Jump to content
URDU FUN CLUB

Search the Community

Showing results for tags 'sex'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • ...::: U|Fun Announcements Club :::...
    • News & ­Announcements
    • Members Introduction
    • Complains & Suggestions
  • ...::: U|Fun General Knowledge Club :::...
    • General Knowledge
    • Cyber Shot (No Nude)
  • ...::: U|Fun Digital Library Club :::...
    • Own Writers Urdu Novels
    • Social New Writers Club
    • Urdu Poetry Ghazals Poems
  • ...::: U|Fun Buy and Sale Club :::...
    • Buy & Sale Your Products
  • ...::: U|Fun Adult Multimedia Club [Strictly For 18+] :::...
    • Users Chit Chat (18+)
    • Advice with Doctors (18+)
    • Urdu Jokes Poetry (18+)
  • ...::: U|Fun Urdu Inpage & Pic Adult Stories Club Normal Standard :::...
    • Urdu Adult Inpage Stories
    • Roman Urdu / Hindi Adult Stories
    • Picture Stories (By UFC Writers)
    • Incomplete Stories (No Update)
  • ...::: U|Fun Premium Membership Subscribe Club :::...
    • Purchase VIP Membership
  • ...::: U|Fun High Standard Premium Club :::...
    • Pardes Serial Novel VIP Edition
    • Hawas Serial Novel VIP Edition
    • Queen Serial Novel VIP Edition
    • Aahni Grift Serial Novel VIP Edition
    • Kamran and Head Mistress VIP Edition
  • ...::: U|Fun Recycle Bin Club :::...
    • Recycle Bin

Categories

  • Urdu Sex Stories High Standard
  • Urdu Pic Stories High Standard
  • Premium Club Serials Complete
  • Pardes Serial Novel VIP Edition

Product Groups

  • Urdu Sex Stories High Standard
  • Urdu Pics Stories High Standard
  • Pardes Serial Novel VIP Edition
  • Hawas Serial Novel VIP Edition
  • Queen Serial Novel VIP Edition
  • Aahni Grift Serial Novel VIP Edition
  • Kamran and Head Mistress VIP Edition
  • Premium Club Serials Completed

