Jump to content
URDU FUN CLUB
Last Chance ! Private Cloud Activation Last Date 15-11-2020 After Last Date Not include Previous Purchase in your Private Cloud

Barani

Basic Cloud
  • Content Count

    420
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    31

Barani last won the day on November 17

Barani had the most liked content!

Community Reputation

544

7 Followers

Profile Information

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. Thanks for comnt bro... Storybuhut hain...Qadar dani hogi to Dil se likhy jaigi...
  2. کلاؤڈ میں اکاؤنٹ ملے گا تو۔۔۔۔ ھم اپنی دماغی توانائی خرچ کرتے رھیں گے۔۔۔ ورنہ میں اب کھیں اور لکھ رھا ھوں۔۔۔
  3. شکریہ۔ بھائی۔۔۔ اب تو کلاؤڈ میں اکاؤنٹ۔ ملے گا ۔۔۔۔ تو ھم بھی ملیں گے۔۔۔۔ نئے اسٹائل کے ساتھ۔۔۔ باقی ۔۔۔۔۔
  4. , قاتل حسینہ اپڈیٹ کرڈی گئی ھے
  5. قاتل حسینہ اپڈیٹ کر دی گئی ھے۔۔۔ آخری قسط ھے۔۔۔ تفصیلی کو آخر میں جلدی لپیٹ دیا گیا ھے۔۔۔۔ دوستوں کو جلدی پڑھی ھوئی تھی۔۔۔ بھرحال اپڈیٹ شیئر کردی ھے
  6. قاتل حسینہ آخری قسط میرے اوسان خطا ھوئے ضرور۔۔۔ لیکن میں ماسٹر کی طرح کانپنے نہی لگی کہ سب کو پتہ لگے کہ۔ دال میں کچھ کالا ضرور ھے۔۔ کتوں کو کپڑے سنگھانے کے بعد انھوں نے بھونکنا شروع کیا تو کئی خواتین کی بھی چیخیں نکل گئیں۔ بھر حال کتے گھر سے باھر نکلنے کو زور لگانے لگے، تو ٹرینرز نے انکے پٹے ڈھیلے کردئیے اور لگے انکے پیچھے چلنے اور کچھ دیر بعد دوڑنے۔۔۔۔ لیڈیز پولیس، ایس ایچ او نمبردار اور میجر روف میرے گھر میں موجود رھے باقی سب کتوں کے پیچھے بھاگ رھے تھے۔ آگے آگے کتے پیچھے ٹرینرز، پولیس والے اور انکے پیچھے باقی گاؤں والے۔۔۔۔ اب نمبردار کے اشارے پر میں نے چائے پانی کا پوچھا تو فوجی صاحب تو خاموش رھے۔ مگر پولیس آفیسر نے کھا کہ ھاں بھت دیر ھوگئی ھے چائے بسکٹ کا انتظام کردو۔۔۔ نمبردار نے باھر سےایک دیھاتی کو بھیج کر بسکٹ منگوا لئے جبکہ میں نے چائے کا پتیلہ۔۔۔۔۔ رکھ دیا تھا۔۔۔ حالاں کہ وقت بڑا ٹینشن والا تھا لیکن جانے کیوں میرا دل مطمئن سا تھا۔۔۔ یا یوں کہ لیں کہ میں اپنے آپ کو بہلانے کے واسطے ۔۔۔ یا مصروف رکھنے کے ساتھ ساتھ میجر صاحب اور پولیس آفیسر کو اپنا مطمئن ھونادکھاناچاھتی تھی۔ گھنٹہ ، دو۔۔۔۔ کتوں کے ساتھ بھاگ بھاگ کر لوگ تو تھکتے گئے اور پھر سے میرے گھر کے باھر جمع ھونے لگے تھے۔ اندر آنے پر اب پولیس آفیسر نے دروازہ بند کروادیا تھا. ایس ایچ او کو نمبردار نے میری تعریفیں کردی تھیں۔ جبھی تو اسکی پرھوس نگاھیں بار بار میری چھاتی اور ھپس پر ھی۔۔۔۔ جم سی جاتی تھیںں۔ میں نے ان پر بجلی گرانے کا ایک بندوبست اور بھی کردیا تھا کہ جلدی سے واشروم میں جاکر بریزی نکال دی تھی ۔ جب میں اٹھلاکر چلتی تو میرےبڑے بڑے بوبس قمیض کے اندر ھلتے۔۔۔۔ تو ۔۔۔ انکے من میں یہیں سے ھلچل مچادیتے تھے۔ اور پھر چائے دیتے کچھ وقت زرا جھک کر ایس ایچ او کو اپنے سفید مموں کا دیدار کروادیا ۔۔۔ اب تو وہ میرا دیوانہ ھی ھوگیا تھا، اگر فوجی صاحب نا ھوتے تو شاید اس نے ادھر ھی مجھے پکڑ کر چود ڈالنا تھا۔ لیکن اب تو اسکی مجبوری تھی، اس سے رھا نہی گیا تو نمبردار کو بولا کہ یار تیرے گاؤں میں پھول تو بڑے خوبصورت ھیں، کبھی ھمیں بھی سونگھنے دے۔ نمبردار جی ۔۔۔ سر جی ۔۔۔۔۔ کہتے ھوئے مجھے گھورنے لگا۔ قصہ مختصر کے کتے سارے گاؤں کا چکر شکر لگا کر اسکول میں آکر بیٹھ گئے اور کوئی خاص رزلٹ نہ نکلا۔۔۔۔ ماسٹر البتہ اس درمیان گاؤں سے رفو چکر ھوگیاتھا۔ فوجی نے خجالت مٹانے کے واسطے مجھ سے سب کے سامنے قسم اٹھوائی کہ میں نے قتل وتل کچھ نہی کیا نہ مجھے علم ھے اسکے بعد ایک دھمکی آمیز مگر مختصر تقریر کی پھر ایس ایچ او کو ھفتے کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کا کہ کر روانہ ھوگیا۔ آفیسر نے جاتے وقت نمبردار سے کافی دیر تنھائی میں باتیں کیں، اور مجھے سر تاپا گھورتے ھوئے تعریفی نظروں سے نوازتے ھوئے آھستہ آواز میں کھا کہ میں گاڑی بھیجوں گا، نمبردار کے ساتھ شھر آجانا تفتیش کرنی ھے۔ ورنہ دوسری صورت میں پولیس موبائل گرفتاری کے لئے آجائیگی ۔۔۔ ھاں۔، میں نے بھی لگاوٹ دکھاتے ھوئے کھا کہ میں نے کب انکار کیا ھےجب دل کرے بلوالینا۔ ان کے جانے کے بعد کچھ خواتین میرے پاس رک گئیں اور مجھ سے ھمدردی کا اظھارکر نے لگیں، ان کو جیسے آج ہی اعتبار آیاھو کہ میرا شوھر فوت ھوگیا ھو ، یا میں اسکی قاتلہ ثابت نہ ہوسکی جیسے جس کے خیالات مگر مجھ سے دلی ہمدردی دکھا رہی تھیں بے چاریاں۔ دو دن بعد ھی مجھے نمبردار نے اطلاع دی کہ آج رات کو تفتیش کے لیے جانا ھے، میں سمجھ گئی تو چنگی صفائی ستھرائی کرکے شام کو ہی تیار بیٹھی تھی رات کو آٹھ بجے کے قریب بڑی لمبی سی کارآئی۔۔ نمبردار بھی ساتھ آیا اور مجھے پہلی دفعہ چدائی کے واسطے بڑی گاڑی میں بیٹھ کر گھر سے باھرجانا نصیب ھوا۔۔ تھانیدار پریل نے ھمیں اپنی ذاتی بنگلے ہر بلوایا تھا، اسکا ذاتی بنگلہ بھت خوب صورت بنا ھواتھا۔۔۔ بڑے بڑے کمرے ھر روم میں اے سی۔۔۔ ٹھنڈی ھوائیں لگتےھی سکون محسوس ھونے لگتا تھا۔ صاحب کے علاوہ وھاں چار پولیس اہلکاربھی موجود تھے، سب سے پہلے کھانے کا دور چلا سگریٹ کادور چلتے ھی نمبردار نے چرس کی فرمائش کردی تاکہ مجھے خوش کیا جاسکے۔۔۔ لیکن صاحب نے کھا چرس نہی، وہ تو بھنگی بھی پی لیتا ھے۔۔۔ ھم زرا اونچا نشہ کرتے ھیں ، اور پھر ایک بندے کو اشارہ کیا تو اس نے سامنے الماری سے شراب کی بوتل، نمکو اورجام نکال کر میز پر لگا دئیے۔ میں نے پہلے تو انکار کیا فقط نمکو ھی کھاتی رھی لیکن پھر تھانیدار کی فرمائش پر تھوڑی سی چکھی۔۔ ۔بھت کڑوی لگی تو اس نے کھا کہ زرا سی دیر میں جب اسکا نشہ ھوگا تو یہی تجھے میٹھی لگنے لگے گی۔ بھر حال چار وناچار میں نے دو چار چھوٹے چھوٹےگھونٹ لیئے تو اب وہ پہلی سی کڑواھٹ واقعی اب کم محسوس ھوئی۔۔۔۔ شراب کا ایک جام پیتے ھی نمبردار کو تھانیدار نے کل صبح آکر مجھے واپس لیجانے کا کہ کر روانہ کردیا ۔ اب کمرے میں تھانیدار کے ساتھ میں اور ایک سپاھی رہ گئے تھے تھانیدار نے مجھے پلنگ پر اپنے ساتھ بٹھا کر پلانا شروع کردیا تو میرا بھی اب دماغ ھواؤں میں اڑ نے لگا۔۔۔ مجھے بڑا سرور محسوس ھو رھا تھا اچانک تھانیدار نے کہا کہ تم لوگ پیو میں زرا پیشاب کر کے آتا ھوں۔ اسکے جاتے ھی سپاھی امجد نے مجھے بتایا کہ صاحب اندر اپنے لن پر دوائی لگانے گیا ھے اور پھر چدائی کے دوران تجھے مارے گا بھی خوب۔۔۔ میں تو ڈر ھی گئی کہ یہ کیسے ھوگا۔۔۔۔ تو اس نے کہا کہ اگر میرے ساتھ تعاون کرنے کا وعدہ کر تو تجھے خاص ٹپ بھی بتا دوں ۔۔۔ میں نے کہا کہ اب تو کیا چاھتا ھے تو اس نے کہا کہ صاحب کو ایک چدائی کے بعد سلا دیں گے پھر تو ھم کو راضی کرنا؟ میں نے انجان بنتے ھوئے کھا کہ وہ کیسے تو اس نے میری ران پر ھاتھ مارتے ھوئے کھا کہ مجھے بھی تیری چوت چسائی اور لن سے رگڑائی کرنی ھے۔ میں نے کہا کہ دیکھوں گی۔۔۔۔۔ اس نے کہا کہ اگر تو مانتی ھے تو ھم صرف صاحب کی چائے میں گولیاں ڈالیں گے ورنہ پھر دونوں کو پلادیں گے۔۔۔۔ رازی خوشی نہی دے گی تو ھمارے پاس بھی کئی طریقے ھیں۔ اس سے پہلے کہ میں کوئی جواب دیتی صاحب نے اسے بلا کر مزید نمکو اور دودھ پتی چائے لانے کا کہ دیا۔۔ ۔ پھر پریل نے میری تعریفیں شروع کردیں، اس دن کے میرے جلوئے اسے بھت یاد آتے تھے، کب سے شبیر نہی آیا اس کی کھانی بھی سنی مجھ سے اور میرے رانوں اور جسم کے مختلف حصوں پر ھاتھ پھیرتے پھیرتے میری جھانگوں پر پھنچ گیا۔۔ اور مجھے کھا کہ سب سے پہلے سلوار اتارو میں نے نخرے دکھانے کی کوشش کی تو ۔۔۔۔ ۔ شڑاپ سے ایک زوردار چانٹا مجھے منہ پر کھانا پڑا۔ ظالم کا ھاتھ بڑا بھاری اور سخت تھا۔ غصہ تو مجھے بھی بھت آیا مگر تھانیدار نے ایکدم سے میری ٹانگیں اٹھائیں اور مجھے پلنگ پر لٹاکر ایک ھاتھ سے جو میری چوت کے پاس سے شلوار کو کھینچا تو ۔۔۔۔ چررررر کی آواز کے ساتھ میری سلوار میں ایک بڑا سا سوراخ ھوگیاتھا۔ اب صاحب نے اپنی پینٹ نیچے کی اور اپنا گھوڑے جیسا لن میری چوت پر رکھ کر ایک زبردست قسم کا جھٹکا مارا لن تو اسکا میری چوت میں آدھا گھس ھی گیا، لیکن ساتھ میں کپڑا بھی اندر تک گیا جس سے صاحب کے لن کو تکلیف ھوئی تو اس نے فوراً لن باھر نکالا اور اپنے لن کو پکڑ کر مسلنے لگا۔ ارے بھین چود یہ کیا کردیا تو نے مجھے زخمی کردیا ھے، میں نے برجستہ ھی کہ دیا کہ مادر چود تو نے خود ھی کیا ھے جو کچھ کیا ھے، اب مجھ پر الزام مت لگا، اتنی بات پر اس نے پھر ایک چماٹ جڑدی میرے منہ پر۔ تھانیدار نے غصے میں پھر ایک پیگ بنالیا، کچھ خود پیا کچھ اپنے لن پر ڈال کر مجھے لن چوسنے کا حکم دیا۔ مجھے غصہ تو بھت تھا لیکن اتنا لما موٹا لن دیکھ کر۔۔۔ دل للچایا بھی کہ آج اتنا لمبا لن لینے کا مزہ بھی اپنا تھا۔۔۔۔ اور کچھ شراب کا نشہ بھی اثر دکھا رھا تھا، تو میں نے اسی وقت اسکا لن منہ میں لیکر چوسنا شروع کردیا تھا۔ اس دوران امجد نمکو کچھ چکن بوٹیاں اور چائے لیکر اندر آگیا میں نے فوراً۔۔۔۔ پیچھے ھٹںنا چاھا تو صاحب نے میرے سر کو پھر نیچے کردیا اور کھا کہ اپنا ھی بچہ ھے کچھ نہی ھوتا۔ تم واقعی لن چوسنا جانتی ھو، امجد نے بھی سامان ٹیبل پر سجاتے ھوئے کہ دیا کہ صاحب ابھی تک کپڑے اتارے نہی یا اتارنے نہی دیتی۔ تھانیدار نے کہا کہ تم اتاردو ۔۔۔میں زرا پیگ بنا لوں۔۔۔ اب امجد جب میرے قریب آ یا تو کہنے لگا کہ جلدی جواب دے کہ پیار سے دےگی ھمیں یا زبردستی کرنی پڑے گی ۔ میں چونکہ ایکدو چماٹ کی جھلک دیکھ چکی تھی۔۔۔۔ تو میں نے فوراً سے ۔۔ پیار سے دوں گی کہ دیا۔ تو اس نے میری بریزی اتارتے ھوئے بڑے پیار سے آھستہ سے میرے ممے بھی دبا دیئے، پھر سلوار کی طرف اشارہ کرتے ھوئے کہ صاحب سے جلدی جان چھڑانے کا طریقہ بتاؤں، میں نے آھستہ سے سر ھلایا تو بولا کہ چدائی کے دوران صاحب کی گانڈ پر ھاتھ پھیرنا تو جلدی چھوٹ جائے گا۔۔ تب تک صاحب نے پیگ چڑھا لیا تھا اور ایک میرے لئے بھی بنا کر مجھے دیا، جو مجھے پینا پڑا، اس دوران امجد نے صاحب کے کپڑے اتارتے ہوئے کہا کہ صاحب آج تو کیا خوب مال مل رھا ھے آپ کو۔۔۔۔ ملتانی مٹی ھے۔۔۔ ملتانی مٹیار۔ ۔۔ کیا سفید دودھیا رنگ ھے اس پر بڑے بڑے ممے ان پر گلابی نپلز ھیں ، موٹی رانوں کے درمیان پتلی سی چوت کیا دل کش نظارہ ھے، بڑے لکی ھو کہ ایسی ملتانی چھوکری کی چوت مارنے کو مل رھی ھے۔۔ اس پر ایک بوتل شراب ڈالوں تو چوس چوس کر پی جاو۔۔۔ کیا خیال ھے آپکا۔۔۔۔ تھانیدار نے کہا کہ آئیڈیا تو اچھا ھے جلدی کر مجھے اسکا ایک ایک انگ چوسنا ھے۔۔۔ امجد نے مجھے سیدھالٹاتے ھوئے میرے مموں اور پیٹ پر بڑے پیار سے نرمی سے ھاتھ پھیرا مزے لیئے اور پھر شراب کی بوتل اٹھا کر میرے مموں پر قطرہ قطرہ گرانے لگا ۔۔۔ جبکہ اسکا ایک ھاتھ میرے جھانگوں تک پھنچ کر میری چوت کے دانے کو رگڑنے میں مگن تھا، جس سے مجھے بھی مزہ آرھا تھا۔ پھر اس نے صاحب کو میرے ممے چوسنے کا اشارہ کردیا تو وہ ٹن ھونے کی وجہ سے میری طرف آنے کے بجائے دوسری طرف گرگیا۔ امجد نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ھوئے میری چوت پر اپنا منہ رکھ دیا اور لگا میری چوت چوسنے۔ پھر اس نے ھاتھ بڑھا کر میرے پیٹ پر مسلنا شروع کیا ھی تھا کہ صاحب اٹھ کھڑا ھوا ۔۔۔ اب تو امجد کو بول کر اس نے میری ٹانگیں اٹھائیں اور خود میری چوت کی سیدھائی میں آکر بولا۔۔۔ دیکھ امجد آج میں بڑی جنگ میں مصروف ھوں گا، کوئی ڈسٹرب نا کرے۔ جی سر ۔۔۔ کھتا امجد نا چاھتے ھوئے بھی باھر کو چلا گیا ، لیکن دروازہ کھلا چھوڑ گیا۔ اب تھانیدار نے اپنا لن میری چوت کے دھانے پر رکھا اور اپنے تئیں زبردست قسم کا جھٹکا ماردیا، میں بھی فوری طور پر زرا سا اوپر کو کھسکی تو اس کا لن چوت میں جانے کے بجائے میری گانڈ اور بیڈ کے درمیان آگیا، اب گانڈ تو میری ویسے بھی چکنی تھی تو میں نے بھی اسی پوزیشن میں ھلکی سی چیخ ماردی ، جس پر وہ زرا دیر توبھت خوش ھوا ھوگا۔ لیکن جب اس نے رگڑے لگانے شروع کیئے تب اسے پتہ چلا کہ یہ تو میں بیڈ کو چود رھا ھوں۔ اپنی خجالت مٹانے کے لیے اس نے میری دونوں رانوں پر اپنے دونوں ہاتھوں کو زور سے دے مارا، میری ننگی رانوں پر آج تک کسی نے اتنی زور سے مارا نہی تھا ۔۔۔۔ میں نے بھی فوری ردعمل کے طور پر ٹانگیں اوپر کی طرف کھینچیں تو۔ایکدم سے میری ٹانگیں اسکے سینےپر لگیں تو۔۔ صاحب سلامت الٹے منہ پیچھے کی طرف گرپڑے ۔۔۔ بھرحال اس نے اٹھ کر میرے ممے چوسنے شروع کردیئے تب میرے پیٹ پر چھوٹی پاریاں لیتے یا منہ چلاتے جب وہ ناف کی طرف آیا تو ۔۔۔اچانک سے فلش لائٹ سی پڑی مجھ پر میں نے دروازے کی جانب دیکھا تو ایک سپاہی تصویریں لے رھا تھا۔ میں نے اسے منع کرنے کو ابھی منہ کھولاھی تھا کہ اس نے مجھے خاموش رھنے کا اشارہ کردیا، اتنے میں امجد نے بھی کمرے میں آکر مجھے خاموشی اختیار کرنے کا کہ دیاتھا۔ جبکہ صاحب اپنے کام میں مگن تھا اب وہ ناف سے میری چوت کے دانے تک چسائی کرتے پہنچ چکاتھا، اسکے بڑے بڑے دانت مجھے چبھ سے رھے تھے، مگر مجبوری تھی کہ برداشت کرنے کی عادت ڈالنی پڑ رھی تھی۔ امجد نے اپنی موجودگی کی اطلاع گلہ صاف کرتے ھوئے دی اور کہ ھی دیا کہ صاحب چائے ٹھنڈی ھوجانی ھے۔ تھانیدار کوئی چائے کا بھی رسیاتھا کہ میری چوت چسائی تک چھوڑ چھاڑ کر چائے پینے کو سیدھا ھوگیا تھا، جب کہ اس وقت میں مزے کی انتھاپر تھی۔ بھر حال امجد نے مجھے چائے پینے سے منع کردیا لیکن صاحب نے کھا کہ اسے بھی دو ، تو امجد نے مجھے آدھا کپ دیکر پھر تنبیھ کردی مگر ۔۔۔ تھانیدار نے کھا کہ نہی ایسے نہی پیئیں گے ھم آج ملتانی مٹیار کے ھاتھ کی چائے پیئں گے اور ملتانی سندھ کے ھاتھ سے چائے پیے گی۔۔۔ اب تو نہ۔۔۔۔۔۔ جائے ماندن ۔۔۔۔۔ نا جائے رفتن۔۔۔ والی پوزیشن ھوگئی تھی میری۔ میں نے فوری طور پر ھاتھ ھلا کر چائے گرادی تو ۔۔۔۔ تھانیدار نے امجد کو گالی دیکر کھاکہ ۔۔۔چھوری کھے ۔ وری بھرے ڈے۔ لڑکی کو پھر سے کپ بھر دے۔۔۔ اب میں اس کے ھاتھ کے کپ سے چائے پی رھی تھی اور وہ میرے ھاتھ کے کپ سے ۔۔۔۔ میں نے بھت کوشش کی کے چائے کو پیٹ میں نا لے جاؤں لیکن زر اسی دیر بعد اس نے میرے منہ سے اپنا منہ جوڑدیا اور اپنے منہ کی ساری چائے میرے منہ میں انڈیل دی , اب اس نے مجھے بھی ایس ھی کرنے کو کہ دیا۔ پھر اس نے کپ سائیڈ پر رکھے اورمجھے پھر سے لن چوسنے کا کہ دیا۔ تو اب میں بھی سرور میں تھی میں نے سوچا کہ ادھر ھی صاحب کو فارغ کردوں گی ۔ لیکن یہ میری خام خیالی ثابت ھوئی جب تین چار منٹ کے بعد اس نے میرے منہ سے لن نکال کر میرے منہ کو چاٹنا شروع کردیا۔ پھر میری ٹانگیں اٹھاکر میری چوت پر لن رکھ دیا , اور بڑے آرام سے اندر کردیا ، جب میں نے ھلکی سی اوئی کہ دیا تو ۔۔۔ بولا چل رنڈی ڈرامے نہ کر۔۔۔ مجھے پتہ تو گاؤں میں کئیوں سے چدا چکی ھے۔۔۔ اب میرا متھا خراب نہ کر ۔۔۔ میں نے پھر بھی ھمت نہ ھاری اور کھا کہ صاحب جی واقعی آپ کا بڑا موٹا اور لمبالن ھے ایسا تو میں نے آج تک کسی کانہی لیا، اب زرا اپنی طاقت بھی دکھامیری چوت پھاڑ دے نا تو آج۔۔۔ تو میں مان جاؤں گی۔۔۔ ھاھاھ اس نے قہقہہ لگایا۔۔۔ اکڑ کر کہنے لگا کہ بختو ۔۔۔جو بھی رانڈ ایک دفعہ۔میرے ساتھ سوجائے اسے پھر کہیں اور کسی اور سے چداوانے کا مزہ نہی آتا۔۔۔ تو دیکھ اب میرا کمال ۔۔۔ اور اس نے واقعی زوردارجھٹکے مارنے شروع کردئیے۔۔۔ کافی دیر بعد جب میں اور وہ خود بھی پسینے میں شرابور ھوگئے تو میں نے اسے سائڈ چینج کرنے کا کہا تو اس نے میرے مموں پر تھپڑ ماردیا جو کہ۔مجھے بھت برا لگا ، اور مجھے آتا سارا مزہ کافور ھوگیا۔ پھر مجھے امجد کا بتایا طریقہ یاد تو آیا لیکن اسکی گانڈ میری پھنچ سے بھت دور تھی. آخر کار کچھ دیر بعد اس نےمجھے گھوڑی بننے کا کہ دیا، تو میں نے سوچا کہ جلدی سے بن جاتی ھوں ورنہ اس نے پھر تھپڑ ماردینی ۔۔۔۔وہ کنجر مارتا بھی کس کر تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے دشمنی میں مار رھا ھو۔۔ بھر حال گھوڑی بننا میرے لیئے تو ایک عذاب ھی بن گیا، اس کنجر نے لن تو میری چوت میں ھی ڈالا تھا لیکن ۔۔۔۔ پیچھے ھٹ کر لن کو ٹوپی تک باھر نکال کر واپس اندر کرنے سے پہلے میری نرم ونازک گانڈ پر ھر بار ایک تیز تھپڑ رسید کردیتا تھا۔۔ جس سے مجھے بڑی کوفت محسوس ھوتی تھی، لیکن اسکا پسندیدہ مشغلہ یہی تھاکہ وہ ظالمانہ طریقے سے چدائی کرنے کو پسند کرتاتھا۔۔۔ کافی دیر بعد اس نے میری چوت سے لنڈ نکالا تو میں نے اسے بیڈ پر دھکیلا اور اسکے اوپر آ گئی۔ میں بھی کافی دیر سے چدوارہی تھی، اور کافی خوار تھی۔ اب میں صاحب کا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اپنی پھدی کی سیدھ میں لے آئی۔۔ اور پھر اپنی گرم اور گیلی پھدی کو اسکے بڑے اور موٹے لن پر رکھ کر دھیرے دھیرے اسے اپنے اندر لینے لگی۔۔۔ واؤؤؤؤؤؤؤؤؤو۔۔۔ اس کی منہ سے اپنی اس عمل کی تعریف سنکر مجھے بھی اچھالگا۔۔۔۔ واہ بختو تیری چوت واقعی ہی بڑی تنگ اور بہت گیلی ھے۔۔۔ میرا لن ابھی بھی پھنس پھنس کر اندر جا رہا ھے واہ ۔۔ وہ ترنگ میں بولے جا رھا تھا۔ جب اسکا سارا لن میری چوت میں چلا گیا ۔۔تو پھر اس نے میری طرف دیکھا ۔۔اور کہنے لگا ۔۔ کیوں بختو مزہ آیا۔۔۔نا ۔۔۔ ۔۔۔ تیری چوت بھت تنگ ہے نا۔۔۔یامیرا لن موٹا ھوگیا ھے ۔؟ ۔ تو میں نے سر ہلا نے پر اکتفا کیا۔۔۔۔ اب میں اسکے لن پر آہستہ آہستہ اُٹھک بیٹھک کرنے لگی۔۔۔ کچھ ھی دیر میں۔۔ میں تو ڈسچارج ھوگئی، لیکن اس کاابھی کوئی پتہ نہی تھا۔ اسی اثنا میں امجد بھی کمرے میں داخل ہو گیا۔۔۔۔اور آتے ساتھ ہی کہنے لگا کہ صاحب جی ایسے کیا مزہ آئے گا۔ جب تک مردانگی والے جھٹکے نہ لگیں، سواد نہی آتا۔۔ ساتھ ھی اسنے مجھے اشارے سے اسکی گانڈ پر ھاتھ پھیرنے کی ترکیب یاد دلائی۔ اس کے بعد جب اسنے مجھے نیچے لٹایا اور میری ٹانگیں اٹھائیں تو میں نے بھی زرا دیر بعد اسے اپنے اوپر گرالیا، اور اسے لپ کسنگ شروع کردی۔ اسکی کمر پر ھاتھ پھیرتے جب میں گانڈ کے پاس پھنچی تو پتہ لگا کہ سالے کی گانڈ کا سوراخ مورا کافی کھلا ھے، پھر میں نے اسکی گانڈ پر جب ھاتھ پھیرا تو اسکی سسکاریاں نکلنے لگیں۔ تب میں نے آھستہ سے اپنی انگلی کو منہ میں لیکرتھوک لگایا اور پھر اسکی کھلی گانڈ میں گھسادی، جس پر اسکے بدن نے جھرجھری لی۔ اسکے بعد اسکے جھٹکوں میں تیزی آگئی، تو میری انگلی اسکی گانڈ سے نکل گئی، تب اس نے خود میری انگلی کو اپنے گانڈ کی موری پر رکھا۔ میں نے بھی بنا دیر کئے اسکی گانڈ میں اپنی بڑی والی انگلی بھی گھسا دی، اور لگی اسے اپنی انگلی سے چودنے۔ جبکہ اس نے بھی پورا لن باھر نکال کر واپس اندر داخل کرنے کی راہ پکڑلی ۔۔ کچھ ھی دیر میں اس نے زوردارجھٹکے مارتے چیختے ھوئے میری چوت میں ھی منی نکال دی، پھر میری ٹانگیں کھول کر میری چوت کا دوبارہ سے نظارہ کیا اور پلنگ پر دوسری طرف لڑھک گیا۔ امجد نے موقع غنیمت جانا میرے قریب ھوا اور پھر میرے مموں کو ھاتھوں میں پکڑ کر دبانے لگا ، مزے لینے لگا اور میرے کان میں کھا کہ کچھ دیر یونہی پڑی رھو، بنا شور کیئے یہ ابھی پانچ منٹ میں سوجائیگا۔ میں نے بھی اسکاخوب ساتھ دیا اور لپ کسنگ شروع کردی، زرا دیر بعد اسنے ایک کپڑا اٹھایا اور میری چوت اور آس پاس میری جھانگوں کو صاف کیا اور پھر اس نے میری چوت پر زبان رکھ دی یعنی میری چوت چاٹنے لگا۔ میں بھی سرور میں تھی لیکن ابھی تک کنٹرول کر رھی تھی، تب اس نے پلنگ کے نیچے رکھی نئی سلوار مجھے دکھائی ، جبکہ اس نے اب مجھے نیچے اتار کر قالین پر گھوڑی بنا کر چودنا شروع کردیا تھا۔ تھانیدار تو انٹاغفیل ھوگیا تھا، مگر اب اس امجد کو بھی خوش کرنا ضروری تھا۔ میں بھرحال چد رھی تھی۔ امجد کے زبردست دھکوں سے جب میں فارغ ھوئی تو اب میرے بھی حواس بحال نہ رھے بلکہ اب مجھے اسکے دھکوں کا پتہ بھی نہی چل رھا تھا۔ البتہ جب اس نے مجھے سیدھالٹاتے ھوئے میرے گانڈ کے نیچے تکیہ رکھا تھا تو مجھے یاد پڑتا ، باقی اسکے بعد مجھے بھی ھوش نہ رھا تھا۔ ایک بات اور میں نے محسوس کی کہ شاید بندہ بدل گیا تھا، کیونکہ لن کی چوٹ سے مجھے پتہ چل رھا تھا کہ میرا چودو بدل گیا ھے۔ نئے آنے والے نے میری سائڈ بدلنے کی بھی کوشش کی ھوگی مگر میں ان کے مقابلے میں زرا پہلوان تھی تو پھر اپنی بساط بھر کوششوں کا نتیجہ جب انکی مرضی کے مطابق نہ نکلا تو پھر انھوں نے مجھے نہ چھیڑتے ہوئے باری باری آکر ٹانگیں اٹھا کر مجھے چودنے کا کام جاری رکھا۔ بعد ازاں مجھے پتہ چلا کہ اس رات مجھے پانچ بندوں نے چودا جبکہ گاڑی ڈرائیور کی باری چھٹی تھی۔ تب بھی مجھے کیا پرواہ ھونی تھی، لیکن اس رات سے پھر ایک نیا موڑ آگیا میری زندگی میں۔۔ جب سارے سپاھی مجھے چود چکے تو سب وھاں سے کھسک لئیے اب اتنے بڑے گھر میں تھانیدار بے ھوش پڑا تھا اور مجھے بے لباس پڑے کافی دیر ھوچکی تھی۔ مجھے چھوٹا پیشاب کرنے کی خاطر اٹھنا پڑا، پھر میں نے کپڑے پہنے جب میں واپس کمرے میں آئی تو مجھے ایسا لگا کہ جیسے آس پاس کوئی ھے، مگر نظر نہی آ رھا ۔۔۔۔ تب پہلی دفعہ مجھے خوف محسوس ھونے لگا، میرا نشہ تو کافور ھوگیا، لیکن دھیرے دھیرے میرے خوف میں مزید اضافہ ھوتا گیا۔ میرا خوف اتنا بڑھا کہ مجھ پر ھذیان طاری ھوگیا، میں چیخنے لگی، کمرے سے باھر اندر ھر طرف جاکر دیکھا کوئی بھی نظر نہی آیا۔۔۔۔ میرے چیخنے چلانے پر وھان کون تھا جو مجھے دلاسا دیتا یا چپ کراتا۔ کافی دیر بعد تھانیدار کی ڈانٹ ڈپٹ کی آوازیں آئیں، لیکن مجھے ایسا لگنے لگا کہ جیسے کوئی ھے اور مجھے ڈرا رھا ھے۔ جانے کتنی دیر چیخیں نکالنے کے بعد میں نڈھال ھوکر قالین پر جانے کب آ نکھ لگی اور میں وھیں سوگئی۔ جیسے تیسے کرکے رات کٹی صبح جب میری آنکھ کھلی تو دن کے گیارہ بج رھے تھے۔۔۔ میرے جاگنے کی وجہ بھی صفائی کرنے والی ماسی کی کھٹ پٹ اور منہ سے نکلتی گالیاں تھیں۔ جو جا بجا قالین پر گری / پڑی ھوئی منی کو گیلے کپڑے سے صاف کرتے ھوئے اسکے منہ سے نکل رھی تھیں۔ نمبردار تو مجھے لینے نہی آیا مگر میرے ھینڈ بیگ میں اچھی خاصی رقم رکھ دی گئی تھی۔ ایک نوٹ دکھا کر میں نے ماسی سے اپنے گاؤں سے شھر میں شفٹ ھونے والے ماسی زاھداں کے گھر کا پتہ پوچھا اور کچھ دیر بعد خاموشی سے ان کے گھر چلی گئی۔ وہ بیچاری مجھے دیکھ کر بھت خوش ھوئی اور مجھے چائے پانی پلایا ۔۔۔پھر مجھ سے گاؤں کے حال احوال معلوم کئیے۔۔۔ باتوں کے دوران جانے کب میری آنکھ لگی اور میں پھر سوگئی شام کو مجھے اس نے زوری اٹھایا کھانا کھلایا اور نماز پڑھنے کی تلقین کی۔۔۔ رات کو جب اسکا شوھر گھر آیا تو مجھ سے رسمی سی دعا سلام کے بعد اس نے گاؤں میں پولیس کے اور کتوں کے آنے اور بے نتیجا چلے جانے کے بارے میں پوچھا۔۔۔۔ رات کو انہوں نے مجھے الگ کمرے میں بستر لگا کر سونے کا کہ دیا۔۔۔۔ سارا گھرانہ دینی ماحول کا تھا۔۔۔۔ بچے بھی نمازی تو ماں باپ بھی مجھے پہلی دفعہ کسی گھرانے پر رشک آیا کہ۔۔ ھر غم و مصیبت سے بے پرواہ۔۔۔ بھرحال گھر سے باھر یہ میری دوسری رات تھی ۔۔۔تو ٹھیک آدھی رات کے بعد مجھے ایسے لگا کہ جیسے کسی نے میرے پاؤں پر ھاتھ لگا کر مجھے اٹھایا ھو، لیکن کوئی نظر نہی آیا، پہلے تو میں سمجھی کہ صاحب خانہ کو شاید میرے ساتھ سیکس کرنے کا خیال آیا ھو، بندہ ایسا لگتا تو نہی تھا۔۔۔ بھر حال کافی دیر انہی سوچوں میں پڑی رہی کہ اگر وہ ھیں تو دوبارا ضرور آکر مجھ پر ٹرائی مارے گا۔ لیکن مجھے پھر سے کل کی طرح ماحول میں کسی کی موجودگی کا احساس ھونے لگا۔ ایک دفعہ پھر مجھے اپنی ٹانگوں کی طرف ٹھنڈک کا شدید احساس ھوا جیسے کسی نے میرے پاؤ ں چھوئے ھوں۔ خوف وگھبراھٹ نے مجھے آن گھیرا، خود کو تنھا کمرے میں دیکھ کر مجھ پر وحشت طاری ھوگئی، اور لگی میں چیخنے چلانے۔ کافی دیر بعد زاھداں نے باھر سے آوازیں دیں اور پھر اندر داخل ھوئی، اسے سامنے دیکھ کر میں اس سے لپٹ کرروپڑی۔ مجھے سنبھلنے میں کافی دیر لگی، پھر اسکے شوھر نے اسے باھر بلایا احوال معلوم کیا، میں نے زاھداں کو کل رات پیش آنے والے واقعے کابھی بتایا۔۔۔ پردہ رکھتے ھوئے (سیکس کی کھانی حذف کرکے )۔۔۔ کچھ دیر بعد اھل خانہ نے پانی دم کردیا کہ یہ پی لو آرام آجائیگا، اور کچھ تسلی دی، بتلایا کہ کسی سائے کے اثرات ھیں تم پر۔ بھرحال باقی رات سکون سے گزری لیکن صبح کو انھوں نے مجھے بتایا کہ اپنے گھر میں ھی تم کو سکون ملےگا، دوسرے لفظوں میں انھوں نے مجھے گھر سے چلے جانے کا کہ دیا۔ دوپھر کے بعد میں جب اپنے گھر پھنچی تو سارا سامان اتھل پتھل ھوا پڑا تھا، جس کا مطلب تھا کہ میری غیر موجودگی میں کافی تلاشی لی گئی تھی۔ مجھے پڑوسن رضیہ نے بتایا کہ شاکر دو تین بندوں کے ساتھ آیا تھا اسی کے کام ھوں گے۔ رات دیر تک تو میں رضیی کے ساتھ بکھرے پڑے سامان کو ھی سمیٹتی رھی۔ کھانا بھی رضیہ لیکر آئی جسے ھم دونوں نے کھا کر آرام کیا، اسکاںشوھر بھی گھر نہی تھا تو وہ میرے ساتھ ھی سوگئی، لیکن پھر آدھی رات کے بعد مجھے خوف نے آ گھیرا ۔۔۔ مجھے ایسا محسوس ھونے لگا کہ جیسے میرا گلہ کوئی گھونٹنے لگا ھے جس سے میری حالت اور بھی خراب ھونے لگی۔ لیکن کوئی نظر بھی تو نہی آتا تھا تب میں بے خود ھوکر بے تحاشہ زور زور سے چلانے اور رونے لگ جاتی۔۔۔۔ رضیہ نے مجھے جھنجھوڑا کر اٹھایاکہ کیا ھوا بختو کوئی برا خواب دیکھ لیا ھے کیا۔۔۔؟ تب مجھے احساسِ ھوا کہ یہ تو خواب تھا، میں ایسے ھی خوف زدہ ہو رھی تھی۔ تب میں نے اسے جپھی ڈالی اور اپنے ساتھ چپکا کر سلانے لگی ، کافی دیر بعد مجھے اسکی سانسیں گرم ھوتی محسوس ھوئیں تو مجھے احساس ھواکہ میرے ممے پر اسکے ممے ٹچ ھورھے ھیں اور اسکے میں اکڑاھٹ سی محسوس ہوئی، تو میں نے ایک ٹانگ اسکی جھانگوں میں اندر کردی جھاں اسکی چوت سے نکلتے پانی نے مجھے بھی گرم کردیا، چوت کا گیلا پن اس بات کی نشانی تھی کہ وہ بھی سیکس کی بھوکی ھے، لیکن میں اسکے اگلے اقدام کی منتظر تھی۔ کافی دیر بعد اس نے اپنے ایک ھاتھ سے میرے ممے کو آھستہ سے دبانا شروع کردیا اور پھر اس نے دوسرا ھاتھ نیچے لے جاکر میری چوت کی طرف پیش قدمی شروع کردی۔ میں سوتی بنی رھی تاکہ اس کو کھل جانے دوں پھر اس نے سلوار کا ناڑہ کھولتے ھوئے میری چوت پر ہاتھ رکھا اور پھر خود ھی اپنی بڑی انگلی سے میری چوت کی رگڑائی شروع کردی، جب میں نے اپنی چوت کے دانے پر اسکی انگلی محسوس کی تو میں نےوہاں چال چلی کہ خوابیدہ لہجے بولی کہ ۔۔۔ ناکر شبیر ے نا کر۔۔۔ تیرے تو ھنداں کج وی نئی تے۔۔۔۔ ایویں نا مینوں گرم کر۔۔۔ پھر میں نے سائڈ بدل لی ۔۔۔۔ اب میری گانڈ اس کے پیٹ سے ٹکرا رھی تھی، کچھ دیر انتظار کر کے اس نے مجھے پیچھے سے جپھی ڈال لی۔ جب اس نے کس کر مجھے پیچھے سے پکڑا تب مجھے احساس ھوا کہ وہ تو اپنے کپڑے اتار چکی ھے، تب ھی تو اسکے ممے مجھے اپنی پیٹھ پر جبھتے محسوس ھوئے۔ پھر اس نے میری گردن پر کس کرنا شروع کردیا جو کہ میری کمزوری تھی۔ میں نے بھی خاموشی سے اپنے مموں پر اسکے ھاتھ کھینچ کر رکھدئیے۔ اس نے میرے مموں کو دبانے کے ساتھ ساتھ جب دوسرا ھاتھ کمر پر پھیرتے ھوئے میری گانڈ پر پہنچا تو کچھ دیر بعد پھر اس نے میری جھانگوں پر سے ھاتھ لیجا کر میری چوت کی لبوں سے چھیڑ چھاڑ شروع کردی۔ میری چوت کے دانے پر مسلسل رگڑائی سے جب میں مزے کی انتھا پر پہنچی، تو میں نے اسکی طرف منہ کردیا اور اسکی لبوں پر اپنے لب رکھ کر اسے لپ کسنگ کے مزے سے روشناس کرادیا۔ کچھ دیر بعد میں نے اسکی چوت چسائی کرکے اسکاپانی نکلوادیا تب میں نے اسے اپنی چوت چسائی پر لگا دیا، وہ میرے پیٹ اور گانڈ پر ھاتھ بھی پھیرتی اور تب باتوں باتوں میں پتا چلا کہ اسے بھی نمبردار کا لمبا لن گانڈ میں لینے کا بڑا شوق ھے، اس نے کئی بار نمبردار کو رات میں میرے گھر گھستے دیکھا ھے۔ تب سے وہ مجھ سے دوستی لگانے کا سوچ رہی تھی مگر موقع نہی مل رھا تھا۔ اس رات ھم نے ایک دوسرے کی چوت میں انگلیاں بھی مار کر منی نکالی، پھر شانت ھوکر ھم سوگئے۔ صبح وہ کب اٹھ کر چلی گئی مجھے اسکا کچھ علم نہیں۔ دوسری جانب میرے واپس آجانے کی خبر جب فیقے کو ھوئی تو اس نے گھر آ کر خیریت دریافت کرنے کے ساتھ ساتھ میری چدائی بھی کرنی چاھی تو میں نے اسے رات کو آنے کا کہ کر شاکر سے دو لاکھ دلانے کا بھی کہ دیا۔۔۔ شاکر نے بڑی چالاکی سے سدرہ کے ذریعے میری دو راتیں تھانے پر گزارنے کا احوال معلوم کرنا چاھا تو میں نے اسکی ماں کو اسکے اور شاکر کے تعلقات کے بارے میں بتانے کی دھمکی دے دی، جس پر وہ مجھ سے کھل گئی اور اس نے بتایا یہ تو شاکر کے کہنے پر وھاں کی معلومات و حالات جاننا چاھتی تھی ، اسے کوئی ذاتی انٹرسٹ نہیں۔ لیکن شام ھوتے ھی مجھے نمبردار نے اطلاع بھجوائی کہ میرے ڈیرے پر آ ۔۔۔۔ کوئی تجھ سے ملنے آیا ھوا ھے، تیرے فائدے کی بات ھے، میں نے بھی سر شام کھانا کھا کرجانے کی ٹھانی۔۔۔۔ نمبردار کی اوطاق پر تو لمبی سی بڑی گاڑی کھڑی تھی جس کے ساتھ سیکیورٹی والے بھی دو تگڑے جوان الرٹ کھڑے تھے۔ تو برآمدے میں ھی وہ پانچوں لوگ بیٹھے تھے، درمیان میں میز پر دو بوتل شراب وجام دیگر لوازمات موجود تھیں۔ میں نے سلام کیا تو کسی نے کوئی خاص رسپانس نہہ دیا، لیکن جب میں نے چادری اتاردی تو سب کو جیسے کرنٹ لگ گیاھو، وہ میری اس وقت آنے کے توقع نہی کر رھے تھے۔۔۔ ایسےبلاووں پر آدھی رات کے بعد عمل ھوتا ھے، دراصل میں بھی جلدی آکر صورتحال سےباخبر رھنا چاھتی تھی۔۔۔ بھر حال میرے لئے بھی ایک کرسی وھیں رکھ دی گئی، تعارف ھوا توپتہ چلا کہ گلزار خاکی ایف آئی یو کےایک بالا آفیسر کو جانچ کرنے کاکھا گیا ھے، جو کہ نمبردار کا پرانا نمک خوار ھے تووہ اپنے تئیں نئی اطلاعات لیکر آیا تھا۔ باتیں چلیں تو بات وھاں تک پھنچی کہ ماسٹر کی رائٹنگ میں پھر خط گاؤں تک کیسے آتے تھے، جبکہ بقول تمھارے وہ چار چھ ماہ سے گھر نہی آیا اور رابطے میں بھی نہی ھے، فون بھی بند جارھا ھے، کافی دیر اس پر بحث ومباحثہ چلا ، میرے کھنے پر شاکر کو بھی زیر بحث لایا گیا۔ بھر حال نمبردار کے کھنے پر ھم لوگ اندر کمرے میں چلے گئے، شراب کا نشہ بھی سر چڑھ کر بولتا نظر آیا۔۔۔۔ نمبردار نے جلدی سے مجھے بانھوں میں بھر کر چسائی شروع کردی ، جبکہ خاکی نے اپنی شرٹ و ٹائی کو پہلے اتارنا ضروری سمجھا، تب تک نمبردار نے میری گردن پر کس کرنا شروع کردیا اور ساتھ ہی میری قمیض اوپر کرکے اتروادی اور پھر میرے مموں پر منھ رکھ دیا۔ جبکہ خاکی نے میری کمر پر ھاتھ پھیرتے ھوئے میری لاسٹک والی شلوار بھی اتار دی اور میری ھپس پر زبان پھیرنا شروع کردیا۔ کافی دیر اسی طرح گزری تو میں نے ایک ٹانگ اٹھا کر بیڈ پر رکھ دی اور خاکی کو آگے کی طرف اشارہ کرتے ھوئے اپنی چوت کی پھانکیں کھول کر دکھادیں، وہ بھی کسی ندیدے کی طرح میری پانی چھوڑتی چوت پر پل پڑا اور چوت چسائی میں اسکو بڑی مھارت حاصل تھی۔ نمبردار البتہ میرے مموں کو دبانا اور نپلز کو چاٹنا زیادہ پسند کرتا تھا۔۔۔۔۔وہ لگا رھا اپنے کام سےپھر انھوں نے مجھے بیڈ پر الٹا لٹا دیا ۔ نمبردار بیڈ کی دوسری طرف سے میرے منہ میں لن ڈال کر کھڑا ھوگیا جبکہ خاکی نے میری گانڈ پر بھت سارا تھوک پھینکا اور لگا میری گانڈ میں انگلی گھسانے، میں بھی گانڈ اوپر کر کر کے اسکی انگلی گانڈ میں پوری ڈالنے۔میں مدد کر رھی تھی۔ اچانک مجھے خوف محسوس ھونا شروع ھوگیا کہ جیسے کوئی میرا گلہ دبا رھا ھو ، ادھر میرے چھرے پر خوف کی ھوائیاں اڑ نے لگیں۔ ادھر خاکی میری گانڈ میں لن اندر ڈالنے کی تیاری میں تھا کہ میرا دورا شروع ھوگیا ، میں ٹڑپنے لگی تو آفیسر نے سمجھا کہ نخرے کر رھی ھوں ، اس نے زوری کرکےبھی میری گانڈ میں لنڈ ڈال ھی دیا، اورلگا جھٹکے مارنے لیکن دوسری طرف نمبردار جو میرے سرھانے تھا نے میری باھر کو نکلتی آنکھیں اور چھرے پر تکلیف کے آثار دیکھ لئے تھے۔ اس نے توجلدی سے میرے منہ سے لن باھر نکال لیا تھا، لیکن خاکی اب ھر پہلو سے اور ھر حال میں مجھے چودنا چاہ رھا تھا۔ میں بیڈ پر ننگی ادھر سے ادھر رگڑے کھارھی تھی، میرے گلے سے سے اب غرانے کی آوازیں بھی سنی جاسکتی تھیں، مگر خاکی نے میری گردن پر اپنا بازو زور سے جما دیا تھا، اور جدھر میں گھومتی اس طرف وہ بھی جلدی سی ھوجاتا ، کئی دفعہ اسکا۔لن میری گانڈ سے باھر بھی نکلا مگر وہ پھرتی سےپھر اندر ڈال دیتا۔ اب میری گانڈ میں لنڈ ڈال کر مجھے پیچھے سے کمر پر ھاتھ پھیرتے جھٹکے بھی مارتا اور کبھی گالی بھی نکالتا تھا۔ اب نمبردار نے بھی اس کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ لڑکی کو کسی سائے نے پکڑا ھوا ھے، اب اسکی جان چھوڑ دو ورنہ وہ سایہ ھمارے بھی پیچھے پڑسکتا ھے۔ مگر خاکی کو تو شراب کا۔نشہ اور پھر دس منٹ سے زیادہ ھوگیا میری گانڈ میں لن ڈالے لیکن جب بھی اسکے مزے کا وقت آتا میں پلٹی کھاتی تواسکالن میری گانڈ سے بھار نکل جاتا، تو اسطرح وہ پھر سے ادھورا رہ جاتا، جس کی وجہ سے اب وہ ضد میں آکر مجھے خاموشی سے چدائی کروانے کا کھنے لگا۔ جب ایک دفعہ اس نے میرے منہ کو پکڑا اور مجھے کس کرنےلگا تو میری آنکھوں میں جھانکتے ھوئے اسنے جب میری باھر نکلتی ڈھیلیں دیکھیں تو اس پر بھی خوف طاری ہو گیا۔ اس کا بھی نشہ اتر گیا جبکہ میری کمر پر سے اسکا وزن ھٹا تو میں بھی اب بیڈ پر پلٹیاں کھانے لگی۔ اتنا شدید دورہ پڑا کہ میری آواز سے باھر اپنی باری کے منتظر شرابی بھی گھبرا کر اندر آ گئے۔ ان چاروں نے مل کر پہلے مجھے سمجھانے لگے ۔۔۔ کہ چلو پیچھے سے نہی کرتے آگے سے ھی کرتے ھیں یا پھر جیسے تم کھو ویسے کرتے ھیں۔ میرا تڑپنا پھر بھی جاری رھا تو پھر انھوں نے مل کر مجھے قابو کیا اور جلدی سے کپڑے پھنا کر گاڑی میں ڈالا اور تیزی سے میرے گھر کی طرف گاڑی بھگا کر، لے آئے۔ نمبردار نے جلدی نیچے اتر کر مجھے کندھے پر اٹھایا میرے گھر کے اندر چارپائی پر لاکر ڈالا تب تک وہ گاڑی والے بھاگ چکے تھے ۔ گھر کی اسی چارپائی پر آتے ھی مجھے سکون مل گیا اور دھیرے دھیرے میرا تڑپنا کم ھوا میرے حواس بھی کنٹرول ھوگئے۔۔۔ نمبردار بڑا خرانٹ مطلبی تھا ایک طرف چھپ کر میری حالت دیکھتا رھا، تب تک میرے گھر کے اندھیرے کونے سے میری چارپائی کو کھڑا دیکھتا رھا کہ میں کیا کرتی ھوں، کہیں ڈرامہ تو نہی کر رھی؟. کافی دیر بعد جب مجھے کچھ سکون حاصل ھوگیا تو میں اٹھ کر بیٹھ گئی نمبرادر نے جلدی مجھے پانی پلایا اور پوچھنے لگا کہ یہ حالت کب سے چل رھی ھے تو میں نے کھا کہ جب سے تھانیدار کے پاس تو چھوڑ کر آیا تب سے۔۔۔ اب اگر میں اپنے گھر میں رھوں تو پرسکون رھتی ھوں ورنہ جھاں کھیں بھی جاؤں تو میری یہ حالت ھوجاتی ھے، البتہ اگر میں گھر پر اسی چارپائی پر چداتی ھوں تو پھر کچھ نہی ھوتا۔ آزمائش کی خاطر نمبردار نے میری گردن پہ ھاتھ رکھ کر میری ٹانگیں کھول دیں اور لگا میری چوت پر ھاتھ پھیرنے۔ جب سب کچھ پرسکون رھا تو اس نے پھر سے اپنا لن باھر نکال کر میرے منہ میں ڈالا اور میری شلوار اتر وادی۔ کچھ دیر کی لن چسائی کے بعد اس نے بلا تاخیر میری چوت میں اپنا لنڈ ڈال کر میری رگڑائی شروع کردی ، بڑی جلدی جلدی میں اس نے میرے مموں کو قمیض کے اوپر ھی سے رگڑتے ہوئے اپنے لن سے میری چوت میں اندر باھر کرنا جاری رکھا۔ کافی دیر جاندار دھکوں سے میری ٹھکائی ھوتی رھی پھر اس نے ایک دفعہ مجھے الٹالیٹ نے کو کھا اور لن گانڈ کی سوراخ پر سیٹ کرتے ھی اس نے ایک زوردارجھٹکے سے میری گانڈ میں لن داخل کردیا اور زر ادیر میری حالت پر غور کرتا رھا۔ کچھ دیر بعد اس نےمیری گانڈ ماری اور پھر ایک زبردست قسم کے دھکے کے ساتھ ھی وہ۔میری گانڈ میں چھوٹ گیا۔ کچھ دیر یوں ھی پڑے رھنے کے بعد وہ میرے اوپر سے اٹھا اور کھنے لگا کہ آفیسر ناراض ھوکر گیا ھے، اس نے کیس کی تحقیقات میں بڑا ساتھ دینا تھا۔ تومیں نے کھا کہ میری مجبوری ھے میں کیا کرسکتی ھوں۔ اس گاؤں میں یہ میری آخری چدائی ثابت ھوئی میں اس سے باتیں کرتے کرتے جانے کس وقت سوگئی۔ اب روزانہ میرے ساتھ رات کو یہی سیںن ھونے لگا کہ آدھی رات کے بعد میرے چیخنے چلانے کی آوازیں گونجتی رھتی میں تڑپتی رھتی گھر کی دیوار وں سے ٹکراتی رھتی۔ تھک ھارکر جانے کب میں سوجاتی، صبح دیکھتی تو میں بورچی خانے کے دروازے پر گری پڑی ھوتی تھی۔ میرے رات کو چیخنے چلانے کا پڑوسن پر بڑا اثر ھوا تو اس نے کھا کہ کسی نے عمل کروادیا ھوگا، تم پر بد اثرات کے باعث دورے پڑتے ھیں، ان چیزوں پر میرا یقین تو نہی تھا، اور کچھ یہ کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ من آنم کہ من دانم ۔۔۔۔۔ والی بات بھی تھی۔ لیکن جب خود پھنستا ہے آدمی تو اسے پتہ چل ھی جاتا ھے کہ خرابی کھاں سے شروع ھوئی تھی، لیکن اس وقت تک بھی میرے سر میں اپنے حسن کا نشہ چڑھا ھوا تھا کہ میں جب چاھوں جسے چاھوں اپنادیوانہ بنا سکتی ھوں۔ کچھ دنوں بعد کی بات ھے کہ میری نند ھمارے ملتان کی ایک بزرگ خاتون کے ساتھ گاؤں میں آئیں، جس نےچاچا فیقے والوں کے گھر میں ایک الگ سے کمرے میں رھائش اختیار کی۔ میرے پاس نند نے آکر رو رو کر میری منتھ کی کہ مجھے میرے بھائی کے بارے میں سچ سچ بتادو، میں نہی جانتی کہ وہ کھاں ھے لیکن میرا دل کھتاکہ تم ضرور جانتی ھو کہ وہ کھاں ھے۔ اس رات میری نند نے میری رات کے وقت میری اذیت کو بخوبی دیکھا خوف کے مارے بھاگ کر اس رات اس بزرگ خاتون کو بھی بلا لائی۔ اگلے دن اس خاتون نے مجھے اپنے کمرے میں اکیلےبلایا ۔۔۔۔ پہلے اسکی وضاحت کی تیری میری بات اس کمرے سے باھر نہی جائیگی تو کھل کر بتا۔۔۔ مجھ سے رات کے دوروں کی روداد سنی ۔۔۔ جب میں نے سب کچھ بتادیا تو وہ بولی کہ تم نے سب کچھ نہی بتایا ۔۔۔۔ تم نے شبیر کو مارنے اور غیروں سے چدوانے کا ذکر تک گول کردیا ۔۔۔۔ لیکن میں جانتی ھوں کہ تو نے بھت سارے لوگوں سے غلط جسمانی تعلقات قائم کر رکھے ھیں، اورکچھ مرد ھیں جو صرف تیرے جسم سے کھیلنا چاھتے ھیں ۔۔ اس نےپھر بھت صاف انداز میں مجھے بتایا کہ جب تک تو شبیر کے قتل کا اعتراف نہ کرلے اور اسکی لاش کی نشاندھی کرکے اس کی آخری رسومات ادا کرنے میں اسکی رشتہِ داروں کی مدد نہی کریگی۔۔۔ شبیرکی روح تیرا پیچھا نہی چھوڑنے والی، بلکہ اس سے بھی بد تر ھوتی جائیگی۔۔۔ میرا علم کھتا ھے کہ اب بھی وقت ھے تم اعتراف جرم کرلو ۔۔۔ جو شریک کار تھے وہ خود بخود پکڑے جائیں گے۔ قبر کے حوالے ھونے کے بعد تم پر سے آھستہ آھستہ وزن کم ھوجائیگا۔۔۔ ورنہ وہ تم سے انتقام لینے کے لیے اور بھی بھت سے حربے اختیار کر سکتا ھے۔ میں تمھارے بھلے کیلئے کہ رھی ھوں کہ تم میری بھی کچھ لگتی ھو، میں جب سے یہاں آئی ھوں میں نے بھت سے عملیاتی وظائف سے بھت کچھ معلوم کرلیا ھے۔ لیکن تمھارے بھلے کے لیئے کہ رھی ھوں کہ تمھیں ویسے بھی جیل ھوجائیگی مگر اس روح کے انتقام سے تجھے وھاں بھی سکون میسر نہی ھوگا۔۔۔ اس کے خوفناک انتقام سے چھٹکارا اعتراف جرم و نشاندہی سے ھی ممکن ھے۔۔ باقی رب سوھنے کی طرف سے توبہ کا دروازہ ھر وقت کھلا ھے اگر کوئی سچے دل تائب ھو اس سے توبہ مانگے تو۔۔۔ وہ آسانیاں پیدا کردے گا۔ یہ میری تیری آخری ملاقات ھے اگر شام تک تو اعتراف کرنے کو تیار ھوجاتی ھے تو اس میں آسانیاں پیدا کرنے ۔۔۔ کو تجھے گاؤں والوں کے عتاب سے بچانے کو تیری مدد کو یہیں موجود ھوں گی۔ ورنہ اس کے بعد میں زمہ داری نہی لوں گی اور تو مزید اس دلدل میں دھنستی چلی جائیگی۔ آفیسرز آئیں گے تجھے نوچ کھسوٹ کر دوسرے لفظوں میں چود چود کر چلے جائیں گے ۔۔ بھانے بھانے سے پھر بلائیں گے اور یہ سلسلہ دراز ھوتا جائیگا۔۔ میں کل واپس جارھی ھوں ۔۔۔ کھیں اور بھی کام ھیں مجھے ۔۔۔ اس کے اتنی کھلی باتوں کے بعد میں نے اس کے پاؤں پکڑ لیئے اور اس کے گھٹنوں پر سر رکھ کر دھاڑیں مار مار کر رودی۔ اپنی گلو خلاصی کی خاطر میں نے اسے سب کچھ بتا دیا۔۔۔ تو اس نے کھا کہ اب ایسا کرتے ھیں کہ وہی فوجی صاحب تیری جان چھڑا سکتا ھے، کہ جلدی سے تجھے گرفتار کر لیا جائے.. ورنہ پولیس کے سامنے اعتراف یا نمبردار کے اشارے پر یہ کیس مزید لمبا ھوتا جائیگا۔۔۔ میرے تو ساری سمجھ بوجھ ھی ختم ھوگئی تھی اپنے ھی گھر سے مجھے وحشت ھونے لگی تو میں نے اس صالحہ خاتون سے کھا کہ جیسا آپکو مناسب لگے۔ اس نے مجھے غسل کرنے اور دو رکعت نماز توبہ ادا کرنے کا طریقہ بتلایا، پھر خود کمرے سے باھر جا کر میری نند کو کھا کہ فوجی صاحب کو بلوالے ۔۔۔ اس دن دو تین گھنٹوں میں میری دنیا بدل گئی۔۔۔ ایکدم سے پولیس کیمرے والوں کے سامنے پیش کیا گیا مجھے اور مجھ سے بیان لیا گیا۔۔۔۔ اس رات کا واقعہ سنانے کے ساتھ ساتھ میں نے چالاکی سے کلھاڑی شاکر کے گلے ڈال دی۔۔۔ ماستر تو میر اعاشق مجبور تھا اسے میں نے بھت بچانے کی کوشش کی مگر ۔۔۔۔ لکھے گئے خطوط کی بنا پر اسے بھی گرفتار کرلیا گیا۔۔۔۔ میری نشاندھی پر باورچی خانے کے کچے فرش کو کھود کر لاش کو نکالا گیا جو کہ اتنے ماہ گذرجانے کے باوجود ترو تازہ تھی۔۔۔۔ اسکے موبائیل سے بھی لاسٹ کال شاکر کو کی گئی تھی۔۔۔ بھرحال بعد ے رسوا ھوکے ھم کوچہ جاناں سے نکلے۔۔۔۔ شبیر کے بھانجے تو مکھے مارنے کے درپے تھے۔۔۔ لیکن فوجی نے بروقت مداخلت کرتے ہوئے ۔۔مجھے اور شاکر کو پولیس کسٹڈی میں جلدی سے ضلعی جیل کروادیا۔۔۔۔ میں نے اتنے دنوں بعد وہ پہلی رات سکون سے گزاری ۔۔۔ پھر میرے مجبور عاشق ماستر کو بھی ایف آئی آر میں نامزد کرکے شریک جرم بنا کر ۔۔ جیل کردیا گیا۔۔۔۔ وھاں کسی کو معلوم نہ تھا کہ یہ کتناپرانا قتل ھے ۔۔۔ اور مئں کیسے اسی جگہ پر چارپائی میں چدوایا کرتی تھی۔۔۔۔ لیکن شاکر نے حتامی پن دکھاتے ہوئے ۔۔۔ جیل وارڈن اور پھر اسکے تھرو سپرنٹینڈنٹ جیل تک کو میری کھانی سنائی ۔۔ اور انھیں اکسایا کہ وہ بھی مجھے چودیں۔۔۔ جبکہ میں توبہ کر کی تھی۔۔۔۔ لیکن جب مجھے جیل۔مینویل کے مطابق اپنے حصے میں آنء ولاء کام سونپے گئے۔۔۔۔ تو دو چار دن میں ھی میرے اعصاب جواب دے گئے ۔۔۔ جھاڑو پونچا ۔۔۔ کے ساتھ ساتھ گھڑوں میں سارا دن پانی بھرنا مکھے مشکل ترین کام لگے۔۔۔ آخر کار میں نے وارڈن سے روابط بڑھائے اور آخر ایک رات مجھے جیل سپرنٹینڈنٹ کے کمرے میں بلوالیاگیا۔۔۔۔ جس کی کھانی میں پہلے بتلا چکی ھوں۔۔۔۔ فقط بارانی
  7. Aj kal Qatil haseena ... Horrerrrrrrr mood main hai To ..... Khouf phaila howa hai L ki kumaai zra kam hai... Wait for that
  8. Anda nikal aya... Par thoore sukann ta diow Yar...... Gili gili paat jaani.. Dain lagay yarrrrrrr
  9. 80 سال کی عمر میں ان دونوں کی دعا قبول ہوئی تو انہوں نے شادی کے بندھن میں بندھنے کا فیصلہ کیا بوڑھی دلہن نے سرخ لہنگا پہنا اور دولہا شیروانی پہنے گھوڑے کی بجاۓ ویل چیئر پر بیٹھ کر بارات لیکر آیا بارات میں شرلی پٹاخوں کی جگہ بارات کے ساتھ آئی ہوئی ایمبولینس کا ہارن بجایا گیا اسٹیج پر دولہے کے ساتھ شہ بالے کی بجاۓ دولہے کے ڈاکٹر کو بیٹھایا گیا۔ جو اپنے ہمراہ فرسٹ ایڈ باکس ، آکسیجن سیلنڈر اور ضروری ساز و سامان کلینک سے لیکر آیا تھا شادی میں شریک لوگوں نے دولہا دولہن کو سلامی میں پیسوں کے بجاۓ انکی روزہ مرہ استعمال کی میڈیسن لفافے میں ڈال کر دی نکاحِ کے بعد باراتیوں نے کھانے میں چکن روسٹ ، تکہ ، کباب ، بریانی کھائی اور دولہا دولہن کو دیسی مرغی کی یخنی ، دلیہ ۔ اور بغیر فروٹ والا کسٹرڈ پیش کیا گیا دودھ پلائی کی رسم میں کھویا دودھ کی بجاۓ دولہے کو کیلشیم ملا پانی پلایا گیا اور منہ دکھائی کی رسم میں دولہے نے دولہن کو نئے دانتوں کا سیٹ گفٹ کیا گوڈا پکڑائی کی جگہ دولہا دولہن کی ٹانگیں دبائی کی رسم کی گی اورجوتا چھپائی کی رسم میں سالیوں نے جوتے کی بجاۓ دولہا کی عینک چھپائی شادی کے بعد ہنی مون کیلئے دولہا دولہن کو سول ہسپتال میں داخل کروایا گیا اور پھر کیا ہوا انتظار کرو اگلے پوسٹ کا وسلام !!!!!!?
  10. Itna lambaaaaaaa Bhi to dooongaaaaa Package bhi khatmmmmmm Ho raha hai........
  11. حسن و جمال بھی تو۔۔۔نرالا ھے شکریہ۔کمنٹس کا
×
×
  • Create New...