Jump to content
URDU FUN CLUB

Ch azaan

Active Members
  • Content Count

    85
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    3

Ch azaan last won the day on January 6

Ch azaan had the most liked content!

Community Reputation

72

1 Follower

Profile Information

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. #میریساسمیری_سہیلی #قسط_08 بیگم صاحبہ شیرو کو چومتے چومتے اس کے لن کو ہاتھ میں لئے چارپائی پر دراز ہو گئیں . شیرو ان کے اوپر ہی لیٹ گیا اور اس نے بیگم صاحبہ کی پیشانی گال گردن پر بوسوں کی بارش کر دی . بیگم صاحبہ نے شیرو کو ایک طرف کرتے ہوے اُٹھ کر بیٹھ گئی اور ایک کپڑے سے پہلے اپنی چوت صاف اور خشک کی پھر شیرو کے لن کو پونچھ کر صاف کیا اور شیرو کا لن دیکھتے ہوئے اسے چومنے لگی اور اسکے ٹوپے پر سوراخ کو جیبھ سے ٹکلنگ کرنے لگی جس سے شیرو مستی میں سر دائیں بائیں پٹخنے لگا اور بیگم صاحبہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر لن کو پورا منہ میں لینے کا اشارہ کیا تو بیگم صاحبہ ہولے ہولے پورا لن کو اپنے حلق تک لے گئی اور پھر دھیرے دھیرے لن کو چوپنے لگی شیرو جھرنے لگا تھا وہ بیچینی سے اُٹھا اور بیگم صاحبہ کو نیچے لٹا کر اس کے اوپر لیٹ گیا بیگم صاحبہ نے ٹانگوں کو کھولا اور لن کو پکڑ کر اپنی چوت پر مسلنے لگی . شیرو نے بیگم صاحبہ کی لن کے لئے بے تابی کو دیکھتے ہوئے اٹھ کر اسکی ٹانگوں میں بیٹھ گیا ؛ بیگم صاحبہ نے اپنی ٹانگیں کھول دیں اور شیرو چوت پر لن کو مسلنے لگا جس سے بیگم صاحبہ مچلنے لگی . میری جانب بیگم صاحبہ کے پاؤں اور شیرو کی پیٹھ تھی لالٹین کی مدھم روشنی میں جتنا نظر آنا ممکن تھا میں تجسس لئے غور سے دیکھ رہی تھی - شیرو نے چوت پر لن مسلتے ہوئے ایک زور کے دھکے سے پورا لن اندر کرتے ہوے بیگم صاحبہ کو دہرا کر دیا . ( مجھے ایسے لگا کہ شیرو کا لن میری چوت کو چیرتا ہوا اندر دور تک داخل ہو گیا ہو ) بیگم صاحبہ نے بوسہ لیتے ہوئے شیرو کے گلے میں باہیں ڈال دیں اور اپنی ٹانگیں شیرو کی کمر کے گرد جکڑلیں - شیرو بیگم صاحبہ کی گردن پر ہونٹ رکھے چومتے ہوئے ہولے ہولے لن کے دھکے لگا نے لگا مجھے اس کے جھومتے ہوئے خصیے نظر آ رہے تھے جو بہت بھلے لگ رہے تھے شیرو کے ہر دھکے سے وہ آگے اور پیچھے جھول رہے تھے لن پورا اندر جاتا تو وہ بیگم صاحبہ کی بنڈ پر جا لگتے آواز ضرور نکلتی ہوگی ؛ دور ہونے کی وجہ سے مجھے سنائی نہیں دے رہی تھی ورنہ میرے لاشعور میں کمرے کے اندر بھاری سانسوں کے ساتھ پچک پچک اور چپک چپک آوازیں گونج رہی تھیں . میرا ایک ہاتھ میری چوت کو جو کہ ٹپکنے لگی تھی سہلاتا تو درمیانی انگلی اندر چلی جاتی دوسرے ہاتھ سے میں اپنے نپل کو مسلنے لگی شیرو کی سپیڈ بڑھتی جا رہی تھی .. بیگم صاحبہ سر اٹھا کر کبھی اس کا بوسہ لیتی اور کبھی اس کے سینہ پر دانت گاڑ دیتی . . شیرو زور سے کر اور زور سے لگا . رگڑ کر رکھ دے چوت کو اسکی پیاس بجھا دے جانو . وہ شیرو کے بازؤں کے مسلز کو پکڑے شیرو کے ہر دھکے کا اپنی گاند اٹھا کر جواب دیتی . بیگم صاحبہ کی موننگ لذت بھری آہوں اور آوازوں سے ظاھر ہو رہا تھا کہ وہ پھر منزل ہونے والی ہیں . شیرو نے بیگم صاحبہ کی ٹانگوں کو اپنے شانوں پر رکھ لیا ا ور تابڑ توڑ ڈھیکے لگانے لگا اسکی سانسوں کی تیزی کمرے میں گونجنے لگی لگ رہا تھا کہ وہ کسی وقت بھی آ سکتا ہے . بیگم صاحبہ کے چہرے کے تاثرات لذت کی انتہا چھونے کی بدولت عجیب تاثر دے رہے تھے مجھ میں بھی مزے کی لہر اٹھی میں نے آنکھیں بند کر لیں اور اپنے اپ سے کھیلنے لگی میں مدہوش ہو کر اپنے آپ میں مگن تھی کہ دفعتاً ایسے لگا جیسے شیرو نے مجھے پکارا ہو نوشی . نوشی نوشی ؛ اس کے ساتھ ہی کمرے میں ایک تھپڑ کی آواز گونجی میں نے آنکھیں کھول دیں اور بے خودی میں میرا ہاتھ کھڑکی سے جا لگا اور وہ تھوڑا سا کھل گئی دیکھا تو شیرو اپنے گال پر ہاتھ رکھے بیگم صاحبہ کو دیکھ جا رہا ہے " میں تجھے نوشی لگتی ہوں " بیگم صاحبہ نے بڑے غصہ سے شیرو سے پوچھا . " نہیں بیگم صاحبہ میں نے ایسے کب کہا " شیرو بولا تو مجھے سمجھ ائی کہ جب شیرو چھوٹنے لگا ہوگا تو لذت سے مغلوب ہو کر اس نے میرا نام لیا ہوگا ہو سکتا ہے وہ خیالوں میں مجھے چود رہا ہو , میں یہ سوچ کر دل ہی دل میں مسکرانے لگی مگر مجھے خیال ہی نہیں رہا تھا کہ کھڑکی تھوڑی سی کھل گئی تھی , میں نے جب اندر دیکھا تو بیگم صاحبہ کو اپنی طرف دیکھتے پا کر میں حواس باختہ ہو گئی اور پچھلے پاؤں پیچھے ہٹنے لگی پھر جلدی سے اپنے کمرے میں جا کر دروازہ کو چٹخنی لگائی اور کھڑکی بھی بند کر دی . میرے سانس تیز چل رہے تھے اور میرا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا میرے ہاتھ اپنی ٹانگوں پر ٹکے تو پاجامہ گیلا سا لگا ؛ میری رانیں اپنے ہی شیرے سے بھیگی ہوئی تھیں میں غسل خانے میں گئی اور پاجامہ اتار کر میں نے بدن پر پانی ڈالا .اپنی ناف سے لے کر نیچے ٹانگوں میں اور ٹانگوں کو اچھی طرح صا ف کیا اور بیڈ روم آ گئی چارپائی پر بیٹھ کر سوچنے لگی اب کیا ہوگا ؟- سوچوں اور گمانوں میں نیند کی دیوی مجھ پر غالب آ گئی . میری آنکھ دروازہ پر ہلکی ہلکی دستک پر کھلی . سوچنے لگی کون ہو سکتا ہے ؛ بیتی رات کا اک اک پل یاد انے لگا دروازہ کھولوں کہ نہیں ؛ کہیں شیرو ہی نہ ہو . ان ہی گمانوں میں مبتلا میں ڈری سہمی یوں ہی بیٹھی رہی . تھوڑی دیر بعد پھر ذرا زور سے دروازہ کھٹکھٹایا گیا اور میں دھڑکتے دل سے دروازہ کھولنے کے لئے اٹھی میں دھڑکتے دل سے دروازہ کھولنے کے لئے اٹھی اور کانپتے ہاتھوں سے چٹخنی کھول دی . سامنے بیگم صاحبہ کھڑی تھیں "سلام بیگم صاحبہ " ان کو دیکھتے ہی میں بے اختیار بول اٹھی " جیتی رہو بیٹی ؛ میں نے سوچا آج ناشتہ یہیں تمہارے کمرے میں کریں " یہ کہتے ہوئے بیگم صاحبہ کمرے کے اندر داخل ہوئیں تو زلیخا ( house incharg ) بھی ناشتہ کی ٹرالی لئے ہوئے ان کے پیچھے تھیں میں نے جلدی جلدی صاف کرسی کو کپڑے سے جھاڑا اور بیگم صاحبہ کو بیٹھنے دعوت دی .. میں اسی وقت سو کر اٹھی تھی مجھے اندازہ نہیں تھا ٹائم کیا ہوگا . میں بیگم صاحبہ سے معذرت چاہتے ہوئے فریش اپ ہونے کے لیۓ غسل خانہ کی طرف بڑھی اور جلدی جلدی اپنے آپ کو سیٹ کرنے لگی " زلیخا اب تم جاؤ میں ناشتہ لگا لونگی " بیگم صاحبہ کو زلیخا سے کہتے ہوئے میں نے سنا " جی بیگم صاحبہ " زلیخا یہ کہتے ہوئے کمرے سے نکل گئی - دروازہ کے بند ہونے کی آواز سے میں نے یہی اندازہ لگایا میں فریش اپ ہو کر غسل خانے سے نکلی تو بیگم صاحبہ میز پر ناشتہ چُن رہی تھیں میں نے اگے بڑھ کر ان کا ہاتھ بٹایا . اور پھر میز کے مختلف سائیڈز پر یعنی آمنے سامنے . میں نے بٹر ٹوسٹ کے ساتھ چاہے لی اور بیگم صاحبہ نے دلیہ پر اکتفا کیا . ہم آہستہ آہستہ ناشتہ کرنے میں مشغول تھیں . ہم دونوں ایک دوسرے سے آنکھیں چراتی خاموش سی کوئی بات کرنے کی بجاۓ اپنے اپنے خیالات میں کھوئی ہوئیں تھیں . صاف ظاھر ہے ہم دونوں بہت کچھ کہنے کے باوجود ہمت نہ یا رہی تھیں یا الفاظ ہمارا ساتھ نہ دے پا رہے تھے . مختلف قسم کے اندیشوں میں گھری اندر ہی اندر میں ایک خوف کی کیفیت محسوس کر رہی تھی . آخر کار ناشتہ ہو گیا تو بیگم صاحبہ اٹھ کر غسل خانہ میں گیں ؛ میں نے اتنے میں برتن ٹرے میں رکھ کر ٹرالی پر رکھ دئیے . بیگم صاحبہ باھر نکلیں اور کرسی پر بیٹھ گئیں ؛ میں بھی سامنے کرسی بیٹھی . " بیٹی ؛ بیگم صاحبہ نظریں جھکاۓ گویا ہوئیں "جی بیگم صاحبہ " میں نے انہیں دیکھتے ہوے کہا " میں جانتی ہوں کل رات تم مرے کمرے کے باھر تھیں " بیگم صاحبہ دھیمی آواز میں بولیں " سوری بیگم صاحبہ میں نے شور سنا تھا تو باھر آئ تھی ؛ آپ اطمینان رکھیں یہ سب کچھ مجھ تک محدود رہے گا " میں نے کہا بیگم صاحبہ کہنے لگیں " تم نہ بھی کہتی تو بھی مجھے تم پر اعتبار ہے تم میری بیٹی جیسی ہو اور ماں بیٹی ایک دوسرے کی دوست اور رازدار ہوتی ہیں . " " مجھے معلوم نہیں کہ تم میری مجبوری سمجھ سکو گی یا نہیں مگر یقین جانو میں مجبور تھی اور مجبور ہوں . بیگم صاحبہ روہانسی ہو کر بولی تو میرا دل بہت دکھا . میں نے ان کا ہاتھ جو کہ میز پر تھا اسے پکڑ لیا اور ان سے کہا کہ " مجھے آپکی مجبوریوں کا بخوبی احساس ہے بیگم صاحبہ اور میں آپکو کوئی دوش نہیں دیتی . میرے دل میں اپ کے لئے جو عزت کل تھی وہی مقام آج بھی ہے . "جیتی رہو بیٹی مجھے تم سے یہی امید تھی سدا سہاگن رہو تم نے میرے سر سے بہت سا بوجھ ہٹا دیا ہے - ورنہ کل رات سے میں بہت زیادہ پریشان تھی " بیگم صاحبه سکوں کا سانس لیتی ہوئی بولیں " آپ بے فکر رہیں بس یہی سمجھیں میں کچھ نہیں جانتی " میں بولی " مجھے تم پر اعتبار ہے مگر فکر مند تو ہوں . شیرو کے لئے یقین مانو اس نے آج تک مجھ سے بے وفائی نہیں کی مگر تمہارے بارے اس کی نیت مجھے اچھی نہیں لگ رہی اس لئے میں فکر مند ہوں . وہ دل کا بہت اچھا ہے مگر ضدی بھی بہت ہے . مجھے بیٹی تم سے یہ کہتے ہوے بہت سُبکی محسوس ہو رہی ہے مگر عورت ہوتے هوئے مجھے جسم کے تقاضوں کا اچھی طرح سے اندازہ ہے . مرد سے دوری ناقابل برداشت ہوتی ہے پھر جوانی میں تو یہ ایک ظلم ہی ہے . بیٹی ارمان تم سے دور ہے اور کب آ پاۓ گا کچھ نہیں کہ سکتے میں تو یہی کہونگی جب بھی بدن کے ارمان جاگیں اور تم ان کے اگے ہارنے لگو تو شیرو کو ارمان کا نعم البدل سمجھنا میری طرف سے تم کو اجازت ہے . گر تم اس کے ساتھ بنا کر نہ رکھنا چاہو اور پسند نہ کرو تو یقین جانو میں ہر حالت میں تمہارا ساتھ دونگی اور میری انتہائی کوشش ہو گی شیرو تمھارے نزدیک نہ پھٹک سکے . میری ساس ایک نآئیکہ کی مانند شیرو کے لئے ورغلا رہی تھی - میں خود بھی شیرو سے چدوانا چاہتی تھی اس کو بیگم صاحبہ کو چودتے ہوئے میں دیکھ چکی تھی - ابھی تک اسکا اکڑا ہوا لن میری نظروں کے سامنے تنا کھڑا تھا اس کے دھیکے جھٹکے مارنا اس کے چودنے کا انداز سب کچھ ہی تو مثالی تھا . میں تو شیرو کو اپنی ٹانگوں میں جکڑنے کے لئے پچھلی رات ہی سے تیار تھی . اب بھی اس سے چدوانے کے تصور سے ہی میری چوت پھدکنے لگی ہے . مگر اس طرح سے نہیں کہ میری ساس مجھے اتنی آسانی سے لے . " کیسی بات کر رہی ہیں آپ بیگم صاحبہ . ایسا سوچیں بھی نہیں میں ارمان کی امانت ہوں جب تک وہ و اپس آ کے اپنی چراگاہ میں نہ چر لے . اس کی حفاظت اپنی جان دے کر بھی کرونگی - مگر اگر شیرو مجھ پر حاوی ہو گیا تو پھر الگ بات ہو گی . بہر حال اپ اسکو تلقین کر دیں اس کی بہتری اسی میں ہے کہ وہ میرا خیال دل سے نکال دے . " میں نے وارننگ دیتے ہوے کہا "میں اسے ضرور سمجھاونگی بیٹی مجھے امید ہے وہ سمجھ جایئگا " بیگم صاحبہ کے لہجے میں بے یقینی عیاں تھی . " بیگم صاحبہ مجھے تو شیرو کوئی اچھا آدمی نظر نہیں آتا آپ اس کے چنگل میں کیسے پھنس گئیں . " میں نے ان سے اپنائیت سے پوچھا یہ ایک لمبی داستان ہے مگر اب وقت نہیں مجھے اب باہر اک میٹنگ میں جانا ہے مگر آج رات کو میں خود یہاں آؤنگی اور اس داستان کا ایک ایک ورق پڑھ کر سناونگی . میں خود کب سے کسی سے سب کچھ بتا دینے کو بے چین ہوں . بیگم صاحبہ نے اٹھتے ہوے کہا . میں نے بیگم صاحبہ کو سی آف کیا بیگم صاحبہ میری پیشانی چومتے ہوئے مجھے اپنا خیال رکھنے کا کہہ کر کمرے سے نکل گئیں - میں اپنے آپ کو کچھ ہلکا پھلکا سا محسوس کرنے لگی . یوں ہی بیڈ پر لیٹی تو آنکھ لگ گئی , پھر دروازے پر ناک ہوئی تو آنکھ کھل گئی ؛ " اندر آ جاؤ دروازہ کھلا ہے " میں نے اونچی آواز میں کہا , سوچا زلیخا ہوگی مگر دروازہ سے اندر آنے والا کوئی اور نہیں شیرو تھا . میں چارپائی پر لیٹی ہوئی تھی . اسے اپنے کمرے میں دیکھ کر میں حواس باختہ سی ہو گئی اور اٹھ کر چارپائی پر بیٹھ گئی . "سلام نوشی جان " ؛ کہتے ہوے شیرو کرسی پر بیٹھ گیا اس کی بیباکی نے متاثر کیا ؛ مگر میں نے سنجیدہ ہوتے ہوئے اس سے کہا " کہئے کیسے آنا ہوا شیر خان " وہ پہلی بار میرے کمرے میں آیا تھا " بس یونہی یہاں سے گزرا تو سوچا آپ کو دیکھتا جاؤں " وہ بولا تھنکس لیکن میں بیمار تو نہیں کہ آپ دیکھنے آئے . ارے بیمار ہوں آپ کے دشمن گر خُداناخواستہ آپ بیمار ہوتیں تو میں پھول بھجوا دیتا خود نہ آتا " شیرو نے عجیب سی بات کی "تیمار داری تو کار ثواب ہے اور آپ تیمار داری سے پرہیز کرتے ہیں " میں نے ذرا طنزا کہا . تو شیرو نے کہا . " ایسی بات نہیں مجھے ہشاش بشاش چہرے اچھے لگتے ہیں جن کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو جاۓ . جیسے کہ آپ ہیں ترو تازہ . معذرت چاہتا ہوں گر معلوم ہوتا اپ آرام فرما رہی ہیں تو کبھی مخل نہ ہوتا " یہ کہتے ہوے شیرو اٹھ کر کھڑا ہو گیا " ارے کیا اپ بلا وجہ آۓ تھے کوئی کام نہیں تھا ." میں نے حیرانگی سے پوچھا " محترمہ میں نے عرض کی نا آپکو دیکھنے کے لئے دل چاہا تو چلا آیا " شیرو نے بیباکی سے کہا . او کے ؛ " شیر خان" میں نے اسے رخصت کرنے کے انداز میں کہا " نوشی جان مجھے سب شیرو کہتے ہیں آپ بھی شیرو کہا کریں " شیرو بولا ٹھیک ہے شیرو میں اپنے نام سے بلایا جانا پسند کرتی ہوں اور میرا نام نوشین ہے کہتے هوئے میں دروازے کی طرف بڑھی ؛ میں چونکہ نیند سے اٹھی تھی تو میرے بال بکھرے ہوئے تھے شیرو میرے پیچھے تھا ڈھیلے سا پاجامہ اور کھلی شرٹ کے علاوہ میں نے کچھ نہ اوڑھ رکھا تھا . دروازے سے نکل کے ہم برآمدے میں آ گئے تو میں رک گئی تاکہ وہ نکل جاۓ شیرو کہنے لگا . " ارمان کتنا خوش نصیب ہے جس کی آپ شریک حیات ہیں . " " اچھا جی " میں نے یوں ہی اپنی دلچسپی چھپاتے هوئے کہا جی وہ کیا کہتے ہیں " نیند اُس کی ہے، دماغ اُس کا ہے ، راتیں اُس کی تیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں
  2. #میری ساس میری_سہیلی #قسط_07 کھڑکی میں جالی لگی ہوئی تھی اس لئے مچھر وغیرہ کا بھی کوئی ڈر نہ تھا - ایک ہفتہ کے بعد رات کو سوتے ہوئے میری انکھ کھل گئی مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کھڑکی کے سامنے سے کوئی گزرا ہو - اس لائن میں ٥ بیڈ روم تھے آگے برآمدہ تھا جو سب بیڈ رومز کو کور کرتا ہے . اور برآمدے کے دونوں کونوں میں ٢ کمرے جو سٹور روم تھے . میں کونے والے سٹور روم کے ساتھ بیڈ روم میں ہوتی اور میری ساس دوسرے کونے والے سٹور روم کے ساتھ والے بیڈ روم میں ہوتی . گر کوئی گیا تھا میری ساس کے بیڈ روم کی طرف گیا تھا . میں نے دروازہ آرام سے کھولا اور برآمدے میں جھانک کر دیکھا تو کوئی نظر نہ آیا - میں ہولے سے باہر نکلی اور ساس کے بیڈ روم کی طرف جانے لگی . قریب پہنچی تو مجھے آوازیں سنائی دیں ایک تو میری ساس تھی دوسرا کون تھا کوئی اندازہ نہ ہو سکا . خوشقسمتی سے ساس کی کھڑکی کی درز سے میں دیکھنے میں کامیاب ہو گئی کہ وہ شیرو تھا جو کہ بیگم صاحبہ کے بعد دوسرے نمبر پر تھا یعنی کار مختار مگر یہ اس وقت بیگم صاحبہ کے کمرے میں کیا کر رہا ہے میرے ذہن میں یہ سوال اٹھا . میں تھوڑا اور نزدیک ہوئی مہلوم ہوا دونو جھگڑ رہے ہیں . بیگم صاحبہ = شیرو میں تم کو پہلے کہہ رکھا ہے کہ جب تک میں نہ کہوں تم رات کو ادھر مت آنا = میری بہو نوشیں نے دیکھ لیا تو قیامت آ جایئگی . شیرو . ٹھیک ہے مگر ایک ہفتہ ہو گیا میں ہاتھ میں لئے پھر رہا ہوں . تم جانتی ہو مجھ برداشت نہیں ہوتا . بیگم صاحبہ اس کا ایک ہی حل ہے بیگم صاحبہ وہ کیا ھل ہے میں بھی سنوں شیرو " میں تمہاری لاڈلی کو زبردستی چود دوں اس کے بعد کسی سے ڈرنے کی ضرورت ہی نہیں یہ سنتے ہی میں پیچھے پلٹی ..... ابھی میں پلٹی ہی تھی کہ مجھے عجیب سی آواز سنائی دی جیسے طمانچہ مارا گیا ہو - میں پھر پلٹی میں سمجھی کہ بیگم صاحبہ نے شیرو کو طمانچہ مارا ہوگا - میں کھڑکی کے نزدیک جا کر درز سے جو دیکھا تو بیگم صاحبہ کا ہاتھ انکے چہرے پر تھا اور ڈبڈبائی نظروں سے شیرو کو غصے سے دیکھ رہی تھیں . بیگم صاحبہ : " شیرو تم کو کئی بار کہہ چکی ہوں چہرے پر مت مارا کر تمہارا ہاتھ بھاری ہے اب نشان رہ گیا تو صبح کیا وضاحت کرتی پھروں گی " شیرو : " بیگم صاحبہ غصہ آ جاۓ تو مجھ پتا نہیں چلتا کہ کیا کر رہا ہوں " کہتے هوئے شیرو نے آگے بڑھ کر بیگم صاحبہ کو اپنے گلے سے لگا لیا . بیگم صاحبہ گلے لگتی ہی رونے لگی . میں حیران پریشان سوچنے لگی یہ ماجرا کیا ہے ! بیگم صاحبہ کا طوطی علاقے میں بجتا ہے ایک رعب اور دبدبہ ہے انکا ؛ سب ان کا احترام کرتے ہیں ؛ شیرو منشی منیم ایک کارندہ یا نوکر ہے انکا . اور اس سے تھپڑ کھا کر بیگم صاحبہ اسی کے سینہ سے لگی کھڑی ہے - ان کے آپس میں تعلقات کا تو اندازہ ہو گیا مگر طمانچہ کھا کر برداشت کرنے کی سمجھ نہیں آئ . میں کھڑکی کے ذرا اور نزدیک ہوگئی تاکہ انکی باتیں سن سکوں ؛ شیرو بیگم صاحبہ کو لپٹآئے کھڑا تھا اور انکی تھوڑی اٹھا کر ان کی آنکھوں کو چومنے لگا بیگم صاحبہ کے آنسوؤں نے انکے گال بھگو دئیے تھے شیرو نے انکے گالوں پر بوسوں کی بارش کر دی . بیگم صاحبہ نے اپنی باہیں شیرو کے گلّے میں ڈال دیں اور اس سے لپٹ گئی . شیرو نے انکی کمر کو بازوؤں میں جکڑ لیا اور اسے اٹھا کر بیڈ پر لٹانے لگا " ٹہر میں نوشین کو دیکھ آؤں " یہ کہتے ہوئے وہ اٹھنے لگیں تو میں ڈر سی گئی ؛ مگر شیرو نے کہا " وہ سو رہی ہے میں اسے سوتا دیکھ کر آ رہا ہوں ." تو بیگم صاحبہ نے اسے کہا شیرو کبھی اس طرف مت جانا ؛ نہیں تو میری طرف سے کسی اچھائی کی امید نہ رکھنا " بیگم صاحبہ سخت لہجے میں کہتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گئی . بیگم صاحبہ " مجھ پر رحم کر ؛ ایسی پابندی نہ لگا - سچ یہی ہے اس کے ہوتے ہم آزادی سے نہ مل سکیں گے ؛ اسے کانا کرنا بہت ضروری ہے - ایک بار ہی سہی " شیرو ایک ہی سانس میں سب کچھ کہہ گزرا . "کچھ شرم کر وہ تمہاری بہو ہے اپنی بہو کے بارے ایسا سوچنا بھی نہیں چاہیے اور تم ارادہ بناۓ بیٹھے ہو " بیگم صاحبہ نے چچ چچ کرتے کہا . " وہ آپکی بہو ہے میری نہیں نہ ہی ارمان میرا بیٹا ہے ؛ وہ مرحوم سردار کامران کا بیٹا ہے . کئی بار میں کہہ چکا ہوں . ارمان میرا بیٹا ہو ہی نہیں سکتا ". شیرو نے بڑے یقین سے کہا , مگر مجھے یقین ہے ارمان تمہارا ہی بیٹا ہے . کامران اور میری شادی کو ٩ سال ہو چکے تھے ہم بے اولاد رہے ؛ مگر پھر جب تمہارے ساتھ سونے کا مجھے موقع ملا تو دوسرے ماہ میں حاملہ ہو گئی تھی . بیگم نے اسے یاد کراتے ہوے کہا شیرو کہنے لگا " ارمان کی پیدایش کے بعد سردار کامران پانچ سال حیات رہے تھے اس عرصہ کے دوران ہم ملتے رہے پھر مجھ سے کوئی مزید اولاد کیوں نہ ہوئی تم تو اس دوران کوئی گولی یا دوائی پر بھی نہ تھیں " " ارے تم جانتے تو ہو کیس خراب ہو گیا تھا اور ڈاکٹر نے بتا دیا اس کے بعد میں ماں نہ بن سکون گی . بیگم نے افسردہ لہجے میں کہا . " شیرو کہنے لگا " کچھ بھی کہو ارمان میرا بیٹا نہیں نہ ہو سکتا ہے اس کی شکل صورت اپنے والد سے ملتی جلتی ہے وہ مجھ سے مشابہ نہیں ؛ پھر ہمارے خاندان میں جنم لینے والے لڑکے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے لن پر کالا تل ہوتا ہے . تم نے میرا تو دیکھا ہوا ہے تل ؛ ارمان کے بچپن میں میں نے چیک کیا تھا کوئی تل نہیں اس کے نفس پر ؛ ہاں خصیوں پر تل تھا مگر ہمارے ہاں ٹوپے پر ہوتا ہے جیسے یہ " ؛ کہتے ہوئے اس نے اپنی دھوتی سے اپنا لن نکال بیگم صاحبہ کو دکھایا . بیگم صاحبہ کہنے لگیں . " دیکھ شیرو , نوشین میری بہو ہے اس ناطے وہ تمھاری بھی بہو لگی , اس لئے اس کے بارے غلط ملط نہ سوچا کر یہ کہتے ہوئے بیگم صاحبہ شیرو کا لن ہاتھ میں لے لیا اور اسے بڑے اشتیاق سے دیکھنے لگیں . کمرے میں ایک لالٹین کی دھیمی روشنی میں میں لن کو نہ دیکھ سکی . مگر جس طرح بیگم صاحبہ نے اسے ہاتھ میں تھا ما ہوا تھا اس سے معلوم ہوتا تھا خاصے کی چیز ہوگی . شیرو " بیگم صاحبہ آپ سمجھ نہیں رہی ہو ؛ میں غلط نہیں سوچ رہا نوشین کو ساتھ ملا کر ہی ہم ایک دوسرے کو مل سکتے ہیں ورنہ ہر وقت پکڑے جانے کا خطرہ رہے گا . ویسے بھی نوشین , ارمان کے بس کی بات نہیں وہ بابو ٹائپ لڑکا اس جٹی کڑی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا مجھے کچھ کرنے کی اجازت دو وہ تمہارے تلوے چاٹتی رہے گی اور ہمارے راستے میں آنے کا سوچے گی بھی نہیں ". یہ کہتے ہوے شیرو بیگم صاحبہ کو چومنے لگا " نہیں کبھی نہیں ایسا کبھی سوچنا بھی نہیں " بیگم صاحبہ ترش لہجے میں بولیں . " ٹھیک ہے بیگم صاحبہ اس پر بات بعد میں کریں گے " . شیرو نے بیگم صاحبہ کو اپنی جانب کھینچتے ہوئے کہا ؛ بیگم صاحبہ : "شیرو جلدی جلدی کر لو کہیں نوشین اٹھ گئی تو کہیں کے نہ رہیں گے " یہ کہتے ہوئے وہ اپنے کپڑے اتارنے لگیں . " بیگم صاحبہ ابھی تو شروع بھی نہیں ہوئے اور آپ کو جلدی کی پڑ گئی ہے . ایک وقت تھا آپ کو دسمبر کی رات چھوٹی لگتی تھی ساری رات نہ سونے دیتیں نہ خود سوتیں " شیرو بیگم صاحبہ کی