Jump to content
URDU FUN CLUB

DR KHAN

Co Administrators
  • Content Count

    6,356
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    1,137

DR KHAN last won the day on February 21

DR KHAN had the most liked content!

Community Reputation

15,560

About DR KHAN

  • Rank
    Best Writer

Profile Information

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

36,851 profile views
  1. یہ پارٹ آنے والے پارٹ کا ایک سلسلہ ہے۔ جلد اندازہ ہو جائے گا کہ کیا ہونے والا ہے۔
  2. جناب کہانی تو میری ہی ہے اور اگر پسند نہیں آئی تو کوشش کروں گا کہ آگے ذرا بہتری لاؤں۔ جو موڑ میں لانا چاہتا ہوں وہ جلد سامنے آئے گا۔ یہ ایک قسم کی تہمید ہے۔
  3. دراصل صفحات کی ترتیب آٹو کی وجہ سے بدل گئی ہے۔ بیس پہلے آنا چاہیے تھا جو اکیس کے بعد میں آ گیا۔
  4. واقعی یہ میری غلطی ہے۔ مجھے ہی نام میں کنفیوژن ہو گئی تھی۔ اگلی اقساط میں درست کر دیں گے۔
  5. چلیں میں ایک بار پھر سے کوشش کرتا ہوں۔
  6. ۔ کہانی کا پہلا حصہ مجھے موصول ہو گیا ہے جو میں یہاں پوسٹ کر رہا ہوں۔واٹر مارک سے کچھ دشواری ہو سکتی ہے مگر کہانی کو چوری ہونے سے بچانے کا ایک یہی طریقہ ہے۔
  7. پہلی اپڈیٹ مجھے سٹوری میکر کی طرف سے موصول ہو چکی ہے۔ باقی وہ جونہی مجھے دیتے ہیں میں ان کو پڑھ کر شئیر کر دوں گا۔ امید ہے آج رات کو ہو جائے گی۔
  8. آپ کا گلہ درست ہے اور سبھی لوگ جو یہ گلہ کرتے ہیں وہ سچے ہیں کہ ہم بامشکل ہی سلسلے منیج کر رہے ہیں۔ بہرحال ایک اور کوشش کرنے کی ٹھانی ہے، ہم نے فورم کے ممبران سے ٹائپنگ میں مدد طلب کی ہے۔دیکھیں اس میں کتنی کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
  9. جناب گناہگار نہ کریں وہ بہت بڑے رائیٹر ہیں۔ ہم تو بس شوقیہ رائیٹر ہیں۔
  10. آج سے اس کہانی کو سٹوری میکر ہی اپڈیٹ کیا کریں گے۔ ہم ان کو آڈیو فائل دیا کریں گے اور وہ اس کو ٹائپ کر کے مجھے بھیجا کریں گے۔ میں اس میں ضروری پروف ریڈنگ کے بعد اس کو فوری پوسٹ کر دیا کروں گا۔ اب اس میں امید ہے کہ کوئی تعطل نہیں آئے گا۔
  11. کہانی یہیں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔جیسے یہ مسیج کیا ہے۔
  12. سب قارئین کا سلام اور جناب ان دنوں تھوڑی سی اونچ نیچ کا اندازہ وہ حضرات لگا سکتے ہیں جو یو کے میں مقیم ہیں۔ کرونا کی نئی قسم سامنے آنے سے اچانک ہی کام اور ڈاکٹروں کی کیسے شامت آ گئی ہے۔ اس سال کے ابتدا ہی میں ہمارا ارادہ پردیس،کھپرو کی ملکہ اور اس کہانی کی اپڈیٹ دینا تھا اور میں ان کو کسی حد تک مکمل کر چکا تھا۔ مگر کچھ حد تک پروف ریڈنگ رہتی تھی۔ ہم نے کہانی لکھوائی تھی یعنی میں وائس دیتا تھا اور ایک دوست لکھا کرتے تھے اور میں اس کو بعد میں غلطیوں سے پاک کرتا تھا اور کئی چیزیں مزید شامل کیا کرتا تھا۔ ان کی ابتدائی کہانی تو مکمل ہے مگر اس میں اتنی غلطیاں ہیں کہ میں ایک پوسٹ یہاں شئیر کر دیتا ہوں آپ خود دیکھ لیجیے کہ کیا وہ پوسٹ کرنے کے لائق ہے؟؟؟ بہرحال سال کے ابتدا میں کرونا اور دیگر مصروفیات کے باعث اچانک ہی مصروفیات دگنی ہو گئیں۔ ان شدید کام کے دباؤ میں میں نے کھپرو کی ملکہ مکمل کر لی ہے اور وہ ایڈمن شائع کر دیں گے۔ پردیس بھی تیس فیصد مکمل ہے، اگلے ہفتے تک وہ بھی مکمل ہو جائے گی۔ چونکہ اس کہانی میں میرے ڈرامے کا بڑا حال ہے تو میں وہی ورژن پوسٹ کر رہا ہوں جو مجھے ابھی درست کرنا تھا۔ میں گزشتہ ۱۴ سال سے کہانیاں لکھ رہا ہوں اور ہزاروں صفحات کی کہانیاں لکھی ہیں۔ کرونا میری زندگی میں اس قدر مشکلات لایا ہے کہ مجھے ملک تک چھوڑنا پڑا اور یوکے میں سیٹل ہونا پڑا۔ یہ کوئی آسان وقت نہیں ہے اور میں بھی ایسی مشکلات اور کام کی زیادتی کا شکار ہوں کہ بتانا بھی ممکن نہیں۔ صرف وہی سمجھ سکتے ہیں جو یہاں رہتے ہیں یا یہاں کسی میڈیکل کی فیلڈ سے منسلک ہیں۔ Without Proof reading میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو میرا کلیجہ منہ کو آ گیا۔وہ وہی وحشی درندہ تھا جس نے مہری کی عزت لوٹی تھی۔ میرا تو رنگ اڑ گیا میں نے اس کو ایسے دیکھا جیسے میں نے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو۔ہالا کے اس نے مجھے پہلے نہیں دیکھا ہوا تھا مگر میں نے اس کو ایک وحشیانہ اور انتہائی غلیظ عمل کرتے ہوئے دیکھا تھا۔اس نے ایک معصوم کمسن لڑکی کے ساتھ دردناک زیادتی کی تھی تھی۔ منہ کھول کر اس کو دیکھ رہا تھا مراد مجھ سے بولا کیا ہوا پتر تیرا رنگ کیوں اڑ گیا ہے۔ میں ہڑبڑا کر بولا ایسی تو کوئی بات نہیں۔ وہ بولا اپنی شکل دیکھ کھ تو تو ایسے ڈر گیا ہے جیسے کوئی بلا دیکھ لی ہو۔ اس کا چمچہ بولا چوہدری صاحب آپ پوری سیٹ تے بیٹھو۔ مراد بولا نہیں نہیں یہ سواری ہے اور اس نے پیسے بھرے ہیں مجھ سے زیادہ حق اس کا ہے۔میں بھولے سے سے اس بس کا مالک ہوں ہو مگر مگر کا ہمارا مہمان اور مالک ہے۔تو بیٹھ جا پتر۔ اسی وقت دو اور عورتیں سوار ہوئی ہوئی اور چوہدری کے دوسری طرف بیٹھ گئی گی۔ان میں سے ایک نے نکاح کیا ہوا تھا جس میں سے اس کی موٹی موٹی آنکھیں چھلک رہی تھی۔اگر میں غلط نہیں تھا تو یہ وہ لڑکی تھی جس کے ساتھ اسد اور فکری نے اجتماعی زیادتی کی تھی اور جس کا بدلہ لینے کے لیے چوہدری نے ماہری میری اور اس کی ماں ماں کے ساتھ گینگ ریپ کیا تھا۔