Jump to content
URDU FUN CLUB

T.kSheikh

Active Members
  • Content Count

    1
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    1

T.kSheikh last won the day on February 18

T.kSheikh had the most liked content!

Community Reputation

6

Profile Information

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. ہر انسان کی زندگی ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جو ان چاہے اور انجانے میں اس سے سرزد ہوتے ہیں ۔ کچھ ایسا ہی میرے ساتھ ہوا جو میں آپ لوگوں سے شئیر کرنا چاہتا ہوں۔ پہلے تو اپنے تعارف کرا دوں۔میں نرسنگ کا سٹوڈنٹ ہوں اور ملتان شہر میں رہائش پذیر ہوں۔اب اپنی کہانی کا آغاز کرتے ہیں۔ سیکس کی دنیا سے میں اس وقت روشناس ہوا جب ابھی میں تقریباً گیارہ سال کا تھا۔ میں دینی تعلیم کے حصول کیلیے مدرسے جای کرتا تھا جب سکول سے واپس آتا تھا۔ مدرسی میں بہت ہی اچھے دوست بن گئے تھے ور زندگی آرام و سکون سے گزر رہی تھی۔ میرا ایک ساتھی طالب جس کا نام وحید تھا قد کا سانولا چٹا اور بہت ہی خوبصورت لڑکا تھا۔اس کی حرکتیں دیکھ کر محسوس ہوتا تھا جیسے وہ کوئی لڑکی ہو۔ کریمیں اور بلیچ بھی لگاتا تھا۔ اس نے تعلیم مکمل کر لی ا تھی اور اب اس کا آخری سال چل رہا تھا۔ مساجد میں پڑھے لوگ جانتے ہیں کہ جمعرات کے دن معمول سے ہٹ کر جلد چھٹی دے دی جاتی اور سب اپنے گھروں کو روانہ ہو جاتے تھے۔چند لڑکے صفائی کیلیے رکا کرتے تھے اور ان میں وہ لڑکا بھی شامل ہوتا تھا۔ خیر میں بھی گھر چلا جاتا اور یہ سب ایک سال سے جاری تھا۔ ایک دن چھٹی کے وقت کچھ لڑکے آپس میں بیٹھ کر گفتگو کر رہے تھے اور میں کھیل رہا تھا۔اچنک میرے کانوں میں آوز پڑی کہ استاد اور وحید کا کوئی چکر ہے تبھی تو استاد اسے روک لیتا ہے اور سب کو چھٹی دے دیتا ہے۔ یہ سنتے ہی میرے کن کھڑغہو گئے اور میں ان کی باتیں سننے کی کوشش میں لگ گیا۔ مجھے شک ہو گیا تھا کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے مگر وہاں تو سری دال ہی کالی تھی۔خیر جتنا میں نے سنا اس نے میرا تجسس بھرا دیا اور میں ان لڑکوں میں سے یک سے دوستی بڑھانے شروع کر دی جس کا نام نادر تھا۔ دن گزرتے گئے اور ہماری دوستی بڑھتی گئی۔ ب وہ مجھ سے ہر بات شئیر کرتا تھا۔مجھے اپنا پلان کمیں ہوتا نظر آ رہا تھا۔ یک دن باتوں ہی باتوں میں میں اس سے پوچھا کہ اک بات بتاؤں تمہیں اس نے بولا کہو۔ میں نے کہا لگتا ہے وحید کسی سے گانڈ مرتا ہے کیوں کہ دن بدن اس کی گانڈ موٹی ہوتی جا رہی ہے۔ اس نے کہا پاگل آہستہ بولو کوئی سن لے گا۔ میں نے کہا بتاؤ تو سہی کیا بات ہے۔ تب اس نے بولنا شروع کیا ۔ آگے کی کہانی اس کی زبانی سناتا ہوں۔ یہ تمہارے آنے سے پہلے کی بات ہے کہ اس وقت وحید نیا نیا آیا تھا۔ شروع میں استاد اس پر بہت توجہ دیتے تھے اور اس کی غلطیوں کو معاف کر دیتے تھے۔ اس سے اس کو شہ ملنا شروع ہو گئی اور وہ سب سے لڑتا جھگڑتا رہتا تھا۔ ایک دن کی بات ہے گرمیوں جب سب سو رہے تھے تو اس نے ایک لڑکے سے لڑائی شروع کر دی اور اسے بہت مارا۔ اس لڑکے نے استاد کے کمرے میں جا کر شکایت لگائی تو استاد نے اسے کمرے بلا لیا۔ انہوں نے دونوں کی بات سنی اور وحید کو کن پکڑ دیے۔تھوڑی دیر بعد استاد نے دوسرے لڑکے کو جانے دیا اور وحید کو کھڑا کر دیا۔ تم کیوں کر وقت لڑتے رہتے ہو استاد نے پوچھا۔ سر میں تو بس مزاق کر رہا تھا اور اس نے آپ کو بتا دیا وحید نے جواب دیا۔ تمہاری شرارتیں بڑھتی جا رہی ہیں اور اب تمہارا علاج کرنا لازمی ہے ۔ یہ کہ کر انہوں نے ڈنڈا اٹھایا اور اسے مارنے لگے ۔ وہ روتے ہوئے استانی آج معاف کر دیں آئندہ نہیں کروں گا۔استاد نہیں آج تمہارا دماغ درست کر کے چھوڑوں گا۔ استانی آپ کو کہو گے میں کروں گا آج معاف کر دو۔ ٹھیک ہے اب جیسا میں کہوں ویسا کرنا ہے تمہیں۔ ٹھیک ہے استاجی۔ میں نیند کر چکا تھا اور کچھ دیر میں دو بارہ کلاس لگنی تھی تو میں تھا اور منہ ہاتھ دھونے کیلیے نلکے کی طرف گیا جو کہ استاد کے کمرے کے پیچھے بنا ہوا تھا۔میں واپس آ رہا تھا کہ میں نے اک آواز سنی جو کہ چیخ سے مشابہہ تھی۔۔۔غور کیا تو استاد کے کمرے سے سنائی دی۔ بد قسمتی یا خوش قسمتی سے کھڑکی بند نہیں تھی اور میں اندر دیکھ سکتا تھا۔جیسے ہی میں نے اندر جھانکا میرا سانس اوپر کا نیچے رہ گیا اور میرے منھ سے نکلا اس تواڈی بہن نون۔۔۔۔
×
×
  • Create New...