Jump to content
URDU FUN CLUB

Haider514

Active Members
  • Content Count

    15
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    2

Haider514 last won the day on April 24

Haider514 had the most liked content!

Community Reputation

48

Profile Information

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. مجھ سے اس وقت کوئی کچھ اور پوچھتا تو شاید میں نہیں بتا پتہ ، لیکن میرے کالج میں بیتے لمحات مجھے اِس طرح یاد تھے کہ رات بارہ بجے بھی کوئی اٹھا كے پوچھے تو میں اسے بتا دوں . . . . اس دن کینٹین کی حرکت نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ، اظہر بھی چُپ بیٹھا ہوا تھا ، میں بری طرح غصے میں تھا ، اور جب کینٹین والا ہمارا آرڈر لیکر آیا تو میں نے بولا . . . " اب تو ہی کھا اسے . . . " میں وہاں سے غصے میں اٹھا اور کینٹین سے باہر آ گیا ، اظہر بھی پیچھے پیچھے تھا . . . " ارمان ، رک نہ یار ، . . . " اظہر بھاگ کر میرے سامنے کھڑا ہو گیا اور مجھے روک کر بولا " بھول جا . . . " " اس لڑکی کا کیا نام ہے ، بتا کمینی کو چود كر آتا ہوں . . . " " اس کا نام تو مجھے بھی نہیں معلوم . . . " یہ بولتے بولتے اظہر نے مجھے گلے لگا لیا ، پتہ نہیں کمینے میں کیا جادو تھا کہ میرا غصہ ٹھنڈہ ہونے لگا . . . . " دور ہٹ ، میں لونڈے باز نہیں ہوں . . . " جب میرا غصہ پوری طرح ٹھنڈا ہوگیا تو میں نے کہا . . . " ایک بات بتا ، تجھے کاشف كے ساتھ والی لڑکی اچھی لگی نہ . . . " مجھ سے الگ ہوتے ہوئے اظہر نے مجھ سے پوچھا . . . " اچھی تو ہے ، اس لیے تو اس کا نام پوچھا " " تو بھائی ، اسے بھول جا ، ورنہ کاشف ننگا کرکے بھگائے گا. . . " " وہ اتنی بھی خوبصورت نہیں ہے کہ میں اس کے لیے پورے کالج میں ننگا بھاگوں. . . ابھی صرف سحرش میڈم کی طرف اپنی توجہ دینی ہے " اس کے بَعْد ہم دونوں اپنی کلاس کی طرف آئے ، فرسٹ ایئر کی ساری کلاسس آس پاس ہی تھی ، اس لئے بریک ٹائم میں ہر سبجیکٹ کی لڑکیوں کو لائن مارا جا سکتا تھا . . . . ہم دونوں اپنی کلاس كے باہر کھڑے اسٹوڈنٹ كے پاس جا کر کھڑے ہو گئے ، جہاں گروپ بنا کر کچھ لڑکے باتیں کر رہے تھے اور جیسا کہ میں نے سوچا تھا ٹاپک لڑکیوں پر ہی تھا . . . . . " کہاں گئے تھے یار . . . " شوکت نے ہم دونوں سے ہاتھ ملایا اور پوچھا . . . " کینٹین . . . " اظہر نے جواب دیا . . . " کینٹین " اس کی آنکھیں نا جانے کتنی بڑی ہوگئی یہ جان کر جب اس نے سنا کہ ہم دونوں کینٹین سے ہو کر آئے ہے . . . . " کیا ہوا . . . " اس کی بڑی بڑی آنکھوں کو دیکھ کر میں نے پوچھا . . . " تنظیم سازی ہوئی ، تم دونوں کی . . . " تنظیم سازی . . . . یہ سن کر میں اور اظہر ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھاکنے لگے اور سوچنے لگے کہ اسے کیا بولا جائے . . . " نہیں . . . کسی نے تنظیم سازی نہیں کی . . . " " آج تو بچ گئے ، لیکن کل سے اُدھر مت جانا ، سینیرز ڈیرہ ڈال كے رہتے ہے اُدھر . . . . " " تو کیا ہوا ، پھٹتی ہے کیا . . . " یہ لفظ میں نے ایسے کہا ، جیسے کچھ دیر پہلے کاشف کی اس بچی نے نہیں بلکہ میں نے اس کے چہرے پر سموسہ ڈَلا ہو . . . . . " دیکھو بھائی ، مشورہ دینا میرا کام تھا . . . " شوکت بولا " ویسے اور کہاں کہاں یہ سینیرز ڈھوندتے ہے ہمیں . . . " " تِین جگہ پکی ہے ، پہلی کینٹین ، دوسری بس اسٹاپ اور تیسرا ہاسٹل . . . . " ہم اِس مسئلے پر کچھ دیر اور بھی بات کرتے لیکن اس سے پہلے ہی وہاں کھڑے لڑکوں میں سے کسی ایک نے ٹاپک کو چینج کرکے ، اپنے کالج کی حسیناؤں پر ٹاپک شروع کر دیا . . . . . اور اِس معاملے میں سب سے پہلا نام جو آیا وہ تھا سحرش میڈم ، . . . سب یہی چاہ رہے تھے کہ سحرش میڈم ان سے سیٹ ہو جائے ، کچھ ٹھرکیوں نے تو یہ تک بول دیا تھا کہ. . . " آج کالج سے جانے كے بَعْد سحرش میڈم کی نام کی مٹھ بھی ماریں گیں " تو بھی بول لے کچھ . . . " کاشف نے مجھے کونی ماری . . . . " میں تو اس وقت کاشف کی بچی کو چودونگا ، وہ بھی گھوڑی بنا کر . . . " " کاشف. . . " یہ نام سن کر سب چُپ ہوکر میری طرف دیکھنے لگے ، . . وہ سب مجھے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے کہ میں نے کسی کا قتل کرنے کا سرعام اعلان کر دیا ہو . . . . " میں نے تو ایسے ہی بول دیا . . . " میں نے بات وہی ختم کرنی چاہی . . . " یار ، ایسے مت بولا کر ، کہی سے کاشف کو پتا چل گیا تو پھر پنگا ہو جائیگا . . . " شوکت کی باتیں سن کر میں نے چاروں طرف دیکھا اور جب کنفرم ہو گیا کہ ، ہمارے گپ شپ کو کسی نے نہیں سنا تو میں نے بولا . . . " ڈرتا ہوں کیا ، " " دیکھ ، زیادہ شیر مت بن، ورنہ پول کھل جاے گا . . . " اظہر نے میرے کان میں سرگوشی کی. . . . کچھ دیر اور کالج کی لڑکیوں كے بارے میں باتیں کرتے ہوئے ، ہم نے اپنا وقت برباد کیا اور اسی دوران مجھے اور بھی بہت ساری باتیں معلوم ہوئی جو کہ ہمارے کالج میں برسوں سے چلی آ رہی تھی . . . . 1 . جب تم فرسٹ ایئر میں ہو ، تب ہی کوئی بچی پٹا لو ، ورنہ پورے چار سال خالی ہاتھ سے کام چلانا پڑیگا اور ہونٹ پر لڑکی كے ہونٹ کی جگہ ٹیپ سولیشن لگا کر رہنا پڑیگا . . . . " 2 . ہمارا کالج گورنمنٹ تھا ، اس لئے کالج كے پِرِنْسِپل اور ٹیچرز کو بھلے ہی ریسپیکٹ نہ دو ، لیکن وہاں کام کرنے والے ورکر اور پوئن کو سر کہہ کر بُلانا پڑیگا ، تاکہ وقت آنے پر وہ ہمیں لمبی لائن سے بچا سکے . . . . اس دن ایک اور ضروری بات جو پتا چلی وہ یہ تھی کہ . . . . . جب بھی کوئی لڑکی پٹاؤ تو اسے جلدی چود دو ، ہمارے کالج میں پڑھنے والوں کو منع تھا کہ گرل فرینڈ کو چودنے كے بَعْد لڑکیاں ، لڑکوں سے کسی لمبے عرصے کے لئے باندھ جاتی ہے ویسے ہرگز نہیں کرنا . . . . اس دن اور بھی کچھ پتا چلتا لیکن میتھ میٹکس والی میم نہ آتی تو . . . . " کتنی باتیں کرتے ہو تم لوگ ، پورے ہال میں تم لوگوں کی آوازیں آ رہی ہے . . . " سامنے والی بینچ پر اپنا بیگ رکھ کر میتھس والی میم نے بولا. . . . میتھس والی میم کا نام راحیلہ تھا ، جو بَعْد میں ہمارے یہاں " راحیلہ رانی " كے نام سے مشہور ہوئی کالج کا پہلا دن کسی بھی حساب سے میرے لیے ٹھیک نہیں رہا ، پہلے پہل تو سی ایس والی سحرش میڈم نے مجھے باہر بھاگا دیا اور بَعْد میں کینٹین والا مسلہ . . . . . کالج كے پورے پیریڈز اٹینڈ کرنے كے بَعْد ایسا لگ رہا تھا ، جیسے کسی نے ساری طاقت چوس لی ہو ، . . . " تھک گیا یار . . . " روم میں گھوستے ہی میں نے اپنا بیگ ایک طرف پھیکا اور بستر پر لیٹ گیا ، " چل گراؤنڈ چلتے ہے ، شام كے وقت ہاسٹل میں رہنے والی گرلز آتی ہے اُدھر . . . . .
  2. میں وہاب احمد خان ایک ڈاکٹر ہوں ایک مسیحا جس کا کام بیماروں کو شفاء دینا اور ان کے درد کی دوا دینا ہے لیکن آپ کسی غلط فہمی نہ رہے میی ایک مسیحا کی کسی بھی تعریف پر پورا نہیں اترتا کیوں ؟ اِس کی پیچھے بہت سی وجوہات ہے بچپن کی محرومی احساس کمتری غربت معاشرے میں اپنے بے حیثیت بنے کا احساس . کچھ بھی سمجھ لیں لیکن اپنی فطرت کی سہی وجوہات تو میں بھی نہیں جانتا بس میں ایسا ہی ہوں مجھ کو ایسا ہی بنایا گیا ہے میرا تعلق کراچی کے ایک مڈل کلاس بلکہ یوں کہیں کہ لوور مڈل کلاس گھرانے سے ہے گھر میں ماں باپ اور میں ہوں ماں باپ حیات ہیں اور خوش ہیں کہ ان کا بیٹا ایک ڈاکٹر ہے اچھا کام کر رہا ہے نیکیاں کما رہا ہے اور اپنے ساتھ ساتھ ان کی بھی آخرت سنوار رہا ہے میرے ابو ایک معمولی جاب کرتے تھے میی نے معمولی اسکولز میں اپنی تعلیم حاصل کی معمولی كھانا ہم کھاتے تھیں معمولی سے گھر میں رہتے تھیں بس بہت ہی معمولی لوگ تھے ہم اور اسی معمولی لفظ سے نفرت ہے مجھے میں جلتا تھا اپنے آپ کو دیکھ کر زندگی کی چھوٹی سی چھوٹی خوشی کی لیے ترس جاتا تھا لیکن میرا باپ . نہ جانے کس مٹی سے بنایا تھا قدرت نےاسے ایک اطمیان ان کے چہرے پر ہر لمحہ رہتا تھا آج میری سمجھ میں آتا ہے ایسا کیوں تھا ان کا ضمیر بہت مطمئن تھا ان کے پاس سکون کی دولت تھی جو آج کے دور میں بہت انمول چیز تھی اور اس دولت کی قدر آج مجھ کو معلوم ہے آج میں اپنی ضمیر کی خلش کی ہاتھوں مجبور ہو کر اپنی زندگی کے یہ چند بہت اہم راز آپ کی سامنے کھول رہا ہوں کیوں کر رہا ہوں نہیں جانتا بس دِل پر بہت بوجھ ہے دم گھٹتا ہوا سا محسوس ہوتا ہے اور یہ راز ایسے ہیں جو کسی سے نہیں کہے جا سکتے تو آج میں آپ سے بیان کر رہا ہوں میری اِس کہانی کو صرف لفظوں کی جادو گری نہ سمجھے جاۓ اور اگر سمجھیں گے تو پِھر آپ احمقوں کی جنت میں اپنا ایک گھر ضرور بنا سکتے ہے یقین کریں تو میں کہہ رہا تھا ہم بہت معمولی لوگ تھیں میرے ابو نے بچپن سے ہی مجھ پر بہت سختی رکھی . وہ مجھے ڈاکٹر بنوانا چاہتے تھے معاشرے کا ایک کارآمد شہری مجھ کو پڑھائی کے سوا کسی طرف دیکھنے کی اِجازَت نہ تھی مجھے یاد ہے جب میں میٹرک پاس کر کے کالج گیا تو کالج کے لڑکوں میں جو نام مشہور تھا وہ کتابی کیڑا کا تھا میری زندگی میں لڑکی نام کی چیز کا کوئی دخل نہ تھا میرے ہم جماعت ہم عمر لڑکے اسی قسم کی سرگرمیوں میں زیادہ مصروف رہا کرتے تھیں ہمارے کالج میں لڑکیوں کی اچھی خاصی تعداد ہوا کرتی تھی اور ہر ایک کا کوئی نہ کوئی چکر تھا سوائے میرے کیوں کہ میں ایک معمولی سا لڑکا تھا جس کے پاس ڈھنگ کے کپڑے تک نہ تھے جس کے پاس عمدہ بیکیس نہیں تھے بس مارکس تھے میری ذہانت تھی جس کی بنا پر اِس کالج میں داخلہ لینے کے قابل ہوا تھا میں ورنہ میں تو یہاں سے گزارنے کے بھی لائق نہ تھا اور یہی احساس مجھ کو ہر دم دلایا جاتا رہا اور دن گزارتے رہے میں نے انٹرمیدیٹ بھی نہایت ہی عمدہ نمبرز سے پاس کیا میرے باپ کی خوشیوں کا ٹھکانا نہ تھا وہ ایک ایک کو پکر کر مٹھائی کھلا رہا تھا میرے مارکس اِس قدر شاندار تھے کہ میڈیکل کالج میں میرا داخلہ ہونا طے تھا اور پِھر کراچی کے ٹوپ کے ایک میڈیکل کالج میں میرٹ پر میرا نام آ ہی گیا آپ تو جانتے ہوں گے کہ کراچی کے ٹاپ کا میڈیکل کالج کیسا ہوگا وہاں جا کر میں اور بھی احساس محرومی کا شکار ہوتا چلا گیا اور معاشرے کی اِس بےانصافی کے خلاف نفرت گہری ہوتی چلی گئی سال پر سال گزارنے لگے میں اپنی بے مثال ذہانت سے ہمیشہ آگے ہی رہا کون تھا جو میرے مقابل تھا کئی لڑکیوں سے میری دوستی بھی ہوگئی میں نے اپنا ہتھیار اپنی ذہانت کو بنا لیا اور طے کر لیا کہ میرے ساتھ ہونے والی ہر نہ انصافی کا حساب میں خود لوں گا اور میں ایک جنسی جنونی بنتا چلا گیا جی ہاں ایک کے بعد ایک لڑکی میری زندگی میں آتی میں اپنے شیطانی دماغ کو استعمال میں لاتا اس کو پھنساتا اور پِھر اس کی ننگے بدن پر بیٹھ کر اپنی فتح کا جشن مناتا نہ جانے کتنی لڑکیاں میں نے انہی سالوں میں برباد کر ڈالی لیکن کوئی کچھ نہیں بولا کوئی طوفان نہیں آتا اور میں شیر ہوتا گیا یہ سوچے بغیر کے یہ تو ایک ڈھیل ہے جو قدرت کی طرف سے بندے کو دی جاتی ہے میی جوانیوں کو ڑوندتا رہا میرے ہاتھوں برباد ہونے والی کئی لڑکیاں پریگننٹ ہونے کے بعد میرے آگے گرگرائیں روئی کئی ایک نے زہر کھا کر خودکشی کی کوشش بھی کی لیکن میں تو پتھر تھا جس پر جذبات اثر نہیں کرتے اور آپ جانتے ہیں کراچی کے میڈیکل کالج کا ماحول میرا بہترین معاون تھا جی ہاں وہاں لڑکوں اور لڑکیوں میں کوئی پردہ نہ تھا اناتومی کی کلاس ہو تو ہر لڑکا کسی نہ کسی لڑکی کی طرف دیکھتا نظر آتا اناتومی میں جب کسی عورت کے جسم کی بارے میں بتایا جاتا اور اس کے پوشیدہ حصے ہمارے سامنے کھلے اور چیرے پڑے رہتے تو بھلا وہاں موجود زندہ لڑکیوں کا کپڑوں میں ہونا ، کیا معنی رکھتا تھا وہاں سیکس بہت عام تھا ہر لڑکا اور ہر لڑکی ہی سیکس کرتی بہت سی لیسبین سے ملا میں اور بہت سے گے بھی ٹکرائے وہاں کا رواج ہی یہ تھا وہاں کے ماحول میں اگر مجھ جیسا درندہ پل رہا تھا تو اِس میں دکھ کی بات کیا ہمارا نظام ہی ایسا ہے اور انسانی جسم کی سارے فنکشنس سے باخوبی واقفیت رکھنے کے بنا پر وہاں جو لڑکے لڑکیاں سیکس کرتے تو آپ یقین جانئے اگر دن رات چودائیاں مارتے رہتے اور بعد میں اپنے اپنے راستے چل پڑتے اور اس لڑکی کی کسی شریف گھر میں شادی ہو جاتی تو اس کا شوہر ساری زندگی یہ نہیں جان سکتا تھا کہ اس کی بِیوِی کنواری نہیں بلکہ کئی لنڈ اس کی ان چھوئی بِیوِی کی گہرائیاں طے کر چکے ہیں اور یہ محترمہ ان کے برابر میں بڑی معصوم صورت بنا کر صرف اپنے شوہر سے چدائی لگوانے کی دعوے دار بن رہی ہیں یہ کبھی دو ، دو اور تِین ، تِین لڑکوں کو ایک ساتھ فارغ کروایا کرتی تھیں جو تِین لنڈ ایک ساتھ فارغ کرتی تھی جو گانڈ میں چوت میں اور منہ میں لنڈ لیے مزے سے سسکیاں بھرا کرتی تھی اور آج اپنے شریف شوہر کے چھوٹے سے لنڈ سے اتنی تکلیف کا واویلہ کرتی نظر آتیں ہیں کہ شوہر کا سینہ خوشی سے پھول جائے کہ اتنی جان ہے میرے لنڈ میں ، ، ، اور شادی کی پہلی رات تو ایسے ڈرامے کرتی ہیں کہ پوچھو نہ . صبح شوہر بڑی خوشی سے باہر نکلتا کہ پہلی دفعہ کنواری لڑکی کی سیل توڑی ہے خون بھی نکلا خود دیکھا اس نے اور کتنی تڑپ رہی تھی بے چاری تو میرے دوستوں کسی غلط فہمی میں نہ رہے یہ سب میڈیکل سائنس کی معمولی کرشموں کےسوا کچھ نہیں ایسے انجیکشن ہم کو معلوم ہوتے ہیں جو اگر لڑکی کی چوت میں لگاے جائیں تو اندر کا نرم حصہ گرم ہو کر ٹائیٹ ہو جاتا تھا اور کافی گنٹھوں تک رہتا تھا چاہے چوت کتنی ہی کھلی کیوں نہ ہو اور دو لنڈ ایک ساتھ لیا کرتی ہو وہ ایک کنواری لڑکی کی چوت ہی معلوم ہوگی اور خون تو بہت آسان سا طریقہ ہے اس کا ایک چھوٹا سا کیپسول جس میں خون بھرا ہوتا تھا انجیکشن لگا کر چوت کو تنگ کرتے وقت چوت میں رکھ لیا جاتا ہے جو کچھ ہی دیر بعد چوت میں پیدا ہوئی زبردست حرارت سے پھٹ جاتا ہے اور ظاہر ہے اس وقت نئے نئے بنے شوہر صاحب پوری طاقت سے اپنی نئی نویلی دلہن کی بند چوت کو کھولنے میں مصروف ہوتے تب وہ کیپسول پھٹ جاتا ہے اور لنڈ کی ساتھ خون باہر آ جاتا ہے اور شوہر خوش بِیوِی خوش تو یہ ہے دوستوں حقیقت یہ ہے سچائی آپ میں سے بہت سے لوگ چونک جائیں گے سر کجھانے لگیں گے اور بہت سے لوگوں کو یاد آئے گا کہ بِیوِی کی کچھ ہی راتوں بعد چوت کتنی کھل گئی تھی تو میرے دوستوں آپ ٹھیک سوچ رہے ہیں بس آپ کی شریف بیویوں نے انجیکشن لگانے بند کر دیئے تھے اپنی چوت میں اور چوت اپنے اصل حالت میں آپ کے سامنے تھی جس کو آپ سمجھ رہے تھے آپ کی لنڈ نے کھول دی ہے بے چاری کی چوت کا بیڑاغرق کر دیا لیکن دوستوں میں کس پر الزام نہیں لگا رہا اب بھی ان عورتوں کی کمی نہیں جن کی پھدی اصل خون خارج کرتی ہیں . سہاگ رات میں اور کچھ جو خون نہیں خارج کرتی لیکن ان کو کسی مرد نے ہاتھ نہیں لگایا ہوتا زندگی میں پھدی کا خون نہ چھوڑنا بہت سی وجوہات ہو سکتیں ہیں اِس کی یہ کوئی میعار نہیں کنوارے پن کے بات کہاں تھی اور کہاں نکل گئی . ڈاکٹر ہوں نہ تو بس شروع ہوگیا میرے مطلب کا ٹاپک آیا تو میں تو سنا رہا تھا آپ کو اپنے شب روز کا حال میرا میڈیکل میں آخری سال تھا آخر فائنل پیپرز ہوئے اور میں نے بہترین نمبر لیے ہمیشہ کی طرح اور پِھر مجھے گورنمنٹ کی وظیفے پر امریکہ جانا پر گیا اور وہیں میں نے میڈیکل کی اعلی تعلیم حاصل کی 3 سال بعد پاکستان واپس آیا امریکا میں کی گئی عیاشیوں کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں وہاں کیا کچھ کرتے ہیں ہم لوگ جا کر وہ آپ جانتے ہی ہیں خیر اپنے وطن واپس آنے کی بعد گورنمنٹ آف پاکستان کی مینسٹری آف ہیلتھ میں سینیر میڈیکل آفیسر میرا تقرر ہوگیا اور کراچی کی ایک اسپتال میں میں اپنی خدمات انجام دینے لگا وہاں بھی چدائیوں کا بازار گرم تھا بے انتہا مصروف اور بڑے گورنمنٹ اسپتال میں ہونے کے باوجود اسپتال کی کوئی نہ کوئی نرس یا لیڈی ڈاکٹر میرے روم میں اپنی پھدی میرے منہ پر رکھے اچھل رہی ہوتی یا میں اس کی گانڈ پر منہ رکھے اس کی جوانی کا رس ناچوڑ رہا ہوتا اور پِھر ظاہر ہے اس کی ٹانگیں کھل ہی جاتیں میرے لیے اور میرا لنڈ پھدی کی نرم گرم گہرائیوں میں تیزی سے منزل طے کر رہا ہوتا اور پِھر اپنا پانی پھدی میں بھر کر اپنا ٹپکتہ لنڈ کسی کے منہ میں جاتا دیکھتا بس یہی تھے میرے دن اور یہی تھی میری ڈیوٹی پیسہ بھی بہت آ رہا تھا فرما کمپنیاں ہر مہینے کچھ نہ کچھ دیتی ان کی گھٹیا اور غیر معیاری ادویات کو اپروو کرنے اور اسپتال کے مریضوں کو ادویات میں شامل کروانے کے اور میں بس پیسے کما رہا تھا جسموں سے کھیل رہا تھا جوان جسموں کی لذتوں میں گم تھا جوانیوں کی حَسِین سسکاریوں کے سوا میرے کانوں کو کوئی آواز بھاتی ہی نہیں تھی پانی سے بھری گرم پھدی میں تیزی سے آتے جاتے لنڈ کی بھیج بھیج اور دهاپ دهاپ جیسے ایک سرور دیتی تھیں مجھے کسی لڑکی کا منی چھوڑتے وقت کس کر ناخن گار کر مجھ کو پکڑنا بہت پسند تھا مجھے میرا موٹا تازہ لنڈ کسی کے حلق تک پہنچنا شوق تھا میرا میرے لنڈ کی سختی کے آگے کھلی ہوئی چوتوں کو بھی تکلیف سے چیختے دیکھ کر اور چہرے پر تکلیف کا عالم دیکھنا دُنیا کا پرسکون نظارہ تھا میرے لیے اور پِھر زندگی میں ایک تبدیلی آئی میرا تبادلہ ہو گیا ، ، ، ایک دور دراز کے پہاڑی قصبہ میں وہاں پر گورنمنٹ کی کئی ڈسپنسریاں قائم تھی اور ان کا نیٹ ورک کئی قصبوں میں کام کر رہا تھا اور اس نیٹ ورک کا انچارج بنا کر میرا ٹرانسفر وہاں کر دیا گیا تھا میں نے بہت بہت کوشش کی اپنا ٹرانسفر روکوانے کے لیے لیکن مجھ کو جانا ہی پڑا مجھے یاد ہے یہ سن 2000 کے نومبر کی بات ہے جب میں پنجاب کے ایک کافی بلندی پر واقعے اس گاؤں میں پہنچا ٹرین سے پیر نکلتے ہی اندازہ ہو گیا کہ ، میری زندگی کا وہاں کیا کابڑا ہونے والا تھا اسٹیشن دوڑ دوڑ تک سنسان تھا جب کہ ابھی شام کے سات بجے تھے نومبر کا آخری ہفتہ چل رہا تھا وہاں کراچی میں تو موسم نارمل ہی رہتا ہے ہمیشہ لیکن یہاں آ کر ٹھنڈ کی ایک تیز لہر میرے بدن کو چیرتی ہوئی چلی گئی میں نے اپنا جیکٹ پہن کر اس کی جیبوں میں اپنے ہاتھ گھسہ لیے اور اسٹیشن سے باہر کی جانب کو چلا دیا . باہر آ کر میں نے دیکھا یہ ایک پاسماندہ سا قصبہ تھا جس کا اسٹیشن بھی اس کی طرح ہی تھا وہاں مجھ کو ایک بیل گاڑی والا دکھائی دیا میی نے کہا کہاں جا رہے ہو بھائی اس نے میری طرف دیکھا اور بولا " آو باوجی شہر سے آئے ہو " میں نے کہا " ہاں یہاں کے اسپتال کا انچارج بن کر آیا ہوں " وہ خوشی سے بولا " او ہو آپ ہو بارے ڈاکٹر صاحب چالیں جی چالیں آپ کی آنے کی خبر بی بی جی کو مل گئی تھی انہوں نے آپ ہی کو لینے بھیجا تھا مجھے " میں نے حیرت سے پوچھا " بی بی جی " وہ بولا " لو جی آپ جانتے ہی ہوگے . ڈاکٹرانی جی جو اُدھر اسپتال میں بیٹھی ہے … " میں حیریت سے منہ ہلا کر رہ گیا اور سہی بات تو یہی تھی مجھ کو ابھی تک یہاں موجود اسٹاف کی تعداد اور ان کی متعلق کچھ نہیں معلوم تھا میں نے اس سے پوچھا نام کیا ہے تمہارا وہ بولا " کرم دین جی بڑے ڈاکٹر صاحب " میں بولا " یہاں کتنی ڈاکٹرانیاں بیٹھی ہیں " وہ بولا " جی بس ایک ہی ہیں بڑی ڈاکٹرانی صاحبہ… " میں نے حسرت سے منہ ہلایا اور مزید پوچھا اور نرس کتنی ہیں یہاں . وہ بولا " جی نرس تو کوئی نہیں یہ ہوتی کیا ہے صاحب جی ؟ " میں کچھ نہیں بولا پِھر وہ خود ہی بولا " ڈاکٹرانی جی . اپنے خاوند کی ساتھ یہاں اسپتال کے قریب ہی رہتی ہیں " میں چونک گیا " ان کا خاوند بھی ہے " وہ بولا " ہاں جی ان دونوں نے ہی تو آج آپ کو اپنے گھر بولوایا ہے " میں خاموش ہوگیا اور انتظار کرنے لگا دیکھنا تھا یہ ڈاکٹر کون ہے اور کب سے یہاں ہے میرے اندر کا شیطان اب اپنی خورااک مانگ رہا تھا میرے اندر کا جنس زدہ انسان اپنی ہوس پوری کرنے کو زور دے رہا تھا اور میں دور سے گاؤں کے پاس آتے آثار دیکھ رہا تھا رات ہو چلی تھی اندھیرا چھا چکا تھا دور سے لالٹین کی روشنیاں اپنی طرف بڑھتی محسوس ہو رہی تھی گاؤں آ رہا تھا وہ منزل آ رہی تھی جہاں مجھے نامعلوم کب تک رہنا تھا اور جہاں نا معلوم کیا کچھ ہونے والا تھا جہاں کا علم مجھ کو قطعی نہ تھا میں وہاں جا رہا تھا میں چلا جا رہا تھا انجان راہوں کی طرف اس رستے پر جہاں میں کبھی نہیں آیا تھا جہاں ایک ڈاکٹر اپنے شوہر کے ساتھ میری منتظر تھی . شام کا اندھیرا دُنیا کو اپنے اندر سمو چکا تھا اس کچی پکی سڑک پر سفر کرتے ہوئے مجھے شدید تھکن ہونے لگی تھی میرا جِسَم دکھنے لگا تھا راستہ شیطان کی آنْت کی طرح ختم ہونے میں ہی نہیں آ رہا تھا آخر دور بہت دور ہواؤں کی دوش پر مجھے تیرتی روشنیاں نظر آئیں ہم اب بھی کافی دور تھے گاؤں سے آخر خدا خدا کر کے وہ سفر ختم ہوا میری زندگی کا سب سے خوفناک سفر میں امریکہ سے اعلی تعلیم حاصل کرنے والا ڈاکٹر اتنا لمبا سفر ایک دیقیانوسی بیل گاڑی پر طے کر کے آیا تھا واقعی صرف اِس ایک واقعے سے میں اپنی آنے والی زندگی کی مشکلات کا با خوبی اندازہ لگا سکتا تھا جو زندگی میں اِس گاؤں میں گزرنے والا تھا وہ ضعیف العمر شخص مجھے ایک بڑے سے گھر کے سامنے گاڑی سے اتار کر چلا گیا تھا کہ یہی ہے سلطانہ بی بی کا گھر لیڈی ڈاکٹر سلطانہ نہ جانے کیسی ہو گی . میں نے آگے بڑھ کر دروازے پر دستک دی دروازہ فوراً ہی کھل گیا شاید گھر کے مکین منتظر تھے میرے اور میری آنكھوں کی سامنے چاند طلوع ہوگیا وہ بلا شبہ سلطانہ تھی میری سینیئر میڈیکل کالج فیلو اور وہ سیکس کی لیے پورے کالج میں مشہور تھی ہاں میی نے کبھی اس کی ساتھ راتیں نہیں گزاری تھیں تو وہ بھی اِس لیے کی وہ مجھ سے سینیر تھی اور ان دنوں میں بھی بہت مصروف رہا کرتا تھا کالج میں نئے آنے والی کنواری جوانیوں کی پھدی کا کنوارہ پانی پینے میں اور اُنہیں لڑکی سے عورت بنانے میں سلطانہ کا نام سنا تھا اور اس کی سیکس ایکٹیویٹیس کی بارے میں آگہی تھی اور آج وہی سلطانہ ایک دور دراز گاؤں میں میرے سامنے کھڑی تھی وہ آج بھی اتنی ہی حَسِین اور نکھری نکھری سی لگ رہی تھی اس کا دودھ میں دھلا سفید جِسَم پوری آب تاب سے جگمگا رہا تھا اور وہ بھی مجھے بڑی دلچسپی سے دیکھ رہی تھی میی چونک پڑا اور اپنی محویات پر شرمندہ سا ہو کر اس سے حال چال پوچنے لگا اس کا شوہر بھی آ گیا وہ دونوں مجھے اندر لے کر آے اور پِھر باتوں میں مصروف ہو گئے ہم اسی دوران کھانے کا دور بھی چلا پھر ہم لائیونگ روم ٹائپ کے کمرے میں آ کر بیٹھ گئے ہم باتیں کرنے لگیں اسے یاد نہیں تھا کہ میں اس کی ساتھ میڈیکل کالج میں دن گزار چکا ہوں اس نے بھی ذکر نہیں کیا اور نہ ہی میں نے مناسب سمجھا وہ دونوں مجھے گاؤں کی حالت بتا رہے تھیں اس کا شوہر قریب کے ایک گاؤں میں ایک آئل ریفائنری میں انجینئر تھا اس کا زیادہ تر وقت آئل فیلڈ پر ہی گزراتا تھا ہاں ہفتے میں دو دن وہ اپنے گھر یعنی اِس گاؤں میں اپنی بِیوِی کے پاس ضرور گزراتا تھا سلطانہ مجھے گاؤں کی مشکل حالات حکومت کی طرف سے ادویات کی کم ترسیل اور دوسری پِیشہ ورنہ تفصیل سے آگاہ کرنے لگی . لیکن میرا تھکن سے برا حال تھا اور میں ابھی کچھ سننے کے موڈ میں نہیں تھا سلطانہ اِس بات کو بھانپ کر کہنے لگی ڈاکٹر وہاب آپ بہت تھک گئے ہے آپ آرام کر لیں ویسے تو آپ کو حکومت کی طرف سے گھر ملا ہے کل میں اس کو تیار کروا لوں گی آج آپ ہم کو مہمان نوازی کا موقع دیں اور ہمارے ہاں ہی روک جائیں رات کو مجھ کو اور تیمور کو آپ کی مہمان نوازی کر کی بہت خوشی ہوگی میں کچھ نہیں بولا تیمور . مجھے میرے کمرے تک پہنچانے آیا میں نے کمرے میں آ کر دیکھا میرا سارا سامان سلیقے سے رکھا ہوا تھا میں نے کپڑے بھی چینج نہیں کیے بس بستر پر گر پڑا اور کچھ ہی دیر بعد دُنیا جہاں سے بے خبر ہو چکا تھا اگلی صبح اٹھ کر میں نہایا اور باہر نکل کر لیونگ روم میں پہنچا وہاں تیمور میرا منتظر تھا وہ بولا " آئے ڈاکٹر صاحب آپ کو نیند سے جگانا میں نے مناسب نہیں سمجھا سلطانہ تو کلینک جا چکی ہے آپ ناشتہ کر لیں میں آپ کو بھی کلینک پر چھوڑ دیتا ہوں " میں نے خاموشی سے ناشتہ کیا تیمور نے بتایا کہ وہ آج رات ہی اپنی آئل فیلڈ پر چلا جائے گا اب ڈاکٹر آپ سے اگلے ہفتے ملاقات ہوگی کچھ دیر بعد ہم تیمور کی بائیک پر کلینک کی طرف جا رہے تھیں وہاں پہنچ کر تیمور مجھے اندر کی طرف لے چالا کلینیک کیا تھا بس چھے کمروں پر مشتمل ایک عمارت تھی جیس میں ایک کمرہ انچارج کا یعنی میرا . ایک لیڈی ڈاکٹر کا ایک برائے نام آپْریشَن تھیٹر اور باقی کمرے خالی ہی تھے نہ جانے ان کمروں کی کیا مصروفیت تھی وہاں اِس وقت مریض بھرے ہوئے تھے اِس کلینک میں ایک لیڈی ڈاکٹر یعنی سلطانہ ایک میں اور اِس کی علاوہ دو ڈاکٹرز اور تھے جو ابھی تک یہاں تعینات نہیں کیے گئے تھے اور ہماری حکومت کے نام نہاد صحت عامہ كے دعووں کا منہ بولتا ثبوت تھے یعنی اِس وقت یہاں میرے سوا ایک ہی ایکٹنگ لیڈی ڈاکٹر موجود تھی جو اِس بڑے قصبے کی ضروتوں کے لحاظ سے بہت کم تھی ہم دونوں بھلا کیا کر سکتے تھے اور پِھر دواؤں کی قلت اور اوپر سے جدید آلات کی قلت جان بچانے والی ادویات کی قلت . بس قلت ہی قلت تھی یہاں تو میں نے وہاں موجود مریضوں کو دیکھا گاؤں کے غریب لوگ جو نہ جانے کتنی حسرتیں لے کر نہ جانے کیا کیا آس لے کر یہاں آئے تھے ان میں زیادہ تر تعداد عورتوں کی تھی پریگنٹ یا بچے کی خواہش مند عورتیں ایک تو ہمارا یہ بڑا پروبلم ہے . ہمارے ہاں جو جتنا غریب ہوتا ہے وہ اولاد اتنی ہی فروانی سے پیدا کرتا ہے شاید غریب کی لیے ایک یہی تفریح ہوتی ہے یعنی بس بِیوِی کی گرم پھدی جو کے تھوڑے سے خرچے کے بعد ساری عمر اسے فری ملتی ہے اور پِھر ہر سال بچے اگلتی رہتی ہے یہاں ایک این جی او کی طرف سے بورڈ بھی لگایا گیا تھا برتھ کنٹرول کا اس کی ساری ضروری چیزیں اور مزید تفصیلات وہی این جی او ہمیں فرہم کرتی تھی اس وجہ سے کچھ تعداد ایسے لوگوں کی بھی تھی جو برتھ کنٹرول کی لیے آئے تھے اور جنرل بیماریوں میں موبتیلا مریض تو تھے ہی اور اب میں اِس جنجال پورے کا انچارج تھا مجھ کو دیکھ کر سلطانہ اپنے روم سے اٹھ آئی اور وہاں موجود لوگوں سے میرا تعارف کروایا پِھر مجھے میرے روم تک لے گئی میں وہاں موجود فائلز سے سر کھپانے لگا دوپہر کے بعد سلطانہ بھی فارغ ہو کر میرے روم میں آ گئی اس نے مجھے مزید بتایا کہ وہ یہاں عورتوں کی ڈلیوری بھی کرواتی ہے اس نے دو دائیاں( مڈ وائف ) رکھیں ہوئیں تھی جن کی مدد سے وہ ڈلیوری کرواتی تھی وہ سہی معنوں میں اِس گاؤں میں لوگوں کی خدمت کر رہی تھی شام ہوئی تو آ کر کہنے لگی میں نے آپ کا گھر صاف کروا کر اسے سیٹ کروا دیا ہے آپ وہاں آرام کر سکتے ہے ہاں رات کا كھانا آپ میرے ہاں کھائے گے تیمور تو ہے نہیں آپ ضرور آئیں گا باقی باتیں رات کی کھانے پر ہی ہوں گی یہ کہہ کر وہ چلی گئی اور میں اٹھ کر کلینک سے کچھ دور واقعہ اپنے گھر کی طرف بڑھ گیا جو حکومت نے مجھے دیا تھا تین کمروں پر مشتمل ایک گھر تھا وہ جس میں ایک باتْھ روم اور ایک کچن تھا کھانا وغیرہ پکانے کے لیے حکومت کی طرف سے ایک باورچی بھی تھا جو وہاں پہلے سے ہی تعینات تھا وہ اسی گاؤں کا باشندہ تھا وہ اور اس کی بِیوِی پورے گھر کی دیکھ بھال کرتے تھے مجھے دیکھ کر دونوں خوش ہوے اور کھانے کے بارے میں پوچھنے لگے میں نے انہیں کہا کہ آج تو میں ڈاکٹر سلطانہ سے وعدہ کر آیا ہوں کل سے تم لوگ كھانا بنا دیا کرنا اِس وقت تک . وہ دونوں چلے گئے اور میں کمرے میں آنے کی بعد نہا دھو کر تیار ہوا . سلطانہ کے گھر جانے کے لئے میں پیدل چلتا ہوا سلطانہ کے گھر کی جانب بڑھا سردی بڑھتی جا رہی تھی گھر کے پاس پہنچ کر میں نے دروازے پر دستک دی کچھ دیر بعد سلطانہ نظر آئی بےحد حَسِین لگ رہی تھی ابھی تک اس نے کپڑے چینج نہیں کیے تھے وہ اپنا گاؤن تک پہنے ہوئے تھی میی نے بولا سلطانہ آپ نے ابھی تک چینج تک نہیں کیا وہ بولی ڈاکٹر میں آتے ہی کھانے کی انتظام میں لگ گئی . کہیں ایسا نہ ہو جائے کی آپ آجائیں اور كھانا نہ تیار ہو سکے میں سر ہلاتا اندر کی طرف بڑھ گیا اس نے كھانا بہت اچھا بنایا تھا میں نے کھانے کی تعریف کی کھانا کھا کر ہم لائیونگ روم میں جا بیٹھے اور پِھر میڈیکل کالج کی باتیں شروع ہوگئی وہ یہ جان کر حیرت زدہ رہ گئی کی میں نے بھی اسی کالج سے ایم بی بی ایس کیا تھا جہاں سے اس نے کیا تھا کہنے لگی حیرت ہے میں نے تمہیں دیکھا کیوں نہیں میں نے کہا کیوں کہ ڈاکٹر صاحبہ آپ مجھ سے سینیر تھی ویسے میں آپ کو جانتا تھا میی پہلی ہی نظر میں آپ کو پہچان گیا تھا وہ خوفزدہ نظروں سے مجھے دیکھنے لگی تم جانتے ہو مجھے ؟ میں نے مسکراتے ہوئے کہا . " ہاں ڈاکٹر صاحبہ میں آپ کو پہچان گیا تھا آپ ڈرے نہیں میں میڈیکل کالج کے راز کسی سے نہیں کہوں گا " وہ بولی " کون سے راز… ؟ " میں بولا " ڈریں قدرت سے آپ ذیادتی کر رہی ہیں بھائی میں اور آپ دونوں جانتے ہیں کہ میڈیکل کالج میں زندگی کو کیسے انجوئے کرتے ہیں آپ نے وہی کیا جو سب کرتے ہیں اور میں نے بھی بہتی گنگا سے خوب ہاتھ دھویں… " وہ ہنس پڑی ایک دام " اوہ ڈاکٹر وہاب تو آپ بھی میی تو آپ کو پہلی نظر میں بہت شریف سمجھی تھی " میں نے کہا " شریف تو میں ہوں لیکن عورت کی معاملے میں شرافت کی تعریف وہ نہیں بلکہ عورت کی معاملے میں شرافت کی تعریف اس کو پوری طرح سے مطمئن کرنا ہوتا ہے " میں نے پِھر کہا " ڈاکٹر صاحبہ کہی وہ شغل اب بھی جاری ہے یا شادی کے بعد چھور دیا سب" اب وہ کھل کر بات کرنے پر مجبور تھی کہنے لگی " نہیں وہاب یہ ایسا نشہ ہے کہ ایک مرد سے اب گزارا ہی نہیں ہوتا لیکن کیا کروں یہاں بہت عزت ہے میری ہر ایک سے تو کہنے سے رہی کہ میری پیاس بُجھا دو ہاں کبھی وہ فارما سے ڈلیوری دینے آتا ہے اس سے کچھ مزہ کر لیتی ہوں یا جب دواؤں کے لیے شہر جانا پر جاتا ہے تو کچھ پُرانے دوست ہیں وہاں " اب میری باری تھی اگر اب بھی میں نہیں کہتا تو مجھ سے بڑا بیوقوف کون ہوگا بھلا لوہا گرم تھا بس ایک چوٹ کی دیر رہی میں بولا " تو ڈاکٹر صاحبہ مجھ سے دوستی کریں گی آپ " وہ حیران رہ گئی " ڈاکٹر وہاب آپ … " " اگر تیمور کو پتہ چل گیا تو ؟ " میں بولا " ڈاکٹر سلطانہ کے شوہر کو سہاگ رات میں کچھ پتہ چلا تھا جو اب پتہ چلے گا " وہ ہنسنے لگی شرمائی سی مسکراہٹ جس میں ہاں کا ایک جدا ہی انداز تھا جس میں دعوت تھی جس میں خود سپردگی تھی جس میں ادائیں تھی اور میں کوئی نیا نہیں تھا ان اداؤں کو خوب پہنچانتا تھا عورت کب کیا چاہتی ہے اِس کا بہت تجربہ تھا مجھے میں نے آگے بڑھ کر اس كے لرزتے گرم ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے اور اس نے میرا ساتھ دیا بہت دیر تک ہم ایک دوسرے کے لبوں کو چوستے رہے پِھر وہ الگ ہوتے ہوئے بولی چلے بیڈروم میں چلتے ہیں اور میں خوش ہوگیا بھلا کسے پتہ تھا اِس گاؤں میں بھی کیا میری ہوس مجھے کہاں بخشنے والی تھی میی اس کی پیچھے پیچھے بیڈروم میں پہنچا اور پِھر دوستوں بھوکوں کی طرح اس کی جِسَم پر ٹوٹ پڑا . اس کا جِسَم دباتا رہا اور لب چوستا رہا اور پِھر اس کی قمیض کو اس کی مموں تک اٹھا دیا اور کیا نظارہ تھا میرے سامنے خوبصورت ریشمی گلابی نپلز سے سجے ہوے جن کی گولائیاں مکمل تھی جن کی خوبصورتی پر پوری غزل لکھی جا سکتی تھی اس کی دو حَسِین ممے اور کیا ممے تھے وہ دوستوں آپ یقین کریں ایک دوسرے سے دور جاتے ہوے جن کو بریزیئر کے ذریعہ زبردستی باندھ دیا گیا تھا اور جب وہ آزاد ہوئے تھے تو سرکاشی پر آمادہ تھے ان دونوں کی بیچ کی مانگ اِس قدر ریشمی تھی کہ ہاتھ جمانا مشکل تھا اور آپ جانتے ہیں پھر کون بھلا ان کو منہ میں لے کر چوسنے سے انکاری ہو سکتا تھا میں انتہائی سرور سے ان حسین نپلز کو منہ میں لیے ایک کے بعد ایک چوستا رہا اور اس کی سانسیں بوجھل ہونے لگی وہ میرا سر سہلا رہی تھی اپنے سینے سے میرے منہ کو اور چپکا رہی تھی ٹانگیں بار بار کھول کر مجھے دعوت اڑانے کی راہ دکھا رہی تھی لیکن ابھی میں اس کی مموں سے کچھ دیر اور کھیلنا چاہتا تھا میں کافی دیر تک اس کی مموں کو چوستا رہا پھر اس کی شلوار اتارنا شروع کی جو پھدی سے نکلنے والے پانی کی وجہ سے پھدی سے چپکی ہوئی تھی شلوار اتار کر میں تھوڑی دیر کی لیے ساکت ہوگیا کیا حَسِین چیز ملی ہے عورت کو فطرت کی طرف سے یہی ہے وہ چیز جس کی پیچھے دُنیا کی تاریخ میں عظیم شان جنگیں لڑی گئی یہی وہ چوت ہے جس کے بل پر قیلوپیترا نے پورے ایجپٹ پر حکومت کی رومانس بادشاوں کو اپنا غلام بنا رکھا اوجوستوس ، جولییس سییزوور اور نا جانے کتنے ایسی ہی ایک حَسِین پھدی کی غلامی کرتے ہمیں تاریخ میں جا بجا نظر آتے ہیں اور عورت کی چوت کی یہ ابھاکاریاں ہمیں ہر بادشاہ کی تاریخ میں نظر آ سکتیں ہیں کہی واضح اور کہیں دبی ہوئی لیکن یہ موجود ہر جگہ رہی اور آج ایسی ہی ایک کومل ریشم جیسی ملائم ہلکی گلابی اپنے ہی پانی سے بھیگی ہوئی ایک لب پھدی کے ایک طرف چپکا ہوا جس سے جھانکتا اندر کا حَسِین گلابی منظر اف ف ف ف ف کیا کہوں میں نے بےتابی سے اسے انگلی سے کھول دیا اور یقین جانئے میری انگلیاں اس گرم پھدی کے پانی سے لودر گئی اور میں نے اپنے ہونٹ وہاں چپکا دیئے اور سلطانہ لرز کر رہ گئی اور بری طرح میرا سر پکر کر اپنی پھدی میں گھوسانے کی ناکام کوششیں کرنے لگی ساتھ میں اس کی منہ سے کچھ آوازیں بےمعنی فریبی سی لذّت میں ڈوب ڈوب کر نکل رہی تھی . بلاشبہ وہ سیکس کو بہت انجوئے کرنے والی اور کروانے والی عورت تھی میڈیکل کالج میں وہ یونہی مشہور نہ تھی اس کی ادائیں سب سے جدا تھی اس کا انداز نرالا تھا اس کا خود کا سپرد کرنے کا انداز اتنا انوکھا تھا کہ آپ سمجھ بیٹھیں کہ آپ سے زیادہ لذّت اسے کسی مرد سے ملی ہی نہیں تھی اور دوستوں یقین جانئے یہ احساس دِل میں کم ہی عورتیں جگہ پاتی ہے دوستوں یقین جانئے یہ راز کی بات آپ کو ایک ایسا شخص بتا رہا ہے جو اِس میدان کا بہت بڑا کھلاڑی ہے جیس نے اتنی چوتیں چوسی ہیں جن کا سہی حساب شاید ہی میں خود بھی نہ دے سکوں ، ہر عورت کی چوت رس بھری ہوتی ہے ہر عورت کی پھدی میں شراب ہوتی ہے ہر عورت کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اِس شراب کو مرد نچوڑ کر پی جائے لیکن پھدی چوسواتے وقت ہر عورت لذّت نہیں دیتی بہت سی ایسی پھدیاں بھی میں نے چوسیں جن کو میں نے جب چوسنے کی لیے کھولا تو ان میں سے جوانی کی مہک کے بجائے ایک ناگوار سی بو نے میرا استقبال کیا بہت سی چوتیں جن کے لب سیاہ ہو گئے تھے ہر پھدی کا الگ انداز ہوتا ہے مگر یہ پھدی جو ابھی میرے منہ سے لگی ہوئی تھی بہت بار استعمال ہونے کے بعد بھی سیل پیک بوتل شراب کی سی لذیذ تھی جس کا رس لاتعداد بار چوسا گیا تھا لیکن اِس کے مزے میں کوئی فرق نہ تھا اور میں بس دُنیا سے بے خبر اس چوت کو چوستا رہا ، ، ، مجھے ہوش ہی نہیں تھا ہر بار سلطانہ کی پھدی منی چھوڑتی میں اس کو چوس جاتا اور پِھر ایک نئی لذّت کے ساتھ چوستا اور منی چھوٹنے کا انتظار کرتا بلاشبہ اس کی منی بھی بے حد لذیذ اور کاٹ دار ذائقہ لیے ہوئے تھی جیس کی لذت پرانی شراب کی طرح دیر تک زبان پر رہی آخر اس کی نڈھال آواز آئی بس کرو وہاب اور مت چوسو میری پھدی کچھ اپنے لنڈ کے لیے بھی چھوڑ دو کیا حال کرو گے میرا ایسی چدائی تو کبھی نہیں کی کسی نے میری . تیمور نے بھی نہیں اور چوت چوسنے کو تو بہت سالوں بعد آج کوئی چوس رہا ہے میرا شک سہی تھا بہت سے شوہر حضرات کی طرح تیمور بھی اپنی بِیوِی کی چوت چوستا نہیں تھا اور اس کی پیاسی اور ترسی ہوئی پھدی آج برسوں بعد کسی کے منہ میں اپنی شراب انڈیل رہی تھی میں کھڑا ہوا اور اپنے کپڑے اُتار دیئے میرا لنڈ دیکھ کر سلطانہ کی آنکھوں میں چھمک آگئی اور پِھر دوستوں اس نے اپنی پھدی چوسنے کا کیا خوب بدلہ لیا خوب چوسہ میرا لنڈ اِس معاملے میں بھی وہ لاجواب تھی کیا چوستی تھی میری منی آخر باہر آ ہی گئی اس کے منہ میں کیا خوبصورت نظارہ تھا دوستوں میی اس کی قریب ہی لیٹ گیا اور اس کی ممے چوسنے لگا کچھ ہی دیر بعد میرا لنڈ کھڑا ہو کر اس کی کمر پر جھٹکے مارنے لگا اس نے میرا لنڈ پکڑا اور ہنس کر بولی " کیا خیال ہے ڈاکٹر صاحب پھدی میں ڈالنا ہے یا لوں منہ میں اسے سوچ لو کونسے منہ میں چھوڑو گے … " میں جلدی سے اٹھ بیتھا اس نے مسکراتے ہوئے اپنی ٹانگیں کھولیں اور ہاتھوں سے مجھے اپنے اُوپر آنے کا اشارہ کیا اور میں اس کی اُوپر لیٹ گیا اور میرا لنڈ اس کی پھدی میں سرایت کرگیا کافی کھلی ہوئی تھی اس کی چوت لیکن مزہ تو تھا ہی گرمی بھی تھی اور وہ سسکنے لگی میی بھی سرشار تھا اور زبردست جھٹکے دے رہا تھا اور کچھ ہی دیر میں میرا لنڈ اس کی پھدی میں گھسہ اپنی ہی منی میں غوطے کھا رہا تھا اور وہ میرے سینے میں منہ چھپاے بےسدھ پری تھی ہم دونوں کافی دیر تک یونہی پڑے رہے پھر وہ باتھ روم گئی شاید اپنی چوت میں بھری منی صاف کر رہی تھی نہانے کا موسم تو تھا نہیں بےحد سردی تھی پھر وہ مجھے ننگی باتھ روم سے نکلتی نظر آئی اور کچن کی طرف بڑھ گئی ٹھوڑی دیر بعد کوفی لیے آئی میں بولا " کہو ڈاکٹر صاحبہ مزہ آیا " وہ بولی " آج بہت دنوں بعد میڈیکل کالج کا سا مزہ آیا ہے " میں بولا " کیا خیال ہے گانڈ میں ڈالوں یو نو آئی ایم گریٹ ایس فاکر " وہ ہنستے ہوئے بولی " ہاں ہاں ڈال لینا کوفی تو پی لو اور ہاں یہ چودائی مارنے کی بعد گھر ضرور چلے جانا تمھارے ملازم جاگ رہے ہونگے تمھارے انتظار میں اگر تم رات گھر نہیں گئے تو عجیب عجیب باتیں بنے گی " میں کوفی ختم کرتے ہوے بولا " چلے جائیں گے جان من ابھی تمہاری گانڈ کی پیاس تو بجھا دیں ." اور وہ ہنستے ہوئے میری بانہوں میں آگئی اور جھک کر میرا لنڈ چوسنے لگی کیا لذّت تھی دوستوں . اس کی ہونٹ کوفی کی گرمی سے اب تک جل رہے تھے اور اس نے انہی سلگتے ہوئے لبوں سے میرا لنڈ دبا لیا تھا اور اس کی حَسِین حرارت میرے لنڈ میں سیرایات کرتی جا رہی تھی میی نے کچھ دیر بعد اسے اٹھایا اور گھوڑی بن جانے کو کہا وہ گھوڑی بن گئی اس کی گانڈ میرے سامنے تھی اس کا سوراخ میرے سامنے تھا اور میں نے دیکھتے ہی اندازہ لگا لیا کہ یہ گانڈ مرواتی رہی ہے بعد میں اس سے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ اس کا شوہر گانڈ مارنے کا بہت شوقین تھا خیر میں نے اپنا لنڈ اس کی گانڈ کی سوراخ میں داخل کر دیا اور شاید گزشتہ رات ہی اسے چود کر گیا تھا اس کا شوہر اِس لیے وہ کچھ کھلا ہوا تھا ورنہ آپ جانتے ہیں دوستوں اگر گانڈ مارے ہوے سات دن یا اِس سے زیادہ ہو جائیں تو گانڈ کا سوراخ بند ہونے لگتا ہے اور اس میں ڈالنے سے عورت تکلیف محسوس کرتی ہے لیکن یہاں ایسا کوئی معاملا نہیں تھا ہاں میرا لنڈ اس کی شوہر کی لنڈ سے لمبا اور موٹا تھا تو جہاں تک اس کی شوہر کا لنڈ گہرائیاں طے کرتا تھا اس سے آگے کی گہرائیوں کو طے کرنے میں اس کی درد بھری آوازیں سنائی دی وہ بھی کچھ دیر میں بند ہوگئی اور میں آرام سے جھٹکے دینے لگا اور وہ اپنی پھدی رگڑتی رہی کچھ ہی دیر بعد میری منی اس کی گانڈ کے سوراخ سے ابل ابل کر بہہ رہی تھی اور اس کی جِسَم پر بہہ رہی تھی کہنے لگی بس ڈاکٹر صاحب اب تم جاؤ مجھے بھی تمھارے جانے کی بعد نہانا پڑے گا تم نے تو بھر دیا ہے ہر سوراخ کو میرے اپنی منی سے میں جو تِین دفعہ اپنی منی نکلنے کی بعد قطعی اِس گرم ماحول سے نکالنے کو تیار نہیں تھا مجبوراً اپنے کپڑے پہن کر جانے کو تیار ہوا اور گھر سے باہر آ گیا اس وقت رات کی تقریباً ایک یا ایک بجکر تیس منٹ کا ٹائم تھا اس قدر ہولناک سناٹا تھا گلیوں میں کہ کیا بتاؤں میی اندھیری گلیوں سے گزرتا اپنے گھر کی طرف بڑھتا چلا گیا رات بھر بہت سکون سے سویا مجھے میرا نشہ مل گیا تھا عورت کا جِسَم میری کمزوری تھی مجھے نشہ تھا عورت کی گرم پھدی کا عورت کے جِسَم کے ناشیب فراز میں میرے بدن کا سکون چھپا تھا اور مجھے میرا نشہ بڑا ہی بھرپور ملا تھا پورے جِسَم میں سکون کی لہریں دوڑ گئی تھی صبح اٹھ کر میں کلینک پہنچا حسب معمول وہاں کافی لوگ آئے ہوئے تھے دور دراز گاؤں سے بھی کافی مریض آتے تھے کیوں کہ کافی بارے علاقہ میں واحد ڈاکٹر سلطانہ ہی واحد لیڈی ڈاکٹر تھی یہاں عورتوں اور لڑکیوں کی بہت بڑی تعداد آتی تھی اور کسی مرد ڈاکٹر کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے مجھے بھی مرد مریضوں کا علاج کرنا پڑتا میی کئی ایپلیکیشنز اپنی مینسٹری کو لکھ کر بھیج چکا تھا کہ جلد سے جلد یہاں ایک میل ڈاکٹر تعینات کیا جائے لیکن ابھی تک کوئی ریسپونس نہیں آیا تھا دن رات یوں ہی گزر رہے تھے دن بھر مریضوں کے ساتھ اور راتیں حَسِین ڈاکٹر سلطانہ کی بانہوں میں اس کی گرم جِسَم کی وادیوں کی سیر کرنے کٹنی رہی ہاں جب ڈاکٹر سلطانہ کا شوہر تیمور آتا اپنے ویک اینڈ پر تو مجھے بڑی کوفت ہوتی اور پِھر مجھے اس کا بھی ایک حال مل گیا یہ جمعے کی شام تھی مئى 2001 مجھے یہاں آئے کوئی چھے یا سات مہینے ہو چکے تھے اب تک مجھے ایک ہی عورت کی پھدی پر گزارا کرنا پر رہا تھا ڈاکٹر سلطانہ کی جو گرم تھی رس بھری تھی جیس کا جِسَم حَسِین تھا لیکن اب میں اس کی جِسَم سے اکتاتا جا رہا تھا یہ میری فطرت تھی اب اس کا گرم جِسَم مجھے وہ لطف نہیں دیتا تھا جیس کا میں شیدائی تھا اور پِھر اوپر سے اس کا شوہر آج جمعہ تھا لیکن وہ آ پہنچا تھا اور ستم بالائے ستم یہ کہ وہ ایک ہفتے کی چھٹی پر آگیا تھا ظاہر ہے اب ڈاکٹر سلطانہ اس کا بستر گرم کرتی راتوں میں اور میں بے چارہ ظاہر ہے وہ اس کی بِیوِی تھی اس کی پھدی پر تیمور کا ہی حق تھا اور جیسے کہ سلطانہ نے بتایا تھا کہ وہ اس کی گانڈ مارنے کا بہت شوقین تھا تو یہ ہفتہ تو ڈاکٹر سلطانہ کی گانڈ اپنے شوہر کی لنڈ سے بھرنے والی تھی اور میں بس کلینک پر آتے جاتے اس کی بڑی سی گانڈ کو دیکھتا یا مموں کی حَسِین تھرتراحات دیکھتا اور وہ میری بے تابی دیکھ کر مسکرایا کرتی مصیبت یہ تھی کہ اس کا شوہر بھی کیوں کہ گاؤں میں فارغ ہی تھا تو مجھ کو کمپنی دینے اور اپنا بھی ٹائم پاس کرنے آ کر کلینک پر میرے روم میں آجاتا اور میں سارا دن مریض دیکھنے کی ساتھ ساتھ اس کی بکواس سنتا رہتا اگر اس کا دَر نہیں ہوتا تو میں کم سے کم سلطانہ سے اپنا لنڈ چسوا کر کچھ تو سکون حاصل کر سکتا تھا لیکن یہ بھی اب ممکن نہ رہا تھا اسی طرح دو دن گزرے اج اتوار تھا کلینک بند تھا مجھ پر اور بھی بوریت سوار تھی صبح میں کئی بار میرے بلاوے آ چکے تھے تیمور اور سلطانہ کی طرف سے کہ میں رات