Jump to content
URDU FUN CLUB
Last Chance ! Private Cloud Activation Last Date 15-11-2020 After Last Date Not include Previous Purchase in your Private Cloud

BABA JEEE

Active Members
  • Content Count

    101
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    10

BABA JEEE last won the day on March 6

BABA JEEE had the most liked content!

Community Reputation

299

7 Followers

Profile Information

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. معزز قارئین امید ہے آپ سب خیریت سے ہونگے معاملات بہت الجھے ہوئے تھے جو کہ آہستہ آہستہ معمول پر آ رہے ہیں تفصیلات بتانے کی ضرورت نہیں ہے اس سے آ پ لوگ بور ہی ہونگے بس بہت زیادہ ذاتی مصروفیات تھیں اب عنقریب اس سٹوری کو دوبارہ سے اپڈیٹ کرونگا پوری کوشش ہے کہ اسے جلد ہی مکمل کرو بہت شکریہ فقط BABA JEEE
  2. معزز قارئین کافی دنوں بعد آج حاضر خدمت ہوا ہوں ایک تو میرا موبائل جس پر میں لکھنے کا کام کہوں وہ ماہ مقدس سے پہلے خراب ہو گیا تھا پھر لاک ڈاؤن کی وجہ ٹھیک نہ ہو سکا اب بننے کے لیے دیا ہوا جیسے موبائل ٹھیک ہو کر آجائے گا جلدی ہی اپڈیٹ پوسٹ کردی جائے گی لیٹ کے لیے معذرت خواہ ہوں شکریہ
  3. معزز قارئین مسلسل مصروفیات اور سفر میں ہونے ک کی وجہ کیوں کہ لکھنے کے ساتھ میں مریضوں کو بھی وقت دینا ہوتا ہے اور پھر دوسری سٹوریز کو وقت دینا بھی ضروری ہے دو دن تک اپڈیٹ پوسٹ کرنے پوری کوشش کرتا ہوں مزید کوئی مسلہ نہ ہوا تو
  4. سلسلہ نمبر 41 خرم کی آنکھیں اب اندھیرے میں دیکھنے کی عادی ہوتی جا رہی تھی اسکو اس ہستی کے وجود کا ہیولہ سا نظر آ رہا تھا ،خرم کا دل کیا کہ وہ اپنے چوتڑ اٹھا کر اس ہستی کی شلوار اتارنے میں مدد کر دے ، مگر وہ ایسا نہ کر سکا اس ڈر تھا کہ اس ہستی کو اگر پتا چل گیا کہ میں جاگ گیا ہوں تو وہ ہستی واپس ہی نہ چلی جائے ،اسطرح اس کو جومزہ آ رہا تھا وہ ختم ہوجانا تھا وہ چپ چاپ لیٹا رہا اور کوئی حرکت نہ کی ،اس ہستی کو اس کی شلوار اتارنے میں مشکل ہو رہی تھی مگر اس نے بڑی احتیاط سے اس کی شلوار پکڑ کر گھنٹوں سے نیچے کر دی ،پھر اس کی للی کو پکڑ لیا اور سہلانے لگ گئی پھر اس نے اس کی اکڑی ہوئی للی پر کچھ گیلا گیلا سا لگایا اور اسکی للی ہاتھ سے اوپر نیچے کر رہی تھی ،کچھ دیر بعد اس ہستی نے اس کے ہاتھ چومنے شروع کر دیے پھر اس نے اسکی رانوں پر بوسے لینے شروع کردیے ،آہستہ آہستہ اس کی للی کی اردگرد کی جگہ چوم رہی تھی پھر اس کے پیٹ پر سے چومنے لگ گئی اسی طرح اس کے سینے پر آگئی اور سینے پر سے چومنا شروع کردیا پھر اس کی گالوں پر سے بوسے لیے ، خرم کو اپنے چہرےپراسکی گرم گرم سانسوں کی گرمائش محسوس ہو رہی تھی پھر خرم کو اپنے ہونٹوں پر کچھ نرم نرم سا محسوس ہوا جیسے کوئی نرم نرم چیز اس کے ہونٹوں پر پھیری جا رہی ہو ، بہت پیاری خوشبو آ رہی تھی اس ہستی کے پاس سے وہ ہستی کوشش کر رہی تھی کہ اس کے ہونٹ کھل جائیں ،اس ہستی نے اس کے ہونٹوں کو چوم لیا اس کے بعد اس کے ہونٹوں پر زبان پھیری اب خرم کا منہ مزے کی شدت سے کھل گیا تھا اس ہستی نے اس کے کھلے ہوئے ہونٹ چوس لیے اس کی سانسوں کی خشگوار مہک خرم کو مزے کی کیفیت میں مبتلا کر رہی تھی اسے عجیب مزہ آ رہا تھا اس سے پہلے خرم اس مزے سے ہمکنار نہیں ہوا تھا جو آج اسے مل رہا تھا اس کا دل کر رہا تھا کہ لائٹ جلے اور وہ اس ہستی کو دیکھے کہ وہ کون ہے جو چپکے سے اس کے ساتھ مزے کر رہی ہے اس ہستی نے اب پھر سے اس کے کھلے ہوئے ہونٹوں پر کچھ نرم نرم لگایا اور خرم کے سر کو پکڑ کر تھوڑا سا اٹھا کر اس کے کھلے ہوئے منہ میں کچھ نرم نرم سا احساس ہوا اب خرم کو محسوس ہوگیا کہ وہ اس ہستی کے پستانوں کے نپل ہیں جو اسکے ہونٹوں پر رگڑ رہی تھی ،اب خرم کا دل کر رہا تھا کہ اس کے پستانوں کے نپل چوسے مگر وہ ایسا کر نہیں سکتا تھا کہیں اس ہستی کو پتا نہ چل جائے کہ وہ جاگ رہا ہے وہ دم سادھے لیٹا رہا اس ہستی نے خوب اس کے ہونٹوں پر اپنے دونوں پستانوں کے نپل رگڑے اس کے بعد وہ ہستی کھڑی ہوگئی ،خرم یہی سمجھا کہ وہ اب جانے لگی ہے اس نے آنکھیں بند کر لیں تاکہ دروازہ کھلنے پر اس کو جاگتے کو دیکھ نہ لے کچھ لمحوں کے بعد اس نے آنکھیں کھولیں ،جیسا خرم نے سوچا ویسا نہی ہوا وہ تھا وہیں کھڑی نیچے جھکی اور پھر سیدھی ہوگی اس کے بعد اس سنگل بیڈ پر چڑھ گئی ایک بار تو بیڈ کی چرچراہٹ کی آواز سنائی دی ،اس ہستی نے اس کی اکڑی ہوئی للی کو پکڑکراپنی پھدی پر رگڑا تو کچھ گرم گرم سا گیلا پن کاخرم کواحساس ہوا اس کے بعد اس ہستی نے اپنے گھٹنے موڑ کر آہستہ آہستہ اس کی للی پر بیٹھنا شروع کر دیا گھنٹے بیڈ کے اوپر دائیں بائیں کیے ہوئے تھے صرف للی اس کی پھدی پر سیٹ تھی آہستہ آہستہ اس کی للی اپنی پھدی میں لے لی ، خرم کو لگا جیسےاسکی للی جلتے ہوئے تندور یا چولہے میں آگئی ہواس کو ہونٹ بھینچنے پڑ گئے ،اس ہستی نے اپنا وزن خرم کو محسوس ہونے نہیں دیا اپنے ہاتھ بیڈ کی ٹیک رکھ لیے اور آہستہ آہستہ اپنی پھدی کو اس کی موٹی مگر ڈھائی انچ کی للی پر رگڑے کے طرح آگے پیچھے کرنا شروع کردیا اس ہستی نے اپناوزن پوری طرح کنٹرول کیاہواتھاتاکہ سوئے ہوئے خرم کو محسوس نہ ہو مگر خرم تومزے کی وادیوں میں اترا ہوا تھا ہونٹ اس کے ابھی بھی کھلے ہوئے تھے وہ بیڈ کی ٹیک کو پکڑنے کی وجہ سے جھکی ہوئی اسطرح اس کے ممے اس منہ سے ٹکرا رہے تھے وہ دونوں کام کر رہی تھی پھدی کو للی کےاوپر نیچےکررہی تھی اور ممے اسکے منہ سے رگڑ رہی تھی اس