جہاں نہیں چل ادھر چل کر بتاتا ہوں ۔ میں متجسس تھا کہ کیا ہوا ہے اوپر سے سالا ڈنگی جس کے ساتھ میری لڑائی بھی ہوچکی ہے وہ مجھے کدھر لے کر جا رہا ہے اور ایسا کیوں کر رہا ہے ۔ پھر بھی میں اس جے ساتھ چلتا گیا ۔ ہم گاوں سے باہر ایک نکل کر ایک طرف ٹاہلی کے درخت کے نیچے پہنچے تو اس نے مجھے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کیا اور بولا تیرے لن نوں سکون نیں ۔ میں بولا لن تے دندیاں نہ وڈ ےو اے دس ایتھے کیوں لے کے آیاں اے۔ تو وہ بھی غصے سے بولا سالیا جہیڑا کم تو نے پکڑا ہوا ہے اس کی وجہ سے ہوا ہے سب کچھ۔ میں نے سیدھی طرح بکواس کر جو کہنا ہے بول۔۔۔۔ تو اس نے کہا چل بیٹھ جا اور اٹھ کر دائیں بائیں دیکھتے ہوئے بولا ماما تو نے جو گاؤں میں کام شروع کیا ہوا ہے اس کی وجہ سے آج چھنو کی ماں نے رولا ڈالا ہوا ہے اس نے چھنو کو بھی مارا ہے ۔ میری تاں بنڈ کے پسینے چھوٹ گئے اور کپکپاتی ہوئی آواز سے بولا کیا ہوا ہے میں نے کیا کیا ہے۔ ڈنگی نے کہا لوڑا میرا ہن تاں من جا سب کو پتہ ہے لڑکیوں میں گاؤں کی آدھی سے زیادہ جانتی ہیں کہ تو اور چھنو کیا چن چڑھاتے ہو۔ اور آج اس کی ماں کو شک ہوا یا کسی نے کچھ بتایا تھا جو اس نے چھنو کی چھترول کی اور صنم کی ماں گئی تو اس مے ساتھ بھی لڑائی شروع ہوگئی۔ پھر کیا تھا دونوں نے ایک دوسرے کی بیٹیوں کے کرتوت گنوانا شروع کر دییے اور سارا گاوں تماشہ دیکھنے والا ہے سب بہن چود مزے لے رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کیا بتایا چھنو کی ماں کو کس نے بتایا ۔ تو اس نے کہا یہ تو پتہ نہیں کس نے بتایا اور کیا بتایا لیکن تھا کسی لڑکے کا چکر۔ کیوں کہ میں ایک عورت سے پوچھا تو اس نے کہا کہ چھنو کا کسی کے ساتھ چکر ہے اور وہ اس سے یہہوا رہی تھی کسی نے دیکھ لیا اور اس کی ماں کو بتا دیا۔ نام نیں بتایا کس کے ساتھ چکر ہے۔۔۔۔ ڈنگی بولا نیں ابھی تک تو نیں یا ہو سکتا ہے چھنو نے بتا دیاہو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نہ بتایا ہو۔ بس تم نہ جاؤ ادھر۔ میں حیران ہو رہا تھا کہ یہ میرا دوست نیں پھر ایسا کیوں کر رہا ہے بلکہ اس کو تو میری شکایت لگانی چاہیے تھی ۔ لیکن یہ مجھے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ میں بھی سنبھل چکا تھا اس سے پوچھا وہ تو سب ٹھیک ہے لیکن تو کیوں مجھے یہ سب بتا رہا ہے میرا اس سب سے کیا تعلق۔۔۔ تو وہ بولا اس نے کہا تو جانتا ہے سب سے تمہارا کتنا تعلق ہے مجھے تو یہ بھی پتہ ہے کہ آج تو ہی تھا اس کے ساتھ ان کی بیٹھک میں جب۔۔۔ چل چھوڑ تو بس اچھی شہر نکل جا میں سب کو بول دوں گا کہ تو میرے سامنے آج صبح شہر گیا ہے۔ میں نے کہا تو یہ جھوٹ کیوں بولے گا میرے لیے یہ سب کرنے کی کوئی تو وجہ ہے مجھے سب سچ بتا نیں تو میں جا رہا ہوں ان کے گھر کی طرف کیوں اس نے جو بات بدلی تھی اس سے مجھے یقین ہو گیا تھا کہ معاملہ کچھ اور ہے ۔ میں اٹھا جانے لگا تو وہ بولایار بیٹھ جا تجھے بتاتا ہوں ۔۔۔۔۔
  26. 4 likes
    ڈاکٹر صاحب ۔ بہت اچھے ۔ کہانی کا انداز اب بھی پرانا جیسا ہی ہے ۔ تعطل کے بعد جو کہانی میں روانی آئی ہے (ڈاکٹر صاحب اور سٹوری میکر ) کی کوششوں سے ۔ دعا ہے کہ اب یہ لمبا عرصہ چلے ۔ ہم تو ویسے بھی شروع سے فین رہے ہیں شاہ جی اور ڈاکٹر صاحب کے ۔ دعا ہے کہ زورقلم بڑھتا رہے ۔ تاکہ ہم جیسوں کو معیاری تفریح میسر آتی رہے۔ کہانی سے نہ کوئی گلہ پہلے تھا، نہ اب ہے۔ شیخو جی نے بھی خوبصورت کہانی شروع کی تھی اور ڈاکٹر صاحب آپ نے اس کہانی کے ہیرو کو اور خطرناک بنا دیا ہے ۔ پڑھ کے مزا آتا ہے ۔ دعا ہے آپ اس سلسلے کو یونہی قائم رکھیں ۔ خوش رہیں ۔ شاد رہیں ۔ آباد رہیں۔
  27. 4 likes
    دراصل پچھلی اپڈیٹ میں ایک نئے مسلئے کی تہمید باندھی تھی اور اس بار پنڈ میں باعزت طریقے سے واپسی کا راستہ نکالا۔ پرانے کچھ ایسے کردار بھی ہیں جو فراموش ہو چکے تھے۔ وہ سب بھی سامنے آنے والے ہیں۔ صدف کے متعلق شادا اس لیے بھی جانتا ہے کیونکہ شاید شادا اس کے گینگ ریپ میں ملوث تھا۔
  28. 4 likes
    میں بھی سٹوری میکر کی اس محنت پہ ان کا شکر گزار ہوں۔ یہ کام میرا تھا جو انھوں نے اپنے سر لے لیا۔ یہ بہت بڑی فیور ہے ہم پہ اور بالخصوص مجھ پر۔ آپ لوگ دیکھیے میری بے چارگی کہ میرے دماغ میں کہانیوں کا ہجوم ہے اور لکھنے کی فرصت نہیں۔ ایسے میں ان کا سہارا غنیمت ہے۔ وہ جیسے ہی کہانی کو اپڈیٹ کرتے ہیں میں یہاں اپلوڈ کر دوں گا۔ ان کی صحت کا سب سے بڑا دعاگو میں ہوں یقیناً۔
  29. 4 likes
    یہ پارٹ آنے والے پارٹ کا ایک سلسلہ ہے۔ جلد اندازہ ہو جائے گا کہ کیا ہونے والا ہے۔
  30. 4 likes
    واقعی یہ میری غلطی ہے۔ مجھے ہی نام میں کنفیوژن ہو گئی تھی۔ اگلی اقساط میں درست کر دیں گے۔
  31. 4 likes
  32. 4 likes
    کسی میں وہ لسی رڑھکتے وقت جھکی ہوئی تھی اور اس کی بڑی بڑی چھاتیاں اسکی قمیض کا گریبان پھاڑ کر باہر آ رہی تھی۔ کسی میں وہ پسینے میں شرابور کھڑی تھی اسکی قمیض بھیگ کر جسم سے چپکی ہوئی تھی۔ کسی تصویر میں اسکے موٹے چوتڑوں کو فوکس کیا گیا تھا۔ الغرض نعمان کو جہاں موقعہ ملا اس نے چھپ چھپا کر رجی کی تصویر بنا لی تھی۔ یہ تصویریں دیکھ کر رجی کو صاف پتہ چل گیا تھا کہ نعمان اسے کس نظر سے دیکھتا ہے۔ اور اب وہ دیکھنا چاہ رہی تھی کہ نعمان اس کہانی کو کہاں تک لے جا سکتا ہے۔ رجی نے اپنی کھینچی تصویریں ڈیلیٹ کی اور دوبارہ کیمرہ چلا کر نعمان پر فوکس کیا اور ایک منٹ تک اسکے خراٹوں کو ریکارڈ کر کے آواز لگائی۔ نعمان اٹھ جاؤ دیکھو کیا وقت ہو گیا ہے۔ دو تین آوازوں کے بعد رضیہ نے اسے جھنجھوڑا تو اس نے انگڑائی لیتے ہوئے اپنی آنکھیں کھولیں۔ کچھ دیر تو اسے سمجھ ہی نہیں آئی کہ رضیہ کر کیا رہی ہے۔ بھابھی یہ کیا کر رہی ہو آپ؟ نعمان نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔ بیٹا بہت سریلے خراٹے لیتے ہو تم، اب یہ وڈیو میں سب کو دکھاؤں گی۔ رضیہ نے وڈیو اپنے موبائیل پر بھیجتے ہوئے جواب دیا۔ وہ کھلکھلا کر ہنس رہی تھی اور ایسے لگ رہا تھا جیسے رضیہ کا پورا جسم ہنس رہا ہو۔ نعمان ایسے ندیدوں کی طرح رضیہ کے کھلکھلا کر ہنستے ہوئے جسم کو دیکھ رہا تھا جیسے اسکو کسی نے جادو سے پتھر بنا دیا ہو۔ اچانک اسے احساس ہوا کہ بھابھی کے ہاتھ میں تو اسکا اپنا موبائیل ہے اور اس میں تو اس نے چھپ چھپ کر تصویریں بنائی ہوئی ہیں۔ یہ سوچ آتے ہی اسکا رنگ فق ہو گیا اور اس نے کہا۔ بھابھی میرا موبائیل تو دے دیں پلیز۔ رضیہ نے ہنس کر کہا نہیں دوں گی اور کمرے سے باہر بھاگ گئی۔ نعمان نے بھی بیڈ سے چھلانگ لگائی اور بھابھی کے پیچھے بھاگا۔ جب تک نعمان کمرے سے باہر نکلتا رضیہ چھت کی سیڑھیوں تک پہنچ گئی تھی۔ اس نے مڑ کر پیچھے دیکھا نعمان کو زبان نکال کر چڑائی اور چلا کر بولی لے سکتا ہے تو لے لے اپنا موبائیل، اور دوڑتی ہوئی سیڑھیاں چڑھتی اوپر چلی گئی۔ سب خریداری کے لئے لاہور گئے تھے اس لئے چوہدری سرور کا چھت والا کمرہ بند تھا۔ غیر ضروری ملازمین بھی رمضان کی وجہ سے چھٹی کر کے جا چکے تھے۔ اب حویلی میں نعمان اور رجی کے علاوہ چوکیدار تھے یا ایک دو ملاذمائیں جو روزہ رکھنے کی وجہ سے ادھر ادھر پڑی سستا رہی تھیں۔ نعمان کو رضیہ کے موڈ سے لگا کہ ابھی اس نے اسکی گیلری میں سے تصویریں نہیں دیکھی اس لئے اسکی پریشانی تھوڑی کم ہوئی۔ لیکن موبائیل تو لینا تھا رجی سے۔ بھابھی میں آ رہا ہوں جتنا بھاگنا ہے بھاگ لو۔ نعمان نے اونچی آواز میں کہا اور دوڑتا ہوا سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ سیڑھیاں چڑھتے ہی اسکی نظر رضیہ پر پڑی جو اب آرام سے چھت پر پڑی چارپائی پر بیٹھی ہوئی اسی کی طرف دیکھ رہی تھی۔ نعمان نے جب بھابھی کو آرام سے بیٹھے دیکھا تو خود بھی آرام سے آ کر اسکے ساتھ بیٹھ گیا۔ رضیہ نے کھوجتی ہوئی نظروں سے اسکی طرف دیکھا اور کہا کہ تمہیں پتہ ہے میں اوپر کیوں آئی؟ نعمان بولا بھابھی آپ مجھے تنگ کرنے کے لئے ایسے کر رہی تھی۔ نہیں نعمان۔۔۔۔۔ میں نے تمہاری گیلری میں اپنی کچھ تصویریں دیکھی ہیں، تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری ایسی تصویریں بناؤ؟ میں اس لئے اوپر آئی تاکہ تمہیں بٹھا کر پوچھ سکوں کہ تم یہ کیا کر رہے ہو اور کیوں کر رہے ہو۔ اپنی عمر دیکھو اور اپنے کرتوت دیکھو۔ شرم نہیں آتی ایسے کام کرتے۔ اب اگر میں تمہاری ماں کو بتا دوں کے تم نے یہ کیا ہے تو وہ کیا حشر کریں گی تمہارا۔ نیچے میں نے اس لئے کچھ نہیں کہا کہ کوئی ملاذمہ سن سکتی تھی اور پھر بات پورے پنڈ میں پھیلتی کہ چوہدری کا بھتیجا اپنی ہی بھابھی پر گندی نظر رکھتا ہے۔ جواب دو کیوں کیا تم نے ایسا؟؟؟ نعمان کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔ اسکی آنکھیں جھکی ہوئی تھیں اور ان میں سے ٹپ ٹپ آنسو بہنے لگے تھے۔ بھابھی مجھے معاف کر دو، میں آئندہ نہیں کروں گا۔ پلیز کسی کو نہ بتانا میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں۔ اور نعمان اٹھا اور رضیہ کے چارپائی سے لٹکے پاؤں پکڑ لئے۔ رضیہ کو ترس آ رہا تھا، یہ سب اسکا ڈرامہ تھا جو اس نے نعمان کو اپنے بس میں کرنے کے لئے رچایا تھا۔ اسکے کمسن لن پر رضیہ کا دل آ گیا تھا لیکن اسے ڈر تھا کہ کہیں وہ نعمان کے ساتھ کچھ کرے اور نادانی میں نعمان کسی کو کچھ بتا نہ دے۔ اس لئے اپنی تسلی کے لئے نعمان کی کمزوری اپنے ہاتھ میں رکھنا ضروری تھی۔ نعمان کی حالت سے رضیہ کو پکا پتہ لگ گیا کہ اب یہ کسی کو کچھ نہیں بتا سکتا۔ چلو اٹھو میرے پاؤں سے اور یہ بتاؤ تم نے ایسا کیوں کیا آخر؟ بھابھی بہت بڑی غلطی ہو گئی آپ جو کہو گی میں وہ کروں گا بس مجھے معاف کر دیں۔ نعمان نے گڑگڑاتے ہوئے آنسوؤں سے ڈوبی آواز میں کہا۔ رضیہ نے رھیمی آواز میں کہا اچھا معاف کیا اب اٹھو اور چارپائی پر بیٹھو۔نعمان ابھی بھی اسکے پاؤں نہیں چھوڑ رہا تھا۔ رضیہ نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے اٹھا کر اپنے ساتھ چارپائی پر بٹھا دیا۔ اب بتاؤ نعمان کیوں بنائی تم نے وہ تصویریں؟ سچ بتانا کیا میں تمہیں اتنی اچھی لگتی ہوں؟ نعمان نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا: بھابھی آپ مجھے سب سے پیاری لگتی ہیں۔ آج تک میں نے آپ سے حسین لڑکی نہیں دیکھی بس اسی لئے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر آپکی تصویریں بنا لیں۔ دیکھو نعمان تم اچھے بچے ہو اور مجھے بھی اچھے لگتے ہو لیکن یہ تم نے بہت بری حرکت کی تھی۔ کوئی بھی تمہارا موبائیل چیک کر سکتا تھا اور خود بتاؤ اگر وہ میری ایسی تصوہریں دیکھتا تو میرے اور تمہارے بارے مین کیا سوچتا۔ میں یہ ڈیلیٹ کر رہی ہوں۔ یہ کہتے ہی رضیہ نے اپنی سب تصویریں اسکے موبائیل سے ڈیلیٹ کر دی۔ اور پھر ہموار آواز میں نعمان سے بولی: آج سے مجھے اپنی دوست سمجھنا اور جو دل میں ہو بغیر جھجھک کے مجھے بتانا۔ اگر میں تمہارے لئے کچھ کر سکی تو ضرور کروں گی۔ اچھا ایک بات تو بتاؤ اب تو ہم دوست بن گئے ہیں تو مجھت یقین ہے جو میں پوچھوں گی تم اسکا سچ سچ جواب دو گے۔ بولو دو گے نا؟؟؟ جی بھابھی آئندہ آپ جو کہو گی میں کروں گا اورآپ سے ہمیشہ سچ بولوں گا۔ چلو پھر اب تمہارا امتحان ہے۔ رضیہ نے مسکرا کر شرارت بھرے لہجے میں کہا۔ نعمان یہ بتاؤ تم میری تصویروں کا کرتے کیا تھے؟؟؟ رضیہ کی نظریں نعمان پر گڑی تھیں اور اسے صاف نظر آیا کہ اس سوال نے نعمان کا چہرہ لال کر دیا تھا۔ وہ ۔۔۔۔ وہ بھابھی۔۔۔۔۔ میں تو کچھ۔۔۔ نعمان بتاتے ہوئے گھبرا رہا تھا۔ نعمان ابھی تم نے کیا وعدہ کیا ہے کہ تم اپنی دوست سے کچھ نہیں چھپاؤ گے۔ نعمان نے نظریں جھکائے ہوئے جواب دیا وہ بھابھی مجھے شرم آ رہی ہے۔ اچھا۔۔۔۔۔۔ یہ بتاؤ تمیری تصویریں دیکھتے ہوئے مٹھ لگاتے تھے نہ؟ اس لئے شرم آ رہی ہے تمہیں؟؟ جی۔۔۔۔جی بھابھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھا یہ بتاؤ تمہیں میری کونسی تصویر سب سے زیادہ پسند تھی؟ بھابھی آپ تو سب تصویروں میں ہی بہت خوبصورت لگ رہی تھیں۔ اوئے زیادہ مکھن نہ لگاؤ، جو پوچھا ہے اسکا جواب دو۔ تم نے ایک تصویر بتانی ہے صرف۔ نعمان نے کچھ دیر سوچا پھر جھجھکتے ہوئگ جواب دیا: بھابھی وہ تصویر جس میں آپ لسی بنا رہی تھی۔ رضیہ نے وہ تصویر یاد کی تو اسکا اپنا چہرہ سرخ ہو گیا۔ اس نے دل ہی دل میں کہا کہ بھین چود ہے چھوٹا سا پر تصویر واقعی بہت سیکسی بنائی تھی کنجر نے۔ رجی کے چٹے سفید بڑے بڑے خربوزے اور ان کے درمیان کی گہری کھائی صاف نظر آ رہی تھی اس تصویر میں، اور تصویر اتنی مہارت سے کھینچی تھی کنجر نے کہ لسی کے جو چھینٹے اسکی چھاتیوں پر گرے تھے وہ تک صاف نظر آ رہے تھے۔ نعمان اسکا مطلب ہے تمہیں میری چھاتیاں بہت پسند ہیں؟ رضیہ نے شرارت سے پوچھا۔ اب تک نعمان کا خوف بھی تھوڑا کم ہو چکا تھا۔اس لئے اس نے بھی اس دفعہ بغیر جھجھکے جواب دیا: بھابھی آپکی وہ ہیں ہی اتنی سیکسی کہ جب بھی انہیں دیکھتا ہوں میرا وہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ نعمان کی بات سن کر رضیہ کی آنکھوں میں جنسی طلب کے لال ڈورے آ گئے تھے۔ وہ بھاری آواز میں بولی: دیکھو گے میری چھاتیاں؟؟؟ نعمان کا منہ اس آفر پر کھلے کا کھلا رہ گیا۔ اسکی خواہش ایسے پوری ہو گی یہ تو اس نے سوچا بھی نہیں تھا۔ جی بھابھی۔۔۔۔۔۔۔ اس نے بےصبری سے جواب دیا بیٹا ابھی نہیں۔ میں موقع دیکھ کر پھر تمہیں بلاؤں گی۔ یہ جگہ صحیح نہیں کوئی بھی آ سکتا ہے۔ اب چلو نیچے نہا کر آ جاؤ میں اتنے تمہارے لئے ناشتہ بنا دیتی ہوں۔ اچھا بھابھی جو آپ کا حکم۔ نعمان اٹھا تو رضیہ نے دیکھا کہ اس کے شارٹ میں اسکا لن کھڑا ہوا تھا۔ شاید رضیہ کی آفر کا سوچ کر ہی اسکے لن میں کرنٹ دوڑ گیا تھا۔ نعمان کے جانے کے بعد رضیہ بھی اٹھی اور باورچی خانے میں ناشتہ بنانے گھس گئی۔ جاری ہے۔۔۔۔۔۔ اگلی اپ ڈیٹ جلدی آنے کی امید ہے۔
  33. 4 likes
    Update جب سارہ نے حیدر کو پیچھے سے اپنے شباب سے بھرپور سینے کی تمام تر حشر سامانیوں سمیت اپنی بانہیں اس کے بازوؤں کے نیچے سے گزار کر اس کو کسا تو حیدر سرور کے اک انوکھے جہاں میں پہنچ گیا اس رخ ماہ نور کے سینے سے نکلتی بجلیوں نے حیدر کی کمر پر آگ لگا دی جو اس کے پورے وجود میں سرایت کر گئی ۔ حیدر اس حسینہ ماہ جبیں کے نرم وملائم سینے کے ابھاروں سے نکلنے والی برق رفتار لہروں سے گھائل ہوتا جا رہا تھا ۔ حیدر نے ان لمحات سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اپنے کھردرے ہاتھ اس کے روئی سے ملائم ہاتھوں پر رکھے اور ہکلاتی ہوئی آواز میں بولا سساا ررہ سارہ بھی جہاں الفت میں ڈوبی ہوئی اپنی سریلی آواز کے جلترنگ جگاتی ہوئی بولی جی۔ حیدر نے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنا رخ اس کے بازوؤں کے گھیرے میں رہتے ہوئے پھیرا اور سارہ کے حسین مکھڑے پر نظریں جما دیں گہری آنکھیں جوانی کی چمک سے دمکتے اور شرماہٹ سے گلابی ہوتے گال جوش جزبات سے لرزتے ہونٹ حیدر اس کے حسن کی چاشنی کو دیکھ کر اس کو خراج تحسین پیش کرنے لگا۔ حیدر نے اپنے ہونٹ وا کیے اور گلاب کی پنکھڑیوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر ان سے محبت کا خراج وصول کر نے لگا۔ اس کے ہونٹوں کو چومنے لگا اپنی زبان سے ان کو نہلانے لگا۔ اچھی طرح اپنے لعاب سے تر کرنے کے بعد اس کی زبان جو کب سے مچل رہی تھی ماہ وش پری چہرہ سارہ کے نیم واہ ہونٹوں سے رستہ بناتے ہوئے شہد سے ہونٹوں سے رگڑ کھاتے ہوئے اپنی من چاہی منزل کی جانب محو سفر ہو گئی۔ اس ماہ پروین نے بھی اس کی پیش قدمی کو سراہتے ہوئے اندر آنے کی اجازت دی اور اپنی رسیلی سرسراتی زبان کو اس سے لپیٹ کر خوش آمدید کہا۔ پھر زبان سے زبان کی لڑائی شروع ہو گئی اور ہونٹ ایک دوسرے سے گھتم گتھا ہوگئے۔ حیدر کے ہاتھوں نے گستاخیاں شروع کر دیں پھسلتے ہوئے کمر سے نیچے جسم کی نرمی سے لظف اٹھاتے ہوئے پیچھے کو نکلے ہوئے اپنی پوری اٹھان سے کھڑے کولہوں پر پہنچ گئے ۔ ادھر اس کے ہاتھ کولہوں پر پہنچے ادھر سارہ کی سسکاری حیدر کے منہ کے اندر نکلی ۔ حیدر نے بہت نرمی سے دونوں کوہانوں کی سی شان سے اکڑے ہوئے کولہوں کو سہلانا شروع کیا ساتھ اپنا ایک ہاتھ اگے کی طرف لا کر امنڈتے شباب کی نرم نرم پہاڑیوں کے نیچے ان کی جڑ کے قریب رکھ دیا اور بہت احتیاط سے کہیں اس کے ہاتھ کی سختی سے ان کی پیمائش خراب نہ ہو جائے۔ اپنا ہاتھ اوپر کی طرف بڑھایا۔ جیسے ہی ہاتھ ان شباب کے گولوں کر چھوا حیدر کو 440 وولٹ کا جھٹکا لگا وہ سمجھا کہ شاید اس کے سینے میں کوئی روئی کا گولا ہے اتنا نرم کہ اس کے ہاتھ سے وہ دب گیا۔ سارہ بھی جوش میں ہوش کھو رہی تھی۔ اس نے اپنی ٹانگوں کو ہلا کر سیٹ کیا اور حیدر کا اکڑا ہوا شیر اپنی غار کے ساتھ لگا لیا۔ اور اس کو مکھن جیسی ملائم رانوں میں دبا کر رگڑنے لگی۔ اب صورتحال یہ تھی کہ ہونٹوں پر ہونٹ زبان سے زبان کی لڑائی سینے کی گولائی کی پیمائش میں مشغول حیدر کا ہاتھ ٹانگوں کے بیچے میں سارہ نے حیدر کا لن دبایا ہوا تھا ۔ برداشت کی انتہا ہو گئی سارہ نے جوش سے لن کو اپنی ٹانگوں میں بھینچنا شروع کر دیا۔ ساتھ ہی ایک ہاتھ حیدر کے ممے والے ہاتھ پر رکھ کر دبانا شروع کر دیا جو اس کے جوش کی دلیل تھی حیدر نے دوسرا ہاتھ بھی سامنے کیا اور تھوڑا پیچھے ہو کر اس کی لانگ فیروزی رنگ کی شرٹ کو اوپر اٹھانے لگا سارہ نے شرماتے ہوئے ہاتھ اٹھا کر اس کی مدد کی آہآہ جیسے ہی قمیض اتار کر حیدر نے اس کے شفاف چمکتے بدن کو دیکھا اس کے منہ سے رال ٹپکنے لگ گئی۔ نہ ہونے کے برابر پیٹ اور پیٹ کے درمیان چھوٹا سا گڑھا۔اس کی اوپر والی طرف گوشت سے بھرپور شہوت انگیز گول مٹول دودھ جیسے سفید مکھن جیسے نرم پستان برا سے آزاد اپنے سینے پر پنک رنگ کی چھوٹی سی ڈلی رکھے حیدر کی زبان کو دعوت لپائی دے رہے تھے پکار پکار کر کہہ رہے تھے آو اور ہمیں چوس چوس کر اور لال کر دو حیدر نے بھی چودائی کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اپنی زبان نکالی اور اس کے جوانی کی اکڑ سے کھڑے ہوئے دودھ کے پیالوں میں سے ایک پیالے پر رکھ دی اور اس کے پنک نپل کو رگڑنے لگا۔ اپنی زبان کو گول گول گھماتا اور پھر نپل کو ہونٹوں میں لے کر چوستا کچھ دیر ایک سے دودھ پینے کے بعد اس نے دوسرے کا حق دینا شروع کر دیا ۔ اس دوران سارہ کا ہاتھ اس کے سر پر بالوں کو پکڑ کر دبا رہا تھا شاوا بھئی شاوا اور زور سے چوسو یک دم سارہ کی آواز میں شہوت کا عنصر غالب آنے لگا اور بولی یییسسسس سسسکک مائی بووووبببز ییسسس حیدر نے ایک ہاتھ اس کے فلیپر نما ٹراؤزر میں ڈال کر اس کی پھڑکتی آگ برساتی چوت پر رکھ دیا ۔ سارہ کو ایک لذت بھرا احساس ہوا اس نے ہاتھ کو اپنے ہاتھ سے دبا لیا۔ حیدر کو اپنے ہاتھ پر لیس دار گرم چیز محسوس ہوئی ۔ اس نے ہاتھ کی مدد سے ٹراؤزر نیچے اتارہ اور سارہ نے اس کی شلوار کا ناڑا کھولا ساتھ ہی شلوار کو نیچے پھینک دیا۔ اور اپنے ہاتھ سے اس کا لمبا موٹا اوزار تھام لیا سارہ کے ہاتھوں کی نرمی حیدر کے شیر کو کچھ زیادہ ہی پسند آگئی اس لیے اس نے جھٹکا کھا کر اس کا اظہار کیا۔ جبکہ سارہ کی سسکاریاں تیز ہو رہی تھیں کیوں کہ حیدر نے ایک انگلی اس کی چوت کی تپتی چوت میں ڈال دی تھی ۔ اور اپنے ہونٹ سارہ کے ہونٹوں پر رکھ کر رس کشید کرنے لگا۔ سارہ اس دوہرے وار کو اس بار براداشت نہ کر سکی اس کا جسم کانپنے لگا حیدر سمجھ گیا اب سارہ اپنے آخری دور میں داخل ہو چکی ہے کسی بھی وقت اس کی چوت برسات کردے گی اس لیے اس نے اس حسن کی پری کو گھمایا اور اگے کی طرف جھکا کر اس کی کمر کو دبایا جس سے اس کی چوت باہر کو نکل آئی ۔ پھڑ پھڑا تی اور پانی سے لبالب بھری چوت کو دیکھ کر اس نے اپنے لن کو اس پر سیٹ کیا اور گہرائی تک اتارنے کےلیے ایک ہلکا سا جھٹکا مارا تو وہ کچھ اندر اتر گیا سارہ نے اپنی ٹانگوں کو اکڑا لیا اور سسئئییی کی ۔ حیدر نے ایک بار باہر نکالا اور پھر قدرے زور سے دخول کیا تو اپنی تمام لمبائی سمیت اپنی منزل تک جا پہنچا سارہ نے تڑپ کر آہآہہہ کیا اور بولی یسسس یو ہیو آ آوسم ڈک ہیسسس فففکککک مممییییںں ڈئیرر اور پھر یہ مسلسل بولنے لگی حیدر یہ آوازیں سن کر اور جوش میں آ گیا اس نے تیز تیز جھٹکے شروع کر دیے سارہ بھی مستی میں ڈوبی کہنے لگی پھاڑ دیں سرررررر سسسااااررہہہ ہہہیی اااننندددرر کر دییییں۔ ایسے ایسے کریں یییسسسسس آآئئییییی لو دااااسسسسس۔ اور اس نے ایک جھٹکا کھایا اور پیچھے کو ایک گھسا مار کرسارہ لن اپنی چوت میں لے کر دبا لیا اور فارغ ہونے لگ گئی۔ کچھ دیر بعد جب وہ پرسکون ہو گئی تو حیدر نے اس کو ٹیبل پر لٹا لیا اور اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ کر لن ایک جھٹکے سے اندر داخل کردیا سارہ نے سئیی کی آواز کے ساتھ کہا آج سچ میں پھاڑ دو گے کیا؟ حیدر نے اس کی بات کو سنی ان سنی کر دیا اور زور ذور سے سٹارٹ ہو گیا اس کے گھسوں سے لن بچہ دانی کو ہٹ کر رہا تھا ۔ جو سارہ کو تکلیف کے ساتھ ساتھ مزے کی اتھاہ گہرائیوں میں لے جارہا تھا اس کی آواز میں جنون چھلکنے لگا وہ مسلسل بولنے لگی ییسسسس فففککک می لائک داسس یییااااجججا یہاں ہی ہہی یہاں ہی ہاں ہااااںںں ایییسسسے ہی اب کافی دیر ہو گئی تھی حیدر کو بھی اپنے خون کی رفتار تیز محسوس ہونے لگی اس کی سپیڈ بھی بڑھتی گئی سارہ بھی بے ربط جملے بولنے لگی ساتھ ساتھ اس نے حیدر کو اپنے اوپر گرا کر اپنی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد کس لیں اور اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کے شکنجے میں لے کر نیچے سے گانڈ اٹھا اٹھا کر لن کواور بھی اندر لینے لگی حیدر بھی اب قریب تھا اس لیے وہ پورا زور لگا رہا تھا اور سارہ بھی بھرپور انداز میں نیچے سے گانڈ اٹھا کر لن کو گہرائی تک لے جانے کی کوشش کر رہی تھی۔ ایسے کرتے کرتے وہ دونوں ایک ساتھ فارغ ہو گئیے۔ اور ایک دوسرے کے ہونٹ چوسنے چومنے چاٹنے لگ گئیے اچھے سے ہونٹوں سے لذت اٹھانے کے بعد وہ الگ ہوئے سارہ نے مسکراتے ہوئے کپڑے پہنے اور بولی آپ سچ میں کمال ہو اگر مجھے پتہ ہوتا کہ آپ کا اتنا جاندار ہے تو میں کب کی آپ کے نیچے لیٹ چکی ہوتی۔ ساتھ ہی اس نے بڑھ کر حیدر کے ہونٹوں پر کس کی اور یہ کہہ کر چلی گئی کہ ٹائم کافی ہو گیا ہے آپ بھی فریش ہو جاو اور کل کے لیے تیا ر ہو جائیں بھرپور مزہ آنے والا ہے۔۔۔
  34. 4 likes
    نہیں ماں میں نے نہیں کرنی اس جاہل سے شادی میں ایم اے پاس وہ گیارہویں فیل اور ایک سرکاری محکمہ میں درجہ چہارم کا ملازم میں شادی کرونگی تو کسی ماسٹر ڈگری ہولڈر اور اچھی کمائی کرنے والے سے ماں :بیٹی جیسے تیرے خواب ہیں اگر ویسا لڑکا مل بھی جائے تو ہماری اتنی اوقات نہیں کہ ہم اس برابر جہیز دے سکیں لہذا تو یہ قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لے میری شادی عمر سے ہو گی سہاگ رات کو مشکل مرحلہ سمجھ کر چپ ہو گی عمر اکلوتا تھا ماں دو سال پہلےچل بسی اور باپ بھی چھ ماہ پہلے دوران سروس ڈیٹھ ہو گیی اور عمر کو باپ کی جگہ پر ملازمت مل گئی تھی سیکس کے دوران میں ہمیشہ ایسے کہ جیسے کوئی بے جان کے ساتھ کر رہا ہے اور اسے کوئی رسپانس نہیں دیتی میں ہمیشہ عمر کے مرنے کی دعا کرتی کسی طریقے سے میری جان چھوڑ دی قصہ مختصر یہ کہ مجھے عمر کی شکل بالکل پسند نہیں تھی بات بات پر اسکی بےعزتی کرنا اور زلیل کرنا میرا معمول بن گیا شادی کے ڈیڑھ ماں بعد اس بات پر ناراض ہو کر عمر مجھے گھر کے اخراجات کے لیے مجھے پیسے بالکل نہیں دیتا مجھے نہیں رہنا اس جاہل گوار کے ساتھ مجھے اس سے طلاق چاہیے ماں نے کہا کہ بیٹا وہ دل سے سوچتا ہے دماغ سے نہیں لہذا کل اس کو بلا کر بات کرتے ہیں اگلے دن عمر آیا اور ابا نے کہا کہ عمر بیٹا اگر آپ عاصمہ کو ہر مہینے 40 ہزار دے سکتے ہیں تو عاصمہ کو ساتھ لے جا سکتے ہو عمر: ٹھیک ہے انکل میں عاصمہ کو ہر مہینے 40 ہزار گھر کے اخراجات کے لئے دینے کے لیے تیار ہوں اور میں پھر ایک بار گھر واپس آ گیی عمر اب مجھ ہر مہینے 40 ہزار دیتا لیکن میں اس کو تنگ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی کبھی کھانے میں نمک تیز کبھی مرچ تیز تو کبھی کھانے اچھے سے نہ پکانا اور اسے کبھی کھانا نہ دینا وہ خود فریج سے نکال کر گرم کر کے کھاتا تھا اور آتے ہی سو جاتا کہ جیسے مردہ ہو اور اب ہفتے میں ایک بار ہی سیکس کرتے تھے میں نے شکر ادا کیا کہ اچھا ہے ایک دن میں نے عمر سے کہا کہ مجھے آی فون چاہیے عمر نے مجھے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا کہ میری جان میں تمہیں آی فون بھی لا دوں گا لیکن تم مجھے کبھی چھوڑ کر مت جانا میں تمہاری جدائی برداشت نہیں کر سکوں گا بہت محبت کرتا ہوں تم سے تمہاری ہر خواہش پوری کروں گا مجھے ایک مہینے کے اندر آی فون چاہیے نہیں تو عدالت میں جا کر خلع داہر کر دوں گی عمر میرے قدموں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہنے لگا کہ عاصمہ میں تمہیں اسی مہینے موبائل لے کر دوں گا کمبخت سے جیتنی نفرت کرتی ہوں اتنی ہی شدت سے محبت کرتا ہے کیسے جان چھڑواں اس سے دو دن بعد اپنی ایک سہیلی کے ساتھ بازار جا رہی تھی کہ بس سٹینڈ کے قریب کیب خراب ہو گئی ایسے ہی میرا دھیان بس سٹینڈ کی طرف گیا تو میری زندگی نے جو لمحہ دیکھا میں بے جان ہو گیی وہ عمر جس سے میں نفرت کرتی تھی جسے میں ان پڑھ جاہل گوار کہتی جیسے میں نے کبھی پیار سے کھانا نہیں دیا جیسے میں نے کبھی انسان نہیں سمجھا جس کا کبھی حال تک نہ پوچھا جیسے کبھی قبول نہیں کیا وہ سر پر بوجھ آٹھاے کسی بس کی چھت پر چڑھ رہا تھا اسکی ٹانگیں کانپ رہی تھی پرانے کپڑے ٹوٹی ہوئی چپل پسینے میں شرابور بس پر سامان لوڈ کرنے کے بعد اترا میں مر کیوں نہ گیی وہ میرے لیے کیا کچھ کر رہا تھا کہ اتنے میں ایک آدمی کی آواز سنائی دی کہ چل اوے یہ سامان اٹھا اور دوسری بس کی چھت پر رکھ عمر کو شاید بھوک لگی ہوئی تھی ہاتھ میں روٹی پکڑی رول کیا سامان اٹھا کر ساتھ میں روٹی کھانے لگا میں قربان جاؤں میرا عمر میرے لیے کس درد سے گزر رہا ہے میں آنکھوں میں آنسو لیے دیکھتی رہی کام ختم ہوا وہی ایک دوکان کے سامنے زمین پر بٹھ گیا اور روٹی کھانے لگا کتنی بے بسی کتنا درد عمر سارا دن وہاں کام کرنا رات کو میری جلی کٹی سننا وہ ایک حادثہ تھا یا قدرت کا کرشمہ کہ میرا دل بدل گیا اور وہاں سے گھر واپس لوٹ گیی اور خوب رو رو کر دل کا بوجھ ہلکا کیا پھر عمر کے پلاو بنایا اور واش روم میں گھس کر اپنے جسم کی صفائی کی اور ہلکا سا میک اپ کیا پھر اپنی شادی شدہ زندگی میں پہلی بار عمر کے کپڑے پریس کیے آدھے گھنٹے بعد عمر گھر آیا تو میرا دل کیا کہ ابھی اسے اپنے سینے سے لگا کر سب دکھوں کو اپنے اندر سمیٹ لوں لیکن مینے اسے نہانے کا کہا اور خود اس کے لیے کھانا لگایا کھانے کے بعد وہ تھکاوٹ کے بستر پر نیم دراز ہو گیا اور میں اس کے قدموں میں جا بیٹھی کہ دل کیا اسکے قدم چوم لیے عمر نے حیران ہو کر کہا کہ عاصمہ میں تمہیں اسی مہینے موبائل لے کر دوں گا اور اگر پیسے چاہیے تو یہ لو میرا کلیجہ پھٹ پڑا رو رو کر عمر سے معافی مانگے لگی کہ مجھے نہیں چاہیے یہ کاغذ کے ٹکڑے مجھے میرا عمر چاہیے یہ کہتے ہوئے میں اسکے چہرے کو چومنے لگی ماتھے پر آنکھوں پر گالوں پر اسکے چہرے پر ہر جگہ اپنے ہونٹوں کہ مہریں ثبت کرنے لگی بے خودی کے عالم میں کب میرے ہونٹ اسکے ہونٹوں کی قید میں تھے کبھی میرا اوپر والا ہونٹ چوستا تو کبھی نیچے والا اور ایک ہاتھ میری گردن پر اور دوسرا میری 36 کی چھاتی پر حرکت اور نیچے چوت میں بخارات کے قطرے بننا شروع ہو گئے کہ عمر نے میری قمیض کا دامن پکڑا تو میں نے ہاتھ اٹھا دیے اس نے میری قمیض اتار اب میں محض سرخ رنگ کی براہ تھی جو میری سفید چٹانوں کو قید کرنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے لیکن عمر کے ہاتھوں نے ان کو بھی آزادی دے دی اور اپنی زبان کو میری کلویج لاہن میں پھرنے لگا کہ بے خودی میں اسکا سر اپنی چھاتیوں پر دبانے لگی مزے سے مدہوش میرے وجود میں چھانے لگی کہ عمر نے مجھے نیچے لٹایا اور خود میرے اوپر آگیا اور میرے پیٹ چومنے لگا کہ مزے سے تڑپ اٹھی اور اپنا سر دائیں بائیں کرنے لگی اور اسکے ہاتھ میری شلوار کو نیچے کھنچے لگے میں نے اپنی گانڈ اٹھا کر اسے اجازت دی پھر عمر نے اپنے کپڑے اتارے صاف شفاف بدن خوبصورت صرف چھاتی کے عین درمیان ہاتھ کی ہتھیلی جتنے بال نیچے سات انچ کا لنڈ انتہائی شان مجھے گھور رہا تھا کہ اس میری ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں اور ایک ہی جھٹکے میں اس ظالم کو اندر کا راستہ دیکھا یا آآہہہہہہہہہہہہہہہ ظالم آرام سے کرو کہیں نہیں جا رہی میں میری جان آج پہلی بار تمہارا موڈ بنا ہے تو اس موقعے کو بھرپور طریقے سے استعمال کرنا چاہتا ہوں جانی آج کے بعد یہ راستہ ہر وقت تمہیں دستیاب ہو گا اور ہر وقت موڈ بھی ایسے ہی ملے گا آہہہہہہہ جانی اب آرام سے کرو آہہہہہہہہ آہہہہہہہ آہہہہہہہہ عمر مجھ سے ہمیشہ ایسے ہی محبت کرو گے آہہہہہہہہ ہاں جان ہمیشہ ایسے ہی آہہہہہ میں قربان جاؤں اپنی جان پر اور اپنی ٹانگوں کو کندھوں سے اتار کر اسکی کمر کے گرد لپیٹ لی ظالم کی ہرچوٹ مجھے مزے کی نہی وادیوں میں دھکیل دیتی اور اسے خود کی طرف جھکَا کر والہانہ اسکے ہونٹ چوسنے لگی جیسے مدتوں کی پیاسی ہوں آہہہہہہہ عمر ایسے چودو مجھے جیسے آخری مرتبہ کر رہے ہو عمر میری جان آج مجھ پر خوب ظلم کرو عمرررررررررررررررررر اسکے ساتھ ہی میری چوت نے پانی کا پھورا چھوڑ دیا اور میری سانسوں میں تیزی آئی ایسے جیسے میلوں بھاگ کر آہی ہوں
  35. 4 likes
    GgPart 15 Mari to ma na chawal hi thi lekin mujhe nahi pata tha ke iska koi faida bhi ho sakta ha. Next day phir sa wohi routine shuru ho gaye.Morning ma school phir orphanage or shaam ko Martial arts ki practice or phir raat ko Tutor or phir dinner or bed. Madam na bhi ab baakaaidgi sa Factory jana shuru kar diya tha. Factory ke halaat Kuch is tarha theek hue ke madam ne meri aadhi baat maan li. Mtlb ye ke unho na tamaam workers ko 3 maah ka liye aadhi taankhuwaa lene par razamand kiya or phir Bank sa thora loan Liya or saath hi aik achi party ka order mil gaya unse aadhi Rakam advance ma le li yun dubaati hui nao ko aik acha Sahara mil gaya. School ma Nazia ke saath halki phulki mastiyaa chalti rahi saath ma Hira ke saath bhi double meaning baaton ki mastiyaa chalti rahi. Madam ke saath to phir kissing wagaira shuru ho hi chuki thi. Ab Roz raat ko sone sa Pehle madam lips par halki si kiss de deti. School teachers ke saath abhi tak koi scene nahi bna tha lekin library waale Wakiya ke baad meri Takribn tamaam teachers sa frankness ho chuki thi. Orphanage ki baat karain to wohi routine Hania or Rafi ka saath khel kood hi hota tha. Takreebn 3 maah yehi routine rahi phir papers shuru ho gaye.3 Hafte is kadar masroof raha ke orphanage bhi naa jaa payaa. Aakhari paper sa aik din Pehle orphanage sa aik bacha aaya or mujhe uncle ka paigaam diya ka wo mujh sa milna chahte hn. Ma na us bache sa kaha ke unhe Kaho ke Kal mera aankhri paper ha.kal shaam ko aapse tafseeli mulakaat ho jae gi. Akhri paper maths ka tha sari raat MA Madam or meri tutor teeno jaagte rahe. Subah nashta kiya or madam ke saath examination center Puhnch gaya. Paper hua waapsi hui to ma seedhi bed room ma ghus gaya room lock kiya lights off or apne bed ma ghus gaya.Itni zayada thakaan thi ke bed par letate wakat mujhe ye andazaa bhi naa hua ke mere bed par Pehle sa koi sooya hua ha. Pta nahi kitni der ma soota raha. Sote ma mujhe apne saath koi soya feel hua to ma uske Kareeb hua.uski Peeth meri taraf thi. Ma na peche sa uski kamar ke saath apni front body laga di or phir sa soo gaya. Dubara meri aankh saans rukne ki waja sa khuli to mujhe apne upar aik boojh sa feel hua.Mere upar koi Laita hua tha. Ma na mehsoos kiya ke koi aurat thi. Bas Itna mehsoos karne ki der thi ka mera Sher baidaar hone laga. Ma na Aahista sa Palta khaana shuru kiya or wo Jo koi bhi thi bed par latati gae or ma uske upar charh gaya.Ma na aapne haathoo sa aahistagi sa uska chehra tatoola or phir uske laboo PA apne hont rakh diye.udhar mera Choota Sher uske neche waale laboo sa cherkhani kar raha tha. Jaise hi ma na uske honto ko apne honto ma Liya us jisam ma halki si kasmasahat hui lekin ma na apna Kaam jaari rakha. Ma uske honto ko Kuch der khamoshi sa choosta raha lekin dusari taraf sa response naa milne par mujhe Kuch khass mazaa nahi aa raha tha jiski waja sa ma neche hokar uski gardan choomne laga or phir Aahista Aahista ma uski chaati ki taraf barha or phir aik haath sa unki kameez upar ki or phir unke boobs sa bra bhi upar kiya or unke dono boobies ko Aahista Aahista choosne laga. Boobs naa to zayada bare the or naa hi Choote the. Boobs ke size sa mujhe andaaza ho gaya ke ye aurat jo bhi ha Madam Asma hargiz nahi ha. Ye sooch jaise hi mere zehen MA aai MA Aik Lamhe ka Liya ruka phir tamaam Nataej ko pase pusht daal kar ma na dubara sa unke boobs choosne shuru kar diya. Thori der baad ma na us aurat ki shalwaar ka naala Khola or shalwaar neche karni chahi to achanak sa kissi na mera haath pakar Liya.Ma na aahistagi sa us haath ko apne haathoo sa alag kiya or phir upar uske kaan ka Kareeb ho kar Sargoshi ki Me:jo bhi ho ga is kamre sa bahir ke logon ko uski bhinaak bhi nahi lage gi. Tum tension mat lo Us aurat na koi jawab dene ki bajaye mera haath pakra or phir apni phudi par le gae or apne laboo darmayaan ragarne lagi. Ma uski phudi ka lamas or uski Harkat sa Samajh gaya ke wo kehna chahti ha ka wo virgin ha or mujh sa guzarish kar rahi ha ke andar naa daaln bas upar upar sa hi karun. Ma ne Sargoshi ki Me:fikar mat kar jab tak tum nahi chaho gi ma tumhari virginity ko koi nuksaan nahi puhnchaon ga. Us ne mere haath ko daba kar chor diya yani ab MA jo Karna chahn kar sakta hn.Ma na thori der apni ungali or aangoothe ki madad sa uski phudi ka daane ko maslaa to uski saansoo ki sarsaraaht sa kamre ka maahool mazeed roomanchak ho gaya. friends,Thori der ka liye apni aankhein band karain or zehen MA ye tasawaar laen ke aap akele aik kynwaari larki ka saath aik bister MA majood hn. Kamre ma Mukammal andhera ha or aap aik haath sa us larki ka boob daba rahe hn or dusare haath sa uski phudi ka danaa masal rahe hn. Uske saansoo ki sarsarahaat aapki shehwaat MA izzafa kar rahi ha. Kiun dostoo,itna sochte hi aapka paani nikalne waala ho gaya ha to meri kya halaat hoi ho gi. Thori der baad ma ne apna trouser Utara or uski taango ke darmayaan Beth gaya uski taangein thori khuli ki or phir apna lun uski phudi ke laboo ka darmayaan MA rakh diya or aage peche karne laga. Ab us aurat na bhi Aahista Aahista siskariyaa Maarne shuru kar dein.thori der ye khel chala phir mujhe apne lun PA garama garam paani mehsoos hua Jiska saath hi us aurat ka jisam aakar gaya. Mere Sher na bhi thori himmat dikhaya or uski phudi ka laboo PA pichkariyaa Maarni shuru kar di. Ma us aurat ke upar lait gaya or phir sa neend ki waadiyoo ma Khoo gaya. Dubara meri aankh us wakat khuli jab Madam na mujhe uthaya. Ma aankhein masalta hua uth betha. Madam mujhe uthte dekh kar boli Madam:uth bhi jao raat ke das baaj rahe hn. Khaana khaa lo phir soo janaa. Ma naa chahte hue bhi utha or washroom ma ghus gaya.Nahate hue mujhe Aaj ki sari karwae yaad aai to mera Sher phir sa baidaar ho gaya. Nahane ke baad ma towel MA hi bahir niklaa to madam abhi tak mere kamre ma hi thi. Mera lun seedha khara hua tha jiski waja sa towel MA sa ubhaar nazar aa raha tha.Madam use ghoorne lagi. Ma cupboard sa kapre nikalte hue bola Me:aaj khariyaat to ha naa Kidhar nazarein awara ghoom rahi hn. Madam ne chehra dusari taraf pher Liya or boli Madam:jab tumhari teacher is room ma sooye hui thi to tum mere room ma soo jaate Ma ne chonk kar unki taraf dekha or phir bola. Me:thakawaat ki wajah sa aate hi lait gaya mujhe koi ilm nahi ha ka kon yahan sooya ha. Madam:acha theek ha jaldi sa kapre pehen kar aao. Khaana tayar ha.phir tumhari Teacher ko bhi unke ghar choor kar aana ha. Me:aap jaen gi to hi pehnu GA naa yaa aap ke samne hi pehenane shuru kar dn Itna keh kar ma na aik dam sa towel giraa diya or trouser pehenane laga. Madam na jaldi sa chehra dusari taraf gunma Liya or boli Madam:badtameez insaan. Sharm to tumhare Kareeb sa bhi nahi guzari Itna keh kar madam kamre sa bahir nikal gae or ma bhi thori der baad kapre pehen kar bahir TV lounge ma chala gaya. Samne hi sofe par Madam shaista (My tutor) bethi hui thi.jaise hi unki nazar mujh par pari unki nazarein jhuk gae. Ma unke saath sofe par beth gaya or phir Aahista sa bola Me:agar aap Aise sharmaen gi to Kahin Asma jee(dusaree logo ke samne MA Madam ko Asma jee hi kehta tha) ko shak hi naa ho jae Madam shaista na apna sar uthaya or meri aankhoo MA aankhein daal kar Kuch der dekha or phir normal ho kar TV dekhne lagi. Phir dinner khamoshi sa kiya gaya.......
  36. 4 likes
    اپڈیٹ جیسے ہی چھنو کی بھتیجی جس کا نام صنم تھا میرے پاس سے گزری اس کے جسم کی مہک اس کے جوان سینے سے اٹھنے والی پرزور قسم کی خوشبو میرے نتھنوں سے ٹکرائی تو میرے دماغ کی بتی راشن ہو گئی یہ تو ویسی ہی شہوت بھری مہک ہے جس نے کماد میں میرے ہوش اڑا دئیے تھے ۔ پھر کیا تھا ایک ایک کر کے کڑی ملتی گئی میں نے اس کے جسم کے نشیب و فراز کو اپنے دماغ کی سکرین پر رکھ کر پرکھا پھر اس کے فگر کو ذہن نشین کیا اور دوبارہ سوچا تو مجھے کوئی فرق نظر نہیں آ رہا تھا۔ یہ میری سوچ تھی یا سچ میں وہ ہی تھی کیوں کہ مجھے تو ایک سو ایک آنے یقین ہو چلا تھا کہ کماد میں مجھے سیکس کے اصل سے روشناس کرانے والی وہ پری رو صنم ہی تھی ۔ بس پھر میں بھا کے ساتھ گھر آیا اور فورا ہی کھسک گیا اور باہر کھالے پر درختوں کے سائے میں بیٹھ کر اس ساری صورتحال پر غور کرنے لگا۔ ابھی مجھے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ سیک بچہ آیا اور بولا ہمارے گاؤں کی ٹیم کا میچ ہے کھرلوں کی زمین میں گراؤنڈ بنایا ہوا ہے وہاں سب تمہیں بلا رہے ہیں۔ گاؤں سے تعلق رکھنے والے سب بھائی جانتے ہوں گے جن گاؤں میں کوئی ہائی اسکول نہیں ہوتا یا سرکاری زمین نہیں ہوتی وہاں اکثر فصل کی کٹائی کے دنوں خالی زمین ملتے ہی گاؤں کے لڑکے مل کر پچ تیار کرتے تھے اور جب تک زمین خالی رہتی کرکٹ کھیلتے تھے ۔۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ مجھے کیوں بلایا کہاں میں پھدیوں کا شوقین اور کہاں کرکٹ تو بتاتا چلوں کہ میں کافی اچھا کرکٹر تھا اس وقت گاؤں کا سب سے بہترین پلئیر ہوا کرتا تھا ہم تو۔ چھوٹے تھے لیکن ہمارے گاوں کی سئنیر ٹیم بھی مجھے اکثر کھیلنے ساتھ لے کر جاتے تھے میں ایک اچھا اوپنر تھا۔ خیر میں اس بچے کے پیچھے چل پڑا اور ہم میچ کھیلنے چکے گئیے میچ کھیلنے کے بعد ہم گھر واپس آ رہے تھے کہ ایک لڑکا جس کو ہم ڈنگی (ٹیڑھا) کہتے تھے۔ اس نے مجھ کہا تو باز آجا نہیں تاں تیری بنڈ پاڑ دینی اے مجھے بڑا غصہ آیا کہ آیا کہ سالے نے گالی کیسے دی مجھے میں کونسا اس کی بنڈ میں انگلی ڈال دی ہے جو بکواس کر رہا ہے دوستو میری سیک عادت بہت عجیب تھی میں نہ گالی دیتا تھا نہ برداشت کرتا تھا میں نہ آو دیکھا نہ تاؤ اس کے منہ پر ایک تھپڑ ٹکا دیا وہ کھبو یعنی لیفٹی تھا اور میں سجا اس نے بھی مجھے مارنا چاہا میں نے جھکائی دی اور بچ گیا پھر کیا تھا لڑائی شروع ہو گئی وہ اپنا بایاں ہاتھ اٹھاتا مارنے کے لیے میں اس کی وکھی میں ایک جڑ دیتا چند ہی مکے لگے کہ وہ درد سے چیخنے لگا اتنے میں باقی لڑکے بھی پہنچ گئیے سب ہمیں چھڑوایا لیکن تب تک اس ڈنگی کی کمر بھی ڈنگی ہو چکی تھی۔ وہ بیہوش کو کر گر گیا جلدی سے قریب بیتے کھالے سے ایک لڑکا اپنی قمیض بگھو کر لایا اور اس کے منہ پر پانی نچوڑا اس کو ہوش آیا تو میں ابھی بھی غصے میں اس کو دیکھ رہا تھا جیسے ہی ہوش میں آیا میں پھر اس کی طرف لپکا لیکن مجھے سب نے پکڑ کر الگ کیا اور کھینچ کر لے جانے لگے میں بھی غصے ابلتا ان کے ساتھ چل پڑا ۔ مجھے غصہ کبھی کبھی آتا تھا لیکن بہت زیادہ آتا تھا بلکہ ابھی بھی ایسا ہت جب بھی غصہ اتا ہے اپنے آپ میں نہیں رہتا۔ ہم اسی طرح واپس آ گئیے واپسی پر مجھے فجا مل گیا جو مجھیں اوہ سوری بھینسیں لے کر جا رہا تھا اس نے مجھے آواز دی میں اس کے ساتھ چل پڑا تو اس نے میرا موڈ دیکھ کر کہا کیا ہوا میں اس کو سب بتایا تو بولا اچھا تو یہ بات ہے یہ تو ہونا ہی تھا۔ میں نے حیرانی سے اس ستے پوچھا کیامطلب تو بولا ویکھ سدی جی گل اے کہ تینوں دسیا سی کہ صنم دا کسے نال چکر اے میں کہا ہاں پر اس بات کا س سے کیا لینا دینا۔ تو فجا بول ٹھنڈ رکھ اتنا سب بتاتا ہوں تجھے میں نے صرف یہ بتایا تھا کہ اس کا کسی کے ساتھ چکر ہے یہ نہیں بتایا تھا کہ کس کے ساتھ میں نے ہونقوں کی اس طرف دیکھ کر کہا سیدھی طرح بتا یار یہ بجھارتیں نہ ڈال ۔ اس نے کہا پہلے سن تا لو پھر بولنا بیچ میں اپنی ٹانگ نہ اڑا۔ میں نے کہا چل بول نہیں ایک ہی بار میں ساری بات بتا ۔ تو اس نے کہا جس کے ساتھ اس کا چکر ہے وہ ڈنگی ہی ہے۔ تو میں نے کہا پھر بھی اس بات کا س سے کیا لینا دینا۔ فجا غصے سے بولا لن اے تو اوہدی معشوق دی پھدی ماردا پھریں تے اہو تینوں کجھ وی نہ اکھے۔ میں بھی اسی کے لیجےث لہجے میں کہا میں کدوں اوہدی معشوق دی پھدی مار لئی او تا مینو گھا وی نیں پاندی۔ فجا بولا تو کی سمجھنا ایں بس تو ای سیانا ایں تے باقی سارے پھدو نے ۔ میری بات سن یہ بات جو میں بتا رہا ہوں غور سے سن تو نے شازی کے پھدی ماری میں نے ہاں ماری۔ اس نے کہا اس کے بعد کہاں گیا تھا میں نے کہا گھر وہ بولا میرے کول تاں جھوٹ نہ بک۔ اس کے بعد تو نے کماد میں کس کی پھدی ماری تو مجھے اس بات کا جو میں سوچ رہا تھا یقین ہو گیا کہ وہ صنم ہی تھی ۔ میں بولا پتہ نہیں کون تھی پر تھی بہت کمال میں ابھی بھی نہیں ظاہر کر رہا تھا کہ سب سمجھ ا گئی ہے ۔ اس نے پھدی مار کی اور یہ نہیں پتہ کس کی ماری واہ میرے منہ پر لکھا ہے کہ میں چوتیا ہوں۔ میں نے سچ میں یار اس نے منہ پر مڑاسہ مارا ہوا تھا بس مجھے کھیچا اور لے گئی پھر کیا تھا مجھ پر کسی بھوکی شیرنی کی طرح چڑھ دوڑی میں نے بھی پھر مار ڈالی اب مجھے کیا پتہ وہ کون تھی ۔ تو فجا بولا پھر اب میری بات سن اس دن جب تو نے اس کی پھدی ماری تو اس وقت کومل اور شازی بھی واپس آ رہی تھیں انہوں نے اس کو کماد سے نکلتے دیکھ لیا تھا لیکن اس نے کسی کو نہیں دیکھا وہ جلدی سے گھر کی طرف دیکھا چلی گئی ان کو شک ہوا تو وہ رک کر انتظار کرتی رہیں کچھ دیر بعد تو بھی نکلا تو ان کی نظروں میں آگیا مجھے یہ سب کومل نے بتایا اور یہ بھی کہ شازی نے چھنو کو بھی بتایا اور لگتا ہے ڈنگی کو بھی پتہ چل گیا ہے ہو سکتا ہے شازی نے بتایا ہو اب ساری بات میری سمجھ میں آ گئی میں نے اس سے کہا چل تو جا میں گھر جاتا ہوں میں واپس مڑا اور تھوڑی دور جا کر سڑک اے اتر کر شازی کی بیری کی طرف چل پڑا کہ آج اس کی پھدی پھاڑتا ہوں اس کی ہمت کیسے ہوئی ۔ میں وہاں پہنچا تو شازی کے ساتھ اس کی بڑی بہن بھی تھی وہ بیر توڑ رہی تھیں شازی ۔ے مجھے مست نظروں سے دیکھا اور اس کی بہن نے آ بلو بیر کھان آیا این میں نے جی ۔ اس نے شازی کو کہا تسی بیر توڑو میں اب کپاس چن لوں وہ چلی گئی شاید اس کو جلدی تھی کیونکہ گاؤں میں اکثر عورتیں اپنی اور اپنے رشتہ داروں کی کپاس چنا کرتی تھیں پھر اس میں سے حصہ لیتی تھیں جیسے کی وہ نظروں سے اوجھل ہوئی میں نےشازی کو کیا حال ہے میں نے رستے میں اتے ہوئے سوچا ابھی اس سے نہیں پوچھتا کوئی مناسب موقع دیکھ کر پوچھوں گایا اس سے بدلا لوں گا ۔ اس لیے اس سے باتیں کرنے لگا باتیں کرتے کرتے ہم ایک دوسرے کے قریب ہو کر بیٹھ گئے اور میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اس کے ہونٹو ں مے ہونٹ کیے تو اس نے مجھے پیچھے دھکیلتے ہوا نہ کر کوئی آ جائے گا میں کچھ نہیں ہوتا اب کس نے آنا تو وہ بولا ایتھے نہیں کسی اور جگہ چلتے ہیں اور وہ مجھے لے کر ایک قدرے محفوظ جگہ چلی گئی وہاں جاتے ہی اس نے مجھے دھکا دیا نیچے لٹا لیا اور میرے اوپر لیٹ کر میرے ہونٹ چوسنے لگ گئی ہونٹ چوستے چوست اس نے اپنی شلوار اتاری اور ایک طرف ہو کر لیٹ گئی اور مجھے اشارہ کیا اجاو میں نے بھی اپنی شلوار کا ناڑا کھول کر شلوار کو نیچے کیا اور اس کی ٹانگوں کے بیچ ا کر اس کی ٹانگیں اٹھائیں اپنا ہتھیار ڈال کر چودنے لگا وہ مزے سے اہیں بھرنےلگی میں بھی اس کی آہوں لطف اندوز ہونے لگا۔ کچھ دیر اسی طرح اس کی ٹانگیں اٹھا چودنے کے بعد ااس کی ٹانگیں نیچے کیں اور اس کو الٹا کیا گھڑی بنانے کے لیے لیکن وہ انجان تھی الٹی لیٹ لیکن اپنی ٹانگیں کھول کر مجھے پھدی کا رستہ دکھا دیا میں نے بھی پیچھے سے اس کی گانڈ کے نیچے سے پھدی میں گھسا دیا اور اس کو چودنے لگا چند ہی منٹوں میں اس کی بس ہو گئی کیونکہ اس طرح اس کو رگڑ بہت زیادہ لگ رہی تھی اور وہ رگڑ برداشت نہیں کر پائی اور بولنے لگی آہہہہ ااااااااہہۃہہہ مزا آنداااا پپپیییییااا اااییییی زور نال ماااارررر آاہہہ اور اس مے جسم کو جھٹکا لگا اور وہ فارغ ہو گئی اس کی آوازوں کا اثر اور کچھ لگنے رگڑ کا میرا بھی ٹائم ا گیا میں بھی اس کی پھدی میں فارغ ہونے لگا تو مجھے ایک فلم ما سین یاد آیا جلدی سے باہر نکالا اور اس کے کولہوں کی دراڑ میں میں اپنے لن کا رس نکال دیا اس نے مڑ دیکھا اور بولی گند میرے تے کیوں کیتا سائڈ پر کر لیتا۔ میں مسکرایا اور ایک طرف ہو اپنا ناڑا باندھا تو اس نے کہا بلو ایک بات پوچھوں میں نے کہا ہاں پوچھو تو بولی اس دن وہ کون تھی کماد میں میں نے کہا پتہ نہیں ایک بار سوچا سب بتا دوں پھر سوچا رہنے دوں آخر میں کہا سب بتا دے کچھ دنوں بعد شہر چلے جانا اے میرا کی جانا ۔ اس نے کہا میں نے خود دیکھا تھا کسی کو نکلتے ہوئے ۔اور تمہیں بھی تو میں نے اس کو ساری بات کچھ مرچ مصالحہ لگا کر بتائی جیسے اس کی دیوانہ وار چودائی اس کا سیکسی بدن اس کا مجھے لٹا کر سیکس کرنا ساری پوزیشن خاص طور پر لن چوسنے والی بات خاصی تفصیل سے سنائی اور ساتھ اس مے چہرے کے ایکسپریشن بھی نوٹ کرتا رہا جب میری بات مکمل ہوئئ تب تک وہ میری شلوار کا ناڑا کھول چکی تھی اور میرا لن اس کے منہ میں تھا جس کو وہ مزے لے کر چوس رہی تھی اس کے نرم ہونٹ مجھے اپنے لن کی ٹوپی پر پگھلتی آئس کریم لگ رہے تھے جہاں جہاں چلتے میرے اندر مزے کی لہر دوڑ جاتی جب اس کا منہ لن چوس کر دھک گیا تو اس نے شلوار اتاری اور مجھے نیچے لیٹا کر اوپر چڑھ آئی میں یہ ہی تو چاہتا تھا اسی لیے تو اس کو تیل لگا کر کہانی سنائی تھی جس کا پھل مجھے فوراً مل گیا اور اب میرا گھوڑا اس کی رس میں میں تھا جس کو اس کی تنگ سرنگ نے اپنے اپنے قبضے میں کر لیا تھا۔ اس نے تھوڑا تھوڑا کر کے سارا اندر کیا اور پھر آہستہ آہستہ اوپر نیچے ہونے لگی جب کافی دیر وہ ایسے کرتی رہی تو اس کی سانس اکھڑنے لگی اور میرے اوپر گر گئ میرے ہونٹ اپنے میٹھے ہونٹوں میں لے کر چوستے ہوئے میرے لن پر اپنی پھدی مو کس لیا اور ایک زوردار جھٹکا لیا اور فارغ ہونے لگ گئی کچھ دیر اسی طرح فارغ ہوتی رہی جب اس کا جسم پر سکون ہوا تو میں نے اس کو اپنے نیچے رکھا اور لن سیٹ کر اس کی ایک ٹانگ ٹھائی اور لن گھسا کر فل سپیڈ سے رگڑائی شروع کر دی اس طرح سے اس کے جی سپاٹ کو رگڑ لگنے لگی وہ پھر سے مست ہو گئی کچھ ہی منٹوں میں اس کی بس ہو گئی اور میری بھی ہمت جواب دینے لگ گئی ادھر اس کے جسم جھٹکا کھایا اور گانڈ اوپر اٹھا کر لن کو جڑ تک اندر لیا ادھر میں نے بھی زور لگا کر سارا لن اندر کر دیا ۔ اور اس کے اوپر لیٹ کر فارغ ہونے لگا۔ ۔۔۔ ابھی میں صحیح طرح فارغ بھی نہیں ہوا تھا کہ مجھے شازی کی باجی کی آواز سنائی دی جو اس کو بلا رہی تھی شازی نے مجھے پیچھے دھکیلا اور شلوار پہن کر بولی ادھر ہی رہنا ۔۔۔۔۔ مجھے بولی ادھر ہی رہنا اور خودچلی گئی اور میں نے وہاں رکنا مناسب نہ سمجھا اور بیٹھے بیٹھے کھسک کر وہاں سے نکلا اور گھر آ گیا ۔ پھر ایک دو دن وہاں رہے میں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح کوئی پھدی مل جائے لیکن کوئی ہاتھ نہ ائی ۔ دو دن بعد ہم سب شہر آ گئے یہاں آ کر لن نے تنگ کرنا شروع کر دیا تو میں نے بھی کوشش کرنی شروع کر دی ہمسائے میں رہنے والی ایک لڑکی تھی جن کے گھر ہمارا کافی آنا جانا تھا ۔ وہ تھی بھی بہت خوبصورت اس پر لائن مارنے لگا اس نے بھی لفٹ کروانا شروع کر دی ایک دن میں چھت پر گیا اس کو اشارہ کیا اور اس کے اورپر آنے کا انتظار کرنے لگا ان کی چھت کی دیوار پر چڑھ گیا کچھ دیر بعد سیڑھیوں پر کسی کے قدموں کی آواز آئی اور پھر چھت پر کوئی آیا ۔ کوئی اس لیے کہا کہ وہ نہیں تھی جس کو اشارہ کیا تھا بلکہ یہ تو اس کی چھوٹی بہن تھی۔ ہمارے ہمسائے گاؤں میں بھی ہمارے ہمسائے تھے یہ نہیں کہ وہ ہمارے گاؤں کے تھے وہ تو ہمارے ساتھ والے گاؤں سے تعلق رکھتے تھے۔ اسی وجہ سے ہمارا ایک دوسرے کے گھر آنا جانا تھا۔ وہ کل 6 افراد تھے دو لڑکیاں بڑی کا نام شانزل جس کا رنگ سرخ بھرا بھرا جسم موٹی گانڈ جب چلتی تھی تو اکہتر بہتر ہوتی تھی اور جب بولتی تھی تو آنکھیں مٹکا مٹکا کر بات کرتی تھی گول مٹول ممے جتنے ٹین ایجرز کے ہو سکتے تھے ہشتم کلاس کی طالبہ تھی لیکن لگتی دہم کی تھی فٹنگ والے کپڑے پہنتی جس سے اس کا انگ انگ واضح ہوتا تھا اس کے پیٹ پر موجود ناف کی گہرائی میں کئی بار اندازے سے چیک کر چکا تھا اتنے ٹائیٹ کپڑے پہنتی تھی کہ کئی بار اس کو دیکھ کر ایسا لگتا جیسے اس نے کچھ نہیں پہنا ہوا۔ ایک اور چیز جس کی وجہ سے میں اس کی متوجہ ہوا وہ تھا اس کا دائیں گال کا ڈمپل اور اس کے پتلے انار رنگ کے ہونٹ جب ہنستی تھی تو ایسا لگتا تھا جیسے پھول برس رہے ہوں ۔ اس کی چھوٹی بہن کا نام شمع تھا جو خوبصورتی میں بڑی سے چار قدم آگے تھے کیونکہ وہ بہت چھوٹی تھی اتنی چھوٹی بھی نہیں تھی لیکن 12 سال کی ہو گی ابھی اس کے سینے میں کوئی ابھارچواضح نہیں ہوا تھا لیکن بہت تیز تھی ۔ سبز رنگ کی آنکھیں تھیں بہت پیاری لگتی تھی اور اس کے دو چھوٹے بھائی بھی تھے ۔ جب وہ اوپر آئی مجھے دیکھ کر مسکرائی اوربلاوجہ کھڑی ہو گئی تو مجھے نیچے جانا پڑا ۔ میں جب نیچے اتر رہا تھا تو میری نظر سامنے کی چھت ہر ہڑی وہاں سامنے والوں کی نوکرانی چھت پر کھڑی مجھے دیکھ رہی تھی وہ بھی قیامت تھی ایسی نوکرانی کسی گھر میں نہیں تھی۔ لگتا ہی نہ تھا کہ وہ نوکرانی ہے بلکہ وہ گھر کی مالکن لگتی تھی عمر میں مجھ سے زیادہ تھی لیکن بلا کی حسین تھی ۔ میں جلدی سے نیچے اترا اور باہر نکل گیا ۔ اسی طرح آنکھ مٹکا کرتے وقت گزرتا رہا ۔لیکن کوئی ہاتھ نہ آئی جیسے گاؤں میں پھدی مل جاتی تھی یہاں نصیب نہ ہوئی ۔ کافی دن محنت کے بعد ایک دن موقع ملا شانزل ہمارے گھر آئی مجھ سے کوئی سوال سمجھنے سمجھتے ہوئے اشارے سے واشروم کی طرف اشارہ کیا اور اٹھ کر چلی گئی دوستو جس گھر میں ہم رہتے تھے اس کے واشروم تین تھے ایک ڈرائنگ روم میں تھا ایک باہر اور تیسرا روم میں تھا جس سیک دروازہ گیراج میں تھا اور گھر کا صحن دوسری ظرف تھا یعنی کمروں جا رخ گلی کی مخالف سمت تھا ایک گیلری تھی جو گیراج سے صحن والی سائیڈ پر جاتی تھی ۔ جیسے ہی وہ واشروم گئی میں اٹھ کر گیراج والے دراوزے کی ظرف گیا وہ دروزے کی جھری سے دیکھ رہی تھی اس نے دروازہ کھولا اور میں اندر چلا گیا۔ اس نے جلدی سے دروازہ بند کیا اور میں جو اتنے دن سے پھدی کے لیے ترس رہا تھا اس کو دیکھ کر اس پر چڑھ دوڑا اس نے کافی ہل چل مچائی اور بولی آئی لو یو سنو تو صیحیح لیکن میں سننے کی پوزیشن میں نہیں تھا میرے لن نے مجھے سننے ہی نہیں دیا اور میں نے اس کو بانہوں بھرا اور اس کے پتلے ہونٹوں کو چومنے لگا۔