کا كھانا ان کی ساتھ کھاؤں لیکن میرا جانے کا کوئی موڈ نہیں تھا میی نے طبیعت کی ناسازی کا بہانہ کر کے ٹال دیا تھا یہ شام کا وقت تھا میں بوریت کے مارے مارا جا رہا تھا میرے کمرے کی دروازے پر دستک ہوئی دیکھا تو میرا نوکر فقیرا کھڑا تھا میں سوالیاں نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگا وہ بولا " صاحب میری بہن دوسرے گاؤں میں رہتی ہے اس کی طبیعت خراب ہو گئی تھی آج بہت دن بعد اس سے ملنے کو دِل کر رہا ہے آپ کہیں تو میں مل آؤں اس سے تِین چار روز میں ہی لوٹ آؤں گا " میں بولا " لیکن فقیرا میرے کھانے وغیرہ کا کیا ہوگا " وہ بولا " صاحب میری گھر والی ہے یہاں اور میں نے اپنی بیٹی " رجو " سے بھی کہہ دیا ہے وہ آکر آپ کا كھانا وغیرہ بنا دیا کرے گی " میں نے کہا ٹھیک ہے تم چلے جاؤ لیکن جلدی آنے کی کوشش کرنا وہ شکریہ ادا کرتا ہوا چلا گیا اور شاید پوری تیاری پہلے ہی کر چکا تھا فوراً ہی روانہ ہوگیا میں بیٹھا ایک کتاب کا مطالع کر رہا تھا کہ اچانک میرے کمرے کا دروازہ کھلا اور فقیرے کی بِیوِی کی آواز سنائی دی صاحب چائے لاؤں آپ کے لئے میں چونک پڑا اپنی خیالوں سے میں نے سر اُٹھا کر کہا ہاں لے آو وہ مڑی اور جانے لگی اور میرے دماغ میں ایک دھماکہ ہوا یہ فقیرے کی بِیوِی بھی اتنی بری تو نہیں میی نے غور سے اسے دیکھا چالیس سے اوپر کی تھی سانولی رنگت بہت موٹی ہلتی ہوئی گانڈ روایتی کپڑوں سے جھانکتی کمر اور بڑے بڑے ممے اور پشت پر باندھے ہوئے بال چالو کچھ نہ ہونے سے تو کچھ ھونا ہی بہتر ہے کچھ دیر بعد وہ چائے لے کر آگئی اور چائے رکھ کر جانے لگی میی نے اسے آواز دی وہ بولی جی صاحب میں بولا " بیٹھو تمہارا نام کیا ہے " وہ زمین پر بیٹھ گئی اور بولی " صاحب غریبوں کے بھی بھلا کوئی نام ہوئے ہے . ویسے میرا گھر والا مجھے لالی کہتا ہے " میں نے کہا " لالی تم اپنا کپ بھی لے آو میرے ساتھ بیٹھ کر چائے پیو مجھے تم سے گاؤں کی بارے میں کچھ پوچھنا ہے وہ حیرت زدہ سی رہ گئی اور ایک اور کپ بھر لائی اور زمین پر بیٹھ گئی اس دوران میں ایک خاص قسم کی میڈیسن اپنی الماری سے نکال چکا تھا وہ بولی " پوچھے صاحب کیا پوچھنا ہے " میں بولا " لالی اِس گاؤں میں کتنے لوگ رہتے ہے " وہ بولی " صاحب میں کیا کہوں کچھ تین یا چار ہزار رہتے ہوں گیں " وہ حیران تھی میرے ان بےمعنی سوالوں سے اچھا یہاں کا زمیندار حاجی خداداد کیسا آدمی ہے وہ بولی " اچھا آدمی ہے صاحب " میں اچانک بولا " لالی ذرا ایک گلاس پانی لے آو میرا حلق نہ جانے کیوں خشک ہو رہا ہے " وہ جلدی سے اٹھی اور جیسا کہ میں جانتا تھا اس نے کپ فرش پر رکھا اور پانی لینے چلی گئی اور میں نے اس میڈیکینی کی چار ٹیبلیٹس اس کے کپ میں ڈال دی اس کے آثار میں جانتا تھا " وہ پانی لے آئی اور چائے اُٹھاتی ہوئی بولی صاحب میں جاؤں رسوئی میں بہت کام ہے ابھی میں نے سر سے جانے کا اشارہ کر دیا میرا کام تو ہو چکا تھا . اور وہ چائے کو ایک ہی گھونٹ میں ختم کرتی ہوئی اور میرا خالی کپ اُٹھاتی ہوئی چلی گئی اور میری نظریں سامنے لگے وال کلاک کی طرف چلی گئی اور ٹھیک پندرہ منٹ بعد لالی گھبرائی ہوئی میرے کمرے میں داخل ہوئی صاحب میری طبیعت بہت خراب ہو رہی ہے دِل بیٹھا جا رہا ہے اس کی ماتھے پر بہتے پسینے کو دیکھتے ہی میں سمجھ گیا کہ اس کا بلڈپریشر گرتا جا رہا ہے جی ہاں یہ میری دی ہوئی ٹیبلیٹس کا کمال تھا اس کی تصدیق میں نے بلڈپریشر جاوجی اس کی ہاتھ پر باندھ کر کرلی میی نے کہا لالی گھبرانے کی کوئی بات نہیں میں تم کو ایک انجیکشن دے رہا ہوں طاقت کا اس کی بعد تم گھر جا کر آرام کر لینا کل صبح تک ٹھیک ہو جاؤ گی یہ کہہ کر میں نے انجیکشن تیار کیا اور اس کو اپنے بیڈ پر بٹھا دیا اور انجیکشن اس کی رگ میں داخل کیا ، ، ، اور ابھی آدھا بھی اس کی رگوں میں نہیں پہنچا تھا کہ وہ بیڈ پہ گر پڑی جی ہاں آپ سہی سمجھے میی نے اسے " انیستھیسیا " دی تھی وہ بیڈ پر بےہوش پڑی تھی میی نے انجیکشن لگا کر سائڈ پر ڈالی اور اس کا لاچا ( لانگ سکریت ) اوپر کر دیا نیچے کچھ نہیں پہنے ہوئی تھی وہ وہاں پھولی ہوئی موٹی رانوں کی درمیان ایک بڑا سا کالا سوراخ چوت کی شکل میں میرے سامنے تھا چالیس سال پرانی پھدی کافی کھولی ہوئی اور اندر سے گہری گلابی کافی چودی تھی فقیرے نے پھدی کی سہی چدائی کی تھی اتنے سال اور جیسا کہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں غریبوں کی واحد تفریح اپنی بِیوِی کی چدائی ہی ہوتا ہے میی نے اپنی پینٹ اتاری لنڈ کھڑا ہو چکا تھا میرا لنڈ جس نے کبھی مجھے دھوکہ نہیں دیا تھا جب مجھے اس کی ضرورت محسوس ہوئی وہ ہمیشہ سہی ٹائم پر تیار ہوگیا میرا ساتھ دینے کو اور میں نے اپنا لمبا لنڈ اس چالیس سال پرانی چوت میں گھسا دیا اور اس پر سوار ہوگیا اور ممے باہر نکال لئے بڑے بڑے ممے جن کے نپل کالے پر گئے تھے اور کھڑے ہوئے اور کافی لمبے تھے میں اپنا لنڈ اس موٹی چوت میں اندر باہر کرنے لگا آخر اس خشک پھدی میں نمی دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ ابھی لالی کا سن یاس شروع نہیں ہوا تھا میں ممے دبا دبا کر چوس چوس کر لنڈ کو اندر دھکیل رہا تھا چوت کافی کھلی تھی میرا لنڈ بغیر کسی مشکل کی آمدورافت جاری رکھے ہوئے تھا میی نے اپنا لنڈ نکالا اور لالی کے بے ہوش جِسَم کو اُلٹا کر دیا اس کی موٹی اور بڑی گانڈ میرے سامنے تھی میی نے اس کی گانڈ کو کھولا اس کی گانڈ کا سوراخ کھلا ہوا تھا اور کالا بھی تھا تو فقیرا گانڈ بھی مارا کرتا تھا میں نے گانڈ کے اس کھلے ہوئے سوراخ میں اپنا موٹا لنڈ گھسا دیا وہ تنگ سی جگہ میں رگڑتا ہوا اندر کی طرف چلا میں پورا زور لگا رہا تھا آخر وہ جڑ تک غائب ہو گیا یہاں کچھ مزہ تھا تنگ سوراخ کے بیچ لنڈ کو زیادہ مزہ آ رہا تھا آخر میری منی بھرنے لگی اس کی سیاہ سوراخ میں اور ابل کر اس کی گانڈ سے ہوتی بیڈ کی چادر پر گرنے لگی میں اُٹھا اور ایک کپڑے سے بہتی ہوئی منی صاف کرنے لگا . اچانک مجھے اپنی جانب دیکھتی کچھ نظروں کا احساس ہوا میں بجلی کی طرح پالٹا دروازے میں ایک کمسن حَسِین سی لڑکی کھڑی تھی اور حیرت سے اندر کی مناظر دیکھ رہی تھی وہ چہکتے ہوئے بولی " صاحب جی . آپ کیا کر رہیں ہیں میری ماں کی ساتھ مر گئی وہ تو " میں نے شیر کی طرح چھلانگ لگائی اور اگلے ہی لمحے اس کو جکڑ چکا تھا میں وہ بہت مزحمت کر رہی تھی لیکن مجھ سے میرے مضبوط بازؤں سے نکلنا اس کی بس سے باہر تھا اس کی حسین ان چھوے گورے جسم کی مہک مجھے دیوانہ بنا رہی تھی وہ فقیرے کی بڑی بیٹی " رجو " تھی میں نے اسے پکڑا اور اٹھا کر دوسرے کمرے میں لے آیا اور اس کو بیڈ پر پھینک کر دروازہ بند کر دیا میی ابھی تک ننگا تھا اور میرے لنڈ پر میری اور اس کی ماں کی منی لگی تھی میی نے خون خوار لہجے میں کہا اگر اس نے کسی کو بتایا تو میں اسے جان سے مار دوں گا وہ سہم گئی اس کی عمر بامشکل اٹھارہ یا انیس برس ہوگی بھرپور جوان تھی وہ میں اس کی طرف بڑھا اور اس کے ماچلتے جِسَم کو بانہوں میں لے کر اس کے لب چومنے لگا وہ نکلنا چاہ رہی تھی لیکن ایسا کیسے ممکن تھا میں نے اسے بیڈ پر دھکہ دیا اور اس کی شلوار اتار دی کیا ہی منظر تھا وہ اپنی رانوں کی بیچ ہاتھ رکھے اپنی ننھی سی چوت چُھپا رہی تھی میی اس پر جھپٹا اور اس کی ٹانگیں پکڑ کر کھولنے لگا وہ چیخ رہی تھی یہاں اِس کی آواز سننے والا کوئی نہیں تھا اور پِھر میں نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑے اور اس کی کنواری پھدی سے منہ لگا دیا کیا ہی مہک تھی کیا گرمی تھی میی اندر زبان ڈالے اس کی پھدی کا رس پینے لگا اور وہ گاؤں کی لڑکی بھلا کب تک انکار کرتی یہ مزہ تو ایسا تھا کہ جس کے لیے ایک دُنیا دیوانی ہے اس کی مزاحمت بھی کم ہوتی گئی اور آخر اس کی ہاتھ میرے بالوں پر آ گئے اور پھدی اٹھنے اور بیٹھنے لگی اس کو مزہ آنے لگا تھا اب وہ ہلکی آواز میں سسک رہی تھی میں بار بار اپنی زبان اس کی چوت کے گرم گرم سوراخ میں ڈال دیتا اور وہ تڑپ جاتی اس کی ٹانگیں کھل رہیں تھی میں اس کی رانوں کو سہلا رہا تھا جو اب بے حد گرم ہو چکی تھی میں اپنا منہ چپکائے ہوئے تھا اب میں اُٹھا اس کی آنکھوں میں نشہ تھا میں نے اس کی قمیض بھی اُتار دی اس نے اپنی جوانی کی نشانی اپنے سینے کے اُبھار چھپانے کی کوشش کی لیکن میں نے دھیرے سے اس کی ہاتھ ہٹا دیئے اور اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا اس کو لے کر لیٹ گیا اور اس کی گلابی لب چوسنے لگا اب وہ میرا ساتھ دے رہی تھی میں اس کے نازک مموں کو دبا رہا تھا مسل رہا تھا وہ ٹانگیں رگڑ رہی تھی اس کی نازک کمر بل کھا رہی تھی میرے بھاری جِسَم کی نیچے میی اس کے ریشمی ممے چوسنے لگا اور ایک ہاتھ کی انگلی سے اس کی چوت کھول رہا تھا اسے چوت میں ہلکی ہلکی گھوما رہا تھا چوت کے اُبھار کو دبا رہا تھا میں اس کو اس مقام تک لے جا رہا تھا جب وہ خود بھی چاہے تو روک نہ سکے اور آپ یقین کریں میں اِس کام میں بہت ماہر تھا بھلا وہ گاؤں کی حسینہ میرے سامنے کہاں روک سکتی تھی میی تو پرانا کھلاڑی تھا اِس میدان کا میی نے پِھر اس کی پھدی چوسنا شروع کر دی اب وہ بار بار میرا لنڈ پکڑ رہی تھی میں نے اس کی بےچینی نوٹ کی اور اس کی سینے پر بیٹھ گیا اور اس کے مموں کی لکیر کے درمیان لنڈ رگڑنے لگا ہر بار میری ٹوپی اس کے مموں کی لکیر سے ہوتی اس کی ہونٹوں سے چند انچ کی فاصلے سے واپس لوٹ آتی اور پِھر میری ٹوپی نے اس کی ہونٹوں کو چھوا وہ مزے کے مارے مدہوش ہو چکی تھی اور اگلی دفعہ پوری ٹوپی اس کی منہ میں تھی میں نے وآپس کھینچا تو مجھے محسوس ہوا کہ اس نے ٹوپی کو ہونٹوں سے دبا لیا تھا اور اگلی دفعہ میرا لنڈ مموں کی لکیر سے ہوتا ہوا آدھا اس کی منہ میں تھا اب کی دفعہ میں نے تھوڑی دیر اسے منہ ہی میں رہنے دیا پھر واپس کھینچا اور اب پورا لنڈ اس کی منہ میں تھا اور وہ اس کو چوس رہی تھی اب میں نے نکلنا مناسب نہ سمجھا اور آرام سے اس کی سینے پر بیٹھ کر لنڈ چوسوانے لگا پِھر میں اس کی اُوپر اُلٹا لیٹ گیا میرا لنڈ اس کی منہ میں ہی تھا اور میری زبان اس کی چوت کی گرم وادیوں میں سیر کرنے لگی میی اس کی پھدی پر لیٹا اس کی پھدی چوس رہا تھا اس نے ٹانگیں اٹھا لی تھی اور میں چوت کی ساتھ ساتھ کبھی کبھی اس کی گانڈ کی ننے سے سوراخ پر بھی زبان پھیر دیتا اور اس کی چوت بار بار منی چھوڑ رہی تھی میں اسے چوس جاتا جانتا تھا ابھی اِس کی پھدی نہیں چودنی ابھی ٹائم نہیں آیا تھا آخر جب اس کی مکمل منی میں چوس گیا میں کھڑا ہوا میرا ڈیجیٹل کیمرہ وہیں پڑا تھا میرے یوں کھڑے ہونے پر بھی وہ ننگی پڑی آنکھیں بند کئے ایک انگلی چوت میں ڈالے اپنے ممے سہلا رہی تھی بے حد گرم ہو چکی تھی وہ میں نے اس کی تصویر بنانی شروع کی اور اس کو پتہ بھی نہیں چلا جب اس کی ننگے جِسَم کا ہر منظر کیمرے میں محفوظ ہوا میری منی ایک بار چھوڑوا دی تھی اس نے میرا لنڈ چوستے ہوئے اور منی اس کی سینے اور منہ پر جمی ہوئی تھی اب میرا لنڈ تیار تھا اس کی پھدی میں جانے کو میں اس کی ٹانگوں کو کھول کر درمیان میں بیٹھ گیا اور انگلی چوت میں پھیرنے لگا اور اپنے لنڈ کی ٹوپی سے چوت کا دانہ سہلانے لگا وہ بہت مزہ کر رہی تھی کچھ دیر تک میں یونہی کرتا رہا پِھر میں نے اپنی موٹی اور پھولی ہوئی گرم گرم ٹوپی اس کی ہلکی گلابی چوت میں داخل کی تانگیں تھوڑی سی کھینچ گئی اور آنکھیں کھول کر وہ مجھے دیکھنے لگی میں نے اس کی ممے پکڑے دونوں ہاتھوں سے اور مسکرایا وہ ہلکی سی مسکرائی اور دوبارہ آنکھیں بند کر لی میں اس کے ہونٹ چومنے اور ممے دابانے لگا میری ٹوپی ابھی تک اس کی چوت میں سمائی ہوئی تھی جسے میں آہستہ آہستہ دبا رہا تھا ، ، ، چوت بے حد گیلی اور گرم تھی اور ایک دم ہی میں نے اپنی کمر کو پوری قوت سے دھکہ دیا اور میرا لنڈ جو ناجانے کتنی پھدیوں کو خون میں نہلا چکا تھا وس بھیگی پھدی میں سماتا چلا گیا وہ چییخی زور سے لیکن وہ بات نہ تھی وہ کنواری نہیں تھی وہ غیر شادی شدہ سہی لیکن اس کی چوت کھولی جا چکی تھی اس کی چوت کی لیے لنڈ کوئی نئی چیز نہ تھا ہاں جو بھی لنڈ اس نے پہلے لیا تھا اس کی مقابلے میں میرا لنڈ لمبا ضرور تھا اس کی پھدی کے ان حصوں تک جا پہنچا جہاں پہلے لنڈ نہیں پہنچا تھا… . اور کچھ ہی دیر بعد ہم دونوں ایک دوسرے سے لیپتے جھٹکے لے رہے تھے وہ میرا بھرپور ساتھ دے رہی تھی اور میں اس کا اور ہم دونوں ایک ساتھ ہی فارغ ہوے اور اس کی چوت میری منی چوسنے لگی میں اس سے لپٹا پڑا تھا . وہ بھی گہری سانسیں لے رہی تھی میں اٹھا وہ بھی اٹھ کر اپنے کپڑے پہنے لگی میی کمرے سے باہر آکر اس کمرے کی طرف بڑھا جہاں رجو کی ماں لالی بے ہوش پڑی تھی اس کو پانچ گنٹھے بعد ہوش آنا تھا اور اب چار گنٹھے ہونے والے تھے میی نے دیکھا تو رجو بھی آ چکی تھی " ماں کو کیا ہوا صاحب جی " اس نے پوچھا میں بولا " کچھ نہیں بس بے ہوش ہے " میں لالی کی بڑے بڑے ممے اندر کر رہا تھا پِھر اس کی چوت صاف کرنے لگا رجو بولی . " آپ نے ماں کی پھدی بھی ماری ہے صاحب جی ؟ " میں نے سر ہلا دیا وہ کچھ نہ بولی میں نے لالی کی کپڑے سہی کئے اور پِھر رجو سے بولا " تیری پھدی کس نے کھولی تھی راجو " وہ چونک پڑی " آپ کو کیسے پتہ صاحب جی " میں بولا " مجھے سب معلوم ہے اور سن یہاں جو کچھ بھی ہوا کسی سے نہ کہنا لالی سے کہنے کہ اسے چکر آگئے تھے اِس لیے بے ہوش ہوگئی تھی اور میں تمہیں بلا لایا تھا اور تم سارا وقت اِس کی پاس بیٹھی رہی " وہ بولی ٹھیک ہے میں بولا رجو میی نے تیری ننگی تصویریں لی ہیں اگر تو نے کسی سے کچھ بھی کہا تو انجام تو جانتی ہے " میں پِھر بولا " رجو تیری پھدی کس نے کھولی ہے " وہ سر جھکائے کھڑی رہی " گھبرائی نہیں " میں بولا کون ہے وہ وہ زمیندار کا خاص آدمی ہے ایک دن وہاں کھیتوں میں اس نے مجھے پکڑ کر میرے ساتھ کیا اور بہت خون نکلا تھا میں نے ماں کو بتایا تھا ماں اب میری شادی کرنے کو لڑکا ڈھونڈھ رہی ہے مجھ سے کہا تھا کہنا نہیں کسی سے میی نے ایک ٹیبلیٹ نکالی " دیکھ رجو تو نہیں سمجھتی ان باتوں کو لیکن جب میں اپنا لنڈ تیری پھدی میں ڈالے ہوئے تھا تو میری منی تیری پھدی میں بھر گئی تھی . اس سے تو حاملہ بھی ہو سکتی ہے یہ ٹیبلیٹ کھا لے بچہ نہیں ہو گا اور سن آتی تو رہے گی نہ " " پر صاحب جی میرے بار بار آنے سے بچہ ہو گیا تو " میں بولا نہیں اب میں تجھے ایک انجیکشن لگا دوں گا اس سے ایک سال تک تو دن رات بھی چدائی کرے تو بچہ نہیں ہوگا " وہ شرماتے ہوئے بولی " میری چوت تو بالکل کھل جائے گی صاحب میرا شوہر کیا کرے گا " میں اس کی کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا " رجو جب تیری شادی ہوگی تو میں تجھے ایک کیپسول اور ایک انجیکشن تیری پھدی میں لگاؤں گا یا تو خود لگا لینا طریقہ میں بتا دوں گا تو فکر نہ کر پہلی رات تیری پھدی سے خون بھی نکلے گا اور تیرے شوہر کو لنڈ اندر ڈالنے میں اتنی پریشانی ہوگی کہ کسی بند چوت میں ڈالنے میں بھی اتنی نہیں ہوتی " وہ مطمئن ہوگئی میں اس کی لب چومنے لگا اس نے ہاتھ بڑھا کر میرا لنڈ اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا میں بولا " ابھی نہیں رجو تیری ماں ہوش میں آنے والی ہے کل آنا تو اکیلی پھر کریں گے وہ الگ ہو کر کپڑے سہی کر کے ماں کے پاس بیٹھ گئی اور میں گھر سے باہر نکل گیا میرے پڑھنے والے اب تک جان ہی چکے ہوں گے کہ میں لڑکیوں کے ، عورتوں کے جِسَم کا دیوانہ تھا . میری غذا تھی یہ میری روح کی خوراک عورت کا جِسَم تھی اور اتنی کلیاں اب تک روند چکا تھا کہ اب میں ان کاموں کا بے حد ماہر ہو چکا تھا میں عورت کے حقیقی معنوں میں رگ رگ سے واقف تھا میی جانتا تھا کہ عورت کس طرح بے حد گرم ہو جاتی ہے کب وہ کیا چاہتی ہے اور کس وقت وہ اپنی جان چرانا چاہتی ہے اب میں آپ کو ایک کام کی بات بتاؤں ان دوستوں کی لیے جو اِس کام میں نئے نئے ہیں یا نیا نیا جوانی میں قدم رکھا ہے یا عورت کے جِسَم سے جن کا واسطہ نیا نیا پڑا ہے عورت کے جِسَم کی اس کی پھدی کی اس کی گانڈ کی اس کے جِسَم کی ہر ایک انگ کی ایک خاص مخصوص مہک ہوتی ہے جس میں ایک خاص قسم کی جنسی کشش ہوتی ہے مردوں کی لئے میں نے بہت سی لڑکیوں کو چودا جن میں ڈاکٹرز ، میری کلاس فیلوز ، میری دوست یا نرسس وغیرہ شامل تھی یا پِھر ایک آج گاؤں کی دوشیزہ کو لیکن دوستوں جو کشش مجھے اِس لڑکی " رجو " میں یا اس کی ماں " لالی " کے جِسَم میں نظر آئی اس کا مزہ ہی کچھ اور تھا امید ہے آپ میرا پوائنٹ آف ویو سمجھ گئے ہوں گے جی ہاں بڑے شہر میں رہنے والی فیشن ابیل لڑکیاں اونچی سوسائٹی کی عورتیں کئی قسم کی چیزوں کا استعمال کرتی ہیں اور اُنہیں اگر پتہ ہو کہ کچھ دیر بعد وہ کسی کی بانہوں میں ہوں گی اور وہ ان کے جِسَم کو چوم چاٹ رہا ہوگا ان کی چوت کے تنگ سوراخ کو پیار کر رہا ہوگا اسے چوس رہا ہوگا تو وہ حد ہی کر دیتی ہے میں نے خود محسوس کیا ہے کہ وہ بازار میں بکنے والے خاص قسم کی پرفیومز کا استعمال کرتی ہے جو خاص انہی کاموں کی لیے بنائے جاتے ہے جو چوت پر گانڈ کے سوراخ پر مموں پر لڑکیاں لگا لیتی ہے ان پرفیومز کے بہت سے کام ہے سب سے پہلا کہ یہ مرد کی جنسی خواہش کو اور بھی بڑھا دیتی ہے اب چوت پر کرنے والا اسپرے عام دستیاب ہے جو آپ کسی بھی برائڈل شاپ سے حاصل کر سکتے ہے یہ چوت پر اسپرے کیا جاتا ہے اس کی مہک سے چوت سے آنے والی بو ختم ہوتی ہے مرد اور بھی گرم ہو کر بہت ہی مستی سے پھدی چوستا ہے اور سب سے اہم فائدہ کہ یہ عورت کی منی کا ٹائم بڑھا دیتے ہے اس قسم کے بہت سے اسپرے ہیں جن کا الگ الگ کام ہوتا ہے اور میں ان سب سے بھی واقف ہوں اتنی چوتیں چوسیں ہے اتنی گانڈوں کے تنگ سوراخ کھولے ہیں کہ اب تو میں چوت پر منہ رکھتے ہی سمجھ جاتا ہوں کی یہاں کیا استمعال کیا گیا ہے اور بعض عورتیں تو بازار میں بکنے والے عام پرفیوم ہی اپنی چوت پر اسپرے کر لیتی ہے تاکہ ان کی پھدی چوستے وقت بو نا آئے لیکن اِس سے ان کی پھدی کے پانی ، پسینے سے مل کر وہ اسپرے پھدی میں انفکشن کا وجہ بھی بن جاتے ہیں میں نے کئی ایسے کیس دیکھیں ہے . لیکن یہ عورتیں یہ نہیں جانتی کہ مرد تو دیوانہ ہوتا ہے ان کی پھدی سے اٹھتی اس قدرتی مہک کا جو جب چوت اپنا رس ٹپکاتی ہے تب وہ مخصوص مہک آپ کی ناک کے ذرائع آپ کی وجود میں اتر جاتی ہے اور آج یہی مہک میں نے بہت عرصے بعد " رجو " کی پھدی میں محسوس کی تھی کیا ہی خوشگوار خوشبو تھی وہ میں اب تک اس کی نشے میں سرشار تھا خیر اگلی صبح میں کلینک پہنچا وہاں سلطانہ موجود تھی مجھے دیکھ کر مسکرائی میی بھی مسکرایا اس نے اشارے سے مجھے دوسرے کمرے میں آنے کو کہا میں اس کے ساتھ دوسرے کمرے میں پہنچا وہ دھیرے سے بولی تم اِس روم کی کھڑکی سے جھانک کر دیکھو تمہیں گاؤں کا حسن دکھاتی ہوں مزہ آ جائے گا تمھیں دیکھ کر یہ کہہ کر وہ دوسرے کمرے کی جانب بڑھ گئی اور میں کھڑکی کے ساتھ جا لگا اندر کمرے میں بیڈ پر ایک حَسِین لڑکی لیٹی ہوئی تھی کیا کھلتا ہوا رنگ تھا اس کا ابھی ابھی اس نے اپنا گاؤن اتارا تھا اپنے جِسَم سے کیا جِسَم تھا خوبصورت گورا گورا رنگ لمبے حَسِین بال بھرا بھرا جِسَم واہ جِسَم اِس لیے بھرا ہوا تھا کہ یہ پورے مہینوں سے تھی جی ہاں یہ ایک پریگننٹ لڑکی تھی جس کی عمر بامشکل چوبیس سال ہوگی کتنی حَسِین لگ رہی تھی یہ بھی بھلا کوئی عمر تھی اتنی حَسِین لڑکی کا پیٹ پھولانے کی بڑا ہی کم ظرف تھا اِس کا شوہر لیکن یہاں گاؤں میں زندگی کا رخ بالکل ہی جدا تھا ہم شہر والوں سے یہاں تو عورت کا کام صرف مرد کا بستر گرم رکھنا اور اس کی اولادیں پیدا کرنا ہی تھا چاہے عورت کی عمر صرف پندرہ سال ہی کیوں نہ ہو آپ یقین کریں یہاں میں نے ایک تیرہ سال کی بچی کو بھی چودا آپ اس کی بھی تفصیل پڑھیں گے اور وہ شادی شدہ تھی اور پوری عورت تھی اس نے اسی طرح میرا لنڈ لیا جس طرح ایک مکمل جوان عورت لیتی ہے تو یہ ہے ہمارے دیہاتوں کا حال یہاں عورت صرف ایک چیز ہے جس کے رانوں کی بیچ ایک سورخ ہوتا ہے جہاں مرد کا کام اپنا لنڈ ڈالے اسے فارغ کرنا ہے اور اپنی منی بھر کر اس میں کروٹ بَدَل کر سو جانا ہے اسی لیے دیہات کی عورتیں اتنی بھوکی ہوتی ہیں سیکس کی کیوںکہ ان کے شوہر عام طور پر سیکس کا مطلب صرف یہ لیتے ہیں کہ بستر پر لیٹے چل بھائی شلوار اتاری بِیوِی کی اور ٹانگوں کی بیچ خشک چوت میں گھسہ دیا اپنا لکڑی کی طرح خشک لنڈ اور شروع ہو گئے جھٹکے مارنا اور بِیوِی کی چوت تو ظاہر ہے کچھ دیر بعد پانی چھوڑنے کی وجہ سے نم ہو ہی جاتی ہے اس پر وہیں اپنی منی کا چھڑکاؤ کیا اور کہانی ختم جب کہ سیکس کی کہانی تو یہاں سے شروع ہوتی ہے خیر ہماری کہانی کا ٹوپک سیکس کے بارے میں بات کرنے نہیں ہے اِس لیے بات آگے بڑھاتے ہے میں کھڑکی سے لگا دیکھ رہا تھا سلطانہ نے اس لڑکی کی پیٹ پر الٹراسووند ڈیوائس پھیر رہی تھی اور ان دونوں کی نظر اسکرین پر نظر آنے والے ایک ںنے سے وجود پر تھیں جو اس لڑکی کی پیٹ میں تھا اور یہاں میرا لنڈ کھڑا ہو رہا تھا اس حسینہ کے سفید پیٹ کو دیکھ کر اور پِھر اس نے اپنی شلوار اُتَر دی اور میری حالت خراب ہونے لگی سلطانہ اس کی چوت میں انگلیاں گھسائے بچے کی موجوودہ پوزیشن چیک کر رہی تھی یہ ایک عام سا عمل ہے جو ہر پریگننٹ عورت کے ساتھ ہوتا ہے لیکن آج اِس کو آج اتنی کمسن لڑکی کی ساتھ ہوتا دیکھ میں تو بےقابو ہوا جا رہا تھا اس لڑکی کو سلطانہ کی اِس طرح انگلی چوت میں ڈال کر ہلانےسے سخت تکلیف ہو رہی تھی اور اس کی چوت سے ایک چیپچیپا لکویڈ بہہ رہا تھا میں جانتا تھا یہ اس کی بچہ دانی سے آ رہا تھا اس کی ڈلیوری اب چند دنوں کی دوری پر تھی اور میں اس کی مست گلابی چوت دیکھ کر پاگل ہو رہا تھا میں کچھ دیر یونہی کھڑا رہا پھر سلطانہ شاید اینٹی سیپٹک کا انجیکشن لینے آئی اور میں لپک کر اس کی سامنے آگیا اس نے میری ذپ سے نکلا لنڈ کھڑے ہوئے دیکھا اور مسکرا پڑی میں اس کا ہاتھ پکڑ کر میڈیکنی کی الماری کی طرف لایا اور اسے ایک انجیکشن نکال کر دیا جی ہاں یہ انیستھیسیا ہی تھا اور وہ تعجب سے مجھے دیکھنے لگی پھر بولی " وہاب پاگل ہو گئے ہو کیا . اسے چودو گے ؟ ڈلیوری نزدیک ہے اس کی " میں بولا " ارے چوت نہیں چود رہا اس کی تم میرا چوس کر منی چھوڑوانا میں تو بس اِس کی حَسِین پھدی چوسنا چاہتا ہوں اور یہ بوجھل ممے چوسنا چاہتا ہوں دروازہ تو بند ہے نہ کوئی آئے گا تو نہیں " وہ ولی " نہیں آئے گا تو کوئی نہیں اِس طرف سے تو بند ہے اور تمھارے روم کی طرف سے تو تم نے لوک کر ہی دیا ہو گا لیکن دیکھ لو کوئی گربڑ نہ ہو جائے " میں بولا " ارے کیا گڑبڑ ہوگی پہلے ہی پورے مہینوں سے ہے ابھی تو ہاتھی کا لنڈ بھی گھس جائے تو کچھ پتہ نہیں چلے گا اس کو اور اگر کوئی مسئلہ ہوا بھی تو کیا ہم تم ہیں نہ ڈاکٹر آخر کس مرض کی دوا ہوتے ہیں " وہ مسکرا دی اور انجیکشن بھرنے لگی کم سے کم چار گھنٹے ہوش میں آنے والی نہیں تھی وہ اِس دوز سے اور پِھر سلطانہ اندر چلی گئی اور اس کو کچھ سمجھانے گی پھر اس کو انجیکشن لگا دیا وہ فوراً ہی بے خبر ہوگئی اور سلطانہ دروازہ کھول کر باہر چلی گئی شاید اس کے گھر والوں کو بتانے کہ وہ ابھی تین یا چار گھنٹے آرام کرے گی بعد میں میرے خیال کی تصدیق ہوگئی اس لڑکی کی ساس اس کی ساتھ تھی اس سے سلطانہ نے بول دیا کہ وہ بہت کمزور ہے اس کو ڈرپ لگا دی گئی وہ آرام کر رہی ہے اندر آپْریشَن روم میں اور اس کی اندر آنے تک میں اپنی پینٹ اتار چکا تھا اور میرا لنڈ میرے ہاتھوں میں مچل رہا تھا سلطانہ جلدی سے اندر آ کر میری بانہوں میں سماں گئی میں اس کی ممے سہلانے لگا اور اس نے میرا باہر کو نکلا لنڈ پکڑ لیا ہمارے ہونٹ ملے ہوئے تھیں ہم کافی دیر تک یونہی ایک دوسرے کو چومتے رہے پِھر میں اس کو دور کرتے ہوئے اس سوئے ہوئے حسن کی طرف بڑھا . اور اپنی شیطانی آواز میں سلطانہ سے پوچھا کیا نام ہے اِس کا وہ بولی نازیہ اور یہ سنتے ہوئے میں نے اس کی پھولے ہوئے پیٹ پر ہاتھ پھیرا اور اپنے ہونٹ نیچے اس کی ابھری ہوئی چوت پر رکھ دیئے بچہ دانی سے نکلے پانی کی وجہ سے وہ کچھ چیپچیپی سی ہو رہی تھی اور نمکین بھی بلکہ یوں کہیں کہ نمکین سے کچھ زیادہ تراش تھی آپ جانتے ہوں گے کہ نمکین تو ہر چوت ہی ہوتی ہے اور میں اس چوت کی دلکشی میں کھو گیا چوستا رہا نہ جانے کب میرا لنڈ ڈاکٹر سلطانہ کے منہ میں پہنچ گیا اور وہ اسے چوسنے لگی میں تو بس نازیہ کی پھدی چوس رہا تھا اور اس کی بڑے بڑے ممے سہلا رہا تھا میں نے قمیض اُوپر کر کہ اس کے ممے باہر کھینچ لیے تھے بےحد بڑے اور لٹکے ہوئے ممے تھے یہ پریگنینسی کی وجہ سے تھا اور آثار بتا رہے تھے . کہ کچھ ہی دنوں میں ان میں دودھ اتارنے والا تھا جو یقیناً ڈھائی سال تک رہتا کیوںکہ آپ جانتے ہیں گاؤں کی عورتیں اپنے بچوں کو بریسٹ فیڈ ہی کرواتی ہیں تو یہ ممے کافی عرصے تک چوسے جانے کے قابل نہیں رہیں گے یہ آخری موقع تھا ان سے جوانی کا رس نچوڑنے کا اور میں اِس اَخِری موقعے کا خوب فائدہ اُٹھا رہا تھا میرے مستقل پھدی کو چوسنے سے بہت جلد پھدی سے پانی بہنے لگا اور میں مزے سے اسے چوسنے لگا عورت بھی کیا چیز ہے قدرت کی بنائی ہوئی ایک عجوبہ روزگار اور ندی چیز انیستھیسیا کی طاقتور دوز سے بے ہوش پڑی تھی یہ پورے دنوں سے تھی زچگی نزدیک تھی لیکن اس کی پھدی پِھر بھی چوسنے پر پانی چھوڑ رہی تھی آپ ابھی لنڈ ڈالیں پورا پورا مزہ دینے کو تیار کیا چیز ہے یہ پھدی بھی کیا خیاباں ہے دوستوں ؟ تو میں اس کی پھدی چوستا رہا تھا اور ڈاکٹر سلطانہ میرا لنڈ چوستی رہی پھر اس نے اپنی شلوار اتاری اور میرے سامنے جھک کر کھڑی ہوگئی اب میں اتنا بھی گدھا نہ تھا کہ ایک ہوشمند پھدی میرے سامنے کھلی تھی جس سے منی کے چند قطرے بھی ٹپک پڑے تھے اسے چھوڑ کر ایک بےہوش پورے دنوں کی چوت کو چوسنا رہتا سو میں نے وہی کیا جو مجھے کرنا چاہیے تھا گھوسہ دیا اپنا لنڈ ڈاکٹر سلطانہ کی پھدی میں کھڑے کھڑے اور وہ مزے سے اسے آگے پیچھے کرنے لگی اور میں خود کبھی کبھی منہ بڑھا كر اس سوئی ہوئی حسینہ کی پھدی کا مزہ بھی چکھ لیتا تو بس یوں ہی میں فارغ ہوا اور کیا ہی چھوٹی میری منی پوری چوت لبالب بھر گئی سلطانہ کی بس پِھر اس نے شلوار پہنی کپڑے سے میری منی صاف کی میرا لنڈ صاف کیا اور نازیہ کا جِسَم جو میرے تھوک سے لتھڑا ہوا تھا صاف کیا اور میں باہر آ کر اپنے روم میں بیٹھ گیا اور دوستوں اب بار بار کیا دھوراوں رات میں کبھی رجو کی پھدی کی خوشبو سے مہکتے میرے لب تو کبھی سلطانہ کی کھلی چوت میں سیر کرتا میرا لند اور کلینک میں تو مت پوچھے کوئی بھی آنے والی پریگننٹ مجھ سے بچ سکی انیستھیسیا کا استعمال بے حد بڑھ گیا نہ جانے کتنی عورتیں اور لڑکیاں چود گئی مجھ سے بےہوشی میں ان میں زیادہ تر تو پریگننٹ ہوتی سلطانہ مجھے موقع دیتی کچھ عورتیں ایسی تھی جن کی عمریں تیس سے چالیس کے درمیان رہی ہوں گی ان کی پھدی کے لب ہلکے کالے پر چکے تھے کافی بچے پیدا کر چکی تھیں ان کی چوتیں خیر ان کو بھی چوسا اور جن کی مہینے کم تھے ان کو چودا بھی بہت آرام سے لیکن ہاں پریگننٹ عورتیں سے لنڈ کو بس احتیاط یہ کرنی ہوتی ہے کہ ان کے پیٹ پر زور نہ بڑھے اس میں سلطانہ میری مددگار تو تھی ہی کافی لڑکیاں بھی تھیں کنواری جنہیں میں نے بہت آرام سے چودا کس طرح اس کی تفصیل بھی سن لیں ایک لڑکی آئی اس کا نام غالباً ارم تھا جب ہم نے اسے بے ہوش کیا اور اس کے کپڑے اتارے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اس کی چوت تو بالکل بند تھی لیکن اس کی گانڈ کا سوراخ کھل چکا تھا یعنی اس نے اپنی گانڈ چودوا رکھی تھی بس پِھر کیا تھا اس کی پھدی میں اعزا سن کرنے والا انجیکشن دیا اور داخل کر دیا اس کی پھدی میں سیل تھی بالکل ہی بند تھی بڑا مزہ دیا اس نے اور کافی خون بھی نکلا ممے اچھے تھے زیادہ بڑے نہیں پر نوکیلے اور تنے ہوئے چودتے ہوئے جھٹکوں سے ہلتے ہوئے ایک عجیب ہی منظر دکھا رہے تھے اور جب اسے ہوش آیا تو یقینا اسے احساس ہوا ہوگا اپنی پھدی کے کھُلنے کا لیکن انجیکشن کی وجہ سے درد نہ تھا اُوپر سے سلطانہ نے اسے یہ کہہ کر ڈرا دیا کہ ہم جانتے ہیں کہ اس کی گانڈ ماری جا چکی ہے اور آپ جانتے اُدھر گاؤں میں گانڈ کا چود جانا ایک ناقابلِ معافی جرم تھا جس کی سزا سنگسار کرنا یعنی پتھر مار مار کر حلق کر دینا دیا جاتا تھا تو وہ خاموشی سے چلی گئی سلطانہ اسے تِین دن تک بلاتی رہی اور اسے بے ہوش کر کہ ہم دونوں اس کے جِسَم سے مزہ لوٹتے رہے سلطانہ بھی اب میرے ساتھ مزہ کرتی تھی وہ لیسبیئن سیکس کے نشے میں گرفتار ہو رہی تھی اور تِین دن بعد اس کو ہوش میں ہی چودا میں نے اور اس نے بڑی خوشی سے چُدوایا اس کی خدشات ہم دور کرچکے تھے کہ سہاگ رات کو اس کے شوہر کو پتہ نہ چل جاۓ اس ہی کی زبانی پتہ چلا کہ اس کی گانڈ کا سوراخ کسی اور نے نہیں اس کے بھائی نے کھولا تھا بڑے شادی شدہ بھائی نے اور ہم تو بس مزہ کر رہے تھے اور وہ بھی ہمارے ساتھ شریک تھی تو ایسے نہ جانے کتنے ہی واقعات ہیں جو رونوما ہوئے ان دنوں میں تو بس اپنی پسند کی زندگی جی رہا تھا ہر روز ، ہر رات ، ایک نئی چوت ، ایک نیا شاہکار کچھ نئی ادائیں کچھ نئے انداز بس یہی تھی میری زندگی اس طرح مجھے یاد ہے کہ 2005 شروع ہوگیا مجھے یہاں آئے چار سال سے زیادہ ہوگئے تھے کتنی ہی عورتیں چود چکی تھی مجھ سیے کتنی ہی چود رہیں تھی گاؤں والوں کو کانوں کان خبر نہ تھی کہ ان کی بیویاں جنہیں وہ بڑی حفاظت سے چھپا کر رکھتے ہیں اپنے گھر میں جن کو کسی غیر کی آنکھ نے دیکھا تک نہ تھا کس کس طرح چودتی ہیں کیسے ان کی پھدیاں ایک غیر کے ہونٹوں میں اپنا رس ٹپکاتی ہے نہ جانے کتنی تو ہوش میں ہی چودواتی تھی بس یونہی دن گزر رہے تھے ، ، ، بڑے ہی مزے میں لیکن رسی کتنی ہی دراز کیوں نہ ہو ایک دن تو ختم ہو ہی جاتی ہے میرا ٹائم ابھی نہیں آیا تھا ابھی تو میرے دامن میں کچھ اور ایسے گناہوں کا داغ لگنا باقی تھا جن سے میرے گناہوں کی کتاب مکمل ہو جائے اور میں دائمی سزا کا حق دار بن جاوں ایک انمٹ روشنائی سے میری تباہی لکھ دی جاے لیکن ابھی ٹائم تھا ابھی رسی دراز تھی اور میں بھاگے جا رہا تھا نئی منزلوں کی طرف آہ ہ ہ ہ کاش میں سنبھل جاتا کاش وہ دن میری زندگی سے حرف غلط کی طرح مٹ جاتا کاش میں آج آپ کو یہ داستاں نہ سننا رہا ہوتا کاش میں بچپن میں ہی مر گیا ہوتا لیکن میرا مقدار تو سیاہ تھا اس پر سیائی پھیر دی گئی تھی میری روح نے شیطان کی ساتھ سودا کر لیا تھا اور لوگوں کی عزتیں ان کے گھر کی شرم ان کے بچوں کی مائیں میرے ہاتھوں چودتی رہی ان کی چوتیں میرے سامنے ننگی ہوتی رہی ان کے جِسَم جن پر صرف اس کے شوہر کا حق تھا میریی سامنے عیاں پڑے رہے اور میں مگن رہا ان میں مجھے یاد بھی نہیں ان کی سہی تعداد بس یاد ہے تو اپنا حال میی گم تھا نئے نئے جسموں کی رنگینوں میں ان پھدیوں کی قدرتی خوشبوں میں جن کا مقابلہ شہر کی الٹرا موڈرن لیکن کھلی ہوئی پھدیوں سے نہ تھا اور پِھر 2005 کا ایک دن مجھے یاد ہے یہ اَپْرَیْل کا مہینہ تھا گرمیاں عروج پر تھی اپریل2005 مجھے اِس گاؤں میں آئے کئی سال ہوچکے تھے میرے لنڈ نے جس پھدی کو یہاں پہلا نشانہ بنایا وہ یہاں کی لیڈی ڈاکٹر ڈاکٹر سلطانہ تھی بےحد حَسِین عورت جس کا شوہر تیمور اس کی گانڈ بہت ہی اچھے طریقے سے مارا کرتا تھا جو اپنے شوہر کی چدائی سے مطمئن تھی ساتیسفیید تھی لیکن کیا کریں اس شوق کا جو اسے کراچی کے میڈیکل کالج سے ملا تھا نئے نئے لنڈ چکنے کا اور اسی شوق سے مجبور وہ ڈاکٹر اپنی پھدی مجھ سے چودواتی کئی سال ہو گئے تھے سلطانہ کے دو بچے ہوچکے تھے اور یہ تو شاید وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ تیمور کے بچے تھے یا میرے اب وہ کم ہی چُدواتی تھی لیکن وہ میری مدد کرتی تھی ہمارے کلینک پر آنے والی عورتوں کی چدائی میں ہاتھ بتاتی تھی یہاں بہت سی مریض خاتون آیا کرتی تھی جن میں کچھ پریگننٹ ہوتی تھی کچھ اپنا میڈیکل چیک اپ کرانے آتی تھی ان کا بچہ کیوں نہیں ہوتا اور دونوں ہی طرح کی عورتوں کو میں چودا کرتا کئی کے بچے میری اس زبردست چدائی کی وجہ سے ہو بھی گئے اس سے ثابت ہوتا تھا کہ وہ میڈیکلی طور پر بالکل فٹ تھیں لیکن ان کے شوہر بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم تھے اور میری چدائی کی وجہ سے ان کی گود بھر گئی وہ ڈاکٹر سلطانہ کی علاج سے بہت مطمئن تھی ان کو تو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ ان کا علاج کے دوران ان کو کس طرح چودا گیا اور کس طرح وہ میرے سامنے اپنی چوت کھولے چودواتی رہیں ہاں کچھ عورتیں ایسی بھی تھیں جن کے شوہر بہت ہی بوڑھے تھے اور وہ خود کم عمر جیسا کے گاؤں میں عام رواج ہوا کرتا تھا ان میں سے کئی ایک مجھ سے ہوش میں چُدوایا کرتی تھی . ان کو راضی کرنے میں بھی سلطانہ کا کافی ہاتھ رہا میں بہت ہی مزے میں تھا گاؤں کی کئی لڑکیاں بھی آیا کرتی مختلف بیماریوں کی وجہ سے کنواری جوانیاں جن کو میں نے ہی پہلی بار چودا ان کی پھدیاں میرے موٹے لنڈ کی تاب نہ لا کر خونم خون ہوگئی بعض کو تو باقاعدہ ٹانکے لگانے پڑے لیکن ہمارے پاس ہر چیز کا علاج موجود تھا اور یونہی وقت گزرتا گیا یہ اَپْرَیْل 2005 کا سال تھا میں اس دن رات میں کافی دن بعد سلطانہ کو چود کر سویا تھا کیا ہے نہ اس کے بچے بہت تنگ کیا کرتے تھے اب شوہر تو ہوتا نہیں تھا اس کا باز دفعہ تو یہ ہوتا تھا کہ بچہ اس کی چھاتی سے لگا دودھ پی رہا ہوتا تھا اور وہ خود میرا لنڈ چوس رہی ہوتی تھی کبھی یوں ہوتا میرا لنڈ اس کی چوت میں ہوتا کوئی بچہ سوتے سے اٹھ کر رونے لگتا اور وہ ٹپکتی پھدی لیے بھاگتی اور بچہ سولاتے سلاتے کافی دیر ہو جاتی پِھر آتی اور ہم باقی کام پورا کرتے بعض دفعہ جب میں عروج پر ہوتا اور کوئی بچہ اٹھ جاتا تو وہ فوراً بھاگ کر بچے کی پاس لیٹ کر اسے دودھ پلا کر سولانے کی کوشش کر رہی ہوتی اور میں پیچھے سے اس کی گانڈ میں لنڈ ڈالے اپنی گرمی نکال رہا ہوتا سچ پوچھیں تو میں چیڑ جاتا آپ تو جانتے ہیں یہ بھلا کس کو پسند آ سکتا ہے میی ٹہرا پورا مزہ لینے والوں میں مجھ کو یہ قسطوں میں چدائی میں ذرا مزہ نہیں آتا تھا اسی وجہ سے میں اب سلطانہ کی چدائی کرنے اس کے گھر کم ہی جایا کرتا تھا کل رات میں کافی دنوں بعد اس کی چدائی کر کے آیا تھا آج کل ساری ہی چوتیں میرے لیے پرانی ہوچکی تھیں کوئی نئی مریض نہیں آ رہی تھی جو میری نئی نئی پھدی چودنے کی خواہش پوری کرسکتی میی آ کر اپنے روم میں بیٹھا ہوا تھا اور کبھی کبھی اپنے آفس کی ونڈو سے باہر کا جائزہ بھی لے لیتا کہ شاید کوئی نئی چوت آ جائے بھولی بھٹکی اور آج کا دن اچھا گزرے لیکن نئی تو دور کی بات کوئی پرانی لیکن میرے مطلب کی پرانی عورت بھی کوئی دکھائی نہیں دے رہی تھی زیادہ تر بوڑھی اور آخری دنوں کی پریگننٹ عورتیں ہی دِکھ رہیں تھی جن میں سے مجھے یقین ہے بہت سی بس بچہ دینے کی آخری مراحل پر تھی اور اگر ان کی چدائی کی تو شاید یہی پر چوت سے بچہ دانی کا پانی باہر ٹپکنا شروع ہو جاے اور چدائی ہونے تک بچہ ہی باہر آ جاے میں یہ رسک نہیں لے سکتا تھا اس لیے بیٹھا ہوا روٹین کی فائلز دیکھ رہا تھا یہ تقریباً لنچ کے بعد کا ٹائم تھا میں نے باہر کی طرف نظر اُٹھائی تو ایک عورت دکھائی دی وہ کہیں دور سے آئی تھی اس کے ساتھ اس کی بچی تھی بچی کوئی تیرہ یا چودہ سال کی لیکن جِسَم کی اُٹھان پوری تھی کیا جِسَم تھا بہت چھوٹی عمر میں ممے کافی ابھر آئے تھے اور مجھے اپنی نوجوانی کی دن یاد آئے جب میں ایسے ہی کمسن مموں سے کھیلا کرتا تھا اور میرا لنڈ کھڑا ہوگیا میی جا کر سلطانہ کے روم کے دروازے کی آڑ میں کھڑا ہو گیا پتہ چلا کہ اس لڑکی کا نام ہیرا تھا اس کی عمر تیرہ سال تھی اور وہ اپنی ماں کے ساتھ آئی تھی کیوں کہ اس کو چکر آ رہے تھے دو چار روز سے تو ماں اسے آج لے کر آئی تھی سلطانہ نے اس کو کمزوری کا کہہ کر ایک ڈرپ لگانے کی تجویز دی اس کی ماں کو باہر بیٹھا کر وہ اسے روم میں اندر لے آئی اور بیڈ پر لیٹا کر اسے ڈرپ لگا دی طاقت کی میں نے سلطانہ کو اشارے سے اپنے روم میں بلایا وہ آئی تو میں نے اس سے ہیرا کے متعلق پوچھا وہ حیرت سے بولی وہاب پاگل ہوئے ہو کیا تیرہ سال کی ہے وہ بہت چھوٹی چوت ہے اس کی میں نے پوچھا " میں نے کیا بتایا ہے اس کے پیریڈز تو ہو رہے ہیں نہ اسے " وہ بولی " اچھا تو تم دروازے سے سن رہے تھیی . ہاں اس کی پیریڈز تو شروع ہو چکے ہیں اور ابھی وہ اپنے پہلے پیریڈز سے فارغ ہوئی ہے اِس وجہ سے کمزوری محسوس کر رہی ہے میی نے کہا تو جب قدرت اس کو تیرہ سال میں جوان کر چکی ہے تو تم کو کیا اعتراض ہے وہ چدائی کی لیے تیار ہے اب وہ بولی وہاب تم پاگل ہو گئے ہو اب میں نے کافی دیر بحث کی بلآخر اس کو راضی کر ہی لیا اور وہ جا کر ہیرا کی ڈرپ میں بے ہوشی کا انجیکشن جا کر انجکٹ کر آئی اور آ کر مجھ سے بولی میں نے اس کو انیستھیسیا دے دیا ہے پانچ گنٹھے بے ہوش ہے وہ اگر کچھ اونچ نیچ ہو تو ساری میڈیسن وہیں ہیں میی جا کر باقی مریض دیکھتی ہوں اور اس کی ماں کو سمجھاتی ہوں وہ یہ کہہ کر باہر چلی گئی میی اٹھ کر اندر کی طرف بڑھ گیا مجھ پر شیطان سوار تھا میرا لنڈ جو سات انچ بڑا تھا وہ تنا ہوا تھا اور ایک تیرہ سال کی بچی کی چھوٹی سی پھدی میں جانے کو بے چین تھا اب تک میں نے اتنی چھوٹی پھدی کو نہیں چودا تھا یہ پہلا موقع تھا میں اندر بڑھتا گیا اور جا کر روم کا دروازہ بند کر لیا میرے سامنے ایک تیرہ سال کی بچی لیٹی تھی جس نے ابھی اپنی زندگی کی صرف تیرہ بہاریں دیکھیں تھی وہ نہیں جانتی تھی جنسی تعلق کے بارے میں ابھی تو اس کی کھیلنے کے دن تھے اور اب اس کی پھدی پھٹنے والی تھی وہ اپنی ٹانگیں سوکیڑے پڑی تھی میی نے آگے بڑھ کر اس کی دونوں ٹانگیں کھول دی او اس کی قمیض کا دامن اُوپر کیا اس کا گورا گورا پیٹ میرے سامنے تھا اور میں نے اس کی شلوار نیچے کر دی اور ایک بے حد چھوٹی سی کمسن اور بالوں سے بالکل صاف چوت میرے سامنے تھی اس کی ماں کی کہنے کے مطابق اس کی پہلے پیریڈز ابھی ہوئے تھے اور عام طور پر مائیں اپنی بیٹیوں کو پہلے پیریڈز کی بعد ہی پھدی کے بال صاف کرنے کا کہتیں ہیں تو اِس پھدی پر سے بھی پہلی بار بال صاف کیے گئے تھیی اور نرم بال پہلی بار اترنے کی وجہ سے بے حد چکنی اور صاف معلوم ہو رہی تھی پھدی جیسے جیسے لڑکیاں اپنی چوت کے بال صاف کرتی ہیں ان کی چوت کی جلد کی اوپری ساخت سخت اور بالوں سے بھرتی جاتی ہے لیکن یہاں ابھی ایسے آثار نہ تھے اس کو تو شاید یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ اِس چھوٹے سے سوراخ سے پیشاب کرنے کی سوا بھی کچھ کیا جاتا ہے اور میں اس کی چوت کو دیکھ رہا تھا اس پر آہستہ آہستہ ہاتھ پھیر رہا تھا میں نے اپنے کپڑے اتارے دیے اور اپنے ہونٹ اس کی چوت پر رکھ دیے اور کیا ہی نرم پھدی تھی میری زبان اس کی چکنی چوت پر پھسل رہی تھی میں اس کی پھدی کو چاٹ رہا تھا میری زبان نے بھلا ایسی چوت کب چاٹی ہوگی اور آہستہ آہستہ میری زبان اس کی پھدی کے گلابی پردوں میں داخل ہوگئی . حالاںکہ نمکین چوت کیا ہی خوب ذائقہ تھا اس کمسن چوت کا اور میں نے اس کی پھدی کو پکڑ لیا دیوانوں کی طرح چوس رہا تھا میں اسے اور میں نے محسوس کیا اس کی پھدی کو گرم ہوتے ہوئے یہ پھدی جس نے ابھی اپنے پہلے پیریڈز پورے کیے تھے فطرت کی راز بہت تیزی سے سیکھ رہی تھی وہ میرے چوسنے سے گرم ہو رہی تھی اور میں نے اس پھدی کا پانی اپنی زبان پر ٹپکتا محسوس کیا اور یہ وہ پانی تھا جسے کسی مرد نے پہلی بار اِس چوت سے نچوڑا تھا جس کا ذائقہ کسی مرد نے پہلی بار محسوس کیا تھا اس پھدی کی مست کر دینے والی مہک پہلی بار کسی مرد کی ناک میں پہنچی تھی اور چوت اپنا سفر طے کر رہی تھی وہ میرے تھوک سے لودڑ گئی تھی اور اس میں سے آہستہ آہستہ پانی رس رہا تھا . لیکن شاید وہ اتنی گرمی برداشت نہیں کر سکی اور اُوپر سے ڈرپ بھی لگی ہوئی تھی اسے اور میرے منہ اس کی پیشاب سے بڑھنے لگا میی نے منہ ہٹا لیا اور چوت دبا دبا کر اس کو بستر پر ہی پیشاب کروا دیا اب میں نے اس کی کمیز بھی اُتار دی ممے کیا تھے بس نپل تھے پنک کلر کے اس کا چٹ لیٹنے کی وجہ سے ممے ایک گولائی لیے ہوئے اس کے سینے پر تغمے کی طرح سجے ہوئے تھے اور میں نے انہیں اپنی مٹھی میں دبا لیا اور نپل چوسنے لگا میں اس پر سوار اس کے ممے چوسنے لگا میں پورا منہ کھولے اس کی ممے چوس رہا تھا ایسا مزہ مجھے کبھی نہ آیا تھا اور میں بے خود ہونے لگا اتنا بے خود ہوا ممے ، میرے منہ میں تھے اور میرا لنڈ اس کی گیلی پھدی پر رگڑ کھا رہا تھا اور میں نے پہلی بار صرف ایک لڑکی کی ممے چوسنے سے اپنی منی نکلتے دیکھا جی ہاں میری منی صرف اس کی پھدی پر رگڑ کھانے سے باہر آ گئی تھی اتنا لطف دیا تھا اس کمسن حسینہ نے مجھے اور میں اس کی ادکھلے ممے مٹھی میں دباے بستر پر پڑا ہانپ رہا تھا میں نے سوچا اب اور مناسب نہیں پِھر کسی وقت کی لیے باقی رکھنا چاہیے آج کی لیے اتنا ہی کافی ہے میں اس پر سے اُٹھا اور اس کی پھدی پر پڑی اپنی منی صاف کی اس کے کپڑے درست طریقے سے پہناے اور باہر آ گیا اور جا کر سلطانہ کو بتا دیا کہ میں فارغ ہو چکا ہوں کچھ دیر بعد اس کو ہوش آیا اور وہ اپنی ماں کی ساتھ چلی گئی ہاں کمرے سے نکلتے ہوے میں نے حیرت سے اسے اپنے مموں پر ایک دو دفعہ اور اپنا بریزیئر سہی کرتے دیکھا وہ حیرت زدہ تھی کیوںکہ کہ اس کی پھدی کھولی نہیں گئی تھی اِس لیے اس کو کسی بھی قسم کی میڈیسن کی دوز نہیں دی گئی تھی اس لیے وہ اپنے جِسَم پر کی گئی کاروائی کو محسوس کر رہی تھی لیکن اس کو سمجھنے سے قاصر تھی وہ چلی گئی اور میرے کہنے پر سلطانہ نے دو دن بعد آنے کا کہہ اسے اس کے جانے کے بعد میں نے سلطانہ کو سارا واقعہ بتایا وہ بہت ہنسی اور میرا مذاق بھی اڑایا اور میں نے سلطانہ کو کلینک میں ہی چودا جی ہاں وہ بھی میرے منہ سے سارے واقعات سن کر گرم ہو گئی تھی اور میری تو گرمی نکلی ہی نہیں تھی خوب چودا اسے پھر رات میں رجو تھی میرے پہلوں میں اچھی رات گزری لیکن ہیرا کی تو بات ہی جدا تھی کیا ہی جِسَم تھا کیا مدھوش کر دینے والی خوشبو اٹھ رہی تھی اس کی پھدی سی اور کیا ممے تھے اس کے مموں کے سامنے رجو کے بڑے اور ہلتے ہوئے