Jump to content
URDU FUN CLUB

Shazia Ali

Active Members
  • Content Count

    31
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

9

Recent Profile Visitors

409 profile views
  1. جی آج کل میں ہر جگہ موجود ہوتی ہوں . آپ کو بھی خوش آمدید . ہی ہی ہی
  2. 208 اب ہماء کے انتہائی خوبصورت، نرم و نازک، مخملی اور سفید بدن پر سیاہ برا اور مختصر سی پینٹی قیامت ڈھا رہی تھیں. ہماء نے صوفے پر پڑے بیگ سے باریک سیاہ نائٹی نکالی اور پہن لی یہ نائٹی تو ہماء کے خوبصورت بدن کو تو اور عریاں کر رہی تھی جو بمشکل اسکی آدھی سے بھی کم ریشمی گول رانوں کو چھپا پا رہی تھی جس سے اسکا حسن اور بھی قیامت ڈھانے لگا تھا . ہماء نے نائٹی کی ڈوریاں نہیں باندھی تھی . جہاں کھلے گلے سے سیاہ برا میں چھپی اسکی چھاتیاں کسی کا بھی دل قابو کر سکتی تھیں وہیں نائٹی سے چھلکتی اسکی نعیم عریاں رانیں اور پنڈلیاں ایک اور ہی نظارہ پیش کر رہی تھیں . آئنے کے سامنے کھڑے ہو کر ہماء نے اپنے سراپے کا جائزہ لیا اور کمرے سے باہر نکل پڑی . جیسے ہی ہماء خواب گاہ سے باہر نکلی تو یاسر تو اسے دیکھتا کا دیکھتا ہی رہ گیا مانو کسی نے اس پر جادو سا کر دیا ہو اور ساحرہ اپنے معمول کی حالت دیکھ کر فاتحانہ انداز میں دیکھ رہی تھی . ہماء کو اپنے جادوئی حسن کا بخوبی اندازہ بھی تھا اور اسپر ناز بھی. یاسر کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا تھا . اسے لگ رہا تھا جیسے آسمان سے کوئی حور آسمان سے اسکی خاطر زمیں پر اتر آئی ہو . یاسر کی حالت سے لطف اندوز ہوتے ہوے ہماء ہولے سے کھنکاری تو یاسر کو جیسے ہوش آ گیا اور بے ساختہ اس کے منہ سے سیٹی کی آواز نکلی ساتھ ہی ہماء کی ہنسی پھوٹی اور ہر طرف جلترنگ بجنے لگے یاسر کی آنکھوں سے ٹپکتی شہوت ہماء کی نگاہوں سے چھپی نا رہ سکی اور وہ شرما کر رہ گئی . یاسر نے اپنی ٹانگیں تھوڑی پسارتے ہوے اپنی رانوں پر ہاتھ مارا اور ہماء کو آگے بڑھنے اور اپنی گود میں بیٹھنے کا کہا . ہماء جھجھکتی ہوئی آگے بڑھی اور شرماتے ہوے یاسر کی گود میں سمٹتی چلی گئی .اسے یہ سب بہت عجیب لگ رہا تھا . یاسر اسکے حسن کا شروع سے ہی دیوانہ تھا اور اسکی یہ دیوانگی ہماء سے چھپی ہوئی بھی نہ تھی لیکن آج وہ شرمانے کے ساتھ ساتھ تھوڑا گھبرائی ہوئی بھی تھی . اسنے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ ایک دن یاسر اسکے حسن کا خراج یوں بھی وصول کرے گا اور وہ اپنا سب کچھ اسکو پیش کرنے پر مجبور ہو گئی یاسر نے اپنی گود میں سمٹی ہوئی ہماء کی نرم و ملائم اور چکنی رانوں کو اپنے کھردرے اور مضبوط ہاتھوں سے سہلانا شروع کر دیا اسکے ہاتھ ہماء کی رانوں پر پھسلتے جا رہے تھے اور اسکے لمس نے ہماء چوت میں آگ لگانا شروع کر دی تھی . اسکی سانسیں بے ترتیب ہونے لگیں. دل زور زور سے دھڑکنے لگا جیسے سینہ پھاڑ کر باہر آ جائے گا . اس کی چوت بھی دھیرے دھیرے اپنے رس کی امرت دھارا قطرہ قطرہ چھوڑنا شروع ہو چکی تھی یاسر نے ہما کے خوبصورت رخساروں کو چومتے ہوے کہا ، بھابی جی آپ بہت چکنی ہو ، مکھن سے بھی زیادہ ملائم اور چکنی . یہ سن کر ہماء کے چہرے پر ایک شرمیلی سی مسکراہٹ پھیل گئی اور گالوں پر حیاء کی لالی دوڑنے لگی . یاسر نے ہماء کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرا اور بے اختیار اسکے چہرے پر بوسوں کی برسات کر دی اور بلآخر اپنے ہونٹوں کی گرفت میں ہماء کے ہونٹوں کو بھر لیا . یاسر کی زبان ہماء کے بھرے بھرے ہونٹوں پر پھرنے لگی ، انکو چاٹنے لگی اور بار بار ان ادھ کھلے ہونٹوں کو پورا کھولنے کے لیے دستک دینے لگی . بلآخر ہماء کے ادھ کھلے ہونٹ پوری طرح وا ہوے اور یاسر کی زبان کو منہ میں داخل ہونے کا راستہ دے دیا . یاسر کی زبان ہماء کے منہ میں داخل ہو گئی اور ہماء کی زبان سے ٹکرانے لگی . اب ہماء بھی شرم و حیا کے پردوں کو ہٹاتے ہوے یاسر کا ساتھ دینے لگی. وہ دونوں ایک دوسرے کی زبان چوستے ، ہونٹ چوستے اور یاسر ہماء کی خوشبودار سانسوں کو اپنی سانسوں میں بھرنے لگا . یاسر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہوے ہماء کو بخوبی احساس ہو چکا تھا کہ یاسر نہ صرف آج اسے چود کر ہی دم لیگا بلکہ اسکی دیوانگی بتا رہی تھی یہ چدائی بہت زوردار ہو گئی اور شائد بار