Jump to content
URDU FUN CLUB

Sultan1122

Active Members
  • Content Count

    12
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

38

1 Follower

Profile Information

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

375 profile views
  1. مجھے زور زور سے کسی کے گہرے سانس کی آواز آنے لگی میں نے توجہ کی اور دیکھا کہ سر لیاقت نے اپنی للی کو باہر نکالا ہوا ہے اور ہاتھوں میں پکڑا ہوا ہے اور ان کے لنڈ سے سفید رنگ کا کوئی مادہ یا ایسے لگ رہا تھا کوئی جل نکل رہی ہو سر لیاقت کی آنکھیں بند تھی اور وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کر رہے تھے ایسے میں ٹیچر انم کے آواز آئی او شٹ لیاقت تم اب مان کیوں نہیں لیتے کہ تم بوڑھے ہو گئے ہو یہ کہہ کر ٹیچر انم نے اپنی ٹانگوں کو آپس میں ملا لیا اور سر لیاقت کو دھکا دینے لگی سر لیاقت نے جلدی سے میری کلائی کو پکڑا اور مجھے کہا کہ بیٹا اب باقی کام تم نے کرنا ہے میرا کام تھا کہ میں مشینری کو سٹارٹ کرو اب باقی مشین تم نے خود چلانی ہے یہ کہہ کر سر لیاقت نے مجھ کو پکڑا اور انم کی ٹانگوں کے درمیان بٹھا دیا میں نےبلا ساختہ طور پر اپنے کالے لن* کو دونوں ہاتھوں سے اٹھایا اور ٹیچر کی پھودی کے اوپر رگرنا شروع کردیا ٹیچر انعم نے آہستہ آہستہ اپنی ٹانگیں کھول لی تھی اب سر لیاقت میری والی جگہ یعنی ٹیچر کے سر کی طرف بیٹھ گئے تھے انہوں نے خود ٹیچر انم کی ٹانگوں کو پکڑا اور ان کے کندھے کی طرف کرکے بیٹھ گئے اب پوزیشن یہ تھی کہ ٹیچر انم کی پھودی پوری طرح کھلی ہوئی تھی اور سر لیاقت نے ان کی ٹانگوں کو پکڑ کر انکی کندھوں کے ساتھ ملا ہوا تھا اور ٹیچر انعم کے دو ابھار ان کے ٹانگوں کی وجہ سے اردگرد پھیلے ہوئے تھے جبکہ ان کے نپل ان کی ٹانگوں کے نیچے چھپے ہوئے تھے میں نے اپنے لن کو ٹیچر نام کی پھودی کے اوپر آہستہ آہستہ پھرا ایسے میں ٹیچر کے منہ سے سسکاریاں نکلنے لگی سسسسسسسوسو اف میں نے اپنے لن کو ٹیچر انم کی پھدی کے اندر گھسانے کی کوشش کی مگر میں نے دیکھا کہ ٹیچر انم کی پھودی سے میرا لنڈ سلپ ہو جاتا تھا اور اس کے اوپر لگی ہوئی جیل میرے لنڈ کو سلپ کردیتی ہے اور ٹیچر انم کے منہ سے چیخ بھی نکلنے لگتی تھی میں نے ساتھ پڑا ہوا ٹیچر انم کا بلاؤز اٹھایا اور ان کے منہ میں دے دیا تھا کہ وہ چیخیں تو آواز نہ آئے دوبارہ اپنی پوزیشن پر آنے کے بعد میں نے اپنے لنڈ کو سیٹ کیا اور ایک ہی جھٹکے کے ساتھ انم کی پھودی کے اندر لنڈ گھسا دیا بلاؤز کے اندر سے دبی دبی سے بھاری سی ایک چیخ نکلی مگر اس کے باوجود میرالن آدھے سے بھی زیادہ ٹیچر انعم کے اندر جا چکا تھا میں خوفزدہ ہوگیا اور ٹیچر انعم کی پھٹی ہوئی بڑی ۔ بڑی آنکھوں کو دیکھنے لگا ٹیچر انم کی آنکھیں پھٹی پھٹی سی ہو رہی تھی میں نے چاہا کہ بلاؤز کو ان کے منہ سے نکالوں اور اپنے ہاتھ کو آگے بڑھانے کے لیے جیسے ہی آگے کی طرف جھکا تو میرا لن تھوڑا سا اور ٹیچر کی پھدی میں گیا تو ان کی آنکھیں باہر آنے لگی اور سر نے میرے ہاتھ کو جھٹکے سے ہٹا دیا اور کہا کے تنی کالے اپنا کام جاری رکھ مار اس کی پھدی۔ بڑی بنتی ہے اور مجھے ہر بات پر طعنہ دیتی ہے اب اس کو پتہ لگے گا شاباش شاباش اپنے کام پر لگ جاؤ
  2. یہ کہہ کر سر نے مجھے میری کلائی سے پکٹر کر کھینچ لیا لیاقت صاحب کے ہاتھ کھینچنے کی وجہ سے میرا ہاتھ میرے لنڈ کے اوپر سے ہٹ گیا لیاقت صاحب نے مجھے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا اور ٹیچر انم کے ساتھ بیڈ کے اوپر بٹھا دیا میرے کالے ہونٹ میرے ہاتھ اور میرا جسم پوری طرح کپکپا رہے تھے مگر میرالن اچھی طرح سے کھڑا ہونے لگا تھا مجھے اپنے اندر یہ ناقابل یقین تبدیلی محسوس ہونے لگی تھی پہلے بھی ایسے کئی مرتبہ ہوا تھا مگر پہلی دفعہ میں لوگوں کے آگے ننگا تھا اور میرا لنڈ بھی کھڑا ہونے والا تھا بلکہ اس اسٹیج پر تھا کہ عنقریب وہ کھڑا ہو جاتا ایسے میں لیاقت صاحب نے میری گانڈ پر ہاتھ رکھا تو میں چونک اٹھا سر نے میری گانڈ کو تھپتھپاتے ہوئے کہا شاباش بیٹا اب شروع ہو جاؤ جیسے میں کہتا ہوں ویسے کرتے رہنا یہ کہہ کر لیاقت صاحب نے ٹیچر انم کے قمیض کے دامن کو پکڑ لیا کر اوپر کھینچنے لگے تھوڑی دیر بعد لیاقت صاحب نے ٹیچر انعم کی قمیض کو اوپر کھینچ لیا جیسے جیسے لیاقت صاحب قمیض اوپر کرتے جاتے ویسے ویسے ٹیچر انم کادوھیا جسم میری آنکھوں کے آگے روشنی بکھیر رہا تھاجلد ہی سرنے ٹیچر انم کی قمیض پوری طرح سے اتار لی اب ٹیچر انعم بلیک کلر کے بلاؤز میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی ان کے پستان ابھرے ہوئے تھے اور ان کا فگر 36 کے قریب تھا اب سر میری طرف مخاطب ہوئے اور کہا کے اپنی ٹیچر کے قریب جاؤ اور ان کا بلاؤز بھی اتارو میں ٹیچر کے قریب گیا اور ان کے پاس بیٹھ کر ان کے جسم کو ہاتھ لگایا اور جیسے ہی ہاتھ لگایا تو مجھے جیسے کرنٹ سا محسوس ہوا اب میرے اندر سے تنویر کالاحبشی وحشی