Jump to content
URDU FUN CLUB

DR KHAN

Co Administrators
  • Content Count

    3,083
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    1,079

DR KHAN last won the day on July 11

DR KHAN had the most liked content!

Community Reputation

14,898

About DR KHAN

  • Rank
    Best Writer

Profile Information

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

24,666 profile views
  1. مجھے قارئین کی بےتابی کا اندازہ ہے مگر کچھ مسائل درپیش ہیں اور آپ لوگ جانتے ہی ہیں ملکی حالات۔ اس لیے میں ان دنوں وقت نہیں دے پا رہا۔ میری اور جناب ایڈمن کی بات چیت بھی شاید دیر رات ہو پاتی ہے ۔ آج کل وہی میری طرف کی ذمہ داریاں بھی نبھا رہے ہیں۔ جتنی جلد ہو سکا میں کہانی کو آگے بڑھاؤں گا۔
  2. پسند کرنے کا شکریہ۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ ہم کہانی کو مکمل کریں۔
  3. بہت عمدہ جناب میں پچھلے ایک ہفتے سے بہت مصروف ہوں اور کام کی زیادتی کی وجہ سے آن لائن نہیں ہو پا رہا۔ آپ کی کہانی تاحال میں نہیں پڑھ سکا۔ کسی دن فرصت سے ایک ہی نشست میں پڑھ کر کمنٹ کروں گا۔
  4. بس جی یہ فراغت میسر آنے تک ذرا بند ہے۔ امید ہے جیسے ہی فراغت ہو گی تو اس کی واپسی ہو گی۔ پردیس سن ۲۰۱۲ میں بند ہوئی تھی اور سن ۲۰۱۳ میں واپسی ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے اب تک سب نارمل چل رہا ہے۔
  5. جناب دل پہ لینے کی کوئی بات نہیں ہے اور نہ ہم نے کبھی کسی کی رائے کو اس انداز میں لیا ہے کہ اس کے خلاف دل میں کوئی رنجش پیدا کر لیں۔ شیخو صاحب دستیاب ہوتے تو یہ مسلئہ ہوتا ہی کیوں؟ ہم نے تو کسی کو نہیں روکا اور نہ کوئی کسی کو روک سکتا ہے۔ مگر وہ مہینوں میسر نہ ہوں تو بالاخر کسی کو تو کمان سنبھالنی ہو گی۔ میں ان دنوں بےحد مصروف ہوں مگر کم از کم میسر ہوں۔ جناب ایڈمن سے بھی رابطہ ہے اور فورم میں بھی تانکا جھانکی کر لیا کرتا ہوں۔ مجھ سے کوئی بات کرے تو اس کا جواب بھی دیتا ہوں۔ ہاں کہانیاں اپنی فرصت پہ مکمل ہوں گی۔ اس میں ظاہر ہے کہ میں فراغت میسر آنے تک قاصر ہوں کہ کوئی پیش رفت ہو۔ مگر ہر حال میں میں جواب دہ ہوں اور سب کے سامنے ہوں۔ گلہ کرنا ہے تو گلہ کیجیے،ناراض ہونا ہے تو ناراض ہویئے،ہم کو سب قبول ہے۔ کیونکہ یہ فورم صرف کہانیوں کے لیے نہیں، رابطوں کے لیے بھی ہے۔ اس سے غائب ہونے کا مطلب ہے کہ میرا سب سے رابطہ ختم۔ جو کہ گوارہ نہیں۔ پرانے قاری جانتے ہوں گے کہ ایک بار پردیس سوا سال کے لیے بند کیا گیا تھا کیونکہ میں میسر نہیں تھا۔ مگر میرا رابطہ بہرحال سب سے تھا اور وقتاً فوقتاً جتنی بساط ہوتی کام چلانے کی کوشش کرتا۔
