Jump to content
URDU FUN CLUB

khoobsooratdil

Junior Moderators
  • Content Count

    2,943
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    42

khoobsooratdil last won the day on April 8

khoobsooratdil had the most liked content!

Community Reputation

761

About khoobsooratdil

  • Rank
    Super Moderator

Profile Information

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. *وبا* پچھلے ایک مہینے سے ڈاکٹر جوزف اپنی زیر زمین لیبارٹری میں ایک خاص محلول تیار کر رہے تھے... سارہ نامی ایک عیسائی خاتون جو ان کے ساتھ مکمل مدد کر رہی تھی... آج بھی وہ ڈاکٹر جوزف کی مطلوبہ چیزیں لے کر آئی تھی.. اور پھر ڈاکٹر جوزف کے ساتھ ہی چند کام کروانے لگی گئی تھی، ڈاکٹر جوزف آج خلاف معمول بہت پُرجوش نظر آتے تھے، "میں نے کر دکھایا...وہ مجھ سے بہت خوش ہوں گے.." وہ سرنج میں محلول ڈالتے ہوئے....سارا کو مخاطب کر کے اس کی طرف دیکھے بغیر کہے جا رہے تھے.. "میری سالوں کی محنت آخر آج مکمل ہو گئی..." سرنج میں اب ایک پیلا سا محلول موجود تھا... سارا..جلدی سے "میرے مونکی" کو لے کر آو..!! سارا نے لیبارٹری کے ہی دوسرے حصے سے جہاں کافی سارے پرندے اور جنگلی جانور موجود تھے.. وہاں سے ایک بندر جو ابھی چھوٹا سا ہی بچہ ہو گا.. اس کو پنجرے سمیت ہی لے آئی... ڈاکٹر جوزف نے پنجرے کو کھول دیا..اور بندر کے گلے میں پٹہ ڈال کر اس کو لیبارٹری کے دوسرے حصے میں جہاں ہسپتال جیسے آپریشن تھیٹر کی طرح کی تمام مشینین فِٹ تھی..وہاں لا کر لٹا دیا.. سارا نے مدد کرتے ہوئے.. بندر کے دونوں ہاتھوں اور لاتوں کو بیڈ کے دائیں بائیں کی رسیوں سے باندھ دیا.. اب بندر مکمل بیڈ پر بندھ چکا تھا.. ڈاکٹر نے مختلف آلات کو اس کے ساتھ جوڑ دیا.. پھر پیلے محلول کا انجیکشن بندر کی گردن کے بائیں طرف لگا دیا... اور چند دوسرے انجکشن لاتوں اور بازوؤں میں لگا دیے... بندر اب تڑپ رہا تھا.. ڈاکٹر جوزف مسلسل بندر کا بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن نوٹ کر رہا تھا.. ابھی تک دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر نارمل ہی تھا... پھر اچانک ہی بندر کا بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن ایک ساتھ ہی بڑھنا شروع ہو گئے.. ڈاکٹر جوزف نے تیزی سے چلاتے ہوئے کہا :- "اس کو ہارٹ اٹیک آ رہا ہے".. ڈاکٹر جوزف نے فورا ہی چند خاص انجیکشن بندر کو لگائے اور پھر سینے پر کرنٹ کے جھٹکے دینا شروع کر دیے.. چند لمحوں تک بندر کی دل کی حرکت نارمل ہو گئی...اب ڈاکٹر جوزف کچھ پریشانی سے ایک طرف بیٹھ کر سارا سے کہنے لگے..کہ میں نے سرٹیفائڈ فارمولے کی مدد سے محلول تیار کیا تھا.. لیکن مجھے لگتا ہے کہ شاید کچھ غلطی ہو گئی.. پتہ نہیں..مجھ سے کہاں کمی ہوئی..