بیدار ہونے لگا تھا میں نے ٹیچر انم کی بغلوں کے اندر سے ہاتھ گھسا کر ان کو گلے لگا لیا میں نے محسوس کیا کہ میرا اور ٹیچر انم دونوں کا دل دھک دھک کر رہا تھا میں نے بے ساختہ طور پر اپنی پہلی محبت یعنی ٹیچر انم کو گلے لگائے رکھا ان کا نرم نرم جسم اور نرم و ملائم سینا میرے سینے کے ساتھ لگ کر مجھے لطف کی وادیوں میں لے کر جا رہا تھا میں بے ساختہ طور پر ٹیچر انعم کے سحر میں ڈوب سا گیا مجھے کچھ لمحوں کے لئے محسوس بھی نہ ہوا کہ میرے ساتھ سر لیاقت بیٹھے ہیں میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی ٹیچر انم کے گالوں کو چوم لیا میرا دل کر رہا تھا کہ میرے کالے ہونٹ ٹیچر نم کے لال اور سفید ہونٹوں کو چوم لیں مگر میں یہ گستاخی نہیں کرنا چاہتا تھا میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے کالے کپکپاتے ہونٹ ٹیچر انم کے ہونٹوں کے اوپر رکھے تو گویا ایسے لگا کے پیاسے کو صحرا میں ایک بہترین جام مل گیا ہو انکے شربتی ہونٹوں کے اوپر اپنے پیاسے ہونٹوں کو رکھ کر مجھے سکون سا ملنے لگا میںنے پیار سے ان کے ہونٹوں کو چوم لیا میں نے ٹیچر انم کو اپنی باہوں میں لیا ہوا تھا کے سر کی آواز آئی بیٹا اب آگے خود جاری رہو تم میں کرنٹ ہے مجھے ایسے لگتا ہے کہ تم اسی مقصد کے لیے پیدا ہوئے ہو شاباش اپنی ٹیچر کو ننگا کر دو اور اس کے ساتھ وہ کرو وہ کرو وہ اس کا حشر کرو کہ وہ بھول جائے کہ محبت کرنا اور پیار کرنا کیا ہوتا ہے میں نے سر کی باتوں کو غور سے سنا اور بریزر کے ہک کو کھولنے لگا میں نے جھٹکے کے ساتھ ٹیچر انم کے ہک کھولنا چاہا مگر اناڑی پن سامنے آگیا مجھ سے ہک نہیں کھل رہا تھا میں نے زور لگا کر ہک کھولنے کی کوشش کی تو تھوڑا سا بریزر پھٹ گیا مجھے اس طرح جوشیلا دےکھ کر سر مسکرا اٹھے اور خاموشی کے ساتھ آگے بڑھ کر انہوں نے بریزر کے ہک کھول دیا اب ٹیچر بریزر کو خود اتار نے لگی ہیں اور ہاتھوں کو سیدھا کر کے بریزر کو پکڑ کر کھینچنے لگی افففففففففففففففففف کیا نظارا تھا ایسے لگتا تھا دو خوبصورت سفید گلاب میری آنکھوں کے سامنے ہوں نہایت خوبصورت سینا نہایت خوبصورت اور سفید کلر کا سینہ میرے آنکھوں کے آگے تھا میرے انگ انگ میرا بال بال کھڑا ہونے لگا ہوں میرالن مکمل طور پر کھڑا ہو چکا تھا جس کا سائز ناقابل یقین طور پر دس انچ کے قریب ہو چکا تھا اور یہ میرے ساتھ زندگی میں ایسا پہلی دفع ہوا تھا مجھے ایسا لگتا تھا کہ میرا لن پھٹ جائے گا مجھے غصہ آ رہا تھا سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں کیا کروں میرا جسم اور دماغ مجھ سے کنٹرول نہیں ہورہا تھا میں نے فورا انم کے سینے کے ابھاروں کو پکڑ لیا اور ان کے نپلز پر کس کرنے لگا میں نے ٹیچر انم کو گردن سے پکڑ کر بیڈ کے اوپر دھکا دے کر ان کو لٹا دیا اور ان کے ہاتھ اوپر کر اور ان کی ٹانگوں کے اوپر چڑھ بیٹھا میں فوراً ٹیچر کے اوپر جھک گیا اور ان کو بلا ساختہ چومنے چاٹنے لگا نیچے ٹیچر انعم کسی مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی میں نے اپنی زبان نکالی اور ٹیچر انم کی گردن کے اوپر پھیرنا شروع کر دی میں نے ایک ہاتھ سے ٹیچر انم کے دونوں ہاتھوں کو ان کے سر کے اوپر سے پکڑا ہوا تھا اور ایک ہاتھ سے ان کا پستان دبا رکھا تھا جبکہ میری زبان اپنا کام کر رہی تھی وہ ٹیچر انم کے ہونٹوں ان کی گردن اور ان کے سینے کو چوم چاٹ رہی تھی میں نے اپنا پورا منہ ٹیچر انم کے نپل پر رکھ لیا اور اس کو پورے منہ میں لینے کی کوشش کرنے لگا ٹیچر انعم کبھی سرکو اس طرف دائیں طرح مارتی تو کبھی اس طرف بائیں طرف مار رہی تھی پھر آہستہ آہستہ یوں ہوا کہ مجھے محسوس ہوا کہ کوئی جیسے ٹیچر انم کی شلوار کو کھینچنے کی کوشش کر رہا ہے ٹیچر انعم نے شلوار میں الاسٹک ڈالا ہوا تھا مگر میں شلوار کے اوپر بیٹھا تھا میں نے مڑ کر دیکھا تو لیاقت صاحب ٹیچر انعم کی شلوار کو پکڑتا کھینچنے کی کوشش کر رہے تھے میں نے اپنی گانڈ کو اوپر اٹھایا اور سر نے جلدی سے شلوار کو نیچے کھینچ لیا اب ٹیچر انم کا گورہ سفید جسم میرے اختیار میں تھا ایسے لگ رہا تھا جیسے ٹیچر انعم نے بلیک کلر کا کوئی کمبل اوڑھ رکھا ہو ٹیچر انم کی پھودی کے بال ہے چھوٹے چھوٹے تھے اب میں نے ٹیچر انعم کا ہاتھ کو چھوڑ دیا تھا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے ٹیچر انم کے پستانوں کو پکڑ کر آہستہ آہستہ نیچے جانے لگا میں نے ٹیچر انم کے پیٹ کے اوپر پیار کیا جب ان کے ناف پر زبان پھیری تو ٹیچر تلملا اٹھی اور منہ سے شیشی کی آواز آنے لگی پہلی مرتبہ ٹیچر انعم کے منہ سے وہ چند الفاظ جس میں ٹیچر کہہ رہی تھی لیاقت تم نے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ میرے اوپر میرے ہی سٹوڈنٹ کو چڑھا دیا اور بھی وہ اور وہ بھی اتنے کالے کو دیکھا ہے اس کا جسم کیا میں اس قدر گئی گزری ہوں۔ پتا نہیں مجھے اس وقت کیا ہوا ٹیچر کی یہ بات سن کر مجھے غصہ آگیا میں نے جن ہاتھوں سے ٹیچر انم کے پستانوں کو پکڑا ہوا تھا اس کو چھوڑ دیا اور غصے میں ٹیچر انم کے سینے کے اوپر تھپڑ مارا جس سے اس کے پستانوں کے اوپر درد ہونے لگا میرے تھپڑ مانے سے میرے ہاتھوں کو عجیب قسم کا نرم سا لمس محسوس ہوا میں نے ایک دفعہ پھر ہاتھ اٹھایا اور ٹیچر ہنم کے گالوں کے اوپر پیار سے چپت لگا دی اب مجھے آگے کچھ نہیں آتا تھا مجھے نہیں سمجھ آ رہی تھی کہ اب آگے کیا کرنا ہے اور کیسے پیار مکمل کرنا ہے بہرحال ہم دونوں ننگے تھے اور ایسے محسوس ہورہا تھا کہ ٹیچر انم کو مجھ سے تھوڑی سی گھن آ رہی ہو ایسے میں اچانک سر لیاقت نے اپنا پورے کپڑے اتار دئے اور وہ بھی ننگے ہو گئے سر لیاقت کا پیٹ آگے نکلا ہوا تھا سر سے گنجے تھے اور ان کا لنّ درمیانے سائز کا تھا تین سے چار انچ کا ہوتا جو میرے لن کے مقابلے میں آدھے سے بھی کم تھا ایسے لگتا تھا جیسے ایک گبرو مرد کے آگے ایک بچے نے اپنے للی اٹھائی ہوئی ہو۔ سر نے مجھ کو سائیڈ پر کیا اور خود میری جگہ پر ٹیچر انم کی ٹانگوں کے درمیان میں بیٹھ گیا میں ایک سائیڈ پر ہو گیا سر نے ٹیچر انم کو نہایت کرخت آواز میں کہا اس کالے کا لنڈ پکڑ لو اس نے ہاتھ بڑھا کر میرے لنڈ کو پکڑ لیا میرا کالا شمور لن ٹیچر انم کے سفید ہاتھوں میں تھا انعم کا ہاتھ بہت چھوٹا تھا اور میرے لنڈ کا سائز بہت بڑا تھا وہ بے ساختہ طور پر میرے لنڈ کے اوپر ہاتھ پھرنے لگی جس طرح آپ طوطے یا کبوتر کو انسان پکڑ کر ہاتھ پھیرتا ہے۔ دوسری طرف سر نےٹیچر انعم کی ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھے کے اوپر رکھ دیں اور بغیر وقت ضائع کیے اپنی للی کو انم کی پھودی کے اندر گھسا دیا ٹیچر منہ سے ششششششش کر کے میرے لن کو زور زور سے دبا لیا اور اپنے نیچے والے ہونٹ کو اپنے دانتوں کے نیچے دبانے لگی جبکہ ان کی آنکھیں بند تھی اور وہ کہہ رہی تھی لیاقت صاحب بہت مزہ آ رہا اس طرح کرتے رہیں صاحب زور زور سے جھٹکے مارنے لگے اور ٹیچر انعم کے تھن اچھلنے لگے مگر اچانک ہی میں چونک اٹھا
  3. ہوئے کہا سر میں نے آپ کا کیا کر لینا ہے میں تو آپ کے متعلق کچھ نہیں جانتا مجھے کچھ علم بھی نہیں ہے میں کیا بتاؤں گا پلیز پلیز پلیز مجھے جانے دے پلیز سر سر کی آنکھوں میں مجھے وحشت نظر آرہی تھی سر فورا غصے میں آگئے اور انہوں نے مجھے تھپڑ مار دیا چودھری تنویر کالا جس کو گاؤں میں کوئی اوئے کرکے بھی نہیں بلا سکتا تھا آج سکول می ننگا کھڑا تھا اور اس کو سر نے منہ کے اوپر تھپڑ بھی مار دیا تھا اس سے بڑی میرے لیے ڈوب مرنے کی کیا بات ہوسکتی تھی میں ندامت اور تکلیف سے رونے لگا میں جیسے کہتا ہوں تم نے ویسے کرنا ہے سر نے چلا کر کہا تم بھی ادھر او انم ٹیچر انم فورا چونک اٹھی اور کہا جی سر جی جی جی سر لیاقت صاحب نے کہا تم دونوں فورن بیڈ کے اوپر بیٹھ جاؤ ہم ڈرتے ڈرتے بیڈ کے اوپر جا بیٹھے ٹیچر انعم نے گرین کلر کا لباس زیب تن کیا ہوا تھا جس میں ان کے دودھ کافی ٹائٹ نظر آ رہے تھے ٹیچر انم کافی خوبصورت تھی اور ان کا پرکشش اور سفید رنگ کا چہرہ میرے لیے قیامت ڈھا رہا تھا میں نے ٹیچر انہم کو شرماتے ہوئے ایک نظر دیکھا مگر اس دوران سر کی آواز گونجی اور سر نے ٹیچر انعم کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا آج میں تمہارے سارے ارمان پورے کر دوں گا انم کی بچی۔ یہ کہہ کر سر نے ٹیچر انم کے منہ میں منہ ڈال دیا اور ان کو خوب چومنے لگا اور بے ساختہ طور پر سر نے اپنے ہاتھ ٹیچر انعم کے سینے کے اوپر رکھ دیے اور ان کے سینے کو دبانے لگا سر کے ہاتھ کی دباو کی وجہ سے ٹیچر انم کے سینے کے ابھار کپڑوں سے باہر نکلنے لگے سر نے ٹیچر انعم کے سینے کو زور زور سے دبانا شروع کر دیا اور منہ سے ششششش کی آوازیں بھی آنے لگی ٹیچر عنہم بھی ان کا بھرپور ساتھ دے رہی تھی اور ان کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھی یہ سب دیکھ کر میرا لنڈ ہلکا ہلکا کھڑا ہونے لگا میں نے فورا اپنے دونوں ہاتھ اپنے لنڈ کے اوپر رکھ دیں اور اس کو چھپانے لگا سر نے اپنی ایک آنکھ کھول کر میرے لنڈ کی طرف دیکھا اور مجھے کہا ابے او کالے حبشی اب تیری باری ہے تو نے میری انم کو خوش کرنا ہے اور مطمئن کرنا ہے اگر کر سکے تو ٹھیک اگر نہ کر سکے تو میں تمہارا وہ حال کروں گا جو تم یاد رکھو گے مجھے لگتا ہے تم ابھی تک کنوارے ہو مگر ٹیچر تمہیں سب کچھ سکھا دے گی اور میں بھی تمہیں ساتھ ساتھ بتاتا . جاؤں گا۔