  37. 4 likes
    Update میں نے آنکھیں موندھ لیں اور اپنے آپ کو پرسکون کرنے لگ گیا ابھی چند لمحے ہی گزرے تھے کہ مجھے اپنے لن پر نرم نرم چیز کا احساس ہوا پھر وہ احساس حقیقت میں بدلتا گیا کیوں کہ مجھے اپنے نتھنوں میں ایک عجیب سی مست کر دینے والی مہک کی شدید لہر کے بھبھکے آئےجو اتنے تیز اور شر انگیز تھے کہ مجھے اپنے دماغ پر اثر انداز ہوتے محسوس ہوئے میں اس خوشبو کے سرور میں مست ہونے لگا اپنی آنکھوں کو اور زور سے بھینچ کر اپنے اندر اتارنے میں لگ گیا یہ مہک اتنی پر اثر تھی کہ مجھ پر اک نشہ سا سوار ہو گیا عین اسی وقت جب میں اس پرکیف احساس میں ڈوبا تھا میرے منہ پر کوئی چیز ٹکرائی میں نے ہڑ بڑا کر آنکھیں کھولیں تو دوستو میں اک نئے جہاں سے آشنا ہوا میرے عین منہ کے اوپر ایک نئی دنیا کا انگریزی کے حرف وی جیسا پھول شبنمی قطرے برساتا کھل اور بند ہو رہا تھا اس کی خوشبو نے تو میرے ہوش پہلے ہی گم کر دیے تھے لیکن جب دیدار کروایا تو میری حالت ناقابل بیاں ہو گئی پھر کیا تھا میں نے اپنا ہاتھ نکالا اور اس پھول کی دونوں پنکھڑیوں کو کھول کر اندر جھانکنے کی کوشش کی لیکن شاید اس اس پھول کی مالکہ کو یہ منظور نہیں تھا اس کی خواہش کچھ اور تھی اس نے ایک جھٹکے سے خود کو دور کیا اور پھر عین میرے ہونٹوں پر رکھ دیا۔ میں تو دوسری نہیں بلکہ کسی چوتھی دنیا میں پہنچ گیا اک جاوداں نشہ میرے اندر اترتا چلا گیا میں نے اپنا منہ اس پھول کا رس چوسنے کے لیے جیسے ہی ابھرے ہوئے لبوں پر رکھا اس مدہوش کر دینے والی خوشبودار مہکتے پھول کی پنکھڑیوں کی مالک کے جسم کو ایک جھٹکا لگا اور اس کی گرفت میرے لن پر سخت ہو گئی جو اس کی جان کن محنت کی وجہ سے اب سر اٹھا چکا تھاجیسے ہی اس کے جسم نے جھٹکا کھایا اس کی پھدی سے نکمین پانی نکل کر میرے لبوں سے ہوتا ہوا میرے منہ میں سے اپنارستہ بناتا اپنا ذائقہ ہر طرف پھیلاتا گلے تک پہنچتا گیا جس کو میں نے اپنے معدے میں اتار لیا اور جوش میں اس کی پانی ٹپکاتی پھدی کے ابھرے ہوئے لبوں کو اپنے ہونٹوں میں جکڑ لیا اور چوسنے لگ گیا۔ اب ہم 69 کی پوزیشن میں تھے دوستو اس وقت مجھے اس پوزیشن کی الف ب کا بھی نہیں پتہ تھا بس بلیو فلموں میں دیکھا تھا۔ ایک طرف وہ میرے لن کو اپنے لبوں میں لیے لولی پاپ کی طرح چوس رہی تھی دوسری طرف اس کی پھدی کا رس میں اپنے ہونٹوں سے نچوڑنے میں مصروف تھے کچھ دیر اس کی پھدی کو ہونٹوں سے چوسنے کے بعد میں نے اس کی پھدی کے اندر اپنی زبان ڈال دی آآہہ کیا مزہ تھا اس کی پھدی کا اتنی گرمی کہ مجھے لگا کہ میری زبان پر جیسے اس کی پھدی میں لگی آگ سے چھالے بن گئیے ہوں مجھے کچھ بھی ہوش نہیں تھا کہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی دو دفعہ پھدی مار چکا تھا اور یہ بھی نہیں سوچ رہا تھا کہ یہ سیکس کی پڑیا کون ہے جو ایک ہی وقت میں دوسری بار میرا لن منہ میں لے کر اپنی پھدی کو میرے منہ پر دبائے چدوانے کے لیے تڑپ رہی ہے ۔ مجھے پتہ تھا تو صرف اتنا کہ میں پھدی کا رس پی رہا ہوں اور میرا لن کسی کے نرم رسیلے ہونٹوں کی گرفت میں ہے جو مجھے بدمست کییے جا رہے ہیں میری زبان جیسے اس کی پھدی کی پھاڑیوں میں سے رستہ بناتی ہوئی اندر گھسی اس کی سسکی مجھے اپنے لن کی اکلوتی آنکھ میں پچک کی آواز کے ساتھ سنائی دی۔ اس نے اور زور سے جتنا لن منہ میں جا سکتا تھا لینے کی کوشش کی نیچے سے میں نے بھی جوش میں گھسا مارا لن اس کے گلے تک جا پہنچا اس کی غغغوووں کی آواز آئی پورا زور لگا کر لن کو باہر نکالا اور کھانسنے لگ گئی لیکن میں نے اپنی زبان کو اس کی پھدی کی گہرائی میں گول گول گھمانا شروع کر دیا جس سے اس نے کھانستے ہوئے آآہہہ کیا اور اور تیزی سے اپنی پھدی کو میرے منہ سےنکال کر آگے لیجا کر لن کے اوپر بیٹھ کر رگڑنے لگی میرا لن اس کی گانڈ کی نرم نرم گوشت کی پھاڑیوں سے ہوتا ہوا اس کی پھدی کے ابھرے ہوے لبوں سے رگڑ کھا تا اس کی آہہہ نکلتی اور وہ اور تیزی سے آگے پیچھے ہوتی لن کو اپنی گانڈ کے چوتڑوں میں لے کر دباتی پھر چھوڑ کر آگے ہو جاتی اس طرح کرنے سے میں سرورولطف میں ڈوب جاتا اور بے اختیا ر میرے منہ سے مزے سے بھرپور سسکی نکلتی میں نے اس کی کمر پر پر ہاتھ رکھا اور دوسرا ہاتھ اس کی گانڈ کے ایک طرف رکھ کر اس کو تیز تیز آگے پیچھے کرنے لگا یکدم اس کی سسکیاں تیز ہونے لگ گئیں اس نے بھی زور سے میرا لن اپنی پھدی کے ساتھ رگڑنا شروع کر دیا اور ایکدم آگے کو جھک کر لن پکڑ کر اپنی پھدی پر سیٹ کر کے پیچھے کو جھٹکا دیا اور لن اپنی پانی سے بھری پھدی میں لے لیا لن جیسے ہی اس کی پھدی میں گیا میرے پورے جسم میں لن کے رستے اس کی پھدی کی گرمی اترتی چلی گئی میں نے تیزی سے لن کو پیچھے کھینچ کر ںیچے سے گانڈ اٹھا کر گھسا مارا اور اس کے ساتھ ہی اس نے پورا وزن میرے لن پر ڈالنے کےلئے اپنی گانڈ اوپر اٹھائی اور سیدھی ہو کر لن پر بیٹھ گئی اور اس کی پھدی نے میرے لن کو اپنی گرفت میں ایسے کس لیا جیسے کسی قیدی کو پولیس والے ہتھکڑی ڈال کر بے بس کر دیتے ہیں میرا للا بھی اسی طرح بے بس تھا۔ اس کے جسم نے ایک زوردار جھٹکا کھایا اور وہ کمر کے بل میرے اوپر لیٹتی گئ جس سے میرا لوہے کےراڈ کی طرح اکڑا ہوا لن اس کی پھدی کی گرفت میں ساتھ مڑتا گیا اور میری درد سے آآہہہ نکل گئی میں نےلن نکالنے کی کوشش کی لیکن اس نے اپنی ٹانگوں کو اس انداز سے کسا ہوا تھا کہ میں کامیاب نہ ہوا میری جان نکلنے والی ہو گئ ادھر وہ جھٹکے کھاتے ہوئے میرے لن کو اپنی منی سے نہلاتی رہی۔ کچھ دیر جھٹکے کھانے کے بعد وہ فارغ ہوئی اس کی پھدی سے لن نکلا تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور شلوار پہننے لگی تو میں تیزی سے اٹھا اس کو گرایا اور اس کے اوپر آکر لن اس کی پھدی پر سیٹ کر کے جھٹکا دیا لن ایک ہی جھٹکے میں اس کی پھدی کی گہرائی میں گم ہو گیا ابھی تک اسکا نقاب نہیں کھلا تھا اس نے نقاب اس طرح کیا ہوا تھا جیسے منہ پر اکثر چور یا ڈکیٹ کسی مفلر یا اور کپڑے سے کس کر باندھ لیتے ہیں جو لڑائی کے دوران بھی نہیں کھلتا میں نے لن اس کی پھدی میں ڈالا تو اس کے چہرے پر نظر پڑی میں نے اچھا موقع سمجھ کر ایک ہاتھ اس کے نقاب کی طرف بڑھایا تو اس نے جلدی سے میری کمر کو کس کر پکڑتے ہوئے اپنے اوپر لٹا لیا میں نے کوشش کو ترک کیا اور سوچا لن تے چڑھے جو وی اے پھدی اچ میرا لن تاں لے رہی اے ۔میں نے اس کی پھدی کی دھلائی اپنی گانڈ کو تیز تیز ہلاتے ہوئے شروع کر دی۔ اس کی پھدی دو دفعہ پانی چھوڑ چکی تھی جس کی وجہ سے لن آسانی سے اند ر باہر ہو رہا تھا اور اس کی گیلی پھدی کی وجہ سے شڑپ شڑپ شڑپ شڑپ کی آوزیں آ رہی تھیں مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے لن بس پانی میں مار رہا ہوں بہت زیادہ رواں تھی اس کی پھدی تو میں نے اس کی ٹانگوں کے نیچے ہاتھ ڈال کر اس کی ٹانگیں اوپر اٹھا کر اسکے مموں سے لگا دیں لیکن اس نے میری کمر کو ڈھیلا نہ کیا جیسے ہی اس کی ٹانگیں اس کے مموں سے لگیں لن کو کھلا میدان مل گیا لن اس کی پھدی کی گہرائی میں جانے لگ گیا اس نے بھی پھدی کو ٹائٹ کر کے اور مزہ دینا شروع کر دیا لن اس کی پھدی میں جا کر لگتا تو اس کی آہہہہ نکلتی جو وہ دبا رہی تھی۔ میں بھی پورا زور لگا کر اس کی پھدی مار رہا تھا اس کی سسکیاں اس کے منہ میں کی دب رہی تھیں جو اس نے منہ شاید پورا زور لگا کر بھینچ کر روک رکھی تھیں۔ مجھے یہ دیکھ کر اور جوش آ رہا تھامیں اور زور لگا رہا تھا اس کی پھدی ٹائیٹ ہوتی گئی اس کی گرفت میری کمر پر سخت سے سخت ہوتی گئی ۔ اس نے نیچے سے اپنی بنڈ اٹھا کر لن کو پورا اندر لے کر پھدی کو پورا کس لیا میری آہہہہککککک کی آواز نکلی میں نے لن کو زور سے اندر باہر کرنا جاری رکھا اس نے بہت کوشش کی مجھے گھسے مارنے سےروکے لیکن میرے اندر جوش اپنے جوبن پر پہنچ چکا تھا میں نے گھسے مارنے جاری رکھے اور میری آواز لڑکھڑنے لگی آہہہہہہ آہہہہہ یییییی ااااااہہہہہیییییی سپیڈ تو جیسے ٹرین کو مات دے رہی تھی اس کی پھدی کا بھی رو رو کر برا حال تھا میرے گھسوں کی تاب نہ لا کر اس کی ایک زودار چیخ نکلی آااااااہہہکہہہہ ماردتا اییییییی بس ایک ہی بار نکلی اس نے میری کمر سے اپنا بایاں ہاتھ اٹھا کر اپنے منہ پر رکھ لیا لیکن میں تو ہوش میں تھا ہی نہیں جو یہ سمجھ سکتا کہ یہ آواز کس کی تھی۔ میں اندھا دھند اس کی پھدی میں لن سے خندق کھود رہا رھا تھااس کی پھدی کب کی رو رو کر چپ ہو چکی تھی اس نے اپنا سر دائیں بائیں مارنا شروع کر دیا اسی دوران دوران مجھے اپنی ٹانگوں کا سارا خون چڈوں کی طرف دوڑتا محسوس ہوا میری سپیڈ ناقابل برداشت حد تک بڑھ چکی تھی لیکن اس شہوت زادی نے افف تک کی آواز نہ نکالی بس اپنے منہ کو ہاتھ سے بند کر کے آنکھیں بھینچ کر ایک ہاتھ میری کمر پر رکھ کر بس برداشت کر رہی تھی مجھے کچھ ہوش نہیں تھا میرے دماغ پر اس کی پھدی کی گرمی اور اپنے لن کی منی سوار تھی۔ یکدم مجھے ایسا لگا جیسے میرا سانس رک رہا ہے میں زور دار ہہہہہہووووووووں کی اور میرے لن سے اتنے زور سے پچکاری نکلی کہ نیچے اس کے جسم نے بھی جھٹکا کھایا میرے لن سے نکلنے والی یہ پچکاری اس کی بچہ دانی میں جا گری اس کے بعد میں اسکے اوپر گرتا چلا گیا اور جھٹکے کھاتے ہوے فارغ ہوتا گیا۔ اور مدہوشی کی وادیوں میں اترتا گیا۔۔۔۔۔۔۔ آج ایک وقت میں تھوڑے تھوڑے وقفے سے تیسری بار اپنا پانی دو مختلف پھدیوں میں نکالنے بعد میں کچھ نڈھال سا ہو گیا تھا کچھ دیر لیٹا سستاتا رہا پھر جب کچھ ہوا س بحال ہوے تو مجھے اس شہوت کی آگ میں جلتی ہوئی پھدی والی کا خیال آیا تو جلدی سے اٹھ کر ادھر ادھر دیکھا تو مجھے وہ کہیں نظر نہ آئی میں نے جلدی شلوار پہنی اور نالا باندھتے ہوئے باہر نکلا لیکن مجھے اس کا کوئی نام و نشان نہ ملا ۔ کچھ دیر اس کی تلاش میں نظروں کو گھماتے ہوئے میں اءک طرف چل پڑا پھر مجھے اپنی حالت کا خیال آیا تو کچھ سوچ کر اپنا رخ ٹیوب ویل کی طرف کر دیا راستے میں مجھے ایک اور ٹیوب ویل نظر آگیا دوستو میں اپنے ٹیوب ویل پر جا رہا تھا لیکن جب راستے راستے میں مجھے ایک اور ٹیوب ویل چلتا نظر آیا جس پر کوئی بھی نہیں تھا میں اس طرف چل دیا اور کپڑوں سمیت ہی نہایا اور نہا کر گیلے کپڑوں سمیت گھر کی طرف چل دیا جب میں گاوں کی حدود میں داخل ہو کر اپنے گھر والی گلی میں داخل ہوا تو مجھے وہی کپڑے پہنی ایک لڑکی نظر آئی جس می کمر دوسری طرف تھی اور وہ تیزی سے گلی میں مڑ گئی میں بھاگ کر اس گلی کی نکڑ پر گیا لیکن وہ پھر غائب میں نے کافی دیر اس گلی میں چکر لگائے لیکںن جب کوئی نہ نکلا بلکہ ایک اماں نے مجھے روک کر پوچھا پتر بلو ایں میں کہا ہاں کی حال اے اماں نے کہا ساڈا کی اے پتر بس زندگی نو روڑی جانی آں تو سنا امی ابے دا کی حال اوی آئے نیں کہ نہیں ۔ میں نے سارے ای آئے آں ماں۔ چلو پتر انی گرمی اچ گھروں نہ نکلیا کر تاپ چڑھ جائے گا ۔جا شاباش جا تے کسی ٹھنڈی تھا تے سو جا۔ میں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور ورنہ اماں سے جان چھڑوانا مشکل لگ رہا تھا جلدی سے چنگا اماں میں جا تے سونا آں نکل گیا اور سیدھا گھر جا کر سو گیا تین پھدیوں کی چودائی کی وجہ سے کافی تھکا ہوا تھا اس لیے بس لیٹتے ہی نیند کی وادیوں میں اترتا چلا گیا اور خواب میں بھی اس کافرانہ حد تک سیکس کی شوقین لڑکی کو چودتا رہا ۔ شام کو سو کر اٹھا پھر وہی روٹین کوئی خاص نہ ہوا دو تین دن ہمیں صبح سے لے کر شام تک گندم کی کٹائی کا موسم تھا کھیتوں میں لے جاتے شام کو آتے تھکے ہارے سو جاتے کافی چکر چلانے کی کوشش کی میں نے لیکن میرے تائے نے ایک نہ چلنے دی بالو کو اور مجھے لے جاتا کیوں کہ ہم ہی شہر سے چھٹیاں گزارنے آئے تھے ۔ چوتھے دن مجھے صبح صبح بھا بوٹا ساتھ لے کر دوکان پر گیا دوکان گاوں کے دوسری طرف تھی جہاں جانے کے لیے ہمیں چھنو کے گھر کے سامنے سے گزرنا پڑتا تھا جیسے ہی ہم چھنو کے گھر کے پاس سے گزرے تو مجھے اس کے گھر کی چھت پر وہ ہی سوٹ نظر آیا جو اس دن کماد میں میرے ساتھ سیکس کا کھیل کھیلنے والی لڑکی نے پہنا ہوا تھا مجھے اس کی قمیض کا کلر یاد تھا جو کہ فیروزی تھا اور سوٹ پر بڑے بڑے پھول بنے ہوئے تھے ۔ میں غور سے دیکھتا بھا کے ڈاتھ جارہا تھا کہ مجھے چھت پر چھنو کی بڑی ایک بھتیجی نظر آئی جو کہ اس کے کزن کی بیٹی تھی اور بھرپور جوان تھی 5فٹ 6 انچ قد بڑی بڑی آنکھیں جن کا رنگ براون تھا اور پتلی 28 کی کمر باہر کو نکلی ہو بھری بھری 32 کی گانڈ اور 36 کے کسے ہوئے ممے گلابی رنگت ستواں ناک پتلے پتلے لال ہونٹ گال جیسے پکے ہوئے سیب ہوتے ہیں چلتی تھی تو ایسے لگتا تھا جیسے کوئی ماڈل کیٹ واک کر رہی ہوں اپنی گانڈ کو مٹکا کر اور سینہ چوڑا کر کے گردن اکڑا کر میں نے کئی دفعہ اس پر لائین ماری لیکن اس نے مجھے گھاس نہیں ڈالی تھی مجھے فجے نے بتایا تھا کہ اس کا کسی کے ساتھ چکر ہے ۔ میں نے پھر اس پر ٹرائی مارنے کی کوشش کی اس کی طرف دیکھا اس نے بھی اک ادا سے میری طرف دیکھ کر سر کو جھٹکا دیا ۔ اتنی دیرمیں میں ہم آگے گزر گئیے اور دوکان پر چلے گئے اور میں یہ سوچنے لگ گیا کہ سگر یہ کپڑے ادھر ہیں تو اس دن چھنو ہی ہو گی لیکن چھنو کی پھدی میں دیکھی ہوئی تھی اس کا فگر مجھے ازبر تھا یہ یقیناً کوئی اور تھی میں یہ ہی سوچتا ہوا بھا کے ساتھ گیا دوکان سے سودا لیا اور واپس آئے تو چھت پر کوئی سوٹ نہ تھا لیکن جیسے ہم چھنو کے گھر کے پاس سے گزرے تو وہی اس کی بھتیجی اپنی گانڈ مٹکاتی گھر سے نکلی اور میری طرف نشیلی آنکھوں سے دیکھا مجھے یوں لگا جیسے وہ مسکرائی ہو تیزی سے میرے پاس سے گزر گئی ۔ جیسے ہی وہ میرے پاس سے گزری میرے اندر ایک جھماکا ہوا یہ تو ۔۔۔۔۔
  38. 3 likes
    mujh tak jitni b audio files pohanchi thi kal raat ko mein ne type kar k admin sir ko whats app kar di thi umeed hai k jald new update modification k baad yahan upload ho jaye gi na umeed na howa karien shukriya
  39. 3 likes
    Please like the story and give comments
  40. 3 likes
    DR saab ... or Story Maker sab .....Boht he zabrdast update di ha .....Bare dino bad dobra kahnai apne tusalsal main wapis aa rhi.... Super update... Ek or bat kehna cahon ga...boht sare log yahn pe kahani parh k dosri site pe ja k pata nai kya kya bolty rehty han DR saab k bary main ... dil to krta ha k jawab den lekan kya ha k wahn apne ap ko bura bany wali bat hu jaye gi... is leye chup he rehty han .... or wesy b wahn kahani main sex k alwa kuch b nai ha....