اب اس کا ری ایکشن کیا ہو گا....؟؟" ڈاکٹر جوزف اپنے گھنگھریالے بالوں کو سختی سے مسلنے لگا.. اچانک لیب میں سائرن بجنے لگے ڈاکٹر جوزف تیزی سے اٹھے شاید کسی نے لیب میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی.. ڈاکٹر جوزف تیزی سے مرکزی حال میں پہنچے... سکرین میں مختلف مقامات کے مناظر چل رہے تھے..ایک منظر میں سیڑھیوں کی طرف سے چند نقاب پوش نیچے اتر کر آ رہے تھے.. ڈاکٹر نے فورا واپس آپریشن تھیٹر کی طرف دوڑ لگائی.. اور سارا کو جلدی سے ایک انجکشن لانے کا کہا... "مجھے اس کو زہر دینا ہو گا.. یہ بندر ہمارے لئے خطرناک ہے.." سارا چند لوگ لیبارٹری میں داخل ہوئے وہ یہاں کیسے آئے..؟؟ "مجھے نہیں پتہ..ڈاکٹر" سارا نے جلدی ہی زہر والا انجکشن بھر دیا.. جوزف نے انجکشن سارا کے ہاتھ سے جھپٹا اور بیڈ کے طرف بھاگا ہی تھا کہ نقاب پوش کمرے کے دروازے تک پہنچ گئے.. قریب تھا...کہ ڈاکٹر انجکشن لگا دیتا.. ایک نقاب پوش نے فورا ہی ڈاکٹر کی طرف فائر کیا جو ڈاکٹر کی ٹانگ میں لگا.. ڈاکٹر گر گیا..لیکن ڈاکٹر نے ٹیکا نہیں چھوڑا.. ڈاکٹر اٹھنا چاہتا تھا.. مگر درد کی وجہ سے ہمت جواب دے گئی.. "کون ہو تم...؟" ڈاکٹر جوزف چلایا نقاب پوش نے جوزف کی طرف دیکھا..اور ہنستے ہوئے کہا.. "میم سارا کے مہمان ہیں" ڈاکٹر نے بے یقینی کی کیفیت میں سارا کی طرف دیکھا..جو اب آرام سے ڈاکٹر کی طرف چلی آ رہی تھی.. "سوری ڈاکٹر مگر مجھے یہ کرنا پڑا.. یہ بندر ہمارے لئے بہت اہم ہے.. میں بہت عرصے سے اسی لئے تمہارے ساتھ تھی.." ڈاکٹر کا خون مسلسل بہہ رہا تھا.. سارا ڈاکٹر کے قریب پہنچ گئی اور جیسے ہی ٹیکا لینے لگی ڈاکٹر نے ٹیکا سارا کے بازو میں گھونپ کر زہر سارا کے جسم میں اتار دیا.. ساتھ ہی نقاب پوش نے ڈاکٹر پر فائر کھول دیا.. ڈاکٹر تڑپ کر مر گیا.. اور ساتھ ہی سارا بھی لمبے سانس لینے لگی.. اس کی آنکھیں لال ہو رہی تھی.. اب اس کے منہ سے جھاگ نکلنے لگ گئی تھی.. نقاب پوش "میڈم میڈم" پکارتے سارا کے پاس پہنچا.. سارا کی بالآخر تکلیف سے تڑپتے ہوئے گردن ایک طرف ڈھلک گئی.. نقاب پوش نے نبض دیکھی..وہ رک چکی تھی.. .. آہ گولی چلانے والے نقاب پوش نے چیخ ماری.. "ڈاکٹر جہنم میں جاو تم.." آہ میڈم.. "چلو جلدی سے بندر کو کھولو ہم اسے اپنے ساتھ لے کر جا رہے ہیں، میڈم نے کہا تھا جنگل کے قریب لے کر جانا ہے اسے" ساتھ آئے تینوں نقاب پوش جلدی سے بندر کی طرف بڑھے اور اس کو رسیوں سے آذاد کیا اور پٹے سے پکڑ لیا.. بندر اب بے ہوش تھا.. ان میں سے ایک نے اسے ایک گتے کے کارٹن میں ڈالا اور اسے ٹیپ لگا دی.. اب وہ جلدی سے باہر کی طرف بھاگ رہے تھے... خفیہ لیبارٹری جو باہر سے ایک عام گھر کی طرح نظر آتی تھی.. یہ سب اس سے باہر آ کر جلدی سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھے.. کارٹن کو انہوں نے کار کی ڈگی میں ڈال دیا.. ان کا جو باس تھا..وہ سخت پریشانی میں تھا.. اس نے جلدی سے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی بقیہ تینوں بھی جلدی سے بیٹھ گئے... گاڑی کو تیز رفتاری سے اس نے وہاں سے نکالا.. اب یہ جنگل کی طرف جا رہے تھے..