Jump to content
URDU FUN CLUB
Please Note ! UFC Site Move to New Hosting Server , Service Maybe disabled Some Days , Will be Back Soon as Possible

Story Maker

Basic Cloud
  • Content Count

    1,290
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    74

Story Maker last won the day on November 22

Story Maker had the most liked content!

Community Reputation

1,028

Profile Information

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

29,378 profile views
  1. ڈاکٹر جی! میں اس کام کے لیے حاضر ہوں
  2. محترم سلیمان صاحب کہانی پسند کرنے کے لیے میں اور یو ایف سی ٹیم آپ کا بے حد مشکور ہیں
  3. امید پر دنیا قائم ہے عثمان بھائی
  4. محترم میاں منیر بھائی جب میں ویب سائٹ کی دنیا میں آیا تھا تب میں مکمل طور پر فارغ التحصیل شخص تھا۔ اس وقت سب کچھ تھا لیکن رفتہ رفتہ وقت تبدیل ہوتا گیا خود کی ضروریات بڑھتی گئیں اور میں مصروف ہوتا چلا گیا۔ اب نوبت یہ آ چکی ہے کہ صرف سوشل میڈیا پر چند سیکنڈ کے لیے کوئی ویڈیو دیکھنا شروع کی تو بس دو چار سیکنڈ ہی ویڈیو دیکھ پاتا ہوں۔ اب کچھ دنوں سے خراب لیپ ٹاپ نظروں میں کھٹک رہا تھا اس لیے پہلے اس کو ہلکا پھلکا سیٹ کیا پھر مینشن کردہ پوسٹ کو چیک کرنا شروع کیا سب سے پہلے یہ کہانی نظر آئی جو کہ شاہ جی کی کہانی تھی۔ شاید انہوں نے پہلے دو تین اقساط یہاں اپلوڈ کی تھیں پھر وہ غائب ہوگئے تھے۔ پھر ایڈمن بھائی نے مجھے کہا کہ آپ کہانی کی بقیہ اقساط اپلوڈ کردیں تب میں نے بھی دو تین اقساط اپلوڈ کی لیکن پھر لیپ ٹاپ کی خرابی ، پھر وقت کی کمی، پھر ویب سائٹ مختلف وجوہات کی بنا پر اوپن نہیں ہوسکی کرتے کراتے یہ ایام آگئے۔ پھر اُس دن شاید آپ کے مینشن شدہ میسج پڑھے تو یقین کریں اس وقت میرے پاس مصروفیات نہ ہونے کے برابر تھیں، اور میں یہاں لیپ ٹاپ سے ہی لاگ ان تھا۔ جو کہ میرا اپنا لیپ ٹاپ تھا۔ میں نے تھوڑی سی کوشش کے بعد یہ کہانی مکمل کاپی پیسٹ کرکے یہاں پوسٹ کردی۔ اس سب کاروائی میں، میری طرف سے آپ کو سارا کریڈٹ جاتا ہے۔ اصل کریڈیٹ عظیم رائٹر شاہ جی کو ہی جاتا ہے لیکن آپ کی یاددہانی سے یہ کہانی یہاں مکمل پوسٹ ہوسکی ہے۔ آپ سب کا دوست سٹوری میکر
  5. جب پوری طرح اندر لےچکی تو اس کے اوپر ٹک گئی اور جاوید پرجھک کر اسے چومنے لگی جاوید میری پیٹھ پر ہاتھ پھیرتا رہا پھر میں نے کھیل شروع کرنے کی ٹھانی اور اوپر کو أٹھ کر زور سے نیچے ہوئی دوچاربار ایسا کرنے سے میری چوت کی دیواروں نے تھوڑا تھوڑا رس چھوڑا اور پھسلن سی ہوگئی مگر یہ کیا لن ڈھیلا ہو گیا اس میں وہ اکڑ نہ رہی جو مجھے شاد کرسکتی میں مایوس سی ہو کر بیڈ پر لیٹ گئی اور جاوید کی طرف دیکھا جو مجھے اب زہر لگ رہا تھا دل کرتا تھا اسکا کاٹ کر اسی کے ہاتھ میں دے دوں یا گانڈوکی گانڈ میں ٹھونس دوں ۔ اس پر کچھ ظاھر نہ ہونے دیا مگر اسے احساس اور شرمندگی تو تھی ہی ۔ وہ کھسیانا سا ہو کر بولاکہ یہ میری کمزوری ہے میں نے آپ کو بولڈ پایا تو سوچا آپ سمجھ جائیں گی اس لئے موقع سے فائدہ اٹھانا چاہا ، کوئی بات نہیں جاوید ایسا ہوتا ہے میں نے اس کی دلجوئی کی ، مگر شمیم کے ساتھ تو کوئی ایسا پرابلم نہیں ہوتا ہوگا میں نے اس سے پوچھا میرے زہن میں مووی تھیٹر میں شمیم کا دوسرے آدمی کا لپٹنا گھوم گیا تھا ۔ ’’شروع میں توکچھ پرابلم ہوئی تھی کیونک یہ ارینجذ میرج تھی اور وہ اس کو سمجھ نہ پا رہی تھی مگر جب وہ یہاں آئی تومیں نے أسے اپن بوائے فرینڈ سے ملوایا اوراپنا پرابلم بتایا تب وہ میرے ساتھ تعاون پر آمادہ برضا ہوئی شروع میں تو میرے بوائے فرینڈ کے ساتھ کرنے نہ صرف وہ جھجھکی بلکہ شدید احتججاج بھی کیا ۔ مگرہم نے اسے ترغیب دی کہ جب میرا بوائے فرینڈ میرےساتھ کرےتو وہ دیکھتی رہے ، وہ اس شرط پر راضی ہوئی کہ وہ چھپ کر دیکھے گی ، ہمیں کیا اعتراض تھا ایک رات میرا بوائے ہمارے گھر ہی سویا میں نے شمیم کو بولا وہ بے شک دوسرے کمرے میں چلی جائے اور دیکھے پھر میرے بوائے فرینڈ نےمجھے لگایا اور شمیم دیکھتی رہی جب ہم فارغ ہوئے تو تھوڑی دیر بعد شمیم کمرے میں اکر میرے ساتھ ہی بیڈ پر لیٹ گئی أس نے کچھ نہ پہنا تھا شاید کپژے دوسرے کمرے میں ہی أتار آئی تھی اس نے میرا اکڑا ہوا لن ہاتھ میں لے لیا اور مجھے پیار کرنےلگی میں نے أسے پیار کرتے ہوئے اس کی چوت پر ہاتھ پھیرا تو اتنی گرم تھی جیسے کوئ چمنی ہو میں اس کے اوپر آگیا اور اس کی ٹانگوں میں بیٹھ کر لن اس کی چمنی پر رکھ اندر جلنے کو ڈالدیا ۔ میرا بوائے فرینڈ کب پیچھے رہنے والا تھا اس نے اپنا میری گانڈ میں ڈال کرمجھے دھکے مارنے لگا جتنا زور سے وہ دھکا لگاتا اتنے زور سے میرا بھی شمیم کے اندر چوٹ لگا تا۔ شمیم میرے بوائے فرینڈ سے کہتی زور سے اس کی گانڈ مارو اتنی ہی زور سے وہ مجھے دھکا لگاتا اور میرا لن شمیم کی چوت مییں ایسی ہوئی کاروائی کرتا اس طرح شمیم کے ساتھ اب کوئی پرابلم نہیں ۔ جس وقت مرا بوائے فرینڈ نہ ہومیں نے گھر میں مختلف قسم کے ڈلڈو جمع کئے ہوئے ہیں ۔ میں بڑی توجہ سے سنتی رہی میں خود بہت گرم ہوچکی تھی ۔ میں نے جاویدسے پوچھا کیاتمہارا بوائے فرینڈ شمیم کا بھی بوائے فرینڈ ہے مجھے پھر شمیم کا مووی تھیٹر میں کسی کےساتھ گلے ملنا یاد آگیا ۔ اوہ نہیں أن کی اب اچھی انڈرسٹینڈنگ ہے بس ۔ وہ پُر اعتماد لہجے میں بولا میں نے پھر ایک سوال کردیا کہ تمہیں یقین ہے کہ وہ دونوں تمہاری غیر موجودگی کا فائدہ نہیں أٹھاتے ہونگے ۔ تو وہ بولا وہ دونوں بہت اچھے ہیں مجھ سے دونوں بے وفائی نہ کریں گے اگر وہ کچھ کرتے بھی ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں کیونکہ ان دونوں کی خوشی مجھے عزیزہے میرے ذھن میں پھر سوال أٹھا تو میں نے پؤچھا کیا شمیم تمارے ساتھ خوش ہے ہو بولا ’’ دکھنے میں تو خوش ہے مگراس کے اندر کیا ہے کیسے کہہ سکتا ہوں اب وہ ادھردھر دیکھنے لگا میں نے پوچھا کیا دیکھ رہے ہو تو اس نے کہا کہ کوئی چیز مل جائے موم بتی یا کوئی ڈلڈو ٹائپ ، تو میں سمجھ گئی اور أٹھ کر ادھر ادھر دیکھا پھر بڑھ کر کمرے کے کونے میں پڑے سنگھار میزکی درازوں کوچیک کیا تو اتفاقا ایک موم بتی جو کافی موٹی تھی مل گئی میں وہ لے کر پلٹی تو پھر مجھے ایسا لگا کہ کوئی بیڈ روم میں ہے ۔ کون ہوسکتا ہے آخر یاسمین اتنی جلدی تو نہیں آسکتی تھی ۔ میں بیڈ پر آئی اور جاوید کو گھٹنوں پر بیھٹنے کوکہا اور تھوک لگا کر موم بتی اس کی گانڈ میں دے ڈالی ساتھ میں اسکا لن ہاتھ میں لے لیا جو جلدہی مونسٹر کی طرح بپھرنے لگا میں نے اس کا بوسہ لیا اور بیڈ پر لیٹ گئی اور جاوید کو اپنے اوپر کھینچ لیا اس نے میری ٹانگوں میں بیٹھ کر اپنا ٹوپا میری ننھی منی گڑیا پر رکھا تو گڑیا اس کے اشتیاق اور ڈر سے کانپنے لگی ، اس کو اندر لینے کے لئے بے تاب تھی اور اسے یہ بھی ڈر تھا کہ پتہ نہیں اند کتنا نقصان کر کے آئے میں نے اپنی ٹانگیں اسکی پیٹھ پر جکڑ لیں اور وہ ھٹ ھٹ کر چوٹیں لگانے لگا پہلی دو چارچوٹوں کےبعد چوت کو ہر چوٹ پر انوکھا سواد ملتا میں نے ایک پاؤں اسکی گانڈ میں پڑی موم بتی پر رکھ دیا اور جب وہ مجھے دھکالگاتا تو میرا پاؤں موم بتی پر دباؤ بژھاتا ، مجھے بڑا مزا آنے لگا ابتک جو ہوا بھول گئی تھی اور اب صرف چدوا رہی تھی بڑے شوق سے ۔ جاوید کے کرار ے دھکے جلد ہی میری ندی کے بہنےکا موجب بنے ادھر جاوید نے بھی اپنے حوض سے نہر پھر بھر دی ۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے گلے سے لپٹ گئے اور ایک دوسرے کو بوسے دینے لگے ۔ اب مجھے یاسمین کا خیال آیا تو جلدی سےکپڑے پہن لئے اور جاوید نے میری پیروی کی ۔ لائٹ آن کی تو بیڈ روم سے یاسمین اور شمیم برآمد ہوئیں ہم حیران رہ گئے اور پوچھا تم کب آئیں تو انہوں نے بتایا جب تم اس کمرے آئے اس کے تھوڑی دیر بعد ۔ تم کب آئیں تو انہوں نے بتایا جب تم اس کمرے آئے اس کے تھوڑی دیر بعد ۔ جاوید نے شمیم سے پوچھا تم نے تو جواد کوملنا تھا پھرواپس کیسے آئی ہو ۔تو اس نے بڑی درستگی سے کہا کہ جاوید ہم تینوں کی کوشش سے تم پھنس چکے ہو جس طرح تم نے مجھے ذلیل وخوار کیا ۔ اب وقت آگیا ہے کہ میں تمہیں نہ صرف ذلیل و خوار کروں بلکہ تمہاری ایک اک پائی بھی تم سے چھین لوں ۔ ، مجھے کچھ سمجھ نہ آ رہی تھی تویاسمین بولی ۔ کہ مووی ٹھیٹر میں شمیم نے مجھے ایک کاغذ دیا تھا میں نے اسے پرس میں رکھا اور بھول گئی میں یہی سمجھی تھی کہ شمیم لزبین ہے اور لو لیٹر لکھا ہوگا ۔ اس لئے آپ سے بھی ذکر نہ کیا دوسرے دن یعنی کل میں نے پرس کھولا تو شمیم کا لیٹر ھی تھا کھول کر دیکھا تو لکھا تھا میں مشکل میں ہوں مجھے اکیلے ملو یا اس فون پر بات کرو یہ فون میرا پرائیویٹ ہےمگر صرف ان کمنگ ہے میں فون نہیں کرسکتی میں نے فون کیا تو شمیم نے کہا پلیز ساتھ والے کیفتیریا میں ملو اور ہم نے آدھا گھنٹہ بعد ملاقات کی اور شمیم نے وہاں مجھے جاویداور اسکے بوائے فرینڈ کے بارے بتایا ساری سٹوری سن کر ہم دونوں نے ایک پروگرام بنایا کہ جاوید جیسے لوگوں کو سبق ضرور دینا چاہئیے تاکہ دوسرے عبرت پکڑیں اس کی آواز پُرجوش تھی ’’ مگرتم نے مجھےبھی ہوا نہ لگنے دی‘‘ میں نے رنجیدہ ہوکر کہا ۔ تو یاسمین بولی ’’ آپی مجھے معلوم تھا آپ سے اگر بات کی تو پورا پورا ساتھ دیں گی مگر پھر اس طرح حقیقت کا رنگ نہ بھراجاسکتا ممکن ہے آپ ایسا سوال کردیتیں جس سے یہ مشکوک ہوجاتا کیونکہ یہ ایک بیرسٹر ایٹ لاء ہے اور کافی مشہورہے جاوید نے غصہ سے کہا تم عورتیں بڑا سیانا بنتی ہو عدالت کو ثبوت چاہئیے ہوتا ہے تم اگر تینوں بھی مل کر میرے خلاف گواہی دو توبھی بنا ثبوت میرا بال بھی بیکا نہ کرسکوگی تو یاسمین بولی ۔ ہم نے تمہاری ساری گفتگو ٹیپ کرلی تھی جب تم نے موم بتی منگوائی اس وقت وہ ٹیپ ہم نے باھرجا کرچھپادی اس وقت پولیس شاید تمہارے گھر کی تلاشی لے کر ڈلڈوبرامد کرچکی ہوگی کیونکہ جب ہم باھر گئی تھیں تو پولیس اسٹیشن میں رپورٹ لکھوا آئی تھیں ، جاوید أٹھا اور غصہ سے شمیم کیطرف بڑھنے لگا مگر ڈور پر ناک ہونے کی بدولت اس کے قدم آگےنہ بڑھ سکے ۔ دروازہ کھولکر دیکھا تو قریبی ریستوران سے کھانا ڈلیور کیا گیا تھا ۔ جاوید اسی وقت گھر سےنکل گیا جاتے جاتے اسے دیکھا گیا وہ اپنی ذپ بند کرتا جا رہا تھا جو شاید اب کبھی نہ کھل سکے گی ۔ ان دونوں نے مجھے گلے لگا لیا شمیم کے خوشی سے آنسو نکل رہے تھے میں نے پوچھا’’ بات پولیس تک پہنچ چکی ہے اور میں بھی لپیٹ میں آسکتی ہوں ۔‘‘ نہیں آپی یاسمین بولی ’’ پولیس والوں سے بات ہوچکی ہے کہ ایک خاتون جاوید کو پکڑوانے کے لئے کردارادا کررہی ہے اورنہ وہ پولیس کےسامنے ہوگی نہ اس کا نام آنا چاہئیے ‘‘ یاسمین نے پلیس کے مشورے سے جاوید اوراسکے بوائے فرینڈ سے تعاون کرتی رہی اور پولیس کوثبوت کی ضرورت تھی کہ شمیم نے جو رپوٹ لکھوائی تھی جاوید کے خلاف تو پولیس کی رہنمائی کی بدولت شمیم کو حوصلہ ہوا کیوں کہ جاوید ایک کامیاب بیرسٹر تھا اس پر پولیس کچ ہاتھ نہ ڈالا چاہتی تھی ۔’’ ٹھیک ہے اگر نام آبھی گیا تو رضا ایک پاکستانی کی ھیلپ کا جان کر یہ بات اگنور کردیں گے ۔ میں نے کہا تو یاسمین بولی ’’آپی فکر ہی نہ کریں پولیس اسکے پیچھے کب کی لگی ہوئی اور اسی لئے انہوں نے پرامز کیا ہے کہ خاتون کے لئے کوئی ایسا امکان نہ چھوڑیں گے کہ اس کی خانگی زندگی میں کوئی خلل آئے ۔ جاوید کو گرفتار کرلیا گیا پولیس نے کیس کچھ اس طرح بنایا کہ سیما اور یاسمین کا نام تک نہ آیا ۔ شمیم کو جاوید کی ساری جائیداد مل گئی جو کہ بلینز ڈالرز میں تھی ۔ جاوید سزا سننے کا انتظار کر رہا ہےجوکہ عمر قید تک ہو سکتی ہے ختم ُشد نوٹ مجھے امید نہیں کہ کہانی کو قبولیت کی سند مل سکے گی مجھے یہ بھی تسلیم کہانی میں کافی سقم ہیں میں ناآموز ہوں اور اسی لئے کہانی سے انصاف نہ کرسکی ۔ اگر سٹوری پسند نہ کی گئی تو میں یہی کہہ سکتی ہوں کہ کاش آپ کی امیدوں پر پورا أتر سکتی سیماناز
  6. پچھلی قسط سے جاوید نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور زپ کے اندر رکھ کر بولا دیکھ تو لیا آپ نے اب چھو کر بھی دیکھو ، جاوید صاب یہ تو زیادتی ہے یہ کہتے ہوئے میں ہاتھ نکالنے لگی تو جاوید نے میرا ہاتتھ پکڑ لیا اور وہیں دبائے رکھا ۔ اس کے گرم گرم ہتھیار سے جب ہاتھ لگا تو ایک کرنٹ میرے پورے جسم میں دوڑ گیا میں نے ہولےسے انگلیوں سےٹٹولا اور پھر ہاتھ میں لے لیا اب آگے پڑھیں اس کا ہاتھ میں لینا اچھا لگا ، ’’اسے باھر نکال لیں آپ ‘‘ جاوید نے کہا تو میں اسے باھر نکال کر دیکھنے لگی اگر کھڑا ہوتا تو سات انچ سے کم نہ تھا مجھے اس کے ٹوپے نے متاثر کیا جو اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئےپوریے پائپ پر حاوی دکھائی دیتا تھا تین انچ کی سموتھ گولائی کے اوپرایک بڑی سی خوبصورت آنکھ بہت بھلی لگ رہی تھی میرا خیال تھا کہ میرے چھونے سے صاحب انگڑائی لے کر أٹھ جائیں گے مگر اس پر تو کوئی اثر ہی نہ ہوا یوں ہی نہ کھڑا نہ بیٹھا نہ سویا نہ جاگا کی کیفیت میں پڑا رہا ۔ میں نے اس کو چوما اور پھر منہ میں لے کرچوسا بھی مگر اس نے شاید قسم کھائی ہوئی تھی ۔ میں نے جاوید کی طرف دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا ’’لگتا ہے آپ کچھ نروس ہو‘‘۔ جی جی ابھی ٹھیک ہوجائیگا ۔ وہ اعتماد سے بولا ، میں گیلی ہوچکی تھی اور چاہتی تھی کہ یاسمین لوگوں کے آنے سے پہلے کچھ ٹھنڈی ہوجاؤں ۔ یہی سوچ کر میں نے جاوید کا ہاتھ پکڑا اور بیڈ روم کے ساتھ والے روم میں لے آئی جس میں نئی چادر بچھا ہوا بیڈ ہماری انتظارکر رہاتھا ۔ کمرے میں داخل ہوکر میں نے دروازہ لاک کردیا مگر اس کا ایک دروازہ بیڈروم میں بھی کھلتا تھا جس میں کوئی کنڈا یا لاک سسٹم نہ تھاچنانچہ اسے یوں ہی بند کرکے آئی توچونکہ جاوید نروس لگ رہا تھا اسلئے اس کی ٹائی کے ساتھ شرٹ کو بھی اتار دیا اور پھر بیٹھ کراس کی پینٹ بھی اتار دی اب اس کا لن میرے سامنے اورمنہ کے قریب تھا میں نے اسے پکڑ کے اس کی ٹوپی کے بوسے لئے اور پھر چوپا لگایا مگر لن تھا کہ جیسے کوئی مُردہ اس میں کوئی حرکت ہی نہ ہورہی تھی ۔ میرے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوا تھا ۔ سوچا ننگی ہوجاؤں شاید میرا جسم دیکھ اس میں جان آجائے ۔ میں نے بڑی ادا سے اپنے آپ کو ایک ایک کپڑے سے آذاد کیا اور ایک مست سی چال چلتے ہوئے کپڑے ایک طرف جا کر رکھ دئیے میرا خیال تھا میری مٹکتے کولہے اور لچک کھاتی کمر دیکھ کر لن جاگ کر لہرائے گا مگر نہیں ، یوں لگتا تھا کہ مجھ میں کوئی کشش نہیں رہی یا میں کسی مردے کے ساتھ بند کردی گئی ہوں ، پھر بھی میں نا امید نہ تھی میں نے جاوید کا ہاتھ پکڑا اور اسے بیڈ پر لے آئی اور اسے اپنے ساتھ لٹا لیا ۔ میں نے ایک ہاتھ سے اسکے نیم جان لوڑے کو مٹھانا شروع کردیا اور دوسرے ہاتھ سے اس کے سینہ کے بالوں سے کھیلنے لگی ۔ میں اسے یہ تاثر نہ دینا چاہتی کہ میں اس میں کوئی کمی ہے مرد کو اپنی مردانگی پر ضرورت سے زیادہ بڑھ کر مان ہوتا ہے اگر اسے اس خوش فہمی کے خلاف احساس دلایا جائے تو خطرناک درندہ بھی بن جاتا ہے اور میں کسی خطرہ سے دوچار ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ۔ یہی خطرہ اور خدشہ کافی تھا کہ کیاری کی آبیاری نہ ہوسکے گی اور میرا خود اپنے پر جومان تھا اس کو ٹھیس لگتی کیونکہ میں تو سمجھتی تھی کہ اگر میرا جسم کوئی بوڑھا بھی دیکھ لے تو وقتی طور پرجوان ہو جائے کوئی خصی دیکھ لے تو اس کا بھی کھڑا ہوجائے اب میرا اور جاوید دونوں کا مان داؤ پر لگا ہوا تھا ابھی تک جاوید نےکوئی پیش قدمی نہ کی تھی میں نے اس کا ہاتھ پر بوسہ دیا اور اسے اپنے ممے پر رکھ دیا اس نے تھوڑا سا دبایا اور پھر نپل کو دبانے لگا اس نے میرے لبوں پر بوسہ دیا میں ایک ہاتھ سے برابر اس کے لن کو دبا اور مٹھا رہی تھی مگر وہ اسی حالت میں نیم مردہ پڑا رہا جاوید نے میرے دوسرے ہاتھ پر بوسہ دیا اور درمیانی أنگلی کو چُوسنے لگا انگلی اچھی طرح چوس چوس کے وہ میرا ہاتھ اپنے پیچھے لے گیا اور آہستہ سے میری گیلی أنگلی اپنے پچھلے سوراخ پر ٹکا کر وہاں مساج کروانے لگا ، اس سوراخ کو میری انگلی چھوتی گئی تو میں نے اپنے دوسرے ہاتھ میں تحریک محسوس کی اس کے لن نے تھوڑی سے انگڑائی لینے کی کوشش کی تھی اور میں حیران رہ گئی کہ اسکے پشٹن کا چور سوئچ اس کی پیچھے تھا اسی خیال میں تھی کہ مجھے شک گذرا کہ بیڈ روم میں کوئی ہے کونکہ بھڑے ہوئے دروازے میں دڑاڑ آگئی تھی اور اسکی کھلنےکی آواز بھی آئی تھی مگر کمروں میں اندھیرا تھا کچھ دیکھنے سے قاصر رہی میں نے اس کے سوراخ پر انگلی سے مساج کرتے ہوئے تھوڑا سا دبایا تو أنگلی اندر دھنس گئی اور ادھر اس کا پشٹن پوری طرح رانوں سے ٹکرانے لگا ۔ اب جاوید میں خود اعتمادی آگئی تھی اس نے مجھے اپنے بالوں بھرے سینہ سے بھینچ لیا اس کی چھاتی کے بال میرے مموں کو گدگدانے لگے اور میں برابر اس کی گانڈ میں أنگلی کرتی رہی جس سے اس کے پشٹن کی بیٹری چارج ہوتی رہی ۔ وہ مست ہو کر شرارتوں پر آمادہ ہوچکا تھا مگر مجھے ڈر تھا کہ اگر انگلی نکالی تو وہ کہیں پھر نہ روٹھ جائے ۔ میں أٹھ کر بیٹھ گئی اور اس کا ہتھیار دیکھنے لگی اس کی أٹھان اور سختی دیکھ کر میری چوت میں پانی آرہا تھا میں جلدی سے جاوید کے اوپر آگئی اور لن پر بیٹھ گئ موٹا ٹوپا اندر جاتے ہوئے سواد دے گیا جیسےجیسے وہ اندر جاتا گیا غار کی دیواروں سے ٹکراتا رہا پھسلتا پھسلتا جا کر جب منزل کو چُھو چکا تو چوت نے میزبان کی حیشیت سے اسے بھینچ کرخوش آمدید کہا
  7. دوسرے دن دس بجے یاسمین کی کال نے بستر چھوڑنے پر مجبور کردیا میں نے جمائی لیتے ہوئے پوچھا ۔ بولو یاسمین ’’آپی ابھی ابھی شمیم کا فون آیا تھا‘‘ ’’یہ شمیم کون ہے ‘‘میں نے جاننا چاہا ’’ارے آپی شمیم جاوید ۔ مسز جاوید‘‘ یاسمین نے بتایا ’’اوہ توکیوں فون کیا اس نے ‘‘میں نے پوچھا ’’آپی اس نے کہا تھا کہ کیا آپ آج عشائیہ ہمارے ہاں کرسکتے ہیں ‘‘ یاسمین نے کہا اور بات جاری رکھتے ہوئے بولی ’’میں نے معذرت کرلی کیونکہ شام کے بعد تو ہم اکیلی جا نہیں سکیں گی ‘‘ ’’یہ تو اچھا کیا ورنہ مشکل ہوجاتی ‘‘ مین نے تسلی کا سانس لیا یاسمین نے کہا ’’آپی کل میرے میاں کی سالانہ میٹنگ ہے وہ رات کو دیر سے آئیں گے تو میں شمیم سے کہا اگر ممکن ہو تو کل لنچ ہمارے ساتھ کریں میں نے وضاحت کردی تھی کہ صرف میں اور آپی سیما ہونگی ۔ ‘‘ یاسمین نے کہا اور میں نے پوچھا’’ پھر اس نے کیا بولا‘‘ ’’اس نے بولا تھا میں جاوید سے بات کرکے فون کرتی ہوں یاسمین نے کہہ کر بتایا کہ اس کے فون کی انتظار ہے اب ‘‘ ’’ ٹھیک ہے کل کا اگر ہوجائے تو میں بھی فارغ ہونگی‘‘ میں بولی اور پھر شمیم کے ہی بارے باتیں کرنے لگے کہ وہ دوسرا آدمی کون ہوسکتا ہے اور شمیم کی خصوصی توجہ کی مرکزیاسمین کا ہونا بھی زیر بحث رہا خیر یاسمین مخالف جنس میں انٹرسٹیڈ نہیں شمیم کی دال گلنے کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ یاسمین نے کہا کہ’’ آپی کوئی دوسری لائن پر ہے ہولڈ کریں ‘‘ دومنٹ کے بعد یاسمین نے ھیلو کہا تو میں نے یس کہہ کر اپنی موجودگی کا اظہار کیا آپی شیم کا ہی فون تھا اس نے دعوت پر کل دوپہر بارہ بجے آنے کا کہا ہے ۔ مسزاور مسٹر جاوید دونوں ہونگے ۔ یاسمین نےانفارم کیا ۔ ٹھیک ہے کل میں بھی پہنچ جاونگی تمہاری ھیلپ کے لئے میں نے اپناارادہ ظاھر کیا تو یاسمین بولی’’ مرا خیال ہے آرڈر ہی کرلیں گے مگر آپ پہلے آئیں گی تو پروگرام کے بارے ڈسکس کر لیں گی ‘‘۔ میں نے کہا ٹھیک ہے بنو ۔ اور باتھ روم کی طرف بڑھ گئی ۔ دوسرے دن میں بارہ بجے سے پہلے ہی یاسمین کے ہاں تھی ۔ ڈسکس یہی تھی کہ شمیم بھی ساتھ ہوگی جاوید کے۔ خیر پہلی ہی ملاقات میں سب کچھ کر جانا ناممکن اور غیرمہذبانہ بھی لگتا ۔ اس لئے ہم دونوں اس ملاقات کو ایک عام سی دعوت پر بے تکلف ہونے کا زریعہ جان کر مطمئین ہو گئیں ۔ صحیح بارہ بجے جاوید اپنی بیوی کے ساتھ آئے ۔ ہم دونوں نے ان کا استقبال کیا اور ڈرائنگ روم میں لے آئیں ۔ بات چیت شروع ہوئی مگر بے کلفی نہ ہونے پائی تھی کہ فون کی بیل ہوئی ۔ یاسمین نے فون أٹھایا اور بات کی ۔ دوسری طرف اس کا ہسبنڈ تھا ، یاسمین نے ریسیور رکھ کر بتایا کہ اس کے ھسبنڈ کی سالانہ میٹنگ ہے اوراس نےرپورٹ پیش کرنی تھی مگر وہ رپورٹ ھر ہی بھول گیا ہے اب میٹنگ میں ایک گھنٹہ رہ گیا ہے اور اس کا آفس آدھے گھنٹے کی مسافت پر ہے اگر وہ اب آتا تو اسے ایک گھنٹہ آنےجانے میں لگ سکتا ہے اس نے مجھےرپورٹ لانے کا بولا ہے ۔ اس لئے سوری میں ایک گھنٹہ کے بعد آپکے ساتھ شریک ہو جاؤنگی ۔ جاوید بولا نو پرابلم ہم بھی جاتے ہیں مگر یاسمین نے کہ نہیں ایسے کیسے ہو سکتا ہے مجبوری ہے مجھے جانا ہے کھانا ابھی ڈیلیور نہیں ہوا ۔ آپ لوگ گپ شپ لگائیں میں آتی ہوں میں نے یہی مناسب سمجھا کہ جاوید لوگ رک جائیں ۔ مگر شمیم بولی اوہ آپ اس سائیڈ پرجا رہی ہیں تو مجھے سٹی سے نکلتے ہی فلاں جگہ ڈراپ کر دیں ۔ جاوید نے شمیم کی تائید کی اس کا پروگرام تو تھا ۔ شمیم یاسمین کے ساتھ نکل گئی اب میں اور جاوید رہ گئے اور موضوع توکوئی تھا نہیں یوں ہی ادھر ادھر کی ہانکنے لگے ۔ ’’کیا آپ مجھے باتھ روم کا بتائیں گی کہ کس جانب ہے‘‘ جاید نے پوچھا تو میں نے اسے بتایا اوروہ أٹھ کر ادھر کو گیا میں نے أٹھ کر کولڈ ڈرنک لیا اور پھرصوفہ پر آبیٹھی اتنےمیں جاوید آگیا وہ زیرِ لب مسکرا رہا تھا ، میں نے اسے دیکھا پھر اس کی شرارت بھری مسکراھٹ کو دیکھ کرمیں نےاس کے سراپے پر نظر دوڑائی تو اس کی پنٹ کی زپ کو کھلا پایا اور اس نےانڈر ویئر بھی نہیں پہنا ہوا تھا ، دیکھ کر میں جھینپ گئی میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جاوید صاحب وہ ایک مذاق تھا تو وہ ہنستے ہوئےکہنے لگا ’’کہ مذاق کو حقیقت میں تبدیل کر دیتے ہیں‘‘ ۔ تو میں نے کہا نہیں یہ ناممکن ہے جاوید ابھی تک بیٹھا نہیں کھڑا تھا میں نے پھر اس کی زپ کی طرف دیکھا تواس کا نیم ایستادہ دیکھ کر میرے منہ میں پانی آگیا میں بے خیالی میں زپ کی طرف ہی دیکھے جاری تھی اور سوچ رہی تھی یہ اگر کھڑا ہو جائے تو نہ جانے کیا کر بیٹھے میں ان ہی خیالوں میں تھی کہ معلوم ہی نہ ہوا وہ کب میرے نزدیک آکر کھڑا ہوگیا اور اس کا موٹا تازہ صاف نظر آنے لگا بے شک خوبصوت چیز تھی مگر ابھی وہ سر جھکائے کھڑا تھا جاوید نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور زپ کے اندر رکھ کر بولا دیکھ تو لیا آپ نے اب چھو کر بھی دیکھو ، جاوید صاب یہ تو زیادتی ہے یہ کہتے ہوئے میں ہاتھ نکالنے لگی تو جاوید نے میرا ہاتتھ پکڑ لیا اور وہیں دبائے رکھا ۔ اس کے گرم گرم ہتھیار سے جب ہاتھ لگا تو ایک کرنٹ میرے پورے جسم میں دوڑ گیا میں نے ہولےسے انگلیوں سےٹٹولا اور پھر ہاتھ میں لے لیا بقیہ آخری قسط میں
  8. فون رکھ کر میں نے ایک بھرپور انگڑائی لی سارے بدن میں میٹھا میٹھا درد ہو رہا تھا رضانے میرے کس بل نکال دئیے تھے میں کرسی پر تھوڑا ریلیکس کے لئے دراز ہوگئی اور جاوید کے بارے سوچنے گی ۔ یاسمین کی بے چینی کا خیال آتے ہی میں مسکراتے ہوئے باتھ روم میں گئی اورتازہ پانی سے ٹب کو بھر دیا پھر ضروریات سے فارغ ہوکر میں گرم گرم پانی میں لیٹ گئی ۔ اپنے جسم کو آہستہ آہستہ مساج بھی کرتی رہی کہ میرے ہاتھ رانوں کے سنگم پر جا پہنچے وہاں تھوڑا سامساج کیا تو ہیئر ریمونگ کا خیال آگیا میں ٹب سے نکلی اور باتھ ٹاول سے اپنے آپ کو خشک کرتے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل کی دراز کھولی ۔ بال صفا کریم لگا کر وہیں پڑے میگزین کو دیکھنے لگی ۔ رضاکو عادت ہے جب حاجت سے فارغ ہونے کو آتے ہیں تو کچھ نہ کچھ پڑھتے ہیں چایے نیوز پیپر ہی کیوں نہ ہو تومیں نے دس منٹ کے بعد صفائی کی اور ٹب خالی کرکے پھر اسے بھرا اورببل باتھ لیا اور کچھ دیر شاور کے نیچے کھڑی رہی ۔ ٹاول گاؤن لے کے میں کچن کی طرف آئی اور فرج سے اورنج جوس اور ایک سینڈوچ لے کر میں لیونگ روم میں آکر آہست آہستہ لنچ کرنے گی ۔ ٹی وی کو آن کر کے آل مائی چلڈرن دیکھنے لگی یہ شو کبھی مس نہیں کیا آٹو ریکارڈ ہوجاتا تھا اس لئے جس وقت ٹائم ملتا دیکھتی تھی ۔ سینڈوچ ختم کرکے جوس کی سپ لے رہی تھی کہ فون بجنے لگا ۔ ہیلو ۔ اوہ تم ، یاسمین کیا چل رہا ہے یاسمین ۔ آپی آپ أٹھ گئی ہوا میں ۔ ہاں ابھی ابھی لنچ کیا ہے بولو بڑی ایکسائٹڈ لگ رہی ہو یاسمین ۔ آپی جاوید کو فون کیا تھا ۔ بڑی اچھی طرح بات کی جب میں نے أسے یاددلایا ہماری ملاقت ہسپتال میں ہوئی تھی تو آپی اس نے فورا پوچھا ارے آپ وی ہیں ناں کھلی زپ والی ۔ میں ۔ پھر تم نے کیا کہا یاسمین ۔ آپی میں نے انہیں بتایا ، نہیں میں یاسمین ہوں وہ سیما آپی ہیں تو پھر ، میں نے دلچسپی لیتے ہوئے پوچھا یاسمین ۔ آپی جاوید نے کئی بار تو آپ کا نام دھرایا سیما ، سیما ، سیما یوں لگ رہا آپ کا نام وہ بےخودی میں لے رہا ہے ۔ یاسمین حسب عادت چیزہ لے رہی تھی میں ۔ یاسمین چھوڑو اب اصل بات پر آؤ کب مل رہی ہو جاوید سے یاسمین ۔ کچھ بھی ڈن نہیں ہوا جاوید تو آپ کے بارے ہی پوچھتا رہا اور ملاقات کا بھی اسے یہی عندیہ دیا کہ دو چار دن کے لئے وہ دوسری سٹیٹ جارہا ہے واپسی پر وہ چاہتا ہے کہ اس کے آفس میں کسی شام سنیکس ار کافی کےلئے آئیں اور کچھ گپ شپ بی ہوجئیگی میں ۔ نہیں یاسمین ہم اس کے آفس نہیں جائیں گے ، کہیں اور ملنےکا پروگرام رکھیں گے یاسمین ٹھیک ہے آپی جیسا آپ کہیں ، اس نے آپ کا نمبر مانگا تھا ، ہوسکتا ہے وہ آپ کو فون کرے ، میں ۔ چلو اچھا ہے مجھے بھی اس کا نمبر لکھوا دو ۔ یاسمین نے اس کا نمبر لکھوایا ہم کچھ دیر جاوید کے بارے ہی گپ شپ کرتی رہییں اور پھر فون بند کردیا ، میں ٹی وی دیکھنے لگ گئی مگر ٹی وی میں کوئی دلچسپی کا پروگرام نہ تھا تو میں نے رضا کو فون کیا ہیلو رضا سپیکنگ، رضا ریسیو أٹھاتے ہوا بولا مسز رضا ازہیئر ڈارلنگ ڈارلنگ کیا بات ہے رضا نے پوچھا کچھ خاص نہیں بس بوررہی تھی سوچا تمہیں بھی بور کروں۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا یہ میرا کام تم نے کب سے اپنے ذمہ لے لیا رضا قہقہہ لگا کے بولے کونسا کام جانی میں نے نہ سمجھتے ہوئے کہا ارے بورنگ کرنا میرا کام ہے شاید وہ چیزہ لے کر بولا اور میں اسکی اس بات پر ہنس دی رضا ڈارلنگ آج کیا بناؤں ڈنر کے لئے ۔ میں نے پوچھا ہنی اگر تمہارا فون نہ آتا تو میں کرنے والاتھا ۔ آج کیوں نہ شام کا شو دیکھیں اینیمل انسٹکٹ سنا ہے بڑی ہاٹ مووی ہے ۔ رضا نے پوچھا ، جانی اٹ از گریٹ آئیڈیا ۔ یاسمین لوگوں سے پوچھ لینا چاہئیے کمپنی رہے گی میں نے لقمہ دیا ۔ ٹھیک ہے ہنی ڈنر وہیں کریں گے رضا نے میں نے یاسمین کو کال کی کہ رضا نے Animal Instincts اینیمل انسٹنکٹ دیکھنے کا پروگرام بنایا ہےآج شام کوتم لوگ بھی چلو سنا ہے بڑی ہاٹ ہے مووی میں نے اشتیاق سے کہا او یس بہت کچھ سُنا اور پڑھا ہے یاسمین نے معلومات شئیر کرتے ہوئے کہا کہ مین کردار · Shannon Whirry نے تو سُنا ہے بہت ہی بولڈ سین پکچرائز کرائے ہیں ویسے بھی بولڈ ایکٹریس ہے ۔ اچھا پھر کیا خیال ہے چل رہی ہو کھانا بھی وہیں ہوجائیگا میں نے تصدیق کرنا چاہی ۔ چلو یی سمجھ لو میں ان سے بات کرتی ہوں اگر ان کا کوئی پروگرام نہ ہوا تو پھر ضرور جائیں گے یہ کہہ کر اس نے فون رکھ دیا اور میں شام کے لئے کوئی ہلکا سا لباس دیکھنے لگی ۔کہتے ہوئے ریسیور رکھ دیا جب رضا گھر پہنچے تو میں تیار تھی رضا بھی تبدیل کرکے باھر آئے تو ہم سیدھے مووی تھیٹر جا پہنچے سیٹس رضا نے ٹیلیفون پر ہی بک کرالی تھیں ہمارے پہچنے کی تھوڑی دیر بعد یاسمین اپنے ان کے ساتھ وھیں کیفیتیریا میں آگئی ۔ ھیلو ھائے کے بعد کچھ چپس اور سنیکس کولڈڈرنک لےکر مووی دیکھنے کو اندر داخل ہو گئے ۔ ہم دونوں کیوں کہ مووی دیکھتے ہوئے کُھسر پُسر کرنے کی عادی ہیں اس لئے ہم دونوں درمیان میں تشریف فرما ہوئیں میری رائٹ سائڈ پر رضا اور یاسمین کی لیفٹ سائیڈ اس کا ھبی تھا ۔ فلم شروع ہوتے ہی پیک پر چلی گئی اور مکالمے اور سینز قابل سنسر تھے ۔ اصل میں یہ نیویارک میں ایک سچا واقعہ جس کی کافی تشہیر ہوچکی تھی پر مبنی مووی بنائی گئی اور لوگوں کی أمیدوں کے پیش نظر کافی بولڈ بنائ گئی تھی ۔ ہاف ٹائم میں جب باھر کھلی ہوا میں نکلے تو تقریبا سب کے ہی پیشانی پسینہ سے شرابور ہی تھی ۔ ہم دونوں لیڈیز روم میں چلی گئیں اور فریش ہوکر نکلنے لگیں تو یاسمین نے میرے چُٹکی لی وہ چٹکی لینے کی عادت بد میں مبتلا ہے ھر وقت بے وقت بھی چُٹکی ، میں نےگُھور کر اسے دیکھا تو اس نے سامنے اشارا کیا جہاں ایک دیسی جوڑا ایک دوسرے کی کمر میں ہاتھ ڈالے ایک دوسرے میں مگن تھا ، میں نے شانے أچک کر اگنور کرنے کا کہاتو یاسمین نے سرگوشی کرتے ہوئے بتایا یہ جاویدکی بیوی شمیم ہے ، میں تو حیران رہ گئی ارے کل تو جاوید نے اس کو بیوی کہہ کر ہمارے ساتھ تعارف کروایا تھا ، اتنے میں یاسمین لیڈیز روم کی طرف بڑھی اور ہم چونکہ باھر نکل رہے تھے تو آمنا سامنا تو ہونا ہی تھا۔ اس نے بھی ہمیں دیکھ لیا اور پاس آکر ھیلو ہائے کہنے کے ساتھ ہی یاسمین سے لپٹ گئی اور میں نے محسوس کیا یہ لپٹنا علت سے خالی نہ تھا فارمیسی کے سامنے ہماری ملاقات میں بھی شمیم جاوید بڑی پیار کی نگاہوں سے یاسمین کو دیکھ رہی تھی خیر اس کے بعد اس نےمجھ سے بھی گلےملنے کی رسم پوری کی اور حال احوال پوچھا اس نے بتایا کہ جاوید اندر مووی تھیٹر میں ہی ہے ۔ وہ لیڈیز روم کے اندر چلی گئی ہم تھوڑا آگے بڑھے تو جنٹس روم سے جاوید اپنی زپ بند کرتے ہوئےباھر نکل رہا تھا ہماری اس پر نظر پڑی تو ہم دونوں بے ساختہ ہنس دییں اس نے جب ہمای نظروں کا پیچھا کیا تو اپنے ہاتھوں کو زپ بند کرنے میں مصروف دیکھ کرجھینپ سا گیا اور پھر ہنس دیا ۔ ہم کیونکہ اپنے خاوندوں کے ساتھ تھیں اس لئے زیادہ کچھ نہیں صرف ہیلو ہیلو تک ہی رہے ہم دونوں آگے بڑھنے لگیں تو اس نے مجھے فون کرنے کا اشارہ کیا تو میں نے جوابا أسے فون کرنے کا اشارہ کر دیا ۔ اور ہم دونوں اپنی اپنی سیٹس پر واپس آگئیں ، مووی شروع ہو چکی تھی مگر اب ہم دونوں کی اتنی توجہ مووی پر نہ تھی جتنی شمیم کے بارے تھی ۔ ایک تووہ اپنے خاوند کے ساتھ تھی اور ساتھ ساتھ میں دوسرے آدمی کے ساتھ بھی چپکی ہوئی تھی اس کے رویہ سے أس کے لزبین ہونے کا بھی شک ہوتاتھا ۔ مووی ختم ہوتے ہی ہم جلدی سے باھر نکل آئیں اور باھر ایک طرف ہوکر رضا وغیرہ کا انتظار کرنے لگیں ۔ وہ تینوں اکھٹے ہی نکلے اور ایک ہی کار میں تینوں یعنی مسز جاوید ، جاوید اور دوسرا آدمی روانہ ہوگئے رضا یاسمین کے خاوند کے ساتھ ہی آئے اورقریبی اٹالین ریسٹورنٹ میں جاکر ہم نے ڈنر کیا
  9. پھر میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگیں۔۔۔ تم تیار شیار ہو کر آٹھ بجے تک آ جانا ۔۔ ۔۔۔ پھر یہاں سے اکھٹے ہی ہم ریسٹورنٹ کی طرف چلیں گے۔۔ چنانچہ مامی اور آنٹی کو الوداع کر کے جیسے ہی میں باہر نکلا تو گیلری میں مجھے گوری میم مل گئی۔۔۔اسے دیکھ کر نا جانے کیوں میرے دل کی دھڑکن تیز تر ہو گئی۔۔ اور میں بمشکل اس سے ہائے بولا۔۔۔تو وہ مسکرا کر کہنے لگی آپ کب آئے؟ تو میں اس قاتلِ جاں سے بولا جی کافی دیر ہو گئی ہے پھر میں اس سے بولا میں آپ کی "دوائی" لایا ہوں ۔۔۔ دوائی کا نام سن کر وہ ہنس کر کہنے لگی عدیل نے کیسا پیارا نام تجویز کیا ہے پھر ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولیں ۔۔۔کدھر ہے میری دوائی۔۔۔۔۔تو میں ان سے بولا میری "ڈب " میں ۔۔۔ڈب کا نام سن کر وہ بڑی حیرانی سے بولیں۔۔۔۔واٹ ڈب؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ تو میں نے جلد ی سے اپنے نیفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ادھر۔۔۔ جیسے ہی میں نے نیفے کی طرف اشارہ کیا تو بدقسمتی یہ اشارہ لن کی طرف بھی جاتا تھا۔۔۔۔۔ اس لیئے میرا اشارہ دیکھ کر ۔۔۔ایک لمحے کے لیئے اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔اور وہ میرے لن والی جگہ کو دیکھ کر گھبرا گئی۔۔۔اور ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔آ۔۔آآپ میری دوائی اس جگہ (گملے میں ) میں رکھ دو میں اُٹھا لوں گی۔۔۔ اس کی بات سن کر میں نے بھی ادھر ادھر دیکھا۔۔اور نیفے میں اڑسی ہوئی شراب کی بوتل ۔۔۔۔۔۔۔بجائے گملے میں رکھنے کے اس کے ہاتھ میں پکڑائی۔۔۔۔۔۔۔ اور تیز تیز قدم اُٹھاتا ہوا باہر نکل گیا۔۔۔ رات کو تیار شیار ہو کر میں دوبارہ عدیل کے گھر جا پہنچ کر ۔۔۔ دیکھا تو خواتین میں ایک عجیب سی ہڑبونگ سی مچی ہوئی تھی ۔۔مجھے دیکھ کر انکل شکر ادا کرتے ہوئے بولے۔۔۔۔یار ان خواتین نے تو چھوٹی چھوٹی چیزیں منگوا کر مجھے نیم پاگل کیا ہوا تھا۔۔۔اب تو جان اور تیرا کام۔۔۔۔پھر میرے پوچھنے پر انہوں نے بتلایا ۔۔۔۔۔۔ کہ میرے ساتھ چار خواتین آنٹی، صائمہ باجی ۔۔مامی اور گوری میم نے جا رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔جب میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کیوں نہیں جا رہے؟ تو انہوں نے طبیعت کی خرابی کا بہانہ کر دیا۔۔ ابھی میں ان سے ہیلو ہائے کر رہا تھا کہ ایک طرف سے صائمہ باجی کی آواز سنائی دی وہ کہہ رہی تھیں۔۔ ڈیڈی ذرا۔۔شاہ جی کو میرے پاس بھیجیں۔۔۔ ۔۔تو انکل ہنستے ہوئے بولے ۔۔لو بیٹا اب تم پھنس گئے ہو۔۔۔پھر کہنے لگے۔۔۔۔ میں تو بازار کے چکر لگا لگا کے تھک گیا ۔۔۔۔۔اب تیری باری ہے اور خود آنٹی کے کمرے میں چلے گئے پوزیشن یہ تھی کہ عدیل کے کمرے میں گوری میم اور مامی تیار ہو رہی تھیں جبکہ ایک کمرے میں آنٹی۔۔۔۔۔۔۔ اور ان کے ساتھ والے کمرے میں صائمہ باجی تیار ہو رہی تھیں۔۔۔۔۔ [/size][/color]انکل کے کہنے پر جب میں صائمہ باجی کے کمرے میں پہنچا ۔۔۔۔۔تو وہ تقریباً تیار ہو چکی تھیں ۔۔۔۔گرین کلر کی ٹائیٹ فٹنگ قمیض کہ جس میں ان کے جسم کے نشیب و فراز بہت ہی نمایاں نظر آ رہے تھے خاص کر کھلے گلے میں سے ان کی بھاری چھاتیاں ۔۔۔۔۔۔ تو غضب ڈھا رہیں تھیں۔۔۔۔ جبکہ قمیض کے نیچے انہوں نے حسبِ معمول چست پاجامہ پہنا ہوا تھا جو کہ اتنا چست تھا کہ اس میں سے ان کی موٹی گانڈ نمایاں نظر آ رہی تھی مجھے اپنے جسم کا ایکسرے کرتے دیکھ کر وہ کہنے لگیں ۔۔۔ کیسی لگ رہی ہوں؟ تو میں ان سے بولا ۔۔ میرے جیسے بندے کو ہارٹ اٹیک کرانے کے لیئے آپ کا یہ لباس نہایت مناسب ہے میری بات سن کر وہ مسکراتے ہوئے بولیں ۔۔۔میں تیری ان باتوں کو اچھی طرح سمجھتی ہوں۔۔پھر تیوری چڑھا کر کہنے لگیں۔۔۔ شام کو ملے بغیر کیوں چلے گئے تھے؟ تو میں کان پکڑ کر بولا۔۔۔ سوری جان۔۔۔ تو وہ کہنے لگی میں نے کہا تھا نا کہ ۔۔۔۔ میں موقع نکال لوں گی۔۔۔دیکھ لو نکال لیا۔۔۔۔۔ پھر کہنے لگی تم اپنے شیر کو تیار کرو میں ذرا خواتین کا جائزہ لے کر آتی ہوں۔۔۔۔اتنا کہہ کر انہوں نے سونے کا ایک سیٹ پکڑا اور باہر نکل گئیں ۔۔۔۔ کوئی پانچ منٹ بعد واپس آ کر کہنے لگیں ۔۔۔سب بزی ہیں تو میں بولا اور آپ کے ڈیڈ؟ تو وہ کہنے لگی ماما نے انہیں کسی کام سے بازار بھیجا ہے اس کے ساتھ ہی وہ میری پینٹ میں بند لنڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولیں۔۔۔۔ یہ ابھی تک کھڑا نہیں ہوا؟ تو میں ان سے بولا ۔۔۔کہہ رہا تھا کہ باجی خود کھڑا کرے گی تو ہوں گا۔ورنہ نہیں ۔۔ ۔تو وہ مسکراتے ہوئے بولیں ۔۔۔سیدھی طرح کہہ نا کہ لن چوسوں۔۔۔ پھر دروازے سے باہر جھانک کر دیکھتے ہوئے بولیں۔۔ تم واش روم میں جاؤ۔۔۔ میں بولا وہاں کیوں؟ تو وہ کہنے لگی وہاں کم از کم ایک دم تو پکڑے جانے کا کوئی امکان نہیں ہوگا ۔۔۔چنانچہ میں واش روم چلا گیا ۔۔۔تھوڑی دیر کے بعد۔۔ وہ بھی اندر آ گئیں اور میری پینٹ کی زپ کھول کر لن کو ہاتھ میں لیتے ہوئے بولی۔۔۔۔ تھوڑا سا اکڑا تو ہے۔۔۔اور پھر اکڑوں بیٹھ کر ہلکا ہلکا چوپا لگانے لگیں جیسے ہی میر ا لن ۔۔۔۔۔ تن کر کھڑا ہوا۔۔۔تو وہ اوپر اُٹھیں ۔۔اور یہ کہہ کر باہر نکل گئیں کہ ایک منٹ۔۔۔۔اور پھر وہاں کا جائزہ لے کر واپس آ گئیں آتے ساتھ ہی انہوں نے اپنی ٹائیٹس کو نیچے کیا۔۔۔اور بولی کیسے چودو گے ؟ تو میں نے ان کو دیوار کے ساتھ لگا لیا۔۔۔۔اور پھر جیسے ہی ان کی پھدی چاٹنے کی غرض سے نیچے بیٹھا تو وہ کہنے لگیں نہیں ۔۔نہیں ۔۔۔چاٹنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔اسے للا چایئے۔۔۔۔۔۔اس پر میں نے ہلکی سی زبان ان کی پھدی پر۔۔۔۔ پھیری اور پھر ایک انگلی پھدی میں ڈال کر چیک کیا تو واقعہ ہی ان کی تو وہ پانی سے لبریز پائی گئی ۔۔۔ یہ صورتِ حال دکھ کر میں فرش سے اوپر اُٹھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور لن پر تھوک لگا کر اسے چکنا کیا ۔۔۔۔پھر ان کی ایک ٹانگ اوپر اُٹھائی۔۔ اور لن کو ان کی پھدی میں دھکیل دیا۔۔۔۔تو وہ مدہوش کن آواز میں کہنے لگیں ۔۔۔۔ دو چار ۔۔۔ طاقتور گھسے مار۔۔۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ اور میرے ایسا کرنے سے دوسرے گھسے میں ہی ان کی پھدی میرے لن کے ساتھ چمٹ گی۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی انہیں نے آرگیزم کر دیا۔۔۔۔جیسے ہی ان کی پھدی نے پانی چھوڑا۔۔ تو وہ شہوت سے چُور دبی دبی آواز میں بولیں۔۔۔ ۔۔۔ بس! آج کے لیئے اتنا ہی کافی ہے۔۔۔۔۔۔پھر انہوں نے ہاتھ بڑھا کر لن کو اپنی پھدی سے باہر نکالا ۔۔۔۔اور ٹشو سے اسے صاف کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔ لن کو دھو کر آنا تو میں ان سے بولا وہ کیوں جی؟ تو وہ مسکرا کر کہنے لگیں۔۔۔۔ وہ اس لیئے میری جان کہ ہو سکتا ہے کہ رات موقعہ ملنے پر ثانیہ تیرا للا چوس لے ۔۔۔تو جیسا کہ تم کو معلوم ہے کہ میری پھدی بہت زیادہ مہک آور ہے ۔۔۔۔۔۔ایسا نہ ہو کہ لن چوسنے کے دوران ۔۔۔ پھدی کی سمیل پا کر وہ کہیں بدک ہی نہ جائے۔ اتنا کہہ کر انہوں نے مجھے ایک مختصر سی چمی دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور باہر نکل گئی۔۔۔۔۔ ۔۔۔ان کے جانے کے بعد میں نے لن کو صابن کے ساتھ اچھی طرح سے دھویا۔۔۔۔۔۔۔اور پھر ٹشوز کے ساتھ خشک کر کے میں بھی باہر نکل آیا۔۔۔ دیکھا تو باجی کمرے میں موجود نہ تھیں۔۔۔اس لیئے میں سیدھا ڈرائینگ روم میں جا پہنچا۔۔اور وہاں جا کر ایک صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔۔ابھی مجھے بیٹھے تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ انکل ڈرائینگ روم میں داخل ہوئے۔ ۔۔۔۔ ان کے ہاتھ میں کولڈ ڈرنک تھی جو مجھے دیتے ہوئے بولے میں تمہیں صائمہ کے کمرے میں دیکھ رہا تھا تو میں ان سے بولا۔۔۔۔کوئی کام نہیں تھا تو میں ادھر آ کر بیٹھ گیا۔۔۔۔ میری ڈرنک ختم کرنے کے آدھے گھنٹے بعد زیورات سے لدی پھندی لیڈیز بھی ڈرائینگ روم میں داخل ہو گئیں چاروں بہت خوب صورت لگ رہیں تھیں ۔۔۔۔۔اس ان میں ماسوائے گوری میم کے سب کو میں نے چودا ہوا تھا۔۔اس لیئے میں ایک ایک کو چپکے سے بڑی پیاری لگ رہی ہو ۔۔ کی نوید دینے کے بعد میں نے گاڑی کی چابی پکڑی اور باہر نکل گیا ۔۔۔ ہاں ایک بات بتانا تو میں بھول ہی گیا اور وہ یہ کہ اس دوران میں نے جان بوجھ کر گوری میم کو بلکل لفٹ نہیں کرائی۔۔۔۔۔ ابھی میں گاڑی کو اسٹارٹ کر نے ہی لگا تھا کہ سب سے پہلے گوری پورچ میں داخل ہوئی اور گھوم کر میری طرف آ گئی۔۔۔۔اور کھڑکی پر جھک کر بولی۔۔ ۔۔آپ ناراض ہو؟ ۔۔۔تو میں پھیکی سی ہنسی ہنس کر بولا۔۔۔ نہیں تو۔۔اور سامنے دیکھنے لگا۔۔ تو وہ میری ٹھوڑی کو پکڑ کر اپنی طرف کرتے ہوئے بولی اگر میں نے کچھ غلط کہا تو ۔۔آئی ایم سوری۔اس نے یہ بات کچھ اس ادا سے کہی کہ میں اس حرکت پر ہزار جان سے فدا تو پہلے ہی تھا اب دس ہزار جان سے فدا ہو گیا۔۔۔چنانچہ میں اس سے بولا۔۔۔ اٹس اوکے۔۔تو وہ میری طرف ہاتھ بڑھا کے۔۔بولی آر یو شؤر۔۔۔۔۔تو میں نے اس کے نرم و گداز ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں پکڑا ۔۔۔۔اور اسے دباتے ہوئے بولا۔۔ ۔۔یس ٹو۔۔ مچ شؤر۔۔۔۔۔۔اور اس کے ہاتھ کو چھوڑ دیا۔۔تب گوری نے ایک عجیب حرکت کی اور خود ہی اپنے ہاتھ کو میرے ہونٹوں کی طرف لے گی ۔۔۔۔۔ میں نے ایک لحظہ کے لیئے اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور بڑی آہستگی کے ساتھ اس کی پشت پر بوسہ دے دیا۔۔۔ بوسے کے بعد ۔۔۔۔۔ اس نے عجیب سی نظروں سے میری طرف دیکھا ۔۔۔۔اور پھر۔۔۔کار کا پچھلا دروازہ کھول کر بیٹھ گئی۔۔۔۔"بات " جاری رکھنے کی غرض سے میں اس سے بولا۔۔ یہ بتاؤ کہ باقی لیڈیز کیا کر رہیں تھیں ؟ تو وہ کہنے لگی۔۔۔آئی تھنک وہ کسی خاص بات کو ڈسکس کر رہیں تھیں۔۔ میم کی بات سن کر میں سمجھ گیا کہ وہ رشتہ پوچھنے کے بارے میں صلاح و مشورہ کر رہیں ہو ں گی۔اسی اثنا میں تنیوں خواتین پورچ کی طرف آتی دکھائی دیں۔گاڑی کے پاس آتے ہی آنٹی فرنٹ ڈور کھول کر اس پر ۔۔۔ ۔۔ جبکہ باقی دو خواتین پچھلی سیٹوں پر بیٹھ گئیں۔ میں گاڑی اسٹارٹ کر چلنا شروع ہو گیا۔۔۔راستے میں۔۔۔ میں نے باجی کو مخاطب کر کے بولا۔۔۔ آپا جی ذرا پتی دیو سے معلوم کرو۔۔۔ کہ وہ لوگ گھر سے نکلے ہیں یا نہیں تو وہ جواب دیتے ہوئے کہنے لگیں ۔۔ میرے فون سے پہلے ہی ان کا فون آ گیا تھا کہ وہ سارا خاندان بمعہ انکل کے ریسٹورنٹ میں پہنچ چکے ہیں اور اس وقت وہ ہمارے لیئے چشمِ براہ ہیں۔۔۔۔ ۔گاڑی چلاتے ہوئے بیک مرمر سے میری نظریں گوری میم کے ساتھ چار ہوئیں۔۔۔۔ اس کے ہونٹوں پر ایک دھیمی سی مسکراہٹ کو دیکھ کر " مکیمبو" خوش ہو گیا۔۔ کچھ دیر بعد ہم ایف 7 کے ریسٹورنٹ میں پہنچ گئے دیکھا تو ریسٹورنٹ میں بلکل بھی رش نہ تھا پوچھنے پر پتہ چلا کہ رش صرف ویک اینڈ میں ہوتا ہے ورنہ عام حالات میں اس قسم کے مہنگے ریسٹورنٹس میں کم ہی لوگ آتے ہیں۔۔۔۔دوسری طرف فرزند اور اس کے گھر والے ویسے تو بڑے اخلاق سے اور محبت سے ملے۔۔۔ لیکن اس کے باوجود میں نے محسوس کیا ماحول میں ایک عجیب سا تناؤ تھا۔۔۔ جو کہ شاید میری موجودگی کی وجہ سے تھا۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔چنانچہ اس تناؤ کو محسوس کرتے ہوئے میں نے ادھر ادھر دیکھا ۔۔۔تو سب خاموشی سے کھانے میں مصروف تھے۔۔۔ اس کے بعد میں نے تانیہ کی طرف نظر ڈالی۔۔۔۔ تو وہ بھی سر جھکائے بہت ہی سیریس ہو کر بیٹھی تھی ۔۔۔ خیر جیسے تیسے کھانا ختم ہوا ۔۔۔کھانے کے بعد میں میری نظر ثانیہ کی طرف پڑی تو وہ میری ہی طرف دیکھ رہی تھی جیسے ہی ہماری نطریں چار ہوئیں۔۔۔ تو اس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں مجھے کچھ کہنے کی کوشش کی ۔۔۔لیکن میں ٹینشن کی وجہ سے اس کے اشارے کو سمجھ نہ سکا۔۔ ۔چنانچہ میری طرف سے کوئی رسپانس نہ پا کر ۔۔۔۔۔۔اس نے ڈائیریکٹ ہی کہہ دیا۔۔ ۔۔۔ بھائی ایک منٹ !!!!۔۔۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی وہ اپنی کرسی سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔اور میں جو وہاں سے اُٹھنے کے بہانے ڈھونڈ رہا تھا ثانیہ کی بات سن کر اُٹھ ا اور اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔۔ ۔۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ نہ تو مجھے اور نہ ہی ثانیہ کو کسی نے روکا اور نہ ہی اتنا پوچھا کہ ہم لوگ کہاں جا رہے ہیں۔۔؟۔اس کا یہی مطلب میں آیا کہ فرزند صاحب نے اس کی ڈیوٹی لگائی ہو گی کہ رشتے پوچھنے کے وقت وہ مجھے کہیں باہر لے جائے۔۔۔تھوڑی دور جا کر ثانیہ رک گئی اور میرا حال چال پوچھتے ہوئے بولی آئی ایم سوری بھائی۔۔۔ کہ مجھے نا چاہتے ہوئے بھی آپ کو اُٹھانا پڑا۔۔۔تو میں اس سے بولا ۔۔۔اس میں سوری کی کوئی بات نہیں۔۔میرے خیال میں تو مجھے یہاں آنا ہی نہیں چایئے تھا ۔۔۔لیکن کیا کروں کہ ندرت ممانی کے پر زور اصرار پر آ گیا ۔۔ اس پر وہ کہنے لگی۔۔۔ میرے خیال میں آپ کو ساری بات کا پتہ چل گیا ہو گا ۔۔تو میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا یہ بتاؤ کہ یہ ٹھیک ہو رہا ہے یا غلط ؟؟؟؟۔۔تو وہ کہنے لگی ۔۔۔اگر آپ میری ذات کی بات پوچھتے ہو تو عرض ہے کہ آپ کی نسبت مجھے ساؤتھ افریقہ والا رشتہ کچھ خاص پسند نہیں آیا لیکن مام ڈیڈ اور خاص کر فرزند بھائی کو یہ رشتہ بہت اچھا لگا ہے تو اس پر میں نے اس سے پوچھا کہ یہ بتاؤ کہ تانیہ کا اس رشتے بارے کیا خیال ہے؟ تو وہ جھجھک کر بولی ۔۔۔ اگر میں سچ کہوں تو آپ ناراض تو نہیں ہو گئے؟ تو میں اس سے کہنے لگا۔۔ اس میں ناراض ہونے والی کون سی بات ہے تو وہ کہنے لگی وہ آپ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی تو میں اس سے بولا ۔۔ لیکن اس نے مجھے کبھی محسوس نہیں ہونے دیا تو وہ کہنے لگی۔۔وہ ایسا ہمارے دباؤ کی وجہ سے ایسا کر رہی تھی۔ اس پر میں نے کہا اگر اس کی جگہ تم ہوتی تو کیا کرتی ؟۔۔ تو وہ حسبِ عادت جھٹ سے بولی میں تم کو کبھی ہاتھ سے نہ جانے دیتی ۔۔اس پر میں نے ایک خاص نظر (شہوت بھری) سے اس کی طرف دیکھا اور بولا۔۔۔ جس طرح ابھی میں تم کو ہاتھ سے جانے نہیں دے رہا ۔۔میری بات کا مطلب سمجھ کر وہ ایک دم پریشان ہو کر بولی۔۔ ۔۔۔ تمہارا مطلب ہے ابھی؟ ۔۔تو میں نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔تو وہ تیزی سے بولی سوری یار ۔۔۔میں تمہارے ساتھ کہیں نہیں جانے والی۔۔۔تو میں اس سے بولا محترمہ آپ کو لے جانے کی بات کون کر رہا ہے؟ تو وہ چونک کر بولی تو پھر؟ تو میں اس سے کہنے لگا۔۔۔ میں تمہیں یہیں فک کرنا چاہتا ہوں ۔۔میری بات سن کر اس کا چہرہ لال ہو گیا۔۔۔۔اور وہ ہاتھ نچا کر بولی اے مسٹر یہ یورپ نہیں پاکستان ہے چوری چھپے جو مرضی کر لو لیکن سرِ عام ایسا کرنے کی ہر گز اجازت نہیں ۔۔۔۔۔۔ اس پر بولا ۔۔۔میں تمہیں کونسا سرعام چودنے لگا ہوں بلکہ میں تمہیں واش روم میں لے جا کر چودوں گا۔۔۔تو وہ تھوڑے جوش میں آ کر بولی پاگل ہو گئے ہو کیا؟ واش روم میں کسی بھی وقت کوئی بھی آ سکتا ہے تو میں اس سے بولا۔۔ دیکھ لو سارا ریسٹورنٹ خالی ہے تو وہ میری نقل اتارتے ہوئے بولی ۔۔سارا ریسٹورنٹ خالی ہے۔۔۔پھر ناک چڑھا کر کہنے لگی ۔خاک خالی ہے۔۔۔میرے سارے گھر والے یہاں موجود ہیں۔۔ اور خاص ممانی ندرت ! اگر انہوں نے مجھے اوپر سے پکڑ لیا تو؟ پھر بات کو جاری رکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔ تمہیں شاید معلوم نہیں کہ ممانی اور اس کے گھر والے کس قدر مذہبی لوگ واقع ہوئے ہیں ۔۔۔ ممانی کے بارے میں یہ سن کر وہ کٹر مذہبی قسم کی عورت ہے۔۔۔۔۔۔۔ہم ہنس دیئے۔۔ہم چپ رہے۔۔۔۔۔اور اس کا پردہ رکھتے ہوئے منہ سے کچھ نہ بولے۔۔تب اچانک میرے ذہن میں ایک خیال آیا ۔اور میں نے ایک ویٹر کو جو کہ اتفاق سے ہمیں سرو کر رہا اسے پاس بلایا ۔۔ اور ایک طرف لے کر ۔۔۔۔۔ اس کی جیب میں "دوتین کڑکڑاتے نوٹ " ڈالے ۔۔ تو وہ حیران ہو کر بولا۔۔۔ حکم صاحب۔۔۔۔ تو میں ا س سے بولا ۔۔۔ یہ بتاؤ کہ میں اس لڑکی کے ساتھ گُڈ ٹائم کہاں گزار سکتا ہوں؟ تو وہ دانت نکالتے ہوئے بولا۔۔۔ سیکنڈ فلور پر چلے جائیں۔۔۔تو میں ا س سے بولا ۔۔۔وہاں کیا ہے؟ تو وہ آہستہ سے بولا۔۔۔۔وہاں بڑے شاندار واشروم بنے ہیں۔۔ پھر ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا آپ چیک تو کرو۔۔اور آگے چل دیا۔۔۔ اب میں نے ثانیہ کو اپنے پاس بلایا۔۔اور اسے سیکنڈ فلور والے واش روم کے بارے میں بریف کیا ۔۔سن کر اس کی آنکھوں میں ایک چمک سی آگئی۔۔۔لیکن اگلے ہی لمحے اس کی آنکھوں میں چھائی چمک مانند پڑ گئی اور وہ فکر مندی سے بولی۔۔۔۔۔ جو بھی کرنا ہے پلیززززززززززززز جلدی کرنا۔۔ ریسٹورنٹ کا دوسرا فلور ایک دم خالی تھا اس کے ڈائینگ حال سے تھوڑے فاصلے پر واش روم بنے تھے اس وقت چونکہ رش بلکل بھی نہیں تھا اس لیئے یہ فلور بھائیں بھائیں کر رہا تھا چنانچہ ہم لوگ پوری احتیاط سے ۔۔۔۔ " لیڈیز" کی تختی والے آخری واش روم میں گھس گئے۔۔اندر پہنچ کر وہ میرے ساتھ چمٹ گئی اور میرے گالوں پہ بوسہ دیتے ہوئے بولی۔۔ میرے ساتھ رابطہ رکھنا۔۔تو میں نے اس کے نازک ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے کر تھوڑا سا چوسا۔۔۔۔۔۔ اور پھر اس سے بولا۔۔نہیں ٹوٹے گا میری جان۔۔۔۔ پھر میں اس کے شہوت سے لال ہوتے گالوں کو چوم کر بولا۔۔۔۔یہ بتا ۔۔اب تیری پھدی کیسی ہے؟ تو وہ کہنے لگی ۔۔پھدی کا تو پہلے بھی اتنا پرابلم نہیں تھا۔۔۔۔۔البتہ گانڈ میں اب بھی تھوڑا تھوڑا درد ہوتا ہے۔۔ پھر بڑے شوخ لہجے میں بولی۔۔۔ لیکن پھدی اوکے ہے ۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی اس نے اپنی شرٹ کو اوپر کیا اور کالے رنگ کی برا میں سے ۔۔۔۔اپنی چھوٹی چھوٹی چھاتیاں کو باہر نکالتے ہوئے بولی۔۔ میری چھاتیاں چوسو۔سو میں نے اس کے نپلز کو منہ میں لے کر باری باری چوسنا شروع کر دیا۔۔ہاٹ ثانیہ نے فوراً ہی سسکیاں لینی شروع کر دیں ۔۔۔۔ جس سے واش روم کی فضا گرم ہونا شروع ہو گئی ادھر جیسے ہی میں نے اس کی دوسری چھاتی کو چوسو۔۔۔۔۔ کچھ ہی دیر بعد اس نے اپنی چھاتی کو میرے منہ سے چھڑایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور بولی ٹائم کم ہے۔۔۔ تفصیل سے بعد میں چودنا۔۔۔ اور اسکے ساتھ ہی اس نے اپنی ٹائیٹس کو ٹخنوں تک اتار دیا۔۔۔اور کہنے لگی۔ ۔ اب جلدی سے میری چوت پر بھی منہ مار۔۔۔۔ چنانچہ میں واش روم کی ٹائلز پر اکڑوں بیٹھا۔۔۔۔اور اس کی تنگ چوت پر زبان رکھ دی۔۔۔ واہ۔۔۔اس کی پھدی نہایت گرم تھی۔۔۔۔ اور میں اسے چاٹنا شروع ہو گیا۔۔۔۔۔۔ لٹل گرل کی پھدی سے بہت پانی نکل رہا تھا۔۔۔ یہ دیکھ کر میں اس سے بولا۔ تم تو ایک دم ریڈی لگتی ہو تو وہ مست ہو کر بولی ۔۔۔ کیا کروں دوست ۔۔۔ تمہارے لن کا ذہن میں آتے ہی۔۔۔۔ میری پھدی سے پانی رسنا شروع ہو جاتا ہے۔۔۔ پھر تھوڑی سی پھدی چوسنے کے بعد وہ کہنے لگی اب میری باری۔۔اتنا کہتے ہی میری جگہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ واش روم کے ٹائلز پر اکڑوں بیٹھ گئی۔۔اور میری پینٹ کی زپ کھولتے ہوئے بڑی مستی سے بولی سوری یار۔۔جلدی کی وجہ سے ۔۔۔۔میں تیرے اس شاندر لن کو تھوڑا سا ہی چوسوں گی۔۔ ۔۔۔ اتنا کہتے ہی اس نے منہ کھولا۔۔۔ اور لن کو منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ دیر لن چوسنے کے بعد وہ اُٹھ کھڑی ہوئی۔۔اور واش بیسن پر دونوں ہاتھ رکھ کر اپنی ٹانگوں کو کھول کر بولی۔۔۔۔مجھے چودو۔۔۔۔۔۔اب میں ثانیہ کے پیچھے آ کھڑا ہوا ۔۔۔ٹوپے کو تھوک لگا کر اس گیلا کیا۔۔اور اس کی نوک ۔۔ثانیہ کی تنگ پھدی پر رکھ کر بولا۔۔۔ میں ڈالنے لگا ہوں تو وہ مست لہجے میں بولی۔۔۔آرام آرام سے ڈالنا ۔۔لیکن جونہی لن اس کے اندر گیا تو وہ منہ پیچھے کرتے ہوئے سرگوشی میں بولی۔۔۔ لن پھدی میں چلا گیا ہے اب سپیڈی گھسے مار۔۔۔اور میں نے ایسا ہی کیا۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ۔۔سسکیاں لیتے ہوئے پھدی مرواتی رہی ۔۔۔اور تیز تیز گھسے مارنے کا کہتی رہی۔۔۔اور پھر۔۔۔اسی تیزا تیزی میں۔۔۔۔۔۔میں اس کی کنواری چوت میں چھوٹتا چلا گیا۔۔چھوٹتا چلا گیا۔۔۔۔ واپسی پر گاڑی میں کچھ دیر خاموشی رہی پھر اس خاموشی کو میں نے ہی توڑا۔۔۔۔۔ اور آنٹی سے بولا ۔۔ آنٹی جی رشتے کا کیا بنا ؟ تو وہ خوشی سے بولیں شکر ہے بیٹا کہ سانپ بھی مر گیا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹی۔۔آنٹی کی بات ختم ہوتے ہی مامی کہنے لگیں۔۔۔ مزے کی بات یہ ہے انہوں نے رسماً بھی سوچنے کا وقت نہیں لیا بلکہ ترنت ہی ہاں کر دی ۔۔۔ اور خود ہی اگلے ماہ منگنی کی تقریب کا بھی اعلان کر دیا ہے پھر فکر مندی سے بولی اس لیئے بھابھی اجازت ہو تو کہ میں لاہور چلی جاؤں اور میرے خیال میں لڑکے والوں سے صلاح و مشورے کے بعد کیوں نہ منگی کی بجائے نکاح ہی کر دیا جائے۔۔۔۔ اس پر آنٹی کہنے لگیں کہتی تو تو ٹھیک ہی ہو۔۔۔۔ لیکن اس کے لیئے لاہور جانے کی کیا ضرورت ہے یہی بات تم یہاں سے فون پر بھی کر سکتی ہو اس پر مامی اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولی ۔۔ نا بابا نا۔۔۔اگر میں نے یہیں سے بیٹھے بیٹھے ایسا کر لیا تو آپ کو اپنے بھائی کا اچھی طرح سے پتہ ہے ان کی اجازت و مشورے کے بغیر کوئی کام کیا تو وہ میرا سر قلم کر دیں گے اس پر آنٹی ہنس کر بولیں نہ کرو یار اب میرا بھائی اتنا بھی خونخوار نہیں ہے۔۔اس کے بعد خواتین میں ۔۔۔۔بحث و مباحث کے بعد یہ طے پایا کہ اگلی صبع مامی لاہور چلی جائیں گی اور اپنے خاوند سے صلاح و مشورے کے بعد ۔۔منگی یا نکاح کا اعلان کریں گی دوسری طرف میں خواتین کی آپسی ڈسکشن کے دوران بیک مرر سے گوری کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔تو وہ بھی چپکے چپکے میری طرف ہی دیکھ رہی تھی۔۔ جب ہماری آنکھیں چار ہوئیں تو وہ نچلے ہونٹ کو دانتوں میں داب کے دھیمے سے مسکرا دی۔۔۔۔۔ حسب الحکم مامی ۔۔۔۔ اگلے دن صبع صبع میں آنٹی کے گھر پہنچ گیا جہاں سے میں نے مامی کو لے کر ڈائیو کے اڈے پر پہچانا تھا ۔۔وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ مامی اپنے کمرے میں تیار ہو رہی تھیں وقت کم تھا اس لیئے میں ان میں آنٹی سے ہیلو ہائے کر کے سیدھا آنٹی کے کمرے میں چلا گیا دیکھا تو وہ تیار ہو کر کمرے سے باہر نکل رہی تھیں مجھے دیکھتے ہی رک گئیں میں ان سے بولا۔۔ ان کپڑوں میں آپ بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔میری بات سن کر وہ آگے بڑھیں۔۔اور مجھے گلے سے لگتے ہوئے بولیں ۔۔۔تھینک یو دوست! تم نے مجھے بہت اچھے سے چودا ۔۔ تو میں ان سے بولا ۔۔۔آپ کا بھی شکریہ جی۔۔۔۔کہ آپ نے بڑے مزے سے پھدی مروائی۔۔ تو وہ کہنے لگی اگلے ماہ آؤں گی تو ایک دفعہ پھر وہیں جا کر چدائی کریں گے کہ جہاں تم نے مجھے چودا تھا۔۔ مختصر سی کسنگ کے بعد ۔۔۔ میں نے مامی کا بیگ پکڑا اور ہم کمرے سے باہر آ گئے۔۔ مامی کو ڈائیو پر سوار کرنے کے بعد ۔۔ آنٹی کہنے لگی ناشتے کئے بغیر نہیں جانا سو میں نے گیراج میں گاڑی کھڑی کر کے۔۔ ابھی میں ڈرائینگ روم میں بیٹھا ہی تھا کہ گوری میم بھی کمرے میں داخل ہو گئی۔۔۔اس نے لباس ہی ایسا پہنا تھا کہ اسے دیکھ کر میں مچل گیا۔۔۔اس نے ڈھیلی ڈھالی سفید شرٹ پہنی ہوئی تھی قمیض کے نیچے اس نے کالے رنگ کا ڈھیلا ڈھالا سا ٹراؤزر پہنا ہوا تھا۔ شرٹ کے اوپر اس نے ایک پتلی سی چادر لی ہوئی تھی کمرے میں داخل ہو کر اس نے وہی سیکسی مسکراہٹ میری طرف اچھالی( کہ جسے دیکھ کر راہی راستہ بھول جاتے ہیں ۔۔۔ جبکہ میں غریب تو ایک ٹھرکی سا بندہ تھا )۔۔۔ اور کہنے لگی آنٹی (مامی) کو چھوڑ آئے؟ میں اس کو جواب دینے ہی والا تھا کہ کمرے میں آنٹی داخل ہوئیں اور مجھ سے کہنے لگیں۔۔ناشتہ یہیں کرو گے یا ڈائینگ ٹیبل پر لگا دوں ۔۔۔ اس پر میں کاہلی سے بولا کہ یہیں لے آئیں تو وہ گوری سے مخاطب ہو کر بولیں ماریہ بیٹی میرے ساتھ آؤ ۔۔۔کچھ دیر بعد گوری ہاتھ میں ٹرے پکڑے کمرے میں داخل ہوئی اچھی بات یہ ہے کہ اس دفعہ اس نے اپنا دوپٹہ ۔۔ چھاتیوں کی بجائے۔۔۔ اپنے رائیٹ کندھے پر رکھا ہوا تھا ۔ اس نے کچھ زیادہ ہی جھک لر میرے سامنے پڑے ۔۔۔میز پر ٹرے رکھی۔۔۔۔ اور میری نظر ۔۔۔پھسل کر اس کی ڈھیلی ڈھالی۔۔۔شرٹ کی طرف چلی گئی جس کے اوپر والے دو بٹن کھلے ہوئے تھے۔۔۔ اف۔ف۔ف۔ف اس کھلی شرٹ میں سے گوری کی بھاری چھاتیاں صاف دکھائی دے رہی تھیں۔۔گوری میم کی تنی ہوئی چھاتیاں کو اتنے قریب سے دیکھ کر میرے جیسے تجربہ کار بندے کا بھی گلا خشک ۔۔۔اور ہو ش اُڑ گئے ۔۔۔چنانچہ ان بھاری چھاتیوں کی طرف دیکھتے ہوئے میں نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری تو وہ شرارت سے بولی۔۔۔ کیسا لگا؟ تو میں ہکلا کر بولا ۔۔۔کک کیا کیسا لگا؟ تو وہ بڑے اطمینان سے کہنے لگی۔۔۔ بریک فاسٹ کیسا لگا؟ ۔۔۔اگر نہیں پسندآیا۔۔۔۔ تو میں دوسرا لے آؤں ؟ اس پر میں نے اس کی آدھ کیا ۔۔۔ بلکہ پون ننگی چھاتیوں کی طرف بڑی ہی بھوکی نظروں سے دیکھا۔۔اور نیم شہوت بھرے لہجے میں بولا۔۔۔یہ تو کھا کر ہی پتہ چلے گے۔۔میری بات سن کر اس نے ٹرے کو میز پر رکھا اور واپس چلی گئی۔۔ ناشتہ کر کے جب میں واپس آفس جا رہا تھا تو میرے پاس آ کر بولی ڈئیر ایمبیسی والوں نے کل بلایا ہے اس لیئے آپ کل صبع 9 بجے آ جانا۔۔ گوری کی بات سن کر میرا دل باغ باغ ہو گیا کہ اسی بہانے گوری کے ساتھ تنہائی کے کچھ لمحات میسر آ جائیں گے۔۔ چنانچہ اگلے دن میں تیار ہو کر خوشی خوشی گوری کے پاس پہنچا تو یہ دیکھ کر میرے ارمانوں پر اوس پڑ گئی کہ گوری کے ساتھ آنٹی بھی ریڈی تھیں انہیں تیار دیکھ کر میرا موڈ خاصہ خراب ہوا لیکن میں نے ان پر ظاہر نہ ہونے دیا۔۔۔اور انہیں لے کر گاڑی میں بیٹھ گیا ۔۔۔ حسبِ معمول آنٹی فرنٹ سیٹ اور گوری بیک سیٹ پر بیٹھ گئی۔۔ گاڑی چلانے کے کچھ دیر بعد مکمل خاموشی چھائی رہی۔۔۔ اس دوران اچانک میری نظر بیک سیٹ پر پڑی تو گوری کو اپنی طرف متوجہ پایا ۔۔۔ ہم دونوں کی آنکھیں ملیں تو اس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں پوچھا کہ موڈ کیوں خراب ہے؟ تو میں آنٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جواب دیا کہ اس بلا کو جو ساتھ لائی ہو؟ تو وہ کندھے اچکا کر اشارے میں ہی کہنے لگی۔۔۔ اسے میں نہیں لائی بلکہ یہ خود آئی ہے اس کے بعد ہم نے آنکھوں ہی آنکھوں میں بہت سی باتیں کیں۔۔۔۔ اسی دوران اس نے سیٹ پر کچھ اس طریقے سے پہلو بدلا کہ اس کی چھاتیاں نمایاں ہو کر سامنے آ گئیں۔۔۔ اس کی جوانی سے بھر پور۔۔۔۔چھاتیوں کو دیکھ کر میری رال ٹپک پڑی۔۔۔اور میں نے اسے دکھانے کے لیئے۔۔۔ بار بار اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرنا شروع کر دی۔۔۔۔ جسے دیکھ کر وہ دھیمے سے مسکرائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔تھوڑی دیر کے بعد گوری نے ایک بار پھر پہلو بدلا ۔۔۔۔اور اب کی بار جب وہ سیدھی ہو کر بیٹھی تو میں اس کی چھاتیوں کو دیکھ کر میرے اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔۔کیونکہ اس بار اس نے شرٹ کے اوپر والے بٹن کھول دیئے تھے جس کی وجہ سے اس کی گوری گوری۔۔ چھاتیاں آدھ ننگی ہو کر سامنے آ گئیں ۔۔جنہیں آدھ ننگا دیکھ کر میری رالیں ٹپکنے کے ساتھ ساتھ آنکھوں میں شہوت کی چمک بھی آ گئی۔۔۔اس لیئے جب میں نے گرسنہ نظروں اس کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں بھی کچھ اسی قسم کی چمک نظر آئی۔۔۔جسے دیکھ کر" مکیمبو" کا دل باغ باغ ہو گیا۔۔۔۔ یوں وہ سارا راستہ مختلف اینگل سے۔۔۔ مجھے اپنی چھاتیاں دکھاتی اور رجھاتی رہی۔۔۔۔۔۔۔ البتہ واپس آتے ہوئے۔۔ اس نے دوسرے طریقے سے مجھے لُوٹا۔۔۔اور وہ یہ کہ ۔۔سالی۔۔۔ گاڑی کی سیٹ پر ایک ٹانگ رکھ کر کچھ اس انداز سے بیٹھی۔۔۔۔ کہ جس کی وجہ سے اس کی فومی گانڈ کی ایک سائیڈ اس قدر نمایاں ہو کر سامنے آئی۔۔۔ کہ جسے دیکھ کر مجھے فل ہوشیاری آ گئی۔۔۔۔۔۔ اگر اس وقت میرے اور گوری کے درمیان آنٹی نہ ہوتی تو یقیناً میرے لن نے پینٹ پھاڑ کے باہر آ آنا تھا۔۔۔۔ سفارت خانے سے واپسی پر وہ بہت خوش تھی بولی ویزا لگ گیا ہے لیکن میں نے کچھ شاپنگ کرنی ہے تو میں اس سے بولا۔۔ ابھی چلو تو وہ کہنے لگی نہیں شام کو چلیں گے۔(مطلب ابھی آنٹی ساتھ ہے) ۔۔۔شام کو تیار ہو کر جب میں آنٹی کے گھر پہنچا تو ہمارے ساتھ جانے کے لیئے۔۔۔۔ آنٹی بھی ریڈی تھیں۔۔ انہیں تیار دیکھ کر غصہ تو بہت آیا لیکن میں پی گیا۔۔۔ اور انہیں لے کر شاپنگ مال آ گیا۔۔شاپنگ مال میں بھی وہ ہمارے ساتھ ساتھ رہیں ۔ صورتِ حال کو بھانپ کر گوری نے بھی زیادہ تر ونڈو شاپنگ ہی کی۔۔۔۔۔۔۔ مسلہ یہ تھا کہ ہم آنٹی کو کچھ کہہ بھی نہیں سکتے تھے اور خاص کر میں گوری کے بنا رہ بھی نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ مجھے حیلے بہانوں سے بہت زیادہ ٹیز کر رہی تھی جس کی وجہ سے اسے حاصل کرنے کا میرا شوق۔۔۔ جنون میں بدلتا رہا تھا مثلاً جس شام میں اسے شاپنگ مال لے کر گیا تھا تو آنٹی سے آنکھ بچا ۔۔۔۔اور رش کا فائدہ اُٹھا کر اس نے دو تین بار بڑے طریقے سے اپنی فومی گانڈ کو میرے ساتھ ٹچ کیا تھا۔۔۔۔خاص کر پبلک پلیس پر وہ اپنی موٹی گانڈ کو اس طرح سے ۔۔۔ میرے نازک اعضاء ( لن) کے ساتھ ٹچ کرتی کہ ۔۔۔۔اس ٹچ سے مزے کے ساتھ ساتھ میرے تن بدن میں بھی آگ لگ جاتی تھی۔۔۔لیکن۔ ۔۔۔۔میں آنٹی کی وجہ سے مجبور تھا۔۔ ۔۔۔ ایک دفعہ کی بات ہے کہ اس دن کسی وجہ سے آنٹی ہمارے ساتھ نہ جا سکی تو انہوں نے انکل کو ساتھ بھیج دیا۔۔۔ اس وقت ہم لوگ شاپ کے کاؤنٹر پر کھڑے تھے سب سے آگے گوری ۔۔پھر میں اور میرے ساتھ انکل صاحب کھڑے تھے۔۔۔ ۔۔۔۔۔ حسبِ معمول شاپ پر بہت رش تھا ۔۔اس وقت گوری نے ایک نظر مجھے اور پھر انکل کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔اور پھر میرے آگے کھڑی ہو گئی۔۔اور بڑے ہی غیر محسوس طریقے سے اپنی گانڈ کو میرے لن پر رکھ دیا۔۔عام طور پر اس کی عادت تھی کہ وہ گانڈ ٹچ کرنے کے فوراً بعد آگے سے ہٹ جاتی اور پھر میرے ردِ عمل کا جائزہ لیتی ۔۔۔ایسے حالات میں عموماً میں صبر سے کام لیا کرتا تھا۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔اس دفعہ میں نے بھی گوری کو جواب دینے کا سوچا چنانچہ اپنی گانڈ ٹچ کرنے کے بعد ۔۔۔۔۔ جیسے ہی وہ آگے سے ہٹنے لگی تو میں نے اسے قمیض سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ۔۔۔اور پھر۔۔۔اس کی گانڈ کے کریک میں اپنے نیم کھڑے لن کو رکھ کر ایک ہلکا سا گھسہ مار دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ساتھ ہی اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔ لو یو ڈارلنگ!! ۔۔۔اتنا کہہ کر میں نے اسے چھوڑ دیا۔۔۔اور اس دفعہ ۔۔۔۔۔میں نے اس کا ردِعمل جاننے کے لیئے دیکھا ۔۔۔۔تو میری بجائے اس کا چہرہ سرخ تھا۔۔۔۔اس نے مڑ کر بڑی ہی عجیب نظروں سے میری طرف دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔ ہماری آنکھیں چار ہوئیں ۔۔۔۔اور میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر دبا دیا۔۔۔ ردِ عمل کے طور پر وہ تھوڑا پیچھے ہوئی ۔۔اور میرے نیم کھڑے لن پر ایک لمحے کے لیئے ہاتھ رکھ کر اُٹھا لیا۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔اس کے اتنے بولڈ سٹیپ کو دیکھ کر سے اب کی بار میرا چہرہ بھی لال ہو گیا۔۔۔۔۔۔ اس واقعہ کے بعد ہم دونوں نے ۔۔۔۔۔(انکل سے نظر بچا کر) ایک دوسرے کے جسموں کے ساتھ خوب انجوائے کیا۔۔۔۔ ۔۔ اس شام جب میں گوری اور انکل کو گھر چھوڑ کر واپس جا رہا تھا تو آنٹی کہنے لگیں ۔۔۔ بیٹا آپ کو تکلیف تو ہو گی لیکن کل دوپہر آپ نے پھر آنا ہو گا۔۔۔اتفاق سے اس وقت میں اور آنٹی اکیلے ہی تھے ۔۔ میں نے ایک نظر کمرے کے باہر ڈالی ۔۔۔اور آنٹی کو چوم کر بولا ۔۔لیکن میری ایک شرط ہو گی اور وہ یہ کہ آپ یا انکل ساتھ نہیں جائیں گے تو وہ تیوری چڑھا کر کہنے لگی۔۔۔ وہ کیوں؟؟؟ تو میں ان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔ وجہ آپ جانتی ہو ۔ تب وہ مسکراتے ہوئے بولیں ۔۔ میں پہلے دن ہی سمجھ گئی تھی کہ تم میری بہو پر بہت گرم ہو ۔۔۔اس لیئے میں جان بوجھ کر تمہارے ساتھ جاتی ہوں تو میں ان سے بولا ۔۔۔۔ ۔۔۔ وہ کیوں میڈم؟ تو وہ کہنے لگیں تا کہ تم مجھے ساتھ جانے سے منع کرو۔۔۔۔ تو میں حیران ہو کر بولا ۔۔۔۔۔میں آپ کو منع کروں؟ تو وہ سر ہلاتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔ہاں مجھے۔۔۔ تو میں مزاقاً بولا۔۔۔تو ٹھیک ہے آنٹی ۔۔ کل سے آپ ہمارے ساتھ نہیں چلیں گی تو وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بولیں۔۔۔اوکے۔۔ کل سے میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گی۔۔۔ لیکن میری بھی ایک شرط ہے تو میں بولا کیسی شرط ؟ تو وہ کہنے لگی اتنے دنوں سے ہمارے ہاں آ جا رہے ہو اور۔۔۔۔۔ چودا صرف ایک بار ہے۔۔۔اگر تم مجھ سے وعدہ کرو کہ گوری کے جانے کے بعد ۔۔۔۔ تم گاہے بگاہے مجھے چودتے رہو گے۔۔۔ تو کل سے میں کباب میں ہڈی نہیں بنوں گی۔۔۔ پنجابی کی ایک مثال ہے کہ ایہہ جہاں مٹھا ۔۔۔۔ تے اگلا کس نے ڈیٹھا؟ مطلب آج مزے کر لو۔۔ کل کا کوئی پتہ نہیں ۔۔۔۔سو میں نے جھٹ سے وعدہ کر لیا۔۔۔ لیکن خرانٹ آنٹی نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلیں تھیں۔۔۔ کہنے لگی جیسا کہ تمہیں معلوم ہے کہ آج رات صائمہ کے ہاں ہماری دعوت ہے اور صائمہ کہہ رہی تھی کہ اس نے آج کی رات بھابھی کو اپنے پاس رکھنا ہے اس لیئے ۔۔۔۔۔ رات ٹھیک گیارہ بجے تم کو میرے گھر پر ہونا ہے تو میں ان سے پوچھنے لگا ۔۔۔۔کہ آنٹی جی۔۔۔۔ انکل گھر پر نہیں ہوں گے؟ تو وہ کہنے لگیں تمہیں شاید معلوم نہیں کہ تمہارے انکل نیند کی گولیاں لے کر ٹھیک دس بجے سو جاتے ہیں ۔۔۔اسی لیئے۔۔۔ میں نے تمہیں گیارہ بجے کا وقت دیا ہے ۔۔ چنانچہ اس رات میں گیارہ بجے کے قریب آنٹی کے گھر جا پہنچا ۔۔ حسب ِ توقع انکل سوئے ہوئے ملے چنانچہ میں آنٹی کو عدیل والے کمرے میں لے گیا۔۔۔۔جہاں پر میں نے ان کی پیاسی پھدی کو خوب سیراب کیا۔۔۔۔۔اور گانڈ کو بجانے کے بعد بارہ ساڑھے بارہ بجے واپس گھر آ گیا۔۔ آنٹی نے مجھے رات ہی بتا دیا تھا کہ فرزند صاحب گوری کو لنچ کے بعد واپس گھر چھوڑ دیں گے اس لیئے میں چار بجے کے قریب ان کے گھر پہنچ جاؤں ۔۔انکل کے بارے میں پوچھنے پر وہ کہنے لگیں کہ کام کے رش کی وجہ سے وہ کل رات گئے واپس آئیں گے ۔۔۔۔۔اگلے دن ٹھیک چار بجے میں آنٹی کے گھر پہنچ گیا۔ ۔۔ گیٹ گوری نے کھولا ۔۔ مجھے دیکھ کر وہ خوش ہو گئی۔اور گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی میں نے گوری سے جپھی لگائی پھر اس کے رس بھرے ہونٹوں پر ایک کس کر دی۔۔۔اور اس کے ساتھ ڈرائینگ روم میں پہنچ گیا۔۔ دیکھا تو آنٹی تیار کھڑی تھیں ۔ انہیں تیار دیکھ کر ۔۔۔۔میں ڈرامہ کرتے ہوئے بولا گوری سے بولا آنٹی از ریڈی۔۔۔ ۔۔۔ لیکن آپ ابھی تک تیار نہیں ہوئی؟َ۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ گوری کچھ کہتی بمطابق اسکرپٹ آنٹی کہنے لگی۔۔۔ بیٹا آج کا جانا کینسل کر دو کہ میں اپنی ایک دوست لے کر ماریہ اور عدیل کے لیئے سرپرائز گفٹ لینے جا رہی ہوں اس پر میں بولا اس کا مطلب آج کے دن میں فری ہوں ۔۔تو وہ کہنے لگی نہیں آپ ماریہ بیٹی کے ساتھ گپ لگاؤ ۔۔۔اور اگر اس کا جی چاہے تو اسے بازار لے جاؤ ۔۔ پھر گوری کی طرف دیکھتے ہوئے بولی میں تمہیں بھی ساتھ لے جاتی ۔۔۔ لیکن اس سے سارا سرپرائز ختم ہو جائے گا۔۔۔ ۔۔اس لیئے میں اپنی ایک دوست کو لے کر جا رہی اور آٹھ بجے تک واپس آ جاؤں گی اتنا کہنے کے بعد۔۔۔۔ انہوں نے پرس پکڑا اور باہر کی طرف چلنے لگیں ۔۔جبکہ میں ان کو باہر چھوڑنے کے لیئے ان کے ساتھ ساتھ باہر نکل گیا۔۔۔ گیٹ پر پہنچتے ہی میں نے ان سے تھینک یو بولا۔۔۔ ۔۔تو وہ کہنے لگی۔۔۔ میری طرف سے فری ہینڈ ہے۔۔۔اس گوری کو جیسے مرضی ہے چودو۔۔۔۔۔۔ لیکن یاد رکھنا ۔۔۔۔۔کہ اس کے جانے کے بعد تم نے میرا خیال ضرور کرنا ہے تو میں کہنے لگا رات کو خیال نہیں رکھا تھا۔۔۔؟ تو وہ ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے بولی۔۔ایک بات ہے۔۔۔۔۔۔اور وہ یہ کہ۔۔۔۔ تم چدائی کمال کی کرتے ہو۔۔۔۔ اور گیٹ سے باہر نکل گئیں۔ گیٹ کو لاک کرنے کے بعد میں سیدھا ڈرائینگ روم میں پہنچا ۔۔۔ مجھے دیکھتے ہی گوری آہستہ سے بولی ۔۔۔سو وی آر الون ناؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ہم اب ہم اکیلے ہیں ) تو میں اس کی طرف بڑھتے ہوئے بولا۔۔۔یس بےبی ۔۔۔۔تو وہ میرے گلے سے لگتے ہوئے بولی۔۔لیٹس پارٹی ڈارلنگ۔۔۔۔۔اور میرے ساتھ گلے لگ گئی۔۔۔۔اس نے اس قدر ٹائیٹ جپھی لگائی کہ۔۔۔۔ اس کی بھاری چھاتیاں میرے سینے کے ساتھ دب گئیں۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی ہمارے ہونٹ لاک ہو گئے۔۔۔ اور میں نے انہیں چوسنا شروع کر دیا ۔۔ ۔ گوری کے اَنمول اور رس بھرے ہونٹوں سے اب تک نجانے کتنے لوگوں نے رس کشید کیا ہو گا لیکن ابھی تک ۔۔۔۔۔ان کے ذائقے اور رس میں سرِمُو فرق نہیں آیا تھا بلکہ (شاید) پہلے سے زیادہ رس بھرے ہو گئے تھے۔۔۔ ادھر گوری جس بے باقی کے ساتھ اپنے ہونٹوں کو میرے ہونٹوں میں پیوست کیے چوس رہی تھی اس سے میری مستی میں دو چند اضافہ ہو رہا تھا ۔۔۔ہونٹ چوسنے کے دوران ہی گوری نے اپنا منہ کھولا۔۔۔۔اور اپنے ہونٹوں سے بھی سو گنا زیادہ۔۔۔ رسیلی زبان کو میرے منہ میں ڈال دیا۔۔۔اور میری زبان کے ساتھ اپنی زبان کو اس قدر آرٹ فُلی گھمایا۔۔۔ کہ میرے اندر کی شہوت آپے سے باہر ہونے لگی۔۔۔ ۔۔۔۔ تھوڑی سی کسنگ کے بعد وہ بڑی مستی سے بولی۔۔۔۔۔اتنے دنوں بعد تنہائی ملی ہے تم میرے ساتھ کیا سلوک کرنے والے ہو ؟ تو میں اس کی بھاری چھاتیوں پر ہاتھ رکھ کر بولا۔۔ میں ان کو چوموں گا تو وہ بڑے نخرے سے بولی۔۔ اونہہ صرف چومو گے ؟ تو میں اس سے کہنے لگا کہ چھاتیاں چوسوں ۔۔اور نپلز کو مسلوں گا۔۔۔۔۔۔ تو وہ شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے بولی اور کیا کرو گے؟ تو میں اس کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر بولا۔۔۔ میں تمہارے اس پیارے سے چہرے پر کسنگ کی بوچھاڑ کر دوں گا ۔۔اتنا کہتے ہی میں نے۔۔۔۔ اپنے ہونٹوں کو کسنگ کی غرض سے جیسے ہی گوری کی طرف بڑھایا ۔۔۔۔اور اپنے ہونٹوں کو اس کے گالوں پر رکھنا چاہا۔۔۔۔۔۔۔ تو ناجانے کیوں گوری اسی وقت جگہ پر گھوم گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گھومنے سے ۔۔ فرنٹ کی جگہ ۔۔۔۔۔ اس کی فومی گانڈ میرے لن کے ساتھ دب گئی اور اب پوزیشن یہ تھی کہ میرے دونوں ہاتھ اس کی ادھ ننگی چھاتیوں پر دھرے تھے۔۔۔۔۔ اور۔۔۔ اس کی بیک سائیڈ میری فرنٹ کے ساتھ چپکی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ لن کو اپنی نرم بنڈ کے ساتھ محسوس کرتے ہی اس نے بڑی بے باقی کے ساتھ اپنی بنڈ کو لن صاحب کے ساتھ رگڑا۔۔۔۔۔۔اور منہ پیچھے کر کے بولی۔۔۔۔۔اے مسٹر۔۔۔۔۔تیرا ڈِک (لن) پوزیشن میں آ رہا ہے تو میں اس کے کان کی بیک سائیڈ کو چوم کر بولا۔۔ پتہ ہے یہ کیوں پوزیشن لے رہا ہے ؟ تو وہ شہوت سے بولی۔۔۔۔۔ میرے اندر جانے کے لیئے ۔۔۔ اس پر میں لن کو اس کی نرم گانڈ کے چھید میں دباتے ہوئے بڑی آہستگی سے بولا۔۔۔۔۔یہ تمہارے اندر جانے والا ہے تو وہ بنڈ کو رگڑتے ہوئے بولی۔۔۔۔ اسے کہنا مجھے خوب چودے۔۔۔۔ اب میں نے گوری کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور آہستہ آہستہ اس کی گردن کو چومنا شروع ہو گیا میں اس کی لمبی گردن کے ایک ایک اینچ کو چومتا جا رہا تھا اور دوسری طرف وہ بھی میرے لن کو اپنی گانڈ کے چھید میں پھنسائے ہلتی جا رہی تھی۔۔گردن کو چومنے کے بعد جیسے ہی میرے ہونٹ اس کے شولڈر (کندھوں) پر پہنچے تو وہاں ہونٹ لگتے ہی۔۔۔ گوری تڑپ اُٹھی۔۔ ۔۔۔ پہلے تو میں نے اس بات پر غور نہیں کیا ۔۔لیکن جب دوسری تیسری دفعہ ایسا ہوا ۔۔۔تو گوری کا تڑپنا دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ ۔۔۔ رائیٹ والا شولڈر گوری کا بہت حساس ہے ۔۔۔ میں نے گوری کے بدن میں "سیکس کی" دریافت کر لی تھی۔۔۔ ۔۔۔چنانچہ۔۔اب میں نے اپنی پوری توجہ اس کے رائیٹ شولڈر پر مرکوز کر دی تھی۔۔۔ اور پہلے تو اسے آہستہ آہستہ چوما۔۔۔۔۔پھر زبان نکال کر جیسے ہی اسے ۔۔۔چاٹنا شروع کیا۔۔۔ گوری میری زبان کے نیچے کسمسانا شروع ہو گئی اور اس کسمساہٹ کے دوران اس نے اپنی گانڈ کو بڑی سختی کے ساتھ میرے لن پر دبانا شروع کر دیا۔۔اسی دوران میں اسکے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا۔۔۔ مزہ آ رہا ہے؟ تو وہ گانڈ کو فُل پیچھے کی طرف دباتے ہوئے بولی۔۔یسس۔۔ڈو اٹ مور۔۔۔۔چنانچہ اب میں نے اس کے شولڈر کو چاٹنے کے ساتھ ساتھ اس پر ہلکا ہلکا کاٹنا بھی شروع کر دیا۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں گوری بہت مست ہو گئی۔۔۔۔ اور میری طرف منہ کرتے ہوئے بے تابی سے بولی۔۔۔ مجھے اپنا ڈک (لن ) دکھاؤ ۔۔۔تو میں اس سے بولا۔۔۔ لن بھی چیک کرا دوں گا ۔۔پہلے تھوڑا پیار تو کرنے دو۔۔۔۔تو وہ کہنے لگی۔ تو وہ کہنے لگی۔۔۔ ۔۔۔ میں بھی تو تیرے لن کو پیار کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی وہ گھوم کر سیدھی ہوئی اور ۔۔۔میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بڑے ہی شہوت بھرے لہجے میں۔۔۔ بولی۔۔۔آئی ۔۔ایم ۔۔۔یور بچ (کتیا) ۔۔بےبی۔۔۔۔۔۔۔ تو میں نے بھی اسی لہجے میں کہا۔۔۔۔ ۔۔۔ کیا بولی ؟۔۔۔۔ تو وہ دوبارہ اسی ٹون میں کہنے لگی۔۔۔ آئی ایم یور بچ بےبی ۔۔تو میں اس کے منہ میں زبان ڈالنے سے پہلے بولا۔۔۔ ۔۔۔۔تو تم میری کتیا ہو؟ تو وہ شہوت سے چور لہجے میں بولی۔۔۔۔ یس جان!۔۔ میں تیری کتیا ہوں ۔۔۔۔۔اور اپنی کتیا کے ساتھ جو چاہے سلوک کرو۔۔اور میری زبان کو چوسنے لگی ۔۔زبان چوسنے کے دوران ہی اس نے ہاتھ بڑھا کر پینٹ سے لن کو باہر نکالا۔۔۔۔اور اسے مسلنے لگی۔۔۔۔۔۔۔ پھر اپنے منہ سے میری زبان کو باہر نکلا۔۔۔۔ اور لن کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔نائیس ڈک۔۔۔پھر بڑے ہی پیار سے اس پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔ مجھے ایسے ہی شاندار لن کی تلاش تھی جو میری چوت کی آگ اور گانڈ کی جلن کو مٹا سکے۔۔۔۔۔۔۔۔پھر میری طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔ بولو میری پھدی کو ٹھنڈا کرو گے نا؟ تو میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔نہ صرف یہ کہ تمہاری پھدی میں لگی آگ کو ٹھنڈا کروں گا بلکہ۔۔۔۔۔۔تیری گانڈ میں ہونے والی جلن کو بھی ختم کر دوں گا تو وہ شہوت سے بولی اپنے اس موٹے ڈنڈے سے میری خوب بجانا۔۔لیکن ان سب سے پہلے میرا لن چوسنا ضروری ہے ۔۔اتنا کہتے ہی گوری نے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑا ۔۔۔۔اور سرگوشی کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔اٹس سو ہاٹ بےبی۔۔۔۔پھر کہنے لگی۔۔۔۔ تیرا لوڑا بہت مست ہے۔۔اسے دیکھ دیکھ کر میری پھدی بھیگتی چلی جا رہی ہے تو میں اس سے بولا۔۔۔ لن چوس کتیا۔۔۔۔ میری بات سن کر اس نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔اور منہ کھول کر پوری زبان باہر نکالی۔۔اور ٹوپے کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔ بہت فیٹ (موٹا) لنڈ ہے ۔اور پھر اپنی زبان کی نوک کو میرے ٹوپے پر گول گول پھیرنا شروع ہو گئی۔۔۔ ۔ تھوڑی دیر تک وہ ٹوپے کے ساتھ ساتھ پورے لن پر زبان پھیر کر اسے گیلا کرتی رہی ۔۔ جب میرا لن اس کے تھوک سے تر ہو گیا ۔۔۔۔تو وہ کہنے لگی۔۔۔۔اب میں لن کو چوسنے لگی ہوں۔۔۔۔ پھر اسے منہ میں لے کر چوسنا شروع ہو گئی ۔۔ جب اس کے نرم نرم ہونٹ میرے سخت لن پر لگے۔۔۔ تو مزہ آ گیا۔۔۔ ۔۔اور میں سسکیاں لیتے ہوئے بولا ۔۔اوہ۔ اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔ لن چوس کتیا۔۔۔۔۔۔۔اور وہ بھر پور انداز میں اسے چوستی رہی۔۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد اس نے اپنے منہ سے لن نکالا اور میری طرف دیکھ کر بولی ۔۔ میں لن اچھا چوستی ہوں نا؟ تو میں اس سے بولا۔۔۔ یس ڈارلنگ!۔۔ تم بہت اچھا لن چوستی ہو تو وہ کہنے لگی ۔۔۔اب تم بھی پھدی چوسو۔۔۔۔ اور جیسا مزہ میں نے دیا ہے۔۔۔ایسا مزہ تم بھی دو۔۔۔۔اتنا کہتے ہی وہ کھڑی ہو ئی۔۔ ۔۔۔اور اپنے کپڑے اتارتے ہوئے بولی۔۔۔تم بھی ننگے ہو جاؤ۔۔۔چنانچہ اس کی دیکھا دیکھی میں نے بھی اپنے کپڑے اتار دیئے اور بھوکی نظروں سے گوری کی پھدی کو دیکھنے لگا۔۔۔ ۔۔۔اس کی پھدی کافی ابھری ہوئی ۔۔۔۔اور اس کے ہونٹ بہت موٹے تھے۔۔ جبکہ اس وقت پھدی پر برائے نام بال بھی نہ تھا۔۔۔ مجموعی طور پر گوری کی پھدی بہت کیوٹ لگ رہی تھی۔۔۔۔مجھے پھدی کی طرف متوجہ پا کر وہ اس پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی۔۔۔ میری پھدی کیسی ہے؟؟ تو میں جواب دیتے ہوئے بولا۔۔۔ایک دم پیاری اور چودنے لائق ہے تو وہ اس پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی۔۔۔