کپڑے اتارنے میں مدد کرتے ہوئے بولا اور بیگم صاحبہ کی شلوار بھی اتار دی . " ہاں شیرو اب وہ جذبات نہیں رہے عمر کے ساتھ ساتھ بہت کچھ بدلتا جا رہا ہے مجھے بھی یہی محسوس ہوتا ہے جیسے میں ٹھنڈی ہوتی جا رہی ہوں ورنہ اپنے جسم کے تقاضوں کی خاطر میں ساری زندگی خطرات سے کھیلتی رہی ہوں ", بیگم صاحبہ ایک ٹھنڈی آه بھرتے بولیں اور شیرو کی دھوتی کی طرف ہاتھ بڑھایا تو شیرو کھڑا ہو گیا اور اپنی قمیض اتار کر اس نے دھوتی بھی نیچے پاؤں میں گرا دی میں نے سوچا مجھے اب جانا چاہیے کہ یہ اب اپنا پرائیویٹ پروگرام شروع کرنے لگے ہیں اور اخلاقا مجھے یہاں سے ہٹ جانا چاہیے اس سے پہلے کہ میں قدم اٹھائی دفعتا مجھے لن کا سایہ دیوار پر نظر آیا اور میں وہیں ٹھٹھک کر کھڑی رہ گئی شیرو جب کھڑا ہوا تو وہ مجھے نظر نہیں آیا تھا لالٹین کی روشنی اس پر پڑی تو اس کے لن کا سایہ دیوار پر نظر آنے لگا . میں ڈائریکٹ اسے دیکھنا چاہتی تھی اس لئے مزید نزدیک ہو کر میں نے کھڑکی کی درز پر آنکھ ٹکا دی تو دیکھ کر میری چوت میں بھی گدگدی سی ہونے لگی شیرو کا ہتھیار ان سب سے بڑا لمبا اور موٹا دکھ رہا تھا جو اب تک برت چکی ہوں تقریبا ٧ انچ لمبا اور اسکی ٹوپی نہیں نہیں ٹوپا بہت موٹا لگا ٠ اسکی اٹھان اور اکڑ دیکھ کر میرے منہ بھی پانی آ گیا . مجھے اپنی ساس پر رشک انے لگا جو اب اسے ہاتھ میں لے کر دبانے اور چومنے میں لگی ہوئی تھی . وہ چارپائی بیڈ پر بیٹھی ہوئی اور شیرو اس کے سامنے کھڑا تھا . بیگم صاحبہ کے ہاتھ میں اس کا لن تھا جس کے ٹوپے پر بیگم صاحبہ کبھی زبان سے ٹکلنگ کرتی کبھی اسے منہ میں لے لیتی . شیرو نے بیگم صاحبہ کے سر کے پیچھے ہاتھ سے دباؤ دیا تو بیگم صاحبہ نے پورا لن منہ میں لے کر چوپا لگانا شروع کر دیا . شیرو کے منہ سے لذت آمیز آوازیں بیگم صاحبہ کے چوپا لگانے میں اکسپرٹ ہونے کا عندیہ دے رہی تھیں . شیرو نے بیگم صاحبہ کو بازؤں سے پکڑ کر اٹھا لیا اور اس کے ہونٹ اپنے لبوں میں لے کر چوسنے لگا بیگم صاحبہ نے اپنے بازو شیرو کے گلے میں ڈال دئیے اور شیرو نے اسے بھینچ لیا - شیرو کا لن بیگم صاحبہ کی رانوں میں ٹکریں مار رہا تھا اور بیگم صاحبہ ایک ہاتھ سے اسے پکڑ کر اپنی چوت پر مسلنے لگی . بیگم صاحبہ کی بولڈنس نے مجھے بہت متاثر کیا . وہ اس مقولے پر عمل پیرا تھیں کہ " جس نے کیا شرم ؛ پھوٹے اس کے کرم " بیگم صاحبہ اپنے بھاگ جگانے میں لگی ہوئی بہت مسرور لگ رہی تھی - شیرو بیڈ پر بیٹھ گیا اور بیگم صاحبہ اس کی گود میں بیٹھ گئی شیرو نے ایک بازو اس کے گلے میں ڈالا اپنے ہونٹ انکے لبوں پر رکھ کر انہیں چوم لیا بیگم صاحبہ شیرو کا نچلا ہونٹ لبوں میں لے کر چوسنے لگ گئی شیرو رانوں سے لے کر مموں تک بیگم صاحبہ کے جسم پر ہاتھ پھیرنے لگا بیگم صاحبہ شیرو کی گود میں بیٹھی شیرو کے ہتھیار پر اپنی چوت کو مسلنے لگی جس سے لن مزید برانگیختہ ہوا اور شیرو نے بیگم صاحبہ کو بیڈ ( چارپائی ) پر لٹانے کی کوشش کی مگر بیگم صاحبہ اٹھ کر کھڑی ہوئی اور چارپائی کو پکڑ کر گھوڑی بن کر کھڑی ہو گئی - شیرو لہراتے لن کے ساتھ اس کے پیچھے آ گیا اور اسکی پیٹھ چومنے لگا ساتھ ساتھ بیگم صاحبہ کے مموں کو مسلتا رہا پھر شیرو نے کھرے ہو کر بیگم صاحبہ کی چوت پر لن کو مسلا تو بیگم صاحبہ نے اپنی ٹانگیں چوڑی کر لیں اچانک شیرو نے ایک چماٹا تھپڑ بیگم صاحبہ کے دائیں بٹ پر جڑھ دیا بیگم صاحبہ نے اوئی کی اور اس کی بُنڈ اوپر اٹھی اور اسکی کمر میں ایک سیکسی خم سا پڑ گیا . شیرو ہاتھ سے مساج کرتا اور کبھی چومتا اور پھر چوت پر لن کو مسلنے لگا پھر اس نے دوسرا تھپڑ بائیں بٹ پر مارا بیگم صاحبہ کے منہ سے لذت بھری سسکی اف کی صورت نکلی اور شیرو بٹ کو چومنے لگا اور ہاتھ سے مساج کرتا رہا بیگم صاحبہ نے ٹانگیں مزید پھیلا دیں . شیرو نے اس بار چوت پر تھپڑ جمایا تو بیگم صاحبہ کھڑی ہوئی اور پلٹ کر شیرو سے لپٹ کر اسے چومنے لگی . میں سمجھ نہیں سکی بظاہر تو یہی لگتا تھا کہ بیگم صاحبہ کو ہاتھ کی ضربوں سے مزہ آ رہا ہے , میں حیران ہوئی کہ شیرو کے اتنے شدید تھپڑ وہ برداشت کیسے کر رہی ہیں . وہ الٹا اس پر واری نیاری ہو رہی تھیں . شیرو نے ان کو دوبارہ گھوڑی بنایا اک تھپڑ پھر انکی چوت پر مارا بیگم صاحبہ نے ٹانگیں کھول دیں اور شیرو نے اپنا لن چوت پر ٹکایا اور دھیرے دھیرے اندر اترنے لگا . بیگم صاحبہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور اپنی کمر کو لچکاتی ہوئی دہری سی ہوگئی جس سے شیرو کو ڈھیکا مارنے میں آسانی ہو گئی شیرو نے اسکے دونوں کولہوں کو پکڑ لیا اور زور زور سے بیگم کو چودنے لگا بیگم صاحبہ اپنے ہاتھ سے چوت کے دانے کو مسلنے لگی شیرو 5- ٧ جھٹکے لگا کر ایک ٢ تھپڑ بیگم صاحبہ کی بُنڈ ایک چپت رسید کر دیتا جس سے بیگم صاحبہ آہ کرتے ہوئے لچکتی تڑپتی اور پیچھے شیرو کو دیکھتے ہوئے کہتی اور زور سے جانو زور سے مار . شیرو ایک ہاتھ سے بیگم کے ممے ٹٹولنے لگا اور بیگم صاحبہ نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر دبایا اور سر اٹھا کر شیرو کو چومنے کی کوشش کی تو شیرو نے آگے ہو کر اسکے ہونٹ اپنے لبوں میں لئے اور چوسنے لگا بیگم صاحبہ نے ایک جُھر جُھری سی لی اور کانپ سی گئی - بیگم صاحبہ جھڑ چکی تھی . اور کھڑی ہو کر شیرو کو چمٹ کر اسے چومنے لگیں مجھے بھی ایک کپکپی سی محسوس ہوئی میں نے غور کیا تو اپنے ہاتھ کو اپنی چوت کو مسلتے ہوئے پایا مجھے خبر ہی نہ ہوئی کب میں بھی انکی کشتی میں سوار ہو چکی تھی
  3. #پدو ماوتی اور شاھد Episode 46* ‏ پدو ماوتی نے واش روم سے فریش ھوکر آتے ھی مسٹر شاھد کو اپنی نرم اور گوری گوری بانہوں کے حصار میں لیکر کس کرنا شرو ع کر دیا مسٹر شاھد نے بھی اس بھارتی چھمک چھلو کے منہ میں اپنی زبان ڈال دی صبا اب تھک کرلیٹ چکی تھی پر ان دونوں کو دیکھ رھی تھی پدو ماوتی کو پیچھے سے پکڑ کر مسٹر شاھد نے اس کی گردن پر کس کرنا شروع کر دیا مسٹر شاھد کا لن اب پدو ماوتی کی گانڈ پر ٹکرانا شروع ھوگیا تھا پدو ماوتی کا جیسے ھی سامنے والا حصہ خالی ھوا تب صبا نے ھمت کرکے اٹھنا مناسب سمجھا تاکہ اس سہاگ رات کو منفرد بنایا جا سکے اور تھری سم کیا جا سکے صبا نے فرنٹ پر آتے ھی پدو ماوتی کے ھونٹوں پر اپنے ھونٹ رکھ دئیے اور پدو ماوتی کے نپل مسلنا شروع کر دیئے پدو ماوتی اب سینڈو چ بنی ھوئی تھی پاکستان اور امریکہ کے بیچ اس بھارتی چھوری کو سینڈو چ بننے پر بہت مزہ آ رھا تھا مسٹر شاھد نے پدو ماوتی کے گوری کمر کو سہلاتے ھوۓ اسکی گانڈ پر ہاتھ پھیرنا شرو ع کر دیا پدو ماوتی کی گانڈ کے ٹشوز سردی کی وجہ سے بہت ٹھنڈے ھو چکے تھے مسٹر شاھد کا لن اپنا دباؤ پدو ماوتی کی گوری گانڈ پر بڑھاتے جا رھا تھا پدو ماوتی بولی کیا ھوا جان آ ج گانڈ مارنے کا ارادہ تو نہیں ھے مسٹر شاھد نے پدو کے کان میں سرگوشی کرتے ھوۓ کہا کہ آپ مارنے دو گی اپنی گانڈ تو پدو ماوتی بولی میری گانڈ ابھی تک کنواری ھے اس لئیے بہت درد ھوگا صبا بولی کہ آپکی رضا مندی ھے تو بن جاؤ گھوڑی اپنے پاکستانی گھوڑی کی پدو ماوتی بولی پہلے تو آگ میری چوت میں لگی ھوئی ھے اسکو بجھا دو اپنی بھارتی گھوڑی کو پیچھے آ جاؤ مسٹر شاھد اور میری چوت کی آ گ کو شانت کر دو پدو ماوتی جھٹ سے گھوڑی بن گئ اور اسکی گوری گانڈ کی ابھارن اب مسٹر شاھد کے سامنے تھی مسٹر شاھد اپنے سامنے پہلی بار پدو کو گھوڑی بنتے ھوۓ دیکھ رھا تھا اس نے اپنا لنڈ پدو کی گانڈ پر رگڑنا شروع کر دیا صبا نے مسٹر شاھد کا لن پکڑ کر پدو ماوتی کی چوت پر رکھا اور بولا کہ مر جاۓ گی بے چاری پہلے اسکی چوت کو چودو باقی کام بعد کا ھے Nawaab Zada shahid writer مسٹر شاھد نے بولا بڑا خیال آ رھا ھے آپکو صبا بولی اسکی بدولت آج مجھے تمہارا پیارا سا ساتھ نصیب ھوا ھے مسٹر شاھد نے پدو ماوتی کی گوری کمر کو پکڑا اور اپنا لنڈ اسکی چوت پر رکھ کر ایک زور کا جھٹکا مارا مسٹر شاھد کا لمبا اور موٹا لن پدو ماوتی کی چوت کے آخر تک چلا گیا پدو کی چوت بہت گیلی تھی اسی وجہ سے اسکو زیادہ درد نہیں محسوس ھوا مسٹر شاھد کا لنڈ اس ھندو چھوری کی ناف تک چلا گیا پدو ماوتی کی سسکاری نکل گئ اف آہ شاھد زور سے چودو اپنی مسلمان لنڈ سے بہت مزہ آ رھا ھے آہ آہ واؤ آمیزنگ شارٹ مسٹر شاھد نے پدو ماوتی کی چوت کے اندر باھر کر نا شرو ع کر دیا اسکی بڑھتی ھوئی رفتار کا ناپ کر پدو ماوتی نے اپنی کمر کو جھکا کر اپنا سر آگے جھکا کر اپنی گانڈ تھوڑی سی اوپر اٹھا کر خود کو آگے اور پیچھے کرنا شرو ع کر دیا مسٹر شاھد کا لنڈ پدو ماوتی کی چوت اور صبا کی چوت کی رگڑ سے سوجھ چکا تھا اسلئیے تپ کر سرخ ھو چکا تھا پدو ماوتی کی چوت کی گرپ اب ٹائیٹ ھو نے لگی پدو ماوتی کی چوت اب پھڑ پھڑانے لگی تھی پدو ماوتی نے پانی چھوڑ دیا اس نے بولا زور سے آہ میرا نکلنے والا ھے آہ آہ اوہ اف آہ مسٹر شاھد نے پدو ماوتی کے کمر کو پکڑ کر ایک زور کا شارٹ مارا اور پدو ماوتی کی چوت نے پانی چھوڑا دیا پدو ماوتی کا چوت کا جوالا مکھی اب آھستہ آھستہ ٹھنڈا ھونے لگا تھا اسکو گانڈ کا لمس اپنی رانوں پر محسوس کرتے ھوۓ مسٹر شاھد پر پدو ماوتی کا گانڈ مارنے کا جنون اب سر چڑنے لگا تھا مسٹر شاھد نے اپنا لنڈ نکال کر پدو ماوتی کو کنواری گانڈ پر رکھا اور رگڑنا شرو ع کر دیا اف آہ نکا لتے ھوۓ پدو ماوتی بولی تھوڑا سا آئل لگا لو پھر میری گانڈ کی سیل توڑنا صبا نے مسٹر شاھد کے لن کو گرم کپڑے سے صاف کیا اور پھر اس پر لوشن لگایا اور لن کا سر پکڑ کر پدو کی گانڈ پر رگڑنا شرو ع کر دیا صبا نے اپنی فنگر پر لوشن لگایا اور پھر پدو کی گانڈ پر لگا کر ساری اسکی گانڈ کے اندر کر دی اور گول گول ھلانے لگی Aaaaah ummmah aaaaah fuck me shahid مسٹر شاھد کے لن کو سہلاتے ھوۓ اسکو بولی شاھد ڈارلنگ اس کی گانڈ اب تیار ھے مسٹر شاھد نے اپنا لنڈ پدو ماوتی کی گانڈ پر رکھا اور ایک جھٹکا مارا لنڈ کا کیپ پدو ماوتی کی گانڈ چیرتا ھوا آدھا اندر چلا گیا پدو ماوتی کی گانڈ میں دبنگ لنڈ جاتے ھی پدو ماوتی کی چیخ نکل گئ اسکی کنواری گانڈ کے اندر باھر کرنا شروع کر دیا آہ آہ اف سسکاریاں لیتے ھوۓ اپنا گانڈ کے اندر باھر کرنا شرو ع کردیا مسٹر شاھد کا لنڈ اب سارے کا سارا اندر باھر ھونا شرو ع کر دیا پدو ماوتی کی تنگ گا نڈ نے مسٹر شاھد کے لن کو بری طر ح سے قابو کیا ھوا تھا بہت تنگ سوراخ تھا مسٹر شاھد نے اپنے لنڈ میں حرکت محسوس کر لی تھی اور اس نے جلدی سے اپنا لنڈ نکال کر پدو ماوتی کی چوت میں ڈال دیا پدو ماوتی کی تنگ چوت اب سوکھ چکی تھی اندر سے اسی لئیے مسٹر شاھد نے پدو ماوتی کی چوت میں لنڈ ڈال کر تیز تیز اسکا لمس پانا شرو ع کر دیا پدو ماوتی کی تنگ چوت نے جلدی ھی مسٹر شاھد کے لنڈ کا رس اپنے اندر نچوڑ لیا ایک تیز دھار پچکاری نکلی مسٹر شاھد کی اور پدو ماوتی کی چوت پانی سے بھر گئ دونوں کی سانسیں تیز چلنے لگیں مسٹر شاھد کے آخری گھسے اتنے جاندار تھے #جاری ھےیہ کہانی رومانٹک ناولز خاص لوگ گروپ کے لئیے لکھی گئ کہ پدو ماوتی ایک بار پھر فار غ ھوگئ مسٹر شاھد کے آخری گھسے اور پھرتی دیکھ کر صبا ایک بار پھر سے گرم ھو چکی تھی مسٹر شاھد پدو ماوتی کی بغل میں لیٹ گئے اور پھر صبا بولی کہ آپ کی سانسیں کیوں اتنی تیز ھیں پدو ماوتی تو پدو ماوتی بولی آپ دونوں نے مجھے فل گرم کر دیا تھا مسٹر شاھد جیسے ھی لیٹے تو صبا ایک بار پھر اسکے لن پر بیٹھ گئ اور اپنی پنک چوت پر اپنے شوہر کا لن لگا کر زور سے ایک جھٹکا مارا اور آدھا لن اندر لے لیا اور باقی کام مسٹر شاھد نے پورا کر دیا اس نے جوابی وار کرتے ھوۓ صبا کی کمر کو پکڑا اور جھٹکے سے سارا لن صبا کی چوت میں ڈال دیا صبا نے نیچے دیکھ تو شاھد کا سارا لن اسکی چوت میں ناف تک چلا گیا تھا صبا نے مسٹر شاھد کے لن کی سواری کرنا شرو ع کر دی اور اپنی آنکھیں بند کرلیں پدو ماوتی نے مسٹر شاھد کے لن کو نکال کر اسکو چوسنا شرو ع کر دیا اور کچھ چوپے لگا کر پھر صبا کی چوت پر سیٹ کر دیا مسٹر شاھد کی امریکی دلہن اب تیز تیز لن پر ہلنے لگی جسکی وجہ سے اسکے بوبز اوپر نیچے ھورھے تھے مسٹر شاھد نے کمال کی ضرب لگاتے ھوۓ ایسا لن اندر باھر کیا کہ صبا آہ آہ واؤ سسکتی ھوئی ڈسچارج ھوگئ اور پھر کچھ دیر بعد شاھد نے بھی اپنا پانی صبا کی چوت میں چھوڑ دیا بہت دیر تک رومانس کے بعد ایک دوسرے کی بغل میں لیٹ گئے کیونکہ صبح ولیمہ تھا جلدی اٹھنا تھا #ولیمے _پر _بہت سارے مہمان آۓ ھوۓ تھے پر چولی اور پریت کور کیساتھ ایک لڑکی تھی جس کا سراپا دیکھ کر مسٹر شاھد نے پوچھا جولی ڈارلنگ یہ کون ھے تو جولی بولی یہ ایک ماڈل ھے کامنی یہ ماڈلنگ کرتی ھے
  4. #پدو ماوتی اور شاھد Episode 45 اُس کی گَردن چُومنے کے لیے مِنَتیں کی ہیں ہونٹوں نے۔ ‏ مسٹر شاھد نے پدو ماوتی کو کہا کہ پیری یعنی #صبا فاطمہ میری جان ھے پدو ماوتی بولی صرف صبا ھی جان ھے تو مسٹر شاھد بولے کہ پدو ماوتی آپکو شاید پتہ نہیں ھے کہ نکاح کے اوپر والا اس رشتے میں بے پناہ محبت ڈال دیتا ھے پدو ماوتی مسکرا کر بولی چلو اپنی محبت کی شروعات کرو سہاگ کی سیج پر بیٹھی امریکن نو مسلم صبافاطمہ اپنے چاند سے چہرے پر گھونگھٹ ڈال کر بیٹھی تھی ھاتھوں پر مہندی کلائیوں پر چوڑیاں گلے میں نیکلس مسٹر شاھد نے صبا فاطمہ کا گھونگھٹ اٹھایا اور اسکے چمکتی ھوئی پیشانی پر ایک بوسہ لیا اور صبا کی مڈل فنگر میں گولڈن رنگ پہنائی اور اسکو نکاح کی مبارکباد دی صبا نے بھی مسٹر شاھد کا ھاتھ پکڑ کر چوم لیا پدو ماوتی نے گانا لگا دیا کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ھے کہ جیسے تجھ کو بنایا گیا ھے میرے لئیے مسٹر شاھد نے صبا فاطمہ سے بغل گیر ھو کر باتیں شرو ع کر دیں تھیں دونوں کے درمیان پیاربھری باتیں ھوئیں قول و قرار ھوۓ رات پوری طرح سے پھیل چکی تھی چاند اپنی آب و تاب کیساتھ چمک رھا تھا اور تب پدو ماوتی دودھ کے گلاس پیش کیے دونوں کو اور بولی کہ دولہا دلہن کشتی شرو ع کرنے سے پہلے دودھ پی لو مسٹر شاھد نے دودھ کا گلاس صبا کو دیتے ھوۓ بولا کہ چلو پی لو پیری بولی جان پہلے تم پی لو مسٹر شاھد نے گلاس سے دو گھونٹ بھرے اور پھر صبا کو دے دیا صبا نے دوسرا گلاس بھی مکس کرکے آدھا خود کیا اور پھر پدو ماوتی کو بھی دے دیا پدو ماوتی بولی رات بہت ھو چکی ھے اب سہاگ رات شرو ع کر و صبح ولیمہ ھے اسکی تیاریاں بھی کرنی ھیں مسٹر شاھد پدو ماوتی کو بولا کہ کسی مہمان نے آپکو ادھر دیکھ لیا تو غضب ھو جانا ھے آپکو نہیں پتہ شنکر کے کچھ کولیگ بھی ادھر مہمان ھیں پدو ماوتی---- بولی کہ سارے مہمان سو گئے ھیں اور اگر کوئی آ بھی گیا تو میں ساتھ والے روم میں چلی جاؤنگی صبا فاطمہ بولی پدو آپ کہیں نہیں جاؤگی بلکہ آ ج ھم تھری سم کرینگے مسٹر شاھد نے صبا کے لہنگے کو اتار دیا اور اسکے گلے لگاتے ھوۓ کس کرنا شرو ع کر دیا پدو ماوتی نے بھی اپنے کپڑے اتار دئیے تھے مسٹر شاھد نے صبا کے بلاوز کو پکڑ کر نکال دیا اور صبا کے گورے گورے ممے باھر نکال کر اس پر ھاتھ پھیرنا شرو ع کر دیا صبا نے بھی شاھد کا ساتھ دینا شرو ع کر دیا مسٹر شاھد نے پدو ماوتی کو بھی سینے سے لگایا اور کس کرتے ھوۓ بولا کہ آ ج بھارت اور امریکہ دونوں خوش کریگا یہ پاکستان کا دولہا پدو ماوتی بولی جانے من ھم یہی تو چاھتی ھیں مسٹر شاھد نے صباکی پینٹی اتار دی اور اسکی چوت پر مہندی کی پھول نما ڈیزائن دیکھ کر خود پر قابو کھو دیا‎ ‎ پیری یعنی کہ صبا نے اپنی چھاتی پر پاکستان کا جھنڈا بنایا تھا اور اپنی گوری گوری رانوں پر مہندی کے بہت سیکسی سا ڈیزائن بنایا تھا پدو ماوتی نے نیچے بیٹھ کر مسٹر شاھد کا لن انڈر وئیر سے باھر نکال لیا اور شہوت سے چور اس بھارتی حسینہ کی آنکھوں میں مسٹر شاھد کا چمکدار سر خ سپاڑہ دیکھ کر نشہ سا چڑھنے لگا مسٹر شاھد نے اپنی دلہن صبا کے براؤن نپل منہ میں لیکر چوسنا شرو ع کر دیا اور صبا کی سسکاریاں اب بڑھنے لگیں تھی پدو ماوتی بھی مسٹر شاھد کا لن چوسنا شرو ع کر چکی تھی مسٹر شاھد نے صباکو لٹا دیا صبا کی گوری گوری ٹانگیں اپنے کندھے پر رکھیں جاری ھےیہ کہانی رومانٹک ناولز خاص لوگ گروپ کے لئیے لکھی گئ کب نہیں ناز اُٹھائے ہیں تمہارے میں نے دیکھو آنچل پے سجاے ہیں ستارے میں نے صبا کو بولا کہ صبا ڈارلنگ آپ کی درد ھوگا پر برداشت کرنا اور اپنا لنڈ صبا کی چمکتی دمکتی چوت پر رکھ دیا اور رگڑنا شروع کر دیا پدو ماوتی اپنی چوت صبا کے سامنے کر دی صبا نے پدو ماوتی کی چوت پر ھاتھ رکھا اور پھر فنگرنگ شرو ع کردی شاھد نے صبا کی کلٹ پر اپنا لنڈ رگڑنا جاری رکھا اس نے اپنے لنڈ کا ٹاپ صباکی چوت کے سوراخ کے اوپر گول گول رگڑنا شروع کردیا صبا کی چوت اب پانی چھوڑ رھی تھی اس نے اپنے دولہا مسٹر شاھد سے کہا ڈارلنگ اب مت تڑپاؤ اپنے لنڈ کو ڈال دو میری چوت میں تمہاری دلہن تڑپ کر مر نہ جاۓ ڈال دو نہ صبا نے نشے کے جیسی حالت میں اپنی آنکھیں بند کی ھوئی تھی مسٹر شاھد نے صبا کو اوپر لیٹ کر اسکے نرم نرم ھونٹوں کا جام پینا شرو ع کر دیا اور پھر اس امریکی شہوت زادی نے اپنا ہاتھ نیچے لے جاکر مسٹر شاھد کا لنڈ اپنی گیلی چوت کے سورا خ پر لگا یا اور اپنی کمر کو جھٹکے دینے لگی تبھی اس پاکستانی دولہا نے #امریکی گوری نو مسلم صبا کی چوت پر اپنا لن کا دباؤ بڑھایا اور ایک جھٹکا مارا تو مسٹر شاھد کے لنڈ کی ٹوپی صبا کی چوت کے لب کھول کر اندر چلی گئ صبا کی چیخ نکل گئ مسٹر شاھد نے اپنے لب اسکی لبوں پر دبا دئیے اور ایک اور جھٹکا مار دیا مسٹر شاھد کا لنڈ صبا کی چوت کے نرم و ملائم ٹشوز کی رگڑ کھاتے ھوۓ اندر چلا گیا پدو ماوتی بولی صبا جب میرے اندر شاھد کا کنگ کوبرا جیسا لن پہلی بار گیا تھا تب مجھے بھی بہت درد ھوا تھا مگر اس درد نے کب پیار کا روپ دہار لیا پتہ ھی نہیں چلا آپ اپنی چوت کو ڈر کی وجہ سے مت سکیڑو بلکہ مسٹر شاھد کے لنڈ کو جگہ دو اپنی چوت میں درد خود ھی ختم ھو جائیگا مسٹر شاھد نے ایک زور کا جھٹکا مارا اور اپنا سارا لن صبا کی تنگ چوت میں ڈال دیا صباکی تڑپ بڑھ گ ئ اسکی ٹانگیں کانپنے لگیں کیونکہ صبا کی چوت کے ٹشوز مسٹر شاھد کے لنڈ پر چڑھ چکے تھے اور شاھد کا لنڈ اسکی ناف تک جا چکا تھا صبا کی آنکھوں سے آنسو نکلنا شرو ع ھوگۓ تھے شاھد نے اپنی رفتار بڑھاتے ھوۓ لنڈ کو اندر باھر کرنا شروع کر دیا کچھ ہی دیر میں صبا کی چوت کی گرفت کمزور پڑنے لگی اور امریکی دلہن کی چوت میں پاکستانی دیسی لن کا آنا جانا آسان ھوتا گیا صبا کی درد اب لذت میں تبدیل ھوگئ تھی اسکی گوری چوت کے تنگ سوراخ نے مسٹر شاھد کے لن کو جکڑلیا تھا صبا کی چوت میں سے خون نکل رہا تھا پر اسکی صبا کو کوئی پرواہ نہیں تھی وہ مسٹر شاھد کی کمر پر ھاتھ پھیرتے ھوۓ اسکا حوصلہ بڑھا رھی تھی صباکی ٹانگیں کانپنے لگیں تھیں اس کے نپل تن گۓ تھے صبا بھی اب مسٹر شاھد کے لن پر اپنی چوت زور زور سے اندر باھر کروا رھی تھی صبا کی چوت اب پوری طر ح سے گرم ھو چکی تھی مسٹر شاھد نے اپنی رفتار بڑھاتے ھوۓ اپنا بڑا سا لن صبا کی چوت میں اندر باھر کرنے لگے صبا بھی چودو مجھے زور زور سے ڈارلنگ اف اف فک می شاھد اور پھر دونوں ایک دوسرے سے لپٹ گۓ مسٹر شاھد کے نیچے لیٹی صبا نے بھی اپنی توانائی صرف کرتے ھوۓ اپنی چوت کو شاھد کے لن پر اچھالنا شرو ع کر دیا اور دونوں رومانس میں اپنا درد بھول کر جلد پانی کا سیلاب چھوڑنے لگے سہاگ رات کی اس آزمائش میں پہلے پانی امریکی دلہن کی چوت نے چھوڑا اور پھر پاکستانی دولہے نے اپنی مردانگی کی فتح کو کیش کرتے ھوۓ اپنا لنڈ کی تیز دھار صبا کی چوت میں چھوڑ دی صبا بولی شاھد بہت خاص احساس ھے اچھا لگ رھا ھے آپکے لنڈ نے ساری گرمی میری چوت میں نکال دی اوہ واؤ آمیزینگ موومنٹ فار مائی لائف میری زندگی کا خوشگوار احساس ھے مسٹر شاھد کاش میں آپکے بچے کی جلد ماں بن سکوں مسٹر شاھد اپنی دلہن پر کچھ دیر لیٹے رھے اور پھر
