Jump to content
URDU FUN CLUB
Last Chance ! Private Cloud Activation Last Date 15-11-2020 After Last Date Not include Previous Purchase in your Private Cloud

Sofiya

Active Members
  • Content Count

    11
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    2

Sofiya last won the day on October 3

Sofiya had the most liked content!

Community Reputation

21

2 Followers

Profile Information

  • Gender
    Female

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. Want to purchase hawas novel by jazz cash
  2. عامر کےمیرے پیٹ پر ہاتھ پھیرنے سے میری سانسیں تیز ہو گئیں اور میرے بوبز اوپر نیچے ہونے لگا اور مجھے بہت مزا آنے لگا عامر نے مزید آگے بڑھتے ہوئے اب اپنے ہاتھ سے میرے بوبز کو چھونا شروع کر دیا اور کپڑوں کے اوپر سے ہی میرے بوبز کو دبانا شروع کر دیا میں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور خاموشی سے بیٹھی رہی جس پر عامر نے مزید آگے بڑھتے ہوئے مجھے اپنی بانہوں میں لے لیا اور میرے گال پر کس کرنے لگا میں نے آنکھیں بند کر کے ہی اسے کہا کہ مجھے چھوڑ دو کوئی آ جاۓ گا مگر اس نے یہ کہہ کر کہ کوئی نہیں آتا مجھے کس کر اپنی بازوؤں میں لے لیا اور میرے گالوں کو دیوانوں کی طرح چومنے لگا میرے بوبز اس کے سینے سے کس کے لگے ہوئے تھے اور وہ میری کمر پر اپنے دونوں ہاتھ اوپر نیچے کرنے لگا مجھے اتنا مزہ آیا کہ میں ریلیز ہوگئی مگر عامر کو بار بار چھوڑنے کا بھی کہتی رہی
  3. پڑھائی کا یہ سلسلہ یونہی 6 7 ماہ چلتا رہا اور اس دوران بس بانو اور عامر ایک دوسرے کو آنے بہانے سے چھو لیتے تھے مگر اس سے زیادہ بات بڑھ نہ سکی ان دونوں کو لگتا تھا کہ جب وہ چھپ کر ایک دوسرے کو چھوتے ہیں تو مجھے پتہ نہیں لگتا جب کہ میں سب جانتے ہوئے بھی انجان بنی رہتی تھی مگر دل ہی دل میں بانو سے جلنے لگی کہ وہ عامر سے دور ہو جائے پھر ایک دن آخر میرے دل کی سنی گئی ہوا یوں کہ بانو اپنے ماں باپ سے ملنے گاؤں گئی ہوئی تھی اور میں ریاضی کے کچھ سوال سمجھنے کے لیے عامر کے گھر گئی عامر کا گھر دو منزلہ تھا اور جب میں عامر کے گھر پہنچی تو وہ نیچے والی منزل میں تھا اور جیسے ہی میں اس کے گھر میں داخل ہوئی تو اس نے مجھے دیکھ لیا اور میں اس کے ساتھ نیچے والے پورشن کےکمرے میں بیٹھ گئی اس وقت عامر کے گھر والے سارے اوپر والی منزل پر تھے میں اور عامر پہلی دفعہ ساتھ اور اکیلے بیٹھ کر پڑھ رہے تھے دل ہی دل میں میں بہت خوش تھی اور دل کر رہا تھا کہ وہ جیسے بہانےسے بانو کو چھوتا ہے مجھے بھی چھوئے عامر نےپڑھانے کے دوران تین چار دفعہ میری آنکھوں میں دیکھا