  4. سر آنکھیں کھولے حیرت سے مجھے دیکھ رہے تھے میں نے فورا آنکھیں نیچے جھکا لی مگر میری ایک نظر ٹیچر انم کے چہرے پر پڑی تو میں نے ان کا منہ کھلا ہوا آنکھیں حیرت سے پھٹی ہوئی نظر آئیں پھر ٹیچر انم کے منہ سے بے سخت آواز نہیں پلیز ہائے ہائے ےےےےے لیاقت صاحب نے فورا کہا تنویر صاحب What is this Is it real...? میرا چہرے کے تاثرات بلکل شرمندگی والے ہوگئے میری آنکھیں نیچے جھکی ہوئی تھی اور میں پریشان ہو گیا میں نے بے ساختہ طور پر اپنے دونوں ہاتھ اپنے لنڈ کے اوپر رکھے ایک ہاتھ اوپر رکھا اور ایک ہاتھ اس سے نیچے مگر پھر بھی کافی سارا لن نظر آنے لگے لیاقت صاب نے کچھ سوچنے کے بعد فورا کہا Hands up? میں نے کہا آپنے ہاتھ اوپر کرو ان کے لہجے میں کافی حد تک سختی اور حیرت تھی میں نے ڈرتے ڈرتے دونوں ہاتھوں کھڑے کئے لیاقت صاحب نے کہا Come here... ادھر آؤ میں ڈرتے ڈرتے ہاتھ کھڑے کئے ہوئے ایک لیاقت صاحب کے قریب گیا علاقہ صاحب نے اپنا ایک ہاتھ میری گانڈ پر رکھ لیا میں چونک گیا اس کے فورا بعد لیاقت صاجب نے دوسرے ہاتھ میرے لنڈ کے اوپر رکھ لیا اور کہا کہ گھبراؤ نہیں بیٹا میں چیک کر رہا ہوں کہ یہ اصلی ہے یا نقلی ہے تنویر بیٹا آپ اس عمر میں اتنا بڑا ہتھیار رکھتے ہو تو بڑی عمر میں تو آپ کے پاس ایٹم بم ہو جائے گایہ کہتے ہوئے لیاقت صاحب نے میرے لنڈ کو اتنے زور سے دبایا کے اس کے اندر والی ہڈی بھی محسوس ہونے لگی اس کے بعد لیاقت صاحب نے معنی خیز نظروں سے ٹیچر انم کی طرف دیکھا میں نے بھی سر اٹھا کر ٹیچر انم کی طرف دیکھا تو ان کی آنکھوں میں لال رنگ کے ڈورے نظر آنے لگے وہ ابھی تک سپاٹ سی ٹھہری ہوئی تھی ٹیچر انعم کا چہرہ سرخ اور لال نظر آتا سر نے شاید ٹیچر انم کو آنکھ ماری تھی یا کوئی اشارہ کیا تھا جس کے بدلے میں ٹیچر انم سر کو دیکھ کر شرمانے لگی اور ہلکا سا نیچے کی طرف سر کو جھکا کر ہاں کا اشارہ کیا ٹیچر انم کے اس اشارے کے بعد سر نے میری طرف دیکھا اور مجھے کہا دیکھو بیٹا بات دراصل یہ ہے کے میں نہیں چاہتا کہ میرے اسکول کی جنسی حوالے سے کسی قسم کی کوئی بدنامی ہو یا میرے سکول کے متعلق کوئی سکینڈل باہر نکلے اس لئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں نے تم کو کانا کرنا ہے یعنی میں نے ایسی کوئی بات تمہارا راز اپنے پاس رکھنا ہے تاکہ آپ کسی قسم کی کوئی بات باہر نہ کر سکو۔ میں نے اپنے کالے جسم کو چھپاتے
  5. ہی سر نے الماری کھولی تو الماری ایک دروازے میں تبدیل ہوگئی اور کھلنے لگیں نیچے بیسمنٹ تھی اور سر نیچے بیسمنٹ کی سیڑھیوں میں اترنے لگے اور مجھے کہا آپ اندر آئی اور میڈم ان کو بھی کہا کہہ آپ بھی آ جائیں ہم دونوں سر کے پیچھے پیچھے اترنے لگے سر نے دائیں طرف بٹن کو زور دیا تو بیس منٹ کی لائٹ آن ہوگی جیسے جیسے ہم لوگ بیس میڈ میں اترتے جارہے تھے ویسے ویسے میری آنکھیں پھٹتی جارہی ہیں میرے آنسو خشک ہو گئے تھے نیچے سرکا بہترین ریسٹورنٹ بنا ہوا تھا جس کے اوپر بہت بڑا بیٹھا تھا اور پیچھے سینٹری تھی اور آگے بہترین ایک صوفہ سیٹ رکھا ہوا تھا اس کے سامنے بہترین قسم کی ٹیبل تھی جس کے اوپر گلاس رکھے ہوئے تھے سر نے مجھے صوفے کے اوپر بٹھایا اور ساتھ خود بڑے کرسی کے اوپر برجمان ہوگئے میڈم انم سر کے ساتھ کھڑی رہی سر نے میری طرف دیکھا اور کہا کہہ یونیفارم کی ٹائی اتار دو میں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے فورا ہی یونیفارم کی ٹائی اتار کر ٹیبل کے اوپر رکھ دیں سر نے مجھے پھر حکم دیا کہ اپنی شرٹ بھی اتار دفعہ میں ہچکچانے لگا مگر مرتا کیا نہ کرتا سر کے حکم کے آگے مجبور تھا اور فورا مجھے شرٹ بھی اتارنی پڑی میرا اندھیرے سے بھرپور کالا بالوں سر پاک سینہ نظر آنے لگا شارلٹ اتارتے ہیں میں نے فورا اپنے دونوں بازو اپنے سینے کے آگے رکھ دیے اور نگاہیں میڈم انم پر جما دیں سر کا اگلا حکم تھا اپنی پینٹ کو کھولو میں گھبرا گیا اور ڈر کے مارے اپنا بایاں ہاتھ فورا پینٹ کے بٹن کے اوپر رکھ دیا سر نے فورا اپنا ہاتھ اٹھایا اور میری طرف بڑھا بڑھایا انہوں نے میرے ہاتھ کو جھٹکے سے ہٹایا اور میری پینٹ کا بٹن کھول دیا میں ابھی تک دیہاتی پینڈو تھا اور مجھے کسی نے نہیں بتایا تھا کہ پینٹ کے نیچے انڈرویئر پہنتے ہیں ابھی انڈر ابھی پینٹ نیچے تھوڑی سی اتری تھی کہہ سر نے پانچے سے پکڑ کر جھٹکے کے ساتھ میری پوری پینٹ کو اتار دیا پینٹ میرےلن کے ساتھ ٹکراتی ہوئی آڑ کر نیچے جا گری میں نے فورا اپنا ہاتھ اپنے لنڈ کے اوپر رکھا مگر میرا میرے دونوں ہاتھ میرے لن کو چھپانے میں ناکام ہوگیا دونوں ہاتھ رکھنے کے باوجود میرا لنڈ نظر آنے لگا سر نے اپنے دونوں ہاتھوں سے زبردستی میرے ہاتھوں کو ہٹایا اور میرے لن کو غور سے دیکھنے
  6. میں ڈر گیا میں نے چونک کر فورا پیچھے دیکھا میرے پیچھے عثمان اندھیرے میں مجھے ٹٹول رہا تھا اس نے اپنا ہاتھ فورا میرے کندھے پر رکھا اور کہا یہاں کیا کر رہے ہو اس کا لہجہ خاصا سخت تھا اس نے دوسرے ہاتھ سے میری کلائی کو پکڑ لیا میں تذبذب کے عالم میں آگیا میرے پاس الفاظ نہیں تھے کہ میں عثمان کو کیا بتاؤں آسمان مجھے پکڑ کر فورن پرنسپل صاحب کے کمرے میں لے گیا اس نے دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا may i come in sir تھوڑی دیر کے بعد آواز آئی یس عثمان مجھے کلائی سے پکڑتا ہوا پرنسپل صاحب کے کمرے میں لے گیا پرنسیپل واپس اپنی کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے جبکہ ٹیچر ان نم ساتھ والی چیر کے اوپر بیٹھ کر کتابوں کو ٹیبل پے رکھ کر کچھ چیک کر رہی تھی اور حسب روایت ٹیچر کی کے سینہ کی لائنیں ڈوپٹے کے نیچے سے نظر آرہی تھی پرنسپل صاحب کو دیکھتے ہی عثمان نے کہا سر یہ میرے کمرے میں سے چوری کر رہا تھا پرنسپل صاحب کیونکہ میرے دادا جی کو بھی جانتے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ میں چوری نہیں کر سکتا انہوں نے مجھے مشکوک نگاہوں سے دیکھا اور مجھے کہا stand here اور عثمان سے کہا آسمان تم چلے جاؤ میں تنویر صاحب سے مل کر خود آفس بند کر دوں گا۔ عثمان کے جاتے ہی پرنسپل صاحب نے مجھ سے پوچھا Young man what was you doing in کچن نوجوان تم کچن میں کیا کر رہے تھے میں۔ سر ررررررر وہ میں نے ٹیچر انم سے ٹینسز چیک کروانے تھے مگر آپ کچن میں کیسے گھس گئے یہ کہہ کر جیسے ہی سر کی نگاہ کچن والے دیوار پر پڑی تو ان کو شک ہونے لگا کہ ایگزاسٹ کے سوراخ کو کھلا کیا گیا ہے انہوں نے فورا بات کو بدلا اور پوچھا آپ نے اس کے سوراخ میں سے دیکھا تھا ان کے اس سوال سے میرے چہرے پر پسینے چھوٹ گئے میرے کالے اندھیرے چہرے پر پسینے کے قطرے عجیب لگ رہے تھے میرے کالے سیاہ ہونٹ کپکپانے لگے اور میری آنکھوں میں سے آنسو ٹپ ٹپ ٹپ کر کے گرنے لگے سر لیاقت بھی پریشان نظر آنے لگے انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تنویر آپ نے کیا دیکھا میڈم انم کافی چونک گئی تھی اور انھوں نے اپنا دوپٹہ سیدھا کر کے پوچھا تنویر سر کو بتاؤ میں نے کہا سر سر پلیز مجھے معاف کر دیں میں نے کچھ نہیں دیکھا اگر دیکھا بھی ہے تو کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گا پلیز پلیز یہ کہہ کر میں زاروقطار رونے لگ گیا پرنسپل صاحب اپنی کرسی سے اٹھے اور انہوں نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور مجھے کہا کہہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے انہوں نے میرے طرف معنی خیز نگاہوں سے دیکھا سر سے پاؤں تک میرا معائنہ کیا اور مجھے کہا کہ آپ تھوڑی دیر کے لئے میرے روم سے باہر چلے جائیں میں آپ کو بلاتا ہوں میں ہاتھ جوڑتا معافی مانگتا ہوں سر کے کمرے سے باہر چلا گیا باہر ایک بینچ پڑی ہوئی تھی جس کے اوپر میں بیٹھ گیا اور اپنے آپ کو کوسنے لگا دوستو اس دوران آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ روپے پیسے کی ریل پیل کے ہونے کے باوجود میں ابھی تک کنوارا تھا اور مجھے کسی قسم کے سیکس کا کوئی تجربہ نہیں تھا اس لیے سر کا اور ٹیچر انم کا آپس میں بیٹھے رہنا میرے لیے خاص عجیب تھا مگر میں نے اس کو کوئی زیادہ نوٹس بھی نہیں کیا تھا اور جب میں غور کرنے لگا تھا کہ فورا ہی عثمان آگیا مگر مجھے اتنا ضرور پتا تھا کہ سر کا اور میڈم کا آپس میں کوئی غلط تعلق ضرور ہے بارحال تھوڑی دیر بعد سر خود دروازے سے باہر نکلے اور مجھے کہا کہ اندر آو۔ میں ڈرتے ڈرتے سر کے روم میں داخل ہوا سر نے مجھ سے پوچھا تنویر بیٹا آپ مجھے سچ سچ بتاؤ کے آپ نے میں کیا دیکھا پھر میں نے ڈرتے ڈرتے سر کو بتایا کہ میں ایسے ایسے روم میں گیا اور میں نے دیکھا کہ آپ اور میڈم اکٹھے بیٹھے ہیں پھر میں نے نگاہیں نیچی کرلیں آپ اور شرم کے مارے پانی پانی ہونے لگا سر وہہہہہہہہ میری یہ پہلی اور آخری غلطی ہے یہ کہتے ہوئے میں رونے لگا اور سر کو کہا کے سر مجھے جانے دے سر نے معنی خیز نگاہوں سے میری طرف دیکھا اور مجھے کہا ٹھیک ہے تم جا سکتے ہو ہاں مگر تھوڑا سا ایک کام کرنا ہوگا اسکول میں دوبارہ واپس نہیں آنا ہوگا میں آپ کا نام اس سکول سے نکال رہا ہوں یہ سنتے ہی میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی اور مجھے گاؤں کا وہ گندا پرانا میلا اسکول نظر آنے لگا مجھے وہ دوسرے میرے دوست بھی عاصم وغیرہ بھی نظر آنے لگے اس گندے ماحول کا سوچتے ہیں میں رونے لگا اور سر کی منتیں ترلے کرنے لگا میں نے اپنے دونوں ہاتھ باندھے اور فورا سر کے پاؤں میں گر گیا چودھری تنویر کالا کسی کے پاؤں میں تھا یہ ایسا زندگی میں پہلی دفعہ ہوا تھا اگر یہ بات میرے دادا جی یا میرے خاندان میں کسی کو پتہ لگتی تو وہ اس سکول کو آگ لگا دیتے مگر میں نہیں چاہتا تھا کہ میری وجہ سے کوئی بدمزگی پیدا ہو اور میرا نام بد نام ہو سر نے ٹیچر انم کی طرف دیکھا اور کہا ٹھیک ہے چلو ہمارے ساتھ یہ کہہ کر سر ساتھ والی الماری کو کھولنے لگے جیسے