ہستی کے منہ سے اب مزے اور شہوت کی وجہ سے ہلکی ہلکی سی سی کی آوازیں نکل رہیں تھیں تقریبا چار پانچ منٹ کے بعد اس ہستی کی اوپر نیچے ہونے کی رفتار زیادہ ہوگئ تھی مگر اسطرح کہ خرم کو جھٹکے نہ لگیں اور اس نے اپناایک ہاتھ بیڈ کی ٹیک سے اٹھا کر اپنی رانوں کے درمیان لے آئی اپنی پھدی پر زور زور سے ہاتھ اوپر نیچے کر رہی تھی ساتھ خرم کی للی پر اوپر نیچے ہو رہی اسی دوران اس کی آہ نکلی اور کچھ گرم گرم لاوہ خرم کی للی اور اسکے اردگرد بہنے لگ گیا وہ رک گئی اور دونوں ہاتھوں سے بیڈ کی ٹیک کوپکڑ کر سانسیں درست کرنے لگ گئی پھر ایک طرف جھکی اور اوپر ہوئی پھر گھٹنوں کے بل اوپر ہوئی اور اپنی رانوں کے درمیان ہاتھ لا کر ایک بار ہاتھ پھیرا پھر اوپر کھڑی ہوکر بیڈ پرسے آرام سے نیچے اتر گئی ،، جاری ہے ،،،،،©
  5. سلسلہ نمبر 40 اس کے پیٹ سے اس کی شرٹ چپک گئی تھی جس کی وجہ سروش کی ناف کی بناوٹ واضع طور پر نظر آ رہی ،دونوں نے کھیلنے کی بس کر دی اور لان میں رکھی ہوئی کرسیوں پر بیٹھ کر سستانے لگ گئیں سروش نے اسے پانی لانے کو کہا وہ اندر چلا گیا پانی کی بوتل اور گلاس لے آیا انہوں نےپانی پیا اس کے بعد وہ بیٹھی ہوئی باتیں کر رہیں تھیں خرم دیوار کے پاس گری ہوئی شٹل اٹھانے گیا تو فراز اسے بلانے آگیا ، تجھے مما بلا رہی ہیں گاؤں سے فون آیا ہے بات کر لو ،خرم بھاگتا ہوااندر آیا فون کان سے لگا کر مہرو بیگم بیٹھیں ہوئیں تھیں اس کو دیکھ کر بولی لو خرم آگیا ہے اس سے بات کر لو مہرو بیگم صاحبہ نے کہا لوخرم شبنم بی بی سے بات کر لے اس نے ریسور خرم کے کان سے لگا لیا وہ آہستہ سا بولا ہیلو ،آگے سے شبنم چوہدری نے کہا کیسا ہے خرم تیرا دل لگ گیا وہاں، خرم نے کہا بلکل ٹھیک ہوں جی شبنم نے کہا لے اپنی ماں سے بات کر لے بڑی اداس ہے تیرے لیے ،شبنم چوہدری نۓ ریسور اس کی ماں نسیم کو پکڑا دیا ،آگے سے نسیم بولی کیسا ہے میرا پتر ،خرم نے کہا اماں ٹھیک ہوں ، نسیم بولی اداس تو نہیں ہوا خرم نے کہا اماں ہوا تو ہوں پر تو پریشان نہ ہو میں رہ لوں گا زری کیسی ہے ابا کیسا ہے نسیم نے کہا دونوں ٹھیک ہیں زری بہت اداس ہے تیرے لیے ،اماں تجھے پتا ہے بیگم صاحبہ نے کل مجھے کپڑے لے کر دیے سکول کی وردی لیکر دی ہے اور بیگم صاحبہ کی اماں اور بہن نے بھی کپڑے اور جوتے لیکر دیۓ اور تو اور بیگم صاحبہ کی بڑی بہن نے مجھے پانچ سو روپے دیے ہیں ،اچھا بیٹا پیسے سنبھال کر رکھنا اتنے سارے پیسے گم نہ ہوجائیں گے بیٹا ، خرم نے کہا نہیں اماں میں نے بالی بھرجائی کو دے دیے ہیں ،نسیم نے کہا یہ بالی بھرجائی کون ہے خرم نے کہا اماں یہ بیگم صاحبہ کے کچن کا اور گھر کے دوسرے کام کرتی ہے اس کا شوہر چوہدری صاحب کے گھر کا چوکیدار ہے دونوں میاں بیوی بہت اچھے ہیں بالی بھرجائی تو بہت اچھی ہے ،نسیم خوش ہوئے اچھی بات ہے میرا پتر چل پھر بات کروں گی وہاں تنگ نہیں کرنا سیانا پتر بننا ،آپ پریشانی نہ لوں اماں ،نسیم نے اچھا پتر بند کرتی ہوں کافی کا م کرنے ہیں چل بند کرتی ہوں ،خرم نے کہا ٹھیک ہے اماں ،نسیم نے فون کا ریسیور کریڈل پر رکھ دیا ،خرم کچھ وہی کھڑا رہا پھر بالی نے آواز دی تو وہ کچن میں آگیا اس نے پوچھا کس کا فون تھا خرم نے کہا اماں کا فون تھا بالی نے پوچھا اداس ہوگی وہ خرم نے کہا ہاں ہوگی شاید دھیمے لہجے میں کہا ،بالی نے کہا اچھا آجا کھانا لگائیں ٹیبل پر دونوں نے ملکر کھانا لگا دیا ،بالی نے بیگم صاحبہ کو بتایا کہ کھانا لگ گیا ہے ،سب ہی ٹیبل پر اکھٹے آگئے چندا اس وقت نہائی ہوئی لگ رہی تھی کپڑے تبدیل کیے ہوئی تھی اورسروش بی بی نے بھی نہا کر کپڑے بدلے ہوئے تھے ، سب نے کھانا کھایا ٹی وی چلا کر بیٹھ گئے ،خرم بالی کے پاس کچن میں آکر کھانا کھایا اور پھراپنے کمرے میں آگیا اپنے نئے کپڑے سیٹ کرکے رکھے اور قمیض اتار کر سونے کے لیے بستر پر لیٹ گیا کیونکہ وہ آج بہت تھک گیا تھامارکیٹ میں چل چل کر ، کچھ دیر بعد اس کو نیند نے گھیر لیا ، رات کا نجانے کون سا پہر تھا اس کے کمرے کی لائٹ بند تھی حالانکہ جب وہ سویا تھا تب لائٹ جل رہی تھی ،وہ نیم خوابیدہ سا لیٹا ہوا تھا ،اسے اپنی شلوارپر سرسراہٹ سی محسوس ہوئی جیسے کوئی اسکی شلوار میں ہاتھ ڈالنے کی کوشش کر رہا چند لمحوں کے بعد اسے اپنے بائیں طرف سانسوں کی گرماہٹ محسوس ہوئی ایک ہاتھ اس کے پیٹ پر سے ہوتا ہوا اس کی للی پر آگیا جو مکمل سوئی ہوئی تھی ،ایکبار تو وہ ڈر گیا پھر اس نے مکمل آنکھیں کھولیں تو اسے یقین ہوگیا کہ کوئی اس کے پاس بیٹھا ہوا ہے اور واقعی اس کی للی کسی نے پکڑ رکھا ہےپھر اس ہستی نے جس کا ابھی اسے کوئی پتا نہیں تھا کہ کون ہے،ایک بار اس کا دل کیا کہ اس کے ہاتھ ہٹا کر اٹھ بیٹھے مگر وہ ایسا نہ کر سکا اور بدستور لیٹا رہا ،اس ہستی نے اس کی للی کو دبایا پھر اس چھیڑ چھاڑ شروع کر دی چند لمحوں کے بعد اس کی للی مکمل اکڑ چکی تھی اس ہستی نے آہستہ آہستہ اس کی الاسٹک بندھی شلوار کے اندر ہاتھ ڈال دیا جیسے اسے اسکے ہاتھ کی انگلیوں کا لمس محسوس ہوا اس کے اندر تو سنسنی پیدا گئی تھی ،شادو کے بعد پہلی کوئی ہستی تھی جس نے اس کی للی کو پکڑا ہوا تھا،خرم کو ہاتھ کی نرمی سے یہ تو یقین ہوچکا تھا کہ یہ ہاتھ زنانہ ہے کس کا ہے یہ نہیں پتا تھا کچھ دیر اس ہستی نے اسکی للی کو اچھی طرح اوپر نیچے کیا پھر وہ ہستی جو نیچے فرش پر قالین پر بیٹھی ہوئی تھی اور کے بیڈ کے بلکل ساتھ لگی ہوئی تھی اس ہستی نے کھڑے ہوکر اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کی شلوار پکڑ کر اتارنے کی کوشش پہلے تو مشکل ہوئی ،©
