Jump to content
Private Cloud Activation Last Date 01-10-2020 After Last Date Not include Previous Purchase in your Private Cloud ×
URDU FUN CLUB
Private Cloud Activation Last Date 01-10-2020 After Last Date Not include Previous Purchase in your Private Cloud

Barani

Writers
  • Content Count

    403
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    29

Barani last won the day on September 17

Barani had the most liked content!

Community Reputation

503

5 Followers

Profile Information

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. کام جاری ھے۔۔۔۔ کئی سربستہ راز۔۔۔۔طشت ازبام ھونے والے ھیں
  2. شکراً ۔۔۔چس لکھنے کو چرس پینی پڑتی ھے۔۔۔ لکھنے والے کو ۔۔۔۔ تصوراتی طور پر۔۔۔۔یار۔۔۔۔۔ دعائیں دینے کا شکریہ۔۔۔۔ کام جاری ھے ۔۔۔ عنقریب منظر عام پر۔۔۔ آجائیگی۔
  3. یہ سب ۔۔۔ایڈ من صاحب کی حوصلہ افزائی کی بنا پر ممکن ھوسکا ھے۔۔۔۔شکریہ۔۔۔۔ آپکے کمنٹس کا ۔۔۔۔۔۔ اگلی قسط آخری ھوگی
  4. شکراً۔۔۔۔۔ اگلی قسط آخری ھوگی۔۔۔اس میں بھرپور چس ھے
  5. فجا میراثی بیمار ہو گیا تو گاؤں کے ڈاکٹر کے پاس گیا تو اس نے بہت زیادہ فیس مانگی۔ بڑی منتیں کرنے پر بھی ڈاکٹر نے اسے رعایت نہ دی اور پورے پیسے لئے۔ جب وہ صحت یاب ہوگیا تو ڈاکٹر کی زیادتی پر فجے کو بہت زیادہ غصہ آیا اس نے ڈاکٹر کا ایک جھوٹا قصہ بنایا اور گاؤں کی چوپال میں سنانے لگ گیا۔۔ فجا میراثی کہنے لگا کہ جب میں بیمار ہوا تھا اور ڈاکٹر بشیر سے علاج کروا رہا تھا تو میں نے خواب دیکھا کہ میں مر گیا ہوں اور مر کر اوپر پہنچ گیا ہوں ، وہاں بہت سے لوگ جو اس دن فوت ہوئے تھے پہنچے ہوئے تھے ۔ وہاں پر جنتیوں اور دوزخیوں کے ناموں کی لسٹ لگی ہوئی تھی لوگ اپنا نام پڑھ پڑھ کر جنت اور دوزخ میں جا رہے تھے ، میں بھی لسٹ کی طرف گیا ، مجھے پتہ تھا کہ میں نے زندگی میں کوئی نیک کام نہیں کیا اس لیے میں نے دوزخ والی لسٹ میں اپنا نام تلاش کرنا شروع کیا تو مجھے اپنا نام فجا میراثی کہیں بھی نظر نہ آیا ، مجھے بہت خوشی ہوئی کہ میں دوزخی نہیں ہوں اب میں خوشی خوشی جنتیوں والی لسٹ پڑھنے لگا لیکن میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ میرا نام وہاں بھی موجود نہیں ، میں بہت پریشان ہوا اسی پریشانی میں مجھے گاؤں کے چوہدری صاحب ملے جو کافی عرصہ پہلے فوت ہوگئے تھے انہوں نے مجھے دیکھتے ہی کہا اوئے فجے میراثی تم یہاں کیا کر رہے ہو میں