  7. سکول سے چھٹی ہوگی آہستہ آہستہ کر کے سارے بچے بھی چلے گئے مگر میں اپنے ٹیچر انم کے انتظار میں کلاس میں ہی بیٹھا رہا کریم بخش باہر جب مجھے لینے آیا تو میں نے پی این سے کہا کہ آپ اس کو بھیج دیں میرا تھوڑا سکول کا کام رہتا ہے میں وہ کرکے آجاؤں گا انتظار سے تھک ہار کر میں آہستہ آہستہ کر کے پرنسپل صاحب کے روم کی طرف چل دیا تاکہ اگر ٹیچر نہ مل جائیں تو ان کو بتا دو کہ میں جا رہا ہوں پرنسپل صاحب نے نہیں لیاقت صاحب ریٹائر آرمی آفیسر تھے اور قد میں چھوٹے تھے مگر خوب روب دبدبا رکھتے تھے بچے ان کے آفس میں جانے سے کتراتے تھے جیسے کیسے کرکے میں ان کے آفس پہنچ گیا دروازے پر ان کا خاص اردلی عثمان ٹھہرا ہوا تھا جس نے مجھے وہاں پر روک دیا اور مجھے کہا کہ تمام ٹیچر وغیرہ تو چلے گئے ہیں میں دروازے کے بعد ٹھہراؤ اور پھر جانے کے لیے تیار ہی ہوا تھا کہہ حافظ کی بیالوجی اور عثمان دوڑتا ہوا لیاقت صاحب کے دفتر میں داخل ہونے لگا جیسے ہی دروازہ آسمان میں کھولا تو مجھے سامنے تھی ٹیچر انم نظر آئی میں فورا ایک سائیڈ پر ہو گیا پرنسپل کا صاحب کا روم ایک کشادہ کمرے پر محیط تھا اور بہت ڈیکوریٹ نظر آرہا تھا سکول میں کوئی نہ ہونے کی وجہ سے میں ساتھ ملحق کا کچن میں گھس گیا جیسے ہی میں کچن میں گیا تو وہاں پر شمار چائے کے برتن رکھے ہوئے تھے سامنے مجھے اگزاسٹ نظر آیا اور میں شیلف کے اوپر چڑھ کر اس ایگزاسٹ سے دیکھنے لگا ایگزاسٹ بلکل اس جگہ پر تھا جہاں پر ٹیچر انم بیٹھی ہوئی تھی اور مجھے کمرہ بالکل صاف واضح نظر آنے لگا صداقت صاحب اپنے کمرے میں اپنی چیر کے اوپر بیٹھے تھے جبکہ درمیان میں میز تھی اور ٹیچر انم صوفے کے اوپر بیٹھی تھی عثمان ابھی تک اسی روم میں کھڑا تھا اور روم کی چابیاں سنبھال رہا تھا تھوڑی دیر بعد عثمان بھی اس کمرے سے چلا گیا میں اندھیرے میں تھا اور میرا رنگ بھی بہت کالا تھا جس کی وجہ سے باہر سے کسی کو کچھ نہ آتا تھا عثمان کے جاتے ہیں ٹیچر انعم بےتکلفی ہوگی اور سر لیاقت سے کہنے لگی رہنے دیں سر میں اب بہت تھک چکی ہوں میری مانیں کسی اچھے سے حکیم کو دکھائیں اگر میرے ساتھ یاری لگائی ہے تو اپنے آپ کو یاری نبھانے کے قابل بھی بنائیں آپ کے پرزے کا سائز چھوٹا تھا اس پر مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن اب آپ کی ٹائمنگ بھی آہستہ آہستہ کم ہوتی جا رہی ہے پرنسپل صاحب نے اپنے گنجے سر کو کھجانا شروع کر دیا اور بولے میری جان کہاں وہہہہہہہہہ ابھی بس تین دن کے بات ہے میں نے خاص دوائیں شروع کر دی ہیں اور ٹائمنگ بھی بڑھ جائے گی یہ کہتے ہوئے وہ اپنی کرسی سے اٹھے اور صوفے کی جانب بڑھے جہاں ٹیچر انم تھی ٹیچر انم کے ساتھ بیٹھتے ہیں انہوں نے اپنا ہاتھ ٹیچر انم کی تھائی کے اوپر رکھ دیا ٹیچر انم تھوڑی سی ہچکچائیں اور دور ہوئی اور بولی بس بہت ہوگیا میں تھک گئ ہوں آپ ہاتھ لگاتے ہی چھوٹ جائیں گے اور میں پریشان رہوں گی یار میں رکھا ہے اور وبال رکھا ہے مہربانی کرکے میرا کوئی بندوبست کریں یا اپنا کوئی علاج کریں لیاقت ہار نئے ہاتھ ٹیچر انم کے سینے کی طرف بڑھائے اور کہا دیکھو میری جان مجھے تھوڑا سا ہاتھ تو لگانے دو یہ کہتے ہوئے انہوں نے ٹیچر انعم کے موٹے موٹے تھنوں کو پکڑ لیا اور دبانے لگے ٹیچر انم کا ہاتھ پہ ساختہ طور پر سر کی پینٹ کی زیب کے اوپر جاگرا ٹیچر انم نے ابھی دو تین دفعہ سر کے للے کو دبایا ہوگا کے سر کے منہ سے جھاگ نکلنے لگی سر کی آنکھیں الٹی ہوگئی گی اور سرنے فورا اپنی ٹانگیں بھینچ لیں اور یقینی طور پر سر اس وقت فورا ہی چھوٹ چکے تھے ادھر میرا بس سینے سے برا حال تھا اور میری حالت غیر ہونے لگی میرا لوڑا پھولے نہیں سما رہا تھا ایسے میں اچانک کچن کا دروازہ کھلا
  8. زندگی میں پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ کسی خوبرو دوشیزہ کا ہاتھ میرے ہاتھوں میں تھا مجھے اپنے جسم کے اندر بہت منفرد سی کیفیت محسوس ہونے لگی بلوغت کی سٹیج پر تو میں پہنچ چکا تھا مگر کسی لڑکی کا ہاتھ میرے ہاتھوں میں پہلی دفعہ تھا مجھے ہلکا ہلکا اپنی شلوار کے اندر بھی اپنا ہتھیار کھڑا ہوتا ہوا محسوس ہونے لگا تھا مگر میں میں نے جلدی سے اس کو اپنی ٹانگوں کے درمیان میں چھپا لیا تاکہ کسی کو محسوس نہ ہو میرے کالے کالے ہونٹوں پر سے تھوک نکلنے لگی میں جلدی سے کرسی پر برجمان ہوگیا ایسے میں میری ٹیچر انم آگئی ٹیچر ان ہم ایک خوبصورت ٹیچر تھی ان کے حاوند بیرون ملک ہوتے تھے وہ شوقیہ طور پر ہمارے اسکول میں پڑھانے کے لئے آتی تھی ان کا ایک بچہ بھی تھا لیکن کسی کو پتہ نہیں لگتا تھا کہ وہ بچے کی ماں ہیں مگر ان کا سینہ اور ان کا ڈھیلا سا بدن یہ ضرور بتاتا تھا کہ وہ سیکس کروا چکی ہے ٹیچر انم کے سینے پر نگاہ پڑتے ہی میرا راڈ کھڑا ہو جاتا تھا جو مجھے مشکل سے چڈو میں چھپانا پڑتا تھا میرے ساتھ بیٹھی میری کلاس فیلو سیما اور تبسم میری اس کیفیت کو محسوس کرنے لگے وہ کہتے ہیں نا آنکھوں کی بھی عجب کشش ہوتی ہے میرے بار بار دیکھنے محسوس کرنے پارٹی چرا نام کو بھی محسوس ہونے لگا کے یہ کالا لڑکا اس کے پیچھے دیوانہ ہو گیا ہے اور وہ مجھے گندی نظروں سے دیکھنے لگتی۔ ان کے سفید سفید دودھ یعنی انکی چھاتیاں قمیض یا شرٹ کے جھروکے میں سے نظر آتی تو میرا کھمبہ بھی سگنل پکڑنے لگ جاتا تھا اسی طرح دو ہفتے گزر گئے ایک دن میں کلاس میں بیٹھا انگلش کے ٹینسز پڑھ رہا تھا اور ٹیچر عنہم نے مجھے بلا لیا اور کہا کہ جتنا تم نے کر لیا ہے اپنی نوٹ بک لے کر فورا میرے پاس آ جاؤ میں ٹیچر انعم کے پاس جا کر کھڑا ہوگا ٹیچر ان میری نوٹ بک کو اور سے دیکھتی جا رہی تھی میں ٹیچر انم کے دائیں کندھے کے ساتھ کھڑا ہوگیا اور میری نظر ان کی چھاتیوں پر جا ٹکی انہوں نے ریڈ کلر کا برا بنا ہوا تھا جس میں ان کی چھاتیاں ہیرے جیسی لگ رہی تھی ایسے میں میری زبان میرے منہ سے بے سخت طور پر نکل کر میرے ہونٹوں پر آگئی اور میری ساری کیفیت میرے کلاس فیلو بھی دیکھنے لگے۔ میں سارے جہان سے بیگانہ ہوکر ٹیچر انم کی جنت بھری دودھ کی وادیوں میں گم تھا کہ ایسے میں آیا آگی اور اس نے ٹیچر انم کو کہا کہ صداقت صاحب آپ کو یاد کر رہے صداقت صاحب ہمارے اسکول کے پرنسپل تھے اور نہایت سنجیدہ اور باوقار شخصیت کے مالک تھے سکول میں اس قسم کی کوئی حرکت یا واقعے پر وہ ٹیچر اور بچوں کو نکال دیا کرتے تھے ٹیچر انعم فورن کھڑی ہوگئی اور صداقت صاحب کے آجاتے جاتے ٹیچر نام نے یہ کہا س میں چلی گئ جاتے جاتے ٹیچر نے یہ کہا کہ جب تک میں نہ کہوں آپ نے نہیں جانا بے شک اب چھٹی سے10سے 15منٹ رہتے ہیں لیکن آپ نے مجھے مکمل ٹینسز چیک کروا کر جانے ہیں میں ابھی آتی ہوں
  9. دادا جان نے خاص طور پر کریم بخش کو ہدایت کی تھی کہ مجھے یعنی تنی کالے کو روپے پیسے کی کوئی کمی نہ ہو اور چھوٹے سردار کا ہر صورت میں سکول میں دل لگنا چاہیے چاہے اس کے لئے کچھ بھی کرنا پڑے کریم بخش ایک نہایت منجھا ہوا وفادار نوکر تھا اس کی بڑی بڑی مونچھیں تھیں اور وہ صحت مند اور تندرست انسان تھا شکل صورت سے بدمعاش نظر آتا تھا لیکن میری جی حضوری کیجئے ہروقت تیار تھا سکول کا پہلا دن بہت عجیب و غریب تھا میں جسے ہر وقت لوگ سر آنکھوں پر بٹھائے رکھتے تھے اور میرے اندر سے سرداری جانے نہیں پاتی تھی آج مجھے احساس ہوا کہ مجھ سے بھی بڑے بڑے سردار اس دنیا میں موجود ہیں اتنے خوبصورت سفید سرخ اور تہزیب یافتہ لوگوں سے میرا سامنا پہلی دفعہ ہوا تھا یہ اسکول جنت سے کم نہیں تھا بڑے بڑے باغیچے لان بڑے بڑے کلاس روم ایئرکنڈیشن روم نہایت پڑھی لکھی حسین خاتون ٹیچرز اور پڑھے لکھے خوبصورت مرد اساتذہ تھے۔ اسکول میں اساتذہ کے ساتھ ساتھ جو بچے تھے وہ بہت نیت امیر کبیر گھرانے کے بچے تھے لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے پڑھتے تھے لڑکیاں نہایت خوبصورت چھوٹی چھوٹی پریاں تھیں۔ سرخ اور سفید رنگ و روپ کی مالک ہونٹ لال اور پھولوں کی پتیوں کی مانند دمکتے تھے صفائی کا خاص انتظام تھا ایسے لگتا تھا جیسے تنی کالا جنت الفردوس میں آگیا ہو اور اسے میرے لیے شہر کا یہ اسکول بڑا ہی عجیب و غریب تھا یہاں پر کو ایجوکیشن تھی یعنی کے لڑکے اور لڑکی اکٹھے پڑھتے تھے پہلے دن کلاس میں ہی مجھے عجیب و غریب طریقے سے دیکھنا شروع کر دیا کہ جیسے کوئی عجیب قسم کا جانور ان کے سکول میں داخل ہوگیا ہو۔ یہاں میں ایک بات بتاتا چلوں کہ میرے والد صاحب اگرچہ ذمہ دار گھرانے سے تھے مگر وہ سوڈان اپنے ایک دوست کے پاس گئے جان کا دوست اور ان کی ایک رشتہ دار خاتون رہتی تھی کہا نا جانے کیسے میرے والد صاحب کی میری والدہ جو کہ ایک سیاہ فام تھی سے دوستی ہوگئی اور پھر یہ دوستی بعدازاں ازدواجی رشتے میں بدل گئی میرے والد صاحب نے میری والدہ سے شادی کرلی اور اس کو پاکستان لے آئے پہلے پہل تو پاکستان دادا کان اور کسی اور نے بھی میری والدہ کو قبول کرنے سے انکار کردیا مگر ان کے باء اخلاق رویے اور خدمت داری انہیں قبول کرنے پر مجبور کر دیا۔ کلاس میں مجھے جو جگہ ملی وہاں پر میرے ساتھ میری فیلو سیما تھی اور دوسری سائڈ یعنی بائیں سائیڈ پہ میرے ساتھ ایک لڑکا تبسم نام کا بیٹھا کرتا تھا میں کلاس میں جب پہلے دن حاضر ہوا تو میں نے بستہ اٹھایا ہوا تھا اور سر کی پف نکال کے کلاس کے باہر کھڑا تھا میری ٹیچر نے مجھ کو بلا بھیجا اور مجھ سے انگلش میں مخاطب ہوئیں Hi come in gentle man ادھر آؤ شریف آدمی میں خاصا پریشان اور کنفیوز ہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگا جیییییییی میںمینننننن Yes you my dear میرے استانی نے کہا ہاں تم میں گھبرایا ہوا کلاس میں داخل ہوا ٹیچر نے مجھے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور میں وہ بیٹھ گیا پہلا دن تعارف کا تھا جہاں پر میں نے اپنا تعارف بڑے گھبرا گھبرا کر پیش کیا اور سب لوگ مجھ پر ہنسنے لگے میر ے کالے رنگ افریقی اور پاکستانی لہجے نے میرے کلاس فیلوز پر میرا کوئی اچھا اثر نہ ڈالا مگر میرے ساتھ بیٹھی میری کلاس فیلو مجھے غور سے دیکھ رہی تھی کلاس میں بریک کے دوران اس لڑکی نے ہاتھ میری طرح بڑھایا اور کہا ہائے ایم سیما میں نے اس کے ہاتھوں میں ہاتھ ملاتے کر کہا جی می تنویر میری نظر اس کے اور میرے اپنے ہاتھوں پر پڑی میرے کالے کالے اور سیاہ ہاتھ ہونے سیما کے سفید اور گلابی ہاتھ کو اپنی گرفت میں لیا ہوا تھا مجھے پہلے تو کبھی کسی قسم کی کوئی کبھی پریشانی نہ ہوئی تھی مگر اس مرتبہ زندگی میں
