Jump to content
URDU FUN CLUB

Mani09

Active Members
  • Content Count

    122
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    5

Mani09 last won the day on March 3

Mani09 had the most liked content!

Community Reputation

253

Profile Information

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

586 profile views
  1. Sir ye samajhne k liye k Yasmeen k qatil honay ka kaise pata chala, aap kahani ko aik dafa or parh lain.... Chotay chotay clues ko jor k FIA ne ye case solve kia
  2. اپڈیٹ نمبر 21 (آخری اپڈیٹ) ۔ اگلے روز اس کیس سے جڑے سبھی کردار ڈاکٹر انور کے گھر موجود تھے۔ سب کی توجہ کا مرکز وقاص تھا کیونکہ اسی نے سب کو یہاں اکٹھا کیا تھا۔ وقاص نے پر اعتماد لہجے میں اپنی بات شروع کی؛ 28 اگست کی رات 12 بجے ڈاکٹر انور نشے میں دھت اپنے گھر پہنچے اور سیدھا ثمرین کے کمرے کی طرف گئے۔ کمرے سے ثمرین اور رمیض کی باتوں کی آواز آ رہی تھی۔ ڈاکٹر انور غصے سے اپنے کمرے کی طرف گئے اور سرجیکل آلات والا بیگ کھول کے اس میں سے ایک سرجیکل چاقو نکالا اور واپس ثمرین کے کمرے کی طرف پلٹے۔ کمرے کا دروازہ کھولتے ہی انہوں نے اپنی بیٹی کو ایک غیر مرد کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دیکھا تو وہ آپے سے باہر ہو گئے۔ انہوں نے غصے سے پھنکارتے ہوئے آگے بڑھ کے رمیض پہ قاتلانہ حملہ کیا۔ رمیض اور ثمرین اس حملے کے لیے ذہنی طور پہ تیار تھے اس لیے انہوں نے اپنے بچاؤ کی بھرپور کوشش کی۔ اس ہاتھا پائی کے نتیجے میں تینوں کے جسم پہ خراشیں لگیں لیکن رمیض کچھ زیادہ زخمی ہو گیا۔ انور اور رمیض کے درمیان زور آزمائی جاری تھی، اسی وقت ثمرین نے پلاسٹک کا بیگ اٹھا کے اپنے باپ کے سر پہ دے مارا۔ بیگ کی شدید ضرب لگنے سے انور ہوش سے بیگانہ ہو گیا اور بیگ میں بھی دراڑ پڑ گئی۔ رمیض اور ثمرین نے مل کے انور کے بے ہوش جسم کو اٹھایا اور گھسیٹ کے اس کے کمرے میں لے جا کے بیڈ پہ لٹا دیا۔ انور کی شرٹ رمیض کے خون سے رنگین تھی جس کے نشان بیڈ کی چادر پہ بھی ملے۔ اس کے بعد کیا ہوا وہ ڈاکٹر انور کو واقعی یاد نہیں تھا کیونکہ وہ بے ہوش ہو چکے تھے۔ انور کو لٹانے کے بعد ثمرین اور رمیض کو اس چاقو کا خیال آیا جو انور کے ہاتھ میں تھا۔ ثمرین نے واپس جا کے اپنے کمرے سے چاقو اٹھایا اور دھو کے واپس بیگ میں رکھ دیا۔ پھر اس نے اپنی الماری سے ایک دوپٹہ نکالا اور اس کا ایک حصہ پھاڑ کے رمیض کے زخم پہ لپیٹ دیا۔ اس کے بعد رمیض وہاں سے چلا گیا اور ثمرین اپنے بیڈ پہ سو گئی۔ ثمرین کو یقین تھا کہ انور کو صبح کچھ یاد نہیں ہو گا کیونکہ جب بھی وہ نشے میں ہوتا تھا اسے اگلے دن کچھ یاد نہیں ہوتا تھا۔ آفرین نے اسے ٹوکا اور بولی؛ اس کے بعد جو ہوا وہ شاید تجمل کو پتہ ہو۔ تجمل بولا؛ ہاں یہ سچ ہے کہ میں نے ہی انور کو کال کر کے رمیض کے بارے میں بتایا تھا لیکن میں نے اس معصوم لڑکی کو نہیں مارا، ہاں میں یہ بتا سکتا ہوں کہ اسے کس نے مارا! وقاص بولا؛ کس نے؟ آپ کی خوبصورت بیوی نے؟ میرا مطلب ہے سابقہ بیوی نے؟ تجمل بولا؛ نہیں، آفرین میں اتنی جرأت نہیں ہے۔ وقاص نے پوچھا؛ پھر آپ کے خیال میں کون ہو سکتا ہے؟ تجمل نے ماریہ کی طرف اشارہ کیا اور بولا؛ اس عورت نے ثمرین کا قتل کیا ہے۔ وقاص جھٹ سے بولا؛ بالکل غلط جواب، ایک ماں اپنی بیٹی کو کیسے مار سکتی ہے؟ سب کو حیرت کا جھٹکا لگا اور سب نے وقاص کی طرف ایسے دیکھا جیسے وہ احمق ہو۔ وقاص ماریہ کے پاس پہنچا اور بولا؛ ٹھیک کہہ رہا ہوں ناں میں مس ماریہ؟ ثمرین آپ کی بیٹی تھی ناں؟ ماریہ کے چہرے کی ہوائیاں اڑ گئیں۔ وقاص نے اپنی بات جاری رکھی؛ ماریہ کی ماں ایک طوائف تھی اور ان کی رہائش انور کے آبائی گھر کے پاس تھی۔ انور اور ماریہ کا بچپن سے ہی ناجائز رشتہ تھا جو جوانی تک جاری رہا۔ انور کے گھر والوں کو یہ رشتہ کسی طور قبول نہیں تھا اس لیے انہوں نے انور کی شادی یاسمین سے کر دی۔ انور نے شادی کے بعد بھی ماریہ سے تعلق بنائے رکھا اور اسی تعلق کے نتیجے میں ماریہ نے ایک بچی کو جنم دیا جس کا نام ثمرین تھا۔ حاضرین کو حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا جبکہ ماریہ نے وقاص کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے مزید نہ بولنے کی استدعا کی۔ وقاص نے اس کی التجا کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی؛ شادی کے تین سال بعد تک بھی جب اولاد نہ ہوئی تو پتہ چلا کہ یاسمین بانجھ ہے اور اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ ڈاکٹر انور کے لیے یہ ایک نہایت موزوں صورتحال تھی۔ عائشہ کی پیدائش کے بعد انور نے یاسمین کو بتایا کہ وہ یتیم خانے سے ایک 15 دن کی بچی کو گود لے رہا ہے۔ یاسمین کو اس پہ بھلا کیا اعتراض ہو سکتا تھا وہ تو الٹا خوش ہو گئی کہ وہ ایک بیٹی کی ماں بن جائے گی۔ پھر جب انور نے اپنا کلینک کھولا تو ماریہ کو نرس بنا کے اپنے پاس لے آیا۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یاسمین کو شک کیوں نہیں ہوا جب بچی فطری طور پہ اس کے پاس جانے کی بجائے اپنی ماں کے پاس جاتی ہوگی؟ شک تو لازمی ہوا ہوگا لیکن ڈاکٹر انور نے چالاکی سے معاملہ سنبھال لیا ہو گا۔ لیکن سچ کب تک چھپ سکتا تھا؟ 18 سال بعد ایک دن یاسمین نے ماریہ اور انور کو پیار کا کھیل کھیلتے ہوئے دیکھ لیا۔ صحیح کہہ رہا ہوں ناں مس یاسمین؟ یاسمین نے غصے سے اس کی طرف دیکھا اور بولی؛ کیا کر رہے ہیں آپ؟ پہلے ہم لوگ کم پریشان ہیں جو ایسے سب کے سامنے ہماری تذلیل کر رہے ہیں؟ وقاص نے اس کے سوال کا جواب دینے کی بجائے خود ایک سوال داغ دیا؛ پنڈی میں تھی ناں آپ؟ یاسمین نے نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھا اور بولی؛ کیا؟ وقاص بولا؛ قتل کے وقت پنڈی میں تھی ناں آپ؟ یاسمین نے ہاں میں جواب دیا۔ وقاص بولا؛ وہ ہی تو میں تھوڑا سا کنفیوز ہوں کہ جس سرجری کے لیے آپ وہاں گئی تھیں وہ تو پہلے ہو چکی تھی۔ ایمرجنسی تھی تو ایک جونیئر ڈاکٹر نے وہ آپریشن پہلے ہی کر دیا تھا۔ ساتھ ہی اس نے ہسپتال کے کچھ کاغذات یاسمین کو دکھائے۔ یاسمین نے اس کی بات سے اتفاق کیا۔ پھر اس نے ڈائیوو بس کا ریکارڈ دکھایا جس سے یاسمین واپس لاہور آئی اور بولا کہ آپ 12 بجے سے پہلے گھر پہنچ چکی تھیں۔ اور جب آپ پہنچیں سکیورٹی گارڈ ٹوائلٹ گیا ہوا تھا اس لیے اس نے آپ کو دیکھا نہیں۔ یاسمین جھنجلاہٹ سے بولی؛ کیا کہنا چاہتے ہیں آپ؟ کیا لینا دینا ہے اس سب کا اس کیس سے؟ کیا لینا دینا ہے؟ وقاص نے برہم انداز میں کہا؛ کوئی لینا دینا نہیں تو آپ اتنا غصہ کیوں کر رہی ہیں؟ وقاص نے اپنی کہانی جاری رکھی؛ یاسمین اپنے گھر پہنچ گئی لیکن کسی کو اس بات کا پتہ نہیں تھا۔ رات کے 12 بجے وہ باتھ روم میں نہا رہی تھی جب اس نے غصے میں ادھر ادھر ٹکراتے ڈاکٹر انور کے قدموں کی آواز سنی۔ جب تک وہ باتھ روم سے باہر آئی ثمرین اپنے بستر میں سو چکی تھی۔ یاسمین کے لیے انور سے اس کے دھوکے کا بدلہ لینے کا یہ بہترین موقع تھا۔ اس نے حالات کا بخوبی جائزہ لیا اور اپنے ذہن میں ایک خطرناک پلان بنایا۔ پھر اس نے سرجیکل لباس اور دستانے پہنے اور سرجیکل کٹ سے باہر پڑا ہوا وہی چاقو اٹھایا جو کچھ دیر پہلے ڈاکٹر انور کے ہاتھ میں تھا اور ثمرین کو قتل کر دیا۔ یاسمین بولی؛ بکواس ہے یہ، پہلے انور پہ قتل کا الزام لگایا اور اب مجھ پہ، تم نکلو میرے گھر سے۔ اتنا کہہ کہ اس نے وقاص کو دھکے دینے شروع کر دیے۔ ایک لیڈی کانسٹیبل نے آگے بڑھ کے اسے روکا اور قابو کر کے بٹھا دیا۔ تجمل نے ایک بار پھر لقمہ دیا؛ تو پھر سجاد کو کس نے اور کیوں قتل کیا؟ وقاص بولا؛ ثمرین کو قتل کر کے جب یاسمین اس کے کمرے سے باہر نکلی تو سجاد بیچارہ اپنی موت کو ڈھونڈتا ہوا نیچے سے گزر رہا تھا۔ اس کی نظر یاسمین پہ پڑی تو وہ وہیں ساکت ہو گیا کیونکہ یاسمین کے ہاتھ میں خون آلود چاقو تھا اور اس کے سرجیکل لباس پہ بھی خون کے چھینٹے تھے۔ یاسمین نے سجاد کو پیسوں کا لالچ دے کہ اسے قتل کے ثبوت مٹانے کے لیے مدد کرنے پہ آمادہ کیا۔ سجاد نے یاسمین کے کہنے پہ اس جگہ سے صوفے ہٹائے اور لکڑی کا فرش اکھاڑا جہاں سے اس کی اپنی لاش ملی۔ اس کا مطلب ہے جب اس نے لاش چھپانے کے لیے جگہ بنا لی تو یاسمین نے اسے ہی اس جگہ سلا دیا اور سب کچھ واپس اپنی جگہ پہ رکھ دیا۔ اس بار آفرین نے مداخلت کی اور بولی؛ ایک کمزور سی عورت اتنا سب کچھ کیسے کر سکتی ہے؟ وقاص نے سب کو یاد دلایا کہ یاسمین ایک آرتھوپیڈک سرجن ہے اور صاف اور سیدھے کٹ لگانے میں مہارت رکھتی ہے۔ اور اسی مہارت کا استعمال کر کے اس نے پہلے ثمرین اور سجاد کو قتل کیا اور پھر اپنے شوہر ڈاکٹر انور کو بھی قتل کر دیا۔ وقاص نے اپنی بات جاری رکھی؛ انور کے کمرے کا لاک نہ تو توڑا گیا اور نہ ہی ڈوپلیکیٹ چابی کا استعمال کیا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ قاتل ڈاکٹر انور کی مرضی سے ان کے کمرے میں داخل ہوا۔ دراصل ڈاکٹر یاسمین طلاق کے کاغذات لے کے اپنے شوہر سے ملنے گئی اور دھوکے سے اس کا قتل کر دیا۔ ایڈووکیٹ یونس جو اب تک خاموشی سے یہ سب سن اور دیکھ رہا تھا گرجدار آواز میں بولا؛ پھر میرے بیٹے رمیض کو کس نے مارا؟ وقاص بولا؛ اے ایس آئی راشد علی نے۔ یونس نے حیرت زدہ لہجے میں پوچھا؛ وہ کیوں مارے گا میرے بیٹے کو؟ وقاص بولا؛ وہ پہلے دن سے جانتا تھا کہ ثمرین کا قتل یاسمین نے کیا ہے لیکن چونکہ وہ یاسمین کے جسم سے فیض یاب ہو رہا تھا اس لیے اس نے ہر اس ذریعے کو مٹا دیا جس سے ہم اصل قاتل تک پہنچ پاتے۔ وقاص کی بات سنتے ہی یاسمین نے خونخوار شیرنی کی طرح اس پہ حملہ کر دیا اور زبان کے ساتھ ہاتھ بھی چلانے لگی۔ لیڈی کانسٹیبل نے آگے بڑھ کے اسے دبوچا اور وقاص نے اپنی بات جاری رکھی؛ یاسمین نے پہلے دن ہی راشد کی ہوس پرستی کو بھانپ لیا تھا اس لیے اس نے اسے پیسوں کے ساتھ اپنا جسم بھی پیش کر کے اپنے ساتھ ملا لیا۔ رمیض نے قتل کے اگلے ہی روز راشد سے رابطہ کر کے اسے بتایا کہ ثمرین کا قتل اس کے باپ نے کیا ہے لیکن تب تک راشد بک چکا تھا۔ راشد نے مکاری سے رمیض کو روپوش کر دیا اور یاسمین کے کہنے پہ اسے قتل کرنے سے گریز کیا۔ یاسمین کا خیال تھا کہ اگر عدالت انور پہ ثمرین کے قتل کی فرد جرم عائد کر دیتی ہے تو رمیض کو گواہ کے طور پہ پیش کیا جا سکتا ہے اور اگر انور ضمانت پہ باہر آ جاتا ہے تو اسے رمیض کے ہاتھوں قتل کروایا جا سکتا ہے۔ لیکن ان کا منصوبہ اس وقت ناکام ہوا جب میں اور اکرام پرویز کا پیچھا کرتے ہوئے اس جگہ جا پہنچے جہاں رمیض روپوش ہوا تھا۔ وہیں رمیض اور راشد نے مجھ پہ قاتلانہ حملہ کیا اور اس کے بعد راشد نے پرویز کو بھی قتل کر دیا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر پرویز میرے ہاتھ لگ گیا تو ساری بات کھل جائے گی۔ پھر جب رمیض میرے ہاتھ لگا تو راشد نے اسے بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یاسمین نے ڈھٹائی سے ایک بار پھر مداخلت کی اور بولی؛ یہ سب بکواس ہے اور ایک من گھڑت کہانی ہے۔ آپ کے پاس کیا ثبوت ہے جس سے آپ اپنی اس کہانی کو سچ ثابت کر سکیں؟ وقاص نے فاتحانہ مسکراہٹ چہرے پہ سجا کے اکرام سے وہاں موجود ایل ای ڈی آن کرنے کا کہا۔ پھر اس نے سب کو مخاطب کر کے کہا کہ ابھی جو تصویریں آپ دیکھنے والے ہیں وہ انتہائی قابل اعتراض ہیں لیکن ان کے علاوہ ہمارے پاس کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ یہ تصویریں ان ویڈیوز میں سے نکالی گئی ہیں جو راشد کے موبائل میں موجود تھیں۔ آپ سب کے علم میں ہو گا کہ راشد ایک لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں اس وقت ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کی حراست میں ہے، وہیں سے مجھے وہ ویڈیوز ملیں جن میں سے کچھ تصویریں میں آپ لوگوں کو دکھا رہا ہوں۔ پہلی تصویر میں یاسمین ننگی کھڑی تھی اور اسکے بازو ایک رسی کی مدد سے چھت کے ساتھ لگی ایک ہک کے ساتھ بندھے ہوئے تھے۔ اس کے ساتھ تصویر میں راشد موجود تھا جس کے جسم پہ کپڑے نہیں تھے اور ہاتھ میں ایک باریک سی چھڑی تھی۔ دوسری تصویر میں یاسمین گھٹنوں کے بل بیٹھی راشد کا لن چوس رہی تھی۔ تیسری تصویر میں یاسمین ٹیبل پہ اوندھی پڑی تھی اور راشد کے ہاتھ میں بیلٹ تھی جس سے غالباً وہ اس کی تواضع کر رہا تھا۔ تمام تصویروں میں راشد اور یاسمین کے نجی اعضاء کو کالے رنگ سے چھپایا گیا تھا۔ وقاص نے ایل ای ڈی بند کر دی اور بولا؛ ہاں تو مس یاسمین اور کوئی ثبوت چاہیے؟ یاسمین سر جھکا کے بیٹھی رہی اور کوئی جواب نہ دیا۔ وقاص بولا؛ آپ لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ اگر یاسمین نے تفتیشی آفیسر کو اپنے ہاتھ میں کیا ہوا تھا تو اسے ایف آئی اے کے پاس جانے کی کیا ضرورت پڑی؟ اس کا جواب بہت سادہ ہے، راشد وائلڈ سیکس کا شوقین ہے اور اسے عورت کو تکلیف دینے میں مزہ آتا ہے۔ یاسمین کے لیے جب اس کی اذیت ناقابل برداشت ہو گئی تو اس نے ایف آئی اے کے پاس جانے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ جانتی تھی کہ راشد اب اپنے بچاؤ کے لیے بھی اس کیس کو حل نہیں ہونے دے گا۔ لیڈی کانسٹیبل نے یاسمین کو ہتھکڑی پہنائی اور اپنے ساتھ لے گئی۔ جاتے جاتے یاسمین نے ایک کمینی فاتحانہ مسکراہٹ چہرے پہ سجا کے ماریہ کی طرف دیکھا جو اپنا سب کچھ لٹ جانے پہ آنسوؤں سے تر چہرہ لیے غم کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ عدالت نے تمام شواہد کی بناء پر یاسمین اور راشد کو سزائے موت کا حکم جاری کیا۔ صائمہ نے راشد سے طلاق لے کے وقاص سے شادی کر لی اور عزت اور محبت سے بھرپور زندگی گزار رہی ہے۔ ماریہ اور آفرین تنہا زندگی گزار رہی ہیں اور انور کی یاد میں آنسو بہا کے دن رات یاسمین کو کوستی ہیں۔ ختم شد
  3. اپڈیٹ نمبر 20 ڈاکٹر انور جیل کے دروازے سے باہر نکلا تو ایک طرف یاسمین گاڑی لے کے موجود تھی جبکہ دوسری طرف آفرین ایک گاڑی لیے موجود تھی۔ انور نکلا تو پہلے اس کی نظر آفرین پہ پڑی، اس نے آنکھوں سے ہی اس کی آمد کا شکریہ ادا کیا جس کے جواب میں آفرین نے اسے دوسری طرف دیکھنے کا اشارہ کیا۔ انور کی نظر یاسمین پہ پڑی تو وہ بے دلی سے اس کی طرف بڑھا۔ یاسمین اسے جیل سے باہر دیکھ بہت خوش ہوئی لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی انور بولا؛ یاسمین میں پہلے ثمرین کی وجہ سے تم سے یہ بات نہیں کر پایا، یاسمین نے اسے ٹوکا اور بولی؛ ہم گھر جا کے بات کرتے ہیں، انور نے اس کی بات ان سنی کرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی؛ میرے خیال میں اب اس شادی کو مزید گھسیٹنے کا کوئی مطلب نہیں۔ پہلے مجھے عائشہ کا خیال تھا ورنہ میں یہ شادی ختم کر چکا ہوتا۔ یاسمین نے ایک غضبناک نظر آفرین پہ ڈالی اور انور کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کے بولی؛ انور پلیز ایسے مت کرو، یہ عورت بس تمہیں استعمال کرے گی اور پھر چھوڑ دے گی۔ انور اسے بولتے چھوڑ کے واپس چل پڑا اور آفرین کی گاڑی میں بیٹھ کے چلا گیا۔ آفرین نے کچھ دنوں کے لیے ہوٹل میں ایک کمرہ لیا تھا جہاں وہ انور کو لے کے گئی۔ انور کمرے میں داخل ہوا تو کمرے میں پھولوں سے سجاوٹ کی گئی تھی اور ویلکم ہوم کا خوبصورت سا کارڈ بنا کے سامنے آویزاں کیا گیا تھا۔ انور یہ سب دیکھ کے جہاں خوش تھا وہیں حیران بھی تھا۔ آفرین نے اسے بانہوں میں بھر کے چوما اور بولی؛ کچھ دنوں کے لیے یہی ہمارا گھر ہے۔ وقاص نے انور کے آبائی گھر کے باہر گاڑی روکی اور دروازے پہ لگی بیل بجائی۔ ایک معمر خاتون نے دروازہ کھولا جو وقاص کے مطابق یقیناً انور کی ماں تھی۔ وقاص نے سلام کیا اور بولا؛ آنٹی میں انور کا دوست ہوں اور ایک کام کےسلسلے میں لاہور سے یہاں آ رہا تھا تو انور نے آپ کے لیے یہ مٹھائی بھیج دی۔ آنٹی نے اس کے ہاتھ سے مٹھائی کا ڈبہ لے کر چائے کی پیشکش کی جسے اس نے رسمی حیل و حجت کے بعد قبول کر لیا۔ چائے پیتے وقت انور کا باپ بھی وہیں موجود تھا۔ وقاص نے خوش مزاجی سے بتایا کہ انور کے گھر ان لوگوں کا بہت تذکرہ ہوتا ہے، انور، یاسمین اور ماریہ ان لوگوں کے بارے میں کافی بات کرتے ہیں۔ ماریہ کا نام سن کے انور کے باپ کے چہرے پہ ناگواری کے تاثرات نمودار ہو گئے۔ وقاص نے آنٹی کو مخاطب کر کے کہا؛ آنٹی لگتا ہے انکل کو ماریہ کچھ خاص پسند نہیں ہے؟ اس کے سوال کا جواب آنٹی کی بجائے انکل نے دیا؛ بہت تیز جا رہے ہو میاں، لگتا ہے کم وقت میں بہت کچھ جاننا چاہتے ہو؟ انور کے دوست ہی ہو یا کوئی اور؟ وقاص نے اس کے سوال کا سنجیدگی سے جواب دیا؛ اب آپ جان ہی گئے ہیں تو بتا دیں جو آپ کو معلوم ہے۔ میرا نام وقاص ہے اور میں عائشہ کے قتل کی تحقیقات کر رہا ہوں۔ انکل نے سخت لہجے میں جواب دیا؛ ہم کچھ نہیں جانتے۔ وقاص نے غصے سے کہا؛ انور آپ کا بیٹا ہے اور عائشہ آپ کی پوتی تھی جس کے قتل کے الزام میں وہ کیس بھگت رہا ہے۔ میرا تو ان سے کوئی تعلق نہیں پھر بھی میں قاتل کو ڈھونڈنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہوں اور اس دوران مجھ پہ قاتلانہ حملہ بھی ہو چکا ہے۔ اگر آپ اب بھی کچھ نہیں بتانا چاہتے تو جیسے آپ کی مرضی۔ اس کی جذباتی تقریر سے انکل کچھ نرم پڑ گئے اور بولے؛ اس رات کیا ہوا وہ تو ہم نہیں جانتے لیکن اتنا ضرور جانتے ہیں کہ اس میں ماریہ کا ضرور کوئی کردار ہو گا کیونکہ وہ ایک مکار اور بدکردار عورت ہے۔ وقاص نے ان کا شکریہ ادا کیا اور واپسی کی راہ لی۔ واپسی پہ اس نے اکرام کو کال کی اور ہوچھا؛ جس دن تم پرویز کا پیچھا کر رہے تھے اس دن پرویز کے علاوہ تم نے اندرون میں کسے دیکھا تھا؟ پرویز بولا؛ ماریہ کو دیکھا تھا جو کسی دوکان سے کچھ خرید رہی تھی۔ وقاص بولا؛ بلاؤ اسے تفتیش کے لیے، میں بھی پہنچ رہا ہوں۔ وقاص خونخوار نظروں سے ماریہ کو دیکھ رہا تھا اور ماریہ اس کے سامنے بیٹھی خوف سے کانپ رہی تھی۔ وقاص نے اس سے پوچھا کہ فلاں تاریخ وہ اندرون لاہور میں کیا کر رہی تھی؟ ماریہ نے بتایا کہ اس کی ماں ٹیکسالی میں رہتی ہے جس سے ملنے وہ وہاں گئی تھی۔ وقاص نے پوچھا؛ تم نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی؟ ماریہ بولی؛ کوئی مناسب رشتہ نہیں ملا۔ وقاص بولا؛ کوئی پرانا افیئر؟ ماریہ نے نفی میں سر ہلایا۔ وقاص نے پوچھا؛ کبھی سیکس کیا ہے؟ ماریہ نے غصے سے نہ میں جواب دیا۔ وقاص نے لیڈی کانسٹیبل کو بلایا اور ماریہ کا مکمل میڈیکل چیک اپ کروانے کا کہا۔ میڈیکل چیک اپ کے مطابق ماریہ نہ صرف سیکسوئلی ایکٹو تھی بلکہ ایک بچہ بھی پیدا کر چکی تھی۔ وقاص کے لیے یہ ایک حیران کن خبر تھی۔ اس نے مزید تحقیق کے لیے وقاص کی ماں کے گھر کا رخ کیا۔ ماریہ کی ماں خاصی بیمار تھی اور اس کی دیکھ بھال کے لیے ایک نرس معمور تھی۔ وہاں پہنچ کے وقاص پہ انکشاف ہوا کہ ماریہ کی ماں قوت گویائی سے محروم ہو چکی تھی اور اس کی یاداشت بھی کافی کمزور تھی۔ وقاص نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن محض اتنا ہی جان پایا کہ وہ شادی شدہ ہے اور اس کا شوہر اسے یہاں نہیں آنے دیتا۔ وقاص مایوس ہو کے واپس آنے لگا تو اس کی نظر کمرے میں لگی ایک تصویر پہ پڑی۔ وہ تصویر کو قریب سے دیکھ رہا تھا تو ماریہ کی ماں نے اشاروں سے کچھ بتانے کی کوشش کی جس کا ترجمہ وہاں موجود نرس نے کچھ یوں کیا؛ یہ کہہ رہی ہیں کہ ان کی بیٹی جوانی میں بہت خوبصورت تھی۔ وقاص نے دوبارہ تصویر کو غور سے دیکھا تو اس کے چہرے پہ پریشانی کے آثار نمودار ہو گئے۔ اس نے جیب سے موبائل نکالا اور کال ملا کے باہر کی جانب بھاگا۔ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے وہ بولا؛ اکرام، انور اس وقت کہاں ہو گا؟ اکرام بولا؛ وہ آفرین کے ساتھ ہوٹل میں ہے۔ وقاص بولا؛ تم جلد از جلد وہاں پہنچو، اس کی جان خطرے میں ہے۔ وقاص پوری رفتار سے گاڑی چلا کے ہوٹل پہنچا تو انور کی لاش نے اس کا استقبال کیا۔ انور کے گلے پہ بھی ویسا ہی کٹ لگا تھا جیسا اس سے پہلے عائشہ اور سجاد کے گلے پہ پایا گیا۔ لاش کے پاس پولیس اور فرانزک کی ٹیمیں ابتدائی کاروائی کے لیے موجود تھیں۔ وقاص نے ہوٹل کے مینیجر سے پوچھا؛ کیا آپ سے کسی نے کمرے کی ڈپلیکیٹ چابی لی؟ مینیجر نے اس امکان کو سختی سے مسترد کر دیا۔ وقاص وہاں سے نکلا اور ایف آئی اے آفس کی طرف روانہ ہو گیا۔ راستے میں اس نے اکرام کو کال کی اور بولا؛ سب لوگوں کو کل انور کے گھر اکٹھا کرو۔ جاری ہے
  4. اپڈیٹ نمبر 19 انعم ڈاکٹر نمرہ کے کلینک میں بیٹھی اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی۔ ڈاکٹر نمرہ لاہور کی مشہور انڈریالوجسٹ اور سیکسیولاجسٹ ہیں۔ وہ انعم کی دور کی رشتہ دار بھی ہے اور اس سے اچھی طرح واقف بھی تھی۔ اس کے شعبے کی وجہ سے اس کی جب بھی انعم سے ملاقات ہوئی ان کا موضوع گفتگو سیکس ہی ہوتا تھا۔ انعم پہلی بار اس کے کلینک پہ آئی تھی, اس سے پہلے ان کی ملاقات خاندان کے کسی فنکشن پہ ہی ہوتی تھی۔ ڈاکٹر نمرہ اسے اپنے کلینک میں دیکھ کے حیراں ہوئی۔ اس کے پوچھنے پہ انعم نے بتایا کہ وہ نجی مسئلے کی وجہ سے اس کے پاس چیک اپ کے لیے آئی ہے۔ ڈاکٹر نمرہ نے اسے تسلی دی کہ وہ اس کا مسئلہ حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔ انعم نے اسے بتایا کہ گزشتہ رات سے اس کی وجائنا (پھدی) میں شدید جلن اور تکلیف ہے اور خون بھی رس رہا ہے۔ ڈاکٹر نے اسے اپنی شلوار اتار کے بیڈ پہ لیٹنے کا کہا اور اس کی پھدی کا معائنہ کیا۔ معائنے کے بعد ڈاکٹر نے انعم سے پوچھا؛ تمہاری وجائنا کی حالت تو قابل رحم حد تک خراب ہوئی ہے، کیا ڈالا ہے اس کے اندر؟ کیا تم ماسٹر بیشن (خود لذتی) کی عادی ہو؟ انعم نے دکھ بھرے لہجے میں جواب دیا؛ نہیں آنٹی ایسی بات نہیں ہے، دراصل میں آجکل ایک درندے کے چنگل میں پھنسی ہوئی ہوں، اسی نے میرا یہ حال کیا ہے۔ نمرہ نے پوچھا؛ کون ہے وہ اور تم کیسے اس کے چنگل میں پھنس گئی؟ نمرہ نے بتایا؛ وہ ایک پولیس والا ہے۔ اس نے مجھے ایک لڑکے کے ساتھ گاڑی میں سیکس کرتے ہوئے پکڑ لیا تھا اور ویڈیو بھی بنا لی۔ اسی ویڈیو کی وجہ سے مجھے اس کی بات ماننا پڑی اور میں اس کے چنگل میں پھنس گئی۔ وہ انتہائی سفاک درندہ ہے اور اسے عورت پہ تشدد کر کے سکون ملتا ہے۔ کل رات اس نے میرے اندر ایک لوہے کا راڈ گھسا دیا جس کے بعد سے میری یہ حالت ہے۔ نمرہ اس کی آپ بیتی سن کے افسردہ ہو گئی اور اسے راشد کی حیوانیت پہ شدید غصہ آیا۔ اس نے انعم سے کہا؛ تم نے کسی کو بتایا کیوں نہیں؟ انعم نے بے بسی سے کہا؛ بتایا تو ہے آپ کو کہ اس کے پاس میری ویڈیوز ہیں اور اس نے مجھے دھمکی دی ہے کہ اگر میں نے کسی کو بتایا تو وہ میری ویڈیوز وائرل کر دے گا۔ نمرہ نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا؛ اچھا تم پریشان مت ہو، اس مسئلے کا بھی کوئی حل نکال لیتے ہیں۔ فی الحال تم ساتھ والے کمرے میں آرام کرو۔ میں تمہیں کچھ گولیاں اور ایک کریم منگوا دیتی ہوں۔ گولیاں کھا لو اور کریم اپنی وجائنا پہ لگا لو۔ میں باقی مریضوں کو دیکھ لوں اس کے بعد ہم بات کرتے ہیں۔ انعم نے تشکر بھرے لہجے میں کہا؛ آپ کا بہت شکریہ آنٹی لیکن آپ پلیز میرے گھر میں کسی کو نہ بتائیے گا۔ نمرہ نے اسے یقین دلایا کہ یہ ڈاکٹر اور مریض کی رازداری ہے اور وہ اس بارے میں کسی کو نہیں بتائے گی۔ مریضوں سے فارغ ہونے کے بعد نمرہ انعم کے پاس پہنچی تو وہ آنکھیں موندے کسی گہری سوچ میں گم لیٹی ہوئی تھی۔ نمرہ کی آواز سن کے وہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی اور اٹھ کے بیٹھ گئی۔ نمرہ نے اس سر پہ ہاتھ رکھ کے اس کے بال سہلائے اور بولی؛ میرا ایک دوست ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ میں ہے۔ میں نے اسے کال کر کے بلایا ہے۔ امید ہے کہ وہ تمہاری مشکل آسان کر دے گا۔ انعم نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر راشد کو اس کی بھنک پڑ گئی تو وہ اس کی ویڈیوز وائرل کر دے گا۔ نمرہ نے اسے سمجھایا کہ وہ اس طرح کے معاملات سے نمٹنے میں تجربہ کار ہے اس لیے وہ کوئی حل ضرور نکال لے گا اور ویسے بھی انعم کو اس درندے سے جان چھڑانے کے لیے تھوڑی ہمت تو کرنا پڑے گی ورنہ وہ اسے اس سے بھی بدترین تشدد کا نشانہ بنا سکتا ہے۔ ان دونوں کی بحث ابھی جاری تھی کہ نمرہ کا دوست کامران جیلانی وہاں پہنچ گیا۔ نمرہ نے انعم اور کامران کا آپس میں تعارف کروایا۔ کامران کے پوچھنے پر انعم نے ساری تفصیل اسے بتا دی۔ کامران نے اسے سائبر کرائم ونگ کو ایک درخواست دینے کا مشورہ دیا اور نمرہ کو مخاطب کر کے کہا کہ اگر انعم کے طبی معائنے کی رپورٹ بھی درخواست کے ساتھ دی جائے تو زیادہ بہتر ہو جائے گا۔ انعم نے کامران سے بھی ویڈیوز وائرل ہونے کے خدشے کا اظہار کیا تو اس نے بتایا کہ جیسے ہی وہ درخواست دائر کرے گی، ایف آئی اے راشد کو حراست میں لے لے گی اور اسے ایسا کچھ کرنے کی مہلت ہی نہیں ملے گی۔ انعم کے مطمئن ہونے کے بعد ڈاکٹر نمرہ نے اس کا مکمل طبی معائنہ کروایا اور رپورٹ کے ساتھ راشد کے خلاف ایک درخواست ایف آئی اے سائبر ونگ کو دے دی گئی۔ درخواست موصول ہوتے ہی ایف آئی نے راشد کو حراست میں لے لیا۔ ثمرین قتل کیس وقاص اور اس کی ٹیم کے لیے ایک معمہ بن گیا تھا۔ وقاص کو جہاں سے کوئی سوراغ ملنے کی امید نظر آتی وہ راستہ ہی بند ہو جاتا۔ اب بظاہر اس کے پاس مزید تفتیش اور تحقیق کے لیے دو ہی ذرائع رہ گئے تھے، ڈاکٹر انور اور ماریہ۔ اس لیے ایف آئی اے نے عدالت میں ڈاکٹر انور کو حراست میں لینے کی درخواست دائر کر دی۔ دوسری طرف ڈاکٹر انور کے نئے وکیل نے عدالت میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کر دی۔ اگلی پیشی پہ عدالت کی کاروائی شروع ہوئی تو عدالت نے دونوں فریقین کے وکلاء کو ضمانت قبل از گرفتاری کے متعلق دلائل دینے کا حکم دیا۔ انور کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا؛ یور آنر اس کیس میں اب تک ہونے والی تفتیش اور اس کیس کے دوران ہونے والے مختلف واقعات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس کیس میں ڈاکٹر انور کو سیدھا سیدھا پھنسانے کی کوشش کی گئی ہے۔ پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹس میں سامنے آنے والے شواہد اس بات کو ثابت کرنے کے لیے ناکافی ہیں کہ ثمرین کا قتل ڈاکٹر انور نے کیا۔ یہ ایک چالاکی سے کیا گیا ڈبل مرڈر تھا اور میرے مؤکل کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق وہ اس رات شراب کے نشے میں دھت تھا اس لیے اس کے لیے یہ کرنا ممکن نہیں۔ ہو سکتا ہے اس رات اس نے اپنی بیٹی کو راہ راست پہ لانے کے لیے مارا پیٹا ہو اور اسی دوران اس کے جسم پہ اس کے ناخنوں کے نشان رہ گئے ہوں۔ پولیس اور ایف آئی اے دونوں ہی اس قتل کی تحقیقات میں ناکام رہے ہیں اور ان کی نااہلی کی سزا میرا مؤکل جیل میں رہ کے بھگت رہا ہے اور اب ایف آئی اے والے اسے حراست میں لینا چاہتے ہیں۔ میری عدالت سے درخواست ہے کہ میرے مؤکل کو ضمانت پہ رہا کیا جائے تاکہ وہ مزید جیل کی صعوبت نہ برداشت کر سکے۔ وکیل استغاثہ نے ضمانت کی مخالفت میں دلائل دیتے ہوئے عدالت کو یہ باور کرایا کہ ڈاکٹر انور اس کیس کا مرکزی ملزم ہے اور ایف آئی اے ابھی تک براہ راست اس سے تفتیش نہیں کر سکی اس لیے ہماری عدالت سے درخواست ہے کہ ضمانت کی درخواست کو خارج کر کے انور کو ایف آئی اے کے حوالے کیا جائے۔ عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل اور گواہوں پہ ہونے والی جرح سننے کے بعد ڈاکٹر انور کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کر لی اور اسے رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ جاری ہے
  5. اپڈیٹ نمبر 18 ڈاکٹر انور کی طرف سے یاسمین نے جو وکیل کیس لڑنے کے لیے میدان میں اتارا ہوا تھا، آفرین کو اس پہ کچھ زیادہ اعتماد نہیں تھا۔ ایک تو وہ وکیل کوئی خاص شہرت یافتہ نہیں تھا دوسرا اس کیس میں اس کی اب تک کی کارکردگی بھی زیادہ متاثر کن نہیں رہی تھی۔ اس لیے آفرین انور کے لیے نیا وکیل نامزد کرنا چاہتی تھی۔ یاسمین سے اس کی کوئی خاص بنتی نہیں تھی اس لیے اس نے اس سے بات کرنے کی بجائے انور کو اعتماد میں لے لیا۔ انور کی رضا مندی حاصل کرنے کے بعد وہ ملک کے مشہور وکیل نثار اے خان کے گھر پہنچ گئی تاکہ اسے یہ کیس لڑنے کے لیے آمادہ کرسکے۔ نثار اے خان اسے ملک کی ایک معروف ٹی وی اور فلم آرٹسٹ کے طور پہ جانتا تھا۔ رسمی سلام دعا کے بعد اس نے اپنی آمد کا مقصد بیان کیا۔ نثار اے خان نے اسے بتایا کہ وہ ان دنوں کچھ ہائی پروفائل کیسز میں مصروف ہے اور اس کا زیادہ وقت اسلام آباد میں ہی گزرتا ہے اس لیے اس کے لیے یہ کیس لڑنا ممکن نہیں۔ آفرین نے لجاجت سے کہا؛ مجھے معلوم ہے کہ آپ کی مصروفیات بہت ہیں لیکن اس کیس کو بھی آپ کی توجہ کی ضرورت ہے ورنہ ایک بے گناہ کو سزا ہو جائے گی۔ وکیل صاحب نے آفرین کی لجاجت کو نظر انداز کیا اور بدستور انکار کرتا رہا۔ آفرین نے جب محسوس کیا کہ اس کے الفاظ وکیل صاحب کو قائل کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں تو وہ اٹھ کے خان کے قریب اس کے صوفے پہ آ کے بیٹھ گئی۔ اس نے ایک بار پھر منت سماجت سے اسے قائل کرنا شروع کر دیا۔ اس مرتبہ وہ زبان سے زیادہ آنکھوں اور ہاتھوں سے بات کر رہی تھی۔ وہ اپنی گہری نظروں سے خان کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے اس کے دماغ پہ سوار ہو رہی تھی اور اس کا ہاتھ اس کی ران پہ پھسل رہا تھا۔ ایڈووکیٹ خان اس کے وار برداشت کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا تھا اور انکار کی سعی بھی جاری رکھے ہوئے تھا۔ ایڈووکیٹ خان: میڈم آپ سمجھنے کی کوشش کریں، میں یہ کیس نہیں لے سکتا۔ آفرین اپنا ہاتھ اس کے لن کی طرف سرکاتے ہوئے؛ پلیز خان صاحب خان: اب میں آپ کو کیسے سمجھاؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آفرین کا ہاتھ اس کے لن کے اوپر تھا اس لیے وہ اپنا جملہ مکمل نہ کر سکا۔ آفرین نے مزید وقت اور الفاظ ضائع کرنے کی بجائے اس کا لن پینٹ سے باہر نکالا جڑ سے ٹوپے تک زبان سے چاٹ لیا۔ ایڈووکیٹ نے مزے سے آنکھیں موند لیں اور لن کو آفرین کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا۔ آفرین لن کو ہاتھ میں پکڑ کے ستائشی نظروں سے اس کا معائنہ کر رہی تھی۔ اس نے آج تک اپنی زندگی میں بہت لن دیکھے اور چوسے تھے لیکن خان کا لن واقعی ستائشی حد تک صحت مند تھا۔ لن کا اچھی طرح معائنہ کرنے کے بعد اس نے اپنا منہ کھولا اور چوپے لگانے شروع کر دیے۔ خان نے بھی اپنے ہاتھوں کو حرکت دی اور اس کے ممے مسلنے شروع کردیے۔ آفرین اتنی مہارت سے چوپے لگا رہی تھی کہ خان مزے سے دوہرا ہوا جا رہا تھا۔ اس نے آفرین کو چند لمحوں کے لیے روکا اور اس کی قمیض اور بریزر اتار دی۔ آفرین نے اس کی پینٹ پنڈلیوں تک اتار دی اور دوبارہ اس کا لن منہ سے لگا لیا۔ خان نے دائیں ہاتھ سے اس کے مموں کو دبانا شروع کیا اور بایاں ہاتھ اس کی کمر پہ پھیرتا ہوا اس کے پائجامے کے اندر لے گیا۔ گانڈ پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے اس نے ایک انگلی آفرین کی چوت میں ڈالی جو پانی سے بھری ہوئی تھی۔ کچھ دیر اس نے انگلی چوت میں گھما کے اچھی طرح تر کی اور پھر نکال کے گانڈ میں گھسا دی۔ آفرین اس کی انگلی کا مزہ لیتے ہوئے چوپے لگانے کے ساتھ ساتھ گانڈ بھی آگے پیچھے کرنا شروع ہو گئی۔ خان کے دونوں ہاتھ مصروف تھے، ایک ممے مسلنے میں تو دوسرا گانڈ کھولنے میں، جس کے نتیجے میں آفرین کی چوت سے پانی کا ایک سیلاب نکلا اور اس کے پائجامے کو بھگوتا ہوا اسے بھی شانت کر گیا۔ اس نے جلدی سے اٹھ کے اپنا پائجامہ اتار کے اسے مزید گندا ہونے سے بچایا اور اپنی دونوں ٹانگیں خان کی ٹانگوں کے اطراف پھیلا کے اس کے لن پہ بیٹھ گئی۔ خان کو ایسے لگا جیسے اس کا لن دہکتی ہوئی بھٹھی میں گھس گیا ہو, اس نے بھی وقت ضائع کیے بغیر آفرین کے مموں کو چوسنا اور کاٹنا شروع کر دیا۔ آفرین کسی ماہر پورن سٹار کی طرح اس کے لن پہ اچھل رہی تھی اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کی رفتار میں اضافہ ہو رہا تھا۔ خان کو بیٹھے بٹھائے ایک مشہور اداکارہ کی پھدی مل گئی تھی اور وہ اس سے بے حد محظوظ ہو رہا تھا۔ آفرین کی پھدی نے دوسری بار خان کے لن کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور اس کے لن کو سیراب کر دیا۔ آفرین میں اب مزید ہلنے کی ہمت نہیں تھی اس لیے وہ بے جان ہو کے خان کے لن کہ اوپر بیٹھی رہی۔ خان نے اسے اٹھا کے صوفے پہ جھکا دیا اور خود اس کے پیچھے آ گیا۔ اس کا لن آفرین کی چوت کے پانی سے چکنا تھا جسے اس نے آفرین کی گانڈ کے سوراخ پہ سیٹ کیا۔ آفرین نے بدک کے کہا؛ نو نو نو، نوٹ ان ایس، دس از ویری بگ۔ خان ہنس کے بولا؛ وٹ اباؤٹ یور کیس؟ آفرین نے چپ چاپ منہ دوسری طرف کرلیا اور پہلے والی پوزیشن میں واپس آ گئی۔ خان نے تھوک کا ایک گولا گانڈ کے سوراخ پہ پھینکا اور انگلی سے سوراخ کو نرم اور چکنا کر لیا۔ اس کے بعد اس نے آگے بڑھ کے لن دوبارہ سوراخ پہ رکھا اور اپنا پورا وزن آفرین پہ ڈال کہ ایک ہی مرتبہ لن اندر اتار دیا۔ آفرین نے ہل کے نیچے سے نکلنے کی کوشش کی لیکن خان کے وزن نے اسے اس کی اجازت نہ دی۔ اسے ایسا محسوس ہوا جیسے لوہے کا راڈ اس کی گانڈ میں گھس گیا ہو۔ خان نے بنا رکے لن کو آگے پیچھے کرنا شروع کردیا اور تب رکا جب اس کی منی کا آخری قطرہ آفرین کی گانڈ میں گرا۔ فارغ ہو کے وہ آفرین کے ساتھ ہی صوفے پہ براجمان ہو گیا اور اپنی سانسیں بحال کرنے لگا جبکہ وہ کچھ دیر ویسے ہی اوندھے منہ پڑی رہی۔ جب دونوں کچھ حد تک نارمل ہو گئے تو خان نے پر مسرت لہجے میں کہا؛ یو گاٹ اٹ مائی ڈئیر، میں یہ کیس تمہاری خاطر لڑوں گا لیکن ایک شرط پہ! آفرین نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا تو وہ بولا؛ جب تک کیس کا فیصلہ نہیں ہو گا تم مجھے اپنی چکنی گانڈ سے فیض یاب کرتی رہو گی۔ آفرین نے اس کی شرط قبول کر لی اور باہر کا راستہ لیا۔ جاری ہے
