Jump to content
URDU FUN CLUB
Congratulation ! Site is Moved To New Server Complete Successfully

Haider514

Active Members
  • Content Count

    61
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    10

Haider514 last won the day on August 11

Haider514 had the most liked content!

Community Reputation

230

2 Followers

Profile Information

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. تو تو دیکھ کیا رہا ہے ، بائیک اسٹارٹ کر اور کچل دے ، کمینوں کو. . . قسم سے دوسروں كے حق كے لیے لڑنے والے سردار کو کچھ ہوا تو ، لعنت ہے ہم پر . . . " اس وقت مجھے اس کی بات مان لینی چاہئیے تھی ، مجھے بائیک کی رفتار بھرا کر آگے بڑھانا چاہئیے تھا ، لیکن جیسے میرے ہاتھ جم گئے تھے ، جس کی صرف ایک وجہ تھی ، وہ وجہ گاڑی میں بیٹھی ہوئی سارہ تھی . . . "ابے بہن چود ، بائیک آگے بڑھا . . . " اظہر نے چلا کر کہا . . . " یار ، وہ سارہ گاڑی میں بیٹھی ہے . . . " " تو کیا . . . " میرے خاص دوست نے مجھے عجیب طرح سے دیکھا ، جیسے اسے یقین ہی نہ ہو رہا ہو کہ یہ میں کہہ رہا ہوں . . . . " تو جائے گا یا نہیں . . . " " ہم بہت کم لوگ ہے یار ، پٹ جائینگے . . . " " چل ٹھیک ہے . . . " بائیک سے اُتَر کر اظہر بولا " میں جا رہا ہوں ، تو واپس جا . . . اور قسم سے، آج كے بَعْد تو مجھے روم میں مت دکھنا ، ورنہ قتل ہو جائے گا ، یا تو تیرا یا میرا . . . . " آگے بڑھتے ہوئے اظہر نے کہا . . . . . سردار وہاں لڑکوں كے درمیان گھرا ہوا بحث کر رہا تھا اور اِدَھر میرا سب سے خاص دوست جا رہا تھا ، وہی میرے خوابوں میں آنے والی ایک پری ، اپنے شہزادے كے ساتھ گاڑی میں بیٹھی تھی ، اور میں وہاں چوک سے کچھ دور الجھن میں پھنسا ہوا شوکت کی بائیک پر بیٹھا ہوا تھا . . . . جب ہمارے سامنے دو راستے ہو تو ہمیں کسی ایک کو منتخب کرنے میں غلطی ہو ہی جاتی ہے وہاں تو میرے پاس تِین راستے تھے . . . . پہلا یہ تھا کہ میں بائیک سے اُتَر کا سردار كے ساتھ دینے گھس جاؤں، اور مار کھاؤں. . . لیکن یہ مستقبل کا انجینئر ہونے كی وجہ مجھے زیب نہیں دیتا . . . . . دوسرا راستہ یہ تھا کہ چوک کی طرف بڑھ رہے میں اپنے خاص دوست کو اغوا کر لوں اور اسے پیٹنے سے بچا لوں ، لیکن اگر میں ایسا کرتا تو میں شاید اظہر کو کھو دیتا . . . جو میں نہیں چاہتا تھا . . . . تیسرا راستہ یہ تھا کہ میں چُپ چاپ اپنی بائیک موڑ لوں اور واپس جا کر اگلی کلاس اٹینڈ کر لوں . . . لیکن یہ انجینیئرنگ کالج میں پڑھنے والے لڑکے کی پہچان نہیں تھی اور نہ ہی میری . . . . . لیکن میں نے ایسا ہی کیا میں نے تیسرا ہی راستہ منتخب کیا ، کیوںکہ یہی مجھے سہی لگا . . . میں نے اس وقت سب کچھ بھول کر ، سامنے چوک پر پھنسے سردار کو اندیکھا کرکے اپنی بائیک کالج كے طرف گھمائی . . . . . " میں جا رہا ہوں ، تو وآپس آجا . . . اور قسم سے آج كے بَعْد تو مجھے روم میں مت دکھنا، ورنہ قتل ہو جائے گا ، یا تو تیرا یا میرا . . . . " میرے کانوں میں یہ آواز گونج رہی تھی ، یہ آواز صرف گونج ہی نہیں رہی تھی یہ آواز میرے ضمیر کو جنجھوڑ رہی تھی ، . . . دُنیا میں کئی راستے ہوتے ہے ، جو کسی نہ کسی منزل تک پہنچتے ہے ، وہ تو انسان کی عقل پر مختص کرتا ہے کہ انسان کس رستے پر چلتا ہے . . . . کسی کی آواز کا کانوں میں گونجنا یہ سب میں نے صرف فلموں میں دیکھا تھا یا افسانوں میں پڑھا تھا لیکن اس دن میں نے خود محسوس کیا اور جب وہ آواز مسلسل میرے کانوں میں گونجتی رہی تو میں نے بائیک واپس اظہر کی طرف گھمائی . . . . . . " لفٹ چاہئیے سر . . . " " تو . . . تو تو چلا گیا تھا . . . " " چل آجا ، کچھ کرتے ہے . . . " " تو کیا کرنے والا ہے . . . " بائیک پر سوار ہوتے ہوئے اس نے کہا . . . " وہ سب چھوڑ اور یہ بتا سردار کا وزن کتنا ھوگا . . . . " " کمینے میں یہاں ترازو لے کر نہیں بیٹھا ہوں . . . " شروع میں اس نے ایسا کہا ، لیکن جب میں نے پیچھے گردن گھمائی تو جیسے وہ سمجھ گیا کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں . . . . میں نے بائیک اسٹارٹ کی اور بائیک سیدھے چوک کی طرف رواں کر دی ، . . . اب میں سمجھ گیا تھا کہ مجھے کیا کرنا ہے . . . مجھے تینوں منزلیں پانی تھی ، سردار کو بچانا بھی تھا ، اظہر کو اپنے ساتھ بھی رکھنا تھا اور سارہ . . . . . . . . . اور عام انسان ایک وقت پر صرف ایک ہی راستے پر چل سکتا ہے ، اس لئے اس وقت میں نے ان تینوں منزلوں کی طرف جانے والے تینوں راستوں کو ملا کر ایک کر دیا چوک كے پاس پہنچتے ہی میں نے اچانک زور سے ہارن مارا جس کی وجہ سے کچھ لڑکے دور ہوئے ، کمینوں نے مجھے بَعْد میں پہچانا لیکن تب تک میں نے اور اظہر نے سردار کو ایک جھٹکے سے اٹھایا اور تیز رفتاری سے آگے نکل گئے . . . . " چشمے ہوتے تو اور بھی مزا آتا یار. . . " بائیک كے شیشے میں خود کو دیکھتے ہوئے میں نے کہا ، اِس وقت ہم تینوں ٹھیک اسی گرائونڈ پر تھے جہاں کچھ دنوں پہلے ہم ہاسٹل والوں نے مار دھاڑ کی تھی . . . . " ابے ، مجھے چھوڑے گا، یا ایسے ہی ٹانگے رکھے گا . . . " " سوری سر . . . " سردار پر اپنی گرفت ڈھیلی کرتے ہوئے اظہر نے کہا . . . . سردار اس وقت بہت غصے میں تھا اور اظہر نے جیسے ہی سردار کو چھوڑا ، وہ نیچے اُتَر کر کسی کو کال کرنے لگا . . . " گرائونڈ پر لے کر آ سب لڑکوں کو ، آج پھر ماروں گا اس بہن چود کاشف کو ، اسی كے کہنے پر شہر کے اسٹوڈنٹس نے مجھے گھیرا تھا . . . " " ایم ٹی ایل بھائی . . . " میں ایک دم ہیرو کی طرح کے اسٹائل سے بائیک سے اترا اور سردار سے بولا " الیکشن ہو جانے دو . . . پھر مل کر جنگل میں منگل کا پارٹ ٹو شروع کرے گے . . . . " " تو رک . . . دیکھ ابھی اس کمینے کو دھوتا ہوں . . ." سردار نے پھر ایک نمبر پر کال کی، " یار ، اظہر سمجھا نہ. . . " " گھنٹہ سمجھاؤں میں . . . . اس کو خود سوچنا چاہئیے . . . " اظہر چُپ رہنے والا تھا ، اس لئے سردار کو ٹھنڈہ کرنے کی ساری ذمہ داری اب میری تھی ، سردار ہم سے تھوڑی دور جا کر کسی سے بات کر رہا تھا ، تب میں نے اظہر کو دبی آواز میں کہا کہ، وہ مجھے اس وقت کال کرے جب میں سردار سے بات کر رہا ہوں . . . . " اوکے. . . " میں سردار كے پاس گیا اور دھیرے سے آواز دی ، دھیرے سے اس لئے کیوںکہ مجھے دَر تھا کہ غصے میں کہی سردار مجھے ہی نہ پیل دے . . . . " سردار بھائی . . . " " کیا ہے . . . " چلاتے ہوئے سردار نے کہا . . . " کمینوں نے مجھے دھکہ دیا ، تو دیکھ سب کو ماروں گا ، آج ہی ماروں گا . . . " اور اسی ٹائم اظہر نے میرے نمبر پر کال کی ، اور میں نے سردار كے سامنے کال اٹھائی . . . . " ہاں ، کیا بول رہا ہے . . . سب بھاگ گئے . . . " میں نے موبائل جیب میں رکھا اور اِس امید میں تھا کہ سردار نے میری بات سنی ھوگی میں اس سے بولا " سردار بھائی وہ لوگ بھاگ گئے ، ابھی میرے دوست کی کال آئی تھی . . . . .
  2. بریک ٹائم میں سحرش میڈم كے پاس جانے کی بات کچھ اور تھی اور ابھی کی بات کچھ اور . . . . کیا پتہ اندر کیا ہو رہا ہو ، کون کون اندر ہو اور کس حالت میں اوپر سے میں ٹھرا شریف لڑکا . . . . کمپیوٹر لیب کا گیٹ کھلا تھا تو میرے خیال سے اندر کا ٹمپریچر نارمل ھونا چاہئے ، میں نے پہلے اندر جھانکا اور میرا اندازہ سہی تھا ، اندر کا ٹمپریچر بلکل نارمل تھا . . . . سحرش میڈم کمپیوٹر پر بیٹھی ماؤس کو ادھر اُدھر کر رہی تھی ، اور اسی وقت جیسے انہیں احساس ہوگیا کہ دروازے پر کوئی ہے اور انہوں نے اپنی نظریں گھوما کر مجھے دیکھا . . . . . " ایک بار یہ لنڈ چوس لے تو مزہ ہی آ جائے . . . . آہ ہ ہ " سحرش میڈم كے رس بھرے ہونٹوں کو دیکھ کر میرے ارمان اُچھل پڑے ، جنہیں ٹھنڈہ کرتے ہوئے میں نے سحرش میڈم سے اندر آنے کی اجازت چاہی . . . . " ارمان ، تم . . . اِس وقت ، ابھی تو صدیق صاحب کی کلاس ہے نہ. . . " " بھاگا دیا انہوں نے . . . " اندر آتے ہوئے میں نے کہا " پھر کیا کر دیا . . . . " مجھے سامنے والی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے پوچھا . . . . " اِس بار کچھ نہیں کیا ، اس لیے بھاگا دیا . . . . " " اچھا یہ بتاؤ . . . " ماؤس پر سے ہاتھ ہٹا کر انہوں نے ایک ہاتھ کو اپنے سَر پر ٹیکایا اور انگلیاں ہونٹوں پر پھیرتے ہوئے بولی " تمہارے میٹرک میں کتنے نمبر تھے . . . " یہی ایک ایسا سوال تھا ، جس کاجواب دینے كے لیے میں ہمیشہ تیار رہتا تھا ، لیکن اس وقت مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ سوال میری زندگی کا آخری سوال بن جائیگا ، جس کا جواب میں بعد میں دینا چاہوں گا . . . . " 93۔60 % " میں نے جواب دیا . . . . " کیا . . . " اپنے سَر کو دوسرے ہاتھ سے ٹیکاتے ہوئے وہ بولی " سچ بولو . . . " " انٹرنیٹ چل رہا ہے کیا . . . " " ہاں ، . . . " " 216328075 یہ میرا رول نمبر ہے . ، رزلٹ چیک کر لیں . . . . " " اوکے ، چھوڑو . . . . " ترچھی نظروں سے انہوں نے کہی اور دیکھتے ہوئے کہا ، " تم کیا سوچ کر آئے تھے . . . " " میں یہاں کمپیوٹر پر سانپ والا گیم کھیلنے آیا تھا . . . " " وہ گیم تم ابھی نہیں کھیل سکتے . . . " انہوں نے ایک بار پھر اپنا ہاتھ بدلہ اور بولی " اندر کیبن میں ایک سر بیٹھے ہوئے ہے . . . " " دھات تیری کی . . . . " میں بربرایا " اب جاؤ ، ورنہ . . . . . " میری طرف اپنا چہرہ کرکے وہ بولی . . . " ورنہ . . . " میں نے بھی اپنا چہرہ ان کی طرف کیا . . . " ورنہ ، تم مجھے کبھی چھو بھی نہیں پاؤ گے اور اسائنمنٹ پھر سے دے دوں گی . . . " سحرش میڈم کی بات سن کر میں اِس قدر ہڑبڑا گیا کہ کرسی سے بس نیچے گرنے والا تھا ، وہ ہنس پڑی اور مجھے ایک بار پھر وہاں سے جانے كے لیے کہا . . . . میں نے ایک بار ان کے گلابی ہونٹوں اور چھاتیوں کو دیکھا اور وہاں سے مایوس قدموں سے باہر نکلا اور ابھی باہر ہی نکلا تھا کی سامنے سے سمیرہ آتی ہوئی دکھائی دی ، . . . مجھے وہاں لیب كے باہر دیکھ کر اس کے قدم روک گئے . . . " سننے میں آیا ہے کہ تم نے اپنا معشوق بدل دیا ہے . . . " " معشوق بدلا نہیں ہے ، صرف پُرانے کو چھوڑا ہے . . . ابھی میں بلکل اکیلی ہوں . . . " " مجھے بنا لو ، اپنا معشوق . . . " " کیوں ، تم میں ایسی کیا خاص بات ہے . . . " تب تک ہم دونوں راستے سے ہٹ کر تھوڑا سائیڈ پر آ گئے تھے، کلاسز چل رہی تھی اس لئے کوئی اُدھر آئے یہ مشکل ہی تھا . . . . . " کیوں کا کیا مطلب ، مجھ سے اچھا اور قابل معشوق پورے کالج میں نہیں ملے گا . . . . " " اچھا . . . " " 101 % ، سچ. . . . " وہ اب خاموش ہوگئی اور اپنا منہ بند کر کے مجھے دیکھتی رہی ، ویسے عورت ذات کبھی چُپ ہو جائے ، یہ نہیں ہوتا لیکن اس وقت ایسا ہی کچھ ہو رہا تھا ، وہ بلکل چُپ ہو کر جیسے مجھے چیک کر رہی تھی کہ میں اس کا معشوق بننے کے لائق ہوں یا نہیں . . . . " تمہاری عمر کم ہے . . . . سوری " " اس نے تو سچ میں سوچنا شروع کر دیا " اندر ہی اندر خود کو خوبصورت سمجھتے ہوئے میں نے کہا " میں مذاق کر رہا تھا ، اب چلتا ہوں ، میرے دوست انتظار کر رہے ہوں گے میرا . . . ." وہ بھلا کیوں روکتی مجھے ، اس نے اپنا سَر ہلا کر مجھے جانے كے لیے کہا اور میں وہاں سے نکلا ہی تھا کہ میرا موبائل بجنے لگا . . . . . کال نئے نمبر سے تھی " یار ارمان ، جلدی آ جلدی . . . چوک كے پاس سردار کو شہر والے اسٹوڈنٹ نے گھیر لیا ہے . . . جلدی آ . . . اور جتنے لڑکے ملے ، ان سب کو بلا لینا . . . . " ایک چیختی ہوئی آواز میرے کانوں میں گونجی . . . . میں کچھ دیر تک سن کھڑا رہا ، میں وہاں کھڑے ہو کر یہی سوچتا رہا کہ یہ سچ تھا یا کوئی میرے ساتھ مذاق کر رہا ہے ، کیا سچ میں سردار کو کاشف اور اس کے دوستوں نے گھیر لیا ہے یا پھر وہ لوگ مجھے گھیرنے كے چکر میں ہے ، جو بھی ہو مجھے ایک بار کالج كے مین گیٹ كے پاس والے چوک كے پاس تو جانا ہی تھا ، میں نے بھاگتے ہوئے سیڑھیاں عبور کی اور شوکت سے اس کی بائیک کی چابی لے کر اظہر كے ساتھ کالج سے باہر نکلا . . . . کیا ھوگا اگر ان لوگوں نے سردار کا وہی حال کر دیا جو ہم نے کاشف اور اس کے دوستوں کا کیا تھا ، کیا عزت رہ جائے گی ہماری کالج میں ، اور اوپر سے کچھ دنوں بعد الیکشن بھی ہونے والا ہے . . . . اس وقت بائیک چلاتے ہوئے میرے ذہن میں یہی سب گھوم رہا تھا ، اظہرنے کئی بار مجھ سے پوچھا بھی کہ کیا ہوا ہے ، میں کیوں اتنا ہڑبڑا رہا ہوں اور میں اسے کہاں لے جا رہا ہوں . . . . لیکن میں نے اس کے ایک بھی سوال کا جواب نہیں دیا اور سیدھا چوک پر جا پہنچا . . . ہمارا کالج آبادی سے دوری پر تھا ، اس لئے اُدھر عوام کا رجحان کم ہی رہتا تھا لیکن اِس وقت وہاں بہت سے لڑکے جمع تھے ، اور اگر میں سہی تھا تو وہاں کھڑے لڑکوں میں سے زیادہ تر لڑکے شہر والے تھے . . . ہاسٹل والوں کو پہنچنے میں ابھی وقت لگنا تھا . . . . . میں نے شوکت کی بائیک چوک سے کچھ دوری پر ہی روک دی ، جس کی وجہ تھی سارہ. . . وہ کمینی صغیر کی گاڑی اس وقت وہاں جانے کہاں سے پہنچ گئی ، جس میں شاید سارہ بھی ھوگی میں نے اندازہ لگایا . . . . . . " وآپس چلے جا ارمان ، سارہ كے سامنے لڑائی ، جھگڑا کرنے کا مطلب ہے ، اس سے ناراضگی . . . . صغیر تو اس کا بچپن کا دوست ہے ، اس لئے وہ اس سے جڑی ہوئی ہے . . . لیکن اگر اس نے آج تجھے غنڈہ گردی کرتے ہوئے دیکھ لیا تو وہ کبھی تجھ سے بات تک نہیں کرے گی . . . . " " یار بائیک آگے بڑھا ، وہاں کچھ مسلہ ہو رہا ہے . . . " اظہر نے مجھے میرے خیالات سے نکالتے ہوئے کہا . . . " سردار کو شہر کے اسٹوڈنٹ نے گھیر لیا ہے اور ہاسٹل كے لڑکے آ رہے ہے . . . لیکن تب تک سردار مار کھا چکا ہوگا. . . "