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Gender


About Me

Found 31 results

  1. HI DOSTO KYA HAL HY AP K LIYE 1 AUR BEST KHANI. احسن کی سالی. LY K AYA HOON APNI RAE ZROOR DENA KAHANI START RAKHOON YA NAHI.... CH Part 1 ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﮐﺎﻭﯾﺶ ﮐﻮ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﮨﮯ۔ ﺟﺐ ﯾﮧ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﻮﺍ ﺗﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﻤﺮ ۲۳ ﺳﺎﻝ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻟﮍﮐﯽ، ﻋﻮﺭﺕ ﯾﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﺮﺩ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﻟﮕﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﮦ ﮨﻮﮞ۔ ﻣﯿﺮﺍ ﺧﻮﺩ ﮐﺎ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮨﮯ۔ ﻣﻄﻠﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺻﺒﺢ ﺳﮯ ﺷﺎﻡ ﺗﮏ ﻣﯿﺮﺍ ﺟﮕﺮﯼ ﺩﻭﺳﺖ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﺎ ﮈﯾﺮﮦ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﺑﯿﻨﮏ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﯽ ﮈﺍﻝ ﻟﯿﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺍﮐﻠﻮﺗﺎ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﺗﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯾﺎﮞ ﮨﻮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﻻﭘﺮﻭﺍﮦ ﺑﻨﺎ ﭘﮭﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﺣﺴﻦ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮯ ﺍﺣﺴﻦ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﮐﺎ ﻭﯾﺰﮦ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﺎ۔ ﺗﺐ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﺑﮩﯿﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﭘﮍﯼ۔ ﺍﺣﺴﻦ ﮐﯽ ﻣﻨﮕﻨﯽ ﮨﻮﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﺣﺴﻦ ﮐﮯ ﺳﺴﺮﺍﻟﯿﮯ ﻓﻮﺭﺍ ﻣﺎﻥ ﮔﺌﮯ۔ﮨﻢ ﺳﺐ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﮐﺎﻧﺪﺍﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﮐﺎﻓﯽ ﻣﺰﺍ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﻣﺰﮦ ﺻﺮﻑ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﺩﻥ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻭﺳﺖ ﺍﺣﺴﻦ ﮐﯽ ﺳﺎﻟﯽ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﮐﺎﻓﯽ ﺣﺪ ﺗﮏ ﻓﺪﺍ ﺗﮭﯽ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﻤﺎﺋﻞ ﮐﮯ ﻣﺘﺒﺎﺩﻝ ﺳﻤﺎﺋﻞ ﮨﯽ ﭘﺎﺱ ﮐﯽ، ﻧﮑﺎﺡ ﮐﯽ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﺗﮏ ﻣﯿﮟ ﺍﺣﺴﻦ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﺎﺯﯾﮧ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻥ ﭼﮑﺎﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ۔ ﻧﺎﺯﯾﮧ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﻧﺎﺯﯾﮧ ﻧﺎﺭﻣﻞ ﮨﺎﺋﯿﭧ ﮐﯽ ﻟﮍﮐﯽ ﮨﮯ، ﺑﻮﺑﺰ ﮐﺎ ﺳﺎﺋﺰ ۳۲ ﺑﺘﯿﺲ، ﮐﻤﺮ ﺷﺎﯾﺪ ۳۰ ﺗﯿﺲ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﻮ ﻧﮑﻠﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﺻﺮﻑ ۲۸ ﺍﭨﮭﺎﺋﯿﺲ ﺳﺎﺋﺰ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺍﺣﺴﻦ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻨﮕﯿﺘﺮ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﺐ ﻣﺠﮭﮯ ﺭﮐﮭﻮﺍﻟﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻧﺎﺯﯾﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎ۔ ﺍﺣﺴﻦ ﭼﺎﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺟﮕﺮﯼ ﯾﺎﺭ ﻣﺎﻧﮯ ﯾﺎ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺿﺮﻭﺭ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﺯﯾﮧ ﮐﯽ ﺍﺱ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ﺍﺏ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﻓﺎﺋﺰﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮩﻦ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻧﺎﺭﻣﻞ ﮨﺎﺋﯿﭧ ﮐﯽ ﻟﮍﮐﯽ ﮨﮯ۔ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﮐﺎ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺭﻧﮓ ﻓﺌﯿﺮ ﮨﮯ ﻧﺎﺯﯾﮧ ﺳﮯ، ﻓﺎﺋﺰﮦ ﮐﮯ ﺑﻮﺑﺰﺍﻭﺭ ﮔﺎﻧﮉ ﮐﺎ ﺳﺎﺋﺰ ﺑﺘﯿﺲ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﮭﺎ، ﮐﻤﺮ ﺗﯿﺲ ﺗﮭﺎ۔ﺧﯿﺮ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﯽ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﮨﻢ ﺳﺐ ﺩﻭﺳﺖ ﺍﺣﺴﻦ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﯽ ﮐﮭﮍﮮ ﺗﮭﮯ، ﻣﯿﮟ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﺣﺴﻦ ﮐﮯ ﺳﺴﺮﺍﻟﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺁﺗﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺣﺴﻦ ﮐﮯ ﺳﺴﺮ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻡ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺑﯿﮏ ﺳﺎﺋﮉ ﭘﺮ ﺑﻨﮯ ﺳﭩﻮﺭ ﺭﻭﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻓﻮﺭﺍ ﺳﭩﻮﺭ ﺭﻭﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎ ﺗﺒﮭﯽ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﻣﺠﻠﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﮐﮭﮍﯼ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﯽ*ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﻣﺴﮑﺮﺍﻧﮯ ﻟﮕﯽ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﻗﻌﮧ ﻣﺤﻞ ﮐﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﺳﮯ ﮨﻠﮑﯽ ﺳﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﮐﻮ ﺭﭘﻼﺋﯽ ﺩﯾﺎ۔ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﭼﻞ ﺩﯼ، ﺍﻧﺪﺭ ﺟﺎﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﻮﮌﺗﮯ ﮨﻮﮮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ ﺟﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺑﮍﮪ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺣﺴﻦ ﮐﮯ ﺳﺴﺮ ﮐﮯ ﺑﺘﺎﺋﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﻮ ﺍﮔﻨﻮﺭ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﺳﮯ beﺳﻦ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﮭﺪﯼ ﻣﺮﻭﺍﻧﮯ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﺷﻮﻕ ﮨﮯ، ﺁﺝ ﺩﻥ ﺗﮏ ﻧﺎﺟﺎﻧﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﺘﻨﮯ ﻟﻨﮉ ﻟﯿﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﺳﻮﭺ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺁﮔﮯ ﮐﻮ ﺑﮍﮪ ﮔﯿﺎ۔ Part 2 ﮨﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺁﻣﻨﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﺗﮭﮯﺟﮩﺎﮞ ﺍﺣﺴﻦ ﮐﮯﺳﺴﺮﺍﻟﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺷﻔﭧ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺷﺎﺩﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﻮﺭﯼ ﭼﮑﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﮨﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﭘﮭﺮ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﻧﮯ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﻮ ﻻﮎ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻟﮓ ﮔﺌﯽ۔ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﮐﯽ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺑﮭﺮﮐﻢ ﭼﮭﺎﺗﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﭼﮭﺎﺗﯽ ﺳﯽ ﻟﮕﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﺍﺗﮭﻞ ﭘﺘﮭﻞ ﮐﻮ ﻭﺍﺿﺢ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺱ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﮐﻨﻮﺍﺭﮦ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﯾﮑﭩﻨﮓ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯼ۔ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺟﺴﻢ ﺍﻭﭘﺮ ﺍﭨﮭﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻮﻧﭧ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﻮﮌ ﺩﯾﮯ۔ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﺲ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯼ ﺗﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﮐﻢ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺷﮩﻮﺕ ﺯﺩﮦ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻟﻨﮉ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ، ﻓﺎﺋﺰﮦ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻨﮉ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺍﻭﭘﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺍﻟﮓ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﭽﮯ ﭘﮍﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﭼﭩﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﻟﯿﭩﺘﮯ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﻠﻮﺍﺭ ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﺳﺎﺋﮉ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﯼ۔ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ ﺁﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﺎﻥ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎ ﺗﺐ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻨﮉ ﮐﻮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﭘﮑﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﯽ ﻓﺎﺋﺰﮦ : ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﮧ ﮐﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮨﻼ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔ ﺗﺐ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﮐﮯ ﻟﺒﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﺮ ﺗﮭﻮﮎ ﺟﻤﻊ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻨﮉ ﭘﺮ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﻣﭩﮫ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﻟﮕﯽ، ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﯽ ﻧﺰﺍﮐﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﮐﭽﮫ ﺳﻮﭺ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺣﺮﮐﺖ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺟﺴﻢ ﮐﺎ ﺭﻭﻡ ﺭﻭﻡ ﺳﺮﻭﺭ ﮐﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﻮﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﺐ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﻟﯿﭧ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺁﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭨﮭﯿﮏ ﻭﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮐﯿﺎ،ﻓﺎﺋﺰﮦ ﻧﮯ ﺩﯾﺮ ﻧﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﯿﻠﮯ ﻟﻨﮉ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﮭﺪﯼ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﮨﭙﺲ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮭﯿﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﯽ : ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺟﮭﭩﮑﮯ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﻭ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﺳﯿﮑﺲ ﻭ ﭘﻮﺭﻥ ﮐﻠﭙﺲ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺩﻭ ﺳﮯ ﺗﯿﻦ ﺟﮭﭩﮑﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﻨﮉ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﮐﯽ ﺩﮨﮑﺘﯽ ﮨﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺎﺭ ﺩﯾﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﭼﻮﺩﺍﺋﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﭘﮭﺮ ﮐﭽﮫ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﮬﮑﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺰﯼ ﺁﺗﯽ ﮔﺌﯽ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﮐﻤﺮ ﮐﻮ ﺳﮩﻼﺗﯽ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻨﮧﻣﯿﺮﯼ ﮐﻤﺮ ﮐﻮ ﺳﮩﻼﺗﯽ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺴﮑﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﻭﮐﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺮ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ، ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺣﺮﮐﺎﺕ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﭘﺮ ﻏﻮﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ، ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺍ ﺟﺐ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺮ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻮﺑﺰ ﭘﺮ ﺩﺑﺎ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻮﺑﺰ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﮨﻮﺵ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺭﻭﮎ ﻧﮧ ﭘﺎﯾﺎ۔
  2. Update 001 ہیلو دوستو یہ کہانی میری اپنی کہانی ہے بچپن سے لے کر جوانی تک میں نے جو بھی تجربات کیے ان سب کو ایک کہانی میں سمیٹنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اس کہانی میں جو بھی واقعات ہونگے و سب کچھ مرچ مصالحے کے ساتھ ہیں لیکن ہیں سب سچے۔ اس کہانی میں کرداروں کے نام غلط ہونگے کیونکہ میں نہیں چاہتا اگر کوئی میرا جاننے والا اس کہانی کو پڑھ لیے تو مجھے پہچان جائے۔ سب سے پہلے تو آپ مجھ سے مل لیں۔ میرا نام وقاص ہے۔ شکل سے خوبصورت اور قد کاٹھ درمیانہ ہے۔ میں کراچی کا رہائشی ہوں۔ آگے چل کر کہانی کے دوسرے کرداروں کے بارے میں بھی بتاؤنگا۔ یہ کہانی اس وقت شروع ہوتی ہے جب میں دس سال کا تھا۔ سیکس کے بارے میں مجھے اسکول میں بہت چھوٹی عمر سے ہی پتہ چل گیا تھا۔ وجہ میرے چند دوست تھے۔ ہر انسان کی طرح مجھے بھی سیکس میں بہت دلچسپی تھی۔ اس وقت چائنا کے فونز نہیں آئے تھے۔ تو اگر کسی کو بلیو فلم دیکھنی ہو تو dvd یا cd پلیئر پر دیکھنا پڑتا تھا۔ اور ایسا موقع تبھی ہاتھ لگتا تھا جب گھر میں کوئی نہ ہو۔ میںنے اَپنی زندگی کی بلیو فلم اس وقت دیکھی تھی جب میرے لن سے منی بھی نہیں آتی تھی۔ خیر زندگی اسی طرح گزرتی گئی اور میں نے اپنی جوانی میں قدم رکھا۔ ہماری گلی میں ایک آنٹی ہوا کرتی تھیں۔ جن کا نام کنول تھا ۔ کنول آنٹی ویسے تو شادی شدہ اور بچوں والی عورت تھیں۔لیکن خوبصوتی میں اُن کے آگے جوان لڑکی بھی پھیکی پر جائے۔ آنٹی کا جسم بلکل کسی جوان لڑکی کی طرح کا تھا۔کوئی بھی انکو دیکھے تو دھوکہ کہا جائے کہ یہ عورت شادی شدہ ہے۔ کنول آنٹی کے تین بچے تھے اور تینوں بیٹیاں۔ آنٹی کے شوہر فیکٹری میں ملازم تھے۔ کنول آنٹی کے بہنوئی رحمت بھی ہماری ہی گلی میں رہتے تھے کرائے کے گھر میں۔ آنٹی کا ہمارے گھر اور ہمارا آنٹی کے گھر آنا جانا لگا رہتا تھا۔ مجھے آنٹی اتنی اچھی لگتی تھیں کے میں اپنے گھر سے زیادہ وقت اُن کے گھر میں گزارتا تھا۔ آنٹی بھی مُجھسے بہت پیار کرتی تھیں۔میں آنٹی کے گھر کے چھوٹے موٹے کام جیسے بازار سے سامان لے انا۔ٹینکی کی صفائی کر دینا وغیرہ کر دیا کرتا تھا۔ آنٹی k بہنوئی بھی اپنے بیوی بچوں کو گھر میں چھوڑ کر اکثر آنٹی کے گھر ہے ہوتے تھے۔ کبھی لڈو تو کبھی شطرنج کھیلتے رہتے تھے۔ میں جب جاتا تو میں بھی کھیل میں شامل ہو جاتا۔ رحمت انکل کو میں رحمت بھائی کہتا تھا حالانکہ ہماری عمروں میں اچھا خاصا فرق تھا۔وجہ یہ تھی k رحمت انکل بہت فرینک تھے کسی بھی بات کا بڑا نہیں مانتے تھے اور سیکس کے حوالے سے بھی بات چیت کرتے تھے۔ مجھے آنٹی بہت پسند تھیں اور میں انہیں چودنا چاہتا تھا۔ لیکن ڈر بھی لگتا تھا کہ اگر آنٹی برا مان گئیں اور میرے گھر میں بتا دیا تو میرے ابو مجھے جان سے مار دینگے۔ ایک دن آنٹی کی چھوٹی بیٹی کے ساتھ کھیل رہا تھا اور اسے گُدگُدی کر رہا تھا کہ وہ بھاگ کر آنٹی کے پاس چھپ گئی میں بھی بھاگ کے آنٹی کے پاس گیا اور اس کی پکڑنے لگا کے میرے ذہن میں ایک آئیڈیا آیا اور میں نے جان بوجھ کے آنٹی کی بیٹی کے ہاتھ کے بجائے اونٹنی کا دایاں تھن پکڑ لیا اور زور سے دبا کے چھوڑ دیا۔ اور ایسا بن گیا کے یہ غلطی سے ہوا ہے۔ آنٹی نے مجھے گھور کر دیکھا تو میں نے نظریں نیچے کر لیں۔ اور پھر گھر آ گیا۔ ایک دن میں اسکول سے آ کے اپنے معمول k مطابق آنٹی کے گھر پہنچا اور دروازے پر دستک دی تو میں عادت کے مطابق دروازے کی جھرری سے اندر جھانکنے لگا۔اور مجھے یہ دیکھ کر ایک جھٹکا سا لگا کے رحمت اُنکل اپنی شلوار کا ناڑا باندھتے ہوئے دروازہ کھولنے کا رہے تھے۔ پھر انکل نے دروازہ کھولا اور میں اندر گیا تو گھر میں انکل اور آنٹی کے علاوہ کوئی نہیں تھا یعنی آنٹی کی بیٹیاں کہیں گئی ہوئی تھیں۔اب میں اتنا بچہ بھی نہیں تھا جو یہ نہ سمجھ سکوں کہ میرے آنے سے پہلے یہاں کیا چل رہا تھا۔ خیر میں نے یہ بات اپنے تک ہی رکھی اور انکل اور آنٹی پر کچھ بھی ظاہر نہیں ہونے دیا۔ کچھ دیں ایسے ہی گذرے اور رحمت انکل نے اپنا گھر تبدیل کر لیا اور ہمارے علاقے سے دور چلے گئے۔ انکل کو گئے ابھی دو ہی دن ہوئے تھے کے میں اسی طرح آنٹی کے گھر میں بیٹھا آنٹی کے ساتھ لڈو کھیل رہا تھا۔آنٹی کی بیٹیاں میرے گھر پر تھیں۔ میں: آنٹی ایک بات کہوں؟ آنٹی: ہاں بول میں: رہنے دیں آپ برا ماں جائینگی آنٹی: ارے آج تک تیری کسی بات کا برا مانا ہے میں نے؟ میں: آنٹی آپ رحمت انکل کے ساتھ اکیلے میں کیا کرتی تھیں؟ آنٹی کے چہرے کا رنگ اچانک سے اُڈ گیا۔ آنٹی:کیا مطلب؟ میں: مُجھے سب پتہ ہے آنٹی،آپ فکر نہ کریں میں یہ بات کسی کو نہیں بتاؤنگا۔ آنٹی کچھ دیر کے لیے چپ ہو گئیں۔ آنٹی: وعدہ کر کے کسی کو نہیں بتائیگا۔ میں: پکہ وعدہ آنٹی۔ آنٹی نے میرے گال پر ایک کس کی۔ آنٹی: لیکن تُجھے پتہ کیسے چلا؟ میں نے آنٹی کو چند دیں پہلے کی ساری بات بتا دی۔ آنٹی: یار یہ رحمت بھی چُوتیہ ہے ایک نمبر کا۔ میں: آنٹی ایک اور بات پوچھوں؟ انٹی: ہاں وہ بھی پوچھ لے۔ میں: اونٹنی آپ نے ایسا کام کیوں کیا؟ آنٹی: تُجھے تو پتہ ہے تیرے انکل کا صبح سویرے كام پر جاتے ہے تو رات کو دیر سے آتے ہیں۔ اور تھکن کی وجہ سے آتے ہی سو جاتے ہیں۔ میں: تو آنٹی اب آپ کیا کرینگی؟ اب تو رحمت انکل بھی چلے گئے۔ آنٹی: کرینگے کچھ یہ ایسے ہی رہ لینگے۔ میرا دل کر رہا تھا کہ کاش آنٹی مجھے کہہ دیں کہ اب سے تو مجھے چود لیا کرنا۔لیکن آنٹی نے ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
  3. * ایک نوجوان کی کہانی جوگاوں سے شہر پڑھنے آیا تھا *
