Jump to content
Private Cloud Activation Last Date 01-10-2020 After Last Date Not include Previous Purchase in your Private Cloud ×
URDU FUN CLUB
Private Cloud Activation Last Date 01-10-2020 After Last Date Not include Previous Purchase in your Private Cloud

Rizy.b

Active Members
  • Content Count

    8
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    1

Rizy.b last won the day on September 16

Rizy.b had the most liked content!

Community Reputation

18

About Rizy.b

  • Rank
    Rizooo

Profile Information

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. قسط نمبر 2۔ اول چوہدری باسط اور عابد گاؤں نور پور چوہدری ریاض کے چہلم پر پہنچے چوہدری باسط اپنی ماں اور اپنے چچا ربنواز کے گلے لگ کر بہت رویا اور کافی دیر تک روتا رہا عابد چوہدری باسط کا بچپن کا دوست تھا اس کے والدین بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے اس لیے اسے بھی چوہدری ریاض نے ہی اپنے بیٹے کی طرح پالا تھا عابد کے لیے چوہدری ریاض باپ سے بڑھ کر تھا۔ عابد کی ایک بڑی بہن بھی تھی جس کی شادی بھی چوہدری ریاض نے اپنے رشتے داروں میں کی تھی وہ بھی ساتھ کے گاؤں میں ہی رہتی تھی ۔ کچھ دیر کے بعد باسط نے اپنی چھوٹی بہن کے بارے میں پوچھا تو ایک اور طوفان کا سامنا کر پڑا کہ وہ اپنی عزت کھو کر لاہور ہسپتال پڑی ہے باسط کے ساتھ ساتھ عابد کا خون بھی کھولنے لگا انہوں نے بہت زور لگایا کہ انہیں پتہ لگ جائے کہ یہ حرکت کس کی ہے لیکن ربنواز نے کچھ نہیں بتایا اور دو دن کے بعد ہی باسط عابد اور باسط کی والدہ کو لے کر لاہور چلا گیا کہ باسط کی والدہ ادھر محفوظ نہیں اس لیے وہ لاہور جا کر اپنی عدت پوری کر لے گی ۔لاہور پہنچ کر باسط اور عابد چھوٹی بہن کے گلے لگ کر بہت روئے ۔ چوہدری ربنواز ایک ذہین اور زمانہ شناس انسان تھا اسے پتہ تھا کہ وہ انگریزوں سے نہیں لڑ سکتے اس لئے اس نے باسط کو جلد ہی واپس بھیج دیا۔لیکن اس دوران عابد کو اس کی بڑی بہن سے سارے واقع کا پتہ چل گیا عابد ہوش سے کا لینے والا بندہ تھا اسے پتہ تھا کہ اگر اس بات کی بھینک باسط کو لگ گئی تو اس نے ہوش کھو بیٹھنا ہے اس لئے عابد نے اسے کچھ نہیں بتایا اور یہ دونوں پندرہ دن کے بعد ہی انگلینڈ واپس آ گئے عابد دو مہینے بعد وکالت کے پیپر دے کر فارغ ہو گیا جبکہ باسط کی ڈاکٹری کو ایک سال اور پڑا تھا ۔عابد باسط کو لاہور میں جا کر وکالت کرنے کا کہہ کر لاہور واپس آ گیا اور اس نے ربنواز کے ساتھ وکالت کرنا شروع کر دی عابد بہت ہی ذہین انسان تھا اس نے دو سال محمد علی جناح کے ساتھ بھی وکالت کی اس نے ان جیسا ایماندار وکیل نہیں دیکھا تھا ۔ جناح نے اب کھولے عام پاکستان کا لفظ استعمال کر نا شروع کر دیا تھا اس دوران باسط بھی ڈاکٹری پوری کر کے لاہور آ چکا تھا اس نے لاہور میں ایک کلینک کھولا جو کہ انگلینڈ سے آئے ہوئے کسی بھی ڈاکٹر کا پہلا کلینک تھا اور اسی طرح باسط کا شمار بھی لاہور کی مشہور شخصیات میں ہونے لگا محمد علی جناح بھی عابد کے ہمراہ باسط سے ملے اور باسط کو مسلم لیگ میں شمولیت کے لئے کہا اور اس طرح باسط بھی مسلم لیگ کا سر گرم رکن بن گیا اور اس نے بہت سا پیسا بھی مسلم لیگ کو عطیہ کیا یہ ملاقات باسط کی زندگی میں بہت سی تبدیلیاں لے کر آئی ۔ عابد نے چپ چاپ لارڈ جوزف پر چوہدری ریاض کے قتل کا مقدمہ بھی کیا ہو تھا لیکن اس پر باوجود کوشش کے کوئی پیشرفت نہیں ہوئی تھی لیکن عابد نے ہمت نہیں ہاری تھی۔ باسط کی بس ایک عادت خراب تھی وہ یہ تھی کہ اسے گورری چمڑی کی لڑکی کو چودے بغیر سکون نہیں آتا تھا لاہور آئے باسط کو دو سال ہو چکے تھے ان دو سالوں میں اس نے کسی گوری کو نہیں چودا تھا لیکن چودنے کے لئے اس کے پاس پروتی تھی جو دن کو اس کے ہسپتال کا ریسیپشن سنبھالتی اور رات کو اس کی پھودی باسط کے لن کو سنبھالتی پانی تو نکل رہا تھا لیکن باسط کو مزہ نہیں آتا تھا اس لیے وہ ایک گوری کی تاک میں تھا کہ کوئی مل جائے لیکن ہندوستان میں گوریاں بہت کم تھیں اور دوسرا جو تھیں وہ یہاں کے گورنرز اور لارڈ کی بیویاں اور ان کی بیٹیاں تھی اس لئے وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔یہ جون 1943 تھا سات آٹھ دن سے باسط نے پھودی نہیں لی تھی کیونکہ پروتی کسی رشتے دار کی شادی پر گئی ہوئی تھی باسط کا لن آج صبح سے کھڑا تھا اسے پروتی کا بے چینی سے انتظار تھا دوپہر دو بجے دروازا کھولا اور پروتی آفس میں داخل ہوئی تو باسط نے اسے دیکھتے ہی کیا باسط: پروتی آؤ آؤ کہاں رہ گئی تھی اتنے دن میں تو بہت تنگ ہو جاتا ہوں یہ کہہ کر وہ اٹھا اور پینٹ اتارتے ہوئے باسط: چلو جلدی سے دروازے کی کنڈی لگاؤ اور آ جاؤ پروتی نے دروازے کی کنڈی لگائی اور باسط کے پاس آ کر نیچے بیٹھ گئی اور باسط کا نو انچ کا لن پکڑ کر مٹھ مارنے لگی اور پھر تھوڑی دیر کے بعد لن کو منہ میں ڈال کر چوسنے لگی لن کی موٹی ٹوپی ہی وہ منہ میں لے سکی باسط مزے میں ڈوبا آنکھیں بند کر کے کھڑا تھا کچھ دیر بعد باسط نے اسے کپڑے اتارنے کا کہا اور اپنی بھی شرٹ اتار دی لیکن پروتی ایک طرف ہو کر کھڑی ہو گئی اور بولی پروتی : ڈاکٹر صاحب آپ بھول رہے ہیں آج 9 تاریخ ہے باسط سر پکڑ کر بیٹھ گیا کیونکہ اسے یاد آ گیا کہ 8 سے پروتی کے پریڈز شروع ہو جاتے ہیں پروتی بات جاری رکھتے ہوئے پروتی: ہر ماہواری کی طرح میں ہاتھ سے فارغ کر دیتی ہوں آپ کو باسط: لیکن میرا تو آج پھودی کے بغیر گزارہ نہیں ہو گا پروتی : تو ایک کام ہو سکتا ہے باسط : وہ کیا تمہیں تو پریڈز ہے تو پروتی : اگر آپ بولو تو میں رادھا سے بات کرو مجھے امید ہے کہ وہ پھودی دے دے گی آپ کو باسط نے رادھا کا سن کر برا سا منہ بنایا کیونکہ وہ کالی کالوٹی اور بلکل پتلی لڑکی تھی بس ایک کام کی چیز یہ تھی کہ وہ صرف اٹھارہ سال کی تھی اور ہسپتال میں صفائی کا کام کرتی تھی ہسپتال کا بس تین لوگوں کا ہی عملہ تھا باسط : ایک تو وہ مجھے پسند نہیں اور نمبر 2 وہ ابھی چھوٹی ہے پروتی : ڈاکٹر صاحب وہ اٹھارہ سال کی ہے اور میں کون سا آپ کو پسند ہوں آپ نے بس پانی ہی تو نکالنا ہے باسط : کیا وہ کنواری ہے پروتی : نہیں ہمارے ہاں لڑکی کی سیل اس کے جوان ہونے سے پہلے ہی کوئی نہ کوئی توڑ دیتا ہے باسط کا لن دوبارہ کھڑا ہونا شروع ہو گیا تو پروتی مسکر کر باہر نکل گئی پانچ منٹ کے بعد ہی وہ واپس آ گئی اس کے ساتھ رادھا تھی جو بلکل ننگی تھی اور کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر ڈاکٹر کے لمبے اور موٹے لن پر پڑی تو اس کی آنکھوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی لیکن پروتی اس کا بازو پکڑ کر اس باسط کے پاس لائی اور خود بھی اس کے سامنے زمین پر بیٹھ گئی اور رادھا کا بازو کھینچ کر اسے بھی اپنے ساتھ بیٹھا لیا باسط کرسی سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور پروتی نے باسط کا لن پکڑ کر منہ میں ڈال لیا تھوڑی دیر کے بعد اس نے لن منہ سے نکالا اور رادھا کے سامنے کر دیا تو رادھا نے پورا منہ کھولا اور لن کی ٹوپی منہ میں لے لی اس کے چھوٹے سے منہ میں لن کی ٹوپی بھی بڑی مشکل سے پوری آئی باقی لن کو اس نے دونوں ہاتھوں سے پکڑا ہوا تھا باسط مزے کی بلندیوں پر تھا اسے وہ وقت بھی یاد آ رہا تھا جب دو دو گوریاں بیٹھیں اس کا لن چوس رہی ہوتی لیکن گوریاں نہ سہی لڑکیاں اب بھی دو ہی تھیں باسط کو لن چوسواتے ہوئے دس منٹ ہو گئے تھے تو اس سے رہا نہ گیا اس نے رادھا کو کھڑا کیا اور اپنے میز کی طرف اس کا منہ کر کے اس کاسر نیچے کیا تو اس نے سر میز پر رکھ دیا اور اس کی پھودی جو کہ پلکل سامنے نظر آ رہی تھی اس پر ہاتھ پھیرا تو پروتی نے باسط کا لن رادھا کی پھودی پر رکھا اور دو تین بار اوپر نیچے کیا تو لن جیسے ہی سوراخ پر آیا تو باسط نے ہلکا سا جھٹکا دیا تو لن کی ٹوپی پھودی کے سوراخ میں پھنس سی گئی اور رادھا کے منہ سے ہلکی سی درد بھری سسکی نکلی تو باسط نے پروتی کو اشارے سے باہر جانے کا کہہ دیا تو وہ اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئی باسط نے رادھا کے کولہوں کو پکڑ کر زور دار جھٹکا دیا تو آدھا لن پھنستا ہوا اندر کھس گیا اور رادھا کے منہ سے بکری کی طرح کی آواز نکلی اور اس کی آنکھوں سے آنسوں بھی نکل آئے لیکن یہ تو ابھی ابتداء تھی باسط ایک منٹ تک ساکن راہا اور پھر اس نے لن باہر کو کھینچا جب صرف ٹوپی اندر رہ گئی تو اس نے پہلے سے بھی زور سے جھٹکا دیا اور لن جڑ تک رادھا کی چھوٹی سی پھودی میں کھس گیا رادھا کٹی ہوئی بکری کی طرح تڑپنے لگی لیکن باسط پر جنون سا سوار ہو گیا اس نے زندگی میں پہلی بار اتنی گرم اور تنگ پھودی میں لن ڈالا تھا اس نے رادھا کی پرواہ کئے بغیر جھٹکے دینے شروع کر دئے رادھا کی چیخیں باہر تک جا رہی تھیں۔ باہر بیٹھی پروتی کو اندازہ تھا کہ چیخیں آئیں گئی اس لئے اس نے ہسپتال کا مین دروازہ بند کر دیا تھا تا کہ باہر گلی میں آواز نہ جائے ۔ اندر باسط لن رادھا کے اندر باہر کر رہا تھا پانچ منٹ کے بعد باسط نے لن رادھا کی پھودی سے نکال لیا تو رادھا ننگی ہی باہر کو بھاگی لیکن اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور گر گئی تو باسط نے اسے زمین پر ہی سیدھی کیا اور اس کی ٹانگیں کھول کر درمیان آ گیا اور لن رادھا کی پھودی پر رکھا اور پورے زور سے جھٹکا دیا تو لن ایک ہی جھٹکے میں پھودی میں کھس گیا رادھا کی چیخیں پھر شروع ہو گئی لیکن سب سے بے خبر باسط رادھا کی کھدائی کرتا رہا رادھا روتی رہی بس کرنے کا کہتی رہی لیکن باسط کو کسی چیز کی پروا نہیں تھی کچھ دیر کے بعد باسط نے جھٹکوں کی مشین چلا دی اسی دوران رادھا درد کی شدت کی وجہ سے بے ہوش ہو گئی لیکن کچھ دیر بعد باسط نے اپنا پانی رادھا کی پھودی میں ہی چھوڑ دیا اور اٹھ گیا جب لن باہر نکالا تو لن پر خون لگا ہوا تھا ۔ منی دماغ سے اتری تو باسط کو ہوش آیا تو اس نے پروتی کو آواز دی تو دونوں نے مل کر رادھا کو اٹھا کر دوسرے کمرے میں پڑے بیڈ پر لیٹا دیا اور اس کی حالت دیکھ کر باسط بھی کھبرا گیا تو اس نے جلدی سے دو ٹیکے اسے لگائے اور کچھ دیر اس کے پاس ہی کھڑا رہا کچھ دیر بعد پھر اس کو چیک کیا اور اس کی حالت کچھ بہتر تھی تو باسط نے پروتی کو اس کی پھودی صاف کرنے کا کہہ اور اسے قمیض پہنانے کا کہہ کر چلا گیا وہ اس دوران ننگا ہی تھا اس نے اپنے آفس آ کر کپڑے اٹھائے اور باتھ روم میں کھس گیا کچھ دیر کے بعد اس نے پروتی کو بلا کر اس کا حال پوچھا تو پروتی نے اطمینان سے سب کچھ ٹھیک کی ریپوٹ دی تو باسط کو کچھ سکون آیا تو باسط اٹھ کر دوبارہ رادھا کے پاس گیا تو اس کو ہوش آ چکا تھا اس نے قمیض پہنا ہوا تھا جبکہ اس کی شلوار کرسی پر پڑی ہوئی تھی رادھا نے ڈاکٹر کو دیکھا تو زبردستی مسکرانے کی کوشش کی باسط نے اس طرح کی جنونی چودائی کے لئے اس سے معافی مانگی اور دس دس کے پانچ نوٹ اسے پکڑا دئے پچاس روپے جیسی بڑی رقم پا کر رادھا کا جسم خوشی سے کانپنے لگا کیونکہ رادھا کی تنخوا تین روپے تھی اور پچاس روپے اس کے لیے بہت بڑی رقم تھی اب اس کے باپ کو اگر پتہ لگ بھی جاتا تو اسے کوئی پرواہ نہ ہوتی کیونکہ وہ اگر رادھا کو بیچ بھی دیتا تو اسے پندرہ روپے مشکل سے ملنے تھے باسط نے رادھا کو دوائی دی اور اسے شام تک آرام کرنے کا کہہ کر چلا گیا اپنے آفسشام تک اس نے چار مریض اور چیک کے ابھی گھر جانے کے لیے ہسپتال سے نکلا ہی تھا کہ ایک گاڑی رکی اس میں سے دو لڑکے اتر کر باہر آئے اور انہوں نے بتایا کہ لارڈ صاحب کی بیوی گر گئیں ہیں اور اس کی ٹانگ پر چوٹ لگ گئی ہے تو باسط نے اسے اندر لانے کا کہہ دیا اور پروتی کو پٹی لانے کا کہا اور اپنے آفس میں داخل ہو گیا کچھ جیسے ہی دو لڑکے لیڈی کو لے کر اندر داخل ہوئے تو باسط تو گوری کو دیکھتا رہ گیا بڑے بڑے ممے باہر کو نکلی گانڈ اور گوری چمڑی باسط کو پاگل کرنے کے لئے کافی تھی لیکن گوری کی عمر پینتیس سال کے قریب لگ رہی تھی لڑکوں نے گوری کو آفس میں پڑے بیڈ پر لیٹا دیا تو باسط نے قریب جا کر انگریزی