Jump to content
URDU FUN CLUB

Barani

Writers
  • Content Count

    185
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    17

Barani last won the day on July 1

Barani had the most liked content!

Community Reputation

216

2 Followers

Profile Information

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. ل ن کی کمائی۔۔۔۔ سے ۔۔۔ بختو کی چدائی تک ۔۔سب ھیں شادی پرائی۔۔۔۔
  2. تھینکس۔۔۔۔یار یہ اپنے لفظ چوپس ۔۔۔ کی وضاحت کرو یار۔۔۔۔ یہ چوپا ھے یا چھپا ھے۔۔۔ چوپا تو میں بھت پھلے لگواتا تھا ۔۔۔۔ وضاحت ضروری ھے تاکہ۔میرا منہ فارغ ھو جائے۔۔۔۔ ھاھاھاں
  3. شکریہ۔۔۔ مجھے کمنٹس اپنے لیئے نہی چاھیئے ۔۔۔۔ پھر کیوں کمنٹس کا بولتا ھو پتہ ھے ۔۔۔ اتنے اچھے اور زیادہ کمنٹس دیکھ کر ۔۔۔ ایڈمن خود پوچھے کہ بتابارانی تیری رضا کیا ھے ھے
  4. بنڈل آف تھینکس۔۔۔۔ رات کو اڈھائی بجے پوسٹ کرنے کے بعد مجھے تھوڑی دیر کو خیال آیا تھا کہ بارانی ۔۔۔لوگ کیاکھیں گے کہ سیکسی فورم میں یہ کیا پوسٹ کردیا ھے۔۔۔لیکن پھر میں نے یہ سوچ کے ڈیلیٹ نہی کیا کہ یار ویسے تو ھم۔بھت گناھگار ھیں اگر کھانی میں عظمت اسلام کا ایسا واقعہ ھے تو میں اسے حذف کیوں کروں ۔۔۔ اور بڑی خوشی ھوئی کہ تمام دوستوں نے حوصلہ افزا کمنٹس دیئے۔۔۔۔
  5. جس قسم کی کھانی ھے ۔۔۔اس کے ساتھ کولڈ ڈرنکس نہی ۔۔۔ تیل کی شیشی رکھنی ھوگی۔۔۔۔۔ وہ بھی اپنے اپنے خرچے پے۔۔۔۔۔ ایڈمن نہی بھیجے گا۔۔۔۔ھاھاھاھ۔ ڈونٹ مائنڈ۔۔۔نومی۔۔
  6. آج ابتدا تھی ۔۔۔ تو مصالحہ کم تھاکہ۔۔۔ سواد ودھدا جانا ۔۔۔۔۔ بس تسی فیول پاندے جاؤ۔۔۔ تاں میں ۔۔۔ وکھرے وکھرے سواد ۔۔۔والے سین پاندے جانا۔۔۔۔۔ کمنٹس دو بھائیوں میرے لیئے ۔۔۔۔ یہ ھی اعزاز ھو گا کہ کمنٹس دیکھ کر ایڈمن خود پوچھے کہ ۔۔۔ بارانی بتا ۔۔۔۔ تیری رضا کیا ھے۔۔۔۔۔ ھاھاھاھا
  7. بنڈل آف تھینکس۔۔ ابتداء عشق ھے سوچتا ھے کیا۔۔۔۔۔ آگے آگے دیکھئے چدتا ھے کیا کیا
  8. معصوم لوگ پھناتے ھیں۔۔۔۔ چدکڑ لوگ پھاڑتے
  9. بارانی کی بریانی ھے ۔۔۔۔ کچھ تو نیا ھوگا۔۔۔۔اگلی پلیٹ میں اس سے زیادہ مصالحہ ھوگا۔۔۔۔
  10. قاتل۔حسینہ کی دیگ کھل خکی ھے ۔۔۔رات دو بجے سے
  11. گاؤں کی قاتل حسینہ میرا نام بخت پری تھا لیکن بچپن ھی سے مجھے رشتہ دار بختو بختو کھتے تھے میری عمر 22سال ہے اور میں شادی شدہ ہوں. میرے شوہر این۔ایل۔