دو گھنٹے کے بعد یہ جنگل میں موجود تھے.. کافی دیر انتظار کرتے رہے مگر کوئی بھی ان سے ملنے نہیں آیا.. اب نقاب پوش سخت غصے میں تھا.. وہ ابھی بھی ڈاکٹر کو برا بھلا کہہ رہا تھا.. "ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن موجود ہے کیا..؟؟" اس کے ایک ساتھی نے پوچھا.. میڈم نے مجھے صرف یہی بتایا تھا.. شِٹ اب ہم اس بندر کا کیا کریں گے..؟؟ مِشَن فیل ہو گیا.. "نو پرابلم برادر..." ان میں سے ایک اور بولا.. لیکن باس نے اس کی بات کاٹتے ہوئے غصہ سے کہا:- "ہم نے سیکیورٹی رسک لیا، ہم نے ایک خفیہ لیبارٹری پر حملہ کیا..!! ہمارا کام صرف بندر کو اغواء کرنا تھا..!!! اب وہاں دو قتل ہو چکے ہیں.. ہم بہت خطرے میں ہیں... اب جلدی سے کارٹن اٹھاؤ، جنگل میں چلتے ہیں رات ہم یہی رکیں گے...'' .. چاروں نے گاڑی وہی چھوڑی...اور بندر کا کارٹن نکال کر جنگل کی طرف چل دیے.... کافی دیر چلنے کے بعد جنگل میں ایک جگہ... ان کو ایک چھوٹا سا ریسٹورنٹ نظر آیا جو جنگل میں آنے والے شکاریوں کے لئے بنایا گیا تھا.. یہاں کوئی بھی نہیں تھا.. رات انہوں نے یہاں ہی گزارنے کا فیصلہ کیا.. ان میں سے ایک نے کارٹن کھولا..ٹیپ اتاری، بندر اب بھی بے ہوش ہی تھا.. دروازے کے ساتھ انہوں نے بندر ،کی رسی کو باندھ دیا..اب وہ نقاب اتارنے لگے.. ان میں سے باس چھوٹی آنکھوں اور پھینی ناک والا تھا..بقیہ تینوں لمبے بالوں والے تھے..جو باس سے بالکل مختلف تھے.. ہم صبح تک دیکھیں گے شاید میڈم کی ٹیم آ جائے ہم ان کو یہ بندر دے دیں گے... صبح بھی بندر اسی طرح بے ہوش تھا.. ایک نے جب اس کو ہاتھ لگایا تو..بندر کا جسم سخت ہو چکا تھا.. "اوہ باس یہ تو مردہ..ہے.." یہ چلایا... باس ساتھ والے کمرے میں پہلے ہی جاگ کر نکلنے کی تیاری کر رہا تھا.. جیسے ہی اسے چیخنے کی آواز آئی اس نے دوڑ لگائی.. "باس وہ مر چکا" "اوہ شِٹ...اب ہم کیا جواب دیں گے.. شِٹ شِٹ شِٹ" باس اب چیخ رہا تھا.. اب ہم واپس جا رہے ہیں.. تم اب اپنے ٹھکانوں کو چلے جاو..کچھ دنوں تک ہم ایک دوسرے سے ملیں گے نہیں، ہاں اس بندر کو بھی جنگل میں کہی پھینک دو..جلدی..، ان میں سے ایک نے بندر کو واپس کارٹن میں ڈالا. . اور پھر وہ سب جلدی جلدی وہاں سے نکلے.. ایک جگہ پر گڑھے میں بندر کو پھینک دیا.... جنگل سے باہر آ کر انہوں نے گاڑی سٹارٹ کی، اب سب نے نقاب اتار دیا تھا.. باس نے بقیہ تینوں کو شہر میں مخلتف جگہ ڈراپ کیا..اور پھر خود اپنے فلیٹ کی طرف آ گیا.. ایک دو ہفتوں کے بعد اسے ایک پارٹنر کی کال آئی.. وہ بتا رہا تھا..کہ میں سخت تکلیف میں ہوں.. یہ اس سے ملنے گیا..اس کا سانس مشکل سے آ رہا تھا.. یہ اس کو ہسپتال لے کر گیا.. ڈاکٹر نے ٹریٹمنٹ شروع کی مگر رات کو سانس کے اکھڑنے سے وہ مر گیا... "یہ مہینہ ہی منحوس ہے.." باس ابھی بھی غصہ میں تھا.. جب اس نے بقیہ دو پارٹنرز سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو ان سے رابطہ نہ ہو سکا.. اس نے ان کو ڈھونڈنا چاہا.. مگر وہ مل نہ سکے... .. دو تین دن بعد اس نے واپس اپنے ملک جانے کا فیصلہ کیا.. ... بارہ گھنٹے کے فلائیٹ کے بعد یہ اپنے ملک پہنچ چکا تھا... اپنے ملک کی آب و ہوا کا اثر تھا.. یا پتہ نہیں کیا تھا.. کہ اس کو ہلکا ہلکا نزلہ اور چھینکیں..