  3. سارہ تو نہیں آئی اور اظہر کے آنے میں وہاں ابھی وقت تھا . . . . " کیا ہوا اجڑے چمن ، ایسے کیوں بیٹھا ہے . . . کسی نے گانڈ مار لی کیا . . . " میں اِس آواز کو پہچان گیا اور بنا اس کے طرف دیکھے ہی بولا " بیٹھ یار اظہر، آج تیری بھابی نہیں آئی . . . " " کون سحرش میڈم. . . " " تیری تو . . . . میں سارہ کی بات کر رہا ہوں. . . " " وہ تو تیری سب سے پیارے دوست تیرے جگری یار صغیر کی معشوقہ ہے . . . " " اڑا لے یار مذاق . . . " " چل چھوڑ ، کلاس چلتے ہے . . . " " چل . . . " اٹھتے ہوئے میں نے کہا " لیکن پہلے یہاں کا بِل بھر . . . " " کتنا ہوا . . " اپنا جیب چیک کرتے ہوئے اظہر نے پوچھا " 80 روپے . . . " " لوڑا ، پرس ہاسٹل میں ہی بھول گیا ، تو ہی دے . . . " " اگر میں پرس لایا ہوتا تو کیا تجھے بولتا ، پاگل کہی كے . . . " کینٹین والے لڑکے كے پاس جا کر میں نے بولا کہ وہ بِل میرے کھاتے میں لکھ دے ، لیکن نہ تو میرا وہاں کوئی کھاتہ تھا اور نہ ہی اس نے ادھار کرنے کی بات مانی ، . . . " میرے کو تو کیش ہی چاہیے ، اگر پیسے ہے تو پیسے دو . . ورنہ اپنا کچھ سامان رکھ كے جاؤ . . . " " ابے اُلو ، میں تیرے 80 روپے كے لیے اپنا بیس ہزار کا موبائل گروی رکھواؤں گا کیا . . . " " وہ میرا مسلہ نہیں ہے . . . " کمینہ کینٹین والا مان نہیں رہا تھا اور اگلی کلاس بھی شروع ہونے والی تھی ، اچانک سردار کی کال آئی ، سردار نے یہ پوچھنے كے لیے کال کی تھی کہ وہاں کوئی مسلہ تو نہیں ہوا ، اور تب میرے خرافاتی دماغ میں ایک بہترین آئیڈیا آیا اور میں نے کینٹین والے سے کہا . . . " سردار كے کھاتے میں ڈال دے . . . " " وہ تم کو جانتا ہے . . . " " یہ دیکھ ، اس کی کال آئی تھی ابھی . . . " موبائل میں کال ہسٹری دکھاتے ہوئے میں نے کہا اور وہ مان گیا . . . . " اوئے ارمان ، سن . . . " چلتی کلاس كے دوران شوکت ، جو کہ آج آگے والی بینچ پر بیٹھا تھا وہ مجھے بولا " کاشف آج کالج آیا ہے ، کمینے كے سَر میں پٹی بندھی ہے . . . " " آج بھی ، بھارم جھاڑ رہا تھا کیا . . . " " نہیں ، آج تو سالا بھیگی بلی کی طرح بس میں بیٹھا تھا ، اس کے دوست بھی اس کے ساتھ تھے . . . لیکن کوئی کچھ نہیں بول رہا تھا . . . " " اور اس کی معشوقہ سمیرہ ، آئی ہے کیا . . . " " آئی تو ہے ، لیکن وہ آج کاشف سے دور بیٹھی تھی . . . لگتا ہے دونوں کا چکر ختم ہوگیا ہے . . . " میں اور شوکت آہستہ آواز میں بات کر رہے تھے کہ تبھی اظہر شیر کی طرح دھار کر بولا " اب اسے میں سیٹ کروں گا . . . : " " کون ہے بدتمیز . . . " صدیقی سر نے جہاں ہم بیٹھے تھے ، اس طرف دیکھ کر کہا " جس نے بھی یہ حرکت کی ہے ، وہ سیدھی طرح سے نکل جائے ، ورنہ پوری کلاس کی حاضری نہیں لگواؤں. . . " آواز اظہر کی تھی، اس لئے سر ہماری بینچ اور اسی كے آس پاس دیکھ کر بول رہے تھے ، اور جیسے ہی انہوں نے اظہر کی طرف دیکھا تو میرا گانڈو دوست اظہر ہوشیاری دکھاتے ہوئے بولا . . " سر ، مجھے نہیں معلوم کی آواز کس نے نکالی ، شاید پیچھے سے کوئی بولا . . . " " چلو کھڑے ہو جاؤ اور باہر نکلو . . . " " لیکن سر ، میں نے کچھ نہیں کیا " " کچھ دیر پہلے جو آواز آئی تھی ، اس سے تمہاری آواز میچ ہوگئی ہے . . . چلو باہر جاؤ . . . " " سوری سر " " باہر جاؤ . . . " اظہر باہر گیا اور سر پھر سے بورڈ پر ڈرائنگ بنانے لگے ، " تجھے کیسے معلوم کہ ، سمیرہ اور کاشف کا چکر ختم ہوگیا . . . " سر كے بلیک بورڈ کی طرف موڑتے ہی میں نے دھیمی آواز میں شوکت سے کہا " تو تو بائیک سے آتا ہے نہ. . . " " آج بس سے آیا ، تبھی دیکھا . . . کاشف ، سمیرہ سے بات کرنے کی کوشش میں لگا ہوا تھا لیکن سمیرہ ہر بار یہی کہہ رہی تھی کہ . . . مجھے اکیلا چھوڑ دو . . . " " اور پھر . . . " " اور پھر کیا ھونا تھا ، اپنا تھوبڑا لے کر کاشف چُپ چاپ بس میں پیچھے کی طرف بیٹھ گیا اور اس کے بَعْد میں نے ایک عجیب چیز نوٹ کی . . . " شرماتے ہوئے شوکت نے کہا " سمیرہ مجھے لائن دے رہی تھی" " ہیلو ، تم بھی کھڑے ہو . . . . " سر نے اب کہ بار شوکت کو کھڑا کیا " یہاں تم نے بیٹھک کھول كر بیٹھے ہو . . . " " نہیں سر . . . وہ " " کیا نہیں سر . . . " سر کی لال ہوتی آنکھوں سے آنگاریں نکل رہی تھی . . . " سر میں ، پین مانگ رہا تھا . . . " " اچھا . . . " سر نے بُک ٹیبل پر رکھی اور جہاں ہم بیٹھے تھے وہاں آ کر شوکت كے ہاتھ سے پین لیا اور اس پین کو چلا كر دیکھا . . . . " تمہارا پین تو ٹھیک چل رہا ہے ، پھر کیا دونوں ہاتھوں سے لکھنے كے لیے پین مانگ رہے تھے " شوکت اپنا سَر نیچے کر کے چُپ ہو کر ایسے بیٹھا ، جیسے اس نے کچھ کیا ہی نہ ہو ، . . . " باہر جاؤ . . . " شوکت جب باہر جانے لگا تو سر نے اسے روکا اور پوچھا کہ وہ پین کس سے مانگ رہا تھا . . . . " سر ، ارمان سے . . . " " کون ہے ، ارمان . . . " " سر میں . . . " اپنا ہاتھ اٹھاتے ہوئے میں نے کہا . . . سر میرے پاس آئے اور بولے کہ میں انہیں اپنا پین دیکھاؤں ، لیکن میرے پاس تو ایک بھی پین نہیں تھا ، میں تو اتنی دیر سے صرف نوٹ بک کھول کر بیٹھا تھا " واہ ، پین بھی اس بندے سے مانگ رہے تھے ، جس کے پاس پین ہی نہ ہو " اور پھر مجھے دیکھ کر سر نے لمبا سا " باہر جاؤ " بولا . . . . " چل باتھ روم میں مٹھ مار كے آتے ہے . . . " جب ہم تینوں کلاس سے باہر نکل آئے تب شوکت نے کہا . . . . " میں نہیں ماروں گا آج صبح ہی حویلی میں مٹھ ماری ہے . . . " اظہر بولا . . . . " تم دونوں یہی کھڑے رہو ، میں ابھی آیا ، کچھ الیکشن کے سلسلے میں کام یاد آ گیا ہے . . . " " میں بھی چلتا ہو . . . " لیکن میں نہیں مانا ، اور اظہر کو شوکت كے ساتھ روکنے کا بول کر وہاں سے نکل گیا اور میرے قدم جا کر سیدھا کمپیوٹر لیب میں روکے ، جہاں سحرش میڈم اپنی ٹانگیں چھوڑے کیے ہوئے کمپیوٹر پر شاید سیکسی مووی دیکھ رہی تھی . . . .
  4. اس سے یہ ھوگا کہ ان کے ووٹ تقسیم ہوجائینگے ، جیسے کہ اگر سیکنڈ ایئر میں صغیر کھڑا ہے ، تو اسی كے کسی دوست کو ہماری پارٹی سے کھڑا کرو ، اس سے صغیر كے دوست دو گروپ میں تقسیم جائینگے اور ان کے ووٹ بھی. . . . . . . . . " "واہ ، اب کہلایا نہ تو اظہر کا دوست . . . " میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا کر اظہر نے شان سے کہا ، اور میں نے بھی شان سے سنا . . . . . سردار نے اپنی جان پہچان سے دو ایسے بندے ڈھونڈ لیے جو سردار كے لیے کام کرنے کو تیار تھے ، میں اور اظہر وہاں سے نکلے اور بریک كے بَعْد والی کلاس اٹینڈ کرنے كے لیے کالج پہنچے . . . " میم ، اندر آ سکتے ہے . . . " " آ جاؤ . . . " ہم دونوں کو دیکھ کر سحرش میڈم بولی ، . . " یہ تو راحیلہ رانی کی کلاس ہے ، یہ سحرش میڈم کہا سے ٹپک پڑی . . . " اندر آ کر میں اپنی سیٹ پر بیٹھا اور . . . . . اور کچھ نہیں کیا صرف بیٹھا ہی رہا ، کیوںکہ سحرش میڈم ٹیسٹ کی کاپی دے رہی تھی . . . " ارمان ، . . " " یس میم . . " میں اپنی جگہ پر کھڑا ہوا . . . " تمہیں کیا لگتا ہے ، کتنے نمبر آ جائینگے . . . " فی الحال میرے اندر تھرک اتنی بھری ہوئی تھی کہ میں نے کچھ الگ ہی نمبر بول دیا ، . . . " میرے خیال سے 36 ھوں گے . . . " " کیا . . . ؟ " سحرش میڈم چونک کر بولی ، کیوںکہ وہ تو سمجھ گئی تھی کہ میں کس نمبر کی بات کر رہا تھا ، باقی پوری کلاس اِس بات کو مذاق سمجھ کر ہنس رہی تھی ، سب کو ہنستا دیکھ جیسے مجھے ہوش آیا اور میں نے ایک نظر سحرشمیڈم پر ڈالی ، وہ مجھے آنکھیں دیکھا کر کچھ کہنا چاہ رہی تھی . . . . " اوہ سوری میم . . . " " کتنے ، نمبر آ سکتے ہے ، تمہارے . . . . " سحرش میڈم نے مجھ سے دوبارہ پوچھا اور اِس بار ان کا لہجہ تھوڑا تیز بھی تھا . . . " اب میں کیا بتاؤں ، میری عادت نہیں ہے کہ ایگزام كے بَعْد میں اس سبجیکٹ كے بارے میں سوچوں . . . آپ ہی بتا دیں . . . " " ‫18 نمبر گڈ . . . " " کیا " اب کی بار میں چونکا کیونکہ پانچ نمبر کا ایک سوال تو میں چھوڑ کر ہی آیا تھا ، پھر ‫18 نمبر کیسے " کاپی دیکھنی ہے . . . " " بلکل . . . " میں سحرش میڈمكے پاس گیا اور کاپی لیکر اپنی جگہ پر آیا اور میرا اندازہ سہی تھا انہوں نے مجھے ایکسٹرا مارکس دیئے تھے ، "کمینے ، تو نے تو بولا تھا کہ پانچ نمبر کا ایک سوال تو نے چھوڑ دیا ہے ، پھر تیرے 18 نمبر کیسے آئے . . . " میرے ہاتھ سے کاپی لیتے ہوئے اظہر نے کہا . . . . " گئی بھینس پانی میں ، کہی کمینہ اعلان نہ کر دے کلاس میں . . . " لیکن تبھی لنڈ کی پجارن سحرش میڈم ہمارے پاس آئی اور اظہر كے ہاتھ سے میری اور ٹیبل پر رکھی اس کی کاپی اُٹھا کر بولی " خود محنت کرو ، دوسروں کی کاپی میں تاک جھانک کرنا اچھی بات نہیں . . . " اظہر لٹکا سا منہ لے کر رہ گیا اور بند ہونٹوں سے سحرش میڈم کو کچھ بولا ، اگر میں سہی تھا تو اظہر نے سحرش میڈم کو ماں کی گالی دی تھی ، سحرش میڈم جب تک کلاس میں رہی تب تک میرا سب کچھ ہلتا رہا ، کبھی کبھی وہ بھی مجھے دیکھ کر مسکراتی اور کئی بار یہ تک بول دیتی کہ " اَرمان اتنا مسکرا کیوں رہے ہو . . . . . " اور جواب میں میں پھر سے مسکرا دیتا اور ساتھ میں ساری کلاس ہنس دیتی . . . . وہ پل بہت خوش نما تھے جو میں آج بھی بہت یاد کرتا ہوں، اس کلاس کی رنگت مجھے بہانے لگی تھی ، اس کلاس میں بیٹھے لوگ مجھے اچھے لگنے لگے تھے ، ان کی باتیں اور پھر بریک میں دوستوں كے ساتھ بچودیاں ، سب کچھ مجھے ایک نئی زندگی میں لے جا رہا تھا اور وہ میری زندگی کا شاید پہلا ایسا موقع تھا جب میں دِل سے جینے لگا تھا ، جب میں اپنے دل کی کر رہا تھا ، آس پاس کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں تھا ، اس وقت اگر کوئی مجھ سے پوچھتا کہ بتا تیری دو خوائشات کیا ہے تو میں اسے یہی کہتا کہ سارہ کے ساتھ میری سیٹنگ بن جائے اور یہ کالج لائف کا وقت ہمیشہ چلتا رہے ، میرا خاص دوست اظہر ہمیشہ میرے ساتھ رہے ، لیکن وقت کسی كے لیے نہیں روکتا ، میرے لیے بھی نہیں رکا . . . . . جس دن سحرش میڈم نے مجھے ایکسٹرا مارکس دیئے تھے ، اس کے اگلے دن بھی میں نے کالج كے شورعاتی پیریڈز اٹینڈ نہیں کیے ، وجہ الیکشن ہی تھا ، جب میں کالج نہیں گیا تو پھیر میرا خاص دوست اظہر کیسے کالج جاتا ، وہ بھی میرے ساتھ اِدھر اُدھر گھومتا رہا اور مجھے گالیوں سے نوازتا رہا کہ میں یہ کس چکر میں پڑ گیا ہوں اور جب وہ زیادہ ہی بھڑک جاتا تو ایک سگریٹ نکال کر اس کے منہ میں دے دیتا . . . کل کی طرح میں نے آج بھی بریک كے بَعْد کالج جانے کا سوچا ، لیکن اظہر کچھ کام کا کہہ کر وہاں سے ہاسٹل کی طرف نکل گیا اور مجھے بولا کہ وہ مجھے کینٹین میں ملے گا ، اظہر كے جانے كے بَعْد میں نے موبائل میں ٹائم دیکھا ، ابھی بریک ختم ہونے میں تیس منٹ باقی تھے ، اس کا مطلب میں کینٹین میں جا کر تیس منٹ تک سارہ کا دیدار کر سکتا تھا ، میں نے اپنا موبائل نکالا اور سردار کو میسیج کر دیا کہ میں کینٹین میں ہوں ، نظر مارتے رہنا . . . . . . زندگی کبھی اس حساب سے نہیں چلتی جیسے ہم چاھتے ہے ، اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم اپنی زندگی کو کس طرح اور کیسے جینا چاھتے ہے ، زندگی تو بس اپنے توڑ طریقوں سے آگے بڑھتی رہتی ہے ، اور یہ ہمیشہ ہوتا ہے ، اسی طرح میں شاید اس کالج کا اکیلا ارمان نہیں تھا ، جس کے ارمان اتنے زیادہ تھے . . . اس کالج میں اور بھی کئی لوگ تھے جو کچھ سوچ کر یا پھر اپنے مستقبل کا پلان بنا کر وہاں آئے تھے ، میں اور صغیر اس کالج میں اکیلے نہیں تھے ، جنہیں سارہ پسند تھی اور بھی کئی لڑکے تھے جو سارہ کو اپنی بانہوں میں دیکھنا چاھتے تھے ، لیکن وہاں اس کینٹین میں آدھے گھنٹے سے سارہ کا انتظار کرنے والوں میں سے میں اکیلا تھا ، میرے سوا وہاں کوئی ایسا نہیں تھا جو آدھے گھنٹے سے بیٹھ کر سارہ کا انتظار کر رہا ہو ، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا ، سارہ آج کینٹین نہیں آئی اور میں اپنے چہرے کو کبھی ایک ہاتھ میں ٹیکاتا تو کبھی دوسرے ہاتھ میں . . . ایک الگ ہی اُداسی میرے اندر بھرتی جا رہی تھی ، جسے صرف اور صرف دو لوگ ختم کر سکتے تھے . . . ایک تو تھی سارہ اور دوسرا مجھے سگریٹ کیسے پینا چاہئے ، یہ بتانے والا میرا خاص ، بلکل خاص دوست اظہر . . . . .