اسے میں نے صرف تمہارے لیئے صاف کیا ہے تو میں اس سے بولا۔۔ میرے لیئے کیوں؟ تو وہ اٹھلاتے ہوئے بولی۔۔۔ تا کہ تم میری نیٹ اینڈ کلین پھدی مارو۔۔۔۔۔۔ پھر بڑی ادا سے کہنے لگی۔۔۔ ۔۔ میں نے پھدی صاف کر کے اچھا کیا ہے نا؟ تو میں اس سے بولا۔۔ ہاں بہت اچھا کیا،۔۔۔تو وہ کہنے لگی۔۔۔۔ اتنے دن سے اسے کسی نے نہیں چوسا ۔۔۔ اس لیئے۔۔۔ میرے پاس آ۔۔۔ اور میری کیوٹ پھدی کو چوس۔۔۔سو میں اس کے پاس چلا گیا۔۔۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑا۔۔۔اور پاس پڑے بیڈ پر جا کر لیٹ گئی۔۔۔۔اور دونوں ٹانگیں کھول کر بولی۔۔۔۔جلدی سے آ جا۔۔۔ اب میں کرالنگ کرتا ہوا اس کی دونوں ٹانگوں کے بیچ پہنچ گیا ۔۔۔دور سے ہی پھدی کی مست مہک آ رہی تھی میں نے اپنی ناک کو اس کی پھدی پر رکھا۔۔۔اور اس مست مہک کو سونگھنے لگا۔۔۔تو وہ میرے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے بولی۔۔۔ میری پھدی کی سمیل ۔۔۔۔ اچھی ہے نا؟ تو میں اس کی پھدی کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔۔ سمیل از سو گُڈ ۔۔۔۔( پھدی کی مہک بہت اچھی ہے)۔۔ اسے کچھ دیر تک سونگھنے کے بعد۔۔۔ میں نے منہ سے زبان باہر نکالی اور اس کی ننگی پھدی پر رکھتے ہوئے بولا یہ تو بہت گرم ہے۔۔۔تو وہ مست لہجے میں جواب دیتے ہوئے بولی۔۔ زبان اندر لے جاکر دیکھ۔۔۔یہ بہت گیلی بھی ہے۔۔۔سو میں اس کی پھدی کی دونوں پھانکوں کو کھولا۔۔۔۔اور زبان کو اندر ڈال دیا۔۔۔۔۔جیسے ہی میری زبان اس کی پھدی میں داخل ہوئی ۔۔۔۔گوری نے ایک سسکی لی۔۔آہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔ اور میرے سر کو اپنی پھدی پر دباتے ہوئے بولی۔۔۔۔ لِک مائی پُسی۔۔۔( میری پھدی چاٹ)۔۔۔۔۔۔ ۔۔چنانچہ میں گوری کی پھدی میں زبان کو اندر تک لے گیا۔۔۔اور اس کی پھدی کو اچھی طرح چاٹا۔۔۔ کچھ دیر چاٹنے کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے زبان کو پھدی سے باہر نکالا ۔۔۔تو میری نظر اس کے پھولے ہوئے دانے پر پڑ گئی۔۔۔۔اس کا براؤن رنگ کا دانہ بڑی مستی کے عالم میں کھڑا تھا۔۔۔۔۔ اس پیارے سے دانے کو دیکھ کر میں نے اس پر تھوک پھینکا۔۔۔۔اور دو انگلیوں کی مدد سے اس پر مساج کرنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔پھر گوری کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔مزہ آ رہا ہے؟؟ تو وہ کہنے لگی۔۔ پہلے یہ بتا کہ۔۔۔اسے چھولا کیوں کہتے ہیں تو میں اس سے بولا کیونکہ اس کی شکل چنے کے دانے جیسی ہوتی ہے اور چنے کو یو نو پنجابی میں چھولا کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو وہ مست آواز میں کہنے لگی۔۔۔ڈئیر شاہ ۔۔ تیرا چھولے پہ مساج کرنا بہت مزہ دے رہا ہے۔۔۔تو میں چھولے کو کھجلاتے ہوئے بولا۔۔۔ یہ تو بہت بڑا ہے۔۔تو وہ کہنے لگی بڑا چھولا ۔۔۔ بڑی شہوت کی نشانی ہے نا؟ تو میں کہنے لگا۔۔۔ ۔۔تم درست کہہ رہی ہو۔۔اور اسے کافی دیر تک۔۔ مسلتا رہا۔۔۔۔ جس سے وہ بہت زیادہ ہاٹ ہو گئی۔۔۔۔۔تب وہ بیڈ سے اوپر اُٹھی اور خمار آلود لہجے میں بولی۔۔۔۔آئی ایم یور بچ بےبی۔۔۔۔۔۔فک میں ناؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور میرے سامنے کتیا بن گئی۔۔۔ جیسے ہی وہ میرے سامنے کتیا بنی تو میں گوری کی فومی گانڈ کو دیکھ کر دنگ رہ گیا۔۔۔ جو کہ بہت ہی نرم اور کافی موٹی تھی۔۔میں نے اس کی دونوں پھاڑیوں کو الگ کر کے اس کی گانڈ کا سوراخ دیکھا۔۔تو اسے کافی مست اور کھلا ہوا پایا۔۔۔ ۔۔۔اس کا مطلب چوت کے ساتھ ساتھ گوری نے گانڈ بھی خوب مروائی تھی۔۔۔ اب میں اپنی دو انگلیوں کو تھوک سے تر کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس کی کھلی گانڈ میں دے دیں۔۔۔۔۔ انگلیاں اندر جانے سے گوری نے ہلکی سی چیخ ماری۔۔آؤؤؤچ۔چ۔چچ۔چ۔۔۔۔۔ اور منہ موڑ کر بولی۔۔۔ پہلے گانڈ مارنی ہے ؟ تو میں بولا نہیں پہلے پھدی ہی مارو ں گا ۔۔۔ گانڈ تو جسٹ چیک کر رہا تھا ۔۔تو وہ مست لہجے میں بولی۔۔۔ چیک ہی کرنی ہے تو لن ڈال کر کرو۔۔ مزہ نہ آیا تو مجھے کہنا۔۔۔تو میں کہنے لگا۔۔۔۔ لن ڈال کے بھی چیک کر لوں گا۔۔۔۔۔ابھی تو بس مزے رہا ہوں۔۔۔۔۔۔ اس پر گوری کہنے لگی۔۔۔چیک بعد میں کرنا۔۔۔ پہلے میرے دنوں کولہوں کو مضبوطی سے پکڑو۔۔۔۔ لن کو میری بے چین پھدی میں ڈالو۔۔۔اور تیز تیز جھٹکے مارو۔۔۔۔۔۔گوری کی بات سن کر میں نے انگلیوں کو اس کی گانڈ سے باہر نکالا ۔۔اور لن پر تھوک لگا کر اسے چکنا کیا۔۔۔۔اور پھر گوری کی چوت پر رکھ۔۔۔۔۔۔۔کر پوری قوت سے جھٹکا مارا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے جھٹکا مارنے سے لن پوری قوت سے اس کی گرم اور گیلی پھدی میں اتر گیا۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی گوری کے منہ سے دل کش چیخ نکلی۔۔۔۔ آؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤچ۔۔۔۔چ۔۔ اور سیکسی چیخ مارنے کے بعد اس نے منہ پیچھے موڑااور۔۔۔۔۔۔۔۔ کہنے لگی۔۔۔فک می ہارڈر۔۔۔اور میں اس کو پورے جوش چودنے لگا۔۔پھر تو گوری کی مست چیخوں نے آسمان سر پر اُٹھا لیا۔۔۔ اس کی ہر چیخ پر میں پہلے سے بھی زیادہ ذور سے گھسہ مارتا ۔۔۔۔ہر گھسہ کھا کر و ہ یہی کہتی۔۔فاسٹ۔۔۔۔فک می ہارڈر۔۔۔۔۔۔۔۔اس دوران اس نے کافی دفعہ اسٹائل تبدیل کیا۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ اور ایک دفعہ تو میں نے اس کی گانڈ میں بھی لن دے دیا۔۔۔۔جسے اس نے گانڈ بھینچ بھینچ کر خوش آمدید کہا۔۔۔ میں کچھ دیر تک اس کی گانڈ مارتا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر وہاں سے لن نکال کر اس کی پھدی مارنا شروع ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔ اس وقت گوری سیدھی لیٹی ہوئی تھی اس کی دونوں ٹانگیں میرے کندھوں پر تھیں ۔۔اور میں برق رفتار سے گھسے مار رہا تھا ۔۔۔ ۔۔۔ گوری کی دلکش اور سیکسی چیخوں کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری تھا۔۔۔ ۔۔۔ اس دوران مجھے ایسے محسوس ہوا کہ جیسے گوری کی چوت لن کے آس پا س تیزی سے پھڑ پھڑا رہی ہو ۔۔۔۔ تب میں نے اس سے پوچھا ۔۔۔ تم ڈسچارج تو نہیں ہونے والی؟؟۔۔۔تو وہ چڑھتے سانسوں میں بولی ۔۔۔یس آئی ایم۔۔فک میں ہارڈررررررررررررررر۔۔۔اور میں نے مزید ۔۔ تیز تیز گھسے مارنے شروع کر دیئے۔۔۔۔اور پھر اگلے چند سیکنڈز کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دورانِ گھسے میرا لن بھی پھولنا شروع ہو گیا۔۔۔ادھر گوری نے اپنی دونوں ٹانگوں کو میرے کندھوں سے اتار کر بیڈ پر لے آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور دونوں ٹانگوں کو کھول کر بولی۔۔کامان فاسٹ۔۔فک می ہارڈر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی میں نے آدھا گھسہ ہی مارا تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ میرے ساتھ لپٹ کر چھوٹنا شروع ہو گئی۔۔۔اور اسی دوران میرے لن نے بھی اسکی چوت میں ۔۔۔ منی اگلنا شروع کر دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس وقت میں اس کے اوپر چڑھا ہوا تھا اور ہم دونوں جھٹکے مار مار کر چھوٹتے جا رہے تھے۔۔۔ کچھ دیر بعد جب ہم مکمل طور پر فارغ ہو گئے۔۔تو میں گوری کے اوپر سے اتر گیا۔۔۔اور ایک نظر اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔تو گوری کے بال بکھرے۔۔۔۔ اور جسم پسینے سے شرابور تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ ہلنے جلنے کے قابل نہ رہی تھی۔۔۔ پھر میری نظر اس کی پھدی پر جا پڑی۔۔ جہاں سے میری اور اسکی منی کا پانی آہستہ آہستہ باہر نکل رہا تھا۔۔۔خود مجھ پر بھی مدہوشی کا غلبہ چھا رہا تھا۔۔۔ میں نے سرشاری کے عالم میں گوری کی طرف دیکھا جو کہ میرے پہلو میں ادھ موئی پڑی تھی ۔۔۔ میں اسے چود کر بہت خوش اور مطمئن تھا ۔۔ میں نے ایک بار پھر۔۔۔۔ نیم جان گوری کر طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔پھر مزے اور مدہوشی کے سبب میرا سر بھی ایک طرف ڈھلک گیا۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ختم شد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  10. اتنا چود کہ میری پھدی کا پھدا بن جائے۔۔۔ تو میں ان سے بولا میں کچھ کرتا ہوں۔۔۔۔ پہلے آپ لن سے تو اتریں ۔۔۔میری بات سن کر وہ جمپ مار کر میرے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گئیں ۔۔۔تاہم انہوں نے شلوار پہننے کی زحمت گوارہ نہیں کی۔۔۔ اور سیٹ پر بیٹھتے ہی بولی۔۔۔ چلو !!! ۔۔اور میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ آنٹی کو لے کر جاؤں تو کہاں جاؤں ؟؟؟۔۔۔کہ اچانک میرے دماغ میں رمشا کی ماما آ گئی جنہوں نے مجھ سے ہ ہاؤسنگ سوسائیٹوں کی درختوں والی جگہ پر چدوایا تھا۔ وہ جگہ یاد آتے ہی میں نے گاڑی کو ان سوسائیٹیز کی طرف موڑ دیا۔۔۔۔۔مجھے گاڑی موڑتے دیکھ کر وہ بڑے اشتیاق سے کہنے لگیں لگتا ہے تیرے دماغ میں کوئی جگہ آ گئی ہے۔تو میں ان سے بولا جی ایک جگہ دھیان میں آئی تو ہے۔۔۔۔۔۔میری بات سن کر وہ مطمئن ہو گئیں۔۔۔۔اور میری دونوں ٹانگوں کے بیچ میں ہاتھ لے جا کر لن پکڑ لیا۔۔۔اور اسے سہلاتے ہوئے۔۔ بولیں۔۔۔ارے یہ تو مرجھا گیا ہے۔۔۔ تو میں ان سے بولا۔۔ آپ اسے دوبارہ زندہ کر دیں۔ ۔۔۔۔ انہوں نے شہوت بھری نظروں سے میری طرف دیکھا اور پھر کہنے لگیں ۔۔۔ اسے منہ سے زندہ کرنا ہے یا پھر ہاتھ سے؟ تو میں ان سے بولا کہ ۔۔۔نہ منہ سے نہ ہاتھ سے۔۔۔ اگر آپ زبان سے چاٹو گی۔۔۔۔۔۔ تو مزہ آ جائے گا۔۔۔میری بات سن کر میڈم نے اپنے منہ سے زبان نکالی اور میرے سامنے لہراتے ہوئے بولیں۔۔۔تجھے میری زبان پسند آئی ہے۔۔؟؟؟ تو میں ان سے کہنے لگا۔۔۔۔۔ زبان ہی نہیں میڈم ۔۔۔۔ مجھے تو آپ کی پھدی بھی بڑی پسند آئی ہے تو وہ اٹھلاتے ہوئے بولی میری پھدی میں ایسی کیا خاص بات ہے جو تمہیں پسند آ گئی؟؟؟۔۔ تو میں ان سے کہنے لگا۔۔۔آپ کی پھدی باقی لیڈیز کی نسبت بہت گرم اور پانی بہت چھوڑتی ہے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔اور آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ۔۔۔۔۔ میرے لن کو گرم پانی کے تالاب میں تیرنے کا بہت مزہ آتا ہے۔ میری بات سن کر وہ نیچے جھکنے کی بجائے میرے گالوں پر زبان پھیر کر بولی۔۔۔جانتے ہو ناں کہ میں بہت گرم لیڈی ہوں۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔اس لیئے میری پھدی بھی گرم ہے تو میں ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن کی طرف لے گیا۔۔۔ جو اس وقت نیم کھڑا تھا ۔۔۔اور اس پر ہاتھ رکھ کر بولا۔۔۔ ابھی یہ ابھی پوری طرح کھڑا نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔زرا اس کی گرمی بھی ملاحظہ کرو ۔۔۔تو وہ میرے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر ہلاتے ہوئے بولی۔۔۔میں اس کی اکڑاہٹ اور گرماہٹ ہی چیک کرنے آئی ہوں ۔۔۔پھر کہنے لگی ۔۔۔ وہ یہاں سے جگہ کتنی دور ہے؟ تو میں ان سے بولا۔۔۔آپ دو منٹ کے لیئے میرا لن چاٹو۔۔۔۔جگہ آ جائے گی۔۔۔میری بات سن کر انہوں نے اپنے دونوں ہونٹ جوڑ کر میرے ہونٹوں پر رکھے اور مختصر سی چمی دے کر نیچے جھک گئی۔۔۔۔اور بڑے مزے سے لن کو چاٹنا شروع ہو گئی۔۔ وہ میرے لن کو چاٹتی رہی اور میں لذت اور سرُور سے بھری سسکیاں بھرتا ہوا گاڑی چلاتا رہا ۔۔۔ لن چاٹنے کے کچھ دیر بعد وہ مجھ سے مخاطب ہو کر بولیں اور کتنی دور ہے؟ تو میں ان سے بولا کیوں بہت جلدی ہے؟ تو وہ کہنے لگیں ۔۔ جلدی مجھے نہیں۔۔۔۔۔ میری پھدی کو ہے یقین کرو ۔ تیرے لن کے لیئے دھائیاں دے رہی ہے۔ تو میں ا ن سے بولا۔۔۔ بس تھوڑا سا اور چاٹیں ۔۔۔۔ جگہ آ جائے گی میری بات سن کر وہ دوبارہ نیچے جھکی۔۔۔اور ٹوپے کو چاٹنا شروع ہو گئی۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد میں گاڑی کو لیئے انہی درختوں میں پہنچ گیا کہ جہاں پر میں دو تین دفعہ پہلے بھی رمشا کی ماما کو چود چکا تھا۔۔۔۔۔چنانچہ درختوں کے جھنڈ میں پہنچ کر جیسے ہی میں نے گاڑی کی بریک لگائی تو وہ لن سے سر اُٹھا کر بولی۔۔۔۔ ۔۔۔ لگتا ہے مطلوبہ جگہ آ گئی ہے۔۔۔ تو میں ان سے بولا خود ہی دیکھ لیں۔۔۔ چنانچہ میرے کہنے پر انہوں نے آس پاس کے ماحول کا جائزہ لیا اور پھر کہنے لگی بظاہر تو جگہ بہت محفوظ ہے۔۔پھر بولیں۔۔۔ پتہ ہے جس طرح تمہیں گرم پانی کے تالاب میں نہانے کا مزہ آتا ہے ۔۔ٹھیک اسی طرح۔۔۔۔مجھے بھی اوپن ائیر سیکس کرنے کا بہت شوق ہے۔۔۔۔۔ پھر میرا ہاتھ پکڑ کر بولیں ۔۔ میری پھدی چیک کرو ۔۔۔۔۔ میں اپنے ہاتھ کو ان کی ننگی پھدی پر لے گیا۔۔۔وہ درست کہہ رہیں تھیں۔۔۔واقعی میں ان کی پھدی بہت ہی تپی ہوئی تھی۔۔۔ سو میں نے ان کی پھدی پر ہاتھ پھیرا اور کہنے لگا۔۔۔ ۔۔ آپ کی چوت تو بہت گرم ہے تو شہوت بھرے لہجے میں بولیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک انگلی اندر ڈال کر دیکھو ۔۔۔ کتنے بھانبڑ مچے ہوئے ہیں ۔۔ میں نے اپنی ایک انگلی ان کی چوت میں ڈال دی۔۔۔اُف ف فف ف ف ف فف فف فف ف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُف ان کی پھدی تو ایک طرف۔۔۔۔۔۔۔۔پھدی کا پانی بھی بہت گرم تھا ۔۔۔ اس پر میں نے ان کی طرف دیکھا اور کہنے لگا۔۔۔۔ اندر سے بھی آپ کی پھدی بہت ہاٹ ہے۔۔۔۔تو وہ کہنے لگی۔۔۔میری پھدی میں انگلیاں مار۔۔۔۔ اور میں نے دو انگلیوں کو ان کے اندر ڈالا اور ان آؤٹ کرنے لگا تو تھوڑا موڈ میں کہنے لگی۔۔۔ کبھی کسی پھدی میں انگلی نہیں ماری ؟ تو میں ان سے بولا بہت دفعہ ماری ہے تو وہ خفگی سے بولیں۔۔۔۔تو گانڈو ٹھیک سے انگلی مار نا۔۔۔ تو اس پر میں بولا۔۔۔ مار تو رہا ہوں ۔۔۔تو وہ کہنے لگی جس طرح تو انگلی مار رہا ہے اس طرح پھدی میں لن ڈالتے ہیں تو میں ان سے بولا ۔۔۔اس طرح لن ڈالنے سے مزہ نہیں آتا ؟ تو وہ کہنے لگی۔۔۔۔۔بہن چود ۔۔۔۔۔ لن کا اپنا مزہ ہے۔۔۔۔۔۔انگلی کا اپنا ۔۔۔۔ پھر مجھے گائیڈ کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔اپنی انگلی کو پھدی کی ہڈی سے اوپر کی طرف کر کے ذور سے ان آؤٹ ۔۔۔۔۔۔تو میں ان سے بولا ۔۔۔۔اس سے کیا ہو گا؟ تو وہ نشیلی آواز میں کہنے لگیں ۔۔۔اس طرح انگلی مارنے سے ۔۔۔۔۔۔ میں تو کیا۔۔۔۔۔۔ہر عورت مزے سے پاگل ہو جاتی ہے۔۔۔اور یہ ایسا مزہ ہوتا ہے کہ جو کوئی بھی لن نہیں دے سکتا۔۔۔ ان کی بات سن کر میں بولا ۔۔۔آپ سیٹ کو پیچھے کر و ۔۔۔میں انگلی مارتا ہوں۔۔۔چنانچہ انہوں نے سیٹ کو پیچھے کیا اور دونوں ٹانگیں ہوا میں بلند کر کے انہیں کھولتے ہوئے بولیں۔۔۔۔۔۔جلدی ڈال۔۔۔چنانچہ میں نے پہلے تو اپنی دو انگلیاں ان کے منہ میں ڈال کر چکنی کیں ۔۔پھر یہی انگلیاں ان کی پھدی میں ڈال کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔حسب ہدایت اوپر کی طرف ان آؤٹ کرنا شروع ہو گیا۔۔۔۔ وہ درست کہہ رہیں تھیں۔۔۔میرے ایسا کرنے سے تھوڑی ہی دیر بعد۔۔۔۔ مامی کے منہ سے سسکیاں نکلنا شروع ہو گئیں۔۔۔۔اور وہ بولی۔۔۔یس۔۔۔۔ایسے انگلی مارو۔۔۔۔ا ُف ۔۔۔۔آہ۔۔۔پھر کہنے لگیں۔۔۔اور تیز مار۔۔۔۔اور تیزززززززز۔۔۔اور ۔۔۔۔تیز اور جب میں نے تیزی کی حد کر دی تو اس سے تھوڑی دیر بعد۔ انہوں نے ایک زبردست سی چیخ ماری اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر چڑھتی ہوئی سانسوں میں ایک بڑا سا آرگیزم کر دیا۔۔۔۔۔ ادھر جیسے ہی میں نے ان کی پھدی سے انگلیاں باہر نکالیں ۔۔۔تو وہ جمپ مار کر سیٹ سے اُٹھیں۔۔۔۔اور فوراً ہی ۔۔۔۔۔ میرے لن پر جھک گئیں۔۔۔۔ اس پر بہت تھوک پھینکا۔۔پھر اسے پورے لن پر مل دیا اور بنا کوئی بات کیئے میرے اوپر چڑھ گئیں پھر اپنی دونوں ٹانگوں کو ادھر ادھر کر کے ۔۔۔۔۔میرے لن کو اپنی پھدی میں لے کر۔۔۔۔۔۔۔ میرے ساتھ چمٹ گئیں۔۔۔اور لن پر بیٹھے بیٹھے ہپس کو آگے پیچھے کرنے لگیں۔۔۔۔ کبھی تو وہ لن پر بیٹھ کر جمپیں مارتیں ۔۔۔اور کبھی۔۔ اسے اندر لیئے ہپس کو آگے پیچھے کرتیں۔۔۔۔اس وقت وہ لن پر ہپس کو رکھے آگے پیچھے ہو رہیں تھیں کہ اچانک ان کے گھسوں کی رفتار تیز ہو گئی۔۔۔اور وہ اونچی آواز میں سسکیاں لینے لگیں۔۔۔۔ پھر جیسے جیسے ہپس ہلانے کی رفتار تیز سے تیز تر ہوتی گئی۔۔۔۔۔۔ویسے ویسے ان کی سسکیاں چیخوں میں بدلنا شروع ہو گئیں۔۔ اس کے ساتھ ساتھ نیچے سے ان کی پھدی بھی ٹائیٹ ہونا شروع ہوگئی۔۔۔۔۔اور پھرررررررررررررررر۔۔۔۔۔ایک دفعہ۔۔۔۔پھر انہوں نے تیز تیز سانسوں میں ایک ۔۔۔۔ زبردست سی چیخ ماری۔۔۔ اور اس آخری چیخ کے ساتھ ہی ۔۔۔وہ چھوٹنا شروع ہو گئیں۔۔۔ ۔۔۔ان کی پھدی نے ڈھیر سارا پانی چھوڑا۔۔۔۔۔لیکن میں دوسری طرف میں ابھی تک نہیں چھوٹا تھا۔۔وہ کچھ دیر تک لن پر ہی بیٹھی اپنے سانس بحال کرتی رہیں۔۔۔۔ اور جب ان کی سانسیں کچھ بحال ہوئیں تو وہ مجھ سے کہنے لگیں۔۔۔۔تیرا ہو گیا؟ تو میں نےنفی میں سر ہلا۔۔۔۔یہ دیکھتے ہی وہ تیزی سے نیچے اتریں ۔۔۔اور لن کو منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا۔۔۔وہ لن کو پاگلوں کی طرح چوس رہیں تھیں۔۔ کہ اس دوران میرے لن میں کچھ ارتعاش سا پیدا ہوا۔۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی لن ان کے منہ میں ہی پھولنا شروع ہو گیا۔۔۔اور پھر ان کی طرح ۔۔۔۔ میں نے بھی ایک چیخ ماری۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ان کے منہ میں ہی چھوٹنا شروع ہو گیا- ۔ واپسی پر وہ مجھ سے کہنے لگیں۔۔ آج بڑے عرصے کے بعد میں نے بڑا زبردست آگیزم کیا ہے ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے میرے جسم سے کوئی بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہو۔۔۔۔۔جس کی وجہ سے میں ہلکی پھلکی ہو گئی ہوں۔۔۔۔پھر مجھ سے کہنے لگیں ۔۔اب تمہارا کیا پروگرم ہے؟ تو میں گاڑی کے ٹوٹے ہوئے شیشے کی طرف اشارہ کر تے ہوئے بولا۔۔۔آپ کو اتارنے کے بعد میں اس میں نیا شیشہ ڈلوا کے گاڑی دوست کو واپس کروں گا تو وہ کہنے لگی تو کیا وہ اسی حالت میں گاڑی نہیں لے گا؟ تو میں کہنے لگا ۔۔۔لے تو لے گا لیکن مجھے اچھا نہیں لگے گا۔۔۔ کہ ایک تو اس کی گاڑی استعمال کروں اور دوسرا ٹوٹے شیشے کے ساتھ گاڑی اس کے حوالے کروں ۔۔۔میری بات سن کر وہ کہنے لگیں کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو۔۔ ایسے ہی چلتے ہوئے ہم ان کے گھر کے قریب پہنچ گئے تو گھر سے تھوڑی دور اترتے ہوئے اچانک ہی انہوں نے سو ڈالر گاڑی کی سیٹ پر رکھے اور یہ کہہ کر چلتی بنی کہ شیشہ میری طرف سے ڈلوا لینا ۔۔۔ انہوں نے یہ حرکت اتنی تیزی سے کی کہ میں جواب میں کچھ بھی نہ کر سکا۔۔۔ خیر میں نے ان کے سو ڈالر جیب میں ڈالے اور "سلطان کے کھُوہ" سے نیا شیشہ ڈلوا کے دوست کو گاڑی واپس کی اور اس سے ساتھ ساتھ ساری صورتِ حال خاص کر نمبر نوٹ کرنے والی بات بھی بتائی تو پہلے تو وہ شیشہ ڈالنے سے تھوڑا سا خفا بھی ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر نمبر نوٹ کرنے والی بات پر ہنس کر بولا۔۔۔۔فکر نہ کر یہ میرا دردِ سر ہے اب تو یہاں سے دال فے عین ہو جاؤ۔ چنانچہ میں دوست سے دفع ہو کر گھر آ گیا اور وہاں سے نہانے دھونے کے بعد شام کو دوبارہ عدیل کے گھر چلا گیا کہ میں نے گوری میم صاحب کو ان کی "دوائی " بھی دینی تھی۔۔۔ عدیل کے گھر حسب ِ معمول میلہ لگا ہوا تھا ۔۔مامی باجی صائمہ اور آج تو مجھے فرزند صاحب بھی نظر آئے۔۔۔۔۔ مجھے دیکھتے ہی کہنے لگے ۔۔کیا بات ہےیار ۔۔۔۔۔ تم نے کبھی چکر ہی نہیں لگایا ؟ تو میں مامی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔۔ جی آج کل ان کی خدمت ہو رہی ہے تو وہ کہنے لگے اچھا ہوا کہ تم مل گئے۔۔۔۔۔پھر کہنے لگے بات دراصل یہ ہے کہ ہم نے ممانی جی کے اعزاز میں آج رات کا کھانا رکھا ہے۔۔ تو میں ان سے بولا۔۔۔ کہاں؟ تو وہ کہنے لگے۔۔۔۔ ایف سیون کے اسی ہوٹل میں ہے کہ جہاں ہم عموماً کھایا کرتے ہیں اگر تم بھی آ جاؤ گے تو مجھے خوشی ہو گی۔فرزند صاحب کی بات ختم ہوتے ہی صائمہ باجی جو کہ ہمارے پاس ہی کھڑی تھی ا ن کو پکڑ کر ایک سائیڈ پر لے گئی۔۔۔۔۔۔اور وہ دونوں کافی دیر تک بحث و تکرار کرتے رہے یہ دیکھ کر مامی میرے قریب آ کر کہنے لگی پتہ ہے یہ لوگ کیا باتیں کر رہے ہیں؟ تو میں حیرانی سے بولا۔۔۔رئیلی مجھے اس بارے میں بلکل علم نہیں ہے۔۔۔تو وہ مسکراتے ہوئے بولیں۔۔۔۔۔ میرے خیال میں صائمہ اس کو کہہ رہی ہے کہ شام کو تو میں (مامی) نے ثانیہ کا رشتہ مانگنے آنا ہے اور آپ شاہ کو انوائیٹ کر رہے ہو۔۔۔ اس پر میں مامی کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔ اگر ایسی بات ہے تو میں فرزند صاحب سے معذرت کر لیتا ہوں ۔۔اس پر مامی ترنت ہی کہنے لگیں۔۔بلکل بھی نہیں بلکہ اگر تم کھانے میں نہیں آؤ گے تو پھر میں بھی نہیں جاؤں گی۔۔۔ اس پر میں ان سے بولا لیکن مامی آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ ۔۔۔۔ رشتے والا معاملہ زیادہ اہم ہے تو وہ کہنے لگیں۔۔ ۔۔۔ یہ لالچی لوگ اس رشتے کے لیئے مرے جا رہے ہیں پھر کہنے لگی یقین کرو شاہ۔۔۔ اگر میں ان سے کہہ دوں نا کہ یہ سب کے سامنے تمہیں بے عزت کر کے گھر سے نکالیں تو مجھے پکا یقین ہے کہ یہ ایسا کرنے سے بلکل بھی دریغ نہیں کریں گے ابھی مامی نے اپنی بات ختم کی ہی تھی کہ فرزند صاحب نے دور سے ہی ہانک لگائی ۔۔کس بات سے دریغ نہیں ہو گا ؟ تو مامی کہنے لگی کچھ نہیں بھائی یہ ہم دونوں کی آپسی بات ہے اس سے پہلے کہ فرزند صاحب مجھ سے کچھ کہتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ انہیں لے کر دوسرے کمرے میں چلی گئی۔۔ اسی اثنا میں صائمہ باجی میرے پاس آ کھڑی ہوئی ان کا موڈ کچھ آف لگ رہا تھا تو میں نے ان سے پوچھا کہ کیا بات ہے سجنوں ! آج کچھ آف لگ رہے ہو۔۔۔خیر تو ہے؟ میری بات کا جواب دینے سے پہلے انہوں نے ایک نظر کمرے کی طرف دیکھا کہ جہاں مامی اور فرزند باتیں کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی ۔۔۔کیا بتاؤں یار ۔۔۔۔۔ میرا میاں بھی نا۔۔۔ ایک نمبر کا احمق آدمی ہے تو میں نے اس سے پوچھا۔۔۔ یہ انکشاف آپ پر کب ہوا ؟ ان سے شادی سے پہلے یا شادی کے بعد؟ تو وہ کہنے لگی۔۔۔ یہ انکشاف تو مجھ پر بہت پہلے ہو چکا تھا۔۔۔۔ لیکن اسے منکشف آج کر رہی ہوں تو میں نے بولی۔۔۔ اتنی گاڑھی اردو بول کے میرے ٹٹے ہوائی نہ کرو۔۔۔۔۔بلکہ مجھے یہ بتاؤ کہ چکر کیا ہے ؟ تو وہ کہنے لگی شاید تمہیں معلوم نہیں کہ آج رات کے کھانے پر مامی نے رسمی طور پر اپنے تانیہ کے لیئے۔۔۔۔اپنے بھانجے کا رشتہ مانگنا تھا تو میں ان سے بولا ۔۔۔ کیا خیال ہے یہ لوگ ہاں کر دیں گے؟ تو وہ کہنے لگیں لو کر لو گل ۔۔۔ یہ لوگ تو میری جان۔۔۔۔ تیار بیٹھے ہیں لیکن۔۔۔۔ فرزند نے تمہیں۔۔۔ انوائیٹ کر کے رنگ میں بھنگ ڈال دی ہے پھر بڑبڑاتے ہوئے بولی اچھی خاصی تیری جان چھوٹ رہی تھی۔سانپ بھی مر رہا تھا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹنی تھی۔۔۔۔۔۔۔ اس پر میں ان سے بولا ۔۔کہو تو میں معذرت کر لوں؟ تو وہ کہنے لگی تم کر کے دیکھ لو۔۔۔ لیکن میرے خیال میں مامی ایسا نہیں ہونے دیں گےاس پر میں ان سےبولا۔۔وہ کیوں جی ؟ تو باجی جواب دیتے بولیں وہ اس لیئے میرے چاند کہ میری ممانی بہت رکھ رکھاؤ والی خاتون ہیں۔اس لیئے وہ ایسا کبھی بھی نہیں ہونے دیں گے۔۔۔۔۔باجی سے باتیں کرتے ہوئے اچانک ہی میرے ذہن میں ایک خیال آیا اور میں ان سے کہنے لگا کہ رشتہ مانگتے وقت اگر میری غیر حاضری اتنی ہی ضروری ہے تو اس کے لیئے میرے پاس ایک قابلِ عمل تجویز ہے اگر کہو تو آپ کے حضور پیش کروں ۔۔۔ تو وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بولیں ہاں بول؟۔۔۔ تو میں ان سے کہنے لگا آپ ایسا کریں کہ کھانے سے پہلے یا بعد ۔۔ جب مامی نے رشتے والی بات کرنی ہو تو مجھے ثانیہ کے ساتھ کسی کام کے بہانے بھیج دیں۔۔۔۔میری بات سن کر وہ کھلکھلا کر ہنسیں ۔۔۔اور پھر کہنے لگیں۔۔۔تو واقعی ہی بڑا چودو لڑکا ہے تمہارا مطلب اسی بہانے تو اس معصوم کلی کو مسل دو۔۔۔ تو میں ان سے بولا۔۔۔اس ریسٹورنٹ میں۔۔۔ میں بھلا اس کو کہاں چودوں گا؟ ہاں کسنگ وغیرہ کی میں گارنٹی نہیں دے سکتا تو وہ کہنے لگیں بات تو تمہاری کسی حد تک قابلِ عمل ہے چل میں اس پر غور کروں گی مامی اور فرزند سے مشورہ کرنے کے بعد تم کو بتاؤں گی پھر کہنے لگی ویسے اگر تم چاہو تو اس کو چود ددددد۔۔۔اتنا کہتے ہی ۔۔۔۔ایسا لگا کہ جیسے انہیں کوئی بات یاد آ گئی ہو۔۔۔۔۔چنانچہ انہوں نے مجھ پر بڑی گہری نگاہ ڈالی اور پھر کہنے لگیں۔۔۔ آج دوپہر تم مامی کو لے کر کہاں گئے تھے؟ تو میں ان سے بولا ۔۔مم کہیں نہیں ۔۔۔پھر ان سے بولا۔۔۔لیکن آپ کیوں پوچھ رہیں ہو ؟ تو وہ جواب دیتے ہوئے بولیں ۔۔ وہ اس لیئے میرے چاند کہ جب مامی واپس آئیں ہیں۔۔۔ بڑی ہی خوش اور چہک رہیں ہیں۔۔۔۔اس کے ساتھ ساتھ ان کے چہرے سے وہی اطمینان اور سکون چھلک رہا تھا جو کہ ایک عورت کو بہت بڑے آرگیزم کے بعد۔۔۔۔۔یا پھر اپنے پسندیدہ بندے سے پھدی مروا نے کے بعد حاصل ہوتا ہے۔۔ تو میں ان سے بولا میری پیاری باجی ۔۔۔۔۔۔ مجھے ان سے ملے ۔۔۔ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں ہوئے۔۔۔اس لیئے۔۔۔ میں ان کا پسندیدہ بندہ کیسے بن گیا؟ تو وہ جواب دیتے ہوئے بولیں۔۔۔وہ اس لیئے جان جی کہ آج کل وہ تیرے بڑے گن گانے رہی ہیں ۔۔۔ پھر آنکھیں نکالتے ہوئیں کہنے لگیں۔۔ ۔۔۔ سچ سچ بتا چکر کیا ہے؟ تو میں انجان بنتے ہوئے بولا ۔۔چکر لن ہے آپ ایسے ہی خواہ مخواہ مجھ معصوم پر شک کر رہی ہیں۔۔۔۔ تو وہ میرے اور نزدیک ہو کر بولیں ۔۔بکواس نہیں۔۔۔ سچ سچ بتا انہیں کہاں لے کر گیا تھا؟ تو میں ان سے جھوٹ بولتے ہوئے بولا ۔۔۔ ایک دوست کا گھر خالی تھا وہاں لے کر گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پتہ نہیں کیا بات ہے کہ میری بات سنتے ہی اچانک ان کی آنکھوں میں شہوت کے لال ڈورے تیرنے لگے۔۔۔۔۔ اور وہ بولیں۔۔ہُوں۔۔۔ تو تم نے مامی کو بھی چود لیا ۔۔ تو میں دانت نکال کر بولا۔۔۔ آپ کی دعا سے۔۔۔تو وہ کہنے لگی۔۔۔اچھا یہ بتا کہ تم نے اکیلے ہی چودا ہے ۔۔۔یا دوست نے بھی مزے کیئے ہیں؟ ۔۔۔اس پر میں بولا نہیں صرف میں نے ہی انہیں چودا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ وہ کہنے لگیں۔۔ فرزند کے جانے کے بعد۔۔۔۔تم نے مجھے تنہائی دینی ہے۔۔ تو میں ان سے کہنے لگا۔۔۔اتنے بندوں کے ہوتے ہوئے کیسے مرواؤ گی؟ ۔۔۔تو وہ کہنے لگیں۔۔۔۔۔ تم نے سنا نہیں جہاں چاہ ہوتی ہے وہیں پہ راہ نکلتی ہے ۔۔۔اس لیئے۔۔۔۔ کوئی نہ کوئی جگاڑ کر ہی لیں گے۔۔۔۔ اور تجھ سے چدنے کے لیئے۔۔۔۔۔ میں راستہ نکال ہی لوں گی ۔۔۔ ہم یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ کمرے سے مامی ۔فرزند اور آنٹی برآمد ہوئیں ۔۔۔۔ فرزند صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے۔۔۔۔ کھانے پر تمہارا انتظار کروں گا۔۔ ابھی میں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ وہ بولے۔۔۔ نو ایکسکیوز۔۔۔ میرے بھائی آپ نے ہر صورت آنا ہو گا۔پھر وہ ہم سب کی طر ف ہاتھ ہلاتے ہوئے وہ گیٹ کی طرف چل دیئے اور باجی ان کو سی آف کرنے ان کے ساتھ چل دیں۔ فرزند کے جانے کے بعد آنٹی مجھ سے مخاطب ہو کر بولیں۔۔۔ بیٹا آپ ڈرائینگ روم میں چل کر بیٹھو میں آپ کے لیئے جوس لاتی ہوں۔ تو مامی ہنس کر بولی ۔ کونسا جوس پلا رہی ہو۔۔۔ تو آنٹی جواب دیتے ہوئے بولیں۔۔ مینگو جوس ! اس پر مامی کہنے لگی باجی یہ آفر کیا صرف مہمان کے لیئے ہے یا پھر۔۔۔۔۔کوئی پردیسی بھی پی سکتا ہے؟ تو آنٹی بھی ہنس کر بولیں ۔ ایسی بات نہیں ہے بھابھی ۔۔۔۔ تم شاہ کے ساتھ بیٹھو تمہارے لیئے بھی آ جاتا ہے۔۔ اتنا کہہ کر آنٹی تو کچن کی طرف چلی گئیں جبکہ مامی اور میں ڈرائینگ روم کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔۔ راستے میں ۔۔۔۔میں نے کن اکھیوں سے ادھر ادھر دیکھا کہ جس سالی ( گوری میم) کے لیئے میں آیا تھا وہ کہیں نظر آ جائے لیکن وہ دکھائی نہیں دے رہی تھی۔۔۔ جبکہ دوسری طرف مامی مجھ سے کہہ تھیں وہ سالا واقعی تم سے معذرت کرنے والا تھا لیکن میں نے جب اسے منع کیا تو وہ کہنے لگا۔۔۔ باجی میں اس لیئے معذرت کرنے لگا تھا کہ یہ اور تانیہ آپس میں بہت اٹیچ ہو گئے ہیں اس لیئے آپ کی طرف سے رشتے کی بات سن کر ۔۔۔۔۔۔۔ ایسا نہ ہو کہ اس کا دل دکھ جائے۔۔۔اس پر وہ کہنے لگی تو میں آج رات تم سے لوگوں سے رشتے کی بات نہیں کروں گی ۔۔۔ ۔تو فرزند نے جواب دیتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں آپ کھل کر بات کرنا۔۔۔ میں اسے ثانیہ کو کہہ دوں گا وہ اسے کسی بہانے باہر لے جائے گی۔۔۔۔۔ مامی کی بات سن کر حیرانی سے میرا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔۔۔مامی نے میری یہ حالت نوٹ کر لی اور کہنے لگی۔۔۔۔ارے تمہیں کیا ہوا؟ تو میں ان سے بولا۔۔۔۔۔ سیم یہی بات میں نے صائمہ باجی سے بھی کہی تھی۔۔۔۔ پھر ان کے استفسار پر۔۔۔۔۔میں نے سیکس والی بات نکال کر صائمہ باجی کے ساتھ ہونے والی ساری بات ان کے گوش گذار دی ۔۔۔۔ سن کر وہ بھی حیران ہوئیں۔۔۔اتنی دیر میں آنٹی مینگو جوس لے آئیں۔۔اور ہمارے سامنے گلاس رکھتے ہوئے۔۔۔۔ وہیں بیٹھ گئیں۔۔۔ ۔۔۔ مامی نے جلدی سے مینگو جوس پیا اور آنٹی سے کہنے لگی تھینک یو باجی جوس بہت مزے کا تھا ۔۔۔۔۔اب میں تھو ڑا ریسٹ کرنے کے لیئے اپنے روم میں جا رہی ہوں پھر وہ مجھ سے مخاطب ہو کر بولیں ۔۔۔۔تمہارا کیا پروگرام ہے ؟ تو میں ان سے بولا کس بارے ؟ تو وہ کہنے لگیں کیا تم ریسٹورنٹ باہر و باہر پہنچو گے یا ہمارے ساتھ چلو گے؟ اس سے پہلے کہ میں کوئی جواب دیتا۔۔۔۔۔۔۔ آنٹی کہنے لگیں ارے بابا یہ نہیں آئے گا تو۔۔۔۔۔۔۔گاڑی کون چلائے گا ؟۔۔
  11. گوری میم صاحب [/color](آخری قسط)[/font] [/color] مامی کی چیخ کے ساتھ ہی میں نے آخری چارے کے طور پر ایگنیشن میں چابی گھمائی۔۔۔گھررررررررر۔۔کی آواز سنائی دی ۔۔۔۔ ۔۔۔اور ایک دم سے گاڑی اسٹارٹ ہو گئی گاڑی سٹارٹ ہوتے ہی میں نے فاتحانہ نظروں سے مامی کی طرف دیکھا جو کہ میری گود میں لن لیئے بیٹھی تھی تو وہ اسی وقت چلا کر بولیں۔۔۔۔۔بھاگ حرامی۔۔۔ ۔۔۔۔۔ بھاگ۔۔۔۔۔اور اس سے پہلے کہ وہ موٹا سپاہی ٹوٹے ہوئے شیشے سے ہاتھ ڈال کر دروازے کا لاک کھولتا ۔۔۔ میں نے گئیر لگاکر ۔۔۔۔۔ فل ایکسیلیٹر دے دیا۔۔۔ گاڑی نے خوف ناک آواز کے ساتھ ایک جھٹکا مارا۔۔۔۔۔۔اور بھاگنا شروع ہو گئی۔۔۔ خوف ناک آواز سے بھاگنے کا یہ فائدہ ہوا ۔۔۔۔۔۔کہ وہ سپاہی جو کہ ٹوٹے ہوئے شیشے میں ہاتھ ڈال کر دروازے کا لاک کھولنے لگا تھا۔۔۔۔۔ڈر کر پیچھے ہٹ گیا۔۔۔۔ اسی اثنا میں مامی کی خوف زدہ آواز سنائی دی وہ کہہ رہی تھی شاہ۔۔۔۔وہ ۔۔۔وہ۔حرامزادہ ۔۔۔ گاڑی کا نمبر نوٹ کر رہا ہے تو میں ایکسیلیٹر کو مزید دباتے ہوئے بولا۔۔۔۔ لن پہ چڑھے ۔۔۔تو وہ حیران ہو کر بولی ۔۔کیا مطلب بعد میں تمہارے لیئے مسلہ نہیں ہو سکتا ؟ تو میں مامی کا منہ چوم کر بولا۔۔۔۔پہلی بات تو یہ ہے کہ گاڑی میری نہیں۔۔۔ [/color] بلکہ میرے ایک دوست کی ہے جو کہ خود بھی حرامی ٹائپ کا بندہ ہے اور ایف آئی اے میں کام کرتا ہے۔۔میری بات سن کر مامی نے ایک گہری سانس لی ۔۔۔اور پھر کہنے لگی۔۔۔۔مطلب میں بےفکر ہو جاؤں تو میں ان سے بولا ۔۔۔۔بلکل بےفکر ہو جائیں۔۔ہاں اگر ہم موقعہ پر پکڑے جاتے تو پھر رولا ہو سکتا تھا۔۔ تو وہ ہنس کر کہنے لگی ۔۔۔۔تمہیں کیا رولا ہونا تھا بنڈ تو میری " بجنی" تھی۔۔تو میں حیران ہو کر بولا کیا مطلب ؟ تو وہ کہنی لگی لاہور میں میری ایک دوست اسی حالت میں پکڑی گئی تھی۔۔۔پولیس والوں نے ان سے پیسے بھی لیئے۔۔۔۔اور میری دوست کو بھی چودا ۔۔۔۔۔اس پر میں ان سے بولا فرض کریں اگر ہم دونوں پکڑے جاتے تو ؟ ۔۔۔۔۔۔۔میری بات سن کر انہوں نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگی۔۔۔۔ تمہاری جگہ اگر کوئی اور ہوتا تو میں اس کے ساتھ ساتھ ان پولیس والوں سے بھی چدوانا پسند کرتی ۔اس پر میں بولا۔۔ وہ کس لیئے؟ تو وہ کہنے لگی۔۔ میری اس دوست نے بتلایا تھا کہ پولیس والوں نے اسے بڑا رف اینڈ ٹف۔چودا تھا۔۔۔۔۔۔اس پر میں حیرانی سے کہنے لگا۔۔۔ رف اینڈ ٹف؟ تو وہ کہنے لگیں ۔۔۔مطلب اسے چودتے وقت ننگی گالیاں دے رہے تھے ۔۔۔۔اور دوران چودائی اس کے ساتھ انتہائی بے رحمانہ سلوک کیا تھا وحشیوں کی طرح اس کی چھاتیاں چوسیں۔۔[/font][/color] [/color]۔اور ان کو چوستے ہوئے دانت بھی کاٹے۔۔۔۔۔۔زبردستی منہ میں لن ڈالا۔۔۔ اور پورا اندر ڈالنے کے چکر میں حلق تک لے گئے۔۔۔۔۔اور ۔۔۔اور اتنی ہی سفاکی سے اندر باہر بھی کیا۔۔۔ ۔۔۔۔ اس پر میں مامی کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔ ۔۔کیا خیال ہے واپس چلوں؟ تو وہ مست آواز میں کہنے لگیں۔۔ نو نو آج کے دن مجھے صرف تیرا ساتھ چاہیئے تو میں ان سے بولا میرا ساتھ کس لیئے ؟؟؟؟؟۔۔۔۔۔۔تو وہ شہوت بھرے لہجے میں بولیں ۔۔۔۔ ۔۔۔ وہ اس لیئے میری جان!!۔۔۔۔کہ اس وقت مجھ پر تمہاری شدید طلب چڑھی ہوئی ہے ۔۔۔۔اتنی دیر میں ہماری گاڑی مین روڈ پر پہنچ گئی اور میں گاڑی سائیڈ پر روک کر ان سے بولا۔۔۔۔۔ آپ اپنی سیٹ پر چلی جائیں۔۔۔۔۔۔تو وہ مخمور لہجے میں بولیں۔۔۔ مجھے چودو گے نہیں؟ میں نے ان کی فٹ بال جیسی چھاتیوں کی طرف دیکھا اور اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر کر بولا ۔۔۔۔ آپ کی رس بھری جوانی کا رس پینے سے کوئی کافر ہی انکار کر سکتا ہے۔۔تو وہ لاڈ بھرے لہجے میں کہنے لگی ۔۔۔کافر نہ بن۔۔۔بلکہ۔۔میری جوانی کا سارا رس نچوڑ لے۔۔۔پھر شہوت سے چور لہجے میں بولیں ۔۔۔ میں بہت گرم ہوں جان!!!! مجھے چود کے ٹھنڈا کر۔[/i]
  12. تب میں نے مامی کو کھینچ کر اپنی طرف کیا اور ان سے بولا ۔۔ایک کہانی ختم تو دوجی شروع ہو گی مامی ! تو وہ میری پینٹ کے ابھار کی طر ف دیکھ کر ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے بولی ۔۔آئی تھنک یہ کہانی پہلےسے زیادہ مزے کی ہو گی۔۔۔پھر پینٹ کے اوپر سے لن کو پکڑ ایک لمبی سی" ہوں" کرتے ہوئے مستی سے بولی۔۔۔ یہ صاحب کس لیئے کھڑے ہوئے ہیں؟ تو میں ان سے بولا ۔۔یہ ایک حسین خاتون کی حسین پھدی کے احترام میں کھڑے ہوئے ہیں۔۔اور دوجی کہانی کا اختتام انہی سے ہو گا۔۔۔ تو وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔یہ تو غالباً دیسی ککڑ نہیں ہیں؟ تو میں ان سے کہنے لگا۔۔۔ یو نو مامی دیسی دیسی ہوتا ۔۔۔۔۔۔ اور مامی کی طرف منہ کر لیا تو انہوں نے جلدی سے اپنے گال میرے آگے کر دیئے اور لن کو پکڑ کو کہنے لگی دیسی ککڑ کیا کرو گے میرے ساتھ؟ تو میں ان سے بولا دیسی ککڑ آپ کو ولایتی سیکس کا مزہ دے گا۔۔۔ اس کے ساتھ ہی میں نے ایک مناسب سی جگہ دیکھ کر گاڑی پارک کر دی اور خود سیٹ لمبی کر کے پیچھے کی طرف ہو گیا۔۔اور ان کو لن چوسنے کی دعوت دی۔۔۔تو وہ میرے لن کی طرف جھکتے ہوئے بولیں۔۔۔۔اسے باہر تو نکال لینا تھا۔۔۔تو میں ان سے بولا چونکہ آپ نے چوسنا ہے اسلیئے شیر کو پنجرہ سے باہر آپ کو ہی نکالنا ہو گا۔۔۔میری بات سن کر انہوں نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگیں۔۔میری ایک دوست ہے پلوی جسے تم بائی نیم جانتے ہو ۔۔تو میں نے اثبات میں سر ہلا ددیا تو وہ کہنے لگی۔۔ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ میری اس دوست کو مرجھایا ہوا لن منہ میں لینا اور پھر اسے منہ میں ہی بڑا کرنا بہت پسند ہے۔تو میں نے ان سے کہا کہ آپ کو کیسا پسند ہے؟ تو وہ کہنے لگی لن ۔۔۔ایک مزے دار شے ہے یہ چاہے بیٹھا ہویا کھڑا ۔۔۔مجھے تو اسے ہاتھ میں پکڑ کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسے منہ میں لے کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور خاص کر خاص جگہ میں لے کر۔۔۔۔تو میں ان کی بات کاٹ کر بولا۔۔۔ مامی جی خاص جگہ سے آپ کی کیا مراد ہے؟ تو وہ ہنس کر کہنے لگیں۔۔۔خاص جگہ سے مراد تمہاری پسندیدہ جگہ پھدی۔۔۔اور گانڈ بھی ہو سکتی ہے۔۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک نظر گاڑی کے باہر دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر اپنی زبان نکال کر لن کے گرد پھیرنا شروع ہو گئیں۔۔۔وہ اپنی زبان کو میرے لن خاص کرٹوپے کے ارد گرد بڑی مہارت سے گھما رہیں تھیں ۔۔جس کی وجہ سے میں مستی اور سرور کی وادیوں میں ڈوبتا چلا جا رہا تھا۔پھر انہوں نے لن پر تھوک پھینکا ۔۔اور مجھ سے کہنے لگیں کیا خیال ہے لن کو چوس نہ لیا جائے؟ تو میں نے ان سے پوچھا تو ابھی آپ کیا کررہی تھیں۔۔۔تو وہ کہنے لگیں ابھی میں تیرے لن کے ساتھ کھیل رہی تھی۔۔پھر انہوں نے اپنا پورا منہ کھولا اور لن کو منہ میں لے کر چوسنا شروع ہو گئیں۔۔اٖ ففففف ۔۔۔امریکن پلٹ مامی بڑا ہی کمال لن چوس رہیں تھیں۔۔جس کی وجہ سے میرے منہ سے سسکاریاں نکلنا شروع ہو گئیں۔۔۔کچھ دیر تک تو وہ میری ان سسکایوں کو انجوائے کرتی رہیں۔۔۔پھر انہوں نے اپنے گرم منہ سے میرا تنا ہوا لن نکالا اور کہنے لگیں۔۔ کسی دن میں تمہیں اپنی گانڈ کا مزہ دوں گی تو دیکھنا تم اس سے ڈبل سسکیاں لو گے۔۔۔اس پر میں ان سے بولا ۔۔۔آپ ابھی گانڈ مزہ دے دو نا۔۔تو وہ کہنے لگیں کیسے دوں جگہ تنگ ہے۔۔۔ تو میں ان سے بولا کیا آپ کی گانڈ بھی تنگ ہے تو وہ کہنے لگیں ہر گز نہیں۔۔۔میری تنگ نہیں ہے لیکن مجھے لن صاحب کو انجوائے کرانا خوب آتا ہے اس کے بعد انہوں نے اپنا سراُوپر اُٹھایا۔۔۔اور مجھ سے کہنے لگیں۔۔۔ منہ میں ہی چھوٹو گے یا پھدی میں؟ تو میں ان سے بولا اگر پھدی مل جائے ۔۔۔تو وہ کہنے لگی اوکے تم پھدی مار لو۔۔۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنا آزار بند کھولا ۔۔۔ اور شلوار ٹخنوں تک کر کے بولی ۔۔۔ لیکن پہلے میری پھدی کے ساتھ کھیل۔۔۔ان کی بات سن کر میں نے اپنی سیٹ اوپر کی ۔۔۔ ۔ ان کی پھدی صاف ۔۔قدرے لمبوتری۔۔ اور دانہ بہت موٹا تھا ۔۔ ان پیاری سی پھدی کو غور سے دیکھنے کے بعد ۔۔۔۔۔ میں نے اپنی دو انگلیوں پر تھوک لگا یا۔۔۔۔اور ان چکنی انگلیوںکو ۔۔۔۔۔۔ان کے دانے پر رکھ دیا۔۔اور اسے مسلنے لگا۔۔۔۔ ایسا کرنے سے وہ ہلکی سی کراہیں۔۔۔ہائے جان۔۔۔مزہ آ رہا ہے ۔۔پھر میں نے یہی دو نگلیاں دانےسے ہٹا کر ان کی پھدی میں ڈال دی۔۔اور انگلیوں کو ان آؤٹ کرنے لگا۔۔۔ میری اس حرکت سے وہ بہت خوش ہوئیں۔۔۔اور خود بھی نیچے سے ہلنا شروع ہو گئیں لیکن تھوڑی ہی دیر بعد جب ان کی پھدی تنگ ہونا شروع ہو گئیں۔۔۔۔تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔اور کہنے لگیں۔۔ انگلیاں باہر نکالو تو میں ان سے بولا وہ کیوں جی؟ تو وہ شہوت بھرے لہجے میں بولیں۔۔۔۔ میری پھدی تیار ہو گئی ہے تو میں نے بھی شہوت بھرے لہجے بولا۔۔۔۔ آپ کی پھدی کس لیئے تیا ر ہو گئی ہے تو وہ شہوت سے چور لہجے میں بولیں بہن چود تیرے لن کے لیئے بلکل ریڈی ہے چل جلدی سے اند ر ڈال۔۔۔۔پھر کہنے لگی تم سیٹ کو تھوڑا پیچھے کر میں تیرے لن پر بیٹھوں گی۔۔۔۔ اسکے بعد میں نے اپنی سیٹ کو تھوڑا سا پیچھے کیا۔ تو وہ ادھر ادھر دیکھ کر میرے اوپر آ گئیں۔۔۔۔اور لن کو پکڑ کر بولیں یہ ابھی بھی تنا ہوا ہے تو میں ان سے بولا۔۔۔ یہ سب آپ کی پھدی کی گرمی ہے میری بات سن کر انہوں نے اپنی دو انگلیوں پر تھوک لگایا ۔۔۔اور پھر وہی تھوک میرے ٹوپے پر لگا کر بولی۔۔۔ اب میں تیرے لن پربیٹھنے لگی ہوں۔۔اور پھر اپنی دونوں ادھر ادھر کر کے اپنی پھدی کو عین میرے لن کی سیدھ میں لے ائیں اور پھر آہستہ اہستہ اس پر بیٹھنا شروع ہو گئیں۔۔ جب سارا لن ان کی پھدی میں گم ہو گیا تو انہوں نے ہلکی سی چیخ ماری اور کہنے لگیں۔۔۔ میں نے تیرا سارا للا اندر لے لیا ہے۔۔انتی بات کروہ میرے ساتھ لپٹ گئیں۔۔اور میرے لن پر اوپر نیچے ہونے لگیں۔انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ میری گردن میں باہیں حمائل کیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بڑے ڈیسنٹ طریقے سے اوپر نیچے ہو رہیں تھیں۔۔۔۔ اور میں آنکھیں موندیں ان کے اوپر نیچے ہونے کو انجوائے کر رہا تھا۔۔کار میں سیکسی ماحول چھایا ہوا تھا۔اس کی گرم گرم آہیں مجھے مست کر رہیں تھیں۔۔۔۔۔ کہ اچانک میری چھٹی حس نے مجھے سگنل دینا شروع کر دئے لیکن میں مامی کے ڈیسنٹ گھسوں کو انجوائے کر رہا تھا۔۔اس لیئے اس طرف زیادہ دھیا ن نہ دیا۔۔۔۔۔۔ "بمب" تو اس وقت پھوٹا جب کسی نے بڑے بھونڈے طریقے سے ہماری سائیڈ مرمر بجا۔۔۔۔۔اور اس نے اتنے ذور سے بجا۔۔۔۔۔۔ کہ۔۔۔۔ہم دونوں نے چونک کرگاڑی کے باہر دیکھا۔۔تو سائیڈ مرمر پر دو پولیس والے کھڑے تھے۔۔پولیس کو دیکھتے ہی میری تو بنڈ پھٹ گئی۔۔۔ یہی حال مامی کا ہوا۔۔اور وہ میرے اوپر بیٹھے بیٹھے چلا کر بولی۔۔۔ بھاگ سالے بھاگ۔۔ورنہ لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ان کی بات سن کر میں نے اگنیشن کی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔۔اور چابی گھمائی۔۔۔تو انجن اسٹارٹ نہ ہوا۔۔۔ اس پر مامی خوف زدہ آواز میں بولی۔۔۔۔۔۔۔کک کیا ہوا؟ تو میں ان سے بولا ۔۔گگ گاڑی اسٹارٹ نہیں ہو رہی۔۔۔۔تو وہ کہنے لگی ۔۔اوہ شٹ۔۔۔ کچھ کر ۔۔۔۔کچھ کر۔۔۔میں نے ایک بار پھر اگنیشن میں چابی گھمائی۔۔۔لیکن۔۔۔ گاڑی اسٹارٹ نہ ہوئی۔۔۔۔۔اب میں گھبرا کر مامی سے بولا۔۔۔ مامی گاڑی۔۔۔ابھی میں نے اتنا ہی کہا تھا ۔۔ کہ ایک موٹا سا سپاہی۔۔۔۔۔۔گن کی بیک سائیڈ سے سائیڈ مرمر پردےماری۔۔۔ ٹھس کی آواز آئی اور شیشے پر کریک پڑ گیا۔۔۔اس پر مامی چلا کر بولی۔۔۔شیشہ ٹوٹ گیا تو ہم لوگ بے موت مر جائیں گے۔۔پلیززززززززز کچھ کر۔۔اتنی دیر میں اسی موٹے سپاہی نے بندوق کا بٹ اُٹھایا۔۔اور فل زور سے شیشے پر مارنے کے لیئے دوڑا۔۔۔۔۔۔۔۔اسی وقت گاڑی میں چھناکے کی آواز سنائی دی۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی مامی کی خوف سے بھر پور چیخ فضا میں گونجی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے مامی کی طرف دیکھا۔اوررررررررررررررررررررررررررررررر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( نوٹ اگلی قسط آخری ہو گی)
