Jump to content
URDU FUN CLUB

Saba ge

Active Members
  • Content Count

    15
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

17

7 Followers

About Saba ge

  • Rank
    Arbax

Profile Information

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. Mujy ya story sab sa ala ligi ha ab tak
  2. جی جنید صاحب کہانی کی ابھی دو اپڈیٹ باقی ہیں لیکن پھلے ہی بتایا ہے کہ اپڈیٹ ذرا لیٹ ہو گی
  3. اپ پیڈ سیکشن میں چلے جاہیں
  4. سٹوری کی اپڈیٹ شاید لیٹ ہو جائے کیونکہ اگلے دو ہفتوں کے دوران میرے ہاں جڑواں بیٹوں کی ڈلیوری ہے
  5. نہیں ماں میں نے نہیں کرنی اس جاہل سے شادی میں ایم اے پاس وہ گیارہویں فیل اور ایک سرکاری محکمہ میں درجہ چہارم کا ملازم میں شادی کرونگی تو کسی ماسٹر ڈگری ہولڈر اور اچھی کمائی کرنے والے سے ماں :بیٹی جیسے تیرے خواب ہیں اگر ویسا لڑکا مل بھی جائے تو ہماری اتنی اوقات نہیں کہ ہم اس برابر جہیز دے سکیں لہذا تو یہ قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لے میری شادی عمر سے ہو گی سہاگ رات کو مشکل مرحلہ سمجھ کر چپ ہو گی عمر اکلوتا تھا ماں دو سال پہلےچل بسی اور باپ بھی چھ ماہ پہلے دوران سروس ڈیٹھ ہو گیی اور عمر کو باپ کی جگہ پر ملازمت مل گئی تھی سیکس کے دوران میں ہمیشہ ایسے کہ جیسے کوئی بے جان کے ساتھ کر رہا ہے اور اسے کوئی رسپانس نہیں دیتی میں ہمیشہ عمر کے مرنے کی دعا کرتی کسی طریقے سے میری جان چھوڑ دی قصہ مختصر یہ کہ مجھے عمر کی شکل بالکل پسند نہیں تھی بات بات پر اسکی بےعزتی کرنا اور زلیل کرنا میرا معمول بن گیا شادی کے ڈیڑھ ماں بعد اس بات پر ناراض ہو کر عمر مجھے گھر کے اخراجات کے لیے مجھے پیسے بالکل نہیں دیتا مجھے نہیں رہنا اس جاہل گوار کے ساتھ مجھے اس سے طلاق چاہیے ماں نے کہا کہ بیٹا وہ دل سے سوچتا ہے دماغ سے نہیں لہذا کل اس کو بلا کر بات کرتے ہیں اگلے دن عمر آیا اور ابا نے کہا کہ عمر بیٹا اگر آپ عاصمہ کو ہر مہینے 40 ہزار دے سکتے ہیں تو عاصمہ کو ساتھ لے جا سکتے ہو عمر: ٹھیک ہے انکل میں عاصمہ کو ہر مہینے 40 ہزار گھر کے اخراجات کے لئے دینے کے لیے تیار ہوں اور میں پھر ایک بار گھر واپس آ گیی عمر اب مجھ ہر مہینے 40 ہزار دیتا لیکن میں اس کو تنگ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی کبھی کھانے میں نمک تیز کبھی مرچ تیز تو کبھی کھانے اچھے سے نہ پکانا اور اسے کبھی کھانا نہ دینا وہ خود فریج سے نکال کر گرم کر کے کھاتا تھا اور آتے ہی سو جاتا کہ جیسے مردہ ہو اور اب ہفتے میں ایک بار ہی سیکس کرتے تھے میں نے شکر ادا کیا کہ اچھا ہے ایک دن میں نے عمر سے کہا کہ مجھے آی فون چاہیے عمر نے مجھے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا کہ میری جان میں تمہیں آی فون بھی لا دوں گا لیکن تم مجھے کبھی چھوڑ کر مت جانا میں تمہاری جدائی برداشت نہیں کر سکوں گا بہت محبت کرتا ہوں تم سے تمہاری ہر خواہش پوری کروں گا مجھے ایک مہینے کے اندر آی فون چاہیے نہیں تو عدالت میں جا کر خلع داہر کر دوں گی عمر میرے قدموں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہنے لگا کہ عاصمہ میں تمہیں اسی مہینے موبائل لے کر دوں گا کمبخت سے جیتنی نفرت کرتی ہوں اتنی ہی شدت سے محبت کرتا ہے کیسے جان چھڑواں اس سے دو دن بعد اپنی ایک سہیلی کے ساتھ بازار جا رہی تھی کہ بس سٹینڈ کے قریب کیب خراب ہو گئی ایسے ہی میرا دھیان بس سٹینڈ کی طرف گیا تو میری زندگی نے جو لمحہ دیکھا میں بے جان ہو گیی وہ عمر جس سے میں نفرت کرتی تھی جسے میں ان پڑھ جاہل گوار کہتی جیسے میں نے کبھی پیار سے کھانا نہیں دیا جیسے میں نے کبھی انسان نہیں سمجھا جس کا کبھی حال تک نہ پوچھا جیسے کبھی قبول نہیں کیا وہ سر پر بوجھ آٹھاے کسی بس کی چھت پر چڑھ رہا تھا اسکی ٹانگیں کانپ رہی تھی پرانے کپڑے ٹوٹی ہوئی چپل پسینے میں شرابور بس پر سامان لوڈ کرنے کے بعد اترا میں مر کیوں نہ گیی وہ میرے لیے کیا کچھ کر رہا تھا کہ اتنے میں ایک آدمی کی آواز سنائی دی کہ چل اوے یہ سامان اٹھا اور دوسری بس کی چھت پر رکھ عمر کو شاید بھوک لگی ہوئی تھی ہاتھ میں روٹی پکڑی رول کیا سامان اٹھا کر ساتھ میں روٹی کھانے لگا میں قربان جاؤں میرا عمر میرے لیے کس درد سے گزر رہا ہے میں آنکھوں میں آنسو لیے دیکھتی رہی کام ختم ہوا وہی ایک دوکان کے سامنے زمین پر بٹھ گیا اور روٹی کھانے لگا کتنی بے بسی کتنا درد عمر سارا دن وہاں کام کرنا رات کو میری جلی کٹی سننا وہ ایک حادثہ تھا یا قدرت کا کرشمہ کہ میرا دل بدل گیا اور وہاں سے گھر واپس لوٹ گیی اور خوب رو رو کر دل کا بوجھ ہلکا کیا پھر عمر کے پلاو بنایا اور واش روم میں گھس کر اپنے جسم کی صفائی کی اور ہلکا سا میک اپ کیا پھر اپنی شادی شدہ زندگی میں پہلی بار عمر کے کپڑے پریس کیے آدھے گھنٹے بعد عمر گھر آیا تو میرا دل کیا کہ ابھی اسے اپنے سینے سے لگا کر سب دکھوں کو اپنے اندر سمیٹ لوں لیکن مینے اسے نہانے کا کہا اور خود اس کے لیے کھانا لگایا کھانے کے بعد وہ تھکاوٹ کے بستر پر نیم دراز ہو گیا اور میں اس کے قدموں میں جا بیٹھی کہ دل کیا اسکے قدم چوم لیے عمر نے حیران ہو کر کہا کہ عاصمہ میں تمہیں اسی مہینے موبائل لے کر دوں گا اور اگر پیسے چاہیے تو یہ لو میرا کلیجہ پھٹ پڑا رو رو کر عمر سے معافی مانگے لگی کہ مجھے نہیں چاہیے یہ کاغذ کے ٹکڑے مجھے میرا عمر چاہیے یہ کہتے ہوئے میں اسکے چہرے کو چومنے لگی ماتھے پر آنکھوں پر گالوں پر اسکے چہرے پر ہر جگہ اپنے ہونٹوں کہ مہریں ثبت کرنے لگی بے خودی کے عالم میں کب میرے ہونٹ اسکے ہونٹوں کی قید میں تھے کبھی میرا اوپر والا ہونٹ چوستا تو کبھی نیچے والا اور ایک ہاتھ میری گردن پر اور دوسرا میری 36 کی چھاتی پر حرکت اور نیچے چوت میں بخارات کے قطرے بننا شروع ہو گئے کہ عمر نے میری قمیض کا دامن پکڑا تو میں نے ہاتھ اٹھا دیے اس نے میری قمیض اتار اب میں محض سرخ رنگ کی براہ تھی جو میری سفید چٹانوں کو قید کرنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے لیکن عمر کے ہاتھوں نے ان کو بھی آزادی دے دی اور اپنی زبان کو میری کلویج لاہن میں پھرنے لگا کہ بے خودی میں اسکا سر اپنی چھاتیوں پر دبانے لگی مزے سے مدہوش میرے وجود میں چھانے لگی کہ عمر نے مجھے نیچے لٹایا اور خود میرے اوپر آگیا اور میرے پیٹ چومنے لگا کہ مزے سے تڑپ اٹھی اور اپنا سر دائیں بائیں کرنے لگی اور اسکے ہاتھ میری شلوار کو نیچے کھنچے لگے میں نے اپنی گانڈ اٹھا کر اسے اجازت دی پھر عمر نے اپنے کپڑے اتارے صاف شفاف بدن خوبصورت صرف چھاتی کے عین درمیان ہاتھ کی ہتھیلی جتنے بال نیچے سات انچ کا لنڈ انتہائی شان مجھے گھور رہا تھا کہ اس میری ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں اور ایک ہی جھٹکے میں اس ظالم کو اندر کا راستہ دیکھا یا آآہہہہہہہہہہہہہہہ ظالم آرام سے کرو کہیں نہیں جا رہی میں میری جان آج پہلی بار تمہارا موڈ بنا ہے تو اس موقعے کو بھرپور طریقے سے استعمال کرنا چاہتا ہوں جانی آج کے بعد یہ راستہ ہر وقت تمہیں دستیاب ہو گا اور ہر وقت موڈ بھی ایسے ہی ملے گا آہہہہہہہ جانی اب آرام سے کرو آہہہہہہہہ آہہہہہہہ آہہہہہہہہ عمر مجھ سے ہمیشہ ایسے ہی محبت کرو گے آہہہہہہہہ ہاں جان ہمیشہ ایسے ہی آہہہہہ میں قربان جاؤں اپنی جان پر اور اپنی ٹانگوں کو کندھوں سے اتار کر اسکی کمر کے گرد لپیٹ لی ظالم کی ہرچوٹ مجھے مزے کی نہی وادیوں میں دھکیل دیتی اور اسے خود کی طرف جھکَا کر والہانہ اسکے ہونٹ چوسنے لگی جیسے مدتوں کی پیاسی ہوں آہہہہہہہ عمر ایسے چودو مجھے جیسے آخری مرتبہ کر رہے ہو عمر میری جان آج مجھ پر خوب ظلم کرو عمرررررررررررررررررر اسکے ساتھ ہی میری چوت نے پانی کا پھورا چھوڑ دیا اور میری سانسوں میں تیزی آئی ایسے جیسے میلوں بھاگ کر آہی ہوں
  6. کہانی اپڈیٹ کرنے کا طریقہ بتا دیں پلیز تاکہ میں اپنی سٹوری میری کہانی مکمل کر سکوں شکریہ
  7. یہ کہانی میرے پاس واٹسایپ پر آیی تھی سوچا یہاں پوسٹ کر دوں رائٹر کی اچھی کاوش ہے اس لیے معزرت کے بنا اجازت کے میں یہ کہانی اپلوڈ کر رہی ہوں میری منگنی بچپن میں ہی میرے چچا کے بیٹے سےکردی گئی تھی ۔ یہ میرے دادا جانی کی خواہش تھی۔ میرے ابو اور چچا جان دادا جان کی بات کو ٹال نہیں سکتے تھے ۔ ہمارے گھر میں ہر طرح کی آسائشات کی فروانی تھی. دادا جان 4 مربعوں کے مالک تھے ۔ دادا کے بڑے بیٹے شیر خان یعنی میرے ابوآڑھت کرتے تھے اور چھوٹے بیٹے بہادر خان زمینوں کی دیکھ بھال کرتے تھے. گھر میں آسائشات کی فروانی کے باوجود ماحول بہت سخت تھا ۔میں نے ہائی سکول کے بعد کالج جانا چاہا تو دادا جان نے یہ کہ کر منع کردیا کہ بیٹیوں کے لئے اتنی ت***م کافی ہے ۔ میرے ارمانوں پر اوس پڑگئی اور میں گھر میں امی اور چاچی کا ہاتھ بٹانے لگےمیرا منگتیر عمیر مجھ سے دو سال بڑآ ٹھا اور شہر کالج میں پڑھتا اور ہاسٹل میں رہتا تھا ۔ میرے دو بڑے بھائی جمال خان اور کمال خان بھی اسی کالج میں پڑھتے اور ہاسٹل میں رہتے تھے ۔ اب دادا جان کو میری شادی کی فکر لگ گئی ۔مگر میرے منگتیر کا خیال تھا کہ وہ پہلے ت***م مکمل کرلے ۔ اس لئے اس نے اپنے والدین کے ذریعے 4 سال کا وقت لے لیا اور پڑھائی میں مصروف ہوگیا ۔مگر ہونی کو کون ٹال سکا ہے. ابھی دو سال ہی گزرے تھے کہ دادا جان کا انتقال ہوگیا ۔ اور جائیداد کی تقسیم پر میرے ابو اور چچاجان میں جھگڑا اسقدر بڑھا کہ مکانوں کے بیچ دیوار اٹھادی گئی اور بول چال بند ہوگئی . میں اسوقت 22 سال کی ہوچکی تھی۔میرے والدین کو امید تھی کہ کچھ بھی ہوجائے میرے اور عمیر کے متعلق دادا جان کی بات نبھائی جائے گی ۔ اس لیے میں عمیر کی منگتیر ہی رہی ۔ چاچا جان کے گھر والے کیا سوچ رہے تھے ہمیں بلکل معلوم نہیں تھا ۔ میرے والد صاحب سخت طبعیت مگر دل کے نرم اور چچاجان تو بہت ضدی مشہور ہیں ۔ خیر عمیر نے جب اپنی ت***م مکمل کی اسوقت میں 24 سال ہوچکی تھی ۔ عمیر یونیورسٹی سے جب ت***م مکمل کرکے واپس گھر آیا تو میرے والدین کو امید تھی کہ اب وہ لوگ شادی کی بات کرینگے اس لیے میرے والدین نے شادی کی تیاری شروع کردی مگر ایک دن ہم لوگوں نے سنا کہ عمیر کی تو اگلے ماہ پھپھو کی بیٹی سے شادی ہورہی ہے تو ہم لوگوں نے چپ سادھ لی ۔ میرے والد ین نے سوچا کہ ہماری بھانجی بھی تو ہماری ہی بیٹی ہے اب ان سے کیا گلہ کریں ۔ انہوں نے اب میرا رشتہ تلاش کرنا شروع کردیا ۔ ابا چاہتے تھے بھلے میری شادی عمیر کی شادی کیساتھ نہ ہوسکے تو کچھ عرصہ کے بعد ہوجائے ۔منڈی میں میرے والد کی آڑھت کیساتھ ایک اور آڑھتی جوکہ اچھے کاروباری تھے کیساتھ ابا نے میرے متعلق بات کی ۔ ان کے دوبیٹے تھے بڑا بیٹا 39 سال کا اور رنڈوا تھا اسکی ایک بیٹی بھی تھی ۔وہ شریف آدمی شیر بہادر اسکا رشتہ لیکر آگیا ۔ میرے والدین نے اس رشتہ کے لیے انکار کردیا کیونکہ ایک تو وہ عمر میں بڑادوسرا ایک بیٹی کا والد بھی تھا۔ مگر میں انکی وائف کو پسند آگئی تھی اس لیے ایک ہفتہ بعد وہ لوگ دوبارہ اپنے چھوٹے بیٹے جو کہ 27 سال کا تھا ور دوبئی میں ہوتا تھا کے لیے رشتہ مانگنے آگئے ۔میرے والدین نے سوچنے کے لئے وقت مانگ لیا ۔ کیونکہ انکی رہائش شہر سے باہر گاؤں میں تھی ۔معلومات حاصل کرنے میں دوہفتہ لگ گئے ۔ انکی ریپوٹیشن اچھی تھی ۔ دو مربعہ زمین کے علاوہ آڑھت کااچھا کاروبار تھا ۔ ایک ہی بیٹی سمیرا جو کہ بیاہی جاچکی تھی ۔بڑے بیٹے سمیر کی ایک بیٹی اریبہ ہے ۔ تین سال پہلے سمیر کی بیوی فوت ہوگئی تھی اور اریبہ اب آتھ سال کی ہے ۔ چھوٹا بیٹا صیغیر 27 سال کا ہے اور دوبئی میں ملازم۔ہے ۔میرے والدین کو یہ لوگ کھاتے بیتے اچھا خاندان لگا اور رشتہ کے لیے ہاں کردی دو ماہ بعد میں صغیر حسن سے بیاہ دی گئی۔ اور دوماہ چھٹی گزار کر وہ دوبئی واپس چلے گئے ماہ کے بعد میرے شوہر واپس اپنے کام پر دوبئی چلے گئے اور میں ایک ماہ کے لئے اپنے میکے آگئی ۔ ایک ماہ گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا۔ ایک ماہ بعد میں اپنی سسرال واپس پہنچ گئی ۔ جہاں پر ساس سسر ،میرے جیٹھ اور اسکی آٹھ سالہ بیٹی اریبہ کیساتھ ہی مجھے رہنا تھا ۔ جب تک میرے شوہر گھر پر تھے اسوقت مصروفیات اور مشاغل اور تھے جن میں دل لگارہتا تھا ۔مگر اب ایک سی روٹین تھی ۔ شکر ہے کہ اریبہ کو گرمیوں کی تعطیلات تھیں جس کی وجہ سے گھر میں کچھ رونق اور مصروفیت تھی اریبہ بہت پیاری اور خوبصورت بچی ہے جس کی ماں نہیں رہی اور اسکو دیکھ کر پیار آجاتا ہے ۔وہ بہت معصومانہ شرارتیں کرتی جن سے بہت مزہ آتا ہے ۔اریبہ مجھ سے بہت گھل مل گئی اور مجھے بھی اس بن ماں کی بچی سے انس ہوگیا ہے . میری کوشش ہوتی کہ اریبہ کو ماں کی کمی محسوس نہ ہو۔ اریبہ کو اپنے ابو سے بہت لگاؤ تھا اور وہ بھی اریبہ سے بے انتہا پیار کرتے تھے ۔ دونوں باپ بیٹی یک جان دوقالب والی بات تھے سچ پوچھیں تو مجھے دونوں باپ بیٹی کا پیار دیکھ کر ان پر رشک آتا ہے ۔ہمارے گھر کا ماحول بہت سخت تھا ۔ میرے ابو نے مجھے کبھی ایسے پیار نہیں کیا تھا جیسے اریبہ کے ابو اس سے کرتے تھے ۔ کبھی کبھی تو مجھے اریبہ سے حسد محسوس ہوتا کیونکہ مجھے یاد آجاتا کہ جب میں چھوٹی تھی تو دل کرتا تھا کہ اپنے ابو کی گود میں بیٹھوں انکے سینے پر چڑھ کر کھیلوں ۔ ۔۔۔۔۔ اریبہ کا تو روز کا معمول تھا کہ وہ صبح ناشتہ اپنے ابو کی گود میں بیٹھ کر کرتی اور شام کو جب اسکے ابو صحن میں چارپائی پر لیٹے ہوتے تو انکے سینے پر چڑھ کر کھیلنا ۔ گرمیوں کے موسم میں اسکے ابو صحن میں چارپائی ڈال کرتہمند باندھے اور اوپر کے حصہ میں بغیر کچھ پہنے لیٹے ہوتے تو اریبہ انکے سینے کے بالوں سے کھیلتی کبھی انکی مونچھ پکڑ لیتی تو اس کے ابو کھلکھلا کر ہنستے رہتے ۔ ویسے بھی انکی طبعیت ہنس مکھ تھی. مسکراہٹ ہروقت انکے چہرے پر سجی رہتی. میرے خاوند چھوٹے قد کے سنجیدہ طبعیت کے مالک ہیں جبکہ ان کے بڑے بھائی دراز قد کشادہ پیشانی کشادہ چھاتی اور مضبوط جسم کے مالک ہیں جب میں انکو اپنی بیٹی کیساتھ کھیلتا دیکھتی تو سوچتی کے انکا بھی رشتہ میرے لئے آیا تھا کیا تھا جو ہماری عمروں میں فرق تھا وہ مجھ سے چودہ سال بڑے ہیں تو کیا ؛ رہتے تو پاس ہی ؛ ہم اریبہ سے ملکر بھی کھیل سکتے تھے ۔ مگر میرے شوہر دوسال بڑے تو ہیں اور اپنی جوانی اب امارات میں گنوارہے ہیں اور میں یہاں انکو یاد کرکے ٹھنڈی آہیں بھررہی ہوں. خیر جو ہونا تھا ہوچکا تھا۔۔۔۔۔ میری ساس بہت نرم طبعیت کی ہیں اور مجھ سے تو ہمیشہ پیار ہی کیا انہوں نے ۔ سسر ہفتہ میں دوہی راتیں گھر پر گزارتے باقی دن آڑھت پر رہتے ۔ میرے جیٹھ سمیر خان صبح سویرے کھیتوں میں چلے جاتے وہاں مزارعوں سے کام لیتے اور انکے کام کی نگرانی کرتے. دوپہر کا کھانا گھر پر ہی کھاتے ۔ کھانا کھاکر بیٹھک میں اہنے دوستوں سے ملکر تاش کھیلنے لگ جاتے ۔اور شام کو ایک چکر پھر زمینوں کا لگاتے اور شام ہوتے ہی گھر آجاتے ۔ گھر میں ایک خادمہ تھی جو کہ صفائی ستھرائی کاکام کرتی اور مجھے صرف کھانا پکانا ہوتا تھا. باقی سارے کام خادمہ سرانجام دیتی ۔ اریبہ کی چھٹیاں ختم ہونے کے بعد جب سکول کھلے تو معمول کچھ تبدیل ہوگیا اب صبح اریبہ کو ناشتہ کرواکر اسکے ابو کیساتھ سکول بھیجنا شام کو اسکی ہوم ورک میں مدد کرنا شامل ہوگیا ۔ یہ روزانہ کا معمول تھا. دن تو جیسے تیسے گزر جاتا مگر رات کو جب چارپائی پر لیٹتی تو خیالات میں پتہ نہیں کہاں کہاں بھٹک جاتی ۔ صغیر کو گئے ہوئے چارماہ ہوچکے تھے اور اب اسکی کمی محسوس ہونے لگی تھی. گھر میں اب کچھ تبدیلی سی محسوس ہونے لگی تھی یا پھر مجھے محسوس ہوتی تھی جب میں بیاہ کر آئی تھی تو اجنبیت کا احساس تھا ساسو ماں تو شروع سے ہی مہربان تھیں ۔ مگر میرے جیٹھ پہلے مجھ سے بہت کم مخاطب ہوتے تھے کوئی ضروری کام ہوتا تو بات کرتے یا پھر جب اریبہ کوئی ضد کررہی ہوتی تو مدد کے لیے کہتے ۔ مگر اب وہ مسکرانےبھی لگے تھے اور میرے پکے پکوان کی تعریف بھی کردیتے تھے ۔ سسر تو ہفتہ میں دودن ہی آتے تھے اور انکا ریویہ مشفقانہ ہی ہوتا. اریبہ سے میری پکی دوستی ہوچکی ہے ۔ کہنے کا مطلب یہ کہ اب میں خود کو اس گھر کا فرد محسوس کرنے لگی ہوں ۔اب بھی میکے کی یاد آتی ہے مگر اس کی شدت میں کمی آچکی ہے گھر میں اریبہ کی وجہ سے کافی رونق تھی ۔ چونکہ وہ سب کی لاڈلی تھی اور اس کی شرارتوں سے سب لطف اندوز ہوتے تھے ۔ ابھی وہ آٹھ سال کی تھی اور اس کو زیادہ سمجھ نہیں تھی کہ کیا بات کرنی ہے اور کیا نہیں کرنی. ایک بار وہ اپنے ابو سے ناراض ہوکر میرے کمرے میں آگئی( وہ اکثر اپنے ابو سے روٹھ کر میرے ہی پاس آتی) اور اپنے ابو کی شکایت لگانے لگی. میں نے اس کا دل صاف کرنے کی غرض سے اس کے ابو کی تعریف کردی ۔ کہ دیکھو بیٹی وہ تو بہت اچھے ہیں تم سے پیار کرتے ہیں ۔ تم کو اپنی گود میں بٹھاکر اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتے ہیں تمہاری ہربات مانتے ہیں ۔ ایسے ناز اٹھانے والے ابو توکسی کسی کو ملتے ہیں ۔ تو وہ پوچھنے لگی کہ آنٹی آپ کے ابو کیا آپ کو گود میں نہیں بٹھاتے تھے تو میں نے کہا کہ نہیں وہ ایسا نہیں کرتے تھے ۔ تھوڑی دیر بعد اس کے ابو آئے اور وہ ان کے ساتھ سونے کے لیے چلی گئی ۔ وہ اپنے ابو کے کمرے میں ہی سوتی تھی ۔ اگلی صبح جب میں دونوں باپ بیٹی کا ناشتہ لیکر ان کے کمرے میں گئی تو اریبہ اپنے والد کی گود میں بیٹھی سوال و جواب کررہی تھی ۔ مجھے دیکھتے ہی اریبہ کھڑی ہوگئی اور میِں نے ناشتہ ٹیبل پر رکھ دیا۔ اریبہ مجھ سے پو چھنے لگی آنٹی آپ کے ابو آپ کو گود میں نہیں بٹھاتے تھے ناں۔۔۔ میں نے بات ٹالنے کی کوشش کی اور کہا بیٹی ، آؤ ناشتہ کرلو پھر سکول کی بھی تیاری کرنی ہے ۔ مگر اس نے پھر وہی تکرارکی اور کہنے لگی آنٹی آپ آج میرے ابو کی گود میں بیٹھ جاؤ ۔ میں یہ سن کر ہکا بکا ہوگئی اس کے ابو نے جلدی سے کہا اریبہ کیا اول فول بک رہی ہو مگر اریبہ کے سرپر یہی دھن سوار تھی اس نے مجھے اپنے ننھے ہاتھوں سے کرسی کی طرف دھکیلنا شروع کردیا مگر میں اس کو پکڑتی اور ادھر ادھر ہوجاتی ۔ وہ پھر میرے گھٹنوں کو دبادیتی ۔ اس کشمکش میں میرا پاؤں میز کے پایا سے ٹکرا گیا اور میں لڑکھڑا گئی اور سیدھی سمیر بھائی کی آغوش میں جاگری ۔ انہوں مجھے سنبھالا تو انکا ایک ہاتھ میری کمر پر ایک میرے ابھاروں پرجا ٹکا۔ میں نے سمیر بھائی کیطرف دیکھا تو انکی نگاہیں مجھ پر جمی ہوئی تھیں ۔ میں جلدی سے اٹھی اور روہانسی ہوکر کمرے سے نکل گئی اور اپنے کمرے میں جاکر چارپائی پر گرگئی۔ میرے دل کی دھڑکن بہت تیز ہوچکی تھی اور جسم کانپ رہا تھا ۔ سارا جسم پسینہ پسینہ ہورہا تھا ۔ میں کچھ دیر لیٹی رہی کچھ حواس بحال ہوئے تو اٹھ کر بیٹھ گئی اور سوچنے لگی کہ یہ کیا ہوگیا ۔ اریبہ تو بچی تھی بچے ضد تو کرتے ہی ہیں ۔ غلطی کسی کی بھی نہیں تھی. مگر جو ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا. میں اب اریبہ کے ابو کا کیسے سامنا کرونگی. انکا خیال آتے ہی مجھے ان کے ہاتھوں کالمس اپنی کمر اور ممے پر محسوس ہونے لگا ۔ انہوں نے جب مجھے اپنے بازوؤں میں تھاما تھا تو مجھے انکی آنکھوں میں حیرانگی اور ستائشی جذبات نظر آئے تھے. میں یہ سوچ کر شرماگئی اتنے میں اریبہ آگئی اسکو سکول کے لیے تیار کیا اور وہ تیار ہوکر اپنے ابو کیساتھ سکول چلی گئی ۔ میں نے اپنی ساس جن کو میں اماں کہتی ہوں کو ناشتہ دیا وہ ناشتہ کرکے پھر سوجاتی ہیں اور دوبارہ ظہر سے پہلے اٹھتی ہیں۔