Jump to content
ALL SEX SECTION WILL CLOSED IN RAMADAN ×
URDU FUN CLUB

DR KHAN

Co Administrators
  • Content Count

    6,824
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    1,167

DR KHAN last won the day on April 17

DR KHAN had the most liked content!

Community Reputation

15,955

About DR KHAN

  • Rank
    Best Writer

Profile Information

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

41,815 profile views
  1. میں کم و بیش دس سال سے لکھ رہا ہوں اور اب ایسا لگتا ہے کہ لکھنے کا مزید کوئی فائدہ نہیں ہے۔ میں ایک انتہائی مصروف انسان ہوں کیونکہ بےشمار پیشہ ورانہ مصروفیات ہیں مگر ایک سلسلہ اور لکھنے کا جو رشتہ بنا تھا، اس کو قائم رکھنا میں نے خود پہ ازخود فرض کر رکھا تھا۔ ہونے یہ لگا ہے کہ اتنی محنت اور اپنے آرام کے لیے مختص وقت سے گھڑیاں چرا کر جب میں کچھ لکھتا ہوں تو وہ ڈیٹا چوری کر کے دوسرے ممبران کو بیچا جاتا ہے۔ اب تو خود مجھے بھی بیچا جانے لگا کہ میں خرید لوں اگر پڑھنا چاہوں تو۔ ایسی چوری روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ لکھنا ہی بند کر دیا جائے۔ان لوگوں کو جب نیا کچھ ملے گا نہیں تو کہانی آگے کیسے بڑھے گی؟ یوں ایک نہ ایک دن ان کا چرایا ڈیٹا بےسود ہو جائے گا۔ میں اس فورم کے لیے لکھ رہا ہوں اور لکھتا رہوں گا بس شئیر نہیں ہوگا جب تک کہ ہمیں ایس ممبران نہیں مل جاتے تو اردوفن کلب کے سب سے قریبی رفقا ہیں اور وہ ایسے چوری ڈیٹا کی بجائے یہیں پہ کہانیاں پڑھنا پسند کرتے ہیں۔تمام نیا ڈیٹا انہی سے شئیر کیا جائے گا۔ شکریہ
  2. کرونا وائرس اس وقت پوری دنیا میں کرونا وائرس کو عالمی وبا کا درجہ دیا جا چکا ہے۔ کرونا وائرس سے ہزاروں کی تعداد میں اموات ہو چکی ہیں۔ پاکستان میں بھی کرونا وائرس آ چکا ہے اور بدقسمتی سے ہم اس سے متاثر ہونے والے ممالک میں سرفہرست رہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ عوام میں سنجیدگی اور شعور کا فقدان ہے۔ یہ تھریڈ اس لیے شروع کیا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے متعلق معلومات کو یہاں شئیر کیا جائے تاکہ سبھی لوگ اس سے رہنمائی حاصل کر سکیں اور اپنے بچاؤ کی کوشش کریں۔ کرونا وائرس ایک وائرس ہے اور دنیا میں وائرس کی کوئی دوا نہیں ہوتی۔ وائرس کے خلاف جسم میں قدرتی طور پہ قوت مدافعت ہوتی ہے اور جسم خود سے اس سے صحت یاب ہو جاتا ہے۔ وائرس کے خلاف صرف ویکسین تیار ہوتی ہیں جن میں وائرس کمزور،غیر فعال یا مردہ حالت میں ہوتے ہیں۔ ان کو جسم میں داخل کیا جاتا ہے، یہ جسم کو وائرس کے لیے تیار کرتے ہیں اور بیماری آنے سے قبل ہی جسم کو بیماری کے خلاف اینٹی باڈیز بنانے پہ مجبور کرتے ہیں۔ چونکہ یہ کمزور،مردہ یا غیر فعال ہوتے ہیں تو بیماری نہیں پیدا کرتے۔ کرونا کا وائرس بھی ایسا ہی ایک وائرس ہے جو کہ کم و بیش ایک سو سال سے پایا جاتا ہے اور ہمیں فلو جیسی علامات سے دوچار کرتا ہے۔ جس سے ہم صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ وائرس بھی باہمی اختلاط سے اپنی ہیت تبدیل کرتے ہیں اور ان کے خلاف موثر پچھلی تمام اینٹی باڈیز غیر موثر ہو جاتی ہیں۔ جسم میں ان کے خلاف کوئی قوت مدافعت نہیں ہوتی تو جسم صحت یاب نہیں ہو پاتا۔ کرونا وائرس کیسے پھیلتا ہے؟ خوش قسمتی سے کرونا وائرس ہوا میں نہیں ہوتا،کم ازکم ابھی کی تحقیق سے یہی ثابت ہوا کہ کرونا رابطے سے پھیلتا ہے۔ رابطہ یعنی وائرس جسمانی رابطے سے ایک فرد سے دوسرے کو منتقل ہو، ہاتھ ملانے،چھونے یا بیمار شخص کے لعاب،کھانسی یا چھینک کے چھینٹوں سے یہ ایک فرد سے دوسرے کو منتقل ہو جاتا ہے۔ ایک متاثرہ شخص سے ہاتھ ملانے سے وائرس ایک ہاتھ سے دوسرے تک چلا جاتا ہے۔اگر ہاتھ کو دھو لیا جائے،قبل اس کے ہاتھ کو منہ ،ناک یا آنکھ تک لے جایا گیا ہو تو وائرس کا پھیلاؤ رک جاتا ہے۔ اسی طرح ایک متاثرہ شخص کی کھانسی کو اگر ماسک سے ڈھانپا ہوا ہو تو بھی وائرس منتقل ہونے سے بچ جائے گا۔ یہ کام کیونکہ مشکل ہے کیونکہ متاثرہ شخص کھانس کر یا چھو کر ہر چیز کو وائرس زدہ کر دے گا اور ان چیزوں کو جو جو چھوئے گا وہ بھی اس وائرس کو منتقل کر لے گا۔ اسی لیے سماجی رابطے سے گریز ہی اکلوتا حل ہے۔ جو جو فرد اپنے اندر کرونا والی علامات محسوس کرے وہ خود کو اکیلا کر لے تاکہ اس کی ترسیل کا باعث نہ بنے۔ جب سانس لینے میں دشواری محسوس ہونے لگے تو اس کا ٹیسٹ کروائیں۔ ہر انسان دن میں بار بار ہاتھ دھوئیں، ہاتھوں کو بیس سیکنڈ تک ملیں تب پانی بہائیں۔ہاتھوں کو منہ،آنکھ اور ناک سے دور رکھیں۔ سینی ٹائزر کا استعمال کریں۔ اگر دستیاب نہ ہو تو ڈیٹول،صابن،سرکہ اورسپرٹ کو مکس کر کے بنا لیں۔ سینی ٹائرز سے ہر اس سطح کو صاف کریں جہاں آپ کے ہاتھ لگتے ہوں جیسے دروازے کا ہینڈل، گاڑی کا سٹیرنگ،ہینڈل،گئیر اور دیگر ہر وہ جگہ جس پہ ہاتھ لگتے ہیں۔ عمومی طور پہ وائرس کسی سطح پہ زیادہ دیر یعنی چند منٹوں سے گھنٹوں تک ہی زندہ رہ پاتا ہے تو ایسی چیزوں کو بھی سینی ٹائزر سے صاف کریں۔ ہم ایک گنجان آباد ملک کے باشندے ہیں،اس لیے جہاں تک ممکن ہو خود کو اکیلا کر لینے ہی سے بچت ممکن ہے۔باہر سے آتے وقت ہاتھوں کو دھوئیں،جس جس چیز کو چھوا ہے،اس کو سینی ٹائز کریں، جو سامان لائے ہیں، اس کو صاف کریں۔بچوں کو چھونے سے گریز کریں۔بزرگوں سے فاصلہ کریں،ان کو محفوظ رکھیں۔ اجتماعات سے سختی سے گریز کریں۔ اس سلسلے میں کوئی سوال ہو تو یہاں پوچھ سکتے ہیں۔
  3. مجھے ایک سے زیادہ بار موقع ملا تھا سیکس کرنے کا مگر میں نے ہر دفع کسی نہ کسی وجہ سے اجتناب کیا۔ قریب قریب ہر بار فرنچ لڑکیوں سے ہی کرنے کا موقع ملا مگر میں نے خاص کوشش نہیں کی۔