تھی.. یہ چھ مہینوں بعد اپنی بیوی سے مل رہا تھا.. .. آج اس کو آئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا.. اس کی کھانسی شدید ہو چکی تھی.... اس نے ہسپتال جانے کا فیصلہ کیا.. اب اس کو سانس لینے میں بھی مشکل پیش آ رہی تھی.. ڈاکٹرز نے اس کو ہسپتال میں ایڈمٹ کر لیا.. دوائی وغیرہ اس کو دی گئی.. ایک دو دن بعد یہ ٹھیک ہو گیا.. مگر ٹھیک دو ہفتوں بعد اس کی بیوی کو ایسی ہی تکلیف ہوئی..مگر وہ بچ نہ سکی..کچھ دنوں بعد جس ملک سے یہ آیا تھا..وہاں بھی ایسے ہی بے شمار کیسز آ چکے تھے..لوگ مرنا شروع ہو گئے تھے.. اب یہاں بھی اس کی بیوی کے مرنے کے بعد، مختلف کیسز ہسپتال میں ری پورٹ ہو رہے تھے.. دونوں ملک ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہے تھے... ایجنسیز نے اس کو پکڑ کر پوچھ گچھ شروع کر دی تھی..کیوں کہ یہ اس بیماری کا پہلا مریض تھا... اس نے اپنی سفر کی ہسٹری بتائی... لیکن حالات اب قابو سے باہر ہو چکے تھے..یہ مرض اب پورے ملک میں پھیل چکا تھا.. ایک فیسٹیول کی وجہ سے،جس میں اس نے اپنی بیوی سمیت شرکت کی تھی، اب دوسرے ممالک میں بھی ایسے ہی کیس رپورٹ ہو رہے تھے... ایک وبا تھی،جو پھیل چکی تھی.. جو دھڑا دھڑ جانیں لے رہی تھی.. لیکن اس کو روکنے والا کوئی نہیں تھا....!! .. اُس کو ایجنسیز نے مسلسل تحویل میں لے رکھا تھا.. وہاں لیبارٹری میں ڈاکٹر جوزف اور سارا دونوں کی لاش سڑ گل گئی تھی... خفیہ لیبارٹریز کا یہی نقصان ہے جب تک اندر والا نہ چاہے کوئی اندر نہیں آ سکتا.. اب ان کی لاشوں میں ہزاروں سوالوں کے جواب موجود ہیں.. کاش وہاں جا کر کوئی معلوم کر لے... وہ پیلا سا محلول کیا تھا..؟؟ وہ کس نے تیار کروایا تھا...؟؟ سارا نے اغواء کیوں کرنا چاہا..؟؟ یہودی ڈاکٹر کس کے لئے کام کر رہا تھا... ؟؟ عیسائی لڑکی کس کے اشاروں پر چل رہی تھی..؟؟ شاید ان کے آقاؤں کو بھی نہیں پتہ اِن سے کیا غلطی ہو چکی.. شاید وہ آقا بھی اس معاملے میں اتنے ہی بے بس ہیں.. جتنا وہ "اغواء کار" جو ایجنسیز کے تحویل میں ہے... کاش کوئی تو منہ کھولے...!!!
  2. مولوی صاحب پر ڈیپریشن کا شدید حملہ ھوا تھا اور وہ رقت بھری آواز میں گڑگڑا گڑگڑا کر دعا مانگ رھے تھے یا اللہ . . . . میں بڑا ھی کمینہ بندہ ھوں ،،،،،، مجمعے نے زوردار آواز لگائی آمین ،، یا اللہ ،، میں بڑا " پاپی انسان " ھوں ،،،،، مجمعے نے نعرہ لگایا - آمین یا اللہ ھر صغیرہ کبرہ گناہ میرے اندر ھے ،،، مجمعے نے زور سے کہا - آمین یا اللہ میں ،،،،،،،،،،،،،،،،،، بات ابھی مولوی صاحب کے منہ میں ھی تھی کہ مجمعے نے فلک شگاف نعرہ بلند کیا - آآآآآآآآآآآآآآمــــین مولوی صاحب کا تراہ نکل گیا جس کے ساتھ ھی ڈپریشن ختم ھو گیا اور مولوی واپس آ گیا ،، کہنے لگے ،،،،،،،،،،، بے غیرتو تُسی وی کُج کیتا اے یا سارے گناہ میں ای کر چھڈے نےےےےےےے ؟ مجمعے نے کمزور سی آمین کہی یا اللہ راجہ صاحب کی دنبی کی قربانی قبول فرما اور اس کاثواب اس بکروال کو عطا فرما ،جس کی یہ دنبی راجہ صاحب نے چوری کی تھی ،،،،،،ایک آمین کم ھو گئ یا اللہ ملک صاحب جو شادی شدہ عورت بھگا کر لے گئے تھے وہ تینوں بچوں سمیت ان کو معاف فرما دےےےےے،،،،،،،ایک اور آمین کم ھو گئ یا اللہ ان بٹ صاحب کو دیکھ ،، چہرے سے ھی لگ رھا ھے ھفتے سے کچھ نہیں کھایا ،،یا اللہ ان کو وہ 20 کنال زمین معاف فرما جو یہ اپنی بیوہ بہن کی دبا کر بیٹھے ھیں اور وہ بیچاری پھٹے کپڑوںکے ساتھ گھر گھر کام کر کے روٹی کھاتی ھے ےےے،،،،،،،ایک اور آمین کم ھو گئ یا اللہ ،،،،، یا اللہ یہ اپنے حاجی صاحب جو صبح صبح اذان دیتے ھیں ، ٹھنڈے پانی سے وضو کر کے ،، ان کی اذان بھی قبول فرما ،، اور عصر کی نماز کے بعد جو دوسروں کی فصل چوری کاٹ کر اپنے مویشیوں کو ڈالتے ھیں اور اسی وضو میں مغرب کی نماز بھی پڑھتے ھیں ،، یا اللہ اتنا مضبوط وضو قبول و منظور فرماااااااآ ،،ایک اور آمین کم ھو گئ یا اللہ ، فیروز خان کی تراویح کو قبول فرما اور اس تراویحکے صدقے ان کا روزے نہ رکھنا معاف فرما دے ےےے،،،،،،،،ایک اور آمین کم ھو گئ یا اللہ محمد حسین کو گلے کے کینسر سے محفوظ رکھ جو لوگوں کے گائے بھینس کو آٹے میں سوئیاں کھلا دیتا ھے اور وہ بھوکے پیاسے تڑپ تڑپ کر ذبح ھو جاتے ھیں !ایک اور آمین کم ھو گئ !! میرے مولا لیاقت حسین کو مثانے کے کینسر سے محفوظ رکھ جو ھر اس گائے بھینس کے تھن درانتی سے کاٹ دیتا ھے جو اس کی فصل میں گھس آتی ھے !!مسجد میں سناٹا چھا گیا یا اللہ ان سب گنہگاروں کی روٹی کھا کھا کر مجھ ناچیز سے بھی جو گناہ سر زد ھو گئے ھیں ، ان سے درگزر فرما. . . سب کی طرف سے مجھ اکیلے کی آمین
  3. "صاحب جانے دو نا آج" چارپائی کی چیں چیں میں دبی دبی کراہتی نسوانی سی آواز نکلی، "پاگل ہو؟" اسنے ہانپتے ہوئے جواب دیا "حالات خراب ہیں باہر نہیں نکلنے دیتے نا ہی تیرے گاؤں کو لاریاں جا رہی ہیں. بس دو چار دن کی بات ہے سب ٹھیک ہوجائے گا پھر میں خود تیرے ابا کے پاس لے چلوں گا واپسی پر تیری مالکن اور بچوں کو بھی تو لانا ہے" لیکن... ششش اس سے پہلے بات پوری ہوتی اسکے ہونٹ جکڑ گئے. پندرہ دن پہلے تک سب ٹھیک تھا وہ بھی کتنی خوش تھی کہ شہر جاؤں گی وہاں ابا کے صاحب کی کوٹھی میں رہنا ہے جھاڑ پھونک ہی کرنی ہوگی نا، وہ تو اماں بھی کروائے رکھتی ہے، اوپر سے گالیاں الگ سننے کو ملتی ہیں... سب سکھیاں بھی تو جا چکی تھیں شہر کام کاج کے واسطے اسکو بھی سولہواں چڑھ گیا تھا یہی تو عمر ہوتی ہے پھر بڑے صاحب اتنے اچھے ہوتے ہیں کہ وہیں سے ڈولی میں رخصت کرتے ہیں اسکی سہیلی کرامتے بھی تو اسکے سیٹھوں نے ہی بیاہی تھی کتنی خوش ہے وہ اسکا گھر والا وہیں سیٹھوں کے گھر مالی ہے. کرامتے نے پچھلے مہینے بوڑھی ماں کو برقی مدھانی بجھوائی ہے. نا!!! میں تو نا کچھ بھیجوں... سب جوڑ کر رکھوں گی جب لوٹا کروں گی شہر سے تب بڑے بڑے نوٹ ہوں گے میرے