Jump to content
URDU FUN CLUB

HIdden Lover

Active Members
  • Content Count

    29
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    4

HIdden Lover last won the day on March 26

HIdden Lover had the most liked content!

Community Reputation

87

Profile Information

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. آپکی پسندیدگی کا بہت شکریہ.. جیسا کہ آپکو ابھی تک اندازہ ہو گیا ہو گا کہ یہ کہانی ایک ایسی کم عمر لڑکی کی سیکس کے سفر کی ہے جس کو سیکس کے بارے میں معلومات اس کی بہن اور کزن کی آپس میں ہونے والی باتوں سے ہوئی.. میری کوشش ہے کہ یہ کہانی حقیقت کے قریب تر ہو.. کیوں کہ یہ کہانی ایک کم عمر لڑکی کی ہے تو اس میں سیکس سین اسی حساب سے ہوں گے جو کہ حقیقت میں اس عمر کے لڑکے لڑکیوں میں ہوتا ہے.. جہاں پر ضرورت ہو گی وہاں پر بھرپور سیکس سین بھی آئیں گے..
  2. آپکی بات ٹھیک ہے لیکن ہر رایٹر کو تھوڑی پذیرائی چاہیے ہوتی ہے.. یہ ایک فری فورم ہے جہاں پر ہر رایٹر بغیر کسی معاوضے کے صرف ریڈرز کا فیڈبیک لینے کے لئے لکھتا ہے.. چھوٹی کہانیاں لکھنا زیادہ مشکل نہیں ہوتا کیوں کہ رایٹر ایک یا دو پارٹ میں کہانی لکھ دیتا ہے.. لیکن لمبی کہانیاں لکھنے کے لئے وقت کے ساتھ ساتھ ریڈرز کا انٹرسٹ بھی بہت ضروری ہوتا ہے.. ریڈرز کے انٹرسٹ کا ان کے کمنٹس یا لایکس سے پتا چلتا ہے اور اگر کسی کہانی پر کمنٹس کم ہوں تو پھر رایٹر مزید لکھنے سے پہلے سوچتا ہے کہ شائد کسی کو اس میں انٹرسٹ نہیں ہے اس لئے اس پر مزید وقت دینا مناسب نہیں..
  3. کومل باجی: اس وقت تو غصہ ہی بہت تھا اس پر اور درد بھی تھی اس لئے اور کچھ نہیں سوچ رہی تھی. بشریٰ باجی: لو اس بیچارے پر کس بات کا غصہ تھا تم نے خود اپنی مرضی سے سب کروایا تھا. کومل باجی: میں تو بس اس کو چھت پر روکنے گئی تھی کہ واپس چلا جائے ایسے ملنا ٹھیک نہیں ہے. میرے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ سب ہو جائے گا. بشریٰ باجی: اس کا بعد اس کی کوئی کال یا میسج نہیں آیا؟ کومل باجی: جب میں سو کر اٹھی تو دیکھا اس کی کافی مس کال اور میسج آے ہوۓ تھے. اور سب میں اس نے معافی مانگی ہوئی تھی کہ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن پتا نہیں یہ سب کیسے ہو گیا. بشریٰ باجی: ایسے ہی ارادہ نہیں تھا. مجھے تو لگتا ہے کہ وہ پورا پلان کر کے آیا تھا. کومل باجی: ہاں مجھے بھی یہی لگ رہا تھا اس لئے میں نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا. اس کے بار بار میسج آ رہے تھے لیکن میں کوئی جواب نہیں دے رہی تھی. رات کو سوتے وقت میں نے اس سب کے بارے میں سوچا تو مجھے عجیب سا مزہ آنے لگ گیا. ایسے لگا جیسے اس وقت ہونے والے سارے واقع کو سوچ کر نیچے میری پھدی گیلی ہو رہی ہے. لیکن پھر بھی میں نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا. اگلے دو تین دن تک وہ مسلسل میسج کرتا رہا اور کال بھی لیکن میں نے کوئی جواب نہیں دیا. پھر تین دن کے بعد دوپہر کے وقت ہی اس کا میسج آیا کہ میں تمھارے گھر کی چھت پر ہوں اور جب تک تم نہیں آؤ گی میں واپس نہیں جاؤں گا. میں گھبرا گئی. میں نے اسے میسج کیا کہ میں نے تم سے کوئی بات نہیں کرنی تم واپس چلے جاؤ. لیکن اس کا میسج آیا کہ ایک بار پلیز اوپر آ کر مجھے معاف کر دو تو میں واپس چلا جاؤں گا. میں نے چیک کیا تو امی اور ردا سو رہی تھی. میں چپکے سے چھت پر آ گیی. وہ ساتھ والوں کی چھت پر تھا. میرے روکنے کا باوجود وہ دیوار پھلانگ کر ہماری چھت پر آ گیا. وہ مجھے دوبارہ وہی ٹنکی کے ساتھ والی جگہ پر لے گیا کیوں کہ اس طرح چھت پر کھڑے ہوۓ کوئی بھی دیکھ سکتا تھا. بشریٰ باجی: تم دوبارہ کیوں چلی گیی جب تمہیں اس سے بات ہی نہیں کرنی تھی تو. کومل باجی: میں تو اس کو روکنے گئی تھی کہ ایسے چھت سے چلا جائے کسی نے دیکھ لیا تو اچھا نہیں ہو گا. بشریٰ باجی: اچھا پھر؟ وہاں پہنچ کر اس نے مجھے گلے لگا لیا اور مجھ سے معافیاں مانگنے لگا کہ آی ام سوری مجھے پتا نہیں چلا کہ سب کیسے ہو گیا.. میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا.. تم اتنی پیاری لگ رہی تھی کہ میں خود کو بھی نہیں روک سکا. میں نے خود کو چھڑایا اور کہا: چھوڑو مجھے اور یہاں سے دفع ہو جاؤ. مجھے سب پتا ہے تم اس دن سب سوچ کر آے تھے. وہ بولا جان تمہاری قسم میں صرف تمہیں دیکھنے کے ارادے سے آیا تھا لیکن جب چھت پر تمہیں دیکھا تو خود کو روک نہیں پایا. چمکتی دھوپ میں تم اور بھی خوبصورت لگ رہی تھی. اس نے پھر مجھے گلے لگا لیا اور روتے ہوے کہنے لگا آی ام سوری پلیز مجھے معاف کر دو. بس اس وقت تمھارے حسن نے مجھے پاگل کر دیا تھا اور مجھے کچھ پتا نہیں چلا اور سب کچھ خود ہی ہوتا چلا گیا. بشریٰ باجی: لڑکی کے حسن کی تعریف تو لڑکوں کا سب سے بڑا ہتھیار ہے. کومل باجی: مجھے بھی اس کا ایسے گلے لگانا اچھا لگ رہا تھا لیکن میں خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی اور اس کو کہ رہی تھی کہ مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی.. لیکن وہ مسلسل مجھے گلے لگاے ہوے کبھی مجھے آئ لو یو اور کبھی مجھے آئ ام سوری بول رہا تھا اور مجھے کہ رہا تھا کہ میں تمہیں کبھی چھوڑ کر نہیں جاؤں گا. پلیز مجھے معاف کر دو. آیندہ تمہاری مرضی کے بنا تمہیں ٹچ بھی نہیں کروں گا.. پلیز پلیز پلیز .... اس کی کافی منت سماجت کے بعد آخر میں نے کہا اچھا مجھے چھوڑو تو سہی میں نے تمہیں معاف کیا.. اس نے مجھے چھوڑا اور تھینک یو بول کر میرے ہونٹوں پر کس کرنا شروع کر دی. میں نے اس کو روکنا چاہا لیکن وہ نہیں رکا. میں بھی آہستہ آہستہ گرم ہو رہی تھی تو اس کا ساتھ دینے لگی. تھوڑی دیر کے بعد مجھے اس کا ہاتھ اپنے بوبز پر اور لن ٹانگوں میں محسوس ہوا جو مجھے اور زیادہ گرم کر رہا تھا. پھر اس نے مجھے گھمایا اور دیوار کے ساتھ لگا کر پیچھے سے گردن پر کس کرنا شروع کر دیا. میں آنکھیں بند کئے دیوار کے ساتھ لگی گردن پر اس کے ہونٹوں اور سانسوں کی گرمی اور نیچے گانڈ پر اس کے لن کی چبھن اینجوے کر رہی تھی. شائد مجھ سے زیادہ اس کو اس بات کا پتا چل گیا تھا کہ یہ میری کمزوری ہے اور اس طرح سے میں اتنی گرم ہو جاتی ہوں کہ کوئی بھی بات ماننے کو تیار ہو جاتی ہوں. وہ گردن پر کس کرتے کرتے میرے گالوں اور کان پر کس کرنے لگا.. کان پر کس کرتے ہوۓ بولا: جان نیچے سے شلوار اتار کر لگا لوں. اوپر اوپر ہی کروں گا. میں آنکھیں بند کئے ہوے ایسی گرم ہو رہی تھی کہ اس کو کسی بات سے نہیں روک پا رہی تھی. میں نے بس یہ کہا: ہمم.. بشریٰ باجی: لو جی یہ تم اس کو روکنے گئی تھی یا پھر سے چدنے؟ کومل باجی: میں گئی تو اس کو روکنے ہی تھی لیکن پھر حالات ایسے ہو گئے کہ میں کمزور ہوتی گیی. لیکن اس دن شائد کہیں میری چھٹی مجھے کہ رہی تھی کہ آج بھی یہ کچھ کیے بغیر نہیں جائے گا. اس نے مجھے کس کرنا ایک سیکنڈ کے لئے بھی نہیں روکا بس اپنا ایک ہاتھ میرے بوبز سے ہٹا کر نیچے لے کر گیا. مجھے تب پتا چل کہ میری شلوار اتر چکی ہے جب مجھے گرم لن اپنی ننگی ٹانگوں کے درمیان میں محسوس ہوا.. مزے سے میرے منہ سے سسکاری نکلی. وہ بھی بڑے پیار سے لن کو میری ٹانگوں کے درمیان پھنسا کر میری پھدی پر رگڑ رہا تھا. میری پھدی پہلے ہی گیلی ہو رہی تھی اور گرمی اور پسینے کی وجہ سے ٹانگوں میں اور بھی چکناہٹ پیدا ہو گئی تھی. ایسے میں وہ اپنا لن میری ٹانگوں میں سے نکالتا اور پھر جب آہستہ سے ٹانگوں میں سے گھسا دیتا تو لن میری پھدی کو رگڑتا ہوا ٹانگوں میں گھس جاتا. اسی طرح ایک دو منٹ کرنے کے بعد اس نے پھر میرے کان پر کس کرتے ہوۓ کہا: جان اندر ڈالوں ؟؟ آرام سے کروں گا... مجھے پچھلی دفع والا درد یاد تھا لیکن اس وقت میں جتنی گرم ہو چکی تھی میں کچھ بھی برداشت کرنے کو تیار تھی..اور اگر وہ خود کچھ دیر نہ کہتا تو شائد میں خود ہی اس کو اندر ڈالنے کا کہ دیتی. میں نے سسکاری لیتے ہوے بس اتنا ہی کہا: سی...ہمم...ڈال لو.. اس نے مجھے تین چار قدم پیچھے کیا اور میری کمر کو پکڑ کر آگے جھکا دیا. میں دونوں ہاتھ دیوار پر رکھ کر جھک گئی. وہ میرے پیچھے کھڑا ہوا تھا. پھر اس نے میری گانڈ کھولی اور پہلے گانڈ اور پھر پھدی کو انگلی لگا کر چیک کیا. پھر مجھے تھوکنے کی آواز آیی جیسے اس نے کسی چیز پر تھوک پھینکا ہو. مجھے پتا تھا کہ تھوڑی دیر میں لن میری پھدی میں جانے والا ہے اور پچھلی بار درد بھی مجھے یاد تھا لیکن اس وقت میں سب برداشت کرنے کو تیار تھی. اس نے اپنا لن میری گانڈ اور پھدی پر تین چار بار پھیرا اور پھر پھدی پر رکھ کر جھٹکا دیا تو اس کا لن پھسل کر میری ٹانگوں میں چلا گیا. اس نے میرا ایک ہاتھ پکڑ پیچھے کر میری گانڈ پر رکھا اور بولا اسے تھوڑا کھولو. میں نے ایک ہاتھ سے اپنی گانڈ کھولی اور اس نے ایک ہاتھ سے دوسری سائیڈ سے میری گانڈ کھولی. پھر اپنے دوسرے ہاتھ میں لن پکڑ کر میری پھدی پر سیٹ کر کے ہلکا سا دھکا لگایا تو لن میری پھدی پر اتر گیا.. میں درد کی وجہ سے دبی سی آواز میں چیخی اور ایک قدم آگے ہوی لیکن اس نے مجھے مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا اور ساتھ ہی ایک اور دھکا لگایا اور پورا لن میرے اندر اتار دیا. میری ایک اور ہلکی سی چیخ نکلی اور میں کھڑی ہو گیی لیکن وہ لن اندر ڈال کر مجھے مضبوطی سے پکڑ کر کھڑا رہا. میں نے کہا: نومی درد ہو رہا ہے پلیز آرام سے کرو تو اس نے کہا: جان آرام سے ہی کر رہا ہوں بس تھوڑا سا درد برداشت کر لو. اور پھر مجھے جھکا دیا. جب میں جھک گیی تو اس نے تھوڑا سا لن نکالا اور پھر اندر ڈال دیا.. وہ اسی طرح لن کو آرام آرام سے آگے پیچھے کرنے لگ گیا. جب لن اندر جاتا تو مجھے تھوڑا درد ہوتا اور میری سسکاری نکل جاتا. درد تو ہو رہا تھا لیکن اس میں بھی اتنا مزہ آ رہا تھا کہ میں نے اس کو ایک بار بھی نکالنے کا نہیں کہا. ایک دو منٹ کے بعد اچانک سے اس کی سپیڈ تھوڑی تیز ہو گئی اور پانچ چھ جھٹکے لگا کر اس نے لن نکال لیا اور پیچھے ہٹ گیا. میں نے کھڑی ہو کر شلوار اوپر کی اور کپڑے ٹھیک کر کے مڑی تو وہ اپنا لن ہاتھ میں پکڑ کر دبا رہا تھا بشریٰ باجی: تب تم نے لن نہیں دیکھا ؟ کومل باجی: میری طرف اس کی بیک تھی اس لئے مجھے ٹھیک سے نظر نہیں آیا. میں نے اس کو کہا: اب جلدی سے چلے جاؤ. کافی دیر ہو گئی ہے. اس نے اپنا ٹراؤزر اوپر کیا اور مجھے آئ لو یو بول کر چلا گیا. میں بھی دبے قدموں نیچے آئ اور غسل خانے میں گھس گئی. پسینے کے ساتھ ساتھ میری شلوار سے عجیب سی بو آ رہی تھی. نیچے درد بھی ہو رہا تھا لیکن آج مجھے رونا نہیں آ رہا تھا.. تھوڑی دیر بیٹھی کچھ دیر پہلے ہونے والے واقع پر سوچتی رہی اور پھر نہا کر سو گئی.. بشریٰ باجی: تو دوسری بار کیسا لگا؟ کومل باجی: دوسری بار پہلے سے زیادہ مزہ آیا. درد تو ہوا لیکن اس نے بڑے آرام سے اور پیار سے کیا تو شائد اس لئے زیادہ اچھا لگا. بشریٰ باجی: اچھا اس کے بعد اس سے فون اور میسیجز پر کیا باتیں ہوئی؟ کومل باجی نے موبائل آن کر کے ٹائم دیکھا اور بولی صبح کے پانچ بج رہے ہیں. کچھ باتیں کل کے لئے بھی چھوڑ دیں.. ابھی نیند بھی بہت آ رہی ہے اور صبح امی نے پھر جلدی جگا دینا ہے. بشریٰ باجی ہنستے ہوے بولی: تمہاری چدائی کی داستانیں سن کر سونے کو بلکل دل نہیں کر رہا. کومل باجی: مزید چٹ پٹی داستانیں کل رات کو.. ابھی شاباش سو جاؤ. اس کا تھوڑی دیر کے بعد کمرے میں بالکل خاموشی ہو گیی اور شائد دونوں سو گیی لیکن میری آنکھوں سے تو جیسے نیند ہی اڑ گئی تھی. میرا جسم پسینے سے بھیگ چکا تھا اور مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے بہت تیز بخار ہو نیچے ٹانگوں کر درمیان عجیب سا گیلا پن محسوس ہو رہا تھا. بار بار مجھے بشریٰ باجی اور کومل باجی کی باتیں اور اس میں استعمال ہونے والے الفاظ یاد آ ..رہے تھے. جسم کے ان حصوں کا جن کے بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں تھا، اس کا ایسے کھلم کھلا اور ایسے ناموں سے تذکرہ سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے جاری ہے...