  4. میں ایک بار اٹلی کے شہر میلان کے ایک ہوٹل میں رکا ہوا تھا۔مجھے صبح کی ٹرین پکڑ کر برشیا جانا تھا۔ میں نے ہوٹل کے کاؤنٹر پہ کہا ہوا تھا کہ مجھے ٹرین سٹیشن تک کے لیے کوئی کیب ارینج کر دیں۔ مجھے سات بجے جانا تھا اور اس لیے میں ناشتہ کرنے ڈائننگ ہال میں ساڑھے چھ بجے ہی آ گیا۔ ہال ابھی خالی تھا اور ناشتہ سرو ہو رہا تھا۔ میں نے بس ابلے انڈے، سیب اور دہی کا ایک پیک لے کر چائے بنا کر ناشتہ شروع کر دیا۔ وہاں ایک چائنیز لڑکا تھا جو رات کی شفٹ میں ہوتا تھا اور دن کو چلا جاتا تھا۔ اس نے مجھے جاتے جاتے سرگوشی میں کہا کہ سر اگر یہاں یا برشیا میں کمپنی چاہیے تو بتائیے گا۔ میں نے حامی بھر لی کہ بتاؤں گا۔اس کا نمبر میں نے لے لیا۔ میری پاکستانی سم پہ صرف واٹس ایپ چلتا تھا۔ رات کو میں نے اس کو میسج کیا تو اس نے مجھے کم و بیش دس کے قریب لڑکیوں کی نیوڈز بھیج دیں۔ ساتھ ہی کچھ کے نمبر بھی کہ ان سے بات کر لو اور طے کرلو کہ آپ کو جانا ہے کہ ان کو بلانا ہے۔ میں نے خاصا دھیان نہ دیا تو اسے لگا کہ مجھے لڑکیاں پسند نہیں آئی ہیں۔ میں واپس قطر آ گیا تو اس لڑکے کی مجھے کال آئی اور دوسری طرف ایک نسوانی آواز اردو بلکہ ہندی لب و لہجے میں بولی کہ سر! آپ کے پاس وقت ہو تو میں آ سکتی ہوں۔اس نے چند باتوں کے بعد مجھے اپنا نمبر دیا اور میں نے یونہی مول تول کیا حالانکہ میں واپس بھی آ چکا تھا۔ تو اس نے مجھے کہا کہ سر میں کال گرل نہیں ہوں بس یہاں سٹوڈنٹ ہوں اور کچھ جابز کرتی ہوں۔ آپ کا معلوم ہوا اور واٹس ایپ پہ تصویریں دیکھیں تو سوچا کہ کچھ ٹائم ساتھ گزار لوں گی اور کچھ میری فنانشل ہیلپ بھی ہو جائے گی۔ آپ مجھ سے ضرور ملنا۔ میں نے ایک دو دن بعد اسے بتا دیا کہ میں مل نہیں سکا اور خواہش کے باوجود اس سے ملاقات نہیں ہو سکی۔حالانکہ یہ درست نہیں تھا کہ کیونکہ اس سے بات ہی تب ہوئی جب میں واپسی کی فلائٹس پہ تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ خاصی مایوس ہو گئی ہے۔ اس نے تصویر نہیں بھیجی مگر ایک بار دو چار منٹوں کے لیے ویڈیو کال کی ۔ وہ سانولی ہندوستانی لڑکی تھی جو گزارے لائق خدوخال کی مالک تھی۔
  5. آپ دونوں کوشش کریں تو کہانی لکھ سکتے ہیں۔ زیادہ کچھ نہیں کرنا بس واقعہ لکھنا ہے اور اس کو ری شیپ کرنے میں میں مدد کر دوں گا۔ اس طرح فورم کا اپنا ایک سٹوری بنک بن جائے گا اور نئے رائیٹر بھی سامنے آئیں گے۔
  6. یہ واقعہ سنہ 2012 کا ہے۔ میں لاہور میں تھا کہ ایک بار ایک لڑکی سے فیس بک سے رابطہ ہوا۔ اس نے اپنے متعلق کئی باتیں بتائیں جو کہ درست نہیں تھیں، یہاں تک کہ نام بھی درست نہیں تھا۔ خیر، وہ کہانیاں پڑھتی تھی اور سیکس کہانیوں کی بھی فین تھی۔ اس دور میں میں نے کافی کہانیاں لکھی تھیں مگر ان میں سے اکثر وہ نہیں پڑھ پاتی تھی کہ کیونکہ وہ فورم پہ آن لائن نہیں ہوتی تھی اور گیسٹ کے طور پہ ہی پڑھتی تھی۔اس کی پسند بھی عجیب تھی، اسے یا تو ایک لڑکے کے ساتھ تین چار لڑکیوں کا سیکس پسند تھا یا پھر نیند میں سیکس کہ لڑکا سویا ہوا ہو اور لڑکی اس کو بلوجاب کرے اور کروا لے اور اسے خبر تک نہ ہو کہ اس کا کوئی لے چکی ہے۔ اس نے مجھے اپنا نمبر اور ایک وقت دیا جس وقت اسے کال کی جا سکتی تھی۔ وہ روز ڈھائی سے تین بجے کے قریب ہوتا تھا۔ اس کے بعد اگر اس کے پاس چانس ہوتا تو وہ بیل دے دیتی اور میں کال کرتا۔ وگرنہ اس کی طرف سے سختی سے کال نہ کرنے کو کہا گیا تھا۔ وہ قریب قریب تمام وقت سیکس کے متعلق ہی باتیں کرتی اور سیکس کے متعلق اپنے اور دیگر لڑکیوں کے سوالات پوچھتی تھی۔اس نے مجھے اپنا شہر لاہور بتایا جبکہ وہ اوکاڑہ کی رہنے والی تھی۔ملنے کا پلان بنا تو بات کھل گئی کہ وہ لاہور کی نہیں ہے۔خیر، میں نے یہ کہا کہ میں اسے وہیں مل لوں گا۔ پلان بنا اور میں لاہور سے اوکاڑہ گیا۔اسے پک کیا اور جب وہ گاڑی میں سوار ہو گئی تو وہ بامشکل سولہ سال کی تھی۔جبکہ میں اس وقت اٹھائیس برس کا تھا اور دیکھا جائے تو اس کے ساتھ سیکس کرنا اسے مارنے کے برابر تھا۔ بہرحال وہ تیار تھی، ساہیولا میں ایک ہوٹل کا میں نے ایک دوست کی توسط سے انتظام کیا ہوا تھا۔ اسے وہاں لے گیا اور کپڑے اتارے تو مزید راز یہ کھلا کہ وہ کچی کلی ہی تھی۔بالکل ہی نابالغ جسم تھا اس کا،بریسٹ نہ ہونے کے برابر اور پھدی بالکل ہی کسی ہوئی۔ مجھے معلوم تھا کہ اگر میں نے سیکس کیا تو اس کی برداشت سے باہر ہو گا۔کچھ لڑکیاں کمسن ہونے کے باوجود اچھی اٹھان کی مالک ہوتی ہیں ،وہ کمسن تھی تو اور بھی بچی لگتی تھی۔ بہرحال کس اور بلوجاب کے بعد اس کو واپس چھوڑ دیا۔دوبارہ نہ اس سے کبھی ملاقات ہوئی اور نہ ہی میں نے زیادہ رابطہ رکھا۔ معمولی سا رابطہ ہے اس سے اب تک۔ اکثر کہتی ہے کہ مجھے یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ میں کس قدر بےوقوف تھی اور سیکس کروانے کے لیے مری جا رہی تھی۔ اس کی برہنہ تصویریں اور ویڈیوز بھی تھیں میرے پاس جن کو اس نے بڑے شوق سے بنوایا تھا۔اس نے اس کے بعد دو بار سیکس کروانے کی کوشش کی، مگر دونوں بار بڑی مشکل سے موقع ملا اور لڑکا بنا اندر گھسایا فارغ ہو گیا۔ اس کا شوہر بھی کچھ ناکام کوششوں کے بعد بڑی مشکل سے داخل کر سکا اور اس کے بعد بھی اس کو ڈاکٹر کو دکھانا پڑا۔ اس کی خاصی تنگ تھی اور مشکل سے گھستا تھا۔شادی کے تین چار مہینوں بعد جا کر وہ باآسانی سیکس کے قابل ہوئی۔ابھی سال پہلے ہی اس کی شادی ہوئی اور شادی کے وقت تک وہ کنواری ہی تھی۔ اس فورم پہ بھی آئی ڈی بنائی تھی مگر پھر ان ایکٹو ہو گئی۔
  7. ایک بار میں فلائیٹ میں تھا اور میں نے بورڈنگ کارڈ فل کرنا تھا۔ مجھ سے ساتھ والی سیٹ کی خاتون نے بال پوائنٹ مانگا۔ اس طرح اس سے بات چیت ہونے لگی۔ وہ این سی اے میں تازہ تازہ ٹیچنگ اسسٹنٹ لگی تھی اور ماسٹرز بھی ساتھ ساتھ کر رہی تھی۔ لڑکی مناسب تھی یعنی زیادہ خاص نہیں تھی بس رنگ صاف تھا اور جسم وزنی تھا۔ اسے باقاعدہ فربہی مائل کہہ سکتے ہیں۔ میں نے اس سے ہنسی مذاق کیا تو اس نے مثبت جواب دیا تو میں نے خاصا زیادہ ہی کر لیا۔