  4. HI DOSTO KYA HAL HY AP K LIYE 1 AUR BEST KHANI. احسن کی سالی. LY K AYA HOON APNI RAE ZROOR DENA KAHANI START RAKHOON YA NAHI.... CH Part 1 ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﮐﺎﻭﯾﺶ ﮐﻮ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﮨﮯ۔ ﺟﺐ ﯾﮧ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﻮﺍ ﺗﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﻤﺮ ۲۳ ﺳﺎﻝ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻟﮍﮐﯽ، ﻋﻮﺭﺕ ﯾﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﺮﺩ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﻟﮕﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﮦ ﮨﻮﮞ۔ ﻣﯿﺮﺍ ﺧﻮﺩ ﮐﺎ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮨﮯ۔ ﻣﻄﻠﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺻﺒﺢ ﺳﮯ ﺷﺎﻡ ﺗﮏ ﻣﯿﺮﺍ ﺟﮕﺮﯼ ﺩﻭﺳﺖ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﺎ ﮈﯾﺮﮦ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﺑﯿﻨﮏ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﯽ ﮈﺍﻝ ﻟﯿﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺍﮐﻠﻮﺗﺎ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﺗﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯾﺎﮞ ﮨﻮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﻻﭘﺮﻭﺍﮦ ﺑﻨﺎ ﭘﮭﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﺣﺴﻦ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮯ ﺍﺣﺴﻦ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺳﻌﻮﺩﯼ ﻋﺮﺏ ﮐﺎ ﻭﯾﺰﮦ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﺎ۔ ﺗﺐ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﺑﮩﯿﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﭘﮍﯼ۔ ﺍﺣﺴﻦ ﮐﯽ ﻣﻨﮕﻨﯽ ﮨﻮﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﺣﺴﻦ ﮐﮯ ﺳﺴﺮﺍﻟﯿﮯ ﻓﻮﺭﺍ ﻣﺎﻥ ﮔﺌﮯ۔ﮨﻢ ﺳﺐ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﮐﺎﻧﺪﺍﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﮐﺎﻓﯽ ﻣﺰﺍ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﻣﺰﮦ ﺻﺮﻑ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﺩﻥ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻭﺳﺖ ﺍﺣﺴﻦ ﮐﯽ ﺳﺎﻟﯽ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﮐﺎﻓﯽ ﺣﺪ ﺗﮏ ﻓﺪﺍ ﺗﮭﯽ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﻤﺎﺋﻞ ﮐﮯ ﻣﺘﺒﺎﺩﻝ ﺳﻤﺎﺋﻞ ﮨﯽ ﭘﺎﺱ ﮐﯽ، ﻧﮑﺎﺡ ﮐﯽ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﺗﮏ ﻣﯿﮟ ﺍﺣﺴﻦ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﺎﺯﯾﮧ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻥ ﭼﮑﺎﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ۔ ﻧﺎﺯﯾﮧ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﻧﺎﺯﯾﮧ ﻧﺎﺭﻣﻞ ﮨﺎﺋﯿﭧ ﮐﯽ ﻟﮍﮐﯽ ﮨﮯ، ﺑﻮﺑﺰ ﮐﺎ ﺳﺎﺋﺰ ۳۲ ﺑﺘﯿﺲ، ﮐﻤﺮ ﺷﺎﯾﺪ ۳۰ ﺗﯿﺲ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﻮ ﻧﮑﻠﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﺻﺮﻑ ۲۸ ﺍﭨﮭﺎﺋﯿﺲ ﺳﺎﺋﺰ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺍﺣﺴﻦ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻨﮕﯿﺘﺮ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﺐ ﻣﺠﮭﮯ ﺭﮐﮭﻮﺍﻟﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻧﺎﺯﯾﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮬﺎ۔ ﺍﺣﺴﻦ ﭼﺎﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺟﮕﺮﯼ ﯾﺎﺭ ﻣﺎﻧﮯ ﯾﺎ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺿﺮﻭﺭ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﺯﯾﮧ ﮐﯽ ﺍﺱ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ﺍﺏ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﻓﺎﺋﺰﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮩﻦ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻧﺎﺭﻣﻞ ﮨﺎﺋﯿﭧ ﮐﯽ ﻟﮍﮐﯽ ﮨﮯ۔ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﮐﺎ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺭﻧﮓ ﻓﺌﯿﺮ ﮨﮯ ﻧﺎﺯﯾﮧ ﺳﮯ، ﻓﺎﺋﺰﮦ ﮐﮯ ﺑﻮﺑﺰﺍﻭﺭ ﮔﺎﻧﮉ ﮐﺎ ﺳﺎﺋﺰ ﺑﺘﯿﺲ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﮭﺎ، ﮐﻤﺮ ﺗﯿﺲ ﺗﮭﺎ۔ﺧﯿﺮ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﯽ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﮨﻢ ﺳﺐ ﺩﻭﺳﺖ ﺍﺣﺴﻦ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﯽ ﮐﮭﮍﮮ ﺗﮭﮯ، ﻣﯿﮟ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﺣﺴﻦ ﮐﮯ ﺳﺴﺮﺍﻟﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺁﺗﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺣﺴﻦ ﮐﮯ ﺳﺴﺮ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻡ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺑﯿﮏ ﺳﺎﺋﮉ ﭘﺮ ﺑﻨﮯ ﺳﭩﻮﺭ ﺭﻭﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻓﻮﺭﺍ ﺳﭩﻮﺭ ﺭﻭﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎ ﺗﺒﮭﯽ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﻣﺠﻠﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﮐﮭﮍﯼ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﯽ*ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﻣﺴﮑﺮﺍﻧﮯ ﻟﮕﯽ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﻗﻌﮧ ﻣﺤﻞ ﮐﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﺳﮯ ﮨﻠﮑﯽ ﺳﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﮐﻮ ﺭﭘﻼﺋﯽ ﺩﯾﺎ۔ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﭼﻞ ﺩﯼ، ﺍﻧﺪﺭ ﺟﺎﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﻮﮌﺗﮯ ﮨﻮﮮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ ﺟﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺑﮍﮪ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺣﺴﻦ ﮐﮯ ﺳﺴﺮ ﮐﮯ ﺑﺘﺎﺋﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﻮ ﺍﮔﻨﻮﺭ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﻦ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﮭﺪﯼ ﻣﺮﻭﺍﻧﮯ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﺷﻮﻕ ﮨﮯ، ﺁﺝ ﺩﻥ ﺗﮏ ﻧﺎﺟﺎﻧﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﺘﻨﮯ ﻟﻨﮉ ﻟﯿﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﺳﻮﭺ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺁﮔﮯ ﮐﻮ ﺑﮍﮪ ﮔﯿﺎ۔ Part 2 ﮨﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺁﻣﻨﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﺗﮭﮯﺟﮩﺎﮞ ﺍﺣﺴﻦ ﮐﮯﺳﺴﺮﺍﻟﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺷﻔﭧ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺷﺎﺩﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﻮﺭﯼ ﭼﮑﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﮨﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﭘﮭﺮ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﻧﮯ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﻮ ﻻﮎ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻟﮓ ﮔﺌﯽ۔ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﮐﯽ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺑﮭﺮﮐﻢ ﭼﮭﺎﺗﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﭼﮭﺎﺗﯽ ﺳﯽ ﻟﮕﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﺍﺗﮭﻞ ﭘﺘﮭﻞ ﮐﻮ ﻭﺍﺿﺢ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺱ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﮐﻨﻮﺍﺭﮦ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﯾﮑﭩﻨﮓ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯼ۔ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺟﺴﻢ ﺍﻭﭘﺮ ﺍﭨﮭﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻮﻧﭧ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﻮﮌ ﺩﯾﮯ۔ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﺲ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯼ ﺗﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﮐﻢ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺷﮩﻮﺕ ﺯﺩﮦ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻟﻨﮉ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ، ﻓﺎﺋﺰﮦ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻨﮉ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺍﻭﭘﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺍﻟﮓ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﭽﮯ ﭘﮍﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﭼﭩﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﻟﯿﭩﺘﮯ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﻠﻮﺍﺭ ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﺳﺎﺋﮉ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﯼ۔ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ ﺁﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﺎﻥ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎ ﺗﺐ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻨﮉ ﮐﻮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﭘﮑﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﯽ ﻓﺎﺋﺰﮦ : ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﮧ ﮐﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮨﻼ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔ ﺗﺐ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﮐﮯ ﻟﺒﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﺮ ﺗﮭﻮﮎ ﺟﻤﻊ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻨﮉ ﭘﺮ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﻣﭩﮫ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﻟﮕﯽ، ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﯽ ﻧﺰﺍﮐﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﮐﭽﮫ ﺳﻮﭺ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺣﺮﮐﺖ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺟﺴﻢ ﮐﺎ ﺭﻭﻡ ﺭﻭﻡ ﺳﺮﻭﺭ ﮐﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﻮﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﺐ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﻟﯿﭧ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺁﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭨﮭﯿﮏ ﻭﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮐﯿﺎ،ﻓﺎﺋﺰﮦ ﻧﮯ ﺩﯾﺮ ﻧﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﯿﻠﮯ ﻟﻨﮉ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﮭﺪﯼ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﮨﭙﺲ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮭﯿﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﯽ : ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺟﮭﭩﮑﮯ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﻭ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﺳﯿﮑﺲ ﻭ ﭘﻮﺭﻥ ﮐﻠﭙﺲ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺩﻭ ﺳﮯ ﺗﯿﻦ ﺟﮭﭩﮑﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﻨﮉ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﮐﯽ ﺩﮨﮑﺘﯽ ﮨﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺎﺭ ﺩﯾﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﭼﻮﺩﺍﺋﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﭘﮭﺮ ﮐﭽﮫ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﮬﮑﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺰﯼ ﺁﺗﯽ ﮔﺌﯽ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﮐﻤﺮ ﮐﻮ ﺳﮩﻼﺗﯽ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻨﮧﻣﯿﺮﯼ ﮐﻤﺮ ﮐﻮ ﺳﮩﻼﺗﯽ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺴﮑﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﻭﮐﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺮ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ، ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺣﺮﮐﺎﺕ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﭘﺮ ﻏﻮﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ، ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺍ ﺟﺐ ﻓﺎﺋﺰﮦ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺮ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻮﺑﺰ ﭘﺮ ﺩﺑﺎ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻮﺑﺰ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﮨﻮﺵ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺭﻭﮎ ﻧﮧ ﭘﺎﯾﺎ۔
  5. Friends 1 new Kahani ap k liye ly k aya hon #جسم_کی_بھوک #قسط_01 میری ایک بڑی بہن ھے سعدیہ اسکی شا دی کرا چی میں ہو ئی تھی۔میں 9کلا س میں پڑہتی تھی۔پر میرا فگر اور قد کا ٹھ کسی 18 سال کی لڑکی جتنا تھا۔ قدرت نے حسن اور دل کھو ل کر دیا تھا۔مجھے ابو جٹنی کے نا م سے پکارتے تھے میرے ھمسایےمیں ابو کے دوست ریاض رہتے تھے جن کے پا س میں ٹیوشن پڑہتی تھی وہ اکیلے رہتے تھے ۔انکی بیو ی فوت ھو چکی تھی وہ ایک گورنمنٹ ٹیچر تھے ۔وہ ایک جون کی سخت دوپہر تھی ویسے میں شام کو جا تی تھی پڑھنے پر پیپرز سر پر تھے اور مجھے تیاری کرنی تھی تو میں سکول سے آکر کھانا کھا کر چل پڑی ٹیوشن پڑھنے۔ ریاض صاہب کے گھر کی بیل بجائی کافی دیر تک کوئی نہیں نکلا میں واپس جانے کے لیے مڑ ہی رہی تھی تو دروازہ کھلنے کی آواز آئی سر ریا ض نے دروازہ کھولا سر کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں سر نے کپڑے بھی سونے والے پہنے ہوئے تھے انہوں نے بنیا ن اور دھوتی پہنی ہوئی تھی ۔مجھے شرمندگی ہوئی میں نے سر کو نیند سے اٹھا دیا ۔میں نے کہا:سر آپ آرام کریں میں شام کو آجا ئو گی سر:نہں کو ئی با ت نہیں اندر آ جا ؤ میں اندر آ گئی سر مونھ ھاتھ دھونے واش روم میں چلے گئے میں اندر آ کر بیٹھ گی۔اور کتا بیں کھول لیں تھوڑی دیر بعد سر بھی آ کر بیٹھ گئے ۔سر کی عمر تقریبا45 سال کے لگ بھگ تھی سر کا رنگ کا لا تھا اور سر کا رعب ایسا تھا محلے کے چھوٹے بڑے سب سر سے ڈرتے تھے ۔سر جب ڈانتے تھے میں خود ڈر جا تی تھی۔حالانکہ آج تک سر نے ما را نہیں تھا۔ میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو سر اونگھ رہے تھے میں نے دل میں سوچا سر میری وجہ سے ڈسٹرب ھو رے ھہیں میری اتنی ھمت نھیں ھو رہی تھی کہ سر کو جگا سکوں۔میں پھر سے کتا بو ں میں مگن ھو گئی تھی ۔ایک سوا ل سمجھ نہیں آ رہا تھا میں نےسوچا سر سے پوچھتی ہوں میں نے کتا ب سے سر اٹھایا ۔میرے آوسا ن خطا ھو گئے سر نیند میں تھے اور بے خیا لی میں انکی دھوتی سا ئیڈ پر ھو گئی تھی اور دھوتی سے ایک موٹا تا زہ کا لا نا نگ نما لنڈ باہر نکلا ہو ا تھا میرا سانس او پر کا اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا تھا میں نے جلدی سے نظر یں دوبا رہ کتا ب پر جما لیں ۔میں نے زندگی میں پہلی با ر کسی مرد کا لنڈ دیکھا تھا ۔میرے دما غ میں وہی منظر چل رھا تھا میں نے دوبا رہ نظریں اٹھا کر دیکھا کے شا ید سر نے دھو تی سہی کر لی ہو پر وہا ں ویسے ہی انکا کالا نا نگ نطر آرہا تھا میں نے پھر نطریں جھکا لی پتا نہیں کیسی کشمکش چل رہی تھی میرے اندر میں چاہ کر بھی کتا ب میں دھیا ن نھیں لگا پا رہی تھی۔میں ایسے دیکھ رہی تھی کہ اچانک سر کی آنکھ کھل گئی اور مجھے اپنے لنڈ کو دیکھتے ھوئے دیکھ لیا میں نے جلدی سے سر جھکا لیا سر نے جلدی سے اپنی دھوتی کو ٹھیک کیا مارے شرمندگی کے میرا دل چاہ رہا تھا کہ زمین پھٹ جا ئے اور میں اس میں سما جا وں سر پتا نہیں کیا سو چ رہے ھو نگے میر ے با رے میں کہ میں کیسی لڑکی ہوں۔سر اب مجھے غور سے دیکھ رہے تھے سر نے کہا کو نسا سوال ہے جو سمجھ نہیں آ رہا میں آٹھ کر سر کے پاس آ کر بیٹھ گئی اور سر مجھے سوال سمجھا نے لگےپر کچھ سمجھ نھیں آرہا تھا میرے دما غ میں مارے شرمندگی کے اور کچھ نہیں تھا۔ سر نے سوال سمجھا کر کہا جاؤجا کر سوال کر کے دکھاؤ میں نے سر جھکا کر کا پی پکڑنی چاہی جو انہوں نے گود میں رکھی ہوئی تھی ۔ سر نے جا ن بوجھ کر کا پی سا ئیڈ پر کر لی جسکی وجہ سےمیرا ھاتھ انکے لنڈ سے جا ٹکرایا میرا گھبرا کر ھاتھ پیچھے کرنے لگی تو سر نےمیرا ھا تھ پکڑ کراپنے لنڈ پر رکھ دیا ۔ گھبراہٹ کے مارے ایسا لگ رھا تھا گویا جسم میں جان ھی نا ھو۔سر نے مجھے پکڑ کر اپنے سا تھ لگا لیا اور میرے ھو نٹوں پر اپنے ھونٹ رکھ دیے اور مجھے کس کرنا شروع کر دیا میرے ھونٹوں کو چوسنا شروع کر دیا میں نے کسنگ کافی بار فلموں میں دیکھی تھی پر کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ کوئی مرد مجھے ایسے کسنگ کرے گا۔سر کے مونھ سے سگریٹ اور ایک اجیب سی سمیل آرہی تھی۔میں مکمل اس کے رحم و کرم پر تھی۔وہ کبھی ہونٹوں کو چوستا کبھی اپنی زبان میرے مونھ میں ڈال دیتا ۔میں گم سم سر کے لنڈ پر ھاتھ رکے خاموش بیٹھی تھی۔کہ کب سر مجھے چھوڑیں گے۔سر کا ھاتھ میرے سینے پر آزادانہ گھم رھا تھامیرے دونوں مموں کو سر دبا رھے تھےمیری نپلز کو سرنے قمیض کے اوپر سے دبانا شروع کر دیا تھا۔میری سانس پھول چکی تھی ۔میری سسکیاں نکلنا شروع ہو چکی تھی ۔سر تھے کہ رکنے کا نام ھی نہیں لے رہے تھے میں نے زور لگا کر سر سے اپنا آپ چھڑایا تو سر نے مئجھے چھوڑ دیا سر نے اپنا لنڈ با ہر نکال لیا تھا اور میری گردن کو پکڑ کر مجھے اپنے لنڈ کی طرف دھکیلنا شروع کیا میں نھیں سمجھی سر کیا کرنا چاہ رہے تھےمیں نے خود کو چھڑانے کی کوشش کرنی لگ پڑی سر نے کہا: فوزیہ اسکو منھ میں لو۔ مییں دڑ گئی کہ ایک گندی چیز جس سے پیشاپ نکلتا ھے اسکو سر منھ میں لینے کا کہ رھے ھیں۔مجھے کچھ اور نا سوجھا میں پانی پینے کے بہانے اٹھ کھڑی ہوئی۔سر کی فریج انکے بیڈ روم میں رکھی ہوئی تھی۔سر کے بیڈ روم میں داخل ہوتے ہی میری نطر سر کی ٹیبل پر پڑی میں حیران ھو گئی ۔وہاں شراب کی بو تل جو کہ آدھی خالی تھی پڑی تھی اب میں سمجھ گئی کہ سر کے منھ سے سمیل کیوں آرہی تھی اور انکی آنکھیں لال کیوں ہو رہی تھیں ۔میں نے فلموں اور ڈراموں میں شراب پیتے لوگوں کو دیکھا تھا اس لیئے میں بوتل دیکھتے پہچان گئی تھی۔میں دڑ گئی دل میں تہیہ کر لیا کہ پانی پیتے ہی گھر چلی جائوگی۔میں نے فریج سے پا نی نکالا اور بوتل کو مونھ لگا لیا۔ابھی پانی پی ہی رہی تھی کہ سر نے مجھے پیچھے سے آ کر دبوچ لیا میرے ھاتھ سے بوتل چھوٹ کر نیچے گر گئی میں خود کو چھڑانا چاہ رہی تھی پر کامیاب نہیں ھو پا رہی تھی ابھی کشمکش جا ری تھی سر نے مجھے ساتھ پڑے بیڈ پر پٹخ دیا میں منھ کے بل بیڈ پر جا گری ابھی سنمھل ہی نہیں پائی تھی کہ سر میرے اوپر چڑھ گے میں نے اٹھنے کی کوشش کی پر سر نے ایک ھاتھ سے مجھے گردن سے پکڑ کر بیڈ پر الٹا لیٹائےرکھا اور دوسرے ہاتھ سے میری شلوار گھٹنو ں تک اتار دی۔میں دیکھ نہیں پا رہی تھی سر کیا کرنے والے ہیں۔ میں پیٹ کے بل بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی سر نے گردن سے پکڑ رکھا تھا اورمیرا منھہ بیڈکی طرف تھا۔ ٹانگوں پر سر بیٹھے تھے میں بلکل بے بس ہو چکی تھی۔سر نے اچانک اپنے ہا تھ پر تھوک دیا اور تھوک میری چوت پر لگا دیا اور اچا نک کوئی گرم چیز میری چوت پر رگڑنا شروع کر دی میں سمجھ گئی کہ یہ سر کا لنڈ ہے اب بچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی میں نے سر کو واسطے دینا شروع کر دیئے ابھی میں منتیں کر ہی رہی تھی کہ سر نے ایک جھٹکا دیا میرے الفاظ منھ میں ہی تھے ان کی جگہ ایک زوردار چیخ نے لے لی مجھے ایسا محسوس ہوا کسی نے جلتی ہوئی گرم سلاخ میری چو ت میں ڈال دی ہو۔میں تڑپ اٹھی کوشش کرنی لگ پڑی نیچے سے نکلنے کی پر میں پوری طرح قابو میں آچکی تھی۔ابھی سمنھل ہی نہ پائی تھی کہ سر نے دوسرا جھٹکا مارا میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا مجھے ایسا محسوس ھو رھا تھا میری ٹانگوں کے بیچ کی جگہ چر گئی ہو۔میری چیخ کمرے میں گونج چکی تھی ۔۔۔۔ہائے امی میں مر گئی ۔۔۔۔اسے باہر نکالو ۔۔۔۔میں مر جاؤں گی ۔۔۔ مجھے لگ رہا تھا کہ جیسے کوئی چاقو میں چوت میں مارا گیا ہو ۔۔۔میں بری طریقے سے تڑپ رہی تھی۔انکھوں سے آنسو رواں تھے۔میں سر کے نیچے زبح کی ہوئی مرغی کی طرح پھڑپھڑارہی تھی۔سر کو میری حالت پر کوئی رحم نہیں آرہا تھا۔وہ کسی وحشی کی طرح مجھ پرٹوٹے پڑے تھے۔پیچھے سے میری گردن پر کاٹ رھے تھے کبھی میری کان کی لو کو مونھ میں لے کرچوس رہے تھے۔۔سر نے جھٹکوں کی رفتار تیز کر دی تھی۔ابھی چوت کا دردسے سنمھل نہی پائی تھی کے سر کا لنڈ جو میری چوت میں تبا ہی پھیلا رہا تھا۔وہ باہر نکل آیا سر نے دوبارہ اندر ڈالنے کی کو شش کی پر نشے میں ہونے کی وجہ سےسر کو پتا نہیں لگا اور سر نے لنڈ میری گانڈ پر رکھ کر زور سے جھٹکا مارا تو لنڈکا کچھ حصہ میری گانڈ کو چیرتا ہوا اندر داخل ہو گیا۔مجھے لگا میرا سانس رک گیا ہو۔ میں مچھلی کی طرح تڑپ اٹھی میری اتنی زور سے چیخ نکلی کہ سر بھی گھبرا کر میرے اوپر سے اتر آئے ۔میں پورے بیڈ پر پانی سے نکالی ہوئی مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی لگ رھا تھا کسی نے گانڈ میں مرچیں ڈال دی ہوں۔کچھ دیر بعد درد برداشت کے قابل ہوا تو میں اٹھ بیٹھی ۔میری نظر اپنی ٹانگوں اوربیڈ شیٹ پر پڑی تو خون دیکھ کر میں گھبرا گئی تھی رو رہ کر پہلے ہی گلا خشک ہو چکا تھا۔سر نے پانی لا کر مجھے پلایا میں نے سر کے آگے ہا تھ جوڑ دئیے کہ سر مجھے جانے دیں۔سر نے دیکھا میں کچھ سنبھل گئی ہوں تو مجھے پیچھے دکھیل کر میری شلوار اتاردی۔اور دونوں ٹانگوں کے بیچ میں آکر بیٹھ گئے اور کہنے لگے پریشان نہ ہو اب درد نہں ہوگا اور ناہی اور خوں نکلے گااور میں خیال رکھونگا کہ میرا لنڈ اب تمھاری گانڈ میں نہیں جائے۔میر ے منھ سے بس ایک ہی جملہ نکل رہا تھا سر مجھے جا نے دیں ۔سر نے کہا بس 5 منٹ اور اس کے بعد تم چلی جانا ۔سر نے دوبا رہ لنڈ پر تھو ک لگا یا اور میر ی چوت پڑ رگڑنے لگے میں نے خود کو دوبارہ درد کے لئیے زہنی طور پر تیا ر کر لیا تھا۔سر نے اب آہستا آہستا اندر ڈالنا شروع کیا درد کی لہر دوبارہ اٹھی چوت میں پر اس با ر اتنا درد نہیں ہو رہا تھا برداشت کے قا بل تھا ۔سر نے کہا تمھاری چوت میں ابھی تک آدھا لنڈ ڈال سکا ہوں میں سوچ میں پڑ گئی کہ آدھے لنڈ نے مجھے اتنا تڑپایا ہے تو پورا لنڈ کیا غضب ڈھائے گا۔میں نے روتے ہوئے ہا تھ جوڑ دئے کے جتنا گیا ہے اتنا بہت ھے۔سر نے کہا ٹھیک ہے پر میرے سا تھ تعاون کرو جیسا کہونگا کرنا پڑے گا۔میں نے کہا ٹھیک ہے تو سر نے کہا قمیض اوپر کرو میں نے اپنی قمیض اوپر کر دی سر نے میرے پستانوں پر اپنا منھ رکھ دیا اور بوکھے جانور کی طرح نوچنے اور کا ٹنے لگا میری نپلز کومونھ میں لے کر چو سنے لگا ساتھ ہی ساتھ جھٹکے مار رہا تھا مجھے ہر جھٹکے پر یہ محسوس ہو رہا تھا میری چوت چرتی جا رھی ہے پورے کمرے میں میری سسکیا ں اور آہیں گونج رہی تھیں اورسر بے نیازسےمیرےمموں کو چوس رہے تھے۔میں دعا کر رہی تھی کہ جلد سے جلد یہ کام پورا ہو اور میں گھر جاؤں تھوڑی دیر بعد سر ایک زوردار چنگھاڑ کی آواز نکال کر میرے اوپر گر گئےمجھے ایسا لگا کسی نے کوئی گرم ابلتا ہوا سیسہ اندر ڈال دیا ہو۔سر کے جسم کو جھٹکے لگ رہے تھے۔میرے اندر لگ رہا تھا کسی نےگرم فوارہ چلا دیا ہو ۔تھوڑی دیر بعد سر نے اپنا لنڈ نکال دیا اور اٹھ کر بیٹھ گئے ۔میں بے سدھ لیٹی ہوئی تھی میرے جسم میں جان نہی تھی کہ میں اٹھ سکوں جیسے تیسے کر کے اٹھ کر میں نے بے اختیار چوت کی طرف نگا ہ ماری کہ کہیں دوبارہ خون تو نہیں نکل آیا پر اب خون کی جگہ گاڑھا زرد پانی نکل رہا تھا۔میری ٹانگیں اور بستر چوت سے نکلنے والے پانی نے گیلے کر دیئےتھے۔میں نے روتے ہوئے شلوار پہننا شروع کر دی تھی۔حالانکہ میرے جسم میں جان تک نہ تھی پر جیسے تیسے کر کے شلوار پہن لی مجھے ڈر تھا کہیں یہ کھیل دوبارہ نا شروع ہو جا ئے۔سر بے سودھ ھو کر سو گیا تھا میری عزت کو تار تار کر کے کیسے مزے سے سو گیا تھا۔ ۔اور میں گرتے پڑتے جیسے تیسے کر کے اپنے گھر پہنچ گئی۔میری چال اور بکھرے بال میرے اوپر گزرے حال کا بتا رہے تھے مجھے کچھ بتانا ہی نہی پڑا۔میری حالت دیکھ کر امی کے ہاتھ سے برتن گر گئے ان کی جہاندیدہ آنکھوں نے مجھ پر گزری قیامت کو بھانپ لیا تھا۔