Jump to content
Private Cloud Activation Last Date 01-10-2020 After Last Date Not include Previous Purchase in your Private Cloud ×
URDU FUN CLUB
Private Cloud Activation Last Date 01-10-2020 After Last Date Not include Previous Purchase in your Private Cloud

Leaderboard


Popular Content

Showing most liked content since 08/21/2020 in all areas

  1. 12 likes
    ووت بڑی ظالم شے ہے اور بندہ وقت کا غلام ہے۔ میں نے اس فورم کو اگر کچھ دیا ہے تو وہ وقت ہے۔ ان دنوں میرے پاس بس وقت کا ہی فقدان ہے۔ ایڈمن صاحب سے روز بات ہوتی ہے اور روز میں ان سے نیا وعدہ کر لیتا ہوں اور پھر وقت آنے پر ایک نیا وعدہ۔ بہر کیف نہ میں حوصلہ ہارا ہوں اور نہ جناب ایڈمن صاحب۔ اس کہانی کا کیا مستقبل ہو گا وہ تو ہم بعد میں طے کریں گے مگر چوری والا معاملہ آپ سب کے سامنے ہے۔ ہم اپڈیٹ اسی دن چور لے اڑتے ہیں اور ہم اپنے فورم کا قیمتی ڈیٹا سنبھالنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ میں اگر خود پہ ستم ڈھا کر کہانیوں کو اپڈیٹ کر بھی دوں تو فورم یا مجھے کیا فائدہ۔ سب تو چور لے اڑے۔ اسی لیے بندہ سوچتا ہے کہ چلو یار کم ازکم خود کو تو عذاب میں نہ ڈالو۔
  2. 7 likes
  3. 6 likes
    قسط نمبر 2۔ اول چوہدری باسط اور عابد گاؤں نور پور چوہدری ریاض کے چہلم پر پہنچے چوہدری باسط اپنی ماں اور اپنے چچا ربنواز کے گلے لگ کر بہت رویا اور کافی دیر تک روتا رہا عابد چوہدری باسط کا بچپن کا دوست تھا اس کے والدین بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے اس لیے اسے بھی چوہدری ریاض نے ہی اپنے بیٹے کی طرح پالا تھا عابد کے لیے چوہدری ریاض باپ سے بڑھ کر تھا۔ عابد کی ایک بڑی بہن بھی تھی جس کی شادی بھی چوہدری ریاض نے اپنے رشتے داروں میں کی تھی وہ بھی ساتھ کے گاؤں میں ہی رہتی تھی ۔ کچھ دیر کے بعد باسط نے اپنی چھوٹی بہن کے بارے میں پوچھا تو ایک اور طوفان کا سامنا کر پڑا کہ وہ اپنی عزت کھو کر لاہور ہسپتال پڑی ہے باسط کے ساتھ ساتھ عابد کا خون بھی کھولنے لگا انہوں نے بہت زور لگایا کہ انہیں پتہ لگ جائے کہ یہ حرکت کس کی ہے لیکن ربنواز نے کچھ نہیں بتایا اور دو دن کے بعد ہی باسط عابد اور باسط کی والدہ کو لے کر لاہور چلا گیا کہ باسط کی والدہ ادھر محفوظ نہیں اس لیے وہ لاہور جا کر اپنی عدت پوری کر لے گی ۔لاہور پہنچ کر باسط اور عابد چھوٹی بہن کے گلے لگ کر بہت روئے ۔ چوہدری ربنواز ایک ذہین اور زمانہ شناس انسان تھا اسے پتہ تھا کہ وہ انگریزوں سے نہیں لڑ سکتے اس لئے اس نے باسط کو جلد ہی واپس بھیج دیا۔لیکن اس دوران عابد کو اس کی بڑی بہن سے سارے واقع کا پتہ چل گیا عابد ہوش سے کا لینے والا بندہ تھا اسے پتہ تھا کہ اگر اس بات کی بھینک باسط کو لگ گئی تو اس نے ہوش کھو بیٹھنا ہے اس لئے عابد نے اسے کچھ نہیں بتایا اور یہ دونوں پندرہ دن کے بعد ہی انگلینڈ واپس آ گئے عابد دو مہینے بعد وکالت کے پیپر دے کر فارغ ہو گیا جبکہ باسط کی ڈاکٹری کو ایک سال اور پڑا تھا ۔عابد باسط کو لاہور میں جا کر وکالت کرنے کا کہہ کر لاہور واپس آ گیا اور اس نے ربنواز کے ساتھ وکالت کرنا شروع کر دی عابد بہت ہی ذہین انسان تھا اس نے دو سال محمد علی جناح کے ساتھ بھی وکالت کی اس نے ان جیسا ایماندار وکیل نہیں دیکھا تھا ۔ جناح نے اب کھولے عام پاکستان کا لفظ استعمال کر نا شروع کر دیا تھا اس دوران باسط بھی ڈاکٹری پوری کر کے لاہور آ چکا تھا اس نے لاہور میں ایک کلینک کھولا جو کہ انگلینڈ سے آئے ہوئے کسی بھی ڈاکٹر کا پہلا کلینک تھا اور اسی طرح باسط کا شمار بھی لاہور کی مشہور شخصیات میں ہونے لگا محمد علی جناح بھی عابد کے ہمراہ باسط سے ملے اور باسط کو مسلم لیگ میں شمولیت کے لئے کہا اور اس طرح باسط بھی مسلم لیگ کا سر گرم رکن بن گیا اور اس نے بہت سا پیسا بھی مسلم لیگ کو عطیہ کیا یہ ملاقات باسط کی زندگی میں بہت سی تبدیلیاں لے کر آئی ۔ عابد نے چپ چاپ لارڈ جوزف پر چوہدری ریاض کے قتل کا مقدمہ بھی کیا ہو تھا لیکن اس پر باوجود کوشش کے کوئی پیشرفت نہیں ہوئی تھی لیکن عابد نے ہمت نہیں ہاری تھی۔ باسط کی بس ایک عادت خراب تھی وہ یہ تھی کہ اسے گورری چمڑی کی لڑکی کو چودے بغیر سکون نہیں آتا تھا لاہور آئے باسط کو دو سال ہو چکے تھے ان دو سالوں میں اس نے کسی گوری کو نہیں چودا تھا لیکن چودنے کے لئے اس کے پاس پروتی تھی جو دن کو اس کے ہسپتال کا ریسیپشن سنبھالتی اور رات کو اس کی پھودی باسط کے لن کو سنبھالتی پانی تو نکل رہا تھا لیکن باسط کو مزہ نہیں آتا تھا اس لیے وہ ایک گوری کی تاک میں تھا کہ کوئی مل جائے لیکن ہندوستان میں گوریاں بہت کم تھیں اور دوسرا جو تھیں وہ یہاں کے گورنرز اور لارڈ کی بیویاں اور ان کی بیٹیاں تھی اس لئے وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔یہ جون 1943 تھا سات آٹھ دن سے باسط نے پھودی نہیں لی تھی کیونکہ پروتی کسی رشتے دار کی شادی پر گئی ہوئی تھی باسط کا لن آج صبح سے کھڑا تھا اسے پروتی کا بے چینی سے انتظار تھا دوپہر دو بجے دروازا کھولا اور پروتی آفس میں داخل ہوئی تو باسط نے اسے دیکھتے ہی کیا باسط: پروتی آؤ آؤ کہاں رہ گئی تھی اتنے دن میں تو بہت تنگ ہو جاتا ہوں یہ کہہ کر وہ اٹھا اور پینٹ اتارتے ہوئے باسط: چلو جلدی سے دروازے کی کنڈی لگاؤ اور آ جاؤ پروتی نے دروازے کی کنڈی لگائی اور باسط کے پاس آ کر نیچے بیٹھ گئی اور باسط کا نو انچ کا لن پکڑ کر مٹھ مارنے لگی اور پھر تھوڑی دیر کے بعد لن کو منہ میں ڈال کر چوسنے لگی لن کی موٹی ٹوپی ہی وہ منہ میں لے سکی باسط مزے میں ڈوبا آنکھیں بند کر کے کھڑا تھا کچھ دیر بعد باسط نے اسے کپڑے اتارنے کا کہا اور اپنی بھی شرٹ اتار دی لیکن پروتی ایک طرف ہو کر کھڑی ہو گئی اور بولی پروتی : ڈاکٹر صاحب آپ بھول رہے ہیں آج 9 تاریخ ہے باسط سر پکڑ کر بیٹھ گیا کیونکہ اسے یاد آ گیا کہ 8 سے پروتی کے پریڈز شروع ہو جاتے ہیں پروتی بات جاری رکھتے ہوئے پروتی: ہر ماہواری کی طرح میں ہاتھ سے فارغ کر دیتی ہوں آپ کو باسط: لیکن میرا تو آج پھودی کے بغیر گزارہ نہیں ہو گا پروتی : تو ایک کام ہو سکتا ہے باسط : وہ کیا تمہیں تو پریڈز ہے تو پروتی : اگر آپ بولو تو میں رادھا سے بات کرو مجھے امید ہے کہ وہ پھودی دے دے گی آپ کو باسط نے رادھا کا سن کر برا سا منہ بنایا کیونکہ وہ کالی کالوٹی اور بلکل پتلی لڑکی تھی بس ایک کام کی چیز یہ تھی کہ وہ صرف اٹھارہ سال کی تھی اور ہسپتال میں صفائی کا کام کرتی تھی ہسپتال کا بس تین لوگوں کا ہی عملہ تھا باسط : ایک تو وہ مجھے پسند نہیں اور نمبر 2 وہ ابھی چھوٹی ہے پروتی : ڈاکٹر صاحب وہ اٹھارہ سال کی ہے اور میں کون سا آپ کو پسند ہوں آپ نے بس پانی ہی تو نکالنا ہے باسط : کیا وہ کنواری ہے پروتی : نہیں ہمارے ہاں لڑکی کی سیل اس کے جوان ہونے سے پہلے ہی کوئی نہ کوئی توڑ دیتا ہے باسط کا لن دوبارہ کھڑا ہونا شروع ہو گیا تو پروتی مسکر کر باہر نکل گئی پانچ منٹ کے بعد ہی وہ واپس آ گئی اس کے ساتھ رادھا تھی جو بلکل ننگی تھی اور کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر ڈاکٹر کے لمبے اور موٹے لن پر پڑی تو اس کی آنکھوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی لیکن پروتی اس کا بازو پکڑ کر اس باسط کے پاس لائی اور خود بھی اس کے سامنے زمین پر بیٹھ گئی اور رادھا کا بازو کھینچ کر اسے بھی اپنے ساتھ بیٹھا لیا باسط کرسی سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور پروتی نے باسط کا لن پکڑ کر منہ میں ڈال لیا تھوڑی دیر کے بعد اس نے لن منہ سے نکالا اور رادھا کے سامنے کر دیا تو رادھا نے پورا منہ کھولا اور لن کی ٹوپی منہ میں لے لی اس کے چھوٹے سے منہ میں لن کی ٹوپی بھی بڑی مشکل سے پوری آئی باقی لن کو اس نے دونوں ہاتھوں سے پکڑا ہوا تھا باسط مزے کی بلندیوں پر تھا اسے وہ وقت بھی یاد آ رہا تھا جب دو دو گوریاں بیٹھیں اس کا لن چوس رہی ہوتی لیکن گوریاں نہ سہی لڑکیاں اب بھی دو ہی تھیں باسط کو لن چوسواتے ہوئے دس منٹ ہو گئے تھے تو اس سے رہا نہ گیا اس نے رادھا کو کھڑا کیا اور اپنے میز کی طرف اس کا منہ کر کے اس کاسر نیچے کیا تو اس نے سر میز پر رکھ دیا اور اس کی پھودی جو کہ پلکل سامنے نظر آ رہی تھی اس پر ہاتھ پھیرا تو پروتی نے باسط کا لن رادھا کی پھودی پر رکھا اور دو تین بار اوپر نیچے کیا تو لن جیسے ہی سوراخ پر آیا تو باسط نے ہلکا سا جھٹکا دیا تو لن کی ٹوپی پھودی کے سوراخ میں پھنس سی گئی اور رادھا کے منہ سے ہلکی سی درد بھری سسکی نکلی تو باسط نے پروتی کو اشارے سے باہر جانے کا کہہ دیا تو وہ اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئی باسط نے رادھا کے کولہوں کو پکڑ کر زور دار جھٹکا دیا تو آدھا لن پھنستا ہوا اندر کھس گیا اور رادھا کے منہ سے بکری کی طرح کی آواز نکلی اور اس کی آنکھوں سے آنسوں بھی نکل آئے لیکن یہ تو ابھی ابتداء تھی باسط ایک منٹ تک ساکن راہا اور پھر اس نے لن باہر کو کھینچا جب صرف ٹوپی اندر رہ گئی تو اس نے پہلے سے بھی زور سے جھٹکا دیا اور لن جڑ تک رادھا کی چھوٹی سی پھودی میں کھس گیا رادھا کٹی ہوئی بکری کی طرح تڑپنے لگی لیکن باسط پر جنون سا سوار ہو گیا اس نے زندگی میں پہلی بار اتنی گرم اور تنگ پھودی میں لن ڈالا تھا اس نے رادھا کی پرواہ کئے بغیر جھٹکے دینے شروع کر دئے رادھا کی چیخیں باہر تک جا رہی تھیں۔ باہر بیٹھی پروتی کو اندازہ تھا کہ چیخیں آئیں گئی اس لئے اس نے ہسپتال کا مین دروازہ بند کر دیا تھا تا کہ باہر گلی میں آواز نہ جائے ۔ اندر باسط لن رادھا کے اندر باہر کر رہا تھا پانچ منٹ کے بعد باسط نے لن رادھا کی پھودی سے نکال لیا تو رادھا ننگی ہی باہر کو بھاگی لیکن اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور گر گئی تو باسط نے اسے زمین پر ہی سیدھی کیا اور اس کی ٹانگیں کھول کر درمیان آ گیا اور لن رادھا کی پھودی پر رکھا اور پورے زور سے جھٹکا دیا تو لن ایک ہی جھٹکے میں پھودی میں کھس گیا رادھا کی چیخیں پھر شروع ہو گئی لیکن سب سے بے خبر باسط رادھا کی کھدائی کرتا رہا رادھا روتی رہی بس کرنے کا کہتی رہی لیکن باسط کو کسی چیز کی پروا نہیں تھی کچھ دیر کے بعد باسط نے جھٹکوں کی مشین چلا دی اسی دوران رادھا درد کی شدت کی وجہ سے بے ہوش ہو گئی لیکن کچھ دیر بعد باسط نے اپنا پانی رادھا کی پھودی میں ہی چھوڑ دیا اور اٹھ گیا جب لن باہر نکالا تو لن پر خون لگا ہوا تھا ۔ منی دماغ سے اتری تو باسط کو ہوش آیا تو اس نے پروتی کو آواز دی تو دونوں نے مل کر رادھا کو اٹھا کر دوسرے کمرے میں پڑے بیڈ پر لیٹا دیا اور اس کی حالت دیکھ کر باسط بھی کھبرا گیا تو اس نے جلدی سے دو ٹیکے اسے لگائے اور کچھ دیر اس کے پاس ہی کھڑا رہا کچھ دیر بعد پھر اس کو چیک کیا اور اس کی حالت کچھ بہتر تھی تو باسط نے پروتی کو اس کی پھودی صاف کرنے کا کہہ اور اسے قمیض پہنانے کا کہہ کر چلا گیا وہ اس دوران ننگا ہی تھا اس نے اپنے آفس آ کر کپڑے اٹھائے اور باتھ روم میں کھس گیا کچھ دیر کے بعد اس نے پروتی کو بلا کر اس کا حال پوچھا تو پروتی نے اطمینان سے سب کچھ ٹھیک کی ریپوٹ دی تو باسط کو کچھ سکون آیا تو باسط اٹھ کر دوبارہ رادھا کے پاس گیا تو اس کو ہوش آ چکا تھا اس نے قمیض پہنا ہوا تھا جبکہ اس کی شلوار کرسی پر پڑی ہوئی تھی رادھا نے ڈاکٹر کو دیکھا تو زبردستی مسکرانے کی کوشش کی باسط نے اس طرح کی جنونی چودائی کے لئے اس سے معافی مانگی اور دس دس کے پانچ نوٹ اسے پکڑا دئے پچاس روپے جیسی بڑی رقم پا کر رادھا کا جسم خوشی سے کانپنے لگا کیونکہ رادھا کی تنخوا تین روپے تھی اور پچاس روپے اس کے لیے بہت بڑی رقم تھی اب اس کے باپ کو اگر پتہ لگ بھی جاتا تو اسے کوئی پرواہ نہ ہوتی کیونکہ وہ اگر رادھا کو بیچ بھی دیتا تو اسے پندرہ روپے مشکل سے ملنے تھے باسط نے رادھا کو دوائی دی اور اسے شام تک آرام کرنے کا کہہ کر چلا گیا اپنے آفسشام تک اس نے چار مریض اور چیک کے ابھی گھر جانے کے لیے ہسپتال سے نکلا ہی تھا کہ ایک گاڑی رکی اس میں سے دو لڑکے اتر کر باہر آئے اور انہوں نے بتایا کہ لارڈ صاحب کی بیوی گر گئیں ہیں اور اس کی ٹانگ پر چوٹ لگ گئی ہے تو باسط نے اسے اندر لانے کا کہہ دیا اور پروتی کو پٹی لانے کا کہا اور اپنے آفس میں داخل ہو گیا کچھ جیسے ہی دو لڑکے لیڈی کو لے کر اندر داخل ہوئے تو باسط تو گوری کو دیکھتا رہ گیا بڑے بڑے ممے باہر کو نکلی گانڈ اور گوری چمڑی باسط کو پاگل کرنے کے لئے کافی تھی لیکن گوری کی عمر پینتیس سال کے قریب لگ رہی تھی لڑکوں نے گوری کو آفس میں پڑے بیڈ پر لیٹا دیا تو باسط نے قریب جا کر انگریزی میں پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے تو گوری نے بتایا کہ اس کی تھائیز پر چوٹ لگ گئی ہے اور پھر گوری خور ہی الٹی لیٹ گئی تو باسط نے پروتی کو چوٹ چیک کرنے کا کہا تو پروتی نے گوری کی پینٹ اتاری اور اس کی گانڈ پر کپڑا دے دیا اور گانڈ سے تھوڑا سا نیچے جگہ نیلی ہوئی تھی تو پروتی کو کچھ سمجھ نہ آیا تو اس نے باسط کو کہا کہ ڈاکٹر صاحب مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی آپ خود ایک بار دیکھ لیں اور پھر پروتی دونوں لڑکوں کو لے کر باہر چلے گئی باسط جیسے ہی گوری کے پاس پہنچا تو اس کی گوری ٹانگ دیکھ کر باسط کے لن نے زور سے جھٹکا لیا اور گوری چمڑی تو باسط کی کمزوری تھی اور وہ گوری چمڑی کے لیے ترسا ہوا بھی تھا باسط نے چوٹ والی جگہ پر ہاتھ لگایا اور ہلکے سے مساج کرنے لگا گوری اور نرم چمڑی میں باسط گھو سا گیا اور گوری کو بھی مساج سے مزا آ رہا تھا اس لیے اس نے باسط کو نہ روکا باسط مساج کرتے کرتے اوپر کی طرف گیا اور اس کے چوتڑ پر ہاتھ رکھ دیا تو گوری کے منہ سے سسکی نکل گئی تو باسط کو چدائی کی امید ہو گئی تو اس نے ہاتھ کو دونوں چوتڑوں کے درمیان لے گیا اور آہستہ آہستہ اس کی پھودی پر انگلی پیری اور ساتھ ہی لن کو پینٹ کے باہر نکال لیا گوری کا ہاتھ جو کہ قریب ہی پڑا تھا اس نے ہاتھ کو پکڑا اور اپنا لن گوری کے ہاتھ میں پکڑا دیا لن ہاتھ کو لگتے ہی گوری نے گردن گھوما کر باسط کا لن دیکھا تو اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی جیسے بچے کو اس کی پسند کا کھلونا مل جائے اس نے اٹھنے کوشش کی لیکن درد کی وجہ سے پھر لیٹ گئی باسط نے پروتی کو آواز دی پروتی آفس میں آئی باسط کا لن گوری کے ہاتھ میں دیکھ کر مسکرا کر باسط کو دیکھا جیسے مبارکباد دے رہی ہو باسط نے مرہم لگا کر پٹی باندھنے کو کہا تو پروتی اپنے کام میں لگ گئی تو باسط گوری کے منہ کے پاس چلا گیا اور اپنا لن گوری کے منہ کے پاس کر دیا تو گوری نے زبان نکال کر لن کی ٹوپی کو چاٹا اور پھر ٹوپی منہ میں لے لی باسط نے اپنی شرٹ اتار دی اور پینٹ بھی پانچ منٹ کے بعد گوری کو سیدھا ہونے کا کہا تو گوری سیدھی ہو گئی تو پروتی نے پٹی باندھنی شروع کر دی اور باسط نے گوری کی شرٹ کے بٹن گھولنے شروع کر دیے کچھ دیر بعد گوری کے بڑے بڑے ممے باسط کے سامنے تھے جنہیں دیکھ کر باسط سے رہا نہ گیا اور اس نے جھک کر ممے کو چوما اور اس کے نپل کو منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا جبکہ اس کا لن ابھی تک گوری کے ہاتھ میں تھا کچھ دیر کے بعد پروتی پٹی باندھ کر چلے گئی تو باسط گوری کی ٹانگیوں کے درمیان آ گیا اور اپنا لن گوری کی پھودی پر پھیرنا شروع کر دیا لیکن اندر نہیں کیا کچھ دیر کے بعد گوری بے چین ہو گئی تو سسکتے ہوئے بولی ڈاکٹر پلیز فک می تو باسط نے مسکراتے ہوئے لن پھودی میں کھسا دیا آدھا لن آرام سے ہی گوری کی کھلی پودی میں چلا گیا تو مزے کی لہر باسط کے وجود میں اٹھی تو باسط نے زور سے جھٹکا دیا اور لن جڑ تک گوری کی پھودی میں کھسا دیا گوری کی ہلکی سی چیخ نکلی تو باسط نے جھٹکوں کی برسات کر دی دس منٹ کے بعد جب باسط کو لگا کہ وہ چھوٹنے لگا ہے تو اس نے لن باہر نکالا اور گوری کے گورے پیٹ پر فارغ ہو گیا گوری نے اپنے پیٹ پر منی مل لی اور اپنا ہاتھ چاٹنا شروع کر دیا ۔ باسط نے کپڑے پہن لئے اور پروتی کو بلایا تو پروتی نے گوری کو بھی کپڑے پہنا دئے ۔ آخر گوری نے خود ہی کہہ دیا کہ میں کل دوبارہ چیک کروانے آ جاؤ گئی تو باسط نے گوری کا نام پوچھا تو گوری نے اپنا نام انجلینا بتایا اور یہ بھی کہ وہ لارڈ جوزف کی بیوی ہے تو باسط نے اس کو مسکراتے ہوئے روانہ کر دیا جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ Rizy.b
  4. 6 likes
    جی جناب ۔ بخوبی جانتا ہوں اور جن جن گروپ میں اپلوڈ ہو رہی ہے وہ بھی جانتا ہوں۔ کچھ ممبرز کے اس عمل سے شاید اب سارے ممبرز اس کہانی سے محروم رہیں گے ۔ کچھ کے گناہوں کی سزا بہت سے ممبرز بھگتیں گے۔ ہمارا ایک مقصد تھا کہ ایک ایسا فورم ہو جہاں صرف کوالٹی کے ناول ہوں اور ممبرز کو بہتر پڑھنے کو ملے۔ مگر اب جو یہاں پوسٹ ہوتا ہے وہ کچھ دیر بعد فیس بک اور وٹس ایپ کے گروپوں میں ملتا ہے۔ تو اس سے رائٹر کے لکھنے اور اس فورم کے موجود ہونے کا کیا مقصد ؟ ۔ہر کہانی کو ہم پیڈ کرنا نہیں چاہتے ۔ کہ جو ممبرز افورڈ نہیں کر سکتے وہ بھی انجوائے کرتے رہیں۔بہت سے ایسے فیس بک گروپس ہیں جنہوں نے یہاں کی سٹوریز کو پوسٹ کر کے اپنے گروپس کو کافی بوسٹ کر لیا ہے۔ محنت ہمارے رائٹرز کی اس فورم کے لیئے ہے ۔ اگر فیس بک کے لیئے ہی لکھنا ہے تو پھر کوئی اور لکھے گا ۔ ہمارے پاس اتنا ٹائم نہیں ہے پیڈ ناولز کے لیئے اسی وجہ سے کلاؤڈ سٹارٹ کیا گیا ہے۔چوری تو شاید اب بھی ہو گی ۔ مگر اسے فوری ٹریک کرنا بہت آسان ہو گا۔ویسے بھی اس سیٹ اپ میں پیڈ ممبر کا اکاؤنٹ ہی اتنا قیمتی ہو گا۔ کہ وہ بین ہونے کا رسک نہیں لینا چاہے گا ۔ کیونکہ پھر اسے کسی بھی سیئریل کی نئی اپڈیٹ پڑھنے کے لیئے اپنے نئے اکاؤنٹ میں اس سیئریل کی سابقہ تمام اپڈیٹس بھی خرید کر شامل کرنا ہوں گی۔ جو کہ اس کی جیب پر بھاری پڑے گا ۔ یہ ایک فری کہانی ہے تو اسے کلاؤڈ میں بھی منتقل نہیں کر سکتے ۔ ہر فری ممبر کو چاہیئے ہو گی کس کس کو کلاؤڈ میں ایڈ کرتے رہیں گے۔؟ ۔۔۔تو اب شاید یا تو یہ کہانی کلوز ہو گی یا پھر پیڈ کی صورت یہ چلے گی۔ مگر ہم اسے پیڈ میں چلانا ہی نہیں چاہتے ۔ کیونکہ یہ مکمل طور پر ہماری کہانی نہیں ہے۔اس کہانی کا سٹارٹ کسی اور ممبر کا ہے تو اسے کلوز کرنا زیادہ بہتر ہے۔
  5. 6 likes
  6. 6 likes
  7. 5 likes
  8. 5 likes
    A suggestion if that method is possible: Move this story to cloud but keep it free, then if anyone copies it then he can be banned for life with ip tracking and/or another permanent way OR make this a paid cloud story with the payment being low since you find it unethical to get money for a story started by another...that way you could track and ban the thieves. It would be a headache but all members will be happy. As far as ownership is concerned, I dont think shekhoo deserves much credit anymore as he has quit this story since ages since he left this story as an orphan so it would have rotted in incomplete section of all the other sites. All the best, Eric T
  9. 5 likes
    قاتل حسینہ اپڈیٹ۔۔۔5 شاکر نے بھانجے کے ساتھ مل کر ماسٹر کے کمرے سے شک کی پہلی اینٹ ھاتھ کر لی تھی، جسکا ماسٹر کو اگلے دن احساس ھوا کہ لکھے گئے خطوط اور اگلی قسط میں جو بات بھی ھم نے لکھنی تھی وہ رف پیجز ان کے ھاتھ لگ گئے تھے، اور سب سے بڑی بات ھینڈ رائٹنگ کی تھی۔ بھر حال اگلے دن شاکر نے گاؤں کے دوسرے لوگوں میں اس بات کا ذکر کرنا شروع کردیا کہ شبیر کے ساتھ کچھ غلط ھوگیا ھے۔ بھرحال ابھی تک کسی کہ جرات نہہ ھورھی تھی کہ مجھ سے بات کرتے، صرف پیٹھ پیچھے باتیں ھو رھی تھیں۔ اگلے ھفتے ماسٹر کےکمرے میں بھی لوگوں نے آنا جانا شروع کردیا اور کسی دیھاتی نے اسے کہ دیا کہ جو خط شبیر کے آتے ھیں وہ کسی ایک ھی بندے کے لکھے ھوئے ھیں، جو پولیس کو مطلوب ہے۔ ماسٹر غنی گھبراہٹ میں دس دن کی درخواست چھٹی رکھ کر بھاگ گیا، ادھر مجھے چرس کی لت پڑگئی تھی، دو راتیں مشکل سے گزریں کہ نمبر دار چند گاؤں والوں کو ساتھ لیکر سر شام میرے گھر گھس آیا، لگا مجھ سے سوال جواب کرنے ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔میں بھی کافی حد تک سکون سے اس کے سوالات کے جوابات دیتی رھی، لیکن اس بات پر کہ بذریعہ ڈاک آئے ھوئے خطوط اور ماسٹر کےکمرے سے ملے ھوئے لفافے کی رائٹنگ ایک جیسی کیوں لگتی ھے ؟ دوسرا کہ ماسٹر کیوں بھاگ گیا ھے ؟ اور اب آفس میں اپنا تبادلہ کسی اور اسکول کیوں کروارھاھے؟….. میں ان سوالوں سے۔۔۔۔۔۔ لاجواب ھورھی تھی۔ میں نے چائے کی پیالی پکڑاتے ھوئے نمبردار کی انگلی پکڑے دبا کر اسے آنکھ ماری۔ چائے پی کر اس نے سب کو کھا کہ چلو چلیں، اور جاتے وقت جان بوجھ کر اپنےکندھے کا رومال چھوڑ گیا، زرا دیر بعد وہ رومال لینے کے بھانے اکیلا اندر آیا تو میرا ھاتھ پکڑلیا ، میں نےقریب ھوتے ھوئے رات کو اکیلے آنے کا کہ دیا تو اس کی باچھیں کھل گئیں، اسی وقت اس نے مجھے کس کر کچھ دیر تک اپنی بانہوں میں گھیر لیا۔ اس کے بعد اس نے باھر جاکر بات گھمانا شروع کردیا اور سب کو ھدایت کردی کہ بختو اچھی عورت ھے اس پر شک نہیں کریں وہ خود تحقیقات کرے گا۔ دوسری طرف شاکر نے میری نند کو واپس کراچی بھیجا تا کہ وہ اپنے سسرال میں فوجی آفیسر سے بات کرکے تحقیقات شروع کروائے اور پولیس میں کیس درج کروائے۔ مجھے رھ رھ کر ماسٹر پر غصہ آرھا تھا کہ مجھے نشہ کی لت پڑ گئی تھی مجھے ھر روز چرس کی ضرورت تھی تاکہ دماغ پرسکون ھو کر کچھ نیا سوچے، مگر وہ نکما ڈر کر بھاگ گیا تھا۔ بھر حال حسب توقع آدھی رات کو نمبر دار دھوتی باندھے آن وارد ھوا، دروازہ کھول کر جب میں نے اسے گھر اندر گھسا لیا تو اسنے تسلی دی کہ جو اصل بات ھے وہ مجھے بتا دے پھر میں اسے بچالوں گا، لیکن میں نے اپنا راز چھپاتے ھوئے اسے بتایا کہ میں چرس کی عادی ھوگئی ھوں تو اسکا انتظام کروادے ، جو تو بولے گا میں کرنے کو تیار ھوں۔۔ اس نے گھری سوچ کے بعد کھا کہ اتنا تو سچی بتا دے کہ کیا تجھے چرس کی عادت ماسٹر سے لگی ھے، میں نے اقرار میں سر ہلایا تو اس نے کھا کہ بس پھر سمجھ تیرا کام ھوگیاھے، تو مجھے خوش کردے تو میں اسی ماسٹر کو پھر سے گاؤں میں لے آوں گا۔ نمبردار جسکا نام عزیز تھا مگر سب اسکو نمبردار ھی کھتے تھے، ایک نمبر کا خرانٹ آدمی تھا، گاؤں سے باھر اس نے اوطاق بنا رکھی تھی اور شادی نہی کری تھی کہ اسکا کام ادھر ادھر منہ مارنے سے چل رھا تھا، بھرحال نمبردار کرسی سے اٹھ کر میری مخصوص چارپائی پر میرے پاس چلا آیا اور ادھر ادھر کی بونگی مارنی شروع کر دی ۔ باتیں کرتے کرتے اس نے میرے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا، اور مالش کرنے لگا میری نرم کلائی کی، باتیں بھی کرتا رہا ۔ اسنے اچانک میرے ہونٹوں پہ کس کردی میں نے کوی ری ایکشن نہیں دیا تو وہ شیر ہو گیا۔ باتیں کرتے کرتے اب دوبارہ سے ایک ھاتھ اس نے میری گردن پہ رکھا اور ھونٹوں کو لگاتار کس کرناشروع کردیا تھا ۔ میں تھوڑی دیر تو ویسے بیٹھی رہی پھرجب اس نے تیسری بار دوبارہ میرے ھونٹوں کو چوسنا سٹارٹ کر دیاجو مجھے بہت اچھا لگ رھا تھا۔ اب اسنے مجھے پیچھے کی طرف چارپائی پر گرادیا ، اور میرے جسم کی نرمی وگرمی سے وہ بھی مزے کے ساتویں آسمان پہ پہنچا ہوا تھا۔ اس نے میری گردن پہ کس سٹارٹ کی ۔تو وہ میرے بدن کے اوپر تھا اور اسکا لن کبھی میری چوت کے ساتھ ٹچ ہو رہا تھا کبھی پیٹ کے ساتھ۔ وہ میری گردن سے کس کرتا ھوا قمیض کے اوپر سے بوبس پہ آیا تو میرے بڑےبڑے اور روئی کی طرح نرم و ملائم پستان کی تو کیا بات تھی، وہ بھی تعریفیں کرنے لگا۔ اب اس سے رھا نہیں جا رہا تھا۔ اسں نے میری قمیض اوپر کی اور سفید پیٹ کو دیکھ کہ پاگل ہو گیا اور اسے چومنا اور چاٹنا شروع کر دیا۔ وہ پاگلوں کی طرح میرے پیٹ کو پیار کر رہا تھا۔ اس نے اب ایک ھاتھ سے میری قیمیض کو اوپر کرنا سٹارٹ کر دیا اب کی دفعہ میں نے نہیں روکا۔ اب نمبردار نے تھوڑی سی قیمیض اور اوپر کی تو میں نے اپنی کمر کو اوپر کر کے قیمیض اتارنے کا اشارہ کر دیا۔ میں نے بھی جلدی سے اس کی قیمض اتار دی۔ میں نے اس دن بلیک رنگ کا براہ پہنا ہوا تھا۔ جس سے میرے بوبس باہر آنے کو تڑپ رہے تھے۔ نمبردار نے ایک جھٹکے سے بختوکا بریزیر اوپر کیا اور دونوں ہاتھوں سے دونوں بوبس کو دبانے لگا۔ اف اتنے نرم وگرم۔۔۔ کہتے ھوئے وہ اور زور زور سے دبا رھا تھا۔ میں کہتی بھی رھی کہ آرام سے یار۔۔۔۔ پھر اس نے دائیں پستان کو اپنے منہ میں لے لیا اور بائیں کو ہاتھ سے دبا رہا تھا۔ اب میں بھی آہستہ آستہ مزے کی آوازیں نکال رہی تھی جو اسکو سمجھ نہیں آرہی تھی۔ نمبردار کبھی دائیں پستان کو منہ میں لیتا کبھی بائیں کو 10 منٹ تک وہ میرے یعنی بختو کے پستان کو سک کرتا رہا ۔ پھر پستان کو سک کرتا ھوا نمبر دار میرے منہ کی طرف آ گیا اور میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے لیا۔ میں بھی اب کسنگ کا فل رسپانس دے رہی تھی۔ اب وہ اپنا ایک ھاتھ میرے پیٹ پہ پھیرتا ھوا نیچے کی طرف لے آیا۔جب اسکا ھاتھ پھدی کے اوپر آیا تو وہ جگہ گیلی ھوچکی تھی۔ اب زرا دیر بعد نمبردار میری ٹانگوں میں بیٹھا ھوا تھا اس نے جیسے ھی۔میری شلوار میں ھاتھ ڈال کے نیچے کرنے لگا تو میں نے اسکا ھاتھ پکڑ لیااور کہتی رھی کہ ابھی نہی زرا صبر کرو۔ نہ نہ شلوار اتارو۔ اور اسے بازو سے پکڑ کے اپنے اوپر کر لیا۔ اور میں اسکی قمیض کے بٹن کھولنے لگ گی۔ پھر اس نے الٹا لیٹنے کو کہا تو وہ میری پیٹھ پر ھاتھ پھیرتا میری گانڈ سے کھیلنے لگ گیا کبھی ایک پاسے کو پکڑتا کبھی دونوں کے درمیان ھاتھ پھیرتا کبھی انگلی رکھ کر سوراخ کو چیک کرتا کافی دیر الٹا لیٹنے کے بعد میں سیدھی ھونے لگی۔ ادھر جگہ کم ہے زمین پر لیٹتے ھیں تو میں نے کھا کہ میں چداونگی تو اسی چارپائی پر، مجھے ادھر ھی مزہ آتا ھے، پھر اسے لبھانے کی خاطر میں الٹا لیٹ گیی۔ اب اس نے میری گردن پہ کسنگ سٹارٹ کر دی۔اور کسنگ کرتا ہوا کمر پہ آگیا اور اسی طرح کسنگ کرتا ہوا نیچے آتا گیا۔ اب اس نے بٹک پہ پھر سےکسنگ سٹارٹ کردی اور کبھی زبان اسطرح سے گانڈ کی لائن میں پھیرتا کہ میں مزے سے تلملا جاتی تھی۔ نمبردار اب میری پھدی دیکھنے کے لیے بیتاب ہو رہا تھا۔ اس کو فیقے نے میرے متعلق بھت کچھ بتا دیا تھا، اور جب اس نے پھر سے مجھے دونوں ھاتھوں سے سیدھا کیا ۔ تو میں جیسے ہی سیدھی ہوئی میں نےاپنی ٹانگوں کو جوڑ لیا۔ اس نےجب میری ٹانگوں کو کھولا تو میں شرمانے کی ایکٹنگ کررہی تھی، میں نے ایک ہاتھ اپنی چوت پر رکھ دیا اور پاوں کی مدد سے بھی چوت چھپالی یا راستہ بند کردیا۔ نمبر دار میرے سامنے بلکل ننگا تھا اور اسکا لن میری پھدی میں جانے کے لیے تڑپ رہا تھا۔ جبکہ میں بلکل ننگی اسکے سامنے لیٹی ھوی نخرے کررھی تھی، میری چوت گیلی تھی۔ کچھ دیر وہ میرے نخرے برداشت کرنے کی کوشش کرتا رھا اور لگا میری تعریف کرنے کہ۔۔۔ پورے گاؤں میں تیری جیسی مٹیار نہی، کیا ریشمی بدن ھے تیرا۔ اب اس نے میری ٹانگوں پر ھاتھ پھیرنا شروع کیا مجھے گرم کرنے کے واسطے، آخر کار میں نے ٹانگیں کھول ھی دیں تو پھر اس نے ایک ھاتھ سے اپنے لن کو میری پھدی پہ سیٹ کیا اور لن کو اندر کی طرف پش کیا پھدی گیلی تھی جس کی وجہ سے لن آسانی سے اندر گیا۔ جیسے لن اندر گیا تو میں نے ہلکی سی آہ اوہ کی آوز نکالی اسں نے اپنا منہ میرے منہ پہ رکھ دیا تاکہ زیادہ آواز نہ نکلے۔ پھر ایک اور جھٹکا مارا اور پورا لن اندر چلا گیا۔ جس پر بھی میں نے تڑپنے کی اداکاری کی جس سے وہ اپنے آپ کو بڑا چودو سمجھنے لگا ۔۔۔ لگا شیخیاں مارنے کہ۔میں نے فلاں کی بیوی کو بھی چودا ھے تو فلاں چوھدری کی نوح کی بھی لے لی ھے۔۔۔۔ لیکن بختو تیری تو پھدی ھی ٹیٹ ھے فیقا نے پھر کیسے مشین چلائی ھے۔۔جو ابھی تک تیری پھدی تنگ ھے واہ کیا مزہ ھے ۔ لیکن فیقا تیری تعریفیں بڑی کرتا ھے۔۔۔پھر اس نے اپنے تیئں زور زور سے جھٹکے مارنے شروع کر دیے اب اسکے جھٹکوں کا میں بھی جواب دے رہی تھی۔ پھر اچانک میں نے اسکے لن کو زور سے چوت میں بھینچا اور 3 سیکنڈ بعد چھوڑ دیا۔ اسکو بھی ساکن کردیا میں نے ۔۔۔ پھر وہ لگاتار جھٹکے مارتا رہا جب فارغ ہونے پہ آیا تو ڈکرانے لگابولتا بختو دل کرتا کے اپنے ٹٹوں کو بھی اندر گھسا دوں۔ میں بولی ڈال سکتے تو ڈالدو میں نے کب منع کیا ھے پھر چوت کے اندر ہی فارغ ہو گیا اور بے سدھ ہو کے میرے پے ڈھے گیا پھر اسکالن آہستہ آہستہ سکڑ کے باہر نکل آیا۔ کچھ دیربعد اوپر سے ہٹ کے ایک طرف ہو گیا۔ اس نے زرا دیر بعد اب لیٹے لیٹے ایک ٹانگ میرے جھانگوں کے اوپر رکھی اور میرے بوبس سے کھیلنے لگ گیا۔ دودھیا رنگ کے ممے اسے بہت پیارے لگ رہے تھے اس نے بوبس کو مسلنا شروع کر دیا اور ادھر کچھ ھی دیر میں لن دوبارہ کھڑا ھو گیا۔ میں نے اسکی تعریف کرتے ھوئے کھا کہ واہ جی شیر تو پھر تیار ہو گیا ہے اس نے کہا تم ہو ہی اتنی پیاری اس میں شیر کا کوئی قصور نہیں۔ اس نے میرے مموں کو منہ میں لے کے سکنگ شروع کر دی اتنی دیر میں میں نے سگریٹ پی لی تو دوبارہ گرم ہو گئی۔ اب کے وہ اوپر لیٹ کے مموں کو منہ میں لے رہا تھا اور پورا مما منہ میں ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا جس میں کسی نہ کسی حد تک کامیاب بھی ہو رہا تھا۔ میں اسکے سر پہ ہاتھ رکھ کے نیچے کودبا رہی تھی۔ اور نیچے سے اوپر ہو کے اپنی پھودی کو لن کے ساتھ مسل کے اندر لینے کی کوشس کر رہی تھی۔ وہ جان بوجھ کے اندر نہیں کر رہا تھا اور مجھے تڑپا رہا تھا۔ پھر اسے سائیڈ پہ کر کے میں اسکے اوپر آ گئی۔ اب پوزیشن یہ تھی کے میں اسکے لن کے اوپربیٹھی تھی۔ اب میں نے اسکے سینے پہ کسنگ سٹارٹ کر دی پھر میں تھوڑا سا اوپر ہوئی اور لن کو سیدھا کر کے اوپر بیٹھ گئی، لن کڑچ کر کے پھر سے میری چوت میں اندر گیا اور میرے منہ سے ہلکا سا اوئی نکلا پھر میں اوپر نیچے ہونا شروع ہوگئی۔ وہ دونوں ہاتھوں سے میرے ممے دبا رہا تھا، اچانک میں نے اپنی سپیڈ تیز کی اور پھر یکدم روک دی تب اس نے مجھے کو سائیڈ پہ کرکے لٹادیا اور اٹھ کر میری ٹانگوں کے درمیان آگیا۔ اب اس نے میری ٹانگیں اوپر اٹھائیں اور لن کو پھدی پہ رکھ کے پش کر دیا۔ میں 10 منٹ تک اسی طرح چدائی کراتی رہی اتنے میں ایکبارپھر فارغ ہو چکی تھی، لیکن خرانٹ نمبردار فارغ ہی نہیں ہو رہا تھا ۔ کچھ لمحوں بعد مجھےایسا لگا کہ اچانک سے اس میں بہت سا جوش آگیا۔ اس نے زور زور سے جھٹکے مارنے شروع کردئیے۔۔ کچھ دیر بعد وہ پھرسے میرے اندر ہی فارغ ہو گیا۔ پھر اٹھا کپڑے پہنے اور بولا واہ بختو مزہ آگیا۔۔۔۔ اب تو بتا کیا چاھتی ھے۔۔۔ مجھے نا۔۔ حکم کر تو بس۔۔۔۔ تو نا بس میری راتوں کو رنگین کردیا کر باقی میں جانوں تو پنڈ والے جانے۔۔۔۔ تیرے چرسی یار کو بھی واپس بلوالوں گا تاکہ تیرا نشہ بھی نہ ٹوٹے۔۔ ۔ باقی کراچی والوں سے ھشیار رھنا ۔۔۔ میں نے کھا کہ شاکر پنجاب سے ھمارے بیچے ھوئے مکان کے دو لاکھ روپے لایا ھے ، لیکن مجھے نہی دے رھا۔ اسکا کچھ کردے اس شاکر کنجر سے پیسے دلوادے اور تو دن میں چکر مارلیا کرنا باقی جب میں اشارہ کردوں اس رات آجایا کرنا۔۔۔ نمبردار کے آنے جانے سے گاؤں والوں پر اب میرا رعب پڑنے لگا، لیکن جو عورتیں اسکی خصلت سے واقف تھیں وہ تو سمجھ گئی کہ نمبردار کی رکھیل بن گئی ھے بختو۔۔۔۔ بدقسمتی ماسٹر کی جس دن اسکا تبادلہ کھیں اورھونا تھا، نمبردار بھی مجھے ساتھ لیکر اسی دن آفس پھنچ گیا تھا ، اس نے ماسٹر کی آفیسر کے سامنے اتنی تعریفیں کردیں کہ دیکھو جی گاؤں والے بھی اسکے واسطے آفس چل کر آگئے ھیں۔۔ نیا بدلی کا آرڈر کینسل کرکے،ماسٹر غنی کو ھمارے ساتھ ھی نمبردار کی ھی گاڑی میں روانہ کردیاگیا ۔ سارے رستے نمبردار اسے تسلیاں دیتا رھا کہ کچھ نہی ھوا گاؤں والوں کی باتوں میں نہ آیا کر میں ھوں نا۔۔۔۔ تو بس بختو کو چرس پلایا کر خرچہ میں دے دیا کروں گا۔۔ موالی کو آسرا ملا۔۔۔۔ چرس۔۔۔ کا تو خوش ھوگیا۔۔۔ نادان۔۔ شاید یہ کوئی چھٹے دن کی بات ھے جب اچانک سے پولیس نے گھر کا گھیراؤ کیا، اور زرا سی دیر میں لیڈیز پولیس کتوں کو لیکر گھر اندر داخل ھوئیں۔۔۔ تو تین فوجی بھی ساتھ تھے۔۔۔۔ فیقہ ۔۔۔شاکر ۔۔۔۔ شبیر کا بھانجا۔۔۔ نمبردار بھی زرا دیر میں آپہنچا۔ الغرض کتوں کی وجہ سے سارا گاؤں ھی اکٹھا ھوگیا۔۔ ۔ ایس ایچ او کی تو فوجی نے وہ بے عزتی شروع کردی کہ توبہ۔۔۔ گاؤں والوں کے سامنے کہ کتنے دن سے تجھے کھا ھے تو نے ابھی تک تفتیش کے نام پر ایک دورہ بھی نہی کیا گاؤں کا۔۔۔۔ اس نے کھا کہ جی نمبردار نے ضمانت دی تھی کہ وہ ساری معلومات کرکے مجھے اطلاع دے گا۔۔۔۔ تو میں خاموش تھا اور اب آپ خود آگئے ھیں تو سب ٹھیک ھو جائے گا ۔۔ کتوں کے بھونکنے سے میرے تو رنگ ھی اڑ گئے تھے۔۔۔۔ بلیک ھاونڈز تھے اونچے قد بڑے بڑے جبڑے پھاڑ کے جب وہ بھونکے تو گاؤں والوں کا جم غفیر جمع ھوگیا۔ میجر روف نے پھلے سب کے سامنے تقریر کرتے ھوئے کھا کہ میرا رشتہ دار شبیر کئی دنوں سے لاپتہ ھے اگر کسی کو اس کے بارے میں علم ھے تو بتا دے ۔۔۔۔ورنہ بعد تفتیش کے میں نے کتے چھوڑ وادینے اس پر ۔۔۔ ماسٹر بھیڑ میں سے کھسکنے لگا، شاکر نے فوجی کو اشارہ کیا تو اس نے گریبان سے پکڑ کر کتوں کے پاس لاکھڑا کردیااسے۔ اسکی تو گھگھی بندہ گئی لگا کانپنے ایسے میں نمبردار نے بات کو سنبھالا کہ۔۔۔ صاحب جی دیکھو ایسے کسی پر الزام۔مت لگائیں گاؤں والوں نے شبیرکو آتے نہی دیکھا۔۔۔ اب اگر آپ کتے لے ھی آئیں ھیں تو یہ سب کچھ ظاھر کردیں گے۔۔۔۔ تماشہ لگانے کی کیا ضرورت ھے۔۔۔ جو جواب دار ھوں گے وہ ظاھر ھوجائیں گے قانون والے آپکے ساتھ ھیں ۔ شاکر تو جل بھن گیا وہ میری طرف اشارہ کرتے بولا کہ یہ وہ گشتی عورت بختو ھے، اسی نے کچھ کیا ھوگا اپنے یاروں کے ساتھ مل کر۔جسے چاھے رات کو بلوالیتی ھے ۔۔۔۔ اس بات پر نمبردار لڑنے پر آمادہ ھوگیا تو سارے گاؤں والوں پر الزام لگاتا ھے۔ تو بھی تو ھوکر گیا ھے اسی در سے مکھن کھا کر گیا ھے۔ جمیل ان کے پڑوسی سے جو تو دو لاکھ روپے لایا ھے، وہ دے کیوں نہی دیتا۔۔۔ رن بے چاری کو۔۔۔۔ صاحب جی کیا پتہ اس نے رقم کے تقاضے پر ھی شبیر کو ۔۔۔کھڈے لائن لگا دیا ھو۔۔۔ اور اب ھم شریفوں پر الزام لگا رھا ھے، میں نے بھی موقع دیکھ کر صاحبوں کے سامنے چادری اتاری، تو پہلی دفعہ ایس ایچ او کی آنکھوں میں ھوس کی ڈوریں ھلتی نظر آئیں مجھے، اس نے نمبردار کے کان میں بھی کچھ سرگوشی کی۔۔ میں رونے لگی کہ ایک تو میرا خصم لاپتہ ھے اور اس پر اب بدچلنی کے الزام بھی مجھ پر لگائے جارھے ھیں ۔۔۔میں بولی کہ صاحب جی یہ شاکر نے چاچے فیقے کے سامنے بتایا تھا کہ یہ ملتان سے ھمارے بیچے گئے مکان کے دولاکھ روپے لیکر آیا ھے، لیکن مجھے نہی دے رھا کہتا کہ شبیر کو ھی دوں گا۔ اب شاکر کی پھرنیاں بن گئی تھیں، لگا آئیں بائیں شائیں کرنے کہ میں نے کب کھا کہ میں۔ رقم لایا ھوں۔۔۔ میں نے کھا کہ صاحب جی میں پتہ نہی کیسے مشکل سے گزارے کرتی ھوں ۔۔۔۔ مجھے پتہ ھے۔۔ لیکن یہ شاکر کھتا کہ میں تجھے پیسے نہی دوں گا۔۔۔۔ اور اس بھانے دو تین دفعہ کھانابھی کھا گیا ھے۔۔۔ اوراب دوسری الزام تراشیاں کرکے ھمارے دو لاکھ پھبانے کے چکر میں لگتا ھے۔ بھرحال کتوں کو سونگھانے کے واسطے انھوں نے کپڑے مانگے تو میں نے صندوق سے نیا جوڑا نکال کر دیا، تو کتوں کے ٹرینرز نے اس پر اعتراض کردیا کہ یہ تو صابن سے دھلے ھوئے ھیں۔ اس میں تو پسینے کی بو نہی آتی تو کتے اسکی نشاندہی کیسے کریں گے۔ میں نے کھا کہ صاحب جی میرا خصم تو چھ ماہ سے گھر نہی آیا جو بھی پرانے کپڑے ھیں وہ تو میں سب دھو چکی ھوں۔ اتنے عرصے تک تو میں گندے کپڑے نہی سانبھ سکتی نا۔۔۔۔ نمبردار اور ماسٹر غنی کے علاوہ سب کے چھروں پر مایوسی چھاگئی۔ لیکن شبیر کے بھانجے نے اپنے ساتھ لائے گئے تھیلےسے شبیر کا جوڑا نکال کر روف صاحب کے سامنے پیش کردیا۔۔۔۔۔ تو اب میرے اوسان خطا ھونے لگے۔
  10. 5 likes
  11. 5 likes
    ل ن کمائی ۔۔۔ سب نے کھائی اپڈیٹ 14 ابھی میں مومل اور اسکی سھیلی کی چدائی اور پھر کلرک سے اسکی خاطر لڑائی کے واقعات نوشی کو سنانا چاھتا تھا کہ اچانک میرے فون کی گھنٹی بجنے لگی جو مجھے ماضی سے واپس حال میں کھینچ لے آئی۔ میرے چچازاد بھائی کرڑ کا فون تھا جو مجھے اس بات کی اطلاع دینا چاھتا تھا کہ میری بھیجی ھوئی دس لاکھ کی رقم سے اپنے گھر کی دیواریں اٹھا کر اس پر چھت تو ڈلوالی ھے، میں آکر دیکھ لوں اور انھیں مزید مشورے دینے کے ساتھ ساتھ پلاستر اور دیگر کام کروانے کے لئے انھیں مزید رقم ادھار بھی دے دوں ، پھر اس نے میری والدہ سے بھی میری بات کروادی جب انھوں نے بھی انکو مزید ادھار دینے کی سفارش کردی تو میں نے اسے کھا کہ اکاؤنٹ نمبر sms کردو میں بینک جاکر رقم بھجوادوں گا۔ نوشی نے پوچھا کس کافون ھے؟ جس کو آپ مزید ادھار پیسے دینے کو تیار ھیں؟۔ تب میں نے اسے بتایا کہ میرے چچا زاد ھیں یہ میرے خاندان کےوہ لوگ ھیں کہ جب ھم پر مصیبتیں آئی ھوئی تھیں ، ھم پر غربت چھائی ھوئی تھی تو یہ لوگ ھماری مدد کرنے کے بجائےھمارے گھر والوں کا مزاق اُڑایا کرتے تھے، ھمارے پورے گاؤں کی زمینوں میں سیلاب کا پانی مھینوں کھڑا رھاتھا ھمیں مجبوری میں نقل۔مکانی کرنی پڑی تھی اور کھیں سے کچھ امداد ملنے کی امید نہ تھی تو ھم ان چاچا والوں کے گھر رھنے چلے گئے تھے۔ چند دنوں کے بعد ھی انکی بیزاری و طعنہ زنی دیکھ کر والد صاحب نے ھم بھائیوں کو رازا مستری کے ساتھ کام کرنے پر لگا دیا تین سو روپے دھاڑی پر۔۔۔ بھائیوں نے اس کام میں زیادہ دلچسپی نہ لی اور پرائی زمینوں پر کام کرنے کو ترجیح دی، جبکہ والد صاحب خود کسی زمین دار کی زمینوں پر کمدار لگ گئے۔ عرصہ ایک سال کے اندر میں اچھا خاصا مستری بن گیا لیکن میں نے وہ کام چھوڑ کر ٹائل مستری کا کام سیکھنا شروع کردیا کہ اس میں دھاڑی بھی زیادہ تھی، ٹھیکہ میں کام مل جائے تو بچت بھی زیادہ اور بھت محنت بھی نہ کرنی پڑتی تھی۔ بدقسمتی سے جب ھمارے گاؤں کی زمینوں کا پانی سوکھ گیا تو آس پاس کے زمینداروں نے ری رائٹنگ سسٹم کے تحت کاغذی کارروائی میں ھماری زمین اپنے نام لگوالی تھی۔ ھم چوں کہ اپنے علاقے سے دور آکر رھنے لگے تھے اور ریوینیو آفس اپنی مصروفیات کے باعث آنا جانا بھی نہی ھوتا تھا تو ھمیں خبر ھی نہ ھوئی۔ والد صاحب نے سیاسی طاقت ور لوگوں سے ملاقات کی لیکن وہ بھی طوطا چشم نکلے، بلکہ جس زمیندار کے پاس میرے والد کمدار تھے ، انکو بھی ورغلایا کہ انکو فارغ کردے۔ پھر ایک اور مصیبت ھم پر یہ گری کہ اس زمیندار کےھاری لوگ آپس میں لڑ پڑے اوطاق پر پڑی گن ایک گروپ والے کے ہتھے چڑھ گئی تو اس نے مخالفین کے دو بندے مار گرائے اورموقع سے فرار ھوگیا، زمیندار نے اپنی جان چھڑانے کی خاطرگن میرے ابو کے نام کرکے ابو کو انکے ساتھ نتھی کردیا کہ گن اس نے لا کر دی استعمال کے لئے۔ اب میرے ابو جیل میں ھم نے کوشش کرکے ایک پلاٹ خرید لیا تھا مستری ھم خود ھی تھے تو سستے میں گھر بنا لیا۔ خوش قسمتی سے مجھے ٹائل۔ماربل کے ٹھیکے ملنے لگے تو زرا سی والدہ کو راحت ملی، وہ کھا کرتی تھی کہ بارانی میں چاھتی ھوں کو تو اتنا پیسا کمائے کہ اپنے پرائے کو دیا کرے خیرات میں، جو کچھ عرصہ پہلے تک ھماری غربت کا مزاق اڑاتے ھیں انکی تو ھیلپ کیا کرے۔ تاکہ میرا سر فخر سے بلند ھو سکے کہ دیکھو بچل بارن کی اولاد اب دوسروں کی مدد کرتی ھے، ھم کسی کے محتاج نہ ھوں لوگ ھمارے سے ادھار لینے کے متمنی ھوں۔۔۔ تیری کمائی۔۔۔سب کھائیں۔۔ نوشی نے تاڑی بجا کر میری اماں کو داد دی۔۔ کہ بھت اچھاسبق سکھایا تیری اماں نے کہ بدلے لینے کے بجائے ان پر احسان کرنے کی ترغیب دی۔۔۔واہ وا ۔ میں نے کھا کہ یہ جو تو شرطیں ورطیں رکھتے مجھے دیکھتی ھے نا ۔۔۔۔ یہ ھے میرے ل ن کی کمائی ۔۔ رشتہ داروں ، پڑوسیوں ، ھمدردوں یہاں تک کے دشمنوں نے بھی کھائی ھے، مجھے پتہ ھے کہ اتنا سارا میرا ادھار یہ واپس نہی دے سکتے نا ھی یہ لوگ دینگے ، لیکن میری ماں کا حکم ھے ۔۔۔ کہ جس کے لئے وہ بولتی ھیں اسکی طرف اچھی خاصی رقم بھیج دیتا ھوں۔ اپنے دوستوں جنھوں نے مصیبت کے وقت ھمارا اچھا ساتھ دیاتھا، میرے وہ بھائی جو دوسرے کی زمینوں پر کام کرتے تھے ، جن کے طعنے مجھے ملتے تھے کہ خود گھر بیٹھا ھے بھائی اسکے پرائی زمینوں پر کام کرتے ھیں، ( دراصل برسات کے دنوں میں ٹھیکے کے کام بند ھوتے تو میں دو دو ماہ تک گھر بیٹھا رھتا)آج ان بھائیوں کی شادی کرواکے گھربھی الگ الگ سے میں بنواکر دے چکا ھوں۔ کئی رشتے داروں کو گھر بنواکر دے چکا ھوں، میرا اپنی مرغی فارم پر کنٹرولڈ شیڈ کاکام مزید جاری ھے۔ میری اماں کھتی ھے کہ جب تیرا ابا چھوٹ کر آئے تب تک ھم پورا اپنا گاؤں بنواچکے ھوں تاکہ وہ بچل بارن گوٹھ کی اوطاق میں پھر سے اپنی مونچھوں کو تاؤ دے کر فخر سے کہ سکے کے یہ سب میری اولاد کی کمائی ھے۔ تب نوشی نے کھا کہ یہ سب تو ٹھیک ھے لیکن اتنا دور کراچی آپکی آمد کیسے ھوئی اور کیسے میڈم سلمیٰ سے ملاقات ہوئی اور یہ انجوائے گروپ بنا بیٹھے۔ میں مسکرادیا اور بولا تمھیں پتہ ھے میری ملاقات میڈم سلمیٰ سے ڈیفینس تھانے کے لاکپ میں ھوئی تھی، تو ان دونوں کی آنکھیں حیرت کے مارے پھٹنے والی ھوگئیں۔ پھر دونوں یک زباں ھوکر بولیں کہ وہ کیسے ؟ تو میں نے کھا کہ ابھی تو مجھے بینک جانا ھے اپنی ماں کا حکم پورا کرنے پھر کسی دن ماضی کے سفر پر نکلے تو یہ بھی بتا دوں گا۔ میں نے نوشی کو ڈراپ کیا بینک سے ھوکر میں واپس آرھاتھا کہ ایک موڑ پر ٹریفک جام کی وجہ سے رکنا پڑا، کچھ لوگ کسی لڑکے کو پیٹ رھے تھے، میں نے زرا غور سے دیکھا تو وہ شنکر تھا، اس نے بھی مجھے دیکھتے ھی مدد کے لئے پکارا اب مجھے مداخلت کرنی پڑی ، پیٹنے والوں کو روکنے کے واسطے ایک دو کو لاتیں مکے بھی دے ماریں تاکہ شنکر کی گلو خلاصی ھو ، اور مارنے کی وجہ معلوم ھو۔ پتا چلا کہ شنکر کی بائک کسی گاڑی سے ٹکرائی تھی جبکہ شنکر کا موقف تھا کہ غلطی اسکی نہی تھی ، لڑکی اناڑی تھی رانگ سائڈ پر آکر وہ اسکی بائک سے ٹکرائی تھی، لیکن چونکہ وہ مجسمہ حسن تھی تو اسکے سامنے نمبر بنانے کے چکر میں کئی عاشقوں نے شنکر کی پٹائی کرڈالی، میں مسکرا دیا تو اس نے کھا کہ وہ سامنے جو بلیک جی ایل آئی کھڑی ھے اس میں مغرور حسینہ بیٹھی ھے ، جو روڈ بلاک کر کے کسی کو فون پر بھی بلا رھی ھے۔ خیر میں نے مسئلہ ٹالنے کے لئے لوگوں کے سامنے شنکر کو گلے سے پکڑا اور گاڑی کے قریب گیا، تو مجھے وہ حسینہ نازنینا دیکھی بھالی لگی، جب میں نے شیشہ ناک کیا، اسے اپنی طرف متوجہ کیا تو اس نے مجھے دیکھتے ھی موبائیل بند کرکے نیچے رکھا اور گاڑی سے نیچے اتر آئیں، اور میرے بائیں ھاتھ میں شنکر کی گریبان دیکھ کر زرا خوش ھوئی اور کھنے لگی بارانی صاحب میں میڈم سلمی کی پڑوسن زرشا ھوں، (جنکے بنگلے پر ٹائل وفنشنگ کا ٹھیکہ آپکو میڈم سلمی نے دلوایا تھا پاپا سے) اس لڑکے نے میری نیو گاڑی کا لیفٹ سائڈ مرر توڑ دیا ھے، اب میں پاپا کو کیا بتاؤں گی کہ کیسے ٹوٹا ھے اس لئے میں نے پولیس منگوالی ھے تاکہ اس اوباش کو سزادلواسکوں اور خود پاپا کے سامنے عزرپیش کرسکوں، جب اسکی باتوں میں بریک آیا تو میں نے کھا کہ اگر تم مجھے جانتی ھو تو میں اسے جانتا ھوں ، میں اسکی ضمانت دیتا ھوں کہ یہ کھیں بھاگ کر نہی جائےگا، اب چلو شاباش گاڑی سیدھی کرو تاکہ ٹریفک کھل سکے ، میرا گھر قریب ھی ھے وہاں پر بیٹھ کر بات چیت کرتے ھیں تاکہ فیصلہ کر سکیں، اس نے لجاجت سے مجھے دیکھتے ھوئے کھا کہ مجھ سے نہی ھو رھی ٹینشن میں۔۔ گاڑی سیدھی ۔۔۔۔ اسی لئے تو میں نے اپنے ڈرائیور کو بھی بلوایا ھے، آپ کردو میں اسکی گریبان پکڑتی ھوں۔ میں نے مسکراتے ھوئے کھا کہ اسکو پکڑنے کی اب ضرورت نہی، یہ میرے جاننے والا ھے کھیں نہی بھاگے گا۔ شنکر نے بھی سر ھلا کر جی صاحب جی، ۔۔۔۔ میں نہی بھاگتا اب کہیں …. اور میں نے گاڑی میں بیٹھے تھوڑا ساریورس کرکے گاڑی سیدھی کردی تاکہ ٹریفک رواں دواں ھوجائے، تب تک اسکا ڈرائیور بھی آگیا۔ اب جو میں نے زرشا کے سراپے پر غور کیا تو واقعی حسن کا پیکر تھی، کتابی چھرہ ،ستواں ناک، بڑی سائز کے ممے ، پیچھے کو نکلتی گانڈ نہ، جیسے تراشیدہ حسین مجسمہ کھلے گریبان سے وائٹ بریزی کے دکھتے نظارے، رسیلےگلابی سے ھونٹ ، جس پر وہ زرا زرا سی دیر میں زبان پھیرتی، میرے بھی منہ میں پانی آنے لگا تھا۔ ئیگ میں نے تھوڑی دیر اسکا جائزہ لینے کے بعد پلان کے تحت اسے کھا کہ ڈرائیور کو بلاؤ، اس نے پوچھا کیوں تو میں نے کھا کہ بلاؤ تو سہہ بتاتا ھوں۔ اسکے ڈرائیور کو میں نے کھا کہ میری گاڑی کو فالو کرو، زرشا کو اپنی گاڑی میں بٹھایا، جبکہ شنکر کو کھا کہ بائک لیکر میرے گھر پر آجاؤ۔ میرے گھر کے مین گیٹ کے پاس میں نے زرشا کے ڈرائیور سے پوچھا کہ نیا شیشہ کتنے کا لگ جائے گااور کتنا وقت لگے گا دو سے تین گھنٹے کا وقت اس نے اندازہ بتایا تو اسکی بتائی ھوئی رقم سے دگنی پیمنٹ اسکے ھاتھ پر رکھ کر میں نے اسے بتایا کہ کمپنی کا سیم کلر کا شیشہ لگوالے باقی رقم خود رکھ لے لیکن کسی کو میم صاحبہ سے شیشے کے ٹوٹنے کا ذکر نہ کرے، پھر سیدھا ادھر آکر میم صاحبہ کو لے جانا۔ جی سر کرتے جب وہ پلٹا تو زرشا نے بولا کہ آپ نے کیوں پیسے دیئے اسے ، خود ھی پاپا کے کھاتے میں لگوالیتا، تب میں نے اسےسمجھایا کہ اگر وہ انکے کھاتے میں لگواتا تو پاپا کو جواب بھی تو دینا پڑتا آپ کو، اسطرح وہ انعام ملنے کی خوشی میں چپ بھی رہ جائیگا اور کام بھی ھو جائیگا۔ بڑے چالاک وعقلمند ھو آپ سے تو پکی دوستی رکھنی پڑے گی، میں نے کھا کہ میں دوستی میں حدود کو کراس جاتا ھوتا ھوں، سوچ سمجھ کر رکھنا۔ ھاں اس نے کھا کہ میں بھی حدود کو کراس کرجانے والے کو ھی دوست بناتی ھوں، میں نے اسکی تعریف کرتے ھوئے کھا کہ پھر تو۔۔۔۔خوب گذرے کہ جب مل بیٹھیں گے دیوانے دو۔۔۔۔۔ اتنے میں شنکر بھی آپھنچا تو دونوں کو اندر لے آکر اے سی والے کمرے میں بٹھایا، دونوں سے کھانی سنی تصفیہ کرادیا۔ شنکر کو میں نے آنکھ مارت ھوئے کھا کہ زرا بکریوں کو چارا ڈال دو، اور پین کلر گولیاں کھا کر جھگی میں آرام کرو ، کچھ بکریاں شام کو گاڑی میں لوڈ کرواکر بھائی کے گھر بھجوانی ھیں۔ کھانا ھمارے ساتھ کھانا ھو تو آجانا۔ جی صاب کھتا شنکر چلا گیا۔۔ تو زرشا کو میں نے کھا ملازم آج چھٹی پر ھیں تو تم بیٹھو میں کھانا گرم کر لاتا ھوں, لیکن وہ میرے ساتھ کچن میں آکر کھانا گرم کرنے میں میری مدد کرنے لگی۔ اس دوران کچن میں مختلف چیزیں اٹھانے کے چکر میں گھومتے چلتے پھرتے میں دو تین بار زرشا سے ٹکرایا ایک بار اسکی گانڈ سے ٹکرایا مگر وہ کچھ نہ بولی۔ بلکہ مسکرا کر چپ رہی۔ خیر پھر ہم دونوں ٹیبل پر پہنچے کھانا لے کر اور ساتھ ہی کھانے لگے ۔ کھانے سے فارغ ہوکر میں تو باتھ روم چلا گیا اور باتھ لے کر نکلا۔ تو زرشا برتن وغیرہ سمیٹ کر منہ ھاتھ دھو کر ٹی وی دیکھ رھی تھی۔ میں نے زرشا کے پاس بیٹھ کر اسکی معمولاتِ پوچھیں تو پتہ چلا کہ وہ انجینرنگ کے پیپر دےکر آجکل فارغ ھوئی تھی۔ اس نے ڈرائیور کو سینما کے پاس اتارا تھا جبکہ خود بوائے فرینڈ نواز کے فلیٹ اس سے ملنے جارھی تھی۔ میں نے موقع کی مناسبت سے اسکی سراپے کی تعریف شروع کردی، میں نے اسکے ڈریس سے لیکر سر کے بالوں تک کی تعریفیں کیں، جس سے اسکا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ میں صوفے پر سرکتا ھوا آہستہ آہستہ اسکے نزدیک پہنچا تو مجھے پتہ چلا اسکی سانس بھی کافی تیز چل رہی تھی۔ میں نے اسے کچھ نہیں کہا بلکہ اسکے برابر بیٹھ کر اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اسکی نرم ہتھیلیوں کو انگلیوں سے زرا دیر مسلا پھر اسکو اپنے لنڈ پر رکھ دیا وہ جیسے ہوش میں آگئی۔ ایکدم ہڑبڑا کر مجھے دیکھنے لگی، میں نے مسکراتے ہوئے اسکی آنکھوں میں دیکھا اور کہا کہ ھمیں بھی دوستی کا شرف بخشیں تو ھم آپکو مایوس نہی کریں گے ، بلکہ ھوسکتا ھے کہ اس سے زیادہ مزہ دے جائیں، اس نے کھا کہ میں دوستی تو کرلوں پر ڈرتی ھوں کہ آپ ھماری پڑوسن میڈم سلمیٰ کو نہ بتادیں ، میں نے قہقہہ لگایا اور اپنے سینے پر ھاتھ مارتے ھوئے کھا کہ زرشا، بارانی کے سینے میں پتہ نہی کتنوں کے راز دفن ھیں، جو کبھی باھر نہی آئے، آپ بھروسہ کرو تو کبھی بھی آپکاراز فاش نہ ھوگا۔ پھروہ کچھ نہ بولی اور نظریں نیچے کر لیں ۔ میں نے ہمت کر کے اسکے چہرے کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اسکے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی کس کی اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔ پھر میں نے اسکے ممے پر ہاتھ رکھ دیا وہ ایکدم کسمسا اٹھی۔ اب مجھ سے مزید دیر کرنا برادشت نہ ہوا اسے کھڑا کرکےدونوں ہاتھوں سےجکڑ کر سینےسے لگا لیا۔ مجھے بڑی مسرت ھوئی جب میں نے محسوس کیا کہ زرشا نے بھی مجھے اپنے دونوں ہاتھوں سے جکڑ لیا ہے اور اپنے بڑے بڑے مموں میں بھینچ رہی ہے۔ میری خوشی کی انتہا نہ رہی کیونکہ میرا آدھے سے زیادہ کام تو ہوچکا تھا۔ میں نے مزید وقت ضائع کیئے بغیر اسکی قمیض میں ہاتھ ڈالا اور اسکے ممے کو پکڑ لیا اور دبانے لگا اسکی سانسیں تیز ہونے لگی تھیں۔ اور اسکے ہونٹ کپکپا رہے تھے۔ وہ میری جانب دیکھ رہی تھی اسکی آنکھوں کے ڈورے سرخ ہونے لگے تھی اور آنکھیں آدھی کھلی اور آدھی بند تھیں۔ میں نے ایک بار پھر اسکے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے مگر اس بار میں نے ایک لمبی کس کی اور اسکے ساتھ ساتھ اسکے دونوں مموں کو دباتا رہا جس سے وہ کافی گرم ہو گئی تھی تقریباً چدنے کے لیے تیار۔ اب میں نے مزید آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا اور اسے کہا چلو میرے ساتھ وہ چپ چاپ چل پڑی، میں نےاسکا ہاتھ پکڑا اور اسکو لے کر اپنے بیڈ روم میں آگیا ۔ بیڈ کے پاس پہنچ کر میں نے اسکو کھڑا کیا اور اسکو اپنے ساتھ لپٹا لیا اور اسکی کمر پر ہاتھ پھیرتے پھیرتے اسکے کولہوں تک لے گیا اور انکا مساج کرنے لگا۔ زرشا نے اپنے کولہے سکیڑ کر سخت کر لیے۔ پھر میں نے اسکے گالوں پر کسنگ کی اس نے جو قمیض پہنی تھی اسکی زپ پیچھے کی طرف تھی میں نے واپس کمر تک ہاتھ لے جاکر اسکی زپ کھولی اور اسکی قمیض کو ڈھیلا کردیا۔ زرشا کی قمیض اسکے شانوں سے ڈھلک کر نیچے آگئی تھی۔ اور اسکا بریزر صاف نظر آرہا تھا جس میں سے اسکے بڑے بڑے دودھیا رنگ کے ممے اپنی بہار دکھا رہے تھے۔ میں نے زرشا کی قمیض کو اسی پوزیشن میں چھوڑ کر اسکی شلوار پر حملہ کیا اور میری حیرانی کی انتہا نہ رہی جب دیکھا کہ وہ شلوار میں الاسٹک استعمال کرتی ہے۔ میرے لیے تو اور آسانی ہوگئی تھی۔ میں نے ایک ہی جھٹکے سے اسکی پوری شلوار زمین پر گرا دی وہ خاموش کھڑی صرف تیز تیز سانسیں لے رہی تھی مگر کچھ نہ کہہ رہی تھی اور نہ ہی مجھے روک رہی تھی۔ اب میں نے اسکی قمیض کو بھی اسکے بدن سے الگ کیا وہ صرف برا میں رہ گئی تو اسکو اس تکلف سے بھی آزاد کردیا اب وہ پوری ننگی میرے سامنے ایک دعوت بنی کھڑی تھی میں نے اسکے پورے بدن پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا۔اسکا بدن ایکدم چکنا اور بھرا بھرا تھا اسکا جسم کافی گرم ہو چکا تھا۔ میں نے آہستہ آہستہ ہاتھ اسکی چوت کی جانب بڑھایا اور اپنی انگلی جیسے ہی اسکی چوت میں ڈالی وہ گیلی ہوگئی اسکا مطلب وہ کافی آگے جاچکی تھی اب مجھے اپنا کام کرنا تھا میں نے اسکو بیڈ پر چلنے کو کہا۔وہ خاموشی سے بیڈ پر لیٹ گئی اور مجھے دیکھنے لگی ۔ کہڑے اتارتے ھی میں نے مزید انتظار نہیں کیا اور میں بھی بیڈ پر چڑھ گیا اور اسکے اوپر لیٹ کر اپنا لنڈ اسکی ٹانگوں کے بیچ اسکی چوت کے منہ پر پھنسا دیا۔ اور اسکو چوت پر رگڑنے لگا۔ وہ بے حال ہو رہی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ پہلے کبھی اس نے سیکس کیا ہے اس نےمخمور لہجے میں ۔۔ ھاں ۔۔کہا ۔اپنے بوائے فرینڈ نواز کے ساتھ اور ابھی بھی اسی سے سیکس میٹنگ کرنے جارھی تھی۔ میں خوش ہوگیا کیونکہ اب زیادہ پریشانی نہیں تھی۔ میں نے بیٹھ کر اسکی ٹانگیں کھولیں اور اسکی چوت کے منہ پر لنڈ کو سیٹ کیا میرا لنڈ اسکی چوت کے پانی سے گیلا ہو کر چکنا ہوچکا تھا اور اندر جانے کو بے تاب تھا۔ میں نے تنے ہوئے لنڈ کو ایک زور دار جھٹکا لگایا اور میرا لنڈ اسکی چوت میں داخل ہوگیا اور اسی لمحے زرشا کا سانس ایک لمحے کو رکا پھر تیز تیز چلنا شروع ہوگیا۔ میں نے تھوڑا سا لنڈ باہر نکالا کیونکہ پورا اندر جانے کے لیے اسے تھوڑا سا پیچھے ہٹنا ضروری تھا۔ بس میں نے تھوڑا سا پیچھے کیا لنڈ کو اور ایک زور دار جھٹکا مارا اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا پورا لنڈ اسکی چوت کے اندر داخل ہوگیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب اسکے منہ سے آہیں نکل رہی تھیں۔ اسکو اپنے جسم میں میرا سخت تنا ہوا لنڈ محسوس ہوا تو وہ نشے میں بے حال ہونے لگی اور بے تحاشہ مجھے چومنے لگی اور آہستہ سے بولی واو ۔۔۔ فک می ھارڈ۔۔۔ بس یہ سننا تھا کہ میری اندر بجلی دوڑ گئی اور میں نے لنڈ کو اندر باہر کرنا شروع کردیا۔ اور وقت کے ساتھ ساتھ میری رفتار میں اضافہ ہوتا رہا وہ جلد ھی چھوٹی تھی۔ میں نے اس کی چوت سے لںڈ نکال لیا، اسے کہا میں ابھی آیا اس نے کہا کہاں جا رہے ہیں میں نے کہا کہیں نہیں ابھی آتاہوں میں کچن میں گیا اور وہاں سے تیل کی شیشی اٹھا لایا۔ اور پھر سے اس کی چوت میں اپنا نیم۔کھڑا لنڈ داخل کیا اسکو نہیں معلوم تھا اب اسکے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ اب میں نے آہستہ آہستہ سے اسے چودنا شروع کیا۔ مگر وہ چاہتی تھی کہ میں اپنی رفتار تیز کروں، مگر تقریباً پانچ منٹ اسی طرح گذرے اور وہ تڑپتی رہی کہ میں اسکو پہلے والی رفتار سے چودوں ۔ اب میں نے محسوس کیا کہ میرا لنڈ مکمل سخت ھوچکا ہے اور لاوا اگلنے کے موڈ میں نہیں ہے تو میں نے اپنی رفتار بڑھا دی اور بے تحاشہ جھٹکوں سے اسے چودنے لگا۔ وہ بے حال ہو رہی تھی اسکی آہوں سے زیادہ چیخیں نکل رہی تھیں اور اب وہ مجھے روکنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ مگر موشن میں آنے کے بعد اب میں رکنے والا تھا بھی نہیں۔ بہرحال وہ اس دوران دوسری بار فارغ ہوئی اس کی ہمت جواب دے رہی تھی میں نے اپنا لنڈ باہر نکالا اور کہا ابھی میں فارغ نہیں ہوا ہوں تم گھوڑی بنو اسکو اسکا تجربہ نہیں تھا اس نے میری جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا تو میں نے اسے بتایا کیسے گھوڑا بننا ہے وہ سمجھی تھی میں شاید پیچھے کی طرف سے اسکی چوت میں لنڈ داخل کرونگا، جیسے نواز کرتا ھوگااسے، جیسے ہی وہ گھوڑی بنی میں نے اپنے لن پر تیل لگایا لنڈ اسکی گانڈ پر رکھا اور پوری طاقت سے اسکو اندر داخل کردیا میرا لنڈ کسی پسٹن کی طرح چکنا اور گیلا تھا اور اسکی گانڈ بھی اسکی چوت سے بہہ کر آنے والے پانی سے گیلی تھی میرا آدھا لوڑا اسکی گانڈ میں ایک ہی بار میں گھس گیا اور وہ درد سے بلبلا اٹھی مگر میں باز آنے والا کب تھا۔ میں نے اسکو جکڑ لیا اور وہ کوشش کرتی رہی میری گرفت سے نکلنے کی مگر میں نے اسکو نہیں چھوڑا ذرا دیر بعد میں نے اس سے پوچھا کہ تکلیف کم ہوئی اس نے کہا ہاں مگر آپ اس کو نکال کر وہیں ڈالیں جہاں پہلے تھا۔ مگر میں نے انکار کردیا اور کہا ابھی نہیں تھوڑی دیر میں۔۔ میرا دلاسہ دینے پر وہ خاموش ہوگئی اس نے خود کو پورا میرے حوالے کیا ہوا تھا۔ بس میں نے کچھ دیر بعد اسکی رضامندی دیکھ کر اپنا کام شروع کردیا اور پھر سےجھٹکے دینا شروع کیے اور پھر پوری رفتار میں ایکبار پھر سے ایکشن میں آگیا۔ اسکے ممے بری طرح سے ہل ہل کر اسکے چہرے سے ٹکرا رہے تھےاور وہ بھی پوری ہل رہی تھی اس نے کہا ایسے مزہ نہیں آرہا ہے بہت ہل رہی ہوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو میں نے اس سے کہا چلو نیچے زمین پر اسکو نیچے قالین پر لاکر میں نے پیٹ کے بل اسکو اسطرح لٹایا کہ اسکے گھٹنے زمین پر تھے اب میں بھی اسی پوزیشن میں آگیا اور پھر سے لن اسکی گانڈ میں داخل کیا اب میں نے پورا لن اندر ڈال کر مزید اسکی گانڈ کو گہرا کرنے کی کوشش کی اور اندر لن کو رکھ کر ہی دباؤ ڈالا ۔ جس سے ایک بار پھر اسکی چیخیں نکلنا شروع ہوگئی تھیں۔ بالاخر میرا وقت پورا ہونے لگامیں نے اس سے کہا میں تمہاری گانڈ میں ہی منی نکال رہا ہوں۔ جھٹکے مارتے جب میرا منی نکلنے کا وقت آیا ، تو پوری طاقت سے میں نے پھر سےپورا لنڈ اسکی گانڈ میں گھسیڑا اور میرے لنڈ نے اسکی چکنی گانڈ میں منی اگلنا شروع کردی۔ وہ شاید دو تین بار کی منی تھی جو ایک ہی دفعہ میں نکل رہی تھی۔ وہ میری منی کے ہر ہر شاٹ پر کپکپا رہی تھی۔ اور اس نے کہا یہ تو بہت گرم ہے مجھے بخار لگ رہا ہے۔ میں نے کہا ایسا نہیں ہے یہ گرمی ہے اسکو انجوائے کرو۔ یہ گرمی پیدا بھی تو تمھارے حسین سراپے نے ہی کی تھی۔ پھر آخر میں نے لنڈ باہر نکالا اور وہ سیدھی ہو کر مجھے حیرت سے دیکھنے لگی ۔ اس نے کہا آپ انسان تو نہیں لگتے پہلے جب بھی میں نے نواز کے ساتھ سیکس کیا تھا تو اتنا وقت تو نہیں لگا تھا جتنا آپ نے لگایا ہے یہ کہہ کر وہ اٹھی اور مجھ سے لپٹ کر مجھے چومنے لگی۔ زرا دیر اسی طرح چمٹے رھنے اور کپڑے پہننے کے بعد اسنے کھا کہ وہ بھت خوش ھوئی کہ اسکو اتنا موٹا اور اتنا زیادہ مزے دینےوالا لنڈ ملا ہے ڈرائیور کے آنے پر اسنے کھا آپ نے تو مجھے نئے مزے سے روشناس کرایا ھے، کبھی پھر موقع ملے گا تو آپ سے بھرپور ملاقات کروں گی ، میں نے کھا کہ زرشا تم اپنے ابو سے کہ کر تمھارے بنگلے سے پچھلی گلی میں زیر تعمیر بنگلوں کے سرکاری ٹھیکے دلوادو تو ھم آپکے ساتھ ھونگے۔ اس نے بات کرنے کا وعدہ کرتے میرا فون نمبر لے لیا۔ میں نے دروازے تک جاکر اسے روانہ کیا۔
  12. 4 likes
    کہانی مکمل ہو گی ۔ بشرط زندگی اور مجھے کچھ چاہیے بھی نہیں کسی سے سوائے دعاؤں کے
  13. 4 likes
    یہ تو ہمارے ساتھ زیادتی ہوگی ۔۔۔ آپ چاہتے ہیں کہ ہم اب یہاں نہ آیا کریں ۔۔۔چلیں جناب ہم اپنا اکاونٹ ہی ختم کر دیتے ہیں ۔۔۔ اسی کہانی کے لیے آتے تھے ۔۔۔ باقی کہانیاں ہماری پہنچ سے بہت دور ہیں ۔۔۔ اب جب یہ بھی نہیں ہو گی تو پھر یہاں آنے کا کوئی مقصد ہی نہیں رہتا ۔۔۔بہت افسوس ہوا یہ سن کے کہ اب یہ کہانی نہیں چلے گی ۔۔۔شکریہ جناب ۔۔
  14. 4 likes
    محترمہ ۔ اپنے افسوس کو تھوڑا بچا کر رکھیں ۔جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ کمنٹ میں آپ نے لکھا کہ دوسری لائن نے آپ کی روح کو زخمی کر دیا تو تیسری لائن میں رائیٹر کی وضاحت آپ کو نظر نہیں آئی ۔آپ کا تفصیلی کمنٹ میں نے اپروول نہیں کیا ۔کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ فورم کسی بھی بحث کا حصہ بنے ۔ البتہ میں نے وہ لائن کہانی سے حدف کر دی تھی۔ تاکہ آپ کی طرح کوئی اور ممبر جذبات کا اظہار نہ کرنے لگے ۔ پھر بھی آپ کو افسوس رہ گیا ہو تو ضرور کریں ۔کسی کو افسوس کرنے سے میں نہیں روک سکتا۔ نوٹ ۔ کسی بھی ممبر کا کمنٹ جس میں بحث کا خرشہ ہو اپروول نہیں ہوگا
  15. 4 likes
    قسط نمبر 1 چوہدری باسط انگلینڈ کی ا یونیورسٹی میں ڈاکٹری کر ر تھا اس کے والد چوہدری ریاض ایک اچھا خاصا زمیندار تھا اور لاہور میں بھی کاروبار تھا جو اس کا بھائی چوہدری ربنواز سنبھالتا تھا ربنواز ایک مشہور وکیل بھی تھا۔ اس لیے چوہدری باسط کو پیسے کی کوئی کمی نہیں تھی وہ ایک محنتی اور اپنے وطن سے محبت کرنے والا شخص تھا اس لئے اس نے کبھی بھی انگلینڈ میں سیٹل ہونے کا نہیں سوچا تھا چوہدری باسط ایک خوبصورت نوجوان تھا جس کا چھ فٹ قد اور چوڑا سینہ کسی بھی لڑکی کا خوب ہوتا ہے ۔ چوہدری باسط کی ایک ہی کمزوری تھی ہو تھی بڑے ممے اور سفید چمڑی اس لئے باسط کی بہت سی گوریوں سے دوستی تھی . چوہدری باسط اس وقت بھی ایک گوری کے ساتھ بستر میں تھا اور اسے چوم رہا تھا کہ دروازہ کھٹکا تو باسط نے جا کر دروازہ کھولا تو سامنے اس کا دوست عابد پریشان سا چہرہ لے کر کھڑا تھا جس نے باسط کو بھی پریشان کر دیا باسط: کیا ہوا پریشان کیوں ہو عابد : میں نے ہوئی جہاز کی ٹکٹ کروا لی ہے ہم فورن گاؤں جا رہیں ہیں باسط کا تو رنگ ہی اڑ گیا کہ عابد کو اس وقت کیا ہو گیا ہے تو عابد نے باسط کو گلے لگایا اور رونا شروع کر دیا باسط : ہوا کیا ہے کچھ تو بتاؤ عابد : یار ماموں ریاض کو کسی نے قتل کر دیا یہ کہہ کر عابد واپس لوٹ گیا اور باسط تو جیسے سکتے میں آ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لارڈ جوزف کو چوھدری ریاض کے قتل کی خبر مل چکی تھی لارڈ نے خوشی سے آج جشن کا اعلان کیا سب جانتے تھے کہ جشن میں شراب اور شباب دونوں چلتی ہیں لارڈ نے ماجو سے لڑکیوں کا بندوست کرنے کو کہا اور یہ بھی کہا کہ دو چار دن گاؤں سے کوئی لڑکی نہ اٹھائی جائے ورنہ معاملہ خراب ہو سکتا ہے بلکہ وہ لڑکیاں لائیں جائیں جو کہ خود پیسے کے لئے آتی ہے ماجو جو کہ ایک دلال بھی ہے اس نے رات کو لارڈ کے پاس چار لڑکیاں بھیج دیں جن میں اس کی بیوی بھی شامل تھی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ایک رات کے چار روپے ملنے ہیں اور یہ ایک اچھی خاصی رقم تھی رات کو نو بجے کے بعد لارڈ اور اس کے ساتھی شراب پی کر ٹن ہو چکے تھے تو لڑکیاں لارڈ کے کمرے میں لائی گئیں تو سب مرد جن کی تعداد دس تھی نے اپنے اپنے لن پینٹس سے باہر نکال لئے لڑکیوں کو پتہ تھا کہ کیا کرنا ہے کیونکہ وہ پہلے بھی یہاں آ چکیں تھیں ۔لڑکیاں درمیان میں بیٹھ گئیں اور لارڈ جوزف کے علاؤہ باقی تمام لوگ دائرے کی شکل میں کھڑے ہو گئے اور لڑکیاں باری باری سب کے لن چوس رہیں تھیں لارڈ نے سب کچھ دیکھا اور اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چل پڑا جہاں اس کا انتظار رشماں کر رہی تھی ریشماں کئی مہینوں سے لارڈ کے ساتھ تھی کیا کمال کی خوبصورت لڑکی تھی عمر بیس سال اور جسم ایسا کہ جو دیکھے تو بس دیکھتا ہی رہ جائے لارڈ نے اسے لاہور سے ایک پارٹی پر بلایا تھا اور پھر اسے اپنے پاس ہی رکھ لیا ریشماں بہت چالاک تھی اپنا جسم دے کر لارڈ سے کوئی بھی کام کروا سکتی تھی خاص کر یہ راہول جو کہ چوہدری ریاض کا دشمن نمبر ایک تھا کی خاص تھی اور چوہدری ریاض کے گاؤں کی لڑکیوں کی طرف بھی لارڈ کا دھیان بھی اسی نے لگایا تھا ۔ لارڈ کمرے میں داخل ہوا تو ایک کونے میں پڑی کرسی سے ریشماں اٹھی اور اک ادا سے چلتی ہوئی لارڈ کے پاس آئی اور لارڈ نے ریشماں کو باہوں میں لے کر اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیئے اور اس کی نائیٹی کا بھی بیلٹ کھول دیا اور اس کے مموں پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا کافی دیر دونوں ہونٹوں سے ہونٹ جوڑے کھڑے رہے پھر لارڈ نے اس کے سر کو نیچے کو دبایا تو ریشماں نیچے بیٹھتی چلے گئی اور لارڈ کی پینٹ کا بیلٹ کھولا اور پینٹ اتار دی اور لارڈ کا مرجھایا ہوا لن پکڑ کر منہ میں لے لیا کچھ ہی دیر بعد لن میں سختی آ گئی چار انچ کا ڈھیلا سا لن تھا جو ریشماں پوری توجہ سے چوس رہی تھی جب لارڈ کو لگا کہ اس کا لن پوری طرح کھڑا ہو گیا ہے تو اس نے ریشماں کو بیڈ پر گھوڑی بنایا اور لن اس کی پھودی میں ڈال دیا جو کہ بڑی مشکل سے اندر گیا اور جھٹکے مارنا شروع کردیے لیکن چار پانچ جھٹکوں کے بعد ہی اس کی پھودی میں چھوٹ گیا اور ہانپتا ہوا لیٹ گیا اور شراب نوشی کی وجہ سے اسے ہوش تو تھی نہیں اس لیے کچھ ہی دیر میں سو گیا لیکن ریشماں کے اندر تو آگ جلا گیا تھا رشماں باہر نکلی تو دیکھا کہ دس انگریز بلکل ننگے چار لڑکیوں سے مزے کر رہے تھے کسی نے لڑکی کی پھودی میں ڈالا ہوا تھا تو کسی نے منہ میں تو کسی نے گانڈ میں سب مگن تھے تو ریشماں باہر کی طرف نکل گئی اس نے باہر گیٹ پر موجود سپاہی سے دوستی لگائی ہوئی تھی جب بھی لارڈ اسے درمیان میں چھوڑ دیتا تو یہ اس سپاہی سے آ کر چدوا لیتی سپاہی سے چدوانے کا مقصد یہ بھی تھا کہ وہ ایک گاؤں کا غریب لڑکا تھا جو جیسے ریشماں کہتی وہ ویسے ہی کرتا اس لئے ریشماں نے گیٹ پر جا کر فضلو کو اندر سرونٹ کوارٹر میں آنے کا کہا اور خود سرونٹ کوارٹر میں چلے گئی کوارٹر میں جاتے ہی ریشماں نے نائیٹی اتار کر پھینک دی اور کرسی پر ٹانگیں کھول کر بیٹھ گئی فضلو نے بھی آتے ہی کپڑے اتار دیئے اور جا کر ریشماں کی پھودی چاٹنے لگا دس منٹ کے بعد ریشماں کی ٹانگیں اکڑ گئیں اور اس نے دونوں ہاتھوں سے فضلو کا سر اپنی پھودی پر دبایا اور ایک سسکی کے ساتھ ہی فارغ ہو گئی تو اس نے فضلو کو پیچھے کر دیا فضلو پیچھے ہو کر بیٹھ گیا اور اپنے لن کی مٹھ مارنے لگا فضلو کا سات انچ کا لن موٹا تازہ ریشماں کو بہت زیادہ پسند تھا اور آج تک اس نے اس سے بڑا اور موٹا لن نہ دیکھا تھا اور نہ ہی لیا تھا ریشماں نے فضلو کو اشارہ کیا اور خود جا کر چارپائی پر لیٹ گئی فضلو نے چارپائی پر جا کر ریشماں کی ٹانگیں کھول کر کندھوں پر رکھیں اور اور لن کی ٹوپی ریشماں کی پھودی پر اور آرام سے لن پھودی میں اتار دیا ریشماں نے ایک مزے کی سسکی لی ااااااہاااااا افففففف فضلو ایسے ہی چودتا رہا اور کچھ دیر کے بعد ریشماں کے آہ کی ہو چھوٹ گئی اس کے کوئی ایک منٹ کے بعد فضلو نے لن باہر نکالا اور مٹھ مارتے ہوئے کمرے کے کونے میں فارغ ہو گیا اور کپڑے پہن کر چلا گیا ریشماں نے بھی نائٹی پہنی اور اپنے کمرے میں جا کر سو گئی۔ *************************************** لارڈ جوزف جو کہ پچاس سال کا بوڑھا آدمی تھا اس کے برعکس اس کی بیوی انجلینا پینتیس سالہ خوبصورت عورت تھی جس کے بڑے بڑے ممے اور باہر کو نکلی گانڈ تو کمال کی تھی۔ سیکس اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا ۔ اس نے پیسے کی خاطر لارڈ جوزف سے شادی کی تھی شادی کو آٹھ سال ہو چکے تھے لیکن وہ صرف چھ ماہ ہی صرف لارڈ سے چدواتی رہی اس کے بعد لارڈ کو ہندوستان بھیج دیا گیا یہاں آ کر لارڈ جوان جوان لڑکیوں کو چودتا اور اس کے پاس تو بس مہینے میں ایک دفع ہی آتا اور لارڈ کے چھوٹے اور مرجھائے ہوئے لن سے اب اسے کوئی مزہ بھی نہیں آتا تھا ۔ انجلینا ہر کسی پر اعتبار بھی نہیں کر سکتی تھی کیونکہ وہ لارڈ کی بیوی تھی۔ انجلینا اتنی گرم عورت تھی کہ اسے دل میں دو دفع لن تو ضرور چاہے ہوتا ہے اس لیے اس نے اس کا مستقل حل کیا ہوا تھا اس کو برطانوی حکومت نے دو ملازم دئیے ہوئے تھے جو دونوں بھائی تھے ایک کا نام رام چن اسے سب چن کہتے تھے اور دوسرے کا نام رام گوپال اسے سب گوپی کہتے تھے یہ دونوں سات سال سے لیڈی انجلینا کے ساتھ تھے بڑا گوپی تھا اس کی عمر اب اکیس سال تھی جبکہ چند کی عمر اٹھارہ سال تھی جب انجلینا ہندوستان آئی اور اسے چند اور گوپی ملازمین کی صورت میں دئے گئے تو دو مہینے تو وہ کوشش کرتی رہی کہ اسے کوئی لن مل جائے لیکن کوئی اسے کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا تھا کیونکہ لوگ لارڈ سے ڈرتے تھے اک دن انجلینا نے گوپی کو نہاتے ہوئے دیکھ لیا اس کا لن دیکھ کر تو اینجلینا اچھل پڑی سات انچ کا موٹا لن اس کے منہ میں تو پانی آ گیا اسے اندازہ نہیں تھا کہ چوداں سال کے لڑکے کا لن بھی اتنا بڑا ہو سکتا ہے انجلینا اپنے کمرے میں چلے گئی اور جاتے ہوئے چند کو جو کہ صحن میں کھیل رہا تھا کو کہہ گئی کہ گوپی آئے تو اسے میرے کمرے میں بھیج دینا کمرے میں جاتے ہی انجلینا نے کپڑے اتار دئے اور چادر لے کر لیٹ گئی تھوڑی دیر بعد گوپی کمرے میں داخل ہوا تو انجلینا نے کہا کہ تم نے آج میرے کمرے میں سونا ہے کیونکہ مجھ ڈر لگ رہا ہے تو گوپی اپنا بستر لینے چلا گیا اور چند کو بھی سونے کا کہہ کر واپس لیڈی کے کمرے میں چلا گیا اور جا کر فرش پر بستر بچھا کر لیٹ گیا کچھ دیر بعد انجلینا نے ڈرنے کی اداکاری کی اور گوپی کو کہا کہ اور بیڈ پر اس کے ساتھ سوئے کیونکہ اسے ڈر لگ رہا ہے ۔گوپی ڈرتا ہوا بیڈ کے کونے پر لیٹ گیا لیکن جلد ہی انجلینا نے اسے بازوؤں میں بھر لیا جیسے ہی انجلینا کے ننگے ممے گوپی کے ساتھ لگے گوپی کھبرا گیا اور مارے کھبراہٹ کے تھر تھر کانپنے لگا انجلینا کو بھی اندازہ ہو گیا کہ بچہ ڈر گیا ہے تو اس نے پیار سے گوپی کا ماتھا چوم لیا اور کافی دیر ایسے ہی لیٹے رہے پھر انجلینا نے تھوڑا اور آگے بڑھنے کا سوچا اور اس کے لن کے ساتھ اپنا نیچے والا جسم بھی جوڑ دیا گوپی کا تو رنگ ہی اڑ گیا آہستہ آہستہ انجلینا اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیر رہی تھی کچھ ہی دیر میں گوپی کچھ سنبھل گیا تو انجلینا نے اپنا ہاتھ گوپی کی شلوار میں ڈالا اور اس کا لن پکڑ لیا جوکہ بہت سخت ہوا تھا اور اس کے ساتھ ہی انجلینا نے گوپی کے کالے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیئے اور اپنی زبان گوپی کے منہ میں ڈال دی تو گوپی کو بھی مزہ آنے لگا تو اس نے انجلینا کی زبان چوسنا شروع کر دی کافی دیر دونوں ایسے ہی لیٹے رہے تو انجلینا نے پڑے آرام سے گوپی کو کپڑے اتارنے کا کہہ تو گوپی نے بھی کپڑے اتار دیئے اس کا کالا موٹا لن دیکھ کر انجلینا سے رہا نہ گیا تو اس نے گوپی کا لن ہاتھ میں پکڑ لیا اور مٹھ مارنی شروع کر دی جبکہ گوپی نادیدوں کی طرح انجلینا کے ننگے مموں کو دیکھ رہا تھا تو انجلینا کو بھی اس پر ترس آ گیا تو اس نے ہنستے ہوئے گوپی کا ہاتھ پکڑا اور اپنے مموں پر رکھ دیا گوپی کو چودئی کے بارے میں سب پتا تھا کیونکہ جس گورے کے پاس وہ پہلے تھا وہ اس کے سامنے ہی لڑکیوں کو چودتا تھا ایک دفع وہ بھی ایک لڑکی کو چود چکا تھا اس لیے اس نے مزے لینے کا فیصلہ کیا اور انجلینا کے ممے دبانے لگا کچھ دیر بعد انجلینا لیٹ گئی اور اس نے دونوں ٹانگیں کھول دیں اور گوپی کا لن اپنی پھودی پر پھیرنے لگی گوپی سے اب صبر نہیں ہو رہا تھا تو اس نے انجلینا کے ہاتھ سے لن چھوڑیا اور پھودی کے سوراخ پر رکھ کر فل زور سے جھٹکا دیا تو لن آدھا اندر گھس گیا انجلینا کسی بکری کی طرح تڑپی اور چیخی لیکن گوپی کے سر پر اس وقت پھودی سوار ہو چکی تھی تو اس نے ایک اور جھٹکا دیا اور پورا لن اندر ڈال دیا اور پھر انجلینا کے ننگے ممے منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا کافی دیربعد انجلینا کچھ نارمل ہوئی تو گوپی نے آہستہ آہستہ جھٹکے مارنے شروع کر دیے کچھ دیر بعد سپیڈ تیز کر دی اب انجلینا کو بھی مزہ آنے لگا تو وہ مزے میں ااااااہاااااا افففففف فک می ہارڈ یسسسسسس افففففف کی آوازیں نکال رہی تھی کچھ دیر بعد ہی انجلینا نے پانی چھوڑ دیا لیکن گوپی لگا رہا کچھ دیر بعد گوپی نے انجلینا کو گھوڑی بنایا اور لن اس کی پھودی میں ڈال کر کھسوں کی مشین چلا دی کچھ ہی دیر کے بعد انجلینا نے پھر پانی چھوڑ دیا تو گوپی نے لن باہر نکالا لیکن انجلینا نے لن پکڑ کر اپنی گانڈ کی موری پر رکھ دیا ادھر سے گوپی نے جھٹکا مارا ادھر سے انجلینا نے اپنی گانڈ پیچھے کو کی تو لن غڑپ سے گانڈ میں گھس گیا اور انجلینا کی ایک درد ناک چیخ نکلی لیکن گوپی نے کسی چیز کی پروا کئے بغیر جھٹکے دینا شروع کر دیے اور دس منٹ کے بعد انجلینا کی گانڈ میں ہی فارغ ہو گیا انجلینا آگے کو لیٹ گئی اور گوپی بھی اس کے اوپر ہی لیٹ گیا کچھ دیر بعد آٹھ کر اپنے کپڑے پہنے اور نیچے بستر پر لیٹ گیا جبکہ انجلینا اٹھی اور واشروم میں جا کر گانڈ سے منی نکال کر اسے دھو کر واپس آ کر لیٹ گئی کئی ماہ بعد کی چودای نے اسے بہت سکون دیا تھا اسے پتہ ہی نہ لگا کہ وہ سو گئی اس دن کے بعد روز رات کو انجلینا کی چودای ہوتی کبھی دن کو بھی اگر دل کرتا تو دن کو بھی ہو جاتی کچھ عرصہ کے بعد گوپی کی فرمائش پر انہوں نے چند کو بھی اس چدائی والے کھیل میں شامل کر لیا سات سال سے یہ دونوں بھائی انجلینا کی ٹھکائی کر رہے تھے اور اب تو اک چودائی صبح ہوتی اور اک رات کو انجلینا ان دو لنوں سے بہت خوش تھی جب کوئی گھر میں نہ ہوتا تو سب اپنے کپڑے اتار دیتے اور انجلینا نے باقی دوسرے کاموں کے لئے دو نوکر اور رکھ لیں تھے جبکہ گوپی اور چند کا کام صرف اور صرف چودائی کرنا تھا مہینے میں ایک دفع لارڈ آتا تو صرف اس دن انجلینا کو مزہ نہیں آتا لیکن وہ باتیں کر سکتی تھی اس سے کیونکہ یہاں کسی کو بھی انگریزی نہیں آتی تھی اس لیے انجلینا نے اگر کسی کو کوئی کام کہنا ہوتا تو یا تو اشاروں سے سمجھاتی یا پھر ان سات سالوں میں جو اس نے ٹوٹی پھوٹی اردو سیکھی تھی اس میں سمجھانے کی کوشش کرتی ۔ باقی سب ٹھیک چل رہا تھا لیکن انجلینا کو کوئی باتیں کرنے کے لیے چاہیے تھا لیکن وہ اس کے پاس نہیں تھا جب وہ اکیلی بور ہوتی تو یا تو گوبی اور چند کو بلوا لیتی یا پھر خود ہی باتیں کرنا شروع کر دیتی ۔اب تو تمام ملازمین بھی اسے پاگل سمجھنے لگ گئے تھے ۔ اس کے یوں باتیں کرنے سے گوپی اور چند بھی اس سے ڈرنے لگے تھے لیکن وہ مجبور تھے کچھ کر نہیں سکتے تھے سال پہلے جب ان کا بھی دل کرتا تھا تو وہ بغیر اجازت کے جا کر انجلینا پر چڑھ جاتے تھے لیکن اب جب بھی انجلینا بولاتی صرف تب ہی جاتے ۔
  16. 4 likes
  17. 4 likes
    Dr sab aap se guzarish hai ke is silsile ko band hi kerden kionke readers daily aap se minnaten karen update kelie aur update tu dor ki bat aap unko reply tak na den aur jab mere jesa koi reader esi koi bat kare tu aap ka reply aae ke "HUM PESE NAHI LETE LIKHNE KE AAP NA PARHEN" AAPKE PAS NA UPDATE KA TIME NA REPLY KA TU 1AIK MUKHTASER SA MSG KERDEN YE KAHANI AB MAZID NAHI LIKHI JAE GI.