اماں کو ناشتہ کروانے کے بعد میں نے اپنے اور اریبہ کے ابو کے لئےچائے کا پانی چولہے پر چڑھادیا ۔ کیونکہ وہ اریبہ کو سکول چھوڑنے کے بعد آکر چائے کا کپ لیتے تھے۔ حسب معمول وہ اریبہ کو سکول چھوڑنے کے بعد گھر آکر غسل سے فارغ ہوکر کچن میں آگئے ۔ میں نے جھکی ہوئی نظروں سے انکو چائے کا کپ پکڑایا اور کہا بھائی جان کچن کا سودا سلف بھی منگوانے والاہے ۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے مجھے لسٹ بنادو میں شہر جاکر لے آتا ہوں ۔ میں نےلسٹ تیار کی تھوڑی دیر بعد انکو لسٹ پکڑادی اور وہ شہر چلے گئے ۔ شہر جانے کے لئے وہ موٹر سائیکل استعمال کرتے تھے. میں نے سکون کا سانس لیا ایک مشکل مرحلہ تھا جو میں نے عبور کیا. صبح سے یہ سوچ سوچ کر پاگل ہو رہی تھی کہ اب اریبہ کے ابو کا سامنا کیسے کرونگی مگر اب میں نے ہمت سے کام لیکر انکو کام بھی بول دیا ۔ وہ شہر سے واپسی پر کھتیوں میں نہیں گئے ۔ میں دوپہر کا کھانا بنا چکی تھی ۔ خادمہ کو کہیں کام تھا وہ چھٹی لیکر چلی گئی تھی. میں نے ان سے پوچھا بھائی جان کھانا لے آؤں تو انہوں نے کہا لے آؤ اور اپنے کمرے میں چلے گئے ۔ میں نے کھانا لے جاکر انکی ٹیبل پر رکھ دیا اچانک انہوں نے میرا ہاتھ پکڑلیا . میں نے گھبرا کر انکی طرف دیکھا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے مجھے اپنی طرف کھینچا تو میں ڈگمگا گئی اور انکی آغوش میں جاگری ۔ مجھے بہت شدید غصہ آیا اور میں نے ایک جھٹکے سے اپنا آپ چھڑایا اور بھائی جان یہ کیسی بے ہودگی ہے کہتے ہوئے دوڑتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی اور چارپائی پر اوندھے منہ گر کر رونے لگی ۔۔ مجھے بہت غصہ آرہا تھا کہ انہوں مجھے کیا سمجھ کر ایسی گری ہوئی حرکت کی. مجھے رونا بھی آرہا تھا اور غصہ بھی ۔ میں اونچا اونچا رونے لگی شکر ہے میری ساس سوئی ہوئی تھی اور خادمہ پہلے سے ہی چلے گئی تھی ورنہ انہوں نے میرے رونے کی آواز ضرور ان کو سنائی دیتی ۔۔ پتہ نہیں کتنا ٹائم گزرا ۔ میرا رونا اب سسکیوں میں ڈھل چکا تھا ۔ رونے سے کافی سکون ملا۔دفعتا میں نے اپنے شانوں پر کسی کا ہاتھ ٹکتا محسوس کیا میرا سارا جسم کانپ گیا مجھے ایک جھرجھری سی میں نے اپنے شانوں پر کسی کا ہاتھ ٹکا محسوس کیا اور میرا بدن کانپ گیا ۔ مجھے جھر جھری سی آگئی اسی کے ساتھ وہ ہاتھ میرے شانوں پر سے ہٹ گیا۔انیلہ پلیز مجھے معاف کردو۔ مجھ سے غلطی ہوگئی ۔ سمیر کی آواز سن کر مجھے اور غصہ اور رونا آگیا ۔ غصہ اس لیے کہ جیسا بھی ہو میں اس کے چھوٹے بھائی کی بیوی ہوں ۔ اس کو ہمت کیسے ہوئی میرا ہاتھ پکڑنے کی ۔ میں اسکو بھائی جان کہ کر مخاطب کرتی ہوں ۔ اریبہ کیساتھ ملکر ہنسی مزاق کرنا اور بات ہے اور مجھ پر اکیلے میں حملہ کرنے کا مجھے بہت رنج والم ہورہا تھا انیلہ دہکھو میں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ رہا ہوں ۔ مجھے پتہ نہیں کیا ہوگیا تھا ۔ میں وعدہ کرتا ہوں آئندہ ایسا نہیں ہوگا ۔ تم ایک بہت اچھی لڑکی ہو میرے دل میں تمہارے لئے بہت احترام ہے ۔ دیکھو پلیز اب تو مجھے معاف کردو یہ کہتے ہوئے ان کے ہاتھوں نے میرے پاؤں پکڑ لئے ۔میں نے تڑپ کر اپنے پاؤں کھینچ لئے اور ان سے کہا پلیز آپ جائیں یہاں سے ۔مجھے تنہا چھوڑ دیں ۔ انہوں نے جواب دیا میں اس وقت تک نہیں جاؤنگا جب تک تم مجھے معاف نہیں کروگی ۔ یہ کہ کر انہوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور بالوں میں انگلیاں پھیرنی شروع کردیں ۔میں نے ان کا ہاتھ جھٹک دیا اور ان سے جانے کو کہا ساتھ ہی میری سسکیاں اور اونچی ہوگئیں ۔مگر انہوں نے پھر میرے پاؤں پکڑلئے ۔ مجھے ان کا بار بار پاؤں چھونا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ وہ برابر منت کئے جارہے تھے. میں چاہتی تھی کہ وہ جائیں وہاں سے. جو ہونا تھا وہ ہوچکا تھا ۔ معافی تلافی سے کیا ہوگا ۔ مگر انہوں نے میرے پاؤں پر اپنا سر رکھ دیا ۔ میں تو اوندھی لیٹی ہوئی تھی ۔ میں تڑپ کر اٹھی اور بھائی جان یہ آپ کیا کررہے ہیں کہ کر انکا سر اٹھایا ۔ وہ چارہائی پر میرے برابر ہی بیٹھ گئے اور ہاتھ جوڑتے ہوئے پھر معافی کی گردان شروع کردی ۔ انکے اس طرح معافی مانگنےسے مجھے اور بھی رونا آگیا ۔ میں اور اونچا اونچا رونے لگی ۔ مجھے یوں بلکتے دیکھ کر انہوں نے میرا چہرہ اہنے ہاتھوں میں تھام لیا ۔ میری آنکھیں بند تھیں اور گال آنسوؤں سے تر ہوچکے تھے انہوں نے میری بھیگی اور بند آنکھ پر اپنے لب رکھ دئیے میرے سارے بدن میں بجلی سی کوند گئی ۔ عجیب سا احساس ہونے لگا ۔ انہوں نے یہی عمل دوسری آنکھ پر بھی کیا ۔ میں پگھل کر رہ گئی ۔ میں نے محسوس کیا میں ہاررہی ہوں میرے ہونٹ ادھ کھلے سے ہوگئے جیسے وہ بھی اس کے ہونٹوں کے پیاسے ہوں ۔ میں اس طرح کبھی بے بس نہیں ہوئی تھی۔ شکر ہے اس نے میرے ہونٹوں کی طرف دھیان نہیں کیا ورنہ ڈر تھا کہیں میں بھی انہیں جواب میں چومنے لگتی۔ میں نے انہیں دیکھا تو مجھے انکی آنکھوں میں بھی نمی نظر آئی ۔ میں نے روتے ہوئے انکے شانوں پر اہنا سر رکھ دیا اور میری ہچکیاں بندھ گئیں ۔ انکا ہاتھ میری کمر پر آیا اور انہوں نے مجھے بھینچ کر اپنے سینے سے لگالیا ۔ میں کتنی ہی دیر بے بے خود ہوکر انکے سینے سے لگی رہی ۔ احساس ہونے پر ان سے الگ ہوئی ۔ انہوں نے پھر میرا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام لیا اور میری طرف دیکھ کر مسکرائے تو میں نے جلدی سے اپنا چہرہ ان کے ہاتھوں سے چھڑایا اور کہا کھلے ہوئے دروازے کطرف دیکھتے ہوئے ان سے کہا بھائی جان اب آپ جائیں کسی نے دیکھ لیا تو طوفان آجائے گا۔ تم نے مجھے معاف کروگی تو میں جاؤنگا۔ میں نے ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا کہ میں نے آپ کو معاف کیا ۔ اب آئندہ ایسی حرکت نہ ہو تو انہوں نے میرا ہاتھاپنے ہاتھ میں پکڑ کر پرامس کیا کہ آئندہ ایسی حرکت نہیں ہوگی۔ اور میری پیشانی پر بوسہ دیکر کمرے سے چلے گئے ۔میں پریشان سی ہوکر سوچنے لگی آج صبح سے یہ کیا ہونے لگا ہے ۔۔۔۔ خیر میں اٹھی اور اماں کو ظہر کی **** کے لئے وضوکروایا اورخود بھی وضو کرکے **** ادا کی ۔ اریبہ کے سکول سے آنے کا انتظار کرنے لگی. اریبہ کے سکول سے آنے پر کھانا کھایا ۔ کھانے کے بعد اسکو کچھ ٹائم کھیلنے کے لئے دیا ۔ پھر اسکو ہوم ورک پر لگاکر شام کے کھانے کی تیاری میں مشغول ہوگئی ۔ رات کو کھانا کھاکر سونے سے پہلے اپنی ساسو ماں کے پاؤں دبائے اور دعائیں لیتی ہوئی اپنے کمرے میں سونے کے لئے آگئی ۔ رات کو سونے کے لئے میں ہلکا لباس استعمال کرتی ہوں ۔ ایک سوتی ٹراؤزر اور اوپر ایک ہاف بازو کرتہ نما شرٹ ۔۔ اپنے آپ کو اس طرح آئینے میں دیکھنا اچھا لگتا ہے اس لئے تو کہتی ہوں مجھے کسی اور سے نہیں خود سے محبت ہے ۔ رات کو برا اور پینٹی نہیں پہنتی ۔ البتہ سوتے ہوئے اوپر کوئی کپڑا اوڈھ لیتی ہوں ۔ ۔ بستر پر دراز ہوکر خیالوں میں کھوگئی ۔ آج دن کا آغاز ہی ایسا ہوا تھا کہ ہربات ناقابل یقین لگتی تھی. مگر یہ حقیقت میں واقعات ہوچکے تھے ۔ پہلے اریبہ کی وجہ سے میرا لڑکھڑانا سمیر بھائی کا مجھے سنبھالنا پھر سمیر بھائی کا مجھ بازو سے پکڑ کر اپنی گود میں گرانے کی کوشش کرنا ۔ یہ معمولی واقعات نہیں تھے جن کو نظر انداز کیا جاتا ۔ یہ حقیقت ہے میری کئی کلاس فیلوز ہائی سکول میں ہی محبت کے چکر میں مبتلا ہوچکی تھیں. مگر میں اس بیماری کے وائرس سے محفوظ ہی رہی تھی. حتی کہ شادی کے بعد بھی میرا دل کسی کے لئے نہ دھڑکا تھا۔ شادی فریضہ سمجھ کر والدین کی رضامندی کی خاطر ہوئی جس کا نہ ہی شوق تھا اور ناہی چاہت تھی ۔ سہاگ رات کے بارے بہت کچھ کہاجاتا ہے میں نے اسکو بھی ایک مشکل وقت سمجھ کر برداشت کیا خاوند کیساتھ زیادہ فرینکنس نہ ہوسکی نہ وہ زیادہ دلچسپی دکھاتے ۔ سیکس ہم کرتے تھے مگر مجھے اس میں کوئی خاص چارم محسوس نہ ہوتا ۔ میں سوچتی کہ شاید میں ٹھنڈی عورتوں میں سے ہوں ۔خاوند بھی جیسے کوئی مجبوری نبھارہے ہوتے محسوس ہوتے ۔ سچ تو یہ ہے کہ میرا دل آج تک کسی کے نام پر نہ دھڑکا تھا مگر آج صبح گرتے ہوئے جب سمیر بھائی نے مجھے سنبھالنے کی کوشش کی تو انکے ہاتھ لگتے ہی میرے جسم میں ایک کرنٹ ساڈوڑتا محسوس ہوا اور کافی دیر تک مجھے بدن کے ان حصوں پر انکا لمس محسوس ہوتا رہا جہاں جہاں وہ لگے تھے ۔ پھر دوپہر کو جب سمیر بھائی منانے آئے اور جب انہوں نے میرا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا تو یوں محسوس ہوا جیسے کسی اپنے نے ہمدردی سے مجھے چھو لیا ہو ۔ پھر سمیر بھائی کا باری باری میری آنکھوں کو چومنا اور میرے آنسو پی جانا مجھے بہت خوار کرگیا مجھے محسوس ہوا کہ انیلہ تو " تو لگی گئی " میں چاہتی تھی وہ مجھے چومے مجھے گلے سے لگا کر میرا سارا درد ' کرب سارا غصہ اپنے اندر منتقل کرلے کرلے ۔ میں خود اس کے گلے لگ جاتی دل تو کررہا تھا کہ اپنے آنسوؤں سے گیلے ہوئے اس کے ہونٹ اہنے ہونٹوں میں لیکر انکا ذائقہ چکھوں ۔ مگر میں سمیر کو کمرے سے جانے کا کہ کر اپنا بھرم رکھنے میں کامیاب ہوگئی تھی ۔ میں سمجھنے لگی ہوں کہ میرا دل سمیر بھائی پر مائل ہونے لگا ہے اور یہ پہلی بار میرے ساتھ ایسا ہواورنہ انیلہ کب کسی کی پروا کرنے والی تھی نیند میں جانے سے پہلے میں نے کئی بار اپنی آنکھوں کو چھوا جن پر سمیر بھائی نے اپنے بوسے ثبت کئے تھے ۔حسب معمول صبح اٹھ کر اماں کو وضوا کرواکر خود بھی **** ادا کی ۔اس کے بعد کچن میں آگئی اور ناشتہ تیار کرنے لگی۔ سمیر بھائی صبح کی سیر سے واپس آکر غسل کرنے لگے. اتنے میں اریبہ بھی جاگ گئی میں ناشتہ تیار کرچکی تھی اریبہ کو سکول کے لئے تیارکیا اتنے سمیر بھائی غسل سے فارغ ہوگئے میں ناشتہ لیکر ان کے کمرے میں گئی تو مجھے کل والی واردت یاد آگئی ۔ میں نے چور نظروں سے سمیر بھائی کی طرف دیکھا تو وہ میری ہی طرف دیکھ رہے تھے ۔ ان کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا کہ ایک دفعہ تو میں ڈگمگاگئی مگر پھر سنبھل کر ناشتہ کی ٹرے میز پر رکھنے کامیاب ہوگئی مگر اریبہ پھر اپنے والد کی گود سے اتر کر کھڑی ہوگئی کہ آنٹی کل تو آپ میرے ابو کی گود میں نہیں بٹھیں تھی آج تو آپ کو ضروور بٹھاؤنگی ۔ اف یہ افتاد میں نے بے چارگی سے سمیر بھائی کو دیکھا تو انکو مسکراتے پایا اس سے پہلے کہ مجھے غصہ آتا انہوں نے چارپائی سے ایک تکیہ اٹھا کر گود میں رکھ لیا اور کہنے لگے کہ انیلہ تم تھوڑی دیر کو اس تکیہ پر بیٹھ جاؤ تاکہ اریبہ کی ضد پوری ہو جائے میں نے بناوٹی غصہ والا چہرہ بنایا اور سمیر بھائی کی گود میں کرسی پر اس طرح بیٹھ گئی جیسے عورتیں موٹرسائیکل پر پیچھے ایک طرف ٹانگیں کرکے بیٹھتی ہیں ۔ چونکہ میرے نیچے تکیہ تھا اور میں کرسی کے ہتھے سے کچھ اونچی تھی سمیر بھاٰئی کے ہاتھ میرے کندھوں کو چھو رہے تھے اور انکا منہ میرے ابھاروں کے برابر آرہا تھا اور مجھے انکی سانسوں کی گرم ہوا محسوس ہورہی تھی ۔ ایک یا دو منٹ بیٹھ کر میں اٹھ گئی۔ اور اریبہ کو اپنے ابو کی گود میں بٹھاکر کمرے سے نکل آئی میں پریشان ہونے لگی کہ یہ روز کا گود میں بیٹھنا اچھی بات نہیں اریبہ بچی ہے کبھی کسی سے ذکر کردیا تو پھر کیا عزت رہ جائیگی ۔میں نے سوچا دوپہر کو کھانا دینے جاؤنگی تو سمیر بھائی سے بات کرونگی ۔ کل سمیر بھائی آپ نے پرامس کیا تھا کہ کوئی غلط قدم نہیں اٹھائینگے ۔ مگر آج میں چاہتی تھی کہ سمیر بھائی اپنا پرامس پورا نہ کریں ۔ دوپہر کو کھانا دینے گئی تو سمیر بھائی اسی کرسی پر براجمان اخبار پڑھ رہے تھے میں ہولے سے کھانسی تو وہ سیدھا ہوکر بیٹھ گئے کل جب سے وہ معافی مانگ کر آئے تھے تو ہم دونوں کی تنہائی میں پہلی ملاقات تھی میں نے کھانا رکھا اور کھڑی ہوگئی انہوں نے ٹرے اہنے سامنے کی تو میں نے پوچھا ۔۔ جناب جاؤں یا آپ نے ہاتھ پکڑ کر اپنی آغوش میں بٹھانا ہے یہ سن کر سمیر بھائی حیران ششدر ہوگئے ۔ ان کا چہرہ فق ہوگیا اور ہلکلاتے ہوئے بولے. انیلہ میں نے معافی مانگ لی تھی ۔ مگر میں نے تو حضور معاف نہیں کیا. یہ کہتے ہوئے میں اچانک کر انکی گود میں بیٹھ گئی ۔ انکی حالت دیکھنے والی تھی. اور مجھ میں نجانے کہاں سے انکو ستانے کی ہمت آگئی ۔ پھر ان سے فرمائش کی اپنی لاڈلی بھرجائی کو کھانا نہیں کھلاؤگے ۔ تو جلدی سے ایک نوالہ بناکر میرے منہ میں ڈالتے ہوئے کہنے لگے. زہے نصیب. میں نے بھی ایک نوالہ بنایا اور انکے منہ میں ڈال دیا ۔ اب مرد آخر مرد ہوتا ہے میری تھوڑی سی حوصلہ افزائی سے وہ مجھے جہاں وہاں ٹچ کرنے لگے ۔ اتنے تک مجھے محسوس ہوا کہ انکا ناگ سر اٹھانے لگا ہے ۔ تو میں جان بوجھ کر اچھل کر کھڑی ہوگئی اور انکی شلوار کی اٹھان کی کی طرف دیکھتے ہوئے بولی کہ یہ کیا سمیر بھائی آپکی تو نیت خراب دکھتی ہے وہ شرمندہ سے ہوئے اور میں کمرے سے نکل گئی ۔ پہلے تو خالی برتن خادمہ لےآتی تھی مگر آج میں کچھ دیر بعد برتن اٹھانے گئی تو سمیر بھائی چارپائی پر لیٹے سگریٹ کے کش لگارہے تھے ۔ وہ کھانے کے بعد ایک یا دو سگریٹ پیتے ہیں یہ تو مجھے معلوم تھا اس لئیے مجھے کوئی حیرانگی نہیں ہوئی ۔ مگر سمیر بھائی مجھے دوبارہ دیکھ کر حیران ہوئے ۔ میں اسی کرسی پر بیٹھ گئی جس کرسی پر بیٹھ کر وہ کھانا کھارہے تھے ۔ میں نے ان سے کہا سمیر بھائی آپکی گود میں بیٹھ کر آپکی خواہش پوری کردی ۔ یہ اریبہ کے کہنے پر روز آپکی گود میں بیٹھنا مجھے برا نہیں لگے گا مگر یہ اریبہ کے لئے غلط مثال بن جائیگا ۔ اریبہ بچی ہے مگر آپکی گود میں میرا بیٹھنا اسکی یاداشتوں میں رہ بھی سکتا ہے ہوسکتا ہے یہ سب کچھ اسکی ضد کا نتیجہ تھا یہ اسکو یاد نہ رہے ۔مگر میرا آپکی گود میں بیٹھنا اسکو یاد رہے گا اور جوان ہوکر وہ پتہ نہیں ہمارے بارے کیا سوچے اس لئے آپ بھی اسے سمجھائیں اور میں بھی اسے سمجھاؤنگی ۔ وہ بولے ٹھیک کہ رہی ہو ہمیں اریبہ کو سمجھانا ہوگا ۔ میں نے کہا کہ میرے خیال میں آپ اپنے کمرے میں ناشتہ کرنے کی بجائے کچن میں ناشتہ کریں وہاں کافی کرسیاں ہیں بیٹھنے کے لئے ۔ ٹھیک ہے انیلہ کل سے ہم کچن میں ہی ناشتہ کرینگے مگر ایک شرط پر جی بولیں کونسی شرط میں نے پوچھا تو کہنے لگے تم ہمارے ساتھ کچن میں ناشتہ کروگی. اٹس اوکے نوپرابلم ڈن میں نے کہا ۔ ٹھیک ہے کل سے ناشتہ کچن میں ۔۔ میں اٹھنے لگی تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ۔ تو میں نے انہیں اپنا پرامس یاد دلایا تو کہنے لگے کل تمہارا غصہ دیکھ کر ڈرگیا تھا اور آج تو تمہیں دیکھ کر پیار آرہا ہے ۔ اچھا جی یہ پیار سنبھال کر رکھو مجھے ضرورت نہیں یہ کہ کر میں ہاتھ چھڑانے لگی مگر انہوں نے ہاتھ بڑی مضبوطی سے پکڑرکھا تھا میں پورا زور لگانے لگی تو انہوں نے ایک ہی جھٹکے کیساتھ مجھے اپنے اوپر گرالیا اب میں انکے سینے پر گری ہوئی تھی اور میرا نچلا حصہ چارپائی سے نیچے تھا انہوں نے مجھے بھینچ لیا اور میرے گال پر بوسہ دیا تو میں بولی ۔۔ سمیر بھائی مجھے جانے دیں کوئی آجائے گا تو انہوں نے ہاتھ ڈھیلا کیا تو میں نے ہاتھ کھینچا اور تیزی سے کمرے سے نکل آئی ۔ مجھے اپنی سانس بحال کرنے میں کچھ دیر لگی میں اپنی نیم رضامندی دکھا آئی تھی اب آگے سمیر صاحب کا کام تھا کہ موقع کا فائدہ اٹھاتے ہیں یا گنواتے ہیں اپنے قمیض کی سلوٹیں ٹھیک کرکے کچن میں آئی تو خادمہ کھانا کھارہی تھیشام تک روز کے مع****ت میں لگی رہی. رات کو اماں کے پاؤں دباکے سونے سے پہلے میں نے غسل کیا ۔ مجھے قوی امید تھی سمیر بھائی رات کو ضرور میرے پاس آئینگے ۔ کیونکہ میں دانہ ڈال چکی تھی ۔ ٹانگوںکے بال دودن پہلے ہی صاف کئے تھے اس لئے میں اس طرف سے مطمئن تھی ۔ یہاں وہاں اپنے خوشبو لگائی اور دروازے کی چٹخنی لگائے بغیر بند کرکے بستر پر لیٹ گئی ۔ دل میں کافی تشویش اور گھبراہٹ سی تھی کیونکہ میں پہلے کبھی اسی طرح سے کسی سے نہیں ملنے گئی اور نہ ہی کو ئی مجھے ملنے آیا تھا ۔ اور آج میں سمیر بھائی کو خاموش دعوت نامہ دے آئی تھی ۔ وہ آئے نہ آئے کچھ کہ نہیں سکتی تھی ۔ کل سے پہلے اس نے کوئی ایسی حرکت نہیں کی تھی جس سے ظاہر ہوتا کہ ان کے دل میں میرے لئےکچھ ایسے جزبات ہیں ۔ میں جانتی تھی کہ وہ آیا بھی تو کافی دیر بعد ہی آئیگا ۔ اریبہ کے سونے سے پہلے انکا آنا ناممکن تھا ۔ اماں کا کمرہ درمیان میں پڑتا یے. انکو ایک تو سنائی اونچا دیتا ہے اور رات کو وہ کبھی باہر نہیں نکلتیں ۔ انکے کمرے میں زیرو واٹ کا بلب جلتا رہتا ہے۔جس سے انکے سونے یا جاگنے کا اندازہ ہوسکتا ہے ۔ میں انہی سوچوں میں گم خود سے کہتی وہ آئے گا. وہ نہیں آئے گا وہ آئے گا شاید نہیں آئے گا انہی سوچوں میں مجھے نیند آگئی ۔ رات کا جانے کونسا پہر تھا مجھے اپنے کولہوں پر کسی کا ہاتھ پھرتا محسوس ہوا میں چونک سی گئی پھر فورا سمیر بھائی کا خیال آیا تو سوتی بن گئی ۔ سمیر بھائی میرے کولہے پر ہاتھ پھیر رہے تھے ۔ اور معلوم ہوتا تھا وہ میرے برابر میں پیٹھ کے پیچھے لیٹا ہوا ہے میں یونہی لیٹی رہی تاکہ دیکھوں وہ کیا کرتا ہے ۔ میری پوزیشن ایسی تھی کہ میرے کولہے باہر کی جانب نکلے ہوئے تھے اور کمر اندر کی جانب ۔ سر تکیہسے نیچے اور گھٹنے پیٹ کی طرف سکڑے ہوئے تھے ۔کیونکہ میں اسی طرح سوتی ہوں ۔ سمیر بھائی میرے کولہے کی گولائیوں پر ہاتھ پھیر رہے تھے ۔جب میری طرف سے انکو کوئی رسپانس نہ ملا تو انکے ہاتھ کولہوں سے اوپر کمر پر آگئے اور انہوں نے کمر اور پیٹ پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا ۔ مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا. انکا چھونا تو نارمل حالات میں بھی مجھے ناپسند نہیں تھا اور آج تو میں سپیشلی چاہتی تھی کہ وہ بے دھڑک ہوکر مجھے چھوئے اور مسلے ۔ میں یونہی سوتی بنی رہی ۔ سمیر نے میرے گال چھوئے اور تھوڑا سا اٹھ کر دیکھا کہ میں سوئی ہوئی ہوں یا نہیں ۔ اب اس نے کھینچ کر مجھے اپنے ساتھ لگا لیا اور میرے ابھاروں پر ہاتھ پھیرنے لگا ۔ میرے جسم میں ایک عجیب سنسنی خیز حرارت اٹھنے لگی. جو آج سے پہلے کبھی محسوس نہ کی تھی ۔ اس نے تھوڑی دیر مجھے یونہی لپٹائے رکھا ۔ پھر اپنا ایک ہاتھ میرے نیچے سے گزار کر مجھے بلکل ساتھ چپکالیا ۔ اور دوسرا ہاتھ میرے چوتڑوں کو سہلاتا سہلاتا میری ٹانگوں کے درمیان جانے لگا. میں نے اپنی ایک ٹانگ تھوڑی سی اور موڑ لی جس سے اس کا ہاتھ میرے اندرونی حصے تک آسانی سے جاسکتا تھا. مجھے وہ چپکائے ہوئے تو پہلے ہی تھا ۔ اب اس نے اپنا نچلا دھڑ میرے پچھلے حصہ کیساتھ لگایا تو اسکا اکڑا ہوا ہتھیار میرے کولہوں کے بیچ ٹکرایاتو مجھے ایک جھرجھری سی آگئی ۔ اس نے جان لیا کہ میں جاگ رہی ہوں ۔ انیلہ تم جاگ رہی ہو اس نے سرگوشی کی تو میں نے سرگوشی میں ہی جواب دیا جی جاگ رہی ہوں مگر آپ یہ کیا کررہے ہو میں نے اپنا ہاتھ انکے کولہے پر رکھتے ہوئے پوچھا ۔۔ پیار کررہا ہوں انیلہ سمیر بھائی نے جواب دیا. ایسے پیار کیا جاتا ہے سمیر بھائی میں نے پوچھا تو اور کیسے پیار کیا جاتا ہے سمیر بھائی بولے ۔ میں نے کروٹ لی اور اس کے سینے سے لپٹ گئی اور اسکے قمیض کے اوپر سے کندھے پر بوسہ دیکر کہا ایسا کیا جاتا ہے پیار ۔ تو اس نے زور سے مجھے چمٹالیا اور میری گردن پر اپنے ہونٹ رکھ دئیے وہ گردن کو چومتے رہے اور میں مستی کی فضاؤں میں گم ہونے لگی ۔ سمیر کے ہاتھوں میں کوئی جادو سا تھا ۔ میرے انگ انگ میں مستی چھانے لگی ۔ سمیر بھائی ہم جو کررہے ہیں کیا ہمیں یہ کرنا چاہیے میں نے پوچھا تو وہ بولے کرنا چاہیے یا نہیں اس کا مجھے نہیں علم مگر جو ہورہا ہے بہت اچھا ہورہا ہے مجھے یقین ہے تمہیں بھی اچھا لگ رہا ہوگا۔۔۔۔ مگر میں نے کہنا چاہا. اگر مگر چھوڈو جان یہ کہتے ہوئے انہوں نے میرے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں جکڑ لئے ۔ میں اب اس کے بلمقابل تھی تو اسکا راڈ میری رانوں سے ٹکرا رہا تھا ۔ میں نے تھوڑی سی ٹانگیں کھلی کیں تو وہ بدمعاش جھٹ رانوں کے درمیان گھس گیا اور میں نے رانوں کو بھینچ کر اس کو جکڑلیا ۔ ادھر سمیر کی ہاتھ میرے پورے جسم کی سیر کرنے لگے انہوں نے اپنی زبان میرے ہونٹوں پر پھیری تو میں نے اپنے ہونٹ تھوڑے سے کھول دئیے تو اور اپنی زبان اسکی زبان سے ملانے لگی تو وہ میری زبان کو چوسنے لگا ۔ میں مزے لے رہی تھی اس نے اپنے راڈ کو میری رانوں کے درمیان رگڑنے کی کوشش کی تو میں نے رانیں ڈھیلی کردیں تو اسکا راڈ میری منی سےٹکرا کر آگے پیچھے ہونے لگا ۔ میں نے اس کے کولہے پر ہاتھ رکھ کر آگے کی طرف دبایا اور خود بھی تھوڑا آگے ہوئی تو اسکا راڈ میری منی پر جاٹکا جو پہلے ہی گیلی ہوچکی تھی میں نے اسکا ازار بند کھول دی ا اور اس کے راڈ کو اپنے ہاتھوں آزاد کرلیا اور اسکو اپنے ہاتھ میں لیا تو مجھے اس پر بے تحاشا پیار آیا ۔ اس کی لمبائی اور موٹائی کسی بھی عورت کی نیت خراب کرنے کے لئے کافی سے بھی کافی زیادہ تھی ۔سمیر نے ہاتھ بڑھا کر میری شلوار کو کھینچا تو وہ نیچے کھنچتی چلے گئی ۔ کیونکہ میں الاسٹک پہنتی ہوں ۔ میں اب اٹھ کر بیٹھ گئی اور اپنی شمیض اتار کر نیچے پھینک دی اب ہم دونوں ننگے تھے ۔ دروازے کی کنڈی لگائی تھی یا نہیں میں نے سرگوشی کی تو سمیر اٹھا اور دروازے کا کنڈا لگاکر واپس آیا تو اسکے لہراتے لن کو دیکھ کر میرے منہ میں پانی آگیا وہ جب چارپائی کے قریب پہنچا تو میں نے اسکے لن کو ہاتھ میں لیکر اچھی طرح جانچ تول کر دیکھا تو وہ ظالم بہت کام کی چیز نکلا ۔ میں اس کے موٹے ٹوپے کو چومنے لگی ساتھ ساتھ اس ہاتھ سے سہلاتی اور مساج بھی کرتی رہی ۔ سمیر اب کھڑا ہی رہا اور میرے بالوں میں انگلیاں پھیرتا رہا ۔ میں نے اسے قریب کھینچا اور اسکی ناف چومنے لگی ۔۔ اس کا لن میرے مموں سے ٹکراتا تو مستی کی ایک لہر اٹھتی جو میری چوت کے گیلے پن میں اور اضافہ کا موجب ہوتی اور رس لیکرسے نکل کر میری رانوں کو بگھونے لگتا ۔ سمیر کے چوتڑوں پر ہاتھ رکھ کر اسکو مزید اپنے قریب کیا اور اپنے بوبز کو سمیر کے لن کیساتھ رگڑنے لگی. سمیر سے برداشت نہ ہوسکا تو اس نے میرا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور اس پر بوسوں کی بارش کردی. مجھے لٹا کر ساتھ ہی لیٹ گیا سمیر نے اپنا ہاتھ میری بلی پر رکھا پھر ہاتھ کو انچ انچ کرکے نیچے لے جانے لگا ۔ مجھے عجیب سا محسوس ہوا ۔ سمیر کا ٹچ میرے لئے مقناطیس جیسی تاثیر رکھتا ہے تو جب اسکی انگلی نے میر دانے کو چھوا تو میں تڑپ اٹھی اور اسکا ہاتھ سختی سے پکڑ لیا اور اسے سرگوشی کی کہ نہیں سمیر یہ گندی ہے اسے مت ٹچ کرو آپکے ہاتھ گندے ہوجائینگے ۔ تو اس نے میرا ہاتھ ہٹا کر سیدھا میری رستی چوت کے دانے پر رکھا اور مساج کرنے لگا ۔ اسکی ایک انگلی لیکر کے اوپر پھری تو یوں لگا جانے کب سے اس لمحے کا انتظار تھا ۔ اسکی انگلی اندر گئی تو میں اچھل پڑی میرے چوتڑے اوپر اٹھے اور میری کمر ہچکولے کھانے لگی ۔ جیسے جیسے اسکی انگلی اندر باہر ہوتی ویسے ویسے میرے چوتڑے اوپر اٹھتے اور نیچے گرتے ۔میں بدحال ہونے لگی ۔ اسکی ایک انگلی میری چوت کی لیکر کراس کرکے پوری اندر تھی اور انگوٹھے سے وہ میری چوت کے دانے کو سہلارہا تھا ۔ کمرے میں میری تیز سانسوں کی گونج سنائی دینے لگی سمیر کی دوسری انگلی کاکیساتھ اندر جانا تھا میں برداشت نہ کرسکی اور سمیر کیساتھ بے اختیاری میں چمٹ گئی اور اف ظلمی کہتے ہوئے سمیر کے ہاتھوں میں چھوٹ گئی ۔ اتنا رس پہلے کبھی نہیں بہا تھا جتنا رس میری چوت نے آج بہایا تھا ۔ میں نے سمیر کا ہاتھ روکا اور اسکی انگلی کو زبان لگا کرچکھنے لگی ۔ مجھے ٹیسٹ اچھا لگا تو میں اس کی دونوں انگلیوں کو چومنے چاٹنے لگی باری باری ۔ میں ان انگلیوں کی احسان مند تھی جنہوں نے مجھے تڑپا تڑپا کر ڈسچارج کردیا تھا تو میں کیوں نہ ان انگلیوں کو چومتی چاٹتی ۔۔۔۔۔سمیرمیرے مموں کو ہاتھ سے دبانے سہلانے میں لگاہوا تھا ایک مما اس کے منہ میں تھا دوسرے کو وہ ہلکے دباتا اور مسلتا تو میری رگ رگ پر نشہ طاری ہونے لگتا تھا ۔ میں اس کے لن کو ہاتھ میں لیکر مسلنے لگیپیار سے ۔ اس پر تو بہت پیار آرہا تھا ۔ وہ تھا ہی بہت پیارا ۔ میں جانتی تھی کہ اب یہی میری راتوں کو سہارا اور دن کو خیالوں کا مرکز رہیگا ۔ سمیر میرے مموں کو چومتے دباتے کچھ اطاولے(دیوانے)سے ہورہے تھے میں نے انکے لن پر مساج تیز کردیا اور ساتھ ساتھ اسے دبابھی دیتی ۔ سمیر اٹھے اور میری ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گے انکا لن میری چوت کو سلامی دینے لگا تو میں نے پوچھا سمیر کیا کرنے لگے ہو تو کہنے لگے پیاسے کو سیراب کرنے لگا ہوں پیار کی ندیا میں میں غوطے لگائے گا تو اس کی جنم جنم کی پیاس بجھ جائیگی ۔۔۔۔ سمیر چمنی اتنی گرم ہے کہ یہ بےچارہ اندر جل جائے گا کیوں نا آج اسکو کنارے کنارے بھگولو اور پھر کسی رات اسے اندر ڈبکی لگانے کا موقع دینا ۔سمیر یہ سن کر مایوس تو ہوا مگر میں نے ٹھانا تھا کہ آج کی رات تو باہر باہر سے ہی مزے کرینگے ۔ سمیر نے کچھ کہے بغیر میری ٹانگیں اپنی کمر کے گرد لیں اور اپنا لن میری چوت کے اوپر عمودا رکھ کر رگڑنے لگا ۔ وہ شاید برداشت نہیں کرپارہا تھا اسکا لاوا باہر نکلنے کوبے تاب تھا کسی بھی وقت سیلاب بند توڑ کر باہر نکل سکتا تھا ۔تو میں نے کہا سمیر آپ لیٹ جاؤ اور میں نے پہلو بدل کر اس کی جانب اپنی پیٹھ کرلی اور اسکا لن پکڑ کر اپنی رانوں میں لے لیا ۔ میری رانیں تو گیلی تھیں پھر بھی میں نے لن کو تھوک سے خوب گیلا کیا اور رانوں کے اندر بھینچ لیا ۔ سمیر نے ہلنا اور دھکے لگانا شروع کیا ۔ اسکا لن آتے جاتے میری چوت کو بھی مسل رہا تھا ۔ سمیر نے ایک بازو میری کمرکے نیچے سے گزار کر میرے ایک ممے کو پکڑلیا اور اسے دبانے لگا اور اسکا دوسرا ہاتھ میرے چوتڑے سہلارہا تھا سمیر زور سے رگڑو میری چوت کو مسل ڈالو ۔۔ میں اسے سیکسی آوازوں سے جوش دلارہی تھی سمیر بھی میری رانوں کے درمیان خوب لن رگڑ رہا تھا میں بار بار اپنا تھوک اس کے لن پر لگادیتی جلد ہی سمیر کے سانسوں کی آواز تیز تر ہوگئی تو اس نے میرے چوتڑے پکڑ کر زور زور سے دھکے لگائے تو میری چوت نے پھر کنارے بگھودئے اور میں دوسری بار ڈسچارج ہوگئی اور اسی وقت سمیر کے لن نے ایک فوارہ چھوڈا جو میری رانوں اور بستر کی چادرکو بگھوگیا ۔ اسکی پچکاری میری رانوں کو چیرتی ہوئی نکلی اور فرش پر جاگری سمیر کچھ دیر تک پچکاریاں مارتا رہا اسکا جسم لرزتا اور کانپتا اور لذت سے جو اسکے منہ سے آوازیں نکل رہی تھیں وہ ماحول کو خوابناک بنارہی تھیں ۔ اس نے مجھے سختی سے بھینچ لیا تھا اور میں بے بس ہوگئی تھی اسکی جنونی حالت دیکھ کر ۔ مجھے افسوس ہوا کہ میں اندر ڈلوالیتی تو کتنا سواد آتا ۔۔۔۔ مگر جو بھی ہوا مزہ بہت آیا سمیر نڈھال ہوکر وہیں لیٹے رہے میں نے انکی طرف اپنا رخ کیا اور انہیں چومنے لگی ۔میں خوش تھی کی میرے کہنے کی سمیر نے لاج رکھ لی ۔ اور سامنے پڑی کھانے کی ڈش کو کھانے کی بجائے میری مرضی کے مطابق چکھنے پر ہی اکتفا کیا ۔ تھوڑی دیر انہیں لپٹائے رکھا ۔ اس کی سانسیں بحال ہوئیں تو اٹھ کر اس کے لن کو کپڑے سے صاف کیا پھر اپنی چوت اور رانوں کو بھی خشک کیا ۔ بیڈ شیٹ جو گیلی ہوچکی تھی کو نکال کر نیچے فرش پر پھینک دیا۔ اور سمیر سے چمٹ گئی ۔ تھوڑی دیر بعد اسکی طرف دیکھا تو اسکے چہرے پر بڑی پرسکون مسکراہٹ دیکھ کر میں شاد ہوگئی ۔ اسکی آنکھیں بند تھیں اور اسکے چہرے کی طمانیت بتارہی تھی کہ سمیر بہت سکون میں اور خوش ہے ۔ یہی تو میں چاہتی تھی ۔۔ میری پہلی محبت سمیر ہی تو ہے سمیر کی آنکھیں بند تھیں مگر اسکے چہرے کی طمانیت بتارہی تھی کہ سمیر بھائی بہت خوش ہیں اور یہی تو میں چاہتی تھی. میری پہلی محبت سمیر ہی تو ہے. مجھے اس پر پیار آرہا تھا سچ تو یہ ہے وہ مجھے بہت اچھے لگنے لگے تھے ۔ اور وہ تھے ہی بہت اچھے دکھنے میں بھی اور عمل میں بھی ۔سمیر بھائی میں اب آپ کو تم کہاکرونگی میں نے انکی چھاتی کے بالوں میں انگلیاں گھماتے ہوئے کہا برا تو نہیں مناؤگے ۔ نہیں جان مجھے تو اچھا لگے گا ویسے بھی میں تو اور تم کہنا اور کہلوانا پسند کرتا ہوں مگر تم بھی مجھے بھائی کہنا چھوڈ دو ۔کہ اب ہمارا رشتہ ان القاب کی اجازت نہیں دیتا ۔انہوں نے میرے نپلز پر چٹکی کاٹتے ہوئے کہا ۔تو میرے منہ سے سی ۔۔۔۔ سی نکلی ۔۔ جی یہ تو سہی ہے ۔ میں تو تمہیں جانی یا جانوکہنا چاہونگی مگر ڈرتی ہوں کہ عادت بن گئی تو کسی کے سامنے منہ سے نکل گیا تو بڑی سبکی ہوگی. میں تمہیں دوسروں کے سامنے سمیر بھائی ہی کہونگی ہاں مگر تنہائی میں جو بھی بول دوں چلے گا. کیوں کیا خیال ہے ویسے بھی کسی کو بھائی بولنے سے کوئی بہن تو نہیں بن جاتی. سمیر نے مجھے چومتے ہوئے کہا ۔ اور مجھے اہنے سینے کیساتھ بھینچ لیا۔ اسکی چھاتی کے گھنے بال میرے بوبز سے لگے تو میرا لوں لوں کھڑا ہوگیا ۔ معلوم نہیں سمیر میں کیا تھا انکی ہر چیز ہی مجھے مزہ دیتی ۔ مجھے یاد آیا شادی کے شروع کے دنوں میں کوئی چیز پکڑاتے وقت انکی انگلیاں میری انگلیوں سے ٹچ ہوئیں تھیں تو میرے پورے جسم میں ایک کرنٹ سا لگا اور ایک سنسنی کی لہر سر سے لیکر پاؤں تک سارے بدن میں دوڈ گئی تھی ۔ میں حیران رہ گئی تھی. کیونکہ صغیر میرے خاوند کے چھونے کا مجھ پر ایسا اثر نہیں ہوا تھا ۔ پھر جب بھی سمیر بھائی نادانستگی میں مجھ سے چھو جاتے تو مجھ میں ایک میٹھی لہر سی پھر جاتی۔سمیر ایک بات پوچھوں اگر سچ بول سکو تو بتانا ورنہ خاموش رہنا میں نے سمیر کے بالوں میں انگلیوں سے کنگھی کرتے ہوئے پوچھا ۔ ہاں جانم پوچھو میں سچ ہی بولتا ہوں ۔ انہوں نے کہا تو میں نے پوچھا ۔ کیا کبھی تم نےسوچا تھا کہ میرے ساتھ لیٹو اور اپنے اسکو میری اس پر رگڑو۔ میں نے اس کے لن کو چھوتے ہوئے کہا جو پھر کھڑا ہوچکا تھا۔ نہیں ایسا تو نہیں سوچا تھا مگر تم شروع سے ہی مجھے اچھی لگیں تھیں ۔دراصل جب اریبہ کی ممی فوت ہوئیں تو میری دنیا ہی اندھیر ہوگئی تھی. میں ان سے بہت محبت کرتا تھا اسکی جدائی میرے لئے گہرا صدمہ تھی. میں نے تہیہ کرلیا کہ کسی اور عورت کے پاس نہیں جاؤنگا اور نہ ہی شادی کرونگا۔ مگر اریبہ کا بن ماں ہونا بھی ایک مسلہ تھا امی جان کے لئے اریبہ کو سنبھالنا مشکل کام تھا کیونکہ وہ خود پیرانہ سالی کی وجہ سے بیمارہی رہتیں ۔ تو میری بہن سمیرا اریبہ کو سنبھالتی ۔ انہوں مجھے بہت مجبور کیا کہ شادی کرلوں کئی ایک رشتے دیکھے بھی گئے میں ہر بار مسترد کردیتا کیونکہ مجھے اریبہ کے لئے وہ رشتے نامناسب لگتے تھے ۔ پھر تمہاری بات چلی ۔ جس طرح امی جان نے تمہارے گن گائے اور تعریف کی تو میرا دل بھی نرم پڑگیا کہ اتنی پیاری لڑکی کو اپنا لینا چاہیے ۔ مگر حسب توقع تمہارے گھر والوں کی طرف سے انکار ہوگیا ۔ یقین جانو میرا دل ٹوٹ گیا ۔ ایک مدت کے بعد دل دھڑکا وہ بھی تمہارے لئے مگر ۔۔۔۔۔۔ پھر گھر آکر ہم سب نے بحث کی کہ اریبہ کے لئے انیلہ سے بہتر ساتھی ملنا مشکل ہے ۔تو صغیر کی منتیں کی گئیں ۔۔۔۔کہ وہ شادی کرلے یوں تم ہمارے گھر آگئیں ۔ تمہیں روز دیکھتا تمہارے بولنے کا طریقہ ۔ چلنے کا انداز کیسے تم مسکراتی اور اریبہ کیساتھ کھیلتے ہوئے بچی بن جاتی سب کچھ میرے سامنے ہی تو تھا ۔ میں ڈرتا تھا کہ میں کہیں غلطی سے تمہیں کچھ کہ نا بیٹھوں نادانستگی میں تمہیں دل کا داغ دکھا نے لگ جاؤں ۔ تو میں نے کوشش کی کہ تمہارے لئے میرے جزبات تم پر ظاہر نہ ہوں ۔ میرا یہی خیال تھا کہ تمہارا خاموش چاہنے والا بن کر زندگی گزار دونگا۔ اس لئے شروع شروع میں تم سے بےرخی بھی اختیار کی ۔اور اپنا رویہ سرد رکھا۔ مگر تم روز بروز میرے خیالوں میں سمانے لگی تو میں نے سوچا تم سے دوستی کرنے میں کیا ہرج ہے ۔۔ مگر جو آج ہم دونوں میں ہوا میرا ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا یہ ایک اتفاق سمجھ لو ۔ شاید یہ ایک فطری پیش رفت ہو اور ہم اس کی زد میں آگئے ۔۔۔۔ جانی تمہارے کہے ایک ایک لفظ پر مجھے اعتبار ہے یہی میرے دل کی آواز تھی مگر ایک بات کی سمجھ نہیں آئی ۔۔ کہ کیا وجہ تھی کہ صغیر کا رشتہ پہلے نہیں بھیجا گیا کیونکہ اس پر ہمارے گھر میں کافی حیرت کا اظہار ہوا تھا۔ ۔ انیلہ اس ٹاپک پر پھر بات کرینگے سب باتیں ایک ہی دفعہ تو نہیں کی جاتیں ۔۔ یہ کہتے ہوئے مجھے سینے سے چمٹاکر میرے ہونٹ اپنے لبوں میں لے لئے ۔میں اسکا جواب دینے لگی اور اسکی کمر پر ہاتھ پھیرنے لگی اور کبھی ایک دو مکے بھی ہلکے سے لگادیتی. اسکا لن پھر مستی میں اکڑا ہوا میری رانوں میں گھسنے کے لئے ٹکریں ماررہا تھا ۔ اور میری پھدی بھی اسکا استقبال کرنے کے لئے کھنلے اور بند ہونے لگی اور میرے پورے بدن شہوت کی لہر سوار ہوگئی میں نے سمیر کو اوپر کھینچا تو وہ میرے اوپر لیٹ گیا اسکا لن میری رانوں کے بیچ پھدی کی لیکر کو کھجانے لگا ۔ میں مستی میں ڈوبنے لگی میرے ہاتھ نے انکا لن پکڑ کر اپنی چوت پر مسلا تو سمیر میری بےچینی بھانپ گیا اس نے لیٹے لیٹے میری ٹانگوں کو کھڑا کیا اور میری چوت پر لن ٹکا کر پوچھا ۔ اجازت ہے میری رانی ۔۔ میں نے شرماتے ہوئے کہا ۔ اہنا ہی گھر سمجھو جانی ۔۔ وہ ہٹ کر دھکا لگانے لگا تو میں نےاسکی ناف پر ہاتھ رکھتےہوئے کہا جانی خیال سے تمہارا ٹوپا بہت موٹا ہے ذرا دھیرے سے ۔۔ اس نے میرے ہونٹوں پر بوسہ دیتے ہوئے کہا گھبراو نہیں. اور اپنے ہاتھ سے میری پھدی کھولتے ہوئے لن کو ٹکایا ۔ تو میں نے کہا ٹھیک ہے ایک ہی جھٹکے سے اندر ڈال ڈال دو ۔ اس نے ٹوپا دھیرے سے اندر کیا اور میری آنکھوں میں دیکھا تو میں نے شرماکر آنکھیں جھکا لیں ۔۔ اس نے واقعی ایک زبردست جھٹکے میں اندر کیا تو میری چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی ۔۔ظالم لن کا ٹوپا تو موٹا تھاہی لمبائی بھی کم نہ تھی یہ تو جب اندر پہنچا تو معلوم ہوا 7 انچ سے زیادہ ہی ہوگا۔ کم نہ تھا ۔سمیر تھوڑی دیر رکا تو میرے سانس ہموار ہوئے اور پھر سمیر نےیولے ہولے مجھے چودنا شروع کیا میں ٹانگیں تھوڑی سی کھولیں تاکہ سمیر کھل کھیلے ۔ اس کے ہاتھ کبھی میرے بوبز کو دباتے کبھی میرے چوتڑوں کو مسلتے ۔۔ میں مدہوش ہوکر مزے لینے لگی ۔سمیر پہلے ایک بار فارغ ہوچکا تھا اس لیے وہ اپنا ٹائم لے رہا تھا کبھی آہستہ کبھی تیز دھکوں سے مجھے چودتے ہوئے بہت پیارا لگ رہا تھا ۔ ایسا مزہ آج تک مجھے نہیں ملا تھا ۔ نہ ہی چوت اس طرح بھری تھی ۔یوں لگا ان کا لن جیسے میری چوت کے لئے ہی بنا ہو ۔ اسکے دھکوں میں تیزی آئی تو میں نے بھی نیچے سے دھکوں کو جواب دینا شروع کردیا تھوڑیہی دیر کے بعد کمرہ ہم دونوں کی لذت بھری آوازوں سے گونجنے لگا ۔سمیر لمبے سٹروک لگارہا تھا سمیر لن کو چوت کے منہ تک لے آتا پھر زور سے آخر تک لے جاتا جس سے میرا انجر پنجر ہلنے لگتا ۔ میں نے ٹانگیں اسکی پیٹھ پر بھینچ لیں اور اسکی سپیڈ کا ساتھ دینے لگی چند ایک زوردار جھٹکوں کے بعد سمیر نے ایک کپکی لی اور عجیب سی آوزیں نکالتا چھوٹنے لگا ۔ اسکے گرم گرم لاوے کی پہلی دھار گرتے ہی میں بھی فارغ ہوگئی ۔ اس کے گرم لاوے نے میری چوت کو اندر سے بھر دیا تھا ۔ سمیر چھوٹتے چھوٹتے آخری دوچار کرارے دھکے لگا کر مجھ پر ہی گرگیا ۔ اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگا ۔ میں اسے چومنے لگی اور بانہوں میں دبا کر بھینچنے لگی ۔وہ پسینہ پسینہ ہورہا تھا میرا سارا جسم اسکے پسینے سے بھیگ گیا ۔ اس کے پسینے کی خوشبو نے مجھے مدہوش کردیا ۔ اور ہم یونہی لیٹے رہے ۔۔۔ کچھ دیر کے بعد ہم **** کی آواز کیساتھ ہی سنبھلے ۔ سمیر اٹھا تو میں نے تولیہ کیساتھ اسکا پسینہ خشک کیا اسے شلوار اور قمیض پہنائی اور وہ مجھے بوسے دیکر کمرے سے نکل گیا۔ اور میں چارپائی پر لیٹی ہوئی غنودگی میں چلی تھوڑی دیر بعد میری غنودگی ٹوٹی تو میں نے ایک مستی بھی انگڑائی لی اٹھ کر بیٹھ گئی . مجھے اپنی برہنگی کا احساس ہوا تو فرش پر اپنے اترے ہوئے کپڑے اٹھا کر غسل خانے میں داخل ہو گئی . اور گنگناتے ہوے سب کچھ مل مل کر اوپر نیچے سے صاف صفا کر کے خوب نہائی اور دوسرا جوڑا پہن کر کچن میں آ کر سب کے لئے ناشتہ تیار کرنے لگی . پھر یاد آیا آج سے تو سمیر بھائی اور اریبہ نے بھی کچن میں ہی ناشتہ کرنا ہے جلدی سے سٹور سے ایک رنگین کرسی اٹھا لائی اور اسے جھاڑ پونچھ کر دوسری کرسیوں کے ساتھ ٹیبل کے سامنے رکھ دیا . تاکہ اریبہ اس پر بیٹھ کر ناشتہ کرے . اتنے میں سمیر صبح کی سیر سے واپس آئے سیدھے کچن میں ہی چلے آئے . انہیں دیکھ کر گزری رات نظروں کے سامنے آ گئی اور میں شرما سی گئی . انہوں نے نے آگے بڑھ کر مجھے اپنی باہوں میں قید کر لیا اور میری گردن پر اپنے ہونٹ رکھ دئیے . اففففف ان کے گرم ہونٹوں کے لمس نے تو آگ ہی لگا دی ؛ میں تڑپ اٹھی اور ان کی بانہوں میں مچلنے لگی . ان کا نٹ کھٹ میری ٹانگوں سے ٹکرانے لگا اور مجھے میں گیلا کر گیا . ایسے ٹچ بھی کتنا مزہ دیتے اور اثر رکھتے ہیں . کبھی اتفاق نہ ہوا تھا . اب جان گئی سب ٹچ نہیں کوئی کوئی ٹچ مقناطیس کی مانند اپنی جانب کھنچے چلا جاتا ہے . جیسے سمیر کے ہاتھوں میں کوئی جادو سا ہو مجھے چھو بھی لے تو میرے بدن کا لوں لوں کھڑا ہو جاتا ہے اور بدن کے سارے ساز بجنے لگتے ہیں ؛. اب اسکا کارندہ بیتابی دکھانے لگا تو میرا من بھی چاہنے لگا کہ کوئی شرارت ہو جائے . ناشتہ سے قبل ہی کچھ سواد لے لیا جائے . مگر جانتی تھی کے ٹائم اریبہ کے اٹھنے کا ہے اس لئے جلدی سے نہ چاہتے ہوے بھی میں سمیر کی بانہوں کے حصار سے نکل آیی ان کو سوری بول کر میں ابلے انڈوں کو چھیلنے لگی . میری انکی طرف پیٹھ تھی میں یہی سمجھی سمیر غسل کے لئے چلا جایئگا ؛ مگروہ میرے پیچھے ان کھڑا ہوا اور " میری جان تھک گئی ہوگی " کہتے ہوئے میرے شانوں کو دبانے لگا ؛ میں کھلکھلا کر ہنس دی . رات کو تم نے کونسی کسر چھوڑی تھی . ارے میں نے کیا کیا وہ ہنستے ہوئے کہنے لگا ؛ ہاں جی تم نے کیا کرنا تھا میری ناف تک تو چوٹیں لگاتے رہے میں نے ہاتھ پیچھے کر کے اس کے راڈ کو دباتے ہوئے کہا جو میرے کولہوں پر مشق آزمائی کر رہا تھا . اس نے میری گردن ہونٹ رکھ دئیے . اسکے ہاتھوں کی میرے شانوں پر گرفت اور انہیں دبانے کے انز سے مجھے یوں لگا جیسے میری آنکھیں بھاری ہو گئی ہیں اور ان میں خمار سا اتر آیا ہے . میں نے اپنی پیٹھ ان کی چھاتی پر ٹکا دی اور جیسے ان کے سہارے کھڑی ہو گئی . وہ مجھے چومنے لگ گئے اور انکا ڈنڈا میرے کولہوں پر دباؤ ڈالنے لگ گیا تو میں بہکنے لگی . وقت کی نزاکت نے مجھے احساس دلایا کہ بہکنے اور بہکانے کے لئے ٹائم بلکل مناسب نہیں . میں نے انکے ماسٹر کو پیر سے دبایا اور انہیں بولا کہ اب تشریف لے جایئں پلیز . " دن کے وقت ہمیں محتاط رہنا ہوگا جو کچھ بھی کرنا ہے اسے رات کے لئے رہنے دیں " یہ کہتے ہوے میں انہیں نرمی سے کچن سے باھر چھوڑ آئ . اب آپ اچھے بچوں کی طرح جا کر غسل کریں اور اریبہ کے ساتھ آ کر ناشتہ کریں . وہ اپنی قمیض میں اٹھے ہوے ابھار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے کہ " میرا نہیں تو اس غریب کا تو خیال کرو . اس کے جان لیوا اٹھ کو دیکھ کر ایک بار پھر میری طبیعت مچل اٹھی مگر میں نے اسے کہا اس کو رات کو ہی دیکھونگی اور ساری رات آرام بھی نہیں