Jump to content
URDU FUN CLUB

rameez

Active Members
  • Content Count

    35
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    2

rameez last won the day on March 23

rameez had the most liked content!

Community Reputation

42

1 Follower

Profile Information

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. admin sir aap sea aek request ki hea via e mail
  2. میڈم عفیفہ کہنے لگیں یار ہم لوگ لاہور کے رہنے والے ہیں،۰۲ سال کی عمر میں میری شادی ہوئی اور میں اسلام آباد آگئی۔ میری تعلیمی قابلیت اس وقت ایف اے تھی اور میرے میاں وزارت تعلیم میں اسسٹنت تھے۔ میرے میاں نے مجھے شادی کے بعد بی اے کروایا اور پھر بی ایڈ بھی کروایا۔ ۸ سال بعد میرے میاں نے محکمانہ ترقی کا امتحان دیا اور سییکشن آفیسر ہوگئے اور ہمیں یہ والا گھر مل گیا۔ اس وقت بندے کم تھے اور اسلام آباد میں نوکریاں زیادہ تھیں میرے میاں نے مجھے ٹیچر کروادیا۔ بعد میں ہمیں یہ بڑا مکان مل گیا۔ جب میں ۵۳ سال کی تھی یعنی میری شادی کے ۵۱ سال بعد میرے میاں کی ڈیتھ ہوگئی، اس وقت کچھ رشتہ داروں نے مدد کی اور یہ مکان مجھے مل گیا۔ میاں کے انتقال کے ۳برس بعد تک تو مجھے زندگی کی صحیح سمجھ ہی نہیں آئی۔ لیکن بعد میں ہر رات کو میاں کی کمی کھلنے لگی۔ مگر میں نے بڑے صبر سے کام لیا۔ ۳ سال بعد لاہور میں ایک شادی تھی میں بچوں کو لے کر امی کے گھر چلی گئی۔ بیوہ ہونے کے بعد میرا اچھی طرح سے تیار ہونے کو دل نہیں کرتا تھا لکین میری بھابی نے مجھے ضد کرکے تیار کردیا۔ ہم مہندی کی تقریب میں پہنچے تو وہاں میری ایک کزن فرخندہ مجھے ملی وہ میری بڑی اچھی دوست بھی تھی اس نے مجھے اپنے بیٹے سے ملوایا جو کوئی ۶۱ سال کا تھا۔ شانی نام تھا اس کا، اور میرے فیورٹ ہیرو وحید مراد کی کاپی تھا۔ اس کی عادت بھی بہت اچھی تھی اور پورے فنکشن میں اس نے ہنسا ہنسا کر میرا برا حال کردیا۔ اور ہماری اچھی خاصی بے تکلفی ہوگئی۔ برات والے دن جب ہم سب لوگ گاڑیوں میں بیٹھنے لگے تو مجھے بچوں کو تیار کروانے میں دیر ہوگئی۔ جب میں باہر نکلی تو عورتوں والی پہلی بس نکل چکی تھی، جس گاڑی میں امی جارہی تھیں تینوں بچوں کو انہوں نے اپنے پاس بٹھا لیا۔ اور پھر ایک چھوٹی کوسٹر آئی جس میں کافی سامان تھا اس میں سامان کے بعد پیچھے والی بڑی سیٹ خالی تھی امی نے کہا تو اور شانی اس میں آجاو۔ میں نے بھابی کی طرف دیکھا تو کہنے لگیں ہاں ہاں کوئی بات نہیں شانی اپنا بچہ ہے اس کے ساتھ آجاو۔ میں مجبورا بیٹھ گئی چار گھنٹے کا سفر تھا میں اور شانی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ اب بس میں ڈرائیور کے علاوہ ہم دونوں ہی تھے اور ڈرائیور بھی ہمیں سامان کی وجہ سے صاف نظر نہیں آرہا تھا۔ کچھ دیر تک تو ہم ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے پھر میں نے وہ سوال کردیا جس سے ایک سارا موضوع ہی بدل گیا۔ میں نے کہا کہ شانی تیری منگنی ہوئی کہ نہیں اس نے کہا کہ نہیں بھابی ابھی کہاں ابھی تو فرسٹ ائر میں آیا ہوں، میں نے کہا کوئی بات نہیں تو اتنا پیارا ہے تجھے تو کوئی ھی اپنی بیٹی دے دیگا۔ اس نے کہا واقعی کیا میں پیارا ہوں میں نے کہا اور نہیں تو کی۔ اس نے کہا اچھا جی کیا چیز ہے میری۔ میں نے کہا تیری آنکھیں، ہیرو کٹ بال تری ناک ہر چیز، اس پر اس نے مسکراتے ہوئے کہا بھابی آپکی ۳چیزیں بھی بہت پیاری ہیں۔ میں نے کہا اچھا جی وہ کونسی کہنے لگا آپکی آنکھیں، آپکے ہونٹ اور یہ کیوٹ سے گال اور ہاں آپکے بال بھی۔ میں نے کہا بے شرم بھابی کو ایسے دیھتے ہیں کیا، اس نے کہا بھابی ہیں توبی اتنی پیاری۔ ابھی آدھا گھنٹہ بھی نہ گزرا تھا کہ مجھے سردی لگنی شروع ہوگئی میں نے کہا شانی کمبل لانا بھول گئے ہم، اس نے کہا ٹھریں بھابی میں ڈرائیور سے پتا کرتا ہوں وہ آگے گیا اور ۲ منٹ بعد ایک چھوٹا سے کمبل لے کہ آگیا میں نے کہا اس سے کیا ہوگا کہنے لگا بھابی آپ اوڑھ لو میری خیر ہے میں گزارا کرلوں گا۔ میں کمبل اوڑھ کر بیٹھ گئی لیکن ۵منٹ بعد میں نے دیکھا کہ شانی کو سردی لگ رہی ہے مگر وہ ضبط کرکے بیٹھا ہوا ہے میں نے کہا کہ شانی بیٹا سردی لگ جائے گی اچھا ادھر پاس ہوجاو کمبل میں ہاتھ تو ڈال لو وہ میرے بالکل قریب ہو کر بیٹھ گیا اور اس نے ہاتھ کمبل میں ڈال لیے۔ پھر اس نے میرے یاتھ پکڑلیے میرے ہاتھ ٹھنڈے تھے جبکہ شانی کے ہاتھ بالکل گرم تھے میں نے کہا یہ کیا کرہے ہو اس نے کہا آپ کے ہاتھ گرم کرہا ہوں شانی کے ہاتھوں پر بڑے گھنے مردانہ بال تھے اور مججھے ایسے ہاتھ بہت پسند تھے۔ کچھ ہی دیر بعد اس نے اپنی ایک ٹانک کو میری ٹانگ کے ساتھ جوڑ دیا چونکہ میری سیٹ بالکل کھڑکی کے ساتھ اس لیے میں کوئی مزاحمت نہیں کرسکی، اور خاموش رہی۔ لیکن چونکہ میاں کے بعد یہ میرا اپنے جسم پر پہلا مردانہ لمس تھا اس لئے میرے جسم میں ایک لذت انگیر جھرجھری دوڑ گئی تو شانی نے کہا کیا ہو ا میں نے کہا کچھ نہیں اور میں نے ہاتھ چھڑا لیے اور کہا کہ بس گرم ہوگئے ہیں، تو شانی اپنے ہاتھ میری گود میں رکھ دئے اور کہا لیکن مجھے سردی لگ رہی ہے میں نے آپ کے ہاتھ گرم کئے اب آپ میرے ہاتھ گرم کردو۔ یہ کہہ کر اس نے ہاتھ میری گود میں رکھد دئے، ہم کچھ دیر بالکل خاموش بیٹھے رہے پھر شانی بولا بھابی آپ واقعی میں بہت پیاری ہیں میں نے کہا کیا بھابی بھابی لگا رکھی ہے میں خالہ ہوں تیری، تیری ماں کی کزن ہوں اور تو میرے بیٹے سے بھی چھوٹا ہے۔ میرا یہ تیز لہجہ سن کر وہ ایک دم گبھرا سا گیا اور خاموش ہو کر بیٹھ گیا اور اپنے ہاتھ باہر نکال لئے ۔ تھوڑی دیر بعد میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ منہ پھلا کہ بیٹھا ہوا تھا اور بہت ہی کیوٹ لگ رہا تھا اور صندل جان مجھے اس پر بے تحاشہ پیار آگیا۔ میں نے کہا اوئے ہوئے بچہ ناراض ہوگیا۔ یہ کہہ کر میں نے اس کے سرخ گال پر ایک چٹکی لی اور اسے کہا اچھا لا میں تیرے ہاتھ گرم کردوں وہ قریب ہو کر ایک دم میرے گلے لگ گیا اور مھجے اپنی بانہوں میں جکڑ کر کہنے لگا۔ تھینک یو سو مچ آپ بہت سویٹ ہو اور یہ کہہ کر مجھے چوم لیا، ہائے یار میرے تن بدن میں ایک آگ سی لگ گئی۔ میں نے کہا شانی یہ کیا کر رہے ہو پیچھے ہٹو لیکن اس نے پورے ۳ منٹ تک مجھے چمٹائے رکھا۔ اور میری ساری سانسیں بے ترتیب ہوگئیں۔ پھر اس مے میرے ہاتھ کو چوم لیا اور کہنے لگا کیا آپ مجھ سے دوستی کرو گی، میں نے کہا جی نہیں بالکل نہیں۔ تو اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا قسم سے میری کوئی دوست نہیں پلیz کہ صندل میں اس وقت بالکل پگھل چکی تھی لیکن یہ بات تو نہیں سمجھے گی۔ کیونکہ تو ابھی مرد کے پیار سے آشنا نہیں اور تیرا ابھی سیکس کا پہلا تجربہ ہے۔ پھر اس نے میرے جواب کا انتظار کئے بعگیر اپنے ہاتھ کو کمبل کے نیچے سے میرے مموں پر پھیرنا شروع کردیا۔ اف اس کا لمس اتنا پیارا تھا کہ میں بتا نہیں سکتی۔ پھر اس نے میری قمیض کے اندر ہاتھ ڈال کر میرا پیٹ سہلانا شروع کردیا۔ اب میرے منہ سے ایک تیز سسکی نکل گئی اور وہ سمجھ گیا کہ میں گرم ہو چکی ہوں۔ اس نے قمیض اوپر کی اور اور پھر برا تک پہنچ کر اپنے ہاتھوں سے میرے دونوں ممون کو باری باری سہلا نا اور دبان شروع کردیا اور پانا دوسرا ہاتھ میری شلوار میں گھسا دیا کیونکہ شادی کے فنکشن کی وجہ سے میں نے غراراہ ٹائپ شلوار پہنی ہوئی تھی اس کا ہاتھ اند جا کر سیدھا میری پھدی سے ٹکرایا جو پہلے ہی گیلی ہوچکی تھی۔ شانی بولا خالہ جی آپ جتنی پیار ہو اتنی ہی گرم بھی ہو، میں نے سن کر شرما کر اپنا منہ نیچے کر لیا۔ کچھ دیر میرے ممے دبانے اور چوت سہلانے کے بعد اس نے اپنی زپ کھولی اور انڈر وئر نیچے کرکیے اپنا لن باہر نکال لیا۔ میں نے کہا شانی نہ کر پلیز ڈرائیور دیکھ لے گا، اس نے کہا آپ چیک کر لو سامان کی وجہ سے وہ ہمیں نظر نہیں آرہا وہ ہمیں کیسے دیکھ سکتا ہے۔ پھر اس نے میرا ہاتھ اپنے لن پر رکھ دیا اف ایک بڑا بالکل جوان لن اتنے لمبے عرصے کے بعد میرے ہاتھ میں تھا میں نے تو اپنے اوپر قابو کھودیا اور کہا شانی اتنا بڑا؟ سردی کے دن تھے بس میں اندھیرا ہو چکا تھا اور آس پاس بھی کوئی نہ تھا میں نے دل میں کہا عفو ہمت کرے۔ میں نے شانی کی طرف دیکھا اور اس کے لن کو مٹھی میں پکڑ کر مسلنے لگی اس کا بھی لذت سے برا حال ہوگیا۔ پھر ہم دونوں نے کسنگ شروع کردی اس کے ہونٹوں کا رس بہت میٹھا تھا کنوار ے جوان ہونٹ۔ پھر اس نے آگے بڑھ کر مجھے سیٹ پہ لٹا دیا اور کہا ہیاں سے کسی کو کچھ نظر نہیں آئے گا۔ پھر وہ میرے اوپر جھک گیا۔ اور میں زبان نکال کر اس کے گال چاٹنے لگی۔۔۔۔اور پھر اس کے گال چاٹتے چاٹتے میں اپنی زبان کو اس کے کان کے قریب لے گئی۔۔۔۔اور اس کے کان کی لو کو چاٹ کر اس کے کان میں سر گوشی کی اور۔۔۔ اسے کہنے لگی شانی تم نے میری ساری ریاضت ختم کردی۔ میری سرگوشی سن کر شانی کے جذبات بھی مزید بھڑک اْٹھے اور اس نے بھی مجھے چما دیا اور وہ بھی سرگوشی میں کہنے لگا۔۔۔۔ مجھے بھی تمہاری چوت چاہیئے میری جان اس کی بات سن کر پھر سے میری چوت کْھل بند ہونے لگی۔اور شانی کا لن سہلاتے سہلاتے میرا جی مچلنے لگا۔ اور اس کے ساتھ ہی اس کا ہاتھ سرکتا ہوا میری چوت کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔اور اس نے میری چوت کو اپنی مٹھی میں لیا۔۔۔