  6. سلسلہ نمبر 39 خرم نے کہا نہیں بی بی جی میں آپ کے برابر نہیں بیٹھ سکتا ،سروش ہنستے ہوئے اچھا بڑے تمیز دار ہو تم ،کس نۓ سکھائی ہیں یہ سب باتیں تمہیں خرم بولا بی بی جی میری اماں اور میرے ابا کہتے ہیں بڑے لوگوں کے برابر نہیں بیٹھنا چاہیے ،وہ ناراض ہوتے ہیں سروش ہنستے ہوئے اٹھ کر کھڑی ہوگئی اس نے خرم سے کہا آؤ واک کرتے ہیں ،مجھے اپنے گاؤں کے بارے میں بتاؤ ،تمہارے گھر میں کون کون ہیں ، خرم نے سب کچھ بتا دیا ، خرم نے چلتے ہوئے سروش کے جسم جائزہ کیا وہ ایک خوبصورت لڑکی تھی قد اس کا اپنی دونوں بڑی بہنوں سے کم تھا مگر اس کے بال بہت لمبے تھے اسکی چیٹیا اس کی کمر پر لہرا رہی تھی ،سروش بی بی کا سینے اپنی بہنوں کی طرح دیکھنے کے قابل تھا چونکہ وہ تیز تیز واک کر رہی تھی تو اس کا سینہ بہت زیادہ اچھل کود کر رہا تھا خرم بھی ساتھ میں تیز تیز چل رہا تھا اسی دوران بالی چائے کا کپ لے آگئی ، سروش نے پوچھا اپنے لیے یا خرم کے لئیے چائے نہیں لائی تم ،بالی نے کہا بی بی جی تھوڑی دیر پہلے میں نے چائے پی ہے اور خرم چائے نہیں پیتا ہے سروش بینچ پر آ کر بیٹھ گئی ،خرم انکے پاس کھڑا رہا اور بالی اپنے کوارٹر پر چلی گئی سروش چائے پینے لگ گئی حالانکہ وہ لان میں پڑے ہوئے ٹیبل اور چئیر ز پر بیٹھ کر چائے پی سکتی تھی مگر وہ وہیں بیٹھی رہی پھر مہرو بیگم اٹھ کر باہر آگئی انکی ماں بھی وہیں آگئیں مینا بیگم کے بارے میں باتیں کر رہیں تھیں لیکن خرم لاتعلق ہو کر کھڑا رہا ،پھر وہ سب اندر چلے گئے پھر مہر و بیگم نے بلایا انہوں نے خرم کو اپنی ماں اور سروش کے ساتھ گاڑی ڈرائیور کے ہمراہ بھیج دیا کہ مما اور سروش نے کچھ شاپنگ کرنی تم ساتھ چلے جاؤ سامان اٹھانے میں آسانی ہوگی خرم انکے ساتھ انکی گاڑی میں بیٹھ کر مارکیٹ آگئے وہاں سے مہر و بیگم کی ماں نے اور سروش بی بی نے کافی ساری شاپنگ ،چندا ،اور فراز کے لیے ،مہرو بیگم صاحبہ کے لیے بھی انہوں نے خرم کے لیے کافی کپڑے لیے اور اسے نئے جوتے لیکر دیے حالانکہ خرم نے انکو بتایا بھی کہ کل میرے لیے بیگم صاحبہ نے ڈھیر ساری شاپنگ کی ہے مگر دونوں ماں بیٹی نہ مانی دو تین مارکیٹ گھومنے کے بعد تقریبا دوپہر کے بعد اور شام سے کچھ پہلے واپس آگئے خرم نے بالی کو آج کی ساری شاپنگ کے بارے میں بتایا، - بالی مسکراہٹ بھرے لہجے واہ خرم تیری تو موجیں ہیں ،وہ ہنسنے لگ گیا شام کا وقت تھا چندا اور سروش ملکر بیڈمنٹن کھلینے کے لیے پچھلے لان میں آگئیں لان کی لائٹس آن ہوچکیں تھیں چندانے ایک ہوزری سٹف کا ٹراؤزر اور ایک ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی جبکہ سروش ایک شاٹ شرٹ اور ٹراؤزر ٹائپ شلوار میں ملبوس تھی ،سروش نے خرم سے کہا کہ تم گراؤنڈ بوائے بن جاؤ ہمیں شٹل پکڑاتے رہنا خرم نے کہا ٹھیک ہے بی بی جی ، - دونوں خالہ بھانجی نے کھیلنا شروع کردیا - خرم کے لیے یہ لمحے شہوت انگیز تھے ، - کیونکہ کھیلتے ہوئے چندا کے چھوٹے چھوٹے ممے خوب اچھل کود کر رہے تھے - خرم کی نظریں مسلسل چندا کے جسم کا جائزہ لے رہیں تھیں حالانکہ سروش ایک 24/25سالہ بھرپور جوان اور سیکسی جسم والی لڑکی تھی مگر خرم کی آنکھیں چندا کے جسمانی نشیب و فراز پرمرکوز تھی خصوصا ً اسکے ممے اور چوتڑ ،اور اچھل کود کے دوران ادھم مچا رہے تھے اور اس کے پیٹ پر سے شرٹ اوپر جاتی تھی جس کی وجہ سے چندا کا گورا چٹا پیٹ نظر آجاتا کبھی کمر کی سائیڈ نظر آجاتی تھی ،خرم گیارہویں سال کی حدود عبور کر رہا تھا مگر اپنے دیہاتی قد کاٹھ کی وجہ سے تیرہ چودہ سالہ لڑکے کی طرح دیکھتا تھا مگر اس کے چہرے پر ایک مخصوص معصومیت اور بانکپن تھا جس وجہ سے سب اس سے بچے کی طرح برتاؤ کرتے تھے اور اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ ہر جگہ آسانی سے پہنچ جاتا تھا ادھر چندا جو کہ اس سے دو سال بڑی تھی وہ جو کہ اب اپنی چودھویں بہار کے قریب پہنچ چکی تھی مگر وہ لگتی خرم سے کمر عمر تھی خرم تو مسلسل چندا کے تھرکتے ہوئے بدن کی حشر سمانیوں میں محو تھا کہ اچانک سروش کی آواز نے اسے چونکا دیا ،وہ ہڑبڑا کر بولا جی بی بی ،سروش نے کہا کہاں گم ہو اتنی بار تمہیں کہا کہ شٹل پکڑاؤ ،اس نے بھاگ کر دیوار کے پاس گری ہوئی شٹل اٹھا کر سروش بی بی کو پکڑائی ،اندر سے وہ شرمندگی محسوس کر رہا تھا ،کہیں سروش بی بی نے اسے چندا کو تاڑتے ہوئے دیکھ تو نہیں لیا،وہ پیچھے ہٹ کر لان کی گھاس پر بیٹھ گیا وہ دونوں پھر سے کھیلنے لگ گئی ،موسم تبدیل ہو رہا تھا آہستہ آہستہ گرمی تیز ہوتی جا رہی ہے آجکل اس وجہ سے دونوں خالہ بھانجی پسینے سے شرابور ہوچکی تھیں بھیگا بدن ہونے کی وجہ سے ٹی شرٹ اب چندا کے بدن سے چپک رہی تھی جس کی وجہ اس کے ممے اور واضع ہو کر اچھل کود کر رہے تھے ،سروش کا بھی یہی حال تھا اس کی شرٹ بھی پسینے سے بھیگ گئی تھی ©
