Jump to content
URDU FUN CLUB

Search the Community

Showing results for tags 'dr khan'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • ...::: U|Fun Announcements Club :::...
    • News & ­Announcements
    • Members Introduction
    • Complains & Suggestions
  • ...::: U|Fun General Knowledge Club :::...
    • General Knowledge
    • Cyber Shot (No Nude)
  • ...::: U|Fun Digital Library Club :::...
    • Own Writers Urdu Novels
    • Social New Writers Club
    • Urdu Poetry Ghazals Poems
  • ...::: U|Fun Buy and Sale Club :::...
    • Buy & Sale Your Products
  • ...::: U|Fun Adult Multimedia Club [Strictly For 18+] :::...
    • Users Chit Chat (18+)
    • Advice with Doctors (18+)
    • Urdu Jokes Poetry (18+)
  • ...::: U|Fun Urdu Inpage & Pic Adult Stories Club Normal Standard :::...
    • Urdu Adult Inpage Stories
    • Roman Urdu / Hindi Adult Stories
    • Picture Stories (By UFC Writers)
    • Incomplete Stories (No Update)
  • ...::: U|Fun Premium Membership Subscribe Club :::...
    • Purchase VIP Membership
  • ...::: U|Fun High Standard Premium Club :::...
    • Pardes Serial Novel VIP Edition
    • Hawas Serial Novel VIP Edition
    • Queen Serial Novel VIP Edition
    • Aahni Grift Serial Novel VIP Edition
    • Kamran and Head Mistress VIP Edition
  • ...::: U|Fun Recycle Bin Club :::...
    • Recycle Bin

Categories

  • Urdu Sex Stories High Standard
  • Urdu Pic Stories High Standard
  • Premium Club Serials Complete
  • Pardes Serial Novel VIP Edition

Product Groups

  • Urdu Sex Stories High Standard
  • Urdu Pics Stories High Standard
  • Pardes Serial Novel VIP Edition
  • Hawas Serial Novel VIP Edition
  • Queen Serial Novel VIP Edition
  • Aahni Grift Serial Novel VIP Edition
  • Kamran and Head Mistress VIP Edition
  • Premium Club Serials Completed