سی ٹرالر چلاتے جو کہ ملتان سے کراچی لائین پر چلتے ہیں. میں اپنے ساس - سسر کے ساتھ ملتان کے قریب نواحی گاؤں میں اپنے سسرال میں رہتی ھوں. شوہر کا نام شبیر ھے انکے ایک چچا کی سندھ میں بھی زمین ھے کھیتی باڑی بھی کرتے ہیں اور میرے شوھر شبیر نے بھی کچھ زمین وھاں لے رکھی ھے تو یہ وھاں کا بھی چکر لگا لیتے ھیں تو اس وجہ سے میں کئی کئی ماہ لنڈ کو ترستي رہتی ہوں. ویسے تو میرے ارد گرد گلی محلے میں بہت سارے لنڈ رہتے ہیں پر ساس - سسر کے ہوتے یہ میرے کسی کام کے نہیں. میری گلی کے سارے لڑکے مجھے پٹانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں. میرے ممے لڑکوں کی نیند اڑانے کے لئے کافی ہیں. میری بڑی سی گانڈ دیکھ کر لڑکوں کی حالت خراب ہو جاتی تھی اور وہ کھڑے کھڑے لنڈ کو ہاتھ میں پکڑ لیتے ہیں. میرے ریشمی لمبے بالوں میں پتہ نہیں کتنوں کے دل اٹكے پڑے ہیں تب میرا جسم بڑا سیکسی کشش رکھتا تھا میری پتلی کمر، میرے گلابی گلابی ہونٹ، لڑکوں کو میرے گھر کے سامنے کھڑے رہنے کے لئے مجبور کر دیتے ہیں. سب مجھے پٹانے کے ہتھکنڈے استعمال میں لاتے رہتے تھے پر میں کسی سے نہیں پٹ رہی تھی۔ میرے شوھر جب باھر ھوتے تو ان کا ایک ڈرائیور دوست کمال ان کی بھیجی رقم ھمارے گھر پھنچا کر مجھ سے رسید پر سائین لیتا تھا تاکہ بعد میں حساب کتاب میں آسانی رھے۔ دوسرے سب عاشقوں کی طرح یہ بھی مجھ پر ڈورے ڈالتا تھا لیکن حالات ایسے نہی بن رھے تھے میں نے بھی آنکھوں سے اسے پسندیدگی کا سگنل دے دیا تھا اس نے مجھے کہا کہ وہ مجھ سے تنھائی میں ملنا چاہتا ہے، مگر میں نے انکار کر دیا. کچھ دن کے بعد جب وہ دوبارہ پیسے دینے آیا تو اتفاق سے سسرگھر پر نہی تھے ساس سو رھی تھیں اس بات کا جب اسے بتایا تو کمال نے مجھے گلے لگا لیا جلدی سے چمیاں لیں کھا کہ دو دن سے میرا گھر خالی ھے میں اکیلا ہی ملتان شھر سے اتنا دور آیا ہوں، تیرا دیدار کرنے باقی ساری فیملی لاھورشادی میں گئی ھوئی ھے۔ کمال نے یہ بھی کہا کہ وہ مجھے چودنا چاہتا ہے بے شک ایکبار ہی سہی. اب تو مجھے بھی اس پر ترس سا آنے لگا تھا۔ کچھ تو مجھے کھجلی تھی دوسرا احساس کہ وہ اتنی دور سے مجھے پیسے دینے آتا ھے( یہاں ایک جملہ۔۔۔ من حرامی۔۔ تے ھجتاں ڈھیر۔۔۔).اگلے مہینے میری بہن کے لڑکے کی شادی تھی جس کے لئے مجھے اور میری ساس نے شاپنگ کے لئے ملتان شھر جانا تھا. مگر کچھ دنوں سے میری ساس کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی تو اس نے مجھے اکیلے ہی ملتان چلی جانے کو کہا. جب میں نے اکیلے ملتان جانے کی بات سنی تو ایک دم سے مجھے اس کمال کا خیال آ گیا. میں نے سوچا کہ اسی بہانے اپنے عاشق کو بھی مل آتی ہوں. میں نے نہاتے وقت اپنی جھاٹے صاف کر لیں اور پوری سج - سنور برقعہ پھن کر بس میں بیٹھ گئی اور راستے میں ہی کمال کو فون کر دیا. اسے میں نے ایک کسی ھوٹل میں بیٹھنے کے لئے کہا اور کہا میں ہی وہاں آ کر فون کروں گی. پھر ایڈریس رکشہ والے کو سمجھا دینا۔ میں آپ کو کمال کے بارے میں بتا دوں0 5 سال کا لگتا تھا. اس کے سر کے بال سفید ہو چکے تھے پر اسکی باڈی اسکا لھجہ اور اس کا چہرہ مجھے اس سے ملنے کو مجبور کر رہا تھا. بس سے اترتے ہی میں رکشہ لے کر وہاں پہنچ گئی جہاں پر وہ میرا انتظار کر رہا تھا. اس نے مجھےکبھی برقع میں نہی دیکھا تھااس لئے میں تو اسے پہچان گئی پر وہ مجھے نہی پھچان سکا میں اس سے تھوڑی دور بیٹھ گئی وہ ہر عورت کو آتے ہوئے غور سے دیکھ رہا تھا مگر میں نے برقع پھنا ھوا تھا میں دیکھناچاھتی تھی کہ ھمارے گاؤں کاتو کوئی نہی آیا ھوا تھوڑی دیر کے بعد میں ھوٹل سے باہر آ گئی اور اسے فون کیا کہ باہر آ جائے. میں تھوڑی چھپ کر کھڑی ہو گئی اور وہ باہر آ کر ادھر ادھر دیکھنے لگا. میں نے اسے کہا - تم اپنی گاڑی میں بیٹھ جاؤ، میں آتی ہوں. وہ اپنی گاڑی میں جاکر بیٹھ گیا، میں نے بھی ادھر ادھر دیکھا اور اس کی طرف چل پڑی اور جھٹ سے جا کر اس کے پاس والی سیٹ پر بیٹھ گئی. مجھے دیکھ کر وہ حیران رہ گیا اور کہا - تم ہی تو اندر گئی تھی، پھر مجھے بلایا کیوں نہیں؟ میں نے کہا - اندر بہت سارے لوگ تھے، اس لیے! اس نے دھیرے دھیرے گاڑی چلانی شروع کر دی، اسکے کھنے پر میں نے برقعہ اتاردیا اس نے مجھے پوچھا - اب تم پھلےکس بازار جانا چاهوگی؟ میں نے کہا جھاں تم۔لے چلو، بس خیال رکھنا کہ مجھے جلدی ھے ، اور مجھے شاپنگ کرکے واپس بھی جانا ہے. اس نے کہا اگر تم برا نا مانو تو میں تمہیں کچھ تحفہ دینا چاہتا ہوں. کیا تم میرے ساتھ پھلےمیرے گھر چل سکتی ہو؟ اس کاملتان میں ہی ایک شاندار بنگلہ تھا. پہلے تو میں نے انکار کر دیا پر اس کے مزید زور ڈالنے پر میں مان گئی. پھر ہم اس کے گھر پہنچے. مجھے احساس ہو چکا تھا کہ اگر میں اس کے گھر پہنچ گئی ہوں تو آج میں ضرور چدنے والی ہوں. میں گاڑی سے اتر کر اس کے پیچھے پیچھے چل پڑی. اندر جا کر اس نے مجھے پوچھا - کیا پیوگی تم بختو؟ "کچھ نہیں! بس مجھے تھوڑا جلدی جانا ہے!" وہ بولا - نہیں ایسے نہیں! اتنی جلدی نہیں .. ابھی تو ہم نے اچھے سے باتیں بھی نہیں کی! "اب تو میں نے تمہیں اپنا فون نمبر دے دیا ہے، رات کو جب جی چاہے فون کر لینا .. میں اکیلی ہی سوتی ہوں." "پلیز! تھوڑی دیر بیٹھو تو سہی!" میں نے کچھ نہیں کہا اور صوفے پر بیٹھ گئی. وہ جلدی سے کولڈرنک لے آیا اور مجھے دیتے ہوئے بولا - یہ کولڈرنک ہی پی لو پھر چلی جانا. میں نے وہ مشروب لے لیا. وہ میرے پاس بیٹھ گیا اور ہم ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے. باتوں ہی باتوں میں وہ میری تعریف کرنے لگا. وہ بولا. جب تمھارے گھر میں تمہیں دیکھتا تھا تو سوچتا تھا کہ اوپر والے نے تمھیں بڑی فرصت سے بنایا ھے۔ رہنے دو! جھوٹی تعریف کرنے کی ضرورت نہیں ہے جی! میں نے کہا. اس نے بھی موقع کے حساب سے میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا - سچ میں بختو، تم بہت خوبصورت ہو. میرا ہاتھ میری ران پر تھا اور اس پر اس کا ہاتھ! وہ دھیرے دھیرے میرا ہاتھ رگڑ رہا تھا. کبھی کبھی اس کی انگلیاں میری ران کو بھی چھو جاتی جس سے میری پیاسی جوانی میں ایک بجلی سی دوڑ جاتی. اب میں مدہوش ہو رہی تھی. مگر پھر بھی اپنے اوپر قابو رکھنے کا ڈرامہ کر رہی تھی جسے وہ سمجھ چکا تھا. پھر اس نے ہاتھ اوپر اٹھانا شروع کیا اور اس کا ہاتھ میرے بازو سے ہوتا ہوا میرے بالوں میں گھس گیا، میں چپ چاپ بیٹھی مدہوش ہو رہی تھی اور میری سانسیں گرم ہو رہی تھی. اس کا ایک ہاتھ میری پیٹھ پر میرے بالوں میں چل رہا تھا اور وہ میری تعریف کئے جا رہا تھا. پھر دوسرے ہاتھ سے اس نے میری گال کو پکڑا اور چہرہ اپنی طرف کر لیا. میں نے بھی اپنا ہاتھ اپنی گال پر اس کے ہاتھ پر رکھ دیا. اس نے اپنے ہونٹوں کو میرے ہونٹوں پر رکھ دیا اور میرے ہونٹوں کا رس چوسنا شروع کر دیا. مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب میں اس کا ساتھ دینے لگی. پھر اس نے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا اور مجھے اپنی گود میں بٹھا لیا. اب میرے دونوں چوچے اس کی چھاتی سے دب رہے تھے. اس کا ہاتھ اب کبھی میری گانڈ پر، کبھی بالوں میں، کبھی گالوں میں، اور کبھی میرے ممو پر چل رہا تھا. میں بھی اس کے ساتھ کس کر چپک چکی تھی اور اپنے ہاتھ اس کی پیٹھ اور بالوں میں گھما رہی تھی. کچھ دیر تک ہم دونوں ایسے ہی ایک دوسرے کو چومتے - چاٹتے رہے. پھر اس نے مجھے اپنی باہوں میں اٹھا لیا اور بیڈروم کی طرف چل پڑا. اس نے مجھے زور سے بیڈ پر پھینک دیا اور پھر میری ٹانگیں پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا. وہ میری دونوں ٹانگوں کے درمیان کھڑا تھا. پھر وہ میرے اوپر لیٹ گیا اور پھر سے مجھے چومنے لگا. اسی دوران اس نے میرے بالوں میں سے ہیئر رنگ نکال دیا جس سے بال میرے چہرے پر بکھر گئے. مجھے یہ سب بہت اچھا لگ رہا تھا، اب تو میں بھی شہوت کی آگ میں ڈوبے جا رہی تھی. پھر اس نے مجھے پکڑ کر کھڑا کر دیا اور میری قمیض کو اوپر اٹھایا. میری برا میں سے میرے ممے جیسے پہلے ہی آزاد ہونے کو تڑپ رہے تھے. وہ برا کے اوپر سے ہی میرے ممےمسل رہا تھا اور چوم رہا تھا۔پھر اس نے میری قمیض اتروادی. پھر اس کا ہاتھ میری شلوار تک پہنچ گیا. جس کا ناڑا کھینچ کر اس نے کھول دیا. میری زیر جامہ چڈی بہت ٹائیٹ تھی جسے اتارنے میں اسے بہت مشکل ہوئی. مگر چڈي اتارتے ہی وہ میرے گول گول چوتڑ دیکھ کر خوش ہو گیا. اب میں اس کے سامنے برا میں تھی. اس نے میری ٹانگوں کو چوما اور پھر میری گانڈ تک پہنچ گیا.