  10. پھر یوں ہوا کہ میں یعنی کہ تنی کالا میری عمر بٹر ھتی گی اور میں اسکول اسکول سے ہائی سکول میں جانے لگا میں پڑھائی میں نارمل درجہ کا سٹوڈنٹ تھا مگر کلاس میں پیچھے پیچھے بیٹھا تھا میری کلاس میں بہت زیادہ نالائق بچے بھی تھے جو میرے ساتھ پچھلی بینچوں پر بیٹھے تھے میں گورنمنٹ کے سکول میں پڑھتا تھا جہاں کے ماحول میں کافی آزادی تھی ایک دن کلاس میں بیٹھے بیٹھے میرے ایک کلاس فیلو جس کا نام شریف یعنی شرفو تھانے مجھ سے ڈیمانڈ کی کے میں اس کو اپنا لنڈ دکھاں۔ مجھ کو پہلے پہلے اس کی بات کی بالکل بھی سمجھ نہ آئی مگر جب اس نے مجھے بتایا کہ لن آگے والی چیز کو کہتے ہیں تو مجھ کو شرم آ گئی اس کے بار بار اصرار پر میں نے کلاس میں پچھلی ڈیسک سے چھپتے ہوئے اپنے لان کے اوپر سے شلوار کے اوپر ہاتھ رکھ لیا مگر میری بائی طرح بیٹھا دوسرا کلاس فیلو جس کا نام عاصم تھا اس نے بھی بھرپور اصرار کرنا شروع کر دیا اس پر شریف نے کہا کہ اس کالے کا بہت چھوٹا ہوگا اس وجہ سے یہ ہمیں نہیں دکھا رہا عاصم بھی اسی طرح کی اصرار کرنے لگا اور اس نے کہا کہ میں بتا سکتا ہوں کہ یہ کیوں شرم آ رہا ہے ایسے چھینا جھپٹی میں عاصم اور شریف نے میری شلوار اتار لی کیونکہ میں اس وقت صرف لاسٹ پہنتا تھا اس وجہ سے ان کو اتارنے میں کوئی تکلیف نہ ہوئی مگر جیسے ہی میری شلوار اتری شریف اور عاصم کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی میرے لن کا سائز عام انسان کے لن کے حساب سے کافی بڑا تھا اس پر شریف نے کہا کہ بھائی میرے تنی صاحب یہ اپنا لن ہے یا گھوڑےکالن لیے پھرتے ہو یعنی اس وقت جب میں نویں کلاس میں پڑھتا تھا میرے لن کا سائز 10 انچ کے برابر تھا اور اس کی ٹوپی تین انچ کی ہوگی اس پر عاصم نے کہا میرے بھائی میرا تو دل کرتا ہے اس کالے کاکالالن پکڑ کر میں چیک کر لو کے واقعی اصلی ہے یا نقلی ہے اس دوران اس نے جھٹ سے میرا لنڈ پکڑ لیا ڈر اور شرم کے مارے میری تو چیخ نکل گئی جس پر ماسٹر صاحب فوراً پہنچ گئے اس نے جب مجھ کو اس حالت میں دیکھا تو ہم تینوں کو اس نے بینچ پر کھڑا کر دیا اور ہمارا نام نوٹ کرکے ہمارے والدین کو بلابھیجا میرے والد صاحب کی بجائے میرے دادا ابو میری پڑھائی پر بہت زیادہ توجہ دیتے اور میرے ساتھ ہوں کا دوستی والا رشتہ تھا دادا جان کے سکول میں آنے سے ہیڈ ماسٹر نے ان کو طرح طرح کی طرح طرح کی باتیں سننے کے بعد دادا ابو حساس ہوا کہ اس طرح سرکاری اسکول میں پڑھنے سے ان کی اکلوتی نرینا ضائع ہوجائے گی اور پڑھ نا پائے گی اس لیے انہوں نے مجھ کو نئے سکول میں یعنی پرائیویٹ سکول میں شہر میں پڑھانے کی ٹھان لی۔ ان کے ایک نہایت قریبی دوست ماسٹر فضل دین کے کہنے پر مجھے شہر کے بڑے اسکول میں ایڈمیشن کرادیا گیا جہاں پر بڑی فیس کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے لوگ ہو کے بچے ایڈمیشن کرانے آئے ہوئے تھے میرا ٹیسٹ لیا گیا اور مجھے واپس آٹھویں کلاس میں ایڈمیشن دیا گیا کیونکہ میں انگریزی میں بہت زیادہ کمزور تھا میری رہائش کے لئے دادا جان کے شہر میں رہنے والے بہت قریبی دوست اور امیر و کبیر گھرانے کے فرزند ایک سیاسی پارٹی سے جن کا تعلق تھا ان کے گھر میں ایک کمرہ خالی کرکے مجھے رہنے کے لئے کچھ عرصہ کے لیے دیا گیا اور میرے ساتھ میرا نوکر کریم بخش کو بھی ساتھ میرے رکھا گیا۔ اس طرح میں یعنی تنی کالا گاؤں سے شہر پڑھنے کے لیے لاہور آ گیا اور ایک بہت ماڈرن انگلش میڈیم سکول جہاں پر لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے پڑھتےتھے میں داخل ہو گیا
  11. میری داستاں میرا نام تنویر کالا ہے لوگ مجھے تنی کالے کے نام سے بلاتے ہیں میں نے پاکستان کے دیہاتی علاقے میں آنکھ کھولی خوش قسمتی سے جس گھرانے میں پیدا ہوا وہ اپنے علاقے کا ایک ذمہ دار گھرانہ تھا اور یہاں پر پیسے کی خوب ریل پیل تھی مگر نرینہ اولاد نہ ہونے کی وجہ سےمیرے پیدا ہونے پر خوب جشن منایا گیا اور میری خوب او بھگت کی گئی میری پیدائش پر میرے دادا جی نے سو بکروں کی قربانی کی میرے ماں باپ نے تقریبا ۵٠ تولے سے بھی زیادہ کے زیورات خیرات کر دیے مگر میں جب پیدا ہوا تو میرا رنگ خاصا کالا تھا اس پر تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جس دائی نے مجھے پیدا کیا نے پیسے لینے سے انکار کر دیا اور میرے دادا جی سے کہا کے سردار صاحب پیسے اور بخشش رہنے دیں قسمت سے تو کوئی بچہ پیدا ہوا ہے اور بختو والا لگتا ہے لمبی چھوڑی ناک اور جسم کے تمام اعضاء بڑے بڑے ہیں مگر رنگ کا ذرا سانولہ ہے تو کیا ہوا لڑکا ہے کس نے دیکھنا ہے میں اس کی ایسی خدمت کروں گی کہ رنگ روپ دنوں میں ہی چمکنے لگ جائگا فالحال آپ میرے ہاتھ دھلوائیں کسی اچھے سے صابن سے ۔
  12. پیارے دوستو میں یہ جو کہانی لکھنے جا رہا ہوں اس کا تھوڑا سا حصّہ میں پہلے ہی کسی دوسرے فورم پر لکھ چکا ہوں کیوں کہ ہمارا یہ فورم پہلے بند ہوچکا تھا اس لیے مجبوری میں مجھے دوسرے فورم پر لکھنا پڑا اب میں باقی اپڈیٹ اسی فورم پر کیا کروں گا شکریہ
×
×
  • Create New...