  6. بہت شکریہ۔ میں نے آپ کے لیے مسیج باکس اوپن کیا ہے۔ آپ اس میں بات کر سکتے ہیں۔
  7. یاسر کا کہانی میں ذریعہ معاش بنانے کی خاطر اس کو وہ کام دیا گیا تھا۔ اب وہ ملک بدر ٹائپ جگہ پہ ہے تو کام کی فکر کیا کرے، اس لیے وہ حصہ حذف کر دیا کہ وہ کام کی فکر کرے۔ کام کی فکر سکندر جیسے لوگوں کو ہوتی ہے کہ پوری کہانی میں سیکس کم ہے اور کام دھندے میں ہی سکندر دکھائی دیتا ہے۔ ایسے حال میں کام کی فوقیت واضع ہوتی ہے۔ یاسر کی محبوبہ اس کو تب تب یاد نہیں آتی جب جب کسی اور کی قربت میسر ہو، یہاں تو قربتوں کا انبار لگا ہوا ہے۔ اس لیے اس کو ہلکا ہلکا سا کہیں کہیں کسی حوالے سے یاد کیا ہوا ہے، باقی اس کا نئے ماحول کی نئی لڑکیوں میں الجھا دکھایا گیا ہے۔ جھگڑالو پن تو یہاں بھی ہے کہ وہ ارسلان سے الجھا ہوا ہے،عبیحہ سے متھا لڑایا ہوا ہے۔
  8. آنے سے قبل اسی لیے ان کا انتظام یاسر کر کے آیا تھا کیونکہ اس کو معلوم تھا کہ اسے یہاں وقت لگ جائے گا۔ کہانی کی رفتار کم ہے تو یہ وقت مہینوں پہ محیط ہے ورنہ اصل میں یاسر کو دو تین ہفتے ہی ہوئے ہیں۔
  9. ایک سوال میرا ان قارئین سے ہے جو ماضی قریب ہی سے کہانی کو پڑھنے لگے ہیں اور اس سے قبل وہ کہانی نہیں پڑھ رہے تھے۔ کہانی میں کیا کیا تبدیلیاں ان کو پسند آئیں اور کیا ناپسند۔ میں ان دنوں ایک اور کہانی پہ کام کر رہا ہوں تو ایسی رائے مشعل راہ ہو گی۔ شکریہ
  10. مجھے اندازہ تھا کہ ایسا کچھ ہو گا۔ دراصل آپ کہانی کی روح کو سمجھیے۔ یاسر کے کردار کو ذرا سا دیکھیے، منہ بولی ماں اور اس کی دونوں بیٹیاں، جگری دوست کی ماں اور بہن، محبوبہ کی سہیلی، گاؤں میں صدف، فرحت اور اپنی خالہ کی بیٹی جو گھر آئی مہمان تھی، کسی کو نہیں بخشا۔ وہ جنسی طور پہ ترسا ہوا اور ہر کسی کو پہلے جسم پھر عورت سمجھتا تھا۔رشتوں کے تقدس کا تو یہیں سے پتا چل گیا۔ اب بات کرتے ہیں صدف کی۔ ایسی ذہنیت کا انسان کچھ باتیں ہضم نہیں کر پا رہا۔ صدف کا کسی کا ہو جانا۔ ایسا اکثر ہوتا ہے کہ مرد طلاق دے دینے کے بعد بھی عورت کو اپنی ہی سمجھتے ہیں، لڑکی کو چھوڑ دینے کے بعد بھی آگے نہیں بڑھتے اور اس کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں۔ پہلی بار کوئی ایسی لڑکی اس کے سامنے آئی ہے جو پہلے اس سے چد چکی ہے بعد میں اس کے ساتھ کسی رشتے میں آئی ہے۔ اس کو رشتے کے تقدس کو کیسے برقرار رکھنا ہے وہ سمجھ نہیں آ رہا کیونکہ اس کو اس رشتے کا تجربہ نہیں تھا۔ ہاں صدف کو چودنے کا تجربہ تھا جس کو اس نے موقع ملتے ہی دہرا دیا۔ اس کے مطابق صدف اب بھی اسی کی جاگیر ہے اور بھائی سے بھی زیادہ وہ اس پہ حق رکھتا ہے۔ اگر صدف کی بجائے کوئی انجان اس کی بھابھی بنتی تو عین ممکن تھا کہ وہ اس کے متعلق کوئی منفی جذبات نہ رکھتا۔ حسد صدف کے لیے جب اس نے رشک دیکھا تو اس کو یہ حسد محسوس ہوا کہ جس کو سوچ کر ہر کوئی اس کی تمنا کر رہا ہے وہ اس کی بجائے اس کے بھائی کی کیوں ہو گئی؟ سب سے آخری بات اس کی منفی سوچ۔ وہ ہمیشہ کنواری لڑکیوں کا مزا اٹھاتا رہا ہے، اسے لگتا تھا کہ ایسی لڑکی جو بدنام ہو چکی ہے اور اس کے ساتھ زیادتی بھی ہو چکی ہے، وہ اس کے بھائی کو کسی صورت قبول نہیں ہو گی۔مگر صدف کو جس رغبت سے اس کے بھائی نے اپنایا اور اس کے آگے پیچھے منڈلانے لگا، وہ یاسر کو شرمسار کرنے کے لیے بہت تھا۔اس کا بھائی کا صدف کے ماضی کو مکمل فراموش کر دینا بھی ہضم نہیں ہو رہا۔صدف کے ساتھ زیادتی کر کے اس نے صدف کو یہ پیغام بھی دانستہ یا غیر دانستہ دیا ہے کہ اس کے لیے وہ ہمیشہ بس جسم ہی تھی اور اب بھی وہ بھابھی نہیں اسی طرح جسم ہے، جس سے وہ صرف ہوس مٹائے گا کہانی کا مقصد کسی کردار کی زندگی کے حالات بیان کرنا ہوتا ہے۔ اس کو ہمیشہ ہیرو بنا کر پیش کرنا نہیں ہوتا۔ وہ غلطیاں بھی کرتا ہے،ظلم بھی اور زیادتی بھی۔ چونکہ وہ مین کردار ہے تو ہم اس کو ہمیشہ تمام خطاؤں سے مبرا نہیں کر سکتے۔ یاسر نے جس طرح عورت جو ہمیشہ جنسی چیز سمجھ کر برتا ہے تو اس کے کچھ مضمرات بھی سامنے آئیں گے۔ وہ آپ کے سامنے ہے کہ اس کی دشواریاں بڑھ رہی ہیں اور ان دشواریوں کے بعد ہی اس کو سبق ملے گا۔
  11. دیور بھابھی کا سیکس یا بہنوئی سالی کا سیکس انسسٹ کے زمرے میں نہیں آتا۔ یہ سیکس دراصل یاسر کی فطرت کی عکاسی ہے کہ وہ ایک لڑکی سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہو پا رہا اور اس کے لیے اپنے اتنے قریبی رشتے کا بھی خیال نہیں رکھا۔
  12. new update یہ لمبی اپڈیٹ اس کہانی کی فائنل اپڈیٹ ہے۔اگلی اپڈیٹ اب ہوس کی ہو گی۔ ہوس کی مکمل اپڈیٹس کے بعد ہی کوئی دوسرا سلسلہ آگے بڑھے گا۔ جلد قارئین کو ان کی التوا شدہ ہوس کی تمام اپڈیٹس مل جائیں گی۔
  13. میں بیک وقت ہوس اور اس کہانی کو لکھ رہا ہوں۔ اس کی ایک اپڈیٹ شاید بن جائے کیونکہ ہوس کا کام بہت زیادہ التوا کا شکار رہا ہے تو میں اس پہ زیادہ فوکس کیے ہوئے ہوں۔
  14. جناب دل پہ نہ لیں، میں نے ایک اور تناظر میں کہا تھا۔ جہاں فورم کے پیڈ اور فری سیکشن چلانے کی مستقل زمہ داری مجھ پر ہی عائد رہتی ہے۔ مجھے تو بڑا حوصلہ ہو کہ دو چار رائٹر ہوں اور وہ کم ازکم فری سیکشن چلاتے رہیں اور میں پیڈ سیکشن دیکھوں۔
×
×
  • Create New...