  5. انہوں نے ایک جھٹکے سے مجھے الگ کیا اور موبائل کو دیکھ کر بولی . . . . " بریک ختم ہونے والا ہے ، تمھارے چکر میں میں بھی بھول گئی ، وہ تو اچھا ہوا کہ میں نے دس منٹ پہلے کا آلارم سیٹ کر رکھا ہے . . . . " میں سحرش میڈم كے پاس گیا اور ان کے پیچھے سے ان کی کمر کو کس کر پکڑ کر خود سے چپکا لیا اور ان کے گردن کو چومنے لگا ، . . . میرا لنڈ اِس وَقت سحرش میڈم كی گانڈ کی دراڑ پر دستک دے رہا تھا اور مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ میٹھے میٹھے درد کی شدت سے میرا لند پھٹ جاۓ گا ، . . " اب برداشت نہیں ہوتا . . . . " ان کے چھاتیوں کو اپنے ہاتھوں سے دباتے ہوئے میں نے کہا . . . " ارمان ، قابو کرو اپنے ارمانوں پر ، تمہیں جانا ہوگا ابھی. . . " " آج نہیں . . . " ان کے گانڈ کی دراڑ پر اپنا لنڈ رگڑتے ہوئے میں نے کہا " آج تو چود کر ہی جاؤں گا . . . " " کہی چودنے كے چکر میں کالج سے نہ نکالے جاؤ . . . " میرا ہاتھ پکڑ کر انہوں نے دور کرنے کی کوشش کی لیکن میں نے اور بھی زور سے ان کی چھاتیو کو دبانے لگا ، . . . چودائی کرنا تو وہ بھی چاہتی تھی لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے وہ مجھے منع کر رہی تھی ، ان کی آواز میں عجیب سی کشمکش تھی ، وہ مجھے جانے كے لیے تو کہہ رہی تھی ، لیکن ان کے الفاظ ان کے جذبات کا ساتھ نہیں دے رہے تھے ، اور اسی دوران انہوں نے اپنی گانڈ پیچھے کی طرف کرکے میرے لنڈ کو دبایا ، میرا تو برا حال ہوگیا، میں نے سحرش میڈم کو سیدھا کیا اور ان کے ہونٹوں کو چُوسنے لگا اور تب سحرش میڈم نے اپنے لبوں کو آذاد کیا اور بولی . . . " ارمان ن ن ن . . . . . جاؤ. . . " سحرش میڈم کا موبائل پھیر سے بج اٹھا ، تو انہوں نے مجھے دور کرتے ہوئے کہا " صدیقی سر آتے ہوں گے . . . " مجھے دور کرکے انہوں نے اپنی اوپر اٹھی ہوئی قمیض نیچے کی اور مجھے آنکھیں دیکھا کر جانے كے لیے کہا . . . " میں نہیں جاؤں گا . . . " ان کے پاس آ کر ان کو دوبارہ سے پکڑتے ہوئے میں نے کہا ، " آج بھلے ہی ہم دونوں پکڑے جائے ، لیکن آج میں آپ کی چوت مار کر ہی رہوں گا . . . " " ارمان ، پاگل مت بنو . . . " خود کو مجھ سے چھوڑوانے کی ناكام کوشش کرتے ہوئے وہ بولی . . . آج میں کمپیوٹر لیب میں کچھ اور بھی سوچ کر آیا تھا ، کمینی نے اسائنمنٹ دے دے کر پریشان کر رکھا تھا ، . . . . " ایک شرط پر جاؤں گا . . . " ان کی قمیض میں نے پھیر سے اوپر اُٹھا کر ان کی کمر کو سہلاتے ہوئے بولا " اگر میرے سارے اسائنمنٹ معاف کر دو . . . ." " اوکے . . اوکے ، ابھی تم جاؤ . . . " " تھینک یو ، میم " میں نے میڈم کو چھوڑا اور خود کا حلیہ سہی کرکے وہاں سے نکل گیا ، سحرش میڈم بھی اس دن سوچ رہی ھوگی کہ کمینہ یہ کل کا آیا ہوا لاونڈا میرے ممے اور گانڈ سہلا کر مجھے ہی چھونا لگا گیا . . . . . " یہ چھری دیکھ رہا ہے . . . " ٹیبل پر رکھی ایک چھری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کاشف بولا " اس سے اپنے ہاتھ کی لکیریں کاٹ ڈالنی تھی ، تب شاید وہ تجھے مل جاتی . . . . " کاشف کی بات سن کر میں بظاھر تو مسکرایا لیکن اندر اندر رویا " کسی شاعر نے کہا ہے . . . . " " نہیں . . . نہیں . . . " " کیا ہوا . . " " تو بہت گھٹیا اور بکواس شاعری عرض کرتا ہے . . . " " شراب پِلائی ہے تو بکواس تو سننا ہی پڑے گی ، لے سن . . . " بظاہر ہنستے ہوئے اور اندر سے روتے ہوئے میں نے کہا " میں اپنے ہاتھوں کی ان لکیروں کو کورید کر ، کاٹ کر مٹا بھی دیتا جس میں وہ نہیں تھی ، اس کا عکس نہیں تھا ، لیکن اک کہاوت عشق کے بازار میں کافی مشہور ہے کی . . . . . " حد سے زیادہ کسی چیز سے پیار کرنے پر . . . وہ چیز نہیں ملتی . . . . یہ سب تو قسمت کا کھیل ہے یارو ! ! ! کیوںکہ ہاتھ کی لکیروں کو مٹانے سے . . . . کبھی تقدیر نہیں بدلتی . . . . " " بول واہ . . . " " اسٹوری آگے بڑھا ، اور بتا پھر کیا ہوا . . . " " پھر . . . . " پھر کیا تھا ، کمینہ صغیر بلکل ٹھیک وقت پر آیا ، میرے خیال سے اس کو لیٹ ہو جانا چاہئے تھا یا پھر اسے کوئی ضروری کام پڑ جانا چاہئے تھا ، جس کی وجہ سے وہ کچھ اور ہفتے تک کالج نہ آ پائے ، لیکن ایسا نہیں ہوا . . . وہ دوسرے دن ہی کالج آیا اور سارہ كے ساتھ آیا . . . . . الیکشن كے لیے دونوں طرف کی پارٹیوں میں تیاریاں چل رہی تھی ، کاشف کا اسپتال میں ھونا ، اس کی پارٹی كے لیے اچھا ثابت ہوا کیوںکہ فائنل ایئر كے سب اسٹوڈنٹ سردار کی اِس حرکت سے اس کے خلاف ہوگئے تھے اور سننے میں یہ بھی آیا تھا کہ کچھ لوگ سردار کو الیکشن كے بَعْد مارنے کا پلان بنا رہے تھے . . . . میں کالج جانا چاہتا تھا اور کالج جا کر پھر سے سارہ سے لڑنا چاہتا تھا ، لیکن الیکشن کی وجہ سے میں ، میرا خاص دوست اظہر ، سردار اور سردار كے کچھ خاص دوست ایک کمرے میں پچھلے دو گھنٹے سے بند تھے اور اپنا اپنا دماغ لگا رہے تھے کہ کیسے ، کب ، کون سی چال چلی جائے . . . تبھی میرے دماغ میں ایک بہترین آئیڈیا نے دستک دی . . . " فائنل ایئر اور سیکنڈ ایئر میں ہمارے کتنے امیدوار ہے . . . " میں بولا . . . " ایک ایک . . . " " دو دو کر دو . . . . " " پاگل ہے کیا . . . " سردار میری طرف دیکھ کر بولا " ایک کو تو ویسے بھی ووٹ نہیں ملنے والے ، دو دو امیدوار کھڑے کرکے ہم اپنا ووٹ کیوں کم کرے ، کیونکہ ووٹ کی گنتی تو کسی ایک کا ہی ھوگا نہ. . . . " " ایک بات بتاؤ . . . . " میں نے اظہر كے منہ سے سگریٹ چھین لی اور سردار کی طرف دیکھ کر کہا " آپ نے کبھی شطرنج کھیلی ہے . . . . " " ابے تو کہنا کیا چاہتا ہے . . . " سردار نے میرے ہاتھ سے سگریٹ لے لی اور بولا " سمجھا مجھے . . . " " سیکنڈ ایئر اور فائنل ایئر میں سے ایسے دو بندو کو پکڑو ، جو کاشف کی ٹیم میں ہو اور انہیں ہماری طرف سے کھڑا کرو . . . " " اس سے کیا ھوگا . . . .
  6. کل رات سے میں اس ویڈیو کو کئی بار دیکھ چکا تھا جس میں میں سارہ کو اور سارہ مجھے آئی لو یو بول رہی تھی . . . . ٹیسٹ کی پریشانی ختم ہونے كے بَعْد الیکشن کی پریشانی آ گئی تھی . . . سردار اپنے کچھ دوستو كے ساتھ دن میں دس چکر ہمارے ہاسٹل كے لگاتا اور ایک ایک روم میں جا کر انہیں کہتا کی وہ مجھے ووٹ دے . . . . اب جب الیکشن میں میں بھی شامل تھا تو مجھے بھی تھوڑی پریشانی ہونے لگی تھی ، چلتی کلاس میں بھی الیکشن اور اس کا فارم میرے آنکھوں كے سامنے آ جاتا ، جس میں میں نے بلیک پین سے اپنی تفصیل لکھی تھی ، آج مجھے بریک ٹائم میں کمپیوٹر لیب جانا پڑے گا یہ میں جان گیا تھا ، کیونکہ آج اسائنمنٹ جمع کرانے کی باری تھی اور میں ہمیشہ کی طرح خالی ہاتھ تھا ، میرے اسائنمنٹ نہ کرنے کی وجہ شاید سحرش میڈم خود بھی تھی ، اگر کسی کو پڑھائی نہ کرنے پر اس کی گداز جسم کی مالک کلاس ٹیچر چوما دے ، اپنے ممے دبانے كے لیے بولے ، . . تو ایسا موقع تو کوئی بھی نہیں چھوڑے گا، پھر میں کیوں چھوڑتا اوپر سے سحرش میڈم كے ہاتھ میں کچھ سبجیکٹ کے نمبر تھے تو اس کے حساب سے میں جتنا وقت ان کے ساتھ لیب میں رہوں گا میرے نمبر اتنے ہی بڑھیں گیں . . . . . . اس دن بھی وہی ہوا ، اسائنمنٹ نہ کرنے کی وجہ سے سحرش میڈم نے مجھے کلاس سے باہر بیھجا اور کلاس ختم ہونے كے بَعْد بریک میں کمپیوٹر لیب آنے كے لیے کہا اور ابھی میں بریک میں ان کے ہی لیب میں بیٹھا تھا . . . . . " تم مجھے کیا سمجھتے ہو . . . . " " قاتل حسینہ . . . " ایسا میں بولنا چاہتا تھا لیکن میں نے نہیں بولا . . . . " تم ہر بار اسائنمنٹ کرکے نہیں آتے ، کیا میں کلاس میں ٹائم پاس کرنے آتی ہوں ، تمھیں معلوم ہے کہ میں دو سے تِین گھنٹے گھر جا کر تم لوگوں كے سبجیکٹ کو پڑھتی ہوں ، تاکہ اگلے دن تم لوگوں کو سہی طرح سے سمجھا سکوں . . . . " " دو سے تِین گھنٹے ، . . . . " میں نے صرف اتنا ہی بولا ، " ہاں تو . . . . " شروع میں وہ غصہ ہوگی لیکن پھر جیسے میری بات کا مطلب سمجھ کر ایک پل میں مسکراتے ہوئے بولی " کیا ؟ دو سے تِین گھنٹے . . . . " "یہ میری چودائی کی ٹائمنگ ہے. . . " ہونٹوں پر مسکان لاتے ہوئے میں نے کہا ، اور ویسے ہی تاثرات ان کے ہونٹوں پر بھی ابھرے . . . . . وہ بولی . . " سچی ، دو سے تِین گھنٹے . . . " " ہاں . . . . " میں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا . . . اور اب وہاں وہ ہونے والا تھا ، جس کے لیے میں وہاں تھا ، جس کا انتظار میں تب سے کر رہا تھا ، جب سے میں لیب میں آیا تھا . . . وہ اپنی کرسی سے اٹھی اور جس کرسی پر میں بیٹھا تھا وہاں جھک گئی اور میری طرف دیکھتے ہوئے میرے لنڈ پر ہاتھ پھیرنے لگی ، سحرش میڈم کا ایسے کرتے ہی میرے اندر ایک طوفان سا برپا ہوگیا ، میرے دِل کی دھڑکنیں بہت زور سے دھڑکنے لگی . . . . اس وقت میرا یہی دل کر رہا تھا ابھی سحرش میڈم کو یہی زمین میں لیٹا کر ان کے منہ ، پھدی اور گانڈ میں اپنا لوڑا گھسا دوں . . . . سحرش میڈم نے میری پینٹ کی زب کھولی اور پھر اندر ہاتھ ڈال کر انڈرویر کے اوپر سے ہی میرے لنڈ کو سہلانے لگی ، میرے اندر جو طوفان اٹھا تھا وہ اور بھی تیزی سے بھرنے لگا ، میں جس کرسی پر بیٹھا تھا اس کو دونوں ہاتھوں سے کس کر پکڑ لیا اور اپنے ہونٹوں کو دانتوں تلے دبانے لگا ، جیسے جیسے سحرش میڈم میرے لنڈ کو سہلاتی جا رہی تھی ویسے ویسے مجھ پر ایک نشہ سا طاری ہو رہا تھا اور پھر وہ وقت آیا جب میں اُچھل پڑا ، سحرش میڈم نے جیسے ہی میرے انڈرویئر كے اندر ہاتھ ڈال کر میرے لنڈ کو چھوا تو میں اس وقت اُچھل پڑا . . . " گندے بچے، " میرے انڈرویئر كے اندر دوبارہ ہاتھ ڈالتے ہوئے سحرش میڈم نے کہا " چُپ چاپ بیٹھے جاؤ. . . " " ہی ہا ہا . . . " سحرش میڈم نے جیسے ہی میرے لنڈ کو پکڑا مجھے گدگدی ہونے لگی اور میں ھسنے لگا اور سحرش میڈم کا ہاتھ اپنی انڈرویئر سے نکال کر دور کر دیا . . . . " خاموشی سے بیٹھے رہو ، ورنہ سو اسائنمنٹ دے دوں گی . . . " " گدگدی ہوتی ہے . . . " " تو انہیں دبا زور سے . . . " اپنے سینے کے ابھاروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا اور ایک بار پھر سے اپنا ہاتھ میری انڈرویئر كے اندر كے دیا ، میں نے پہلے قمیض كے اوپر سے ہی سحرش میڈم كی چھاتیوں کو سہلایا اور اپنے ہاتھ کو ان کی گوری چکنی گردن پر پھیرنے لگا . . . میرے ایسا کرنے سے سحرش میڈم نے اپنے ہاتھ سے میرے لنڈ کو اور بھی تیز رفتاری سے سہلانا شروع کر دیا اور سہلاتے وقت وہ کبھی کبھی میرے لنڈ کو دبا بھی دیتی تھی ، میرے ہاتھ اب ان کے پیٹ کو سہلا رہے تھے اور اسی وقت مجھے پتہ نہیں کیاسوجھا کہ میں نے سحرش میڈم کی قمیض اٹھائی اور ان کے ننگے پیٹ پر اپنے ہاتھ پھیرنے لگا ، مجھے ایسا کرتے دیکھ کر وہ روکی اور میری طرف، میری آنکھوں میں دیکھنے لگی . . . . اور پھیر انہوں نے میرا لنڈ پینٹ سے باہر نکالا اور اپنے مٹھی میں بھر کر ہلانے لگی ، کبھی ایک ہاتھ سے تو کبھی دوسرے ہاتھ سے . . . . میں نے بھی سحرش میڈم کی قمیض کو اٹھاتے اٹھاتے براہ تک پہنچا دیا اور ان کا گورا چکنا پیٹ اور کمر مسلنے لگا ، اور ایک ہلکی سی تھپڑ ان کے پیٹ پر لگائی اور جب سحرش میڈم نے کچھ نہیں بولا تو ان کی کمر سہلاتے ہوئے ایک كے بَعْد ایک تھپڑ مارنے لگا . . . . وہ بھی پورے جوش سے اپنے ہاتھ بدل بدل کر میرے لنڈ کو سہلاتے رہی . . . . اس وقت میرا دل کر رہا تھا کہ سحرش میڈم مجھ سے لنڈ اور چوت کے بارے میں باتیں کرے ، لیکن جب انہوں نے اس کی شروعات نہیں کی تو میں نے ہی بولا . . . " سائز کیسا ہے . . . " اب میرے ہاتھ ان کی کمر سے ہوتے ہوئے سامنے ان کے پیٹ پر گھومنے لگے تھے ، جو دھیرے دھیرے اوپر آ رہے تھے ، " بہترین ہے . . " میرے لنڈ کو تیز رفتاری سے آگے پیچھے کرتے ہوئے وہ بولی . . . میں نے سحرش میڈم كے مموں پر اپنا ہاتھ رکھا ، قمیض کی وجہ سے آدھا براہ ہی دِکھ رہا تھا ، آدھا قمیض میں چھپا ہوا تھا ، لیکن جتنا بھی دِکھ رہا تھا وہی میرے لیے قیامت تھا ، میں نے سحرش میڈم کا ہاتھ پکڑا اور انہیں اٹھنے كے لیے کہا ، کیوںکہ اب میرا دل ان کے گلابی ہونٹوں کو چوسنے کا کر رہا تھا ، میرے جذبات کو سمجھتے ہوے وہ فوراً کھڑی ہوئی اور اس دن کی طرح میرے اوپر چڑھ گئی ، تیز رفتاری سے سانس لینے کی وجہ سے ان کی چھاتیاں مجھ سے ٹکرا رہی تھی ، میں نے پہلے سحرش میڈم كے ہونٹوں پر پیار سے ہلکا سا کس کئی بار کیا اور پھر دھیرے دھیرے انہیں پورا جکڑ لیا . . . . وہ بھی مجھے کس کر پکڑی ہوئی اچھے طریقے سے جوابی کس کر رہی تھی . . . . تبھی پتہ نہیں سحرش میڈم کا موبائل کیسے بج اٹھا ،