ممے کوئی حیثیت نہیں رکھتے تھے اس کی خوشبو دار چھوٹی سی پھدی کی آگے رجو یا سلطانہ کی بڑی پھدیاں کوئی مقام نہیں پاسکتی تھی میں چود تو رجو کو رہا تھا لیکن میرا ذہن ہیرا کی کم عمر پھدی میں ہی گم تھا اگلے دن سلطانہ نے مجھے بتایا ہیرا یہاں سے کچھ دور واقعہ ایک اور گاؤں کے زامیندار کی بیٹی تھی وہ سات بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی اور بے حد لاڈ پیار میں پلی بڑھی تھی میں نے خود اِس بات کا یقین یوں کیا کہ اگلے ہی دن اس کے باپ کی حویلی سے کئی گاڑیاں بھر کے آئیں جن میں اس کی بھائی اور بھابیاں وغیرہ اور حویلی کی دوسری عورتیں تھیں یہ سب سلطانہ کے پاس آئیں تھی ہیرا کو ڈرپ لگی یہ سن کر لیکن سلطانہ نے انہیں یہ کہہ کر مطمئن کر دیا کی پیریڈز کی وجہ سے وہ کافی کمزوری محسوس کر رہی تھی اب وہ نارمل ہوگی اس کو ایک ڈرپ کی اور ضرورت ہے وہ آپ چند دن بعد لگوا لئے گا . سلطانہ نے موقعے کی نزاکت کا خیال کرتے ہوئے ان سے اگلے ہی دن ڈرپ لگوانے کو نہیں کہا ان کے جانے کے بعد سلطانہ اندر آئی اور مجھ سے کہا وہاب میں تو سمجھی آج تم نہیں بچو گے یقین کرو اتنی گاڑیاں دیکھ کر میرا تو خون خشک ہو گیا تھا میری مانوں تو اِس لڑکی کو چھوڑ دو یہ بہت خطرناک ہے کچھ اونچ نیچ ہوگئی تو اِس کا باپ تم کو زندہ نہیں چھوڑے گا بہت طاقتور زمیندار ہے وہ یہاں کا لیکن میں کہاں سمجھ رہا تھا یہ سب میں تو اس کی پھدی کے گلابی گہرائیوں میں گم ہونے کو بے قرار تھا اور یہ ہفتہ بھی گزر گیا ہیرا اب کی دفعہ اپنی ایک بھابی کی ساتھ آئی تھی کافی حَسِین تھی اس کی بھابی بھی بھرے بھرے جِسَم والی گاؤں کی حسینہ لیکن آج تو میرا لنڈ صرف ہیرا کی لیا کھڑا تھا اور سلطانہ اسے اندر لے آئی اس کی بھابی باہر بیٹھی تھی اس کو ڈرپ لگا کر انیستھیسیا دے دی گئی اور وہ بے ہوش ہوگئی سلطانہ باہر چلی گئی اور میں آ کر اس کی پاس کھڑا اِس سوئے ہوئے حسن میں گم تھا کیا ہی معصومیت تھی اس کے چہرے پر کیا نزاکت تھی میں نے اس کے کپڑے اُتار دیئے اس کی بے پناہ حسن کو عیاں کر دیا اس کا سینہ جوان ہوتی چھاتیاں خوبصورت نپلز سے لدھے ممے جو جوانی کے پہلے مراحل میں تھے جو ابھی ابھر رہے تھے اس کی رانوں کے بیچ گلاب کے بند پھول کی طرح منہ بند چوت میی نے بے چین ہو کر اس کی رانیں کھول دی اور چوت کی دونوں لب جدا کر دیے . بے حد گلابی تھی کمسن تھی اور میں اس کو چوسنے لگا اس کے مموں سے کھیلنے لگا کئی بار اس کا منہ کھول کر میں نے اپنے لنڈ کا ٹوپا اس کے منہ میں ڈالا لیکن میرے موٹے لنڈ کا صرف ٹوپا ہی اس کی چھوٹے سے منہ میں جا سکا اور پِھر اس کو عورت بنانے کو تیار ہوگیا کافی سارا آئل میں نے اس کی پھدی پر لگایا اور اپنے لنڈ پر اور آہستہ آہستہ اس کی پھدی پر اپنی انگلی پھیرتے پھیرتے ایک دو دفعہ انگلی کو اندر ریشمی گہرائیوں میں ڈال دیا اور ایک بار جب میری انگلی باہر آئی تو اس پر خون لگا تھا اس کی پھدی کا پردہ ( حیمیم ) پھٹ چکا تھا وہ مکمل کنواری تھی اِس کا ثبوت اس کی چوت سے رستہ خون تھا میں یہ دیکھ کر اپنے قابو میں نہ رہا اور اس پر سوار ہوگیا اور اس بے ہوش پڑی تیرہ سالا پھدی میں اپنا لنڈ بے دردی سے داخل کر دیا بےحد تنگ اور چھوٹی چوت تھی میرا لنڈ گھوسنے سے وہ چیر سی گئی اور خون تو جیسے دریا بہنے لگا میں بھی پریشان ہوگیا بہت خون بہہ رہا تھا لیکن میں دھکے لگاتا رہا یہاں تک کے اس کی پھدی سے میری منی خون میں مل کر باہر بہنے لگی اس کی چدائی ہوچکی تھی اور میری گرمی بھی نکل چکی تھی اور اب مجھے حالات کی نزاکت کا احساس ہوا اس کی چوت سے بہت خون بہہ رہا تھا میرے موٹے لنڈ نے اس کی نازک سی چھوٹی چوت کو تباہ کر دیا تھا اندر تک پھٹ گئی تھی وہ تکلیف کی شدت سے اس کی رانوں کا گوشت کھینچ گیا تھا اور اگر وہ بے ہوش نہ ہوتی تو شاید اس کی چیخوں سے پورا گاؤں باہر جمع ہو گیا ہوتا میی نے اٹھ کر اس کو کئی انجیکشن لگاے اور اس کی پھدی کے اندر سن کر دینے والے انجیکشن دیئے آخر اس کا خون روک گیا میں اپنا کام ختم کر کے باہر آ گیا اس کو اپنے ٹائم پر ہوش آ گیا لیکن وہ ابھی کچھ محسوس نہیں کر رہی تھی اس کی پھدی پوری طرح سن تھی میی نے سلطانہ سے کہہ کر تِین دن بعد اسے پِھر بلایا کیوں کہ تِین دن بعد اسے سن کرنے والی ایک اور دوز دینی ضروری تھی ورنہ پول کھل جاتا اور یہیں سے میری کمبختی کا آغاز ہوا وہ تیسرے دن نہیں آئی اور چوتھے روز اس کی ماں اور بھابیاں اس کو تڑپتا ہوا لے کر آ گئی اس کی پھدی کی اندرونی حصوں میں شدید درد تھا وہ تڑپ رہی تھی اس کو فوراً پین کلر دیا گیا اور اس کی پھدی میں سلطانہ نے سن کرنے والا انجیکشن لگا دیا اس کو فوراً ہی قرار آ گیا لیکن اس کی ماں ڈال میں کالا سمجھ چکی تھی اور ظاہر ہے وہ دُنیا دیکھی عورت تھی اس نے گھر جا کر چیک کیا اور آپ جانتے ہیں گاؤں کی عورتیں ان معملات میں بے حد تجربکار ہوتی ہیں وہ اپنی چھوٹی بیٹی کی پھدی دیکھتے ہی سمجھ گئی کہ کیا ظلم ہو گیا ہے اس کی چھوٹی سی چوت پر اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کی اگلے ہی روز مجھے اور سلطانہ دونوں ہی کو اپنے گھروں سے اغوا کر لیا گیا اور ہمیں ہوش آیا تو ہم باندھے ہوئے ننگی حالت میں ایک تےخانے میں پڑے تھے اور ہمارے سامنے زمیندار اس کے بیٹے اور اس کے چند خاص آدمی خونی نگاہوں سے ہمیں گھورتے کھڑے ہوئے تھے اور پھر ہم پر کونسا ظلم نہیں توڑا گیا میرے سامنے سلطانہ کے ننگے جِسَم کو تِین تِین موٹے موٹے مردوں نے کس طرح نچوڑا کس بے دردی سے اس کی حَسِین جِسَم کو جلایا گیا اس کے جِسَم کو کاٹ دیا گیا وہ ساری باتوں کا اقرار کر چکی تھی اور میرے سامنے ہی اس کو بھوکوں کتوں کے آگے ڈال دیا گیا آپ کیا جان سکتے ہیں میرے سامنے وہ کتے اس کے حَسِین جِسَم کی ھدیہ نچوڑ رہے تھے اس کا حَسِین جِسَم جو کبھی میری بانہوں میں کرواٹیں بدلہ کرتا تھا آج محض ہڈیوں اور خون آلود گوشت کا ڈھیر تھا رہا میں تو میرے ساتھ کیا کچھ نہ ہوا میرے جِسَم کے سارے بال نوچے گئے میرے ناخن اُکھاڑ لیے گئے جِسَم کے نازک حصوں پر بدترین تشدد کیا گیا جس کی وجہ سے میں مردانہ طاقت ہی کھو بیٹھا میریی ہڈیوں کے جوڑ پر ڈرل مشین سے ہول کر دیئے گئے جس سے میں تمام عمر کی لیے معذور ہوگیا بس یوں سمجھ لیں کہ مجھ کو مارا نہیں گیا میی ان سے بھیک مانگتا رہا کہ مجھ کو مار ڈالو میں اور تکلیف برداشت نہیں کر سکتا لیکن انہوں نے مجھ کو قرب اذیت کی تصویر بنا ڈالا اور جب وہ تھک گئے تو مجھ کو ایک دور دراز اسٹیشن پر پھینک گئے ، ، ، جہاں چند گاؤں والوں نے میرا علاج کیا اب میں اسی اسٹیشن پر بھیک مانگ کر گزارا کرتا ہوں ہر آتے جاتے آدمی سے سوال کرتا ہوں مانگ کر کھاتا ہوں میی اب نہ تو چل سکتا ہوں نہ ہی میرے ہاتھ کام کرتے ہے آج اپنی یہ کہانی میں ایک مسافر کے ذریعے آپ تک پہنچا رہا ہوں روشنیوں سے بھری آپ کی دُنیا تک پہنچا رہا ہوں آپ سب مگن ہیں اپنی دُنیا میں اپنی رنگینیوں میں اور دُنیا کی دلکشی میں اور اسی میں شاید ہم بھول جاتے ہیں کہ ایک طاقت ہے جو اِس پوری کائنات کا نظام چلا رہی ہے جیس نے ہماری رسی دراز ضرور کی ہے لیکن ایک مخصوص مدت تک کی ہے میری تو رسی کھینچ لی گئی ہے لیکن آپ کی ابھی دراز ہے تو اس کی کھینچنے سے پہلے اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں تو بچا لے باز آ جایئں اپنی نفسانی خوائشات کو حد سے گزرنے نہ دیں شیطان کو خود پر اتنا نہ حاوی کر لیں کہ ایک دن آپ کو اوندھے منہ گرنا پڑے اپنی ہوس میں اتنے اندھے نہ ہو جائیں کہ اچھائی اور برائی کی تمیز ہی بھول جایئں بس یہ پیغام ہے میرا آپ سب کی لیے جو میں آپ سے ہزاروں میل دور بیٹھا آپ تک پہنچا رہا ہوں بس اتنا ہی کہنا ہے مجھے "ختم شد" ایک چھوٹی سی اسٹوری اردو فن کلب کے قارئین کی نظر امید ہے آپ تمام احباب کو پسند آئے گی آپ کی قیمتی راۓ کا انتظار رہے گا حیدر رضا
  3. ایک گاؤں کے ڈاکٹر کی کہانی جس کے گناہوں کی سزا اسے عجیب طریقے سے ملی ایک سبق آموز دلچسپ معلوماتی اور جنسی کہانی
  4. اس کو دیکھ ، خود کو حور سمجھ رہی ہے . . . " اظہر نے اسی لڑکی کی طرف اشارہ کیا ، جو کچھ دیر پہلے سامنے آکر انٹرودکشن دے رہی تھی . . . . " میرا بس چلے تو اس کا ٹی۔سی ہی اس کے ہاتھ میں دے دوں . . . " صائمہ کی طرف دیکھتے ہوئے میں نے کہا ، کچھ دیر پہلے جب وہ سامنے آکر بول رہی تھی تو اس کی آواز نیچرل نہیں تھی ، وہ اپنی الگ ہی ٹون میں بات کر رہی تھی ، جو کی اکثر لڑکیاں کرتی ہے . . . . . شوکت اس وقت اسٹڈی میں لگا ہوا تھا ، اور میں اور اظہر اس لڑکی کو دیکھ کر دِل ہی دِل میں برا بھلا کہہ رہے تھے ، . . . تبھی اس کی نظر ہم پر پڑی ، اور میں نے جلدی اپنی نظریں اس کی طرف سے ہٹا کر اپنے رجسٹر کی طرف کر لی . . . . . " کہی یہ نہ سوچ لے کہ ہم دونوں اسے لائن مار رہے ہے . . . " میں نے پین پکڑا اور ٹیچر جو لکھا رہا تھا اسے لکھتے ہوئے بولا . . . . "میرا لنڈ لائن ، اتنے بڑے کالج میں یہ ایک ہی ہے کیا ، جو اسے لائن ماریں گے . . . اسے دیکھ کر تو سحرش میڈم كی کلاس میں کھڑا لنڈ بھی بیٹھ جاتا ہے . . . . " ہمارے ٹیچر کہ پریڈ ختم ہوگیا تھا " بھوک لگی ہے یار ، چل کینٹین سے آتے ہے . . . " اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوے میں نے بولا . . . " چل آجا ، کینٹین اُدھر ہے . . . " ویسے تو سینیرز کی کلاس لگی ہوئی تھی اس وقت ، لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہے ، جو کلاس بند کرکے کینٹین آ جاتے ہیں ، جب ہم کینٹین كے اندر گئے تو وہاں لڑکیاں تو تھی ، لیکن ساتھ میں ہمارے سینیرز بھی تھے اور وہ ایسے بیٹھے ہوئے تھے جیسے کالج ان کے باپ کا ہو . . . . " چُپ چاپ ، ایک کرسی پکڑ لے ، ورنہ مسلہ ہو جائیگا . . . " میں اس وقت کچھ نہیں بولا ، اور ہم دونوں نے سائڈ کی کرسی پکڑ لی . . . . " اس کو دیکھ . . . " اظہر کا اشارہ کینٹین میں ایک طرف بیٹھے ہوئے سیئنر لڑکے کی طرف تھا ، جو کہ کچھ اسٹوڈنٹ كے ساتھ بیٹھا باتیں کر رہا تھا . . . . " کیا ہوا . . . " میں نے بھی اسی طرف دیکھا . . . " اسکا نام کاشف ہے ، کمینہ سات سال سے اِس کالج میں پڑھ رہا ہے ، لیکن آج تک فورتھ ایئر میں ہی لٹکا ہوا ہے . . . " جب اظہر نے مجھ سے کہا تب میں نے اس کی طرف غور سے دیکھا ، وہ اپنے ساتھ بیٹھے اسٹوڈنٹ میں سے زیادہ عمر کا لگ رہا تھا ، اور اپنے پیر سے ٹیبل كے نیچے سے دوسری طرف بیٹھی ہوئی لڑکی كے پیر کو سہلا رہا تھا . . . . " یہ لڑکیاں بھی نا جانے کیسے کیسے لڑکوں سے سیٹ ہوجاتی ہے . . . " اس لڑکی كے لیے جھوٹی اپنایت دکھاتے ہوئے میں نے اظہر سے پوچھا " یہ سات سال والا ہے کس برانچ کا . . . " " اپنی ہی برانچ کا ہے کمینہ اور کچھ لوگ کہتے ہے کہ یہ بہت ٹائٹ تنظیم سازی کرتا ہے . . . " تنظیم سازی کا سن کر گلا خشک ہو گیا ، اس وقت یہی ایک چیز تھی جو مجھ پر حاوی تھی ، جب سے میں کالج کیمپس كے اندر داخل ہوا تھا ، یہی چیز مجھے ڈرا رہی تھی . . . . " بہن چود ، یہ تنظیم سازی بند کر دینا چاہئے . . . " پانی پیتے ہوئے میں نے بولا ، پانی كے پورا ایک گلاس خالی کرنے كے بَعْد تھوڑا سکون آیا ، " بند ہے میری جان ، تنظیم سازی تو سالوں سے بند ہے لیکن یہ لوگ کر ہی لیتے ہے . . . " " یہ بہن چود کینٹین والا کہا مر گیا ہے. . . " ہائپر ہوتے ہوئے میں نے بولا اور میری آواز پوری کینٹین میں گونج اٹھی ، میرا اتنا کہنا تھا کہ سب کی نظر ایک بار پھر میری طرف ہوئی ، مجھے دیکھ کر کچھ اپنے کام میں لگ گئے ، کچھ ایسے بھی تھے ، جو میری طرف ہی دیکھ رہے تھے ، ان کی شکل سے لگ رہا تھا کہ ، وہ مجھے دل ہی دل میں گلیاں دے رہے ہے . . . . . تبھی وہ سات سال سے کالج میں پڑھنے والا اُٹھ کر ہماری طرف آیا ، اس کے ساتھ کچھ لڑکے بھی تھے اور وہ لڑکی بھی ، جو اس کے سامنے بیٹھی تھی . . . . . " کس سبجیکٹ کا ہے . . . " میرے سامنے والی کرسی کو دھکیل کر کاشف نے مجھ سے پوچھا . . . دِل کیا کہ اس کرسی کو ایک لات مارکر دور کر دو ، لیکن پھر اس کے بَعْد ہونے والے اپنے حال کا اندازہ لگا کر میں روک گیا . . . . " مکینیکل ، فرسٹ ایئر . . . " وہ میرے سامنے والی کرسی پر پورا کا پورا سماں گیا تھا ، " مجھے جانتا ہے . . . " " ہ. . ہ . . ہاں . . " گلا ایک بار پھر خشک ہونے لگا اور جیسے ہی میں نے پانی والے گلاس کی طرف ہاتھ بڑھایا اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور زور سے دبانے لگا ، دَرْد تو کر رہا تھا ، لیکن میں نے اپنے منہ سے ایک آواز تک نہیں نکالی اور نہ ہی اسے بولا کہ میرا ہاتھ چھوڑ دے ، ، . . " پانی بَعْد میں پینا ، پہلے میرے سوالوں کا جواب دے . . . " وہ میرے ہاتھوں کو اب بھی پکڑے ہوئے تھا اور اپنا پورا زور لگا کر دبائے جا رہا تھا . . . " ابے بول ، چھوڑ میرے ہاتھ کو ورنہ یہی پٹخ پٹخ کر گانڈ ماروں گا . . . . " اس کی آنکھوں میں آنکھ ڈالتے ہوئے میں نے صرف آنکھوں سے کہا. . . . " آنکھیں نیچے کر . . . " کاشف كے ساتھ جو لڑکے آئے تھے ، اُن میں سے ایک نے میرے سَر پکڑا اور نیچے جھکا دیا . . گیم شروع ہو چکا تھا ، اور مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ اب کچھ نہ کچھ برا ہی ھوگا . . . . میرے الٹے ہاتھ کی ہڈیوں کا کچومبر بنا کر اس نے میرا ہاتھ چھوڑا اور پھر میرے گریبان کو پکڑ کر بولا " بیٹا ، اوقات میں رہنا سیکھو اور سینیرز کو ریسپیکٹ دو . . . " کاشف کی بچی نے اپنے ٹیبل سے ایک سموسہ اُٹھا کر لائی اور اس کا آدھا ٹکڑا کھا کر باقی میرے چہرے پر تھوپ دیا ، اس وقت شاید میں بہت غصے میں تھا ، دِل کر رہا تھا ، کہ اس لڑکی کو کھینچ کر ایسا ٹھپر ماروں کہ اس کا سَر ہی دھڑ سے الگ ہو جائے ، لیکن غصے کو پینا پڑا ، میں انہیں دیکھنے كے سوا اور کچھ نہیں کر سکا . . . . . وہ سبھی مجھ پر کچھ دیر ہنسے اور چلے گئے . . . تبھی کاشف كے ساتھ والی لڑکی ، جس نے میرے چہرے کی یہ حالت کی تھی ، میری نظر اس کے گانڈ پر پڑی اور میں نے دل ہی دل میں یہ ارادہ کر لیا کہ ، " اس کو تو ایسا چودوں گا کہ اس کے چوت اور گانڈ كے ساتھ ساتھ منہ سے بھی خون نکل جائے . . . . " اپنا نام میری بیتی زندگی میں سن کر میرے خاص دوست کاشف نے مجھے میری کالج لائف سے باہر نکالا . . . . " یار ، یہ سات سال سے لگاتار فیل ہونے والے لڑکے کا نام کاشف کیسے ہے . . . " " اب تو یہ اس کے باپ سے پُوچھ ، کہ اس نے اس کا نام کاشف کیوں رکھا . . . " " لے یار ایک اور گلاس بنا . . . " اظہر نے اپنا خالی گلاس میری طرف بڑھایا ، اور میں نے کاشف کی طرف . . . . " رات ہو گئی کیا . . . " میں نے اٹھنے کی کوشش کی ، لیکن سَر گھوم رہا تھا ، اس لئے وآپس بیٹھ گیا . . . " ابھی دن ہے . . . دوپہر كے 12 بج رہے ہے . . . " کاشف نے پیگ بنا کر گلاس میری طرف بڑھایا اور بولا " آگے بتا ، کینٹین كے بَعْد کیا ہوا . . . " " کینٹین كے بَعْد . . . " جاری ہے . . . . .
  5. " تُم اپنا رجسٹر لیکر ادھر آؤ . . . " سحرش میم نے مجھے سامنے بلایا . . . . دِل کی دھڑکنیں بڑھنے لگی اور یہی خیال آتا رہا کہ سحرش میم کہی کچھ پُوچھ نہ لے ، کیوںکہ ابھی تک نہ تو میں نے کچھ لکھا تھا اور نہ ہی کچھ پڑھا تھا ، ابھی تک میرا دھیان صرف اور صرف اس کی جوانی پر تھا . . . . " یہاں میں مذاق کر رہی ہوں کیا . . . . " " نو میم . . . " اپنا سَر جھکائے میں کسی بچے کی طرح سامنے کھڑا تھا ، اور اس وقت کا انتظار کر رہا تھا ، جب وہ غصے سے چلاتے ہوے میرا رجسٹر پھینک دے اور میں پھر اپنا رجسٹر اُٹھا کر واپس اپنی جگہ پر بیٹھ جاؤں . . . . . " نام کیا ہے تمہارا . . . " " ارمان . . . . " " کیا ارمان ہے تمھارے ، . . . ذرا سب کو بتاؤ . . . " " سوری میم ، دوبارہ کچھ نہیں کروں گا . . . . " یہ تو میں نے میم سے کہا ، لیکن میں اسے کچھ اور بھی بول سکتا تھا اور وہ یہ تھا " کہ میرے ارمان یہ ہے کہ تجھے پٹخ پٹخ کر چودوں ، کبھی آگے سے تو کبھی پیچھے سے . . . . " " سٹ ڈاؤن ، اور دوبارہ میری کلاس میں کوئی حرکت کرنے سے پہلے سوچ لینا . . . " اپنا منہ لٹکاے ، میں وآپس اپنی جگہ پر آیا ، جہاں اظہر بیٹھا مزے لے رہا تھا . . . . " اب چُپ ہو جا . . . " غصے میں میں نے کہا اور میری آواز ذرا تیز ہو گئی ، جسے وہ 5 ’ 8 " ہائیٹ والی پھر غصہ ہوگئی اور مجھے ایک بار پھر سے کھڑا کیا . . . . " وہ میم اس سے میں کچھ پُوچھ رہا تھا . . . " سحرش میم ، میرا گلا دباتی اس سے پہلے ہی میں نے بول دیا . . . . " تُم بھی کھڑے ہو . . . " اب کے بار اشارہ اظہر کی طرف تھا ، اور جب میم نے اسے کھڑے ہونے كے لیے کہا تو اس کے چہرے کا رنگ بھی بَدَل گیا ، . . . " کیا پُوچھ رہا تھا یہ تم سے . . . " " وہ میم ، بائنری کو کنورٹ کرنے کا میتھڈ ، پُوچھ رہا تھا . . . " جھوٹ بولتے ہوئے اظہر نے میری طرف دیکھا اور ساری کلاس نے ہم دونوں کی طرف نگاہیں ڈالی . . . " گیٹ آؤٹ . . . . " " کیا . . . " " میری کلاس سے باہر جاؤ اور آج کی تمہارا حاضری کٹ ، اور اگلی کلاس میں آؤ ، تو ذرا خیال سے ، کیونکہ نیکسٹ کلاس میں تم نے کوئی حرکت کی تو اسائنمنٹ ڈبل ہو جائیگا . . . . . اِس آس میں کہ میم کا دِل تھوڑا نرم ہو جاۓ اور وہ مجھے وآپس بیٹھا دے ، اس لئے میں تھوڑی دیر اپنی جگہ پر کھڑا رہا ، . . . لیکن وہ اِس دوران ہزاروں بار مجھے باہر جانے كے لیے بول چکی تھی ، اور پھر اس نے آخری بار پرنسپل كے پاس لے جانے کی دھمکی دی . . . پوری کلاس كے سامنے میری عزت میں چار چاند لگ چکے تھے ، لیکن جب سحرش میم نے پرنسپل کا نام لیا تو میں کسی بھیگی بلی کی طرح کلاس سے باہر آ گیا . . . . . . . مجھے اب بھی یاد ہے اس دن میں پورے چالیس منٹ کلاس كے باہر کھڑے رہا ، اور پھر جب سحرش میڈم کا پیریڈ ختم ہوا اور وہ باہر نکلی . . . لیکن میری طرف غصے سے اپنی ناک چڑاتی ہوئی وہاں سے آگے چلی گئی ، اور جب میں کلاس میں گیا تو تب سبھی کی نظریں مُجھ پر ہی ٹکی ہوئی تھی . . . . . " آؤ بیٹا ارمان ، کیا پورے ہوئے آپ کے دِل كے ارمان . . . " " چُپ ہوجا کمینے ، ورنہ یہی مار دونگا ، دماغ مت خراب کر . . . " " او تیری ، سوری یار . . . تجھے برا لگا ہو تو . . . " اظہر بولا . . . اس دن اس کلاس میں دو لوگ ایسے تھے ، جنہیں میں چاہ کر بھی نہیں بھلا سکتا ہوں ، ایک تو میرا خاص دوست بنا اور ایک لڑکا ایسا تھا، جسے دیکھ کر ہی میرے منہ سے گالیوں کی لمبی دھار نکلنے لگتی تھی . . . . " شوکت . . . " اس نے پہلے اظہر کی طرف ہاتھ بڑھایا اور پھر میری طرف . . . . شوکت مائننگ سبجیکٹ کا تھا ، اور وہ بھی تھوڑا سانولا تھا ، شوکت کو دیکھ کر ایک بار پھر میں نے خود سے کہا کہ " میں تو اس سے زیادہ ہینڈسم ہوں . . . . " " بھائی ، اگلی کلاس میں تھوڑا سنبھل کر . . . " مجھے نصیحت دینے لگا وہ . دوسری کلاس تو شروع ہو چکی تھی ، لیکن ٹیچر ابھی تک نہیں آیا تھا ، لڑکے ہو یا لڑکیاں سبھی سبزی منڈی کی طرح چیخ رہے تھے ، اور اسی دوران ایک لڑکی سامنے آئی اور ہم سب کو خاموش رہنے كے لیے کہا . . . . لیکن حالت پہلے جیسے ہی رہے . . . وہ لڑکی سامنے والے بینچ پر بیٹھے لڑکوں سے کچھ بولی ، اور سامنے بینچ پر بیٹھے لڑکیوں میں سب کو خاموش رہنے كے لیے کہا ، کچھ دیر لگا سب کو خاموش کرنے میں . . . . " گڈ مارننگ فرینڈ . . . مائی نیم اِس صائمہ . . . . " " تو کیا چوسنا ہے سب کا . . . " اظہر نے ایک پل بنا گنوائیں جواب میں بولا ، سن تو سب نے لیا تھا ، لیکن سب ری ایکشن ایسے کر رہے تھے ، جیسے کانوں میں روئی ڈال كے آئے ہو ، سامنے کھڑی اس لڑکی نے بھی سن لیا تھا ، لیکن وہ بھی ایسے ری ایکٹ کر رہی تھی ، جیسے اس نے سنا نہ ہو . . . . . " یہ تو چودے گی ، کمینی چپ . . . " " گانڈ پر لات مار کر بٹھاؤ اس کو . . . " پہلے اظہر اور پھر اس کے سر کے ساتھ سر ملاتا ہوا شوکت بولا ، میں بھی جوش میں آ گیا اور بولا " اِس انٹرودکشن دینے والی لڑکی کو ننگا کرکے پورے کالج میں بھگانا چاہیے . . . . " اُدھر صائمہ كے بَعْد باقی لڑکیوں نے بھی اپنا انٹرودکشن دیا ، یہ سلسلہ اور بھی آگے چلتا لیکن اگر بی ایم آئی كے سَر وہاں نہ آئے ہوتے تو . . . . اصل میں ہمارا سبجیکٹ تھا ، بیسک مکینیکل انجینیئرنگ ، ( بی ایم آئی ) ، لیکن جو سر ہمیں پڑھانے آئے تھے ، ان کا خود کا بی ایم آئی کلیئر نہیں تھا ، پوری کلاس كے دوران اس نے کیا پڑھایا کچھ سمجھ نہیں آیا ، پیریڈ بوا بھی کس لینگویج میں تھا ، یہ بھی سمجھ میں نہیں آیا . . . . پڑھائی کی طرف سے میں تھوڑا سنجیدہ تھا ، اور اپنا پورا دماغ بی ایم آئی كے پیریڈ میں لگانے كے باوجود بھی جب ، کچھ سمجھ نہیں آیا تو ، ایک دَر دِل میں اٹھنے لگا کہ ایگزام میں کیا ھوگا . . . . " کیا ہوا ، . . . " " یار کچھ سمجھ نہیں آ رہا . . . " " تو ٹینشن کس بات کی یہ ٹاپک ہی چھوڑ دے . . . کون سا تجھے ٹاپ مرنا ہے " " مجھے ٹاپ ہی مرنا ہے . . . " اس وَقت تو اظہر سے میں نے یہ کہہ دیا ، لیکن یہ جنون میرے سَر سے بہت جلد اترنے والا تھا ، یہ میں نہیں جانتا تھا جاری ہے . . . .