نے انہیں سارا ماجرا بتایا کہ میں آج ہی مر کر یہاں آیا ہوں لیکن میرا نام نہ جنت والوں کی لسٹ میں ہے اور نہ دوزخ والوں کی میں بہت پریشان ہوں چوہدری جی نے کہا اوئے فجے تم بھی گاؤں کے ڈاکٹر بشیر سے علاج تو نہیں کروایا ، وہ وقت پورا ہونے سے چار سال پہلے ہی بندہ مار دیتا ہے ، مجھے خود دو سال ہوگئے باہر پھرتے ہوئے ابھی تک میرا نام لسٹ میں نہیں آیا۔
  6. قاتل حسینہ والی تھریڈ میں جا کر ہڑھ ۔۔۔۔یار
  7. مزہ آگیا۔۔۔ تو صبح اٹھ کر نہا بھی لینا۔۔۔۔ھھھھا
  8. صبر جمیل۔۔۔۔۔ نہی تو۔۔ درد شدید
  9. Thanks for comnt... We read more action and thirl in the next & last
  10. وضاحت کردے بھائی۔۔۔۔ کھانی میں۔۔۔۔ دم ۔۔۔د ۔پر زبر کے ساتھ۔۔۔۔ یا دم۔۔۔۔د پر پیش کے ساتھ۔۔۔۔ ھھا ھھا۔۔۔۔ اگلی قسط آخری ھوگی
  11. Thnx....apki frmaish pr aik qist awr brhadee....hai
  12. ۔۔۔ قاتل حسینہ ۔۔۔اپڈیٹ کر دی گئی ھے دوستو۔۔۔۔۔۔۔۔بارانی ۔۔۔۔ ٹ
  13. قاتل حسینہ اپڈیٹ۔۔۔5 شاکر نے بھانجے کے ساتھ مل کر ماسٹر کے کمرے سے شک کی پہلی اینٹ ھاتھ کر لی تھی، جسکا ماسٹر کو اگلے دن احساس ھوا کہ لکھے گئے خطوط اور اگلی قسط میں جو بات بھی ھم نے لکھنی تھی وہ رف پیجز ان کے ھاتھ لگ گئے تھے، اور سب سے بڑی بات ھینڈ رائٹنگ کی تھی۔ بھر حال اگلے دن شاکر نے گاؤں کے دوسرے لوگوں میں اس بات کا ذکر کرنا شروع کردیا کہ شبیر کے ساتھ کچھ غلط ھوگیا ھے۔ بھرحال ابھی تک کسی کہ جرات نہہ ھورھی تھی کہ مجھ سے بات کرتے، صرف پیٹھ پیچھے باتیں ھو رھی تھیں۔ اگلے ھفتے ماسٹر کےکمرے میں بھی لوگوں نے آنا جانا شروع کردیا اور کسی دیھاتی نے اسے کہ دیا کہ جو خط شبیر کے آتے ھیں وہ کسی ایک ھی بندے کے لکھے ھوئے ھیں، جو پولیس کو مطلوب ہے۔ ماسٹر غنی گھبراہٹ میں دس دن کی درخواست چھٹی رکھ کر بھاگ گیا، ادھر مجھے چرس کی لت پڑگئی تھی، دو راتیں مشکل سے گزریں کہ نمبر دار چند گاؤں والوں کو ساتھ لیکر سر شام میرے گھر گھس آیا، لگا مجھ سے سوال جواب کرنے ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔میں بھی کافی حد تک سکون سے اس کے سوالات کے جوابات دیتی رھی، لیکن اس بات پر کہ بذریعہ ڈاک آئے ھوئے خطوط اور ماسٹر کےکمرے سے ملے ھوئے لفافے کی رائٹنگ ایک جیسی کیوں لگتی ھے ؟ دوسرا کہ ماسٹر کیوں بھاگ گیا ھے ؟ اور اب آفس میں اپنا تبادلہ کسی اور اسکول کیوں کروارھاھے؟….. میں ان سوالوں سے۔۔۔۔۔۔ لاجواب ھورھی تھی۔ میں نے چائے کی پیالی پکڑاتے ھوئے نمبردار کی انگلی پکڑے دبا کر اسے آنکھ ماری۔ چائے پی کر اس نے سب کو کھا کہ چلو چلیں، اور جاتے وقت جان بوجھ کر اپنےکندھے کا رومال چھوڑ گیا، زرا دیر بعد وہ رومال لینے کے بھانے اکیلا اندر آیا تو میرا ھاتھ پکڑلیا ، میں نےقریب ھوتے ھوئے رات کو اکیلے آنے کا کہ دیا تو اس کی باچھیں کھل گئیں، اسی وقت اس نے مجھے کس کر کچھ دیر تک اپنی بانہوں میں گھیر لیا۔ اس کے بعد اس نے باھر جاکر بات گھمانا شروع کردیا اور سب کو ھدایت کردی کہ بختو اچھی عورت ھے اس پر شک نہیں کریں وہ خود تحقیقات کرے گا۔ دوسری طرف شاکر نے میری نند کو واپس کراچی بھیجا تا کہ وہ اپنے سسرال میں فوجی آفیسر سے بات کرکے تحقیقات شروع کروائے اور پولیس میں کیس درج کروائے۔ مجھے رھ رھ کر ماسٹر پر غصہ آرھا تھا کہ مجھے نشہ کی لت پڑ گئی تھی مجھے ھر روز چرس کی ضرورت تھی تاکہ دماغ پرسکون ھو کر کچھ نیا سوچے، مگر وہ نکما ڈر کر بھاگ گیا تھا۔ بھر حال حسب توقع آدھی رات کو نمبر دار دھوتی باندھے آن وارد ھوا، دروازہ کھول کر جب میں نے اسے گھر اندر گھسا لیا تو اسنے تسلی دی کہ جو اصل بات ھے وہ مجھے بتا دے پھر میں اسے بچالوں گا، لیکن میں نے اپنا راز چھپاتے ھوئے اسے بتایا کہ میں چرس کی عادی ھوگئی ھوں تو اسکا انتظام کروادے ، جو تو بولے گا میں کرنے کو تیار ھوں۔۔ اس نے گھری سوچ کے بعد کھا کہ اتنا تو سچی بتا دے کہ کیا تجھے چرس کی عادت ماسٹر سے لگی ھے، میں نے اقرار میں سر ہلایا تو اس نے کھا کہ بس پھر سمجھ تیرا کام ھوگیاھے، تو مجھے خوش کردے تو میں اسی ماسٹر کو پھر سے گاؤں میں لے آوں گا۔ نمبردار جسکا نام عزیز تھا مگر سب اسکو نمبردار ھی کھتے تھے، ایک نمبر کا خرانٹ آدمی تھا، گاؤں سے باھر اس نے اوطاق بنا رکھی تھی اور شادی نہی کری تھی کہ اسکا کام ادھر ادھر منہ مارنے سے چل رھا تھا، بھرحال نمبردار کرسی سے اٹھ کر میری مخصوص چارپائی پر میرے پاس چلا آیا اور ادھر ادھر کی بونگی مارنی شروع کر دی ۔ باتیں کرتے کرتے اس نے میرے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا، اور مالش کرنے لگا میری نرم کلائی کی، باتیں بھی کرتا رہا ۔ اسنے اچانک میرے ہونٹوں پہ کس کردی میں نے کوی ری ایکشن نہیں دیا تو وہ شیر ہو گیا۔ باتیں کرتے کرتے اب دوبارہ سے ایک ھاتھ اس نے میری گردن پہ رکھا اور ھونٹوں کو لگاتار کس کرناشروع کردیا تھا ۔ میں تھوڑی دیر تو ویسے بیٹھی رہی پھرجب اس نے تیسری بار دوبارہ میرے ھونٹوں کو چوسنا سٹارٹ کر دیاجو مجھے بہت اچھا لگ رھا تھا۔ اب اسنے مجھے پیچھے کی طرف چارپائی پر گرادیا ، اور میرے جسم کی نرمی وگرمی سے وہ بھی مزے کے ساتویں آسمان پہ پہنچا ہوا تھا۔ اس نے میری گردن پہ کس سٹارٹ کی ۔تو وہ میرے بدن کے اوپر تھا اور اسکا لن کبھی میری چوت کے ساتھ ٹچ ہو رہا تھا کبھی پیٹ کے ساتھ۔ وہ میری گردن سے کس کرتا ھوا قمیض کے اوپر سے بوبس پہ آیا تو میرے بڑےبڑے اور روئی کی طرح نرم و ملائم پستان کی تو کیا بات تھی، وہ بھی تعریفیں کرنے لگا۔ اب اس سے رھا نہیں جا رہا تھا۔ اسں نے میری قمیض اوپر کی اور سفید پیٹ کو دیکھ کہ پاگل ہو گیا اور اسے چومنا اور چاٹنا شروع کر دیا۔ وہ پاگلوں کی طرح میرے پیٹ کو پیار کر رہا تھا۔ اس نے اب ایک ھاتھ سے میری قیمیض کو اوپر کرنا سٹارٹ کر دیا اب کی دفعہ میں نے نہیں روکا۔ اب نمبردار نے تھوڑی سی قیمیض اور اوپر کی تو میں نے اپنی کمر کو اوپر کر کے قیمیض اتارنے کا اشارہ کر دیا۔ میں نے بھی جلدی سے اس کی قیمض اتار دی۔ میں نے اس دن بلیک رنگ کا براہ پہنا ہوا تھا۔ جس سے میرے بوبس باہر آنے کو تڑپ رہے تھے۔ نمبردار نے ایک جھٹکے سے بختوکا بریزیر اوپر کیا اور دونوں ہاتھوں سے دونوں بوبس کو دبانے لگا۔ اف اتنے نرم وگرم۔۔۔ کہتے ھوئے وہ اور زور زور سے دبا رھا تھا۔ میں کہتی بھی رھی کہ آرام سے یار۔۔۔۔ پھر اس نے دائیں پستان کو اپنے منہ میں لے لیا اور بائیں کو ہاتھ سے دبا رہا تھا۔ اب میں بھی آہستہ آستہ مزے کی آوازیں نکال رہی تھی جو اسکو سمجھ نہیں آرہی تھی۔ نمبردار کبھی دائیں پستان کو منہ میں لیتا کبھی بائیں کو 10 منٹ تک وہ میرے یعنی بختو کے پستان کو سک کرتا رہا ۔ پھر پستان کو سک کرتا ھوا نمبر دار میرے منہ کی طرف آ گیا اور میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے لیا۔ میں بھی اب کسنگ کا فل رسپانس دے رہی تھی۔ اب وہ اپنا ایک ھاتھ میرے پیٹ پہ پھیرتا ھوا نیچے کی طرف لے آیا۔جب اسکا ھاتھ پھدی کے اوپر آیا تو وہ جگہ گیلی ھوچکی تھی۔ اب زرا دیر بعد نمبردار میری ٹانگوں میں بیٹھا ھوا تھا اس نے جیسے ھی۔میری شلوار میں ھاتھ ڈال کے نیچے کرنے لگا تو میں نے اسکا ھاتھ پکڑ لیااور کہتی رھی کہ ابھی نہی زرا صبر کرو۔ نہ نہ شلوار اتارو۔ اور اسے بازو سے پکڑ کے اپنے اوپر کر لیا۔ اور میں اسکی قمیض کے بٹن کھولنے لگ گی۔ پھر اس نے الٹا لیٹنے کو کہا تو وہ میری پیٹھ پر ھاتھ پھیرتا میری گانڈ سے کھیلنے لگ گیا کبھی ایک پاسے کو پکڑتا کبھی دونوں کے درمیان ھاتھ پھیرتا کبھی انگلی رکھ کر سوراخ کو چیک کرتا کافی دیر الٹا لیٹنے کے بعد میں سیدھی ھونے لگی۔ ادھر جگہ کم ہے زمین پر لیٹتے ھیں تو میں نے کھا کہ میں چداونگی تو اسی چارپائی پر، مجھے ادھر ھی مزہ آتا ھے، پھر اسے لبھانے کی خاطر میں الٹا لیٹ گیی۔ اب اس نے میری گردن پہ کسنگ سٹارٹ کر دی۔اور کسنگ کرتا ہوا کمر پہ آگیا اور اسی طرح کسنگ کرتا ہوا نیچے آتا گیا۔ اب اس نے بٹک پہ پھر سےکسنگ سٹارٹ کردی اور کبھی زبان اسطرح سے گانڈ کی لائن میں پھیرتا کہ میں مزے سے تلملا جاتی تھی۔ نمبردار اب میری پھدی دیکھنے کے لیے بیتاب ہو رہا تھا۔ اس کو فیقے نے میرے متعلق بھت کچھ بتا دیا تھا، اور جب اس نے پھر سے مجھے دونوں ھاتھوں سے سیدھا کیا ۔ تو میں جیسے ہی سیدھی ہوئی میں نےاپنی ٹانگوں کو جوڑ لیا۔ اس نےجب میری ٹانگوں کو کھولا تو میں شرمانے کی ایکٹنگ کررہی تھی، میں نے ایک ہاتھ اپنی چوت پر رکھ دیا اور پاوں کی مدد سے بھی چوت چھپالی یا راستہ بند کردیا۔ نمبر دار میرے سامنے بلکل ننگا تھا اور اسکا لن میری پھدی میں جانے کے لیے تڑپ رہا تھا۔ جبکہ میں بلکل ننگی اسکے سامنے لیٹی ھوی نخرے کررھی تھی، میری چوت گیلی تھی۔ کچھ دیر وہ میرے نخرے برداشت کرنے کی کوشش کرتا رھا اور لگا میری تعریف کرنے کہ۔۔۔ پورے گاؤں میں تیری جیسی مٹیار نہی، کیا ریشمی بدن ھے تیرا۔ اب اس نے میری ٹانگوں پر ھاتھ پھیرنا شروع کیا مجھے گرم کرنے کے واسطے، آخر کار میں نے ٹانگیں کھول ھی دیں تو پھر اس نے ایک ھاتھ سے اپنے لن کو میری پھدی پہ سیٹ کیا اور لن کو اندر کی طرف پش کیا پھدی گیلی تھی جس کی وجہ سے لن آسانی سے اندر گیا۔ جیسے لن اندر گیا تو میں نے ہلکی سی آہ اوہ کی آوز نکالی اسں نے اپنا منہ میرے منہ پہ رکھ دیا تاکہ زیادہ آواز نہ نکلے۔ پھر ایک اور جھٹکا مارا اور پورا لن اندر چلا گیا۔ جس پر بھی میں نے تڑپنے کی اداکاری کی جس سے وہ اپنے آپ کو بڑا چودو سمجھنے لگا ۔۔۔ لگا شیخیاں مارنے کہ۔میں نے فلاں کی بیوی کو بھی چودا ھے تو فلاں چوھدری کی نوح کی بھی لے لی ھے۔۔۔۔ لیکن بختو تیری تو پھدی ھی ٹیٹ ھے فیقا نے پھر کیسے مشین چلائی ھے۔۔جو ابھی تک تیری پھدی تنگ ھے واہ کیا مزہ ھے ۔ لیکن فیقا تیری تعریفیں بڑی کرتا ھے۔۔۔پھر اس نے اپنے تیئں زور زور سے جھٹکے مارنے شروع کر دیے اب اسکے جھٹکوں کا میں بھی جواب دے رہی تھی۔ پھر اچانک میں نے اسکے لن کو زور سے چوت میں بھینچا اور 3 سیکنڈ بعد چھوڑ دیا۔ اسکو بھی ساکن کردیا میں نے ۔۔۔ پھر وہ لگاتار جھٹکے مارتا رہا جب فارغ ہونے پہ آیا تو ڈکرانے لگابولتا بختو دل کرتا کے اپنے ٹٹوں کو بھی اندر گھسا دوں۔ میں بولی ڈال سکتے تو ڈالدو میں نے کب منع کیا ھے پھر چوت کے اندر ہی فارغ ہو گیا اور بے سدھ ہو کے میرے پے ڈھے گیا پھر اسکالن آہستہ آہستہ سکڑ کے باہر نکل آیا۔ کچھ دیربعد اوپر سے ہٹ کے ایک طرف ہو گیا۔ اس نے زرا دیر بعد اب لیٹے لیٹے ایک ٹانگ میرے جھانگوں کے اوپر رکھی اور میرے بوبس سے کھیلنے لگ گیا۔ دودھیا رنگ کے ممے اسے بہت پیارے لگ رہے تھے اس نے بوبس کو مسلنا شروع کر دیا اور ادھر کچھ ھی دیر میں لن دوبارہ کھڑا ھو گیا۔ میں نے اسکی تعریف کرتے ھوئے کھا کہ واہ جی شیر تو پھر تیار ہو گیا ہے اس نے کہا تم ہو ہی اتنی پیاری اس میں شیر کا کوئی قصور نہیں۔ اس نے میرے مموں کو منہ میں لے کے سکنگ شروع کر دی اتنی دیر میں میں نے سگریٹ پی لی تو دوبارہ گرم ہو گئی۔ اب کے وہ اوپر لیٹ کے مموں کو منہ میں لے رہا تھا اور پورا مما منہ میں ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا جس میں کسی نہ کسی حد تک کامیاب بھی ہو رہا تھا۔ میں اسکے سر پہ ہاتھ رکھ کے نیچے کودبا رہی تھی۔ اور نیچے سے اوپر ہو کے اپنی پھودی کو لن کے ساتھ مسل کے اندر لینے کی کوشس کر رہی تھی۔ وہ جان بوجھ کے اندر نہیں کر رہا تھا اور مجھے تڑپا رہا تھا۔ پھر اسے سائیڈ پہ کر کے میں اسکے اوپر آ گئی۔ اب پوزیشن یہ تھی کے میں اسکے لن کے اوپربیٹھی تھی۔ اب میں نے اسکے سینے پہ کسنگ سٹارٹ کر دی پھر میں تھوڑا سا اوپر ہوئی اور لن کو سیدھا کر کے اوپر بیٹھ گئی، لن کڑچ کر کے پھر سے میری چوت میں اندر گیا اور میرے منہ سے ہلکا سا اوئی نکلا پھر میں اوپر نیچے ہونا شروع ہوگئی۔ وہ دونوں ہاتھوں سے میرے ممے دبا رہا تھا، اچانک میں نے اپنی سپیڈ تیز کی اور پھر یکدم روک دی تب اس نے مجھے کو سائیڈ پہ کرکے لٹادیا اور اٹھ کر میری ٹانگوں کے درمیان آگیا۔ اب اس نے میری ٹانگیں اوپر اٹھائیں اور لن کو پھدی پہ رکھ کے پش کر دیا۔ میں 10 منٹ تک اسی طرح چدائی کراتی رہی اتنے میں ایکبارپھر فارغ ہو چکی تھی، لیکن خرانٹ نمبردار فارغ ہی نہیں ہو رہا تھا ۔ کچھ لمحوں بعد مجھےایسا لگا کہ اچانک سے اس میں بہت سا جوش آگیا۔ اس نے زور زور سے جھٹکے مارنے شروع کردئیے۔۔ کچھ دیر بعد وہ پھرسے میرے اندر ہی فارغ ہو گیا۔ پھر اٹھا کپڑے پہنے اور بولا واہ بختو مزہ آگیا۔۔۔۔ اب تو بتا کیا چاھتی ھے۔۔۔ مجھے نا۔۔ حکم کر تو بس۔۔۔۔ تو نا بس میری راتوں کو رنگین کردیا کر باقی میں جانوں تو پنڈ والے جانے۔۔۔۔ تیرے چرسی یار کو بھی واپس بلوالوں گا تاکہ تیرا نشہ بھی نہ ٹوٹے۔۔ ۔ باقی کراچی والوں سے ھشیار رھنا ۔۔۔ میں نے کھا کہ شاکر پنجاب سے ھمارے بیچے ھوئے مکان کے دو لاکھ روپے لایا ھے ، لیکن مجھے نہی دے رھا۔ اسکا کچھ کردے اس شاکر کنجر سے پیسے دلوادے اور تو دن میں چکر مارلیا کرنا باقی جب میں اشارہ کردوں اس رات آجایا کرنا۔۔۔ نمبردار کے آنے جانے سے گاؤں والوں پر اب میرا رعب پڑنے لگا، لیکن جو عورتیں اسکی خصلت سے واقف تھیں وہ تو سمجھ گئی کہ نمبردار کی رکھیل بن گئی ھے بختو۔۔۔۔ بدقسمتی ماسٹر کی جس دن اسکا تبادلہ کھیں اورھونا تھا، نمبردار بھی مجھے ساتھ لیکر اسی دن آفس پھنچ گیا تھا ، اس نے ماسٹر کی آفیسر کے سامنے اتنی تعریفیں کردیں کہ دیکھو جی گاؤں والے بھی اسکے واسطے آفس چل کر آگئے ھیں۔۔ نیا بدلی کا آرڈر کینسل کرکے،ماسٹر غنی کو ھمارے ساتھ ھی نمبردار کی ھی گاڑی میں روانہ کردیاگیا ۔ سارے رستے نمبردار اسے تسلیاں دیتا رھا کہ کچھ نہی ھوا گاؤں والوں کی باتوں میں نہ آیا کر میں ھوں نا۔۔۔۔ تو بس بختو کو چرس پلایا کر خرچہ میں دے دیا کروں گا۔۔ موالی کو آسرا ملا۔۔۔۔ چرس۔۔۔ کا تو خوش ھوگیا۔۔۔ نادان۔۔ شاید یہ کوئی چھٹے دن کی بات ھے جب اچانک سے پولیس نے گھر کا گھیراؤ کیا، اور زرا سی دیر میں لیڈیز پولیس کتوں کو لیکر گھر اندر داخل ھوئیں۔۔۔ تو تین فوجی بھی ساتھ تھے۔۔۔۔ فیقہ ۔۔۔شاکر ۔۔۔۔ شبیر کا بھانجا۔۔۔ نمبردار بھی زرا دیر میں آپہنچا۔ الغرض کتوں کی وجہ سے سارا گاؤں ھی اکٹھا ھوگیا۔۔ ۔ ایس ایچ او کی تو فوجی نے وہ بے عزتی شروع کردی کہ توبہ۔۔۔ گاؤں والوں کے سامنے کہ کتنے دن سے تجھے کھا ھے تو نے ابھی تک تفتیش کے نام پر ایک دورہ بھی نہی کیا گاؤں کا۔۔۔۔ اس نے کھا کہ جی نمبردار نے ضمانت دی تھی کہ وہ ساری معلومات کرکے مجھے اطلاع دے گا۔۔۔۔ تو میں خاموش تھا اور اب آپ خود آگئے ھیں تو سب ٹھیک ھو جائے گا ۔۔ کتوں کے بھونکنے سے میرے تو رنگ ھی اڑ گئے تھے۔۔۔۔ بلیک ھاونڈز تھے اونچے قد بڑے بڑے جبڑے پھاڑ کے جب وہ بھونکے تو گاؤں والوں کا جم غفیر جمع ھوگیا۔ میجر روف نے پھلے سب کے سامنے تقریر کرتے ھوئے کھا کہ میرا رشتہ دار شبیر کئی دنوں سے لاپتہ ھے اگر کسی کو اس کے بارے میں علم ھے تو بتا دے ۔۔۔۔ورنہ بعد تفتیش کے میں نے کتے چھوڑ وادینے اس پر ۔۔۔ ماسٹر بھیڑ میں سے کھسکنے لگا، شاکر نے فوجی کو اشارہ کیا تو اس نے گریبان سے پکڑ کر کتوں کے پاس لاکھڑا کردیااسے۔ اسکی تو گھگھی بندہ گئی لگا کانپنے ایسے میں نمبردار نے بات کو سنبھالا کہ۔۔۔ صاحب جی دیکھو ایسے کسی پر الزام۔مت لگائیں گاؤں والوں نے شبیرکو آتے نہی دیکھا۔۔۔ اب اگر آپ کتے لے ھی آئیں ھیں تو یہ سب کچھ ظاھر کردیں گے۔۔۔۔ تماشہ لگانے کی کیا ضرورت ھے۔۔۔ جو جواب دار ھوں گے وہ ظاھر ھوجائیں گے قانون والے آپکے ساتھ ھیں ۔ شاکر تو جل بھن گیا وہ میری طرف اشارہ کرتے بولا کہ یہ وہ گشتی عورت بختو ھے، اسی نے کچھ کیا ھوگا اپنے یاروں کے ساتھ مل کر۔جسے چاھے رات کو بلوالیتی ھے ۔۔۔۔ اس بات پر نمبردار لڑنے پر آمادہ ھوگیا تو سارے گاؤں والوں پر الزام لگاتا ھے۔ تو بھی تو ھوکر گیا ھے اسی در سے مکھن کھا کر گیا ھے۔ جمیل ان کے پڑوسی سے جو تو دو لاکھ روپے لایا ھے، وہ دے کیوں نہی دیتا۔۔۔ رن بے چاری کو۔۔۔۔ صاحب جی کیا پتہ اس نے رقم کے تقاضے پر ھی شبیر کو ۔۔۔کھڈے لائن لگا دیا ھو۔۔۔ اور اب ھم شریفوں پر الزام لگا رھا ھے، میں نے بھی موقع دیکھ کر صاحبوں کے سامنے چادری اتاری، تو پہلی دفعہ ایس ایچ او کی آنکھوں میں ھوس کی ڈوریں ھلتی نظر آئیں مجھے، اس نے نمبردار کے کان میں بھی کچھ سرگوشی کی۔۔ میں رونے لگی کہ ایک تو میرا خصم لاپتہ ھے اور اس پر اب بدچلنی کے الزام بھی مجھ پر لگائے جارھے ھیں ۔۔۔میں بولی کہ صاحب جی یہ شاکر نے چاچے فیقے کے سامنے بتایا تھا کہ یہ ملتان سے ھمارے بیچے گئے مکان کے دولاکھ روپے لیکر آیا ھے، لیکن مجھے نہی دے رھا کہتا کہ شبیر کو ھی دوں گا۔ اب شاکر کی پھرنیاں بن گئی تھیں، لگا آئیں بائیں شائیں کرنے کہ میں نے کب کھا کہ میں۔ رقم لایا ھوں۔۔۔ میں نے کھا کہ صاحب جی میں پتہ نہی کیسے مشکل سے گزارے کرتی ھوں ۔۔۔۔ مجھے پتہ ھے۔۔ لیکن یہ شاکر کھتا کہ میں تجھے پیسے نہی دوں گا۔۔۔۔ اور اس بھانے دو تین دفعہ کھانابھی کھا گیا ھے۔۔۔ اوراب دوسری الزام تراشیاں کرکے ھمارے دو لاکھ پھبانے کے چکر میں لگتا ھے۔ بھرحال کتوں کو سونگھانے کے واسطے انھوں نے کپڑے مانگے تو میں نے صندوق سے نیا جوڑا نکال کر دیا، تو کتوں کے ٹرینرز نے اس پر اعتراض کردیا کہ یہ تو صابن سے دھلے ھوئے ھیں۔ اس میں تو پسینے کی بو نہی آتی تو کتے اسکی نشاندہی کیسے کریں گے۔ میں نے کھا کہ صاحب جی میرا خصم تو چھ ماہ سے گھر نہی آیا جو بھی پرانے کپڑے ھیں وہ تو میں سب دھو چکی ھوں۔ اتنے عرصے تک تو میں گندے کپڑے نہی سانبھ سکتی نا۔۔۔۔ نمبردار اور ماسٹر غنی کے علاوہ سب کے چھروں پر مایوسی چھاگئی۔ لیکن شبیر کے بھانجے نے اپنے ساتھ لائے گئے تھیلےسے شبیر کا جوڑا نکال کر روف صاحب کے سامنے پیش کردیا۔۔۔۔۔ تو اب میرے اوسان خطا ھونے لگے۔
  14. Admin apki sahih rehnumai krskta hai bhai..... Sorry k wo mery pass b saved nhi....
×
×
  • Create New...