پاس ماں بھی پھر گالیاں نہیں بکے گی. اگلے دن چار پرانے جوڑے ایک شاپر میں باندھے وہ بوڑھے باپ کے ساتھ نرم گھاس پر کھڑی میم صاحب کو نام بتا رہی تھی جی میرا نام سکینہ ہے سارے شنو بلاتے ہیں. ٹھیک ہے کرم دین تم جاؤ میں اسے کام سمجھا دوں گی میم صاحب نے اسکے باپ کو رخصت کیا اور صفیہ کو پیچھے آنے کا اشارہ کیا ابھی وہ ٹی وی لاؤنج میں پہنچے ہی تھے کہ خبر چل رہی تھی کسی وبا کے پیشِ نظر پورے ملک کو اگلے دن سے بند کیا جانا تھا ممکن تھا کہ کرفیو نافذ ہوجائے. میم صاحب نے آناً فاناً بچوں کو تیار کیا اور موقع کو غنیمت جانتے ہوئے میکے کا رخ کرلیا. جاتے ہوئے صاحب کو کال کردی کہ گاؤں سے کرم دین کی بیٹی آئی ہے اسے سرونٹ کوارٹر میں انکے واپس آنے تک رکھ لیں. یوں تو اور بھی ملازمین تھے لیکن سب شام کو گھر چلے جاتے تھے اب جو وبا پھوٹی تو انکو بھی جواب دے دیا گیا. شام کو صاحب گھر آئے تو سہمی سی صفیہ لان میں منہ لٹکائے بیٹھی تھی، تو تم ہو کرمو کی بیٹی میم صاحب تو اب ناجانے کب آئیں تم آج رات پیچھے سرونٹ کوارٹر میں رکو کل میں تمہیں گاؤں واپس بھجوا دوں گا. کتنی خوش تھی وہ کہ شہر رہے گی مگر یہ کمبخت وبا بھی اب ہی پھیلنی تھی. وہ اکیلی کمرے میں لیٹی ڈر دور کرنے کے لئے مختلف سوچیں دماغ میں گڈمڈ کر رہی تھی کہ یک دم بلی کے رونے کی آواز آئی وہ چیختی ہوئی کوٹھی میں داخل ہوگئی صاحب ابھی ٹی وی لاؤنج میں ہی تھے اسکو چیختا دیکھ وہ بھی ڈر گئے کیا ہوا؟؟؟ وہ... وہ... کچھ بتاؤ بھی وہ مجھے ڈر لگ رہا ہے وہاں صاحب جی پہلے تو غصے میں بیگم کو کوستے رہے پھر ناجانے کیا سوجھی اسے پاس آنے کا اشارہ کیا ج ج جی؟ وہ سٹپٹائی سی انکے پاس چلی گئی صاحب جی نے نہایت شفقت بھرے انداز میں گال چومتے ہوئے پوچھا نام کیا بتایا تھا تم نے بھلا وہ پلو سمبھالتے ہوئے لڑکھڑاتی آواز میں بولی جی شنو شن ۔شہناز بہت پیارا نام ہے یہ کہتے ہوئے انکی گرفت اور مضبوط ہوگئی، پہلے دو دن تو اسے ہوش ہی کہاں تھا ناجانے صاحب جی نے کس شے کی بوتل اسکے منہ کو لگائی تھی سوکھے حلق سے جیسے تیزاب سا گزر گیا ہو پھر اسے یاد نہیں کہ وہ کہاں ہے خوابوں میں وہ گاؤں کی جانب چلی جا رہی ہے سفر ہے کہ ختم نہ ہوتا. پھر اسے ہوش آنے لگا وہ التجائیں کرتی رہی کہ باپ کے پاس جانے دو صاحب جی دلاسہ دے کر پھر سے وہ بوتل منہ کو لگا دیتے آج بھی یہی سب چل رہا تھا ناجانے کیوں آج اس پر شراب کا اتنا اثر نہیں ہورہا تھا. وہ رات بھی گزر ہی گئی اگلے دن ایمبولینس گھر کے باہر کھڑی تھی ساتھ میں چند افراد مکمل جسم ڈھانپے سپرے کرتے ہوئے سرونٹ کوارٹر سے سپھو کی لاش اٹھانے کو بڑھ رہے تھے کہتے ہیں وہ اپنے ساتھ گاؤں سے کوئی وائرس لائی تھی جسکا پتا دو ہفتوں بعد لگتا ہے اب چونکہ وہ نابالغ تھی بروقت علاج نا ہونے پر جان کی بازی ہار گئی. کہتے ہیں ایسی میت کو بغیر غسل کے دفنا دیا جاتا ہے گھر والوں کو بھی دیکھنے کی اجازت نہیں ہوتی. سیٹھ احمد اس وبا سے بچ گئے کیونکہ وہ کبھی سرونٹ کوارٹر گئے ہی نہیں تھے.
