Jump to content
URDU FUN CLUB

Story Maker

Junior Moderators
  • Content Count

    1,249
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    67

Story Maker last won the day on November 8 2019

Story Maker had the most liked content!

Community Reputation

934

About Story Maker

Profile Information

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

22,423 profile views
  1. ایک طرف آج بھائی کی سہاگ رات چل رہی تھی جب کہ دوسری طرف میں اپنی فیس بک پر پھنسی ایک لڑکی کو بڑی مشکلوں سے سیکس کی طرف لے ہی آیا تھا۔ کچھ ہی منٹوں پر ہم دونوں لائیو کال پر آ چکے تھے۔ وہ انتہائی گرم شہوانی جذباتوں میں ڈوبی ہوئی تھی جبکہ میں بھائی کے کمرے سے نکلنے والی بھابھی کی سسکاریوں کی بدولت بے حد گرم ہوچکا تھا۔ جیسے جیسے ہماری بات چیت آگے بڑھتی گئی ویسے ویسے ہم مزید قریب آتے جا رہے تھے۔ اب مجھے بھابھی کی سسکاریوں کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ لیکن وحیدہ اب مکمل موڈ میں آچکی تھی۔ مختصر وقت ہی میں وحیدہ اپنے خوبصورت جسم کو مجھے دکھا کر مزید بڑھکا چکی تھی جیسے ہی ہم دونوں فون سیکس کی بدولت فارغ ہوئے ہم نے ملنے کا پلان بنا لیا تھا۔(لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہ لاہور کی تھی اور میں کراچی میں رہائش پذیر تھا۔) کچھ ہی دیر کے بعد میں یونہی سوگیا۔ اگلا دن اتوار تھا جس کی وجہ سے میری چھٹی تھی اس لیے میں دن چڑھے سوتا رہا میں اور بھابھی قریب ہی ایک نجی سکول میں پڑھاتے تھے۔ بھائی ریلوے میں بطور ٹی ٹی تھے۔ اس لیے وہ صبح جلدی اپنی ملازمت پرنکل جاتے تھے جبکہ ہم دونوں بھابھی اور دیور اکھٹے سکول کیلئے چلے جاتے تھے۔ اکثر دکاندار ہم دونوں کو میاں بیوی سمجھ بیٹھتے تھے کیونکہ ہم دونوں میں بہت بنتی تھی۔ ایک مرتبہ ہم ایک سگنل پر رکے تو وہاں چوڑیاں بیچنے والی اماں ہماری طرف آئی اور بولی: *** جگ جگ جییو! سدا سلامت رہو ! دو پُتر تیری وہٹی جنے(پیدا کرے) بھابھی مانگنے والی اماں کی باتیں سن کر مسکراتی ہوئی میری پیٹھ پر اپنا چہرا رگڑتی ہوئی بولیں: دیور جی! آمین تم کہو گے یا میں کہوں؟ بھابھی کی بات سن کر میں بھی زور زور سے ہنسنے لگا۔ اسی طرح کے اور بھی کئی واقعات ہوئے جنہیں فلحال گوش گزار کرنا مناسب نہیں۔شاید اسی وجہ سے قدرت نے ہمارا مستقبل ایک ساتھ لکھا تھا۔ بھابھی(مجھے جھنجھوڑتے ہوئے): اٹھ بھی جاو یاسر! میں: ہوں۔۔۔ اچھا نا۔۔۔ بھابھی (مجھے دوبارہ سوتا ہوا دیکھ کر ) : جاگتے ہو یا پانی گراوں؟ میں: اچھا نا۔۔۔ اٹھتا ہوں میں اس وقت ٹراوزر اور ایک ٹی شرٹ میں الٹا لیٹا ہوا تھا مجھ پر چادر بھی نہیں تھی البتہ جب میں جیسے سیدھا ہوا تو بھابھی جو کہ مجھے جگانے کیلئے تھوڑی سی جھکی ہوئی تھی جس سے ان کی قمیض سے چھلکتے پستان مجھے دھندلے دھندلے دکھائی دے رہے تھے۔ اکثر بائیک پر آؤٹنگ کے لیے جاتے وقت مجھے بھابھی کے چھتیس سائز کے پستان اپنی کمر پر محسوس ہوتےتھے اسی لیے میں بھی کبھی کبھی جان بوجھ کر ہلکی اور کبھی اچانک بریک لگا کر خود کو جنسی تسکین پہنچاتا تھا۔ مجھے اس وقت بھابھی کے پستان دھندلے اس لیے دکھائی دے رہے تھے کیونکہ میں ابھی مکمل طور پر بیدار نہیں ہوا تھا۔ جیسے ہی میرا ذہن مکمل بیدار ہوا تو میں نے بھابھی کی طرف دیکھا تو ان کی نظریں میرے چہرے کی بجائے میرے زیریں جسم پر مرکوز تھیں۔ میں بھابھی کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے جب اپنے زیریں جسم کی جانب دیکھا تھا تو ٹراوزر پر میرے ببر شیر نے الٹی کی ہوئی تھی شاید بھابھی میرے ببر شیر کی منی کو چھوٹا پیشاب سمجھ بیٹھی تھیں۔ جیسے ہی ہماری نظریں چار ہوئیں بھابھی خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گئیں۔ سارا دن بھابھی مجھ سے کوئی بھی بات کیے بنا ہی اپنے کاموں میں مصروف رہی پھر میں اپنے کولیگ دوست کے بلانے پر اس کے پاس چلا گیا۔ شام کے وقت جب گھر آیا تو بھابھی کہیں جانے کے لیے تیار تھیں۔ان کے چہرے پر کچھ متفکر انہ سوچ کی لہریں چھائی ہوئ تھیں۔ میں نے قیمے والے سموسے بھابھی کو پکڑاتے ہوئے بھابھی سے پوچھا: بھابھی! کہیں جا رہی ہیں؟ بھابھی : ہاں! وہ ڈاکٹر کے پاس جانا تھا(ان کے ماتھے پر شکنیں گہری ہوگئیں) میں پریشان ہوتے ہوئے: خیریت بھابھی؟ آپ گر تو نہیں گئی؟ کیا ہوا آپ کو؟ میرے اچانک ایک ساتھ سوالات پوچھنے پر بھابھی کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی: نہیں دیور جی! بس معمولی سا چیک اپ کروانا تھا۔ میں : بھابھی! آپ کچھ چھپا رہی ہیں! بھابھی: اچھا! تم بھی ساتھ چلو! خود ہی تمہیں یقین آ جائے گا کہ میں کہیں بھی نہیں گری میں: آپ کس کے ساتھ جا نے والی تھیں؟ بھابھی: وہ ! پڑوس والی مہناس آنٹی کے ساتھ مہناس آنٹی ہماری گلی کی سب سے زیادہ ایکٹو خاتون تھیں جنہیں گلی میں رہنے والے ہر فرد کے متعلق سب کچھ معلوم ہوتا تھا۔ ماسوائے میرے(ہاہاہاہاہاہاہاہا) میں: اچھا! ٹھیک ہے جائیں۔ واپسی پر میں ساری رپورٹ مہناس آنٹی سے ہی لوں گا۔ بھابھی میری بات سن کر تھوڑا سا مسکرائیں اور دروازے پر پہنچ کر اچانک رک گئیں۔ میں: کیا ہوا؟ بھابھی: باتوں باتوں میں ،سموسوں کا یاد ہی نہیں رہا میں: جب آپ آو گی تب اون میں گرم کر کے کھا لیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ طوبیٰ اور میں یونیورسٹی میں ایک ساتھ پڑھے اور اپنی تعلیم مکمل کی ۔ ایک دن اسرار بھائی یونیورسٹی میں فئیر ویل پارٹی میں فیملی کی طرف سے انوائیٹ کرنے پر آئے تو وہاں انہوں نے طوبیٰ کو پسند کرلیا۔ بھائی کچھ دن مجھ سے طوبیٰ کے متعلق باتیں کرتے رہے جب انہوں نے طوبیٰ کے متعلق اپنی پسندیدگی کا اظہار مجھ سے کیا تو میں پہلے بھائی کے دئیے ہوئے شاک سے نکل نہ سکا پھر بھائی کی خوشی میں بے حد خوش ہوگیا ویسے بھی طوبیٰ کو میں نے کبھی بھی اس نظر نہیں دیکھا تھا اس لیے میرے لیے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ جب یہ بات اسرار بھائی نے مہناس آنٹی سے کی تو وہ ہم دونوں بے آسرا بھائیوں کی بطور سرپرست بن کر طوبیٰ کے گھر اسرار بھائی کارشتہ لے کر چلی گئیں۔ چند ہی دنوں میں بھائی کے سسرال والوں نے بھائی کو کلین چٹ دے دی یوں دو مہینوں میں بھائی کی منگنی طوبیٰ سے ہوگئی۔ شادی سادگی سے ہوئی کیونکہ ہمارا کوئی بھی والی وارث نہیں تھا۔ شادی والے دن میں نے بھائی کو خوب تنگ کیا اور جب طوبیٰ ہمارے چھوٹے سے گھر میں بطور نئے فرد کے داخل ہوئی تو میں نے طوبیٰ پر بھابھی اور دیور کا رشتہ بروئے کار رکھنے کی بجائے دوست کا ظاہر کیا۔ جس پر وہ بے حد خوش ہوئی۔ طوبیٰ کے گھر میں اس کے والد جوکہ ریٹائرڈ نیوی آفیسر ، والدہ ہاوس وائف لیکن سوشلسٹ بہت تھی مطلب ہر کٹی پارٹی میں پائی جاتی تھیں۔وہ اس شادی کے خلاف تھی لیکن مہناس آنٹی کی وجہ سے وہ اس رشتے کو انکار نہ کرسکیں۔ دوسری وجہ طوبیٰ اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ سے ان کا ارادہ یہ تھا کہ وہ اپنے داماد کو گھر جمائی رکھیں گے جب انہوں نے دیکھا کہ ہم صرف دو بھائی ہیں تو زیادہ انکار نہ کرسکیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کافی وقت گزر چکا تھا طوبیٰ ابھی تک واپس نہیں آئی تھی بھائی بھی ابھی تک واپس نہیں آئے تھے ۔ میں فارغ ہی تھا اس لیے اپنے کمرے سے اٹھا اور کچن میں جا کر ایک سموسے کو اون میں رکھ کر گرم کرنے لگا۔ سموسہ کھاتے ہوئے میں واپس اپنے کمرے کی طرف جانے لگا تو بھابھی کا کمرا کھلا ہوا دیکھ کر غیر ارادی طور پر ان کے کمرے کی جانب چل پڑا۔ بھابھی کا ڈبل بیڈ دیکھ کر ناجانے کیوں مجھے وحیدہ کا خوبصورت جسم بھابھی کے بیڈ پر دکھائ دینے لگا تھا۔ جیسے ہی میں بھابھی کےکمرے میں داخل ہوا روم فریشنر کی تیز خوشبو میرے ناک نتھنوں سے ٹکرائی۔ انتہائی محسور کن خوشبو محسوس کرکے میرے جسم کا انگ انگ مجھے بھابھی کے بیڈ کی جانب بڑھنے پر مجبور کرتا چلا گیا۔ طوبیٰ کی دلہن بنی تصویر سائیڈ ٹیبل پر موجود تھی جس پر وہ مسکرا رہی تھی جبکہ دوسری جانب دوسری تصویر میں بھائی بھی دلہا بنے کھڑے مسکرا رہے تھے۔ یہ دو الگ الگ تصاویر تھی لیکن مجھے بھابھی کی دلہن بنی تصویرکچھ زیادہ ہی پرکشش محسوس ہو رہی تھی۔ میں غیر محسوس انداز میں بھابھی کے بیڈ پر بیٹھ کر بھابھی کی تصویر کو دیکھنے لگا پھر خود ہی میرے ہاتھ آگے بڑھے اور بھابھی کی تصویر کو تھام لیا۔ میں بھابھی کو مسلسل غور سے دیکھے جا رہا تھا میرے اندر آہستہ آہستہ بھائی اور بھابھی کی چدائی کی فلم چلنے لگی ۔ مجھے ناجانے کیوں بھائی سے اب حسد ہونے لگا تھا شاید بھابھی تصویر میں عروسی جوڑا پہنے مزید خوبصورت لگ رہی تھیں یا شاید وجہ کچھ اور تھی میں نے تصویر ی فریم کو واپس اپنی جگہ رکھ کر بھابھی کی الماری کی طرف قدم بڑھائے جیسے ہی ہینڈل کو گھمایا تو الماری لاک ہونے کی وجہ سے نہ کھل سکی۔ میں کچھ مایوس ہوا کیونکہ میرا ارادہ اپنے اندر اٹھنے والی شہوانی خواہشات کو بھابھی کی برا یا پینٹی کے ذریعے پورا کرنا تھا ۔ اچانک میرا دل زور سے دھڑکا میں اب آہستہ آہستہ بوجھل قدموں سے اٹیچ باتھ روم کی جانب بڑھنے لگا۔ باتھ روم میں جیسے ہی میں داخل ہوا مجھے بھائی اور بھابھی کےکپڑے ٹخنی کے ساتھ لٹکے ہوئے نظر آئے۔ میں تیزی سے بھابھی کے کپڑوں کی طرف لپکا۔ بھابھی کے کپڑوں کے نیچے برا یا پینٹی نہیں تھی میں کچھ مایوس سا ہوا پھر میری نظر اچانک بیسن کے نیچے لگے وال پر پڑی جہاں بھابھی کی پینٹی موجود تھی۔ میں نے فوراً بھابھی کی پینٹی کو اٹھایا اور اپنے نتھنوں سے لگا لیا۔میرے دل میں ہونے والی بے چینی اچانک سے ختم ہوتی چلی گئی۔کچھ دیر تک یونہی کھڑے رہنے کے بعد میں واپس پلٹا اور باتھ روم کا دروازہ بند کرتےہوئے جلدی سے اپنا ٹراوزر اتارتے ہوئےباتھ روم کے فرش پر بیٹھ کر بھابھی کی ان دھلی پینٹی کو پہلے اپنے ناک سےلگا کر اچھے سونگھ کر (شاید تھوڑا بہت چاٹ کر) اپنےنیم کھڑے لن پر لپیٹ کر اپنے لن کو ہلکا ہلکا سہلانے لگا۔ جیسے جیسے میرے لن پر بھابھی کی پینٹی حرکت کر رہی تھی مجھے اپنے لن میں مزید تناو محسوس ہونے لگا تھا بھابھی کی مخملی پینٹی میرے لن کو ٹھنڈک پہنچا رہی تھی۔ میرا ہاتھ اس وقت تک چلتا رہا جب تک میرے لن سے نکلنے والی منی بھابھی کی پینٹی میں مکمل جذب نہ ہوگئی۔ منی کے نکلتے ہی میرے دماغ نے کام کرنا شروع کردیا تھا ۔ میرا ضمیر مجھے ملامت کر رہاتھا جبکہ میں اپنے لن کی منی کو بھابھی کی پینٹی سے ٹپکتا ہوا بھی دیکھ رہا تھا۔ میں نے جلدی سے ہوش مندی سے بھابھی کی پینٹی کو اپنے لن سے الگ کیا جس پر میرا لن ناراض ہوتے ہوئے ایکدم سے سکڑ گیا۔ میں نے بھابھی کی پینٹی سے ہی اپنے لن سے ٹپکنے والی منی کو باتھ روم کے فرش سے صاف کیا اور فوراً بھابھی کی پینٹی کو جیسے تیسے کرکے بیسن پر دھو کر واپس اپنی جگہ لٹکاکر اپنا ٹراوزر جلدی سے پہنا اور باتھ روم سے باہر نکل آیا۔ جیسے ہی کمرے سے باہر نکلا میرے سامنے اچانک بھابھی آگئیں۔ میں ایکدم سے گھبرا گیا تھا میرے چہرے پرپھیلی بدحواسی دیکھ کر بھابھی بولیں: کیا ہوا؟ میں: وہ ۔۔۔ وہ۔۔۔ کچھ بھی نہیں بھا۔۔۔ بھی بھابھی: کیا بات ہے یاسر؟ میرے دماغ نے بجلی کی رفتار سے ایک بہانہ گھڑ لیا تھا میں:میرا واش روم میں پانی نہیں آ رہا تھا اس لیے آپ کا واش روم استعمال کرنے آیا تھا۔ بھابھی: او۔۔۔ اچھا۔۔۔ میں بھابھی کو مطمئن کرکے اچانک سے کنی کترا کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ کچھ دیر کے بعد مجھے پھر سے بھابھی کی سسکاریاں سنائی دینے لگیں لیکن میں خاموشی سے لیٹا ہی رہا۔ بھابھی کی سسکاریاں سنتے سنتے ناجانےکب میری آنکھ لگی صبح بھابھی مجھے پھر سے جگانے آئی ہوئی تھیں رات کو بھابھی کی پینٹی میں اپنے ببر شیر کا پانی بہانے کے بعد میں انتہائی پرسکون ہوچکا تھا شاید اسی وجہ سے میری لاکھ کوشش کے باوجود میں جلدی جاگ نہ سکا۔ اب بھابھی مجھے تین مرتبہ جگا چکی تھیں چوتھی مرتبہ جب وہ مجھے جگانے آئیں تو مجھے ان کے جسم سے اٹھنے والی خوشبو نے میرے دماغ کو ایکدم سے وہ سارا واقعہ یاد دلا دیا تھا میں اچانک سے کروٹ لیتا ہوا سیدھا ہوگیا۔ میں نیم وا آنکھوں سے بھابھی کی طرف دیکھنے لگا تھا جبکہ ان کی نظریں میرے ببر شیر پر ہی تھیں۔ میں کچھ دیر ان کے انہماک کو بغور دیکھتا رہا پھر جاگنے کی اداکاری کرتے ہوئے اٹھ بیٹھا۔ بھابھی نہائی ہوئی لگ رہی تھی دروازے پر پہنچ کر بھابھی مجھ سے بولیں بھابھی: یاسر! اب جلدی سے میرے واش روم میں جا کر نہالینا کیونکہ پہلے ہی دیر ہوچکی ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ آج تم زیادہ دیر لگا و گے نہاتے ہوئے۔ میں بھابھی کی بات پہلے نہ سمجھ سکا پھر جب بھابھی کے باتھ روم میں گھساتو بھابھی کی معانی خیز بات کی حقیقت معلوم ہوگئی۔آج بھابھی نے پھر سے اپنی اتری ہوئی پینٹی کو اسی جگہ اتار کر رکھ دیا تھا جہاں کل دوسری پینٹی موجود تھی۔ میں بھابھی کے اس عمل پر بہت زیادہ شاک ہوگیا تھا۔ پھر ناجانے کیوں میری شہوانی خواہشات میرے ضمیر پر غالب آ گیا۔ میں ایک مرتبہ پھر بھابھی کی اتری ہوئی گیلی پینٹی کو اپنے لن پر چڑھا کر صبح صبح پھر سے مٹھ لگا چکا تھا۔ سکول جاتے ہوئے بھابھی خود ہی مجھ سے کافی زیادہ جڑ کر بیٹھی ہوئی تھیں۔ میں دیر ہونے کی وجہ سے بائیک تیز چلاتا ہوا سکول کی طرف جا رہا تھا تب بھابھی میرے کان کے قریب بولیں: رات کو جھوٹ کیوں بولا تھا یاسر؟ میں بھابھی کی بات سن کر ایکدم سے گڑبڑا سا گیا اور اچانک سے بریک لگا دی جس پر وہ میری کمر سے اور بھی چپکتی چلی گئیں۔ بھابھی: یاسر! یہ کیا طریقہ ہے؟ اگر میں نے تمہیں نہ پکڑا ہوتا تو میں گر ہی جاتی۔ میں: سوری بھابھی! بلی کا بچہ سامنے آ گیا تھا اس لیے بریک لگائی تھی بھابھی بدمزہ ہوتے ہوئے بولیں: اچھا اب چلو تو صحیح! پہلے ہی دیر ہوچکی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھائی: یاسر! محکمے والوں نے میری ڈیوٹی میرے انکار کرنے کے باوجود رات کی لگا دی ہے یہ بات میں نے تمہاری بھابھی کو بتائی ہے تو اس کا بھی یہی کہنا تھا کہ آج ہم دونوں بچت کریں گے تب ہی تمہاری شادی کر پائیں گے اس لیے میں نے سوچا ہے کہ جب اکٹھی چھٹیاں ملیں گی تب میں گھر آیا کروں گا۔ میں: بھائی! اس کی کیا ضرورت تھی؟ ہم تینوں ملکر کما تو رہے ہیں نا! اوور ٹائم کرنے سے آپ بھابھی کو وقت نہیں دے پاو گے بھائی: بالکل! ایسا ہی ہے لیکن دن بدن مہنگائی ہونے کی وجہ سے مجھے اوور ٹائم کرنا پڑے گا۔ بھائی کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولے: ویسے بھی میرے سسرال والے اب بچوں کی ڈیمانڈ کرنے لگے ہیں اگر ایک دفعہ بچے اس گھر میں آگئے تو ہمارا دھیان بچوں کی طرف ہو جائے گا اس لیے میں یہی چاہتا ہوں کہ جلد از جلد تمہاری شادی کروا دوں لیکن شادی کروانے سے پہلے چار پیسے جمع کرنا ہوں گے۔ بھابھی : ہم یاسر کی شادی دھوم دھام سے کریں گے ۔ بھائی: بالکل! کیوں کہ یہ ہمارے گھر کی آخری شادی ہوگی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں رات کو دس بجے کے قریب وحیدہ سے ویڈیو کال پر پہلے بات چیت کرنے لگا پھر آہستہ آہستہ ہماراموضوع سیکس کی طرف چل پڑا وحیدہ مجھے اپنا جسم دکھا رہی تھی میں اسے دیکھ کر اپنے ببر شیر کونہار رہا تھا تب مجھے ایسا لگا جیسا کسی نے دروازہ کھولا ہو میں نے غیر محسوس انداز سے دروازے کی طرف دیکھا تو دروازہ بند تھا۔ وحیدہ کی کال ساڑھے گیارہ بجے بند ہوئی تو میں سونےکیلئے لیٹ گیا۔ اگلی صبح خلاف معمول مجھے بھابھی جگانے نہیں آئیں میں جب تیارہوکرباہر آیا تو بھابھی ناشتہ تیار کر رہی تھیں۔ میں نے سلام کیا اور واپس آ کر ٹی وی لگا لیا۔ سکول جاتے ہوئے طوبیٰ بھابھی بولیں: واپسی پر ہم مما کی طرف چلیں گے مما سے کچھ بات کرنی تھی۔ میں: ٹھیک ہے۔ میں سارا وقت خاموشی سے لان میں موجود لگی کرسی پر بیٹھا رہا کیونکہ جب ہم وہاں پہنچے تو وہیں پر بھابھی کی والدہ اور والد موجود تھے ۔پھر ضروری بات کرنے کیلئے بھابھی اور ان کی والدہ اندر چلی گئیں پھر کچھ دیر کے بعد بھابھی کے والد بھی اٹھ کر اندر چلے گئے۔ کافی دیر کے بعد بھابھی باہر آئیں تو صاف صاف نظر آ رہا تھا کہ وہ روئی روئی نظر آ رہی تھیں۔ واپسی پر سفر خاموشی سے کٹا۔ میں اس دوران مختلف اندازوں اور خدشوں پر غور کرتا رہا۔گھر پہنچتے ہی بھابھی اپنے کمرےمیں جا کر فوراً ہی کمرے کو لاک کر لیا۔ بھابھی جب کافی دیر اپنے کمرے سے باہر نہ نکلیں تو میں نے ایک کاغذ پر لکھا: میں کھانا باہر سے لےکر آ جاوں گا۔ کچھ دیر تو میں بازار میں بلاوجہ گھومتا رہا پھر تھک ہار کر مچھلی پک کروا کر گھر کیلئے روانہ ہوگیا۔ گھر پہنچا تو بھابھی ابھی تک کمرے میں موجود تھیں ۔میں نے مچھلی کو پلیٹوں میں ڈا ل کر چپاتیاں اور چٹنی لے کر بھابھی کے کمرے کی ہی طرف بڑھ گیا۔ جیسے ہی میں نے دروازے کا ہینڈل گھما یا دروازہ کھلتا چلا گیا۔ بھابھی کپڑے تبدیل کرچکی تھیں اور بیڈ پر بیٹھی کسی سےفون پر بات کر رہی تھیں: میں جانتی ہوں مجھے ہی کچھ کرناہوگا۔ مجھے دیکھ کر فون پر آہستگی سے بولیں: میں بعد میں بات کرتی ہوں۔ بائے میں نے کھانا ٹیبل پر لگا دیا اور واپس پانی لینے کے لیے چلا گیا۔ بھابھی تب تک منہ ہاتھ دھوکر آ گئیں۔ بھابھی: مجھے آواز دے لیتے یاسر! میں: نہیں بھابھی! میں نے آپ کوتنگ کرنا مناسب نہیں سمجھا میں صوفے پربیٹھ گیا تب بھابھی نے کرسی قریب کرنے کی بجائےمیرےساتھ ہی صوفے پر بیٹھ گئیں۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ میرے ساتھ کافی جڑ کر بیٹھی ہیں حالانکہ صوفے پر تین افراد بآسانی بیٹھ سکتے تھے۔ مطلب ہمارےدرمیان فاصلہ ہوسکتاتھا لیکن فاصلہ رکھنےکی بجائےفاصلہ بھابھی نے خود ختم کردیا ۔ کچھ دیر ہم دونوں خاموش ہی رہے پھر مجھ سے رہا نہیں گیا: بھابھی! میں نہیں جانتا کہ آپ کی لائف میں کیا چل رہا ہے؟ کبھی آپ ڈاکٹر کے پاس چلی جاتی ہو پھر اپنی مما کے گھر جاتی ہو تو واپسی پر روئی ہوئی نظر آتی ہو۔گھر پہنچ کر کمرے کو لاک کر کے پھر سے روتی رہی ہو۔ بھائی میری شادی کی وجہ سے اوور ٹائم کرنے لگے ہیں حالانکہ بیویوں کو اوور ٹائم سے الرجی ہوتی ہے جبکہ آپ نے بھائی کے فیصلے پر تنقید کرنے کی بجائے ان کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔ آخر چل کیا رہا ہے؟ بھابھی کچھ دیر خاموشی سے کھانا کھاتی رہیں پھر بعد میں بولیں: وقت آنے پر سب کچھ بتا دوں گی یاسر میں بدمزہ ہوتے ہوئے بولا: بھابھی! آپ پہلے میری اچھی دوست ہیں بعد میں بھابھی! اب آپ سچ سچ سب کچھ بتائیں گی یا میں ناراض ہوکر اپنے کمرے میں چلا جاوں بھابھی: میں بہت مجبور ہوں یاسر! بھابھی یہ کہہ کر میرے کندھے پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔ کچھ دیر رونے کے بعد وہ مجھ سے الگ ہوئیں اور مجھ سے بولیں: میں برتن دھو کرآتی ہوں۔ میں بھی ان کی بات سن کر یہی سمجھا کہ وہ مجھے بتانا نہیں چاہتی اس لیے میں اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگلے دن بھابھی نے چھٹی کرلی جبکہ میں سکول چلا گیا۔ دن کو واپس گھر آنےکی بجائے میں اپنے دوست کے پاس بیٹھا رہا۔ وہ بھی مجھے میری متفکر اور گہری سوچوں میں گم دیکھ کر بار بار مجھ سے میری پریشانی پوچھتا رہا لیکن میں اسے کیا بتاتا کہ پریشانی کیا ہے؟ کیونکہ مجھے خود معلوم نہیں تھا۔ گھر آیا تو بھابھی نے کھانے کا پوچھا تو میں نے انکار کر دیا۔ طبیعت بوجھل ہونے کی وجہ سے میں خاموشی سے اپنے کمرے میں جا کر لیٹ گیا۔ ناجانے رات کے کس پہر مجھے محسوس ہواکہ کسی نے مجھ پرچادر اوڑھا ئی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح جب آنکھ کھلی تو مجھ پر چادر موجود تھی میں تھوڑا سا حیران ہوالیکن گھر میں میرے علاوہ بھابھی بھی موجود تھیں اس لیے یہی سوچ کر خاموش ہوگیا کہ وہ کمرےمیں مجھے دیکھنےآئی ہوں گی مجھے بغیر چادر کے سوتا دیکھ کر چادر اوڑھا دی ہوگی۔ ہم دونوں سکول جا رہے تھے تب بھابھی نے مجھ سے سوری بول دیا۔میں خاموش ہی رہا۔ رات کے گیارہ بجے مجھے وحیدہ کی کال آئی میں سوئے جاگے اس کی کال اٹینڈ کی تو وہ بولی: آئی وانٹ یور ہارڈ ڈک اِن مائی پُسی میں: میرا ذرا سا بھی دل نہیں ہے۔ سونے دو وحیدہ؛ میں نے کون سا سچ مچ تم سے سیکس کرنے کا بول دیا ہے میں: میرا موڈ نہیں ہے وحیدہ وحیدہ: گو ٹو ہیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح مجھے بھابھی جگا رہی تھی جبکہ میں وحیدہ کی رات والی بات (آئی وانٹ یور ہارڈ ڈک ان مائی پسی ) کو خواب میں سچ کرنے پر تلا ہوا تھا اسی وجہ سے بھابھی کے جگانے پر بیڈ پر اپنے ببر شیر کو رگڑنے لگا ۔ تب مجھے اپنے کان پر بھابھی کے گیلے ہونٹ محسوس ہوئے لیکن میں خواب سمجھ کر اور تیزی سے اپنے لن کو بیڈ پر رگڑتا گیا۔ جب بھابھی کو اندازہ ہوگیا کہ میں ایسے جاگنے والا نہیں ہوں تب انہوں نے مجھےبازووں سے پکڑ کر سیدھا کر دیا۔ جس کی وجہ سے میری آنکھ کھل گئی۔ بھابھی ایک مہین لیکن انتہائی باریک نائٹی زیب تن کیے ہوئے مجھ پر جھکے ہوئے مجھے جگا رہی تھیں۔ ہماری آنکھیں ایک دوسرے سے چار ہوچکی تھی آہستہ آہستہ بھابھی مجھ پر جھکتی جا رہی تھیں جبکہ ان کے آج کے سراپا حسن کو دیکھ کر پاگل ہوا جا رہا تھا۔ دوسری طرف میرا لن شہوانی خواب دیکھنے کی وجہ سے کھڑا تھا اب بھابھی کو اپنے اوپر جھکتے ہوئے دیکھ کر مکمل تن چکا تھا۔ اچانک میرے ذہن نے کام کرنا شروع کیا تو میں فوراً بھابھی سے تھوڑا سا دور ہٹا عین اسی وقت بھابھی رک گئیں۔ میرے پیچھے سرکنے سے شاید وہ شہوانی جذبات کے ٹرانس سے باہر نکل آئی تھیں۔بھابھی فوراً میرے کمرے سے نکل کر اپنے کمرے میں چلی گئیں۔ میں کچھ دیر خاموش بیڈ پر بیٹھا رہا اور سوچتا رہا کہ کچھ دیر پہلے ہم دونوں کے درمیان کیا ہونے والا تھا؟ شام کے وقت میں ٹی وی دیکھ رہا تھا تب بھابھی مجھ سے بولیں: میں آنٹی سے مل کر آتی ہوں۔ میں: اچھا کچھ دیر کے بعد وہ ایک فائل پکڑے اپنے کمرے میں چلی گئیں۔