مگر میں ہر بار آنکھیں جھکا لیتی یا دوسری جانب دیکھنے لگتی اس لیے شاید وہ مجھے چھونے سے ڈر رہا تھا ہم تقریباً آدھہ گھنٹہ یونہی پڑھتے رہے پھر اچانک وہ ہوا جو نہیں ہونا چاہیئے تھا عامر نےپڑھاتے پڑھاتے اچانک آرام سے اپنا ہاتھ میری ران سے غیر محسوس طریقے سے چھونا شروع کر دیا وہ ہلکے ہلکے سے اپنا ہاتھ میری ران پر لگاتا اور پھر ہٹا لیتا اس دوران وہ ساتھ ساتھ مجھے پڑھا بھی رہا تھا میرے جسم میں مزے سے جھرجھری ہونے لگی اور میں بھی خاموشی سے بیٹھی پڑھتی رہی میری طرف سے کوئی مزاحمت نہ دیکھ کر عامر نے اپنا ہاتھ میری ران پر ہی رکھ لیا میں چپ چاپ اس کے ہاتھ کو محسوس کرنے لگی اور میرے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونے لگی اب میں بظاہر تو پڑھ رہی تھی مگر میرا دماغ پتہ نہیں کہاں چلا گیا تھا میری طرف سے جب بلکل کی کوئی ریکشن نہ ہوا تو عامر نے آہستہ سے میری ران سے ہاتھ اوپر کرکے میرے پیٹ پر پھیرنا شروع کر دیا
  4. ہم شہر کے جس سکول میں پڑھتی تھیں وہاں لڑکے اور لڑکیاں ساتھ پڑھتے تھے ہمارے کچھ کزن بھی اور میرے بھائی بہن بھی اسی سکول میں پڑھتے تھے جو کہ بارھویں تک تھا ان کزنز میں سے ایک وہ تھا ہمارا کزن جس کا نام عامر تھا عامر پیدا شہر میں ہوا اور زیادہ تر وہیں رہتا تھا اس کا اور میرا گاؤں ایک تھا البتہ بانو کا گاؤں دوسرا تھا گاؤں سے شہر آنے سے پہلے میری اور عامر کی کوئی خاص دوستی نہ تھی اور نہ ہی بانو کی اس کے ساتھ دوستی تھی ہم بس ایک دوسرے کے رشتہ دار تھے اور یہی تعلق تھا عامر کے والد محکمہ زراعت میں آفیسر تھے اور شروع سے ہی شہر میں رہ رہے تھے انہوں نے ہی ہمیں اور دوسرے رشتہ داروں کو اسی محلہ میں گھر لے کر دیئے تھے ہمارا اور عامر کا گھر ایک ہی گلی میں تھا اس لیے ہمارا عامر کے گھر آنا جانا شروع ہو گیا عامر انگریزی اور ریاضی میں بہت زبردست تھا اور بانو اور میری ان دونوں مضامین سے جان جاتی تھی اس لیے امی کے کہنے پر کبھی ہم دونوں پڑھنے کے لیے عامر کے پاس اس کے گھر اور کبھی وہ ہمارے گھر ہمیں پڑھانے آ جاتا تھا عامر بہت ہی ہنس مکھ طبیعت کا تھا اور ہمیں بہت توجہ سے پڑھاتا تھا میری بانو اور عامر کی آہستہ آہستہ دوستی ہو گئی اور اب ہم ایک دوسرے سے کافی گپ شپ کرتے تھے اسی دوران بانو اور عامر ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے اور اس پسند میں بانو کا ہاتھ زیادہ تھا وہ جان بوجھ کر پڑھائی کے دوران اس کے ساتھ بیٹھتی اور وہ دونوں بہانے بہانے سے ایک دوسرے کو چھو بھی لیتے تھے بانو اور میں جب اکیلے ہوتے تو وہ مجھ سے کہتی کہ تم دعا کرو کہ عامر مجھے پسند کر لے اور ہم دونوں کی شادی ہو جائے میں اس کی بات سن کر