  7. سلسلہ نمبر 38 بچے ناشتہ کرنے کے بعد سکول چلے گئے تھے، کچھ دیر بعد مینا بیگم نے بالی کو کہا کہ بیگم صاحبہ سے کہنا کہ میں ایک ضروری کام سے جا رہی ہوں ، وہاں سے سیدھی میں گھر چلی جاؤں گی کیونکہ امداد واپس آ رہے ہیں بالی نے کہا ٹھیک ہے بیگم صاحبہ سے کہہ دونگی مینا بیگم نے جاتے ہوئے پانچ سو روپے کا نوٹ بالی کو۔دے دیا اور ساتھ کھڑے خرم کو بھی پانچ سو روپیہ دے دیا خرم لے نہیں رہا تھا مینا بیگم نے خرم کے گالوں پر ہاتھ پھیرا اور کہا لے لو بیگم صاحبہ کچھ نہیں کہے گی خرم کے اندر مینا بیگم کے اسکے گالوں کو چھونے سے سنسنی پھیل گئی تھی ،خرم نے سوالیہ نظروں سے بالی کی طرف دیکھا تو بالی نے اشارے سے کہا کہ لے لو پیسے خرم نے پکڑ لیے مینا بیگم نے جاتے ہوئے اسکے سر پر ہاتھ پھیرا اور باہر کی طرف چل دی اس کو جاتے ہوئے خرم پیچھے سے دیکھنے لگ گیا اسکا سڈول اور بے ڈول جسم اور سڈول چوتڑ خرم کو پیچھے دیکھنے کے لیے مجبور کر رہے تھے اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ مینا بیگم کے پیچھے پیچھے باہر مین گیٹ تک جائے ، اس کے جانے کے بعد خرم نے پیسے بالی کو دے دیے اور کہا اپنے پاس رکھ لیں بعد میں لے لوں گا اور خود باہر پچھلے لان میں دیوار کے ساتھ بنے بینچ پر آکر بیٹھ گیا پرندوں کی آوازیں سن کر مسکرا رہا تھا بالی اپنا کام نپٹا کر باہر آئی اپنے کوارٹر کی طرف جا رہی تھی اس کی نظر خرم پر پڑی تو اس کے پاس آگئی اور بیٹھ گئی بالی کیا سوچ رہے ہو خرم بالی بھرجائی میں اس گھر آکے پریشان ہوگیا ہوں ، پتا نہیں یہاں ہو کیا رہا ہے بالی حیران ہوتے ہوئے کیا مطلب ؟ ؟؟ کس بات پر پریشاں ہو تم ،خرم گومگو کی پوزیشن میں تھا کہ رات والی بات بالی کو بتائے یا نہیں ،پھر اس کے ذہن میں آیا کہ اس کو بتادینے سے کچھ نہیں ہوگا بالی کیا ہوا بتاؤ بھی کس بات پر پریشان ہو خرم بات یہ ہے کہ یہاں آیا تو پہلے دن ہی چوہدری کمال اور ،مہرو بیگم صاحبہ کو چدائی کرتے ہوئے دیکھ لیا ، پھر آپ کو کمال کے ساتھ دیکھ لیا اور اب رات کو ،،،یہ کہ کر سوچنے لگ گیا کہ بات کیسے سناؤ ،بالی ہاں رات کو کیا ہوا اب کیا دیکھا ہے خرم بولا کچھ دیکھا ہے کم سنا زیادہ ہے بالی حیرانگی سے کیا مطلب ؟ کیا سنا ہے؟ خرم نے رات کو مینا بیگم ،کے کمرے میں چوہدری ریاست کا جانا انکی سسکیاں آوازیں سب تفصیل سے بتایا اور ساتھ میں یہ بھی بتایا کہ یہ ساری کہانی کدھر سے شروع ہوئی ہے ،اور بیچ میں کیا باتیں کی انہوں نے آپس میں بالی کا تو حیرت سے منہ کھلا کا کھلا رہ گیا بالی حیرت زدہ لہجے میں بولی یہ بڑے لوگ کتنے میسنے ہوتے ہیں آج تک کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہونے دی اور تم آتے ہی اتنے سارے راز جان لیے تم چیز کیا ہو خرم ہنستے ہوئے کہا میں جان بوجھ کر تھوڑی کرتا ہوں بس خودبخود کوئی نہ کوئی موقع ہاتھ آجاتا ہے ، بالی اچھا تم نے انکو کرتے ہوئے دیکھا بھی ہے خرم نے کہا نہیں بس چوہدری صاحب کو اندر آتے ہوئے اور جاتے ہوئے دیکھا ہے باقی انکی باتیں ساری سنی ہیں آج بھی مینا بیگم صاحبہ اور چوہدری صاحب کسی فارم ہاوس کی بات کر رہے تھے وہاں ملنا ہے آج کا دن اور رات وہیں گزاریں گے دونوں نے پروگرام سیٹ کیا ہے بالی حیران ہوتے ہوئے اچھا یہ بھی سنا ہے تم نے خرم نے سر ہلا کر کہا ہاں ،اسی اثنا میں مہرو بیگم کی چھوٹی بہن سروش انتہائی ڈھیلے ڈھالے لباس میں لان میں آگئی اور ٹھنڈی ٹھنڈی گھاس پر جوتا اتار کر چلنے لگ گئی ، چلتے چلتے ان دونوں کے پاس آگئی سروش نے کہا بالی مجھے چائے بنانے کر دو بالی نے کہا ابھی لائی بی بی جی آپ نے یہیں پینی ہے چائے یا روم میں آکر پیے گی سروش نے کہا نہیں مجھے یہیں چائے لا دو اتنی دیر تک میں واک کر لیتی ہوں ٹھیک ہے بی بی جی کہہ کر بالی اندر چلی گئی سروش نے خرم سے پوچھا تم پڑھتے ہوں خرم نے کہا جی بی بی جی سروش نے پوچھا کونسی کلاس میں پڑھتے ہو خرم نے کہا جی پانچویں کلاس میں ہوں سروش نے کہا اچھی بات ہے اسی وقت چوہدری کمال بھی لان میں آگیا ،خرم حیران ہوا کہ وہ آ ج صبح جلدی کیسے اٹھ گیا ،اس نے جب سکول نہ جانا ہو وہ تو لیٹ اٹھتا ہے یہاں تو وہ آیا ہی چھیٹاں گزارنے تھا وہ مسکراتا ہوا انکے پاس آگیا سروش نے اس کو دیکھا منہ پھیر کر خرم کی طرف متوجہ ہوگئیں ، کمال نے مسکراتے ہوئے کہا سروش باجی کیسی ہیں آپ ، سروش نے روکھے لہجے میں کہا ٹھیک ہوں کمال وہیں کھڑا رہا مگر سروش نے اسے کوئی خاص گھاس نہیں ڈالی یہ بات خرم نے بھی محسوس کر لی تھی ، کمال سبکی محسوس کرکے وہاں سے چلا گیا مگر منہ اس کا بھی اترا ہوا تھا ، سروش خرم کے پاس بینچ پر بیٹھ گئی ،تو خرم اٹھ کر کھڑا ہوگیا ، سروش نے کہا بیٹھو کھڑے کیوں ہوگئے ہو،،؟©
  8. سلسلہ نمبر 37 چوہدری ریاست :!ہاں یہ پروگرام ٹھیک سکون سے انجوائے کریں گے اب میں جاتا ہوں صبح اٹھ کر دو دن کی تیاری کرنی ہے گھر یہی بتانا ہے کہ بزنس کے کام سے جا رہا ہوں مزید کل دن میں فارم ہاوس پر مزے کرینگے مینا بیگم ہاں سہی ہے اچھا وہ میری پینٹی پکڑانا صبح کوئی دیکھ نہ لے کہ یہ نیچے کیوں پڑی ہے چوہدری ریاست لو پکڑو خرم جلدی سے دوبارہ،ٹیریس کی اوٹ میں ہوگیا چند ہی لمحوں کے بعدکمرے کا دروازہ کھلا اور بند ہونے کی آواز آئی خرم کچھ دیر بعد جب اسے یقین ہوگیا کہ چوہدری ریاست نیچے چلا گیا ہوگا اپنے کمرے میں آگیا لائٹ جلائی دروازہ بند کر دیا اپنے بستر پر لیٹ گیا ٹھنڈا بستر اسے بہت سکون دے رہا تھاکیونکہ چوہدری ریاست اور مینا بیگم کی چدائی کی کاروائی اور مینا بیگم کا سراپا سوچ کر وہ گرم ہورہا تھا وہ ،،اس واقعے کے بارے میں سوچتا ہوئے اس کو نیند آ گئی ،صبح خرم کی جلد آنکھ کھل گئی کیونکہ ابھی وہ گاؤں کی روٹین کا عادی تھا ، وہ چھت پر آگیا وہاں بنے ہوئے باتھ روم میں منہ ہاتھ دھو کر نیچے آگیا ،سیدھا کچن میں آیا ،وہاں بالی ناشتہ تیار کر رہی تھی اس نے مڑ کر خرم کی طرف دیکھا مسکرا کر بولی نیند آگئی تھی وہاں ،خرم نے کہا ہاں سہی طرح نیند آگئی تھی ، بالی ناشتہ کرلو کس چیز سے کرو گۓ خرم نے کہا مجھے لسی کا ساتھ ناشتہ کرنے کی عادت ہے یہاں لسی ملتی نہیں ہے،جو موجود ہے اسی سے ناشتہ دے دو بالی نے کہا دہی پڑا ہے اسی کی لسی بنا دیتی ہوں ،چاٹی کی طرح لسی تو نہیں ہوگی پر اب تم کہتے ہو تو