میں الٹی ہو کر لیٹی اور وہ میرے چوتڑوں کو زور زور سے چاٹ اور مسل رہا تھا. اب تک میری شرم اور خوف دونوں غائب ہو چکے تھے اور پھر جب غیر مرد کے سامنے ننگی ہو ہی گئی تھی تو پھر چدائی کے پورے مزے کیوں نہیں لیتی بھلا. میں پیچھے مڑی اور گھوڑی بن کر اس کی سلوار، جہاں پر لنڈ تھا، پر اپنا چہرہ اور گال رگڑنے لگی. میں نے اس کی قمیض کھولنی شروع کر دی تھی. جیسے جیسے میں اس کی قمیض کھول رہی تھی اس کی چوڑی اور بالوں سے بھری چھاتی سامنے آتی جارھی تھی. میں اس پر دھیرے دھیرے ہاتھ پھیرنے لگی اور چومنے لگی. دھیرے دھیرے میں نے اس کی قمیص اتار دی. وہ میرے ایسا کرنے سے بہت خوش ہو رہا تھا. مجھے تو اچھا لگ ہی رہا تھا. میں مست ہوتی جا رہی تھی. میرے ہاتھ اب اس کی شلوار تک پہنچ گئے تھے. میں نے اس کا ناڑہ کھولا اور سلوار نیچے سرکا دی. اس کا لنڈ انڈروئیر میں کسا ہوا تھا. ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے انڈرویئر پھاڑ کر باہر آ جائے گا. میں نے اپنی ایک انگلی اوپر سے اس کے انڈرویئر میں گھسا دی اور نیچے کو کھیںنچا. اس سے اس کی جھانٹوں والی جگہ، جو اس نے بالکل صاف کی ہوئی تھی دکھائی دینے لگی. میں نے اپنا پورا ہاتھ اندر ڈال کر انڈرویئر کو نیچے کھینںچا. اس کا 7 انچ کا لنڈ میری انگلیوں کو چھوتے ہوئے اچھل کر باہر آ گیا اور سیدھا میرے منہ کے سامنے ہلنے لگا. اتنا بڑا لنڈ اچانک میرے منہ کے سامنے ایسے آیا کہ میں ایک بار تو ڈر گئی. اس کا بڑا سا اور لمبا سا لنڈ مجھے بہت پیارا لگ رہا تھا اور وہ میری پیاس بھی تو بجھانے والا تھا. میرے ہونٹ اس کی طرف بڑھنے لگے اور میں نے اس کے ٹوپے کو چوم لیا. میرے ہوںٹھوں پر نرم - گرم احساس ہوا جسے میں مزید محسوس کرنا چاہتی تھی. تبھی کمال نے بھی میرے بالوں کو پکڑ لیا اور میرا سر اپنے لنڈ کی طرف دبانے لگا. میں نے منہ کھولا اور اس کا لنڈ میرے منہ میں سمانے لگا. اس کا لنڈ میں مکمل اپنے منہ میں نہیں گھسا سکی مگر جو باہر تھا اس کو میں نے ایک ہاتھ سے پکڑ لیا اور مسلنے لگی. کمال بھی میرے سر کو اپنے لنڈ پر دبا رہا تھا اور اپنی گانڈ ہلا ہلا کر میرے منہ میں اپنا لنڈ گھسیڑنے کی کوشش کر رہا تھا. تھوڑی ہی دیر کے بعد اس کے دھکوں نے زور پکڑ لیا اور اس کا لنڈ میرے گلے تک اترنے لگا. میری تو حالت بہت بری ہو رہی تھی کہ اچانک میرے منہ میں جیسے سیلاب آ گیا ہو. میرے منہ میں ایک مزہ گھل گیا، تب مجھے سمجھ میں آیا کہ کمال جھڑ گیا ہے. تبھی اس کے دھکے بھی رک گئے اور لنڈ بھی ڈھیلا ہونے لگا اور منہ سے باہر آ گیا. اس کا مال اتنا زیادہ تھا کہ میرے منہ سے نکل کر گردن تک بہہ رہا تھا. کچھ تو میرے گلے سے اندر چلا گیا تھا اور بہت سارا