کافی وقت گزر گیا تو میں اٹھا اور بھابھی کے کمرے کی طرف گیا تو بھابھی کے رونے کی آوازیں سنائی دے رہی تھی۔ میں نے کمرے میں جھانکا تو بھابھی بیڈ پر بیٹھی ہوئی اپنا چہرہ اپنی ٹانگیں میں چھپائے رو رہی تھیں۔ میں فوراً آگے بڑھ کر بھابھی کے پاس پہنچ کر بھابھی کے پاس بیٹھ گیا۔ میں: بھابھی! بھابھی کے رونے میں تیزی آ گئی میں کچھ دیر خاموش رہا پھر جھجکتے ہوئے بھابھی کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولا: بھابھی! بھائی سے جھگڑا ہوا ہے؟ بھابھی نے کوئی جواب نہ دیامیں بیڈ کے پاس پڑے پانی کے جگ کو دیکھا جوکہ خالی تھا میں نے گلاس کو اٹھایا اور کچن سے پانی بھر کر لے آیا اور بھابھی کے پاس دوبارہ بیٹھتے ہوئے بولا: طوبیٰ! چپ کر جاو! اور پانی پیو بھابھی اب کچھ خاموش ہوئیں تو میں نے ان کو پانی کا گلاس پکڑا دیا۔ وہ چند گھونٹ پینے کے بعد گلاس کو سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔ میں نے بیڈ پر کھلی ہوئی فائل کو دیکھ کر معاملہ کچھ نہ کچھ سمجھ ہی لیا تھا۔ میں نے آگے بڑھ کر فائل کو اٹھا لیا اور پڑھنےلگا۔ انڈین اور پاکستانی ڈرامے دیکھ دیکھ کر پریگنسی رپورٹ کو پڑھنے کا تجربہ ہوچکا تھا۔ جیسے جیسے رپورٹ پڑھتا گیا مجھ پر بھائی کی مردانہ کمزوری کا انکشاف ہوچکا تھا۔ میں نے فائل کو بند کیا اور سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے خاموشی سے اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح جاگا تو بھابھی اور بھائی باتیں کر رہے تھے۔ میں نہا کر سکول کیلئے تیار ہوکر باہر آیا تو بھائی اور بھابھی کے درمیان بات چیت اب جھگڑے میں تبدیل ہوچکی تھی۔ جھگڑے میں اتنی شدت آئی کہ اچانک بھائی نے بھابھی کو یک مشت طلاق دینے کی دھمکی دے دی۔ پہلے تو مجھے کچھ سمجھ نہ آئی لیکن سمجھ آئی تو تب بھابھی روتی ہوئی اپنے کمرے میں بھاگ گئیں۔ میں اٹھا اور بھائی کو ایک ساتھ پانچ چھ تھپڑ لگا دئیے۔ میں: بھائی! آپ نے یہ کیا کردیا؟؟؟ بھائی میرے تھپڑوں کی بدولت ہوش میں آ چکے تھے۔ وہ بھی اب صوفے پر دھب کر بیٹھتے ہی اپنا سر تھام چکے تھے۔ کچھ ہی لمحوں میں بھائی بھی رونے لگے۔ میں اب دو عزیز ہستیوں کے درمیان پھنس چکا تھا۔ اب کس کو سنبھالنا ہے یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ میں بھی اب خاموشی سے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا۔ ایک طرف بھائی زارو قطار روئے جا رہا تھا جبکہ دوسری جانب طوبیٰ بھابھی اپنے کمرے میں روئے جا رہی تھیں۔ دن تو جیسے تیسے گزرا بھائی اٹھےاور گھر سے باہر نکل گئے۔ بھابھی مسلسل کمرے میں ہی موجود رہیں اور روتی رہیں۔ میں نے تھوڑی سی ہمت کی اور بریڈ (ڈبل روٹی) کو توے پر رکھ کر تھوڑا سا پکایا اور دو انڈے پکا کر بھابھی کے کمرے میں چلا گیا۔ کافی سمجھانے کے باوجود بھابھی نے کچھ بھی نہیں کھایا۔ میں نے انڈے اور بریڈ کو وہیں چھوڑ کر واپس ہال میں آ کر بیٹھ گیا۔ رات ہوچلی تھی لیکن بھائی کا کوئی علم نہیں تھا کہ وہ کہاں گئے ہیں۔ مجھے بھابھی کے کمرے سے چیزوں کی اٹھاک پٹھاخ کی آواز یں سنائی دینے لگی تو میں ان کے کمرے میں گیا تو بھابھی اپنے جہیز میں لائے سوٹ کیس کو بند کرنے کی کوشش کر رہی تھیں لیکن بند نہیں ہو رہا تھا۔ میں آگے بڑھ کر بھابھی کو پکڑ لیا اور بولا: بھابھی ! کیا کر رہی ہیں؟ بھابھی: مر گئی تمہاری بھابھی! (زور سے چلاتے ہوئے بولیں) تمہارے بھائی سے اولاد ہی مانگی تھی۔ بدلے میں طلاق دینے کی دھمکی دے دی۔ بھابھی کچھ خاموش ہوئی پھر بولنے لگیں: تم مردوں کے پاس بس یہی ایک ہی ہتھیار ہے اپنی بیوی کو چپ کروانے کا۔ میں: بھابھی! غصے میں انہوں نے سب بول دیا وہ تو آپ سے بہت پیار کرتے ہیں بھابھی ہنکارتے ہوئے: پیار۔۔۔ وہ مجھ سے؟؟؟ نو نیور۔۔۔ میں پچکارتے ہوئے بولا: بھابھی! غصہ چھوڑ دیں۔۔۔ بھائی بھی صبح سے رو رہے تھے اب ناجانے کہاں چلے گئے ہیں بھابھی بھائی کا سن کر کچھ خاموش ہوئیں تو میں نے فون نکال کر بھائی کو کال کی۔ چند ایک کالز کے بعد بھائی نے کال اٹینڈ کی میں: بھائی! کہاں چلےگئے ہو؟ واپس گھر آئیں بھائی: اپنی طوبیٰ بھابھی کا خیال رکھنا۔۔۔ میں: بھائی! بات سنیں۔۔۔ خدا کے واسطے گھر واپس آ جائیں آرام سے بیٹھ کر بات کرتے ہیں ہر مسئلے کاکوئی تو حل ہوگا نا بھائی: یاسر! کوئی حل نہیں ہے۔ میں جانتا ہوں کہ میں طوبیٰ کو اولاد کا سکھ نہیں دے سکتا ۔۔۔ میں: میں آپ کا علاج کرواوں گا۔۔۔ بس اب آپ گھر واپس آ جائیں بھائی: علاج کروانےکے لیے ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ طوبیٰ کی امی نے ایک مہینے کا وقت دیا تھا۔ جبکہ علاج کے لیے کم از کم اڑھائی یا تین مہینے درکار ہیں۔ میں: پھر بھی بھائی! واپس تو آئیں بھائی : میرے بھائی! صرف ایک حل ہے۔ میں اپنی آنکھیں کبوتر کی طرح بلی کو دیکھ کر بند کرلوں ۔ میں: بھائی! میں آپ کی بات نہیں سمجھا بھائی: اپنی پیاری بھابھی کو مناو کہ ڈاکٹرز کا طریقہ زیادہ بہتر رہے گا۔ میں تو بارہا بار کوشش کرچکا ہوں لیکن اب ہماری ازدواجی زندگی کا فیصلہ اسی کے ہاتھ میں ہے۔ میں: میں بھابھی سے بات کرتا ہوں۔ آپ پریشان نہ ہوں۔ میں نے کال بند کی اور اپنے دوست کو کال ملاتے ہوئے گھر سے باہر نکل گیا۔ واپسی پر میں کچھ مطمئن اور کچھ سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔ میں بھابھی کے سامنے بیٹھ کر بھائی کی میڈیکل رپورٹ پڑھنے لگا: بھابھی! اگر ہم بھائی کی بات مان لیں اور ۔۔۔ بھابھی میرے قریب سے اٹھ کر کچن میں چلی گئیں۔ میں فائل کو بند کرکے بھابھی کے پیچھے پیچھے کچن میں چلا گیا۔ میں: بھابھی! بھابھی نے مڑ کر میری طرف دیکھا اور روتے ہوئے بولی: وہ جو چاہتے ہیں وہ میں دل سے کر نہیں پاوں گی یاسر! میں: میرا پاس ایک حل ہے کہ آپ دونوں ٹیسٹ ٹیوب بے بی پروسیس کے ذریعے والدین بن جائیں۔ بھابھی: میں نے بھی یہی کہا تھا لیکن وہ نجانے کیوں انکار کر رہے ہیں۔ میں: اچھا! چلیں اب چپ کر جائیں میں ان سے بات کرتا ہوں میں اپنے کمرے میں آکر بھائی کو کال کی اور مفصل گفتگو کرنے کے باوجود بھائی بضد رہے۔ میں: بھائی! آخر مسئلہ کیا ہے؟ بھائی: ہمارے پاس وقت انتہائی کم ہے اور ۔۔ میں طوبیٰ سے بے حد محبت کرتا ہوں۔ میں اسے خود سے دور جاتا نہیں دیکھ سکتا یاسر! میں بھائی کو سمجھاتے ہوئے بولا: وہی تو ۔۔۔ میں بھی یہی کہہ رہا ہوں بھائی! آپ بھابھی سے محبت کرتی ہیں اور بھابھی آپ سے۔ اولاد کے لیے سب سے موزوں طریقہ ٹیسٹ ٹیوب پروسیس رہے گا۔ بھائی: میں نے مختلف ڈاکٹر زسے بات کی ہے سب نے میرا ٹیسٹ کیا اور اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اوپر والے کی مرضی سے میں لاکھ کوشش کے باوجود باپ نہیں بن سکتا۔ بھائی نے مجھے حیران کردیا کیونکہ سہاگ رات سے اب تک بھائی اور بھابھی کی چدائی کی آوازیں میں اپنے کمرے تک سنتا آ رہا تھا۔ اب اچانک باپ نہ بننا میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ بھائی کچھ توقف کے بعد بولے: میں نے اسی لیے طوبیٰ کو خلع لینےکا کہا لیکن وہ انکار کرتی رہی اور آج صبح وہ سب میرے منہ سے نکل گیا ۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اس مسئلے کا مستقل حل کیا ہوگا؟ میں: بھائی! کیا ایک مرتبہ پھر ہم کسی اچھے ڈاکٹر کو چیک کروا لیں؟ بھائی گہری سانس لیتے ہوئے بولے: تمہیں معلوم ہے نا کہ میرا کراچی سے لاہور آنا جانا لگا رہتا ہےکراچی سے لاہور تک کے تمام بہترین ڈاکٹرز میں چیک کروا چکا ہوں۔ پیرفقیرپر میں یقین نہیں کرتا کیونکہ ہم تینوں اچھے سے جانتے ہیں کہ ان کے پاس جانے سے کیا ہوگا۔ میں: بھائی! اب کیا ہوگا؟ بھائی: میں خود پریشان ہوں کہ اس مسئلے کا حل کیا ہوگا؟ میں: بھابھی اپنے گھر گئیں تھیں تو بہت روئی روئی لگ رہی تھیں۔ بھائی: ہوں۔۔۔۔ میں: چلیں کل بات ہوگی۔ بھائی:ایک منٹ۔۔۔(کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد) ایک مستقل حل میری نظر میں ہے۔اگر تم غلط نہ سمجھو تو میں خاموش ہی رہا بھائی دوبارہ بولے:کل ہماری ایک اپائٹمنٹ ہے۔۔۔ میں: پھر؟ بھائی: میری بات کا بُرا نہ ماننا ۔۔۔ میری جگہ کل ۔۔۔ تم طوبیٰ کے شوہر بن کر چلے جانا کچھ دیر تو بھائی کی بات میر ی سمجھ میں نہیں آئی جب سمجھ آئی تب میرے کانوں میں بھائی کی آواز گونجی: جیسے تم دونوں میاں بیوی کی طرح آوٹنگ کرتے ہو ویسے ہی اس مرتبہ اس پروسیس میں تم طوبیٰ کے شوہر بن جاو بھائی: کیا ہوا میرے بھائی؟ صرف تم ہی ہمارے گھر کو ٹوٹنے سے بچا سکتے ہو۔ ۔۔ ہوسکے تو اسے پہلی اور آخری غلطی سمجھ کر ، کر ڈالنا۔ میں نے بھائی کی مزید بات نہ سنی اور غصے کی حالت میں کال بند کردی۔ رات تو جیسے تیسے کٹی، بھائی کی چند ایک مرتبہ کالز آئی لیکن میں نے ریسو نہ کی پھر بھائی کے میسجز آتے رہے جن میں وہ مجھے سمجھاتے رہے۔ لیکن میں خاموشی سے بیٹھا رہا۔ غصہ کم نہ ہوا تو اٹھا اور واش روم میں جا کر شاور کے نیچے کھڑا ہوگیا۔ آنکھیں بند کیے بس بھائی کی باتیں سوچتا رہا پھر آہستہ آہستہ ناجانے کیوں میری بند آنکھوں کے سامنے بھابھی کا اندیکھا ننگا جسم تیرنے لگا۔ آہستہ آہستہ میرے ذہن میں مختلف واقعات فلم بن کر چلنے لگے۔ کافی وقت گزرنے کے بعد احساس ہوا کہ شاور سے پانی گرنا بند ہوچکا ہے تب اپنی غلطی کا ادراک ہوا کہ پانی کی ٹینکی سے پانی ختم ہوچکا ہے۔ میں نے اپنے تنے ہوئے ببر شیر کو دیکھا اور مسکرا دیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ طوبیٰ میرے نیچے دبی ہوئی تھی اس کا چہرہ غصے سے لال ہوچکا تھا جب کہ میں اس کی آنکھوں میں مسلسل دیکھے جا رہا تھا۔ میرے چہرے پر کمینی مسکراہٹ تیر رہی تھی جس کی وجہ صرف بھائی کے میسجز تھے۔ طوبیٰ: تمہیں شرم نہیں آئی اپنے بھائی کی بیوی کو یوں ۔۔۔ میں نے طوبیٰ کو بولنے نہ دیا ۔ میں نے اپنے ہونٹ طوبیٰ کے ہونٹوں سے ملا دئیے۔ کچھ دیر تو طوبیٰ شدید مزاحمت کرتی رہی پھر بےبس ہونے کے بعد خاموشی سے اپنے ہونٹ چسوانے لگی۔ کچھ دیر طوبیٰ کے ہونٹوں کا رس کشید کر، میں طوبیٰ کی باریک نائٹی کے ڈوریں دوسرے ہاتھ سے کھولنے لگا جس پر طوبیٰ نے مزاحمت کرنی چاہی تو میں نے طوبیٰ کے دونوں ہاتھوں کو ایک ہاتھ سے پکڑ لیا۔ اسی دھینگا مستی میں طوبیٰ کے پستانوں کو کئی بار ہاتھ لگا ۔ نائٹی کے نیچے طوبیٰ کا خوبصورت ، سفید اور بے داغ جسم پر صرف دو کپڑے موجود تھے۔ ایک برا اور ایک پینٹی۔ طوبیٰ اب پھر سےمیری منتیں کرنے لگی تھی جس پر میں نے بھائی کا نام لیتے ہوئے اسے چپ کروا دیا۔ میں: مجھے کل رات ہی بھائی نے تمہارا شوہر بننے کا کہہ دیا تھا۔ یہ رہا ثبوت میں نے بھائی کا ایک میسجز سامنے کرتے ہوئے ،خود ہی پڑھنا شروع کردیا۔ میسج پڑھنے کے بعد میں نے موبائل کو لاک کیا اور سائیڈ پر رکھ کر طوبیٰ کی طرف متوجہ ہوا۔ طوبیٰ اب کسی سوچ میں گم تھی تب میں نے اس کی ٹانگوں سے پینٹی کو اتارنا شروع کیا تو وہ اچانک گہری سوچ سے باہر نکل آئی اور بولی: تم مجھے بدکردار اور اپنے بھائی کو گرا ہوا سمجھ رہے ہو ، ہے نا؟ میں: ہرگز نہیں ۔۔۔ میں بس اس لیے یہ سب کرنے کے لیے آیا ہوں تاکہ آپ دونوں کا گھر ٹوٹنے سے بچ سکے۔ساری رات مجھے بھائی سمجھاتے رہے۔ میں ان کو یا آپ کو نیچ یا گرا ہوا نہیں سمجھا۔میں اچھے سے جانتا ہوں کہ یہی مستقل اور رازدرانہ حل ہے۔ باقی اب یہ فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں۔ میں طوبیٰ کو آزاد چھوڑتے ہوئے دوبارہ بولا: وقت آپ کے پاس بھی کم ہے اور جلد بازی میں ہمیشہ کام خراب ہوتا ہے۔ اب دو طریقے ہیں۔ مجھے اپنا شوہر سمجھ کر راز داری سے تعلق بنا لیں یا ہسپتال چل کر ٹیسٹ ٹیوب پروسیجر کے ذریعے پھر سے میری ہی بدولت اپنے گھر کو بچا لیں۔ فرق بس اتنا ہوگا کہ ۔۔۔ طوبیٰ نے اٹھ کر مجھے بیڈ پر گرا لیا اور میرے ہونٹوں کو چومنے لگی۔ میں بھابھی کے فیصلے سے مطمئن ہوگیا۔ بھابھی میرے ہونٹوں کو چوم لینے کے بعد بولیں: یہ تعلق ہمیشہ قائم رہے گا۔ میں نے بھابھی کی بات سن کر بھابھی کو اپنے جسم سے الگ کیا اور خود ان کے اوپر آتے ہوئے میں نے اپنے اور بھابھی کے درمیان فاصلہ ختم کردیا اور بھابھی کو اپنے بازووں میں بھر لیا۔۔۔ بھابھی نے پوری گرم جوشی کے ساتھ میرے ہونٹوں کو چومتے ہوئے اپنی زبان میرے منہ میں داخل کر دی۔۔۔اور میں نے بھابھی کی زبان کو ویلکم کہتے ہوتے زبان چوسنا شروع کر دی۔۔۔ میں ساتھ ساتھ بھابھی کی گانڈ اور کمر پر ہاتھ پھیری جا رہا تھا۔۔۔ اب جب بھابھی مجھ سے چدنے ہی والی تھی تو میں نے دل میں سوچا کہ اب بھابھی کہنا ٹھیک نہیں۔۔۔اب میں اسے اس کے نام سے ہی پکاروں گا۔۔۔ کافی دیر کسنگ کرنے کے بعد میں نے طوبیٰ کو کندھوں سے پکڑ کر پیچھے ہٹایا تو وہ الٹتی پتھلتی ہوئی سانسوں کے ساتھ مجھے دیکھنے لگی۔۔۔میں نے ہاتھ بڑھا کر طوبیٰ کے کپڑے اتارنے شروع کر دیے۔۔۔چند سیکنڈ بعد طوبیٰ میرے سامنے مادر زاد ننگی کھڑی تھی۔۔۔طوبیٰ ایک بہت ہی سیکسی اور خوبصورت فگر والی لڑکی ثابت ہوئی۔۔۔اس کا فگر 37۔27۔36b تھا۔۔۔ آنکھوں کا رنگ سیاہ۔بال بھی گھنے لمبے سیاہ۔اوپر سے سیکس کی بھوک نے اس کے چہرے پر ایسا نکھار ڈالا کہ میرا لن پورا اکڑ گیا۔اور ٹراؤزر میں ایک تمبو بن گیا۔۔۔جسے دیکھ کر طوبیٰ کی آنکھوں میں چمک سی آ گئی۔۔۔اس نے آگے بڑھ کر ٹراؤزر کے اوپر سے ہی میرا لن اپنے ہاتھوں میں پکڑا اور میرے ہونٹ کو چوم کر بولی اٹھ گیا میرا شیر۔۔۔ طوبیٰ کے منہ سے یہ باتیں سن کر مجھے ایک عجیب سا مزہ آ رہا تھا۔۔۔اسی دوران طوبیٰ میری شرٹ اتار کر ایک طرف پھینک چکی تھی۔۔۔پھر اس نے اپنے ہاتھ میرے دونوں کولہوں کے پاس سے ٹراؤزر پر رکھے اور میری ٹانگوں کے درمیان زمین پر بیٹھتے ہوئے اس نے میرا ٹراؤزر اتار دیا۔۔۔انڈروئیر تو میں نے پہنا نہیں تھا۔۔۔اس لیے ٹراؤزر اترتے ہی لن ایک جھٹکا کھا کر سیدھا ہوا اور اس کے منہ کے سامنے جھومنے لگا۔۔۔یہ دیکھ کر طوبیٰ ایک دم اٹھی اورطوبیٰ چلتی ہوئی سامنے الماری کی طرف گئی اور وہاں سے ایک چھوٹی سی عجیب قسم کی شیشی اٹھا کر میرے پاس آئی اور میرے اکڑے ہوئے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر شیشی کا ڈھکن اتارا تو میں نے آخر پوچھ ہی لیا۔۔۔ کیا کرنے لگی ہوطوبیٰ۔۔۔تو وہ بولی کہ سہاگ رات سے اب تک اسی پرگزارا کرتی آئی ہوں آج پھر سے ان لمحات کو یادگار بنانے کیلئے اسپرے لگانے لگی ہوں۔۔۔اس سے تمہاری ٹائمنگ بڑھ جائے گی۔۔۔ہم لوگ خوب مزہ کریں گے۔۔۔ طوبیٰ نے میرے لن کو ٹوپی سے پکڑ کر اوپر اٹھایا اور لن کی نچلی جانب ٹوپی کے پاس دو بار اسپرے کیا اور انگلی کی مدد سے ہلکا ہلکا مساج کر دیا۔۔۔اسی طرح اس نے لن کی چاروں سائیڈوں پر ہلکا ہلکا اسپرے مار کے مساج کر دیا۔۔۔