Jump to content
URDU FUN CLUB

اتھرابھٹی

Basic Cloud
  • Content Count

    63
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    9

اتھرابھٹی last won the day on February 23

اتھرابھٹی had the most liked content!

Community Reputation

104

1 Follower

Profile Information

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

915 profile views
  1. جناب ڈاکٹر صاحب میں نے یہ کہانی شروع سے ساری پڑھی ہے یہاں تک آتے آتے بہت سے موڑ آئے لیکن کہانی میں جو مزہ تھا وہ کم نہیں ہوا تھا۔ نہایت ہی ادب سے کہوں گا اس اپڈیٹ میں وہ بات نہیں نظر نہیں آئی جو لے اور اتار چڑھاؤ پہلے تھا ۔ ایک بار پھر اپنے الفاظ پر معذرت کروں گا۔
  2. کوئی بات نہیں بھائی معاملاتِ زندگی بھی نبھانے پڑتے ہیں آپ نے یاد رکھا یہ بھی بہت بڑی بات ہے۔
  3. Update میرا لن چھنو کی پھدی میں اپنے گرم پانی سے چھڑکاو کر رہا تھا۔ چھنو کی پھدی میرے سخت اکڑے ہوئے لن کو اپنی نرم نرم شریانوں سے جکڑے نہلا رہی تھی ہم مزے میں ڈوبے ایک دوسرے کے اعضائے تناسل کی گرمی سے اپنے جسموں کی آگ بجھاتےجا رہے تھے۔ ابھی گرمی کا زور ٹوٹا ہی تھا کہ باہر سے کسی نےے زور سے دروازہ کھٹکایا۔ چھنو نےجلدی سے اپنی پھدی کو اگے کھینچا اور میرا ہتھیار پھشش کی آواز سے باہر آیا ساتھ ہی اس کی چوت سے پانی کے چھینٹے باہر گرے۔ اور وہ سیدھی ہو کر اپنی شلوار پہنتے ہوئے مجھے بولی جلدی سے چھپ جاو۔ میں حواس باختہ ہو گیا اور سوچنے لگا سالا یہ لن مجھے مروا کر ہی دم لے گا اس کی گرمی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔ چھنو نے دروازے پرجا کر پھر مجھے اشارہ کیا کہ چھپ جاو میں ایک سائیڈ پر پڑی چارپائی کے نیچے جا کر لیٹ گیا اور چھنو غصے سے بولی کون اے باہر سے کوئی بولا لیکن آواز مجھ تک نہ پہنچ پائی۔ چھنو نے کہا تو چل میں آوندی پئی آں پھر باہر سے شاید کسی نے کچھ کہا لیکن چھنو نےکہا تینوں سندا نیں میں آندی پئی آں۔ باہر جو کوئی بھی تھا وہ چلا گیا۔ تو چھنو کے قدموں کی آواز آئی میں جلدی سے باہر نکلا تاکہ اس کے سامنے بہادر بن سکوں اور سکون سے چارپائی پر بیٹھ گیا وہ آئی اور مجھے دیکھ کر حیران ہوتے ہوئے واہ بھئی واہ کمال اے تینوں اج ڈر نیں لگیا۔اوس دن تاں مرن والا ہو گیا سی اج کیویں ۔ میں بولا میں کسے توں نیں ڈردا میرا کی وگاڑ لے گا ۔ وہ بولی اچھا جی انا بہادر ہو گیا اے منڈو لگدا اے شہر دا پانی دلیر کردا اے میں نے کہا بہادر تو میں پہلے ہی تھا بس تب بچہ تھا۔ تو وہ انکھیں مٹکاتے ہوئے بولی واہ ہن جوان ہوگیا ایں ۔ بلے بھئی بلے۔ میں نے بھی ترکی با ترکی جواب دیا تینوں کی لگدا اے۔۔۔۔؟؟؟ اس نے میرے ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا بلوووواا میں نے اس کی نقل اتارتے ہوئے کہا ہاں چھنوووو سچی بات بتاوں میں نے کہا بولو سچ میں ناں مینوں لگدا ااےےے میں نے پوچھا کیییاااا بولی بتا دوں میں نے کہا ہاں بتا دو اس نے کہا تو وو ناااں میں نے نروٹھے پن سے کہا کیا اب بول بھی دو تو اس نے کہا تم ڈر گئے تھے۔ اور ہاتھ چھوڑ کر پیچھے کو بھاگی ساتھ ہی زور سے ہنسی۔ میں بھی اٹھ کر اس مے پیچھے بھاگا اور اس کو پیچھے سے دبوچ لیا ۔ افففف میں نے جب اس کو پیچھے سے اپنے ہاتھ اس کے پیٹ پر رکھ کر تھا ما اور اس کی گانڈ سے میرا اگلا حصہ لگا ۔ اس کے پیٹ پر میرے ہاتھ پھسلنے لگ گئے۔ اس کا پیٹ اتنا نرم وملائم تھا کہ ہاتھ ٹک ہی نہیں رہے ۔ اور اس کی گانڈ کی نرمی اس کی سوفٹنیس ایسی کہ جیسے مخمل کا کمبل میرا لن جو ابھی کچھ دیر پہلے کی اپنی اکڑ کھو چکا تھا اس کی گانڈ کی پھاڑیوں میں مچلنے لگا۔ لن اس موٹی گوشت سے بھری ہوئی پہاڑیوں کی سنسان تنگ وادی میں گھسنے کی کوشش کرنے لگا۔ چھنو نے بھی اپنی دلکش نظارہ پیش کرتی گانڈ کو میرے بے وقت بے موقع مچلتے لن کو اپنی گانڈ کی دراڈ میں کس لیا۔ میرے ہاتھ جو اس کے پیٹ سے نیچے کی طرف پھسل رہے تھے ان میں سے دائیں کی سمت بدلی اور اوپر بے ترتیب انداز سے ہلتے اچھلتے مموں کی طرف محو سفر کر دیا۔ جب کہ بایاں ہاتھ نیچے اس کی ٹانگوں میں چھپی آگ کی انگیٹھی کی طرف رینگتا ہوا گیا۔ اس سے پہلے کہ اوپر والا اور نیچے والا اپنی منزل مقصود تک پہنچ پاتے۔ چھنو تیزی سے مجھ سے الگ ہوئی اور بولی میرے سوہنے تو انج کر او باہر والا کھیت ہے نہ جہاں بیر کھانے جاتے تھے وہاں میں دوپہر نوں آوں گی۔ میں نے اس کی بات کو دماغ پر زور دے کر کچھ سمجھی اور نہ سمجھی کا اظہار سر ہلا کر دیا ۔ تو وہ جلدی سے نکل گئی اور مجھے کہ گئی 5منٹ بعد چپ کر کے نکل جائیں دروازہ کھلا ای رہنے دینا۔ میں نے کہا اچھا پر بات تو سنو ایک بار پھر کرتے ہیں ہیں ۔ اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ جس مطلب تھا جا اوئے تیرا کوئی حال نئیں۔ اور نکل گئی میں اس کے اشارے کا مطلب اور ااس کی کھیت والی بات کا مطلب سمجھنے کی کوشش کرنے لگا ۔ لیکن کچھ سمجھ نہ آیا کیونکہ اس کی بات ادھوری تھی۔ میں وہاں سے نکلا اور کھوہ والی طرف گیا۔جدھر رستے میں شازی لوگوں کی بیری تھی اور جہاں میں نے ایک شازی کی اور فجے نے کومل کی پھدی بجائی تھی۔ میں گیا بھی اسی لیے تھا کہ فجے کو کومل کے ذریعے شازی تک پیغام پہنچانے کا کہا تھا ۔ اب اس لیے جا رہا تھا کہ وہ پہنچ گئی ہو گی۔ لیکن وہاں جا کر پتہ چلا کہ ادھر شازی کا ابا اور بھائی کام کر رہے ہیں تو میں ان سے سلام دعا کر کے واپس چل پڑا اور سوچا چل بھئی بلو اج تاں چھنو دی پھدی قسمت اچ سی۔ ہن تو ویلا ایں میں یہ ہی سوچتا واپسی کے سفر پر گامزن تھا کہ یک دم مجھے ایک کھیت سے کسی نے آواز دی ۔ دوستو جیسا کہ میں نے بتایا تھا کہ ہمارے گاوں میں کماد کی فصل بہت زیادہ بوئی جاتی تھی جو کہ تقریباً پورے سال کی ہوتی ہے۔ اس وقت کھیت سے مجھے آواز آئی وہ بھی کماد ہی تھا۔ مجھے اپنا لگا کیونکہ میں رک کر دائیں بائیں دیکھا کوئی نظر نہ آیا لیکن جب چلا تو پھر آواز آئی ۔ اس بار آواز میں نے واضح سنی اور آواز کی سمت کا بھی اندازہ ہوگیا۔ میں نے اس سمت دیکھا تو ایک ہاتھ مخملی سا چٹا سفید مخروطی انگلیاں کالی چوڑیاں کلائیوں میں پہنے مجھے اشارہ کر رہا تھا ۔ میں اتنا حسیں ہاتھ دیکھ کر ہی بے اختیار اس کی بلانے والے کی خوبصورتی کا قائل ہو گیا تھا اس لیے اس کی طرف میرے قدم میری اجازت کا انتظار کیے بغیر بڑھ گئے جیسے ہی میں ان ہاتھوں می حدود گرفت میں آیا ان نازک ہاتھوں کی مخروطی انگلیاں کھلیں اور پورا ہاتھ سامنے آیا اس سے پہلے کہ کچھ سمجھتا میرا بازو اس کی گرفت میں آیا میں بے وزن ہوتا کسی غلام کی طرح اس کے پیچھے چلتا گیا۔ میں اس کے پیچھے صرف ہاتھوں کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر جانا صرف اس وجہ سے نہیں تھا کہ وہ ہاتھ خوبصورت تھے ۔ بلکہ ان ہاتھوں کی نازکی ان کی لمبی باریک انگلیوں کی بناوٹ کلائیوں میں پہنی کھنکتی کالی چوڑیاں پھر ان انگلیوں کا اشارے سے اپنی طرف بلانا مجھے سب سمجھا گیا ۔ یہ وہی میرے دل پر اپنی جادوئی حسن کی چھاپ چھوڑنے والی مستانی چال چلنے والی ملکہ حسن وجمال نازک بدن چمکتی آنکھیں رکھنے والی پری چہرہ جس نے مجھے پہلی دفعہ پردہ بکارت توڑنے کی لذت سے آشنا کروایا تھا۔ ہاں جی دوستو صحیح سمجھے میرا دل جس کےلیے پہلی بار دھڑکا تھا جس کے ساتھ میں نے بھا کو عاصمہ کی چودائی کرتے دیکھا تھا جس کی گانڈ کے ساتھ کئی سال پہلے اپنی للی رگڑ کر مزہ کیا تھا وہی تھی۔ ہاں جی ناہید ہی تھی جس کو میں دیکھنے کے آج صبح اس کے گھر کے سامنے سے کئی بار گزرا تھا کہ اس کا حسیں مکھڑا دیکھ سکوں ۔ وہ مجھے اپنے ہاتھ کے لمس سے ہی بے بس کر کے کھینچتے ہوئے کے جا رہی تھی اور کسی بندھے ہوئے اس کے غلام کی طرح اس کے پیچھے کھنچا چلا جا رہا تھا۔ پتہ نہیں کتنا وقت اس کے پیچھے بندھے ہوئے معمول کی طرح چلتے گزر گیا میرے منہ پر کماد کے پتے لگتے رہے لیکن میں تو اس کے لمس میں ڈوبا چلتا جا رہا تھا۔ کہ یکدم جیسے سب کچھ رک گیا وقت تھم گیا میں تو اس احساس کیں کھویا تھا ابھی کہ مجھ پر ایک وار کر گئی ۔ ہاں جی اس نے رک کر اپنی شدت جذبات کا اظہار مجھے اپنی کومل سی باہوں کے حصار میں لے کر کیا ۔ آہ آہہہہ اس گلبدن کے گلدان سے مہکتے سینے پر لگے ممے میرے سینے پر لگے اور میرے چہرے پر گرم سانسوں کا طوفان چلنے لگا۔ میں تو اپنے ہواس کھو ے والا تھا میری سانس اکھڑنے لگی اس سے پہلے کہ میری سانس اکھڑتی اس حسینہ نے اپنی دہکتے گلاب کی پنکھڑیاں میرے ہونٹوں پر رکھ کر میری سانسوں کو بحال کیا ۔ ایک شیریں سا احساس میرے پورے وجود سرایت کر گیا میرے ہونٹ اپنی قسمت پر رشک کرتے بے اختیار کھل گئیے اور ان شہد سے میٹھے لبوں کو تھام کیا ۔ پھر کیا تھا نہ تھمنے والا سلسلہ لب وبام کی گھسم پیل کا شروع ہو گیا نہ وقت گزرنے کا احساس نہ جگہ کا پتہ نہ گرمی کا احساس تھا ۔ احساس تھا تو بس ایک دوسرے کے ہونٹوں سے رس کشید کرنے کا تھا ۔ جب اپنے دل کی بھڑاس اور لبوں کی پیاس اچھے سے بھجا لی تو اس نے ہونٹ الگ کیے ۔ میں تڑپا اور کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح ملتجیانہ اندز سے اس کی طرف دیکھا تو اس نے شکوہ کناں آنکھوں سے میری طرف دیکھا اپنے حسیں لب کھولے ۔ کہاں تھے تم تو ایسے غائب ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ نہ کوئی اتا نہ پتا نہ یہ فکر کہ کوئی تمہارے لیے کتنا تڑپ رہا ہے ۔ میں تو ااس کی بات پر ہی اپنا دل ہار بیٹھا اس بات نے مجھے لا جواب کر دیا پر جواب تو دینا تھا ۔ سو الفاظ ڈھونڈے اور پہلی دفعہ کچھ کچھ بولنے کی ہمت کی میری جان میں کل شام کو آیا ہوں تب سے تمہاری اک جھلک کے کیے تڑپ رہا ہوں کتنے چکر لگائے اس حسین مکھڑے کے دیدار کے لیے لیکن تم نے اس بیقرار دل کی تڑپ کو ارزاں سمجھا اور اپنی دیدار نصیب نہ کروایا کہاں کہاں نہ ڈھونڈا ۔شہر میں بھی میری حالت مجنوں کی سی ہوتی ہے۔ ہر طرف تمہں ڈھونڈتا پھرتا ہوں پر کیا کروں رسم دنیا بھی نبھانی ہے۔ پھر مجھے اجازت نہیں ملتی گاوں آنے کی پڑھائی کی وجہ سے اب جیسے ہی اجازت ملی دوڑا چلا آیا ۔ پھر تو ناہید موم کی طرح پگل گئی اس سے پہلے کہ کچھ اور بولتا وہ پھر سے میرے ہونٹوں پر حملہ آور ہو چکی تھی اب اس کے انداز میں پہلے سے زیادہ دیوانگی تھی۔ میرا بھی گھوڑا اپنی دم ہلا کر تیار ہو چکا تھا لیکن ابھی اس کی آرام گاہ تک پہنچنے سے پہلے کے مراحل باقی تھے۔ میں نے اپنا ایک ہاتھ اس کی گردن پر دوسرا اس کی پشت پر پھیرتے ہوئے نیچے سرکایا اور گانڈ پر جا رکھا ۔ ہاتھ گاند پر رکھا ہی تھا کہ ناہید تڑپ کر اچھلی اور مزید میرے جسم میں سمانے کی کوشش میں میرا لن اپنی ٹانگوں میں بھینچ لیا ۔ جیسے ہی لن ٹانگوں میں گیا اس کی پھولی ہوئی پھدی کو جو چار پردوں میں چھپی تھی سلامی پیش کی اس کی سسکاری میری منہ میں نکلی۔ اب میری بھی برداشت جواب دے گئی کیونکہ ہمیں تقریبآ 20 منٹ کسنگ کرتے ہو گئیے تھے۔ میں ایک ہاتھ سے اس کی قمیض اوپر کرنے کی کوشش کی تو اس نے نرٹھے پن سے سر ہلا کر روک دیا اور خود پیچھے ہو کر کھڑی ہوئی اور مجھے اشارہ سے نیچے بیٹھنے کا کہا۔ میں پاوں کے بل نیچے بیٹھا میرا منہ اس کی پھدی کے عین سامنے تھا اففففففف میں ایک لمبی سانس کھینچی اس کی ٹانگوں کے بیچ چھپے خزانے سے مدہوش کن مہک کے بھبھکے نکل کر اس کی اندرونی کہانی بیان کر رہے تھے۔ اب تو مجھ پر سچ میں جنون کہ حالت سوار ہو گئی میں اس کی شلوار کو پکڑا اور ایک دم نیچے کھینچا تو شلوار اس کے پاؤں میں آ گری ۔ شلوار کیا اتری ایک عالم شہوت پیدا ہوگیا میں نے اس کی قمیض کو ہاتھ سے اس کی چوت سے اوپر کیا اس کی پر شباب چوت کو دیکھا جو پھڑپھڑا کر اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے رو رہی تھی ۔ میں نے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر کر ہونٹ اس کی رس بھری پر رکھ دیے وہ مچلی اس نے اپنی ٹانگیں دبائیں اور میرے سر پر ہاتھ رکھ کر مجھے پیچھے دھیکیلا.. ۔ اور میرے زیریں جامہ کو اتار کر مجھے ننگا کر دیا میرا لن جو کہ اکڑا ہوا تھا ایک دم سپرنگ می طرح اچھل کر ناف کی طرف جھکا۔ اس نے میرے لن کو اپنے نازک ہاتھ میں پکڑا اور اس لمبائی اور موٹائی کو دیکھنے لگی ۔ اچھی طرح پیمائش لینے کے بعد اس نے اپنی شلوار جو ٹانگوں میں تھی اتار کر پھینکی اور میرے اوپر آگئی۔ اس کا اوپر آنا اور اپنے دودھ کے پیالوں کو میرے سینے پر لگایا۔ میرا صبر متزلزل ہو گیا میں نے اپنا ہاتھ نیچے لے جا کر لن کو پکڑ کر اس کی پانی سے لبالب بھری پھدی کے دہانے پر رکھا۔جیسے کی لن نے پھدی کے لبوں کا چھوا اس نے مزے کی سسکاری بھری اور میرے منہ کو چومنے لگ گئی ۔ اس کی دیوانگی کو دیکھ کر میرا جوش بھی بڑھتا گیا اور لن پر زور ڈالا تو ٹوپی پھسل کر گیلی پھدی میں گھس گئی۔ جیسے ہی لن کی ٹوپی گھسی اس کے دانتوں نے میرے لبوں کو کاٹ لیا ۔ میں چھی مزے میں ڈوبا درد کو پی گیا اور اپنی گانڈ کو اٹھا کر نیچے سے زور لگایا اور لن آدھے سے زیادہ اندر کر دیا ۔ اس نے میرے لبوں کو چھوڑا اور اپنے ہاتھ میرے کندھے پر رکھ کر اپنی گردن کو اوپر اٹھا لیا اب اس کا فل جوبن سے اکڑا سینہ اور سینے میں چھپے دو ٹائم بم اتھل پتھل مچاتے ہوئے میرے منہ کے قریب آ گئے ۔ سینے کے اتار چڑھاو کو دیکھ کر میرے لن میں اور جوش بھر گیا ۔ میں نے لن باہر نکالا اور اور گامڈ کی مدد سے گھسا مارا لن اندر اتر گیا۔ لن کی چوٹ کچھ زیادہ کی تھی وہ اچھل کر ایک سائیڈ پر گر گئی اور اپنا ایک ہاتھ پھدی پر رکھ کر آنکھیں بند کر کے دانت بھینچ لیے ۔ میں سیدھا ہوا اس کا ہاتھ پکڑا لن کو پھر سے اس کی پھدی پر لگانے سے پہلے اس کی ٹانگیں اٹھائیں اور اس کے اوپر لیٹ گیا ۔ اب لن اس کی پھدی کو چھو رہا تھا میں اپنی زبان نکالی اور اس کی گردن اور کان کی لو کو چاٹنے لگ گیا۔ اس کی سسکاریاں شروع ہو گئیں ۔ اب میں نے لن پر زور بڑھایا اور ایک ہی جھٹکے میں سارا اتار دیا ۔ اس نے میری کمر کے گرد اپنی ٹانگیں لپیٹ لیں اور اپنے ہاتھ میری گانڈ پر رکھ کر دبا کیں جو اس بات کا اشارہ تھا کہ رک جاو۔ میں رک گیا اور اس کے ہونٹ چوسنے شروع کیا ساتھ ساتھ اپنی زبان اس کے ہونٹ پر پھیرتا اور اپنے ہاتھ اس کے گداز سینے پر رکھ کر کپڑوں میں مچلتے اس کے مموں کو مسلنے لگ گیا۔ میرا وار کار گر ثابت ہوا اس نے کچھ ہی دیر میں اپنی گانڈ نیچے سے ہلا کر مجھے ہلا شیری دی۔ میں نے آہستہ آہستہ اندر باہر کرنا شروع کیا اور ساتھ ساتھ سپیڈ بڑھاتا گیا ۔ کوئی پانچ منٹ بعد اس کی سانس پھولنے لگ گئی۔ اس کی اواز میں خماری آنے لگی۔ اس کا جسم اکڑا اور اس نے میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹ میں جام کر لیا۔ نیچے سے گانڈ اٹھائی اور لن کو اس کی پھدی نی اپنے قابو میں کر لیا ساتھ ہی اس کا جسم کانپا اور میرے لن کر اس کی چوت نے برسات کی گرم پانی کی برسات میں بھی برداشت نہ کر پایا اور اس کے ساتھ ہی اس کی پھدی کو اپنے پانی سے بھرنے لگا۔۔۔۔۔۔
  4. مدرسوں کے حالات سے تقریباً سبھی واقف ہیں ۔ لیکن آپ نے اچھا آغاز کیا ہے سیکس کے ساتھ ساتھ ایک چبھتی ہوئی سچائی کو بھی اجاگر کر رہے ہیں میں نے ایسے کئی واقعات سنے اور دیکھے ہیں ۔ اگر ہو سکے تو تھوڑا کھل کر لکھیں باقی آپ بہتر سمجھتے ہیں کیوں کہ آپ کے دماغ میں کہانی کا پلاٹ واضح ہو گا۔
  5. بہت جلد اب ایک بھرپور اپڈیٹ کی تیاری ہے اس لیے وقت لگے گا تھوڑا انتظار فرمائیں۔