  6. " اس وقت بھاگنے کا مطلب ہے ان کا دھیان اپنی طرف کرنا، بَعْد میں یہ اور بھی مسلہ بنا لیں گی . . . " " جلدی بتا ، کرنا کیا ہے . . . " میرے قدم وہی روک گئے تھے اور پسینے سے برا حال تھا ، اس وقت میں نے سوچا تھا کہ شاید اظہر میں تھوڑی ہمت ھوگی ، لیکن جیسے ہی اس کو دیکھا ، تو جو میرے منہ سے نکلا وہ یہ تھا . . . " بہن چود یہ تو مجھ سے بھی زیادہ ڈرا ہوا ہے . . . . " " ماں کے لاڈلو ، سنائی نہیں دیتا کیا تم دونوں کو اِدَھر آؤ . . . " جن لڑکیوں کو کچھ دیر پہلے میں جنت کی حوریں سمجھ کر لائن مارنے کی سوچ رہا تھا ، وہ اب دوزخ کی چڑیلیں بن گئی تھی . . . " جی . . . جی . . . میم ، آپ نے ہمیں بلایا . . . " اظہر نے ان کے پاس جا کر بولا ، میں اس کے پیچھے کھڑا تھا . . . " تم ہٹو . . . " اظہر کو زور سے دھکہ دے کر ان چڑیلوں نے میری طرف دیکھا . . . " اور چکنے کیا حال ہے . . . " " جی ٹھیک. . . " کانپتے ہوئے میں نے کہا ، اس وقت میں پورا جسم پسینے سے بھیگ چکا تھا . . . " سگریٹ پئے گا . . . " اُن میں سے ایک لڑکی نے سگریٹ نکالی اور میری طرف بڑھا کر پوچھا . . . . میں نے ایک دو بار سگریٹ پی تھی ، لیکن کسی دودھ پیتے بچے کی طرح ، کش کھینچا اور پھر دھواں باہر پھینک دیا . . . . میں یہاں یہ سوچ کر آیا تھا کہ جس طرح میں ہمیشہ سے اسکول میں اچھا سٹوڈنٹ تھا ، اسی طرح یہاں بھی ٹوپ کروں گا ، اور سگریٹ ، شراب اور لڑکی کو بس دور سے دیکھ کر مزہ لوں گا . . . . " چلو سگریٹ جلاو . . . " ان چڑیلوں میں سے ایک چڑیل نے سگریٹ میرے منہ میں پھنسا دیا اور اس وقت میرے ذہن میں میرے بڑے بھائی كے کہی ہوئی بات آئی . . . " ارمان سگریٹ اور شراب کو چھوا بھی تو سوچ لینا . . . " " جی بھائی . . . " " میں سگریٹ نہیں پیتا سوری . . . " ان لڑکیوں نے جو سگریٹ میرے منہ میں پھنسائی تھی اسے ایک جھٹکے سے میں نے منہ سے نکال کر زمین پر پھینک دیا ، جس سے ان کا غصہ آسمان کو چھو گیا . . . " کیوں کمینے، تو کیا سمجھا کہ پیچھے كے راستے سے آئیگا تو تنظیم سازی سے بچ جائیگا اور تجھ میں اتنی ہمت کہاں سے آئی جو تو نے سگریٹ کو پھینک دیا . . . " ان کے منہ سے گالی سنی تو مجھے یقین ہی نہیں ہوا کی ایک لڑکی بھی گالی دے سکتی ہے ، میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ كے ان لڑکیوں کو دیکھ رہا تھا . . . . تب اُن میں سے کسی کا فون بجا اور وہ سب چلی گئی لیکن جاتے جاتے انہوں نے مجھے دھمکی دے ڈالی کہ وہ مجھے اِس کالج سے بھگا کر رہیگی . . . . . . . " تیری تو گانڈ پھٹ گئی بیٹا . . . . " ان کے وہاں سے جانے كے بَعْد اظہر میرے پاس آیا . . . " اب کلاس چلے . . . " جب تک ہم کلاس كے اندر نہیں پہنچے اظہر تنظیموں كے بارے میں بتابتا کر ڈراتا رہا ، لیکن میں ایسے ری ایکٹ کر رہا تھا ، جیسے کہ مجھے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا ہو ، لیکن اصلیت یہ تھی کہ یہ سب صرف ایک دکھاوا تھا ، میں خود بھی اندر سے بہت زیادہ ڈرا ہوا تھا . . . . " وہ دیکھ اس چشمے والی کو ، دیسی آم لگ رہی ہے ، اک بار کھانے کو مل جائے تو مزہ آ جائے . . . " شریف تو میں بھی نہیں تھا ، لیکن اِس طرح سب کے سامنے ایسی باتیں کرنے سے میں گریز کرتا تھا ، جسے سب کو اکثر یہی بھرم ہوتا تھا کہ میں بہت بڑا شریف ہوں اور اکثر میرے ایگزام كے رزلٹ اِس بات پر مہر لگا دیتے تھے . . . لیکن مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ میرا جتنا بھی اچھا وقت تھا وہ ختم ہو چکا تھا اور میں یہاں اپنی زندگی کی بربادی لینے آیا تھا . . . . . " فرسٹ کلاس کس کی ہے . . . . " میں نے اظہر سے پوچھا ، . . . " یار ، میرا بھی آج پہلا دن ہے . . . اور ابھی سے دماغ مت کھا . . . " فرسٹ ایئر میں سبھی سبجیکٹ والوں کا کورس سیم ہوتا ہے ، اس لئے دو دو سبجیکٹ والوں کو ایک ساتھ ارینج کیا گیا تھا ، میرا اور اظہر کا سبجیکٹ مکینیکل تھا ، لیکن ہمارے ساتھ مائننگ سبجیکٹ كے بھی اسٹوڈنٹ تھے ، اور مجھے جو ایک بات پتہ چلی وہ یہ تھی کہ ، مجھے صرف اپنے سبجیکٹ كے سینیرز سے بچنا تھا اور میں ہاسٹل میں رہتا ہوں تو اس لئے میری تنظیم سازی صرف ہاسٹل كے سینیرز ہی کر سکتے ہے ، جو لوکل ہے یا پھر شہر میں رہتے ہے ، وہ لوکل تمہاری تنظیم سازی کر لے تو تم انہیں کچھ کہہ نہیں سکتے ہو اور شہر والے کوئی تنظیم سازی کرے تو ہاسٹل والے ساتھ دیتے ہے ، ایسا قانون یہاں چلتا تھا . . . . . " کچھ بھی بول یار تنویر ، لیکن کالج اچھا ہے ، یہاں کی لڑکیاں بھی اچھی ہے . . . " پیچھے والے بینچ پر اپنے دونوں ہاتھ تھپ تھپا کر اظہر بولا ، اتنے دیر میں شاید وہ میرا نام بھول گیا تھا . . . . " ارمان ، ناٹ تنویر . . . " " اچھا نہ یار اب دماغ کھا مت . . . " " پتہ نہیں کس سے پالا پڑا ہے . . . " میں بڑبڑایا اور پھر آگے دیکھنے لگا . . . . " گڈ مارننگ اسٹوڈنٹ . . . " اپنے سینے سے ایک بُک چپکا کر ایک میڈم اندر آئی ، میڈم کیا وہ تو پوری حسن کی دیوی تھی ، 5 ’ 8 " لگ بھگ قد، ماڈلز والی کمر ، گورا رنگ . . . . اسے کلاس كے اندر آتا دیکھ کر سبھی کھڑے ہو گئے اور کچھ لڑکوں کا بھی کھڑا ہو گیا ، " بہن چود یہ کالج ہے یا ہیرا منڈی، جدھر نظر گھماؤ ایک سے بڑھ کر ایک دکھتی ہے . . . " اظہر اپنے ٹھرکی انداز میں دھیرے سے بولا . . . . اس کے بَعْد کچھ دیر تک انٹرودکشن چلا ، جس میں ہمیں اس میڈم کا نام معلوم چلا ، . . . اس 5 ’ 8 " ہائیٹ والی میڈم کا نام سحرش تھا ، اور وہ ہمیں کمپیوٹر سائنس پڑھانے آئی تھی ، بہن چود جتنی زیادہ گوری تھی اتنا ہی کالا اس کا دِل تھا ، کلاس میں آتے ہی اس نے ایک ساتھ دس اسائنمنٹ دے دیئے اور بولا کہ ہر تین دن میں وہ ایک اسائنمنٹ چیک کریگی اور تو اور نیکسٹ منڈے کو ٹیسٹ کا بول کر اس نے سب کی پھاڑ كر رکھ دی . . . . . " یہ میڈم کون ہے ، اس کی ماں کی . . . " اظہر رونے والی اسٹائل میں بولا " باہر ملے گانڈ مار لوں گا اسکی . . . " "حوصلہ کر بھائی . . . " اس کے کاندھے کو سہلا کر اسے دلاسہ دیتے ہوئے میں نے بولا . . . . . " میرا لنڈ حوصلہ کر ، اسے تو حویلی میں لے جا کر چودوں گا ، . . . " " حویلی . . . . " " تو بچہ ہے ابھی ، منٹو کو پڑھ ، یہ سب بڑے لوگ کرتے ہے . . . " اظہر کیا کہنا چاہتا تھا ، یہ تو میرے سَر كے اوپر سے نکل گیا ، سحرش میڈم نے آتے ہی سب کی پھاڑ کر رکھ دی تھی ، یہ تو سچ تھا ، لیکن سچ یہ بھی تھا کہ اس ایک کلاس میں ہی آدھے سے زیادہ لڑکے ایک دوسرے کو بولنے لگے تھے کہ" سحرش میڈم تیری بھابی ہے . . . . " سحرش میڈم كے گھنے لمبے لمبے بال تھے ، . . . . سَر كے ، اور اس کے بال اکثر اس کے چہرے پر آ جاتے ، جنہیں کسی فلمی ہیروئن کی طرح اپنے سامنے آئے بالوں کو وہ پیچھے کرتی ، اس پیریڈ میں ہماری کلاس کی لڑکیوں کی شکلیں بنی ہوتی تھی ، یوں تو پورا کالج حوروں سے بھرا پڑا تھا ، لیکن ہمارے سبجیکٹ کی لڑکیاں کومیڈی سرکس کی جوگر لگتی تھی ، سوائے ایک دو کو چھوڑ کر ، انہیں کوئی نہیں دیکھنے والا تھا ، کیونکہ جب ہیرا سامنے ہو تو کوئلے کی خوائش کون کرے گا . . . . " تمہارا نام کیا ہے . . . . " " سنائی نہیں دیتا کیا . . . " " یار تجھے بول رہی ہے ، کھڑے ہو . . . " اپنی کہنی کو اظہر نے میرے پیٹ میں دے مارا اور میں جیسے اپنے خیالوں سے باہر آیا . . . اِس طرح مجھے کھڑا کرنے سے میں تھوڑا ہڑبڑا گیا تھا ، جس کی وجہ سے کچھ اسٹوڈنٹ ہنس بھی رہے تھے . . . . . " یس میم . . . " میں اٹھ کھڑا ہوا ، میری حالت اس وقت بلکل ویسی تھی ، جیسے ایک بکرے کی حالت قصائی کو دیکھ کر ہوتی ہے ، " پہلے ہی دن ، پہلے ہی کلاس میں بے عزتی . . . " سچ بتاؤں ، تو میری اس وقت پوری طرح پھٹی ہوئی تھی ، نا جانے وہ کیا بول دے . . . . " تم اپنا رجسٹر لے کر اِدَھر آؤ . . . " سحرش میم نے مجھے سامنے بلایا .
  7. ہر وہ چاہت ختم ہو جاتی ہے ، جس کی ہمیں تمنّا ہوتی ہے . . . خواب ہمارے حقیقت كے سامنے دم توڑ دیتے ہے اور بچتی ہے تو صرف راکھ ، یادوں کی راکھ ، جس کے سہارے ہم پھر اپنی باقی کی زندگی اجڑاتے ہے ، کبھی کبھی آپ کے ساتھ ایسا کچھ ہو جاتا ہے جس کی آپ نے کبھی توقعہ تک نہیں کی ہوتی ہے . . . . " کالج میں جا کر پڑھائی کرنا بے ، چھانے بازی میں مت رہنا اور نہ ہی اِس چکر میں پڑھنا . . . " میرا بھائی مجھے گاؤں سے رخصت کرتے ہوئے نصیحت کر رہا تھا وہ بھی بڑے پیار سے . . . " جی بھائی . . . " " شراب ، سگریٹ ان سب کو چھوا بھی تو سوچ لینا . . . . " " جی بھائی . . . " " اور سن ارمان لڑائی جھگڑے اور تنظیم میں جانے کی ایک بھی خبر گھر پر آئی تو اسی وقت تیری ٹی-سی نکلوا دوںگا سمجھا . . . " " جی بھائی . . . " میرا بھائی مجھے بلکل اس طرح سمجھا رہے تھے ، جیسے کہ آرمی کا کرنل اپنے سپائیوں کو قانون پر عمل درآمد کرنے كے لیے کہہ رہا ہو . . . سرور بھائی مجھے کالج میں چھوڑنے بھی آئے تھے ، اور میرے لاکھ منع کرنے كے باوجود میرے رہنے کا انتظام ہاسٹل میں کر دیا تھا اور ابھی رخصت ہوتے وقت مجھے سب بتا كے جا رہے تھے کہ مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے . . . . . بھائی كے جانے كے بَعْد میں وآپس ہاسٹل آیا ، اِس دوران جو ایک بات میرے ذہن میں کھٹک رہی تھی ، وہ یہ تھی کہ تنظیم سازی سے کیسے بچا جاۓ، کچھ دنوں پہلے ہی اخبار میں پڑھا تھا کہ ایک اسٹوڈنٹ نے تنظیم سازی سے تنگ آ کر اپنی جان دے دی تھی . . . . کالج والوں نے ایک اچھا کام کیا تھا اور وہ تھا کہ فرسٹ ایئر کا ہاسٹل ہمارے سینیرز سے الگ تھا ، لیکن شام ہونے تک پورے ہاسٹل میں یہ خبر پھیل چکی تھی کہ آج رات کو دس بجے سینیرز ہاسٹل میں تنظیم سازی کا عمل کرنے آئینگے ، جب سے یہ سنا تھا ، دِل بری طرح دھڑک رہا تھا ، ہر آدھے گھنٹے میں پانی پینے كے بہانے نکلتا اور دیکھ کر آتا کہ کہی کچھ ہوا تو نہیں ہے ، وہ پوری رات میری زندگی کی سب سے خراب رات تھی ، . . . پوری رات میں چین سے نہیں سو سکا ، اس رات کوئی نہیں آیا اور دوسرے دن میری آنکھ میرے روم کو کسی نے کھٹکھٹایا تب کھلی . . . . " گھوڑے بیچھ کر سوتے ہو کیا . . . " ایک لڑکا اپنا بیگ لیے روم كے باہر کھڑا تھا ، اور پھر مجھے پکڑ کر باہر کھینچ لیا ، " یہ ، یہ کیا کر رہے ہو. . . " میں نے چلاتے ہوئے بولا . . . " چلو میرا سامان اٹھاؤ یار . . . بہت بھاری ہے . . . . " " تم بھی اسی روم میں رہو گے. . . " " بالکل سہی سمجھے ، اور میرا نام ہے اظہر. . . . " " ارمان . . . " میں نے ہاتھ ملاتے ہوئے اسے کہا ، اور جب اس کا پورا سامان روم كے اندر آ گیا تو میں نہانے كے لیے چل دیا . . . . آج اس عادت کو چھوڑے ہوئے تو بہت دن ہو گئے ہے ، لیکن اس وقت میری ایک عجیب عادت تھی ، میں جب بھی کسی لڑکے سے ملتا تو سب سے پہلے یہی دیکھتا کہ وہ مجھ سے زیادہ ہینڈسم ہے یا نہیں ، اور اظہر کو دیکھ کر میں نے خود سے چیخ چیخ کر یہی کہا تھا کہ " میں اس سے زیادہ ہینڈسم ہوں . . . . " " تم آج کالج نہیں جاو گے کیا . . . " کالج كے لیے تیار ہوتے ہوئے میں نے اظہر سے پوچھا ، اظہر ہائیٹ میں میرے برابر ہی تھا ، لیکن اس کا رنگ کچھ سانولا تھا . . . . " جاؤں گا نہ . . . " " نو بجے کالج شروع ہوتا ہے . . . " " تو . . . . " بستر پر پڑے پڑے اس نے کہا . . . " تو ، تیار نہیں ھونا کیا ، ساڑے آٹھ تو کب كے ہو گئے ہے . . . " " دیکھو ، میں کوئی لڑکی تو ہوں نہیں ، جو پورے ایک گھنٹہ تیار ہونے میں ٹائم لگا دوں اور ویسے بھی میں گھر سے نہا کر آیا تھا تو آج نہانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا . . . " " لگتا اسے باہر کی ہوا لگ گئی ہے . . . " اس کے بَعْد میں نے اتنا دیکھا کہ ، آٹھ بج کر 45 منٹ ہوتے ہی اس نے اپنا بیگ اْٹھایا اور روم میں لگے شیشے میں ایک بار اپنا چہرہ دیکھا اور میرے ساتھ ہاسٹل سے باہر آ گیا . . . . فرسٹ ایئر کی کلاسز میں تھوڑی تبدیلی کی گئی تھی ، تنظیموں کے سینیرز لڑکے ہمارا نام اپنی اپنی تنظیموں میں نہ لکھ سکے ، اس لئے ہماری کلاس کو ایک گھنٹے پہلے ہی شروع کر دیا تھا اور سینیرز کی کلاس ختم ہونے سے ایک گھنٹے پہلے ہی ہمارا ڈے اوف ہو جانا تھا . . . . . لیکن کچھ سینیرز ایسے بھی ہوتے ہے جن کی گانڈ میں کچھ زیادہ ہی خارش ہوتی ہے اور وہ ہماری ٹائمنگ میں ہی کالج آ جاتے تھے ، . . . " یار تیرا سبجیکٹ کون سا ہے . . . " راستے میں، میں نے اسے پوچھا . . . " مکینیکل . . . " کاشف نے جواب دیا ، " میرا بھی مکینیکل . . . " تھوڑا خوش ہوتے ہوئے میں نے کہا " مطلب کہ ہم دونوں ایک ہی کلاس میں بیٹھینگے . . . " " روک روک . . . " مجھے کاشف نے روکا ، ہم اس وقت کالج سے تھوڑی سی دوری پر تھے ، یا پھر یوں کہہ کہ ہم کالج تقریباً پہنچ ہی گئے تھے . . . " کیا ہوا . . . " " اُدھر دیکھ ، کچھ سینیرز کھڑے ہے . . . پیچھے کے راستے سے چلتے ہے . . . " " تجھے معلوم ہے دوسرا راستہ . . . " " مجھے سب معلوم ہے ، چل آجا . . . " ہم دونوں نے وہی سے ٹرن مارا اور کچھ دیر پیچھے چلنے كے بَعْد اس نے مجھے جھاڑیوں میں گھسہ دیا . . . . " تجھے پکا معلوم ہے راستہ . . . " " ہاں میرے بھائی کہ کچھ دوست یہاں سے پاس ہوئے ہے ، انہوں نے ہی مجھے بتایا تھا اِس راستے كے بارے میں . . . . " جیسے تیسے کر کے ہم دونوں آگے بڑھتے رہے اور پھر مجھے کالج کی دیوار بھی نظر آنے لگی ، کالج كے اندر جانے کا ایک اور راستہ ہے ، یہ مجھے اظہر نے بتایا تھا . . . جب ہم دونوں اس جھاڑیوں والے راستے سے نکل کر باہر آئے تو مجھے وہ گیٹ دکھا ، جس کے بارے میں اظہر نے کہا تھا ، وہ گیٹ کالج میں کام کرنے والے ورکرز كے لیے تھا ، جن کا گھر وہی قریب ہی تھا . . . . . " کوئی فائدہ نہیں ہوا ، " اظہر بولا " وہ دیکھ کمینی سینیر گرلز کھڑی ہے ، دُنیا میں 99 % لڑکیاں خوبصورت ہوتی ہے اور جو 1 % باقی بچتی ہے وہ آپ کے کالج میں پڑھتی ہے ، ایسا میں نے کہی سنا تھا ، لیکن میری آنکھوں كے سامنے ابھی پانچ چھے سینیر لڑکیاں کھڑی تھی ، جو ایک سے بڑھ کر ایک تھی ، ان پانچ چھے سینیر گرلز کو دیکھ کر ہی ایسا لگنے لگا تھا جیسے کے دُنیا کی 99 % خوبصورت لڑکیاں ہمارے کالج میں ہی پڑھتی ہو . . . . " یار ، کیا مال ہے . . . " میں نے اظہر سے کہا . . . " چُپ کر اور انہیں دیکھے بنا سیدھے چل ، سن پکڑ لیا تو برا حال کر دینگی . . . " " یار یہ لڑکیاں ہے ، اتنا کیوں دَر رہا ہے . . . گھوما كے دوں گا ایک ہاتھ سب بھاگ جائینگی . . . " میں نے مردانہ آواز میں بولا ، " یار تو تو ان کو بھاگا دے گا ، لیکن جب انہی لڑکیوں كے پیچھے سارے سینیرز آئینگے تب کیا کرے گا . . . . " " اچھا کرنا کیا ہے ، یہ بتا . . . " " کچھ نہیں کرنا بس چُپ چاپ اندر گھس جانا . . . " " اوکے . . . " میں نے ایسے کہا جیسے کوئی بہت بڑا مشن پورا کر لیا ہو . ہم دونوں ان لڑکیوں کی طرف بنا دیکھے سامنے چلے جا رہے تھے ، اور جب ہم نے ان لڑکیوں کو کراس کیا تو اس وقت دِل کی دھڑکنیں بڑھ گئی ، دل مچل رہا تھا کہ ان کو دیکھوں ، ان کی چھاتیوں کو دیکھ کر اپنے اَرْمان پورا کروں . . . لیکن میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا اور چُپ چاپ سامنے دیکھ کر چلتا رہا . . . . " اوئے ماں کے لال . . . " ہم بس گیٹ سے اندر ہی گھسنے والے تھے کہ ان لڑکیوں نے آواز دی . . . . " شاید میرے کان بج رہے ہے . . . " " نہیں بیٹا ، یہ کان نہیں بج رہے ہے ، یہ ان گوری گوری حوروں کی آواز ہے . . . " " تو اب کیا کرے ، تیزی سے اندر بھاگ لیتے ہے ، کالج كے اندر وہ بدمعاشی نہیں کر پائیں گی . . . " " اس وقت بھاگنے کا مطلب ہے
  8. " تیرے بھائی کی شادی ہونے والی تھی ، اس وقت جب تو گھر چھوڑ کر یہاں آ گیا تھا . . . " " کمینے میری غلطیوں کی فہرست پکڑ كے بیٹھ گیا ہے. . . اب جان نکال کر ہی دم لے گا " میں نے اندر ہی اندر سوچا . . . " وہ سب تو چھوڑ " اظہر کا چہرہ پھر لال ہونے لگا ، " مجھے یہ بتا کہ تو نے مجھے کال کیوں نہیں کی ، کالج میں تو میرا بیسٹ فرینڈ بنا پھرتا تھا . . . . " اظہر كے اِس سوال کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور میں اسے کچھ کہتا بھی تو کیا یہ کہتا کہ " مجھ میں اب جینے کی خوائش نہیں ہے . . . " یا پھر یہ کہتا کہ " سارہ كے جانے كے بَعْد جیسے میرے دِل نے دھڑکنا بند کر دیا ہے . . . " " کچھ بولے گا بھی یا نہیں . . . " وہ مجھ سے پھر مخاطب ہوا . . . . " وجہ جاننا چاہتا ہے ، تو سن . . . . جب میں اپنی بی۔ٹیگ کی خالی ڈگری لے کر گھر گیا تو جانتا ہے میرے ساتھ کیا سلوک ہوا . . . گھر میں بڑے بھائی کی شادی کی تیاری چل رہی تھی اس لئے گھر میں لوگوں کہ ہجوم سا رہتا تھا ، اور جب کوئی میرے بارے میں پوچھتا تو سب یہی کہتے کہ . . . . ہمارے خاندان میں سب سے خراب میں ہوں ، میں ہی ایک اکیلا شخص ہوں ، جس نے اپنے خاندان کا نام ڈوبا دیا . . . ایسا اس لئے ہوا کیوںکہ میرے پاس پیسہ نہیں تھا ، میرے پاس نوکری نہیں تھی . . . . . مجھ سے کہی بھی تھوڑی سی بھی غلطی ہو جاتی تو میری اس غلطی کو میرے پڑھائی سے جوڑ دیا جاتا . . . . میں اپنے ہی گھر میں رہ کر پاگل ہو رہا تھا ، اور پھر جس دن لڑکی والے ہمارے گھر آئے تو بھائی نے ایک چھوٹی سی بات پہ سب کے سامنے مجھ پر ہاتھ اٹھا دیا . . . . بس اسی وقت میرے دِل اور دماغ دونوں نے ایک ساتھ چلا کر کہا کہ بس بہت ہو گیا ، اور مجھے سب سے برا تب لگا جب مجھے کسی نے نہیں روکا . . . سب یہی چاھتے تھے کہ میں ان کی زندگی سے چلا جاؤں ، سو میں نے وہی کیا . . . . " یہ سب بولتے بولتے میں بہت غم زدہ ہوگیا تھا ، اظہر کو اپنی زندگی كے کچھ گزرے وقت سنا کر میں نے اپنے زخم پھر سے تازہ کر لیے تھے . . . . کاشف بھی تب تک آ چکا تھا اور دروازے پر چُپ چاپ کھڑا میری باتیں سن رہا تھا . . . . . . کچھ دیر تک ہم تینوں میں سے کوئی کچھ نہیں بولا ، اور پھر اظہر نے اپنا بیگ اپنی طرف کھیچ کر کھولا اور شراب کی ایک بوتل نکال کر بولا . . . " یہ لے تیرا گفٹ . . . " میری نم آنکھوں میں ایک ہنسی جھلک آئی " تو کمینے ابھی تک بھولا نہیں . . . " یہ ہم دونوں کی ایک خاص عادت تھی کہ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو گفٹ كے طور پر ہمیشہ شراب ہی گفٹ کی تھی . . . اور سب سے بڑی بات یہ کی اظہر نے ہی مجھے شراب پینے کی عادت لگائی تھی . . . . . . " شباب سے زیادہ شراب اچھی . . . " یہ بولتے ہوئے میں نے اس کے ہاتھ سے بوتل چھینی اور کاشف کی طرف دیکھ کر بولا " آج رات کا جوگار ہوگیا بے . . . " میرے ایسا کہنے پر کاشف كے ساتھ ساتھ اظہر بھی ہنس پڑا . . . کاشف اور اظہر ہی میری موجودہ زندگی میں میرے اپنے تھے ، کاشف كے والد انسپیکٹر تھے اور اظہر ریلوے میں کسی اچھی پوسٹ پر تھا . . . " شادی ہو گئی تیری . . . " شراب کی بوتل کو ایک کنارے پر رکھ کر میں نے اظہر سے پوچھا . . . . " کہاں شادی ، ابھی تو زندگی کی انجویمنٹ باقی ہے . . . شادی کرتے رہینگے آرام سے . . . . " "کاشف ، لے پیگ تو بنا ، سَر دَرْد کر رہا ہے . . . . " " ارمان ، یہ سعدیہ کون بے " " ہے ، محلے میں رہنے والی ایک لڑکی . . . " میں نے بولا . . . . " میں نے سوچا نہیں تھا کہ اس کے جانے كے بَعْد تو کسی لڑکی كے ساتھ دوستی کرے گا . . . " اظہر جانتا تھا کہ مجھے اس کا نام لینا اب پسند نہیں ہے ، اس لئے اس نے اس کا نام نہیں لیا . . . . " سوچا تو میں نے بھی نہیں تھا ، لیکن معلوم نہیں یہ کیسے ہو گیا . . . . " " لو پکڑو . . . " اسی دوران کاشف نے ہم تینوں کا پیگ تیار کر دیا ، جسے پی کر کاشف بولا " یار اظہر ، میں نے اسے کتنی بار اس کی بیتے لمحوں كے بارے میں پوچھنے کی کوشش کی ، لیکن اس نے مجھے ایک بار بھی نہیں بتایا اور ہر بار کسی نہ کسی بہانے سے ٹال دیا . . . . " " دماغ مت کھا یار تو اب ایک اور گلاس بنا . . . شراب بہترین ہے . . " میں نے ایک بار پھر کاشف کی بات کو ٹالنے کی کوشش کی . . . . لیکن شاید آج میں کامیاب نہیں رہوں گا اس کا مجھے اندازہ ہو گیا تھا . . . . . " آج تو خلاصہ ہوکر ہی رہیگا کاشف . . . " اپنا پیگ گلے سے نیچے اتار کر اظہر بولا " فکر مت کرو ، آج یہ سب کچھ بتاۓ گا. . . . " " میں کچھ نہیں بتانے والا . . . " " نہیں بتائے گا . . . " " بلکل بھی نہیں . . . " " اک بار اور سوچ لے . . . " " میں نے بول دیا نہ ایک بار . . . " " پھر وہ باتھ روم والی بات میں کاشف کو بتا دونگا ، سوچ لے . . . " اظہر نے میری کمزوری کو پکڑ لیا تھا ، دو تین گلاس پینے سے دماغ بھی ایک دم ریلکس ہو گیا تھا ، ایک دم بہترین . . . . . . شراب کی بوتل خالی ہوچکی تھی اور میں بھی اب بلکل تیار تھا کاشف کو وہ سب بتانے كے لیے ، جو میں نہیں بتانا چاہتا تھا . . . . " ایک اور گلاس بنا . . . . " میں نے کہا
