Jump to content
URDU FUN CLUB

Mani1212

Active Members
  • Content Count

    46
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    6

Mani1212 last won the day on December 31 2020

Mani1212 had the most liked content!

Community Reputation

79

1 Follower

About Mani1212

  • Rank
    مانی

Profile Information

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. چوہدری نے تھوڑی ہی دیر اور اسکا چھولا رگڑا تھا کہ ضیہ کی سسکیاں اور آہیں بلند ہونے لگیں۔ "آہ بابو جی اور تیزی سے۔۔۔۔۔۔۔اور زور سے رگڑو اسے۔۔۔۔۔۔۔میں فارغ ہونے لگی ہوں" چوہدری نے اپنی موٹی سی انگلی رضیہ کی پھدی میں اتاری اور تیزی سے آگے پیچھے کرتے اپنی زبان دانے پر پھیرتا رہا۔ ہائے میں گئی۔۔۔۔۔۔۔رضیہ اونچی آواز میں چلا ئی، اسکی ٹانگیں کانپنے لگیں اور اسکی چوت نے گدلا سا پانی چھوڑ دیا۔ چوہدری نے عین آخری ٹائم پر اپنا منہ ہٹا کر سیلاب سے خود کو بچایا۔ دھڑام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچانک باہر سے کوئی برتن گرنے کی آواز آئی۔ چوہدری بھاگتا ہوا باہر گیا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے
  2. چوہدری نے دونوں رانوں سے اچھی طرح انصاف کرنے کے بعد اپنا سر اٹھا کر رضیہ کی آنکھوں میں دیکھا اور اسکی گانڈ کے پیچھے ہاتھ رکھ کر اسے آگے کر کے بالکل کنارے پر کھینچ لیا۔ اسکی ہتھیلیاں رضیہ کے گھٹنوں پر آئیں اور اس نے آہستگی سے انہیں جتنا کھولا جا سکتا تھا کھول دیا۔ رضیہ کو سب سمجھ آ رہی تھی کہ اب کیا ہونے جا رہا ہے اور اسکی چوت تو جیسے اذل سے اسی انتظار میں تھی۔ چوہدری نے رضیہ کی نظروں میں دیکھ کر دوبارہ اپنا سر جھکایا اور سانپ کی طرح زبان نکال کر اسکی رانوں کے اندرونی طرف پھیرنے لگا۔ رضیہ کی ٹانگوں کی نازک جلد چوہدری کی زبان کے لمس سے لرزنے لگی تھی، چوہدری کو اسکے جسم سے ایسی خوشبو مل رہی تھی جیسے وہ ابھی نہا کر آئی ہو لیکن اسکی جلد کا ذائقہ نمکین پسینے کا تھا۔ چوہدری اپنی زبان پھیرتا آہستہ آہستہ رضیہ کی شہد ٹپکاتی چوت کی طرف جا رہا تھا اسکا سر اب رضیہ کی گیلی پھدی کو رگڑ رہا تھا اور چوہدری کو اپنے سر کے بال گیلے ہونے سے رضیہ کی چوت کے گیلےپن کا اچھے سے علم تھا۔ اب کی بار جب چوہدری نے اسکی رانوں پر زبان چلائی تو جان بوجھ کر اپنے سفید بالوں والا سر رضیہ کی پھدی پر رگڑ دیا۔ رضیہ کی چوت اسکے بالوں کی رگڑ سے ایسی گدگدائی کہ وہ تڑپ کر رہ گئی۔ چوہدری نے اپنا چہرہ اٹھایا اور اس بار رضیہ کی شہد ٹپکاتی پھدی کو غور سے دیکھا اور سحرزدہ ہو گیا۔ بلامبالغہ اپنی جوانی سے اب تک اس نے سینکڑوں پھدہاں دیکھی اور ماری تھیں پر ایسی چوت تو آج تک اسکی نظر سے نہیں گزری تھی۔ اسکی چوت کا سائز ابھی چھوٹا تھا اور اسکے اوپر بالکل پتلے پتلے اور چھوٹے چھوٹے بال تھے۔ چوت کے لب اتنی دفعہ چد کے بھی ابھی بند کلی جیسے تھے اور رس ان لبوں پر ایسے چمک رہا تھا جیسے کسی پھول پر شبنم کے قطرے پڑے ہوں۔ رنگ بےشک باقی جسم کی نسبت گہرا تھا پھر بھی اس میں ایک نمکین سی کشش تھی۔ ادھر رضیہ نے چوہدری کو اتنے غور سے اپنی چوت کو گھورتے دیکھا تو اس کی آنکھیں خودی شرم سے بند ہو گئی اور اس نے اپنی ٹانگیں بند کرنے کی ناکام کوشش کی۔ چوہدری اپنی ناک چوت کے قریب لے گیا اور ایک گہری سانس لی تو اسے ایک جانی پہچانی دلفریب سی مہک آئی جس نے چوہدری کو مزید اتاولا کر دیا۔ اس نے اپنی زبان نکالی اور ہلکے سے اپنی زبان رضیہ کی چوت پر لگا کر پیچھے کی جیسے وہ اسے چکھ کر دیکھ رہا ہو چوہدری کی زبان کو اسکی چوت کا ذائقہ کچھ تیکھا اور نمکین سا لگا۔ چوہدری کے ہاتھ آگے بڑھے اور اس نے دونوں ہاتھ پھدی کی دونوں طرف رکھ کر کھولا تو اسکا استقبال گلابی گوشت نے کیا جو اپنے ہی پانی سے چمک رہا تھا اور اس انتظار میں تھا کہ کب اسکی قسمت کھلے اور چوہدری اس سے کھیلے۔ چوہدری نے اپنا منہ چوت سے جوڑا اور اسے چوم لیا۔ "آہ بابو جی کہاں منہ لگا رہے ہیں آپ" رضیہ کا منہ کھلا اور اس نے بوجھل سانسوں کے ساتھ ہلکی آواز میں پوچھا۔ سوال ہی بےوقوفی والا تھا کیونکہ اس نے خود ہی تو اپنی پھدی کسی پکے ہوئے پھل کی طرح چوہدری کے حوالے کی تھی۔ "مم ممممم" چوہدری نے سنی ان سنی کی اور رضیہ کی چوت کو کسی کتے کی طرح چاٹنے لگا، اس کے منہ سے ایسی ہی آوازیں نکل رہی تھیں جیسے کتے کے اپنے برتن سے دودھ پیتے وقت نکلتی ہے۔ اس کا بالکل ارادہ نہیں تھا کہ ابھی اپنی زبان کا استعمال اپنی لاڈلی بہو رانی کی پھخی چاٹنے کے علاوہ کسی اور کام کے لئے کرے۔ چوہدری کا تھوک بھی رضیہ کے چوت رس میں شامل ہو گیا جس سے اسکے رس کی تلخی اور بو بھی کم ہو گئی کچھ چوہدری بھی اتنی دیر میں کچھ عادی ہو گیا تھا۔ اب چوہدری نے ایک قدم مزید آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا اور اپنی زبان کو لمبائی میں دوہرا کیا تاکہ اسے رضیہ کی چوت میں داخل کر کے اپنے زبان سے اسکی پھدی چود سکے۔ چوہدری نے اپنی دہری ہوئی زبان رضیہ کی رسیلی پھدی میں داخل کی تو تھوڑا ہی اندر جانے کے بعد رضیہ کی چوت کی دیواروں نے اسکی زبان کو جکڑ کر مزید آگے جانے سے روک دیا۔ چوہدری نے اپنی دو انگلیاں اندر گھسا کر چوت کے لب کھلے اور کسی چاقو کی طرح اپنی زبان اندر گھسا دی۔ رضیہ نے پوری زبان اپنی چوت میں گھستے محسوس کی تو مزے کی وجہ سے تڑپ کر رہ گئی۔ چوہدری نے اپنی زبان اندر باہر کرنا جارج رکھا اور اسکے ہاتھ کے دونوں انگوٹھے رضیہ کی چوت کی اوپری دیواروں کو رگڑنے لگے۔ اسی رگڑائی کے دوران چوہدری کے انگوٹھے اسکی پوری چوت کے چپے چپے پر گھوم رہے تھے۔ اچانک رضیہ کا جسم اکڑا اور ایک لمبی سی سسکی اسکے منہ سے نکلی۔ چوہدری کے انگوٹھے اپنے سفر کے دوران اسکی چوت کے دانے کو چھیڑ گئے تھے۔ رضیہ کے جسم نے چوہدری کو بتا دیا تھا کہ یہی اسکا چور سوئچ ہے۔ چوہدری نے زبان پھدی سے نکالی اور رضیہ کہ اکڑے ہوئے دانے پر پھیرنے لگا، رضیہ تو ایسے تڑپی جیسے اس پر کسی نے چھری چلا دی ہو۔ چوہدری کے لئے اسکی ٹانگیں قابو کرنا مشکل ہو گیا۔
  3. رضیہ کیںہمت نہ ہوئی کہ وہ اپنے سسر کے بوسے کا کوئی جواب دے۔ یہ حیوانی کشش اور دوسری طرف انکا نازک رشتہ اسے پاگل کر رہا تھا۔ رضیہ کا منہ کھلا ہی رہا لیکن دماغ ابھی تک کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر تھا۔ چوہدری اسکے سانسوں کی گرمی اور خوشبو سے پوری طرح مدہوش ہو رہا تھا۔ اسکے ہونٹ رضیہ کے ملائم رسیلے ہونٹوں پر جمے رہے اور وہ اسکے ہونٹ چومنے، چوسنے اور چاٹنے لگا۔ رضیہ کا منہ ویسے ہی پانی چھوڑنے لگا جیسے اسکی پھدی پانی چھوڑنے لگی تھی۔ اسکے ہونٹ دونوں کے تھوک سے گیلے ہو گئے، چوہدری نے اپنے ہونٹ ہٹائے اور زبان نکال کر کتے کی طرح اسکے ہونٹ چاٹنے لگا۔ آہ بابو جی۔۔۔۔۔۔۔ رضیہ کا منہ جیسے ہی یہ کہتے وقت کھلا چوہدری کی زبان کسی تیر کی طرح اسکے ہونٹوں اور پھر اسکے سفید ہموار دانتوں کی قطار عبور کرتی اسکے منہ میں پیوست ہو گئی۔ رضیہ کی زبان پر جب چوہدری نے اپنی زبان رگڑی تو اسکے جوان جسم نے جھرجھری سی لی۔ رضیہ نے اپنے ہونٹوں کو گول کیا اور چوہدری کی زبان کو اپنے منہ میں اہسے آگے پیچھے کرنے لگی جیسے وہ زبان کی بجائے چوہدری کا لمبا اور موٹا لن ہو۔ چوہدری نے دونوں ہاتھوں سے رضیہ کے کاندھوں کو مضبوطی سے تھاما ہوا تھا اور اپنی زبان پر رضیہ کے چوسے انجوائے کر رہا تھا۔ جب چوہدری کی زبان رضیہ کے منہ کی گہرائی میں پہنچتی تو وہ رضیہ کے منہ کو اپنی زبان کی نوک سے ایسے کھرچتا جیسے وہ منہ کی بجائے رضیہ کی چوت کی تہیں ہوں۔ چوہدری نےتھوڑی دیر اپنی زبان سے رضیہ کے منہ کی چدائی جاری رکھی اور پھر جیسے کوئی فیصلہ کرنے کے بعد زبان رضیہ کے منہ سے نکال کر کرسی سے کھڑا ہو گیا۔ چوہدری کی دھوتی اسکے کھمبے جیسے لنڈ کو چھپانے سے قاصر تھی۔ رضیہ نے اسکے اکڑے لن کو دیکھ کر بےخیالی سے اپنی زبان اپنے ہونٹوں پر پھیری۔ چوہدری نے ایک قدم آگے کی طرف لیا تو رضیہ شرارت سے مسکراتے ہوئے پیچھے کو ہٹی۔ چوہدری نے قدم بڑھانے اور رضیہ نے الٹے پیر واپسی جاری رکھی یہاں تک کے رضیہ کی موٹی گانڈ دیوار سے لگی الماری سے ٹکرا گئی جس کے اوپر چوہدری کے دھلے ہوئے کپڑے قرینے سے تہہ کئے رکھے تھے۔ چوہدری نے ایک قدم اور بڑھایا اور بالکل رضیہ کے قریب پہنچ کر رک گیا، ان کے چہرے اتنے قریب تھے کہ دونوں ایک دوسرے کی سانسیں محسوس کر رہے تھے۔ رضیہ کے ممے چوہدری کے سینے کو چھو رہے تھے اور چوہدری کا مکمل طور پر کھڑا لنڈ رضیہ کے پیٹ کو کھرچنے لگا تھا۔ رضیہ نے اپنا خوبصورت چہرہ جھکایا اور چوہدری کی چوڑی چھاتی میں گھسا دیا۔ اسکی آنکھیں شدید جنسی خواہش سے لال ہو گئی تھیں اور جسم ہلکا ہلکا کانپ رہا تھا۔ چوہدری نے تھوڑا جھک کر اسکے موٹے نرم چوتڑوں سے نیچے ہاتھ جمائے اور اسکا جسم اپنے سینے تک اوپر اٹھا لیا، رضیہ نے الماری کی سب سے اوپر والی شیلف پر ہاتھ جمائے اور اپنے جسم کا بوجھ خود اٹھا کر چوہدری کو ریلیف دی۔ رضیہ نے جیسے ہی اپنا وزن خود اٹھایا، چوہدری نے اپنے ہاتھ آزاد کرکے رضیہ کی شلوار کے نیفے میں ڈالے اور ایک ہی جھٹکے میں اسکی شلوار اسکی ٹانگوں سے نکال دی۔ چوہدری نے اسکی چکنی اور سڈول ٹانگیں دیکھیں تو اسکے منہ میں پانی آ گیا۔ اسنے دوبارہ رضیہ کی چمکتی ہوئی ننگی ٹانگوں کو اپنی مضبوط گرفت میں لیا اور اسے مزید اوپر کر کے الماری کے اوپر بٹھا دیا۔ رضیہ آرام سے پاؤں لٹکا کر الماری پر بیٹھ گئی۔ الماری کی اونچائی اتنی تھی کہ پاؤں لٹکا کر بیٹھی رضیہ کی اسکے رس سے چمکتی پھدی چوہدری کے کاندھوں کی اونچائی پر تھی۔ چوہدری جھکا اور اس نے پہلا بوسہ رضیہ کے دائیں پاؤں کے ٹخنے پر کیا اور اپنے دونوں سخت کھردرے ہاتھوں سے رضیہ کی گوری نرم پنڈلیوں کو سہلانے لگا۔ رضیہ کے منہ سے سسکیاں نکلنے لگیں، اس نرمی اور نزاکت سے تو کبھی سجاد نے بھی اسے نہیں چھوا تھا۔ وہ رضیہ سے پیار تو کرتا تھا لیکن اسکا پیار ہونٹوں سے شروع ہوتا مموں تک آتا اور اسکے بعد وہ لن پھدی میں ڈالتا اور کچھ ہی جھٹکوں میں فارغ ہو کر سو جاتا تھا۔ چوہدری نے تو اسے لذت کے نئے معنی سے آشنا کیا تھا۔ چوہدری کا منہ اسکے ٹخنے سے ہوتا اسکی پنڈلی پر آ گیا، چوہدری چھوٹے چھوٹے بوسے لیتا اور اپنی زبان نکال کر رضیہ کی پنڈلی پر پھیرتا اوپر آتا گیا۔ اسکے ہاتھ اب رضیہ کے گھٹنوں کے پیچھے دائرے بنا رہے تھے اور رضیہ کی وہ حالت تھی کہ اسے لگ رہا تھا کہ وہ ابھی فارغ ہو جائے گی۔ چوہدری نے اپنے ہاتھ مزید اوپر کئے اور اسکی رانوں پر پھیرنے لگا، اس کی زبان اور ہونٹ سفر کرتے اسکی موٹی رانوں پر پہنچ گئے۔ وہ ایک ران کو چوم اور چاٹ رہا تھا جبکہ دوسری ران پر اسکی انگلیاں بڑی نزاکت سے دائرے بنا رہی تھیں۔ رضیہ کو چوہدری کا سر ہی نظر آ رہا تھا جس کے بالوں میں رضیہ کی مخروطی انگلیاں نرمی اور پیار سے مساج کر رہی تھیں۔