امی نے جلدی سے مجھے پکڑ کر کمرے میں لے گئیں۔امی نے مجھے بیڈ پر لٹا دیا میری آنکھو ں سے آنسو نہیں تھم رہے تھے۔امی نے پو چھا کون تھا وہ بدبخت۔میرے منھ سے صرف اتنا نکلا سر ریاض اور میں دوبارہ رونے لگ پڑی۔امی نے کہا بیٹا اپنے آپ کو سنمھالو تمہارا ابو گرم دما غ کا آدمی اس نے جو ش میں آکر ریاض کو کچھ کر دیا تو اور جتنا ڈھنڈورا پیٹیں گے بدنامی اپنی ہو گی ہم لڑکی والے ہیں۔باقی ریاض کو میں خود دیکھ لوں گی۔تم کپڑے بدل لو میں تمہارے لیے گرم دودھ لے کر آتی ہوں۔میں لیٹی رہی اٹھنے کودل ںہیں چا رہا تھا نا جسم میں ہمت تھی اٹھنے کی۔ آنکھیں بند کرتی تو وہ سارہ منطر آنکھوں کے سامنے آجا تا۔تھوڑی دیر بعد امی میرے لیے گرم دودہ لے کر آ گئی ۔فوزیہ ابھی تک کپڑے نہیں پہنے تم نے تمھا را ابو آتا ہو گا اس حالت میں تم کو دیکھ کر وہ سمجھ جائے گا ۔تمہا ری شلوار پر خون کے داغ ہیں۔امی نے مجھے کپڑے پہنانے میں مدد کی میں دوبارہ بیڈ پر گر گئی ۔امی نے مجھے دودھ پکڑایا اور ساتھ 3 گولیا ں پکڑا دی کہا : یہ کھا لو۔ میں نے کہا یہ کس چیز کی گو لیا ں ہیں امی نے کہا:ایک پین کلر ہے اور 2 گولیاں مانع حمل کی ہیں۔ میں نے حیرت سے پوچھا:وہ کس لیئے امی نے کہا :بس چپ کر کے کھالو میں گولیاں کھا کر دودھ پی کردوبارہ لیٹ گئی۔ میری آنکھ لگ گئی شام کو ابوکی با ئیک کی آواز سن کر میری آنکھ کھل گئی ۔جب سے ہوش سنمھالا تھا میری عادت تھی کہ جیسے ابو گھر آتے میں سب سے پہلے انکو ملتی تھی اور ان سے سامان پکڑ کر رکھتی تھی۔ وہ روز میرے لیئے بازار سے کچھ کھانے کے لئیےلاتے تھے۔اس دن مجھے سامنے نا پا کر پریشان ہو گئے تھے امی سے پوچھا فو زیہ پتر کہا ں ہے امی نے کہا اسکی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ابو نے جلدی سے سامان زمین پر رکھا اور میرے کمرے کی طرف چل دئیے کمرے میں ابو داخل ہوے اور کہا کیا ہوا ہے میری جٹنی کو میں نے ابو کی آواز سن کر بھی آنکھیں نہیں کھو لی میری ہمت نہیں ھو رہی تھی ابو سے آنکھ ملا نے کی۔ ابو نے میرے ما تھے کو چھو کر دیکھا بے اختیار میری آنکھوں میں آنسو آگئے مجھے روتا دیکھ کر ابو پریشان ہو گئے اور کہا: روتی کیوں ہے پگلی چل ڈاکٹر کو دکھا آتے ہیں۔امی نے گھبرا کر کہا نہیں اب ٹھیک ہے میں نے اسکو گولیاں کھلا دی تھیں۔بخار اتر گیا ہے ۔اس نے دراصل امتحانات کی کچھ زیا دہ ہی ٹینشن لے لی ہے۔ابو نے کہا چلو ٹھیک ہے تم آرام کرو ۔ابو کے جا نے کے بعد پتا نہیں کب آنکھ لگی اچا نک رات کو ڈراونا خواب دیکھ کر آنکھ کھل گئی تھی۔خواب میں ایک خوفناک درندے کو اپنے اوپر حملہ کرتے دیکھا تھا۔دوبارہ سونے کی کوشش کرتے کرتے کافی دیر لگی ۔صبح 9 بجے دوبا رہ آنکھ کھلی تو ابو جا چکے تھے۔جسم میں پورے درد تھا اٹھتے کا دل نہیں کر رہا تھا اٹھ کر کمرے سے با ہر نکلی تو امی نا شتہ بنا رہی تھیں۔امی نے کہا جاو نہا لو پھر نا شتہ کرتے ہیں۔ میں نے واش روم کی طرف چل پڑی چلنے میں ٹانگوں کے بیچ اور گانڈ میں ہلکی ہلکی درد ہو رہی تھی۔ واش روم میں جا کر میں نےکپڑےاتارےتو دیکھا میرے پستانوں پر ریاض کے دانتوں کے نشان تھے۔جو اب با قائدہ زخم کی صورت اختیار کر چکے تھے۔چوت بھی سوجھی ہوئی لگ رہی تھی۔نہا کر میں با ہر نکلی تو امی نے ناشتہ لگا دیا تھا۔ہم دونوں نے مل کر نا شتہ کیا پرہم دونوں کے بیچ کو ئی با ت نہہں ہو ئی تھی میں نے خاموشی سے ناشتہ کیا ورنہ میں پورے گھر میں سب سے زیادہ ہنس مکھ مشہور تھی۔امی نے کہا میں زرا با زار تک جا رہی ہوں کنڈی لگا لینا میں نے کہا بازار سے زخموں پر لگانے والی مرہم تو لیتے آنا امی نے پوچھا کہاں لگا نی ہے۔ اس واقعے کے اثر سے نکلنے کے لئیے مجھے ہفتہ لگ گیا ایک ہفتے تک میں اسکول بھی نہیں گئی آہستہ آہستہ میں دوبارہ اپنی روٹین لائف میں واپس آتی گئی اور میری ہنسی اور قہقہے بھی واپس آتے گئےجسکی سب سےزیا دہ خوشی میرے والد کو ہوئی تھی کیونکہ میری ہنسی کو دیکھ کر وہ جیتے تھے۔ میں نے اسکو ل جانا شروع کر دیا تھا ۔میری اسکول میں ایک ہی دوست تھی جسکا نام ماریہ تھا اسکول میں اسکی ریپوٹیشن کچھ اچھی نہیں تھی اسکے با رے میں بہت سے قصے مشہور تھے۔اسکا کا فی لڑکو ں کے سا تھ نا م جوڑا جا تا تھا ۔پر میں نے کبھی اس سے اس با رے میں بات نہیں کی تھی ۔میں جیسے اسکول میں دا خل ہوئی تو سامنے سے ماریہ کو آتے دیکھا ما ریہ نے کہا کہاں گم ہو ہفتے سے میں نے کہا یار میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔ ماریہ : یار آج خدا سے کچھ اور مانگتی تو وہ بھی مل جاتا شکر ہے تم آج آگئی مجھے تم سے ایک کام ہے میں نے پوچھا : کیا کام ہے ماریہ:یار اسکول سےواپسی پر میں نے کام سے جانا ہے اگر میری امی کا فو ن آئے تو تم کہنا ماریہ میرے سا تھ ہے۔ میں :کہاں جانا ہے جو امی سے چھپا رہی ہو ماریہ:پاگل ڈیٹ پر جانا ہے اب کیا امی کو بتا کر جاؤں۔ میں:یار تم کب سدھرو گی ماریہ نے مجھے جھپی ڈال کر آنکھ مار کر کہا یار زندگی کا مزا جتنا لے سکتی ہو لوٹ لوکل ہو نا ہو۔ میں نےہامی بھر لی تو ماریہ نے میرا گال چوم لیا میں نے ہنس کر کہا بد تمیز اب چھوڑو بھی مجھے ہم دونوں ہنستے ہوئے کلاس میں داخل ہو گئے۔ آدھی چھٹی ہوئی تو ہم دونوں جا کر لان میں بیٹھ گئے وہ ہماری پسندیدہ جگہ تھی وہاں درخت لگےہوئے تھے جنکی ٹھنڈی ہوا ہم دونوں کو بہت پسند تھی۔ مجھے کچھ نوٹس اتارنے تھے کیونکہ میں ایک ہفتے سے اسکول نہیں آئی تھی تو کافی کام جمع ہو گیا تھا۔اگلے ہفتے پیپر تھے۔لان میں بیٹھ کر میں نے ماریہ کو کہا جاؤ کچھ کھانے کو لے آؤماریہ جانے لگی تو میں نے کہا اپنا موبائیل دینا مجھے نوٹس اتارنے ھیں کیونکہ ہماری ٹیچرز نے ایک واٹس ایپ گروپ بنا رکھا تھا جس میں سارے نوٹس مل جاتے تھے میں اپنا موبائیل نہیں لاتی تھی اسکول کیونکہ میڈیم منع کرتی تھی موبائیل لانے کو۔مجھے پتا تھا ماریہ اسکول میں موبائل لاتی تھی چوری چھپے۔ماریہ تھوڑا ہچکچائی پھر موبائیل کا پاسورڑ کھول کر واٹس ایپ چلا کر مجھے دے دیا۔خودکینٹین کی طرف چل دی۔میں موبائیل میں ابھی نو ٹس پڑھ ہی رہی تھی تو ایک میسج آگیا میری عادت نہیں تھی ماریہ کے میسیج پڑھنے کی پر جیسے میرا دھیان میسیج بھیجنے والے کے نام پر پڑا تو بے اختیار میسیج کھول لیا ۔کیونکہ وہ میسیج میرے نام سے آیا تھا ۔ میں نے جب میسیج کھولا تب پتا چلا ماریہ نے میرے نام سےکسی لڑکے کا نمبر سیو کیا ہوا تھا تاکہ کبھی اسکی کال آئے تو اسکی امی کو شک نا پڑجائے۔میں بے خیالی میں اوپر اسکرول کیا تو تصاویر دیکھ کر میں بری طرح چونک گئی ماریہ نے اس لڑکے کو اپنی ننگی تصاویر بھیجی تھیں جس میں اسکے پستانوں اور چو ت کی تصاویر شامل تھیں۔لڑکے نے بھی اسکو اپنے لنڈ کی تصاویر بھیجی تھیں ۔ماریہ نے اپنے میسیجز میں اسکو اپنی چوت میں لینے کے لیے بے تابی کا اظہار کیا تھا۔ان سب کے علاوہ اور بہت سی انگلش ننگی تصاویر شا مل تھیں ۔میں نے سامنے سے ما ریہ کو آتے دیکھا تو جلدی سے موبا ئیل لاک کر دیا ۔ماریہ سموسے لے کرآئی تھی ۔میری اڑی ہوئی رنگت دیکھ کر اسکو کچھ شک پڑ گیا اس نے جیسے ہی موبا ئیل کو اوپن کیا تو سامنے وہی میسیجز کھل گئے کیونکہ میں نے گھبراہٹ میں واٹس ایپ کو بند کرنا بھو ل گئی تھی۔ میں سر جھکا کر بیٹھی تھی ہم دونوں کے بیچ کوئی بات نہیں ہوئی کافی دیر۔آخر کار ماریہ نے خاموشی کا پردہ چاک کیا ماریہ:تم نے میرے میسیجز پڑھ لیے ہیں کوئی بات نہیں ہم دوست ہیں ہم دونوں کے بیچ کوئی پردہ نہیں ہونا چا ہیے۔ میں :تم نے اپنی ایسی تصاویر کیوں اسکو بھیجی ہیں ماریہ:یار یہ سب چلتا ہے ۔ میں :تم شادی سے پہلے اس انجان لڑکے کے ساتھ سیکس کرنا چاہ رہی ہو ماریہ ہنستے ہوئے:جان سیکس بھی انسان کی بھوک کی طرح ایک ضرورت ہے۔ میں:تم کب سے اس لڑکے کے ساتھ یہ سب کر رہی ہو ماریہ:اس کے ساتھ فرسٹ ٹائم ہےپر اس سے پہلے دو اور لڑکے تھے۔جن کے ساتھ میرا تعلق تھا۔ میں:اگر تمہاری امی کو پتا چل گیا تو ماریہ:ان کو کیسے پتا چلے گا تم بس کوئی بھانڈا نا پھوڑ دینا میں:میں نہیں بتاؤں گی پر تمہارے خون والے کپڑے دیکھ کر امی سمجھ جائیں گی۔ ماریہ ہنستے ہوئے:پاگل خون کیوں نکلے گا میرا کونسا پہلی بار ہے۔ میرے منھ سے اچا نک نکل گیا پر میری امی کو تو پتا چل گیا تھا۔ ماریہ نے چونکتے ہوئے کہا:کیامطلب اسکا مطلب تم نے بھی کسی سےسیکس کیا ہے۔ میں نے دل ہی دل میں خود کو کوستے ہوئے کہا چلو کلاس کا ٹا ئم ہو گیا ہے۔ وہ میرے پیچھے پڑ گئی میں نے کہا اچھا کل بتاؤں گی ۔میں نے دل میں سوچا کل تک اسکے زہن سے بات نکل جائے گی۔ ہم کلاس میں چلے گئے چھٹی کے بعد میں اسکول سے نکلی تو ماریہ میرے پیچھے چل پڑی میں نے کہا تمہا را گھر اس سائیڈ تو نہیں ہے تو کہنے لگی میں کچھ دور تمھارے ساتھ چلوں گی جب کچھ لڑکیوں کا رش کم ہو جائے گا تو میں اپنے فرینڈ کی گا ڑی میں بیٹھ جاؤں گی۔جو کچھ فاصلے پر کھڑی ہے اس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے بلیک کلر کی گاڑی دکھائی ۔میں خاموشی سے چل پڑی۔تھوڑی دور چلنے کے بعد جب کافی رش کم ہو گیا تو ماریہ نے فون پر اپنے فرینڈ کو کہا گاڑی لے آؤ۔گاڑی ہمارے نزدیک آکر رکی ماریہ دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئی۔ ماریہ:آؤ تم کو گھر چھوڑ دیتے ہیں۔ میں:نہیں میں چلی جاؤں گی پیدل ماریہ:اچھا چلو جیسے تمہاری مرضی۔ ماریہ نے دروازہ بند کر دیا اور گاڑی چل پڑی۔اور میں سوچوں میں گم گھر کی طرف چل پڑی۔ گھر پوہنچی تو پتا لگا گاؤں سے میرا کزن ارشد آیا ہوا تھا۔ارشد میرے چاچا کا لڑکا تھا وہ فرسٹ ائیر میں پڑھتا تھا۔ااسکو دیکھ کر میں بہت خوش ہوئی کیونکہ میری اسکے ساتھ بہت جمتی تھی ۔میں نے اس کو سلام کیا ارشد:لگتا ہے آج کل بہت زورں سے پڑھائی جاری ہے۔ میں:جی ارشد بھائی پیپر جو سر پر آگئے ہیں۔ ارشد :اچھا جی اسکا مطلب ہے لڈو اب ہم پیپرز کے بعد کھیل سکیں گے۔ اصل میں ہم دونوں کی شرطیں لگا کرتی تھیں لڈو میں ۔کئی بار ہم لڑ پڑتے تھے۔ میں : نہیں ایسی با ت نہیں ہے ہم لڈو آج ہی کھیلیں گے ارشد:اس کا مطلب ہے تم نے تیاری خو ب کر لی ہے۔ ہم دونوں کی نوک جھوک دیکھ کر امی ہنس پڑی امی نے کہا ارشد بیٹے کو کھانا تو کھانے دو نا حال نا حوال بس آتے ہی لڈو کی پڑ گئی۔ ہم دونوں ہنس پڑے۔میں نے کمرے میں آکر یونیفارم تبدیل کیا اور اپنا موبائیل کو اٹھا لیا ۔ابھی موبائیل میں میسیجز پڑھ ھی رہی تھی کے ماریہ کی امی کی کال آ گئی ۔میں نے ان کو جھوٹ بول دیا کہ ماریہ میرے ساتھ ہے ہم پیپرز کی تیاری کر رہی ہیں ۔جیسے ہی انکا فون بند ہوا میں نے ماریہ کو میسج کر دیا کہ تم جتنا جلدی ہو سکے گھر پہنچ جاؤ۔ مجھے پریشانی رہی کہ دوبارہ ماریہ کی امی کا فون نہ آجائے پر ایسا کچھ نہ ہوا۔ صبح اٹھ کر تیا ر ہو کر اسکول کے لیے روانہ ہو ہوگئی اسکول پہنچ کر میری نطریں ماریہ کو ڈھونڈ رہی تھیں۔کلاس میں جیسے داخل ہوئی ماریہ کو سامنے دیکھ کر سکون کا سانس لیا۔آدھی چھوٹی جیسے ہوئی ہم دونوں اپنی پسندیدہ جگہ کی طرف چل دیے۔لان میں بیٹھ کر میرا پہلا سوال یہ تھا میں:تمہاری امی کو شک تو نہیں پڑا ماریہ:نہیں ان کو زرہ بھی شک نہیں پڑا۔اس کو چھوڑو تم بتاؤ اپنی اسٹوری کس نے تم کو کلی سے پھول بنا دیا میں:چھوڑو ایسی کوئی بات نہیں دل میں خود کو کوسنے لگ پڑی کہ کل خامخواہ منھ سے بات نکل گئی اب ماریہ کی بچی پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ ماریہ:اگر مجھ پر اعتبار نہیں ہے تو مت بتاؤ اس نے زیادہ زور لگایا تو میں نے سب کچھ بتا دیا ماریہ مزے لے کر سب کچھ سن رہی تھی۔اور کرید کرید کر پوچھ رہی تھی۔ میں نے سب کچھ بتا نے کے بعد اس سے وعدہ لیا کہ کسی کو مت بتانا ماریہ:پاگل ہوں کیا اپنی سب سے پیاری سہیلی کا راز کسی کو بتاؤں گی۔ اسکے بعد میں نے اس سے اسکے کل والے واقعے کے بارے میں پوچھا۔ ماریہ نے اپنی سیکس کی اسٹوری مزے لے لے کر سنانا شروع کر دی تھی،اس آدھے گھنٹے میں اس نے مجھے سیکس کی اتنی نالیج دی ۔ٹپس دیں نیٹ سے سیکسی تصاویر دکھائیں نیٹ میرے موبائل میں بھی تھا میں نے آج تک ایسی کوئی تصاویر نہیں دیکھیں تھی کچھ ایسی تصاویر تھیں جن میں لڑکی نے مرد کا لنڈ منھ میں لیا ہوا تھا۔ میں:کتنی گندی لڑکی ہے مرد کا لن منھ میں لیا ہوا ہے ماریہ:پاگل اس کو اورل سیکس کہتے ہیں یہ سیکس کی جان ہےاس کے بغیر سیکس ادھورا ہےروکو ایک اور تصویر دکھاتی ہوں ماریہ نے موبائیل میں کچھ اور ٹائپ کیا۔اور ایک تصویر دکھائی جس میں مرد عورت کی پھدی کو چاٹ رہا تھا،دوسری تصویر میں دو لڑکیاں ایک دوسرے کی پھدیاں چاٹ رہی تھیں۔ میں:ایسا صرف انگریز کرتے ہوں گے۔ ماریہ:نہیں پاگل سب کرتے ہیں میں خود اپنے تمام بوائے فرینڈز کے ساتھ ایسا ہی کرتی ہوں میں:تم کرتی ہو تو اس کا یہ مطلب تھوڑی ہے سب کرتے ہوں گے۔ ماریہ :یار سب کرتے ہیں اس کے بغیر سیکس کا کوئی مزہ نہیں ہے۔میرے ابو امی بھی اورل سیکس کرتے ہیں۔ میرا منھ کھلا رہ گیا میں:تم نے انکو کہا ں دیکھا ماریہ:میں نے چوری چھپے انکا سیکس کافی بار دیکھا ہے۔ میں حیران رہ گئی اسکی باتیں سن کرکہ کیسی اولاد ہے جو اپنے ماں باپ کو سیکس کرتے چوری چھپے دیکھتی ہے۔ماریہ کا باپ ایک مولوی تھا اسکو دیکھ کر نہیں لگتا تھا کہ وہ ایسا کرتا ہوگا۔ ماریہ:تم سوچ رہی ہو گی کہ میرا باپ مولوی ہے وہ ایسا کام کیسے کر سکتا ہے میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ ماریہ:میرا باپ نے ہمارے گھر کام کرنے والی آتی ہے اسکو بھی نہیں چھوڑا ہے میں نے ان دونوں کو کافی بار پکڑا ہے، میں : تو تم اپنی ماں کو کیوں نہیں بتا تی اسکے بارے میں۔ ماریہ:جان یہ سیکس کی بھوک ہے جو ہر انسا ن میں ہوتی ہے اسکو حق ہے وہ اپنی بھوک مٹائے جیسے انسا ن کو کھانے پینے کی ظرورت ہوتی ہے ویسے ہی سیکس کی ظرورت ہوتی ہے۔ ہم کافی دیر تک باتیں کرتے رھے اتنے میں بیل بج گئی میں نے ماریہ کو کہا :باتوں میں ہم نے کچھ کھایا بھی نہیں ۔ ہم کلاس میں چلی گیں چھٹی کے بعد میں گھر پہنچی توامی کو پریشانی میں گھر سے نکلتے دیکھا مجھے دیکھ کر بولیں:شکر ہے تم آ گئیں زبیدہ کے بیٹے کو چوٹ لگ گئی ہے میں اسکے ساتھ ہسپتال جا رہی ہوں تم گھر کا خیال رکھنا۔ارشد آئے تو اسکو کھانا بنا کر دے دینا، زبیدہ ہمارے محلے میں رہتی تھی۔اسکا ایک ہی بیٹا تھا جو بہت شرارتی تھا ابھی اسکول جانا شروع کیا تھا5 سال کا تھا پر شرارتوں میں پورے محلے میں مشہور تھا۔۔۔ ۔۔ #جسم_کی_بھوک #قسط_02 امی کے جانے کے بعد میں نے یونیفارم بدلا اور لیٹ کر ماریہ کی باتوں کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔اپنا موبائل اٹھا کر اس میں گندی تصاویر اور ویڈیوز سرچ کرنا شروع کر دیں ویڈیوز دیکھ کر میری چوت میں کچھ کچھ ہونے لگ پڑا۔کچھ دیر ویڈیوز دیکھنے کے بعد میں نے اپنی چوت پر ہاتھ لگایا تو کچھ گیلا پن محسوس کیا۔ماریہ نے مجھے بتایا تھا کہ جب عورت کو مزہ آنے لگتا ہے تو چو ت میں گیلا پن بڑھ جا تا ہے۔کچھ ویڈیوز میں لڑکی گھوڑے یا کتے کے ساتھ سیکس کر رہی تھی۔ماریہ کی بات زہن میں آگئی کہ سیکس کی بھو ک انسان یا جانور نہیں دیکھتی۔ایک ویڈیو میں لڑکی اپنے چوت کو مسل رہی تھی۔اور انگلی ڈال رہی تھی میں نے بھی ایسا کرنا شروع کر دیا ایک عجیب سی لزت میرے پورے جسم میں دوڑنے لگ پڑی۔میں نے موبائل سائیڈ پر رکھا اور ایک ہاتھ سے اپنے مموں کو دبا نے لگی دوسرے ہاتھ سے اپنی چوت کو مسلنے لگ پڑی ابھی ایک دو منٹ گزرے تھے کہ دروازہ کھڑکھڑایا میں گھبرا کر جلدی سے اٹھ پڑی مجھے ایسا لگا جیسے میری چوری پکڑی گئی ہو۔میں نے اپنے کپڑے ٹھیک کئے اور دروازے کی طرف چل دی۔دروازہ کھولا تو سامنے ارشد کھڑا تھا میں سائیڈ پر ہو گئی ارشد اندر آ گیا ۔ارشد اور میں بہت بار اکیلے گھر پر رہ چکے تھے اس لیئے میں نے اسکو اندر آنے دیا۔ارشد نے امی کا پوچھا میں نے بتا یا کہ امی ہسپتال گئی ہیں۔ارشد نے کہا یار بہت بھوک لگی ھے کیا پکایا ہے۔ میں نے کہا پکایا تو کچھ نہیں ہے چپس بنا لیتے ہیں تم الو چھیل دو ارشد:ٹھیک ہے تم آلو مجھے کمرے میں لا دو۔ میں نے کچن سے آلو لئے اور دھونے کے بعد کمرے میں گئی تو ارشد بیڈ پر لیٹا تھا مجھے اچانک اپنے موبائل کا خیال آیا اس میں گندی ویڈیوز والا پیچ کھلا ہوا تھا اور میرے موبائل کو پاسورڈ بھی نہیں لگا ہوا تھا۔میں نے آج تک اپنے موبائل کو پاسورڈ نہیں لگایا تھا۔ موبائل میں بیڈ پر رکھ کر گئی تھی پر وہ ٹیبل پر پڑا ہوا تھا۔میں نے جلدی سے موبائل کو اٹھا لیا ۔شائید ارشد نے بیڈ سے موبائل اٹھا کر ٹیبل پر رکھ دیا تھا تاکہ وہ بیڈ پر لیٹ سکے۔ میں نے آلو اسکو دیئے وہ آلو کاٹنے لگ پڑا میں ابھی موبائل کھول کر پیچ کو بند ہی کیا تھا تو ارشد اچانک تیز سسکاری مار کر اٹھ کھڑا ہوا آلو کاٹتے ہوے چھری اسکے انگلی پر لگ گئی تھی میں نے بے اختیار اسکی انگلی کو منھ میں ڈال کر چوسنا شروع کر دیا تھوڑی دیر بعد میری نظر اسکے ٹراؤزرپر پڑی وہاں ابھار محسوس ہوا میں سمجھ گئی کہ میرے انگلی چوسنے کی وجہ سے اسکا لنڈ کھڑا ہو گیا ہے۔میں نے منھ سے انگلی نکالی تو خون رک چکا تھا میں نے بینڈیج لا کر اسکی انگلی پر لگا دی،میں نے کہا پیچھے ہٹو تم کیا آلو کاٹو گے خود زخمی ہو گئے ہو۔ میں جھک کر آلو اٹھانے لگی تو مجھے پیچھے سے ارشد نے پکڑ لیا میرے ہاتھ سے آلو والی ٹوکری گر گئی ۔میں نے کہا ارشد بھائی چھوڑو مجھے۔ ارشد نے مجھے چھوڑ دیا میں جانے لگی تو میرا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا موبائل میں تو بہت کچھ دیکھ رہی تھی اب کیا ہو گیا، میں سمجھ گئی اسنے میرا موبائل چیک کیا ہے ابھی میں کچھ بو لنے ہی لگی تھی کے اسنے مجھے اپنے گلے لگا لیا اور میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے۔اور میرے ہونٹ چوسنا شروع کر دئیے اسکے ہاتھ میرے سینے پر آزادانہ گھوم رہے تھے میں نے کوئی مزاحمت نہیں کی شائید میرے جسم کی بھوک کو مٹانےکا سو چ لیا تھا۔ میں نے بھی کسنگ میں اسکا ساتھ دینا شروع کر دیا میں نے اپنی زبان اسکے منھ میں ڈال دی جسکو اسنے چوسنا شروع کر دیا ۔اب اسکا ہاتھ میری قمیض کے اندر تھا میری نپلز کو مسل رہا تھا 3 4 منٹ کسنگ کرنے کے بعد اس نے مجھے بیڈ پر لٹا دیا۔اور میری قمیض اوپر کر کے میرے مموں کو باہر نکالا میرے گلابی ممے دیکھ کرارشد پاگل سا ہوگیاوہ بے تحاشہ میرے ممے چوسنے لگاچوسنے سے میں نشے میں مدہوش ہونے لگی تھی اور میری چوت پانی سے گیلی ہورہی تھی۔اسنے ممے چوستے ہوئے میری شلوار میں ہاتھ ڈال دیا۔اسکے ہاتھ نے جیسے ہی اسکی چوت کو چھوامجھے کرنٹ سا لگا اس نے میری چوت کے دانے کو مسلنا شروع کر دیا اور اپنی انگلی اندر باہر کرنے لگ پڑاتھوڑی دیر بعد مجھے ہاتھ سے پکڑ کر بٹھایا اور میرے سامنے کھڑا ھو کر اپنا ٹراؤزر نیچے کیااور اپنا 6 انچ لمبا لن باہر نکال لیا۔مجھے کہا اسکو چوسو میں نے کہا مجھے نہیں آتا۔ ارشد:جیسے تھوڑی دیر پہلے میری انگلی چو س رہی تھی۔ میں نے اسکے لنڈ کو اپنے ہاتھ سے پکڑا اور اپنی زبان نکال کر اسکی ٹوپی پر رکھ دی اسکی ٹوپی پر ایک لیس دار سا پانی لگا ہوا تھا جسکو میں نے زبان سے چکھا تو نمکین سا لگا میں نے آہستہ آہستہ اسکی ٹوپی کو منھ میں ڈال لیا۔اسکو قلفی کی طرح چوسنے لگ پڑی میرے چوسنے سے اسکے منھ سے آہ آہ کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں میں سمجھ گئی اسکو مزہ آرہا ھے میں اس کے لن کو اپنے منہ میں اندر باہر کرنے لگی۔۔۔۔ کچھ دیر تک ایسے ہی کرتی رہی۔ارشد نے میرے منھ سے لنڈ نکال لیا اور مجھ دوبارہ لیٹنے کو کہا میں لیٹ گئی تو اس نےمیری شلوار اتار دی اور خود میری ٹانگوں کے بیچ بیٹھ گیا اورمیری ٹانگوں کو کھول کر اچانک اس نے اپنا منھ میری چوت پر رکھ دیا اسکے چوت چوسنے سے مزے کی لہر پورے جسم میں پھیل گئی وہ بہت مزے سے میری چوت کو چاٹ رہا تھا اسکی زبان میری چوت کے اندر باہر ہو رہی تھی میری چوت سے جتنا رس نکل رہا تھا اسکو وہ مزے سے پی رہا تھا۔ میں بہت گرم ہو چکی تھی، زور زور سے سسکاریاں لے رہی تھی،میرے منھ سے مستی بھری آہیں نکل رہی تھی ارشد کے بالوں پر ہاتھ پھیر رہی تھی اسکے سر کو اپنی چوت پر زور سے دبا رہی تھی اور مزے کی شدت کی وجہ سے اپنے سر کو بیڈ پر بار بار پٹخ رہی تھی۔ ۔اب وہ کھڑا ہو گیا اور اپنا ٹراؤزر اتاردیااور میری ٹانگوں کو تھوڑا سا اوپر کر کے اپنے لنڈ کی ٹوپی کو میری چوت پر سیٹ کیا۔وہ لنڈ کو چوت کے سوراخ رگڑ رہا تھا. تبھی اس نے ایک زور دار دھکے کے ساتھ نصف سے زیادہ لنڈمیری چوت کی گہرائی میں اتار دیا میری چیخ نکل گئی وہ دو منٹ تک ویسے ہی پڑا رہا اورمجھےچومتا رہا. پھر دھیرے دھیرے جھٹکے شروع کئے اور تیز ہوتے گئے. اب درد بھی کم ہو گیا تھا اور مزا بھی آنے لگا تھا۔اس نے لنڈ ایک بار پھر باہر نکالا اور پھر ایک زوردار دھکے کے ساتھ پورا لنڈ میری چوت میں گھسا دیا میں زور سے تڑپ اٹھی اور میرے منھ سے بے اختیار نکلا ہائے میں مر گئی،درد تھوڑا کم ہوا تو راشد نے اپنا لنڈ ان آؤٹ کرنا شروع کر دیا۔مجھے بھی مزہ آنا شروع ہو گیا حیرت انگیز طور پر جب پہلی بار سیکس کیا تھا تو کوئی مزہ نہیں آیا تھا۔ارشد نے پوچھا درد ہو رہی ہے تو لن باہر نکالوں۔۔۔ لیکن میں نے کوئی جواب نہ دیا تو وہ پھر سے جھٹکے مارنا شروع ہو گیا۔3 4 منٹ کے بعد اسنے اپنا لنڈ میری چوت سے نکالا اور ایک زور دار چنگھاڑ نکالی۔اسکے لنڈ سےگرم گرم منی نکل کر میرے پیٹ پر گرنا شروع ہو گئ اسکی منی سے میرا سارا پیٹ اور ممے بھر گئے۔فارغ ہوتے ساتھ ہی میرے ساتھ بیڈ پر گر گیا اس نے مجھے چومنا شروع کر دیا۔ہم دونوں کو سانس چڑھا ہوا تھامیں نے اٹھ کر اپنے ڈوپٹے سے اپنا پیٹ صاف کیا اور کپڑے پہننے لگ پڑی اس نے مجھے ہاتھ سے پکڑ کر دوبارہ گرا لیا اور کہنے لگا ابھی دل نہیں بھرا ہے ایک بار اور کرتے ہیں ۔ میں نے کہا امی آتی ہوں گی کپڑے پہن لو۔مجھے پتا تھا امی اتنی جلدی نہیں آنے والی پر میں خود اب تھوڑا آرام کرنا چاہتی تھی۔