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Gender


About Me

Found 24 results

  1. Assalam o Alikum friends Mra naam Hadi hy r ya story Meri apni personal life pa hy wo kheta hn na ka insan ka guzra hova lamha kuch asy hota hn ju wo kabhi bhul kar bh unha bhula nhi sakta khair point ki traf aty hn apko uljhan hu rahi hu ge ka apni khani start karna ki bejay kuch r hi start kar liya hy ... Dosto ya Meri first story hy Urdu fun club pa umeed hy ka admins Isa zaror pasnd Karin ga r mujy help bh Karin ge.. Ya bat kuch bht purani hy jab mn 10th class mn partha tha us time Meri age 15 saal thi r mn Lahore city mn rehta tha Ghar ma mahool bht shkat tha mra Walid Shb bht hi shkat mejaz ka Banda tha is liya un sa dar bh bht lagta tha us time mujy sex k bra mn koi knowledge nhi tha bs ghumna pherna cricket khelna hi mra shok tha apna friends k shat hi zeda time spend hota tha ek bar ki bat hy mra 10th ka final examz khtm hova tha r mn free tha kabhi apna muhala mn tawajhu nhi de ka yhn Kon Kon rehta hy . Mn free tha tu sra din Ghar MN TV dhkta ya friends k shat match khlna mn guzrta tha ek din subha Meri jaldi anhk khul gai muhala mn kuch shor ki awaz sun kar MN bahir aya tu dhka bahir kafi rush tha r police bh ai hoi thi oper sa kuch smjh na ai nechy jna lga tu tu ammi na pocha khn chal Diya mna kha kahin nahi bus bahir ja rha hn pta nhi kia masla hy police bh ai hy Meri Ammi na Shakti sa mujy roka lakin mna unha tal matol kar ka kesi bhana sa bahir aa gya bahir jab poncha tu police na ek Ghar k bahir kafi shor dala hva tha wo door open karna ko Bol rha tha lakin under sa koi darwza khul nhi rha tha mna whn khara ek larka sa pocha akhir masla kia bna hy yhn itna halagulah q hy tu us na btaya ka kesi larki kà chakar hy lakin sari bat ka ilam nhi mujy thuri bezari c hoi uski bat ko sun ko MN thura ur agy hva ya jnana ka liya ka akhir masla hy kia asal tu tabhi ek bazugh sa uncle na police walun sa bat karta hva kha k bhat kar bat karta hn masla ka Hal nikalta hn lakin police walun na bola ya bhet kar masla Hal nhi hona larka ko pakrna zarori hy q ka is larka na hmra sahib ki larki k shat galat kia hy Isa kesi Surat bh maf nhi kia jay ga mn soch mn par gya k Isa akhir hova kia ju police wala bh bat karna sa inkari hn mujy thuri ur justaju hoi ka Puri haqiqat janu akhir masla hy kia. Jesy ka dostu apko tu PTA hi hy hm larkun ko phudi k ilawa ur bh masla mn ghusna ki bht jaldi hoti hy r aksar hi hm garm garm khta hva apna mun Jala bheta hn kuch Isa hi mra shat hova achnak....
  2. دو سگے جڑواں بھائیوں کی سچی کہانی جو ذہانت میں بہت اعلی تھے ۔ تو فرض کے لیے سب حدیں پار کر جاتے جو کسی سے بھی نہیں ڈرتے واحد کمزوری تھی ایک مخصوص جسم والی لڑکیاں جب وہ اس معاشرے کے گروں سے ٹکرائے تو کیا کیا رنگ نظر آئے جلد صرف اردو فن کلب پر
  3. میری سلطنت میرا حق قسط1 ہر طرف موت کا سما ساری ریاعا اس بات سے پریشان تھی بشمول بادشاہ نیام بھی خوف میں مبطلاع تھا کے کب کون سا تیر کب کون سی تلوار اس کی جان لے جائے بادشاہ نیام رازداری سے باگنے کے بارے میں اپنی خواب گاہ میں چھپا سوچ ہی رہا تھا کہ بنا اجازت شاہی دائی کسمو دائی سرپٹ داخل ہوئی حضور ملکہ صاحبہ کا وقت قریب ہی ہیں وہ اگر جان بچانےکے لیے سفرپر نکلتی ہیں خود تو جان سے جائے گی بلکہ بچہ کو بھی خطرہ ہیں جو ان کے پیٹ میں ہے کیونکہ پدائش کا وقت قریب قریب ہیں بادشاہ نیام جو بزدل کی طرح باگنے کی ترقیب بنا رہا تھا یہ سن کے سختےسے سن پرگیا جب ہوش بحال ہوئے تو کسمو دائی کو کہا شمسار سے کہو کےوزیر کو کہے کہ بادشاہ سلامت کا حکم ہیں کے ساری صورتحال کا جائزہ لے کے جلد بادشاہ سلامت کو اطلاع دی جائے کسمو دائی حکم پا کے جلدی سے مڑی اور باہر آکے شمسار کو بادشاہ نیام پیغام کا شمسار کے سپرد کر کے وزیر کی طرف روانہ کر دیا اور خود زنانا خانے کے طرف چل دی ۔شمسار بادشاہ کا خاص محافظ تھا وہ چھے فٹ لمبا 27 برس کا گبروجوان تھا ۔بادشاہ کے ویسے تو سکینڑوں محافظ تھے لیکن خاص صرف دو محافظ تھے جو ہر وقت بادشاہ کی حفاظت کرتے ایک تو شمسار دوسرا عمر تھا عمر بھی 25 برس کا چھے فٹ لمبا کالی آنکھوں والا گورا چٹا جوان تھا عمر کو دیکھ کے کنیزیں لونڈیاں حتکہ شاہی خواتین کی پھدویوں میں بھی کھجلی شروع ہوجاتی تھی برحال شمسار پیغام لیے روانہ ہو گیا ادھر بادشاہ کھڑا ہوا اپنی تلوار میان میں سے نکالی اور ملکہ روشاہ کی طرف چل دیا محافظ عمر بھی پیچھے پیچھے چل دیا بادشاہ نیام ملکہ روشاہ کی خواب گا کے اندر چلا گیا جب کہ عمر دروازے کے باہر پہرہ دینے لگ گیا بادشاہ نیام نے تلوار سیدھی ریشم سے بنے ہوے پلنگ پے رکھی اور ملکہ روشاہ گلے لگ کے رونے لگ گیا ملکہ روشا نے بادشاہ کو سینے سے ھٹاکے اپنے ہاتھوں میں بادشاہ چہرا پکڑا اور کہنے لگی آلی جا مجھے اپنی جان کی فکر قطے نہیں ہے آپ بس ہمارے بچے کو بچا لے بادشاہ۔۔ میں تم دونوں کچھ نہیں ہونے دو گا فکر نہ کرو اس سے پہلے بادشاہ کچھ کہتا روشاہ نے درد کے مارے تیز چیخ ماری کسمو داٸی ملکہ کی طرف لپکی اور کہنے لگی آلیجاہ پدائش کا وقت آگیا ہے بادشاہ نے ملکہ کو لیٹاتے ہوٸے ملکہ روشاہ کے ہاتھوں میں ہاتھ لے بیٹھ گیا کسمو داٸی نے ملکہ کا آزادبند کھولا اور ملکہ کی پوشاک کا گاگرا اتار دیا اور ملکہ کی دونوں ٹانگوں کو مخالف سمت میں کھول کے پھدی کے اوپر ہاتھ رکھ کے اپنا داٸی ُپنا کی مہرات دیکھنے لگ گٸی ملکہ کی چخیں تیز سے تیز ہوتی گٸ اچنک بچے رونے کی آواز پا کر ملکہ اور بادشاہ کے چہرے پے مسکرہٹ آگٸی یہ خوشی صرف اک پل کے لیے تھی کیونکہ اگلے ہی لمحے عمر اندر دخل ہو ملکہ کے بدن کو نگے پا دوسری طرف منہ کرلیا گستاخی معاف آلیجاہ لیکن خبر پہچانی آپ ک ضروری تھی بادشاہ۔۔ ہاں کہو کیا خبر ہے جس وجہ سے تم نے تمیز کا دایرہ عبور کیا ۔آلیجا جاسوس نے خبر دی ہیں کہ غردار کوٸی اور نہیں بلکہ آپ کا ویزر بانش ہے جس نے یومانیوں سے مل کر اپ سے بغاوت کی ہیں یہ سن بادشاہ نیام کا چہرہ سرج ہوگیا بادشاہ ۔۔ اس کی اتنی جرات عمر۔۔ گستاخی معاف حضور جاسوس نے بتایا ہے کہ آپکی ساری سینا ماری جاچکی ہیں جو بچٸے ہیں جان بچا کے چھپ گیے ہیں یومانی سرحروں کو کب کے عبور کر چکے ہیں وزیر بانش اور یومانیوں کی ایک ُٹکری محل کی جانب روا ہے ۔ بادشاہ بےسکات ہو ہو پلنگ پے بیٹھ گیا تھوری دیر باد اوٹھا اور کہنے لگا کسمو داٸی ****نے ہمیں کس سے نوزا ہیں کسمو داٸی حضور شہزدہ دیا ہے ****نے بادشاہ شہزاے کو گود میں اوٹھیا اور ملکہ روشاہ کے پاس بیٹھ کے میری روشاہ بتاو کیا نام دیا جایے ملکہ روشاہ آلیجاہ آپ بہتر جانتے ہیں بادشاہ۔۔۔ نہیں یہ فیصلہ آپکا ہو گا ملکہ روشاہ شہزدہ حیظان بادشاہ۔۔ نہیں صرف حیظان کیونکہ یہ شہزدہ نہیں خد کے بلبوطے پے اک دن بادشاہ بنے گا یہ کہہ کے بادشاہ شہزدے کی گالوں چومتے ہوٸے کہنے لگا مجھے معاف کرنا بیٹا میں تمہں شہزدوں والے سکھ نہیں دے پاوں گا اور ہاں یہ تو کبھی نہیں سنے گا کے بادشاہ بزدلوں کی طرح باگتا ہوا مارا گے تو ہمیشہ یہی سنے گا کہ بادشاہ نیام بہادری سے لڑتا ہو مرا لڑتا ہوا مرا گیا یہ کہہ بادشاہ رونے لگ گیا اور زور سے چلایا عمممر عمر۔۔ جی حضور بادشاہ۔۔۔ شہزدے کو پکڑ اور ملکہ کو لے کے محل کے خفیا سرنگ سے نکل جا شہزدے اور ملکہ کو پوری عمر آنچ بھی نہ آیے کسمو داٸی تو بھی ساتھ میں جا عمر۔۔۔ جیسا حکم آلیجاہ یہاں پے آپو بتا دو کسمو داٸی صرف نام کی داٸی تھی نہیں بلکہ 23 سال کی خوبصورت لڑکی تھی سوا پانچ فٹ قد گھورا رنگ پتلی کمر سخت تنے ہوٸے ممے جب کوٸی دیکھتا تو رشک کھاتا اور اپنی بے پنا ذہانت کی وجہ سے شاہی داٸی کے ُاھدے تک کامیابی حاصل کی تھیبادشاہ کا حکم پا کے کسمو داٸی اور عمر دونوں ملکہ کی طرف لپکے ملکہ درد سے نحال کڑاتی ہوٸی بیھٹی شہزدے حیظان کو بانہوں میں بھر کے پیار کرنے لگی آلیجاہ میں آپ کو چھوڈ کے کیسے جا سکتی ہوں کسمو عمر شہزدے کو محفوظ جگہ لے جاٸے گے۔ بادشاہ۔۔۔۔ روشاہ میری بات مانوں اور کسمو اور عمر کے ساتھ جاوں آلیجاہ میں آپکو چھوڈ کے کیسے جا سکتی اگر مرنا ہی ہیے تو آپکی بانہوں پرسکون موت آٸے گی۔ بادشاہ۔۔۔ روشاہ یہ میرا حکم ہے جاو اور اگر میں مر گیا تو میرے بیٹے کی پرویش ایسے کرنا کہ وہ جوان ہو کہ اپنے باپ کی سلطنت واپس لے سکے یہ کہہ کہ اپنے ناف سے اک حسین خنجر نکلا روشاہ کو تھما دیا یہ ہمارا آبوجداد کا خاندانی خنجر ہے جب ہمارا بیٹا جوان ہو گا تو اس سمبھالنا اور اسکا مقصد بھی مجھ جاٸے گا اب جلدی جاوں وہ غردار اور یومانی فوج آتے ہی ہو گے۔ ملکہ نے بادشاہ کو سینے سے لگایا اور لڑکھرتے ہوٸے قدموں سے عمر کے ساتھ چلنے لگی شہزدا حیظان کو عمر نے گلے سے لگا کے چلنے لگ گیا وہ لوگ چلتے چلتے اک کمرے میں پہنھچ گیے کمرے میں اک الماری نما دروزہ تھا عمر نے شہزدے کو کسمو کے حوالے کیا اور خود الماری نما دروازے کو سرکانے لگ گیا تھوری ہی مشکت کے بعد سرنگ نمادار ہو گٸی وہ سب باری باری اندر داخل ہونے لگ گیے سرنگ کی چوراٸی ہی اتنی تھی کے اک اک کر کے جایا جاسکتا تھا پہلے عمر اسکے پیچھے کسمو اور شہزدہ آخر میں ملکہ روشاہ وہ ابھی سرنگ کو آدھا ہی عبور کیے تھے پیچھے سے شور سناٸی دینے لگ گیا تلوار اور تیروں گونج سناٸی دینے لگ گٸی وہ شور دیھرے دیھرے انکی اور برھنے لگ گیا اچانک ملکہ کی چیخ نکلتے ہی زمین پے الٹی گڑپری کسمو نے مڑ کر دیکھا تو کسمو پوری کاپنے لگ گٸی کیونکہ ملکہ کی کمر پر تیر لگا ہوا تھا کسمو جھٹ سے پلٹی ملکہ کو اٹھانے کی نکام کوشش کرتی رہی تبہی ملکہ نے ہاتھ پکڑا اور کہنے لگی کسمو میں اب بچ نہیں پاو گی یہ خنجر پکڑو اور تمیں معلوم تو جو بادشاہ نے کہا تھا کسموجی ملکہ صاحبہ معلوم ہے ملکہ کبھی کسی کو پتا نہ چلے کے یہ میرا یہ شہزدہ ہے جب تک شہزدہ اس خنجر کا راز نہ جان لے تم اسے اپنا بیٹا بنا کے پلانا اور یہاں سے کہی دور چلے جاوں تم لوگ اور جلدی کرو وہ پیچھے آرہے ہیں میں انہیں روکنے کی کوشش کرتی ہوں ۔ جلدی باگو کسمو جلدی ۔ عمر اور کسمو شہزدے کو لے کے سرنگ کی دوسری جانب نکلے سرنگ کی دوسری اک بہت مضبوط کھولا دروزہ تھا عمر نے باہر آیا اور جب کسمو بھی سرنگ سے باہر آگی تو عمر نے دروازہ بند کرکے لکڑ کا ٹکرہ اڈا دیا تاکے دروازہ جلدی نہ کھل پاٸے کسمو اورعمر دونوں سرنگ سے نکلتے ہی جنگل میں گھس گیے اور چلتے چلتے جنگل میں بہت دور نکل گیے رات کا اندھرہ چھانا شروع ہوگیا کسمو اور عمر دونوں تھک کے نڈھال ہو چکے تھے اک اک قدم پہار نظر آرہا تھا دونوں آرام کرنے ذہن بنایا اور محفوظ جگہ تلاش کرنے لگ گیے اچانک ان نظر اک بہت بڑا پیڑ پری جسکا تنا اک طرف سے کھلا تھا جب ان لوگوں قریب جا دیکھا تو تنا اندر سے بلکل کھوکھلا تھا جس کے اندر وہ لوگ آرام سے سو سکتے تھے وہ دونوں تنے کے اندر چھپ گے جب دونوں آرام سے بیٹھ گیے جسے ہی کسمو کی نظر شہزدے پر پری تو وہ بلکل نڈھل پرا تھا کسمو نے گبرہ گی کان شہزدے کی چھتی سے لگا کے درکن سننے لگ گی عمر عمر عمر ہاں کیا ہوا عمر نے کہا کسمو ۔۔۔ شہزدہ بھوک سے بے ہوش پرا ہے اگر جلد اسے دوھود یا کچھ طاقتور مشروب نہ دیا گیا تو یہ مر جاٸے گا۔ ادھربادشاہ ھاتھ میں نگی تلورا لیے محل کے دربار میں جو تخت پے بیٹھا تھا جسکا روکھ سیھدا محل دخلی دروازے کی جانب تھا کہ یقدھم دروازہ کھلا اور ویزر بانش اپنے سیکنڑوں یومانیوں کے ہمرا کھڑا تھا بادشاہ اس سے پہلے کچھ کہتا بادشاہ نیام کی نظر سیھدی بانش کے ہاتھوں میں پڑی جس کے ایک ہاتھ میں خون سے لتھڑی تلوار تھی دوسرے ہاتھ میں محافظ شمسار کا سر تھا جو اس شمسار کے بالوں سے پکڑ کر نچیے لمکایا ہوا تھا۔ جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔ دوستوں یہ میری زندگی کی سب سے پہلی کہانی ہے اس سے پہلے میں نے کوٸی کہانی نہیں لکھی آمید کرتا ہوں میری غلطوں کو نظرانداز کر کے آپکو کہانی پسند آٸے گی۔۔
  4. قصہ ایک وحشیانہ قتل کا جس کو چھپانے کے لیے ہوئے کئی اور قتل- کس نے کیا قتل اور اس کے پیچھے کیا تھے اس کے عزائم؟ کیسے ایک ہونہار پولیس آفیسر نے کیا یہ معمہ حل؟ جاننے کے لیے پڑھتے رہیں یہ تھریڈ "لرزہ خیز قتل کا معمہ" یاسمین نے ٹیکسی سے اتر کر اپنے گھر کی طرف دیکھا تو اس کے چہرے پر پر حیرت اور پریشانی کے آثار نمودار ہوگئے۔ اس کے گھر کے باہر کافی لوگ جمع تھےاور ان کے درمیان ایک پولیس کی گاڑی بھی کھڑی تھی۔ وہ تیز قدموں کے ساتھ چلتی ہوئی اپنے گھر کی طرف بڑھی۔ گھر کے دروازے پر موجود پولیس والے نے اسے روک لیا۔ جب اس نے بتایا کہ اس کا گھر ہے تو اسے اندر جانے کی اجازت مل گئی۔ گھر کے اندر داخل ہو کے اس نے دیکھا کہ اس کا شوہر ٹی وی لاؤنج میں بیٹھا رو رہا ہے۔ وہ تقریبا بھاگ کر اس کے پاس پہنچی اور اس سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے؟ پولیس کیا کر رہی ہے؟ تم کیوں رو رہے ہو؟ اس کے شوہر انور نے اس کے کسی سوال کا جواب نہ دیا البتہ ایک کمرے کی طرف اشارہ کردیا۔ یہ ان کی بیٹی ثمرین کا کمرہ تھا۔ جب وہ کمرے میں داخل ہونے لگی تو ایک پولیس والے نے اسے اندر جانے سے منع کردیا، وہ پولیس والے کی بات کو نظر انداز کر کے آگے بڑھی تو اس نے ہاتھ سے اسے روکنے کی کوشش کی لیکن وہ اس کا ہاتھ جھٹک کر آگے بڑھی۔ اب وہ دروازے کے اندر پہنچ چکی تھی اور یہاں سے اندر کا منظر واضح دکھائی دے رہا تھا۔ جب اس نے اندر کا منظر دیکھا تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور اس کے قدموں نے اس کا ساتھ دینا چھوڑ دیا۔ سامنے بیڈ پہ اس کی بیٹی کی لاش پڑی تھی جسے بہت ہی بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔ ثمرین کے گلے پر گہرےکٹ کا نشان تھا اور بیڈ خون آلود تھا۔ یاسمین جہاں تھی وہیں ڈھے گئی اور دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔ وہ ابھی بھی پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنی بیٹی کی لاش کو دیکھ رہی تھی، اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کی بیٹی اب اس دنیا میں نہیں رہی۔ کمرے میں اس وقت تین پولیس والے موجود تھے جن میں ایک تفتیشی افسر راشد علی اور دو سپاہی شامل تھے۔ پولیس والوں کے علاوہ فرانزک ٹیم کے دو اہلکار بھی کمرے میں موجود تھے جن میں سے ایک کے ہاتھ میں میں کیمرہ تھا جس کی مدد سے وہ وہ تصویریں لے رہا تھا جبکہ دوسرا کمرے میں موجود ہر چیز کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا تھا۔ اس دوران تفتیشی افسر راشد علی علی ثمرین کی لاش کے پاس بیٹھ کر اسے گھورنے میں مصروف تھا۔ دیکھنے میں تو راشد علی لاش کا پنچنامہ کر رہا تھا لیکن حقیقت میں وہ ثمرین کے مردہ جسم کو ہوس سے بھرپور نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ راشد علی ایک نہایت نیچ، کمینہ اور بد فطرت انسان تھا۔ پیسوں کی ہوس کے ساتھ ساتھ عورت کی ہوس بھی اس کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ اس کا شمار ان پولیس والوں میں ہوتا تھا جو مجبور عورت کو تو کسی طور پر چھوڑتے نہیں لیکن جو مجبور نہیں ہوتی اسے بھی ہوس پوری کرنے کے لئے مجبور کر دیتے ہیں۔ ثمرین 21 سال کی جوان لڑکی تھی اور اس وقت اس کے جسم پر ایک مہین سی نائیٹی تھی جس میں سے اس کا جسم چیخ چیخ کر دیکھنے والے کو اپنی طرف متوجہ کر رہا تھا۔ اس کا گورا رنگ، ننگے بازو، تنی ہوئی چھاتی، گہری ناف اور گول سڈول ٹانگیں یہ راشد علی کو یہ سوچنے پہ مجبور کر رہی تھی کہ کاش وہ اسے مردہ کی بجائے زندہ حالت میں ملتی۔ راشد علی پورے انہماک کے ساتھ ثمرین کے مردہ جسم کو تاڑنے میں مصروف تھا تبھی بوڑھے سپاہی بھائی مقبول حسین کی نظر اس پر پڑی۔ اسے غصہ تو بہت آیا لیکن چونکہ وہ سپاہی تھا اس لئے افسر کے آگے زبان درازی یا دست درازی سے باز رہا۔ اسی دوران روتی بلکتی یاسمین کی نظر بھی اس پہ پڑ گئی اور اسے اندازہ ہوگیا کہ تفتیشی افسر اس وقت تفتیش کی بجائے اس کی بیٹی کے ساتھ آنکھوں کا زنا کرنے میں مصروف ہے۔ تبھی اس نے غصے سے دوسرے سپاہیوں اور فرانزیک ٹیم کو دیکھا۔ سب اپنے کاموں میں مصروف تھے سوائے سپاہی مقبول حسین کے جس کی نظر اس وقت یاسمین کے اوپر تھی۔ جب اس نے محسوس کیا کہ یاسمین نے راشد علی کی گندی نظروں کو بھانپ لیا ہے تو اس نے بھاگ کے ایک چادر لے کر ثمرین کے اوپر ڈال دی۔ چادر ڈالنے سے راشد علی اپنے گندے خیالات سے باہر آیا اور اسے یاسمین کی موجودگی کا بھی احساس ہوگیا۔ یاسمین کی حالت کچھ سمبھلی تو وہ اٹھ کر اپنی بیٹی کی جانب بڑھنے لگی لیکن ابھی بھی اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور وہ چلتے چلتے لڑکھڑا گئی۔ راشد علی نے آگے بڑھ کر اسے سہارا دیا اور بیٹی کے پاس جانے سے منع کیا۔ یاسمین اس کی بات ماننے کو تیار نہیں تھی اور مسلسل زور لگا کر اپنی بیٹی کی جانب بڑھ رہی تھی۔ راشد علی نے اسے سمجھایا کہ ابھی فرانزک والے اپنا کام کر رہے ہیں آپ ابھی لاش کے قریب نہیں جاسکتیں۔ اپڈیٹ نمبر 2 یاسمین اس کی ہدایات کو نظر انداز کر کے آگے بڑھی تو اس نے اپنا بازو اس کی کمر کے پیچھے سے پھیلا کے اسے مضبوطی سے پکڑ لیا۔ یاسمین نے اس کے بازو کے شکنجے سے نکلنے کی کوشش کی تو نیچے کی جانب پھسل گئی۔ راشد نے اپنا ہاتھ نیچے لے جا کے اسے مزید مضبوطی سے اپنے بازو کے شکنجے میں جکڑ لیا۔ اس لمحاتی دو طرفہ تگ ودو میں راشد کا ہاتھ غیر ارادی طور پہ یاسمین کے بائیں ممے کو چھو گیا جس کو یاسمین تو شاید محسوس نہ کر سگی کیونکہ وہ اس وقت کسی اور کیفیت میں تھی البتہ راشد کو اس لمحاتی لمس نے ایک بار پھر جنسی طور پہ مشتعل کر دیا۔ اس کی آنکھیں فوری طور پہ اس جگہ کا جائزہ لینے کیلئے یاسمین کے مموں پہ ٹک گئیں، جہاں چند لمحے پہلے اس کا ہاتھ لگا تھا۔ راشد اسے لے کے کمرے کے دروازے کی طرف بڑھا اور جاتے ہوئے کیمرے والے لڑکے کو ہدایت کی کہ وہ ثمرین کے ہاتھ کی ایک تصویر ذرا قریب سے لے ۔ دروازے تک پہنچ کے اس نے یاسمین کو لیڈی کانسٹیبل کے حوالے کیا اور اسے کہا کہ انہیں باہر بٹھاؤ۔ اس دوران وہ ایک اور مرتبہ یاسمین کے ممے کو چھو چکا تھا اور اس بار اس نے یہ حرکت ارادتاً کی تھی جسے شاید یاسمین نے بھی محسوس کر لیا تھا لیکن خاموش رہی۔ اس کے بعد راشد واپس کمرے میں گیا اور کیمرے والے سے ہاتھ کی تصویر کے بارے میں پوچھا، اس نے بتایا کہ تصویر لے لی ہے۔ راشد ثمرین کے ہاتھ کے پاس گیا اور ہاتھ پہ لگے ایک بال کو محفوظ کر لیا، اس کے علاوہ اسے کمرے سے ایک پین بھی ملا اسے بھی محفوظ کر لیا گیا۔ ٹی وی لاؤنج میں گھر کے لوگ موجود تھے، راشد نے باہر آ کے بتایا کہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجا جا رہا ہے، اس کے بعد لاش آپ لوگوں کے حوالے کر دی جائے گی۔ اس کے بعد اس نے پوچھا کہ لاش کو سب سے پہلے کس نے دیکھا تو ایک عورت نے روتے ہوئے جواب دیا کہ لاش کو سب سے پہلے اس نے دیکھا تھا۔ راشد نے پوچھا تم کون ہو؟ اس نے اپنا نام ماریہ بتایا اور کہا کہ میں ثمرین کی آیا ہوں، بچپن سے اب تک میں نے ہی اسے پالا اور اس کا خیال رکھا ہے۔ راشد نے اس سے پوچھا کہ کتنے بجے لاش کو دیکھا؟ اس نے بتایا قریب 9 بجے جب وہ اسے صبح کی چائے دینے گئی۔ اس نے پوچھا باقی گھر والے اس وقت کہاں تھے؟ تو ماریہ نے بتایا کہ صاحب اپنے کمرے میں سو رہے تھے اور میڈم شہر سے باہر تھیں، ابھی آپ کے سامنے لوٹ کے آئی ہیں۔ راشد نے پوچھا آپ تینوں کے علاوہ اس گھر میں کوئی اور بھی ہوتا ہے؟ ماریہ نے جواب دیا کہ ایک اور لڑکا بھی ہوتا ہے سجاد جو تین سال سے یہاں ملازم ہے لیکن وہ صبح سے غائب ہے۔ اس نے پوچھا سجاد کو آخری بار کب دیکھا تھا؟ ماریہ نے کہا کل رات سونے سے پہلے قریب 9 بجے۔ سجاد کے ذکر پہ انور مشتعل ہو کے کھڑا ہو گیا اور راشد سے کہا کہ اسی نے ثمرین کو قتل کیا ہے اور اس کے بعد فرار ہو گیا ہے، آپ اسے ڈھونڈیں، یہاں فضول سوالات پہ وقت نہ ضائع کریں۔ راشد نے اسے یہ کہہ کہ چپ کروا دیا کہ آپ کو بھی بولنے کا موقع ملے گا، پولیس کو اپنے طریقے سے کام کرنے دیں۔ اس کے بعد راشد علی نے ان سب کو سہ پہر 3 بجے تھانے پہنچنے کی ہدایت کی اور مقتولہ کے کمرے سے دور رہنے کی تنبیہہ بھی کر دی۔ جانے سے پہلے اس نے ایک نظر بھر کہ یاسمین کے سراپے پہ ڈالی اور دل ہی دل میں اس کے متناسب جسم کی تعریف کرتے ہوئے چلا گیا۔ گھر سے نکل کے راشد نے فرانزک ٹیم کو جلد از جلد رپورٹ مرتب کرنے کی ہدایت کی اور سپاہیوں کو تھانے پہنچنے کی تنبیہہ کی جبکہ خود رکشہ لے کر اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ راستے میں وہ اس کیس کے بارے میں سوچنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن اس کی آنکھوں کے سامنے بار بار ثمرین کا گورا جسم اور اس کی ماں کے ممے گھوم رہے تھے۔ انہیں سوچوں میں گم وہ گھر پہنچا تو اس کی بیوی صائمہ کچن میں کھڑی برتن دھو رہی تھی۔ اس نے پیچھے سے جا کے اسے بانہوں میں دبوچ لیا۔ اپڈیٹ نمبر 3 صائمہ کے ہاتھ سے پلیٹ چھوٹ کے گری اور ٹوٹ گئی۔ اس نے نظر گھما کے دیکھا تو راشد کو دیکھ کے کچھ نارمل ہو گئی لیکن راشد نے اس کے سنبھلنے سے پہلے ہی اپنے ہاتھوں کو حرکت دی اور پیٹ سے اوپر آتا ہوا مموں پہ رکا اور اتنی زور سے ممے دبائے جیسے کھینچ کے اتارنا چاہ رہا ہو۔ اس کی اس حرکت سے صائمہ نے ایک درد بھری آہ بھری اور اس کے شکنجے سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی۔ لیکن راشد اسے کہاں چھوڑنے والا تھا، اس کے ذہن میں ثمرین اور اس کی ماں یاسمین کے جسم گھوم رہے تھے۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ صائمہ کے گریبان میں ڈالے اور زور لگا کے اس کی قمیض پیٹ تک چاک کر دی۔ صائمہ نے زور لگا کے خود کو اس سے چھڑایا اور دور کھڑی ہو کے غصے سے پھنکارنے لگی۔ اس نے کہا کہ یہ کیا کر رہے ہو تم، میں تمہاری بیوی ہوں یا کوئی کرائے کی گشتی جسے تم اس طرح ذلیل کر رہے ہو۔ تم جو کرنا چاہو پیار سے بھی کر سکتے ہو، اس طرح میری تذلیل کر کے تمہیں کیا سکون ملتا ہے؟ راشد نے آگے بڑھ کے ایک زور دار تھپڑ صائمہ کے چہرے پہ دے مارا اور غضبناک لہجے میں بولا کہ تجھے کتنی دفعہ بکواس کی ہے کہ میرے سامنے زبان نہ چلایا کر، تو میری پراپرٹی ہے اور میرا حق ہے کہ میں جیسے چاہوں تمہیں استعمال کروں۔ صائمہ اب شاید اس روز روز کی اذیت سے تھک چکی تھی اس لیے وہ آج دفاعی انداز اختیار کیے ہوئی تھی۔ دونوں کی شادی کو 6 سال گزر چکے تھے اور پہلے دن سے ہی راشد کا اس سے جانوروں جیسا سلوک تھا۔ سیکس میں وہ بس پورا ہی تھا لیکن سیکس کے دوران گالی گلوچ اور مار پیٹ اس کا معمول تھا۔ صائمہ کو ان چھ سالوں میں اس سے جنسی تسکین تو کبھی ملی نہیں تھی البتہ اس کے جسم کے ہر حصے پہ اس کے دیے ہوئے زخموں کے نشان واضح تھے۔ شادی کے شروع کے دنوں میں اس نے بہت واویلا کیا کہ کسی طرح اس جانور سے اس کی جان چھوٹ جائے لیکن اس میں کامیاب نہ ہو سکی۔ راشد کی وردی کا رعب و دبدبہ ہمیشہ صائمہ کی آزادی کے آڑے آگیا۔ لیکن آج اس میں نہ جانے کہاں سے آزاد ہونے کی ایک تازہ خواہش جاگ اٹھی۔ اس نے چیختے ہوئے کہا کہ تم ایک جانور ہو جسے انسانوں اور چیزوں میں فرق نظر نہیں آتا۔ میں کوئی بے جان شے نہیں ہوں جس کو تم اپنی پراپرٹی سمجھتے ہو۔ میں تم جیسے جانور کے ساتھ ایک لمحہ مزید نہیں رہ سکتی، میں ابھی اور اسی وقت اس جہنم کو چھوڑ کے جا رہی ہوں۔ راشد نے آگے بڑھ کے اسے بالوں سے پکڑا اور زور سے کھینچ کے اس کا منہ چھت کی طرف اٹھا دیا۔ وہ بولا لگتا ہے کوئی نیا یار بنا لیا ہے تو نے جس کی شہ پر اتنا پھڑپھڑا رہی ہے کیونکہ تیرے گھر والوں میں تو اتنی جرأت نہیں ہے کہ میرے خلاف کھڑے ہو سکیں۔ صائمہ بولی تم جیسا انسان اس غلیظ خیال کے علاوہ سوچ بھی کیا سکتا ہے؟ تمہیں لگتا ہے جیسے تم دوسری عورتوں کے ساتھ منہ کالا کرتے پھرتے ہو باقی سب بھی ویسے ہی ہوں گے۔ مجھے تمہارے سامنے صفائی دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ میں جانتی ہوں کہ میں جتنی بھی پاکباز ہوں تمہاری گندی سوچ تمہیں میرے اندر تمہارے جیسا بد کردار انسان تلاش کرنے پہ اکساتی رہے گی۔ مجھے اب بس تم سے نجات چاہیے، تم مجھے طلاق دو تا کہ مجھے اس اذیت ناک زندگی سے چھٹکارا مل سکے۔ میں اس جہنم میں رہنے کی بجائے سڑکوں پہ دھکے کھانے کو ترجیح دوں گی۔ ایک اولاد کا سکھ تو تم مجھے دے نہ سکے، اولاد ہوتی تو شاید میرے زخموں کا مرہم بن جاتی۔ اولاد کا طعنہ سن کے راشد بپھر گیا اور اسے گھسیٹتے ہوئے کمرے میں لے گیا اور بیڈ پہ پٹخ دیا۔ وہ بولا تجھے آزادی چاہیے تو آج میں تجھے اس زندگی سے ہی آزاد کر دوں گا۔ اتنا کہہ کہ اس نے الماری میں سے ایک دوپٹہ نکالا اور صائمہ کے ہاتھ بیڈ کی ٹیک کے ساتھ باندھ دیے۔ پھر اس نے آگے بڑھ کے صائمہ کی پہلے سے ہی چاک قمیض کو مکمل چاک کیا اور اس کی گردن سے اوپر کے جا کے اس کے چہرے پہ لپیٹ دی۔ اس دوران صائمہ اسے واسطے دیتی رہی کہ اسے چھوڑ دے لیکن وہ تو جیسے بہرا ہو چکا تھا، اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔ صائمہ کو بخوبی اندازہ تھا کہ وہ اب کس اذیت سے گزرنے والی ہے اس لیے وہ مسلسل منتیں کر رہی تھی۔ اس کی یہ منت سماجت شاید راشد کو ناگوار گزر رہی تھی اس لیے اس نے قمیض کا ایک پلو اس کے منہ میں ٹھونس دیا۔ پھر اس نے اسے گھما کے پیٹ کے بل لٹا دیا اور اس کے کالے برا کی ہک کھول دی۔ صائمہ کی گوری کمر پہ مار کے بے شمار نشان تھے جنہیں دیکھ کے راشد کے چہرے پہ شیطانی مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے وقت ضائع کیے بغیر ایک زور دار تھپڑ زخمی کمر پہ دے مارا جس کا درد صائمہ کی گھٹی گھٹی چیخ میں نمایاں تھا۔ پہلے تھپڑ کے بعد اس نے لگاتار دو تین تھپڑ ایک ہی جگہ پہ لگائے جن کے درد سے صائمہ نے زور لگا کے اپنے بازو کھینچے اور ٹانگیں اکٹھی کر کے کروٹ لے لی۔ اس کی آنکھیں درد کی شدت سے پھیل گئیں اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ راشد نے اس کی ٹانگیں پکڑ کہ سیدھی کیں اور جھٹکے سے اس کی شلوار بھی اتار دی۔ اب صائمہ گردن سے لے کے پاؤں تک مکمل ننگی الٹی لیٹی ہوئی تھی۔ جتنا خوبصورت اس کا جسم تھا اگر کسی انسان کے ساتھ اس کا جنسی تعلق ہوتا تو وہ اس کے جسم کا کوئی بھی حصہ چومے بغیر نہ چھوڑتا۔ اس کی کمر اور اور کولہے اتنے خوبصورت تھے کہ انہیں چاٹ چاٹ کہ لال کرنا چاہیے تھا لیکن راشد اسے مار مار کے لال کرتا تھا کیونکہ اس سے اسے سکون ملتا تھا۔ اس نے اپنا بیلٹ اتارا اور صائمہ کی ننگی کمر، کولہے اور ٹانگیں نشانے پہ لے لیں۔ وہ اس وقت تک اسے مارتا رہا جب تک اس کا سانس نہیں پھول گیا۔ صائمہ اب چیخ چیخ کے اور تڑپ تڑپ کے نیم غنودگی میں جا چکی تھی۔ اس کے بعد راشد نے پینٹ اتاری اور صائمہ کی ٹانگوں پہ بیٹھ گیا۔ پھر اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے صائمہ کی گانڈ کو کھولا اور ایک تھوک کا گولا اس کی گانڈ کے سوراخ پہ پھینکا۔ پھر اس نے اپنا لن سوراخ پہ سیٹ کیا اور ایک جھٹکے سے اندر اتار دیا۔ صائمہ کے جسم نے ایک جھٹکا کھایا لیکن وہ ایسے ہی بے جان پڑی رہی۔ اس کے جسم پہ کئی تازہ اور پرانے زخم چمک رہے تھے جن میں سے ہلکا ہلکا خون بھی رس رہا تھا۔ چند منٹ کے جھٹکوں کے بعد وہ اس کی گانڈ میں ہی چھوٹ گیا اور اس کے اوپر ہی گر کے ہانپنے لگا۔ اپڈیٹ نمبر 4 جب اس کا سانس تھوڑا بحال ہوا تو وہ صائمہ کے اوپر سے اٹھا اور نہانے کے لیے باتھ روم میں گھس گیا۔ نہا کے نکلا تو اس نے صائمہ کے ہاتھ کھول دیے جو ابھی بھی درد سے کراہ رہی تھی۔ اس میں اتنی بھی سکت نہیں تھی کہ وہ سیدھی ہو کے لیٹ سکے۔ اس کے دل و دماغ مسلسل اس کے ماں باپ کو کوس رہے تھے جنہوں نے اسے اس جانور کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا تھا۔ اور اس کا اکلوتا بھائی تو صرف اپنی بیوی کا ہو کے رہ گیا تھا۔ اس کی ابھی تک کوئی اولاد نہیں تھی جس کی وجہ شاید راشد کی کوئی پوشیدہ بیماری تھی۔ بظاہر تو وہ بالکل نارمل تھا اور سیکس میں غیر معمولی نہ سہی لیکن کر لیتا تھا البتہ ڈاکٹر نے اسے بتایا تھا کہ وہ ماں بن سکتی ہے کیونکہ اسے کوئی بیماری نہیں تھی لیکن ساتھ ہی اس نے کہا تھا کہ اپنے شوہر کو بھی معائنے کے لیے لائے، ہو سکتا ہے اس میں کوئی مسئلہ ہو۔ جب اس نے راشد کو ڈاکٹر کے پاس جانے کا کہا تو اس نے اس دن بھی اسے خوب پیٹا تھا اور وجہ یہ بتائی تھی کہ یہ بات کر کے اس نے اس کی مردانگی کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ ابھی وہ انہیں سوچوں میں گم تھی کہ راشد کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔ وہ بولا میں تھانے جا رہا ہوں اور خبردار جو تم نے گھر سے باہر پاؤں نکالنے کے بارے میں سوچا بھی، میں تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو ایسے کیس میں اندر کروں گا کہ ساری زندگی جیل میں سڑتے رہو گے۔ اتنا کہہ کہ وہ گھر سے نکل گیا۔ صائمہ نے فون کر کے اپنی اکلوتی دوست شمائلہ کو بلایا جو ایک نجی ہسپتال میں نرس تھی۔ جب بھی صائمہ راشد کے عتاب کا شکار ہوتی تو شمائلہ ہی اس کی مرہم پٹی کرتی تھی۔ راشد علی کو تین بجے اطلاع دی گئی کہ انور اور اس کی بیوی یاسمین پہنچ چکے ہیں، اس نے دونوں کو باری باری اندر بھیجنے کا کہا۔ پہلے انور آیا اور رونی صورت لے کے راشد کے سامنے بیٹھ گیا۔ راشد نے اس کے آنسوؤں کو نظر انداز کیا اور سوال کرنے شروع کر دیے۔ اس کے ہاتھ میں ایک قلم اور کاغذ بھی تھا جس پہ وہ انور کے جوابات تحریر کر رہا تھا۔ اس نے چند سوالات ایک ساتھ پوچھے اور پھر جوابات نوٹ کرنے لگا۔ سوالات یہ تھے۔ آپ کا پورا نام؟ کیا کرتے ہیں؟ اس شہر میں کب سے رہ رہے ہیں؟ کسی پہ شک؟ کوئی دشمنی وغیرہ؟ انور نے جو جوابات دیے ان کا خلاصہ یہ تھا۔ اس کا پورا نام ڈاکٹر انور بیگ ہے۔ وہ پیشے سے ایک ڈاکٹر ہے۔ وہ لاہور کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال میں 25 سال سے کام کر رہا ہے۔ اس وقت اس کا شمار ہسپتال کے سینیئر ڈاکٹرز میں ہوتا ہے۔ اس کا اپنا پرائیویٹ کلینک بھی ہے جہاں وہ شام 6 بجے سے رات 11 بجے تک ہوتا ہے۔ اس کو شک ہے کہ اس کی بیٹی ثمرین کا قتل ان کے ملازم سجاد نے کیا ہے کیونکہ وہ قتل کے بعد سے غائب ہے۔ راشد نے اس سے پوچھا کہ ملازم کس کے ریفرنس سے رکھا تھا؟ اس نے بتایا کہ جس دھوبی سے وہ پچھلے کئی سال سے کپڑے کلین کرواتے ہیں اس کے ریفرنس سے رکھا تھا۔ اس کا نام پرویز ہے اور وہ ان کی سوسائٹی کے قریبی محلے میں رہتا ہے۔ اس نے بتایا تھا کہ سجاد اس کا کزن ہے اس لیے ہم نے اسے ملازم رکھ لیا۔ راشد نے پوچھا اس کی کوئی شناختی دستاویز آپ کے پاس ہے؟ انور نے سجاد کے شناختی کارڈ کی کاپی اسے دے دی جو وہ ساتھ ہی لے کے آیا تھا۔ راشد نے اسے ویٹنگ ایریا میں بیٹھنے کا کہا اور یاسمین کو بلوا لیا۔ یاسمین کو دیکھتے ہی وہ کرسی سے اٹھتا اٹھتا رہ گیا۔ انور کے برعکس یاسمین کپڑے بدل کے آئی تھی اور کپڑے بھی ایسے پہن کے آئی تھی جیسے بیٹی کی موت کی تفتیش کے لیے نہیں بلکہ سیکس کی دعوت دینے کے لیے آئی ہو۔ ٹائٹ شارٹ شرٹ کے نیچے ٹائٹ جینز اور ساتھ اونچی ہیل پہنے یاسمین کمرے میں داخل ہوئی۔ اس کے کپڑے اس کے جسم کو چھپانے کی بجائے اسے مزید عیاں کر رہے تھے۔ جیسے ہی وہ داخل ہوئی راشد کی بھوکی نظریں اس کے مموں پہ ٹک گئیں۔ جیسے ہی وہ بیٹھنے لگی اسے اچانک کچھ یاد آیا اور وہ "معاف کیجیے میں ابھی آئی" کہہ کہ واپس مڑ گئی۔ اس سے پہلے کہ راشد کچھ کہتا اس کی نظر یاسمین کی گانڈ پہ پڑ گئی۔ اس کے الفاظ اس کے منہ میں ہی رہ گئے اور یاسمین کمرے سے نکل گئی۔ چند لمحوں بعد ہی وہ لوٹی تو اس کے ہاتھ میں بیگ تھا جو وہ شاید پہلے باہر ہی بھول آئی تھی۔ اس بار راشد کچھ سنبھل کے چور نظروں سے اس کے ممے دیکھ رہا تھا اور ساتھ ساتھ اس نے کم و بیش وہی سوالات اس سے بھی پوچھے جو پہلے اس کے شوہر سے پوچھ چکا تھا۔ یاسمین نے اسے بتایا کہ وہ ایک آرتھو پیڈک سرجن ہے اور اسی ہسپتال میں ہوتی ہے جہاں اس کا شوہر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ مختلف ہسپتالوں میں آپریشنز کے لیے بھی جاتی ہے جن میں لاہور کے علاوہ دیگر شہروں کے ہسپتال بھی شامل ہیں۔ جب اس کی بیٹی کا قتل ہوا تو وہ ایک سرجری کے لیے راولپنڈی گئی ہوئی تھی۔ جب وہ واپس آئی تو اس کی بیٹی کی لاش اس کی منتظر تھی۔ اتنا کہہ کہ وہ رونے لگی اور اس کی آنکھوں سے آنسو نکل کے اس کی جھریوں سے پاک گالوں پہ تیرنے لگے۔ راشد علی جو پہلے اس کے مموں کو تاڑ رہا تھا اب مسلسل اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں حیرت اور ستائش کی آمیزش تھی۔ یاسمین ایک جوان لڑکی کی ماں تھی لیکن اس کے چہرے کی تازگی اور اس کا متناسب جسم ایسے تھا جیسے وہ خود ایک جوان لڑکی ہے۔ راشد کے دل میں اسے چودنے کی شدید خواہش جاگ اٹھی۔ اس نے اچانک باہر سے کسی کو بلانے کے لیے گھنٹی بجائی۔ اپڈیٹ نمبر 5 ایک سپاہی کمرے میں داخل ہوا تو راشد نے سپاہی مقبول حسین کو بلانے کا کہا۔ مقبول حسین آیا تو راشد نے اسے پرویز اور اس سیکیورٹی والے کو بلانے کا کہا جس کی قتل کے وقت سوسائٹی کے گیٹ پہ ڈیوٹی تھی۔ مقبول حسین ہدایات لے کے چلا گیا تو راشد دوبارہ یاسمین کی طرف متوجہ ہو گیا۔ مقبول حسین نے انور سے پرویز کا پتہ سمجھا اور دوسرے سپاہی کو ساتھ لے کے تھانے سے نکل گیا۔ وہ دونوں پرویز کی دوکان پہ پہنچے اور اسے فوراً تھانے پہنچنے کی ہدایت کی۔ اس نے وجہ جاننا چاہی تو انہوں نے بتایا سجاد کے بارے میں کچھ پوچھ تاچھ کرنی ہے۔ وہاں سے وہ دونوں سیدھے سوسائٹی کے سکیورٹی آفس پہنچے اور مطلوبہ سکیورٹی گارڈ کے بارے میں پوچھا۔ سیکیورٹی مینیجر نے انہیں اس گارڈ کا نمبر اور پتہ بتایا جو قتل کے وقت ڈاکٹر انور کی گلی کے باہر تعینات تھا۔ مقبول حسین نے سکیورٹی مینیجر سے اس سے رابطہ کرنے کا کہا اور پیغام دیا کہ وہ فوراً تھانے پہنچے۔ اس کے بعد دونوں سپاہی واپس تھانے پہنچ گئے۔ مقبول حسین نے راشد علی کو بتایا کہ دونوں تھانے پہنچ جائیں گے۔ یاسمین ابھی وہیں راشد کے پاس بیٹھی تھی۔ راشد نے انور کو بھی بلوا لیا۔ اس نے ان دونوں سے کہا کہ آپ کا گھر ہم سیل کر رہے ہیں اس لیے آپ دونوں عارضی طور پہ کہیں اور منتقل ہو جائیں لیکن جب تک تفتیش مکمل نہیں ہوتی آپ شہر سے باہر نہیں جا سکتے۔ آپ جہاں شفٹ ہوں وہاں کا ایڈریس ہمیں بتا دیں تا کہ آپ کی بیٹی کی لاش پوسٹ مارٹم کے بعد آخری رسومات کے لیے وہاں پہنچا دی جائے۔ انور نے اسے اپنے دوست ڈاکٹر تجمل بھٹی کا ایڈریس لکھوا دیا اور بتایا کہ جب تک ہمارا گھر سیل ہے ہم لوگ یہیں رہیں گے۔ ڈاکٹر تجمل کا گھر انور کے گھر کے پاس ہی تھا۔ اس کے بعد دونوں میاں بیوی وہاں سے چلے گئے۔ پرویز اور سکیورٹی گارڈ پہنچے تو راشد نے دونوں سے باری باری ملاقات کی۔ پرویز نے بتایا کہ سجاد اس کا کزن ہے جو تین سال پہلے گاؤں سے نوکری کی تلاش میں یہاں آیا تھا۔ جب اسے پتہ چلا کہ ڈاکٹر انور کو گھر کے لیے ایک ملازم کی ضرورت ہے تو اس نے سجاد کو وہاں لگوا دیا۔ ان تین سالوں میں اس کی کوئی شکایت نہیں ملی اور نہ ہی کبھی اس کا کسی سے جھگڑا ہوا۔ وہ کل شام کو ان سے ملنے ان کے گھر آیا تھا اس کے بعد وہ کہاں گیا اسے اس بارے میں کچھ پتہ نہیں۔ راشد نے اسے کہا کہ اسے جب بھی بلایا جائے فوراً تھانے پہنچے اور بتائے بغیر شہر سے باہر نہ جائے۔ اگر سجاد اس سے رابطہ کرے یا اس کی کوئی اطلاع ملے تو وہ فوراً پولیس کو اطلاع دے۔ سکیورٹی گارڈ نے بتایا کہ اس کی ڈیوٹی رات 8 بجے سے صبح 8 بجے تک ہوتی ہے۔ راشد نے اس سے پوچھا کہ اس دوران انور کے گھر آنے اور جانے والوں کی تفصیل بتائے۔ اس نے بتایا کہ 11 بجے رمیض یونس نامی لڑکا ان کے گھر آیا تھا جو اکثر ان کے گھر آتا ہے۔ اس کا بات ایک مشہور وکیل ہے اور اسی سوسائٹی میں ان کی رہائش ہے۔ ساڑھے گیارہ بجے ڈاکٹر انور اپنے گھر پہنچے اور اس کے دس منٹ کے بعد رمیض قریباً بھاگتا ہوا ان کے گھر سے نکلا۔ اس کا سر پھٹا ہوا تھا اور سر سے خون بہہ رہا تھا۔ اس کے علاوہ کوئی نہیں آیا گیا۔ اپڈیٹ نمبر 6 راشد نے اس سے پوچھا کہ 8 سے 11 کے درمیان کیا ہوا تھا؟ اس نے بتایا کہ 8 سے 11 کے درمیان کچھ غیر معمولی نہیں ہوا۔ 9 بجے کے قریب ڈاکٹر انور اور اس کی بیٹی ثمرین آگے پیچھے گھر سے نکلے تھے۔ آدھے پونے گھنٹے کے بعد دونوں ایک ہی گاڑی میں واپس آئے اور تھوڑی ہی دیر بعد ڈاکٹر صاحب پھر کہیں چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد رمیض آیا اور اس کے بعد کی کہانی میں آپ کو بتا چکا ہوں۔ راشد نے اسے واپس بھیج دیا اور پرویز کو بلوایا اور ساتھ سپاہی مقبول حسین کو بھی بلوایا۔ راشد نے مقبول سے گاڑی اور ٹیم تیار کرنے کا کہا اور بتایا کہ ہمیں ابھی ایڈووکیٹ یونس بٹ کے گھر جانا ہے۔ سپاہی جی سر کہہ کے چلا گیا تو راشد پرویز کی طرف متوجہ ہوا۔ اس نے پرویز کو کہا کہ جب اور جہاں اسے اس کی ضرورت پڑے اسے موجود ہونا چاہیے۔ اگر وہ اس کیس میں اندر ہونے سے بچنا چاہتا ہے تو جیسے میں کہوں ویسے کرتے رہنا۔ پرویز سے فرمانبرداری سے کہا جی سر جیسے آپ کا حکم۔ اس کے بعد پرویز کو بھی بھیج دیا گیا۔ راشد دو تین سپاہیوں کو ساتھ لے کے رمیض کے گھر پہنچا تو چوکیدار نے بتایا کہ گھر والے فارم ہاؤس گئے ہیں وہاں کوئی پارٹی ہے۔ راشد نے اس سے فارم ہاؤس کا پتہ پوچھا اور ڈرائیور کو بیدیاں روڈ کی طرف جانے کا کہا جہاں فارم ہاؤس واقع تھا۔ جب وہ لوگ فارم ہاؤس پہنچے تو وہاں ایک عالی شان پارٹی چل رہی تھی۔ شہر کے کاروباری افراد اور کچھ سیاستدان بھی پارٹی کے شرکاء میں شامل تھے۔ سیکسی کپڑے پہنے لڑکیاں اور عورتیں بھی پارٹی کا حصہ تھیں، ان میں سے کچھ تو پارٹی کے شرکاء کی فیملی ممبرز تھیں اور کچھ کو پارٹی کی رونق بڑھانے کے لیے بلایا گیا تھا۔ راشد کو ایک کمرے میں بیٹھ کے انتظار کرنے کا کہا گیا۔ کچھ ہی دیر میں ایڈووکیٹ یونس اور اسکی بیوی بھی آ گئی۔ راشد نے رمیض کے بارے میں پوچھا تو اس کی ماں نے بتایا کہ وہ تو کل رات سے گھر نہیں آیا۔ یونس نے کہا کہ اس میں کوئی پریشانی والی بات نہیں، ہمارے برخوردار اکثر رات کو گھر نہیں آتے۔ جوان بچہ ہے، دوستوں کے ساتھ انجوائے کر رہا ہو گا کہیں۔ راشد نے پوچھا کیا آپ لوگ رمیض اور ثمرین کے تعلق کے بارے میں جانتے ہیں؟ یونس نے پوچھا کون ثمرین؟ ہم تو اس نام کی کسی لڑکی کو نہیں جانتے۔ راشد نے بتایا ڈاکٹر انور کی بیٹی ثمرین انور اور آپ کے صاحبزادے کا آپس میں تعلق تھا۔ یونس نے کہا تو اس میں کونسی بڑی بات ہے؟ دونوں جوان اور بالغ ہیں اور اپنی مرضی سے تعلق بنا سکتے ہیں۔ راشد نے کہا کہ بڑی بات یہ نہیں کہ دونوں کا آپس میں تعلق ہے بلکہ بڑی بات یہ ہے کہ اس لڑکی کا کل رات قتل ہو گیا تھا۔ اور جس وقت قتل ہوا اس وقت آپ کے صاحبزادے اس کے گھر میں موجود تھے۔ اس طرح آپ کے صاحبزادے اس کیس میں مرکزی ملزم بن کے سامنے آتے ہیں۔ اور قتل کے بعد سے اب تک اس کا غائب ہونا اسے مزید مشکوک بناتا ہے۔ خیر اب میں چلتا ہوں، جیسے ہی آپ کا رابطہ آپ کے بیٹے سے ہو اسے لے کر فوراً پولیس اسٹیشن آئیں۔ وہاں سے نکل کر راشد نے ڈرائیور کو گاڑی ایک نجی یونیورسٹی کی طرف لے جانے کا کہا۔ یہ یونیورسٹی شہر سے باہر ایک کم گنجان آباد علاقے میں واقع تھی اور یہاں پڑھنے والوں میں زیادہ تعداد امیر خاندانوں کے بچوں کی تھی۔ یونیورسٹی کے قریب پہنچ کر راشد نے ڈرائیور سے گاڑی کی رفتار کم رکھنے کا کہا اور خود گہری نظروں سے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد اسے اپنی مطلوبہ گاڑی نظر آگئی اور اس کے ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں چمک اور چہرے پہ شیطانی مسکراہٹ آ گئی۔ اس نے ڈرائیور کو گاڑی تھوڑے فاصلے پہ ہی روکنے کا کہا اور دو لوگوں کو ساتھ لے کے پیدل اس گاڑی کی جانب بڑھا۔ گاڑی کے قریب پہنچ کے اس نے دیکھا کہ گاڑی کے شیشوں پہ بلائنڈر لگا ہوا تھا۔ اس نے اپنی جیب سے ایک چابی نکالی اور ساتھ والے سپاہی کو پکڑا دی۔ سپاہی نے چابی پکڑ کے غیر محسوس انداز میں گاڑی کے فرنٹ ڈور کی طرف پیش قدمی جاری رکھی۔ اس دوران راشد نے اپنا موبائل نکال کے کیمرہ آن کر لیا۔ جیسے ہی سپاہی نے دروازہ کھولا راشد کے موبائل کے فلیش سے اندر کا منظر واضح ہو گیا۔ گاڑی کے اندر حسب توقع ایک جوڑا رنگ رلیاں منا رہا تھا۔ لڑکی ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھی تھی اور اس کا منہ لڑکے کے لن پہ تھا جو ساتھ والی سیٹ سیدھی کر کے اس پہ نیم دراز تھا۔ لڑکے کی پینٹ گھٹنوں تک اتری ہوئی تھی جبکہ لڑکی کی شرٹ اتر کے پچھلی سیٹ پہ پڑی تھی۔ جیسے ہی موبائل کی لائٹ پڑی دونوں نے چونک کے موبائل کی طرف دیکھا۔ پہلے تو ان کو سمجھ نہیں آئی کہ ان کی ویڈیو بن رہی ہے لیکن جیسے ہی انہیں ہوش آیا لڑکے نے فوراً اپنی پینٹ اوپر چڑھا لی اور لڑکی اپنے ہاتھوں سے اپنا منہ چھپانے کی کوشش میں لگ گئی۔ راشد نے گرجدار آواز میں کہا یہ کیا کنجر خانہ چل رہا ہے یہاں؟ اس کام کے لیے تمہارے ماں باپ تمہیں یونیورسٹی بھیجتے ہیں؟ پھر اس نے لڑکے کو گاڑی سے باہر نکلنے کا کہا۔ لڑکا باہر آیا تو اس نے رعب دار آواز میں پوچھا، کیا نام ہے تمہارا؟ لڑکے نے اپنا نام آفتاب بتایا۔ راشد نے پوچھا یہ گاڑی تمہاری ہے؟ آفتاب نے کہا نہیں سر یہ انعم کی گاڑی ہے، وہی مجھے یہاں لے کے آئی تھی۔ اتنا کہہ کہ وہ رونے لگا اور کہنے لگا سر پلیز مجھے معاف کر دیں، مجھ سے غلطی ہو گئی۔ اگر میرے ابو کو پتہ چل گیا تو وہ تو مجھے جان سے ہی مار ڈالیں گے۔ راشد نے کہا بیٹا یہ تو تمہیں پہلے سوچنا چاہیے تھا، اب تو تمہیں جیل جانا پڑے گا۔ آفتاب نے گڑگڑا کے معافیاں مانگنی شروع کر دیں۔ راشد اس کی حالت سے محظوظ ہو رہا تھا کیونکہ اسے اندازہ ہو گیا تھا یہ کسی غریب خاندان کا لڑکا ہے اور اس یونیورسٹی کا سٹوڈنٹ بھی نہیں ہے۔ راشد نے اسے تھوڑی دیر دھمکایا پھر اسے ایک آفر دی کہ وہ دس ہزار دے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا۔ آفتاب نے کہا ٹھیک ہے میں انعم سے لے کے دے دیتا ہوں، اس کے بعد آپ ہمیں جانے دیں۔ راشد نے اسے کہا بیٹا یہ دس ہزار تیری خلاصی کا ہے اور اس کا بندوبست تو نے خود کرنا ہے، انعم اپنا تاوان خود بھرے گی۔ آفتاب نے کہا اتنے پیسے تو میرے پاس نہیں ہیں، مجھے اپنے دوست کو بلانا پڑے گا۔ راشد نے سپاہی سے کہا اسے تھانے لے جاؤ اور جب اس کا دوست پیسے لے آئے اسے چھوڑ دینا، لڑکی کو میں دیکھ لیتا ہوں۔ اپڈیٹ نمبر 7 آفتاب کو بھیجنے کے بعد راشد نے دوبارہ انعم کی گاڑی کا رخ کیا اور فرنٹ سیٹ پہ اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔ انعم اپنی شرٹ پہن چکی تھی اور اتنا وقت گزرنے کے بعد کچھ سنبھل بھی گئی تھی۔ راشد نے اس کا جائزہ لینے کے لیے اسے غور سے دیکھا۔ اس کی عمر 26 کے لگ بھگ تھی۔ رنگ گورا اور جسم دبلا پتلا تھا۔ اس کے مموں کا سائز 34 تھا جو اس کے جسم سے مطابقت رکھتا تھا لیکن اس کے کولہے کچھ زیادہ باہر کو نکلے ہوئے تھے۔ راشد نے ہاتھ آگے بڑھا کے اس کے مموں کو چھونا چاہا تو اس نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور تیز لہجے میں بولی، دیکھو مسٹر میں کوئی ایسی ویسی لڑکی .......... ابھی اس کا جملہ پورا نہیں ہوا تھا کہ راشد نے اس کا ہاتھ پکڑ کے اس کا بازو موڑ کے اس کی کمر کے ساتھ لگا دیا اور دوسرے ہاتھ سے اس کے بال گردن سے ہٹا کے اس کی گردن کو ہلکا سا کاٹ لیا۔ انعم درد بھرے لہجے میں بولی کہ تمہیں یہ بدتمیزی بہت مہنگی پڑے گی، تم جانتے نہیں کہ میرے بابا اس شہر کے بہت بڑے بزنس مین ہیں اور ان کی پہنچ بہت اوپر تک ہے۔ راشد نے منہ اس کے کان کے قریب کیا اور دھیمے لہجے میں بولا، تمہارے باپ کی پہنچ جتنی بھی اوپر تک ہو وہ تمہاری چوپے لگانے کی ویڈیو وائرل ہونے سے پہلے اپنی پہنچ کا استعمال نہیں کر سکے گا کیونکہ میرے ایک کلک سے تمہارا یہ ٹیلنٹ ساری دنیا دیکھ لے گی۔ اس لیے چپ چاپ ویسے کرو جیسا میں کہہ رہا ہوں۔ انعم کی ساری اکڑ نکل گئی اور اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ راشد نے اس کا بازو چھوڑا اور خود ساتھ والی سیٹ سیدھی کر کے لیٹ گیا۔ انعم سمجھ گئی کہ وہ اسے چودے بغیر جانے نہیں دے گا اس لیے اس نے آگے بڑھ کے اس کی پینٹ کھولنی شروع کر دی۔ پینٹ کھول کے اس نے راشد کا لن باہر نکالا اور اسے پکڑ کے سہلانے لگی۔ پھر وہ بولی، سنو تم اس کے بعد وہ وڈیو ڈیلیٹ کر دو گے نہ؟ راشد نے کہا اگر تم اسی طرح میری بات مانتی رہو گی تو یہ ویڈیو کسی کے پاس نہیں جائے گی۔ وہ بولی کیا مطلب؟ مطلب یہ کہ جب میں بلاؤں تو چپ چاپ چلی آنا ورنہ ....... ورنہ کیا؟ انعم نے پوچھا۔ وہ بولا مجھے مجبوراً یہ ویڈیو وائرل کرنی پڑے گی۔ انعم نے لجاجت سے کہا کہ تم نے ابھی جو کرنا ہے کر لو لیکن پلیز وہ ویڈیو ڈیلیٹ کر دو۔ راشد اب اس کی منت سماجت سے عاجز آ چکا تھا اس لیے ذرا سخت لہجے میں بولا، اتنی گزارش کبھی میں نے اپنی بیوی کی نہیں سنی جتنی تم مجھے سنا چکی ہو حالانکہ تم ایک گشتی ہو جس نے پتہ نہیں کس کس کا لن لیا ہوا ہے۔ ابھی میرے پاس وقت بھی کم ہے اور یہ جگہ بھی مناسب نہیں ہے اس لیے ابھی صرف تم سے چوپے لگوانے کا ارادہ ہے، باقی کام میں تمہارے ساتھ اپنے فلیٹ پہ کروں گا اور اس کے لیے تمہیں کل رات آنا پڑے گا۔ انعم بولی کل رات کیوں، ابھی چلتے ہیں تمہارے فلیٹ پہ، تم سب کچھ کر لو لیکن میری ویڈیو ڈیلیٹ کر دو۔ راشد بولا بڑی جلدی ہے تجھے میرے فلیٹ پہ جانے کی لیکن اگر تم ایک بار وہاں چلی گئی تو وحشت زدہ ہو کے بھاگنا چاہو گی۔ کیوں؟ ایسا کیا ہے تمہارے فلیٹ میں؟ انعم نے تجسس سے پوچھا۔ راشد بولا عجیب گشتی عورت ہو تم، باتوں میں وقت برباد کیے جا رہی ہو۔ جب فلیٹ پہ جاؤ گی تو خود ہی دیکھ لینا۔ آج میں نے وہاں کسی اور کو بلایا ہوا ہے اس لیے تمہیں کل تک انتظار کرنا پڑے گا، چلو اب لن منہ میں لو۔ انعم نے لن کی طرف دھیان دیا تو وہ اس کے ہاتھ میں تن کے کھڑا تھا۔ انعم نے اپنی زبان نکالی اور لن کے سوراخ پہ لگی مزی کو چاٹ لیا۔ اس کے بعد اس نے اپنی زبان سے لن کو چاٹنا شروع کر دیا۔ راشد نے سرور سے آنکھیں موند لیں اور سر سیٹ سے ٹکا کے لیٹ گیا۔ انعم بڑی مہارت سے اس کا لن چوس رہی تھی اور ساتھ ساتھ اپنے ہاتھ کو بھی اوپر نیچے کر رہی تھی۔ راشد مزے سے لیٹا لن چسوا رہا تھا کہ اچانک انعم اپنی سیٹ پہ سیدھی ہو کے بیٹھ گئی۔ راشد نے آنکھیں کھول کے پوچھا کیا ہوا؟ انعم نے کہا تم لیٹے رہو اور اپنی شرٹ اتارنے لگی۔ راشد نے کہا میں نے تمہیں بتایا ہے نہ کہ آج میں نے تم سے صرف ......... انعم نے اس کی بات کاٹی اور بولی کہ میں یہاں چدنے کے لیے آئی تھی اور جس سے چدنا تھا اسے تم نے بھگا دیا اور خود بھی چوپے لگوا کے نکلنے کے چکر میں ہو۔ تم نے اگر کسی اور کو چودنے کے لیے بلایا ہوا ہے تو اس میں میری چوت کا کیا قصور؟ اسے تو لن چاہیے، آفتاب کا نہیں تو تمہارا سہی۔ باتیں کرتے کرتے اس نے اپنی پینٹ بھی اتار دی۔ پینٹ کے نیچے اس نے انڈر ویئر نہیں پہنا ہوا تھا اس لیے اب اس کے جسم پہ برا کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ اس سے پہلے کہ راشد کچھ اور بولتا وہ دوبارہ جھکی اور اس کا لن منہ میں لے لیا۔ راشد نے مزے سے ایک سسکی کی اور ڈیش بورڈ سے اپنا موبائل اٹھا کہ ویڈیو بنانے لگا۔ موبائل کی لائٹ آن ہوئی تو انعم نے حیرت اور غصے سے راشد کی طرف دیکھا اور بولی ایک ویڈیو کافی نہیں ہے جو تم ایک اور ویڈیو بنا رہے ہو۔ راشد نے اس بار ذرا نرم لہجے میں اسے سمجھایا کہ یہ اس کا شوق ہے اور وہ یہ ویڈیوز صرف اپنے لیے بناتا ہے اس لیے اسے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، وہ اپنا کام جاری رکھے۔ انعم کو اس صورت حال سے نکلنے کا کوئی فوری راستہ نظر نہ آیا تو اس نے سیکس پہ فوکس کرنے کا سوچا اور دوبارہ چوپے لگانے لگی۔ راشد اس کے چوپوں سے محظوظ تو ہو رہا تھا لیکن اسے ڈر بھی تھا کہ وہ جلدی فارغ ہو جائے گا اس لیے وہ اب چاہ رہا تھا کہ انعم لن منہ سے نکال کہ چوت میں لے لے۔ لیکن انعم تو ایسے لن چوسنے میں مگن تھی جیسے راشد نے ٹائمنگ والی گولی کھائی ہوئی ہے۔ راشد نے اس کا دھیان ہٹانے کے لیے اس کی کمر کو ناخنوں سے کھروچنا شروع کر دیا۔ اس نے انعم کے برا کی ہک کھول دی اور ناخنوں کی حرکت تیز کر دی۔ اس نے ناخن زور سے چلائے تو انعم کو بھی تکلیف کا احساس ہوا۔ اس کی کمر پہ نشان پڑنے لگے۔ وہ اٹھی اور ٹانگیں پھیلا کے راشد کی گود میں بیٹھ گئی، اس کا لن پکڑ کے اپنی چوت پہ سیٹ کیا اور دباؤ بڑھا کے اندر لے گئی۔ اس کی چوت اتنی تنگ نہیں تھی تو اتنی کھلی بھی نہیں تھی۔ راشد کو چوت کی گرمی سے اندازہ ہوا کہ وہ زیادہ دیر ٹک نہیں پائے گا۔ انعم نے اوپر نیچے ہلنا شروع کر دیا اور راشد نے اس کا برا ہٹا کہ اس کے ممے چوسنے شروع کر دیے۔ انعم تیزی سے ہل رہی تھی اور راشد اس کے ممے چوس اور کاٹ رہا تھا۔ پھر اس نے اپنا ہاتھ انعم کے منہ میں ڈال دیا جسے وہ دلجمعی سے چوسنے لگی۔ جب اس کا ہاتھ اچھی طرح گیلا ہو گیا اس نے اسے انعم کے منہ سے نکالا اور پیچھے لے جا کے ایک انگلی اس کی گانڈ میں ڈال دی۔ ساتھ ہی اس نے اپنا موبائل سائیڈ پہ رکھا اور دوسرے ہاتھ سے انعم کے ممے مسلنے لگا۔ انعم کی حرکت تیز ہوئی تو راشد نے اسے بتایا کہ وہ چھوٹنے والا ہے۔ انعم نے کہا کہ وہ اس کے اندر ہی چھوٹ جائے۔ چند لمحوں بعد راشد اس کی چوت کے اندر ہی چھوٹ گیا لیکن انعم نے تیزی سے ہلنا جاری رکھا۔ تھوڑی دیر بعد وہ بھی فارغ ہو گئی۔ جیسے ہی اس کے حواس کچھ بحال ہوئے اسے اپنی کمر پہ جلن کا احساس ہوا، راشد نے فارغ ہوتے ہوئے مزے کی شدت سے اپنے ناخن اس کی کمر میں گاڑ دیے تھے تبھی اسے اپنے مموں پہ بھی جلن کا احساس ہوا تو اس پہ انکشاف ہوا کہ راشد کے دانت اس کے مموں پہ گڑے ہوئے تھے۔ اس نے جلدی سے ہاتھ بڑھا کہ ڈرائیونگ سیٹ کے نیچے سے دو کپڑے نکالے، ایک راشد کے ہاتھ میں پکڑایا اور دوسرا اپنی چوت پہ رکھ کہ اس کے لن کے اوپر سے اٹھ گئی۔ دونوں نے اپنا لن اور چوت صاف کی اور کپڑے پہن لیے۔ 8اپڈیٹ نمبر انعم بولی تم انسان ہو یا جانور؟ زخمی کر دیا ہے مجھے اپنے ناخنوں سے۔ راشد بولا یہ تو ٹریلر ہے، فلم تو ابھی باقی ہے۔ کل آؤ میرے فلیٹ پہ تمہیں پوری فلم دکھاؤں گا۔ پھر اس نے انعم سے کہا مجھے فلیٹ پہ چھوڑ دو اور کل رات پہنچ جانا۔ ابھی انہوں نے آدھا راستہ ہی طے کیا تھا کہ راشد کے فون کی گھنٹی بجی، اس نے کال اٹینڈ کی تو دوسری طرف نسوانی آواز میں کسی نے ہیلو کہا۔ راشد بولا، تم اتنی جلدی پہنچ گئی؟ ابھی تو 9 بھی نہیں بجے اور میں نے تمہیں 10 بجے آنے کا کہا تھا۔ دوسری طرف سے جواب ملا کہ میں نے یہ بتانے کے لیے کال کی تھی کہ میں آج نہیں آ سکتی، کسی وجہ سے مجھے آج گھر ہی رکنا پڑے گا۔ راشد کے تیور اچانک بدل گئے اور وہ غصے سے بولا بہن چود میں نے تمہیں کہا تھا نہ کہ مجھے چکر دینے کی کوشش کرو گی تو تمہارے ساتھ بہت برا ہو گا۔ اب دیکھو میں تمہارے ساتھ کیا کرتا ہوں۔ دوسری طرف سے جواب ملا کہ پلیز تم میری بات سمجھنے کی کوشش کرو، میں کل لازمی تم سے ملنے آؤں گی پھر تم جیسا کہو گے ویسا ہی ہو گا۔ راشد بولا ٹھیک ہے لیکن کل اگر تم نے پھر کوئی ڈرامہ کیا تو تمہیں کوئی نہیں بچا سکے گا، اتنا کہہ کہ اس نے کال کاٹ دی۔ انعم نے تجسس سے پوچھا یہ کون تھی؟ راشد نے خونخوار آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا اور بولا تم میری بیوی بننے کی کوشش نہ کرو، گشتی ہو گشتی ہی رہو۔ اگر تم نے دوبارہ ایسا فضول سوال کیا تو تمہارا وہ حال کروں گا کہ لن لینے کے قابل بھی نہیں رہو گی۔ انعم نے متوحش نظروں سے اس کی طرف دیکھا اور بولی آئی ایم سوری، میں نے تو ویسے ہی پوچھ لیا۔ راشد بولا آئندہ بولتے وقت احتیاط کرنا۔ کچھ ہی دیر میں وہ لوگ راشد کے فلیٹ پہ پہنچ گئے۔ راشد بولا کہ جس کو میں نے آج بلایا تھا وہ تو آ نہیں رہی اس لیے اب تمہیں رکنا پڑے گا۔ انعم انکار کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی اس لیے چپ چاپ اس کے ساتھ چل پڑی۔ چلتے چلتے اس نے کہا کہ مجھے بھوک لگی ہے، پہلے کچھ کھا نہ لیں؟ راشد نے کہا جو بھی کھانا ہے فلیٹ پہ منگوا لو۔ باتیں کرتے کرتے وہ لوگ فلیٹ پہ پہنچ گئے۔ یہ ایک چھوٹا سا فلیٹ تھا جس میں دو کمرے اور ایک ٹی وی لاؤنج تھا۔ ٹی وی لاؤنج کے ساتھ ہی اوپن کچن تھا۔ راشد ٹی وی لاؤنج میں ہی بیٹھ گیا اور انعم کو کھانا آرڈر کرنے کا کہہ دیا۔ انعم نے پیزا منگوا لیا جو دونوں نے مل کے کھا لیا۔ کھانا کھا کہ انعم نے سگریٹ سلگا لیا اور راشد کو بھی پیشکش کی۔ راشد نے بھی ایگ سگریٹ سلگا لیا۔ انعم بولی تم تو کہہ رہے تھے تمہارا فلیٹ وحشت زدہ ہے لیکن دیکھنے میں تو یہ بالکل ٹھیک لگ رہا ہے۔ راشد بولا کمرے میں چلو گی تو خود ہی دیکھ لینا۔ سگریٹ ختم کرکے راشد نے ایک کمرے کا دروازہ کھولا اور انعم کو اندر چلنے کا کہا۔ جاری ہے
  5. 20 downloads