  5. #پدو ماوتی اور شاھد پارٹ.........44 تو کسی اور کے لمس میں نہ اترے گی میں تیری خوشبو اڑا کے رکھ دوں گا #‏ پیری_ نے اپنے والد براڈ پٹ کو منا لیا تھا براڈ پٹ نے مسٹر شاھد کو اپنی فیملی سمیت پسند کر لیا براڈ کی بیوی اور اسکی چھوٹی بیٹی جولیٹ نے بھی مسٹر شاھد کا گھر بار دیکھ کر مکمل اطمینان ظاھر کیا گلباز اور سوزی کی جوڑی بھی منظور کرلی گئ اور دونوں پاکستانی اب براڈ پٹ کے داماد بننے جارھے تھے........ مسٹر شاھد نے براڈ پٹ کو اپنا کارو بار دکھایا اور براڈ پٹ مسٹر شاھد اور گلباز گیلانی کے اخلاق سے بہت متاثر تھا آئندہ ھفتے براڈ پٹ کی پچاسویں سالگرہ تھی تو فلم میکر ڈرائیکٹر براڈ پٹ نے فیصلہ کیا کہ سالگرہ کے پر مسرت موقعے پر آپ چاروں کا نکاح قرار پاۓ گا........ مجھے بتایا تھا پیری نے کہ وہ اسلام سے بہت متاثر ھے تو بیٹا ھم سب ایک خدا کو مانتے ھیں اس لیئے مسلمان بھی ھماری طر ح #اہل_کتاب ھیں تو مجھے اب کوئی اعتراض نہیں ھے براڈ کی باتیں سن کر مسٹر شاھد نے براڈ کی گلے سے لگا لیا اور کہا انکل سب سے پہلے انسانیت ھوتی ھے باقی سب کچھ بعد میں ھوتا ھے آپ کی باتیں بہت معنی خیز ھیں میں آپکی اس شائستہ گفتگو سے بہت متاثر ھوا ھوں ڈاکٹر پیری اور مسٹر شاھد نے شادی کی شاپنگ شرو ع کر دی تھی پدو ماوتی بھی ایک تجربہ کار ہاؤس وائف کا رول نبھاتے ھوۓ اس نئ جوڑی کی شاپنگ میں مدد کرنے لگی پدو ماوتی اپنی پہلی محبت کو پیری کے سپرد کر رھی تھی اسکی مجبوری تھی اگر پیری کی جگہ کو اور آ جاتی تو پدو ماوتی کی محبت جلد ایک بساط میں لپیٹ دی جاتی پدو ماوتی اس وقت مسٹر شاھد کے بنگلے میں تشریف فرما تھیں پدو ماوتی اور پیری اپنی کامیاب محبت کے انجام پر بہت خوش تھیں پدو ماوتی حاملہ تھی اسے ماں بننے کا احساس پہلی بار مسٹر شاھد نے ھی دلایا تھا انجانے میں کیا گیا اس بھارتی حسینہ پدو ماوتی کے دل میں نئے رشتے کی بنیاد بن گیا اب مسٹر شاھد کی طرف سے ملنے والی ڈھیر ساری محبت نے پدو ماوتی کے اس فیصلے کو صیح ثابت کیا تھا جو پدو ماوتی نے مسٹر شاھد کی محبت کو قبول کرکے کیا تھا ادھر جھنگ کے شاہ گلباز گیلانی بھی سوزی سوزین کیساتھ شادی کی شاپنگ میں مصروف تھے جھنگ کے اس رانجھے کی ونجھلی کی کوک اب کیلی فورنیا میں محسوس کرلی گئ تھی اور اتوار والے دن ویملے بینکوئیٹ حال میں براڈ پٹ نے اپنی ہیر سوزی سوزین اور پیری کو دلہن بنا کر سٹیج پر لا کھڑا کیا سب کی نظریں گھڑی کی ٹک ٹک پر تھیں پیری اور سوزی پاکستان کے روائیتی# برائیڈ ڈریس لاھوری سر خ لہنگا زیب تن کئیے ھوۓ تھیں تبھی پنڈال میں مسٹر شاھد اور سید گلباز گیلانی دولہے کے روپ میں سٹیج پر اپنے اپنے شریک حیات کیساتھ براجمان ھوۓ ڈی جے کے ساؤنڈ سے اناؤسمنٹ ھوئی لیڈیر اینڈ جنٹلمین مائی ڈوٹرز ایکسپٹ اسلام اینڈ شی ایکسیپٹ مسلم ھسبینڈ گلباز اینڈ شاھد آر مسلم یو نو مجھے بہت خوشی ھے میری بیٹیاں مجھے میرا باپ کی عزت دیتے ھوۓ مجھے اپنی شادی کا فیصلہ مجھ پر چھوڑ دیا تھا جس پر میں نے انکی حوصلہ افزائی کی اب یہ دونوں علامہ طارق جمیل کی موجودگی میں نکاح کرینگی Congratulations my daughters علامہ صاحب خوش قسمتی سے امریکہ آۓ ھوۓ ھیں پدو ماوتی راجستھانی ساڑھی پہنے آنٹی نرگس جانا کیساتھ بیٹھی تھیں سب کچھ بڑی خوشی سے انجام پارہا تھا پاکستان سے مسٹر شاھد کے دوست حمزہ شمس وقار عمران عثمان راجپوت اور جانی بابا شرکت کے لئیے آۓ تھے شاھد اور گلباز نے شیروانیاں پہن رکھی تھیں دونوں اپنی اپنی دلہنوں کو دیکھ کر مسکرا رھے تھے ڈی جے پر پاکستانی گانا لگا ھوا تھا غم ھے یا خوشی ھے تو میری زندگی ھے تو نکاح کی وقت مولانا طارق جمیل صاحب نے نکاح پڑھایا پیری اور سوزی نے مشرقی لڑکیوں کی طرح شرماتے تین بار قبول ھے قبول ھے قبول ھے اور ڈے جے والے نے علامہ صاحب سے کہا کچھ بیان ھو جاۓ آج تو حال میں موجود کرسچن گورے بولے افکورس مولانا صاحب نے بیان میں موضو ع رکھا انسان اور مذھب پر جب بیان فرمایا تو گورے بھی رو پڑے اور پیری اور سوزی نے کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیا پدو ماوتی بولی میں اسلام قبول کرونگی جب شنکر واپس آجاۓ گا تو زندگی بھر ھم پتھر کی مورتی کو پوجتے رھے جو خود بنائی ھوئی ھوتی ھے نکاح کے بعد ویملے میرج حال میں حلال ڈشز مطلب پاکستانی کھانے پیش کئیے گۓ گورے پاکستانی کھانے بریانی پشاوری چپلی کباب پشاوری قہوہ اور دوسرے پاکستانی کھا کر بہت متاثر ھوۓ تھے سب کچھ پاکستانی دیکھ کر اسرائیلی حسینہ جولی بولی ایک #پاکستانی سبز رنگ ھے جو سب پر چڑھ جاتا ھے جولی کی بات سن کر سب مسکرادئیے دولہا اور دلہن کو تحائف دیکر براڈ پٹ کی پچاسویں سالگرہ کا کیک کاٹا گیا اس سالگرہ کو یادگار بنا دیا میرے محبوب، آ تیرے ہونٹ چوم لوں پھر جو لطف آئے گا، وہ آدھا تیرا، آدھا میرا براڈ پٹ نے حال میں سب دوست نو بیاہتا جوڑے کو مبارکباد دینے لگے پیری نے مسٹر شاھد اور سوزی سوزین نے گلباز کا منہ میٹھا کروایا رخصتی کا وقت آ گیا پنڈال میں براڈ پٹ دونوں کو گلے لگا کر بولا کہ میرے بچو آپ دونوں میرے بیٹے ھو میری دونوں بیٹیاں آپکی عزت ھیں ان کا خیال رکھنا نکاح نامہ مسٹر شاھد کو دیا گیا اور گلباز گیلانی کے سپرد گیا تو اس پر پیری نے اپنا نام صبافاطمہ اور سوزی نے زینب فاطمہ رکھا دونوں کے مسلم نام دیکھ کر مسٹر شاھد اور گلباز کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے مسٹر شاھد نے جب براڈ پٹ سے اجازت چاھی تو براڈ نے کہا شاھد بیٹا آپ اپنی وائف کیساتھ جاؤ اپنے گھر جبکہ گلباز اور سوزی ھمارے ساتھ ھمارے گھر میں رھیں گے مسٹر شاھد نے گلباز سے پوچھا کیا خیال ھے گلباز تو گلباز بولا انکل صیح کہہ رھے ھیں ڈاکٹر پیری اور مسٹر شاھد نے شادی کی شاپنگ شرو ع کر دی تھی پدو ماوتی بھی ایک تجربہ کار ہاؤس وائف کا رول نبھاتے ھوۓ اس نئ جوڑی کی شاپنگ میں مدد کرنے لگی پدو ماوتی اپنی پہلی محبت کو پیری کے سپرد کر رھی تھی اسکی مجبوری تھی اگر پیری کی جگہ کو اور آ جاتی تو پدو ماوتی کی محبت جلد ایک بساط میں لپیٹ دی جاتی پدو ماوتی اس وقت مسٹر شاھد کے بنگلے میں تشریف فرما تھیں پدو ماوتی اور پیری اپنی کامیاب محبت کے انجام پر بہت خوش تھیں پدو ماوتی حاملہ تھی اسے ماں بننے کا احساس پہلی بار مسٹر شاھد نے ھی دلایا تھا انجانے میں کیا گیا اس بھارتی حسینہ پدو ماوتی کے دل میں نئے رشتے کی بنیاد بن گیا اب مسٹر شاھد کی طرف سے ملنے والی ڈھیر ساری محبت نے پدو ماوتی کے اس فیصلے کو صیح ثابت کیا تھا جو پدو ماوتی نے مسٹر شاھد کی محبت کو قبول کرکے کیا تھا ادھر جھنگ کے شاہ گلباز گیلانی بھی سوزی سوزین کیساتھ شادی کی شاپنگ میں مصروف تھے جھنگ کے اس رانجھے کی ونجھلی کی کوک اب کیلی فورنیا میں محسوس کرلی گئ تھی اور اتوار والے دن ویملے بینکوئیٹ حال میں براڈ پٹ نے اپنی ہیر سوزی سوزین اور پیری کو دلہن بنا کر سٹیج پر لا کھڑا کیا سب کی نظریں گھڑی کی ٹک ٹک پر تھیں پیری اور سوزی پاکستان کے روائیتی برائیڈ ڈریس لاھوری سر خ لہنگا زیب تن کئیے ھوۓ تھیں تبھی پنڈال میں مسٹر شاھد اور سید گلباز گیلانی دولہے کے روپ میں سٹیج پر اپنے اپنے شریک حیات کیساتھ براجمان ھوۓ ڈی جے کے ساؤنڈ سے اناؤسمنٹ ھوئی لیڈیر اینڈ جنٹلمین مائی ڈوٹرز ایکسپٹ اسلام اینڈ شی ایکسیپٹ مسلم ھسبینڈ گلباز اینڈ شاھد آر مسلم یو نو مجھے بہت خوشی ھے میری بیٹیاں مجھے میرا باپ کی عزت دیتے ھوۓ مجھے اپنی شادی کا فیصلہ مجھ پر چھوڑ دیا تھا جس پر میں نے انکی حوصلہ افزائی کی اب یہ دونوں علامہ طارق جمیل کی موجودگی میں نکاح کرینگی علامہ صاحب خوش قسمتی سے امریکہ آۓ ھوۓ ھیں پدو ماوتی راجستھانی ساڑھی پہنے آنٹی نرگس جانا کیساتھ بیٹھی تھیں سب کچھ بڑی خوشی سے انجام پارہا تھا پاکستان سے مسٹر شاھد کے دوست حمزہ شمس وقار عمران عثمان راجپوت اور جانی بابا شرکت کے لئیے آۓ تھے شاھد اور گلباز نے شیروانیاں پہن رکھی تھیں دونوں اپنی اپنی دلہنوں کو دیکھ کر مسکرا رھے تھے ڈی جے پر پاکستانی گانا لگا ھوا تھا غم ھے یا خوشی ھے تو میری زندگی ھے تو نکاح کی وقت مولانا طارق جمیل صاحب نے نکاح پڑھایا پیری اور سوزی نے مشرقی لڑکیوں کی طرح شرماتے تین بار قبول ھے قبول ھے قبول ھے اور ڈے جے والے نے علامہ صاحب سے کہا کچھ بیان ھو جاۓ آج تو حال میں موجود کرسچن گورے بولے افکورس مولانا صاحب نے بیان میں موضو ع رکھا انسان اور مذھب پر جب بیان فرمایا تو گورے بھی رو پڑے اور پیری اور سوزی نے کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیا پدو ماوتی بولی میں اسلام قبول کرونگی جب شنکر واپس آجاۓ گا تو زندگی بھر ھم پتھر کی مورتی کو پوجتے رھے جو خود بنائی ھوئی ھوتی ھے نکاح کے بعد ویملے میرج حال میں حلال ڈشز مطلب پاکستانی کھانے پیش کئیے گۓ گورے پاکستانی کھانے بریانی پشاوری چپلی کباب پشاوری قہوہ اور دوسرے پاکستانی کھا کر بہت متاثر ھوۓ تھے سب کچھ پاکستانی دیکھ کر اسرائیلی حسینہ جولی بولی ایک پاکستانی سبز رنگ ھے جو سب پر چڑھ جاتا ھے جولی کی بات سن کر سب مسکرادئیے دولہا اور دلہن کو تحائف دیکر براڈ پٹ کی پچاسویں سالگرہ کا کیک کاٹا گیا اس سالگرہ کو یادگار بنا دیا براڈ پٹ نے حال میں سب دوست نو بیاہتا جوڑے کو مبارکباد دینے لگے پیری نے مسٹر شاھد اور سوزی سوزین نے گلباز کا منہ میٹھا کروایا رخصتی کا وقت آ گیا پنڈال میں براڈ پٹ دونوں کو گلے لگا کر بولا کہ میرے بچو آپ دونوں میرے بیٹے ھو میری دونوں بیٹیاں آپکی عزت ھیں ان کا خیال رکھنا نکاح نامہ مسٹر شاھد کو دیا گیا اور گلباز گیلانی کے سپرد گیا تو اس پر پیری نے اپنا نام صبافاطمہ اور سوزی نے زینب فاطمہ رکھا دونوں کے مسلم نام دیکھ کر مسٹر شاھد اور گلباز کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے مسٹر شاھد نے جب براڈ پٹ سے اجازت چاھی تو براڈ نے کہا شاھد بیٹا آپ اپنی وائف کیساتھ جاؤ اپنے گھر جبکہ گلباز اور سوزی ھمارے ساتھ ھمارے گھر میں رھیں گے مسٹر شاھد نے گلباز سے پوچھا کیا خیال ھے گلباز تو گلباز بولا انکل صیح کہہ رھے ھیں مسٹر شاھد نے گلباز کو گھورتے ھوۓ کہا سالے تیری تو اتنی جلدی بدل گیا لفظ انگلش میں تھے اس لئیے سب مسکرا دئیے مسٹرشاھد بولا چل جا سمرن جی لے اپنی زندگی اور پھر الوداع سلام دعا کے بعد دونوں واپس جانے کی تیاریوں میں لگ گۓ کیونکہ رات ھونے لگی تھی پیری اپنے پیاروں سے رخصتی کی اجازت لیکر مسٹر شاھد کی کارمیںبیٹھ چکی تھی اسکی گوری سہیلیوں نے پیری کو نیک تمنائیں اور دعاؤں کیساتھ رخصت کیا مسٹر شاھد نے ڈرائیور کو چلنے کو کہا پیری یعنی کہ صبا فاطمہ بیشک امریکن تھی مگر اس نے مشرقی دلہن کی طر ح گھونگھٹ نکالا ھوا تھا اور ھاتھوں پر مہندی کے پھولوں نے اسے بے حد خوبصورت بنا دیا تھا پیری کو مسٹر شاھد کا ساتھ بہت پا کر بہت اچھا لگ رھا تھا پیری کو مسٹر شاھد کی محبت پا کر بے حد خوشی تھی پدو ماوتی کا خواب بھی اب پورا ھوا تھا کچھ دیر بعد بارات مسٹر شاھد کے بنگلۂ پر پہنچ گئ پدو ماوتی نے پیری کو دلہن کے کمرے میں پہنچا دیا اور پھر مسٹر شاھد کے بیڈ روم میں پیری گھونگھٹ ڈال کر بیٹھ گئ کیلی فورنیا کی سردی بڑھنے لگی تھی کیونکہ اکثر کیلی فورنیا میں رات کو برفباری بھی ھوتی ھے پدو ماوتی نے دودھ کا گلاس رکھا اور مسٹر شاھد کو بولا بچی ابھی نازک ھے ذرا آرام سے مسٹر شاھد نے کہا
  6. #پدو ماوتی اور شاھد پارٹ.........43..42 ہاتھ تو بہت لوگ تھامنا چاہتے ہیں مگر ساتھ کوئی ایک ہی چلتا ہے #بچھی_ پڑی _ھے عاشقی تیرے قدموں میں نور ھے بس نور ھے ان نظروں میں یہ گانا لگا ھوا تھا اور پدو ماوتی اپنے محبوب مسٹر شاھد کیساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھی کیلی فورنیا کی سرد ھوائیں چل رھی تھیں پدو ماوتی مسٹر شاھد کے بنگلے میں شنکر کے آنے تک شفٹ ھوگئ تھی پدو ماوتی پہلے بھی آ چکی تھی مسٹر شاھد کے گھر میں اب کا قیام کچھ لمبا ھو جانا تھا اسلیئے پدو ماوتی آج اپنے محبوب کیساتھ اسکی بغل میں بیٹھی تھی پدو ماوتی بولی شاھد جانو آپکا بچہ بھی آپ جیسا ھوگا میرا بہت خیال رکھے گا مسٹر شاھد بولے کہ اس بچے کا اسم گرامی مسلم ناموں سے منسوب ھوگا نہ کہ ھندو نام رکھ دینا آپ تب پدو ماوتی بولی کہ شاھد صاحب اب مت گھبراؤ اب مسلمانوں کا سکہ چلے گا پچہ مسلمان ھوگا ماں بھی مسلمان ھو گی شنکر بھی آپ بس دیکھی جاؤ پدو ماوتی اس سیج پر بیٹھی تھیں جہاں سوموار کو پیری نے بیٹھنا تھا مسٹر شاھد نے اپنا بیڈ روم خوب سجایا تھا گراسنگ پینٹگ لائٹنگ ابھی کروائی گئ تھی اسمیں پدو ماوتی پیری کی تصویر فریم میں فکس کی گئ تھی پدو ماوتی اپنی تصویر دیکھ کر بولی سہاگ رات کو جب پیری کی گوری گوری ٹانگیں اٹھاؤ گے آپ تب دیوار پر لگی یہ تصویر آپکو میری یاد دلاۓ گی مسٹر شاھد بولے آپ بھی مجھے پھر مس کرو گی پدو بولی کہ میں کچھ دن کے بعد آپکے بچے کو جنم دوں گی اور تب آپکی طرف میرا دھیان تھوڑا کم ھو جاۓ گا مسٹر شاھد نے پدو ماوتی کا ہاتھ پکڑ کر چوم لیا اور بولا کہ ڈارلنگ آپ نے بہت کچھ دیا مجھے اس لیئے اتنی خوشیاں دیں آپ نے میں آپکو نہیں بھلا سکتا پیری جیسی معصوم اور حور لڑکی کو بھی آپ نے ھی منایا تھا میرا ہمسفر بننے پر پدو ماوتی بولی مسٹر شاھد ڈاکٹر پیری خود بھی تم پر مرتی ھے پیری نے بہت جتن کئیے آپکی محبت پانے کے لیئے پتا ھے پاکستان اتنا کیوٹ ھے اور پاکستان کے لوگ بہت ملنسارھوتے ھیں مگر دنیا ویسے ھی اپنا مائنڈ خراب کئیے بیٹھی ھے دونوں دیشوں کے بیچ موجودہ تناؤ اسکی وجہ ھے ھمارا بھارت کہتا ھے پاکستان دھشتگرد ھے پاکستان کہتا ھے کہ خطے میں بھارت اسلحے کی دوڑ شرو ع کیئے ھوۓ ھے مسٹر شاھد نے کہا اگر بھارت اور پاکستان جنگ کی بجاۓ امن و امان سے رہیں تو دونوں دیشوں کی عوام مہنگائ صحت اور تعلیم جیسے شعبوں پر توجہ دیکر ترقی کی منزلیں طے کر سکتے ھیں آپ نے سچ کہا ھے مسٹر شاھد نے پدو ماوتی کو بولا کہ اب ھمارے درمیان بھی زیادہ تناؤ نہیں ھے پدو بولی جی باالکل بلکہ ھم دونوں کا بہت قریب کا رشتہ ھے ایک رشتہ پاک بھارت باڈر کا رشتہ دوسرا ھماری محبت کا رشتہ کالے رنگ کی قمیض اور سفید شلوار میں ملبوس پدو ماوتی مسٹر شاھد کو اپنے نخرے دکھاتے ھوۓ بولی ایک بات کہوں شاھد جی فرمائیے پدو بولی مجھے آپکی عادت سی ھوگئ ھے دونوں آج وعدہ کرتے ھیں کہ آنے والے دنوں میں ھم ایک دوسرے کو نہیں چھوڑیں گے دیکھو میں نے اپنے دھرم کو بھول کر آپ سے پیار کیا ھے بیشک آپ نے میرا ریپ کر دیا تھا پر مجھے آپ کا ھرانداز بہت اچھا لگا تھا اس دن سے مسٹر شاھد بولے کہ ماوتی ڈارلنگ آپکے جان لیوا سراپے نے مجھے مجبور کردیا تھا اس دن وحشی ھونے پر پدو ماوتی بولی کہ بھلے ہی آپکا انداز وحشیانہ تھا مگر اس وحشیانہ انداز نے مجھے محبت میں مبتلا کر دیا تھا میری بھی ایسے چدائی کسی نے نہیں کی تھی میں کالج کے دنوں میں بہت شریف تھی میری سیل میرے پتی نے ھی توڑی تھی مجھے کسی غیر مرد نے چھوا تک نہیں تھا شنکر نے ابھی تک میرے اندر اپنا سپرم نہیں گرایا پہلی بار آپکا سپرم میری چوت میں گیا اب میری کوکھ میں آپکا ہی بچہ ھے مسٹر شاھد نے کھڑکی سے باھر دیکھا باھر ھواؤں نے طوفان برپا کیا ھوا تھا سرد ھوائیں چل رھیں تھیں اور گہری رات ھو چکی تھی آنٹی نرگس روم میں آئی اور دونوں کو کو باتیں کرتے دیکھ کر آنٹی نرگس بولی سوجاؤ شاھد بیٹا رات بہت ھوگئ ھے صبح آپ نے آفس بھی جانا ھے آپ اپنے بزنس پر بھی توجہ دیا کرو سو جاؤ دونوں باھر بہت سردی ھے تسبیح کرتے کرتے آنٹی نرگس اپنے کمرے میں چلی گئ آنٹی نرگس کا کمرہ مسٹر شاھد کیساتھ والے روم میں ھی تھا پدو ماوتی اور مسٹر شاھد آنٹی کی بات سن کر مسکرا رھے تھے مسٹر شاھد نے ھیٹر آن کیا اور پدو ماوتی کو بولا کے کیا خیال ھے کریں پاک بھارت میچ شروع پدو ماوتی شرما کر بولی بھارت کی پچ تو بیٹنگ کے لئیے تیارھے آپ بیٹنگ شرو ع کرو مسٹر شاھد کھل کھلا کر مسکرا دئیے اور بولے کہ پچ میں زیادہ باؤنس تو نہیں ھے ماوتی یہ گانا لگا ھوا تھا اور پدو ماوتی اپنے محبوب مسٹر شاھد کیساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھی کیلی فورنیا کی سرد ھوائیں چل رھی تھیں پدو ماوتی مسٹر شاھد کے بنگلے میں شنکر کے آنے تک شفٹ ھوگئ تھی پدو ماوتی پہلے بھی آ چکی تھی یہ کہانی اردو پشتو رومانٹک کہانیاں گروپ کے لئیے لکھی گئ مسٹر شاھد کے گھر میں اب کا قیام کچھ لمبا ھو جانا تھا اسلیئے پدو ماوتی آج اپنے محبوب کیساتھ اسکی بغل میں بیٹھی تھی پدو ماوتی بولی شاھد جانو آپکا بچہ بھی آپ جیسا ھوگا میرا بہت خیال رکھے گا مسٹر شاھد بولے کہ اس بچے کا اسم گرامی مسلم ناموں سے منسوب ھوگا نہ کہ ھندو نام رکھ دینا آپ تب پدو ماوتی بولی کہ شاھد صاحب اب مت گھبراؤ اب مسلمانوں کا سکہ چلے گا پچہ مسلمان ھوگا ماں بھی مسلمان ھو گی شنکر بھی آپ بس دیکھی جاؤ پدو ماوتی اس سیج پر بیٹھی تھیں جہاں سوموار کو پیری نے بیٹھنا تھا مسٹر شاھد نے اپنا بیڈ روم خوب سجایا تھا گراسنگ پینٹگ لائٹنگ ابھی کروائی گئ تھی اسمیں پدو ماوتی پیری کی تصویر فریم میں فکس کی گئ تھی پدو ماوتی اپنی تصویر دیکھ کر بولی سہاگ رات کو جب پیری کی گوری گوری ٹانگیں اٹھاؤ گے آپ تب دیوار پر لگی یہ تصویر آپکو میری یاد دلاۓ گی مسٹر شاھد بولے آپ بھی مجھے پھر مس کرو گی پدو بولی کہ میں کچھ دن کے بعد آپکے بچے کو جنم دوں گی اور تب آپکی طرف میرا دھیان تھوڑا کم ھو جاۓ گا مسٹر شاھد نے پدو ماوتی کا ہاتھ پکڑ کر چوم لیا اور بولا کہ ڈارلنگ آپ نے بہت کچھ دیا مجھے اس لیئے اتنی خوشیاں دیں آپ نے میں آپکو نہیں بھلا سکتا پیری جیسی معصوم اور حور لڑکی کو بھی آپ نے ھی منایا تھا میرا ہمسفر بننے پر پدو ماوتی بولی مسٹر شاھد ڈاکٹر پیری خود بھی تم پر مرتی ھے پیری نے بہت جتن کئیے آپکی محبت پانے کے لیئے پتا ھے پاکستان اتنا کیوٹ ھے اور پاکستان کے لوگ بہت ملنسارھوتے ھیں مگر دنیا ویسے ھی اپنا مائنڈ خراب کئیے بیٹھی ھے دونوں دیشوں کے بیچ موجودہ تناؤ اسکی وجہ ھے ھمارا بھارت کہتا ھے پاکستان دھشتگرد ھے پاکستان کہتا ھے کہ خطے میں بھارت اسلحے کی دوڑ شرو ع کیئے ھوۓ ھے مسٹر شاھد نے کہا اگر بھارت اور پاکستان جنگ کی بجاۓ امن و امان سے رہیں تو دونوں دیشوں کی عوام مہنگائ صحت اور تعلیم جیسے شعبوں پر توجہ دیکر ترقی کی منزلیں طے کر سکتے ھیں آپ نے سچ کہا ھے مسٹر شاھد نے پدو ماوتی کو بولا کہ اب ھمارے درمیان بھی زیادہ تناؤ نہیں ھے پدو بولی جی باالکل بلکہ ھم دونوں کا بہت قریب کا رشتہ ھے ایک رشتہ پاک بھارت باڈر کا رشتہ دوسرا ھماری محبت کا رشتہ کالے رنگ کی قمیض اور سفید شلوار میں ملبوس پدو ماوتی مسٹر شاھد کو اپنے نخرے دکھاتے ھوۓ بولی ایک بات کہوں شاھد جی فرمائیے پدو بولی مجھے آپکی عادت سی ھوگئ ھے دونوں آج وعدہ کرتے ھیں کہ آنے والے دنوں میں ھم ایک دوسرے کو نہیں چھوڑیں گے دیکھو میں نے اپنے دھرم کو بھول کر آپ سے پیار کیا ھے بیشک آپ نے میرا ریپ کر دیا تھا پر مجھے آپ کا ھرانداز بہت اچھا لگا تھا اس دن سے مسٹر شاھد بولے کہ ماوتی ڈارلنگ آپکے جان لیوا سراپے نے مجھے مجبور کردیا تھا اس دن وحشی ھونے پر پدو ماوتی بولی کہ بھلے ہی آپکا انداز وحشیانہ تھا مگر اس وحشیانہ انداز نے مجھے محبت میں مبتلا کر دیا تھا میری بھی ایسے چدائی کسی نے نہیں کی تھی میں کالج کے دنوں میں بہت شریف تھی میری سیل میرے پتی نے ھی توڑی تھی مجھے کسی غیر مرد نے چھوا تک نہیں تھا شنکر نے ابھی تک میرے اندر اپنا سپرم نہیں گرایا پہلی بار آپکا سپرم میری چوت میں گیا اب میری کوکھ میں آپکا ہی بچہ ھے مسٹر شاھد نے کھڑکی سے باھر دیکھا باھر ھواؤں نے طوفان برپا کیا ھوا تھا سرد ھوائیں چل رھیں تھیں اور گہری رات ھو چکی تھی آنٹی نرگس روم میں آئی اور دونوں کو کو باتیں کرتے دیکھ کر آنٹی نرگس بولی سوجاؤ شاھد بیٹا رات بہت ھوگئ ھے صبح آپ نے آفس بھی جانا ھے آپ اپنے بزنس پر بھی توجہ دیا کرو سو جاؤ دونوں باھر بہت سردی ھے تسبیح کرتے کرتے آنٹی نرگس اپنے کمرے میں چلی گئ آنٹی نرگس کا کمرہ مسٹر شاھد کیساتھ والے روم میں ھی تھا پدو ماوتی اور مسٹر شاھد آنٹی کی بات سن کر مسکرا رھے تھے مسٹر شاھد نے ھیٹر آن کیا اور پدو ماوتی کو بولا کے کیا خیال ھے کریں پاک بھارت میچ شروع پدو ماوتی شرما کر بولی بھارت کی پچ تو بیٹنگ کے لئیے تیارھے آپ بیٹنگ شرو ع کرو مسٹر شاھد کھل کھلا کر مسکرا دئیے اور بولے کہ پچ میں زیادہ باؤنس تو نہیں ھے ماوتی جی پدو ماوتی بولی آپ نے اتنے رنز تو کئیے ھیں اس پچ پر اب پچ سازگار ھوگئ ھے بیٹنگ کے لیئے مسٹر شاھد نے پدو ماوتی کو اپنے پاس کھینچ لیا اور پدو ماوتی کی لپ سٹک والے ھونٹوں پر اپنے ھونٹ رکھ دئیے اور پدو ماوتی بھی مسٹر شاھد کا ساتھ دینے لگی مسٹر شاھد نے پدو ماوتی کی قمیض اتار دی اور اسکی فوم والی کالی برا کے اوپر سے ھی پدو ماوتی کے بوبز دبانا شرو ع کر دئیے پدو ماوتی کی سسکاریاں نکلنا شرو ع ھو چکیں تھیں مسٹر شاھد نے پدو ماوتی کی برا کو کھول کر نکال دیا اور پدو ماوتی کے دودھ دبانے لگا ایک پاکستانی جوان ایک بھارتی چھمک چھلو کے نپل اپنے منہ میں لیکر چوسنے لگا تھا پدو ماوتی بیڈ پر لیٹ گئ اور مسٹر شاھد نے پدو ماوتی کی شلوار اتار دی لاسٹک والی شلوار کھینچ کر نکال دی مسٹر شاھد نے اور پدو ماوتی نے اپنی ٹانگیں کھول دیں اور اپنی پینٹ کو اتار دیا اور اپنا لنڈ پدو ماوتی کی چوت پر رگڑنا شرو ع کر دیا مسٹر شاھد کا موٹا لن پدو ماوتی کی پنک چوت پر چمبھن کر رہا تھا پدو کا حوس سے برا حال تھا اسکی کلٹ پر مسٹر شاھد کا لنڈ رگڑ پدو ماوتی بولی آپ نے اتنے رنز تو کئیے ھیں اس پچ پر اب پچ سازگار ھوگئ ھے بیٹنگ کے لیئے مسٹر شاھد #پدو ماوتی مسٹر شاھد کو کرسی پر بٹھا کر جلد ایک پاکستان اور بھارت کی سرحدوں کو توڑ کر کیلی فورنیا کے آزاد ماحول میں مسٹر شاھد کے سپرد کر دیا اور کرسی پر بیٹھے مسٹر شاھد کو کس کرتے کرتے پدو ماوتی نے #مسٹر شاھد کا لن اپنی #پنک چوت کے لبوں میں سیٹ کیا اور ایک جھٹکا اپنی گوری سی کمر کو مارا اور مسٹر شاھد کا تنا ھوا لنڈ اپنی چوت میں اتار لیا پدو ماوتی پر شہوت طاری ھو گئ تھی اور آ ج ساری محبتوں کا روپ دھار کر مسٹر شاھد کے کھڑے لن کو دھک دھک کر کے اندر باھر کرنے لگی پدو ماوتی کے جسم کا #لمس پا کر مسٹر شاھد کے جسم میں ایک کرنٹ دوڑ گیا اور مسٹر شاھد نے جھٹکے مارتی ھوئی پدو ماوتی کے گوری گانڈ کے نیچے اپنا ھاتھ رکھ کر اسکو رسپانس دیا اور نیچے سے اپنا لنڈ پدو ماوتی کی تنگ چوت کے اندر باھر کرنے لگا پدو ماوتی مسٹر شاھد کے لنڈ کی سواری کرتے ھوۓ سوچنے لگی کہ بہت #اتھرا اور شرارتی گھوڑا ھے مسٹر شاھد جسکی آ ج وہ سواری کر رھی ھے مسٹر شاھد کے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی کیسی لگی میری چوت میرے راجہ تو مسٹر شاھد نے شارٹ پر شارٹ مارتے ھوۓ بولے کہ آپکا رسپانس آ ج بہت پسند آیا اور #کلین شیو چوت کی تعریف کرتے ھوۓ مسٹر شاھد نے کہا کہ بہت تنگ سوراخ ھے آپکا اور میرے لن کو بہت رگڑ لگ رھی ھے اور پدو جی آپکی چوت کی گرفت اب تنگ ھونے لگی ھے میرے لنڈ پر آپ فارغ تو نہیں ھونے لگی تو پدو ماوتی مسٹر شاھد کے گلے لگ کر تیز تیز شارٹس مارتے ھوۓ بولی ‏‎#Fuck me mr shahid please fuck me hard ufff oh come on hi come on my pakistani husband discharg in my memory and give me a bebey oh yes‏ پدو ماوتی نے پوری طاقت کیساتھ جھٹکا مارا اور مسٹر شاھد کا لنڈ پدوماوتی کی ناف تک چلا گیا پدو ماوتی کو چوت نے پانی چھوڑ دیا سارا پانی مسٹر شاھد کی رانوں پر بہہ رھا تھا اور مسٹر شاھد نے پدو ماوتی کی ٹانگیں اٹھا لیں تھیں اور پدو ماوتی کی چوت صاف کر کے مسٹر شاھد نے پدو ماوتی کو لٹا کر پدو ماوتی کے چوت میں ایک زور کا شارٹ مارا اور اپنا سارا لن پدوماوتی کی چوت میں جڑ تک لن چلا گیا اور پدو ماوتی کی تنگ چوت ٹانگیں اٹھانے سے اور زیادہ تنگ ھو گئ تھی پدو ماوتی نے جلد مسٹر شاھد کے لنڈ کو پگھلا دیا اقبال کے اس شاہیں کی سانسیں اب تیز ھونے لگیں تھیں ایک پاکستانی لنڈ بھارتی چوت کے اندر باھر ھورھا تھا پدو ماوتی کی چوت ایک بار پھر شہوت سے سکڑنے لگی تھی تیز جھٹکوں اور جوان جذبوں کی رفتار سے مسٹر شاھد کا لن اچانک اسکی چوت سے باھر نکل گیا پدو ماوتی نے پھر سے لن کے ٹوپ کو اپنی چوت کا راستہ دکھایا مسٹرشاھد نے پدو ماوتی کی چوت کے لبوں کو چیر کر ایک بار پھر لن کی ٹوپی کو پدو ماوتی کی بچےدانی تک پہنچا دیا مسٹر شاھد کے لن نے گاڑھے پانی کی ایک پچکاری ماری جسے پدو ماوتی کے بچے دانی نے اپنے اندر سما لیا مسٹر شاھد کا لنڈ اور پدو ماوتی کی چوت کافی دیر تک پانی چھوڑتے رھے دونوں کی آنکھیں چار ھوئیں اور پاک بھارت میچ میں بارش نے پچ پر جل تھل کر دی جسکی وجہ سے بیٹنگ روکنا پڑی اور دونوں ننگے جسم کیساتھ ایک دوسرے سے چمٹ گئے