پر اسکی ضد کے آگے میں ہار گئی۔اسکے ساتھ میں لیٹ گئی وہ آٹھا اور کچن سے دو گلاس گرم دودھ کے لے آیا دودھ پی کر کچھ جسم میں جان آ گئی کچھ دیر ہم ننگے لیٹے باتیں کرتے رہے۔تھوڑی دیر بعد اس نے مجھے دوبارہ کسنگ کرنا شروع کر دی اب کی با رمیں کھل کر اسکا ساتھ دے رہی تھی میں اسکے ہونٹ اور زبان چوس رہی تھی ساتھ ساتھ میرا ہاتھ اسکے بالوں کو سہلا رہا تھا۔ کسنگ کرتے کرتے میں اسکے گردن اور چھاتی پر اپنے ھونٹ چلانے لگ پڑی میری کسنگ کرنے سے اسکا لنڈ دوبارہ کھڑا ہو چکا تھا۔کسنگ کرتی ہوئی میں نے ایک ہاتھ سے اسکا لنڈ تھام لیا ۔اب ا سکے لنڈ کو اپنے منھ میں لے کر چوسنا شروع کی۔اسکے لنڈ پر ابھی تک میری چوت کا رس اور اسکی اپنی منی لگی ہوئی تھی جسکا زائقہ میں اپنے منھ میں محسوس کررہی تھی۔ایک اچھا زائقہ لگ رہا تھا منی کا میں نے انگریز لڑکیوں کو مرد کی منی کو نگلتے ہوئے دیکھا تھا ویڈیوز میں۔ اس وقت اس کےلنڈ سے ہلکا ہلکا پانی نکل رہا تھا جسے میں چاٹ اور چوس کر صاف کرتی جا رہی تھی۔اسکے مزیدارنمکین پانی کے موٹے موٹے قطروں کو میں نے پینا شروع کر دیامیرے لن چوسنے سے دوسری طرف ارشد سسکیاں بھرتا جا رہا تھا۔اچانک باہر کا دروازہ کھٹکھٹایا میں نے جلدی سے اٹھ کر اپنی قمیض ٹھیک کی اور جلدی سے شلوار پہن کر اپنے بال وغیرہ سیٹ کئے اور جلدی سے کمرے سے نکل آئی۔ارشد نے اٹھ کر اپنے کپڑے پہننا شروع کر دئے تھے میں نے دروازہ کھولا تو کوئی مانگنے والا تھا میں نے دل میں اسکو کوستے ہوئے کہا بابا معا ف کرو اور دروازہ دوبارہ بند کر دیا۔میں کمرے میں داخل ہوئی تو ارشد نے پو چھا کون تھا۔ میں نے بتا دیا کہ کوئی فقیر تھا ۔اس نے کہا آؤ بیڈ پر دوبارہ کام شروع کرتے ہیں ۔ میں:نہیں امی آتی ہوں گی کافی دیر ہو چکی ہے۔ ارشد: اس کا کیا کروں اس نے اپنے کھڑے لنڈ کی طرف اشارہ کیا۔ میں:مجھے کیا پتا؟ ارشد:اچھا تم اسکا رس اپنے منھ سے ہی نکال دو اسکو آرام آجائے گا۔ یہ کہ کر اسنے اپنا ٹراؤزر تھوڑا نیچے کر کے اپنا لنڈ باہر نکال دیا۔ میں نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسکے لنڈ کو منھ میں لے لیا اور چوسنے لگ پڑی اسکے لنڈ کو منھ میں آگے پیچھے کرنے لگ پڑی اور میرے لن چوسنے سے ارشد مزے کی وادیوں میں کھوتا جا رہا تھا ۔اب اس نے میرے بال پکڑ کر میرے منھ کو چودنا شروع کر دیا تھا۔آہستہ آہستا اسکے جھٹکے بھڑتے جا رہے تھے اس نے ایک زور دار جھٹکہ کھایا اور اپنی منی کو میرے منھ میں ہی نکال دیا میں نے اسکے لنڈ کو منھ سے نکلانے کی کوشش کی پر اسنے میر ے سر کو اپنے لنڈ پر دبائے رکھا جسکی وجہ سے اسکے منی میرے حلق کے اندر تک گئی مجھے ابکائی آنے لگی تو اس نے میرا منھ چھوڑ دیا ابھی میں اسکی منی منھ سے تھوکنے ہی لگی تھی کہ باہر دروازہ زور زور سے کھٹکھٹایا میں نے جلدی سے اسکی گرم گرم منی کو نگل لیا اور اسکو دروازہ کھولنے کا اشارہ دیا۔وہ دروازہ کھولنے چلا گیا میں نے جلدی سے منھ صاف کیا ڈوپٹے سے اور کمرے میں ایک جلدی سے نظر ماری کہ کوئی نشان رہ تو نہیں گیا ہے ۔جب سب کچھ ٹھیک ٹھاک ملا تو میں نے ائیرفریشنر نکال کر کمرے میں چھڑک دیا تاکہ امی منی کی بد بو نا سونگھ لیں۔اور خود کمرے سے باہر نکل آئی ۔دروازے پر امی ہی تھیں۔امی اندر آکر چارپائی پر بیٹھ گئی میں نے ان سے آنٹی زبیدہ کے بچے کا پوچھا تو انہوں نے بتا یا اس کے سر پر 3 ٹانکے لگے ہیں۔پھر امی نے مجھ سے پوچھا ارشد کو کچھ کھلایا ہے تو ارشد نے شرارتی لہجے میں کہا آنٹی اس نے مجھے آم کھلا دیے تھے ۔ امی نے کہا چلو اچھا ہے ۔ میں جا کر کمرے میں چلی گئی اور لیٹ گئی۔ اس واقعے کے اثر سے نکلنے کے لئیے مجھے ہفتہ لگ گیا ایک ہفتے تک میں اسکول بھی نہیں گئی آہستہ آہستہ میں دوبارہ اپنی روٹین لائف میں واپس آتی گئی اور میری ہنسی اور قہقہے بھی واپس آتے گئےجسکی سب سےزیا دہ خوشی میرے والد کو ہوئی تھی کیونکہ میری ہنسی کو دیکھ کر وہ جیتے تھے۔ میں نے اسکو ل جانا شروع کر دیا تھا ۔میری اسکول میں ایک ہی دوست تھی جسکا نام ماریہ تھا اسکول میں اسکی ریپوٹیشن کچھ اچھی نہیں تھی اسکے با رے میں بہت سے قصے مشہور تھے۔اسکا کا فی لڑکو ں کے سا تھ نا م جوڑا جا تا تھا ۔پر میں نے کبھی اس سے اس با رے میں بات نہیں کی تھی ۔میں جیسے اسکول میں دا خل ہوئی تو سامنے سے ماریہ کو آتے دیکھا ما ریہ نے کہا کہاں گم ہو ہفتے سے میں نے کہا یار میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔ ماریہ : یار آج خدا سے کچھ اور مانگتی تو وہ بھی مل جاتا شکر ہے تم آج آگئی مجھے تم سے ایک کام ہے میں نے پوچھا : کیا کام ہے ماریہ:یار اسکول سےواپسی پر میں نے کام سے جانا ہے اگر میری امی کا فو ن آئے تو تم کہنا ماریہ میرے سا تھ ہے۔ میں :کہاں جانا ہے جو امی سے چھپا رہی ہو ماریہ:پاگل ڈیٹ پر جانا ہے اب کیا امی کو بتا کر جاؤں۔ میں:یار تم کب سدھرو گی ماریہ نے مجھے جھپی ڈال کر آنکھ مار کر کہا یار زندگی کا مزا جتنا لے سکتی ہو لوٹ لوکل ہو نا ہو۔ میں نےہامی بھر لی تو ماریہ نے میرا گال چوم لیا میں نے ہنس کر کہا بد تمیز اب چھوڑو بھی مجھے ہم دونوں ہنستے ہوئے کلاس میں داخل ہو گئے۔ آدھی چھٹی ہوئی تو ہم دونوں جا کر لان میں بیٹھ گئے وہ ہماری پسندیدہ جگہ تھی وہاں درخت لگےہوئے تھے جنکی ٹھنڈی ہوا ہم دونوں کو بہت پسند تھی۔ مجھے کچھ نوٹس اتارنے تھے کیونکہ میں ایک ہفتے سے اسکول نہیں آئی تھی تو کافی کام جمع ہو گیا تھا۔اگلے ہفتے پیپر تھے۔لان میں بیٹھ کر میں نے ماریہ کو کہا جاؤ کچھ کھانے کو لے آؤماریہ جانے لگی تو میں نے کہا اپنا موبائیل دینا مجھے نوٹس اتارنے ھیں کیونکہ ہماری ٹیچرز نے ایک واٹس ایپ گروپ بنا رکھا تھا جس میں سارے نوٹس مل جاتے تھے میں اپنا موبائیل نہیں لاتی تھی اسکول کیونکہ میڈیم منع کرتی تھی موبائیل لانے کو۔مجھے پتا تھا ماریہ اسکول میں موبائل لاتی تھی چوری چھپے۔ماریہ تھوڑا ہچکچائی پھر موبائیل کا پاسورڑ کھول کر واٹس ایپ چلا کر مجھے دے دیا۔خودکینٹین کی طرف چل دی۔میں موبائیل میں ابھی نو ٹس پڑھ ہی رہی تھی تو ایک میسج آگیا میری عادت نہیں تھی ماریہ کے میسیج پڑھنے کی پر جیسے میرا دھیان میسیج بھیجنے والے کے نام پر پڑا تو بے اختیار میسیج کھول لیا ۔کیونکہ وہ میسیج میرے نام سے آیا تھا ۔ میں نے جب میسیج کھولا تب پتا چلا ماریہ نے میرے نام سےکسی لڑکے کا نمبر سیو کیا ہوا تھا تاکہ کبھی اسکی کال آئے تو اسکی امی کو شک نا پڑجائے۔میں بے خیالی میں اوپر اسکرول کیا تو تصاویر دیکھ کر میں بری طرح چونک گئی ماریہ نے اس لڑکے کو اپنی ننگی تصاویر بھیجی تھیں جس میں اسکے پستانوں اور چو ت کی تصاویر شامل تھیں۔لڑکے نے بھی اسکو اپنے لنڈ کی تصاویر بھیجی تھیں ۔ماریہ نے اپنے میسیجز میں اسکو اپنی چوت میں لینے کے لیے بے تابی کا اظہار کیا تھا۔ان سب کے علاوہ اور بہت سی انگلش ننگی تصاویر شا مل تھیں ۔میں نے سامنے سے ما ریہ کو آتے دیکھا تو جلدی سے موبا ئیل لاک کر دیا ۔ماریہ سموسے لے کرآئی تھی ۔میری اڑی ہوئی رنگت دیکھ کر اسکو کچھ شک پڑ گیا اس نے جیسے ہی موبا ئیل کو اوپن کیا تو سامنے وہی میسیجز کھل گئے کیونکہ میں نے گھبراہٹ میں واٹس ایپ کو بند کرنا بھو ل گئی تھی۔ میں سر جھکا کر بیٹھی تھی ہم دونوں کے بیچ کوئی بات نہیں ہوئی کافی دیر۔آخر کار ماریہ نے خاموشی کا پردہ چاک کیا ماریہ:تم نے میرے میسیجز پڑھ لیے ہیں کوئی بات نہیں ہم دوست ہیں ہم دونوں کے بیچ کوئی پردہ نہیں ہونا چا ہیے۔ میں :تم نے اپنی ایسی تصاویر کیوں اسکو بھیجی ہیں ماریہ:یار یہ سب چلتا ہے ۔ میں :تم شادی سے پہلے اس انجان لڑکے کے ساتھ سیکس کرنا چاہ رہی ہو ماریہ ہنستے ہوئے:جان سیکس بھی انسان کی بھوک کی طرح ایک ضرورت ہے۔ میں:تم کب سے اس لڑکے کے ساتھ یہ سب کر رہی ہو ماریہ:اس کے ساتھ فرسٹ ٹائم ہےپر اس سے پہلے دو اور لڑکے تھے۔جن کے ساتھ میرا تعلق تھا۔ میں:اگر تمہاری امی کو پتا چل گیا تو ماریہ:ان کو کیسے پتا چلے گا تم بس کوئی بھانڈا نا پھوڑ دینا میں:میں نہیں بتاؤں گی پر تمہارے خون والے کپڑے دیکھ کر امی سمجھ جائیں گی۔ ماریہ ہنستے ہوئے:پاگل خون کیوں نکلے گا میرا کونسا پہلی بار ہے۔ میرے منھ سے اچا نک نکل گیا پر میری امی کو تو پتا چل گیا تھا۔ ماریہ نے چونکتے ہوئے کہا:کیامطلب اسکا مطلب تم نے بھی کسی سےسیکس کیا ہے۔ میں نے دل ہی دل میں خود کو کوستے ہوئے کہا چلو کلاس کا ٹا ئم ہو گیا ہے۔ وہ میرے پیچھے پڑ گئی میں نے کہا اچھا کل بتاؤں گی ۔میں نے دل میں سوچا کل تک اسکے زہن سے بات نکل جائے گی۔ ہم کلاس میں چلے گئے چھٹی کے بعد میں اسکول سے نکلی تو ماریہ میرے پیچھے چل پڑی میں نے کہا تمہا را گھر اس سائیڈ تو نہیں ہے تو کہنے لگی میں کچھ دور تمھارے ساتھ چلوں گی جب کچھ لڑکیوں کا رش کم ہو جائے گا تو میں اپنے فرینڈ کی گا ڑی میں بیٹھ جاؤں گی۔جو کچھ فاصلے پر کھڑی ہے اس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے بلیک کلر کی گاڑی دکھائی ۔میں خاموشی سے چل پڑی۔تھوڑی دور چلنے کے بعد جب کافی رش کم ہو گیا تو ماریہ نے فون پر اپنے فرینڈ کو کہا گاڑی لے آؤ۔گاڑی ہمارے نزدیک آکر رکی ماریہ دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئی۔ ماریہ:آؤ تم کو گھر چھوڑ دیتے ہیں۔ میں:نہیں میں چلی جاؤں گی پیدل ماریہ:اچھا چلو جیسے تمہاری مرضی۔ ماریہ نے دروازہ بند کر دیا اور گاڑی چل پڑی۔اور میں سوچوں میں گم گھر کی طرف چل پڑی۔ گھر پوہنچی تو پتا لگا گاؤں سے میرا کزن ارشد آیا ہوا تھا۔ارشد میرے چاچا کا لڑکا تھا وہ فرسٹ ائیر میں پڑھتا تھا۔ااسکو دیکھ کر میں بہت خوش ہوئی کیونکہ میری اسکے ساتھ بہت جمتی تھی ۔میں نے اس کو سلام کیا ارشد:لگتا ہے آج کل بہت زورں سے پڑھائی جاری ہے۔ میں:جی ارشد بھائی پیپر جو سر پر آگئے ہیں۔ ارشد :اچھا جی اسکا مطلب ہے لڈو اب ہم پیپرز کے بعد کھیل سکیں گے۔ اصل میں ہم دونوں کی شرطیں لگا کرتی تھیں لڈو میں ۔کئی بار ہم لڑ پڑتے تھے۔ میں : نہیں ایسی با ت نہیں ہے ہم لڈو آج ہی کھیلیں گے ارشد:اس کا مطلب ہے تم نے تیاری خو ب کر لی ہے۔ ہم دونوں کی نوک جھوک دیکھ کر امی ہنس پڑی امی نے کہا ارشد بیٹے کو کھانا تو کھانے دو نا حال نا حوال بس آتے ہی لڈو کی پڑ گئی۔ ہم دونوں ہنس پڑے۔میں نے کمرے میں آکر یونیفارم تبدیل کیا اور اپنا موبائیل کو اٹھا لیا ۔ابھی موبائیل میں میسیجز پڑھ ھی رہی تھی کے ماریہ کی امی کی کال آ گئی ۔میں نے ان کو جھوٹ بول دیا کہ ماریہ میرے ساتھ ہے ہم پیپرز کی تیاری کر رہی ہیں ۔جیسے ہی انکا فون بند ہوا میں نے ماریہ کو میسج کر دیا کہ تم جتنا جلدی ہو سکے گھر پہنچ جاؤ۔ مجھے پریشانی رہی کہ دوبارہ ماریہ کی امی کا فون نہ آجائے پر ایسا کچھ نہ ہوا۔ صبح اٹھ کر تیا ر ہو کر اسکول کے لیے روانہ ہو ہوگئی اسکول پہنچ کر میری نطریں ماریہ کو ڈھونڈ رہی تھیں۔کلاس میں جیسے داخل ہوئی ماریہ کو سامنے دیکھ کر سکون کا سانس لیا۔آدھی چھوٹی جیسے ہوئی ہم دونوں اپنی پسندیدہ جگہ کی طرف چل دیے۔لان میں بیٹھ کر میرا پہلا سوال یہ تھا میں:تمہاری امی کو شک تو نہیں پڑا ماریہ:نہیں ان کو زرہ بھی شک نہیں پڑا۔اس کو چھوڑو تم بتاؤ اپنی اسٹوری کس نے تم کو کلی سے پھول بنا دیا میں:چھوڑو ایسی کوئی بات نہیں دل میں خود کو کوسنے لگ پڑی کہ کل خامخواہ منھ سے بات نکل گئی اب ماریہ کی بچی پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ ماریہ:اگر مجھ پر اعتبار نہیں ہے تو مت بتاؤ اس نے زیادہ زور لگایا تو میں نے سب کچھ بتا دیا ماریہ مزے لے کر سب کچھ سن رہی تھی۔اور کرید کرید کر پوچھ رہی تھی۔ میں نے سب کچھ بتا نے کے بعد اس سے وعدہ لیا کہ کسی کو مت بتانا ماریہ:پاگل ہوں کیا اپنی سب سے پیاری سہیلی کا راز کسی کو بتاؤں گی۔ اسکے بعد میں نے اس سے اسکے کل والے واقعے کے بارے میں پوچھا۔ ماریہ نے اپنی سیکس کی اسٹوری مزے لے لے کر سنانا شروع کر دی تھی،اس آدھے گھنٹے میں اس نے مجھے سیکس کی اتنی نالیج دی ۔ٹپس دیں نیٹ سے سیکسی تصاویر دکھائیں نیٹ میرے موبائل میں بھی تھا میں نے آج تک ایسی کوئی تصاویر نہیں دیکھیں تھی کچھ ایسی تصاویر تھیں جن میں لڑکی نے مرد کا لنڈ منھ میں لیا ہوا تھا۔ میں:کتنی گندی لڑکی ہے مرد کا لن منھ میں لیا ہوا ہے ماریہ:پاگل اس کو اورل سیکس کہتے ہیں یہ سیکس کی جان ہےاس کے بغیر سیکس ادھورا ہےروکو ایک اور تصویر دکھاتی ہوں ماریہ نے موبائیل میں کچھ اور ٹائپ کیا۔اور ایک تصویر دکھائی جس میں مرد عورت کی پھدی کو چاٹ رہا تھا،دوسری تصویر میں دو لڑکیاں ایک دوسرے کی پھدیاں چاٹ رہی تھیں۔ میں:ایسا صرف انگریز کرتے ہوں گے۔ ماریہ:نہیں پاگل سب کرتے ہیں میں خود اپنے تمام بوائے فرینڈز کے ساتھ ایسا ہی کرتی ہوں میں:تم کرتی ہو تو اس کا یہ مطلب تھوڑی ہے سب کرتے ہوں گے۔ ماریہ :یار سب کرتے ہیں اس کے بغیر سیکس کا کوئی مزہ نہیں ہے۔میرے ابو امی بھی اورل سیکس کرتے ہیں۔ میرا منھ کھلا رہ گیا میں:تم نے انکو کہا ں دیکھا ماریہ:میں نے چوری چھپے انکا سیکس کافی بار دیکھا ہے۔ میں حیران رہ گئی اسکی باتیں سن کرکہ کیسی اولاد ہے جو اپنے ماں باپ کو سیکس کرتے چوری چھپے دیکھتی ہے۔ماریہ کا باپ ایک مولوی تھا اسکو دیکھ کر نہیں لگتا تھا کہ وہ ایسا کرتا ہوگا۔ ماریہ:تم سوچ رہی ہو گی کہ میرا باپ مولوی ہے وہ ایسا کام کیسے کر سکتا ہے میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ ماریہ:میرا باپ نے ہمارے گھر کام کرنے والی آتی ہے اسکو بھی نہیں چھوڑا ہے میں نے ان دونوں کو کافی بار پکڑا ہے، میں : تو تم اپنی ماں کو کیوں نہیں بتا تی اسکے بارے میں۔ ماریہ:جان یہ سیکس کی بھوک ہے جو ہر انسا ن میں ہوتی ہے اسکو حق ہے وہ اپنی بھوک مٹائے جیسے انسا ن کو کھانے پینے کی ظرورت ہوتی ہے ویسے ہی سیکس کی ظرورت ہوتی ہے۔ ہم کافی دیر تک باتیں کرتے رھے اتنے میں بیل بج گئی میں نے ماریہ کو کہا :باتوں میں ہم نے کچھ کھایا بھی نہیں ۔ ہم کلاس میں چلی گیں چھٹی کے بعد میں گھر پہنچی توامی کو پریشانی میں گھر سے نکلتے دیکھا مجھے دیکھ کر بولیں:شکر ہے تم آ گئیں زبیدہ کے بیٹے کو چوٹ لگ گئی ہے میں اسکے ساتھ ہسپتال جا رہی ہوں تم گھر کا خیال رکھنا۔ارشد آئے تو اسکو کھانا بنا کر دے دینا، زبیدہ ہمارے محلے میں رہتی تھی۔اسکا ایک ہی بیٹا تھا جو بہت شرارتی تھا ابھی اسکول جانا شروع کیا تھا5 سال کا تھا پر شرارتوں میں پورے محلے میں مشہور تھا۔ امی کے جانے کے بعد میں نے یونیفارم بدلا اور لیٹ کر ماریہ کی باتوں کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔اپنا موبائل اٹھا کر اس میں گندی تصاویر اور ویڈیوز سرچ کرنا شروع کر دیں ویڈیوز دیکھ کر میری چوت میں کچھ کچھ ہونے لگ پڑا۔کچھ دیر ویڈیوز دیکھنے کے بعد میں نے اپنی چوت پر ہاتھ لگایا تو کچھ گیلا پن محسوس کیا۔ماریہ نے مجھے بتایا تھا کہ جب عورت کو مزہ آنے لگتا ہے تو چو ت میں گیلا پن بڑھ جا تا ہے۔کچھ ویڈیوز میں لڑکی گھوڑے یا کتے کے ساتھ سیکس کر رہی تھی۔ماریہ کی بات زہن میں آگئی کہ سیکس کی بھو ک انسان یا جانور نہیں دیکھتی۔ایک ویڈیو میں لڑکی اپنے چوت کو مسل رہی تھی۔اور انگلی ڈال رہی تھی میں نے بھی ایسا کرنا شروع کر دیا ایک عجیب سی لزت میرے پورے جسم میں دوڑنے لگ پڑی۔میں نے موبائل سائیڈ پر رکھا اور ایک ہاتھ سے اپنے مموں کو دبا نے لگی دوسرے ہاتھ سے اپنی چوت کو مسلنے لگ پڑی ابھی ایک دو منٹ گزرے تھے کہ دروازہ کھڑکھڑایا میں گھبرا کر جلدی سے اٹھ پڑی مجھے ایسا لگا جیسے میری چوری پکڑی گئی ہو۔میں نے اپنے کپڑے ٹھیک کئے اور دروازے کی طرف چل دی۔دروازہ کھولا تو سامنے ارشد کھڑا تھا میں سائیڈ پر ہو گئی ارشد اندر آ گیا ۔ارشد اور میں بہت بار اکیلے گھر پر رہ چکے تھے اس لیئے میں نے اسکو اندر آنے دیا۔ارشد نے امی کا پوچھا میں نے بتا یا کہ امی ہسپتال گئی ہیں۔ارشد نے کہا یار بہت بھوک لگی ھے کیا پکایا ہے۔ میں نے کہا پکایا تو کچھ نہیں ہے چپس بنا لیتے ہیں تم الو چھیل دو ارشد:ٹھیک ہے تم آلو مجھے کمرے میں لا دو۔ میں نے کچن سے آلو لئے اور دھونے کے بعد کمرے میں گئی تو ارشد بیڈ پر لیٹا تھا مجھے اچانک اپنے موبائل کا خیال آیا اس میں گندی ویڈیوز والا پیچ کھلا ہوا تھا اور میرے موبائل کو پاسورڈ بھی نہیں لگا ہوا تھا۔میں نے آج تک اپنے موبائل کو پاسورڈ نہیں لگایا تھا۔ موبائل میں بیڈ پر رکھ کر گئی تھی پر وہ ٹیبل پر پڑا ہوا تھا۔میں نے جلدی سے موبائل کو اٹھا لیا ۔شائید ارشد نے بیڈ سے موبائل اٹھا کر ٹیبل پر رکھ دیا تھا تاکہ وہ بیڈ پر لیٹ سکے۔ میں نے آلو اسکو دیئے وہ آلو کاٹنے لگ پڑا میں ابھی موبائل کھول کر پیچ کو بند ہی کیا تھا تو ارشد اچانک تیز سسکاری مار کر اٹھ کھڑا ہوا آلو کاٹتے ہوے چھری اسکے انگلی پر لگ گئی تھی میں نے بے اختیار اسکی انگلی کو منھ میں ڈال کر چوسنا شروع کر دیا تھوڑی دیر بعد میری نظر اسکے ٹراؤزرپر پڑی وہاں ابھار محسوس ہوا میں سمجھ گئی کہ میرے انگلی چوسنے کی وجہ سے اسکا لنڈ کھڑا ہو گیا ہے۔میں نے منھ سے انگلی نکالی تو خون رک چکا تھا میں نے بینڈیج لا کر اسکی انگلی پر لگا دی،میں نے کہا پیچھے ہٹو تم کیا آلو کاٹو گے خود زخمی ہو گئے ہو۔ میں جھک کر آلو اٹھانے لگی تو مجھے پیچھے سے ارشد نے پکڑ لیا میرے ہاتھ سے آلو والی ٹوکری گر گئی ۔میں نے کہا ارشد بھائی چھوڑو مجھے۔ ارشد نے مجھے چھوڑ دیا میں جانے لگی تو میرا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا موبائل میں تو بہت کچھ دیکھ رہی تھی اب کیا ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔
  6. Larkiya Phansane ka koi tareeka batao?
  7. Fb sy chudai Tak: Helo doston , this is Ahmed Siddiqui from karachi, 33 year old single male. Sab sy pehly main ap logon sy request Karta hun k agar koi galati hojaey to maaf kardejayga, aur yeh story AP samjh lain k mera hi first and only experience hy about meeting some one and have some hot fun, you can not say this intercourse but yes may say romance or oral. So main aik middle class family sy belong Karta hun aur aik private company main job Karta hun aur aj kal ksi real female ki talash main hon Jo honest ho aur sakoon Dy saky aur ly saky. To janab story start Karta hun , yeh ajj sy koi 11 years old ki bat hy jab main aik private bank main nokri Karta tha aur us time meri age 22 thi. Isi doran free waqht main normally fb use Karta tha aur jesa k ap sab ko pata hy k har larky ki yeh koshish hoti hy k uski koi na koi gf ho ya phir kisi na kisi k sath sex relationship ho. So main bhi yeh hi try Karta tha lakin main dosron ki tarhan kisi ki privacy leak karny k khilaf tha , to jesa k mainy bataya daily use Karta tha fb par aur isi leay sex stories aur sex groups bhi join mary huwey thy . To aesy hi groups main ghomty huwey aur achi achi garam post daikhty huwey aik post par sy nazar guzri jis main aik sahab ny jinka name Tahir tha aik female ki bra k sath pic lagai hoi thi 32 ka size hogai aur normal color tha body ka to mainy unko persona msg kar k pocha k yeh kis ki pic hy aur kon hy Jo hi Helo k baad bat cheer hoti hy wo kari, lakin 3 days Tak koi jawab nahi aya to mainy unko again msg kara to unka jawab aya k yeh meri dost hy phir mainy pocha k dost ki pic koi aesay to nahi lagata to kehny lagay k hum aik male search kar rahy hain Jo hamary sath mil kar enjoy Karna cahta ho but educated ho aur honest ho mainy unsy baton batain main pocha k janab ajj kal honest log kahan milty khair mainy unsy Kaha k agar ap honest hain to phir aur pics dikhain( us time fb par itni 2 numberi nahi this means larki ki I'd Sy mostly larkiyan hi hoti thi) khair meri unsy bat chal nikli aur koi aik month Tak wo mujh sy bat karty rehay aur meri routine pochty rehy aur daily ki batain karty rehty phir aik din kehny lagy k apny L ki pic dikhao mainy Kaha janab ap ko kya dikahoun to boly yar tum dikhao to sahi main bhi daikhunga aur apni dost ko bhi dikhaounga mainy socha Chalo Dy dyta hun konsa kisi ny milna hy to mainy unko Apny L ki kafi pics ly kar send kardi to phir wo offline hogaey aur kafi days bat nahi hoi, phir aik din unka msg aya k kya tum meri dost k sath sex Karna caho hy,to mainy dil main sochta andha kya cahey aik lathi wali missal yad agai aur mainy Kaha k janab agar apko trust hy aur ap trust Dy sakty hain to milty gain, then phir unho ny ka k apna number do mainy Kaha k sir daikhain mamlat bary kharab chal rahy hain to kehny lagy daro nahi khair mainy unko apna cell number Dy diya aur unho ny call kari aur salam dua k baad mujh sy pochny lagy k batao kesay Karna caho gy mainy Kaha janab main to unexperienced hon mujhy to sirf videos daikh kar yeh pata chal gaya hy k yeh P hoti hy aur yeh L, to hansnay lagy aur kehny lagy bohot seedhay bunday ho seedha bol dyty ho to mainy Kaha sir jhoot bolny ka kya faida Jo hy wo hi batana cahey khair unho ny bola Chalo theekh hy phir ksi din tum sy miltay hain mainy Kaha theekh hy dil hi dil main yeh bhi soch raha tha k koi masla na hojaey( normally girls samjhti hain k izzat sirf unki kharab hoti hy jb k aesa nahi hy izzat har insan ki hoti hy) khair story ki taraf ata hun khair unho ny mujhy abbasid shaheed ki taraf bulaya lakin mainy