میرے چھاتی تک بہہ کر آ گیا. میں بےسدھ ہوکر پیچھے کی طرف لیٹ گئی. اور وہ بھی ایک طرف لیٹ گیا. اس درمیان ہم تھوڑی رومانی باتیں کرتے رہے. تھوڑی دیر کے بعد وہ پھر اٹھا اور میرے دونوں طرف ہاتھ رکھ کر میرے اوپر جھک گیا. پھر اسنےمجھے اپنے اوپر کر لیا اور میری برا کی ہک کھول دی. میرے دونوں کبوتر آزاد ہوتے ہی اس کی چھاتی پر جا گرے. اس نے بھی بغیر دیر کئے دونوں ممے اپنے ہاتھوں میں تھام لئے اور باری باری دونوں کو منہ میں ڈال کر چوسنے لگا. وہ میرے مموں کو بڑی بری طرح سے چوس رہا تھا. میری تو جان نکلی جا رہی تھی. تھوڑی دیربعد وہ اٹھا اور میری ٹانگوں کی طرف بیٹھ گیا. اس نے میری چڈی کو پکڑ کر نیچے کھینچ دیا اور دونوں ہاتھوں سے میری ٹانگیں پھیلا کر کھول دی. وہ میری رانوں کو چومنے لگا اور پھر اپنی زبان میری چوت پر رکھ دی. میرے بدن میں جیسے بجلی دوڑنے لگی. میں نے اس کا سر اپنی رانوں کے بیچ میں دبا لیا اور اس کے سر کو اپنے ہاتھوں سے پکڑ لیا. اس کا لنڈ میرے پیروں کے ساتھ چھو رہا تھا. مجھے پتہ چل گیا کہ اسکا لنڈ پھر سے تیار ہے اور سخت ہو چکا میں نےکمال کی بانہہ پکڑی اور اوپر کی اور کھینچتے ہوئے کہا - میرے اوپر آ جاؤ راجہ .. وہ بھی سمجھ گیا کہ اب میری پھدی لنڈ لینا چاہتی ہے. وہ میرے اوپر آ گیا اور اپنا لنڈ میری چوت پر رکھ دیا. میں نے ہاتھ میں پکڑ کر اس کا لنڈ اپنی چوت کے منہ پر ٹكايا اور اندر کو کھیںنچا. اس نے بھی ایک دھکا مارا اور اس کا لنڈ میری چوت میں گھس گیا. میرے منہ سے آہ نکل گئی. میری چوت میں میٹھا سا درد ہونے لگا. اپنے شوہر کے انتظار میں اس درد کے لئے میں بہت تڑپی تھی. اس نے میرے ہونںٹھ اپنے ہوںٹھوں میں لئے اور ایک اور دھکا مارا. اس کا سارا لنڈ میری چوت میں اتر چکا تھا.میرا درد بڑھ گیا تھا. میں نے اس کی گانڈ کو زور سے دبا لیا تھا کہ وہ ابھی اور دھکے نہ مارے. جب میرا درد کم ہو گیا تو میں اپنی گانڈ ہلانے لگی. وہ بھی لنڈ کو دھیرے دھیرے سے اندر - باہر کرنے لگا. کمرے میں میری اور اس کی سسكاریاں گونج رہی تھی. وہ مجھے بےدردي سے پیل رہا تھا اور میں بھی اس کے دھکوں کا جواب اپنی گانڈ اٹھا - اٹھا کر دے رہی تھی. پھر اس نے مجھے گھوڑی بننے کے لئے کہا. میں نے گھوڑی بن کر اپنا سر نیچے جھکا لیا. اس نے میری چوت میں اپنا لنڈ ڈالا. مجھے درد ہو رہا تھا مگر میں سہ گئی. درد کم ہوتے ہی پھر سے دھکے زور زور سے چالو ہو گئے. میں تو پہلے ہی جھڑ چکی تھی، اب وہ بھی جھڑنے والا تھا. اس نے دھکے تیز کر دئے. اب تو مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے یہ کمال آج میری چوت پھاڑ دے گا. پھر ایک سیلاب آیا اور اسکا سارا مال میری چوت میں بہہ گیا. وہ ویسے