  6. اپڈیٹ نمبر 17 وقاص نے اپنی ٹیم کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور رمیض کے دوستوں پہ نظر رکھنا شروع کر دی۔ اسے امید تھی کہ ایک بار بل سے باہر آنے کے بعد وہ اپنے دوستوں سے ضرور رابطہ کرے گا اور اس کی یہ امید جلد ہی پوری ہو گئی۔ رمیض کا ایک دوست پی سی او سے اسے کال کر کے اس کی ماں کا پیغام پہنچا رہا تھا جب وقاص اور اکرام نے اسے دھر لیا۔ ان لوگوں کو یہ جاننے کے لیے زیادہ محنت نہ کرنا پڑی کہ رمیض اس وقت کہاں روپوش ہے۔ وہ لاہور کے ایک پسماندہ اور گنجان آباد علاقے میں چھپا ہوا تھا۔ ایف آئی اے کی ایک ٹیم نے وقاص کی قیادت میں وہاں چھاپہ مارا اور عین اس وقت رمیض کے سر پہ جا پہنچے جب وہ خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا۔ وقاص اور اکرام نے تھپڑوں اور مکوں سے اس کی تواضع کر کے اسے نیند سے بیدار کیا جبکہ ٹیم کے باقی اہلکار گلی کے باہر کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار تھے۔ رمیض اس اچانک افتاد سے گھبرا گیا اور اسی بوکھلاہٹ میں اس نے تکیے کے نیچے سے پستول نکال کے بے دریغ گولی چلادی جو سیدھی اکرام کے بازو پہ لگی۔ وقاص نے آگے بڑھ کے اکرام کو سنبھالا تو رمیض موقع پا کر گھر کی پیچھے والی دیوار پھلانگ کر فرار ہو گیا۔ اکرام نے وقاص کو اپنی فکر چھوڑ کر رمیض کا پیچھا کرنے کی ترغیب دی تو وقاص بھی دیوار پھلانگ کے باہر کود گیا۔ رمیض اس سے کافی فاصلے پر بھاگ رہا تھا لیکن ابھی نظروں سے اوجھل نہیں ہوا تھا۔ وقاص نے بھی اس کے پیچھے سر پٹ بھاگنا شروع کر دیا۔ رمیض مختلف گلیوں میں سے گزرتا ہوا اندھا دھن بھاگ رہا تھا اور وقاص اس تک پہنچنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا تھا۔ اسی اثنا میں کسی نامعلوم مقام سے ایک گولی آئی اور رمیض کا سینہ چاک کر گئی۔ جب وقاص اس تک پہنچا تو وہ ابدی نیند سو چکا تھا۔ وقاص نے نظر گھما کے گولی چلنے کا مقام اور گولی چلانے والا ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن اس کی نظر تھک کے واپس آ گئی۔ اس نے رمیض کی جیبیں ٹٹولیں تو اسے محض ایک چھوٹی سی ڈائری کے سوا کچھ نہ ملا۔ اس پاکٹ سائز ڈائری کے ہر صفحے پر رمیض نے ثمرین کے لیے محبت بھرا پیغام لکھا ہوا تھا جس سے پتہ چلتا تھا کہ وہ ثمرین کا قاتل نہیں ہو سکتا۔ ویسے بھی جس طرح اسے ایف آئی اے کے ہاتھ لگنے سے پہلے خاموش کر دیا گیا اس سے یہ ہی ظاہر ہوتا تھاکہ اس سارے کھیل کے پیچھے کوئی اور ہے اور وہ جو کوئی بھی ہے، حد درجہ چالاک اور محتاط ہے۔ وقاص بری طرح الجھ گیا تھا کیونکہ وہ اس کیس سے جڑی جس کڑی کو کھولنے کی کوشش کرتا وہ کڑی ہی غائب کر دی جاتی۔ اب اس کے پاس ایک آخری کڑی بچی تھی اور وہ تھا سجاد۔ اس کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل پایا تھا۔ وقاص نے اکرام کو ساتھ لیا اور پرویز کے گھر کی تلاشی کے لیے پہنچ گیا کیونکہ یہی وہ جگہ تھی جہاں سے اسے سجاد کا کوئی سراغ مل سکتا تھا۔ پرویز کے گھر کی تلاشی کے دوران اسے ایک ڈبہ ملا جس میں سجاد کے خطوط تھے جن کے ذریعے وہ گاؤں میں اپنے گھر والوں سے رابطے میں تھا۔ اس ڈبے میں ان خطوط کے علاوہ چاندی کے کچھ چمچ اور کانٹے بھی ملے۔ وقاص نے گمان کیا کہ چاندی کے یہ چمچ سجاد نے ڈاکٹر انور کے گھر سے چرائے ہوں گے لیکن اسے اس بات پہ حیرت تھی سجاد جاتے ہوئے اپنی کنگھی اور ٹوتھ برش تک ساتھ لے گیا تو اتنی قیمتی چیز وہ یہاں کیوں چھوڑ گیا؟ سب سے پہلے تو انہیں یہ طے کرنا تھا کہ یہ چمچ اور کانٹے ڈاکٹر انور کے گھر کے ہیں یا نہیں؟ یہ جاننے کے لیے ان کی اگلی منزل ڈاکٹر انور کا گھر تھا۔ وہاں پہنچ کے انہوں نے دیکھا تو پتہ چلا کہ چاندی کی یہ چیزیں یہیں سے چرائی گئی ہیں۔ اب سوال یہ تھا کہ سجاد نے اگر یہ چیزیں لالچ میں آ کے چرالی تھیں تو وہ انہیں لے کر کیوں نہیں گیا؟ ابھی وہ اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ اس کے ذہن میں جھماکا ہوا اور وہ اٹھ کے ایک طرف بھاگا۔ اکرام بھی ناسمجھی میں اس کے پیچھے بھاگا۔ وقاص ایک جگہ پہ کھڑا ہو کہ اوپر والی منزل کی طرف دیکھ کہ کچھ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ پھر اس نے اکرام سے کہا کہ وہ اوپر جا کے ثمرین کے کمرے میں داخل ہو اور پھر واپس آ جائے۔ اکرام نے اس کی ہدایت پہ من و عن عمل کیا اور ثمرین کے کمرے کی طرف گیا۔ وقاص جہاں کھڑا تھا وہاں سے وہ اکرام کو ثمرین کے کمرے میں داخل ہوتے اور باہر آتے دیکھ سکتا تھا۔ اس نے اکرام کو اوپر ہی رکنے کا بولا اور خود بھی بھاگ کے اوپر پہنچ گیا۔ پھر اس نے ایک جگہ رک کے اکرام سے پوچھا کہ ماریہ کا کمرہ بالکل اس جگہ کے نیچے ہیں ناں؟ اکرام نے ہاں میں جواب دیا۔ اس جگہ کو بالائی منزل کے ٹی وی لاؤنج کے طور پہ استعمال کیا جاتا تھا اور یہاں کچھ صوفے رکھے تھے جن کے درمیان میں ایک چھوٹا سا قالین بچھا کے اس کے اوپر ایک میز رکھا گیا تھا۔ وقاص کو یاد آیا کہ ماریہ نے پوچھ گچھ کے دوران اسے بتایا تھا کہ اس رات جب وہ سو رہی تھی تو اسے فرنیچر کھسکنے کی آواز سنائی دی تھی۔ اس نے اکرام کو ہدایت کی کہ وہ صوفے گھسیٹ کے آگے پیچھے کرے اور خود ماریہ کے کمرے میں پہنچ گیا۔ ماریہ کے کمرے میں وہ صوفوں کے گھسیٹنے کی آواز بآسانی سن سکتا تھا۔ آواز سننے کے بعد وہ دوبارہ اوپر پہنچا اور اس جگہ کا باریک بینی سے جائزہ لینے لگا۔ قالین کے اوپر چلتے ہوئے اس نے محسوس کیا کہ ایک خاص مقام سے لکڑی کا بنا ہوا فرش کھوکھلا لگ رہا ہے۔ جب اس نے قالین ہٹا کے دیکھا تو حسب توقع قالین کے نیچے موجود کچھ پھٹیاں اکھاڑ کے دوبارہ لگائی گئی تھیں۔ وقاص اور اکرام نے مل کے جب فرش دوبارہ اکھاڑا تو گلی سڑی بدبو نے ان کا استقبال کیا۔ فرش کے نیچے سجاد کی لاش موجود تھی جس کے ساتھ اس کا سامان بھی وہیں دفن تھا یہاں تک کہ کنگھی اور ٹوتھ برش بھی موجود تھے۔ وقاص کا اندازہ بالکل ٹھیک تھا۔ جس نے بھی ثمرین کا قتل کیا تھا وہ سجاد کی نظر میں آ گیا تھا اس لیے سجاد کو بھی قتل کر دیا گیا اور سرونٹ کوارٹر میں اس کا جو بھی سامان موجود تھا وہ بھی ساتھ دفن کر دیا گیا۔
  7. اپڈیٹ نمبر 16 تجمل کے گھر سے نکل کے پرویز سوچ رہا تھا کہ ان دونوں میاں بیوی میں سے کس کے پاس ثمرین کو قتل کرنے کا زیادہ بہتر جواز ہے؟ ہو سکتا ہے تجمل نے انور سے بدلہ لینے کے لیے ماریہ یا سجاد کو ثمرین کے قتل کے لیے پیسے دیے ہوں؟ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آفرین انور سے شادی کرنا چاہتی ہو اور اس کی بیٹی اس شادی میں رکاوٹ ہو جس وجہ سے آفرین نے ماریہ یا سجاد کے ذریعے ثمرین کا قتل کروا دیا ہو؟ وقاص کی اگلی منزل انور کی فی الحال رہائش گاہ تھی۔ وہاں پہنچ کے اس نے ماریہ سے کچھ سوال جواب کیے۔ ماریہ نے بتایا کہ اس رات جب وہ سو رہی تھی تو اسے ہلکی سی آواز آئی تھی جیسے کوئی اس کے کمرے کے اوپر فرنیچر کھسکا رہا ہو۔ اس کے علاوہ اس نے کوئی آواز نہیں سنی اس لیے وہ دوبارہ سو گئی۔ وقاص نے اسے کہا کہ یاسمین کو بتائے کہ وہ اس سے ابھی ملنا چاہتا ہے۔ یاسمین آئی تو اس سے بھی کچھ سوال جواب ہوئے۔ وقاص: آپ اور آپ کے شوہر کے علاوہ گھر کی چابی کس کے پاس ہوتی ہے؟ یاسمین: ایک چابی ماریہ کے پاس اور ایک ڈاکٹر تجمل کے پاس کسی ایمرجنسی کی صورت میں استعمال کے لیے وقاص: ڈاکٹر تجمل اور ان کی بیوی آفرین کیسے لوگ ہیں؟ یاسمین: ڈاکٹر تجمل میرے شوہر کے اچھے دوست ہیں اور فطرتاً بھی اچھے آدمی ہیں۔ وقاص: اور آفرین؟ یاسمین جواب میں خاموش رہی تو وقاص بولا؛ ان کے بارے میں کوئی رائے نہیں دینا چاہیں گی آپ؟ یاسمین: مجھے وہ عورت پسند نہیں ہے۔ وقاص نے مسکراتے ہوئے اگلا سوال پوچھا؛ ثمرین اور رمیض کے تعلق کا پتہ تھا آپ لوگوں کو؟ یاسمین: جی پتہ تھا اور انور نے ثمرین کو سختی سے منع کیا تھا کہ اس لڑکے سے کوئی تعلق نہ رکھے کیونکہ اس کا رہن سہن اور صحبت ٹھیک نہیں تھی۔ وقاص: یعنی آپ لوگوں کو معلوم تھا کہ وہ اوباش ہے اور اس کے دوست بھی ایسے ہی ہیں اس لیے آپ لوگوں کو ثمرین سے اس کا تعلق قبول نہیں تھا؟ یاسمین: جی بالکل وقاص نے اجازت لی اور اس کی اگلی منزل رمیض کے اوباش دوستوں کا مسکن تھا۔ اس کے ساتھ ایف آئی اے اہلکاروں کی ٹیم بھی تھی جن کی مدد سے اس نے رمیض کے چار دوستوں کو اٹھایا اور ہیڈ کوارٹر لے گیا۔ اس نے ان لڑکوں کو ڈرا دھمکا کے رمیض کا موجودہ ٹھکانہ معلوم کرنے کی کوشش کی لیکن ان میں سے کسی کو معلوم نہیں تھا کہ رمیض کہاں روپوش ہے۔ وقاص نے انہیں چھوڑ دیا اور اپنے ایک ماتحت کے ذمہ لگایا کہ وہ سجاد کے رشتہ دار پرویز پر نظر رکھے۔ ہو سکتا ہے اس کی مدد سے وہ سجاد تک پہنچ سکیں کیونکہ جب تک سجاد یا رمیض کا سراغ نہیں ملتا یہ کیس ایسے ہی الجھا رہے گا۔ وقاص کے ماتحت اکرام نے صاحب کے حکم کے مطابق پرویز پہ نظر رکھی ہوئی تھی۔ وہ اس کے گھر سے اتنے فاصلے پہ موجود تھا جہاں سے پرویز کی آمدورفت کا آسانی سے مشاہدہ کیا جاسکتا تھا۔ صبح صادق کا وقت تھا جب ہر طرف اندھیرا اور سناٹا چھایا ہوا تھا۔ پرویز ہاتھ میں سٹیل کا ایک ٹفن پکڑے گھر سے نکلا اور کہیں روانہ ہوا۔ اکرام نے وقاص کو کال کر کے آگاہ کیا تو وقاص نے اسے پرویز کا پیچھا کرنے کا بولا اور خود بھی گھر سے نکل پڑا۔ اکرام اسے ایک ایک پل کی خبر دے رہا تھا اس لیے اس کی منزل بھی وہی تھی جو پرویز کی تھی اور وہ تھی اندرون لاہور۔ تینوں تقریباً ایک ہی وقت پہ ایک تنگ گلی کے باہر پہنچے۔ پرویز اس گلی میں موجود ایک حویلی میں گھسا تو وقاص بھی اس کے پیچھے ہو لیا۔ ساتھ ہی اس نے اکرام کو تاکید کی کہ وہ گلی کے باہر رکے اور پرویز کو روکنے یا پکڑنے کی کوشش نہ کرے کیونکہ اسے یہ پتہ چلانا ہے کہ وہ یہاں کس سے ملنے آیا ہے۔ پرویز ایک کمرے کے باہر جا کے رکا جس کے باہر ایک بنچ پڑا تھا۔ بنج پہ سٹیل کا ایک ٹفن پہلے سے موجود تھا۔ پرویز جو ٹفن لے کے آیا تھا اس نے وہ وہاں رکھا اور جو پڑا ہوا تھا وہ اٹھا کے واپس چل پڑا۔ وقاص کچھ فاصلے پہ کھڑا صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا تھا اور اس انتظار میں تھا کہ کوئی ٹفن اٹھانے کے لیے آئے۔ اسی اثناء میں کسی نے پیچھے سے چاقو کی مدد سے اس پہ وار کیا۔ وقاص کی چھٹی حس نے اسے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا اس لیے اس نے ایک طرف ہو کے وار خالی جانے دیا۔ نو وارد نے فوراً اگلا وار کرنے کی کوشش کی لیکن بے سود، وقاص نے بائیں ہاتھ سے اس کا چاقو والا ہاتھ پکڑ کے موڑ دیا۔ اس نے تب تک دباؤ برقرار رکھا جب تک چاقو حملہ آور کے ہاتھ سے گر نہیں گیا۔ جیسے ہی چاقو زمین پر گرا وقاص نے اپنے دائیں ہاتھ سے حملہ آور کا نقاب اتارنے کی کوشش کی تاکہ وہ اس کی شکل دیکھ سکے۔ ابھی دونوں کی زور آزمائی چل رہی تھی کہ پیچھے سے ایک اور نقاب پوش نمودار ہوا اور اس نے چاقو کی مدد سے وقاص کی کمر پہ وار کیا۔ چاقو کے وار سے وقاص کی گرفت پہلے حملہ آور پہ کمزور ہوئی اور وہ دونوں وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے۔ وقاص نے کوشش کی کہ وہ ان کا پیچھا کرے لیکن وہ دونوں گلیوں میں کہیں کھو گئے۔ وقاص ہسپتال میں مرہم پٹی کروا رہا تھا اور اکرام اس کے ساتھ موجود تھا۔ دونوں کڑیاں ملا کے صورتحال سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن سمجھنے سے قاصر تھے۔ وقاص کو شک تھا کہ جن دو لوگوں نے اس پہ حملہ کیا تھا ان میں ایک رمیض اور دوسرا سجاد ہو سکتا ہے یعنی وہ دونوں ملے ہوئے ہیں اور انہوں نے ہی ثمرین کا قتل کیا ہو گا۔ ممکن ہے کہ ثمرین اپنے گھر والوں کے دباؤ میں آ کے رمیض سے تعلق توڑنا چاہتی ہو اور رمیض نے طیش میں آ کے اسے قتل کر دیا ہو۔ وقاص اور اکرام ابھی اسی ادھیڑ بن میں تھے کہ انہیں اطلاع ملی کہ اندرون لاہور کے قریب پرویز کی لاش ملی ہے۔ یہ خبر ان کے لیے کسی جھٹکے سے کم نہیں تھی کیونکہ پرویز ہی وہ واحد کڑی تھی جو ان کڑیوں کو آپس میں جوڑ سکتی تھی۔ اس کی موت کی وجہ ایکسیڈنٹ بتائی گئی تھی اور اس کی لاش کے پاس وہ ٹفن بھی موجود نہیں تھا جو واپسی پہ اس کے ہاتھ میں تھا۔ وقاص کا دماغ بری طرح الجھ گیا تھا اور اس کی الجھن اس کے چہرے سے بھی واضح ہو رہی تھی۔ اکرام نے اسے گھر جا کے آرام کرنے کا مشورہ دیا اور اگلے روز سجاد کو ڈھونڈنے کے ایک اور ذریعے کا بتایا۔ وقاص اس کی بات مان کے گھر کی طرف چل پڑا۔ گھر پہ صائمہ حسب معمول اس کا انتظار کر رہی تھی۔ وقاص ٹی وی لاؤنج میں بیٹھ گیا اور صائمہ نے اسے پانی لا کے دیا۔ صائمہ بھی اس کے سامنے بیٹھ گئی۔ وقاص ابھی تک کیس میں ہی الجھا ہوا تھا اس لیے اس نے صائمہ سے کوئی بات نہ کی۔ صائمہ افسردہ لہجے میں بولی؛ آپ مجھ سے ناراض ہیں؟ پرویز اس کے اچانک سوال پہ حیران ہوا اور بولا؛ نہیں، ایسا کیوں لگا تمہیں؟ صائمہ بولی؛ کتنے دنوں سے آپ نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی۔ بات کرنا تو دور آپ تو مجھے دیکھتے بھی نہیں۔ صبح جاتے ہیں اور رات کو آ کے سو جاتے ہیں۔ اگر آپ مجھ سے اکتا گئے ہیں تو بتا دیں میں امی کے گھر چلی جاتی ہوں۔ آپ نے مجھے اتنی ہمت دے دی ہے کہ میں اب اپنی لڑائی اکیلے لڑ سکتی ہوں۔ وقاص پوری توجہ سے اس کی بات سن رہا تھا اور جب اس نے اپنی بات مکمل کر لی تو بولا؛ سب سے پہلے تو تم ادھر میرے پاس آکے بیٹھو۔ صائمہ اٹھ کے اس کے ساتھ آ کے بیٹھ گئی۔ وقاص نے اپنا بازو پھیلا کے اسے اپنے ساتھ چپکا لیا اور اس کا ماتھا چوم لیا۔ پھر اس نے اپنی بات جاری رکھی؛ پہلی بات تو یہ ہے کہ میں تم سے ناراض نہیں ہوں اور نہ ہی اکتایا ہوں۔ مجھے تم خود سے بھی زیادہ عزیز ہو اور میں کبھی بھی تمہیں خود سے دور نہیں کروں گا۔ دوسری بات یہ کہ میں شرمندہ ہوں کہ میرے رویے نے تمہیں یہ سب سوچنے پہ مجبور کر دیا۔ دراصل میں ایک کیس میں الجھا ہوا ہوں جس کی وجہ سے دوسرے معاملات کی طرف دھیان نہیں دے سکا۔ مجھے احساس ہے کہ تم جلد از جلد راشد سے خلع لینا چاہتی ہو۔ میں ذرا اس کیس کو حل کر لوں اس کے بعد ہم پہلا کام یہ ہی کریں گے اور پھر شادی اور سہاگ رات اور پھر بچے۔ صائمہ اس کی بات سے کافی مطمئن اور پر سکون ہو گئی جبکہ سہاگ رات والی بات پہ شرما کے مسکرا گئی۔ وقاص بولا؛ اب خوش ہو؟ صائمہ نے جواب میں ہممم کیا تو وقاص بولا مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ خوش ہو؟ صائمہ اس کی بات سمجھ گئی اور اس کے گال پہ بوسہ دے دیا۔ وقاص نے اس کی آنکھوں میں جھانکا تو اس نے شرم سے آنکھیں جھکا لیں۔ وقاص نے دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ تھام کے اوپر اٹھایا اور اس کے ہونٹوں پہ ہونٹ رکھ دیے۔ صائمہ نے ہونٹوں کی دستک پہ اپنے ہونٹ وا کیے اور وقاص کی زبان کو راستہ دیا۔ کچھ دیر کے لیے دونوں نے ایک دوسرے کے ہونٹ کشید کیے تو صائمہ نے کچھ بولنے کی کوشش کی۔ وقاص نے کچھ لمحوں کے لیے اس کے ہونٹوں کو آزاد چھوڑا تو اس نے کہا؛ کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے، آپ جلدی سے فریش ہو کے آ جائیں۔ وقاص بولا؛ کھانے میں آج میں اپنی پسندیدہ ڈش ہی کھانا پسند کروں گا۔ صائمہ اس کی بات سن کے ایک مرتبہ پھر شرما گئی اور اس کی بانہوں سے نکلنے کی تگ ودو میں لگ گئی۔ وقاص نے اسے مضبوطی سے اپنی بانہوں کے حصار میں جکڑ لیا اور دوبارہ اس کے ہونٹوں کو چوسنا شروع کر دیا۔ صائمہ نے مزاحمت ترک کر دی اور خود کو اس کے سپرد کر دیا۔ وقاص نے ہونٹوں سے گالوں کا سفر طے کیا اور گردن پہ اپنے پیار کی مہریں سبت کرنا شروع کر دیں۔ گردن کو چومتے چومتے اس نے صائمہ کے کان کی لو کو ہلکا سا کاٹ لیا۔ اس کی اس حرکت سے صائمہ مچل کے رہ گئی۔ پھر وہ گردن سے ہوتا ہوا کندھے پہ آ کے رکا اور وہاں سے حتی الامکان قمیض ہٹا کے چومنے اور کاٹنے لگا۔ صائمہ مدہوش ہو کے آنکھیں بند کیے وقاص کی گستاخیوں کا بھرپور مزہ لے رہی تھی۔ وقاص نے اسے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کے اٹھایا اور بیڈ روم میں لے گیا۔ وہاں جا کے اس نے اس کی قمیض اتار دی اور بریزر بھی اتار کے اس کا بالائی جسم مکمل ننگا کردیا۔ صائمہ نے شرم سے دونوں ہاتھ اپنی آنکھوں پہ رکھ لیے۔ وقاص نے اسے پکڑ کے بیڈ پہ لٹا دیا اور اس کے مموں پہ ٹوٹ پڑا۔ جیسے ہی وقاص کے ہونٹ اس کے مموں پہ لگے اس نے مزے سے ایک سسکی لی اور اپنا ہاتھ وقاص کے سر پہ رکھ دیا۔ وقاص پوری مستعدی سے اس کے ممے چوسنے میں مصروف تھا اور وہ آنکھیں بند کیے اپنا ہاتھ اس کے بالوں میں پھیر رہی تھی۔ مموں کو اچھی طرح نچوڑنے کے بعد اس نے اپنا سفر نیچے کی جانب جاری رکھا اور چومتے چومتے شلوار تک پہنچ گیا۔ پھر اس نے شلوار کو بھی صائمہ کے جسم سے الگ کیا اور اس کی ٹانگیں کھول کے اس کی چوت پہ ہونٹ رکھ دیے۔ صائمہ اس کی اس حرکت پہ تڑپ کے رہ گئی لیکن اس نے کسی بھی لمحے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی کیونکہ جو ہو رہا تھا اس کے لیے وہ برسوں سے ترسی ہوئی تھی۔ وہ ہمیشہ یہ چاہتی تھی کہ اس کا شوہر اس طرح اسے پیار کرے لیکن راشد نے ہمیشہ اسے اپنی درندگی کا ہی نشانہ بنایا۔ وقاص نے جب چوت کا رس بھی اچھی طرح کشید کر لیا تو اس نے اٹھ کے اپنے کپڑے بھی اتارے اور دوبارہ صائمہ کے اوپر آ گیا۔ اس نے صائمہ کی ٹانگیں کھولیں اور اپنا لن اس کی چوت پہ سیٹ کر کے آرام سے اندر اتار دیا اور دھیرے دھیرے جھٹکے لگانے لگا۔ اس کے ہر جھٹکے پہ صائمہ مچل کے اوپر کو اٹھتی۔ آہستہ آہستہ اس کے جھٹکوں میں تیزی آتی گئی اور اس کے ساتھ ہی صائمہ کی آہیں اور سسکیاں بھی بلند ہوتی گئیں۔ دونوں اکٹھے ہی اپنی منزل پہ پہنچے اور جیسے ہی صائمہ کی چوت سے پانی کا ریلا نکلا وقاص کے لن نے اسے اپنے پانی سے مزید سیراب کردیا۔ فارغ ہونے کے بعد کچھ دیر وقاص صائمہ کے اوپر ہی پڑا اسے چومتا رہا پھر اس کے ساتھ لیٹ گیا۔ لیٹتے ہی اسے کمر پہ موجود زخم نے یاد دلایا کہ وہ سیدھا نہیں لیٹ سکتا تو اس نے فوراً صائمہ کے مخالف سمت میں کروٹ لے لی۔ صائمہ کی نظر اس کی پٹی پہ پڑی تو اس نے پریشانی کے عالم میں وقاص سے اس بارے میں پوچھا۔ وقاص نے اپنی کروٹ بدلی اور اس کی طرف منہ کر کے اسے بتایا؛ معمولی زخم ہے جلد ہی ٹھیک ہو جائے گا۔ صائمہ اس کے جواب سے مطمئن نہ ہوئی لیکن پھر بھی اس نے مزید کریدنے سے اجتناب کیا اور نہانے چلی گئی۔ جاری ہے
  8. اپڈیٹ نمبر 15 وقاص نے مصنوعی حیرت سے ڈاکٹر تجمل سے پوچھا؛ کیوں ڈاکٹر صاحب آپ نے میڈم کو ان کی ویڈیو دکھائی نہیں ابھی؟ تجمل نے غصے سے جواب دیا؛ ایسی کوئی ویڈیو ہے ہی نہیں، آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔ وقاص نے اپنا موبائل نکالا اور ایک ویڈیو چلا کے دونوں کے سامنے کر دیا۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ آفرین کا بالائی جسم بے لباس ہے اور وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ کے انور کا لن چوسنے میں مصروف ہے۔ انور بیڈ کے کنارے بیٹھا ہوا تھا اور اس کی پینٹ پنڈلیوں تک اتری ہوئی تھی۔ تجمل کا بس نہیں چل رہا تھا کہ موبائل وقاص کے ہاتھ سے چھین کے دیوار پہ دے مارے جبکہ آفرین نے ندامت سے نظریں نیچے کر لیں۔ ادھر ویڈیو میں منظر بدلا اور آفرین بیڈ کے کنارے جھک گئی اور انور اس کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ اس نے جلدی سے اس کا پائجامہ اتارا اور لن اس کی پھدی میں اتار دیا۔ آفرین نے مزے سے سسکی لی اور سر گھما انور کی طرف دیکھا، اس کے چہرے پہ مسکراہٹ اور آنکھوں میں خمار تھا۔ تجمل کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ اس نے منت بھرے لہجے میں کہا؛ وقاص صاحب پلیز اسے بند کر دیں، یہ ہمارا ذاتی معاملہ ہے اس سے آپ کا کیا لینا دینا؟ وقاص نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور موبائل بدستور اس کے سامنے کیے رکھے۔ دوسری طرف آفرین کے گال اپنی ہی مزے سے لبریز چیخیں سن کے شرم اور ندامت سے لال ہو چکے تھے۔ انور پورے جوش و خروش سے آفرین کو چودنے میں مصروف تھا تبھی بیڈ پہ پڑا اس کا موبائل گونجا۔ اس نے لن بدستور آفرین کی پھدی میں رکھا لیکن ہلنا بند کر دیا اور موبائل اٹھا کے کال اٹینڈ کی۔ کال پہ دوسری طرف جو بھی تھا اس نے کوئی نا خوشگوار اطلاع دی تھی جسے سن کر انور غصے سے چلانا شروع ہو گیا۔ اس نے اپنا لن باہر نکالا اور صاف کیے بغیر ہی پینٹ اوپر چڑھا لی۔ آفرین نے حیرت اور پریشانی سے اس سے پوچھا کہ کیا ہوا؟ کس کی کال تھی؟ اس نے جواب میں بس اتنا ہی کہا کہ میں ابھی جا رہا ہوں، کچھ دیر بعد واپس آؤں گا۔ اتنا کہہ کہ وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔ وقاص نے ویڈیو بند کی اور اٹھ کے کھڑکی کے پاس جا کے کھڑا ہو گیا۔ پہلے اس نے کھڑکی کا پردہ سرکا کے باہر جھانکا اور پھر واپس آ کے صوفے پہ بیٹھ گیا اور یوں گویا ہوا؛ ہاں تو تجمل صاحب کیا کہہ رہے تھے آپ کہ یہ آپ کا ذاتی معاملہ ہے؟ تجمل نے جواب دیا؛ جی بالکل یہ ہمارا ذاتی معاملہ ہے اور آپ کو ہمیں اس طرح ذلیل کرنے کا کوئی حق نہیں۔ وقاص بولا؛ مجھے دلی دکھ ہے کہ میری وجہ سے آپ کے جذبات مجروح ہوئے لیکن یہ جسے آپ اپنا ذاتی معاملہ بتا رہے ہیں یہ اب ذاتی نہیں رہا۔ کیونکہ جس رات آپ کی بیوی ویڈیو میں موجود اس شخص کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہی تھی اسی رات اس شخص کی جوان بیٹی کا قتل ہوا۔ چونکہ آپ کو اپنی بیوی اور ڈاکٹر انور کے درمیان ناجائز تعلق کا پتہ تھا اس لیے آپ بھی شک کے دائرے میں آتے ہیں۔ کیوں مسز آفرین میں ٹھیک کہہ رہا ہوں ناں؟ آفرین جو اب تک صدمے سی کی کیفیت میں بیٹھی تھی، اپنا نام سن کر چونکہ اور سوالیہ نظروں سے وقاص کی طرف دیکھنے لگی۔ وقاص بولا؛ کیا کہتی ہیں آپ؟ ٹھیک کہہ رہا ہوں ناں میں؟ آفرین نے شاید اس کا سوال سنا ہی نہیں تھا اس لیے جواب دینے کی بجائے الٹا اس نے وقاص سے سوال پوچھ لیا؛ آپ کے پاس یہ ویڈیو کہاں سے آئی؟ کیا اس کمرے میں کوئی کیمرہ موجود تھا؟ وقاص نے بتایا؛ جب میں سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھ رہا تھا تو میں نے دیکھا آپ کے شوہر وزیٹنگ لاؤنج سے اٹھ کے کہیں گئے ہیں۔ مزید سی سی ٹی وی سے معلوم ہوا کہ انہوں نے ہوٹل کے ایک ملازم سے ملاقات کی جسے انہوں نے یہ ویڈیو بنانے کا ٹاسک سونپا تھا۔ اسی ملازم سے یہ ویڈیو میں نے حاصل کر لی۔ تجمل نے وقاص کو مخاطب کر کے کہا؛ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں کہ اس بچی ثمرین کو میں نے اس کے گھٹیا باپ سے بدلہ لینے کے لیے قتل کر دیا؟ وقاص بولا؛ ہو سکتا ہے لیکن میرے خیال میں آپ نے خود قتل کرنے کی بجائے اس کے باپ کو اکسانا بہتر سمجھا۔ تجمل جھٹ سے بولا؛ اور ایسا اندازہ قائم کرنے کی وجہ؟ وقاص بولا؛ آپ کی اس کھڑکی کے سامنے ثمرین کے کمرے کی کھڑکی ہے۔ اس رات جب آپ اپنی بیوی اور دوست کی بے وفائی پہ تلملا رہے ہونگے اسی وقت آپ کی نظر ثمرین کے کمرے پہ پڑے ہو گی جہاں وہ اپنے دوست رمیض کے ساتھ موجود تھی۔ بس پھر کیا تھا، آپ کو بدلہ لینے کا موقع ملا اور آپ نے کال کر کے ڈاکٹر انور کو اطلاع دے دی۔ اسی وقت ڈاکٹر انور کو آپ کی حسین بیوی کو بیچ منجھدار اکیلے چھوڑ کے گھر کی طرف بھاگنا پڑا۔ اور ہاں اس سے پہلے کہ آپ اس بات کو جھٹلائیں آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ڈاکٹر انور کے کال ریکارڈز میرے ہاتھ میں ہیں۔ جاری ہے
  9. اپڈیٹ نمبر 14 رات کے دو بجے کا وقت ہو گا جب ڈاکٹر انور کی گلی کے باہر موجود سکیورٹی گارڈ کو کسی نے پانی سے بھری بالٹی سے نہلا کر نیند سے بیدار کیا۔ گارڈ نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھولیں تو اس کے سامنے وقاص اور اس کا ساتھی موجود تھے۔ اس نے سوالیہ نظروں سے دونوں کو دیکھا تو وقاص نے پوچھا؛ کیوں شہزادے نیند پوری ہو گئی؟ گارڈ نے شرمندگی سے جواب دیا؛ سوری سر آنکھ لگ گئی تھی۔ اس کے بعد چند منٹ کے سوال جواب ہوئے جس سے یہ پتہ چلا کہ گارڈ صاحب روز ایک بجے کے بعد نیند پوری کرتے ہیں کیونکہ وہ دن کے وقت ایک اور نوکری بھی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی پتہ چلا کہ جب وہ ٹوائلٹ جاتا ہے تو سگریٹ بھی پیتا ہے جس کی وجہ سے اسے معمول سے زیادہ وقت لگ جاتا ہے اس لیے ثمرین کے قتل کی رات اگر ڈاکٹر انور اور رمیض کے علاوہ بھی کوئی آیا ہو تو ممکن ہے اسے اس کی خبر نہ ہو۔ وقاص نے اسے یہ سب عدالت میں بیان کرنے کی تاکید کی اور وہاں سے چلا گیا۔ اگلے روز وقاص ڈاکٹر تجمل سے ملنے اس کے گھر پہنچا۔ کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد ڈاکٹر تجمل آیا اور دیر سے آنے پہ معذرت کی۔ ابھی دونوں کا تعارف ہی چل رہا تھا کہ ڈاکٹر تجمل کی بیوی کہیں جانے کے لیے تیار ہو کہ باہر نکلی۔ ٹی وی لاؤنج سے گزرتے ہوئے جب اس نے دیکھا کہ اس کے شوہر کا کوئی مہمان آیا ہے تو ہیلو ہائے کرنے کے لیے آگے بڑھی۔ ڈاکٹر تجمل نے وقاص سے اپنی بیوی کا تعارف کروایا؛ وقاص صاحب یہ میری بیوی آفرین ہیں۔ وقاص نے آفرین سے ہاتھ ملایا اور بولا؛ مجھے لگتا ہے میں نے انہیں کہیں دیکھا ہے۔ تجمل نے بتایا؛ شادی سے پہلے یہ ایک ماڈل اور اداکارہ تھیں لیکن شادی کے بعد اس نے شوبز سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ آفرین کو خوشی ہوئی کہ لوگ ابھی اسے پہنچانتے ہیں۔ اس نے وقاص کو بیٹھنے کا کہا اور خود بھی اپنے شوہر کے ساتھ اس کے سامنے بیٹھ گئی۔ وقاص نے بات شروع کی؛ ڈاکٹر انور سے کیسا تعلق ہے آپ کا؟ اس کا مخاطب ڈاکٹر تجمل تھا۔ اس نے جواب دیا؛ وہ میرا بہت اچھا دوست ہے۔ وقاص نے آفرین کو مخاطب کر کے کہا؛ اور آپ کا میڈم؟ آفرین نے سپاٹ چہرے سے جواب دیا؛ میں بمشکل ہی ان کو جانتی ہوں، تجمل کی وجہ سے ہلکی پھلکی شناسائی ہے۔ وقاص نے ایک کاغذ آگے بڑھاتے ہوئے کہا؛ یہ ڈاکٹر انور کا کال ریکارڈ ہے جس کے مطابق پچھلے ایک ماہ میں آپ نے ان کو 40 مرتبہ کال کی۔ کیا یہ محض شناسائی ہے؟ آفرین کے چہرے پہ پریشانی دوڑ گئی لیکن اس نے خود کو نارمل ظاہر کرتے ہوئے جواب دیا؛ وہ ایک اچھا دوست ہے۔ وقاص نے تجمل سے پوچھا؛ کیا آپ کو اس دوستی کا علم ہے؟ تجمل نے نہ میں جواب دیا اور غصے سے اپنی بیوی کی طرف دیکھا۔ وقاص بولا؛ پھر تو آپ اپنی بیوی سے بھی بڑے جھوٹے ہیں۔ ڈاکٹر تجمل نے بپھر کر کہا؛ میرے خیال میں اب آپ کو چلنا چاہیے۔ وقاص نے اسی کے لہجے میں جواب دیا؛ اور میرا خیال ہے کہ آپ اپنی بکواس بند رکھیں، میں یہاں پکنک پہ نہیں آیا۔ ایک قتل کیس کی تحقیقات کیلئے آیا ہوں۔ اس کے بعد اس نے آفرین کو مخاطب کیا؛ آپ نے قتل کے دن آخری مرتبہ ڈاکٹر انور کو کال کی اور اس کے فوراً بعد آپ نے ہوٹل ون کو کال کی۔ جب میں ہوٹل ون پہنچا تو پتہ چلا کہ آپ نے ایک کمرہ بک کروایا ہوا تھا۔ اور جب میں نے مینیجر کو تصویریں دکھائیں تو پتہ چلا کہ اس کمرے میں آپ سے ملنے کے لیے ڈاکٹر انور آئے تھے۔ یہاں پہ آپ کے لیے بریکنگ نیوز یہ ہے کہ ڈاکٹر انور سے پہلے آپ کے شوہر وہاں پہنچ چکے تھے، یہ جاننے کے لیے کہ ان کی بیوی کس کے ساتھ منہ کالا کر رہی ہے؟ دوسری بریکنگ نیوز یہ ہے کہ آپ کے شوہر کے پاس آپ کے اور ڈاکٹر انور کے اشتعال انگیز سیکس کی ویڈیو بھی موجود ہے۔ آفرین نے خوف اور حیرت کے ملے جلے تاثرات سے اپنے شوہر کی طرف دیکھا جو غصے سے تقریباً پھٹنے والا ہو گیا تھا۔
  10. ہاں جی خیریت ہے۔ کل اپڈیٹ کرتا ہوں
  11. اپڈیٹ نمبر 13 وقاص کی آنکھ فون کی گھنٹی سے کھلی۔ اس نے کال اٹینڈ کی تو اسے فوراً دفتر پہنچنے کی ہدایت ملی۔ اس نے کہا ابھی تو میری چھٹیاں باقی ہیں۔ اسے بتایا گیا کہ کسی نئے کیس کی وجہ سے اس کی چھٹی منسوخ کر دی گئی ہے۔ وقاص بے دلی سے اٹھا اور نہا کے دفتر جانے کے لیے تیار ہو گیا۔ صائمہ نے ناشتہ تیار کیا ہوا تھا اس لیے اسے ناشتہ کر کے جانا پڑا۔ صائمہ نے گھر اچھے سے سنبھال لیا تھا۔ وقاص کو شادی شدہ زندگی کا احساس ہو رہا تھا۔ ناشتہ کر کے وہ دفتر پہنچا تو ثمرین کے قتل کیس کی فائل اس کے میز پر موجود تھی۔ اس نے فائل کو تسلی سے پڑھا اور اس کے بعد ڈاکٹر انور سے ملنے کے لیے نکل پڑا۔ ڈاکٹر انور چہرے پہ بے بسی اور غم کی پرچھائی لیے جیل میں موجود تھا۔ وقاص نے اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے اپنا تعارف کروایا۔ وقاص بولا؛ اب سے آپ کی بیٹی کے قتل کی تحقیقات میرے ذمہ ہے، میں امید کرتا ہوں کہ آپ ہر ممکن تعاون کریں گے۔ یہ بات تو میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ ثمرین کا قتل آپ نے نہیں کیا۔ ڈاکٹر انور نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور بولا؛ یہ بات تو ابھی تک کوئی ماننے کو تیار نہیں، یہاں تک کہ میری بیوی بھی مجھ پہ شک کرتی ہے کیونکہ تمام شواہد میرے خلاف ہیں۔ وقاص نے ہنستے ہوئے کہا؛ اگر سب ہماری طرح سوچنا شروع کر دیں تو عام لوگوں میں اور ایف آئی اے کے اہلکاروں میں کیا فرق رہے؟ مجھے پتہ چلا ہے کہ قتل کی رات آپ شراب کے نشے میں دھت تھے؟ ڈاکٹر انور نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ وقاص نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا؛ اگر آپ اس وقت اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھے تو آپ سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ اتنا صاف اور سیدھا کٹ لگا سکیں؟ ڈاکٹر انور نے نا سمجھی سے کہا؛ میں سمجھا نہیں، آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں؟ وقاص بولا؛ ثمرین کے گلے پہ جو کٹ لگایا گیا وہ اتنا سیدھا اور گہرا تھا کہ نشے میں دھت شخص سے اس کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ڈاکٹر انور کو وقاص کی بات سن کے امید کی کرن نظر آئی، اس قید بے وجہ سے آزادی کی امید۔ اس نے فوراً کہا؛ جی بالکل ایسا ہی ہے، آپ سے پہلے یہ نکتہ کسی نے نہیں اٹھایا یہاں تک کہ میرے ذہن میں بھی نہیں آیا۔ وقاص نے سنجیدہ لہجے میں کہا؛ چلیں پھر بتائیں اس رات درحقیقت ہوا کیا تھا؟ انور نے التجا کرتے ہوئے جواب دیا؛ آپ میرا یقین کریں، مجھے کچھ یاد نہیں کہ اس رات کیا ہوا تھا۔ میں جب زیادہ پی لیتا ہوں تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقاص نے اس کی بات کاٹی اور اس کی آنکھوں میں جھانک کر کہا؛ پتہ کرنے کہ اور بھی طریقے ہیں ہمارے پاس، بہتر یہ ہی ہے کہ آپ خود بتا دیں۔ انور نے روتے گڑگڑاتے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے اور بولا؛ میں نے اپنی بیٹی کو نہیں مارا، میں کیسے اس کو مار سکتا ہوں؟ وقاص نے اس کے کاندھے پہ ہاتھ رکھا اور بولا؛ تم ایسے نہیں بتاؤ گے، تمہارے کپڑے اتارنے پڑیں گے۔ اتنا کہہ کہ وہ انور کو روتا ہوا چھوڑ کر وہاں سے چلا گیا۔ وقاص کی اگلی منزل فرانزک لیب تھی۔ وہاں پہنچ کہ اس نے گاڑی میں بیٹھے ہی کسی کو کال ملائی اور بولا؛ میں گیٹ پہ ہوں فوراً باہر آ جاؤ۔ ہمیں ابھی ڈاکٹر انور کے گھر کا دوبارہ معائنہ کرنے جانا ہو گا۔ چند لمحوں بعد ایک لڑکا کیمرہ اور ایک بیگ ہاتھ میں لیے اس کی گاڑی میں آ کے بیٹھ گیا۔ یہ وہ ہی لڑکا تھا جو اس رات راشد علی کے ساتھ کیمرہ تھامے جائے واردات پہ موجود تھا۔ ڈاکٹر انور کے گھر پہنچ کہ انہوں نے ایک مرتبہ پھر ہر چیز کا باریک بینی سے جائزہ لینا شروع کیا۔ ثمرین کے کمرے میں وقاص کو ایک پلاسٹک کا بیگ ملا جو کسی ٹائپ رائٹر کا بیگ لگ رہا تھا۔ جب اس نے غور سے دیکھا تو بیگ نیچے سے ٹوٹا ہوا تھا اور اس پہ دراڑ واضح تھی۔ وقاص بولا؛ یا تو یہ بیگ گرا ہو گا یا کسی نے زور سے کسی کو مارا ہو گا۔ اس کے بعد اس نے کپڑوں والی الماری کی تلاشی لینا شروع کر دی۔ الماری سے اسے ایک دوپٹہ ملا جو ہاتھ سے پھاڑا گیا تھا۔ اس کے بعد اس نے کمرے کے فرش کو پیشہ ورانہ نظر سے دیکھنا شروع کیا جس پہ خون کے دھبے تھے جو باتھ روم کی طرف جا رہے تھے۔ وقاص نے لڑکے سے کٹ منگوائی اور ایک خاص روشنی سے بیسن کا معائنہ کیا۔ بیسن پہ بھی خون کے دھبے ملے جس سے یہ پتہ چلا کہ بیسن میں کسی نے کسی خون آلود شے کو دھویا ہے۔ فرانزک والے لڑکے نے پوچھا؛ سر اگر آپ کہتے ہیں تو فرانزک کے لیے سیمپل لے لیتے ہیں؟ وقاص نے جواب دیا؛ مقدار بہت کم ہے اس لیے سیمپل لینے کا کوئی فائدہ نہیں۔ کمرے میں ثمرین کی ایک بڑی سی تصویر لگی تھی جس پہ وقاص کی نکلتے وقت نظر پڑی۔ ثمرین کے کمرے سے نکل کے وہ لوگ ڈاکٹر انور کے کمرے میں داخل ہو گئے۔ دونوں کمرے فرسٹ فلور پہ واقع تھے۔ نچلی منزل پہ ایک ہی کمرہ تھا جس میں ماریہ رہتی تھی۔ انور کے کمرے میں داخل ہو کے سب سے پہلے ان کی نظر اس کے بیڈ پہ پڑی جس پہ خون کے دھبے موجود تھے۔ لڑکے نے بتایا یہ رمیض کا خون ہے تو وقاص نے پوچھا؛ تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ یہ رمیض کا خون ہے؟ اس نے کہا؛ سر عدالت میں وکیل استغاثہ نے یہ ہی بتایا تھا۔ وقاص بولا؛ رپورٹ میں تو لکھا تھا کسی نوجوان کا خون ہے، رمیض کے خون کا سیمپل ہے ان کے پاس؟ اس نے جواب دیا؛ نہیں سر، وہ تو نہیں ہے۔وقاص نے پوچھا؛ تمہیں کیا لگتا ہے، ثمرین کا قتل کرنے اور رمیض کو زخمی کرنے کے بعد ڈاکٹر انور وہی خون آلود شرٹ پہن کے اس بستر پہ سوئے گا؟ اس نے جواب دیا؛ بظاہر ایسا ممکن نہیں ہے۔ وقاص بولا؛ لیکن وہ تو نشے میں تھا، کچھ بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ کمرے میں وقاص کو ایک سرجیکل آلات والا بیگ ملا جو کھلا ہوا تھا۔ بیگ میں موجود تمام آلات ترتیب سے رکھے گئے تھے سوائے ایک سرجیکل چاقو کے، جو علیحدہ پڑا تھا۔ وقاص نے وہ چاقو اٹھایا اور اسے لے کے واپس فرانزک لیب پہنچا۔ فرانزک ٹیسٹ سے پتہ چلا کہ چاقو پہ ڈاکٹر انور اور ثمرین، دونوں کی انگلیوں کے نشان تھے۔ جاری ہے