  4. کہاں میرے بوبز کی جان لیوا لکیر۔۔۔۔ا اورکہاں تم، لکیر کے فقیر۔۔۔
  5. بہت زبردست کہانی ہے سیما جی واقعی کہانیوں کی روٹین سے ہٹ کے شائد افسانہ ٹائپ کی ہے مگر بہت مزا آیا پڑھتے ہوئے الگ ہی طرح کے نام جو اعضائے مخصوصہ کو دیے گئے وہ بھی پر لطف تھے مزید کی بھی امید ہے آپ سے اور پلیز کچھ شاعری بھی پوسٹ کریں بہت شدت سے انتظار ہے
  6. سوانجنا @سوانجھڑو 82 سال کی عمر میں فٹنس چاہتے ہیں تو یہ چند پتے کھالیجئے! اس وقت شاہ صاحب نے اس درخت کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ اس درخت کے خشک پتے ہماری خوراک ہوتی تھی۔ ہم صبح ہتھیلی بھر کر پانی کے ساتھ یہ کھا لیتے تھے اور پھر دن بھر کسی چیز کی طلب نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی کوئی کمزوری ہوتی۔ یہ ہم سادھوئوں کی خوراک تھی میں ایک دن انٹرنیٹ پر نئی تحقیق کی فائلیں چھان رہا تھا کہ میری نظر ایک فائل پر پڑی The Miracle Tree ’’یعنی معجزاتی درخت‘‘ میں فوراً اس کی طرف لپکا اور اسے پڑھنا شروع کیا، کہ یہ معجزاتی درخت 300بیماریوں کا کامل علاج ہے جو کسی نہ کسی غذائی کمی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ اس درخت کے خشک پتے 50گرام طاقت میں برابر ہیں۔ 4گلاس دودھ، 8مالٹے، 8 کیلے، 2پالک کی گڈیاں، ۲کپ دہی،18ایمائنو ایسڈز، 36 وٹامن او 96اینٹی اوکسیڈینٹ ‘میں حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا کہ یہ پودا کتنا طاقتور ہے، سبحان اللہ، وٹامن اے گاجر میں بہت زیادہ ہے مگر اس میں چار گناہ زیادہ ہے۔ فولاد پالک میں بہت زیادہ ہے مگر اس میں چار گناہ زیادہ ہے۔ پوٹاشیم کیلے میں بہت زیادہ ہے مگر اس میںتین گنا زیادہ ہے۔ وٹامن سی مالٹے میں بہت زیادہ ہے مگر اس میں سات گنا زیادہ ہے اسی طرح ان افادیت کی ایک لمبی فہرست ہے، جب اتنے فوائد پڑھ چکا تو درخت کی شناخت کی فکر پیدا ہوئی۔ بالکل سمجھ نہ آئے کہ کون سا پودا ہے، گرم ماحول اور ریتلی زمین میں آسانی سے کاشت ہوتا ہے۔ میں پہلے تو یہی سمجھا کہ یہ درخت اسی امریکن خطے کا کوئی پودا ہے آن لائن سرچ میں اس کے بیج دیکھے جودس ڈالر کےصرف بیس بیج تھے۔ سوچا پاکستان لے چلوں اور اپنے ملک میں اس نادر پودے کو لگائو، اگلی رات یہ میرے ذہن پر ایک نقش کی طرح سوار رہا۔ میں نے صبح دوبارہ اس کا نام جاننے کی کوشش کی تو گوگل پر ایک لمبی لسٹ آئی اس میں اس درخت کا نام پڑھ کر جھٹکا سا لگا کہ یہ درخت اتنی اہمیت کا ہے، گائوں کے لوگ اس کی پھلیوں کا اچار ڈالتے رہے اور پرانے لوگ نظر تیز کرنے کیلئے سرمہ میں اس کا جوس ڈالتے تھے، اندھراتا (شب کوری) میں مستند سمجھا جاتا تھا۔ کاش وہ لوگ اس وٹامن اے کے خزانے کے راز سے واقف ہوتے، میں نے پہلی بار یہ درخت چالیس سال قبل ایک درویش سید میراں شاہ مرحوم کے باغ میں دیکھا، انہوں نے اس کا تعارف کچھ اس طرح کروایا کہ آئو آپ کو آج اپنے باغ کی سیر کروائوں‘ وہ مختلف پودوں پر سیر حاصل بات کرتے ہوئے جب اس درخت کے قریب پہنچے تو فرمانے لگے میری عمر سو سال کے لگ بھگ ہے میں نے جوانی سادھو کے بھیس میں کئی ملکوں کا سفر کیا، ہم لوگ برما، انڈونیشیا، ملائیشیا میں پیدل پھرے، چونکہ اس لمبے سفر میں اپنے ساتھ زیادہ خورددنوش کا سامان نہیں ہوتا تھا۔ اس وقت شاہ صاحب نے اس درخت کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ اس درخت کے خشک پتے ہماری خوراک ہوتی تھی۔ ہم صبح ہتھیلی بھر کر پانی کے ساتھ یہ کھا لیتے تھے اور پھر دن بھر کسی چیز کی طلب نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی کوئی کمزوری ہوتی۔ یہ ہم سادھوئوں کی خوراک تھی۔ میں نے دل ہی دل میں اسے اتنی اہمیت نہ دی، اور آگے بڑھ گئے، اب کئی برس کے بعد میں پاکستان پہنچا تو خصوصی طور پر شاہ کے باغ میں گیا اور اس عظیم پودے کو دوبارہ دیکھا اور اپنی نادانی پر خفت ہوئی۔ دوستو! اب میرا یہ ماننا ہے کہ جس صحن میں یہ درخت نہیں وہ گھر صحت مندنہیں۔ میں نے 2010میں پہلی بار یہ دوا اپنے دوست احسان صاحب کو ان کی والدہ کی بیماری پر تجویز کی، احسان صاحب کہنے لگے والدہ کی عمر 82سال ہے اور ان کے جسم میں بہت کمزوری آچکی ہے اب کھڑا ہونا ہی مشکل ہورہا ہے۔ میں نے تفصیل سے انہیں اس پودے کا بتایا کیونکہ وہ بانٹی میں ڈگری ہولڈر ہیں۔ انہوں نے اس کی تفصیل پڑھی اور والدہ کو استعمال کروائی ایک دن احسان صاحب نے بتایا کہ والدہ بالکل ٹھیک ہیں صحت اتنی بہتر ہوئی کہ انہوں نےرمضان کے روزے بھی رکھے پھر اس دوا سے اپنے خاندان کے21 آدمیوں کی شوگر کنٹرول کرکے صحتمند ڈگر پر لے آئے۔ لاہور میں ایک حکیم صاحب کو بتانے کی دیر تھی انہوں نے تین سو گرام سوہانجنا پائوڈر کے 6 ہزار روپے ذیابیطس کے علاج کے لینے شروع کردیئے، حالانکہ بہاولپور کے علاقہ میں یہ خودرو جنگل کے طور پر ہیں، اب فیصل آباد زرعی یونیورسٹی اس کا لٹریچر عوام میں تقسیم کررہی ہے، اور فری بیج بھی دیئے جارہے ہیں‘ آن لائن بھی اس کا لنک موجود ہے بہرحال میں نے یہاں امریکہ میں ۲۵ ڈالر میں ایک پائونڈ پائوڈر خریدا ہے۔ اس کے خشک پتوں کا قہوہ پریشانیوں اور دبائو میں سکون بخشتا ہے اور بھرپور نیند لاتا ہے، قبض کے مریضوں کے لئے آب حیات ہے، خون کی کمی کی وجہ سے چہرے کی چھائیوں کو بھگانے میں تیر بہدف ہے، کسی بھی طرح کی کمزوری کا واحد حل ہے، حاملہ عورتوں اور بچوں کو بھی استعمال کروایا جاسکتا ہے، افریقہ کے قحط کے دوران ایک چرچ نے یہ پودے غذائی کمی کے شکار لوگوں میں تقسیم کئے، پھر دیکھتے ہی دیکھتے ساری دنیا اس کی گرویدہ ہوگئی آئیے آج ہی سوہانجنا کا پودا گھر میں لگا کر صحتمند زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔ یہ پودا ۳۰۰ بیماریوں کا علاج جو غذا کی کمی کے باعث کسی نہ کسی روپ میں ابھرتی ہیں۔ اب اس طاقت کے خزانے کا راز اب تک پہنچ چکا ہے جسے تمام عمر استعمال میں لانا اور اگلی نسل کو منتقل کرنا ہے۔ نوٹ۔ یہ دوا بطور غذا گھروں میں رواج دیں اور صحتمند نسلوں کے مربی بنیں غیر فطری علاج اسٹیرائیڈ آرٹی فیشل وٹامنز کی رنگ برنگی دوائیوں کی بجائے قدرت کے اس خزانے سے فائدہ اٹھائیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسے انسان کے لیے صحت کے ایک خزانے کی شکل میں پیدا کیا ہے
  7. تھینکس سیماب جی مجھے شدت سے آپ کی شاعری کا انتظار ہے جہاں پہلے پڑھی تھی وہاں سے تو ڈیلیٹ ہو چکی اب پلیز یہاں کچھ شئیرنگ کر دیں
  8. کی رولا پایا اے یار اپنا منہ ویکھ جیویں دو صفحے آلی کاپی ہندی اے
  9. ویلکم سیماب جی آپکی بولڈ شاعری کے فین ہیں ہم پلیز کچھ ہمارے ساتھ بھی شئیر کریں
  10. کہانی کی شروعات تو اچھی ہے ایک بہترین معاشرتی ٹاپک نظر آ رہا ہے مگر ایک تو اپڈیٹ بہت سلو ہے اور دوسرا یہ درخواست ہے کہ ایک سین شروع کیا ہے تو کم از کم اس کو مکمل کر کے انتظار کروائیں اب سہاگ رات کے سین کو بیچ درمیان میں چھوڑ کے غائب ہو گئے یہ چیز مزے کو کرکرا کرنے والی ہے اور پلیز اپڈیٹ میں ڈاکٹر صاحب سے مقابلہ مت کیجیے گا
×
×
  • Create New...