چاٹی کی لسی بنایا کرو گی رات کو دودھ کو جمایا کروں گی ، خرم ایسا ہو جائے بالی بھرجائی تو مزہ آجائے گا بالی ہنستے ہوئے اچھا اب میں تیری بھرجائی ہوگئ ہوں خرم تو اور کیا کہا خالد بھائی تو تم بھرجائی ہوگئی نا بالی روٹی پکاتے ہوئے تم بہت تیز ہوتے جا رہے ہو ،خرم کی نظریں روٹی پکاتے ہوئے بالی کے ہلتے ہوئے مموں پر چلی گئی ،کچھ دیر دیکھتا رہا بالی کی مخصوص زنانہ حس نے اسے اپنے سینے کو گھورتے ہوئے دیکھ لیا خرم نے نظریں نیچی کر لیں بالی نے اپنے سینے پر دوپٹہ سیٹ کر لیا اور اپنے ممے ڈھانپ لیے ،خرم اس کی اس حرکت کو نوٹ کرکے مسکراتے ہوئے باہر نکل گیا بالی نے پیچھے سے آواز دی وہ واپس کچن میں آگیا خرم نے پوچھا جی کیا بات ہے بالی نے کہا تم کس بات پر مسکرا رہے تھے خرم کچھ نہیں ، بالی بھول گئے ہماری میں آپس کیا بات ہوئی تھی کہ ہم ایک دوسرے کو ہر باتیں بتائیں گے ، خرم یاد ہے ،بالی نۓ کہا تو پھر بتاؤ نا، خرم نے کہاآپ نے ناراض ہوجانا ہے ،بالی نے کہا نہیں بدھو پہلے کوئی ناراض ہوئیں ہوں تم سے؟؟ خرم نے نا میں سر ہلایا ،بالی نے کہا تو اب کیوں ناراض ہونگی میں ، خرم نے کہا کہ میں تمہارے ہلتے ہوئے سینے کو دیکھ رہا تھا ،تم نے جب دیکھا تو سینے کو دوپٹے سے چھپا لیا مجھے ہنسی اس لیے آئی کہ جو تم چھپا رہی ہو وہ تو کیا تمہیں سارا بنا کپڑوں کے دیکھ چکا تو چھپا کیا رہی ہو بالی نے آٹے والے ہاتھ سے اس کے سر پر چپت لگائی خرم تو بہت گندہ ہے خرم ہنسنے لگ گیا ،بالی نے کہا اچھا دانت بعد میں نکالنا ناشتے کی چیزیں ڈائننگ ٹیبل پر لگا، چندا بی بی اور فراز نے سکول جانا ہے اور چوہدری صاحب نے بھی کہیں جانا ناشتہ کرکے ، خرم نے ناشتہ کی اشیاء ٹیبل پر سیٹ کیں تو چندا آگئی اسے یو یونیفارم میں دیکھ خرم کی نظریں سیدھی اس کی ادھ ننگی ٹانگوں کی طرف گئیں ، خرم کا وہاں سے ہٹنے کو دل نہیں کر رہا تھا ،بالی نے آواز دی تو اسے وہاں سے ہٹنا پڑا، مزید اشیاء کچن سے اٹھا کر ٹیبل پر رکھیں اس وقت چوہدری ریاست صاحب بھی ٹیبل پر آ کر بیٹھ گئے انکو دیکھ کر خرم کو رات کا واقعہ یاد آگیا ،کچھ دیر بعد مینا بیگم بھی تیار ہوکر ناشتے کی ٹیبل پر آگئیں چوہدری ریاست صاحب نے مینا بیگم سےان کا حال احوال پوچھا پھر سروش کا اپنی ساس کا پوچھا تو مینا بیگم نے بتایا کہ وہ سو رہیں ہیں ابھی تک ،مینا بیگم نے مہرو بیگم کا پوچھا وہ اٹھی نہیں ابھی تک تو چوہدری صاحب نے جواب دیا کہ وہ روزانہ لیٹ اٹھتی ہے ، ہاوس میڈ بچوں کو ناشتہ کرواتی ہے اور سکول جاتے ہیں ، مینا بیگم نے کہا اچھا چلیں ٹھیک ہے میں چلتی ہوں میرے شوہر واپس آ رہے ہیں مجھے واپس جانا ہے پھر چکر لگاؤں گی چوہدری صاحب نے کہا کہ ناشتہ تو کر لیں مینا بیگم نے کہا نہیں میں جسٹ چائے پیو گی ، خرم مینا بیگم کو غور سے دیکھ رہا ،اور سوچ دہا تھا کہ چہرے مہرے سے تو بڑی صوبر خاتون لگتیں ہیں لیکن اندر سے بڑی مست چیز ہیں رات کی انکی سسکیاں ،آہیں سب خرم کے نوخیز ذہن میں گردش کر رہیں تھیں ©
  9. سلسلہ نمبر 36 حالانکہ میں کسی دن اب مما پاپا سے تم کو ملوا کر تمہارے اور اپنے بارے میں بات کرنے کا پلان کر رہی تھی مگر سب چوپٹ ہو گیا میں کسی کو بتا بھی نہ سکی کہ میں کسی اور سے پیار کرتی ہوں اور اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں دو دن میں اپنے کمرے میں رہی اور یہی سوچتی رہی کہ کیا کرو اسی وجہ سے دو دن میں یونیورسٹی نہیں آئی تھی کیونکہ مما نے مجھے بتا دیا تھا کہ امداد شیخ کے علاوہ کوئی بھی کاروباری دوست پاپا کی مدد کرنے کو تیار نہیں ہے اوپر سے بڑا بھائی جو ابھی ڈاکٹر بن رہا تھااس سے چھوٹا دوسرا پاپا کے ساتھ بزنس دیکھتا تھا دونوں ابھی کسی پوزیشن میں نہیں تھے مہرو اور سروش پڑھ رہیں تھیں میرا یونیورسٹی کا لاسٹ ایئر تھا عیش و عشرت کی زندگی چھوڑ کر دیوالیہ ہو کر سڑک پر آجانا تھا سب نے مما نے مجھے یہی کہا کہ سب کا مستقبل اب تمہارے ہاتھ میں ہے بلاآخر مجھے ہار ماننا پڑی میں نے اپنا پیار قربان کر دیا ، کافی سوچ بچار کے بعد میں نے تمہیں ساری صورتحال بتائی تھی ، تم تو ایک طرح سے پاگل ہوگئے تھے میری باتیں سن کر تمہیں یاد ہے نہ کہ میں نے تمہیں کتنی مشکل سے ساری صورتحال سمجھائی تھی چوہدری ریاست :ہاں سب یاد ہے کچھ نہیں بھولا ہوں میں چھوڑو اب ان باتوں کو مینا بیگم : نہیں بولنے دو مجھے میرا بوجھ ہلکا ہوتا ہے تم سے باتیں کرکے ، تمہاری اس بات کے بعد کہ میں تم سے دور نہیں رہ سکتا تب میں نے یہی حل نکالا تھا کہ میں تمہاری شادی مہرو سے کرؤاؤ گی تاکہ ہم دونوں ایک دوسرے کے قریب رہ سکیں سچ تو یہ ہے کہ میں بھی تم سے دور نہیں رہ سکتی تھی تمہیں پتا ہے نہ کہ میں نے شرط رکھی تھی کہ مہرو اور سروش دونوں بہنوں کی شادی میں خود کرواؤ گی تاکہ میری طرح کوئی میری بہنوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہ کرے حالانکہ میں خود اپنی بہن کو اپنی خوشی کے استعمال کرنا چاہ رہی تھی اور کیا میری شرط کو سب کو ماننا پڑا ،اور آج تم اور میں اسی وجہ ایک دوسرے کے پاس ہیں میں نے شادی سے پہلے اپنا سب کچھ تم کو سونپا اور تمہیں یقین دلایا کہ میں تمہارے ساتھ مخلص ہوں اور مرتے دم تک رہوں گی پھر اپنی بہن سے شادی کروائی تاکہ تم میری نظروں کے پاس رہو ، چوہدری ریاست : تمہارے شوہر نے تم سے یہ سوال کبھی نہیں کیا کہ تم کنواری نہیں تھی مینا بیگم :طنزیہ انداز میں اس بڈھے کو کیا پتا پہلی رات بس وہ بھی شاید کی دوائی کے زیر اثر بڑی مشکل سے اپنا لن میرے اندر ڈال سکا پر وہ بھی میری پھدی کی گرمی