  4. میں خود انسیسٹ کا بہت مخالف ہوں.. اس میں انسیسٹ کا کوئی پہلو نہیں آے گا..
  5. میں نے یہ کہانی ایک ہفتہ پہلے پوسٹ کی تھی لیکن ابھی تک شائع نہیں ہوئی.. کوئی خاص وجہ ؟؟
  6. میری بہن کی ایک لا پرواہی جس نے مجھے سیکس کی دنیا سے آگاہ کر دیا.. میرا نام ردا ہے اور یہ تب کی بات ہے جب میری عمر دس گیارہ سال ہو گی. میری ایک بڑی بہن ہے جس کا نام کومل ہے وہ مجھ سے پانچ چھ سال بڑی ہیں. میں ایک بہت معصوم اور بھولی بھالی طبیعت کی لڑکی تھی جس کو آس پاس کی دنیا کی کوئی خبر نہیں تھی. زیادہ دوستیاں بھی نہیں تھی اور زیادہ تر وقت گھر میں ہی پڑھائی یا ٹی وی دیکھنے میں گزرتا. مجھے پینٹنگ کرنے کا کافی شوق تھا اس لئے فارغ وقت بھی پینٹنگز میں گزار دیتی. ہر لڑکی کو ایک عمر کے بعد سیکس کی معلومات کا آہستہ آھستہ پتا چلنا شروع ہو جاتا ہے. میری عمر بھی ابھی اتنی نہیں تھی اور معصوم طبیعت کی وجہ سے میں ابھی اس حوالے سے انجان ہی تھی. لیکن ایک رات کو کچھ ایسا ہوا جس نے نا صرف مجھے سیکس کی دنیا سے آگاہ کیا بلکہ میری معصومیت اور سوچ کو بھی بدل دیا. دسمبر کی سرد راتیں تھیں اور میں کومل باجی کے ساتھ اپنے کمرے میں ایک ہی رضائی میں سوتی تھی. کیوں کہ مجھے اکیلے سونے میں ڈر بھی لگتا تھا اور سردی بھی. بشریٰ باجی ہماری پھوپھو کی بیٹی ہیں جو کہ کومل باجی سے ایک دو سال بڑی ہوں گی لیکن دونوں بچپن سے ہی بہت گہری دوست تھی. پھوپھو تقریبآ تین سال کے بعد ہمارے گھر آیی تھی اس لئے دونوں اتنے عرصے کے بعد ایک دوسرے کو مل کر بہت خوش تھی. آج جب میں سونے کے لئے آئ تو بشریٰ باجی اور کومل باجی دونوں رضائی میں لیٹی باتیں کر رہی تھی. بشریٰ باجی نے کہا یہ بھی ہمارے ساتھ سویے گی ؟ کومل باجی نے کہا ردا تم امی کے ساتھ سو جاؤ. میں نے کہا: امی نے ہی مجھے یہاں بھیجا ہے کہ جا کر بہنوں کے ساتھ سو جاؤ. بشریٰ باجی نے منہ بنا کر کومل باجی کی طرف دیکھا تو انہوں نے آنکھوں سے کچھ اشارہ کیا. میں چپ کر کے کومل باجی کے ساتھ رضائی میں آ کر لیٹ گئی. ہم تینوں ایک ہی رضائی میں تھی. کومل باجی درمیان میں تھی اور میں اور بشریٰ باجی ان کے دائیں بائیں لیٹی ہوئی تھی. وہ دونوں اپنے اپنے کالج کی باتیں کر رہی تھی. میں تھوڑی دیر سنتی رہی پھر بوریت کی وجہ سے سونے کو ہی ترجیح دی. تھوڑی دیر کے بعد میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گئی. رات کے کسی پہر میں میری آنکھ کھلی تو کمرے میں بلکل اندھیرا تھا اور کھسر پھسر کی آواز آ رہی تھی. مجھے اندازہ ہوا کہ یہ دونوں ابھی تک جاگ رہی ہیں. لیکن اب دونوں بلکل سرگوشی میں باتیں کر رہی تھی. میں پھر سے سونے کا سوچ ہی رہی تھی کہ میرے کان میں کچھ ایسے الفاظ ٹکراے کہ میری نیند ہی اڑ گئی. میں بلکل ساکت لیٹی ہوئی تھی اور کمرے کی خاموشی میں دونوں کی باتیں غور سے سننے کو کوشش کرنے لگی. تھوڑی دیر کی بعد مجھے ان کی سرگوشی میں ہونے والی باتیں لفظ با لفظ صاف سنائی دینے لگی. جیسے جیسے میں باتیں سن رہی تھی میرا جسم گرم ہو رہا تھا اور شدید سردی میں بھی پسینہ آ رہا تھا. مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں ہو رہا تھا کہ ایسا سب بھی ہو سکتا ہے. جب میری آنکھ کھلی تو ان دونوں کے درمیان یہ باتیں چل رہی تھی. بشریٰ باجی: اس کا کتنا بڑا ہے؟ کومل باجی: اب میں نے ناپ کر تو نہیں دیکھا لیکن بڑا ہے. بشریٰ باجی ہنستے ہوۓ: تین بار چدوانے کے بعد بھی سائز نہیں پتا. کومل باجی: یار بتایا نا کہ تینوں بار بس جلدی میں کرایا اور اتنا موقع نہیں ملا کہ غور سے دیکھ سکوں بشریٰ باجی: پہلی بار کہاں چدوایا تھا. کومل باجی: تینوں بار اپنے گھر کی چھت پر. بشریٰ باجی: چھت پر کہاں؟ کومل باجی: دو بار ٹنکی کے ساتھ والی جگہ پر اور تیسری بار سٹور میں چارپائی پر. بشریٰ باجی: زیادہ مزہ کہاں آیا؟ کومل باجی: سٹور میں چارپائی پر بشریٰ باجی: وہ کیوں؟ کومل باجی: چارپائی پر لیٹ کر سامنے سے کیا تھا اور پھر تیسری بار تھا تو ٹھیک سے گیا تھا. ٹنکی کے ساتھ پہلی دوسری بار تھا. درد بھی زیادہ ہوا اور پھر کھڑے ہو کر کیا تھا پیچھے سے. بشریٰ باجی حیرانگی سے: کیا مطلب؟ تم نے گانڈ مروائی ہے اس سے؟ کومل باجی: نہیں نہیں.. میرا مطلب اس نے پیچھے سے ڈالا تھا. بشریٰ باجی: پیچھے تو گانڈ میں ڈالتے ہیں. کومل باجی: ارے نہیں، وہاں نیچے زمین گرم تھی نا تو اس لئے اس نے مجھے کھڑے کھڑے جھکا کر پیچھے والی سائیڈ سے آگے ہی ڈالا تھا بشریٰ باجی: آگے کہاں ؟ کومل باجی: آگے کا مطلب آگے بشریٰ باجی: کچھ نام بھی ہوتا ہے آگے کا. کومل باجی: مجھے شرم آتی ہے. بشریٰ باجی: واہ رے میری شرمیلی.. چدواتے ہوۓ شرم نہیں آ رہی. نام لیتے ہوے آ رہی ہے. کومل باجی ہنستے ہوے: پھدی میں ڈالا تھا. بشریٰ باجی بھی ہنسنے لگ گیی. بشریٰ باجی: گانڈ نہیں مروائی؟ کومل باجی: اس کو تو بڑا شوق ہے. تیسری بار جب سٹور میں کیا تھا تو کافی کہ رہا تھا کہ پیچھے ڈالتا ہوں مزہ آے گا لیکن میں نہیں مانی. میں نے سنا تھا کہ پیچھے بہت درد ہوتا ہے اس لئے مجھے ڈر لگتا ہے. بشریٰ باجی: کس نے بتایا تمہیں؟ پہلے پہلے تو پھدی میں بھی درد ہوتا ہے. ایسے ہی گانڈ میں بھی ہوتا ہے لیکن گانڈ کا تو الگ ہی مزہ ہے. کومل باجی: آپ نے پیچھے کروایا ہوا ہے ؟ بشریٰ باجی: کافی بار. بلکہ پہلی بار تو ہمارے محلے کے ایک لڑکے نے گانڈ ماری تھی. اس نے بغیر بتایے گانڈ میں ڈال دیا. میں بلکل تیار نہیں تھی تو میں تو اچھل کر کھڑی ہو گئی. پھر میں نے اس کو گانڈ نہیں دی حالانکہ اس کا لن زیادہ بڑا اور موٹا نہیں تھا. کومل باجی: تو پھر تم کیوں کہ رہی ہو کہ گانڈ مروانے میں مزہ آتا ہے. بشریٰ باجی: وہ تو ایک بار میرے کالج کے لڑکے نے گانڈ ماری تو بڑا ہی مزہ آیا. حالاں کہ اس کا لن بھی بہت موٹا تھا. وہ کافی بار مجھے کہ چکا تھا لیکن میں نہیں ماں رہی تھی. پھر اس نے مجھے یقین دلایا کہ اگر مزہ نہیں آے گا تو نہیں کروں گا. بس پھر اگلی بار میں بھی کچھ ذہنی طور پر تیار تھی اور اس نے بھی ایسے طریقے سے گانڈ ماری کہ درد تو ہوا لیکن اس میں بھی مزہ تھا. کومل باجی: ایسا بھی کیا طریقہ تھا: بشریٰ باجی ہنستے ہوے: زیادہ سارا تھوک اور تیل لگا کر. بشریٰ باجی: میری چھوڑو اپنا بتاؤ کہ پہلی بار کیسے کیا تھا؟ کومل باجی: بتایا تو ہے کہ چھت پر ٹنکی کے ساتھ. بشریٰ باجی تھوڑا غصے میں بولی: یار جیسے میں نے اپنا تفصیل سے بتایا ہے ویسے بتاؤ. ہر بات تفصیل سے بغیر کسی شرم کے. کومل باجی: اچھا بابا بتاتی ہوں ویسے بہت ٹھرکی ہو گئی ہو تم اب. بشریٰ باجی: بس یار دو مہینے ہو گئے ہیں لن کی شکل نہیں دیکھی اس لئے ذرا ٹھرک چڑھا ہوا ہے. چلو اب شرافت سے سناؤ اور ٹھیک سے سنانا شرم اتار کر. کومل باجی ہنستے ہوے: اچھا بابا تو سنو. وہ تو میں نے تمہیں بتایا ہی تھا کہ وہ میری اکیڈمی میں پڑھتا ہے. وہیں ہماری دوستی ہوئی. کافی عرصے تک تو میں اس سے بس موبائل میسیجز پر بات کرتی تھی یا اکیڈمی میںتھوڑی بہت بات ہو جاتی تھی. ایک دن اس کا میسج آیا کہ اپنی چھت پر آو تمھارے لئے سرپرائز ہے. گرمیوں کی دوپہر کا وقت تھا اور گرمی بھی اپنے زوروں پر تھی. جب میں چھت پر پہنچی تو اس کو ساتھ والوں کی چھت پر دیکھ کر حیران ہو گیی. بشریٰ باجی: وہ وہاں کیسے آ گیا؟ کومل باجی: ساتھ والا گھر اس کے دوست کا ہے. بشریٰ باجی: اچھا پھر؟ کومل باجی: میں نے اس کو کافی روکا لیکن وہ دیوار پھلانگ کر ہماری چھت پر آ گیا. شکر ہے دوپہر کا وقت تھا تو کسی نے دیکھا نہیں. اس نے آتے ہی مجھے گلے لگا لیا اور گالوں پر کس کیا. میں اس کے اس طرح اچانک آنے پر گھبرائی ہوئی تھی. میں نے اس کو کہا کہ کوئی دیکھ لے گا تم جاؤ یہاں سے. اس نے ادھر ادھر دیکھا اور بولا سامنے والے کمرے میں چلتے ہیں. لیکن میں نے کہا کہ وہ سٹور روم ہے اور اس کا لوہے کا دروازہ بہت آواز کرتا ہے. اگر کھولا تو نیچے امی کو پتا چل جائے گا. پھر اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور ٹینکی کے پیچھے والی جگہ لے گیا. وہاں تو تمہیں پتا ہی ہے کہ تنگ سی جگہ ہے لیکن وہاں کہیں سے بھی ڈائریکٹ نظر نہیں آتا. اس نے مجھے دیوار کے ساتھ لگایا اور میرے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا اور بولا جان اتنا مس کر رہا تھا تمہیں اس لیے اس طرح ملنے آ گیا. میں نے کہا مجھے ڈر لگ رہا ہے کوئی آ جائے گا. تم جو یہاں سے. اس نے میری بات مکمل ہونے سے پہلے ہی میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے اور چومنا شروع کر دیا مجھے ڈر لگ رہا تھا اور میں نے اس کو روکنے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں رکا. یہ پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ ہمیں اتنا موقع ملا تھا ورنہ اکیڈمی میں تو بس چند سیکنڈ کے لئے نظروں سے بچ کر کس کر لی. کس کرتے کرتے اس میں اپنا ایک ہاتھ میرے بوبز اور دوسرا گانڈ پر رکھ کر دبانے لگا. نیچے سے اس کا لن کبھی میرے پیٹ پر چبھ رہا تھا تو کبھی میری ٹانگوں میں گھس رہا تھا. میں اتنی گرم ہو رہی تھی کہ اس کو روک ہی نہیں پا رہی تھی. میری آنکھیں بند تھی اور میں بس اس مومنٹ کو اینجوے کر رہی تھی. تھوڑی دیر کے بعد مجھے اپنی ٹانگوں کے درمیان میں اس کا لن گیلا اور گرم محسوس ہوا. میں نے ہاتھ نیچے کیا تو مجھے پتا چلا کہ میری شلوار تھوڑی سی اتری ہوئی ہے اور اس نے بھی پینٹ کی زپ کھول کے لن نکال کر میری ٹانگوں کے درمیان ڈالا ہوا ہے اور آگے پیچھے کر کے پھدی پر لگا رہا ہے. بشریٰ باجی: تمہیں پتا ہی نہیں چلا تمہاری شلوار اتارنے کا ؟ کومل باجی: نہیں میں اتنی مست ہو رہی تھی کہ مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ کب اس نے اپنا لن باہر نکالا اور کب میری شلوار نیچے کی. بشریٰ باجی: پھر؟ کومل باجی: میں نے اس کو جلدی سے پیچھے کیا لیکن اس نے مجھے مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا اور ہونٹوں پر کس کر رہا تھا. میں تھوڑی دیر کوشش کرتی رہی پھر میں بھی اس کے لن کو اپنی ٹانگوں میں دبا کر پھدی پر رب کرنے لگ گئی. میں نے سوچا کہ کونسا اندر ڈال رہا ہے تو ایسے ہی مزے تو لوں. اس دوران اس نے دو تین بار لن پھدی میں ڈالنے کی کوشش کی لیکن ایک تو میں دیوار کا ساتھ لگ کر سیدھی کھڑی ہوئی تھو اور دوسرا میری ٹانگیںبھی زیادہ کھلی ہوئی نہیں تھی. تو بس مجھے اس کا لن اپنی پھدی پر زور سے رب ہوتا محسوس ہوتا اور پھر پھسل جاتا. گرمی بھی بہت تھی اس لئے ہم دونوں پسینے میں ڈوبے ہوے تھے. تھوڑی دیر کے بعد اس نے میرے ہونٹوں کو چھوڑا اور گالوں سے کس کرتا کرتا میری گردن پر کس کرنا شروع کر دیا. گردن پر کس میرے لئے بلکل نیا تجربہ تھا. میں تو اور زیادہ پاگل اور مدہوش ہو گئی. گردن پر کس کرتے کرتے ہی اس نے مجھے گھمایا اور میرا منہ دیوار کی طرف کر کے میرے پیچھے سے گردن پر کس کرنے لگ گیا. اب میں دیوار کے ساتھ لگی ہوئی تھی اور وہ میرے پیچھے سے چپکا ہوا میری گردن پر بے تحاشا کس کر رہا تھا. اس کا لن جو پہلے آگے سے میری ٹانگوں میں پھدی کو لگ رہا تھا اب پیچھے سے میری ٹانگوں میں گھسا ہوا میری پھدی پر محسوس ہو رہا تھا. پہلے اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے کر کے مجھے پکڑا ہوا تھا اور میرے بوبز دبا رہا تھا. پھر وہ اپنا ایک ہاتھ نیچے لے کر گیا. اب اس کا لن کبھی میری پھدی پر لگ رہا تھا اور کبھی میری گانڈ پر چبھ رہا تھا. اس نے ایک دو بار لن پھدی میں ڈالنے کی کوشش کی لیکن لن پھدی پر لگ کر پھسل جاتا. میں اس دوران مزے میں مدہوش کھڑی ہوئی تھی. پھر اس نے مجھے اسی طرح پکڑے پکڑے دو قدم دیوار سے پیچھے کیا اور کندھے سے پکڑ کر آگے کو جھکا دیا. میں دیوار پر دونوں ہاتھ رکھ کر جھک گئی. بشریٰ باجی: اس نے تمہاری شلوار اتار دی. اپنا لن ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا اور تمہیں سمجھ نہیں آی کہ وہ کیا کرنا چاہ رہا ہے. کومل باجی: مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا کرنا چاہ رہا ہے. مجھے پتا تھا میری شلوار اتری ہوئی ہے اور اس کا لن بھی بار بار لگ رہا تھا. لیکن میں پھر بھی اس کو روک نہیں پا رہی تھی. میری تو مدہوشی میں یہ حالت تھی کہ اس کی ہر بات آنکھیں بند کر کے مان رہی تھی. بشریٰ باجی: اچھا پھر؟ کومل باجی: میں جیسے ہی دیوار پر ہاتھ رکھ کر جھکی تو وہ مجھ سے پیچھے ہٹ گیا اور پیچھے سے میری قمیض اٹھا کر میری کمر پر رکھی اور کمر سے دبا کر تھوڑا اور جھکا دیا. پھر پیچھے سے میری شلوار اور زیادہ نیچے کر دی. اس سے پہلے کہ میں کچھ ہوش میں آتی یا سمجھ پاتی کہ میرے پیچھے کیا چل رہا ہے. مجھے اس کا لن اپنی پھدی کو ٹٹولتا ہوا محسوس ہوا. پھر اس نے لن کو پھدی پر سیٹ کیا اور دونوں ہاتھوں سے میری کمر کو مضبوطی سے پکڑ لیا. کمر کو پکڑتے ساتھ ہی اس نے پیچھے سے لن کو دھکا لگایا اور اس کا لن میری پھدی میں گھس گیا. میں جو ابھی تک مزے میں مدہوش ڈوبی ہوئی تھی اس دردناک حملے کو برداشت نہیں کر سکی اور ہلکی سے چیخ مار کر کھڑی ہوگئی. اس نے مجھے کمر سے پکڑے رکھا اور دھکیلتے ہوے دیوار کا ساتھ لگا لیا لیکن لن کو پھدی سے نہیں نکلنے دیا. میں درد سے چلائی: نومی... یہ کیا کر رہے ہو.. باہر نکالو اسے بہت درد ہو رہی ہے اس نے مجھے اسی طرح مضبوطی سے پکڑے ہوے کہا: بس جان ہو گیا ہے .. بس بس .. تھوڑی سا اور کرنے دو .. تھوڑا جھکو یار. میں نے کہا: میری جان نکل رہی ہے.... پلیز چھوڑو مجھے.. پھر اس نے مجھے زبردستی جھکا کر تین چار بار پھدی میں لن آگے پیچھے کیا اور لن نکال کر پیچھے ہٹ گیا. مجھے بہت درد ہو رہا تھا تو میں وہیں اپنا پیٹ پکڑ کر زمین پر بیٹھ کر رونے لگ گئی. میں نے اسے دیکھا تو دوسری طرف منہ کر کے لن ہاتھ میں پکڑ کر ہلا رہا تھا. میں ہمت کر کے اٹھی اپنی شلوار اوپر کی اور کپڑے ٹھیک کر کے مڑی تو وہ اپنی پینٹ کی زپ بند کر رہا تھا. میں بس اس کو یہ کہ کر سیڑھیوں کی طرف آ گئی کہ تم جاؤ یہاں سے جلدی. میں پسینے سے شرابور ہو چکی تھی اور عجیب سے بدبو بھی آ رہی تھی. میں نیچے آتے ہی سب سے پہلے غسل خانے میں گھسی اور بیٹھ کر رونے لگ گئی. مجھے ایک تو اس پر غصہ تھا اور دوسرا درد کی وجہ سے بھی رونا آ رہا تھا. پھر میں آ کر سو گئی اور شام کو ہی اٹھی جاری ہے ...