    ڈاکٹر فیصل کا ایک اور شاہکار جوانی کل صفحات : 43 اردو فن کلب کی پیش کش

    $2.00

  6. 39 downloads

    کشمیر کی وادیوں میں لکھی ایک خوبصورت سیکس کہانی سیکس ایڈیشن

    $2.00

  7. 131 downloads

    غافل از ڈاکٹر فیصل خان کل صفحات 125 / مکمل ناول.

    $3.00

  8. 43 downloads

    پیر سائیں از ڈاکٹر خان

    $2.00

  9. 14 downloads

    پناہ از ڈاکٹر خان

    $2.00

  10. 21 downloads

    ایک شیر دل نوجوان کی کتھا جسے اپنے آپ پر بڑا مان تھا۔لیکن۔۔۔۔ سیکس ایڈیشن پریمیم کہانی۔۔اردو فن کلب کی پیشکش

    $1.00

  11. 32 downloads

    گرم بستر از ڈاکٹر فیصل خان

    $2.00

  12. 149 downloads

    گمشدہ شناخت از ڈاکٹر فیصل کل صفحات ۔۔۔۔281 مکمل ناول

    $5.00

  13. 258 downloads

    چھوٹا چوہدری از ڈاکٹر فیصل خان

    $3.00

  14. 45 downloads

    ہمدرد از ڈاکٹر فیصل خان

    $2.00

  15. اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں ایک کہانی لکھنے کی کوشش کی ہے امید ہے آپکو پہلی اپڈیٹ پسند آئے گی. وقتاً فوقتاً اپڈیٹ کرتا رہوں گا. اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجئیے گا. لیپ ٹاپ کی سکرین ایک جھٹکے سے بند ہوئی تو میں بھی جو نجانے کتنی دیر سے ماضی کے سمندر میں غوطہ زن تھا حال کی زمین پر قدم جما چکا تھا. آنسو میری پلکوں سے آبِ بے قابو کی طرح نکلے اور رخساروں پر بہہ گئے. میری آنکھوں کے سامنے گزرے ہوئے آٹھ سالوں کے واقعات کسی فلم کی طرح چلنے شروع ہو گئے اور مجھے محسوس ہوا کہ جیسے میرا دل مجھے ملامت کر رہا ہو کہ کاش اس وقت تم نے اپنے غصے کو قابو میں رکھا ہوتا تو آج اپنوں کے ساتھ ہوتے. کبھی کبھی انسان غصے میں اتنا پاگل ہو جاتا ہے کہ اس کا خود پر قابو نہیں رہتا اور جب وہ قابو میں آتا ہے تب تک حالات کا دھارا اپنا منہ کسی اور جانب موڑ چکا ہوتا ہے. میں مہر سکندر حیات ایک جاگیردار گھرانے کا چشم و چراغ، تین بھائیوں میں سب سے چھوٹا اور والدین کا لاڈلا. شروع سے ہی والد صاحب کے ساتھ رہا چونکہ والد صاحب ایک جاگیردار تھے علاقے کی جانی پہنچانی شخصیت، ضلع ملتان کے ضلعی ناظم اور ایک سیاسی جماعت کے ضلعی صدر بھی. وہ بچپن سے ہی مجھے اپنے ساتھ رکھا کرتے تھے اور اکثر کہا کرتے تھے کہ سکندر حیات میرے بعد میری گدی سنبھالے گا.والد صاحب کے ساتھ رہنے کی وجہ سے تقریباً ان کے سب ملنے والے مجھے پہچانتے تھے جس کی وجہ سے میں اپنا ایک الگ سماجی حلقہ بنا چکا تھا. اسکول سے چھٹی کے بعد ڈیرے پر جاتا اور وہاں کے تمام معاملات کو دیکھتا تھا یہاں تک کہ ہوٹل سے جو کھانا آتا تھا وہ تب تک نہیں آتا جب تک میرے یا والد صاحب کے دستخط چٹھی پر نا ہوتے. کیونکہ والد صاحب مجھے اپنا جانشین منتخب کر چکے تھے اس لیے بڑے بھائیوں نے کبھی سیاسی معاملات میں کوئی مداخلت نا کی گویا میں اپنے والد کی چھوٹی سی سلطنت کا اکلوتا وارث تھا. وقت اپنی ڈگر پر چلتا رہا اور میں عمر کے انیسویں سال میں داخل ہو گیا تھا. میں اپنی عمر سے بڑا نظر آتا تھا باڈی بلڈنگ کے شوق نے میرا جسم بہت مضبوط بنا دیا تھا. پڑھائی، سیاست اور جم یہی میرے مشاغل تھے. میں ملتان کے ایک نامور کالج میں زیر تعلیم تھا. وقت اچھا گزر رہا تھا کہ ایک دن مجھے اپنے بھائی کی کال موصول ہوئی کہ بابا کی طبیعت بہت خراب ہے تم جلدی نشتر ہسپتال پہنچو. یہ خبر گویا میرے سر پر کسی بم کی طرح گری اور میں فوراً کالج سے نکل پڑا. چند لمحوں بعد میری کار سڑک کے وسط میں فراٹے بھرتی نشتر ہسپتال کی طرف گامزن تھی. داخلی دروازے پر میرا کزن(چچا کا بیٹا) میرے ہی انتظار میں کھڑا نظر آیا. اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی میں نے سوال داغا میں: عمر! ابا جان کو کیا ہوا؟ مجھے اپنی آواز کھوکھلی محسوس ہوئی. عمر: صبح ناشتہ کر رہے تھے کہ اچانک دل کی طرف درد اٹھی مجھے کہنے لگے کہ میری دوا لے کے آؤ کمرے سے جب میں واپس آیا تو وہ زمین پر ڈھے چکے تھے. نوکرانی رامو کاکا کو آوازیں دے رہی تھی اور تائی اماں رو رہی تھیں. میں نے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے گاڑی نکالی اور انہیں ہسپتال لے آیا. ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ تایا ابا کو دل کا دورہ پڑا تھا بروقت علاج کی وجہ سے جان بچ گئی تھوڑی دیر اور ہو جاتی تو شاید...... میں نے خدا کا شکر ادا کیا. ہم باتیں کرتے کرتے آئی سی یو تک پہنچ گئے تھے. جہاں اندر والد صاحب کا علاج چل رہا تھا. باہر میرے بڑے بھائی مہر زبیر حیات، منجھلے بھائی مہر حسن حیات اور ان کے ساتھ چچا مہر بدر حیات کھڑے تھے. ساتھ ہی اماں جی اور چچی جان مصلے پہ بیٹھی دعائیں مانگ رہی تھیں. ان کے قریب پہنچ کے میں نے پوچھا میں: بھائی ابا کی طبیعت کیسی ہے اب؟ زبیر: اب وہ ٹھیک ہیں. کچھ دیر بعد انہیں کمرے میں شفٹ کر دیں گے. میں: گاؤں میں کسی کو بتایا تو نہیں؟ زبیر: نہیں اب تک تو نہیں میں نے رامو کاکا کو بول دیا تھا کہ جب تک چھوٹے مہر صاحب حکم نا دیں تب تک کسی کو نا بتایا جائے. میں: اچھا! تو کیا خیال ہے چچا جان اب بتا دیا جائے کیونکہ یہ بات چھپنے والی تو ہے نہیں. چچا بدر! ہاں پتر میرا وی خیال اے ہن دس دینا چاہیے نہیں تو پنڈ میں سو گلیں ہو گی کہ مہر صاحب ہمیں اپنا نہیں سمجھتے. میں : تو ٹھیک ہے چچا آپ راموکاکا سے کہو کے وہ گاؤں میں خبر کر دے اور ساتھ یہ بھی بتا دے کہ اب بڑے مہر جی کی طبیعت ٹھیک ہے. حسن بھائی جو کافی دیر سے خاموش کھڑے تھے بولے حسن: چھوٹے مہر میرا خیال ہے کہ آپ خود حویلی جائیں اور ڈیرے پر گاؤں کے معززین کو بلا کر خود اطلاع کر دیں. کیونکہ ابا جی کی غیر موجودگی میں آپ ہی انکی نشست سنبھالتے ہیں اور اس طرح یہ خبر زیادہ عام بھی نہیں ہو گی. ٹھیک ہے میں بولا. میں گاؤں جا رہا ہوں شام تک واپس آ جاؤں گا تب تک آپ یہیں رہیں. اماں اور چچی کو میں ساتھ لے جاتا ہوں شام کو لے آؤں گا. میں آگے بڑھا اور اماں کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور انہیں تسلی دے کر بولا کہ آپ اور چچی میرے ساتھ گھر چلیں شام کو واپس آجائیں گے. اماں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ نہیں میں مہر صاحب کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی. میرے سمجھانے پر وہ جانے کے لیے راضی ہو گئیں. ہمارا گاؤں ملتان سے پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے. تھوڑی دیر میں ہی ہم حویلی پہنچ گئے گاڑی کھڑی کر کے اماں جی کو ان کے کمرے میں پہنچایا اور چچی سے کھانے کا بول کر میں ڈیرے پر پہنچا. راموکاکا کو پہلے ہی بول دیا تھا کے اردگرد کے علاقوں کے معززین کو خبر کر دیں. میں ڈیرے پر پہنچا تو علاقے کے معززین چہروں پر حیرت لیے وہاں موجود تھے. میں نے سب سے مصافحہ کیا اور اپنی نشست پر جا کر بیٹھ گیا جو کہ باقی نشستوں سے ذرا اونچی تھی. چند لمحوں کی خاموشی کے بعد میں نے بات شروع کی. میں: صاحبان! آپ کو تکلیف دینے کا مقصد صرف یہ ہے کہ کچھ دنوں کے لیے بڑے مہر صاحب کی جگہ میں اس کرسی پر بیٹھوں گا. آج صبح انہیں دل کی تکلیف کی وجہ سے ہسپتال لے جایا گیا. صحت یابی کے بعد وہ دوبارہ اپنی گدی سنبھالیں گے. میں بات کرتے وقت ان سب کے چہرے پڑھ رہا تھا. سب کے چہرے افسوس کی وجہ سے اترے ہوئے تھے کہ اچانک ایک چہرہ میری نظروں سے گزرا جس کے تاثرات نے مجھے چونکا دیا. میری بات ختم ہوئی تو سب نے باری باری بڑے مہر صاحب کی صحت کے متعلق پوچھنا شروع کر دیا اور میں انہیں جواب دیتا رہا لیکن میری نظریں اس شخص کا جائزہ لے رہی تھیں. تھوڑی دیر بعد ملاقات ختم کی اور انہیں تلقین کی کہ یہ خبر اپنے تک ہی رکھیں. سب لوگ اٹھ کر چلے گئے تو میں نے راموکاکا کو اندر بلایا. میں: راموکاکا! وہ شخص جو دوسری لائن کی آخری کرسی پر بیٹھا تھا وہ کون تھا. راموکاکا! پتر جی وہ اپنے ایم این اے نہیں ہیں نظر وٹو یہ ان کا بندہ تھا. وہ خود نہیں آ سکے اس لیے اسے بھیج دیا. میں راموکاکا کی بات سن کر بظاہر مطمئن ہو گیا لیکن مجھے اس بندے پر شک تھا. میں نے فوراً عُمر کو فون ملایا اور اسے اس بندے کے متعلق بول کر حویلی کی جانب ہو لیا. عمر جانتا تھا اسے کیا کرنا ہے وہ میرا چچازاد ہونے کے ساتھ ساتھ میرا دوست، جگر اور ہمراز بھی تھا. عُمر میرا ہم عمر ہی تھا اور ہم شروع سے ہی ساتھ ساتھ تھے پہلے سکول اور اب کالج میں بھی ساتھ تھے. حویلی پہنچ کر کھانا کھایا اور پھر اپنے کمرے کی جانب ہو لیا. ہماری حویلی کے دو حصے تھے ایک میں چچا کی فیملی رہتی تھی جوکہ چچا، چچی، عمر اور ان کی بیٹی عمارہ پر مشتمل تھی اور دوسرے حصے میں ہماری فیملی. میرا کمرہ دوسری منزل پر تھا تو میں سیڑھیاں چڑھ کر اپنے کمرے میں جا پہنچا. گرمی کا موسم تھا اے سی چلایا اور حسبِ عادت شرٹ اتاری اور بیڈ پر ڈھے گیا. تھکن کی وجہ سے جلد ہی نیند کی آغوش میں پہنچنے والا تھا کہ اپنے جسم پر گیلا پن محسوس کر کے واپس شعور کی وادی میں قدم رکھ دیا. کوئی وجود میرے اوپری جسم کو چوم رہا تھا. اس کے لبوں کی گرماہٹ میں اپنی کمر پر محسوس کر رہا تھا.
  16. دوستو میں کچھ عرصے سے اس فورم کا قاری ہوں آج میں نے سوچا کیوں نا خود بھی کچھ لکھا جائے اسی لیے ایک کہانی لکھنے کی ادنی سی کوشش کی ہے اس کہانی کا میری ذاتی زندگی سے تو کوئی تعلق نہیں اور باقی بہت سی کہانیوں کی طرح فکشن ہے مگر امید کرتا ہو کہ آپ لوگوں کو پسند آئے گی اور میں کوئی پیشہ ور لکھاری نہیں بلکہ ایک سٹوڈنٹ ہوں تو امید کرتا ہوں کہ میری غلطیوں اور کوتاہیوں کو بتانے کے ساتھ ساتھ آپ میری راہ نمائی بھی کریں گے میں پولیس کے تفتیشی کمرے میں ایک سرد لوہے کی کرسی پر بیٹھا ہوں میرے سامنے میز اور میز کے سامنے ایک اور کرسی پڑی ہے۔ میری نظریں بار بار دیوار پر لگے ٹائم پیس پر پڑ رہی ہیں آج تو وقت بھی بہت آہستہ گزر رہا ہے میرے ذہن میں بہت سے خیال ایک ساتھ گردش کر رہے ہیں۔نا جانے اور کتنا وقت مجھے اسی طرح کرسی پر بیٹھے بیٹھے گزارنا ہو گا نا جانے کب تک یہ لوگ مجھے اس طرح یہاں پر بٹھائے رکھیں گے، اب تک تو کسی کو مجھ سے بات کرنے کیلئے آ جانا چاہیے تھا۔ اچانک دروازہ تھوڑی آواز کے ساتھ کھلتا ہے جیسے میرے سوالوں کا جواب دے رہا ہو اور دروازے میں سے سوٹ میں ملبوس ایک درمیانی عمر کا شخص اندر آتا ہے سیاہ رنگ کے سوٹ کے ساتھ اس نے سیاہ رنگ کی لائنوں والی ٹائی لگائ ہوئی ہے۔ وہ اپنا ایف بی آئی(FBI) کا بیج لہراتے ہوئے مجھ سے مخاطب ہوتا ہے میرا نام ایجنٹ مائیکل کم ہے اور تم ہو جیکسن؟ اس کی طرف دیکھتے ہوئے میں اپنا سر ہاں میں ہلاتا ہوں اور کہتا ہوں جی ہاں میں جیکسن ہی ہوں تو جیکسن میں امید کرتا ہوں کہ تم میرے کچھ سوالوں کا جواب دے سکتے ہو وہ سرد لہجے میں کہتے ہوئے میرے سامنے پڑی کرسی پر بیٹھ جاتا ہے اور اپنے ہاتھ میں موجود بھاری فائل کو اپنے سامنے میز پر رکھ دیتا ہے دیکھو میں صرف یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہوں کہ اس علاقے میں ہوا کیا ہے اس رپورٹ کو دیکھتے ہوئے اس علاقے میں اغوا،کئی جگہ پر نقب زنی،آتش زنی اور کم از کم چار قتل ہوئے ہیں اور میرے خیال میں تم جانتے ہو کہ اس سب کے پیچھے کون ہے میں کیا کہ سکتا ہوں پچھلا کچھ عرصہ بہت عجیب گزرا ہے کیا تم مجھے شروع سے بتا سکتے ہو کہ یہاں پر ہوا کیا ہے ؟؟ دیکھو یہ سب ایک شادی سے شروع ہوا اس کے ساتھ ہی میرے ذہن میں سارے واقعات شروع سے چلنے لگے میرے ہاتھ میں شادی کا رقع تھا جس میں لکھا تھا ہم آپ کو بڑی خوشی کے ساتھ کیتھرین مارک اور آرتھر سٹرلنگ کی شادی میں جو کہ برک پورٹ میں ہو گی شریک ہونے کی دعوت دیتے ہیں کچھ دنوں بعدمیری ٹیکسی برک پورٹ کے قصبے میں ایک عالیشان خاندانی حویلی کے سامنے رکتی ہے اور اس حویلی کی شاندار بناوٹ مجھے بہت متاثر کرتی ہے حویلی کا دروازہ کھلتا ہے اور ایک سمارٹ سی دکھنے والی لڑکی مسکراتے ہوئے باہر نکلتی ہے اور مجھ سے کہتی ہے ہیلو کیا تم یہاں شادی کی تیاریوں کے سلسلے میں کام کرنے آئے ہو ؟؟ میرا نام جیکسن ہے اور میں کیٹ سوری کیتھرین کا دوست ہوں اوہ اچھا میں کچھ اور سمجھی خیر کوئی بات نہیں آ جاو اور ریلیکس کرو میں بھی اسے کیٹ ہی بلاتی ہوں لگتا ہے تم یہاں پہلی دفعہ آئے ہو ویسے میرا نام سارہ ایمرسن ہے اور مجھے تمہیں یہ جگہ دکھا کر بڑی خوشی ہو گی وہ ایک ہنس مکھ اور باتونی لڑکی لگ رہی تھی ویسے تو اس کا جسم سمارٹ تھا مگر چھاتی کافی ابھری ہوئی تھی اور جینز میں کسے ہوئے گول مٹول چوتڑ میرا منہ چڑھا رہے تھے سارہ تم مجھے جو بھی دکھاو اچھا لگے گا میں اپنے لہجے میں مٹھاس لاتے ہوئے بولا اوہ تم کافی تیز ہو ،کیا نہیں ہو ؟؟شہر سے آئے ہوئے لڑکے؟؟ میں کیا کہ سکتا ہوں جب تمہارے جیسی لڑکی سامنے ہو تو سب کچھ ہی اچھا لگتا ہے اور میں نیو یارک سے ہوں۔ شکریہ مجھے تم پسند آئے، تمہاری طرح کے اور بھی لڑکے ہونے چاہییں یہاں ۔ وہ مجھے دروازے سے اندر شاندار ڈیوڑھی میں لے آئی تو تم کیٹ کو کیسے جانتے ہو ؟؟ ہم کالج میں بہت اچھے دوست تھے مگر کالج کے بعد ہمارا رابطہ بہت کم ہو گیا در حقیقت مجھے شادی کا دعوت نامہ ملنا میرے لیے کسی سرپرائز سے کم نا تھا- اس نے مجھے اپنے کالج کے دنوں کی کچھ کہانیاں سنائی ہیں انہیں سن کر تو لگتا ہے تم دونوں ایک دوسرے کے کافی قریب تھے ۔ ہاں تم ایسا ہی کچھ سمجھو۔ مجھے یہ لڑکی کافی اچھی لگ رہی تھی اور لگتی بھی کیوں نا اس کا جسم کمال کا تھا اس نے مہرون رنگ کی شرٹ پہنی تھی اور شرٹ سے باہر نکلنے کو تیار ممے مجھے اپنی طرف کھینچ رہے تھے میں نے اس سے کہا تم شاید دلہے کو کزن ہو؟ اوہ نہیں میں اس کی بہن کی دوست ہوں اس نے مسکرا کر جواب دیا دراصل ہمارے خاندان کا پرانا تعلق ہے سٹر لنگز سے بھی اور برک پورٹ سے بھی۔ ہمارے خاندان کافی عرصے سے ایک دوسرے کے مدمقابل رہے ہیں مگر دلہے کی بہن اور میری آپس میں دوستی ہے تو کیا تم بھی ایک بڑی حویلی میں رہتی ہو ؟؟میں نے اس سے پوچھا۔ حویلی سے تمہاری کیا مراد ہے ؟؟اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا اگر تم مجھ سے حویلی کا مطلب پوچھ رہی ہو تو اس کا صاف مطلب ہے تم بھی حویلی میں ہی رہتی ہوں واہ باتیں تو بہت بنا لیتے ہو تم بس قدرتی ٹیلنٹ ہے میں نے اس کی چھاتی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا یہ سب باتیں کرتے ہوئے ہم کافی بڑی سیڑھیوں کے پاس سے گزرے اور ایک دروازے سے کمرے میں داخل ہوئے جو کہ بہت قیمتی آرٹ سے سجا ہوا تھا میں تو اتنا شاندار کمرہ دیکھ کر میہبوت ہی ہو گیا تمھیں پتہ ہے کیٹ ہمیشہ مجھ سے مذاق کرتی تھی کہ وہ کسی امیر آدمی سے شادی کرے گی مگر میں نے یہ نہیں سوچا تھا وہ ایسا کر گزرے گی خاص طور پہ اتنے امیر آدمی سے ۔ میرا یقین کرو تم پہلے شخص نہیں ہو جو اس بات پر حیران ہے بلکہ پورا قصبہ مہینوں سے یہی سوچ رہا ہے، اب ایسا روز روز تو نہیں ہوتا کہ قصبے کے سب سے امیر خاندان کا وارث ایک عام سے مزدور کی بیٹی سے شادی کر رہا ہو۔ کیٹ کی کیا ہی بات ہے میں نے کہا۔ تم اپنے بارے میں بتاو کوئی خاص شخص ہے تمہاری زندگی میں ؟ اس نے میرے چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔ کیا میری ایڈیٹر کو گنا جا سکتا ہے ہم راتیں اور ویک اینڈز اکٹھے گزارتے ہیں وہ مجھے ہمیشہ کالیں کرتی رہتی ہے ۔۔۔مگر صرف یہ جاننے کیلئے کہ کام پورا ہوا یا نہیں میں نے جواب دیا۔ تو کیا تم کسی پبلشنگ کیلئے کام کرتے ہو ؟؟ میں ایک صحافی ہوں۔ اوہ اچھا میں نے ایک فلم دیکھی تھی جس میں محنتی صحافی ہوتا ہے جو ہر وقت کام کرتا رہتا ہے اور ذاتی زندگی کیلیے وقت ہی نہیں نکال سکتا کیا تم اسی طرح کے صحافی ہو ؟؟ خیر میں تمہارے لیے وقت نکال سکتا ہوں میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے شرارت سے کہا۔ اچھا مجھے اپنی باتوں سے امپریس کرنے کی کوشش کر رہے ہو ؟ امپریس تو تم کب کی ہو چلیں میں نے اسی لہجے میں کہا بلکہ اب تو شرما بھی رہی ہو تم ۔ میں کیا کہ سکتی ہوں میں صرف برک پورٹ کی لڑکی ہوں اور عام طور پر ہم اتنی جلدی فرینک نہیں ہوتے۔ اوہ اچھا چلو یہ بتاو تم کرتی کیا ہو؟؟ میں وکیل ہوں اپنے والد کی طرح۔ اچھا تو تمہاری کوئی بہت بڑی فرم ہو گی ؟؟ نہیں میں ڈیفنس لائر ہوں تو اگر میں شراب پی کر گاڑی چلاتا ہوا پکڑا جاوں تو تو تم مجھے کال کر سکتے ہو اس نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا۔ پھر سارہ نے مجھ سے کہا دیکھو مجھے بہت خوشی ہو گی کہ تم پوری دوپہر مجھ سے ہی باتیں کرتے رہو مگر میرا خیال ہے تمہیں باقی سب سے بھی مل لینا چاہیئے
  17. kindle koye mujy romantic love emotional story jis me piyar ho judai ho taklef ho mor mor par preshani ka samna ho means (#*look like real love story*#) ka link dy skta hy its my first question & first comment
  18. Pati-Patni Juice Corner Par Gaye. Pati Ne Ek Banana Milk Shake, Aur Patni Ne Do Orange Juice Liye. Payment Ke Time Waiter Ne Maalik Ko Aawaj Di. Waiter: “Bhaiya Ka 1 Kela Aur Bhabhi Ke 2 Santre Kaat Lo“
×
×
  • Create New...