Jump to content
URDU FUN CLUB

Story Maker

Basic Cloud
  • Content Count

    1,393
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    83

Story Maker last won the day on March 17

Story Maker had the most liked content!

Community Reputation

1,219

Profile Information

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

35,267 profile views
  1. is story k section ko click karien aur password enter karien password 1234567890 ok?
  2. محترم سب سے پہلے آپ یہاں اپنی آئی ڈی بنائیں مکمل رجسٹریشن کرنے کے بعد آپ کہانیاں پڑھ سکیں گے اور بآسانی کمنٹس کر سکیں گے۔
  3. welcome to urdufunclub dear
  4. یہ رات کے دو بجے کا وقت تھا ۔۔۔ پورے گاوں میں ہر طرف اندھیرا پھیل چکا تھا ۔۔۔ اور اس اندھیرے میں تین دوست گاوں کے کھیتوں میں اپنی محفل لگائے بیٹھے تھے ۔۔۔۔ وہ تینوں لڑکے روشن ، حمزہ ،اور عمران کافی پرانے دوست تھے ۔۔۔ ان تینوں سے محبت تو کوئی نہیں کرتا تھا لیکن نفرت پورا گاوں کرتا تھا۔۔۔ اور اس نفرت کے پیچھے بھی قصور ان تینوں لڑکوں کا تھا ۔۔۔۔ وہ تینوں لوفر آورارہ قسم کے لڑکے تھے ۔۔جو شراب ، سگریٹ اور ہر قسمی نشے کا شکار تھے ۔۔ اب ان سے محبت تو کوئی کر ہی نہیں سکتا تھا یہاں تک کہ ان کے اپنے گھر والے بھی ان سے تنگ تھے ۔۔ اور وہ تینوں بھی کسی کی ۔محبت کے انتظار میں نہیں تھے انہوں نے بھی گاوں سے دور کھیتوں میں اپنی ایک علیحدہ دنیا بنائی ہوئی تھی تا کہ گاوں والے انہیں تنگ نہ کریں اور وہ گاوں والوں کو تنگ نہ کر سکیں۔ ۔۔ رات کو وہ لڑکے گاوں کے کھیتوں میں بیٹھ کر ساری رات نشہ کرتے ۔۔۔ لیکن ایک بار ان کی زندگی میں ایک ایسی عجیب و غریب رات آئی کہ ان کی زندگی ہی بدل گئی ۔۔۔۔۔۔ یہ اس رات کی بات ہے جب وہ تینوں دوست کھیتوں میں بیٹھ کر نشہ کر رہے تھے ۔اور نشے میں گم تھے انہیں کسی کا ہوش نہیں تھا ۔۔ پھر اچانک کھیتوں میں کسی لڑکی کے پازیب کی آواز سنائی دی ۔۔۔ حمزہ نے پازیب کی آواز سن لی اور اپنے دوستوں سے بولا ۔۔۔۔ یار میں نے ابھی ابھی کسی لڑکی کی پازیب کی آواز سنی ہے ۔۔۔ ' روشن نے گھور کر حمزہ کو دیکھا اور لاپرواہی سے کہا ۔۔۔ تیرے کان بج رہے ہیں اتنی رات کو یہاں کون لڑکی ہو سکتی ہے کھیتوں میں ۔۔ ضرور تونے آج نشہ زیادہ کیا ہے ۔ ' حمزہ کی بات پہ روشن اور عمران کسی نے یقین نہیں کیا اور حمزہ بھی دوبارہ سگریٹ پینے میں مصروف ہو گیا یہ سوچ کر شاید واقعی آج اس نے نشہ زیادہ کر لیا ہو اس لئے اسے ایسی آواز سنائی دی ۔۔۔۔۔ وہ سب اس آواز کو نظر انداز کر ایک بار پھر سگریٹ پینے لگے ۔۔۔۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی لیکن ان سب کے جسم جیسے لوہے کے بنے ہوں انہیں کچھ محسوس ہی نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد لڑکی کی پازیب کی آواز پھر سے سنائی دی ۔۔۔ اب کی بار وہ آواز تینوں دوست نے سن لی اور سب کے کان کھڑے ہو گئے ۔سب حیران ہو کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ۔۔۔ ۔۔حمزہ فورا بولا ۔۔ دیکھا ۔۔۔ میں نے کہا تھا ناں یہاں کسی لڑکی کی پازیب بج رہی ہے لیکن میری بات کوئی سنتا ہی نہیں ۔۔۔۔۔ ' عمران نے حیرانگی سے کہا ابے یار یہاں سچ میں کسی پازیب کی آواز آ رہی ہے ۔۔۔ لگتا ہے کوئی لڑکی ہے یہاں پہ ۔۔۔۔۔ ' وہ تینوں دوست نشہ چھوڑ کر کھڑے ہوئے ۔۔۔۔ لیکن اتنی رات کو یہاں لڑکی کون ہو سکتی ہے ۔۔ کسی لڑکی کا رات کے دو بجے ان کھیتوں میں کیا کام ۔۔۔۔۔ ' روشن شیطانی مسکراہٹ سے بولا ۔۔۔۔ یہ تو اس لڑکی کو دیکھ کر ہی پتا چلے گا ۔۔۔ کہ وہ یہاں کیا کر رہی ہے ۔۔۔۔ ' وہ تینوں چلتے جا رہے تھے اور ادھر ادھر اس لڑکی کو ڈھونڈنے لگے ۔۔وہ اپنے نشے کا سامان وہیں چھوڑ کر اب صرف پازیب کی آواز والی کو ڈھونڈ رہے تھے۔۔ رات کا وقت تھا ہر طرف گھپ اندھیرا پھیل چکا تھا ۔۔۔ اور وہ تینوں لڑکے اس پازیب کی آواز کو سنتے ہوئے اس لڑکی کو تلاش کر رہے تھے ۔۔۔۔ پھر اچانک ان تینوں کو ایک درخت کے پیچھے بہت ہی خوبصورت لڑکی نظر آئی ۔۔۔۔ وہ سب حیران ہو کر اس لڑکی کو دیکھنے لگے ۔۔۔ اتنی خوبصورت لڑکی وہ اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھ رہے تھے ۔۔۔ جانے وہ کون تھی اور اتنی رات کو کھیتوں میں کیا کر رہی تھی ۔۔۔ انہوں نے پہلے تو کبھی کھیتوں میں کوئی لڑکی نہیں دیکھی تھی ۔۔۔۔۔ عمران نے اس لڑکی کو دیکھ کر حیرانی سے کہا ۔۔۔ او تیری یہ لڑکی کون ہے اور یہاں کیا کر رہی ہے ۔۔۔ ' حمزہ نے شاطرانہ انداز میں کہا ۔۔۔۔ ابے جو بھی ہے ہمیں اس سے کیا ۔۔۔ چلو اس کے پاس چلتے ہیں اور اس سے بات کرتے ہیں ۔۔۔بہت ہی دھماکہ لڑکی ہے ۔۔۔ ایسی لڑکی تو پوری دنیا میں نہیں ہوگی ۔۔۔۔ ' حمزہ کی بات پہ وہ تینوں اس لڑکی کے پاس جانے لگے ۔۔۔ وہ لڑکی بھی ان تینوں کو دیکھ چکی تھی اور کافی حیران بھی تھی ۔۔۔۔وہ تینوں اس لڑکی کے پاس پہنچ کر بولے ۔۔۔۔۔ کون ہیں آپ اور اتنی رات کو یہاں کھیتوں میں کیا کر رہی ہیں ۔۔۔۔ ' وہ لڑکی اول تو ان تینوں کو وہاں دیکھ کر ہی کافی ڈر رہی تھی اور اب ان کے سوال سے مزید گھبرا گئی ۔۔۔۔ اور گھبراتے ہوئے بولی ۔۔۔۔ میں ۔۔۔ میں چلتی ہوں یہاں سے ۔۔۔ رات بہت ہو گئی ہے ۔۔۔ ' وہ لڑکی ان تینوں کو دیکھ کر وہاں سے جانے لگی جب عمران نے روشن کو کہنی مار کر کہا ۔۔۔ ابے یار اتنی اچھی لڑکی ملی ہے کیا اسے یونہی جانے دو گے ۔۔۔۔ اسے پکڑو آج کی رات ہم تینوں کا دل بہلائے گی ۔۔۔۔ ' حمزہ اور روشن عمران کی بات پر تیزی سے بھاگے اور اس لڑکی کے سامنے جا کر کھڑے ہو گئے ۔۔۔۔۔وہ لڑکی اس طرح اپنا راستہ روکے جانے پر حیران ہوئی ۔۔۔۔۔اور غصے سے بولی ۔۔۔۔ راستہ کیوں روکا ہے تم لوگوں نے میرا چلو ہٹو سامنے سے جانے دو مجھے ۔۔۔۔۔ ' عمران غور سے اس لڑکی کے جسم کا جائزہ لینے لگا پھر آوارگی سے بولا۔۔۔۔۔ ہٹ جائیں گے تمہارے راستے سے بھی اتنی جلدی کیا ہے ۔۔۔ زرا ہمارے ساتھ چلو ہمیں خوش کر دو پھر جانے دیں گے تمہیں ' اس لڑکی نے نظریں اٹھا کر گھورتے ہوئے ان تینوں لڑکوں کو دیکھا اور غصے سے بولی ۔۔۔۔ تم لوگ نہیں جانتے میں کون ہوں ۔۔۔ اگر تم تینوں کو پتا چل جائے میں کون ہوں تو یہاں کھڑے رہنے کی ہمت نہیں کر پاتے ۔۔۔۔ ' اس لڑکی کی بات پر وہ تینوں ہنسنے لگے۔۔۔پھر روشن بولا،چلو اب نخرے نہ کرو اور ہمارے ساتھ چلو آج کی رات ہمارے ساتھ گزارو پھر جہاں جانا ہے چلی جانا۔اب یہ نہ کہنا کہ تم شریف لڑکی ہوکیونکہ کوئی بھی شریف لڑکی اتنی رات کو کھیتوں میں نہیں گھومتی۔۔۔ روشن کی بات سن کر اس لڑکی نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا اور چیخ کر بولی، مرو گے تم سب"جانتے نہیں میرے بارے میں کہ میں کون ہوں میں لڑکی نہیں ہوں میں ایک جن زادی ہوں اس لڑکی کی بات پر تینوں دوست پھر زور زور سے ہنسنے لگے اور اس لڑکی کا مذاق اڑاتے ہوئے عمران بولا۔ اچھا تو تم جن زادی ہو،اچھا طریقہ ہے خود کو بچانے کا لیکن یاد رکھو آج ہم کسی قیمت پر تجھے چھوڑنے والے نہیں ہیں۔۔۔ وہ لڑکی عمران کی بات سن کر مزید غصے میں آ گئی اور اس نے ایک زوردار تھپڑ عمران کے منہ پر مارتے ہوئے کہا،،میں نے کہا نا میں انسان نہیں ہوں،سمجھ نہیں آرہی تم لوگوں کو،جانے دو مجھے دیر ہو رہی ہے، ہٹو میرے سامنے سے۔۔ عمران ایک تھپڑ کھا کر آگ بگولا ہو گیا اور اس نے لڑکی کو ایک دھکا دیا جس سے وہ کھیتوں میں جا گری۔ روشن اور حمزہ نے اس لڑکی کوبازؤں سے پکڑ لیا اور عمران اپنے کپڑے اتارنے لگا۔۔۔وہ لڑکی زور زور سے چیخ رہی تھی لیکن روشن اور حمزہ اسے قابو کیے ہوئے تھے عمران اگے بڑھتا جا رہا تھا شیطانی مسکراہٹ اسکے چہرے پر تھی. جبکہ اس لڑکی کی آنکھوں میں خوف و ہراس پھیل گیا. روشن اور زمان نے مضبوطی سے اس لڑکی کو اپنے قابو میں کیا ہوا تھا اور زمان نے لڑکی کہ منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کا منہ بند کیا تھا کیونکہ لڑکی زور زور سے چلا رہی تھی ہیلپ ہیلپ ہیلپ عمران ڈر بھی رہا تھا کہ کہیں کوئی آ نہ جائے کیونکہ پہلے بھی وہ چند ایسے واقعات میں پکڑا گیا تھا لڑکی اب بھی چیخ رہی تھی وہ کوشش کر رہی تھی کہ کسی نہ کسی طرح ان کے چنگل سے نکل جائے لیکن روشن اور زمان کی گرفت بہت مضبوط تھی اور روشن کا ایک ہاتھ اس کے بالوں پر تھا جس سے وہ آ ہستہ آہستہ مدھم پڑتی جا رہی تھی عمران اب بالکل اس لڑکی کے پاس آ چکا تھا اور اس کے اگلے دونوں ہاتھ لڑکی کے گالوں پر پڑنے والے تھے کہ لڑکی نے لیٹے لیٹے ایک زور کی لات عمران کو ماری جو اس کے اوپر آ رہا تھا، لات عمران کو بہت زور سے لگی اور وہ لڑکی پر آ گیا، درد کی شدت سے عمران لوٹ پوٹ ہونے لگا، ادھر روشن اور زمان اپنے ساتھی کی طرف لپکے اور لڑکی کو چھوڑ دیا جس سے لڑکی کو موقع مل گیا اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن اس میں طاقت نہ ہونے کے برابر تھی،اس کی آنکھوں کہ سامنے اندھیرا چھایا ہوا تھا،،، زمان اور روشن عمران کو سنبھال رہے تھے لیکن اس کی حالت بہت خراب تھی، روشن نے عمران کو سہارا دیا، زمان بولا، یار اس کو گھر لے چلتے ہیں اس کی حالت بہت خراب ہے، لیکن عمران جس کی آنکھوں میں ابھی بھی ہوس کی آگ تھی اور تکلیف میں ہونے کے باوجود بھی وہ بولا، نہیں اب میں اس کو بالکل نہیں چھوڑوں گا،اب میں اس کا وہ حال کروں گا کہ اسے اپنے آپ سے بھی نفرت ہو جائیگی، عمران کی اس بات پر زمان اور روشن کی آنکھوں میں بھی شیطانی چمک جاگ اٹھی اور وہ لڑکی کی طرف بڑھنے لگے جدھر انہوں نے لڑکی کو پھینکا تھا،،، لیکن اچانک روشن چیخ کر بولا،،، وہ دیکھو،وہاں تو لڑکی نہیں ہے زمان بولا،کدھر چلی گئی،ڈھونڈو اسے زمان کی بات سن کر روشن ادھر ادھر کھیتوں میں لڑکی کو تلاش کرنے لگا لیکن لڑکی کہیں نظر نہیں آئی جب تھک ہار کر دونوں عمران کے پاس آئے تو ان کو ایک زور دار جھٹکا لگا، عمران کی ادھ کٹی لاش کھیتوں میں پڑی ہوئی تھی سارے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور کٹی ہوئی گردن سے خون بہہ رہا تھا جب ان دونوں نے اپنے ساتھی کی کٹی ہوئی لاش دیکھی تو ان کا دل دہل گیا ان دونوں نے ایک بھیانک چیخ ماری اور گاؤں کی طرف دوڑ لگا دی، صبح ہونے والی تھی،دونوں بہت ڈر چکے تھے،ان کی ہمت جواب دے چکی تھی، اب ان کو یقین ہو رہا تھا کہ جس کے ساتھ ہم نے زیادتی کرنے کی کوشش کی وہ لڑکی نہیں تھی۔بلکہ ایک جن زادی تھی،اب ان دونوں کو اپنی موت یقینی نظر آ رہی تھی،دونوں کی آنکھوں سے نیند اڑ چکی تھی۔ ساری رات انہوں نے جاگ کر گزاری۔بار بار دوست کی موت کا منظر ان کی آنکھوں کے سامنے آ رہا تھا۔ جیسے تیسے رات گزر گئی، ادھر صبح جب گاؤں والوں نے عمران کی لاش دیکھی تو گاؤں میں کہرام مچ گیا، سارے لوگ بھاگے بھاگے کھیتوں کی طرف بھاگے اور عمران کی لاش کو عمران کے گھر لایا گیا،پولیس آئی لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا اور نہ ہی قاتل کا پتہ چلا، عمران کو قبرستان میں دفن کر دیا گیا، بات آئی گئی ہو گئی،لیکن زمان اور روشن کو پتہ تھا کہ ان کی خیر نہیں ہو گی،شام کو زمان نے روشن کو بلایا،زمان کی حالت بہت خراب تھی، ادھر روشن بھی بیمار ہو چکا تھا کیونکہ دونوں نے ساری رات نیند نہیں کی تھی ڈر اور خوف کی وجہ سے۔۔۔ زمان بولا،کیوں نہ ہم ساری سٹوری گھر والوں کو بتا دیں، روشن بولا،پاگل ہو گئے ہو،مروانا چاہتے ہو،؟ تمہیں پتہ ہے کیس پولیس کے پاس پہنچ چکا ہے،شکر ہے کہ ہم بھاگ نکلے عمران کی لاش کو چھوڑ کر، سوچو اگر ہم عمران کی لاش کو گاؤں لے جاتے تو سب کا شک ہم پر آ جاتا اور ہم بے گناہ پھنس جاتے، زمان بولا،ہاں یار یہ بات تو ہے،میں تو پہلے ہی کہ رہا تھا کہ چلو چلیں لیکن عمران نہیں مان رہا تھا، اب دیکھا؟وہ اپنی غلطی میں خود مارا گیا،کیوں نہ ہم ایک کام کریں؟ روشن بولا,کونسا تو زمان بولاکیوں نہ ہم تھانیدار کو ساری سٹوری بتا دیں جو ہمارے ساتھ کل رات پیش آیا، لیکن روشن بولا,کیا تھانیدار ہماری بات مانے گا؟؟؟ تو زمان بولا،کیوں نہیں مانے گا۔بات کرنے میں کیا حرج ہے،بات کر کے دیکھ ہی لیتے ہیں صبح۔ روشن بولا ٹھیک ہے۔ دونوں اپنی راہ ہو لیے یہ اقرار کر کے کہ صبح تھانیدار کو ساری حقیقت بتا دیں گے لیکن ان کو کیا پتہ تھا کہ صبح ایک بھیانک خطرہ ان دونوں کی زندگی کو جہنم بنانے والا ہے۔۔۔ دونوں اپنے گھروں کو چل دیے، شام ہونے کو تھی، زمان گھر میں داخل ہوا تو گھر میں کہرام برپا تھا، زمان کے بھائی کا تین سالہ بیٹا گھر سے غائب تھا سب اسے ڈھونڈنے میں لگے تھے لیکن نہیں مل رہا تھا، آ گئے لوفر کہیں کے، زمان کا بڑا بھائی بولا، اب بچے کو ڈھونڈو میرا منہ کیا دیکھ رہے یو، زمان بچے کو ڈھونڈنے لگ گیا، وہ عشاء تک بچے کو ڈھونڈتے رہے لیکن بے سود، زمان کو اب شک ہونے لگا تھا کہ کچھ گڑ بڑ ہے کیونکہ اتنا چھوٹا بچہ کدھر جا سکتا ہے جو چل بھی نہیں سکتا۔۔۔ اچانک باہر شور شرابہ شروع ہو گیا۔ سب باہر کی طرف بھاگے،باہر نکلے بہت سارے لوگ جمع تھے،،، ایک بندے نے ہاتھ میں چھوٹا بچہ اٹھا رکھا تھا، ارے یہ کیا،یہ کیسے،کدھر ملا او میری جان زمان کا بھائی چیخنے لگا،، سب کے رونگٹے لگ گئے اور گھر کے سارے فرد غم سے نڈھال ہو گئے، ایک بندہ بولا، جی یہ بچے کی لاش ایک گٹر میں تھی،بہت رو رہا تھا لیکن لگتا تھا کسی نے نیچے پاؤوں سے پکڑا ہوا تھا، ہم بھاگے لیکن کسی نے گٹر کے اندر کھینچ لیا اور تھوڑی دیر بعد لاش پھر اوپر آ گئ۔۔۔ سب پر ہو کا عالم تھا سب کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔ بچے کی لاش کو گھر لایا گیا تو اندر بھی قیامت کا منظر تھا، بچے کی ماں یہ دیکھ نہ سکی،ایک چیخ ماری اور وہاں گر گئی، اس کو بے ہوشی کی حالت میں اٹھا یا گیا اور بچے کو بھی گھر لایا گیا،اس کو نہلایا گیا بچے کی ماں کو ہسپتال لایا گیا،لیکن وہاں ایک قیامت کا منظر تھا،،، بچے کی ماں دم چوڑ چکی تھی، ماحول بدل چکا تھا۔جن زادی کی وجہ سے تین لاشیں گر چکی تھیں،تین دوستوں کی غلطی نے ایک ہنستے بنستے گھر میں صف ماتم بچھا دی تھی۔ غلطی جن زادی کی نہیں تھی۔غلطی ہوس کے مارے تین دوستوں کی تھی جن میں ایک عمران اپنے انجام کو پہنچ چکا تھا،دوسرے زمان کے گھر میں آدھی رات کو قیامت کا منظر تھا اور تیسرا روشن گھر میں آرام سے سو رہا تھا، بچے کی ماں کی لاش کو گھر لایا گیا، صبح اس کو بچے کے ساتھ دفن کیا جانا تھا زمان کی بہت بری حالت تھی۔وہ بار بار روئے جا رہا تھا،وہ خود پر لعنت کر رہا تھا،اسے لگ رہا تھا چھوٹے بچے کی اور اس کی ماں کی موت اس کی وجہ سے ہوئی ہو، وہ اپنے بھائی کو کیا منہ دکھائے گا۔۔۔ وہ بہت دیر سے رو رہا تھا،اور یوں روتے اسے نیند آ گئی لیکن رات کے کسی پہر اس کی آنکھ کھل گئی۔ اسکو یوں لگا جیسے جن زادی اس کے خواب میں آئی ہو اور بول رہی ہو کہ ایسے کیسے سو گئے، ابھی تو میں نے تجھے تیری ماں کا غم دکھانا ہے، ابھی تو تجھے اپنے والد کا جنازہ اٹھانا ہے، اسکے بعد تجھے تڑپاؤں گی،ابھی تو تیرا دوست بھی باقی ہے جس کو تیری بھیانک موت کی خبر سننی ہے،تم دونوں اتنی جلدی عمران کی موت بھول گئے، یہ سب وسوسے زمان کے ذہن میں آ رہے تھے اور وہ پھر رونے لگ گیا،،، اسے کیا پتہ تھا کہ ان پر قیامت تو اب آئے گی۔۔۔ صبح بچے اور اس کی ماں کو دفن کر دیا گیا،ہر ایک کی آنکھ اشکبار تھی سب رو رہے تھے۔ زمان کو بخار چڑھ چکا تھا،اس نے صبح سے کسی سے بات نہیں کی تھی اور نہ ہی کچھ کھایا پیا تھا،روشن کو صبح فوتگی کا علم ہوا،وہ زمان کے گھر آیا، تعزیت کی اور زمان کے کمرے میں پہنچ گیا،زمان کمرے میں ایک طرف بیٹھا ہوا تھا،روشن اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا،اور دھیمی آواز سے بولا،، یار بہت افسوس ہوا مجھے،یقین مانو جب سے یہ خبر سنی ہے مجھے تک ابھی تک یقین بھی نہیں آ رہا، روشن کی بات زمان نے سن لی تھی لیکن چپ بیٹھا تھا،،، روشن بولا، دیکھ زمان یار،کب تک یوں خود کو تکلیف دو گے،چل اٹھ اور کچھ کھا پی لے، لیکن زمان تھا کہ بولنے کا نام نہیں لے رہا تھا، روشن بہت دیر تک اپنے دوست کے پاس بیٹھا رہا اور اس سے باتیں کرتا رہا لیکن زمان توجیسے صدیوں سے خاموش ہو، آخرکار روشن گھر چلا آیا۔ جیسے تیسے کر کے دن گزر گیا اور رات ہو گئی اور یہ ان دونوں دوستوں کی زندگی کی بھیانک ترین رات ہونے والی تھی،،، روشن رات کو سونے کی تیاری کر رہا تھا کہ اسے ماں نے آ کر اطلاع دی، بیٹا گیٹ پر کوئی آیا ہوا ہے اور تمہیں بلا رہا ہے، اوکے اماں میں دیکھتا ہوں، روشن یہ بول کر گیٹ پر گیا،گیٹ کھولا، باہر ایک بندہ کھڑا تھا،بندہ بولا، تیرے دوست نے اپنی نسیں کاٹ لی ہیں اور اس کی حالت بہت خراب ہے، کیا،؟ روشن چیخ کر بولا، کدھر ہے وہ؟ مجھے لے چلو ادھر، وہ بندہ اسے لیکر ہو لیا،اس کا رخ سیدھا کھیتوں کی طرف تھا، روشن بولا،،یہ کدھر لیکر جا رہے ہو؟ زمان کدھر ہے،؟ وہ شخص بولا،وہ سامنے کھیتوں میں، روشن اس کے پیچھے چلنے لگا، وہ شخص بولا،وہ سامنے پڑی ہے لاش، روشن نے سامنے دیکھا تو زمان کی لاش پڑی تھی جس کا گلا کٹا ہوا تھا،ہاتھ کی نسیں کٹی پڑی تھیں اور سر سے خون بہ رہا تھا، روشن یہ دیکھ کر چیخ پڑا، نہیں،یہ تو نے کیا کر لیا خود کے ساتھ،اور رونے لگ گیا، اس نے نہیں بلکہ میں نے کیا ہے اس کے ساتھ، پیچھے سے آواز آئی، روشن نے پیچھے دیکھا تو وہی جن زادی کھڑی تھی،یہ دیکھ کر روشن کا دل دہل گیا، اچانک روشن کو سب یاد آ گیا،یہ تو وہی جگہ تھی جہاں انہوں نے جن زادی کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی تھی اور جہاں عمران کو جن زادی نے مار ڈالا تھا، جن زادی روشن سے بولی، یاد کرو یہ وہی جگہ ہے،کچھ آیا یاد؟ تم لوگوں نے میرے بال پکڑے تھے میں نے تیرے دوست کا سر توڑ دیا، تیرے دوست نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا میں نے اس کی نسیں کاٹ دیں، تیرے دوست عمران کا میں نے گلا گھونٹا تھا، بچے کو میں نے گٹر میں ڈال کر مارا تھا اور بچے کی ماں کی موت بھی میرے ہاتھوں ہوئی، اب تیری باری ہے، یہ کہ کر جن زادی روشن کی طرف بڑھی،،،، جن زادی اپنا کام کر چکی تھی،اس کا انتقام پورا ہو چکا تھا،،، صبح کو جب روشن اور زمان کی موت کی خبریں ملیں تو زمان کی ماں جو پہلے سے صدمے تھیں اپنے گھر میں تیسری لاش نہ دیکھ سکیں اور کوچ کر گئیں، اسطرح ایک گھر سے دو دنوں میں چار جنازے نکلے، زمان کا باپ پاگل ہو چکا تھا،روشن کی ماں اپنے بیٹے کے غم میں دیوانی ہو گئی،وہ رات کو گھر سے نکلی اور پھر کبھی نہ آئی،،، ادھر عمران کا گھر بھی اجڑ چکا تھا، زمان ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا اور واحد کفیل تھا جس سے ان کے گھر میں فاقے آنے لگے۔۔۔ جن زادی اپنا انتقام پورا کر چکی تھی،لیکن ایک وعدہ جو اس نے زمان سے کیا تھا کہ تو اپنی ماں اور باپ کا جنازہ خود دیکھے گا وہ پورا نہ کر سکی کیونکہ زمان بالکل دیوانہ ہو گیا تھا۔اور وہ یہ صدمہ دیکھنے سے پہلے ہی چلا گیا۔۔۔ اس طرح ایک جن زادی کی وجہ سے تین خاندان برباد ہو گئے،،، غلطی جن زادی کی نہیں تھی بلکہ ان تینوں کی تھی جن کی وجہ سے سزا ان کے گھر والوں کو ملی۔۔۔ ختم شد عائشہ تاج مرتضی
  5. لالچی باپ بیٹا اور جنات کی بستی ایک سبق آموز کہانی ماموں یونس چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے انہوں نے میٹرک تک تعلیم حاصل کررکھی تھی باقی بہن بھائی اَن پڑھ تھے گاؤں کے لوگ ماموں کو چوہدری کہتے تھے علاقے میں بھی ان کا کافی اثرور سوخ تھا۔ ناظم سے ان کی دوستی تھی نانا کی چالیس ایکڑاراضی تھی جونانا کی وفات کے بعد انہوں نے پٹواری اور تحصیلدار سے ساز باز کرکے اپنے نام کروائی جب دوسرے بہن بھائیوں کو پتہ چلا تو وہ اپنے حصے کی زمین مانگنے لگے۔ ماموں نے زمین دینے سے انکار کردیا اور کہا۔ ”والد صاحب نے مرنے سے پہلے ہی زمین میرے نام کرادی تھی۔“چاچو گاؤں کے چند بڑوں کو لے کر اس کے پاس گئے انہوں نے ماموں کو بہت سمجھایا۔ ”یہ آپ کے سگے بہن بھائی ہیں آپ کے والد کی زمین میں آپ سب کا برابر کا حصہ بنتاہے اپنے بہن بھائیوں کو ان کے حصے کی زمین دے دو یہ بھی خوش ہو جائیں گے اور اللہ بھی راضی ہو جائے گا۔ “مگر کوشش کے باوجود ماموں نے مانے اپنی ضد پر قائم رہے۔ یہاں سے مایوس ہو کر انہوں نے عدالت کو دروازہ کھٹکھٹا یا اپنے اثرورسوخ کی بنا پر وہ عدالتی جنگ بھی جیت گئے اب وہ چالیس ایکڑزرعی زمین کے تنہا مالک تھے ماموں کا ایک ہی بیٹھا تھا جو شہر میں تعلیم حاصل کررہا تھا ایک منشی رکھا تھاجو ہونے والی آمدنی کا حساب کتاب کرتا تھا۔ زمینوں سے اچھی خاصی آمدنی ہورہی تھی۔چالیس ایکڑ زمین میں دو ایکڑزمین غیر آباد تھی یہاں ایک پرانی قبر تھی لوگوں کا خیال تھا اس قبر میں اللہ کا نیک بندہ دفن ہے یا کوئی غیر مرئی مخلوق رہتی ہے جس وجہ سے چوہدری یونس کی فصل دوسرے لوگوں سے زیادہ اوسط دیتی ہے۔ زندگی صبر اور شکر کی آزمائش ہے جو اس آزمائش میں کامیاب رہتے ہیں زندگی بس ان کی ہے۔جو صبر اور شکر کی اہمیت کو نظر انداز کرتے ہیں وہ اس جہاں میں بھی اور آخرت میں بھی ناکام رہتے ہیں۔لالچ عقل کو اپنا غلام بنا دیتی ہے ماموں کو بھی زیادہ سے زیادہ کی لالچ رہتی تھی اس نے کئی بار سوچا اس غیر آباد زمین کو بھی آباد کیا جائے تاکہ اسے کاشت کے قابل بنایا جا سکے اس طرح آمدنی میں بھی اضافہ ہو گا ایک دن اس نے اپنے منشی لیاقت کو اپنے ارادے سے آگاہ کیا منشی نے کہا۔ ”ٹھیک ہے چوہدری صاحب ہم صبح کام شروع کردیں گے آٹھ دس دن میں یہ زمین ہموار ہو جائے گی دوسرے دن جب قبر والی زمین کو ہموار کرنے کا کام شروع ہونے لگا تو گاؤں کے بزرگ ماموں کے پاس آئے انہوں نے کہا۔ ”اس زمین کو ہموار نہ کریں یہاں کوئی اللہ کا نیک بندہ دفن ہے یا کوئی غیر مرئی مخلوق رہتی ہے ان کو تنگ نہ کرو اللہ نے آپ کو بہت کچھ دیا ہے۔ آپ نے اگر ان کو بے گھر کیا تو یہ آپ کے لیے نقصان دہ ہو گا۔“انہوں نے بڑوں کا کہنا مان کر کام روک دیا۔رات کو ایک نادیدہ قوت ماموں کے پاس آئی جسے دیکھ کر وہ ڈر گئے۔ ”آپ کون ہیں اورکیا چاہتے ہیں۔“ ”میں کوئی بھی ہوں آپ کو اس سے کیا غرض آپ کو یہ بتانے آیا ہوں کہ آپ کی غیر آباد اور بنجر زمین ہمارا مسکن ہے آپ نے جواسے ہموار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اسے اپنے ذہن سے نکال دیں اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ کا بہت نقصان ہو گا‘آپ کی زمینوں کی آمدنی بھی ختم ہو سکتی ہے۔ “یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکلا اور فضا میں تحلیل ہوکر ماموں کی نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔صبح ماموں نے منشی کو اپنے پاس بلوایا رات والا واقعہ سنایا اور قبر والی زمین کو ہموار کرنے سے منع کر دیا۔وقت گزرتا رہا ایک دن ماموں کو فالج کا اٹیک ہوا وہ بستر کے ہو کر رہ گئے زمینوں کی دیکھ بھال اب ان کے بس کا کام نہیں تھا لہٰذا ان کا بیٹا حارث تعلیم ادھوری چھوڑ کر واپس گاؤں آگیا اب وہ زمینوں کی نگرانی کرتا اپنے باپ کی طرح حارث نے بھی غیر آباد زمین کو ہموار کرکے اسے قابل کاشت بنانے کا ارادہ کرلیا اس سلسلے میں جب اس نے منشی سے بات کی تو اس نے کہا۔ ”پہلے بڑے چوہدری سے بات کرلیں انہوں نے یہ زمین آباد کرنے سے منع کیا ہے۔“حارث نے اپنے والد صاحب سے بات کی ماموں نے بتایا۔ ”یہاں غیر مرئی مخلوق رہتی ہے اور اپنے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بھی بیان کیا ۔“ ”یہ جن بھوت والی باتیں سب جھوٹی ہوتی ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہم نے اپنی زمین آباد کرنی ہے کسی کی زمین پر قبضہ تو نہیں کررہے جو ہمارا نقصان ہو گا اگر یہاں نادیدہ قوتیں یا جن بھوت وغیرہ رہتے ہیں تو وہ کہیں دوسری جگہ جا کر آباد ہو جائیں گے۔ “حارث کی باتیں سن کر ماموں پریشان ہو گئے ۔انہوں نے اپنے بیٹے کو بہت سمجھایا مگر وہ نہ سمجھا منشی نے بھی اس کا حوصلہ بڑھایا پھر جیسے ہی ٹریکٹروں نے کام شروع کیا مغرب کی طرف سے کالی گھٹا اٹھی دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پورے گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہم طرف گردوغبار اور اندھیرا چھانے لگا اس طوفان سے صرف مسجد محفوظ تھی پھر قبر والی جگہ پر زور دار دھماکہ ہوا کام کرنے والے ٹریکٹر قلا بازیں کھاتے خشک پتوں کی طرح دور جاکر گرے یہی حال ڈرائیوروں اور کام کرنے والے مزدوروں کا تھا۔ ”ہم آج کسی کو نہیں چھوڑیں گے ہم تمہارا نام و نشان مٹادیں گے تم نے ہمارا آرام وسکون برباد کیا ہمارے بچوں کو مارا ہم تمہاری نسل کو مار ڈالیں گے۔“یہ آوازیں اس قدر خوف ناک اور کرخت تھیں کہ ہر ذی روح کو خوف آنے لگا ہر طرف آہ وبکار اور قیامت صغریٰ برپاتھی ایک نادیدہ قوت حارث کو اٹھا کر چھت تک لے گئی اور پھر ایک دم ہی چھوڑ دیا وہ دھڑم سے فرش پر کمر کے بل گرا اس کو کافی چوٹیں آئیں بھلا ہواس موذن کا جس نے اللہ اکبر کہہ کر ظہر کی اذان شروع کی اذان کے کلمات سنتے ہی ہر طرف سکون ہو گیا۔ گاؤں کے لوگ مسجد کی طرف دوڑے۔ مسجد کا صحن زیادہ وسیع نہیں تھاکہ گاؤں کے سارے لوگ اس میں سماجاتے لوگ امام مسجد سے دعا کی اپیل کرنے لگے امام مسجد نے دعا کرائی۔ ”اے مخلوق خدا ان غریب لوگوں کا تو کوئی قصور نہیں یہ چوہدری کے ہاں مزدوری کرکے اپنا اور بچوں کا پیٹ پالتے ہیں آج بھی یہ لوگ وہاں مزدوری کرنے گئے تھے یہ لوگ آپ کی بستی سے بے خبر تھے انجانے میں جو غلطی کربیٹھے ہیں اس غلطی کی معافی چاہتے ہیں ہوسکے تو چوہدری صاحب کو بھی معاف کردیں یہ سب شرمندہ ہیں آئندہ کبھی آپ کو بستی کی طرف نہیں جائیں گے۔ “پھر اچانک سفید لباس پینے ایک بزرگ سامنے آئے۔ ”اے آدم کی اولاد ہم بھی آپ کی طرح خدائے بزرگ وبرتر کی پیداوار ہیں ہم اپنے آپ میں گم رہنے والی مخلوق ہیں ہم بے وجہ کسی کو پریشان نہیں کرتے اور نہ ہی ہم نے کبھی آپ کا برا سو چاہے اگر ہم نے کسی کے ساتھ برا سلوک کیا تو وہ سامنے آئے ہم سزا بھگتنے کو تیار ہیں۔ اپنے گریبانوں میں جھانکوں آپ کا دین اسلام تو امن وشانتی کا درس دیتا ہے بردباری اور تحمل اس کے اصول ہیں صراط مستقیم اس کی راہ ہے اور سچائی اور انصاف جذبہ ایمان ہے چوہدری یونس اور اس کے بیٹے کا کردار سب کے سامنے ہے لالچ کی ہوس نے ان کو انسان سے حیوان بنا دیا ہے۔ جھوٹی شان وشوکت بڑھانے کے لیے انہوں نے اپنوں کا حق مارا ہے۔بہن بھائیوں کی زندگی عذاب بنا دی جاؤ ہم نے تمہیں معاف کیا پھر کبھی بھول کر بھی ہماری بستی کی طرف مت آنا دوبارہ غلطی کی تو ہم معاف نہیں کریں گے ۔یاد رکھو اس وقت ہم خوف خدا سے آپ لوگوں کو معاف کررہے ہیں مگر چوہدری یونس اور اس کے بیٹے کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ ان کو ہم تڑ پا تڑپا کر ماردیں گے ہم ان کو ضرور سبق سکھائیں گے۔انہوں نے اپنوں کے ارمانوں کا خون کیا ہماری بستی کو گرایا یہ معافی کے حقدار نہیں ان کو معافی اسی صورت مل سکتی ہے اگر یہ اپنے بہن بھائیوں کو ان کے حصے کی زمین واپس کردیں اور دوبارہ کبھی ہماری بستی کا رخ نہ کریں۔ “سب لوگ گردنیں جھکائے اُن بزرگ کی باتیں سن رہے تھے اور ان کی دہشت سے ہر کوئی کانپ رہا تھا۔ ”اب میں جارہاہوں اگر چوہدری صاحب نے ہماری بات نہ مانی تو ہم اس کو عبرت کا نشان بنادیں گے۔“وہ بزرگ چند قدم پیچھے کی طرف اور پھر غائب ہو گئے۔ امام مسجد نے لوگوں کو مخاطب کیا۔ ”ہم سے غلطی ہو گئی ہے اس غلطی کے ازالے کے لیے ہمیں دوبارہ اسی مخلوق کی منت سماجت اور قبر والی جگہ پر خیرات کرنا ہو گی ہمیں ہر حال میں اس مخلوق کو راضی کرنا ہو گا اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو پورا گاؤں راکھ کا ڈھیر بن جائے گا۔ “اسی وقت گاؤں کے ہر بندے نے اپنی حیثیت کے مطابق امام مسجد کو پیسے جمع کرائے اور شام کو قبر والی جگہ پر خیرات کی گئی۔ماموں یونس نے اپنے بہن بھائیوں کو وہاں بلوا کر ان کے حصے کی زمین دے دی۔ گاؤں کی رونق پھر سے بحال ہونے لگی لیکن ماموں کی حالت پہلے سے زیادہ خراب ہو چکی تھی۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ ماموں کا آخری وقت قریب آچکا ہے گاؤں کے بڑے عیادت کے لیے آتے تو وہ مشورہ دیتے۔ ”چوہدری صاحب اپنے بہن بھائیوں کو راضی کرلو اُن سے معافی مانگ لو۔“بڑوں کی بات مان کر ماموں نے بہن بھائیوں کو اپنے پاس بلوایا اپنے کیے کی معافی مانگی سب بہن بھائیوں نے اسے معاف کردیا ایک بار پھر جنات کی بستی میں خیرات بانٹی گئی لوگ خیرات کے چاول کھارہے تھے کہ ایک دم ایک لمحے کے لیے سب کچھ روشن ہو گیا۔ امام مسجد نے کہا۔ ”جنوں نے دل سے چوہدری صاحب کو معاف کردیا ہے۔“دوسرے دن حارث نے اپنے والد کو شہر کے ایک ہسپتال میں داخل کروادیا اب وہ آہستہ آہستہ تندرست ہونے لگے ایک ماہ ہسپتال میں رہنے کے بعد وہ گھر آگئے ماموں اب مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے تھے۔ عروج کی طرف جاتے ہوئے راستے میں پھولوں کے بیج پھینکنے چاہیئے زوال کا سفر پر سکون رہے گا اگر کانٹے بچھا کر جائیں گے واپسی پر خار دار جھاڑیاں ملیں گی اور واپسی کا سفر تو ہر صورت طے کرنا ہوتاہے ہماری زندگی میں بے شمار واقعات رونما ہوتے ہیں جن کو لاکھ کوشش کے باوجود ہم بھلا نہیں پاتے ایسا ہی ایک ناقابل فراموش واقعہ آپ قارئین کے لیے بیان کررہا ہوں جو امید ہے آپ کو مدتوں یاد رہے گا ایسے واقعات لکھنے کا مقصد یہ ہوتاہے کہ شاید کوئی نصیحت پکڑے اور لکھنے کا حق ادا ہو جائے۔
  6. چراغِ دل: پارٹ 16 لاسٹ پارٹ۔۔۔۔ مومنہ ولی سے بات ہونے کے بعد اپنی سُد بُدھ کھو بیٹھتی ہے اور وہ بس روئے جاتی ہے اتنا روتی ہے کہ اُس کے آنسوں گالوں سے ہوتے دامن پر گِر رہے ہیں۔۔۔ ولی کی دعا قبول ہوتی ہے اور نِدا اچانک آ جاتی ہے مومنہ کے پاس۔۔۔ ملازمہ نِدا کو بتا دیتی ہے کہ پتہ نہیں مومنہ کو کیا ہوگیا ہے روتی جارہی ہے بس۔۔۔۔ نِدا بھاگتی مومنہ کے روم میں جاتی ہے اور مومنہ کو سینے سے لگا لیتی ہے، مومنہ نِدا کو دیکھ کر زور سے سینے ساتھ لگ جاتی ہے اور بچوں کی طرح رونا شروع کر دیتی ہے، نِدا: مومنہ تُجھے ہوا کیا ہے؟ مومنہ: وہ وہ ولی مجھے چھوڑ کر جا رہا ہے نِدا: کہاں جا رہا ہے وہ اور کیوں جا رہا ہے؟ اور تم کیوں پریشان ہورہی ہو جب کے تم اُس سے محبت بھی نہیں کرتی ہو، مومنہ: مجھے پہلے اتنی شدت سے احساس نہیں تھا محبت کا مگر اب جب اُس کے منہ سے سُنا کہ وقت تھوڑا رہ گیا ہے تو میری جان نکل رہی ہے جیسے میرے پورے وجود میں ولی سرائیت کر چکا ہو۔۔۔ نِدا: مومنہ کو دلاسہ دیتے ہوئے میری بات سُن ابھی اُس نے بس بولا ہے نہ گیا تو نہیں اور کیا پتہ وہ بات کچھ اور ہو۔۔۔ تم ایسے ہی خود کو ہلکان کر رہی ہو، مومنہ: نہیں ولی ہر بات رازداری میں اشاروں میں کرتا ہے۔۔۔ ورنہ وہ کبھی نہیں کرتا۔۔۔ نِدا کو ٹائم لگتا ہے مگر وہ سنبھال لیتی ہے مومنہ کو اور اُٹھا کر باہر لے آتی ہے۔۔۔ کچھ دن گزر جاتے ہیں مومنہ بالکل چُپ سی ہو جاتی ہے اور یہی دعا کرتی ہے کہ ولی کو کچھ بھی نہ ہو۔۔۔نِدا ہر پل مومنہ کے ساتھ رہتی ہے تاکہ مومنہ کو تنہائی کا احساس نہ ہو، ولی اپنے دوست وقار کو بُلاتا ہے اور کہتا ہے میری بات غور سے سُنو، ولی وقار کو اپنی تسبیح اور مصلہ دیتا ہے اور اپنے ہاتھ میں پہنی ہوئی سبز رنگ کی انگوٹھی اور کہتا ہے یہ میری وصیت ہے تم کو کہ میرے جانے کے بعد تم یہ چیزیں مومنہ کو دو گے۔۔۔ وقار: یار تم یہ کیسی بات کر رہے ہو، کچھ نہیں ہوگا تم کو، بالکل ٹھیک ہو تم۔۔۔ ولی: موت کا وقت مقرر ہے وہ نہیں ٹل سکتا نہ وہ دیکھتی ہے کہ جوان ہے کہ بوڑھا، بیمار ہے کہ تندرست بس وہ آ جاتی ہے۔۔۔ اور دعا کرنا کے اللہ مجھے سے راضی ہو جائے، مجھے معاف کر دے ۔۔ وقار: کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور وہ تینوں چیزیں لے لیتا ہے۔۔۔ ولی اُس کو نمبر بھی دے دیتا ہے۔۔ اس پر رابطہ کر لینا۔۔مگر تب جب میں نہ رہوں۔۔ وقار: ولی کے گلے لگتے ہوئے ٹھیک ہے۔۔۔ ولی جلدی جلدی اپنے ذمے لگے کام نمٹا رہا ہے لوگوں کا لین دین پوچھ کر ادا کر رہا ہے ہر ملتے ملاتے سے معافی مانگ رہا ہے۔۔۔ کوئی غم اندر ہی اندر ولی کو کھا رہا ہے ولی کسی پر آشکار نہیں کر رہا کہ اُسے کیا ہوا ہے کیا نہیں، بس آج اُس نے سب کے حق ادا کیے اور معافی مانگی، گھر والوں کو بُلا کر نصیحت کی۔۔۔ ہر جان نے موت کا مزہ چکھنا ہے کیا میں کیا آپ لوگ، بس دنیا میں رہتے ہوئے اسی فکر میں رہو کہ اللہ راضی ہو جائے۔۔ کبھی دنیا کے پیچھے نہ بھاگنا وہ ہاتھ نہیں آئے گی۔۔۔ اللہ کو پانے کی طلب رکھنا، ہم سب نے اُسی کی طرف جانا ہے، وہ راضی تو سب راضی۔۔ وہ ناراض ہو گیا تو دنیا کی ساری دولت آپ کو نہیں بچا سکتی۔۔۔ مجھ پر اپنے حق معاف کیجیے گا میں سب پر اپنے حق معاف کرتا ہوں۔۔۔ عشاء کی نماز کے بعد ولی اللہ کی بارگاہ میں حمد و ثنا پیش کرتا ہے اور کہتا ہے اے میرے مالک آج مجھے خُود سے ملا دے، میرا دل تیرے فیراق میں جل رہا ہے یہ دوریاں ختم کر اور مجھے اپنا وصل عطا کر۔۔۔ میں گنہگار بندہ تیرا، تیرا حق ادا نہیں کر سکا اے پرور دگار مجھے معاف کر دینا۔۔۔۔ یہ شب ولی کی زندگی کی آخری شب تھی۔۔۔ صبح وہ نہیں اُٹھا، ولی مر چکا تھا، سکون کی نیند مسکراتے چہرے کے ساتھ سو رہا تھا۔۔۔ تمام دوست احباب رشتے دار اکٹھے ہوگئے اور تدفین کر دی گئی۔۔۔ مومنہ: آخری شب سو رہی تھی، وہ ایک خواب دیکھتی ہے کہ ایک جماعت ہے بہت نورانی چہرے سفید لباس میں ملبوس اور وہ سب ایک طرف جارہے ہیں مومنہ اُن کے دیکھ رہی ہے جاتے ہوئے پھر دوسری طرف سے ایک شخص ظاہر ہوتا ہے جیسے ہی وہ سارے بزرگ جو جماعت کی شکل میں تھی اُس آتے ہوئے شخص سے ملتے ہیں تو باری باری سب گلے سے ملتے ہیں۔۔۔مومنہ غور سے دیکھتی ہے تو وہ ولی ہوتا ہے، ولی اُن کے ساتھ مل جاتا ہے اور ساتھ ہی چلنا شروع کر دیتا ہے۔۔۔ ولی مسکرا رہا ہے اچانک وہ پیچھے مُڑ کر دیکھتا ہے جیسے مومنہ کو اُس نے دیکھ لیا ہو اور ہاتھ ہلا کر الوداع کر دیتا ہے مومنہ کو اور آنکھوں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔۔ مومنہ: کی آنکھ کُھل جاتی ہے اُسے کچھ سمجھ نہیں آتا کہ یہ کیا ماجرہ تھا۔۔ اُس کا دل زور زور سے دھڑک رہا ہے اور آنکھیں بہنے کو تیار ہیں مگر بہہ نہیں رہیں۔۔ باقی ساری رات مومنہ کے لیے گزارنا مشکل ہو جاتی ہے۔۔ جیسے تیسے کر کے صبح ہوتی ہے مومنہ ولی کو کال ملاتی ہے، مگر آگے سے کوئی نہیں اُٹھاتا۔۔۔مومنہ کا دل بیٹھ جاتا ہے، وہ پھر کال ملاتی ہے تو ایک انجان آواز آتی ہے۔۔۔ مومنہ: السلام عليكم ورحمة الله وعلیکم السلام ورحمة الله جی فرمائیے۔۔ مومنہ: جی ولی موجود ہے، آگے سے جواب آتا ہے جی جس ولی کو آپ نے فون کیا ہے گزشتہ شب وہ وفات پا گئے ہیں۔۔۔ مومنہ: بس اتنا سننا تھا کہ اُس کے ہاتھ سے موبائل گِر جاتا ہے، اور وہ وہیں دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے بے سُدھ ہو کر پڑی رہتی ہے۔۔نا روئی نا آنکھ سے آنسو بہا، جیسے سارے آنسوں وجود میں ہی کہیں خشک ہوگئے جیسے آواز حلق میں اٹک کر رہ گئی۔۔ پھر پتہ نہیں کیا اُس کو خیال آیا وہ اُٹھی اور بھاگی اُس پھول کر طرف جو اُس نے سنبھال کر رکھا ہوا تھا، جیسے ہی اُس نے جار کو کھولا تو پھول کی جگہ ایک چراغ روشن تھا جس میں سے ہلکی ہلکی خوشبو آرہی تھی۔۔۔ مومنہ جار کو سامنے رکھ کر بیٹھ گئی اور چراغ کو دیکھتی جارہی ہے۔۔۔۔ پھر اُسے خیال آتا ہے کہ ولی نہ کہا تھا یہ میرا راز ہے تمہارے پاس وقت آنے پر کھل جائے گا۔۔ اور ولی نے کہا تھا کہ میں چراغ بن کر تمہارے ساتھ رہوں گا۔۔۔ مومنہ کے جذبات اُمڈنے شروع ہوگئے اور آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی جاری ہوگئی، وہ رو رہی تھی مگر شور نہیں تھا خاموش تھی، بس آنکھیں رواں تھی لب خاموش تھے۔۔۔ یا شاید وہ پہلے سے تیار تھی اس حادثے کے لیے۔۔۔ وہ زیادہ روئی نہیں، اُس نے چراغ کو پکڑا اور کمرے میں ایک ٹیبل پر رکھ دیا۔۔۔ وہ خود کو سنبھال رہی تھی، اتنے میں نِدا روم میں آئی آگے دیکھا مومنہ بیڈ پر بیٹھی ہوئی ہے ایک جار زمیں پر کُھلا پڑا ہوا ہے اور کچھ دور ٹیبل پر ایک چراغ روشن ہے۔۔۔ نِدا: مومنہ یہ سب کیا ہے؟ یہ جار وہی نہیں جس میں پھول رکھا تھا؟ مومنہ: چراغ کی طرف دیکھتی ہوئی وہ چراغ وہی پھول ہی تو ہے۔۔۔ نِدا: چراغ کے پاس جا کر یہ کیسا مذاق ہے، یہ کیسے ممکن ہے؟ مومنہ: ولی مر گیا ہے یہی اُس کا راز تھا پھول میں چراغ بن کر میرےپاس روشن رہے گا۔۔ نِدا: مومنہ کے پاس بیٹھتے ہوئے۔۔۔سچ میں؟ مومنہ: ہاں ندا مومنہ کو سینے سے لگا لیتی ہے اور دلاسہ اور ہمت دیتی ہے۔۔ کچھ دن گزرے تو مومنہ کے نمبر پر ایک کال آئی، یہ وقار تھا۔۔ وقار اپنا تعارف کرواتا ہے تو مومنہ کو یاد آ جاتا ہے، وقار مومنہ سے کہتا ہے کہ اُس کی کچھ امانتیں ہیں اُس کے پاس جو وہ دینا چاہتا ہے، مومنہ کہتی ہے کس نے دی۔۔ وقار کہتا ہے ولی نے۔۔ تو مومنہ کہتی ہے ٹھیک ہے میں آنا چاہتی ہوں وہاں۔۔۔ولی کی قبر بھی دیکھنا چاہتی ہوں۔۔۔ وقار ایڈریس دے دیتا ہے۔۔ دوسرے دن مومنہ اور نِدا طویل سفر طے کر کے پہنچتے ہیں وقار اُن کو سیدھا قبرسان بُلا لیتا ہے۔۔ مومنہ: ولی کی قبر پر جاتی ہے اور قریب جا کر بیٹھ جاتی ہے، گلے شکوے کرتی ہے ولی سے۔۔۔ جی بھر کر روتی ہے، آج نِدا بھی پاس نہیں گئی کہ رو لینے دو آج مومنہ کو۔۔ رو لے گی تو بہتر رہے گا۔۔۔۔ مومنہ کچھ دیر بیٹھی رہتی ہے اور پھر واپس گاڑی کے پاس آکر نِدا سے کہتی ہے کہ چلو چلیں: وقار: وہ آپ کی جو امانت میرے پاس ہے وہ لیتے جائیے۔۔ مومنہ: کیا ہیں وہ امانتیں؟ وقار: ولی کی تسبیح، ولی کی انگوٹھی، ولی کا مصلہ۔۔ مومنہ: کی آنکھیں نم ہوگئیں اور کہا میں اس قابل نہیں تھی۔۔۔ وقار ولی کی دی ہوئی چیزیں مومنہ کو دیتا ہے، وقار مومنہ سے کہتا ہے دراصل حقیقت میں آپ ہی مستحق دی ان چیزوں کی۔۔۔ ولی نے اپنے آپ کو آپ کو سونپ دیا اتنی محبت کرتا تھا وہ آپ سے۔۔۔ کہتا تھا مومنہ بہت اچھی لڑکی ہے بیشک اس کی تعلیم اور پرورش باہر ہوئی، لیکن اُس کا دل خالص ہے اُس میں ملاوٹ نہیں ہوسکی، مومنہ: کیا ولی مجھ سے محبت کرتا تھا؟ وقار: جی ولی کو آپ سے بہت محبت تھی، کہتا تھا میری دعا ہے کہ مومنہ حقیقت کو پا لے کیونکہ مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے مومنہ کی تڑپ دیکھ کر۔۔۔ مومنہ: مگر اُس نے تو کبھی اظہار نہیں کیا تھا۔۔ وقار: اِسی لیےکہ کہیں آپ اپنے اصل سے پیچھے نہ ہٹ جائیں۔۔۔۔ مومنہ وقار کی دی چیزیں لیکر واپس گھر آ جاتی ہے۔۔۔ اب وہ ایک کمرے کا الگ سے اہتمام کرتی ہے، اس میں چراغ رکھ دیتی ہے اور مصلہ انگوٹھی وہ سائز سیٹ کروا کر خود پہن لیتی ہے اور تسبیح اُس کے پاس رہتی ہے ہر پل۔۔۔ عبادت کے لیے وہ اس کمرے کو مُختص کر دیتی ہے۔۔۔جہاں وہ عبادت و ریاضت کرتی اور ولی سے اپنے دل کی باتیں کرتی رہتی۔۔۔ آج ولی کو گئے 3 سال ہوچکے ہیں، مومنہ وہی تنہا زندگی گزار رہی ہے نِدا کی شادی ہو گئی اور فرحان آج بھی مومنہ کے انتظار میں ہے کہ کب وہ شادی کے لیے رضا مند ہوگی۔۔ مومنہ کے مام ڈیڈ بھی اپنی بیٹی کی محبت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پاکستان آ چکے ہیں۔۔۔ مومنہ ذکر و فکر میں اکثر محو رہنے لگی تھی۔۔ اُس کے والدین بھی دنیاوی بھاگ دوڑ کو خیر باد کہہ چکے تھے اور باقی ماندہ زندگی عبادت میں گزارنا چاہتے تھے۔۔ ایک شب مومنہ کی خواب میں ولی آیا۔۔ ولی کو دیکھ کر مومنہ بے اختیار ہو گئی اور ولی کے ساتھ لپٹ گئی، ولی نے مومنہ کو سامنے کھڑا کیا اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُس کو مصلے پر بیٹھا دیا۔۔۔ اور خود تھوڑا فاصلے پر بییٹھ گیا۔۔ مومنہ: آپ مجھے چھوڑ کر کیوں گئے۔۔ ولی: میں آنکھوں سے اوجھل ہوا ہوں حقیقت میں تو میں آج بھی روشن ہوں تمہارے دل میں۔۔ تم محسوس نہیں کرتی کیا۔۔ مومنہ: ہاں کرتی ہوں اورڈھیروں باتیں بھی کرتی ہوں پھر، ولی: مومنہ میرا مقصد تمہارے دل میں محبت کا چراغ روشن کرنا تھا، محبتِ حقیقی کا چراغ، اور دیکھو آج یہ چراغ روشن ہے تو اللہ کی محبت پا چکی ہو، یہی کامیابی ہے باقی سب ناکامیاں ہیں۔۔۔ تم دعا مانگو قبول ہوگی، اللہ نے تمہاری زبان میں برکت اور تاثیر رکھ دی، اب بیٹھ کر لوگوں کے لیے ہدایت اور بخشش مانگا کرو اپنے رب سے، میں قریب ہی ہوں تمہارے اُس جلتے ہوئے چراغ کی مانند۔۔۔ کہ تمہاری عقیدت ہی چراغ کو روشن رکھے گی۔۔۔ اور میری ایک بات مان لو۔۔۔شادی کر لو۔۔۔ فرحان بہت اچھا لڑکا ہے، اپنی نسل کو آگے بڑھاؤ اللہ برکت عطا کرے گا۔۔۔ مومنہ: کیسے کر سکتی ہوں شادی، ایک محبت کو دل میں چُھپا کر؟ ولی: وہ محبت حقیقت بن چکی، ابھی دنیا کی محبت کو پانا ہے تم نے،۔۔۔ مومنہ اتنے عرصہ کے بعد ولی کو دوبارہ دیکھا خواب میں، اُس نے ولی کا کہا مان لیا اور فرحان سے شادی کے لیے حامی بھر لی، مومنہ کی ولی کے ساتھ محبت کے دو ہی ہمراز تھے ایک نِدا اور ایک ولی خود۔۔۔ فرحان لا علم تھا اور کبھی کسی نے بتایا بھی نہیں۔۔۔ مومنہ اپنے محبوبِ حقیقی کو پا چکی تھی، اُس کے سینے میں روشن نور ایک چراغ کی مِثل تھا جس سے محبت کی کرنیں نمودار ہوتی تھی کہ کائنات محبت کا محور ہے اور ساری کائنات اُس میں گردش کر رہی ہے۔۔۔۔۔ اختتام پذیر۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر کہ دیوانہ شــــــود با ذکر حق زیر پالش عرس و کرسی ہر طبق جو کوئی حق تعالی کے ذکر میں دیوانہ ہو جاتا ہے۔۔۔ تمام طبقات، عرش اور کرسی اس کے قدموں کے نیچے آ جاتے ہیں۔۔۔ پسند کرنے والوں کا شکریہ، اور اگر کسی کو میری لکھی کسی بات سے ایذا پہنچی ہو تو معذرت۔۔۔ اپنے دلوں میں محبت کے عقیدت کے چراغ روشن کریں اور ذکرِ خُدا میں محو ہو جائیں۔۔۔ کہ یہی اصل ہے مل جائے تو اَمن پا جائے۔۔۔۔ جزاک اللہ خیرا۔۔۔
  7. چراغِ دل: پارٹ 15 مومنہ اور نِدا دونوں کراچی آ چکے ہیں، نِدا کی منگنی اُس لڑکے کے ساتھ ہونی تھی جس کو وہ پسند کرتی تھی، اس لیے مومنہ اور نِدا کے ساتھ کراچی آچکی تھی، امریکہ سے مومنہ کے امی ابو بھی آئے منگنی پر، نِدا کی شاذین سے منگنی ہوگئی دونوں بہت خُوش تھے خاص کر کے نِدا تو بہت خوش تھی، کچھ دن کراچی رہنے کے بعد مومنہ اپنے امی ابو کے ساتھ گھر آگئے۔۔۔۔ مومنہ حیران تھی کہ جب اُس نے کہا تو کاروبار کی وجہ سے نہیں آئے، اور اب بتایا بھی نہیں اور آگئے۔۔۔ مومنہ: امی ابو سے پوچھتے ہوئے، کیسے دل کیا میرے موم ڈیڈ کا یہاں آنے کا۔۔۔ امی: ہماری بیٹی تو یہاں آکر ہمیں بھول ہی گئی تھی، ہم مصروف ضرور تھے مگر کچھ ٹائم سے تمہاری بہت یاد آ رہی تھی، بس دل کیا پلاننگ ہی کر رہے تھے کہ نِدا کے رشتے کی بھی اطلاع مل گئی تو سوچا اب تو یہ بھی بہتر ہوگیا۔۔ مومنہ: مجھے خُود بہت خوشی ہوئی آپ دونوں کے آنے سے۔۔ مومنہ کی امی: بس خُوش رہا کر، تو کیا ابھی بھی دل نہیں بھرا یہاں رہنے سے،؟ واپس نہیں چلو گی ہمارے ساتھ؟ اور شادی کا کچھ سوچا ہے کہ نہیں۔۔۔ مومنہ: نہیں امی ابھی تک تو کوئی پلاننگ نہیں یہاں سے جانے کی میں خُوش ہوں یہاں، سارا وقت عبادات ذکر اذکار میں گزر جاتا ہے، اور شادی کا ابھی مجھ سے نہ ہی پوچھیے تو بہتر ہے، مومنہ کی امی: اچھا جی جیسے ہماری بیٹی کی مرضی، ہم ایک دو دن رہیں گے پھر چلے جائیں گے۔۔۔ اور ہاں فرحان اچھا لڑکا ہے سوچنا ضرور۔۔۔ مومنہ: کیا آپ کو کوئی بات پتہ چلی ہے؟ مومنہ کی امی: ہاں یہیں آ کر سُنا تھا فرحان کے منہ سے وہ اپنی امی کو بول رہا تھا کہ مجھے مومنہ سے شادی کرنی ہے تو تمہاری آنٹی نے مجھ سے پوچھا، فی الحال تو میں نے کوئی جواب نہیں دیا، کہ جب تک مومنہ کی رضا مندی نہیں ہوگی ہم کچھ نہیں کہہ سکتے، مومنہ: ایک گہری سانس بھرتے ہوئے میں فرحان سے کہا بھی تھا کہ ابھی میرا شادی کا کوئی ارادہ نہیں ہے، پھر بھی اُس نے یہ بات کی۔۔۔ کچھ دن گزرے تو مومنہ کے امی ابو بھی واپس چلے گئے، اتنے دن مصروفیات کی وجہ سے مومنہ کافی ڈسٹرب ہو چکی تھی عبادات ذکر اذکار لگ بھگ نہ ہونے کے برابر ہوگئے تھے۔۔۔ اب وہ پُرسکون تھی، اُس نے پھر سے سارے گھر کی ترتیب اپنی مرضی سے کی، نِدا سے فون پر بات ہوتی تھی اکثر وہ آنے کا کہتی تھی مگر آتی نہیں تھی۔۔۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ مومنہ کی کیفیات پہلے سے بھی زیادہ بدلنا شروع ہوگئیں۔۔۔ اب اُس کا قلب ہمہ وقت ذکر میں محو رہتا تھا، یہ محویت مومنہ کو بڑا مسرور کن رکھتی تھی، اُس کا دل کرتا تھا کہ آنکھ، کان، اور زبان بند کر کے بس ساری توجہ اپنے دل پر رکھے اور محو رہے اس میں۔۔۔ ایک شب مومنہ ذکر کرنے کے بعد سو گئی، اُس نے ایک خواب دیکھا، اُس نے دیکھا کہ وہ خانہ کعبہ کے صحن میں کھڑی خانہ کعبہ کو دیکھ رہی ہے، وہ قریب جاتی ہے غلاف کو چھوتی ہے تو اُسے محسوس ہوتا ہے کہ غلاف سے نور کی کرنیں نکل کر اُس کے سینے میں سما رہی ہیں، اُس کا قلب روشن ہونا شروع ہو جاتا ہے، کہ اچانک اُس کا سینہ غلافِ کعبہ کے ساتھ چمٹ جاتا ہے، جیسے لوہا مقناطیس کے ساتھ چمٹ جاتا ہے ایسے ہی مومنہ غلافِ کعبہ کے ساتھ لگی ہوئی ہے اور نور اُس کے سینے میں سما رہا ہے، اُس نے دیکھا کہ اُس کا سارا وجود روشن ہو رہا ہے، اچانک مومنہ کا ہاتھ کوئی پکڑتا ہے اور پیچھے کو کھینچتا ہے، مومنہ پیچھے گِر کر بے ہوش ہو جاتی ہے، اور وہیں گِر جاتی ہے، مومنہ دیکھتی ہے کہ ہاتھ پکڑ کر کھینچنے والا ولی ہے، اور وہ مومنہ کے گِرنے پر بھی اُسے سنبھالتا ہے، کچھ دیر بعد مومنہ کو ہوش آتا ہے تو ولی پاس بیٹھا ہوا مسکرا رہا ہوتا ہے، ولی: اُٹھ گئے ہمارے صاحب مومنہ: خود کو سمیٹتے ہوئے، کیا ہوا تھا مجھے؟ ولی: کچھ نہیں ہوا تم کو، چلو اُٹھو اور سجدہءِ شکر ادا کرو رب کی بارگاہ میں، مومنہ وہی سجدہ کرتی ہے اور شکر ادا کرتی ہے، ولی کے ہاتھ میں ایک پیالہ ہوتا ہے، لو اب یہ پی لو یہ زم زم کا پانی ہے فرحت بخشے گا تم کو، مومنہ: ولی کے ہاتھ سے پیالہ لیتے ہوئے خوشی کا اظہار کرتی ہے کہ زم زم کا پانی، اور وہ سارا پی جاتی ہےـــ پانی پیتے ہی مومنہ کے سینے میں سکون بھر جاتا ہے، ولی: آج سے تم درود و سلام کی کثرت زیادہ کرو گی جب درود پڑھو گی تو جس وقت اسمِ محمدﷺ آئے گا تم اپنے سینے کے وسط میں اسمِ محمد تصور میں لکھو گی، مومنہ: جی ٹھیک ہے۔۔ ولی: اب کلمے کے ساتھ ساتھ دوسرا ذکر درود کا کروگی تم۔۔۔کلمہ جلالی صفت رکھتا ہے اور درود جمالی۔۔۔ مومنہ: جی بہتر ہے اس کے ساتھ ہی مومنہ کی آنکھ کُھل جاتی ہے، وہ اُٹھ کر بیٹھ جاتی ہے ایک مُسکراہٹ سی اُس کے چہرے پر ہوتی ہے۔۔۔ دوسرے دن مومنہ ولی کو سارا خواب سُنا دیتی ہے، ولی اُسے وہی کرنے کا کہتا ہے جو اُس نے دیکھا اور سُنا۔۔۔ مومنہ اب درود شریف کا ذکر کثرت سے کرتی تھی، اور ساتھ میں اسمِ محمدﷺ کو تصور میں سینے میں لکھا ہوا محسوس کرتی ہے، ایک شب مومنہ درود شریف پڑھ رہی ہے تو اُس کو سینے کے وسط میں جیسے ہی حضورﷺ کا نام لیتی تھی ایک ہلکی سی تپش محسوس کرنے لگی، اُسے کچھ عجیب سا لگا مگر وہ ذکر کرتی رہی، جیسے ہی وہ محو ہوئی اُسے صاف اسمِ محمدﷺ لکھا نظر آنے لگا بند آنکھوں سے سینہ میں۔۔۔ وہ ایسے تھا جیسے روشن ہو اور پھر مدھم ہو جائے۔۔۔ جب درود پڑھتے محمدﷺ بولتی تو اسم روشن ہوجاتا پھر بُجھ جاتا۔۔۔ وہ اس معاملے کو سمجھ نا سکی۔۔۔ اُس نے ولی سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرہ ہے۔۔۔ ولی نے کہا کہ ابھی شروعات ہے جب صحیع سے محو ہو جاؤ گی تو جیسے ہی آنکھیں بند کر کے تصور کرو گی تو روشن ہو جائے گا اِسم۔۔۔ مومنہ: مومنہ کو دلی لگاؤ ہوگیا اس عمل سے کیونکہ حضورﷺ کے اسمِ مبارک کا نُور سینے کے اندر روشن ہونا اُس کے لیے معمولی بات نہیں تھی۔۔۔ دو ماہ گزر چکے، ولی اپنی فصل کو سمیٹنے میں لگا ہوا، اور بوائی کا پھل دیکھ کر خوش و خرم لگ رہا، ولی: کسان اپنی فصل پر محنت کرتا ہے پھل لگتا ہے اور پکنے پر کسان اُسے بھر بھر کر گھر لے جاتا ہے، یہ اُس کی محنت کا صِلہ ہوتا ہے اور یہ دن کسان کے لیے عید سے کم کا نہیں ہوتا۔۔۔ ایک دِن وہ بھی لگے گا جس دن انسانوں کی محنت کا پھل جزا و سزا کی صورت میں ملے گا۔۔۔کوئی جنت میں جائے گا کوئی دوزخ میں کوئی امن میں ہوگا تو کوئی پریشان حال، کچھ لوگ اُس دن آہو و پکار کر رہے ہوں گے اور کچھ تخت نشیں ہوں گے۔۔۔ آج ولی نے سب کو دعوت دی ہوئی تھی۔۔۔ پھر اُس نے ایک بورڈ منگوایا اور چاک۔۔۔ ولی نے بورڈ کے عین اوپر ایک دائرہ بنایا اور اُس پر عرش لکھ دیا پھر اس کے دونوں اطراف کچھ تخت ٹائپ کے نشان بنائے اور لکھا اَمن والے عرش کے عین نیچے ایک دائرہ بنایا اور لکھا روح القدس پھر بائیں طرف ایک دائرہ کھینچا اُس پر لکھا بُرائی کا پلڑا اور ٹھیک اُسی کے برابر دائیں طرف ایک دائرہ بنایا اور لکھا نیکی کا پلڑا، پھر ایک لائن کھینچی دونوں کے درمیان نیچے تک اور لکھا اعراف، پھر دو دائرے دائیں اور بائیں بنائے ایک پر لکھا دایاں اعمال نامہ اور بایاں اعمال نامہ اعراف والی لائن کے ساتھ دائیں طرف ایک چھوٹا دائرہ بنایا اور لکھا حوض، اور ایک دائرہ اعراف کی لائن میں بنایا اور لکھا ذبح ہونا موت کا، پھر بائیں طرف بڑا دائرہ بنایا اور لکھا جہنم اور اُس پر ایک لائن کھینچ کر آدھا دائرہ بنایا اور لکھا پُل صراط ٹھیک اُس کے سامنے دائیں طرف ایک بڑا دائرہ بنایا اور لکھا جنت کی چراگاہ اور دعوت کی جا۔۔ پھر اعراف والی لائن کے نیچے ایک دائرہ بنایا اور لکھا پیٹھ پیچھے کتاب۔۔۔ پھر جنت والے دائرے کے ساتھ دو لائینیں کھینچی اور لکھا پہلی لائن دوسری لائن پھر جہنم والے دائرے کے ساتھ دو لائن کھینچی اور لکھا تیسری لائن چوتھی لائن، پھر سب سے نیچے تین لائنیں کھینچی اور لکھا پانچویں لائن چھٹی لائن ساتویں لائن، اور سب سے لاسٹ میں ولی نے ایک دائرہ بنایا اعراف کے بائیں طرف بائیں اعمال نامے اور جہنم کے دائرے کے درمیاں اعراف کے قریب۔۔۔ سب ولی کو محو ہو کر دیکھ رہے تھے کہ ولی کیا بنا رہا ہے۔۔۔ ولی پھر سب کی طرف متوجہ ہوا اور کہا یہ ہے محشر کا میدان، یہ یہ مقام یہاں یہاں ہوں گیں۔۔۔ اب سب لوگ خُود کو دیکھیں کے وہ کس مقام پر کھڑے ہیں دائیں طرف کے بائیں طرف جہنم میں کے جنت میں یا امن والوں میں یا حوض پر کھڑے پانی پی رہے ہو یا پھر نیچے وہاں کھڑے ہو جنہوں نے اللہ کی کتاب کو پیٹھ پیچھے کر لیا۔۔ یا پھر پہلی دوسری لائن میں ہو یا تیسری چوتھی میں یا پھر پانچویں چھٹی اور ساتویں میں۔۔۔ آج میں نے سب کے سامنے سب کا آئینہ بنا کر سامنے رکھ دیا ہے، اب تلاش کرو سب اپنے آپ کو کہ کون کس مقام پر کھڑا ہے۔۔۔ سب کے سب خاموش اور غور سے دیکھ رہے بورڈ کو، اچانک وقار اُٹھا اور بولا کیا میں کچھ پوچھ سکتا ہوں۔۔ ولی: بالکل پوچھو۔۔ وقار: پہلی اور دوسری لائن میں کون لوگ ہوں گے۔۔۔ ولی: اہلِ جنت مومن مرد اور عورتیں نیکو کار پرہیزگار۔۔ بغیر حساب کے جنت جانے والے وقار: اور تیسری اور چوتھی لائن؟ ولی: گنہگار مسلمان جن کا حساب کتاب ہوگا وقار: نیچے تین لائینیں ولی: کفار کی اور اُن کی جنہوں نے اللہ کی کتاب کو پایا مگر اپنے پیٹھ ییچھے کر لیا یعنی اور انکاری ہوئے۔۔۔ وقار: اور یہ اَمن والے کون ہوں گے۔۔۔ ولی: انبیاء علیہ السلام اولیاء رحمۃ اللّٰہ علیہ وقار: یہ مقامِ محمود بائیں طرف کیوں ہے جب کے ہم نے سُنا ہے کہ یہ بلند مقام پر ہوگا۔۔۔ ولی: مُسکراتے ہوئے۔۔۔ سب نے دیکھا ہوگا کہ میں نے یہ دائرہ بنایا بھی سب سے آخر میں تھا۔۔۔۔ اور بائیں طرف کیوں ہے تو سنیے۔۔۔ ہمارے پیارے آقا حضورﷺ ساری زندگی اپنی اُمت کے لیے دعا گو رہے روتے رہے اتنا روتے تھے کہ اللہ جبرائیل امین کو بھیج دیتےتھے دلاسے کے لیے۔۔۔ میدان حشر میں بھی سرکارﷺ اپنے گنہگار امتیوں کے قریب رہیں گے مقامِ محمود پر۔۔۔ کیونکہ حضورﷺ کی شفاعت درکار ہو گی اس اُمت کے گنہگاروں کو۔۔۔ یہ ہیں ہمارے پیارے محترم نبیﷺ کا مقام۔۔۔ اور اب ہم اپنے آپ کو دیکھ لیں کے ہم کیا کر رہے ہیں۔۔۔ ہمارے اعمال نامے اور کیا ہم سرکارﷺ کا سامنا کر سکیں گے جس وقت وہ ہمیں ہمارے گناہوں کے ساتھ دیکھیں گے۔۔۔ میرا یہ جدول بنا کر دکھانے کا مقصد ہی یہ مقام تھا۔۔۔ وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے اور عمل کچھ بھی پلے نہیں ہیں۔۔خُدارا اپنے اعمال کو درست کر لیجیے تاکہ اُس دن ہم شرمندہ نہ ہوں۔۔۔ ولی ہر گزرتے دن کے ساتھ بوجھل ہوتا جا رہا تھا اور ہر کسی سے بات کرتے وہ بس اتنا کہتا تھا وقت تھوڑا رہ گیا ہے وقت تھوڑا رہ گیا ہے۔۔۔ مومنہ: درودِ پاک کے ساتھ ساتھ اسمِ محمدﷺ کے نور میں بھی محو ہو چکی تھی، اور اُس کے قلب میں اسم اللہ کا نور روشن ہوچکا تھا۔۔۔اُسے ایسے لگتا تھا کہ جیسے اب اُسے زبان سے پڑھنے کی ضرورت نہیں درود بھی خود بخود رواں رہتا اور کلمہ بھی۔۔۔۔۔ ایک روز ولی کا فون آیا مومنہ کو۔۔۔ مومنہ: حیران ہوتے ہوئے کہ پہلی بار ولی نے کال کی ہے۔۔مومنہ نے کال اُٹھائی، السلام عليكم ورحمة الله ولی: وعلیکم السلام ورحمة الله مومنہ: آج میں حیران ہوں کہ خوشی مناؤں کے آج آپ نے مجھے کال کی۔۔ ولی: مسکرا دیا اور کہا کہ جو تمہارا دل چاہے۔۔ میں تو اس لیے کال کی کہ پوچھ لوں کہ کچھ اور بھی چاہیے مومنہ کو تو لے لے ہم سے۔ پھر پتہ نہیں کیا سے کیا ہو جائے۔۔۔ مومنہ: ساری مسکراہٹ چہرے سے اترتی ہوئی۔۔۔ کیا مطلب کیا ہو جائے؟ ولی: وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے اور میں چاہتا ہوں تُم پا لو جو پانا ہے۔۔۔۔اس لیے پوچھا جو چاہیے لے لو۔۔ مومنہ: ایک آنسو آنکھ سے نکلتا ہوا، آپ جانے والی بات کیوں کر رہے ہیں؟ ولی: ایک دن سب نے جانا ہے میں نے تم نے سب نے۔۔ مومنہ: یہ بات ہے تو میں ولی سے ولی کو ہی مانگتی ہوں، ولی: ولی نے تو پہلے سے ہی خود کو تمہیں دے دیا ہے، مومنہ: مجھے زندگی میں میرے ساتھ چاہیے۔۔۔ ولی: تھوڑی دیر خاموش رہ کر۔۔۔ ولی ایک روشن چراغ کی طرح ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گا۔۔۔۔ مومنہ: روتے ہوئے ولی جانے والی باتیں مجھ سے نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ سے پہلے میری زندگی کی اخیر ہو جائے۔۔۔ ولی: نہیں تمہاری زندگی بہت لمبی ہے، تم جیو گی اور مُردہ دلوں میں زندگی کی روح پھونکو گی۔۔ مومنہ: میں بہت بہت محبت کرتی ہوں آپ سے۔۔۔ آپ میرے محسن میرے سب کچھ ہیں۔۔۔ ولی: جو چراغ تمہارے دل میں جل رہا ہے وہ محبت اعلی ہے میں ادنٰی ہوں۔۔۔۔ مومنہ: رونا شروع کر دیتی ہے اور زارو قطار روئے جاتی ہے، ولی کال بند کر دیتا ہے۔۔۔۔ اور اللہ کے حضور دعا گو ہو جاتا ہے اے میرے مالک تسکین اتار روتے ہوئے دلوں پر، جاری ہے۔۔۔۔۔
  8. چراغِ دل: پارٹ14 ولی: مومنہ میں تم کو اپنا ایک خواب سُناتا ہوں اس سے تم اور زیادہ ذکر میں محو ہو جاؤ گی۔ مومنہ: جی ولی: ایک شب میں نے دیکھا کہ قیامت بھرپا ہوچکی ہے، صور کے بعد صور پھونکا جا چکا ہے لوگ میدانِ حشر کی طرف جا رہے ہیں، میں بھی ہوں اور میرا پورا خاندان بھی ساتھ یے۔۔۔ لوگ رو رہے ہیں اپنے اپنے اعمال کو یاد کر کے اور آنکھون سے آنسو بہا رہے ہیں اور آنسوؤں کے پانی میں ہی ڈوب رہے ہیں۔ کسی کا پانی ٹختوں تک کسی کو گُٹنوں تک کسی کو کمر کسی کو گلے تک اور کوئی اپنے ہی پانی میں مکمل ڈوب رہا ہے۔۔۔ میں دیکھتا ہوں کہ پانی اوپر کو چڑھ رہا ہے اور چلنا بھی محال ہو رہا ہے، کہ اچانک غیب سے ایک نِدا آئی، کیا میں تم کو وہ ذکر نہ بتاؤں جو آج کے دن کے لیے آسانی پیدا کرے۔۔ میں نے کہا جی ضرور۔۔۔۔ آواز آئی۔۔۔ پڑھ " لا الہ الا اللہ" میں لا الہ الا اللہ پڑھنا شروع کر دیا تو جہاں ہم کھڑے تھے وہ حِصہ پانی کا اوپر کو بلند ہوا، اور ایک کشتی کی شکل اختیار کر گیا اور ہم اوپر اُس کے اور وہ کشتی چلتی ہو میدان حشر میں لے گئی۔۔۔ مومنہ: واہ یعنی آخرت میں بھی کامیابی کا ضامن ہے۔۔ ولی: اثبات میں سَر ہلاتے ہوئے ہاں، مومنہ: اور کیا میرے خاندان والے بھی، ولی: اپنا کان میرے قریب کرو مومنہ: جی ولی اُس کے کان میں سرگوشی کرتا ہے جس سے مومنہ کا چہرہ کِھل جاتا ہے۔۔۔ ولی: اب تم آرام سے سو جاؤ۔۔۔ مومنہ: اور آپ چلے جائیں گے۔۔۔ ولی: اور بھی بہت سے کام ہیں کرنے والے۔۔۔۔ مومنہ سو جاتی ہے اور ولی اُس کی آنکھوں سے اُوجھل ہو جاتا ہے۔۔۔ اب تو مومنہ کی خوشی اور آسودگی کی بھی انتہا باقی نہ رہی، وہ اب چلتے پھرتے مسکراتی تھی، اور ذکر اذکار میں اُس نے خود کو محو کر لیا تھا۔۔۔ قرآن اُس کے راستے کی روشنی بن گیا اور ذکر اُس کی طاقت، ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ یادِ الہی میں محو ہوتی گئی۔۔۔ نِدا بھی کراچی سے واپس مومنہ کے پاس آ چکی تھی، مومنہ کے احوال دریافت کر رہی تھی۔۔۔ مومنہ نے سب کچھ اُس کو بتا دیا۔۔ نِدا اس بار افسردہ دل کے ساتھ آئی تھی۔۔۔ پتہ نہیں کیا ہوا تھا اُس کو مگر بہت خاموش ہوگئی تھی وہ۔۔ نِدا: مومنہ کی گود میں سَر رکھتے ہوئے مجھے اپنی آغوش میں چُھپا لو مومنہ، اور ساتھ ہی اُس کی آنکھ سے آنسو چھلک پڑے۔۔۔ مومنہ: کیا ہو گیا ہے تم کو؟ نِدا: کچھ نہیں یار بس رونا چاہتی ہوں پُھوٹ پُھوٹ کر۔۔۔ مومنہ: کچھ تو ہوا ہوگا۔ نِدا: میں ایک لڑکے کو پسند کرتی ہوں، امی کی کال آئی کہ جلدی گھر آؤ تمہارے رشتے کی بات کرنی ہے۔۔ میرے دل کو دھچکا سا لگ گیا، میں فوراً چلی گئی، میں امی کو بتایا کہ میں کسی کو پسند کرتی ہوں اچھا لڑکا ہے ایک بار مل لیں، مگر انہوں نے سِرے سے ہی انکار کر دیا اور کہا کہ تمہارے بابا اپنے دوست سے اُس کے بیٹے کے ساتھ تمہاری بات کر چکے۔۔۔۔ اب اگر انہیں یہ بات معلوم ہوئی تو جان لے لیں گے ہم دونوں کی۔۔۔ میں امی کو بہت سمجھایا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا، میں خود کو تنہا کر لیا سو سو خیال دماغ میں گردش کرنے لگے۔۔۔ کہ گھرچھوڑ دوں، یہ کروں وہ کروں۔۔۔ پھر ایک دن مجھے خواب آیا اور تم میری خواب میں آئی تمہارے ہاتھ میں روشنی کا ایک چراغ تھا تم مجھےکہتی ہو آؤ میرے پاس۔۔۔۔ ساتھ ہی میری آنکھ کُھل گئی اور میں امی سے اجازت لیکر یہاں آ گئی۔۔۔ مومنہ: نِدا کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے، کیا وہ لڑکا بھی تمہیں چاہتا ہے؟ نِدا: ہاں بالکل چاہتا ہے۔۔ مومنہ: اللہ بہتر کرے گا اب تم میرے پاس ہی رہو وقت آنے پر میں خود بات کرونگی آنٹی سے۔۔۔ نِدا کو دلی سکون ملا مومنہ کے پاس آ کر، کچھ دیر بعد مومنہ نے ولی کو کال کی نِدا کے معاملے پر۔۔۔۔ ولی: نے مومنہ سے کہا کہ اُس نے تم کو دیکھا ہے تم روشنی کا چراغ لیے کھڑی ہو، تو اب تم ہی اُس کا راستہ روشن کرو۔۔۔ مومنہ: کیا آپ کچھ نہیں کر سکتے ولی: مومنہ تسلیم و رضا کیا ہے اختیار ہوتے ہوئے بھی اپنے رب کے فیصلوں پر اپنا سر جُھکا دینا۔۔۔ کربل میں کیا ہوا تھا؟ جب بھی یاد کرتا ہوں خُود کو مالک کا گنہگار سمجھتا ہوں۔ وہ ہے رضا کا مقام اختیار ہوتے ہوئے بھی اپنے اختیار کو استعمال نہیں کیا رب کی رضا کو منظور کیا۔۔۔ اگر اب ہم اُس کی محبت کے علاوہ اُس کے غیر کی محبت طلب کریں تو کیا یہ بے وفائی نہ ہوگی محبوب کے ساتھ، مومنہ: جی بات تو ٹھیک ہے آپ کی۔۔۔ ولی: اُس نے تمہارے اندر جو دیکھا ہے ٹھیک دیکھا ہے اُس کا راستہ تم سے ہی کُھلے گا۔۔۔ تمہارے سینے میں ایک چراغ روشن ہو چکا ہے اب جو تم سے محبت رکھتا ہے وہ اُس چراغ کی روشنی دیکھ کر تمہارے پاس آ جائے گا اور جو حسد کرنے والا ہو گا وہ پھونکیں مارے گا کہ یہ چراغ بُجھ جائے۔۔۔ مگر تم بے فکر رہنا بس اپنے معاملات اللہ کے سپرد رکھنا اُس کے کسی غیر سے توقع نہ لگانا۔۔ مومنہ: جی ٹھیک ہے۔۔۔۔ شکریہ میں کوشش کروں گی۔۔۔ مومنہ کال بند کر کے واپس نِدا کے پاس چلی جاتی ہے، نِدا: میں آج سمجھی کی تم کس احساس سے گزر رہی ہو، محبت سچ میں انسان کو کھا جاتی ہے اندر ہی اندر سے، مومنہ: نِدا کو ہمت دلاتے ہوئے، محبت ہر حال میں محبت ہوتی ہے چاہے وہ مجازی ہو یا حقیقی۔۔۔ کیونکہ یہ جذبہ دل سے اُبھرتا ہے اوع دل سے اُبھرنے والے جذبات میں ملاوٹ نہیں ہوتی، وہ پاک ہوتے ہیں ہر طلب سے اس لیے تو وہ جذبات محبوب کی خوشی چاہتے ہیں، اور اگر یہی جذبات نفس کے تابع ہو جائیں تو شہوت، ہوس، ضرورت، خواہشات، مطلب جنم لے لیتے ہیں اور پھر محبت ختم ہونا شروع ہو جاتی ہے اور ضرورت و شہوت کی ایک عادت بن جاتی ہے، کتنے ہی محبت کے دعوے دار ہیں جو اپنی نفس کی خواہشات کو پروان چڑھا کر رسوا ہو گئے رسوا کر گئے، پھر جسموں کا کھیل رہ جاتا ہے محبت نہیں رہتی اور وہ بھی آخر کب تک۔۔۔۔۔ نِدا: بڑی خاموشی سے مومنہ کی باتیں سُن رہی تھی، مجھے نہیں پتہ یہ سب کیا ہے بس اتنا پتہ ہے کہ میں بے بس ہو رہی ہوں۔۔۔ اُس شب مومنہ نے اپنے رب کے حضور دعا کی اور اپنے رب سے نِدا کے لیے نِدا کی محبت مانگی اور اپنا حالِ دل اپنے رب کے حضور رکھ کر دعا گو ہوئی۔۔۔ نِدا کو آئے ایک ماہ گزرنے کو تھا کہ اُس کی امی کا فون آیا اُسے، فون سننے کے بعد نِدا بھاگتی ہوئی مومنہ کے پاس آئی اور زور سے گلے سے لگا لیا اُس کو۔۔۔ مومنہ: نِدا کو ایسے خوش اور چِپکے ہوئے دیکھا اپنے ساتھ تو پوچھنے لگی، کیا ہوا میری جان کو؟ نِدا: میرے رب نے میری سُن لی، مجھے نہیں پتہ یہ کب ہوا کیسے ہوا امی نے ابو سے بات کی کہ نِدا کسی لڑکے کو چاہتی ہے تو ابو نے کہا مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا، گھر میری بیٹی نے بسانا ہے میں نے نہیں، اب وہ ملنا چاہتے ہیں اُس لڑکے سے، اب میں شاذین کو ابو سے ملنے کا بولوں گی۔۔۔ مومنہ: یہ تو بہت خوشی کی بات ہے، بالآخر تم کو تمہاری محبت مل جائے گی۔۔۔۔ مومنہ کے چہرے پر مسکراہٹ تھی مگر اندر ایک شعلہ بلند تھا، وہ اندر ہی اندر باتیں کر رہی تھی، یا رب میری محبت کی منزل کیا ہے، کیا میں مل پاؤں گی اپنی محبت سے، مومنہ جذبات کے بہاؤ میں بہتی گئی، نِدا جا چکی تھی اُٹھ کر مگر مومنہ جذبات کی بہتی ندی میں بہتی گئی بہتی گئی، اُسے نہیں پتہ تھا کہ وہ کس محبت کی طالب تھی، بس وہ محبت محبت کا راگ الاپ رہی تھی، ایک ایسی محبت جو اُس کے سامنے تھی اور ایک ایسی محبت جس سے وہ انجان تھی۔۔ ولی اُس کو اعلٰی کی طرف بُلا رہا تھا مگر مومنہ کہیں نہ کہیں ولی کے لیے بھی اپنے اندر محبت کی ایک روشنی محسوس کرتی تھی، کیونکہ اُس کے فرحت بخش لمحات وہ ہوتے تھے جس میں ولی بسا ہوا ہوتا تھا۔۔۔ ولی: صبح سورج کی طلوع ہوتی کرنوں کو باغور دیکھ رہا تھا۔۔۔ میرے مالک بیشک تُو ہی ہر تاریکی کو اُجالے میں بدلنے والا ہے ایک نظام کے تحت ہر چیز اپنے اپنے دائرے میں تیر رہی ہے، آہ اے انسان جس کو تیرے رب نے اشرف بنایا ساری مخلوق سے تُو اپنے دائرے کو پھلانگ کر گمراہ ہو رہا ہے، اے ولی تیری ہلاکت ہے اگر تیرے محبوب نے تُجھ سے نظر چُرا لی تو، اپنے وجود کو فنا کر دے اُس کی محبت میں، ایسے فنا ہو جا کہ نہ تُو رہے نہ تیری میں رہے بس وہ ہی وہ ہو بس وہ ہی وہ ہو۔۔۔ بس وہ بس وہ اور کچھ بھی نہیں ہے، جلا خود کو اس سورج کی طرح اور روشن کر جا تاریک دلوں کو، ہر طلب سے بیگانہ ہو جا، ہر چاہ سے جُداگانہ ہو جا، ہم مست مستئ عشق کے ہمیں دنیا سے ہے کیا ہم جینا مرنا بھول گئے نہ ہمیں فناء و بقاء نہ اپنی کچھ خبر ہمیں نہ یار کا ہے پتہ بستے ہیں اس بستی میں جہاں بندہ نہ خدا ہم وہم گمان یقین سے کبھی کرتے نہیں نبھاء ہم وصل حقیقی پاء گئے جو قلب سے ہے وراء ہم ذات صفات کے منکر "میں" تو" سے رہیں جدا ہم حد سے نکل خدا کی دیں" ھو " کا ناد بجاء ہم مجرم وعدہء الست کے ہم قتل کریں خدا ہم ہوش خرد سے گزر چکے نہ ہمیں جزاء سزا جاری ہے۔۔۔۔۔