زیادہ دیر برداشت نہ کر سکا اور فارغ ہو کر نڈھال ہوگیا اب جب کبھی اس کا موڈ بنے تو اس کو ہاتھ سے یا سکنگ کر کۓ فارغ کروا دیتی ہو پھدی میں اس سے نہیں ڈلتا باقی کسر اس کی شوگر نے نکال دی ہے ،میں تو اس کے لیے اب شوپیس ہوں ،میں تو تڑپتی رہتی ہوں تمہارے انتظار میں کہ کب ملو گے تو مجھے سکون آئے گا چوہدری ریاست : چلو کپڑے اتارو تمہیں سکون پہنچاؤ مینا بیگم :دروازہ لاک کر دیا ہے چوہدری ریاست :ہاں کر دیا مینا بیگم : سیکسی لہجے میں آو میری جان میرے بوبز چوسو اس کے بعد انکی باتوں کی آوازیں بند ہوگئی اور انکی سیکس کے دوران کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں خاص کر مینا بیگم کی آہیں اور سسکیاں خرم کو واضع طور پر سنائیں دے رہیں تھیں مینا بیگم سسکتے ہوئے ،ریاست پلیز جلدی کرو اب اندر ڈال دو نا اب مجھے سے برداشت نہیں ہورہا چند لمحوں کے کمرے میں تھپ تھپ کی آوازیں گونج رہیں تھیں مینا بیگم کی سسکیوں کی آوازیں اب بلند ہوگئیں تھیں ، مینا بیگم بولی ریاست زور سے کرو میں ہونے والی ہوں ریاست اوکے جان مینا بیگم ، ریاست مہرو سے کرنے میں زیادہ مزہ آتا ہے مجھ سے ریاست جان جو تمہاری بات ہے وہ مہرو میں کہاں ، مینا بیگم :ریاست میں گئی آہ آہ آہ آہ ریاست بس جان میں بھی چند لمحوں کے بعد ریاست بھی آہا آہا آہا کرنے لگ گیا مینا بیگم ،لمبا سانس لینے کے بعد لگتا ہے صدیوں کے بعد ملے ہیں حالانکہ تمہارے گاؤں جانے سے پہلے بھرپور سیکس کیا تھا ،پھر بولی اچھا صبح میں نے گھر واپس جانے کا کہہ کر چلے جانا ہے ،تم نے مجھے مارکیٹ سے پک کرنا ہے ،یا فارم ہاوس پر یا ہوٹل میں کل کا دن رات گزارنی ہے پرسوں میرے شوہر امداد شیخ نے کراچی سے واپس آجانا ہے تو میں وہیں سے گھر چلی جاؤں گی مما اور سروش تو شاید ایک دو دن یہاں رہیں گیں ©
  10. سلسلہ نمبر 35 تب تک میں واش روم سے فریش ہو لوں مردانہ آواز بہت تنگ کرتی ہو اچھا میں نیچے سے ہو کر آ رہا خرم جلدی سے ٹیریس کی اوٹ کی طرف ہوگیا تاکہ کمرے سے نکلنے والا اسے دیکھ نہ سکے وہ پیچھے ہوگیا ایک بار اس کا دل کیا کہ سر نکال کر دیکھے کہ کمرے سے کون نکلتا مگر ڈر نے اسے ایسا کرنے نہیں دیا جاری ہے ،،،،، © __________________________________ وہ وہیں اوٹ میں کھڑا رہا کیونکہ اسے اسی روم کے آگے سے گزر کر اپنے کمرے میں جانا تھا ،جس روم سے اسے باتوں کی آوازیں سنائی دیں تھیں اسے ڈر تھا کہ وہ اپنے کمرے میں جانے کے لیے ٹیریس کی اوٹ سے نکلے تو جو شخص نیچے گیا ہے اسی کی واپسی پر اس کی نظروں میں نہ آجائے وہ وہیں کھڑا رہا کچھ دیر بعد اس کسی کے اوپر آنے کی آہٹ سنائی دی اس نے اسی روم کا دروازہ کھلنے کی آواز سنی خرم نے بڑی احتیاط سے نیچے بیٹھ کر اوٹ سے سر نکال کر دیکھا تو اس کمرے میں جو داخل ہو رہا تھاوہ اس گھر کا مالک چوہدری ریاست تھا خرم کے لیے حیران کن لمحہ تھا ،چوہدری نے اندر داخل ہو کر دروازہ لاک کر دیا خرم دبے پاؤں اس کمرے کی کھڑکی کے پاس آگیا جہاں سے اسے باتوں کی آوازیں سنائی دیں تھیں ، خرم کو اب نسوانی آواز سنائی دی ،وہ کہہ رہی تھی سب سو گئے ہیں یا نہیں چوہدری ریاست:سب سو گیے ہیں مہرو،اور بچے بھی سوچکے ہیں کمال سوچکا ویسے بھی وہ رات کو اوپر نہیں آئے گا ، دوسرے گیسٹ روم میں آنٹی اور سروش بھی سو رہیں ہیں ٹی وی چل رہا تھا مگر دونوں سو چکیں خرم نے سوچا اس کا مطلب اس کمرے میں جو زنانہ وجود ہے وہ مہرو بیگم کی بڑی بہن مینا بیگم ہیں ، کیونکہ چوہدری ریاست باتوں سے پتا چل رہا تھا کہ باقی سب سو رہے پیچھے تو مینا بیگم ہی رہ گئیں تھیں ، خرم حیران رہ گیا تھا اس کے ساتھ ساتھ اسے ساری صورتحال واضح ہوگئی کہ چوہدری ریاست اپنی بڑی سالی کے ساتھ رات کے اس وقت اور وہ بھی سب سے چوری چھپے اس کمرے میں آیا ہے اس کا صاف مطلب ہے کہ انکا آپس میں غلط تعلق ہے ، اس کے ذہن میں مینا بیگم کا سراپا آگیا مینا بیگم مہرو بیگم سے کچھ تھوڑی بڑی تھیں ،مگر مہرو بیگم کی طرح ہی اونچا لمبا قد نسوانی حسن سے بھرپور عورت تھی جو مہرو بیگم سے بھی زیادہ خوبرو تھیں مہرو بیگم ابتک خرم کے لیے خوبصورت ترین عورت تھی مگر رات کو کھانے کی ٹیبل پر خرم نے جب مہرو بیگم کی دونوں بہنوں کو دیکھا تو وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ یہ بہنیں ایک سے بڑھ کر ایک ہیں ،کم انکی ماں بھی نہیں لگ رہی تھی شکل و صورت میں بیٹیاں ماں پر گئیں تھیں لیکن اب اسکا جسم فربہی مائل تھا ظاہر ہے وقت کا تقاضا تھا وہ ڈھل چکی تھی مگر آثار بتاتے ہیں کہ عمارت کیسی تھی ، چوہدری ریاست کی آواز سنائی دی مینا بس کرو کپڑے اتارو نہ اتنے دن ہوگئے ہیں تمہارا انتظار کرتے ہوئے مینا بیگم : حوصلہ کرو میں آئی ہی تمہارے لیے ہوں ،میں نے تو نہیں کہا تھا کہ اتنے دن گاؤں لگا کر آو چوہدری ریاست: مجبوری تھی اتنے دنوں کے بعد گیا تھا وہاں رہنا پڑا باقی جو تم نے اپنی بہن میرے پلے باندھ دی ہے یہ اپنی مرضی کرتی ہے ،اتنی سرکش اور منہ زور ہے اگر تمہاری بہن نہ ہوتی تو اب تک میں نے جان چھڑا لینی تھی تمہاری وجہ سے اور بچوں کی وجہ سے برداشت کر رہا ہوں اسے مینا بیگم : افسردہ لہجے میں بولی کیا کروں ریاست قسمت میں شاید یہی لکھا تھا کہ پیار تم سے کیا شادی کسی اور سے کرنی پڑی اور اپنے محبوب کو اپنے ہاتھوں سے اپنی بہن کو سونپنا پڑا ،اور سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اپنا یہ دکھ کسی کو سنا بھی نہی سکتی کسی سے شئیر بھی نہیں کر سکتی اس کی آواز روہانسی ہوگئی ، چوہدری ریاست: اچھا اب رونا مت بڑے دنوں بعد ملے ہیں رات رنگین کرتے ہیں مینا بیگم:رو نہیں رہی تمہیں اپنا دکھ سنا رہی ہوں تمہارے علاوہ کون ہے جس کو میں اپنا حال دل سناؤں ، اپنے مام ڈیڈ اور بہن بھائیوں کی وجہ سے مجھے قربانی دینی پڑی ،کیا کرتی اس بڈھے امداد شیخ کو میں ہی پسند آئی تھی ، پاپا کا بزنس ڈوب رہا تھا صرف وہی ایسا تھا جو پاپا کے ڈوبتے ہوئے بزنس کو سہارا دے سکتا تھا ،پاپا نے اسے ہیلپ کے لیے کہا تو اس نے مدد کے بدلے میں مجھ شادی کی شرط رکھ دی ، پاپا مجبور ہوکر مان کر آگئے کیونکہ ہماری کلاس میں شادیاں بھی بزنس ڈیل کی طرح ہوتیں ہیں پاپا اور مما نے جب میرے آگے امداد شیخ کی شرط رکھی تو میں نے فورا ً انکار کردیا ©