کرنے دونگی . اب تم جاؤ نہ مجھے ستاو نہ آزماؤ پلیز , وہ ہنستے ہوئے چلے گئےتھوڑی دیر بعد اریبہ آ گئی تو اسے اسکول کے لئے تیار کیا اور اسے رنگین کرسی دکھاتے کو بتایا کہ آج سے میری رانی اس پر باتھ کر ناشتہ کیا کرے گی . کرسی پر بیل بوٹے بنے ہوے تھے تو اریبہ خوش ہو گئی کہ سپیشل کرسی پر بیٹھ کر وہ ناشتہ کیا کرے گی . اور اس پر بیٹھ کر اپنے ابو کا انتظار کرنے لگی . سمیر تیار ہو کر آئے تو اریبہ کو پیار کر کے اس کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئے . میں بھی ناشتہ ٹیبل پر لگا کر ان کے ساتھ ہی بیٹھ گئی . اربا بھی خوش ہوگی کہ آج آنٹی بھی ناشتہ میں شریک ہیں . سمیر کی شوخ نظریں مجھ پر ٹکی ہوئی تھیں اور میں شرما رہی تھی . ان کی بے باکی سے مجھے ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں اریبہ نوٹس ہی نہ لے لے . سوچا انک رات کو سمجھاونگی کہ دن اور دوسروں کے سامنے ہمیں کیسے اور کتنا محتاط رہنا ہوگا . انہوں نے بڑی سویٹ کلون لگائی ہوئی تھی جو مجھے مدہوش کئے جا رہی تھی . موقع نہیں تھا ورنہ انہیں سمیل سمیت اپنے اندر سمو لیتی ناشتہ کر کے سمیر اریبہ کو اسکول ڈراپ کرنے چلے گئے تو میں اماں کو ناشتہ کروایا . ان کا غسل کرنے کا موڈ تھا تو میں نے ان کے لئے پانی گرم کر کے رکھا اور دھلے ہوئے کپڑے نکال کے رکھ دیئے باھر آئی تو خادمہ آ چکی تھی . شکر کیا کہ وہ آ گئی ہے کیونکہ سمیر نے ساری رات جگایے رکھا تھا تو نیند آنکھوں میں اتری جا رہی تھی اریبہ کو چھوڑ کر سمیر اے تو ان کو چاہے کا کپ دے کر بتایا کہ میں سونے جا رہی ہوں . کھیتوں سے واپس آؤگے تو ملاقات ہوگی . ظھر کی **** کے وقت اٹھی . **** ادا کی پھر باقی دن حسب معمول گزر گیا . شام کے ڈھلتے ہی میرا بدن ٹوٹنے لگا . طبیعت مچلنے لگی ایسا میرے ساتھ پہلے کبھی نہ ہوا تھا . ایسا لگنے لگا جیسے میرے انگ انگ سے جوانی پھوٹنے لگی ہو . میں انگڑائی پی انگڑائی لیتے ہوئے اپنے محبوب کی طلب بے قرار ہونے لگی . آنے والی رات کے تصور ہی سے میں ٹپکنے لگی اور میری رانوں تک گیلی ہو گیں . مگر ابھی تو شام ڈھلی تھی اور پھر رات کو اترنا تھا . پھر اپنے محبوب کی راہ تکنی تھی مجھے اسکے ایک ٹچ کے لئے میرا انگ انگ بیچین ہو رہا تھا . نہ جانے سمیر کے ٹچ میں کیا تھا کہ میں اور میرا جسم اسی کا ہو کر رہ گیا . رات کو سب کام نمٹا کر کمرے میں آ کر میں نے غسل کیا اور اپنا پسندیدہ عطر یہاں وہاں لگایا اور کچھ پہنے بنا ہی بیڈ پر دراز ہو گئی . میں سمیر کو سرپرائز دینا چاہتی تھی . اس نے کہا تو نہیں کہ وہ آئے گا مگر مجھے یقین تھا کہ وہ ضرورآئیگا , جذبۂ عشق سلامت ہے تو ------------------ کچے دھاگے سے چلے آئیں گے سرکار بندھے ؛ کے مصداق ان کے آنے کا یقین تھا . میں نے چادر اوڑھ لی اور لیٹ کر ان کے ہی بارے سوچنے لگی اور نہ جانے کب آنکھ لگ گئی . میری رانوں میں گدگدی ہونے لگی تو میری آنکھ کھل گئی دیکھا تو سمیر نے ے مجھے پیچھے سے اپنے گلے سے لگارکھا تھا اسکے ایک ہاتھ نے میری کمر کے نیچے سے گزر کر میرے ایک ممے کو پکڑ رکھا تھا اور دوسرے ہاتھ نے اوپر سے دوسرا مما پکڑا ہوا تھا. اور انکو ہلکے ہلکے دبارہا تھا ۔ میں سمیر کے انتظار میں ننگی ہی سوئی تھی. اور اب سمیر نے پیچھے سے اپنا سب کچھ مجھ سے لگا رکھا تھا اور اسکا نٹ کھٹ پیچھے سے میری رانواں میں رینگ رہاتھا جس سے مجھے جلول کا احساس ہورہا تھا ۔ میں یونہی کچھ دیر لیٹ کر مزے لیتی رہی ۔ سمیر کبھی میرے شانوں پر بوسے دیتا تو کبھی میری گردن کو دیوانہ وار چومنے لگتا جس سے مجھ پر مدہوشی کی کیفیت طاری ہوریی تھی ۔ میں نے تھوڑی ٹانگیں کھول کر اس کے راڈ کو اندر گھسنے کی جگہ دی تو وہ جان گیا کہ میں بھی جاگ کر مزے کے کھیل میں شریک ہوچکی ہوں ۔ انہوں نے میرے نپل پر ایک چٹکی لی تو میں اف کرتے ہوئے پلٹی اور اسکی چھاتی سے اپنا سینہ چمٹالیا ۔ اس نے مجھے بھینچتے ہوئے میرے لبوں کو اہنے ہونٹوں میں جکڑلیا ۔ میں انے اہنی زبان کی نوک سے اسکے ہونٹوں کو چھوا تو اس نے میری زبان کو اپنے منہ میں لیکر چوسنا شروع کردیا ۔ میں اس کی گردن اور شانوں پر ہاتھ پھیرنے لگی ۔وہ بڑی شدت کیساتھ میری زبان کو چوس رہے تھے ۔اور میں مست ہوتی جارہی تھی انکا شرارتی منا میری رانوں میں اٹھکیلیاں کرتے ہوئے میری منی کو بھی چھیڑ دیتا تو میں اپنے کولہوں کو اس کی طرف دبادیتی ۔ میری چوت تھوڑی گیلی ہوچکی تھی اس کے نٹ کھٹ کے لمس نے میری لکیر کو بگھودیا تھا اور میرے بدن کی طلب شدت اختیار کرچکی تھی ۔میں نے اپنی زبان سمیر کے منہ سے نکالی اور اسے چومنے لگی ۔اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے میں نے اہنے ہونٹ اسکی کشادہ پیشانی پر رکھ دئیے اور پھر اسکے گالوں پر بوسے دیتے ہوئے گردن پر آگئی گردن پر بوسے دینے کیساتھ ساتھ اسکی چھاتی کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی رہی اور اسکے چھوٹے چھوٹے نپلز کو چھوا باری باری. پھر اسکے گلابی نپلز کو منہ میں لیکر چوسنے لگی باری باری. جب میں نے سمیر کے نپلز کو منہ میں لیا تو وہ تڑپ اٹھا اور اس کے منہ سے لذت بھری سسکاریاں نکلنے لگیں ۔میں چومتے چومتے سمیر کی ناف تک آگئی اور پھر اپنی زبان کی نوک سے اسکی ناف کو کھجانے لگی ۔ میرا ایک ہاتھ رینگتا ہوا اسکی ناف سے نیچے گیا اور میں نے اسکا لہراتا ہواناگ ہاتھ میں دبوچ لیا. جو بہت بے چین ہورہا تھا۔ اف اسے ہاتھ میں لیکر یوں لگا جیسے کوئی گرم راڈ ہاتھ میں پکڑلیا ہو۔ میرے ہونٹ ناف کے نیچے ایک ایک انچ کو چومتے ہوئے اسکے راڈ تک جاپہنچے ۔ اب میں بیٹھ گئی اور اس کے راڈ کو ہلانے لگی اس کی اچھی طرح جانچ کرنے لگی اس کو سہلاتے ہوئے مجھے اس پر بے تحاشا پیار آرہا تھا میں نے دیوانگی کیساتھ ٹوپے کو چوم لیا تو سمیر کے منہ سے ایک لزت آمیز سسکاری نکلی تو مجھے اور بھی جوش آگیا اور میں نے سمیر کے راڈ کو اوپر سے نیچے تک بوسے دینے شروع کردئے سمیرکے ہاتھ میرے سر پر آٹکے ۔میں نے سمیر کے شہزادے کو چوم چوم کر تر کردیا ۔ پچھلی رات بھی اس سے مزہ لیا تھا اور آج تو میں بلا جھجھک اپنی سب حسرتیں پورا کرنا چاہتی تھی. میں نے اپنی زبان کی نوک سے اسکی اکلوتی آنکھ کو کھجایا تو عجیب سا ذائقہ محسوس ہوا ۔ دیکھا تو وہاں لیس دار مادے کا قطرہ چمک رہا تھا انگلی سے مسل دیا تو وہ سارے ٹوپے پر پھیل گیا ۔ میں ٹوپے کو منہ میں لیکر اسکے ارد گرد زبان پھیرنے لگی ۔ سمییر لذت کی انتہا کو پہنچا ہوا تھا اس نے میرے سر کو نیچے کی جانب دبایا تو اس کا راڈ آدھا میرے منہ میں آگیا اور میں اسکو لالی پاپ کی طرح چوسنے لگی ۔ مجھے یہ اس لیے اچھا لگ رہاتھا کیونکہ سمیر کو مزہ آرہا تھا ۔ اور میرے ہر چوپے کیساتھ اس کے منہ سے لذت بھری آوازیں نکل رہی تھیں ۔ سمیر میری رانواں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے میری منی کو کھجانے لگا ۔ میں تو کب سے گیلی ہورہی تھی لیکر پر پھرتے پھرتے اسکی انگلی لیکر کے اندر گئی تو میں مزے سے تڑپ اٹھی میں نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے دانے پر رکھا تو سمیر اسکو دو انگلیوں میں لیکر مسلنے لگا. اب میرے لئے برداشت کرنا مشکل تھا ۔ میں نے آج سمیر کو چودنے کی ٹھانی ہوئی تھی ۔ اس لئے میں ایک ٹانگ اس کے اوپر سے گھماکر اس کے اوپر آگئی ۔ اس کا لن راڈ کی طرح سختی سے تن کر کھڑا تھا ۔ جس کو میں نے ہاتھ میں لیا اور اپنی ٹپکتی پھدی اس پر ٹکا کر اس کو لیکر پر مسلنے لگی اسکا ٹوپا گیلا ہوگیا تو میں نے چوت کو ٹوپے پر رکھا اور ہولے ہولے نیچے اترنے لگی ۔ سمیر کے دونوں ہاتھوں نے مجھے کمر سے تھاما ہوا تھا ۔ میں اپنی مستی میں انچ بائے انچ لن کو اپنے اندر سموتی مزے سے سرشار اپنی ہی دھن میں اسکا سات انچ کا پورا لوڑا لیکر بیٹھ گئی ۔ میرے ہاتھ سمیر کی چھاتی پر ٹکے یوئے تھے ۔اور سمیر میرے مموں کو اپنے ہاتھوں میں لیکر ہولے ہولے دبارہا تھامیں سمیر کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ہولے ہولے اوپر نیچے ہونے لگی. اس کی آنکھوں میں شہوت دیکھ کر میں لن پر اچھلنے کودنے لگی ۔ لن پھدی میں بڑی آسانی سے جارہا تھا ۔پھسلتے ہوئے اس کی رگڑ سے میری چوت اس کو بھینچنے لگتی تو ہم دونوں کے منہ سے نکلنے والی لذت بھری سسکاریاں کمرے میں گونجنے لگتیں ۔میری سپیڈ بڑھنے لگی تو سمیر نے بھی نیچے سے دھکے لگانے شروع کردئیے ۔ جس نے مجھے اور پرجوش کردیا اور میں تیزی سے لن کو بھینچتے ہوئے اوپر نیچے ہونگے لگی تو مساموں سے پسینہ پھوٹنے لگا ۔ سمیر کی پیشانی پر بھی پسینے کے قطرے چمکنے لگے ۔ میں جھڑنے لگی تو سمیر کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دئے ۔ سمیر نے نیچے سے زورا دار جھٹکے دئیے اور میرے ساتھ ہی فارغ ہوگیا ۔ میں اس کے اوپر ہی گرگئی ۔ ہم دونوں کی سانس کی آواز سے کمرے کی فضا مترنم ہوگئی اور ہمارے جنسی مواد اور پسینے کی خوشبونے کمرے کی فضا کو خوابناک بنادیا ۔ میں کافی دیر سمیر کے اوپر لیٹی رہی ۔ اسکا لن آہستہ آہستہ چوت سے پھسل کر باہر نکلا تو میں سمیر کے پہلو میں آگئی ۔ اس نے مجھے اپنے مضبوط بازوؤں میں لے لیا اور پیار کرنے لگا ۔ مزے سے میری آنکھیں بند ہورہی تھیں مگر مجھے سمیر سے کچھ کہنا تھا ۔ ابھی رات کافی پڑی تھی ۔ مگر ہمیں دوبارہ اور سہ بارہ یہ مزہ بھی لینا تھا ۔ میرا تو یہی من چارہا تھا ۔ میں نے سمیر کی چھاتی کے بالوں سے کھیلتے ہوئے کہا ۔۔ سمیر آج صبح تم جسطرح مجھے دیکھ رہے تھے مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا ۔ مگر ہمیں احتیاط کرنی ہوگی۔ سمیر۔۔۔۔ کیا کروں تم لگ ہی اتنی پیاری رہیں تھی کہ اہنے آپ کو روکنا مشکل ہورہا تھا ۔ میں ۔۔۔ وہ تو ٹھیک ہے ۔ تم بھی مجھے اچھے لگ رہے تھے اور جو تم نے محسور کن کلون لگارکھا تھا اس کی وجہ سے میرا بھی موڈ بن گیا تھا. مگر میں نے اپنے آپ قابو رکھا ۔ کیونکہ اریبہ ساتھ بیٹھی تھی اور وہ ہماری نظروں کو پڑھ بھی سکتی تھی. پلیز اریبہ ہو یا کوئی اور اپنی نظروں سے مجھے ننگا مت کردیا کرو ۔ بلکہ اپنی چاہت کو ظاہر ہونے سے اور لوگوں کی نظروں میں آنے سے بچاؤ ۔ سمیر ۔۔۔ ٹھیک ہے تمہاری بات میں دم ہے میں احتیاظ کرونگا مگر کبھی بھول چوک ہوجائے تو معاف کردینا ۔ میں۔۔۔۔ جانو میرا تو کوئی مسلہ نہیں میں تو کردونگی مگر زمانہ اور یہ دنیا ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی ۔سمیر۔۔۔۔ ٹھیک ہے جانم میں احتیاط کرونگا۔ میں ۔ گڈ بوائے ۔ مجھے تم سے یہ ہی امید تھی. ہاں ایک بات اور کل جمعہ ہے۔ ابا جان شام کو آئینگے ۔ ہم یہ دو راتیں نہیں ملینگے. سمیر۔۔ وہ کیوں ۔ وہ تو اپنے کمرے میں ہونگے ۔ اور میں تھوڑا لیٹ آجاؤنگا ۔ ۔ دیکھو انیلہ اب تم سے دور رہنا میرے بس میں نہیں ۔مجھ پر کوئی پابندی مت لگانا پلیز۔ میں ۔۔۔ جانی تم سے دور رہنا میرے لئے بھی اتناہی مشکل ہے ۔ میں ہی جانتی ہوں تم سے الگ رہ کر دن کا پل پل کیسے کاٹتی ہوں. یہ تو پوری دو راتوں کی بات ہے ۔۔ تم سے دور ہوں تو چین ملتا ؛ تم قریب ہو تو دل نہیں بھرتا . مگر جانی یہ بھی سوچو اس میں ہم دونوں کی ہی بھلائی ہے ابو جان کے یہاں ہونے سے ہروقت ہمارے پکڑے جانے کا خدشہ رہیگا ۔ اور ملنے ملانے میں وہ سواد نہیں آئے گا ۔ ۔۔سمیر ؛ میں کوشش کرونگا ۔ مگر کوئی پرامس نہیں کرتا ۔ یہ کہتے ہوئےاس نےمجھے اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا اور پیار کرنے لگا. میرے انگ انگ خوشی اور شادمانی پھوٹ رہی تھی. اسکا لن پھر سے سر اٹھانے لگا ۔ میں نے اٹھ کر اس کو صاف کیا اور کپڑے سے اپنی پھدی کو بھی خشک کیا. کیونکہ سمیر کا لاوہ اس سے ابھی رس رہا تھا ۔ سمیر اٹھا اور مجھے نیچے گرالیا ۔اب چودنے کی اسکی باری تھی. اور اس نے میری وہ دھلائی کی کہ کیا بتاؤں اس نے مجھے خوش کر دیا اس کا ایک ایک دھکا اور جھٹکا مجھے اسکے پیار کا سندیسہ بن کر لگتا . "جیسا میں چاہوں میرا ساجن ویسا پیار دیتا ہے ڈال کے اندر وہ میرے دن رات سنوار دیتا ہے جب تک چاہوں میں , رکھتا ہے اندر اپنا قائم جس پر نہ آئے خزاں وہ ایسی بہار دیتا ہے " ہم نے رات کو تین بار سکس کیا اور صبح تک بے حال ہو کر رہ گئے تیسری بار میری مُنی سُوجنے لگتی ہے . اور سمیر ٹائم بھی اچھا خاصا لگاتا ہے , مجھے تھوڑی تکلیف تو ہوتی ہے مگر مزہ بھی چوکھا آتا ہے . تیسری بار جب بھی سمیر میری ٹانگیں اپنے شانوں پر رکھے میں انوکھا سواد لینے کو تیار ہو جاتی ہوں ۔ یہ ہمارا معمول بن گیا روز ہی سمیر رات گئے آ جاتے ہم پیار محبت بانٹنے لگتے . کبھی ٢ بار کبھی تین بار روزانہ کرنا روٹین بن گئی مگر ویک اینڈ پر ابا جان گھر ہوتےتو ہم احتیاط کرتے ۔ سمیر پھر بھی بے ایمانی کرجاتے اور کبھی اس دوران بھی آجاتے ۔ کئی بار انکو روکا اور ٹوکا بھی ۔مگر جب وہ یہ کہتے کہ کیا کروں تمہارے بناء نہیں رہ سکتا اور نہ ہی نیند آتی ہے تو میں خود اسکو اہنا آپ سپرد کرنے پر مجبور ہوجاتی. یہ عورت کی خوش نصیبی ہی تو ہے کہ اسکا محبوب اس کے بناء نہ رہ پائے ۔ میں خود کو خوش قسمت سمجھتی اور اہنا پیار اسکی جھولی میں ڈال کر خوشی سے پھولی نہ سماتی ۔مگر میں کسی قسم کا رسک نہیں لینا چاہتی تھی سمیر مجھے بہت پیارا تھا اور میں اسے کسی اسکینڈل کی بدولت کھونا نہیں چاہتی تھی . ساسو ماں کمرے سے شاذو نادر نکلتی تھیں رات کو تو بلکل نہیں ؛ مگر سسّر ابا کو میں کئی بار رات کو صحن میں تسبیح لئے ٹہلتے دیکھ چکی تھی . یہ اس وقت کی بات ہے جب سمیر کے ساتھ کوئی تعلق قائم نہیں ہوا تھا اس لئے ہفتہ اتوار کی راتوں کو میں نے کمرے کا دروازہ اندر سے چٹخنی لگا کر بند کرنا شروع کر دیا . . میں گہری نیند میں تھی کہ میری آنکھ کھل گئی کچھ دیر تو سمجھ ہی نہ آ ئی کہ میری آنکھ کھلنے کا سبب کیا ہے حالانکہ میں نے کوئی ڈرونا خواب بھی نہ دیکھا تھا , مجھے دروازے پر ٹک ٹک کی آواز آئی تو سمجھ آئی کہ کوئی ہولے ہولے دروازہ پر تھپک دے رہا ہے . سوچا کون ہو سکتا ہے دروازہ کھولوں یا نہیں . سمیر کو معلوم ہے دروازہ لوک ہوگا کیونکہ آج شام کو میرے سسر ابا گھر آئے تھے . اس لئے سمیر کے آنے کا تو کم ہی چانس تھا . تھوڑی دیر انتظار کرتی رہی مگر دروازے پر مسلسل ٹک ٹک ہوتی رہی . میں اٹھ کر دروازے کے قریب ہوئی اور پوچھا کون ہے . میں میں ہوں سمیر . سمیر نے آہستہ سے کہا .میں نے دروازے کا ایک پٹ کھول کے پوچھا کیا ہوا ؟ . ارے مجھے اندر تو آنے دو تو بتاتا ہوں . میں دروازے سے ہٹ گئی اور وہ دروازے کے اندر آیا تو میں نے دروازے کے باھر جھانک کر دیکھا کہ کہیں کوئی دیکھ تو نہیں رہا . کوئی نہ تھا , میں نے دروازہ بند کیا اور سمیر سے پوچھا , ہاں بولو کیا ہوا ؟ تو اس نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا . میں نے کہا سمیر ہم بچے تو ہیں نہیں پلیز کچھ خیال کریں , انیلا میں کیا کروں مجھے یہ سونے نہیں دیتا سمیر نے کہتے ہوئے میرے ہاتھ میں اپنا ہتھیار پکڑا دیا . اسے چھوتے ہی مجھے کرنٹ سا لگا وہ اتنا سخت تھا جیسے لوہے کی راڈ اور اتنا گرم جیسے دہکتی چمنی سے نکلا ہوا . میں وہیں دو زانو ہو کر اسے چومنے لگی . سمیر نے کوئی اور بات کئے بنا مجھے بازوؤں میں بھرا اور اٹھا کر چارپائی پر لٹا دیا . اور اپنا پاجامہ اور میری شلوار اتار کر دور پھینک دی . اور ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا . میں نے اپنی قمیض اور سمیر کی بنیان اتار پھینکی اور اس کے ہتھیار کو اپنے میں سمونے کے لئے اتاولی ہونے لگی ادھر سمیر اپنا گرم ہتھیار میری دہکتی چمنی میں ڈالنے کے لئے مجھ پر چھا گیا . ہم ایک دوسرے پر والہانہ فدا ہونے کے لئے ایک دوسرے میں سما گئے . ہم دونوں نے وہ وہ کھیل کھیلے جو کبھی نہ کھیلے تھے . آخر تھک ہار کر ہم ایک دوسرے پر گر پڑے اور میں مدہوش سی ہو گئی . کافی دیر بعد میری تھکن اتری تو میں جلدی سےغسل کے بعد ناشتے کی تیاری کے لئے کمرے سے باھر آئ تو ایک سناٹا سا تھا . حالانکہ آج ہفتہ تھا اور رات کو میرے سسر ابو بھی آئے تھے .جن کا معمول مسجد سے آتے ہی ناشتہ کرنے کا تھا اور میرے ناشتہ تیار کرنے تک وہ ایک ٢ چکر تو کچن کے لگا لیتے تھے . آج وہ نظر نہیں آئے حتیٰ کہ انکے کمرے کا دروازہ بھی بند تھا , مجھے بھی آج کچھ دیر ہو گئی تھی . رات کو سمیر نے حد ہی کر دی تھی پتا نہیں اسے کیسا جوش چڑھا ہوا تھا کہ ایسی چدائی اس نے آج رات سے پہلے کبھی نہ کی تھی ٣ بار مجھے چودنے کے بعد وہ رات کے آخری پہر جب وہ اپنے کمرے میں گیا تو مجھ میں ہمت ہی نہ تھی کہ کپڑے پہن لوں یونہی مستی میں مجھے مدہوش ہو گئی تھی . ناشتہ بنانے میں کچھ دیری ہو گئی تھی . رات کو سمیر کے پیار کرنے اور جتانے کے انداز کا خیال آتے ہی میں مسکرا دیتی اور اپنی خوش قسمتی پر نازاں ہوتی کہ مجھے کیسا پیار کرنے والا محبوب ملا ہے. ناشتہ تیار کرنے کے بعد میں نے اپنے سسّر ابو کا دروازہ کھٹکھٹایا تو وہ ناشتہ کے لئے کچن میں آ گئے وہ وہیں بیٹھ کر ناشتہ کرتے ہیں . لیکن انکا موڈ بہت خراب لگ رہا تھا . وہ ناشتہ کے دوران باتیں کرتے ہیں سٹی میں میرے والدین کا سکھ سندیسہ دیتے ہیں مگر ان کا موڈ بڑا آف لگ رہا تھا کیونکہ آج انہوں نے چپ سادھ رکھی تھی . ان کا موڈ دیکھ کر میں بھی خاموش رہی . کوئی بات کرتی تو وہ ہوں ہاں میں بات ٹال دیتے . میں بھی پریشان ہو گئی کہ معاملہ کیا ہے . کیا بات ہوئی گمان کرنے لگی مگر کچھ سمجھ میں نہیں . آیا وہ ناشتہ کر کے اپنے کمرے میں چلے گئے . تو میں نے اریبہ سمیر اور اپنے لئے ناشتہ تیار کیا . وہ آئے تو میں نے دیکھا سمیر بھی کافی پریشان نظر آیا . ان کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا اور فکرمندی کے اثار صاف دکھائی دے رہے تھے میں بچیں ہو اٹھی اور ان سے پوچھا سمیر بھائی خیریت تو ہے اتنے پریشان کیوں ہو . تو اریبہ کی طرف دیکھ کے بولے بعد میں آ کر بتاتا ہوں . اب مجھے ہول سے اٹھنے لگے .وہ اریبہ کو سکول ڈراپ کرنے گئے تو میں انکا بیچینی سے انتظار کرنے لگی کہ وہ سکول سے واپس آئیں تومعلوم ہو کہ ایسا کیا ہوا کہ پورے گھر کی فضا سوگوار ہے. وہ سیدھے کچن میں ہی آئے , میں آگے بڑھ کر حسب معمول انکے گلے ملنے لگی تو وہ تھوڑا سا ایک طرف ہو گئے. کیا ہوا سمیر جو تم اتنا پریشان ہو ؟ میں نے پوچھا . پوچھو کیا نہیں ہوا , انیلا ہم کسی کو منہ دکھانے کے قبل نہیں رہے سمیر کی آواز میں ایک کرب جھلک رہا تھا , جس سے میں اور پریشان ہو گئی . میں نے تڑپ کر انکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر پوچھا جان پہیلیاں نہ بجھواؤ کیا ہوا جو تم اور ابو بھی اتنے پریشان ہو .؟ تو سمیر نے یہ بتا کر میرے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکا دی کہ آج فجر سے پہلے جب وہ میرے کمرے سے نکل کر اپنے کمرے کی طرف گیا تو اس وقت ابو تہجد کے لئے اٹھے ہوئے تھے اور انہوں نے مجھے دیکھ لیا تھا . میں سر پکڑ کر وہیں بیٹھ گئی جیسے میری ٹانگوں میں جان ہی نہ رہی ہو . میں نے ہمیشہ سمیر سے بولا کہ ہم ویک اینڈ میں جب سسّر ابو آئے ہوئے ہوں نہ رات کو نہ ملا کریں . مگر اس کا یہی جواب ہوتا کہ جب تک ٢ بار رات کو مجھے چود نہ لے اسے نیند نہیں آتی . مجھے انکا یہ کہنا اچھا لگتا تھا . مگر ڈر بھی رہتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم رنگے ہاتھوں پکڑے جایئں اور آج وہی ہوا گیا جس کا ڈر تھا .