میں پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے تو گوری نے بتایا کہ اس کی تھائیز پر چوٹ لگ گئی ہے اور پھر گوری خور ہی الٹی لیٹ گئی تو باسط نے پروتی کو چوٹ چیک کرنے کا کہا تو پروتی نے گوری کی پینٹ اتاری اور اس کی گانڈ پر کپڑا دے دیا اور گانڈ سے تھوڑا سا نیچے جگہ نیلی ہوئی تھی تو پروتی کو کچھ سمجھ نہ آیا تو اس نے باسط کو کہا کہ ڈاکٹر صاحب مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی آپ خود ایک بار دیکھ لیں اور پھر پروتی دونوں لڑکوں کو لے کر باہر چلے گئی باسط جیسے ہی گوری کے پاس پہنچا تو اس کی گوری ٹانگ دیکھ کر باسط کے لن نے زور سے جھٹکا لیا اور گوری چمڑی تو باسط کی کمزوری تھی اور وہ گوری چمڑی کے لیے ترسا ہوا بھی تھا باسط نے چوٹ والی جگہ پر ہاتھ لگایا اور ہلکے سے مساج کرنے لگا گوری اور نرم چمڑی میں باسط گھو سا گیا اور گوری کو بھی مساج سے مزا آ رہا تھا اس لیے اس نے باسط کو نہ روکا باسط مساج کرتے کرتے اوپر کی طرف گیا اور اس کے چوتڑ پر ہاتھ رکھ دیا تو گوری کے منہ سے سسکی نکل گئی تو باسط کو چدائی کی امید ہو گئی تو اس نے ہاتھ کو دونوں چوتڑوں کے درمیان لے گیا اور آہستہ آہستہ اس کی پھودی پر انگلی پیری اور ساتھ ہی لن کو پینٹ کے باہر نکال لیا گوری کا ہاتھ جو کہ قریب ہی پڑا تھا اس نے ہاتھ کو پکڑا اور اپنا لن گوری کے ہاتھ میں پکڑا دیا لن ہاتھ کو لگتے ہی گوری نے گردن گھوما کر باسط کا لن دیکھا تو اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی جیسے بچے کو اس کی پسند کا کھلونا مل جائے اس نے اٹھنے کوشش کی لیکن درد کی وجہ سے پھر لیٹ گئی باسط نے پروتی کو آواز دی پروتی آفس میں آئی باسط کا لن گوری کے ہاتھ میں دیکھ کر مسکرا کر باسط کو دیکھا جیسے مبارکباد دے رہی ہو باسط نے مرہم لگا کر پٹی باندھنے کو کہا تو پروتی اپنے کام میں لگ گئی تو باسط گوری کے منہ کے پاس چلا گیا اور اپنا لن گوری کے منہ کے پاس کر دیا تو گوری نے زبان نکال کر لن کی ٹوپی کو چاٹا اور پھر ٹوپی منہ میں لے لی باسط نے اپنی شرٹ اتار دی اور پینٹ بھی پانچ منٹ کے بعد گوری کو سیدھا ہونے کا کہا تو گوری سیدھی ہو گئی تو پروتی نے پٹی باندھنی شروع کر دی اور باسط نے گوری کی شرٹ کے بٹن گھولنے شروع کر دیے کچھ دیر بعد گوری کے بڑے بڑے ممے باسط کے سامنے تھے جنہیں دیکھ کر باسط سے رہا نہ گیا اور اس نے جھک کر ممے کو چوما اور اس کے نپل کو منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا جبکہ اس کا لن ابھی تک گوری کے ہاتھ میں تھا کچھ دیر کے بعد پروتی پٹی باندھ کر چلے گئی تو باسط گوری کی ٹانگیوں کے درمیان آ گیا اور اپنا لن گوری کی پھودی پر پھیرنا شروع کر دیا لیکن اندر نہیں کیا کچھ دیر کے بعد گوری بے چین ہو گئی تو سسکتے ہوئے بولی ڈاکٹر پلیز فک می تو باسط نے مسکراتے ہوئے لن پھودی میں کھسا دیا آدھا لن آرام سے ہی گوری کی کھلی پودی میں چلا گیا تو مزے کی لہر باسط کے وجود میں اٹھی تو باسط نے زور سے جھٹکا دیا اور لن جڑ تک گوری کی پھودی میں کھسا دیا گوری کی ہلکی سی چیخ نکلی تو باسط نے جھٹکوں کی برسات کر دی دس منٹ کے بعد جب باسط کو لگا کہ وہ چھوٹنے لگا ہے تو اس نے لن باہر نکالا اور گوری کے گورے پیٹ پر فارغ ہو گیا گوری نے اپنے پیٹ پر منی مل لی اور اپنا ہاتھ چاٹنا شروع کر دیا ۔ باسط نے کپڑے پہن لئے اور پروتی کو بلایا تو پروتی نے گوری کو بھی کپڑے پہنا دئے ۔ آخر گوری نے خود ہی کہہ دیا کہ میں کل دوبارہ چیک کروانے آ جاؤ گئی تو باسط نے گوری کا نام پوچھا تو گوری نے اپنا نام انجلینا بتایا اور یہ بھی کہ وہ لارڈ جوزف کی بیوی ہے تو باسط نے اس کو مسکراتے ہوئے روانہ کر دیا جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ Rizy.b
  2. اپڈیٹ حاضر ہے یہ اپڈیٹ جناب بارانی کے نام #بارانی
  3. دوستوں 3100 ویوز ہونے کے باوجود صرف چار کی کمنٹ بڑے افسوس کی بات ہے۔یہ ٹھیک ہے کہانی پڑھو مٹھ مارو اور سو جاؤ جو بندہ محنت سے لکھ رہا ہے وہ وجے لن تے شاباش Rizy.b