  7. ہم سبھی اپنے خیالات خود سوچتے ہے ، اپنے ارمان خود بناتے ہے ، تو پھر ان کے ادھورے رہ جانے پر غلطی بھی ہماری ہی ہوتی ہے ، ابھی کا تو پتہ نہیں لیکن اس وقت میرا ایسا ماننا تھا کہ لڑکیاں موسم تبدیل ہونے سے پہلے معشوق بَدَل لیتی ہے اور میں اپنی اسی سوچ کو سچ مان کر سارہ کے ساتھ اپنا چکر چلانا چاہتا تھا . . . . میں یہ سوچنے لگا تھا کہ سارہ بھی سب لڑکیوں کی طرح بہت جلد ہی صغیر کو چھوڑ کر میری معشوق بن جاۓ گی اور پھر ہم دونوں کسی سینما میں بیٹھ کر ایک ہی پیپسی میں اسٹرو ڈال کر پیپسی پیئیں گے . . . . . . ٹیسٹ جیسے جانے تھے وہ ویسے جا رہے تھے مطلب کہ بلکل خراب . . . میری زندگی کا یہ سب سے خراب ٹیسٹ چل رہے تھے ، میں نے الیکشن کا فارم خوشی خوشی بھر دیا تھا اور کچھ ہی دنوں بَعْد میں سردار کی طرف سے صدر کے امیدوار کا الیکشن لڑنے والا تھا اور آج آخری ٹیسٹ ہے ، میں آج خوش بھی ہوں اور تھوڑا بے چین بھی ہوں ، خوش اس لئے ہوں کیوںکہ آج كے بَعْد ٹیسٹ ختم! اور میں کل سے ، کل سے نہیں بلکہ آج دوپہر كے 12 بجے سے آذاد ہو جاؤں گا ، بے چین اس لئے تھا کیوںکہ صغیر کل سے کالج آنے والا تھا اور میرے پاس صرف آج کا ہی دن تھا سارہ سے وہ سب کچھ کہنے کا جو میں اس کے لیے محسوس کرتا تھا . . . میری زُبان سے " آئی " كے سوا آگے کچھ کیوں نہیں نکلتا میں نہیں جانتا لیکن میں نے سارہ کو آئی لو یو کہنے کا ایک الگ ہی طریقہ نکال لیا تھا ، جو کسی بھی ناول سے ماخوذ نہیں تھا . . . . " ہیلو ، سارہ . . . " آج میں نے سارہ کو پھر سے کالج كے باہر دھارا ، وہ شاید کل والے حادثے سے مجھ سے تھوڑا ناراض ھوگی ، کیوںکہ کل کینٹین میں جب میں اسے پریشان کر رہا تھا تو اس نے اپنے سامنے رکھی پانی کی بوتل پوری کی پوری میرے خوبصورت چہرے پر ڈال دی تھی اور پھر میں غصہ ہو کر وہاں سے چلا گیا تھا . . . . . " وہ پھر آ گیا . . . " اس نے اپنے کسی قریبی دوست سے کہا . . . . " کیسی ہو . . . " " بھار میں جاؤ . . . " " وہ تو میں جاؤں گا ہی ، لیکن ابھی میرا پلان اس بِلڈنگ کی طرف جانے کا ہے ، جہاں کل میں پانی پانی ہو گیا تھا . . . . " میرا اشارہ کینٹین کی طرف تھا . . . سارہ كی جو دوست وہاں کھڑی تھی انہیں شاید بس پکڑنی تھی ، وہ وہاں سے سارہ کو بائے بائے بول کر چلی گئی اور پچھلے کچھ دنوں کی طرح میں اور سارہ آج پھر اکیلے تھے . . . . " چل چڑیل ، کینٹین سے آتے ہے . . . " " مجھے اس نام سے مت پکارو . . . . . . . . . " اس نے مجھے غصے سے دھکہ دیا ، اور کینٹین کی طرف چل دی . . . " سارہ کچھ کہنا تھا تم سے . . . . " وہ کچھ نہیں بولی اور سیدھے کینٹین کی طرف چل پڑی ، اسی وقت میں نے اپنی جیب سے کاغذ نکالا اور جو لکھا تھا وہ پڑھنے لگا . . . . " میں ایک شرط پر یہاں سے ابھی چلا جاؤں گا . . . " سامنے والی کرسی پر بیٹھ کر میں نے کہا . . . " اور وہ شرط کیا ہے . . . " " میں جو تم سے بولوں گا ، تم وہی بلکل اسی طرح مجھے بولنا . . . " " اور اگر میں نے ایسا کیا تو . . . " " تو کینٹین کی کھڑکی سے کود کر میں چلا جاؤں گا ، شروع کریں . . . . " کاغذ میں جو میں لکھ كے لایا تھا اسے یاد کرتے ہوئے کچھ دیر میں بولا " جے ٹی ایمی . . . " " ہیں. . . یہ کیا ہے . . . " " فرینچ میں اس کا مطلب ، مجھے معاف کر دو ہوتا ہے . . . . " " لیکن میں تمہیں سوری کیوں بولوں ، غلطی تو تمہاری ہے تم مجھے سوری بولو ، اس دن فارم لیتے وقت بھی تم نے مجھے سوری نہیں بولا اور کچھ دنوں سے ہر دن تم مجھے پریشان کر رہے ہو ، اس کا بھی سوری نہیں بولا . . . اور اس دن . . . " اپنا سَر پیٹ کر میں نے سارہ کو درمیان میں روکا " اگر تم چاہتی ہوکہ میں یہاں سے جاؤں تو وہ سب کہو ، جو میں تم سے کہوں . . . ورنہ میں پورے چار سال تک تمہاری جان نہیں بخشوں گا. . . . " " اچھا ٹھیک ہے ، ایک بار پھر سے بولو . . . " مجھ سے چھٹکارا پانے كے لیے اس نے میری بات مان لی . . . " جے ٹی ایمی . . . " " جے تمی . . " " ٹی ایمی . . . " " تمی . . . " اس نے پھر غلط کہا ، تو میں نے کاغذ کا ٹکڑا اس کے ہاتھ میں تھامایا اور اسی سے دیکھ کر بولنے کو کہا . . . " جے ٹی ایمی . . " اب کی بار وہ سہی بولی . . . " تھینک یو چڑیل " میں نے سارہ كے ہاتھ سے وہ کاغذ لیا اور جیسا کہا تھا میں کینٹین کی کھڑکی سے کود کر وہاں سے باہر گیا ، ابھی ابھی میں سارہ کو فرینچ میں " آئی لو یو " بول کر آیا تھا اور اس نے بھی مجھے فرینچ میں آئی لو یو بولا تھا اور اس نے مجھے آئی لو یو بولا ہے اس کی ویڈیو کینٹین میں ہی بیٹھے میرے ہاسٹل كے ایک دوست نے بنائی تھی . . . . میں جانتا تھا کہ اس ویڈیو سے میں سارہ کا کچھ نہیں کر سکتا تھا لیکن پھر بھی جب میں اس ویڈیو میں سارہ کو آئی لو یو بولتے ہوئے دیکھتا تو دِل کو سکون تو ملتا ہی . . . . . ادھر میں سارہ کو آئی لو یو بول کر خوش ہوا جا رہا تھا وہی سارہ مجھ سے سوری سن کر خوش ہوئے جا رہی تھی اور میری خوشی کی وجہ یہ بھی تھی کہ اظہر اور میرے درمیان ایک شرط لگی تھی جو میں ابھی ابھی جیت گیا تھا ، شرط یہ تھی کی میں سارہ کو اگر آئی لو یو بول دیا تو پورے ہفتے سگریٹ کے پیسے وہ دے گا ، اور اگر میں نہ بول پایا تو میں پورے ہفتے سگریٹ کے پیسے دوں گا اور اظہر كے کہنے پر ہی میں نے ثبوت كے طور پر اپنے ایک دوست کو ویڈیو بنانے كے لیے کہا تھا . . . . " جا اظہر دس پیکٹ سگریٹ لے کر آ . . . " روم میں گھوستے ہی میں نے اظہر سے کہا . . . " تو نے سارہ کو آئی لو بول دیا " " ہاں بولا اور اس نے بھی مجھے آئی لو یو بولا . . . " " ویڈیو دکھا ، تب میں مانوں گا. . . " " ادھر آ یار . . . " باہر کھڑے اس لڑکے کو میں نے آواز دی اور موبائل اظہر کو دیا اور بولا فرینچ ، میں آئی لو یو کو کیا کہتے ہے دیکھ اور اِس ویڈیو میں دیکھ . . . . یہ دھوکہ ہے . . . میں نے تجھ سے کہا تھا کہ سارہ کو بولنا ہے آئی لو یو . . . . مطلب آئی لو یو . . . . " " پر تو نے یہ نہیں کہا تھا کہ کس زبان میں بولنا ہے . . . آئی لو یو مطلب آئی لو یو . . . . "
  8. سگریٹ كے کش لیتے ہوئے میں کبھی سارہ کو پانے كے لیے بے چین ہو جاتا تو کبھی اس کے بارے میں سوچ کر دِل کھل اٹھتا . . . . موبائل میں ٹائم دیکھا رات كے دو بج رہے تھے ، نیند تو آنے سے رہی اس لئے میں نے باہر ٹہلنے کا فیصلہ کیا اور روم سے باہر آ گیا ، اظہر سکون سو رہا تھا اس لئے اسے اُٹھا کر گپ شپ کرنے کا دل نہیں کیا . . . سنا تھا کہ زندگی میں کبھی کبھی کوئی چیز ہمیں ایسی مل جاتی ہے جو زندگی سے بھی زیادہ پیاری لگنے لگی ، زندگی سے بھی زیادہ انمول لگے اور آج مجھے وہ چیز مل گئی تھی ، آج وہ زندگی سے بھی پیاری اور انمول چیز ایک لڑکی كے روپ میں مجھے ملی گئی تھی ، جو سیدھ بائیں سائڈ میں اثر کرتی تھی . . . . . میرا دماغ اب بھی مجھے اِس بات کی ہدایت دے رہا تھا کہ میں اس کے بارے میں نہ سوچوں ، میرا دماغ یہ بھی کہہ رہا تھا کہ سارہ کبھی بھی مجھ سے دِل نہیں لگائے گی ، اُس رات میں نے پیپر میں آنے والے کسی بہت ہی اہم سوال کی طرح زندگی كے اُس بہت ہی اہم سچ کو بھی درگزر کر دیا ، اُس بہت ہی اہم سچ کو میں نے کئی بہانے بناتے ہوئے ٹال دیا اِس آس میں کہ کسی نہ کسی بہانے سے سارہ اِس بہانے کو سچ کر دے گی . . . . . اُس رات کافی دیر تک ادھر اُدھر ٹہلنے كے بات میں وآپس اپنے بستر پر جا گرا اور صبح كے پانچ بجے جا کر میری آنکھ لگی جو ٹیسٹ شروع ہونے سے آدھے گھنٹے پہلے کھلی ، وہ بھی اظہر كے اٹھانے كع وجہ سے . . . " کیا یار ، آج ٹیسٹ دینے نہیں جانا کیا . . . " اظہر نے مجھ سے پوچھا ، وہ بلکل تیار تھا اور اب شاید ایک بار دوبارہ سے یاد دہانی کے لئے پڑھنے کے موڈ میں تھا . . . . . " ٹائم . . . . " آنکھوں کو ملتے ہوئے میں نے بولا " ٹائم کیا ہوا ہے " " زیادہ نہیں صبح كے دس بج رہے ہے ، آدھے گھنٹے میں ٹیسٹ شروع ہونے والا ہے . . . . اگر نیند پوری نہ ہوئی ہو تو پانچ دس منٹ کی ایک چھوٹی سی نیند اور لے لے . . . " " پانچ منٹ بَعْد اٹھا دینا . . . " یہ بول کر میں نے پھر سے چادر اوڑھ لی . . . . اُس دن كے ٹیسٹ میں مجھے صرف اتنا معلوم تھا کا ٹیسٹ کس سبجیکٹ کا ہے ، تاریخ اور دن بھی میں نے آگے والے سے پُوچھ کر لکھا تھا ، مجھ جیسے قابل لڑکے سے پیپر کے ایک سوال کا جواب نہیں بن رہا تھا ، دِل کیا کہ خالی کاپی امتحانی ٹیچر كے منہ پر دے ماروں ، لیکن پھر رزلٹ میں ایک بڑے سے زیرو کا خیال آیا تو ہر سوال كے جواب میں کچھ کچھ لکھ کر باہر نکلا . . . . جس حساب سے میں نے آج کا ٹیسٹ دیا تھا اس کے اثرات سے تو مجھے بہت دُکھی ھونا چاہئے تھا اور اظہر کو گالیاں دے دے کر اپنی بھراس نکالنی چاہئے تھی لیکن نہ تو میں دُکھی تھا اور نہ ہی میرا گالیاں دینے کا دل کر رہا تھا ، میں خوشی خوشی ٹیسٹ ٹیچر کو کاپی پیش کرکے باہر آیا ، . . . پہلے میں لائبریری میں داخل ہوا لیکن آج وہاں سارہ نہیں تھی ، اس کے بَعْد میں نے اوپر نیچے تمام کوری ڈور میں بھی ڈھونڈہ لیکن سارہ پھر بھی نہ دکھی . . . . تب جا کر مجھے خیال آیا کہ ٹیسٹ تو اس کا بھی ہے ، ابھی ایگزامینیشن روم میں ہی ھوگی تو کیوں نہ جہاں اس کی گاڑی کھڑی ہوتی ہے وہاں سے تھوڑی دور کھڑے ہو کر انتظار کیا جائے . . . . . تقریباً آدھے گھنٹے میں کالج پارکنگ كے پاس کھڑا رہا لیکن وہاں پارکنگ میں نہ تو اس کی گاڑی تھی اور نہ ہی سارہ . . . لیکن میں پھر بھی وہاں کھڑا رہا کیوںکہ مجھے یقین تھا کہ کوئی بھی اتنی جلدی ایگزام ہال سے نہیں نکلے گا . . . . تقریباً آدھے گھنٹے تک میں مزید وہاں کھڑے ہوکر مکھیاں مارتا رہا تب جا کر سارہ دکھائی دی ، وہ اپنی کچھ دوستوں كے ساتھ ہنستے ہوئے کالج كے گیٹ سے باہر آ رہی تھی اور گھوم کر اپنے دوستوں كے ساتھ کینٹین کی طرف چل دی . . . . . . " ایک نمبر کی بھوکی ہے یہ تو ، میں اتنی دیر سے اس کے انتظار میں یہاں کھڑا ہو اور وہ کینٹین کی طرف چل دی . . . . " میں بھی کینٹین کی طرف چل پڑا لیکن کینٹین میں گھسنے سے پہلے میں نے سردار کو کال کی اور بولا کہ میں کینٹین میں جا رہا ہوں، نظر مارتے رہنا . . . . . . میں کینٹین میں جہاں سارہ بیٹھی تھی اسی كے پاس والی ٹیبل پر بیٹھا . . . کچھ دیر تک تو اس کی دوست وہی رہی لیکن پھر سب اپنے اپنے گھر کو نکل گئی . . . سارہ کو اس کے کئی دوستوں نے کہا کی وہ ان کے ساتھ۔چلے وہ انہیں گھر چھوڑ دیں گی . . . لیکن سارہ نے ہر کسی کو ٹال دیا ، وہ بولی کے اس کے بابا نے ڈرائیور اور گاڑی بھجوا دی ہے . . . ڈرائیور جلد ہی یہاں پہنچ جائیگا . . . . . " دو پیپسی لانا " میں نے آرڈر دیا اور دو پیپسی کی بوتل لے کر جہاں سارہ بیٹھی تھی وہاں جا کر میں بیٹھ گیا . . . . " تم . . . . " " کہیں، کیا خدمت کر سکتا ہوں . . . " " یہ سیٹ بُک ہے ، تم جاؤ یہاں سے . . . " " اور نہیں گیا تو . . . " " تو یاد ہے نہ، وہ خنجر اور تمہارا سینہ . . . " " چل چڑیل ، تیرے میں اتنی ہمت کہا . . . . " " اِس کینٹین کا مالک کون ہے . . . " سارہ نے تیز آواز میں کہا ، جسے سن کر جلد ہی وہاں کام کرنے والا ایک آدمی پہنچ گیا . . . . جسے دیکھ کر سارہ بولی " اسے یہاں سے لے جاؤ ، یہ مجھے پریشان کر رہا ہے . . . " کینٹین والا کچھ بولتا اس سے پہلے ہی میں نے ہاتھ دیکھا کر وہاں سے جانے کی دھمکی دی ، کبھی سارہ اسے آنکھ دکھاتی تو کبھی میں . . . . جس سے بے چارہ تنگ آکر بولا " آپ دونوں اپنا مسلہ خود حل کر لو ، مجھے بہت کام ہے . . . " کینٹین میں کام کرنے والے اُس شخص كے جانے كے بَعْد سارہ کچھ دیر تک چُپ کچھ کھاتی رہی اور پھر جب اس کا كھانا پینا ختم ہوا تو وہ اپنا ہاتھ ٹیبل پر رکھ کر میری طرف جھکی اور دھیرے سے بولی . . . . " یہاں صغیر كے کئی دوست ہے ، صغیر آ کر لڑائی کرے گا . . . " " تم اس کی فکر مت کرو . . . " میں نے بھی دھیرے سے بولا . . . " تو جاؤ یہاں سے . . . " اب کی بار وہ چلا کر بولی . . . جس کی وجہ سے سب کی نظریں ہم دونوں پر آ ٹکی . . . " یار تم شکارپوری والی حرکتیں مت کیا کرو ، ورنہ تمھیں اپنے آس پاس بھی نہیں رہنے دوں گا . . . " " میں تمھارے اس پاس گھومتی ہوں کیا ، تم ہی میرے پیچھے پڑے ہو . . . . " " آئی . . . . . " میں ایک بار پھر اس ایک لفظ سے آگے نہیں بڑھ پایا ، اور اس کی طرف پیپسی کی ایک بوتل سرکاتے ہوئے بولا " لو پیو اور میرے بھی پیسے دے دینا . . . . " " کیا . . . . " " پیسے مطلب ان دونوں پیپسی کا بل بھی دے دینا . . . یار تم تو پکا شکارپور سے آئی ہو " " اب مجھے غصہ آ رہا ہے ، ارمان ، دوبارہ مجھے نہیں کہنا شکارپور والی . . . تمہیں شاید معلوم نہیں کہ میں کون ہوں . . . . " " اور کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم اِس وقت کالج کی یونین كے ہونے والے صدر سے بات کر رہی ہو . . . " تبھی سارہ کا موبائل بج اٹھا اس نے کال اٹھائی اور پھر غصے سے موبائل اوف کر دیا . . . . " کیا ہوا . . . " " ڈرائیور کا کال تھا ، وہ بول رہا ہے کہ گاڑی راستے میں خراب ہو گئی ہے . . . " " ویٹر ، دو پیپسی اور لانا " خوش ہوتے ہوئے میں نے سارہ سے بولا " ان دونوں کا بِل بھی بھر دینا . . . " اس نے مجھے پھر غصے سے دیکھا اور اپنا موبائل آن کرکے کوئی گیم کھیلنے لگی ، کچھ دیر تک تو میں بھی خاموش بیٹھا رہا لیکن جب اُس چڑیل کی بہت دیر تک آواز نہیں سنی تو میں اس کی سامنے والی کرسی سے اُٹھ کر اس کی پاس والی کرسی پر بیٹھ گیا اور میں نے جیسے ہی اس کے موبائل اسکرین پر نظر ڈالی " یو لوز " لکھا آیا . . . . " تم ہنس کیوں رہے ہو ، اور مجھ سے دور رہو . . . " وہ اپنی کرسی دور کھسکاتے ہوئے بولی . . . " میں کہا ہنس رہا ہو ، یہ تو صدمے کی ہنسی ہے . . . " میں نے بھی اپنی کرسی اس کے قریب کھسکائی . . . . " ایک تو گاڑی راستے میں خراب ہو گئی ہے ، اوپر سے یہ کمبخت دماغ خراب کر رہا ہے . . . " وہ بربرائی. . . " کہو تو میں گھر چھوڑ دوں . . . " " اور وہ کیسے . . . " " جادو سے . . . . " " کوئی ضرورت نہیں ہے ، کیوںکہ میرے بابا نے دوسری گاڑی بھیج دی ہے . . . جو کچھ دیر میں ہی یہاں پہنچ جائے گی . . .