ہی میرے اوپر گر گیا. میں بھی نیچے الٹی ہی لیٹ گئی اور وہ میرے اوپر لیٹ گیا. میری چوت میں سے اس کا مال نکل رہا تھا. پھر اس نے مجھے سیدھا کیا اور میری چوت چاٹ چاٹ کر صاف کر دی. ہم دونوں تھک چکے تھے اور بھوک بھی لگ چکی تھی. اس نے قریبی ہوٹل میں فون کیا اور کھانا گھر پر ہی منگوا لیا. میں نے اپنے چھاتی اور چوت کو کپڑے سے صاف کیا اور اپنی برا اور پینٹی پہننے لگی. اس نے مجھے رکنے کا اشارہ کیا اور ایک گفٹ میرے ہاتھ میں تھما دیا. میں نے کھول کر دیکھا تو اس میں بہت ہی پیارا، دلکش سوٹ تھا جس کے ساتھ برا وپینٹی بھی تھی جو وہ میرے لئے لایا تھا.پھر میں نے وہی برا اور پینٹی پہنی اور اپنے کپڑے پہن لیے. تبھی بیل بجی، وہ باہر گیا اور کھانا لے کر اندر آ گیا. ہم نے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا. اس نے مجھے کہا - چلو اب تمہیں شاپنگ کرواتا ہوں. وہ مجھے مارکیٹ لے گیا. پہلے تو میں نے شادی کے لئے شاپنگ کی، جس کا بل بھی کمال نے دیا. اس نے مجھے بھی ایک بے حد خوبصورت اور قیمتی کپڑوں کا جوڑا لے کر دیااور بولا - جب اگلی بار ملنے آؤگی تو یہی جوڑا پہن کر آنا۔پھر وہ مجھے بس اسٹینڈ تک چھوڑ گیا اور میں بس میں بیٹھ کر واپس اپنے گاؤں اپنے گھر آگئی۔۔شادی پر میرے شوھر گھر ائے وہ ایک ھفتہ ھی ٹھر سکے جس میں سے دو دن ھم نے سیکس کیا اسنے ایک عادت یہ پکڑلی تھی کہ سیکس کرتے ھوئے چماٹیں مارتاتھا جو کہ مجھے بھت بری لگتی تھیں وہ گانڈ مارنے کی کوشش کرتا رھا میں مسلسل منع کرتی رھی۔مگر آخری رات اس نے غصے میں مجھے مارا بھی اور گانڈ میں بھی لن ڈال گیا مجھےتکلیف دے کرگیا۔۔۔ پھلے مجھے چوت میں خارش تھی اب تو رہ رہ کر اسکا گانڈ میں زبردستی لن ڈالنا اوپر سے تھپڑیں مارنا یاد آتا تھا۔ جس سے مجھ میں انتقام کا جذبہ بڑھنے لگا اسکے بعد تو ھم کمال سے روزانہ فون پر باتیں کرتے تھے سسر کے آنے جانے کے اوقات کار کو دیکھ کر اپنی ملاقات رکھ لیتے۔ایسے ھی ایک ملاقات کے دوارن ھمارا گھر کا دروازہ اچانک سے کھلا اور آنے والے نے ھمیں ننگا ایک دوسرے میں پیوستہ پایا۔۔۔ لیکن۔۔۔۔ جاری ھے
  12. ھا ھا ۔۔۔۔ جعلی لائیسنس والے ۔۔۔۔ جب جھاڑ اڑائیں گے تو ھم جیسے پیدل بھی انکو کراس کرھی جائیں گے۔۔۔۔ھاھا۔۔۔ بنڈل اف تھینکس۔۔۔ اج رات بارہ بجے کے بعد نئی دیگ اتر رھی ھے۔۔۔۔ پڑھ کر کمنٹ کریں لازمی ۔۔۔۔ کہ کیسے لگی۔ بارانی کی۔۔۔۔۔ نئی بریانی۔
  13. جگ پانی دا تے تولیہ نال رکھیں ۔۔۔۔ اج راتی بارہ بجے پھر۔۔۔۔ آ آ ھو۔۔۔۔
  14. کیڑا شاہ جی۔۔۔۔ اسیں اپ۔۔۔۔ کھل کے بول او منڈیا۔۔۔۔شرمانا کاتوں اے۔۔۔۔ ایتھے سارے ھتھ چہ ۔۔۔۔ہڑی بیٹھ ن۔۔۔۔ مبائیل یار۔۔۔ پرلے پاسے نہ جائیں
×
×
  • Create New...