تم نے کمرے سے نکلتے ہوے باھر نہیں دیکھا تھا تو سمیر کہنے لگا ابو جان وضو کے لئے باھر نکلے تھے اور نلکے سے پانی لے رہے تھے نلکا کمرے کے سامنے ہی تو ہے اور وہ مجھے تمہارے کمرے سے نکلتے دیکھ کر ٹھٹھک گئے . " کون " انہوں نے پوچھا شاید انہوں نے سمجھا ہو کہ کوئی چور وغیرہ گھر میں گھس آیا ہے . میں خاموش وہیں کھرے کا کھڑا رہ گیا جیسے میرے پاؤں زمین نے جکڑ لئے ہوں . وہ میری طرف بڑھے اور سختی سے پوچھا کہ تم کون ہو بولتے کیوں نہیں ہو اور یہاں کیا کر رہے ہو ؟ وہ میری طرف ہی آ رہے تھے , میں بمشکل بول سکا ابو میں ہوں سمیر .کچھ لمحے وہ حیرت سے دیکھتے رہے اور پھر بولے سمیر تم , تم اس وقت اپنی بھابھی کے کمرے میں کیا کر رہے تھے . سمیر خاموش ہوا تو میں نے پوچھا پھر تم نے انہیں کیا جواب دیا , تو روہانسا ہو کر بولے میں کیا کہہ سکتا تھا میری تو بولتی بند ہو گئی تھی انہوں نے رنگے ہاتھوں مجھے پکڑا تھا اور مجھ سے کوئی اور بات بھی نہ بن سکی . تو اب کیا ہوگا میں نے تشویش کا اظہار کیا تو سمیر نے کہا جو ہونا ہے وہ تو ہو کر ہی رہے گا . گر ہم اگر دوسرے کا ساتھ دیں تو سب کچھ ٹھیک ہو جایئگا جانو , ایک بات کا یقین کر لو میں نے تمہارے ساتھ تعلقات شہوت مٹانے یا اپنی ہوس کے ہاتھوں مجبور ہو کر نہیں استوار کیے . مجھے تم اچھے لگنے لگے تھے . میں نے اب تک کسی سے پیار نہیں کیا تھا . مگرمیں تم سے پیار کرنے لگی ہوں میں تمہاری محبّت کی اسیر ہوں تم میرا پہلا اور آخری پیار ہو . میں ہمیشہ تمہارا ساتھ دونگی اور کبھی تم سے بیوفائی نہ کرونگی . یہ کہہ کر میں اس سے لپٹ گئی . سمیر کچھ کے چہرے پر طمانیت کے اثار دیکھ کر مجھے بھی حوصلہ ملا . سمیر کھیتوں پر چلا گیا میں ساس ماں کے لئے ناشتہ تیار کر کے ان کے کمرے میں گئی اور انکو ناشتہ کروایا . انہوں نے بھی رسمی باتیں کیں سسر ابا بھی وہیں تھے انہوں نے کوئی بات نہ کی مگر ایک سرد مہری سی ضرور محسوس ہوئی . میں انہیں ناشتہ کروا کر کچن میں آئی تو خادمہ آئی آ چکی تھی . اسے کچھ ہدایات دے کر اپنے کمرے میں آ کر لیٹ گئی . مجھے کسی پل چین نہ آ رہا تھا اور میں بے کل ہو کر کروٹیں پے کروٹیں لیتی رہی . کچھ ہی دیر بعد خادمہ کمرے میں ائی اور اس نے بتایا کہ میرے والدین آئے ہیں . میں دہل کر رہ گئی انکا سامنا کیسے کر پاونگی اچانک آنے والے برے وقت کی تصویر میری آنکھوں کے سامنے گھومنے لگی . میں چکراتے سر کے ساتھ اٹھی اور اپنے والدین سے ملنے ساسو ماں کے کمرے میں گئی . ان سے مل کر بیٹھنے لگی تو ساس نے بولا کہ بیٹی تم ساتھ والے کمرے میں بیٹھو ہمیں تمہارے والدین سے کچھ باتیں کرنی ہیں . میرے والدین حالات سے ناواقف تھے . اس لئے وہ حیرانگی سے میری ساس اور سسر کو دیکھنے لگے . میں ہولے سے ہولے کر ساتھ والے کمرے میں ائی تو سمیر بھی وہیں بیٹھے تھے . ان سے دوسری طرف کرسی پر میں بھی بیٹھ گئی . مجھے معلوم تھا کہ میری قسمت کا فیصلہ ہونے والا تھا . مجھے ڈر تھا کہ آج سے مجھے بدنامی کی دبیز چادر اوڑھا دی جایئگی اور آبرو باختہ عورت بن کر زندگی گزارنے پر مجبور ہونگی . میں پریشان تھی کہ میرے والدین کو میری بدولت کتنی شرمندگی اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے سمیر اور میں الگ الگ اپنی اپنی سوچوں کے جال میں بے اب ماہی کی طرح ٹرپ رہے تھے . ہمارے والدین ساتھ والے کمرے میں ایک دوسرے کا حال احوال سن اور بتا رہے تھے . کمرہ ساتھ ہونے کی وجہ سے ان کی گفتگو با آسانی سنائی دے رہی تھی . شاید اسی لئے ہمیں اسس کمرے میں بیٹھنے کوکہا گیا تھا تاکہ ہم ساری کاروائی کو سن سکیں . کا سسر ابو : آپ لوگوں کو بلا بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ آج کچھ ایسا ہوا ہے جس کے متعلق کبھی سوچا تک نہ تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے . ہم معذرت خواہ ہیں کہ آپ دونوں کو بے وقت بلا بھیجا مگر جو کچھ ہوا وہ سب آپکے علم میں لانا ضروری تھا . میرے ابو : جی آپ بتائیں ہم سن رہے ہیں . ہماری جانب سے کوئی غلطی یا زیادتی ہوئی ہو تو اس کا مداوا کرنے کو بھی تیار ہیں . آپ کھل کے بات کریں . ساس اماں : آج جو کچھ ہوا اس پر بعد میں بھی بات ہو سکتی ہے . اس سے پہلے کہ اس پر بات کی جاۓ جو کچھ آپ سے ہماری طرف سے چھپایا گیا ہم آپ کو اعتماد میں لے کر وہ آپ کو بتانا چاہتے ہیں آپ کو براتو ضرور محسوس ہوگا مگر یہ ہماری مجبوری تھی کہ آپ سے یہ بات پوشیدہ رکھی جاۓ . اور ہم نے آپ کو لا علم رکھا . آپ اس کو ہماری مجبوری کہ لیں یا خود غرضی کا نام دیں . امی جان : بہن میری جو بات بھی ہے وہ آپ بتا دیں . اب ہم ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں تو کچھ پوشیدہ نہیں رہنا چاہیے اگر کوئی بات ہم سے تعلق رکھتی ہے تو آپ بے دھڑک بتا دیں یہ بعد کی بات ہے کہ آپ کہان تک مجبور تھے . ساس اماں : جب آپ لوگوں نے سمیر کے ابو سے انیلا بیٹی کے لئے رشتہ ڈھونڈنے کا کہا تھا . تو اس وقت ہم لوگ اپنے چھوٹے بیٹے صغیر کے لئے رشتہ کی تلاش میں تھے . تو ہم نے سوچا کیوں نہ ہم ہی صغیر بیٹے کے لئے رشتہ کا پیغام دیں . سمیر کے ابو آڑھت کی بدولت آپ کے خاندان سے واقف تھے پھر بھی ہم نے آپ کے محلے میں اور ارد گرد اور آپ ملنے والوں سے معلومات کے لئے پوچھ گچھ کی اور انیلا بیٹی کے بارے بھی معلومات لیں تو انیلا بیٹی اس گھر کے لئے پرفیکٹ بہو لگی . اسے جب پہلی بار ملی اور دیکھا تو میں فیصلہ کر لیا کہ انیلا کو ہی بہو بنا کر لانا ہے . مگر جب صغیر سے بات کی تو اس نے صاف انکار کر دیا کہ وہ ابھی شادی کے لئے تیار ہی نہیں . در اصل اس کا ایک نرس سے افیئر چل رہا تھا اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتا تھا . مگر وہ نرس ہمیں ہمیں بلکل پسند نہیں تھی چہ جائیکہ اس کو ہم بہو بناتے . میں انیلا کو ہر حالت میں بہو بنا کر لانا چاہتی تھی . اس میں مجھے اپنا اپ نظر اتا تھا اور نظر اتا ہے اور اس نے ثابت بھی کیا اور وہ میری امیدوں پر پورا بھی اتری ہے . یقین رکھیں میں اس سے بہت خوش ہوں . آپ تو جانتے ہیں ہم سمیر کا رشتہ لے کر گئے تھے . ہلکہ یہ بے جوڑ رشتہ تھا مگر صغیر کے انکار کے بعد ہم نے کوشش کی کہ ممکن ہے مقدار یاوری کر جائیں اور سمیر بھی اس رشتہ کے لئے رضامد تھا حالانکہ اپنی مرحومہ بیوی کی وفات کے بعد وہ شادی کے لئے رضامند نہ ہوتا تھا مگر اریبہ بیٹی کے لئے کوئی دیکھ بھال کرنے والا تو چاہیے ہی تھا . جب وہ رضامند ہوا تو 10- ١٥ رشتے اس نے ریجیکٹ کر دئیے مگر جب گھر میں انیلا کی بات ہوئی اور سمیر نے انیلا کی طبیعت اسکی فطرت کے بارے جانا اور اسکی تصویر دیکھی تو وہ تیار ہو گیا . مگر حسب امید آپ لوگوں نے اسکا رشتہ منظور نہ کیا اور معذرت کر لی آپ کا یہ فیصلہ گرچہ ہمارے خلاف تھا مگر یقین جانیں ہمیں افسوس تو ہوا مگر آپ لوگوں سے کوئی شکایت نہیں ہوئی . اگر ہم آپکی جگه ہوتے تو ہمارا بھی یہی فیصلہ ہوتا . ہمیں اریبہ کو ماں کا پیار دینے اور اسکی تربیت کے لئے ایک مخلص خوش رو بچوں سے پیار کرنے والی بہو چاہیے تھی . جو کہ انیلا ہی ہو سکتی تھی . یہاں ہم نے کچھ خود غرضی سے کام لیا . ہم نے دوبارہ صغیر سے رابطہ کیا . جو کہ دبئی میں تھا اور نرس بھی دبئی ہسپتال میں کام کرتی تھی . صغیر اسی کی وجہ سے دبئی میں کام کر رہا تھا . ہم نے اسے پاکستان بلایا اور میں نے اس کے پاؤں پر اپنا دوپٹہ رکھ کر اسکی منت کی تو اس شرط پر شادی پر راضی ہوا کہ میں اس نرس کے ساتھ رہتا رہونگا. کینکہ ہم نے وہیں شادی کر لی ہے . سال میں ایک ماہ کے لئے گھر آؤنگا . انیلا کو کبھی دبئی نہیں بلاونگا . اس سے زیادہ مجھ سے امید نہ رکھی جاۓ . میں نے سوچا انیلا جیسی پیاری بچی اچھے طور اطوار کی مالک سگیر کو بدل لے گی اور وہ نرس کو چھوڑ چھاڑ دے گا . کیونکہ ہمیں معلوم ہے نرس طلاق یافتہ ہے اور صغیر سے ٧-٨ سال بڑی ہی ہوگی اس امید کو لے کر ہی آپ لوگوں سے یہ بات چھپائی گئی جس کےلئے ہم شرمندہ بھی ہیں اور معذرت بھی چاہتے ہیں . میرے ابو: اب معذرت کا کوئی فائدہ نہیں جو کچھ ہونا تھا وہ ہو چکا میری بیٹی کے نصیب اچھے ہوئے تو صغیر ضرور بدل جایئگا . امی جان : آج کیا ہوا وہ بتائیں کیونکہ میں کافی پریشانی محسوس کر رہی ہوں ساس اماں : بہن میری انسان خطا کا پتلا ہے اس سے ایسے ایسے کام بھی سرزد ہو جاتے ہیں جو شیطان کے قیاس میں بھی نہ ہوں . انسان کبھی کبھی جذبات کے ہاتھوں مجبور بھی ہو جایا کرتا ہے . اس لئے ہمیں معاملے کو جذباتی ہو کر نہیں لینا چاہیے انسانی مجبوریوں کو مد نظر کر ہی ہم کسی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں . اور مسلے کا حل بھی اسی طرح سامنے آئیگا . اب سمیر کے ابو ہی بتائیں کہ انہوں نے کیا دیکھا . میں ساسو ماں کی بات سے بہت متاثر ہوئی کیونکہ اس نے ایک طرح سے ہمری وکالت ہی کی تھی مجھے اس سے کافی ڈھارس بندھی سمیر کو دیکھا تو وہ بھی مطمین نظر آیا . میرے سسر : جیسا کہ آپ جانتے ہیں میں جمعہ کی شام گھر آتا ہوں اور سوموار کی صبح واپسی ہوتی ہے . کل شام حسب معمول میں گھر آیا اور آج جب فجر سے پہلے وضو کے لئے پانی لے رہا تھا تو آدمی انیلا کے کمرے سے نکلا , میں نے اسے للکارتے ہوئے پوچھا کون ہے؟ میں سمجھا تھا کوئی چور گھر میں گھس آیا ہے . میں نے دوبارہ پوچھا مگر وہ خاموش وہیں کھڑا رہا . اندھیرا ہونے کی وجہ سے اسے پہچاننا بھی مشکل تھا . میں اسکی جانب بڑھا اور دوبارہ اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے اور یہاں کیا کر رہا ہے . ابو میں سمیر ہوں اس نے جواب دیا یہ جان کر مجھے دھچکہ سا پہنچا ؛ سمیر تم ؛ تم اس وقت بھابھی کے کمرے میں کیا کر رہے تھے . سمیر نے کوئی جواب نہیں دیا اور سر جھکاۓ کھڑا رہا . میں غصہ میں اندر گیا اسکی امی کو بتایا . میں تو غصہ سے کانپ رہا تھا اور سوچ رہا کہ سمیر کے خلاف کوئی قدم اٹھاؤں . مگر سمیر کی امی کبھی بھی جذباتی ہو کر نہیں سوچتی اس نے مجھے کہا کہ جذباتی ہونے کا کوئی فائدہ نہیں . ابھی تو ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ ان کے تعلقات کس حد تک ہیں کہیں کوئی زبردستی یا زیادتی تو نہیں ہو رہی . سمیر ٣ سال سے رنڈوا ہے اور انیلا بھی 4-٥ ماہ سے اپنے خاوند سے الگ ہے . دونو کو مواقع بھی دستیاب ہیں تو ایسے غلطی ہو جاتی ہے . جذباتی ہو کر انہیں سزا دینے کی بجاۓ ہمیں ان کے جذبات کو اور مجبوری کو بھی دیکھنا چاہیے . پھر اس نے ہی مجھے کہا کہ آپ لوگوں کو بلا کر اس مسلہ کو ڈسکس کرنا ہوگا . اب آپ ہی راۓ دیں اب یہ مسلہ کھڑا ہو گیا ہے تو اس کا حل تو نکالنا ہی ہوگا . ابو جان : ہم کیا بول سکتے ہیں جو بھی فیصلہ کرنا ہے آپ لوگوں نے ہی کرنا ہے . ا بیٹی کا نصیب آپ کے فیصلے کے مطابق جو بھی ہوگا ہمارے لئے اسے قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ کار بھی تو نہیں ہے . ساسو ماں : بھائی صا حب غلطی صرف بچی ہیکی نہیں سمیر کی بھی ہے ہو سکتا ہے سمیر کی زیادہ ہو کیونکہ وہمرد ہے انیلا کے کمرے میں سمیر گیا تھا . ایک اور بات انیلا جیسی آپ کی بیٹی ایسی ہی ہماری بیٹی بھی ہے اب مسلہ یہ ہے کہ ان دونو نے اس گھر میں اکٹھا رہنا ہے . ہییہ دوبارہ کوئی ایسی غلطی کریں اس کے سد باب کے لئے کیا کیا جاۓ . انسانی نفسیات کے مطابق وہ ایک ڈر یا خوف ہوتا ہے اس سے تو نکل چکے ہیں . آپ لوگ سوچیں کوئی حل نکالیں . میرے پاس ایک مناسب حل ہے مگر پہلے آپ لوگوں کی رہے جاننا چاہونگی . یہ سن کار میں سمیر اور سمیر نے میری طرف دیکھا تو ہم آنکھوں ہی آنکھوں میں مسکرا دئیے سچ تو یہ ہے کہ ساس ماں کی بات سن کر ہم پر امید ہوگئے . مختلف ارا کے بعد ساس ماں نے جو تجویز دی اسے ہی پذیرائی ملی . اس سے یہ میں اپنی ساس ماں کی دانش مندی اور معاملے کو سلجھانے کی صلاحیت کی معترف ہو گئی . ساس ماں کا خیا ل یا تجویز تھی کہ صغیر کو یہاں بلایا جاۓ گر وہ چاہے تو اپنی وائف نرس کو ساتھ لیتا آئے . اور انکی دوسری شادی کا بھی سب کو معلوم ہو جایئگا . انیلا اس سے طلاق کا مطالبہ کرے اور صغیر انیلا کو طلاق دے دے . پھر عدّت کے بعد سمیر اور انیلا کا نکاح کر دیا جاۓ . آپ بھی بیٹی سے پوچھ لیں ہم بھی سمیر سے مشورہ کر لیں گے . یہ صرف ان دونوں کے مسلے کا حل نہیں بلکہ اریبہ بیٹی کے مستقبل کا بھی سوال ہے جس طرح انیلا اریبہ کے قریب ہے اور جس طرح اسکی دیکھ بھال کر رہی ہے اگر اریبہ کی ماں حیات ہوتی تو وہ بھی اس سے زیادہ نہ کر پاتی . اس لئے میرا مشورہ تو یہی ہے . . یہ سن کر سمیر اٹھ کر میرے قریب آیا اور گھٹنوں کے بل کھڑے ہو کر میرے ہاتھ کو پکڑ کے کہنے لگا کہ جانم اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے کیا تم مجھ سے شادی کرو گی "نہیں ؛ میں کسی بوڑھے سے شادی نہیں کر سکتی " کہتے ہوے میں اس سے لپٹ گئی اور میری آنکھوں میں آنسو آ گئے وہ میرا ہاتھ پکڑے میرے ساتھ والی کرسی پر ہی بیٹھ گئے . صاف ظاھر ہے ہم بہت خوش تھے . ہماری دل مراد پوری ہونے جا رہی تھی . ہمارے پاؤں کے نیچے سے زمین تو تب کھسکی جب ہمیں دوسرے کمرے میں بلایا گیا . ہم دونو مجرموں کی طرح سر جھکاۓ کمرے میں جا کر بیٹھ گئے . میں نے کسی کی طرف دیکھا نہ ہی مجھ میں کسی سے نظریں ملانے کی ہمت تھی . میری ساس بولی تم دونو نے ساری بات تو سن ہی لی ہوگی تم دونوں سے ہم کو نہ کوئی صفائی درکار ہے نہ ہی کسی قسم کی وضاحت . کی ضرورت . بالغ ہونے کی بدولت تم دونوں اپنے اچھے برے کی تمیز رکھتے ہو . مگر کچھ باتیں یا عمل ایسے بھی ہوتے جن کے کرنے یا ہونے سے دوسروں کی زندگی متاثر ہوتی ہے جس کا رد عمل بھی سامنے آتا ہے . ہمیں نہیں معلوم نہ ہی ہم جاننا چاہتے ہیں کہ یہ سلسلہ کب شروع ہوا ہاں یہ کلیر ہے کہ جو کچھ ہوا وہ اچھا نہیں ہوا . ہم تم دونوں کے والدین ہیں تم دونوں اور دونوں خاندانوں کی بھلائی کے لئے کچھ اقدامات کرنے کی ضرورت محسوس کی اور کافی سوچ بچار کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ . انیلا آج اپنے والدین کے ساتھ اپنے میکے چلی جایئگی . اگلے ہفتہ صغیر دبئی سے آ جایئگا تو وہ انیلا کو طلاق دے دیگا . اور عدّت کے بعد سمیر انیلا کو بیاہ لیے اور انیلا واپس اپنے گھرلوٹ کر آجائیگی . تم لوگوں کے پاس کوئی اور تجویز ہو تو بتاؤ ورنہ ہمیں تو اس کے علاوہ کوئی راستہ نظر نہیں اتا ؛ کہ سانپ بھی مر جاۓ اور لاٹھی بھی بچ جاۓ . ہم دونو کے پاس خاموشی ہی ایک بہترین جواب تھا سو ہم خاموش ہی رہے . ظہرانے کے بعد جب اریبہ سکول سے واپس آئ تو اسے مل کر میں نے اپنی ساس کے کمرے میں جا کر ان کے بہترین فیصلہ کی داد دیتے ہوئے انکے پاؤں چھوئے اور ان سے شرمندگی کا اظہار اور معافی مانگی اور اپنے والدین کے ساتھ میکے آ گئی میں جب صغیر سے بیاہ کر اپنے سسرال گئی تھی میرے جذبات و احساسات نہ ہونے کے برابر تھے. میں نے وہ شادی صرف اور صرف اپنے والدین کی خواہش پر کی تھی ۔ میں صغیر حسن سے شادی پر نہ تو خوش تھی اور نہ ہی رنجیدہ میں بچپن سے ہی ایسی تھی یعنی لاپرواہ سی. جوکچھ ہورہا ہو, ہوتا رہے میں سنجیدہ نہیں لیتی تھی ۔ نہ کو ئی چاہے جانے کا جذ بہ تھا نہ ہی کو ئی چاہت کا مرکز بن سکا ۔ شادی ہوئی. سہاگ رات گزری اور دوماہ میرا شوہر میرے پاس رہا مگر میں یہ سب کچھ ایک ہونی سمجھ کر کرتی رہی. اس میں میری اپنی خواہش نہ شامل ہوسکی ۔ یہ سب کچھ ایک فرض سمجھ کر خوشدلی سے کرتی رہی ۔ حتی کے صغیر حسن کے واپس جانے کا بھی کوئی اثر نہیں لیا ناہی اس کے لئے رنجیدہ ہوئی اور نہ ہی اسکے جانے پر خوشی ہوئی ۔ زندگی یونہی بے حسی میں گزر جاتی اگر میرے جیٹھ سمیر حسن نہ ہوتے ۔ پتہ ہی نا چلا ان چھ ماہ میں کیسے انکی جانب کھنچتی چلی گئی ۔اب کہہ سکتی ہوں کہ جو کچھ بھی ہوا اسکی شروعات نادانستگی میں ہوئیں ۔ آج بھی وہ لمحہ مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں ٹرے میں انکے لیئے کھانا لیکر گئی تھی. ٹرے میں دو چار ڈشز تھیں اور میں نے ٹرے کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا ۔ ایسے میں سمیر بھائی نے میری مدد کرنا چاہی اورٹرے پکڑنے کی کوشش میں نادانستگی میں انکے ہاتھ میرے ہاتھوں پر آگئے تو انکے لمس سے میرے بدن میں ایک عجیب سی سنسناہٹ سی ہوئی تھی جو اس سے پہلے میں نے کبھی محسوس نہ کی تھی ۔ ایک کرنٹ سا جسم میں دوڑ گیا ۔ میں نے جلدی سے ٹرے ٹیبل پر رکھنے کی کوشش کی تو انکے ہاتھ میرے ہاتھوں کو چھوڑ نہیں رہے تھے میرے خیال میں وہ ڈر رہے تھے کہ کہیں ٹرے گر نہ جائے ۔ میں نے انکی طرف دیکھا تو انکی نظریں میرے چہرے پر ہی تھیں تو میں نے کہا بھائی جان اپنے ہاتھ ہٹالیں تو انہوں نے جلدی سے میرے ہاتھ چھوڈ دئیے ۔۔ میں ٹرے رکھ کرسیدھی ہوئی اور انکی جانب دیکھا تو وہ مجھے ہی دیکھے جارہے تھے ۔۔ میں جلدی سے کمرے سے نکلی اور اہنے کمرے میں پہنچی تو ایک نیا احساس جنم لے چکا تھا ۔ یہ پہلی بار ہوا کہ کسی کے چھونے سے میں نے عجیب سا محسوس کیا . ابھی تک میرے ہاتھوں پر انکا لمس ایسے محسوس ہورہا رھا جیسے میرے ہاتھ ابھی بھی انکے ہاتھوں میں ہوں. میں حیران تھی کیونکہ اس سے پہلے میں نے کبھی بھی ایسا محسوس نہیں کیا تھا. میں سوچنے لگی وہ مجھے کن نظروں سے دیکھ رہے تھے پہلے تو کبھی انہوں نے مجھے ایسے نہیں دیکھا تھا ۔۔انکا کھانا لے جانے سے پہلے میں نہائی تھی اور میرے گیلے بال میرے شانوں پر کھلے ہوئے تھے مگر میں نے دوپٹہ اچھی طرح لیا ہوا تھا ۔ انکے ہاتھوں کا لمس اور انکی نظروں کی تپش ابھی تک محسوس ہورہی تھی کہ مجھے خیال آیا کہ کہیں سمیر بھائی مجھے غلط نظر سے تو نہیں دیکھ رہے تھے. یہ خیال آتے ہی مجھے اپنے چہرے پر انکی نظریں ٹکی ہوئی محسوس ہوئیں تو میں بے ساختہ شرماگئی ۔ جیسے وہ اب بھی دیکھ رہے ہوں ۔ اس دن میں نے پہلی بار کسی کے بارے سوچنا شروع کیا تو وہ سمیر بھائی ہی تھے ۔ پھر ایک ہی گھر میں ساتھ رہنے کی وجہ سے روز ہی کوئی نہ کوئی ایسی بات ہوتی رہی کہ میں انکی جانب بڑھتی گئی اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ میں ان کے ایک ٹچ کے لئے انکے قریب سے گزرتی یا.انکے ہاتھوں میں کوئی چیزایسے دیتی کہ انکے ہاتھ کم ازکم میرے ہاتھوں کو لازمی ٹچ کریں ۔ انکا لمس مجھے کسی مقنطیسی کشش کی طرح اپنی جانب کھینچتا ۔ اور پھر جس دوپہر میں انکی گود میں بیٹھی تو میں انکی ہوچکی تھی میرا تن میرا من سب کچھ انکا ہوچکا تھا ۔ میں جان چکی تھی کہ اگ دونوں طرف ہے برابر لگی ہوئی.چاہت کا جب مزہ ہے کہ وہ بھی ہوں بے قرار دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی ۔ میں شادی شدہ تھی اس لئے کچھ جھجک تو ریی تھی مگر خود کو بے بس سمجھ رہی تھی. اور انکے ایک اشارے کی منتظر تھی. اور جس رات پہلی بار سمیر میرے کمرے میں آیا تھا تو میں نے ہنسی خوشی رضامندی سے اپنا آپ اس کے سپرد کردیا تھا ۔۔ میں نے صغیر کو اپنی قسمت تو مان لیا تھا مگر وہ میری چاہت نہ تھی ہم دوماہ اکٹھے رہ کر بھی ایک دوسرے کو نا سمجھ سکے تھے. اور میرا خیال ہے ہم دونوں نے ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی ۔ اسکی موجودگی میں بھی خود کو ادھورا سمجھتی اور ایک خلا سا محسوس ہوتا مگر سمجھ نہ سکی کہ میں کیا چاہتی ہوں اس لئے اپنی قسمت کیساتھ سمجھوتہ کرچکی تھی میں. مگر اس ایک ٹچ نے میری زندگی بدل دی اور مجھے ایک انجان راستہ دکھایا جس پر چلتے ہوئے میں لطف و سروور کی پرلطف وادیوں میں بڑھتی چلے گئی ۔ میں سب کچھ بھول کر سمیر کی ہوتی چلی گئی حتی کہ میں خود سے بھی بیگانہ ہوگئی ۔ مجھے اقرار ہے کہ وہ میری چاہت ہے ہاں ہاں وہ میری محبت ہے اور وہ مجھے خود سے بھی پیارا ہے ۔ اور اب حالات اس نہج پر مجھے لے آئے ہیں کہ میں اپنی چاہت کو ہمیشہ کے لئے پانے والی ہوں ۔ اس کی ہوکر میں مکمل ہو سکونگی ۔اسے پاکر ہی میں منزل پر پہنچ سکونگی. مگر اس کی عارضی جدائی بھی میرے لئے سوہان روح بنی ہوئی ہے. چند دن تو ہم ٹیلی فون کرلیتے تھے , ۔ ایک ہفتہ بعد صغیر اپنی بیوی شکیلہ (نرس) کو لیکر گھر آگیا تو میرا میکے آنے کا جواز پیدا ہوگیا کہ صغیر تو پہلے سے شادی شدہ ہے اور مجھے طلاق چاہیے ۔ طلاق کے مطالبے کیساتھ ہی اسکا گھر چھوڈدیا ۔ اپنے آنے کے چند دن بعد ہی صغیر نے مجھے طلاق نامہ بھجوادیا جس بعد میری عدت شروع ہوگئی ۔ اور میرے والدین نے مجھے سمیر سے فون پر بات کرنے سے بھی منع کردیا. میں اپنے والدین کی ممنون تھی کہ جب وہ مجھے گھر لیکر آئے تو مجھے ڈر تھا کہ وہ گھر پہنچ کر میری درگت بنائیں گے. مگر انہوں نے مجھ سے کوئی سوال جواب تک نا کیا. میں سمجھتی ہوں کہ میری ساس کی مدبرانہ گفتگو اور دلیل سے ہم سب کے لئے آسانیاں پیدا ہوگئیں تھیں ۔ اب جب میرے والدین نے مجھے فون سے منع کیا تو میں نے انکی بات کو ترجیع دی مگر میں خود سمیر کے لئے بے چین رہنے لگی. میرا حال کسی بھی ٹین ایجر لڑکی سے مختلف نہ تھا جو اپنی پہلی محبت کے لئے بے چین اور بے قرار رہتی ہے اور سچ تویہی ہے کہ سمیر میری پہلی محبت ہی تو تھا ۔ میں اپنے آپ کو سمجھانے کی کوشش کرتی کہ زیادہ سے زیادہ چھ ماہ ہی تو ہیں پھر سمیر ہوگا اور میں ہونگی ۔ یہ یقین ہوتے ہوئے بھی میرا دل سمیر کے لئے بے قرار رہتا ۔ میں اسے خط لکھتی اور پھاڑ دیتی ۔ ٹین ایجر محبت کو پپی لو puppy لوو کہتے ہیں مگر میں میچور ہوں محبت نہیں بلکہ عشق کررہی ہوں سچی مجھے سمیر سے عشق ہوگیا تھا مئینوں رب دی سوں تیرے نال پیار ہوگیا وے چنا سچی مچی تیری یاد اچ دل بے قرار ہوگیا وے چنا سچی مچی . میں یوں ہی سمیر کی یاد میں گنگناتی اور ٹھنڈ ا آہیں بھرتی رہی . دو ہفتوں کے بعد میرے سسر اریبہ کو ویک اینڈ پر میرے پاس چھوڑ جاتے جس سے میرا دل بھی لگ جاتا اور اریبہ بھی خوش ہوجاتی ۔ یوں پانچ ماہ گزر گئے ۔ عدت ختم ہونے پر ایک اور مصیبت کھڑی یوگئی ۔ میرے چچا لوگوں سے جو تعلقات ختم ہوچکے تھے میری طلاق کے معاملے پر دونوں بھائیوں کے درمیان کشیدہ تعلقات کی برف پگھلی اور آہستہ آہستہ ایک دوسرے کی طرف آنا جانا شروع ہوگیا ۔ میں جب میکے آئی تھی تو وہ سب ملنے آئے تھے اور جب طلاق ہوئی تو افسوس کے لئے بھی آئے تھے. میرے سابقہ منگتیر کی شادی پھپھو کی بیٹی سے ہوئی تھی انکی آپس میں نا بن سکی یا دونوں کے والدین نے نا بننے دی. کیونکہ میرے چچا بہت ضدی طبعیت کے اور پھپھو بھی بہت سخت مزاج ہیں ۔ بہر حال پھپھو کی بیٹی روٹھ کر اہنے میکے بیٹھی ہوئی تھی ۔ اب میرے چچا نے میرے ابو پر ڈورے ڈالنے شروع کئے کہ انیلہ کا رشتہ انکے بیٹے سے کردیا جائے ۔ مجھ تک بات پہنچی تو میں نے اپنی امی سے صاف صاف کہ دیا کہ شادی کرونگی تو صرف سمیر سے اس کے علاوہ کسی کا نام میرے سامنے نہ لیا جائے ۔ ابو نے چچا سے ایک ہفتہ کی مہلت مانگی تھی اور میرے لئے یہ ایک ہفتہ کسی عذاب سے کم نہ تھا ۔ میرا کھانا پینا چھوٹ گیا اور رنگ زرد پڑگیا ۔ میری امی کو اس کا احساس تھا اور انہوں نے ابو کو قائل کرلیا کہ انیلہ کے لئے سمیر ہی بہتر ین رشتہ ہے ۔ میری پھپھو کی بیٹی ابھی تک عمیر کے نکاح میں تھی اور اگر میرے ابو اپنے بھائی کو میرے رشتہ کے لئے ہاں کردیتے تو اپنی بہن سے رشتہ میں میں تعلقات میں خرابی پیدا کرلیتے اس لئیے ابو نے اپنے بھائی کو رشتہ سے جواب دے دیا ۔ اور ایک بلا میرے سر سے ٹل گئی ۔ورنہ میں سوچ چکی تھی کہ اگر زبردستی کی گئی تو میں بغاوت کر دونگی اور سمیر سے کہونگی کہ مجھے اپنے ساتھ لے جائے ۔ مگر شکر ہے اسکی نوبت نہیں آئی دوسرے ہفتہ سمیر لوگ آئے اور انہوں نے شادی کی تاریخ مقرر کی اور چلے گئے ۔ شادی دو ہفتوں بعد ہونا قرار پائی تھی. میں بہت خوش تھی اور میرے پاؤں زمین پر نہیں ٹکتے تھے ۔ مگر دو ہفتے گزارنا محال ہوگیا ۔ سمیر سے ایک ایک پل کی دوری مجھے کھانے کو دوڑتی مگر میں مجبور تھی اور وقت مقررہ تک مجھے اس جدائی کو سہنا تھا ۔ آخر وہ دن آپہنچا اور میرا سمیر بارات لیکر مجھے بیاہنے آپہنچا ۔ میرے بدن میں مسرت و شادمانی کی لہریں دوڑنے لگیں مجھے اسکے ساتھ گزارہ ایک ایک پل یاد آنے لگا اور میں مچل مچل اٹھی اور ایسا لگا کہ پہلی بار ڈولی میں بیٹھ کر اپنے پیا کے دیس جارہی ہوں ۔ پہلی شادی کے وقت تو میں کسی بھی قسم کے احساسات سے عاری تھی مگر آج تو میں شادی میں دل وجان سے شریک تھی ۔ میرےجذبات و احساسات میرے دھڑکتے دل سے ہم آہنگ تھے والدین اور بھائیوں سے الوداع ہوکر جب میں کار میں بیٹھی تو میرے ایک طرف اریبہ تھی درمیان میں میں بیٹھی تو پھر میرے ساتھ میرا سمیر بیٹھا ۔ انکا جسم میرے بدن کیساتھ ٹچ ہوتا گیا تو میں خوابوں میں کھوگئی ۔ سمیر نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھو میں لے لیا اور ہولے ہولے دبانے لگے ۔ اریبہ بھی چہک رہی تھی. آج وہ بار بار مجھے امی کہ کر پکارتی تو میں خوشی سے سرشار ہوجاتی ۔ سمیر کا ساتھ اور سب کے سامنے ساتھ ہونے سے مجھے بہت حوصلہ ملا ۔ سارے راستے سمیر میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے سہلاتا رہا ۔ اور میرا دل کررہا تھا کہ یہ سفر کبھی ختم نہ ہو مگر میرے بدن کا تقاضا تھا کہ کب شام ڈھلے اور تنہائی میسر ہو ۔۔۔شام کے وقت ہم گھر پہنچ گئے تھے ۔میں دوسری بار اس گھر میں دلہن بن کر آئی تھی. میری ساس اور نند بہت خوش تھیں ۔ صغیر کی نرس بیوی بھی شادی میں شرکت کے لئے آئی تھی ۔ لوگوں نے باتیں تو بہت کی ہونگی کہ پہلے ایک بھائی سے بیاہی گئی پھر دوسرے بھائی سے ۔ مگر مجھے کوئی پرواہ نہیں تھی. کہ کوئی ہمارے بارے میں کیا سوچتا ہے ۔میرے خیالوں پر صرف سمیر قابض تھا جس کی بیوی ہونے پر مجھے خواب کا گمان ہورہا تھا کھانے وغیرہ سے فارغ ہوکر باراتی اپنے اہنے گھروں کو چلے گئے اور جو دوور کے رشتہ دار رہ گئے تھے انکے سونے کا بندوبست کرکے جب سمیر کمرے میں داخل ہوئے تو میرے دل کی دھڑکن بے قابو ہونے لگی. میں روائتی دلہنوں کی طرح گھونگھٹ نکالے نا بیٹھی تھی ۔ سمیر آئے اور سلام کرکے میرے پاس بیڈ پر بیٹھ کر مجھے دیکھنے لگے ۔ انکی نظروں کی تاب نا لاکر میں نے شرما کر گردن جھکالی تو انہوں نے میری ٹھوڑی کو اپنی انگلیوں سے اوپر اٹھایا میں نے آنکھیں بند کرلیں ۔ کچھ ہی لمحوں کے بعد میرے لبوں نے انکے ہونٹوں کی گرمی محسوس کی تو میں نے نے بھی ان کے لبوں کو گرم جوشی سے چوم لیا ۔ کل میرے لئے جو ممنوعہ شجر تھا آج اس کا پھل میرے لئے جائز ہوچکا تھا ۔ یہ خیال آتے ہی میں نے اپنے آپ کو انکی آغوش میں گرادیا. انہوں نے مجھے اپنے مضبوط بازوؤں میں لیا اور گردن پر بوسے لینے شروع کردئیے ۔ انکے ہاتھ میری کمر پر گردش کررہے تھے ۔ اور میں ہولے ہولے انکی شیروانی کے بٹن کھولنے لگی ۔ انیلہ شادی مبارک ہو ۔ سمیر مجھے چومتے ہوئے بولے ۔ آپکو بھی مبارک ہو جانی میں نے کہا ۔ تو وہ بولے کیوں نہ جانم ہم چینج کرلیں ۔ یہ بھاری ملبوسات اتارہی دیں تو بہتر ہے میں نے انکی طرف دیکھا تو انکی آنکھوں میں شرارت جھلکتی دیکھ کر میں شرماگئی اور اٹھ کر باتھ روم کی طرف جانے لگی تو انہوں نے کہا کہاں جارہی ہو تو میں نے کہا چینج کرنے تو انہوں نے میرا بازو پکڑ کر مجھے بیٍڈ پر گرالیا اور میرے کرتی لہنگے کی طرف ہاتھ بڑھادیا ۔ میں نے انہیں منع کرنا مناسب نا سمجھا اور خود بھی انکی شیروانی کے بقایا بٹن کھولنے لگی ۔ انہوں نے میری کرتی اتاردی اور میری گردن اور شانوں کو چومنا شروع کردیا ۔ اتنے میں انکی شیروانی کھل گئی تھی انہوں نے اسے اتارنے میں میری مدد کی اور مجھے کھینچ کر اپنے سینے سے لگالیا ۔ میں نے سکون کا سانس لیا ایسے لگا ناجانے کتنی مدت کی حسرت پوری ہوئی ۔ کافی دیر میں یونہی انکے ساتھ لپٹی رہی ۔ انکے ہاتھ آہستہ آہستہ میرے کمر بند کی طرف بڑھنے لگے ۔ میں نے انکی ہیلپ کی اور انہوں نےمیرا لہنگا اتار دیا ۔ اب میں صرف پاجاما اور برا میں تھی ۔ میں نے انکی قمیض اتار کر انکے پاجامے کی طرف ہاتھ بڑھایا ۔ میرا ہاتھ اتفاقا انکے راڈ سے جاٹکرایا جو کہ اکڑ کر کھڑا ہوا تھا میرے بدن میں چنگارہاں سی لگنے لگیں ۔ میں نے انکا ازار بند کھولا اور پاجاما نیچے کھسکایا تو انہوں نے پاجاما ٹانگوں سے اتار کر نیچے پھینک دیا ۔ اب وہ صرف انڈروئیر میں تھے اور انڈر وئیر ایک تنبو کی طرح تن کر کھڑا تھا۔میں اسے دیکھتے ہوئے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتی بیٍڈ سے اٹھی تو سمیر نے میرا ہاتھ پکڑ لیا تو میں نے انکو اپنی چھوٹی انگلی دکھائی تو وہ مسکراتے ہوئے او کرکے رہ گئے ۔ آج میں انکے کمرے میں تھی بلکہ اپنے اصل کمرے میں اپنے پریمی شوہر کیساتھ تھی میں باتھ روم میں گئی اور فارغ ہوکر باہر آئی تو دیکھا سمیر انڈوئیر اتار کر میرا انتظار کررہے تھے. انکا ہتھیار سیدھا کھڑا چھت والے پنکھے طرف رخ کئے مجھے اکسانے کا موجب بن رہا تھا ۔ میں نے بیڈ کے پاس جاکر اپنا پاجاما بھی اتار دیا اور سمیر کیساتھ ہی ڈراز ہوگئی ۔ سمیر نے مجھے اہنے سے چمٹالیا اور چومنے لگے ۔ میں اسکی پیٹھ اور کولہوں پر ہاتھ پھیرنے لگی ۔ ہم دونوں ایک دوسرے کی طرف منہ کئیے پہلو کے بل لیٹے ہوئے تھے ۔ اسکا شرارتی بلا میری ٹانگوں سے ٹکراتا میری بلی کی تلاش میں سرگرداں تھا ۔ میں نے اس کو ہاتھ میں پکڑا تو میرے سارے بدن میں ایک شہوت کی لہر دوڑ گئی میں نے اسے تھوڑا سادبایا اور رانوں میں اپنی بلی کے اوپر رکھا تو سمیر آگے پیچھے ہلنے لگا ۔ میں نے ابھی پینٹی پہنی ہوئی تھی سمیر نے ہاتھ سے کھینچ کر نیچے کی تو میں نے اسے اتار کر نیچے پھینک دیا ۔ سمیر نے میری برا بھی اتار دی اب میں بھی سمیر کی طرح مادرزاد برینہ ہوگئی سمیر نے تھوڑا اوپر ہوکر میری پیشانی چومی اور پھر میری آنکھوں اور گال کو چومتے ہوئے ہاتھوں سے میرے یونٹ مسلنے لگے اور پھر گردن پر بوسوں کی بارش کردی ۔ میں نے مستی میں اپنی ٹانگ سمیر کی ٹانگوں کے اوپر رکھی تو بلے کو بلی سے ملنے کا موقع مل گیا ۔بلے کی لمس سے بلی گیلی ہوگئی اور اسکے ہونٹ بھیگ چکے تھے بلی کے دہن سے لعاب نکلنے لگا تو بلے کو بلی کو رگڑنا آسان ہوگیا ۔ سمیر میرے ایک ممے کو منہ لیکر چوسنے لگا اور دوسرے کے نپل کو ہاتھ سے مسلنے لگا تو میں مستی میں اسکے اور قریب ہوئی. سمیرنے میرے چوتڑوں کو پیچھے سے دباکر اپنے اور قریب کیا تو ٹوپا بلی کے دانے پر آ لگا ۔ میں نے اسکو ہاتھ سے پکڑا اور نیچے سے خود ہل کر اپنے دانے پر رگڑنے لگی ۔ سمیر نے میری ناف پر بوسہ دیا اور ناف میں زبان ڈال کر اسے کھجانے لگا تو میرے بدن نے ایک جھرجھری لی اور میں تڑپ کر رہ گئی اس نے ہاتھ بڑھا کر میری چوت کے دانے کو مسلا تو میں تڑپ کررہ گئی اسکی انگلی چوت کی لکیر کو کھجانے لگی۔ وہ ناف سے نیچے چومتے ہوئے میری پھدی کی طرف آنے لگا تو میں نے اسکا سر بالوں سے پکڑ کر اسے روکنا چاہا ۔ اسکے گرم ساننس میری چوت سے ٹکرائے تو میں بے کل سی ہوگئی چوت کے دانے پر جب سمیر کی زبان کی نوک لگی تو میرا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے رہ گیا. میں تڑپ کر اٹھی اور اسکا سر وہاں سے اٹھاکر کہا ۔آپ یہ کیا کررہے ہو تو وہ کہنے لگے یہ سہاگ رات کو تحفہ ہے تمہارے لئے ۔ میں تمہارا رس پی کر تمیں آج وہ سواد دونگا جو تم کو پہلے کبھی نہیں ملا ہوگا۔ اور اس طرح میں چاہتا ہوں ہماری سہاگ رات یادگار بن جائے ۔ لیکن سمیر یہ گندی ہے اور اس سے بدبو آرہی ہوگی. میں نے اسے قائل کرنے کیکوشش کی ۔ مگر وہ تو اسے چاٹنے کی ٹھان چکا تھا ۔ میں لیٹ گئی تو وہ میری ٹانگوں کے درمیان آکر بیٹھ گیا اور میرے چوتڑوں کو ہاتھوں سے اوپر اٹھاکر زبان میری چوت پر رکھ دی ۔ مجھے بہت شرمندگی سی محسوس ہوئی مگر چند لمحوں کے بعد میں لذت سے تڑپنے لگی اور میں لذت کی انتہا پر اپنے چوتڑے اس کے ہاتھوں پر پٹخنے لگی اور سمیر میرے بہتے رس کی چسکیاں لیتا رہا میرا برا حال ہوگیا اور میں بن ماہی کی مچھلی کی طرح تڑپنے اور پھڑکنے لگی اس لذت سے میِ نا آشنا تھی آج تک ۔ مگر سمیر نے مجھے لذتوں کی انتہا دکھادی میں سر پٹختے منزل ہونے لگی تو میری پھدی نے اتنا رس چھوڈا کہ اتنا پہلے کبھی نہیں چھوڑا تھا ۔ میں لذت کے خمار سے مدہوش سی ہوگئی ۔سمیر میری پھدی کا رس پینے میں لگا ہوا تھا ۔ نا جانے کتنی دیر بعد میں نے محسوس کیا سمیر مجھ پر چھایا میرے لب چوم رہا ہے میں نے اپنے ہونٹ کھول دئیے تو اس نے اپنی زبان میرے منہ میں دے دی ۔ اسے چوستے ہوئے مجھے اپنی چوت کے رس کاسواد اچھا لگنے لگا ۔ میں زبان چوستی رہی ادھر سمیر کا لن میری پھدی پر دستک دیتا محسوس ہوا تو میں نے اپنی ٹانگیں اور کھول دیں تاکہ وہ آسانی سے اندر آسکے ۔ سمیر نے ایک تکیہ میرے چوتڑوں کے نیچے رکھا جس سے میری چوت اس کے لن کی ڈائریکشن میں آگئی میں نے ہاتھ میں لن کو پکڑ کر اپنی چوت کی لیکر پر مسلہ تو سمیر نے تھوڑا سا دھکا لگاکر ٹوپا چوت کے اندر کردیا ۔ لذت کی ایک لہر ابھری اور میں نے نیچے سے چوتڑوں کو اوپر کی طرف پش کیا تو سمیرنے ایک زوردار جھٹکا لگا کر سارا لن جڑوں تک میری پھدی میں اتاردیا ۔ میرے لبوں سے بے اختیار آہ نکلی تو سمیر وہیں رک گیا ۔ میں سمیر کو اپنے اوپر جھکا کر اسکے ہونٹوں پر اپنی چوت کا رس چاٹنے لگی ۔ سمیر کے ہاتھ میرے مموں سے کھیلنے لگے ۔ گرم سانسوں اور لذت بھری سسکاریوں میں سمیر نے اپنا چپو چلانا شروع کردیا ۔ میں نیچے سے اسکے ہر جھٹکے کوجواب دیتی اور مزہ لیتی میرے منہ سے عجیب عجیب آوازیں نکلتیں رہیں. سمیر کے جھٹکوں کی شدت اسکی چوت سے دور رہنے اور ترسنے کی گواہ تھی. میں خود اس عرصہ میں اسکے لمس اور لن کے لئے بےتاب تھی ۔ اسکا ہر جھٹکا اور دھکا میری حسرتوں کو پورا کرنے میں معاون بن رہا تھا ۔ سمیر کے کانوں میں سرگوشیاں کرتی اور اسے اور زیادہ چوٹ مارنے کے لئے اکساتی ۔۔ جانی ذرا اور ہٹ کے لگا مجھے ۔ ۔ اور زور سے سمیر اور زور سے ۔۔۔۔۔ تمہیں مجھ سے پیار ہے تو میرا لحاظ کئے بغیر مجھے چود ڈال ۔۔۔۔۔۔ جانی میری پھدی ایسے مار جیسے تمہیں آخری چانس ملا ہو۔۔ نا جانے میں کیا کیا اول فول بکتی رہی اور سمیر جوش میں آکر میری چوت کے بخیے ادھیڑنے لگا ۔اسکا ایک ایک دھکا میرا اندر باہر ہلارہا تھا اور میں خوشی اور لذت سے سرشار وہ برداشت کررہی تھی کیونکہ میرا جانی میرا سمیر مجھے چود کر لذت میں ڈوبتا جارہا تھا ۔ اسکے سانس بے ترتیب ہونے لگے تھے. اسکے ہاتھوں کی انگلیاں میرے پورے جسم کو سہلانے لگی ہوئی تھیں ۔ اور پھر اس نے میری ٹانگیں اپنے شانوں پر رکھ لیں میرے گھٹنے میرے مموں پر آٹکے ۔ سمیر پوری شدت اور زور سے دھکے لگانے لگا میں مزہ لیتے ہوئے اہنے سمیر کے لئے خوش تھی کہ اس سواد آرہا ہے. آج سے پہلے سمیر نے ایسی زبردست چدائی نہ کی تھی مگر آج اس نے کوئی کسر نہ چھوڈی تھی. وہ واقعی سہاگ رات کو یاد گار بناکر رہا ۔ میں بھی یہی چاہتی تھی کہ اسے ایسی لذت دوں کہ اسے پھر اسی پھدی کی خواہش شدید تر ہو ۔ ہمارے سانسوں کی بے ترتیب آوازوں ۔ لذت بھری سسکاریوں اور آہوں نے کمرے میں گونجتے ہوئے ہمیں اور پرجوش کردیا ۔ میں تو کب کی فارغ ہوچکی تھی اور پھر سے لاوا ابلنے کو تھا ۔ میں سمیر کو چومتی اور اسکی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتی رہی ۔ پھر نجانے کیا ہوا سمیر کے دھکوں نے ایک طوفانی صورت اختیار کرلی ایسا لگتا تھا وہ اپنے ہوش وحواس میں نہیں ۔ اسکی دیوانگی میں آخری جھٹکوں کا سواد میں کبھی نہیں بھلاسکونگی ۔ انہی جھٹکوں میں سمیر کے لن نے مجھے بھردیا اور وہ ہانپتے ہوئےمجھ پر گرا تو میں تو میں نے بمشکل اس کے شانوں سے اپنی ٹانگیں اتارکر اس کی پیٹھ کے گرد کیں اور اسے بے تحاشا چومنے لگی اسکے پسینہ کی مہک نے پورے کمرے کی فضا کو معطر کردیا تھا ۔ میں سمیر کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتی اور باربار اسے اپنے ساتھ بھینچتی رہی تھوڑی دیر یونہی رہنے کے بعد سمیر کا لن میری چوت سے پھسل کر نکل گیا تو سمیر میرے پہلو میں آکر لیٹ گیا وہ سیدھا لیٹا ہوا مجھے بہت پیارا لگ رہا تھا ۔ میں اسے چومنے لگی اور اسکے سینے کے بالوں سے کھیلنے لگی. اس کا سینہ بہت تیزی سے اوپر نیچے ہورہا تھا جس سے اسکے نھنھےنھنھے نپلز اور بھی حسیں لگ رہے تھے ۔سمیر نے میرا سر اپنے بازو پر رکھا اور میرے سر میں انگلیوں سے کنگھی کرنے لگا ۔ میں کچھ دیر کے لئے اس کے ممیں کچھ دیر کے لئے اس کے مضبوط بازوؤں پر اونگھ گئی ۔ جب سمیر نے میری گردن پر ہونٹ رکھے تو میری آنکھ کھلی اور میں سمیر سےلپٹ گئی اور اسکے ہونٹوں پر انگلی پھیرتے ہوئے کہا آئی لو یو سمیر ۔ ۔۔۔۔ اس نے آئی لو یو ٹو کہتے ہوئے مجھے اپنے ساتھ زور سے لپٹالیا ۔۔۔ اور پھر اس رات ہم نے تین 3 بار پیار محبت کا کھیل کھیلا ۔ ہماری پوری رات رتجگے میں گزرگئی ۔ ہم دونوں خوش تھے کہ اب ہم ہمیشہ کے لیے ایک ہوچکے ہیں ۔ ہماری دلی مرادیں پوری ہوچکی تھیں ۔ اس وقت اریبہ کی عمر 19 سال ہے جبکہ انیلا کے سمیر دو بیٹے ہیں
  8. مجھے کہانی اپڈیٹ کرنے کا علم نہیں پلیز رہنمائی کریں تاکہ میں اپنی کہانی مکمّل کر سکوں
  9. کہانی کی اپڈیٹ کا انتظار رہے گا
  10. سچی بات ہے کہ کہانی لکھنا واقعی مشکل کام ہے لیکن پڑھنا آسان ہے
  11. Koi bat nahi dr sab we are waiting
  12. پرسوں اگلی قسط اپلوڈ کر دی جائے گی