Kaha ap dilpasandh par mil lain aur main akelay hi wahan milny chala gaya yeh soch kar k jo hogaa daikh jaeyga, khair mainy unko apna getup Bata diya tha to main wait karny laga aur unko cal kari k sir ap kahan hain to kehny lagy k bus 5 mint main aya aur huwa bhi yeh hi to mainy salam dua k baad pocha g sir bolye Kaha chalnay hy to kehny lagy ghar Chalo mainy Bola k acha chalain to phir main ink Ghar Agaya Jo k abbasi shaheed k pass hi rent par tha first floor par, khair mujhy room main ly gaey to room main jesay hi dakhil huwey to Samny hi unki dost jinka name hina name changed tha baithi this khair unho ny bhi mujh sy salam dua kari aur phir idhar udhar ki batain karny lagi then boli k Ahmed koi gf hy tumhari mainy Kaha g nahi koi nahi hy to kehny lagi k q nahi hy mainy Bola mujhy kya pata hosakta hy main unko samjh na ata hun ya phir main thoray fatty hun (90+) us time tha. To kehny lagi nahi aesa to nahi hy tum normal ho height k hisab sy acha yeh batao k Tahir ko ko tumny apny L ki pics di this wo real thi mainy Kaha g real thi to kehny lagi k kya mujhy dikahoun gy abhi to mainy Kaha abb ahi gaya hun to dikha dyta hun lakin abhi to sleeping mode par hy to kehny lagi k wo mera Kam hy main khud isko jaga lungi to mainy Kaha okay aur apny cloth remove kar diye aur unko Samny khara hogaya to kehny lagi k kya main hath main ly lun to Tahir aur main dono hansay aur Kaha k jab cloths utar gaey to ab kya Baki rehgaya AP ka hy apko Jo Karna jesay Karna hy karain bus yeh batao dain k main baith jaoun ya lait jaoun to kehny lagi k lait jao to mainy Kaha k kya ap bhi mujhy apni P aur boobs dikhao sakti haib to kehny lagi k acha dikha dyti hun aur khud bhi nangi hogai aur jab wo nangi hoi to usk 32 k boobs daikh kar mery L ny jhatka khaya aur phir wo mery pass akar baith gai legs k pass aur mery lund par hath rakha aur Kaha k isko pyar Karna hy kitna masoom lag raha hy aesay mainy Kaha g masoom to hy q k ajj Tak kisi ko nahi chodha khair mainy unko Kaha k thoray qareeb hokar baithain taky main bhi apki help kar sakun to Tahir ny usko mery qareeb kardiya aur khud uski legs k beach main sir rakh kar legs khol k uski P par zuban phair y lava aur mainy usk boobs pakar kar sehlany lava aur nipples Jo k light brown color k thy ko maslany laga to usm moun sy siisski nikalny lagi aur phir usny mera L apny moun main ly liya aur suck akrny lagi ahista ahista q k isko pata tha k mera first time hy ,khair main usk boobs k sath khailta rahay aur wo mery lund ko chusnay lagi to mainy Kaha k mera first time hy kahen apk mouth main hi na Nikal jaey mera maal to hansnay lagi boli mujhy pata hy aur yeh bhi pata hy k tum first time jaldi hi choro gy don't worry khair mainy Tahir ko Kaha k yar kuch hamary leay bhi chor do to kehny lagy k yeh san tumhary leay hi to kar raha hun taky tumhy asani ho aur phir sy uski P chusnay laggaya aur phir mujhy Bola k Chalo ab ready hy hina ki P, to mainy Kaha k hina sy to poch lain k wo L choray gi bhi mera ya sirf chosti rehay gi to usnay Kaha abhi tumhara first time hy to pehly free karwaoungi to mainy Kaha okay aur hina ko Bola k tum meri taraf apny hips karo aur phir jab wo ghori ban k mery L ko chus rahi this to mainy usk hips ko dabana start kar diya aur phir apni fingers sy uski pussy main ghussa kar masalny laga Tahir mujhy guide Karta ja raha tha kahir thori dair karny k baad mujhy aesa mehsoos huwa k mera Pani nikalny wala hy to mainy hina k hips par zor sy thappar mara aur Kaha zor sy chuso aur Kaha k nikalny wala hy to usny aur zor zor sy chusna start kar diya aur phir jab meray L ka Pani nikla to mano jesay jaan Nikal rahi ho aur hina ny apna mouth nahi bataya aur Sara Pani mouth main ly liya aur L ko taiz taiz masalti rehi phir jab sab maal bahir Nikal gaya to L ko chora aur wash room chali gai aur phir main bhi uth k wash room gaya aur wapis aya to Tahir aur hina kissing main lagy huwey thy to mainy Kaha wah akelay akelay to kehny lagy k tumhy to abhi time lagy ga is leay rest karo aur yeh lo juice piyo aur mainy Kaha thanks aur unko sath hi baith gaya aur juice peeny lava aur aik hath sy hina k boobs dubara maslany laga phir hina hastay huwey Tahir sy kehny lagi k yeh to bohot garam hy aur iska hatiyar hy to 6 inch ka lakin mast taste hy maal ka, aur phir aik hath sy dubara sy mery L ko maslany lagi us k hath lagny ki dair this k mera L phir sy akarna start hogaya to Tahir Bola wah mery yar yeh hona hy L, bus isharay milay aur sepahi tayar hojaey , kahir mainy hina ko Kaha k dubara sy chuso to kehny lagi chusungi nahi gheela karti ho to mainy Kaha okay aur phir usny thora sa chusa aur gheela kar diya aur apni Phudi par ragarny lagi to mainy Kaha jaldi kya hy to kehny lagi k meri phudi agg ugal rahi hy aur tum keh rahy ho jaldi kya hy to mainy Kaha k condom use Karna hy mujhy to kehny lagi okay to mainy usko condom diya dotted wala aur usnay usko L par carbs diya to mainy uski tangain pakar kar kehncha aur uski Phudi sy upar kiss kardi aur uski Phudi k danny ko aur maslany laga finger sy phir kehny lagi ahh bus karo bhi ab dalo bhi to mainy Kaha wait phir Tahir at pocha k guide kary to usny Kaha theekh hy aur Mera L pakar kar uski phudi par rakha aur Kaha push karo aur phir jab push kiya to chala gaya uski phudi main Aram sy phir usnay Kaha thora hard push karo to mainy wesay hi kara aur Mera half L uski phudi main ghus gaya to hina k mouth sy awaz nikli aahhh ssii phir Tahir ny isharaa kara k pora ghusa doo to mainy aik aur hard stroke lava kar pora Lund hina ki phudi main ghusa diya aur phir hina k boobs pakar kar aram Aram sy dabany laga q k mera to first time tha main samjh rahay tha k hina ko dard horaha hoga khair hina ny apni ankhain kholi q k mainy Lund ghusana k baad agy pechy hona start nahi kiya tha to kehny lagi ahh pechy ho taiz taiz to mainy Kaha okay aur usk boobs pakray pakray hi agay pechy karny laga lund ko aur phir hina ki tangain pakar kar full shoulder Tak more di aur full Lund cap Tak bahir Nikal kar full return andar dalny lava to Tahir ny ka yeh cheez mery dost aesya hi chodhna hy aur khud bhi apny lund ko maslany laga aur phir mainy apni speed taiz kardi lakin first time tha to lund speed barhany par bahir Nikal jata tha to hina ny Kaha k tum Aram sy hi karo khair main phir Aram Aram sy hi karny lava hina ki phudi mera lund aesay chus rahi thi jesay koi kulfi chusta hy aur phudi main garmi itni hi k mujhy aesa mehsoos horaha tha k koi garam tandoor ho khair mainy iski tangain utha kar leta kar usmo chodha aur mazay lyta rags aur usk boobs ko bhi chusta raha thori thori dair main phir hina kehny lagi k mera Pani nikalny wala hy to mainy Kaha okay aur taiz taiz usko chodhny laga aur phir uski phudi main hi Pani chor diya aur jesay hi mera Pani nikla hina ny bhi Pani chor diya, aur mujhy apny sath chipak kya main usk sath chipak kar usk boobs ko moun main ly kar chusnay lava aur phir thori dair baa d side main hokar lait gaya tk Tahir ny Kaha ab mera kya hoga to mainy Kaha ap bhi Kar lo to hina ny Kaha k abhi ruju abhi Ahmed ki chudai ka to maxa ly lun khair thoray time baad hina uthi aur phir sy apni phudi wash kar m aie aur phir Tahir ny usno chodhna start kar diya aur thori dair main tahir ka Pani bhi Nikal gaya to hina ny mery lund ki taraf daikha Jo Tahir aur hina ki chudai daikhty huwey dubara kahra hogaya tha to hina ny pocha k kya mood hy tumhara lund dubara khara hogaya to mainy Kaha k yar jab itny time baad first time milaygi to L ka dil Kaha bharna hy phir pata nahi tum milo k nahi to kehny lagi k tum achy ho tum sy dubara miljaingy pkaka to mainy Kaha abhi iska kya karun to hina ny Kaha main hun na aur apny hath moun dho kar phir agay aur apni phudi bhi saaf kar lo aur phir mujhy leta kar mery L ko kiss kiya aur mery Lund par baith gai apni phudi main ly kar aur upar nechay honey lagi phir main usj boobs pakar kar usk boobs sy khailta rhaa aur phir mainy hina k hips pakar kar utha kar usko chodhny lava then usny bhi sath diya aur khoob mast hokar apni phudi lund sy chudhwa rahi thj aur phir wo aik dum sy jhar gai aur Mera Pani bhi nikalny wala hogaya aur mainy Kaha k Pani nikalny wala hy to kehny lagi phudi main hi nikal do masla nahi hy aur phir jab lund sy Pani nikal gaya to mainy usko kiss kari aur side par lita diya , aur phir apni saans bahal karny lava to Tahir ny Kaha k tum achy ho but thoray time cahey tumhy agar regular chudai karogy to kafi achy sy chodho gy female ko mainy Kaha k daikhty hain k ab kab ap moka dyty hain to kehny lagy jab hamara mood bana aur hum yahan howey to tumhy bata daingy phir main fresh hokar nanny Kaha to Tahir na Kaha k kuch paisay hain tumhary pass to mainy Kaha g to Bola yar nechy sy kuch fruits wagera buy kar k Dy do to mainy Kaha okay aur phir fruits wagera Dy kar wapis ghar Agaya , phir unsy meri aik bar aur mulakat hoi lakin chudai nahi hoi q k mera chudai ka mood nahi tha. Agar koi hy karachi ki honest female Jo relationship cahti ho to comment main ya email par contact mary sirf real aur honest log please. Thanks for ready story
  8. بدلہ از سٹوری میکر اردو فن کلب کے رائیٹرز میں ایک نیا اضافہ ہائی کلاس کہانیوں کو پہلی بار نان پیڈ ممبرز کے لیے پوسٹ کیا جا رہا ہے۔ سٹوری میکر کی اصل کاوش جو دنیا کے کسی فورم کا حصہ نہیں۔ بہترین کہانی نان پیڈ ممبران کے لیے۔
  9. میں آفس کی ریسیپشن پر کھڑی تھی کہ آیک پانچ فٹ آٹھ انچ قد کا جوان سفید رنگ سیاہ چھوٹے چھوٹے بال جو ایک طرف کنگھی کیے ہوئے تھے سفید کاٹن کی شلوار قمیض پہنے ہوئے میری طرف آیا اور پوچھا کہ مشتاق صاحب آ گے کہ نہیں سر وہ اپنے آفس میں ہیں آپکی کوئی آپومینٹ ہے ان کے ساتھ؟ لیکن وہ کوئی جواب دیے بغیر آگے بڑھنے لگا تو میں ان کو روک لیا کہ سر آپ کون ہیں اور آپکو کیا کام ہے تو وہ بولا کہ گھوڑا ہوں گھاس کھانے آیا ہوں اس سے پہلے کہ میں کچھ پوچھتی میرے ساتھ والی ریسپنشٹ عائشہ بولی ھیلو سر آپ کب آے ابھی 2 منٹ پہلے اچھا ایسا کرو کہ مشتاق صاحب کہ کمرے میں 2 کپ کافی بھجوا دو یہ کہتے وہ آگے مشتاق صاحب کے کمرے کی طرف چل پڑا
  10. Hello, mera naam adnan hai or mera taaluq multan say hai. Main is forum ka kafi purana reader hun. Boht dafa socha kay apni zindgi ky sex sy related experiences bhi share krun, par har baar koi na koi wja bich men ajaati or main kahani nhi likh paata tha. Agar main bachpan se ab tk k experiences share karna shuru krunga to boht lambi hojaye g kahani. Islye mujhe advice chahye kay kahani ko parts ki form men likha jaaye ya separate kahaniaan likhi jaye new titles kay sath.
  11. Raat ky 10 baj rahy thy or Saba or uska shouhar Ashraf dono apny kaanoon pr haath rakh kr apny bedroom main bethy huy thy. kabhi Ashraf apny sir ko bed pr rakhy hoy sarhaany ky neechy ghusaa daita or kabhi bechain ho kr uth bethta or apny hathoon ki aik aik ungli apny kaanon main ghusaa laita yahi haal Saba ka bhi tha. lakin in sub koshishon ky bawjood un dono ko us cheez sy chutkara nahi mil paa rha tha jiski wajah sy undono ki yeh halat ho rahi thi. ghussy ky maary Ashraf ka bura haal ho rha tha lakin wo bari hi mushkil sy khud pr qaboo kr paa rha tha. Un dono noujwaan or newly wedded jory ki pareshaani ki wajah thi buhat hi ouunchi or bhadi si music ki awaaz jo ky aik puraani si tape pr chalti hoi casset sy aa rahi thi or yeh tape recorder unky bilkul saath waly flat main rahny waly retired major Johar ky haan chal rha tha. lakin Major sb apny hamsay ko pareshaani or apny ghar main chal rahy tape recorder dono sy hi laa ilam thy. or uski wajah yeh thi ky music or tv chalta hoa chor kr wo kub ky so chuky thy or unko ab koi ilam nahi tha ky unky irdgird kya ho rha hai. so gye huy thy ya shayad apni aadat ky mutabiq sharab peety hoy behosh ho gya tha. khuch pata nahi tha. or aisa yeh koi pahli baar nhi ho rha tha balky har hafty main do teen baar aisa zaroor ho jaata tha jiski wajah sy tamam hamsaay un sy tang aa chuky hoy thy. lakin major Johar ki ghuseeli tabiat or intehaai naa munasib behavior ki wajah sy koi bhi unky saamny aany ki jurat nhi krta tha. Jub Ashraf sy bardasht na ho paya to us ny apny sir ky ooper rakha hoa takya uthaaya or zoor sy usy door pary hoy sofy pr phainkty hoy utha or bola, is buddhy ganwaar janwar ko aaj khuch sikhaa kr hi aana pary ga. is kameeny ko to insaanoo ky beech main rahny ka koi saleeqa hi nahi hai. Jaisy hi Saba ny apny shouhar ko ghussy main dekha to jaldi sy uthi or usy rokty hoy boli, nahi nahi aap nahi jaao, aap ghussy main ho aap ruko main unko kah kr aati hoon. aisy aap ky jaany sy baat barh jaay gi. apni biwi ky baar baar kahny pr Ashraf ruk gya wahin bedroom main hi or phir saba ny bed pr para hoa gown apny night suit pr daala or uski doori baandhti hoi bedroom sy bahir nikal aai. apny flat ka main gate unlock kr ky wo bahir corridor main nikli to paanchwin manzil ka corridor bilkul khaali tha. Saba apny flat ky darwazy sy nikli or bilkul saath ky darwazy ki traf barhi. usky chehry pr bhi na chaahty hoy bhi ghussa or intehaai nafrat thi.ku ky wo bhi us buddhy retired major ki tabiat sy achi trah waqif thi. Saba ny Major Johar ky darwazy pr jaa kar apni naazuk naazuk goori goori or patli unglion ko morty hoy ahista ahista knock kya......aik baar....... doosri baar....... teesri baar..........lakin har bar ki dastak ka nateeja to aik hi nikal rha tha ky darwaza nhi khulna tha nahi khula. or khulta bhi tab na jub koi andar sun rha hota to.jaisy jaisy Saba knock kye jaa rahi thi waisy waisy hi uska ghussa bhi barhta jaa rha tha. Saba ko apni unglion main thora pain mahsoos hoa to us ny apna haath poora khola or is baar ghussy ky saath poory haath ki madaad sy lakri ky darwazy ko peetny lagi. itni zoor sy darwaza peetny ky baad Saba ny idhar udhar dekha ku ky usy yaqeen tha ky wo kameena major nikly ya na nikly lakin baqi ky 4 flats main sy koi na koi zaroor nikal aaye ga bahir. Lakin Khuda ka shukar tha ky abhi tak koi nahi nikla tha waisy koi nikal bhi aata to bhi usy koi parwah nhi thi. Jub buhat zoor zoor sy do teen baar darwaza peeta gya to andar sharab pee kar sooty huy Major sab ko shayad khuch khuch hosh aany laga us ny pahly apny kaan kholy or jub usy yaqeen ho gya ky koi bahir unka darwaaza torny ky darpy hai to bari hi mushkil sy ab unhon ny apni aankhon ko khola jo ky nashy ki wajah sy dobara sy band hoi hoi jaa rahi thin. apni aankhon ko jagaany ky baad ab baari thi sub sy mushkil kaam ki yaani apny soy hoy wajood ko jagaany ki taky wo apny darwaazy tak pohnch sakain. Kisi na kisi trah sy khud ko hosh main laa kar Major Johar apny darwaazy ki traf barha lakin is doraan bhi 3 baar darwaaza peet dya gya tha. Jaisy hi Major ny darwaza khola to apni aankhon ky saamny aapny hamsaay ki intehaai khoobsorat or jawan goori chitti biwi ko dekha kr thora nasha or hawa ho gya or aankhain poori trah sy khul gain. or woh sharab or neend ky asar sy surakh ho rahi apni aankhain khool kr apny saamny khari khoobsorat Saba ko dekh kr bola, haan kya baat hai? kyun mery ghar ka darwaza torny ko aai khari ho. Saba ky chehry pr usy intehaai nafrat or ghussa to saaf nazar aarha tha lakin wo bhala kisi ky ghussy ya nafrat ki parwah kyun krny laga. Saba: koi shouq nahi hai mujhy youn aadhi raat ko tumhary ghar ka darwaza peetny ka. yeh jo shour machaa rakah hai tum ny apny ghar main isy band kr ky maro jaa kar taky koi or bhi sukoon sy so saky yaha pr. Major: hahahahaahahah................ acha acha kr daita hon band isy bhi....... lagta hai is shor main tery us thooku ka khara nahi hota jo us ny tujha is waqt mery paas bheja hai isy band karwaany. Saba ka chehra yeh baat sun kar ghussy sy surakh ho gya or uski aankhon sy jaisy aag nikal rahi ho lakin wo sirf apny haathon ki muthyaan bheench kr rah gai. is khabees insaan sy aisi hi batoon ki umeed thi usy lakin wo koi tamasha khara nahi krna chahti thi. Saba: band kro apni bakwaas or is shor ko bhi. tum sy ziada ghatya insaan to main ny aaj tak nahi dekha jisy auron sy baat krny ki bhi tameez nahi hai. yeh kah kr Saba apny flat ki traf mur gai wo koi or baat na krna chahti thi or na sun na chahti thi. Major: hahahahahahaha............ or main ny bhi tumhary shouhar jaisy ghatya aadmi nahi dekha kabhi jo aadhi raat ko apni biwi ko doosry mard ky ghar bhejta hai............hahahahhahahha Is baat ny aik baar phir Saba ky tan badan main aag laga di thi us ny foran hi mur kr peechy dekha to Major ny hansty hoy usy aik aankh maari or zoor sy apna darwaaza band kr lya. Saba ki nazar apny flat ky saamny waly flat ki darwazy pr pari to dekha ky waha pr Mansoor sb khary hain. wo bhi buhat hi bechaargi wali nazroon sy uski traf dekh rahy thy. udhair umar ky Mansoor sb intehaai shareef aadmi thy or apni family ky saath bilkul saamny rahty thy or unky saath Ashraf or Saba ky achy marasm thy. Saba ny Mansoor sb ko dekha to sharminda ho kr apni nazrain jhukaa lin. Mansoor: baiti tum is gandy insaan ky monh na laga kro. kitni baar tum logo ko mana kya hai. Saba ny sharmindi sy sir jhuka lya or jaisy uski aankhon sy aanu nikalny ko hi thy lakin saath hi nafrat bhi andar hi andar or barah gai thi. lakin aik baat thi ky apny ghar ka darwaza band krny tak us bheyaanak music ki awaaz bhi band ho chuki thi. apny ghar ka darwaza andar sy lock kr ky Saba apny bedroom ki traf barhi yeh usy hi maloom tha ky is itny sy kaam ky lye wo kis qadar zaleel ho kar aai hai us besharm buddhy ky haathon. lakin usy pata tha ky usy yeh baat apny shouhar Ashraf ko nahi batani hai balky us sy chupaani hai..................jaisy wo ab tak chupaati aai hai............... apni tazleel or beizati ko ku ky woh nahi chahti thi ky uska shouhar us sy lar pary jaa kr or phir woh kameena shahks usky shouhar ko koi nuqsaan pohnchaay. islye Saba ny fridge sy thanda paani nikaal kr peeya or phir bedroom main jaa kr khamooshi sy bed pr apny shouhar ky saath lait gai. Ashraf: koi badtameezi to nahi kr rha tha wo kameena??? Saba: nahi mazrat kr rha tha ky aankh lag gai thi is lye aisa ho gya. Ashraf ny bhi ab karwat li or sony laga. Saba bhi karwat ly kar Ashraf ki peeth sy chipak kr lait gai or us kameeny insaan ki batoon ko apny dimaagh sy nikaalty hoy khud ko neend ki waadyoon main ly jaany ki koshish krny lagi.
  12. 131 downloads

