Jump to content
Private Cloud Activation Last Date 01-10-2020 After Last Date Not include Previous Purchase in your Private Cloud ×
URDU FUN CLUB
Private Cloud Activation Last Date 01-10-2020 After Last Date Not include Previous Purchase in your Private Cloud

گوریلا

Active Members
  • Content Count

    42
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    3

گوریلا last won the day on July 7

گوریلا had the most liked content!

Community Reputation

67

Profile Information

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. انجان راہیوں کی محبت کے دیپ. اھر زندہ رہا تو یہ مکمل کر دوں گا ورنہ معزرت. احباب سے. ایڈمن سے گزارش ہے یہ لازمی ریمو کردیں
  2. محترم آپ نے کیا نہیں کوئی حل؟؟؟
  3. مجھے نہیں علم کیسے لنک نکلتا ہے آپ رہنمائی کر دیں
  4. سر آپ نے ریمو نہیں کی میری سابقہ سٹوری؟؟؟
  5. کیا مطلب؟؟ کھل کے بات کریں محترمہ
  6. محترمہ آپ کی نہیں ریمو؟؟
  7. احباب نے اگر تعاون کیا تو کرائے کا سانڈ دوسرا حصہ بھی لکھوں گا اگر موقع ملا وہ بھی ایک حقیقی کہانی ہے وہ ایک پاکستانی اور مصری جوڑے پر مبنی ہے.
  8. محترمہ مجھے اس کا علم نہیں لیکن نام انجان راہیوں کی محبت کے دیپ ہے.
  9. ریاض کی سعودیا عرب کے شہر جدہ میں 5 ورکشاپس ہیں اور مختلف دوکانیں ہیں ریاض کی عمر 39 سال ہے اور اس کی بیوی نسرین کی عنر 31 سال ہے اور ان کی ایک بیٹی ہے 2 سال کی ریاض کے پاکستان میں 3 چکر لگے شادی سے اب تک 3 چکر پاکستان لگے تھے ریاض کی ایک بہن اور بہنوئی ان کے مکان میں ہی رہتے ہیں ریاض ہی ان کا ہر طرح کا خرچا برداشت کرتا ہے کیونکہ ریاض کا بہنوئی کچھ نہیں کرتا نسرین ایک وفادار بیوی تھی جو ریاض کی جدائی اور اپنی نند کی جلی کٹی باتیں برداشت کرتی تھی ریاض کی بہن پہلے بھی نسرین کی شکایتیں لگاتی تھی لیکن ریاض بس ڈانٹ دیتا نسرین کو اور نسرین کو اپنی صفائی میں کچھ کہنے کا موقع نہیں ملتا تھا ریاض نے اپنی شادی کی سالگرپر ایک سونے کا ہار بھیجا جو بہت خوبصورت تھا نسرین نے یہ ریاض کی بہن کو نا دیکھایا کچھ دن بعد ریاض نے اپنی بہن کو فون کیا جس میں اس نے اس ہار کا ذکر کیا تو اس کو بہت غصہ آیا ہے اگلے دن نسرین کے پاس جب ریاض کے چچا زاد بھائی کی بیوی بیٹھی تھی ریاض کی بہن نے آتے ہی بہانے سے لڑنا شروع کر دیا اور جب ریاض کی چچا زاد بھائی کی بیوی نے لڑائی ختم کروا دی لیکن ریاض کی بہن کا غصہ ٹھنڈا نا یوا اس نے اپنے بھائی جو فون پر نسرین کے بارے میں غلط باتیں بتائی جس پر ریاض کو شدید غصہ آیا اور رہی سہی کثر اس کے بہنوئی نے نکلا دی ریاض نے نسرین کو فون کیا اور فون پر طلاق دیدی اور کہا کے گھر چھوڑ دو. میرا نام عمر ہے میں اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہوں ابوکا ہاڈوئیر کی دوکان