  7. #میری_ساس_میری_سہیلی #قسط_06 دینو برتھ سے نیچے اتر گیا اور شلوار اتار کر ایک طرف پھینکی اور مجھے دیکھنے لگا میں اس کے لہراتے ہوے لن میں مگن تھی بہت پیارا اور خوبصورت لگ رہا تھا مچلتا کھیلتا لہراتا لن اسے دیکھ میری چوت پُھدکنے لگی اس کے لب ِکھل کے اس کو اندر لینے کو بے تاب تھے . دینو برتھ کی پائنتی کی طرف بڑھا میں نے اپنی ٹانگیں اور پھیلا لیں کہ وہ ان کے بیچ بیٹھ کر کاروائی ڈالے مگر اس نے مجھے ٹانگوں سے پکڑ کر برتھ کی پائنتی کے کونے پر میرے بٹ پہنچا دئے میرے گھٹنے کھڑے تھے - دینو برتھ کے نیچے بیٹھ گیا - میں سمجھ نہ سکی دینو چاہتا کیا ہے . اس نے میرے گھٹنے کھولے اور میری مُلائم رانوں پر اپنے کھردرے ہاتھ پھیرنے لگا اور پھر رانوں کو چومنا شروع کر دیا وہ اپنے ایک ہاتھ سے میری چوت سہلاتے ہوئے کبھی دانے کو مسلتا کبھی لکیر کو چھیڑتا رانوں کو چومتے چومتے اس نے میری چوت کا بوسہ لے لیا اسکی سانسوں اور ہونٹوں کے ٹچ نے مجھے بے خود کر دیا - پہلی دفعہ کسی نے میری اس جگه کو چوما تھا . اس نے ایک دو بوسے لئے اور میری طرف دیکھا - میری آمادگی پا کر اس نے ہونٹ میری چوت پر رکھ دئے اور اسے زبان کی ٹپ سے کھجانے لگا - میں تڑپنے لگی سر کو بیخودی میں کبھی ادھر کبھی ادھر پھٹکتی - جب اس نے میری چوت کے دانے کو زبان کی نوک سے کھجایا تو میں سمجھی میرا سانس رک جایئگا . میں بیان نہیں کر سکتی اس سنسنی انگیز لطف مزے کا سواد . ایک تو مجھے دینو سے ایسی دلربائی کی توقع نہ تھی مگر اس نے مجھے نئی دنیا کی سیر کروا دی اف نہ جانے ظالم نے یوں ستانا کہاں سے سیکھا تھا جسے میں گنوار سمجھی تھی وہ تو آج کل کے لونڈوں کا استاد نکلا . عاطف اور ارمان نے مزے کی یہ کھڑکی تو کبھی کھولنے کی ٹرائی ہی نہ کی تھی وہ مجھے چاٹ رہا تھا میرا ہاتھ اسکے بالوں سے کھیل رہا تھا میرا دوسرا ہاتھ میرے نیپلز مسل رہا تھا , اور میں بے حال ہوتی جا رہی تھی میں چھوٹنے والی تھی دینو کی زبان اپنا کام کر رہی تھی اور اسکی دو انگلیاں میری چوت کے اندر کھجلی کرنے میں لگی ہوئی تھیں میں نے بے خودی میں ایک چیخ ماری اور اپنا رس دینو کے منہ میں انڈیلتے ہوئے میں نے اپنی ٹانگوں کو بھینچ لیا . دینو میرا رس سرکیاں لگا کر پینے لگا جس کی آواز مجھ تک پہنچ رہی تھی - اپنا تن من بدن سب کچھ دینو پر قربان کرنے کو من چاہنے لگا میں نے دینو کو سر کے بالوں پکڑ کے اپنے اوپر کھینچ لیا اور اس کے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لے کر چوسنے لگی . { ہر عورت کو چاہیے جو اس کی خوشی کے لئے اسکی چوت کو چاٹے کم از کم اسکے ہونٹوں سے جوس چوس لیں تاکہ چاٹنے والا بعد میں خجالت نہ محسوس کرے } دینو کے ہونٹ میرے لبوں میں تھے وہ مجھ پر بچھ سا گیا تھا اسکا لن میری چوت کے دھانے پر دستک دے رہا تھا میں نے ہاتھ نیچے لے جا کر اسے پکڑا اور چوت کے منہ پر رکھ کر رگڑنے لگی . دینو میری گردن کے نیچے ایک ہاتھ ڈال کے اسے کھجانے لگا - ادھر اس کا لن اندر جانے کو بچیں ہونے لگا دینو اٹھ کر بیٹھ گیا اور لّن کو میری چوت پر رگڑنے لگا اس نے میری ٹانگوں کو اپنی ٹانگوں سے باہر کی سمت کیا تو میرا سب کچھ اس کے سامنے آگیا اس نے میری گردن میں ہاتھ ڈالا اور خود اپنے لن پر دباؤ ڈالنے لگا . میں نے ہاتھ بڑھا کر لن اندر جانے میں مدد کی - چوت میں تو آبشار آیا ہوا تھا لن پھسلتا گیا ادھر دینو نے ایک جھٹکا لگا یا تو وہ چوت چیرتا ہوا جہاں تک جا سکتا تھا گیا دینو میرے دونو ممے اپنے ہاتھوں سے دبانے لگا میں دینو کو بے ساختہ چومنے لگی میں پیار سے اسے دیکھتی اور چومتی جاتی سواد آج جو دینو دے رہا تھا پہلے ایسا مزہ نہ آیا تھا دینو نے میری ٹانگیں اٹھا کر اپنے شانوں پر رکھ لیں اور لن مزید پھنس پھنس کر جانے لگا جس سے مجھے مستی آنے لگی دینو زور زور سے دھکے مارنے لگا ہر جھٹکے پر یوں لگتا اس کا لن آگے جا کر کسی دیوار سے ٹکراتا ہے اور مجھے بہت زیادہ مزہ اتا . دینو کی سپیڈ بڑھنے لگی اور اسکی ضربوں میں شدت آنے لگی اس سے مجھے بھی محسوس ہونے کہ جھرنے لگی ہوں - دینو نے میری ٹانگیں کندھوں سے اتاریں تو میں نے اسکی کمر کے گرد لپیٹ لیں اب دینو دھکا لگاتا تو میں چوتڑ اٹھا کر دھکے کا جواب دیتی اسی طرح آخری دھکوں کا مقابلہ کرتے ہوے میری بس ہو گئی اور دینو بھی ڈکارتا ہوا اپنا سارا مواد میری چوت میں ڈالنے لگا گرم پرنالے سے گرم شیرہ نے میری گڑوی کو بھر دیا میں نہال ہو گئی . میں نے ایک سکھ کی سانس لی یوں لگا جو کمی محسوس ہوتی تھی اور تشنگی لگتی تھی نہ وہ کمی رہی نہ تشنگی جس کے لئے میں دینو کی ابھارن ہوں . میں دینو کو چومنے لگی جو کہ اب میرے پہلو میں لیٹا تھا - تھوڑی دیر بعد میں باتھروم گئی ٹرین رکی ہوئی تھی شاید روہڑی سٹیشن آگیا تھا - یہاں سے ہمارا گاؤں زیادہ نزدیک تھا مگر ابا جانی نے نہ جانے کیوں کراچی تک بکنگ کروائی تھی ہو سکتا ہے وہاں ان کو کوئی کام ہو . خیر اب تو آگے ہی جانا تھا میں پی کرنے لگی تو آج کی رات جو کچھ ہوا کے بارے سوچنے لگی , سچی اج بہت ہی زیادہ اینجوآئے کیا تھا پہلی بار کسی نے چوت چاٹ کر میرے چودہ طبق روشن کر دئے - سنا ہوا تو تھا کہ چٹوانے کا اپنا ہی مزہ ہے مگر کبھی چٹوائی نہ تھی . ارمان تو خیر کبھی ایسا نہ کریں گے اور عاطف نے کبھی ایسی ٹرائی نہیں کی . ویسے کالج میں جب کبھی لڑکوں کے گروپ کے پاس سے گزرتی تو دبے لفظوں میں ان کے ریمارکس تو سنائی دیتے . " یار کیا پٹاخہ ہے . اس کی تو میں چاٹ بھی لوں " " ارے میں تو سالی کی گانڈ بھی چاٹ سکتا ہوں دے تو سہی " " ارے جو بھی چودے گا وہ خوش قسمت ہوگا " " سالی کا تو پیشاب بھی لوں " اس قسم کے ریمارک تو سنتے ہی تھے ہم مگر ٢ لڑکیاں پیغام لیں لڑکوں کا مگر اپنی طرف شفارش کے طور کہنے لگیں ایک " نوشی فلاں لڑکا چوت چاٹنے میں بڑا ماھر ہے " دوسری " نوشین باجی " " فلاں لڑکا کے پاس جانے سے کسی قسم کا کوئی خطرہ ہی نہیں مال بھی بڑا دیتا اور چوت بھی مارتا چوت چاٹ کر گانڈ مارتا ہے مزے کا مزہ اور کنوار پن بھی نہیں جاتا ." یہ تو کالج کی باتیں تھیں . مگر میں تو اس سوچ میں پڑ گئی ایک چٹا انپڑھ دیہاتی نے جس طرح مجھے چآٹا اور چودہ , کیسے ممکن ہے میں نے اپنے اپ کو دھویا اور اٹھ کھڑی ہوئی میں ننگی آئ تھی واپسی پر تھوڑی شرمائ لجائی سی ایک ہاتھ چوت پر دوسرا ہاتھ مموں پر رکھے دینو کے ساتھ جا کر لیٹی اور لپٹ گئی وہ آنکھیں موندے لیٹا ہوا تھا . اس نے بھی بازؤں میں بھر لیا , میں نے چور آنکھوں سے لن کو دیکھا تو لیٹا ہوا تھا مگر ابھی جاگ رہا تھا .. میں دینو کا چما لیتے ہوئے بولی " دینو ایک بات پوچھوں " ناراض تو نہ ہو گے " پوچھو بیبی جی میں ناراض کیوں ہونے لگا " دینو نے کہا . " تم نے جس طرح میرے نیچے اپنی زبان سے پیار کیا تھا کیا ایسا اپنی بیوی سے بھی کرتے تھے . " " نہیں بیبی جی ہم نے تو کبھی ایسا سوچا بھی نہ تھا " دینو بولا "تو کیا تم نے آج رات پہلی بار میرے ساتھ ایسا کیا " میں نے پوچھا " نہیں بیبی جی ؛ ایک اور ہے جس نے مجھ کو چاٹنا سکھایا " " وہ کون ہے ؟ کیا مجھے نہ بتاؤ گے " میں نے جاننے کی ٹرائی کی " بیبی جی " آپ سے تو کچھ چھپا نہیں سکتا مگر ایک بات کہوں " وہ بولا " ہاں ہاں دینو کہو کیا بات ہے " میں نے اسے کہا تو وہ کہنے لگا " بیبی جی مجھے آپ پر اعتماد ہے پھر بھی آپ بول دیں کہ آپ کسی سے نہ کہیں گی . " " تم فکر نہ کرو میں تمہاری کوئی بات بھی کسی کو نہ بتاونگی " میں نے اسے تسّلی دیتے ہوئے کہا تو دینو بولا " جی اپ سلمیٰ آپا کو تو جانتی ہیں " "ہاں دینو انہیں کون نہیں جانتا " وہی جن کا گھر ہماری پیچھے والے وارڈ میں ہے ". میں نے استفسار کیا " جی بیبی جی وہی والی " دینو بولا تو میں بولی تو " سلمیٰ آپا کو کیا ہوا " " بیبی جی سلمیٰ آپا نے ہی چاٹنا سکھایا ہے " یوں سمجھو دینو نے ایک بم پھینک دیا ہو مجھ پر . " دینو کیا تم سچ بول رہے ہو جانتے ہو کون ہے وہ بہت بڑا نام ہے " "جی جانتا ہوں مگر سچ بول رہا ہوں اور وہی مجھ سے چٹوایا کرتی ہے " سلمیٰ آپا ایک بری مشور سماجی رہنما تھی بڑی نیک نام اور غریب پرور ٤٥ کے قریب یا ٥٠ کی عمر ہوگی اس کا کوئی سکینڈل کبھی نہیں سنا تھا اب دینو سے سن کر تو ہکّا بکّا رہ گئی دینو کو جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی اس کے بارے میں . دینو تم اس سے ملے کیسے ؟ میں نے اک اور سوال کر دیا جی وہ کبھی کبھار بیگم صاحبہ سے ملنے آتی تھیں میں ہی ان کی کار کے لئے گیٹ کھولتا تھا کبھی بیگم صاحبہ اس کے لئے کچھ بھجواتی میرے ہاتھوں . اس طرح سے ملاقات ہوئی . " تو تم کہتے ہو تم نے صرف سلمیٰ آپا کی چوت چاٹی ہے " میں نے پوچھا تو دینو کہنے لگا " جی میں نے یہ تو نہیں کہا ایک اور لیڈی بھی ہیں " میں نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا " وہ کون ہے ؟ " : " جی وہ لیڈی عذرا ہیں سلمیٰ آپا کے ساتھ ہی ہوتی ہیں دینو نے بتا کر حیران کر دیا عذرا بھی سماجی کارکن اور اچھی شہرت رکھنے والی ٤٠ سالہ خاتون ہیں . جو کہ سلمیٰ آپا کو اسسٹ کرتی ہیں . عذرا کی شادی نہیں ہوئی مگر سلمیٰ آپا تو جوان بچوں کی ماں ہیں پکا تو معلوم نہیں سنا تھا کہ شوھر سے علیحدگی ہو گئی تھی . " تم تو چھپے رستم نکلے دینو " میں نے مزاحا کہا اور پھر سوال داغ دیا " کیا وہ جانتی ہیں کہ تم دونوں کو لگا رہے ہو . " جی اصل بات یہ ہے کہ سلمیٰ آپا کرواتے ہوئے چاہتی ہے کہ کوئی اسے دیکھے - عذرا کو وہی لائیں تھیں ؛ عذرا کو چوپا لگانے کا شوق ہے اور چٹوا بھی لیتی ہے مگر کرواتی نہیں ؛ گانڈ مروانے کو تیار رہتی ہے سلمیٰ آپا چٹوانا اور کرواتے ہوئے کسی کا دیکھنے کے لئے موجود ہونا اچھا لگتا ہے " واہ " بڑی انٹرسٹنگ بات ہے "تو عذرا کرواتی کیوں نہیں .؟ میں نے پوچھا تو دینو بولا " اسکی اس جگه " کوئی پرابلم ہے وہ لے نہیں سکتی اندر مگر چٹوا کے مزے لیتی ہے .. میرے کہنے پر دینو سلمیٰ آپا اور عذرا کے ساتھ تعلقات کی تفصیل بتانے لگا ( ٹائم ملا تو آپ لوگوں سے الگ سٹوری میں شئیر کرونگی) مگر دینو نے جو کچھ بتایا وہ مجھے خوار کر گیا میں مست سی ہونے لگی دل چاہتا تھا کہ دینو کو بولوں کہ : " کنڈی نہ کھڑکا سوہنیا سیدھا اندر لنگ آ " یہ شاید نصیبو لال کے گانے کے بول ہیں دینو لیٹا ہوا تھا میں اٹھ بیٹھی اور اس کے لن سے کھیلنے لگی اس میں حرکت ہونے لگی تو اس کی ٹوپی پر اپنی زبان پھیرنے لگی میں سمجھی تھی بوڑھا ہے کچھ وقت لگے گا اٹھنے میں مگر وہ " ابھی تو میں جوان ہوں کہتا ہوا تن کر اور ڈٹ کر کھڑا ہوگیا میں نے جھٹ سے اسے منہ میں لیا اور چوپا لگانے لگی دینو نے اپنے آپ کو ڈھیلا چھوڑ دیا . اس کا ایک ہاتھ میری ران پر دھرا تھا اس ہاتھ سے دینو میری چوت کو سہلانے لگا جو کہ اس کی سٹوری سن کر پہلے سے ہی گیلی تھی - میں نے ٹانگیں چوڑی کر دیں تو دینو نے میری ٹانگوں کو اپنی طرف کھینچا اس طرح اس کا منہ میری ٹانگوں کے بیچ آ گیا اس نے مجھے چاٹنا شروع کر دیا میں مستی میں لن کو ہولے ہولے دندیاں مارنے لگی من کرتا تھا اس کو کاٹ کاٹ کر کھا جاؤں ٦ انچز ہوگا مگر کام کا تھا - دینو کی - میں اگے ہو کت= زبان مجھے چود رہی تھی میں نے لن کو منہ سے نکالا دینو کی طرف مڑی اور اس کے اوپر جا کر میں چوت کو اس کے لن پر رکھا اور چوت کو لن پر مسلنے لگی جب لن گیلا ہو گیا میں نے زور لگایا اور ایک جھٹکے کے پورا لن اندر لے لیا میں نے اگے ہو کے جھک کر دینو کا بوسہ لیا اور پھر لن کے اوپر اچھلنے لگی لن سیدھا تن کر کھڑا تھا اس لئے بہت مزہ آنے لگا میں دینو کے سینہ کے نیپلز کو پیار کرنے لگی انکو بآئیٹ کرتی چوستی تو دینو مستی میں تڑپتا تو اس کا لن بھی چوٹ لگاتا . دینو میرے مموں سے کھیلنے لگا اور پھر شرارت کرتے ہوے مجھے گدگدانے لگا تو میں تڑپ اٹھی میں جو مچلی تو ایک بار تو لن بھی باھر نکل گیا مگر میں نے جلدی اسے پھر اندر لے لیا مجھے کچھ ہونے لگا ایک تشنج سی کیفیت چھانے لگی میرے ہاتھ اور پاؤں اینٹھ گئے اور میں جھڑ گئی - مجھے دیکھ کر دینو کے لن نے بھی میری صراحی بھر دی ہم دونوں اکٹھے ہی فارغ ہوئے ایک د وسرے کو چومنے لگے . کراچی کے آنے میں ٹائم نہ لگا - ابو نے کراچی سے ٢ سیٹس پلین کی کروائی ہوئی تھیں جو کہ ایک بجے کی تھیں , ہم نے ناشتہ وغیرہ کیا اور پھر کراچی میں ٹورسٹ کمپنی کے ساتھ کراچی گھومنے میں تین گھنٹے لگے پھر ایئر پورٹ سے سکھر گئے اپنے گاؤں تک پہنچتے شام ہو گئی - ساس ماں نے اچھا استقبال کیا کھانا وغیرہ کھا کر میں اپنے کمرے میں آ گئی - اسی پر سونے لگی جس پر سہاگ رات منائی تھی .,.. دل میں آئ کاش دینو کو آج بلا سکتی مگر نا ممکنات میں سے تھا ؛ بیتی رات کو یاد کرتے کرتے نہ جانے کب انکھ لگ گئی اور صبح جب اٹھی تو سورج سر کھڑا تھا . تھوڑی دیر بعد دینو کی واپسی ہوئی دل اداس سا ہوگیا - ٢ چار دن کے بعد میں نے بوریت محسوس کرنا شروع کر دی - کیونکہ شادی کے بعد بڑی گہما گہمی تھی اب وہ نہیں رہی تھی - بیگم صاحبہ میری ساس اکثر اوقات دوسرے سماجی کاموں میں باھر رہتی زلیخا اور سمیرا میرے ساتھ ہوتیں گھر کے سارے کام وہی کرتیں - رات کو میں اکیلے کمرے میں ہوتی اب موسم اچھا ہو گیا تھا میں نے مسہری کھڑکی کے ساتھ رکھ لی تاکہ رات کو کھڑکی کھول کر سویا کروں تاکہ تازہ ہوا ملتی رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  8. #میری_ساس_میری_سہیلی #قسط_05 بابا ڈینو کچھ بےچین سا لگنے لگا - میں جب ایک جانب جھک کر بالوں کو جھٹکتی تو وہ بھی اسی جانب شاید نادانستگی میں جھک جاتا اب کے میں نے اپنی زلفیں اپنے شانوں پر ڈالیں تو میں نے دیکھا اس نے ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھ دی ہے - میرے ذہن میں فورا اک سوال کیا اس کا کھڑا ہو گیا ہے جسے یہ چھپانے کی کوشش کر رہا ہے اس شیطانی سوچ کے آتے ہی میرے دل میں اسے دیکھنے کی امنگ اٹھی کہ کیسا ہوگا اس کا سائز کیا ہوگا سخت ہو گا یا ڈھیلا ؟ - کچھ خیال آتے ہی میں خود کو ملامت کرنے لگی کہ میں کیا سوچ رہی ہوں کچھ مان مریادہ ہوتی ہے . میں تھوڑا سا شرمندہ ہوئی اور باھر اکر اپنی برتھ پر بیٹھ گئی میں نے دینو کی طرف دیکھنے کی بجاۓ مگزیں اٹھایا اور اوراق پلٹنے لگی میں نے خود سے کہا بس بہت فن ہو گیا اب سونا چاہیے ؛ میں نے بابا دینو سے کہا " بابا اپنی برتھ پر آجاؤ اور سو جاؤ - وہ اٹھ کر باتھ روم چلا گیا اور میں پیٹ کے بل لیٹ کر مگزین پڑھنے لگی الٹا لیٹ کر مطالعہ کرنا میری عادت ہے کچھ دیر بعد دروازہ کھلنے کی آواز آئی - دینو کی انتظار کرنے لگی . کچھ دیر دینو برتھ پر نہ آیا تو اٹھ کے دیکھا تو مجھے ہی تا ڑ رہا تھا میں نے اس کو بولا " بابا دینو ادھر برتھ پر آ کے سو جاؤ اور خود پہلو کے بل لیٹ گئی جس سے میرا بٹ زیادہ نمایاں ہو گیا - میں نے کنکھیوں سے دیکھا تو دینو کی نظروں کو اپنے بووبز پر مرتکز پایا میں بنا برا ؛ بریزیر کے تھی ٹی شرٹ کے اوپر کا بٹن کھلا تھا اس لئے مرے ابھار کافی حد تک دیکھ رہے تھے جو کہ دودھیا کلر کے ہیں - اس کا یوں بے باکی سے دیکھنا مجھے حیران کر گیا . سوچنے لگی کوئی جوان ہوتا تو اب تک اس اکیلی لڑکی سے فیضیاب بھی ہو چکا ہوتا . میں نے دینو کی طرف دیکھا تو اس نے نظریں چُرا لیں اور اپنی برتھ پر بیٹھ گیا جو کہ میری برتھ سے بمشکل ٢ فٹ دور ہوگی - ہماری برتھز آمنے سامنے تھیں اور ان کا درمیانی فاصلہ ٢ فٹ ہوگا میں میگزین دیکھنے لگی اور میرا اک ہاتھ دانستہ یا نادانستہ میرے گریبان کے کھلے بٹن سے کھیلنے لگا . میں کبھی بٹن بند کر دیتی کبھی کھول دیتی جس سے میرے ابھار ہلتے میں نے دیکھا کہ دینو چور نظروں سے کبھی میرے بووبز کی طرف دکھتا کبھی میرے کولہے دیکھتا . میرا ہاتھ بٹن کو چھوڑ کر میرے کولہے پر رینگنے لگا . میں یہ ایسا کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ بے ساختہ لگے خود ساختہ نہیں یونہی ہاتھ پھیرتے پھیرتے میرا ہاتھ رانوں کی اندرونی طرف بھی پھر جاتا - میں نے بابا دینو کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں سمجھی کیونکہ اس کی سانسوں کی ہلچل مجھے سنائی دے رہی تھی . میں نے ٹانگیں ذرا کھول دیں انڈرویر یا پینٹی نہ ہونے کی وجہ سے دیکھنے والا کچھ نہ کچھ کر دیکھ کر اندازہ لگا سکتا تھا اور شاید دینو بابا کو کوئی اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ فورا اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور میری نظر اس کے ابھار جا ٹکی . وہ جلدی سے باتھروم کی جانب بڑھا اور میں اسکی بے بسی پر مسکرا دی . پھر اپنے اپ کو سمجھانے لگی اب بہت ہوگیا لائٹ اف کر کے سو جاؤ اور کوئی شرارت نہیں ہوگی . ok بوس میں نے خود سے کہا اور مگزین ٹیبل پر رکھی اور چادر اپنے اوپر لے کر سونے کی تیاری کرنے لگی - اتنے میں دینو بابا باھر نکل آیا تو میں نے اسے کہا " دینو کمپارٹمنٹ کے دروازے کے باھر جو تختی لگی ہوئی ہے اسے الٹا کر کے دروازہ لاک کر آؤ . نہیں رہنے دو میں خود دیکھ لیتی ہوں .. سوچا کہیں ایسا نہ ہو ڈونٹ ڈسٹرب کو ہی الٹا آئے - شام کو ہمارے ٹکٹ چیک ہو چکے تھے - میں نے دروازہ کھولا اور ڈونٹ ڈسٹرب کا سائن سیدھا کر کے لائٹ آف کی اور اپنی برتھ پر لیٹ گئی - دینو بھی اپنی برتھ پر لیٹ گیا اور پیٹھ میری طرف کر کے سونے لگا . میں خود کو سمجھانے لگی اچھا کیا ہے بُرا کیا ہے ؛ ہر دلیل کے بعد میں ایک کروٹ لے لیتی آخر میں نے ہار مان لی اور خود سے وعدہ کر لیا اب سو جاؤنگی اور نو ہینکی پھینکی . میں نے کروٹ لی سونے کی try کرنے لگی مگر نیند آنکھوں میں ہوتی تو اتی ویسے بھی ٹرین کی کھٹ کھٹ کہاں سونے دیتی میں کروٹ پے کروٹ لیتی رہی رات کے گیارہ بج چکے تھے - میں اٹھ کر بیٹھ گئی دینو بابا پیٹھ کئیے ھوے لیٹا تھا . سویا ہوا وہ بھی نہیں لگتا تھا . میں اٹھ کر باتھ روم گئی مجھے پی لگا تھا - کرنے کے میں نے ٹشو سے صفا کیا تو نجھ ہونی پھدکنے لگی میں نے سوچوں کے دروازے بند کر دئے اور کچھ کر گزرنے کی ٹھان لی - سچ تو یہ ہے کہ میں خود کو دھوکھا دے رہی تھی ورنہ اندر اندر سے میں جسم کی بھوکھ اور پیاس بجھانے کا پختہ ارادہ کر چکی تھی . میں باھر نکلی تو دینو نے کروٹ لی ہوئی تھی اب اس کی پیٹھ دیوار کی جانب تھی اسکی آنکھیں بند تھیں مگر وہ سویا ہوا نہ تھا - میں اگے بڑھنے لگی پھر رک گئی "نوشی سوچ لو غلط قدم اٹھ جاۓ تو اسکی منزل نا معلوم ہی رہتی ہے " میں نے جیسے سنا ہی نہ ہو - کندھے اچکا کر آگے بڑھی اور میں اب دونو برتھز کے درمیان کھڑی فیصلہ کر رہی تھی کہ اپنی برتھ پر جاؤں یا دینو کے اگے جا کر لیٹ جاؤں میں اسی ادھیڑ پن اور شش و پنچ میں الجھی ہوئی کسی بھی فیصلے تک پہنچنے نہیں پا رہی تھی . میں یہ جانتے ہوے بھی کہ یہ ایک غلط قدم ہے جو ایک بار اٹھ گیا تو پھر رکنا مشکل ہوگا مگر میں ایسا کرنے پر مجبور ہوی کیونکہ میرا اپنا نفس مجھے میرے بدن کی ضرورت کا احساس دلا رہا تھا - میرے جذبات مرے قابو سے باھر ہو رہے تھے . میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں دل کی دھڑکنیں دور تک سنائی دے رہیں تھیں . میں نے اک نظر بابا دینو کی طرف ڈالی تو اسے اپنی جانب دیکھتے ہوے میں نے خجالت سی محسوس کی اور اپنے برتھ کی طرف بڑھی مگر دینو نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ؛ میں حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگی وہ مجھے ہی دیکھ رہا رہا تھا میں نے ہاتھ چھڑانے کی براۓ نام کوشش کی مگر اس نے ہاتھ نہ چھوڑا دینو " یہ کیا بدتمیزی ہے " میرے غصہ میں بناوٹ جھلک رہی تھی دینو خاموش رہا اس نے کوئی جواب نہ دیا میں اپنے برتھ کی جانب بڑھی تو اس نے مجھے ایک جھٹکے سے اپنی طرف کھینچ لیا اور میں دیکھتے ہی دیکھتے اس کے اوپر جا گری مجھے ایسی حرکت کی دینو سے بلکل امید نہ تھی . ٢ چار پل یونہی گزر گئے میں دینو کے سینہ سے لگی ہوئی تھی میں نے اپنے آپ کو چھڑاتے ہوے سرگوشی میں دینو سے بولی " یہ کیا کر رہے ہو تم دینو بابا " مجھے چھوڑ دو " بیبی جی " چھوڑنے کے لئے تو نہیں پکڑا ؛ اور وہی تو کر رہا ہوں جو اپ چاہتی ہیں " میں کیا چاہتی ہوں ؟ میں ماتھے پر تیوڑی چڑھا کر بولی بببی جی " در اصل مجھے ٹھنڈ لگ رہی تھی سوچا آپ گر ساتھ سوئیں گی تو ہم دونوں ٹھنڈ سے بچ جایئں گے " دینو بات بناتے ہوے بولا ایسی بات تھی تو مجھ سے بولتے تمھیں کمبل نکال کے دے دیتی . تم نے تو گنواروں کی طرح مجھے اپنے پر گرا دیا " " جی بیبی جی "دینو ممنایا تو میں نے کہا ہاں دینو ٹھنڈ تو ہے مجھے بھی لگ رہی ہے "جی بیبی جی" یہی تو میں کہہ رہا ہوں دینو نے خوش ہو کے کہا " تو کمبل نکال دوں بابا دینو" میں نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا . " جی ٹھیک ہے مگر ٹھنڈ تو اپ کو بھی لگی ہے اور کمبل ایک ہے " دینو بولا ہاں دینو تم ٹھیک کہہ رہے ہو کمبل تو ایک ہی ہے . میں نے اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا . اچھا دینو تھوڑا پڑے ہو میں بھی لیٹ جاؤں تمہارے ساتھ اسے بابا نہ کہتے ہوے میں بولی تو تھوڑا سا پیچھے کھسک گیا مگر برتھ اتنی زیادہ وائڈ ہوتی نہیں کہ دو جی آسانی سے ٹک جائیں . وہ پہلو کے بل لیٹا ہوا تھا اور میں بھی اسکی جانب پیٹھ کر کے لیٹ گئی . اس طرح میرے کولہے اسکی گود کے ساتھ جا لگے - میں نے دینو کو بولا اب آرام سے سو جاؤ رات کے بارہ بجنے والے ہیں . اور مجھے نیند آ رہی ہے "جی بیبی جی " - تھوڑی دیر کے بعد مجھے کولہوں پر کوئی چیز سرکتی ہوئی محسوس ہوئی . میں نے ایک گھٹنا موڑ کر آگے کی طرف کر دیا اور دینو بھی تھوڑا آگے سرکا شاید اس کا کھڑا ہو چکا تھا کیونکہ دینو کے آگے ہونے سے راڈ میری رانوں کے سنگم میں آن ٹکا - میں خاموش انجانے لطف کو ویلکم کہنے کے لئے تیار ہونے لگی . تھوڑی دیر بعد دینو نے ایک ہاتھ مرے کولہے پر رکھ دیا اور ہولے ہولے مساج سا کرنے لگا . میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک دیا اور اپنی ٹانگ ذرا زیادہ آگے کر لی تاکہ اس کا راڈ اور آگے بڑھے تو کچھ اندازہ ہو صاحب کتنے پانی میں ہیں - دینو تھوڑا اگے ہو کر اپنے ہتھیار کو میری ران پر رگڑنے لگا اسکی حرکت اور رگڑ سے اسکی اکڑ اور نارمل لمبائی کا اندازہ تو میں نے کر لیا دینو کے اطیمنان سے ظاھر ہوتا تھا کہ کھلاڑی ہے اناڑی نہیں - کیونکہ ٥ سال قبل رنڈوا ہونے کی بدولت اس کو اب تک میری ٹانگوں میں ہونا چاہیے تھا . میں چاہتی تھی وہ آگے قدم بڑھاۓ مگر وہ شطرنج کی بساط بچھا کر بیٹھ گیا تھا - " دینو یہ مجھے کیا لگ رہا ہے ؟ " یہ کہتے ہوئے میں نے اس کا لن ہاتھ میں لے لیا اس نے ایک جھرجھری سی لی اور میں اُف کر کے رہ گئی اسے تو فورا چھوڑ دیا مگر یہ جان کر کہ شئے ہے بڑی جاندار ؛ ہو سکتا ہے رنگ جما دے آج کی رات ؛ یہ سوچ کر میں د ل ہی دل میں مسکرانے لگی ادھر میری چوت کے لب کھلنے لگے . دینو " تم نے بتایا نہیں یہ کیا ہے " میں رمانٹک ہوتے ہوئے بولی " کیا بیبی جی " دینو نے بھی چیزا لیتے ہوئے پوچھا ؛ میں نے لن کو دبارہ ہاتھ میں لیا اور اچھی طرح دبا کر بولی یہ ؛ میں نے لن پر چٹکی لینے کی ٹرائی کی مگر وہ اتنا سخت تھا کہ مجھے ناکامی ہوئی . " اوہو یہ تو کھلونا ہے بیبی جی " دینو یہ کہہ کر تھوڑا سا ہنسا ؛ میں نے بھی ہنستے ہوئے پوچھا ؛ " دینو یہ کیا بات ہوئی کھلونے سے تو بچے کھیلتے ہیں " " بیبی جی یہ گڑیا رانی کے لئے ہے " وہ ترنت بولا " اچھا تو وہ گڑیا رانی ہے کہاں ؟ میں نے چسکا لیتے ہوئے پوچھا "جی وہ کھلونے کے سامنے ہی تو ہے " دینو بولا ارے کیوں مذاق کرتے ہو یہاں تو نہ کوئی گڑیا ہے نہ کوئی رانی . یہی تو ہے گڑیا بھی اور رانی بھی اس نے میری چوت کو ٹچ کرتے ہوئے کہا اور میرے منہ سے ایک لذت بھری سسکاری سی نکلی . میں نے ٹانگ سیدھی کر کے اس کے ہاتھ کو وہیں دبا لیا ظالم نے ہاتھ سے میری پھدی پر مساج شروع کر دی میں نے ٹانگوں کو مزید کھول دیا . اور پاجامے کو پاؤں کی طرف کھینچا تو دینو نے میری ہیلپ کرتے ہوئے پاجامہ اتار ہی دیا . اور اپنی انگلی سے چوت کی لکیر کو چھیڑنے لگا جو کہ مجھے بہت اچھا لگا میں اس کے لن کو ہاتھ میں لے کر اپنی چوت پر رگڑنے لگی لن اتنا بڑا تو نہ تھا مگر اچھا خاصا موٹا تھا وہ اپنے لن کو چوت پر پھسلانے لگا اور میں نے ٹانگیں بھینچ لیں . " بیبی جی " گڑیا رو رہی ہے " دینو نے میرے کان میں سرگوشی کی . "ارے وہ کاہے کو رونے لگی " میں نے فکر مند لہجے میں استفسار کیا " " بیبی جی " "گر آپکو اعتبار نہیں تو یہ دیکھ لیں " دینو نے میرے رس سے گیلی انگلی مجھے دکھاتے ہوئے کہا " اور پھر شاید اس نے وہ انگلی اپنے منہ میں لی اور مجھ سے کہا " بیبی جی" " اس کا تو سواد بھی آنسوؤں جیسا ہے " " یہ کیسے ہو سکتا میں کیسے مان لوں کہ گڑیا کے آنسو نکلے ہیں " میں بولی دینو نے فورا بڑی انگلی میری چوت میں ڈال دی اور میرے سامنے کر دی ابھی تک میری پیٹھ دینو کی طرف تھی - میں نے گیلی انگلی کو منہ میں لے لیا اور اس کی انگلی چوسنے لگی . اسکی انگلی موٹی اور لمبی تھی اپنا ہی رس انگلی سے چوستے مجھے خمار سا انے لگا . اس نے میری گردن پر بوسہ دیا تو میں نے بیقرار ہو کر اسکی طرف رخ کیا اور اسکی چھاتی سے لپٹ گئی اس کی چھاتی کے بال مرے بووبز کو لگنے لگنے تو میں نے اس کے ہونٹوں کو چوم لیا اس نے میرے ہونٹ ہونٹوں میں لے لئے اور چوسنے لگا اور مجھے بھینچ لیا , اس کے بازو اتنے مضبوط تھے کہ مجھے سانس لینا مشکل ہو گیا اس کا لن میری رانوں میں میری چوت کو سہلا رہا تھا رہا . مجھ سے اب رہا نہیں جا رہا تھا میں چاہتی تھی لن یونہی اندر پھسل جاۓ . میں دینو سے بولی . " تم تو کہتے تھے کہ گڑیا رو رہی ہے تو اس کو کھلونا کیوں نہیں دیتے " کھلونا تو اسی کا ہے ضرور دیں گے اس کو تھوڑا بھیگ جاۓ تو دینو نے مجھے چومتے ہوئے کہا میرے بووبز ہولے ہولے دبانے لگا . جب پاجامہ اتر چکا تھا میں بیٹھ گئی اور شرٹ بھی اتار کر اپنے برتھ پر پھینک دی .. اب میں ننگی دینو کے روبرو تھی اور وہ مجھے ہوسناک نظروں سے تا ڑ رہا تھا . میری زلفوں میں انگلیاں پھرتے ہوئے وہ میرے مموں کو چومنے اور مسلنے لگا کبھی میرے نیپلز کو انگلیوں سے مسلتا کبھی ان کو باری باری چوسنے لگتا . اس کے کھردرے ہاتھ جب جسم پر پھرتے تو میں لطف و انسباط کی وادیوں میں کھونے لگتی اس نے دوبارہ برتھ پر لٹا دیا میری پیشانی چوم کر مر ے گال سرخ کرنے لگا اور میری گردن پر بوسوں کی بارش کر دی ؛ میں اس سے چمٹ گئی وہ پھر میرے مموں کو چومنے چوسنے اور چاٹنے لگا مجھ سے اب برداشت نہیں ہو رہا تھا چوت کی کھجلی نے خوار کر رکھا تھا . دینو میرے مموں سے کھیلتا ہوا میری ناف تک پہنچ گیا زبان کو نوک سے مری ناف کو کھجانے لگا . اس کی انگلیاں میری چوت کے دانے کو مسل رہی تھیں اور میں چوتڑ کبھی اِدھر کبھی اُدھر کرتی - اس سے پہلے میں دینو کی منت کرتی مجھے چودو۔۔۔۔۔۔
  9. #پدو ماوتی اور شاھد پارٹ 41 فقط ہماری ہوس پر تو انگلیاں نہ اٹھا تیرا بدن بھی ملوث تھا اس شرارت میں... مسٹر شاھد نے آہستہ سے اپنا لنڈ جولی کے منہ کے اندر رکھ دیا۔۔ جولی نے اسکی مسلم ٹوپی کے نچلے حصے پر اپنی زبان پھیرنی شروع کر دی ۔۔ زبان کی نوک سے لنڈ کے نچلے حصے کو سہلانے لگی ۔۔ مسٹر شاھد نے بھی آہستہ آہستہ اپنا لوڑا #اسرائیلی یہودی حسینہ جولی کے منہ کے اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔ خود کو آگے پیچھے کرتے ہوئے ۔۔ جولی نے اپنے ہونٹوں کو اسکے لوڑے کے گرد بند کر لیا اور اسکے لنڈ کو چوسنے لگی ۔۔ اپنے منہ کو آگے پیچھے کرتی ہوئی ۔۔ اسکا دوسرا ہاتھ شاھد کے ٹٹوں کو سہلانے لگا۔۔ ان سے کھیلنے لگا۔۔ مسٹر شاھد نے اپنا ہاتھ ڈاکٹر جولی کے سر پر رکھا اور اپنا لوڑا اسکے منہ کے اندر باہر کرنے لگا۔۔ لنڈ کی ٹوپی جولی کے حلق سے جا کر ٹکراتی۔۔ چند منٹ تک جولی کو اپنا لوڑا چسوانے کے بعد مسٹر شاھد نے اسے صوفے پر ہی سیدھا کیا۔۔ اور اسکی ٹانگوں کو پھیلا کر اپنے مسلم لوڑے کو اسکی چوت پر رگڑنے لگا جولی نے ختنے والا لن پہلے نئیں لیا تھا آج اسکا کسی غیر مرد سے پہلی بار تھا اسکی پچھلے ماہ ھی شادی ھوئی تھی جوزف کیساتھ۔۔مسٹر شاھد کا دیسی لنڈ اوپر نیچے کوجولی کی چوت میں گھسنے لگا۔۔ اسکی چوت کے دانے کو سہلانے لگا۔۔ جولی کے تھوک سے مسٹر شاھد کا لوڑا گیلا ہو رہا تھا۔۔ اب اسکی چوت کا پانی بھی اسکے لوڑے کو گیلا کرنے لگا۔۔ جولی بولی۔۔ ڈال دو اندر اب پلیز۔۔--- اور نہیں تڑپاؤ۔۔ڈارلنگ۔آج _پہلی بار کسی _مسلمان کی _ٹیسٹ چکھا دو شاھد مسٹر شاھد مسکرایا_اور اپنے لوڑے پر دباؤ بڑھا تے ہوئے اپنے لوڑے کی ٹوپی کو جولی کی چوت کے اندر سرکا دیا۔۔ تکلیف سےجولی کے منہ سے ایک سسکاری نکل گئی ۔۔ اب مسٹر شاھد نے بنا رکے اپنا لوڑا اسکے چوت کے اندر پورے کا پورا اتار دیا۔۔ دونوں کے بال ایکدوسرے سے ٹچ ہونے لگے ۔۔ مسٹر شاھد نے اپنا لوڑا اب اسرائیلی گوری کی چوت میں اندر باہر کرتے ہوئے اسے چودنا شروع کر دیا۔۔ جولی نے بھی اپنی ٹانگیں اٹھائے اس سے چدوا رہی تھی ۔۔ اسکے منہ سے آہ ۔۔ آہ ۔۔ اُوووووو۔۔۔ کی آوازیں نکل رہی تھیں ۔۔۔ شاھد کا موٹا لوڑا جڑ تک جولی کی چوت کے اندر باہر ہو رہا تھا ۔۔ مسٹر شاھد نے ڈاکٹر جولی کی ٹانگوں کو ہوا میں اٹھا کر دھنا دھن اسے چودنا شروع کر دیا۔۔ کچھ دیر کے بعد اسے صوفے پر ہی گھوڑی بنایا ۔۔ اور پیچھے سے اپنا لوڑا اسکی پنک سی چوت کے سوراخ پر رکھا ۔۔ اور اسکی گانڈ کو پکڑ کر اپنا لنڈ اسکی چوت کے اندر ڈال دیا۔۔ جولی نے ایک لمبی آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ کے ساتھ اسکا پورا لوڑا اپنی چوت میں لے لیا۔۔ مسٹر شاھد نے اب اسکی کمر کو اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر پیچھے سے گھسے مارنے لگا۔۔ ایک ہی دن میں سیٹنگ ھونے پر اور جولی کے اندر پا کر مسٹر شاھد کا لوڑا پاگل ہو رہا تھا ۔۔۔ کبھی مسٹر شاھد اسکی کمر کو چھوڑ کر اپنے ہاتھ آگے لے جا کر اسکے مموں کو پکڑ کر دھکے مارنے لگتا۔۔ قریب 15 منٹ تک مسٹرشاھد جولی کی چُدائی کرتا رہا۔۔ اس دوران جولی کی چوت کے ٹشوز مسٹر شاھد کے لنڈ کے اردگرد گرپ بنا کر تنگ ھوگۓ تھے مسٹر شاھد کا وحشیانہ انداز جولی کو بہت اچھا لگا تھا مسٹر شاھد نے جولی کی کمر کو پکڑ کر ایک شاندار شارٹ مارا تو کانپتی ٹانگوں کیساتھ جولی کی چوت نے پانی چھوڑ دیا ۔۔ جولی نے مسٹر شاھد کو لٹا کر اسکا لنڈ اپنی گیلی چوت پر لگایا اور مسٹر شاھد کے لنڈ کو اپنی چوت کے اندر باھر ھوتا دیکھنے لگی اور آخر کار مسٹرشاھد کے لنڈ نے بھی اپنا پانی جولی کی کافر چوت میں نکال دیا۔۔ دونوں صوفے پر ایکدوسرے کی بانہوں میں لیٹ گئے ۔۔ شاھد اسکے نپل سے کھیلتے ہوئے بولا۔۔ تم بھی پریگنٹ ھوگئ تو ۔۔؟؟؟ وہ نرسز کے بارے میں ٹھیک ہی کہتے ہیں نا پھر کہ نرس کنواری نہیں ہوتی ۔یا پھر۔ جولی مسکرائی ۔۔ کیوں ۔۔ آجکل تو لیڈی ڈاکٹرز بھی کنڈوم نہیں استعمال کرتیں جناب۔۔ مسٹر شاھد مسکرایا۔۔ ہاں یہ تو ہے ۔۔ جولی بولی اگر بچہ ھو گیا تو کیا ھوگا ایک پاکستانی پہلوان ھی ھوگا جسے میں ریسلر بناؤں گی مسٹر شاھد کے لنڈ نے ڈھیر سارا مال جولی کی چوت میں نکال دیا ‏ دونوں مسکرانے لگے ۔۔ تھوڑی دیر ریسٹ کرنے کے بعد شاھد نے ایک بار پھر جولی کو چودا چار ایچ پی لیپ ٹاپ جولی کو دئیے سیمپل کے طور پر پھر اسے اینٹی لوپ ویلی کئیر وویمن ھاسپٹل چھوڑ آیا۔ جولی بولی کہ اسرائیل چاھے جو بھی سوچے پر میں نے آزما کر دیکھ لیا مسٹر شاھد بولے کیا دیکھ لیا آپ نے تو جولی بولی مسلمان سے ایک بار صحبت کرنا کتنا مزہ دیتا ھے اور اصل لنڈ تو آپ لوگوں کا ھوتا ھے دنیا اب آپکے اصول اپنا کر چل رھی ھے مسٹر شاھد بولے مطلب یہ ھے کہ آپ کو میرا لنڈ پسند آیا تو جولی مسٹر شاھد کے سینے پر مکا مارتے ھوۓ بولی بہت زیادہ اور بھاگ کر ھاسپٹل چلی گئ آ ج پیری اور اسکے والدین ===== مسٹر شاھد اور سید گلباز گیلانی کو دیکھنے کی تیاری کرنے لگے پیری کے والد براڈ پٹ ماں چیرسی چھوٹی جولیٹ اور سوزی سوزیں اور خود پیری دو کاروں میں سوار ھوکر مسٹر شاھد کو دیکھنے پہنچ گئے ========= مسٹر شاھد نے پیری کے والدین کا شاندار استقبال کیا اور پاکستانی کھانوں کی میز سجادی انکے سامنے کھانا کی میز پر پیری کی چھوٹی بہن جولیٹ بولی Peari and sozi your choice are very good my brother is beautifull پسند بھی کیسے نہ کرتے انکے سامنے پیری کا محبوب لاھور کا شہزادہ مسٹر شاھد اور سوزی کے سامنے جھنگ کا رانجھا سید بادشاہ بیٹھا تھا جو کہ کسی سے کم نہ تھے پیری کی فیملی مسٹر شاھد کو دیکھ کر بہت خوش ھوۓ گلباز بھی انکو بہت پسند آیا پیری کی ماں نے بات پکی کرتے ھوۓ کہا کہ براڈ نے آپ دونوں کو داماد مان لیا ھے آپ لوگ شادی کی تیاریاں کرو اسی سنڈے کو براڈ پٹ کی سالگرہ ھے اسی شام آپ دونوں کی شادی ھے پدو ماوتی اب مسٹر شاھد کے بنگلے میں شفٹ ھو چکی تھی کیونکہ شنکر لا ک ڈاؤن کی وجہ سے انڈیا میں تھا پیری کے والدین مسٹر شاھد کا رشتہ پسند کر گۓ تھے پدو ماوتی اس خبر کو سن کر بہت خوش ھوئی اس نے مسٹر شاھد کو بولا کہ جانو آپکی شادی کی شاپنگ میں کروں گی اور تیری دلہن کو میں سجاؤ
  10. #پدو _ماوتی _اور _شاھد Episode 39 and 40 ایک دن شنکر کا فون آیا کہ انڈیا میں کرونا وائرس بہت بڑھ گیا ھے اسلئیے انٹرنیشنل فلائٹ غیر معینہ مدت کے لئیے بند کر دی گئ ھیں میں جیسے ھی حالات سازگار ھوتے ھیں تو میں واپس آ جاؤنگا پدو ماوتی گھبرا کر بولی کہ میں اس بیگانے دیس میں اکیلی کیسے رھونگی تو شنکراوبراۓ نے کہا کہ آپ ڈاکٹر پیری کے گھر چلی جایا کرو تو پدو ماوتی نے کہا کہ آپکو ایک بریکنگ نیوز دینی تھی شنکر نے کہا ہاں بولو پدو ماوتی بولی شنکر صاحب آپ باپ بننے والے ھیں میں نے اپنا پریگنسی ٹیسٹ کروایا جو مثبت آیا ھے آپ باپ بننے والے ھیں شنکر خوشی سے بولا بھگوان تیرا شکر ھے پدو ماوتی بولی کہ گھر پر راشن ختم ھو گیا ھے وہ کون لا کر دیگا تو شنکر بولا میں #اپنے _باس_مسٹر شاھد نذیر صاحب کو بولتا ھوں آپکو پیمنٹ کر دیگا اور اگر آپ ناراض نہ ہوں تو میں مسٹر شاھد کو بول دیتا ھوں وہ آپکو اپنے بنگلے میں لے جائینگے جہاں پر انکی آنٹی نرگس آپکا خاص خیال رکھے گی پدو ماوتی کا تیر سیدھا نشانے پر لگا اور سب کچھ شنکر نے بول دیا اور مسٹر شاھد کیساتھ جانے کی اجازت بھی دے دی پدو ماوتی نے کہا کہ میں پریگنٹ ھو کر بہت خوش ھوں پر میں اکیلی نہیں رہ سکتی شنکر جانتا تھا کہ وہ کبھی پدو ماوتی کے اندر فار غ نہیں ھوا تو پھر پدو ماوتی کو ضرور باس نے ھی چودا ھوگا شنکر ساری گیم سمجھ گیا تھا اس لئیے اس نے مسٹر شاھد کو بولا کہ پدو میرے آنے تک آپکے گھر رھیگی مسٹر شاھد سوئمنگ پول میں نہا رھے تھے کہ پیری نے کال کی کہ ڈاکٹر جولی آپکی طرف آ رھی ھے کچھ کام ھے اسے وہ آتی ھو ھوگی اور‏‎ ‎‏ ‏Congrats پدو ماوتی پریگنٹ ھو گئ ھے اور میرے ابو ھماری شادی کے لئیے مان گئے ھیں مسٹر شاھد نے کہا سچ تو پیری بولی میں کل آپکو سب تفصیلات دوں گی حسن ہر روپ میں کافر هے یہ مانا, لیکن اک قیامت هے___جوانی میں بشر کی صورت... ڈاکٹرجولی نے مسٹر شاھد سے کہا کہ میں آپ سے ملنا چاھتی ھوں پیری کی شادی کے سلسلے میں اور مجھے ایچ پی لیپ ٹاپ چاھئیے آپکی کمپنی کے تو مسٹر شاھد نے اپنا اڈریس بھیج دیا ڈاکٹر جولی ایڈن گارڈن مین کیلی فورنیا روڑ جولی اسرائیل سے تھی چوبیس سالہ اسرائیلی ڈاکٹر جولی نے جب سے پیری سے سنا تھا اسکی پہلی چدائی کا تب سے مسٹر شاھد کی قربت کو ترس رھی تھی مسٹر شاھد سمجھتا تھا کہ اسکو کیا کام ھے جولی نے دیکھا مسٹر شاھد کا بنگلہ چھوٹا سا مگر صاف ستھرا گھر تھا۔۔ اور اچھا سجا ہوا تھا۔۔ بلڈنگ کی حالت اچھی نظر آتی تھی۔۔ جولی کا مسٹر شاھد نے خیر مقدم کیا جولی نے اپنا ہینڈ بیگ صوفے پر رکھا اور اپنا دوپٹہ بھی اتار کر بیٹھ گئی ۔۔ اتنے میں مسٹر شاھد اندر سے دو گلاس اور شربت کی بوتل لے آیا۔۔ ڈاکٹر جولی نے اسکے ہاتھ میں شربت کی بوتل دیکھی تو مسکرا کر بولی ۔۔ اچھا تو یہ شوق سے نوش کرتے ہیں آپ۔۔ مسٹرشاھد اسکے قریب بیٹھ کر دونوں گلاسوں میں شربت ڈالتے ہوئے بولا۔۔ جی ہاں سبھی شوق ہیں جناب۔۔ مسٹر شاھد نے ڈاکٹر جولی کی طرف شربت اور شراب کا مکس گلاس بڑھایا تووہ مسکرا کر بولی ۔۔ آپ کو کیسے یقین ہے کہ میں بھی پیتی ہوں ۔۔ مسٹر شاھد اس اسرائیلی حسینہ کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا ۔۔ تمھاری آنکھوں سے جو شراب چھلک رہی ہے اس سے ہی مجھے یقین ہو رہا ہے میری جان ۔۔ یہ کہتے ہوئے اس پاکستانی شیر نے اپنا گلاس اسکے ہونٹوں سے لگا دیا۔۔ اور جولی نے پہلا گھونٹ لے لیا۔۔ اور پھر اپنا گلاس بھی اسکے شاھد کے ہاتھ سے پکڑ لیا۔۔ شاھد نے ایک ہاتھ میں اپنا گلاس لیا۔۔ اور دوسرا بازو اسرائیلی حسینہ جولی کی گردن کے پیچھے سے ڈال کر اسے اپنے ساتھ چپکا لیا۔۔ اسکا ہاتھ اسکے کندھے پر سے اسکے سینے کے ابھار پر آگیا۔۔ اور وہ اسکو سہلاتے ہوئے پینے لگا۔۔ ایک ایک پیگ پینے کے بعد مسٹرشاھد نے دونوں گلاس رکھے اور پھر جولی کو اپنی بانہوں میں کھینچ لیا۔۔ وہ بھی اسکے سینے پر لڑھک سی گئی ۔۔ ڈاکٹر جولی نے شرماتے ھوۓ اسکے ہونٹوں کو چومنا شروع کر دیا۔۔ اور شاھد کے ہاتھ جولی کی کمر کو سہلانے لگے ۔۔ مسٹر شاھد نے اسکی شرٹ کو اوپر کی طرف کھینچنا شروع کیا تو ڈاکٹر جولں نے سیدھی ہو کر اپنی شرٹ نیچے سے پکڑ کر اوپر اٹھائی اور اپنے جسم سے الگ کر دی ۔۔ اب اسکا گورا گورا اوپری بدن بلکل ننگا تھا ۔۔ سوائے اسکی کالے رنگ کی برا کے ۔۔ جو کہ اسکے گورے گورے جسم پر بہت ہی جچ رہی تھی ۔۔ اقبال کے شاھین مسٹر شاھد نے فوراََ ہی اپنے دونوں ہاتھ جولی کی کالی برا کے اوپر سے ہی اسکی چھاتیوں پر رکھ دیئے ۔۔ مسٹر شاھد ۔۔ بہت دنوں کی حسرت انکو دیکھنے کی ۔۔ جولی مسکرائی اور بولی۔۔ آپ مجھ سے کہہ دیتے ۔۔ مسٹر شاھدسب ۔۔ بس ہمت ہی نہیں ہوئی چانس مارنے کی ۔کیونکہ اسرائیلی تھوڑا سیاسی ھوتے ھیں۔ یہ کہتے ہوئے شاھدنے اسکی برا کی سٹرپ کھول کر نیچے کو کھینچ دیا۔۔ اور اسکے گورے گورے ممے ننگے کر دیئے ۔۔ گول گول ممے ۔۔ جن کے سروں پر گلابی نپل تنے ہوئے تھے ۔۔ پدو ماوتی کے مموں سے چھوٹے ہی تھی ۔۔ مگر خوبصورت ویسے ہی لگ رہے تھے ۔۔ مسٹر شاھد نے اسکے نپلز کو اپنی انگلیوں میں لے کر مسلا ۔۔ اور پھر اپنے ہونٹ اسکے ایک نپل پر رکھ کر اسے چوسنے لگا۔۔ چوستے ہوئے اسکو اپنی زبان سے رگڑنے بھی لگا۔۔ چوستے ہوئے اسکے نپل کو کھینچتا اپنے ہونٹوں سے ۔۔ اور پیچھے سے اسکا ایک ہاتھ جولی کی ننگی کمر کو سہلا رہا تھا ۔۔ تھوڑی دیر تک دونوں ایک دوسرے کو اسی طرح چومتے اور چوستے رہے ۔۔ پھر مسٹر شاھد نے اسے صوفے پر سیدھا کر کے جولی کو لٹایا ۔۔ اور خود نیچے کھڑے ہو کر اسکا پاجامہ بھی کھینچ کر اتاردیا۔۔۔ ڈاکٹر جولی کی خوبصورت چوت اسکے سامنے ننگی تھی۔۔ مسٹر شاھد نے اسکی ٹانگوں کو کھولا اور نیچے بیٹھ کر اپنے ہونٹ اسکی گلابی چوت پر رکھ دیئے ۔۔ ڈاکٹر جولی کے منہ سے سسکاری نکل گئی ۔ Ohh_yes my dear friend suck my pussy I like your style ۔ مسٹر شاہد نے اپنی زبان اسکی چوت پر چلاتے ہوئے اسکی چوت کو چاٹنا شروع کردیا۔۔ کبھی اپنی زبان کو اسکی چوت کے اندر لے جاتا ۔۔ اور اندر سے چاٹنے لگتا۔۔ اور کبھی اسکی چوت کے دانے کو اپنی زبان کی نوک سے سہلانے لگتا۔۔ جولی کا لذت کے مارے برا حال ہو رہا تھا۔۔ وہ مسٹر شاھد کے سر کو اپنی چوت پر دبا رہی تھی ۔۔ اسکے بالوں کو کھینچ رہی تھی ۔۔ اور اپنی ٹانگوں کو اسکے پیچھے لپیٹ رہی تھی ۔۔ اسکے منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھیں ۔۔۔ مسٹر شاھد پنجاب کا جوان کھڑا ہوا ۔۔ اور اپنی پینٹ کھولنے لگا۔۔ پینٹ کو اپنے جسم سے نیچے سرکانے کے بعد اپنا انڈرویئر بھی اتار دیا۔۔ اسکا لوڑا جولی کے سامنے لہرانے لگا۔۔ جولی فوراََ ہی اُٹھ کر بیٹھ گئی #جاری ھےیہ کہانی رومانٹک ناولز خاص لوگ گروپ کے لئیے لکھی گئ جولی بولی مسٹر شاھد آ ج دیکھنا ھے آپکے لنڈ میں جو ڈاکٹر پیری آپکی تعریفیں کرتی رھتی ھے مسٹر شاھد نے کہا کہ ھم پاکستانی ھیں جس سے محبت کرتے ھیں تو جان وار دیتے ھیں آپکو بھی اپنا دم دکھا دوں گا آج جولی بولی دکھا دو آ ج اپنا زور ۔۔ بنا اسکے لنڈ کو چُھوئے اسکی ٹوپی کو چوما۔۔ اور پھر اپنا منہ کھول دیا۔۔ جولی مسٹر شاھد کے لنڈ کو چوم کر بولی آ ج ایک مسلمان کا چمکتا دمکتا لنڈ دیکھنا میری آرزو تھی مسٹر شاھد نے کہا کہ جولی ڈئیر کر لو آج ساری تمنائیں پوری