اور اسے دبا کر بولا۔۔۔۔ اْف جانآپ کے نیچے تو آگ لگی ہوئی ہے۔ شانی بس کے فرش پر بیٹھ گیا۔۔۔۔ اور میرے چوتڑ پکڑ کو مجھے تھوڑا اوپر اْٹھنے کو کہا۔۔۔ جیسے ہی میں نے اپنی ہپس اوپر کی۔۔۔۔۔شانی نے میری شلوار اتار دی۔۔۔۔اور اس کے ساتھ بڑے غور سے میری ننگی رانوں کی طرف دیکھنے لگا۔اس نے باری باری میری دونوں رانوں کو چوما۔۔ پھر وہ آگے بڑھا اور اپنے منہ کو میری رانوں کے بیچ میں لے آیا۔۔اور زبان نکال کر میری نرم رانوں کو چاٹنے لگا۔۔۔۔ اس کی زبان کا لمس پاتے ہی میں نے ہلکا ہلکا کراہنا شروع کر دیا۔۔۔ پھر رانوں سے ہوتی ہوئی اس کی زبان میری چوت کی طرف بڑھنے لگی۔۔۔۔۔۔ اور۔۔اور۔۔۔ کچھ ہی سیکنڈز کے بعد اس کی زبان میری گرم پھدی سے ٹکرا رہی تھی۔۔۔۔ اور پھر اس نے میری چوت کو چاٹنا شروع کر دیا۔ شروع کر دیا۔۔۔۔ میں بیان نہیں کر سکتی کہ شانی کے اس کام سے مجھے کتنا مزہ مل رہا تھا۔۔۔ اور اس کی زبان کے نیچے کس طرح سے میں تڑپ رہی تھی۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی میری پھدی نے دوبارہ سے رسنا شروع کر دیا۔۔۔ یہ دیکھ کر اس نے میری چوت کے ہونٹوں کو اپنے منہ سے نکالا اور دوبارہ سے میری پھدی سے رسنے والے جوس کو چاٹنا شروع کر دیا۔۔۔مجھے اس کام سے بہت مزہ مل رہا تھا لیکن عین اس وقت میری پھدی نے لن کے لیئے تڑپنا شروع کر دیا۔۔ تب میں سیٹ سے ا وپر اْٹھی اور اس کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔ اب بس کر دو۔۔۔۔ اس نے میری بات سنی ان سنی کر دی اور پھر سے اپنی زبان کو میری چوت کے اندر باہر کرنے لگا۔اس نے مجھے گھوڑی بننے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔اور میں سیٹ پر ہی گھوڑی بن گئی۔۔ اب وہ میرے پیچھے آیا اور۔۔اپنی لن کی نوک کو میری چوت کے لبوں پر رکھا۔۔۔۔اس کے لن کی نوک کر میری چوت پر رکھتے ہی میرے منہ سے ایک سسکی نکل گئی۔۔۔۔ جسے سن کر وہ کہنے لگا کیا ہوا بھابی جان۔ابھی تو میں نے اپنے لن کو اندر ڈالا ہی نہیں تو میں جسے اس وقت لن کو اپنے اندر لینے کی شدید طلب ہو رہی تھی۔۔۔۔ پیچھے مْڑ کر اس کی طرف دیکھااور کہا جلدی کر نہ یار میری بات سن کر اس نے ایک زبردست گھسا مارا۔۔۔جس سے اس کے پورے کا پورا لن میری چوت میں اتر گیا۔۔۔ اور اس کیساتھ ہی میرے منہ سے بلند آواز میں۔۔۔۔ چیخ نکلی۔۔۔اوئی ماں۔۔۔۔۔ مر گئی میں۔ لیکن شکر ہے اس گاڑی کا ڈیک فل آن تھا۔اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے لن کو میری چوت میں ان آؤٹ کرنا شروع کر دیا۔۔۔ وہ جب بھی زور کا گھسہ مارتا۔۔۔ تو اس کا لن میری چوت کے پتہ نہیں کس کونے میں لگتا کہ جسے کھا کر میری میری چوت پانی پانی ہو جاتی۔۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ساتھ۔آپ ہی آپ میرے منہ سے۔۔۔ نہایت سیکسی۔۔۔زبردست اور دل کش قسم کی سسکیان برآمد ہونا شروع ہو جاتیں۔۔۔ اور پھر کچھ دیر بعد اس نے اپنے گھسوں کی رفتار تیز کر دی۔۔۔۔ اور اس کے ہر گھسے سے میں خود کو ہواؤں میں اْڑتا ہوا محسوس کرنے لگی۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی بار بار میرے منہ سے ہیجان سے بھر پور اور شہوت انگیز طریقے سے اس کا نام نکلنے لگا۔شانی شانی میری جان شانی۔ پھر ہم دونوں ایک ساتھ ہی فارغ ہوگئے۔ پھر ہم دونوں نے اپنے سانس درست کیے اور پھر کپڑے صحیح کرے کے بیٹھ گئے مجھ پر تو اتنی غنودگی طاری تھی کہ میں فورا سوگئی۔ ایک گھنٹہ بعد آنکھ کھلی تو گاڑی ایک ریستوران نے باہر رکی ہوئی تھی میں نے دیکھا گاڑی میں نہ ڈرائیور تھا نہ شانی میں گبھر کر نیچے اتری تو دیکھا کا بارات کی گاڑی بھی وہیں پر تھی ہم سب لوگ ایک ریستوران پر اکٹھے ہوگئے تھے۔ پھر میری امی آگئیں اور کہنے لگیں عفو سفر کیا رہا میں نے شرما کر امی بہت سکون سے گزرا میں تو سو ہی گئی تھی۔ امی کہا چل اب گاڑی میں جگہ بن گئی آگے میرے ساتھ ہی جانا یوں میں امی کے ساتھ بیٹھ گئی اور جاتے ہوئے شانی کو منہ چڑا دیا۔ز
  3. کمنٹس کرنے والے تمام احباب کا شکریہ
  4. بھائی کمنٹس کا بہت شکریہ آپ کی بات درست ہے لیکن ابھی کہانی کا آغاز ہے ، ابھی میں ایک تعرفی مرحلے سے گزر رہا ہوں جلد ہی آپکی چکائت دور ہوجائے گی
  5. کنٹین والی لڑکی قسط 5 میڈم عفیفہ پہلے تو حیرانی سے مجھے دیکھتی رہیں اور پھر کہنے لگیں صندل تو یہاں کیا کر رہی ہے۔ عائزہ بھی الف ننگی میز پر بیٹھی مجھے دیکھ رہی تھی۔ میڈم عفیفہ بھی بالکل ننگی تھیں اور ان کے کپڑے اس فرش پر پڑے تھے جس پر میں گری تھی۔ میں نے میڈم عفیفہ کو جواب دیا میڈم میں کلاس میں گئی تو وہاں کوئی نہیں تھا تو میں نے سوچا کہ آپ یہاں ہوں گی اس لئے آپ کو دیکھنے ادھر آگئی (میں جان بوجھ کر بشری کا ذکر گول کرگئی کہ میڈم اس بے چاری پر غصے نہ ہوں) میڈم نے میری بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور مجھے گھورنے لگیں، مجھے ان کی نگاہوں سے خوف آرہا تھا۔ جیسا کہ میں دوسری قسط میں بتا چکی ہوں کہ میڈم عفیفہ تقریباً وائس پرنسبل تھیں میڈم سعدیہ کے بہت قریب تھیں اور انکا غصہ پورے اسکول میں بہت مشہور تھا چونکہ ہمارا اسکول 12ویں جماعت تک یعنی ہائر اسکینڈری تھا اس لئے وہاں فرسٹ اور سیکنڈ ایر کی طالبات بھی تھیں وہ بھی میڈم عفیفہ کے غصے سے ڈرتی تھیں۔ میڈم عفیفہ کے میاں کا بہت پہلے انتقال ہوگیا تھا۔ میں میڈم کے گھورنے سے بہت نروس ہو رہی تھی، میڈم نے اپنی کڑک دار آواز میں پوچھا تو نے بک شیلف کے پیچھے سے کیا دیکھا، میں کچھ نہ بولی بلکہ سر جھکا کر کھڑی رہی۔ میڈم نے پھر غصے سے پوچھا گشتی منہ میں زبان نہیں ہے کیا کہ تیری ماں کو بلا کر بتاوں کہ تیری بیٹی یہاں جمیز بونڈ بن کر دوسروں کی ٹوہ لے رہی ہے۔ بول کیا دیکھا، میڈم کے اس طرح تیسری بار پوچھنے پر منہ سے نکل گیا جی وہ میں نے دیکھا کہ آپ عائزہ کو پیار کررہی ہیں۔ اور لائیبریری میں گرمی کی وجہ سے آپ نے کپڑے اتار دیے ہیں۔ میرا آخری جملہ سن کر میڈم کی ہنسی نکل گئی اور وہ کہنے لگی ارے واہ تو بہت چالاک نکلی یہ بہانہ تو میری سمجھ میں بھی کبھی نہیں آیا۔ آگے آ، میں میڈم کے پاس جا کر کھڑی ہوگئی، میڈم نے میرے ہونٹوں کو چٹکی سے لے کر مسل دیا میری سی نکل گئی پھر میڈم نے میرے گالوں کو چوم لیا اور پھر کہا تو تو بڑی نمکین ہے۔ اس تمام گفتگو کے دوران عائزہ بڑی خاموشی سے ساری باتیں سن رہی تھی۔ میڈم نے اسے کہا کیوں ری تو کیا یہاں ولیمے میں آئی نیچے اتر میز سے۔ عائزہ اتر کر میرے ساتھ کھڑی ہوگئی، پھر میڈم عفیفہ نے اسے کہا جا لایبریری کی کنڈی لگادے یہ نہ ہو کوئی اور تیسرا ٹپک پڑےجب تک عائزہ آئی میڈم میرے مموں پر ہاتھ پھرتی رہیں، عائزہ کے آنے کے میڈم نے مجھ سے پوچھا کہ جب میں عائزہ کو پیار کر ہی تھی تو تجھے کیسے لگا، میں خامو ش کھڑی رہی میڈم نے پھر غصے سے کہا بولتی کیوں نہیں۔ دوستو سچی بات یہ ہے کہ مجھے پتہ تھا کہ میڈم نے مجھے ایسے تو چھوڑنا نہیں بدلہ پر بھی اتر سکتی تھی، پھر میرے دل میں وہ خیال اور حکمت عملی آئی جس نے میری زندگی کا رخ ہی بدل دیا۔ میں خاموش کھڑی تھی میڈم نے اپنی ننگی لات آگے بڑھائی اور اپنے پیر سے میری پھدی کو اپنے پیر کے انگوٹھے سے مسل دیا اور کہا جواب دے، میری ہلکی سی چیخ نکل گئی۔ لیکن تب تک میں نے اپنی حکمت عملی تشکیل دے لی تھی۔ میں نے بڑی شرمیلی آواز میں کہا کہ جی اچھا لگ رہا تھا۔ میڈم نے کہا کہ واہ تو بڑی گرم ہے، کیوں اچھا لگ رہا تھا کیا عائزہ اچھی لگتی ہے تجھے۔ میں نے نفی میں سر ہلادیا میڈم کے چہرے پر شدید حیرانی کی لہر دوڑ گئی انہوں نے کہا اچھا پھر کیوں مزا آرہا تھا میں نے بڑی آہستہ آواز میں کہا کہ میڈم مجھے آپ اچھی لگتی ہیں بہت زیادہ۔ میڈم عفیفہ کے چہرے کا تو رنگ ہی بدل گیا انہوں نے مجھے اور قریب کرلیا اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔ اور کہا سچ کہہ رہی ہے، میں نے بھی دل کڑا کر کہا جی میڈم اور پھر ایک خیال برق کی طر ح میرے دماغ میں کوندا میں نے کہا کہ میڈم لاسٹ فنکشن والے دن سے آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہو۔ جب آپ نے سفید لان کا سوٹ اور شیفون کا ملٹی کلر ڈوپٹہ پہنا ہوا تھا۔ میڈم کا چہرہ تو گلنار ہوگیا اور انہوں نے مجھے اپنی بانہوں میں بھر لیا اور کہا اچھا تو جانو اب تک بتایا کیوں نہیں، میں نے کہا شرم آتی تھی میڈم نے پھر مجھے بازوں میں بھینچ لیا۔ پھر ان کو کچھ خیال آیا انہوں عائزہ کو کہا کپڑے تو پہن لے کہ وہ بھی میں پہناوں۔ عائزہ نے جلدی سے کپڑے پہن لیے۔ پھر میں نے میڈم کو کہا کہ میڈم 3بج گئے کوئی یہاں نہ آجائے۔ میڈم عفیفہ نے یہ بات سن کر کہا ہاں تو ٹھیک کہہ رہی ہے تو 2منٹ یہاں ٹھیر، پھر میڈم کپڑے اٹھا کر واش روم چلی گئیں، وہاں سے کپڑے پہن کر آیئں تو کہنے لگیں عائزہ اب تو نکل اور دیکھ اپنی زبان بند رکھنا۔ اس کے جانے کے بعد کہنے لگیں صندل تو میری جان ہے اور میری پکی جگر ہے۔ تو جمعے والے دن میرے گھر چکر لگانا میں تیری امی سے خود بات کرلوں گی۔ میں نے کہا ٹھیک ہے میڈم پھر میں نے ایک ایسا کام کیا جس کی مجھے خود بھی امید نہ تھی میں نے آگے بڑھ کر میڈم کی آنکھوں کو کس کردیا، میڈم تو نہال ہوگئیں اور کہا ہائے ظالم ایسے کرے گی تو میں رات تیرے ساتھ یہیں گزار دوں گی۔ اسی طرح کی باتیں کرتے ہوئے ہم دونوں باہر نکل آئے اور بڑے صیح وقت پر نکل آئے کیونکہ سامنے سے پی ٹی ٹچر میم رفعت آرہی تھیں، انہوں نے میڈم عفیفہ کو سلام کیا اور پاس کھڑی ہوگئیں، میڈم عفیفہ نے میری طرف دیکھ کر پیاری بچی ہے ، تب تک میں آگے نکل آئی۔ ہے۔۔ میڈم عفیفہ نے کہا ہاںکہا تم جاو اور دیکھو محنت کرو گی تو اپنی ماں اور مرحوم باپ کو خواب پورا کرسکوگی۔ میں نے کہا جی میڈم اور میں چل پڑی مجھے میڈم رفعت کی آواز آئی بہت اچھی اور ساری رات کروٹیں بدلتی رہی اور آج کے سارے ماجرے پر غور کرتی رہی اور آگے کی پلاننگ کرتی رہی، میں نے یہ بات ٹھان لی تھی کہ ہر حالت میں میڈم عفیفہ کو قابو کرنا ہے اور اب زندگی دب کر نہیں گزارنی۔ اس طرح کی باتیں سوچتے سوچتے مجھے نیند آگئی۔ اگلے دن کنٹین میں آدھی تفریح کے بعد میں اور رقیہ باجی جب کام کے پریشر سے فارغ ہوئے تو میں نے انہیں بلا کم و کاست ساری داستان سنا دی، میرا خیال تھا کہ باجی پریشان ہوجائیں گی۔ لیکن رقیہ باجی کے چہرے پر کوئی خوف نہ تھا انہوں نے کہا کہ اگر میڈم عفیفہ نے عائزہ کے ساتھ سیکس نہ کیا ہوتا تو یہ خطرے کی بات تھی لیکن اب وہ کوئی وار نہیں کرے گی بلکہ تعلقات کی کوئی راہ نکالے گی تو پریشان نہ ہو میری بنو تو بس جمعے کا انتظار کر پھر ہم آگے کی سوچیں گے۔ ویسے عفیفہ طاقتور اور بہت گرم عورت ہے تیرے کڑاکے نکال دے گی لیکن تو نے ایک ایسا وار کیا ہے وہ بچ نہیں سکتی۔ میں کہا باجی وہ کیا۔ انہوں نے کہا میری بنو آج تک میڈم عفیفہ نے جس لڑکی کے ساتھ بھی سیکس کیا ہوگا وہ زبردستی کا سودا ہوگا، لیکن تونے پیار کی وہ چھڑی گھمائی کہ وہ پاگل ہوگئی ہوگی اور اب وہ تجھے بہت عزیز رکھے گی کونہ عورت سب سے زیادہ پیار اس سے کرتی ہے جو اس کو چاہتا ہے ۔ بس اب تو ذرا سنبھل کر چلنا، میں نے کہا کہ رقیہ باجی بس اب رہنمائی کرتی رہنا وہ ہنستے ہوئے کہنے لگیں کیوں میں کوئی ٹریفک پولیس ہوں کہ راستہ دکھاتی رہوں۔ اسی طرح ہنسی مذاق میں دن کٹ گیا اور پھر ٹھیک دو دن بعد جمعہ آگیا۔ جمعے کے دن میڈم عفیفہ ایک ٹیکسی پر ہمارے گھر آگئیں وہ اسکول کے قریب رہتی تھیں انہوں انے امی سے بات کی ہوئی تھئی کہ کچھ پڑھائی کے لیے صندل کو لے کر جانا ہے امی بھی حیران تھیں کہ اتنی سخت عورت ہم پر مہربان کیسے ہوگئی، پھر میں میڈم کے ساتھ انکے گھر پہنچ گئی۔ جب میڈم نے بیل بجائی تو ایک بہت پیاری سی لڑکی نے دروازہ کھولا۔ اس لڑکی کی عمر کوئی 25سال تھی لیکن کین وہ لگتی 18سال کی تھی اس نے چارد نما حجاب سے چہرے کو کور کیا ہو تھا اور اسکی آنکھیں ہلکی سبز تھیں ناک ستواں اور بڑی کیوٹ سی سمائل اسکے چہرے پر تھی۔ میڈم نے اس کے سلام کا جواب دیا اور مجھے کہا یہ کہ صندل یہ میری بہو شازیہ ہے۔اور شازی یہ میری سٹوڈنٹ صندل ہے بہت اچھی بچی ہے میں نے کل تمہیں بتایا تھا نا اسکے بارے میں شازیہ نے میری طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا جی جی آپ نے بتایا تھا۔ ہم لوگ اندر آگئے، میڈم کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے تو تھوڑی دیر بعد شازیہ جوس کے دو گلاس لے آئی اور پھر اس نے میڈم کو کہا امی میں نے آپ کو بتایا تھا نہ آج جانے کا میڈم نے کہا ہاں ہاں بتایا تھا مگر کیسے جاو گی۔ شازیہ نے کہا جی عمیر آرہا ہے مجھے لینے کے لیے اور گڈو کو وہ صبح ہی لے گیا تھا، میڈم نے مجھے کہا کہ آج اس نے پنی امی کے گھر جانا ہے وہ یہیں جی ایٹ میں رہتی ہیں، پھر کہنے لگی گڈو اس کا بیٹا اور میرا پوتا ہے ابھی کلاس ون میں ہے۔ ابھی بات یہیں تک پہنچی تھی کہ داروزے پر بیل بجی شازیہ دروازے پر گئی تو واپسی پر اس کے ساتھ ایک اٹھارہ انیس سالہ نوجوان تھا جو اس کا بھائی اشعر تھا۔ اشعر ایک معصوم شکل کا خوبصورت لڑکا تھا جس کی شکل آج کے زمانے کے ہیرو شاہد کپور کی طرح تھی اس نے اپنی بہن کو کہا کہ بیگ لے آو تو چلتے ہیں پھر اس نے میڈم عفیفہ کے آگے سلام کے لیے سر کو جھکا یا تو میڈم نے اس کو گلے سے لگا لیا اور پھر اس کا ماتھا چوم لیا اور کہا ماشااللہ ہیرو لگ رہا ہے، اشعر کا چہرہ شرم سے سرخ ہوگیا۔ .یں نے کہا کہ میڈم آپکے گھر میں اور کون کون ہے۔ میڈم نے کہا کہ ایک بیٹی کی ابھی شادی ہوئی ہے وہ کراچی میں رہتی ہے اور دوسرا بیٹا فوج میں ہے ابھی پی ایم اے میں اتنی دیر میں شازیہ آگئی اور دونوں بہیں بھائی میڈم کی اجازت لے کر چلے گئے۔ میڈم نے کہا کہ میں دروازے بند کرکے آتی ہوں پھر میڈم دروازہ لاک کرے کے آگئیںکیڈٹ ہے۔ میں نے کہا تو شازیہ کیا شام کو آئے گی۔ میڈم نے کہا ہاں وہ شام تک اپنی امی کے گھر رکے گی اور میں نے تمہاری امی کو بتادیا تھا کہ تم شام تک میرے پاس رکو گی۔ یہ کہہ کر میڈم نے مجھے گود میں اٹھا لیا اور اسی طرح اٹھائے ہوئے اپنے کمرے میں لے گئیں۔ میڈم کو جی سکس فور میں ایک ای ٹائپ مکان ملا ہوا تھا جس کے کمرے بڑے بڑے تھے۔ کمرے میں جا کر میڈم نے مجھے گود سے اتارا اور کہا کہ میں زرا کپڑے بدل کر آتی ہوں تو میرا انتظار کر۔ یہ کہہ کر میڈم باتھ روم میں چلی گئی تو مجھے شاور کا پانی گرنے کی آواز آنے لگی۔ پھر تین منٹ بعد میڈم باہر نکلیں تو کیا غضب کی لگ رہی تھیں میڈم نے ایک کالی نیکر اور سفید ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی اور بال گیلے تھے اور کھلے ہوئے تھے۔ کچھ تو ویس بھی وہ بہت سیکسی لگ رہی تھیں کچھ میں بے بھی مبہوت ہونے کی اداکاری کی اور ٹک ٹک میڈم کو دیکھتی رہی، میڈم پر اس کا بڑا اثر ہوا اور میرے قریب آکے کہنے لگیں جگر کیا دیکھ رہی ہے اب نظر لگائے گی کیا، میں نے کہا آپ تو ہو ہی اتنی پیاری میں کیا کروں، یہ سن کر میڈم عفیفہ جیسی گھاگ عورت بھی جذباتی ہوگئی اور مجھے کہنے لگی سچ میں میں تجھے اتنی پیاری لگتی ہوں میں نے کہا آپکی قسم، یہ سن کر میڈم نے مجھے خود سے لپٹا لیا اور میرے چہرے پر بوسوں کی بارش کردی جب یہ بارش تھی تو میڈم نے کہا کہ میں بال سکھا لوں تو اتنی دیر میں نہالے۔ میڈم نے الماری سے ایک تولیہ نکال کر مجھے دیا اور میں باتھ روم چلی گئی واہ کیا باتھ روم تھا ہمارے باتھ روم سے تین گنا بڑا اور اس میں شاور بھی تھا میں کبھی شاور سے نہیں نہائی تھی ہمارے باتھ روم میں تو صرف بالٹی تھی۔ میں نے نہانے کے لئے کپڑے اتارے اور شاور کا گرم پانی کھول کر نیچے کھڑی ہوگئی اف کیا مزیدار نہانا تھا مزا آگیا۔ ابھی میں نہا رہی تھی کہ میڈم نے دروازے پر دستک دی اور کہا جگر جو کپڑے اتارے ہیں وہ دیدے، میں بے دروازے کی اوٹ سے انہیں اتارے ہوئے کپڑے پکڑا دئے۔ جب میں نہا کر فارغ ہوئی تو میں نے میڈم کے بتائے ہوئے کپڑے تلاش کیے جو کہیں نہ ملے پھر ایک سائیڈ پر ایک کالی نائٹی نظر آئی جو میرے گھٹنوں تک ہی آتی تھی۔ میں مجبورا وہ ہی پہن کر باہر نکل آئی۔ مجھے دیکھ کر میڈم کے منہ سے ایک سیٹی نکل گئی۔ میڈم نے مجھے پھر گود میں اٹھایا اور بستر پر لٹادیا۔میڈم نے پھر بڑے ہی رومینٹک لہجے میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی تم یقین نہیں کرو گیصندل جب سے میں نے تمہارے مموں کو دیکھا ہے مجھے یہ بہت اچھی لگے ہیں نہ یہ زیادہ بڑے ہیں نہ چھوٹے ان کا سائز قیامت ہے قیامت بالکل کچے امرود جیسا۔ اپنے مموں کی تعریف سن کر سرخ ہوتا ہوا ثمینہ کا چہرہ جزبات کی شدت سے مزید سرخ ہو گیا۔۔۔اور وہ میری طرف دیکھتے ہوئے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرنے لگی۔۔۔۔پھر انہوں نے نے براہِ راست میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہوئے کہا جان میری اگر تم ناراض نہ ہو تو میں کیا ان کو دیکھ سکتی ہوں؟ اور میرے جواب کا انتظار کیئے بغیر میری نائٹی کا واحد بٹن کھول دیا اور پھر۔۔۔۔ برا ہٹا کرمیرے مموں کو بالکل برہنہ کردیا میری چھاتیاں کافی گوری اور گول تھیں ان گول گول چھاتیوں پر ہلکے براؤن رنگ کے چھوٹے چھوٹے نپلز تھے جو اس وقت اکڑے ہوئے تھے۔میڈم میری طرف دیکھ رہی تھیں اور بہت گرم ہو گئی تھیں پھر انہوں نے ایکممے کو اپنے ہاتھ میں پکڑا اور پھر اس کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے منہ میں لے لیا۔اور اسے چوسنے لگیں۔ ممے کو منہ میں ڈالنے کی دیر تھی کہمیں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور نپل چوسنے کو انجوائے کرنے لگی، اس کے ساتھ ہی میرے منہ سے لذت آمیز ہلکی ہلکی کراہیں نکلنے لگیں۔۔اْف۔ف۔ میم۔۔آہ۔۔۔۔۔۔ میری کراہیں سن کرمیم نے نپل کو اپنے منہ سے ہٹایا۔۔۔۔اورمیری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔ صندل تمہیں مزہ آ رہا ہے۔۔۔۔ تومیں نے آنکھیں کھول کرکہا جی میڈم مجھے بہت مزہ آرہا ہے آپ ایسے ہی چوستی جاؤ اور میڈم کچھ اور جوش اور خوشی سے میرے دونوں مموں کو چوسنے لگ گئیں میرے مموں کوچوستے چوستے اب میڈم نے اپنا ایک ہاتھ میری رانوں کی طرف لے گئیں۔۔۔ انکا ہاتھمیری رانوں کی طرف بڑھا۔۔۔ایک دفعہ پھر میں نے اپنی آنکھیں کھولیں اور کہنے لگی میڈم آئی لو یو۔ میری بات سن کر وہ ایک دم سے جوش میں آ گئی اور بڑی ہی سیکسی آواز میں کہنے لگی۔ تو میرا جگر کا ٹوٹا ہے صندل تو پہلی لڑکی ہے جس نے میرا پیار میں بھر پور ساتھ دے رہی ہے۔اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے میری پھدی کی طرف جانے والی۔۔۔۔ اپنی انگلیوں کو جو اس وقت میری سڈول ننگی رانوں پر رینگ رہیں تھیں کے لیئے میری دونوں ٹانگوں کو کچھ مزید کھول دیا میڈم کی آنکھیں اس وقت بالکل لال ہوچکی تھیں اور ان میں ہوس کے سرخ ڈورے تیررہے تھے میڈم نے میرے ادھ کھلے ہونٹوں کو اپنے سیکسی ہونٹوں کو میں لے لیا اور ان کو چوسنے لگی کچھ ہی دیر میں انہوں نے اپنی زبان سے میرے ہونٹوں پر دستک دینی شروع کر دی یہ دیکھ کر میں نے اپنا منہ کھولا اور انکی زبان کو اپنے منہ میں لے لیااوران کی زبان کو چوسنے لگی۔۔ پھر کچھ دیر بعدمیری پھدی پر انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا۔۔۔اس پھدی کو پہلے بھی کسی نے چاٹا ہے یا میری پہلی دفعہ ہے تو میں شرماتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔ نہیں میم یہ پہلی دفعہ ہے (میں نے رقیہ باجی والا قصہ نہ میڈم کو سنایا تھا نہ سنانے کا ارادہ تھا) میڈم نے کہا کہ واہ سیل بند پھدی کا اپنا مزہ ہے اس اپنی انگلی کو میری ننگی چوت پر پھیرتے ہوئے بولیواہ واہ ریشم کی طرح نرم ہے۔ وہ چوت چیک کرنے لگی۔آج میری چوت کلین شیو تھی۔۔۔ چوت کے دونوں لب اندر کی طر ف مْڑے ہوئے تھے اور پھدی کی لکیر کے عین اوپر ایک موٹا سا پھولا ہوا دانہ تھا۔۔۔۔۔۔ انہوں نے میری کلین شیو پھدی پر ہاتھ پھیرا اور اپنی ایک انگلی چوت کے اندر داخل کر دی۔ پھر اس کے ساتھ ساتھ ہی میری چوت پر جھکی اوراس کے پھولے ہوئے دانے کو اپنے منہ میں لے لیا اور اسے چوسنے لگی۔جیسے ہی انہوں نے اس کے دانے کو اپنے ہونٹوں میں لیا۔۔۔۔ میں سسکی لیتے ہوئے کہنے لگی میم جی میری پھدی۔۔۔ کو زور سے چوسیں۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی وہ پہلے اس کے دانے کو اپنے ہونٹوں میں لیئے ہلکے ہلکے چوس رہی تھیں اب انہوں نے اس دانے کو اپنے دانتوں سے کاٹتے ہوئے چوت کو چوسنے کی رفتار تیز کر دی۔۔۔۔۔ ان کی اس حرکت سے میں تڑپنے لگی تھوڑی دی اس طرح کرنے کے بعد انہوں اپنی قمیض اتار دی اور اپنا انار کے سائز کا ممہ میرے منہ کے آگے کردیا اور اور کہنے لگیں اس کو چوس، میں اس وقت مستی کے عالم میں تھی میں نے بھی انکے ممے چوسنے شروع کردئے باجی کے ممے گندمی رنگ کے تھے اور ابھی مجھے چوستے ہوئے 2منٹ ہی ہوئے تھے کہ میم نے بھی ہلکی ہلکی چیخیں مارنی شروع کر دیں اور ساتھ ساتھ میرے چوتڑوں پر ہلکا ہلکا مساج شروع کردیا، پھر میڈم نے اپنی نیکر اتار دی تھوڑی دیر بعد میم نے ٹانگیں کھول دی اور ر میرے سر کو۔۔اپنی پھدی کی طرف دباتے ہوئے کہنے لگی اب تمہاری باری۔ ویسے شائد میں کبھی یہ کام نہ کرتی لیکن سچی میں اس قدر گرم ہوگئی تھی کہ میں اسی طرح ان کی چوت کو چومنا شروع کر دیا۔۔۔۔ کچھ ہی دیر بعد۔۔۔۔ میڈم نے نے اپنی پھدی کے دونوں لبوں کو کھول کر کہا صندل جان ادھر زبان ڈالواس کی یہ بات سن کر میں نے پھدی کے کھولے ہوئے لبوں پر نظرڈالی تو ان کی چوت کی دونوں پھانکوں کے درمیان والی جگہ آف وائیٹ پانی سے بھری ہوئی تھی۔۔۔ چنانچہ سب سے پہلے میں نینائٹی کے کونے سے ان کی چوت کے درمیان لگے آف وائیٹ پانی کو صاف کیا اور پھر چوت کی دیواروں کو چاٹنا شروع ہو گئی۔۔۔ ایسا کرتے ہی مزے اور جوش کے ماریان کے منہ سے ہیجان خیز آوازیں نکلنا شروع ہو گئیں اور وہ مستی بھرے لہجے میں کہنے لگی۔۔۔۔۔ صندل میرے شونا اور زور سے اور زور سے میری جان میرے جگر اور یوں میں ان کی پھدی کو مزید جوش سے چاٹنا شروع ہو گئی۔۔۔ میرے اس طرح چوت چاٹنے سے وہ بے قرار ہو گئیں اور۔۔۔ میرا سر پکڑ کر اپنی پھدی کی طرف دباتے ہوئے کہنے لگیہائے اتنا مزا، کبھی کسی نے دل سے نہیں کیا یہ کام صندل تونے میری خواہش پوری کردی ہائے میری پھدی۔۔۔اور میں نے محسوس کیا کہ ایسا کہتے ہوئے ان پر کپکی طاری تھی۔۔۔۔ اور وہ بار بار مجھ سے کہہ رہی تھی ہائے میری پھدی آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہا۔ ور پھر اس کے ساتھ ہی کانپتے ہوئے اس کی چوت نے ڈھیر سارا پانی چھوڑا اور پھر ٹھیک 10سیکنڈ بعد میری چوت نے بھی پانی چھوڑ دیا۔ کافی دیر تک تو ہم دونوں اسی طرح بے سدھ پڑے رہے، مزے کا عالم تھا مجھے بھی رقیہ باجی کے ساتھ کئے گئے سیکس سے 10گنا مزہ آیا تھا۔ پھر تقریباً پورے ایک گھنٹے بعد میڈم نے میرے بالوں میں بڑے پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کیا اور کہا صندل جان چل اٹھ نہاتے ہیں۔ پھر میں نے اور میڈم نے اکٹھے شاور لیا اور خوب مستیاں کرتے رہے۔ پھر میڈم نے لنچ کے لیء سالن گرم کیا جو شازیہ صبح جاتے ہی بناگئی تھی، لنچ کرکے ہم بستر پر لیٹ گئے۔ میں آپکو بتاچکی ہوں کے میں نے طے کرلیا تھا کہ اب فرنٹ فٹ پر کھیلنا ہے میں نے بستر کے سرہانے پر بنی بیک سے ٹیک لگالی اور میڈم کو کہا کہ عفو جی میری گود میں سر رکھ لو۔ میڈم نے پہلے تو عفو کہنے پر مجھے بڑے غور سے دیکھا اور اور پھر کہنے لگیں۔ بڑا اچھا لگا بڑے عرصے بعد کسی کا یوں پیار سے پکارنا۔ جب وہ میری گود میں سر رکھ کے لیٹ گئیں تو میں انکے گھنے بالوں میں انگلیاں پھیرنی شروع کردیں۔ کافی دیر ہم خالص زنانہ گفتگو کرتے رہے رشتہ داروں کے بارے اور دیگر اسی طرح کے موضوعات پر باتیں کرتے رہے۔ پھر میں نے کہا عفو جان ایک بات پوچھوں، میڈم نے کہا ہائے جب تو عفو جان کہتی ہے نا میرا دل کرتا ہے تجھے اپنے اندر چھپالوں۔ تو پوچھ جو تیرا دل کرے، میں نے کہا کہ لڑکیوں سے اس طرح کی دوستی کب سے شروع کی تو اس نے چونک کر کہا ارے یہ کیا سوال کردیا میں نے کہا سوری عفو جان اگر آپ کو برا لگا ہو۔ میڈم نے ایک دم سر اٹھا کر میری آنکھوں پر ایک ڈیپ کس کیا۔ اور کہا کہ صندل میری جان میں نے کئی لڑکیوں سے سیکس کیا ہے لیکین سب کے ساتھ ایک طرح کی زبردستی تھی مگر پیار صرف تیرے ساتھ ہوا میں تجھے سب کچھ بتاوں گی۔
  6. کنٹین والی لڑکی قسط ۴ تھوڑی دیر بعد خرم چلا گیا پھر میں نے اور امی نے مل کر کھانا بنایا، چھوٹے بہن بھائی کھانا کھانے کے فوری بعد سوگئے۔ میں اور امی کچھ دیر باتیں کرتے رہے لیکن اس تمام گفتگو میں امی مجھ سے آنکھیں چراتی رہیں شائد انہیں احساس جرم ہورہا تھا، لیکن کبھی کبھی انکے چہرے پر ایک مسکراہٹ سی آجاتی۔ کوئی آدھی رات کا وقت تھا میں نیند کے خمار میں تھی کہ میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے اپنی چارپائی سے جھانکا تو امی کے بستر سے سسکیوں کی آواز آرہی تھی میں نے اٹھ کر 10واٹ کا بلب جلالیا۔ امی ایک دم چپ ہوگئیں ۔ میں امی کے پاس گئی اور انکے لحاف میں گھس گئی اور انکے چہرے پر پیا ر کیا اور کہا کہ مورے ولے جاڑے (امی کیوں رو رہی ہو) امی نے کہا کچھ نہیں بس آج تیرے ابو کی یاد بہت آرہی ہے۔ میں نے کہا امی ابو کی یاد تو اب مستقل آئے گی اب وہ کبھی واپس نہیں آسکتے۔میرے دل میں امی کے خلاف سارے جذبات ختم ہوگئے۔ میں نے کہا لیکن امی جان آپ نے بڑی ہمت سے اس ساری صورتحال کا مقابلہ کیا ہے آپ نے ہم بہن بھائیوں کو صحیح طریقے سے سنبھالا ہے اور ۔۔ کا شکر ہے کہ ہمیں کوئی مالی محتاجی نہیں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ امی نے اپنے آنسو پونچھے اور مجھے اپنے ساتھ زور سے بھینچ لیا اور کہنے لگیں بیٹا توصحیح کہہ رہی ہے ہمارا گزارا بہت اچھا ہورہا ہے لیکن میری بچی تو ابھی چھوٹی ہے تجھے اندازہ نہیں عورتوں کو تحفظ کی کتنی ضرورت ہوتی ہے اور اس کی کتنی ضروریات صر ف مرد ہی پوری کرسکتے ہیں۔ اگریہ بات امی نے میرے رقیہ باجی کے ساتھ پیار کرنے سے پہلے کہی ہوتی تو واقعی مجھے اس بات کی کوئی سمجھ نہیں آتی لیکن اب میں اس بات کو کچھ کچھ سمجھ سکتی تھی۔ پھر میں نے امی بڑی معصومیت سے پوچھا امی خرم نے اتنی دیر میں اسٹور دیکھا کیا زیادہ سامان رکھنا ہے۔ امی میرا سوال سن کر ایک دم چونک سی گئی اور مجھے غور سے دیکھا شاید وہ اندازہ کرنا چارہی تھیں کہ میں شام والے واقعے کے بارے کتنا جانتی تھیں لیکن میں نے کوئی تاثرات نہیں دیے۔ امی نے کہا نہیں اتنی دیر بھی نہیں لگی بس وہ اسٹور کی لمبائی ناپ رہا تھا، میں نے دل میں کہا مجھے معلوم ہے ہے کہ وہ کیا ناپ رہا تھا اور اوپر سے کہا جی امی، پھر امی رقیہ باجی، کنٹین کی نوکری اور پرنسپل میڈم کے بارے باتیں کرنے لگیں اور ہم لوگ باتیں کرتے کرتے سوگئے۔ صبح کنٹین پر پہنچی تو رقیہ باجی کافی مصروف نظر آرہی تھیں میں نے کہا کہ خیر آپ نے صبح صبح اتنا کام کرلیا کہنے لگیں کل شام میڈم کا ڈرئیوار آیا تھا کہ آج کوئی مہمان آئیں گے میڈم کے۔اس لیئے ایکسٹرا سموسے اور سینڈویچز چاہیئے۔ دوسرے اسکولوں کی کچھ ٹیچرز بھی آرہی ہیں۔ بس اب جلدی سے کام پر لگ جا۔ پھر تفریح تک کام کے علاوہ کوئی بات نہیں ہوئی، چھٹی تک رقیہ باجی خاصی تھک گئی تھیں اس لیے کوئی چھیڑ چھاڑ بھی نہیں کی اور خاموشی سے کنٹین بند کرکے گھر چلی گئیں۔ میں بھی ان کلاسز کی طرف چلی گئی جس کی ہدایت مجھے میڈم سعدیہ نے کی تھی تاکہ میں میٹرک کرسکوں ۔ جب میں کلا س پہنچی تو مجھے بشری ملی جو آٹھویں میں میری کلاس فیلو تھی، میں نے کہا کلاس ہورہی ہے تو اس نے کہا کہ آج کلاس نہیں ہوئی کیونکہ پرنسپل کے دوسرے اسکولوں سے مہمان آئے تھے۔ تو لائیبریری چلی جا میڈم عفیفہ وہاں گئی ہیں 10منٹ پہلے تو بس انکو بتادے تاکہ انکو پتہ رہے کہ توکلاس میں آئی تھی اور پڑھائی میں سنجیدہ ہے۔ میں جب لائیبریری پہنچی تو وہاں کوئی نہیں تھا میں جب واپس جانے لگی تو مجھے کونے میں پڑے بک شیلفوں کے پیچھے سے کسی کے بولنے کی آواز آئی میں دبے قدموں سے چلتی وہاں تک پہنچی تو آوازیں اور صاف سنائی دینے لگیں، میں نے بک شیلفوں کے پیچھے جھانکا تو وہاں 15*15کی جگہ تھی اور ایک اسکول یونیفارم میں ملبوس لڑکی اور ایک برقعہ پہنے ٹیچر کھڑی تھی، میں نے پوزشین بدلی تو مجھے دونوں کے چہرے صاف نظر آنے لگے۔ میڈم عفیفہ اور عائزہ دونوں ایک دوسرے سے بات کرہے تھے۔ میڈم کے چہرے پر نہایت سختی کے تاثرات تھے انہوں نے عائزہ کو کوگھورتے ہوئے کہا لگتا ہے تم سیدھی طرح نہیں بتاو گی کہ تم اس دن کنٹین کے اند کیا کرہی تھی لگتا ہے تمہاری امی کو بلانا پڑے گا۔ یہ سن کر میری تو جان نکل گئی کیوں کہ میں نے رقیہ باجی کو آواز لگا کر ہوشیار کیا تھا جو عائزہ نے بھی سنی تھی اگر اس نے میرا نام بھی لگادیا تو میں بھی پھنس جاوں گی۔ جوں جوں عائزہ بات کو ٹال رہی تھی میڈم عفیفہ کے چہرے پر درشتگی بڑھ رہی تھی انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے تو جا صبح تیری امی کو بلاتے ہیں۔ یہ سن کر عائزہ رونے لگی۔ پھر اس نے کہا میڈم میری امی کو نہ بتانا وہ مجھے اسکول سے اٹھا کر گھر بٹھا لیں گی، میں مرجاونگی۔ وعدہ کریں مجھے معاف کردیں گی میڈم عفیفہ نے کہا منظور ہے اب بتا کیا قصہ ہے۔ عائزہ نے میڈم کو ساری بات بتادی اور شکر ہے میرا کہیں نام نہیں لیا۔ جب میڈم نے یہ ساری بات سن لی تو کہا کہ چل وعدہ میں تیری امی کو نہیں بتاونگی لیکن مجھے تیرا معائنہ کرنا ہوگا کہ تیرے ساتھ اس کاروائی میں تیرے جسم پر کوئی داغ تو نہیں لگ گیا یا تجھے کوئی بیماری ہونے کاڈر تو نہیں ۔ عائزہ یہ انوکھی شرط سن کر حیران ہوگئی، مجھے بھی بہت حیرانی ہوئی، لیکن میں میڈم عفیفہ کا چہرہ دیکھ رہی تھی جس پر وہ ہی چمک تھی جو کنٹین کے کاونٹر کسی خوبصورت بچی کو دیکھتے ہوئے رقیہ باجی کے چہرے پر آجاتی تھی۔ میڈم عفیفہ نے بھی اپنا برقعہ اتار دیا اور برقعہ اترتے ہی انکا چست لباس سامنے آگیا، انکی چست قمیض میں انکے بڑے ممے نمایاں تھے۔ میڈم نے کہا عائزہ جلدی کر ان کے اس طرح گھرکنے پر عائزہ نے جلدی سے قمیض اتاردی اور کھڑی ہوگئی یہ میں پہلے بتاچکی ہوں کہ رقیہ باجی کے ساتھ سکیس کرنے والے دن بھی عائزہ نے بنیا ن پہنی تھی اور وہ برا ۔ میڈم عفیفہ جیسی نفیس اور شستہ لہجے والی زبان والی عورت کہ منہ سے گالی سن کر میں اور عائزہ دونوں دنگ رہ گئے اور عائزہ نے جلدی سے اپنی بنیان اتار دی۔ میڈم عفیفہ آگے بڑھیں اور اس سے پہلے کہ عائزہ سنبھلتی انہوں نے عائزہ کی شلوار بھی نیچے کو کھینچ دی۔ اب عائزہ بالکل ننگی انکے سامنے کھڑی تھی عایزہ کا خوبصورت بدن کر میڈم عفیفہ کے ہونٹوں سے ایک ہلکی سی سیٹی نکل گئی۔ جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکی ہوں کہ عائزہ ایک سیکسی جسم کی مالک تھا، گورا رنگ کیوٹ سے ممے پتلی کمر لمبے بال اور اسکی چوت سیاہ بالوں میں گھری ہوئی تھی بال کم تھے لیکن تھے ضرور، پھدی کلین شیو نہیں تھی۔ میڈم نے کہا کہ تم بہت گرم ہو میری جان۔۔ میڈم نے اس کو گلے سے لگلیا اور پھرانکی زبان عائزہ کے گالو ں سے ہوتی ہوئی اس کے ہونٹوں پر پہنچی اور پھر انہوں تو اس کچی کلی کے ہونٹوں کو اپنی زبان کے ساتھ ہلکا سا ٹچ کیا پھر اس کے نرم ہونٹوں پر اپنی زبان پھیرنا شروع کر دی اس کے ساتھ ہی عائزہ بھی گرم ہو گئی اور اس نے میڈم کی زبان کو اپنے منہ میں لے لیااور اسے چوسنے لگی۔ زبان چوسنے کے ساتھ ساتھ میڈم نے عائزہ کی چھاتیوں پر اپنا ہاتھ رکھا اور انہیں دبانے لگی۔۔۔ اور پھر کچھ دیر تک زبان چوستی رہیں۔ عائزہ نے لایئبریری کے دروازے کی طرف دیکھا تو میڈم نے اس کے گال کی پپی لیتے ہوئے کہا۔۔۔۔ میری جان اس وقت یہاں کوئی نہیں آئے گا یہ بات کہتے ہی میڈم نے نے بجلی کی سی تیزی کے ساتھ اپنے کپڑے اتارنے شروع کر دیئے۔۔۔۔اور کچھ ہی دیر میں وہ بھی ننگی ہو گئیں۔ میڈم کے ممے بڑے تھے کم از کم بیالس کے، ان کا رنگ گندمی تھا اور جسم بہت بھر بھرا تھا وہ موٹی تو نہیں تھی مگر پتلی تو بلکل نہیں تھی۔ انکی ٹانگوں پر ہلکے ہلکے بال تھے اور پھدی بالکل کلین شیو تھی انکے کندھے مظبوط تھے اور پیٹ نکلا ہو نہیں تھا اب دونوں آگے بڑھیں۔اور ایک دوسرے کے ساتھ گلے لگ گئیں میڈم عفیفہ اپنی بھاری چھاتیوں کو عائزہ کی چھوٹی چھاتیوں سے رگڑتے ہوئے کہہ رہی تھی۔۔۔ اتنی دیر کیوں لگائی مجھے ملنے میں سیکسی گڑیا اور اس کے ساتھ ہی میڈم عائزہ کی گردن کو بے تحاشہ چومنے لگی۔۔۔ پھر گردن سے ہوتی ہوئی وہ عائزہ کی چھاتیوں پر آئی اور انہیں چوسنے لگی۔۔۔ پھر وہ عائزہ کے پیٹ پر زبان پھیرتے ہوئے نیچے آئی اوراسکی پھدی پر آ کر رْک گئی میڈم اس کام کی بہت ماہر کھلاڑی لگ رہی تھی اس نے عائزہ کو بہت جلد گرم کردیا تھا ۔میڈم نے پھر عائزہ کو اپنے بازوں میں اٹھاکر کر کونے میں پڑی میز پر لٹادیا پھر اس کی چوت پر جھک گئی اور زبان نکال کر چوت چاٹنے لگی۔۔۔اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی دو انگلیوں کو بھی عائزہ کی چوت کے اندر باہر کرنے لگی۔ چوت چاٹنے کے کچھ ہی دیر بعد اسکی چوت نے ڈھیر ساری منی اگل دی عائزہ کے چھوٹنے کے کچھ دیر بعد تک بھی وہ اسکی پھدی میں انگلی مارتی رہی پھر اس نے عائزہ چوت کو ایک بوسہ دیا اور اس کی طرف دیکھتے ہوئے اس کے ساتھ میز پر لیٹ گئی۔ ۲ منٹ کے بعد میڈم نے کروٹ لی اور مشنری سٹائل میں لیٹی ہوئی عائزہ کے گلابی نپلز کو اپنی انگلیوں میں پکڑ لیا۔۔اس کی بھاری چھاتیوں پر نپلز کا سرکل بلکل چھوٹا اور گول دائرے کی شکل میں تھا چنانچہ میڈم نے بھی اسی دائیرے پر سرکل کی شکل میں زبان پھیرنا شروع کر دی اور اس کے ساتھ ہی اپنی ایک انگلی نیچے اس کے دانے پر لے گئیں اور اسے مسلنا شروع کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی بولی عائزہ مزہ آ رہا ہے عائزہ کے منہ سے کوئی جواب نہیں نکلا بس آہ اوئی جیسی آوازیں نکلاتی رہی۔ میڈم نے اس کے مموں سے منہ نکال کر اس کی ٹانگوں کو مزید کھول کر اس کی چوت دیکھنے لگیں۔ اس کی چوت بہت موٹی اور لب اندر کی طرف مْڑ کر آپس میں جْڑے ہوئے تھے۔۔۔اور دور سے پھدی کی لکیر ایسے نظر آ رہی تھی کہ جیسے دو پہاڑی ٹیلوں کے درمیان تھوڑی بڑی سی دراڑ پڑی ہو۔۔۔۔ اور عائزہ کی اس دراڑ سے ہلکا ہلکا پانی رس رہا تھامیڈم نے اسکی پھدی کو دیکھ کر اپنے ہونٹوں پر زبان پھیری اور پھر پہلے تو اس کی نرم پھدی پر جی بھر کے ہاتھ پھیرا کہ جس پرہلکے ہلکے بال تھے پھر میں اس کی ٹانگوں کی طرف آئی اور اس کی پھدی پر جھک کر اس کی چوت کو چاٹنے لگی۔ اس چوت چاٹائی سے عائزہ دھیرے دھیرے کراہنے لگی اور میری حالت بھی یہ سین دیکھ کر بہت خراب ہوگئی ۔ پھر کچھ دیر بعد میڈم نے میز پر لیٹ کر عائزہ کو اپنے اوپر لٹالیا اور اپنی پھدی اسکی پھدی سے رگڑنے لگیں ۲ منٹ مستقل اس رگڑائی کے بعد پہلے عائزہ نے جھٹکے مارنے شروع کئے اور پھر میڈم کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی اور ان کی کی چوت نے بھی ڈھیروں پانی چھوڑ دیا میں بے بھی اپنا ہاتھ شلوار میں ڈالا ہو ا تھا اور اپنی پھدی کو مسل رہی تھی مجھے اس ایسا لگا کہ میں بھی ڈسچارج ہو رہی ہوں میرا ہاتھ بک شیلف پہ تھا اور سارا زور بھی اسی پہ تھا ادھر میں ڈسچارج ہوئی ادھر بک شیلف گر گیا اور میں سیدھی دوسری طرف جا گری جہاں میز پر میڈم عفیفہ اور عائزہ ننگے پڑے ہوئے تھے۔ میڈم اور عائزہ بک شلیف گرنے کے ہلکے دھماکے سے چونک گئے اور مجھے سامنے گرے دیکھ کر دونوں ہی ہکا بکا رہ گئے۔
  7. ہزار لوگوں نے یہ کہا نی پڑھی لیکن صرف ۱۰ کمنٹس 5
  8. بہت شکریہ آپکے کمنٹس نے حوصلہ بڑھادیا
  9. کنٹین والی لڑکی قسط نمبر ۳ میں کچھ دیر اپنا سانس بحال کرتی رہی لذت آمیز تھکن سے میرا انگ انگ ٹوٹ رہا تھا، جونہی میری بے ترتیب سانسیں درست ہوئیں تو میں نے دیکھا کہ میری قمیض اور بنیان اتری ہوئی ہے اور شلوار بھی گھٹنوں تک آگئی ہے اور رقیہ باجی اپنی شلوار پہن چکی تھیں لیکن انکا سینہ ابھی تک عریاں تھا۔ میں نے دیکھا کہ رقیہ باجی مسکرا رہی ہیں اور اور انکی آنکھیں خوشی سے چمک رہی تھیں مجھے بہت شرم آئی۔ پھر رقیہ باجی نے کھونٹی سے میری قمیض اور بنیان اتار کر مجھے دی اور کہا میری جان کیا اس طرح رہوگی میں نے پھر شرم سے سر جھکا لیا۔ رقیہ باجی نے ایک بار پھر مجھے چوم کر کہا کہ تم شرماتی ہوئی بہت اچھی لگتی ہو۔ میں نے اپنے کپڑے پہنے اور رقیہ باجی کو کہا کہ آج مجھے جلدی جانا ہے اگر آپ اجازت دے دیں۔ رقیہ باجی ہنستے ہوئے کہنے لگیں کیوں نہانے کی اتنی جلدی ہے میری جان کو، پھر مسکرا کر کہنے لگیں اچھا جا، لیکن کل ٹائم پر پہنچ جانا۔ دوستو میں اپنے گھر تک 5منٹ کے مختصر فاصلے میں بھی پسینہ پسینہ ہوگئی۔ دل کا چور جو تھا ہر وقت یہ خیال آتا تھا کہ جو بھی لڑکی یا عورت مجھے دیکھتی مجھے خیال آتا ہے کہ جیسے اسے سب خبر ہے۔ گھر پہنچ کر سکون آیا، اس وقت گھر میں کوئی نہیں تھا۔ امی پرنسپل میڈم کے گھر کام کرنے گئی ہوئی تھیں اور تمام چھوٹے بہن بھائی ابھی اسکول میں ہی تھے۔ میں نے جلدی سے پہلے شلوار دھوکر دھوپ میں ڈالی اور پھر نہانے چلی گئی جتنی دیر میں نہا کر آئی تو شلوار سوکھ چکی تھی میں نے شکر ادا کیا کہ امی کے آنے سے پہلے شلوار سوکھ گئی تھی کیونکہ ہمارا چھوٹا سا گھر تھا اور امی یا بہنوں سے کوئی بھی چیز چھپانی مشکل تھی۔ ایک بجے چھوٹے بہن بھائی واپس آگئے اور 2بجے امی واپس آگئی۔ امی کو ہمیشہ ڈرائیور چاچا سرکاری سوزوکی ڈبے میں واپس چھوڑنے آتا تھا اس کا نام شفیق تھا اور ایبٹ آباد کا رہنے والا تھا اسکی عمر 50سال کی تھی اور وہ بابا کا دوست تھا اور انکے مرنے کے بعد ہمارا بہت خیال کرتاتھا۔ شفیق چاچا اسکو کے بالک ساتھ اور ہمارے گھر سے چند قدم کے فاصلے پر سرکاری کوارٹر میں رہتا تھا۔ اسکی بیوی صغریٰ چاچی بھی بہت اچھے دل کی عورت تھی اور میری امی کی واحد دوست تھی۔ شفیق چاچا نے مجھے دیکھا تو پہلے امی کو گاڑی تھیلا اتار کردیا جو شائد میڈم سعدیہ نے امی کو دیا تھا پھر میرے سر پر ہاتھ پھیر کر بولا بیٹا اگلے مہینے عائشہ (شفیق چاچاکی بیٹی) کی شادی ہے تم لوگوں نے ضرور آنا ہے، میں نے کہا کہ چاچا امی کہاں کہیں جانے دیتی ہے، تو شفیق چاچا ہنس کر بولا بیٹا یہ کہیں اور نہیں تمہارے گھر کی شاردی ہے تم لوگوں نے ضرور آنا ہے۔ میں نے تمہاری امی سے بات کرلی ہے میں نے امی کی طرف دیکھا تو انہوں نے اثبات میں سر ہلادیا۔ رات کو جب میں سونے کے لیے اپنی چارپائی پر لیٹی تو رقیہ باجی کے ساتھ گزارا ہوئے دن کا ایک ایک پل یاد آنے لگا۔ مجھے یقین ہی نہیں آرہاتھا کہ میں نے یہ سب کچھ کر لیا ہے کیونکہ اس وقت تک میری زندگی کے کسی بھی دریچے سے سیکس کی ہوا تک نہیں آتی تھی۔ آج جو بچیاں 15سال کی ہیں وہ ہماری زندگی کا تصور تک نہیں کرسکتیں، نہ موبائل نہ کمپیوٹر نہ ہی انٹر نیٹ اور نہ ہی کیبل۔ صرف پی ٹی وی اور ہمارے گھر میں وہ بھی نہیں تھا تو میرا جنسی تلذذ کا تجربہ مکمل طور پر خالص تھا اس میں کسی خارجی عوامل کا دخل نہیں تھا۔ اگلے چند دن بغیر کسی اہم واقعے کے گذر گئے رقیہ باجی نے بھی صرف ہلکی ہلکی چیٖھڑ چھاڑ پر اتفاق کیا کونکہ وہ بہت محتاط تھیں اور انہیں ڈر تھا کہ کہیں پرنسپل میڈم اچانک چھاپہ نہ ماردیں اور پرنسپل میڈم سے رقیہ باجی کی جان نکلتی تھی۔ پہلے تجربے کے بعد میری طلب میں بھی اضافہ ہو گیا تھا۔ لیکن سچی بات ہے کہ ڈر بھی بہت لگتا تھا۔ لیکن پھر ایک ایسا واقعہ ہوا جس کے بعد میری زندگی میں سیکس ایسے داخل ہو ا کہ آج تک نہیں نکلا۔ اگر کوئی اسلام آباد کو میرا ہم عمر یہ اسٹوری پڑھ رہا ہے تو اسے یاد ہوگا کہ اسلام آباد میں 80اور90 کی دہائی میں لوڈ شیڈنگ صر ف سردیوں کے مہینے میں ہوتی تھی اور اسکی وجہ راوال اور سملی ڈیم میں پانی کی کمی ہونا تھی۔ سردیوں کی ایک ایسی ہی شام کو ہم سب لوگ گھر پہ تھے دونوں بہنیں اور بھائی سرای کی وجہ سے دورے کمرے میں لحاف میں دبکے پڑے تھے اور میں اور امی ایک کمرے میں تھے کہ رات کو 6بجے دروازے پر دستک ہوئی جی ہاں 1980میں دسمبر شام کے 6بجے کا مطلب رات ہی تھا۔ امی کی ٹانگ میں شام سے درد تھا اور بستر میں لیٹی ہوئی تھی کیونکہ میں اس کی ٹانگیں دبا رہی تھی دونوں بھائی چھوٹے تھے تو انہیں دروازہ کھولنے سے منع کیا تھا۔ دستک کی آواز سن کر امی نے مجھے کہا کہ پوچھو کون ہے میں دروازے کے پاس جا کر بولی کون ہے، باہر سے ایک مردانہ آواز آئی جی میں خرم ہوں، میں نے کہا کہ کون خرم تو اس نے کہا جی میں شفیق ڈرائیور کا بیٹا، مجھے امینہ خالہ سے ملنا ہے۔ میں نے امی کو بتایا تو انہوں نے پہلے حیرت کا اظہار کیا اور پھر ماتھے پر ہاتھ مار کر کہنے لگیں ہا ں آج صغری نے کہا کہ وہ خرم کو بیھجے گی اسٹور دیکھنے۔ ہمارا گھر چونکہ اسکول کی دیوار کے ساتھ پرنسپل میڈم کے کہنے پر بنایا گیا تھا تو کمرے تو صرف 2تھے مگر بابا نے اسٹور اچھا بڑا بنایا تھا تاکہ بعد میں اسکو بھی کمرا بناسکیں لیکن زندگی نے ان کو مہلت نہ دی۔ خرم وہ ہی اسٹور دیکھنے آیا تھا تاکہ اگلے ماہ اسکی بہن عائیشہ کی شادی کو کچھ سامان وہاں رکھا جاسکے۔ میں نے امی کی بات سن کر دروازہ کھول دیا اور سے کہا کہ وہ اندر آجائے۔ ہمارے گھر میں دروازے کے ساتھ ہی کچا صحن تھا خرم جونہی اندر آیا تو ایکدم لڑکھڑا گیا میں نے فورا اس کو تھام لیا جونہی میں نے اسکو پکڑا اس نے بھی فوا مجھے پکڑ لیا پھر 10سیکنڈ میں وہ سنبھل گیا اور ہم دونوں نے ایک دوسرے کو چھوڑ دیا لیکن اس لمحات لمس سے میرے پورے جسم میں سنسنسی دوڑ گئی۔ ہم اندر کمرے میں داخل ہوئے تو خرم نے امی کے پاس جا کر سر کو نیچے جھکایا تو امی نے اس کے سر پر ہاتھ پھرتے ہوئے کہا کہ اتنے اندھیرے میں کیوں آگیا بیٹا، خرم نے کہا خالہ جب گھر سے چلا تھا تو بجلی تھی یہاں پہنچا تو چلی گئی پہلے سوچا کہ واپس چلا جاوں لیکن پھر سوچا کہ اسٹور تو بعد میں بھی دیکھ سکتا ہوں لیکن وہ بام آپ کو دینا ضروری تھا جو امی نے آپکی ٹانگوں کے درد کے لیے بھجوایا ہے، امی یہ سن کر صغری چاچی کو دعائیں دینے لگے اور مجھے کہا کہ بھائی کو کرسی لادے میں نے پاس پڑا موڑھا آگے رکھ دیا اور خود امی کے ساتھ چارپائی پہ بیٹھ گئی۔ کمرے مں لالٹین جل رہی تھی اور خرم بالکل اس کی روشنی تلے بیٹھا ہو ا تھا۔ تب میں اس کو پہلی بار دیکھا۔ خرم کی ستواں ناک تھی اور بڑی بھوری آنکھیں، اس کا رنگ سرخ و سفید تھا اور ہونٹوں پر باریک سی براون مونچھیں اس کا قد بھی خاصا لمبا تھا ، اسنے پہلے بام نکال کر امی کو دیا، پھر جیب سے ایک تھرمامیٹر نکالا او امی کو کہا کہ میری امی نے کہا تھا کہ آپ کا ٹمپریچر لے کر آنا ہے۔ امی نے کہا کہ صغری تو وہم کرتی ہے میں بالکل ٹھیک ہوں لیکن خرم نے امی کی ایک نہ سنی اور تھرما میٹر امی کے منہ میں ڈال دیا۔ خرم لاکھ امی کی دوست کا بیٹا تھا لیکن تھا تو مرد اور امی کو بیوہ ہوئے 4برس گزر چکے تھے امی اس کے اتنے قریب آنے پر جھینپ گئیں۔ میں نے بھی امی کو پہلی بار کسی غیر مرد یا جوان لڑکے سے بغیر پردہ کے بات کرتے دیکھا تھا لیکن اس وقت مجھے کوئی بات عجیب نہیں لگ رہی تھی امی کا ٹمپریچر بالکل نارمل تھا، خرم ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا بڑے عرصے بعد ہمارے گھر میں ایک مردانہ آواز گونج رہی تھی اور مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا۔ 10منٹ کے بعد لائٹ آگئی۔ امی نے کہا کہ صندل جا بھائی کو اسٹور دکھا دے۔ میں خرم کو لے کر باہر نکلی تو صحن عبور کرکے ہم اسٹور پہنچ گئے۔ جب میں نے اسٹور کا بلب جلانے کی کوشش کی تو پتہ لگا کہ اسٹور کا بلب فیوز ہے میں نے خرم کو کہا کہ تم رکو میں اندر سے لالٹین لے کر آتی ہوں، میں دوبارہ اندر آئی تو امی نے کہا کہ اب کیا ہوا میں نے کہا کہ اسٹور کا بلب فیوز ہے امی نے کہا کہ تو ٹھہر اندھیرے میں تیرا جانا مناسب .اور مجھے کہا کہ جلدی سے ایک کپ چائے بنادے اس کے لیے، میں کچن چلی گئی اور اسٹور کی طرف، جب میں نے چائے کا پانی رکھا اور کپ دھو کے رکھے تو دیکھا کہ چائے کی پتی نہیں ہے میں نے سوچا امی سے پوچھتی ہوں کہ قہوہ بنادوں؟ میں اسٹور کی طرف گئی تو مجھے اندر سے زور زور سے بولنے کی آوازیں آنے لگیں، میں دروازے کے ساتھ لگ کر کھڑی ہوگئی اور درز سے اند جھانکا تو میرا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ میں نے دیکھا کے خرم نے امی کو پیچھے سے جکڑا ہو ا ہے اور امی اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے زور لگار رہی ہیں میرے دل میں آیا کہ ابھی اندر گھسوں اور خرم کو 2تھپڑ لگادوں لیکن میں فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی۔ امی نے خرم کو کہا کہ شرم کرو میں تمہاری خالہ ہوں تمہاری امی کی دوست ہوں اور یہ کیا حرکت کر رہے ہو۔ خرم نے امی کا گال کو چومتے ہوئے کہا کہا کہ آپ مجھے بہت پیاری لگتی ہو آپ بہت خوبصورت ہو میں کافی دن سے آپ کو یہ کہنا چارہا تھا لیکن موقع نہیں ملا۔ امی نے اپنی گلابی اردو میں خرم سے کہا بچہ باز آجاو، ہم تمہاری امی کی عمر کا عورت ہے امارا5بچہ ہے شرم کر لو اب مجھے چھوڑ دہ ابھی صندل آجائے گا امرا کتنا بے عزتی ہوگا جوان بیٹی کے سامنے۔ خرم امی کی ساری باتیں سنی ان سنی کرتا رہا پھر اس نے امی کا چہرہ اپنی طرف کیا اور کہا کہ اچھا میں چھوڑ دوں گا لیکن آپ میری دو باتیں سن لو ورنہ پھر جو مرضی ہو میں نہیں ڈرتا اچھا ہے سب کو پتہ چل جائے۔ امی تھی تو ایک گھریلو عورت اس کی باتوں میں آگئی۔ امی نے دروازے کی طرف دیکھا اور پھر خرم کو کہا بولو اس نے امی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا آپ کو اپنے بچوں کی قسم ہے جو میں پوچھوں اس کا سچ سچ جواب دینا ہے یہ کہ کر اس امی کو دیوار کے ساتھ لگا دیا اور امی کے ہاتھ لالٹین لے کر ایک کنڈے کے ساتھ ٹانگ دی۔ اب لالٹین کی روشنی امی کے منہ پر پڑ رہی تھی اور خرم بالک ان کے سامنے کھڑا تھا خرم نے دونوں ہاتھ امی کے کندھوں پر رکھے ہوئے تھے اور اس کا جسم تقریباً امی کے جسم کے ساتھ ٹچ ہو رہا تھا۔ خرم نے امی سے پوچھا آپ کی عمر کتنی ہے امی نے ایک سیکنڈ سوچا اور کہا 34سال خرم نے کہا یہ تو کچھ عمر نہیں۔ پھر خرم نے کہا آپ کو اپنے بچوں کی قسم سچ سچ بتانا میری شکل کیسی ہے امی نے کوئی جواب نہیں دیا خرم نے کہا امینے جلدی کرو بچے آجائیں گے جب اس نے امینے کہا تو میں نے دیکھا کہ امی کے چہرے پر بالکل سرخی دوڑ گئی کیونکہ بابا پیار سے امی کو امینے کہتے تھے۔ امی نے کہا تم بہت خوبصورت ہو بیٹا تمہیں تو کوئی بھی لڑکی مل جائے گی،پھر میں نے دیکھا کہ نیم تاریکی میں خرم نے اپنا نچلا دھڑ امی کے ساتھ پیوست کردیا۔ میں نے دیکھا کہ امی کے منہ سے ہلکی سی سسکی نکل گئی، خرم نے کہا کہ امینے تم بہت خوبصورت ہو میں نے اپنی زندگی میں تم سے خوبصورت عورت نہیں دیکھی۔ امی کا رنگ پہلے ہی سرخ تھا مزید گلنار ہوگیا۔ خوبصورتی کی تعریف دنیا کی ہر عورت کی کمزوری ہے خرم نے نے پھر امی کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا اور امی کی دونوں آنکھیں چوم لیں۔ میں نے دیکھا کہ امی کے چہرے پر اب مزاحمت کم ہو رہی تھی کہ خرم نے بڑی آہستگی سے امی کے دونوں ممے قمیض کے اوپر سے دبانے شروع کردئے اور امی کو کہا کہ تم اتنی پیاری اور جوان ہو مرد کے بغیر کیسے زندگی گزاروگی امی نے کہا کہ میرے 5بچے ہیں اور ہمارے علاقے میں بچوں والی بیوہ شادی نہیں کرتی۔ لیکن اب کی امی کی آواز اور لہجے سے غصہ بالکل غایب ہوچکا تھا۔ خرم نے امی کی ناک سے اپنی ناک رگڑی اور کہا امینے جان آئی لو یو۔ امی نے سر جھکا کر کہا بے شرم اب جاو تم نے میرا سارا محنت ختم کر دیا ہے امی کے منہ سے یہ سن کر خرم نے امی کو زور سے جپھی ڈال دی۔خرم نیامیکو جپھی ڈالی ھوئی تھی اور خرم امی کے ہونٹوں میں ہونٹ ڈال کر چوس رھے تھے اور امی کی آگے سے قمیض اوپرکردی تھی اب امی کے دونوں بڑے بڑے گول مٹول چٹے سفید چھتیس سائز کے ممے بریزئیر سے آزاد تھے اور امی کی آنکھیں شرم سے مکمل طور پر بند تھیں۔ خرم کا ایک ھاتھامی کے ایک مْمے پر تھا اور دوسرا ھاتھ امی کی بْنڈ پر رکھا ہو تھا وہ اسے اوپر نیچے پھیر رہا تھا۔خرم مسلسلامی کے ہونٹ چوس رہا تھا پھرخرم نے امی کے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ علیحدہ کیے تو میں نے دیکھا کہ امی کی آنکھیں ابھی بند تھیں بند تھی اور وہ شائد 4سال بد ہونے والے اس جنسی مزے میں کھوئی ھوئی تھی اب خرم نے کی گالوں کو چومنا شروع کردیاوہ کبھیامی کے گالوں کو چومتا تو کبھی ان کے گال کو منہ میں بھر کر چوسنے لگ جاتا۔امی کا رنگ تو پہلے ھی چٹا سفید تھا اب بلکل سیب کی طرح لال ہوچکا تھا۔خرم نے اب زبان کا رخ امی کے کان کی لو کی طرف کیا جیسے جیسیخرم کی زبان امی کے کان کی لو سے ھوتی ھوئی کان کے پیچھے کی طرف جاتی تو وہ ایک جھرجھری سی لیتی اور اپنی پھدی والے حصہ کو خرم کے لن والے حصہ کے ساتھ جوڑ دیتی اور منہ سے عجیب عجیب سی آوازیں نکالتی پھر خرم نے تھوڑا نیچے ھوتے ہوئے امی کا نپل منہ میں لے کر اس چوسناشر وع کر دیا۔خر م مسلسل اپنی زبان سے نپل چوس رہا تھا۔ خرم اب اپنا ایک ھاتھامی کے پیٹ پر پھیر رہا تھا اور کبھی اپنی انگلی انکی ناف کے سوارخ میں پھیرنے لگ جاتا۔ پھر خرم نے اپنا ایک ہاتھ آہستہ آہستہ امی کی پھدی پر شلوار کے اوپر پھیرنا شروع کر دیا اور امی کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکل گئی۔امی کا ھاتھ مسلسل خرم کے بالوں کو مٹھی میں لیے ھوے تھا۔ پھر خرم نے اپنا ھاتھ امی کے ازاربند پر رکھ لیا اور انگلیوں سیاسکا سرا تلاش کرنے لگ گیا۔ امی نے ایک دم کہا نہیں نہیں بس کو اب کوئی آجائے گا، خرم نے یہ بات بھانپ لی کہ ا امی کو جنسی عمل پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ کسی کے آنے کا ڈر ہے تو وہ اور شہر ہوگیا۔ اس نے امی کو کہا امینے جان ابھی کوئی نہیں آتا اور کہا کہ آپ آواز لگاو کہ صندل چائے کمرے میں رکھ دو ہم وہیں آرہے ہیں۔ امی بھی اس کے ایسے ٹرانس میں تھی کہ انہوں نے آواز لگائی صندل بیٹا چائے کمرے میں رکھ دینا میں پیٹی ہٹوا کر آرہی ہوں۔ میں نے دروازے سے ذرا دور جا کر آواز لگائی جی امی پہلے چولہا تھوڑا خراب تھا اب دوبارہ پانی رکھا ہے 15منٹ لگے گیں، میں دربارہ کچن آئی اور نئے سرے سے چائے کا پانی رکھا اور دہ بارہ اسٹور روم کی طرف چلی گئی۔ اس وقت تک خرم امی کی شلوار اتار چکا تھا۔میری آنکھوں کے سامنے اب امی کی گوری گوری موٹی بھری بھری ننگی ٹانگیں اور گولڈن رنگ کے بالوں میں ڈھکی انکی پھولی ھوی پْھدی تھی یہ سین دیکھتے ھی میرا ھاتھ خود ھی اپنیپھدی پر چلا گیا جو پتہ نھی کتنی گرم تھی اور میں نے اس مسلنا شروع کردیا۔ خرم نے اپنا ایک ھاتھامی کی پھدی پر رکھا ہو ا تھا اور ھاتھ کی درمیانی انگلی کو پھدی کے اوپر نیچیکر رہا تھا امی اب بہت گرم ہوچکی تھی اور اپنے ھاتھ سے خرم کے ہاتھ کو اپنی پھدی پر دبارہی تھی۔ اب امی اپنی ٹانگوں کو مزید کھول کرخرم کے کے ھاتھ کو آگے پیچھے جانے کا راستہ دے رھی تھی۔ اچانک امی کی آنکھیں نیم بند ھونے لگ گئی اور منہ اور انہوں نے تیز آواز میں سسکیا ں بھرنی شروع کردین۔ خرم نے اپنے ھاتھ کی سپیڈ اور تیز کردی اچانک امی نے اپنی دونوں ٹانگوں کوخرم کے ھاتھ سمیت ذور سے آپس میں بھینچ لیا اور نیچے کی طرف جھکتی گئی اتنا جھکتی گئی کہ نیچے ھی پاوں کے بل پیشاب کرنے کے انداز میں بیٹھ گئی خرم بھی امی کے ساتھ ہی جھک گیا۔ پھر امی کے جسم نے ایک زور سے جھٹکا لیا اور ایک دم پرسکون ہوگیا۔ اب امی اور خرم دو منٹ یونہی لیٹے رہے اور پھر امی جلد ہی اٹھ گئی اور کہا جلدی کرو صندل آگئی ہوگی میں بھی جلدی سے کچن چلی گئی اور جتنی دیر میں امی اور خرم کپڑے پہن کر آتے میں بھی قہوہ لے آئی۔ امی نے کمرے میں آتے ہی صفائیاں دینی شروع کردین کہ مشکل سے جگہ نکل آئی ہے اور کل پر سوں خرم آکر سامان رکھ دے گا۔ امی اور خرم ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے، اور سچی بات ہے کہ مجھے امی پہ تو غصہ آرہا تھا لیکن خرم اور پیارا لگ رہا تھا۔ نہیں یہ کہہ کر امی ہمت کرکے اٹھیں اور لالٹین اٹھا کر اسٹور کی طرف چل دیں
  10. admin sir aek bar phir convertor ka link behjean
  11. کینٹین والی لڑکی قسط 2 رمیز حیدر میری آواز سنتے ہی رقیہ باجی اپنے کپڑے ٹھیک کرے ہوئے کھڑکی کی طرف آیئیں اور مجھے کنہے لگیں کیا ہو ا، میں نے کہا کہ پرنسپل صاحبہ آرہی ہیں یہ سن کر رقیہ باجی کا رنگ ایک دم زرد پڑگیا اس نے اپنے تمام کپڑے ٹھیک کرتے ہوئے دروازہ کھول دیا اور جلد ہی ایک تولیا گیلا کرے کے اپنے منہ پر پھیرا اور اسی تولیے سے جلدی عائزہ کا منہ بھی صاف کرنے لگیں۔ابھی رقیہ باجی نے تولیہ رکھا ہی تھا کہ پرنسپل میڈم اور ا سلامیات والی میڈم عفیفہ کنٹین کے اندر داخل ہوگئیں۔ پرنسپل میڈم سعدیہ کو دیکھتے ہی ہم تینوں نے سلام کیا۔ میڈم سعدیہ نے ہمارے سلام کا جواب دیا اور بڑی حیرانی سے عائزہ کو دیکھتے ہوئے کہنے لگیں تم یہاں کیا کر رہی ہو، عائزہ ابھی جواب سوچ ہی رہی تھی کہ رقیہ باجی نے کہا کہ میڈم یہ اپنا کھانا گرم کراوانے آئی تھی۔ میڈم سعدیہ نے کہا رقیہ تمہیں معلوم نہیں کنٹین کے اندر لڑکیوں کا داخلہ سختی سے منع ہے۔ رقیہ باجی نے نظریں جھکا کر کر کہا میڈم میں معافی چاہتی ہوں، آئیندہ ایسا نہیں ہوگا۔ جب میڈم سعدیہ اور رقیہ باجی کے درمیان یہ بات ہو رہی تھی تو میں نے دیکھا کہ میڈم عفیفہ بڑی گہری نظروں سے عائزہ کا جائزہ لے رہی تھیں اور انکی تمام توجہ عایزہ کے یونیفارم پر آئی شکنوں پر تھی۔ عائزہ نے بھی انکی نظریں محسوس کرلیں تھیں یہی وجہ تھی کہ وہ میڈم عفیفہ سے آنکھیں چرا رہی تھی۔ ہ میڈم عفیفہ کی عمر 45سال کے لگ بھگ تھی انکا جسم صحت مند تھا اور گندمی رنگت کی حامل تھیں وہ میڈم سعدیہ کے بہت قریب تھیں اور ہر مشورے میں شامل ہوتی تھیں کئی لڑکیوں کو سزا یا سخت ڈانٹ کے لیے میڈم سعدیہ میڈم عفیفہ کے حوالے کردیتی تھیں ۔ میڈم سعدیہ اوررقیہ باجی کی گفتگو کا رخ اب دیگر معاملات کی طرف مڑ گیا تھا وہ کنٹین کی صفائی اور کھانے پینے کی اشیاء کے معیار پر بات کر رہی تھیں۔ میڈم سعدیہ واپس جانے کے لیے مڑیں اور عائزہ سے پوچھا تم نے کھانا کھالیا عائزہ نے ہکلاتے ہوئے جواب دیا ج جی میڈم۔ میڈم سعدیہ نے اس کہا کہ تم اپنی کلاس میں جاو اور آئیندہ کھان کنٹین کے باہر سے دیا کرو عائزہ ہاں میں سر ہلاکہ اوکے میم کہتی ہوئی فوراًباہر چلی گئی۔ پھر میڈم سعدیہ نے میری امی کا پوچھا اور کہا کہ وہ آج بیماری کی وجہ سے کام پر نہیں آئی اس کی ٹانگ کا درد کیسا ہے میں نے کہا جی بہتر ہے پھر دونوں کنٹین سے باہر نکل کر لیب کی طرف مڑگئیں۔ انکے جاتے ہی رقیہ باجی نے کہا آج تو نے بڑے ٹائم پر آواز لگائی، لیکن ایک منٹ رک، یہ تونے خطرہ خطرہ کیوں کہا، میں خاموش کھڑی رہی۔ رقیہ باجی یہی واسل درشتگی سے دوبارہ پوچھا تو میں نے کہا کہ میں آدھے گھنٹے سے کھڑکی میں کھڑی تھی، یہ سن کر رقیہ باجی کا رنگ پیلا پڑگیا اور وہ دھم سے صوفے پر بیٹھ گئی، 2منٹ تک مکمل سناٹا رہا۔ پھر رقیہ باجی نے مجھے پاس بلا کر صوفے پر بٹھایا اور میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر رونے لگی اور بار بار کہہ رہی تھی صندل مجھے معاف کردو میں بہک گئی تھی۔ میں نے انکے آنسو پوچھے اور کہا کوئی بات نہیں، پھر رقیہ باجی کہنے لگیں میرے میاں ے انتقال کو کتنے برس بیت گئے بعض اوقات خود پر قابو نہیں رہتا لیکن تو یہ بات ابھی نہیں سمجھے گی جب تیری شادی ہوگی تو تجھے ان معاملات کا پتہ چلے گا انکی یہ بات سن کر میں شرما گئی اور میر ا چہرہ بالکل سرخ ہو گیا۔ رقیہ باجی نے میرا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیکر میری آنکھوں کو چوم لیا اور کہنے لگی میری بنو شرماتی ہوئی کتنی خوبصورت لگتی ہے، میں اور شرماگئی، رقیہ باجی نے ایک دم مجھے گلے سے لگا لیا اور کہا میری جان وعدہ کر یہ میرا راز کبھی کسی کے آگے نہیں کھولے گی۔ سچی بات تھی کہ رقیہ باجی کا رویہ پہلے دن سے میرے ساتھ بہت اچھا تھا اور مجھے اس نوکری کی وجہ سے بڑی سہولت تھی میں نے کہا کہ میں وعدہ کرتی ہوں باجی کسی کو نہیں بتاونگی۔ یہ سن کر رقیہ باجی نے ایک بار پھر میری آنکھوں کو چوم لیا اور میرا ہاتھ زور سے دبایا۔ اور مجھے اپنے سینے کے ساتھ بھینچ لیا۔۔۔ اْس کے اس طرح گلے لگانے سے میرے سینے کے ساتھ اس کے موٹے ممے میری چھاتیوں کے ساتھ پریس ہو گئے۔ اسے سینے سے سینہ لگانے سے مجھے ایک نئی ایک نئی چیز محسوس ہوئی۔ ابھی ہم بات کر رہے تھے کہ ہمارے اسکول کی جمعدارنی مارتھاکنٹین کی صفائی کرنے آگئی، میں اس سے جھاڑو مر وا کر فارغ ہوئی تھی کہ 3بج گئے میں نے رقیہ باجی سے کہا کہ میں اب جاوں امی انتظار کر رہی ہوں گی ویسے بھی انکی طبعیت خراب ہے۔ رقیہ باجی نے کہا اوکے۔ جب میں رات کو سنے کے لیے لیٹی تو پھر سارا منظر میری آنکھوں میں پھرنے لگا اور مجھے لگا کہ میں دوبارہ ڈسچارج ہو رہی ہوں پھر بڑے مزے کی نیند آئی۔ اگلے دن جمعرات تھی جلدی چھٹی ہوگئی۔ جمعے کو چھٹی کے دن میں نے بہن کے ساتھ مل کر کپڑے دھوئے امی کو دوائی دی۔ ہفتے کے دن جب میں کام پر پہنچی تو رقیہ باجی کی آنکھوں میں ایک خاص چمک تھی اور خوش لگ رہی تھیں میں نے تھوڑی دیر بعد پو چھا باجی کیا بات ہے آج بڑی خوش لگ رہی ہیں کہیں عائزہ تو نہیں آرہی آج دو بارہ، تو رقیہ باجی چپ کر ایسی کوئی بات نہیں تو کیا اب بلیک میل کرے گی کیا، میں نے کہا کہ نہیں باجی میں تو مزاق کر رہی تھی۔ چھٹی کے بعد جب ہم کام سمیٹ رہے تھے تو میں نے نوٹ کیا کہ رقیہ باجی میرے بالکل ساتھ ساتھ چپک کر کام کر رہی تھیں اور بہانے بہانے سے میرے جسم بالخصوص میرے چوتڑوں کو ہاتھ لگا رہی تھیں، کچھ دیر تک تو میں نے برداشت کیا پھر میں نے کہا رقیہ باجی یہ آج آپ کیا کر رہی ہو تو انہوں نے ایک دم کام سے ہاتھ روک دئے اور میرے کندھوں پہ ہاتھ رکھ کر کہنے لگیں صندل جان اب مجھ سے برداشت نہیں ہوتا تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو، میں نے کہا کہ پہلے تو کبھی آپ نے یہ بات نہیں کی اب کیا ہوا ہے آپ کو، رقیہ باجی کہنے لگیں پہلے میں تم سے اس موضوع پر بات کرنے سے جھجکتی رہی لیکن اس دن تم نے مجھے اور عائزہ کو دیکھ لیا تھا اب ہمارے درمیان پہلے والا تکلف نہیں رہا۔ ابھی میں کوئی جواب سوچ ہی رہی تھی کہ رقیہ باجی نے دروازہ بند کرد یا اور مجھے اپنی بانہوں میں جکڑ لیا۔ باجی نے اپنے مموں کو بڑی زور سے میرے ساتھ پریس کیا اور پھر اپنی بڑی سی چھاتیوں کو میری چھاتیوں پر رگڑنے لگی۔۔ اس کے اس طرح چھاتی رگڑنے سے میرے اندر ایک انجانی سا کرنٹ دوڑنے لگیا۔ اور میں مزے سے بے حال ہو کر تیزی سے سانس لینے لگی۔۔ میری یہ حالت دیکھ کرباجی نے اپنی چھاتیوں کو میری چھاتیوں کے ساتھ رگڑتے ہوئے کہا صندل جان تمہیں مزہ آ رہا ہے، میری آنکھیں بند ہو چکی تھیں اور میرے منہ سے ہلکی سی جی نکلی۔ اسے سن کر باجی نے میرے ایک گال کو چوما۔۔۔ اور کہنے لگی صندل۔۔ اس طرح چھاتیاں رگڑنے سیمجھے تمہارے چھوٹے چھوٹے ممیبھی بڑا مزہ دے رہے ہیں۔ تو میں نے ویسے ہی مستی سے اس سے پوچھا وہ کیسے؟ تو وہ کہنے لگی وہ ایسیمیری جان میری کیوٹ چھوٹی پر ی کہ میرے بڑے بڑے اور تمھارے چھوٹے چھوٹے ممے آپس میں ٹکرا کر ہم دونوں کے جسموں میں آگ لگا رہے ہیں، پھر باجی رقیہ نے اپنی قمیض اتار کر کرسی پہ رکھ دی۔۔اور میری طرف دیکھا۔میں بڑے غور سیان کی ننگی چھاتیوں کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ اور میں نے ابھی تک اپنی قمیض کو نہ اتارا تھا، مھے یوں کھڑے دیکھ کر انہوں نے مجھے غصے سے کہا کہ تم بھی اتارو نہ قمیض، میں انکی آواز سے ایک دم سے چونک پڑی باجی میری طرف دیکھ کر بولی سچ کہہ رہی ہوں صندل جانو۔۔۔۔ تمہارے سینے پر لگی یہ چھوٹی چھوٹی چھاتیں دیکھنے کا بڑا دل کر رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ آگے بڑھی۔۔۔۔اور اس نے میری قمیض اتار کر کنٹین میں لگی کھونیٹوں پر ٹانگ دی۔میں برا نہیں پہنتی تھی لیکن بنیان لازمی پہنتی تھی رقیہ باجی نے فوراً بنیان بھی اتار دی اور میری ننگی چھاتیوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیا۔۔۔ اور انہیں ہولے ہولے دبانے لگی۔۔۔ مجھے اپنی چھاتیوں پر اس کے ہاتھوں کا لمس بہت ہی اچھا رہا تھا اور مزے کے مارے بے اختیار میرے منہ سے۔۔۔ہائے۔۔ہائے کی آوازیں نکل رہیں تھیں جسے سن کر وہ بھی مست ہو گئی۔۔اور میری چھوٹی چھوٹی چھاتیوں کو دباتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔۔ مزہ آ رہا ہے تو میں نے ایک گرم آہ بھرتے ہوئے کہا جی باجی بہت زیادہ۔ میری بات سن کر وہ کہنے لگیں جان تمہاری چھاتیوں کو پکڑنے سے مجھے بھی بڑا مزہ آ رہا ہے آج تک ان کو دور سے ہی دیکھا تھا،اور پھر بڑی مستی سے میری چھاتیں کو دبانے لگی، کچھ دیر تک وہ میری چھاتیوں کو دباتی رہی، پھر اچانک ہی مجھ پر شہوت نے اتنا غلبہپالیا کہ میں نے شرم کو بالئے طاق رکھ ہاتھ بڑھا کر انکے مموں کو پکڑ لیا اور دبانے لگی چونکہ یہ مری پہلی بار تھی تو میں نیان کے مموں کو کچھ زیادہ ہی زور سے دبا دیا تھا۔۔تبھی میں نے رقیہ باجی کی ہلکی سی چیخ سنی اور وہ کہنے لگی آرام سے میری جان لیکن چونکہ اس وقت مجھ پر پوری طرح سے شہوت سوار تھی اس لیئے میں نے اس کی بات سنی ان سنی کر دیاور انکے سانولے فل سائز مموں کو اپنی مْٹھی میں پکڑ کر مسلسل دباتی رہی۔۔۔ کچھ دیر تک تو وہ مجھے آرام سے دبانے کو کہتی رہیں۔ پھرانکو زیادہ مزہ آنے لگا کیونکہ وہ پرانی کھلاڑی تھیں اور اس دفعہ جب میں نے ان کی چھاتیوں کو دبایا تو وہ میرے ساتھ چمٹ گئیں اور مجھے ہیجان انگیز آواز میں کہنے لگیں ظالم مادیا ہے تو تو بڑی گرم نکلی میری گوری محبوبہ۔ واقعی جب میں نے دیکھا تو میر جسم بالکل گورا تھا اور باجی کا گیرا سانولہ تو بڑا دلفریب امتزاج لگ رتھا بڑا جان لیوا۔ باجی نے اپنی بات کہتے ہی اپنے نچلے دھڑ کو میرے ساتھ جوڑ لیا اور میری ران کے ساتھ اپنی پھدی کو جوڑ کر رگڑنے لگی۔۔ اْف اس وقت ان کی چوت بہت گرم ہو رہی تھی اور اس کی چوت کا میری ران کے ساتھ جْڑنا تھا کہ۔۔ خود میرے اپنے اندر۔۔۔ خاص طور پر میری چوت میں بھی ایک ہلچل مچنا شروع ہو گئی۔اور مجھے ایسا لگا کہ جیسے کسی نے میری دونوں رانوں کے بیچ والے حصے میں آگ لگا دی ہو میں نے اس مزے سے مجبور ہوکر کر باجی کا ہاتھ پکڑا اور شلوار کے اوپر سے ہی اپنی پھدی پر رکھ دیا۔۔۔باجی نے اپنے ہاتھ پہ جیسے ہی میری چوت کو محسوس کیا تو اس نے ایک دم سے میری چوت کو اپنی مْٹھی میں۔پکڑا اور اسے دبانے لگیں۔۔۔۔ اس کے یوں دبانے سے میرے منہ سے ہلکی ہلکی چیخں نکلنے لگیں۔ا ور میں نے ایک ہاتھ اپنے منہ پہ رکھ لیا۔ باجی اپنی چوت کو میری ران پر رگڑتے ہوئے کہنے لگیں صندل جان آئی لو یو مجھے اس کا جواب تو نہیں آیا فوری طور پر مگر میں نے باجی کی آنکھوں کو چوم لیا، اس سارے عمل کے کیساتھ ساتھ کی باجی پھدی کو میری پھدی کے ساتھ جوڑ دیا اور اوپر نیچے ہونا شروع ہوگئی سسکیاں اور ہلکی چیخیں باجی کی بھی نکل رہی تھیں پھر باجی کو خود سیدھی لیٹ گئیں اور مجھے اپنے اوپر لٹالیا باجی نے اپنے ممے بالکل میرے منہ کے آگے کردئے میں انکا اشارہ نہ سمجھی تو انہوں نے میرا منہ پکڑ کر اپنے ایک ممے پر رکھ دیا میں نے بباکی سے ان کا سانولا بڑا سا مما چوسنا شروع کر دیا تو انے جسم نے لذت کے مارے ایک جھر جھری لی اور مجھے اور زور سے چمٹا لیا اور ساتھ ہی ہی میری شلوار کے اندر ہاتھ ڈال کر میرے چوتڑوں پر پیھرنے لگی تھوڑی دیر میں میرا ازاربند ڈھیلا ہو گیا اور باجی کا ہاتھ زیادہ اندر گھس گیا ۔۔ تھوڑے ہی وقت میں دوسری باجی میری ننگی پھدی کو اپنی مْٹھی میں لیئے مسلسل بھینچ رہی تھی اور میں باجی کے ممے چوسنے کے ساتھ ساتھ انکی پھدی کو زور سے کجارہی تھی کہ باجی نے اپنی ایک انگلی میری گیلی چوت پر پھرنا شروع کردی اف میرا تو لذت سے برا حال ہوگیا۔ ابھی ہم دونوں دیوانہ وار اپنے اس جنسی عمل میں مشغول تھیں کہ کچھ ہی دیر بعد ہم دونوں کے سانس چڑھنے لگے۔۔۔۔اورمیرے منہ سے بے ربط قسم کی باتیں نکلنے لگیں۔۔۔۔سس۔۔سس۔۔۔۔اوئی۔۔۔۔۔۔۔ اْف۔ف۔ف۔ف۔۔۔۔۔اوہ۔۔اوہ ہ ہ۔ اور پھر جلد ہی میری چوت میں لگی آگ سرد ہونا شروع ہو گئی۔۔۔ اور پھر ہم دونوں کی پھدیوں میں پانی آتے ہی باجی نے میری چوت اور میں نیانکی چوت سے ہاتھ اٹھالیے۔ اور جھٹکے مارتے ہوئے اپنی اپنی پھدیوں سے پانی چھوڑنے لگیں۔۔۔۔۔۔ اور۔۔ پھر جب ہماری پھدیوں سے پانی نکلنا رْک گیا۔۔۔ تو باجی مجھ سے الگ ہو گئی۔۔اور صوفے پر بیٹھ کر لمبے لمبے سانس لینے لگی۔۔ جبکہ میری حالت بھی ان سے الگ نہ تھی۔
  12. ok sir please remove the story please. because i can write a story but these technical problems i cant handle
  13. یہ تو کلیر نہیں ہے سر
×
×
  • Create New...