Jump to content
URDU FUN CLUB

DR KHAN

Co Administrators
  • Content Count

    2,964
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    1,050

DR KHAN last won the day on March 30

DR KHAN had the most liked content!

Community Reputation

14,541

About DR KHAN

  • Rank
    Best Writer

Profile Information

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

21,242 profile views
  1. بڑی مشکل سے اتنا لکھا تھا۔ بس امید ہ اگلے ہفتے کچھ کام بنے گا۔ یہ بھی سمجھیں اس لیے شئیر کیے کہ سب کو معلوم ہو کہ ابھی ہم زندہ ہیں۔ چاہے جس بھی حال میں ہوں۔
  2. کرونا وائرس اس وقت پوری دنیا میں کرونا وائرس کو عالمی وبا کا درجہ دیا جا چکا ہے۔ کرونا وائرس سے ہزاروں کی تعداد میں اموات ہو چکی ہیں۔ پاکستان میں بھی کرونا وائرس آ چکا ہے اور بدقسمتی سے ہم اس سے متاثر ہونے والے ممالک میں سرفہرست رہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ عوام میں سنجیدگی اور شعور کا فقدان ہے۔ یہ تھریڈ اس لیے شروع کیا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے متعلق معلومات کو یہاں شئیر کیا جائے تاکہ سبھی لوگ اس سے رہنمائی حاصل کر سکیں اور اپنے بچاؤ کی کوشش کریں۔ کرونا وائرس ایک وائرس ہے اور دنیا میں وائرس کی کوئی دوا نہیں ہوتی۔ وائرس کے خلاف جسم میں قدرتی طور پہ قوت مدافعت ہوتی ہے اور جسم خود سے اس سے صحت یاب ہو جاتا ہے۔ وائرس کے خلاف صرف ویکسین تیار ہوتی ہیں جن میں وائرس کمزور،غیر فعال یا مردہ حالت میں ہوتے ہیں۔ ان کو جسم میں داخل کیا جاتا ہے، یہ جسم کو وائرس کے لیے تیار کرتے ہیں اور بیماری آنے سے قبل ہی جسم کو بیماری کے خلاف اینٹی باڈیز بنانے پہ مجبور کرتے ہیں۔ چونکہ یہ کمزور،مردہ یا غیر فعال ہوتے ہیں تو بیماری نہیں پیدا کرتے۔ کرونا کا وائرس بھی ایسا ہی ایک وائرس ہے جو کہ کم و بیش ایک سو سال سے پایا جاتا ہے اور ہمیں فلو جیسی علامات سے دوچار کرتا ہے۔ جس سے ہم صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ وائرس بھی باہمی اختلاط سے اپنی ہیت تبدیل کرتے ہیں اور ان کے خلاف موثر پچھلی تمام اینٹی باڈیز غیر موثر ہو جاتی ہیں۔ جسم میں ان کے خلاف کوئی قوت مدافعت نہیں ہوتی تو جسم صحت یاب نہیں ہو پاتا۔ کرونا وائرس کیسے پھیلتا ہے؟ خوش قسمتی سے کرونا وائرس ہوا میں نہیں ہوتا،کم ازکم ابھی کی تحقیق سے یہی ثابت ہوا کہ کرونا رابطے سے پھیلتا ہے۔ رابطہ یعنی وائرس جسمانی رابطے سے ایک فرد سے دوسرے کو منتقل ہو، ہاتھ ملانے،چھونے یا بیمار شخص کے لعاب،کھانسی یا چھینک کے چھینٹوں سے یہ ایک فرد سے دوسرے کو منتقل ہو جاتا ہے۔ ایک متاثرہ شخص سے ہاتھ ملانے سے وائرس ایک ہاتھ سے دوسرے تک چلا جاتا ہے۔اگر ہاتھ کو دھو لیا جائے،قبل اس کے ہاتھ کو منہ ،ناک یا آنکھ تک لے جایا گیا ہو تو وائرس کا پھیلاؤ رک جاتا ہے۔ اسی طرح ایک متاثرہ شخص کی کھانسی کو اگر ماسک سے ڈھانپا ہوا ہو تو بھی وائرس منتقل ہونے سے بچ جائے گا۔ یہ کام کیونکہ مشکل ہے کیونکہ متاثرہ شخص کھانس کر یا چھو کر ہر چیز کو وائرس زدہ کر دے گا اور ان چیزوں کو جو جو چھوئے گا وہ بھی اس وائرس کو منتقل کر لے گا۔ اسی لیے سماجی رابطے سے گریز ہی اکلوتا حل ہے۔ جو جو فرد اپنے اندر کرونا والی علامات محسوس کرے وہ خود کو اکیلا کر لے تاکہ اس کی ترسیل کا باعث نہ بنے۔ جب سانس لینے میں دشواری محسوس ہونے لگے تو اس کا ٹیسٹ کروائیں۔ ہر انسان دن میں بار بار ہاتھ دھوئیں، ہاتھوں کو بیس سیکنڈ تک ملیں تب پانی بہائیں۔ہاتھوں کو منہ،آنکھ اور ناک سے دور رکھیں۔ سینی ٹائزر کا استعمال کریں۔ اگر دستیاب نہ ہو تو ڈیٹول،صابن،سرکہ اورسپرٹ کو مکس کر کے بنا لیں۔ سینی ٹائرز سے ہر اس سطح کو صاف کریں جہاں آپ کے ہاتھ لگتے ہوں جیسے دروازے کا ہینڈل، گاڑی کا سٹیرنگ،ہینڈل،گئیر اور دیگر ہر وہ جگہ جس پہ ہاتھ لگتے ہیں۔ عمومی طور پہ وائرس کسی سطح پہ زیادہ دیر یعنی چند منٹوں سے گھنٹوں تک ہی زندہ رہ پاتا ہے تو ایسی چیزوں کو بھی سینی ٹائزر سے صاف کریں۔ ہم ایک گنجان آباد ملک کے باشندے ہیں،اس لیے جہاں تک ممکن ہو خود کو اکیلا کر لینے ہی سے بچت ممکن ہے۔باہر سے آتے وقت ہاتھوں کو دھوئیں،جس جس چیز کو چھوا ہے،اس کو سینی ٹائز کریں، جو سامان لائے ہیں، اس کو صاف کریں۔بچوں کو چھونے سے گریز کریں۔بزرگوں سے فاصلہ کریں،ان کو محفوظ رکھیں۔ اجتماعات سے سختی سے گریز کریں۔ اس سلسلے میں کوئی سوال ہو تو یہاں پوچھ سکتے ہیں۔
  3. ہم نے اس کو نہ کبھی آف ہونے دیا ہے اور نہ دیں گے۔ میری پوری کوشش ہے کہ میں جلد از جلد کچھ لکھوں۔ میں نے لیپ ٹاپ منگوایا ہے جو شاید آج ڈیلیور ہو جائے۔ اس کے بعد میں جتنا ممکن ہو سکا لکھتا رہوں گا۔
  4. جناب سب سے بڑی مجبوری کرونا کی شکل میں آپ لوگوں کے سامنے ہے۔جب پہلا کیس سامنے آیا تھا میرا کام تبھی سے بڑھ گیا تھا اور تب سے میں لکھنے سے قاصر ہو گیا۔ جناب ایڈمن کو ساری صورتحال کا علم ہے اور میرے پچھلے سال کی روانگی کا بھی پرانے ممبرز کو علم ہو گا۔ہمارا کام خاصا مشکل ہو چکا ہے اور میں بھی اس کیمپ کا حصہ ہوں۔ گزشتہ سال میں اٹلی بھی اسی سلسلے میں گیا تھا مگر اندازہ نہیں تھا کہ کرونا نمودار ہو جائے گا۔ بہرحال سب بہتر ہو جائے گا اگر ہم نے احتیاط کی تو۔۔۔۔۔ ہاتھ دھوئیں، ہاتھ نہ ملائیں، اگر کھانسی یا زکام یا نزلہ ہو تو تنہائی اختیار کریں، میل ملاپ سے گریز کریں۔
  5. اس انتظار کو کورونا وائرس سے مشروط سمجھیے۔ کیونکہ بندہ اس کیمپ کا حصہ ہے۔دعا کیجیے کہ جلد اس سے بچت ہو سکے۔
  6. کمنٹس اس بات کا ثبوت ہے کہ کہانی اپلوڈ ہو رہی ہے۔ آپ ری فریش کیجیے کہانی امیج فارمیٹ میں ہوتی ہے۔ بہت شکریہ جناب۔ میں بھی بہت مصروف ہوں ان دنوں۔ پتا نہیں کیا بات ہے کہ فرصت میسر ہی نہیں آ رہی۔ بہرحال یہ دن بھی گزر جائیں گے۔
  7. جب جب جہاں جہاں کام سے مہلت ملتی ہے تھوڑا تھوڑا اپنے سلسلے آگے بڑھا رہا ہوں۔ پردیس کے کل کچھ صفحات لکھے تھے اور کوشش ہے کہ آج ایک اپڈیٹ جتنا تو لکھ ہی لوں۔ باقی امید پہ دنیا قائم ہے۔
  8. قارئین کی محبت اور پسند کا بہت شکریہ۔ مجھے افسوس ہے کہ ان دنوں میں لکھنے سے قاصر ہوں اور مجھے وقت نہیں مل پا رہا ہے کہ میں پوری طرح وقت دے سکوں۔ میری پوری کوشش ہے کہ میں ایک دو دنوں میں کچھ کام کھینچ سکوں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ میں ان دنوں رات کو گیارہ بارہ بجے گھر جا پاتا ہوں اور کئی بار دفتر میں ہی سونا پڑ جاتا ہے۔ کام کی زیادتی کی وجہ سے میں نیند بھی پوری نہیں کر پا رہا۔ مگر اچھی بات یہ ہے کہ مصروفیات آتی ہیں تو فراغت بھی آتی ہے۔ یہی زندگی ہے۔ تھوڑا کام معمول پہ آ جائے تو پھر سے سبھی سلسلوں کو ٹائم دوں گا۔
  9. بڑی مشکل سے اتنی کہانی لکھ پایا ہوں۔
  10. کوشش جاری ہے کہ جلد از جلد لکھا جائے۔
  11. سب کی محبت اور پسندیدگی کا شکریہ۔ آج انیس تاریخ ہے اور میں اس مہینے میں ایک لفظ بھی لکھ نہیں پایا۔ کام کی زیادتی نے اتوار اور دوسرے دنوں میں بھی کام کرنے پہ مجبور کر رکھا ہے۔ دعا کیجئے کہ معاملات کچھ نارمل ہوں تاکہ میں دوبارہ سے لکھ سکوں۔
  12. جن کی ممبرشپ لیٹ ہونے سے ایکسپائر ہو جائے ان کو تو ہم کوئی نہ کوئی حل نکال دیا کرتے ہیں۔
×
×
  • Create New...