بار ہو گئی . اس نے بھی فیصلہ کر لیا کہ جب یہ سب ہونا ہی ہے تو کیوں نہ اس ایک ایک لمحے سے رس کشید کرے اور اس چدائی کا خود بھی بھرپور مزہ لے . بس یہ سوچتے ہوئی وہ یاسر کی دیوانگی کا اس سے بڑھ کر جواب دینے لگی یاسر بھی ہماء کا یہ روپ دیکھ کر بہت خوش ہو رہا تھا . اس نے اپنا ایک ہاتھ بڑھاتے ہوے ہماء کا ایک مما مخملی نائٹی کی اپر سے ہی پکڑ لیا اور آھستہ آھستہ دبانے لگا ، مسلنے لگا اور ایسا کرتے کرتے اسکی نیپل کو انگوٹھے اور انگلی کی گرفت میں لیکر ہولے ہولے مسلنے لگا جبکے دوسرے ہاتھ کی انگلی کو ہماء کے منہ میں ڈال کر اسے انگلی چوسنے کا کہا . ہماء آنے والے لمحات کا سوچ کر بیتابی سے یاسر کی انگلی چوسنے لگی . اسے بخوبی اندازہ تھا کہ یاسر کے لنڈ سے پہلے اسکی انگلی ہماء کی چوت میں آگ بھڑکانے والی ہے . دوسری طرف یاسر اپنی خوش نصیبی پر ناز کر رہا تھا ، اسنے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اسکے دوست کی خوبصورت بیوی ایک دن اسکی گود میں بیٹھی اپنے چدنے کا انتظار کر رہی ہو گئی اور وہ جس طرح چاہے ، جس انداز میں چاہے اسکو چود سکے گا .تھوڑی دیر تک ایسے ہی ہماء کے ہونٹوں کا رس کشید کرتے ، اسکے مموں سے کھیلتے اور اسکی چوت میں اپنی انگلی سے آگ لگاتے لگاتے ایک دم یاسر نے ہماء کو اپنی مضبوط باہوں کے حصار میں لیا اور صوفے سے اٹھتے ہوے خواب گاہ کی طرف قدم بڑھا دیئے
  3. جی آپ کا گلہ بالکل بجا ہے . آج ہی ایک اپڈیٹ پوسٹ کی ہے جو ابھی منظوری کے مراحل میں ہے . امید ہے جلد ہی انتظامیہ اپڈیٹ کو پوسٹ کر دے گی. تھوڑا اور صبر . صبر کاپھل میٹھا . ہے ناں؟ ہی ہی ہی خوش رہیں
  4. بات تو مناسب ہے آپ کی لیکن مجھے پوچھنا پڑے گا کہ فورم کی انتظامیہ سے کہ انکی اس بارے میں کیا پالیسی ہے اس بارے میں؟
  5. دوستو ابھی یہ اصل کہانی کا صرف ایک صفحہ ٢٠٧ ہے . اس میں اپنی طرف سے بھی کچھ موّاد شامل کر کے آپ کے سامنے پیش کیا ہے . اب آپ کی رائے کی منتظر ہوں کہ کہانی میں اپنی طرف سے آمیزش جاری رکھوں یا صرف اصل کہانی کو ہی نقل کروں؟ آپ کی آراء کی منتظر رہوں گی . بہت شکریہ
  6. ٢٠٧ شام ہوتے ہی ہماء، انور سے بہانہ کر کے گھر سے نکل پڑی اور ٹھیک سات بجے وہ یاسر کے گھر کے دروازے پر دستک دے رہی تھی. جیسےہی یاسر نے دروازہ کھولا تو ہماء کو اپنے سامنے کھڑا پا کر خوشی سے کھل اٹھا اور اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی. جیسے ہی اس نے ایک طرف ہو کر ہماء کو اندر آنے کا راستہ دیا تو ہماء خود کو سنبھالتی ہوئی خاموشی سے اندر داخل ہو گئی اور لاونج میں پڑے جہازی صوفے کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی . انور بھی خوشی سے جھومتا ہوا دھیرے دھیرے اس کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا . سامنے پڑی ہوئی میز پر وہی بیگ پڑا ہوا تھا . یاسر نے صوفے پر بیٹھتے ہوے ہماء سے کہا کہ بھابی جی میز پر پڑا لفافہ اٹھائیں اور اندر جا کر اس میں موجود ڈریس کو زیب تن کر لیں . آپ کو تو اب معلوم ہی ہے کہ اس میں کونسا اور کیسا لباس ہے. سالے انور نے کوئی سرپرائز رہنے ہی نہیں دیا . ہماء نے چونک کر یاسر کو دیکھا . یہ تو ہماء کو معلوم ہی تھا کہ یاسر کی نیّت کیا ہے پھر بھی اس نے ایک کوشش کرنے کی ٹھانی اور ملتجی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئی بولی ، یاسر پلیز ----میں یہ سب نہیں کر سکتی . یہ ٹھیک نہیں ہے یاسر اپنے لہجے میں تھوڑی سی سختی لاتے ہوے بولا ، کیا ٹھیک نہیں ہے؟جب آپ یہ سب کچھ اپنے دوستوں کیساتھ کر سکتی ہیں تو میرے ساتھ کیوں نہیں؟ ہماء نے پھر بھی ہمّت نہ ہاری اور بدستور التجا کرتے ہوے بولی، پلیز مجھے معاف کر دو میں وعدہ کرتی ہوں کہ آئندہ میں ایسا کچھ نہیں کرونگی یاسر بولا، بھابی جی میں تو نہیں البتہ انور آپ کو معاف کر سکتا ہے تو کیا خیال ہے؟ چلتے ہیں انور کے پاس تا کہ آپ اس سے معافی مانگ سکیں . ہماء ایک دم حواس باختہ ہوتے ہوے بولی کہ نہیں یاسر پلیز ایسا مت کہیں تب انور نے اپنے لہجے کو مزید سخت کرتے ہوے تحکمانہ انداز میں بولا ، تو پھر چپ چاپ اندر جائیں اور لفافے میں نائٹی پہن کر واپس میرے پاس آ جائیں تا کہ آپ کا یہ لباس خراب نہ ہو . آپ نے بھی تو نائٹ شفٹ پر جانا ہے . میں تو آپ کو یہ سہولت بھی دے رہا ہوں کہ اندر جا کر لباس تبدیل کریں ورنہ میں آپ سے یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ یہیں ، میرے سامنے ہی کپڑے تبدیل کریں ہماء کو معلوم تھا کہ اس وقت وہ یاسر کے چنگل میں بری طرح پھنس چکی تھی اور وہ سب کچھ کرنے پر مجبور تھی جسکا اسے کہا جا رہا تھا . اس لیے وہ خاموشی سے لفافہ اٹھا کر اندر بیڈ روم کی جانب چل پڑی بیڈ روم میں داخل ہو کر اسنے کمرے کو لاک کیا اور لفافے کو پاس ہی پڑے ہوے بیڈ پر پٹخ دیا اور خود جا کر آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر اپنے سراپے کو دیکھنے لگی ، اپنی بےبسی کی پرچھایاں اسکے چہرے پر عیاں تھیں . آھستہ آھستہ اسکے ہاتھ اپنی قمیص کے دامن پر پہنچے اور وہ دھیرے دھیرے اپنی قمیص اوپر اٹھانے لگی . اسکا گورا مرمریں بدن یوں سامنے آنے لگا مانو جیسے گھنگور گھٹا میں سے یکا یک چودھویں کا چاند سامنے آ کر پوری کائنات کو اپنی دودھیا روشنی سے منوّرکر دے . اسنے اپنی قمیص اتار کر بیڈ پر رکھ دی. اب وہ صرف سیاہ برا میں اپنی مخروطی گولایوں کو چھپائے کھڑی تھی.ٹائٹ برا نے اسکے تنے ہوے مموں کو اور بھی اوپر اٹھا دیا تھا جو کسی بھی دیکھنے والے کے دل میں خنجر اتار سکتے تھے . بھری بھری چھاتیوں کے بیچ اسکا خوبصورت کلیویج .... اتنا ہوشربا نظارہ دیکھ کر ہماء کو خود پر ہی بے پناہ پیار آنے لگا اور وہ بے ساختہ مسکرا دی. پھر ہماء نے اپنی جینز بھی اتار دی اور اسے بھی بیڈ پر رکھ دیا . ایسے میں اسے خیال آیا کہ کچھ ہی دیر میں تو اسی بیڈ پر زوردار چدائی ہونی ہے تو اسنے اپنے کپڑوں کو اٹھا کر ساتھ ہی پڑے ہوے صوفے پر رکھ دیا اور لفافے میں سے نائیٹی نکال کر پہننے لگی
  7. دوستو جیسا کہ مجھے بتایا گیا کہ کہانی کو تصویری شکل کی بجائے تحریری شکل میں پوسٹ کروں تو اب میں صفحہ ٢٠٧ سے کہانی کو تحریری شکل (ٹیکسٹ) میں پوسٹ کرنا شروع کروں گی. کام مشکل تو ہے مگر آپ دوستوں سے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا تو کرنا ہی ہو گا . تھوڑا تھوڑا کر کے ٹائپ کر کے پوسٹ کرتی رہوں گی . آپ کا تعاون میری حوصلہ افزائی کرے گا . بہت شکریہ
  8. حوصلہ افزائی کی بہت شکریہ جی. آج کی اپڈیٹ بھی دے دی ہے . پڑھ کر اپنی رائے سے آگاہ کریں. منتظر رہوں گی . شازی
  9. جی ہے تو یہ گزشتہ سے پیوستہ قسط ہی. باقی میں صرف کاپی پیسٹ کرتی ہوں پڑھتی نہیں تو مجھے بلکل اندازہ نہیں کہ آپ کو ایسا کیوں لگا ؟ ویسے اتنے دھیان سے کہانی پڑھنے کا بہت شکریہ . موقع ملنے پر میں لازمی کہانی کا یہ حصّہ پڑھ کر دیکھوں گی کہ کہانی کا تسلسل کیسے ٹوٹا . خوش رہیں
  10. جی ضرور . کہانی مکمّل کرنے کے بعد پوری کہانی کو پی-ڈی-ایف فارم میں یہاں شئیر کر دوں گی . ابھی شئیر کی تو اس کہانی کا مزہ ختم ہو جائے گا . ٹھیک کہہ رہی ہوں ناں جی؟ خوش رہیں !
  11. قسط نمبر ١١ ہما ۔۔ جو تم نے اس میں بھرا ہوا ہے وہ دیکھ رہی ہوں ۔۔ تم مردوں کو بس یہی کام ہوتا ہے کیا۔۔ رشید ہنستا ہوا آگے بڑھا اور ہما کی کرسی کے پیچھے آکر اپنے ہاتھ آگے لا کر اسکے مموں پر رکھ کر انکو سہلاتے ہوئے بولا ۔۔ بس میڈم جی ٹائم پاس کرنے کے لیے ہی ہے اور کیا ۔۔ ہمانے اسکے ہاتھوں کو نہ روکا اور بولی ۔۔ ایسی فلمیں دیکھ دیکھ کر ہی تو بھی تم خراب ہوتے ہو اور ہر کسی کے ساتھ ایسی ہی گندی حرکتیں کرتے ہو ۔۔۔ رشید نے جھک کر ہما کے گال کو چوما اور بولا ۔۔۔ جس کسی کے ساتھ ایسی حرکت کرتے ہیں اسکو بھی تو مزہ آتا ہی ہے نا ۔۔ ہے نا میڈم جی ۔۔ ہما نے اسکا ہاتھ اپنے بوبس پر سے ہٹایا ۔۔ اور بولی ۔۔ چلو جاؤ اب باہر ۔۔ وہ نرس آگئی نا تو بہت برا ہو گا۔ رشید منہ لٹکا کر باہر کی طرف چل پڑا۔۔ اور ہما مسکراتی ہوئی اسکو جاتا ہوا دیکھتی رہی ۔۔ ایک رات جب ہما اور زمان دونوں ہی ڈیوٹی پر تھے تو ڈاکٹر فرخ بھی ہاسپٹل میں آگیا۔۔ اس وقت رات کے 2 بج رہے تھے۔۔ کچھ دیر کے لیے سب بیٹھ کر گپ شپ کرتے رہے۔۔ رشید آفس میں چائے لے کر آیا تو سب کی نظر بچا کر اس نے ہما کی طرف دیکھا ۔۔ اور فرخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہما کو آنکھ مار دی ۔۔ خودبخود ہی ہما کے چہرے پر شرمیلی سی مسکراہٹ پھیل گئی ۔۔۔ تھوڑی دیر بعد فرخ بولا فرخ۔۔ آؤ یار باہر چل کر کچھ کھا پی کر آتے ہیں ۔۔ پہلے تو ہما نہیں مانی لیکن دونوں کے بہت اصرار پر وہ انکے ساتھ چل پڑی ۔۔ زمان نے اپنی گاڑی نکالی ۔۔ ہما پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی تو فرخ بھی پچھلی سیٹ پر ہی آگیا۔۔ ہما اسکا مطلب سمجھ گئی ۔۔ مسکرا کر بولی ۔۔ ہما ۔۔ تم اگلی سیٹ پر جاؤ نا ۔۔ پیچھے کیوں آگئے ہو ۔۔ گاڑی جیسے ہی چلی تو فرخ نے ہما کو اپنی بانہوں میں کھینچ کر اپنی گود میں لٹا لیا اور اسکے چہرے پر جھک گیا۔۔ میری جان تمھارے اس حسین جسم کا مزہ لینے کے ہی تو پیچھے آیا ہوں ۔۔ یہ کہہ کر اس نے ہما کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے ۔۔ ہما بھی اسکا ساتھ دینے لگی ۔۔ فرخ نے ہما کے ہونٹوں کو چوسنا شروع کردیا۔۔ اپنی زبان کو ہما کے منہ میں ڈالا تو ہما نے اسکی زبان کو چوسنا شروع کر دیا۔۔ فرخ کے ہاتھ ہما کی شرٹ کے اوپر سے ہی اسکی چھاتیوں کو دبا رہے تھے ۔۔ ان سے کھیل رہے تھے ۔۔ فرخ نے ہما کی شرٹ کے نچلے حصے سے شرٹ کو ہٹایا۔۔ اور اپنا ہاتھ اسکے ننگے پیٹ پر رکھ دیا۔۔ اور پھر ہاتھ اوپر اسکے مموں کی طرف سرکانے لگا۔۔ ہاتھ اوپر لے جا کر اس نے ہما کی برا کے اوپر سے اسکے بوبس پر رکھ دیئے ۔۔ اور انکو آہستہ آہستہ دبانے لگا۔۔ ہما بھی گرم ہونے لگی تھی ۔۔ مگر وہ خود کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔ کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ ایسے وہ ان دونوں کے ساتھ گاڑی میں ہی کچھ کرے ۔۔ مگر فرخ نے اپنی پینٹ کی زپ کھول کر اپنا لوڑا باہر نکال لیا۔۔ اور ہما کو اپنی گود میں ہی کروٹ دے دی ۔۔ فرخ کا لوڑا اسکے منہ کے بلکل قریب آگیا ۔۔ بلکل سامنے ۔۔ ہما نے انکار کیا۔۔ ہما ۔۔ نہیں یار ۔۔ میں یہ نہیں کروں گی ۔۔ فرخ ۔۔ ارے یار بس تھوڑی سی دیر کے لیے ۔۔ لے لو نا اپنےگرم گرم منہ میں ۔۔ ہما ۔۔ اور اگر یہ میرے گرم گرم منہ میں پگھل گیا تو۔۔۔؟؟؟؟ فرخ ۔۔ تو پی جانا یار۔۔ ٹانک ہی ہے ۔۔ تمھارے ان مموں کی صحت کے لیے بہت اچھا رہے گا۔۔ ہما نے اسکی تھائی پر ایک تھپڑ مارا۔۔ بدتمیز ہو بہت تم ۔۔ فرخ ۔۔۔ ہاں وہ تو میں ہوں ۔۔۔ اور تم بھی تو اتنی ظالم ہو نا کہ اس دن کے بعد دوبارہ آئی ہی نہیں میرے پاس۔۔ بس زمان کو ہی مزے کرواتی رہتی ہو ۔۔ لگتا ہے کہ زمان کا لوڑا کچھ زیادہ ہی پسند آگیا ہے تم کو ۔۔ ہما ۔۔ جی نہیں ۔۔ اس دن کے بعد سے زمان کو بھی نہیں ملی میں ۔۔ فرخ ۔۔ کیوں ۔۔ اسے کیوں نہیں دی ۔۔ پیریڈز چل رہے تھے کیا۔۔ ہما ۔۔ پکے کمینے ہو تم نا ۔۔ فرخ ہنسنے لگا۔۔۔ اور اس نے ہما کا سر نیچے کو جھکایا۔۔ اور ہما نے اپنا منہ کھول کر فرخ کا لوڑا اپنے منہ میں لے لیا ۔۔ اور اسے چوسنے لگی ۔۔ گاڑی چل رہی تھی ۔۔ اور زمان بھی پیچھے مڑ مڑ کر یہ سب سین دیکھ رہا تھا ۔۔ فرخ نے ہما کی گانڈ پر سے اسکا پاجامہ کھسکا دیا۔۔ اور اسکی گانڈ کو بھی ننگا کر دیا۔۔ گوری گوری گانڈ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنا ہاتھ نیچے اسکی چوت تک لے گیا۔۔ اور اسکی چوت کو اپنی انگلی سے مسلنے لگا۔۔ اپنی انگلی ہما کی چوت کے اندر ڈالی اور اسے اندر باہر کرتے ہوئے اسکی چوت کو گرم کرنے لگا۔۔ ہما کو بھی اچھا لگ رہا تھا ۔۔ اسی لیے وہ اور بھی زیادہ جوش و خروش سے فرخ کا لوڑا چوس رہی تھی ۔۔ فرخ ۔۔ ہما اوپر آؤ نا ذرا میری گود میں ۔۔ ہما ۔۔ نہیں ۔۔ نہیں ۔۔ ایسے روڑ پر پر نہیں یار۔۔۔ فرخ ۔۔ ارے یار رات کے 3 بج رہے ہیں ۔۔ یہاں کس نے دیکھنا ہے اب ہم کو ۔۔ اور ویسے بھی گاڑی چل رہی ہے ۔۔ اور ہم نے جلدی سے کر لینا ہے بس۔۔ ہما نے ادھر ادھر دیکھا ۔۔ سڑک ساری سنسان تھی ۔۔ فرخ کے دوبارہ سے کہنے پر ہما اٹھی ، اپنے پاجامے کو نیچے کو سرکا کر اپنی ٹانگوں سے نکالا ۔۔ اور اسے سیٹ پر رکھ کر فرخ کی گود میں چڑھ گئی ۔۔ اپنی ٹانگیں اسکی ٹانگوں کی دونوں طرف کر کے ۔۔ فرخ نے اپنا لوڑا سیدھا کر کے ہما کی چوت پر ٹکایا۔۔ اور ہما نیچے کو بیٹھنے لگی ۔۔ فرخ کا لوڑا ہما کی چوت میں داخل ہونے لگا۔۔ ہما آہستہ آہستہ نیچے کو بیٹھ گئی ۔۔ اور فرخ کا پورے کا پورے لوڑا اسکی چوت کے اندر تھا ۔۔۔ فرخ نے اسکے ہونٹوں کو چوما ۔۔ اور اب وہ آہستہ آہستہ اوپر نیچے کو ہونے لگی ۔۔ فرخ کا لوڑا اپنی چوت میں اندر باہر لیتی ہوئی ہما اس سے چدوانے لگی ۔۔ ایسے باہر کھلے میں ۔۔ کھلی سڑک پر ۔۔ چلتی ہوئی گاڑی میں کسی کے ساتھ سیکس کرنے کا اسکا پہلا موقع تھا ۔۔ اور اس میں اسے کچھ الگ ہی مزہ آرہا تھا ۔۔ فرخ کے کندھوں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے اسکی گود میں اوپر نیچے ہونے کی ہما کی رفتار تیز ہوتی جا رہی تھی ۔۔ اسکی چوت بھی پوری طرح سے گیلی ہو کر اسکے لوڑے کو آسانی مہیا کر رہی تھی ۔۔ کچھ ہی دیر میں ہما کی چوت نے پانی چھوڑ دیا۔۔ اور اس نے اپنا سر فرخ کے کندھے پر رکھ دیا۔۔ ہما کی چوت نے فرخ کے لوڑے کو دبانا شروع کیا تو اسکے لوڑے نے بھی تھوڑی ہی دیر میں اپنا پانی ہما کی چوت کے اندر ڈال دیا۔۔ ہما اسکی گود سے نیچے اتر کر سیٹ پر بیٹھ گئی ۔۔ زمان نے آگے سے ٹشو کا ڈبہ انکو دیا۔۔ ہما ٹشو پیپر نکال کر اپنی چوت صاف کرنے لگی ۔۔ فرخ ۔۔ میرے اسکو بھی صاف کردو نا ۔۔ ہما نے ایک نظر اسکی طرف دیکھا ۔۔ اسکو گھورا ۔۔ اور پھر مسکرا کر ٹشو سے اسکے لوڑے کو صاف کرنے لگی ۔۔ اور پھر اسے سکی پینٹ کے اندر کر کے زپ بند کر دی ۔۔ اور جلدی سے اپنے کپڑے بھی ٹھیک کرلیے ۔۔ زمان ۔۔ ارے ارے ہما جی ابھی کپڑے نہیں پہنو۔۔ ابھی تو میری باری ہے ۔۔ ہما ۔۔ بکواس بند کرو اور خاموشی سے گاڑی چلاؤ۔۔ فرخ بھی ہنس پڑا۔۔ ہا ہا ہاہا ہا ہا ۔۔۔ ارے یار تم ہاسپٹل جا کر چود لینا نا ۔۔۔ کونسا ہما نے تم کو منع کرنا ہے ۔۔ ہما نے بھی ہنستے ہوئے فرخ کی ران پر ایک تھپڑ مار دیا۔۔ ایک ریسٹورنٹ آچکا تھا ۔۔ زمان نے گاڑی پارک کی اور تینوں گاڑی سے اتر آئے ۔۔ فرخ نے ہما کی کمر میں اپنا بازو ڈالا اور اسے لیے ہوئے ریسٹورنٹ میں داخل ہونے لگا۔۔ ہما نے اسکا ہاتھ ہٹانا چاہا۔۔ مگر وہ نہیں مانا ۔۔ اور آخر ہما نے بھی اسکو روکنا چھوڑ دیا۔۔ اور اسے من مانی کرنے کی اجازت دے دی ۔۔ تینوں ریسٹورنٹ میں آگئے اور ایک کارنر میں بیٹھ گئے ۔۔ ٹیبل کے گرد ایک صوفہ لگا ہوا تھا ۔۔ گول گول ۔۔ دونوں نے ہما کو بیچ میں بٹھایا۔۔ اور خود اسکے دونوں طرف بیٹھ گئے ۔۔ اور بیٹھتےہی اپنی شرارتیں شروع کردیں ۔۔ اسکی رانوں کو سہلانے لگے ۔۔ اور کبھی کوئی اسکے گال کو چوم لیتا اور کبھی دوسرا ۔۔ ہما انکو روک بھی رہی تھی ۔۔ مگر وہ کہاں ماننے والے تھے ۔۔ ہما کو ایک تسلی یہ بھی تھی کہ رات کے اس پہر ۔۔ اتنی دور بھلا کون اسکا جاننے والا ہو گا۔۔ اس لیے بھی وہ انکو آزادی دے رہی تھی ۔۔ اور اسکو بھی تو انکے ساتھ مزہ آرہا تھا نا ۔۔ ایسے ہی تینوں نے کھانا کھایا۔۔ کھانے کھانے کے بعد ہما واش روم کی طرف جانے کے لیے اٹھی ۔۔ اور زمان کے آگے سے گزری تو زمان نے اسکی گانڈ کو دبا دیا۔۔ انکی طرف آتے ہوئے ایک ویٹر نے بھی یہ منظر دیکھا اور مسکرا دیا۔۔ ہما شرمندہ ہو گئی ۔۔ مگر خاموشی سے واش روم کی طرف چلی گئی ۔۔ واش روم سے فارغ ہو کر نکلی تو اچانک ایک بندہ اسکے سامنے آکر کھڑا ہو گیا۔۔ جسے دیکھ کر ہما چونک پڑی ۔۔۔۔اور اسکی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔۔۔
  12. قسط نمبر ١٠ انور ۔۔ ارے آپ کہاں جا رہی ہیں ۔۔ زیب ۔۔ اصل میں آج میں نے ایوننگ ڈیوٹٰی کی ہے اس لیے اب واپس جارہی ہوں ۔۔ تو آپ مل گئے ہیں ۔۔ انور ۔۔ چلیں پھر میں آپ کو چھوڑ دیتا ہوں ۔۔ زیب ۔۔ ٹھیک کر رہے ہیں ۔۔ جان چھڑوا رہے ہیں نا آپ ۔۔ کہ جلدی سے اسکو ہاسٹل اتاروں تاکہ کہیں کچھ کھلانا نہ پڑ جائے نا ۔۔ انور ۔۔ تو آپ نے کچھ کھانا ہے کیا ۔۔ زیب ۔۔ بھوک سے میرے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں اور آپ ایسے پوچھ رہے ہیں انور مسکرایا اور گاڑی آگے بڑھا دی ۔۔ چلو پھر چل کر آپ کو کھانا کھلاتا ہوں پہلے ۔۔ زیب۔۔ لیکن پہلے تو میں فریش ہونا چاہوں گی کھانے سے پہلے ۔۔ کیوں کہ ڈیوٹٰی کے بعد تو پہلے میں نہاتی ہوں پھر ہی کھانا کھاتی ہوں ۔۔ انور ۔۔ تو پھر اب۔۔۔۔؟؟؟؟؟ زیب ۔۔ ارے آپ تو بلکل ہی معصوم ہیں ۔۔ کھانا پیک کرواتے ہیں اور آپکے گھر پہ چلتے ہیں ۔۔ اب تو ڈاکٹر ہما بھی گھر پر نہیں ہونگی نا ۔۔ تو آپ کو کس کا ڈر۔۔۔ زیب نے انور کو آنکھ ماری ۔۔ انور مسکرایا اور سامنے روڑ پر دیکھنے لگا۔۔ ایک ہوٹل کے سامنے گاڑی روک کر انور اندر گیا اور جاکر کھانا پیک کروایا اور جلدی سے واپس آگیا۔۔ اور کچھ ہی دیر میں وہ زیب کو لے کر اپنے فلیٹ پر پہنچ گیا۔۔ فلیٹ پر پہنچ کر زیب نے اپنی چادر اُتار دی ۔۔ جیسے ہی زیب کی چادر اتری تو انور اسکے جسم کو دیکھنے لگا۔۔ اسکا ڈریس اسکے جسم پر پھنسا ہوا تھا ۔۔ اسکی شرٹ اس قدر ٹائٹ تھی کہ اسکے ممے بلکل تنے ہوئے نظر آرہے تھے ۔۔ شرٹ کا گلا بھی کافی ڈیپ تھا ۔۔ جس میں سے زیب کے مموں کی درمیانی لکیر نظر آرہی تھی ۔۔ زیب نے انور کی نظروں کو اپنے جسم پر ہی اٹکے ہوئے دیکھا تو اپنے بازو اپنے مموں کے گرد لپیٹتی ہوئی انور سے ڈرنے کی اداکاری کرتی ہوئی بولی ۔۔ انور صاحب مجھے تو آپ کی نظروں سے ڈر لگ رہا ہے ۔۔ مجھے ابھی جانا ہے یہاں سے ۔۔ انور اسکی بات سن کر ہنسنے لگا ۔۔۔ اوہ ۔۔ سوری ۔۔۔ آئیں آپ کو باتھ روم دکھا دوں آپ فریش ہوجائیں ۔۔ زیب بھی مسکراتی ہوئی اسکے ساتھ بیڈ روم میں آگئی ۔۔ انور اسکو اندر چھوڑ کر باہر آگیا۔۔ زیب ہما کے باتھ روم میں گئی اور اپنے کپڑے اتار کر نہانے لگی ۔۔ نہا کر فارغ ہوئی تو تولیہ سے اپنا جسم صاف کر کے اپنی پینٹی اور برا پہن کر اوپر سے تولیہ اپنے ننگے جسم پر لپیٹ لیا۔۔ جو کہ اسکے مموں پر سے شروع ہو کر اسکی ہاف تھائیز تک جا رہا تھا ۔۔۔ مموں سے اوپری جسم ۔۔ گورے گورے کندھے اور سینہ ننگا تھا ۔۔ کندھوں پر اسکی برا کے سٹریپس بھی نظر آرہے تھے ۔۔ نیچے اسکی رانیں بھی ننگی تھیں ۔۔ زیب نے اپنے آپ کو آئینے میں دیکھا اور مسکراتی ہوئی بیڈروم سے نکلی ۔۔ ڈاکٹر ہما کے شوہر کو لبھانے اور اسے اپنے حسن کے جال میں پھنسانے کا آج اسکا پورا پورا پروگرام تھا ۔۔ آج وہ انور جیسے خوبصورت مرد سے بھی چدوا لینا چاہتی تھی ۔۔ اتنی دیر میں انور نے کھانا ٹٰیبل پر لگا دیا ہوا تھا ۔۔ زیب کو اس حالت میں دیکھا تو ایک بار پھر دیکھتا ہی رہ گیا۔۔اسکا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔۔ زیب مسکراتی ہوئی ٹیبل کے قریب آئی ۔۔ انور کا کھلا ہوا منہ دیکھ کر مسکرائی ۔۔ اور اپنی انگلی اسکی تھوڑی کے نیچے رکھ کر اوپر کو اٹھاتے ہوئے اسکا منہ بند کر دیا۔۔ انور جیسے ہوش میں آگیا۔۔ اور شرمندہ ہو کر اسکے سامنے پلیٹ رکھنے لگا۔۔ زیب بھی بیٹھ چکی تھی ۔۔ دونوں نے کھانا کھانا شروع کر دیا۔۔ انور کی نظریں بار بار زیب کے ننگے جسم پر جارہی تھیں ۔۔ انور ۔۔ زیب تم نے کپڑے کیوں نہیں پہنے ۔۔ زیب۔۔ بس ایسے ہی ۔۔ نہا کر کچھ دیر کے لیے جسم کو کھلا چھوڑنا اچھا لگتا ہے مجھے ۔۔ انور شرارت سے بولا ۔۔ پھا آج کھلا کیوں نہیں چھوڑا۔۔۔ ؟؟؟؟ زیب انور کی بات کا مطلب سمجھ گئی ۔۔ اور ہنستی ہوئی بولی ۔۔ بہت چالاک ہیں آپ ۔۔ لیکن جو آپ سوچ رہے ہیں نا وہ نہیں ہوگا۔۔ آئی سمجھ آپ کو ۔۔ انور نے ہمت کر کے اپنا ہاتھ بڑھا کر زیب کے ہاتھ پر رکھا اور اسکے ہاتھ پر سے اپنا ہاتھ اوپر کو اسکی ننگی بازو پر لے جانے لگا۔۔ اسکی بازو کو سہلاتے ہوئے ۔۔۔ اور بولا۔۔ کیوں جی ۔۔ وہ کیوں نہیں ہو سکتا۔۔ زیب مسکرائی ۔۔ کیونکہ آپ اپنی بیوی سے ڈرتے جو بہت ہو ۔۔ ہے نا ۔۔ انور ۔۔ نہیں ۔۔ نہیں ۔۔ ایسی تو کوئی بات نہیں ہے ۔۔ پر تم نے ایسا کیوں لگا۔۔ زیب مسکرائی ۔۔ وہ اس لیے لگا کہ آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو مجھے اس حالت میں دیکھ کر مجھ سے مجھے چھونے کی اجازت نہ مانگ رہا ہوتا ۔۔ بلکہ اب تک ۔۔۔ انور اسکی بات سن کر مسکرایااور۔۔ اپنی جگہ سے اٹھا اور زیب کی کرسی کے پیچھے آکر اس پر جھکا اور پیچھے سے اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا۔۔ اسکے دونوں ہاتھ اسکے مموں پر آگئے ۔۔ انور نے اپنے ہونٹ زیب کی گردن پر رکھے اور اسکو چومنے لگا۔۔ زیب کے منہ سے بھی سسکاریاں نکلنے لگیں ۔۔۔ انور نے اسکے مموں کو آہستہ آہستہ سہلانا اور دبانا شروع کر دیا۔۔ پھر اچانک سے انور نے زیب کو اپنی بانہوں میں اٹھا لیا اور اسے اپنے بیڈروم میں لے جانے لگا۔۔ زیب نے بھی اپنے بازو انور کی گردن میں ڈال دیئے اور مسکراتی ہوئی اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگی ۔۔۔ بیڈروم کی طرف جاتے ہوئے انور نے اسکے جسم پر لپٹا ہوا تولیہ بھی گرا دیا۔۔ اب زیب اسکی بانہوں میں صرف برا اور پینٹی میں تھی ۔۔ اور انور اسکے نازک سے جسم کو اپنی بانہوں میں اٹھا کر اپنے بیڈروم میں لے جا رہا تھا ۔۔ اسکے گالوں کو چومتے ہوئے ۔۔ اپنے بیڈروم میں لے جا کر انور نے زیب کو اپنے بیڈ پر پھینک دیا۔۔ زیب کا جسم نرم نرم گدے پر اچھلا ۔۔ اور وہ زور زور سے ہنسنے لگی ۔۔ زیب صرف سرخ رنگ کی برا اور پینٹی میں انور کے سامنے بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی ۔۔ اسکا جسم انور کے سامنے ننگا تھا ۔۔ انور کچھ دیر تک اسکے جسم کو دیکھتا رہا ۔۔اسے ایسی حالت میں دیکھتے ہوئے دیکھ کر زیب بولی ۔۔ زیب۔۔ بس دیکھتے ہی رہیں گے کیا۔۔۔ زیب کی بات سن کر انور ایک ہی جست میں بیڈ پر چڑھ گیا زیب کے ننگے جسم کے اوپر ۔۔ ایک ہی جھٹکےسے زیب کی برا کو اتار کر اسکے مموں کو ننگا کر دیا۔۔ زیب کے ممے ہما کے مقابلے میں چھوٹے تھے ۔۔ مگر ٹائٹ ویسے ہی تھے ۔۔۔ انور نے زیب کے دونوں ہاتھوں کو پکڑا اور اسکے سر کے اوپر لے جاکر اپنے ایک ہاتھ میں دونوں ہاتھ پکڑ کر بیڈ پر دبا دیئے اور زیب کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا ۔۔ کیوں مس زیب جی ۔۔ اب تو ٹھیک ہے نہ ۔۔ اب تو میں وہی کر رہا ہوں نا جو کسی بھی مرد کر کرنا چاہیے ۔۔ زیب مسکرائی ۔۔ اور تھوڑا اونچی آواز میں بولی ۔۔ اب تو مجھے آپ سے ڈر لگ رہا ہے ۔۔ بچاؤ ۔۔ بچاؤ۔۔۔ کوئی ہے میری سننے والا تو مجھے بچاؤ اس درندے سے ۔۔۔ انور مسکرایا۔۔ تم کو اس درندے سے بچانے والا کوئی نہیں ہے یہاں میری جان ۔۔ یہ کہہ کر انور نے اپنے ہونٹ زیب کے ہونٹوں پر رکھ دیئے اور اسکو ہونٹوں کو چومنے لگا ۔۔۔ اپنے ہونٹوں میں لے کر چوسنے لگا۔۔ زیب بھی اسکا ساتھ دینے لگی ۔۔ زیب نے اپنی زبان انور کے منہ میں ڈال دی اور انور نے اسے چوسنا شروع کر دیا۔۔ ساتھ ہی اپنے ایک ہاتھ سے زیب کی چھاتیوں کو دبانے لگا۔۔ اسکے نپلز کو دبانے لگا۔۔ انور کے پاجامے میں اسکا لوڑا اکڑ چکا تھا ۔۔ جو کہ زیب کے پیٹ سے ٹکرا رہا تھا ۔۔ انور نے بھی اپنے لوڑے کو زیب کے پیٹ پر رگڑنا شروع کردیا۔۔ زیب کے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ ہٹا کر انور نے اسکے گورے گورے سینے کو چوما ۔۔ اور پھر اسکے مموں کے درمیانی حصے کو چومنے لگا۔۔ زیب کے تنے ہوئے ممے کو مختلف جگہوں سے چومتے ہوئے اسکے براؤن نپل پر آگیا۔۔ اپنی زبان کی نوک سے زیب کی چھاتی کے نپل کو سہلانے لگا ۔۔ اسے چاٹنے لگا ۔۔ اسے اپنے تھوک سے گیلا کرنے لگا ۔۔۔ پھر اپنے ہونٹوں میں لیا اور سے چوسنے لگا۔۔ لذت کے مارے زیب کی آنکھیں بند ہونے لگیں ۔۔۔ وہ انور کے سر کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی ۔۔ انور اسکے دونوں نپلز کو باری باری چوس رہا تھا ۔۔ اور نیچے سے اپنا لوڑا اسکی رانوں اور چوت پر رگڑ رہا تھا ۔۔ کچھ ہی دیر میں زیب نے پلٹی کھائی اور انور کے اوپر آگئی ۔۔ اور جھک کر اپنے ہونٹ انور کے ہونٹوں پر رکھے اور اسکو چومنے لگی ۔۔۔ اسکے ہونٹوں کو اپنی زبان سے چاٹنے لگی ۔۔ اپنی زبان اسکے منہ میں گھسانے لگی ۔۔ انور اسکی تمام حرکتوں کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ اور گرم ہوتا جا رہا تھا ۔۔ پھر زیب نے انور کے دونوں ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لیا اور انکو چوسنے لگی ۔۔ ان پر اپنی زبان پھیرتی ہوئی ۔۔ چند منٹ بعد زیب سیدھی ہو کر انور کے رانوں پر بیٹھ گئی ۔۔ اپنے ہاتھ انور کی شرٹ کے گریبان پر رکھے ۔۔ اور ایک جھٹکے اسے اسکی شرٹ کے بٹنوں کو توڑ کا اسکی شرٹ کھول دی۔۔ شرٹ کے نیچے انور کا جسم ننگا تھا ۔۔ زیب نے اپنے دونوں ہاتھوں کو انور کے دونوں نپلز پر رکھا ۔۔ اور اسکے چھوٹے چھوٹے سخت نپلز کو اپنی انگلیوں میں مسلنے لگی ۔۔۔ انور اس درد بھری لذت پر تڑپ اٹھا ۔۔۔۔اور ساتھ ہی اسکے منہ سے سسکاری بھی نکل گئی ۔۔ زیب انور کے سینے کے بالوں کو سہلا رہی تھی اور اسکے نپلز کو مسل رہی تھی ۔۔ زیب انور کے سینے پر جھکی اور اپنے لمبے لمبے ناخن کے ساتھ انور کے نپلز کو کریدنے لگی ۔۔ ہلکے ہلکے لذت آمیز درد کےساتھ انور تڑپ اٹھا ۔۔۔ انور کو درد میں دیکھ زیب مسکرائی اور اسکے نپلز کو اپنی زبان سے چاٹ کر اسکا درد کم کرنے لگی ۔۔ اپنے ہونٹوں سے تھوڑا سا تھوک انور کے نپل پر گرایا۔۔ اور پھر اپنی انگلیوں سے اسے ملنے لگی ۔۔ انور کو الگ ہی لذت مل رہی تھی آج ۔۔ ایسا مزہ جو کبھی ہما کے ساتھ نہیں آیا تھا ۔۔ تھوڑی دیر تک انور کے نپلز سے کھیلنے کے بعد زیب نیچے کو جانے لگی ۔۔ نیچے اسکی رانوں کے درمیان مٰیں آکر انور کے پاجامے کے اوپر سے ہی اسکے لوڑے کو اپنی مٹھی میں لیا اور دبانے لگی ۔۔ پھر اسکا پاجامہ نیچے کو سرکا دیا۔۔ اور انور کا اکڑا ہوا لوڑا اسکے سامنے لہرانے لگا۔۔ جھٹکے لینے لگا۔۔ زیب نے اسکا لوڑا پکڑا اور اسکی ٹوپی کو چوم لیا۔۔ پھر اسے منہ میں لے کر چوسنا شروع کردیا۔۔ اپنے سر کو اوپر نیچے کو کرتی ہوئی لوڑے کو چوسنے لگی ۔۔ انور کا لوڑا اسکے حلق تک جا رہا تھا ۔۔ حلق سے ٹکراتا تو وہ اپنے منہ کو پیچھے لے جاکر لوڑا منہ سے نکال لیتی ۔۔ کچھ ہی دیر میں انور کا لوڑا زیب کے تھوک سے لتھڑ چکا تھا ۔۔ گاڑھا گاڑھا تھوک اس پر لگا ہوا تھا ۔۔ تھوک کی ایک تار سی بن کر اسکے منہ سے لوڑے تک جاتی جب وہ اسے منہ سے باہر نکالتی ۔۔ جب انور کا لوڑا چوس کر زیب کی تسلی ہو گئی تو وہ اٹھ کر انور کے اوپر آگئی ۔۔ اپنے پیروں کے بل بیٹھ کر زیب نے اسکا لوڑا پکڑ کر اپنی چوت کے سوراخ پر ٹکایا۔۔ اور آہستہ آہستہ نیچے کو بیٹھتی ہوئی اسکے لن کو اپنی چوت کے اندر لینےلگی ۔۔ انور کا گورا چٹا لوڑا زیب کی چوت میں اترنے لگا۔۔ گرم گرم لن اپنی چوت میں جاتے ہی زیب کو مزہ آگیا۔۔ وہ انور کے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر اوپر نیچے کو ہوتے ہوئے انور سے اپنی چوت چدوانے لگی ۔۔ انور بھی زیب کے مموں سے کھیل رہا تھا ۔۔ اور کبھی کبھی نیچے سے اوپر کی طرف دھکا بھی مار دیتا تھا ۔۔ کچھ دیر ایسے ہی زیب اوپر سے چدواتی رہی ۔۔ پھر انور نے اسے بانہوں میں بھر کر پلٹ دیا۔۔ اور بنا لوڑا اسکی چوت سے نکالے اس کے اوپر آگیا۔۔ زیب کے جسم کے اوپر لیٹتے ہوئے انور نے اپنے ہونٹ اسکے ہونٹوں پر رکھے اور اسے چومتے ہوئے پیچھے سے دھکے لگانے لگا۔۔ زیب نے بھی اپنی ٹانگیں اسکے چوتڑوں کے گرد کس لیں اور انور کے لوڑے کو اپنی چوت کی گہرائیوں تک لے جانے لگی ۔۔ دونوں کو ہی خوب مزہ آرہا تھا ۔۔ انور نے سیدھا ہو کر زیب کی دونوں ٹانگوں کو کھولا اور چوڑا کر کے دھکے لگانے لگا۔۔ کمرے میں تھپ۔۔ تھپ ۔۔ تھپ کی آوازیں گونج رہی تھیں ۔۔ اور انور زیب کی چوت چود رہا تھا ۔۔ اسی دوران زیب کی چوت نے دوسری بار پانی چھوڑ دیا اور انور کے لوڑے کو دبانے لگی ۔۔ آخر انور کے لوڑے سے بھی منی نکل کر زیب کی چوت کو بھرنے لگی ۔۔۔ اور انور نڈھال ہو کر زیب کے اوپر لیٹ گیا۔۔ زیب نے اسی دوران اپنی اور انور کی کچھ تصویریں بھی بنا لیں ہما کو دکھانے کے لیے ۔۔ دوسری طرف ۔۔ ہما ہاسپٹل میں پہنچی تو اسے پتہ چلا کہ آج زیب ڈیوٹی پر نہیں ہے بلکہ کوئی دوسری نرس کی ڈیوٹی ہے ۔۔ جو عمر میں ہما سے بڑی تھی ۔۔ اور ظاہر ہے کہ اسکے ساتھ زیب جیسی فرینکنیس نہیں تھی ۔۔ اس لیے ہما اپنے آفس میں ہی بیٹھی تھی ۔۔ تھوڑی دیر میں رشیدکمرے میں آٰیااورصفائی کرنے لگا۔۔ اپنا کام کرتے ہوئے وہ بار بار مسکرا کر ہما کو دیکھنے لگا۔۔ ہما بھی اسکو دیکھ رہی تھی ۔۔ کچھ دیر بعد بولی ہما ۔۔ رشید کیا بات ہے تم ایسے کیوں ہنس رہے ہو ۔۔ رشید ہنسا۔۔ کچھ نہیں میڈم ۔۔ بس میں سوچ رہا تھا کہ آج آپ نے ڈاکٹر زمان اور ڈاکٹر فرخ کے ساتھ خوب مزے کیے ہیں نا ۔۔ ہما نے چونک کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔ اور پھر بولی ۔۔ تم باز نہیں آتے نا میری جاسوسی کرنے سے ۔۔ رشید بولا ۔۔ سوری میڈم ۔۔ ویسے میں نے آپ کو کچھ کہا تو نہیں نا ۔۔ بس پوچھ ہی رہا ہوں نا کہ کتنے مزے کیے آپ نے ۔۔ ہما چڑ کر بولی ۔۔ تم کو کیا اس سے ۔۔ تم اپنا کام کرو جا کر ۔۔۔ وہ جانے لگا تو ہما بولی ۔۔ یہ ڈاکٹر زمان آج کیوں نہیں آئے ابھی تک ڈیوٹی پر ۔۔ رشید۔۔ پتہ نہیں میڈم جی ۔۔ آپ کال کر کے پوچھ لیں ۔۔ ہما نے اپنا موبائل اٹھایا۔۔ اور زمان کو کال کرنے لگی ۔۔ ہما ۔۔ اوہ ہو ۔۔ میرا تو بیلنس ہی ختم ہو گیا ہے ۔۔ جاؤ کارڈ لے کر آؤ۔۔ رشید نے اپنا موبائل نکال اور ہما کے سامنے کردیا۔۔ میڈم آپ میرے موبائل سے کال کر لیں ۔۔ ہما نے جھجکتے ہوئے اس سے موبائل لے لیا اور زمان کا نمبر ملانے لگی ۔۔ ہما ۔۔ نمبر مصروف جا رہا ہے اسکا۔۔ رشید۔۔ میڈم آپ ٹرآئی کریں میں اتنی دیر میں کارڈ لاتا ہوں ۔۔ رشید کمرے سے باہر چلا گیا۔۔ تو ہما اسکا موبائل دیکھنے لگی ۔۔ سوئیپر ہونے کے باوجود بھی اسکے پاس مہنگا موبائل تھا۔۔ ہما دیکھنے لگی ۔۔ اس میں رشید نے ننگی فلمیں بھری ہوئی تھیں ۔۔ اور پتہ نہیں کس کس کے موبائل نمبرز تھے ۔۔ کوئی دس منٹ کے بعد رشید واپس آگیا۔۔ تو ہما ابھی بھی موبائل دیکھ رہی تھی ۔۔ رشید۔۔ میڈم جی کیا دیکھ رہی ہیں ۔۔
×
×
  • Create New...