  4. کہانی کو پسند کرنے کا شکریہ جلد ہی اپڈیٹ آ جائے گئی ۔ شکریہ Rizy.b
  5. قسط نمبر 1 چوہدری باسط انگلینڈ کی ا یونیورسٹی میں ڈاکٹری کر ر تھا اس کے والد چوہدری ریاض ایک اچھا خاصا زمیندار تھا اور لاہور میں بھی کاروبار تھا جو اس کا بھائی چوہدری ربنواز سنبھالتا تھا ربنواز ایک مشہور وکیل بھی تھا۔ اس لیے چوہدری باسط کو پیسے کی کوئی کمی نہیں تھی وہ ایک محنتی اور اپنے وطن سے محبت کرنے والا شخص تھا اس لئے اس نے کبھی بھی انگلینڈ میں سیٹل ہونے کا نہیں سوچا تھا چوہدری باسط ایک خوبصورت نوجوان تھا جس کا چھ فٹ قد اور چوڑا سینہ کسی بھی لڑکی کا خوب ہوتا ہے ۔ چوہدری باسط کی ایک ہی کمزوری تھی ہو تھی بڑے ممے اور سفید چمڑی اس لئے باسط کی بہت سی گوریوں سے دوستی تھی . چوہدری باسط اس وقت بھی ایک گوری کے ساتھ بستر میں تھا اور اسے چوم رہا تھا کہ دروازہ کھٹکا تو باسط نے جا کر دروازہ کھولا تو سامنے اس کا دوست عابد پریشان سا چہرہ لے کر کھڑا تھا جس نے باسط کو بھی پریشان کر دیا باسط: کیا ہوا پریشان کیوں ہو عابد : میں نے ہوئی جہاز کی ٹکٹ کروا لی ہے ہم فورن گاؤں جا رہیں ہیں باسط کا تو رنگ ہی اڑ گیا کہ عابد کو اس وقت کیا ہو گیا ہے تو عابد نے باسط کو گلے لگایا اور رونا شروع کر دیا باسط : ہوا کیا ہے کچھ تو بتاؤ عابد : یار ماموں ریاض کو کسی نے قتل کر دیا یہ کہہ کر عابد واپس لوٹ گیا اور باسط تو جیسے سکتے میں آ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لارڈ جوزف کو چوھدری ریاض کے قتل کی خبر مل چکی تھی لارڈ نے خوشی سے آج جشن کا اعلان کیا سب جانتے تھے کہ جشن میں شراب اور شباب دونوں چلتی ہیں لارڈ نے ماجو سے لڑکیوں کا بندوست کرنے کو کہا اور یہ بھی کہا کہ دو چار دن گاؤں سے کوئی لڑکی نہ اٹھائی جائے ورنہ معاملہ خراب ہو سکتا ہے بلکہ وہ لڑکیاں لائیں جائیں جو کہ خود پیسے کے لئے آتی ہے ماجو جو کہ ایک دلال بھی ہے اس نے رات کو لارڈ کے پاس چار لڑکیاں بھیج دیں جن میں اس کی بیوی بھی شامل تھی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ایک رات کے چار روپے ملنے ہیں اور یہ ایک اچھی خاصی رقم تھی رات کو نو بجے کے بعد لارڈ اور اس کے ساتھی شراب پی کر ٹن ہو چکے تھے تو لڑکیاں لارڈ کے کمرے میں لائی گئیں تو سب مرد جن کی تعداد دس تھی نے اپنے اپنے لن پینٹس سے باہر نکال لئے لڑکیوں کو پتہ تھا کہ کیا کرنا ہے کیونکہ وہ پہلے بھی یہاں آ چکیں تھیں ۔لڑکیاں درمیان میں بیٹھ گئیں اور لارڈ جوزف کے علاؤہ باقی تمام لوگ دائرے کی شکل میں کھڑے ہو گئے اور لڑکیاں باری باری سب کے لن چوس رہیں تھیں لارڈ نے سب کچھ دیکھا اور اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چل پڑا جہاں اس کا انتظار رشماں کر رہی تھی ریشماں کئی مہینوں سے لارڈ کے ساتھ تھی کیا کمال کی خوبصورت لڑکی تھی عمر بیس سال اور جسم ایسا کہ جو دیکھے تو بس دیکھتا ہی رہ جائے لارڈ نے اسے لاہور سے ایک پارٹی پر بلایا تھا اور پھر اسے اپنے پاس ہی رکھ لیا ریشماں بہت چالاک تھی اپنا جسم دے کر لارڈ سے کوئی بھی کام کروا سکتی تھی خاص کر یہ راہول جو کہ چوہدری ریاض کا دشمن نمبر ایک تھا کی خاص تھی اور چوہدری ریاض کے گاؤں کی لڑکیوں کی طرف بھی لارڈ کا دھیان بھی اسی نے لگایا تھا ۔ لارڈ کمرے میں داخل ہوا تو ایک کونے میں پڑی کرسی سے ریشماں اٹھی اور اک ادا سے چلتی ہوئی لارڈ کے پاس آئی اور لارڈ نے ریشماں کو باہوں میں لے کر اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیئے اور اس کی نائیٹی کا بھی بیلٹ کھول دیا اور اس کے مموں پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا کافی دیر دونوں ہونٹوں سے ہونٹ جوڑے کھڑے رہے پھر لارڈ نے اس کے سر کو نیچے کو دبایا تو ریشماں نیچے بیٹھتی چلے گئی اور لارڈ کی پینٹ کا بیلٹ کھولا اور پینٹ اتار دی اور لارڈ کا مرجھایا ہوا لن پکڑ کر منہ میں لے لیا کچھ ہی دیر بعد لن میں سختی آ گئی چار انچ کا ڈھیلا سا لن