    غافل از ڈاکٹر فیصل خان کل صفحات 125 / مکمل ناول.

    $3.00

  13. 258 downloads

    چھوٹا چوہدری از ڈاکٹر فیصل خان

    $3.00

  14. پرانی یادیں قسط 1 بچپن سے جوانی ، جوانی سے بڑھاپا. انسان اپنی زندگی میں بہت سارے لوگوں سے ملتا ہے یا بہت سارے واقعات ایسے ہوتے ہیں جو ہمارے دماغوں پے نقش ہو جاتے ہیں. انسان بعض اوقات عمر کے اس حصے میں جب سردی بھی زیادہ لگتی ہے اور تنہائ بھی تو بہت سے ایسے لوگ یاد آتے ہیں جن سے بہت گہرے رشتے ہوتے ہیں. اور ان رشتوں سے جڑی ہوتی ہیں ہماری پرانی یادیں.. میں آپ کو اپنے متعلق بتاتا ہوں پہلے. میرا نام سہراش ہے اور میں پاکستان لاہور کا رہنے والا ہوں. میں ایک شادی شدہ اور 2 بچوں کا باپ ہوں. بارش کی ان بوندوں کے ساتھ کچھ رم جھم کرتی قطرہ قطرہ برساتیں یادیں. آج جب یادیں دل میں پوری شدت کے ساتھ جمع ہوئیں تو سوچا کچھ کاغذ پر اتار لیا جائے. لیکن کچھ بھی لکھنے سے پہلے یہ بتا دوں کہ میں کوئی باقاعدہ لکھاری نہیں ہوں. اگر کچھ غلطی ہو تو معافی چاہتا ہوں ..... کہانی اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب میں دوسری کلاس میں پڑھا کرتا تھا. ہمارے سکول کی دیواریں بوسیدہ سی ہوا کرتی تھیں. اور اگر کوئ کمرہ نہ ہو تو درحتوں کے نیچے بھی کلاسیں لگ جاتی تھیں. شام کو 4 بجے ساتھ والی باجی کے گھر ٹیویشن لینے بھی جانا ہوتا تھا. ماں جی کی حالہ کے ساتھ اچھی بنتی تھی تو انہی کی بیٹی کے پاس بھیج دیا. وہ بھی بنا کسی فیس کے پڑھا دیتی تھیں. حالہ کا نام تو مجھے نہیں پتا بس ہمیشہ حالہ ہی کہہ کر محاطب کیا کرتا تھا. حالہ کی بس دو ہی بیٹیاں تھیں. بڑہ نورین اور چھوٹی نسرین. نوریں باجی نے 8 تک پڑھائ کری اور نسرین نے 10 تک. ان کی عمریں بلترتیب 24 اور 22 سال ہو گی. اچھے جسموں کی مالک تھیں دونوں. ان کا سینہ بھرا ہوا تھا اور پیٹ بلکل سیدھا پھر نیچے ان کی کمر اور کولہوں کے ابھار. کالے کمر تک آتے نورین باجی کے بال جن کو وہ چٹیا کی شکل میں باندھ کر رکھتی اور ان کی گہری بڑی آنکھیں. قدرت کی ایک بہت حوبصورت تحلیق باجی نسرین کی چھاتی تھوڑی چھوٹی تھی لیکن سیڈول تھی. خالہ کی عمر لگ بگ 37یا 38 سال ہو گی لیکن ان کا جسم بھی بہت کسا ہوا تھا. اس بات کا اندازہ مجھے تب ہوا جب مجھے پہلی بار انہوں نے اپنے گلے سے لگایا. وہ مجھ سے بڑا پیار کرتی تھیں. جب بھی کھیر یا حلوہ بناتی میرے لیئے ضرور رکھتی. یا گھر لے آتیں. جب بھی کسی بات پے باجی سے ڈانٹ پڑتی حالہ ان کو ہمیشہ منع کر دیتی اور کہتی " میرے پتر نوں حبردار جے کجھ اکھیا تے" باجی کہتی" تسی "اینوں سر تے نہ چڑہاو کجھ پڑھ وی لین دیوں. مجھے جب بھی حالہ کے گلے لگتا مجھے ان کے نپلز اپنے ہونٹوں کے پاس محسوس ہوتے لیکن عمر کے اس حصے میں ان باتوں سے انجان میں ان کے سینے سے لگا رہتا اور باجی پر ہنسنے لگتا. دن یونہی پیار محبت سے گزرتے رہے. لیکن ایک بات ہمیشہ رہی کہ حالہ نے یا باجیوں نے کبھی میرے سامنے ڈوپٹہ یا چادر نہیں لی یا کسی حاص پردے کا حیال نہیں رکھا. بلکہ ایک دن تو جب میں ٹیوشن کے لئیے گیا صحن میں حالہ برتن دھو رہی تھیں اور کچھ پسینہ اور کچھ پانی کی وجہ سے ان کی قمیض پوری بھیگ گئ تھی. قمیض کے اندر سے ان کے بڑے بڑے دونوں پستان اور ان پر گہرے براؤن رنگ کے نپلز صاف دکھ رہے تھے. مانو جیسے حالہ اوپر سے بلکل ننگی ہو کر برتن دھو رہی ہیں. زندگی میں پہلی مرتبہ ایک عورت کا ننگا جسم مجھ سے صرف ایک ہاتھ کی دوری پر تھا. میری للی شلوار میں فل اکڑ گئی تھی اور میری ٹانگوں میں کپکپاہٹ شروع ہو گئی. حالہ نے مجھے دیکھا تو بولی "آ گیا پتر. باجی آتے اپنے کمرے وچ آگ جا بولا لیا" لیکن انہوں نے اپنی حالت ویسی ہی رکھی. میرے منہ سے بمشکل نکلا جی حالہ. لیکن میری آواز جیسے میرے ہی کانوں تک رہی. میرا دل نہیں تھا جانے کا مجبورا جانا پڑا. میں اور رکنا چاہتا تھا. مجھے لگا اگر میں وہاں سے ہلا تو پھر کبھی یہ نہیں دکھے گا مجھے. ڈر بھی لگ رہا تھا کہ حالہ میری حالت پڑھ لیں تو غصہ نہ ہو جائیں. بادل ناحواستہ میں اوپر گیا اور باجی کو چھت پر بیٹھا دیکھا. ان دنوں اکثر لوگ گرمیوں میں اپنی چھت پر ہی سوتے تھے. باجی بھی شاید اپنے بستر ہی لگانے آئ تھیں. میں ان کو سلام کرا تو انہوں نے گردن گھما کر مجھے دیکھا. اور کہا نیچے ہی کتابیں کھول کر بیٹھو میں آتی ہوں چارپائ لگا کر. میں بھاگ کر نیچے آیا. میری قسمت کہ حالہ نے برتن دھو لیئے تھے اور وہ صحن میں پانی لگا رہی تھیں. ان کا بالائ جسم پیٹ تک ویسے ہی گیلا تھا اور ان کے ننگے پستان میرے سامنے. میں چور آنکھوں سے ان کو دیکھنے لگا. میرا کتابوں میں بلکل بھی دل نہیں لگ رہا تھا. بس زور زور سے ڈھرک رہا تھا. کچھ دیر میں باجی نورین اور باجی نسرین دونوں ہی وہاں آ گئیں. باجی نے اپنی امی کو دیکھا اور ان کی حالت سے بےنیاز ہو کر مجھے سکول کا سبق دکھانے کو بولا. میرا زہن بس خالہ کی طرف تھا میں بار بار چوری چوری ان کو دیکھتا رہا. میری للی شلوار میں پھر سے اکڑ گئ. باجی نے مجھے دیکھ کر بولا تمہاری طبعیت تو ٹھیک ہے. اتنا پسینہ کیوں آیا ہوا تم کو؟ میں کچھ بول ہی نہ پایا. تھوڑی ہی دیر بعد انہوں نے مجھے بولا آج تم گھر جاو تمہاری طبعیت ٹھیک نہیں لگ رہی. کل پڑھ لینگے. میں جی باجی بول کر بستہ سمیٹنے لگا اور آٹھ کے جانے لگا تو خالہ نے پاس آ کر میرے ماتھے پر ہاتھ رکھا. اور بولی "لگدا میرے پتر نوں بخار ہو گیا. جا پتر جا کے آرام کر. تے بار نہ کھیڈن ٹر جائین" میں اچھا خالہ بول کر ایک گہری نگاھ ان کے پستانوں پے ڈالی اور کانپتی ٹانگوں سے گھر آ گیا... گھر آ کر بھی میرا دھیان خالہ کی ننگی چھاتیوں پر ہی رہا. کھانا کھاتے ہوئے بھی وہی منظر میری آنکھوں کے سامنے رہا. کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھایا گیا مجھ سے. ماں جی نے پوچھا بھی سب ٹھیک آے پتر روٹی تے رج کے کھا. میں بولا میری طبیعت ٹھیک نہیں اور اپنے کمرے میں آ گیا. لیکن ان مناظر کو یاد کرتا رہا. للی بار بار اکڑتی رہی. پھر انہی بے ترتیب حالتوں میں نہ جانے کب میں نیند کی وادیوں میں کھو گیا ....... جاری ہے......
  15. ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺍﮔﺮ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﯾﻮﮞ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﻠﯿﮟ ﮔﮯ ، ٭ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﭘﻦ/ ﮐﻨﻮﺍﺭﮮ ﭘﻦ ﺳﮯ ﺗﻨﮓ ﺁﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ۔ ٭ ﺍﮔﻼ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﻨﺴﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﺎ ﺭﻭﻧﺎ ﺭﻭﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ۔ ٭ ﺗﯿﺴﺮﺍ ﮐﮩﮯ ﮔﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﺍﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ٭ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﺗﮭﺎ ﮐﮩﮯ ﮔﺎ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﺍ ﮨﻮﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺭﺍ ﻣﺮﺩ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﺩﯾﮕﺮ ﺟﻤﻠﮯ ﺁﭖ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺳﻨﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺍﺏ ﺫﺭﺍ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺑﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﺳﻦ ﻟﯿﺠﯿﮯ : ٭ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺎﺭﯼ ﺳﮩﻠﯿﺎﮞ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﭼﮑﯽ ﮨﯿﮟ۔ ٭ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﮨﺮ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔ ٭ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﻤﺮ ﺍﺏ ﮈﮬﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺭﯾﻞ ﮔﺎﮌﯼ ﻓﻮﺕ ﮨﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ۔ ٭ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﭽﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺑﻌﺾ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺷﺎﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺭﻏﺒﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯽ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﻧﺎ / ﮔﮭﻮﻣﻨﺎ ﭘﮭﺮﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺑﻌﺾ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﭼﮭﭩﮑﺎﺭﺍ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ۔ ﺍﻥ ﺳﺎﺭﮮ ﺟﻮﺍﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﯾﮧ ﻭﺍﺿﺢ ﻃﻮﺭ ﭘﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﺴﻞ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﯼ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻧﺎﺑﻠﺪ ﮨﯿﮟ۔ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﯾﮧ ﻧﮑﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﻥ ﻏﻠﻂ ﻣﻔﺎﮨﯿﻢ ﻭ ﻣﺼﻨﻮﻋﯽ ﺗﺼﻮﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺯﺩﻭﺍﺟﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺳﻠﺒﯽ ﻧﺘﺎﺋﺞ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺷﺎﺩﯼ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ﺍﺯﺩﻭﺍﺟﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﯾﮏ ﻧﺌﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻗﺒﻞ ﺍﺯ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﯾﮑﺴﺮ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﺎﮞ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺍﺳﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺗﺎ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪ ﺭﮨﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﺳﮯ ﭘﺴﻨﺪ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﺧﺮﯾﺪﻟﯽ ﻭﺭﻧﮧ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻟﮯ ﻟﯽ۔ ﺷﺎﺩﯼ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺫﻣﮯ ﺩﺍﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﮈﯾﻮﭨﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﭘﮯ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﮩﺎﺑﮭﯽ ) ﻡ۔ ﻣﮩﻢ ( ﺟﺐ ﮨﻢ ﺷﺎﺩﯼ ﯾﺎ ﺯﻭﺍﺝ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺘﺐ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﺟﻮﻉ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺯﻭﺍﺝ ﯾﺎ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﯾﻮﮞ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﻣﺮﺩ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺑﺎﮨﻤﯽ ﺭﺿﺎ ﻣﻨﺪﯼ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﻋﯽ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﮨﺪﮦ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﻋﻔﺖ ﻭ ﭘﺎﮐﯿﺰﮔﯽ ﮐﺎ ﺣﺼﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﻭ ﭘﺎﺋﯿﺪﺍﺭ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﻗﯿﺎﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﯿﺎﮞ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﻤﯽ ﺗﻌﺎﻭﻥ ﻭ ﭘﯿﺎﺭ ﻭ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﮐﮧ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﻣﺤﺾ ﺟﻨﺴﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﻓﮩﻤﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺍﯾﮏ ﺭﺳﻢ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ۔ ﺟﻮ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﺳﮯ ﭼﻠﯽ ﺁﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﮏ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﺋﯿﺪﺍﺭ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﮐﺎ ﻗﯿﺎﻡ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﺍﺗﻨﯽ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻓﯽ ﻭﻗﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻨﺖ ﺻﺮﻑ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻓﯽ ﻣﺎﻝ، ﺣﮑﻤﺖ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭺ ﻭ ﻓﮑﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﻧﯽ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺟﺲ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﮐﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺳﻤﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮﮐﮯ ﮨﺮ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﺬﺕ ﻭ ﺭﺍﺣﺖ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
  16. hello dosto men Lahore sy hun or men 20yr ols hun men apni aik story apky shat share krna chata hun jo aig sy 3 month phaly ki hey..men aik ghr men gurd ki job karny gya .to oder aik anti thi jo bhot he mast thi or sexy bhi aik din men apni duty dey rha din k time to ghr men koi ni tha bus aliza he thi un ka name aliza tha to men apni duty dey rha tha or jab men ghr k back side pr dekhny gya to wahan thora ander ki tarf kitch tha mn pani peny chala gya or wo agy waly room men thi or room ka door open tha uno ny jab mojhy dekha to kaha ap kea kr rhy hun many kha pani peny aya tha tab aliza ny kha mojhy bhi payas lagi hey meri bhi bojha do..tabhi mojhy shak ho gya k ye kis trahan ki bat kr rhi hen...osi time mery lun men harkat hony lagi pr many sambhal lea or pany pani ja kr dy dea .or uno ny kaha k bus ab ap jao.mn agya pr men bhot hot ho gya tha mny ja kr chopky sy dekha or lun hat men ley lea or osko dekhny laga jo tv dekh dekh rhi thi...or 2 mint bad uno ny apni phone on kea or kisi ko call mila de..or baten krny lag gayi .wo i think os ka bf tha jab sexy baten ki to men or garm ho gya bus jab osny call band ki to men osky samny chala gya wo dekh kr dar gya q k mera lun khara tha or men aik dun sy osky samny agya ..osny kaha ye kea batamzi hey many kaha ap phone pr asy kea rhi hen men apko real men maza deta hun osny kaha abhi jao koi ajye ga bad men dekhti hun.to many thori kiss wis ki or chala gya 2 din bad subha jab sub chaly gy to uno ny mojhy bolaya or kaha ab bato kea chaye tumy .many kaha bus apka pyr to uno kaha ye ni ho skta mn asi ni hun many un ko bahon men paker lea or bus kea tha wo kud he isi k intzer kr rhi thi .taab many bhi kiss ki or boobs ko dabny laga or jab mny unki kamiz otari to kasam sy etni perfct or sexy body mny kabhi ni dekhi or hum pora aik moth hum maza krty rhy....an ager koi sexy anti mojhy job dena chaye to mn hazer hun
  17. Hello Friends I am Muzamil AJ Main Aap SAB Ko bataunga key mainey apni cousin kis Ka Naam farhana hai us ko kesay blackmail Kiya aur kesay USS key Saath sex Kiya toh chalo shuru kartay hai Meri Jo cousin hai Woh Meri phupho ki beti ki beti hai jis ki Umar 19 Saal hai main in Kay Ghar jaata rehta Thaa shuru say jab Woh choti thi tab say Lekin aahista aahista Woh Bari Hoti gayi ek din jab main un key Ghar Gaya toh Meri bazar USS ke boobs par paree Jo key Jawan larki Kay hisaab say Baaray aur tight ho chukay thay aur USS waqt us Kay SAR par chaadar bhi nahen thee mujhe Dekh Kar Woh Chadar dhoondnay lagi aur chaadar aurh li Khair main SAB Ghar Walon say Mila aur phir Farhana nay mujhe Paani pilaya jab Woh Paani debanay aayi toh mainay phir say USS key boobs ki taraf Dekha aur us nay mujhe dekhtay huay Dekh liya aur apna dupatta Sahi Kar Kay doostay kamray main chali gayi garmiyon key din thay main kaafi Dino baad Gaya tha toh main woheen kaafi dair tak Ruk Gaya dophair ko jab saaray khaana wagera khaa Kar so Gaye toh mujhe chain nahen aa Raha tha main bathroom main Gaya aur baathroom main camera chuppa Kar Rakh key Aaya Jo main apni mobile say control Karta Hun aur mere pass hamesha jaib main hota hai mere camera rakhnay ke taqreeban ek ghantay baad mainay Dekha key farhana bathroom main Jaa rahi hai main apni mobile say Dekh Raha tha Kay dekhun bathroom main Kiya Kar Rahi hain mainey Dekha ke uss nay apni kameez utaari phir shalwaar US's nay black colour Ka bra aur black colour ki underwear pehni thi phir USS nay Woh utaar Di aur Woh bilkul nangi thii Mera toh Dil Kar Raha Thaa ke baathroom main ghus Jaun aur nanga hokar uss ke Saath sex Kar Kay mazay loon Lekin mainey sabar Kiya aur dekhnay laga uss nay aahista aahista apnay vagina ko touch Karna shuru Kiya Woh bathroom main mastrubation karnay gayi thi USS nay sabun lagaya aur apni vagina main unglyaan lagaanay lagi aaah aaah bhi Kar Rahi thi Jo key camera main nazar aa a Raha Thaa iss Tarah Woh farig ho Kar naahaa Kar wapas jaanay lagi toh USS ki bazar mujh par paree main ussay gor say Dekh Raha Thaa phir Woh kamray main chalo gayi mere pass video record ho chuki thi aur mainey apnay pass sanbhal Kar Rakhi aur phir main shaam ko wahan say wapas Chala Gaya apnay Ghar camera lekar bathroom say taqreeban 15/20 Dino key baad Woh apni naani yaani Meri phupho ke Saath mere Ghar par aayi Meri phupho Meri Ami Kay Saath baaton main lag gayi mainey jab ussay Dekha toh USS nay Meri taraf Dekha Ghar main Meri Ami aur mere siwa koi bhi nahen Thaa mainay ishaaray say farhaana ko bulaya toh Woh pareshani Jessa chehraa Bana Kar mere pass aayi aur Kaha ke Kiya? Mainey Kaha andar aao tumsay akelay main baat Karni hai USS Ney Kaha. Kiya baat Karni hai mainey kaha aao toh Sahi batata Hun USS waqt Woh yeh Soch rahi Hogi pakka chodnay ke liye bula Raha hai Khair Woh aayi mainey apni mobile main uss ki video ussay dekhaee toh Woh pareshan hogayi aur USS nay yeh Kab record ki aur kyoon ? Mainey kaha bass mujhe tumharey Saath sex Karna Hain mujhe sex karnay do nahen toh net par upload Kar dunga baaqi tumhari marzi hai Woh gayi aur Meri phupho ke pass jakar Beth gayi aur sochnay lagi thori dair baad USS nay phupho ko kaha key main bathroom Jaa rahi Hun USS bahanay say Woh mere kamray main aayi aur kehnay lagi tumhain Jo Karna hai jaldi Karo main bed par letaa tha mainey ussay SAB say Pehlay bed par letaaya aur kamray ki kundi laga Di aur phir USS key ooper aa Kar ussay kissing karnay laga aahista aahista USS ki kameez utaari aur boobs ko Choom bhi Raha Thaa aur chaat bhi Raha tha aur uss ki keh Raha Thaa kay mazaa aa Raha hai USS nay aahista Kaha Haan air phir mainey USS ki shalwaar utaari aur underwear phir USS ki taangain uthaee saamnay oil ki bottle paree thi USS main say oil hatheli par daal Kar phir USS key vagina ko lagaya uss ko Maza aanay lagay tha phir mainey apna baraa nota Lund nikaal Kar main bhi full nanga ho chuka Thaa aur Woh bhi mainey apna Lund Uss Kay vagina main aahista aahista daala toh ussay dard hua Woh virgin thi aur Woh pehli Baar sex Karwa rahi thi Lund daaltay waqt main issue Kay boobs ko BHI haath laga Raha Thaa US's ki seal root gayi aur Thora khoon nikla ussay dard ho Raha tha aur Maza BHI aa Raha tha main issue key vagina mai. Apna Lund andar bahar Kar Raha tha phir USS ko Zyada Maza aanay laga aur sex Kay doraan keh rahi thi aur andar daalo aah aah Maza aa Raha hai phir mainay ussay Ulta Kiya aur peechay say USS ki choot par dono hathon say oil lagaya aur pechay say apna Lund ghisanay laga aur thori dair main Woh bhi faarig ho gayi aur main bhi farig ho Gaya phir Woh baathroom main chali gayi aur nahaa Kay wapas phupho ke pass jakar Beth gayi Lekin jab shaam ko jaanay lagi toh mujhe apna number deti gayi aur phir USS Kay baad hum buhat Baar milay aur sex Kiya Kabhi chatt par Kabhi bathroom main Kabhi Kahan Kabhi Kahan . Agar aap ki Meri story Pasand aayi toh mujhe zaroor comments main batayen
  18. میرے دوستوں۔ مجھے ایک ایسا خاندان بنانا ہے جس میں کھلی سیکس ہو۔ ہر کوئی اپنی من مانی مراد پورا کر سکے۔
  19. تلخ حقیقت مگر سچ ہے یہ کہانی آک عورت کی بیا ن کردہ ہے جو جیل میں تھی انھیں وہاں وہ ملی اور سارا قصہ بیان کیا یہ آپ بیتی میں نہ لکھتا مگر اپنے پاکستانی سوشل میڈیا پہ کچھ ایسے معاملات نظر آئے جس کی وجہ سے میں نے اس “آنٹی ” کی زندگی کی سب سے تلخ حقیقت آپ لوگوں کے سامنے اُن کی اجازت سے لکھی ہے مگر نام اور جگہ اُن کی عزت کی خاطر تبدیل کئے ہیں. لیجئے ، تمام حالات و واقعات اُنہی کی زبانی سنئے. میں نے اپنے اُس جر م کی سزا پائی جس کی شروعات میرے بھائی نے کی اور ایک طویل عرصہ میں اس جرم کی مجرم رہی اور پھر جب میری برداشت یا قوت ِ برداشت ختم ہو گئی تو میں نے اپنے ہی سگے بھائی کواُس کے بڑھاپے میں قتل کر ڈالا اور اب میں خود بھی بڑھاپے کی منزل کی طرف رواں دواں ہوں. دنیا کے قانون میں تو مَیں نے سزا پا لی ، مگر آخرت کے قانون میں میرے ساتھ کیا سلوک ہوگا، یہ میں نہیں جانتی. ہاں یہ حقیقت ہے کہ میں نے اپنے ہی سگے بھائی کو قتل کر ڈالا، کیونکہ اِس جرم کی پہلی سیڑھی وہ میرا بھائی ہی تھا، جس نے وہ جرم نہ کیا ہوتا جسکی میں بھی مجرم بنی تو آج میں صاف ستھری زندگی گزار کے بڑھاپے کی حدود میں داخل ہوتی.یہ جرم تب شروع ہوا ، جب میں ایک معصوم نازک ،شرم و حیاء سے گندھی ہوئی لڑکی تھی. میرے والدین بہت سی محبتوں سےپروان چڑھا رہے تھے، کہ گاؤں سے اچانک میرے چچا کی وفات کی اطلاع آ گئی. ہم چار بہن بھائی تھے، میرا بڑا بھائی ، اُس کے بعد میں، پھر ایک اور چھوٹی بہن اور ایک بھائی تھا. اماں ابا نے فیصلہ کیا کہ بڑے دونوں بہن بھائیوں کو گھر چھوڑ جاتے ہیں اور چھوٹے دونوں کو ساتھ لے جاتے ہیں تاکہ گھر اکیلا نہ رہے.- میں نے ماں سے تھوڑی ضد کی کہ بڑے بھائی کو ہی گھر پہ رہنے دو اور مجھے بھی ساتھ لے چلو، مگراماں نے یہ کہہ کر مجھے لے جانے سے انکار کر دیا کہ بیٹی تیرے امتحانات ہونے والے ہیں اور بڑے بھائی کے بھی. تم دونوں بہن بھائی گھر پہ رہو اور اپنے امتحانات کی تیاری کرو. ہمیں تو وہاں زیادہ دن لگ جائیں گے، کیونکہ ساری برادری آئی ہوئی ہوگی.” کاش اُس دن میرے اماں ابا مجھے بھی اپنے ساتھ لے گئے ہوتے تو میں اتنی بربادی کی زندگی نہ گزارتی. ” میرے فسٹ ائیر کے پیپر ز سر پہ تھے اور بھائی ایم-اے انگلش کی تیاری میں لگا ہوا تھا. والدین نے کچھ نصیحتیں وغیرہ کر کے ہم دونوں بہن بھائیوں کو گھر چھوڑا اور خود گاؤں روانہ ہو گئے. میں اپنے امتحان کی تیاریوں میں پھر سے مصروف ہو گئی اور بڑا بھائی تو پہلے ہی کمرے میں گھنٹوں اپنی کتابوں میں سرکھپائی کرتا رہتا تھا. ہاں اب اماں کی جگہ میری یہ ڈیوٹی ہو گئی تھی کہ میں بھائی کیلئے کھانا تیار کروں، پہلے اماں خود ہی سب کچھ کرتی تھی.میں زیادہ پڑھاکو نہیں تھی، مگر سالانہ امتحانات کے نزدیک پڑھائی تو کرنا تھی، فیل ہونے کی مجھ میں ہمت نہیں تھی، کچھ ویسے بھی میری فطرت شروع سے ایسی تھی کہ کوئی مجھ پر یا میرے کام پر اعتراض نہ کرے.ابھی اماں ابا کو گھر سے گئے کوئی چار دن ہی ہوئے تھے کہ ایک دن دوپہر کے وقت بھائی گھر آیا اور ڈرائنگ روم کا دروازہ کھولا اور کسی کو اندر بٹھا کے سیدھا کچن میں آیا اور ایک لفافہ کھانے کا ہاتھ میں لئے پلیٹیں نکالنے لگا. میں بھی برتنوں کی آواز سنکے کچن میں آ گئی تو بھائی کو دیکھا کہ وہ کھانے کی چیزیں ڈش میں لگا رہا ہے. میں نے کہا کہ بھائی ! لاؤ میں لگاتی ہوں، کیا دوست ساتھ میں ہے؟”- بھائی نے مختصر سا جواب دیا، “ہاں.” اور اتنا کہہ کر پھر ڈرائنگ روم کی طرف چلا گیا.میں نے کھانا لگا کے ٹرالی تیار کر دی اور پھر جا کے ڈرائنگ روم کا دروازہ ہولے سے کھٹکھٹا دیا تاکہ بھائی کو اطلاع ہو جائے کہ میں نے کھانے کے لوازمات لگا دیئے ہیں اور ٹرالی بھائی لے جائے. بھائی نے ڈرائنگ روم کا اندر کا دروازہ کھولا تو میں مڑنے والی تھی اور مڑتے مڑتے میری نظر اندر ڈرائنگ روم میں پڑی ، اور ایسا محسوس ہوا کہ جیسے کوئی لڑکی اندر ہے، میں چونکی ضرور ، مگر بھائی کو محسوس نہ ہونے دیا. بھائی کا ویسے بھی دھیان ٹرالی کی طرف تھا، میں چونکہ مڑ چکی تھی اسلئے اب رک نہیں سکتی تھی. بھائی نے نظر اٹھائی اور شاید میرے دور جانے کا انتظار کرنے لگا تاکہ وہ مزید دروازہ کھول کر کھانے کی ٹرالی اندر لے جائے.اور میں درزیدہ نگاہوں سے دیکھتی ہوئی کچن میں چلی آئی. اوردل جو زور زور سے دھڑک رہا تھا کہ “ڈرائنگ روم میں بھائی کے ساتھ لڑکی.” ہمارا کچن ڈرائنگ روم کے بلکل سامنے تھا. خیرتھوڑی دیر میں اپنے اعصاب پہ قابو پاتے ہوئے اپنے آپ کو باور کرانے لگی کہ شاید میری نظر کا وہمہ ہے اور مجھے دھوکا ہوا ہے، ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ بھائی کے ساتھ ڈرائنگ روم میں کوئی لڑکی ہو.مگر تجسس تھاکہ کسی طرح ختم ہی نہیں ہو رہا تھا.میں نے سوچنا شروع کیا کہ دیکھوں تو سہی کہ کیا معاملہ ہے؟ کہ اتنے میں بھائی پھر کچن کی طرف آتا نظر آیا تو میں یونہی برتن دھونے میں مصروف ہو گئی اور آٹا گوندھنے کی پرات کو ایسے رگڑ کے دھونے لگی کہ اب میں آٹا گوندھنے لگی ہوں.بھائی کچن میں آیا اور بولا،” سعدیہ! دو کپ چائے بنا دوگی، میں اور میرا ایک دوست سٹڈی کر رہے ہیں، میں مارکیٹ سے آتے ہوئے کچن کا سامان لے آیا تھا، وہ بھی ابھی دیکھ کر بتا دو کہ مزید تو کچھ نہیں لانا کھانا پکانے کیلئے.بعد میں ہمیں ڈسٹرب مت کرنا.”- میں اچھا بھائی کہتی ہوئی چیزیں دیکھنے لگی جو بھائی لایا تھا مگر میرے دل ودماغ تجسس سے بے حال ہو رہے تھے. میں نے چیزیں دیکھ کے بھائی کو” سب ٹھیک ہے ” بولا اور پانچ منٹ میں چائے کی تیاری کا کہہ کے ساتھ ہی چائے بنانے لگی اور ساتھ ہی میں نے آٹا ڈالتے ہوئے دیکھا کہ بھائی میری مصروفیت کو کنکھیوں سے دیکھ رہا ہے اور بے مقصد ہی کچن میں کھڑا ہے، میں اچانک بول پڑی، “بھائی کچھ اور چاہیے تو بتا دو، میں آٹا گوندھ کے سونے جا رہی ہوں ، سبزی اب شام میں بناؤنگی.” تو بھائی بولا، “تم نےکھانا نہیں کھانا.” میں بولی،” نہیں بھائی، میں نے کالج میں سہیلیوں کے ساتھ کھایا تھا، اب بھوک نہیں ہے.” اتنے میں چائے تیار ہو گئی اور بھائی چائے لے کے چلا گیا.میرے دماغ میں وہ لڑکی اٹک سی گئی، نکلی تو وہ پہلے بھی نہیں تھی، اور ویسے بھی عورت کی یہ فطرت ہے کہ اُسے کسی بات کی لگن لگ جائے یا تجسس ہو جائے تو وہ پھر کسی بھی صورت پیچھے نہیں ہٹتی. میں نے آٹا گوندھا. باہر گیٹ کی طرف گئی، سُن گُن لی کہ شاید ڈرائنگ روم کے سامنے سے گزرتے ہوئے کوئی آواز آ جائے، مگر خاموشی تھی. میں اوپر کی منزل پہ جانے لگی تو اچانک میری نظر بالکنی پہ پڑی جس کے سامنے رخ پہ ڈرائنگ روم کا اکلوتا اگزاسٹ فین لگا ہوا تھا اور میری پُر تجسس طبیعت نے فوراََ اس اگزاسٹ فین کے سوراخ سے جھانکنے کا فیصلہ کر لیا، یہ محض ایک تجسس تھا، کوئی اچھی یا بری سوچ دل و دماغ میں نہیں تھی. بس میں یہ دیکھنا چاہ رہی تھی کہ آیا وہ لڑکی ہی میرے بھائی کے ساتھ ہے یا میرا وہمہ ہے. صحن پار کرکے میں بالکنی میں جا چڑھی اور اگزاسٹ فین کے سوراخ سے جونہی میں نے اندر جھانکا ، میرا دل و دماغ بھک سے اُڑ گیا. اندر میرا بھائی اور وہ لڑکی ایسی حالت میں تھے،کہ میں سُن ہو کر وہیں جام ہو گئی اور میرا دل یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے میری کھوپڑی میں بج رہا ہے. میں نے عورت اور مرد کا وہ پہلا تعلق اپنی جاگتی آنکھوں اور سُن دماغ کے ساتھ دیکھا.میرے تصور میں بھی نہیں تھا اور دل کے کہیں کسی کونے کُھدرے میں بھی ایسی ویسی کوئی بات نہیں تھی.جو کچھ میں دیکھ چکی تھی. آخر میں نے گھومتے سر کے ساتھ جتنی دیر سُن رہی دیکھتی رہی اور بالکونی سے واپس پسینے میں شرابور اور خوف سے ڈری ڈری میں اپنے کمرےمیں واپس چلی آئی اور بستر میں گر پڑی.پھر مجھے کچھ ہوش نہ رہا کہ میں کب عالم مدہوشی میں نیند میں چلی گئی.- اچانک شور سے میری آنکھ کھلی، کچھ دیر تو سمجھ نہیں آئی اور پھر نیند سے بیداری پہ پتہ چلا کہ وہ ٹیلی فون کی گھنٹی تھی ، جس کے شور کیوجہ سے میں جاگی تھی.