  7. جیسا کہ میں نے نادیہ کا تفصیل سے بتایا کہ پہلی کوشس کامیاب نہیں ہوئی اور جگہ کی مناسبت، درد اور میری کچھ نا تجربہ کاری کی وجہ سے اس کی سیل بچ گئی اور وہ مجھ سے ناراض بھی ہو گیی. لیکن کچھ دنوں کے بعد فون سیکس کے دوران جب وہ بہت گرم ہو جاتی تو مجھے کہتی.. اس دن تم نے لن پھدی میں کیوں نہیں ڈالا؟ تو میں کہتا کہ جان تم رونے لگ گئی تھی نا اس لئے میں رک گیا. تو وہ کہتی کچھ بھی تھا لیکن تم ایک بار تو پورا اندر ڈال دیتے. اور اگلی ملاقاتوں میں بھی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ تیار ہے لیکن مناسب جگہ نہ ہونے کی وجہ سے تھوڑا ڈری ہوئی ہے. اور پھر جب اس کو اپنے گھر میں تنہائی میسر آیی تو اس نے مجھے بلایا اور میرے ایک بار کہنے پر وہ تیار ہو گئی اور سیل تڑوا لی. درد کی شکایت اور رونا اس دن بھی تھا لیکن بیڈ پر لٹا کر تسلی سے پھدی مارنے اور کسی پارک میں جلدی میں کھڑے کھڑے لینے سے بھی بہت فرق پڑتا ہے. خیر میری یہ بات اپنے تجربے اور مشاہدے کے حوالے سے تھی.لیکن کافی ایسی لڑکیاں بھی ہوتی ہیں جو کہ ہر حال میں شادی تک اپنا کنوارا پن بچا کر رکھنا چاہتی ہیں اور اپنے منگیتر تک کو شادی سے پہلے نہیں دیتی. نادیہ کے کیس میں جب ہماری بات شروع ہوئی تو اس کو سیکس کی الف ب بھی نہیں پتا تھی اور یہ وہ لڑکی تھی جو بچپن سے ہی کبھی اپنے کزنز کے ساتھ بھی بلکل بے تکلف نہیں ہوئی تھی. لیکن میرے ساتھ اس کو ایک ایسا بھروسہ مند دوست ملا جس کے سامنے وہ پوری طرح کھل کر اپنے اندر دبی ہوئی خواہشیں بیان کرتی تھی. اس نے مجھے یہ بھی کہا تھا کہ مجھے پتا ہے کہ میری تم سے شادی مشکل ہے لیکن میں نے دل میں سوچ لیا تھا کہ پہلی بار تم سے ہی کرواؤں گی.
  8. یہ تو بارہ تیرا سال پہلے کی بات ہے جب یہ پارک شروع ہوا تھا اور ہمارا زیادہ تر ویک ڈیز میں گرمیوں کی دوپہروں کو جانا ہوتا تھا تب تو بس پورے پارک میں پانچ سات گاڑیاں ہی ہوتی تھی اس لیے گاڑی سے اتر کر مکمل تنہائی مل جاتی تھی.. لیکن اس کے کچھ ہی مہینوں بعد وہاں رش بھی زیادہ ہو گیا اور کچھ فیملیز کی شکایات کی وجہ سے سختی بھی ہو گیی تو پھر وہاں جانے سے اجتناب ہی کیا.
  9. میری گرل فرینڈ جس کا میں نے پہلے ذکر کیا کہ جس سے فون سیکس ہوتا تھا. اس کا نام نادیہ رکھ لیتے ہیں. نادیہ سے ملاقات ہونا کافی مشکل ہوتا تھا کیوں کہ میرے پاس گاڑی نہیں تھی اور اس کو کالج چھوڑنا اور واپس لانے کی ڈیوٹی اس کے بھائی کی تھی. تو کوئی ایسا دن جب اس نے کالج اکیلے جانا یا آنا ہو اور مجھے بھی کسی دوست سے گاڑی مل سکے' مہینوں میں ایک دو بار ہی آتا تھا. اور پھر جب ایک ملاقات میں گاڑی میں ہی اس کو پہلی بار لن دکھایا اور سکنگ بھی کروائی.. اس کے بعد ہم دونوں میں ملنے کی شدت میں اور اضافہ ہو گیا کیوں کہ اب کچھ ایسی جگہوں کا معلوم ہو گیا تھا کہ جہاں گاڑی میں ہی کچھ دیر کے لئے مکمل سیکس نہ سہی لیکن اور بہت کچھ ہو سکتا تھا. اگلی دو ملاقاتیں ایک مہینے کے وقفے سے ہو سکیں جس میں مختلف جگہوں پر گاڑی روک کر کسنگ، ممے چوسنا، پھدی میں انگلی اور لن چسوانا تک ہی ممکن ہو سکا. میرا اس کی پھدی مارنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا تھا لیکن اس کے لئے مناسب جگہ اور نادیہ کے کنوارے پن کا فطری خوف ہمیشہ آڑے آ جاتا. لیکن وہ اس بات پر مان گئی کہ اگر موقع ملا تو بس اوپر اوپر سے لن پھدی پر لگانے دے گی لیکن اندر نہیں ڈلوا ے گی. کچھ دنوں بعد طے شدہ وقت کے مطابق میں نے اس کو کالج سے پک کیا اور گاڑی ولنشیا ٹاؤن میں گھمانے لگا اور ایک دو جگہوں پر تھوڑی دیر روک کر کسنگ کی اور ممے چوسے اور وہ بھی لن کے ساتھ کھلتی رہی. ابھی اس کے کالج کی چھٹی میں وقت تھا تو میں نے گاڑی رائونڈ روڈ پر ڈال دی. تھوڑا آگے جا کر مجھے وائلڈ لائف پارک کا بورڈ نظر آیا. میں نے سنا تھا کہ رائونڈ روڈ پر ایک نیا پارک بنا ہے لیکن کبھی آنا نہیں ہوا تھا. میں نے گاڑی اس کی طرف موڑ دی. وہاں جا کر معلوم ہوا کہ کافی بڑا پارک ہے اور گاڑی اندر لے جا سکتے ہیں اور پارک گاڑی پر ہی گھوم سکتے ہیں. نیا اور شہر سے دور ہونے کی وجہ سے پارک میں رش نا ہونے کے برابر تھا. میں نے ایک جگہ گاڑی روکی اور ہم دونوں باہر نکل کر چلنے لگے. مجھے ایک طرف گھنے درختوں کے درمیان جاتا ہوا راستہ دکھائی دیا اور میں اس کو لے کر وہاں چل پڑا. وہاں اندر گئے تو دور دور کوئی دکھائی نہیں دے رہا تھا میں نے اس کو گلے لگا لیا اور ہم نے کسنگ شروع کر دی. کسنگ کے دوران میں نے اپنا لن نکال لیا اور اس کی شلوار تھوڑا نیچے کر کے پھدی پر رگڑنا شروع کر دیا. نادیہ بولی اندر مت ڈالنا باقی جو مرضی کر لو. خیر میں شائد اس کی بات نا ہی مانتا لیکن میں پانچ چھ بار لن پھدی پر رگڑنے میں ہی فارغ ہو گیا. کچھ دنوں بعد دوبارہ ملاقات کا موقع بنا اور میں نے اس سے ایک رات پہلے اس شرط پر پھدی مروانے پر راضی کر لیا کہ زیادہ درد ہوا تو فورا نکال لوں گا. اگلے دن ہم سیدھے وائلڈ لائف پارک پہنچے اور میں گاڑی سے اتر کر اس کو پچھلی دفع والی جگہ لے گیا. وہ گھبرا رہی رہی لیکن میں اس کو تسلی دی. وہ ایک درخت پر ہاتھ رکھ کر کھڑی ہو گئی. میں نے پیچھے سے اس کی شلوار اتاری اور اپنے لن پر تھوک لگایا لیکن گرمی اور پیاس کی وجہ سے زیادہ تھوک نہیں نکلا. میں نے لن