  12. اپڈیٹ 12 راشد علی نے جس تیزی سے اس کیس کا خلاصہ کیا اس سے وہ میڈیا کی نظر میں ہیرو تو بن گیا لیکن ابھی بھی بہت سے سوالات جواب طلب تھے اس لیے اس کے عدالت سے نکلتے ہی مقامی میڈیا کے نمائندوں نے اسے گھیر لیا۔ پہلا سوال یہی تھا کہ اس نے یہ کیس اتنی جلدی کیسے حل کر لیا؟ جس کے جواب میں اس نے روایتی انداز میں کہا؛ یہ تو پولیس کا روز کا کام ہے اور یہ تو ہمارا فرض ہے کہ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔ ایک اور صحافی نے سوال پوچھا؛ سر! سجاد کہاں غائب ہے اور کب تک پولیس کی گرفت میں ہو گا؟ راشد نے بتایا؛ ہم کوشش کر رہے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ وہ بہت جلد ہماری گرفت میں ہو گا۔ ہم نے اس کے گاؤں میں بھی نگرانی شروع کروا دی ہے۔ وہ زیادہ دیر تک قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکے گا۔ یاسمین انور سے ملنے جیل پہنچی تو انور اپنی بیٹی کو یاد کر کے رونے لگا۔ یاسمین دراصل اس سے جاننا چاہتی تھی کہ اس رات کیا ہوا تھا اس لیے اس نے بلا تاخیر یہ سوال انور سے پوچھ لیا۔ انور نے کہا؛ تمہیں تو پتہ ہے جب میں زیادہ پی لیتا ہوں تو اگلی صبح مجھے کچھ یاد نہیں رہتا، اس رات کو بھی کیا ہوا مجھے کچھ یاد نہیں۔ یاسمین شکی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی تو انور نے حیرت سے پوچھا؛ یاسمین! تم بھی؟ تم بھی مجھ پہ یقین نہیں کر رہی؟ مجھے یقین نہیں آ رہا کہ تم بھی مجھ پہ شک کر رہی ہو۔ یاسمین نے جیل کی سلاخوں سے ہاتھ گزار کر اس کے کندھے پہ رکھا اور اسے دلاسا دے کر چلی گئی۔ صائمہ اب ذہنی اور جسمانی طور پہ مکمل صحت یاب ہو چکی تھی اس لیے ڈاکٹر نے اسے گھر جانے کی اجازت دے دی تھی۔ وقاص معمول کے مطابق آج بھی وہیں موجود تھا۔ صائمہ اس کی موجودگی میں خود کو مزید تروتازہ محسوس کرتی تھی اور اسے تحفظ کا احساس بھی ہوتا تھا۔ وقاص سے ملنے سے پہلے وہ زندگی سے مایوس ہو چکی تھی کیونکہ وہ بے سہارا تھی۔ اس کے ماں باپ کمزور تھے اور اپنی بیٹی کی جنگ لڑنے سے قاصر تھے، انہوں نے ذہنی طور پہ یہ تسلیم کر لیا تھا کہ ان کی بیٹی یہ ہی مقدر لے کے اس دنیا میں آئی تھی۔ صائمہ کے لیے اب اس تکلیف دہ زندگی سے راہ فرار صرف موت تھی اور اگر وقاص سے اس کی ملاقات نہ ہوتی تو شاید اب وہ خود کشی کرنے میں دیر نہ لگاتی۔ دوسری طرف وقاص کو بھی اس سے بہت لگاؤ ہو گیا تھا۔ اسے یوں لگتا تھا کہ اس کی زندگی کا مقصد ہی صائمہ کے چہرے کی مسکان واپس لانا ہے۔ وہ جتنا وقت صائمہ کے ساتھ گزارتا تھا وہی وقت اس کے لیے قابل فرحت ہوتا تھا اور باقی کا سارا وقت وہ اسی انتظار میں گزار دیتا تھا کہ کب دوبارہ وہ صائمہ سے ملے۔ صائمہ نے وقاص سے کہا؛ میرے بارے میں تو تم نے سب جان لیا لیکن اپنے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ وقاص نے اسے بتایا؛ میرا تعلق جھنگ کے ایک زمیندار گھرانے سے ہے۔ گھر میں اماں ابا ہیں۔ ایک بہن ہے جو خیر سے اپنے گھر کی ہو گئی ہے۔ میں 18 سال کا تھا جب میرا داخلہ یہاں پنجاب یونیورسٹی میں ہو گیا۔ تب سے میں لاہور میں ہی ہوں، پہلے ہاسٹل میں رہتا تھا پھر ایک فلیٹ لے لیا، اب وہیں رہتا ہوں۔ یہ تو آپ کو میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ ایف آئی اے میں نوکری کرتا ہوں۔ صائمہ نے مصنوعی غصے سے کہا؛ پھر آپ؟ وقاص نے مسکراتے ہوئے جواب دیا؛ اوہ سوری، اب نہیں کہتا۔ وقاص کی فیملی کا ذکر سن کہ صائمہ کہیں کھو گئی۔ وقاص نے اس کے چہرے پہ سوچ کی پرچھائی دیکھی تو پوچھا؛ کن سوچوں میں گم ہو؟ سوچ رہی ہوں کہ تمہارے اماں ابا مجھے قبول کر لیں گے؟ وقاص نے کہا؛ ابا کو تو میں نے بتا دیا ہے، انہیں کوئی اعتراض نہیں البتہ اماں کو منانا تھوڑا مشکل ہو گا اور یہ کام میں نے ابا کو سونپ دیا ہے۔ صائمہ نے کہا؛ میں سوچ رہی ہوں اب امی کے گھر جاؤں یا نہیں؟ کیونکہ اس کمینے سے کوئی بعید نہیں کہ وہ وہاں آ کہ مجھے ہراساں کرے۔ وقاص نے کہا؛ بہتر یہ ہی ہے کہ ابھی تم وہاں نہ جاؤ۔ صائمہ نے کہا؛ لیکن میرے پاس اور کوئی ٹھکانہ بھی تو نہیں ہے۔ وقاص نے جھٹ سے جواب دیا؛ تم میرے ساتھ کیوں نہیں چلتی، اب وہ تمہارا اپنا گھر ہے۔ صائمہ نے کہا؛ ایسے کیسے میں تمہارے ساتھ رہ سکتی ہوں؟ زمانہ کیا کہے گا؟ اور تمہارے گھر والے؟ وقاص بولا؛ ہم نے کونسا ڈھنڈھورا پیٹنا ہے ویسے بھی جب خلع ہو جائے گی تو ہم فوراً شادی کر لیں گے تو کسی کو بات کرنے کا موقع ہی نہیں ملے گا۔ صائمہ بولی؛ لیکن ۔۔۔۔۔۔۔ وقاص نے اس کی بات کاٹ کہ کہا؛ لیکن ویکن کچھ نہیں، بس فیصلہ ہو گیا کہ تم میرے ساتھ میرے گھر چل رہی ہو۔ وقاص کا فلیٹ محض ایک کمرے پہ مشتمل تھا کیونکہ وہ اکیلا رہتا تھا۔ فلیٹ کی حالت بالکل ایسی ہی تھی جیسی کنوارے کے فلیٹ کی ہونی چاہیے۔ فلیٹ میں جا بجا کپڑے اور دوسری چیزیں بکھری پڑی تھیں۔ ٹی وی لاؤنج میں شکن زدہ صوفوں پہ بھی چیزیں بکھری پڑی تھیں۔ کچن میں ان دھلے برتنوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ صائمہ نے وقاص کو چھیڑتے ہوئے کہا؛ تم تو بہت سگھڑ ہو, گھر کو بہت اچھے سے ترتیب دیا ہوا ہے۔ وقاص نے برملا جواب دیا؛ کنوارے لڑکوں کے فلیٹ ایسے ہی ہوتے ہیں، اب تم آ گئی ہو تو سنبھال لو۔ صائمہ بولی؛ اچھا تو فلیٹ سنبھالنے کے لیے مجھے یہاں لے کے آئے ہو؟ وقاص بولا؛ نہیں، فلیٹ تو اک بہانہ ہے، سنبھالنا تو تم نے مجھے ہے۔ اتنا کہہ کہ وہ آگے بڑھا اور صائمہ کو اپنی بانہوں میں بھر لیا۔ صائمہ، جو برسوں سے پیار کو ترس رہی تھی، نے بلا تردد خود کو اس کے حوالے کر دیا۔ وقاص نے اس کے چہرے پہ بوسوں کی بارش کر دی۔ اس نے رکے بغیر اس کی آنکھیں، گال اور ہونٹ چومنے شروع کر دیے۔ پھر اس نے صائمہ کے ہونٹوں کا رس کشیدنے کے لیے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں سے جوڑ دیے۔ صائمہ نے بھی اپنے ہونٹ کھول کے اسے مثبت جواب دیا۔ دونوں نے دل کھول کر ایک دوسرے کے ہونٹ اور زبان چوسی۔ جب دونوں کی اچھی طرح تسلی ہو گئی تو ہونٹ الگ ہوئے۔ وقاص نے پیش قدمی کی اجازت کے لیے صائمہ کی آنکھوں میں دیکھا تو وہاں نشے اور خمار کا سیلاب موجزن تھا۔ وقاص اسے خود سے لپٹائے بیڈ روم میں لے گیا اور اس کی قمیض اتار دی۔ صائمہ نے بھی ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر اس کی شرٹ اس کے جسم سے الگ کردی۔ اس کے بعد وقاص نے اپنے ہونٹ اس کی گردن پہ رکھ دیے اور اسے چومنے اور کاٹنے لگا۔ صائمہ مزے کی شدت سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی۔ وقاص نے ہاتھ پیچھے لے جا کے اس کے برا کو کھول دیا۔ اس کے بعد اس نے صائمہ کو بیڈ پہ لٹایا اور اس کے ممے چوسنے شروع کر دیے۔ وہ اتنے پیار سے ممے چوس رہا تھا جیسے بچہ اپنی ماں کا دودھ پیتا ہے۔ صائمہ مزے کی انتہا کو چھو رہی تھی اور وقاص کے سر کو ہاتھ سے مموں پہ دبا رہی تھی۔ وقاص کے چوسنے میں شدت آ رہی تھی اور وہ اب آہستہ آہستہ کاٹنا شروع ہو گیا تھا۔ صائمہ نے مزے سے بے حال ہو کے اپنا ہاتھ وقاص کی پینٹ میں گھسایا اور اس کے لن کو مسلنا شروع کر دیا۔ وقاص نے بھی اپنا ایک ہاتھ صائمہ کی شلوار میں ڈالا اور اس کے چوتڑ سہلاتا ہوا اس کی پھدی تک پہنچ گیا۔ صائمہ کی پھدی اس کے لیس دار پانی سے بھیگی ہوئی تھی۔ وقاص نے ایک انگلی اس کی پھدی میں گھسائی تو صائمہ نے بے حال ہو کے اپنے دانت اس کے گال پہ گاڑ دیے۔ دونوں دنیا سے بے خبر ایک دوسرے کو کھانے میں مصروف تھے کہ اچانک صائمہ نے جھٹکا لیا اور پانی کا ایک ریلا اس کی چوت سے بہہ گیا۔ وقاص نے اپنا ہاتھ باہر کھینچ لیا اور مموں سے منہ ہٹا کے اس کے گال چومنے لگا۔ صائمہ کی بے ترتیب سانسیں آہستہ آہستہ بحال ہونا شروع ہو گئیں۔ جب وہ پر سکون ہو گئی تو وقاص نے اٹھ کے اپنی پینٹ اور اس کی شلوار اتار دی۔ پھر اس نے بیڈ کی چادر سے ہی اس کی پھدی کو صاف کیا اور اس کے اوپر لیٹ گیا۔ جیسے ہی اس نے اپنا لن صائمہ کی پھدی پہ سیٹ کیا اس نے اسے روک دیا۔ وقاص نے سوالیہ انداز میں اس کی طرف دیکھا تو اس نے شوخ انداز میں اسے لیٹنے کا کہا اور خود اس کے اوپر آ گئی۔ وہ اس کے چہرے سے شروع ہوئی اور چومتی چاٹتی اس کے لن تک آن پہنچی۔ لن کو منہ میں ڈالنے سے پہلے اس نے چادر سے صاف کیا اور پھر لولی پاپ کی طرح چوسنے لگی۔ وقاص نے مزے سے آنکھیں موند لیں۔ صائمہ بڑی مہارت سے لن کو چوس رہی تھی۔ وقاص اس کے منہ کی گرمی اور ہاتھ کی حرکت زیادہ دیر تک برداشت نہ کر سکا اور اس کے منہ میں ہی چھوٹ گیا۔ جیسے ہی منی کی پہلی دھار صائمہ کے منہ میں گئی اس نے منہ پیچھے کھینچ لیا اور بیڈ کے کنارے تھوکنے لگی۔ وقاص نے باقی منی چادر پہ نکالی اور پھر اسی چادر سے لن کو صاف کر لیا۔ صائمہ مسلسل الٹی کرنے کے انداز میں تھوک رہی تھی۔ پھر وہ اٹھ کے باتھ روم کی طرف بھاگ گئی اور اچھی طرح کلی اور غرارے کر کے واپس آ گئی۔ اس کے واپس آنے تک وقاص نے چادر لپیٹ کے نیچے پھینک دی تھی اور خود پینٹ پہن کے لیٹا ہوا تھا۔ صائمہ نے آتے ہی اس پہ تھپڑوں اور مکوں کی بارش کر دی اور بولنے لگی؛ بتا نہیں سکتے تھے شوخے؟ سارا مجھے گندا کر دیا۔ وقاص کھلکھلا کے ہنستا ہوا خود کو اس کے نرم و نازک حملوں سے بچا رہا تھا اور ساتھ کہہ رہا تھا؛ معاف کر دو، غلطی ہو گئی۔ مزہ ہی اتنا آ رہا تھا کہ میں خود کو یا تمہیں روک نہیں پایا۔ کافی دیر ان کی یہ اٹھکیلیاں چلتی رہیں۔ پھر صائمہ اس کے بازو پہ سر رکھ کے اس کے ساتھ لیٹ گئی۔ وقاص نے اس کا ماتھا چوما اور اس کے بال سہلانے لگا۔ صائمہ کی آنکھوں میں نمی اتر آئی جسے دیکھ کر وقاص نے پریشانی سے اسے پوچھا؛ کیا ہوا؟ تم خوش نہیں ہو؟ اگر تمہیں برا لگا تو مجھے معاف کر دو۔ بس خود کو روک نہیں پایا تمہیں چھونے سے۔ صائمہ بولی؛ میں بہت خوش ہوں اور یہ آنسو بھی خوشی کے ہی ہیں۔ مجھے ابھی تک یقین نہیں آ رہا کہ مجھے تمہارا سہارا مل گیا ہے۔ وقاص اس کا ماتھا چوم کہ بولا؛ میں بھی بہت خوش ہوں کہ مجھے تمہارا ساتھ مل گیا ہے۔ اگلے روز عدالت میں پیشی تھی۔ وکیل صفائی نے عدالت سے استدعا کی کہ میرے مؤکل پولیس کی اب تک کی تفتیش سے مطمئن نہیں ہیں۔ ہمارا یہ ماننا ہے کہ پولیس نے جلد بازی میں کیس کے بہت سے پہلوؤں کو نظر انداز کیا ہے۔ ڈاکٹر انور کی میڈیکل رپورٹ یہ واضح کرتی ہے کہ انہوں نے اس رات کثرت سے شراب نوشی کی ہوئی تھی جس کی وجہ سے وہ کچھ بھی بتانے سے قاصر ہیں۔ پولیس تا حال موقع واردات پہ موجود دو اہم کرداروں کو سامنے لانے سے قاصر رہی ہے۔ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ ان کا اس قتل سے کیا تعلق ہے؟ پولیس کی رپورٹ نامکمل ہے جس کی بنا پہ ہم پولیس کی قابلیت پہ سوال اٹھانے میں حق بجانب ہیں۔ ہماری درخواست ہے کہ اس کیس کو ایف آئی اے کے حوالے کر کے اس کی مکمل جانچ کروائی جائے تاکہ نا مکمل تفتیش کو مکمل کیا جا سکے۔ عدالت نے دونوں طرف کے دلائل سن کر یہ حکم جاری کیا کہ چونکہ پولیس کی رپورٹ مفروضوں پہ مبنی ہے اور ابھی اس کیس کے اہم کردار اور حصے غائب ہیں اس لیے یہ کیس مزید تحقیق کے لیے ایف آئی اے کو بھیجا جا رہا ہے۔ جاری ہے