  13. میرا نام صبا تاڑرڑ ہے میرا تعلق حافظ آباد کے ایک گاؤں سے ہے میرے والد صاحب ایک بنک منیجر ہیں والدہ ہاوس واہف ہیے بھائی مجھ سے بڑا ہے وہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں فنانس کے شعبے میں منجیر ہے کہانی اس وقت شروع ہوئی جب میری عمر 17 سال تھی اور میرا ایڈمیشن گورنمنٹ کالج آف کامرس گوجرانوالہ میں ہوا جو کہ گوجرانوالہ ڈویژن میں کامرس کی تعلیم کا سب سے بڑا اور پرانا ادارہ ہے وہ ستمبر 2013 کا دن تھا جب میں پہلے دن کالج میں داخل ہوئی میرا داخلہ میرے تایا ابو نے کروایا تھا وہ اس کالج کے سینیر پروفیسر تھے تایا ابو مجھے میری کلاس میں چھوڑ کر آئیے کلاس میں تقریباً 30 سے 35 لڑکیاں تھیں میں بھی جا کر ان کے ساتھ بٹھ گی اور ایک لڑکی میری طرف ہاتھ بڑھایا میرا نام نمرہ اور آپکا میں جھجک تے ہوئے کہا صبا اس نے ساتھ والی لڑکی سے تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ یہ صدف اتنے میں ایک پروفیسر کلاس میں داخل ہوئے اور اپنا تعارف پروفیسر قادر کے نام سے کروایا اور کلاس کو اپنا تعارف کروانے کا کہا تمام لڑکیوں نے اپنا نام اور میٹرک کے کے نمبر بتائے اس کے بعد پروفیسر صاحب بولے کہ اب آپ لوگ باتیں کریں اور کل آپ لوگ 9 بجے آہیں کیونکہ کل آپکی سنیر نے آپ کے لیے ویلکم پارٹی کا انتظام کیا گیا سو انجو یور سلف سارا دن ایسے ہی باتوں میں گذر گیا چھٹی کے بعد تایا ابو کے ساتھ ان کے گھر ہی چلی گئی تایا ابو گوجرانوالہ میں ہی رہتے تھے سیالکوٹ روڈجناح سٹیڈیم کے پاس اگلے دن میں تایا ابو کے ساتھ ہی کالج گی تقریباً 9.30 بجے ہم کار سے اتر ے ہی تھے کہ پروفیسر قادر کی کار بھی آ رکی تایا جی مصافحہ کیا پھر جی نے کہا کہ ڈپٹی آگیا کہ نہیں؟ نہیں وہ پرسوں تک آے گا شاید خیر ہم حال کی طرف چل پڑے تقریب 9بجے شروع ہوی اور 12 بجے تک ختم ہوی اس کے بعد ہمیں بتایا گیا کہ آپکو کون کون سے پروفیسر لیکچر لیں گے اور ہم گھر آ گے اگلے دن کالج گی تو پہلا لیکچر خالی ہی گذر گیا دوسرے لیکچر میں پروفیسر قادر آیے اور بزنس انفارمیشن ٹیکنالوجی کا لکچر ہوا تیسرا پھر خالی گزر گیا چوتھے انگلش کا پانچواں اردو کا چھٹا پھر خالی گزر گیا دوسرے دن پھر وہی شیڈول چھٹی کے وقت جب میں باہر آیی تو تایا ابو ایک لڑکے ساتھ کھڑے تھے وہ ہنڈا 125 پر بٹھا تھا ہیلمیٹ پہنا ہوا تھا شلوار قمیض میں ملبوس تایا ابو نے کہا کہ کل آو گے تو اس نے کہا جی ضرور پھر تایا جی نے میری طرف اشارہ کیا کہ یہ میری بھتیجی ہے اسے میرے گھر چھوڑ دینا میں نے ایوننگ سیکشن کے 2 لکچرر لینے ہے میں نے حیرت سے تایا جی کی طرف دیکھا تو انہوں نے کہا کہ کوئی بات نہیں یہ میرا شاگرد ہے میں ڈرتی ہوئے اس کے ساتھ بیٹھ گی اس نے بایک سٹارٹ کی اور ہم چل دیئے 25 منٹ کے خاموش سفر کے بعد ہم گھر پہنچ گئے میں بایک سے اتر کر شکریہ کہا اور اس کا نام پوچھا اس نے کہا کہ نام پوچھ کر آپ نے کیا کرنا ہے میں نے جواب دیا کہ اگر آنٹی نے پوچھا کہ کس کے ساتھ آی ہو تو کیا جواب دوں آپ آنٹی کو بتا دینا کہ ڈپٹی تھا میں اندر گی تو آنٹی نے تایا ابو کا پوچھا تو میں کہہ کے دو لکچر لینے کے بعد آہیں گے تو تم کس کے ساتھ آی ہو آنٹی نے پوچھا تایا ابو کا کوئی شاگرد تھا ڈپٹی نام کا اس کے ساتھ آی ہوں باہر دیکھو اگر وہ یہی ہے تو اس کو اندر بلاو جلدی میں نے گیٹ کھول کر باہر دیکھا تو وہ جا چکا تھا میں نے آ کر بتایا کہ وہ جا چکا ہے تو آنٹی نے فوراً فون کا ریسیور اٹھایا اور کوئی نمبر ڈائل کیا لیکن مطلوبہ نمبر بند جا رہا تھا آنٹی نے فون رکھا اور مجھے کہا کہ تم یونیفارم تبدیل کرو میں تمہارے لیے کھانا لگاتی ہوں میں نے کھانا کھایا اور کچھ دیر آرام کیا جب اٹھی اور باہر آی سامنے ایک لڑکی تایا ابو کے پاس بیٹھی باتیں کر رہی تھی جب میں ان کے پاس سے گزری تو تایا ابو نے کہا کہ سدرہ اس نے بھی ڈی کام شارٹ ہینڈ میں ایڈمیشن لیا ہے سدرہ نے مسکرا کر کہا کہ اس کا مطلب کہ پروفیسر ارباز کا عذاب بھی ان پر نازل ہوا کہ نہیں اس دفعہ تایا جی مسکرا کر کہا کہ کل پہلا لکچرر ہے اسکا ان کے ساتھ میں کچن میں گیی پانی پیا اور کچھ دیر بعد باہر نکل آئ تایا جی نے مجھ کہا کہ جاو سدرہ کو دروازے تک چھوڑ او میں اسکے ساتھ چل دی اور اس سے پوچھا کہ یہ ارباز کس بلا کا نام ہے سدرہ :ٹھنڈی آہ بھر کر یار وہ دلوں کی دھڑکن ہے اس دیکھ کر دل ڈھڑکنا بھول جاتا تم دیکھو گی تو سمجھ جاو گی خیر یہ بلا بھی ہماری وجہ سے آپ کے گلے پڑی ہے یار ابھی وقت نہیں ہے کل مل کر بتاو گی یہ کہہ کر وہ چلی گئی رات کے کھانے پر آنٹی نے تایا ابو سے کہا کہ دیکھ لیں آج آپکا ڈپٹی دروازے سے واپس چلا گیا ہے اندر نہیں آیا تایا ابو ارے بھی پہلے تو وہ آدمبرج وذیرستان سے 15 گھنٹے کا سفر طے کر کے آیا تھا دوسرا اس نے یونیورسٹی جانا تھا اس لیے اسکو جلدی تھی کل لازمی آے گا آنٹی وہاں خیریت سے گیا تھا اسکا ماموں ذاد اپنے قبلے کا سردار بنا ہے اسکی تقریب تاج پوشی گیا تھا 5 دن کے لیے کل لازمی آے گا اب کھنا کھاو اگلے دن جب پہلا لکچر شروع ہوا تقریباً 3 منٹ کے بعد ایک 20سالہ نوجوان کمرے میں داخل ہو آسمانی کلر کی کاٹن کی شلوار قمیض سیاہ شوز 5فٹ8انچ قد سرخ سفید رنگ سنہری آنکھیں چوڑا سینہ لمبی ناک کالے سیاہ بال چھوٹے چھوٹے ایک طرف کنگھی کیے ہوے ایک مردانہ وجاہت کا مکمّل عکس اسے دیکھتے ہی دل کی ڈھڑکن بے قابو ہو کر رہ گئی آنکھیں جھپکنے ہی بھول گئے اسے دیکھنے میں اس قدر محو ہوے کہ بیٹھنا ہی بھول گئ سب لڑکیاں اس نے اپنے سامنے رکھا ہوا ڈیسک بجا کر تمام لڑکیوں کو ہوش میں واپس لایا اور مجھ کمبخت سدرہ کی بات یاد آئی سچ کہہ تھا کمینی نے اس نے لب کھولے اور کہا کہ میرا آپکے 3 لیکچر ہوں گے پہلا فنانشل اکاونیٹینگ تیسرا انگلش شارٹ ہینڈ اورچھٹا جو پہلے 3 دن ہو گا اصول تجارت کا میرا نام سردار محمد ارباز اسلم ڈوگر ہے اور میں نے اپنا ڈی کام اسی کالج سے مکمل کیا ہے اور آپ لوگوں کے ساتھ تعارف وقت کے ساتھ ساتھ ہوتا رے گا صدف سلیم کون آپ میں سے صدف کھڑی ہوی ادھر آو یس سر صدفکو ایک چابی دی اور کچھ کہا صدف کمرے سے باہر نکل گئی آپ لوگ اپنی اپنی بکس اوررجسٹر نکالو اور لکچرر شروع ہو گیا لکچرر کس کمبخت کو سمجھ آنا تھا اسے دیکھ دیکھ کر دل کی حالت عجیب سی ہو رہی تھی اسی دوران صدف دوبارہ کلاس میں داخل ہوئ چابی اور بکس پروفیسر کو دی پروفیسر نے چابی پکڑی اور جانے کا اشارہ کیا صدف صدف نے پوچھا کہ سر یہ بکس کس کو دینی ہیں (Ab poofesure ko us k nam sa pukra jay ga) ارباز یہ آپکی ہیں آپکے پاپا نے منگوائی تھی مجھ سے (sadaf ka bap saleem college ma principle ka peon tha ya books Arbaz na apni jaib sa khareed kar di thi joo ka uski car ma pari thi our zahir ya kia tha ka us ka bap na la kar di haa) صدف اوکے سر تقریباً 20 منٹ بعد لکچر ختم ہو گیا ارباز باہر نکل گیا تمام لڑکیاں ایک دوسرے سے ارباز کی پرسنیلٹی کی تعریفوں کے پل باندھ لگی خیر دوسرا لکچر ختم ہواپھر ارباز کا لکچرر شروع ہو گیا شارٹ ہینڈ پھر وہی حالت اس سے قبل مجھے عشق پیار محبت کے ناموں نفرت تھی میرے خیال میں یہ عشق پیار محبت نکاح کے بعد مرد عورت کے درمیان پیدا ہوتا ہے لیکن یہ کیا میں خود بار بار اس کو دیکھنا چاہتی ہوں کوئی اور اسے کیوں دیکھے جب کوئی لڑکی یوں پیار بھری نظروں سے اسے دیکھتی میرا دل کرتا ان کی آنکھیں نکال دوں خیر ایسا سوچ سکتی تھی کر کچھ نہیں سکتی تھی خیر چھٹا لکچرر بھی اسی سوچ میں گزر گیا چھٹی ہوئی تو میں تایا ابو کے پاس گئی اور بولی کہ چلیں تایا جی نے کہا کہ تمہیں بتایا تو تھا کہ میرے ایوننگ میں 2 لکچرر ہیں تو تم ڈپٹی کے ساتھ چلی جاو وہ باہر پارکنگ میں تمہارا انتظار کر رہا ہو گا اور سنو وہ آج بایک پر نہیں کار میں آیا ہے وہ گیٹ کے قریب ہی کھڑا ہے کالی ٹویوٹا ایکس ایل آی ہے 10 ماڈل جاو میں جیسے ہی بلاک سے باہر نکل تو مجھے گیٹ کے سامنے کار کھڑی دیکھ گی جیسے ہی میں کار کے نزدیک گی کار کا اگلا دروازہ کھلا میں نے اندر دیکھا تو سامنے ارباز ڈرائیونگ سیٹ پر موجود تھا میں دل میں دعا کی کہ کاش یہ ڈپٹی ہی ہو سر ڈپٹی آپ ہی ہو جی میں ہی ڈپٹی ہوں بیٹھے آپ کو گھر چھوڑ دوں میرے لبوں پر ایک مسکراہٹ آگی اور گاڑی میں بیٹھ گی دروازا بند کیا ارباز نے گاڑی آگے بڑھا دی اور ایم پی تھری آن کر دیا جہاں نواز بلوچ کی آواز میں ایک غزل شروع ہوئی مجھے تم سے کوئی گلہ نہیں کہ میں کہ یاد تم کو نہ آسکامگر اتنی بات بھی ضرور ہے کہ تمہیں نہ دل سے بھلا سکا یہ غزل بار بار سنتے ہم20 منٹ میں گھر پہنچ گئے کار سے باہر نکلنے سے پہلے میں نے کہا کہ آج آپکو اندر آنا پڑے گا کل بھی آنٹی خفا ہوی تھی اگر آپ نہ بھی دعوت دیتی تو میں نے پھر بھی جانا تھا کیونکہ کل رات میری اچھی طرح کلاس لی ہے آنٹی نے فون پر اور ویسے بھی آج انہوں نے میری فیورٹ ڈش مٹر قیمہ بنیا ہے یہ کہہ کر گاڑی سے اتر کر باہر آیا اور اندر چلا گیا آنٹی نے اسکا حال احوالِ پوچھا پھر کہا کہ تم دونوں ہاتھ منہ دھو لو میں کھانا لگاتی ہوں ہم نے ہاتھ منہ دھویا اور کھانے کی میز پر بٹھ گے اور کھانا شروع کر دیا کھانے کے دوران آنٹی نے ارباز سے پوچھا کہ وزیرستان خیریت سے گے تھے جی آنٹی وہ ماموں یوسف خٹک اپنے قبیلے کی سردار کے عہدے سے سبکدوش ہونے اور ان کے بڑے بیٹے تبریز خٹک قبیلے کا نیا سردار بنے کی خوشی میں وہاں ایک چھوٹا سا جشن تھا تو اپنے سردار بھائی کو تم نے کیا تحفہ دیا ہے ایک بریٹا 9 ایم ایم پستول اورایک ٹویوٹا کمپنی کا فور بای فور ڈالہ ھای لیکس دیا شادی ہو گئی تمھارے اس بھائی کی اگلے سال ہے تم کہو تو میں تمہارے لیے ایک خوبصورت اور دلکش لڑکی ڈھونڈوں وہ تمھارا بہت خیال رکھے گی ارباز کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور اپنا رونا صبظ کرتے ہوئے آنٹی جی جو میری دنیا تھی مجھ سے محبت کرنے والی میرا خیال رکھنے والی میری خاطر اپنے سب سے لڑنےوالی جب وہ چھوڑ چکی ہے مجھے تو اب اس دل میں کسی کو بسانا ناممکن سا ہو گیا ہے آنٹی نے ارباز کو اپنے کندھے سے لگاتے ہوئے کہا چپ کر جاو اب میرا بیٹا رونا نہیں جانے والوں کے ساتھ جایا نہیں جاتا وہ اپنی مرضی سے نہیں گی بلکہ وہ قدرت کے قانون کے آگے مجبور تھی اسی بات کی وجہ سے صبر کر رہا ہوں اگر خودکشی حرام نہ ہوتی تو کب کا کر چکا ہوتا اس سے ملنے کے لیے یہ بات کہہ کر وہ نم آنکھوں سے اٹھا اور چلا گیا میں نے بعد میں آنٹی سے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے تو آنٹی نے کہا کہ بہت خوش نصیب بھی ہے اور بہت بدنصیب بھی اسکے پیدا ہونے سے 5 ماہ قبل اسکا چچا فوت ہو گیا جسکی 3 ماہ قبل شادی ہوئی تھی پیدا ہوا منہ میں سونے کا چمچ لے کر باپ کی 750 ایکڑ زرعی اراضی ایک فلور ملز ایک راہس ملز5دوکانیں سیٹلائٹ ٹاؤن مارکیٹ میں اور 12 دال بازر میں اور گاوں میں ایک 4 کنال کی شاندار حویلی کا مالک تھا لیکن 2 ہفتے بعد اس کی ماں سلمی فوت ہو گی جو کہ آپ کے پروفیسر قادر کی اکلوتی بہن تھی بعد میں اسکی چاچی گل بدن جو بیوہ ہو گی تھی نے اس کو اپنی گود میں لے لیا وہ اپنی شوہر کی وفات کے بعد بہت اداس رہنے لگی تھی لیکن یہ اسکے لیے کھلونا بن گیا چچی بھتیجے کہ یہ پیار دکھ کر قادر نے اسلم کو گل بدن شادی کا کہا ادھر یوسف نے گلبدن کو اسلم سے شادی کرنے کا کہہ پہلے دونوں نہیں مانے لیکن بعد میں دونوں ہی مان گئے جب 6 سال کا ہوا تو اس نے شازیہ پروفیسر قادر کی بیوی سے اسکی اکلوتی بیٹی ماہرہ کا ہاتھ مانگ لیا خود سب کے سامنے سبھی مسکرا دیے شازیہ نے آگے بڑھ کر اسے پکڑا اور اپنی گود میں بٹھا کر پوچھا کہ تم ماہرہ سے شادی کیوں کرنا چاہتے ہو کیونکہ وہ آپکی طرح بڑی ہو کر بہت خوبصورت ہو گی شازیہ نے اسے پیار سے چوم کر اپنے گلے لگا لیا اور کہا کہ میں اپنی بیٹی کی شادی اپنے اس پیارے سے بھانجے کے ساتھ کروں گی گلبدن نے دیکھتے ہوئے قادر سے اسکی بیٹی کا ہاتھ مانگا اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے قادر اپنی اکلوتی بہن کی اکلوتی اولاد کو کیسے انکار کر سکتا تھا گل باجی میں اپنی اکلوتی بہن کی اکلوتی نشانی کو خود سے کیسے دور رکھ سکتا ہوں مجھے یہ رشتہ منظور ہے اسکے تقریباً 7 ماہ بعد ایک کار حادثے میں اسکے ماں اور باپ دونوں فوت ہو گئے اسکے بعد وہ ایک ہفتہ گاوں میں رہا پھر قادر اسے اپنے پاس شہر لے آیا لیکن یہاں آنے کے بعد یہ بیمار ہو گیا اسکے بیمار ہونے کے 3دن بعد ماہرہ بھی بیمار ہونا شروع ہوگئی دو ماہ کی کوششوں کے بعد دونوں تندرست ہونا شروع ہوے دونوں نے ایک ساتھ سکول شروع کیا اور ایک ہی سکول میں داخلہ لیا پر اہمری تک ایک ساتھ پڑھے بعد میں ارباز اپنے گاوں چلا گیا جہاں اس کے باپ کے دوست صابر نے تمام رشتہ داروں اور گاوں والوں کے سامنے اسکے سر پر اسکے باپ کی پگڑی رکھی اسکے بعد اس نے گاوں میں رہ کر اپنی تعلیم میڑک تک مکمل کی اور گاوں کے معاملات دیکھے اسکے بعد قادر کے چھوٹے بھائی ناصر کے کہنے پر دوبارہ شہر آگیا اور کامرس کالج میں قادر کے پاس داخلہ لے لیا ماہرہ نے ایف اے میں داخلہ لیا صبح ماہرہ کو کالج چھوڑنا اور بعد میں واپس لے کر آنا اس نے اپنے ذمے لیادونوں کے درمیان محبت پھر سے پروان چڑھنے لگی محبت کا عالم یہ تھا کہ ارباز کے تمام کام جسے اس کے منپسندکھانا بنانا اسکے کپڑے خود دھونا اسکے کمرے کی صاف صفای خودکرنا حالانکہ اس کے اپنے تمام کام ملازمہ کرتی تھی کالج جانے سے پہلے اسکا بیگ چیک کرنا یہاں تک کہ اسکے کپڑوں اور جوتوں کی کی خریداری بھی وہ اپنی پسند کرتی تھی دونوں بہت خوش تھے لیکن کس کی نظر لگ گئی اسکی خوشیوں کو کہ ماہرہ بھی ایک حادثہ میں چل بسی بس وہ دن اور آج کا دن یہ کبھی مسکرایا نہیں ڈیڑھ سال ہوگیا ہے اس حادثے کو دو مرتبہ خود کشی کی کوشش کی ہے قادر کے مطابق روز رات کو اسکی تصویر کو سینے سے لگا کر روتا رہتا ہے صبح اکثر اسکی آنکھیں سرخ ہوتی ہیں یہ کہہ کر آنٹی اٹھی اور برتن سمیٹنے لگی میں نے سوچا کہ کیسا دیوانہ ہے کچھ دیر ٹی وئ دیکھا اتنے میں ڈور بیل بجھی میں نے اٹھ کر باہر دیکھا تو سامنے سدرہ موجود تھی کیا حال ہے سدرہ میں ٹھیک تم سناؤ ہاں تو پھر سناو کیا حال ہے دل کا سچ کہا تھا آپ نے دل کی ڈھڑکن وہ میں ہی نہیں بلکہ ساری کلاس کی لڑکیاں اسکی دیوانی ہو گی ہیں آپ بتاو کہ یہ آپ پر کیسے عذاب بنا یار آج سے 3 سال پہلے جب میرا داخلہ کامرس کالج میں ہوا تھا ہمارا بیچ پہلا تھا جس میں لڑکیوں کو ڈی کام میں ایڈمیشن دیا گیا اس سے پہلے لڑکیاں بی کام اور ایم کام داخلہ لے سکتی تھیں ہماری کلاس کو شروع ہوے تقریباً 1 ماہ ہو گیا تھا ہمارا چوتھا لکچر تھا اصول تجارت کا آپکے تایا ابو کا تھا سر کلاس میں داخل ہوئے اور ان ساتھ ارباز بھی تھا سفید شرٹ گرے پینٹ نیلی ٹای جس پر جی سی سی جی کا لوگو تھا بہت خوبصورت لگ رہا تھا ابھی سر کو بیٹھے دو منٹ ہوئے تھے کہ باہر سے کسی پروفیسر نے سر کو باہر بلایا سر اٹھ کر باہر نکل گئے اور ارباز رجسٹر پر کچھ لکھنے لگا اور ہم نے یہ جانے بغیر کے سر باہر دروازے پر موجود ہیں شور مچانا شروع کر دیا 5 منٹ بعد اس نے اٹھ کر زور سے ڈیسک پر ایک ہاتھ مارا تمام لڑکیاں فورا خاموش ہو گی اس کے بعد اس نے کہا کہ یہ قدرتی بات ہے کہ عورت کی زبان جبڑوں کے درمیان کم ہی قید رہتی ہے لیکن آپکو کوئی شرم کوئی حیا ہے کہ نہیں کہ آپکے پروفیسر باہر دروازے پر موجود ہیں اور اتنا شور کر رہی ہیں کہ جسے بندہ سبزی منڈی میں ہے کلاس کے کچھ اصول ہوتے ہیں کچھ آداب ہوتے ہیں آپکے پروفیسر کلاس میں نہیں ہیں اپنا سبق یاد کریں اور آپ ہیں کہ شور کر رہی ہیں کونسا لکچرر ہے آپکا ایک لڑکی نے جواب دیا کہ بھائی اصول تجارت کا اس نے ہم سے کچھ سوالات کیے لیکن کسی کو بھی کوئی جواب نہیں آیا پھر وہ کلاس سے باہر نکلا ہم لڑکیوں شکر کیا چلو جان چھوٹی باہر جا کر اس نے سر سے پتہ نہیں کیا بات کی آور واپس آیا اور بولا کہ آج کے بعد آپکا اصول تجارت کا لکچرر سر آصف کی بجائے میں لوں گا اس نے ہمیں پہلا چیپٹر سمجیا اور ہمیں ہر چیز کی سمجھ آگئی یقین مانو کہ ہمیں 75 فضید لیکچر وہی یاد ہو گیا اس کا پڑھانے طریقہ بڑا زبردست تھا کہ اتنے میں ایک لڑکی عائشہ نے ساتھ والی لڑکی سے باتیں شروع کر دیں سر اسے کھڑے ہونے کا اشارہ کیا آور کلاس سے باہر نکل کا حکم دیا لیکن وہ نہیں نکلی آپکے والد کیا کرتے ہیں جی وہ تھانہ قلعہ دیدار سنگھ میں ایس ایچ او ہیں نذیر چیمہ کی بڑی بیٹی ہو عائشہ حیرانگی سے جی کروں کال آپکے والد کو کہ آپ بڑی بدتمیز ہیں وہ ہر ہفتے والے دن شام 7سے10 بجے تک میرے ڈیرے پر حاضری دیتا ہے گرلز اگر یہ کلاس سے باہر نہ نکلی تو آج کے بعد آپکا کوئی لیکچر نہیں ہو گا اس کے بعد وہ باہر نکل گیا اور اگلے دو لکچرر میں کوئی پروفیسر نہیں آیا اگلے دن پہلے 4 لکچرر میں کوئی نہیں آیا تو تمام لڑکیوں نے مل کر سر شفقت سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ جب تک عائشہ ارباز سے اپنے رویے کی معافی نہیں مانگ تی تب تک کوئی کلاس نہیں ہو گی کلاس میں آکر ہم نے عائشہ کی کلاس لی کہ یا تو وہ سر سے معافی مانگ لے یا پھر اپنا بستہ اٹھائے اور گھر جاہے عائشہ نے کہا کہ وہ مانگنے کے لئے تیار ہے پاپا کو مت بتایا جاے کہ میں نے کلاس میں سر سے بدتمیزی کی ہی ورنہ مجھے بہت ڈانٹ پڑے گی اپنے باپ سے عائشہ اور میں سر آصف کے پاس گئی اور پوچھا کہ سر ارباز کہاں ملیں گے وہ بوائز کے شارٹ ہینڈ بلاک کے کمرہ نمبر 11 میں ہو گا ہم بوائز بلاک میں گیی 2 فلور پر شارٹ ہینڈ بلاک تھا سیڑھیاں چھیڑتے ہی سامنے روم نمبر 11 تھا ہم دروازہ ناک کیا اور اندر داخل ہو گئے اندر کمرے میں کوئی پروفیسر نہیں تھا تمام طالب-علم اپنے اپنے کام میں مصروف تھے کمرے میں سانس لینے کی بھی آواز نہیں تھی اتنی خاموشی ہم نے ایک لڑکے سے بات کی ارباز سے ملنا ہے اس نے اٹھ کر پچھے دیکھا تو ایک لڑکے کو آواز دی شیخ ڈپٹی کدھر ہے شیخ نے کہا کہ وہ رانا عثمان اور رانا احسن اور رضا تارڑ پروفیسر حبیب کے کمرے میں چائے پی رہے ہوں گے اس لڑکے نے جواب دیا کہ آپ بوائز کے پچھے جا کر کرسیوں پر بٹھ جاہی ہم پچھے جا کربٹھ گیی اس نے ولید نامی لڑکے کو ان کو بلانے بھجا وہ لڑکا چلا گیا اور حیرت کی بات یہ کہ اس دوران ایک بھی لڑکے نے ہماری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا اور ہمیں غصہ آرہا تھا کہ ہمیں کیوں نہیں دیکھ رہا چند لمحوں بعد وہ لڑکا واپس آیا اور کہا کہ وہ وہاں نہیں ہیں پیچھے سے ایک آواز آئی کہ کنٹین می دیکھو وہاں ہوں گے ٥منٹ بعد دروازہ کھلا اور ولید کے ساتھ ارباز اور3 لڑکے کلاس میں داخل ہوئے عائشہ نے فوراً اٹھ کر معافی مانگنا چاہی تو اس نے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور ہمیں اپنے کمرے میں جانے کا کہا اور خود ہمارے پچھے کمرے میں آگیا کمرے میں آکر عائشہ نے سب سامنے ارباز معافی مانگ لی اور لکچرر شروع ہوگئے 5 دن بعد ہم نے سر مشتاق سے ارباز کے پارٹ ون کے نمبر کے بارے میں پوچھا تو پتہ چلا کہ جناب نے 91فصیدنمبر لے کر پنجاب بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن میں دوسری پوزیشن حاصل کی ہے اور دو ہفتے قبل بورڈ کی جانب سے یورپ کے 5 ممالک کی سیر کر کے آئے ہیں اس کے بعد اس نے ہمارا شارٹ ہینڈ آور فنانس اکاؤنٹینگ کا لکچرر لینا شروع کر دیا لیکن ایک بات تھی کہ کافی لڑکیوں نے اسے محبت بھرے خط لکھے لیکن اس نے کسی کا جواب نہیں دیا اسے ہی ہمارا تعلیمی سال مکمّل ہوا امتحان دیا آور تمام کلاس اچھے نمبر کے ساتھ پاس ہو گی اور ارباز نے اس دفعہ پھر بورڈ میں 90فصیدنمبر کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی اس کے بعد اس نے پنجاب یونیورسٹی گوجرانوالہ کمپیس میں شام کی کلاس میں ایڈمیشن لے لیا پارٹ ٹو میں اس نے ہمارا اکنامکس اور دفتری دستور العمل اورکمینو کیشن سکلز اور پاکستان سٹڈیز کا لکچرر لیے جو کہ ہفتے میں 3 3 دن ہوتے تھے اب ارباز بی بی اے کر رہا ہے اور پانچویں سمسٹر میں ہے اور میں بی کام کے تھرڈ سمسٹر میں ہوں اس کے بعد سدرہ چلی گئی اور میں اگلے دن کالج گی سارے دن پڑھائی کی واپسی پھر کار میں وہی غزل وہی آواز میں نے اسکی طرف ہاتھ بڑھایا اور کہا کہ مجھ سے دوستی کریں گے اس نے کہا کہ میں لڑکیوں سے دوستی نہیں کر تا چلیں اپنی شاگرد سے کر لیں دوستی اوکے ٹھیک ہے اب ہم دوست ہیں جی اسکے بعد میں نے اسے کچھ لطیفے سائے کہ چلو مسکرا ے تو سہی لیکن یہ کیا مسکرانا تو دور اس نے اپنے چہرے پر مسکراہٹ لانے کی کوشش بھی نہیں کی اس نے مجھے گھر چھوڑا اور آنٹی سے مل کر چلا گیا میں شام کو کامران کے ساتھ مارکیٹ گی اور 6 ہزار کی ایک خوبصورت گھڑی لے کر واپس آے کامران نے پوچھا کہ یہ کس کے لیے میں کہا کہ ارباز کے لیے او تو دیوداس صاحب کے لیے ہے وہ نہیں لے گا دیکھ لیں گے لیتا ہے یا نہیں اگلے دن واپسی پر میں نے اس کا باہیں ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا اور وہ گھڑی اس کو پہنا دی یہ میری دوستی کا پہلا تحفہ اسکا مطلب اب آپ کو بھی تحفہ دینا پڑے گا بتائیں کیا چاہیے آپکو ایک وعدہ کیا مطلب ہم گھر پہنچ چکے تھے کار سے اتر کر اندر گے منہ ہاتھ دھو کر کھانا کھایا ارباز جانے لگا تو آنٹی نے کہا کہ آج تمہارا پہلا لکچر 3 بجے ہے نہ اوپر کامران کے کمرے میں آرام