  11. nice story dear keep it up good work
  12. #شہوت_انگیز_کہانیاں #جسم_کی_بھوک #قسط_07 #آخری_قسط جانی کے ساتھ ندیم تھا اس کا سر جھکا ہوا تھا میں نے جلدی سے اٹھ کر ندیم کو کہا پلیز مجھے یہاں سے لے چلو گھر۔ جانی نے قہقہہ لگایا اور کہا یہ میرا آدمی ہے میرا مال سپلائی کرتا ہے شوبز کی دنیا میں،تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھا کر اپنی زندگی کی بہت بڑی غلطی کی ہے اُ س کی سزا ملے گی تم کو میں نے ہاتھ جوڑ دیئے اور جانی سے کہا تم جو چاہے میرے ساتھ کر سکتے ہو میرے جسم کو حاصل کرنا چاہتے تھے ۔مجھے معاف کر دو تم جانی:سالی میں جس کو چاہوں اس کا جسم حاصل کر سکتا ہوں تم جیسی لڑکیاں میرے پاؤں دھودھو کر پیتی ہیں۔آج کا دن تم نہیں بھول پاؤ گی میں تمہاری وہ حالت کروں گا کہ ساری زندگی تم جانی بھائی کا نام نہیں بھول سکو گی جانی نے آواز دی تو کمرے میں بہت سے آدمی داخل ہو گئے اور سب کمرے کے چاروں طرف بیٹھ گئےمیں ان کے بیچ میں موجود گدے پر پڑی ہوئی تھی۔جانی نے کہا شیرو کو بلاؤ تو ندیم اٹھ کر کسی شیرو کو بلانے چلا گیا۔اور کچھ دیر بعد ندیم شیرو کو بلا لایاشیروایک جن نما انسان تھا اس نے صرف دھوتی پہن رکھی تھی جسم بالوں سے بھرا ہوا تھا اور قد کاٹھ سے کوئی ریسلر لگ رہا تھا میں جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔ جانی نے کہا ہم سب تمہاری اور شیرو کی سہاگ رات دیکھیں گے اس کے بعد تمہارے شوہر بدلتے رہیں گے۔ اس نے پھر شیرو سے کہا دیکھ شیرو ہم سب کو مزہ آنا چاہیے شیرو نے ہنس کر دانت نکال دیئے ۔اور کہا :جو حکم سرکار میں نے آگے بڑھ کر جانی کو کچھ کہنا چاہا پر شیرو نے زور کا مکا میرے پیٹ میں مارا میں درد کے مارے دوہری ہوگئی میری آنکھ میں درد کے مارے آنسو آگئے اس نے میرے بالوں سے پکڑ کر میرے سر کو اوپر اٹھایا اور مجھے گدے پر پٹخ دیا میں اس کے سامنے ایک بچی کی طرح لگ رہی تھی اس نے ایک تھپڑ میرے گال پر جڑ دیا میری آنکھوں کے سامنے جیسے تارے ناچنے لگ پڑے۔اس نے میرے گریبان پر ہاتھ ڈالا اور میری قمیض کو چیر دیا نیچے میرا برا سب کے سامنے ظاہر ہو گیا جسکو اس نے دوسری کوشش میں تار تار کر دیا ۔پھر اس نے میری شلوار کو اتار دیا سب کے سامنے میں ننگی ہو چکی تھی کمرے میں موجود کم از کم درجن کے قریب لوگ مجھے بھوکی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔میں نے مزاحمت چھوڑ دی تھی ۔پھر اس نے اپنی دھوتی کو اتار پھینکا اور اندر سے ایک کالا موٹا لنڈ نکلا جس کو دیکھ کر ہی میری حالت ٹائیٹ ہو گئی تھی۔آج تک جتنے بھی لن لئے تھے سب اس کے سامنے کم تھے شیرو کے پورے جسم پر بال تھے جس کی وجہ سے وہ گوریلا لگ رہا تھا۔پھر وہ مجھ پر ٹوٹ پڑا میرے ہونٹوں کو چوسنے اور کاٹنے لگا اس نے خوب کسنگ کی ساتھ ساتھ میرے مموں کو مسل رہا تھا بلکہ نوچ رہا تھا اس کے سیکس کا انداز پر تشدد تھا۔پھر اس نے میرے نپلز کو منھ میں لیا اور ان کو کاٹنے اور چوسنے لگا۔پھر اب اسکی اگلی منزل میری چوت تھی جس پر اس نے اپنے منھ کو رکھا اور میری چوت کا رس پینا شروع کر دیا اس کی زبان میری چوت کے اندر باہر ہو رہی تھی وہ کسی جانور کی طرح میری چوت کو چاٹ رہا تھا۔اس کے بعد وہ اٹھا اور میرے منھ کے پاس آیا اور مجھے کہا میرا لنڈ کو منھ میں لو۔ میں نے اس کے لنڈ کو منھ میں لے لیا اس کے لنڈ کی موٹی ٹوپی بڑی مشکل سے میرے منھ میں گئی میں نے اس کے لنڈ کو چوسنا شروع کر دیا کمرے میں موجود سب مرد مجھ پر آوازیں کس رہے تھے گندے گندے ریمارکس دے رہے تھے۔میں نے کسی پر دھیان نہیں دیا اور خاموشی سے شیرو کے ڈندا نما لنڈ کو چوس رہی تھی اس کا لنڈ لگ رہا تھا جیسے لوہے کا بنا ہو ،وہ حد سے زیا دہ سخت تھا اب اس نے میرے منھ کو چودنا شروع کر دیا اور میرے سر کے پکڑ کر اپنے لنڈ کے اوپر دبانا شروع کر دیا میرا سانس رکنے لگا تو اس نے چھوڑا اور مجھے زور سے دھکا دے کر پیچھے گرا دیا اور میری ٹانگوں کو دونوں اطراف میں پھیلا دیا اب اس نے میری چوت پر اپنے لنڈ کو رگڑنا شروع کر دیا اور ایک جھٹکے سے اپنا لنڈ میری چوت کی گہرائی میں اتار دیا اس کے لنڈ کی غیر معمولی موٹا ئی کی وجہ سے میرے منھ سے زور دار چیخ نکلی مجھے لگا کسی نے میری چوت میں ڈنڈا ڈال دیا ہو چوت باقاعدہ چرتی ہوئی محسوس ہوئی۔اس نے میری چیخوں پر کو ئی دھیان نہیں دیا اور لنڈ کو میری چوت سے باہر نکال کر دوبارہ زور سے جھٹکا مارا اور پورا لنڈ جڑ تک میری چوت میں اتار دیا میں اس کے پہاڑ جیسے جسم کے نیچے تڑپنے لگی۔اس نے اب جم کر زور سے جھٹکے مارنے شروع کر دیے مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میں کوئی کنواری لڑکی ہوں ،کچھ دیر بعد میری کچھ حالت سنبھلی اور اب چیخوں کی جگہ سسکاریوں نے لے لی تھی۔وہ جم کر چدائی کر رہا تھا اس نے میرے گلے میں لٹکی ہوئی میری قمیض کے ٹکرے کو بل دے کر میرا گلا گھونٹنا شروع کر دیا جب میری سانس روکنے لگتی تو وہ اس پھندے کو ڈھیلا کر دیتا جب دیکھتا میں سنبھل گئی ہوں تو دوبارہ میرے گلے کو پھندے سے گھونٹنا شروع کر دیتا۔اس کو تشدد پسند تھامیری حالت پتلی ہو چکی تھی کمرے میں موجود سب انجوائے کر رہے تھے مجھ پر آوازیں کس رہے تھے ۔اتنی بے عزتی کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔پتا نہیں شیرو نے کیا کھایا ہوا تھا چھوٹنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ،کبھی مجھ کو اپنے اوپر بٹھا لیتا کبھی مجھ کو گود میں اٹھا کر کھڑے ہو کر چود رہا تھا ۔اس میں جن جیسی طاقت تھی۔پھر اس نے گھوڑی بنایا اور میری چوت کو چودنے میں مصروف ہو گیا میں پتا نہیں کتنی بار فارغ ہو چکی تھی کوئی گھنٹے کی چدائی کے بعد اس نے ایک زور دار آواز نکالی اور اپنے دانت میرے کندھے پر گاڑ دئے اور اپنے ھاتھوں سے میرے مموں کو پکڑ کر دبا دیا۔مجھے ایسا لگا میری چوت میں سیلاب آ گیا ہو ،شیرو کے جسم کو جھٹکے لگ رہے تھےاور وہ مزے کی شدت سے میرے جسم کو اپنے دانتوں سے نوچ رہا تھا۔میں نڈھال ہو کر گر گئی شیرو نے مجھے چھوڑ دیا۔کمرے میں موجود سب نے زور زور سے تالیا ں اور سیٹیاں مارنا شروع کر دیں جیسےاس نے کوئی میدان فتح کر لیا ہو۔اب کمرے میں موجود تمام آدمیوں نے ایک دوسرے سے بحث کرنا شروع کر دی تھی ہر ایک کی یہی خواہش تھی کہ وہ میرے جسم کو حاصل کر لے پہلے۔میں ان تمام آدمیوں کا جنون دیکھ کر گھبرا گئی تھی اکیلے شیرو نے میری حالت خراب کر دی تھی،میں نے اٹھ کر جانی کے پیر پکڑ لئے اور کہا پلیز مجھے معاف کر دو میں مر جاؤں گی ۔ جانی نے مجھے ایک زور دار دھکا دیا اورکہا بہن چود تو خوش نصیب ہے دیکھ کتنے مرد ہیں تیرے،آج تم سب کو خوش کرو گی ۔ اس نے سب کو ڈانتا اور کہا بہن چودو ساری رات پڑی ہے دو دو کر کے اپنی آگ بجھا تے جاؤ۔ بس پھر کیا تھا ان میں سے دو آدمی اگے بڑھے اور اپنے کپڑے اتارکر میرے پاس آ گئے اور مجھے بالوں سے گھسیٹ کر دوبارہ گدے پر لے آئے۔بس پھر ایک نا رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا دو آدمی آتے ایک میری چوت اور دوسرا میری گانڈ کو چودتا فارغ ہونے والے کی جگہ دوسرا آدمی سنبھال لیتا۔اس طرح کوئی رات کے 12 بجے تک مسلسل چدنے کی وجہ سے میری چوت اور گانڈ سن ہو چکی تھی پورے جسم میں درد کی لہریں دوڑ رہی تھیں جسم میں زرا سی بھی جان نہیں بچی تھی اور کمرے میں موجود تمام آدمی ایک ایک باری لگا چکے تھی اور دوسری باری لینے کے لئے تیار تھے،جانی کو شائید مجھ پر رحم آگیا اس نے رکنے کا کہا اور کہنے لگا ایک گھنٹے کا ریسٹ دو اس کو اس نے اپنی نوکرانی کو آواز دی اور کہا اس کے لئے گرم دودھ اور کچھ کھانے کو لاؤ۔ دودھ پینے کے بعد کچھ جسم میں جان آئی اور یہ سوچ کر دل دہل گیا کہ دوبارہ ان جنگلیوں کو خوش کرنا پڑے گا۔ میں نے جا کر شاور لیا اور کمرے میں آکر بیٹھ گئی پہننے کو کپڑے تو تھے نہیں ،گھنٹے کے بعد جانی کمرے میں داخل ہوا اس کے پیچھے باقی لوگ تھے جانی نے دوآدمیوں کو مجھے پکڑنے کا کہا اور اس نے ایک انجکشن میرے بازو پر لگا دیا کچھ دیر بعد مجھے ایسا لگا جیسے میں ہواؤں میں اڑ رہی ہوں جسم پھولوں سے بھی ہلکاہو چکا تھا میں سمجھ گئی مجھے نشے کا انجکشن لگایا ہے۔اور بس پھر ان سب نے مل کر مجھے کتوں کی طرح نوچنے لگ پڑے انجکشن کی وجہ سے میں مزے کی بلندیوں پر پہنچ چکی تھی رات پوری مجھے چودتے رہے صبح میری حالت خراب ہونے پر مجھے ایک اہسپتال کے سامنے پھینک کر چلے گئے جہان مجھے ایڈمٹ کر لیا گیا ہوش آنے پر میں نے اپنےبہنوئی کا نمبر اہسپتال والوں کو دیا ، بہنوئی کے آنے پر میں نے رو رو کر سب کچھ ان کو بتا دیا بہنوئی کے منع کرنے پر بھی پولیس کو میں نے جانی کا نام بتا دیا اور سارا بیان دیا ۔2 دن بعد مجھے اہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا میں گھر آگئی ۔پولیس ایک دو بار مجھ سے بیان لینے آتی رہی پر انہوں نے جانی کےخلاف کوئی ایکشن نہیں لیا ایک دن میں گھر میں اکیلی تھی تو جانی ایک آدمی کے ساتھ میرے گھر داخل ہوا اور اس نے زبردستی مجھے پکڑ کر دوبارا وہی انجکشن لگایا اور مجھے نشے میں چھوڑ کر گھر سے نکل گیا کچھ دیر بعد پولیس میرے گھر آئی اور ان کو میں نشے کی حالت میں ملی میرے کمرے سے ان کو ڈرگ اور انجکشن ملے جو جانی نے جاتے ہوئے شائد میرے کمرے میں رکھ دئے تھے۔ پولیس نے میرے خلاف ڈرگ بیچنے ،یوز کرنے اور جسم فروشی کا مقدمہ بنایا ۔میں بہت چیخی چلائی پر میرے خلاف ثبوت اتنے تھے میں کچھ نہیں کر سکی ۔تفشیشی افسر سے لے کر سپاہی تک نے میرےجسم سے اپنا اپنا حصہ وصول کرتے رہے ۔ایک دو پیشیوں کے بعد ہی جج نے مجھے 7 سال قید کی سزا سنا دی تھی ۔مجھ سے میرے بہنوئی اور بہن نےپولیس کے گرفتار کرنے کے بعد سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا۔مجھے جیل منتقل کر دیا گیا ۔جہاں کی دنیا ہی الگ تھی میرے کمرے میں موجود دو پکی عمر کی عورتیں رہتی تھیں میری صورت میں ان کو ایک نوکرانی مل گئی تھی سارا دن مجھ سے اپنی ٹانگیں دبواتی تھیں۔اور رات کو میرے جسم کے ساتھ کھیلتی تھیں انکار کی صورت میں مجھے ان کی مار برداشت کرنی پڑتی تھی۔جیل میں جیلر بھی آئے روز مجھے اپنے کمرے میں بلا لیتا تھا جہاں کبھی خود کبھی اس کے مہمان مجھ سے سیکس کرتے تھے۔جیل میں موجود کوئی لڑکی ہوگی جو ان سے بچی ہوگی۔جیسے جیسے میں جیل میں پرانی ہوتی گئی میری حاضری میں وقفہ آتا گیا۔میں نے رو پیٹ کر 5 سال گزار لئے میرے اچھے چال چلن کی وجہ سے مجھے 5 سال میں جیل سے آزاد کر دیا گیا۔جیل سے باہر آنے کے بعد میں بہنوئی کے گھر گئی جہا ں جا کر پتا لگا وہ شہر چھوڑ کر چلے گئے ہیں ان کے سب نمبرز بھی آف تھے۔ندیم بھی اپنا فلیٹ بیچ کر چلا گیا تھا۔جانی ایک پو لیس مقابلے میں مارا گیا تھا ۔میں کراچی سے لاہور اپنے گھر کی طرف چلی گئی ۔وہاں جا کر ایک قیامت خیز خبر میرا انتظا ر کر رہی تھی۔میرے جیل جانے اور مجھ پر لگنے والے الزامات کی وجہ سے میرے والد کو دل کا اٹیک ہوا اور وہ وفات پاگئے ابو کی وفات کے بعد امی نے لوگوں کے تانوں سے بچنے کے لئے مکان بیچ کر سر ریا ض سے شادی کی اور کسی اور شہر چلے گئے ،میں ماریہ کے گھر گئے تو پتا لگا اسکی بھی شادی ہو چکی ہے اور اسکی امی نے مجھے گھر میں داخل ہونے نہیں دیا ۔اس کے بعد میں نے ارشدسے فون پر رابطہ کیا تو اس نے بھی روکھے منھ بات کی اور کہا اسکی شادی ہو چکی ہے اور وہ میری وجہ سے مصیبت میں نہیں پڑنا چاہتا۔سب سے مایوس ہو کر میں نے دوبارہ کراچی جانے کا فیصلہ کیا اور بچے کچھے پیسوں سے جو مجھے جیل سے رہائی پر ملے تھے ان سے بس کی ٹکٹ لی اور کراچی پہنچ کرایک دارالامان کا پتا پوچھتے پوچھتے پہنچ گئی۔دارالامان ایک عورت چلاتی تھی۔دارالامان میں موجود 2 مردوں کا کام دن میں عورتوں کے لئے کھانا بنانا تھا اور رات میں عورتوں سے سیکس کرنا۔اور دارالامان بس نام کا تھا ان کا اصل دھندہ جسم فروشی تھا ۔یہ عورت ایک این جی اوز چلاتی تھی ۔اور اس کے تعلقات بڑے بڑے لوگوں سے تھے جو اس سے عورتیں منگواتے تھے اور جو لڑکی بھاگنے کی کوشش کرتی اس کو ایسی سزا دی جاتی کہ باقی موجود کسی عورت کی ہمت نہیں ہوتی بھاگنے کی۔ میں نے بھی خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیا تھا میں بھی بہت سے ٹرپ لگاتی تھی مجھے اسی طرح بہت سے بڑے بڑے بزنس مین اور سیاستدانوں سے ملنے کا موقع ملتا تھا ۔ایسے ہی ایک پارٹی میں میری ملاقات اس کہانی کے رائیٹر سے ہوئی ۔کچھ بات چیت میں ہم دونوں گھل مل گئے اس نے اصرار کر کے مجھ سے میری کہانی سنی میں نے اس کے سامنے اپنی زندگی کے تمام حالات رکھ دئے اس نے وعد ہ کے مطابق میری کہانی کے کرداروں کے نام اور جگہ کو تبدیل کر دیا ۔میں اب اپنی زندگی اسی دارالامان میں گزار رہی ہوں ۔کبھی کبھی سوچتی ہوں میری زندگی تباہ کرنے میں کون زیادہ قصوروار ہے ۔میں ،سر ریاض،ندیم یا جانی پر میں کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ پاتی۔۔۔۔۔۔
  13. #پدو ماوتی اور شاھد پارٹ 37....38 ‏ پدو ماوتی دوسرا راؤنڈ بھی لگانا چاھتی تھی اسی لیئے اس نے مسٹر شاھد کو فار غ ھونے کے بعد بھی نہیں چھوڑا تھا ابھی تک پدو ماوتی نے مسٹر شاھد کے کمر کے گرد اپنی ٹانگیں لپیٹ رکھی تھیں پدو ماوتی چاھتی تھی کہ اسکے شوہر شنکر اوبراۓ کے انڈیا سے واپس آنے سے پہلے مسٹر شاھد کیساتھ پیار بھرا ملن کرکے اسکے بچے کو جنم دیا جاۓ مسٹر شاھد کے کان میں پدو ماوتی بولی کیا ھوا شاھد تھک گئے کیا مسٹرشاھد تیری بانہیں ھوں اور تھکاوٹ ھو جاۓ پدو ماوتی ھنس کر بولی کیا بات ھے جناب آپکی انہی اداؤں کی بدولت تو اس بھارتی حسینہ نے اپنا دل تم پر نچھاور کر دیا آپ میرے بچے کی باپ بن جاؤ شنکر کا پتہ نہیں کب واپس آجاۓ کیونکہ دنیا میں کرونا وائرس اس وقت تیزی سے پھیل رہا ہے یہ پتہ نہیں کب دنیا انٹرنیشنل پروازیں روک دے شنکر کبھی نہیں چاھے گا کہ وہ اس بری صورتحال میں انڈیا میں پھنس جاۓ پیری فریش ھوکر بیڈ پر آچکی تھی پیری نے کمبل لیا اور بیڈ پر لیٹ گئ پدو ماوتی اور شاھد کی باتیں سن کر بولی کہ لگتا ھے مسٹر شاھد آج ساری رات پدو ماوتی کے چودیں گے پدو ماوتی بولی کہ جب تک ھے جاں اس پاکستانی کے ہاں پیری مسکرا دی اور کھڑکی سے باھر دیکھ کر بولی لگے رھو آپ دونوں باھر برف پڑ رھی ھے آپ دونوں کی گرمی عرو ج پر ھے مسٹر شاھد نے پیری کی گانڈ پر چٹکی ماری اور کہا کہ پیری ڈئیر تم بھی ایک راؤنڈ اور لگا لو پیری بولی نو ڈئیر میری چوت میں پہلے ھی بہت درد محسوس ھورھا ھے پدو ماوتی اب مسٹر شاھد کی بغل میں لیٹ گئ اور مسٹر شاھد کیساتھ شرارتیں کرنے لگی پیری بولی شاھد ڈئیر آپ فکرنہ کرو ساری عمر یہ چوت آپکی ھی ھے مسٹر شاھد بولے کہ آپ آزاد پنچھی ھو اس پنجرے میں قید نہیں ھوسکتی میری بن کر جینا چاھتی ھو تو حجاب میں رہنا پڑیگا جو آپ جیسی لڑکیاں نہیں کر سکتیں پیری کے چہرے پر ایک دم مایوسی چھا گئ اور وہ بولی مجھ میں کیا کمی ھے آپکی پاکستانی لڑکیوں سے تو بہت اچھی ھو مسٹر شاھد بولے میرے پاکستان کی لڑکی ایک مردکیساتھ گزارہ کر لیتی ھے جبکہ امریکۂ میں جب چاھو جسکے ساتھ چاھو نیا بندھن باندھ لو پدو ماوتی بولی پیری آپ سے شادی کی خواھش کر چکی ھے اور میں نے اسے سمجھا دیا ھے پیری اسلام قبول کرنے کو تیارھے اور آپ کا نکاح ھوگا اور اگر پیری کے باپ براڈ پٹ نے زیادہ غصہ کیا تو آپ کچھ دیر کے لئیے انکی مان لینا آپکا نکا ح ھوگا مگر پہلے چر چ میں شادی ھوگی آپ دونوں کی اور پھر سوزی اور گلباز گیلانی کی مسٹر شاھد بولے پیری آپ تیار ھو اسلام قبول کرنے کے لئیے تو پیری بولی ڈارلنگ میں تو جان بھی آپ پر وار دوں باقی کیا رۂ گیا ھے پیری بولی میں آپکی ھر آزمائش پر پوری اتروں گئ پدو ماوتی بولی کہ مسٹر شاھد اب اقبال کا شاھین بھاگنے کی بجاۓ پیری کے ساتھ شادی کریگا اور ڈاکٹر پیری اسلام قبول کرکے سارے کام چھوڑ کر مسٹر شاھد کی ہاؤس وائف بن کر رھیگی بولو منظور ھے تو پیری بولی جی ہاں منظور ھے مسٹر شاھد بولے اچھا چلو سوچتے ھیں کچھ‎ ‎‏ پیری بولی سوچنا کیا ھے اسی ھفتے سوزی اور گلباز کی شادی ھے تو ساتھ مین ھماری بھی ھو جائیگئ کیلی فورنیا کی سرد ھوائیں چل رھیں تھیں باھر برف باری ھورھی تھی اور موسم کافی سرد ھو چکا تھا لیکن #پدو ماوتی اقبال کے اس شاہین کیساتھ لیٹی ھوئ بھارتی حسینہ پدو ماوتی باتیں کرتے کرتے مسٹر شاھد کے اوپر آ چکی تھی دونوں کی آنکھیں چار ھوئیں اور باتوں باتوں میں سب کچھ طے ھوگیا بلیک کلرکی نائٹی پہنے پدو ماوتی مسٹر شاھد کے اوپر آ گئ تھی اور مسٹر شاھد کا لن پکڑ کر مسلنے لگی مسٹر شاھد کا گانی والا چمکدار ٹوپا سہلاتے ھوۓ پدو ماوتی بولی کتنا پیارا لنڈ ھے آپکا دھیمے سروں میں کوئی مدھر گیت چھیڑئیے ٹھہری ہوئی ہواؤں میں جادو بکھیری مسٹر شاھد نے کہا کہ کونسی چیز آپکو سب سے پیاری لگتی ھے تو لن کو سہلاتے ھوۓ پدو ماوتی شرما کر بولی آپکے لنڈ کی ٹوپی بہت مزہ دیتی ھے آپکو پتہ ھے جب یہ رگڑ کھاتی ھے نہ اندر جا کر تو دل کرتاھے یہ لمحے ادھر ھی رک جائیں اور آپکا لنڈ ایسے ھی میری چوت میں رھے پدو ماوتی نے اپنی پینٹی اتاری اور پھر مسٹر شاھد کا لن پکڑا اور لن کو پکڑ کر اپنی چوت پر سیٹ کیا اور مسٹر شاھد کے لنڈ پر بیٹھ گئ مسٹر شاھد کا لنڈ آدھا پدو ماوتی کی چوت میں چلا گیا تھا اور پدو ماوتی شہوت سے چور چور تھی تبھی اس نے اپنی چوت کو دیکھا تو خوشی سے بولی ابھی تو آدھا لنڈ ھی گیا ھے پدو ماوتی نے جلدھی ایک اور جھٹکا مارا اور مسٹر شاھد کا سارا لنڈ اپنے اندر اتار لیا مسٹر شاھد کا لنڈ جڑ تک پدو ماوتی کی تنگ چوت میں چلا گیا تھا پیری نے کروٹ لیکر سونے کا ارادہ کرتے ھوۓ اپنے اوپر کمبل ڈال لیا تو پدو ماوتی اب اپنا پسندیدہ سٹائل میں مسٹر شاھد سے چدوا رھی تھی مسٹر شاھد کا لنڈ اس ھندو چھوری کی چوت کو پھاڑتا ھوا اندر باھر ھور ہا تھا پدو ماوتی اپنی تنگ چوت اچھال اچھال کر مسٹر شاھد کا ساتھ دے رھی تھی مسٹر شاھد بھی پدو ماوتی کی چوت میں اپنا لنڈ اندر باھر کر رھے تھے دونوں نے ایک بار پھر سے ایک دوسرے کی گرم سانسیں محسوس کیں اور پدو ماوتی کی چوت کے ٹشوز مسٹر شاھد کے لنڈ پر تنگ ہونے لگے تب پدو ماوتی نے سسکاری لیتے ھوۓ ایک بار پھر پانی چھوڑ دیا پدو ماوتی کی حوس زدہ چوت اتنی تنگ تھی اور چودنے کا انداز اتنا پیارا تھا کہ مسٹر شاھد نے بھی اپنا لنڈ اندر تک دھکیلتے ھوۓ سارا پانی پدو ماوتی کی چوت میں چھوڑ دیا اس بارش کی تپش میں دونوں پسینے سے بھیگ گۓ مسٹر شاھد کو پدو ماوتی بولی ایسا لگتا ھی کہ آپ ھی میرے پتی ھو بہت سکھ دیا آپ نے مجھے دونوں اس شاندار چدائی کے بعد پھر سے اپنا سیلاب چھوڑتے ھوۓ ایک دوسرے کیساتھ چپک کر سوگۓ