ہے اچھا خاصہ کاروبار ہےمیں سکول میں 9 کلاس میں ہوں سکول کے بعد وڈیو گیمز اور موویز کا شوق ہے دو دن ہوگے ہیں چاچی نسرین ہمارے گھر رہ رہی ہیں بہت پریشان ہے ہر وقت ماما اُن کو دلاسے دیتی ہے. طلاق دکے بعد نسرین ریاض کے چچا زاد بھائی کے گھر آئی اِن کو ساری بات بتائی پہلے بھی یہ سب جانتے تھے وقار ریاض کے چچا زاد نے ریاض فون کیا اور اس کو پاکستان بلایا ریاض پاکستان آگیا اور یہاں آنے کے بعد اس کا ساری صورتحال جب بتائی تو اس نے اپنا سر پیٹ لیا کے اپنی بہن کے کہنے پر اس نے اپنا گھر برباد کر لیا آخر کار مولوی سے فتوی لیا طلاق ہوگی ہے اب لڑکی دوسری جگہ شادی کرے اور اس مرد سے ملاپ ہو پھر طلاق ہو مطلب حلالہ کروانا پڑھے گا ریاض نے پہلے بھی حلالہ کا سنا تھا کے بعض افراد نکاح حلالہ تو کر لیتے ہیں پر طلاق نہیں دیتے ریاض نے وقار سے سارا مشورہ کیا تو وقار نے اس کو کہا توبتاؤں کیا کرنا ہے ریاض نے کہا کوئی ایسا ہو جو قابلِ اعتماد ہو وقار نے ریاض کو کہا کے میرا بیٹا ہی ہے معصوم ہے جیسا کہو گے مان لے گا اور وہ بالغ بھی ہونے والا ہے اس سے حمل ہونے کا بھی خطرہ نہیں ہے ریاض کو یہ بات پسند آگی. چاچی نسرین کے آنے کے کچھ دن بعد چاچو ریاض بھی ہمارے گھر آگے وہ ابو کے ساتھ دو تین دن گھومتے رہے آج صبح ابو نے مجھے بلایا اور کہا عمر تمہاری شادی ہونی ہے چاچی نسرین کے ساتھ کچھ دن کے لیے اس کے بعد تم نے اِن کو طلاق دیدینی ہے میں نے پوچھا ابو یہ سب کیا ہے چاچی تو چاچو ریاض کی بیوی ہیں تو ابو نے بتایا کے اُن کی طلاق ہوگی ہے اور دوبارہ شادی کے لیے لازم ہے نسرین سے کوئی اور شادی کرے میں میں اب کیا بولتا ابو نے مجھے کہا کے شام کو ابو کے دوست جاوید چاچو کے پاس جاؤں میں انہوں نے مجھ سے کچھ باتیں کرنی ہیں اور ابھی میں چاچو جاوید کے گھر گیا چاچو کا ایک بیٹا مجھ سے بڑا ہے اور ایک میرا ہم عمر ہے ہم دوست ہیں آپس میں چاچو کے گھر پہنچا تو چاچو مجھے اپنے کمرے میں لے گے اور بیٹھا دیا پھر انہوں نے کہا بیٹا شادی کا پتہ ہے کیا میں نے کہا نکاح ہوتا ہے بس اور لڑکی لڑکے کے ساتھ چلی جاتی ہے تو انکل نے کہا نہیں بلکہ عورت اور مرد ایک اپنے جسم کے مخصوص حصے ملتے ہیں اور یہ سب لازمی ہوتا ہے اور تمہاری شادی ہے تم نے بھی کرنا ہے اس کے بعد وہاں چاچو جاوید کا بیٹا ارسلان میرا دوست آگیا اس سے باتیں کی اور وہاں سے گھر آگیا شام کو کھانا کھایا اور باہر گھومنے نکل آیا ارسلان کے ساتھ ارسلان کا ایک ہمسایا تھا وہ کچھ دن قبل ایک لڑکی کے ساتھ پکڑا گیا ہم نے اس کا خوب مذاق اُڑایا کافی دیر باتیں کرنے کے بعد ہم نے اس سے پوچھا کی ہوا تو اس نے کہا کے یار گولی کھائی تھی جس کا اثر نہیں اُتر رہا تھا اور دیر ہوگی لڑکی کے گھر والے جاگ گے اور پکڑا گیا ہم ہنسنے لگ گے گولی کا سن کے میں نے اس کو کہا مجھ بھی دو گولی تو اس نے کہا کیا کرنی ہے تو میں