  9. اوپر سے لڑائی جھگڑا والے مسائل میرے لیے اضافی کام ہوتے ہے . . . " " لیکن . . . . " " لیکن ویکن چھوڑ اور یہ فارم بھر . . . " بستر پر ایک فارم پھینکتے ہوئے سردار نے کہا " کل صبح میرے ہاسٹل میں پہنچا دینا . . . . " " ٹھیک ہے بھائی " سردار كے جانے كے بَعْد میں سگریٹ لینے كے لیے دکان کی طرف بڑھا ، کل پھر ٹیسٹ تھا اور تیاری زیرو تھی لیکن پھر بھی اِس وقت دماغ میں پڑھائی کرنے کا خیال دور دور تک نہیں تھا ، پیدل چلتے ہوئے پورے راستے میرے دماغ میں کئی خیالات ابھر رہے تھے ، صرف پڑھائی اور کل كے ٹیسٹ کو چھوڑ کر . . . . سارہ ، سمیرہ ، سحرش میڈم ، سردار ، اظہر اور کاشف ان سب نے میرے دماغ میں قبضہ کر لیا تھا . . . سگریٹ كے کش لگاتا ہوا میں کبھی سارہ سے آج ہوئی اپنی جھاڑپ كے بارے میں سوچ كے مسکراتا تو کبھی سحرش میڈم کی ہلکی گلابی رنگ كے شلوار میں قید ان کی گداز رانوں کے بارے میں سوچتا ، " یہ سمیرہ اس دن كے بَعْد کالج میں نہیں دکھی . . . " ہاسٹل کی طرف آتے ہوئے میں نے خود سے کہا اور یہ سچ بھی تھا کیوںکہ اس دن كی لڑائی كے بَعْد سمیرہ کو میں نے کالج میں نہیں دیکھا تھا ، سمیرہ جیسی لڑکی جو ایک دن میں کالج كے دس چکر مارتی ہو وہ کالج میں ایک ہفتے سے نہ دیکھے تو تھوڑا جھٹکا تو لگتا ہی ہے ، وہ مجھے ایک ہفتے سے نہیں دکھی تھی اس کا ایک ہی مطلب ہو سکتا ہے کہ وہ ایک ہفتے سے کالج ہی نہیں آئی . . . . لیکن کیوں ، میں نے تو عورت ذات کا احترام کرتے ہوئے اسے سہی سلامت بھیجا تھا ، " ماہ واری چل رہی ہوگی . . . " میں نے اندازہ لگایا اور سگریٹ كے کش مارتے ہوئے پھر ہاسٹل کی طرف چل پڑا ، لیکن دماغ میں اب بھی سمیرہ نے قبضہ کر رکھا تھا ، کیوںکہ اس دن كی لڑائی كے بَعْد مجھے یقین تھا کہ اس کی اور میری ملاقات ہوگی اور کیسی ہوگی ، اس کا کیا برتاؤ کیسا ہوگا . . . وہ مجھے دیکھ کر مسکرائے گی یا پھر غصہ کرے گی یا پھر کچھ اور ہی کرے گی . . . . " منو کو شاید کچھ پتہ ہو . . . " انہی سوچوں میں گم میں ہاسٹل میں داخل ہوا اور سیدھا منو كے روم کی طرف چل پڑا . . . " اور منو پیپر کیسا رہا . . . " منو كے روم میں داخل ہوتے ہی میں نے اس سے پوچھا . . . " ایک سوال رہ گیا . . . " " لا یار پانی پلا ، بہت گرمی تھی باہر . . . " " میں ابھی پڑھائی کروں گا تو جا یہاں سے ، ایک ہفتے بَعْد آنا جب ٹیسٹ ختم ہو جائینگے . . . " ایک سانس میں ہی منو نے کہا . . . " ابے کتے ، میں نے تجھے ڈسٹرب کرنے نہیں آیا ہو . . . . بس کچھ جاننا ہے " " کیا جاننا ہے . . . " " سمیرہ کو جانتا ھوگا . . . " سیدھے پوائنٹ پر آتے ہوئے میں نے کہا " وہ کچھ دنوں سے دکھی نہیں کالج میں ؟ " " سمیرہ . . . " اپنے ماتھے پر شکن ڈالتے ہوئے منو نے اپنے دماغ میں گوگل کی طرح سمیرہ کا نام سرچ کرنے لگا اور جلد ہی وہ بولا " وہ کالج میں دکھے گی کیسے ، وہ تو ایک ہفتے سے کالج ہی نہیں آئی . . . " " تجھے کیسے معلوم ، " " کل رات ہی فیس بک پر اسے بات ہوئی تھی میری . . . " " واہ . . . وجہ معلوم ہے . . . " " اس نے کچھ نہیں بتایا . . . . " " چل ٹھیک ہے تو پڑھائی کر ، بائے . . " منو كے روم سے باہر نکلتے ہوئے نہ جانے کیا دل میں آیا کہ میں پیچھے موڑا اور منو سے بولا " سارہ کی کوئی نئی خبر . . . . " پہلے تو منو ہچکچایا اور مجھے اپنی آنکھوں سے یہ بتانے لگا کہ اس کے معشوق نے مجھے سب کے سامنے تھپڑ مارے تھے اس کا نام مت لے اور پھر میں نے بھی اسے آنکھوں كے اشارے سے بتایا کہ میں نے بھی تو صغیر کو سب کے سامنے تھپڑ مارا تھا ، حساب برابر . . . . . " سارہ . . . " دماغ میں سارہ کا نام سرچ کرتے ہوئے منو بولا " اس کے معشوق صغیر كے باپ کو کسی نے چاقو مارا ہے اور اپنے باپ كے علاج كے سلسلے میں وہ کل شہر سے باہر گیا ہے تقریباً ایک ہفتے كے لیے . . . کل سینیر كے ہاسٹل گیا تھا تو وہی کچھ لوگوں نے بتایا " " شکریہ منو " اُچھل کر میں نے اسے گلے لگا لیا اور پھر اس کے بستر پر اسے پٹخ کر میں اپنے خیالوں میں گم ہوگیا . . . . . اب کچھ دن تک میں اور سارہ ایک ساتھ ایک ہی کالج میں ، اور آج ایک بار پھر سے مجھے انتظار تھا کل کی صبح کا . . . کل كا ٹیسٹ جلدی سے ختم ہونے کا . . . . پروگرام سادہ سا تھا کل جب ٹیسٹ ختم ھوگا تو میں پورا کالج چھان ماروں گا اور جہاں بھی سارہ ملے گی وہی اس سے لڑائی کر کے اپنا موڈ فریش کروں گا ، وہ چلائے گی چیخے گی مجھے جان سے مارنے کی دھمکی دے گی . . . اور میں اسے چڑیل چڑیل کہتا رہوں گا . . . . دل کے ارمان پھر مچل اٹھے ، دِل پھر کھل اٹھا . . . . قسمت پھر جاگ اٹھی اور میں اپنے روم میں داخل ہوتے ہوئے بولا " ایک سوال چھوڑ دوں گا کل ایگزام میں اور جلدی سے جلدی سارہ کو ڈھونڈنے نکل جاؤں گا. . . " اس دن نہ تو میں نے ڈھنگ سے اگلے دن ہونے والے ایگزام کی تیاری کی اور نہ ہی ڈھنگ سے سویا . . . جب بھی آنکھ لگتی ، پلکیں بھاری ہونے لگتی تبھی سارہ کی بھوری آنکھوں کو میں محسوس کرتا ، اس کی صورت نیند میں بھی کسی سائے کی طرح مجھ سے لپٹی رہتی ، مجھے ایسا لگتا جیسے کے وہ میرے پاس وہی میرے ہی بستر پر میرے اوپر لیٹی ہو اور بائیں سائیڈ میں دھڑک رہے دِل کو مسکراتے ہوئے سہلا رہی ہو اور پھر جب میں اسے اپنی بانہوں میں لینے کے لئے اپنے ہاتھ آگے کرتا تو وہ غائب ہو جاتی ، اور میری آنکھ کھل جاتی . . . . سارہ کو وہاں نہ پا کر مجھے تھوڑا دکھ بھی محسوس ہوتا اور خود پر ہنسی بھی آتی . . . . کسی كے خیالوں میں کھوئے رہنا ، سوتے جاگتے بس اسی كے بارے میں سوچنا یہ سب میں نے صرف افسانوں میں ہی پڑھا تھا یا فلموں میں ہوتے ہوئے دیکھا تھا . . . لیکن اس رات ان سب لمحوں کو میں نے خود محسوس کیا ، میں جب بھی اپنی آنکھیں بند کرتا اور ہلکی سے نیند آنے لگتی تبھی نہ جانے کہاں سے سارہ آ جاتی اور ہم دونوں ایک دوسرے سے لڑنا جھگڑنا شروع کر دیتے . . . . میں نے تو اسے چھیڑنے كے لیے اس کا نام تک سوچا لیا تھا " چڑیل . . . " حقیقت کی طرح میں خوابوں میں بھی اسے چڑیل کہتا اور حقیقت کی طرح خوابوں میں بھی وہ مجھے جان سے مارنے کی دھمکی دیتی . . . اسے پانے كے لیے دل تڑپ رہا تھا ، اسے چومنےكے لیے میں بیتاب ہوا جا رہا تھا . . . . اس وقت میرے لیے ساری دُنیا ایک طرف اور سارہ ایک طرف تھی ، " کل کا پیپر پکا خراب جانے والا ہے . . . " آدھی رات کو میں لگاتار نیند كے ٹوٹنے سے پریشان ہو کر بیٹھ گیا اور آنکھیں ملتے ہوئے اندھیرے میں ہی سگریٹ جلائی . . . . میری آنکھوں میں اس کی صورت کا کچھ ایسا رنگ چڑا تھا کہ مجھے ڈر لگنے لگا تھا خود سے کہ کہی میں وہ رنگ دیکھتے دیکھتے اندھا نہ ہو جاؤں ، میں اس وقت عجیب حرکتیں کر رہا تھا . . .