  13. گوری میم صاحب (قسط نمبر 14) اس رات میں نے ان دو حسیناؤں کے ساتھ خوب مزے کیئے۔ پھر اگلے چند روز تک راوی نے چین لکھا۔ ایک دن کی بات ہے کہ میں آفس میں اکیلا بیٹھا دل ہی دل میں غم جہاں تو نہیں ۔۔۔۔البتہ حسیناؤں سے عشق و عاشقی کا ایک اجتماعی جائزہ لے رہا تھا ۔۔۔ کہ ۔۔۔ایسے میں بلا وجہ مجھے گوری میم صاحب یاد بے حساب آئی۔۔اور پھرررر۔۔۔ اس کی یاد اتنی شدت سے آتی چلی گئی کہ بندہ دل کے ہاتھوں مجبور گیا۔۔۔ اور اس امید پر کہ شاید پہلے کی طرح عدیل گوری سے بات کروا دے ۔۔۔۔۔ اسے فون دے مارا۔۔۔۔ کہتے ہیں کہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے ۔۔۔۔چنانچہ پہلی گھنٹی پر ہی۔۔۔۔۔۔۔ عدیل کی بجائے گوری میم نے فون اُٹھا لیا۔۔۔ جیسے ہی اس نے اپنی جلترنگ سی آواز میں ہیلو کہا تو پتہ نہیں کیا بات ہے کہ نا چاہتے ہوئے بھی وقتی طور میرے حواسِ خمسہ جواب دے گئے ۔۔۔۔ اور میں چند لمحوں کے لیئے بلکل مَہبوت ہو کر رہ گیا۔۔پتہ نہیں کیا بات تھی کہ جب بھی میں اس گوری سے بات کرنے لگتا تو میرے ٹٹوں میں جان ختم ہو جاتی تھی ۔ جبکہ دوسری طرف وہ ہیلو ہیلو کیئے جا رہی تھی۔۔۔۔۔پھر شاید تنگ آ کر اس نے عدیل کو فون پکڑا دیا۔۔ ادھر جیسے ہی فون پر عدیل کی آواز سنائی دی۔۔۔۔۔اچانک پھر سے میری بیٹری چالو ہو گئی۔۔۔۔اور اسی وقت میرے منہ سے خود بخود ہی ہیلو نکل گیا۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی میں اپنی خفت مٹاتے ہوئے بولا ۔۔۔کیا بات ہے یار بھابھی نے فون اُٹھایا بھی ۔۔۔۔لیکن بات کرنے کی بجائے ہیلو ہیلو ہی کیئے جا رہی تھی۔۔۔۔تو اس پر عدیل کہنے لگا شاید نیٹ ورکنگ کا کچھ مسلہ ہو۔۔۔۔۔ یہ بےچاری بھی مسلسل ہیلو ہیلو کیئے جا رہی تھی۔۔۔۔پھر رسمی ہیلو ہائے کے بعد میں نے اس سے پوچھا کہ بھائی اب کیا چہلم تک رکنے کا ارادہ ہے؟ تو وہ جواب دیتے ہوئے بولا۔ ایسی بات نہیں ہے دوست ۔۔۔۔ہم لوگ تو آ جاتے مگر ماموں کی وجہ سے رکنا پڑ گیا پھر میرے پوچھنے پر اس نے بتلایا کہ نانا جی کے مرتے ہی ان کی جائیداد کے بٹوارے کا رولا پڑ گیا تھا جو کہ بمشکل حل ہوا ۔۔۔۔۔ اب وہ شاید پرسوں واپس آ ئیں ۔۔۔۔۔۔ پھر کہنے لگا کہ شاید کا لفظ اس لیئے استعمال کیا ہے کہ ایک آدھ دن زیادہ بھی لگ سکتا ہے۔۔۔۔۔۔ میرے فون سے ٹھیک دو دن بعد کی بات ہے کہ اچانک عدیل کا فون آ گیا وہ کہہ رہا تھا کہ ویری سوری ۔۔۔۔دوست جلدی کی وجہ سے میں تمہیں مل بھی نہیں سکا۔۔۔۔۔۔پھر تھوڑا جھجھک کر بولا۔۔۔۔ میں گزشتہ رات امریکہ پہنچ گیا ہوں۔۔۔۔عدیل کی بات سن کر میرے دل کو ایک دھکہ سا لگا اور میں نے اس سے پوچھا کہ ایسی بھی کیا ایمرجنسی تھی کہ سالے بنا ملے ہی امریکہ چلے گئے ہو؟ تو وہ کہنے لگا ۔۔۔ یار لفڑا ہو گیا تھا پھر کہنے گا تم یوں سمجھ لو کہ امریکن محکمہ ٹیکس نے مجھے ایک بہت ہی سخت نوٹس بھیج دیا تھا ۔۔۔جس میں انہوں نے مجھے ذاتی طور پر پیش ہونے کا بولا تھا ۔۔۔اس پر میں تشویش بھرے لہجے میں بولا۔۔۔ یہ تو بڑی زیادتی ہے تو وہ کہنے لگا ہو جاتا ہے یار ۔۔۔۔ تو میں نے اس سے پوچھا اب کیا پوزیشن ہے؟ تو وہ کہنے لگا رات ہی تو یہاں پہنچا ہوں ۔۔ ابھی اُٹھا ہوں تو سوچا تم کو فون کر لوں پھر کہنے لگا۔تو سنا ؟۔۔۔۔۔کیسا ہے؟ ادھر عدیل گانڈو مجھے اپنی رام کہانی سنا رہا تھا جبکہ میرا سارا دھیان گوری میم کی طرف لگا ہوا تھا کہ سالی باہر و باہر ہی۔۔ ملے بغیر۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔بغیر ہی چلی گئی۔۔جبکہ دوسری طرف عدیل مجھ سے کہہ رہا تھا کہ ہاں یار تم سے ایک درخواست کرنی تھی تو میں نے اس کو پورے خلوص سے کہا بول۔۔۔ تو وہ کہنے لگا میرا اور ماریہ کا پروگرام تھا کہ یہاں سے واپسی پر ہم لوگ فرانس سے ہوتے ہوئے جائیں گے۔۔۔۔۔ لیکن اس نوٹس کی وجہ سے مجھے ایمر جنسی میں آنا پڑ گیا اس لیئے اگر ہو سکے تو اس کے ساتھ فرینچ ایمبیسی چلے جانا اور ویزے سے متعلق اس کی ہیلپ کر دینا۔۔۔ عدیل کے منہ سے یہ سن کر کہ وہ اپنے ساتھ گوری میم کو نہیں لے کر گیا۔۔۔ میرے دل میں لڈو پھوٹ گئے اور میں نے از راہِ تفنن اس سے کہہ دیا کہ یار وہ تمہاری مامی کی ادلہ بدلی والی سٹوری تو بیچ میں ہی رہ گئی۔ میری اس بات پر وہ قہقہہ لگا کر ہنسا۔۔۔۔۔اور پھر کہنے لگا۔۔۔ سالے بہن چو د!۔۔۔دنیا چاند پہنچ گئی اور تو ابھی تک وہیں کا وہیں کھڑا ہے۔۔۔۔ ۔۔۔اس کے بعد وہ سیریس ہو کر کہنے لگا۔۔۔۔۔۔سٹوری کی فکر نہ کرو میں مامی سے کہہ دوں گا تم اس کے منہ سے سن لینا ۔۔۔۔اس پر میں اس سے بولا۔۔۔۔ اوئے گانڈو! ۔۔۔۔کیوں مامی کے ہاتھوں۔۔مجھے بے موت مروانے کا ارادہ ہے۔۔۔۔۔تو وہ ہنستے ہوئے بولا۔۔۔۔۔ جیسا کہ تمہیں معلوم ہے ۔۔۔کہ وہ ایک نمبر کی گشتی عورت ہے۔۔۔۔ چنانچہ اگر اسے تم پسند آ گئے ۔۔۔ تو لکھ لو کہ ۔۔۔تم اس سے کسی صورت نہیں بچ سکو گے۔۔۔ پھر تھوڑا وقفہ دے کر کہنے لگا۔۔۔۔اور یہ بھی لکھ لو کہ اگر اسے تم پسند نہ آئے۔۔۔۔ تو تم اس کے ساتھ کچھ بھی نہیں۔۔۔۔ سکو گے۔۔۔۔۔۔پھر کہنے گا ۔۔اس لیئے تو کہتا ہوں کہ۔۔ اگر مامی کا دل نہ ہوا تو میں تمہیں ٹیلی فون پر سنا دوں گا دوسری طرف عدیل کی یہ بات سن کر کہ اگر میں مامی کو پسند آ گیا تو وہ مجھے دے دے گی۔۔۔۔۔میرا دل بلیوں اچھلنے لگا۔۔۔۔۔اور میں دھڑکتے دل کے ساتھ اس سے بولا ۔۔۔ کیا تم سچ کہہ رہے ہو؟ تو وہ جواب دیتے ہوئے بولا۔۔۔۔ جھوٹ بولنے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔۔۔۔ پھر حسبِ معمول تھوڑا پاز دے کر بولا۔۔۔۔۔تم نے دیکھا نہیں کہ مامی کس قدر کھلی ڈھلی خاتون ہے۔تو میں ڈرتے ہوئے بولا۔۔۔۔ دیکھنا یا ر کہیں مروا نہ دینا۔۔تو وہ ہنستے ہوئے کہنے لگا۔۔۔ میں مروانے کی نہیں بلکہ مارنے کی بات کر رہا ہوں ۔اور پھر چند باتوں کے بعد اس نے فون رکھ دیا۔۔۔۔اور میں مامی کے بارے میں سوچنے لگا۔۔۔ اس بات سے تیسرے دن بعد کی با ت ہے کہ مجھے صائمہ باجی کا فون آیا۔۔۔۔ ان کی زبانی معلوم ہوا کہ وہ لوگ کل رات کو واپس آئے تھے پھر وہ آہستگی کے ساتھ کہنے لگیں میں نے تمہیں فون اس لیئے کیا ہے کہ گھر آ کر پہلے میری ماما اور پھر ساسو ماں سے نانا ابو کی تعزیت کرتے جاؤ۔ چونکہ صائمہ باجی کی بات معقول تھی اس لیئے میں شام کو آنٹی کے گھر (مطلب عدیل کے گھر) پہنچ گیا۔ میرا خیال تھا کہ انکل اور آنٹی گھر میں اکیلے ہوں گے ۔ لیکن وہاں پہنچ کر دیکھا تو ایک میلا لگا ہوا تھا مطلب آنٹی کے گھر کافی رش تھا۔وہاں پر ندرت مامی کو دیکھ کر میری حیرت دو چند ہو گئی۔اس لیئے جب میں ا ن سے مل رہا تھا تو میرے منہ سے ویسے ہی نکل گیا کہ آج تو بڑے بڑے لوگ آئے ہیں۔۔۔۔میری بات سن کر وہ چونک کر بولیں۔۔۔۔ کیا میں پوچھ سکتی ہوں کہ بڑے بڑے لوگوں سے تمہاری کیا مراد ہے؟ تو میں نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے ویسے ہی کہہ دیا کہ آپ مرتبہ میں بڑی اور اعلیٰ ہو۔۔۔۔ اس لیئے آپ کو اعلیٰ کہہ دیا تو کیا برا کیا؟ تو وہ ہنس کر کہنے لگی اعلیٰ کے بچے! کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں یہاں کس مقصد کے لیئے آئی ہوں؟ تو میں حیرانی سے بولا نہیں مجھے تو نہیں معلوم آپ یہاں کیوں آئی ہو؟ میری بات سن کر انہوں نے پاس کھڑی صائمہ باجی کو آواز دیتے ہوئے کہا۔۔۔صائمہ زرا ادھر تو آنا اور ۔۔ندرت مامی کی آواز سن کر صائمہ باجی جھٹ سے ہمارے پاس آن کھڑی ہوئی تو مامی ان سے مخاطب ہو کر کہنے لگی زرا اس کو بتاؤ کہ میں یہاں خاص طور پر کس لیئے آئی ہوں؟ مامی کی بات سن کر صائمہ باجی کی آنکھوں میں اک پیار بھرا شعلہ سا لپکا اور وہ کہنے لگیں تمہیں معلوم ہے کہ آنٹی تمہاری جان چھڑانے کے لیئے یہاں آئیں ہیں۔۔اس پر میں حیران ہو کر اس سے بولا۔۔۔میری جان کس نے پکڑی ہوئی تھی جو کہ آنٹی چھڑانے کے لیئے آئیں ہیں ؟ تب صائمہ کی بجائے آنٹی آگے بڑھیں اور مجھ سے کہنے لگیں میں تانیہ کا رشتہ لے کر آئی ہوں۔۔۔پھر مسکراتے ہوئے بولیں وہی تانیہ جس کے ساتھ بنا اعلان کے تم منگنی شدہ ہو۔۔۔پھر میری طرف دیکھتے ہوئے ایک خاص ادا سے بولیں یوں سمجھ لو کہ میں تمہاری جان چھڑانے کے لیئے آئی ہوں مامی کی بات سن کر میں نے جیسے ہی صائمہ باجی کی طرف دیکھا تو وہ کہنے لگی آنٹی کو سب پتہ ہے۔۔اس کے بعد وہ اور آنٹی مجھے ایک طرف لے گئیں اور وہاں جا کر صائمہ باجی نے مجھے بتلایا کہ اس کی ماما نے میرے اور اس رشتے کے بارے میں آنٹی کو سب بتا دیا تھا۔ صائمہ باجی کی بات ختم ہوتے ہی مامی کہنے لگی تم واقعی ہی ایک بہت اچھے اور رشتے نبھانے والے لڑکے ہو۔۔پھر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بڑی شرارت سے بولیں۔۔اچھا یہ بتا کہ تم نے اس لڑکی کے ساتھ کچھ کیا بھی تھا۔۔۔۔۔ یا صرف رومانس ہی لڑاتے رہے ہو؟ آنٹی کے منہ سے اتنی بے باک بات سن کر میں تھوڑا گھبرا گیا ۔۔لیکن پھر معصوم بنتے ہوئے بولا ۔۔۔ ابھی ابھی تو وہ بےچاری صدمے سے باہر نکلی تھی۔۔۔۔اور ابھی ابھی تو اس کے ساتھ علیک سلیک شروع ہوئی تھی۔۔کہ اوپر سے آپ آ گئیں۔۔۔۔۔۔ ۔ میری بات سن کر مامی ہنستے ہوئے کہنے لگی شکر کرو ۔۔۔اس کے ساتھ کچھ کیا نہیں ۔۔۔ورنہ ایسے معاملوں میں بعض اوقات لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں ۔۔۔ پھر میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگیں۔۔۔میں اس بات سے از حد خوش ہوں کہ عدیل نے پہلی دفعہ کوئی ڈھنگ کا دوست بنایا ہے اس کے بعد جب میں نے انہیں بتایا کہ میں آنٹی کے والد کی تعزیت کے لیئے آیا ہوں تو وہ بھی میرے ساتھ ہو لیں۔چنانچہ میں نے آنٹی اور انکل کے ساتھ تعزیت کی ۔اس دوران آنٹی کو میں نے بہت افسردہ پایا۔۔۔۔دعا کرتے ہوئے بھی وہ مسلسل روئے جا رہیں تھیں۔۔۔۔ تعزیت کے بعد ایک بار پھر رسمی جملوں کا تبادلہ ہوا ۔۔۔۔اور میں ان کے ساتھ ادھر ادھر کی باتیں کرتا رہا۔۔۔۔ لیکن میں نے محسوس کیا کہ آنٹی نے اپنے ابو کی موت کا بہت سوگ منایا تھا ۔۔۔۔چنانچہ میں نے کچھ دیر تک ان کے ساتھ باتیں کیں پھر میں اُٹھ کر جانے لگا تو آنٹی مجھ سے کہنے لگیں۔۔۔۔بیٹا ایک بات کہنی تھی اور وہ یہ کہ جب تک ندرت اور ماریہ ادھر ہیں ۔۔۔۔ ہماری خاطر تمہیں لانے لے جانے کے لیئے تھوڑی سی ڈرئیونگ کرنی ہو گی پھر کچھ توقف کے بعد کہنے لگیں۔۔چھوٹی موٹی گاڑی تو ہم سب چلا لیتی ہیں لیکن ہم لوگ اتنی پکی ڈرائیونگ نہیں جانتیں۔۔اس لیئے اگر آپ کچھ وقت ہمیں دے دو ۔۔۔تو بڑی مہربانی ہو گی ۔۔اس پر میں نے ایک نظر آنٹی کی طرف دیکھا۔۔۔اور پھ کہنے لگا۔۔۔۔۔۔اوکے آنٹی ۔۔۔لیکن ۔۔۔چونکہ میں ایک سروس پیشہ بندہ ہو اس لیئے میری خدمات ہر وقت دستیاب نہیں ہوں گا وہ کہنے لگیں۔۔۔ٹھیک ہے بیٹا۔۔ویسے۔۔۔۔چھوٹا موٹا کام ہوا تو ہم خود گزارا چلا لیں گی۔۔۔۔ آپ کو کسی خاص موقع پر زحمت دی جائے گی ۔ اور کمرے سے باہر نکل کر جانے لگا تو صائمہ باجی بولیں کہاں چل دیئے؟ تو میں ان سے کہنے لگا۔۔۔ ۔۔۔آپ کے سسرال بھی جانا ہے تو وہ مسکراتے بولیں۔۔۔ تھوڑی دیر بعد چلے جانا کہ کھانا تیار ہے پھر بولی آج کا کھانا اس لیئے بھی خاص ہے کہ اسے ماریہ بھابھی نے تیار کیا ہے۔ماریہ یعنی کہ گوری کا نام سن کر میں وہیں رک گیا۔اور دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ اسی لیئے دیدارِ یار نصیب نہیں ہوا کہ یار کچن میں بزی تھی۔۔۔۔ اس وقت میں ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھا مامی سے گپ شپ کر رہا تھا کہ ہاتھ میں ٹرے لیئے گوری میم ڈائیننگ روم میں داخل ہوئی اسے دیکھتے ہی مامی بڑے خوش گوار موڈ میں کہنے لگی آج کیا پکایا ہے؟ تو آگے سے گوری نے انگریزی کھانوں کے دو تین نام لیئے جو کہ باوجود کوشش کے بھی میرے پلے نہیں پڑے لیکن مامی سمجھ گئی اور اس سے بولی واؤؤ تم پکا بھی لیتی ہو؟ تو گوری مسکراتے ہوئے بولی وائے ناٹ آنٹی؟ ۔۔۔پھر کہنے لگی۔۔۔ میں تو عد یل کی پسند کے سارے کھانے بنا لیتی ہوں۔ ابھی گوری اور صائمہ باجی کھانا لا ہی رہی تھیں۔۔۔ کہ اچانک انکل کمرے میں داخل ہوئے اور مجھ سے مخاطب ہو کر بولے شاہ جی جلدی آؤ۔۔ان کی گھبرائی آواز سن کر میرے سمیت ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھے سارے لوگ اُٹھ کھڑے ہوئے اور اس سے پہلے کہ میں ان سے کچھ پوچھتا وہ خود ہی کہنے لگے کہ تمہاری آنٹی بے ہوش ہو گئی ہیں ۔۔۔ چنانچہ میں بھاگ کر ان کے کمرے میں گیا ۔۔۔۔ تو دیکھا کہ آنٹی پلنگ پر بے ہوش پڑی تھیں میں نے ایک نظر آنٹی کی طرف دیکھا اور پھر بھاگ کر گیراج پہنچا ۔۔۔۔ چابی اگنیشن میں ہی لگی ہوئی تھی سو میں نے جلدی سے گاڑی اسٹارٹ کی ۔۔۔۔۔اور مارکیٹ چلا گیا جہاں سے ایک ڈاکٹر صاحب کو ساتھ لیا اور آنٹی کے گھر پہنچ گیا ۔۔۔ دیکھا تو صائمہ باجی اور مامی آنٹی کے دونوں ہاتھ پاؤں کی مالش کر رہیں تھیں۔۔ڈاکٹر نے آنٹی کو اچھی طرح چیک کیا اور پھر لیڈیز سے سوال و جواب کے بعد وہ کچھ دوائیاں لکھ کر دیتے ہوئے بولا۔۔ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔۔۔۔صدمے کی وجہ سے ان کا شوگر لیول اور بلڈ پریشر کم ہو گیا تھا۔اس لیئے کوشش کیجئے گا کہ کچھ دن انہیں زیادہ دیر تک اکیلا نہ چھوڑا جائے۔۔پھر میں ڈاکٹر کو واپس کلینک چھوڑنے چلا گیا وہاں سے واپسی پر کھانہ کھایا اور بغرضِ تعزیت فرزند صاحب ک ے گھر چلا گیا۔۔ اگلے کچھ دنوں میں ۔۔۔۔۔ میں نے یہ بات اچھی طرح سے جان لی تھی کہ مامی مجھ میں بہت زیادہ انٹرسٹ لے رہی ہیں۔۔۔۔لیکن میرا سارا فوکس گوری کی طرف ہونے کی وجہ سے۔۔۔۔ میں انہیں خاطر خواہ جواب نہ دے پا رہا تھا۔۔۔میں گوری کے قریب ہونے کی کوشش کرتا وہ بھی رسپانس دے رہی تھی ۔۔لیکن عین موقعے پر میرے ۔۔۔۔۔حواس جواب دے جاتے تھے۔۔یعنی اپنی بنڈ میں ساہ مُک جاتا تھا ۔ اور بعض دفعہ تو گوری نے بھی اس بات کو محسوس کیا تھا۔۔۔۔ لیکن۔۔۔؟۔۔۔ جبکہ دوسری طرف میں نے محسوس کیا تھا کہ مامی مجھ سے کچھ کہنا چاہ رہی تھیں لیکن کہہ نہ پا رہی تھیں۔۔۔۔۔جبکہ میں دو کشتیوں کا سوار۔۔مامی کی لینا بھی چاہ رہا تھا لیکن سارا دھیان گوری کی طرف تھا۔۔۔۔۔ پھر ایک دن کی بات ہے کہ مجھے عدیل کا فون آ گیا۔۔۔اور وہ میرے ہیلو کے جواب میں بولا۔۔۔۔ سالے تو ہے ایک نمبر کا حرامی۔۔۔۔تو میں نے اس سے پوچھا کہ وہ کیسے؟ تو وہ کہنے لگا وہ ایسے کہ مامی جیسی گھاگ عورت تیرے پیچھے پڑی ہے لیکن تو اسے لفٹ نہیں کروا رہا تو میں نے اس سے پوچھا کہ یہ بات تم کیسے کہہ سکتے ہو؟ تو وہ جواب دیتے ہوئے کہنے لگا کہ یار مامی کا فون آیا تھا وہ (مجھ سے) مذاقاً کہہ رہی تھیں کہ تمہارا دوست تو مجھ میں زرا بھی انٹرسٹ نہیں لے رہا۔۔۔۔۔۔۔۔ اب میں عدیل کو کیسے سمجھاتا کہ گوری میم کے ہوتے ہوئے میں مامی کو کیسے لفٹ کرا سکتا ہوں۔۔۔۔۔ لیکن ظاہر ہے کہ میں اس سے یہ بات ہر گز نہیں کہہ سکتا تھا اس لیئے بات کو بناتے ہوئے بولا۔۔۔ یار میں تو تیری مامی کا ہاتھ بندھا غلام ہوں ۔۔۔ لیکن پتہ نہیں انہیں ا یسا کیوں لگتا ہے تو آگے سے وہ کہنے لگا چلو چھوڑو اس بات کو۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے تمیں ایک بڑی ضروری بات کے لیئے فون کیا ہے۔۔ اور وہ ضروری بات یہ ہے کہ مامی کی" دوائی" ختم ہو گئی ہے ۔۔ وہ براہِ راست تم سے مانگ نہیں سکتی اس لیئے انہوں نے مجھے کہا ہے اس پر میں نے عدیل سے مامی کی " دوائی" (شراب) کا برانڈ نام پوچھا اور اس سے بولا مامی سے کہہ دو کہ کل یا پرسوں تک انہیں مل جائے گی۔۔تو وہ تھوڑا جھجھک کر بولا۔۔۔ وہ یار ماریہ کی "دوائی " بھی فنش ہے تو میں اس سے بولا تو لگے ہاتھوں اس کا برانڈ نام بھی لکھوا دو تو وہ کہنے لگا۔۔دونوں کا برانڈ سیم ہے۔۔۔تو وہ کہنے لگا کہ اگر ایڈوانس کچھ چاہیئے تو ابھی جا کر مامی سے لے لو۔۔۔اس پر میں سنجیدہ ہو کر بولا۔۔ایڈوانس کو چھوڑ۔۔۔۔۔مامی کو دوائی بھی مل جائے گی ۔۔۔۔۔ لیکن میری ایک شرط ہے اور وہ یہ کہ مامی کو تمہارے ساتھ ہونے والی ادلہ بدلی کی سٹوری سنانی پڑے گی میری بات سن کر عدیل قہقہہ لگا کر ہنسا اور پھر کہنے لگا۔۔۔۔اوئے مہاراج!!!۔ کس دنیا میں رہتے ہو؟ کل اسے شراب کی بوتل دو اور اسے اپنے سامنے پلا دو ۔۔جب وہ ٹُن ہو جائے تو پھر جو مرضی ہے پوچھ لینا ۔۔۔پھر کہنے لگا ۔۔۔ویسے میں تمہارا یہ میسج ان تک پہنچا دوں گا۔۔۔۔ا س کے بعد اس نے ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد فون رکھ دیا۔۔۔۔ اور میں مامی اور جانِ بہار ۔۔۔ رشکِ چمن۔۔۔ غنچہ دھن ۔۔۔سیمیں بدن۔۔۔۔ مطلب گوری میم صاحب کے لیئے "دوائی" کا بندوبست کرنے لگا۔ اس وقت میں ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھا مامی سے گپ شپ کر رہا تھا کہ ہاتھ میں ٹرے لیئے گوری میم ڈائیننگ روم میں داخل ہوئی اسے دیکھتے ہی مامی بڑے خوش گوار موڈ میں کہنے لگی آج کیا پکایا ہے؟ تو آگے سے گوری نے انگریزی کھانوں کے دو تین نام لیئے جو کہ باوجود کوشش کے بھی میرے پلے نہیں پڑے لیکن مامی سمجھ گئی اور اس سے بولی واؤؤ تم پکا بھی لیتی ہو؟ تو گوری مسکراتے ہوئے بولی وائے ناٹ آنٹی؟ ۔۔۔پھر کہنے لگی۔۔۔ میں تو عد یل کی پسند کے سارے کھانے بنا لیتی ہوں۔ ابھی گوری اور صائمہ باجی کھانا لا ہی رہی تھیں۔۔۔ کہ اچانک انکل کمرے میں داخل ہوئے اور مجھ سے مخاطب ہو کر بولے شاہ جی جلدی آؤ۔۔ان کی گھبرائی آواز سن کر میرے سمیت ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھے سارے لوگ اُٹھ کھڑے ہوئے اور اس سے پہلے کہ میں ان سے کچھ پوچھتا وہ خود ہی کہنے لگے کہ تمہاری آنٹی بے ہوش ہو گئی ہیں ۔۔۔ چنانچہ میں بھاگ کر ان کے کمرے میں گیا ۔۔۔۔ تو دیکھا کہ آنٹی پلنگ پر بے ہوش پڑی تھیں میں نے ایک نظر آنٹی کی طرف دیکھا اور پھر بھاگ کر گیراج پہنچا ۔۔۔۔ چابی اگنیشن میں ہی لگی ہوئی تھی سو میں نے جلدی سے گاڑی اسٹارٹ کی ۔۔۔۔۔اور مارکیٹ چلا گیا جہاں سے ایک ڈاکٹر صاحب کو ساتھ لیا اور آنٹی کے گھر پہنچ گیا ۔۔۔ دیکھا تو صائمہ باجی اور مامی آنٹی کے دونوں ہاتھ پاؤں کی مالش کر رہیں تھیں۔۔ڈاکٹر نے آنٹی کو اچھی طرح چیک کیا اور پھر لیڈیز سے سوال و جواب کے بعد وہ کچھ دوائیاں لکھ کر دیتے ہوئے بولا۔۔ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔۔۔۔صدمے کی وجہ سے ان کا شوگر لیول اور بلڈ پریشر کم ہو گیا تھا۔اس لیئے کوشش کیجئے گا کہ کچھ دن انہیں زیادہ دیر تک اکیلا نہ چھوڑا جائے۔۔پھر میں ڈاکٹر کو واپس کلینک چھوڑنے چلا گیا وہاں سے واپسی پر کھانہ کھایا اور بغرضِ تعزیت فرزند صاحب کے گھر چلا گیا۔۔ [/color] [/color][/size] [/font]اگلے کچھ دنوں میں ۔۔۔۔۔ میں نے یہ بات اچھی طرح سے جان لی تھی کہ مامی مجھ میں بہت زیادہ انٹرسٹ لے رہی ہیں۔۔۔۔لیکن میرا سارا فوکس گوری کی طرف ہونے کی وجہ سے۔۔۔۔ میں انہیں خاطر خواہ جواب نہ دے پا رہا تھا۔۔۔میں گوری کے قریب ہونے کی کوشش کرتا وہ بھی رسپانس دے رہی تھی ۔۔لیکن عین موقعے پر میرے ۔۔۔۔۔حواس جواب دے جاتے تھے۔۔یعنی اپنی بنڈ میں ساہ مُک جاتا تھا ۔ اور بعض دفعہ تو گوری نے بھی اس بات کو محسوس کیا تھا۔۔۔۔ لیکن۔۔۔؟۔۔۔ جبکہ دوسری طرف میں نے محسوس کیا تھا کہ مامی مجھ سے کچھ کہنا چاہ رہی تھیں لیکن کہہ نہ پا رہی تھیں۔۔۔۔۔جبکہ میں دو کشتیوں کا سوار۔۔مامی کی لینا بھی چاہ رہا تھا لیکن سارا دھیان گوری کی طرف تھا۔۔۔۔۔ پھر ایک دن کی بات ہے کہ مجھے عدیل کا فون آ گیا۔۔۔اور وہ میرے ہیلو کے جواب میں بولا۔۔۔۔ سالے تو ہے ایک نمبر کا حرامی۔۔۔۔تو میں نے اس سے پوچھا کہ وہ کیسے؟ تو وہ کہنے لگا وہ ایسے کہ مامی جیسی گھاگ عورت تیرے پیچھے پڑی ہے لیکن تو اسے لفٹ نہیں کروا رہا تو میں نے اس سے پوچھا کہ یہ بات تم کیسے کہہ سکتے ہو؟ تو وہ جواب دیتے ہوئے کہنے لگا کہ یار مامی کا فون آیا تھا وہ (مجھ سے) مذاقاً کہہ رہی تھیں کہ تمہارا دوست تو مجھ میں زرا بھی انٹرسٹ نہیں لے رہا۔۔۔۔۔۔۔۔ اب میں عدیل کو کیسے سمجھاتا کہ گوری میم کے ہوتے ہوئے میں مامی کو کیسے لفٹ کرا سکتا ہوں۔۔۔۔۔ لیکن ظاہر ہے کہ میں اس سے یہ بات ہر گز نہیں کہہ سکتا تھا اس لیئے بات کو بناتے ہوئے بولا۔۔۔ یار میں تو تیری مامی کا ہاتھ بندھا غلام ہوں ۔۔۔ لیکن پتہ نہیں انہیں ا یسا کیوں لگتا ہے تو آگے سے وہ کہنے لگا چلو چھوڑو اس بات کو۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے تمیں ایک بڑی ضروری بات کے لیئے فون کیا ہے۔۔ اور وہ ضروری بات یہ ہے کہ مامی کی" دوائی" ختم ہو گئی ہے [/color] [/color] [/color] [/color][/size]۔۔ وہ براہِ راست تم سے مانگ نہیں سکتی اس لیئے انہوں نے مجھے کہا ہے اس پر میں نے عدیل سے مامی کی " دوائی" (شراب) کا برانڈ نام پوچھا اور اس سے بولا مامی سے کہہ دو کہ کل یا پرسوں تک انہیں مل جائے گی۔۔تو وہ تھوڑا جھجھک کر بولا۔۔۔ وہ یار ماریہ کی "دوائی " بھی فنش ہے تو میں اس سے بولا تو لگے ہاتھوں اس کا برانڈ نام بھی لکھوا دو تو وہ کہنے لگا۔۔دونوں کا برانڈ سیم ہے۔۔۔تو وہ کہنے لگا کہ اگر ایڈوانس کچھ چاہیئے تو ابھی جا کر مامی سے لے لو۔۔۔اس پر میں سنجیدہ ہو کر بولا۔۔ایڈوانس کو چھوڑ۔۔۔۔۔مامی کو دوائی بھی مل جائے گی ۔۔۔۔۔ لیکن میری ایک شرط ہے اور وہ یہ کہ مامی کو تمہارے ساتھ ہونے والی ادلہ بدلی کی سٹوری سنانی پڑے گی میری بات سن کر عدیل قہقہہ لگا کر ہنسا اور پھر کہنے لگا۔۔۔۔اوئے مہاراج!!!۔ کس دنیا میں رہتے ہو؟ کل اسے شراب کی بوتل دو اور اسے اپنے سامنے پلا دو ۔۔جب وہ ٹُن ہو جائے تو پھر جو مرضی ہے پوچھ لینا ۔۔۔پھر کہنے لگا ۔۔۔ویسے میں تمہارا یہ میسج ان تک پہنچا دوں گا۔۔۔۔ا س کے بعد اس نے ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد فون رکھ دیا۔۔۔۔ اور میں مامی اور جانِ بہار ۔۔۔ رشکِ چمن۔۔۔ غنچہ دھن ۔۔۔سیمیں بدن۔۔۔۔ مطلب گوری میم صاحب کے لیئے "دوائی" کا بندوبست کرنے لگا۔[/size][/font] اگلے دن چونکہ آف ڈے تھا اس لیئے میں دوپہر کو ہی آنٹی کے گھر چلا گیا دیکھا تو سارا ٹبر ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا جیسے ہی میں ڈائینگ حال میں داخل ہوا تو مامی نے خمار آلود نظروں سے میری طرف دیکھا اور پھر اپنے ساتھ والی خالی کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی ۔۔ادھر بیٹھ جاؤ اور میں چپ چاپ ان کے پاس جا بیٹھا ۔۔ابھی مجھے بیٹھے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ مامی نے ایک ہلکی سی دھول میری تھائی پر ماری ۔۔۔۔اور پھر بڑی ہموار لہجے میں بولی۔۔۔۔۔۔عدیل نے فون کیا تھا تو میں تھوڑا جھجھک کر ان سے بولا جی کل شام کو اس سے بات ہوئی تھی، میری بات سن کر وہ میری طرف جھک کر بولی۔۔دوائی لائے ہو؟ تو میں ان سے بولا ۔۔ جی کہہ دیا ہے آج شام یا کل صبع تک مل جائے گی ۔۔میری بات سن کر وہ مسکرائی اور پھر ہولے سے کہنے لگی۔۔۔۔۔ جیسے ہی تمہیں دوائی ملے ۔۔ مجھے ایک فون مار دینا پھر ہم بہانہ بنا کر کہیں لانگ ڈرائیو پر نکل جائیں گے۔۔۔۔وہاں کھل کر پینے کا اپنا ہی مزہ ہو گا۔۔ چنانچہ اگلے دن جیسے ہی میں نے ان کی "دوائی" وصول کی تو اسی وقت انہیں فون کر دیا۔سن کر ازحد خوش ہوئیں اور پھر کہنے لگیں جلدی سے گھر آ جاؤ مجھے پھر۔۔۔مجھے ایک دوست کے گھر بھی جانا ہے ۔۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا انہوں نے فون بند کر دیا تھا۔ [/color][/size] [/font] [/color][/size] [/font] [/color][/size] یہ اگلے دن کی بات ہے کہ میں نے ایک دوست سے گاڑی لی اور جس شخص کو دوائی کے بارے میں کہا تھا ۔ اس کے پاس پہنچ گیا۔۔پھر اس سے دوائی وصول کر کے حسبِ وعدہ مامی ندرت کو فون کر دیا۔ فون ملتے ہی انہوں نے سب سے پہلے مجھ سے پوچھا کہ میرا کام ہو گیا ہے؟ جب میں نے انہیں اثبات میں جواب دیا تو وہ کہنے لگیں پھر تم جلدی سے گھر آ جاؤ۔۔۔۔ چنانچہ میں نے گاڑی ان کے گھر کی طرف موڑ لی ۔۔۔۔ابھی میں ان کے گھر کے کچھ فاصلے پر تھا کہ انہوں نے مجھے گھر کے باہر رکنے کا بولا۔۔۔جیسے ہی میں نے ایک سائیڈ پر گاڑی روکی ۔۔عین اسی وقت وہ گھر سے باہر نکل رہیں تھیں۔۔۔انہوں نے میری طرف دیکھا۔۔۔۔انہیں دیکھتے ہی میں نے گاڑی کا اگلا دروازہ اَن لاک کر دیا اور وہ جھپاک سے اندر بیٹھ گئی۔۔ابھی گاڑی کو چلے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ سارے تکلف برطرف رکھتے ہوئے بولیں ۔۔۔ چل جلدی سے میری چیز نکال۔اور میں نے اپنی سیٹ کے نیچے سے ان کی بوتل نکال دی ( جبکہ گوری کی میں نے الگ سے رکھ چھوڑی تھی)۔۔ انہوں نے بوتل کو پکڑ کر اچھی طرح ملاحظہ کیا پھر مجھے ڈائیریکشن دیتے ہوئے بولیں۔۔۔ گاڑی کو دھیرے چلا اور شہر کی سنسان سڑکوں کی طرف لے جا۔پھر آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں۔۔۔آہ موسم بہت خوب ہے وہ درست کہہ رہی تھیں اس وقت آسمان پر ہلکے ہلکے کالے بادل چھائے ہوئے اندر اے سی کی سرد ہوا چل رہی تھی میڈم کے ہاتھ میں ان کی پسندیدہ "دوائی" کی بوتل پکڑی ہوئی تھی۔۔۔ایسے میں وہ جھوم کر بولیں ۔تم بھی پیتے ہو؟ تو میں نے انکار میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔۔۔ جی میں نہیں پیتا۔۔۔۔ تو وہ بوتل کو ناخن کی مدد سے بجاتے ہوئے بولیں۔۔۔ [/color] [/color] [/color] [/color][/size]میرے [/font]جیسے ساقی کے ہوتے ہوئے بھی نہیں پیو گے؟ تو میں ان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔ یقین کریں مامی ۔۔۔ میں آپ کا ساتھ دینے کے لیئے بھی نہیں پیوں گا۔۔۔۔ تو وہ برا سا منہ بنا کر بولیں۔۔۔اچھا یہ بتا کہ گاڑی میں سی ڈی پلئیر ہے؟ تو میں نے اس طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔۔۔۔ جی لگا ہے تو اس پر انہوں نے اپنے پرس سے ایک سی ڈی نکالی اور اسے لگا تے ہوئے بولی۔۔۔آواز آہستہ رکھنا۔۔۔۔۔۔سو میں نے سی ڈی پلیئیر کی آواز دھیمی کر دی۔۔۔ تبھی فضا میں کشورکمار کی مسحور کن آواز گونجی۔۔۔ یہ شام مستانی مدہوش کیے جا۔۔۔۔اسی وقت مامی نے بوتل کا ڈھکن کھولا ا ور میری طرف دیکھ کر بولی ۔۔۔ میں ایک گھونٹ لگا لوں؟ اور پھر وہ چسکی لے لے کر شراب پینا شروع ہو گئی۔۔۔" دوائی " پینے کے ساتھ ساتھ وہ گنگنا بھی رہی تھی۔۔۔ ان کی خوب صورت آواز سن کر میں ان سے کہنے لگا۔۔۔آپ کی آواز بہت خوب صورت ہے تو وہ ہنس کر بولی۔۔۔ صرف آواز خوب صورت ہے؟ میں نہیں؟؟؟؟؟۔۔۔تو میں ان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔ بلکہ یوں کہیں کہ ۔۔۔اس وقت مجھ سے فیصلہ مشکل ہو رہا ہے کہ آپ کی آواز زیادہ خوب صورت ہے یا آپ؟ تو وہ میری طرف دیکھ کر نشیلی آواز میں بولیں۔۔۔۔ گڈ مسکہ۔۔۔ پھر مجھ سے کہنے لگیں میں جب سے ادھر آئی ہوں ۔۔۔تم نے فرسٹ ٹائم مجھ پر لائین ماری ہے۔۔۔۔پھر ہنس کر بولی۔۔۔ تو عجیب مخلوق ہے سالے ۔۔۔ میں تمہیں انتی لفٹ کروا رہی ہوتی ہوں۔۔۔۔ اور تو آگے سے نیک بچہ بن جاتا ہے ۔۔۔ جبکہ میرے تجربے کے مطابق تو ایسا ہے نہیں۔۔۔۔۔۔اب میں میڈم کو یہ تو بتانے سے رہا کہ میں نیک بچہ صرف اور صرف گوری کے لیئے۔۔۔۔ بنتا تھا کہ وہی میرا اصل ٹارگٹ تھا اور ہے ۔۔۔ [/color] [/color] [/color] [/color][/size]جبکہ مامی میرا من مائل نہ دیکھ کر خواہ مخواہ ہی اپنے لیئے چیلنج بنا بیٹھی تھی۔۔۔۔اسی لیئے وہ مجھے رجھانے کے لیئے۔۔۔۔ میرے ساتھ پیار بھری ۔۔اور ۔۔۔ہاٹ ہاٹ باتیں کر رہی تھی۔۔کافی دیر تک باتیں کرنے کے بعد۔۔۔۔ اچانک مامی نے میرا ہاتھ پکڑا اور اپنی تھائی پر رکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔ دیکھ کتنی ملائم ہوں میں۔۔۔امریکہ میں تو مجھ پر بڑے بڑے لوگ مرتے تھے ۔۔۔پھر میری طرف دیکھ کر غصے سے بولی۔۔۔۔اور ایک تو ہے ۔۔۔تب میں نے مامی کی طرف سلگتی ہوئی نظروں سے دیکھا اور جھوٹ کی ماں بہن ایک کرتے ہوئے بولا۔۔۔ یقین کریں لٹو تو میں آپ کو دیکھتے ہی ہو گیا تھا لیکن کیا کرتا۔۔ایک تو آپ کی اتنی بڑی پرسنیلٹی ۔۔اوپر سے آپ امریکن نژاد ۔۔۔۔۔ اور میں بے چارہ دیسی ککڑ۔۔۔ میری دیسی ککڑ والی با ت سن کر وہ کھلکھلا کر ہنسی۔۔۔۔۔اور کہنے لگیں۔۔۔۔میں اس دیسی ککڑ کا سوپ پینا چاہوں گی۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے میری دونوں ٹانگوں کے سنگم پر ہاتھ رکھ دیا۔۔۔ اسی وقت میرا شیر انگڑائی لے کر اُٹھا۔۔۔۔اور بغیر وقت ضائع کیئے ایک دم سے اسٹینڈ اپ ہو گیا۔۔[/size][/font] میرے لن کی ہارڈنس کو انہوں نے بھی محسوس کر لیا تھا۔۔۔۔ سو انہوں نے ہاتھ آگے بڑھایا اور پینٹ کے اوپر سے لن کو اپنی مُٹھی میں پکڑ لیا۔۔۔۔اور اسے دباتے ہوئے بولی۔۔۔واؤؤؤؤؤؤ۔۔اٹس گریٹ۔۔۔۔تب میں نے مامی کی طرف منہ کر کے ان سے کہا ۔۔ آپ کو میرا لنڈ پسند آیا ؟ تو وہ کہنے لگی ۔۔جس دن سے سنا تھا اسی دن سے فدا ہوں اس پر تو میں چونک کر بولا۔۔۔۔آپ کو اس کے بارے میں کس نے بتایا؟ تو وہ کہنے لگی ایک ہی تو ہے ون اینڈ اونلی ۔۔۔۔۔ عدیل۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ میں ان سے کچھ کہتا چالاک مامی نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور کہنے لگیں ۔۔۔سنا ہے اس نے اپنے اور میرے تعلق کے بارے میں تمہیں سب بتا دیا ہے؟ تو میں ان سے بولا۔۔۔ جی آپ نےدرست سنا ہے تو وہ کہنے لگی مجھے بھی تو پتہ چلے کہ ان کم بخت نے میرے بارے کیا کہا تھا۔۔۔تب میں نے ان سے کہا وہ سب میں آپ کو بتا دوں گا آپ صرف یہ بتایئے کہ اس نے میرے بارے میں کیا بتایا ہے؟ تو وہ ہنس کر بولی۔۔۔شاہ سٹوری!!!!!!!!!!۔۔۔مامی کے منہ سے سٹوری کا لفظ سن کر اچانک ہی مجھے مامی اور عدیل کی ادلہ بدلی والی سٹوری یاد آ گئی اور میں جھٹ سے بولا ۔۔۔۔مامی ایک بات کہوں؟ تو وہ میری نقل اتارتے ہوئے بولیں۔۔۔ مجھے ادلہ بدلی والی سٹوری سناؤ۔۔۔پھر ہنستے ہوئے بولیں ۔۔۔ یہی کہنا تھا نا تم نے؟ تو میں نے کہا آپ کو کیسے معلوم ہوا؟ تو وہ کہنے لگی ارے بدھو۔۔۔ خود ہی تو تم نے مجھے عدیل کے ہاتھوں میسج پہنچایا تھا ۔۔ پھر کہنے لگی چلو کیا یاد کرو گے کہ تمہیں یہ والی سٹوری سناتی ہوں۔۔۔ پھر دھیرے سے کہنے لگی ویسے تو میں نے اور عدیل نے ایک ساتھ بہت وارداتیں ڈالی ہیں لیکن چونکہ یہ ہماری فرسٹ واردات تھی اس لیئے یہ بہت یاد گار اور سیکسی ون ہے ۔ پھر بات کو جاری رکھتے ہوئے بولی ۔۔۔ جیسا کہ تم نے عدیل سے سن رکھا ہے کہ میرا اور عدیل کا ناجائز تعلق بن گیا تھا لیکن ابھی فکنگ ہونا باقی تھی کہ اچانک یہ حادثہ ہو گیا پھر اس حادثے کا بیک گراؤنڈ بتاتے ہوئے بولی۔۔۔جیسا کہ تمہیں عدیل نے بتایا ہو گا کہ وہاں پر میں ایک سٹور میں کام کرتی ہوں تو ہوا یوں کہ ایک دن وہاں پر ایک عربی آیا جو کہ بہت ڈیسنٹ سا تھا اس نے میرے سٹوری سے کافی ساری خریداری کی ہیلو ہائے کے بعد وہاں سے چلا گیا پھر یوں ہوا کہ وہ شخص اکثر ہی سٹور پر آنا شروع ہو گیا ۔۔۔۔اور میرے ساتھ ہلکی پھلکی گپ شپ بھی کرنے لگا۔۔اور پیمنٹ کے بعد ہمیشہ ہے بقایا رقم جو بعض اوقات بہت زیادہ ہوا کرتی تھی۔۔۔بھی چھو ڑ دیا کرتا تھا۔۔۔پھر کہنے لگی جیسا کہ تمہیں معلوم ہے کہ میری مالک کا نام پلوی تھا تو ایک دن پلوی مجھ سے کہنے لگی ہو نا ہو مسٹر جمال تم پر عاشق ہو گیا ہے تو میں اس سے بولی ۔۔۔چال ڈھال اور شکل و صورت سے مجھے تو یہ عربی کوئی موٹی آسامی لگتا ہے اس لیئے عربیوں کے قاعدے کےمطابق اسے تو کوئی 15/16 سال کی لڑکی چایئے ہو گی۔۔تو پلوی کہنے لگی ۔۔۔شرط لگا لویہ موٹا تمہارے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑا ہوا ہے پھر مجھ سے کہنے لگیں نہیں یقین توآج اس کو ایکسٹرا لفٹ کروا کے دیکھ لو سب پتہ چل جائے گا۔۔لیکن اس کی نوبت نہیں آئی اس دن سٹور پر شاپنگ کے بعد اس نے مجھے کافی کی آفر کی اور میں اس کے ساتھ کافی شاپ چلی گئی وہاں جا کر معلوم ہوا کہ وہ مصری ہے اور نیو یارک میں ایک ایریا ہے آسٹرویا کوئینز ( (Astoria, Queens ) یہاں سارے عرب رہتے ہیں اورا ن میں اکثریت مصری عربوں کی ہے اسی لیئے اسی منی مصر بھی کہتے ہیں پھر کہنے لگی عرب ممالک میں مصری بہت بولڈ قسم کے لوگ ہوتے ہیں ان کا لائف سٹائل سیم امریکن کی طرح ہوتا ہے خاص کر نیو جنریشن جو کہ امریکہ میں پیدا ہوئی ہے پھر کہنے لگی مصریوں کے بارے میں وہاں پر ایک اور بات بہت مشہور ہے اور وہ یہ کہ ان کی لیڈیز و جینٹس دونوں گانڈ مروانے کے شوقین ہوتے ہیں۔۔پھر کہنے لگی ویسے تو سارے عربوں کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے کہ وہ گانڈ میں لینے کے شوقین ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔ لیکن خاص کر مصری اس بارے میں زیادہ مشہور ہیں۔مصریوں کے بارے میں ایک معلومات اور وہ یہ کہ یہ لوگ ڈانس ،پارٹیز وغیرہ بہت انجوائے کرتے ہیں۔۔اس کے بعد بولین نیو یارک سٹی میں ایک مصری نائیٹ کلب بھی ہے وہاں ان کا مشہور بیلے ڈانس ہوتا ہے اتنی بات کرنے کے بعد وہ کہنے لگی ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ کافی پر اس نے مجھ سے فرینڈ شپ کے لیئے بولا۔۔۔۔ تو میں نے صاف انکار کر دیا۔۔۔ لیکن وہ شخص جس کا نام جمال تھا عمر اس کی 40/42 سال ہو گی اس کی اپنی ایک کمپنی تھی جس کا وہ چیف ایگزیگٹو تھا اسے میں پسند آ گئی تھی اور وہ ہرحال میں مجھ سے فرینڈشپ ۔۔۔۔۔یا دوسرے لفظوں میں ۔۔۔۔۔ میری لینا چاہتا تھا ۔۔۔ لیکن انہی دنوں میری عدیل کے ساتھ ہلکی پھلکی ہاٹ نس چل رہی تھی اس لیئے میری ساری توجہ اس کی طرف تھی اس لیئے میں نے اس کو بتا دیا تھا کہ میرا ایک بوائے فرنیڈ ہے۔۔۔۔لیکن اس کے باوجود پتہ نہیں کیوں وہ مجھ پر بڑا گرم تھا ۔۔۔ میں جتنا اس سے انکار کرتی وہ اتنا ہی مجھ پر مرتا تھا۔۔۔۔۔۔دوسری طرف جب اس کا مطالبہ حد سے بڑھ گیا تو ایک دن میں نے اس سے کہا کہ ٹھیک ہےمیں تمہارے ساتھ فرینڈ شپ کرنے کو تیار ہوں لیکن میری ایک شرط ہے میری بات سن کر وہ ایک دم سے کھل گیا۔۔۔ اور جلدی سے بولا۔۔۔ مجھے تمہاری ہر شرط منظور ہے۔۔۔تب میں نے بھرپور نطروں سے اس کی طرف دیکھا اور بولی۔۔۔ہم ادلہ بدلی کریں گے۔۔۔۔ میری بات سن کر وہ موٹا ایک دم چونک اُٹھا۔۔پھر مسکراتے ہوئے بولا ۔۔۔۔ تمہیں پارٹنر سوائیپنگ پسندہے؟ تو میں نے اقرار میں سر ہلا دیا میرا خیال تھا میری ادلہ بدلی والی بات سن کر وہ پریشان ہو جائے گا۔۔۔۔ لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔۔۔اور وہ بس اتنا بولا کہ اس کے لیئے میں اپنی وائف سے بات کر لوں اس پر میں اسے مخاطب کرتے ہوئے بولی مسٹر جمال یاد رکھنا اس کھیل میں تمہاری وائف اصلی ہونی چایئے تو وہ ہنس کر بولا۔۔۔۔ میری جان میں تمہیں پانے کے لیئے سب کچھ کرسکتا ہوں یہ تو میری وائف ہے تم کہوتو ماں کو بھی لے آؤں گا۔۔۔چنانچہ اس سے دوسرے دن ہماری ملاقات طے ہو گئی۔۔اس کے بعد انہوں نے ایک گھونٹ بوتل میں سے لیا اور ایک گھونٹ ایک اور بوتل جو کہ انہوں نے بیگ میں رکھی ہوئی تھی سے بھرا۔۔۔۔اور مجھ سے کہنے لگی یہ ٹھیک وہی دن تھا کہ جس دن میں نے عدیل کے ساتھ پہلی جھپی لگائی تھی ۔۔۔۔اور اس کے لن اپنی چوت کی دیواروں پر محسوس کیا تھا۔۔۔ پھر کہنے لگی ہاں تو مقررہ دن جب کافی شاپ پر ہماری ملاقات ہوئی تو اس کی شکل دیکھتے ہی میں سمجھ گئی تھی کہ عدیل کے ساتھ میرے بدلے اپنی وائف دینے کو تیار ہے۔۔۔ چنانچہ کافی کے دوران جب اس نے مجھے بتایا کہ اثیلہ راضی ہو گئی ہے جمال کے منہ سے بات سنتے ہی پتہ نہیں کیوں ۔۔ میری پھدی سے پانی کی ایک بوند ٹپکی۔۔۔۔اور چپ چاپ میری پینٹی میں جزب ہو گئی میں لائف میں پہلی دفعہ کوئی عربی لن لینے والی تھی۔۔۔۔ جبکہ دوسری طرف وہ کہہ رہا تھا ۔اسے میں صرف اور صرف تمہارے لیئے اس کام کے لیئے راضی کیا ہے۔۔پھر کہنے لگا۔۔۔وہ بھی اس لیئے کہ تمہارے سانولے حسن نے مجھے پاگل کیا ہوا ہے اس کے ساتھ ہی اس نے کافی شاپ میں ہی مجھے دبوچ لیا اور میں نے فرسٹ ٹائم اسے ایک زبدرست سی کس دی۔۔۔ طے یہ پایا کہ کل رات میں اور میرا بوائے فرینڈ جمال کے گھر ڈنر کریں گے۔۔۔پروگرام طے کرنے کے بعد ہم لوگ کافی شاپ سے باہر نکل گئے۔۔۔ گھر جا کر میں نے عدیل کو ساری بات بتائی ۔۔۔اور پروگرام طے کرنے کے بعد ۔۔۔ہم دنوں نے کچن میں ہی کھڑے کھڑے ہلکی پھلکی کسنگ کی ۔۔۔کہ اس دن بدقسمتی سے عدیل کے ماموں گھر پر تھے ورنہ ہمارا پروگرام تو کچھ اور تھا ۔۔۔اگلے دن گھر سے نکلتے وقت میں نے ایک اعلیٰ قسم کی ٹائمنگ والی گولی عدیل کو کھلا دی کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ عدیل کا میچ بہت سخت ہو گا۔۔ مقررہ وقت پر ہم جمال کے گھر کے سامنے کھڑے تھے۔۔بیل کے جواب میں ایک نوکر نے دروازہ کھولا۔۔۔اور ہمیں بصد احترام ڈرائینگ روم لے گیا جہاں تھوڑی دیر کے بعد جیسے ہی مسٹر اور مسز جمال کمرے میں داخل ہوئے۔۔۔میرے ساتھ عدیل جیسے کم سن لڑکے کو دیکھ کر دونوں میاں بیوی نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔۔۔۔اور پھر جمال مجھ سے مخاطب ہو کر بولا۔۔۔ میڈم تمہارا انتخاب لاجواب ہے۔دوسری طرف عدیل نے مسز جمال کے ہاتھ میں سرخ پھولوں کا گل دستہ پیش کیا۔۔ جسے اس نے بڑی خوش دلی سے قبول کیا اور عربیوں کے مخصوص طریقے سے پہلے میرے گال کے ساتھ اپنے گال ملائے پھر عدیل کے ساتھ ملا کر رسمی جملوں کے بعد ہمیں بیٹھنا کا کہا۔۔۔ میں مسز جمال جس کا نام اثیلہ تھا کا جائزہ لیا وہ ایک 30/35 سال کی قدرے موٹی خاتون تھی رنگ اس کا دودھیا سفید تھا ۔۔ گال پھولے ہوئے تھے اور بڑی بڑی چھاتیاں جو کہ میرے خیال میں 38 کی ہوں گی۔۔۔۔۔۔ تنی کھڑی تھیں ہاں اس کا پیٹ بھی زرا باہر کو نکلا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن اصل چیز اس کی گانڈ تھی جو کہ عربی عورتوں۔۔۔۔خاص کر مصری عورتوں کا خاصہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔سو اس کی گانڈ بھی بہت موٹی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور O" "او شیپ میں تھی کھانے کے دوران انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کے زمانے میں وہ شوقیہ بیلے ڈانس کیا کرتی تھیں تو اس پر میں ان سے کہنے لگی تو پھر آج ہمارے سامنے اپنے فن کا مظاہر ہ کریں گی؟۔۔۔ تو وہ عدیل کی طرف دیکھتے ہوئے شرارت سے بولی۔۔۔ضرور کروں گی لیکن اگر میرا پارٹنر کہنے گا تب۔۔۔۔۔ عدیل جھٹ سے بولا۔۔۔۔ مجھے خوشی ہو گی۔۔۔ویسے وہ جب سے آیا تھا اسی وقت سے اثیلہ کی چھاتیوں کو گھورے جا رہا تھا۔۔۔ کوئی اور موقعہ ہوتا تو میں اسے ڈانٹ دیتی لیکن ۔۔۔۔ آج چونکہ ہم لوگ آئے ہی سیکس کرنے تھے اس لیئے میں نے اس کا آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنا درگزر کر دیا کھانا کھانے کے بعد کافی دیر تک ہم لوگ باتیں کرتے رہے۔اس کی وجہ یہ تھی پارٹنرز کی آپس میں بے تکلفی ہو جائے اور ٹھیک ایسا ہی ہوا۔۔۔۔ میرے لن کی ہارڈنس کو انہوں نے بھی محسوس کر لیا تھا۔۔۔۔ سو انہوں نے ہاتھ آگے بڑھایا اور پینٹ کے اوپر سے لن کو اپنی مُٹھی میں پکڑ لیا۔۔۔۔اور اسے دباتے ہوئے بولی۔۔۔واؤؤؤؤؤؤ۔۔اٹس گریٹ۔۔۔۔تب میں نے مامی کی طرف منہ کر کے ان سے کہا ۔۔ آپ کو میرا لنڈ پسند آیا ؟ تو وہ کہنے لگی ۔۔جس دن سے سنا تھا اسی دن سے فدا ہوں اس پر تو میں چونک کر بولا۔۔۔۔آپ کو اس کے بارے میں کس نے بتایا؟ تو وہ کہنے لگی ایک ہی تو ہے ون اینڈ اونلی ۔۔۔۔۔ عدیل۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ میں ان سے کچھ کہتا چالاک مامی نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور کہنے لگیں ۔۔۔سنا ہے اس نے اپنے اور میرے تعلق کے بارے میں تمہیں سب بتا دیا ہے؟ تو میں ان سے بولا۔۔۔ جی آپ نےدرست سنا ہے تو وہ کہنے لگی مجھے بھی تو پتہ چلے کہ ان کم بخت نے میرے بارے کیا کہا تھا۔۔۔تب میں نے ان سے کہا وہ سب میں آپ کو بتا دوں گا آپ صرف یہ بتایئے کہ اس نے میرے بارے میں کیا بتایا ہے؟ تو وہ ہنس کر بولی۔۔۔شاہ سٹوری!!!!!!!!!!۔۔۔مامی کے منہ سے سٹوری کا لفظ سن کر اچانک ہی مجھے مامی اور عدیل کی ادلہ بدلی والی سٹوری یاد آ گئی اور میں جھٹ سے بولا ۔۔۔۔مامی ایک بات کہوں؟ تو وہ میری نقل اتارتے ہوئے بولیں۔۔۔ مجھے ادلہ بدلی والی سٹوری سناؤ۔۔۔پھر ہنستے ہوئے بولیں ۔۔۔ یہی کہنا تھا نا تم نے؟ تو میں نے کہا آپ کو کیسے معلوم ہوا؟ تو وہ کہنے لگی ارے بدھو۔۔۔ خود ہی تو تم نے مجھے عدیل کے ہاتھوں میسج پہنچایا تھا ۔۔ پھر کہنے لگی چلو کیا یاد کرو گے کہ تمہیں یہ والی سٹوری سناتی ہوں۔۔۔ [/color] [/color] [/color] [/color][/size]پھر دھیرے سے کہنے لگی ویسے تو میں نے اور عدیل نے ایک ساتھ بہت وارداتیں ڈالی ہیں لیکن چونکہ یہ ہماری فرسٹ واردات تھی اس لیئے یہ بہت یاد گار اور سیکسی ون ہے ۔ پھر بات کو جاری رکھتے ہوئے بولی ۔۔۔ جیسا کہ تم نے عدیل سے سن رکھا ہے کہ میرا اور عدیل کا ناجائز تعلق بن گیا تھا لیکن ابھی فکنگ ہونا باقی تھی کہ اچانک یہ حادثہ ہو گیا پھر اس حادثے کا بیک گراؤنڈ بتاتے ہوئے بولی۔۔۔جیسا کہ تمہیں عدیل نے بتایا ہو گا کہ وہاں پر میں ایک سٹور میں کام کرتی ہوں تو ہوا یوں کہ ایک دن وہاں پر ایک عربی آیا جو کہ بہت ڈیسنٹ سا تھا اس نے میرے سٹوری سے کافی ساری خریداری کی ہیلو ہائے کے بعد وہاں سے چلا گیا پھر یوں ہوا کہ وہ شخص اکثر ہی سٹور پر آنا شروع ہو گیا ۔۔۔۔اور میرے ساتھ ہلکی پھلکی گپ شپ بھی کرنے لگا۔۔اور پیمنٹ کے بعد ہمیشہ ہے بقایا رقم جو بعض اوقات بہت زیادہ ہوا کرتی تھی۔۔۔بھی چھو ڑ دیا کرتا تھا۔۔۔پھر کہنے لگی جیسا کہ تمہیں معلوم ہے کہ میری مالک کا نام پلوی تھا تو ایک دن پلوی مجھ سے کہنے لگی ہو نا ہو مسٹر جمال تم پر عاشق ہو گیا ہے تو میں اس سے بولی ۔۔۔چال ڈھال اور شکل و صورت سے مجھے تو یہ عربی کوئی موٹی آسامی لگتا ہے اس لیئے عربیوں کے قاعدے کےمطابق اسے تو کوئی 15/16 سال کی لڑکی چایئے ہو گی۔۔تو پلوی کہنے لگی ۔۔۔شرط لگا لویہ موٹا تمہارے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑا ہوا ہے پھر مجھ سے کہنے لگیں نہیں یقین توآج اس کو ایکسٹرا لفٹ کروا کے دیکھ لو سب پتہ چل جائے گا۔۔لیکن اس کی نوبت نہیں آئی اس دن سٹور پر شاپنگ کے بعد اس نے مجھے کافی کی آفر کی اور میں اس کے ساتھ کافی شاپ چلی گئی وہاں جا کر معلوم ہوا کہ وہ مصری ہے اور نیو یارک میں ایک ایریا ہے آسٹرویا کوئینز ( (Astoria, Queens ) یہاں سارے عرب رہتے ہیں اورا ن میں اکثریت مصری عربوں کی ہے اسی لیئے اسی منی مصر بھی کہتے ہیں پھر کہنے لگی عرب ممالک میں مصری بہت بولڈ قسم کے لوگ ہوتے ہیں ان کا لائف سٹائل سیم امریکن کی طرح ہوتا ہے خاص کر نیو جنریشن جو کہ امریکہ میں پیدا ہوئی ہے پھر کہنے لگی مصریوں کے بارے میں وہاں پر ایک اور بات بہت مشہور ہے اور وہ یہ کہ ان کی لیڈیز و جینٹس دونوں گانڈ مروانے کے شوقین ہوتے ہیں۔۔پھر کہنے لگی ویسے تو سارے عربوں کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے کہ وہ گانڈ میں لینے کے شوقین ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔ لیکن خاص کر مصری اس بارے میں زیادہ مشہور ہیں۔مصریوں کے بارے میں ایک معلومات اور وہ یہ کہ یہ لوگ ڈانس ،پارٹیز وغیرہ بہت انجوائے کرتے ہیں۔۔اس کے بعد بولین نیو یارک سٹی میں ایک مصری نائیٹ کلب بھی ہے وہاں ان کا مشہور بیلے ڈانس ہوتا ہے اتنی بات کرنے کے بعد وہ کہنے لگی ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ کافی پر اس نے مجھ سے فرینڈ شپ کے لیئے بولا۔۔۔۔ تو میں نے صاف انکار کر دیا۔۔۔ لیکن وہ شخص جس کا نام جمال تھا عمر اس کی 40/42 سال ہو گی اس کی اپنی ایک کمپنی تھی جس کا وہ چیف ایگزیگٹو تھا اسے میں پسند آ گئی تھی اور وہ ہرحال میں مجھ سے فرینڈشپ ۔۔۔۔۔یا دوسرے لفظوں میں ۔۔۔۔۔ میری لینا چاہتا تھا ۔۔۔ لیکن انہی دنوں میری عدیل کے ساتھ ہلکی پھلکی ہاٹ نس چل رہی تھی اس لیئے میری ساری توجہ اس کی طرف تھی اس لیئے میں نے اس کو بتا دیا تھا کہ میرا ایک بوائے فرنیڈ ہے۔۔۔۔لیکن اس کے باوجود پتہ نہیں کیوں وہ مجھ پر بڑا گرم تھا ۔۔۔ میں جتنا اس سے انکار کرتی وہ اتنا ہی مجھ پر مرتا تھا۔۔۔۔۔۔دوسری طرف جب اس کا مطالبہ حد سے بڑھ گیا تو ایک دن میں نے اس سے کہا کہ ٹھیک ہےمیں تمہارے ساتھ فرینڈ شپ کرنے کو تیار ہوں لیکن میری ایک شرط ہے میری بات سن کر وہ ایک دم سے کھل گیا۔۔۔ اور جلدی سے بولا۔۔۔ مجھے تمہاری ہر شرط منظور ہے۔۔۔تب میں نے بھرپور نطروں سے اس کی طرف دیکھا اور بولی۔۔۔ہم ادلہ بدلی کریں گے۔۔۔۔ میری بات سن کر وہ موٹا ایک دم چونک اُٹھا۔۔پھر مسکراتے ہوئے بولا ۔۔۔۔ تمہیں پارٹنر سوائیپنگ پسندہے؟ تو میں نے اقرار میں سر ہلا دیا میرا خیال تھا میری ادلہ بدلی والی بات سن کر وہ پریشان ہو جائے گا۔۔۔۔ [/color] [/color] [/color][/size] لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔۔۔اور وہ بس اتنا بولا کہ اس کے لیئے میں اپنی وائف سے بات کر لوں [/font]اس پر میں اسے مخاطب کرتے ہوئے بولی مسٹر جمال یاد رکھنا اس کھیل میں تمہاری وائف اصلی ہونی چایئے تو وہ ہنس کر بولا۔۔۔۔ میری جان میں تمہیں پانے کے لیئے سب کچھ کرسکتا ہوں یہ تو میری وائف ہے تم کہوتو ماں کو بھی لے آؤں گا۔۔۔چنانچہ اس سے دوسرے دن ہماری ملاقات طے ہو گئی۔۔اس کے بعد انہوں نے ایک گھونٹ بوتل میں سے لیا اور ایک گھونٹ ایک اور بوتل جو کہ انہوں نے بیگ میں رکھی ہوئی تھی سے بھرا۔۔۔۔اور مجھ سے کہنے لگی یہ ٹھیک وہی دن تھا کہ جس دن میں نے عدیل کے ساتھ پہلی جھپی لگائی تھی ۔۔۔۔اور اس کے لن اپنی چوت کی دیواروں پر محسوس کیا تھا۔۔۔ پھر کہنے لگی ہاں تو مقررہ دن جب کافی شاپ پر ہماری ملاقات ہوئی تو اس کی شکل دیکھتے ہی میں سمجھ گئی تھی کہ عدیل کے ساتھ میرے بدلے اپنی وائف دینے کو تیار ہے۔۔۔ چنانچہ کافی کے دوران جب اس نے مجھے بتایا کہ اثیلہ راضی ہو گئی ہے جمال کے منہ سے بات سنتے ہی پتہ نہیں کیوں ۔۔ میری پھدی سے پانی کی ایک بوند ٹپکی۔۔۔۔اور چپ چاپ میری پینٹی میں جزب ہو گئی میں لائف میں پہلی دفعہ کوئی عربی لن لینے والی تھی۔۔۔۔ جبکہ دوسری طرف وہ کہہ رہا تھا ۔اسے میں صرف اور صرف تمہارے لیئے اس کام کے لیئے راضی کیا ہے۔۔پھر کہنے لگا۔۔۔وہ بھی اس لیئے کہ تمہارے سانولے حسن نے مجھے پاگل کیا ہوا ہے اس کے ساتھ ہی اس نے کافی شاپ میں ہی مجھے دبوچ لیا اور میں نے فرسٹ ٹائم اسے ایک زبدرست سی کس دی۔۔۔ طے یہ پایا کہ کل رات میں اور میرا بوائے فرینڈ جمال کے گھر ڈنر کریں گے۔۔۔پروگرام طے کرنے کے بعد ہم لوگ کافی شاپ سے باہر نکل گئے۔۔۔ [/color][/size] [/font] [/color][/size]گھر جا کر میں نے عدیل کو ساری بات بتائی ۔۔۔اور پروگرام طے کرنے کے بعد [/font]۔۔۔ہم دنوں نے کچن میں ہی کھڑے کھڑے ہلکی پھلکی کسنگ کی ۔۔۔کہ اس دن بدقسمتی سے عدیل کے ماموں گھر پر تھے ورنہ ہمارا پروگرام تو کچھ اور تھا ۔۔۔اگلے دن گھر سے نکلتے وقت میں نے ایک اعلیٰ قسم کی ٹائمنگ والی گولی عدیل کو کھلا دی کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ عدیل کا میچ بہت سخت ہو گا۔۔ مقررہ وقت پر ہم جمال کے گھر کے سامنے کھڑے تھے۔۔بیل کے جواب میں ایک نوکر نے دروازہ کھولا۔۔۔اور ہمیں بصد احترام ڈرائینگ روم لے گیا جہاں تھوڑی دیر کے بعد جیسے ہی مسٹر اور مسز جمال کمرے میں داخل ہوئے۔۔۔میرے ساتھ عدیل جیسے کم سن لڑکے کو دیکھ کر دونوں میاں بیوی نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔۔۔۔اور پھر جمال مجھ سے مخاطب ہو کر بولا۔۔۔ میڈم تمہارا انتخاب لاجواب ہے۔دوسری طرف عدیل نے مسز جمال کے ہاتھ میں سرخ پھولوں کا گل دستہ پیش کیا۔۔ جسے اس نے بڑی خوش دلی سے قبول کیا اور عربیوں کے مخصوص طریقے سے پہلے میرے گال کے ساتھ اپنے گال ملائے پھر عدیل کے ساتھ ملا کر رسمی جملوں کے بعد ہمیں بیٹھنا کا کہا۔۔۔ میں مسز جمال جس کا نام اثیلہ تھا کا جائزہ لیا وہ ایک 30/35 سال کی قدرے موٹی خاتون تھی رنگ اس کا دودھیا سفید تھا ۔۔ گال پھولے ہوئے تھے اور بڑی بڑی چھاتیاں جو کہ میرے خیال میں 38 کی ہوں گی۔۔۔۔۔۔ تنی کھڑی تھیں ہاں اس کا پیٹ بھی زرا باہر کو نکلا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ [/color] [/color] [/color] [/color][/size]لیکن اصل چیز اس کی گانڈ تھی جو کہ عربی عورتوں۔۔۔۔خاص کر مصری عورتوں کا خاصہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔سو اس کی گانڈ بھی بہت موٹی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور O" "او شیپ میں تھی کھانے کے دوران انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کے زمانے میں وہ شوقیہ بیلے ڈانس کیا کرتی تھیں تو اس پر میں ان سے کہنے لگی تو پھر آج ہمارے سامنے اپنے فن کا مظاہر ہ کریں گی؟۔۔۔ تو وہ عدیل کی طرف دیکھتے ہوئے شرارت سے بولی۔۔۔ضرور کروں گی لیکن اگر میرا پارٹنر کہنے گا تب۔۔۔۔۔ عدیل جھٹ سے بولا۔۔۔۔ مجھے خوشی ہو گی۔۔۔ویسے وہ جب سے آیا تھا اسی وقت سے اثیلہ کی چھاتیوں کو گھورے جا رہا تھا۔۔۔ کوئی اور موقعہ ہوتا تو میں اسے ڈانٹ دیتی لیکن ۔۔۔۔ آج چونکہ ہم لوگ آئے ہی سیکس کرنے تھے اس لیئے میں نے اس کا آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنا درگزر کر دیا کھانا کھانے کے بعد کافی دیر تک ہم لوگ باتیں کرتے رہے۔اس کی وجہ یہ تھی پارٹنرز کی آپس میں بے تکلفی ہو جائے اور ٹھیک ایسا ہی ہوا۔۔۔۔ تو ہم لوگ جمال کی سربراہی میں ٹی وی لاؤئج میں پہنچ گئے۔۔۔یہاں آ کر جمال شرارت سے بولا ۔۔اب ہم لوگ سیکس پارٹی کرنے لگے ہیں کیا آپ اس کے لیئے تیار ہو؟ تو میرے ساتھ ساتھ اثیلہ نے بھی ہاتھ اُٹھا دیا۔۔۔جبکہ عدیل شرمیلی سی مسکراہٹ سے سر جھائے بیٹھا رہا۔۔۔تب جمال کی بیوی عدل کے پاس گئی اور اس سے کہنے لگی۔۔۔ میرے ساتھ سیکس نہیں کرو گے؟ تو عدیل نے جمال کی طرف دیکھتے ہوئے جلدی سے سر ہلا دیا۔۔۔ اس کی اس حرکت پر ہم سب ہنس پڑے۔۔۔۔۔ اور میں ٹی وی لاؤنج کا جائزہ لینے لگی۔۔۔۔۔۔۔یہ ایک بڑا سا کمرہ تھا جس کی سامنے والی دیوار پر ایک بہت بڑی ایل سی ڈی لگی ہوئی تھی۔۔۔ جبکہ ایل سی ڈی کے سامنے سیون سیٹر صوفہ پڑا تھا جبکہ اس سیون سیٹر کے دونوں طرف سنگل سیٹر صوفہ بھی تھے۔۔۔ ان صوفوں کے سامنے سنٹرل ٹیبل پڑا تھا۔۔۔۔۔ جبکہ ٹی وی کے عین نیچے ایک سائیڈ پر ساؤنڈ سسٹم بھی رکھا ہوا تھا۔۔اور اثیلہ اسی ساؤنڈ سسٹم کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔اسے گانڈ مٹکاتے دیکھ کر نا جانے عدیل کے دل پر کیا گزری ہو گی؟ جبکہ میں جمال کے لنڈ کے بارے سوچ سوچ کر ایکسائٹڈ ہو رہی تھی۔۔۔۔۔ ساؤنڈ سسٹم کے قریب پہنچ کر اثیلہ نے ایک عربی دھن کی سی ڈی لگائی اور عدیل کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔لٹل بوائے!۔۔۔۔ میں تمہارے لیئے ڈانس کرنے لگی ہو ں ۔۔۔اس کے ساتھ ہی وہ میوزک کے لے پرتھرکنا شروع ہو گئی۔۔اور میں نے ایک نظر عدیل کی طرف دیکھا تو شدتِ جزبات سے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔۔۔۔اور وہ آنکھیں پھاڑے اثیلہ کی بڑی بڑی چھاتیوں کی طرف دیکھے جا رہا تھا۔جو کہ میوزک کی دھن پر مسلسل تھرک رہیں تھیں۔۔اس وقت سیون سیٹر پر میں اور عدیل ۔۔۔۔ جبکہ میری رائیٹ سائیڈ والے سنگل سیٹر پر جمال بیٹھا تھا۔۔۔۔ کھسک کر میرے قریب آ گیا۔۔۔اور میرا ہاتھ پکڑ کر اسے سہلانے لگا۔۔ ادھر کھانے کے ٹیبل پر دو پیگ لگانے کے بعد میں بھی مست ہو گئی تھی ۔۔اس لیئے جیسے ہی جمال نے میرے ہاتھ سہلانے شروع کئے تو میں اس کی اجازت لے کر اثیلہ کے پاس چلی گئی۔۔اور بڑے پیار سے بولی۔۔۔۔ کہو تو ایک کس کر لوں؟ ۔۔۔ میری بات سنتے ہی اثیلہ نے مجھے دبوچ لیا۔۔۔۔اور میرے کان پر زبان پھیرتے ہوئے بولی۔۔۔ یہ غضب لڑکا کہاں سے لیا؟ تو میں اس کی چوت کو سہلاتے ہوئے بولی۔۔۔۔ اچھا ہے نا؟ تو وہ کہنے لگی صرف اچھا نہیں ۔۔۔۔ بہت اچھا ہے پھر وہ میرے سینے کو دباتے ہوئے میرے کان میں بولی۔۔اسے سیکس میں کیا پسند ہے تو میں کہنے لگی اسے تمہاری گانڈ بہت اچھی لگی ہے ۔۔۔۔۔۔۔تو وہ کہنے لگی اس کا مطلب یہ میری گانڈ مارنا پسند کرے گا؟ تو میں بولی ۔۔۔۔ اس کا بس چلے تو وہ ابھی سے تیری چیر پھاڑ شروع کر دے۔۔۔ تب وہ میرے منہ میں زبان دے کر چھوٹی سی کس کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔تم میرے ہسبینڈ کو سنبھالو۔۔۔۔۔ میں تیرا چوزہ چیک کرتی ہوں۔۔جاتے جاتے اس نے اپنی اور میری قمیض کے بٹن کھول دیئے تھے۔۔۔۔ چنانچہ جب وہ جانے لگی تو میں نے اس کی اور اپنی قمیض کو اتار کر پرے پھینک دیا۔۔۔اس نے پنک کلر کا ۔۔۔۔ جبکہ میں نے اس وقت کالے رنگ کا برا پہنا ہوا تھا۔۔۔۔۔ اب میں چلتی ہوئی مسٹر جمال کی طرف گئی۔۔۔۔۔جبکہ اثیلہ پہلے ہی عدیل کے پاس پہنچ کر ڈانس کرتے ہوئے اس کے منہ پر اپنی ملائم گانڈ رگڑ رہی تھی [/color] [/color] [/color][/size]۔۔۔اور میں نے دیکھا کہ جیسے ہی اثیلہ [/font]نے اپنی گانڈ کو عدیل کے منہ پر رگڑا۔۔۔۔۔۔۔۔تو وہ بے قرار ہو کر اُٹھ کھڑا ہوا۔۔۔اور میں نے دیکھا کہ عدیل کی پینٹ کے ایک طرف بہت بڑا ابھار سا بنا ہوا تھا ۔۔۔اور اس نے وہی ابھار ۔۔۔ اثیلہ کی گانڈ کے کریک میں رکھا ۔۔۔۔اور اپنے دونوں ہاتھ اس کی بڑی بڑی چھاتیوں پر رکھ دیئے۔ ۔۔۔اسی اثنا میں نے اثیلہ نے اپنا منہ موڑا۔۔۔۔۔۔۔۔اور اپنی لمبی زبان باہر نکال کر عدیل کی طرف لہرانے لگا۔۔۔۔۔۔جسے عدیل نے فوراً ہی اپنے منہ میں لے لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس کی زبان چوسنا شروع ہو گیا ۔۔۔۔کیا مزے کا سین تھا عدیل کا لن اثیلہ کی گانڈ کے بڑے سے کریک میں پھنسا ہوا تھا جکہ ا س کے دونوں ہاتھ اثیلہ کی خوب صورت چھاتیوں کو دبوچے ہوئے تھے۔۔۔۔ جبکہ میری طرف پوزیشن یہ تھی کہ اس وقت میں جمال کی بانہوں میں تھی ۔۔۔اس کا لن میری گرم پھدی کو ٹچ کر رہا تھا۔۔۔اور ٹچ کرنے کے ساتھ ساتھ ہلکا ہلکا ٹھوکر ما ر رہا تھا۔۔مطلب میری پھدی کے ساتھ چھڑ چھاڑ کر رہا تھا۔۔۔ یہ دیکھ کر میں اپنی دونوں ٹانگوں کو مزید کھول دیا۔۔۔۔۔جس کی وجہ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب اس کی بھی پینٹ کا ابھار میری پھدی کے کریک میں تھا۔۔۔ کمرے کا ماحول بہت مست ہو رہا تھا۔۔۔ تیز تیز سانوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔۔اور یہ آوازیں سن سن کر میری پھدی لیک ہو رہی تھی۔۔۔ جبکہ میرا دل بڑی شدت سے جمال کے لن کو چوسنے پر کر رہا تھا ۔۔۔۔ یہ سوچ آتے ہی میں نے ہاتھ بڑھا کر جمال کے لن کو پینٹ کے اوپرسے ہی اپنے ہاتھ میں پکڑا۔۔۔۔اور اسے دبانے لگا۔۔۔تو جمال میرے کان میں بولا۔۔۔۔ سویٹ ہارٹ میرے لن کو اپنے منہ کی سیر نہیں کراؤ گی؟ تو میں ےشیور کہہ کر اس صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔۔اور اس کی پینٹ اتارنے لگی۔۔۔پینٹ اتارتے وقت ویسے ہی میری نظر اثیلہ کی طرف گئی تو وہ عدیل کے سامنے گھٹنوں کے بل کھڑی تھی جبکہ عدیل ندیدوں کی طرح اس کی چھاتیوں کو چوس رہا تھا۔۔۔۔۔ مجھ پر نظر پڑتے ہی اثیلہ شرارت سے ایک آنکھ دبا کر بولی۔۔۔۔۔ ہی از سو سیکسی ( یہ تو بہت سیکسی ہے) دوسری طرف جمال نے اپنی پینٹ اتار دی تھی اور میں نے دیکھا کہ پینٹ کے نیچے اس نے آف وہائیٹ انڈروئیر پہنچا تھا جس کی لش پش بتا رہی تھی کہ اسے آج ہی پہنچا گیا ہے۔۔۔سو میں نے جمال کا انڈروئیر بھی اتار دیا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اب میرے سامنے جمال کا کا لن تھا اور یہ لن دیکھ کر میں حیران رہ گئی۔۔۔اس کا لن زیادہ سے زیادہ ساڑھے پانچ اینچ ہو گا ۔۔۔۔جبکہ میں تو سنا تھا کہ عربوں کے لن بہت بڑے ہوتے ہیں لیکن یہاں تو ایسی کوئی بات نہ تھی پھر میں نے سوچا کہ جیسے پاکستان میں بعض لڑکوں جیسے عدیل کا لن ایکسٹرا بڑا ہے ویسے ہی میرے خیال میں وہاں بھی یہی حال عربوں میں بھی ہو گا کہ بعض عرب لڑکوں کے لن چھوٹے بھی ہوتے ہوں گے۔ [/color] [/color] [/color] [/color][/size]لیکن یہ بات میں نے جمال پر ظاہر نہیں ہونے دی۔۔۔اور اس کے تنے [/font]ہوئے لن کو ہاتھ میں پکڑا اور اس کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔نائس ڈک۔۔۔ پھر اس پر تھوک دیا۔۔۔۔اور زبان نکال پر اپنے تھوک کواس کے لن پر ملنا شروع ہو گئی۔۔۔میرے اس اقدام سے جمال بہت خوش ہوا ۔۔اور کہنے لگا۔۔۔۔ سک مائی ڈک(میرا لن چوس) اس کے بات سن کر میں نے اس کے ٹوپے پر ایک کس دی پھر اس کے لن کو چاٹ کر بولی۔۔۔۔ اگر میں تمہارا لن نہ چوسوں تو؟ تو ۔۔۔۔۔تو وہ ہنس کر بولا۔۔۔ میں تیری گیلی پھدی چوسوں گا۔۔۔۔۔اس کی بات سن کر میں مست ہو گئی ۔۔اور میں نے بڑے پرجوش انداز سے چوپا لگانا شروع کر دیا۔۔۔۔ لن چوسنے کے بعد اب میں نے جمال کے بالز پر زبان پھیرنا شروع کی۔۔۔اور بالز پر زبان پھیرنے کے بعد جیسے ہی میں نے جمال کے لن کو دوبارہ منہ میں لے جانا چاہا ۔۔۔۔اچانک مجھے مسز جمال کی حیرت بھری آواز سنائی دی۔۔۔۔ او مائی گھوششش!!!!!!!!!!!!۔۔۔ اس پر میں نے جمال کا لن منہ سے نکلا اور مسز جمال کی طرف دیکھا ۔۔۔کیا دیکھتی ہوں کہ مسز جمال نے عدیل کا اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا اور کبھی عدیل کی طرف اور کبھی اس کے لن کی طرف دیکھے جا رہی تھی۔۔اپنی طرف متوجہ پا کر وہ کہنے لگی۔۔۔میڈم تیرے بوائے فرینڈ کا ڈک تو بہت کمال ہے تب میں جمال کے لن پر چما دے کر بولی۔۔میرے بوائے کا لن انجوائے کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو اس پر اس نے زبان نکالی اور لن کو چاٹ کر بولی۔۔۔۔۔۔تھینک یو ویری میچ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سیکسی لیڈی۔۔۔ مجھے تمہارے دوست کا ڈک بہت پسند آیا۔۔۔۔تو میں نے اس سے کہا پھدی میں لو اور مست رہو۔۔۔۔۔۔۔ تو وہ کہنے لگی۔۔۔پھدی میں لینے سے پہلے میں اسے چوسنا پسند کروں گی تب اس نےعدیل کو جو کہ میری دائیں طرف بیٹھا تھا کو کپڑے اتار کر سیون سیٹر کے اینڈ پر لیٹنے کو کہا۔۔۔اور جلدی سے اپنے کپڑے بھی اتار دیئے یہ دیکھ کر ہم دونوں بھی ننگے ہو گئے۔۔اور جمال اپنے لن کو میرے سامنے کرتے ہوئے کہنے لگا ۔۔۔ [/color] [/color] [/color][/size] بےبی تم لن بہت اچھا چوستی ہو سو سک اٹ!!! اور میں بھولی شیرنی کی طرح اس کے لن پر پل پری۔۔۔تھوڑی ہی دیر میں جمال کی اونچی آواز میں سسکیاں گونجنا شروع ہو گئیں۔سسکیوں کی آواز یں سن کر مسز جمال نے ایک نظر پیچھے دیکھا اور بولی۔۔۔ مست جا رہی ہو۔۔۔اس کی بات سن کر میری نگاہ مسز جمال پر پڑ گئی۔۔۔۔۔اووو۔۔وہ اس وقت صوفے پر گھٹنوں کے بل بیٹھی تھی جبکہ عدیل نے صوفے پر ٹیک لگائی ہوئی تھی اور مسز جمال اس کالن چوس رہی تھی جس چیز نے مجھے چونکا کر رکھ دیا تھا وہ مسز جمال کی گانڈ تھی اُف فف فف ف ف ۔۔اس کی گانڈ اتنی دل کش تھی کہ میں نے بے ساختہ اس پر ہاتھ پھیر دیا۔۔تو وہ میری طرف مُر کر دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔ میری پھدی نہیں چوسو گی؟ تو میں اس سے بولی ۔۔۔۔ تمہاری پھدی چوسنا میرے لیئے خوشی کا باعث ہو گا ۔۔۔ تب میں نے جمال سے کہا کہ میں جمال سے کہا کہ میں اثیلہ کی چوت چاٹنے لگی ہوں تم پلیززززززززززززززز۔۔۔ میری چوسنا۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی اثیلہ کے پیچھے میں بھی گھٹنوں کے بل کھڑی ہو گئی۔جس سے میری گانڈ جمال کی طرف ہو گئی۔۔۔۔اور میں اثیلہ کی چوت کا جائزہ لینے لگی۔۔اس کی چوت بہت پھولی ہوئی اور میری طرح بالوں سے پاک تھی۔۔ میں نے اس کی پھدی میں ایک انگلی ڈالی تو اس نے اپنی ٹانگوں کو مزید کھول دیا۔۔۔ اب میں نے اس کی "او "شیپ کی گانڈ کے دونوں پٹ علحٰیدہ کیئے۔۔۔اور مسز جمال کی گانڈ چیک کرنے لگی۔۔۔اُف ف فففف ۔۔مسز جمال کی گانڈ نارمل سے زرا زیادہ کھلی تھی۔۔۔مطلب انہوں نے خوب رج کے گانڈ مروائی تھی۔۔۔مسز جمال کی پھدی و گانڈ کا اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے ان کے گانڈ کے سوراخ پر تھوکا۔۔۔۔اور ایک انگلی ان آؤٹ کرنے لگی۔۔ اسی اثنا میں مجھے اپنی پھدی پر سرسراہٹ سی محسوس ہوئی۔۔۔میں نے منہ موڑ کر دیکھا تو جمال زبان نکالے میری پھدی چاٹ رہا تھا۔۔۔۔۔اب پوزیشن یہ تھی کہ میرے آگے مسز جمال عدیل کا لن چوس رہی تھی جبکہ ا س کے عین پیچھے میں اس کی پھدی چاٹ رہی تھی اور میرے پیچھے جمال میری گیلی پھدی پر زبان مار رہا تھا ۔۔لیکن یہ صورتِ حال زیادہ دیر تک برقرار نہ رہی۔۔۔۔۔اچانک مجھے اپنی پھدی میں جمال کا لنڈ سرکتا ہوا محسوس ہوا۔۔ اس پر میں نے مُڑ کر اس کی طرف دیکھا تو وہ گھسہ مارتے ہوئے بولا۔۔۔۔سوری مجھ سے رہا نہیں گیا۔۔۔ آئی لو فکنگ۔۔۔ تو میں سسکی لیتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔تیز تیز گھسے مار۔۔۔۔اور اس نے ایسا ہی کیا۔۔۔اس کے تیز تیز گھسوں سے دھپ دھپ کی مخصوص آواز سنائی دینا شروع ہو گئی جسے سن کر مسز جمال میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگیں۔۔۔مائینڈ نہ کرنا ۔۔۔ میرا خاوند بڑا اتاؤلہ ہے۔۔۔۔ اس کا بس چلے تو پھدی میں گھس جائے تو میں اس سے کہنے لگی۔۔اٹس اوکے ۔۔۔ مجھے بھی پھدی مروانے میں مزہ آ رہا ہے۔۔تو وہ کہنے لگی اگر ایسی بات ہے تو میں بھی تیرے دوست کا لن لینے لگی ہوں۔۔۔ چنانچہ وہ میرے سامنے صوفے سے نیچے اتری اور عدیل کو سیدھا بیٹھنے کو بولی۔۔۔ جیسے ہی عدیل سیدھا بیٹھا۔۔۔۔ تو مسز جمال نیچے نیچے جھکی اور اس کے لن پر تھوک لگا کر جیسے ہی اسے پھدی میں لینے لگی۔۔۔۔تو عدیل جلدی سے بولا۔۔ میں پیچھے سے کروں گا عدیل کی بات سن کر مسز جمال خوشی سے بولی۔۔اوکے پہلے میری بیک ڈور یوز کر لو۔۔۔اس کے ساتھ ہی اس نے اپنی انگلیوں پر کافی سارا تھوک لیا۔۔۔یہ تھوک اپنی گانڈ کے سوراخ پر مل دیا ۔۔۔۔جب اس کی گانڈ اچھی طرح چکنی ہو گئی۔۔۔۔تو وہ عدیل کی طرف مُڑی اور کہنے لگی۔۔۔میں گانڈ میں لینے لگی ہوں۔۔اور پھر اس نے عدیل کے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس کے موٹے ٹوپے کو اپنی گانڈ کے سوراخ پر ایڈجسٹ کیا۔۔۔اور آہستہ آہستہ اندر لینے لگی۔۔۔۔ جیسے جیسے عدیل کا لنڈ اس کی گانڈ میں اتر رہا رہا تھا تو اثیلہ کی دل کش سسکیاں فضا میں گونجنے لگیں۔۔۔۔ان سسکیوں کو سن کو جمال نے اپنی بیوی سے پوچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کا لن کیسا ہے؟ تو مسز جمال اوپر نیچے ہوتے ہوئے چلا کے بولا مت پوچھ ڈارلنگ مجھے بڑا مزہ آ رہا ہے۔۔۔اور لن پر جمپ مارنا شروع ہو گئی۔۔اسی اثناء میں مسڑ جمال نے میری پھدی سے لن نکالا۔تو میں چونک کر بولی ۔۔یہ کیا لن کو پھدی میں رہنے دو ۔۔ مجھے مزہ آ رہا ہے تو وہ مجھ سے کہنے لگا ۔۔۔اگر میں بھی تیرے دوست کے لن پر سواری کر لوں تو تم ناراض تو نہیں ہو گی؟ تو میں نے اس سے کہا کہ اس میں ناراضگی کیسی؟ سیکس میں سب چلتا ہے میری بات سن کر اس نے مجھے ایک پپی دی۔۔۔۔اور عدیل کے لن پر سوار اثیلہ سے کہنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے نے بھی سواری کرنی ہے تو وہ عدیل کے لن پر بیٹھ کر بولی۔۔۔میرے سامنے کھڑے ہو جاؤ۔۔۔۔۔اور جیسے ہی جمال اپنی بیگم کے سامنے کھڑا ہوا۔۔۔ان نے جمال کی گانڈ پر بہت سارا تھوک پھینکا ۔۔۔اور اسے اچھی طرح چکنا کیا۔۔۔۔اور پھر عدیل کے لن سے اُٹھ گئی اور پھر اس کے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر جمال کی گانڈ میں فٹ کر دیا۔۔۔۔اور جیسے ہی عدیل کا سارا لن جمال کی گانڈ میں گھسا۔۔تو وہ خوشی سے چلاتے ہوئے بولا۔۔۔۔واؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤ۔۔۔۔ زبردست لن ہے۔۔۔اتنی بات کرنے کے بعد مامی مجھ سے کہنے لگی۔۔جمال کو چودنے کے بعد اس نے اس کی بیگم کی بھی پھدی ماری۔۔ پھر سب کی فرمائش پر عدیل نے میری گانڈ بھی ماری۔۔۔۔۔یوں کہانی ختم پیسہ ہضم!!!!!!!!!![/size][/font]
  14. گوری میم صاحب (قسط نمبر 13) ۔۔۔اس سے پہلے کہ فرزند صاحب کچھ کہتے ہیں میں بڑی حیرانی سے بولا۔۔۔ کیا ہوا بھائی؟ آپ اتنے پریشان کیوں ہیں؟ تو اس پر وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولے کہ گھر سے ماما کا سے فون آیا ہے کہ نانا جان فوت ہو گئے ہیں اس پر میں تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے بولا۔۔۔بہت افسوس ہوا۔۔۔ کب فوت ہوئے ؟ تو وہ کہنے لگے۔۔۔۔ تفصیل کا تو مجھے پتہ نہیں لیکن اتنا معلوم ہوا ہے کہ ان کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا اس لیئے ہم لوگ اسی وقت پنڈی کے لیئے نکل رہے ہیں پھر کہنے لگے شاہ جی!! اگر آپ یہاں رہنا چاہیں تو بے شک رہ لیں ۔۔۔ تو میں ان سے بولا نہیں بھائی میں بھی آپ کے ساتھ جاؤں گا چنانچہ اسی وقت لڑکیوں نے پیک اپ کیا اور ہم لوگ واپس پنڈی آ گئے۔۔۔۔ آتی دفعہ میں نے فرزند صاحب کو آفر بھی کی تھی کہ کہو تو میں آپ کے ساتھ لاہور چلا جاتا ہوں لیکن انہوں نے شکریہ کہہ کر بات ختم کر دی۔ دن کا پتہ نہیں کون سا پہر تھا کہ اچانک میری آنکھ کھل گئی۔۔ دیکھا تو فون بج رہا تھا ۔۔ چنانچہ میں نے نیم خوابیدہ نظروں سے فون کی طرف دیکھا تو لائن پر عدیل تھا رسمی علیک سلیک کے بعد وہ کہنے لگا تمہیں معلوم ہی ہو گا کہ رات نانا جان کا انتقال ہو گیا ہے تو میں اس سے بولا ہاں فرزند صاحب نے مجھے بتایا تھا ۔۔۔ تو وہ کہنے لگا جس وقت نانا جان کی ڈیتھ ہوئی اتفاق سے میں ان کے پاس ہی بیٹھا ہوا تھا تو اس پر میں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ۔۔۔۔ ویسے ہی اس سے پوچھ لیا کہ ڈیتھ کی وجہ کیا بنی؟ ۔ تو وہ کہنے لگا ویسے تو بڑھاپا بزاتِ خود ایک بیماری ہے لیکن جیسا کہ تمہیں معلوم ہے کہ کافی دنوں سے ان کی [/size]طبیعت[/size] [/font] ناساز چلی آ رہی تھی کل رات سینے میں درد اُٹھا اور پھر اس سے پہلے کہ ہم کچھ کرتے وہ ایکسپائر ہو چکے تھے۔ عدیل کی بات سن کر میں ایک دفعہ پھر اس سے دکھ کا اظہار کیا تو وہ شکریہ ادا کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔ یار تمہارے ذمہ ایک کام ہے تو اس پر میں بولا ۔۔۔ حکم سائیں!۔۔۔ بندہ حاضر ہے تو وہ کہنے لگا تمہیں معلوم ہی ہے کہ ماموں جان اسٹیٹس ہوتے ہیں تو جیسے ہی ان کو نانا کے انتقال کی اطلاع ملی تو اتفاق سے اسی وقت انہیں لاہور کی فلائیٹ مل گئی تھی۔۔۔۔ مگر کوشش کے باوجود بھی مامی کو لاہور کی فلائیٹ نہ مل سکی ۔ بلکہ انہیں کراچی کی فلائیٹ ملی تھی اس میں قباحت یہ تھی کہ وہاں پر انہیں 6/7 گھنٹے کے سٹے کے بعد لاہور کی فلائیٹ مل رہی تھی جو کہ انہوں نے رد کر دی دوسری فلائیٹ جو کہ دستیاب تھی وہ اسلام آباد کی تھی۔۔۔ اور یہاں بھی انہیں پانچ چھ گھنٹے سٹے کے بعد لاہور کی فلائیٹ مل رہی تھی۔۔۔ تو میں نے مامی کو مشورہ دیا تھا کہ اگر وہ اسلام آباد اتر کر ائیر پورٹ سے ہی بزریعہ ٹیکسی موٹروے سے لاہور آ جائیں تو آپ پانچ گھنٹے سے پہلے گھر پہنچ جائیں گی۔ مامی کے ذکر پر میں اس سے بولا یہ وہی مامی ہے ناں کہ جن کے ہاں امریکہ میں تم ٹھہرے تھے؟ تو وہ ہنس کر بولا اور کیا گانڈو اتنی دیر سے میں کیا فارسی بول رہا تھا۔ پھر کہنے لگا ہاں جان جی یہ وہی مست مامی ہے کہ جس کی تمہیں سٹوریاں سنائی تھیں۔۔۔پھر کہنے لگا ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ ٹیکسی تو وہ سالی خود بھی کروا سکتی تھی لیکن تمہیں معلوم ہی ہے کہ باہر سے آنے والے تھوڑا بہت پروٹوکول مانگتے ہیں اس لیئے انہوں نے مجھے اسلام آباد سے لاہور تک ٹیکسی وغیرہ کا ارنیج کرنے کو کہا ہے۔ تو میں نے ان سے کہہ دیا ہے کہ آپ اسلام آباد اتریں ۔۔۔آگے کا سارا بندوبست میرا دوست کروا دے گا۔ اس کے بعد وہ ندرت مامی کی فلائیٹ نمبر اور وقت بتاتے ہوئے کہنے لگا فلائیٹ آگے پیچھے ہو سکتی ہے اس لیئے تم نے اس کا ٹائم چیک کرتے رہنا ہے پھر نہایت لجاجت سے بولا۔۔۔یار اگر ہو سکے تو مامی کو ٹھیک ٹھاک پروٹوکول دلا دینا ۔۔۔ تو میں اس سے بولا ۔۔۔اس سے کیا ہو گا؟ تو وہ کہنے لگا مامی کے آگے میری ٹوہر (عزت) بن جائے گی۔۔۔ اس پر میں عدیل سے بولا اگر ایسی بات ہے تو میری جان ۔۔۔۔ بے غم ہو جاؤ میں اسلام آباد ائیر پورٹ پر ۔۔۔ تمہاری مامی کا ایسا شاندار پروٹوکول کراؤں گا کہ وہ ہمیشہ یاد رکھے گی۔۔ اس کے بعد ادھر ادھر کی باتوں کے بعد اس نے فون بند کر دیا۔ اور میں دوبارہ پلنگ پر لیٹ کر سونے کی کوشش کرنے لگا۔۔ ابھی میری آنکھ لگی ہی تھی کہ فون پھر سے بجنا شروع ہو گیا۔۔۔ میں نے ایک آنکھ میچ کر دیکھا تو سکرین پر صائمہ باجی کا نام چمک رہا تھا ۔۔۔اور صائمہ کا نام پڑھ کر میرا دل باغ باغ ہو گیا سو میں نے جلدی سے فون آن کیا اور ہیلو کہا۔۔۔۔ تو آگے سے ان کی وہی شوخ و شنگ آواز سنائی دی ۔۔کہ جسے سن کر بندہ فریش ہو جاتا ہے۔۔۔۔ وہ کہہ رہی تھی۔۔۔ توبہ توبہ اب تو دوپہر بھی ڈھل گئی ہے اور تم ابھی تک بستر میں گھسے ہوئے ہو۔۔۔ تو میں نے ان سے کہا چھٹی والے دن دیر تک سونے کی عادت ہے اس لیئے آپ سنائیں لاہور کا موسم کیسا ہے؟؟ تو وہ سرد آہ بھر کر کہنے لگی ۔۔۔لاہور جانا تو تھا لیکن ۔۔۔۔ پھر اچانک جوش سے بولیں۔۔۔ لیکن!!! ۔۔۔پھر ایسا لگا کہ جیسے انہیں کوئی بات یاد آ گئی ہو اور وہ لاہور والی بات بھول کر۔۔۔۔۔بڑے ہی جوش سے کہنے لگیں۔۔ ۔۔ اوئے ظالم ۔۔۔۔ تم نے ہماری نازک سی لڑکی کا کیا حشر کر دیا ہے؟ تو میں حیرانی سے بولا۔۔۔ باجی میں سمجھا نہیں ۔۔۔تو وہ کہنے لگیں۔۔۔۔ میں ثانیہ کی بات کر رہی ہوں بے چاری کو اس بے دردی سے چودا ہے کہ ابھی تک وہ بخار میں پھونک رہی ہے اس پر میں ان سے بولا ۔۔۔ میرے خیال میں اسی لیئے آپ لاہور نہیں جا سکیں تو وہ کہنے لگی جی آپ نے درست سنا ہے ۔۔۔۔۔۔میں ثانیہ کی وجہ سے رک گئی ہوں جیسے ہی یہ ٹھیک ہو گی تو میں اور ثانیہ بھی لاہور چلی جائیں گی تو میں ان سے کہنے لگا کہ بعد میں جانے کا کیا فائدہ؟ بابا جی تو دفن ہو گئے ہوں گے۔۔۔ تو وہ مسکراتے ہوئے بولیں۔۔۔۔ ہم لوگ بابا جی کے واسطے تھوڑی جا رہی ہیں۔۔ میں ان سے بولا تو پھر آپ کس لیئے جا رہی ہو؟ تو وہ تلخی سے کہنے لگی ۔۔۔یوں سمجھ لو کہ ہم گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے جا ئیں گی۔۔۔ باجی کی بات مجھے سمجھ نہیں آئی اس لیئے میں ان سے بولا سوری باجی میں نہیں سمجھا ؟ تو وہ کہنے لگیں مطلب یہ میری جان کہ شاید تمہیں معلوم نہیں کہ ہمارے نانا جی ایک بہت بڑی آسامی مطلب امیر آدمی تھے اور اتنے بڑے آدمی کی مرگ پر ہم نہ جائیں۔۔۔۔ ایسا نہیں ہو سکتا تو میں ان سے بولا اسی لیئے آپ گونگلوں سے مٹی جھاڑنے کا کہہ رہی ہو ؟ تو وہ کہنے لگیں جی ہاں۔۔۔۔ لیکن مٹی جھاڑنے کے ساتھ ساتھ وہاں فیشن شو بھی تو دیکھنا ہے نا تو میں حیران ہو کر بولا۔۔۔ فیشن شو؟؟؟؟؟؟؟ تو وہ کہنے لگیں بزرگ آدمی کے مرنے پر سوائے اس کی بیٹیوں کے ۔۔۔۔ کسی کو دکھ نہیں ہو گا اس لیئے ان کی بہوئیں اور نواسیاں پوتیاں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر شو آف کریں گی۔ تو میں ان سے بولا آپ ٹھیک کہہ رہی ہو باجی۔۔۔۔ عام طور پر بڑے لوگوں کی مرگ پر یہی کچھ ہوتا ہے میری بات سننے کے بعد ۔۔۔۔ اچانک ہی وہ کہنے لگی سوری یار میں تو بھول ہی گئی تھی ۔۔۔۔وہ بھائی (عدیل) کہہ رہا تھا کہ ندرت مامی اسلام آباد ائیرپورٹ اتر کر۔۔۔۔ یہاں سے بزریعہ ٹیکسی لاہور جائے گی تو میں ان سے بولا آپ نے ٹھیک سنا ہے باجی تو وہ کہنے لگی یاد رکھنا مامی کے ساتھ ثانیہ اور میں نے بھی جانا ہو گا ۔۔۔۔ پھر وہ کہنے لگی ثانیہ سے یاد آیا۔۔۔ ظالم انسان تم نے اس کچی کلی کو کس بے دردی کے ساتھ مسلہ ہے تو میں ان سے کہنے لگا یقین کرو باجی میں نے تو اسے ہاتھ تک نہیں لگایا۔۔۔۔۔ تو وہ بڑی حیرانی سے بولیں ۔۔ میں نہیں مان سکتی ۔۔۔ کیونکہ بچی کی کنڈیشن اور میرا تجربہ بتا رہا ہے کہ اس بے چاری کو بڑی بے دردی سے چودا گیا ہے ۔۔۔ پھر تھوڑا سا وقفہ دے کر بولیں۔۔۔۔ اور زرا مجھے یہ سمجھاؤ کہ تمہارے سوا اسے چودنے والا اور کون ہو سکتا ہے؟ تو میں نے ان کو بتایا کہ باجی جان میرے علاوہ بھی کافی لوگ پڑے ہیں راہوں میں ۔۔۔ میری بات سن کر وہ بڑے تعجب سے بولیں ۔۔۔ تمہارے جیسے شکاری کے ہوتے ہوئے ۔۔۔ بچی کوئی اور چود جائے۔۔۔ یہ بات ۔۔۔کم ازکم۔۔۔