  13. اپڈیٹ نمبر 11 اگلی صبح وقاص صائمہ سے ملنے کے لیے ہسپتال پہنچا تو دستک دیے بغیر ہی کمرے میں داخل ہو گیا۔ اندر جاتے ہی اس کی نظر صائمہ کے تنے ہوئے مموں پہ پڑی۔ صائمہ نے انگڑائی لینے کے لیے اپنے بازو ہوا میں بلند کیے ہوئے تھے۔ وقاص کی نظر جہاں تھی کچھ لمحے کے لیے وہیں ٹھہر گئی۔ صائمہ نے اس کی محویت کو محسوس کیا تو فوراً بازو نیچے کر کے سیدھی ہو گئی۔ وقاص شرمندگی سے بولا؛ معاف کیجیے گا کہ میں اس طرح بغیر اجازت اندر چلا آیا۔ صائمہ بولی؛ کوئی بات نہیں، آپ نے اس مشکل وقت میں مجھے سہارا دیا ہے اس لیے آپ کو کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ ویسے بھی یہ کمرہ آپ کا ہی دیا ہوا ہے تو اجازت کیسی؟ وقاص نے شرارت بھرے لہجے میں پوچھا؟ کسی اجازت کی ضرورت نہیں؟ صائمہ نے اس کے لہجے میں چھپی شرارت محسوس کر لی اس لیے جواب میں محض مسکرانے پہ ہی اکتفا کیا۔ وقاص کے ایک ہاتھ میں پھلوں سے بھرا لفافہ تھا جبکہ دوسرے ہاتھ میں کپڑوں والا لفافہ تھا۔ صائمہ نے کہا؛ اس تکلف کی کیا ضرورت تھی؟ اب میں بالکل ٹھیک ہوں۔ پہلے ہی آپ نے مجھ پہ اتنا احسان کیا ہے کہ میں اتار نہیں سکتی۔ وقاص نے شکوہ کیا؛ آپ میرے خلوص کو احسان کا نام دے کے مجھے شرمندہ کر رہی ہیں اور ویسے بھی ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں، ابھی تو آپ کو اس درندے سے نجات دلانی ہے۔ راشد کا ذکر سن کے صائمہ کے چہرے کے تاثرات بدل گئے اور اس کا غم وغصہ اس کے چہرے پہ عیاں ہو گیا۔ وقاص بولا؛ اچھا اب آپ غمگین نہ ہوں اور فریش ہو کے کپڑے بدل لیں۔ میں اپنی سمجھ کے مطابق یہ کپڑے آپ کے لیے لے آیا ہوں، پتہ نہیں آپ کو پسند آتے بھی ہیں یا نہیں؟ صائمہ کی آنکھوں میں نمی اتر آئی، اس نے تحسین بھری نظروں سے وقاص کی طرف دیکھا اور اس کے ہاتھ سے کپڑوں والا لفافہ پکڑتے ہوئے بولی؛ مجھے تو اب یہ بھی یاد نہیں ہے کہ آخری دفعہ میں نے کب اپنے لیے اپنے من پسند کپڑے خریدے تھے بلکہ مجھے تو شاید اب یہ بھی یاد نہ ہو کہ میری پسند کیسی تھی؟ اتنی بات کر کے اس کی آنکھوں سے آنسو موتیوں کی طرح گرنے لگے۔ وقاص نے آگے بڑھ کے اپنے ہاتھ سے اس کے آنسو پونچھے اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔ صائمہ کافی دیر اس کے سینے سے لگی روتی رہی اور وقاص اس کی کمر سہلا کے اسے چپ کرواتا رہا۔ اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب اس کی شہوت اس کی غمگساری پہ غالب آ گئی۔ صائمہ کے نرم و گداز بدن اور اس کے جسم کی حرارت سے وقاص کا لن تن کے صائمہ کی ران کو چھونے لگا۔ لن کی یہ جسارت ان دونوں کو ہوش و حواس کی دنیا میں واپس لے آئی اور صائمہ فوراً اس سے الگ ہو گئی۔ کچھ لمحے دونوں ایک دوسرے سے نظریں چرائے خاموش رہے۔ وقاص نے ہمت کر کے صائمہ کی طرف دیکھا جس کی نگاہیں جھکی ہوئی تھیں لیکن آنسو ابھی بھی رواں تھے۔ وقاص نے ایک بار پھر ہاتھ بڑھا کے اس کے آنسو پونچھے اور اس کا ماتھا چوم کہ بولا؛ صائمہ پلیز بس کر دیں، جو ہوا اسے ایک بھیانک خواب سمجھ کے بھول جائیں۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ دکھ اور درد کو آپ کے قریب بھی نہیں آنے دوں گا اور آپ ہمیشہ ہنستی مسکراتی رہیں گی۔ اس بار صائمہ نے آگے بڑھ کے اسے گلے لگا لیا لیکن دوسرے ہی لمحے پیچھے ہٹ کے اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔ وقاص نے پوچھا؟ کیا ہوا؟ ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں؟ صائمہ نے تجسس بھرے لہجے میں پوچھا؛ آپ میرے لیے اتنا سب کچھ کیوں کر رہے ہیں؟ وقاص نے بلا تردد جواب دیا؛ کیونکہ مجھے آپ سے محبت ہو گئی ہے۔ صائمہ نے حیرت سے اسے دیکھا اور بولی؛ لیکن یہ کیسے ممکن ہے؟ ابھی آپ کو مجھ سے ملے وقت ہی کتنا گزرا ہے؟ ابھی تو آپ مجھے ٹھیک سے جانتے بھی نہیں اور ہماری عمر میں بھی اتنا فرق ہے۔ میرے خیال میں یہ محبت نہیں، محض ہمدردی ہے۔ وقاص بولا؛ وقت کا کیا ہے؟ محبت ہونی ہو تو ایک نظر میں ہو جاتی ہے اور نہ ہونی ہو تو سالوں میں نہیں ہوتی۔ رہی بات جاننے کی تو جتنا جانتا ہوں اتنا میرے لیے کافی ہے، باقی جاننے کے لیے ساری عمر پڑی ہے۔ اور کیا کہا تھا آپ نے۔۔۔۔۔۔؟ ہاں عمر کا فرق، تو آپ کونسا بوڑھی ہو گئی ہیں؟ زیادہ سے زیادہ پانچ چھ سال ہی بڑی ہوں گی آپ مجھ سے۔ اگر اس سے زیادہ بھی فرق ہوتا تو مجھے کوئی فرق نہ پڑتا۔ اور ہمدردی تو مجھے ہر مظلوم اور نادار سے ہو جاتی ہے، یہ محبت ہی ہے کیونکہ میں نے کبھی کسی کے لیے اتنا درد محسوس نہیں کیا جتنا آپ کے لیے کرتا ہوں۔ صائمہ اس کی باتوں سے الجھ گئی، اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ دو دن میں ایسی کیا کایا پلٹ ہو گئی کہ یہ لڑکا اس کا اتنا دیوانہ ہو گیا؟ اس کے ذہن میں یہ خدشہ بھی تھا کہ کہیں یہ وقتی بخار نہ ہو۔ سب سے بڑا خدشہ جو اس کے ذہن میں تھا اس کا اظہار اس نے اسی وقت کر دیا؛ لیکن وقاص تمہاری فیملی اور یہ معاشرہ اتنی آسانی سے ہمارے رشتے کو قبول نہیں کریں گے۔ وقاص بولا؛ اس کی آپ فکر نہ کریں۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ جتنی عزت میں آپ کی کرتا ہوں اتنی ہی عزت آپ کو اپنی فیملی اور اس معاشرے سے دلاؤں گا۔ صائمہ کے چہرے پہ مسکراہٹ دوڑ گئی اور اس نے وقاص کا ہاتھ چوم کہ پوچھا؛ یعنی سب مجھے آپ کہہ کے بلائیں گے؟ وقاص نے سوالیہ انداز میں اس کی طرف دیکھا تو اس نے کہا؛ اتنی بھی بڑی نہیں ہوں تم سے کہ مجھے آپ کہہ کے بلاتے رہو۔ وقاص نے کہا؛ اچھا آئندہ میں آپ کو۔۔۔۔۔ میرا مطلب ہے تمہیں آپ نہیں کہوں گا، اب خوش؟ صائمہ بولی؛ خوش تو تب ہوں گی جب آزادی ملے گی۔ وقاص اس کے چہرے کے بدلتے تاثرات دیکھ کے بولا؛ اچھا اب دوبارہ رونا نہ شروع کر دینا، آزادی بھی کچھ دنوں میں مل جائے گی۔ اب جاؤ اور نہا کے کپڑے بدل لو۔ صائمہ بولی؛ یہاں نہانے کی کیا ضرورت ہے، تم ڈاکٹر سے بولو مجھے ڈسچارج کرے، میں گھر جا کے نہا لوں گی۔ وقاص شرارت سے بولا؛ ڈاکٹر کی کیا ضرورت ہے؟ میں ہوں نہ تمہں ڈسچارج کرنے کے لیے۔ صائمہ نے اس کے بازو پہ مکہ مارا اور بولی؛ بہت بدمعاش ہو تم، میرا وہ مطلب نہیں تھا۔ وقاص نے کہا؛ میری ڈاکٹر سے بات ہو گئی ہے، انہوں نے کہا ہے کہ وہ کل تمہیں گھر بھیج دیں گے۔ صائمہ نے کہا؛ اب تو میں بالکل ٹھیک ہوں، ہسپتال والے بس پیسے بنانے کے چکر میں ہیں۔ وقاص نے کہا؛ کوئی بات نہیں، کسی غیر پہ پیسے نہیں لگا رہا، اپنی ہونے والی بیوی پہ لگا رہا ہوں۔ صائمہ اس کی بات پہ مسکرا کہ باتھ روم میں گھس گئی۔ پولیس نے ڈاکٹر انور کو عدالت میں پیش کیا۔ یاسمین اور ماریہ بھی اس موقع پر عدالت میں موجود تھیں۔ کیس کی کاروائی شروع ہوئی تو استغاثہ کے وکیل نے عدالت کو اب تک کی تفتیش کے بارے میں آگاہ کیا۔ اس نے کہا؛ یور آنر اب تک کی تفتیش کے مطابق استغاثہ کا یہ موقف ہے کہ ثمرین کا قتل اس کے باپ ڈاکٹر انور نے کیا۔ ڈاکٹر صاحب کے طبی معائنے میں یہ بات سامنے آئے کہ ان کے خون میں الکوحل کی کثیر مقدار پائی گئی۔ مقتولہ کی لاش کے پاس پولیس کو ایک پین ملا جس پہ ڈاکٹر انور کی انگلیوں کے نشان پائے گئے۔ پولیس کو ان کے کلینک سے پتہ چلا کہ اس طرح کا پین وہ اکثر استعمال کرتے تھے۔ ان کے گھر کے قریبی کچرے والے ڈبے سے ایک شرٹ ملی ہے جس پہ کسی نوجوان کے خون کے دھبے ہیں۔ پولیس کے مطابق وہ نوجوان رمیض یونس تھا جو قتل کی رات سے آج تک غائب ہے۔ ڈی این اے رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر انور کے جسم پہ ثمرین کے ناخنوں کے نشان پائے گئے اسی طرح ثمرین کے جسم پر ڈاکٹر انور کے ناخنوں کے نشان پائے گئے۔ مقتولہ کے دائیں ہاتھ سے پولیس کو ایک بال ملا جو ڈی این اے رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر انور کے سر کا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ثمرین ایک ماہ سے حاملہ تھی۔ یور آنر یہ کیس شیشے کی طرح صاف ہے۔ اس دن ڈاکٹر انور شراب کے نشے میں دھت گھر پہنچے تو وہاں انہوں نے اپنی بیٹی کو رمیض کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دیکھ لیا۔ یہ منظر دیکھ کے انہیں غصہ آ گیا جو کہ عین فطری ہے۔ اسی غصے میں انہوں نے رمیض پہ حملہ کیا جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو کے بھاگ گیا لیکن ثمرین اپنے باپ کے عتاب کا شکار ہو گئی۔ جج نے ڈاکٹر انور سے پوچھا؛ کیا آپ اپنے اوپر لگے الزامات کو تسلیم کرتے ہیں؟ انور نے جواب دیا؛ مجھے کچھ یاد نہیں کہ اس رات کیا ہوا تھا کیونکہ کثرت شراب نوشی کی وجہ سے میں اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھا۔ میرے عزیز و اقارب میں سب جانتے ہیں کہ جب میں زیادہ شراب پی لیتا ہوں تو مجھے کچھ یاد نہیں رہتا۔ لیکن میں یہ دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ میں اپنی بیٹی کا قتل نہیں کر سکتا کیونکہ وہ ہماری اکلوتی اولاد تھی اور مجھے بہت عزیز تھی۔ انور نے روتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی؛ پولیس والوں کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں اپنی بیٹی کو کیسے مار سکتا ہوں؟ عدالت نے ڈاکٹر انور کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا اور کیس کی کاروائی دو دن کے لیے ملتوی کر دی۔ عدالت نے وکیل صفائی کو ہدایت کی کہ وہ اگلی پیشی پہ بیان صفائی جمع کروائیں۔ جاری ہے
  14. ڈاکٹر صاحب میں کوئی باقاعدہ لکھاری تو ہوں نہیں، یہ تو آپ کے کہنے پہ لکھنے کی جسارت کی ہے۔ اور مجھے خوشی ہے کہ میری ناقص تحریر قارئین کو پسند آ رہی ہے۔ آپ سے گزارش ہے جہاں اصلاح کی ضرورت محسوس کریں لازمی کریں اور مجھے بھی جہاں رہنمائی کی ضرورت محسوس ہوئی آپ کو تنگ کروں گا۔ حوصلہ افزائی کا شکریہ
×
×
  • Create New...