  41. 3 likes
    میرے بھائی کہانی میں جو کچھ پہلے چلتا رہا ہے ہے اگر میں اسی کو چلاتا رہونگا تو کہانی کون پڑھے گا۔ اوپر سے ہر ایک کی اپنی پسند ہے کسی کو کہانی میں محبت چاہیے کسی کو کہانی میں سنسنی چاہیے کسی کو کہانی میں صرف اور صرف جنس چاہیے۔ ایسا ہے کہ کہانی ان ساری چیزوں کا مرکب ہوتی ہے اور ہم ایسے مرکب کو سالوں سے چلاتے آرہے ہیں۔ یاسر لوگوں کی مدد پہلے بھی کرتا رہا ہے آئندہ بھی کرتا رہے گا اور ہر مدد کے پیچھے اس کی اپنی کوئی نہ کوئی غرض ضرور ہوتی ہے۔
  42. 3 likes
    Jee han ... Kahani ab navel jesi ban gai jesy koi drama dekh rhi pura scene change ho gya new wrtter k bas ki baat ni
  43. 3 likes
    جی بالکل آپ کی بات درست ہے مجھے بھی کسی دوست نے واٹس ایپ پر آگاہ کیا تو خود چیک کرنے آ گیا۔ واقعی آپ کی اور اس دوست کی بات درست ہے
  44. 3 likes
    friends Is ka Part 16 mill nai raha jesy e mujhy mily ga update kr don ga ... 17 ..دیہاتی لڑکی..pdf 18 ..دیہاتی لڑکی..pdf
  45. 3 likes
    نعمان کا دل گاؤں میں نہیں لگ رہا تھا۔ یہاں اسکا ہم عمر کوئی تھا نہیں تو سارا دن یا تو وہ حویلی میں چکر لگاتا رہتا یا کھیتوں میں گھومنے چلا جاتا۔ سجاد کی اور اسکی عمر میں اچھا خاصہ فرق ہونے کی وجہ سے اسے بھا سجاد سے بات کرتے جھجھک ہوتی تھی۔ ایسے میں وہ کمرے میں بیٹھ کر موبائیل پر گیمز کھیلتا رہتا یا رات کو کوئی بلیو پرنٹ دیکھ کر مٹھ لگا کر سو جاتا۔ مذہب سے اسکو کوئی خاص لگاؤ نہیں تھا۔ روزے بھی صرف جمعہ کے دن کے رکھتا اور کوئی اسے کچھ کہتا بھی نہیں تھا۔ اسکی اگر حویلی کے کسی فرد سے دوستانہ بات چیت ہوتی تو وہ رجی بھابھی تھی۔ جب بھی وہ ادھر ادھر آوارہ گردی اور موبائیل کے استعمال سے تھک جاتا تو وہ بھابھی کی تلاش میں نکل پڑتا جو عام طور پر اسے ملاذموں سے کام لیتی یا باورچی خانے میں کچھ پکاتی مل جاتی۔ اسے ذیادہ اچھا اس وقت لگتا جب رجی بھابھی کچھ پکا رہی ہوتی اور وہ جان بوجھ کر ایسے موقع کی تاڑ میں رہتا تھا۔ کیونکہ کچن کی گرمی میں پسینے کے باعث رضیہ کے کپڑے اسکے بھرے بھرے جسم سے چپک جاتے اور کیا خوب نظارا ہوتا یہ اسکے سولہ سالہ دیور کے لئے۔ اسکا دل کرتا بھابھی ایسے ہی گھنٹوں کام کرتی رہے اور وہ ایسے ہی اسکے سیکسی جسم کی گولائیوں اور اونچائیوں کو تاڑتا رہے۔ آہستہ آہستہ رجی کو بھی احساس ہونے لگا تھا کہ اسکا دیور اسے کیسی پیاسی نگاہوں سے تاڑتا ہے لیکن اسے اس بےضرر تانکا جھانکی سے غصے کی بجائے مزہ آتا تھا۔ رضیہ جان بوجھ کر کسی نہ کسی بہانے اپنے دیور کے آگے جھک کر اپنے گریبان سے ابل کر باہر آتی پہاڑیوں اور انکے درمیان کی گہری گھاٹی کے درشن کرواتی۔ کبھی کبھار اسکے قریب سے گزرتے وقت اپنے موٹے اور نرم چوتڑ اسکے جسم کے ساتھ رگڑ کر اسکا ری ایکشن دیکھتی اور رضیہ کی کھوجتی نظریں اسکے ٹراؤزر یا شارٹ میں ہوئی ہلچل کو تاڑتیں۔ ایسے ہی دن گزرتے گئے۔ رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتے ساتھ ہی حویلی کے مکینوں کی عید کی تیاریاں عروج پر پہنچ گئیں۔ روز ہی کوئی نہ کوئی ڈرائیور سے گاڑی نکلواتا اور شہر خریداری کی غرض سے پہنچ جاتا۔ رجی نے اپنی خریداری پہلے ہی مکمل کر لی تھی اس لئے اسے کوئی فکر نہیں تھی۔ اس دن بھی صبح ہوتے ہی سب کے سب شہر جانے کو تیار ہو گئے، آج سب کا ارادہ لاہور سے خریداری کا تھا، چوہدری سرور اور سجاد کو بھی زمینوں سے متعلق کچھ کام تھے تو وہاس لئے چل پڑے۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد ہلکی پھلکی پھوار پڑ جاتی تھی۔ رجی نے ملازماؤں سے حویلی کی صفائی ستھرائی کروائی اور سب کام کرواتے گیارہ بج گئے۔ نعمان ابھی تک نہیں اٹھا تھا اور اسے ناشتہ بھی بنا کر دینا تھا۔ رجی نے ایک ادھیڑ عمر ملاذمہ کو آواز دی اور اس کہا کہ نعمان نوں جا کہ جگا کے آ میں اودا ناشتہ بنان لگی آں۔ ملاذمہ بولی نہ نکی چوہدرانی میں کل وی گئی سی اونہاں نوں بلان تے او غصے ہوئے سی میرے نال، کسے ہور نوں پیجھ دیو۔ رجی کے دھیمے مزاج کے باعث ملاذمہ نے ہمت کر کے کہہ دیا ورنہ بڑی چوہدرانی کے حکم سے انکار کی تو کبھی ہمت نہیں ہوئی تھی اسے۔ رجی نے ایک لمحے کو سوچا کہ اسے ڈانٹ کر زبردستی بھیج دے لیکن پھر اسے ترس آ گیا اور اس نے خودی جانے کا فیصلہ کیا۔ رجی تیز رفتاری سے چلتی نعمان کے کمرے کے قریب پہنچی تو اسکے خراٹوں کی آواز باہر تک آ رہی تھی۔ اف یہ لڑکا ابھی تک سو رہا ہو، رجی بڑبڑاتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی تو اندر کا منظر دیکھ کر ایک دم ٹھٹھک گئی۔ نعمان قمیض اتارے ایک پتلے برمودا شارٹ میں سویا ہوا تھا اور اسکی چھوٹی سی شارٹ کے نیچے سے اسکا لوڑا مینار کی طرح کھڑا صاف نظر آ رہا تھا۔ ہر ٹین ایجر کی طرح نعمان کے لن کی سختی بھی پتھر جیسی لگ رہی تھی۔ رجی نے اندازہ لگایا ک اس کے لن کا سائز سات انچ تو ہو گا لیکن موٹائی ذیادہ نہیں تھی، شاید عمر بڑھنے کے ساتھ موٹائی میں بھی اضافہ ہو جائے۔ نعمان اپنی ماں کی طرح گورا چٹا لڑکا تھا اس لئے اسکے لن کا رنگ بھی صاف تھا۔ ابھی تک رضیہ دو لوڑے لے چکی تھی لیکن ان دونوں لوڑوں کو اگر رعایت بھی دی جائے تو بھی ان کا رنگ سانولہ ہی کہا جا سکتا تھا۔ اب یہ چٹا سفید اکڑا ہوا سانپ دیکھ کر رجی کا جی مچل گیا تھا۔ ادھر نعمان کے خراٹوں سے واضح تھا کہ وہ واقعی سو رہا ہے۔ رجی کو بیڈ کے سرہانے نعمان کا موبائیل پڑا نظر آیا تو اسے شرارت سوجھی۔ اس نے موبائیل اٹھا کر نعمان کے اکڑے ہوئے لنڈ کی تین چار تصویریں بنائیں اور اپنے موبائیل پر بھیجنے کے لئے گیلری اوپن کی۔ وہ تصویریں اپنے نمبر پر بھیج کر رجی نے گیلری پر نظر دوڑائی تو وہ حیران رہ گئی۔ نعمان کی گیلری رجی کی تصویروں سے بھری ہوئی تھی جو اس نے چھپ کر بنائی تھیں۔
  46. 3 likes
    Part 16 Khaana khaya to Madam bartaan uthate hue boli Madam:areee Razi wooooo mujhe yaad nahi raha tumhe batana wo tumhe bulaane ka liye Aga Gee na aik bache ko bheja tha. Mujhe yaad aaya ke Kal bhi aik bacha aaya tha mujhe bulaane.Ma bhaagta hua Orphanage gaya or seedha Aga Gee ka dafter(room) ma gaya. Aga Gee bechaini sa apne dafter ma tehal rahe the.Mujhe dekh kar unki peshaani par fikarmandi ka aasar nazar aaye. Ma na Salaam kiya or phir unse phucha Me:khairiyat thi aaga jaan? Aga Gee :han wo Hania ki Tabiyat theek nahi thi. Tumhe yaad kar rahi thi. MA unki baat sunte hi Hania ka room ki taraf bhaaga. Hania par aik nazar pari to ma pallkein jhappakna bhool gaya. Sirf 3 Hafte ma us sa nahi milla or uski halaat Aisi thi ka mujhe sa pehchana nahi jaa raha tha. Baal bikhare hue or aankhein roo roo kar sooji hui thi.wo bed par aankhein band kiye leti hui thi.Ma ka Kareeb gaya or uske maathe par bossa diya to us ne apni aankhein khol dein.Mujhe dekh kar uski aankhoo sa aansoo behnaa shuru ho gaye.Ma na use ghoorte hue kaha Me:agar ab aik bhi aansoo niklaa naa to ma waaps chala jaungaa phir nahi aaon ga kabhi Uski aankhein aik dam sa khushak ho gae or us ne uthe ka mujhe gale laga Liya.kehne ko to sirf aik 10 saal ki choti si bachi thi lekin uske pass jazbaat apne sa bari umar ki larkiyoo jaise the. Jo bhi bacha apne maa baap or behen bhaiyoo ka bagair zindagi guzarata ha wo wakat sa Pehle mature ho jaata ha. Uske jazbaat choti umar ma hi bare bare logo ka ahsasaat ko jhinjhoor ka rakh dete hn. Baat pata nahi kaha sa kahan nikal gae.Hania mere gale lag kar dubara sa rone lagi or rote hue boli Hania:bhai aap Itne din Kidhar the.milne hi nahi aaye. Rafi bhai ko bhi koi apne saath le gaya ha. Ma Itne din Akeli aap dono ko yaad ma rooti rahi lekin koi bhi mujh sa milne naa aaya. Ma na uski kamar sehlate hue kaha Me:Mujhe maaf kar do Hani mere papers the issi waja sa ma nahi aa paya lekin ma Waada karta hn ka aaj ke baad Kabhi bhi koi din aisa nahi guzare ga jis ma tum sa mil naa ln. Chalo ab Rona band Karo or jaldi sa naha kar kapre change Karo phir tumhari favorite game Ludoo khelte hn. Hania excitement ma uchalne lagi or phir boli Hania:ye hui naa baat.aaj to ma aap ko haraa hi dn gi. Itna keh kar wo bhagti hui washroom ma chali gae.Ma wahan sa seedha Aga Gee ka pass gaya. Unse Rafi ka bare ma pucha to pata chala ke usko koi beaulaad joraa apne saath le gaya ha. Phir aik baje tak Hania or orphanage ke digar bachoo ke saath khel kood or masti chalti rahi phir Aahista Aahista sab soo gaye. Hania soo gaye to ma Wapis Madam Asma ki kothi ma aa gaya. Madam sofe sa tek lagaye soo rahi thi.samne TV chal raha tha.Madam Shayad mera intazaar karte karte soo gae thi.Ma sofe par unke saath jaakar Beth gaya or phir unke forehead par halki si kiss ki to madam na apni aankhein khool di or Neend sa makhmoor awaaz ma boli Madam:aa gae tum. Acha ruko tumhare liye doodh Lekar aati hn. Madam uthane lagi to ma bola Me:aap bethein ma Khud pee leta hn. Ma utha or kitchen ki taraf chal diya. Do glasses ma dhoodh garam kar ke daala or phir waapis TV lounge ma Madam ke pass aa gaya. Madam phir sa soo chuki thi.Ma na unhe uthaya or phir doodh Pila kar unhe unke kamre ma le gaya or bed par Lita kar ma waapis jaane laga to Madam boli Madam:aaj tum bhi idhar hi soo jao naa. MA bhi madam ke saath bister ma ghus gaya or phir hum dono aik dusare ko gale laga kar soo gaye. Subah aankh khuli to Madam dressing table ke samne khari apne baal banane ma masroof thi. Ma bed sa tek laga kar Beth gaye or tiktiki bandhe madam ko dekhne laga. Madam mujhe neend sa bedaar hota dekh kar boli Madam:chalo utho naha kar jaldi sa tayaar ho jao Ma apni aankhein masalte hue bola Me:kidhar jaana ha??? Madam:aaj tumhe factory ka chakar lagwaati hn.parhai sa farigh ho kar tumhe hi to sambhalni ha Me:aaj ki bajaye agar Kal...... Madam meri baat katate hue boli Madam:chup chap utho or tayar ho kar 15 minutes ma mujhe naashte ka table par milo Ma bedilli sa acha keh kar utha or apne kamre ki taraf jane laga to Madam boli Madam:kahin jaane ki zaroorat nahi ha. Tumhare kapre wo samne chair par rakhe ha mere washroom ma nahao or jaldi sa tayaar ho kar aao. Ma na aik nazar kaproo ko or aik nazar madam ko dekha phir madam ki taraf barha or unke kandhoo pa paraa towel khenchaa or washroom ma ghus gaya. Nahaya tayar hua or Naashte ke baad ma or Madam Factory ki taraf nikal khare hue.Raste ma Ma na madam sa pucha Me:Madam aap factory waalo ko kaya bataaenge mere bare ma Madam:wo mera maslaa ha.tum ye batao Aga Gee na khairiyat sa tumhe bulaya tha??? Me:hn jee khairiyat hi thi. Wo bas Rafi ko kissi couple na adopt kar Liya tha or ma bhi papers ki waja sa jaa nahi paya to wo upset ho gae thi.bas use manane ka liye bulaya ha Madam:acha.ye batao ab aage kya irada ha??? Me:kya Mtlb??? Madam:10th ma bhi aankhri 3 maah ma tayari Karo ge ya abhi sa parhai shuru kar do ge. Me:abhi sa hi shuru kar deni ha. Madam:achi baat ha. Me:Madam aapki factory ma bnta kya ha??? Madam:leather items. Purse, jacket,shoes wagaira...... Aise hi halki phulki baatein karte hum factory puhnche. Wahan khub boor hue or phir sa waapis shaam ko ghar loot aaye.car sa utre or jab TV lounge ma puhncha to lightoff thi or har taraf andhera tha. MA na light on ki to mujhe herat ka aik jhatkaa laga.samne Hania,Aga Gee,Hira, Asim,Nazia,Nazia ki Ami or Orphanage ke tamaam bache the or birthday celebration ki decoration ki hui thi. Jaise hi ma na light on ki aik dam sa har taraf sa "Happy Birthday to you" ki aawazein aana shuru ho gae.Ma heraat sa mu khole un sab ko dekh raha tha.kuch der yunhi khara raha to peche sa madam Ki awaaz aayi Madam:aab yahin khare rahoo ge ya aage jaa kar cake bhi kaatoo ge Ma aage barh gaya. Aur sab sa bari Bari millkar ma Hania ka pass puhncha or usse gale sa lagaya or unse peche Aga Gee khare unko aankhoo hi aankhoo MA sawal kiya ka ye sab kya ha to unho na unho na halki awaaz ma kaha Aga Gee:23rd of March...... Or phir mujhe sab yaad aa gaya.Hua ye tha ka Aga Gee orphanage ka tamaam bachoo ki birthday party aik saath 25 October ko manaya karte the. Lekin Aaj sa 3 saal Pehle ma ne or Rafi na unse request ki ka mera or Rafi ka birthday aik saath kissi dusare din manaya jae. Phir 23 March ko subah hi subah humme Hania jaise behen aata hui. Hania ka maa baap ki aik accident ma death hui to uske rishtedaar use yahan chor gae the. Us din sa hum na faisla kiya ka hum teeno ki birthday 23 ko manaya jae ga. Aga Gee na bhi koi aitraaz naa kiya. ((((((((((Ma Hania ko gale lagaye roone lag gaya.Mujhe wo Wakat yaad aa gaya jab Hania orphanage aai thi. Wo bohot roo rahi thi.Hum usse chup karwaane uske uske Kareeb jaate to wo aage sa thapaar Maarti or baal noochti. Ma gaya or uske samne ghutnoo ka bal par beth gaya.usne Pehle to mere baal noche phir mere chehre par apne naanhe haathoo sa thapaar Maarne shuru kar diya Kuch der baad wo thak gae to khudi mere gale lag kar rone lagi.Ma na thori der usse rone diya phir uska chehra apne haathoo ma Liya or uske aansoo saaf kar ke bola Me:aaj ka baad aagar meri behnaa royi to ma use bohot maarun GA.ainda sa koi Rona dhoona nahi. Hania khamosh nazarroo sa mere chehre ko takti rahi phir Kuch bole bina mujh sa lipat gae lekin is dafa wo roo nahi rahi thi.)))))))))) Mujhe kissi na hilaya to ma maazi sa haal ma aa gaya or phir Hania sa alehda ho kar apne aansoo saaf karte hue Hania sa pucha Me:Hani Aaj thapaar to nahi maro gi naa? Hania:han maroon gi agar aapne rona dhoona band naa kiya to????? Me:ok ye abhi khatam. Itna keh kar ma na apni aankhein masalI or bola Me:chalo cake kaatoo Phir hum na cake kaata.sab ko khilaya or phir Dinner ka baad sab bache orphanage chale gaye siwaaye Hania ka. Phir ma or Hania Sara Nazia or Asim ka saath ghupshap lagane lage. Baatoo hi Baatoo ma Hira na pucha Hira:to mosoof 2 Hafte ki chutiyoo ma kya kar rahe hn??? Ma na Hania ko kandhee ka saath lagaya or bola Me:apni sister ka saath full enjoy karun ga. Hania jhaat sa boli Hania:jhoot bilkul jhoot bol rahe hn ye Hira aapi.sara din or sari raat sooye ge or shaam ko sirf 2 ghante mere saath guzaarein ge Nazia Hania ka rukhsaaro ko khenchatee hue boli Nazia:Sach ma.phir to tumhare bhaiyaa ki neend kharaab karni pare gi. Hania:bhaiyaa ka ilawaa koi mere galloo ko Choo nahi saktaa or mere ilawaa bhaiyaa ki neend koi kharaab kar nahi saktaa.kiun bhaiyaa??? Ma na uske rukhsaaro ko choom kar kaha Me:hn jee bilkul Nazia kaan pakarte hue boli Nazia:acha sorry baba. Hania:are aap ko mazaak or serious baat ka farak hi nahi pataa. Itni jaldi serious ho gae aap to. Hira:acha ye baatein choro. Hania ye batao ka kab aa rahi ho apne bhaiyaa ke saath hamare ghar Hania na Hira ka naak pakar kar right left ghumaya phir boli Hania:are meri laado Rani aap bulaen or hum naa aaye ye ho saktaa ha bhula??? Hania na bilkul meri nakal utaari. (jab bhi ma orphanage jaata to Hania bhaag kar mere pass aati or kehti Hania:bhaiyaa aap aa gae??? Ma uska naak left right karta or kehta Me:Are meri laado Rani aap bulaen or hum naa aaen aisa ho hi nahi sakta.))))) Hania ki baat par sab khilkhilaa kar Hans diye. Phir Hania boli Hania:Ma bhai ka saath mashwara karun gi phir aapko bataen ge hum. Is dafa phir sab Hans diye. Me:Hania Baji Aaj Khair to ha na. Patar pataar boli jaa rahi ha. Hania:aapke liye aik surprise ha. Lekin ma bataon gi nahi.aapko Khud hi pata chal jae ga. Me:acha jee Hira:tum na meri baat ka jawab nahi diya Hania???? Hania:agar bhaiyaa maan gae to subah hi aa jaen ge. Phir Aise hi hansi mazaak chalta raha phir Aahista Aahista sab chale gae. Sab sa aakhir ma Aga Gee jaane lage to ma Hania sa bola Me:Hania jao Aga Gee jaa rahe hn unke saath chali jao tum bhi. Hania sa Pehle Madam boli Madam:Hania Kahin nahi jaa rahi..........