اس سے اچھا خاصا فلرٹ کر لیا۔ کراچی ائرپورٹ پہ میں نے اسے کافی کی آفر کی تو وہ بولی کہ اپنا بل میں دوں گی۔ میں نے کہا کہ میرا بھی بھلے دے دو، مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ واپسی پہ میں نے اسے کھانے پہ انوائیٹ کیا۔ رسمی انکار کے بعد وہ کہنے لگی کہ بتاؤں گی۔ میں واپس آ کر اسے بھول بھال گیا کہ وہ ایک دن میرے دفتر پہنچ گئی۔اس کے بعد اس کے ساتھ کبھی کبھار ملاقاتیں ہونے لگیں۔ ایک بار وہ اور میں دیر رات کھانا کھا کر نکلے تو اس نے کہا کہ ہوسٹل جانے میں دیر ہو گئی ہے تو میں اپنے گھر لے آیا۔ اس نے کچھ ہچکچاہٹ تو دکھائی مگر مان گئی اس پہ بھی۔ راستے ہی میں میں نے ایسی باتیں بھی کر دیں کہ رات کو میں سونے نہیں دوں گا یا صبح تک پیار کروں گا۔ گھر پہنچ کر میں نے خوب فورپلے کیا اور اتنا کیا کہ وہ ایک موقع پہ بول بیٹھی کہ اس کی شلوار گندی ہو گئی ہے اور اسے عجیب سی الجھن ہے، وہ نہانا چاہتی ہے۔ وہ شاور میں گئی تو میں بھی اس کے پیچھے چلا گیا۔ اس نے بڑا ہی مزیدار سا سیکس کیا۔ اس نے ایک بار ہی دوبارہ سیکس کیا پھر رابطے میں تو رہی مگر سیکس پہ کہہ دیتی کہ نہیں مجھے بہت عجیب سا لگتا ہے کہ بنا شادی کے کرنا۔ اس سے پہلی بار کرنا تو مشکل نہیں تھا دوسری بار کرنا مشکل ثابت ہوا۔ اس کی شادی ہو جانے تک وہ رابطے میں رہی۔
  8. اس کا میں تفصیل سے ایک تھریڈ میں ذکر کر چکا ہوں۔ دوبارہ یہاں بھی ری پوسٹ کر دیتا ہوں۔ سیکس تو موجود ہے اور مگر اس تک رسائی ہر انسان کی مختلف ہے۔ عمر،علاقے،طبقے،شہر،حالات،صنف،روٹین،کام،شخصیت ،معلومات،تجسس ،تجربے کے فرق کی بنا پر ایک کے اعدادوشمار دوسرے سے میل نہیں کھائیں گے۔ ہر ایک پوائنٹ کو الگ الگ بیان کرتا ہوں تاکہ تناسب والی بحث یہاں ختم ہو جائے اور تناسب کو چھوڑ کر ہم بہتر چیزوں پر گفتگو کریں۔ عمر: جیسا کہ پہلے بتایا کہ ہر انسان کی عمر کے فرق کی بنا پر اسے سیکس کی معلومات مختلف ہوں گی۔ ٹین ایجرز کو اپنی ایج کے سارے افئیرز کا پتا ہو گا۔ میچور بندوں کو اپنی عمر کے لوگوں کی بےراہروی کا بہتر پتا ہو گا۔کون سی لڑکی سکول کی سب سے کرپٹ ہے یہ بچوں کو پتا ہو گا،ان کے والدین کو نہیں۔اسی طرح محلے کی کونسی عورت خراب ہے یہ ماں باپ کو بہتر پتا ہو گا۔ علاقہ: مختلف علاقوں،مختلف محلوں میں رہنے والے لوگوں کے فرق کی بنیاد پر سیکس کرنے والوں کی تعداد میں واضع فرق ہو سکتا ہے۔ایک محلہ ہے کہ جس میں اکثریت مذہبی پیروکار ہیں تو وہاں صورتحال اور ہو گی،بجائے اس کے کہ ایک علاقے میں ہرقسم کی کاروائی چلتی ہوں اور اہل محلہ آنکھیں بند کیے رہتے ہوں۔اچھے علاقے کے لوگوں کے مطابق سارا شہر ہی اچھا ہو گا اور دوسرے علاقے والوں کو اپنے محلے کی برائیاں دیکھ کر سارے شہر پر شک ہو گا۔ طبقہ: طبقاتی فرق بھی آڑے آتا ہے۔ غریب پسماندہ علاقوں میں زیادہ ہو گا۔ مڈل کلاس گھرانوں میں قدرے کم اور اپر کلاس میں آزادی ہونے کی وجہ سے زیادہ ہو گا۔ اس لیے ہر طبقے کے انسان کے مطابق سیکس کے واقعات کم یا زیادہ ہوں گے۔ شہر: چھوٹے شہروں میں ایسے کام کرنا واقفیت کی بنا پر مشکل ہے،میل ملاپ اور اٹھنے بیٹھنے کی کم جگہوں کی وجہ سے بھی ایسا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔مختلف شہروں کے لوگوں کی رائے بھی مختلف ہو گی۔ حالات: ہر انسان کو مختلف حالات میسر آتے ہیں،کسی کو موقع ملا اور کسی کو بگڑنے کا چانس ہی نہیں ملا،نہ بوائے فرینڈ بن سکا،نہ سیکس کی جگہ بنی،نہ کسی کزن سے علیک سلیک ہوئی،نہ کو ایجوکیشن مہیا ہوئی،تو اس کی نسبت مختلف حالات ہوں گے جسے یہ سب مہیا ہوا۔اب اگلا فرق بھی قابل غور ہے کہ کسی کو سب مہیا ہوا اور تربیت،شرم،خوف کی وجہ سے نہ کیا۔کسی کو مہیا نہیں بھی تھا مگر سب کچھ کرنے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔ صنف:مردوں کا مردوں کی زیادہ معلومات ہو گی کہ فلاں مرد کیسا ہے اور کس کس کے ساتھ چکر ہے۔عورتوں کو عورتوں کا پتا ہو گا۔عورتوں کے اپنی صنف کے اعدادوشمار کا بہتر پتا ہو گا ،مردوں کی نسبت۔ روٹین: ایک بندہ کام کاج میں مصروف رہتا ہے۔ اسے زیادہ معلومات نہیں ہوں گی کہ اس کے اردگرد محلے میں کیا ہو رہا ہے اور سیکس کا کیا تناسب چل رہا ہے۔ایک بندہ فارغ اور کام ہی بس یہی سب جاننا ہے اور ہروقت محفلوں میں یہی سب ڈسکس کرنا ہے تو دونوں میں فرق ہو گا۔ شخصیت: چرسی ہمیشہ چرسی کو پہچان لے گا۔ جو بندہ اس قماش کا ہو گا،وہ جلد ایسے لوگوں کو ڈھونڈ لے گا۔ کچھ لوگ ٹوہ میں بھی رہتے ہیں،ان کی معلومات بھی بہتر ہوتی ہیں بہ نسبت ان کے جو اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ معلومات: ہر انسان کی معلومات مختلف ہوتی ہیں، کسی کے لیے یہ سب سے بڑا شاک ہو گا کہ لڑکیاں سیکس کر لیتی ہیں تو کسی نے چار کو چودا ہو گا اور دس کا پتا ہو گا کہ چدواتی ہیں۔ اب معلومات کی بنا پر دونوں کے اعدادوشمار مختلف ہوں گے۔ تجسس: کسی کو جاننے کا تجسس ہو گا اور کوئی سانوں کی ؟ والی سوچ رکھتا ہوا کان نہیں دھرے گا۔ تجربہ:جس نے دو چار ایسے کیسز دیکھے ہوں گے،دو چار کیے ہوں گے،دو چار سنے ہوں گے،وہ تجربے کی بنیاد پر بہتر رائے دے سکتے ہے،اس بندے کی نسبت جس کی معلومات کا ذریعہ صرف سنی سنائی باتیں ہیں۔ یہ چند باتیں جو میرے ذہن میں تھیں۔ ہزاروں اور بھی وجوہات ہو سکتی ہیں اور ہر انسان کے اعدادوشمار مختلف ہوتے ہیں۔ یہ بات سب کو تسلیم کرنا چاہیے۔ ان کے فرق کی بنا پر دوسرے کا غلط کہنا ٹھیک نہیں،بس یہ سمجھنا چاہیے کہ اس کے معاملات اوپر والے پوائنٹس کی وجہ سے مختلف ہیں۔