  14. #شہوت_انگیز_کہانیاں #میری_ساس_میری_سہیلی #قسط_03 اس لئے میں اپ کو نہیں روکوں گی یہ کہتے ہوئے میں نے انہیں جپھی ڈال کر انہیں چومنے لگی ان کا لن میری رانوں میں ہی تھا انہوں نے میری ٹانگوں کو کھولا اور ان کے درمیان بیٹھ گئے . اور لن میری پھدی پر رکھ دیا مجھے یقین سا ہو گیا گرچہ وہ یورپ تک ہو آے ہیں مگر ابھی تک وہ اناڑی ہیں ممکن ہے پہلی بار کرنے لگے ہیں . وہ نروس سے لگ رہے تھے ؛ ان کے دل کی دھڑکن سنائی رہی تھی ان کی سانسیں الجھی ہوئی اور بے ترتیب تھیں . ان کا لن چوت کے دھانے پر تھا مگر وہ اسے اندر نہ کر پا رہے تھے - میں تھوڑا سا اوپر دباؤ ڈال کے لن اندر لے سکتی تھی ؛ میں نے اسے مناسب نہ سمجھا گرچہ میری چوت اسے اندر لینے کو بے تاب تھی - مگر میں کوئی ایسی حرکت کر کے اپنے لئے مزید مشکلات کھڑا کرنا نہ چاہتی تھی . وہ میرے ہونٹوں کو چبا رہے تھے اور میرے بازو ان کے شانوں پر تھے انہوں نے اٹھ کر اپنے لن کو ہاتھ میں لیا اور چوت پر پھسلانے لگے چوت کی رس نے لن کو بھی گیلا کر دیا انہوں نے لن کو چوت ا منہ رکھ کر دبایا تو لن کی ٹوپی اندر ہو گئی میں نروس سی ہو گئی انہوں نے میری جانب دیکھا تو مجھے گھبرایا ہوا پا کر لن چوت سے باہر نکال لئے اور مجھ پر جھک کر مجھے چومنے لگے میں بھی انہیں چومنے لگی لن اب بھی چوت پر ہی دھرا تھا انہوں نے یہ سمجھا تھا کہ میں اس لئے گھبر گئی تھی ٹوپی کے اندر جانے سے مجھے درد ہوا تھا .. مجھے خوشی کا احساس ہوا کہ مجھے اتنا کئیرنگ خاوند ملا ہے مگر اس احساس نے میری خوشی ملیا میٹ کر دی اس بیچارے کو کیسی بیوی ملی - ارمان نے تھوڑی دیر بعد پھر لن کو چوت پر رکھ کر دبایا مگر اس بار بڑے تحمل اور آہستگی سے اور لن کی ٹوپی اندر ہو گئی . میں نے ان کے ناف کے قریب ہاتھ رکھ کر روکا تو رک گئے - تھوڑی دیر بعد انہوں نے ہولے سے اور اندر کر لیا اور میں نے پھر ان کو رکنے کا اشارہ کیا تو انہوں نے لن تھوڑا پیچھے کھینچ لیا اور میرے ممے منہ میں لے کر چوسنے لگے - میری چوت میں لن نے ایک آگ سی لگا دی تھی ؛ کھجلی اسکی شدید رگڑ کی متمنی تھی - مگر میں بے بس تھی . ارمان بہت محتاط لگ رہے تھے . اور میں اسے اپنے حق میں بہتر سمجھ رہی تھی . اسی طرح وہ تھوڑا آگے کرتے اور میں انکی ناف کے پاس ہاتھ رکھ کے ان کو رکنے کا اشارہ دیتی اور رک جاتے . ان کا لن ٥ ساڑھے ٥ انچ کا ہی تو تھا کتنی دیر لگنا تھی . آخر کار پورا لن اندر کرنے میں وہ کامیاب ہو گئے اور مجھے چومنے لگے - میں انہیں چومنے لگی انہوں نے لن کو ہلانا چاہا تو میں نے سرگوشی کی تھوڑی دیر رک جایئں . وہ مسکراتے ہوے مجھے چومنے لگے وہ کبھی میرے ہونٹ چوستے کبھی میرے مموں کو ہاتھ میں لے کر نیپلز چوستے . تھری دیر کے بعد میں نے محسوس کیا مجھے لن کی ہلچل کی شدید ضرورت ہے کیونکہ چوت کی کھجلی نے مجھے خوار کر رکھا تھا میں نے ارمان کے بٹس گانڈ کو تھوڑا سا اپنے ہاتھوں سے دبایا تو ارمان نے لن کو ہولے ہولے پیچھے کھینچا لن کی ٹوپی جب رہ گئی تو میں نے پھر ہاتھوں سے ارمان کی گانڈ کو اپنی طرف کینچھا تو ارمان وہیں رک گئے اور پھر لن آہستہ آہستہ آگے کرنے لگے پھر تھوڑا رک کر ارمان نے لن کو ریورس کیا اور چوت کے دھانے پر آ روکا . مجھے مزہ تو آ رہا تھا مگر اب مجھے اچھے گہرے اور زور کے دھکوں کی ضرورت تھی میں چاہتی تھی ارمان کا لن میری چوت کو چیرتا پھاڑتا رگڑتا ہوا تیزی سے آگے پیچھے ہو کر چوت کو کھجآئے کیونکہ میری اب بس ہونے والی تھی . میں نے ارمان کی کمر کے گرد اپنی ٹانگیں جکڑ لیں اور اسکے بالوں میں ہاتھ پھیر کر اسے دیکھتے ہوے مسکرا دی . یہ ارمان کو بتانے کی کوشش تھی کہ درد کا دور گزر گیا اب کچھ کر گزر . ارمان نے بڑی تیزی لن کو اندر کیا اور پیچھے ہٹا تو میں نے اسکی کمر پر اپنی ٹانگوں سے دباؤ ڈالا . تو اس نے بڑی تیزی سے اگے دھکا لگا دیا یہ پہلا دھکا تھا جس نے میرے مزے کو دوبالا کر دیا میں چاہتی تھی ایسے چند ایک دھکے اور لگیں تو مجھے منزل پر پہنچا دیں گے . میں ارمان کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی جب بھی وہ دھکا لگا کر پیچھے جاتا تو میری ٹانگیں اس پر اگے دھکا لگانے کے دباؤ ڈالتین . اب ارمان نے چدائی سیکھ لی تھی اس لئے اس کے دھکے اور جھٹکے مجھے مزہ دینے لگے - ان کی سانسوں کی بے ترتیبی سے معلوم ہونے لگا کہ اب وہ آنے والے ہیں میں بھی قریب ہی تھی ان کے آنے کا سوچ کر میں بھی فارغ ہو گئی میری لذت بھری آوازوں نے ارمان کو مست کر دیا جس کی وجہ سے ان کی سپیڈ کافی سے زیادہ تیز ہو گئی آخر انہوں نے چند ایک جاندار جھٹکوں کے ساتھ ہتھیار پھینک دئے اور ان کا گرم لاوا میرے اندر گرا اور گرتا ہی گیا اس گرما گرم چھڑکاؤ نے میرے اندر جیسے ٹھنڈ ڈال دی ہو پہلی بار یہ تجرنہ بھی ہوا - عاطف ہمیشہ کنڈوم لگاتے تھے اس لئے پہلی بار اس گرم مواد کا مزہ ہی انوکھا لگا . عاطف پہلے تو مجھے دیکھتے رہے پھر میرے پہلو میں آ گرے انکی سانسیں میرے مموں کو ٹچ کر رہی تھیں اور آنکھیں موندے میں سوچ رہی تھی کہ نہ جانے ارمان میری خیانت جان پاۓ ہیں کہ نہیں . ارمان کے ہاتھ تھوڑی در بعد میرے مموں پر رینگنے لگے میں آنکھیں کھولیں تو ان کو مسکراتے ہوئے اپنی طرف دیکھتے پایا "جان اپ ٹھیک تو ہو ناں انہوں نے مجھ سے بڑے ہمدرد لہجے میں پوچھا " تو مجھے ان پر بے ساختہ پیار آگیا . جی شکریہ " میں نے تشکر آمیز لہجے میں جواب دیا . وہ مجھے گلے سے بھینچ کر پیار کرنے لگے میرے لب گال آنکھیں ٹھوڑی گردن پر بوسوں کی بارش کرتے ہوے انہوں نے پوچھا جان خوش تو ہو ناں " . جی جانی بہت خوش بہت بہت خوش . " اپ اتنے مہربان رہے ؛ ٹن اف تھینکس فار یور کائنڈ نس " میں نے دل کی اتھاہ گہرایوں سے کہا تو بہت خوش ہوئے . مجھے کچھ کچھ تسلی ہونے لگی میں ان سے لپٹ کر اپنے پیار کا اظہار کرنے لگی وہ بھی میرا ساتھ دینے لگے . میرا خیال تھا دوسری بار تھوڑا کھل کر مزہ لونگی میں اٹھی اور ایک کپڑے سے جو بیڈ کی پائنتی پڑا ہوا تھا سے ارمان کا صاف کرنے لگی ان کا پہلی بار دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ گر عاطف کا نہ دیکھا ہوتا تو میرے لئے یہ بھی مونسٹر ہی هوتا . اچھا لگا ناٹ بیڈ ا ٹ آل . ان کا مواد چادر کو گلا کر چکا تھا میں نے اسی کپڑے سے اپنی چوت کو صاف کیا اور نائنٹی کو خود پر لے کر اسے اٹھاۓ باتھ روم گئی اور وہ کپڑا لونڈری کے کپڑوں میں ڈال دیا . پیشاب کر کے باھر نکلی تو الارم ہو رہا تھا ارمان نے اپنے پر چادر لی ہوئی تھی الارم ہوتے ہی وہ اٹھنے لگے تو ان کو اپنے برھنہ ہونے کا احساس ہوا وہ وہیں رک گئے رات کو انہوں نے اپنا پاجامہ نیچے ہی گرا دیا تھا مجھے دیکھ کر انہوں نے پاجامے کی جانب دیکھا تو میں سمجھ گئی اور پاجامہ اٹھا کر ان کو دیا . انہوں نے پاجامہ پکڑتے ہوئے میرا ہاتھ بھی پکڑ لیا اور کھینچ کر اپنے اپ پر گرا دیا میں ان کی گود میں جا پڑی وہ بیٹھ چکے تھے مجھے دیکھ کر انہوں نے میری پیشانی چوم کر کہا یو آر سو سویٹ اور میرا ہونٹ اپنے لبوں میں لے کر چوسنے لگے . میں نے بھی بھرپور ساتھ دیا دھیرے سے اپنی زبان میرے منہ میں ڈال کے میری زبان کو ڈھونڈنے لگے میں انکی زبان کو چوسنے لگی اچانک انہوں نے جھرجھری سی لی اور زبان میرے منہ سے نکال لی مجھے بوسہ دیتے ہوئے بولے اس سے پہلے کہ ہم بہک جایئں . الارم ہو چکا نماز کا ٹائم ہونے والا ہے میں فجر مسجد میں ادا کرتا ہوں یہ کہہ کر مجھے حیران چھوڑ کر وہ باتھ روم میں جا گُھسے - میں 100% تو مطمین نہ تھی پھر بھی مجھے یقین تھا کہ ارمان نے یا تو پردہ بکارت کو اگنور کیا ہے یا وہ سمجھ نہیں سکے یا ممکن ہے ان کو اس کی کوئی پرواہ ہی نہ ہو . بہر حال مجھے کچھ تسلی ہوئی تھی میں قدرت کی شکر گزار ہوئی جس نے پردہ پوشی کی اور میری لاج رکھ لی سوچا کہ ارمان کے مسجد جانے کے بعد میں بھی غسل کر کے سجدہ شکر بجا لاؤنگی . ارمان غسل کر کے نکلے اپنے کپڑوں کی الماری سے کپڑے نکال کے بدل کر مجھے دوسری الماری کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ اس میں آپ کے ڈریس ہونگے اور مجھے لپٹا لیا میں تو اب بہت خوش تھی .. بہت بڑا درد سر جو ختم ہوا تھا . ار ماں بولے آج ولیمہ ہے سارا دن مہمانوں اور دوستوں یاروں میں گزرے گا ار ماں بولے آج ولیمہ ہے سارا دن مہمانوں اور دوستوں یاروں میں گزرے گا دن میں بھی ملاقات تو ہوگی مگر رات کو ہم اکیلے مل سکیں گے - ارمان مسجد سے واپس آئے ان کو اسی روم میں بلا لیا گیا کیونکہ آج کا ناشتہ ہم دونوں کے لئے امی جان نے بنایا تھا . ناشتہ پر ارمان بڑے خوش گوار موڈ میں تھے خوشی ان کی باتوں سے باڈی لینگویج سے عیاں تھی - انکی باتیں کرنے کا انداز اور طبیعت بہت اچھی لگی انکی مسکراہٹ بڑی ظالم اور دل موہ لینے والی تھی .. ولیمہ کے دوران سارے خاندان کی پارٹی میں انکی ملنساری اور دوسروں کی آؤ بھگت کا انداز دل کو بہت بھایا - ولیمہ پارٹی کے درمیان ایک آدمی کا تعارف شیر خان سومرو کہ کر کروایا گیا - ارمان نے مجھے بتایا کہ ان کو اپ میرا گارڈین انکل یا رہبر سمجھیں ان کے ہوتے ہوئے ہمیں کسی قسم کی کبھی فکر لاحق نہیں ہوئی - وہ چالیس کے پیٹے میں ایک مضبوط کسرتی جسم کا مالک گندمی رنگت کے ساتھ ساتھ بڑی بڑی مونچھوں کے سندھ کا نمایندہ نظر اتا تھا - اس کے چہرے پر اس کی مونچھیں اور سرخ آنکھیں قابل ذکر تھیں اس نے ایک بزرگ کی طرح میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور ارمان سے اجازت لے کر چلا گیا . بعد میں ٢ ماہ میں نوٹ کیا کہ شیر خان ہمارے گھر میں اچھی پوزیشن رکھتا ہے ایک طرح سے زمیندارہ کا انچارج وہی تھا , ڈیرہ داری اسی کے ذمہ ہے . سردارنی اور ارمان کے بعد اسی کی چلتی ہے اسی لئے علاقے میں بھی اس کی مانی جاتی ہے اور اسکی واہ واہ ہے . ولیمہ ہو گیا . دوسرے دن میرے ابو اور امی نے ارمان اور سردارنی صاحبہ سے پوچھا کہ نوشین کو ہم کب لینے آئیں تو ارمان ایک لسٹ اٹھا کر لے آے اور ابو کو تھماتے ہوئے بولے " ابو جان مجھے یورپ جانا تھا کچھ دنوں تک مگر میں نہیں جا پاؤں گا . آپ یہ شیڈول دیکھ لیں یہ ایسی دعوتیں ہیں جو بہت ضروری ہیں . ان کو ہم انکار نہیں کر سکے اور یہ کوئی ٣٥ کے قریب ہیں ان کو بھگتاتے ٢ ماہ تو لگ جایئں گے . کیونکہ آخری دعوت پچاسویں دن بنتی ہے - ان دعوتوں میں نوشین کا موجود ہونا لازم ہے یہ ہمارا کلچر ہے مجبوری ہے . سردارنی نے کہا کہ ارمان کی پیدایش کے بعد یہ ہمارے گھر کی پہلی خوشی ہے . جن لوگوں نے ہماری دعوتیں کھائی ہوئی ہیں وہ اب کھلانا چاہتے ہیں . ان کو انکار کرنا نا ممکن تھا , جن کو ہم انکار کر سکتے تھے ان سے معذرت کر چکے ہیں - اس کے بعد ارمان کا پروگرام یہی ہے کہ نوشین کے ساتھ آپ کے ہاں آے اور وہاں سے یورپ چلا جاۓ نوشین ایک ٢ ماہ رہ کر واپس آ جاۓ . امی ابو نے کہا کوئی بات نہیں نوشین کا یہاں رہنا ضروری بنتا ہے - امی ابو دوسری صبح واپس چلے گئے میرے لئے سب کچھ نیا تھا مگر ارمان کا ساتھ اور ساس کی دلجوئی نے میرے لیے کچھ آسان کر دیا . نئی تہذیب رسم و رواج ملنے ملانے والے یہ سب کچھ ہی تو نیا تھا . پہلی رات جن ٢ لڑکیوں نے کمپنی دی تھی وہ گھر کے کام کاج نبٹاتی ہیں ان سے بھی وہاں کے لوگوں کو سمجھنے میں کافی مدد ملی - میری ساس سردارنی کی غیر حاضری میں انکو سردارنی کہا جاتا مگر ان کے سامنے بیگم صاحبہ کہتے تھے سب . بیگم صاحبہ دکھنے میں سردارنی بہت رعب داب والی نظر آتیں مگر انکی طبیعت بڑی نرم ملنسار اور ہمدرد ٹائیپ تھی - غریب پرور ہر ایک کی مدد کرنے کو تیار رہتیں - اسی لئے گھر میں ہر وقت کوئی نہ کوئی سوالی آیا هوتا - ارمان بھی د کھنے میں بڑے رعب داب والی پرسنالٹی ہیں دل کے بہت صاف , نرم اور سادہ مزاج ہیں - ٢ ماہ میں ایک بار بھی غصہ میں انہیں نہیں . دیکھا سیکس میں اتنی دلچسپی نہیں رکھتے نہ ہی اپنے آپ کو ماچو سمجھتے ہیں - شادی کرنے کے بعد جس طرح نئے جوڑے دن رات لگے رہتے ہیں وہ اس طرح کے نہیں ہیں . ہم لوگ ہر رات ہی سیکس کرتے تھے مگر وہ ہر رات پہلے میری رضا جانتے اور 5- ٧ بار ہم نے 2-٢ بار ایک رات میں کیا اس کے علاوہ صرف ایک بار تک ہی رہتے - دن میں میری ترغیب پر ٣ بار ٢ ماہ میں کیا - ہنی مون کے لئے ٹائم ہی نہیں مل سکا ایک رات ہم نے اپنی ہی زمینوں میں کمپنگ کی تھی - ایک بار سیکس کر کے بھی مجھے پورا مزہ ملتا ارگسم بھی کافی بار ہوا . میں محظوظ ہوتی رہی انکی کمپنی کا لطف ہی الگ تھا میں خوش رہی مگر کسی کمی کا احساس رہتا جیسے کوئی تشنگی پیاس سی ہو یا یہ میرا اپنا احساس جرم مجے ستاتا ہے مجھے کچھ سمجھ نہیں . خیر ٢ ماہ کے قیام بہت مصروفیت میں جلد ہی گزر گیا ارمان کو یورپ جانا تھا انہوں نے مجھے کہا کہ ہم وڈیرے اپنی پہلی اور من باپ کی من پسند بیوی کو اپنے ساتھ پھرانے نہیں لے جاتے اور آؤ میری پہلی بیوی ہو اس لئے میں چاہتے ہوے بھی آپکو ساتھ نہیں لے جاسکتا اس لئے دل میں کوئی خیال نہ رکھیں یہ بھی ہماری تہذیب کا ہی حصہ ہے . ہمارے ہاں پہلی بیوی کی پورا خاندان عزت بھی کرتا ہے اور ووہی اصل مالکن ہوتی ہے امی کے بعد اب آپ ہی اس گھر بار زمین جایئداد کی ملک ہو - میں انکی بات سمجھ گئی تھی اس لئے آمنا و صدقنا کہا - مری ساس نے مجھے کہا جتنا چاہو اپنے میکے رہ لینا یا جب ارمان آئیں تب آجانا ویسے جب بھی دل کرے یہ آپ کا اپنا گھر ہے گھر آجانا - ارمان مجھے میرے میکے چھوڑ گئے وہ ٢ دن اور ایک رات وہاں رہے - میرے والدین کے سامنے مجھے انہوں نے کہا نوشین میری امی ساری عمر تنہا رہیں ہیں , اب آپ ہی ان کو کمپنی بھی دے سکتی ہیں ان کی ہیلپ بھی کر سکتی ہو . اس لئے میں چاہتا ہوں آپ ایک ماہ سے زیادہ نہ رہیں اور واپس گھر چلی جایئں . مجھے واپسی میں ٦ ماہ بھی لگ سکتے ہیں اس سے پہلے بھی آسکتا ہوں اس لئے امی کو آپکی ضرورت رہے گی - میں نے اور میرے والدین نے ارمان سے کہا آپ فکر نہ کریں آج سے ایک ماہ بعد میں وہاں ہونگی ................... اور آج ماہ پورا ہونے میں ٢ دن رہ گئے ہیں , مجھے کل جانا ہے - ابو کے ساتھ ٹرین پر جا رہی ہوں گھر پہنچتے پہنچتے ٢٤ گھنٹے تو لگیں گے ہی . جرنی بذریعہ ٹرین میرا ایک اور خواب پورا ہونے جا رہا ہے " نوشین ؛ نوشین ؛ نوشی , کدھر ہو , امی مجھے بلا رہی تھیں ؛ مگر ان کی بات سننے کے لئے ان کے پاس جانے سے معذور تھی . کیونکہ میں غسل خانے میں ہیئر ریموور ( بال صفا کریم ) لگا کر بیٹھی تھی . ابھی ہی تو ان کو بتا کر آئ تھی کے میں غسل کے لئے باتھ روم جا رہی ہوں . شاید وہ بھول گئی ہوں . میں اپنی ہر طرح سے صفائی اور غسل کرنے کے بعد امی کی جانب جانے لگی تو میری طرف ہی آ رہی تھیں . کیوں امی کیا بات ہے ؟ اپ مجھے بلا رہی تھیں میں نے اپنے بھیگے بالوں کو تولئے سے خشک کرتے ہوئے پوچھا . نوشین ؛ تمھارے ابو کا فون آیا تھا . بات کرنا چاہ رہےتھے ۔۔۔۔۔۔ #شہوت_انگیز_کہانیاں #میری_ساس_میری_سہیلی #قسط_04 جب میں نے بتایا کہ تم غسل خانے میں ہو تو انہوں نے بتایا کہ گاؤں میں کوئی فوتیدگی ہو گئی ہے اس لئے وہ کراچی نہ جا پائیں گے ؛ ان کو گاؤں جانا ہوگا میں بڑی خوش ہوئی کہ اب میں اکیلے سفر کر سکوں گی مگر امی نے یہ کہہ کر میری ساری خوشی غارت کر دی کہ انہوں نے تمہارے لئے پیغام چھوڑا ہے کہ یا تو پلین سے چلی جاؤ اگر ٹرین سے ہی جانا ہے تو پھر بابا دینو تمھیں چھوڑ ائیگا , میں بہت سٹپٹائی اور میں نے امی سے شدید احتجاج کیا کہ یہ بلکل نا انصافی ہے ؛ میں نے لاکھ پاؤں پٹخے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا - مگر ابا جان کے حکم کے سامنے میرا احتجاج بے سود تھا , مجھے چار و ناچار ان کی ہدایت کے مطابق ہی جانا تھا یا پلین پر جاتی یا اگر ٹرین پر جانا ہے تو پھر اپنے خاندانی ملازم بابا دینو کو ہمراہ لے جانا ہوگا - میں نے بھی اپنی ضد نباہی اور ٹرین پر جانے کا ہی فیصلہ کیا . اور بابا دینو کا ساتھ میں جانا برداشت کر لیا . دینو با با ہمارا آبائی تعلق علاقہ پوٹھوہار میں چکوال کے مضافات سے ہے - یہاں کی اکثریت آرمی میں سروس کرتی ہے . ہمارے آباؤ اجداد بھی آرمی سے منسلک رہے مرے والد آرمی افیسر ہی ریٹائر ہوئے تھے اسی طرح ان کے والد اور دادا بھی آرمی میں اچھی پوسٹس سے ریٹریڈ ہوئے اور انہیں ان کی خدمات کے پیش نظر جنوبی پنجاب میں کچھ اراضی زمینیں ملیں ہونگی . آج کل تو پلاٹ بھی ملتے ہیں ابا جانی کو جو ٢ پلاٹ ملے انہوں نے ایک بیچ کر دوسرے پر اسلام ابا د میں رہایش کے لئے ٹھکانہ تعمیر کر لیا جس میں آج کل ہماری رہایش ہے . چونکہ ہماری رہایش آبائی علاقے چکوال میں تھی . اس لئے جنوبی پنجاب میں اراضی ملی اس کی دیکھ بھال کے لئے وہاں کے ایک لوکل شریف با اعتماد خاندان کی خدمات لی گئیں جو کہ سہو کہلاتا ہے دینو بابا کے باپ دادا نے یہ ذمہ داری لی تھی اور ابھی تک وہی فیملی یعنی سہو فیملی ہمارے ہمارے لئے کام کر رہی ہے . دینو بابا بھی اسی فیملی سے ہے . ابا جانی سال میں ایک ٢ بار وہان جاتے رہتے ہیں - پانچ سال قبل جب ہماری رہایش اسلام آباد میں ہوئی تو گھر کے کام کاج کے لئے ایسے آدمی کی ضرورت محسوس کی گئی جو پکی عمر کا اور شریف النفس آدمی ہو ابا جانی گئے اور دینو کو لے آئے جس کی بیوی فوت ہو چکی تھی وہ ٦٠ سال سے اوپر ہے - محنت مزدوری بھی نہیں کر سکتا تھا - اس لئے ابو جانی نے دینو کا انتخاب کیا اپنے گیراج کے بازو میں اس کے لئے ایک کمرہ ود اٹیچڈ باتھ کے بنایا گیا کھانا وغیرہ اس ہمارے ساتھ ہی تھا . یہاں اکے وہ بہت خوش رہا کیونکہ وہاں اس کی بھابھیاں اس کا خیال نہ رکھتی تھیں - میں دنوں ہوسٹل میں رہ رہی تھی اس لئے میں ذاتی طور پر اسے بلکل نہیں جانتی ہماری اپس میں کوئی بات نہیں ہوئی ہوگی . اور آج اس کے ساتھ جانا ہے . ٹرین کا سفر میں نے نہ چاہتے ہوے بھی دینو بابا کے ساتھ جانے کا والدین کا فیصلہ مانتے ہوے اس کے لئے ا یک بیگ میں اس کے استمعال کے لیے کپڑے وغیرہ رکھواۓ اور سب کچھ تیار ہونے کا امی کو بتا دیا اب گھر سے نکلنے میں ٢ گھنٹہ رہ گئے تھے اور ابو کا انتظار تھا تاکہ ریلوے سٹیشن کی طرف نکلیں شام ٥ بجے ایکسپریس ٹرین کا وقت تھا . تھوڑی دیر بعد ابو آ گئے . دینو بابا نے سامان گاڑی میں رکھا . ابو نے ساتھ نہ جا سکنے کی مجبوری بتائی اور دینو بابا کو میرا خیال رکھنے کی ہدایت کی . اور امی ابو بھی ریلوے سٹیشن تک مجھے چھوڑنے آئے - راولپنڈی سٹیشن پر ٹرین کھڑی تھی دینو بابا نے قلیوں کی مد د سے سامان کمپارٹمنٹ میں رکھا . ہم سب کچھ دیر پلیٹ فارم پر ویٹنگ روم میں بیٹھے گپ شپ لگاتے رہے . امی ابو میں ہم سب ہی اداس تھے مگر اس کا اظہار نہ ہونے دے رہے تھے - امی تو بمشکل اپنے آنسو روکے ہوئے تھیں - ٹرین کی روانگی سے پندرہ منٹس پہلے ہم کمپارٹمنٹ میں آ گئے , ٢ برتھ سلیپر بڑا آرامدہ لگا , امی نے باتھ روم استمعال کرنے کے بعد بتایا کہ بہت صاف ستھرا اور اچھا بڑا ہے . اور لمبے سفر کے لئے انتہائی مناسب ہے . ١٠ منٹس کے بعد ٹرین نے تیاری پکڑی تو امی ابو مجھے مل کر روتے ہوئے ٹرین سے اتر گئے اور ٹرین رینگنے لگی میں کھڑکی میں بیٹھ گئی اور امی ابو دور تک ٹرین کے ساتھ ساتھ چلتے رہے . ٹرین نے سپیڈ پکڑی اور میں دور تک دھندلائی نظروں سے انکے ہلتے ہاتھ دیکھتی رہی ٹرین پلیٹ فارم چھوڑتے ہی تیز گام بن گئی - کافی دیر تک یونہی میں باہر خلاؤں میں گھورتی رہی اندھیرا پھیل چکا تھا - ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نے مجھے اپنے گالوں پر نمی کا احساس دلایا تو آنکھوں سے آنسو اک بار بہہ نکلے . میں نے کمپارٹمنٹ میں نظر دوڑائی تو دینو بابا کو دیکھ کر چونکی , میں تو بھول ہی گئی تھی کہ کمپارٹمنٹ میں کوئی اور بھی ہے - دینو بابا سامنے والی برتھ کی بجاۓ دور ایک بکسے پر بیٹھا ہوا تھا . . میں نے کہا " بابا دینو ادھر برتھ پر آ کر بیٹھ جاؤ " مگر اس نے جواب دیا " نہیں جی میں یہیں ٹھیک ہوں " بی بی جی .