  9. سعدیہ كے ذہن میں ہزاروں سوال چھوڑ کر میں اس کے گھر سے سیدھے باہر نکل گیا ، میں اپنے کواٹر کی طرف آ رہا تھا کہ کاشف نے مجھے کال کی . . . " کہاں ہے بھائی ، آنے کا ارادہ ہے یا اسی كے ساتھ ہی رہیگا . . . " میں نے کال ریسیو کی تو کاشف تانے مارتا ہوا بولا . . . " بس کواٹر میں ہی آ رہا ہوں . . . " " جلدی آ ، تیرے لیے سرپرائز ہے ، اور وہ سرپرائز اتنا بڑا ہے کہ ، تو . . . . " میں جہاں تھا وہی کھڑا ہو گیا اور کاشف سے بولا " کیا ہے وہ سرپرائز . . . " " ھممممممم . . . . تو پہلے کواٹر میں آجا ، . . " اور اس نے کال کاٹ دی " پاگل بنا رہا ہوگا کاشف . . . " یہی سوچتے سوچتے میں کواٹر میں آیا ، میں نے کاشف کو آواز دی لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور پھر جب باتھ روم كے اندر سے مجھے شاور كے چلنے کی آواز آئی تو میں سمجھ گیا کہ کاشف اندر ہے ، میں نے ٹائم دیکھا ساڑے نو بج رہے تھے ، اب اتنا ٹائم نہیں تھا کہ میں آج ڈیوٹی پر جاتا ، اور ویسے بھی آج میرا موڈ نہیں تھا . . . . میں نے کمرے کی کھڑکی کھولی اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا . . . . تبھی مجھے ایک آواز سنائی دی جس نے مجھے اندر سے جھنجھوڑ كر رکھ دیا . . . . ایسا لگا کہ دِل کی دھڑکنیں روک گئی ہو . . . " کیا بات ہے یار، بہت دنوں سے حویلی میں نہیں آیا . . . " میری جگہ اس وقت کوئی اور ہوتا تو شاید نظر اندازِ کر دیتا اِس آواز کو ، لیکن میرے لیے یہ الفاظ، یہ جملے بہت اہمیت کی حامل تھی . . . . میں پیچھے دیکھے بنا ہی جان گیا تھا کہ میرے پیچھے کون ہے ، لیکن اتنے مہینوں بَعْد وہ کیسے یہاں آیا . . . . . ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ میرے سَر پر ایک زوردار تھپڑ پڑا ، مارنے والے نے اتنی زور سے مارا تھا جیسے کہ نسلوں کا بدلہ لے رہا ہو . . . . . وہ کوئی اور نہیں بلکہ میرا خاص نہیں میرا سب سے خاص دوست اظہر تھا ، اور میں بھی اس کا سب سے خاص دوست تھا . . . . . " اوے کمینے لڑکیوں کی طرح ادھر ہی دیکھتے رہیگا یا پھر گلے بھی ملے گا . . . . " اس کی آواز میں مجھے اپنے لیے وہی اپنایت محسوس ہوئی ، جو کالج كے دنوں میں ہوا کرتا تھی، میں ایک جھٹکے سے پیچھے مڑا اور اظہر کو گلے لگا لیا . . . . . میں اور اظہر ایک دوسرے كے لیے اتنے خاص تھے کہ ہم دونوں gay ہوتے ( جو کہ نہیں تھے ) تو آج ایک دوسرے سے شادی کر لی ہوتی. . . . . . اپنے غصے اور مجھ سے ناراضگی کا ایک اور اظھار کرتے ہوئے اس نے مجھے زور سے ایک لات ماری اور بولا " بہن چود گانڈ مروا رہا تھا تو یہاں ، تیرا نمبر تبدیل ہوگیا ، گھر سے بنا بتائے غائب ہے اور یہاں تک کہ . . . یہاں تک کہ . . . " مجھ پر ایک لات کا پیار اور کرتے ہوئے بولا " یہاں تک کہ تو نے مجھے بھی نہیں بتایا ، کہا گئی تیری وہ بڑی بڑی باتیں . . . " ہماری دُنیا میں ایک کہاوت بہت مشہور ہے کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ملے تو بھی بہت ہوتا ہے ، لیکن مجھے تو آج پورا کا پورا ایک جہاز مل گیا تھا اظہر كے روپ میں . . . . . " بھڑوے ، خود کو انجینئر بولتا ہے ، تو نے سب انجیرنز کا نام خاک میں ملا دیا . . . . " وہ اب بھی مجھ پر بہت غصہ تھا . . . . " چھوڑ پرانی باتوں کو اور بتا یہاں کیسے آیا اور کاشف کہاں ہے ، کہی تو نے اس کا قتل تو نہیں کر دیا . . . " " بلکل ، سہی سمجھا بے ، اس کی لاش باتھ روم میں پڑی ہے ، پلیز پولیس کو بتا دے . . . . " کچھ دیر تک ہم دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر ہنس پڑے . . . . " اب چال بتا ، تو یہاں کیوں ہے . . . " اپنی ہنسی روک کر اظہر بولا ، وہ اب سنجیدہ تھا . . . . " سب کچھ چھوڑ چھاڑ كے آ گیا میں ، گھر والے ملک سے باہر ہے ، نہ تو انہیں کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ ہی مجھے . . . "
  10. سعدیہ كے منہ سے اپنی انگلیاں نکالی اور اسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ، جس سے اس کا چہرہ میرے قریب آ گیا ، میں اس کی ہوس سے بھری آنکھوں میں آخری بار اپنے لیے محبّت ڈھونڈ رہا تھا ، لیکن ہوا وہی ، میرے ارمانوں کا حقیقت سے نہ تو پہلے کوئی واسطہ تھا اور نہ ہی اب تھا اور جب مجھے یقین ہوگیا کہ وہ وہی پرانی سعدیہ ہے جس نے محبّت کو ہمیشہ ہوس کی پیاس سے نیچے سمجھا ہے ، تو میں اس کو ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں بری طرح جکڑ لیا . . . . " جانور بن گئے ہو کیا . . . " مجھے دکھا دے کر وہ بولی اور اپنے ہونٹ ہاتھ سے سہلانے لگی . . . . " سوری . . . " میں وآپس اس کے قریب گیا اور اس کی کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کی براہ کو اس کے سینے سے الگ کیا اور ایک بار پھر اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں بری طرح جکڑ لیا . . . سعدیہ نے اِس بار بھی پوری کوشش کی مجھے دور کرنے کی ، لیکن وہ اِس بار ناکام رہی . . . لیکن کچھ دیر كے بَعْد مجھے اس کی پرواہ ہونے لگی ، اس کا درد میرا درد بن گیا ، اور میں نے اس کے گلابی ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے الگ کر دیا اور اس کی گانڈ کو پکڑ لیا اور اس کی گانڈ پر ہاتھوں سے دباؤ ڈالا . . . . . " گندے بچے . . . . " میرے طرف جھک کر میرے کانوں كے پاس آ کر وہ بولی . میں نے سعدیہ سے کچھ نہیں کہا اور اسے پکڑ کر اُلٹا گھوما دیا ، اب اس کی پیٹھ میرے سینے سے اور اس کے کولہے میرے لنڈ سے ٹچ ہو رہے تھے ، . . سعدیہ شاید جان چکی تھی کی اب میں کیا اور کیسے کرنے والا ہوں ، اور ویسے بھی جس لڑکی کو ہر دن اپنے بستر کا ساتھی بدلنے کی بیماری ہو ، وہ کم سے کم سیکس كے پوزیشن تو جان ہی جاتی ہے . . . . سعدیہ نے میرے بولنے سے پہلے ہی اپنے دونوں ہاتھ سامنے کی طرف بستر پر تیکاے اور اپنی گانڈ میری طرف کرکے تھوڑا جھک گئی اور بولی . . . " اس کو کہتے ہے زبردست چودائی کرنا . . . اب کیوں روکے ہو ، ڈال دو اندر اور ایسا ڈالنا کہ اندر تک دستک دے جائے . . . . " دِل کر رہا تھا کہ سعدیہ کا قتل کر دوں اور پھر اس کی لاش كے پاس بیٹھ کر زندگی بھر رونا شروع کر دوں ، دِل کر رہا تھا کہ سامنے كے دیوار پر سعدیہ کا سَر اتنی زور سے دے ماروں کی اس کا سَر ہی نہ رہے . . . . وہ مجھ سے ایسے بات کیسے کر سکتی ہے ، جب کے میں اسے . . . . . . . . . . اور ایک بار پھر دِل كے ارمان ہوس میں دھول گئے ، یہ میرے لیے پہلی بار نہیں تھا . . . . . " چلو ارمان ، چودو مجھے . . . آئی ایم ویٹنگ . . . " اپنی گانڈ ہلاتی ہوئی سعدیہ بولی . . . میں نے اپنے کپڑے اتارے اور سعدیہ كے گانڈ پر اپنے ہاتھ سے دبائو بڑھانے لگا وہ ابھی سے مستی بھری آوازیں نکالنے لگی ، اس کی پینٹی کو نیچے کھسکا کر اپنے ہاتھوں سے اس کی چوت کو پھلایا ، اور اپنے لنڈ کو اس کی چوت سے لگایا اور آہستہ آہستہ سے اندر کی طرف دھکہ دیا . . . . " آہ ہ ہ ہ ہ . . . . . . . " سعدیہ کی سیسکاریاں شروع ہوگئی ، اب کی بار خود میرے منہ سے بھی مستی بھری آوازیں باہر نکل رہی تھی . میرا آدھا لنڈ اس کی چوت میں دستک دے چکا تھا ، جب کہ سعدیہ اپنے کہولوں کو آگے پیچھے ہلا کر مزہ لے رہی تھی ، میں نے ایک اور دھکہ مارا اور پورا لنڈ اس کی چوت میں سماں گیا ، اس کے بَعْد میں نے اپنے ڈھکے تیز کر دیئے ، میرے تیز ڈھکوں كے وجہ سے اس کا پورا جسم بری طرح ہل رہا تھا ، میں جب بھی اپنا لنڈ اندر ڈالتا وہ اپنی کمر کو میری طرف پوش کرتی اور سامنے کی دیوار کی طرف اپنا چہرہ کرکے ایک لمبی سسکی بھرتی اور اس کے بَعْد جیسے ہی میں اپنا لنڈ باہر نکلتا ، وہ پھر مستی میں چار چاند لگا دینے والی آوازوں كے ساتھ پہلے والے پوزیشن پر آ جاتی . . . . . ایک پل كے لیے میں روکا اور اس کے گانڈ کے ابھاروں کو اپنے ہاتھوں سے مسلتے ہوئے اور پھر تیز رفتاری سے اسے چودنے لگا ، سعدیہ سے ایک لگاؤ سا ہوگیا تھا مجھے اس وقت ، اس لیے جب وہ چیختی تو میں تھوڑی دیر كے لیے روک جاتا اور پھر جب وہ وآپس نارمل ہو جاتی تو میں پھر سے شروع ہو جاتا . . . اور کبھی کبھی جب وہ درد سے چیختی تو میں اپنا لنڈ ایک تیز جھٹکے كے ساتھ اس کے چوت میں ڈال دیتا اور پھر اس کے مموں کو زور سے سے دباتے ہوئے اپنا لنڈ کو اس کی پھدی كے اندر ہی ہلانے لگتا ، میرا ایسا کرنے پر سعدیہ میری کمر کو پکڑ کر مجھے دور کرنے کی کوشش کرتی . . . . " آہ ہ ہ ہ ہ . . . . اوئی ی ی ی ی. . . . . ارمان تھنکس اس کے لئے . . . " وہ یہ بولتے بولتے اِس بار بھی مجھ سے پہلے فارغ ہوگئی ، میرا لنڈ اب بھی اس کی چوت میں تھا ، جس کی وجہ سے اس کی چوت سے نکلتا گرم پانی مجھے اپنے لنڈ پر محسوس ہوا . . . . میں بھی اب گیم ختم کرنے والا تھا ، اس لئے میں نے سعدیہ کی کمر کو پکڑ کر اس کی طرف جھک گیا اور اسے بستر پر پورا الٹا لیٹا کر اس کے اوپر آ گیا ، اس کی چوت کا پانی پورے بستر میں پھیل رہا تھا ، میں نے اس کی گانڈ کے ابھاروں کو الگ کیا اور اپنے لنڈ کو ایک ہی جھٹکے میں اندر تک گھسہ دیا ، اور اپنی پوری طاقت كے ساتھ سعدیہ کو چودنے لگا ، وہ بری طرح چییخی . . . تو میں نے کہا کہ ، بس کچھ دیر کی بات ہے ، برداشت کر لو . . . . اس نے ویسا ہی کیا . . . بستر كے سرہانے کو پکڑ کر اس نے اپنے جسم کو ٹائیٹ کر لیا وہ بستر کو جکڑنے لگی تھی . . . . اور میں اس کی کمر ، اس کی پیٹھ پر تیزی سے ہاتھ پھیرتے ہوئے فارغ ہوگیا ، میرا لنڈ سعدیہ کی چوت میں ہی تھا ، سعدیہ بہت تھک چکی تھی ، ساتھ میں میں بھی حانپ رہا تھا ، مجھے سعدیہ كے اوپر لیٹے لیٹے کب نیند آ گئی پتہ ہی نہیں چلا . . . . صبح میری آنکھ ایک گرم سرپرائز سے کھلی ، جسے اکثر لوگ بلوجاب کہتے ہے ، میں سعدیہ كے بستر پر ننگا لیٹا ہوا تھا اور وہ میرے لنڈ پر اپنے گرم گرم ہونٹ پھیر رہی تھی ، . . . " اسے اچھی اور خوشامد صبح کیا ھوگی ارمان ، جب کوئی تمہیں بلوجاب دے کر اٹھائے . . . " میرے لنڈ کو چُوسنا بن کرکے اپنے ہاتھ سے سہلاتے ہوئے سعدیہ بولی . . . تقریباً دس منٹ تک وہ میرے لنڈ کو چوستی رہی اور اس کے بَعْد میں اک بار پھر فارغ ہوگیا ، پچھلی رات تِین بار فارغ ہونے کی وجہ سے پیٹ میں بہت درد ہو رہا تھا ، کمزوری بھی محسوس ہو رہی تھی اور سَر بھی بہت بھاری ہو رہا تھا . . . . . " میں چلتا ہوں . . . " باتھ روم سے نکل کر میں نے اپنے کپڑے پہنے . . . " جاؤ ، اور اپنا خیال رکھنا . . . " میں اِس انتظار میں اب بھی کھڑا تھا کی کہی شاید اسے میری آنکھوں میں کچھ ایسا دِکھ جائے ، جسے وہ مجھے گلے لگا لے ، لیکن ایسا نہیں ہوا ، یہاں تک کہ اس نے میری آنکھوں کی طرف دیکھا تک نہیں ، اس کی نظر اب بھی میرے لنڈ پر تھی ، سعدیہ میرے لنڈ کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی . . . . . " تمہارا ہونے والا شوہر کیا کرتا ہے . . . . " " تم کیوں پُوچھ رہے ہو . . . " " جنرل نالج كے لیے ، کیا پتہ یہ سوال ، زندگی كے امتحان میں آ جائے " " یہ ’ مذاق نہیں ہے ارمان . . . تم جاؤ ، اور آج كے بَعْد سمجھ لینا كے ہم ایک دوسرے سے ملے ہی نہیں . . . " میں نے ایک جھوٹی مسکراہٹ سے سعدیہ کو دیکھا اور بولا . . . " تنہائی میں جینے والے لوگوں کو اکثر ان کے چھوٹے سے چھوٹے سہارے سے اتنی محبت ہو جاتی ہے کہ وہ ان کے لیے خود کو مٹا دیتے ہیں . . . . . تمہیں کبھی کسی سے محبّت ہو تو میری بات پر غور کرنا ، ورنہ لوگ تو اپنوں کو پل بھر میں بھول جاتے ہے ، میں تو ویسے بھی تمھارے لیے غیر ہوں . . . . "
  11. تمام دوستوں کا حوصلہ افزائی کا بے حد شکریہ
  12. " سعدیہ. . . . " " میں اندر ہوں باتھ روم میں . . . " سعدیہ کی آواز نے میرا دھیان باتھ روم کی طرف کھینچا، " اِس وقت باتھ روم میں ، کیا کر رہی ہو . . . " " چوت صاف کر رہی ہو ، دلچسپی ہے تو آ کر صاف کر دو . . . " " ہاں ، جیسے دُنیا کی سارے دلچسپ کام ختم ہوگئے ہے ، جو میں اندر آ کر تمہاری چوت صاف کروں . . ." " پھر میرا ٹاول بستر پر پڑا ہے ، وہ دو . . . . " میں نے بستر پر نظر ڈالی ، وہاں ٹاول كے ساتھ ساتھ بلیک کلر کی براہ اور پینٹی بھی رکھی ہوئی تھی ، میں نے ٹاول اٹھایا اور سعدیہ کو آواز دی . . . " دو . . . " باتھ روم کا دروازہ پورا کھول کر سعدیہ نے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھایا ، وہ پوری کی پوری پانی میں بھیگی ہوئی ننگی کھڑی تھی ، جسے دیکھ کر میرے لنڈ نے ایک بار پھر سلامی دینا شروع کر دی پینٹ كے اندر . . . . " ارے دو نا . . . " مجھے اپنی طرف اِس طرح سے دیکھتا ہوا دیکھ کر وہ بولی " اتنے غور سے تو تم نے مجھے اُس وقت بھی نہیں دیکھا تھا ، جب میں تمھارے ساتھ پہلی بار ہم بستر ہوئی تھی . . . " میں نے کچھ نہیں کہا اور اس کے پورے ننگے گورے جسم کو آنکھوں سے چودتے ہوئے اسے ٹاول دے دیا ، اور بستر پر آکر لیٹ گیا . . . ایک بات جو میں اکثر سوچتا تھا کہ دُنیا بھر کی لڑکیاں باتھ روم میں جاتے وقت ٹاول باہر کیوں بھول جاتی ہے . . . . " براہ بھی دینا . . . . " ایک بار پھر باتھ روم سے آواز آئی اور باتھ روم کا دروازہ کھلا ، " یہ لو . . . " براہ اور پینٹی دونوں اس کے ہاتھ میں پکڑاتے ہوئے میں نے کہا اور میری نظر سیدھے اس کے مموں پر جا ٹکی . . . . . " سائز معلوم ہے ، ان کا . . . " وہ دروازے کو پکڑ کر مستی میں بولی اور جب میں نے کچھ نہیں کہا تو وہ باتھ روم کا دروازہ بند کرنے لگی . . . . " سعدیہ . . . روکو . . . " " بولئے جناب . . . " " جلدی سے باہر آؤ ، تمھارے بنا چین نہیں ہے . . . " میں اپنی اِس حرکت پر خود شرما گیا . . . . . کچھ دیر كے بَعْد سعدیہ باہر آئی ، اور میرے بغل میں لیٹ کر میری طرح وہ بھی چھت کو دیکھنے لگی . . . " تم سچ میں شادی کرنے والی ہو . . . " سعدیہ کا ایک ہاتھ پکڑ کر میں بولا . . . وہ ابھی ابھی نہا كے آئی تھی ، جس کی وجہ سے اس کے پورے جسم سے خوشبو آ رہی تھی . . . . میرے سوال کو سن کر وہ تھوڑا حیران ہوئی اور میری طرف اپنا چہرہ کرکے بولی " یہ تم کیوں پُوچھ رہے ہو ، " " بس ایسے ہی . . . " " ہاں یار ، سچ میں شادی کر رہی ہے اور آج کی رات ہم دونوں کی آخری رات ھوگی . . . " " آخری رات . . . " میں نے دھورایا. . . " آخر تمھارے دل میں ہے کیا . . . " وہ حیران تھی کہ میں اب کیوں اسے اس کی شادی كے بارے میں پُوچھ رہا ہوں ، جب کے پہلی بار ہی اسے میں نے صاف منع کر دیا تھا ، خیر حیران تو میں خود بھی تھا . . . . " تم ایک عجیب قسم کے انسان ہو. . . لیکن آج کچھ زیادہ ہی عجیب حرکتیں کر رہے ہو . . . " میں نے اس کا ہاتھ جس ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا وہ اسے سہلاتے ہوئی بولی ، اس کا چہرہ اب بھی میری طرف تھا . . . . سعدیہ کو اکثر ایسا لگتا کہ دُنیا بھر کا سارا سسپنس میرے اندر ہی بھرا پڑا ہے . . . . " نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے ، میں تو بس ایسے ہی پُوچھ رہا تھا . . . " کوئی تو بات تھی جو میرے اندر کھٹک رہی تھی ، یہ میں جانتا تھا . . . . " اب ساری رات ایسے ہی بور کروگے یا پھر کچھ اور . . . . . . . . " وہ آگے کچھ اور کہتی اس سے پہلے ہی میں نے اس کی چوت كے اوپر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور اسے پینٹی کے اوپر سے ہی سہلانے لگا . . . . " ڈائریکٹ پوائنٹ پر ہاں . . . " وہ ایک بار پھر مسکراتے ہوئے بولی . . . " پوائنٹ تو اب آیا ہے . . . " میں نے اس کے پینٹی كے اندر ہاتھ ڈال کر اس کی چوت کو سہلاتے ہوئے بولا اور اپنی ایک انگلی چوت كے اندر ڈال دی . . . کچھ دیر پہلے كے واقعے سے ابھی بھی اس کی پھدی گیلی تھی . . . ہم دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ، آج پہلی بار وہ مجھے بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی ، دِل کر رہا تھا کہ اسے چوم لوں ، لیکن سعدیہ کو کس پسند نہیں تھا . . . " تم کیا سوچ رہے ہو . . . " وہ کانپتی ہوئی آواز میں میری طرف دیکھ کر بولی . . . جواب میں میں نے اپنے دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کو اپنے ہونٹوں پر رکھا کر اشارہ کیا کہ میں تمہارے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں بھرنا چاہتا ہوں . . . . میرے اشارے سے سعدیہ تھوڑی بے چینی محسوس کرنے لگی اور مجھ میں کچھ دیر تک نہ جانے کیا دیکھتی رہی . . . . . " واقعے تم میرے ہونٹ پر کس کرنا چاہتے ہو . . . ؟ ؟ ؟ " اپنے ہونٹ پر عجیب سی حرکت لاتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا ، میری ایک انگلی اب بھی اس کی چوت كے اندر باہر ہو رہی تھی . . . . . " ہاں . . . میں چاہتا ہوں کے تمہارے ہونٹوں پر کس کروں . . . " میں نے بس اتنا کہا اور وہ میرے ہونٹوں كے قریب آئی ، ہم دونوں ایک دوسرے کی سانسیں کی گرمائش محسوس کر رہے تھے ، جو کہ ہم دونوں کو اور بھی گرم کر رہی تھی . . . . آج پہلی بار سعدیہ كے لیے میرے دِل میں کچھ فیلنگس آئی تھی اور وہ فیلنگس اس لئے تھی کیوںکہ سعدیہ آج مجھ سے دور جا رہی تھی ، آج کی رات ہماری آخری رات تھی ، شاید اس لیے وہ مان بھی گئی . . . . . " تم سچ میں بہت عجیب ہو . . . " میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے ٹچ کرکے وہ بولی " لیکن مجھے اچھے لگتے ہو . . . " اور اس کے بَعْد میں نے وقت نہ گواتے ہوئے اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے لیا . . . . اور اس کے اوپر آ گیا . . . . اسی دوران میں نے اس کو ایک بار چھوڑا تو وہ میرے ہونٹوں کو چوسنے کی وجہ سے حانپ رہی تھی اس کے سینے كے ابھار بہت تیزی سے اوپر نیچے ہو رہے تھے . . . . " ایک بات بتاؤ " میں نے بولا " جب تمہیں معلوم تھا کہ میں کچھ دیر بَعْد تمہاری براہ اور پینٹی کو اتار دوںگا تو تم نے پہنا ہی کیوں . . . . " میرے ایسا کہنے کی دیر تھی کی وہ کھلکھلا كے ہنس پڑی ، اور میرے سَر پر اپنا ہاتھ پھیرنے لگی . . . . . " تم سچ میں بہت عجیب ہو . . . " " وہ تو میں ہوں . . . " میں نے دوبارہ اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے چپکا لیا اور پھر چُوسنے لگا . . . . میں اس کے ہونٹوں کو اتنا زور سے چوس رہا تھا کہ اس کے ہونٹوں پر خون اترنے لگا ، اور ہونٹ كے کنارے پر مجھے خون کی کچھ بوندے بھی دکھی . . . لیکن میں روکا نہیں اور اسے پی گیا . . . . . . " بہت ٹیسٹی ہے . . . " " کیا . . . " " تمھارے ہونٹ . . . لیکن ذرا آرام سے ، درد ہوتا ہے . . . " سعدیہ بولی . سعدیہ كے بولنے کا لہجہ سیدھے میرے دِل پر لگا ، میں یہ تو جانتا تھا کہ سعدیہ كے لیے میں صرف اس کے جسم کی بھوک مٹانے كے لئے ہوں ، لیکن آج وہ کچھ بدلی بدلی سی لگ رہی تھی . . . اس وقت جب اس نے کہا کہ " آرام سے کرو ، درد ہوتا ہے . . . . " تو میں جیسے اس وقت اس کا مرید ہو گیا ، دِل چاہتا تھا کہ میں بس ایسے ہی اس کے اوپر لیٹا اسے پیار کروں اور یہ رات کبھی ختم نہ ہو ، دِل چاہتا تھا کہ کل کی صبح ہی نہ ہو ، لیکن یہ ممکن نہیں تھا . . . . میرے دِل میں سعدیہ كے لیے آج کچھ اور جذبات تھے ، اک بار تو میرے دل میں خیال بھی آیا کہ کہی میں سعدیہ سے . . . . . . . . . . . نہیں یہ ہرگز نہیں ہو سکتا ، جن راستوں پر میں نے چلنا چھوڑ دیا ہے تو پھر ان راستوں سے گزرنے والی منزلیں مجھے کیسے مل سکتی ہے . . . . . . " یار اب اِس حسین پل میں کہاں کھو گئے ، کرو نہ. . . " " اتنی جلدی بھی کیا ہے سعدیہ . . . " میں نے بہت ہی پیار سے کہا ، اتنے پیار سے میں نے آج سے پہلے کبھی کسی سے بات کی تھی ، یہ مجھے یاد نہیں . . . . . " جلدی تو مجھے بھی نہیں ہے ، لیکن اس کا کیا کرے ، کمینی چین سے ایک پل جینے بھی نہیں دیتی . . . . " سعدیہ کا اشارہ اس کی گرم ہوتی چوت کی طرف تھا ، جو میرے لنڈ کی راہ تک رہی تھی کہ میں کب سعدیہ کو چودنا شروع کروں . . . لیکن میں سعدیہ كے اوپر سے ہٹ کر اس کے بغل میں لیٹ گیا اور اس میں جو چیز مجھے سب سے زیادہ پسند تھی اسے سہلاتے ہوئے میں نے کہا . . . . " کچھ دیر بات کر لیتے ہے ، تب تک تم نارمل ہو جاؤ گی اور تمہیں درد بھی کم ھوگا . . . " آج سعدیہ کو میں نے ایک سے بڑھ کر ایک جھٹکے دیئے تھے اور مجھے پورا یقین تھا کہ اسے اب بھی جھٹکا لگا ھوگا ، میرا اندازہ سہی نکلا وہ مجھے حیران ہوکر دیکھ رہی تھی . . . . . " ارمان . . . آخر بات کیا ہے ، سب کچھ ٹھیک تو ہے نہ . . . " میرے چہرے کو سہلاتے ہوئے سعدیہ نے مجھ سے کہا . . . " ہاں ، سب ٹھیک ہے . . . " میں سعدیہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا لیکن میرے دِل میں کچھ اور ہی تھا ، میں کچھ الگ ہی خواب سجا رہا تھا . . . . . بقول شاعر " آج پھر دِل کرتا ہے کی کسی كے سینے سے لپٹ جاؤں . . . . اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سارے غم پی جاؤں . . . . ہم دونوں رہے ساتھ ہمیشہ اس لئے . . . دِل کرتا ہے کی اس کی تقدیر کو اپنی تقدیر سے جوڑ دوں . . . . میں کچھ اور بھی کہنا چاہتا تھا سعدیہ سے لیکن اس نے مجھے آگے بولنے کا موقع ہی نہیں دیا اور درمیان میں بول پڑی . . . . " پھر کیا بات ہے . . . جلدی کرو صبح ہونے والی ہے اور پھر ہم کبھی ایک ساتھ نہیں رہینگے . . . " سانسیں روک گئی تھی ، جب اس نے چھوڑ جانے كے لیے کہا . . . . . دِل نہ ٹوٹے میرا اس لئے . . . دِل کرتا ہے کی اپنے دِل کو اس کے دِل سے جوڑ دوں . . . . . " چلو یار ارمان . . . کیا سوچ رہے ہو ، وہ بھی اب " وہ مجھے بستر پر سوچ میں پڑا دیکھ کر جینجلا اٹھی ، تب مجھے احساس ہوا کہ سعدیہ كے لیے میں اب بھی سوائے ایک جسم کی بھوک مٹانے والے كے سوا کچھ نہیں ہوں اور اس کی طرف سے کہی گئی باتوں کا میں 101 % غلط مطلب نکال لیا تھا . . . مجھے برا تو لگا لیکن ساتھ ہی ساتھ اپنی غلطی کا بھی احساس ہوا اور اپنی غلطی کا ازالہ کرنے كے لیے میں وآپس سعدیہ كے اوپر آ گیا. . . . . " یس اب آئے نہ لائن پڑ ، اپنی انگلی میرے منہ میں ڈالوں اور شروع ہو جاؤ . . . " وہ بولی اور میں نے ویسا ہی کیا ، میں نے اپنی انگلیاں اس کے منہ میں ڈالی اور اس کی زبان سے ٹچ کرنے لگا اور پھر کچھ دیر بَعْد اپنی انگلیاں نکل کر اس کو سَر سے پکڑا اور اسے اپنی طرف کھینچا . . . . . . بقول شاعر: " میرے دور جانے سے اے دوست خوشی ملتی ہے تجھے تو بتا دے مجھے . . . . . . تیری اِس خوشی كے لیے میں تجھے تو کیا اِس دُنیا کو چھوڑ كے چلا جاؤں . . . . .