لڑکی کا گورا رنگ رنگ اور چھرا جسم بتاتا تھا تھا نے گانا پیس پسند کیا تھا۔ لڑکی نہ صرف امیر باپ کی بیٹی تھی بلکہ کہ وہ ایک اچھے اور نین نقش کی مالک تھی۔ میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا اور میں سہم کر بیٹھا تھا۔چوہدری کا چمچا بولا ضلع ڈرائیور جیپ ٹھیک کروا کر لے آئے گا۔ مراد بولا ضلع بھی کہے اس کو کہو کہ رات تک گھر پہنچے مجھے حضور میں سیر سپاٹے نہ کرتا پھرے ۔ ساری کہانی مجھے سمجھ آگئی تھی مراد کی جیب خراب ہوئی تھی جس کے بعد وہ اپنی بس میں سوار ہو گیا تھا۔اس بس کمپنی کا نام شام سی ایم ٹی آئی تھا یعنی چوہدری مراد ٹریولز۔ہمارے روٹ پر ان کی بہت ساری بسیں چلا کرتی تھی تھی تھا کہ چوہدری مراد یہ ہے ہے یہ راز اسی وقت مجھ پر کھلا تھا۔ بس چل پڑی اور مراد کچھ دیر بعد مجھ سے بولا لا بد تر ادھر کیا نام ہے تیرا۔ اس کا لہجہ شفقت بھرا تھا اور انداز بھی میٹھا تھا۔اس کا اگر میں نے پچھلا وحشیانہ فعل نہ دیکھا ہوتا عطا تو میں اس کے حسن اخلاق سے ضرور متاثر ہوتا۔اب وہ جتنا بھی میٹھا بن جاتا میری نظر میں وہ ایک ایک وہ سی انسان تھا جس نے بے گناہ ماں بیٹی بیٹی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی تھی اور اپنی بیٹی کی عمر کی بچی بچی کی پھاڑ کر رکھ دی تھی۔ میں نے دھیمی آواز میں اپنا نام بتایا۔وہ بولا ملا تو کام کیا کرتا ہے۔ میں بولا بازار میں میری کپڑے کی چھوٹی سی دکان ہے۔ وہ خوش ہو کر بولا ولا ولے بھائی بلے تو تو کام کرنے والا بچہ ہے۔ورنہ تیری عمر کے لڑکے اس عمر میں میں لڑکیوں کی شلواروں میں زندہ ہوتے ہیں۔ جملے کا آخری حصہ اس نے میرے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا تھا۔ہمارے دیہاتی علاقوں میں اس درجے کی فحش گوئی کوئی بزرگ اکثر نوجوانوں سے کر لیا کرتے تھے۔وہ مسکرا کر بولا ملا تو بہت چپ بیٹھا تھا اس لئے میں نے سوچا da3 سے ساتھ گپ شپ ہی لگا لو میں اب بھی خاموش بیٹھا رہا تو وہ بولا ضلع میری بیٹی کی شادی آنے والی ہے اور میں اس کے لئے کپڑے اور دیگر سامان لینے شہر کیا تھا تھا۔گڈی خراب ہو گئی گیتوں میں اپنی بس پہ چڑھ گیا۔ میں بھلا بندہ ہوں اتنا سفر نہیں ہوتا مجھ سے۔کپڑے تو یہیں سے بھی شاید اچھے مل جاتے مگر بیٹی میری کی پسند ذرا شہری ہے۔ میں بھلے اس ٹائم ڈرا ہوا تھا مگر میں کاروباری بندہ پورا تھا۔ میرے اندر کا دکاندار جھٹ سے بولا مولا ای سا مال ہماری دکان پر مل جاتا ہے جو کالج اور اسکول کی لڑکیاں شوق سے لیتی ہیں ہیں۔ دراصل دیہاتی ماحول میں تیز اور بھڑکیلے کپڑے پسند کیے جاتے ہیں ہیں جبکہ شہری تھوڑے سے سوبر کپڑے پسند کرتے ہیں۔ بس یہی فرق ہوتا ہے ورنہ زیادہ فرق نہیں ہوتا۔ اچانک ہماری گفتگو کو اس کی بیٹی کی مشہور آواز نے نے کاٹا۔ابا جی میں یہی بات تو کر رہی تھی۔کی شو شاہ سے زیادہ کپڑے کا وقار بہتر ہونا چاہیے۔ مراد ہنسا اور بولا اب یہ سالہ وقار کیا ہے۔ میں بولا ملا جو حدری صاحب یہ دراصل کپڑوں کے اندر معتبر اور سنجیدہ دیکھنے کا نام ہے۔ چوہدری بولا مولا اچھا تو کیا تیرے پاس اس طرح کا مال میسر ہے میں بولا ہاں جی کیوں نہیں اور اگر مزید بھی چاہیے ہوگا تو میں آرڈر پر منگوا سکتا ہوں۔ چوہدری بولا لوجی گل بن گئی۔تو مجھے دوکان کا پتا دے دے میں کل ہی بندہ بھیجوں گا google pay app اور اپنا کام جام اٹھا کے گھر آ جانا۔ میں سمجھ گیا کہ چوہدری re پی ٹی آئی کو دوکان پہ نہیں بھیجنا چاہتا بلکہ مجھے دوکان سے گھر بلوا لے گا گا میں بولا بالکل ٹھیک ہے جناب۔ میں پکا بنیا تھا مجھے مہری کے ریپ سے زیادہ سادہ اب یہ چار نظر آ رہا تھا تھا کہ ایک اچھی جیل ہو سکتی ہے ہے۔چند ہفتوں کی دوکان سے غیر حاضری میں جو نقصان ہوا تھا تھا اس کی بھرپائی بھائی مراد کی بیٹی کی شادی میں ہو سکتی ہے۔ اس وقت میرے ذہن میں ایسی کوئی بات نہیں تھی کہ میں چوہدری کی بیٹی سے یا چوہدری سے مہری اور اس کی ماں کا بدلہ لوں گا۔دیکھا جائے تو جو کام چوہدری نے کیا تھا وہی کام ان دونوں کے ساتھ میں بھی کرتا رہا تپھپا ۔ دوسرا میرا تو بدلہ لینا بنتا ہی نہیں تھا تا ایسا مہری کا بھائی یا شوہر تھا تا یا اس کی ماں کا بیٹا تھا۔یہ کام اسد کا تھا کہ وہ مراد کو کو اس کے گناہ کی سزا دیتا۔جب کہ اس کی وجہ سے ہی یہ سب کچھ ہوا تھا۔ اپنے شہر پہنچتے پہنچتے شام ہو گئی۔ پہلے میں نے سوچا کہ میں اپنے پنڈ جاتا ہوں پھر کچھ سوچ کر میں نے ارادہ بدل دیا اور اور میں میں مہری کی طرف چل پڑا۔میں نے جا کر دروازہ بجایا تو دروازہ جدہ مہری کی فلیٹ میٹ نے کھولا۔وہ مجھے اس وقت دیکھ کر کچھ حیران اور کچھ پریشان ہو کر بولی تم اچانک کیسے آگئے۔ میں اندر داخل ہوتے ہوئے بولا بس کچھ دنوں کے لئے شہر سے باہر تھا آج آیا تو سیدھا تم لوگوں کی طرف آ گیا۔ مہری کمرے میں نہیں تھی میں ادھر ادھر دیکھ کر بولا کہا ہے تمہاری دوست۔ ان دنوں شام کو کچھ بچوں کو پڑھانے جاتی ہے۔ میں چونکا کیوں کہ یہ ایک اچھا عمل نہیں تھا مہری کو تو آف یہ رہنا چاہیے تھا ۔وہ کسی بھی وقت ایس ایچ او اور مراد کی نظر میں آ سکتی تھی۔ نصرت فتح علی طور پر بات روم میں گھس گئی۔56 منٹ بات نکلی علی تو اس کے جسم پر صرف ایک چادر تھی۔ وہ مسکرا کر بولی قسم سے پورے تین چار دن ہوگئے ہیں میرا بڑا دل تھا کرنے کا کا مگر نہ جانے بن رہا تھا اور نہ ہی کوئی بندہ مل رہا تھا۔ وہ میری گود میں آ کر بیٹھیں اور میرے ہونٹوں پر انگلی پھیر کر بولی بندا تو تو ایک نمبر کا چکر باز اور گرامی ہے ہے مگر ماننا پڑے گا جب ڈالتا ہے تو چسپاں جاتی ہے ۔ اس کی بات سن کر اور اور ننگا جسم دیکھ کر میرا ویسے ہی تن گیا۔میں بولا تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے اتنے دنوں میں کسی کو دی نہیں ہوگی۔ وہ مصنوعی غصے سے بولی لگتا ہے کہ ان تین چار چودنےوالا ڈھونڈ لیا ہوگا۔ میں بولا ملا یہ تو بڑا لمبا ٹائم ہے ہے لڑکی چاہے تو ایک گھنٹے میں تین چار کیا آٹھ دس فون سکتی ہے ہے اس کے لئے کیا مشکل ہے۔ وہ بولی ایسا تب ہوسکتا ہے کہ لڑکی کی اپنی شرم اور شلوار دونوں کو اتار کر سب کے سامنے رکھ دے ۔لڑکی کے لیے شلوار اتارنا اتنا مشکل نہیں ہے جتنا اپنی شرم اتارنا مشکل ہے۔تمہارے سامنے میری شلوار اور میری شرم دونوں اتری ہوئی ہے اس لیے مجھے فرق نہیں پڑتا۔میں نے سوچا کہ مہری کے آنے سے پہلے پہلے کم از کم میں تو تم سے کروا لو۔ میں ہنس کر بولا مولا میری بات کا برا مت منانا نا مگر تم اور تمہاری پھودی دونوں ایک جیسی ہو۔وہ بھی تمہاری طرح بہت گرم اور بہت ہی زیادہ مزے لینے کی خواہش رکھتی ہے۔ وہ خاموش ہوگئی اور سنجیدگی سے بولی علی دی کھو مجھے بار بار میری پھوپھی یاد مت دیا کرو ۔اب تو خاص طور پر بالکل مت اس کا ذکر کرنا۔ میں بولا اب کیا ہوا ایسا کہ اس کا ذکر بھی کرنا تم کو پسند نہیں ۔ وہ بولی ملی بس پھر کبھی بتاؤں گی اس نے ہمارے ساتھ بہت برا کیا ہے مگر اس کو سبق بھی اچھا ملا ہے کہ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ تم میرا وقت ضائع نہ کرو زیادہ وقت نہیں ہے ہمارے پاس۔ وہ بستر پر سیدھی لیٹ گئی اور چادر ہٹا دی۔وہ باتھ روم میں اپنی ی خودی کے بعد صاف کرنے گئی تھی۔میں نے بھی اپنی شلوار اتاری اور اس کے اوپر پر چڑھ گیا۔اس نے ٹانگیں پوری کھول دیں تاکہ وقت ضائع کئے بغیر میں اس کے اندر ڈال دو۔وہ جلد از جلد دلوانا چاہ رہی تھی اسی لئے اس نے پہلے ہی پورے کپڑے اتار لیے تھے اور ٹانگیں کھولی تھیں۔ میں نے اس کے ہونٹوں کو بعد میں جمعہ ماہ پہلے اس کی کی میں ڈال دیا۔اس نے زور سے سٹی بھری اور بولیں بلی میں ترس گئی تھی اس ہلکی سی چبھن اور درد کے لیے۔میں اس کا منہ چومنے لگا اور اس کی اور میری زبان ایک دوسرے سے ٹکرانے لگیں۔میں آرام آرام سے سے جھٹکے لگا رہا تھا ۔ جھٹکے لگاتے لگاتے دو چار بار میں نے اس کے نپل بھی منہ میں لے کر چوس سے اور اپنی رفتار کبھی کم کبھی تیز کرتا۔کرتے کرتے اس نے اپنی ٹانگیں میری کمر سے لپٹا لیں تاکہ فل اندر تک جا کر ٹکرائے۔وہ بیٹھی ہوئی بوجھل آواز میں بولی قسم لے لو جب سے تم گئے ہو میں نے ایک بار بھی نہیں ڈلوایا۔