تھا جو ریشماں پوری توجہ سے چوس رہی تھی جب لارڈ کو لگا کہ اس کا لن پوری طرح کھڑا ہو گیا ہے تو اس نے ریشماں کو بیڈ پر گھوڑی بنایا اور لن اس کی پھودی میں ڈال دیا جو کہ بڑی مشکل سے اندر گیا اور جھٹکے مارنا شروع کردیے لیکن چار پانچ جھٹکوں کے بعد ہی اس کی پھودی میں چھوٹ گیا اور ہانپتا ہوا لیٹ گیا اور شراب نوشی کی وجہ سے اسے ہوش تو تھی نہیں اس لیے کچھ ہی دیر میں سو گیا لیکن ریشماں کے اندر تو آگ جلا گیا تھا رشماں باہر نکلی تو دیکھا کہ دس انگریز بلکل ننگے چار لڑکیوں سے مزے کر رہے تھے کسی نے لڑکی کی پھودی میں ڈالا ہوا تھا تو کسی نے منہ میں تو کسی نے گانڈ میں سب مگن تھے تو ریشماں باہر کی طرف نکل گئی اس نے باہر گیٹ پر موجود سپاہی سے دوستی لگائی ہوئی تھی جب بھی لارڈ اسے درمیان میں چھوڑ دیتا تو یہ اس سپاہی سے آ کر چدوا لیتی سپاہی سے چدوانے کا مقصد یہ بھی تھا کہ وہ ایک گاؤں کا غریب لڑکا تھا جو جیسے ریشماں کہتی وہ ویسے ہی کرتا اس لئے ریشماں نے گیٹ پر جا کر فضلو کو اندر سرونٹ کوارٹر میں آنے کا کہا اور خود سرونٹ کوارٹر میں چلے گئی کوارٹر میں جاتے ہی ریشماں نے نائیٹی اتار کر پھینک دی اور کرسی پر ٹانگیں کھول کر بیٹھ گئی فضلو نے بھی آتے ہی کپڑے اتار دیئے اور جا کر ریشماں کی پھودی چاٹنے لگا دس منٹ کے بعد ریشماں کی ٹانگیں اکڑ گئیں اور اس نے دونوں ہاتھوں سے فضلو کا سر اپنی پھودی پر دبایا اور ایک سسکی کے ساتھ ہی فارغ ہو گئی تو اس نے فضلو کو پیچھے کر دیا فضلو پیچھے ہو کر بیٹھ گیا اور اپنے لن کی مٹھ مارنے لگا فضلو کا سات انچ کا لن موٹا تازہ ریشماں کو بہت زیادہ پسند تھا اور آج تک اس نے اس سے بڑا اور موٹا لن نہ دیکھا تھا اور نہ ہی لیا تھا ریشماں نے فضلو کو اشارہ کیا اور خود جا کر چارپائی پر لیٹ گئی فضلو نے چارپائی پر جا کر ریشماں کی ٹانگیں کھول کر کندھوں پر رکھیں اور اور لن کی ٹوپی ریشماں کی پھودی پر اور آرام سے لن پھودی میں اتار دیا ریشماں نے ایک مزے کی سسکی لی ااااااہاااااا افففففف فضلو ایسے ہی چودتا رہا اور کچھ دیر کے بعد ریشماں کے آہ کی ہو چھوٹ گئی اس کے کوئی ایک منٹ کے بعد فضلو نے لن باہر نکالا اور مٹھ مارتے ہوئے کمرے کے کونے میں فارغ ہو گیا اور کپڑے پہن کر چلا گیا ریشماں نے بھی نائٹی پہنی اور اپنے کمرے میں جا کر سو گئی۔ *************************************** لارڈ جوزف جو کہ پچاس سال کا بوڑھا آدمی تھا اس کے برعکس اس کی بیوی انجلینا پینتیس سالہ خوبصورت عورت تھی جس کے بڑے بڑے ممے اور باہر کو نکلی گانڈ تو کمال کی تھی۔ سیکس اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا ۔ اس نے پیسے کی خاطر لارڈ جوزف سے شادی کی تھی شادی کو آٹھ سال ہو چکے تھے لیکن وہ صرف چھ ماہ ہی صرف لارڈ سے چدواتی رہی اس کے بعد لارڈ کو ہندوستان بھیج دیا گیا یہاں آ کر لارڈ جوان جوان لڑکیوں کو چودتا اور اس کے پاس تو بس مہینے میں ایک دفع ہی آتا اور لارڈ کے چھوٹے اور مرجھائے ہوئے لن سے اب اسے کوئی مزہ بھی نہیں آتا تھا ۔ انجلینا ہر کسی پر اعتبار بھی نہیں کر سکتی تھی کیونکہ وہ لارڈ کی بیوی تھی۔ انجلینا اتنی گرم عورت تھی کہ اسے دل میں دو دفع لن تو ضرور چاہے ہوتا ہے اس لیے اس نے اس کا مستقل حل کیا ہوا تھا اس کو برطانوی حکومت نے دو ملازم دئیے ہوئے تھے جو دونوں بھائی تھے ایک کا نام رام چن اسے سب چن کہتے تھے اور دوسرے کا نام رام گوپال اسے سب گوپی کہتے تھے یہ دونوں سات سال سے لیڈی انجلینا کے ساتھ تھے بڑا گوپی تھا اس کی عمر اب اکیس سال تھی جبکہ چند کی عمر اٹھارہ سال تھی جب انجلینا ہندوستان آئی اور اسے چند اور گوپی ملازمین کی صورت میں دئے گئے تو دو مہینے تو وہ کوشش کرتی رہی کہ اسے کوئی لن مل جائے لیکن کوئی اسے کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا تھا کیونکہ لوگ لارڈ سے ڈرتے تھے اک دن انجلینا نے گوپی کو نہاتے ہوئے دیکھ لیا اس کا لن دیکھ کر تو اینجلینا اچھل پڑی سات انچ کا موٹا لن اس کے منہ میں تو پانی آ گیا اسے اندازہ نہیں تھا کہ چوداں سال کے لڑکے کا لن بھی اتنا بڑا ہو سکتا ہے انجلینا اپنے کمرے میں چلے گئی اور جاتے ہوئے چند کو جو کہ صحن میں کھیل رہا تھا کو کہہ گئی کہ گوپی آئے تو اسے میرے کمرے میں بھیج دینا کمرے میں جاتے ہی انجلینا نے کپڑے اتار دئے اور چادر لے کر لیٹ گئی تھوڑی دیر بعد گوپی کمرے میں داخل ہوا تو انجلینا نے کہا کہ تم نے آج میرے کمرے میں سونا ہے کیونکہ مجھ ڈر لگ رہا ہے تو گوپی اپنا بستر لینے چلا گیا اور چند کو بھی سونے کا کہہ کر واپس لیڈی کے کمرے میں چلا گیا اور جا کر فرش پر بستر بچھا کر لیٹ گیا کچھ دیر بعد انجلینا نے ڈرنے کی اداکاری کی اور گوپی کو کہا کہ اور بیڈ پر اس کے ساتھ سوئے کیونکہ اسے ڈر لگ رہا ہے ۔گوپی ڈرتا ہوا بیڈ کے کونے پر لیٹ گیا لیکن جلد ہی انجلینا نے اسے بازوؤں میں بھر لیا جیسے ہی انجلینا کے ننگے ممے گوپی کے ساتھ لگے گوپی کھبرا گیا اور مارے کھبراہٹ کے تھر تھر کانپنے لگا انجلینا کو بھی اندازہ ہو گیا کہ بچہ ڈر گیا ہے تو اس نے پیار سے گوپی کا ماتھا چوم لیا اور کافی دیر ایسے ہی لیٹے رہے پھر انجلینا نے تھوڑا اور آگے بڑھنے کا سوچا اور اس کے لن کے ساتھ اپنا نیچے والا جسم بھی جوڑ دیا گوپی کا تو رنگ ہی اڑ گیا آہستہ آہستہ انجلینا اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیر رہی تھی کچھ ہی دیر میں گوپی کچھ سنبھل گیا تو انجلینا نے اپنا ہاتھ گوپی کی شلوار میں ڈالا اور اس کا لن پکڑ لیا جوکہ بہت سخت ہوا تھا اور اس کے ساتھ ہی انجلینا نے گوپی کے کالے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیئے اور اپنی زبان گوپی کے منہ میں ڈال دی تو گوپی کو بھی مزہ آنے لگا تو اس نے انجلینا کی زبان چوسنا شروع کر دی کافی دیر دونوں ایسے ہی لیٹے رہے تو انجلینا نے پڑے آرام سے گوپی کو کپڑے اتارنے کا کہہ تو گوپی نے بھی کپڑے اتار دیئے اس کا کالا موٹا لن دیکھ کر انجلینا سے رہا نہ گیا تو اس نے گوپی کا لن ہاتھ میں پکڑ لیا اور مٹھ مارنی شروع کر دی جبکہ گوپی نادیدوں کی طرح انجلینا کے ننگے مموں کو دیکھ رہا تھا تو انجلینا کو بھی اس پر ترس آ گیا تو اس نے ہنستے ہوئے گوپی کا ہاتھ پکڑا اور اپنے مموں پر رکھ دیا گوپی کو چودئی کے بارے میں سب پتا تھا کیونکہ جس گورے کے پاس وہ پہلے تھا وہ اس کے سامنے ہی لڑکیوں کو چودتا تھا ایک دفع وہ بھی ایک لڑکی کو چود چکا تھا اس لیے اس نے مزے لینے کا فیصلہ کیا اور انجلینا کے ممے دبانے لگا کچھ دیر بعد انجلینا لیٹ گئی اور اس نے دونوں ٹانگیں کھول دیں اور گوپی کا لن اپنی پھودی پر پھیرنے لگی گوپی سے اب صبر نہیں ہو رہا تھا تو اس نے انجلینا کے ہاتھ سے لن چھوڑیا اور پھودی کے سوراخ پر رکھ کر فل زور سے جھٹکا دیا تو لن آدھا اندر گھس گیا انجلینا کسی بکری کی طرح تڑپی اور چیخی لیکن گوپی کے سر پر اس وقت پھودی سوار ہو چکی تھی تو اس نے ایک اور جھٹکا دیا اور پورا لن اندر ڈال دیا اور پھر انجلینا کے ننگے ممے منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا کافی دیربعد انجلینا کچھ نارمل ہوئی تو گوپی نے آہستہ آہستہ جھٹکے مارنے شروع کر دیے کچھ دیر بعد سپیڈ تیز کر دی اب انجلینا کو بھی مزہ آنے لگا تو وہ مزے میں ااااااہاااااا افففففف فک می ہارڈ یسسسسسس افففففف کی آوازیں نکال رہی تھی کچھ دیر بعد ہی انجلینا نے پانی چھوڑ دیا لیکن گوپی لگا رہا کچھ دیر بعد گوپی نے انجلینا کو گھوڑی بنایا اور لن اس کی پھودی میں ڈال کر کھسوں کی مشین چلا دی کچھ ہی دیر کے بعد انجلینا نے پھر پانی چھوڑ دیا تو گوپی نے لن باہر نکالا لیکن انجلینا نے لن پکڑ کر اپنی گانڈ کی موری پر رکھ دیا ادھر سے گوپی نے جھٹکا مارا ادھر سے انجلینا نے اپنی گانڈ پیچھے کو کی تو لن غڑپ سے گانڈ میں گھس گیا اور انجلینا کی ایک درد ناک چیخ نکلی لیکن گوپی نے کسی چیز کی پروا کئے بغیر جھٹکے دینا شروع کر دیے اور دس منٹ کے بعد انجلینا کی گانڈ میں ہی فارغ ہو گیا انجلینا آگے کو لیٹ گئی اور گوپی بھی اس کے اوپر ہی