نے کہا تو دے تم کو اس سے کیا اس نے مجھے کہا وہ گھر ہیں اور کل لےلینا میں ارسلان کے ساتھ وڈیو گیمیں کھیلنے چلا گیا رات میں واپس آیا تو ماما نے مجھے دود دیا اور کہا سارا ختم کرو میں نے دودھ پیا کافی کچھ مکس تھا لیکن پی کے سو گیا اگلے دن اُٹھا تو ناشتہ کیا اور ارسلان کے پاس چلا گیا وہاں اس کے ساتھ بیڈمنٹن کھیلنے لگ گیا تین گھنٹے کھیلنے کے بعد ارسلان کو تین گیم ہارائی اور گھر آگیا پسینے سے شرابور تھا ابو نے مجھے بلایا اور اپنے ساتھ لے گے بیرونی کمرے میں وہاں مولوی اور کچھ افراد بیٹھے تھے مجھے بیٹھایا اور ابو نے مولوی صاحب سے کہا شروع کریں مولوی نے نکاح شروع کیا نکاح کے بعد جو چند افراد تھے انہوں نے کہانا کھایا اور چلے گے میں اندر آیا اور امی کو کپڑو کا بولا تو امی نے مجھے اپنے پاس بلایا اور کہا کے نسرین اب تمہاری چاچی نہیں تمہاری بیوی ہے اس کو کہو میں نے مما کو کہا ماما وہ مجھ سے اتنی بڑھی ہیں اب تک ان کو چاچی کہتا آیا ہوں اب ایک دم سے یہ سب مجھ سے نہیں ہوگا ماما میری بات سن کے خاموش ہوگی پھر بولی چلو کوئی بات نہیں لیکن وہ اب تمہاری بیوی ہے میں کمرے میں گیا تو دیکھا نسرین اپنے کپڑے بیگ سے نکال رہی تھی میں نے اپنی نیکر شرٹ لی اور نہانے چلا گیا نہا کر واپس آیا تو امی نے نسرین کو کچھ کہا اور واپس چلی گی میں صوفے پر لیٹ گیا تھکا تھا نسرین میرے پاس آئی اور پہلے تو اپنی انگلیاں مروڑتی رہی پھر بولی کے عمر آپ کو پتہ ہی ہے جو بھی ہوا اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں لیکن ہم بڑوں کی غلطیوں کی سزا آپ کو مل رہی ہے غلطی تو میری بھی نہیں اور میں اپنی صفائی دینا بھی نہیں چاہتی یہ بڑوں کا معاملہ تھا لیکن آپ کو اس معاملے میں گھسیٹنا بہت غلط ہے اس لیے جیسے بھی ہے ہمیں یہ سب برداشت کرنا پڑھے گا. میں نے جواب دیا آپ کو کیا یہ سب بہت آسان لگتا ہے؟؟ مجھ سے یہ سب نہیں ہوگا اور ہوتا بھی کیسے یہ مجھ سے بڑھی تھی سنجیدہ خاتون تھی خاندان میں میں بس سلام دعا کی حد تک تھا اور اب یہ سب بہت مشکل لگتا تھا. نسرین بولی چلو آپ وہ سب نا کریں لیکن دوست تو بن کے رہ سکتے ہیں؟؟
  10. پیج ایڈمن سےگزارش ہے میرے سابقہ کہانی ریمو کر دے تاکے یہ کہانی جاری رکھ سکوں میں.
  11. انکل ہم بھی نوۓ نوۓ ہی ہیں آپ کی کہانی سے کچھ دن قبل شروع کی تھی کہانی انجان راہیوں کی محبت کے دیپ وہ مکمل کی اب یہ شروع کی ہے. ہم تو جنگلوں کی خاک ہیں جناب.
  12. صبح پڑھی تھی آپ کی تحریر تو سوچا آپ کو مشورہ دوں لیکن میں رک گیا. مشورہ یہ تھا کے لکھو جیسی بھی ہے لکھ دو کچھ نا کچھ. کسی کی سننا مت. اس دنیا میں بہت سے ایسے افراد ہیں جو خود کچھ نہیں کر سکتے لیکن اگر کوئی کچھ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کو بھی نہیں کرنے دیتے. تو ایک ہی بات کہوں گا جو ہم سے کہی جاتی ہے. ڈٹ جاؤ بس کسی کی مت سنو. اور رکنا تب جب آپ کو آپ کی منزل مل جاۓ. باقی معزرت اگر کسی کو میری بات اچھی نہیں لگی تو.