مجھ سے ہضم نہیں ہو رہی تو میں ان سے بولا۔۔۔۔ یقین کرو باجی سیکس کی راہ میں میرے علاوہ بھی بہت سے فنکار پڑے ہیں تو وہ دل چسپی سے بولی۔۔۔ صاف بتاؤ کہ اس بے چاری کے ساتھ یہ ظلم کس نے کیا ؟۔۔۔۔ اس پر میں نے انہیں مختصراً گوریوں کے بارے میں بتایا۔۔۔ سن کر کہنے لگیں ۔۔۔ میری بات لکھ لو جس گوری کے ساتھ اس لڑکی نے سیکس کیا تھا وہ یقیناً اذیت پسند ( فیٹش) ہو گی تبھی تو پھول سی بچی کا یہ حال ہو گیا ہے اس کے بعد وہ بڑی لگاوٹ سے بولیں ۔۔۔۔سیکس کے ذکر پر یاد آیا ۔۔۔۔تم کیا کر رہے ہو؟ تو میں ان سے کہنے لگا ایوبیہ کے ٹرپ کے لیئے چھٹیاں لیں تھیں۔۔ لیکن جلدی آ گیا ۔۔۔۔ اس لیئے آج کل فارغ ہوں ۔۔۔تو وہ بڑی بے تکلفی سے کہنے لگیں اگر فارغ ہو تو میرے پاس آ جاؤ۔۔۔ ہم دونوں مل کر ایک دوسرے کو " فارغ" کریں گے۔۔۔ باجی کی آفر سن کر میرا دل خوشی سے جھوم گیا۔۔۔۔۔ لیکن پھر کچھ سوچ کر میں ان سے بولا۔۔۔۔ ثانیہ کے ہوتے ہوئے کیسے کریں گے؟ اس پر وہ کہنے لگی ۔۔۔ بات تو تمہاری ٹھیک ہے ڈارلنگ۔۔۔۔لیکن اس وقت وہ پین کلر لے کر سو رہی ہے اس لیئے تم جلدی سے آ کر۔۔۔۔ میری (چوت کی) پین کو کِل کر دو۔پھر کہنے لگی میرے خیال میں تو تم نے ابھی تک کھانا بھی نہیں کھایا ہو گا ۔۔تو میں ان سے بولا۔۔۔ ابھی ابھی تو اُٹھا ہوں۔۔۔۔ اس پر وہ کہنے لگی ۔۔۔پھر جلدی سے آ جاؤ کھانے کے ساتھ ساتھ کھلانے والی فری ملے گی ۔ باجی کی اتنی ننگی آفر سن کر میرے لن نے ایک فلک شگاف نعرہ مارا اور میں عالمِ شہوت میں بولا۔۔۔ آپ تیار ہو جاؤ میں فریش ہو کر آتا ہوں۔ فون بند کرتے ہی میں جلدی سے تیار ہو کر باجی کی طرف چل پڑا۔۔۔ گیٹ کے باہر پہنچ کر میں نے انہیں موبائل پر اپنے آنے کی اطلاع دی ۔۔۔۔ فون اس لیئے کیا کہ بیل بجانے سے انہوں نے منع کیا تھا کہ کیا پتہ بیل کی آواز سن کر کہیں ثانیہ بیدار نہ ہو جائے ۔ چنانچہ تھوڑی دیر بعد وہ گیٹ پر آئیں اور مجھے اندر آنے کا اشارہ کیا۔۔۔ چنانچہ میں ادھر ادھر دیکھتا ہوا گھر کے اندر چلا گیا۔۔ پھر جیسے ہی میں گھر میں داخل ہوا وہ مجھ سے کہنے لگیں ۔۔۔۔ تم اوپر میری ساس سسر کے کمرے میں پہنچو۔۔۔۔ میں ثانیہ کو دیکھ کر ابھی آتی ہوں۔ یہاں میں اس بات کو کلئیر کر دوں ۔۔۔۔کہ باجی کی ساس سسر کا کمرے گھر کی دوسری منزل پر واقع تھا اور ثانیہ کے ہوتے ہوئے ۔۔۔۔۔ ایک وہی کمرہ ایسا تھا جو کہ دوسرے کمروں کی نسبت کافی سیف تھا چنانچہ میں انہوں ایک چھوٹی سی کس کر کے سڑھیاں چڑھ کے اوپر چلا گیا۔۔۔۔ میں پلنگ پر بیٹھا ان کا انتظار کر رہا تھا کہ باجی کمرے میں داخل ہو گئیں۔۔۔ اس سے قبل کہ میں ان سے کچھ پوچھتا وہ کہنے لگیں۔۔۔ ثانیہ بے خبر سو رہی ہے۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے دونوں بازو کھول دیئے اور مجھے۔۔۔۔۔ بیڈ سے اُٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔ چنانچہ میں بیڈ اُٹھ کر ان کے سینے سے لگ گیا۔۔۔۔ان کے سینے کے ساتھ لگتے ہی مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے انہوں نے قمیض کے نیچے برا نہیں پہنا تھا ۔۔۔اس پر میں ان کی چھاتیوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا ۔۔۔ کیا بات ہے باجی آپ نے برا نہیں پہنا ؟ تو وہ کہنے لگیں جس وقت میں نے تمہیں فون کیا تھا اس وقت میں نہانے لگی تھی اور تمہیں آفر دینے کے بعد میں نہائی۔۔۔اور پھر بغیر برا کے تجھ سے ملنے کا سوچا ۔۔۔۔پھر شہوت بھرے لہجے میں کہنے لگیں یقین کرو اگر مجھے ثانیہ کا ڈر نہ ہوتا تو میں نے تمہیں۔۔۔ بغیر کپڑوں کے ملنا تھا۔۔۔۔ اس پر میں ان کا ایک نپل مسلتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔آج اتنی گرم کیوں ہو میڈم؟ تو وہ شہوت بھرے لہجے میں کہنے لگی یہ ساری گرمی تیرے لن کے بارے میں سوچ کر آئی تھی اس پر میں ان کے ہونٹ چوم کر بولا۔۔۔۔ کیا میرا لن اتنا دھانسو ہے کہ اسے یاد کرتے ہی آپ ۔۔۔۔ اس قدر مست ہو جاتی ہو؟۔۔۔۔ اس پر وہ میرے نیم کھڑے لن کو پکڑ کر اٹھلاتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔۔۔ میری جان! مجھے تیرا لنڈ تیری سوچ سے بھی زیادہ پسند ہے ۔۔۔ پھر بات کو جاری رکھتے ہوئے بولی ۔۔۔ اور میری موجودہ گرمی کی اصل وجہ یہ ہے میرے چاند !!۔۔۔۔کہ صبع جب میں نے ثانیہ کو دونوں ٹانگیں کھول کر چلتے دیکھا تو میں سمجھ گئی کہ اس کا یہ حال تیرے تگڑے لن نے کیا ہو گا ۔۔۔لیکن مجھے کیا پتہ تھا کہ اس بےچاری کا یہ حال تم نہیں بلکہ گوری کے مصنوعی لن نے کیا تھا۔۔۔ لیکن میں اسے تیری کارستانی سمجھتے ہوئے۔۔۔۔ اور تیرے موٹے لن کے بارے سوچ سوچ کر میں گرم سے گرم تر ہوتی چلی گئی۔۔۔ یہ تو تم نے مجھے بتایا کہ ثانیہ کی یہ حالت تم نے نہیں کی۔۔۔۔۔۔ بلکہ ایک میچور گوری نے کی تھی۔۔۔ لیکن تب تک میرا سارا وجود گرمی سے بھر چکا تھا۔۔۔۔۔۔ اس لیئے میرے لور ۔۔۔ مجھے اور لیٹ نہ کر ۔۔۔ مجھے چود ۔۔۔۔۔۔ اپنی رنڈی باجی کی چوت بجا ۔۔۔ اور ایسی بجا کہ جیسی اس حرامزادی گوری نے ثانیہ کی ننھی منی چوت بجائی تھی۔۔۔۔۔ تو میں باجی سے بولا ۔۔۔ لیکن جان جی زرا اس بات پر بھی غور کرنا کہ ثانیہ ایک نازک سی لڑکی تھی جو کہ گوری کا بھر پور سیکس نہ سہہ سکی جبکہ اس کے مقابلے میں آپ ایک میچور اور گھڑچال قسم کی لڑکی ہو۔۔۔ چنانچہ آپ کی پھدی پھاڑنے کے لیئے میرا تو کیا ۔۔۔۔ لوہے کا لن بھی نا کافی ہو گا۔۔۔۔اپنے بارے میں ۔۔۔۔۔میرے ریمارکس سن کر وہ کہنے لگی ۔۔۔۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میں ایک میچور لڑکی ہوں ۔۔۔اور میں نے بہت سے لنڈ دیکھے ہیں اور بہت سے لنڈز نے میری چوت کی سیر بھی کی ہے۔۔۔۔ لیکن میری جان یہ بات بھی درست ہے کہ جس شوق سے تم میری ٹھکائی کرتے ہو۔۔۔۔۔ آج تک کوئی نہیں کر سکا۔۔۔۔۔اتنی بات کرتے ہی باجی نے اپنی شلوار اتار دی ۔۔۔۔اور ( پلنگ پر) پاؤں لٹکا کر بیٹھے ہوئے بولی۔۔۔۔ زیادہ نہ تڑپا۔۔۔۔ آ جا۔۔۔۔ میری پھدی چوس۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باجی کی فرمائیش سن کر میں پلنگ کے نیچے اکڑوں ہو کر بیٹھ گیا۔۔۔۔اور باجی کی دونوں ٹانگوں کو مزید کھول دیا۔۔۔ انہوں نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور پھر بستر پر (پیچھے کی طرف) لیٹتے ہوئے بولیں۔۔ میری پھدی چاٹ ۔کر۔۔۔ اس کا پانی ختم کر دے۔۔۔۔اور پھر ۔۔ اسے چود چود کر میرا حال بھی۔۔۔۔ ویسا ہی کرنا جیسا کہ اس گوری نے ثانیہ کا کیا تھا۔۔۔۔۔میں نے اس سیکسی لیڈی کی طرف غور سے دیکھا۔۔۔۔۔ تو اس کی آنکھوں میں شہوت کے لال ڈورے تیر رہے تھے۔۔۔یہ دیکھ کر میں نے ان کی خوبصورت چوت پر ایک زبردست سا چوما دیا۔۔۔۔۔ اور ان سے کہنے لگا۔۔۔۔ جان جی!۔۔۔ بے فکر ہو جاؤ۔۔۔۔ میں گوری سے اچھا چودوں گا۔۔۔۔ اور دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے ان کی چوت کی پھاڑیوں کو الگ کیا۔۔۔۔اور ان کی پانی سے بھری ۔۔۔۔۔ مہک آور پھدی کو چاٹنا شروع کر دیا۔۔۔ پھر۔۔۔ چوت چاٹنے کے بعد میں نے انہیں گھوڑی بنا کر ایسا زبدردست چودا کہ انہوں نے دو تین دفعہ آرگیزم کر دیا۔۔۔۔۔ پھر مست آواز میں بولیں۔۔۔۔۔پھدی کی ساری گرمی تو تم نے نکال دی اب اس پر پانی ڈال کر اسے۔۔۔۔ ٹھنڈا نہیں کرو گے؟ تو میں ان سے بولا۔۔۔۔ تھوڑی دیر صبر کریں۔۔۔۔ میں بس چھوٹنے ہی والا ہوں ۔۔۔۔۔جیسے ہی وقت قریب آیا۔۔۔ میں ۔۔۔۔ آپ کی پھدی میں سارا چھڑکاؤ کر دوں گا ۔۔۔۔ تو وہ کہنے لگی منی کا چھڑکاؤ۔۔۔۔ پھدی میں نہیں بلکہ۔۔۔۔۔ منہ پر کرنا ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر اس کے بعد اپنے کرسٹل پیشاب کی موٹی دھار سے میری چوت کو دھو ڈالنا۔۔۔۔۔ اس پر میں ان سے بولا ۔۔۔لیکن۔۔۔۔ باجی مجھے پیشاب تو آیا ہے لیکن اتنا زیادہ نہیں کہ جس سے آپ کی چوت دھو سکوں۔۔۔تو وہ کہنے لگی ۔۔۔۔ اس کا بندوبست ہے میرے پاس۔۔۔۔اتنی بات کرنے کے بعد۔۔۔۔انہوں نے اپنی پھدی میں پھنسا میرا لن نکالا۔۔۔۔۔۔۔ اور ( سسر جی کے ) باہر برآمدے میں پڑے فریج کی طرف چلی گئیں۔۔۔پھر وہاں سے وہ چار پانچ بوتلیں نان الکوحلک لیمن مارٹ کی لے آئیں۔۔۔ اور میرے سامنے میز پر رکھتے ہوئے بولیں ۔۔۔۔ تمہیں یاد ہے ایک دن ہم نے پروگرام بنایا تھا کہ تم مجھ پر اور میں تم پر پیشاب کروں گی۔۔۔ ۔۔۔۔اس پر میں ان سے بولا۔۔۔ جی باجی مجھے اچھی طرح سے یاد ہے تو وہ کہنے لگی ۔۔۔آج وہ دن آ گیا ہے۔۔۔۔۔۔پھر کہنے لگیں ۔ جیسا کہ تمہیں معلوم ہے کہ آج مجھے بہت گرمی چڑھی ہوئی ہے تو تمہارے آنے سے پہلے میں نے اس گرمی کے کارن دو جگ پانی پیا تھا۔۔۔۔ اور ابھی دھکے مرواتے ہوئے جیسے ہی مجھے پیشاب کی حاجت ہونی شروع ہوئی ۔۔۔ تو مجھے اپنا پروگرام یاد آ گیا۔۔۔۔ اس لیئے ۔۔۔تم یہ ساری بوتلیں پی لو تا کہ تمہیں جو پیشاب آئے۔۔۔وہ پیور وہائیٹ اور کرسٹل ہو۔۔۔اور تم مجھ پر ڈھیر سارا پیشاب کر سکو۔۔پھر مجھے آنکھ مارتے ہوئے بولی۔۔۔ تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ میں تو پہلے ہی بہت سارا پانی پی چکی ہوں۔۔۔۔۔ چنانچہ باجی کے کہنے پر میں نے وقفے وقفے سے لیمن مارٹ کی تین چار بوتلیں چڑھا لیں ۔۔۔۔لیمن مارٹ پلانے کے بعد وہ ننگی ہی میری طرف بڑھیں۔۔۔اور مجھے اپنے گلے سے لگاتے ہوئے بولیں۔۔۔۔ پتا نہیں کیا بات ہے جان!۔۔۔تم میرے پاس ہوتے ہو تو میرا جی کرتا ہے کہ میں اپنی ساری ڈرٹی[/color] خواہشیں تیرے ساتھ پوری کروں ۔۔۔ تو میں ان سے بولا۔۔۔ فرزند صاحب کے ساتھ یہ خواہشیں پوری نہیں ہو سکتیں؟ ۔۔۔تو وہ ۔۔۔ میرے گال کو چوم کر بولیں۔۔۔ ہو سکتیں ہیں میری جان بلکل ہو سکتی ہیں۔۔۔ لیکن جو مزہ تیرے ساتھ گناہ کرنے میں آتا ہے وہ کسی اور کے ساتھ نہیں آتا۔۔۔اس کے ساتھ ہی وہ نیچے جھکیں ۔۔۔۔اور میرے لن کو اپنے منہ میں لے کر چوسنا شروع ہو گئیں۔۔۔ لن جو ڈھیر سارا لیمن مارٹ پینے کے بعد کچھ مرجھا سا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔ان کے منہ میں جاتے ہی پھر سے جان پکڑنے لگا۔۔۔اور پھر کچھ ہی دیر میں پہلے جیسا کڑک ہو گیا ۔۔۔تو یہ دیکھ کر وہ پاس پڑے صوفے کی طرف گھومیں ۔۔۔۔۔اور میری طرف گانڈ کر کے صوفے پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئیں۔۔۔۔ ۔۔۔۔ پھر پیچھے سے گانڈ اُٹھا کر بولیں۔۔۔۔ میری چوت میں فائینل دھکے مار ۔۔۔۔ چنانچہ ان کے کہنے پر جب میں اپنے سخت لن کو ان کی چوت میں آگے پیچھے کر رہا تھا تو دفعتاً وہ سر کو پیچھے کر کے سرگوشی میں بولیں ۔۔۔۔ یاد رکھنا منی کو میرے منہ پر گرانا ہے ۔۔۔۔ پیشاب بعد میں کریں گے۔۔۔۔۔۔پھر اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے مست لہجے میں بولیں۔۔۔۔چل اب چود۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور میں نے ان کو چودنا شروع کر دیا۔۔۔ گھسے مارتے ہوئے کچھ دیر بعد ۔۔۔جب مجھے محسوس ہوا کہ میں چھوٹنے کے نزدیک آ گیا ہوں ۔۔۔تو گھسے مارتے مارتے ۔۔۔ میں نے جب ان کی گانڈ کو تھپتھپا دیا ۔۔۔تو وہ ایک دم صوفے سے جمپ مار کر قالین پر اکڑوں بیٹھ گئی اور منہ سے زبان نکال کر بولی۔۔۔۔۔ میری زبان اور …[/color]پورے [/color]منہ پر چھڑکاؤ کرنا ہے ۔۔اور میں نے ایسا ہی کیا۔۔۔۔جب میں اپنی گاڑھی منی ان کے گالوں ۔۔۔۔۔ہونٹ ۔۔۔۔اور زبان پر گرا چکا ۔۔۔تو انہوں نے اپنی زبان کو باہر نکلا اور بلکل بلیو مویز کے سٹائل میں ہونٹو ں اور منہ کے آس پاس لگی منی کو زبان کی مدد سے چاٹا ۔۔۔جبکہ زبان کی رینج سے دور والی منی کو انگلیوں کی مدد سے منہ میں ڈال کر بولیں۔۔۔۔۔۔۔ اب دوسرا سیشن شروع کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ [/color] [/color] [/color] [/color] [/color] اور مجھے لن سے پکڑا ۔۔۔۔۔اور واش روم میں لے گئیں یہاں آ کر انہوں نے مجھے فرش پر لٹا دیا اور خود میرے اوپر چڑھ گئیں۔ اور پھر ایک ہاتھ سے میرے نیم کھڑے لن کو پکڑا۔۔۔ پھدی کو میرے لن کی سیدھ میں رکھا اور ۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی شررررر۔۔۔۔ شر ررر۔۔۔۔۔کی دل کش آواز کے ساتھ ہی باجی کی پھدی سے کرسٹل وہائیٹ پانی نکلنا شروع ہو گیا۔۔۔۔ جیسے ہی ان کے پیشاب کی دھار میرے لن پر پڑنا شروع ہوئی۔۔۔۔تو اس کے ساتھ ہی ان کے منہ سے سیکسی آوازیں نکلنا شروع ہو گئیں ۔۔۔تقریباً ایک منٹ تک وہ میرے لن پر مختلف اینگلز سے پیشاب کرتی رہیں۔۔۔۔ ان کی چوت سے نکلنے والی آبشاررررررررررررررر۔۔۔ جیسا پانی ۔۔۔اور ۔۔۔اس پانی کی جھرنے جیسے آواز۔۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک دفعہ پھر سے میرا لن کھڑا ہونا شروع ہو گیا۔۔۔۔ جب ان کی پھدی سے نکلنے والا کرسٹل وہائیٹ پانی ختم ہو گیا۔۔تو وہ میرے سامنے کھڑی ہو کر بولیں۔۔۔ تمہاری کیا پوزیشن ہے؟ تو میں ان سے بولا ۔۔۔ میرا بھی ( پیشاب) نکلنے والا ہے میری بات سنتے ہی انہوں نے اپنی پھدی کی دونوں پھاڑیوں کو ممکنہ حد تک الگ کیا اور اپنے دانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولیں۔۔۔ اپنے پیشاب کی مست دھار نشانہ لے کر یہاں مارنی ہے اور میں نے ایسے ہی کیا۔۔۔ چنانچہ ان کی بات سن کر میں اُٹھ کر ان کے سامنے کھڑا ہوا ۔۔۔۔اور ان کے دانے کا نشانہ لے کر اپنا تیز دھار پیشاب اس پر پھینکنا شروع کر دیا۔۔۔ ۔۔ میں پیشاب کرتا گیا ۔۔۔ وہ دانے کو مسلتی گئی۔۔۔۔ مسلتی گئی ۔۔۔۔ یہاں تک کہ جب میرے لن سے کرسٹل پانی کا آخری قطرہ نکلا ۔۔۔تو وہ اسی طرح سے دانے کو مسلتے ہوئے بولیں۔۔۔تمہیں معلوم ہے جان۔۔۔ میں بنا چدے۔۔۔ ہی چھوٹ گئی ہوں۔۔۔ اس کے بعد انہوں نے ثبوت کے طور پر مجھے اپنی چوت کا چکنا پانی دکھایا جو کہ ان کی ان کی پھدی سے بہہ بہہ کر نیچے کی طرف جا رہا تھا اور پھر کہنے لگیں۔۔۔۔ تھینک یو شاہ!۔۔۔۔ آج تمہاری وجہ سے میری ایک اور ڈرٹی خواہش پوری ہو گئی۔ اس کے بعد باجی اور میں خوب اچھی طرح نہائے ۔ نہانے کے بعد وہ مجھ سے بڑے ہی خوش گوار موڈ میں کہنے لگیں۔۔ مہاراج آپ سے پراتھنا ہے کہ آپ گھر سے باہر نکل جایئے۔۔۔اور کچھ دیر بعد آ کر اسی ذور سے ہماری بیل بجایئے کہ جس زروں سے آپ نے ابھی ہماری چوت بجائی تھی۔۔۔۔۔۔تو میں ان سے بولا اس سے کیا ہو گا ؟ تو وہ ہنس کر کہنے لگیں ارے بدھو بھائی اس سے یہ ہو گا کہ نیچے سوئی میری چھوٹی نند کے سامنے یہ تاثر جائے گا کہ مہاراج ابھی ابھی پدھارے ہیں ۔۔ جس سے میری چنری اور کردار میں کوئی داغ نہ لاگے گا۔۔۔۔اور تیرا میرا بھائی بہن والا رشتہ مزید تقدس پکڑے گا۔۔۔۔تو میں باجی سے بولا ۔۔ اس کے لیئے آپ کو اتنی شدھ ہندی بولنے کی کیا ضرورت تھی؟۔۔۔ صاف اردو میں کہتے آپ کو کیا موت پڑتی تھی؟ ۔تو وہ میرے ساتھ چمٹتے ہوئے بولیں۔۔۔تم نہیں سمجھو گے بچہ۔۔۔۔۔ یہ سب کمال ہے تمہاری دی ہوئی اس تسکین کا ہے۔۔۔۔۔ کہ جس کی وجہ سے مجھے ایسی باتیں سوجھ رہیں ہیں۔ چنانچہ نہانے کے فوراً بعد۔۔۔ میں ان کے گھر سے باہر نکلا۔۔۔۔۔۔۔ اور ایک چکر مارکیٹ کا لگا کر واپس ان کے گھر کی طرف آ گیا۔۔۔۔وہاں پہنچ کر جیسے ہی میں نے جونہی بیل بجائی تو پہلی ہی گھنٹی پر باجی ( گیٹ پر) نمودار ہو گئیں۔۔انہیں دیکھ کر میں آہستہ سے بولا۔۔۔ آپ نے تو تیسری یا چوتھی گھنٹی پر آنا تھا تو وہ کہنے لگیں اس کی ضرورت نہیں پیش آئی۔۔۔۔کیونکہ وہ پہلے ہی اُٹھی ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی وہ مجھے لے کر میں ثانیہ کے کمرے میں آ گئیں۔۔۔ دیکھا تو ثانیہ بستر پر ٹیک لگا کر بیٹھی ہو ئی تھی۔۔۔ چنانچہ میں جیسے ہی ثانیہ کے سامنے کرسی پر بیٹھا باجی یہ کہتے ہوئے اُٹھ کر چلی گئی۔۔۔۔۔۔ کہ بھائی تم ثانیہ کے پاس بیٹھو میں تمہارے لیئے کچھ پینے کو لاتی ہوں۔۔تو اس پر میں ترنت ہی کہنے لگا کہ باجی جی پانی وانی سے کام نہیں چلے گا بلکہ اس پاپی پیٹ کا کچھ کریں کہ جس میں اس وقت جہازی سائیز کے چوہے دوڑ رہے ہیں میری بات سن کر وہ ہنستے ہوئے بولیں۔۔اتنی گرمی میں آئے ہو۔۔۔ اس لیئے۔۔۔۔ پہلے کچھ ڈرنک وغیرہ پی لو پھر میں تمہارے لیئے کھانے کا کچھ کرتی ہوں ۔۔اتنا کہہ کر وہ کمرے سے باہر نکل گئی جیسے ہی باجی کمرے سے باہر نکلی تو میں نے ثانیہ کی طرف دیکھا اور پھر اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ شعر پڑھا ۔۔۔ کچھ تو نازک مزاج تھے ہم بھی۔۔۔اور کچھ چوٹ بھی نئی ہے ابھی۔۔۔ میرا شعر سننے کے بعد وہ ہنستے ہوئے بولی ۔۔۔اب تو ٹھیک ہوں یار۔۔۔۔البتہ رات طبیعت بہت خراب تھی۔۔۔تو میں اس سے بولا یہ تو بتاؤ کہ ہو ا کیا تھا ؟۔۔۔تو وہ میری طرف دیکھتے ہوئے شرمیلی سی مسکراہٹ سے بولی۔۔۔ یار وہ سالی گوری بڑی ہی اذیت پسند واقع ہوئی تھی۔۔۔اس پر میں اس سے بولا۔۔ زرا تفصیل سے بتاؤ کہ ہو ا کیا تھا؟ ۔۔۔ تو وہ کہنے لگی تفصیل کا تو یہ موقعہ نہیں وہ پھر کبھی سناؤں گی فی الحال اتنا جان لو ۔۔)پھر تھوڑا پاز لے کر بولی(۔۔اس میں کوئی شک نہیں کہ میرے والی گوری انت کی سیکسی ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ زیادہ ہی اذیت پسند یا جنونی واقع ہوئی تھی میں اس سے بولا وہ کیسے؟ میری بات سن کر اس نے ایک نظر دروازے کی طرف دیکھا اور پھر اپنی قمیض و برا اوپر کر کے اپنے بریسٹ دکھائے تو میں نے دیکھا کہ اس کے چھوٹے چھوٹے مموں پر جگہ جگہ چک مارنے ( دانت کاٹنے ) کے نشان بنے ہوئے تھے یہ دیکھ کر میں اس سے بولا بڑی وحشی عورت تھی یار۔۔۔۔ [/color] [/color] [/color] [/color] [/color][/size] تو وہ کہنے لگی۔۔اصل میں سیکس سے پہلے ۔۔۔اس نے مجھے پلا دی تھی جس کی وجہ سے مجھے اتنا احساس نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔ پھر کہنے لگی یہ جو مجھے بخار ہوا ہے اور میں ٹھیک سے چل بھی نہیں سکتی ۔۔۔ تو ا س کی وجہ یہ تھی کہ اس سالی نے تمہارے سے بھی ڈبل موٹا اور لمبا لن۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو کہ بلا مبالغہ گدھے کے لن جتنا بڑا ہو گا بڑی ہی بے دردی سے میری گانڈ میں گھسیڑ دیا تھا۔۔۔اور پھر مسلسل دھکے مارتی رہی تھی۔۔ جس کی وجہ سے میری گانڈ کا ستایا ناس ہو گیا تھا ۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی میں نے ایک نظر دروازے کی طرف دیکھا ۔۔اور اس سے گانڈ دکھانے کی فرمائیش کی۔۔۔۔ میری بات سن کر وہ جھٹ سے اوندھی ہو گئی اور میں نے بڑی احتیاط سے اس کی گانڈ چیک کی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس کی گانڈ جگہ جگہ سے چیری ہوئی تھی۔۔ جسٹ فار چیک جیسے ہی میں نے اس کی موری پر ہاتھ رکھا تو وہ ہلکا سا چیخ کر بولی۔۔۔۔ نہ کرو پلیز مجھے درد ہوتا ہے۔۔۔۔ چنانچہ اس کی گانڈ کا معائینہ کرنے کے بعد میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔۔۔اور ہم ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے کچھ دیر بعد باجی کمرے میں داخل ہو کر بولی کھانا ڈائیننگ ٹیبل پر رکھوں ؟ تو میں ان سے بولا۔۔۔ڈائینگ ٹیبل کو چھوڑ و ادھر ہی لے آؤ۔۔۔ چنانچہ وہ ثانیہ کے کمرے میں ہی کھانا لے آئی جو میں نے ڈٹ کر کھایا۔۔۔۔اور پھر کچھ دیر بیٹھ کر واپس گھر آ گیا۔۔[/font][/font] [/color] [/color][/size] [/font] [/color][/size] [/font]اس کے بعد باجی اور میں خوب اچھی طرح نہائے ۔ نہانے کے بعد وہ مجھ سے بڑے ہی خوش گوار موڈ میں کہنے لگیں۔۔ مہاراج آپ سے پراتھنا ہے کہ آپ گھر سے باہر نکل جایئے۔۔۔اور کچھ دیر بعد آ کر اسی ذور سے ہماری بیل بجایئے کہ جس زروں سے آپ نے ابھی ہماری چوت بجائی تھی۔۔۔۔۔۔تو میں ان سے بولا اس سے کیا ہو گا ؟ تو وہ ہنس کر کہنے لگیں ارے بدھو بھائی اس سے یہ ہو گا کہ نیچے سوئی میری چھوٹی نند کے سامنے یہ تاثر جائے گا کہ مہاراج ابھی ابھی پدھارے ہیں ۔۔ جس سے میری چنری اور کردار میں کوئی داغ نہ لاگے گا۔۔۔۔اور تیرا میرا بھائی بہن والا رشتہ مزید تقدس پکڑے گا۔۔۔۔تو میں باجی سے بولا ۔۔ اس کے لیئے آپ کو اتنی شدھ ہندی بولنے کی کیا ضرورت تھی؟۔۔۔ صاف اردو میں کہتے آپ کو کیا موت پڑتی تھی؟ ۔تو وہ میرے ساتھ چمٹتے ہوئے بولیں۔۔۔تم نہیں سمجھو گے بچہ۔۔۔۔۔ یہ سب کمال ہے تمہاری دی ہوئی اس تسکین کا ہے۔۔۔۔۔ کہ جس کی وجہ سے مجھے ایسی باتیں سوجھ رہیں ہیں۔ [/color][/size] [/font] [/color] [/color] [/color][/size]چنانچہ نہانے کے فوراً بعد۔۔۔ میں ان کے گھر سے باہر نکلا۔۔۔۔۔۔۔ اور ایک چکر مارکیٹ کا لگا کر واپس ان کے گھر کی طرف آ گیا۔۔۔۔وہاں پہنچ کر جیسے ہی میں نے جونہی بیل بجائی تو پہلی ہی گھنٹی پر باجی ( گیٹ پر) نمودار ہو گئیں۔۔انہیں دیکھ کر میں آہستہ سے بولا۔۔۔ آپ نے تو تیسری یا چوتھی گھنٹی پر آنا تھا تو وہ کہنے لگیں اس کی ضرورت نہیں پیش آئی۔۔۔۔کیونکہ وہ پہلے ہی اُٹھی ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی وہ مجھے لے کر میں ثانیہ کے کمرے میں آ گئیں۔۔۔ دیکھا تو ثانیہ بستر پر ٹیک لگا کر بیٹھی ہو ئی تھی۔۔۔ چنانچہ میں جیسے ہی ثانیہ کے سامنے کرسی پر بیٹھا باجی یہ کہتے ہوئے اُٹھ کر چلی گئی۔۔۔۔۔۔ کہ بھائی تم ثانیہ کے پاس بیٹھو میں تمہارے لیئے کچھ پینے کو لاتی ہوں۔۔تو اس پر میں ترنت ہی کہنے لگا کہ باجی جی پانی وانی سے کام نہیں چلے گا بلکہ اس پاپی پیٹ کا کچھ کریں کہ جس میں اس وقت جہازی سائیز کے چوہے دوڑ رہے ہیں میری بات سن کر وہ ہنستے ہوئے بولیں۔۔اتنی گرمی میں آئے ہو۔۔۔ اس لیئے۔۔۔۔ پہلے کچھ ڈرنک وغیرہ پی لو پھر میں تمہارے لیئے کھانے کا کچھ کرتی ہوں ۔۔اتنا کہہ کر وہ کمرے سے باہر نکل گئی جیسے ہی باجی کمرے سے باہر نکلی تو میں نے ثانیہ کی طرف دیکھا اور پھر اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ شعر پڑھا ۔۔۔ کچھ تو نازک مزاج تھے ہم بھی۔۔۔اور کچھ چوٹ بھی نئی ہے ابھی۔۔۔ میرا شعر سننے کے بعد وہ ہنستے ہوئے بولی ۔۔۔اب تو ٹھیک ہوں یار۔۔۔۔البتہ رات طبیعت بہت خراب تھی۔۔۔تو میں اس سے بولا یہ تو بتاؤ کہ ہو ا کیا تھا ؟۔۔۔تو وہ میری طرف دیکھتے ہوئے شرمیلی سی مسکراہٹ سے بولی۔۔۔ یار وہ سالی گوری بڑی ہی اذیت پسند واقع ہوئی تھی۔۔۔اس پر میں اس سے بولا۔۔ زرا تفصیل سے بتاؤ کہ ہو ا کیا تھا؟ ۔۔۔ تو وہ کہنے لگی تفصیل کا تو یہ موقعہ نہیں وہ پھر کبھی سناؤں گی فی الحال اتنا جان لو ۔۔)پھر تھوڑا پاز لے کر بولی(۔۔اس میں کوئی شک نہیں کہ میرے والی گوری انت کی سیکسی ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ زیادہ ہی اذیت پسند یا جنونی واقع ہوئی تھی میں اس سے بولا وہ کیسے؟ میری بات سن کر اس نے ایک نظر دروازے کی طرف دیکھا اور پھر اپنی قمیض و برا اوپر کر کے اپنے بریسٹ دکھائے تو میں نے دیکھا کہ اس کے چھوٹے چھوٹے مموں پر جگہ جگہ چک مارنے ( دانت کاٹنے ) کے نشان بنے ہوئے تھے یہ دیکھ کر میں اس سے بولا بڑی وحشی عورت تھی یار۔۔۔۔ تو وہ کہنے لگی۔۔اصل میں سیکس سے پہلے ۔۔۔اس نے مجھے پلا دی تھی جس کی وجہ سے مجھے اتنا احساس نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔ پھر کہنے لگی یہ جو مجھے بخار ہوا ہے اور میں ٹھیک سے چل بھی نہیں سکتی ۔۔۔ تو ا س کی وجہ یہ تھی کہ اس سالی نے تمہارے سے بھی ڈبل موٹا اور لمبا لن۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو کہ بلا مبالغہ گدھے کے لن جتنا بڑا ہو گا بڑی ہی بے دردی سے میری گانڈ میں گھسیڑ دیا تھا۔۔۔اور پھر مسلسل دھکے مارتی رہی تھی۔۔ جس کی وجہ سے میری گانڈ کا ستایا ناس ہو گیا تھا ۔۔۔۔ [/color] [/color] [/color] [/color][/size]اس کے ساتھ ہی میں نے ایک نظر دروازے کی طرف دیکھا ۔۔اور اس سے گانڈ دکھانے کی فرمائیش کی۔۔۔۔ میری بات سن کر وہ جھٹ سے اوندھی ہو گئی اور میں نے بڑی احتیاط سے اس کی گانڈ چیک کی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس کی گانڈ جگہ جگہ سے چیری ہوئی تھی۔۔ جسٹ فار چیک جیسے ہی میں نے اس کی موری پر ہاتھ رکھا تو وہ ہلکا سا چیخ کر بولی۔۔۔۔ نہ کرو پلیز مجھے درد ہوتا ہے۔۔۔۔ چنانچہ اس کی گانڈ کا معائینہ کرنے کے بعد میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔۔۔اور ہم ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے کچھ دیر بعد باجی کمرے میں داخل ہو کر بولی کھانا ڈائیننگ ٹیبل پر رکھوں ؟ تو میں ان سے بولا۔۔۔ڈائینگ ٹیبل کو چھوڑ و ادھر ہی لے آؤ۔۔۔ چنانچہ وہ ثانیہ کے کمرے میں ہی کھانا لے آئی جو میں نے ڈٹ کر کھایا۔۔۔۔اور پھر کچھ دیر بیٹھ کر واپس گھر آ گیا۔۔ ندرت مامی کے آنے سے پہلے ہی میں نے ائیر پورٹ پر اپنے دوستوں اور سئینرز سے کہہ کہلوا کر ان کے پروٹوکول کا زبردست بندوبست کروا لیا تھا ۔۔ چنانچہ جیسے ہی ان کی فلائیٹ نے ائیر پورٹ پر لینڈ کیا۔۔۔ تو ایک اہلکار اپنے ہاتھ ان کے نام کا کتبہ پکڑا ہوا وہاں کھڑا تھا ۔۔۔جیسے ہی مامی نے اس کے ساتھ اپنا تعارف کرایا تو ا س نے الہ دین کے جن کی طرح جھٹ سے ان کا امیگریشن اور کسٹمز وغیرہ کرو ا کر ۔۔ ان کا اٹیچی وغیرہ لے کر باہر آ گیا جہاں میں باجی اور ثانیہ کے ساتھ کھڑا تھا۔۔ جیسے ہی وہ باہر آئیں تو میں انہیں لے اچھی سی کافی پلائی۔۔۔اتنی دیر میں وہ میرے کام سے بہت امپریس ہو چکی تھیں چنانچہ جیسے ہی باجی نے ان سے میرا تعارف کروایا تو وہ مجھ سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہنے لگیں۔۔۔ پتہ نہیں کیا بات ہے کہ اسٹیٹس میں عدیل نے تمہارے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا لیکن پچھلے کچھ عرصے سے ہماری فیملی میں جو تمہاری دھوم مچی ہے تو آئی تھنک درست ہی مچی ہے پھر ٹیکسی پر بیٹھنے لگی تو میں صائمہ باجی سے مخاطب ہو کر بولا۔۔۔ باجی جی میں نے ٹیکسی کا کرایہ ادا کر دیا ہے اور اس سے قبل کہ مامی کچھ کہتیں ۔۔۔ میں نے ان کو بائے بائے کر دیا۔۔۔ مامی سے وغیرہ سے فارغ ہو کر میں گھر آ گیا۔۔۔اور عدیل کو فون کر کے ساری صورتِ حال سے آگاہ کر دیا تو وہ کہنے لگا کیا بات ہے یار مامی بھی تیری فین ہو گئی ہے تو میں اس کو جواب دیتے ہوئے بولا۔۔۔فین تو ہونا ہی تھا یار۔۔۔۔۔۔ ان کو اتنا زبردست پروٹوکول جو دلایا تھا۔۔۔تو وہ میری ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔۔ یہ بھی درست ہے۔۔۔۔ پھر باتوں باتوں میں اس نے مجھے بتایا کہ رمشا کی والدہ اور جمال صاحب بھی لاہور پہنچ گئے ہیں۔۔۔ عدیل کے منہ سے یہ سن کر کہ رمشا کی والدہ اور اس کا بھائی تعزیت کے لیئے لاہور گئے ہیں ۔۔ میرا لن خوشی سے جھوم اُٹھا اور ببانگِ دھل میرے کان میں بولا۔۔۔ استاد جی اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس وقت حسینہ گھر میں اکیلی ہو گی۔ میرے دماغ میں اتنی بات آنے کی دیر تھی کہ مجھے ایک نشہ سا ہونے لگا۔۔۔اور میرے لیئے مزید گھر میں رکنا مشکل ہو گیا تھا اس لیئے۔۔۔۔ میں گھر سے باہر نکلا اور ٹیکسی میں بیٹھ کر اسے پتہ سمجھا دیا ۔۔ میں رمشا کے گھر جا رہا تھا ۔۔وہی خوب صورت حسینہ جو دیتی کم اور ترساتی زیاہ تھی۔۔۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رمشا بہت سمارٹ اور سیکسی لڑکی تھی لیکن وہ اسی قدر تیز بھی تھی۔۔۔ اسی لیئے آج تک اس نے مجھے پھدی نہیں دی تھی۔۔۔۔ بلکہ ترسایا ہی ترسایا تھا۔۔۔ اور اب جبکہ مجھے معلوم ہوا تھا کہ وہ گھر پر اکیلی ہے تو خود بخود ہی میری رالیں ٹپکنا شروع ہو گئیں تھیں۔۔۔ میرا خیال تھا کہ میں جاتے ہی بنا کوئی بات کیئے۔۔۔۔۔پہلا کام یہی کروں گا کہ اسے چودں گا۔۔اس لیئے میں نے ٹیکسی سے اتر کر اس کی بیل بجائی ۔۔۔۔۔۔۔تو جواب میں اسی نے دروازہ کھولا۔۔۔ مجھے دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں ایک شرارت سی ناچ گئی۔۔۔اور وہ مجھ سے کہنے لگی گوروں نے سچ ہی کہا تھا۔۔۔ کہ تھنک اباؤٹ شاہ جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور شاہ جی از دئیر۔۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی اس نے مجھے اندر آنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔ گھر میں داخل ہوتے ہی میں نے اسے گلے سے لگانا چاہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو وہ پرے ہٹتے ہوئے بولی ۔۔ارے ارے کیا کر رہے ہو؟ تو میں بڑی بے تکلفی سے بولا۔۔۔تم سے پیار کا اظہار کر نے لگا ہوں تو وہ پیچھے ہٹتے ہوئے بولی۔۔۔ لیکن یہ پیار کی جگہ نہیں ہے تو میں اس سے بولا۔۔۔گولی دینے کی کوشش نہ کر۔۔۔ مجھے معلوم ہے کہ آنٹی اور جمال بھائی لاہور گئے ہوئے ہیں۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی میں اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لگانے ہی والا تھا کہ اندر سے ایک سریلی سی آواز سنائی دی۔۔۔ رمشا باہر کون تھا؟ وہ آواز سن کر مجھے ایسا لگا کہ جیسے کسی نے میرے سر پر بمب پھوڑ دیا ہو.. ۔۔ میں نے سر اُٹھا کر آواز کی سمت دیکھا تو میرے سامنے ایک بہت ہی پرکشش سی لڑکی کھڑی تھی اسے دیکھ کر میں چند سیکنڈز کے لیئے سٹل ہو گیا... دوسری طرف وہ لڑکی بھی بڑی دل چسپ نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔پھر وہ رمشا کی طرف دیکھتے ہوئے بولی میرے بیسٹ نالج کے مطابق ان حضرت کا نام شاہ ہونا چایئے ۔ [/size][/font] [/size][/font] [/size][/font] [/size][/font] [/size][/color]۔اس پر کشش لڑکی کے منہ سے اپنا نام سن کر میں حیران رہ گیا۔۔۔ جبکہ دوسری طرف رمشا جلدی سے بولی یس ڈئیر! تم نے ٹھیک پہچانا یہ میرا بیسٹ فرینڈ شاہ جی ہے اور پھر میری طرف دیکھتے ہوئے رمشا بولی اور ڈئیر شاہ صاحب یہ میری فسٹ کزن اور بیسٹ آف دی بیسٹ فرنیڈ انوشہ ذوالفقار ہے باقی اس کے بارے میں کافی جان کاری تم رکھتے ہو ۔رمشا کی بات سن کر انوشہ بڑی ادا سے کہنے لگی اوئے بی بی تم نے اپنے فرینڈ کو میرے بارے کیا بتا دیا؟ تو رمشا مسکراتے ہوئے بولی ۔۔۔۔ چپ کر ۔۔۔ جو بھی بتایا ہے درست بتایا ہے۔ اس کے بعد رمشا نے مجھے اندر چلنے کا اشارہ کیا۔۔ اور میرے پوچھنے پر اس نے بتلایا کہ انوشہ آج صبع ہی فیصل آباد سے پنڈی آئی ہے وجہ نزول یہ بتائی کہ ایک دوست کی شادی پر آئی ہے اس کے بعد رمشا مجھ سے کہنے لگی آج رات ہم نے شادی پر جانا ہے تم بھی ساتھ چلو تو مزہ آئے گا۔۔ تو میں اس سے بولا بھلا میں کہاں جاؤں گا؟ نا جان نہ پہچان تے میں تیرا مہمان۔تو اس پر رمشا کہنے لگی[/font] میری کون سی جان پہچان ہے میں بھی تو جا رہی ہو ں نا ۔اس لیئے تم بھی چلو۔۔۔ ۔ ابھی ہم یہی باتیں کر رہے تھے کہ اوپر سے انوشہ آ گئی۔۔۔ اور قبل اس کے کہ رمشا کچھ کہتی وہ کہنے لگی شاہ جی آج رات اسلام آباد کی ایک مارکی میں شادی ہے اگر آپ بھی ساتھ چلو گے تو رونق دوبالا ہو جائے گی۔۔۔ اس پر میں نے ہچر میچر کرنے کی بڑی کوشش کی لیکن ان لڑکیوں نے میری ایک نہ سنی۔۔آخر چار و ناچار مجھے ہاں کرنا پڑی ۔۔بارات کا وقت رات آٹھ بجے تھے لیکن لڑکیاں مجھ سے بولیں۔۔آپ ساڑھے آٹھ بجے تک آ جانا۔۔۔ ساتھ ہی رمشا کہنے لگی اگر ہو سکے تو ساتھ کسی دوست کی گاڑی لیتے آنا کہ وہاں سے مارکی (شادی حال) کافی دور تھا۔ واپس جا کر اپنے ایک دوست سے گاڑی مانگی ۔۔۔ اور تیار شیار ہو کر رات آٹھ بجے میں رمشا کے گھر پہنچ گیا گھنٹی کے جواب میں انوشہ نے ہی دروازہ کھولا تھا۔۔۔ مجھے دیکھتے ہی اس نے بڑی ہی گہری نظروں سے میرا جائزہ لیا اور پھر کہنے لگی اندر آ جاؤ۔۔۔ میں اس کے ساتھ چلتا ہوا سیدھا رمشا کے کمرے میں پہنچ گیا ۔۔ اندر پہنچ کر معلوم ہو ا کہ رمشا تو ابھی نہا رہی تھی جبکہ انوشہ تیاری کر رہی تھی موقع کی مناسبت سے انوشہ نے بڑا ہی سندر۔۔۔اور کام والا سوٹ پہنا ہوا تھا۔۔۔۔جس میں وہ بڑی ہی سیکسی لگ رہی تھی ڈریسنگ کے سامنے بیٹھتے ہوئے وہ کہنے لگی۔۔ تمہاری اور رمشا کی دوستی کب سے ہے تو میں اس سے بولا زیادہ نہیں دو ڈھائی ماہ ہوئے ہیں تو اس پر وہ ایکٹنگ کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔ اُف اتنی پرانی دوستی اور ابھی تک کیا کچھ نہیں؟ رمشا کے منہ سے اتنی بے باک بات سن کر میں نے بڑی حیرانی سے اس کی طرف دیکھا تو وہ ڈریسنگ مرمر سے ہی مجھے آنکھ مارتے ہوئے بولی گھبرا نہیں دوست میں زرا وکھری ٹائپ کی لڑکی ہوں۔ اتنی دیر میں رمشا بھی بدن پر ٹاول لپیٹے کمرے میں داخل ہوئی اور مجھے دیکھ کر بولی تم کب آئے؟ تو میں اس سے بولا ۔۔ ابھی کچھ ہی دیر ہوئی ہے اس سے پہلے کہ رمشا کچھ جواب دیتی ۔۔۔ انوشہ آگے بڑھی اور رمشا کے بدن سے ٹاول ہٹا دیا۔۔۔اب میری نظروں کے سامنے رمشا بلکل ننگی کھڑی تھی۔ میں رمشا کے جسم کے نشیب وفراز ۔۔۔۔۔اور اس کے نمایاں خطوط بڑی گہری نطروں سے دیکھ رہا تھا کہ انوشہ نے جلدی سے ٹاول رمشا کے اوپر ڈال دیا ۔۔۔اور مجھے سناتے ہوئے بظاہر رمشا سے کہنے لگی۔۔۔۔ توبہ توبہ ۔۔اگر میں دو منٹ اور تم کو ننگا رکھتی تو اس بھائی ( میری طرف اشارہ کرتے ہوئے) کی موت یقینی تھی۔تو اس پر میں اس کی بات پر گرہ لگاتے ہوئے بولا۔۔۔ اور موت کی وجہ یہ لکھی ہونی تھی کہ اس نے ایک پری کو ننگا دیکھ لیا تھا۔۔میری بات سن کر انوشہ نے ایک دم گھوم کر میری طرف دیکھا اور کہنے لگی تم نے میری بات کا مائینڈ تو نہیں کیا؟ تو میں اس سے بولا۔۔۔ مس جی مائینڈ کس بات کا ۔۔۔میں بھی زرا وکھری ٹائپ کا بندہ ہوں۔ اس طرح کی ہنسی مزاق میں وہ لڑکیاں بمشکل تیار ہوئیں۔راستے میں رمشا مجھ سے کہنے لگی تمہیں معلوم ہے شاہ کہ کسی زمانے میں ۔۔۔ میں پکی لیسبو تھی اور مجھے اس طرف لانے والی یہ محترمہ ہے تو میں گاڑی ڈرائیونگ کرتے ہوئے بولا۔۔۔ ہاں یار تم نے مجھے بتایا تھا تو اس پر رمشا کہنے لگی۔۔۔ ویسے آپس کی بات ہے انوشہ تم سے کافی متاثر ہوئی ہے۔۔ اس پر میں نے گاڑی کے بیک مرر سے انوشہ کی طرف دیکھا اور اس سے بولا ۔۔۔ کیا واقعی آپ مجھ سے متاثر ہوئی ہیں؟ تو وہ بڑی ادا سے کہنے لگی ۔۔۔۔ ابھی تک تو میں نے صرف باتیں ہی باتیں سنی ہیں دیکھا تو کچھ بھی نہیں ۔۔۔تو میں اس سے بولا ۔۔ جہاں تک دیکھنے کا تعلق ہے تو آپ حکم کریں آپ کو ابھی وہ سب دکھا سکتا ہوں جس کی ایک لڑکی صرف تمنا کر سکتی ہے۔۔ تو آگے سے انوشہ کہنے لگی مسڑ شاہ دو چار لونڈیوں سے" حساب کتا ب "کر کے بعض لوگ خود کو ویسے ہی ماسٹر سمجھ لیتے ہیں تو میں اس سے کہنے لگا ۔۔ میں نے اپنے ماسٹر ہونے کا ابھی تک دعوٰی نہیں کیا۔۔۔تو وہ کہنے لگی آپ نے نہیں کیا نا۔۔۔ آپ کی گرل فرنیڈ نے تو اس بات کا رولا ڈالا ہو ا ہے۔۔۔اس پر میں نے رمشا کی طرف دیکھا تو وہ دانت نکالتے ہوئے کہنے لگی ۔۔۔ یار میں نے توفقط تمہاری عزت بڑھائی تھی۔۔۔۔۔ کچھ برا تو نہیں کیا۔۔۔۔اسی طرح کی باتیں کرتے ہوئے ہم لوگ مطلوبہ شادی حال پہنچ گئے جہاں پر سٹینگ اریجمنٹ ایسا تھا کہ آپ فیملی کےساتھ بیٹھ سکتے تھے سو ایک ٹیبل پر میں رمشا اور انوشہ بیٹھ گئے ۔اپنے آس پاس اتنی ساری خوب صورت لیڈیز کو بیٹھا دیکھ کر رمشا نے انوشہ کی طرف دیکھا اور شرارت بھرے انداز میں کہنے لگی ۔۔۔۔انوشے اتنی کیوٹ خواتین کو ایک ساتھ دیکھ کر مجھے کچھ کچھ ہو رہا ہے تو اس پر انوشہ اسے دلاسہ دیتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔ تھوڑا صبر کر لو میری جان گھر جا کر میں تیرے سارے ارمان پورے کر دوں گی۔۔ ان کی باتیں سن کر میں بھی دخل در معقولات دیتے ہوئے بولا۔۔۔ لیڈیز اس بات کا دھیان رہے کہ اس کھیل میں میں بھی برابر کا شریک ہوں گا۔۔۔۔تو اس پر رمشا کہنے لگی۔۔۔ تم شریک ضرور ہو گئے لیکن جب ہم چاہیں گی تب تم رنگ میں داخل ہو گئے۔۔ میری کون سی جان پہچان ہے میں بھی تو جا رہی ہو ں نا ۔اس لیئے تم بھی چلو۔۔۔ ۔ ابھی ہم یہی باتیں کر رہے تھے کہ اوپر سے انوشہ آ گئی۔۔۔ اور قبل اس کے کہ رمشا کچھ کہتی وہ کہنے لگی شاہ جی آج رات اسلام آباد کی ایک مارکی میں شادی ہے اگر آپ بھی ساتھ چلو گے تو رونق دوبالا ہو جائے گی۔۔۔ اس پر میں نے ہچر میچر کرنے کی بڑی کوشش کی لیکن ان لڑکیوں نے میری ایک نہ سنی۔۔آخر چار و ناچار مجھے ہاں کرنا پڑی ۔۔بارات کا وقت رات آٹھ بجے تھے لیکن لڑکیاں مجھ سے بولیں۔۔آپ ساڑھے آٹھ بجے تک آ جانا۔۔۔ ساتھ ہی رمشا کہنے لگی اگر ہو سکے تو ساتھ کسی دوست کی گاڑی لیتے آنا کہ وہاں سے مارکی (شادی حال) کافی دور تھا۔ واپس جا کر اپنے ایک دوست سے گاڑی مانگی ۔۔۔ اور تیار شیار ہو کر رات آٹھ بجے میں رمشا کے گھر پہنچ گیا گھنٹی کے جواب میں انوشہ نے ہی دروازہ کھولا تھا۔۔۔ مجھے دیکھتے ہی اس نے بڑی ہی گہری نظروں سے میرا جائزہ لیا اور پھر کہنے لگی اندر آ جاؤ۔۔۔ میں اس کے ساتھ چلتا ہوا سیدھا رمشا کے کمرے میں پہنچ گیا ۔۔ اندر پہنچ کر معلوم ہو ا کہ رمشا تو ابھی نہا رہی تھی جبکہ انوشہ تیاری کر رہی تھی موقع کی مناسبت سے انوشہ نے بڑا ہی سندر۔۔۔اور کام والا سوٹ پہنا ہوا تھا۔۔۔۔جس میں وہ بڑی ہی سیکسی لگ رہی تھی ڈریسنگ کے سامنے بیٹھتے ہوئے وہ کہنے لگی۔۔ تمہاری اور رمشا کی دوستی کب سے ہے تو میں اس سے بولا زیادہ نہیں دو ڈھائی ماہ ہوئے ہیں تو اس پر وہ ایکٹنگ کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔ اُف اتنی پرانی دوستی اور ابھی تک کیا کچھ نہیں؟ رمشا کے منہ سے اتنی بے باک بات سن کر میں نے بڑی حیرانی سے اس کی طرف دیکھا تو وہ ڈریسنگ مرمر سے ہی مجھے آنکھ مارتے ہوئے بولی گھبرا نہیں دوست میں زرا وکھری ٹائپ کی لڑکی ہوں۔ اتنی دیر میں رمشا بھی بدن پر ٹاول لپیٹے کمرے میں داخل ہوئی اور مجھے دیکھ کر بولی تم کب آئے؟ تو میں اس سے بولا ۔۔ابھی کچھ ہی دیر ہوئی ہے اس سے پہلے کہ رمشا کچھ جواب دیتی ۔۔۔ انوشہ آگے بڑھی اور رمشا کے بدن سے ٹاول ہٹا دیا۔۔۔اب میری نظروں کے سامنے رمشا بلکل ننگی کھڑی تھی۔ میں رمشا کے جسم کے نشیب وفراز ۔۔۔۔۔اور اس کے نمایاں خطوط بڑی گہری نطروں سے دیکھ رہا تھا کہ انوشہ نے جلدی سے ٹاول رمشا کے اوپر ڈال دیا ۔۔۔اور مجھے سناتے ہوئے بظاہر رمشا سے کہنے لگی۔۔۔۔ توبہ توبہ ۔۔اگر میں دو منٹ اور تم کو ننگا رکھتی تو اس بھائی ( میری طرف اشارہ کرتے ہوئے) کی موت یقینی تھی۔تو اس پر میں اس کی بات پر گرہ لگاتے ہوئے بولا۔۔۔ اور موت کی وجہ یہ لکھی ہونی تھی کہ اس نے ایک پری کو ننگا دیکھ لیا تھا۔۔