ڈالنے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ہوئی. پھر میں نے اس کو سیدھا کیا اور سامنے سے ڈالنے کی کوشش کی لیکن پھر بھی ناکامی کا سامنا ہوا. اس کا قد مجھ سے کم تھا اور پھر لن اور پھدی دونوں ہی زیادہ گیلے نہیں تھے. اس نے میرے لن پر تھوک لگایا اور ایک بار پھر میں نے اس کو جھکا کر پیچھے سے لن پھدی پر رکھ کر جھٹکا مارا. ابھی تھوڑا سا لن ہی پھدی میں گیا ہو گا کہ چیخ کر کھڑی ہو گئی. میں فارغ ہونے والا تھا تو اس کی ٹانگوں میں تین چار بار لن رگڑا اور فارغ ہو گیا. وہ پھدی پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ کر رونے لگ گئی. میں نے اس کو چپ کراتے کراتےگاڑی میں بٹھایا اور وہاں سے نکل گئے. راستے میں بھی وہ روتی رہی اور میں چپ کراتا رہا. تب مجھ پر کافی غصہ بھی ہو رہی تھی کہ تمہیں بس اندر ڈالنے کی پڑی ہوئی تھی میرے درد کا کوئی احساس ہی نہیں تھا اب آئندہ اندر ڈالنے کی بات بھی نہیں کرنا. بات تو اس کی بھی ٹھیک تھی اگر میں فارغ نا ہو جاتا تو اندر ڈالے بغیر نہ چھوڑتا لیکن میں نے اس کو یہی یقین دلایا کہ تمھارے درد کی وجہ سے میں نے اسی وقت چھوڑ دیا اگلی ملاقات ایک ہفتے میں ہی ہو گئی. لیکن اس میں اس نے بڑی منت سماجت کے بعد لن کو پھدی کے اوپر اوپر ہی رگڑنے دیا. میں نے بھی اسی پر اکتفا کیا اور پانچ دس منٹ مزے لے کر وہاں سے چل پڑے. اس دن میں نے اس کو درخت کے ساتھ جھکا کر پیچھے سے اس کی پھدی چیک کی. اس دوران میری نظر اس کی گانڈ کے سوراخ پر پڑی میں نے پیچھے سے پھدی کے ساتھ دو تین بار اس کی گانڈ پر بھی لن رگڑا. اس دن رات کو فون پر بات کرتے ہوے میں نے اس کو کہا کہ تمہاری گانڈ بڑی ٹائٹ ہے. تو وہ بولی مجھے پتا ہے تم وہاں بھی لگا رہے تھے. میں نے کہا تمہیں پتا ہے کہ لڑکیاں گانڈ میں بھی ڈلواتی ہیں. وہ اس بات پر حیران ہو گئی کہ گانڈ کے اندر بھی لن ڈالا جاتا ہے کیونکہ اس کے خیال میں گانڈ کے اندر لن جا ہی نہیں سکتا. میں نے پھر اس کو کچھ لڑکیوں کے گانڈ مروانے کے قصے سناے بلکہ یہ بھی بتایا کہ کافی لڑکیاں تو شادی سے پہلے صرف گانڈ ہی مرواتی ہیں تاکہ وہ سیکس کے مزے بھی لے لیں اور شادی کے وقت ان کی سیل بھی سلامت رہے. ہماری اگلی ملاقات تقریبا ایک مہینے تک نا ہو سکی لیکن اس دوران اس کو میں نے کافی حد ذہنی طور پر گانڈ مروانے پر تیار کر لیا. ایک دن ہفتہ کو دوپہر کے بعد اس کی کال آی کہ میں اپنی فرینڈز کے ساتھ لنچ پر جا رہی ہوں اگر ملنا ہے تو آدھے گھنٹے تک واپڈا ٹاؤن کے پاس والے مکڈونلڈ آ جاؤ. میں نے اپنے باس سے ایمرجنسی کا بہانہ بنا کر گاڑی اور چھٹی لی اور مکڈونلڈ پہنچ گیا وہاں سے اس کی فرینڈز کو کہا کہ میں نے کچھ شاپنگ کرنی ہے تو نادیہ کو ایک گھنٹے تک یہیں چھوڑ دوں گا. میں اس کو لے کر سیدھا وائلڈ لائف پارک کی طرف گاڑی بھگا دی. نادیہ نے کہا وہاں کیوں جا رہے ہو؟ وقت بھی کم ہے یہیں تھوڑی دیر گھوم پھرا کر مجھے واپس ڈراپ کر دینا. لیکن میں نے کہا کہ وہاں ذرا تسلی سے پیار کا موقع مل جاتا ہے. جب ہم وہاں پہنچے تو آج وہاں معمول سے زیادہ رش تھا اور کافی فمیلیز بھی آیی ہوئی تھی. ہماری مخصوص جگہ جہاں پچھلی تین ملاقیں ہوئی تھی وہاں بھی کچھ لوگ بیٹھے ہوے تھے. خیر تھوڑی دیر کی کوشش کے بعد پارک کے پچھلی طرف ایسی جگہ مل گئی جہاں کوئی نہیں تھا. میں درختوں کے ایک جھنڈ میں گاڑی روکی اور نادیہ کو لے کر باہر نکل آیا. ایک طرف درختوں کے پیچھے جا کر میں نے اس کو گلے لگایا اور کسنگ شروع کر دی. کسنگ کے ساتھ ساتھ ممے دبا رہا تھا. پھر نیچے سے لن نکالا اور اس کی شلوار نیچے کر پھدی پر رگڑنے لگا. تھوڑی دیر بعد اس کو گھمایا اور پیچھے سے اس کی ٹانگوں کر درمیان سے لن اس کی پھدی پر رگڑنے لگا اور ساتھ ہی پیچھے سے اس کی گردن پر کسنگ کرتا رہا اور ممے بھی دباتا رہا. اس سے وہ بہت گرم ہو گئی. میں نے سوچا لوہا گرم ہے تو کسنگ کے ساتھ ساتھ ہی میں نے نیچے سے لن اس کی پھدی پر سیٹ کیا اور اندر ڈالنے کی کوشش کی جو ناکام رہی اور نادیہ بھی کہنے لگ گئی کہ اندر کیوں ڈال رہے ہو. اوپر اوپر کرو اندر نہیں ڈالنا. تو میں نے اس کو کہا کہ ایک بار ڈالنے دو اگر درد ہوا تو نکال لوں گا..لیکن وہ نہیں مانی. میں نے پھر سے اس کو پیچھے سے پکڑا، لن ٹانگوں کر درمیان سے پھدی پر رگڑنا شروع کیا، ایک ہاتھ سے ممے دبانے لگا اور گردن پر کسنگ کرنے لگا. اس پوزیشن میں وہ پھر بہت جلد گرم ہو گئی. میں نے اس کو کان پر کس کرتے ہوۓ بولا: جان گانڈ مار لوں؟ وہ مجھے منع کرنے لگی تو میں نے کہا دیکھو تم نے پھدی میں ڈالنے سے روکا تو میں نے دوبارہ نہیں ڈالا. اب میری بھی ایک بات مان لو اور گانڈ میں تو ڈالنے دو. وہ بولی ٹھیک ہے لیکن درد ہوا تو نکال لینا. میں اس کو وہیں درخت پر ہاتھ رکھ کر جھکایا اور پہلے اس کی گانڈ اور پھر اپنے لن پر کافی تھوک لگایا اور آرام آرام سے لن گانڈ میں اتار دیا. اس دوران وہ درد کی شکایت کرتی رہی لیکن اس نے مجھے نکالنے کا نہیں کہا بس یہ کہتی رہی .. سی.. سی.. آرام آرام سے ڈالو.. میں نے بھی کوئی جلد بازی نہیں کی اور آرام سے ہی ڈالا.. مجھے بھی ویسے حیرت ہوئی کہ پہلی بار اس نے گانڈ آرام سے مروا لی. شاید وہ اس کے لئے کچھ ذہنی طور پر تیار تھی. ایک دو منٹ میں ہی فارغ ہو گیا لیکن اتنا ہی کافی تھا اس دن کر مزے کے لئے.. اس کے بعد اگلی دونوں ملاقاتیں وہیں پارک میں ہوئی اور دونوں بار اس کی گانڈ ماری پھر ایک بار اس کے گھر پر دو گھنٹے کے لئے کوئی نہیں تھا تو اس نے مجھے بلا لیا تب وہاں تسلی سے اس کی پھدی ماری اور سیل توڑی. تب اس نے بتایا کہ میں تو کب سے تم سے پھدی مروانے کو تڑپ رہی تھی لیکن پارک میں ممکن نہیں تھا. اس کے بعد بھی اس سے کافی بار سیکس کیا.. وائلڈ لائف پارک تو زیادہ محفوظ نہیں رہا کیوں کہ وہاں پولیس کے چھاپے کا بھی سنا تھا لیکن ہم نے اور گرد و نواح میں اور ایسی جگہیں ڈھونڈ لیں جہاں دس پندرہ منٹ کی مکمل تنہائی مل ہی جاتی تھی