  13. " لنڈ . . . . " " بلکل سہی جواب اور آپ کو ملتی ہے ایک عدد چوت ، جسے آپ آج پوری رات چود سکتے ہے . . . . " سعدیہ کی ان چند جملوں نے مجھے اور بھی زیادہ پاگل اور مدھوش کر دیا اور ایک یہی وقت تھا ، جب مجھے اس کی چدائی کرنے كے علاوہ اور کچھ بھی یاد نہیں رہتا ، انہی چند لمحوں كے لیے میں آج بھی سعدیہ كے ساتھ تھا . . . . " میرے انعام کو پردے میں کیوں رکھا ہے . . . " یہ کہتے ہوئے میں نے اسی وقت سعدیہ کو پکڑ کر زمین پر لٹا دیا ، اور اس کی رس بھری گلابی چوت کو پردے سے باہر کیا . . . یہ سب کچھ میں نے اتنی جلدی کیا کہ سعدیہ حیران رہ گئی . . . اور پھر مسکراتے ہوئے بولی . . . " بہت جلدی ہو رہی ہے تم کو . . " " تم چیز ہی ایسی ہو قسم سے . . . " میرا ایسا کہتے ہی وہ خوشی سے مچل اٹھی ، سعدیہ کو زمین پر لیٹا کر میں نے ایک بار پھر اس کی چھاتیوں کو مسلنا شروع کیا . . . " آہ ہ ہ ہ . . . . وووہ ہ ہ ہ. . . . . " سعدیہ کی پیار بھری مستی پھدک رہی تھی اور وہ مزے كے سمندر کی انتہا پر جا کر دستک دے رہی تھی ، وہ اِس وقت اتنی مدھوش ہوگئی تھی کہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے اپنے سینے كے ابھاروں کو مسلنے لگی اور مجھے اشارہ کیا کہ ، میں وہ سب کچھ کروں ، جس کے لیے آج رات میں یہاں تھا . . . . میں نے سعدیہ کی گوری چکنی کمر کو پکڑا اور اسے اپنے لنڈ كے بلکل اوپر بیٹھا لیا ، اس کی چوت اِس وقت میرے لنڈ كے ملن كے لیے تڑپ رہی تھی . . . میں نے اس کی تڑپ کم کرنے كے لیے اپنے ہاتھوں سے اس کے چوت کو تھوڑا پھیلایا اور سیدھا اپنا لنڈ ایک تیز ڈھکے كے ساتھ اندر داخل کر دیا . . . . " آہ ہ ہ ہ ہ ہ . . . . . . . اوئی ی ی ی ی " اپنی انگلی کو دانتوں میں دباتے ہوئے وہ بولی ، اس كا چہرہ اِس وقت لال پیلا ہو رہا تھا ، . . . میں زمین پر لیٹا ہوا تھا اور سعدیہ میرے اوپر بیٹھی ہوئی اپنی گانڈ ہلا کر مزے لوٹ رہی تھی . . . اِس طرح اس کا درد بھی کچھ کم ہو گیا تھا ، اور اب وہ مستی بھری سیسکاریاں لے رہی تھی . . . میں نے ایک بار پھر سے اپنے سب سے پیاری جگہ کو پکڑا اور زور زور سے دبانے لگا اور تیزی سے اپنا لنڈ اس کی پھدی كے اندر باہر کرنے لگا ، . . . کبھی سعدیہ میرے ہاتھوں کو پکڑ لیتی تو کبھی اپنی چکنی گانڈ کو مٹکاتے ہوئے آگے پیچھی کرتی . . . . میرے تیز ڈھکوں كے ساتھ اس کی سسکاریاں بھی بڑھتی جا رہی تھی ، اسی دوران میں نے اس کے مموں کو کئی بار بہت زور سے مسئلہ ، اتنا زور سے کہ اس کی مستی بھری سسکاریوں میں اب درد جھلک رہا تھا ، لیکن یہ درد وہ اپنی بھاری گانڈ کو آگے پیچھے کرکے برداشت کر رہی تھی ، ہم دونوں اِس حالات میں بہت دیر تک چودائی کرتے رہے ، اس کے بَعْد میں نے سعدیہ کو الگ کیا اور ٹانگیں پیچھے کی طرف موڑ کر بیٹھ گیا اور اس کی گانڈ کے سوراخ کو سہلاتے ہوئے اسے بھی اپنے اوپر بیٹھا لیا . . . . " ش ش ش ش . . . یہ کیا کر رہے ہو . . . " سعدیہ بولی . . . " کچھ نہیں ، بس اپنا کام کر رہا ہوں . . . " اس کے ننگے بدن کو چومتے ہوئے میں نے بولا اور پھر اپنے لنڈ کو اس کی چوت سے لگایا اور ایک زور دھکہ مارا اِس پوزیشن میں میں پہلی بار سعدیہ کو چود رہا تھا ، اس لئے وہ تیار نہ تھی ، اور جیسے ہی میرا لنڈ پورا اندر گیا وہ درد كے مارے زور سے چیخی ، وہ درد سے تڑپ اٹھی اور مجھ سے خود کو چھوڑوانے کی کوشش کرنے لگی ، لیکن میں نے اس کی کمر کو کس کر پکڑا اور اسکی چوت میں لنڈ اندر باہر کرنے لگا . . . . سعدیہ نے اپنے ہاتھوں سے میرے لنڈ کو نکلنے کی بھی کوشش کی ، لیکن اس کے ہاتھ میرا کام بیگاریں اسے پہلے ہی میں نے اس کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر پیچھے جکڑ لیا ، اب اس کے پاس اسی طرح چودنے كے علاوہ اور کوئی رستہ نہیں تھا ، . . . سعدیہ کی سیسکاریاں اِس دوران مسلسل نکل رہی تھی ، جو مجھے اور مزید جوشیلا کر تھی ، سعدیہ کی سیسکاریوں میں درد صاف جھلک رہا تھا . . . . میں نے سعدیہ کو زمین پر وآپس لٹایا اور اس کی ٹانگوں کو پکڑ کر اس کو اپنی طرف کھینچا ، اس کے بَعْد میں نے اس کی دونوں ٹانگوں کو اوپر اُٹھا کر اس کی طرف موڑ دیا ، جس سے اس کی چوت میرے سامنے کی طرف آ گئی اور بنا ایک پل گنواے میں نے اپنا لنڈ اندر ڈال دیا ، سعدیہ کی چیخ ایک بار پھر پورے گھر میں گونجی ، اس کا گورا جسم ، درد اور مستی سے لال پیلا ہو رہا تھا " میں . . . اب . . . آہ ہ ہ ہ . . . . ارمان . . . آئی لوو یو . . . . س س س س س . . . . یس س س س . . . . . " سعدیہ فارغ ہوگئی اور اس کی گلابی چوت سے پانی باہر رسنے لگا ، اب میں نے اس کے گالوں کو زور سے سہلایا اور بری طرح سے سعدیہ سے لپٹ کر اور بھی زور سے اپنا لنڈ داخل کرنے لگا . . . وہ مجھے روکنے کی کوشش کرنے لگی ، لیکن میں نہیں روکا اور لگاتار اپنا لنڈ اس کی پھدی میں اندر باہر کرتا رہا ، اور کچھ دیر كے بَعْد میں بھی فارغ ہوگیا . . . . میں اور سعدیہ اب بھی ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے تھے . . . ہم دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہ جانے کیا دیکھ رہے تھے . . . . پھر اس نے ایسا کچھ کہا ، جس کی میں نے کبھی توقع تک نہیں کی تھی . . . . . . . . . . . " دل والوں كے گھر تو کب كے اجڑ چکے . . . . دِل كے آشیانے تو کب كے جل چکے . . . . . " سعدیہ سے میں نے صرف اتنا ہی کہا ، جب اس نے مجھ سے شادی کرنے كے لیے کہا . . . سعدیہ ، مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہے ، یہ سن کر میں کچھ دیر كے لیے جیسے گھوم گیا تھا ، میں اب بھی زمین پر سعدیہ كے اوپر لیٹا ہوا تھا اور میرا لنڈ اب بھی اس کی چوت میں اندر تک دھنسا تھا . . . . میرے اس دو مصرے کے شعر کو سن کر وہ پل بھر كے لیے مسکرائی اور پھر میرے سَر پر ہاتھ پھیرتے ہوئی بولی " تم نے ابھی جو کہا ، اس کا مطلب کیا ہوا . . . " " میں تم سے شادی نہیں کر سکتا . . . " جب میں نے اسے ایسا کہا تو میں نے سوچا کہ شاید اس کے چہرے پر ناراضگی كے اثرات آئیں گے ، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ، وہ میرا سَر سہلاتی رہی . . . . . " میں مذاق کر رہی تھی . . . " وہ بولی " اصل میں ، بابا نے میری شادی کہی اور فکس کر دی ہے اور اگلے ہفتے شاید لڑکے والے مجھے دیکھنے بھی آ رہے ہے . . . . " " گڈ ، لیکن پھر مجھ سے کیوں پوچھا کہ میں تم سے شادی کروں گا یا نہیں . . . " میرے ہاتھ دھیرے دھیرے اس کے پورے جسم کو سہلا رہے تھے . . . . " میں جاننا چاہتی تھی کہ ، تُم مجھ سے پیار کرنے لگے ہو یا نہیں . . . " میرے ہاتھ کی حرکتوں سے تنگ آ کر اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ، اور ہستی ہوئی بولی . . . " اور میں تم سے پیار کرتا ہوں یا نہیں ، یہ تُم کیوں جاننا چاہتی تھی . . " میں نے اس کے ہاتھ کو دور کیا اور پھر سے اپنا کام شروع کر دیا ، اس کی آنکھوں میں جنسی پیاس پھر سے اترنے لگی . . . " میں نے یہ اس لئے پوچھا کیوںکہ ، میرے جتنے بھی بوائے فریںڈ ہے ، جب میں نے انہیں کہا کہ اب میں ان کے ساتھ تعلقات نہیں رکھ سکتی ، تو وہ بہت اُداس ہوئے ، کئی تو بچوں کی طرح رونے لگے اور بولنے لگے کہ ، . . . . سعدیہ پلیز مت جاؤ ، میں تم سے پیار کرنے لگا ہوں ، تو بس میں یہی جاننا چاہتی تھی کہ ، کہی اوروں کی طرح تمہیں بھی مجھ سے پیار تو نہیں ہوا ہے ، ورنہ آج کی رات كے بَعْد تُم بھی ان لڑکوں کی طرح رونا دھونا شروع کرتے . . . . " " بے فکر رہو ، میں ایسا کچھ بھی نہیں کروںگا . . . . " میں نے سعدیہ كے دونوں ہاتھوں کو کس کر پکڑا اور اپنا لنڈ جو اسکی چوت میں پہلے سے ہی گھسہ ہوا تھا ، میں اسے پھر سے اندر باہر کرنے لگا . . . . میری اِس حرکت پہ وہ ایک بار پھر مسکرا اٹھی . . . . تمہیں ، اک بات بتاؤں . . . آہ ہ ہ ہ . . . " " ہاں بولو . . . " " ان لڑکوں نے کال کر کر كے مجھے اِتنا پریشان کر دیا کے مجھے اپنا نمبر تک تبدیل کرنا پڑا . . . . تھوڑا آرام سے ڈالو ، ابھی ابھی فارغ ہوئی ہوں تو تھوڑا درد ہو رہا ہے . . . " " اِس کام میں درد نہ ہو تو پھر مزا کیسے آئیگا ، . . . " میں نے اور بھی زور سے اپنا لنڈ اس کی چوت كے اندر باہر کرنے لگا ، سعدیہ سسکی لیتے ہوئے حانپ بھی رہی تھی ، اور اپنے ہونٹوں کو دانتوں سے کاٹنے لگی . . . . " پلیز اسٹاپ . . . . " " اِس گاڑی کا بریک فیل ہو گیا ہے . . . " " اِس گاڑی کو ابھی روکو ، رات بہت لمبی ہے اور سفر بھی بہت لمبا ہے . . . . " اس نے میرے کمر کو کس کر جکڑ لیا اور بولی " تمہیں کیا ، تم تو میرے اوپر لیٹے ہوئے ہو ، یہاں زمین پر نیچے تو میں لیٹی ہوئی ہوں . . . اٹھو ابھی . . . " دِل تو نہیں چاہتا تھا کہ میں اسے چھوڑوں ، لیکن اس کا احساس مجھے ہو گیا تھا کہ وہ زمین پر نیچے لیٹ کر بہت دیر تک مجھ سے چودائی نہیں کر سکتی ، اس لئے میں نے اپنا لنڈ نکالا اور کھڑا ہوا ، اس کے بَعْد میں نے سہارا دے کر اسے بھی اْٹھایا . . . . " اب باقی کام بستر پر کرتے ہے . . . " وہ ایک بار پھر مسکرائی ، اور اپنے کپڑے اُٹھا کر اپنے بیڈروم كے طرف بڑھی . . . . دِل کیا کہ سعدیہ کو پیچھے سے پکڑ کر وہی لیٹا کر چود دوں، لیکن پھر سوچا کہ جب رات لمبی ہے تو پوری رات سو کر اسے چھوٹی کیوں بنائی جائے . . . . . . . جیسے کہ اکثر امیروں كے گھر میں کسی کونے میں شراب کی کچھ بوتلیں رکھی ہوتی ہے ، ویسا ہی ایک چھوٹا سا شراب خانہ سعدیہ كے گھر میں بھی تھا . . . جہاں ایک سے بڑھ کر ایک برانڈڈ شراب رکھی ہوئی تھی ، . . . میں اس چھوٹے سے شراب خانے کی طرف بڑھا اور وہاں موجود کرسی پر بیٹھ کر اپنا پیک بنانے لگا ، دو تِین پیک پی کر میں نے اپنے کپڑے پہنے اور سعدیہ كے پورے گھر کو دیکھا ، سعدیہ کا گھر باہر سے جتنا بڑا نظر آتا تھا ، وہ اندر سے اور بھی بڑا اور عالیشان تھا ، ہر ایک چھوٹی سے چھوٹی چیز سے لے کر بڑی سے بڑی چیز برانڈڈ تھی ، . . . شراب پینے كے بَعْد میں کیا سوچنے لگتا ہوں یہ میں خود آج تک نہیں سمجھ پایا ، شراب پینے كے بَعْد میرے پورے دماغ میں دنیا بھر کی باتیں آتی ہے ، کبھی کبھی کسی سیاست دان کی باتیں تو کبھی کبھی کسی دوست كے پوزیشن ، کبھی کوئی فیلم اسٹار اداکارہ تو کبھی کوئی سوشل ورکر . . . . . لیکن اِس وَقت ابھی جو میرے خیال میں آ رہا تھا ، وہ سعدیہ کے بارے میں تھا ، . . . شراب اور سعدیہ دونوں نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا تھا . . . . . سعدیہ میں ایک عجیب سی کشش تھی ، جو کسی بھی مرد کو اپنی طرف کھینچ سکتی ہے ، پھر چاھے وہ سعدیہ كے آزادانہ راویے سے متاثر ہو یا اس کی عجیب سی شکل میں ڈھلی ہوئی چھاتیوں سے یا اس کی گداز جسم سے . . . . میں سعدیہ سے اس کی چھاتیوں کی وجہ سے متاثر ہوا تھا ، اور یہی وجہ تھی کہ میں اکثر اس کے ساتھ سیکس کرتے وقت اس کے سینے كے ابھاروں کو پکڑ کر مسلنے لگتا تھا ، . . . " ارمان ، ذرا اوپر تو آنا . . . . " " کون . . . " آواز سن کر میں بھوکلایا ، لیکن پھر ایسے لگا جیسے کے مجھے سعدیہ نے آواز دی ہو ، . . . " اسی نے بلایا ھوگا . . . " میں نے خود سے کہا اور اُٹھ کر سیڑھیوں سے اوپر جانے لگا ، مجھے سعدیہ کا بیڈروم معلوم تھا ، اس لئے میں سیدھے وہی پہنچھا . . . .
  14. " ارمان . . . ارمان . . . اٹھ ، ورنہ لیٹ ہو جائیگا . . . " کاشف نہ جانے کب سے مجھے اٹھانے کی کوشش میں لگا ہوا تھا ، اور جب میں نے بستر نہیں چھوڑا تو ہمیشہ کی طرح آج بھی اس نے پانی کی ایک بوتل اٹھائی اور سیدھے میرے چہرے پر ڈال دی . . . . " ٹائم کتنا ہوا ہے . . . " آنکھیں ملتے ہوئے میں اُٹھ کر بیٹھ گیا ، اور گھڑی پر نظر گھمائی ، صبح كے آٹھ بج رہے تھے . . . . بوجھل دل سے میں نے بستر چھوڑا اور باتھ روم میں گھس گیا . . . . کاشف میرے بچپن کا دوست تھا اور اسی کی وجہ سے میں کراچی میں تھا ، جہاں ہم رہتے تھے ، وہ ایک پوش علاقہ تھا ، جس کا نام گلشن حدید تھا جو کہ اندرون شہر سے دور بنا ہوا تھا ، . . . اِس علاقے میں بہت بڑے بڑے امیر لوگ بھی رہتے تھے ، تو کچھ میری طرح گھٹ گھٹ کر زندگی گزرانے والوں میں سے بھی تھے . . . . میرے ساتھ کیا ہوا ، میں نے ایسا کیا کیا ، جس سے سب مجھ سے دور ہو گئے ، یہ سب کاشف نے کئی بار جاننے کی کوشش کی . . . لیکن میں نے ہر بار بات ٹال دی . . . کاشف پریس میں کام کرتا تھا ، اس کی حالت اور اس کے شوق دیکھ کر اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ اس کی تنخواہ کتنی ھوگی اور مجھے کبھی کسی چیز کی ضرورت ہوتی تو وہ بنا کچھ بولے مجھ پر پیسے اڑا دیتا ، یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں اس کے پیسے کبھی واپس نہیں کروں گا . . . . . " اب ناشتہ کیا خاک کرے گا ، ٹائم نہیں بچا ہے . . . . " میں باتھ روم سے نکلا ہی تھا کہ اس نے مجھے ٹوکا . . . " اور پی رات بھر شراب، کمینے خود کو دیکھ ، کیا حالت بنا رکھی ہے . . . " " اب تو صبح صبح تقریر نہ کر . . . " میں نے شرٹ پہنتے ہوئے کہا . . . . " اکڑ دیکھو اِس انسان کی ، . . . " کاشف بولتے بولتے روک گیا ، جیسے اسے کچھ یاد آ گیا ہو . . . . وہ تھوڑی دیر روک کر بولا . . . " وہ تیری بچی آئی تھی ، صبح صبح . . . . " " کون . . . " میں جانتا تھا کہ وہ کس کی بات کر رہا ہے ، لیکن پھر بھی میں نے انجان بننے کی کوشش کی . . . " سعدیہ . . . " " سعدیہ . . . . " میں نے اپنا موبائل فون اٹھایا ، تو دیکھا کہ سعدیہ کی بہت ساری مس کال آئی ہوئی تھی . . . . " کیا بول رہی تھی وہ . . . " " مجھے تو بس اتنا ہی بول كر گئی کہ ، ارمان جب اٹھ جائے تو مجھے کال کرے . . . " " اوکے . . . . " سعدیہ ہمارے ہی کالونی میں رہتی تھی ، وہ ان عیاش لڑکیوں میں سے تھی ، جن کے ماں باپ كے پاس بے شمار دولت ہوتی ہے ، جسے وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے بھی لٹائے تو بھی ان کا بینک بیلنس پر کوئی فرق نہ پڑے . . . . . سعدیہ سے میری پہلے ملاقات علاقے کے پارک میں ہی ہوئی تھی ، اور جلد ہی ہماری یہ پہلی ملاقات بستر پر جا کر ختم ہوئی ، . . . سعدیہ ان لڑکیوں میں سے تھی ، جن کے ہر گلی ، ہر محلے میں مجھ جیسا ایک بوائے فریںڈ ہوتا ہے ، جسے وہ اپنی ہوس مٹانے كے لیے استعمال کرتی ہے . . . اِس علاقے میں میں سعدیہ کا بوائے فریںڈ تھا ، یا پھر یوں کہے کہ میں اس کا ایک طرح سے غلام تھا . . . . . وہ جب بھی ، جیسے بھی چاھے میرا استعمال کرکے اپنے جسم كے بھوک کو پورا کرتی تھی . . . دِل میں کئی بار آیا کہ اسے چھوڑ دوں ، اسے بات کرنا بند کر دوں ، لیکن میں نے کبھی ایسا کچھ بھی نہیں کیا . . . . کیوںکہ سعدیہ كے ساتھ بستر پر گزرا ہوا ہر ایک پل مجھے اپنی بےکار زندگی سے بہت دور لے جاتا تھا ، جہاں میں کچھ وقت كے لیے سب کچھ بھول سا جاتا تھا . . . . " چل ٹھیک ہے ، ملتے ہے بارہ گھنٹے كے بَعْد . . ." کاشف نے مذاقیا اندازِ میں کہا . . . . ہر روز کی طرح میں آج بھی اس اسٹیل پلانٹ میں اپنا خون جلانے كے لیے نکل پڑا ، . . . میں ابھی کواٹر سے نکلا ہی تھا کہ سعدیہ کی کال پھر آنے لگی . . . " ہیلو . . . " میں نے کال ریسیو کی . . . " گڈ مارننگ شہزادے . . . اٹھ گئے آپ . . . " " اتنی تمیز سے کوئی مجھ سے بات کرے ، اس کی عادت نہیں مجھے . . . کال کیوں کی . . . " " اوہ ہو . . . تیور تو ایسے جیسے سچ میں شہزادے ہو . . . آج ممی پاپا رات میں کسی پارٹی كے لیے جا رہے ہے . . . . . گھر بلکل خالی ہے . . . . " " ٹھیک ہے ، رات کو كھانا کھانے كے بَعْد میں آ جاؤںگا . . . " کچھ دیر تک سعدیہ کی طرف سے کوئی آواز نہیں آئی اور جب میں کال بند کرنے والا تھا تبھی وہ بولی . . . " كھانا ، میرے ساتھ ہی کھا لینا . . . " " ٹھیک ہے ، میں آ جاؤںگا . . . " سعدیہ نے مجھے آج رات اپنے گھر پر بلایا تھا ، جس کا صاف مطلب تھا کہ آج مجھے اس کے ساتھ اسی كے بستر پر سونا ہے سعدیہ سے بات کرنے كے بَعْد میں اسٹیل پلانٹ کی طرف چل پڑا ، جہاں مجھے بارہ گھنٹے تک اپنا خون جلانا تھا ، . . . میں ہر رات اِس آس میں سوتا ہوں کہ ، صبح ہوتے ہی میرا کوئی بھی خاص دوست میرے گانڈ پر لات مار کر اٹھائے اور پھر گلے لگا کر بولے کہ " ریلکس بھڑوے ، جو کچھ بھی ہوا ، وہ سب ایک خواب تھا . . . اب جلدی سے چل ، فرسٹ پیریڈ سحرش میڈم کا ہے ، اگر لیٹ ہوئے تو لوڑا پکڑ کر پورے پیریڈ باہر کھڑا رہنا پڑیگا . . . . " لیکن حقیقت کبھی سپنے یا خواب میں تبدیل نہیں ہوتی . . . میں نے اپنے ساتھ بہت برا کیا تھا . . . یہ بھی ایک حقیقت تھی . . . . جس اسٹیل پلانٹ میں میں کام کرتا تھا ، وہاں میری کسی سے کوئی جان پہچان نہیں تھی اور نہ ہی کبھی میں نے کسی سے ملنے جلنے کی کوشش کی . . . . جب کبھی کسی کی مدد کی ضرورت پڑتی تو " ہیلو . . . اوئے . . . گرین شرٹ . . . بلو شرٹ . . . " ان سب ناموں سے پکار کر اپنا کام چلا لیتا . . . . اس دن میں رات کو نو بجے اپنے کواٹر میں آیا . . . کاشف مجھ سے پہلے آ چکا تھا . . . . " چل ، ہاتھ منہ دھو لے . . . شراب پیتے ہے . . . " ایک ٹیبل کی طرف کاشف نے اشارہ کیا ، جہاں شراب کی بوتل رکھی ہوئی تھی . . . " میں آج سعدیہ كے گھر جا رہا ہوں . . . " " ارے واہ. . . مطلب آج پوری رات ، لیو میچ ہونے والا ہے . . . " " لیو میچ تو ھوگا ، لیکن تماشائی صرف ہم دونوں ہوںگے . . . " " کمینے ، مجھے ابھی تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ سعدیہ جیسے ہائی پروفائل کلاس والی لڑکی ، تجھ سے کیسے سیٹ ہو گئی . . . . میں مر گیا تھا کیا . . " شراب کی بوتل کو کھولتے ہوئے کاشف نے کہا " ارمان ، ایک کام کر . . . تو سعدیہ سے شادی کر لے . . . لائف سیٹ ہو جائے گی . . . . " " مشورہ اچھا ہے ، لیکن مجھے پسند نہیں . . . " " تو پھر ایک اور سریا اٹھا كر گانڈ میں ڈال لینا ، زندگی اور بھی اچھی گزرے گی . . . " کاشف غصے میں بولا . . . . " میں چلتا ہوں . . . " یہ بول کر میں کواٹر سے باہر آگیا . . . سعدیہ کی طرح میں بھی چاہتا تھا کہ وہ ہر رات میری ساتھ ہی گزارے ، یہی وجہ تھا کہ میں نے اسے ابھی تک چھوڑا نہیں تھا . . . اور ایک مضبوط جوان انسان سے چودائی کرنے کی خوائش نے اسے بھی مجھ سے باندھ رکھا تھا . . . . وہ ہمیشہ جب بھی مجھ سے ملتی تو یہی کہتی کہ ، تمھارے ساتھ بہت مزا آتا ہے اور اس کے ایسا کہنے كے بَعْد میں ایک بناوٹی مسکراہٹ اس پر پھینک كے مرتا ہوں ، جس کا نشانہ ہر بار ٹھیک لگتا تھا . . . . . . " آ جاؤ . . . " سعدیہ نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا ، اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے جلدی سے اندر کھینچ لیا . . . . " صبر کرو تھوڑی دیر . . . . " میں نے اندر ہی اندر ہزار گالیاں سعدیہ کو دی اندر آ کر ہم دونوں ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھ گئے ، وہ میرے سامنے والی کرسی پر بیٹھی مجھے شرارت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی ، میں نے بھی اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالی اور اشارہ کیا کہ میں تیار ہوں . . . میرا اشارہ پہ کر وہ ایکدم سے اٹھی اور کھانے کی پلیٹ کو ڈائیننگ ٹیبل پر رکھا کر سیدھے میرے اوپر بیٹھ گئی " تم ڈاکٹر ہو . . . " اپنے گہرے لال رنگ كی شرٹ کی بٹن کو کھولتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا . . . . " نہیں ، میں پاکستان کا وزیراعظم ہوں . . . کچھ کام تھا کیا . . . " میں نے بھی اپنی کھانے کی پلیٹ ڈائیننگ ٹیبل پر رکھی اور اس کے جینس کا لوک کھولتے ہوئے بولا . . . اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے میرے سَر کو پکڑا اور پیار سے سہلانے لگی . . . . " ارمان ، تم جانتے ہو مجھے سب سے زیادہ کیا پسند ہے . . . " " چدائی . . . " میں نے دل ہی دل میں سوچا اور سعدیہ کی طرف دیکھ کر نہ میں سَر ہلایا ، اب میری نظر سعدیہ كے چہرے سے ہوتے ہوئے اس کے سینے پر جا اٹکی ، جہاں اسکی چھاتی كے دونوں پُھول باہر کھلنے كے لیے تڑپ رہے تھے . . . . سعدیہ کی کومل گوری کمر کو سہلاتے ہوئے میں نے اس کی کمر کو پکڑا اور اسے اوپر اٹھا کر اس کی جینس کو اس کے گھٹنوں سے بھی نیچے کر دیا ، اب وہ میرے سامنے صرف ریڈ براہ اور پینٹی میں تھی ، اس کے خالص گورے جسم پر یہ رنگ قیامت ڈھا رہا تھا . . . میرے سینے کو سہلاتے ہوئے سعدیہ نے میری شرٹ کو اتار کر پھینک دیا اور بے تحاشہ میرے سینے کو چومنے لگی ، اِس وقت میرے ہاتھ اس کی چھاتیوں پر اٹکے ہوئے تھے ، میں نے سعدیہ كے سینے كے ان دونوں ابھاروں کو کس کر پکڑا اور دبا دیا . . . . " آہ ہ ہ ہ . . . . دھتھ . . . " وہ مصنوئی غصے كے ساتھ بولی . . . " نائس براہ ، کافی اچھا لگ رہا ہے ، تم پر . . . . " اس کے براہ کو اس کے جسم سے الگ کرتے ہوئے میں نے کہا . . . " ارمان یہ براہ ، میرے جسم پر اتنا ہی اچھا لگ رہا تھا تو پھر اسے اتارا کیوں . . . . " " کیوںکہ اِس براہ كے پیچھے جو چیز ہے وہ اسے بھی زیادہ خوبصورت ہے " اس کی چھاتیاں اب میرے سامنے ننگی تھی ، اور میں اس کے ابھاروں کو جب چاہے جیسے چاہے دبا سکتا تھا ، ویسے تو میں خود کو اس کا غلام مانتا تھا تھا ، لیکن چودائی کرتے وقت وہ میری غلام ہو جاتی تھی . . . سعدیہ كے سینے كے ایک ابھار کو میں نے پیار سے اپنے منہ میں بھر لیا اور دوسرے کو ہاتھ سے مسلنے لگا . . . " منع کیا نہ . . . آہ ہ ہ اوں " سعدیہ میرا ہاتھ ہٹھاتے ہوئے بولی " کتنی بار منع کیا ہے ، زیادہ زور سے مت دبایا کرو . . . " میں اِس وقت سعدیہ سے بحث نہیں کرنا چاہتا تھا ، اس لئے میں نے اس کی بات مان لی اور اپنے ایک ہاتھ کو اس کے چھاتی پر سے ہٹا لیا اور اپنے ہاتھوں سے سعدیہ کی ننگی پیٹ کو سہلاتے ہوئے اس کی چوت پر اپنا ایک ہاتھ رکھ دیا اور اس کو مسلنے لگا . . . میرے ایسا کرنے پر وہ کسی مچھلی کی طرح اُچھل پڑی اور سیسکاریاں لینی لگی ، . . . میرے پینٹ میں بنے ہوئے تامبو کا اسے احساس ہو گیا تھا ، وہ دھیمی سی آواز میں بولی . . . " جلدی . . . . . پلیز . . . میں زیادہ انتظار نہیں کر سکتی’ . . . . . " میرے لنڈ کو پینٹ كے باہر سے ہی سہلاتے ہوئے سعدیہ نے کہا . . . . اس کی آواز کانپ رہی تھی . . . جو مجھے مدھوش کر رہی تھی . . . میں نے سعدیہ کو اوپر اٹھایا اور میں خود وہاں کھڑا ہو گیا ، کرسی کو پیچھے کرنے كے بَعْد وہ میرے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی اور میری طرف دیکھتے ہوئے میرے لنڈ پر اپنا ہاتھ پھیر رہی تھی ، اس کے بَعْد اس نے میرے لنڈ کو پینٹ سے باہر نکالا اور اپنے ہاتھوں میں تھام کر آگے پیچھے کرنے لگی . . . . . " تم جانتے ہو ، تم میں سب سے خاص چیز کیا ہے . . . . " میرے لنڈ کو اپنے ہاتھوں سے سہلاتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا . . . .
  15. کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ "عاشق بن کر اپنی زندگی برباد مت کرنا . . . . . . " لیکن وقت كے ساتھ ساتھ بربادی تو طے ہے ، جو میں نے خود اپنے لئے چنی . . . . میں نے وہ سب کچھ کیا ، جس کے ذریعے میں خود کو برباد کر سکتا تھا ، اور رہی سہی کسر میرے غرور نے پوری کر دی تھی . . . اپنی زندگی كے سب سے اہم چار سال برباد کرنے كے بَعْد میں آج اِس مقام پر تھا کہ اب کوئی بھی مقام حاصل نہیں کیا جا سکتا ، بابا چاھتے تھے کہ میں بھی اپنے بڑے بھائی کی طرح پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بن جاوں . . . لیکن میں نے اپنی زندگی كے ان اہم عرصے میں جب میں کچھ کر سکتا تھا ، میں نے یوں ہی برباد کر دیا ، گھر والے ناراض ہوئے ، تو میں نے سوچا کی تھوڑے دن ناراض رہیں گیں بَعْد میں سب ٹھیک ہو جائیگا . . . . لیکن کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوا ، سب کے تانے دن بہ دن بڑھنے لگے . . . برباد ، ناکارہ کہہ کر بلاتے تھے سب مجھے گھر میں . . . اور ایک دن تنگ آکر میں گھر سے نکل گیا اور کراچی آ گیا اپنے ایک دوست كے پاس ، کراچی آنے سے پہلے سننے میں آیا تھا کی میرا بڑا بھائی سرور امریکہ جانے والا ہے ، اور اس کے ساتھ شاید امی اور بابا بھی جائے . . . . لیکن مجھے کسی نے نہیں پوچھا . . . شاید وہ مجھے یہی چھوڑ کر جانے كے پروگرام میں تھے . . . خیر مجھے خود فرق نہیں پڑتا اِس بات سے ، اور آج مجھے کراچی آئے ہوئے تقریباً دو مہینے سے اوپر ہو چکے ہے ، میرا بھائی امریکہ گیا کہ نہیں ، میرے بابا اور امی امریکہ گئے کہ نہیں ، مجھے کچھ نہیں پتہ اور نہ ہی میں نے ان دو مہینوں میں کبھی جاننے کی کوشش کی اور جہاں تک میرا اندازہ تھا وہ لوگ مجھے ناکارہ سمجھ کر شاید ہمیشہ كے لیے میرے بڑے بھائی كے ساتھ امریکہ چلے گئے ہوںگے . . . . کوئی مجھ سے پوچھے کہ دُنیا کا سب سے بیکار ، سب سے بڑا بے وقوف ، اور سب سے بڑا چوتیا کون ہے ، تو میں بنا ایک پل گنوائیں اپنا ہاتھ اوپر کھڑا کر دوں گا اور بولوں گا " میں ہوں " کسی کو اپنی زندگی کی جڑے خود برباد کرنی ہو تو وہ بے شک میرے پاس آ سکتا تھا ، اور بے شک میں اس کی مدد بھی کرتا . . . . . کراچی آئے ہوئے مجھے دو ماہ سے اوپر ہو گیا تھا ، جہاں میں رہتا تھا ، وہاں سے تقریباً بیس کلو میٹر کے فاصلے پڑ پورٹ قاسم تھا وہاں ایک نئی نئی سٹیل انڈسٹری شروع ہوئی تھی . . . کافی بھاگ دور کے بعد کسی بھی طرح میں نے وہاں اپنی نوکری پکّی کر لی ، بہت ہی بدذات قسم کی نوکری تھی ، بارہ گھنٹے تک اپنے جسم کو آگ میں سیکنے كے بَعْد بس گزارا ہو جائے اتنا ہی پیسہ ملتا تھا . . . . خیر مجھے کوئی شکایت بھی نہیں تھی . . . . جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا ، میں اس فیکٹری کی آگ میں جل رہا تھا ، جینے كے سارے ارمان ختم ہو رہے تھے ، اور جب کبھی آسمان کو دیکھتا تو صرف دو فقرے میرے منہ سے نکل پڑتے . . . آسمانوں كے فلک پر کچھ رنگ آج بھی باقی ہے . . . . . . . . . ! ! ! جانے ایسا کیوں لگتا ہے کی زندگی میں کچھ ارمان آج بھی باقی ہے . . . . . . . . . ! ! ! اور میری سب سے بڑی بدقسمتی یہ تھی کہ میرا نام بھی ارمان تھا ، جس کے ارمان پورے نہیں ہوئے ، یا پھر یوں کہے کہ میرے ارمان پورے ہونے كے لیے کبھی بنے ہی نہیں تھے . . . . . جاری ہے . . . .
×
×
  • Create New...