  4. ایسے لگا جیسے دونوں کے دماغ ایک ہی طرح سوچتے ہیں کیونکہ چوہدری بھی اس وقت یہی سوچ رہا تھا۔ لسی کے گھونٹ بھرتے وہ بھی سوچ رہا تھا کہ کیا رضیہ کی چوت بھی اسکی موجودگی میں ایسے ہی زد کرتی اور رالیں ٹپکاتی ہے جیسے اسکا لنڈ ٹپکاتا ہے۔ اور پتہ نہیں اسکی چوت کے رس کا کیا ذائقہ ہو گا۔ چوہدری نے بھی کبھی کسی کی پھدی نہیں چاٹی تھی، وہ خودغرض قسم کا مرد تھا جسے بس اپنے مزے سے مطلب ہوتا ہے۔ پیار محبت جیسے نازک جذبات سے وہ ابھی تک ناآشنا تھا لیکن رضیہ کی قربت میں کوئی ایسا جادو تھا کہ وہ اسکی خوشی کے لئے اسکی چوت بھی چاٹ سکتا تھا اور چوہدری نے یہ بھی سوچ لیا تھا کہ اگر ایسا وقت آیا تو وہ کیسے اسکی چوت کا رس پیئے گا۔ چوہدری نادانستگی میں لسی پیتے ہوئے اپنی ساری سوچیں رضیہ تک پہنچانے کی کوشش کر رہا تھا۔ چوہدری نے ایک بڑا سا گھونٹ بھر کر لسی کا مگا اپنے منہ سے ہٹایا۔ رضیہ کے حلق سے قہقہہ بلند ہوا، گاڑھی لسی کی دبیز تہہ چوہدری کی مونچھوں پر جم گئی تھی جس سے چوہدری کا چہرہ مضحکہ خیز لگ رہا تھا اور رضیہ کے منہ سے غیرارادی طور پر اونچا اور سریلا قہقہہ نکل گیا تھا۔ چوہدری ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگا کہ کیسے رضیہ کے قہقہہ لگانے سے نہ صرف اسکا چہرہ اور آنکھیں بلکہ اسکا پورا جسم جیسے ہنسنے لگا تھا، اسکی ٹائیٹ قمیض میں کسی اسکی صحتمند چھاتیاں بھی تھرتھرا کر رضیہ کی ہنسی میں اسکا ساتھ دے رہی تھیں۔ اچانک چوہدری کو احساس ہوا کہ یہ تو مجھے دیکھ کر ہنس رہی ہے اور خفت کی وجہ سے اسکا چہرہ سرخ پڑ گیا۔ رضیہ کے قہقہے کی آواز نیچے صحن سے گزرتی اسکج ساس نے بھی سن لی جو ایک ملاذمہ کے ساتھ ہمسائیوں کے گھر جا رہی تھی۔ اس نے اوپر کی طرف منہ اٹھا کر دیکھا اور یہ سوچ کر مطمئن ہو گئی کہ شکر ہے اسکے شوہر اور اسکی بہو نے ایک دوسرے کو قبول کر لیا، حویلی میں ایک چنچل اور شوخ بیٹی کی کمی تھی جو اب شاید رضیہ کے آنے سے دور ہو جائے۔ چوہدراین مسکرائی اور باہر نکل گئی۔ چوہدری کا چہرہ غصے سے لال ہو رہا تھا، آج تک کسی کی ہمت نہیں ہوئی تھی کہ وہ چوہدری کے سامنے اونچی آواز سے ہنسے۔ اسکے غصے سے سب ڈرتے تھے اور یہ کل کی چھوکری اسی کے اوپر ایسے ہنس رہی تھی جیسے اسکا مذاق اڑا رہی ہو۔ چوہدری کرسی کے ہتھے پر ہاتھ رکھ کر اٹھنے ہج لگا تھا تاکہ رضیہ کو سبق سکھائے کہ وہ مزید آگے آئی اور اپنا نازک سا ہاتھ چوہدری کے مضبوط سینے پر رکھ کر اسے اٹھنے سے روکا اور دوسرے ہاتھ سے اپنا دوپٹہ تھام کر چوہدری کج مونچھیں ایسے صاف کرنے لگی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ مونچھیں صاف کرتے رضیہ کا بھرا ہوا جسم چوہدری پر جھکا ہوا تھا۔ اسکا چہرہ اور جسم خطرناک حد تک چوہدری کے قریب تھا۔ اسکا دوپٹہ اسکی چھاتیوں سے ہٹنے کی وجہ سے اسکی پتلی قمیض سے جھکنے کے باعث اسکی لٹکی ہوئی چھاتیاں براء میں قید نظارا دے رہی تھیں۔ رضیہ کے لمبے کالے بال کھلے اور انہوں نے رضیہ اور چوہدری دونوں کے چہروں کو ڈھانپ لیا۔ چوہدری نے اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور رضیہ کے رسیلے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں قید کر لیا۔ پکچر ابھی باقی ہے دوستو