  10. اس نے ایک نظر مجھے دیکھا اور پھر اخبار پڑھنے میں مصروف ہوگئی . . . . . " اس نے تو لڑائی شروع ہی نہیں کی ، کچھ اور سوچنا پڑے گا . . . " انگلش اخبار کے صفحات کی آڑ سے میں نے سارہ کو دیکھا ، اس نے ٹی شرٹ اور جینس پہن رکھی تھی اور تبھی میرے دماغ میں اس سے لڑنے کا ایک اور آئیڈیا آیا میں نے اِس بار آواز تھوڑی اونچی کر کے بولا " آج کل لڑکیوں کو دیکھو ، جینس پہن کر گھومتی رہتی ہے . . . مجھے نفرت ہے ایسی لڑکیوں سے ، ایسی لڑکیاں اگر میرے پاس ، میری ہی ٹیبل پر بیٹھ جائے تو دن میں تین بار غسل کرنا پڑے گا . . . . " اب کی بار وہ چونکی ، اس کی بھوری سی آنکھوں میں غصہ اُتَر آیا اور وہ مجھ سے اخبار چھینتے ہوے بولی . . . " تم مجھے بول رہے ہو نہ؟ " " تم بھی یہاں بیٹھی ہو ، کمال ہے میں نے تو تمہیں دیکھا نہیں . . " انگلش لفظ پر زیادہ زور دیتے ہوئے میں نے کہا " وہ کیا ہے کہ میں انگلش اخبار پڑھنے میں اتنا مصروف تھا کہ تمہیں دیکھا نہیں ، کیسی ہو تم . . . " " ٹھیک ہوں. . . " وہ چلا اٹھی اور تبھی لائبریری میں رہنے والوں نے سارہ کو چُپ رہنے کا اشارہ کیا . . . " اتنا چلانے کی کیا ضرورت ہے ، شکارپور سے آئی ہو کیا " " مجھے دوبارہ مت دیکھنا ورنہ . . . " " ورنہ . . . " آرام سے وہاں بیٹھ کر میں نے کہا . . . " ورنہ . . . . ورنہ . . . " ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے وہ سوچنے لگی کہ وہ مجھے کیا دھمکی دے " ورنہ میں تمہارا قتل کر دوں گی . . . " " ہیں " " اب جاؤ یہاں سے . . . " وہ ایک بار پھر چِلائی اور لائبریری والوں نے سارہ کو وہاں سے باہر جانے كے لیے کہا . . . وہ تنگ آ کر وہاں سے اٹھی اور باہر چلی گئی . . . میں وہاں بیٹھا بیٹھا کیا کرتا میں بھی اسی كے پیچھی چل پڑا . . . " اپنی معشوقہ کو بولو کہ یہ لائبریری ہے یہاں خاموشی سے رہا جاتا ہے . . . " جب میں لائبریری سے نکل رہا تھا تو بُک اشو کرنے والے نے مجھ سے کہا جسے سن کر میں خوش ہوتا ہوا وہاں سے آگے بڑھا . . . . " کیا سچ میں تم میرا قتل کر دو گی . . . " " ہاں ، اگر دوبارہ مجھے دکھے تو ایک خنجر سینے كے آڑ پار کر دوں گی . . . . " " چل چڑیل ، تیرے میں اتنی ہمت کہا . . . " " کیا . . . . . . . چڑیل " " تو اس میں برا کیا ہے . . . " ہماری لڑائی اچھی خاصی چل رہی تھی کہ اظہر اپنا لٹکا ہوا منہ کے کر پیچھے سے ٹپک پڑا اور بول " چل یار ارمان سگریٹ پیتے ہے ، موڈ بہت خراب ہے . . . . " " او چڑیل ، سگریٹ پینا ہے . . . " " بھاڑ میں جاؤ . . . . " اس کے بَعْد میں اور اظہر وہاں سے نکل گئے بھاڑ میں جانے كے لیے اظہر کا پیپر بہت خراب گیا تھا ، یہ بات وہ مجھے تقریباً ہزار بار بتا چکا تھا . . . ہر پانچ منٹ بعد وہ بولتا کہ " یار بہت ہارڈ پیپر آیا تھا . . . لگتا ہے ایک سوال بھی سہی نہیں ھوگا " وہ جب سے پیپر دے کر آیا تھا تب سے لڑکیوں والی حرکت کر رہا تھا ، وہ بُک کھول کر جواب چیک کرتا اور جب جواب سہی نہیں نکلتا تو پھر ماتم کرنے بیٹھ جاتا . . . میں بستر پر لیٹے لیٹے جب اس کی ان حرکتوں سے بور ہو گیا تو میں نے اسے کہا کہ ایک پیپر خراب جانے سے اتنا پریشان ہے ، تو کیا خاک ملک کی خدمت کرے گا . . . . . " دماغ مت خراب کر اور جا کر ایک پیکٹ سگریٹ لیکر آ . . . . " اب میں نے بھی سگریٹ پینا شروع کر دیا تھا ، اس لئے سگریٹ خریدنے کا دن ہم نے آپس میں بانٹ لیا تھا ایک دن وہ سگریٹ کی ڈبیہ لاتا تو ایک دن میں . . . . آج میری باری تھی " چل ساتھ میں نہیں چلے گا کیا . . . . " " موڈ خراب ہے ، تو جا . . . " " ارمان . . . " اچانک باہر سے کسی نے آواز دی ، آواز جانی پہچانی تھی ، میں نے روم کا دروازہ کھولا ، سامنے سردار کھڑا تھا . . . . " تو کیا سوچا . . . " اندر آتے ہی سردار نے مجھ سے کہا . . . " کس بارے میں . . . " " یونین کا الیکشن لڑے گا یا نہیں . . . " " سردار بھائی ، آپ کو تو پہلے ہی بتا دیا کہ . . . . " " تیرا نام میں نے لکھوا دیا ہے . . . " مجھے درمیان میں ہی روک کر سردار نے کہا " میں یہاں تیری راے جاننے نہیں تجھے بتانے آیا ہوں . . . " سردار كے بات کرنے كے اِس لہجے سے میں کانپکپا گیا ، اور اس کی طرف منہ بند کیے دیکھتا رہا اور تب تک دیکھتا رہا جب تک سردار نے خود مجھے آواز نہیں دی . . . " سن ، اِس بار کاشف کسی بھی حالت میں صدر نہیں بننا چاہیے ہے ، اس لیے میرے امیدوار کا جیتنا بہت ضروری ہے . . . . سیکنڈ ایئر میں صغیر كی وجہ سے میری گرفت کمزور ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ سیکنڈ ایئر سے ہم ہارنے والے ہے . . . اس لئے میں چاہتا ہوں کہ فرسٹ ایئر سے ہم کسی بھی حال میں جیتے اور فرسٹ ایئر كے لڑکوں میں سے سب سے زیادہ تو مشہور ہوا ہے . . . " " لیکن سردار بھائی، وہ میری پڑھائی کا کیا بنے گا . . . . " اِس بار بھی سردار نے مجھے درمیان میں روکا " نہ تو میں آج تک کبھی کسی پیپر میں فیل ہوا ہوں اور نہ ہی کبھی کم نمبر آئیں ہے ، جب کہ میں اپنا آدھے سے زیادہ وقت اسپورٹس کو بھی دیتا ہوں ،
  11. مجھے ایک لڑکی کی تلاش بچپن سے تھی ، ایسی لڑکی جس کو دیکھ کر میری آنکھیں اس کی آنکھوں سے ہوتی ہوئی صرف آنکھوں پر ہی ٹکی رہے ، سحرش میڈم اور سمیرہ کو جب بھی دیکھتا تو میری نظر ان کی آنکھوں سے شروع ہی نہیں ہوتی تھی وہ تو سیدھے نیچے سے شروع ہو کر آخر میں آنکھوں پر پہنچتی تھی لیکن سارہ كے معملے میں ایسا نہیں تھا ، میں نے ابھی تک اس کی صرف بھوری آنکھیں اور خوبصورت چہرے پر ہی نگاہ ڈالی تھی . . . . میں سیدھا سادھا مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتا تھا ، اس لئے میں ایک سیدھی سادھی سی لڑکی چاہتا تھا جو مجھ سے پیار کرے اور جسے میں پیار کروں . . . . آوارہ بن کر ہر ہفتے معشوقائیں تبدیل کرنا مجھے پسند نہیں تھا لیکن ایسی لڑکیاں مجھے بہت ملی جو صرف دوسروں کو دکھانے كے لیے ، دوسروں کو جلانے كے لیے میری معشوقہ بننے کو تیار تھی ، لیکن ان سب کو میں نے دور کرتے ہوئے ہمیشہ اس ایک لڑکی کی تلاش میں رہا جو سیدھے بائیں سائڈ میں اپنا اثر دکھائے ، . . . سارہ کی بھولی صورت ، اس کا بات بات پر جھگڑنا اور ہر وقت ناک پر غصہ لیکر چلنا مجھے بہت پسند تھا ، پسند نہیں تھا تو صرف ایک چیز کہ وہ صغیر کی معشوقہ تھی . . . . دماغ نے ہزار بار مجھ سے کہا کہ سارہ اور تیرا ملنا نناوے فیصد ناممکن ہے ، لیکن پھر دِل كے کسی کونے سے آواز آتی کہ ایک فیصد چانس تو ہے ، اس ایک فیصد کو میں ایک ہزار سے ضرب دے کر سارہ اور خود کی محبّت کے چانس کو کیوں نہ سو فیصد کر لوں وہ وقت یہ سب سوچنے کا نہیں تھا اس لئے میں نے اپنے دماغ اور دِل كی باتوں کو پیک کرکے پڑھنے بیٹھا کیوںکہ کل HMI کا ٹیسٹ تھا . . . . " تجھے کچھ سمجھ آ رہا ہے ، میرے تو سب سَر كے اوپر سے جا رہا ہے . . . ." اظہر اپنے بال نوچ کر بولا . . . " مجھے قائد اعظم سمجھ رکھا ہے کیا ، جو بنا پڑھے پاس ہو جاؤں گا ، مجھے بھی کچھ سمجھ نہیں آ رہا . . . . " " یہ سائنٹسٹ اگر آج زندہ ہوتے تو گولی مار دیتا ان سب کو " بُک پر دوبارہ نظریں ڈالتے ہوئے میں نے کہا " یہ دیکھ ، اتنا بڑا فارمولا . . . یہ تو پورے چار سال میں بھی یاد نہ ہو . . . " وہ رات ہم نے بکس کے رائٹرز کو گالیاں دے دے کر گزاری ، پہلے کی عادت تھی چار بجے صبح اٹھنے کی ، اس دن بھی آنکھ صبح چار بجے کھلی ، جب کہ میں بارہ بجے سویا تھا . . . آنکھوں میں جلن اور سَر بھاری محسوس ہو رہا تھا ، دل کر رہا تھا کہ پھر سے لائٹ بند کروں اور چادر اوڑھ کر پھر سے سو جاؤں ، لیکن آج ہونے والی ایگزام کی ٹینشن سے سَر بھاری ہوتے ہوئے بھی سَر کو ہلکا کرنا پڑا میں پانچ دس منٹ تک ٹھنڈے پانی کی بالٹی میں اپنا سَر ڈوبوئے رکھا اور جب وآپس اپنے روم کی طرف آنے لگا تو مجھے وہی شرارت سوجی جو رات کو اکثر میں کیا کرتا تھا . . . . میں نے زور سے ایک روم کا دروازہ کھٹکھٹایا . . . . " کون ہے. . . " ایک نیند میں ڈوبی ہوئی آواز میں اندر سے کسی نے مجھ سے پوچھا . . . . " پولیس . . . دروازہ کھولو جلدی " اپنی آواز کڑک کرتے ہوئے میں نے کہا " ہاسٹل میں قتل ہوا ہے اور تم سو رہا ہے نکلو باہر " اتنا بول کر میں وہاں سے فوراً اپنے روم کی طرف بھاگا اور جب اندر گھس گیا تو مجھے اس روم میں رہنے والوں کی آواز سنائی دی ، . . . " یہ کچھ لڑکوں نے تماشا بنا کر رکھا ہے کچھ دنوں سے . . . شکایت کرنی پڑےگی ان کی . . . . " ہنستے ہوئے میں نے HMI کی بُک پکڑی اور خود کو چاروں طرف سے چادر میں لپیٹ کر بُک کھول کر بیٹھ گیا . . . . لے دے کر کچھ تو پلے پڑا اور جیسے جیسے میں پڑھتے جاتا دلچسپی خود با خود بڑھتی جا رہا تھی ، اس دوران کبھی سارہ کا خیال آتا تو کبھی سحرش میڈم کا ، لیکن اسی وقت پتہ نہیں کیسی منحوس گھڑی تھی کہ مجھے سگریٹ پینے کی طلب ہوئی اور میں جب سگریٹ کا بہت زیادہ طلب گار ہوگیا تو سگریٹ کا پیکٹ اٹھایا . . . لیکن وہ پیکٹ بلکل ، خالی تھا . . . " اوئے اٹھ . . . " اظہر کو ہلاتے ہوئے میں نے کہا " اٹھ جا ورنہ ، . . . . ورنہ " " کیا ہوا . . . . " جمائی لیتے ہوے وہ پھر سو گیا . . . " سگریٹ کا پیکٹ کہاں ہے . . . " " لوڑا پی لے . . . " " لنڈ میں ماچس سے آگ لگا دوں گا ، جلدی بتا کہاں ہے . . . " اور تب اس نے اپنے جیب سے سگریٹ کی ڈبیا نکال کر مجھے دیی ، اظہر سے سگریٹ لیکر میں اپنے بستر پر آ دھمکا اور سگریٹ پیتے پیتے دوبارہ سے پڑھنے لگا . . . . . " " پھٹ رہی ہے یار . . . کچھ نہیں پڑھا . . . " " اب میں کیا بولوں پھٹ تو میری بھی رہی ہے ، . . . " " تو نے تو صبح اُٹھ کر کچھ دیکھ بھی لیا ہے ، میں تو HMI میں ابھی تک کنوارہ ہوں . . " اِس وقت میں اور اظہر ایگزام ہال كے سامنے کھڑے باتیں کر رہے تھے ، ایک طرف میں منو بھی کھڑا تھا لیکن وہ ہم سے بات کئے بنا اپنی نوٹ بک پکڑے ہوئے تھا ، کہنے کو تو یہ کلاس ٹیسٹ تھا لیکن اِس بار کلاس ٹیسٹ کو بھی صدیقی صاحب كے کہنے پر ہی ایگزام کی طرح لیا جا رہا تھا . . . پیپر ایزی تھا ، پھر بھی تھوڑی بہت غلطی ہر سوال میں ہوئی ، ایگزامینیشن ہال سے میں باہر نکلا تو کوری ڈور میں سحرش میڈم آتی ہوئی دکھائی دی ، ہلکی پنک کلر کا شلوار ان پر بہت جاچ رہی تھی، انہیں میری نظر نے نیچے سے دیکھنا شروع کیا اور پھر آنکھوں میں آ کر رکی . . . . " گڈ مارننگ میم . . . " " مارننگ . . . ابھی تو آفٹر نون ہے . . . " " سوری ، وہ ٹیسٹ کا اثر ابھی تک ہے . . . گڈ آفٹر نون . . . " " کیسا گیا پیپر . . . " وہ وہی میرے پاس کھڑی ہو گئی ، انہوں نے آج بھی شاندار خوشبو لگائی ہوئی تھی جس سے میرا تن اور من دونوں میں حل چل ہو رہی تھی . . . . . . " اچھا گیا . . . . " ایک لمبی سانس کھینچ کر میں نے کہا ، اور سحرش میڈم كے پرفیوم کی خوشبو میرے پورے روم روم میں سماں گئی ، . . . میں وہاں کھڑا یہی سوچ رہا تھا کہ وہ مجھے پھر سے کہے کہ چلو کمپیوٹر لیب میں ، لیکن انہوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا وہ بولی . . . " میں ابھی چلتی ہوں . . . . " " کدھر ، کمپیوٹر لیب میں " " اووو . . . . " میں ان کی اِس اووو پر مسکرا دیا جسے دیکھ کر وہ بولی " مجھے ابھی کام ہے . . . . بائے " سحرش میڈم كے جانے كے بَعْد میں نے اس رستے پر اپنے قدم بڑھا دیئے جو کالج سے باہر جاتا تھا . . . " اخبار پڑھ كہ آتا ہوں . . . " لائبریری كے سامنے کالج سے باہر جاتے ہوئے قدم رکے ، میرے قدم رکنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میں نے سارہ کو لائبریری كے اندر داخل ہوتے ہوئے دیکھ لیا تھا اور وہ بلکل اکیلی تھی تو سوچا کیوں نہ اسی سے مستی کر کے تھوڑا موڈ فریش کر لیا جائے . . . . . میں نے لائبریری كے اندر سنبھال کر رکھے ہوئے ایک انگلش اخبار کو اٹھایا اور ٹھیک اسی جگہ پر جا کر بیٹھا جہاں سارہ بیٹھی ہوئی تھی . . . اس کے ہاتھ میں اردو اخبار تھا اور وہ اخبار پڑھنے میں اتنی مصروف تھی کی اس نے مجھے دیکھا تک نہیں . . . . . اب میں وہاں آیا تو سارہ سے لڑنے كے لیے تھا اس لئے کسی نہ کسی موضوع پر بات چیت تو کرنی ہی تھی . . . . " پتہ نہیں لوگ اردو اخبار کیوں پڑھتے ہے . . . اصلی خبریں تو انگلش اخبار میں ہی ہوتی ہے . . . " اخبار كے صفحات پلٹتے ہوئے میں نے دھیرے سے بولا اور سارہ کی نظر مجھ پر پڑی ،