لیٹ گیا کچھ دیر بعد آٹھ کر اپنے کپڑے پہنے اور نیچے بستر پر لیٹ گیا جبکہ انجلینا اٹھی اور واشروم میں جا کر گانڈ سے منی نکال کر اسے دھو کر واپس آ کر لیٹ گئی کئی ماہ بعد کی چودای نے اسے بہت سکون دیا تھا اسے پتہ ہی نہ لگا کہ وہ سو گئی اس دن کے بعد روز رات کو انجلینا کی چودای ہوتی کبھی دن کو بھی اگر دل کرتا تو دن کو بھی ہو جاتی کچھ عرصہ کے بعد گوپی کی فرمائش پر انہوں نے چند کو بھی اس چدائی والے کھیل میں شامل کر لیا سات سال سے یہ دونوں بھائی انجلینا کی ٹھکائی کر رہے تھے اور اب تو اک چودائی صبح ہوتی اور اک رات کو انجلینا ان دو لنوں سے بہت خوش تھی جب کوئی گھر میں نہ ہوتا تو سب اپنے کپڑے اتار دیتے اور انجلینا نے باقی دوسرے کاموں کے لئے دو نوکر اور رکھ لیں تھے جبکہ گوپی اور چند کا کام صرف اور صرف چودائی کرنا تھا مہینے میں ایک دفع لارڈ آتا تو صرف اس دن انجلینا کو مزہ نہیں آتا لیکن وہ باتیں کر سکتی تھی اس سے کیونکہ یہاں کسی کو بھی انگریزی نہیں آتی تھی اس لیے انجلینا نے اگر کسی کو کوئی کام کہنا ہوتا تو یا تو اشاروں سے سمجھاتی یا پھر ان سات سالوں میں جو اس نے ٹوٹی پھوٹی اردو سیکھی تھی اس میں سمجھانے کی کوشش کرتی ۔ باقی سب ٹھیک چل رہا تھا لیکن انجلینا کو کوئی باتیں کرنے کے لیے چاہیے تھا لیکن وہ اس کے پاس نہیں تھا جب وہ اکیلی بور ہوتی تو یا تو گوبی اور چند کو بلوا لیتی یا پھر خود ہی باتیں کرنا شروع کر دیتی ۔اب تو تمام ملازمین بھی اسے پاگل سمجھنے لگ گئے تھے ۔ اس کے یوں باتیں کرنے سے گوپی اور چند بھی اس سے ڈرنے لگے تھے لیکن وہ مجبور تھے کچھ کر نہیں سکتے تھے سال پہلے جب ان کا بھی دل کرتا تھا تو وہ بغیر اجازت کے جا کر انجلینا پر چڑھ جاتے تھے لیکن اب جب بھی انجلینا بولاتی صرف تب ہی جاتے ۔
  6. پیش الفاظ جون 1940 آزادی کی تحریک زوروں پر تھی ۔ انگریزوں کا راج بھی کچھ کم نہیں تھا۔ پنجاب کے ایک دور دراز علاقے جس کا نام نور پور تھا میں ایک زمیندار چوہدری ریاض اپنے ملازموں کے ساتھ رات کو انگریز لارڑ جوزف کو مارنے کی پلاننگ کر رہا تھا ۔ لارڑ نے کچھ دن سے گاؤں پر نظر رکھی ہوئی تھی آئے دن گاؤں سے کوئی لڑکی غائب ہوتی اور صبح ننگی بے ہوش حالت میں ملتی ۔لڑکی کو دیکھ کر یہ ہی لگتا تھا کہ اس کے ساتھ دس کے قریب لوگوں نے زیادتی کی ہے کچھ لڑکیاں تو ٹھیک ہو گئیں تھیں لیکن زیادہ تر یا تو مر گئی تھیں یا ٹھیک ہونے کے بعد اپنے گھر والوں کی بدنامی کے ڈر سے گاؤں چھوڑ کر چلی گئیں تھیں۔ بات تب زیادہ بڑھی جس رات چوہدری ریاض کی اکلوتی بیٹی کو اٹھایا گیا اور وہ باوجود کوشش کے چار دن کے بعد گاؤں کے باہر ملی اس کی حالت بہت خراب تھی تو چوہدری ریاض نے اسے اپنے بھائی جو کہ لاہور میں وکیل تھا اس کے پاس بھیج دیا تاکہ اس کا علاج ہو سکے ۔ اب چوہدری ریاض لارڑ کو مار دینا چاہتا تھا لیکن اسے یہ نہیں پتہ تھا کہ وہ جن لوگوں کے ساتھ اسے مارنے کی پلاننگ کر رہا ہے ان میں سے ایک آدمی لورڑ کا خاص آدمی ہے جو کہ گاؤں کی ساری خبریں لارڈ تک پہنچاتا ہے ۔ آخر رات دس بجے تک ساری باتیں طہ کر کے سب اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے لیکن ماجو جوکہ لارڈ کا خاص آدمی تھا وہ لارڈ کے پاس لارڈ پیلس گیا اور اسے گاؤں والوں کے ارادوں سے با خبر کیا تو لارڈ نے اسے انعام دیا اور بھیج دیا اس کے جانے کے بعد لارڈ نے ایک بندے کو چوہدری ریاض کو صبح تک مارنے کے احکامات دیئے اور گاؤں سے لائی ہوئی لڑکی کو نوچنے چلا گیا۔
  7. دوستوں امید ہے کہ سب ٹھیک ہو گئے یہ کہانی میری کسی بھی فورم پر پہلی کہانی ہے اور کہانی پڑھنے سے پہلے آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس کہانی میں سیکس سین آپ کی امید سے کم ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ کہانی آزادی پاکستان کے اوپر لکھی گئی ہے اور کہانی پڑھ کر اگر کسی دوست کی دل آزاری ہو تو میں ایڈوانس میں معافی چاہتا ہوں شکریہ آپ کا نیا دوست Rizy
×
×
  • Create New...