  6. Update جب سارہ نے حیدر کو پیچھے سے اپنے شباب سے بھرپور سینے کی تمام تر حشر سامانیوں سمیت اپنی بانہیں اس کے بازوؤں کے نیچے سے گزار کر اس کو کسا تو حیدر سرور کے اک انوکھے جہاں میں پہنچ گیا اس رخ ماہ نور کے سینے سے نکلتی بجلیوں نے حیدر کی کمر پر آگ لگا دی جو اس کے پورے وجود میں سرایت کر گئی ۔ حیدر اس حسینہ ماہ جبیں کے نرم وملائم سینے کے ابھاروں سے نکلنے والی برق رفتار لہروں سے گھائل ہوتا جا رہا تھا ۔ حیدر نے ان لمحات سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اپنے کھردرے ہاتھ اس کے روئی سے ملائم ہاتھوں پر رکھے اور ہکلاتی ہوئی آواز میں بولا سساا ررہ سارہ بھی جہاں الفت میں ڈوبی ہوئی اپنی سریلی آواز کے جلترنگ جگاتی ہوئی بولی جی۔ حیدر نے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنا رخ اس کے بازوؤں کے گھیرے میں رہتے ہوئے پھیرا اور سارہ کے حسین مکھڑے پر نظریں جما دیں گہری آنکھیں جوانی کی چمک سے دمکتے اور شرماہٹ سے گلابی ہوتے گال جوش جزبات سے لرزتے ہونٹ حیدر اس کے حسن کی چاشنی کو دیکھ کر اس کو خراج تحسین پیش کرنے لگا۔ حیدر نے اپنے ہونٹ وا کیے اور گلاب کی پنکھڑیوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر ان سے محبت کا خراج وصول کر نے لگا۔ اس کے ہونٹوں کو چومنے لگا اپنی زبان سے ان کو نہلانے لگا۔ اچھی طرح اپنے لعاب سے تر کرنے کے بعد اس کی زبان جو کب سے مچل رہی تھی ماہ وش پری چہرہ سارہ کے نیم واہ ہونٹوں سے رستہ بناتے ہوئے شہد سے ہونٹوں سے رگڑ کھاتے ہوئے اپنی من چاہی منزل کی جانب محو سفر ہو گئی۔ اس ماہ پروین نے بھی اس کی پیش قدمی کو سراہتے ہوئے اندر آنے کی اجازت دی اور اپنی رسیلی سرسراتی زبان کو اس سے لپیٹ کر خوش آمدید کہا۔ پھر زبان سے زبان کی لڑائی شروع ہو گئی اور ہونٹ ایک دوسرے سے گھتم گتھا ہوگئے۔ حیدر کے ہاتھوں نے گستاخیاں شروع کر دیں پھسلتے ہوئے کمر سے نیچے جسم کی نرمی سے لظف اٹھاتے ہوئے پیچھے کو نکلے ہوئے اپنی پوری اٹھان سے کھڑے کولہوں پر پہنچ گئے ۔ ادھر اس کے ہاتھ کولہوں پر پہنچے ادھر سارہ کی سسکاری حیدر کے منہ کے اندر نکلی ۔ حیدر نے بہت نرمی سے دونوں کوہانوں کی سی شان سے اکڑے ہوئے کولہوں کو سہلانا شروع کیا ساتھ اپنا ایک ہاتھ اگے کی طرف لا کر امنڈتے شباب کی نرم نرم پہاڑیوں کے نیچے ان کی جڑ کے قریب رکھ دیا اور بہت احتیاط سے کہیں اس کے ہاتھ کی سختی سے ان کی پیمائش خراب نہ ہو جائے۔ اپنا ہاتھ اوپر کی طرف بڑھایا۔ جیسے ہی ہاتھ ان شباب کے گولوں کر چھوا حیدر کو 440 وولٹ کا جھٹکا لگا وہ سمجھا کہ شاید اس کے سینے میں کوئی روئی کا گولا ہے اتنا نرم کہ اس کے ہاتھ سے وہ دب گیا۔ سارہ بھی جوش میں ہوش کھو رہی تھی۔ اس نے اپنی ٹانگوں کو ہلا کر سیٹ کیا اور حیدر کا اکڑا ہوا شیر اپنی غار کے ساتھ لگا لیا۔ اور اس کو مکھن جیسی ملائم رانوں میں دبا کر رگڑنے لگی۔ اب صورتحال یہ تھی کہ ہونٹوں پر ہونٹ زبان سے زبان کی لڑائی سینے کی گولائی کی پیمائش میں مشغول حیدر کا ہاتھ ٹانگوں کے بیچے میں سارہ نے حیدر کا لن دبایا ہوا تھا ۔ برداشت کی انتہا ہو گئی سارہ نے جوش سے لن کو اپنی ٹانگوں میں بھینچنا شروع کر دیا۔ ساتھ ہی ایک ہاتھ حیدر کے ممے والے ہاتھ پر رکھ کر دبانا شروع کر دیا جو اس کے جوش کی دلیل تھی حیدر نے دوسرا ہاتھ بھی سامنے کیا اور تھوڑا پیچھے ہو کر اس کی لانگ فیروزی رنگ کی شرٹ کو اوپر اٹھانے لگا سارہ نے شرماتے ہوئے ہاتھ اٹھا کر اس کی مدد کی آہآہ جیسے ہی قمیض اتار کر حیدر نے اس کے شفاف چمکتے بدن کو دیکھا اس کے منہ سے رال ٹپکنے لگ گئی۔ نہ ہونے کے برابر پیٹ اور پیٹ کے درمیان چھوٹا سا گڑھا۔اس کی اوپر والی طرف گوشت سے بھرپور شہوت انگیز گول مٹول دودھ جیسے سفید مکھن جیسے نرم پستان برا سے آزاد اپنے سینے پر پنک رنگ کی چھوٹی سی ڈلی رکھے حیدر کی زبان کو دعوت لپائی دے رہے تھے پکار پکار کر کہہ رہے تھے آو اور ہمیں چوس چوس کر اور لال کر دو حیدر نے بھی چودائی کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اپنی زبان نکالی اور اس کے جوانی کی اکڑ سے کھڑے ہوئے دودھ کے پیالوں میں سے ایک پیالے پر رکھ دی اور اس کے پنک نپل کو رگڑنے لگا۔ اپنی زبان کو گول گول گھماتا اور پھر نپل کو ہونٹوں میں لے کر چوستا کچھ دیر ایک سے دودھ پینے کے بعد اس نے دوسرے کا حق دینا شروع کر دیا ۔ اس دوران سارہ کا ہاتھ اس کے سر پر بالوں کو پکڑ کر دبا رہا تھا شاوا بھئی شاوا اور زور سے چوسو یک دم سارہ کی آواز میں شہوت کا عنصر غالب آنے لگا اور بولی یییسسسس سسسکک مائی بووووبببز ییسسس حیدر نے ایک ہاتھ اس کے فلیپر نما ٹراؤزر میں ڈال کر اس کی پھڑکتی آگ برساتی چوت پر رکھ دیا ۔ سارہ کو ایک لذت بھرا احساس ہوا اس نے ہاتھ کو اپنے ہاتھ سے دبا لیا۔ حیدر کو اپنے ہاتھ پر لیس دار گرم چیز محسوس ہوئی ۔ اس نے ہاتھ کی مدد سے ٹراؤزر نیچے اتارہ اور سارہ نے اس کی شلوار کا ناڑا کھولا ساتھ ہی شلوار کو نیچے پھینک دیا۔ اور اپنے ہاتھ سے اس کا لمبا موٹا اوزار تھام لیا سارہ کے ہاتھوں کی نرمی حیدر کے شیر کو کچھ زیادہ ہی پسند آگئی اس لیے اس نے جھٹکا کھا کر اس کا اظہار کیا۔ جبکہ سارہ کی سسکاریاں تیز ہو رہی تھیں کیوں کہ حیدر نے ایک انگلی اس کی چوت کی تپتی چوت میں ڈال دی تھی ۔ اور اپنے ہونٹ سارہ کے ہونٹوں پر رکھ کر رس کشید کرنے لگا۔ سارہ اس دوہرے وار کو اس بار براداشت نہ کر سکی اس کا جسم کانپنے لگا حیدر سمجھ گیا اب سارہ اپنے آخری دور میں داخل ہو چکی ہے کسی بھی وقت اس کی چوت برسات کردے گی اس لیے اس نے اس حسن کی پری کو گھمایا اور اگے کی طرف جھکا کر اس کی کمر کو دبایا جس سے اس کی چوت باہر کو نکل آئی ۔ پھڑ پھڑا تی اور پانی سے لبالب بھری چوت کو دیکھ کر اس نے اپنے لن کو اس پر سیٹ کیا اور گہرائی تک اتارنے کےلیے ایک ہلکا سا جھٹکا مارا تو وہ کچھ اندر اتر گیا سارہ نے اپنی ٹانگوں کو اکڑا لیا اور سسئئییی کی ۔ حیدر نے ایک بار باہر نکالا اور پھر قدرے زور سے دخول کیا تو اپنی تمام لمبائی سمیت اپنی منزل تک جا پہنچا سارہ نے تڑپ کر آہآہہہ کیا اور بولی یسسس یو ہیو آ آوسم ڈک ہیسسس فففکککک مممییییںں ڈئیرر اور پھر یہ مسلسل بولنے لگی حیدر یہ آوازیں سن کر اور جوش میں آ گیا اس نے تیز تیز جھٹکے شروع کر دیے سارہ بھی مستی میں ڈوبی کہنے لگی پھاڑ دیں سرررررر سسسااااررہہہ ہہہیی اااننندددرر کر دییییں۔ ایسے ایسے کریں یییسسسسس آآئئییییی لو دااااسسسسس۔ اور اس نے ایک جھٹکا کھایا اور پیچھے کو ایک گھسا مار کرسارہ لن اپنی چوت میں لے کر دبا لیا اور فارغ ہونے لگ گئی۔ کچھ دیر بعد جب وہ پرسکون ہو گئی تو حیدر نے اس کو ٹیبل پر لٹا لیا اور اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ کر لن ایک جھٹکے سے اندر داخل کردیا سارہ نے سئیی کی آواز کے ساتھ کہا آج سچ میں پھاڑ دو گے کیا؟ حیدر نے اس کی بات کو سنی ان سنی کر دیا اور زور ذور سے سٹارٹ ہو گیا اس کے گھسوں سے لن بچہ دانی کو ہٹ کر رہا تھا ۔ جو سارہ کو تکلیف کے ساتھ ساتھ مزے کی اتھاہ گہرائیوں میں لے جارہا تھا اس کی آواز میں جنون چھلکنے لگا وہ مسلسل بولنے لگی ییسسسس فففککک می لائک داسس یییااااجججا یہاں ہی ہہی یہاں ہی ہاں ہااااںںں ایییسسسے ہی اب کافی دیر ہو گئی تھی حیدر کو بھی اپنے خون کی رفتار تیز محسوس ہونے لگی اس کی سپیڈ بھی بڑھتی گئی سارہ بھی بے ربط جملے بولنے لگی ساتھ ساتھ اس نے حیدر کو اپنے اوپر گرا کر اپنی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد کس لیں اور اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کے شکنجے میں لے کر نیچے سے گانڈ اٹھا اٹھا کر لن کواور بھی اندر لینے لگی حیدر بھی اب قریب تھا اس لیے وہ پورا زور لگا رہا تھا اور سارہ بھی بھرپور انداز میں نیچے سے گانڈ اٹھا کر لن کو گہرائی تک لے جانے کی کوشش کر رہی تھی۔ ایسے کرتے کرتے وہ دونوں ایک ساتھ فارغ ہو گئیے۔ اور ایک دوسرے کے ہونٹ چوسنے چومنے چاٹنے لگ گئیے اچھے سے ہونٹوں سے لذت اٹھانے کے بعد وہ الگ ہوئے سارہ نے مسکراتے ہوئے کپڑے پہنے اور بولی آپ سچ میں کمال ہو اگر مجھے پتہ ہوتا کہ آپ کا اتنا جاندار ہے تو میں کب کی آپ کے نیچے لیٹ چکی ہوتی۔ ساتھ ہی اس نے بڑھ کر حیدر کے ہونٹوں پر کس کی اور یہ کہہ کر چلی گئی کہ ٹائم کافی ہو گیا ہے آپ بھی فریش ہو جاو اور کل کے لیے تیا ر ہو جائیں بھرپور مزہ آنے والا ہے۔۔۔
  7. Update میں کچھ بھی سمجھنے کے موڈ میں نہیں تھا شانزل کے نرم وملائم رسیلے ہونٹوں کو چومنے لگ گیا اور اپنا اتنے دن سے پیاسہ لن اس کی ٹانگوں میں گھسا دیا جو سیدھا اس کی پھدی پر جا لگا اب صورتحال یہ تھی کہ شانزل میرے بازوؤں میں کسمسا رہی تھی اس کے ہاتھ میرے سینے پر مجھے دھکیلنے کی کوشش میں تھے جب کہ میں اس کو دیوار کے ساتھ لگائے اس کے ہونٹوں سے رس کشید کر رہا تھا اپنا ایک اس کی کمر پر اور دوسرا ہاتھ اس کی گردن پر تھا ساتھ ہی میں اپنے لن سے اس کی ٹانگوں میں رگڑ رگائی بیچ میں اس کی قمیض میرا ٹراؤزر اس می شلوار بھی تھی اتنے کپڑے ہونے کے باوجود مجھے اس کی پھدی ننگی لگ رہی اتنی خواری چڑھی تھی شایدمیں اتنے دن سے ترسا تھا اس لیے ایسا لگ رہا تھا میری کسنگ کی شدت دیکھتے ہوئے اس نے بھی ساتھ دینا شروع کر دیا اور اپنے ہاتھ جو مجھے دیکھیلنے کے لیے سینے پر تھے اب میری کمر پر اگئیے اور اس کے گول گول سنگترے جتنے ممے میرے سینے سے لگ گئے اس کے سینہ میں چھپا وہ خزانہ مجھ سے سیکس کے لیے تڑپتے بندے کے لیے کسی نعمت سے کم نہ تھے ۔ بے اختیار میں نے اس کو اپنے ساتھ اور کس لیا۔اور لن کو بھی زور سے رگڑنے لگ گیا۔لن کی رگڑ جب اس کی پھدی کے لبوں سے لگا تو اس کی سسئی نکلی ساتھ ہی اس نے لن کو اہنی ٹانگوں میں کس لیا۔اور آہستہ اہستہ ہلنے لگ جیسے خود سے گھسے مار رہی ہو مجھ سے مزید برداشت نہ ہو سکا۔ میں نے اپنا ہاتھ نیچے لے جا کر اپنا لن نکالا اور اس کی شلوار کو نیچے کر کے لن اس کی پھدی کے لبوں سے لگایا اس نے اجوش سے میرے ہونٹ کاٹ لیے اور لن پر پھدی رگڑنے لگی لن اس کی پھدی سے رستے پانی نے لن کر تر کر دیا۔ اب میں نے اس کو گھمایا اس کا منہ دیوار کی طرف کیا اور اس کی گانڈ سے قمیض ہٹا کر لن اس کی پھدی پر رکھا اس کی سیکسی آواز نکلی جان پلیز نہ کرو میں نے کہا میری جان میرا پیار کیسے پتہ چلے گا میرا لن بھی تو پیار کے ترس رہا ھے۔ وہ بولی جانو آرام سے کرنا سنا ہے بہت درد ہوتا ہے ۔ میں نے اس کی بات سن کر لن کو اس کی پھدی پر دبایا اور زور لگا کر اندر کیا ٹوپی اندر اتر گئی لیکن وہ تیزی سے آگے ہو کر سیدھی ہوئی۔لن پھدی سے نکل گیا۔ یہ اس کے لیے اور تکلیف دہ ہونے والا تھا میں اس کو دیوار سے لگایا اسکے ممرے دیوار سے پیوست ہو گیے گانڈ باہر نکل آئی میں لن کو ایک جھٹکے سے گھسایا اور اس کے منہ پر ہاتھ رکھ لیا اس نے چیخ ماری جو منہ میں ہی دب گئی۔ مجھے اپنا لن پھنسا ہوا محسوس ہوا میں پھر گھسا مارا لیکن لن نے آگے جانے سے انکار کر شانزل کا جسم تڑپ رہا تھا میں نے لن تھوڑا سا باہر نکالا اور پھر گھسا مارا لن پھر سے تھوڑا آگے گیا مجھے اپنا جسم تپتا محسوس ہوا میں حیران ہوا کہ لن روانم۔ نہیں کو رہا پھر نکالا پھر گھسایا لیکن روانی نہ آئی تو جتنا تھا ویسے ہی آگے پیچھے کرنے لگ گیا۔ چند ہی جھٹکوں کے بعد میرے لن نے اپنا پانی چھوڑ دیا اور میں نے اس کے منہ سے ہاتھ ہٹایا تو وہ اس نے لمبی سانس لیتے ہوئے کہا یہ کیا کر دیا ۔ پتہ ہے تمہیں میرے مرچیں لگی کوئی ہیں میں تھوڑا پیچھے ہوا لن باہر نکالا اسی دوران اس کی گانڈ بھی باہر کو نکلی تو میں نے دیکھا کہ لن اس کی گانڈ سے نکل رہا تھا ۔ مطلب جب میں نے دوسری بار ڈالا تھا تو لن پھدج کی بجائے گانڈ میں گھس گیا تھا ۔میں بھی حیران تھا اس کی پھدی نے تو پانی چھوڑا ہو ا تھا پھر بھی لن رواں کیوں نہیں ہو رہا تو اس کی وجہ اب سمجھ آئی ۔ میں جلدی سےٹراوز ٹھیک کرتا باہر نکل گیا ۔ جب کہ وہ بھی اپنے کپڑے ثھیک کرنے لگ گئی ۔ اگلا دن ہفتہ کا تھا تو میں نے ہفتے کی شام گاؤں جانے کا پلان بنایا اور اپنے ایک کزن کے ساتھ گاؤں روانہ ہو گیاشام کو پہنچے کچھ خاص نہ بس ملںنے ملانے میں وقت گزر گیا ۔ لیکن فجے سے ملا اور حالات کا پوچھا بولا سب مزے میں کیا ۔ فجا بولا مزا ہی مزا خوب پھدیاں مار رہا ہوں تو سنا کوئی سیٹ ہوئی یا بس مٹھ ہی مار رہا ہے ۔ میں نے بھی لمبی لمبی چھوڑی بڑیاں پھدیاں ماریاں نیں وغیرہ۔ فجا بھی بولا یار مینوں وی کسی ملوا کسے شہری کڑی نوں میں نے کہا کیو ں نیں جب تو آئے گا تجھے ملوا دوں گا وہ خوش ہو گیا۔ ہم ایسے ہی ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے رات گزر گئی ۔ صبح صبح میں نے اپنا پلان بنا کیا تھا فجے کو بولا کہ شازی سے کسی طرح ٹائم بنوا اور اس نے کومل کو کہہ کر میرا پیغام پہنچا دیا۔ اور میں خود ناہید کے گھر کے سامنے سے دو تین ںار گزرا تاکہ اس تک کسی طرح میرنے آنے کی خبر پہنچ جائے کیونکہ ایک وہ ہی واحد تھی جس کی طرف دل کھینچتا تھا باقی تو بس لن کی پیاس بجھانے کے لئے تھیں ۔ لیکن کوئی باہر نہ نکلا تو میں مایوس ہو کر چھنو کی گلی کی طرف چل پڑا میں چھنو کی گلی میں مڑا ہی تھا کہ مجھے چھنو چھت پر نظر آئی اس نے ادھر ادھر دیکھ کر مجھے اشارہ کیا میں ڈرتا ہوا اس کے گھر کی طرف گیا ڈر تو تھا لیکن ایک چھنو ہی تھی جو اپنی سیکس کی جانکاری اور تجربے سے مجھے بھرپور مزا دے سکتی تھی ۔ میں لن ہاتھون مجبور کو کر اس کے گھر کے پاس گیا وہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی دروازے میں کھڑی تھی اس نے مجھے کہا پچھلی طرف آ جاو ان کے گھر کی پیچھے بیک سائیڈ پر بیٹھک تھی جس کا دروازہ گلی میں کھلتا تھا میں وہاں گیا ےو دروازہ کھلاملا میں اندر داخل ہو کر اس کا انتظار کرنے لگا۔ چند منٹوں میں ہی وہ آ گئی اس نے آتے ہی مجھے اپنی باہوں میں بھرا اور مسکراتے ہوئے بولی مینوں پتہ تھا تم ہم سے ملنے آو گا۔ اس کی اردو سن کر میری ہنسی نکل گئی تو وہ بولی مینوں پتہ اے تو میری اردو تے ہسیا ایں کوئی ناں میں تیرے پیار اچ ای وی سکھ لاں گی ساتھ ہی بولی بلو میری اوس جگہ نے تینوں بہت یاد کیتا میں نے کہا کیڑی جگہ نام بتاو نہ بولی چل وڈا آیا تینوں تاں پتہ ای نہیں اور میرے ہونٹ چوم لیے میرا لن بھی اکڑ چکا تھا میں نے اس کے گرد اپنی بانہیں ڈال کر اس کو اپنی ساتھ بھیچ لیا اس کے ممے میرے سینے میں پیوست کو گئیے اس کے مموں کا سائز بڑھ چکا تھا آخری بار جب اس سے ملا تھا تب اس کے ممے بہت چھوٹے تھے میں نے ایک ہاتھ آگے لا کر اس کا مما پکڑ کر دبایا تو اس نے نیچے سے اپنی پھدی میرے لن پر دبا کر اپنی شہوت کا اظہار کیا۔ میں ہونٹ چوم رہا تھا اس نے لن کو اپنی ٹانگوں سے نکال کر میری شلوار کا نالا کھولا اور لن کو ہاتھ میں لے کرمٹھ مارنے لگ گئی ساتھ ساتھ اپنی زبان میرے منہ میں ڈال کر میری منہ کہ گہرائی ماپنے لگ گئی۔ اس کے ہاتھ کا لمس اس کی زبان کیں چاشنی نے میرے وجود میں گرمی کی انتہا کر دی میں نے بھی اپنا ہاتھ اس کی شلوار میں ڈال کر شلوار اتار دی اس کو ایک طرف پڑی چارپائی پر لٹایا اور اپنا لن اس کی پھدی پر رکھ کر اپنے ہاتھ سے اس کی پھدی مسلا ساتھ ہی اس کے دانے کو مروڑا۔ اس نے سسئئ کی اواز کے ساتھ کہا جان مزہ آ رہا ہے افف میں نے اس کی پھدی کو دیکھا جو پھولی ہوئی مجھے اپنی طرف بلا رہی تھی میں لن کو ڈالنا بھول کر اس کی پھدی پر جھکا اور اپنی زبان نکال کر پھدی کے لبوں پر رکھ دیا اس نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر دبایا اور بولی بلوو اہ اہ تیری زبان اچ جادو اے پھیر میں نے زبان اس کی پھدی کے لبوں پر رگڑنے کے بعد اندر داخل کر دی۔ میری زبان کو ایسا لگا جیسے کوئی مزیدار رسیلا شربت ہو میں مزے لے کر چاٹنے لگا اپنی زبان اس کی پھدی میں جہاں تک جا سکتی تھی پہچانے لگا اور اس پھدی کا رس چاٹنے لگا اس کی سسکیاں مزے کی انتہاکو پہنچنے لگیں اس نے میرا سر اپنی پھدی پر دبانا شروع کر دیا اس سے پہلے کہ وہ فارغ ہوتی میں جلدی کھڑا کو اور اپنا لن ہاتھ سے پکڑ اس کی پھدی پر رکھا اور وہ کچھ بولنے لگی تھی اس سے پہلے کہ بولتی میں ایک جھٹکے سے اندر اتار دیا اس جے منہ سے نکلا آرام سے جو کہ وہ پہلے کہنے والی تھی ساتھ ہی اسنے اپنے منہ لر ہاتھ رکھ لیا میں نے پھر لن نکالا اور اس سے دگنی سپیڈ سے گھسایا اس کی آآ ہہہہہہ نکلی ماردتا ای وے ظالماں تیرے توں آرام نال نہیں ہوندا اہہہہ میں نے اس کی کسی بات پر دھیان نہ دیا اور اپنی ساری گرمی جو اتنے دنوں سے مجھے جلا رہی تھی ساری تڑپ جو پھدی کے لیے تھی اس کے زیر اثر رہتے ہوئے لن کے چپو چلانے شروع کر دیے اس نے کچھ دیر تو آاہہہ کی لیکن پھر اس کی آہ اہ میں مزے کی سسکاریاں شامل ہو گئیں وہ پھر سے اپنے اصل روپ میں انے لگی آہہہ اہہہہ ابلوووو جان میری پھدی پاڑ دے آہہہآکہہ اے لن لے کے کے رج دی نیں اج ایہدی تراس بجھا دے بلوووو آااایججج ااااائئئہہہ اآممیہی انج ای مار آآ اس کی ٹانگیں میری کمر کے گر کسنے لگیں اور اس نے مجھے اپنے اوپر کھینچ کر میرے ہونٹ کاٹنے شروع کر دیے اس کی دیوانگی نے مجھے اور جوش دلایا میں بھی اپنے پورے زور سے چودنے لگا یکدم اس نے مجھے جکڑیا اور میرا لن کو اس کی پھدی تنگ لگنے لگی لن پھنسنے لگا یکدم اس نے نیچے سے اپنی گانڈ اٹھائی میرے ہونٹ بھوڑے بولی بللللووو ممممییییںںں گئییییی اور اس کے ساتھ ہی اس کے جسم کو ایک جھٹکا لگا وہ اوپر کو ہوئی لن اس کی پھدی کے انتہائی مقام سے ٹکرایا اور پھدی می جکڑ میں آگیا پھدی نے لن کو جکڑ نہلانا شروع کر دیا۔ اسی طرح کچھ دیر فارغ ہوتی رہی اور مجھے اپنی باہنو ں میں جکڑی رکھا جب وہ مکمل فارغ کو گئ تو اس کی گرفت ڈھیلی ہو گئی میں پھر سے اس کی پھدی کی پیمائش کا آلا اندر تک آتارنا شروع کر دیا لن اس کی پھدی کی پیمائش میں مصروف ہوگیا ۔ پھدی سے اب شرشرپ کی اوازیں ا رہی تھی میں اس پوزیشن میں تھک گیا تھا اس کی پوزیشن بدلینے کے لیے اس کو الٹا کیا وہ گھوڑی بننے لگی تو میں ا س کو گرا دیا اس ک گانڈ پر تھپڑ مارا وہ بولی بلو تو جدوں میری مارنا ایں ناں میں اپنے آپ اچ نیں رہندی انامزہ دینا ایں ناں کہ دل کر دا اے تیرا لن لا کہ رکھ لاں۔ افففمیں اس کی گانڈ کو دیکھ مر یا پلان بنا رہا تھا شانزل می گانڈ میں لن جس طرح پھنس کر گیا تھا اور لن کو جو رگڑ لگی تھی اس سے مجھے مزا بھی بہت آیا تھا۔ لیکن میں نے اس کی گانڈ کو چھوڑ کر اس میں پھدی پر لن رکھا اور پھر اسی طرح گھسا مارا اور اندر کر دیا لن اس کی گانڈ کو رگڑتے ہوئے جب پھدی میں اترا تو اس کی چیخ نکل گئی۔ لیکن میں نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی اپنا سارا وزن اس پر ڈال کر لیٹ گیا اور اندر باہر کرنے لگا اس طرح سے لن کی رگڑ بہت زیادہ لگتی ہے اسی رگڑ سے وہ زور زور سے بولنے لگی اور میں بھی جوش میں آتا گیا اور اس کی پھدی میں لگاتار اندر باہر کرتا اس کی آوازوں میں تیزی اتی گئی بے ترتیب آواز سے بلنے لگی بلللووو اآااآ ئئی للللووو یییوووو اور اس کی پھدی نے جکڑ لیا اور میں بھی اس بار اس کی جکڑ سے فارغ ہونے والا ہو گیا لن ایک دم نکالا اور اس کی گانڈ میں ڈال دیا اور اس کی ایک دلخراش چیخ نکلی ۔ ساتھ ہی اس کے جسم نے جھٹکا کھایا اور میں بھی اس کے اوپر لیٹ کر فارغ ہونے لگا ابھی ہم فارغ ہی ہو رہے تھے کسی نے زور سے درواز کھٹکایا۔۔۔۔۔۔۔
  8. سارہ نے کہا میں آپ کی ہیلپ کر سکتی ہوں تو حیدر بولا نہیں سارہ تم وہ کرسکتی جو خوشی کر سکتی تھی سارہ کہہتی ہے سر بتایا تو ہے کہ وہ نہیں آ سکتی حیدر نے ایک بار پھر آزمانے کے لیے سارہ کے سامنے اپنے لن کو برہنہ کیا اور ہاتھ سے اشارہ کر کے بولا سمجھا کرو نہ معاملہ بہت خراب ہے اور یہ کام تمہارے کرنے کا نہیں ہے۔ تو سارہ نے اپنی نظریں اس کی گود میں بے تاب کھڑے لن پر رکھتے ہوئے اپنے خشک ہوتے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا آپ کچھ بھی کروا سکتے ہیں۔ ایک بار کہہ کر دیکھیں۔ حیدر بولا یہ دیکھو اور اپنا لن اس کے سامنے کر دیا اور بولا اس کو بٹھادو بہت تنگ کر رہا ہے۔ پہلے بھی بتایا کہ اب درد کر دہا ہے تم سمجھ نہیں رہی سارہ جومکمل موڈ میں لگ رہی تھی صرف ایک نسوانی جھجھک اس کے آڑے آ رہی تھی کہ ایک غیر مرد کا کیسے پکڑے ۔ حالانکہ وہ بھی اس جدید دور میں رہتی تھی سب کچھ جانتی تھی پورن سائٹس سے مووییز دیکھ چکی تھی پھر بھی ججھک تھی بس ایک پہل کی ضرورت تھی۔ حیدر نے ہی اس کا ہاتھ پکڑا اور بولا ادھر آؤ سارہ اب بتاو میں کیا کروں اگر تم نے فیصلہ کر ہی لیا ہے تو ساتھ دو میرا۔ سارہ نے اثبات میں سر ہلایا اس کا رنگ جزبات کی وجہ سے اور گلابی ہو گیا چکا تھا ۔ حیدر نے اس کو اپنی طرف کھینچا تو وہ کھنچی چلی آئی۔ حیدر نے اس کا ہاتھ اپنے لن پر رکھوایا اور بولا دباو اس کولیکن سارہ ڈر رہی تھی جھجک رہی تھی آنے کو وہ آ گئی تھی لیکن یہ اس کے لیے مشکل تھا ۔ اس نے ہاتھ کو ویسے ہی اس کے گرم لن پر رکھا اور لیکن حیدر نے جب دیکھا کہ وہ صرف جھجک رہی تو اس نے کھڑے کو کر سارہ کو اپنی باہنوں میں بھر لیا اس کے ساتھ ہی اس کے منہ سے ہلکی سی سسکاری نکلی سارہ کا جسم اس کے سینے کا ابھار اتنا نرم تھا جس طرح کسی نومور بچے کی جلد ہوتی ہے۔ اوپر سے قیامت کہ اس کے مموں پر اکڑے ہوئے نپل جو اس کو اپنے سینے میں دبتے محسوس ہوئے ۔ شاید سارہ نے نیچے برا نہیں پہنی ہوئی تھی اس نے ایک ہاتھ اس کی کمر پر رکھا سارہ اس دوران کانپ رہی تھی لیکن منع نہیں کر رہی تھی دوسرہ ہاتھ اس نے اسکی گردن پر رکھ کر اس کے مہ خانے کے جام جیسے تھرتھراتے ہونٹوں پر اپنے پیاس سے تڑپتے ہونٹ رکھ دیے اور ایک لمحہ ضائع کیے بنا اپنے ہونٹوں سے چوسنے لگ گیا ساتھ ساتھ اپنے دوسرے ہاتھ سے اس کی کمر کو سہلانے لگا۔ کمر سہلاتے اور ہونٹ چوستے ہوئے اس کا ہاتھ رینگتا ہوا اس کے کولہوں پر آ گیا اس کے کولہے جو گوشت کا پہاڑ تھے اس کے ہاتھ کا لمس پا کر اکڑ گئیے حیدر بھی تیا ر تھا اس نے اپنے ہاتھ کو اس طرح پھیرا کہ اس کی بڑی بڑی پھاڑیوں کے درمیان اس کی انگلیاں پھرنے لگیں اور اس کا لن اس کی پھدی سے شلوار کے اوپر سے ہی چھیڑ خانی کرنے لگا ۔ ہونٹ چوسنے کے دوران اس نے اپنی زبان سے اس کے منہ پر دستک دی تو سارہ نے بھی اپنے منہ کا دروازہ کھو ل دیا ساتھ ہی اپنی ٹانگوں کو بھینچ کر اس کے لن کو خوش آمدید کہا اپنا گداز سینہ اس کے سینے میں دبا لیا پھر تو حیدر کو بھی شہہ مل گئی کہ شاباش رستہ صاف ہے اب شہسوار کی مہارت کی ضرورت ہے ۔ حیدر نے اس کی گردن سے ہاتھ ہٹایا اور اس کو لے کر دیوار کے ساتھ جا لگایا سارہ کی پیٹھ دیوار سے لگا کر حیدر نے ایک ہاتھ اس کے مموں پر رکھا اور دوسرا ہاتھ اس کی چوت پر رکھ دیا اس کے ہاتھ کے رکھتے ہی سارہ نے ہووں۔ کی آواز کے ساتھ اس کے ہاتھ کو دبا لیا ۔اور اپنی زبان سے حیدر کی زبان کو قابو کرنے لگی زبانوں کی لڑائی شروع ہو گئی۔ حیدر کو موقع مل گیا اس نے دوسرا ہاتھ اس کے ممے پر رکھ کر مما دبانا شروع کر دیا سارہ پر ےو اس کےے ہاتھ نے جیسے جادو کر دیا وہ دیوانہ وار اس کے ہونٹوں پر کاٹنے لگ گئی۔ اور اپنی پھدی کو زور ذور سے اس کے ہاتھ پر رگڑنے لگی حیدر نے موقع غنیمت جانا اور اس کی شلوار نیچے کر دی اور اپنی انگلی سے اس کی پھدی کا جائزہ لیا جو آب شہوت سے بھیگ چکی تھی اور اپنے لبوں سے باہر پانی نکال کر اس نے انگلی کا استقبال کیا حیدر کو لوہا گرم لگا اس نے سارہ کو ٹیبل پر لٹایا اور اپنا لن اس کی چوت کے لبوں پر ٹکا دیا اپنا جسم اس کے اوپر لے آیا۔ سارہ نے اپنے ہاتھوں کے پیالے میں اس کا چہرہ تھاما اور ہونٹ چومنے لگ گئی۔ حیدر نے بھی اس کا ساتھ دینا شروع کر دیا اور نیچے سے لن کو اس کی رس برساتی چوت پر رگڑنے لگ گیا لن نے شاید اس کی چوت کے دانےکو چھونا شروع کر دیا تھا وہ مچلنے لگی اس کی کسنگ میں تیزی آ گئی اس نے پھدی کو لن پر مارنا شروع کر دیا ۔ حیدر سمجھ گیا کہ لوہا فل گرم ہے اس نے لن کی ٹوپی کو چوت کے لب میں گھسایا اور زور لگایا اور لن اندر اتر گیا سارہ نے اس کی کمر کو کس لیا۔ حیدر نے ایک بار آہستہ سے لن باہر نکالا اور پھر زوردار جھٹکا دیا لن چوت میں آدھا اتر گیاجبکہ سارہ تڑپی اس کی چیخ حیدر کے منہ میں دب گئ حیدر نے لن نکال کر پھر گھسایا اس طرح دو تین بار کرنے کے بعد لن رواں ہو گیا تو اس نے سپیڈ بڑھا دی کوئی پانچ منٹ بعد سارہ کی ٹون بدل گئی اس کی سسکاریاں نکلنے لگ گئیں۔ اور ہونٹ چھڑ کر پورا ساتھ دینے لگی۔ آہاہہہہہہہ آسسسسسہہییییسسسکی آوازین ایک تسلسل سے انے لگ گئی ۔ وہ بولتی بھی جاتی یسس سرر فک می یسس اررر یو ہیو آ ا ویری نائس ڈک یسسس سٹرانگ یسسس فک می لائک دس سسسسرررحیدر اس کی سسکاریوں کی تاب ۔ نہ لا سکا اور اس کے ساتھ ہی اس کی پھدی میں فارغ ہو گیا۔ اور سارہ بھی اس کی منی کی گرم فوار سے ہار گیئ اور اپنے آر گنزم چھوڑ دییے۔ کچھ دیر ایسے ہی لیٹے رہے ۔ جب پرسکون ہو گئے توحیدر اس کے اوپر سے اٹھا اور اپنا لن نکال کر سارہ کو کھڑا کیا سارہ بڑے سکون سے کھڑی کوئی اور اپنی شلوار درست کی اور چلتی بنی۔ جبکہ حیدر اس کی چدائی کے بعد شیر ہوگیا تھا اس نے اپنے پلان بنانے شروع کر دئیے کس طرح اب سارہ کے بعد اس کی دوست اور ہونے والی بھابھی شاہینہ کی پھدی مارنی ہے اور خوشی کےبعد اس کی فرینڈ تسمیہ کی۔ اسی طرح اس نے اپنی اگلی پلاننگ کرتے ہوئے وقت دیکھا تو کلاس کا وقت ہو گیا اور وہ پڑھانے لگ گیا وہ رات اس نے گھر جا کر گزاری دوسرے دن جب وہ پہنچا تو دیکھ کر حیران رہ گیا کہ سارہ گیٹ کے باہر کھڑی اس کا ویٹ کر رہی تھی ۔ حیدر نے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گیا سارہ نے پیچھے داخل ہوتے ہوئے گیٹ بند کیا اور حیدر کے پیچھے چلتی آفس میں پہنچ گئی اور جاتے ہی حیدر کو جپھی ڈال لی ۔۔۔۔
  9. بہت اچھے اور آپ کی محبت کا شکریہ بھائی میں اس عمر سے گزر چکا ہوں جو کسی فیلڈ کے لیے آخری حد ہوتی ہے۔ اب صرف وہی کر سکتا ہوں جس میں تجربہ ہے میں پچھلے 15 سال سے تعلیم کے شعبہ سے وابستہ ہوں نجی سکولز میں پڑھا رہا ہوں تو کوئی اور کام نہیں کر سکتا مجھے ایسا لگتا ہے۔
  10. پیارےبھائی یہ کہانی 70 فیصد حقیقت پر مبنی ہے نام اور کردار مختلف ہیں اس لیے کافی کچھ بدلنے کے باوجود بھی ایسا ہو رہا ہے جو کردار آپ کو لگ رہے کہ ختم ہو گئے ہیں وہ ہو سکتا ہے وہ ہی آگے چل کر کہانی کی جان بن جائیں ۔
  11. شکریہ ویسے آج ایک جگہ سے اچھا ریسپانس ملا ہے میں پرائیویٹ ٹیچنگ کرتا ہوں بھائی آپ کا تعلق کہاں سے ہے۔ سی وی سینڈ کر دوں گا۔
×
×
  • Create New...