  18. 4 likes
    اب بہت بہتر ہوں یاسر بھائ. دعاؤں میں یاد رکھنے کے لیے شکریہ. اپڈیٹ لکھ رہا ہوں. جلد ہی پوسٹ کردوں گا
  19. 4 likes
    میں کم و بیش دس سال سے لکھ رہا ہوں اور اب ایسا لگتا ہے کہ لکھنے کا مزید کوئی فائدہ نہیں ہے۔ میں ایک انتہائی مصروف انسان ہوں کیونکہ بےشمار پیشہ ورانہ مصروفیات ہیں مگر ایک سلسلہ اور لکھنے کا جو رشتہ بنا تھا، اس کو قائم رکھنا میں نے خود پہ ازخود فرض کر رکھا تھا۔ ہونے یہ لگا ہے کہ اتنی محنت اور اپنے آرام کے لیے مختص وقت سے گھڑیاں چرا کر جب میں کچھ لکھتا ہوں تو وہ ڈیٹا چوری کر کے دوسرے ممبران کو بیچا جاتا ہے۔ اب تو خود مجھے بھی بیچا جانے لگا کہ میں خرید لوں اگر پڑھنا چاہوں تو۔ ایسی چوری روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ لکھنا ہی بند کر دیا جائے۔ان لوگوں کو جب نیا کچھ ملے گا نہیں تو کہانی آگے کیسے بڑھے گی؟ یوں ایک نہ ایک دن ان کا چرایا ڈیٹا بےسود ہو جائے گا۔ میں اس فورم کے لیے لکھ رہا ہوں اور لکھتا رہوں گا بس شئیر نہیں ہوگا جب تک کہ ہمیں ایس ممبران نہیں مل جاتے تو اردوفن کلب کے سب سے قریبی رفقا ہیں اور وہ ایسے چوری ڈیٹا کی بجائے یہیں پہ کہانیاں پڑھنا پسند کرتے ہیں۔تمام نیا ڈیٹا انہی سے شئیر کیا جائے گا۔ شکریہ
  20. 3 likes
    ایڈمن صاحب میں جو صفحات اپ لوڈ کر رہا ہوں ان کی سیٹنگ خراب ہو جاتی ہے ۔ یا کچھ مس ہو جاتا ہے ۔ یہ کیا ہے
  21. 3 likes
    Mein Soch Rahi HuN Mein Bhi apNi LiFe Ki StOrY LiKho As FoRM PeY LekiN MuJhy LekhNa Nhi Ata
  22. 3 likes
    Thanks for comnt... We read more action and thirl in the next & last
  23. 3 likes
    یاسر بھائ. سیکس سین میں آپ یہ سمجھ لو کہ ہیرو کی کیفیات بالکل وہی ہیں جو میری ہیں. اور اس کہانی میں سیکس بہت ہی کم ہے. آٹے میں نمک کے برابر... باقی بہت شکریہ کہانی پسند کرنے کے لیے
  24. 3 likes
  25. 3 likes
    ہمممم شادی سے پہلے اپنے کزن سے سب کچھ سیکھا اور وہی شوہر بنا۔ 17 کی تھی میں جب پیار اور موبائیل سے میسج شروع کیے اور رومانس شرع ہوا میسجز سے جو میری کنواری چ۔۔۔۔۔۔۔ کی بربادی بنی۔ شادی سے پہلے 4 سال تک انکی رکھیل بنی رہی کافی کزنوں نے ٹرای کی لیکن نہی دی کسی کو۔ سہاگ رات شوہر نے ہی ننگا کیا اور پیریڈ میں ہی سہاگ رات منائی کیونکہ صبح کنوارے پن کا ثبوت جو دیکھنا ہوتا بڑی عورتوں نے۔ اب ہنسی خوشی زندگی گزر رہی
  26. 3 likes
    My real name is shahida age 28. Married 2 baby boys. House wife. Gujar khan Rawalpindi Abhi mehkay ai hon hubby ko miss kar rehi. Many story reading k liy join kia is forum ko. Jo story kehin or se read krti ho wo share kar dia karo go Mery hubby online business krty hn
  27. 3 likes
    میری یہی کوشش ہوتی ہے کہ اپڈیٹ بڑی لکھوں چاہے ایک ہفتہ دیر ہی سہی. دوسرا کہانی ریگولر اپڈیٹ ہو رہی ہے. ہاں محرم کے احترام میں اپڈیٹ پوسٹ نہیں کی اور لکھنا بھی بند کیا ہوا تھا. باقی یہ کہانی آپ سب کو سنانا میری زندگی کی خواہش ہے جو میں پوری کر کے رہوں گا.
  28. 3 likes
    فورم کے تمام فری سیکشن ویسے ہی موجود رہیں گے۔کلاؤڈ سسٹم سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ کلاؤڈ سسٹم صرف پریمیم ڈیٹا کے لیئے ہے۔پہلے پریمیم ناول کی ایک ہی فائل کلب بنا کر اس میں ممبرز ایڈ کیئے جاتے تھے۔تاکہ وہ فائل کو پڑھ سکیں۔ مگر اب ہر ممبر کی پرسنل پیڈ فائل ان کے اکاؤنٹ میں اپلوڈ ہو گی۔ کلاؤڈ کی رجسٹریشن فی الحال فری ہے۔ اور کلاؤڈ کی فی الحال کوئی رینیول فیس بھی نہیں ہے۔ 10$ کی فیس دراصل اکاؤنٹ بیلنس کی ہے۔ اور دوبارہ بیلنس ختم ہونے پر اگر ممبر چاہے تو اپنا بیلنس دوبارہ ری چارج کروا سکتا ہے اور اگر نہ چاہے تو دوبارہ ری چارج پر کوئی پابندی نہیں کلاؤڈ اکاؤنٹ ایکٹو ہی رہے گا۔ فیس میں کمی کیوں ہو گی جب کوئی فیس چارج ہی نہیں کی جا رہی اور جو فیس ممبر ادا کرے گا وہ اس کے اکاؤنٹ بیلنس میں ایڈ ہو جائے گی
  29. 3 likes
  30. 3 likes
    آنٹی فوزیہ نے اپنا دوپٹہ اتارا اور پاوں کے بل. بیٹھ کر کپڑے دھونے لگ گئی میری جب نظر آنٹی کے گلے پر پڑی تو آنٹی کی قمیض کا گلا کافی کھلا تھا اور اس میں چٹا سفید آنٹی کا سینہ دعوت نظارہ دے رھا تھا میں آنٹی کے سامنے کھڑا آنٹی کو کپڑے دھوتے دیکھ رھا تھا اور عظمی اور نسرین باقی کی گٹھڑیوں کو کھولنے میں مصروف تھی وہ دونوں گٹھڑیوں کو کھولنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ چونچیں بھی لڑا رھی تھی اس لیے انکا دھیان میری طرف نھی تھا پھر آنٹی نے ایک قمیض کو صابن لگانا شروع کردیا صابن لگانے اور قمیض پر برش مارنے کی وجہ سے آنٹی کو تھوڑا نیچے کی طرف جھکنا پڑا جسکا فائدہ مجھے یہ ھوا کہ آنٹی کے مموں کے درمیانی لائن مجھے صاف نظر آنے لگ گئی اور میں اس نظارے کو دیکھ کر بہت لطف اندوز ھورھا تھا اور آنٹی جب قمیض پر برش مارتی تو آنٹی کے بڑے بڑے ممے ذور ذور سے اچھل کر قمیض کے گلے سے باہر کو آنے کے لیے بے تاب ہوجاتے تھے اور یہ سب دیکھ کر میری حالت قصائی کے پھٹے کے سامنے کھڑے کُتے جیسی تھی، دوستو آنٹی فوزیہ کہ بارے میں اس وقت بھی میرے دل دماغ کوئی غلط خیال نھی تھا بس پتہ نھی کیوں مجھے آنٹی کی بُنڈ اور مموں کو دیکھ کر ایک عجیب سا نشہ ھوجاتا اور یہ سب کچھ کرتے مجھے بہت اچھا محسوس ھوتا،،، میں انٹی کے مموں میں کھویا ھوا تھا کہ انٹی نے قمیض پر برش مارنا بند کیا اور قمیض کو اٹھا کر نہر میں ڈبونے کے لیے جُھکی تو دوستو یقین کرو بے ساختہ میری ایڑھیاں اوپر کو اٹھی جو نظارا میرے سامنے تھا میرا بس چلتا تو اسی وقت آگے بڑھ کر آنٹی کے دونوں دودھیا رنگ کے مموں کو اپنے دونوں دونوں ھاتھوں کی مٹھیوں میں بھر لیتا اور ذور سے سائکل پر لگے پاں پاں کرنے والے ھارن کی طرح بجانے لگ جاتا آنٹی فوزیہ کے دونوں ممے گلے سے بلکل باہر کی طرف تھے اور میں یہ دیکھ کر حیران رھ گیا کہ آنٹی نے برا بھی نھی پہنی ھوئی تھی شاید آتے ھوے گھر ھی اتار آئی تھی آنٹی کےمموں کے صرف نپل ھی قمیض کے گلے کے کنارے پر اٹکے ھوے تھے اور انکے مموں پر گول براون دائرہ بھی نظر آرھا تھا یہ دیکھ کر میرا تو حلق خشک ھونے لگ گیا کہتے ہیں نہ کہ عورت کی چھٹی حس بہت تیز ھوتی ھے اسے اسی وقت پتہ چل جاتا ھے کہ کون اسکی طرف دیکھ رھا ھے اور اسکے جسم کے کون سے اعضا پر نظر کا تیر لگ رھا ھے یہ ھی میرے ساتھ ھوا آنٹی کی چھٹی حس نے کام کیا اور آنٹی نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا میں آنٹی کے مموں میں اسقدر کھویا ھوا تھا کہ مجھے یہ بھی احساس نھی ھوا کہ آنٹی مجھے دیکھ رھی ھے اچانک آنٹی نے اپنا ایک ھاتھ اپنے سینے پر رکھا اور مجھے آواز دی کہ یاسر میں انٹی کی آواز سن کر ہڑبڑا گیا اور گبھرا کر آنٹی کی آنکھوں میں انکھیں ڈال کر بولا جی آنٹی جی تو آنٹی ہلکے سے مسکرائی اور بولی بیٹا ادھر جا کر اپنی بہنوں کے ساتھ بیٹھ جاو ادھر پانی کے چھینٹے تم پر پڑ رھے ہیں میں شرمندہ سا سر جھکائے عظمی لوگوں کے پاس جاکر بیٹھ گیا شرم کے مارے میں نے دوبارا آنٹی کی طرف نھی دیکھا بلکہ انکی طرف پیٹھ کرکے منہ کھیتوں کی طرف کر کے بیٹھ گیا کچھ دیر بیٹھنے کے بعد آنٹی کی آواز آئی کی عظمی یہ کپڑے سوکھنے کے لیے ڈال دو عظمی جلدی سے اٹھی اور کپڑوں کا لوھے کا ٹپ جسے ہم تانبیہ اور بٹھل بھی کہتے تھے اٹھا کر نہر کے کنارے سے نیچے اترنے لگی مگر جگہ ہموار نہ ہونے کی وجہ سے اس سے نیچے نھی اترا جارھا تھا تبھی اس نے مجھے آواز دی کہ یاسر کپڑے نیچے لے جاو مجھ سے نھی یہ اٹھا کر نیچے جایا جا رھا میں جلدی سے اس کے پاس پہنچا اور کپڑے پکڑ کر نیچے اترنے لگ گیا وہ بھی میرے پیچھے پیچھے نیچے آرھی تھی نیچے آکر عظمی نے اپنا دوپٹہ اتار کر مجھے پکڑایا اور اپنے بالوں کو پیچھے سے پکڑ کر گول کر کے پونی کرنے لگ گئی ایسے کرنے سے اس کے ممے بلکل اوپر کو ھوگئے میری پھر نظر عظمی کے مموں پر ٹک گئی عظمی نے میری طرف دیکھا اور آنکھ کے اشارے کے ساتھ اپنا سر اوپر کو ہلاتے ھوے مجھ سے پوچھا کیا ھے میں اس کے اچانک اس اشارے سے کنفیوژ سا ھوگیا اور اسے کہنے لگا جججججلدی کپڑے ڈال لو آنٹی نے پھر آواز دے دینی ھے تو عظمی جلدی جلدی کپڑوں کو نہر کے کنارے پر اگی صاف گھاس کے اوپر پھیلانے لگ گئی میں اپنی ان حرکتوں سے خود بڑا پریشان ھوگیا تھا اور دل ھی دل میں ماسٹر اور فرحت کو گالیاں دینے لگ گیا کہ گشتی دے بچیاں نے مینوں وی کیڑے کم تے لادتا اے چنگا پلا شریف بچہ سی تبھی عظمی نے سارے کپڑے پھیلا دیے اور مجھے اوپر چلنے کا کہا تو میں اسکے پیچھے پیچھے اسکی ہلتی گانڈ کا نظارا کرتے کرتے اوپر چڑھنے لگ گیا ہم پھر جاکر اسی جگہ بیٹھ گئے فرق بس اتنا تھا کہ اب میرا منہ آنٹی کی طرف تھا انٹی میرے سامنے سائڈ پوز لیے بیٹھی کپڑے دھو رھی تھی آنٹی کے کپڑے بھی کافی گیلے ہو چکے تھے جس میں سے انکی ران صاف نظر آرھی تھی اور سائڈ سے کبھی کبھی مما بھی نظر آجاتا آنٹی نے پھر آواز دی کے یہ بھی کپڑے سُکنے ڈال دو میں جلدی سے اٹھا اور کپڑوں کا ٹب پکڑا اور عظمی کو ساتھ لیے نیچے اگیا اب ہم کچھ دور چلے گئے تھے کیوں کہ اب وہاں کوئی صاف جگہ نھی تھی اس لیے ہم تھوڑا آگے مکئی کی فصل کے پاس چلے گئے تو عظمی بولی اب بتاو مجھے کیا بتانا تھا میں انٹی لوگوں کی طرف دیکھنے کی کوشش کی مگر وہ اونچی جگہ اور ذیادہ فاصلے کی وجہ سے نظر نہ آے تو میں نے عظمی کو کہا تم ساتھ ساتھ کپڑے ڈالتی جاو میں تمہیں بتاتا جاوں گا تو عظمی نے اثبات میں سر ہلایا میں نے عظمی کو کہا کہ دیکھو یہ بات تمہارے اور میرے درمیان میں ھی رھے ورنہ ہم دونوں پھنسیں گے بلکہ تم یہ بات نسرین کے ساتھ بھی مت کرنا عظمی بولی تم نے مجھے پاگل سمجھ رکھا ھے جو میں کسی کو بتاوں گی میں نے کہا اس دن ماسٹر اور فرحت گندے کام کر رھے تھے میں انکو دیکھ رھا تھا کہ اچانک فرحت کی نظر مجھ پر پڑی تو میں ڈر کر بھاگ آیا ،،، عظمی حیرانگی سے بولی کون سا گندا کام کررہے تھے میں پریشان ہوکر بات بناتے ہوے بولا وہ ھی گندا کام تو عظمی معصومیت سے میری طرف منہ کر کے بولی کون ساااااااا میں نے گبھراے ھوے لہجے میں کہا یار اب میں کیسے بتاوں مجھے شرم آرھی ھے تو عظمی بولی دیکھتے ھوے شرم نھی آئی تھی جو اب بتاتے ھوے شرم آرھی ھے تو میں نے کہا یار میں کون سا انکو دیکھنے کے لیے اندر گیا تھا وووہ تو مجھے آنٹی فرحت کی چیخ سنائی دی تھی تو میں گبھرا کر اندر دیکھنے چلا گیا کہ پتہ نھی آنٹی کو کیا ھوا ھوگا مگر جب میں اندر گیا تو آنٹی فرحت اور ماسٹر جی،،، یہ کہہ کر میں پھر چپ ھوگیا تو عظمی جھنجھلا کر بولی درفٹے منہ اگے وی بولیں گا کہ نئی میں سر کے بالوں میں ھاتھ پھیرتے ھوے سر کُھجاتے ہوے نیچے منہ کر کے بولا ماسٹر جی نے فرحت آنٹی کو ننگا کیا ھوا تھا اور جپھی ڈالی ھوئی تھی اور دونوں ایک دوسرے کی چُمیاں لے رھے تھے اور ماسٹر جی نے انٹی کے دودو ننگے ھی پکڑے ھوے تھے میں نے ایک سانس میں ھی اتنا کچھ بتا دیا عظمی میرے بات سنتے ھی ایسے اچھلی جیسے اسے کسی سانپ نے کاٹ لیا ھو اور اپنے دونوں ھاتھ منہ کے اگے رکھ کر بولی ھاےےےے ****** میں مرگئی فیر میں ابھی آگے بتانے ھی لگا تھا کہ نسرین نے نہر کے اوپر سے ہماری طرف آتے ھوے آواز دے دی کہ امی بلا رئی اے تواڈیاں گلاں ای نئی مُکن دیاں میں نے عظمی کو کہا یار کل جب ہم کھیلنے آئیں گے تو تفصیل سے ساری بات بتاوں گا ابھی چلو ورنہ آنٹی غصہ ھونگی میں یہ کہہ کر نہر کے اوپر چڑھنے کے لیے چل پڑا میرے پیچھے پیچھے. عظمی بھی بڑبڑاتی نسرین کو گالیاں دیتی آگئی۔ کچھ دیر مذید ہم نہر پر ھی رھے پھر ہم نے سارے کپڑے سمیٹے اور پہلے کی طرح آگے پیچھے چلتے ہوے ہنسی مزاق کرتے گھر کی طرف چل پڑے راستے میں بھی کوئی خاص بات نھی ھوئی مگر نجانے کیوں میں آنٹی سے نظریں چرا رھا تھا ایسے ھی چلتے ہوے ھم گھر پہنچ گئے اگلے دن سکول میں کچھ خاص نھی ھوا شام کو میں آنٹی فوزیہ کے گھر گیا عظمی اور نسرین کو ساتھ لے کر کھیت کی طرف پڑا کھیت میں پہنچے تو پہلے ھی کافی بچے جمع ھوچکے تھے ہم لُکم میٹی کھیلنے کے لیے اپنی اپنی باریاں پُگنے لگ گئے آخر میرے عظمی اور ایک محلے کہ لڑکے کے سر باری دینی آئی ہم تینوں سڑک پر جاکر اپنا منہ کھیت کی دوسری طرف کر کے کھڑے ھوگئے اور باقی سب بچے اپنی اپنی جگہ پر چھُپنے کے لیے اِدھر اُدھر بھاگ گئے کچھ دیر بعد ایک بچے کی آواز آئی کہ لب لو تو ہم تینوں کھیت کی طرف بھاگے خالی کھیت سے گزر کر کپاس کے کھیت کے قریب آکر کھڑے ھوگئے. اور آپس میں مشورہ کرنے لگ گئے کہ کون کسطرف سے ڈھونڈنا شروع کرے ہمارے ساتھ والا لڑکا کہتا کہ یاسر تم نہر والے بنے سے جاو عظمی درمیان سے جاے اور میں دوسری طرف سے جاتا ھوں عظمی بولی نہ بابا میں نے اکیلی نے نھی جانا مجھے ڈر لگتا ھے تو تبھی میں نے عظمی کا ھاتھ پکڑ کر دبا دیا شاید وہ میرا اشارا سمجھ گئی تھی اس لیے چُپ ھوگئی تب میں نے کہا کچھ نھی ھوتا نئی تینوں جِن کھاندا اور میں نے اس لڑکے کو دوسری طرف جانے کا کہا وہ میری بات سنتے ھی دوسری طرف بھاگ گیا میں نے عظمی کا ہاتھ پکڑا اور اسے لے کر کپاس کے کھیت کے درمیان نہر کی طرف جاتی ھوئی پگڈنڈی پر چل پڑے عظمی راستے میں ھی مجھ سے پوچھنے لگ گئی کہ اب تو بتا دو اب کون سا کوئی ھے یہاں میں نے اسے کہاں چلو کھالے کے پاس جاکر بیٹھ کر بتاتا ھوں عظمی نے اثبات میں سر ہلایا ،، تھوڑا آگے جاکر میں نے عظمی کو اپنے آگے کر لیا اور میں اسکے پیچھے پیچھے چل پڑا ہم چلتے چلتے کپاس کی فصل کے آخر میں چلے گئے اس سے آگے پانی کا کھالا تھا جسکو کراس کر کے مکئی کی فصل شروع ھوجاتی تھی میں نے عظمی کو کھالا کراس کرنے کا کہا اور اسکے پیچھے ھی میں نے بھی چھلانگ لگا کر کھالے کی دوسری طرف پہنچ گیا میں نے عظمی کا ہاتھ پکڑا اور کھالے کے کنارے پر لگی ٹاہلی کے پیچھے کی طرف لے گیا جہاں پر گھاس اگی ھوئی تھی اور بیٹھنے کے لیے بہت اچھی اور محفوظ جگہ تھی ہمیں وھاں بیٹھے کوئی بھی نھی دیکھ سکتا تھا ،، ہم دونوں چوکڑیاں مار کر ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھ گئے تب عظمی نے مجھ سے بےچین ھوتے ھوے کہا چلو بتاو نہ اب میں تھوڑا کھسک کر اسکے اور قریب ھوگیا اب ھم دونوں کے گھُٹنے آپس میں مل رھے تھے میں نے عظمی کو کہا کہاں تک بتایا تھا تو عظمی بولی تم شروع سے بتاو مجھے سہی سمجھ نھی آئی تھی تو میں نے بتانا شروع کردیا کہ میں نے دیکھا ماسٹر جی نے فرحت کی قمیض آگے سے اٹھائی ھوئی تھی اور انکے بڑے بڑے مموں کو ھاتھ سے مسل رھے تھے اور دونوں ایک دوسرے کے ھونٹ چوس رھے تھے ماسٹر جی پھر فرحت کے ممے چوسنے لگ گئے تب فرحت نے بھی اپنی آنکھیں بند کی ھوئی تھی عظمی بڑے غور سے میری بات سن رھی تھی اسکا رنگ بھی ٹماٹر کی طرح سرخ ھوتا جارھا تھا عظمی بولی پھر کیا ھوا تو میں نے کہا ماسٹر جی نے فرحت کا نالا کھول دیا تھا اور اسکی شلوار نیچے گر گئی تھی اور ماسٹر جی نے اپنا ھاتھ وھاں پر رکھ دیا تو عظمی بولی کہاں تو میں نے کہا نیچے عظمی بولی کہاں نیچے تو میں نے ایکدم اپنی انگلی عظمی کی پھدی کے پاس لیجا کر اشارے سے کہا یہاں پر تو عظمی ایکدم کانپ سی گئی جبکہ میری انگلی صرف اسکی قمیض کو ھی چھوئی تھی عظمی نے کانپتے ھوے جلدی سے میرا ھاتھ پکڑ کر پیچھے کر دیا میں نے پھر بتانا شروع کردیا کہ کیسے ماسٹر جی فرحت کی پھدی کو مسلتے رھے اور کیسے فرحت مدہوش ہوکر نیچے بیٹھ گئی اور فرحت نے کیسے میری طرف دیکھا اس دوران عظمی بڑی بےچین سی نظر آرھی تھی اور بار بار اہنے ہونٹوں پر زبان پھیرتی کہ اچانک عظمی نے اپنا ھاتھ پیچھے کھینچا تو میں ایک دم چونکا کہ میں نے عظمی کا ہاتھ پکڑ کر اپنی گود میں رکھا ھوا تھا اور نیچے سے میرا لن تنا ھوا تھا شاید عظمی نے میرے لن پر اپنا ھاتھ محسوس کر لیا تھا عظمی بولی شرم نھی آتی گندے کام کرتے ھوے میں نے بڑی معصومیت اور حیرانگی سے کہا اب کیا ھوا ھے تو عظمی بولی میں گھر جاکر امی کو بتاتی ھوں کہ آپکا یہ شہزادا جوان ھوگیا ھے اسکی شادی کردو اب تو میں نے کہا میری کون سی جوانی تم نے دیکھ لی ھے اور میں بھی آنٹی کو سب بتا دوں گا اور میں بھی کہہ دوں گا کہ عظمی سے ہی کردو میری شادی تو عظمی شوخی سے بولی کہ شکل دیکھی اپنی بچو تم ایک دفعہ گھر تو چلو پھر پتہ چلے گا میں بھی اندر سے ڈر گیا کہ سالی سچی مُچی ھی نہ بتا دے میں نے بھی عظمی کو دھمکی دیتے ھوے کہہ دیا کہ جاو جاو بتا دو مجھے نھی ٹینشن میں بھی بتا دوں گا کہ تم نے مجھ سے پوچھا تھا تو بتا دیا تو عظمی نے میرے لن کی طرف دیکھا جو ابھی تک قمیض کو اوپر اٹھاے عظمی کو سلامی دے رھا عظمی بولی نہ نہ میں تو تمہارے جوان ھونے کا امی کو بتاوں گی تو میں نے گبھراتے ھوے کہا کون جوان کونسی جوانی تو عظمی نے ذور سے میرے لن پر تھپڑ مارا اور ہنستے ھوے بولی یہ جوانی اور یہ کہہ کر اٹھ کر بھاگ نکلی اسکے اس طرح تھپڑ مارنے سے میرے لن پر ہلکی سی درد تو ہوئی مگر میں برداشت کرگیا اور ایسے ھی ڈرامائی انداز میں بولا ھاےےےےے میں مرگیا افففففف عظمی نے ایک نظر پیچھے میری طرف دیکھا اور ہنستے ھوے بولی مزا آیا اور کھالا پھلانگ کر دوسری طرف چلی گئی اور میں بھی اسکے پیچھے بھاگا کہ ٹھہر بتاتا ھوں تجھے کیسے مزا آتا ھے مجھے پیچھے آتے دیکھ کر عظمی نے گھر کی طرف پگڈنڈی پر بھاگنا شروع کردیا مگر میں نے اسے کچھ دور جاکر پیچھے سے جپھی ڈال کر پکڑ لیا میرا لن عظمی کی نرم سی گول مٹول پیچھے نکلی ھوئی گانڈ کے ساتھ چپک گیا میرے دونوں ھاتھ اسکے نرم سے پیٹ پر تھے عظمی ہنستے ھوے بولی چھوڑو مجھے چھوڑو مجھے میں امی کو بتاوں گی میں نے عظمی کو اور کس کے پکڑ لیا اسی چھینا جھپٹی میں میرے لن نے پھر سر اٹھا لیا اور عظمی کی بُنڈ کی دراڑ میں گھسنے کی کوشش کرنے لگ گیا عظمی نے بھی شاید لن کو اپنی بُنڈ پر محسوس کرلیا تھا اس لیے وہ اور ذیادہ مچلنے لگ گئی اور اپنا آپ مجھ سے چُھڑوانے کی کوشش کرنے لگ گئی مگر مرد مرد ھی ھوتا ھے چاھے چھوٹی عمر کا یا بڑی عمر کا عظمی کا جب یہ احساس ھوگیا کہ ایسے ذور آزمائی سے جان نھی چھوٹنے والی تو عظمی نیچے بیٹھنے لگ گئی جب عظمی آگے کو جُھک کر نیچے ھونے لگی تو پیچھے سے میرا لن عظمی کی گانڈ کی دراڑ میں کپڑوں کو اندر کی طرف دھکیل چکا تھا اور لن کی ٹوپی اسکی بنڈ کی موری کے اوپر جالگی اور آگے سے میرے دونوں ھاتھ اس کے پیٹ سے کھسکتے ھوے اسے دونوں مموں پر آگئے عظمی کو نیچے جھک کر بیٹھنا مہنگا پڑا عظمی کے دونوں ممے جیسے ھی میرے ھاتھ میں آے تو مجھے بھی ایک جھٹکا سا لگا اور میں نے عظمی کے دونوں مموں کو اپنی مُٹھیوں میں بھر لیا عظمی کو جب میری اس کاروائی کا احساس ھوا تو عظمی نے رونا شروع کردیا اور روتے ھوے غصے سے بولی چھوڑو مجھے میں امی کو بتاوں گی تم میرے ساتھ گندی حرکتیں کرتے ھو عظمی کو روتا دیکھ کر اور اسکی دھمکی سن کر میں بھی ڈر گیا اور ساتھ ھی میں نے اسے چھوڑ دیا عظمی ویسے ھی پاوں کے بل بیٹھ کر اپنے دونوں بازو اپنے گھٹنوں پر رکھ کر اور اپنا منہ بازوں میں دے کر رونے لگ گئ میں اسکی یہ حالت دیکھ کر مزید ڈر گیا اور اسے کہنے لگ گیا کہ یار اپنی دفعہ تم رونے لگ جاتی ھو خود جو مرضی کرلیتی ھو میں نے کبھی ایسے غصہ کیا ھے چلو اٹھو نھی تو میں جارھا ھوں تو عظمی روتے ھوے بولی جاو دفعہ ھوجاو میں نے نھی جانا تمہارے ساتھ تو میں بھی غصے سے اسے وھیں چھوڑ کر گھر کی طرف چل پڑا کچھ ھی آگے جاکر میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو عظمی بھی سر نیچے کئے آہستہ آہستہ چلی آرھی تھی کچھ دن ایسے ھی گزر گئے میں بھی ان دنوں ڈرتا آنٹی فوزیہ کے گھر نھی گیا کہ عظمی نے کہیں میری سچی ھی شکایت نہ لگا دی ھو مگر ایسا کچھ نھی ھوا، ایک دن ہم سکول میں بیٹھے تھے کہ فرحت بڑی سی چادر لیے اور نقاب کیے ھوے آگئی اور ہمارے پاس سے گزر کر ماسٹر جی کہ پاس جاکر ماسٹر جی کو سلام کیا جب فرحت میرے پاس سے گزری تو اس سے بڑی دلکش خوشبو آئی تھی جیسے ابھی نہا کر آئی ھو فرحت کو دیکھ کر ماسٹر جی کے چہرے پر عجیب سی چمک آئی اور ماسٹر جی نے شیطانی مسکان کے ساتھ فرحت کے سلام کا جواب دیا اور بڑے انداز سے فرحت کو بیٹھنے کا کہا میں نے فرحت کو دیکھا تو ساتھ بیٹھی عظمی کو کہنی ماری اور فرحت کی طرف آنکھ سے اشارا کیا تو عظمی نے جوابی کاروائی کرتے ھوے مجھے کہنی ماردی اور منہ بسور کر بولی دفعہ ھو ے فرحت ماسٹر جی سے آنکھیں مٹک مٹک کر باتیں کرنی تھی جبکہ چہرے پر نقاب تھا صرف آنکھیں ھی نظر آرھی تھی ماسٹر جی سے بات کرتے ھوے فرحت کے ہونٹوں سے ذیادہ آنکھیں ہل رھی تھی وہ دونوں بڑی آہستہ آہستہ باتیں کررھے تھے اور باتوں کے ھی دوران فرحت کبھی کبھی نہ نہ میں سر ہلاتی ایک دفعہ تو اس نے اپنے کان کو ہاتھ لگایا تھا میں نے بڑی کوشش کی کہ انکی کسی بات کی مجھے سمجھ آجاے مگر میں ناکام ھی رھا بس انکی باڈی لینگویج سے ھی قیاس کر کے انکی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا کہ اچانک ماسٹر جی نے ظہیر کو آواز دی اور ظہیر جلدی سے کھڑا ھوا اور سیدھا ماسٹر جی کے پاس جا پہنچا ماسٹر جی نے کرسی پر ھی بیٹھے ہوے ھی ظہیر کو اپنے دائیًں طرف کرسی کے بازو کے پاس کھڑا اسی کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنے ساتھ لگا کر کھڑا کرلیا اورظہیر کے بارے میں فرحت سے باتیں کرنے لگ گیا بات کرتے کرتے فرحت نے اپنا نقاب اتار دیا تھا میری جب نظر فرحت پر پڑی میں تو سکتے کہ عالم میں آگیا کیا پٹاخہ بن کر آج آئی تھی سالی
  31. 2 likes
    i m a new reader plzzzzzzzzzzzzzzzzzzzzzzzzzzzzzzzz update storyyyyyyyyyyyyyy its tooooooooooooooooooooooooooooooooooooooooooo much interesting storyyyyyyyyyyyyyyyyyyy
  32. 2 likes
    تمام پریمیم ناول پڑھنے والے ممبرز متوجہ ہوں فورم پر جب بھی تبدیلیاں کی جاتی ہیں تو کچھ کرپٹ ممبران کے ساتھ بہت سے بے قصور ممبران پر بھی وہ لاگو ہوتی ہیں جو کہ ان ممبرز کے لیے ایک تکلیف دہ امر ہے ۔ ہمارے فورم کے پریمیم رائیٹرز بہت محنت سے فورم کے ممبران کے لیے ناول لکھتے ہیں ۔ تاکہ آپ سب ممبرز کو کچھ بہتر پڑھنے کو ملے اور پریمیم ادائیگی سے فورم کا نظام بھی چلتا رہے۔ مگر کچھ بد دیانت ممبرز نے فورم کے پریمیم ڈیٹا چوری کر کے اپنی دکانیں کھول لی ہیں ۔ (کچھ ممبرز کی سب پرسنل ڈیٹیلز بھی حاصل کر لی گئی ہیں) پچھلے کچھ دنوں میں ایسے بہت سے گروپس نظر میں آئے جو کہ اردو فن کلب کا پریمیم ڈیٹا چوری کر کے اپنے گروپس میں بیچتے ہیں ۔ اور فورم کو نقصان پہنچانے کا سبب ہیں ۔ ایسے ممبرز کی بروقت شناخت اور ان پر موڈریشن کے لئے نئے سیٹ اپ پر کام کیا جا رہا ہے جو کہ بہت جلد فورم پر انسٹال کر دیا جائے گا۔جس کے بعد ہی تمام نئی اپڈیٹس اپلوڈ کی جائیں گی۔ ہمارے پاس دو آپشن زیر غور ہیں تصدیقی فورم اکاؤنٹ پہلے آپشن میں پریمیم رجسٹریشن کا مکمل عمل تصدیقی بنایا جائے گا جس میں ممبر کا موبائل نمبر ( تصدیقی میسج سے بھی کنفرم کیا جائے گا) سے لے کر ایڈریس (جو کسی یوٹیلٹی بل پر شو بھی ہو) اور آئی ڈی کارڈ (آئی ڈی کارڈ فرنٹ اور بیک کی تصویر) تک کی ویری فیکیشن کے بعد اکاؤنٹ اپروول کیا جائے ۔ اور رولز کی خیلاف ورزی پر ایک بار اس ممبر کا اکاؤنٹ بین ہونے پر دوبارہ اس ڈاکومنٹس پر اکاؤنٹ اپروول نہ ہو ۔مگر اس میں ہمارا ماننا ہے کہ ممبرز کی پرائیویسی شدید متاثر ہو گی۔ اور ہمارا مقصد فورم ممبران کی پرائیویسی برقرار رکھنا ہے۔ تو اس آپشن کو ڈراپ کیا گیا ہے۔ پرائیویٹ کلاؤڈ کمپیوٹنگ سسٹم دوسرا آپشن فورم میں پریمیم ممبران کے لیئے ایک مکمل پرائیویٹ کلاؤڈ کمپیوٹنگ سسٹم ایڈ کر دیا جائے۔ اس میں پریمیم ممبر بننے کا عمل تبدیل ہو گا ۔اور موجودہ شئیرنگ سسٹم کی بجائے ہر پریمیم ممبر کا الگ پرائیویٹ کلاؤڈ کمپیوٹنگ سسٹم ہو گا ۔ اور اس کی تمام خریداری اس ممبر کے پرائیویٹ کلاؤڈ کمپیوٹنگ سسٹم میں شو ہو گی اور لائف ٹائم پڑھنے کے لئے موجود ہو گی۔ ممبر کی تمام خریداری کو موڈریشن کے بعد اس کلاؤڈ سسٹم میں شامل کیا جائے گا۔ اور پریمیم ممبر کی تمام ایکٹویٹی کا ریکارڈ کلاؤڈ سسٹم مانیٹرنگ کرے گا ۔ اور ممبرز کے لاگ ان / لاک آؤٹ اور تمام ایکٹوٹی کلک ، اسکرین شارٹ لاگز ،اور مزید ایکٹویٹی کی ایک مکمل فائل بناتا رہے گا۔ پریمیم ممبرز کو خریدے گئے تمام ناولز آن لائن پڑھنے کی اجازت ہو گی ۔ اور کسی قسم کی ڈاؤن لوڈنگ یا اسکرین شارٹ کی اجازت نہ ہو گی۔ کسی بھی ممبر کے پرائیویٹ کلاؤڈ اکاونٹ سے تین اسکرین شارٹ کلک ہونے پر کلاؤڈ سسٹم ایڈمن کو نوٹیفیکیشن سینڈ کرے گا۔ اور ایڈمن اس نوٹیفیکیشن کی نوعیت کو دیکھے گا اور رولز کی خیلاف ورزی جاننے پر اس کا اکاؤنٹ لائف ٹائم بین ہو جائے گا۔ جسے دوبارہ ری سٹور نہیں کیا جائے گا۔ اور کسی قسم کا کوئی عذر نہ سنا جائے گا۔ اور نئی آئی ڈی سے آنے پر بھی اسے دوبارہ اس مکمل عمل سے گزرنا ہو گا۔ میرے خیال سے یہ زیادہ قابل عمل ہے۔یہ ان ممبرز کے لیئے بالکل محفوظ ہے جو کہ فورم رولز کے مطابق اپنے اکاؤنٹ کو استعمال کرتے ہیں۔اور کسی قسم کی بد دیانتی کے مرتب نہیں ہوتے ۔ پرائیویٹ کلاؤڈ کمپیوٹنگ سسٹم کیسے جوائن کیا جائے گا ؟ پرائیویٹ کلاؤڈ کمپیوٹنگ سسٹم کی ممبرشپ لینا ہو گی۔ جس کی لائف ٹائم فیس 10$ ہے ۔ مگر یہاں ایک بات نوٹ کریں کہ یہ 10 ڈالر واپس آپ کے اکاؤنٹ میں بطور اکاؤنٹ بیلنس جمع ہو جائیں گے۔ جو آپ اپڈیٹس اور پیڈ فائلز کی خریداری میں استعمال کر سکیں گے۔یعنی کہ آپ سے پرائیویٹ کلاؤڈ کمپیوٹنگ سسٹم کی کوئی فیس چارج نہیں کی جائے گی اور یہ بالکل فری ہو گا۔ یہ ممبر کا ایک الگ پرائیویٹ اکاؤنٹ ہو گا جہاں وہ اپنی پریمیم خریداری کو پڑھ سکے گا۔تمام سیئریل کی اقساط ترتیب نمبرز سے اپروول ہوں گے۔ تمام قسط وار سلسلوں کی نئی اپڈیٹ کی قسط خریدنے والے ممبر کے لئے لازم ہو گا کہ ممبر کے اکاؤنٹ میں اس ناول/سیئریل کی تمام گزشتہ اقساط موجود ہوں اور انہیں آپ خرید چکے ہوں ورنہ نئی قسط اپروول نہیں ہو گی۔ مثال یہ کہ آپ نے پردیس سیئریل کی قسط نمبر 10 خریدنی ہے تو آپ کے اکاؤنٹ میں پردیس سیئریل کی سابقہ ایک سے 9 اقساط موجود ہونا ضروری ہیں ۔ورنہ قسط اپروول نہیں ہو گی۔جو ممبرز پہلے ہی یہ تمام اقساط خرید چکے ہیں ۔ ان ممبرز کی خریدی گئی اقساط کو ان کے پرائیویٹ کلاؤڈ سسٹم میں فری ایڈ کر دیا جائے گا۔ ممبر کو اپنے اکاونٹ کو شئیرنگ کرنے کی اجازت نہیں ہو گی ۔ ایسا کرنے پر سسٹم آپ کو آٹو چیک کر لے گا اور آپ کا اکاؤنٹ ڈس ایبل کر دے گا ۔ جو کہ بعد میں بین بھی ہو سکتا ہے۔ نئے سسٹم میں تمام ممبرز کی ایکٹویٹی بمہ آئی پی ایڈریس اور سسٹم یا موبائل میک ایڈریس کے لاگز کی صورت موجود رہے گی ۔ رولز کی خیلاف ورزی پر اکاؤنٹ بین کر دیا جائے گا ۔ پہلے سے موجود تمام ممبرز پرائیویٹ کلاؤڈ کمپیوٹنگ سسٹم کی رجسٹریشن فری میں حاصل کر سکیں گے ۔ اور یہ تمام رولز ان پر بھی لاگو ہوں گے۔ اب سے تمام سلسلہ وار ناولز کی اپڈیٹس اور نئے مکمل ناولز پرائیویٹ کلاؤڈ کمپیوٹنگ سسٹم میں ہی دستیاب ہوں گے ۔اگر کسی ممبر کا کوئی سوال ہو تو وہ اسی تھریڈ میں پوچھ سکتا ہے۔