  12. عرض کیا ہے . . . " " کرو . . . کرو ، بالکل کرو ، سب کچھ کرو . . . " " تو سنے گا ، عرض کیا ہے . . . " " ابے عرض ہی کرتا رہے گا یا کچھ اور بھی کرے گا . . . " کاشف اور اظہر مجھ پر ایک ساتھ برس پڑے ، " کوئی تو محفل ھوگی اِس پوری دُنیا میں . . . . جہاں نام ہمارا بھی ھوگا . . . . جب سنے گی اس محفل میں میری داستان . . . تو لہو کا قطرہ اس کی بھی آنکھوں سے بھا ہوگا . . . . " ہم تینوں پھر نشے میں دھات ہوگئے تھے ، کاشف نے سالن چولہے پر چڑاھا دیا تھا ، جس کے جلنے کی مہک بھی آنے لگی تھی . . اُدھر كھانا جلا ادھر ہم تینوں كے دِل جلے . . . " اس دن كے بَعْد کیا ہوا . . . سارہ کا صغیر كے دوست كے ساتھ کچھ چکر تھا یا پھر . . . " " میں بتاؤں . . . " اظہر درمیان میں بول پڑا جسے روک کر میں نے کہا " اس دن ایسا کچھ بھی نہیں تھا . . . " " پھر سارہ صغیر كے ساتھ کیوں نہیں گئی ، . . . " اس دن ہاسٹل میں آنے كے بَعْد مجھے اس کی وجہ معلوم چلی، اور وجہ بتانے والا منو تھا ، میں آج بھی کبھی کبھی سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ اس کمینے منو کو ساری خبریں مل کیسے جاتی تھی اور جب خبر سارہ کے متعلق ہو تو اس کی خبر اسے اور بھی جلدی ملتی تھی ، منو نے مجھے بتایا کہ صغیر كے والد صاحب پر کسی نے جان لیوا حملہ کیا تھا اور وہ بہت سریس تھے ، اس لیے صغیر کو جلدی ہی کالج سے جانا پڑا ، کیوںکہ صغیر اور سارہ ایک ساتھ کالج آتے تھے اس لئے صغیر كے جانے كے بَعْد صغیر كے دوست نے سارہ کو گھر چھوڑا. . . . ایک طرف جہاں میں یہ سوچ کر خوش ہو رہا تھا کہ سارہ اور صغیر كے درمیان لڑائی ہوئی ھوگی وہاں مجھے دکھ ہوا ، لیکن دوسری طرف صغیر كے دوست اور سارہ كے درمیان کچھ نہیں ہے یہ جان کر مجھے خوشی بھی ہوئی . . . منو نے مجھے اور بھی بہت کچھ بتایا جیسے کہ سارہ اور صغیر كی فیملی كے بارے میں ، اور جیسا کہ منو نے بتایا تھا اس کے اندازے سے صغیر كے بابا ایک غنڈے قسم کے آدمی تھے اور سیاست دانوں سے تعلق بھی تھے اس کا مطلب صاف تھا کہ صغیر ایک امیر زادہ تھا ، وہی سارہ كے والد صاحب ایک بڑے بزنس مین تھے مطلب کہ سارہ بھی ایک امیر زادی تھی . . . . سارہ اور صغیر بچپن سے ایک ساتھ پلے بڑھے تھے، ایک ہی اسکول میں پڑھائی بھی کی لیکن صغیر عمر میں ایک سال بڑھا تھا اس لئے دونوں ایک کلاس میں کبھی نہیں آ پائے ، عمر كے بڑھتی رفتار كے ساتھ ساتھ ان دونوں کی دوستی پیار میں بدلنے لگی اور پھر دونوں نے ایک دن ایک دوسرے سے محبّت کا اقرار بھی کیا . . . . سارہ اور صغیر دونوں كے گھر میں دونوں كی محبّت كے بارے میں معلوم تھا اور انہیں اِس رشتے سے کوئی پریشانی بھی نہیں تھی ، منو نے کچھ دنوں پہلے سارہ كی خودکشی کی بھی وجہ بتائی ، اس نے بتایا کہ صغیر کسی دوسری لڑکی كے چکر میں تھا اور یہی سارہ کو راس نہیں آیا تو اس نے خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی ، اس کے بَعْد صغیر نے سارہ سے اپنے کیے کی معافی بھی مانگی اور ان دونوں کی محبت کی داستان پھر سے شروع ہوگئی . . . جس کے لیے سارہ نے جان دینے کی کوشش کی تھی وہ اس سے سچی محبّت تو کرتی تھی لیکن پھر بھی دِل كے کسی کونے سے آواز آئی کہ " بیٹا ارمان ، کوشش کر . . . تیرا چانس ہے . . . . " اس آواز کو نکلنے سے پہلے ہی دِل میں دفن ہو جانا چاہیئے تھا ، مجھے اسی دن ہی یہ مان لینا چاہیئے تھا کہ سارہ اور میں کسی بھی لحاظ سے نہیں ملتے ، نہ تو فیملی بیک گڑاؤنڈ سے اور نہ ہی دِل کی دُنیا سے . . . . اس کی دِل کی دُنیا تو صغیر كے چاروں طرف گھومتی تھی یہ مجھے پتہ تھا لیکن پھر بھی میں نہیں مانا . . . . . " کاشف کی معشوقہ سمیرہ کی ریکویسٹ آئی ہے تیری آئی ڈی پر . . . . " " کیا . . . " " اتنا چونک کیوں رہا ہے ، صرف یہ بتا اکسیپٹ کروں یا نہیں . . . " اظہر نے مجھ سے پوچھا . . . . " غصہ کیوں کر رہا ہے ، کر لے اکسیپٹ . . . " اظہر نے سمیرہ کی فرینڈ ریکویسٹ اکسیپٹ کی اور میرے بستر پر خوشی سے چڑھ کر بولا " کمینی آن لائن ہے ، آجا اس سے مزے لیتے ہے . . . . " میں بیٹھا تو کتاب کھول کر تھا ، لیکن یہ سوچ کر کتاب بند کر دی کی پہلے سمیرہ سے مزے لے لیتا ہوں، پڑھائی کا کیا ہے وہ تو کبھی بھی ہو جائے گی ، کل صبح چار بجے اُٹھ کر پڑھ لوں گا ، لیکن سمیرہ ہر وقت آن لائن تھوڑی ہی رہنے والی ہے . . . . . " ہیلو . . . . " ہم میسیج کرتے اسے پہلے ہی سمیرہ نے کیا . . . " ہاے ڈیئر ، کیا کر رہی ہو. . . " اپنے موبائل كے کی بورڈز کو تیز رفتاری سے دباتے ہوئے اظہر نے جواب دیا. . . " کچھ نہیں اور تم . . . " " چودائی لکھ کر بھیجو کیا . . . " اظہر نے میری طرف دیکھ کر بولا " " چوتیا ہے کیا ، اس کو لکھ کہ پڑھائی کر رہا ہوں . . . . " " مٹھ مارنے کا لکھ دیتا ہو ، کمینی لڑکی ہے کیا سمجھے گی . . . " " لکھ دے . . . " اظہر نے مٹھ مارنے کا لکھ کر جلد سمیرہ کو جواب دیا، کچھ دیر تک سمیرہ کا جواب نہیں آیا لیکن جب اس کا جواب آیا تو ہم دونوں كے ہوش اُڑ گئے ، ہم دونوں نے یہ سوچا تھا کہ سمیرہ ہم سے مٹھ مارنے کا مطلب پوچھے گی اور ہم دونوں اسے اُلو بنائیں گے لیکن اس کا جواب یہ تھا . . . " مٹھ کم مارا کرو ، جسم کمزور ہوتا ہے . . . . " " سالی بڑی تیز ہے ، ابھی سامنے مل جائے تو اس کے منہ میں لوڑا گھسا دوں . . . . " " اب کیا بولے گا. . . " میں نے اظہر کی طرف دیکھا . . . . " تو روک اور دیکھتا جا . . . " اظہر کی انگلیاں ایک بار پھر تیز رفتاری سے موبائل كے بٹنوں پر گھومنے لگی اور اس نے سمیرہ سے کہا. . . " تم نے کبھی مٹھ ماری ہے " " کیا " " مٹھ ، تصویر بیھج کر سمجھاوں کیا " " مجھے کچھ کام آ گیا ہے بائے . . . " " گاجر ہے گھر میں . . . " " کیوں ؟ " " پورا کا پورا گھسا لینا اس کو . . . " " تمیز سے . . . " " کچھ کام آ گیا ہے ، اب میں جا رہا ہو . . . " اس كے فوراً بعد ہی اظہر نے فیس بک بند کر دی اور ہم دونوں اپنا پیٹ پکڑ کر ہنسنے لگے . . . . اس رات سگریٹ پینے اور بچودیاں کرنے كے علاوہ میں نے کچھ نہیں کیا ، آدھی رات کو دوسروں كے روم كے سامنے جا کر زور سے دروازہ بجاتے اور پھر بھاگ جاتے ، روم كے اندر سو رہے لڑکے گالیاں دیتے ہوئے اٹھتے اور پھر باہر کسی کو نہ پا کر اور بھی گالیاں بکتے . . . . اس کے بَعْد کچھ دنوں تک کچھ بھی خاص نہیں ہوا ، سارہ اور صغیر روزانہ ساتھ میں ہی کالج آتے اور ساتھ ہی میں جاتے ، صغیر سے میری نوک جھونک بھی اتنے دنوں میں نہیں ہوئی تھی اس لئے ماحول ٹھنڈا تھا ، سردار سے ایک دو بار بات چیٹ ہوئی تھی جسے مجھے پتہ چلا تھا کہ کاشف اور اس کے دوست بہت جلد ٹھیک ہو جائینگے اور کالج بھی آنے لگیں گے . . .
  13. اس اتوار کو کوشش کروں گا کہ مکمل اسٹوری پوسٹ کر دوں
  14. " صغیر ، . . یہ سب بند کرو . . . " بات بڑھتے ہوئے دیکھ کر سارہ وہاں آئی " سارہ ، تم کان میں ہیڈ فون لگا کر بیٹھ جاؤ ، . . . " " پر صغیر . . . " " سارہ ، جاؤ . . . " سارہ كے وہاں سے جانے كے بَعْد صغیر نے ٹیبل پر اپنے دونوں پیر رکھے اور مجھ سے بولا " کچھ دن پہلے کا حادثہ بتاتا ہو تجھے . . . ایک تیری طرح ہی کا لڑکا تھا ، شہر کی بس میں میں نے اس کے بال پکڑ کر چلتی بس سے نیچے پھیک دیا ، اسے تو میں نے کوئی موقع نہیں دیا ، لیکن تجھے ایک موقع دیتا ہوں ، مجھے سوری بول اور چُپ چاپ یہاں سے نکل جا . . . . ورنہ . . . " " ورنہ . . . " " ورنہ اس سے بھی برا حال کروں گا تیرا . . . " اچانک سیدھا بیٹھ کر اس نے کہا . . . پہلے سوچا کہ سوری بول کر بات کو یہی ختم کر دوں، لیکن میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا اور صغیر سے بولا . . . . " جب میں اسکول کی نویں کلاس میں تھا تو گیارویں کلاس كے ایک لڑکے نے مجھے بہت مارا تھا ، اور وہ پورا سال میں نے اسی کھوج میں نکال دیا کہ اسے کیسے ماروں اور دسویں کلاس میں آ کر جانتا ہے میں نے کیا کیا اس لڑکے کے ساتھ . . . " " کیا . . ؟ " " جان سے مار دیا اس کو ، جس چاقو کو اس کے پیٹ میں گھسایا تھا وہ لڑتے وقت میرے ہاتھ میں لگ گیا تھا ، جس کا نشان ابھی تک ہے . . . " میں نے اپنی شرٹ پیچھے کی اور سائیکل سے گرنے کا جو نشان تھا اسے دکھاتے ہوئے بولا "لگتا ہے ایسا ایک اور نشان جلد ہی مجھے لگنے والا ہے ، اور تجھے معلوم نہیں ھوگا لیکن میں نے کینٹین میں گھسنے سے پہلے ہی سردار کو میسیج کر دیا تھا کہ میں کینٹین میں ہوں ، تو اس حساب سے اگلے پانچ منٹ میں پورے ہاسٹل کے لڑکے یہاں آ جائینگے ، تم لوگ ہم دونوں کو صرف پانچ منٹ تک مار سکتے ہو ، لیکن اس کے بَعْد میں تم سب کو گراؤنڈ میں لے جا کر بہت ہی بری طرح سے ماروں گا . . . . " اب کی بار میں نے اپنا پیر ٹیبل پر رکھا اور ٹیبل پر رکھے سموسے کی پلیٹ سے ایک سموسہ اُٹھا کر کھانے لگا ، ڈر تو اب بھی لگ رہا تھا کہ کہی یہ لوگ مجھے مارنا شروع نہ کر دے ، کیوںکہ نہ تو میں نے سردار کو میسیج کیا تھا اور نہ ہی پانچ منٹ بَعْد ہاسٹل والے آنے والے تھے . . . . . " روک جاؤ ، دوستوں . . . میرے پاس ایک پلان ہے . . . " " ایک بہت پرانی کہاوت ہے . . . " اظہر نے بھی ٹیبل كے اوپر اپنے دونوں پیر رکھے اور ایک سموسہ اُٹھا کر بولا " پلان وہ بناتے ہے ، جنہیں خود پر بھروسہ نہیں ہوتا . . . " " بہت جلد ہی تم دونوں کو بھروسہ ہو جائیگا . . . " وہاں سے اُٹھ کر سارہ کی طرف جاتے ہوئے صغیر نے کہا . . . . " نائس پلان ہے یار . . . " اظہر سموسہ کھاتے ہوئے بولا . . . " میری تو پھٹ گئی تھی یار . . . " " پھٹی تو میری بھی تھی ، لیکن " اظہر كے ہاتھ میں جو سموسہ تھا اس سے آدھا ٹکڑا توڑ کر کھاتے ہوئے میں نے کہا " تجھے ایک کام بولا تھا ، یاد ہے . . . " " کون سا . . . " " صغیر اور سارہ کا محبّت کا چکر کب سے اور کیسے چل رہا ہے ، ان دونوں كے باپ کیا کرتے ہے . . . یہ سب " " کتنی بار کہا ہے کہ سارہ پر دھیان مت دے ، کمینی نے صغیر كے لیے خودکشی تک کر لی تھی تو سوچ ہی سکتا ہے کہ ان کا چکر لیفٹ سائڈ والا ھوگا . . . " " لیفٹ سائڈ مطلب . . . " " دِل لیفٹ سائڈ پر ہوتا ہے ، اس لئے سچے پیار کو لیفٹ سائڈ والا چکر کہتے ہے . . . " " اور رائٹ سائڈ والے چکر کا مطلب . . . " " ہوس بھرا چکر ، جو اِس وقت تیرے اور سحرش میڈم كے درمیان چل رہا ہے . . . " " پھر میرا اور سارہ کا چکر کس قسم کا ہے . . . " " کسی بھی قسم کا نہیں " اظہر زور سے ہنستے ہوے بولا " یہ تو پیار محبّت کچھ بھی نہیں ہے " اظہر سے اس وقت کیا کہو مجھے کچھ نہیں سوجھا اور آج بھی میں اسے کچھ نہیں سمجھا پایا ، کیونکہ میں خود آج تک نہیں سمجھ پایا کہ سارہ اور میرا چکر لیفٹ سائڈ والا تھا یا پھر رائٹ سائڈ والا یا پھر کوئی بھی چکر نہیں تھا ، جو بھی ہو اس دن وہاں کینٹین میں ہم نے پورا وقت گزارا ، اس دن کچھ الگ سا ہوا ، سارہ اس دن کینٹین میں مجھے دیکھ رہی تھی ، اور جب میری نظر اس سے ملتی تو وہ فوراً اپنا رنگ بَدَل کر غصے سے دیکھنے لگتی اور اس کی یہی ادا ہر بار میرا دِل چِیر كے رکھ دیتی تھی . . . . بریک كے بَعْد کی کلاس میں کچھ بھی خاص نہیں ہوا ، باقی كے سب ٹیچرز آئے اور ٹیسٹ کے بارے میں بتا کر مشورہ دینے لگے کہ ان کے سبجیکٹ کی تیاری کیسے کرنی ہے ، یا یوں کہے کہ بریک كے بَعْد اچھا خاصا بور دن گزرا ، . . . . " یار وہ دیکھ سارہ . . . . " چھٹی كے وقت میں جب اظہر كے ساتھ کالج سے باہر نکل رہا تھا تب میں نے سارہ کو باہر پریشان دیکھا . . . . " تو کیا ، اب جا کر چومی لے گا کیا اس کی . . . " " اگر وہ ایک چومی دے دے تو قسم سے انجینیئرنگ چھوڑ دوں . . . " " یہ تو میرے الفاظ تھے . . . " " گدھے اُدھر وہ پریشان کھڑی ہے اور تجھے الفاظوں کی پڑی ہے ، تو نکل میں آتا ہوں . . . . " اظہر کو وہاں سے بھگانے كے بَعْد میں سارہ کی طرف بڑھا ، میں اس وقت یہی سوچتا رہا کہ میں سارہ سے کیا کہوں گا ، مجھے وہاں اس کے پاس نہیں جانا چاہئے لیکن میں اس کے پاس گیا اور اسے اس کی پریشانی کی وجہ بھی پوچھی . . . . " شام کی واک تو کر نہیں رہی آپ ، پھیر ادھر اُدھر کیوں ٹہل رہی ہیں . . . " " تم سے مطلب . . . " ایک کرارا جواب دے کر وہ پھر ادھر سے اُدھر اور اُدھر سے ادھر چلنے لگی . . . . " ادھر سے گزر رہا تھا تو تمہیں پریشان دیکھ کر روک گیا ، ویسے بھی مجھے اسکول میں سکھایا گیا تھا کہ انسانیت بھی کوئی چیز ہوتی ہے ، . . . " " تم مجھے اور پریشان مت کرو اور جاؤ یہاں سے . . . . " " نہیں جاؤں گا . . . " " تو کھڑے رہو یہی ، میں جاتی ہو یہاں سے . . . . " اپنا پیر پٹخ کر سارہ وہاں سے آگے بڑھ گئی . . . . " کمال ہے یار ، بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں ہے . . . . " سارہ کو جاتے ہوئے دیکھ کر میں نے کہا . . . . . ویسے تو سارہ کا ہر وقت صغیر كے ساتھ گاڑی میں آنا جانا ہوتا تھا ، لیکن اس دن صغیر نہیں آیا ، بلکہ صغیر کا ایک دوست اپنی بائیک پر بیٹھا کر سارہ کو لے گیا ، سارہ کو صغیر كے دوست كے ساتھ جاتا دیکھ کے میرے بائیں سائڈ میں ہلچل مچ گئی ، میں کئی خیالات میں ڈوبنے لگا جیسے ڈوبنے کہ " کیا سارہ کا چکر ختم ہوگیا صغیر سے یا پھر ان دونوں کی لڑائی ہوئی ہے ، یا پھر وہ لڑکا جو کہ صغیر کا دوست ہے وہ سارہ كے ساتھ کہی . . . . . . . . نہیں ، یہ کیسے ہو سکتا ہے ، صغیر كے دوستوں كے پاس اتنی ہمت ہی نہیں ہے اور ویسے بھی سارہ اِس کام كے لیے تیار نہیں ھوگی ، لیکن پھر ایسا کیا ہو گیا کہ آج صغیر كے ساتھ نہ جا کر سارہ اس کے دوست كے ساتھ گئی اور یہ کمینہ صغیر کہاں مر گیا . . . . .