اور بولی اب اگلے چند منٹ تک لن کی طرف دیکھنا بھی نہیں اس کا اثر بیس منٹ بعد شروع ہو گا۔۔۔اور وہ اسپرے کی شیشی ایک طرف سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے خود بیڈ پر لیٹ گئی اور اپنے دونوں بازو کھول کر مجھے اشارہ کیا۔۔۔مجھے لن پر ہلکی ہلکی جلن ہو رہی تھی۔۔۔جس کا ذکر میں نے اس سے کیا تو اس نے بتایا کہ یہ نارمل ہے ایسا میری سہیلی نے بتایا تھا کہ یہ ہوتا ہے لیکن صرف تھوڑی دیر۔۔۔اس کے بعد لن ہلکا سا سن ہو جائے گا۔۔۔اور پھر بے شک جب تک دل کرے چدائی کرو۔۔۔اتنا کہہ کر پھر اس نے اپنے بازو کھول دیے اور میں اس کے اوپر لیٹ کر بازؤوں میں سما گیا۔۔۔جیسے ہی طوبیٰ کے اکڑے ہوئے نپلز میرے بالوں بھرے سینے سے لگے۔میرے اندر بجلی سی کوند گئی۔۔۔میں نے اپنی زبان باہر نکالی اور طوبیٰ کی گردن کو ایک ایک ملی میٹر سے چاٹنے لگا۔۔۔طوبیٰ نے میری زبان کا ٹچ اپنی گردن پر محسوس کرتے ہی اپنے دونوں ہاتھوں کو میری کمر پر رکھتے ہوئے اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر پھیرتے ہوئے اپنے مموں کو دائیں بائیں ہلاتے ہوئے میرے سینے پر رگڑنے لگی۔۔۔ میرا لن پورے جوش میں آ کر طوبیٰ کی رانوں میں دبا ہوا تھا۔۔۔میں اس کی گردن کو چاٹتا ہوا نیچے اس کے کندھوں تک آیا اور وہاں سے اس کے مموں کی گولائیوں تک آ گیا۔۔۔پہلے میں دائیں ممے کو چاٹنے لگا۔۔۔پھر میں نے باری باری اس کے دونوں ممے چاٹ لیے لیکن نپلز کو بلکل نہیں چھیڑا۔۔۔میں جیسے ہی ممے کو چاٹتا ہوا نپلز تک پہنچتا۔تو اسے ٹچ کیے بنا دوسرے ممے کی گولائی کو چاٹنا شروع کر دیتا۔۔۔جب چار پانچ بار میں ایسی ہی کرنے کے بعد ممے کو چاٹتا ہوا نپل تک پہنچا تو طوبیٰ نے غصے سے میرے سر کے بالوں کو اپنی مٹھی میں جھکڑا اور نیچے اپنے نپل کی طرف دبایا۔۔۔میرے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔۔۔میں جان چکا تھا کہ اب طوبیٰ مزے اور لذت میں پوری طرح سے خوار ہو چکی ہے۔۔۔ میں نے طوبیٰ کا ایک نپل منہ میں لے لیا۔۔۔۔۔واؤ۔۔۔۔۔اوووو۔۔۔۔نپل منہ میں لیتے ہی میرا لن پھنکاریں مارنے لگا۔۔۔میں باری باری دونوں نپل منہ میں لیکر چوسنے لگا۔۔۔اب طوبیٰ کے بدن میں بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔میری کوشش تھی کہ طوبیٰ کا پورا مما منہ میں لے لوں۔۔۔پر یہ ممکن نہیں تھا۔۔۔کیونکہ میرا منہ بہت چھوٹا اور طوبیٰ کا مما منہ کی مناسبت کافی بڑا تھا۔اور اس ٹائم تو ویسے بھی سخت ہو رہا تھا۔۔۔میں نے نپل کو دانتوں سے ہلکا سا کاٹا تو وہ کراہ اٹھی۔۔۔۔آہ۔ہ۔آہہہ۔۔۔یاسر۔۔۔۔ررر۔۔۔۔آرام سے۔۔۔۔میری جان۔۔۔۔آرام سے۔میں نے طوبیٰ کے ممے چوستے ہوئے ہی اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے تنے ہوئے لن پر رکھ دیا۔۔۔اس نے فوراً ہی میرے لن کو مٹھی میں دبا لیا۔۔۔میں نے اپنا ایک ہاتھ نیچے لیجا کر طوبیٰ کی پھدی پر رکھ دیا۔۔۔پھدی فل گیلی ہو رہی تھی۔۔۔میں زور زور سے مموں کو چوسنے اور نپلز کو کاٹنے کے ساتھ ساتھ اپنے ہاتھ سے اس کی پھدی کو مسلنے لگا۔۔۔طوبیٰ یہ مزہ برداشت نہ کر سکی اور سسکنے لگی۔۔۔آہ۔ہ۔آہہہ۔۔۔یاسر۔۔۔ایسے ہی۔۔۔افففف۔۔۔میں نے اپنی دو انگلیاں پھدی کے اندر گھسا دیں اور زور زور سے پھدی کے دانے کو اپنے انگوٹھے سے مسلنے لگا۔۔۔طوبیٰ کیلئے برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔شاید یہ کسی پرائے مرد سے سیکس کی شہوت تھی جو وہ اتنی جلدی منزل تک پہنچ گئی اور اس نے ایک جھٹکے سے اپنی دونوں ٹانگوں کو بھینچ لیا اور زور زور سے جھٹکے کھاتے ہوئے چھوٹ گئی اور اس کی پھدی سے پانی بہنے لگا۔۔۔چونکہ طوبیٰ کا کمرہ ساؤنڈ پروف تھا تو اس بات کا کوئی ڈر نہیں تھا کہ آواز کہیں باہر سنی جا سکتی ہے۔۔۔ طوبیٰ اب فارغ ہو چکی تھی۔۔۔جبکہ میرا لن اب فل جان پکڑ چکا تھا۔۔۔طوبیٰ اٹھی اور مجھے لٹاتے ہوئے خود میرے اوپر آ گئی۔اور چٹا چٹ میرے گالوں کے کئی بوسے لے ڈالے۔۔۔پھر بولی یاسر میری جان میں بہت خوش ہوں کہ تم نے مجھے اتنا مزہ دیا۔۔۔اب میری باری ہے کہ میں تمہیں مزہ دوں۔۔۔یہ کہہ کر وہ میری ٹانگوں کے درمیان بیٹھ کے میرے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر سہلاتے ہوئے بولی۔۔۔مجھے تمہارا لن بہت پسند آیا ہے۔۔۔کچھ دیر تو وہ میرے لن کو ایسے ہی سہلاتی رہی۔۔۔پھر جب مجھ سے برداشت نہ ہوا تو میں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے آگے لن کی طرف دبایا تو وہ سمجھ گئی کہ میں کیا چاہتا ہوں۔۔۔مجھے دیکھتے ہوئے وہ بولی کہ لگتا ہے جانو کو اپنا لن چسوانا ہے۔۔۔میں نے مخمور نگاہوں سے اسے دیکھا اور اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔پھر اس نے اپنا پورا منہ کھولا اور میرے لن کی ٹوپی کو اپنے منہ کے اندر لے لیا۔۔۔میرے منہ سے مزے کی شدت سے ایک سسکی نکل گئی۔۔۔طوبیٰ نے میرا لن منہ سے باہر نکالا اور میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس نے اپنی لمبی زبان باہر نکالی اور اس کی نوک سے میرے لن کے سوراخ کے اندرونی حصے کو چھیڑنے لگی۔۔۔کچھ دیر ایسے ہی چھڑنے کے بعد طوبیٰ نے دوبارہ میرا لن منہ میں ڈال لیا اور بڑے پیار سے چوسنے لگی۔۔۔اس کے منہ کی گرمی کو اپنے لن پر محسوس کر کے میری حالت خراب ہو گئی۔۔۔اس نے میرے لن کی صرف ٹوپی اپنے منہ میں رکھی اور اپنے ہونٹوں کو بند کر کے منہ کے اندر سے ہی لن کے سوراخ اور ٹوپی پر اپنی زبان گھمانے لگی۔۔۔میں لذت کی انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔۔۔ اصل چیز یہ احساس تھا جو میرے مزے کو بڑھا رہا تھا۔۔۔طوبیٰ کچھ دیر اسی طرح میرے لن کی ٹوپی کو چوستی رہی۔۔۔پھر آہستہ سے اپنا تھوڑا منہ اور کھولا اور میرے لن کو اپنے منہ کے اندر اتارنا شروع کر دیا۔۔۔جتنا لن منہ میں جا سکتا تھا اتنا لینے کے بعد اس نے تھوڑا زور لگایا تو لن کی ٹوپی اس کے حلق کو جا لگی جس کیوجہ سے اسے ابکائی سی آئی اور اس نے فوراً ہی میرا لن باہر نکال دیا۔۔۔ پھر اس نے دوبارہ لن کی ٹوپی کو منہ میں لے کر چوسا اور اوپر سے لے کر جڑ تک لن کو چاٹا۔۔۔اسی طرح چاٹنے کے بعد اس نے جتنا لن منہ میں جا سکتا تھا لے لیا اور باقی لن کو ہاتھ کی گرفت میں رکھتے ہوئے پوری شدت سے چوسنے لگی۔۔۔ اس انداز میں چوسنے سے اس کا گال پِچک کر اندر ہو جاتے۔اور اس کا چہرہ لال ہو جاتا تھا۔۔۔وہ اب اتنی طاقت سے چوپا لگا رہی تھی کہ مجھے صاف محسوس ہوا کہ میرے لن سے مزی کا ایک قطرہ پوری شدت سے رگڑ کھاتا ہوا باہر جا رہا ہے۔۔۔جیسے ہی وہ قطرہ باہر آیا تو طوبیٰ نے اپنی زبان سے اس قطرے کو لپیٹا اور منہ میں لیکر ایسے چسکے لینے لگی جیسے کسی چیز کی مٹھاس یا کھٹاس چیک کی جاتی ہے۔۔۔کچھ دیر لن چوسنے کے بعد طوبیٰ اٹھی اور میرے سینے کے اوپر بیٹھ گئی۔۔۔ چند لمحے وہ میری آنکھوں میں دیکھتی رہی اور پھر اپنی دونوں ٹانگیں کھول کر اپنی ہاتھ کی دو انگلیاں اپنی پھدی میں ڈال کر بولی دیکھو کیسے لیک کر رہی ہے۔۔۔میں نے طوبیٰ کی گانڈ کے نیچے دونوں ہاتھ رکھے اور اسے آہستہ سے اپنی طرف کھینچا تو وہ میرے اتنے قریب آ گئی کہ اس کی پھدی میرے منہ سے صرف دو انچ کے فاصلے پر تھی۔۔۔میں نے اسے اور آگے کھینچا اور اس کی پھدی پر ناک لگا کر اس کی مہک لینے لگا۔۔۔طوبیٰ میری حرکتوں کو غور سے دیکھ رہی تھی۔۔۔وہ بولی یاسر کبھی پہلے پھدی ماری ہے سچ سچ بتانا تو میں نے کہا ۔۔۔ نہیں طوبیٰ! تم میری پہلی سیکس پارٹنر بننے جا رہی ہو طوبیٰ: ہمیشہ کے لیے میں یہ سن کرطوبیٰ کی ٹانگوں کے درمیان آ گیا اور لن کو پکڑ کر پوری طرح گیلی پھدی پر رگڑنے لگا۔۔۔ پھر اس کی پھدی کے دانے کو رگڑتے ہوئے محسوس ہوا کہ جیسے ب وہ منزل کے بلکل پاس ہے تو میں نے آخری دفعہ اس کی پھدی کے دانے کو رگڑا اور لن کو پھدی کے سوراخ پر سیٹ کیا۔۔۔طوبیٰ کی آنکھیں مزے سے بند تھیں اور وہ اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر ایسے ہلا رہی تھی کہ کسی بھی طرح لن پھدی کے اندر چلا جائے۔۔۔میں نے اس کی ٹانگیں تھوڑا اور اوپر اٹھائی اور لن کو پھدی پر سیٹ کرتے ہوئے ایک زور کا جھٹکا مارا۔اور لن اس کی پھدی میں گھسا دیا۔۔۔طوبیٰ کیلئے بھی یہ جھٹکا آخری ثابت ہوا اور اس کی پھدی نے لرزتے ہوئے فوارے کی طرح پانی چھوڑ دیا۔۔۔طوبیٰ اتنی زور سے چھوٹی تھی کہ اس کی آنکھیں اوپر چڑھ گئیں اور پاؤں کی انگلیاں اکڑ گئی تھیں۔۔۔ طوبیٰ کے اس طرح چھوٹنے سے اتنا پانی نکلا کہ میرے ٹٹوں تک کو بھگو گیا۔۔۔اس کی اپنی پھدی کا بھی برا حال تھا۔۔۔میں نے ٹشو لیکر اس کی پھدی اور اپنے لن کو صاف کیا۔ پھدی کو صاف کرتے ہوئے جیسے ہی میرے ہاتھ نے اس کے دانے کو چھوا تو طوبیٰ کے منہ سے سسکاری نکل گئی۔۔۔ میں نے لن کو صاف کر کے دوبارہ اس کی پھدی میں ڈال دیا۔۔۔ابھی تھوڑا لن باہر ہی تھا کہ مجھے لگا کہ جیسے لن کسی نرم دیوار سے ٹکرا گیا ہے۔۔۔ساتھ ہی طوبیٰ کے منہ سے دوبارہ سسکیاں جاری ہو گئیں۔۔۔اففففف۔آہہہ۔آہہہ۔۔۔میرا اندازہ تھا کہ یہ ضرور طوبیٰ کی بچہ دانی ہو گی۔جس سے میرا لن ٹکرا کر رک رہا ہے۔۔۔ میں نے وہیں پہ رہ کر لن اندر باہر کرتے ہوئےطوبیٰ سے پوچھا۔۔۔کیا ہوا جان۔تکلیف ذیادہ ہو رہی ہے۔۔۔تو وہ بولی۔۔۔ نہیں یاسر! یہ احساس پہلی مرتبہ ہو رہا ہے۔ مجھے اپنے لن میں اکڑاہٹ بڑھتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔اور میں پورے جوش کے ساتھ اس کے گھسے مارنے لگا۔۔۔میرے ہر جھٹکے کے جواب میں وہ صرف ایک بات ہی کہتی۔۔۔اور تیز ۔۔یاسر۔۔۔اور تیز۔۔۔ میں نے پاس پڑا ہوا ایک چھوٹا تکیہ کھینچ کر اس کی گانڈ کے نیچے رکھ کر اس کی ٹانگیں اس شدت کے ساتھ اٹھائیں کہ طوبیٰ کے گھٹنے اس کے کندھوں کے ساتھ جا لگے۔۔۔میں نے پھر سے لن اندر ڈالا اور سٹارٹ سے ہی فل سپیڈ میں دھکے مارنے شروع کر دیے۔۔۔میرے طاقتور گھسوں کی وجہ سے میرے ٹوپے کی نوک بار بار طوبیٰ کی بچہ دانی کے ساتھ ٹکرا رہی تھی۔۔۔اور پھر جیسے ہی میرا لن طوبیٰ بھابھی کی بچہ دانی پر ٹھوکر مارتا۔۔۔نیچے سے وہ تڑپ سی جاتی اور پھر پہلے سے بھی ذیادہ سیکسی انداز میں وہی لذت آمیز راگ الاپتی کہ جسے سن کر میرا جوش مزید بڑھ جاتا۔۔۔اب مجھے طوبیٰ کو چودتے ہوئے چھ،سات منٹ گزر چکے تھے۔۔۔ہر گھسے پر ایسا لگتا کہ جیسے طوبیٰ کی پھدی میرے لن کو اندر سے جھکڑ رہی ہے۔۔۔اور ایک بار پھر اس کا جسم اکڑنا شروع ہو گیا۔۔۔میں نے اس کے کندھوں کو مضبوطی سے پکڑا اور ساتھ ہی اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں جھکڑ کر پوری جان سے ایک گھسہ مارا۔۔۔اس گھسے سے یہ ہوا کہ میرا لن پوری طاقت کے ساتھ جڑ تک اندر گیا اور لن کی ٹوپی طوبیٰ کی بچہ دانی کے اندر جا گھسی۔۔۔طوبیٰ کے منہ سے ایک لرزہ خیز چیخ نکلی جو کہ ہونٹ دبے ہونے کیوجہ سے میرے منہ کے اندر ہی دم توڑ گئی۔۔۔طوبیٰ کا جسم فل اکڑ چکا تھا۔۔۔میں چند سیکنڈ وہیں پر رک کر اس کے مموں کو مسلتا اور چوستا رہا جس سے اس کی سانس میں دوبارہ تھوڑی بحالی ہوئی اور اس نے زور سے مجھ اپنی بانہوں میں کس لیا۔۔۔طوبیٰ اب اتنی چودائی کے بعد کافی تھک چکی تھی۔۔۔میں نے خود کو اس کی بانہوں سے آزاد کروایا اور اپنا لن باہر نکال کر اس کو ڈوگی سٹائل میں ہونے کو کہا۔۔۔وہ کافی تھک چکی تھی اور درد بھی محسوس کر رہی تھی اس لیئے فوراً اٹھ کر ڈوگی سٹائل میں آ گئی اور اپنے گھٹنے تھوڑے سے آگے کر کے اپنی گانڈ کو باہر نکال دیا۔۔۔واہ۔ہ۔ہ۔۔۔کیا نظارہ میرے سامنے تھا۔۔۔طوبیٰ کی موٹی سیکسی گانڈ بلکل میرے سامنے تھی۔۔۔اس کے گول مٹول گورے گورے چوتڑ مجھے اپنی طرف بلا رہے تھے۔۔۔اس کی گانڈ کا چھوٹا سا سوراخ اتنا سیکسی اور پیارا لگ رہا تھا کہ میں نے بے اختیار اس پہ اپنا انگوٹھا پھیرنا شروع کر دیا۔۔۔طوبیٰ کی گانڈ اور پھدی اب دونوں میرے سامنے تھیں اور مجھے اپنی طرف بلا رہی تھیں۔کہ آ جاؤ ہمیں چود ڈالو۔۔۔میں نے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اس کے چوتڑوں کو کھول لیا اور اپنا لن اس کی پھدی میں ڈال دیا۔طوبیٰ کے منہ سے مزے اور درد سے ملی سسکی نکل گئی۔۔۔آہ۔آہہہ۔۔۔میں نے پہلے طوبیٰ کو آہستہ آہستہ چودنا شروع کیا پھر اپنی سپیڈ بڑھاتا گیا۔۔۔مجھے اب اس کی پھدی میں اپنا لن جاتا بھی نظر آ رہا تھا اور اس کی گانڈ کا سوراخ بھی نظروں کے سامنے تھا۔اب طوبیٰ بھی فل مزے میں آ گئی تھی اور میرے ہر گھسے کے جواب میں اپنی گانڈ کو پیچھے کی طرف دھکیلتی تھی۔۔۔لن جب پھدی سے باہر آتا تو اس کے پانی سے لتھڑا ہوتا تھا۔۔۔ایک دفعہ پھر مجھے محسوس ہوا کہ جیسے اس کی پھدی میرے لن کو اندر سے پکڑ رہی ہے۔لیکن لن اس میں سے پھسلتا ہوا بچہ دانی سے ٹکرا جاتا اور ٹوپی بچہ دانی کے اندر تک چلی جاتی۔۔۔ طوبیٰ کی گانڈ کا کھلتا،بند ہوتا ہوا سوراخ مجھے اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔۔۔میرا دل چاہا اور کچھ نہیں تو اس میں اپنی ایک انگلی ہی ڈال کر دیکھوں کہ کتنی ٹائٹ ہے۔۔۔طوبیٰ اب فل تھک چکی تھی اس لیے اس نے اپنا سر آگے بیڈ پر ڈال دیا جس سے اس کی گانڈ اور باہر کو نکل آئی اور اس کا سوراخ میرے جی کو للچا گیا۔۔۔مجھ سے اب برداشت نہیں ہوا تو میں نے اپنی انگلی کو تھوڑا سا تھوک لگا کر اس کی گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر انگلی تھوڑی اندر کر دی۔۔۔پہلے تو اسے تھوڑا سا شاک لگا اور اس نے مڑ کر میری آنکھوں میں دیکھا لیکن پھر وہ اپنا سر آگے کر کے دوبارہ پیچھے کو دھکے مارنے لگی۔۔۔اب وہ مزے کی انتہاء کو پہنچی ہوئی تھی اور پتہ نہیں کیا اول فول بک رہی تھی۔۔۔ اب مجھے بھی لگ رہا تھا کہ میں چھوٹنے کے قریب ہوں۔اور طوبیٰ کی یہ باتیں میرے لیے سونے پر سہاگا ثابت ہوئیں۔۔۔میں نے طوفانی رفتار سے گھسے مارتے ہوئے ایک دفعہ اپنا لن باہر نکالا اور حقیقتاً بنڈ والا زور لگا کر پورا لن اندر گھسا دیا۔اور ساتھ ہی طوبیٰ کے کندھوں کو پکڑ کر اپنی طرف دبایا جس سے لن اس کی بچہ دانی میں گھس گیا۔۔۔طوبیٰ کیلئے بھی یہ آخری جھٹکا ثابت ہوا اور اس نے پانی چھوڑ دیا۔۔۔ساتھ ہی میرے لن نے منی کی پہلی پچکاری ماری اور پھر مارتا ہی گیا۔۔۔طوبیٰ کی بچہ دانی منی سے بھرنا شروع ہو گئی۔مجھے یوں لگ رہا تھا کہ جیسے منی کا دریا بہہ رہا ہو۔۔۔جیسے ہی لن سے منی کا آخری قطرہ نکلا۔میں نے طوبیٰ کے کندھوں کو چھوڑ دیا اور وہ بے سدھ ہو کر آگے گر گئی۔۔۔میں اس کے اوپر ہی لیٹ گیا۔۔۔تھوڑی دیر بعد میں اٹھا اور ٹشو سے اس کی پھدی اور اپنے لن کو صاف کیا۔۔۔پھر میں نے طوبیٰ کو ہلایا تو وہ جیسے نشے میں بولی۔۔۔ہوں۔اوں۔۔۔ میں نے کہا طوبیٰ میں جا رہا ہوں کافی دیر ہو گئی ہے ۔۔۔ تو طوبیٰ نے آنکھیں کھولیں اور مجھے پکڑ کر اپنے اوپر گراتے ہوئے بولی۔۔۔نہیں جان!ہمیں سکول سے بہت دیر ہوچکی ہے ۔۔۔ میں نے سامنے لگی وال کلاک کو دیکھا وقت دیکھنے پر احساس ہوا کہ اس چدائی کھیل میں ٹائم کا پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔میں طوبیٰ کو ایک طرف کھسکا کر اس کی سائیڈ میں ہی لیٹ گیا۔۔۔مجھے لیٹتا دیکھ کر طوبیٰ نے کروٹ بدلی اور اپنا سر میرے بازو پہ رکھتے ہوئے مجھ سے لپٹ کر سو گئی۔۔۔میں بھی کافی تھک گیا تھا۔اس لئیے کب آنکھ لگی پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔ ہم دونوں ایکدوسرے کی بانہوں میں لپٹے ہوئے سوئے رہے آنکھ اس وقت کھلی جب مجھے اپنے ببر شیر پر گیلا پن محسوس ہوا۔ میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو طوبیٰ میرے لن پر جھکی ہوئی میرے لن کو چوس رہی تھی۔ میں خاموشی سے طوبیٰ بھابھی کو اپنا لن چوستے ہوئے دیکھنے لگا۔ طوبیٰ نے میری طرف لن چوستے ہوئے دیکھا، اکثر پورن ویڈیوز میں یہ منظر کافی مرتبہ دیکھا لیکن آج لائیو اپنے ساتھ ہی اپنی ہی بھابھی کے ساتھ یہ سین انتہائی دلکش تھا کہ میں لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا۔ میں نے کچھ لمحے بھابھی کو لن چوسنے دیا۔پھر بھابھی کو اپنے اوپر آنےکو اشارہ کیا۔ جس پر وہ سیکسی انداز میں بیڈ پر گھٹنوں کے بل چلتی ہوئی میرے ننگے وجود پر آ کر بیٹھ گئیں۔ میرا لن بھابھی کی گانڈ کو ٹچ ہو رہا تھا جبکہ بھابھی کی گیلی پھدی میرے نچلے پیٹ پر مکمل جڑی ہوئی تھی۔ بھابھی کے تنے ہوئے پستانوں کے نپلز میری توجہ اپنی طرف مبذول کروا دی۔ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بھابھی کے نپلز کو چھیڑنے لگا۔ بھابھی آہستہ آہستہ نیچے کو جھکنے لگی جس کی وجہ سے بھابھی کے پستان میرے چہرے کے انتہائی قریب آ گئے۔میں نے باری باری بھابھی کے پستانوں کو اپنے منہ میں بھر کر بچوں کی مانند چوسنے، چاٹنے اور ہلکا ہلکا نپلز کو کاٹنے لگا۔ بھابھی کےمنہ سے آہستہ آہستہ لذت آمیز سسکاریاں نکلنے لگیں۔ ۔۔ میں بھی پرسکون انداز میں بھابھی کے پستانوں سے مزہ لینے میں مصروف تھا جیسے مجھے کہیں جانے کی کوئی جلدی نہیں تھی یا کسی کے آ جانے کا ڈر نہیں تھا اکثر لڑکے یا جوان پہلی چدائی کے دوران ہی جلدی چھوٹ جاتے ہیں ان کی وجوہات ہی یہی ہوتی ہیں کہ ان کو پکڑے جانے کا ڈر ہوتا ہے۔ یا ان کے ذہن پر اتنا دباو ہوتا ہے کہ وہ خود کو مرد ثابت کرنے کے کوشش میں ناکام ہوجاتے ہیں۔ کچھ دیر طوبیٰ بھابھی کے مموں کو چوس لینے کے بعد میں نے ان کے پستانوں کو اپنے منہ سے باہر نکالا تو ان کی آنکھوں میں جھلکتی سرخی صاف ظاہر کر رہی تھی کہ انہیں کس قدر لطف حاصل ہوا ہے۔ وہ مزید نیچے جھکتے ہوئے میرے ہونٹوں کو چوم لینے کے بعد آہستہ سے میرے لن کو اپنے ہاتھ میں تھام کر مسلنے کے بعد اپنی پھدی میں گھسا لیا۔ ایک لمبی سی سسکاری کے بعد وہ آہستہ آہستہ میرے لن پر اوپر نیچے ہونے لگیں۔ جیسے جیسے ان کا ردھم بن رہا تھا مجھے ان کی رفتار میں تیزی آتی محسوس ہونے لگی تھی چند ہی ثانیوں میں کمرے میں تیز سسکاریاں گونجنے لگی تھیں۔ میرے لن پر مسلسل بھابھی کی پھدی تنگ ہوتی ہوئی محسوس ہورہی تھی شاید اسی وجہ سے میرے دل کی دھڑکن بے چین ہوتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔ مزید کچھ ہوتا بھابھی کے موبائل پر کال آئی بھابھی میرا لن اپنی پھدی میں لیے میرے پیٹ پر دوازنو ہوکر بیٹھ گئیں : ہیلو (سپیکر آن کرتے ہوئے) نہیں جان! میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی اس لیے ابھی تک نہیں گئی۔ بھائی: یاسر کہاں ہے؟ بھابھی: وہ موبائل کا چارجر لینے بازار گیا ہے۔ بھائی: اچھا۔ وہ آئے تو اس کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس لازمی جانا۔پلیز بھابھی: اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔ بھائی: اگر وہ نہ مانے تو زبردستی لے جانا ۔ میں نے کال بند ہوتے ہی بھابھی کو تھام کر بیڈ پر لیٹا دیا اور خود پاس پڑے اسی چھوٹے تکیے کو بھابھی کی گانڈ کے نیچے رکھتے ہوئے تکیے کو دیکھا جس پر بھائی اور بھابھی دلہا اور دلہن بنے ہوئے مسکرا رہے تھے۔ میں نےلن کو بھابھی کی پھدی میں گھسانے کے بعد پہلے آہستہ پھر طوفانی رفتار سے گھسے مارتے ہوئے آخری دھکوں کے وجہ سے پورا زور لگا کر پورا لن اندر گھسا دیا۔اور ساتھ ہی طوبیٰ کے کندھوں کو پکڑ کر اپنی طرف دبایا جس سے لن اس کی بچہ دانی میں گھس گیا۔۔۔طوبیٰ کیلئے بھی یہ آخری جھٹکا ثابت ہوا اور اس نے پانی چھوڑ دیا۔۔۔ساتھ ہی میرے لن نے منی کی پہلی پچکاری ماری اور پھر مارتا ہی گیا۔۔۔طوبیٰ کی بچہ دانی منی سے بھرنا شروع ہو گئی۔ ہم دونوں ایکدوسرے کی بانہوں میں کافی دیر لپٹے رہے طوبیٰ مجھے پرسکون کرنے کے لیے مسلسل میرے جسم کو سہلاتی رہی جب کہ میرے لن کو طوبیٰ کی پھدی جھکڑے ہوئے تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھائی بھی جانتے تھے کہ وہ باپ صرف میری وجہ سے بنے ہیں وہ اپنا بیٹا اپنی ساس کو پکڑا کر خود مٹھائی لینے کے لیے ہسپتال سے باہر نکل گئے جب کہ میں اور طوبیٰ بھابھی کمرے میں اکیلے رہ گئے۔ طوبیٰ بھابھی ماں بننے کے بعد مزید خوبصورت دکھائی دینے لگی تھیں جبکہ ان کا بھر ابھرا جسم مجھے پھر سے دعوت گناہ دے رہا تھا میری ہوس ناک آنکھیں محسوس کرکے وہ تنک کر بولیں: ایک ہفتہ تو صبر کرلو جان! بھائی بس یہ نہیں جانتے تھے کہ ان کی بیوی اپنا جسم اپنے دیور کو ہر روز ہر رات دے کر اپنا گھر بچا پائی ہے۔ بچپن کی غلطیوں سے انسان کبھی بھی نہیں سیکھتا ۔ یہ کہانی ہر ہزارگھر میں سے دو کی ہے ۔ آج کوئی طوبیٰ کسی دیور کی ہوس کا شکار بنی کل سدرہ بنے گی۔ یوں یہ جنسی کھیل چلتا رہے گا اور یوں ہر مرتبہ صرف عورت ہی مجبور ہوکر دوسرے مردوں کے سامنے ذلیل ہوتی رہے گی۔
  2. aap ki device mein purchased file supported app na honey ki waja se open nahi ho rahi ho gi
  3. aap khud report karien un ko, bal k is story ko delete karney ka bol dain kiyoon k mere liye fil hal mushkil hai
  4. sorry sir mein easy time mein is story ko dobara read karoon ga aur koshish karoon ga k is k theme k mutabiq kuch likhney ki koshish karoon
  5. بہت مشکل ہے دوست کیونکہ میں کام کے سلسلے میں مصروف رہنے کی وجہ سے اس کہانی کے ساتھ ساتھ دوسری کہانی کا اینڈ و دیگر پوائنٹس مکمل طور بھول چکا ہوں۔ میری فیس بک آئی ڈی بھی ڈیلیٹ ہوچکی ہے جہاں مجھے یہ کہانی کسی نے سنائی تھی۔
  6. میں معذرت کرتا ہوں کیونکہ میرا لیپ ٹاپ خراب ہوگیا تھا جس میں سارا ڈیٹا موجود تھا۔ اس لیے میں دوبارہ پرانی کہانیوں پر محنت نہیں کرسکتا۔ معذرت
  7. ایک بار پھر سے پڑھنے کیلئے مجبور ہوگیا ہوں۔ زبردست کہانی
  8. کافی دنوں کے بعد انٹرنیٹ ملا تو پہلے اردو فن کلب کو اوپن کیا لیکن ڈومین تبدیل ہونے کی وجہ سے میں اردو فن کلب کو وزٹ نہ کرپایا۔ کسی دوسری جگہ یہیں کے ایک ممبر نے وہاں کی وی آئی پی ممبر شپ حاصل کرنے کیلئے یہ کہہ دیا کہ اس فورم نے فن کلب و فنڈا کو پچھاڑ کر رکھ دیا۔ میں نے سوچا کہ وہاں جواب دینے کی بجائے یہاں کی صورتحال دیکھ لینا بہتر ہوگا۔ میں آج یہاں آیا تو ڈاکٹر صاحب تو پہلے کی نسبت اور بھی زیادہ خطرناک ہوچکے ہیں۔ نئی اپڈیٹ کا انتظار رہے گا جس میں یاسر پر انکشاف کا جو پہاڑ ٹوٹا اس پر یاسر کا کیا ری ایکشن ہوگا۔
×
×
  • Create New...