  33. 2 likes
    شکراً۔۔۔۔۔ اگلی قسط آخری ھوگی۔۔۔اس میں بھرپور چس ھے
  34. 2 likes
    فجا میراثی بیمار ہو گیا تو گاؤں کے ڈاکٹر کے پاس گیا تو اس نے بہت زیادہ فیس مانگی۔ بڑی منتیں کرنے پر بھی ڈاکٹر نے اسے رعایت نہ دی اور پورے پیسے لئے۔ جب وہ صحت یاب ہوگیا تو ڈاکٹر کی زیادتی پر فجے کو بہت زیادہ غصہ آیا اس نے ڈاکٹر کا ایک جھوٹا قصہ بنایا اور گاؤں کی چوپال میں سنانے لگ گیا۔۔ فجا میراثی کہنے لگا کہ جب میں بیمار ہوا تھا اور ڈاکٹر بشیر سے علاج کروا رہا تھا تو میں نے خواب دیکھا کہ میں مر گیا ہوں اور مر کر اوپر پہنچ گیا ہوں ، وہاں بہت سے لوگ جو اس دن فوت ہوئے تھے پہنچے ہوئے تھے ۔ وہاں پر جنتیوں اور دوزخیوں کے ناموں کی لسٹ لگی ہوئی تھی لوگ اپنا نام پڑھ پڑھ کر جنت اور دوزخ میں جا رہے تھے ، میں بھی لسٹ کی طرف گیا ، مجھے پتہ تھا کہ میں نے زندگی میں کوئی نیک کام نہیں کیا اس لیے میں نے دوزخ والی لسٹ میں اپنا نام تلاش کرنا شروع کیا تو مجھے اپنا نام فجا میراثی کہیں بھی نظر نہ آیا ، مجھے بہت خوشی ہوئی کہ میں دوزخی نہیں ہوں اب میں خوشی خوشی جنتیوں والی لسٹ پڑھنے لگا لیکن میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ میرا نام وہاں بھی موجود نہیں ، میں بہت پریشان ہوا اسی پریشانی میں مجھے گاؤں کے چوہدری صاحب ملے جو کافی عرصہ پہلے فوت ہوگئے تھے انہوں نے مجھے دیکھتے ہی کہا اوئے فجے میراثی تم یہاں کیا کر رہے ہو میں نے انہیں سارا ماجرا بتایا کہ میں آج ہی مر کر یہاں آیا ہوں لیکن میرا نام نہ جنت والوں کی لسٹ میں ہے اور نہ دوزخ والوں کی میں بہت پریشان ہوں چوہدری جی نے کہا اوئے فجے تم بھی گاؤں کے ڈاکٹر بشیر سے علاج تو نہیں کروایا ، وہ وقت پورا ہونے سے چار سال پہلے ہی بندہ مار دیتا ہے ، مجھے خود دو سال ہوگئے باہر پھرتے ہوئے ابھی تک میرا نام لسٹ میں نہیں آیا۔
  35. 2 likes
    ویسے میرا مشورہ ہے کہ اس کہانی پر آپ پیمنٹ ایپلائے کر دیں اور ہم پے کریں گے کم سے کم اسی بہانے اپڈیٹ تو ٹائم پر آجایا کرے گی
  36. 2 likes
    Hnnnnn....smajhdar hogia... He kaka...thnx
  37. 2 likes
    میرا بھی یہی قصور ہے. ہا ہا ہا. میں کیا کروں.
  38. 2 likes
    بھت عمدہ آغاز۔۔۔۔لیکن یہ کیا شروع ھوتے ھی ختم ۔۔۔۔۔۔ اف۔۔۔۔ کچھ تو زیادہ لکھتے
  39. 2 likes
    پیش الفاظ جون 1940 آزادی کی تحریک زوروں پر تھی ۔ انگریزوں کا راج بھی کچھ کم نہیں تھا۔ پنجاب کے ایک دور دراز علاقے جس کا نام نور پور تھا میں ایک زمیندار چوہدری ریاض اپنے ملازموں کے ساتھ رات کو انگریز لارڑ جوزف کو مارنے کی پلاننگ کر رہا تھا ۔ لارڑ نے کچھ دن سے گاؤں پر نظر رکھی ہوئی تھی آئے دن گاؤں سے کوئی لڑکی غائب ہوتی اور صبح ننگی بے ہوش حالت میں ملتی ۔لڑکی کو دیکھ کر یہ ہی لگتا تھا کہ اس کے ساتھ دس کے قریب لوگوں نے زیادتی کی ہے کچھ لڑکیاں تو ٹھیک ہو گئیں تھیں لیکن زیادہ تر یا تو مر گئی تھیں یا ٹھیک ہونے کے بعد اپنے گھر والوں کی بدنامی کے ڈر سے گاؤں چھوڑ کر چلی گئیں تھیں۔ بات تب زیادہ بڑھی جس رات چوہدری ریاض کی اکلوتی بیٹی کو اٹھایا گیا اور وہ باوجود کوشش کے چار دن کے بعد گاؤں کے باہر ملی اس کی حالت بہت خراب تھی تو چوہدری ریاض نے اسے اپنے بھائی جو کہ لاہور میں وکیل تھا اس کے پاس بھیج دیا تاکہ اس کا علاج ہو سکے ۔ اب چوہدری ریاض لارڑ کو مار دینا چاہتا تھا لیکن اسے یہ نہیں پتہ تھا کہ وہ جن لوگوں کے ساتھ اسے مارنے کی پلاننگ کر رہا ہے ان میں سے ایک آدمی لورڑ کا خاص آدمی ہے جو کہ گاؤں کی ساری خبریں لارڈ تک پہنچاتا ہے ۔ آخر رات دس بجے تک ساری باتیں طہ کر کے سب اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے لیکن ماجو جوکہ لارڈ کا خاص آدمی تھا وہ لارڈ کے پاس لارڈ پیلس گیا اور اسے گاؤں والوں کے ارادوں سے با خبر کیا تو لارڈ نے اسے انعام دیا اور بھیج دیا اس کے جانے کے بعد لارڈ نے ایک بندے کو چوہدری ریاض کو صبح تک مارنے کے احکامات دیئے اور گاؤں سے لائی ہوئی لڑکی کو نوچنے چلا گیا۔
  40. 2 likes
    aab sach mein itna intezar hum sab kar chukey hain k kahani bhoolney lagi hai sir g update de b dain
  41. 2 likes
    تھینکس ۔۔۔آپکے حوصلہ افزائی کا۔۔۔ دعا فرمائیں۔۔۔ صحتیاب ہونے کے ساتھ ساتھ دماغی صحت میں مستی موجزن رھے۔۔ تخیلاتی دنیا میں۔۔۔من مستی میں ھو۔۔۔ ل میں ھشیاری۔۔۔ دماغ میں سرشاری جاری رھے۔۔۔ تو میں صفحات اندر صفحات۔لکھ بھیجوں۔۔۔اتنے کہ ۔۔ کلب میں سیلابی ریلے چلا دوں۔۔۔ باقی ڈاکٹر صاحب کے تو ھم۔پنکھے ھیں۔۔ ۔امید پے دنیا قائم ھے۔۔ آپکی طرح ھم بھی امید سے ھیں۔۔۔۔۔ھھاھھا۔ گرمھربانی کردیں تو مضائقہ نہیں بارانی۔۔۔۔ قاتل حسینہ کے بعد ھی اسکی دوبارا واری آئیگی
  42. 2 likes
    کیا بات بارانی بھاٸ مزا آ گیاکافی دنوں کے بعد ایک اچھی پوسٹ پڑھ کے بس اتنی مہربانی کیا کریں اپڈیٹ دیتے رہا کریں ڈاکٹر صاحب بھی کافی دنوں سے شارٹ ھیں لگتا ھے ایک ہی بار سرپرایٕز دینے کے چکروں میں ھیں
  43. 2 likes
    فی الحال تو ھم نزلہ زکام میں مبتلا ھیں عنقریب نجات پالیں گے تو۔۔ پھر سے لگ جائیں گے۔۔۔ آپکی دعا چاھئے۔۔۔۔صحت کاملہ کے واسطے
  44. 2 likes
  45. 2 likes
    Name talha age 23 From Gujranwala magr kam ky silsly me zayada tar Islamabad aur rawal pindi me hota ho signal ho chota si aek shop ha kapry ki
  46. 2 likes
    قاتل حسینہ اپڈیٹ 1 میں نے فوراً ھاتھ جوڑ کر اس سے معافی مانگنے والا انداز اپنا یا ۔اور اسے خاموش رھنے کااشارہ کردیا۔۔میری بڑھتی منتیں دیکھ کر کچھ سوچ میں پڑگیا۔۔۔ وہ میرا رشتہ دار شاکر تھا جو اسکول کے زمانے سے میرا عاشق تھا۔ لیکن اس نے مجھے کبھی ٹچ بھی نہی کیا تھا۔ وہ میرا سچا عاشق تھا۔ میرے رشتے کے واسطے بھی اسنے کوشش کی تھی مگر میرے والدین مجھے جلدی بیاہنا چاھتے تھے ۔جبکہ وہ پڑھائی کرنے باھر ملک ویزہ لگوا چکا تھا اور وہ کچھ بن جانے کے بعد مجھے اپنانا چاھتاتھا۔ اس نے کمال کو تو گلے سےپکڑ کر باھر بھگا دیا تھا لیکن مجھے کپڑے پھنا کر باتیں نصیحتیں کرنے لگا جب کہ میں مسلسل رو رہی تھی اسنے آگے بڑھ کر ٹشو سے میرے آنسو صاف کئے تو میں اسکے ساتھ چمٹ گئی اور چیخ چیخ کر رونے لگی اپنے میاں کے گلے شکوے کیئے کہ مارتا ھے۔ گانڈ میں چودتا ھے یہ جو پیسے لیکر آتا ھے اس سے میری جاسوسی کرواتا تھا۔ اس نے بڑی مشکل سے چپ کرایا مجھے کھنے لگا میری نظروں میں تمھاری بڑی عزت تھی۔میں تو خالہ اماں والوں سے ملنے آیا تھا۔ مجھے کیا پتہ تھاکہ تم گلچھڑے اڑا رھی ھو ۔کچھ دیر نصیحتیں کرنے کے بعد اس نے اجازت چاہی تو میں کہنے لگی کھانے کا وقت ہوگیا ہے کھانا کھا کر چلے جانا۔اس سے انکار نہ ہوسکا۔ میں کچھ دیر بعد کھانا لے آئی۔ دونوں نے مل کر کھانا کھایا اس دوران بھی دونوں باتیں کرتے رہے لیکن اب میں کافی حد تک نارمل ہوچکی تھی۔ شائد رونے سے میرا من ہلکا ہوگیا تھا بات چیت کے دوران شاکرسے ہنسی مذاق بھی شروع کردیا۔ اور کہنے لگی کہ مجھے معلوم ہے اسکول کے زمانے میں تم بھی مجھ پر بہت مرتے تھے۔ یہ بات سنتے ہی شاکر کے منہ سے غیر ارادی طورپر نکل گیا کہ اسکول کے دور میں ہی نہیں اب بھی تم پر بہت مرتا ہوں۔ یہ بات سنتے ہی میں چپ ہوگئی۔ اسے لگا کہ ابھی میں اسے تھپڑ ماردوں گی اور کہوں گی کہ ابھی یہاں سے دفع ہوجاﺅ، لیکن میں نے کچھ نہ کہا بلکہ خاموشی کے ساتھ کھانا کھاتی رہی، کھانے کے بعد برتن بھی خاموشی سے اٹھائے اب شاکر نے مجھ سے اجازت چاہی تومیں کہنے لگی کہ چائے لاتی ہوں پی کر چلے جانا۔ ھم خاموشی سے بیٹھ کر چائے پینے لگے اب اس نے مزید آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا اس نے مجھ سے پوچھا کہ شبیر تو گذشتہ کئی ماھ سے تمہارے پاس نہیں آیا۔ تو تم کب سے اس بڈھے کمال کو مزہ کرارھی تھیں، میں نے کھا کہ وہ ھر ماہ شبیر کے بھیجے پیسے دینے آتا ھے اور کھتا ھے کہ وہ جاسوسی بھی کرتاھے۔ اس کو غلط سلط رپورٹ دیدیگا،اور شبیر اسکا بھت قرضئی بھی ھوگیا ھے۔ مجھے کھتا اگر تم مجھے خوش رکھوگی تو میں غلط رپورٹنگ بھی نہی کروں گا مزید بھی قرض دیتا رھوں گا۔ اسے یہ بات سنا کر میں خاموش رہی شاکر نے کھا کہ پھر تو ھمیں بھی ایک بار مزے کرنے دو نا۔ میں نے خاموشی سے اسکی طرف دیکھا اس نے ایک بار پھر اپنا سوال دہرایا تو بھی میں خاموش رہی اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا جیسے ہی شاکر نے میرا ہاتھ پکڑا مجھے جیسے کرنٹ لگ گیا ہو۔ فوراً اپنا ہاتھ چھڑوایا لیکن خاموش رہی شاکرمزید آگے بڑھا۔ اور میری ران پر ہاتھ رکھ دیا تو میں نے ہاتھ پیچھے کردیا اور کہنے لگی شاکر کیا کررہے ہو۔اس نے کوئی جواب نہ دیا اور دوبارہ اپنا ہاتھ میری ران پر رکھا اور اس کو پھیرنا شروع کردیا۔ میں نے ران پرسے اسکا ھاتھ ہٹانا چاہا تو شاکر نے میرے ہونٹوں پرکس کردی میں تھوڑی سی تلملائی مگر بولی کچھ نا۔ شاکر نے دوبارہ کسنگ شروع کردی اب میں نے کھا ، نا کرو شاکر نا کرو ایسا ٹھیک نہیں ہے۔( میں کہتی رہی اوپری دل سے) مگر شاکر نے اپنا کام جاری رکھا تھوڑی دیر کے بعد میں نے بھی شاکر کا ساتھ دینا شروع کردیا.اس نے میرے ممے قمیض کے اوپر ھی سے پکڑے تو بھی میں نے ناں ناں کی مگر شاکر باز نہ آیا.تو میں تو خود چدنا چاھتی تھی کمال نا سھی شاکر ھی سھی۔۔ تب میں نےخود کو تقریباً شاکر کے حوالے کردیا۔ وہ مزید آگے بڑھا اور میری قمیص میں ہاتھ ڈال کر ممے پکڑ لئے اف ف ف ف ف یہ کتنے ٹائٹ ھیں شاکر نے کھا پھر میری قمیص اور برا اتار دی اور حیرانگی سے دیکھتا رہ گیا سرخ کلر کے اڑتیس سائز کے گول اور ٹائٹ ممے تھے میرے جن کے نپل گلابی کلر کے تھے شاکر نے میرے نپلز پر زبان پھیرنا شروع کردی تو میں آﺅٹ آف کنٹرول ہوگئی اور ام م م م م م م ‘ آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ‘ س س س س س س س س س کی آوازیں نکالنے لگی شاکر نے اس کے بعد میرے ناف پر بھی کسنگ کی تو میں کانپنے لگی شاکر نے میری شلوار اتاری واہ کیا بات ہے اسکےمنہ سے نکل گیا گول گول رانیں اور ان کے درمیان میں گلابی کلر کی چوت ‘ میں نے اپنے بال ایک روز قبل ہی صاف کئے تھے شاکر نے اس بار پھر اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھے اور ہاتھ ٹانگوں پر پھیرنا شروع کردیا اب میں بے حال سی ہو رہی تھی شاکر نے میرے ہونٹوں پر کاٹنا شروع کردیا پانچ منٹ تک اس نے ہونٹوں‘ اور کانوں پر کسنگ کی تو میں نڈھال ہوگئی اور اپنا پورا جسم ڈھیلا چھوڑ دیا شاکر نے وھیں صوفے پر مجھے لٹا یا تو میں کہنے لگی بیڈ پر چلتے ہیں۔میں اسے لے کر اپنے بڑے بیڈ میں آگئی شاکر نے دوبارہ ہونٹوں پر کسنگ شروع کی اس کے بعد کانوں پر کسنگ کی پھر پستانوں کی طرف ہوگیا ایک کو ہاتھ میں پکڑ لیا اور آہستہ آہستہ دبانا شروع کردیا جبکہ دوسرے کے نپل کو منہ میں لے کر چوسنا شروع کردیا پھر دوسرے کا نپل منہ میں لیا اور چوسنا شروع کردیا میں مسلسل ام ‘ س س س س س سی سی س ‘ آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہاو او ہ ہ ہ ‘ کی آوازیں نکال رہی تھی پانچ منٹ تک پستان چوسنے کے بعد شاکر نے پیٹ پر کسنگ شروع کردی جب اسکے ہونٹ ناف کے قریب پہنچے تو میں مزے میں جیسے سمٹ گئی۔ میں نے شاکرکے سر کو پکڑ کر اوپر کرنے کی کوشش کی۔ مگر شاکر لگا رہا۔ اس کے بعد اس نے میری یعنی بختو کی رانوں پر زبان پھیرنا شروع کی تو میں اٹھ کر بیٹھ گئی۔ اور کہنے لگی شاکر اب یہ مزید برداشت نہیں ہوگا۔ لیکن شاکر نے کھا کہ میری اتنی سالوں کی چاھت ھو اب پردیس سے آ یا ھوں تو کچھ تو منہ بند رکھنے کا اچھا سا انعام دو۔ شاکرنے مجھے زبردستی لٹا دیا اور میری رانوں پر زبان پھیرنے لگا۔ میں مستی میں ادھر ادھر سر مار رہی تھی اور منہ سے ش ش ش ش ش ش شاکر نہ کرو کہہ رہی تھی پھر شاکر نے پنڈلیوں پر کسنگ کی تو میں دوبارہ اٹھ گئی ۔میں کھنے لگی پردیس سے ظالم یہ کیا سیکھ آ یاھے تو ۔۔۔ تب اسے پکڑ کر اپنے اوپر لٹا لیا میں نے اس کے ہونٹوں پرہونٹ رکھ دیئے۔اور ہاتھ کے ساتھ میرے جسم کو ٹٹولنے لگا میں نے اپنی زبان اس کے منہ میں ڈالی تو اس نے زور زور سے چوسنا شروع کردی پھر کچھ دیر کے بعد میں کہنے لگی شاکر اب بس کرو مجھ سے اب مزید برداشت نہیں ہورہا۔ شاکر ٹانگوں کے درمیان میں بیٹھ گیا اور اپنا لن چوت پر رکھ کر اوپر اوپر رگڑنے لگا۔ جس سے میں مستی میں پاگل ہورہی تھی، اور سیکسی آوازیں نکال رہی تھی۔ کچھ دیر کے بعد میری چوت نے پانی چھوڑنا شروع کردیا اور میری چوت چکنی ہوگئی۔ شاکر نے اب اپنا لن چوت کے اندر کرنے کا فیصلہ کیا۔ایک زور دار جھٹکا مار دیا جس کے ساتھ ہی شاکر کا آدھے سے زیادہ لن میری چوت میں چلا گیا۔ کئی دنوں سے اس کی بھرپور انداز میں چوت نہ چدنے کی وجہ سے کافی ٹائٹ ہوگئی تھی اور شاکرکاموٹالن اس کے اندر جانے سے کافی تکلیف بھی ہورہی تھی۔ میری چوت اتنی گرم تھی کہ اسے لگا کہ جیسے اسکالن کسی آگ کی بھٹی میں چلا گیا ہو۔ پہلے جھٹکے کے ساتھ ہی میری ایک ھلکی چیخ بھی بلند ہوئی تھی، اور ساتھ ہی نیچے سے ہل گئی۔ اورشاکر کالن چوت کے اندر سے باہر آگیا۔ جیسے ہی میری نظر لن پر پڑی تو میں کہنے لگی شاکر اتنا بڑا لن میں برداشت نہیں کرسکوں گی۔شاکر نے مجھ کو سمجھایا کہ کچھ نہیں ہوگا، تو کہنے لگی شاکر ذرا آرام سے کرو،مجھے تکلیف ہورہی ہے۔ شاکرنے دوبارہ اپنے لن کو اس کی چوت کے منہ کے اوپر رکھا اور فوری طورپر پہلے سے بھی زور دار جھٹکا دیا۔اور شاکرکا آٹھ انچ کا لن میری چوت کے اندر چلا گیا۔اس بار میں نے پہلے سے بھی زیادہ بلند چیخ ماری۔ لیکن اس نے فورامیرے منہ پر ھاتھ رکھدیا،میں نے اسکے نیچے سے نکلنے کی کوشش بھی کی۔ مگر اس بار شاکر نے میری اس کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔وہ کچھ دیر کے لئے وھیں رک گیا۔ اور میرے اوپر ہی لیٹ کر مجھ کو کسنگ کرنے لگا۔ میں کچھ دیر میں نارمل ہوگئی کچھ دیر کے بعد اس نے اپنے لن کو حرکت دینا شروع کی۔ اور لن کواندر باہر کرنا شروع کردیا۔اب بختو کو بھی مزہ آرہا تھا اور نیچے سے وہ اپنی گانڈ کو اٹھا اٹھا کر شاکرکا ساتھ دے رہی تھی اس نے اپنا نیچے والا ہونٹ اپنے دانتوں میں دبا رکھا تھا اب اسکی حرکت میں آہستہ آہستہ تیزی آرہی تھی۔اور میری طرف سے جواب میں بھی تیزی آتی جارہی تھی۔پانچ سات منٹ کی مسافت پر بختو کی منزل آگئی۔ اور اس کی چوت سے تیزی کے ساتھ پانی بہنے لگا مگر ابھی شاکر کی منزل بہت دور تھی۔ تاہم شاکر کچھ دیر کے لئے بختو کے اوپر لیٹ گیا۔ کچھ سمے ھی گذرا ھوگا کہ اب میں پھر سےشاکر کو چومنے چاٹنے لگی۔ شاکر بھی اس کا اسی طریقے کے ساتھ جواب دے رہا تھا۔ کچھ دیر کے بعد میں دوبارہ تیار ہوگئی ، اور شاکر نے دوبارہ سیکسی سفر کا آغاز کردیا۔ اب کے بار اسکے جھٹکوں میں اھستہ اھستہ زیادہ تیزی آتی گئی اور میں بھی اسی سپیڈ کے ساتھ اسکا ساتھ دے رہی تھی۔ مزید کچھ دیر کے بعد میں دوبارہ فارغ ہوگئی، مگر میں اسے کہنے لگی کہ تم جاری رہو، شاکر نے مزید پانچ منٹ لئے اور فارغ ہونے کے قریب آگیا۔ اس نے بتایا تو میں کہنے لگی کہ اندر نہ چھوٹنا ، باہر نکل آﺅ۔ شاکر نے اپنا لن باہر نکال لیا اور فارغ ہوکر میرے ساتھ پہلو میں لیٹ گیا ۔کافی دیر یوں ھی پڑے رھنے کےبعد بختو شاکر کے ڈھیلے پڑے لن پر پھر اپنا ہاتھ پھیر رہی تھی۔ اس دوران باتیں شروع ہوئیں میں نے بتایا کہ شبیر کا لن زیادہ سے زیادہ پانچ انچ کا ہے۔ اور وہ بھی کافی باریک ہے میں آج تک سمجھتی رہی کہ تمام مردوں کے لن اتنے ہی ہوتے ہیں۔ اس کے بعد کمال کے ساتھ کرنے میں بھی بہت مزہ لیتی رہی ہوں۔ مگر تین مھینوں سے اس کے ساتھ بھی سیکس نہیں کیا تھا اج ھی موقع ملا تھا۔ جس کے باعث میں سیکس کا ذائقہ ہی بھولتی جارہی تھی۔ آج تمہارا لن دیکھا ہے جو اتنا بڑا ہے، مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ حقیقتاً انسان کا ہی لن ہے۔ یہ موٹا بھی بہت ہے۔شاکر نے کہا کہ فلموں میں تو اس سے بھی بڑے بڑے لن ہوتے ہیں تم نے کبھی فلم نہیں دیکھی تو میں کہنے لگی نہیں کبھی دل ہی نہیں کیا۔پھر ھم دونوں نے کسی کو نہ بتانے کے وعدے وچن کیئے اور اسی طرح چھپ چھپا کر ملنے کا پلان بنایا ۔ اس رات شاکر نے مزید ایک بار سیکس کیا اور پھر رات کو ساڑھے چار بجے کے قریب شاکرمیرے گھر کے پچھلے دروازےسے نکلا اور اپنے گھر جاکر سو گیا اگلے دن صبح ھی صبح وہ میری ساس سسر سے ملنے اگیا کہ وہ انکا بھی رشتہ دار ھی تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ رات آ یا تھا دروازہ بجاتا رھا، مگر کسی نے کھولا ھی نہی۔جس پر ان کو شک بھی نہ ھوسکا ۔میرے گھر والوں نے اسکی دعوت کرنے کاعندیا دیا تو اس نے مجھے دیکھتے ھوئے کھا کہ رات تو ھوکر گیا ھوں۔ کھنے لگادو تین دن بعد کوئی مناسب ٹائم دیکھ کر اپ کو آ نے کا بتا دوں گا، وہ اپنی گھڑی جو رات یہیں بھول گیا تھا وہ بھی مجھ سے گلے مل کر لے گیا۔ ھفتہ بھر انتظار کے بعد وہ ایک دن چند کلو آ م کاتحفہ لایا خالہ والوں کے لئیے ۔۔ دراصل وہ مجھ سے آج کی رات آنے کا پروگرام سیٹ کرنے آیا تھا۔ میں نے کھا کہ اگر بارش ھوگئی تو بڈھا پھر نئی سوتا ساری رات چکر لگاتا رھتا ھے۔ رنگ میں بھنگ ڈال دے گا۔ اور تیرا آنا مشکوک نہ ھو جائے۔۔ اس نے سوچتے ھوئے کھا کہ چائے پینے تک کوئی نہ کوئی راستہ نکالتا ھوں ویسے تیرا کیا موڈ ھے تو میں بولی جو سجناں دا موڈ ھوے اسیں تیار آ ں۔۔میرا اشارہ وہ سمجھ گیا۔ اس نے خالہ سے باتوں باتوں میں اپنی دعوت کا پوچھا تو خالہ نے کھا کہ پتر تو ھی نہی آیا،ھم تو تیرے جواب کے منتظر ہیں۔ایسا کرتے ھیں کہ کل کا شام کا انتظام کرلیں آپ لوگ میرے گھر والے لاھور گئے ھوئے ھیں تو میں ویسے بھی دوپھر کا کھانااج کل نہی کھا تا ھوں۔ تو کل شام کا ٹائم مناسب ھوگا۔ خالہ نے کھا کہ دوپھر کو آجایا کر۔۔۔تیری خالہ کاگھر ھے اسے اپناھی گھر سمجھ جب تک تیرے گھر والے لاھور سے واپس نہی آتے۔ تو دوپھر کاکھانا ھماری طرف ھی آکر کھایا کر۔ اسنے مجھے آنکھ مارتے ھوئے کھا ۔۔۔۔ جی اچھا خالہ جی۔ اسنے کھاکہ بختو نہ تنگ ھوجائے۔ میرے روز کے آنے جانے سے تو میں نے کھا کہ تندور تو ویسے ھی گرم ھوتی ھے دو روٹیاں تیری بھی لگ جایاکریں گی، مجھے کیا۔ تو کھانے والا بن ٹائم سے آجایا کر۔ اسنے اشارے سے مجھے پوچھا کہ یہ لوگ کس وقت کھانا کھا کر سوتے ھیں تاکہ میں وہ ٹائم سیٹ کروں۔۔ میں نے فون کا اشارہ کردیا اور کھا کہ بتادوں گی۔اس نےاپنا وزیٹنگ کارڈ خالہ سےچھپا کر مجھے پکڑا دیا۔ اور چائے پی کر جانے لگا توخالہ نے اپنی گولیاں لادینے کا کھااور پیسے دینے لگیں تو اس نے کھاکہ پیسے آپ رھنے دیں میں لا دیتا ھوں۔ مجھے آنکھ مارتے ھوئے کھا کہ اپکو بھی کچھ منگواناھے تو میں نے کھا کہ کنڈوم لیتے آ نا۔ اسنے اپنے منہ پر ھاتھ رکھ کر مجھے چپ ھونے کا اشارہ کردیا۔اور زور سے بولا ٹھیک ھے، میں بدن درد کی گولیاں اپکو بھی لادیتا ھوں۔میں سمجھ گئی اور اپنے کاموں میں لگ گئی۔ کچھ ھی دیر میں وہ دوائیاں لیکر سیدھا کچن میں ھی آگیا اور مجھے جپھی ڈال کر بولا بختو تیری ساس نے تو مجھے ایک اچھا سا آئیڈیا دے دیا ھے۔ یہ لے نیند کی گولیاں ھیں رات کو ایک کپ چائے میں ایک گولی ڈال کے پلا دینا پھر ساری رات مزے کریں گے، یہ میرے لئیے نئی بات تھی۔ تو میں نے کھا کہ یہ زائقہ چائے کا بدل دے گی۔ وہ فوراً بولا جھلی گھبرانا بالکل نہی، بس زرا چینی زیادہ کردینا۔کچھ نھی ھوتا۔ بس پچھلا دروازہ کھلا رکھنا میں سمجھ جاؤ ں گا کہ لائن کلیئر ھے۔ اپ تو میری موجیں لگ گئیں میں نے شام کا کھانا پکاکر اپنی جانٹھیں دوبارہ سے صاف کیئں، اور رات کو چائے میں گولی ملاکر بڈھا بڈھی دونوں کو پلادی۔ اور لگی انتظار کرنے کہ کب وہ نیند کی وادی میں جائیں اور میں اپنے یار کے بانھوں کا مزہ لے سکوں۔ آدھی رات کے قریب وہ میرے بستر پر تھا اس نے مجھے آج کھل کر چودنے کا پلان بنایا تھا وہ بولا کہ اب اوازیں بھی ان کو ننیند سے نہی جگا سکتیں۔ لیکن میں نے پھر بھی احتیاط کی خاطر کمرے کی کنڈی لگالی۔اس نے سب سے پھلے میرے کپڑے اتارےپھر اپنے بھی کپڑے اتار پھینکےاور مجھے بانھوں میں جکڑ کر، سارے کمرے میں چکر لگایا، پھر میرے لبوں پر فرنچ کس شروع کر دی۔میں نے بھی بھر پور ساتھ دیا میں جو اتنی دنوں کی ترسی ھوئی تھی آج کھل کر سیکس کرنے کا موقع ملا تو میں بھت خوش ھوئی۔ اس نے مجھے گھما کر پچھلی طرف سے جپھی ڈال لی، اور میری موٹی گانڈ کی دراڑ میں اپنا لن چسپاں کر دیا ۔ اپنے دونوں ہاتھوں سے میرے دونوں مموں کو خوب رگڑے لگانے لگا، کبھی میرے پیٹ تو کبھی مموں پر ھاتھ پھیرتا گیا۔ مجھے گرمی بھت چڑھ گئی تو میں نے اسے اپنےسامنے لٹا دیا، اس نے مجھے لن چوسنے کاکھا، پھلے تو میں نے انکار کیا مگر اسکے بار بار اصرار کرنے پر میں نے تھوڑا سا اسکا۔لن منہ میں لے لیا اور انجانوں کی طرح اسےچوستےھوئے دانت بھی لگائے اسکے لن پر جس سے وہ سمجھا کہ۔مجھے کچھ زیادہ پتہ نہی چدائی کا۔ تب اس نے پہلی بار مجھے ایسے مزے سے روشناس کروایا کہ۔ مت پوچھیں ۔۔اس نے میری چوت کو چاٹنا شروع کردیا اور لگا مجھے طریقے سکھانے۔ اب ھم 69 کی پوزیشن میں ایک دوسرے کی چاٹ رھے تھے۔ کچھ دیر بعد اس نے مجھے سیدھا لٹا دیا اور میری ٹانگیں اٹھا کر میری گیلی پڑی چوت میں اپنالن دھکیل دیا۔ جس کی تیز رگڑ سے مجھے کچھ تکلیف تو ھوئی مگر میں مزے کی خاطر برداشت کرگئی۔ پھر اس نے آھستہ آھستہ سارا لن ھی میری چوت میں پیل دیا اور لگازور دار جھٹکے مار نے۔ میں نے اسے طیش دلاتے ھوئے کھا کہ اس رات جیسے طاقتور نھی اج تیرے جھٹکے۔ پھر تو اس نے مشین چلا دی کچھ دیر بعد اب میری برداشت جواب دینے لگی۔ میں نے کھا بھی کہ کمر درد ھو رھی ھے ،تو اس نے کھا کہ تو نے ھی کھا تھا اس دن جیسے جاندار گھسے نہی، تو اب برداشت کر تھوڑی دیر تک جب میں چھوٹوں گا تبھی تیری جان چھوٹے گی۔ کافی دیر تک وہ مجھے اسی پوزیشن میں چودتارھا، پھر اسنے خود ھی پوزیشن چینج کی۔اور مجھے گھوڑی بناکر چودنے لگا۔ ایک دفعہ زوردار جھٹکوں کے درمیان میری گانڈ میں بھی گھسا دیا اس نے، میں فورا اٹھ کھڑی ھوئی اور اس سے ناراضگی کا اظھار کیا۔ اب وہ تو آدھے میں پھنچاھواتھا۔ بڑی منتیں شنتیں کیں تب جاکر میں پھر سے گھوڑی بنی، اسے سمجھایا کہ یہی تو میرا شبیر کے ساتھ جھگڑا ھے۔ وہ گانڈ مارتا ھے اور مجھے یہ اچھا نہی لگتا۔اس نے پھر معذرت کی۔ لیکن میرے دل میں شک پڑگیا تھا کہ اگلی دفعہ اس نے پھر یہ کام کرنا ھے۔ خیر کوئی پانچ منٹ بعد اس نے زوردار جھٹکوں کے بعد میری چوت میں اندر ھی منی نکال دی۔ جس پر میں نے پھربرھمی کا اظھار کیا اور اس کو چلے جانے کا کہ دیا۔۔ اس نے اس رات بڑی منتیں کیں لیکن میرے دل میں وہ خیال بیٹھ چکا تھا تو میں نے اسے دوبارا چدائی نہی کرنے دی۔۔ ھاں اس نے کسنگ کی تو میں نے منع نہ کیا۔۔۔ اگلے دن دوپھر کو وہ پھر آدھمکا کہ کھانا کھانے آیا ھوں۔ میرے ساس سسر سنتے بھی اونچا تھےاور دوپھر کو سوتے تھےشاکر نےپھر بستر پر چلنے کو کھا تو۔میں نے اسکی غلطیاں یاد کرائیں،لیکن پھر میں نے اس کے قسم وغیرہ کھانے پر اسکے ساتھ سیکس کرانے کوراضی ھوگئی۔ تب اس نے جیب سے ایک انگوٹھی نکال کر،مجھے تحفے میں دی۔ اور کسنگ سے نئی چدائی کا اغاز کردیا اس نے مجھے ننگا کرنے کے بعد میری گول گول رانوں پر ھاتھ پھیرتے ھوئے میری تعریف کرنا شروع کر دی۔اب اس نے مجھے اپنے لن کی سواری کرانی چاھی تومیں اس کے اوپر سوار ھوگئی اسکے ھونٹوں کو چوسا اسکے پیٹ پر۔میری چوت رکھی ھوئی تھی جسے اس نے اپنے ھاتھ سے اوپر اٹھا کر ایک ھاتھ کا انگوٹھا اندر کردیا۔ جس سے مجھے بھی بڑا مزہ آیا۔تومیں نے اسی پر اوپر نیچے کرناشروع کردیا۔ کچھ دیر بعد اسنے مجھے پیچھے کرتے ھوئے اپنے لن پر بٹھا دیا۔ اسکا لن سیدھا میری بچہ دانی تک سے ٹکرا رھا تھا۔ جس سے مجھے بھی بڑا اچھا لگا، تب میں نےاسکے کندھوں پر ھاتھ رکھ کر، اپنی چوتڑوں کو اوپر نیچے کرکے کبھی سائیڈوں سے تو کبھی سیدھا لن اندر لیتی رھی۔ اس نے مجھے پھر سے گھوڑی بننے کا کھا تو میں بدک گئی، اوراسے غصہ دکھاتے ھوئے کھا کہ میں نے اتر جانا اور کچھ بھی نہی کرنے دینا۔ تب اسنے کھا کہ ٹھیک لگی رھو۔ میں نے اس کے اوپر جھکتے ھوئے اہنے ممے اسکے منہ کے قریب کردئیے، اسنے بڑے شوق سے ایک ممے کو منہ میں لے لیا۔ اب مجھے ڈبل۔مزہ۔محسوس ھونے لگا،کہ ایک تو میری چوت میں لن اندر باھر ھو رھا تھا دوسراوہ میرا کبھی ایک پستان منہ لیتا کبھی دوسرا۔ کوئی دس منٹ اسطرح کرتے رھنے سے ایک دفعہ اس نے مجھے چوتڑوں سے پکڑ کر زرا اونچا کیا، اور پھر خود ھی نیچے سے دھکے لگانے لگا۔ اسطرح بھی زبردست مزہ آنے لگا۔کچھ ھی دیر بعد اس نے مجھے کھا کہ میں انے لگا ھوں تو میں نے کھا کہ رات کی طرح اندر مت نکالنا۔ اگر دوستی رکھنا چاھتے ھو تو اس نے کھا کہ یار گولیاں لادوں گا مجھے اندر چھوڑنے میں بڑا مزہ آتا ھے۔لیکن میں نے انکارمیں سر ھلا دیا، تو اسنے چند جھٹکوں کے بعد میرے اندر سے لن نکال کر میری چوت ایک سائیڈ پر کردی اور منی نکلنے کے بعد پھر میرے اندر لن ڈالا دیا تو مجھے بھی جوش چڑھا ھواتھا۔ میں نے دوبارہ گرم جوشی سےکچھ بار اوپر نیچے ھوکر اپنی بھی منی نکال دی۔ اسکے بعد اسکو روانہ کردیا۔اب تو اسنے معمول بنا لیا ھر روز دوپھر کو کھانے کے بھانے آتا اور مجھے چود جاتا۔ ھمارا یہ پلان کوئی دس بارہ دن چلا ھوگا۔ کہ ایکدن اسکی بھن اپنے خالہ سے ملنے آگئی۔ اس وقت میں کچن میں تھی کہ خالہ نے اس سے پوچھا کہ تم لوگ کب آ ئے لاھور سے تو اس نے انکشاف کیا کہ ھم لوگ تو لاھور گئے ھی نہی۔ تب میری ساس کو شک ھونے لگا کہ دال۔میں کچھ کالا ضرور ھے۔ میں نے اس وقت انکی یہ باتیں نہی سنیں تھیں۔ ساس نے بھی مجھ پر ظاھر نہ ھونے دیا اور اسے چائے وغیرہ پلواکر روانہ کردیا۔ ھم لیلی مجنوں بنے ھوئے تھے، اس دن جب شاکر آیا تو ھم اپنی روٹین کے مطابق کمرے میں گھسے ھوئے مزے لے رھے تھے کہ میری ساس نے کھڑکی میں سے ھمیں دیکھ کر گالیاں دینی شروع کردیں۔ شاکر کی تو اس نے وہ بے عزتی کردی کہ اسے کھا کہ تو مجھ سے جھوٹ بولتا رھا کہ گھرو الے لاھور گئے ھوئے ھیں، تب اس نے وہ ساری باتیں دھرادیں جو میں نے اوپر بتادیں۔ وہ پرچا کٹوانے کی دھمکی کا سنتے ھے بھاگنے کی کی اسنےکہ اسطرح تو اسکے دوبارہ باھر جانے کے چانسز ختم ھوجائیں گے۔ لیکن مجھے تو اپنی ساس کے سامنے کانی کرگیا تھا۔ وہ تو شکر ھے کہ سسر صاحب کھیں باھر گئے ھوئے تھے۔ اس نے مجھے لکڑی سے خوب مارا۔ میں نے منتیں ترلیں کیں کہ دوبارہ غلطی نہی ھوگی۔ کچھ دیر وہ مجھے مارتی رھیں پھروہ گر پڑیں تو میں نے انکو سھارا دیکر چارپائی پر ڈالا انکو پانی پلایا۔ انکے ھاتھ پاؤں پرمالش کی، تب جاکر انکے حواس بحال ھوئے۔ تو مجھے کھا کہ کپڑے تو پھن لے کوئی آ گیا تو بدنام ھوجائیں گے۔مجھ سے پوچھا کہ یہ کھانی کیسے شروع ھوئی تو میں نے کھا کہ جب اپ نے دوپھر کا کھانا کھلانےکا کھا اسدن سے کھانا دیکرمیں تو اپنے کمرے۔میں چلے جاتی تھی تو یہ ایکدن بھانا کرکے اندر آیا کہ موبائیل چارجر تھوڑی دیر کے لیے دینا اور پھر مجھ سے باتیں کرنے لگا۔ شبیر کب اتا ھے کب تجھے خوش کرتا ھے وغیرہ تب اس نے مجھے زبردستی پکڑ کر چوم لیا اور پھر مجھے کھا کہ اگر میں اسکی بات نہی مانوں گی تو مجھے بدنام کر دے گا۔اسطرح میں اسکے جال۔میں پھنس گئی تو ساس نے مجھ سے موبائیل بھی لے لیا۔ اور کھا کہ اپنوں سےکبھی نہی مروانی چاھیئے، تجھے پتہ یہ اب اپنی جان چھڑانے کو تجھ پر ھی سارا الزام لگا دیگا۔میں نے بھی موقع دیکھ کر اسکے پاؤں پکڑلئے کہ شبیر کو مت بتانا۔ شاکر نے تو مجھے طلاق لینے تک کا کہ دیا تھا کہ میں تجھ سے شادی کرلوں گا۔ تب میری ساس نے کھا کہ ایسے لوگ صرف اپنامطلب پورا کرتے ھیں۔ اور اگر میں نے دوبارہ تیری کوئی شکایت سنی تو میں ضرور شبیر کو تیری شکایت لگادوں گی۔ اسطرح کوئی دو ھفتے پھر خاموشی سے گزر گئے، لیکن چوت پھر بے سکون ھوگئی۔ اب کمال کے دن بھی پورے ھوچکے تھے آنے کے لیکن وہ بھی ڈر کے مارے نہی آ یا۔ کسی انور نام کے لڑکے کو پیسے دے کر بھیجا لیکن میں نے کاغذ پرسائن دینے سے انکار کردیا اور اھستہ آواز میں بولتے اسے پیغام بھیجا، کہ ڈرو نہی آکر سائین لےجاو۔ وہ بھی چالاک قسم کا لڑکا تھا میرا اشارہ سمجھ گیا اس نے دوبارہ پیسے گننے کے بھانے سے کھاکہ آپ فون بھی نہی اٹھاتی ھو تو میں نے کھا کہ فون تو اماں کے پاس ھے۔میں نے پیسے سسر کو پکڑا کر گننے میں اسے مصروف کردیا، اور انور سے کھا کہ اسے چاھیئے کہ مجھے دوسرا فون لادے۔ پچھلے دروازے کے اوپر سے آج شام کی نماز کے وقت جب بجلی جاتی ھے، اوپر سےپھینک سکتا ھے۔اس نے سر ھلا دیالیکن انور بھی جاتے جاتے مجھے آنکھ مارگیا۔ میں نے بھی صرف مسکرانے پر اکتفا کیا۔ کہ میرے سسر گر چہ ان پڑھ تھے سنتے بھی کم تھے نظر انکی کمزور تھی، لیکن سامنے بیٹھے ھوئے تھے۔ اور میں شام کے انتظار میں گھڑیاں گننے لگی میری چوت اب ھر وقت مجھے تنگ کرتی تھی کہ اسکو روز کا نشہ شاکر نے لگا دیا تھا۔۔۔۔ جاری
  47. 2 likes
    لن کی کمائ ۔۔۔ سب نے کھائی ۔۔ اپڈیٹ نمبر 1 نغمہ میرا لن چوستے چوستے تب ھاری جب اس کو فون آنے لگے کہ وہ مھمانوں کو باغ گھمانے لائی تھی جبکہ وہ اکیلی ھی پچھلے خفیہ دروازے سے جو صرف گروپ کی خواتین کو ھی پتہ تھا سے اندر آکر میرے لنڈ کو برتنے کا شاندار موقع گوانا نہی چاھتی تھی۔ لیکن میری استاد و پارٹنر نے مجھے پھلے ھی بتا دیا تھا کہ ایسیوں سے مال کمانا چاھیئے یہ شرط رکھ کر آ ئ تھی پچاس ھزارکی اب وہ مجھے سوری مجھے جانا ھوگا لیکن ساتھ ساتھ میں منتیں کرنے لگی کہ گروپ میں بتانا نہی کہ۔میں تمھیں فارغ نہ کرسکی ۔۔۔ لیکن میں اپنی استاد میڈم سلمیٰ سے غداری نہی کرسکتا تھا۔۔۔۔ میں نے کہ دیا کہ ایک شرط پر کہ کوئی سے آئ اس شاندار سیکسی باڈی والی موٹی کو میرے کمرے میں بھیج دو ایک گھنٹے میں واپس لے جانا ۔۔۔اس نے کھا کہ اس سے ابھی اتنی فری شپ نہی ھے۔۔۔تم ویسے ھی مان جاؤ دوسری دفعہ میں تمھاری کام کرادوں گی ۔۔لیکن میں بھی ڈھیٹ ھوں ۔۔ میں نے ایک ھی جملے میں بات ختم کردی ۔ ابھی کے ابھی نہی تو کبھی نہی۔۔۔تیسری دفعہ فون کی گھنٹہ بجتے ھی اسکو واپس کپڑے پھننے پڑے۔۔میں نے ایسا شو کیا جیسے میرے ساتھ بڑی نا انصافی ھو رھی ھے کہ خود تو چوت چسوای گانڈ مروائی اور مجھے فارغ نہ کرایا۔۔۔۔ بنگلوز کے درمیان چھوٹے سے باغیچے میں ان چاروں بیگمات کی دوسرے تیسرے دن بیٹھک لگتی رھتی تھی مال داری کے ساتھ ساتھ ۔۔ شوھر ان کے دام میں پھنسے ھوئے تھے۔۔۔وہ آئے دن کسی نہ کسی پھول جڑی کو دل پشوری کرنے کے واسطے لے آتے تھے جبکہ بیگمات اپنی۔مرضی سے ھی کرنے دیتی تھیں۔۔ خاندانی مجبوریوں میں جکڑے ان لوگوں سے میری ملاقات کیسے ھوئی یہ بھی ایک بھت دلچسپ لمبی کھانی ھے۔۔ میرا تعلق اندرون سندھ کے ایک پسماندہ علاقے سے ھے جھاں چار بلاک زمیں کا۔مالک بھی رئیس کھلاتا تھا۔۔۔ زمینداری کو چلانا اور دوسروں کے سامنے پانا بھرم رکھنا بھی بڑا مشکل کام ھوتا ھے۔۔جھاں اپنی۔ناک اونچی رکھنے کے واسطے بڑوں کے غلط سلط فیصلوں پر بھی عملدرآمد کیا جاتا تھا میرے والد بچل بارن قبیلے سے تعلق رکھتے تھے اور ھماری دوبلاک زمین ایسے سینٹروالی جگہ پر تھی جھاں پر چاروں طرف بڑے بڑے زمینداروں کی بنیوں کی حد ختم ھوتی تھی۔ جسکا ھمیں فصلوں کی بوائی کے دنوں میں بھت فوائد ملتے تھے ۔۔کہ زمیندار اپنی زمینوں پر کام کے واسطے لیبر منگواتے تھے اور ھم موقع کا فایدہ اٹھا کر لیبر سے ٹھیکے کی بات کر کہ اپنی زمیں میں کام بھی کروا لیتے یعنی انکو لانے اور لےجانے کا خرچہ ھمیں نہی اٹھانا پڑھتا تھا۔۔۔ جس کا ان زمینداروں کو پتہ ھی تب چلتا جب ھمارا کام ھو کا ھوتا لیکن نقصان بھی ھوتا تھا کہ اگر کسی زمیندار کی فصل ھم سے پھلے پک جاتی تو بیل گاڑیوں پر جو فصل اٹھاتے تو وہ بھی ھماری زمین میں سے راستہ بناتے تھے۔۔۔ یہ بیک گراؤنڈ بتانا اس لیئے ضروری تھا کہ اس کی وجہ سے ھی ھمارے علاقے میں جھگڑے اور دشمنیاں بن جاتی تھیں اور سالھا سال چلتی تھیں۔۔۔ جب میں پرائمری اسکول میں داخل ھوا تو میرا قد باقی بچوں سی بڑا تھا رنگ سانولا سفید مائل تھا میری کلاس میں بڑے زمینداروں کے بچے بھی تھے لیکن ھم میں دوستی خوب ھوتی تھی۔۔ لڑکیاں بھی تھیں لیکن کوئ خاص دلچسپی نہی لیتا تھا تب میں ایک دن اسکول میں ایک۔نیا لڑکا عامر داخل ھوا جو شھر سے نئے نئے ھمارے گاؤں میں آئے تھے اسکا باپ ڈاکٹر تھا۔۔ اس نے ھم تینوں دوستوں کے درمیان ایک نیا آ ئڈیا بتایا کہ خالی سلطان راھی و مصطفیٰ قریشی کے ڈائلاگ بولنے سے کیا ھوتا ھے انکے ساتھ وہ موٹے گانڈ والی ھیرونیوں کو بھی تو غور سے دیکھا کرو۔۔ اب وہ ھمیں انکے گول۔مول۔چوتڑوں فلمی تصاویر دکھا کر جھوٹی سچی کھانیاں بتانے لگا اسی نے ھمیں لن کی مٹھ مارنے کاطریقہ بتایا پھر تو ھم چاروں کی ریس لگ جاتی تصور کرتا ھوں آج تو ھنسی آتی ھے کہ بریک میں اسکول کی پچھلی طرف گنوں لگی فصل والی زمین پر کھالےکےکنارے بیٹھ کر چاروں دوست دوست مٹھ مارتے تھے لیکن منی نہی نکلتی تھی عامر منی نکال کر ھم سے ایک ایک روپیہ کی شرط جیت لیتا اتھا ۔۔ پھر جب ھم مڈل اسکول۔میں گئے تو نیاگل کھلا کہ وھاں تو کئی ساری پھل جڑیاں آتی تھیں عامر نے کئی ایک کو خط لکھےمجھے استعمال کرتے ھوئے ان کے بیگ مین پھنچوائے جوتے بھی کھلوائے لیکن بات استادوں تک ھی تھی کیوں کہ۔میں پڑھائ اور قد کاٹھ کے حساب سے مانیٹر ھوتا تھا ۔لیکن بریک میں ھم چاروں ایک دوسرے کے لنڈ ضرور دیکھتے تھے۔۔مجھے یاد ھے کہ آٹھویں کلاس میں جب ھم تھے تب میرے دماغ میں آئے ایک آ ئڈیاں نے میری ھی گانڈ پھڑوادی تھی۔۔۔ ھوا یوں کہ ایک دن جب عامر کا خط ایک نئی لڑکی کی کاپی میں نے رکھا تو کھڑکی سے ایک دوسری لڑکی مجھے دیکھ لیا تھا بریک کے بعد مجھے ہیڈماسٹر نے آفس میں بلوا کر جب پوچھ گچھ شروع کی تو میں نے مار سے بچنے کے لیئے سچ سچ بتانے کا فیصلہ کیا اور عامر کا نام لے دیا جو۔کہ حقیقت بھی تھی لیکن عامر بڑا چالاک نکلا کہ وہ قسم۔کھا کر اور میری اور اپنی رائٹنگ والی کاپی ہیڈماسٹر کو دکھا کر سار املبہ مجھ پر ڈال گیا۔۔ اب مجھے بنا گیا اور گانڈ پر ڈنڈے بھی کھانے پڑے ۔۔لیکن اسی دوران میں نے عامر سے بدلہ لینے کا پکا من بنا لیا۔۔۔ دو تین دن اسکول نا۔جاکر سبکی ختم کی اور پھر ایک دن وہ کام ھوگیا جس کا۔میں نے پھلے ذکر کیا کہ جمعرات والے دن چھٹی جلدی ھوجاتی تھی تو میں نے چاروں دوستوں کو کھا کہ آج مٹھ مارنے کا۔مقابلہ میں نئی شرط رکھی جائیگی۔۔ جو ھارے گا وہ دوسروں سے گانڈ مروائے گا۔۔۔ میری اس شرط پر صرف عامر نے حامی بھری باقی دونوں دوستوں نے دست برداری کا اعلان کردیا ۔۔لیکن لائیو مقابلہ دیکھنے کو سب تیار تھے عامر نے کھا بھی کہ میرے گھر میں چلتے ھیں وھاں اوطاق میں یہ کام کرتے ھیں لیکن میں نے کھا کہ نہی چھٹی کے بعد گنے کے کھیت میں چاروں دوستوں کے درمیان سب ھوگا۔۔ مجھے بدلہ لینے کی ضد چڑھی ھوئ تھی اور یہ زعم تھا کہ میں نے پورا ھفتہ دیسی گھی کھایا تھا۔۔۔ بھر حال دو شرطیں طئے ھویئں کہ جو پھلے ڈسچارج ھوگیا وہ مقابلہ جیتے گا۔۔۔ اور گانڈ سب کے سامنے مروائی جائیگی۔۔۔ عامر کے گھر پر وی سی آر کی سھولت موجود تھی اور وہ رات کو بھی کوئ بلیو پرنٹ دیکھ کر آیا ھوا تھا۔۔ چھٹی کے بعد دوستوں نے پاپڑ شاپڑ خریدے کہ آج تو عامر شھری بابو چدے ھی چدے ۔۔ھم۔مقررہ جگہ پر چھپتے چھپاتے پھیچ گئے ۔۔ عامر ایک چالاکی اور کی کہ وہ سرسوں کا تیل بریک میں جاکر گھر سے چھپا کر لے آیا تھا۔۔ھم دونوں کھالے پر آمنے سامنے بیٹھے اور مقابلہ شروع ھوا تو میں نے تھوک۔سے اور عامر نے تیل سے اپنے لنڈ کو تر کیا ۔ دوستوں نے دے دھنا دھن دے دھنا دھن ۔۔۔ چھک چھک تہ پنجن ۔۔۔کالا انجن کالا انجن کے نعرے مارے تو محول زرا اچھا بن گیا ۔۔۔لیکن شومئی قسمت کہ پانچ منٹ بعد آجا پوجا آجا پوجا پوجا کرتے کرتے عامر کے تیل اور آنکھیں بند کرکہ تصور باندھنے سے اسکی منی سیدھی آکر میری جھولی میں گری۔۔۔جس کے بعد میرے دوست اس کے طرف ھوئے اور کھالے سے لن دھوکر اب شرط کے مطابق سب کے سامنے گانڈ مروانی تھی ۔۔میں منتیں ترلے کرنے لگ پڑا تھا ۔۔۔لیکن نہی عامر بھی اڑ گیا ۔۔میں نے اس کے گھر چل کر مروانے کو تیار ھوا لیکن دوستوں نے کھا کہ وہ اب اتنا دؤر نہی جائینگے۔۔اور پانچ کی تو بات ھے۔۔۔ مجھ پر تو اب وہ جملہ اب صادق آتا تھا کہ ۔۔ آپ اپنے جال۔میں صیاد آگیا۔۔اب چارو ناچار مجھے شلوار اتار کر عامر کے سامنے لیٹنا پڑا لیکن اب سالے کا کھڑا نہ ھو ۔۔۔ میں نے بھی کھا کہ دو منٹ میں اگر یہ کھڑا نہ کرسکا تو شرط ختم ۔۔۔ عامر نے تیل کی شیشی نکالی لنڈ پر تیل لگائ کے ایک منٹ بعد اسکا النڈ پھر تیار اور اس طرح اس بھی خود نے میری گانڈ ماری کے تھوک بھی نہ لگایا اور پیل دیا پھلی دفعہ مراوئ اوپر سے اسکا دباؤ نیچے سخت زمین پاؤں کھالے میں اور اوپر سے دو دوست دیکھنے والے اب تو بقول شاعر ۔۔۔نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔۔۔۔ دوسرے تیسرےجھٹکے سے اس نے لنڈ پور اندر کردیا تو مجھے گرم گرم خون نکلنے کا احساس ھوا کہ ھزیمت وشرمندگی سے مجھے رونہ آگیا۔۔۔ لیکن عامر اور دوسرے دوستوں نے کھا کہ مرا مانھوں تھی۔۔۔ وری بی شرط پان کھٹند اسیں۔۔۔ لیکن اس کنجر عامر کا چوں کہ پھلے منی نکل چکی تھی تو اس کا ٹائم زیادہ لگنا تھا قریبا کوئ دس منٹ تک میں نیچے برداشت کرکہ پڑا رھا۔۔۔۔ اس نے منی نکلنے پر سب دوستوں کو دکھائ بھی کہ دیکھو دیکھو بارن کی گانڈ دیکھو۔۔۔ خیر جیسے تیسے کرکہ وہ میرے اوپر سے اترا۔۔۔ میرے دوستوں نے مجھے سھارا دیکر اٹھایا ۔۔۔عامر نے سوری بھی کیا لیکن میں نے دل۔میں پکی تہیہ کرلیا کہ اسکو تو اسکو اس کے چھوٹے بھائ احسن کو لڑکوں سے چدوا کر ھی دم لوں گا۔۔۔۔ میں جذبہ رقابت سے لبریز گھر پھنچا اور سر درد کا بھانہ کر کہ پیراسٹامول گولی کھا کر لیٹ گیا ۔۔۔ اچھا یہ ھوا کہ میرے ان دوستوں میں سے کوئ بھی قریبی محلے ک۔انہ تھا۔۔ شام کو میرے ابو کا ایک مھمان جو کہ سنیاسی بھی تھا کا کھانا کے کر مجھے اوطاق پر جانا تھا کہ بڑے بھائ زمینوں پر رکھوالی کرنے چلا گیا تھا۔۔ وہ اوطاق پر ابو کے ساتھ باھر بیٹھا تھا کہ جب میں تھوڑا چوڑا چوڑا ھوکر جا رھاتھا ۔ تو ابو کو تشویش ھوئ کہ کیا ھوا ۔۔مین میں نے سائکل سے گرنے کا بھانہ کیا تو ابو مطمئن ہوگئے لیکن حکیم صاحب تاڑ گئےاور کھانا کھانے لگے میرے ابو نے کھا کہ میں چائے بنواتا ھو تم برتن لیکر جلدی آجانا۔۔۔ حکیم۔نے کھا کہ یار حقہ بھی جلا دینا کہ میں رات کو پیوں گا۔۔۔۔ جب ابو پلے گئے تو حکیم۔نے کھا کہ بارن تو اپنے ابو کو چکر دے سکتا ھے لیکن مجھے نہی سچ سچ بتا کیا ھوا ھے۔۔۔اگر تو سائیکل سے گرا ھوتا تو کسی ایک ٹانگ پرچوٹ ھوتی تو وہ لنگڑا کر چلتا لیکن تو تو دونوں ٹانگیں پھیلا کر چل رھا ھے ۔۔ چل شاباش سچ بتا ورنہ میں تیرے اسکول ماسٹر کو تیری شکایت لگا دوں گا۔۔۔۔ وہ حکیم جب بھی آتا اس پاس کے سب گاؤں گوٹھوں میں چکر لگاتا تھا۔۔۔کسی کو گھوڑے کی دوا کسی کو جوڑوں کی دوا دے جاتا۔۔۔۔پیسے بھی کما جاتا اور پھدیاں بھی مارجاتا علاج کے بھانے۔۔۔ لیکن ھماری اوطاق چوں کہ گھروں سے زرا باھر تھی تو اس کا اچھا شکار گاہ بن جاتی تھی۔۔۔ پھر آئے دن اس کی دعوتیں ھوتی تھیں تو ابو کے بھی مزے آجاتے تھے۔۔۔بھرحال اس نے مجھے کھا کہ چوٹ دکھاؤ میں دوا لگا دوں گا۔۔۔ اب تو میں پھنس گیا ۔۔۔ادھر ابو چائے اور حقہ لیکر گھر سےنمودار ھوئے ادھر اس کا اصرار بڑھنے لگا کہ چوٹ دکھاؤ۔ اب میں نے کھا کہ حکیم صاحب ابو کے سامنے نہی دکھاسکتا۔۔ بعد میں آ تا ھوں ۔۔۔اتنے میں ابو قریب آگئے تو حکیم نے ایک ایسی بات کردی کہ میرے تو ٹٹے شاٹ ھوگئیے۔۔۔جب اس نے ابو کے سامنے کھا کہ بیٹا آدھے گھنٹے بعد سرسوں کا تیل لیکر آنا تمھاری ٹانگ پر مالش کردوںگا۔۔۔ ابو نے کھا کہ کیا ھوا تو حکیم۔نے فورا بات سنبھال لی کہ گھٹنے پر چوٹ آئ ھے زر امالش کردوں گا تو ٹھیک ھوجائگا۔۔۔ ابو نے کھا کہ وہ تو اسکی اماں بھی کردیگی آپ آج ھی آئے ھو آرام کرلو۔۔۔۔ لیکن حکیم۔نے کھ اکہ میں دوا بھی تو لگھادوں گا ۔۔۔ ابو نے کھا کہ چل ٹھیک ھے لیکن مجھے حکیم۔کی نیت میں کھوٹ نظر آنے لگی کہ آج ھی تو سرسوں کے تیل کی وجہ سے میری یہ حالت ھوئ ھے اور اب یہ بھی گانڈ مارنے کے چکر میں ھے۔ ۔۔ جب گھنٹہ گزر گیا اور میں نہی گیا تو ابے نے گھر آکر مجھے ڈانٹا کہ حکیم تیرے انتظار میں جاگ رھا ھے اور تو نواب ریڈیو سننے میں مگن ھے ۔۔۔اخر چارو نا چار مجھے تیل شیشی اور احتیاطی طور پر صفائی ستھرائی کے واسطے کپڑا بھی لیجانا پڑا۔۔۔۔۔ اب اوطاق میں میں تھا اور حکیم لنگی باندھ کر بیٹھ احقے کے کش لگا رھا تھا۔۔۔ مجھے اپنے آپ پر بڑا غصہ آرھا تھا کہ یہ مجھے صبح کیا سوجی کہ عامر سے بدلہ لینے کے چکر میں اب گانڈ سوجی پڑی ھے۔۔۔اور اب اس کو بھی بھگتنا ھوگا۔۔۔۔ اس نے لالٹین کی روشنی زرا دھیمی کی اور مجھے اپنی چارپائی پر بٹھا لیا ۔۔۔ حوصلہ دینے لگا کہ کچھ نہی ھوتا نئی نئی جوانی میں ایسا ھوجاتا ھے ۔۔۔ یاد رکھو جس نے تمھاری یہ حالت کی ھے اگر تو میرے دوست کا بیٹا ھے اور میرے ساتھ تعاون کرے گا تو ایک دن تو بھی اس سے بدلہ لے سکے گا۔۔۔ میں پر جوش ھوگیا کہ اور اسکو ابے کو بات نہ بتانے کے وعدے پر ساری کھانی سنا دی۔۔۔ اس نے کھا کہ تو مجھے گانڈ دکھا میں دوا لگا دیتا ھوں ۔۔اور لن کو بھی بڑا کرنے اور مضبوط کرنے کی دوا دوں گا۔۔۔۔ اور اگر تو نے پرھیز کیا اور میرے بتائے طریقے پر چلا تو تجھے کوئ نہی ھراسکتا۔۔میں نے انتقام لینے کی ٹھان لی اور دل کڑا کرکہ اپنے خیال میں حکیم سے بھی چدوانے کو تیار ھوگیا۔۔ میں نے اوطاق کے باھر کا چکر لگایا اور پھر اسکی چارپائی پر اوندھے منہ لیٹ گیا۔۔ اس نے میری گانڈ پر ھاتھ پھیرتے ھوئے سوراخ میں گیلی انگلی گھسائی ۔۔۔جس سے میری چیخیں نکل گئیں ۔ لیکن اس نے پرواہ نہ کی تیل اٹھایااور مجھے ایسے ھی لیٹنے کی تلقین کی ۔۔میں اپنے من میں شرمندہ ھونے لگا کہ ایک انگلی برداشت نہی کرسکا تو اب تو حکیم کا پورا لؤڑا برداشت کرنا پڑے گا۔۔۔ وہ کچھ دیر بعد تیل۔کچھ اور چیزیں مکس کرکہ کے آیا اور مجھے کپڑا منہ۔میں لینے کا کھا ۔۔۔ اور بتایا کہ دس منٹ تک جلن ھوگی لیکن اس کے بعدتم ٹھیک ھوجاوگے۔۔ میں نے حامی بھری ۔اس نے اپنی انگلی پر دوا والا تیل لگایا جو کہ لال سرخ رنگ کا ھوگیا ۔تھا ۔۔۔پھر دوستوں نہ پوچھو ۔۔۔حکیم بڑا داناتھا کہ۔میرے منہ۔میں کپڑا ڈلوالیا تھا ورنہ جو رڑیاں ۔۔چیخیں میرے منہ سے نکلی تھیں وہ سارے گاؤں کو سنای دیتی۔۔۔ میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے لیکن وہ گانڈ کی سوراخ گول۔گول۔انگلی گھماتا گیا ۔۔اور رنگ کے اسے پاسے جو زخم صبح لگے تھے وہ تازہ ھوگئے اور شاید خون بھی نکلا لیکن اس نے اپنا متی جاری رکھا۔۔۔ اور مجھے حوصلہ دیتا تھا کہ کچھ دیر کی بات ھے پھر سب ٹھیک ھوجایے گا۔۔۔ مجھے سے صبح کا سارا واقعہ دوبارہ سنا تاکہ میرا دھیان بٹا سکے۔۔۔۔ پھر اسنے مجھے شلوار واپس پھننے کا کھا ۔۔۔۔میں سیدھا ھوکر بیٹھ گیا اور اب واقعی کچھ راحت محسوس ھو رھی تھی۔اسنے اپنے بچپن کا واقعہ سنایا کہ میرا چاچا جب مجھے چودنے لے گیا تو اس دن گھر پر مستری کام کر رھے تھے سب گھر والوں نے پردے کمروں کے سنے باندھ دیئے تھے۔۔میرا چاچا۔جو میرے کو خرچہ پانی دیتا تھا اور میرے دوسروں سے چدانے کی خبریں بھی جانتا تھا۔۔۔مستریوں کے کھانے کے وقفے کے دوران مجھے خالی کمرے میں لے گیا اور سیمنٹ کی بوریاں ھٹا کر مجھے لیٹنے کو کھا تو میں نے انکار کردیا تو کھنے لگا کہ مجھے پتہ ھے تو فلاں فلاں سے چدوا چکا ھے۔۔۔ مجھے سے بھی کروالے نہی تو میں تیرے باپ کو سب بتا دوں گا۔اس نے میرے گالوں پر ھاتھ پھیرنا شروع کردیا مجھے گلے لگایا اور آجاتی آجاتی میری گانڈ پر ھاتھ پھیرتے پھیرتے میری شلوار نیچے کردی میں نے کھا کہ چاچا اندر نے ڈالنا کیوں کہ میری گانڈ ابھی تک کنواری ھے میرے یار بھی اوپر اوپر سے کرتے ھیں پانچ روپے دیتے ھیں اور ٹھنڈے ھوجاتے ھیں۔۔۔لیکن چاچا ھنس پڑے اور بولے کہ پھر تو گاںڈ کا افتتاح آج میں کردو ں ۔۔ ۔۔ میں نے بڑا انکار کیا تو اس نے دھمکی لگائ کہ میں فلاں مزدور کو بول کر تیرے ہر الزام لگوادیں نے میں دیر نہی کروں گا۔۔۔اس نے مجھے لٹایا اور میری گول مٹول گانڈ پر ھاتھ پھیرنے لگا ۔۔ سندھ میں چھوکرے بازی عام بات ھے ۔۔۔ وہ ایک مقولہ بھی مشھور ھے ناکہ ایسا کوئی درخت جس کی جڑوں کو ھوا نہی لگی ۔۔۔اور ایسی کوئ گانڈ نہی جس پر یار کی منی نہی لگی۔۔۔لیکن یہاں تو چاچا لگا تھا میری پھاڑنے۔۔ اس نے ایک کام ایسا کیا جس نے بعد میں آنے والے مزدوروں پر میرا راز فاش کردیا ۔۔ھوا کچھ ایسا کہ جب اس نے میرے اندر ڈالنے کی کوشش کی تو کچھ میرے ھل ے سے کچھ سوراخ بند ھونے کی وجہ سے لن سلپ ھو سائیڈ پر نکل جاتا۔۔۔ میرا تجربہ تھا کہ چند ناکامیوں کے بعد اوپر ھی چھٹ جاتا تھا ۔۔لیکن یہ بڑا کھڑپیل بندہ تھا اس نے مستریوں کا لایا کالا تیل اٹھایا اور میری گانڈ پر لگا دیا جس سے میری گانڈ چکنی ھوگئی۔۔اور اس نے جھٹکے سے میرے اندر کردیا جبکہ میرے منہ پر ھاتھ رکھ دیا تھا تاکہ میری چیخ کی آواز دور نہ جائے۔۔ پھر اس نے کچھ دیر کوئ حرکت نہ کی پھر اھستہ اھستہ لن اندر باھر کرنے لگا۔ اب تو مجھے بھی مزہ آنے لگا کہ خرچہ پانی بھی ملے گی اور شکایت بھی نہی لگائے گا ۔۔ جب کوئ دو تین منٹ کے بعد اسکی منی نے میرے گانڈ کی سوراخ بھر دیا تو باھر مستری اچکے تھے اور وہ پھٹوں پر کالا تیل لگانے والے مزدور تھے جو تیل والا برتن ڈھونڈ رھے تھے کہ جانے سے پھلے تو ھم ادھر رکھ کر گئے تھے اب وہ کھاں چلا گیا ھے۔۔۔۔ھم نے ا نکی آواز سنی تو جلدی سے کھڑے ہوگئے اور شلوار پھن لی ۔۔۔تب چاچا نے ان کو بتایا کہ تیل ادھر تصاریر میں رکھا ھے تم وھاں اسکو ڈھونڈ رھے ھو۔۔۔ وہ مزدور تیل لینے اس طرف آیا تو چاچا نے مجھے بوریوں کے پیچھے چھپ جانے کا اشارہ کیا۔۔۔ جب وہ مزدور تیل لیکر چلا گیا تو میں کچھ دیر بعد وھاں سے نکل کر جانے لگا تو مزدور مجھے کمرے سے نکلتا دیکھ کر آپس میں کھسر پھسر کرنے لگے۔ ۔۔ ان کے ھنسنے پر جب میں نے اپنی شلوار پر غور کیا تو تھیک میری گاںڈ کے سوراخ کے پاس کالے تیل کے نشان مجھے بھی نظر آگئے ۔۔۔پھر میں بھاگ کر گھر چلا گیا بعد میں چاچے کے ساتھ مل کر میں نے بھی کئی لڑکیاں چودیں۔۔۔ وہ کھانی میں تجھے پھر سناؤں گا ۔پھر اس نے مجھے میری غلطی بتائی کہ تم نے جلدی چھوٹنے پر۔نہی دیر سے چھوٹنے پر شرط لگانی تھی۔۔۔۔ میری خوراک معلوم۔کی اور مجھے چائے پینے سے سختی منع کردیا کہ اگر اچھا ۔۔چدکڑ بننا ھے تو میری باتوں پر عمل کرےگا تو بیٹا ۔۔۔ تیرا لن کمائے گا اور تو خوب کھائے گا۔۔۔۔۔مجھے تو اس وقت عامر سے بدلہ۔لہنے کی دھن لگی تھی مجھے کچھ بات سمجھ آئی کچھ نہ آئی ۔۔اس نے مجھے کل سکول سے چھٹی کرنے کا کھا اور اپنے ساتھ کھیتوں میں کڑی بوٹیوں کی تلاش پر ساتھ جانے کا کھا۔۔ جسکی نے حامی بھر لی لیکن ساتھ ھی شرط۔رکھ دی کہ ابا سے تم جان چھڑائی کروا دینا۔۔۔ اور مجھے اب اپنے گانڈ میں برف کی طرح ٹھنڈک محسوس ھورھی تھی جس پر اس نے کھا کہ کل۔میں ایک اور کیپ لگا دوں گا تو پھر اور بھی آسانی ھوجائگی یہ تیل ساتھ لیجاو اگر بڑا پیشاب وغیرہ رات میں آئے تو پھر خود ھی لگا لینا۔۔۔ سردیوں کی راتیں بڑی لمبی ھوتی ھیں۔۔۔ خیر میں گھر صحیح سلامت بغیر گانڈ کھلوائے پھیچ گیا۔۔ اور صبح ناشتے کے بعد ابو نے مجھے حکیم صاحب کے ساتھ جانے کا۔حکم دیا اور بتایا کہ تیر۔ا بھائ زمینوں پر جاتے تیری چھٹی بھی لے لیگا۔۔۔۔ اب میں تیار شیار ھوکر حکیم صاحب کے پاس پھنچ گیا تو مجھے حکیم۔نے کھا کہ وہ تیل۔کھاں ھے جو مینںے رات تجھے دیا تھا تو وہ تو میں غسل خانے میں چھوڑ آ یا تھا حکیم۔نے کھا کہ وہ لے آ۔۔۔کسی اور نے بالوں میں لگیا تو گنجا ھوجایے گا۔۔مئں بھاگا بھاگا گھر گیا تو ابو غسل خانے میں نیا رھے تھے اور مجھے پتا تھا کہ ابو نھانے سے پھلے تیل۔لگاتے ھیں پھر نھاتے ھیں ۔۔۔۔