Jump to content
URDU FUN CLUB
Congratulation ! Site is Moved To New Server Complete Successfully

same3r

Active Members
  • Content Count

    46
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

61

About same3r

  • Rank
    In Active Members

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. اچھی کہانی ہے اچھا اسٹارٹ ہے لمبی چلاؤ تو مزا آئے گا لیکن بیچ میں مت چھوڑنا پلیز
  2. اچھی کہانی ہےا ور اگر یہ کاپی بھی یے تو بہترین ہے مزا آگیا ویسے رومن اردو سے اردو فونٹ میں کاپی کرنا پھر کریکڑر تبدیل کرنا شاندار کام ہے رائٹر کو سلام اور لگے رہیں اپڈیٹ دیتے رہیں
  3. لکھیں سرکار پچھلی کہانی تو آپ کو کمنٹ کرنے کے بعد نہیں پڑھی تھی دل نہیں مان رہا تھا یہ کچھ اچھی لگ رہی ہے
  4. لگ رہا ہے یاسر کسی اور کے دھوکے میں پکڑا گیا ہے نصیب میں جو ذلت ہو وہ تو اٹھانی ہی پڑتی ہے یاسر کا برا ٹائم اسٹارٹ ہے صرف پھدیوں کا معاملے میں اسے مل جاتی ہیں ورنہ یہ رج کے ذلیل ہو رہا ہے اب پتا نہیں کب ڈاکٹر صاحب اسے اس ذلت سے نکال کے احساس دلائیں گے ایک منٹ کیلیے لگا تھا اے ایس آئی اس کو ہیجڑا بنانے والا ہے اسر بلکل لاسٹ میں احساس ہو گا کہ غلط بندہ اٹھا لیا پھر مس سونیا کی زندگی جہنم کیونکہ یاسر ٹریک ریکارڈ کی مطابق اپنی بچانے کیلیے بتا دیتا کہ کس کو چودنے آیا ہے لیکن کہانی میں ٹوئیسٹ آگیا
  5. شروعات بتا رہی ہے کہ کہانی لمبی چلے گی نام ہے گرداب تو ہیرو واپس جاتا نظر نہیں آتا بارڈر کے ساتھ زمین ساتھ والی ین والاسیاسی بندہ، ابھی تو کہانی شروع ہوئی ہے۔ لیکن مزا آگیا بڑی گرفت ہے آپ کی کہانی پہ باقی ساتھ ساتھ پڑھتے رہیں گے تو کمنٹ بھی کرتے رہیں گے لگے رہو بھائی
  6. آج ایم کی نشست میں ساری کہانہ پڑھ ڈالی ہے مزا آگیا کمنٹ حوصلہ افزائی کیلیے ہے ورنہ تعریف کیلیے ہمیشہ الفاظ کم پڑ جاتے ہیں
  7. کہانی تو آپ کی اپنی ہے جیسے چاہیں چلائیں لیکن ایک تو آپ مجاہد دکھا رہیں ہیں نمازیں پڑھوا رہیں ہیں دوسرا اس کا اپنی بیوی کے ساتھ سیکس ڈیٹیل میں بتا رہے ہیں یار کشمیر کے معاملے میں میں پکا پاکستانی ہوں اپ بھی ہوں گے ضرور یا تو کہانی کو کسی اوربیک گراؤنڈ میں لیجائیں یا اسٹوری پیٹرن بدل دیں جیسے مجاہد بننے سے پہلے کی زندگی یاد کرتا ہوا پھر بیچ بیچ میں پریزنٹ میں آ جائیں اور ایکشن کو رواں رکھیں باقی کہانی آپ کی ہے گزارش ہے قبول کر لیں تو ٹھیک ہے ورنہ میری تو نہ ہی سمجھیے شکریہ
  8. اچھی کہانی جا رہی ہے بس فونٹ کا سائز تھوڑا بڑا کردے ابھی تو شروعات ہے لیکن تھوڑا عجیب اسٹارٹ ہے سالا ہمارا ہیرو ہی گانڈو نکلا ہے۔
  9. ایسے کیسے چلے گا بھائی اپڈیٹ تو لمبی دو اور اس کو کسی جگہ پہ اینڈ کرو ایک چدائی چار اپدیٹ میں ہو گی نا تو ہمارے لنڈ بھی بیٹھ جائیں گے تھیم اچھا ہے اس کو لمبا بلا سکتے ہو لیکن اپڈیٹ بھرپور دو