  47. 3 likes
    Update میں کچھ بھی سمجھنے کے موڈ میں نہیں تھا شانزل کے نرم وملائم رسیلے ہونٹوں کو چومنے لگ گیا اور اپنا اتنے دن سے پیاسہ لن اس کی ٹانگوں میں گھسا دیا جو سیدھا اس کی پھدی پر جا لگا اب صورتحال یہ تھی کہ شانزل میرے بازوؤں میں کسمسا رہی تھی اس کے ہاتھ میرے سینے پر مجھے دھکیلنے کی کوشش میں تھے جب کہ میں اس کو دیوار کے ساتھ لگائے اس کے ہونٹوں سے رس کشید کر رہا تھا اپنا ایک اس کی کمر پر اور دوسرا ہاتھ اس کی گردن پر تھا ساتھ ہی میں اپنے لن سے اس کی ٹانگوں میں رگڑ رگائی بیچ میں اس کی قمیض میرا ٹراؤزر اس می شلوار بھی تھی اتنے کپڑے ہونے کے باوجود مجھے اس کی پھدی ننگی لگ رہی اتنی خواری چڑھی تھی شایدمیں اتنے دن سے ترسا تھا اس لیے ایسا لگ رہا تھا میری کسنگ کی شدت دیکھتے ہوئے اس نے بھی ساتھ دینا شروع کر دیا اور اپنے ہاتھ جو مجھے دیکھیلنے کے لیے سینے پر تھے اب میری کمر پر اگئیے اور اس کے گول گول سنگترے جتنے ممے میرے سینے سے لگ گئے اس کے سینہ میں چھپا وہ خزانہ مجھ سے سیکس کے لیے تڑپتے بندے کے لیے کسی نعمت سے کم نہ تھے ۔ بے اختیار میں نے اس کو اپنے ساتھ اور کس لیا۔اور لن کو بھی زور سے رگڑنے لگ گیا۔لن کی رگڑ جب اس کی پھدی کے لبوں سے لگا تو اس کی سسئی نکلی ساتھ ہی اس نے لن کو اہنی ٹانگوں میں کس لیا۔اور آہستہ اہستہ ہلنے لگ جیسے خود سے گھسے مار رہی ہو مجھ سے مزید برداشت نہ ہو سکا۔ میں نے اپنا ہاتھ نیچے لے جا کر اپنا لن نکالا اور اس کی شلوار کو نیچے کر کے لن اس کی پھدی کے لبوں سے لگایا اس نے اجوش سے میرے ہونٹ کاٹ لیے اور لن پر پھدی رگڑنے لگی لن اس کی پھدی سے رستے پانی نے لن کر تر کر دیا۔ اب میں نے اس کو گھمایا اس کا منہ دیوار کی طرف کیا اور اس کی گانڈ سے قمیض ہٹا کر لن اس کی پھدی پر رکھا اس کی سیکسی آواز نکلی جان پلیز نہ کرو میں نے کہا میری جان میرا پیار کیسے پتہ چلے گا میرا لن بھی تو پیار کے ترس رہا ھے۔ وہ بولی جانو آرام سے کرنا سنا ہے بہت درد ہوتا ہے ۔ میں نے اس کی بات سن کر لن کو اس کی پھدی پر دبایا اور زور لگا کر اندر کیا ٹوپی اندر اتر گئی لیکن وہ تیزی سے آگے ہو کر سیدھی ہوئی۔لن پھدی سے نکل گیا۔ یہ اس کے لیے اور تکلیف دہ ہونے والا تھا میں اس کو دیوار سے لگایا اسکے ممرے دیوار سے پیوست ہو گیے گانڈ باہر نکل آئی میں لن کو ایک جھٹکے سے گھسایا اور اس کے منہ پر ہاتھ رکھ لیا اس نے چیخ ماری جو منہ میں ہی دب گئی۔ مجھے اپنا لن پھنسا ہوا محسوس ہوا میں پھر گھسا مارا لیکن لن نے آگے جانے سے انکار کر شانزل کا جسم تڑپ رہا تھا میں نے لن تھوڑا سا باہر نکالا اور پھر گھسا مارا لن پھر سے تھوڑا آگے گیا مجھے اپنا جسم تپتا محسوس ہوا میں حیران ہوا کہ لن روانم۔ نہیں کو رہا پھر نکالا پھر گھسایا لیکن روانی نہ آئی تو جتنا تھا ویسے ہی آگے پیچھے کرنے لگ گیا۔ چند ہی جھٹکوں کے بعد میرے لن نے اپنا پانی چھوڑ دیا اور میں نے اس کے منہ سے ہاتھ ہٹایا تو وہ اس نے لمبی سانس لیتے ہوئے کہا یہ کیا کر دیا ۔ پتہ ہے تمہیں میرے مرچیں لگی کوئی ہیں میں تھوڑا پیچھے ہوا لن باہر نکالا اسی دوران اس کی گانڈ بھی باہر کو نکلی تو میں نے دیکھا کہ لن اس کی گانڈ سے نکل رہا تھا ۔ مطلب جب میں نے دوسری بار ڈالا تھا تو لن پھدج کی بجائے گانڈ میں گھس گیا تھا ۔میں بھی حیران تھا اس کی پھدی نے تو پانی چھوڑا ہو ا تھا پھر بھی لن رواں کیوں نہیں ہو رہا تو اس کی وجہ اب سمجھ آئی ۔ میں جلدی سےٹراوز ٹھیک کرتا باہر نکل گیا ۔ جب کہ وہ بھی اپنے کپڑے ثھیک کرنے لگ گئی ۔ اگلا دن ہفتہ کا تھا تو میں نے ہفتے کی شام گاؤں جانے کا پلان بنایا اور اپنے ایک کزن کے ساتھ گاؤں روانہ ہو گیاشام کو پہنچے کچھ خاص نہ بس ملںنے ملانے میں وقت گزر گیا ۔ لیکن فجے سے ملا اور حالات کا پوچھا بولا سب مزے میں کیا ۔ فجا بولا مزا ہی مزا خوب پھدیاں مار رہا ہوں تو سنا کوئی سیٹ ہوئی یا بس مٹھ ہی مار رہا ہے ۔ میں نے بھی لمبی لمبی چھوڑی بڑیاں پھدیاں ماریاں نیں وغیرہ۔ فجا بھی بولا یار مینوں وی کسی ملوا کسے شہری کڑی نوں میں نے کہا کیو ں نیں جب تو آئے گا تجھے ملوا دوں گا وہ خوش ہو گیا۔ ہم ایسے ہی ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے رات گزر گئی ۔ صبح صبح میں نے اپنا پلان بنا کیا تھا فجے کو بولا کہ شازی سے کسی طرح ٹائم بنوا اور اس نے کومل کو کہہ کر میرا پیغام پہنچا دیا۔ اور میں خود ناہید کے گھر کے سامنے سے دو تین ںار گزرا تاکہ اس تک کسی طرح میرنے آنے کی خبر پہنچ جائے کیونکہ ایک وہ ہی واحد تھی جس کی طرف دل کھینچتا تھا باقی تو بس لن کی پیاس بجھانے کے لئے تھیں ۔ لیکن کوئی باہر نہ نکلا تو میں مایوس ہو کر چھنو کی گلی کی طرف چل پڑا میں چھنو کی گلی میں مڑا ہی تھا کہ مجھے چھنو چھت پر نظر آئی اس نے ادھر ادھر دیکھ کر مجھے اشارہ کیا میں ڈرتا ہوا اس کے گھر کی طرف گیا ڈر تو تھا لیکن ایک چھنو ہی تھی جو اپنی سیکس کی جانکاری اور تجربے سے مجھے بھرپور مزا دے سکتی تھی ۔ میں لن ہاتھون مجبور کو کر اس کے گھر کے پاس گیا وہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی دروازے میں کھڑی تھی اس نے مجھے کہا پچھلی طرف آ جاو ان کے گھر کی پیچھے بیک سائیڈ پر بیٹھک تھی جس کا دروازہ گلی میں کھلتا تھا میں وہاں گیا ےو دروازہ کھلاملا میں اندر داخل ہو کر اس کا انتظار کرنے لگا۔ چند منٹوں میں ہی وہ آ گئی اس نے آتے ہی مجھے اپنی باہوں میں بھرا اور مسکراتے ہوئے بولی مینوں پتہ تھا تم ہم سے ملنے آو گا۔ اس کی اردو سن کر میری ہنسی نکل گئی تو وہ بولی مینوں پتہ اے تو میری اردو تے ہسیا ایں کوئی ناں میں تیرے پیار اچ ای وی سکھ لاں گی ساتھ ہی بولی بلو میری اوس جگہ نے تینوں بہت یاد کیتا میں نے کہا کیڑی جگہ نام بتاو نہ بولی چل وڈا آیا تینوں تاں پتہ ای نہیں اور میرے ہونٹ چوم لیے میرا لن بھی اکڑ چکا تھا میں نے اس کے گرد اپنی بانہیں ڈال کر اس کو اپنی ساتھ بھیچ لیا اس کے ممے میرے سینے میں پیوست کو گئیے اس کے مموں کا سائز بڑھ چکا تھا آخری بار جب اس سے ملا تھا تب اس کے ممے بہت چھوٹے تھے میں نے ایک ہاتھ آگے لا کر اس کا مما پکڑ کر دبایا تو اس نے نیچے سے اپنی پھدی میرے لن پر دبا کر اپنی شہوت کا اظہار کیا۔ میں ہونٹ چوم رہا تھا اس نے لن کو اپنی ٹانگوں سے نکال کر میری شلوار کا نالا کھولا اور لن کو ہاتھ میں لے کرمٹھ مارنے لگ گئی ساتھ ساتھ اپنی زبان میرے منہ میں ڈال کر میری منہ کہ گہرائی ماپنے لگ گئی۔ اس کے ہاتھ کا لمس اس کی زبان کیں چاشنی نے میرے وجود میں گرمی کی انتہا کر دی میں نے بھی اپنا ہاتھ اس کی شلوار میں ڈال کر شلوار اتار دی اس کو ایک طرف پڑی چارپائی پر لٹایا اور اپنا لن اس کی پھدی پر رکھ کر اپنے ہاتھ سے اس کی پھدی مسلا ساتھ ہی اس کے دانے کو مروڑا۔ اس نے سسئئ کی اواز کے ساتھ کہا جان مزہ آ رہا ہے افف میں نے اس کی پھدی کو دیکھا جو پھولی ہوئی مجھے اپنی طرف بلا رہی تھی میں لن کو ڈالنا بھول کر اس کی پھدی پر جھکا اور اپنی زبان نکال کر پھدی کے لبوں پر رکھ دیا اس نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر دبایا اور بولی بلوو اہ اہ تیری زبان اچ جادو اے پھیر میں نے زبان اس کی پھدی کے لبوں پر رگڑنے کے بعد اندر داخل کر دی۔ میری زبان کو ایسا لگا جیسے کوئی مزیدار رسیلا شربت ہو میں مزے لے کر چاٹنے لگا اپنی زبان اس کی پھدی میں جہاں تک جا سکتی تھی پہچانے لگا اور اس پھدی کا رس چاٹنے لگا اس کی سسکیاں مزے کی انتہاکو پہنچنے لگیں اس نے میرا سر اپنی پھدی پر دبانا شروع کر دیا اس سے پہلے کہ وہ فارغ ہوتی میں جلدی کھڑا کو اور اپنا لن ہاتھ سے پکڑ اس کی پھدی پر رکھا اور وہ کچھ بولنے لگی تھی اس سے پہلے کہ بولتی میں ایک جھٹکے سے اندر اتار دیا اس جے منہ سے نکلا آرام سے جو کہ وہ پہلے کہنے والی تھی ساتھ ہی اسنے اپنے منہ لر ہاتھ رکھ لیا میں نے پھر لن نکالا اور اس سے دگنی سپیڈ سے گھسایا اس کی آآ ہہہہہہ نکلی ماردتا ای وے ظالماں تیرے توں آرام نال نہیں ہوندا اہہہہ میں نے اس کی کسی بات پر دھیان نہ دیا اور اپنی ساری گرمی جو اتنے دنوں سے مجھے جلا رہی تھی ساری تڑپ جو پھدی کے لیے تھی اس کے زیر اثر رہتے ہوئے لن کے چپو چلانے شروع کر دیے اس نے کچھ دیر تو آاہہہ کی لیکن پھر اس کی آہ اہ میں مزے کی سسکاریاں شامل ہو گئیں وہ پھر سے اپنے اصل روپ میں انے لگی آہہہ اہہہہ ابلوووو جان میری پھدی پاڑ دے آہہہآکہہ اے لن لے کے کے رج دی نیں اج ایہدی تراس بجھا دے بلوووو آااایججج ااااائئئہہہ اآممیہی انج ای مار آآ اس کی ٹانگیں میری کمر کے گر کسنے لگیں اور اس نے مجھے اپنے اوپر کھینچ کر میرے ہونٹ کاٹنے شروع کر دیے اس کی دیوانگی نے مجھے اور جوش دلایا میں بھی اپنے پورے زور سے چودنے لگا یکدم اس نے مجھے جکڑیا اور میرا لن کو اس کی پھدی تنگ لگنے لگی لن پھنسنے لگا یکدم اس نے نیچے سے اپنی گانڈ اٹھائی میرے ہونٹ بھوڑے بولی بللللووو ممممییییںںں گئییییی اور اس کے ساتھ ہی اس کے جسم کو ایک جھٹکا لگا وہ اوپر کو ہوئی لن اس کی پھدی کے انتہائی مقام سے ٹکرایا اور پھدی می جکڑ میں آگیا پھدی نے لن کو جکڑ نہلانا شروع کر دیا۔ اسی طرح کچھ دیر فارغ ہوتی رہی اور مجھے اپنی باہنو ں میں جکڑی رکھا جب وہ مکمل فارغ کو گئ تو اس کی گرفت ڈھیلی ہو گئی میں پھر سے اس کی پھدی کی پیمائش کا آلا اندر تک آتارنا شروع کر دیا لن اس کی پھدی کی پیمائش میں مصروف ہوگیا ۔ پھدی سے اب شرشرپ کی اوازیں ا رہی تھی میں اس پوزیشن میں تھک گیا تھا اس کی پوزیشن بدلینے کے لیے اس کو الٹا کیا وہ گھوڑی بننے لگی تو میں ا س کو گرا دیا اس ک گانڈ پر تھپڑ مارا وہ بولی بلو تو جدوں میری مارنا ایں ناں میں اپنے آپ اچ نیں رہندی انامزہ دینا ایں ناں کہ دل کر دا اے تیرا لن لا کہ رکھ لاں۔ افففمیں اس کی گانڈ کو دیکھ مر یا پلان بنا رہا تھا شانزل می گانڈ میں لن جس طرح پھنس کر گیا تھا اور لن کو جو رگڑ لگی تھی اس سے مجھے مزا بھی بہت آیا تھا۔ لیکن میں نے اس کی گانڈ کو چھوڑ کر اس میں پھدی پر لن رکھا اور پھر اسی طرح گھسا مارا اور اندر کر دیا لن اس کی گانڈ کو رگڑتے ہوئے جب پھدی میں اترا تو اس کی چیخ نکل گئی۔ لیکن میں نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی اپنا سارا وزن اس پر ڈال کر لیٹ گیا اور اندر باہر کرنے لگا اس طرح سے لن کی رگڑ بہت زیادہ لگتی ہے اسی رگڑ سے وہ زور زور سے بولنے لگی اور میں بھی جوش میں آتا گیا اور اس کی پھدی میں لگاتار اندر باہر کرتا اس کی آوازوں میں تیزی اتی گئی بے ترتیب آواز سے بلنے لگی بلللووو اآااآ ئئی للللووو یییوووو اور اس کی پھدی نے جکڑ لیا اور میں بھی اس بار اس کی جکڑ سے فارغ ہونے والا ہو گیا لن ایک دم نکالا اور اس کی گانڈ میں ڈال دیا اور اس کی ایک دلخراش چیخ نکلی ۔ ساتھ ہی اس کے جسم نے جھٹکا کھایا اور میں بھی اس کے اوپر لیٹ کر فارغ ہونے لگا ابھی ہم فارغ ہی ہو رہے تھے کسی نے زور سے درواز کھٹکایا۔۔۔۔۔۔۔
  48. 3 likes
    Update میں نے ہمت کر کے شازی کی موٹی تازی باہر کو نکلی ہوئی گانڈ کے نیچے ہاتھ رکھ کر اسکو اوپر اٹھانے کے لیے زور لگایا اوراورساتھ ہی اپنے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا اس کی گانڈ کی دراڑ میں پھیر دیا یہ میں نے جان بوجھ کر کیا تھا۔ کوئی خاص موڈ نہیں تھا بس اسکی گانڈ کو اتنا قریب سے دیکھ کر اس کی گانڈ کی گولائی محسوس کر کے اور پھر جب شاندار لمس اپنے ہاتھ پر محسوس ہوا تو رہا نہ گیا بے اختیا ر اس کی گانڈ کی دراڑ میں انگوٹھا اس ظرح رکھا کہ اس کی بنڈ کی موری کے قریب لگا اور اس کی گانڈ کا رنگ مجھے اپنے انگوٹھے پر محسوس ہوا۔ اس نے بھی ایک لمحے کے لیے اپنی نرم وملائم بنڈ کو بھینچا جس سے میرا انگوٹھا دب گیا پھر اس نے چھوڑ دیا لیکن وہ اوپر نہ ہوئی حالانکہ اس کو اوپر زور لگانا چاہئے تھا وہ ایک ادا سے پیچھے کی طرف اپنی صراحی دار گردن گھما کر بولی اٹھا بھی یا زور نہیں ہے تو میں نے جلدی سے کہا زور تو بہت ہے ایک دفعہ موقع تو دو۔ بولی موقع دیا تو ہے اب اٹھانہیں پا رہے شہری بابو دیسی گھی دی طاقت کا مقابلہ ڈالڈا گھی نہیں کر سکتا۔ مجھے غصہ آگیا میں نے ایک دم زور لگایا اور اس کی گانڈ کو دونوں ہاتھوں سے تھام کر اوپر اٹھا دیا اتنی تیزی سے کیا کہ اس کا توازن بگڑ گیا اس نے اوپر اپنے ہاتھوں سے بیری کے تنے کو پکڑ رکھا تھا وہ ہاتھ سے چھوٹ گیااور وہ نیچے آنے لگی چونکہ میرے ہاتھ اس کی گانڈ پر تھے اس لیے جب اس کا توازن بگڑا تو میں اس کا وزن نہ سنبھال پایا وہ میرے ہاتھوں پر اپنی گانڈ کی رگڑ لگاتی ہوئی نیچے پھسلتی آئی اور میرے ہاتھوں نے اس کی گانڈ کا مساج کر کے اس کی نرمی کا پھر سے مزہ لیا وہ اتنی تیزی سے نیچے آئی کہ مجھے پتہ ہی نہ چلا کب میرا ہاتھ اس کی گانڈ کی دونوں پھاڑیوں کے بیچ میں آگیا لیکن جب اس کی گانڈ میرے ہاتھ سے نکل گئی تو میں نے ہاتھ سامنے سے گزار کر جلدی سے اس کے پیٹ پر رکھ کر اس کو تھام لیا جس سے اس گانڈ میرے اگلے حصے سے لگ گئی اس کی مولٹی فوم جیسی بنڈ کامیرے لن کے ساتھ لگنے کی دیر تھی کہ لن صاحب نے بھی اپنی ٹوپی والی گردن کو اکڑا کر کھڑا کر دیا۔اور اس کی پیاری سی گانڈ کی دراڑ میں گھس کر سلامی دی۔ میرا لن اس کی گانڈ کی دراڑ میں تھا میرا ہاتھ اس کے پیٹ پر تھا۔ اس کا پیٹ تو جیسے کھوئے سے بنا ےھوا مجھے نشہ سا ہونے لگ گیا اس کی گانڈ کا لمس پا کرمیں نے اس اس طرح کس کر پکڑا ہوا تھا جیسے اسکو گرنے سے بچانے کے لیے تھام رکھا ہو لیکن میرے اندر کےشیطان نے دھماچوکڑی مچا رکھی دی کہ کاکا بچی تیار ہے اور موقع بھی ہے تو چدائی کے اصول کے مطابق موقع پےچوکا مارو لیکن ابھی اتنی ہمت نہیں کر سکتا تھا بس اس کے پیٹ پر ہاتھ کا ہلکا سا مساج کیا اور لن کی رگڑ اس کی گانڈ کی دراڑ میں لگا ئی جس سے اس کے جسم نے جھرجھری سی لی اور کسمائی تو میں نے اس کو چھوڑ دیا اس نے ایک قدم آگے ہو کر لمبا سانس لیا اور اپنی گردن ٹیڑھی کر کے میری طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں مجھے واضح طور پر لال ڈورے نظر آئے اس کے لمبے سانس لینے کی وجہ سے پورا جسم ہل رہا تھا جس کی وجہ سے اس کی گانڈ کے چوتڑ جو کہ الگ کینوں کی پھاڑیوں کی شکل میں تھے ہچکولے کھا کر مجھے کھانے کی دعوت دے رہے تھے میں نے پھر اس کو کہا بس اتنی مہمان نوازی کر سکتی تھی بڑی شوخی بن رہی تھی کہ میں بیر اتار کر کھلاؤں گی اور ایک قدم آگے بڑھ کر اس کے ںالکل قریب ہو گیا لیکن اپنی کھڑے لن کو اس کی گانڈ سے نہ لگایا ایسا کرنے کا مقصد اسکا ردعمل دیکھنا تھا اور اپنا ہاتھ اسکے کندھے پر رکھ کر اس کو ہلایا تو اس کا جسم کانپ اٹھا اب پتہ نہیں یہ اس کےاندر سیکس کی آگ کا پیدا ہونا تھا یا ڈر میں سمجھ نہ پایا لیکن اس نے اپنا آپ آگے نہ کیا تو میرے اندر تھوڑی ہمت ہوئی میں نے اپنا منہ اس کے کندھے سے آگے کر کے اس کے منہ کے قریب کیا اور بولی شازی کیا ہوا اس کی سانس بہت تیز چل رہی تھی اس کے جسم سے آگ جیسی گرمی نکل رہی اور اس کی مہک ایسی مدہوش کر دینے والی تھی کہ مجھے آپ اپنا آپ بے ہوش ہوتا محسوس ہو دوستو ایک بات جو مجھے بعد میں کوک شاشتر کی کتاب سے پتہ چلی کہ عورتوں کے جسم سے مختلف قسم کی بو آتی ہے جس سے یہ پتہ چل جاتا ہے یہ کتنی سیکس کی شوقیںن ہے یا اس کو کتنی آسانی سے پھدی دینے کے لیے رازی کیا جا سکتا ہے۔ ایسی ہی ایک بو جیسی مچھلی سے آتی ہے اس کے مموں سے اوپر اٹھ رہی تھی کیوں کہ میں آگے بڑھ کر اس کے کندھے سے آگے کی طرف اپنا منہ نکال کر اس سے بات کر رہا تھا تو وہ مہک سیدھے میرے نتھنوں سے ٹکرا رہی تھی اور مجھے خود سے بیگانہ اور اندر سیکس کی بھوک بڑھا رہی تھی میرے لن میں مذید تناؤ پیدا کر رہی تھی ۔ تو دوستو ایسی عورتیں یا لڑکیاں جن کی چھاتیوں سے مچھلی جیسی مہک اٹھتی ہو وہ سیکس کی بہت شوقین ہوتی ہیں اور ان کو چودنے میں بہت مزہ بھی آتا ہے کیوں کہ وہ سیکس میں پورا پورا ساتھ دیتی ہیں خود بھی مزہ کرتی ہیں اور اپنے پارٹنر کو بھی خوب مزہ کرواتی ہیں ۔ میں چونکہ اچھی یہ نہیں جانتا تھا اس لیے ڈر رہا تھا اس گرم گرم سانس مجھے محسوس ہو رہی تھی جب کچھ دیر وہ کچھ نہ بولی بس اپنی آنکھیں بند کیے ساکت کھڑی اپنی سانسوں کے زیروبم سے اپنے 38 کے بڑے بڑے ممے اوپر نیچے کرتی رہی تو میں نے گرین سگنل سمجھا اور اپنا لن اس کی گانڈ کی ایک پھاڑی سے لگا دیا اففففف کیا گانڈ تھی میرا لن اس کی پھاڑی میں یوں گھس رہا تھا جیسے روئی کے گٹھے میں جا رہا ہو اتنی نرم گانڈ کہ میرا دل کیا بس یہاں ہی اپنے لن می گرمی نکال دوں ۔ لن اس کی گانڈ کے ساتھ مس ہوا تو اس کے جسم میں ہلکی سی لرزش ہوئی اور اس نے گانڈ کو مزید پیچھے کی طرف دھکیل دیا مجھے گرین سگنل مل چکا تھا میں نے اپنے ہاتھ کو حرکت دی اور اس کے منہ کو اپنی طرف گھمایا اور بائیں سائیڈ سے اس کی گال پر اپنے ہونٹ رکھ دیے میرے ہونٹ لگنے کی دیر تھی وہ اتنی تیزی سے گھوم کر سیدھی ہوئی کہ میں ایک بار تو ڈر گیا لیکن اس نے سیدھا ہو کر اپنی بانہیں میری گردن میں ڈال دیں اور اپنے ممے میرے سینے سے لگا کر میرے منہ پرٹوٹ پڑی کبھی دایاں گال چومتی کبھی بایاں گال کبھی ٹھوڑی کو چومتی کبھی پیشانی وہ اتنی تیزی سے چوم رہی تھی کہ مجھے سنبھلنے کا موقع نہیں مل رہا تھا میں نے بھی اپنے ہاتھ اسکی کمر پر رکھے مجھے یوں لگا جیسے سنگ مرمر کے فرش پر ہاتھ رکھ دیے ہوں ایسی ملائم کمر اوپر سے گوشت سے بھری ہوئی میں کچھ دیر اس پر ہاتھ سے مساج کرتا رہا پھر اس پر دباو ڈال کر اپنے ساتھ کس لیا اس کے 38 کے ممے دو گیندوں کی طرح ہمارے درمیان آگئے میں نے اس کی کمر پر سختی بڑھائی اور ایک ہاتھ اس کے سر پر رکھااور اپنا منہ اس کی پکڑ سے آزاد کرایا پھر اپنے ہونٹ اس کے شربتی ہونٹوں ہر رکھ دیے اس کے ہونٹ کا نمکین ذائقہ اپنے ہونٹوں کی مدد سے اپنے منہ کے راستے معدے میں اتارنے لگا اس میں بھی اب برداشت ختم ہوتی جا رہی تھی وہ اپنا نیچے والا حصہ یعنی کہ اپنی پھدی کو میرے لن سے مسلنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن لن اسکی گرفت میں نہیں آ رہا تھا میں اس کے ہونٹ کو چوسنے لگ گیاجیسے چونسا آم چوستے ہیں مجھے سچ میں وہ ہی مزہ آرہا تھا اب میں اس کی کمر پر موجود ہاتھ کو نیچے لیجا کر اس کی گانڈ کی موٹائی ماپنی شروع کر دی تو اس نے اپنی نرم گانڈ کو سخت کر لیا ادھر اس نے گانڈ سخت کی ادھر میری سسکی نکلی کیوں کہ اس نے گانڈ میرے ہاتھ لگنے سےنہیں کی تھی بلکہ میرا لن اپنی ٹانگوں میں جکڑنے کے لیے کی تھی نیرا لن اس کی ٹانگوں میں کیا آیا وہ تو وحشیانہ انداز سے اپنی پھدی رگڑنے لگ گئی اور ساتھ ساتھ میرے ہونٹوں کو اس کے ہونٹوں چوسنا ممکن نہ رہا کیوں کہ اس رفتار بہت تیز ہوتی جا رہی تھی۔ ادھر اس نے پھدی کی مدد سے لن پر گھسے مارنے شروع کر دیے وہ لن کو کپڑوں کے اوپر سے ہی اپنی پھدی میں لینے کی کوشش کر رہی تھی میری بتی روشن ہوئی میں نے جلدی سے اس کو پیچھے دھیکیلا اور اپنی شلوار کا ناڑا کھولا اور اسکو نیچے لٹایا یہ سب اتنی تیزی سے کیا کہ اس کو سمجھ نہ آئی اسکو لٹاکر اس کی شلوار اتارنے لگا اس نے بھی اپنی موٹی تازی گانڈ اٹھا کر شلوار اتارنے میں ساتھ دیا جیسے ہی اس کی شلوار اتری میں نے وقت ضائع کرنا مناسب نہ سمجھا اس ٹانگیں کھول کر ان کے درمیان آگیا اور ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں ساتھ ہی اس کی پھدی کے ہونٹوں کو چھو کر دیکھا تو مجھے پانی سے لبالب اٹی ہوئی محسوس ہوئی کن کی ٹوپی کو اس کی پھدی کے لپس پر ٹکایا اور اسکے اوہر جھک کر پھر سے شازی کے شیریں لبوں کو اپنے ہونٹوں میں کس لیا اس نے جلدی سے اپنی گانڈ اٹھائی لن اپنی پھدی کی گہرائی میں لینے کے لیے لیکن اس کی تیزی کی وجہ سے لن باہر نکل گیا میں ایک ہاتھ نیچے لیجا کر لن پھر سے سیٹ کیا اور اس پر دباو بڑھایا اس نے پھر وہی حرکت کی ںیچے سے گھسا ماردیا کن اس کی پھدی میں گھس گیا اس کی چیخی نکلی جو کہ میرے منہ میں ہی دب گئی۔ میں بھی اب برداشت نہ کر پایا میں نے بھی ایک گھسا مارا اور لن اس کی پھدی کی گہرائی میں اتار دیا۔وہ تڑپی اس کے سینے کی دھڑکن مجھے واضح سنائی دے رہی تھی۔میں نے پھر اسی طرح لن کھیچا پھر تیزی سے گھسا دیا اس کی پھدی اتنا پانی چھوڑ چکی تھی کہ اس کے اندر جیسے کوئی سیلاب آیا ہو لیکن گرمی انتہا کی تھی مجھے اہنے لن کی جلدی جلتی محسوس ہونے لگی مجھے لگا جیسے میں گیا میں اپنی گانڈ کی مدد سے ہلنا شروع کر دیا یعنی اس رس بھری کی رسیلی پھدی میں گھسے مارںے لگ گیا۔ساتھ اس کے ہونٹوں کو چوستے ہوئے اس کے منہ میں اپنی زبان ڈال دی اس کی زبان نے میری زبان کو ب بس کر کے اپنی لپیٹ میں لے لیا شازی کا سارا دھیان زبان چوسنے میں لگ گیا میں نے اپنی رفتار بڑھا دی بس پھر کیا تھا کن اور پھدی ازل سے ایک دوسرے کے دشمن تھے تو لن نے اپنی دشمنی کا بدلا لینا شروع کر دیا اور پھدی کی دھلائی اس انداز سے اس رفتار سے می کہ چند منٹوں بعد ہی پھدی ںے لن کے سمنے ہتھیار ڈال دیے اور اس نے نے لن کے گرد اپنی گرفت مضبوط کی لیکن لن آخر لن تھاکہاں رکنے والا تھا اس کی پکڑ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اندر جا کر لگتا پھر واپس لن پھدی کے کھیل میں مست تھا کہ یکدم شازی نے اپنے بازو میری کمر پر کس لیے ادھر ہھدی نے بھی لن کو پکڑ لیا شازی دیوانہ وار میری زبان چوس رہی تھی یکدم اس نے میری زبان پر دانت گاڑھ دیے میری جان نکلنے والی ہو گئی اس کے جسم نے پہلا جھٹکا کھایا جھٹکا اس قدر تھا جہ مجھے بھی اس اوپر اٹھا دیا تھا اس طرح کرنے سے لن اور اس کی پھدی میں گھس گیا مجھے بھی اپنی ٹانگوں سے کوئی چیز تیزی سے اوپر کی طرف بھاگتی محسوس ہوئی میں نے پورا لن اس جی پھدی میں گھسایا ہوا تھا پھر بھی اور زور لگایا ادھر اسکی بھی یہ ہی حالت تھی اسنے لن کو کو پھدی کی پکڑ میں لیا ہوا تھا جب اس نے دوسرا جھٹکا کھایا تو میرے لن سے ایک پچکاری نکلی اور اس کی پھدی کے اندر ہی چھڑکاؤ شروع کر دیا اسی طرح ہم کچھ دیر فارغ ہوتے رہے جب ہوش میں آئے تو شازی نے وہ ہی لیار بھرے انداز میں میرے منہ پر ھاتھ پھیرا اور مسکرا دی میں اس کے اوپر اٹھا تو دیکھا کہ میری قمیض کا سامنے والا دامن سرخ ہو چکا ہے جب میں نے نیچے شازی کی ٹانگوں میں نظر دوڑائی تو مجھے خون خون ہی خون نظر آیا اس کی قمیض سامنے سے تو میں نے اوپر اٹھا دی تھی لیکن پیچھے والی سائیڈ اس کی گانڈ کے نیچے تھی ساری خون سے بھر چکی تھی اسنے میری قمیض کا گھیرا دیکھا تو اس کو اپنی قمیض کا خیال آیا وہ تیزی سے اٹھی تو اس کی آئئئئئییج نکل گئی پھر بھی اٹھ کر بیٹھ گئی اور اپنی لال ہوتی قمیض کو دیکھنے لگ گئی ابھی ہم دونوں اسی کشمکشِ میں تھےکہ کیا کریں کیسے یہ خون صاف کریں کہ اچانک ہمیں ایک طرف سے کسی کے بولنے کی آوازیں آنے لگیں۔ شازی نے جلدی سے اس طرح ہی درد سے کرہتے ہوئے اپنے کپڑے درست کیے اور میں اٹھ کر بیری کے تنے کے پاس جا کر اوپر دیکھنے لگ گیا جیسے بیری پر چڑھنے کی کوشش کی کو ترکیب سوچ رھا ہوں ۔ ادھر سے کومل اور فجا ہنستے ہوئے باتیں کرتے آ رہے تھے ۔یری ان دونوں کو دیکھ کر ہنسی نکل گئی اور شازی بھی ہنسنے لگ گئیی وہ دونوں پریشان ہو گئے۔ شازی نے مجھے اپنے پاس بلا کر میرے کان میں کہہا فجے کو کچھ نہ بتانا۔ میں نے کہا بے فکر ہو جا و میں کوئی پاگل آں جیڑا اپنا راز اوہنوں دسدیاں گا۔ پریشان نہیں ہونا کسی کو نہیں بتاوں گا یہ دیکھ کرکہ شازی میرےکان میں بھی کچھ کہہ رہی ہے وہ اور بھی پریشان ہو گئیے۔ خیر میں نے فجے کو کہا میں گاوں چلتا ہوں تم نے جانا ہے تو آجاؤ وہ بولا نہیں میں نے کھوہ پر جانا ہے ۔ تم جاو میں وہاں سے واپس چل پڑا میں جان بوجھ کر گاوں واپس ایک لمبے راستے سے آنے لگا کہ کوئی مجھے دیکھ نہ لے حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں تھی بس مجھے ڈر لگ رہا تھا کہ کسی نے مجھے دیکھ لیا تو وہ جان جائے گا میں پھدی مار کر آ رہا ہوں ۔اسی لیے جس رستے سے آیے تھے اس کی بجائے دوسرے راستے سے واپس جانے لگا تھوڑی دور جا کر مجھے کھالے میں پانی نظر آیا تو میں سوچا کیوں نہ لن کو صاف کر لیا جائے لن نے کافی خون خرابہ کیا ہے میں نے اپنا ناڑا کھولا اور ادھر ادھر دیکھ کر بیٹھ گیا اور لن پر ہاتھ سےپانی کے چھنٹے پھینک کر صاف کرنے لگ گیا دوستو جو بھائی گاوں میں زندگی گزار چکے ہیں وہ جانتے ہوں گے کہ جنگل پانی جائیں تو کھالے وغیرہ سے اپنی گانڈ وغیرہ کیسے دھوتے ہیں۔ خیر میں نے اچھی طرح لن جو صاف کیا شلوار پر بھی جو خون کے نشان تھے وہ بھی صاف کیےاور کھڑا ہوکر ناڑا باندھنے لگا تو مجھے کسی ہاتھی نے تیزی سے کھنچا اور میرے پیچھے موجود کماد کی فصل میں لے گیا مجھے کچھ سمجھ نہ آئی میں نے کافی ہاتھ پاوں مارے لیکن بے سود کیوں کہ جو تھی تھا کافی طاقتور تھا اچانک پیچھے کھینچتے ہوئے اس نے مجھے پیچھے سے جپھی ڈال لی۔ تو میری کمر پر لگنے والے فومی گیندوں سے اندازہ ہوا کہ یہ کوئی لڑکی کے اس کی گرم سانسیں مجھے اپنی گردن پر محسوس ہوئی اور ساتھ ہے ہونٹوں کا لمس میرے کان کے پاس میری مزے سے سسکی نکل گئی۔ جو بھی تھی اچھی میں نے اس کو دیکھا نہیں تھا لیکن تھی بہت تپی ہوئی جیسے کئی دنوں کی پیاسی ہو۔اس ظالم یہں پر بس نہیں کی اپنا ایک ہاتھ آگے کر کے میرے نیم کھڑے لن کو اپنے ہاتھ کی مٹھی میں جکڑ لیا اور اس پر مٹھیاں بھرنی شروع کردیں لن پر ہاتھ لگنے کی دیر تھی کہ جھٹکے سے کھڑا ہوگیا۔ اس نے بھی اپنے ہہاتھ کی گرفت مضبوط کی اور ہاتھ اوپر نیچے کر کے لن کی لمبائی ماپنے لگی ساتھ ساتھ اپنے ممے میری کمر سے رگڑنے لگ گئی اس کے مموں کا لمس اس کے ہاتھ کا میرے لن پر مساج اور میری گردن پر اس کے تپتےہونٹ میری حالت عجیب ہو گئی میرا دل کرے کہ ابھی پھدی میں لن گھسا دوں حالانکہ کچھ دیر پہلے ایک کچے مورچے پر لن پھدی کی خونی جںگ ہو چکی تھی پھر بھی لن کسی بھوکے سپاہی کی طرح اگلے مورچے کا تیا پانچہ کرنے کو تیار تھا۔ ادھر وہ ظالم نرم گرم جم کی بھوکی توپ کی گولی اپنی گرمائش سے میرے اند ر آگ کا طوفان پیدا کر رہی تھی اس نے یکدم لن کو یاتھ سے نکالا اور میرا ناڑا پکڑ کر کھولنا شروع کر دیا میں نے اس میں اس کی مدد کی اور ناڑا کھول دیا جیسے ہی ناڑا کھلا وہ کسی ہرنی کی طرح میرے پیچھے سے نکل مر سامنے آئی اور میرے لن کر پکڑ کر چیٹھ گئی اس نے اپنے چہرے کو چادر کے نقاب سے ڈھانپا ہوا تھا میں نے دیکھنے کی کوشش کی تو پھر ناکام ہو اور دل میں کہا لن تے وجے ایدا منہ آپاں نوں کی پھدی ماراں فے تے او جاواں گے میں یہ ہی سوچ رہا تھا کہ مجھے اپنے لن کی ٹوپی پر کوئی نرم نرم گیلا لمس محسوس ہوا اففففففففف میرے پورے جسم میں کرنٹ دوڑ گیا ایک جگٹکے سے نیچے دیکھا تو وہ سیکسی بھوکی شیرنی میرے لن کو اپنے ہونٹوں میں کے چکی تھی لیکن تھی بیت تیز اس نے چادر کو اس طرح سے سیٹ کیا تھا کہ اس میں سے ہونٹ ہی باہر نکلے ہوئے تھے اور آںکھیں ۔ مینوں کی سی مینوں مفت اچ مزا مل رہیا سی میرے لن نوں پیڑ سی نیویں مرضی مںہ لکا لوے پھدی اچ تا لن وڑنا سی نا ۔ اس نے اپنی زبان کو میرے للے کی ٹوپی پر گھمایا افففف میری ٹانگیں تک کانپ گئیں کہاں منہ میں لن کہاں پھدی میں لن اور سے میرے جیساجس نے چند دن پیلے پھدی چودنے کی اپنی اننگزکا آغاز کیا تھا اس کے لیے کسی کے منہ میں لن ڈالنے کا تجربہ بہت انوکھا تھا۔ اس نے لن کی ٹوپی سے کھیلتے ہوئے اپنی لعاب آلود زبان کو لن کی جڑ کی طرف لیجانا شروع کر دیا جیسے جیسے وہ اپنی زبان کو گھماتے ہوئے جڑ کی طرف محو سفر تھی ویسے ویسے میری حالت پتلی ہوتی جارہی تھی میرا جسم جذبات کی گرمی سے پسنے سے مکمل ںھیگ چکا تھا پسینہ سر سے لے کر پاوں تک جا رہا تھا مجھے اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہونے لگا لیکن اس ہوس پرست آتما پر کوئی اثر نہیں تھا وہ اپنی مستی میں لگی لن کے ساتھ کھیل رہی تھی۔ جب میری برداشت جوب دینے کے قریب کوئی اس نے میرا لن چھوڑا جیسے اس کو ہتا چل گیا ہو کہ یہ گانڈو اس کے مںہ کو بھر دے گا وہ اٹھی نشیلی آنکھوں سے میری طرف دیکھا مجھے وہ آںکھیں دیکھی دیکھی لگیں لیکن اس نے وقت برباد نہ کیا جلدی سے اپنی شلوار نیچے کی اور میری طرف گانڈ کر کے گھوڑی بن گئی اور اپنی گانڈ پر ہاتھ رکھ اپنے چوتڑ کھول دیے لیکن میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر ہٹایا اور اس کی پھدی کر ہاتھ لگا کر اسکا گیلا پن چیک کیا پھر اپنے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر اس می سختی کا اندازہ لگایا اور اس کی پھدی کے کے منہ پر ٹوپی رکھ دی اور ایک ہاتھ سے اس کی کمر کو دبایا جس سے اس کی پھدی مزید باہر نکل آئی میں جتنا چوار ہو چکا تھا جتنی گرمی میرے دماغ پر اس کی سیکس سے بھرپور اداؤں سے چڑھ چکی تھی اس کا نتیجا یہ نکلا کہ میں اپنا پورا زور لگا کر اس کی پھدی میں لن گھسا دیا وہ اتنا زوردار جھٹکا برداشت نہ کر سکی اور زوردار آہہہہہہککک کی آواز کے ساتھی نیچے گرتی گئی اور میں بھی اس کے اوپر ہی گرتا گیا لن اس کی پھدی میں ہی رہا جتنی تیزی سے وہ نیچے گری تھی یا جتنا زور میں لگا کر اس کی پھدی میں لن گھسایا تھا اور وہ نیچے گری تھی لن پورا اس کی پھدی میں تھا جس پوزیشن میں وہ تھی اس پوزیشن میں لن کی رگڑ سے عورت مست ہو جاتی ہے کچھ تو جلد ہی فارغ ہو جاتی ہیں لیکن یہاں معاملہ اور تھا ۔ میں نے گرنے کے بعد اس کیے کندھوں پر ہاتھ رکھے اور اس کی پھدی میں زودار گھسے مارنے شروع کر دیے اس نے نے نکلنے کی کوشش کی جس میں ناکام بنائے رکھا اور لگاتار اس کی پھدی میں ہل چلاتا رہا اس کی سسکاریاں کچھ ہی دیر میں شروع ہو گئیں جو بتدریج بڑھتی گئی اس کی پھدی نے میری لن پر اپنی گرفت کسنا شروع کر دی اور میری ٹانگوں کی بھی جان نکلنا شروع ہوگئی اس نے آج لن کو چوسا تھا میرا زندگی کا پہلا تجربہ یہ تو اس کی مہربانی کہ اس نے جلدی لن کو منہ سے نکال لیا تھا نہیں تو میں اس کے منہ میں ہی اپنا پانی چھڑک دیتا اس کی گرفت میرے لن پر بہت سخت ہو گئی میری بھی بس ہو گئی ادھر اس کے جسم نے ایک جھٹکا کھایا دوسری طرف میرے لن نے اس کی پھدی میں ایک فوارا مارا پھر کچھ دیر ایک دوسرے کے جسم کو اپنی اپنی منی کی گرمی سے ٹکور کرتے ہوے پرسکون ہو کر لیٹ گیے اس نے مجھے خود سے الگ کیا اور نیچے سے نکل لیٹ گئی میں نے آنکھیں بند کیں اور سکون کی سانس لینے لگا۔
  49. 2 likes