اب تم کو دیکھتے ہیں ہیں پانی بھر گیا تھا۔اسی لیے میں نے جلدی جلدی بال صاف کیے تاکہ تم سے سے کروا کے کے کچھ تو سکون لو۔ میں نے رفتار تیز کر دی اور اس کی آواز ہلکی ہلکی سی کمرے میں گونجنے لگی۔ وہ مزے لے لے کر کر جب بے حال ہو جاتی تو مجھے مزید لپٹ کے ادھر ادھر چومتی اور میری گردن پہ ہلکا ہلکا سا دانتوں سے کاٹ دیتی۔وہ بار بار مجھے لپٹاتی اور کئی بار میرے ننگے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر مجھے اور اندر دباتی۔ جب وہ لطف میں تھی تو دوبارہ سے سسک کر بولی بلی میری پھوپھی کا کوئی قصور نہیں نہیں تو جوتا ہی بڑا ظالم ہے۔ جتنی لڑکیاں میں نے چودی تھی اب بھی اگر مجھے چودنا نہ آتا تو کب آتا۔سیڑھیوں پر قدموں کی آہٹ ابھری تو ہم دونوں الگ ہوگئے۔وہ بھاگ کر باتھ روم میں گھس گئی جب کہ میں شلوار کا ناڑا باندھنے لگا۔ دروازے پر حسب توقع ماہی ہی تھی۔وہ مجھے دیکھ کر چونک گئی ابھی اور بے ساختہ میرے گلے لگ گئی۔وہ کسی سیاسی اور ترسیل لڑکی کی طرح مجھے جا بجا چومنے لگی اور اس نے مجھے سینے سے لگا کر کر اپنی کمر دیوار سے لگا لیں علی اور خود ہی اپنی ٹانگیں کھول دیں۔آٹومیٹک کی میرا کھڑا ہوا لیکن اس کی کی پھودی سے رگڑ کھانے لگا۔ وہ مجھے پاگلوں کی طرح نہ جو سستی اور چومنے لگی۔اس نے ابھی تک ایک بھی لفظ منہ سے نہیں نکالا تھا بس مجھے جا رہی تھی اور اپنی کمر ہلا ہلا کر کر اپنی خودی سے مسل رہی تھی۔میں نے اس کو کو بازوؤں میں اُٹھا کر کر چارپائی پر لیٹا دیا اور اوپر لیٹ گیا۔اس نے ٹانگیں کھول لی اور میرے گرد لپیٹ لیں۔بس چند منٹوں پہلے یہ یہی سین تھا مگر اس وقت نیچے ملاحت تھی تھی اور اب ماہی تھی۔ملاحت ننگی تھی اور ماہی مکمل کپڑوں میں تھی۔ورنہ باقی سب کچھ ایک جیسا تھا۔ میں درمیان میں روکا اور پہلا لفظ بولا میرا ماہی رک جاؤ کہیں ملاحت نہ آجائے۔ بکھری ہوئی سانسوں میں بولی آنے دو جس کو آنا ہے۔مجھے جس کا انتظار تھا وہ آ چکا ہے اور میرے اوپر ہے۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر میرا لنڈ پکڑا اور اور خود ہی میرا ناڑا کھول کر باہر نکال لیا۔ایسا اس نے پہلی بار کیا تھا جب سے میں اس کو چودنے لگا تھا۔وہ بڑی نخریلی اور پڑی ہیں ہیں مشکل سے سے نیچے لیٹنے والی والی لڑکی تھی جس نے مجھے دینے کے بعد بھی نخرے کر کے دی تھی۔اب وہ خود میری شلوار میں سے لن نکال کر بنا ملاحت کی فکر کیے ہوئے یے اندر لینے کو بیتاب تھی۔ اس نے ٹانگوں کو اٹھا کر اپنی ہی چھاتی سے لگایا یا اور شلوار ایک فٹ نیچے کر دی۔گھٹنے اور شلوار سینے سے لگ گئی گی اور پھٹی کے پھیلے ہوئے لب میری طرف ہوگئے۔ اس کی گلابی اور پھولی ہوئی خودی دیکھ کر مجھ سے بھی رہا نہ گیا۔ میں نے جھٹ ک اپنالن اس کے اندر گھسا دیا۔اس کے منہ سے سے ہلکی سی آہ نکلی اورلن بڑی سخت سے رگڑ کھاتا ہوا اندر گھس گیا۔ماہی میری زندگی کی سب سے پہلی سحری اور کسی ماڈل کی طرح حسین اور خوبصورت لڑکی تھی۔کبھی میں خواب میں بھی اس جیسی پیاری اور گوری چٹی لڑکی کی پھودی مارنے کا کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔مگر اب اب اس کے علاوہ بھی بھی نہ جانے کئیوں کو جو چکا تھا۔ ماہی کے اندر پورا گھس چکا تھا تھا اور میں نے زور بھی لگایا۔اس نے پہلے جھٹکے کے ساتھ ہی اپنا منہ کھول کر کر میرے ہونٹوں کو منہ کے اندر گھسا لیا۔وہ کسی جنگلی بلی کی طرح مجھے چوستی ہوئی بولی؛مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی آتا ہے یا مجھے مجھے تم سے کرتے ہوئے دیکھتا ہے تم بس میری پیاس بجھا دو۔ ایسی باتیں سن کر بندے کا ویسے ہی ٹائٹ ہو جاتا ہے ہے۔اور اگر ایسی باتیں لڑکی لنڈ ڈلوا کر کر رہی ہو تو سونے پہ سہاگہ والی بات ہے۔اس کی ٹائٹ ڈ میں زوردار دھکے لگاتے ہوئے اوئے مجھے یہ تو سمجھا گیا تھا تھا کہ ملاحت اور اور ماہی کے درمیان ان دوستی کا درجہ بے تکلفی کی ساری حدیں پار کر چکا ہے۔اس لیے ماں ہی کو کو اس بات کی بھی پرواہ نہیں ہے ہے کہ ملاحت خاتون سے نکل کر کر مجھے دیکھ لے گی۔یقینا دونوں لڑکیوں کے ایک دوسرے کے سامنے نے راز کھل چکے تھے اور ایک دوسرے کی شرم کے ساتھ ساتھ ہاتھ بقول ملاحت کے شلوار بھی اتار چکی تھی۔ میں ماہی کو سالوں سے جانتا تھا مگر میں نے اس کے اندر اس درجے کی بے شرمی اور بے باقی نہیں محسوس کی تھی۔کچھ ہی دنوں میں وہ کیا سے کیا بن گئی تھی۔اب پتا نہیں یہ میری غیر موجودگی میں میرے لئے اس کی جنسی طلب تھی یا اس کی محبت اور بے قراری تھی۔پہلے بھی کئی کئی دن کے وقفے سے میری اور اس کی ملاقاتیں ہوتی تھی تو میں بھی اس نے کبھی اس قسم کی جنسی بھوک کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔حالانکہ ہر دفعہ ایسا ہوتا تھا کہ وہ اور میں گھر پر اکیلے ہوتے تھے۔یہاں تو ملاحت کسی وقت بھی غسل خانے سے نکل سکتی تھی۔تھی کہ ملا حضرات بھی اس دوران شامل ہو جائے۔اور میرے درمیان اس عمل میں شامل ہو جائے گی۔ساتھ تعلق ہے اور ملاقات ایسی کوئی کوشش نہ کرے۔ جو بھی تھا ماہی کی کتنے دنوں بعد ملی تھی اور اس کی بے تابی نے مزہ دوبالا کر دیا تھا۔میں بھی پورے جوش سے دھکّے لگانے لگا۔پتا تھا یہ کہہ کر وہ واپس خانے میں گھس گئی۔میں نے بھی ہر بڑھاکر ماہی سے دور ہونے کی اداکاری کی۔ماہی مجھ سے بولی تم تو ایسے شرما رہے ہو جیسے کوئی لڑکی کرواتے ہوئے پکڑی گئی ہو جب میں نہیں شرم آرہی تو تم کیوں شرم آ رہے ہو۔ میں بولا کسی انجان لڑکی کے سامنے ننگا ہوتے ہوئے مجھے شرم تو آئے گی۔ ما ہی معنی خیز انداز میں بولی اچھا میرے سامنے تو کبھی نہیں فرمائے آئے نہ خود ننگے ہوتے ہوئے اور نہ مجھے ننگا کرتے ہوئے۔ میں بولا تمہاری بات الگ ہے تمہارے ساتھ میرا ایک تعلق بن گیا تھا اس کے بعد یہ سب ہونا عین فطری اور قدرتی بات ہے ہے ہے۔ وہ اٹھتے ہوئے بولی اچھا چلو ٹھیک ہے رات کو ہی رکھو گے یا جاؤ گے۔ میں بولا آج رات تو یہی رکھوں گا کل صبح ہی جاؤں گا۔ وہ شلوار اوپر کرتے ہوئے بولی چلو پھر رات کو کریں گے۔ میں ازاربند مانتے ہوئے بولا تم کو کیا ہو گیا ہے ماہی تم تو بالکل بدل گئی ہو۔ وہ بولی بس میں نے یہ سوچ لیا ہے کہ زندگی اور موت کا کوئی پتہ نہیں۔ایک دن میں ایک پاکیزہ کنواری دو شہزادی تھی میری عزت نہ جانے کتنے لوگوں کے سامنے لوٹ لی۔ اس گناہ کے لیے جو میں نے کیا ہی نہیں تھا جس کا مجرم میرا بھائی تھا۔ میں دکھی انداز میں بولا اس واقعے کی یاد نہ کرواؤ مجھے لگتا ہے اس میں میرا بھی گناہ تھا۔مجھے کچھ نہ کچھ کرنا چاہیے تھا۔ درندوں کے پاس چھوڑ دیا اور خود فرار ہوگیا۔ میں ماہی کو کیا بتاتا کہ آج اسی حرامزادے اور درندے سے میری ملاقات ہوئی ہے۔ ملاحت نے غسل خانے کا دروازہ اندر سے نوکیا یا تو ماں ہی بولی آجاؤ باہر۔ وہ انگلی اٹھاتے ہوئے ایسے نکلیں جیسے ہم نے اسے کرواتے ہوئے دیکھ لیا۔ وہ بولی سوری مجھے نہیں پتا تھا کہ تم دونوں ایسی پوزیشن میں ہو۔ ما ہی بولی بس یار تم تو سمجھتی ہوں تم بھی محبت کر چکی ہوں میری طرح تم جانتی ہو کہ جب محبوب اتنے دنوں بعد ملے تو بے تابی کس نہج پر ہوتی ہے ۔ ملا حکمت سے نظریں نہیں ملا رہی تھی اور شرمندہ ہونے کی بڑی بھرپور اداکاری کر رہی تھی۔وہ شرمندہ شرمندہ لہجے میں بولی پھر بھی مجھے یہ خیال ہی نہیں آیا کہ تم دونوں مل کر چلو چھوڑو اس بات کو۔بھائی آپ کھانا کھائیں گے۔ اشکے صرف دو چار منٹ پہلے ماہی کی بجائے اس کے اندر میرا لنڈ اترا ہوا تھا اور اب اس نے مجھے بھائی بنا لیا تھا۔میں نے صبح کا ناشتہ کیا تھا اور اب تو پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے میں بولا ہاں مجھے بہت بھوک لگی ہے۔ ملاحت بولی پہلے آپ نہا کر فریش ہو جائے بیت کچھ کرتی ہو۔ میں غسل خانے میں گھس گیا اور لڑکیاں کھانے پینے کا انتظام کرنے لگیں۔میں باہر نکلا تو دونوں ایک دوسرے سے ہنسی مذاق کر رہی تھی میں سمجھ گیا کہ ملاحت ماہی کو چھیڑ رہی تھی۔کر سکے اور مجھ پر ڈورے ڈالنے کی کوشش کرے۔
  13. مجھے جناب وعدہ بھی یاد ہے اور میں اس کو نبھاؤں گا بھی۔
×
×
  • Create New...