  15. " تجھے بولا تھا نہ، اپنی اوقات میں رہنا . . . . " سردار نے آتے ہی اک لات کاشف کو ماری . . . . " سردار ، یہ تیرا معملہ نہیں ہے . . . " " کیا بولا تھا میں نے . . . . ہاسٹل کے لڑکوں کو ہاتھ تک مت لگانا ، لیکن تو نہیں مانا. . . . " " اوئے سردار. . . . آج اتنے سارے لڑکے تیرے ساتھ ہے اس لیے اچھل رہا ہے . . . . بھول مت میں تیرا بھی سینیر ہوں . . . . " " چپ کر بولتا بہت ہے . . . . . " نہ جانے اظہر کو کیا ہوا اور اس نے ایک تھپڑ کاشف كے گال پر مار دیا " اس دن والا بائیک اسٹینڈ کا حساب کلئیر ہوا . . . " " دیکھ کیا رہے ہو ، مارو کمینوں کو . . . " کاشف نے وہاں موجود اپنے دوستوں سے کہا . . . . کاشف اور اس کے دوست ہم سے لڑنا شروع ہو گئے، لیکن ہم ان سے کئی گنا زیادہ تھے اس لئے چند منٹوں میں ہی ہم نے ان سب کو بری طرح مارا ، لاتوں سے ، ہاتھوں سے ان سب کو فٹ بال کی طرح دھویا اور کچھ دیر میں ہی کاشف اور اس کے دوست زمین پر لٹے کرہ رہے تھے . . . . . . " کیا حال ہے گدھے . . . " جہاں کاشف لیٹا ہوا تھا ، اس کے پاس جا کر میں نے کہا اور پوری طاقت كے ساتھ ایک زور دار تھپڑ اس کے گال پر دے مارا . . . . کیا پاور تھی اس کے گال پر خون جام گیا . . . . اور اس کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوگیا ، ایک طرف کا گال سفید تو دوسری طرف کا ایک دم لال . . . . . . " چال پُش اپ کر . . . . " آرام سے وہاں بیٹھ کر میں نے کاشف سے کہا . . . . . " میں کوشش کرتا ہوں . . . " الٹے لیٹے ہوئے اس نے کہا . . . . " آ جاؤ سب لوگ . . . . " آج بھی وہی ہونے والا تھا جو کچھ دن پہلے اسی گراؤنڈ پر ہوا تھا ، لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ آج گراؤنڈ میں میری جگہ مجھے لیٹانے والا لیٹا ہوا تھا اور اس کے اوپر کودنے کی باری میری تھی . . . . اور اگر ٹیکنیکل لینگویج میں کہاجائے تو اسے " تھوری آف ریلاتیوتی" یا " فریم آف ریفرنس" بھی کہہ سکتے ہے ، " سوری . . . . " کاشف نے آہستہ سی آواز میں کہا ، اس دن کی طرح آج اس کے منہ سے بھی خون نکال رہا تھا . . . اس دن کی طرح آج اس کا جسم بھی وہاں کی دھول مٹی سے بھرا ہوا تھا . . . . " روک کیوں گئے مارو سب کو . . . آخر تھوری آف ریلاتیوتی کا قانون بھی تو ثابت کرنا ہے . . . . " " تجھے چھوڑوں گا نہیں . . . " " سوری کاشف سر ، آپ فیزکس كے خلاف نہیں جا سکتے . . . . مار تو آپ کو كھانی ہی پڑے گی " " میں چلتا ہوں ، نیکسٹ کلاس اٹینڈ کرنی ہے . . . " سردار بھائی نے اپنی گھڑی میں دیکھتے ہوئے کہا اور اپنے کپڑوں کو ٹھیک کرنے لگے. . . " لیکن ابھی تو بریک ٹائم ختم ہونے میں بہت ٹائم ہے . . . . " " سر نے آج پہلے بلایا ہے ، میں چلتا ہوں، تم لوگ عیش کرو . . . . " اتنا کہہ کر سردار وہاں سے چلا گیا . . . . " یار ، روک کیوں گیا ، پُش اپ کر . . . " گانڈ پر ایک زور کی لات مار کر میں نے کاشف سے کہا ، اور میری دیکھا دیکھی سب کی گانڈوں پڑ لات پڑی . . . . . " بس ، اب اور نہیں . . . . " ہانپتے ہوئے کاشف نے کہا. . . . کاشف كے دوست تو کب کے ہار مان چکے تھے اور ان سب کا مار کھا كر برا حال بھی تھا ، ان سب کی حالت دیکھ کر دل میں آیا کہ سب کو چھوڑ دوں ، لیکن اچانک اظہر میرے پاس آیا اور میرے کان میں کچھ ایسا کہا ، جسے سن کر میں فورا کاشف كے پاس پہنچا . . . . " چل جلدی کر ابھی سو بار اور اوپر نیچے ھونا ہے . . . . " " نہیں، اب ہمت نہیں ہے . . . " پسینے سے بھیگا ہوا کاشف زمین پر لیٹ گیا اور لمبے لمبے سانسیں لینے لگا . . . . " ایک شرط میں چھوڑوں گا تجھے . . . " " ہاں بول . . . . " " ان پانچوں لڑکیوں کو یہاں کال کرکے بلا . . . . " میرے پروگرام کو سمجھتے ہوے کاشف نے صاف منع کر دیا اور اسی وقت اظہر نے پاس پڑا ہوا ایک موٹا سا ڈنڈا اُٹھا کر کاشف كے سَر پر نشانہ لگایا اور زور سے ڈنڈے کو اس کے سَر کے بلکل پاس زمین پر دے مارا . . . . کاشف نے سوچا کہ اظہر اسے مارنے والا ہے ، اس لیے اس نے زور سے چلاتے ہوے کہا کہ وہ تیار ہے ان پانچوں لڑکیوں کو یہاں بلانے كے لیے . . . . . . " پانی دو کاشف سر کو . . . . " کاشف جب ہانپتے ہوئے اُٹھ کر وہاں بیٹھا تب میں نے اپنے ہی کلاس والے ایک لڑکے سے کہا اور لڑکوں کے ہجوم میں سے کسی نے کہا کہ کاشف کو پانی نہیں اپنا پیشاب پلا دو. . . . خیر میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا اور کاشف کو بوتل والا پانی پلایا . . . . . " سمیرہ، کہاں ہو . . . . " کاشف نے سمیرہ کو کال کی اور میں نے اسے لوڈ سپیکر آن کرنے کا اشارہ کیا . . . " کب سے ڈھونڈ رہی ہو تجھے . . . . چوت میں کجلی ہو رہی ہے . . . کہاں ہو تم . . . . " " واہ . . . . " میں نےدھیرے سے کہا اور سب کو اشارہ کیا کی کوئی نہیں ہنسے . . . . . " میں ، گراؤنڈ میں ہوں . . . . " کاشف میری طرف دیکھتے ہوئے سمیرہ سے بولا " یہی آ جاؤ . . . " " اسی گراؤنڈ پر نہ جہاں کچھ دن پہلے ہم نے فرسٹ ایئر كے ایک لڑکے کو مارا تھا. . . . " موبائل کا لوڈ سیپکر اب بھی آن تھا اور میں سب کچھ سن رہا تھا ، " آجا کمینی ، تو آجا ایک بار " میں نے خود سے کہا. . . . " ہاں ، اسی گراؤنڈمیں ہوں . . . " " یہاں میری چوت جلی جا رہی ہے اور تم وہاں کیا کر رہے ہو . . . . تم نے تو کہا تھا کہ بریک ٹائم میں بائیک اسٹینڈ پر ملنا ، اور جب میں وہاں پہنچی تو نہ تو تم وہاں تھے اور نہ ہی تمہارا کوئی دوست . . . . " " تو اپنی چوت میں انگلی ڈال اور سیدھے گراؤنڈ پہنچ . . . ورنہ اگلی بار بہت بری طرح گانڈ ماروں گا . . . . سمجھی " " اوکے ، میں ابھی آئی . . . کنڈم ہے نہ اِس بار ، یاد ہے آخری بار بہت پروبلم ہوئی تھی . . . " " سب ہے ، تو آجا جلدی سے . . . " " فلیور کون سا ہے ، آئی لائک اسٹرابیری کنڈم . . . . " کاشف نے اپنا سَر پٹخ کر کال بند کر دی اور پھر میری طرف دیکھنے لگا ، جانے اسے ایسا کیوں لگنے لگا کہ میں اسے اور اس کی محبوبہ کو وہاں سے سہی سلامت جانے دوں گا . . . . ہم میں سے سب سینیرز وہاں سے چلے گئے اور گراؤنڈ میں اس وقت فرسٹ ایئر كے بیس یا پچیس لڑکے موجود تھے . . . . ہم سب مختلف جگہوں پر چھپ گئے تھے اور کاشف کو دوبارہ سے پُش اپ کرنے كے لیے بول دیا اور اسے یہ بھی کہا کہ اگر وہ اِس دوران ایک بار بھی روکا تو ہم سب اسے پاگل کتا سمجھ کر اس پر پتھر برسانا شروع کر دیں گے . . . . "کاشف . . یہ کیا ؟ " اپنی اسکوٹی سے اتر کر سمیرہ ، کاشف کی طرف بھاگی اور اسی دوران میں باہر نکلا اور کاشف كے پاس کھڑے ہوگیا . . . . . " تم نے سہی کہا سارہ، کسی بھی چلتے پھرتے كے منہ تو لگنا بھی نہیں چاہئیے اور تم یہ بتاؤ کہ تم یہاں کیا کر رہی ہو . . . " " فارم لینے کے لئے کھڑی ہوں " " یہ سب ان جیسوں كے لیے ہے ، تم سیدھا درانی صاحب کا نام لے کر اندر جا سکتی تھی . . . . " لڑنے كے موڈ میں تو میں بھی تھا لیکن لائن تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی تھی اس لئے مجھے آگے جانا پڑا اور ویسے بھی سردار نے حد میں رہنے كے لیے کہا تھا اور جب فارم لیکر باہر نکلا تو صغیر اور سارہ وہی کونے میں کھڑے بات کر رہے تھے ، کچھ لمحے كے لیے میں وہی کھڑا ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر اپنا کلیجہ جلاتا رہا اور جب دیکھ دیکھ کر اکتا گیا تو میں نے وہاں سے جانا ہی بہتر سمجھا . . . . . . . " باہر ، باہر بالکل باہر ، . . . " راحیلہ رانی نے میری اندر آنے کی اجازت لینے سے پہلے ہی باہر رہنے كے لیے کہہ دیا . . . " میم ، فارم لینے گیا تھا ، آج آخری تاریخ تھی . . . " اپنے ہاتھ میں رکھے فارم کو دکھاتے ہوئے میں نے کہا " تو میں کیا کروں . . . ایسے کرو گے تو کیسے پڑھو گے . . . " " آخری بار میم ، سوری . . . " " آ جاؤ اندر . . . " " شکریہ میم " " اگلے ہفتے تم لوگوں کا ٹیسٹ ہے . . . " میں ابھی اپنی سیٹ پر آ کر ٹھیک طرح سے بیٹھ بھی نہیں پایا تھا کہ راحیلہ رانی نے کہا ، اور جسے سن کر میں چونک گیا . . . . " باقی ٹیچرز تو بتاتے بھی نہیں ، لیکن میں بتا رہی ہوں ، مجھے میرے سبجیکٹ میں بیس نمبر مکمل چاہئے . . . " " جی میم . . . " صرف دو اسٹوڈنٹ کو چھوڑ کر ، سب نے یہ کہا ، ایک تو یقینً میں تھا اور دوسرا کوئی اور نہیں میرا خاص دوست تھا . . . . " کیا بولتا ہے ، آ جائینگے تیرے بیس نمبر . . . " " مجھے تو ٹاپک تک نہیں پتہ کہ یہ پڑھا کیا رہی ہے اور ٹیسٹ میں کیا دے گی . . . " " کمینی گلا کاٹ كر رکھ دے گی اور بولے گی ایسے کروگے تو کیسے پڑھو گی. . . " " یار ، کچھ ہی دن تو ہوئے ہے کالج آئے ہوئے ، اور ابھی سے ٹیسٹ " بورڈ پر جو ٹاپک لکھا ہوا تھا اسے اپنی نوٹ بک میں چھاپتے ہوئے میں نے کہا . . . . " پریشان نہ ہو، سب ایک رات میں نپٹا لینگے . . . " " اب تو یہی کرنا پڑیگا . . . . " اس دن جتنے بھی ٹیچر آئے سب نے یہی کہا کہ اگلے ہفتے ٹیسٹ ہے اور صرف میں ہی تم لوگ کو یہ بتا رہا / رہی ہوں ، باقی ٹیچرز تو بتانا ہی نہیں چاھتے . . . . بریک ٹائم میں بھوک لگی تو میں اور اظہر کینٹین کی طرف چلے پڑے یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہاں شہر میں رہنے والے سینیرز کی اچھی خاصی تعداد ھوگی ، . . . " اگر کچھ مسلہ ہوا تو . . . " کینٹین میں داخل ہوتے ہی میں نے اظہر سے کہا " ہاسٹل والے سینیر کا نمبر ہے نہ تیرے پاس . . . " " ہاں ہے نہ ڈر مت . . . . " ایک ٹیبل پر جا کر میں اور اظہر بیٹھ گئے ، " وہ دیکھ تیری سپنوں کی رانی اپنے سپنوں كے راجہ كے ساتھ اس ٹیبل پر بیٹھ کر فیملی پلاننگ کر رہی ہے . . . " " کون سارہ . . . " " ہاں یار ، . . . " میں نے پیچھے موڑ کر دیکھا ، سچ میں سارہ وہاں تھی لیکن اس کے ساتھ صغیر بھی تھا ، . . . " وہ ادھر ہی آ رہا ہے . . . " جب میں دوبارہ موڑ کر اپنا پیٹ بھرنے لگا ، تب اظہر نے کہا " چل بھاگ لیتے ہے ، ورنہ کمینہ بہت مارے گا . " ابے روک ، کہی مت جاے گے . . . " میں نے اظہر کا ہاتھ پکڑ لیا اور تب تک صغیر بھی جس ٹیبل پر ہم بیٹھے تھے وہاں آ گیا . . . . صغیر ہمارے پاس آیا اور ایک کرسی کھینچ کر اس پر بیٹھ گیا ، صغیر كے بیٹھنے كے بَعْد میری نظر سب سے پہلے سارہ پر گئی ، میں دیکھنا چاہتا تھا کہ سارہ کے تاثرات کیا ہے اور میں نے دیکھا کہ صغیر کی اِس حرکت سے وہ پریشان تھی ، وہ اپنے دانتوں سے ہونٹوں کو دبا رہی تھی ، اس کی آنکھوں میں پریشانی کا وہی سبب تھا ، جس کا میں دیوانہ تھا ، اپنے خیالاوں میں میں اپنی جگہ سے اٹھا اور سارہ كے ہونٹوں پر کس کرکے بولا کہ "پریشان مت ہو ، سب ٹھیک ہے . . . " " اُدھر کیا دیکھ رہا ہے ، ادھر دیکھ . . . " صغیر نے میرا سَر پکڑ کر اپنی طرف کیا " کیا نام بتایا تھا تو نے اپنا . . . " " یہی سوال جا کر اپنے استاد کاشف سے کر ، وہ اچھے طریقے سے میرا نام اور تفصیل بتائے گا . . . . " " تو کالج كے باہر ہاسٹل والوں کے ساتھ مل کر کسی کو بھی پٹوا سکتا ہے ، لیکن یہ کالج ہے ، . . . " کینٹین كے باقی اسٹوڈنٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صغیر مجھ سے کہا " یہ سب جو بیٹھے ہے نہ ، یہ تجھے اس وقت سے گھور رہے ہے ، جب سے تو یہاں آیا ہے . . . " " تم لوگ صرف گھور سکتے ہو ، جو کرنا ہے وہ تو میں ہی کروں گا ، اگر تم میں سے کسی نے ہاتھ بھی لگایا تو ایک ایک کو لے جا کر اسی گراؤنڈ میں ماروں گا ، جہاں کاشف اور اس کے دوستوں کو مارا تھا اور پھر ان کی معشوقوں کو بلا کر جنگل لے جاؤں گا اور پھر جنگل میں منگل کروں گا " " تو یہ کہنا چاہتا ہے کہ تو پہلے مجھے مارے گا اور پھر سارہ كے ساتھ جنگل میں منگل . . . " تب تک اظہر بھی جوش میں آ گیا اس نے صغیر کی طرف غصے سے دیکھا اور کہا " ہمارے ہاسٹل میں کچھ لونڈے باز ٹائپ کے لڑکے بھی ہے ، جو تیرے ساتھ بھی جنگل میں منگل کرینگے ، سمجھا . . . . " " آ جاؤ ، مرغا پھنس گیا ہے . . . بس حلال کرنے کی دیر ہے . . . " صغیر نے وہاں بیٹھے ہوئے سینیر اسٹوڈنٹ کو اشارہ کرتے ہوئے کہا اور اس کا اشارہ پا کر پندرہ بیس لڑکوں نے اس ٹیبل کو گھیر لیا جہاں پر اِس وقت ہم تینوں بیٹھے تھے . . . . " سارہ کو یہاں سے بھیج دے . . . " " کیوں ؟ لڑکیوں كے سامنے مار کھانے سے ڈرتا ہے . . . " صغیر چلا کر بولا . . . میں نے دیکھا کہ کینٹین کا گیٹ صغیر كے کہنے پر پہلے ہی بند ہو گیا تھا ، اور کالج کی بِلڈنگ سے کینٹین اٹیچ بھی نہیں تھا ، اس لئے کالج اسٹاف وہاں دیر سے ہی آتا ، اتنے سارے لڑکوں کو اپنے پاس دیکھ کر کوئی بھی گھبرا سکتا تھا ، میں بھی ڈر گیا . . . لیکن صغیر سے میں ایسے بات کر رہا تھا جیسے مجھے کوئی فرق ہی نہ پڑ رہا ہو . . . .
×
×
  • Create New...