  10. کہانی کی تو اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں مجھے صرف اس بات پہ ھلا تھا کہ اصل صورت حال اس سے بھی گھمبیر ہے باقی طاقتور کے لیے تو اس ملک میں کوئی قانون نہیں ہے اب جبری زیادتی جبری نکاح میں بدل گئی ہے سندھ، پنجاب پورے پاکستان میں طاقتور اپنا الو سیدھا کر ہی لیتا ہے کہیں سیاسی طاقت کے بل پہ کہیں پیسے کی طاقت کے بل پہ اور کہیں تعلقات کی طاقت کے بل پہ۔ باقی آپ کا موضوع مشکل ہے لیکن آپ لکھ لیں گے کینوس چھوٹا ہے لیکن کردار شطرنج کے مہروں کی طرح بچھے ہوتے ہیں لکھاری کے سامنے کب کس کا بڑھانا ہے لیکن جس پس منظر میں کہانی ہے اس میں پیادے کا سفر بہت لمبا نظر ارہا ہے ۔
  11. ںہت اچھی کاوش ہے کہانی بہترین جا رہی ہے آج کافی دنوں بعد فارم پہ آنا ہوا تو یہ نیا اضافہ اچھا لگا۔
  12. ایک گزارش ہے ایڈمن سے جو لنک اپ نے دیا ہے اس لیں جوائن کلب کھولو تو وہی پندرہ ڈالر + پانچ ڈالر ممبر شپ فیس لکھی آرہی ہے قسط کے الگ چارجز نہیں لکھے ہوئے اس کے علاوہ جو کہانی مکمل ہو چکی ہے شاید آہنی گرفت وہ پوری پڑھنے کے لیے کیا کرنا پڑے گا سو سو قسطوں کے پیکج یا مکمل۔پیکج ایک ساتھ لینا پڑے گا
  13. ٹاپک بھی مشکل ہے اور آپ نے لکھا بھی ہمیشہ کی طرح شاندار ہے لیکن مجھے فائزہ نور کی اس بات سے اختلاف ہے کہ سندھ میں حالات اس سے زیادہ برے ہیں سندھ کا بہت بڑا حصہ تقریباً پچاسی فیصد اس قسم کے وڈیروں کے چنگل سے آزاد ہے موبائل کیبل اسمارٹ فون اور میدیا نے بہت کچھ بدل دیا ہے سوشل میدیا بہت بڑی طاقت بن کے ابھرا ہے میرا شوق ہے سندھ گھومنا چپا چپا تو نہیں لیکن اپنی استطاعت کے مطابق بہت گھوما ہے اور گھومتا رہتا ہوں اس طرح کے حالات نہیں ہیں ہاں غربت افلاس ریپ گھر سے بھاگ جانا اور کزنز میں اپس میں سیکس یا کلاس فیلوز میں سیکس شہروں سے کچھ زیادہ ہے لیکن یہ حال نہیں ہے کہ وڈیرے جس کی لڑکی چاہے اٹھا لیں جس کو چاہے چود دیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہو۔ شاید کچے کے کچھ علاقے یا ںہت اندرون جیاں سڑکیں نہیں ہوں لوگوں کا شہر سے واسطہ نہیں ہو وہاں غلامی کی ایسی قسمیں پائی جاتی ہوں باقی آج کا ہاری ووٹر بھی ہے ہاریوں کا بھی بڑا ہوتا ہے آج اتنی غیرت آگئی ہے کہ کاروکاری کے نام پہ اپنی بیٹی مارنے کے بجائے وڈیرے کو مار کے اپنی جان قربان کر دیتے ہیں اور زمینیں سیاسی خاندانوں کی ملکیت ہو گئی ہیں تو وہ اتنا چند بھی نہیں چڑھاتے ان کو شہروں نیں ٹاپ ماڈلز میسر ہیں عیاشی کو پیٹرن بدل گیا ہے۔ باقی کہانی ایک الگ ہی دکھ سنسنی اور سسپنس لیے موجود ہے اور ہمیشہ کی طرح بہترین ہے لیکن انسانی حقوق کی اس قدر پامالی بھی نہیں ہے کہ اپنے انسان ہونے پہ شرم آنے لگے۔
  14. Dr Sahib the great yasir ab samjhdar hota ja raha hai 1 no ka kameena dimagh ho gya hai bc chalbazyon se phudyan chod raha hai bus rohi ka seen gher me hona chahye full romantic mahool me nighty pehan k esa yadgar sex ho k maza aajae.
×
×
  • Create New...