ہنس پڑتی اور مذاق میں اس سے کہتی کہ عامر مجھے پسند کرتا ہے مگر میں کیونکہ زیادہ تر چپ چاپ رہتی ہوں اور تم اس سے زیادہ باتیں کرتی ہو اور اس کے قریب بیٹھتی ہو اس لیے تمھیں لگتا ہے کہ وہ تمھیں پسند کرتا ہے اصل میں مجھے عامر کی آنکھوں میں اپنے لیے پسندیدگی نظر آتی تھی کیونکہ میں بانو سے زیادہ پیاری تھی مگر جب بھی عامر میری طرف دیکھا کرتا تو میں آنکھیں جھکا لیا کرتی تھی اور کیوں کہ بانو اس سے زیادہ فری ہو گئی تھی اس لیے وہ اس کی طرف زیادہ مائل ہو گیا تھا اور اس عمر میں ظاہری سی بات ہے لڑکے جس لڑکی سے لفٹ زیادہ ملے اس کی طرف مائل ہو جاتے ہیں ایک دن میں پڑھائی کے دوران جب عامر ہمارے گھر آ کر ہمیں پڑھا رہا تھا میں امی کے بلانے پر کچن میں کام سے چلی گئی اور عامر اور بانو اکیلے رہ گئے جب میں تھوڑی دیر بعد واپس آئی تو جیسے ہی میں نے کمرے میں داخل ہو کر دیکھا تو عامر بانو کو گال پر کس کر رہا تھا اور میری آہٹ پرجلدی سے کتاب پکڑ کر دونوں پڑھنے لگ گئے جیسے کچھ ہوا بھی نہ ہو اور میں نے بھی ایسے ظاہر کیا کہ میں نے کچھ بھی نہیں دیکھا مگر اس دن سے میرا دل بھی عامر کے لیے دھڑکنے لگا اور پتہ نہیں کیوں میرا دل کرنے لگا کہ عامر مجھے بھی ایسے چھوۓ اور گال پر چوم لے مگر شاید میرا شرمیلا پن میرے اور عامر کے آڑے آ رہا تھا
  5. جب میں دسویں میں تھی اس وقت تک میں نے کبھی سیکس کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا اور نہ ہی کسی لڑکے سے کوئی دوستی تھی مگر اس ایک واقعے نے میری زندگی مکمل طور پر بدل دی اور جس کا اثر آج بھی اٹھارہ سال بعد میری شادی شدہ زندگی میں برقرار ہے میں اور بانو دسویں کلاس میں اکٹھے پڑھتی تھیں بانو میری خالہ کی بیٹی تھی اور میرے ساتھ ہمارے گھر میں رہتی تھی اس کا اور میرا اصل گھر گاؤں میں تھا مگر میرے والد جو ایک ڈاکٹر تھے نے ہم بہن بھائیوں کو پڑھانے کے لیے شہر میں گھر خرید لیا تھا اس محلے میں ہمارے اور رشتہ داروں کے گھر بھی تھے بانو تھوڑی سی سانولی مگر بہت پرکشش شخصیت کی مالک تھی جبکہ میں بانو کے مقابلے میں بہت گوری چٹی اور نکھرے رنگ کی لڑکی تھی بانو پڑھائی میں بہت تیز تھی جبکہ میں ایک ایورج طالبہ تھی ہم دونوں بہت اچھی سہیلیاں تھیں بانو جب شروع میں دیہات سے شہر آئی تھی تو وہ بہت شرمیلی طبیعت کی تھی مگر شہر میں کچھ عرصہ رہنے کے بعد اس کا شرمیلا پن بلکل ختم ہو گیا تھا
  6. ڈاکٹر فیصل خان اللہ آپ کے کام میں برکت عطا فرمائے اور آپ کو ترقی دے. جب بھی وقت ملے اپڈیٹ کر دیجیے گا.
  7. It's not fair ڈاکٹر صاحب اتنے دنوں بعد اتنی چھوٹی اپڈیٹ
  8. یہ ان دنوں کی بات ہے
  9. میری زندگی کی کہانی
×
×
  • Create New...