میری بات سن کر انوشہ نے ایک دم گھوم کر میری طرف دیکھا اور کہنے لگی تم نے میری بات کا مائینڈ تو نہیں کیا؟ تو میں اس سے بولا۔۔۔ مس جی مائینڈ کس بات کا ۔۔۔میں بھی زرا وکھری ٹائپ کا بندہ ہوں۔ اس طرح کی ہنسی مزاق میں وہ لڑکیاں بمشکل تیار ہوئیں۔راستے میں رمشا مجھ سے کہنے لگی تمہیں معلوم ہے شاہ کہ کسی زمانے میں ۔۔۔ میں پکی لیسبو تھی اور مجھے اس طرف لانے والی یہ محترمہ ہے تو میں گاڑی ڈرائیونگ کرتے ہوئے بولا۔۔۔ ہاں یار تم نے مجھے بتایا تھا تو اس پر رمشا کہنے لگی۔۔۔ ویسے آپس کی بات ہے انوشہ تم سے کافی متاثر ہوئی ہے۔۔ اس پر میں نے گاڑی کے بیک مرر سے انوشہ کی طرف دیکھا اور اس سے بولا ۔۔۔ کیا واقعی آپ مجھ سے متاثر ہوئی ہیں؟ تو وہ بڑی ادا سے کہنے لگی ۔۔۔۔ ابھی تک تو میں نے صرف باتیں ہی باتیں سنی ہیں دیکھا تو کچھ بھی نہیں ۔۔۔تو میں اس سے بولا ۔۔ جہاں تک دیکھنے کا تعلق ہے تو آپ حکم کریں آپ کو ابھی وہ سب دکھا سکتا ہوں جس کی ایک لڑکی صرف تمنا کر سکتی ہے۔۔ تو آگے سے انوشہ کہنے لگی مسڑ شاہ دو چار لونڈیوں سے" حساب کتا ب "کر کے بعض لوگ خود کو ویسے ہی ماسٹر سمجھ لیتے ہیں تو میں اس سے کہنے لگا ۔۔ میں نے اپنے ماسٹر ہونے کا ابھی تک دعوٰی نہیں کیا۔۔۔تو وہ کہنے لگی آپ نے نہیں کیا نا۔۔۔ آپ کی گرل فرنیڈ نے تو اس بات کا رولا ڈالا ہو ا ہے۔۔۔اس پر میں نے رمشا کی طرف دیکھا تو وہ دانت نکالتے ہوئے کہنے لگی ۔۔۔ یار میں نے توفقط تمہاری عزت بڑھائی تھی۔۔۔۔۔ کچھ برا تو نہیں کیا۔۔۔۔اسی طرح کی باتیں کرتے ہوئے ہم لوگ مطلوبہ شادی حال پہنچ گئے جہاں پر سٹینگ اریجمنٹ ایسا تھا کہ آپ فیملی کےساتھ بیٹھ سکتے تھے سو ایک ٹیبل پر میں رمشا اور انوشہ بیٹھ گئے ۔اپنے آس پاس اتنی ساری خوب صورت لیڈیز کو بیٹھا دیکھ کر رمشا نے انوشہ کی طرف دیکھا اور شرارت بھرے انداز میں کہنے لگی ۔۔۔۔انوشے اتنی کیوٹ خواتین کو ایک ساتھ دیکھ کر مجھے کچھ کچھ ہو رہا ہے تو اس پر انوشہ اسے دلاسہ دیتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔ تھوڑا صبر کر لو میری جان گھر جا کر میں تیرے سارے ارمان پورے کر دوں گی۔۔ ان کی باتیں سن کر میں بھی دخل در معقولات دیتے ہوئے بولا۔۔۔ لیڈیز اس بات کا دھیان رہے کہ اس کھیل میں میں بھی برابر کا شریک ہوں گا۔۔۔۔تو اس پر رمشا کہنے لگی۔۔۔ تم شریک ضرور ہو گئے لیکن جب ہم چاہیں گی تب تم رنگ میں داخل ہو گئے۔۔ ہمیں وہاں بیٹھے کافی دیر ہو گئی تھی کہ اتنے میں انوشہ کی دو تین دوست بھی بھی وہاں پر آ گئیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ انوشہ نے میرا اور رمشا کا تعارف بطور میاں بیوی کے کرایا جسے میرے ساتھ ساتھ رمشا نے بھی خوب انجوائے کیا۔۔ہمیں انجوائے کرتا دیکھ کر وہ بھی مسکرا دی۔۔ شادی سے واپسی پر رمشا گاڑی چلا رہی تھی جبکہ آگے والی سیٹ پر انوشہ اور گاڑی کی پچھلی سیٹ پر میں بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔گاڑی چلاتے ہوئے رمشا مجھ سے کہنے لگی یہ بتاؤ کہ تم نے گاڑی کب واپس کرنی ہے؟ تو میں اس سے بولا۔۔۔ گاڑی کی کوئی ٹینشن نہیں ۔۔ کل واپس کر دوں گا تو اس پر وہ اٹھلاتے ہوئے بولی ۔۔اس کا مطلب آج رات تم ہمارے ساتھ سٹے کر رہے ہو تو میں انوشہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔ ہا ں یار زرا میں بھی تو دیکھو ں کہ تمہاری کزن کتنے پانی میں ہے۔۔تو اس پر انوشہ ترنت جواب دیتے ہوئے بولی۔۔۔ پانی کا تو پانی نکلنے کے بعد ہی پتہ چلے گا۔اس کے ساتھ ہی اس نے بڑی ہی بے تکلفی سے رمشا کی دونوں ٹانگوں کے بیچ میں ہاتھ پھیرا ۔۔۔۔۔اور کہنے لگی۔۔۔ میری جان تمہاری ان دو ٹانگوں کے بیچ سکون و لزت ۔۔۔کی کیا ہی مدہوش کر دینے والی نہر ہے۔۔ جس کا پانی آج تک نہیں سوکھا ہے۔۔۔تو اس پر رمشا بھی انوشہ کی پھدی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی۔۔۔ بڑے دنوں کے بعد اس شیرنی کی سواری نصیب ہو گی۔۔اس کے ساتھ اس نے اپنی لمبی سی زبان باہرنکالی اس کے ساتھ ہی انوشہ اور رمشا کی زبانیں آپس میں ٹکرانا شروع ہو گئیں۔۔۔۔وہ بار بار ایک دوسرے کے ساتھ اپنی زبانیں ملا رہیں تھیں۔۔۔اسی اثنا میں بھی سیٹ سے کھسک کر آگے ہوا۔۔۔۔۔ اور انوشہ کا سر پکڑ کر اپنی طرف کیا ۔۔۔۔تو میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھوں شہوت سے چور ہو رہی تھیں۔۔۔اس نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور کہنے لگی ۔۔۔ کیا ہے؟ تو میں اپنی زبان باہر نکال کر اس کے منہ کی طرف لہراتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔ ایک نظر ادھر بھی میری جان کہ مجھ کو بھی اتنا ہی سیکس چڑھا ہوا ہے جتنا کہ تم دونوں کو چڑھا ہے۔۔۔۔ میری با ت سن کر انوشہ نے اپنی زبان باہر نکالی اور میری زبان کے آس پا لہراتے ہوئے بولی۔۔۔۔اگر میں تم کو اپنی زبان کا مزہ نہ دوں تو؟ اس کی بات سن کر میں نے اسے بالوں سے پکڑا۔۔۔۔اور زبردستی اس کے منہ میں اپنا منہ ڈال دیا۔۔۔ کچھ دیر تک اس نے اپنے منہ کو بند رکھا ۔۔۔۔لیکن جب میں نے پیہم اس کے ہونٹوں پر زبان پھیرنی شروع کی تو کچھ دیر بعد اس نے اپنے منہ کو کھول دیا۔۔۔۔ جس کی وجہ سے میری زبان تیر کی طرح اس کے منہ میں گھس گئی۔۔۔۔۔اور بجائے اس کے کہ میں اس کی زبان تلاش کرتا اس نے میری زبان تلاش کی اور پھر میری زبان سے ایسی زبان ملائی کہ اگلے دو تین منٹ تک ہم دونوں نے بڑی ہی طویل ٹنگ کسنگ کی۔۔۔پھر جیسے ہی ہمارے منہ ایک دوسرے سے الگ ہوئے تو رمشا ہنستے ہوئے کہنے لگی ۔۔ میرے ہسبینڈ کی" کس" کیسی لگی؟ تو انوشہ کچھ سوچ کر بولی۔۔۔سچ کہوں۔۔۔۔۔۔۔ تو رمشا بولی جی سچ ہی میں پوچھ رہی ہوں تو وہ کہنے لگی اے ون ۔۔۔پھر رمشا کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔ جس طرح دیگ کا ایک دانہ چکھنے سے پتہ چل جاتا ہے کہ چاول کیسے پکے ہوں گے ؟اسی تمہارے دوست سے ایک ہی کس میں ۔۔۔۔ میں جان گئی ہوں کہ اسے سیکس کے بارے میں کافی جان کاری ہے تو اس پر رمشا مزہ لیتے ہوئے بولی وہ کیسے؟ رمشا کا سوال سن کر انوشہ نے کچھ دیر سوچا اور پھر۔۔۔۔ کہنے لگی۔۔کسی ٹھرکی بابے نے کیا ٹھیک کہا ہے کہ سیکس ایک آرٹ ہے ، تو اس آرٹ سے تمہارا دوست بخوبی آگاہ لگتا ہے۔۔۔۔ تو اس پر رمشا مست آواز میں کہنے لگی اس ٹھرکی بابا کی اور بھی باتیں بتاؤ نا پلززززز۔۔ تو اس پر انوشہ نے کچھ دیر مزید سوچا اور پھر ٹھہر ٹھیر کر کہنے لگی۔۔۔مہا ٹھرکی بابا کہتا ہے کہ چدائی ایک فن ہے ، ہمبستری ایک کلا ہے ۔۔۔دو منٹ میں دو جھٹکے مار کے للی کو لٹکا کے عورت کو پیاسا چھوڑنا سیکس نہیں قدرت نے سیکس میں مزہ رکھا ہے سیکس کو پڑھو سیکس کو سیکھو اور سیکس کا مزہ لو۔۔۔پھر میری طرف منہ کر کے وہ رمشا سے سے کہنے لگتی مجھے ایسا لگتا ہے کہ تمہارے دوست نے سیکس کو پڑھا بھی ہے اور یہ جانتا ہے کہ سیکس کا مزہ کیسے لینا ہے۔۔۔۔اس قسم کی سیکسی باتیں کرتے ہوئے ہم گھر پہنچ گئے تھے ۔ اس وقت میرے سامنے پلنگ پر رمشا اور انوشہ ننگی لیٹی ہوئیں تھیں۔۔۔ اور رمشا انوشہ کی چھاتیاں چوس رہی تھی اور رمشا کے منہ سے سیکس سے بھر پور آوازیں نکل رہیں تھیں جبکہ پلنگ کے سامنے میں پورے کپڑوں میں ایک سنگل صوفے پر بیٹھا ان دونوں کا سیکس شو دیکھ رہا تھا۔۔جبکہ رمشا کی گول گول اور موٹی گانڈ دیکھ کر میرے دل کو کچھ کچھ ہو رہا تھا۔۔۔۔ لیکن لڑکیوں نے بڑی سختی کے ساتھ مجھے پابند کیا تھا کہ جب تک وہ نہ کہیں میں نے بیڈ پر نہیں آیا۔۔حال یہ تھا کہ پینٹ کے اندر میرا لن اپنی اکڑاہٹ کے آخری درجے تک پہنچا ہوا تھا ۔۔۔۔لیکن میں مجبور تھا۔۔۔۔ یونہی بیٹھے بیٹھے اچانک مجھے خیال آیا اور میں نے جلدی سے اپنے سارے کپڑےاتار پھینکے۔۔۔۔۔۔اب میرا شیش ناگ پھن پھیلائے کھڑا تھا۔۔ لیکن دونوں لڑکیاں اس بات سے بے نیاز ایک دوسرے کے ساتھ اوورل کر رہی تھیں۔۔۔۔ رمشا کی حد تک تو بات درست تھی ۔۔لیکن غضب اس وقت ہوا کہ جب انوشہ رمشا کہ اوپر آئی۔۔۔۔۔۔اُف۔ف۔فف۔ف۔ اس کی گول شیب کی باہر کو نکلی ہوئی گانڈ دیکھ کر پہلے تو میں خاموش رہا ۔۔اور صرف لن کو مسلتا رہا ۔۔۔ لیکن جب اس نے اپنی دونوں ٹانگیں کھول کر رمشا کی چوت چاٹنا شروع کی تو اس کی سیکسی گانڈ ۔۔۔۔۔۔۔اور بھوکی شیرنی جیسے پھدی کی ایک جھلک دیکھ کر میں جمپ مار کر پلنگ پر آ گیا۔۔۔ جیسے ہی میں پلنگ پر پہنچا تو انوشہ نے رمشا کی پھدی چاٹنا بند کر کے میری طرف دیکھنا شروع کر دیا۔۔۔ جبکہ اس کے نیچے لیٹی رمشا شور مچاتے ہوئے بولی۔۔۔یہ سراسر چیٹنگ ہے۔۔۔ ہم نے کہا بھی تھا کہ ہماری پرمیشن کے بغیر تم نے اوپر نہیں آنا پھر تم کیسے آ گئے؟ ابھی رمشا رولا ڈال ہی رہی تھی کہ انوشہ کہ جس کی نظریں میرے لن پر گڑھی ہوئیں تھیں۔۔۔ ہاتھ اُٹھا کر بولی..چپ کر کتیا ۔۔۔۔آخرِ کار ہم نے اس سے چدوانا تو تھا نا۔۔ ہمارے کہنے بغیر آگیا تو کون سی قیامت ٹوٹ پڑی۔۔۔۔پھر مجھ سے مخاطب ہو کر بولی۔۔۔ہینڈ سم زرا ادھر تو آ۔۔پھر رمشا سے مخاطب ہو کر بولی۔۔۔دیکھ تو سہی اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان لن کیسے شیش ناگ کی طرح تنا کھڑا ہے۔۔۔۔پھر کہنے لگی شاہ جی میں اسے شاہی لوڑا کہوں گی۔۔۔۔۔۔اتنی بات کرتے ہی اس نے ہاتھ بڑھا کر میرے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔۔۔۔اور اسے دباتے ہوئے بولی۔۔۔۔کیسا ہارڈ ہے؟پھر ٹوپے پر انگلی پھیرتے ہوئے بولی۔۔۔اس شاہی لوڑے کا کیسا موٹا ٹوپ ہے ۔۔۔۔۔ پھر وہ رمشا کی طرف گھومی اور اس سے کہنے لگی آج شاہی لوڑے ۔۔۔۔اور بھوکی شیرنی کے ملاپ سے چودائی کا مزہ آنے والا ہے ۔۔۔۔اتنی دیر میں رمشا بھی اُٹھ کر گھٹنوں کے بل میرے ساتھ کھڑی تھی۔۔۔تبھی انوشہ اس سے کہنے لگی ۔۔۔۔زرا لن پر تھوک تو پھینک ۔۔۔ میں نے اس کی مُٹھ مارنی ہے ۔۔اس کی بات سن کر رمشا بلکل میرے لن پر جھکی اور ایک بڑا سا تھوک کا گولہ پھینک کر بولی۔۔۔مُٹھ نہ مار بلکہ لن کو چوس مزہ آئے گا۔۔۔۔تو انوشہ نے ایک نظر رمشا کی طرف دیکھا اور پھر میرے لن پر جھک گئی۔۔۔جیسے ہی انوشہ نے میرے لن کو چاٹنا شروع کیا ۔۔۔عین اسی وقت رمشا نے مجھے دھکا دے کر بیڈ پر گرا دیا۔۔۔اور پھر گھٹنوں کے بل چلتی ہوئی میرے منہ کی طرف آ گئی اور میرے منہ پر ہلکا سا تھپڑ مارتے ہوئے بولی۔۔۔چل سالے ۔۔۔میری پھدی چاٹ۔۔۔لائف میں پہلی دفعہ یہ ہو رہا تھا کہ ایک حسین لڑکی میرا لن چوس رہی تھی اس کے ہونٹوں کا لمس اور کی منہ کی گرمی ۔۔۔یہ سب مجھے پاگل کر رہی تھیں لیکن دوسری طرف مجھے آرڈر ملا کہ میں پھدی چاٹوں چنانچہ میں نے زبان باہر نکالی اور رمشا کی پھدی چاٹنا شروع ہو گیا۔۔۔۔ اب پوزیشن یہ تھی کہ انوشہ میرا لوڑا چوس رہی تھی جبکہ عین اسی وقت میں رمشا کی پھدی چاٹ رہا تھا۔۔۔ رمشا کی پھدی بہت ہاٹ اور بالوں والی تھی۔۔۔۔اسی لیئے اس سے پھدی کی مہک بہت ہی تیز آ رہی تھی ۔۔کچھ دیر تک ہم ایسے ہی کرتے رہے پھر اچانک ہی رمشا نے میرے سر کو پکڑا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور میرے منہ میں ڈسچارج ہونا شروع ہو گئی۔۔۔۔۔ جیسے ہی وہ ڈسچارج ہوئی تو وہ میرے ساتھ لیٹ کر گہرے گہرے سانس لینے لگی۔۔ یہ دیکھ کر انوشہ نے لن کو منہ سے نکالا۔۔۔اور مجھے اُٹھانے لگی۔۔ جیسے ہی میں اوپر اُٹھا ۔۔۔۔تو اس نے اپنی ایک چھاتی میرے سامنے کر دی اور کہنے لگی ۔۔۔ میرا دودھ پیو۔۔۔۔ بلاشبہ انوشہ کی چھاتیاں بہت بڑی اور نپلز کافی موٹے تھے جنہیں چوسنے کا بہت مزہ آیا۔۔۔۔ابھی میں نے اس کی ایک چھاتی چوسی تھی کہ اس نے میرے منہ سے اپنی چھاتی کو نکال لیا۔۔۔۔۔۔اور دونوں چھاتیوں کو ہاتھ میں پکڑ کر بولی۔۔۔۔ میری پھدی بعد میں مارنا ۔۔۔پہلے چھاتیاں چود۔۔۔۔پھر مجھ سے کہنے لگی میری چھاتیوں کی دراڑ میں تھوک پھینک اور میں نے اس کی دونوں چھاتیوں کے بیچ میں بننے والے شگاف میں تھوک پھینکا ۔۔۔۔۔تو اس نے جلدی سے میرے لن کو تھوک سے نہلایا ۔۔۔جب کی اسکی چھاتیاں اچھی طرح چکنی ہو گئیں۔۔تو وہ کہنے لگے چل اب میری چھاتیاں چود۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اس نے اپنی چھاتیوں کو میرے لن میں رکھا ۔۔۔۔اورانہیں تیز تیز ہلانے لگی۔۔۔ میرے لیئے چھاتیاں چودنے کا یہ پہلا موقع تھا اس لیئے انہیں چودنے کا بڑا مزہ آیا۔۔۔کافی دیر تک وہ مجھ سے اپنی چھاتیاں چدواتی رہی پھر تھوڑی دیر بعد رمشا اوپر اُٹھی اور انوشہ سے کہنے لگی کیا خیال ہے لن لیا جائے؟ تو انوشہ بولی اتنی جلدی؟ اس پر رمشا کہنے لگی۔۔۔ تم نے لن چوس لیا۔۔۔چھاتیاں میں ڈال لیا۔۔۔اب پھدی ہی باقی بچتی ہے کہ جہاں لن لینا باقی ہے ۔۔پھر کہنے لگے ویسے ساری رات پڑی ہے جتنی مرضی لینا۔۔۔ تب انوشہ اس سے کہنے لگی۔۔۔ کس سٹائل میں چدوائیں؟ تو مشا کہنے لگی دونوں گھوڑی بنتی ہیں شاہ باری باری ہم دونوں کی چوت میں اپنے لن کو ان آؤٹ کرے گا۔۔اس کے ساتھ ہی رمشا جلدی سے گھوڑی بن گئی۔۔۔ جبکہ انوشہ گھوڑی بنتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔تھوڑی سی چاٹنا بھی ہے۔۔۔اور میں نے پہلے تو انوشہ کی بھوکی شیرنی کو اچھی طرح چاٹا پھر۔۔۔۔۔۔ ان کے پیچھے گھٹنوں کے بل کھڑا ہو گیا۔۔۔۔۔اور ایک کی پھدی میں لن ڈالتا ۔۔۔کچھ دیر گھسے مارتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو پھر دوسری کی مارنا شروع ہو جاتا۔۔۔۔۔سو میں ون بائی ون دونوں کی پھدی بجاتا گیا بجاتا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔بجاتا گیااا۔ا۔۔۔ا۔ا۔ا۔ا۔ا۔اور بجاتا ہی گیااااااااااااااااااااااااا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  15. گوری میم صاحب ( 12قسط نمبر ) ڈیڈی کی آواز سن کر میری تو جان ہی نکل گئی تھی لیکن باجی ذرا نہ گھبرائیں ۔۔ انہوں نے بجلی کی تیزی سے مجھے ٹراؤزر پہنایا اور خود شلوار پہن کر جلدی سے میرے کان میں کچھ باتیں کیں۔۔۔ اور پھر رضائی میں لیٹ گئی میں نے باجی کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے دروازے کی کنڈی کھولی ۔۔۔ دروازہ کھلتے ہی ڈیڈی تیزی کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئے اور مجھ سے کہنے لگے کیا ہوا تھا ؟ نسرین چیخیں کیوں مار رہی تھی؟ تو میں باجی کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے بڑے معصوم انداز سے بولا ۔۔۔ مجھے نہیں معلوم۔۔۔۔۔ ۔۔ میں تو سو رہا تھا۔۔۔ میری بات سن کر ڈیڈی باجی کی طرف بڑھے جو ابھی بھی تڑپنے کی ادا کاری کر رہی تھیں۔۔۔ اسی اثنا میں دادی اماں بھی کمرے میں آ گئی۔۔انہوں نے آتے ساتھ ہی باجی کو زور سے جھنجھوڑا۔۔۔ ۔۔ تو باجی چونک کر اُٹھنے اور خوف زدہ ہونے کی ایکٹنگ کرتے ۔۔دادی اماں سے لپٹ کر ڈری ہوئی آواز میں۔۔۔ بولی ۔ امی ۔۔ مجھے بچا لو۔۔۔ تو دادی اماں بڑی شفقت سے کہنے لگیں۔۔۔ ۔۔ کیا ہوا میری بچی ؟ اس پر باجی نے اداکاری کرتے ہوئے ایک گہرا سانس لیا ۔۔اور کہنے لگی ۔۔۔ امی میں نے بڑا ڈراؤنا خواب دیکھا تھا۔۔۔ اس انہوں نے دادی اماں کی فرمائیش پر انہیں کچھ جھوٹ سچ سنایا۔۔ ڈراؤنا خواب سننے کے بعد دادی اماں ان کو دلاسہ دے کر جانے لگیں ۔۔تو باجی ان کے ساتھ لپٹ کر بولیں۔۔ امی جان میرے ساتھ سوئیں ۔۔۔چنانچہ باجی کی فرمائیش دادی اماں ہمارے ساتھ ہی سوئیں۔۔ بلکہ ۔۔۔اگلے دو تین روز تک وہ ہمارے کمرے میں ہی سوتی رہیں۔۔۔ پھر چند دنوں کے بعد وہ واپس اپنے کمرے میں شفٹ ہو گئیں ۔۔۔۔چنانچہ اس کے بعد میں اور باجی ایک بار پھر سے اکیلے سونا شروع ہو گئے۔۔۔ ۔ اس دن کے بعد ہر دوسرے تیسرے دن ۔۔۔۔میں اور باجی سیم پہلے دن والا سیکس کرتے۔۔۔ فرق صرف یہ تھا کہ پہلے دن میں نے انجانے میں ان کے ساتھ سیکس کیا تھا ۔۔ لیکن اب کی بار باجی نے مجھے سیکس بارے ساری جان کاری دے دی تھی جس کی وجہ سے میرا مزہ دوبالا ہو گیا تھا۔۔ چنانچہ کمرے میں آنے کے بعد۔۔۔ اور سونے سے پہلے باجی اور میں آپس میں زبانیں ملاتے جسے تم ٹنگ کسنگ یا زبانوں کا بوسہ کہہ سکتے ہو۔۔ پھر اس کے بعد ۔۔ میں ان کی پھدی چاٹا کرتا اور وہ میرے لن کو منہ میں لے کر خوب چوسا کرتیں ۔۔ جس کا مجھے مزہ تو بہت آتا تھا۔۔۔ لیکن ۔۔ اصل مزہ مجھے اُس وقت آتا تھا کہ ۔۔۔ جب وہ میری گانڈ چکنی کرنے کے لیئے اسے چاٹا کرتی تھیں۔۔۔اور پھر گانڈ چاٹتے ہوئے میری فرمائیش پر وہ ۔۔۔ ایک انگلی میرے سوراخ میں بھی دیا کرتی تھیں۔۔۔اس کے ساتھ ساتھ جب وہ میری گانڈ پر اپنی گرم پھدی رگڑتی تو پتہ نہیں کیوں مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے کہ وہ میری گانڈ مار رہی ہوں ۔۔ فرزند صاحب نے بات ختم کی تو میں ان سے بولا۔۔۔یہ تو تھی باجی نسرین کے ساتھ سیکس سٹوری ۔۔۔۔اب آپ مجھے رئیل لن لینے کی بات بتائیں۔۔۔ تو وہ مجھے بانس پر چڑھاتے ہوئے بولے۔۔۔ رئیل لن لینے کا تو آج پروگرام ہے۔ پھر میرے لن پر ہاتھ لگا کر بولے جہاں تک بات ہے لن کی کہ کب میں نے اسے اپنے اندر لیا تھا۔۔ تو پیارے دوست اس کی داستان کچھ یوں ہے کہ باجی کے ساتھ میرے جنسی تعلقات شادی کے کچھ عرصہ بعد تک جاری رہے ۔۔۔ پھر آہستہ آہستہ یہ تعلق کم ہوتے ہوتے ختم ہو گیا۔۔ ۔۔۔ دوسری طرف ہم بھی منزلیں مارتے ہوئے ۔۔۔ سکول سے کالج اور پھر کالج سے یونیورسٹی پہنچ گئے۔۔۔۔ قائدِ اعظم یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے بعد ۔۔ ایک دو ماہ تو مجھے ایڈجسٹ ہونے میں لگ گئے۔۔۔ پھر آہستہ آہستہ لڑکے لڑکیوں سے جان پہچان ہوئی۔۔۔پھر جان پہچان کے بعد دوستیاں بنیں۔۔۔ ۔۔۔اور میری دوستی ایک بلوچ لڑکی کے ساتھ ہو گئی۔ ۔۔ وہ لڑکی بہت خوبصورت ۔۔۔ اور سیکسی تھی۔۔۔ چنانچہ جلد ہی ہماری دوستی میں سیکس کا عنصر بھی شامل ہو گیا ۔۔۔اسی دوران ہمارے گروپ میں جھنگ کا ایک لڑکا بھی شامل ہو گیا۔ اور یوں ہم دو سے تین دوست ہو گئے ہم تینوں کا تعلق کھاتے پیتے گھرانوں سے تھا۔ بلوچ لڑکی جس کا نام گلِ داؤدی تھا جیسا کہ میں بتا چکا ہوں۔۔۔ بہت سیکسی تھی۔۔ چونکہ اس کا تعلق روایتی بلوچ گھرانے سے تھا اس لیئے وہ چاہنے کے باوجود بھی فکنگ مطلب پھدی نہیں مروا سکتی تھی ۔۔ اتنا پڑھا لکھا ہونے کے باوجود بھی ان کے ہاں ابھی تک "سیل بند" پھدی کا تصور موجود تھا ۔۔اس لیئے وہ میرے ساتھ اوورل کیا کرتی تھی ۔۔۔ یا اگر ہم زیادہ گرم ہوں تو وہ پیچھے سے کروا لیا کرتی تھی۔۔ وہ بھی جگہ نہ ہونے کی وجہ سے ہم یہ والا بہت کم کام کیا کرتے تھے لیکن جب جھنگ والے لڑکے کے ساتھ ہماری دوستی ہوئی تو پھر جگہ والی پرابلم بھی ختم ہو گئی۔۔۔ کیونکہ اس کے والدین نے اسے ایک پورا فلیٹ لے کر دیا تھا ۔۔۔ پھر فرزند صاحب کہنے لگے شروع شروع میں ہم دونوں گلِ داؤدی کے ساتھ باری باری ( مطلب ون ٹو ون ) سیکس کیا کرتے تھے لیکن جب بے تکلفی حد سے بڑھی ۔۔۔تو پھر ہم ایک دوسرے کے سامنے ہی سیکس کرنا شروع ہو گئے۔۔۔ پھر کہنے لگے جیسا کہ تمہیں معلوم ہے کہ گلِ داؤدی آگے سے نہیں لیتی تھی اس لیئے ہم دونوں باری باری اس کی گانڈ مارا کرتے تھے۔۔۔ یا پھر ایک کسنگ کرتا اور دوسرا اس کو پیچھے سے چودا کرتا تھا۔۔۔ ایسے ہی ایک دن کی بات ہے کہ میں گلِ داؤدی کی گانڈ مار رہا تھا کہ جھنگ کا لڑکا جس کا نام عرفان تھا میرے پیچھے آ گیا ۔۔۔اور شرارت سے میری گانڈ پر لن رگڑتے ہوئے بولا۔۔۔ ویسے یار ۔۔۔ تیری بنڈ بھی کسی سے کم نہیں۔۔ عرفان کے منہ سے اپنی بنڈ کی تعریف سن کر میں تو باغ باغ ہو گیا۔۔۔ اور میری برسوں کی تمنا کہ کوئی میری بنڈ مارے۔۔۔ پھر سے جاگ گئی۔۔۔ چنانچہ۔۔۔ میں نے بھی بظاہر مذاقاً اس سے کہا اگر پسند آ گئی ہے تو مار لو۔۔۔۔۔ عرفان جس نے بعد میں مجھے بتایا کہ وہ لڑکے لڑکیوں دونوں کے ساتھ سیکس کرتا رہا ہے نے لن کو میری گانڈ کے چھید میں رکھا ۔۔۔اور ہلکے ہلکے گھسے مارنے لگا۔۔۔۔ جس سے مجھے بہت مزہ آیا اور یوں ۔۔۔ اس دن میری گانڈ کی سیل کھل گئی۔۔ لفٹ کی سیر سے واپسی پر ہم لوگوں نے ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھایا اور رمشا کے لیئے پیک کروا کے گھر آ گئے دیکھا تو رمشا موجود نہ تھی۔لیکن کچھ ہی دیر بعد وہ واپس آ گئی رمشا کے واپس آنے سے تینوں لڑکیاں الگ ہو کر بیٹھ گئیں ان کو خوش گپیوں میں مصروف دیکھ کر فرزند صاحب کہنے لگے کیا خیال ہے ہم دونوں باہر نہ چلیں ؟ تو میں ان سے بولا باہر کہاں جانا ہے؟ میری بات سن کر وہ آہستہ سے بولے۔ مجھے چود نا نہیں ؟ ۔ تو میں بولا۔۔ کیوں نہیں جناب۔۔۔ تو وہ اسی ٹون میں کہنے لگے۔۔۔۔ان لڑکیوں کے ہوتے ہوئے تو یہاں گانڈ مروانا مشکل ہو گا اس لیئے کہیں باہر جا کر کرتے ہیں کہ ۔ مجھے لن کی شدید طلب ہو رہی ہے۔۔۔۔ تو میں ان سے بولا کہ اگر ایسی بات ہے تو چلیں۔۔۔۔ تو چلنے سے پہلے وہ با آوازِ بلند لڑکیوں سے مخاطب ہو کر بولے۔۔۔۔ میں اور شاہ واک پر جا رہے ہیں آپ میں سے کوئی چلنا پسند کرے گا؟ اس پر ثانیہ کہنے لگی بھائی جان ۔۔ ہم ابھی واک کر کے ہی واپس آئے تھے۔۔تو فرزند صاحب بولے۔۔۔ اگر کسی لڑکی کا موڈ ہے تو ویل کم۔۔۔ ورنہ۔۔۔۔ ہم لوگ جا رہے ہیں۔۔۔ اس کے بعد میں فرزند صاحب کے ساتھ گھر سے باہر نکل گیا۔۔ کچھ آگے جا کر انہوں نے میری طرف دیکھا اور شہوت بھرے لہجے میں بولے۔۔۔۔۔ شاہ جی تیرا لن بہت موٹا اور لمبا ہے ۔۔۔۔ اس کو لینے سے میری گانڈ تو نہیں پھٹے گی نا؟ جواب دینے سے پہلے میں نے ایک نظر ان کی طرف دیکھا ۔۔۔تو وہ اس وقت فُل موڈ میں لگ رہے تھے ان کو اس حال میں دیکھ کر میں بھی گرم ہونا شروع ہو گیا۔۔۔۔ اسی اثنا میں فرزند صاحب دوبارہ سے بولے۔۔۔۔ بتاؤ نا دوست ۔۔ تیرا لن میری گانڈ تو نہیں پھاڑے گا ؟ اس پر میں ان سے بولا۔۔ یہ تو آپ کی گانڈ پر منحصر ہے۔۔۔اگر اس کا سوراخ کھلا ہوا ۔۔۔تو پھر کچھ بھی نہیں ہو گا۔۔۔ لیکن اگر گانڈ تنگ ہوئی تو پھر تھوڑا درد ہو گا۔۔۔اس پر وہ کہنے لگے۔۔۔میں نے زیادہ نہیں مروائی۔۔۔ اس لیئے امید ہے کہ تمہارا لن میری گانڈ میں پھنس پھنس کر جائے گا۔۔۔۔۔ ۔۔ اس کے بعد میں نے ان سے سوال کیا کہ ہم کہاں سیکس کریں گے؟ تو وہ کہنے لگے ویسے تو یہاں کے ہوٹل وغیرہ اسی کام کے لیئے ہوتے ہیں لیکن ہم لوگ (سامنے اشارہ کرتے ہوئے) ۔۔۔اس جنگل میں جا کر سیکس کریں گے تو میں ان سے بولا وہاں کوئی خطرہ تو نہیں ہو گا نا؟ تو وہ ہنس کر بولے۔۔۔ کمال ہے یار یہ بات تو مجھے سوچنی چاہیئے تھی کہ جس نے گانڈ مروانی ہے تم تو مارنے والے ہو۔۔ اس کے بعد وہ سیریس ہو کر بولے۔۔ نہیں یار عام طور پر ایسا نہیں ہوتا اور ویسے بھی ہم دیکھ بھال کے ہی جگہ منتخب کریں گے ۔۔ اس کے بعد وہ کہنے لگے۔۔۔ اچھا یہ بتا ؤ کہ تم کنڈم لگا کے مارنا پسند کرو گے؟ یا پھر۔۔۔۔ ننگا لن اندر ڈالو گے۔۔ تو میں ان سے بولا۔ لن پہ کور لگا کر گانڈ مارنے سے مجھے۔۔ فیلنگز نہیں آئیں گی۔۔۔ میری بات سن کر وہ کہنے لگے تم ٹھیک کہتے ہو ۔۔ مجھے بھی کنڈوم والے لن کا مزہ نہیں آتا ۔۔۔ پھر میری طرف آنکھ دبا کر بولے۔۔۔۔۔مزہ تو [/color] [/color] [/color][/size]تب آتا ہے کہ جب ننگے گوشت میں ننگا گوشت جائے۔۔پھر مجھے آنکھ مارتے ہوئے بولے [/color][/size] تو وہ مجھے بانس پر چڑھاتے ہوئے بولے۔۔۔ رئیل لن لینے کا تو آج پروگرام ہے۔ پھر میرے لن پر ہاتھ لگا کر بولے جہاں تک بات ہے لن کی کہ کب میں نے اسے اپنے اندر لیا تھا۔۔ تو پیارے دوست اس کی داستان کچھ یوں ہے کہ باجی کے ساتھ میرے جنسی تعلقات شادی کے کچھ عرصہ بعد تک جاری رہے ۔۔۔ پھر آہستہ آہستہ یہ تعلق کم ہوتے ہوتے ختم ہو گیا۔۔ ۔۔۔ دوسری طرف ہم بھی منزلیں مارتے ہوئے ۔۔۔ سکول سے کالج اور پھر کالج سے یونیورسٹی پہنچ گئے۔۔۔۔ قائدِ اعظم یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے بعد ۔۔ ایک دو ماہ تو مجھے ایڈجسٹ ہونے میں لگ گئے۔۔۔ پھر آہستہ آہستہ لڑکے لڑکیوں سے جان پہچان ہوئی۔۔۔پھر جان پہچان کے بعد دوستیاں بنیں۔۔۔ ۔۔۔اور میری دوستی ایک بلوچ لڑکی کے ساتھ ہو گئی۔ ۔۔ وہ لڑکی بہت خوبصورت ۔۔۔ اور سیکسی تھی۔۔۔ چنانچہ جلد ہی ہماری دوستی میں سیکس کا عنصر بھی شامل ہو گیا ۔۔۔اسی دوران ہمارے گروپ میں جھنگ کا ایک لڑکا بھی شامل ہو گیا۔ اور یوں ہم دو سے تین دوست ہو گئے ہم تینوں کا تعلق کھاتے پیتے گھرانوں سے تھا۔ بلوچ لڑکی جس کا نام گلِ داؤدی تھا جیسا کہ میں بتا چکا ہوں۔۔۔ بہت سیکسی تھی۔۔ چونکہ اس کا تعلق روایتی بلوچ گھرانے سے تھا اس لیئے وہ چاہنے کے باوجود بھی فکنگ مطلب پھدی نہیں مروا سکتی تھی ۔۔ اتنا پڑھا لکھا ہونے کے باوجود بھی ان کے ہاں ابھی تک "سیل بند" پھدی کا تصور موجود تھا ۔۔اس لیئے وہ میرے ساتھ اوورل کیا کرتی تھی ۔۔۔ یا اگر ہم زیادہ گرم ہوں تو وہ پیچھے سے کروا لیا کرتی تھی۔۔ وہ بھی جگہ نہ ہونے کی وجہ سے ہم یہ والا بہت کم کام کیا کرتے تھے لیکن جب جھنگ والے لڑکے کے ساتھ ہماری دوستی ہوئی تو پھر جگہ والی پرابلم بھی ختم ہو گئی۔۔۔ کیونکہ اس کے والدین نے اسے ایک پورا فلیٹ لے کر دیا تھا ۔۔۔ پھر فرزند صاحب کہنے لگے شروع شروع میں ہم دونوں گلِ داؤدی کے ساتھ باری باری ( مطلب ون ٹو ون ) سیکس کیا کرتے تھے لیکن جب بے تکلفی حد سے بڑھی ۔۔۔تو پھر ہم ایک دوسرے کے سامنے ہی سیکس کرنا شروع ہو گئے۔۔۔ پھر کہنے لگے جیسا کہ تمہیں معلوم ہے کہ گلِ داؤدی آگے سے نہیں لیتی تھی اس لیئے ہم دونوں باری باری اس کی گانڈ مارا کرتے تھے۔۔۔ یا پھر ایک کسنگ کرتا اور دوسرا اس کو پیچھے سے چودا کرتا تھا۔۔۔ ایسے ہی ایک دن کی بات ہے کہ میں گلِ داؤدی کی گانڈ مار رہا تھا کہ جھنگ کا لڑکا جس کا نام عرفان تھا میرے پیچھے آ گیا ۔۔۔اور شرارت سے میری گانڈ پر لن رگڑتے ہوئے بولا۔۔۔ ویسے یار ۔۔۔ تیری بنڈ بھی کسی سے کم نہیں۔۔ عرفان کے منہ سے اپنی بنڈ کی تعریف سن کر میں تو باغ باغ ہو گیا۔۔۔ اور میری برسوں کی تمنا کہ کوئی میری بنڈ مارے۔۔۔ پھر سے جاگ گئی۔۔۔ چنانچہ۔۔۔ میں نے بھی بظاہر مذاقاً اس سے کہا اگر پسند آ گئی ہے تو مار لو۔۔۔۔۔ عرفان جس نے بعد میں مجھے بتایا کہ وہ لڑکے لڑکیوں دونوں کے ساتھ سیکس کرتا رہا ہے نے لن کو میری گانڈ کے چھید میں رکھا ۔۔۔اور ہلکے ہلکے گھسے مارنے لگا۔۔۔۔ جس سے مجھے بہت مزہ آیا اور یوں ۔۔۔ اس دن میری گانڈ کی سیل کھل گئی۔۔[/font] [/color] [/color] [/color] [/color] [/color] [/color] [/color][/size] لفٹ کی سیر سے واپسی پر ہم لوگوں نے ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھایا اور رمشا کے لیئے پیک کروا کے گھر آ گئے دیکھا تو رمشا موجود نہ تھی۔لیکن کچھ ہی دیر بعد وہ واپس آ گئی رمشا کے واپس آنے سے تینوں لڑکیاں الگ ہو کر بیٹھ گئیں ان کو خوش گپیوں میں مصروف دیکھ کر فرزند صاحب کہنے لگے کیا خیال ہے ہم دونوں باہر نہ چلیں ؟ تو میں ان سے بولا باہر کہاں جانا ہے؟ میری بات سن کر وہ آہستہ سے بولے۔ مجھے چود نا نہیں ؟ ۔ تو میں بولا۔۔ کیوں نہیں جناب۔۔۔ تو وہ اسی ٹون میں کہنے لگے۔۔۔۔ان لڑکیوں کے ہوتے ہوئے تو یہاں گانڈ مروانا مشکل ہو گا اس لیئے کہیں باہر جا کر کرتے ہیں کہ ۔ مجھے لن کی شدید طلب ہو رہی ہے۔۔۔۔ تو میں ان سے بولا کہ اگر ایسی بات ہے تو چلیں۔۔۔۔ تو چلنے سے پہلے وہ با آوازِ بلند لڑکیوں سے مخاطب ہو کر بولے۔۔۔۔ میں اور شاہ واک پر جا رہے ہیں آپ میں سے کوئی چلنا پسند کرے گا؟ اس پر ثانیہ کہنے لگی بھائی جان ۔۔ ہم ابھی واک کر کے ہی واپس آئے تھے۔۔تو فرزند صاحب بولے۔۔۔ اگر کسی لڑکی کا موڈ ہے تو ویل کم۔۔۔ ورنہ۔۔۔۔ ہم لوگ جا رہے ہیں۔۔۔ اس کے بعد میں فرزند صاحب کے ساتھ گھر سے باہر نکل گیا۔۔ کچھ آگے جا کر انہوں نے میری طرف دیکھا اور شہوت بھرے لہجے میں بولے۔۔۔۔۔ شاہ جی تیرا لن بہت موٹا اور لمبا ہے ۔۔۔۔اس کو لینے سے میری گانڈ تو نہیں پھٹے گی نا؟ جواب دینے سے پہلے میں نے ایک نظر ان کی طرف دیکھا ۔۔۔تو وہ اس وقت فُل موڈ میں لگ رہے تھے ان کو اس حال میں دیکھ کر میں بھی گرم ہونا شروع ہو گیا۔۔۔۔ اسی اثنا میں فرزند صاحب دوبارہ سے بولے۔۔۔۔ بتاؤ نا دوست ۔۔ [/size]تیرا لن میری گانڈ تو نہیں پھاڑے گا ؟ اس پر میں ان سے بولا۔۔ یہ تو آپ کی گانڈ پر منحصر ہے۔۔۔اگر اس کا سوراخ کھلا ہوا ۔۔۔تو پھر کچھ بھی نہیں ہو گا۔۔۔ لیکن اگر گانڈ تنگ ہوئی تو پھر تھوڑا درد ہو گا۔۔۔اس پر وہ کہنے لگے۔۔۔میں نے زیادہ نہیں مروائی۔۔۔ اس لیئے امید ہے کہ تمہارا لن میری گانڈ میں پھنس پھنس کر جائے گا۔۔۔۔۔ ۔۔ اس کے بعد میں نے ان سے سوال کیا کہ ہم کہاں سیکس کریں گے؟ تو وہ کہنے لگے ویسے تو یہاں کے ہوٹل وغیرہ اسی کام کے لیئے ہوتے ہیں لیکن ہم لوگ (سامنے اشارہ کرتے ہوئے) ۔۔۔اس جنگل میں جا کر سیکس کریں گے تو میں ان سے بولا وہاں کوئی خطرہ تو نہیں ہو گا نا؟ تو وہ ہنس کر بولے۔۔۔ کمال ہے یار یہ بات تو مجھے سوچنی چاہیئے تھی کہ جس نے گانڈ مروانی ہے تم تو مارنے والے ہو۔۔ اس کے بعد وہ سیریس ہو کر بولے۔۔ نہیں یار عام طور پر ایسا نہیں ہوتا اور ویسے بھی ہم دیکھ بھال کے ہی جگہ منتخب کریں گے ۔۔ اس کے بعد وہ کہنے لگے۔۔۔ اچھا یہ بتا ؤ کہ تم کنڈم لگا کے مارنا پسند کرو گے؟ یا پھر۔۔۔۔ ننگا لن اندر ڈالو گے۔۔ تو میں ان سے بولا۔ لن پہ کور [/font] لگا کر گانڈ مارنے سے مجھے۔۔ فیلنگز نہیں آئیں گی۔۔۔ میری بات سن کر وہ کہنے لگے تم ٹھیک کہتے ہو ۔۔ مجھے بھی کنڈوم والے لن کا مزہ نہیں آتا ۔۔۔ پھر میری طرف آنکھ دبا کر بولے۔۔۔۔۔مزہ تو تب آتا ہے کہ جب ننگے گوشت میں ننگا گوشت جائے۔۔پھر مجھے آنکھ مارتے ہوئے کچھ مزہ تو آئے نا بنڈ مروانے کا۔۔۔ کچھ آگے جا کر انہوں نے مین سڑک چھوڑ دی۔۔۔ اور مجھے لے کر ایک پگڈنڈی کی طرف آ گئے۔۔ تھوڑی دور جا کر اسی پگڈنڈی کے آس پاس گھنے درختوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔۔۔ لیکن وہ یہاں نہیں رکے ۔۔۔ بلکہ کچھ آگے چل کر انہوں نے پگڈنڈی بھی چھوڑ دی ۔۔یہاں سے ڈھلوان شروع ہو گئی اسی اثنا میں ان کی نظر ایک گڑھے پر پڑی جس کے اوپر درخت لگے ہوئے تھے۔۔ اور ان درختوں کی وجہ سے یہ گڑھا نظر نہ آتا تھا۔۔۔۔ اس جگہ پر نظر پڑتے ہی وہ اشارہ کرتے ہوئے بولے۔۔۔ میرے خیال میں یہ جگہ مناسب رہے گی ۔۔۔اور یوں ہم دونوں ادھر ادھر دیکھتے ہوئے اس گڑھے میں اتر گئے۔۔ اور نیچے کھڑے ہو کر اوپر کی طرف دیکھا ۔۔۔تو درختوں کی وجہ سے کچھ نظر نہ آ رہا تھا۔۔۔ چنانچہ آس پاس کے ماحول سے مطمئن ہونے کے بعد ۔۔۔ وہ میری طرف پلٹے ۔۔۔ اور میرے ساتھ چپک کر بولے آج مجھے ایسے چودنا کہ جیسے میں کوئی مرد نہیں۔۔۔ بلکہ تمہاری محبوبہ ہوں۔۔ اتنی بات کرتے ہی انہوں نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں کے ساتھ ملا دیئے۔۔۔ اور بڑے جوش سے چوسنا شروع ہو گئے ۔۔۔ پھر کچھ دیر بعد ۔۔۔۔ انہوں نے میرے منہ سے اپنا منہ ہٹایا اور کہنے لگے۔۔۔میرے ہونٹ لڑکیوں جیسے ہیں نا ؟۔۔ تو میں ان کے منہ میں زبان ڈالتے ہوئے بولا۔۔۔ ہونٹ تو کیا۔۔ تم ساری کی ساری لڑکی ہو۔۔۔۔ میری بات سن کر وہ بہت خوش ہوئے۔۔۔۔اور پھر ہم نے ایک دوسرے کی خوب زبانیں چوسیں۔۔کسنگ کے دوران ہی انہوں نے میری شرٹ کے بٹن کھولنے شروع کر دیئے تھے۔۔۔۔ یہ دیکھ کر میں ان سے بولا ۔۔کیا سارے کپڑے اتارنے ہوں گے؟ تو وہ کہنے لگے نہیں یار ۔۔۔ پورے کپڑے اتارنے میں رسک ہے ۔۔۔ پھر کہنے لگے ایسا کرتے ہیں۔۔۔۔ میں اپنی شلوار نیچے کر کے گھوڑی بنوں گا۔۔۔۔۔اور تم نے بھی ساری پینٹ نہیں اتارنی ۔۔۔۔ بلکہ صرف زپ کھول کر لن نکال لینا۔۔۔اتنا کہتے ہی وہ ایک بار پھر میرے ساتھ لپٹ گئے ۔اور کسنگ کے بعد ۔۔ انہوں نے اپنی زبان کو میری چھاتیوں کے گرد پھیرنا شروع کر دیا۔۔ اور پہلی دفعہ میں نے دیکھا کہ ان کے زبان پھیرنے سے میری چھاتی کے چھوٹے چھوٹے نپلز اکڑ گئے تھے۔۔۔۔ چھاتی پر زبان پھیرنے کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان کی زبان نے نیچے کا سفر شروع کر دیا۔۔۔۔ اور اسے میری ناف پر لے آئے ۔۔۔ اس کے بعد انہوں نے میری ناف کے گڑھے میں زبان ڈالی۔۔۔۔اور اسے خوب گھمایا۔۔ جس سے مجھے عجیب سی گدگدی ہونا شروع ہو گئی ۔۔۔ اسی دوران انہوں نے میری پینٹ کی زپ کھولی ۔۔۔اور پھر انڈروئیر میں ہاتھ ڈال کر لن کو باہر نکال لیا۔۔۔۔۔اس وقت میرا لن تنا ہوا تھا چنانچہ اکڑے ہوئے لن کو دیکھ کر وہ کہنے لگے۔۔۔۔ یہ تو پہلے سے ہی ریڈی لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی انہوں اپنا ایک ہاتھ بڑھا کر اسے قابو کر لیا۔۔۔ اور پھر میرے ٹوپے کی طرف دیکھتے ہوئے وہی بات کی کہ ۔۔۔۔ اتنا موٹا ٹوپہ کہیں میری گانڈ ہی نہ پھاڑ دے۔۔۔۔ تو میں ان سے بولا۔۔ کچھ نہیں ہو گا جناب۔۔۔۔۔۔آپ بس شلوار اتاریں ۔۔تو وہ میرے لن کو آگے پیچھے کرتے ہوئے بولے۔۔۔شلوار بھی اتار دوں گا لیکن ابھی نہیں۔۔۔۔۔ اور پھر مُٹھ مارتے ہوئے۔۔۔ انہوں نے اپنی زبان کو وہیں پر جا رکھا کہ جہاں سے اسے اُٹھایا تھا۔۔۔۔ مطلب میری ناف پر۔۔۔۔ وہ اپنی زبان کو کچھ دیر تک میری ناف میں گھماتے رہے پھر ان کی زبان نے ڈھلوان کا سفر شروع کر دیا۔۔ اور ہوتے ہوتے ان کی زبان میرے تنے ہوئے لن پر پہنچ گئی۔۔۔ جیسے ہی ان کی زبان میرے لن پر پہنچی تو انہوں نے بڑی ستائشی نظروں سے مجھے دیکھا اور پھر کہنے لگے۔۔۔ بڑے کمال کا لن ہے تمہارا۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے میرے ٹوپے پر زبان پھیرنی شروع کر دی۔۔۔ان کا ٹوپے پر زبان پھیرنے کا عمل اس قدر سیکسی تھا کہ میں تڑپ کر رہ گیا۔۔ اور وہ میرے لن پر زبان پھیرتے ہوئے بولے۔۔۔ کیا ہوا جان؟ تو میں ان سے بولا ۔۔۔۔ آپ لن بہت اچھا چوستے ہو۔۔۔۔۔تو وہ کہنے لگے۔۔۔ اس میں کیا بڑی بات ہے بہت سے لوگ بہت اچھا لن چوستے ہیں تو میں ان سے بولا کہ آپ کے لن چوسنے سے مجھے بہت مزہ آ رہا ہے ۔میری بات سن کر وہ اٹھلاتے ہوئے بولے۔۔۔تمہارا مزہ اس وقت دوبالا ہو جائے گا کہ جب تم میری بنڈ مارو گے۔۔۔اتنا کہتے ہی انہوں نے میرے لن کو منہ میں لے لیا اور بڑے ہی جوش سے چوسنے لگے۔۔۔ میں مزے کے مارے آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔آہ ہ ہ ۔ کرتا رہا۔۔ کچھ دیر بعد انہوں نے لن چوسنا بند کر دیا ۔۔۔ کہنے لگے میرے خیال میں اب اسے اندر لیا جائے۔۔ اتنا کہتے ہی وہ اوپر اُٹھے اور ادھر ادھر دیکھتے ہوئے اپنی شلوار کو نیچے کر دیا۔۔۔۔ اور ایک چٹان نما پتھر پر ہاتھ رکھ کر گھوڑی بن گئے۔۔ ۔۔۔ جیسے ہی میری نظر ان کی گانڈ پر پڑی تو اسے دیکھ کر میں حیران رہ گیا ان کی گانڈ پیور وہائیٹ ۔۔۔ موٹی اور باہر کو نکلی ہوئی تھی۔۔۔ میں نے آگے بڑھ کر اس پر ہاتھ کر رکھ کر دبایا ۔۔۔تو فرزند صاحب بلکل زنانہ انداز میں سسکی لیتے ہوئے بولے۔۔۔ کیسی لگی میری گانڈ؟ تو میں اس پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔ ایک دم فسٹ کلاس اور نرم و ملائم ہے ۔۔تو وہ کہنے لگے تم ایک بار اندر ڈال کر تو دیکھو ۔۔۔۔۔ تمہیں عورت کی گانڈ سے زیادہ مزہ نہ آیا تو جو مرضی ہے۔۔۔۔ مجھے سزا دینا ۔۔۔ تو میں ان کی نرم وملائم گانڈ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا ۔۔ اندر بھی ڈال دیں گے ۔۔۔۔ پہلے اس کا معائینہ تو کر لیں۔۔۔۔۔تو وہ خوشی سے کہنے لگے ۔۔۔ تمہاری اپنی چیز ہے جس طرح مرضی اس کو چیک کرو۔۔۔اب میں نے دو انگلیوں کی مدد سے گانڈ کی دونوں پھاڑیوں کو الگ کیا۔۔۔اور سوراخ چیک کرنے لگا۔۔۔ سوارخ کا منہ ہلکا سا کھلا ہوا تھا ۔۔۔ لیکن اس کے آس پاس ایک بال بھی نہ تھا۔۔۔میں نے ایک انگلی پر تھوک لگا کر سوراخ میں داخل کی تو وہ بڑے آرام سے اندر چلی گئی ۔۔۔ لیکن جب اسے نکال کر اکھٹی دو انگلیاں اندر ڈالنے لگا۔۔۔۔ تو ۔۔۔ وہ اتنی آسانی سے اندر نہ گئیں کہ ۔۔۔۔ جتنی آسانی سے ایک انگلی اندر گئی تھی۔۔۔۔ واقعی انہوں نے بہت کم گانڈ مروائی تھی۔۔ اب میں نے اپنی انگلیاں ان کی گانڈ سے باہر نکالیں ۔۔۔۔ اور انگلیوں کی مدد سے سوراخ پر مساج کرنا شروع کر دیا۔۔۔ تو وہ شہوت انگیز سسکیاں لیتے ہوئے بولے۔۔ اندر کب ڈالو گے؟ تو میں ان سے کہنے لگا ۔۔۔ تھوڑی دیر بعد کرتا ہوں۔۔۔ تو وہ سسکی لیتے ہوئے بولے ۔۔۔ پلیززز ۔۔جلدی سے اندر ڈالو ۔۔ کہ میری گانڈ بہت ڈیمانڈ کر رہی ہے جیسے ہی انہوں نے لن لینے کی خواہش کا اظہار کیا تو اسی وقت میں نے ان کی گانڈ کا معائینہ ترک کر دیا۔۔۔ ۔۔۔اور جونہی لن پر تھوک لگانے لگا ۔۔تو وہ جلدی سے بولے یہ کام مجھے کرنے دو۔۔۔ اتنی بات کرتے ہی وہ واپس پلٹے اور ایک دفعہ پھر میرے لن کو اپنے منہ میں لے لیا۔۔۔ اور تھوڑی دیر چوسنے کے بعد۔۔۔ اس کے چاروں طرف اپنے تھوک کی موٹی ایک موٹی سی تہہ لگا دی۔۔ خاص کر ٹوپے کو انہوں نے تھوک سے نہلا دیا۔۔۔۔پھر کچھ تھوک اپنی گانڈ پر لگا کر بولے۔۔ یہ بھی ریڈی ہو گئی ہے۔۔جلدی سے اندر ڈال۔۔۔ اور پھر اپنے ہاتھوں سے گانڈ کے دونوں پٹ کھول دیئے جس کی وجہ سے ان کا سوراخ نمایا ں ہو کر سامنے آ گیا ۔۔۔اب میں نے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑا۔۔اور اس کا اگلا سرا ۔۔۔ ان کی موری پر رکھ کر بولا۔۔۔۔ میں ڈالنے لگا ہوں تو وہ دبی دبی آواز میں بولے۔۔۔۔احتیاط سے ڈالنا ۔۔۔ہاں ایک دفعہ جب اندر ہو گیا تو پھر جیسے مرضی گھسے مارنا ۔۔ لیکن پلیز۔۔۔۔۔ڈالتے وقت احتیاط کرنا ۔۔۔۔۔۔۔ چنانچہ میں نے ان کے سوراخ پر نے بڑی احتیاط کے ساتھ لن رکھا۔۔۔اور ہلکا سا دھکا لگا دیا۔۔ انہوں نے ایک سسکی لی۔۔۔سور قدرے اونچی آواز میں بولے اوووووو۔۔۔۔۔۔اور ان کی چیخ نما سسکی کے ساتھ ہی۔۔۔۔۔ لن پھسل کر ان کی خوب صورت گانڈ میں گھس گیا۔۔۔۔۔ اس کے بعد میں نے دوسرا گھسہ مارا۔۔۔۔تو لن صاحب دندناتے ہوئے ان کی گانڈ کے آخر تک جا پہنچے۔۔۔۔۔ ۔۔اُف اندر سے ان کی گانڈ بہت ہی سافٹ اور گرم تھی۔ ۔۔ادھر جیسے ہی میرا لن ان کی گانڈ میں گھسا۔۔۔ انہوں نے ایک ہلکی سی چیخ ماری۔۔۔اُف ف فف ف ۔۔۔ تو میں لن کو ان آؤٹ کرتے ہوئے بولا۔۔۔ درد تو نہیں ہوا؟ تو وہ کہنے لگے۔۔۔۔ تھوڑا سا ہوا تھا۔۔ لیکن اب ٹھیک ہے۔۔۔پھر کہنے لگے اِن آؤٹ رواں ہونے کے باوجود بھی تیرا لن پھنس پھنس کر آ جا رہا ہے۔۔جس کی وجہ سے مجھے بہت مزہ مل رہا ہے ۔۔۔۔ اس لیئے میری جان ۔۔۔۔۔ مجھے اور مزہ دے ۔۔۔ تیزی سے گھسے مار۔۔۔۔ چنا نچہ میں نے تیز تیز گھسے مارنے شروع کر دیئے۔۔۔ اور وہ میرے گھسوں کو انجوائے کرتے ہوئے ۔۔۔۔ بار بار یہی کہتے رہے کہ مجھے اور مزہ دے۔۔۔ گھسہ تیز مار ۔۔۔مزہ دے۔۔ مزہ دے۔۔یس یس یس۔۔۔۔ آہ۔۔ اور۔۔۔ اور پھر ان آؤٹ کرتے کرتے ۔۔۔۔ میں ان کی گانڈ میں ہی ڈسچارج ہو گیا۔۔۔ جیسے ہی میں فارغ ہوا۔۔۔۔۔ فرزند صاحب نے اپنی جیب سے چار پانچ ٹشو پیپر نکالے۔۔۔۔ اور مجھے پکڑاتے ہوئے بولے۔۔۔۔ اس سےلن صاف کر لو۔۔اور خود زمین پر اکڑوں بیٹھ گئے۔۔۔اور اپنی جیب سے کچھ اور ٹشو نکال کر اپنی گانڈ صاف کرنے لگے ۔۔جب انہوں نے گانڈ کو اچھی طرح صاف کر لیا۔۔۔تو۔ پھر وہ اوپر اُٹھے۔۔۔۔اور مجھے گلے سے لگاتے ہوئے بولے ۔۔۔ ۔۔ آج تو بہت مزہ دیا تم نے۔۔۔۔ان سے گلے ملتے ہوئے۔۔۔ میری نظر اسی بڑے سے چٹان نما پتھر پر پڑی تو وہاں پر کافی تعداد میں ان کی منی گری ہوئی تھی۔۔ تو میں اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔۔۔۔ فرزند صاحب یہ کیا ہے؟ میری بات سن کر انہوں نے اپنی گردن موڑی اور اپنی منی کی طرف دیکھتے ہوئے بولے ۔۔یہ میری منی ہے تو میں ان سے بولا۔۔۔ لیکن آپ کب چھوٹے؟ تو وہ کہنے لگے۔۔۔ عام طور پر گانڈ مرواتے ہوئے ۔۔۔ ہم لوگ مُٹھ مار کر فارغ ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔لیکن آج پہلی دفعہ۔۔۔۔ تمہارے زبددست گھسوں اور موٹے لن نے مجھے اتنا زیادہ مزہ دیا کہ میں خود بخود ہی چھوٹ گیا تھا۔۔۔۔۔ واپسی پر فرزند صاحب کا موڈ بہت خوش گوار تھا اور وہ بات بے بات پر ہنس رہے تھے اسی طرح بات چیت کرتے ہوئے ہم لوگ گھر پہنچ گئے۔۔۔یہاں بھی فرزند صاحب ویسے ہی چہکتے رہے۔۔ جلد ہی لڑکیوں نے یہ بات محسوس کر لی۔۔ ۔ ثانیہ مجھ سے مخاطب ہو کر بولی۔۔ ۔۔۔ انہیں کیا کھلا کر لائے ہو کہ بھائی جان بہت فریش نظر آ رہے ہیں؟ ثانیہ کی بات سن کر میں خواہ مخواہ ہی سسپنس ڈالتے ہوئے بولا۔۔۔۔ یہ ہمارا ٹریڈ سیکرٹ ہے بچہ ۔۔۔ اس کے بارے میں ہر کسی کو نہیں بتایا جا سکتا ۔۔۔تو وہ بھی سیریس ہو کر کہنے لگی پھر بھی کچھ تو پتہ چلے؟ کہ آخر چکر کیا ہے ؟۔۔ ظاہر ہے میں اسے یہ تو نہیں بتا سکتا تھا کہ چونکہ میں نے اس کے بھائی کی ٹکا کر بجائی ہے اس لیئے اس کا موڈ خوش گوار ہو گیا ہے ۔۔۔ بلکہ اس کی بجائے میں اس سے کہنے لگا۔۔۔۔ بی بی جی اس میں میرا یا آپ کے بھائی جان کا کوئی کمال نہیں۔۔۔۔۔ بلکہ کمال ہے تو موسم کا ہے ۔۔۔۔ اس لیئے میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ بھی باہر نکل کر دیکھو تو پتہ چلے کہ موسم کس قدر خوش گوار ہے ۔۔۔۔پھر میں اس پر شاعری جھاڑتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ۔۔۔۔مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو زرا دیکھ۔۔۔۔ اتنے میں تانیہ فرزند صاحب سے مخاطب ہو کر بولی۔۔۔ بھائی آپ کے جانے کے بعد اشتیاق انکل آئے تھے تو فرزند چونک کر بولے کیا کہہ رہے تھے؟ تانیہ بولی۔۔۔ وہ کہہ رہے تھے کہ آج رات کا کھانا ان کی طرف سے ہو گا اور بھائی وہ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ اگر آپ لوگ چاہو تو وہ رات کا کھانا یہاں بھی پہنچا سکتے ہیں لیکن اگر ان کے گھر آ کر کھائیں تو بڑی مہربانی ہو گی۔۔۔ اس پر فرزند صاحب کہنے لگے تم نے کیا جواب دیا ؟ تانیہ بولی۔۔۔۔جواب کیا دینا تھا ان سے یہی کہا کہ رات کا کھانا ہم آپ کے گھر آ کر کھائیں گے۔ تو فرزند اس کو شاباش دیتے ہوئے بولے۔۔ ویری گڈ تانیہ یہ تم نے بہت اچھا کہا ۔۔۔اس پر تانیہ کہنے لگی بھائی جان بچوں کے لیئے اچھا سا چاکلیٹ کیک یا مٹھائی کا ڈبہ لے آئیں تو اس پر رمشا بولی۔۔۔۔۔ یار تانیہ یہ ایک تفریحی مقام ہے ۔۔۔۔یہاں سے اچھا کیک یا مٹھائی کا ملنا کافی مشکل ہو گا اس لیئے میرا مشورہ ہے کہ آپ لوگ یا تو ان کے بچوں کو کچھ پیسے دے دیں یا پھر جاتی دفعہ کچھ فروٹس وغیرہ لے جائیں اور پھر کابینہ کی باہمی رضامندی سے یہ طے پایا کہ ہم لوگ ان کے گھر جاتے وقت فروٹس بھی لے جائیں گے اور واپسی پر بچوں کو پیسے بھی دے آئیں گے۔۔ ۔۔ حتمی پروگرام بننے کے بعد فرزند صاحب تو ریسٹ کرنے کے لیئے اپنے کمرے کی طرف چلے گئے جبکہ مجھے پیشاب کی حاجت ہو رہی تھی اس لیئے میں واش روم چلا گیا۔۔۔ ۔پھر اسی شام اشتیاق صاحب کے ہاں جانے سے پہلے مجھے تنہائی میں رمشا مل گئی تو میں نے اس سے پوچھا ۔۔۔ مس جی یہ بتا ؤ کہ ہمارے جانے کے بعد تمہاری ان گوریوں کے ساتھ میٹنگ ہوئی؟ تو وہ بظاہر انجان بنتے ہوئے بولی۔۔۔ کون سی میٹنگ ؟ ۔۔۔ یو نو آج صبع ہی دوست میری طبیعت بہت خراب تھی اس لیئے میں سارا دن کمرے سے باہر نہیں نکل سکی۔۔۔ اس کی بات سن کر میں نے اس کو بازو سے پکڑا اور اسے جھٹکا دیتے ہوئے بولا۔۔۔ گولی دینے کی کوشش نہ کرنا میں تیری ساری چوت چالاکیاں سمجھتا ہوں تو وہ ہنستے ہوئے بولی۔۔ ایک بات تو بتاؤ اور وہ یہ کہ تم اس معاملے میں اتنا انٹرسٹ کیوں لے رہے ہو؟ تو اس پر میں اس کی چھاتیوں کو دبا کر بولا۔۔۔ وہ اس لیئے میری جان کہ ۔۔بقول شاعر ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں۔۔۔آپسی کام کرتے ہوئے کیا پتہ ان کو ایک مضبوط لوڑے کی ضرورت پڑ جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور دوسری بات یہ ہے ڈارلنگ کہ معاملہ سیکس کا ہو اور میں اس سے انجان رہوں یہ ہر گز نہیں ہو سکتا ۔۔۔ تو وہ مجھے چڑاتے ہوئے بولی۔۔۔ جہاں تک تمہاری پہلی بات کا تعلق ہے۔۔ تو منہ دھو رکھو ایک تم ہی نہیں تنہا ۔۔۔۔۔گوری چمڑی کے لیئے تو سارے پاکستان کے لڑکے لائن میں لگے ہوئے ہیں۔۔۔اور دوسری بات کا جواب یہ ہے کہ ۔۔ بے شک یہ معاملہ سیکس کا ہے لیکن یہ زنانہ سیکس کا معاملہ ہے ۔۔۔ اس لیئے تمہیں اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہو گا۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ پھر کہنے لگی میری ان کے ساتھ ہیلو ہائے تو شروع ہو گئی ہے ۔۔۔لیکن غیر ملکی ہونے کی وجہ سے دونوں بڑی محتاط اور ایک ان دیکھی جھجھک ابھی تک برقرار ہے ۔۔۔ ۔۔ پھر مجھے آنکھ مارتے ہوئے بولی۔۔۔ فکر نہیں کرو دوست ۔۔۔۔ یہ سالی گوریاں مجھ سے بچ کر نہیں جا سکتیں ۔۔۔ اشتیاق صاحب کی دعوت بہت سادہ مگر مزیدار تھی۔۔دعوت سے واپسی پر اتفاق سے ہم لوگ گھر میں داخل ہو رہے تھے۔۔۔ تو عین اسی وقت گوریاں گھر سے باہر نکل رہی تھیں ہمیں دیکھ کر وہ دروازے میں ہی رُک گئیں۔ تعارف پر پتہ چلا کہ وہ دونوں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں اچھے عہدے پر کام کرتیں تھیں ۔۔ اور آج کل چھٹیاں منانے پاکستان آئی ہوئی ہیں ۔ان میں سے بیضوی چہرے اور سرخی مائل گوری لڑکی کا نام کیرن تھا جس کی عمر 28/ 29 سال ہو گی جبکہ دوسری اس سے بڑی اور چہرے قدرے لمبوترا سا تھا۔۔ نام ڈیزی تھا اور عمر 35/ 36 سال کی ہو گی۔۔کیرن کی طرح وہ بھی گوری رنگت والی سرخی مائل گوری گوری تھی رسمی تعارف کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرزند صاحب نے پھر بھی ان کے ساتھ ساتھ کچھ بات وات کی لیکن پتہ نہیں کیا چکر ہے کہ ان گوریوں کو اپنے سامنے دیکھ کر ۔۔۔ہمیشہ ہی میری حالت کچھ عجیب ہو جاتی شاید اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ میں جس بھی گوری کو دیکھتا ہوں تو پتہ نہیں کیوں میرے ذہن میں بلیو موویز والی گوریاں گھوم جاتی ہیں جو کہ یا تو لن پر بیٹھی جمپیں مار رہی ہوتیں ۔۔۔۔۔۔ یا پھر میرا فیورٹ کام چوپا لگا رہی ہوتیں تھیں۔۔۔ اس کے علاوہ ان کے بارے میں ابھی تک کوئی دوسرا تصور میرے زہن میں نہ بیٹھ سکا تھا۔۔۔ ۔۔ اسی لیئے جب ڈیزی نے مجھ سے ہاتھ ملانے کے لیئے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا تو میں گھبرا سا گیا۔ اور اسی گھبراہٹ کے عالم میں۔۔۔۔۔۔ میں بروقت اپنا ہاتھ نہ بڑھا سکا ۔ اور پھر ڈرتے ڈرتے ہاتھ بڑھایا بھی تو میرا سٹائل دیکھ کر ساری خواتین ہنس پڑیں اور ڈیزی میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے اردو میں بولی۔۔۔ ہاتھ ملانے سے تمہاری فیانسے کچھ نہیں کہی گی۔پھر وہ لڑکیوں سے مخاطب ہو کر بولی۔۔ ہم واک پر جا رہیں تھیں اگر کوئی انٹرسٹڈ ہے تو چلے ۔سو لڑکیاں بھی ان کے ساتھ ہو لیں۔۔ ان کے جانے کے دس منٹ بعد فرزند صاحب نے بنا کوئی بات کیئے میری زپ کھولی اور لن کو نکال کر بڑی بے تکلفی کے ساتھ بولے۔۔۔کیا خیال ہے ایک اچھا سا چوپا نہ ہو جائے؟ میرے ہاں کرنے کی دیر تھی کہ انہوں نے ایسا مست اور زبردست چوپا لگایا کہ طبیعت خوش ہو گئی۔۔ انہیں چوپا لگا کر ۔۔۔۔۔اور مجھے لگوا کر اس قدر مزہ آیا کہ لڑکیوں کے آنے سے پہلے پہلے۔۔۔۔۔۔ ہم دونوں سو چکے تھے۔۔ اگلے دن کوئی خاص واقعہ پیش نہ آیا وہ دن ہم سب نے اکھٹے ہی گزارا تھا۔۔۔۔۔ رات کی بات ہے کہ میں سو رہا تھا کہ اچانک مجھے پیشاب کی حاجت محسوس ہوئی ۔۔ پہلے تو میں اسے ٹالتا رہا لیکن جب کام بہت تیز ہو گیا تو مجھے اُٹھنا پڑا۔۔۔ واش روم سے واپسی پر مجھے رمشا نظر آئی۔۔۔۔ ا س نے مجھے باہر آنے کا اشارہ کیا ۔ اور میں اس کے ساتھ کچن میں آ گیا وہاں پہنچ کر میں نے اس سے پوچھا گوریوں کی سنا؟ تو وہ آنکھ دبا کر بولی۔۔۔ دونوں پکی لیسبو ہیں۔۔ بلکہ یہ دونوں شادی کے بارے میں بھی سنجیدگی سے سوچ رہیں ہیں تو میں اس سے بولا ۔۔اچھا یہ بتا کہ شادی میں دلہن کون ہو گی اور دلہا کون؟ کیونکہ لن تو دونوں کے پاس نہیں ہیں ؟ تو وہ ہنس کر بولی۔۔۔ تمہاری بات بلکل درست ہے لیکن یہ میرا دردِ سر نہیں ۔۔۔۔پھر سنجیدہ ہو کر بولی۔۔۔۔ کل فرزند بھائی اپنے بزنس کے سلسلہ میں ایک دن کے لیئے ایبٹ آباد جا رہے ہیں ان کا خیال ہے کہ وہ تمہیں بھی ساتھ لیتے جائیں لیکن میں نے انہیں منع کرتے ہوئے مشورہ دیا ہے کہ اگر اتفاق سے لڑکا لڑکی اکھٹے ہو گئے ہیں تو انہیں آپس میں انڈر سٹیڈنگ کا پورا موقع ملنا چایئے چنانچہ تمہیں مبارک ہو کہ کل کا دن تم تانیہ کے ساتھ اکیلے گذارو گے۔۔ پھر میری طرف دیکھتے ہوئے بڑی ادا سے بولی چلو شاباش اب میرا شکریہ ادا کرو تو میں نے بجائے شکریہ ادا کرنے کے اس کا بازو پکڑا اور اسے مروڑتے ہوئے بولا۔۔۔ بہن چود سالی ۔۔۔۔تم کیا مجھے بے وقوف سمجھتی ہو؟ پھر میں اس کی گانڈ کو اپنے لنڈ کے ساتھ لگاتے ہوئے بولا۔۔۔۔یہ سب ڈرامہ تم نے تانیہ کو بیچ میں سے نکالنے کے لیئے رچایا ہے ۔۔اس کے ساتھ ہی میں نے اس کے گال پر ایک چمی دے کر بولا۔۔۔۔۔ جان جی شکریہ تو تمہیں میرا ادا کرنا چایئے کہ میں کباب میں سے ہڈی لے کر جا رہا ہوں ۔۔ میری بات سن کر وہ جل ترنگ سے ہنس کر بولی۔۔ کمال ہے یار تم نے یہ کیسے جج کر لیا؟ ۔۔۔۔۔تو میں اس سے بولا وہ سب چھوڑو یہ بتاؤ کہ ۔۔۔ تمہارا ان گوریوں کے ساتھ کیا پروگرام بنا ہے؟ تو وہ کہنے لگی ہمارا پروگرام فٹ ہے اور وہ یہ کہ ایک کمرے میں چھوٹی گوری میرے ساتھ ۔۔۔۔۔ جبکہ دوسرے کمرے میں ثانیہ اور بڑی گوری سیکس کریں گی ۔۔ اس کے بعد پھر ہم چاروں اکھٹے پروگرام کریں گے۔۔۔اس کے بعد اس نے میری طرف دیکھا ۔۔۔۔۔اور پھر کہنے لگیں ۔۔ یہ تو تھا ہمارا پروگرام ۔۔۔۔ جبکہ دوسری طرف تانیہ اور تم نے ایوبیہ کے جنگل میں مست پروگرام کرنا ہے ۔۔اس کی بات ختم ہوتے ہی میں نے اسے اپنی بانہوں میں بھرا ۔۔۔اور اس کے ساتھ ایک فل ڈیپ کسنگ کی۔ اگلی صبع کی بات ہے کہ ناشتے کے وقت فرزند صاحب مجھ سے کہنے لگے۔۔۔ سوری یار مجھے ایک نہایت ضروری کام کے سلسلہ میں ایبٹ آباد جانا پڑ گیا ہے۔۔ تمہارا کیا پروگرام ہے میرے ساتھ چلو گے؟ جس وقت فرزند صاحب نے یہ بات کی تو عین اس وقت میری آنکھوں کے سامنے تانیہ کی پھدی لہرا گئی۔۔۔چنانچہ میں ان سے بولا۔۔۔سوری بھائی میرا ایسا کوئی پروگرام نہیں ہے ۔۔۔۔تو وہ کہنے کوئی بات نہیں یار ۔۔ تم انجوائے کرو۔۔۔ شام تک میں بھی واپس آ جاؤں گا۔ چنانچہ ناشتہ کرنے کے کچھ دیر بعد وہ ہمارے ساتھ رہے اور پھر انہوں نے گاڑی کی چابی پکڑی اور کہنے لگے۔۔۔۔ اوکے میں چلا۔۔۔۔۔ جس جس نے ایبٹ آباد سے کوئی چیز منگوانی ہو تو بتا دے میں واپسی پر لیتا آؤں گا تو اس پر تینوں لڑکیوں نے انہیں کھانے کی چند چیزوں کے نام لکھوائے اور وہ بائے بائے کرتے ہوئے وہاں سے روانہ ہو گئے۔۔ فرزند صاحب کے جانے کے بعد ہم لوگ صحن میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ اچانک ثانیہ مجھ سے کہنے لگی بھائی ہمیں آئے کتنے دن ہو گئے ہیں لیکن ابھی تک آپ میری بہن کو گھمانے نہیں لے گئے۔۔اس لیئے آج آپ کو پورا موقعہ دیا جاتا ہے کہ تانیہ کو کہیں گھمانے لے جائیں۔۔ کہ بےچاری کئی دفعہ مجھ سے کہہ چکی ہے ادھر ثانیہ کی بات سن کر تانیہ چونک کر بولی۔۔۔۔ جھوٹی میں نے کب کہا؟ تو ثانیہ شرارت سے بولی بے شک بچہ تم نے منہ سے نہیں کہا ۔۔۔ لیکن ہم تمہارے دل کا حال اچھی طرح جانتے ہیں۔۔ اس سے پہلے کہ تانیہ کچھ کہتی ۔۔۔۔۔ رمشا جلدی سے کہنے لگی۔۔۔۔۔۔ شاہ صاحب سے درخواست ہے کہ ہماری پیاری دوست کو کہیں گھمانے لے جائیں۔۔۔۔خیر تھوڑی سی بحث و تمہید کے بعد تانیہ میرے ساتھ چلنے کے لیئے راضی ہو گئی۔۔۔ اور کہنے لگی ۔۔۔ میں زرا چینج کر آؤں۔۔ کافی دیر بعد جب وہ تیار ہو کر آئی تو میں اسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔۔۔۔اس نے ہلکے آسمانی رنگ کی پتلی سی قمیض پہنی ہوئی تھی۔جس کے نیچے کالے رنگ کا برا صاف نظر آ رہا تھا کہ جس میں اس کے چھوٹے چھوٹے ممے قید تھے۔۔۔ …۔۔۔ اور قمیض کے نیچے اس نے سفید رنگ کی ٹائیٹس پہنی ہوئی تھی اور اس ڈریس میں تانیہ بہت بھلی لگ رہی تھی۔۔باہر نکلتے وقت میں نے ایک دفعہ رمشا سے پوچھا کہ تم بھی ہمارے ساتھ چلو گی؟۔تو وہ ہنستے ہوئے بولی نا بابا ۔۔مجھے کباب میں ہڈی بننے کا کوئی شوق نہیں۔۔۔چنانچہ ہم ان کے بغیر ہی نکل آئے۔۔۔۔گھر سے باہر آ کر میں نے ایک نظر تانیہ کی طرف دیکھا اور کہنے لگا۔۔۔۔۔ اس ڈریس میں تم بہت گریس فل لگ رہی ہو۔۔تو وہ میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔آپ کو ایسا لباس پسند ہے ؟ تو میں اس سے بولا۔۔۔ آپ جو بھی لباس پہن لو وہی اچھا ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر اس سے بولا کیا خیال ہے ہم لوگ چئیر لفٹ پر نہ چلیں؟ تو وہ کہنے لگی۔۔۔ نہیں میں آپ کے ساتھ واک کرنا پسند کروں گی۔۔۔ اس پر میں اوکے بول کر اس کے ساتھ چل پڑا۔۔۔ اس کے ساتھ چلتے ہوئے میں نے محسوس کیا کہ تانیہ کچھ زیادہ ہی سیریس ہو رہی تھی۔۔۔ چلتے چلتے ۔۔۔۔جب کافی دیر تک اس نے کوئی بات نہیں کی تو میں پریشان ہو گیا ۔۔۔چنانچہ میں اس سے بولا۔۔۔ تانیہ اگر تمہیں میرے ساتھ باہر آنا پسند نہیں تو ہم واپس مُڑ سکتے ہیں تو وہ سنجیدگی کے ساتھ بولی۔۔ واپس مڑنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔ بلکہ میں تو ایسا موقعہ ڈھونڈھ رہی تھی کہ جس میں۔۔۔۔میں تمہارے ساتھ کھل کر باتیں کر سکوں۔۔۔ میں ا س سے بولا۔۔ کوئی خاص بات کرنی تھی؟ تو وہ پوری سنجیدگی کے ساتھ بولی۔۔۔۔۔۔ ہاں کچھ باتیں ایسی ہیں جو تم تک پہچانا ضروری تھیں ۔۔۔ آج موقعہ مل رہا ہے تو سوچا تمہارے ساتھ شئیر کر لوں ۔۔اس کے بعد وہ کہنے لگی ۔۔۔شاہ جی! جیسا کہ تم جانتے ہو کہ میری بچپن میں ہی تمہارے دوست کے ساتھ منگنی ہو گئی تھی۔۔۔ اس کے بعد اس نے بچپن کی منگنی کے بارے میں کچھ باتیں میرے ساتھ شئیر کیں ۔۔۔اور پھر کہنے لگی۔۔۔ میں نے اپنی زندگی میں جس شخص کے ساتھ ٹوٹ کر محبت کی تھی۔۔۔ اس کا نام عدیل ہے۔۔۔ پھر کہنے لگی کوئی وقت تھا کہ مجھے عدیل سے جڑی ہر چیز پیاری ہوا کرتی تھی۔۔۔ اس کے بعد اچانک ہی اس کے چہرے پر غصے کے آثار نمودار ہوئے اور وہ دانت پیستے ہوئے بولی۔۔۔لیکن اب میں نے زندگی بھر جس شخص سے نفرت کرتی رہوں گی اس کا نام عدیل ہے۔۔۔پھر میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی ۔۔جس طرح میں عدیل سے شدید نفرت کرتی ہوں اسی طرح مجھے اس سے جڑی چیز سے نفرت ہے۔۔۔ تانیہ کے منہ سے نفرت بھرے الفاظ سن کر مجھے بہت شاک ہوا اور میں اس سے بولا۔۔۔ تو کیا اس ہیٹ لسٹ میں میرا نام بھی شامل ہے؟ میری بات سن کر اس نے بڑی گہری نظروں سے میری طرف دیکھا اور پھر کہنے لگی۔۔۔ ہاں مجھے عدیل اور اس سے جڑی ایک ایک چیز کے ساتھ نفرت ہے۔۔لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو میں جلدی سے بولا ۔۔لیکن کیا تانیہ جی! ۔۔۔۔تو وہ ایک گہرا سانس لے کر بولی ۔۔عدیل کے نام سے جڑی تم واحد شخصیت ہو کہ جس کے بارے میں ۔۔۔میں کشمکش کا شکار ہو جاتی ہوں۔۔۔۔۔پھر کہنے لگی پتہ نہیں کیا بات ہے کہ میرے ذہن میں جب بھی تمہارا نام آتا ہے۔۔۔ تو میں ایک عجیب شش و پنج کا شکار ہو جاتی ہوں۔۔۔ میں تم سے نفرت کرنا بھی چاہوں تو کرنہیں سکتی۔۔۔۔ ۔۔تم بہت اچھے اور ہمدرد انسان ہو ۔۔۔ تم نے فقط میری وجہ سے میری فیملی اور فرینڈز کے ایسے کام کیئے ہیں کہ جن کا اعتراف نہ کرنا سراسر زیادتی ہو گی۔۔ شاید اسی لیئے میں تم سے نفرت نہیں کر سکی۔۔۔ بلکہ تمہارے لیئے میرے دل میں ایک نرم گوشہ موجود ہے لیکن اس نرم گوشے کے باوجود بھی میں تمہارے ساتھ شادی نہ کر سکوں گی۔۔۔۔۔ تانیہ کی بات سن کر ۔۔جہاں مجھے اس بات کی خوشی ہوئی کہ وہ مجھ سے شادی نہیں کرے گی وہاں اس بات کا بھی از حد افسوس ہوا ۔۔ کہ شاید میں اس کی پھدی نہ لے سکوں لیکن اسی دوران مجھے لن صاحب کی طرف سے سگنل موصول ہوا ۔۔۔ شاہ جی۔۔۔ لڑکی کی باتوں پر نا جا ۔۔۔ بلکہ اس کے اس گوشے کی طرف توجہ کر ۔۔۔ جو بہت نرم ہے۔۔۔ اور جسے تو نے گرم کرنا ہے چنانچہ اسی نرم گوشے کا فائدہ اُٹھا ۔۔۔۔ اور لڑکی کی گرم پھدی مار۔۔۔۔دیٹس اِٹ۔ ۔۔۔۔۔ چنانچہ لن کی بات سنتے ہوئے میں نے تانیہ کی طرف دیکھا ۔۔۔۔ اور پھر غمگین سی شکل بنا کر بولا۔۔۔ تم ٹھیک کہتی ہو دوست ۔۔۔ تمہاری جگہ اگر میں ہوتا کہ جس کے منگیتر نے اسے دھوکہ دیا۔۔۔تو شاید میں اس سے بھی سخت ردِ عمل دیتا ۔۔لیکن یہ تمہاری گریٹ نس ہے کہ تم نے ایسا کچھ نہیں کیا۔۔۔بلکہ یہ تمہاری اعلیٰ ظرفی کی انتہا ہے کہ تم اس ذلیل انسان کے دوست کے لیئے اپنے دل میں ایک نرم گوشہ رکھتی ہو ۔۔ورنہ۔۔۔۔۔۔اس ورنہ کے بعد میں نے اس کی شان ۔۔۔اور خاص طور پر اس کی اعلی ٰ ظرفی کے بارے میں ایسے ایسے قصیدے پڑھے جنہیں سن کر۔۔۔ بڑی بڑی آنٹیاں پگھل جایا کرتی تھیں۔۔۔۔ جبکہ یہ تو صرف ایک ملوکڑی سی لڑکی تھی۔چنانچہ اپنی تعریف اور اوصافِ حمیدہ سن کر ۔۔ وہ نہ صرف یہ کہ بہت خوش ہوئی ۔۔۔ بلکہ اس کے چہرے کے تنے ہوئے عضلات (ٹشو) بھی ڈھیلے پڑ گئے۔۔جس سے وہ کافی حد تک نارمل ہو گئی تھی۔۔۔۔ پہلے مرحلے کو بخوبی سر کرنے کے بعد۔۔۔۔ پھر اس کو ٹریک نمبر 2 پر چڑھانے کے لیئے کے لیئے میں نے اپنی غمگین شکل کو مزید غمگین بنایا۔۔۔اور اس سے بولا۔۔۔ تانیہ ڈئیر محبت کے اس کھیل میں صرف تمہیں ہی دھوکہ نہیں ملا ۔۔۔ بلکہ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہو چکا ہے میری بات سن کر وہ چونک کر بولی۔۔۔ ۔۔۔کک۔۔۔کیا کہہ رہے ہو؟ تو اس پر میں نے میں بلیک اینڈ وہائیٹ فلموں کے رومانوی ہیرو کی طرح ایک سرد سی آہ بھری۔۔۔ [/size][/font] [/size][/font] [/size]( جس کی وجہ سے ایوبیہ کا موسم مزید سرد ہو گیا)۔اور اس سے بولا۔۔۔ مجھے بھی ایک لڑکی نے دھوکہ دیا تھا۔۔۔ کسی نے میرے ساتھ بھی فراڈ کیا تھا۔۔۔۔ میری جاندار ایکٹنگ اور دکھی بیان کو سن کر وہ پریشان ہو کر بولی۔۔۔ آ۔۔آ۔۔آپ۔۔۔تمہارے ساتھ بھی؟ تو میں ا س سے بولا۔۔۔ ہاں دوست میرے ساتھ بھی۔۔۔۔۔۔۔تو وہ کہنے لگی مجھے بتاؤ پلیزززززززززززز۔۔۔۔ کہ تمہارے ساتھ کیا واقعہ ہوا؟۔۔تو میں اس سے بولا۔۔ نہیں دوست تم پہلے ہی بہت دکھی ہو اپنا واقعہ سنا کر میں تمہیں اور دکھی نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔تب وہ زور دے کر بولی۔۔۔دیکھو میں نے تم سے ہر بات شئیر کر دی ہے لیکن تم ہو کہ مجھ سے چھپا رہے تو میں اس سے بولا۔۔ میں چھپا نہیں رہا دوست ۔۔۔ بلکہ میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے تم مزید پریشان ہو۔۔۔۔ لیکن پھر اس کے بے حد اصرار پر میں نے جھٹ سے دماغ کا کمپیوٹر آن کیا۔۔ دل کی میموری سے دکھی سین لیئے۔۔اور زبان کی حلاوت سے اسے اس انداز میں سنانا شروع کیا ۔۔۔کہ جسے سن کر وہ حسینہ کہانی کے پہلے ہی ہالف میں ہی گھائل ہو کر بے اختیار میری نامعلوم منگیتر کو کوسنے دینا شروع ہو گئی۔۔۔ ادھر جیسے ہی اس نے میری نامعلوم محبت کو برا بھلا کہنا شروع کیا۔۔۔۔۔۔تب میں نے بلیک اینڈ وہائیٹ فلموں سے لیئے گئے ایک سین کو یاد کرتے ہوئے تانیہ سے بولا۔۔۔۔ تانیہ تمہیں قسم ہے مجھے جو مرضی کہہ لو لیکن پلیززززززززززززززز۔۔۔ اسے کچھ نہ کہنا۔۔۔میری اس بات سے وہ خاصی متاثر ہوئی اور قصہ مختصر ۔۔۔جب میں نے محسوس کیا کہ اب حسینہ پوری طرح سے میرے قابو میں آ گئی ہے تو میں سٹوری کا اینڈ کرتے ہوئے بولا۔۔۔ کہ بے شک اس نے مجھے دھوکہ تو دے دیا۔۔۔ لیکن مجھے ایک بات کی بڑی خوشی ہے ۔۔۔۔۔ تو حسبِ توقع وہ جلدی سے بولی وہ کیا؟ تو میں لوہے کو گرم دیکھ کر چوٹ مارتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔ کہ میں نے اس کے ساتھ ایک بار ہی سہی۔۔۔ لیکن سیکس کر لیا تھا۔۔۔ سیکس کا نام سن کر اس کے حسین چہرے پر ایک شرماہٹ سی آ گئی تھی۔۔۔ اور وہ کہنے لگی۔۔۔محبت میں س۔س۔کیس؟ تو میں اس سے بولا۔۔۔ میرے خیال میں تو اس میں حرج کوئی نہیں۔۔۔۔ تو وہ میری طرف دیکھ کر بولی حرج تو واقعی ہی کوئی نہیں ۔۔۔ لیکن۔۔۔ ۔۔۔پھر بھی۔۔۔۔۔ ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ میں اس کا ہاتھ پکڑ کر بولا۔۔۔ میرے خیال میں تو اپنے دوست کے ساتھ بھی ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔۔۔اس کے ساتھ ہی میں نے ادھر ادھر دیکھا تو اتفاق سے ہمارے آس پاس کوئی خاص رش نہیں تھا۔ اس لیئے میں جیسے ہی ایک موڑ آیا ۔۔۔۔تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر چوم لیا۔۔ اس پر وہ جلدی سے ہاتھ چھڑا کر بولی۔۔۔ارے ارے۔۔۔یہ کیا کر رہے ہو؟ تو میں اس سے بولا۔۔۔سوری یار ۔۔۔ مجھے ایسا نہیں کرنا چایئے تھا۔۔۔تو وہ کہنے لگی اس میں سوری کی کوئی بات نہیں لیکن پلیز دیکھ لیا کرو ۔۔۔تو میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔ ٹھیک ہے دوست اگلی کس میں دیکھ کر کروں گا ۔۔۔ میری بات سن کر اس کا چہرہ لال ہو گیا۔۔لیکن وہ منہ سے کچھ نہیں بولی۔۔اس کی خاموشی کو نیم رضا مندی جان کر میں اس سے بولا۔۔۔ تمہیں برا تو نہیں لگا؟ تو وہ میری طرف دیکھ کر ایک خاص ادا سے بولی۔۔۔ مجھے تمہارا کچھ برا نہیں لگتا۔۔ [/size][/font] [/size] تانیہ کی اس بات سے میں سمجھ گیا کہ لڑکی راضی ہو گئی ہے اس لیئے اب میں نے ایک سٹیپ مزید آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیا۔۔۔ کچھ آگے جا کر میں اس سے بولا۔۔۔۔ کیوں نہ کچھ دیر سستا لیا جائے تو وہ کہنے لگی۔۔۔۔ ہاں یار ہم کافی پیدل چل لیا۔۔۔۔اب کچھ دیر بیٹھنا چاہیئے۔۔۔۔ پھر ایک مناسب سی جگہ دیکھ کر ہم دونوں بیٹھ گئے۔۔اور میں اس سے بولا۔۔۔ تانیہ تم سے ایک بات کہوں؟ تو وہ خوش دلی سے بولی ایک نہیں دس بولو۔۔تو میں اس سے کہنے لگا۔۔۔ کہ یہ لباس تم پر بہت سوٹ کر رہا ہے تو وہ ہنس کر بولی ۔۔۔ یہ بات تو تم پہلے بھی کہہ چکے ہو تو میں بڑے رومینٹک لہجے میں بولا۔۔۔ کیا کروں یار۔۔۔۔ایسا بار بار کہنے کو جی چاہ رہا ہے تو وہ میری بات کا مزہ لیتے ہوئے۔۔۔۔ بولی۔۔۔ بار بار کہو ۔۔۔۔ ہزار بار کہو۔۔۔۔۔۔ مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے۔۔۔ تب میں اوپر اُٹھا۔۔۔۔ اور اس کا ہاتھ پکڑ کر بولا۔۔۔۔۔۔۔ آئی لو یو تانیہ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی میں نے ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں اس کے ہونٹوں کو چوم لیا۔۔۔ میرے کس کرنے سے اس دفعہ وہ بلکل بھی نہیں گھبرائی بلکہ کہنے لگی ۔۔۔ پبلک پلیس پر رومانس کرتے اچھا بھی لگ رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں ڈر بھی لگ رہا ہے۔۔۔ تو میں اس سے بولا اگر ایسی بات ہے تو تمہیں کہیں تنہائی میں لے چلوں؟ تو وہ جواب دیتے ہوئے بولی۔۔۔ ۔۔۔۔تمہیں ایسی کسی جگہ کا پتہ ہے؟ تو میں بولا ۔۔۔ ڈھونڈھے سے تو بہت کچھ مل جاتا ہے دوست اور یہ تو فقط تنہائی ہے۔۔۔ اس کے بعد میں نے اس کا ہاتھ پکڑا تو وہ جزبات کی شدت سے ہلکے ہلکے کانپ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس پر میں اس سے بولا ۔۔ کیا ہوا ڈارلنگ تو وہ کہنے لگی۔۔۔ کک کچھ نہیں ۔۔۔چلو۔۔۔۔۔ تب میں تانیہ کو لے ٹھیک اسی آن پہنچا کہ جہاں پر گزشتہ دنوں میں اس کے بڑے بھائی کو چود چکا تھا۔۔۔ بھائی کے بر عکس اس نے گڑھے میں اترنے سے انکار کر دیا۔۔ اس کی بجائے وہ میرے ساتھ چل کر ایک ایسی جگہ آ گئی کہ جہاں پر گھنے درختوں کا ایک جھُنڈ سا بنا ہوا تھا ۔۔۔۔۔[/font][/size] آپس کی بات ہے کہ مجھے اس لڑکی کی ابھی تک سمجھ نہیں آئی تھی جو گھڑی میں تولہ اور گھڑی میں ماشہ ہو جاتی تھی۔۔۔ اب یہی دیکھ لیں۔۔۔ گھر سے چلتے وقت یہ مجھ سے محبت اور نفرت کے چکر میں تھی پھر درمیان میں میرے لیئے نرم گوشہ رکھ رہی تھی ۔۔۔۔اور اس وقت وہ فل شہوت میں نظر آ رہی تھی۔۔۔اسے موڈ میں دیکھ کر میں نے زیادہ سوچنے پر لعنت بھیجی۔۔۔۔ اور تانیہ کی طرف دیکھنے لگا جو کہ درخت سے ٹیک لگائے۔۔۔۔ بڑی ہی شہوت بھری نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی ۔ پھر جیسے ہی میں اپنے منہ کو اس کے ہونٹوں کی طرف لے جانے لگا۔۔۔۔۔تو اس نے اپنی دو انگلیوں کو میرے ہونٹوں پر رکھ کر بولی۔۔ تم میرے ساتھ کیا کرنے لگے ہو؟ تو میں اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا۔۔۔۔ میں تم سے پیار کرنے لگا ہوں ۔۔۔تو وہ میرے ہونٹوں کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔ لیکن میں تو تم سے پیار نہیں کرتی۔۔۔۔ تو میں اس سے بولا ۔۔ ۔۔۔ ۔ تم نہ کرو لیکن میں تو تم سے پیار کرتا ہوں نا۔۔۔۔اور اس کے نرم ہونٹوں پر ایک ہلکا سا بوسہ دے دیا۔۔۔پھر ہونٹوں کو چومنے کے بعد میں اس سے بولا۔۔۔ میرے پیار کا اظہار کیسا لگا؟ تو وہ مست ہو کر بولی ۔۔۔ پیار اتنا زیادہ اور اظہار اس قدر کم کیوں؟ میں سمجھ گیا کہ لڑکی شہوت میں فل "ٹیٹ " ہو گئی ہے ۔۔۔تب میں نے ایک نظر جنگل کی طرف دیکھا ۔۔۔اور پھر اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے کر چوسنا شروع ہو گیا۔۔ اُف اس کے ہونٹوں میں ایک عجیب سی چاشنی تھی اور اس کے منہ سے ایک عجیب سی مہک آ رہی تھی۔۔۔اس کے کنوارے جسم کو پانے کی آرزو میں۔۔۔۔۔ میں پاگل ہوا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔ ۔ سو میں اس کے ہونٹوں کی چاشنی پیتا گیا پیتا گیا ۔۔۔۔طویل کسنگ کے بعد ۔۔۔جب میں نے اس کے منہ سے منہ ہٹایا تو اس وقت تک میرا شیر بھی ہوشیار باش ہو چکا تھا۔۔۔ چنانچہ سانس لینے کے بعد میں نے جب دوبارہ اس کے منہ میں منہ ڈالا۔۔۔۔تو اس نے اپنی دونوں ٹانگوں کے درمیانے حصے کو میری پینٹ کے ابھار کے ساتھ رگڑنا شروع کر دیا۔ادھر ہونٹوں کو چوسنے کے بعد۔۔۔۔ اب میر ی زبان اس کے منہ میں جا چکی تھی۔اور ہماری زبانیں بڑی بے تابی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا رہی تھیں۔۔۔جبکہ دوسری طرف تانیہ اپنی پھدی والے حصے کو میرے لن کے ساتھ رگڑ تی ہی چلی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔جبکہ زبان چوسنے کے ساتھ ساتھ میں نے اس کی چھاتیوں کو بھی دبانا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی اثنا میں اس نے میرے منہ سے اپنے منہ کو ہٹایا۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔اور مست لہجے میں بولی۔ ۔۔اُف تم کتنے گرم ہو۔۔۔تو میں اس کی چھاتیوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا تم بھی بمب شیل ہو۔۔۔تو وہ اسی لہجے میں کہنے لگی ۔۔ میں کہاں سے بمب شیل ہوں؟ تو میں اس کے ہونٹوں کو چاٹ کر بولا۔۔۔ ۔۔ یہاں سے۔۔۔تو وہ اسی شہوت بھرے لہجے میں کہنے لگی۔۔۔۔اور کہاں سے ہوں؟۔۔۔تو میں اس کی چھوٹی چھوٹی چھاتیوں کو دبا کر بولا ۔۔۔یہاں سے۔۔تو وہ کہنے لگی اتنے چھوٹے سے بریسٹ بھلا بمب شیل ہو سکتے ہیں؟ ۔۔۔اس پر۔۔ ۔ میں نے اس کی قمیض کو اوپر اُٹھایا ۔۔۔ قمیض کے نیچے کالے رنگ کی برا میں اس کی چھاتیاں قید تھیں سو میں نے برا کو بھی اوپر کر دیا۔۔۔ اور اب میرے سامنے اس کی دونوں چھاتیاں ننگی ہو گئیں تھیں۔۔۔ میں آگے بڑھا ۔۔۔اور اس کی ایک چھاتی کو اپنی مُٹھی میں بھرا ۔۔۔اور کہنے لگا۔۔۔یہ سمارٹ بمب شیل ہیں۔۔۔۔۔ پھر میں انہیں دباتے ہوئے بولا۔۔۔۔ تانیہ ڈارلنگ کیا میں تمہارا دودھ پی سکتا ہوں ؟ تو وہ مست لہجے میں بولی ۔۔۔دودھ سے پہلے ملائی نہیں پیو گے؟ اس کی بات سن کر میں حیران رہ گیا۔۔۔اور اس سے بولا ۔۔ ملائی کہاں ہے؟ اس پر اس نے ترنت ہی اپنی پھدی کی طرف اشارہ کر تے ہوئے کہا۔۔۔ یہاں آ کر دیکھو کتنی ملائی جمع ہے۔۔۔۔ تانیہ کی بات سن کر میں اس سے بولا ۔۔تمہارا مطلب ۔۔۔ چھاتیاں چوسنے سے پہلے میں تمہاری چوت چاٹوں؟ تو وہ بڑے ہی جوش سے بولی۔۔۔۔ یس ۔۔۔میری پھدی چاٹ!۔۔۔اور سن ۔۔۔ میرے ساتھ ڈرٹی باتیں بھی کرنی ہیں۔۔۔۔۔ تانیہ کی بات سن کر میں مسکراتے ہوئے بولا۔۔تیری پھدی میں کتنی ملائی جمع ہے؟ تو وہ جواب دیتے ہوئے بولی۔۔۔۔ تم کو جتنی چایئے اس سے کچھ زیادہ ہی ملے گی۔۔اس کے ساتھ ہی اس نے اپنی دونوں ٹانگیں پوری طرح کھول کر کہنے لگی میری ٹائیٹس کو نیچے کرو گے تو تمہیں میری چست پھدی نظر آ جائے گی۔۔۔ میں نے اس کی ٹائیٹ کو نیچے کیا لیکن دونوں ٹانگیں پوری طرح کھلنے کی وجہ سے اس کی ٹائیٹس پوری طرح نیچے نہیں ہو رہی تھی۔۔ یہ دیکھ کر وہ کہنے لگی ٹائیٹس کو ایک طرف سے اتار دو۔۔اور میں نے ایسا ہی کیا ۔۔۔اب میرے سامنے تانیہ کی ننگی اور بقول اس کے چُست پھدی آ گئی تھی۔۔۔ میں نے غور سے اس کی طرف دیکھا تو وہ بالو ں سے پاک تھی جبکہ چوت کے دونوں لب آپس میں ملے ہوئے تھے ایک نظر دیکھنے پر معلوم ہوا کہ چوت کی لکیر اوپر سے نیچے تک کافی لمبی واقع ہوئی تھی۔۔۔۔ میں چوت کا معائینہ کر رہا تھا کہ اچانک میرے کانوں میں تانیہ کی آواز گونجی وہ کہہ رہی تھی ۔۔میری پھدی کو ایسے کیوں گھور رہے ہو؟۔ تو میں اس کی بالوں سے پاک پھدی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔ کیسی شاندار اور چست پھدی ہے تمہاری۔۔۔۔اتنی بات کرتے ہی میں نے اس کی تنگ لکیر پر زبان پھیری۔۔۔تو تانیہ سسکاری مارتے ہوئے بولی۔۔۔۔ پھدی چاٹ جان! مجھے پھدی چٹوانا بہت اچھا لگتا ہے تو میں اس سے بولا۔۔۔ چاٹ ہی تو رہا ہوں ۔۔۔تو وہ مست لہجے میں بولی یہ تم اوپر اوپر سے چاٹ رہے ہو۔۔۔ زبان کو پھدی کی گہرائی تک لے جاؤ۔۔۔۔ پھر میرے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے بولی چوت کو اندر تک چاٹو۔۔۔۔ تب میں نے اس کی پھدی کی دونوں پھانکوں کو انگلیوں کی مدد سے الگ کیا ۔۔۔اور اپنی زبان کو پھدی کے اندر تک لے جا کر اسے چاٹنا شروع ہو گیا۔۔۔ تانیہ کی چوت پانی سے لبالب بھری ہوئی تھی۔۔۔اس لیئے جیسے ہی میری زبان اس کی پھدی میں داخل ہوئی تو شہوت کے نشے میں چوُر تانیہ کہنے لگی ۔۔ میری ملائی کھا جا۔۔۔۔ ایک قطرہ بھی پھدی میں نہیں رہنا چاہئے۔۔۔ میری پھدی کی ملائی چاٹ۔۔۔ اور میں نے جی بھر کے اس کی پھدی چاٹی ۔۔۔۔۔ اس دوران تانیہ نے کافی دفعہ آرگیزم بھی کیا۔۔۔ لیکن نہ تو اس کے جوش میں کوئی فرق آیا اور نہ ہی میرے۔۔ چوٹ چٹوانے کے کچھ دیر بعد اس نے مجھے بالوں سے پکڑ کر اُوپر اُٹھایا اور کہنے لگی ۔۔۔۔ چل مجھے اپنا ڈنڈا دکھا۔۔۔چنانچہ اس کے کہنے پر میں اُٹھ کھڑا ہوا۔۔۔تو میری جگہ اب وہ پتھریلی زمین پر اکڑوں بیٹھ گئی ۔۔۔۔ میں نے جیسے ہی پینٹ سے لن کو باہر نکالا۔۔ او ر اس کے سامنے لہراتے ہوئے بولا۔۔۔ میرا شیر کیسا لگا۔۔۔ ۔۔۔۔اپنی آنکھوں کے سامنے لن کو لہراتے دیکھ کر ۔۔۔۔۔اس نے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیری ۔۔۔اور پھر کہنے لگی۔۔۔ ۔شاہ جی! تیر ا لن تو ایک دم سالڈ ہے یار۔۔۔۔ یہ کہتے ہی اس نے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔۔۔۔۔اور ٹوپے پر انگلی پھیرتے ہوئے بولی۔۔۔ تیرے لن سے بھی بالائی نکل رہی ہے۔۔۔ تو میں اس سے بولا۔۔۔ اتنی دیر سے تیری پھدی چاٹ رہا تھا اتنی بالائی کا نکلنا ۔۔۔۔۔ تو بنتا ہے۔۔۔میری بات ختم ہوتے ہی اس نے اپنے منہ سے زبان کو باہر نکالا ۔۔۔اور ٹوپے خاص کر پیشاب والی نالی کو چاٹتے ہوئے بولی۔۔۔۔مجھے یہ بالائی بہت پسند ہے۔۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی وہ لن کو چاٹنا شروع ہو گئی۔۔۔ اُف ف ف فف۔۔۔ وہ بھوکی شیرنی کی طرح میرے لن کو چاروں اطراف سے چاٹے جا رہی تھی۔۔اور مزے کی وجہ سے مجھے اپنی سسکیوں پر کنٹرول نہ رہا ۔۔۔ چنانچہ میں اونچی آواز میں آہیں بھرنا شروع ہو گیا۔۔۔ ۔۔۔۔ وہ میرے لن کو کچھ دیر تک چاٹتی رہی ۔۔۔ پھر اسے ہاتھ میں پکڑ کر بولی عجیب آدمی ہو ۔۔۔بڑے مزے سے لنڈ چٹوائے جا رہے ہو اور ایک دفعہ بھی نہیں کہتے کہ اب اسے چوسو۔۔تو میں اس سے بولا۔۔۔۔ مجھے بڑا مزہ آ رہا تھا اس لیئے نہیں بولا۔۔۔ تو وہ شہوت سے بھر پور لہجے میں کہنے لگی ۔۔۔۔۔ اب دوسرا مزہ لینا ہے تو مجھے بول کہ تانیہ میرا لن چوس۔۔۔۔ تو ۔اس پر میں نے تانیہ کی طرف دیکھا اور کہنے لگا۔۔۔۔ تانیہ پلیز اب میرے لن کو اپنے منہ میں لے لو۔۔۔میری بات سنتے ہی اس نے اپنا منہ کھولا ۔۔۔اور لن کو چوسنا شروع ہو گئی۔۔۔اس کے ساتھ ہی میرے منہ سے سسکیوں کا طوفان نکلنا شروع ہو گیا۔۔۔یہ دیکھ کر اس نے لن کو اپنے منہ سے باہر نکالا اور کہنے لگی … اچھا چوس رہی ہوں نا؟ تو میں اس سے بولا۔۔۔ یس جان تم بہت اچھا لن چوستی ہو۔۔۔۔۔اس لیئے۔۔۔۔ پلیزززز۔۔ تھوڑا اور چوسو ۔۔۔ میری بات سن کر اس نے اپنے منہ سے لن کو باہر نکالا اور کہنے لگی ۔۔۔۔۔۔ تمہارا لن اتنا شاندار ہے کہ اگر یہ ڈسچارج نہ ہو تو میں اسے ساری رات چوس سکتی ہوں ۔۔۔ لیکن اب نہیں چوسوں گی تو میں اس سے بولا وہ کیوں جی؟ تو وہ جواب دیتے ہوئے بولی۔۔۔ کیونکہ مجھے تمہارا لن ادھر (چوت میں ) چاہیئے۔۔۔ اس کے ساتھ ہی وہ اُٹھ کھڑی ہو ئی۔۔۔اور اپنے دونوں ہاتھ درخت کے تنے پر رکھ کر گانڈ کو باہر کی طرف نکال دیا۔۔اور میرے طرف منہ موڑ کر بولی۔۔ ۔۔۔۔ فک می شاہ!!!!!!!!!!!!!!۔۔۔۔ میں تانیہ کے پیچھے آ کر کھڑا ہوا ۔۔۔اور لن اندر ڈالنے سے پہلے میں نے ایک نظر ادھر ادھر دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر اس کی چوت کو اپنے لن کے ساتھ ایڈجسٹ کر تے ہوئے بولا۔۔۔۔۔تانی ڈارلنگ ۔۔۔ میں اندر ڈالنے لگا ہوں۔۔۔۔تو وہ شہوت بھرے لہجے میں بولی۔۔ مجھ سے مت پوچھ۔۔۔۔بس اندر ڈال ۔۔۔ ایک انیچ بھی باہر نہیں چھوڑنا۔۔۔ اس کے ساتھ ہی میں نے ٹوپے کو تھوک سے تر کیا اور کچھ تھوک اس کی پہلے سے چکنی پھدی پر مل کر ایک جھٹکے سے لن کو اندر کر دیا۔۔ جیسے ہی لن اس کی تنگ چوت میں اترا ۔۔۔تو مزہ آ گیا کیونکہ تانیہ کی چوت اندر سے بہت ہی تنگ اور چست تھی اس لیئے میرا لن پھنس پھنس کر آ جا رہا تھا۔۔۔۔۔جس کی وجہ سے مجھے بڑا مزہ آ رہا تھا۔۔۔۔دوسری طرف لن اندر جاتے ہی تانیہ نے ایک طویل سسکی لی۔۔۔۔یس یس یس یس۔۔۔س۔س۔س۔س۔س۔۔۔ پھر کہنے لگی میرے ہپس۔۔۔ پکڑ کر سپیڈی گھسے مار ۔۔۔۔چنانچہ میں نے اسے ہپس سے پکڑا ۔۔۔ اور چوت کی دھلائی شروع کر دی۔۔۔ اس کی چپ چپی پھدی تنگ ہونے کی وجہ سے لن بڑے ہی سویٹ ردھم سے آ جا رہا تھا ۔۔۔اتفاق سے میرے گھسے مارنے کی ساؤنڈ اس قدر دل کش تھی کہ وہ پھدی کو مزید ٹائیٹ کرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔آہ۔۔۔شاہ!!!۔۔۔۔۔اسی ردھم سے چوت مارر۔۔۔مجھے ان آؤٹ کی ساؤنڈ اور دھکے بڑا مزہ دے رہے ہیں ۔۔۔۔۔اس لیئے۔۔۔۔۔۔اور۔۔ مار۔۔۔۔اور میں اسی انداز میں اس کی پھدی کو مارتا رہا۔۔۔۔ وہ سسکیاں لیتے ہوئے بس۔۔۔۔ایک ہی فرمائیش کرتی۔۔۔۔۔۔اور مار۔۔۔۔۔ پھر کچھ دیر بعد ۔۔۔ وہ شہوت کے عروج پر پہنچ گئی۔۔۔۔۔۔۔اب وہ خود بھی آگے پیچھے ہونا شروع ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔وہ چوت میں لن لیئے۔۔۔۔ فل مزہ لے رہی تھی ۔۔۔۔کہ ہپس کو آگے پیچھے کرتے ہوئے۔۔ اچانک ہی اس نے اپنا منہ میری طرف کیا اور کہنے لگی ۔۔ اندر نہیں چھوٹنا۔۔۔۔ میں کنواری ہوں۔۔۔تو میں اس سے بولا ۔۔ تانیہ ۔۔بری بات ۔۔ پھدی میں لن لے کر بھی کہتی ہو کہ میں کنواری ہوں۔۔۔۔ تو وہ سسکی لیتے ہوئے بولی۔۔۔ اے مسٹر میں کنواری نہیں بلکہ ٹیکنکل کنواری ہوں ۔۔اس لیئے خبردار۔۔۔۔ میری پھدی میں پانی نہیں ٹپکانا ۔۔۔۔ تو میں بھی مست لہجے میں بولا۔ کیوں ۔۔ کنواری پھدی میں پانی نہیں ٹپک سکتا ؟ تو وہ کہنے لگی ۔۔ ٹپک تو سکتا ہے لیکن پلیزززززززززززززز۔۔۔۔۔۔ تم نہ ٹپکانا۔۔۔ اس کے ساتھ ہی اس نے ہاتھ بڑھا کر لن کو اپنی تنگ چوت سے باہر نکال دیا۔۔۔۔اور میرے سامنے اکڑوں بیٹھ کر بولی۔۔۔ پانی میرے منہ میں ٹپکا۔۔ اس کے ساتھ ہی اس نے اپنا منہ کھولا۔۔۔اور لوڑے کو منہ میں لے کر چوسنا شروع ہو گئی۔۔۔۔اور ۔۔۔ پانی کا آخری قطرہ نکلنے تک چوستی رہی۔۔۔۔اور جب لن سے پانی نکلنا بند ہو گیا۔۔۔۔ تو اس نے لن کو منہ سے نکلا۔اور میری طرف دیکھتے ہوئے بڑے ہی شوخ لہجے میں بولی۔۔۔۔۔مزہ آیا۔۔ ؟؟ رات کا پتہ نہیں کون سا پہر تھا کہ میں آنکھ کھل گئی۔۔۔۔۔دیکھا تو کوئی مجھے بری طرح سے جھنجھوڑ رہا تھا۔۔ میں آنکھیں ملتا ہوا اُٹھا تو مجھے جگانے والا اور کوئی نہیں بلکہ فرزند صاحب تھے۔۔۔مجھے بیدار ہوتے دیکھ کر وہ کہنے لگے۔۔۔ سوری شاہ جی ۔۔۔۔۔۔لیکن ایک ایمرجنسی ہو گئی ہے۔۔۔ میں نے آنکھیں مل کر ان کی طرف دیکھا تو تینوں لڑکیاں میری چارپائی کے گرد کھڑی تھیں ۔۔۔ سب کے چہرے اترے ہوئے تھے ۔۔۔اور وہ بہت پریشان لگ رہیں تھیں۔۔بلکہ ثانیہ تو باقاعدہ رو بھی رہی تھی ۔۔ اسے روتے دیکھ کر مجھے صورتِ حال کی سنگینی کا اندازہ ہوا۔۔۔۔اور میں جمپ مار کر چارپائی سے اُٹھا اور فرزند صاحب سے مخاطب ہو کر کچھ کہنے ہی والا تھا کہ وہ رُندھی ہوئی آواز میں بولے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
×
×
  • Create New...