  9. کئی بار لڑکیاں ڈبل مائنڈڈ ہوتی ہیں۔ دل اور جسم سیکس کی طلب کر رہا ہوتا ہے اور وہ اس کی مان کر سیکس کی طرف قدم بڑھاتی ہیں۔ مگر پھر اچانک کسی وجہ سے ان کو لگتا ہے کہ نہیں یار ابھی نہیں، شادی کے بعد ہی۔ وہ وجہ ڈر بھی ہو سکتی ہے، احساس گناہ بھی، زمانے کا خوف بھی، کنوارہ پن جانے کا احساس بھی،دھوکہ ہو جانے کا ڈر بھی،درد کا خدشہ بھی،راز کھل جانے کا ڈر، پکڑے جانے کا ڈر،ریپ ہو جانے کا ڈر، حمل کا خوف اور کئی بار معاشرتی احساس بھی ہوتا ہے کہ سیکس کرنے والی بدکردار سمجھی جاتی ہے تو میں ایک ہی بار میں شریف لڑکی سے بدکردار بن جاؤں گی۔ کئی بار لڑکی کا پچھلا تجربہ اچھا نہیں ہوتا، اس نے سیکس کیا ہوتا ہے جو بالکل بھی ٹھیک نہیں ہوا ہوتا۔ درد، دھوکہ یا کوئی اور سخت ناگوار احساس ہوتا ہے۔وہ دوبارہ کسی صورت اس احساس سے نہیں گزرنا چاہتی۔ بعض جان بوجھ کر بڑی مشکل سے مانتی ہیں تاکہ لگے کہ میں آسانی سے سیکس کرنے والی نہیں ہوں۔چاہے دس بندوں سے کروا چکی ہو۔ ان سب کی وجہ سے وہ کبھی سوچتی ہے کہ اچھا کر لیتی ہوں اور کبھی کہتی ہے نہیں کیا ضرورت ہے۔ میرے ساتھ بھی کئی بار ایسا ہوا ہے کہ بس داخل کرنے سے پہلے لڑکی نے کہا کہ آج نہیں پھر کسی دن اور وہ دن نہیں آیا۔ یہ بھی ہوا ہے کہ ڈالنے کا کوئی ارادہ یا چانس نہیں تھا مگر جب کوشش کی تو پہلی ہی کوشش میں لڑکی نے ڈلوا لیا۔ جیسے کہ اوپر والی لڑکی کا بتایا کہ میں اسے گھر لایا، کس کیا تو اس نے ساتھ دیا۔جسم پہ جہاں جہاں ہاتھ لگایا اس نے کوئی اعتراض نہیں کیا،بیڈ پہ لٹا دیا تو لیٹ گئی، اس کی ٹی شرٹ اتاری تو اس نے اتروا لی، پینٹ اتاری تو اس نے وہ بھی اتروا لی۔جب ننگی ہو گئی تو مجھے بھی کلیئر ہو گیا کہ لڑکی کو کوئی مسلئہ نہیں۔اس کے بعد میں نے جیسے جیسے کرنا چاہا اس نے مکمل ساتھ دیا اور رسپانس دیا۔ یہ نہیں کہا کہ تم یہ کیا کر رہے ہو یا تم تو بس مجھے یہاں کچھ دیر باتیں کرنے کے لیے لائے ہو۔ اس کو میرے ساتھ گھر آنے سے پہلے ہی معلوم تھا کہ جلد یا بدیر اس نے میری لینی ہے اور وہ دینے کو بالکل تیار تھی۔ اس نے کوئی انکار نہیں کیا اور نہ ہی نمائشی طور پہ نخرہ کیا کہ نہیں میں ایسی نہیں ہوں یا ابھی نہیں یا کوئی اور بہانہ۔
  10. کچھ سال پہلے میں کراچی سے لاہور بذریعہ ٹرین آ رہا تھا اور میری سیٹ ایک فیملی کے ساتھ تھی۔ میں نے کوشش کی سیٹ تبدیل ہو جائے اور میں کسی اور کیبن میں منتقل ہو جاؤں جہاں کم از کم سارے مرد ہوں۔ یوں کچھ مناسب نہیں محسوس ہو رہا تھا مگر کسی بھی کیبن میں جگہ نہیں تھی۔ کوئی ایسا موقع تھا جب گرمیوں کی چھٹیاں چل رہی تھیں تو ان دنوں سیٹوں کو مسلئہ ہو جایا کرتا ہے۔ بہرحال اس فیملی کے بزرگ سے بات چیت ہوئی اور میں ٹائم سے ہی سونے کے لیے لیٹ گیا۔ کچھ ہفتوں بعد مجھے فیس بک پہ اسی فیملی کی ایک لڑکی جو اس رات بھی ساتھ تھی ، نے ایڈ کیا۔رسمی باتوں کے بعد ہلکی پھلکی بات چیت ہونے لگی۔ پھر ایک بار اس نے مجھے بتایا کہ فلاں جگہ اتنے بجے ہوتی ہوں تو یہ سیدھا سیدھا اشارہ تھا کہ تم مل سکتے ہو۔ میں اس سے ملا اور ساتھ کھانے پہ لے گیا۔ اسی طرح دو تین ملاقاتوں کے بعد بات کسنگ تک پہنچ گئی۔ان دنوں فورٹریس والا ہائپر سٹار نیا نیا بنا تھا اور وہاں پہ اس کے ساتھ ملاقات ہوتی تھی اور وہی گاڑی میں جتنی ممکن ہوتی تھی اتنی کس ہو جاتی تھی۔ اس سے سیکس کا بھی وعدہ تھا مگر یہ کبھی ہو نہ سکا۔ اسی لڑکی کے توسط سے ایک لڑکی سے رابطہ ہوا جو اس کی دوست کی کزن تھی۔ وہ ایک ریسٹورنٹ میں ریسپنسٹ تھی اور کبھی کبھار کھانا کھانے جاتے تو اس سے ہلکی پھلکی بات ہو جاتی۔ اس کا نمبر مجھے مل گیا تو ایک دوبار ایسے ہی میں نے اس سے کہا کہ کسی دن میں آپ کو یہاں کھانا کھلاؤں ؟ تو وہ بولی: کھانے کا کوئی مسلئہ نہیں ہے آپ مجھے کوئی سوٹ گفٹ کرنا۔میری آدھی انکم ڈریسنگ میں لگتی ہے۔ یہ بات مذاق میں ہی تھی مگر میں نے سچ میں اس کے لیے ایک بار سوٹ لے لیا۔ جب اسے دیا تو وہ خاصی حیران ہوئی اور خاصی پشیمان بھی کہ ایسا مذاق میں کیوں کہا؟ خیر، وہ تین چار بار مجھ سے ملی اور ایک بار میں اسے گھر لے گیا تو اس نے پہلی ہی کوشش میں مجھ سے پورے جوش سے سیکس کروا لیا۔ اس کے بعد میرا اس کی شادی ہو جانے تک یہ معمول رہا کہ میں اسے کوئی نہ کوئی چیز گفٹ کرتا اور جب جب دل چاہتا، اسے بلا کر سیکس کرتا۔لڑکی اچھی تھی مگر اس کی مالی حالت خاصی خراب تھی۔ وہ اکثر کہتی تھی کہ مجھے گفٹ مت دیا کرو، مجھے کال گرل جیسی فیل آتی ہے کہ تحفہ لیا اور سیکس کروا لیا۔میں جب جب سیکس کرتا تب تحفہ نہ دیتا۔ جب جب تحفہ دیتا تب سیکس نہ کرتا۔ اس کے ساتھ یہ سلسلہ مہینے میں ایک آدھ بار سیکس کا کئی مہینوں تک رہا۔ اس کا ایک منگیتر بھی تھا جس کے ساتھ بھی اس کا سیکس ریلیشن تھا۔
  11. بہت ہی اعلیٰ جناب۔ پرویز صاحب نے خاصے واقعات شئیر کیے اور آنٹیوں کا اچھا تعارف کروایا۔ ہڈن لوور نے بھی زوو سفاری کے تجربات بتائے۔ میں نے بھی وہاں کے چکر لگائے ہیں مگر گاڑی سے اتر کر کچھ کرنے سے اجتناب کیا۔
  12. بس جی کام تو مشکل ہے لیکن اب عادت ہو گئی ہے۔ ان دنوں میں بہت ہی زیادہ کام میں الجھا ہوا ہوں تو بالکل بھی نہیں لکھ پا رہا۔ نہیں تو تفصیل سے شئیر کرتا۔
  13. ٹیچر کے گھر کوئی نہیں تھا اور کوئی آنے والا بھی نہیں تھا تو کوئی خاص ڈر نہیں تھا۔ وہ اب ایک ڈاکٹر ہے اور شادی شدہ ہے۔ اس کے نام کا بورڈ راستے میں پڑتا ہے۔ ویسے بھی اس سے تعلق خوشگوار انداز میں ختم نہیں ہوا تھا۔ اس نے اس واقعے کے بعد کبھی رابطہ نہیں کیا۔ میں نے کوشش کی مگر نہیں ہوا اور اس نے جان بوجھ کر اس کو ایک بری یاد سمجھ کر نظرانداز کیا ہو گا۔ اسی لیے ان نے مکمل قطع تعلق کر لیا۔ کچھ ان دنوں میں کسی ایسی لڑکی کی لینے کا جنون بھی ہوتا تھا جو بالکل پاک صاف ہو۔بڑا عرصہ خوشی بھی رہی کہ میں نے کسی کی سیل توڑی ہے اور دکھ بھی رہا کہ ناحق اس کی سیل توڑی۔ اس چکر میں اس کے تعلق بھی گیا۔ نہ کرتا کچھ عرصہ، کچھ وقت صائمہ پہ ہی گزارا کر لیتا۔ مگر اس دور میں یار دوستوں سے یہی سنا تھا کہ اگر نہیں لو گے تو بچی نکل جائے گی۔ اس لیے جلد از جلد لے لو۔لڑکی قابو میں رہے گی۔ یہ بات بکواس تھی جس پہ اکثر لڑکے یقین کرتے تھے۔
×
×
  • Create New...