  10. مجھے بھی اسی طرح کا ایک واقعہ یاد آیا تب میں چودہ پندرہ کا ہوں گا. ہمارے گھر چھٹیوں میں پھپھو رہنے کے لئے آئ. ان کی ایک بیٹی دس گیارہ سال کی ہو گی. اس پر تھوڑی ٹرائی ماری تو اس نے کچھ خاص مزاحمت نہیں کی. ان دنوں سردیاں تھیں تو اکثر میں وہ اور اس کا چھوٹا بھائی ایک ہی رضائی میں گھس کر باتیں کیا کرتے تھے. تب لائٹ بھی کافی جاتی تھی. جب بھی لائٹ جاتی تو میں اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پر رکھ لیتا اور اس کو دباتی رہتی. شلوار میں ویسے بھی الاسٹک ہوتی تھی اس لئے لن شلوار سے نکالنے اور اندر کرنے میں کوئی پرابلم نہیں ہوتا تھا. بظاہر ہم سب باتیں کر رہے ہوتے اور رضائی کے اندر دوسرا سین چل رہا ہوتا. یہ سب تب ہوتا جب لائٹ گئی ہوتی اور کمرے میں اندھیرا ہوتا تھا. رضائی کے اندر ہی میں کبھی لن اس کے آگے اور کبھی پیچھے بھی لگاتا تھا. دو تین دن کے بعد ایک بار رات میں جب لائٹ گئی تو میں نے اس کو رضائی کے اندر گھسا کر لن اس کے منہ میں ڈال دیا اور وہ بھی چوسنے لگی. اگلے دن شام میں بہانے سے اس کو میں نے چھت پر بلایا اور کمرے میں لے جا کر اس سے پھر وہی کھیل شروع کر دیا جو رات کو لائٹ جانے کے بعد رضائی میں ہوتا تھا. میرا دل کیا کہ اس کے اندر ڈالوں تب مجھے گانڈ مارنے کا ہی پتا تھا تو میں نے اس کو گھٹنوں کے بل کیا اور پیچھے سے لن پر تھوک لگا کر گانڈ میں ڈال دیا. ابھی تھوڑا سا ہی گیا تھا کہ وہ سیدھی ہو کر رونا شروع ہو گیی اور بولی میں اپنی امی کو بتاؤں گی.. میں تو ڈر ہی گیا بڑی مشکل سے اس کو چپ کرایا.. دس روپے دیے کہ اس سے اپنی مرضی کی چیز لے لینا تب جا کر وہ چپ ہوئی اور شکر ہے کسی کو بتایا نہیں. اس کا بعد میں نے اس کا ساتھ کچھ نہیں کیا اور نا ہی اس نے خود کچھ کیا. پرویز بھائی والا سبق ٹھیک ہے کہ کم عمر بچوں سے کسی قسم کی جنسی شرارت سے اجتناب کریں. اس میں پکڑے جانے اور جسمانی نقصان کا خطرہ زیادہ ہے.
  11. پرویز آپکے واقعات کافی سبق آموز ہوتے ہیں لیکن ایک بات میں نے نوٹ کی ہے کہ آپ نے ہمیشہ کال گرل سے سیکس کا ہی ذکر کیا ہے.. کیا کبھی کوئی گرل فرینڈ، کزن، ہمسائی یا کلاس فیلو کے ساتھ سیکس کا چانس نہیں بنا ؟ مجھے ذاتی طور پر کال گرل سے سیکس کرنے کا کوئی شوق نہیں اور نا ہی کبھی ایسی کوئی نوبت آئ کہ کال گرلز کا سوچا ہو. ایک بار میرا ایک قریبی دوست امریکا سے چھٹیوں پر آیا ہوا تھا تو اس نے اپنے گھر بلایا کہ دوسرا دوست بھی آ رہا ہے تو رات اکٹھے گزارتےہیں. موویز اور گپ شپ کریں گے. جب میں وہاں پہنچا تو اس کا کزن ایک لڑکی لے کر آیا ہوا تھا. دوست نے بتایا پوری رات کے لئے بک کی ہے اور تین بندوں کی بات بھی ہو گیی ہے. لیکن میں وہاں سے چلا آیا. حالاں کہ ان دنوں کوئی گرل فرینڈ بھی نہیں تھی اور کافی عرصے سے سیکس نہیں کیا تھا لیکن پھر بھی مجھے کال گرل کے ساتھ سیکس کا دل نہیں مانا.
  12. واقعی صحیح بات ہے. اتنی کہانیوں کو الگ الگ پلاٹ پر سوچنا اور وہ بھی بغیر کسی یکسانیت کے. اور پھر سب سے مشکل اور بورنگ مرحلہ ان کو لکھنا.. ڈاکٹر صاحب کی ہمت اور محنت کی جتنی پذیرائی کی جائے کم ہے..
  13. اس عمر کا عشق بھی بڑا خطرناک ہوتا ہے لیکن آپ کے کیس میں آپکے پاس صائمہ کی صورت میں ایک مستقل پھدی میسر تھی ورنہ اس کا اس طرح سے چھوڑ جانا آپ کے لئے بہت مشکل ہو جاتا. کنواری لڑکی کے ساتھ سیکس واقعی میں مزے سے زیادہ ندامت اور شرمندگی کا احساس ہوتا ہے اور لگتا ہے کہ پتا نہیں آپ لڑکی پر کتنا ظلم کر رہے ہو لیکن حقیقت میں بہت سی لڑکیاں یہی چاہ رہی ہوتی ہیں کہ ان کے رونے دھونے اور روکنے کے باوجود لڑکا اپنا کام مکمل کر لے.. بس اس میں یہ والی فیلنگ "کہ میں ہوں وہ پہلا جس کو اس لڑکی نے دی ہے" بیسٹ ہے..
  14. یہ تو میں نے اس سے پہلی ملاقات کا واقعہ بتایا ہے جب اس کو لن کے درشن کراے تھے. اس کے بعد تو یہ سلسلہ چل پڑا تھا اور کبھی جوہر ٹاؤن کی سنسان گلیوں میں تو کبھی ویلنشیا ٹاؤن کی ویران سڑکوں پر اور کبھی جلو پارک میں.. جہاں جہاں موقع ملا ممے بھی چوسے، سیکس بھی کیا بلکہ اس کی گانڈ بھی ماری.. اس کی آگے پیچھے کی سیل میں نے ہی توڑی تھی.
  15. میری ایک گرل فرینڈ تھی جس کو سیکسی کہانیاں سننے کا بڑا شوق تھا.. میں نے ڈاکٹر صاحب کی کئی کہانیاں اس کو سنائیں.. اس کو سب سے زیادہ "ایک عام سی لڑکی" پسند تھی. وہ بار بار وہی سننے کی فرمائش کرتی. خاص طور پر اس میں نائلہ اور افضل کے درمیان چھت پر ہونے والا پہلا سیکس سین تو بہت ہی کمال تھا. سین کی پلاٹنگ اور ڈائلاگ حقیقت سے قریب تر تھے. ایک بار وہ گھر پر اکیلی تھی اور مجھے بلا لیا تب اس نے اور میں نے اسی سین پر رول پلے سیکس کیا تھا اور بہت مزے کا اور منفرد تجربہ رہا.
×
×
  • Create New...