کرو کچھ دیر وہ اٹھا اور ٹی وی لاؤنج میں جا کر ٹی وی دیکھنے لگا آنٹی اپنے کمرے میں چلی گئی میں آکر اس ساتھ بٹھ گی اور کہا کہ وعدہ یہ ہے کہ آج کے بعد آپ ماہرہ کو یا اپنے والدین کو یاد کر کے رویا نہیں کریں گے بلکہ ان کی بخشش کی دعا کیا کریں گے اور ہمیشہ مسکرایا کریں گے بس یہ میری زندگی کا سب حسین تحفہ ہو گا میرے لیے میرے دوست کی طرف سے ارباز کی آنکھیں بھر آہیں اور میرے کندھے پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا20 منٹ بعد جب وہ چپ ہوا تو سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور کہا کہ آج آخری بار جی بھر کر رو لیا ہوں آج کے نہیں روتا اور آج کے بعد مسکرایا کروں گا ہمیشہ میں نے چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا اسکے آنسو صاف کیے اور اسکی گال کو چوم لیا اور پھر اسکا سر اپنے کندھے پر رکھ دیا لیکن جسے ہی اس نے اپنا سر کندھے پر رکھ میرے جسم میں ایک عجیب سا کرنٹ لگنے لگا اور میں بے اختیار اسکی کمر کو تھپ تھپانے لگی میرے جسم کی کیفیت عجیب ہونے لگی شاید اس وجہ سے زندگی میں پہلی بار کسی مردکےجسم کا ٹچ تھا پھر اسے اٹھا کر منہ دھونے کا کہہ اس نے منہ دھویا اور میں نے تولیہ لے کر خود اسکا منہ صاف کیا اور اد کے لیے ٹھنڈا جوس لے کر آی اس نے جوس پیا اور یونیورسٹی چلا گیا اگلے دن جب وہ کالج آیا تو مسکرا رہا تھا اسکی مسکرانا دل میں اتر رہا تھا واپسی پر میں نے کہا کہ آج تمام لڑکیاں تم پر فدا ہو گی ہیں تم اپنی بتاو میں پہلے دن سے ہی آپ فدا ہوں ایسی ہی باتوں میں ہم گھر پہنچ گئے وقت اپنی رفتار سے تیزی سے دوڑنے لگا اور پتہ ہی نہیں چلا کہ کب اپریل کا مہینہ آخری ہفتے آیا اورہمیں رولنمبر سلپ مل گی کہ اگلے مہینے کی 13 تاریخ سے ہمارے سالانہ امتحانات شروع ہیں امتحان شروع ہو اور 2 جون کو ختم ہو گےاور 15 اگست تک گرمیوں کی چھٹیاں تھی لیکن آخری دن مجھے تایا ابو کی کالج البم سے ارباز کی تصویر مل گی جس میں وہ کھڑا ہاتھ میں پانی کی بوتل لیے مسکرا رہا ہے میں نے وہ تصویر نکالی اور اپنے بیگ میں رکھ لی مجھ تو ارباز سے بے انتہا محبت ہو چکی تھی لیکن اسکا پتہ نہیں گاوں واپس گی بھائی کا پرانا موبائل ہاتھ لگ گیا ابو جی والی پرانی سم اسمیں ڈالی اور روز رات کو 10 سے 2 بجے تک ارباز فون پر بات چیت اور اد کے بعد اسکی تصویر کو سینے سے لگا کر سو جاناجس دن اس سے بات نہ رات کروٹیں بدل میں گزر جاتی ہے سیکس کا پہلو ہماری گفتگو کے درمیان بالکل بھی نہیں تھا چھٹیاں ختم ہوی 5 دن بعد رزلٹ ملا73 فیصد نمبر لیے پارٹ ٹو میں ارباز نے ہمارے 4 لکچرر لیے پہلے ارباز مجھے صرف واپس لے کر جاتا تھا لیکن اب صبح کالج لے کر آنا اور واپس لے کر جانا وقت کا پہیہ پھر گوما اور آگیا 5 مارچ کالج میں تقریب تقسیم انعامات تھی آج یونیفارم کی بجائے کپڑوں میں جانا تھا میں نے اس کے لیے کھاڈی کا لاہٹ پنک کلر سوٹ نارمل میک اپ اور نیچے وہیٹ سینڈل جیسے ہی میں تیار ہو کر آی تایا جی نے پوچھا کہ میرے ساتھ چلو گی یہ آپکے پروفیسر کو کال کریں اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتی آنٹی بولی یہ آپ بزرگوں کے درمیان کیا کرے گی آپ ارباز کو کال کریں بلکہ صبا تم ایسا کرو کہ خود ہی اسکو کال کرو کہ تایا ابو جا چکے ہیں تمہیں آکر لے جا تایا جی موبائل نکالا اور کال کی کچھ ریر بعد ارباز آیا میں باہر جا کر گاڑی میں بیٹھ گئی کیا بات ہے آج بہت خوبصورت لگ رہی ہو مای ڈیر فرینڈ میرا دل رکھنے کے لیے ایسا نہ کہو یار سچ میں آج بہت خوبصورت لگ رہی ہو میں نے شرما کر سر جھکا دیا تو اچھا جناب کو شرمنا آتا ہے اب چلیں کالج پہنچ گئے حال میں گے تھوڑی دیر کے بعد تقریب شروع ہوی مجھے تو بہت زیادہ بور ہونے لگی یہ دیکھتے ہی ارباز نے مجھے باہر آنے کا اشارہ کیا جب میں باہر آہی میں نے تایا جی کو بتا دیا کہ میں ارباز کے ساتھ واپس جا رہے ہیں کالج سے باہر نکل کر ارباز نے کہا کہ مجھے تو بھوک لگی ہے کچھ کھانے چلیں ہم صوفی بریانی کی طرف چل پڑے واپس مجھے گھر چھوڑنے کار سے اتر کر اندر داخل ہوا آنٹی کو سلام کیا آنٹی نے محلے میں ایک گھر جانا تھا ہمارے آتے ہی نکل گی ارباز جانے لگا تو میں نے اس کے گال پر پپی لی پپی لینے کے بعد میں واپس مڑی تو اس نے کہا کہ جب تم میری پپی لیتی ہو تو مجھے ماہرہ کی یاد آتی ہے وہ جب بھی میری پپی لیتی تھی تو میں اس کو لپ ٹو لپ کس کر دیتا تھا تو روکا کس نے ہے اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا اور اپنا ایک ہاتھ میری کمر پر رکھ دیا دوسرے میری گردن کے نیچے اور میرے لبوں سے اپنے لب ملا دے اور میرے نچلے ہونٹ منہ میں لے کر چوسنے لگا ہی تھا کہ اچانک اسکا موبائل بجنے لگا اس نے کال اٹینڈ کی تو دوسری طرف کسی لڑکی کے بولنے کی آواز آئی ارباز آج میری گاڑی والا نہیں آ سکتا کیا تم مجھ پک کر سکتے ہو او کے میں آتا ہوں یہ کہہ کر وہ پچھے ہٹا سوری دوست جانا پڑے گا وہ تو چلا گیا لیکن میرے دل میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا کر گیا میری مسمیوں کے نپل سر اٹھانے لگے اور نیچے چوت میں ایک گدگدی ہونے لگی شلوار میں ہاتھ ڈال کر دیکھا تو میری چوت گیلی گیلی محسوس ہو رہی ہے شلوار سے ہاتھ نکالا اور اپنے کمرے میں گی دروازہ اندر سے لاک کیا شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر قمیض اتاری اپنی برا اتاری پھر شلوار اور پینٹی بھی اتار دی میرا ہاتھ خود بخود میری چوت پر چلا گیا دوسرا چھاتی اور میں مدہوشی کے عالم میں اپنی چوت اور چھاتی کو مسلنے لگی ارباز کے سینے کے ساتھ لگنے لمس یاد آتے ہی میرا ہاتھ میں تیزی آئی اور میں اپنی چوت اور زور سے مسلنے لگی کہ جسم میں اکڑ پیدا ہوی اور آنکھیں باہر کو نکلنے آہیں اور ایک دم میری چوت سے میری زندگی کا پہلا آرگینزم ہوا میرا انگ انگ ایک سرور میں تھا کچھ دیر ایسے ہی گزارنے کے بعد جب جسم اور دماغ کو سکون ملا تو میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ یہ میں نے کیا کر دیا جس جسم کو ارباز کے جسم کے ساتھ ملاپ کے بعد فارغ ہونا چاہیے تھا وہ میں نے ہاتھ سے کیوں کیا کیوں میں نے اپنی کنوارہ جسم کی آگ کو خود بجھا اس آگ کو تو ارباز کو ٹھنڈا کرنا چاہیے تھا یہ میں نے کیوں کیا انہی سوچوں میں کب نیند میں گم ہو گئی پتہ نہیں چلا میری آنکھ اس وقت کھلی جب باہر گیٹ پر آنٹی نے بیل بجای میں نے اٹھ کر اپنا آپ صاف کیا اور کپڑے پہن کے باہر نکل کر گیٹ کھولا تو آنٹی موجود تھی آنٹی نے کہا کہ سو گی تھی ارباز تو آپ کے جانے کے فوراً بعد ہی چلا گیا تھا میں اپنے کمرے میں چلی گئی تھی اور پتہ ہی نہیں چلا کہ کب آنکھ لگ گئی اگلے دن صبح جب ارباز مجھے لینے آیا تو وہ مجھ سے نظریں چرا رہا تھا اور میں اس سے کالج کے بعد جب ہم واپس آہ رہےتھے تو ارباز نے کہا کہ میں آپ سے شرمندہ ہوں کہ کل میں آپ وہ حرکت کرنے لگا تھا جو ایک استاد اور شاگرد کو زیب نہیں دیتی پلیز مجھے معاف کر دیں میں نے کہا کہ پلیز آپ بھی مجھے معاف کر دیں کیونکہ اس حرکت میں میں بھی برابر کی شریک تھی اور مجھ سے اپنی نظریں نہ چرائیں میں آپکی ناراضگی برداشت نہیں کر سکتی ارباز نے مجھے گھر چھوڑا اور یونیورسٹی چلا وقت ایک پھر سے دوڑنے لگا آیا 16 اپریل کا دن جب ایک لڑکی نے اکنامکس کے لیکچر میں ارباز کو ساری کلاس کے سامنے پرپوز کر دیا اس نے اپنے داہنں ھاتھ میں سرخ گلاب لیے ایک گھٹنے زمیں پر رکھ کر فلمی انداز میں پرپوز کیا تو اگلے ہی لمحے ایک زوردار تھپڑ کی آواز بلند ہوی تھوڑی دیر بعد غضے سے اپنی مٹھیاں بھینچ تے ہوئے آپ کالج میں تعلیم حاصل کرنے آہی ہیں یا عشق کرنے اور نام کیا ہے آپکا جی سر تانیہ گوہر جی تو تانیہ میم مجھے بتائیں کہ آپ کا اور میرا رشتہ اس بات کی اجازت دیتا ہے میں آپکا استادِ ہوں اور استاد کی حیثیت روحانی باپ کی ہوتی ہے بتائیں مجھے تانیہ خاموش کھڑی رہی دو منٹ کی خاموشی کے بعد ارباز نے کلرک یوسف کو کال کر کے رولنمبر سلپ کا پوچھا اور ہمیں کہہ کہ کل آپ لوگ آ کر اپنی اپنی سلپ لے لیں اور آج کے بعد آنے کی ضرورت نہیں سلیبس مکمل ہو چکا ہے آپکا اور 23 اپریل کو آپکی جونیئر نے آپکی الوداعی تقریب کا اہتمام کیا ہے بس اس دن آنا ہے آپ نے اور 3 مئی کو اپکا پہلا پیپر ہے یہ کہہ کر ارباز کمرے سے نکل گیا ارباز کے جانے کے بعد ہم تمام لڑکیاں تانیہ گرد ہوی کہ تمہاری وجہ سے ایک 10 پہلے کلاسز ختم ہو گئی اور 2 سال کے بہترین رشتہ کو تم نے ایک پل میں برباد کر دیا کتنی ہی ایسی لڑکیاں تھی جو معاشی حالات کی وجہ سے تعلیم چھوڑنے لگی تھی اس نے تمام لڑکیوں کی مدد کی اور کسی کو اس بات کی خبر بھی نہیں ہونے دی تمہاری وجہ سے ہمارا سب سے بہترین استاد ہماری پوری کلاس سے نارض ہو گیا اور اب تمہیں رونا کس بات پر شروع کر دیا ہے اگر تم پر عشق کا اتنا ہی بھوت سوار تو کم از کم کالج ختم ہونے کے بعد اس کو کہیں اکیلے میں پرپوز کرتی نہ تم خود ساری کلاس کے سامنے ذلیل ہوتی نہ سر کو کرتی ابھی یہ باتیں ہو رہی تھی کہ ارباز نے دروازے پر دستک دی اور مجھے کہا کہ چلو میں آپکو گھر چھوڑ دوں لیکن سر ابھی تو 3 لکچر رہتے ہیں آپکو کہہ دیا کہ آب آپ کی کلاسز ختم اپنے اپنے گھروں میں جائیں صبا جلدی کرو میں آپکا گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں تمام سفر میں خاموشی سے گذر گیا ارباز نے مجھے گیٹ کے سامنے اتارا اور چلا گیا شام کو تایا ابو نے مجھ سے پوچھا کہ آج کلاس میں کوئی مسئلہ ہوا ہے کہ ارباز نے کلاسز ختم کر وا دی اور خود بھی کالج چھوڑ دیا میں نے پوچھا کہ واقعی ارباز کالج چھوڑ دیا ہاں پتہ نہیں آج کیا ہوا کہ اس نے کہا کہ میں آج کالج چھوڑ رہا ہوں کیونکہ میں اپنا بزنس شروع کرنے لگا ہوں نہیں تایا ابو ایسی کوئی بات نہیں دراصل آج کالج میں یہ معاملہ ہوا ہے اس کے بعد میں نے تمام واقعہ تایا جی کو بتا دیا تایا جی بھی کافی غصہ میں تھے اگلے دن میں تو کالج نہیں گیی الوداعی تقریب سے 2 دن پہلے تایا ابو نے ارباز کو فون کیا کہ تمہیں تقریب الوداعی میں لازمی شرکت کرنی ہے ارباز نے کہا کہ کہ لازمی شرکت کرے گا لیکن ایک درخواست ہے کہ میرے ڈی کام کے تینوں دوست الوداعی تقریب میں لازمی شرکت کریں تایا جی نے کہا کہ ٹھیک ہے میں انکو کال کر دیتا ہوں دو دن بعد تقریب تھی میں نے تقریب کے لیے بلیک ڈریس کا انتخابات کیا تقریب والے دن ہم 10 بجے کالج پہنچ گئے اور30: 10 پہ تقریب شروع ہو گئی ارباز تقریباً30: 11 بجے آیا اس نے سفید کاٹن کی شلوار قمیض پہن رکھی تھی جس میں وہ بہت خوب صورت لگ رہا تھا تقریباً 12 بجے اس نے سٹیج پر آ کے ایک تقریر کی تقریباً 10 منٹ اج اسکے الفاظ سننے کو دل کررہا تھا کیونکہ آج کے بعد اس نے جدا ہونا تھا اسکے بعد پرنسپل نے تقریر کی جس میں ارباز اور اسکے کاروبار کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور ہمارے بہترین مستقبل کے لئے امید کی خواہش کی اسکے بعد پرنسپل صاحب سٹیج سے اترے اور آگے بڑھ کر ارباز کو گلے لگایا کیونکہ 2 سال کا بہترین طالب-علم اور 5 سال کا بہترین پروفیسر تھا ہمیشہ 100 فضید رزلٹ دیا اس نے اسکے بعد ارباز تمام پروفیسرز کے ساتھ گلے ملا تمام پروفیسرز کی آنکھیں نم تھی کیونکہ ایک نہایت بہترین سٹوڈنٹ اور بہترین کولیگ کا تعلق تھا اسکے بعد جب وہ اپنے دوستوں راناعثمان اور رانا احسن سے ملا تو کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کرنے لگا تو رانا احسن بول پڑا کہ یار تاڑرڑ کا آج 11 بجے مڈٹرم کا ایگلزام ہے شام کو آے گا میرے گھر میں دعوت ہے تو بھی اپنا مڈٹرم کا پیپر دے آ شام کو اکھٹے ہوتے ہیں اس کے بعد سب نے کھانا کھایا اور تمام لڑکیاں اپنی اپنی ڈائری میں پروفیسرز سے الوداعی جملے لکھوانے لگی ارباز نے کسی لڑکی کی ڈائری پر دستخط نہ کہیے سوائے صدف اور میری اور صدف کو کہا کہ میں 6 سال بعد چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ صدف سلیم کو دیکھنا چاہتا ہوں اور آپ نے فیس کی ٹینشن نہیں لینی وہ تمام معاملات میں خود دیکھ لوں گا اور آپ کے والد کی بھی یہی خواہش ہے آپ نے میری اور اپنے والد کی خواہش پوری کرنی ہے اسکے بعد ایک گروپ فوٹو ہوی اور بعد میں تمام لڑکیاں ارباز اور دوسرے پروفیسر کے ساتھ اپنی اپنی تصاویر بنوائی اسکے بعد ارباز دیگر پروفیسر کے ساتھ پرنسپل کے کمرے چلا گیا اور میں اسکا انتظار کرنے لگی 20 منٹ بعد وہ واپس آیا ہم کار میں سوار ہو ے اور چل دیئے میں نے راستے میں چھپے الفاظ میں اپنی محبت کا اظہار کیا لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا اس نے مجھے گھر اتارا اور چلا گیا میرے امتحان شروع ہو گئے امتحان کے بعد میں اپنے گاؤں واپس چلی گئی ارباز اور بھائی رضا کی بیچلر ڈگری مکمل ہو گیا تھی ارباز نے اپنا دن رات اپنے نئے سٹیل ملز پر لگا دیا اور بھائی رضا نے ایم بی اے ایڈمیشن لے لیا اور میں نے بی اے شروع کر دیا پرائیویٹ ارباز کو جب بھی کال کرتی تو آگے سے مصروف ہوں کہہ کر فون بند کر دیتا اور میرے دل میں اسکے لیے ٹڑپ بھڑنے لگی تقریباً ایک سال بعد ارباز کا فون آیا اور میرا دل اچھل پڑا پہلے تو اس نے معزرت کی کہ وہ ایک سال سے مجھ وقت نہیں دے پایا کیونکہ وہ اپنے سٹیل ملز کو مارکیٹ میں متعارف کروانے میں مصروف تھا اب کام چل پڑا ہے اور اچھا منافع مل رہا ہے اور ایسے ہی ہمارے درمیان پھر سے بات چیت شروع ہو گئی اور 3 مہینے بعد ارباز نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارا کہیں رشتہ طے ہوا کہ نہیں میں نے جواب دیا کہ 2 رشتے آے تھے ایک امی کو پسند نہیں آیا اور دوسرا بھائی اور ابو اور تایا ابو کو اسکے بعد ارباز نے کہا کہ آج کے بعد میری آپ سے بات چیت نہیں ہو سکے گی میں نے حیران ہو کر پوچھا وہ کیوں تو آگے سے ارباز نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ باقی باتیں تم میری سہاگ رات کی سیج پر دلہن بن کر کرو یہ سنتے ہی میں نے شرما کر فون بند کر دیا پھر اس نے مسج کیا کہ کال پک کرو تو میں نے مسیج کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجھے شرم آ رہی ہے تھوڑی دیر بعد کال کرتی ہوں اور میں نے جا کر خوشی سے اپنی امی کو گلے لگا لیا تو امی نے کہا کہ خیریت ہے آج تو میں کہا کہ آپ نے بھائی کی شادی کی ڈیٹ فکس کر دی تو امی نے کہا کہ اگلے مہینے کے آخر میں کردی ہے تو میں نے دل میں سوچا جلدی کریں کیونکہ اس کے بعد جلد ہی آپکی بیٹی کی بھی چوت پھٹنے والی ہے امی نے کہا کہ کس سوچ میں گم ہو تو میں نے کہا کچھ نہیں بس ایک سہیلی پوچھ رہی تھی اسکے ایک گھنٹے بعد میں نے ارباز کو کال کی اور تھوڑی دیر بعد اس نے کال پک کی تو اس نے کہا کب رشتہ بھجو تو میں کہا کہ جب دل کرے تو ارباز نے جواب دیا کہ ٹھیک ہے میں 2 مہینے بعد رشتہ بھج تا ہوں تو میں نے جواب دیا کہ 2 مہینے بعد کیوں وہ اس لیے میری جان کہ ماموں قادر اور ماموں ناصر ناصر ماموں کے سالے کے بیٹے کی شادی میں شرکت کے لئے کل یورپ گے ہیں اور ڈیڑھ مہینے بعد آنا ہے تو آپ نہیں گے میں چلا گیا تو کاروبار کون دیکھے گا چلیں ٹھیک ہے اب سہاگ رات کو آپ سے بات ہو گی تو میں نے پوچھا کہ کیوں نہیں ہوسکے گی تو ارباز نے کہا کہ اس لیے کہ ہم دونوں ایک دوسرے متاثر کرنے کے لیے اپنی اپنی خوبیاں ایک دوسرے کے سامنے رکھیں گے اور اپنی خامیاں چھپائیں گے اکثر محبت کی شادیاں اسی وجہ سے ناکام ہوتی ہیں کہ اپنی خوبیاں دیکھا دیتے ہیں اور خامیاں چھپا لیتے ہیں اور بعد میں مسائل پیدا ہوتے ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ ہمارے درمیان اختلاف ہو یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا رات کو کھانا کھا کر اپنے کمرے میں آگی اور دروازہ بند کر دیا اور سونے کی کوشش کرنے لگی رات گیارہ بجے تک جب نیند نہ آی کیونکہ میرے زہن میں بار بار ارباز کی سہاگ رات والی بات یاد آرہی تھی دل میں ایک ڈر پیدا ہوا کہ اس رات تیری چوت کی سیل ٹوٹ جاے گی لیکن درد بہت زیادہ ہو گا لیکن دماغ کہتا کہ یہ تو ایک نہ ایک دن کھل ہی جاے گی پھر اس کے بعد مزے ہی مزے یہی سوچتے ہوئے مجھے اپنی ٹانگوں کے درمیان گیلا پن محسوس ہوا ایسے ہی دماغ میں آیا کہ کیوں نہ آج بھی اس دن کی طرح ہاتھ سے فارغ ہو جاوں لیکن دل کہتا نہیں تم نے اس دن خود سے وعدہ کیا تھا کہ آج پہلی اور آخری غلطی ہو گئی آج کے بعد اس جسم کی آگ کو صرف ارباز ہی ٹھنڈا کر گا یہ آگ مجھے جتنا جلائے گی سہاگ رات کو اسے ٹھنڈا کرنے کا اتنا ہی مزہ آے گا اسکے بعد میں کروٹیں بدلتے نہ جانے کب میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گی اسکے بعد بھائی کی شادی کی تیاریاں شروع کردی روز بازار جانا اور تھک ہار آ کے سو جانا شادی سے 3 دن پہلے جب ہم بازار سے واپس آے تو بھائی اور ابو کے درمیان کسی بات پر بحث جاری تھی بھائی یہ بات کہتے ہوئے اٹھ کر چلے گئے کہ کل تایا ابو آےگے میں ان سے بات کر لوں گا امی نے ابو سے پوچھا کہ کیا بات ہے تو ابو نےکہا کہ کچھ نہیں بس ایسے ہی الٹی صد کر رہا ہے اگلے دن دوپہر کو جب تایا ابو اور انکی فمیلی آی تو رضا بھائی نے کہا دیکھ لو تایا ابو مجھے اباجی اپنے دستوں کو نہیں بلانے دے رہے ابو فوراً میں نے کب منع کیا ہے کہ اپنے دستوں کو نہ بلاو میں تو بس تماش ینی اور ہلڑ بازی سے منع کر رہا ہوں تایا ابو فوراً ہی بولے کہ میری شادی پر تم نے کم ہلڑ بازی کی تھی رضا تم بلاو اپنے دستوں کو ویسے یہ کونسے دوست ہیں تمہارے کامرس کالج والے کمینے تم لوگوں کا گینگ بہت حرامی تھا ذرا خیال رکھنا مہندی والے دن جب تمام مہمان کھانے کھا چکے تھے اور بھائی کو مہندی لگا رہے تھے کہ اسکے موبائل پر ایک کال ای نمبر دیکھتے ہی بھائی کا چہرہ کھل اٹھا بھائی فوراً اٹھ کر باہر گیا تھا کہ اچانک ایک دم فائرنگ کی آواز بلند ہوی گھر کی تمام خواتین گھبرا کر جلدی سے باہر نکل آئی باہر نکل کر دیکھا تو سامنے تین کاریں کھڑی تھی اور سب سے آگے والی کی ڈگی کھلی ہوئی تھی اور ساتھ 3 لڑکے کھڑے تھے اور تینوں کے ہاتھوں میں اے کے 47 موجود تھی ان سب کی پیٹھ ہماری طرف تھی اور بھائی رضا سب سے پہلے والے کے گلے مل رہا تھا اس کے بعد بھائی رضا دوسرے کی طرف بڑھا تو اس نے اپنی بندوق ہوا میں بلند کی اور پوری میگزین خالی کر دی بھائی رضا اسکے گلے ملا اور اسکی چمی لے لی اسکے بعد بھائی پھر آگے بڑھا اور تیسرے نے بھی ہوائی فائرنگ کر دی اسکے بعد ان تینوں نے دوبارہ نئی میگزین لوڈ کی اور ایک ساتھ مل کر پھر ہوائی فائرنگ کر دی پھر درمیان والے نے پچھلی دونوں کاروں کو کوئی اشارہ کیا کہ ان میں سے انتہائی خوبصورت نوجوان 3 ڈانسر لڑکیاں باہر نکلی اور اگے بڑھ کر رضا کو جھک کر سلام کیا تو ان تینوں نے ایک بار پھر ہوائی فائرنگ کی اس کے بعد ان میں سے ایک لڑکی نے آگے بڑھ کر رضا بھائی کا گال چوم لیا اسکے بعد رضا بھائی نے ان لڑکیوں کو سامنے بنے ہوئے ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا جو کہ ہمارے مہمان خانے کے طور پر استعمال ہوتا تھا وہ لڑکیاں اس کمرے میں چلی گئی اسکے بعد بھائی نے ان تینوں سے کچھ بات کی تو وہ لڑکے بھی اس کمرے میں داخل ہو گئے اس کے بعد بھائی واپس آے اور تایا ابو سے کچھ کہا تو تایا جی نے ایک ہلکا سا تھپڑ بھائی کو مارا تو بھائی نے تایا جی کو گلے لگا لیا اسکے بعد بھائی واپس آیا تو بہت خوش تھا
×
×
  • Create New...