  5. ۔ چوہدری کرسی پر بیٹھے بیٹھے اونگھ رہا تھا، تھوڑی دیر بعد وہ کرسی پر آگے ہو کر بیٹھتا حقے کا ایک کش لیتا اور پھر ٹیک لگا کر بیٹھ جاتا۔ مادرچود کوئی لسی لے کر نہیں آیا ابھی تک، چوہدری منہ ہی منہ میں بڑبڑایا۔ ایک ہفتہ پہلے رضیہ کی پھدی میں چھوٹا تھا وہ، اسکے بعد سے چوہدری نے کسی کی نہیں لی تھی اور اب اسکی بس ہو گئی تھی اور وہ سوچ رہا تھا کہ جو بھی لسی لائے گی اسکی جم کے چدائی کروں گا۔ ہونے والی چدائی کو سوچ کر ہی چوہدری کا بوڑھا شیر کھڑا ہونے کو تیار تھا۔ اسے پتہ تھا کہ اسکی لاڈلی بہو میکے سے واپس آ گئی ہے لیکن اسے بالکل امید نہیں تھی کہ لسی لے کر رضیہ بھی آ سکتی ہے۔ رضیہ کے رس بھرے جسم کا سوچ کے ہی اسکی نبض تیز چلنے لگی تھی، چوہدری نے اپنے نیم کھڑے لن پر ہاتھ پھیرا اور اسے دبا کر اپنے چڈوں میں لے لیا جیسے کسی کی نظروں میں آنے سے چھپا رہا ہو۔ اس نے اس پورے ہفتہ کے دوران رضیہ کے بارے میں بہت سوچا تھا اسکا دماغ بار بار سوچتا کہ سجاد تو روز رضیہ کی لیتا ہو گا اور وہ بھی پتہ نہیں دن میں کتنی دفعہ۔ اسکے دماغ میں جب بھی خیال آتا کہ سجاد تو جب چاہے رضیہ کو چود سکتا ہے تو جانے کیوں اپنی ہی اولاد سے اسے جلن محسوس ہونے لگتی۔ چوہدری نے اپنی رانوں کی گرفت اپنے لن پر سے ہلکی کی، اسکے لن میں سختی اور پریشر کی وجہ سے درد ہونے لگا تھا۔ آ بھی جاؤ میری پھدی رانی، چوہدری نے بچوں کی طرح بےصبری سے تلملا کر کہا۔ چوہدری نے ہاتھ اوپر اٹھائے اور شیر کی طرح جسم اکڑاء کر انگڑائی لی، اسکا جسم شہوت سے ٹوٹ رہا تھا۔ ٹک ٹک ٹک ٹک ٹک چوہدری کو کسی کے سیڑھیاں چڑھنے کی آواز سنائی دی۔ چوہدری نے لن کو ایک بار پھر چڈوں میں لیا۔ تبھی سیڑھیوں سے رضیہ ایسے نمودار ہوئی جیسے چودھویں کا چاند کسی بدلی کی اوٹ سے نکلتا ہے۔ رضیہ کے خوبصورت چہرے پر نظر پڑتے ہی چوہدری کے لن کی سختی اور اکڑ میں مزید اضافہ ہو گیا۔ اسکے دماغ نے ایک دفعہ اسے وارننگ دی کہ بھین کے لوڑے یہ تیری بہو ہے، باز آ جا اس کنجرخانے سے۔ چوہدری نے جھرجھری لی اور اس نے یہ سوچ کر خود پر قابو پانے کی کوشش کی کہ بہو رانی صرف اور صرف لسی دینے آئی ہے۔ مدھانی چلاتے ہوئے رضیہ کی قمیض پر لسی کے کچھ چھینٹے اڑ کر گرے تھے جسے وہ پانی سے صاف کر کے آئی تھی، لیکن اسکا نقصان یہ ہوا کہ اب رضیہ کی قمیض گیلی ہو کر آگے سے اس کے کسے ہوئے پیٹ پر چپک گئی تھی۔ چوہدری کا دماغ یہ دیکھتے ہی مالش والے دن پر پہنچ گیا جب اس تنہائی میں اسکی بہو نے اپنے سیکسی جسم کے جلوے دکھائے تھے۔ رضیہ نے لسی کا مگا چوہدری کو پکڑایا تو اسکی مغرور تنی ہوئی چھاتیاں چوہدری کو انکی خوشبو اور ذائقہ یاد کروانے لگیں، آم کے پیڑ کے نیچے اور پھر چارے والے کمرے میں چوہدری نے ان مسمیوں کا سارا رس نچوڑ لیا تھا۔ جتنا وہ اپنے دماغ کو ان شہوت زدہ خیالات سے آزاد کروانے کی کوشش کر رہا تھا اتنا ہی وہ سیلاب کی طرح اس پر چڑھے آ رہے تھے۔ مگا پکڑتے وقت رضیہ کی مخروطی انگلیاں چوہدری کے مضبوط کھردرے ہاتھ سے چھو گئیں، اس معمولی سے لمس سے ہی رضیہ کا گندمی چہرہ سرخ ہو گیا اور اس کا سانس تیز چلنے سے اسکے نتھنے پھولنے پچکنے لگے۔ رضیہ کی آنکھیں جھکی اور وہ چوہدری کی دھوتی کی تہوں میں سے اسکا گھوڑے جیسا لوڑا کھوجنے لگی۔ اسکی پھدی نے بڑی بےشرمی سے رالیں ٹپکانی شروع کر دی تھیں۔ رضیہ کچھ بھی کہے بغیر اپنے پاؤں جما کر کھڑی تھی۔ چوہدری نے مگا اٹھایا اور لسی پینے کے لئے اپنے منہ سے لگایا۔ چوہدری نے منہ کھولا اور اپنی زبان نکال کر لسی کے اوپر آئی بالائی چاٹنے لگا۔ چوہدری کی برمے جیسی نگاہیں رضیہ پر جمی تھیں۔ رضیہ نے دیکھا کہ کیسے چوہدری نے زبان لمبی کر کے ایک بڑی سی چسکی لے کر ساری بالائی چاٹ لی، رضیہ کو ایسے محسوس ہوا جیسے چوہدری نے بالائی کی جگہ اسکے ممے اور ان پر موجود گھنڈیوں کو چاٹا ہو۔ اسی سوچ سے ہی رضیہ کو صاف احساس ہوا جیسے اسکے نپل چھلانگ لگا کر کھڑے ہو گئے تھے۔ رضیہ کی آنکھیں اس وقت بھی اپنے سسر پر جمی رہی جب اس نے مگے کے کنارے پر اپنے ہونٹ جمائے اور گاڑھی مکھن ملی لسی پینے لگا۔ لسی اتنی گاڑھی تھی کہ چوہدری کے ہونٹ گول ہوتے اور اسے زور لگا کر سانس اندر کھینچ کر لسی کا گھونٹ لینا پڑتا، یہ سب رضیہ کو ایسے لگ رہا تھا جیسے چوہدری کے ہونٹ اسکے ملائم مموں پر جمے ہوں اور وہ زور لگا کر انکا رس پی رہا ہو اور اسکی زبان اندر ہی اندر اسکے نپل پر پھر رہی ہو۔ اوئی ماں۔۔۔۔۔۔کیا ایسا واقعی میں ہو سکتا ہے؟ رضیہ نے اپنے آپ سے سوال کیا۔ اسکی چوت اپنی ملائی ٹپکا رہی تھی اور اسکا دل چاہ رہا تھا کہ لسی کی ہی طرح چوہدری اس کا بھی مزہ لے۔ اس نے سنا تھا اور پڑھا تھا چوت چٹائی کے بارے میں لیکن ابھی تک نہ چوہدری نے اور نہ رضیہ کے شوہر نے اسکی چوت کا رس پیا تھا۔
  6. سہ پہر پانچ بجے تھے جب حویلی کی ملاذمہ نے رضیہ کو جگایا۔ رضیہ نے منہ ہاتھ دھوئے اور اپنی ساس کے پاس پہنچ گئی جو اپنے بیڈروم میں بیٹھی نوکرانیوں سے علاقے کی رپورٹیں لے رہی تھی۔ رضیہ تھوڑی دیر وہاں بیٹھی رہی لیکن اسکا دل نہیں لگ رہا تھا، کرنے کو کچھ تھا ہی نہیں۔ چوہدراین نے رضیہ کی خاموشی دیکھی تو سب ماجرا سمجھ گئی، آخر یہ سب اس پر بھی گزری تھی۔ اس نے رضیہ کو مخاطب کیا۔ "رجی بیٹا جا جا کے لسی بنا کر خود بھی پی اور مجھے اور اپنے بابا کو بھی دے" اچھا بےبے۔ لیکن بابا تو ابھی آئے نہیں۔ رضیہ نے اٹھتے ہوئے جواب دیا۔ "نہیں بیٹا وہ آ گئے ہیں اور اس وقت وہ اوپر چھت والے برآمدے میں آرام کرتے ہیں اور حقہ وغیرہ پیتے ہیں، انہیں ادھر ہی لسی دے آئیو" "اچھا بےبے" رضیہ نے باہر نکلتے وقت اپنی ساس کو جواب دیا۔ باورچی خانے میں ایک اونچی پیڑھی پر بیٹھ کر وہ مدھانی اٹھا کر لسی رہڑکنے لگی، رضیہ فارغ رہ رہ کر تھک گئی تھی اور اسکا دل کر رہا تھا خود کچھ کرنے کو۔ اتنے میں زبیدہ باورچی خانے میں داخل ہوئی اور رضیہ کو خود لسی رڑھکتے دیکھ کر چیل کی طرح اسکی طرف جھپٹی اور بولی کہ آپاں چھڈ دیو مدھانی، میں بنڑا دیندی آں لسی۔ وڈی چوہدرانی نوں پتہ لگیا کہ میں اوناں دی نوی نوں نو کم کرن دتا اے تے او میری کھال کھچ دینڑی جے۔ رضیہ نے پکی عمر کی زبیدہ کی طرف دیکھا اور دھیمے لہجے سے بولی، "نہ اماں زبیدہ لسی تے میں آپ بناواں گی، تو بس میرے کول کھڑی رہ تے مینوں کوئی شے چاہدی ہوئے تے پھڑا دے"۔ زبیدہ کھڑی ہو کر رضیہ کو لسی رڑھکتے غور سے دیکھنے لگی۔ مدھانی چلاتے رضیہ کے مکھن کے پیڑے جیسے ممے ایسے ہل رہے تھے جیسے زلزلہ آ گیا ہو اور زبیدہ انہیں دیکھ کر سوچ رہی تھی کہ چھوٹا چوہدری کتنا خوش قسمت ہے کہ اسے اتنی سوہنی کڑی مل گئی۔ رضیہ نے لسی بنائی اور کچھ لسی زبیدہ کے ہاتھ اپنی ساس کے پاس بھیج دی اور اپنی لسی پی کر زبیدہ کا انتظار کرنے لگی کہ وہ آئے تو اپنے سسر کو بھی لسی بھجوا دے۔ لیکن زبیدہ لسی پہنچانے کے بعد چوہدراین کے کام سے کہیں چلی گئی تھی۔ رضیہ نے مزید تھوڑی دیر انتظار کیا اور لسی کا مگا لے کر خود چوہدری سرور کو دینے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر کی منزل کی طرف چلی دی جہاں چوہدری روز دوپہر سستاتا تھا۔ روز سہ پہر کوئی نہ کوئی ملاذمہ اسکو تازہ بنائی لسی دے جاتی۔ لسی پہنچانے کا کام ہمیشہ سے کوئی ملاذمہ ہی کرتی تھی، ایسا شازونادر ہی ہوتا کہ کوئی مرد ملازم چوہدری کو لسی پہنچاتا۔ چوہدری لسی پہنچانے والی عورتوں کو اپنی مرضی کے مطابق برتتا۔ ان میں سے کچھ ایسی بھی تھیں جنہیں چوہدری کے لنڈ کا نشہ لگ گیا تھا اور وہ اس انتظار میں رہتیں کہ کب انہیں لسی دے کر بھیجا جائے اور کب چوہدری انہیں چود چود کر نڈھال کر دے، کچھ ایسی تھیں جو مجبور تھیں چوہدری کے آگے اور اپنے مالی مسائل کی وجہ سے چوہدری کا للا لیتی تھیں۔ چوہدری کو زیادہ مزا کسی نئی ملاذمہ کو تاڑنے، پھر اسے آہستہ آہستہ اپنی ہوس مٹانے کیلئے تیار کرنے اور صحیح وقت پر کسی درندے کی طرح انکی پھدیوں کا شکار کرنے میں آتا تھا۔ اسے انتظار ہی رہتا کہ کب کوئی نیا شکار اسکے ہتھے چڑھے۔ پتہ تو چوہدراین کو بھی تھا جبھی اسکی کوشش ہوتی کہ کوئی بھی کمسن یا خوبصورت لڑکی یا تو حویلی آئے نہ اور اگر آ جائے تو چوہدری کی نظروں سے بچی رہے۔ چوہدری چھت کے برآمدے میں اپنی آرامدہ کرسی پر بیٹھا جھول رہا تھا لیکن اسکی حالت سے واضح تھا کہ اسکا دماغ آج کہیں اور ہے۔ حویلی کی تعمیر چوہدری نے اپنی مرضی سے کروائی تھی اور یہاں سے کرسی پر بیٹھے چوہدری کو گاؤں کی سڑک اور اپنی ذمینیں صاف نظر آتی تھیں، وہ یہیں بیٹھے دیکھتا تھا کہ گاؤں میں کون آ رہا ہے اور کون جا رہا ہے۔ رہی سہی خبریں چوہدری کے چیلے چوہدری تک پہنچا دیتے تھے۔برآمدے کے ساتھ ہی ایک پرآسائش ائیرکنڈیشنڈ کمرا تھا جس میں قیمتی فرنیچر کے علاوہ ایک ڈی وی ڈی پلئیر، ایک بڑا سا ایل ای ڈی ٹی وی اور ایک ریک میں چوہدری کی پسندیدہ ہندی اور پنجابی فلموں کی ڈی وی ڈیز رکھی تھیں۔ اسی ریک کے ایک خانے میں ننگے مجروں اور بلیو پرنٹس کی بھی کلیکشن موجود تھی۔ اس کمرے میں چوہدری کی اجازت کے بغیر سب کا داخلہ ممنوع تھا۔
  7. Raastay me hai bhai, paidal aa rahi hai is liye ziada waqt lag raha hai
  8. رضیہ سب کی نظروں سے چھپتی چھپاتی اپنے کمرے میں پہنچی تو اس نے سکون کا سانس لیا۔ اس کے کپڑوں کی حالت ایسی تھی کہ اگر کسی کی نظر پڑتی تو اسے لازمی شک پڑ جاتا۔ چوہدری سرور اور اسکے لوڑے کی کشش ایسی تھی کہ اسکے دماغ کے لاکھ منع کرنے پر بھی وہ اس سے چدائے بغیر رہ نہ سکی تھی، اب پتہ نہیں یہ جنسی تعلق اسے کہاں لے جائے۔ رجی نے نہا کر کپڑے بدلے اور باورچی خانے میں گھس گئی۔ رضیہ کا دماغ شادی کے بعد سے چوہدری اور اسکے بیٹے سجاد کا موازنہ کئے بغیر نہیں رہ پا رہا تھا۔ سجاد کی بانہوں میں لیٹے اسے وہ بازو کمزور اور بےجان لگتے جیسے شہر میں کسی عام لکھت پڑھت کا کام کرنے والے کے ہوں۔ آج بھی رضیہ حویلی کے صحن میں سرخ مرچیں پیستی ہوئی سوچ رہی تھی کہ فلموں میں دکھائے جانے والت باڈی بلڈرز کی جسمانی بناوٹ اور سختی بھی ظاہری طور پر آرٹیفیشل ہی لگتی تھی اور ان میں بھی وہ حیوانی کشش نہیں تھی جو اس کے سسر کے بوڑھے مگر کسی گھوڑے کے جیسے طاقتور جسم میں تھی۔ اس عمر میں بھی چوہدری کا جسم پتھر کی طرح سخت تھا اور تھکنا تو جیسے وہ جانتا ہی نہیں تھا۔ رضیہ نے پسی ہوئی مرچیں باورچی خانے میں رکھیں اور چولہا جلانے کے لئے ماچس اٹھائی اور ایک تیلی نکال کر اسے ماچس کی مصالحے والی طرف رگڑا تو اس کے دماغ میں آیا کہ جیسے ماچس کی تیلی کو ڈبی کے کھردرے مصالحے پر رگڑنے سے وہ جل پڑتی ہے ایسے ہی چوہدری کے کھردرے ہاتھوں کو اپنے نرم ملائم جسم پر محسوس کرتے ہی اسکے جسم میں جیسے چنگاریاں سی جلنے لگتی ہیں۔چوہدری کیسے اسے کسی کھلانے کی طرح آسانی سے آٹھاتا، پٹختا اور حیوانی طاقت سے جم کر چودتا ہے، یہ سوچتے ہوئے رضیہ کی شلوار اسکے چوت رس سے گیلی ہونے لگی تھی۔ رضیہ کے ہنی مون پر گزرے دن سجاد کی محبت سے بھرے تھے اور چوہدری کے ساتھ ہوس کا رشتہ تھا اسکا جسم چوہدری کی وحشیانہ چودائی مانگتا تھا۔ اسکی پھدی کا رس نکالنا سجاد کے بس سے باہر تھا یہ سکون اسے چوہدری کے لن سے ہی ملتا تھا۔ اس رات رضیہ کے گھر والے آئے ، رضیہ اپنے ہنی مون پر جانے کی وجہ سے شادی کے بعد اپنے میکے نہ جا سکی تھی اور اب اسکے میکے والے اس رسم کو پورا کرنا چاہ رہے تھے۔ چوہدری نے رات کے کھانے پر رضیہ کے گھر والوں کے لئے دعوت کا اہتمام کیا تھا جس میں انواع و اقسام کے کھانے بنائے گئے تھے۔ سب نے مل کر خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا۔ کھانا کھا کر رضیہ اپنا سامان اٹھانے بیڈروم میں آئی تو پیچھے پیچھے سجاد بھی کمرے میں آ گیا۔ رضیہ شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے شوخ میک اپ کو درست کرنے لگی تھی کہ سجاد اسکے پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا اور اسے پیچھے سے اپنی بانہوں میں جکڑ لیا اور اپنا نیم کھڑا لنڈ رضیہ کے موٹے نرم چوتڑوں کی دراڑ میں پھنسا کر آگے پیچھے ہوتے ہوئے اسکی گردن چومنے لگا۔ سجاد کے ہاتھوں نے بھی گستاخیاں شروع کر دیں اور وہ کپڑوں کے اوپر سے ہی اسکی چھاتیاں دبانے لگا۔ رضیہ کو اچھا لگ رہا تھا تو وہ بھی اپنے چوتڑ مزید پیچھے کر کے اسکے لنڈ پر مسلنے لگی۔ "چھوٹی مالکن۔۔۔۔۔۔آپکو چوہدری صاحب بلا رہے ہیں۔" حویلی کی کم عمر ملاذمہ جیرو نے دروازے کے باہر سے آواز لگائی۔ "ساجی چھوڑو مجھے، کوئی آ جائے گا" رضیہ نے بمشکل خود کو سجاد کے بازؤوں سے نکالا اور باہر کی طورف چل دی۔ "رجی میری جان جلدی واپس آ جانا تجھے پتا ہے مجھے اب تیرے بغیر نیند نہیں آتی" رضیہ نے مڑ کر اسکی طرف مسکرا کر دیکھا اور اپنے سر کو اوپر نیچے ہلاتی باہر نکل گئی اور سجاد اسکی اتھل پتھل کرتی گانڈ کو دیکھتا رہ گیا۔ رضیہ اپنے میکے والوں کےساتھ انکے گھر رہنے چلی گئی۔ رضیہ آج صبح ہی پورا ہفتہ اپنےمیکے گزار کر واپس آئی تھی۔ سجاد نے بہت مشکل سے یہ ہفتہ گزارا تھا لیکن اس دوران بھی اس نے اپنا سسرال اسی قصبے میں ہونے کا پورا فائدہ اٹھایا تھا۔ وہ وہاں جا کر وقت گزارتا رہا تھا اور موقع میسر آنے پر دو دفعہ اسکی پھدی بھی بجا چکا تھا۔ سجاد صبح اٹھتے ہی سرگودھا چلا گیا تھا جہاں اسے اپنی زمینوں سے متعلق کوئی کام تھا، چوہدری سرور بھی اپنی زمینوں کے دورے پر گیا تھا اس لئے حویلی پر صرف چوہدراین اور ملازمین تھے۔ رضیہ اپنی ساس کے پاس تھوڑی دیر بیٹھی لیکن اس کی نظریں آس پاس بھٹک رہی تھی، چوہدراین نے بھی اسکی کیفیت محسوس کی تو مسکرا کر اسے بولی: "بیٹی کسے ڈھونڈ رہی ہو، سجاد تو سرگودھا گیا ہے اور اب تو اسکی واپسی میں دو یا تین دن لگ جائیں گے" رضیہ نے شرما کر اپنی ساس کی طرف دیکھا اور بولی نہیں اماں ایسی تو کوئی بات نہیں۔ چوہدراین نے ایسی نظروں سے اسکی طرف دیکھا جیسے وہ سب جانتی ہو اور اسے کہا کہ جاؤ جا کر اپنا کمرہ وغیرہ دیکھو اور ملازموں سے صفائی وغیرہ کرواؤ۔
  9. پسندیدگی کا شکریہ۔ اپ ڈیٹ ایک دو دن میں آنے والی ہے۔
  10. پسند کرنے کا شکریہ۔ آپ ایسے ہی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے تو سلسلہ جاری رہے گا
  11. بھائی لوگ آپ لوگوں کا فیڈبیک لکھاری کےلئیے ایندھن کا کام کرتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ایندھن کی بہت کمی محسوس ہو رہی ہے مجھے
×
×
  • Create New...