اب تو میں بڑی مشکل میں پڑگیا تھا امی سے پوچھا تو کھنے لگی کہ ان کو تو اندر گئے دس منٹ ھوئے ھیں اور ابھی بھی دس منٹ اور لگ سکتے ھیں۔۔وہ مجھے دوسرے والے واشروم کا کھنے لگی ک ۔۔۔چھورا چھا تھیو تھیئ ۔ بئی م گھڑی ونج ۔۔۔میں اب چارو ناچار دوسرے وشروم میں گھس گیا لیکن پریشانی تو اب بھی موجود تھی۔۔۔ میں بھاگتا ھوا حکیم پاس گیا تو وہ میری بات سن کر ھنس پڑا کہ اب تو تیرا ابا سارا گنجا ھوجایے گا۔۔۔۔ میں کچھ دیر کے بعد دوبارہ اسی واشروم کے باھر کھڑا تھا کہ ابھی تک ابا باھر نہی آیا تھا۔۔۔۔ ابو جب باھر آیا تو میں ان کو گھور گھور کر دیکھ رھا تھا کہ گنجے ہوگئے ھونگے ۔۔۔لیکن وھاں تو ان کے سر کے سارے بال۔موجود تھے ۔۔مجھے حیرت سے تکتے دیکھ کر ابو نے پوچھا کہ کیا بات ھے لیکن میں انکو کیا بتاتا ۔۔۔شرمندگی کہ مارے میں واشروم میں ھی گھس گیا۔۔۔ میں نے تھوڑی دیر اندر بیٹھنے کے بعد شیشی جیب میں ڈالی اور بھاگ کر اوطاق پر پھنچ گیا۔۔۔حکیم ھوشو میرے ھی انتظارِ میں کھڑا تھا۔۔۔۔جب ھم چل پڑے تو حکیم نے بھاگ کر آنے کی وجہ پوچھی تو میں نے انکو اپنی حیرت کا بھی بتایا کہ ابو تو گنجے نھی ھوئے ۔۔۔تو بولے کہ انھوں نے شایدسر پر لگایا ھی نہ ھو ۔۔۔تب انھوں نے بتایا کہ حکیم ھوشو کے ساتھ یاری رکھے گا تو تجھے میں گھوڑا بنادوں گا۔۔۔ گھوٹکی تک عورتیں تجھ سے چدوانے ایا کریں گی۔میں بڑا حیران ھوا کہ یھ کیسے ممکن ھے ۔۔۔کتھا ں میں کتھاں ملک ملیر ۔۔۔ خیر میں حکیم کے ساتھ جنگلی جڑی بوٹیوں کی تلاش۔مئں سرگرداں ھوگئے۔۔۔ کیئے ایسی بوٹیاں جسے ھم زمینوں کا کام کرتے اکھاڑ کر پھینک دیا کرتےاور اسکے بعد وہ جانوروں کے چارے میں کام اجاتے تھے یا وھیں پڑے پڑے سوکھ جاتی تھیں۔۔۔ایک گھنی جھاڑیوں والی جگہ پر ھوشو حکیم نے مجھے شلوار اتارنے کا کھا تو میں نے کھا کہ بچہ آج تیری خیر نہی۔۔۔ لیکن اب تو میں اتنی دور اس کے ساتھ آچکا تھا۔۔۔ اس نے رات کی طرح میرے سوار کا جائزہ لیا اور بٹاک پر ھاتھ پھیرتے پھیرتے میری گانڈ میں انگلی بھی گھسا دی ۔۔۔لیکن اب مجھے کل جتنی تکلیف نہ ھوئ تھی۔۔۔اس نے تیل لگا دیا اور مجھے حیرت ھوئ جب اس نے میری گانڈ پر زبان پھیرنی شروع کردی یہ میرا پھلا تجربہ اور بعد میں کمزوری بن گئی۔۔۔۔ ھوشو نے کافی دیر چسوای کرنے کے بعد مجھے شلوار پھن لینے کا کہ دیا۔۔۔ اور کھا کہ رات کو ایک لیپ لگا دوں گا تو درد بھی نھی ھوگا اور اگر گانڈ مروانا ھوا تو بھی مزہ ڈبل آئےگا۔۔۔کیں نے کھا کہ مجھے کوئ شوق نہی گانڈ مروائی کا میں گانڈ لینے والا بننا چاھتا ھوں ۔۔۔۔ تو وہ قہقہ مار کر ھنسنے لگے کہ لونڈے باز بننے سے پھلے سبھی کو گانڈ مروانا پڑتی ھے تاکہ سب قسم کا تجربہ ھو۔۔۔۔ میں نے کھا کہ ابھی تو مجھے عامر اور اسکے بھائ کی گانڈ مارنی ھے وہ بھی دوستوں کے سامنے۔۔۔۔۔تاکہ بارن کی عزت دوستوں میں بحال ھو ۔۔۔اس نے کھ اچل ٹھیک ھے میں تجھے سکھا دوں گا دوا دوں گا لیکن تجھے میرے بھی دو تین کام کرنے ھونگے۔۔۔۔۔ میں نے کھا کہ گانڈ مروائی کے علاؤہ سب کام کروں گا۔۔۔۔اس نے کھا کہ ایک دفعہ تو مجھے گرو دکشنا میں دینی پڑےگی پر ابھی جلدی نہی ھے۔۔۔ جب تو تیار ھوگا اور عامر سے بدلہ لے چکے تب میں نے جلدی سے دن کردیا۔۔۔۔۔ اس نے کھا سوچ لے میں دو گھنٹے تک نہی چھوٹوں گا۔۔۔۔ تو میں بھی ترنگ میں کہ دیا کہ میں بھی بارن ھوں ایک چیخ نہی سنے گا تو۔۔۔۔۔ وہ ھنس کر چل پڑا اس نے مجھے وہ بوٹیاں بھی دکھائی جو بھینسوں کو کھلائیں تو دودھ زیادہ دیتی ھیں۔۔۔۔۔ میں نے وہ جھاڑی کافی ساری کاٹ کر تھیلے میں بھر لیں۔۔۔۔ دوپھر کے وقت ھم جس علاقے میں گھومتے گھومتے پھنچے تو ایک اوطاق پر حکیم کے ایک پرانے جاننے والے سے ملاقات ھو گئی اس نے کھانا لانے کے لیئے اپنے کمدار کو گھر بھیج دیا اور ھمیں اندر بٹھا کر دونوں کچھری شروع ھوگئے ۔۔۔ میرے لیئے کوئ خاص دلچسپی والی باتیں نہ تھیں تو میں نے چارپائی پر ٹانگیں سیدھی کرلیں اور تھوڑی دیر میں سوگیا۔۔۔۔کچھ ھی دیر گزری کہ لسی بن کر آ گئی انھوں نے مجھے آواز دی لیکن میں سویا رھا تو کمدار نے بتایا کہ ککڑ پکنے میں گھنٹہ بھر لگ جائیگا۔۔۔۔ چل ٹھیک ھے جب تک ھم کچھری کرتے ھیں پھر لے انا۔۔۔ اس ے جانے کے بعد جبکہ میری آنکھ بھی کھل۔چکی تھی اب وہ چاچا خانن حکیم کو بتانے لگا کہ یار دوا تو ے زبردست قسم کی دی تھی ۔۔۔ میں نے اپنی ھاری کی چھوکری پر آزمائی تھی۔۔۔ وہ تو واقعی آدھا گھنٹہ تو کھیں گیا ھی نہی اب اس لڑکی کی شادی ہوگئی ھے پر جب بھی آتی ھے میرے پاس ضرور چدانے آتی ھے۔۔۔۔ کھتی ھے کہ آپ کے ساتھ زیادہ ٹائم پاس ھوجاتا ھے۔۔۔ حکیم نے کھا کہ اب تو دوا اس صورت میں تجھے ملے گی جب تو مجھ سے بھی کوئ چھوکری چدوائے گا۔۔۔۔ پچھلی دفع بھی تو نے وعدہ پورا نہی کیا۔۔۔ چاچا خانن نے کھا کیوں تجھے کمدار کی بیوی سے کروایا تو تھا ۔۔جب اس کی رڑیاں رات کے اندھیرے میں میرے گھر تک سنائی دے رھی تھیں۔۔۔۔ ھوشو نے کھا کہ وہ تو پرانی رانڈ تھی اب تو کوئ کچی کلی کھلا تو مانوں گا ویسے بھی جڑی بوٹیوں کو سوکھنے میں کچھ دن لگجایئں گے تب تک تو انتظام کرلینا۔۔۔ پھر اچانک ھی نسوانی آواز میں سلام کرتا ھوا اندر داخل ھوا تو حکیم کھل کھلا کر ھنس پڑا۔۔۔ اور کھا اوہ کزبانو آئی ھے۔۔۔ تمھیں کیسے پتہ چلا کہ میں آگیا ھوں وہ بولی کہ کمدار نے بتایا کہ آپ آئے ھو تو مجھے بھی یادگیری آئی کہ کیا شاندار رات گزری تھی آپ کے ساتھ ۔۔۔یہ خانن اور میرا شوھر کھمبوں تو دس منٹ میں تھک جاتے ھیں۔۔۔ میری ایک رشتہ دار ی کو سانپ نے ڈس لیا ھے ھم نے اس کا پاؤ تو باندھدیا ھے ۔۔لیکن دوا اگر مل جائے تو احسان ھوگا۔۔۔ حکیم ھوشو نے کھا کہ میری پاس شرطیہ علاج ھوگا لیکن شرط لڑکی دیکھنے کے بعد بتاؤ گا۔۔۔۔ خانن نے کھا کہ جلدی جاکر اس کو پیش کرو پھر شرائط کو بھی دیکھ لیں گے۔۔۔۔۔ کزبانو اپنی رشتے دار کو لینے چلی گئی تو حکیم نے چاچا خانن کو فخریہ انداز میں بتانا شروع ھوگیا کہ جب میں نے اس کو ہمیض اتارنے کا کھا تو اس نے انکار کردیا کہ تم نے دو منٹ تو لگانے ھیں میں نے شلوار میں سراخ کردیا ھے تم سودا ڈالو اور فارغ ھوجا میں نے کھا تو مجھے جانتی نھی کہ میں شرط رکھ کر ٹائم لگاتا ھوں ۔۔۔پھر وہ کچھ بھی ھو۔۔۔ اس نے بھی ضد کھالی کہ اچھا میں بھی ملاح کی بیٹی نہی جو تیرے سے ھار جاؤ ں ۔۔۔میں نے کھا کہ اگر میں جیت گیا تو تیری گانڈ ماروں گا۔۔۔۔ اس نے کھا کہ اگر تو نے مجھے دو دفعہ فارغ کرادیا اور خود نہی چھوٹا تو میں تیری شرط مان لوں گی لیکن اگر تو ھار گیا تو مجھے پانچ سو دے گا۔۔۔۔۔ یہ اس زمانے میں بڑی رقم۔ھوتی تھی۔۔۔۔ حکیم۔نے کھ اکہ رقم بھت بڑی ھے کچھ ہم کر پو بولی کہ بس نا بس کرادی میں نے تیری ۔۔۔۔۔۔ میں نے کھا کہ اچھا چل تو مجھے زمینی نلکے کا تازہ پانی لادے ۔۔۔پھر شرط منظور ھے۔۔۔۔۔۔۔۔وہ پانی لینے چلی گی اور میں نے لونگ کا تیل لنڈ پر لگا کر مٹھ مارنا شروع کردیا ۔۔۔۔۔ اس کے واپس آتے تک میں نے دس منٹ میں اپنی۔منی نکال دی تھی۔۔۔ جس کی بو اسکو بھی محسوس ھوئ لیکن میں نے کھا کہ تیرے کو چدنے کی خوشی میں ھی یہ بو محسوس ھورھی ھے۔۔۔ اب میں نے اس کے سامنے ایک پھلی کھائ کو طاقت کی تھی ۔۔۔جبکہ میں ایک دفعہ منی نکالنے پر ایک گھنٹہ تک شیر ھوگیا تھا۔۔۔۔۔۔ میں نے ایک کام اور کیا کہ مالش میں کام آنے والا تیل اس کی چوت پر پھیر دیا اس نے اعتراض کیا تو میں نے کھ دیا کہ یہ سوکی چوت میں گھسانے سے تجھے تکلیف نہ اس لیے لگانا ضروری ھے۔۔۔اور وہ بھلی۔مانس میرے کھنے میں اگئی ۔۔۔۔ اور میں نے اسکے صرف سلوار اتارنے پر اکتفاء کیا ۔۔۔۔۔ اور چارپائی پر لٹا کر اس چوت میں لن پیل۔دیا ۔۔۔میری عادت تھی کہ جب تک شرط نہ جیت لوں ۔۔۔صحیح کا سیکس نہی کرتا تھا۔۔۔۔۔ میرے سامنے تو بڑی بڑی سرے گھاٹ کی رنڈیاں نہی ٹھر سکتی تھیں یہ تو پھر بھی عام سی دھاتی عورت تھی۔۔۔ جس کے چوتڑ بھی سکتے ھوئے تھے ۔۔۔سڈول جسم صرف چھرہ ھی خوبصورت تھا ۔۔۔بولتے ھوئے اس کی گالوں میں سمبل بن جاتے تھے۔۔۔۔ھنستی بھی بڑی پیارے انداز میں تھی۔۔۔ لیکن جب می ں نے لن اندر گھسایا تو اوہ اماں مار چھریوں ظالم ۔۔۔اھستہ کر بھجییو تھی ومکاں چھا۔۔۔۔ یعنی اھستہ کر میں کوئ بھاگی نہی جارھی۔۔۔۔ لیکن میں نے اس کے علم۔میں لائے بغیر پھر اپنے لن پر تیل لگا لیا تھا ۔۔۔تاکہ اندر تک تیل پھنچ جائے ۔۔۔اور جلد ھی اسکا نتیجہ سامنے آنے لگا ابھی دو ھی۔منٹ گزرے وں گے کہ وہ اوہ اوہ کرنے لگی اور گانڈ اٹھا اٹھا کر میرا ساتھ دینے لگی۔۔۔۔ تیسرے منٹ میں وہ فارغھوچکی تھی ۔۔مئں نے اسے فورا اٹھا کر بٹھا دیا کہ اس منی اگر اندر زیادہ دیر تک رھی تو وہ تیل کو بھی ساتھ لیکر نکلے گا ۔۔اسکو بڑی حیرت ہوئی کہ واہ ھوشو بڑا مزہ آیا ۔۔۔مئں نے اس ے کپڑا نکال دیا صفائ کرو اور دوسری دفعہ کے لیئے تیار ھو جائے ۔۔۔اس کو سمجھ نہ لگے اس دفعہ میں نے اپنے لنڈ پر زیادہ تیل لگایا ۔۔۔اور اس کو گھوڑی بنا کر اسکے گانڈ پر ھاتھ پھیرنے لگا تو ایکدم سیدھی ھوگئی اور بولی کہ ابھی شرط پوری نہی ھوئ میں نبھی کھا کہ ٹھیک میں آگے سے ھی کروں گا۔۔۔۔بس راستہ ادھر سےکھولوں گا۔۔۔تیل۔سے لتھڑے لن کو جب میں اسکی چوت میڈالا تو وہ ٹڑپ اٹھی کہ اھستہ کر بھین چود۔۔۔۔ جلا کر رکھ دیا دراصل اسکو سمجھ ھی نہی آئ جب میں نے اس کو صفائ کا کپڑا دیا تھا تو اس نے اندر تک انگلی گھسا کر صفائ کردی تھی ۔۔جو کہ خشکی کا باعث بنی اور زور سے پیلنے سے رگڑائی بھی خوب لگی ایک۔منٹ میں ھی تیل نے اپنا کرنا شروع کردیا اتنی اس کو ھیٹ ملی اندر سے کو دو منٹ کے اندر ھی فارغ ھونے جیسی ھوگئی ۔۔اس نے بڑا کھا کہ مجھے پیشاب آرھا ھے زرا نکالو لیکن میں جانتا تھا کہ ؤہ وقفہ حاصل کرنے چاھتی تھی لیکن میں کھا کہ کہ میں چھوٹنے والا ھوں زرا صبر کر لے مم وہ میرے چکر میں اگئی اور سیدھی ھوکر لیٹ گئی میں نے بھی دے دھنا دھم گسائ شروع کردی۔۔ تین منٹ بعد وہ ایک دفعہ پھر چینے چلانے لگی میری کمر کےگرد زور سے اپنی ٹانگیں لپیٹنے لگی ارگیزم اس کو آگئے تھے فارغ ہوگئی اس کو یقین نہی ارھا تھا کہ میرا لن اب تک ویسا ھی کھڑا لھرا رھا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ دو دفعہ فارغ ھوچکی تھی ۔اب وہ مجھ سے ھار چکی تھی لیکن اب اس میں اور ھمت نھی تھی۔۔لیکن میں نے کھا کہ دودھ پڑا ھے پیو اور پلاو۔۔لیکن میرا لن چھڑاؤ۔۔۔ میں جان نہی چھوڑنے والا۔۔۔۔وہ جو تم۔نے رڑیاں سنی تھیں وہ گانڈ مروائی کی تھیں ۔۔میں نےاب میدان مار لیا تھا ۔۔۔جب میں اسکیی گانڈ مارنے کی تیاری کر رھا تھا ۔۔ اس نے منتیں کرنی شروع کردیں۔۔لیکن میں نے دودھ جو میری گلاس میں تھا اسکے کمر اور گانڈ پر ڈال کر چوسنا چاٹنا شروع کردیا چونکہ وہ بھی پھلی دفعہ گانڈ میں لینا چاھ رھی تھی تو وہ بھی چاٹنے سے محظوظ ھونے لگی۔۔۔۔اب میں اسکے بڑے بڑے چوتڑ ایک ھاتھ سے کھولتا۔اور اس کی بیچ میں تھوڑا سا دودھ انڈیلتا تو پھر اسکو زبان سے چاٹتا جاتا ۔۔۔وہ بھی مزے سے سسکاریاں بھرتی ۔۔۔اور میں نے گانڈ کے سوراخ پر سادہ تیل ڈال۔کر انگلی اندر ڈال کر آگے پیچھے کرنے لگا۔۔۔ وہ ھنس پڑی کہ بس انگلی سے ھی کام چلانا نا ھے کیا۔۔۔۔ لیکن جب سارا دودھ ختم ہوچکا تو میں نے انگلی تیز تیز اندر باھر کرتےاور ایک دفعہ میں انگلی کی۔جگہ فوراً لن گھسا دیا ۔جو اس اچانک افتاد کے لیئے بالکل ل تیار نہ تھی ۔۔۔زور دار چیخ نکلی اسکی اور تڑپ کر میرے نیچے سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔لیکن میں نے کچی گولیاں نھی تھی کھیلیں ۔۔۔۔مین نے فوراً اسکی۔کمر پر ۔ھاتھوں کا دباؤ بڑھا کر قابوکر لیا ۔۔۔۔ لیکن اوطاق کے باھر اسکے شوھر کی آواز آنے لگی کہ کزبانو کزبانو۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔جاری ھے۔۔۔۔۔ ۔ جو جو پھلا اچھا کمنٹ کرے گا ۔۔۔ائیندہ آپ ڈیٹ میں اسکی پسند کا سین ڈالا جائیگی
  48. 2 likes
    اب 50 کمنٹس کے بعد ہی اگلی آپ ڈیٹ ملے گی بلکے یوں کہیے کہ ہر بار 50 کمنٹس کے بعد آگے پڑھنے کو کچھ ملے گا ورنہ میری طرف سے معذرت
  49. 2 likes
    بات اتنی سادہ نہیں ہے جناب ہم نے کہانی قارئین کے لیے برقرار رکھی تھی اپنی کمائی کے لیے نہیں۔ہمیں چور کہنا یا گالیاں دینا کہاں کا انصاف ہے؟ یہی وجہ ہے کہ اب ہمیں اس کہانی کو ٹریش میں موو کرنا بہتر لگ رہا ہے اس الزام کو لینے سے۔ بہتر حل یہی تھا کہ اس کو ڈیلیٹ کر دیتے باقی فورمز کی طرح۔ ہم کام کر کے چور کہلائے جا رہے ہیں۔
  50. 2 likes
    final episode ‘’bua ap pareshan nai hn..ma agya hn na?mere papers b khatam hogye hn aura b ma yahin h nap k pas hamesha k liye..ap rona bnd kren’’ Ma ne bua ko hug kia Bua: puttar muje apni nai teri fikar ha Me: kuch nai hota bua muje Bua: tu thane ja aur hashoo k aghwa/kidnapping ki report kr..pata nai us bechare k sath kya kia ho ga unho ne Me: g bua ma jata hn Bua: khana kha le pehle..aur akele na jana ab kahin b Me: g theek ha bua Bua kitchen mein chali gaen Bua pe firing ne to muje b dara dia tha thora aur ye khof apne liye nai bua k liye tha Muje umeed nai thi k afzal is hud tk b ja skta ha Lekin wo afzal tha aur kuch b kr skta tha ‘’bua ma thaane ho aun zara..ma soch raha tha k afzal bhai ko b sath le jaun’’ Khana kha k ma ne bua ko kaha Bua: han theek ha puttar..akhir bhai ha tera Bua ka maatha choomte hue jane kyu meri ankhon mein ansoo agye..jinhe chhpate hue ma jldi se bahir agya ‘’saeen kahan ja rai hn?’’ Bahir aya to noora jldi se mere pas aya..ghar k bahir aur bethak mein aur b bnde bethe hue the Me: kaam ja raha hn Ma ne gari ka darwaza khola Noora: ap akele nai ja rai kahin Me: zarurat pari to bula lu ga..filhal yahan ka khyal rkho Gaon se nikal k ma ne gari rok li aur 1 call ki..wahin beth k adha ghanta w8 k baad dosri call kr k ma ne gari afzal k gaon ki taraf barha di Itne bnde afzal k dera k bahir kbi nai dekhe the ma ne Ma apni gari se utra to foran 2 3 bndon ne aa k meri talashi li..ma apni gun le k nai aya tha ‘’samne wale kamre mein’’ Un mein se 1 bola aur ma seedha andar dakhil hogya Afzal 1 chair pe taang pe taang rkh k betha hua tha ..beech mein 1 table thi aur afzal k opposite aur aur chair pari thi Afzal: han faizi bol Hum dono mein se kisi ne b hath milane ki koshish nai ki Me: bahir itne bnde? Ma us k samne wali chair pe beth gya Afzal: dushman daari ha bche Me: ma hashoo ko lene aya hn Afzal hansne lga Afzal: tuje kis ne kaha k hashoo mere pas ha? Us ki ankhen aur us ka lehja mera mazaq urane wala tha Me: rehan mila tha muje..bohat sharminda tha apni harkat pe Afzal: oh acha..pehle mere sawalon ka jawab de Jawab mein ma ne apni pocket se chacha aur irfan k mobiles nikal k table pe rkh diye Me: hashoo ko bula Afzal: tu kya samajhta tha k tu muj se jeet jaye ga? Wo fatehana hansi k sath bola Me: han Afzal: faizi tu yahan se zinda nai jar aha Me: jaanta hn..hashoo ko chhor de Afzal: tere baba ko is k baap ne he maara tha Me: han jaanta hn ma..tu ne zameen di thi usay is kam ki Afzal: bara asool pasand bna phirta tha tera baba Wo hansa Me: tu ne meri bua pe firing krwa k acha nai kia Afzal: choohay ko bil se bair b to nikaalna tha na..wese kya damagh paya ha tu ne yar Wo hanste hue bola Me: bs 1 ghalati hogae muj se Afzal: k afzal se panga le lia…ha na? Me: nai..sb se pehle tuje maar dena chahiye tha Afzal: acha g? Bua ki call aa rai thi Afzal ne naife se gun nikal k mere ooper taan di Afzal: apni bua ko kya bta k aya ha? Me: yehi k thane ja raha hn tere sath hashoo k liye Afzal: usay bta k tu thane he ha aur ma b sath hn Ma ne bua ko call back ki aur yehi bol dia Bua: meri baat kra afzal se Ma ne mobile afzal ko de dia ‘’g bua..han g..ap fikar na kren..ma SP se b baat kru ga…mil jaye ga hashoo’’ Baat khatam kr k us ne mera mobile off kr dia Me: matlab thane se wapsi pe muj pe namaloom afrad firing kren ge aur… Afzal: aur kya Me: hashoo zinda ha na? Afzal: filhal to zinda he ha..us ka kaam baad mein khatam kru ga…chal uth ab Gun ka rukh meri taraf kr k wo khara hogya Me: hashoo se milna ha 1 bar ma ne..akhri khwahish samaj lo Ma chair se nai utha Afzal dobara beth gya aur gun apni lap mein rkh k apne 1 bnde ko awaz de k hashoo ko lane ka bol Thori der baad hashoo andar dakhil hua to ma ne sukoon ka saans lia ‘’udher beth oye’’ Us ne apne peeche corner ki taraf ishara kia to hashoo wahan ja k khamoshi se charpoy pe beth gya Me: tu theek ha na hashoo? Hashoo: tuje yahan nai ana chahiye tha faizi Afzal: akhri bar dekh le apne dost ko hashoo…wese kul tu b is k peechhe he ja raha ha ooper..chacha k mobile se tu ne msg kia tha k afzal ab ooper he mulaqaat ho gi Hashoo ne zard chehre k sath meri taraf dekha ‘’afzal…meri baat sun gandoo’’ Hashoo chillaya Afzal ne bethe bethe mur k us ki taraf dekha…aur muj kisi aise he moqay ki talash thi Ma ne taqat se beech mein pari hui table ko apne paon se afzal ki taraf push kia Table afzal k pait pe lgi ‘’behnchod’’ Sambhalne ki koshis krte hue afzal ka hath apni lap mein pari hui gun ki taraf gya aur itne mein ma us pe chhalang lga chuka tha ‘’hashoo’’ Ma ne usay awaz di..afzal k gun wale hath ko ma ne dono hathon se pakra hua tha lekin us mein saand jitni taqat thi ‘’teri maa ki..’’ Hashoo bhaag k aya aur apna paon afzal k gun wale hath pe rkh dia jis se gun us k hath se nikal gae Ma ne jldi se gun uthae aur khara ho k afzal pe taan li ‘’beth kursi pe…aur awaz nai deni kisi ko’’ Afzal muje ghoorta hua utha aur chair pe beth gya Afzal: tuje lgta ha tu yahan se zinda bch k nikal jaye ga? Me: ma yahan merne nai aya tha Ma wapis usi chair pe beth gya …gun ka rukh abi b afzal ki taraf tha Afzal: mat kr apne ap se ziadati..kutte ki mot mre ga tu Us ki akar abi b wesi he thi Me: hashoo darwaze ko kundi lga de andar se Afzal: oye tu.. Me: chup kr k meri kuch baten sun BC Afzal khoon ashaam nazron se muje ghooray ja raha tha Me: muje bohat baad pata chala k mere ammi abbu ko marne walon mein tu b tha..phir mere baba ko merwaya tu ne…muje maloom nai tha lekin mera bdla to bohat pehle shuru hogya tha Afzal: kese.. Me: shuru se btata hn..teri bv sumaira ..us ki to ma apne bachpan se leta aya hn…aram se beth ja Afzal ghusse mein kahara hone lga to ma ne gun se usay bethne ka ishara kia Me: phir ma ne teri dono behno ko choda bari bari…us k baad teri pehli bv tooba b muj se chudwati rai..wo tere jese kanjar se jan chhurana chahti thi to ma ne sumaira k sath mil k wo video bnae aur tooba ko di… Afzal: in dono gashtion ko … Me: sumaira k pait mein bucha b mera he ha Ye jhoot bola tha ma ne..ma usay ziada se ziada aziyat dena chahta tha afzal ka chehra gheez o ghazab se surkh ho chuka tha me: aijaz ko ma ne warghala k hospital se ghayeb kia aur Lahore le gya…maqsad tuje us k hathon merwana tha lekin tu ne pehle usay maar dia…ye to tu jaanta he ha k pehle ma ne irfan ko maara..aur zeshan ko tere hathon merwaya irfan k mobile ki madad se…phir tum logon k lalach ka faida utha k ma rashid chacha k kreeb hua aur agay ka tuje pata he ha k us k wo kese ooper gya.. ma ne apna mobile on kia aur majid ko call milayi ‘’ajao…lekin ma andar kamre mein hn aur khud he bahir ajaun ga hashoo k sath’’ Call bnd kr k ma ne afzal ki taraf dekha Me: yahan ane se pehle ma 1 goli rehan k sir mein b utaar k ayah n..pata nai us ki lash milti b ha ya nai..aur akhri baat..tu samaj raha tha k ma yahan bndon samait aun ga..ma aisa he krta agar hashoo na hota tere pas kyu k ma jaanta tha k agar ma yahan hamla kru ga to tu ise maar de ga foran aur.. Afzal: ane de tere bndon ko..bahir mere bnde b tayyar hn..sb ko pata to chale k tu kitna bara badmash ha Us ne meri baat kaati Me: ma ne ane se pehle apne bndon se ch sb k bete ki taang mein goli merwa di..aur phir ch sb ko call kr di k ye tera he kam ha aur ye k tu ne bua pe b firing krwayi..wo to pehle se tayyar tha yahan bnde bhejne k liye aur ma ne kaha k ma ne tuj se bdla lena ha to hum mil k he krte hn kuch..abi thori der baad bahir jo ho ga us mein ch sb k nam he aye ga mera nai Itne mein bahir se firing ki awazen ane lgi jo ziada der nai chali Afzal k agar 20 bnde the to ch sb aur mere bnde un se double the 10 mint baad majid ki call ayi ‘’bhaag gye saale’’ Afzal ki akar ab khatam ho chuki thi Ma khara hua to wo b khara hogya ‘’tu jeet gya..muje jane de ab..yehi behter ha tere liye’’ Me: teri sb se bari ghalati ye nai thi k tu ne mere maa baap aur baba ko maara…teri sb se bari ghalati yeh thi k tu ne meri bua pe firing krwae… Afzal achanak muj pe jhapta Ma thora peeche hua aur gun ka trigger daba dia Goli us k dayen shoulder mein lgi aur wo peechhe ko gir gya ‘’faizan nam ha mera …FAIZAN URF FAIZI’’ Wo us k pas khara hua aur poora magazine us k jisam mein khali kr dia Ma chair pe beth k lambe lambe saans lene lga ‘’faizi..chal uth chalen ab’’ Hashoo ne mera hath pakar k khencha Bahir ch sb aur majid sath sath khare the Ch sb: afzal kahan ha? Me: andar he ha Ch sb: andar se firing ki awaz aa rai thi Me: g …kuch fire usay darane k liye kiye aur 1 goli us ki taang mein maar di..ap k bete ki taang mein he goli mewayi thin a is ne ‘’shabash faizi’’ Ch sb hanse Me: kul milte hn chacha g ‘’kis ka w8 kr raha ha?aur ye bnde kahan hn sb?’’ Ma hashoo k sath dera pe agya tha Me: majid ki call ka w8 kr raha hn Hashoo: ma samja nai Me: ch sb ko btaya to yehi k afzal ki taang mein goli maari ha..abi kuch he der mein afzal ki mot ki khabar usay mil jaye gi aur wo samaj jaye ga k afzal ko ma ne maara ha..siyasi bnda ha ch aur kul ko ye baa two mere khilaf b use kr skta ha.. Hashoo: matlab.. Me: afzal ne ch k bete ko goli merwayi..ch ne afzal k der ape hamla kia aur firing k nateeje mein afzal maara gya…aur wahan se wapsi pe afzal k bndon ne ch sb pe hamla kia aur usay b maar dia Thori der baad sheeday ki call agae ‘’saeen kam hogya ha’’ Me: ch sb k bnde.. Sheeda: 2 3 ko golian he lgi hn ‘’agya mera puttar..ma to itni pareshan thi..kon log the wo?’’ Bua hashoo ko gale lga k boli Hashoo: pata nai bua kon the wo..phir khud he chhor b dia muje 1 ghnate baad he bua ko tayi ka phone agya tha afzal k qatal ka btane k liye Afzal ki mot ko 1 hafta guzar chuka tha ‘’hashoo’’ Ma aur hashoo dera pe the Hashoo: han.. Ma ne gun nikal k us k samne rkh di Me: wo zamin akram chacha ko afzal ne baba ko maarne k liye di thi..aur baba ko akram chacha ne he maara tha…phir isi kamre mein ma ne akram chacha ko maara aur yahan aag lga di..ma ne 1 bar tuj se puchha tha na k farz kr k tuje pata chale k ma ne tere abbu ko maara ha to tu kya kre ga aur tu ne jawab dia tha k tu muje maar de ga..ye gun utha hashoo…aur le le apna bdla Ma ne chehra ooper kr k hashoo ki taraf dekha to wo beyaqeeni se meri taraf dekh raha tha Wo 1 jhatke se utha aur koi lafz bole bgher bahir nikal gya Hashoo sirf dera se he nai gaon se b nikal gya tha Bohat dhoonda usay lekin wo nai mila Ma baba abbu aura mmi ki qabron k darmyan betha hua tha ‘’baba..ammi..abbu…bhej dia un sb ko ooper jinho ne ap logon ko muj se chheena…akhri wle ka kul ch****m …ma sukoon mein to h nab…lekin 1 khalipan/emptiness ka ehsas b rehta ha mere andar..hashoo jane kahan chala gya ha mil he nai raha itna dhoonda usay…shayed kisi din mere samne aye ga aur mere sath b wohi kre ga jo ma ne us k baap k sath kia..wohi to tha 1 mera dost..aur hania ka b intezar ha muje…bua bohat udaas si rehti hn apne bhtijon aur bhai ki waja se..krta hn baat aj un se b..’’ ‘’bua’’ Ma apni fav jaga yani bua ki lap mein sir rkh ke laita tha Bua: han puttar Me: 1 baat btani thi apko.. Bua: han han bta Me: bakhshoo ko to ap jaanti he hn.. Bua: wohi to tuje mere pas chhor k gya tha.. Muje kahani mein thori changes b krni thn Me: wo muje mila tha merne se 1 din pehle…bua us ne wo sb dekha tha jo mere ammi abbu k sath hua…bs wo sari umer apni jan bchane k liye he chhupa raha..us din accident k baad 1 gari mein rashid chacha irfan zeshan aur afzal aye aur in logon ne gari pe petrol chhirak k aag lga di..aur bua uswaqt ap ka bhai aur bhabi zinda the… Bua ki ankhon se tapka hua 1 ansoo mere chehre pe gira to ma ne un ki taraf dekha Bua: tere baba sari umer yehi kehte rai k ye rashid ka he kam ha…lekin kbi tuj se baat nai ki is bare mein..aj pata chala k tere baba theek he kehte the Me: aur bua..afzal k he 1 bnde ne majid ko btaya k baba ko b afzal ne he qatal krwaya tha Bua: chal puttar sb pohnch gye apne anjaam ko Ma dani ko lene bare taya k ghar aya hua tha Afzal ki death k 1 mahine baad he sumaira ne us ki beti ko janam dia tha Dani afzal ki beti ko le k bethi hui thi ‘’pakro na ise’’ Us ne muskura k bchi mere agay kr di Zindagi mein pehla moqa tha k ma kisi bche ko banhon mein le raha tha..aur jane kyu mera dil pighal sa gya…agar wo afzal ki beti thi to is mein us ka kya qasoor tha ‘’kya nam rkha ha?’’ Ma ne us ka chhota sa matha choom lia ‘’tum rkh do na nam..chachu ho is k’’ Tayi boli Me: ma …kese.. ‘’tum he rkho ge nam’’ Ye sumaira thi ‘’palwasha…lekin ye to pathano wala nam ha…’’ Ma ne tayi ki taraf dekha Tayi: palwasha he theek ha Me: tum tayyar hojao..chalte hn phir Dani aur tayi dosre kamre mein chale gye aur ma palwashako liye sumaira k bed k pas chair pe beth gya Me: ab taya tayi ka sb kuch tum he ho sumaira..in ka bohat khyal rkhna ha tum ne..ma b ata jata rahun ga..kisi cheez ki zarurat ho muje btana…apne ap ko change kr lo plz..palwasha k liye Sumaira: tum fikar nai kro faizi…ma ise dosri sumaira nai bn’ne du gi..aur taya tayi ki taraf se b pareshan nai hona..bohat care kru gi ma in ki Wahan se uth k ma taya k kamre mein agya Me: taya ma ne ap se bola tha na k ma afzal ko…aur ap ko waja b pata ha ma ne aisa kyu kia..ma h nap k beta…sb se pehle apko Lahore kisi ache doctor ko dikhana ha ma ne..ap ne theek hona ha…us k baad chahe muje saza b de dena.. ‘’aaahhh…ooohh…aaahhhh Dani apni gaand tezi se ooper neeche krte hue mere ooper jhuki aur apni zuban mere honton mein de di Us ki zuban chooste hue ma us ki gaand ko hathon mein le k masalne lga Kuch der baad hum akathe he farigh hogye Wo hampti hui mere ooper he lait gae Me: sojao ab…subah jldi nikalna ha Agle din mera result tha aur dani ne mere sath he Lahore jana tha ‘’idhar kidhar ja rai ho?’’ Dani ne meri taraf dekha Me: oh…yar bs aadat thin a Lahore jate hue hashoo ko sath le jane ki … Be dhyani mein apni gali se nikal k ma ne hashoo k ghar ki taraf mor li thi gari ‘’rehan ka kuch pata nai chala abi tk …mamu log itne pareshan hn’’ Raste mein dani boli Me: hmm Dani: itna kuch hogya khandan mein…itne log chale gye.. Me: han..kya kia ja skta ha Dani: 1 baat kahun?minnat he samaj lo Me: han han bolo Dani: kul raat muje bua ne btaya k kese rashid mamu irfan zeshan aur afzal ne hamid mamu aur maami ko… Me: 1 to bua b na Dani: faizi…noman mera 1 he bhai ha ab…usay kuch ho ga to nai na? Achanak he wo rone lgi thi Me: matlab tum keh rai ho k un Charon ko ma ne.. Dani: ma kuch b nai keh rai faizi..bs itna keh rai hn k agar meri koi ahmiyat ha tumhari life mein to noman ko kuch na ho..plz meri khatir Us ne hath he jor diye rote hue Me: aise nai kro plz Dani: tumhe muj se ziada koi nai jaanta faizi aur na he samajta ha..tum promise kro k noman ko kuch nai kaho ge Me: meri us se kya dushmani ha dani?chalo tumhari tasalli k liye promise krta hn k noman ko kuch nai kahun ga…ansoo saaf kro apne..zeher lgti ho rote hue Dani: kamina Me: wese b us k liye ye saza kum ha k us ki shadi hina se honi ha Ma hansa Dani: na ji..ye ma ne nai hone dena..hania wala kya scene ha ab? Me: intezar Apne uni wale group mein aa k muje bohat acha lg raha tha..ma koshish kr raha tha k ashi ki taraf na he dekhun Aur ye pehli bar tha k Lahore aa k muje ye tnsn nai thi k koi bua ko nuqsan pohnchane ki koshish kre ga…ab afzal jo nai tha ‘’sb theek ha gaon mein ab?’’ Kashif ne puchha Me: han sb theek …ab tnsn wali koi baat he nai rai Kashif: yahan se hum seedhe farmhouse ja rai hn..celebrate b to krna ha Neha: sb se kum marks tumhare he hn wese Kashif: to kya hua..pass to hogya na..apni ashi ha topper Ashi ne top kia tha aur ma kahin daryan mein he tha Maria: haye faizi masters kr le na hamare sath Me: gaon mein bohat kaam ha yar Maria: kya kam? Me: soch raha hn school bnaun wahan 1…free education…hospital b..abi plan kr raha hn..wese yar ma Lahore ata jata rahun ga to mulaqaat hoti rai gi…aur tum log b jb chaho aa skte ho gaon Junaid: getting logo..lets go Me: yar ma ne aj he wapis jana ha ma bs 2 3 ghante he rukun ga..next time rahun ga tum logon k pas…aptt ma sale nai kr raha Farmhouse pe wohi mahol tha..farq bs ye tha k hamare ilawa koi aur nai tha Un logon ne muje pilane ki koshish ki lekin ma ne inkar kr dia ‘’phir se muje ignore kr rai ho tum’’ Ashi mere pas aa k beth gae Me: nai to Ashi: darte ho tum Me: kis baat se? Ashi: k kahin tumhe b muj se mohbt na hojaye Wo hansi Us ki baat pe ma chonk sa gya ‘’kahin aisa he to nai jesa ye keh rai ha?’’ Ma ne apne ap se puchha Me: larki puthi baten na kia kr..chalta hn ma..pehle aptt se kuch cheezen leni hn phir wahin se gaon k liye nikal jaun ga Ma ne time dekha Ashi: muje b drop kr dena ghar Ma un sb se mila aur in touch rehne k waadon k baad ashi k sath nikal aya ‘’pehle tumhe drop kr du ya aptt se saman le lu jo le k jana ha?’’ Ma ne ashi se pucha Ashi: pehle aptt chalo Ma apne kuch kapre bag mein daal raha tha k achanak peeche se ashi ne muje hug kr lia ‘’faizi nai jao na..2 mahine baad tumhari shakal dekh rai hn..bohat udaas rehti hn ma faizi’’ Wo ro rai thi Me: larki..kya hogya ha tuje? Ma us ki taraf mura aur usay apne seene se lga lia Ashi: plz faizi…na jao muj se door wo bheegi ankhon se meri taraf dekh k boli Aur us k baad jese sb kuch khud ba khud he hota gya Us k hont mere honton k pas aye aur phir mere honton se mil gye Ashi ko apne sath lgate hue ma us k hont choosne lga..ab hamari zuban 1 dosre se takra rai thn ‘’ashi..bs’’ Ma ne us k surkh chehre ki taraf dekha Ashi: thora sa pyar b nai de skte muje tum…muje maloom ha k ma hania ki jaga nai le skti? Wo hasrat bhare lehje mein boli Ashi ko bed pe seedha lita k ma us pe jhuka aur us k hont choosne lga Phir mera hath us k mamme pe chala gya aur ashi ne apna hath mere hath pe rkh k apne mamme pe daba dia Ashi ki zuban chooste hue ma us k mamme masal raha tha Ma ne us ki kameez aur bra ooper kr k us k mamme nange kr diye Us k mamme na ziada bare the aur na he chhote aur un pe chhote se pink nipples.. Ashi: aaahhh.. Jese he ma ne us k nipple ko honton mein lia us k jisam ne jhatka lia Ashi k mammon aur nipples ko chat’te aur chooste hue ma ne apna hath us ki thighs k beech le gya Meri fingers shalwar k ooper se us ki phuddi ko touch hui to us ne apni thighs mein mera hath jakar k thighs khol di Me: ise utar du? Ma us ki shalwar ko pakar k bola aur us ne sharmate hue han mein sir hila dia Pehle ma ne us ki kammez aur bra gale se nikali aur phir us ki shalwar b neeche kr k paon se nikal di Muje us ka khubsurat jisam dekh k herani si ho rai thi kyu wo hamesha khulle dulle kapre pehnti jis jin se us ki body numayan nai hoti thi Ashi: aise to na dekho..muje sharam aa rai ha Ma muskuraya aur us ki thighs khol di Ashi ki balon se paak phuddi k jure hue lips dekh k ma ne chehra neeche kia aur zuban phuddi k lips mein neeche se ooper tk le gya Ashi:ooohhh…faiziiii…..aaahhhh Us k ghutno ko us k pait ki taraf le jate hue ma us ki phuddi ko andar tk chatne lga Apni zuban us ki phuddi k sorakh pe daba k ma hath ooper le gya aur us k mamme masalna shuru hogya Ashi: ah..ahhh…sssiii… Phir wo 1 jhatke se peeche ho k beth gae Ashi: tum b…utaro.. Ma apni shalwar aur kameez utaar k lait gya Ashi ki nazren mere tane hue lun pe thn Ashi: ma ise pyar kr lu? Jawab ka intezar kiye bgher mera lun hath mein le k us pe jhuk gae Hath ooper neeche krte hue pehle us ne lun ki cap pe kiss ki Phir mera lun munh mein le k ashi usay choosne lgi Apna chehra mere lun pe ooper neeche krne k sath sath wo hath b ooper neeche kr rai thi Ma apni fingers us ki gaand ki lakeer mein ooper neeche kr raha tha Ashi ne mera lun munh se nikala aur lait gae Ashi: mere ooper ao ‘’sure?’’ Ma apna lun us ki phuddi k sorakh pe rkh k bola Ashi ne han mein sir hila dia Ma ne apne lun ki cap us ki phuddi k sorakh mein dabayi Ashi: sssiiii… Muje idea nai tha k us ki phuddi itni tight ho gi Mera lun phans phans k us ki phuddi mein utar raha tha Ashi ne apne dono hathon mein bed sheet ko jakra hua tha Phir muje us ki seel ki rukawat mehsoos hui apne lun per Me:ashi…pain ho gi.. Ashi: hone do Us ne apni gaand ooper kr k apni phuddi mere lun pe dabayi Aur ma ne 1 jhatke se baqi lun us ki phuddi mein utaar dia Ashi: hayeeee…uuufff….. Kuch lamhe ruka rehne k baad ma apna lun us ki phuddi se andar bahir krne lga Me: ab pain … Thori der baad ma ne us pucha Ashi: oohh…nai…aaaahhhh Ma slow speed se he usay chodna jari rkha aur ashi ki siskian bta rai thn k ab usay b maza aa raha ha Taqreeban 10 mint baad us ka jisam akarne lga Ashi: aahhh…faizi…faizi….faiziiiiiiiiiiii… Mere nam lete us k jhisam jhatke khane lga aur us ki phuddi ne pani chhor dia Ma ne lun bahir nikala aur us ki phuddi pe rub krne lga Ashi: andar he… Lekin ma ne pani us ki phddi k ooper he nikala Apne saans bahaal krne k baad wo uthi aur washroom chali gae..bedsheet pe khoon k dhabbe the ‘’tum her mahine aya kro gen a Lahore?’’ Ma ashi ko us k ghar chhorne ja raha tha Me: koshish kru ga Ma us k sath wo sb kr k guilty feel kr raha tha Ashi: I luv u faizi..intezar kru gi ma tumhara Ma ne gari us k ghar k bahir roki to wo phir se ansoo baha rai thi Me: jo khud kisi ka intezar kr raha ha us ka intezar krne ka faida pagal larki? Ashi jldi se agay hui aur mere cheek pe kiss kr gari se utar gae 2 saal kese guzre waqt ka pata he nai chala School aur hospital mukammal ho chuke the bs opening he krni thi ab Bua ko meri shadi ki fikar rehti thi aur ma school aur hospital ka bahana bna k unhe taal raha tha ‘’I luv u’’ Ashi ka ye msg daily muje aa raha tha 2 saal se In 2 salon mein ma bs 2 3 bar he Lahore ja ska tha wo b thori der k liye..lekin apne uni wale group se musalsal rabte mein rehta tha ma Aur hashoo ka abi tk koi ata pata nai tha ‘’faizi chachu’’ Ma taya k ghar mein dakhil hua to chhoti se palwasha muje dekh uchalne lgi ‘’mera bcha’’ Ma ne usay utha k cheek pe kiss kia..meri jan thi us mein Taya chhari k sahare ahista ahista chalte hue sehan mein agye Ma ne un k ilaaj 1 bohat bare doctor se krwaya tha Ab wo faalij k bawajood bol b lete the Aur han..taya ne muje maaf kr dia tha Sumaira ne waqae apnea p ko badal lia tha aur gaon ki auraton ki bari bn k reh rai thi aur tayi ne b bakhushi ye seat usay de di thi Lekin mere andar ka khaalipan abi b wahin tha In 2 saalon mein hania k bs 2 3 msg aye the aur wo b bs haal chaal puchne aur btane tk..mohbt wali baat ka wo jawab he nai deti thi Sham ka waqt tha aur ma school ki building k bahir khara baba k nam ka board dekh raha tha ‘’ma chah k b tuj se nafrat nai kr paya faizi’’ Yeh awaz 2 saal baad sun raha tha ma Ma 1 jhatke se peechhe mura aur hashoo ko apni banhon mein bhench lia Me: kahan chala gya that u yar…kahan kahan nai dhoonda ma ne tuje Ma apne ansoo nai rok paya tha Hashoo b ro raha tha ‘’muje shuk to tha k abba ne afzal se zamin kisi ghalat kam k liye he li hogi …lekin ma to samja tha k abba waqae apni mot he mre hn..phir us din tu ne muje btaya k tu ne he..’’ Hashoo bolte bolte ruk gya Hum school k lawn mein bethe hue the Me: muje maaf kr dia ha na tu ne? Hashoo: han faizi Aur ma ne phir se usay gale lga lia Baad mein hashoo ne btaya k wo Karachi mein job krta raha is arse mein Aur jb muje maaf kr dene ki himaat agae to wo wapis agya Hashoo ki shadi thi faiqa k sath to ma chahta tha k grand sa function ko..ar bua b yehi chahti thn Hashoo k kehne pe ma ne apni uni wale doston ko b invite kia tha aur wo final exams k baad farigh he the to sb he ane ko tayyar the kul subah ‘’jldi ghar aa..mehmaan aye hn’’ Ma hashoo k pas tha k bua ki call ayi Me: taya aye hn? Bua: tu jldi aa ghar Ghar k bahir 3 garian khari thn Andar dakhil hua to sb se pehle meri nazar hania ki mom pe pari..hania un k sath he bethi hui thi Hania k nana aur aur teeno mamu b mojood the..mere b wo nana aur mamu he the ‘’narazgi khatam kr yar ‘’ Mamu ne garamjoshi se muje hug kia Bua: puttar bhool ja sb purani baten Me: bhool gya bua Ma muskuraya aur baqi logon se b mila..hania ki mom b bohat ache tareeke se mili muje Hania ka muskurata hua chehra dekh k jane kyu ashi meri ankhon k samne agae.. ‘’tu khas excited nai lg raha hania k ane se’’ Hashoo bola Me: aisi to koi baat nai yar..alehda mulaqaat ka moqa he nai mil raha us se Hashoo: is mein kya ha…sumaira ayi to hui ha.. Me: yeh to mere zehen mein he nai aya Hashoo: kul ashi b aa rai ha…yar 1 baat kahun? Me: han bol Hashoo: muje teri hania se mohbt pe koi shuk nai..ab us ki family ka zehen bdla to wo b agae..us ne tuje mana kia ashi se talluq rkhne ko halan k wo apne zehen ko mna chuki thi k ab tum dono mil nai skte..lekin ashi tuje kehti ha k usay khushi ho gi agar hania tumhe mil jaye…aur hania ne to tuje apni mangni ka b nai btaya jo ab toot chuki ha.. Ye baat mahi ne hashoo ko btayi thi Ma hashoo ki baat samjte hue b samajna nai chah raha tha Sumaira mere kehne pe hania ko apni ammi k ghar le ayi thi ‘’ma zara palwasha ko sula lu’’ Sumaira kamre se nikalte hue boli ‘’kesi ho?’’ Ma andar ja k hania k samne ja khara hua Hania: matlab muje yahan mili bhagat se laya gya ha Me: han na Us hath pakar k ma ne usay uthaya aur apni banhon mein le lia Hania: koi a jaye ga Me: koi b nai aye jb ma nai bulaun ga Hania: ashi se door he rain a tum? Iswaqt us ka ye sawal muje ajeeb sa lga Me: han Ma ne 1 hath se us ki gaand ko bhencha to wo uchhal pari Hania: mom w8 kr rai hn gi na..chalo ghar chalen Us ne muje peechhe dhakela Agle din 11 bje k kreeb kashif log b pohanch gye…agle din hashoo ki mehndi thi Hania logon ko bua ne rok lia tha lekin unho ne aj sham ko chale jana tha…hania to bs apni mom k sath he chipki hui thi Larkian sb hamare ghar he agae thn Ashi ko dekh k hania k chehre pe nagwari k tassuraat muj se chupe na reh ske Aur ashi hania se bari garamjoshi se mili Larke sb hashoo ki taraf he the Sham ka waqt tha aur sare din ki bhaag dor k baad ma kisi bahane ghar aya aur chhat pe chala gya k thora rest kr lu Ashi muj se pehle he wahan mojood thi aur tehal rai thi ‘’mubarik ho..tumhari hania agae wapis’’ Ma charpoy betha to wo pas pari chair pe beth gae Me: han..agae ha wo Ashi ki ankhon mein utri hui udasi…. Ashi: chalo acha ha..hum mein se kisi ko to us ki mohbt mili Ab ma usay kya btata k jb muje b us se mohbt ho chali thi tbi hania agae.. Me: tum kese itni mazboot bn gae ashi? Ashi: tumhe kis ne kaha k ma mazboot hn?bs aisa zahir he krti hn ma Me: bohat khush rehna ashi tum..plz.. Ashi: apne bs mein hua to reh lu gi..meri duaen tum dono k sath hn faizi Me: kitna bara dil ha tumhara ashi ‘’faizi’’ Serhiyon k darwaze se hania ki awaz ayi..aur us ki awaz mein ghussa tha..aur chehre pe b Me: ajao hania Wo tezi se chalti hui hamare pas agae ‘’ye yahan kya kr rai ha?’’ Wo ashi ki taraf dekh k tez lehje mein boli Aur ma herat se hania ki taraf dekh raha tha Ashi: ma to bs…wese he.. Wo jldi se chair se khari hogae Aur yehi lamha tha jb mere dil aur damagh ne apna faisala de dia ‘’ashi..tum beth jao’’ Ma hania ki taraf dekh k bola Hania: faizi..tum…ise muj se agay rkh rai ho.. Me: tum meri cousin ho..lekin is ka matlab ye to nai k tum meri hone wali bv se aise baat kro Meri baat sun k dono ne he chonk k meri taraf dekha Me: tum mangni krwa chuki thi aur chahti thi k ma ashi se talluq na rakhun…dosri taraf ye larki ha..meri khushi mein khush rehne wali…abi tumhare ane se pehle ye duaen kr rai thi hamari khushion k liye..aur tum.. Hania 1 jhatke se muri aur tezi se chalti hui neeche chali gae Ashi phir se chair pe beth k apna cheha hathon mein chhupa k rone lgi Ma utha aur usay kandhon se pakar k uthaya aur apne seene se lga lia Me: bs kr pagal larki…mohbt krta hn tum se..bohat jhagra hn is mohbt k sath jo tumhare liye mere dil mein palti gae ahista ahista Us ka chehra ooper kr k ma ne us k mathe pe kiss ki Hania logon k jane se pehle he ma ne bua ko side pe le ja k ashi k bare mein bta dia tha ‘’jese tu khush’’ Bua muskurae ‘’ab hum ne apas mein milte julte rehna ha faizi beta’’ Nana ,muje gale lga k bole Me:g zarur Hashoo ki mehndi ka function jaari tha Aur ashi aj ghazab dha rai thi Wo apne mobile se hashoo aur faiqa ki pics le rai thi Ma ne bahir aa k usay call ki ‘’jldi bahir ao yar…zaruri kam ha’’ Ma serious tone bna k bola Ashi: kya hua?sb theek to ha na? Me: theek he to nai ha kuch b..jldi ao bahir kisi ko btaye bgher Ashi: ayi ‘’gari mein betho..jldi se’’ Ma ne usay baat krne ka moqa he nai dia Ma seedha usay ghar le aya aur apne kamre ki taraf chal para ‘’muje tnsn ho rai ha faizi..akhir hua kya ha?’’ Wo mere peechhe ati hui boli Kamre mein aa k ma mura aur usay apni banhon mein le lia Me: bohat khubsurat lg rai ho jan aj tum..raha nai ja raha muj se.. Ma ne us k cheek pe kiss ki Ashi: chhoro muje..dara he dia muje to Me: I luv u too much jan Ashi: me 2 jan..ab ma jaun? Meri ankhon mein dekhte heu us ka chehra sharam se surkh hogya Me: abi nai Ma deewana waar us k chehre ko choomne lga Ashi: koi..ajaye ga.. Wo meri banhon mein pighal si gae thi Me: koi nai aye ga s b bz hn Us ki gaand ko masalte hue ma us k hont choosne lga Ab ashi b mera sath de rai thi kissing mein Ma ne us ki kameez utarne k liye ooper ki Ashi: itni mehnet se tayyar hui ma..sb dobara krna pare ga Me: kr lena jan Ashi: ma sb nai kru gi..wo sb shadi k baad Kuch der baad hum dono kapron k bgher the Us ka hath pakar k ma bed tk le gya aur lait k usay 69 position mein le aya Ashi: yeh kya…sssiiii Jese he meri zuban us ki phuddi k lips mein andar tk gae us ki baat siski mein badal gae Aur agle he lamhe mera lun us k garam munh mein tha Ma paglon ki tarah ashi ki phuddi ko choos aur chaat raha tha aur wo b utne he josh se mera lun choos rai thi Ma apni zuban us ki phuddi k daane se us ki gaand k sorakh tk le gya aur us k jisam ne 1 jhatka lia Ab meri zuban us ki gaand k sorakh se us ki phuddi k daane tk ka safar kr rai thi Hum dono he itne garam ho chuke the k 5 mint baad he us ki phuddi ne pani mere honton mein chhor dia aur mere lun ka pani b us k munh mein he gya Ashi hampti hui mere ooper se utri aur washroom chali gae ‘’gnde’’ Us ne masnooi khafgi se muje ghoora Agle din hum sb hamare bare se sehan mein bethe the ‘’yar wese tum logon ko 1 mahine baad phir se ana pare ga’’ Ma ne ailaan kia Junaid: ajayen ge..lekin kyu? Me: meri aur ashi ki shadi pe Aur phir 1 shor sa mch gya wahan pe ‘’pakren apne nawab sahib ko..zara chain nai lene deta..baap pe gya ha poor aka poora’’ Ashi ne hamare 3 month k bete ko bua ki lap mein daala Bua: ma sadke ma waari Bua ne mere bete pe boson ki barish kr di Ashi hamare wale school mein parhane lgi thi shadi k foran baad he….us ne bua ko to jese apne sehar mein jakra hua tha Hashoo ka b 1 beta ho chuka tha aur hashoo ab mere sath hospital aur school k muamlaat dekhta tha Bua k kehne pe us ki shadi ka tohfa 25 acre zamin thi jo us ne bua k kehne pe he qabool ki thi Ashi kitchen ki taraf gae to ma b uth k us k peechhe chala gya ‘’ab to apna chhota b 3 maah ka hogya ha..ab to lift kra do’’ Ma us ki taraf dekh k bola Ashi: sochun gi Wo shararat bhari muskurahat k sath boli Me: acha Ma mayoosi bhari nazron se usay dekh k darwaze ki taraf mura ‘’oye’’ Peeche se ashi ki awaz ayi Me: han Ma us ki taraf mura Ashi: I luv u tooooo much mr faizan ur faizi Ma muskura dia ‘’shukriya zindagi’’ Ye sochte hue ma bua aur apne bete k pas agya ya sotry kaka g ki hai un ko bhto thank ap sub bi kaka g ko thank bol

Announcements

×
×
  • Create New...