  13. میری پہلی کہانی مکمل ہوگی ہے وہ ایک الگ نوعیت کی تھی اور یہ الگ نوعیت کی ہے. کوشش کروں گا پہلی سے اچھی لکھنے کی. باقی فورم کے ایڈیٹر سے گزارش ہے کے اگر میں مسلسل 3 ماہ تک ایکٹو نا ہوا تو میری کہانیاں ختم کر دی جائیں اگر زندہ رہا تو لوٹوں گا ورنہ ہزاروں گمنام قبروں میں ایک قبر ہماری بھی ہوگی. اگر کوئی اس کہانی کے نام کو جانتا ہے تو سمجھ گیا ہوگا کس حوالے سے ہے کہانی یہ ایک حقیقی آپبیتی ہے. کوشش یہی ہے یہ بھی جانے سے پہلے مکمل کر دوں یاں عید پر دو........؟
  14. میں نے غصے سے اس کو کہا ہٹ جاؤ میرے راستے سے اس نے کہا ایک دفعہ مجھے اپنے پاس آنے دو سکس کرنے دو میں اس کو تھپڑ مارنے لگا لیکن روک گیا ایک عوعت کیا ہاتھ اُٹھانا میں نے اس کو بازو سے پکڑ کر سائیڈ پر کیا اور نکل آیا ہائیڈ میں آکر سو گیا شام کو میری انکھ کھلی تو میں باہر آیا تو دیکھا آرمی ہر طرف آئی ہے کم از کم 20 یونٹیں تھی میں نے پوزیشن لی اور بریسٹ پرسیفٹی رکھی اور ٹریگر پر انگلی رکھی اور بیٹھ گیا میرے سامنے 5 فوجی آۓ تو میں نے فائرکردیا وہ موقع پر گر گے اور میں وہاں سے نکل گیا اب آرمی اور میرے پیچھے آرہی تھی میں نے پھر پوزیشن لی اور بیٹھ گیا کچھ دیر گزری تو ایک کیپٹن اپنی نفری کے ساتھ آرہا تھا میری طرف ہی میں پھر سے تیار ہوگیا جیسے ہی وہ پاس آۓ میں نے فائر کھول دیا یہ 8 موقع پر ڈھیر ہوگے میں پھر سے یہاں سے نکلا اور آگے جانے لگا لیکن سامنے بھی آرمی آرہی تھی آرمی نے مکمل کریک ڈاؤن کیا ہوا تھا پورے جنگل میں آرمی ہی آرمی تھی میں ایک جگہ چھپ کر بیٹھ گیا اندھیرا ہو رہا تھا میں نے کہا ساریہ چل زندگی کی آخری نمازیں پڑ لے اور میں نے تیمم کیا اور نمازیں پڑھی آرمی سرچ لائٹوں کے ساتھ تھی اوپر سے ہیلی الگ لائٹس لے کے آۓ تھے ہر جگہ وہری لائٹ چل رہے تھے اتنا کچھ اتنی نفری میں اکیلا میں نے کرالنگ کرتے ہوۓ آگے گیا تو دیکھا آرمی نے یہاں اپنے ٹینٹ لگاۓ اور رات رکنے کا موڈ تھا میں نے گرنیڈ نکالے اور ان پر پھینک کر فائرنگ کر دی اس سے پہلے وہ سنبھالتے میں پھر نکل گیا اب ساری رات میں نے آرمی کو گھومایا جنگل میں جہاں آرمی رکتی میں فائر کردیتا میرا ایمونیشن ختم ہو رہا تھا میں وہاں سے اپنی ہائیڈ کی طرف نکلا یہاں پہنچ کر میں نے گولیاں اور گرنیڈ لیے اور پھر سے نکل گیا بھوک لگی تھی میں نے ایک سول کے گھر کھانا کھانے کو رکا کھانا کھایا تو آرمی کو کسی نے مخبری کر دی ساری رات آرمی کو ذلیل کرنے کے بعد میں ابھی کھانا کھا کے فارغ ہوا ہی تھا کے آرمی نے اعلان کیا کے میں سرینڈر کر دوں میں نے گھر کی فیملی کو باہر نکلنے کو کہا اور جو فوجی علان کر ہا تھا اس کے سر میں گولی ماری اس کی دوبارہ آواز نا نکل سکی اور جوجو سامنے تھا سب پر فائر کیا کچھ مرے