  11. معزز قارئین یہ فورم بند ہوگیا تھا شاید کوئی ٹیکنیکل ایشو تھا ، کچھ اس وجہ سے اور کچھ اس دورانیے میں کافی مصروفیات کا شکار رہا ہوں ابھی بھی مصروف ہوں ،آئندہ ویک اینڈ پر سٹوری اپڈیٹ پوسٹ کرونگا
  12. معزز قارئین آپ سب کی محبت کے لیے شکر گزار ہوں کہ اتنا پیار دیا سب نے اور جیسا کہ سٹوری کے آغاز میں عرض کی کہ جیسے جیسے وقت ملتا رہے گا اپڈیٹ پوسٹ کرتا رہوں ،کیونکہ میں اس وقت دو سٹوریز بےیک وقت لکھ رہا ہوں اس کے علاوہ میرا اپنا کام بھی ہوتا ہے اس کے علاوہ حکمت بھی کرتا تو مریضوں کو وقت بھی دینا ہوتا لہذا اپڈیٹ میں دیر سویر ہوجاتی ہے لہذا مجھے کچھ وقت درکار ہے فری ہوکر اپڈیٹ پوسٹ کرتا ہوں شکریہ
  13. ڈئیر ڈاکٹر صاحب یو آر گریٹ رائٹرامید ہے آپ اسی طرح اپنے قارئین کو اپنے خوبصورت انداز سے اسی طرح محظوظ کرتے رہیں گے شکریہ
  14. سلسلہ نمبر 34 بالی کے وارے نیارے ہوجاتے تھے کیونکہ یہ انکی خدمت ٹھیک ٹھاک کرتی تھی اس وجہ کہ وہ انکا علاج مفت کر رہے ہیں اس کے باوجود بھی وہ جاتے ہوئے بالی کو بہت کچھ دیکر جاتے تھے خرم تیار ہوکر بیگم صاحبہ کے ساتھ گاڑی میں آکر بیٹھ گیا ڈرائیور نے گاڑی اسٹارٹ کی اور مارکیٹ کی طرف چل پڑا ،مہرو بیگم نے خرم کے کافی کپڑے لیے اس کے سکول شوز لیے دوسرے شوز لیے ،سکول یونیفارم لیا اور پھر واپس گھر آگئے روم اسکا جو بیگم صاحبہ نے کہا تھا وہ سیٹ ہوچکا تھا بیگم صاحبہ نے چیک کیا اس کے بعد بالی سے کہا کہ اس کے کپڑے اس الماری میں سیٹ کر دو باقی اس کا خیال رکھنا ہے ، فرید یہ نہ کہے کہ میرے بیٹے کا چودہریوں نے خیال نہیں رکھا ،بالی ہنستے ہوئے ،بیگم یہ بچہ نہیں اور خرم کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر بال بکھرا دیے خرم : بیگم صاحبہ میں بالی کے کوارٹر پر ٹھیک تھا بیگم صاحبہ :نہیں تم ادھر اس کمرے میں رہوں گے اوپر بھی بیگم صاحبہ کا ایک بیڈ روم تھا جس میں کبھی کبھی بیگم اوپر ہی سو جاتی تھیں گیسٹ روم بھی اوپر بنے ہوئے تھے جم والا کمرہ بھی اوپر تھا ، نیچے چوہدری صاحب کو کمرہ تھا ایک انکے کام کرنے کا کمرہ مطلب انکے دفتر کے معاملات کے حوالے سے سیٹنگ کی ہوئی تھی ایک کمرہ فراز کا تھا ایک کمرہ چندا کا تھا باقی دو بیڈ روم تھے ، ایک بڑے چوہدری صاحب اگر شہر آئیں تو ایک انکے لئیے تھا ایک روم میں کمال تھا خرم اپنے اس کمرے میں لیٹ گیا دوپہر ہوچکی تھی آج وہ تھک گیا بازار میں گھوم پھر کر اسے نیند آگئی شام کے چھ بج رہے تھے کہ اس کی آنکھ کھلی وہ ٹیریس والی طرف بنے ہوئے واش روم میں گیا اور نہا لیا پھر نئے کپڑوں میں سے ایک جوڑا پہن کر نیچے آگیا وہاں ٹی وی چل رہا تھا چوہدری کمال بیٹھا ہوا تھا ،اس نے کہا آ بھئ خرم دل لگ گیا یہاں پر خرم نے کہا جی چوہدری صاحب وہ۔وہیں صوفے کے پاس قالین پر بیٹھ گیا اور فلم لگی ہوئی تھی دیکھنے لگ گیا تھوڑی دیر بعد باہر ہارن سنائی دیا ،کچھ دیر بعد ایک پچاس ساٹھ سال کی عورت اور ساتھ میں تقریبا مہرو بیگم کی ہم عمر دلکش اور خوبصورت خاتون انکے ساتھ ایک جوان لڑکی اندر داخل ہوئے انکو آتے دیکھ کر کمال نے ٹی وی بند کر دیا اور اٹھ کھڑا ہوا سب کو ملا اسی دوران مہرو بیگم اور چندا ،اور فراز آگئے سب بڑے خوش ہو کر ملے خرم وہاں سے اٹھ کر کچن میں بالی کے پاس آگیا ،وہیں بیٹھ گیا بالی نے پوچھا ادھر گرمی میں کیوں آگئے ہو خرم نے بس ویسے ہی مہمان آگئے ہیں میں ادھر آگیا ہوں بالی اچھا بڑی بی بی صاحبہ اور مینا بیگم صاحبہ اور سروش بی بی آئے ہیں خرم یہ بیگم صاحبہ کی اماں اور بہنیں ہیں بالی نے کہا ہاں مینا بیگم صاحبہ بڑی بہن ہیں اور سروش بی بی چھوٹی بہن ہیں بیگم صاحبہ کیں بالی نے کھانا تیار کر لیا تھا ،اس نے اور خرم نے ملکر ڈائننگ ٹیبل پر کھانا لگانا شروع کر دیا ادھر لاؤنج سے باتوں کی اور ہنسنے کی آوازیں آ رہیں تھیں کھانا لگانے کے بعد بالی نے انہیں بتا دیا وہ سب اٹھ کر ڈائننگ ٹیبل پر آگۓ کھانا کر وہیں بیٹھے باتیں کر رہے تھے جب خرم نے اور بالی نے برتن وہاں سے سمیٹنے شروع کر دیے ،تب مینا کی نظر خرم پر پڑی اس نے مہرو بیگم سے پوچھا یہ لڑکا کون ہے تب اس کی ماں اور سروش بی بی نے بھی پیچھے مڑ کر اس کی طرف دیکھا مہرو بیگم نے خرم کا تعارف کروایا تو بڑی بیگم صاحبہ نے اسے پاس بلایا اور اسے سر پر پیار دیا اور نام پوچھا خرم نے سر جھکا کر اپنا نام بتایا مینا بیگم نے کہا اچھا تمیز دار لڑکا ہے بھئی یہ تو اس کے بعد خرم کچن میں آگیا وہیں بیٹھ کر کھانا کھایا اور خاموشی سے اوپر اپنے کمرے میں آگیا اور لیٹ گیا کافی دیر ایسے لیٹا پڑا رہا پھر چھت پر آگیا شہر کی روشنیاں اسے نظر آ رہی تھیں بے مقصد چھت پر گھومتا رہا دوپہر کو سونے کی وجہ سے اسے نیند نہیں آ رہی تھی پھر تھک کر نیچے آگیا کافی ٹائم ہوگیا تھا سیڑھیاں اتر کر نیچے آگیا ٹریس کے ساتھ والے گیسٹ روم کے پاس سے گزر رہا تھا اس طرف کی کھڑکی کھلی ہوئی تھی مگر پردہ گھرا ہوا تھا اندر سے باتوں کی آواز سنائی دے رہی تھی نسوانی آواز ابھری ابھی صبر کرو میں کہیں بھاگی تو نہیں جا رہی مردانہ آواز آئی میں اتنے دنوں سے صبر ہی کر رہا ہوں مردانہ آواز بڑے گھٹے انداز میں آ رہی تھی جس وجہ پہچان نہیں ہوئئ خرم کو خرم کے تو جیسے تجسس سے قدم رک گئے تھے نسوانی آواز اچھا رکو تو سہی میں خود کپڑے اتارتی ہوں تم باہر کا ماحول دیکھو سب۔