  9. چراغِ دل: پارٹ 13 فرحان کو گئے ہوئے ایک ماہ گزر چکا تھا، مومنہ اور نِدا وہاں دونوں ملازمہ کے ساتھ رہ رہی تھیں۔۔۔ مومنہ اپنے دل کی ساری کیفیات اب نِدا پر ہی ظاہر کرتی تھی، کیونکہ ولی سے بات کیے بھی اُسے کافی وقت گزر چکا تھا، مومنہ کے دل میں ولی کے لیے محبت تھی مگر اب وہ آشکار نہیں کر سکتی تھی، وہ نِدا سے بس اتنا کہتی کہ ولی بس میرا مُحسن ہے اور کچھ نہیں، دوسری طرف ولی دن بھر کھیتوں میں گزار دیتا اور شب میں یادِ خُدا میں گُم رہتا، اُس کا دل بھی تذبذب کا شکار تھا کہ مومنہ نے کبھی اُسے دوبارہ اپنے احوال سے آگاہ نہیں کیا، آیا کیا وہ پہلے کی طرح پھر سے غفلت کا شکار ہوگئی ہے کہ نہیں، ایک شب ولی اپنی عبادات و ریاضت کے بعد سونے کے لیے لیٹ گیا، ولی ایک خواب دیکھتا ہے، جس میں وہ ایک جنگل میں ہوتا ہے وہاں بہت سُناٹا ہے، ہلکی ہلکی روشنی کی کرنیں درختوں کی شاخوں سے لڑ جھگڑ کر زمین پر پڑ رہیں تھیں، ولی اُس میں چل رہا ہے ایک طرف،اچانک وہ دیکھتا ہے کہ وہاں ایک درخت کے ساتھ ٹیک لگائے کوئی بیٹھا ہوا ہے، ولی اُس طرف جاتا ہے قریب جا کر دیکھتا ہے تو وہ مومنہ ہوتی ہے، ولی: مومنہ تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ مومنہ: اچانک ولی کو دیکھتے ہی اپنی جگہ سے اُٹھنے لگتی ہے ولی ہاتھ کے اشارے سے کہتا ہے نہیں نہیں بیٹھی رہو۔۔۔ مومنہ: میں اس جنگل کے درختوں کی شاخوں کی طرح خُود میں اُلجھی ہوئی ہوں۔۔۔ ولی: اور یہ اُلجھن کیوں ہے کیسی ہے یہ اُلجھن؟ تم مجھے بتا سکتی تھی، تمہاری اُلجھن دور کر دیتا۔۔۔ مومنہ: کچھ باتیں نہ چاہتے ہوئے بھی دل میں رکھنی پڑھتی ہیں۔۔۔ ولی: یہ بھی بات صحیع ہے۔۔۔ ولی اپنا ہاتھ مومنہ کی طرف بڑھاتے ہوئے۔، چلو اُٹھو ابھی اُلجھی ہوئی گُتھی کو سُلجھا دیتے ہیں مومنہ: ولی کا بڑھتا ہاتھ دیکھ کر ہاتھ پکڑ کر اُٹھ جاتی ہے ولی: ولی مومنہ کا ہاتھ پکڑے ایک طرف چلنا شروع کر دیتا ہے، کچھ دور جاتے ہیں تو ایک ندی آتی ہے، ولی مومنہ کو کہتا ہے تم یہی رکو میں ابھی آیا، اور خود ندی میں اُتر جاتا ہے کچھ دیر بعد آتا ہے تو ولی کے ہاتھ میں ایک پھول ہوتا ہے سفید رنگ کا۔۔۔ مومنہ: بڑے اشتیاق سے انتظار کر رہی ہوتی ہے ولی کا۔۔ ولی: پھول مومنہ کی طرف بڑھاتے ہوئے یہ تمہارے لیے ہے اس کو اپنے پاس رکھ لو۔۔ مومنہ: پھول پکڑتے ہوئے۔۔۔ شکریہ ساتھ ہی ولی کی آنکھ کُھل جاتی ہے اور وہ اُٹھ کر تہجد کی نماز ادا کرتا ہے فجر تک دھیان میں بیٹھا رہتا ہے۔۔۔ مومنہ: فجر کی نماز کے وقت اُٹھی تو اُسے اپنے قریب سے ہلکی ہلکی خُوشبو آتی محسوس ہوئی، اُس نے لائٹ آن کی تو اُس کے تکیے کے پاس ایک سفید رنگ کا پھول پڑا ہوا تھا۔۔۔مومنہ نے پھول پکڑ کر ناک کے قریب کیا تو اُس کی خُوشبو اُس کے پورے وجود میں اُتر گئی۔۔۔وہ حیران کہ یہ پھول آیا کہاں سے۔ مگر اُس کا دل کہہ رہا تھا ضرور ولی نے رکھا ہوگا پہلی بار اتنا خوشبودار پھول دیکھ رہی ہوں۔۔ صبح ہوئی تو مومنہ نے ولی کو کال کی پھول والے ماجرہ کو شئیر کرنے کے لیے۔۔۔۔ ولی: کال اُٹھاتے ہوئے، السلام عليكم ورحمة الله مومنہ: وعلیکم السلام ورحمة الله کیسے ہیں آپ؟ ولی: الحمدللہ میں ٹھیک ہوں تم کیسی ہو؟ مومنہ: جی اللہ کا شکر ہے ٹھیک ہوں۔۔۔ ولی: جی مومنہ سب ٹھیک ہے۔۔۔ مومنہ: ہاں بس ایک بات شئیر کرنی تھی۔۔ ولی: جی کرو مومنہ: آج میں فجر ٹائم اُٹھی تو میرے قریب خوشبو محسوس ہوئی پھر میں دیکھا تو ایک پھول تھا میرے تکیے کے پاس سفید رنگ کا بہت خُوشبو دار۔۔۔ ولی: مسکراتے ہوئے۔۔۔ اُس کی خوشبو بہت پیاری ہے ایسا ہی ہے نا؟ مومنہ: جی جی ولی: وہ پھول اپنے پاس رکھو سنبھال کر کسی باکس میں جالی دار ہو تاکہ خوشبو ملتی رہے تم کو کبھی مُرجھائے گا نہیں وہ۔۔۔ اور باکس لاک کر دینا تاکہ کوئی اُٹھائے بھی نہ۔۔۔ مومنہ: ٹھیک ہے۔۔ کیا آپ نے رکھا وہ پھول۔۔۔ ولی: تم کو ہی تو دیا تھا بس مل گیا تم کو۔۔۔ بس اب خیال رکھنا اِس کا یہ ایک راز ہے تمہارے پاس۔۔۔ مومنہ: جی ٹھیک ہے میں سنبھال کر رکھونگی۔۔۔ ولی: کوئی اور بات کرنی ہے یا پوچھنی، مومنہ: نہیں کوئی خاص بات نہیں ہے۔۔۔ ولی: تو پھر یہ اُلجھایا ہُوا کیوں ہے خُود کو؟ مومنہ: آپ کو کیسے پتہ؟ ولی: جیسے پھول کا پتہ مجھے۔۔۔ مومنہ: پھر تو آپ سے چُھپی ہوئی نہیں ہوگی کوئی بات بھی ولی: شاید ایسا ہی ہو، اور یہ پھول بھی اُسی اُلجھن کو ختم کرنے کے لیے ملا ہے تم کو۔۔۔ مومنہ: ایک خوشی کی لہر مومنہ کے وجود میں دوڑ گئی، اس کا مطلب آپ میرے دل کے احوال سے واقف ہو۔۔۔ ولی: ہو سکتا ہے واقف ہوں۔۔۔۔ مگر جو محبت تمہارے انتظار میں ہے اُس کے آگے یہ محبت بڑی حقیر سی ہے، کیا تم اعلی سے ادنٰی کی طرف آنا چاہتی ہو؟ مومنہ: مجھے سمجھ نہیں آرہی کچھ۔۔۔ کہ کیا کروں کیا کہوں۔۔۔ ولی: تم اپنی اصل سے ابھی واقف نہیں ہو جس دن تم واقف ہو جاؤ گی تم باقی سب محبتوں کو خواہشوں کو خیر آباد کہہ دو گی، مومنہ: تو کیا ہے میری اصلیت پھر، ولی: بہت جلد آشکار ہو جائے گی تم پر۔۔۔ صبر سے گامزن رہو اس سفر پر۔ مومنہ: جی ٹھیک ہے، کوئی نصیحت میرے لیے ولی: نماز پابندی سے پڑھو اس خیال کے ساتھ کہ اللہ تم کو دیکھ رہا ہے قرآن کی تلاوت کرو جتنی ہو سکے ذکر اذکار کرو درود پڑھا کرو اور سب سے ضروری اور اہم بات۔۔۔۔ ادب کو مضبوطی سے تھام لو۔۔۔ مومنہ: جی ٹھیک، ذکر کونسا کروں۔۔ ولی: کلمے کا۔۔ ذکر اس طرح سے کرنا ہے کہ زبان سے شروع ہو اور دل میں اُتر جائے تصور دل پر رکھنا ہے پڑھنا زبان سے ہے۔۔۔۔ جب دیکھو کے دل بھی کر رہا ساتھ تو زبان کو روک کر دل پر ہی دھیان باندھ کر رکھنا ہے۔۔۔ اور تصور کرنا ہے کہ تمہارے دل پر اسم اللہ لکھا ہوا ہے۔۔۔ مومنہ: جی ٹھیک ہے، مومنہ کال بند کرتے ہی پھول کے خیال میں چلی گئی اور اُس کی خوشی کی انتہا نہ رہی کہ ولی نے یہ پھول اُس کو دیا۔۔۔ کچھ ہی دیر میں نِدا روم میں آتی ہے۔۔۔مومنہ کو دیکھتی ہے ایک پھول ہاتھ میں پکڑے ہوئے اُس کی خوشبو ندا کو دروازے تک آتی ہے۔۔ نِدا: بڑی پیاری خوشبو ہے اور یہ پھول کیسا اور کہاں سے آیا۔۔۔ مومنہ: ولی نے خواب میں دیا تھا اور صبح اُٹھی تو تکیے کے پاس پڑا ہوا تھا۔۔ نِدا: حیرت سے مومنہ کی طرف دیکھتے ہوئے پھول پکڑتی ہے، سچ میں؟ مومنہ: ہاں نِدا: اس کا کیا مطلب ہوا؟ مومنہ: کہہ رہا تھا کہ اس میں ایک راز ہے وقت آنے پر پتہ چل جائے گا، سنبھال کر رکھ لو اس کو۔۔۔ نِدا: بڑی عجیب بات ہے ویسے۔۔۔ مومنہ نِدا سے پھول پکڑتی ہے اور ایک شو پیس ہوتا ہے شیشے کا اُس میں رکھ دیتی ہے اور اُس کو بند کر کے رکھ دیتی ہے۔۔ کچھ دن گزرے تو نِدا مومنہ سے کہنے لگی مجھے اب واپس کراچی جانا ہے۔۔ مومنہ: نِدا تم یہ کیا بات کر رہی ہو؟ نِدا: امی کی کال آئی تھی وہ بُلا رہی ہیں ۔۔۔ انہوں نے تو تمہارا بھی کہا تھا۔۔ میں کہا پوچھ کر بتاؤنگی۔۔ مومنہ: نہیں یار میں نہیں جا سکتی میرا دل اب یہاں لگ گیا ہے بہت اور مجھے شور و غُل سے اب اُلجھن سی ہوتی ہے۔۔۔ بہتر ہے تم بھی نہ جاؤ، میں آنٹی سے بات کر لوں گی۔۔۔ نِدا: نہیں یار جانا ضروری ہے میں کچھ دن بعد واپس آؤں گی۔۔ تم کو تنہا نہیں چھوڑ سکتی، بس مجبوری ہے جانا پڑے گا۔۔ مومنہ: ٹھیک ہے جیسے تم کو اچھا لگے۔۔۔ دوسرے دن نِدا کراچی چلی جاتی ہے۔۔ اور مومنہ پھر گھر میں تنہا رہ جاتی ہے اور ساتھ بس ایک ملازمہ۔۔ کچھ دن گزر گئے مومنہ ذکر زیادہ کرنے لگ گئی۔۔۔ ایک دن مومنہ اپنے کمرے میں ذکر کر رہی تھی بیٹھ اُسے محسوس ہوا کہ جیسے کوئی کمرے میں موجود ہے، اُس نے لائٹ آن کی تو کوئی نہیں تھا۔ پھر اُس نے لائٹ آف کی اور ذکر کرنے لگ پڑی۔۔۔ پھر اُسے محسوس ہوا کہ کوئی ہے تو وہ لیٹ گئی اور سونے کی کوشش میں لگ گئی۔۔ کچھ ہی دیر میں نیند آگئی۔۔۔ مومنہ خواب دیکھتی ہے کہ وہ ایک کھنڈر میں ہے وہ بہت ہر ڈراؤنا ہے اور خوفناک، اور اُسے محسوس ہوتا ہے کہ کوئی اُس کے تعاقب میں ہے وہ بار بار پلٹ کر دیکھتی ہے مگر کوئی نہیں ہوتا۔۔۔ پھر اچانک ایک چیز اُس کے آگے گِرتی ہے وہ ڈر جاتی ہے آواز سے ساتھ ہی پیچھے گِرتی ہے وہ پیچھے مُڑ کر دیکھتی ہے تو کچھ نہیں جب آگے دیکھتی ہے تو آگے بھی کچھ نہیں۔۔ مومنہ خوفزدہ ہو جاتی ہے اور اُسے محسوس ہوتا ہے کہ اُس کا دل ڈوب رہا ہے۔۔۔ وہ ڈوب رہی ہے سائے بڑھ رہے ہیں اُس کی سانس رُک رہی ہے۔۔۔ کہ اچانک ایک نُور سا کمرے میں نمودار ہوتا ہے۔۔۔ جس کے نمودار ہوتے ہی تمام سائے ختم ہو جاتے ہیں وہ روشنی موت میں زندگی کی نوید لے کر آتی ہے مومنہ دیکھتی ہے کہ اُس کے ارد گرد نور کا ہالہ بن گیا ہے۔۔۔ اور وہ اُس میں سکون سے کھڑی ہے۔۔۔ ساتھ ہی مومنہ کی آنکھ کُھل جاتی ہے تو کیا دیکھتی ہے کہ ولی اُس کے سامنے کھڑا مسکرا رہا ہے۔۔ مومنہ: ولی آپ اور یہاں ولی: ہاں میں ہی ہوں۔۔۔ مومنہ: آپ کیسے آئے؟ کیا خواب دیکھ رہی ہوں میں ولی: نہیں حقیقت میں ہو تم۔۔۔ بس تم کو ڈرتے ہوئے پایا تو آگیا پاس۔۔ مومنہ: تو کیا وہ نور کا ہالہ آپ تھے؟ ولی: نہیں میں تو یہاں ہوں، وہ نُور تم میں سے ہی نکلا تھا مومنہ: وہ کیسے ولی:وہ کلمے کا نُور تھا جو تم ذکر کرتی ہو۔۔ مومنہ: مگر یہ سب کیا تھا؟ ولی: شیطان انسان کے وجود میں ایسے سرائیت کرتا ہے جیسے خون۔۔۔ اور اب تم ذکر کر رہی ہو ذکر دوام پکڑ کر قلب کو نور کا بنا رہا ہے اور قلب سے خون پورے وجود میں گردش کرتا ہے تو کلمے کا وہ نُور پورے وجود میں گردش کر رہا ہے جس سے شیطان اور نفس کو تکلیف پہنچ رہی تو آگئے تم کو ڈرانے مگر تمہارے نور نے اُن کو بھگا دیا۔۔ مومنہ: کیا سچ میں یہ اندر ہوتے۔۔۔ ولی: کہا تو تھا کہ انسان کے اندر ایک جہان چُھپا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔۔
  10. چراغِ دل: پارٹ 12 صبح ہوئی تو مومنہ کا موڈ آف آف تھا۔۔۔ نِدا نے نوٹ کیا کہ مومنہ آج چپ چپ ہے اور اُس کے چہرے پر خفگی کے آثار نمایاں نظر آ رہے ہیں۔۔۔ نِدا: مومنہ کو مخاطب کرتے ہوئے کیا ہوا آج تم کو؟ کن خیالوں میں گُم ہو؟ مومنہ: خاموشی کو توڑتے ہوئے، سامان پیک کرو ہم واپس جا رہے ہیں، میرا دل گُھٹ رہا ہے یہاں، نِدا: کیا ہوا تم کو؟ مومنہ: کچھ نہیں بس واپس گھر چلتے ہیں مجھے بہت عجیب سا لگ رہا ہے۔۔ نِدا: کیسا عجیب؟ مومنہ:مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ میں دو انجان لوگوں کے ساتھ ہوں۔۔۔ نِدا: یہ کیا بکواس کر رہی ہو؟ مومنہ: نِدا مجھے تم سے تو یہ امید نہیں تھی، تم جانتی تھی ساری بات مگر تم نے مجھ سے شئیر تک نہ کی۔۔۔ نِدا: جب مومنہ نے یہ بات کی تو نِدا کو سمجھ آ گئی کہ ضرور بھائی نے کوئی بات کی ہے۔ میں کیا بات کرتی تم سے یہ کہتی کہ فرحان تم کو چاہتا ہے جب کہ تم پہلے سے ایک محبت کو اپنے دل میں پال رہی ہو۔۔۔ مومنہ: میں ولی سے محبت نہیں کرتی، وہ میرا مُحسن ہے جس نے مجھے دُنیا کے ان اندھیروں سے نکال کر روشنی کا راستہ دکھایا، بس ایک اُنس ہے مجھے ولی سے، اور میں یہ نہیں چاہتی کہ میری راہ میں ابھی کوئی بھی حائل ہو، نِدا: یعنی تم کہہ رہی ہو ولی سے محبت نہیں تم کو؟ تو پھر فرحان بھائی میں کیا کمی ہے؟ مومنہ: میں نے کب کہا کہ کوئی کمی ہے، مگر مجھے وقت چاہیے ابھی خود کے لیے، میں ابھی اس ڈور میں نہیں بندھنا چاہتی، مجھے ابھی خود اپنا نہیں پتہ کہ میرا کل کیا ہوگا، نِدا: ٹھیک ہے میں بھائی کو سمجھا دوں گی، اور ہاں آج کے بعد یہ بیگانوں والی بات دوبارہ نہ کرنا نہیں تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا، مومنہ: نِدا کو گلے سے لگاتے ہوئے سوری یار پتہ نہیں بس عجیب سی کشمکش میں تھی، مجھے نہیں بولنا چاہیے تھا، نِدا: میں بھی اسی لیے خاموش تھی تم سے بات نہیں کر پارہی تھی، مومنہ: اچھا ٹھیک ہے چلو واپس چلتے ہیں، نِدا: ابھی بھی جانا ہے کیا؟ مومنہ: ہاں جانا ضروری ہے مجھے نہیں پتہ کل کیا ہوگا اس لیے بہتر ہے چلے جاتے ہیں، نِدا: نِدا بھی تسلیم میں سر ہلاتے ہوئے بات ٹھیک ہے تمہاری؟ میں بھائی سے بات کرتی ہوں پھر پیکنگ کرتے ہیں، میں انہیں کہتی ہوں کہ مومنہ کی طبیعت نہیں ٹھیک اس لیے واپس چلتے ہیں بس تم بھی یہی کہنا۔۔۔ مومنہ: ٹھیک ہے نِدا باہر آئی تو دیکھا فرحان ابھی تک اپنے ٹینٹ سے نہیں نکلا تھا، شاید وہ رات دیر تک جاگتا رہا، نِدا فرحان کو آواز دیتے ہوئے، بھائی اُٹھیں ہمیں واپس جانا ہے، فرحان: واپسی کا سُن کر بُڑبُڑایا اور کہا اتنی جلدی؟ نِدا: ہاں، مومنہ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی مجھے، فرحان: مومنہ کی طبیعت کا سُنتے ہی یکدم باہر آ گیا، کیا ہُوا اُسے؟ نِدا: پتہ نہیں بول رہی تھی کی طبیعت ٹھیک نہیں واپس چلتے ہیں، فرحان: کچھ سوچتے ہوئے، ٹھیک ہے نِدا: بھائی کوئی بات ہوئی ہے کیا آپ دونوں میں؟ فرحان: تذبذب میں نہیں تو کوئی ایسی بات نہیں ہوئی۔۔ نِدا: اچھا ٹھیک ہے ہم پیکنگ کر لیں پھر چلتے ہیں واپس۔ شام کو سب گھر پہنچ چکے تھے، مومنہ تمام راستے خاموش آئی اور نِدا اور فرحان نے بھی زیادہ بات نہیں کی، مومنہ کےذہن میں کبھی فرحان کی باتیں گردش کرتیں تو کبھی ولی کی یاد اُس کے دل و دماغ میں چھا جاتی۔۔ وقار: کافی ٹائم کے بعد ولی سے ملنے گاؤں آیا تھا، شام ہونے کو تھی اور ولی بیج بو رہا تھا چھوٹی چھوٹی کیاریوں میں۔۔۔۔ وقار: السلام عليكم ورحمة الله ولی: وعلیکم السلام ورحمة الله واہ کیا بات ہے ہمارے دوست کو بھی ہماری یاد آتی ہے کیا؟ وقار: کیا بتاؤں مصروفیات بہت زیادہ بڑھ گئیں ہیں، ولی: ہاں مصروفیات انسان کو ہر چیز سے دور کر دیتی ہیں۔۔۔ یادوں سے، باتوں سے، یہاں تک کے اپنوں سے بھی، وقار: بات تو تمہاری ٹھیک ہے مگر سب ضروری ہے۔۔ ولی: ہاں ضرورت ہی تو بن چکی ہے اب، وقار: کیا لگا رہے ہو؟ ولی: سبزیوں کے بیج بو رہا ہوں، وقار: ولی تم ہر وقت زمین کے ساتھ ہی لگے رہتے ہو۔۔۔ ولی: مسکراتے ہوئے اس کے برعکس میں زمین میں قدرت کے رنگ دیکھتا ہوں، ہم اسی میں اُٹھے ہیں اِسی میں سمائیں گے، دیکھو ہم جو بیج بوتے ہیں زمین اُس بیج کو پروان چڑھا کر ہمیں پھل دیتی ہے، درحقیقت پروان چڑھانے والی ذات اللہ کی ہے پھل دینے والا بھی وہی ہے لیکن اُس نے اپنی یہ قدرت زمین کے اندر چُھپا دی۔۔۔ ہم بھی اسی زمین سے نکلے ہیں ایک حکمت کے تخت، مگر ہم چلتے پھرتے اوپر ہیں ہم اپنا بیج اوپر بوتے ہیں اور پھل زمین کے اندر جا کر پاتے ہیں۔۔۔ جیسے ہم زمین میں جو بوتے ہیں وہ اُگتا ہے ایسے ہی ہم زمین کے اوپر جو بوتے ہیں وہ اندر جا کر پا لیتے ہیں، وقار: تمہاری باتیں بہت گہری ہوتی ہیں ولی: گہرائی انسان کے اندر موجود ہے بس ہم اُس کو دیکھ نہیں پاتے، کائنات سے بھی بڑے گہرے راز پوشیدہ ہیں انسان کے اندر، بس ظاہری دُنیا نے ظاہری نظاروں نے انسان کو اندھا بنا دیا اور وہ اپنا آپ دیکھ ہی نہیں پاتا، وقار: یار میں ایک بات پوچھنی تھی؟ ولی: ہاں پوچھو وقار: تمہارے خواب اتنی حقیقی کیوں ہوتے ہیں، ولی: اس کا تو مجھے بھی نہیں پتہ، یا پھر کہہ لو یہ ایسا معاملہ ہے جس کا بیان ہی نہیں ہے، انسان ہر لمحہ کسی نا کسی سوچ کے محور میں گُم رہتا ہے، جیسا کہ ابھی بیج بو رہے تو سوچ بیج کے ساتھ فصل پر بھی ہے، کام کرتے کام کی سوچ، کھانا بناتے کھانے کی اشیاء کی سوچ، یعنی انسان ہر لمحہ لا تعداد سوچوں کے محور میں گُم رہتا ہے، سوائے نیند کے، جب وہ گہری نیند سو جاتا ہے تب وہ ہر سوچ سے آزاد ہوتا ہے، پھر روح آزاد ہوتی ہے انسانی دماغ کی سوچوں سے، پھر وہ اپنے رب کی قدرت میں اپنے تصرف کے مطابق اُڑان بھرتی ہے، ناسوتی روح بُری مجالس میں، بُرے اور ڈراؤنے خوابوں میں، بُرائی کے اور دنیا داری کے لوازمات دیکھتی ہے، ملکوتی روح نعمتوں کو دیکھتی ہے اور مستفید ہوتی ہے۔۔۔ جبروتی روح فرشتوں اور ولیوں کو دیکھتی ہے اور لاہوتی روح انبیاء علیہ السلام اولیا رحمۃ اللّٰہ علیہ کی مجالس کو دیکھتی ہے، پھر وہاں سے زمین ایک گیند کی مانند ہوتی ہے ہر وقت سے آزاد، پھر انسان دیکھتا ہے کبھی اپنا ماضی کبھی مستقبل، کیوں کہ وقت کی قید سے وہ آزاد ہوتا ہے، اکثر ہم اپنا بچپن دیکھ لیتے ہیں جوانی یا بڑھاپا، اور کچھ خواب حقیقت بن جاتے ہیں اور کچھ نصیحت کچھ تنبہیہ، کچھ آزمائش اور کچھ صرف خیال۔۔ وقار: یہ تو بہت بڑا معمہ ہے خوابوں کا؟ ولی: ہاں سچ کہا بہت بڑا معمہ جس کو سمجھنا سب کے بس کی بات نہیں، وقار: کیا انسان اس پر لکھ سکتا ہے؟ ولی: نہیں انسان اس پر لکھ نہیں سکتا، کیونکہ مادہ پرست لوگ ہر چیز کی دلیل مانگتے ہیں انہیں شواہد چاہیے ہوتے ہیں، اور خوابوں کا کوئی شاہد نہیں ہوتا سوائے اللہ کے۔۔۔ وقار: ہاں بات تو تمہاری ٹھیک ہے؟ ولی: انسان اپنے ہونے نا ہونے کے گُمان سے نکل جائے تو کائنات کی حقیقت اُس پر آشکار ہو جاتی ہے، بس اِس ہونے کے یقین سے نکلنا مشکل ہوتا ہے،۔ رات آج مومنہ جلدی اپنی کمرے میں سونے کے لیے چلی گئی، بیڈ پر ٹیک لگائے بیٹھی تھی وہ پُرسکون ہونا چاہتی تھی، اُس نے ولی کو اپنے تصور میں باندھنا شروع کر دیا، اس حدت سے وہ ولی کو تصور میں یاد کر رہی تھی کہ اُس کے دل سے سوزِ محبت کی آتش بھڑکنے لگی اور آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہوگئے، وہ ولی کو کہہ رہی تھی کہ یہ کیا عالم ہے سکون بھی نہیں قرار بھی نہیں دل کرتا ہے ایک کندھا ہو جس پر سر رکھ کر بس روتی رہوں، مومنہ کے اندر آتشِ عشق کی آگ تیزی سے بھڑکنے لگی اور اُس کا دل زور زور سے اللہ اللہ کرنے لگا، اُسے ایسا لگا رہا تھا جیسے دل آج پھٹ جائے گا، وہ اِسی تصور میں گُم ہوتی گئی ہوتی گئی یہاں تک کے آنسو آنکھوں سے بہہ کر گالوں کو تر کرتے چھال پر گِر رہے تھے۔۔۔ وہ خاموش اندر ہی اندر اترتی گئی جب آنسوؤں کا سیلاب تھم گیا تو اُس کا قلب محوِ خیال ہو چکا تھا وہ تصورات میں ایک وادی میں داخل ہوچکی تھی جہاں نور کی ہلکی ہلکی کرنیں نمودار ہو رہیں تھی مومنہ وہاں ایک چھوٹے سے پتھر کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی، ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا اُس کے وجود میں سکون اتار رہی تھی، اسی سکون کے ساتھ مومنہ سوگئی۔۔۔ نِدا باہر بھائی سے باتیں کر رہی تھی، نِدا: مجھے پتہ ہے کیا بات ہوئی کل رات کو، مومنہ نے مجھے بتا دیا ہے، بھائی مومنہ ابھی شادی کے متعلق نہیں سوچنا چاہتی، اور اُس نے یہ بھی نہیں کہا کہ فرحان اُسے پسند نہیں، بس اُسے ابھی اس بارے میں نہیں سوچنا، فرحان:ٹھیک ہے جیسے مومنہ کی مرضی، صبح میں واپس چلا جاؤں گا۔۔۔ جب مومنہ کا دل چاہے گا تب ہی بات ہوگی۔۔۔ نِدا: جی بھائی یہ بہتر ہے۔۔۔ نِدا اُٹھی روم میں آئی دیکھا تو مومنہ دیوار سے ٹیک لگائے ہی سو رہی ہے، مومنہ کے قریب گئی تو آنکھوں اور گالوں پر آنسوؤں کے سوکھنے کے نشان تھے، اُس کمبل پکڑا اور اُس کے اوپر ڈال کر ساتھ ہی سو گئی۔۔۔ صبح فرحان واپس چلا گیا، مومنہ کو کچھ آرام دہ ماحول نصیب ہوا، ہر گزرتے دن کے ساتھ مومنہ کی اندرونی کیفیت بدلتی جارہی تھی، وہ اب زیادہ تر وقت ذکر میں محو رہ کر گزارتی تھی، بس جب جب نِدا ساتھ ہوتی تھی تب وہ دونوں آپس میں گپ شپ لگاتے تھے اور کچھ نہیں۔۔۔۔ جاری۔۔۔۔
  11. چراغِ دل: پارٹ11 مومنہ: مومنہ آج اپنے روم کی صفائی ستھرائی میں لگی ہوئی تھی۔۔۔اُس نے دیکھا نِدا باہر صحن میں کسی سے فون پر باتیں کر رہی تھی۔۔۔ مومنہ: باہر آئی اور نِدا سے پوچھا کہ کس کی کال آئی تھی؟ نِدا: فرحان بھائی کی کال تھی، وہ آرہا ہے یہاں، کچھ ہی دیر میں پہنچنے والا ہوگا۔۔۔ مومنہ: خیریت سے آرہا ہے؟ اور کب آیا پاکستان وہ؟ نِدا: کچھ دن پہلے ہی آیا تھا، کہہ رہا تھا کہ کچھ ضروری کام ہیں وہ کرنے آیا ہے۔۔ مومنہ: اچھا کیا ضروری کام پڑ گئے۔۔۔ نِدا خاموشی کے عالم میں سوچتے ہوئے، کیونکہ فرحان اُس کا بھائی تھا وہ بھی امریکہ میں ہی رہتا تھا اور پاکستان وہ مومنہ کے لیے ہی آیا تھا۔۔۔ کہ آنٹی کی باتوں باتوں میں اُس نے کہیں مومنہ کی شادی کا احساس محسوس کر لیا تھا اور وہ خود کو مومنہ کے لیے اور مومنہ کو خود کے لیے اہل سمجھ رہا تھا۔۔ بس یہ بات بتاتے ہوئے نِدا کو ہچکچاہٹ سی محسوس ہوئی۔۔۔۔ نِدا: میں اماں جی کے ساتھ مل کر کچھ کچن میں کچھ بنوا لیتی ہوں بول رہا تھا بھوک لگی ہے کھانا کھائے گا۔۔۔ مومنہ: ایک گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے ہاں بہتر ہے بنا لو میں صفائی ستھرائی کر لوں۔۔۔ دونوں اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوگئے۔۔۔ اور ایک لامتناہی سوچ میں گُم نِدا بھی سوچ رہی کے مومنہ کیسا ری ایکش دے گی اور فرحان کو بھی نہیں بتا سکتی تھی کہ مومنہ آجکل کس دوراہے سے گزر رہی ہے وہ پہلے سے ہی محبت کی آگ میں جل رہی ہے۔۔ مومنہ اس سوچ میں گُم کہ فرحان آخر یہاں کیوں آرہا ہے۔۔ کام تھے تو گھر ہوتے یہاں کیا کام اُسے۔۔۔ اُس کے دل میں ایک کشمکش سی جاری تھی۔۔۔خیر دیکھتے ہیں۔۔۔ کچھ ہی ٹائم کے بعد ایک گاڑی گیٹ کے باہر رُکی ہارن دیا تو نِدا بھاگتے ہوئے گئی۔۔۔ نِدا: دروازہ کھولتی ہے فرحان گاڑی اندر پارک کرتا ہے تو نِدا بھاگ کر بھائی کے گلے لگ جاتی ہے۔۔ اور بھائی کو اندر لے جاتی ہے۔۔ اُدھر مومنہ بھی روم سے باہر آتی ہے اور ملتی ہے فرحان سے۔۔۔ سب باتوں میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ فرحان: تم دونوں یہاں کیا کر رہی ہو کراچی کیوں نہیں رہی گھر میں اور یہاں ایک ملازمہ کے ساتھ رہ رہی ہو؟ـ مومنہ: دراصل ہم شور شرابے سے دور وقت گزارنے کے لیے یہاں آگئی نِدا اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ہاں بھائی۔۔۔۔ نِدا: بھائی آپ کا کیسے آنا ہوا بنا بتائے ٹپک پڑے۔۔۔ فرحان: مومنہ کی طرف دیکھتے ہوئے ہیں کچھ ضروری کام جس کے لیے آیا ہوں۔۔۔ دعا کرو کہ کام ہو جائیں سب۔۔۔ مومنہ: کوئی تاثر دئیے بغیر جی اللہ کرے کہ آپ کے سب کام ہوں جائیں۔۔۔۔۔ فرحان: اونچی اور لمبی آواز سے آمین آمین۔۔۔ پھر سب کھانے کی ٹیبل پر جمع ہوگئے اور خوش گپیوں کے ساتھ کھانا کھایا۔۔۔۔ کچھ دیر گزری بعد نِدا اور مومنہ باہر لان میں گھوم پھر کر باتیں کر رہیں تھی اور فرحان کمرے میں کھڑا کھڑکی کے پاس اُن کو دیکھ رہا تھا۔۔ فرحان کے دل میں مومنہ کے لیے محبت کی چنگاری بھڑک رہی تھی مگر اظہار کا موقع نہیں مل رہا تھا اور اُسے یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ مومنہ کا کیا جواب ہوگا۔۔۔ وہ مومنہ سے کسی نہ کسی بہانے سے بات کرنے کے بہانے تراش رہا تھا کہ کیسے میں مومنہ کے پاس ہو سکوں۔۔۔ اُس نے سوچا اگر میں نِدا کے ذریعے یہ بات مومنہ کے دل میں ڈالوں تو یہ بہتر رہے گا کہ میں اُس کو چاہتا ہوں اور شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ ہاں یہ بہتر رہے گا۔۔۔ اس سے اُسے بھی مومنہ کے احساسات کا پتہ چل جائے گا۔۔۔ رات کے ٹائم فرحان نے نِدا کو اپنے پاس بیٹھایا اور کہا کہ مجھے کچھ باتیں کرنی ہیں تم سے۔۔۔ مومنہ روم میں چلی گئی یہ کہتے ہوئے کہ تم بعد میں آجانا۔۔۔ فرحان: نِدا کو پاس بیٹھاتے ہوئے، جیسا کہ تم کو بتا دیا تھا میں نے۔۔۔ مگر اب کُھل کر بتاتا ہوں کہ میں مومنہ کو چاہنے لگا ہوں مگر اُس کو کیسے بتاؤں میری سمجھ میں نہیں آرہا۔۔۔ اب ایک تم ہی ہو جو مومنہ کے بہت قریب ہے تم ہی اب مومنہ تک میری یہ خواہش پہنچا سکتی ہو کہ بھائی تم سے شادی کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔ نِدا: سکون سے ساری بات سُنتے ہوئے۔۔۔ ایک پل خاموش رہ کر، اور اگر بھائی مومنہ نے انکار کر دیا تو؟ پھر کیا مومنہ مجھ سے یا آپ سے کُھل کر بات کر پائے گی یا ہماری نظر میں مومنہ کی حیثیت کم نہیں ہو جائے گی اُس کے انکار پر؟ فرحان: جب انکار کا کوئی جواز ہی نہیں ہوگا تو وہ کیسے انکار کرئے گی۔۔۔ نِدا: بیچ کی بات ظاہر نہیں کرنا چاہ رہی تھی۔۔۔ کیونکہ اگر وہ بات کُھل گئی تو فرحان بھی غصے کا اظہار کرے گا اور پھر وہ ہر طرف بات گُھما بھی دے گا آنٹی انکل کا پتہ نہیں پھر کیا ری ایکشن آئے گا۔۔۔۔ نِدا: بھائی مومنہ میری سب سے پیاری سہیلی ہے اور بچپن سے ہی کزن بھی ہیں اور بہنوں کی طرح بھی۔۔۔۔ میں نہیں چاہتی کہ کسی وجہ سے ہمارے دلوں میں یا ذہن میں کوئی ایسی بات بیٹھ جائے جس سے ہم دور ہوتی جائیں۔۔۔ فرحان: نِدا ایسا کچھ نہیں ہوگا میرا یقین ہے کہ وہ ہاں کر دے گی کیونکہ ہم جانتے بھی ہیں ایک دوسرے کو اور کزنز بھی ہیں۔۔۔ نِدا: ٹھیک ہے کسی مناسب وقت کا انتظار کر کے باتوں باتوں میں ہی بات کروں گی اُس سے۔۔ اور اگر مومنہ نے انکار کیا تو آپ ضد یا اسرار نہیں کریں گے۔۔۔۔ فرحان: ٹھیک ہے نہیں کرونگا ضد۔۔۔۔ نِدا اُٹھ کر کمرے میں چلی گئی۔۔۔ جہاں مومنہ نِدا کے انتظار میں ہی بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ کہیں نہ کہیں مومنہ کی چَھٹی حِس اُسے کہہ رہی تھی کہ کچھ تو بات ہے شاید اُسی کے بارے میں ہے۔۔ کیونکہ مومنہ فرحان کا اپنی طرف دیکھنا محسوس کر گئی تھی کہ فرحان پہلے سے الگ انداز میں دیکھ رہا تھا اُس کو جس میں محبت کا تاثر نظر آ رہا تھا۔۔۔۔ یہ خیال آتے ہی مومنہ نے دماغ کو جھٹک دیا اور نِدا سے مخاطب ہوئی۔۔۔ مومنہ: خیریت تو ہے بھائی بہن میں کیا راز کی باتیں ہورہی تھی۔۔۔۔ نِدا: مومنہ کے پاس بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کچھ نہیں یار کیا باتیں ہونی۔ کافی عرصہ بعد جو ملے تو اِدھر اُدھر کی باتیں ہی کرنی تھیں گھر کے احوال سب کا رہن سہن کوئی اچھی یا بُری بات۔۔ مومنہ: اچھا سہی اچھی بات ہے۔۔ ورنہ میں تو سوچ رہی تھی کہیں کوئی پلاننگ تو نہیں ہورہی۔۔۔ نِدا: خاموش رہی اور بولا چلو سوتے ہیں کافی ٹائم ہو چکا ہے۔۔۔۔ مومنہ: نِدا کے چہرے کو دیکھ کر سمجھ گئی تھی کہ کوئی بات تو ہے جو نِدا نے اندر ہی اندر دبا لی ہے۔۔۔ خیر دوست تو میری ہے رہ تو نہیں سکے گی بات کیے بغیر۔۔۔ کچھ دن ایسے ہی گزر گئے نہ نِدا نے مومنہ سے بات کی نہ فرحان کی بات مومنہ سے ہو سکی۔۔۔ ایک دن فرحان نے دونوں سے کہا چلو آج گھومنے چلتے ہیں نِدا نے حامی بھر لی جب نِدا نے حامی بھری تو مومنہ بھی مان گئی۔۔۔ فرحان نے پکنک کی تیاری کی کچھ اور تینوں نکل گئے اُن کا پروگرام تھا کچھ دن باہر رہیں گے وہیں کھائیں پیئے گے مزہ کریں گے۔۔۔ دو مصنوعی ٹینٹ بھی فرحان نے منگوا لیے تھے رہنے کے لیے۔۔۔ تینوں نکل گئے اور ایک خوبصورت مقام پر اپنا ڈھیرہ جما لیا۔۔۔ فرحان کا مقصد تھا کہ اسی بہانے سے اُس کو اور مومنہ کو بات کرنے کا موقع مل جائے گا۔۔۔ رات کا ٹائم تھا مومنہ باہر لکڑیوں سے جلائی آگے کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ خوبصورت احساس اُس کے وجود میں خوشی کی لہر پیدا کر رہا تھا اور ٹھنڈی ہوا مومنہ کو جذبات کو سرد کر رہی تھی۔۔۔ مومنہ: مومنہ کو وہ کمرہ یاد آگیا جس میں ولی آگ جلا کر اُس کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہ ساری پچھلی یادوں کو یاد کر کے کبھی مسکرا دیتی کبھی اداس ہو جاتی تھی۔۔۔ فرحان: مومنہ کو باہر اکیلے بیٹھا دیکھ کر پاس آگیا۔۔۔ کتنا پیارا موسم ہے نا مومنہ؟ مومنہ: فرحان کی آواز سُن کر یادوں کی دنیا کو سمیٹتی ہوئی۔۔۔ ہاں موسم تو بہت پیارا ہے۔۔۔ فرحان مومنہ کے پاس ہی بیٹھ گیا اور ایک لکڑی کے ساتھ آگ سے کھیلتے ہوئے۔۔۔ فرحان: اور تم کیا کر رہی ہو یہاں بیٹھ کر؟ مومنہ: کچھ نہیں بس اچھا لگ رہا ہے فرحان: اور نِدا کہاں ہے؟ مومنہ: وہ کافی تھک چکی تھی دن بھر کے سفر اور گھومنے سے تو سو گئی جا کر۔۔۔ فرحان: ہاں یہ بھی صحیع ہے مومنہ: اچھا میں بھی چلتی ہوں فرحان: ارے رکو کچھ دیر بیٹھو میرے پاس۔۔۔ مومنہ: فرحان کی طرف دیکھتے ہوئے اُٹھتےاُٹھتے رُک گئی۔۔۔ فرحان: میں نے سُنا ہے کہ تم مستقل پاکستان میں ہی رہنا چاہتی ہو؟ مومنہ: جی خیال تو کچھ ایسا ہی ہے آگے دیکھو موم ڈیڈ کیا کہتے۔۔۔ فرحان: کچھ ہچکچاتے ہوئے، اور شادی کا کیا خیال ہے؟ مومنہ: ابھی تو دور دور تک کوئی خیال نہیں شادی کا۔۔۔ فرحان: اور اگر کوئی لڑکا زندگی میں آگیا تو پھر تو کرو گی؟ مومنہ: میں سمجھی نہیں اس سوال کا مقصد۔۔۔ کوئی لڑکے سے کیا؟ فرحان: اگر کوئی تم کو چاہتا ہو یا کسی کو تم چاہتی ہو؟ مومنہ: مسکراتے ہوئے، ابھی تو ایسا کچھ نہیں، فرحان: کچھ دیر خاموشی کے بعد، مومنہ کیا تم احساسات کو سمجھتی ہو؟ مومنہ: ہاں سمجھ آ جاتا ہے فرحان: تو پھر کیوں نہیں سمجھ پا رہی ہو؟ مومنہ: کیا مطلب تمہارا؟ فرحان: ہچکچاتے ہوئے، مطلب کے میں تم کو پسند کرتا ہوں کیا محسوس نہیں کیا کبھی؟ مومنہ: حیرت سے فرحان کو دیکھتے ہوئے، تم یہ کیا بول رہے ہو ؟ فرحان: جو تم نے سُنا وہی بولا۔۔۔ مومنہ: منہ بگاڑتے ہوئے میں کبھی اس نظر سے نہیں دیکھا اور نہ محسوس کیا۔۔۔ مومنہ سٹ پٹا سی گئی اور اُٹھ کر چلی گئی۔۔ فرحان:خاموشی سے بیٹھے مومنہ کو جاتے دیکھ رہا تھا۔۔۔ مومنہ ٹینٹ میں جا کر اپنے بستر پر بیٹھتے ہوئے، وہ غُصے میں تھی، فرحان نے ایسا سوچا بھی کیسے؟ میں اب یہاں نہیں رکوں گی صبح ہوتے ہی ہم واپس جائیں گے۔۔۔ جاری ہے
  12. چراغِ دل: پارٹ 10 مومنہ: مومنہ اپنے دل میں بھڑکتی ہوئی آگ کو محسوس کر رہی تھی، اور یہ ولی کے لیے محبت کی آگ تھی جو اُس کو ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنے حِصار میں جَھکڑ رہی تھی۔۔۔ مومنہ نا چاہ کر بھی اس جذبے کو پروان چڑھتا دیکھ رہی تھی، نا وہ کسی کو بتا سکتی تھی نہ ولی سے اظہار کر سکتی تھی، کیونکہ کبھی بھی اُس کی باتوں میں مومنہ سے لگاؤ کی جھلک محسوس نہیں ہوئی۔۔۔ نِدا: مومنہ کو مغموم بیٹھا دیکھ کر اس کے پاس آ بیٹھی اور مومنہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا، مومنہ کیا چیز ہے جو تم کو اندر ہی اندر سوچنے پر مجبور کر رہی ہے۔۔۔ مومنہ: ایک آنسو مومنہ کی آنکھ سے لڑی کی طرح بہہ کر گالوں کی گرمی کو محسوس کرتا ہوا دامن میں جا گِرا۔۔۔ اور بس اتنا کہا۔۔۔ " محبت" محبت وہ جذبہ ہے جو مجھے مغموم کر رہا ہے۔۔۔ نِدا یہ محبت انسان کو کیوں جھکڑ لیتی ہے اور یاد کے ایک پنجرے میں قید کر لیتی ہے۔۔۔ انسان پھڑ پھڑاتا ہےمگر کر کچھ نہیں پاتا۔۔۔ نِدا: تو اس آگ میں جلنا ہی کیوں؟ بہتر نہیں انسان اس جذبے سے دور ہی رہے۔۔ مومنہ: یہ وہ آگ ہے جو لگائی نہیں جاتی، محبت ایک عطیہ ہے جس کو عطا ہوتا ہے وہ جل کر راکھ بنتا ہے یا پھر کندن بن جاتا ہے۔۔۔ نِدا: تمہاری باتیں تم ہی جانو۔۔۔ مومنہ: ایک گہری نظر آسمان کی بلندیوں میں گاڑھتے ہوئے۔۔۔ اب پتہ نہیں میں جل کر راکھ بنتی ہوں کہ کندن۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسری طرف ولی اپنے کھیتوں میں زمیں کی سطح ہموار کر رہا تھا اور مٹی کو بُھربُھرا کر رہا تھا۔۔ ایک مُٹھ مٹی ہاتھ میں پکڑ کر اُس کو آہستہ آہستہ زمین پر گِراتے ہوئے انسان اِسی مٹی سے اُٹھا اور اِسی مٹی میں سما جائے گا، ہم کیا لے کر جاتے ہیں ساتھ، مٹی اپنے وجود کو ڈھانپنے والی ہر چیز کو اپنے اوپر ہی چھوڑ کر بس ایک ڈھیلے کو قبول کرتی ہے۔۔۔ پھر انسان اس قدر کیوں اپنے وجود کو ڈھانپنے کی جدوجہد میں لگا رہتا ہے۔۔۔ پھر ایک گہری سوچ کے بعد۔۔۔ ہم زمین کو نرم کرتے ہیں اس میں کھاد ڈالتے ہیں پانی سے تَر رکھتے ہیں کہ زمیں نرم رہے اور فصل اچھی پیدا ہو۔۔۔ کیا سخت اور بنجر زمین جس پر محنت نہ کی ہو کیسے سر سبز ہو سکتی ہے۔۔۔ ہمارا دل بھی اِسی زمین کی طرح ہے۔۔۔ دل پر بھی اگر محنت نہ کی جائے تو وہ بنجر ہو جاتا ہے۔۔۔اِس لیے ہر حال میں محنت کرنی ہے کہ دل گُداز رہے نرم رہے کہ جب فصل پروان چڑھے تو کاشت کار اپنی فصل کو دیکھ کر مسکرا سکے۔۔۔ ولی کہیں نہ کہیں ساری باتیں مومنہ کے اندر پیدا ہونے والے ارتعاش کو پڑھ کر کر رہا تھا۔۔۔ اور وہ محسوس کر رہا تھا کہ مومنہ مشکل ترین لمحات سے گزر رہی ہے۔۔۔ کہ دل اور محبت کا راستہ بڑا کٹھن ہوتا ہے اور مشکل راستوں کو طے کر کے ہی خوبصورت منزل ملتی ہے۔۔۔ منزل پر پہنچ کر کوئی پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھتا کہ وہ کس حال میں یہاں پہنچا۔۔۔منزل کا حصول ہی اُس کی تمام تکلیفوں کا مداوہ کر دیتی ہے۔۔۔ مومنہ: رات کو گہری نیند میں سو رہی تھی وہ خوابوں کی دنیا میں غوطہ زن ہو گئی۔۔۔ وہ دیکھتی ہے کہ وہ ننگے پاؤں ننگے سَر ہے اور ایک ویران جنگل میں سوکھے درختوں کے بیچ ہے زمین اس قدر سخت ہے کہ اس کی سختی سے پھٹی ہوئی ہے جگہ جگہ سے، اور بہت زیادہ گرم ہے وہ جگہ۔۔۔ جگہ جگہ سے دُھواں نکل رہا ہے، مومنہ بھاگ رہی ہے اِدھر اُدھر زمین کی سختی اور گرمی سے مومنہ کے پاؤں جل رہے ہیں وہ بھاگ رہی کے کوئی راستہ مل جائے کہ وہ نِکل سکے یہاں سے۔۔ مگر ہر طرف ایک سا منظر ہے وہ تھک جاتی ہے بھاگ بھاگ کر اُس کےپاؤں زخمی ہیں جل رہے ہیں گلہ اور زبان خشک ہو رہے ہیں پیاس سے اور مومنہ کبھی ایک درخت سے ٹیک لگاتی ہے کبھی دوسرے سے مگر رکتی نہیں۔۔۔ اچانک ایک درخت کے ساتھ ٹیک لگاتی ہے مگر وہ گِر جاتی ہے اور بے ہوش ہو جاتی ہے اچانک وہ دیکھتی ہے ایک ہاتھ نمودار ہوا اس نے مومنہ کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا مومنہ کو۔۔۔ ساتھ ہی مومنہ کی آنکھ کُھل گئی اُس کا وجود پسینے سے شرابور تھا پیروں میں جلن محسوس ہو رہی تھی گلا پیاس سے خُشک تھا۔۔۔ مومنہ اُٹھی پانی پیا اور واپس آ کر بیٹھ گئی اور ولی کا بتایا ہوا ذکر پڑھنے لگ گئی۔۔۔ اُس کو پھر نیند کا غلبہ محسوس ہوا تو وہ لیٹ کر سو گئی۔۔۔ آنکھ لگتے ہی اُس نے خواب دیکھا کہ وہ ایک جھیل کے کنارے ہے اور اُس کے کنارے سے ذرا ہٹ کے ایک درخت ہے جس کے نیچے کوئی بیٹھا ہوا ہے رات کا سماں ہے اور نورانی روشنی آسمان کو خوبصورت بنائے ہوئے ہے چاند اور تارے جگ مگا رہے اور جھیل سے ٹھنڈی ہوا وجود کو سیراب کر رہی ہے۔۔۔ مومنہ اُس درخت کی طرف چل دیتی ہے۔۔ قریب جاتی ہے تو دیکھتی ہے کہ بیٹھی ہوئی شخصیت ولی کی ہے۔۔۔ مومنہ ولی کو دیکھتے ہی پاس جا کر بیٹھ جاتی ہے۔۔۔ ولی: مومنہ کو دیکھ کر مسکرا رہا ہوتا ہے اور کہتا ہے پہنچ گئی تم یہاں؟ مومنہ: آپ کو کیسے پتہ کہ میں یہاں آنا تھا ولی: مسکراتے ہوئے جیسے مجھے یہ پتہ کہ تم ابھی ایک ویران اور بنجر جگہ سے گزر رہی تھی۔۔۔ مومنہ: یہ کیسی حالت ہے؟ ولی: یہ محبت کی جنگ ہے جو تم لڑ رہی ہو۔۔۔ اب دیکھتے ہیں کون جیتتا ہے کون ہارتا ہے مومنہ: تو کیا آپ مجھے ہارنے دو گے؟ ولی:ایک لمبی چُپ کے بعد، میں فقط ایک روشنی ہوں ادنٰی سی اُس چراغ کی جس کو اللہ نے اپنے حبیب حضرت محمدﷺ کی صورت میں روشن کی جلایا جو نُور عطا کر رہے سارے جہان کو۔۔ وہ جس پر چاہے اپنے نور کی کرنیں ڈال دیں اور منور کر دیں۔۔۔ راستے کو روشن کرنا کام ہے ہمارا۔۔۔ گرنے والوں کو سنبھالنا اُن کو پانی پلانا بس اتنا سا کام ہے باقی کا سفر انسان خود طے کرتا ہے، مومنہ: یعنی میں تنہا نہیں ہوں ولی: ایک پیالہ اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اُٹھتا ہے اور جھیل کے کنارے پر بیٹھ کر پانی سے بھرتا ہے اور لا کر مومنہ سے کہتا ہے یہ لو اس کو پی لو۔۔ پی لو کہ تمہارے دل کو تسکین ملے جو آگ بھڑک رہی ہے وہ بُجھ جائے جو زمین سخت ہوگئی ہے وہ سیراب ہو کر نرم ہو جائے اور سوکھے ہوئے درخت سر سبز ہو جائیں اور زمین سبزہ اُگا دے تاکہ چلنے والوں کے پیروں کو کوئی تکلیف نہ پہنچیں۔۔۔ مومنہ: پیالہ ولی سے پکڑ کر پانی پیتے ہوئے محسوس کرتی ہے کہ پانی وجود میں ایک تازگی بخش رہا ہے۔۔ مومنہ پانی پی کر پیالہ ہٹاتی ہے تو دیکھتی ہے کہ ولی وہاں موجود نہیں ہے۔۔۔ مومنہ مُسکرا دیتی ہے اور رب کا شُکر ادا کرتی ہے کہ اُس نے ولی کی صورت میں ایک مُحسن عطا کیا اُس کو۔۔ صبح مومنہ بیدار ہوتی ہے تو ہشاش بشاش سی صورت اور چمکتی آنکھوں کے ساتھ مہک رہی ہوتی ہے۔۔۔ اُسے محسوس ہوتا ہے کہ پانی نے اُسے سیراب کر دیا اور وہ اب سر سبز ہے۔۔۔ نِدا: نِدا بھی مومنہ کے اس چمکتے چہرے کو دیکھ کر کہتی ہے واہ جی آج تو آپ دنیا کی حسین ترین لڑکی لگ رہی ہیں۔۔۔ مومنہ: مسکراتے ہوئے بات ہی کچھ ایسی ہے۔۔ پھر مومنہ ولی کو کال کر کے رات کے خواب کا بتاتی ہے۔۔۔ ولی: مسکراتے ہوئے بس ایک ہی بات کہتا ہے۔۔۔شکر الحمدللہ اللہ نے کرم کیا تم پر اور اپنی رحمت سے نوازہ تم کو۔۔۔ مومنہ: جی صحیع فرما رہے آپ۔۔۔ ولی: سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ دُنیا میں دو قوتیں کارفرما ہیں ایک روحانی قوت ایک شیطانی قوت۔۔۔ انسان پر دونوں قوتیں ہر وقت کارفرما ہوتی ہیں۔۔ روحانیت بھی شیطانیت بھی۔۔۔ بس جو قوت جیت جائے انسان اُس کا پیرو کار ہو جاتا ہے۔۔۔ مومنہ: یہ ایسا کیوں ہے رب سب کو ایک سا بنا دیتا۔۔۔ ولی: اس میں بھی رب کا علم اور حکمت شامل ہے۔۔۔ اگر دنیا میں سبھی نیک ہو جائیں گے تو کوئی کیسے کسی کو کہے گا کہ میں نیک ہوں۔۔۔۔ بُرے انسان ہوں گے تو نیکوں کی پہچان رہے گی۔۔۔ انسان دوئی میں زندگی گزار رہا ہے۔۔۔ ہم ناموں سے پہچانے جاتے ہیں کہ یہ مومنہ ہے یہ ولی ہے یہ صفدر ہے یہ رام داس ہے۔۔۔ اگر نام نہ ہوں تو پھر مذہب پہچان ہے یہ ہندوں ہے یہ مسلم ہے یہ عیسائی ہے۔۔۔ اگر ہم مذہب کو بھی ختم کر دیں تو ایک مرد اور ایک عورت پہچان رہ جاتی ہے اگر ہم اس کو بھی ختم کر دیں تو بابا آدم علیہ السلام کا پُتلا رہ جاتا ہے اگر ہم اُس کو بھی ختم کر دیں تو باقی بس ایک اکائی بچتی ہے وہ واحدہ لا شریک ذات۔۔ جب تک ہم دوئی کے سفر پر ہیں ہم خیر و شَر سے لڑ رہے ہیں۔۔۔ ہم دنیا میں سب الگ الگ جان نظر آتے ہیں مگر آسمان سے دیکھو تو ساری زمین ایک جان نظر آتی ہے۔۔۔ بس اِسی ایک جان کو پانے کا سفر ہے یہ۔۔۔ مومنہ: ایک لمبی آہ بھرتے ہوئے اِس نُقطے کو سمجھنے کے لیے ایک طویل سفر درکار ہے۔۔۔ ولی: بس اپنے دل کا راستہ اپناؤ سفر طویل بھی پلوں میں گزر جاتا ہے۔۔ کیا رب یہ نہیں کہتا، کہ میں تمہاری شہء رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں۔۔۔۔ اب انسان ہی اپنا فاصلہ بڑھا لے تو اُس کی مرضی۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔
×
×
  • Create New...