؛ میں نے بھی اصرار نہیں کیا اور اک میگزین لے کر اسے دیکھنے لگی . اپنے ساتھ مطالعے کے لئے کافی میگزینز لے آئ تھی تاکہ راستے میں بور نہ ہوتی رہوں ٹرین سے انے کا مقصد تو خود کو ٹائم دینا اور تنہا رہنا تھا مگر ابو نے اپنا ساتھ پروگرام بنا ڈالا پھر بابا دینو کو ساتھ بھیج کر میرے پروگرام کو یکسر بدل دیا . میں تقریبن ایک گھنٹہ کے بعد اٹھی اور باتھ روم میں داخل ہو گئی تاکہ کچھ فریش ہو جاؤں . دینو بابا باتھروم کے سامنے ہی بیٹھے تھے - میں نے اسے کہا " بابا چاہے لینی ہے تو لے لو " اور میں باتھ روم میں داخل ہوگئی . دروازے کے سامنے ہی ایک ہاتھ منہ دھونے کے لئے سنک اور اس کے اوپر بڑا سا آئینہ لگا ہوا تھا اور ساتھ ہی ٹایلیٹ اور اسکے ساتھ ہی ایک باتھ روم تھا سب کچھ صاف ستھرا دیکھ کر مجھے بہت اچھا فیل ہوا . میں باھر نکل کے روزمرہ شام کا لباس ( جو کہ پاجامہ اور ٹی شرٹ پر مشتمل تھا ) لے کر باتھروم میں آگئی اور فریش اپ ہو کر پنٹ اور شرٹ اتار کے برہ اور پینٹی رہنے دی اور اوپر پاجامہ اور ٹی شرٹ پہن لی کپڑے چینج کر کے میں باہر نکلی اور بیگ سے کومب کنگھا لے کر آئینہ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی زلفیں سنوارنے لگی آئینہ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی زلفیں سنوارنے لگی - زلفیں سنوارتے سنوارتے یونہی آئینہ میں دیکھنے لگی کہ اچانک میرا دھیان آئینہ میں اپنے پیچھے کی طرف گیا جہاں بابا دینو ایک باکس کو کرسی بنا کر بیٹھ ہوا تھا . مجھے کچھ حیرت سی ہوئی کہ بابا میری ہی طرف دیکھ رہا تھا اور اسکی نظروں کا نشانہ میری پیٹھ اور گانڈ کی گولائیآں تھیں . میں نے سوچا دروازہ بند کر دوں مگر اس کی اشتیاق بھری نظروں کو دیکھ کر سوچا کچھ دیر دیکھوں تو سہی حضرت کس سوچ میں ہیں . . میں آئینے میں چوری انکھیوں اسے دیکھ رہی تھی مگر وہ نظارے میں گم تھا اسی لئے اس کو احساس ہی نہ ہوا کہ میں اس کی چوری پکڑ چکی ہوں میں اس کی طرف پیٹھ کر کے کھڑی تھی مگر آئینہ میں اسے ہی جانچ رہی تھی . وہ اپنی دھن میں مگن میرے کولہوں کے نشیب و فراز میں پلک جھپکے بنا گم تھا - چائے کا کپ اس کے ہاتھ میں تھا مگر وہ سپ لینا بھی بھول چکا تھا کبھی ایسا سوچا بھی نہ تھا بابا دینو ایسی حرکت کر سکتا ہے مگر اب میں خود دیکھ رہی تھی کہ بابا کس حرکت کا مرتکب ہو رہا ہے . خیر میں اسے الزام نہ دونگی کیونکہ مجھے علم ہے کہ میرے بٹس جان لیوا ہیں کالج یونیورسٹی میں بہت کچھ ان کے بارے سنا تھا اور کمپلمنٹس وصول کئے ہر لڑکا میرے کولہوں کا شیدائی تھا . عاطف تو خیر دیوانہ تھا ان کا مگر دینو سے ایسی کوئی امید نہ تھی - میرے والدین نے اس پر اعتماد کر کے میرے ہمراہ کیا تھا . میں آئینے میں ہی بابا دینو کا جائزہ لینے لگی سچ تو یہ ہے آج تک میں نے کبھی دھیان ہی نہ دیا تھا کیونکہ ان سے کوئی واسطہ تھا نہ کوئی غرض . میں وہیں آئینہ کے سامنے کھڑے بابا کو غور سے دیکھنے لگی - ٦٠ -٦٥ کے لپیٹے میں گندمی رنگت مضبوط شانے اور کشادہ پیشانی کسرتی تقریبا ٦ فٹ قد سفید مونچھوں اور ٹریمڈ داڑھی لمبا ناک اور قدرے موٹے ہونٹ کے ساتھ اک نئی شخصیت میرے سامنے تھی اپنے عاجزانہ اور مؤدبانہ رویہ کی بدولت اس نے میرے والد کا اعتماد حاصل کیا ہوگا - میں سوچوں میں ڈوب گئی - سیانے کہتے ہیں اک کمرے میں عورت مرد اکیلے ہوں تو شیطانی گمانوں اور نفسانی تراغیب سے اپنے اپ کو مشکل سے بچا پاتے ہیں - اب کافی دیر ہو گئی تھی ٹرین کسی جنکشن پر رکی تو میں نے بابا دینو کو بولا کہ نیچے جا کر کھانا گرم کرا لاے . امی نے بہت کچھ بنا کر ساتھ دے دیا تھا کہیں پلیٹ فارم سے جنک فوڈ ہی نہ کھاتی رہوں . کھانے کے بعد ہم نے چائے لی - چا ہے پی کر میں ٹیبل پر کپ رکھا تو دینو نے اپنا اور میرے والا کپ اٹھایا اور باتھروم میں لے جا کر انکو صاف کر کے واپس بیگ میں رکھا تو میں نے دینو کو بولا کہ " بابا پانی بہت اچھا نیم گرم ہے آپ نہا لو اور سو جاؤ " تو وہ بولے کہ " بی بی جی میں گھر سے نہا کر ہی چلا تھا " تو میں بولی اچھا میں تو نہانے لگی ہوں تاکہ نیند اچھی آئے . اور باتھ روم میں چلی گئی , ویسے تو کھانے کے بعد میں شاور نہیں لیتی مگر آج یونہی موڈ بن گیا تھا اک نامعلوم سی الجھن سی تھی جسے میں سلجھا نہیں پا رہی تھی - یوں شاور کے نیچے کھڑی میں ٹائم پاس کرنے لگی - مجھے کوئی بھی الجھن پریشانی ہوتی ہے تو میں شاور لینے لگتی ہوں تو کوئی نا کوئی حل نکل آتا , مگر آج بیچینی کا سبب ہی سمجھ نہیں آ رہا تھا تو حل کیا نکلتا - میں نے خیال کیا کہ کہیں دینو ہی میری پریشانی کا سبب تو نہیں - آج شام کے بعد بابا دینو کو اپنی جانب دیکھنا ہی غضب ڈھا گیا تھا شاید . عورت توجہ کی بھوکھی ہوتی ہے ایک ٢ کمپلیمنٹس عورت کے دل میں گھر کر جاتے ہیں , عورت چاہے جانے کی محتاج ہوتی ہے اور اگر کوئی توجہ دینے والا نہ ہو تو عورت دلبرداشتہ ہو جاتی ہے اور دنیا اور زندگی میں اسکی دلچسپی براۓ نام رہ جاتی ہے . جیسے ارمان کے ساتھ ٢ ماہ رہنے کے دوران ہر دوسرے تیسرے دن جسم کے غیر ضروری بال میں ضرور صاف کرتی رہی کیونکہ کسی کی توجہ درکار تھی . مگر ارمان کے دور جانے کے بعد ایک مہینہ کے بعد مجھے انہیں صاف کرنے کا خیال آیا اور آج ہی لنچ سے پہلے میں انکو ریموو کر سکی . بابا دینو کا اپنی طرف غور سے اور بڑی دلچسپی سے دیکھنا اور اسکی ستائشی نگاہوں نے میرے اندر کی عورت کو نادانستگی میں جگا دیا تھا اور اب میری تمنا تھی کہ وہ مجھے توجہ دیے رکھے . اب شاور کی بدولت الجھن کا سبب تو جان چکی تھی اب آگے کیا کرنا ہے کہ دینو مجھ میں دلچسپی لیتا رہے یہ سوچنے کی بات تھی - میں کوئی غلط حرکت کی مرتکب نہیں ہونا چاہتی تھی کہ ارمان کے جذبات کو ٹھیس لگے , میرے دل میں اسکا احترام تھا اور رہے گا . - عاطف سے مجھے محبت تھی اس کے ساتھ گزرا وقت مجھے اکثر بچیں کر دیتا ہے مگر ارمان کے ساتھ گزرے وقت کو میں کبھی مس نہ کر سکی . پہلے پہلے مجھے لگا کہ ارمان سے محبت کرنے لگی ہوں مگر وہ محبت نہیں احترام ہے جو کہ میرے دل میں اس کے لئے ہے اور یہ تو ہمیشہ رہے گا . انہی سوچوں نے مجھے اک دوراہے پر لا کھڑا کیا دل چاہتا کہ کچھ دل لگی ہو جاۓ اور کچھ نہیں تو تھوڑا بہت فن ہی سہی مگر میرا ضمیر اس قسم کے فن کے لئے اجازت دینے پر بلکل تیار نہ تھا . ہزاروں اخلاقی دلائل اس نے دے ڈالے اس سے پہلے کہ میں اس کی مان لیتی مرے دل نے اپنے دلائل کے ساتھ میرے خیلوں پر حملہ کر دیا - دل کی مان لیںنے کا سوچنے لگی کہ ضمیر صاحب پھر آ وارد ہوئے میں کنفیوز سی ہو گئی کہ کیا کروں کیا نہ کروں - میں نے شاور بند کیا اور سوچنا بند کر دیا میں نے پینٹی برا کو رہنے دیا اور بھیگے بدن پر پاجامہ اور ٹی شرٹ پہنی اور باتھروم کا دروازہ کھول کے آئینہ کے سامنے کھڑے تولئے سے بال خشک کرنے لگی آئینہ میں دینو بابا نظر آ رہا تھا اور اسکی نظریں پھر میرے بٹس پر ٹکی تھیں اب کے اک تو پینٹی نہیں تھی دوسرا پاجامہ ہلکا ہلکا گیلا اور جسم کے ساتھ چمٹا ہوا تھا اس لئے اسکی آنکھیں کچھ زیادہ ہی پھیلی ہوئی تھیں میں دل ہی دل میں محظوظ ہونے لگی اور اسوچنے لگی اس عمر میں یہ دیکھ کے خوش ہو لیتے ہونگے کیونکہ کچھ کر سکنا تو ان کے بس کا روگ نہیں . مگر سنا ہے کہ مرد اور گھوڑا کبھی بوڑھا نہیں ہوتے۔۔۔۔۔۔۔
  15. #میری_ساس_میری_سہیلی #قسط_02 وہ دونوں لڑکیاں میرا دل بہلانے کے لئے جوک سناتی ؛ سہاگ رات کے بارے لطیفے سنا رہی تھیں اور خود ہی ہنس رہی تھیں . مگر صرف پھیکی مسکراہٹ ہی دے پاتی - رات کے ١١ بجے دروازہ نوک کیا گیا تو لڑکیاں دروازہ کھول کے باہر نکل گئیں . پھر تھوڑی دیر بعد ایک لڑکی دودھ کا جگ گلاس مٹھائی کا ڈبہ میز پر رکھ کر چلی گئیں . میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں میں سوچنے لگی اس سے پہلے کہ مجھ سے پوچھا جاۓ یہ کیا ہے کاش اس سے پہلے مجھے موت آ جاۓ . میرا دل فیل ہو جاۓ - میں رو ئی تو نہیں میرا دل آنسو بہا رہا تھا - ہر لڑکی کو اس وقت کے لئے اپنے آپ کو بچا کے رکھنا چاہیے مگر جذبات کے ہاتھوں مجبور جھوٹھی تعریفوں کے آگے ہم لڑکیان بے بس ہو جاتی ہیں - سہاگ رات تو دل میں لڈو پھوٹتے ہیں نئی نئی امنگیں جسم میں جاگتی ہیں - مگر یہ ان دلہنوں کے لئے ہوتا ہے جنہوں نے اپنے ارمان پورے کرنے کے لئے اس وقت کا انتظار کیا ہوتا ہے اور اپنے ہونے والوں کی امانت کی حفاظت کی ہوتی ہے - کاش میں بھی ان میں شامل ہوتی تو آج میں اپنے خاوند سردار ارمان کو بڑے فخر سے شادی کا گفٹ دیتی . ان ہی سوچوں میں تھی سردار ارمان نے سلام کہا اور میرے ساتھ مسہری پر بیٹھ گئے . میں نے جب لڑکیاں گئی تھیں گھونگھٹ اتار دیا تھا . ویسے بھی کل رات سردار ارمان مجھے دیکھ چکے تھے اور باتیں بھی کر چکے تھے . میں تھوڑا سکڑ گئی تو انہوں نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا اور میری ٹھوڑی اٹھا کر حال احوال پوچھنے لگے ان کی مسکراہٹ بہت خوبصرت تھی , میں نے آنکھیں جھکا لیں . وہ بولے . ارے نوشین ملک صاحبہ سب ہی بول رہے تھے دلہن بہت خوبصورت ہے مگر آپ تو ........ اتنا کہہ کر وہ رک سے گئے اور پھر کہنے لگے آپ خوبصورت نہیں چشم بد دور بہت خوبصورت ہو اس کے ساتھ ہی میرے ہاتھ کی پشت پر انہوں نے بوسہ دیا جس کی حرارت مجھے سارے جسم میں محسوس ہوئی . میری پیشانی کو بوسہ دینے کے لئے وہ میرے قریب کھسک آئے اور میرے رخسار چومنے لگے . تمہاری آنکھیں بہت پیاری ہیں یہ کہہ کر میری دونوں آنکھوں پر انہوں نے بوسہ دیا اور انگھوٹے سے میرے نچلے ہونٹ کو کھجانے لگے پھر " بولے آپ اتنی حسین ہونگی کبھی سوچا نہ تھا " کہتے ہوئے انہوں نے اپنے دہکتے لب میرے ہونٹوں پر رکھ دئے ان کی گرم سانسیں میرے چہرے کو چھو رہی تھیں انہوں نے میرے ہونٹوں کو چومنا جاری رکھا اور میرے شانوں پر ہاتھ پھیرنے لگے . میں اپنی ہی سوچ میں تھی ڈر رہی تھی کہ آگے دیکھیں کیا ہوگا . سردار صاحب بہت رومانٹک لگتے تھے آج تو خیر انکی رات تھی ان کا حق بنتا تھا - کاش میں انکا ساتھ دے سکتی مگر میری کم مائیگی اور میرے دل کا چور مجھے آگے بڑھنے سے روک رہا تھا . میرے کانوں کے جھمکوں سے کھیلتے ہوئے انہوں نے میرا دوپٹہ میرے شانوں پر ڈال دیا اور میرے پراندے کو میرے اک ابھار پر ڈال دیا ؛ اور میری گردن کی پشت پکڑ کے میری گردن چومنے لگے مجھے اچھا تو بہت لگ رہا تھا مگر میرے اندر کا چور بے چین کر رہا تھا - میری ٹھوڑی اٹھا کر بولے " میری جان چپ کیوں ہو کوئی بات تو کرو" , میں نے ان کی طرف دیکھا تو انکی آنکھوں میں طلب کا سندیسہ پایا . میں نے شرما کر نظریں جھکا لیں اور ان کا ہاتھ ہاتھ میں لے کر بولی . آپ باتیں کر جو رہے ہیں : میں باتیں کر رہا ہوں , کب کونسی باتیں! جان وہ حیر انگی سے بولے" . تو میں بولی . یہ جو کچھ بھی آپ کر رہے ہیں باتیں ہی تو ہیں " ا وہ تو کیا خیال ہے یونہی بولتا رہوں آپ روکیں گی تو نہیں ". نہیں جی آپ کو میں روکون یہ کیونکر ممکن ہے - بس آپ یونہی باتیں کرتے رہیں " اب وہ مسہری پر پوری طرح بیٹھ گئے اور میرے ہاتھ کو ہاتھ میں لے کر بولے "میری طرف دیکھیں ؛ نوشی جی" میں نے نظریں اٹھا کر انہیں دیکھا تو سٹپٹا کر رہ گئی اف انکی نظروں کی تپش مجھے ریڑھ کی ہڈی تک محسوس ہوئی میں نے نظر وں کو جھکا لیا تو انہوں نے میری ٹھوڑی کو پکڑ کر اوپر اٹھایا اور میرے ہونٹوں کو چوم کر بولے . نوشی جان میری آنکھوں میں دیکھو . انکی آنکھیں مجھ سے کچھ چاہا رہی تھیں ان کی طلب اتنی شدید تھی کہ میں شرما گئی اور اپنے آپ کو انکے بازوؤں میں گرا دیا وہ مجھے اپنے سینہ کے ساتھ لگا کر بھینچنے لگے مجھ پر جھک کر مجھے چومتے چومتے انہوں نے میرا دوپٹہ کھینچ کے الگ کر دیا اور گردن پر اپنے ہونٹ رکھ دئے اُف ان کے گرم ہونٹ مجھے خوار کرنے پر تلے ہوے تھے . وہ آہستہ آہستہ مجھے زیورات سے آزاد کرنے لگے جو زیور اتارتے اس جگہ کو چومتے پھر دوسرا اتارتے میں یونہی ان سے چمٹی ہوئی لطف اندوز ہوتی رہی انکا پیار کرنے کا انداز اچھا لگا - آہستہ آہستہ انہوں نے سب زیور اتار کر ایک طرف رکھا اور مجھے بولے فریش ہو کرآتا ہوں یہ کہہ کر وہ اٹھے اور اٹیچد باتھروم میں چلے گۓ . میں نے بھی باتھروم میں جانا تھا اس لئے دوپٹہ لے کر بیٹھ گئی وہ واپس آئے تو پاجامہ اور بنیان میں تھے مجھے دیکھ کر وہ سمجھ گئے میں فریش ہونے کے لئے بیٹھی ہوں تو باتھ روم کی طرف اشارہ کر کے بولے آل فار یو مائی سویٹ لیڈی اور میں تھینک یو کہہ کر باتھروم میں داخل ہوگئی . نوشی بانو اب بھگتو ؛ وقت آ پہنچا ہے جب سائیں حساب لیں گے . تو کیا جواب دوگی میں اندر ہی اندر خود سے سوال جواب میں لگی ہوئی تھی . میرے پاس مسئلے کا کوئی حل نہ تھا . جو چیز میں گنوا چکی تھی اسے کہاں سے لے کے آتی - میں نے دل ہی دل میں فیصلہ کیا کہ میری کوشش ہوگی نارمل رہوں کوئی اوور اکٹنگ نہ کروں - گر کچھ محسوس ہو تو تکلیف کا اظہار کروں میرا خیال تھا ہو سکتا ہے ارمان کا مال اسباب کچھ زیادہ بڑا ہوا تو ہو سکتا ہے کچھ درد تکلیف کا اظہار کر سکوں ورنہ میں ارمان کو بے وقوف بنانے کے لئے تکلیف یا درد وغیرہ کا تاثر نہ دونگی . باتھروم میں نائیٹی لٹکی ہوئی تھی میں نے پہن لی اور کمرے میں آگئی . سامنے ارمان باہیں پھیلاۓ کھڑے تھے سامنے ارمان باہیں پھیلاۓ کھڑے تھے میں مسکراتی شرماتی ان کے بازوؤں میں جا سمائی ارمان نے مجھے اپنے بازوؤں میں بھینچ لیا اور جھٹ سے مجھے اپنی گود میں اٹھا کر مسہری پر لٹا کر میرے ساتھ ہی خود بھی لیٹ گئے . مجھے اپنی جانب کھینچتے ہوے ارمان نے مجھ پر بوسوں کی بارش کر دی - آس پاس پھول ہی پھول بکھرے پڑے کمرے میں بھینی بھینی خوشبو سے فضا معطر تھی سماں بڑا رومانٹک تھا ارمان کا موڈ ارمان نکالنے کا دکھ رہا تھا میں اپنے انجام سے ڈری سہمی ارمان کا ساتھ دینے کا فریضہ ادا کر رہی تھی . ارمان نے میری نائیٹی کو کھولنا شروع کیا تو میں کسمسائی ارمان مسکرا کے بولے پلیز ؛ میں نے آنکھیں موند لیں میری نائیٹی اتار کے انہوں نے نیچے ڈال دی اب میں ایک باریک سی تھرو شمیض برہ اور پینٹی میں ارمان کی دسترس میں تھی . ارمان کی نظریں میرے سراپے پر اٹک کر رہ گئیں . میں نے انکی نظروں کو پڑھنے کی کوشش کی تو مجھے ان کی نظروں میں اپنے لئے چاہت پسندیدگی نظر آئی . ارمان مجھ پر جھکے اور میرے لبوں پر بوسے دینے لگے ان کے ہاتھ اب میرے جسم کو چھیڑنے لگے تھے اور میرے لب کو اپنے ہونٹوں میں لے کر چوسنے لگے ان کا ایک ہاتھ مری گردن پر اپنی انگلیوں سے کھجاتا میرے ابھاروں کو چھونے لگا اور ہولے ہولے انہیں دبانے لگا وہ کبھی میرے ایک ابھار کو دباتے تو کبھی دوسرے کو پھر انکا ہاتھ آہستہ آہستہ نیچے سرکنے لگا انہوں نے مری شمیض کو اوپر میرے پیٹ کی جانب اٹھانا شروع کیا تو میں نے اپنے بٹس اوپر اٹھاۓ تو قمیض اوپر کھنچ گئی اور ارمان میری ناف کو چومنے لگے وہ ناف کے ارد گرد میری بیلی پیٹ کو چومتے اور پھر اپنی زبان سے میری ناف کو کھجانا شروع کر دیتے مجھے یہ سب کچھ بہت اچھا لگ رہا تھا ؛ انکا ایک ہاتھ میرے مموں سے کھیل رہا تھا - انہوں نے میری ناف سے اوپر چومنا شروع کیا اور پھر شمیض اوپر کی جانب اٹھائی تو میں نے شمیض کو اپنے شانے اور تھوڑا سا سر اٹھا کر کھینچ کے اتار دیا میں اب صرف برہ اور پینٹی میں تھی . ارمان کی نظریں اپنے بووبز پر جمے دیکھ کر میں شرما گئی اور ان سے چمٹ گئی اس طرح انکو میری برہ اتارنے کا جواز مل گیا . وہ میرے مموں کو دیکھ رہے تھے اور ان کے ہونٹ انہیں چومنے کے لئے لرز رہے تھے . انہوں میرے ایک نپل کو چوما پھر دوسرے کو چوم کر اسے چوسنے لگے ان کا دوسرا ہاتھ میرے دوسرے ممے کو مسلنے لگا وہ کبھی ایک مما دباتے کبھی دوسرا انہیں چومتے چاٹتے . میں بے خود ہونے لگی مجھے بہت مزہ آ رہا تھا ان کا ہاتھ اب نیچے سرکنے لگا اور میری پینٹی کے اوپر ٹانگوں کے سنگم میں مساج کرنے لگا . میں نے ان سے سرگوشی کی کہ لائٹ آف کر دیں پلیز مجھے شرم آ رہی ہے ؛ ارمان فوراً اٹھے اور لائٹ آف کر دی واپس بیڈ پر آئے تو وہ اپنے پاجامے اور بنیان سے آزاد تھے کمرے میں کھڑکیوں کی درزوں سے آتی روشنی نے مکمل اندھیرا نہیں ہونے دیا تھا . ارمان آئے تو مجھے چومنے لگے میرے ہونٹوں کو چوستے انکا ایک ہاتھ میری پینٹی کے اندر گیا تو مجھے ایک جھٹکا سا لگا تو ارمان ہنس دئے ؛ پوچھنے لگے نوشی جان کیا ہوا ؛ میں خاموش رہی تو اپنے ہاتھ سے میری پینٹی کو نیچے کی طرف کرنے لگے جبکہ ان کے ہونٹ میرے ہونٹوں کو چوسنے میں مگن تھے , میں نے انکی مدد کی اور پینٹی کو کھینچ کر پاؤں کی مدد سے اتار پھینکا ان کا ہاتھ میری چوت پر گیا میں بے خودی سے ان سے چمٹ گئی انکی چھاتی کے بال میرے بووبز کو لگے تو مجھے بہت مزیدار جلول سی ہونے لگی میں اور شدت سے ارمان کے سینہ سے لپٹ گئی ان کا لن میری ران سے ٹکرا رہا تھا میں چاہ رہی تھی کہ اسے ہاتھ لگا کے دیکھوں انہوں نے شاید میری مراد جان لی تھی انہوں نے دھیرے سے میرے ہاتھ میں اپنا لن پکڑا دیا میری خواہیش کے برعکس وہ نارمل سا تھا میں چاہتی تھی کہ گر بڑا تگڑا اور موٹا ہوا تو میرا بھرم رہ جائیگا اسکی ٹوپی بھی اتنی موٹی نہ تھی کہ اندر لیتے کوئی تکلیف ہوتی ؛ میرے ارمانوں پر اوس پڑ گئی مگر کیا ہوسکتا تھا یہی میرا نصیب تھا . میری اس وقت ایک ہی خواہیش تھی کہ یہ وقت گزر جاۓ اور کسی طرح میرا بھرم رہ جاۓ . ارمان کی انگلیاں میری چوت سے چھیڑ جاری رکھی ہوئی تھیں شاید ارمان کو نازک اور مُلائم سی گڑیا کچھ زیادہ ہی اچھی لگی تھی تبھی تو جب سے اسے چھوا اس کے بعد ایک ہاتھ مسلسل اس پر ٹکا ہوا تھا کبھی اسکی مساج کرتا کبھی اس کی انگلیاں اس لکیر کو تھپتھپاتیں اس کا ایک ہاتھ میرے مموں کو مسل رہا تھا اور اسکے ہونٹ میری گردن گالوں ہونٹوں اور آنکھوں کو چومنے میں لگے ہوئے تھے اس کے والہانہ پیار کرنے کے انداز نے میری رہی سہی امیدوں پر بھی پانی پھیر دیا کیونکہ میں چاہتی تھی میں گیلی نہ ہوں تو کچھ بچت ہو سکتی ہے مگر اس کے ہاتھوں اور ہونٹوں نے مجھے صرف گیلا ہی نہ کیا بلکہ مجھے ایسا لگنے لگا جیسے میں ٹپکنے لگی ہوں - ارمان نے میرا ہاتھ پکڑ کے دوبارہ اپنے لن پر رکھ دیا . اسس بار میں نے لن کو ہاتھ میں لے کر ہولے دبایا تو ارمان کے منہ سے لذت بھری اف سی نکلی میں لن کو ہولے ہولے دباتی اس کی ٹوپی کو انگھوٹھے مسلنے لگی لیس دار مادہ میرے انگھوٹے سے چپک سا گیا میں نے انگھو ٹھے اور ساتھ والی انگلی سے اسے پونچھ ڈالا . اندھیرا ہونے کی وجہ سے لن کا رنگ تو نظر آیا مگر اسکی گرمی اور سختی سے ظاھر ہوتا کہ لن انگارے کی طرح سرخ ہو گا . چھوٹا تو تھا پر کھوٹا نہیں لگتا تھا . ارمان پہلو کے بل لیٹے ہوئے تھے انہوں نے مجھے اپنے سینہ سے لگا کر بھینچا اور میرے ہونٹوں کو چومنے کو ان کا لن میری رانوں میں جا ٹکا میرے چوت کے دانے سے مستی کرنے لگا ابھی تک میں نے ارمان کو خود سے نہ چوما تھا مگر لن جا چوت کے دانے سے ٹکڑایا تو مجھے مدہوش کر گیا میں بے اختیار ارمان کے بوسوں کا جواب دینے لگی . ارمان کے ہاتھ میری گانڈ کے ابھاروں پر پھر رہے تھے بہت محسووس ہو رہا تھا ارمان نے سر اٹھایا میرے آنکھوں میں دیکھتے ہو ئے شرارت سے مسکراۓ میں نے انکا پیغام دیکھ کر شرماتے ہوئے آنکھیں موند لیں انہوں نے میری پیشانی پر اپنے جلتے ہوے لبوں سے پیار کی ُمہر ثبت کی اور میری آنکھوں پر بوسے دیتے رخساروں کو گلنار کرنے لگے ان کا ایک ھاتھ میری چوت کے دانے کو مسلنے لگا میرا بدن مچلنے لگا وہ میری گردن کو چومتے ہوئے میرے مموں کو چومتے اور دباتے میری ناف کی جانب بوسے دیتے بڑھے پھر اپنی زبان کو میری ناف کے اندر گھمانے کے ساتھ چومنا شروع کر دیا . اب تک میں یہ نوٹ کیا تھا شاید ناف میں ارمان کو زیادہ دلچسپی ہے یا ناف ان کی کمزوری ہے - وہ ناف میں انگلی ڈالتے پھر پیار کرتے . ان کا دوسرا ہاتھ جو میری چوت کے دانے سے کھیل رہا تھا اب چوت کی لکیر سے کھیلنے لگا ارمان میری ناف کو چوم رہا تھا اب ساتھ ساتھ میری چوت کی لکیر کو دبانے لگا چوت کی لکیر تو کب سے رس رہی تھی اس کی انگلی اندر دھنس گئی ؛ ارمان نے آہستہ آہستہ انگلی کو چوت میں ڈال دیا اور آگے پپچھے کرنے جس سے میں بے قابو ہو کر مچلنے لگی میری برداشت کی قوت جواب دینے لگی . ارمان میں کافی صبر دکھتا تھا ابھی تک اس نے کوئی جلدی نہ دکھائی تھی - جس نے میری حالت پتلی کر دی تھی اب میں چاہتی تھی جو کچھ ہونا ہے جلد ہو جو آگ میرے بدن اور تن من لگ چکی تھی وہ جلدی سے کسی طرح ٹھنڈی ہو جاۓ ارمان اٹھ کر بیٹھے اور ساتھ ٹیبل پر رکھے دودھ سے بھرے جگ سے ایک گلاس میں دودھ ڈال کر مجھے دیا . میں نے کہا اپ لیں تو بولے نہیں آپ لو . اس طرح آپ حوصلہ میں رہین گی ., میں سمجھ گئی کہ ارمان کا خیال ہے کہ پہلی بار چدائی میں عورت کو درد ہوتا ہے اس لئے دودھ میرے لئے اچھا رہے گا - ہمارے معاشرے میں مختلف طرح کی سوچ اور خیالات ہیں سہاگ رات کے لئے . ارمان نے میرے سر کے نیچے سے ہاتھ ڈال کے مجھے اوپر اٹھا یا اور دودھ میرے منہ سے لگا دیا میں نے تھوڑا سا پیا مگر انہوں نے تھوڑا اور لینے کو کہا میں نے آدھا گلاس پیا اور گلاس ان کے ہاتھ سے لے کر ان کے منہ سے لگا دیا جو کہ ارمان نے بڑے شوق پی لیا . انہوں نے گلاس میز پر رکھا مجھے گلے سے لگا کر چومنے لگے اب وہ اپنے اپ کو روکنے سے قاصر لگ رہے تھے میں لیٹ گئی اور وہ میرے اوپر ہی آ گئے . بولے نوشی جان کیا خیال ہے اب کریں ؟. میں انجان بنتے ہوئے بولی کیا ؟ تو مسکرا کے بولے " وہی جو میاں بیوی کرتے ہیں " تو میں نے کہا کہ جب ہم میاں بیوی ہیں اس میں حرج ہی کیا ہے اور یہ کہہ کر میں نے اپنا بازو اپنی آنکھوں پر رکھ دیا . وہ مجھ پر لیٹے تھے مگر انہوں نے مجھ پر اپنا وزن نہیں ڈالا ہوا تھا . میرا بازو آنکھوں پر سے اٹھاتے ہوئے بولے " نوشی جان ؛ گھبرانا نہیں مجھے بتا دینا میں جب رک جاونگا میں نہیں چاہتا تم درد برداشت کرتی رہو ؛ اس کے ساتھ مجھے چومنے لگے . میں نے کہا میں نے سہیلیوں سے سنا ہے درد تھوڑی دیر ہی ہوتا ہے اور اتنا زیادہ بھی نہیں ہوتا اس لئے میں اپ کو نہیں روکوں گی یہ کہتے ہوئے میں نے انہیں جپھی ڈال کر انہیں چومنے لگی۔۔۔۔۔
×
×
  • Create New...