سو گیے ہیں تب تک میں واش روم سے فریش ہو لوں مردانہ آواز بہت تنگ کرتی ہو اچھا میں نیچے سے ہو کر آ رہا خرم جلدی سے ٹیریس کی اوٹ کی طرف ہوگیا تاکہ کمرے سے نکلنے والا اسے دیکھ نہ سکے وہ پیچھے ہوگیا ایک بار اس کا دل کیا کہ سر نکال کر دیکھے کہ کمرے سے کون نکلتا مگر ڈر نے اسے ایسا کرنے نہیں دیا جاری ہے ،،،،، ©
  15. سلسلہ نمبر 33 خرم بولا وہ کیا ہوتا ہے سیدھا لن کہو نہ اب پیچھے رہ کیا گیا بالی بولی ہاں وہیں لن نکال کر میری پھدی پر سیٹ کر کے ایک جھٹکے سے سارا ڈالا دیا اتنا شدید درد تو مجھے پہلی بار نہیں ہوا تھا جیسا اس رات ہوا تھا اس نے میری ٹانگوں سے اپنے بازو گزار کر میرے بازو پکڑ ہوئے تھے میری ٹانگیں اوپر اٹھی ہوئیں تھیں ،اور وہ زور زور سے جھٹکے مار رہا تھا ،درد کی شدت سے میرے آنسو نکل آئے تھے میں رو رہی تھی وہ زور زور سے مجھے چود رہا تھا ،پھر اس نے کہا کہ جو ہونا تھا ہوگیا ہے اب میرا ساتھ دو اور مزہ لینے دو مجھے ،میں چپ رہی مگر اب مجھے بھی مزہ آ رہا تھا مگر میں اس محسوس نہیں کروانا چاہتی تھی کیونکہ میں کافی دنوں سے بغیر سکیس کے رہ رہی تھی خالد کو علاج کی وجہ سے ڈاکٹر نے منع کیا ہوا تھا ، اور اسی وجہ سے مجھ پر بھی اب مزے کی کیفیت طاری ہو رہی تھی ، میں آنکھیں بند کیے لیٹی رہی ادھر وہ پورے زور سے دھکے مار رہا تھا ساتھ میں میری چھاتیوں کو نوچتا رہا ، نیچے سے میری پھدی گیلی ہوچکی تھی اس نے پانی چھوڑنا شروع کردیا میں آنکھیں بند کیے لیٹی رہی اس نے میرے ہاتھ چھوڑ دہے تھے میں نے بھی مزاحمت ختم کر دی تھی کچھ دیر بعد اس نے اپنا مادہ میرے اندر ہی چھوڑ دیا ،اور میرے اوپر سے اتر گیا جب اترا تو مجھے اپنی حالت دیکھ کر بہت رونا آیا مگر میں نے اٹھ کر اپنی شلوار پہننی شروع کر دی ،تب کمال نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ،میں نے اسے کہا ابھی دل نہیں بھرا مجھے برباد کرکے ،وہ اگے سے بولا تم تو ایسے بات کر رہی ہو جیسے تم کنواری تھی اور میں نے کنوارہ پن ختم کر دیا ، آج تک میرے شوہر کے علاوہ کسی غیر مرد نے میرے جسم کو چھوا تک نہیں اور تم مجھے چود ڈالا ہے اور کہتے ہو کہ بات کیسے کر رہی ہو ہم غریبوں کے پاس سوائے عزت کے ہوتا ہی کیا وہ بھی تم جیسے لیٹرے لوٹ لیں تو کیا رہ گیا ہمارے پاس اس نے اگے بڑھ کر میرے منہ پر تھپڑ مارا ،اور بولا میرے سامنے بکواس مت کرو کچھ نہیں ہوا ہے کچھ نہیں اتارا تمہارے ساتھ سے ،سب کچھ ویسے ہی ہے اور ہاں کسی کو بتانے سے کچھ نہیں ملے گا تمہیں ،لیکن نا بتانے کے بدلے تمہیں فائدہ ہوگا جس کا تمہیں کل پتا چل جائے گا ویسے بھی چاچی کو پتا ہے کہ میں نے آج تمہارے ساتھ کرنا ہے مگر پھر بھی ان سے ذکر نہ کرنا تو تم فائدے میں رہوں گی آگے تمہاری مرضی ہے ، اس کے بعد میں اپنے کپڑے درست کرکے وہاں سے نکل کر سیدھی کوارٹر پر آگئی ،اور روتے ہوئے سوگئی مجھے نہیں پتا رات کو خالد کب آیا صبح اٹھی نہائی اور پھر کوٹھی میں جا کر روز مرہ کے کام کئے بیگم صاحبہ نے مجھے بلایا اور کہا کہ تیار ہوجاؤ تم نے بازار جانا ہے میرے ساتھ ،پھر وہ مجھے ساتھ لیکر کر گئی وہاں سے ڈھیر ساری شاپنگ کی میرے لیے اور خالد کے لیے اور مجھے کچھ پیسے دیے اور کہا کہ اپنے گاؤں گھر خرچہ وغیرہ بھیج دو تنخواہ بھی دی اور میری اور خالد کی تنخواہ بھی بڑھا دی ، اس طرح ہمارا فائدہ ہوا ،بیگم صاحبہ کو نہ میں نے کچھ بتایا اور نہ آج تک انہوں نے مجھ اس بارے میں کوئی بات کی حالانکہ میں جانتی ہوں کہ انکو اس بارے میں پتا ہے ،تب سے لیکر اب تک چار بار میرے ساتھ کمال کرچکا ہے میں بھی صبر کر گئی ہوں بس اس کو پانی اپنے اندر نہیں نکالنے دیتی ،کیونکہ میں کسی کا بچہ پیدا نہیں کرنا چاہتی ،میں خالد کی اولاد پیدا کرنا چاہتی اور اس میں کوئی ملاوٹ نہیں کرنا چاہتی ، کبھی کبھی ضمیر تنگ کرتا ہے کہ کہیں چلی جاؤ مگر جب سوچتی ہوں کہ اتنا مہنگا علاج کیسے ہوگا پھر چپ کر جاتی ہوں یہ ساری حقیقت ہے ، بالی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا ، خرم :تو بیگم صاحبہ کیوں کمال سے کے ساتھ کرتیں انکے شوہر کو پتا نہیں چلا ابھی تک بالی: چوہدری کو باہر کے کاموں سے فرصت ہو تو اپنی بیوی کے لچھن کا پتا چلے خرم چلیں جی ہمیں کیا جو مرضی کریں اسی دوران بیگم صاحبہ لان کی طرف آتی دکھائی دیں جدید انداز کا دلکش اور کالے رنگ کا سوٹ زیب تن کیا ہوا تھا ، بیگم صاحبہ نے بالی سے کہا کہ اوپر والا چھوٹا کمرہ صفائی والی سے صاف کروا دینا اور سٹور میں سے سنگل بیڈ اٹھا کر وہاں لگا دو خرم وہیں رہیں گا ،میں آج خرم کے لیے شاپنگ کر لاؤ پھر ایک دو دن تک اس کا پبلک سکول میں ایڈمیشن کروانا ہے وہ گھر کے قریب بھی ہے اور آسانی ہوگی آنے جانے میں اسکو ، بالی نے کہا ٹھیک ہے بیگم صاحبہ بیگم صاحبہ نے خرم سے کہا کہ تم میرے ساتھ چلو ،اور بالی سے کہا کہ رات کو کھانے کا انتظام اچھا کر لینا میری مما ،اور میری بڑی بہن اور چھوٹی بہن دونوں آ رہیں انکے کے لیے گیسٹ روم بھی سیٹ کر دینا ©
×
×
  • Create New...