کچھ زخمی ہوۓ میں نے مکان میں اپنی پوزیشنوں کی جگہ دیکھی اور دشمن کی چال دیکھنے لگا جیسے ہی کوئی فوجی کسی اوٹ سے. نکلتا اس کا سر چیرتی ہومیری گولی جاتی کسی کی ٹانگ نظر آتی تو ٹانگ پر گولی مارتا تو باقی وہ خود باہر نکل آتا شام تک یہی سلسلہ چلتا رہا شام کو آرمی کی تازہ دم یونٹیں آئی جیسے ہی وہ میری رینج میں آئی میں نے چن چن کر مارے ادھے تو پوزیشنوں پر پہنچنے سے پہلے ہی مارے گے مجھے بھوک لگی تو میں نے دیکھا خشک روٹیاں تھی وہ پانی میں بھگو کر کھا لی جیسے ہی آرمی کا کوئی بھی فوجی حرکت کرتا میری گولی اس کی موت کا پیغام لےجاتی 2 میگزینیں خالی ہوگی 40 والی 4 بقایا تھی میں بیھٹا تھا تو مکان کے پیچھے والی سائیڈ سے مجھے کچھ آوازیں محسوس ہوئی میں نے جیسے ہی کھڑکی سے جھانکا تو دیکھا نیچے 5 سکھ کھڑے تھے اندر آنے کو تیار تھے میں نے گرنیڈ نکالا اور اوپر سے گرادیا وہ اُپر گرا اور پھٹا اور اچانک ایک برسٹ آیا جو میرے بائیں بازو پر لگا مجھے شدید درد کا احساس ہوا میں جلدی سے اندر ہوا اور ایک کپڑا پھاڑ کر اپنے زخم پر باندھنے لگا اس دوران باہر شور ہوا کے اس گولیاں لگی ہیں ایک افسر اپنے ماتحتوں کو گیالیاں دیتے ہوۓ کہ رہا تھا آگے بڑو ایک بندا نہیں مار سکتے تم لوگ میں نے تیاری کی جیسے ہی وہ اند آۓ میں نے فائرنگ کر دی سب دروازے پر ڈھیر ہوگے یہ 4 فوجی بھی گی باہر سے پھر فوجی چیخا سر وہ زندہ ہے تو افسر نے گالی دی اور بولا پتہ نہیں کس چکی کا آٹا کھاتا ہے میں نے کھڑکی سے دیکھا وہ افسر سامنے کھڑا سب کو لیڈ کر رہا تھا اس کے ساتھ 2 صوبیدار تھے میں نے برسٹ پر سیفٹی کی اور گولی چلا دی میرے برسٹ سے وہ تینوں گرگے اور ایک فوجی چیخنے لگا صاحب کو پکڑو جیسے ہی کوئی فوجی سامنے آتا اِن کو اُٹھانے تو میں اس کو بھی ڈھیر کر دیتا فوجیوں کو میری پوزیشن کا پتہ چل گیا انہوں نے دشکا گن سامنے فکس کی اور ایک فوجی جیسے ہی اگے بڑا افسران کی لاشیں اُٹھانے میں نے گولی چلا دی جیسے ہی میری گولی چلی دشکا کی گولیاں میرا جیسم چیرتی ہوئی نکل گی 5 گولیاں آر پار ہوئی خون پوری رفتار سے نکلنے لگا ایک گولی دل میں لگی میری انکھیں بند ہوگی. اس کے بعد فوجی اندر آیا ساتھ ایک مرہٹا بٹالین کا برگیڈئر تھا اس نے کہا اس کی ٹانگوں میں رسہ ڈالو اور پورے راجوری میں اس کی لاش کو گھومنا ہے. 4 دن لاش گھومنے کے بعد مسلمانوں کے حوالے دیا اور رات کے کسی پہر آمنہ نے آخری دفعہ دیدار کیا اور خاموشی سے ایک گمنام قبرستان میں دفنا دیا گیا. نہیں ڈرتے جانے دینے جانیں دینے سے یہ جانیں جایا کرتی ہیں. جب فیصلے حق اور باطل کے تاریخ سنایا کرتی ہیں میدان سجاۓ جاتے ہیں مینار سروں بنتےہیں
  15. معزرت میں قسط نہیں دے سکا اس کی وجہ یہ ہے کے میرا ایک ساتھی مجھ سے جدا ہوگیا اس وجہ سے ذہینی طور پر اپ سیٹ ہوگیا تھا. آخری قسط آج بھیج دوں گا.
×
×
  • Create New...