    بھانےپورے زور سے اس کی پھدی میں گھسہ مارا یہ آواز شاید اندر ویہڑے تک گئی تھی اسی لیے ایک آواز کمینیے ہولی بھوک کوئی آ جائے گا میں تو پریشان ہوگیا کہ لو جی بھا پکڑا گیا لیکن جب مجھے سمجھ آئی تو احساس ہو ا کہ یہ آواز گھر کے اندر سے نہیں بلکہ بیٹھک کے باہر سے آئی تھی ادھر بھا نے اپنی مشین فل سپیڈ سے چلا دی اور نجاں کی بھی آوازوں میںسرور کا اضافہ ہو گیابے ربط آوازیں آنے لگ گئی مجھے بہت عجیب لگا کہ بھا دن میں عاصمہ کو پیار کر رہا تھا اور اب نجاں کو دوستو اس وقت یہ نہیں پتہ تھااس کو چودنا کہتے ہیں اسی لیے بس ایسا سوچ رھا تھا خیر میں چپ کر کے آکر یہ سوچتے ہوے کہ کیا تھایہ سب سو گیا صبح اٹھا تو پتہ چلا کہ ہم شہر شفٹ ہو رہے ہیں کیونکہ شہر میں گھر خرید لیا تھا دوستو جیسا کہ بتایا تھا کہ میرے ابو کے تین بھائی تھے تو ایک شہر شفٹ ہو رہا تھا باقی سب بچے اس کے پاس پڑھنے کے لیے شہر رہنے واکے تھے خیر سب جو تیار شیار کر کے شیر لے گئے دوسرےدن ہمیں وھان کے مشہور سکول میں داخل کروا دیا گیااور ہم پینڈو بچوں کو وہاں کے ممی ڈیڈی بچوں نے خوب مزاق کیے میں تو پہلے دن ہی چالو ہوگیا دوسرا میرا دل بھی نہیں لگ رہا تھا خیر کچھ دن ایسے گزرے مجھے ہر وقت گاؤں کی یاد آتی۔جمعرات والے دن آدھی چھٹی ہوتی اور جمعہ کی پوری ہم جمعرات کو گاؤں آجاتے اور اگلے دن شام کو شہر چلے جاتے اسی طرح 4 سال گزر گئی اور میں 8کلاس میں ہو گیا کوئی خاص نہ ہوا بس گاوں سے شہر اور سکول پھر گاؤں جب 8 کلاس میں تھا تو میرے ابا نے شہر کی مشہور کالونی میں گھر کرائے پر لے لیا اور ہم سب بہن بھائی امی ابو کے ساتھ اس گھر میں شفٹ ہو گئے۔اس کالونی میں سارے شہر کی کریم رہتی تھی اور کافی امیر لوگ رہتے تھے اور ہم پینڈو وہاں آ کر بھت خوش ہوئے کچھ دنوں میں ہی میں وہاں کے بچوں میں رچ بس گیا کچھ اہنے گھر کی وجہ کچھ بھائیوں کے دوستوں کی وجہ سے میرے بھی جافی دوست بن گیے اور ویسے بھی اب میں اتنا بچہ بھی نہیں رھا تھا اس لیے خوب کھیلتے اور مزے کرتے مجھے اکثر کوئی نہ کوئی لڑکا اپنے گھر لے جاتا اور ہم مل کر بلیو پرنٹ دیکھتے تو میری للی جو اب کافی بڑھی ہو گئ تھی کھڑی ہو جاتی لیکن سمجھ نہ آتی کیا کروں بس اوازاری ہوتی رہتی ایک دن دو لڑکے کھڑے باتیں کر رہے تھے کہ مٹھ ماری بڑا مزا آیا مجھے سمجھ نہ آئی یہ مٹھ مارنا کیا ہوتا ہے میرے اندر وہی پینڈووں والا احساس کمتری تھا میں جھجکتا تھا کسی سے پوچھتا بھی نہیں تھا ایک لڑکا جو میرا کافی کلز دوست بن گیا تھا اس کے مل کے میں نیٹ کیفے گیا سچی بات تو یہ تھی کہ میں کبھی کمپیوٹر دیکھا بھی نہیں تھا بھت حیران ہوا وہ سالہ اس کو چلا رہا تھااس نے کچھ بٹن دبائے اور ایک فلم لگا دی میں مزے سے دیکھ رھا تھا کہ اچانک میں نے ساتھ بیٹھے دوست کی طرف دیکھا تو اس نے پینٹ میں سے لن باہر نکالا ہوا تھا اور اس کو زورسے مسل رھا تھا 6انچ تو ہوگا اس وقت میرا اس سے بڑا تھا میں بہت حیران ہو کر اس کو دیکھتا رھا سالا کر جیا رھا یکدم اس کے لن میں سے منی نکلی اور نیچے فرنے لگ اس نے آنکھیں چند کر کے مزہ لیااور لن شلوار میں کر لیا میری طرف دیکھ کر بولا تو نے مٹھ نیں ماری اس وقت مجھے پتہ چلااس کو مٹھ مارنا کہتے ہیں خیراس کے بعد کئی دفعہ کوشش کی لیکن میرے لن میں سے پانی نہ نکلا بلکہ لن درد کرنے لگ جاتا اس پر زخم ہو جاتے اسی دوران چیچہ وطنی میں میرے کزن کی شادی آ گئی اور ہم سب وہاں گئے وہاں ایک لڑکی مجھے بہت غور سے دیکھتی مجھے بھی سمجھ نہ آتی کیوں دیکھتی ہے میرے ایک کزن نے مجھے کہا تم ست ہءار کرتی ہے خط لکھو میں ڈرتا رہا بس شادی مصروف دن میں کھیلتے رات میں عورتوں اور لڑکیوں کے گانے سنتے ان کا ڈانس دیکھتے گرمیں کے دن تھے دوپہر میں سب سو جاتے ہم بچوں کو نںند کہاں آتی تھی کبھی ادھر کبھی ادھر جاتے یہ ھس کزن کی شادی تھی وہ میری خالہ کا بیٹا تھا ان کے شوہر فوت ہوچکے تھے اور میرے ماموں لوگو ں پاس رہتی تھی میرے ماموں کوگ تین بھائی تھے بات لمبی ہو جائے گی اگر ان کا تعارف کروایا تو جیسے جیسے ذکر آئے تعارف ہوتا جائے گا منجھلے مامں کی بیٹی جس کا نام مائرہ تھا ہمارے ساتھ کھیلتی تھی ہم لوگ وہی لکن میٹی کھیلتے رات کو بھی اور گھر میں چھپتے میں اور مائرہ ایسے ہی جلدی میں ایک ہی چارپائی کے نیچے چھپ گئے مائرہ میرے آگے میں اس کے پیچھے میری نظر جب اسکی بنڈ پر پڑی تو بس ہھر کیا تھا لن تن گیاھم چونکہ چارپائی کے نیچے تھے اور اپنے گھٹنوں کے بل پر تھے ایک طرح سے ڈوگی سٹائل میں تھے تو اس کی گانڈ باہر کو نکلی میرے منہ کے بالکل سامنے تھی بھرے بھرے چوتڑ الگ الگ پھاڑیاں نظر آ رہی تھیں نیں تھڑا آگے ہوا اور اپنا ایک ہاتھ اس کی بنڈ کی ایک پھاڑی پر رکھ دیا مجھے ایسا لگا جیسے مخمل کو چھو لیا ہو اتنی نرم جیسے ماسٹر کا مولٹی فوم میرا ہاتھ کیا لگا اسکی پھاڑی پر میں تو جیسے ہوش میں ہی نہیں رہاجھے ایسا لگا جیسے دوودھ کے اوپر تیرتی ملائی کو پکڑ کیا ہومجھے اور تو کچھ نہ سوجا دونوں ہاتھو ں سے اس دلکش و نمکین گانڈ پر مساج شروع کر دیا ا مائرہ کو شاید اچھا کگ رھا تھا اسلیے اس نے کوئی ری ایکشن نہ دیا میں ایسے ہاتھ پھیر رھا تھا جیسے اگر ذرہ بھی سختی کی تو یہ خوبصورت گانڈ کی بے حرمتی ہوجائے گی اس دلکش کوہان کی شان مین گستاخی ہوجائے گی اتنے آرام اور پیار سے ہاتھ پھیر رھا تھا کہ کہیں یہ سختی کرنے سے ٹوٹ نہ جائے۔ہاتھ پھیرتے میں آگے ہوا اور تھوڑا اٹھ کر اس کی لچکدار کمر پر ہاتھ رکھ کر اوپر ہو گیا اور اپنا لن جو اس وقت ایسا سخت ہو چکا تھا کہ اگر اس کو دیوار میں بھی مارتا تو دیوار میں مورا کر دیتا فل تنا ہواا تھا اس کی گانڈ کی دراڑیں پھنسا دیا اس کی دراڈ میں جیسے ہی لن گھسا ایسے لگا جیسے پھولوں کی ٹوکری میں لن لگا ہو اتنی نزاکت اس کی گانڈ میں لن تو مست ہو گیا میب بھی مزے سے چور یہ بھول گیا کہ چارپائی کے نیچے ہیں اور جھیل رہے ہیں میں نے ہلکا سا گھسا مارا تو مائرہ نیچے گر گئ میرا لن اس خوبصورت گانڈ کی ندی میں گھس لیٹ گیا میں تو مزے کی گہرائیوں میں اتر چکا تھا مجھے تو اییسے لگ رھا تھا جیسے ریشم کے بستر پر آ گیا ہوں لن جیسے کسی شہد کی نہر میں ڈبکی لگا رگا ہو ایسا مزا جیسے زندگی کا مقصد حاصل ہو گیا ۔ اسی وقت شور ہوا تو مائرہ جلدی سے میرے نیچے سے نکل کر باہر نکل گئی اور میں اپنے کھڑے لن سمیت پیٹ کے بل نیچے گر گیا یہ تو شکر ہے کہ صحن کچا تھا نہں تو میرے لن کی ماں بہن ہو جانی تھی اسی طرح کھیلتے رھے گانے سنتے رہے اسی طرح ڈانس کو روز کی طرح آخر میں سمی ڈالی سب عوتوں لڑکیوں نے مل کر اس کے بعد سو گئے دوسرے دن دوپہر کی بات ہے کہ سب سو رہے تھے مجھے گرمی لگی میں نہانے کے لئے واشروم گھس گیا ابھی میں نے اپنے جسم کو بمشکل گیلا کیا تھا کہ دروازہ کو دھکا لگا دروازہ لکڑی کی پھٹیوں سے بنا تھا جن کے درمیان میں تھوڑی جگہ رہ جاتی ہے میں اس سے دیکھا تو مائرہ کھڑی تھی میں نے دروازہ وہ اندر آگئی میں الف ننگا تھا اس نے بھی کپڑے اتار دیےمیری نا تجربہ کاری اوپر سے بچی کنواری وہ کوڈی ہوئی میں نے پیچھے سے ڈاکنے کی کوشش کی نہ گیا کافی زور لگایا جب نہ گیا تو میں اس سیدھا لٹایا اس کی ٹانگیں اٹھائی اور اس کے اوپر کیٹ گیا اور گھسا مارنے ہی لگا تھا ۔ جیسے ہی زور سے گھسا مارنے لگا میری نظر مائرہ کے چہرے پر پڑی وہ میری طرف دیکھ رہی تھی مجھے اس پر بہت پیار آیا میں گھسا مارنا بھول کر اس کی جھیل سی بلی آنکھوں میں کھو گیا اس کشادہ پیشانی جس پر پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح چمک رہے تھے ستواں ناک گلابی رسیلے ہونٹ اس طرح جیسے کھلتا گلاب اوپر سے لرزتے ہوے کپکپاتے ہوے مجھے دعوت طعام دے رہے تھے کہ آو ہمیں چوم لو ہمارہ رس چوس کر ہمیں شاد کر دو اس گلابی گال جیسے پکا انار ہو اگر تھوڑا سا اور گرم ہوے تو پھٹ جائیں گے میں سب کچھ بھول کر اس حسن کی مورتی میں کھو سا گیا اور بے اختیار صدیوں کے پیاسے کی طرح اس منہ پر ٹوٹ پڑا دیونہ وار چومنے لگ گیا مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ دلکش و حسیں چہرہ میری ضیافت کے کیے ہی ۔۔۔۔۔ والے نے بنایا ہے میری یہ حاکت تھی جیسے کئی دن کا بھوکا ہوں اور کھانے کو لذیذ ڈش مل گئی ہو میں نے چوم چوم کر اس کا منہ اپنے لعاب سے بھر دیا اس کے گالوں پر جا بجا میرا تھوک لگ چکا تھا میں بھر بھی چاٹتا جا رہا تھا اچانک مائرہ نے میرے چہرے کو پکڑ کر پیچھے دھکیلا میری حالت بن پانی کی مچھلی جیسی ہو گئی میں مچلا لیکن اس نے اپنی ٹانگیں میری کنر کے فر کس لیں اور بولی بلو کی کردا پیا واں چھیتی کر کوئی آ جاو گا مجھے تب ہوش آیا مینے ایک بار ہھر کوشش کی گھسا نرا لیکن کنواری پھدی اور میرے جیسا نا تجربہ کار کھلاڑی غلط شارٹ لگا بیٹھا لن پھسل کر اوپر نکل گیا پھر کوشش کی پھر ناکام ایک بار پھر نشانہ لگا کر اس کی آنکھوں دیکھ کر اپنی گانڈ کس کر پوری طاقت لگا کر گھسا مارا تو مائرہ نے زور کی چیخ ماری اور میرے نیچے سے نکل گئی اسی وقت باہر سے کسی کے چلنے کی آواز آئی میری تو بنڈ بندوق ہو گئی میں نے سوچا کے بھئی بلو اج تاں مر گیا توں مائرہ نے پھرتی دیکھائی اور واش روم کے دو دروازے تھے ایک صحن کی ظرف اور دوسرا پیچھے کی طرف تھا اس طرف بیٹھک کی جگہ چھوڑی ہوئی تھی لیکن ابھی بنائی نئی تھی اس دروازے سے نکل گئی اور مجھے اشارہ کیا بند کرلو میں نے جلدی سے دروازہ بند کیا اور پانی کا مگا اپنے اوپر ڈالنا شروع کر دیا تاکہ باہر والے کو کچھ سمجھ نہ آئے میں جلدی جکدی نہا کر باہر نکلا اوع ڈرتے ڈرتے اندر کمرے میں گیا تو سب نارمل تھا گرمیوں کے دن تھے اندر پنکھوں کے شور میں شاید کسی کو پتہ نہیں چلا میں نے شکر ادا کیا اور سو گیا شام تک سویا رھا پھر شام جو اپنے ماموں جے بیٹے اور دوسرے کزنوں جے گراؤنڈ گیا کرکٹ کھیلی واپس آئے کھانا کھایا پھر رات کو لکن میٹی کھیلنے لگ میں نے کوشش کی کہ مئرہ کے ساتھ کوئی سین بن جائے لیکن اس نے مجھے غصے سے دیکھتے ہوئے کہا پراں دفعہ ہو چوہا جیا نہ ہوے تاں مجھے بھی غصہ آ گیا پر میں کر کچھ نہیں سکتا تھا اس جی پھدی تھی وہ دے یا نہ دیے میں ہھر کوشش کی مجھے وہ اکیلی نظر آئی رو میں اس جے پاس پہنچ گیا اور بولا مائرہ کی ہویا انج کیوں کر دی پئی ایں اس کہا تینوں نہیں پتہ تو دن نو کی کیتا سی پتہ وی اے میرے کنی پیڑ ہوئی میں نے کہا انی تاں ہوندی اے پھیر نزہ وی تاں آوندا اےاس نے کہا جا دفعہ ہو مینوں ایہو جیا مجا نہیں چاہیدا میں نے پھر کوشش کی اس کے قریب ہوا اس کو پیچھےم سے جپھی ڈالی کی اس نے خود کو چھڑوایا اور بولی جانا اے کہ نیں شور مچا دیواں سائیں ہوراں نے بشیر ہون اچ ای بہتری سمجھی تے تتر ہو گئے پھر کافی دن رہے وہاں لیکن مائرہ تو ایسی بدظن ہوئی کہ اپنی پوچھ ہی نہیں پکڑاتی تھی خیر شادی ختم ہوئی ہم واپس آئے کچھ دن رہنے کے لیے گاؤں چلے گئے کیونکہ گرمیوں کی چھٹیاں چل رہی تھیں ہمیں گاؤں گئیے دوسرا دن تھا کہ میں دن کے ٹائم ایسے ہی جب سب سو گئے تو باہر نکل گیا گلی سے گزر رہا تھا کہ مجھے چھنو نظر آئی اس نے مجھے دیکھ کر آنکھ ماری اور اشارے سے کہا اس طرف چلو اس کا اشارہ جس طرف تھا اس طرف چند گھر چھوڑ کر گندم کی فصل بوئی ہوئی تھی میں اڈھر چلا گیا اور ایک درخت کے سائے میں کھڑا ہو گیا چند منٹوں بعد مجھے دوسری طرف سے چھنو کھیت میں چلتی نظر آئی میں حیران ہوا کہ یہ تو اس طرف تھی ادھر کیسے آ گئی پھر مجھے یاد آیا کہ اس کے چاچے کے گھر کا ایک دروازہ اس طرف کھلتا ہے خیر وہ کھیت کت درمیان میں ایک چھوٹی سی بیری تھی اس کے نیچے آ کر رک گئی میں وہیں کھڑا س کی طرف دیکھ رہا تھا اس نے اشارہ کیا آ وی جا ہن میں تیزی سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کھیت میں گھس گیا اور بیٹھ گئی میں اس کے پاس گیا اس نے مجھے بازو سے پکڑ کر نیچے بٹھایا میں بیٹھتے ہوئے گر گیا تو وہ میرے اوپر اس طرح آئی کہ اس سینہ میرے سینے کے اوپر تھا اور باقی کا جسم نیچے میری آنکھوں دیکھتے ہوے بولی ہن تے شہری ہو گیا ایں سانوں تاں بھل ای گیا ایں میں نے کہا نہیں ایہہ جی کوئی گل نیں اس نے کہا ہو کی اے انے دن ہو گئے مینوں ملن آیا دوستو میں لاجواب کچھ اس کی بات سے اور کچھ اس سینے کے لگنے سے ہوا اس کا سینہ جس پر کبھی چھوٹے چھٹے فروٹر ہواکرتے تھے آج مجھے وہ مسمی لگ رہے تھے مجھے اپنے سینے پر واضح محسوس ہو رہے تھے مجگے پتہ نہیں کیا ہوا کہ میں نے ان ایک سائیڈ سے پکڑ لیا جیسے ہی میرا ہاتھ لگا اس کی ہلکی سی سیی نکل گئی اور وہ اور زور سے میرے اوپر ہو گئی میرے اوپر جھک کر اس نے اپنے ہونٹ میرے یونٹوں کے قریب کیے اور چوم لیے اور بولی بلوتینوں پتہ میں تینوں کناں پیار کر دی آں نیں میں کہں اور پہنچا ہوا تھا میں نے اس کی گردن پر ہاتھ رکھا اور اس کے ہونٹ چوم لیے اس نے جلدی سے میری شلوار نیچے کی اور اپنی بھی اور لیٹ گئی نجھے اپنے اوپر آنے کو کہا میں بھی کسی ترسے ہوے کتے کی طرح دم ہلاتا تیزی سے اس کے اوپر آ گیا اس ںے میری کمر کے گرد ٹانگیں کس لیں اور بولی پا دے بلو اج آودا لل میری پھدی اچ میں اس کی بات سن کر حیران رہ گیا میں پوچھا اے پھدی کی ہوندی اے تو اس نے میرے لن کو پکڑ کر اپنی پھدی لگایا اور بول ایہنوں پھدی آندے نیں جا اوے تینوں پھدی دا وی نہیں پتا میں جلدی سے بولا ایڈی گل نیں مینوں پتہ سی میں اویں تیرا امتحاں لین لئی پچھیا سی اس نے کہا جلدی کر کوئی آ جاو گا میں کہا اچھا میں گھسا مارا وہ اچھلی اور بولی اے کی آ میں نے حیران ہوتے ہوئے اس کی طرف دیکھا تو وہ بولی تو کسے دی لئی نیں حالے میں کوئی جواب نہ دے سکیا شرمندہ ہوگیا تو اس نے ٹانگیں کھولی اور میں پیچھے ہوا تو اس نے اپنی پیشاب کی جگہ پر ہاتھ رکھ کر کہا ایتھے واڑ ایہنوں میں نے پھر کوشش کی پھر وہی ہوا تو اس ںے نیرا لل پکڑا اور اپنی شرمگاہ نیں رکھا اور نجھے کہا آرام نال واڑ دے اندر میں نے زور لگایا تو تھوڑا سا گھس گیا پھر زور لگایا تو آگے نہ ہوا سائیں ہوری پھیر جوش اچ آ گئے اک پھدی ملن دا جوش دوسرا انج وی زور لان دا تھوڑا سا پیچھے ہوا اور ایک زور دار گھسا مارنے لگا تھا کہ یاد آیا کہ مائرہ نے چیخ مار دی تھی آگے کو ہوا اور اس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور نیچے سے اپنی بنڈ کی مدد سے زور دار جھٹکا دیا اور میرے لل نے پہلی دفعہ ایک اندھیری سرنگ کی سیر شروع کر دی جیسے ہی اندر ہوا مجھے ایسے لگا جیسے میرا لن کسی آگ کی بھٹھی میں گھس گیا ہو لیکن بھی بہت آ رہا تھا میرا ہاتھ ابھی چھنو کے منہ پر تھا اس نے میرا ہاتھ ہٹایا اور بولی آرام نال آکھیا سی تینوں ہولی نیں کر سکدا سی میری جاں کڈ دتی نیں اسی طرح اوپر لیٹا گیا تو اس نے کہا ہن کی اے میں حیران ہواکہ اب یہ بھی لگتا ہے بھاگ جائے گی میں نے سوالیہ انداز سے اس کی طرف دیکھا تو اس نے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔ ہن گھسے مار زور زور دی میں نے نیچے سے اپنی گانڈ ہلانا شروع کر دی جتنا زور لگا سکتا تھا لگا دیا تو اس نے مجھے روکا اور بولی بندیاں طرح کر میں نا سمجھی کے انداز میں اس کی طرف دیکھنے لگا اور سوچا سالی پتہ نہیں کی چاہندی اے پھر خود ہی آرام سے گانڈ کر آگے پیچھے کرنے لگ گیا اس نے مجھے کس کے اپنےاوپر لٹا لیا اور میرے یونٹ چوسنےلگ گئی دوستو میں تو مزے کی بلندیوں پر پہنچ گیا اور میری سپیڈ بھی تیز ہو گئی میں لگاتا ر فھست مار رہا تھا کوئی 5 منٹ ہوئے ہوں گے کہ اس نے بولنا شروع کیا بلو پاڑ دے میری زور نال ہہہہااااااااہہاہاہاآآآیہہہہہہہہہہہ ہو ررررررررررر زوووووورررررررع نالللللللل مارررر مجھے اور جوش آتا اسی طرح کتے اس کا جسم اکڑ گیا اس نے ٹانگیں زور سے سے میری کمر پر کس لیں اور میرے ہونٹوں کو کاٹنے کگ گئی مرا سانس بند ہونے لگ گیا لیکن اس کو یوش کہاں تھا یکدم اس کے جسم نے جھٹکا کھایا اور مجھے یوں لگا جیسے میرا لن کسی نے کس کے پکڑ لیا ہے نیں نے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا کیونکہ اس نے اپنی ٹانگوں میں مجھے جکڑ رکھا تھا اسی دوراں مجھے اپنی لل پر گرم گرم کچھ گرنے کا لطیف احساس ہوا اور میں مزے کی وادیوں کھو گیا۔۔۔۔۔ کافی دیر بعد اس نے مجھے چھوڑا اور بولی ہو گیا ایں فارغ میں سیکس کے معاملے میں چٹا ان پڑھ اس کی ظرف دیکھنے لگ گیا تو اس نے کہا چل کر میں پھر ہلنے لگ گیا وہ بولی بکو میں تینوں بہت پیار کر نی آ ویکھ اج میں تینوں دتی وی اے نیں سچ دیندی پئی آں تو وی مینوں پیار کرنا اے ناں پیار دا سن کر مجھے جوش چڑھ گیا اور میں نے اپنی سپیڈ بڑھا دی اور تیز تیز لن گھسانے لگ گیا اس کی بھی آواز آنے لگ آہ آہ آ ہہہہہہہہہہ آاااااہہہہ ہہہہممممممممہہہہااآاااااااااا مزہ آ رہیا اے بلو میری جانننننننننن بببببببلللکککوووو ہو زور نال آآاااااااآہہہہہ ہہہہہہآاااااااا ببببللبببللللووووووووسو اسکی آواز کافی اونچی ہو گئ تھی اور میری سپیڈ بھی کوئی 6 سے 7 منٹ ہوے ہوں گے کہ اس نے پھر سے مجھے جکڑ لیا اس کا جسم اکڑنا شروع ہوگیا اور اس کی بے ربط آوازیں آنے لگ گئی بلو تو میری جان اج پاڑ دے میری مینوں ماں بنا دیمے آہہہہہ ااااہہہہہ بلللللللوووووو میں کککککددددوووووںںںں ددددددددییییییی تینوں دیں نننننووووںںںں ترررررررررر سسسسسسسسسدددی سی اسی کے ساتھ اس ہلکی سی چیخ ماری اور میری کمر میں اپنے ناخن گاڑھ دئیے اس کی رانی نے میرے بھولو کو اپنے قابو میں کر لیا مجھے رکنا پڑا جیسے ہی میں رکا اس نے اکھڑی ہوئی سانس میں کہا مممییییںں۔ گئئئیییی اور جھٹکے سے میرے لن پر پھوارا پڑا جیسے کسی نے گرم پانی ڈال دیا ہو ۔ کچھ دیر جھٹکے کھانے کے بعد وہ رک گئی تو اس کا جسم پسینے سے مکمل بھیگ چکا تھا۔۔۔۔۔۔ اس نے اپنی سانس بحال کی اور مجھے اپنے اوپر سے ہٹایا میں پیچھے ہوا تو اس وہ اٹھ کر بیٹھ گئی جیسے ہی اس کی نظر میری ٹانگوں کے بیچ گئی تو بولی ہالے وی نیں ہویا فارغ نیں نہ سمجھ میں کہا نیں وہ حیران ہوئی اور میں تو پہلے ہی کچھ نہیں سمجھ پا ریا تھا کہ وہ کیا کہہ رہی ہے اس نے کہا ہن کوئی آ نہ جئے تو جا نیں وی جانی آں نیں کیا تھوڑا ہور پیار کرئیے اس نے کہا بکو سمجھ ناں تو کل 10 وجے کھر آ جائیں رج کے کراں گے ٹھیک اے ناں میں نے ناں چاہتے ہوئے بھی ہاں کہا اور شلوار اوپر کی اور آگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  50. 2 likes
    Wese lag rha tha k abeera ki baton se k shayd osk pas rishton k hawalay se koi or bhi raaz hon gay jis wja se wo yasir ko uksa b rhi hai k wo rishton ki haqiqt janny k liye khud ko tyar kr le...well dekhty hen story din badin intrested hoti jaa rhi h


×
×
  • Create New...