میں نے ادھر اُدھر دیکھا، میں کمرےمیں اکیلی ہی تھی، نیند میں ہی میں نے ریسیور اٹھا لیا، اُس زمانے میں ابھی لائن فون ہی ہوتے تھے. موبائل کا زمانہ تو بہت بعد کی بات ہے. میں نے ریسیور اٹھایا تو ابھی کچھ بول بھی نہیں پائی تو مجھے لڑکی کی آواز سنائی دی اور ساتھ ہی میرے بھائی کا ہلکا سا قہقہہ بھی . میں اک دم الرٹ ہو گئی. سر تو درد سے پہلے ہی پھٹ رہا تھا. دیکھا کمرے میں اندھیرا تھا. اور فون پہ اب یہ نیا ماجرا میرا منتظر تھا.میں سب کچھ بھول بھال کے لڑکی اور بھائی کی باتیں سننے لگی اور جوں جوں میں سنتی جاتی، میرا دل دماغ دھڑکنے لگے، پسینے چھوٹ رہے تھے، جذبات کی کیفیات میں جس طرح میرا بھائی اور وہ لڑکی ایک دوسرے میں گم تھے، میں بھی اُن کے ساتھ ایک غائبانہ حصہ بن گئی. ماؤتھ پیس پہ میری ہتھیلی اس بری طرح جم گئی تھی کہ شاید ماؤتھ پیس میں سے ہواکا گزر بھی نہ ہو رہا ہوگا، میرا اُنکی باتیں سن سن کے برا حال اور جذبات کی یہ پہلی کیفیات نے مجھے اندر سے جھنجھوڑ ڈالا تھا. اوپر نیچے دن کے واقعے اور اس رات میں فون پہ ان دونوں کی مدہوش گفتگونے میرے اندر کی لڑکی کو عورت بنانا شروع کر دیا، میں اندر ہی اندر جذبات کی ہلچل جوکہ میرے لئے بلکل نئی اور نووارد تھی، مجھے اندر سے آگ بنا دیا. آگ کی چنگاریاں میرے وجود سے اور پسینے سے میں ایک بھیگی ہوئی تڑپتی مچھلی بن چکی تھی. مجھے یہ بھی پتہ نہ چلا کہ کب فون بند ہوا. مگر جب میرے دروازے پہ “ناکنگ” کی آواز آئی تو میں ہوش کی دنیا میں واپس آئی، جلدی سے بے آواز ریسیور رکھا، اور پھر سے ٹیڑھی میڑھی سوتی بن گئی. دو دفعہ کی مزید ناکنگ کے بعد مجھےدروازہ کھلنےاور بھائی کے قدموں کی چاپ اپنے کمرے میں سنائی دی، اور پھر چٹ کی آواز سے کمرے کی روشنی آن ہو گئی.سامنے آئینے میں مجھے بھائی دروازے کے درمیان کھڑا بڑبڑاتا نظر آیا، ” یہ تو ابھی تک سو رہی ہے، رات کا ایک بج گیا اور کھانے کو بھی کچھ نہیں پکایا.”- اور پھر بھائی نے ایک دم آواز دے ڈالی،” سعدیہ! کتنا سونا ہے، کیا آج سوتی ہی رہو گی؟” اور میں ہولے سے نیند کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کروٹ لیکر اٹھ بیٹھی. “کیا وقت ہے بھائی؟” میں نے پوچھارات کا ایک بج رہا ہے، تم تو گھوڑے بیچ کے سوئی ہو، کھانے کا بھی کچھ نہیں کیا.” بھائی بولا”ہیں… رات کا ایک بج گیا… میں تو شاید دن میں سوئی تھی، آپ نے مجھے جگایا ہی نہیں.” میں حیرانی کی ایکٹنگ سے بولی”چلو…اب تم نے جو کرنا اور کھانا ہے ، وہ کر لو، میں تو ڈبل روٹی کھا کے لگا ہوں سونے…. صبح یونیورسٹی بھی جانا ہے.” اتنا کہہ کے بھائی چلتا بنا. اور میں پھر سے دن میں پیش آنے والے حادثے اور ابھی ابھی کے فون حادثے کے متعلق سوچ میں پڑ گئی.اتنے خوفناک حقائق دیکھنے اور سننے کے باوجود مجھے یقین نہیں آ رہا تھا ، حالانکہ میں نے سب کچھ خود اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے سنا تھا. مگر عمر بہت چھوٹی تھی اور میری تربیت میں سادگی تھی، مگر جذبات کے آگے کسی بھی انسان کا کوئی بس نہیں چلتا، چاہے وہ جتنا بھی مضبوط اعصاب کا مالک ہو. میرے بڑے بھائی کیساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہواتھا، اور انجانے میں مَیں بھی جذبات کے دھارے میں بہنے لگی تھی، کیونکہ اب مجھے بھائی کی “ٹوہ” رہنے لگی تھی. یہ بات طے ہے کہ انسان اپنے جذبات کے آگے بے بس ہو جاتا ہے ، اور کم عمری میں تو یہ ایک ایسا زہرِ قاتل ہے کہ انسان کو اگر یہ لَت کم عمری میں لگ جائے تو وہ زندگی بھر کیلئے ایک ایسے گرداب میں پھنس جاتا ہے کہ موت کے وقت تک وہ اس گرداب سے نکل نہیں پاتا. میں نے اپنے بھائی کی ٹوہ میں وہ وہ کام کر ڈالے ، جن کے بارے میں ایک شریف ، معصوم اورکم عمر لڑکی سوچ بھی نہیں سکتی تھی. بھائی نے بھی گھر خالی دیکھ کے خوب فائدہ اُٹھایا اور وہ روز “اپنی سٹڈی کے بہانے” اُس لڑکی کو بلانے لگا اور میں بھی روز ہی بالکنی میں دھوپ کے ساتھ ساتھ اپنے اندر کے جوار بھاٹے کے ہاتھوں جلتی ہوئی اگزاسٹ فین کی جگہ سے ہوس اور تڑپ کا یہ کھیل دیکھتی رہی اور اپنے آپ سے بے خبر اپنے وجود کو آگ کی اُس لپیٹ میں لے آئی کہ جس سے میں نے دنیا جہان کے عذاب خریدے. یہ سلسلہ یونہی مزید چھ دن تک چلتا رہا. آخرکار یہ سلسلہ بند ہو گیا اور ابا جی اپنی ڈیوٹی کی وجہ سے واپس آ گئے. بھائی اپنی مصروفیت میں لگ گیا اور میں جو امتحانات کی تیاری میں تھی، مجھے ایک نئی آگ سے روشناس ہونے سے زندگی کسی اور طرف لے گئی. شیطانیت کس چیز کا نام ہوگا. ایسا کچھ نہیں ہے، انسان جو دیکھتا ہے وہ ہر حال میں حاصل کرنا چاہتا ہے. اسی طرح ایک کم عمر جب سیکس کی طرف اپنی عمر اور شادی کے بنا سب کچھ دیکھ لیتا یا لیتی ہے تو اُسکا اپنے آپکو کنٹرول کرنا مشکل بلکہ ناممکن سا ہو جاتا ہے. اماں واپس نہیں آئیں اور ابا اور بھائی صبح کے نکل جاتے اور شام میں واپس لوٹتے ، میں کالج سے امتحانات کیوجہ سے فری ہو چکی تھی. بھائی کی ٹوہ میں لگے لگے مجھے وی سی آر کی بلیو فلمز مل گئیں. اور مزید میری تباہی کا رستہ کھل گیا. مجھ پہ سیکس کے نئے ادراک ہوئے. میں اپنی عمر سے زیادہ صحتمند اور حسین بھی تھی، اٹھتی ہوئی جوانی اور ان سب باتوں نے مجھے مزید بھڑکا ڈالا. ان سب باتوں نے مجھے نئے سے نئے راستوں کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی اور پھر مجھے گھر کی چھت سے ہی راستہ مل گیا . میں نے باہر بھی کئی ایک لڑکوں کو پھانسنے کی کوشش کی مگر گھر کی عزت کا ڈر اور شروعات کا نفسیاتی خوف آڑے آیا .- میں جلد سے جلد کچھ کر لینا چاہتی تھی کیونکہ اگر اماں آ جاتی تو وہ تو رات کے چوکیدار کی طرح تھیں جو بے وقت ہی اٹھ کے ہر بچے اور گھر کو چیک کرنا شروع کر دیتی تھی . میں نے کپڑے دھوئے اور چھت پہ لٹکاتے ہوئے مجھے اندھے پن میں دو گھر چھوڑ کے ایک کبوتر باز نظر آیا جو کہ پہلے تو بہت سے اشارے مجھے کر چکا تھا اور میرا جواب تھا نفرت … مگر آج میں اپنے اندھے پن سے اُ سکو اشارہ کر بیٹھی اور مَت جو ماری گئی تھی . اور وہ کچھ دیر تو ہونق بنا ہی مجھے گھورتا رہا جیسے اُسے یقین ہی نہ آ رہا ہو .وہ دن کے 24 میں سے 18 گھنٹے اپنے کبوتروں کے کُھڈے میں ہی گزارنے والا انسان تھا . آخر میں نے اُسے زور زور سے ہاتھ کے اشارے کر کرکے بڑی مشکل سے بلایا. تو وہ بندر کی طرح چھتیں پھلانگتا ہو ا مجھ تک بے ترتیب سانسوں سے پہنچ گیا .او ربولا کہ بی بی خیر اے، ساڈے نصیب کتھوں اج ہرے ہوگئے نیں …میں نے اُسے بازو سے پکڑا اور سیڑھیاں پھلانگتی ہوئی اُسے نیچے لے آئی اور اُس سے خود ہی جذبات کی رو میں لپٹ گئی ، اتنا کرنا تھاکہ کسی بھی بات کو موقعہ نہ ملا اور ہم جذبات کی تغیانی میں بہہ نکلے مگر اُس لڑکے نے میرے جذبات کو سمجھے بنا ہی مجھے ادھورا چھوڑ دیا میں جو جذبات کی اتنے دن کی روک سے اور شدت سے بھوکی بلی بنی ہوئی تھی ، اُسے نوچ کھسوٹ ڈالا اور دھکے مار مار کے اُسے بھگا دیا. اب میں نےانجانے میں مزید اپنے اندر آگ جلا لی . جذبات کی ان شدتوں کا تو کچھ پتہ ہی نہیں تھا مگر اُسکے ادھورا چھوڑنے سے میں زخمی ہو گئی . دل و دماغ ساتھ چھوڑتے محسوس ہو رہے تھے . وجود گرم بھٹی کی طرح جل رہا تھا، سمجھ سوچ کام نہیں کر رہی تھی . میں اُٹھی ، واش روم گئی اور شاور کھول کے کھڑی ہو گئی اور رونے لگی ، روتے روتے ہچکی سی آئی اور وہیں گر کے چیختی روتی رہی ، اپنے کپڑوں سے خون صاف کیا ، خود کو صاف کیا . شاور بے ہنگم خود ہی میرے وجو دپہ چلتا ، بہتا اور ٹھنڈا پانی بھی آگ کی طرح محسوس ہو رہا تھا. دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز نے مجھے میری ہوش کی دنیا واپس کی اور خیال آیا کہ بھائی آیا ہے . تو میں نے اپنے آپ کو سنبھالا اور جلدی سے کپڑے پہن کے باہر آئی .اتنے میں بھائی بھی باہر سے مجھے ڈھونڈتا ہو ا میرے کمرے میں آیااور بولا “کچھ کھانے کو ملے گا .”- “نہیں بھائی ، میری طبیعت ٹھیک نہیں ، باہر سے ہی کچھ لے آؤ .” میں بولی اور وہ اچھا کہتا ہوا چلتا بنا.میں نہانے کے باوجود بھی نڈھال بستر پہ گر گئی اور تنگ پڑ کے پھوٹ پھوٹ کے رو دی اور پھر زندگی بھر میں روتی ہی رہی . کبھی اپنے اندر ، کبھی چھپ چھپ کے اور بے آواز ….میری زندگی کا وہ روگ بن گیا کہ آخر کار میں ٹوٹے وجود کیساتھ جیتے جیتے اُس موڑ پہ پہنچ گئی جہاں میں نے اپنے ہی سگے بھائی کو قتل کر ڈالا اور جیل کے مزموم ماحول میں زندگی کا قیمتی وقت گزارنے پہ مجبور ہوئی .وقت گزرتا رہا ، اور میں جذبات کے اندھے دھارے میں بہتی رہی. بہت سے مردوں سے شادی سے پہلے ہی تعلق بن گیا ، ایک کو پکڑا دوسرے کو چھوڑا مگر وہ تشنگی اور ادھورے جذبات میری زندگی سے کسی طور نہ نکل سکے اور ان ادھورے جذبات نے میرے مزاج میں وحشیانہ پن اور ایک سخت گیری کا ردِ عمل بھر دیا. بی اے کیا تو ماں باپ نے شادی کر دی . شوہر میرا بہت اچھا تھا مگر جس آگ میں جل رہی تھی . وہ میرے بنا بتائےا ور بنا بولے ہی سمجھ چکا تھا . مگر اُس کے ساتھ وفا نہ کر پائی . میری شادی اپنے ماموں کے بیٹے سے ہوئی میں نے لڑ جھگڑ کر اُسکو اُسکے ماں باپ اور بہن بھائیوں سے جدا کیا . کاروباری آدمی تھا ، شادی کے بعد مزید اُسکے کاروبار نے ترقی کی اور مزید اوپر سے اوپر جانے لگا . میرے مزاج کو سمجھ کر اُس نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح مجھے اپنی محبت سے ذہنی گرداب سے نکالے . اُس نے شادی کی پہلی رات ہی سمجھ لیا تھا کہ میں کنواری نہیں ہوں ، مگر وہ ایک اعلیٰ مزاج انسان تھا اور اُس نے مجھے بھرپور محبت دی . مگر اپنے ادھورے پن سے اُس کا ساتھ نہ دے پائی . اچھا مضبوط اور ایک اعلیٰ معیاری مرد بہت کم لڑکیوں کو ملا کرتے ہیں . مگر میں ناکام رہی کہ مزید اُس کا ساتھ نبھا سکوں . میں نے اُس سے طلاق کامطالبہ کر دیا . اُ س نے ہر ممکن مجھے منایا، سمجھایا مگر میں اُس زمین کی طرح ہو چکی تھی جس میں پھول ، خوشبو اور سرسبز ہریالی اُگتے اُگتے اچانک کسی گندی نالی کا پانی ڈال کے غلیظ کڑوی اور غلط چیزوں یا منشیات کاشت کی جائے .- اُس نے آخر مجبور ہو کر مجھے میرے کہنے کے مطابق طلاق دی ا ور ساتھ اک بار پھر اعلیٰ ظرفی دکھا گیا کہ ایک مکان اور بیس لاکھ روپیہ مجھے بطور حق مہر دے گیا . جبکہ میرا شادی کے وقت حق مہر بیس ہزار اور دو تولے سونا تھا مگر وہ جان گیا تھا کہ طلاق کے بعد میں اپنے گھر والوں یعنی میکہ کی طرف واپس نہیں لوٹوں گی . اُس نے کہا ، ” میں تم سے شدید محبت کرتا ہوں ، اس لئے تمہارے کہنے اور مطالبے کی مجبوری سے علیحدگی اختیار کی ہے مگر یہ مکان اور بیس لاکھ روپے میری طرف سے تحفہ ہیں .تم جب سے میری زندگی میں آئی ہو، میں نے بہت سے ترقی کے ادوار دیکھے ہیں .” خیر …میں طلاق لے کر اپنے میکہ والوں سے ملی تو ضرور مگر میں نے اپنی تنہائی اپنے سابقہ شوہر کے دیئے ہوئے تحفہ نما گھر میں ہی گزاری اور پھر اپنی تشنگی سے مجبور ہو کر مزید بھی کئی مردوں سے تعلقات بنائے مگر اپنی پیاس اور تشنگی کو نہ مٹا سکی . میں اس ضمن میں بہت خود سر اور بدبختی کی انتہاؤں کو چھو چکی تھی . مگر میرے لئے واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا . عور ت کو عزت تو سب دیتے ہیں مگر جب عورت زخمی ہو جائے تو اُسے ذلت بھی ہمارا ہندوازم کا معاشرہ خوب دیتا ہے . آج جو آپ اس معاشرہ میں عورت کی تذلیل اور سُبکی کے واقعات دیکھتے ہیں اور عورت کو مختلف مردوں کیساتھ تعلق بناتا دیکھتے ہیں تو وہ عورت کی مجبوری بن جاتی ہے . اور ایسی کوئی بھی عورت اپنے لڑکپن میں ہی اس تباہی کی طرف آتی ہے . اگر لڑکپن سے بائیس ، پچیس سال یا شادی کی عمر تک بچ جائے تو پھر سمجھ لیں کہ عورت عزت ، سمجھ ، ہوش اور اعلیٰ قدروں کیساتھ زندگی گزار جائے گی .اور اگر کوئی لڑکی اس سے پہلے ٹوٹ گئی تو پھر اُسے موت کے علاوہ سنبھالنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں رہتی . میں مردوں کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے پھینکتی رہی . دو مرد مجھے ایسے بھی ملے جو میری اذیت کے آگے پہاڑ بھی بنے . میں نے اپنے آپ کی خوبصورتی ، لوچ اور سیکس اپیل کا ہر حربہ آزما کے دیکھا مگر وہ دونوں ہی اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوئے .اور میں ان کو حاصل کرنے اور ذلیل کرنے میں ناکام رہی .- میں نے اپنے گھر والوں سے ملنا کافی عرصے سے چھوڑ دیا تھا. شادی کے بعد بھی کم ہی میکہ گئی اور طلاق کے بعد بھی بس ایک ہی دفعہ اپنی بوڑھی ماں کو دیکھنے گئی. ماں نے بہت کہا کہ میں ان کے پاس آ کے رہوں مگر میں نے انکار کر دیا کیونکہ ماں کے گھر رہنے کا مطلب تھا کہ بھائی کی مجھے شکل دیکھنی پڑتی اور اذیت کا پہلادور اور وقت دوبارہ یاد آتے . اور ماں کو اپنے پاس اس لئے نہیں لا سکتی تھی کہ پھر بھائی اور اسکے بچے آتے جاتے، اور یہ اب مجھے گوارہ نہیں تھا. اباجی وفات پا چکے تھے . مگر ماں میری طلاق سے دکھی تھی ، مگر میری اذیت نے کسی کی بھی پروا کرنی چھوڑ دی تھی. میرا کام بس بینک سے پیسے لانا اور کھانا پینا اور اپنے لئے آدم خور چڑیل کی طرح شکار ڈھونڈنا اور جب کبھی شکار نہ ملنا تو اکیلی پڑی وی سی آر پہ فحش فلمیں دیکھنا یا پھر شراب پی کے لمبی نیند سو جانا. شراب میرے شکار مجھے لا کے دیا کرتے تھے ، شراب سے مجھے ایک نئی زندگی مل جاتی تھی اور میں اپنے شکار کی بوٹیاں اُدھیڑ دیتی تھی . میرا یہ ایک انتقام تھا مردوں سے . میں انہیں اتنا نڈھال کر دیتی تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ تین سے چار ماہ تک میرا ساتھ دے پاتے تھے . اور یہ سلسلہ کوئی بارہ تیرا سال تک چلتا رہا. پھر مجھے اپنی طاقت میں کمی ہوتی ہوئی محسوس ہوئی اور میرا لُٹا پُٹا بدن اب مجھے کبھی کبھار بتاتا تھا کہ اب وہ پہلے والی طاقت نہیں رہی . اور خوبصورتی بھی اب ڈھلنا شروع ہو گئی کیونکہ شراب بھی اپنا کام دکھا رہی تھی . عمر کے 34 سال بیت گئے تھے . اور اندر کی ادھوری عورت ابھی تک اپنی تکمیل نہیں پا سکی تھی . اب جسمانی اعضاء جواب دینے لگے تھے . اب محرومی کی سوچیں بہت بڑھ گئی تھیں. اب کسی اپنے کی کمی شدت سے محسوس ہوتی تھی . رونے کی مجھے عادت نہیں تھی . میں نے لڑکیوں بالیوں کی طرح کبھی رو کے اپنے دل کی بھڑاس نہیں نکالی تھی . جسکی وجہ سے میرا اندر ہر وقت منجمد رہتا تھا. میں اپنے آپ میں ایک وحشیہ بن چکی تھی . شادی کے بعد بھی اولاد نہیں ہوئی ، ہو سکتا تھا کہ اولاد ہو جاتی تو شاید میری تنہائی کم ہو جاتی ، یا اولاد کیساتھ مجھے صبر آ جاتا . مگر نہیں ، عورت کی اولاد بھی ہو جائے تو تب بھی اس معاملہ میں صبر نہیں آیا کرتا. ہمارے پاکیزہ دینِ اسلام نے جو ہمیں زریں اصول دیئے ہیں وہی انسان کی اصل اور بہترین زندگی کی ضمانت ہیں اور یہ سلسلہ اسلام کی پیروی کرنے والوں کیلئے قیامت تک چلتا رہے گا .- طلاق کے بعد میرا بھائی دو دفعہ ماں کو لے کے آئے اور اپنے بڑے پن کا احساس دلانے کی کوشش کی مگر میں نے ٹکا سا جواب دے دیا کہ ” میں شادی کے بعد کی زندگی گزار رہی ہوں ، شادی سے پہلے تک لڑکی کے ماں باپ اور بہن بھائی ضروری ہوتے ہیں ، بعد میں یہ رشتے ثانوی بن جاتے ہیں . اس لئے آپ لوگ مجھے میرے حال پہ چھوڑ دیں اورمجھے میری زندگی گزارنے دیں.” ماں اور بھائی نے دوسری شادی کا بھی مجھے کئی دفعہ کہا مگر میں نے ٹال دیا . میرا ایک شکار ایک چنچل شوخ اور لا ابالی سا لڑکا بنا. وہ اکثر راتوں کو باہر رہنے والا آوارہ مزاج تھا . کبھی کبھار میرے پاس بھی رات رہ جایا کرتا تھا. ایک دن اُ س نے اپنے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ “میرے چچا نے میری ماں کو گالی دی تو میں نے ٹھان لی کہ چچا کے ساتھ اگر لڑوں گا تو یہ میرا باپ اور چچا دونوں مجھے مار پیٹ کے چپ کروا دیں گے . اس لئے میں نے دل میں ٹھان لی کہ چچا کو زندہ نہیں چھوڑنا اور ایک دن مجھے موقعہ مل گیا . چچا رات کے اندھیرے میں کام سے پیدل واپس موٹر سائیکل گھسیٹتا ہوا آ رہا تھاشاید موٹر سائیکل پنکچر تھا کہ اندھیرے میں مجھے تاک لگانے کا موقعہ مل گیا . میں نے چچاکی موٹر سائیکل کو دھکا مارا اور نیچے گراتے ہی چچا کی گردن تیز دھارخنجر سے کاٹ ڈالی ، وہ بیچارا چیخ بھی نہ سکا اور میں صاف بچ نکلا. ” اور وہ پھر دوبارہ دانت نکوستےہوئے ہنسا ، “ابھی بھی چچا کی برسیوں میں شدو مد کیساتھ جاتا ہوں اور بہت دکھی ہو کے چچاکی بیٹی سے افئیر چلا رہا ہوں . اب چچا کی بیٹی سے شادی کرونگا . ” مجھے اُس کی کہانی سے تحریک ہوئی اور میں نے پوچھا کہ کیا وہ مجھے کوئی پستول لا کے دے سکتا ہے ؟ تو اُس نے مجھے لیڈیزپستول کی آفر دی کہ میں تم کو لائسنس والا بنوا کے دےسکتا ہوں . ” مگر میں شروع میں اس پہ راضی نہ ہوئی. وہ مجھے ایک اسلحہ کی دکان پہ لے گیا اور وہاں اس نے بہت سے پستول مجھے دکھائے اور مجھے ہلکا اور چھوٹا سا لیڈیز پسٹل بہت پسند آیا اور میں نے اُسکی کہانی سے ہی تحریک پکڑتے ہوئے ہی اپنے بھائی اور اپنے مجرم کو مارنے کی ٹھان لی تھی کیونکہ میرابھائی اگر ایسا کام نہ کرتا تو آج میں بھی خوش وخرم اپنی زندگی میں اپنی اولاد کیساتھ مگن اور خوشحال زندگی گزار رہی ہوتی . میں نےپستول خریدا اور اپنے ارادے کی تکمیل کیلئے پلاننگ کرنے لگی ، میں چاہتی تھی کہ اپنے بھائی کو اس کے تمام جرم کی تفصیل سنا کے ماروں اور پھر میں نے ایک شام اسے چائے پہ بلایا اور اسے نیند کی گولیا ں دے کے چائے پلا دی . پھر ریشمی باریک ڈوری سے اچھی طرح کس کے باندھ ڈالا . اور گھسیٹ کے اپنے باتھ روم تک لے آئی تاکہ اس کی آواز بھی نہ آئے اور پانی سے اسے جگاؤں بھی اور پھر باتھ روم میں ہی قتل کر دوں .میں نے اپنی پلاننگ کے مطابق اسے ہاتھ پاؤں سے باندھ کے مضبوط ٹیپ اس کے منہ پہ چپکا دی . میرا وجود نفرت کی آگ سے شعلہ بنا ہوا تھا . میں نے پہلے تو بہت دفعہ سوچ کے اسے چھوڑ دیا تھا مگر اس کی عیاشیوں کی کئی داستانیں اپنی بھرجائی یعنی بھائی کی بیوی سے سن چکی تھی .میرے بھائی کے زنا کیوجہ سے آج میں بھی ٹوٹی بکھری پڑی تھی .- باتھ روم میں میں نے اسے خوب ٹھنڈے پانی سے نہلایا اور پھر جب وہ صحیح طرح اپنے ہوش میں آ گیا تو میں نے پلاسٹک کے پانی والے پائپ سے ہی اس کی دھلائی شروع کردی . مجھے نہیں پتہ کہ میں نے اسے کتنا مارا اور کتنے زخم دیئے اور کہاں اسے چوٹ لگی اور جب وہ بے ہوش ہو کر پھر ایک طرف ڈھلک گیا تو میں نے پھر پانی ڈال ڈال کے اسے ہوش دلایا اور پھر خود بھی جو میں اسے مار مار کے تھک چکی تھی .باتھ روم کے دروازے پہ ہی کرسی رکھ کے بیٹھ گئی . اُس وقت ہم صرف دو بہن بھائی ہی تھے یعنی میں اور میرا مجرم بھائی . آخر کار میں نے اس کے ہونٹوں سے ٹیپ ہٹائی اور پانی پلا یا ….اور اسے اس کے جرم کی کہانی سنائی جس کو وہ سن کر ہکا بکا رہ گیا . وہ کچھ بھی بولنے کے قابل نہ رہا تھا . اس وقت میری عمر 34 سال اور بھائی کی عمر 40 سال تھی .اور میں نے اسے اسکا جرم سناکے اپناپستول سے دو دفعہ فائر کر دیا .پستول دیکھنے کے باوجود وہ اتنا زیادہ اپنا جرم سن کر اور میری بربادی کا سن کر پشیمان اور چپ ہو گیا کہ اس نے مجھ سے رحم کی التجا ء یا اپیل بھی نہیں کی . بس اک ٹک مجھے گھورتا ہوا خاموشی سے مر گیا اور میں آج 42 سال کی عمر میں 8 سال کی سزا کاٹ کے واپس آئی ہوں .اب پھر میں اکیلی.بھائی مار ڈالا. اس کے بچے یتیم ہو گئے.اور سب کی مزید نفرتیں سمیٹی ہیں . بس گزر اوقات کے پیسے بینک سے ہر ماہ منافع یا سود کی شکل میں مل جاتے ہیں . روٹی کھا لی اور بس اپنے سانس گزار رہی ہوں . جیل میں سزا کے دوران دمہ کا مرض ہو گیا ہے ، جس سے پھیپھڑے اب جواب دیتے جا رہے ہیں . رہائی کے بعد کچھ علاج تو کروایا ہے مگر کوشش یہی ہے کہ اب زندگی ختم ہو جائے تو بہتر ہے کیونکہ مزید اب سسک کے تنہائی میں گزارا نہیں ہوتا .- دمہ کے اب آسان علاج ہیں مگر میں بس وقتی دوا کھا کے گزارا کر رہی ہوں . چاہتی ہوں کہ کسی وقت ہچکی آئے یا کسی وقت دمہ کا ہی شدید اٹیک ہو جائے اور کھانستے کھانستے سانس واپس نہ آئے تو زیادہ بہتر ہوگا. وصیت میں اُسی بھائی کے بچوں کے نام مکان اور بینک بیلنس بھی لکھوا چھوڑا ہے . جب مروں گی تو خود ہی ان کو مل جائے گا. ہاں ….سزا کاٹنے کے دوران اور سزا کاٹنے کے بعد کبھی کبھی پچھتاوا بھی ہوتا رہا ہے کہ اتنا عرصہ گزار آئی تھی تو بھائی کو نہ ہی قتل کرتی .مگر انسان بے بس ہے .جو کر بیٹھتا ہے وہی اسے بھگتنا بھی پڑتا ہے .جب ایسا انسان ٹوٹتا ہے تو پھر اپنے ساتھ ساتھ اوروں کو بھی بے حس بن کر برباد کر جاتا ہے.کسی کی بہترین قسمت ہوتی ہے کہ قدرت مہربان ہو اوروہ انسان پشیمان نہ ہو . سیکس اک قدرتی دین ہے انسان کئ بار اس میں حد سے نکل جاتا ہے میں خود انسیسٹ سیکس کا دیوانہ ہوں پر صرف پڑھنے کی حد تک پھر بھی احتیاط ضروری ہے امید کرتا ہوں آپ کو سٹوری پسند آہی ہوگی فقط بانی لنک
  20. سلام دوستوں میری آج کی سٹوری کا عنوان ہے مومل جی ہاں مومل ایک نہایت حسین لڑکی جس نے مجھے پاگل کر دیا تھا دوستوں میری کزن کی شادی تھی اور میں وہاں اپنی فیملی کے ساتھ گیا تھا جب میری ملاقات اپنی کزن کی دوست مومل سے ہوئ اسے دیکھ کر ہی میں اسکی معصومیت اور حسن کا قائل ہوگیا مومل ایک بے حد حسین اور دلکش نقوش والی 16 سال کی لڑکی تھی اس کی خوبصورتی اور پھر معصومیت نے ہی مجھے اس کی طرف متوجہ کیا تھا پھر ایک میں اپنی کزن کے روم میں بیٹھا ہوا تھا جب میں نے اس کی ڈائری دیکھی۔ یہ دیکھ کر میں حیران رہ گیا کہ دونوں سہیلیوں میں حد درجہ پیار تھا۔ میں نے تبھی دروازہ کھلتا دیکھا تو ڈائری رکھ دی مگر تب تک مومل مجھے دیکھ چکی تھی۔ اس نے بڑے لاڈ سے مجھے دیکھا اور بولی کسی کی اجازت کے بنا ڈائری پڑھنا جرم ہے۔ مینے کہا سوری بس ایسے ہی نظر پڑھ گئ تو۔ وہ بولی اچھا کوئی بات نہیں میں نے کہا مومل تم بہت پیاری ہو۔ وہ معصومیت سے بولی ہاں گھر والے بھی یہی کہتے ہیں۔ میں نے کہا نہی سچی میں وہ کچھ نہ بولی بس نظریں جکھا کر جانے لگی تو میں نے کہا مومل میں تمہیں کچھ دکھانا چاہتا ہوں وہ بولی کیا۔ میں نے کہا یہاں نہیں اوپر سٹڈی روم میں تو وہ بولی اوکے آئیں میں نے سوچ لیا تھا ک آج اس کی لینی ہے ہر حال میں۔ مجھے پتا تھا ک اوپر کوئ نہیں جاتا۔ میں اسے لئے اوپر پہنچ گےا۔ سٹڈی روم کے اندر ایک سٹور تھا اور اس میں کسی کے آنے کے چانس نہیں تھے۔ جیسے ہی میں روم میں داخل ہوا تو وہ رک گئ میں نے کہا آو نا۔ وہ بولی یہاں ہی بتا دیں نا۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اندر کھینچ لیا اور دروازہ بند کر دیا۔ مومل کی سانس تیز ہو چکی تھی وہ سراسیمہ ہو کر بولی آ آپ دروازہ کیوں بند۔۔۔۔۔ میں نے اس کے ہونٹوں پہ ہاتھ رکھ کر اسے بولنے سے روکا اور کہا کہ مومل تم بہت پیاری ہو۔ بہت خوبصورت ہو۔ وہ ڈرے ہوئے لہجے میں بولی پلیز کوئ آ جائے گا میں نے کہا مومل میں تم سے پیار کرنا چاہتا ہوں وہ بولی ہرگز نہیں یہ غلط ہے۔ میں نے کہا مومل کچھ غلط نہیں میں تمھاری مرضی سے ہی کروں گا اور جہاں تم کہو گی روک دوں گا۔ کچھ پس و پیش کے بعد وہ مان گئ کہ میں اسے اوپر سے ٹچ کر سکتا ہوں۔ میں نے اس کے نازک بدن پہ ہاتھ پھیرنے شروع کر دئے وہ کچھ نہ بولی اور سمجھی کی میں ابھی اسے چھوڑ دوں گا آہستہ آہستہ میں نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا اور اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ میں نے اس کی قمیض میں ہاتھ ڈال میں نے قمیض میں ہاتھ ڈال کر اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ پہلےتو وہ کسمسائ مگر پھر چپ ہو گئی ابھی تک مجھے اس کی طرف سے کوئی رسپانس نہیں ملا تھا۔ آہستہ آہستہ ہاتھ پھیرتے ہوئے میں نے ہاتھ اس کی چھاتیوں کی طرف بڑھا دیا وہ تھوڑا پیچھے ہوئ اور میں نے بھی آگے بڑھ کر اسے دیوار کے ساتھ لگا کیا۔ میں دھیرے سے آواز دی مومل۔ وہ بولی جی۔ میں نے کہا کیسا لگ رہا ہے۔ وہ تھوڑی دیر بعد بولی بس کریں نا اب۔ میں بولا مومل اپنی قمیض اتارو۔ وہ بولی نہیں نہیں یہ غلط ہے۔ میں نے کہا مومل میں اپنی بات پہ قائم ہوں بس پیار کروں گا۔ دیکھو جلدی کرو کوئی آگیا تو تم بدنام ہو جاؤ گی۔ اس نے کہا اچھا پیچھے ہٹیں مگر پلیز کچھ الٹا نا ہو جائے میں نے کہا نہیں کچھ نہیں ہوگا۔ اس نے قمیض اتار دی اور ساتھ ہی اس کا برا بھی اٹھ گیا۔ اوہ مائی گاڈ اتنا صاف شفاف پیٹ اور ممے میں نے پہلی بار دیکھے تھے۔ میں نے اپنی قمیض بھی اتار دی اور آگے ہو کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔ پہلی بار اس کے بدن میں جھرجھری دوڑ گئی میں اسے ساتھ لگائے ہوئے ہی اس کی گردن پہ ہونٹ رکھ دئے اور چومنے لگا۔ چومتے چومتے میں اس کے نازک مموں پر پہنچ گیا۔ اس کے ممے دودھ کی طرح سفید تھے اور ان پہ ہلکے پنک نپل بے حد حسین۔ میں نے اس کے نپل چوسنے شروع کر دئے تو پہلی بار اس کی ہلکی سی سسکاری نکل گئی۔ میں نے پوچھا مومل کیسا لگا۔ وہ بولی بہت اچھا۔ میںنے پھر اس کے نپل پہ زبان پھیرنے لگا اور ساتھ ہی دونوں مموں کو ہاتھوں میں بھر کر دبانا شروع کر دیا اب اس کی ہلکی سسکیاں نکلنا شروع ہو گئی تھیں اور مجھے لگ رہا تھا کہ میری محنت رنگ لائے گی۔ میں نے اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کی شلوار کو نیچے سرکایا تو اس نے آسانی سے اسے اتار دیا جو اس بات کی علامت تھی کی آگ لگ چکی تھی۔ میں نے اس کی پھدی پہ ہاتھ پھیرا تو تڑپ کر اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا میں نے ہلکے سے ہاتھ چھڑا کر پھر ہاتھ پھیرا اور دھیرے دھیرے اس کی رانوں پہ زبان پھیرنی شروع کر دی۔ اب مومل کی سسکیاں نکل رہیں تھیں اور پھر میں نے اپنی زبان اس کی پھدی پر رکھ دی اور پھیرنے لگا۔ مومل کی ہلکی سی چیخ نکل گئی اور اس نے میرے سر کو پکڑ لیا۔ میں نے فورا اس کے ہاتھ پکڑ کر اور تیزی سے زبان پھیرنے لگا۔ اب مومل مزے کے ساتویں آسمان پر تھی اور مجھے اب اس کی پھدی کی برسات کا انتظار تھا۔ پھر کچھ دیر بعد پکڑ لئے اور اس کی پھدی نے پانی چھوڑنا شروع کر دیا۔ اس نے تب تک میرے بال نہیں چھوڑے جب تک اس کی پھدی پانی چھوڑتی رہی اور پھر جب اس نے میرے بال چھوڑے تو میرا پورا چہرہ اسکے پانی سے بھیگ چکا تھا۔ وہ وہیں زمین پر بیٹھ گئی میں اٹھا اور اپنی شلوار اتار دی اور اپنے کپڑوں سے رومال نکال کر اپنا چہرا صاف کرنے لگا۔ مومل ابھی تک بے سدھ پڑی ہوئی تھی۔ شاید پہلی بار فارغ ہونے کی وجہ سے۔ میں نے اسے ہلایا تو وہ اوں آں کر کہ اٹھی اور بولی آپ نے کیا کر دیا ہے مجھے۔ میں بولا مزا آیا۔ وہ بولی ہاں مزا تو بہت آیا پر اب مجھ سے ہلا بھی نہیں جا رہا۔ میں نے کہا کچھ نہیں ہوتا۔ وہ بولی آپ نے بھی کپڑے اتار دئے ہیں۔ کیوں۔ میں بولا کہ مومل یہ تو شروعات تھیں اصلی مزا تو اب آئے گا۔ وہ بولی نیں پلیز بہت دیر ہو چکی ہے۔ میں نے کہا۔ مومل پلیز جہاں اتنا صبر کر لیا تھوڑا اور کر لو پلیز۔ وہ بولی اچھا اچھا پر پلیز جلدی کریں میں نے کہا اوکے تم اب دیوار کی طرف منہ کر لو اور اپنی ایک ٹانگ اس سٹول پہ رکھ لو۔ میں نے سٹول کھینچا اور اس کی ٹانگ اس پہ رکھ دی۔ اب میں نے پیچھے سے اپنا کن جو کہ فل اکڑ کر سرخ ہو رہا تھا اسے مومل کی گرم پھدی پہ رکھا۔ مومل فورا آگے ہوئی اور بولی۔ آپ نے کہا تھا ایسا کچھ نہیں کروں گا۔ میں نے کہا مومل بس اوپر ہی پھیرنا ہے۔ اور کچھ نہیں کرنا۔ پلیز بس مجھے بھی فارغ ہونے دو۔ وہ بولی اچھا ٹھیک ہے پر پلیز اوپر سے ہی کرنا۔ میں نے لن اس کی پھدی پہ رگڑنا شروع کر دیا تھا۔ اتنی گرم پھدی کہ دل کر رہا تھا بس گھسا دوں اندر پر کہتے ہیں نا کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے تو اس لئے میں بھی انتظار کر رہا تھا۔ لن اوپر پھیرنے سے مومل کی سسکیاں پھر شروع ہو گئی تھیں ۔میں نے پوچھا مومل کیسا لگ رہا ہے۔ تو وہ سسکتی ہوئی بولی بہت اچھا۔ آپ کا وہ بہت گرم ہے۔ میں نے کہا مومل تھڑا اندر گھسا دوں۔ بہت مزا دے گا۔ وہ سسکتے ہوئے بولی۔۔ ننہییں دردرد ہوگا اور برداااشت نہیں ہوگا۔ میں نے اسکی گردن چومتے ہوئے کہا۔۔ مومل میری جان تمہیں پتا بھی نہیں چلے گا دیکھنا۔۔ وہ بولی۔۔۔ اااچھا پر آرام سے پلیز۔۔۔۔ میں نے لن پھیرتے پھیرتے آہستہ آہستہ اس کی پھدی کے سوراخ کو کھوجنا شروع کر دیا۔ اور جب مجھے لگا کہ اب لن ٹھیک سوراخ کے اوپر ہے تو میں نے اپنے دونوں ہاتھ مومل کی بغلوں کے نیچے سے گزار کر اس کی گردن کو کس کے پکڑ لیا اور اک زوردار جھٹکا دیا میرا لن پھسلتا ہوا دو انچ تک مومل کی پھدی میں گھس گیا۔ اگر میں نے بروقت مومل کے منہ پہ ہاتھ نہ رکھ دیا ہوتا تو اب تک سارا گھر اکٹھا ہو جاتا۔ مومل نے نے خود کو چھڑوانے کےلئے زور لگانا شروع کر دیا۔ تبھی میں نے ہمت کر کے ایک جھٹکے سے اپنا باقی سارا لن بھی اندر گھسا دیا۔ مومل اب ایسے تڑپ رہی تھی جیسے بن پانی کے مچھلی تڑپتی ہے۔ میں نے اب اس کے منہ سے ہاتھ ہٹایا تو وہ روتے ہوئے بولی آپ نے میری جان نکال دی۔ اتنا درد مجھے آج تک نہیں ہوا۔ میں نے کہا مومل بس اب جتنا ہونا تھا ہو گیا۔ اب صرف مزا آے گا۔ پلیز۔ پر وہ نہی مان رہی تھی۔ میں نے ساتھ ساتھ لن ہلانا بھی جاری رکھا اور پھر آخر کار کچھ دیر بعد اسے تھوڑا چین آیا میں نے پوچھا مومل اب کیسا لگ رہا ہے۔ وہ بولی۔ بس اب بس کریں مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔ مجھے اس پہ ٹوٹ کہ پیار آیا۔ میں نے کہا مومل جان بس اب مزا آئے گا۔ ساتھ ہی میں نے لن باہر نکا کر اندر ڈالا اور ہلکے ہلکے جھٹکے لگانے لگا۔ اب دھیرے دھیرے مومل بھی نارمل ہو رہی تھی اور اب مجھے اس کے فارغ ہونے کا انتظار تھا۔ پھر وہ وقت بھی آگیا۔ مومل کی پھدی پہلے ہی بہت ٹائٹ تھی تو اب اور ہو گئی اور اس نے میرے لن پہ برسات کردی۔اب مومل نارمل ہو چک تھی۔ میں نے اب اپنی رفتار تیز کر دی اور پھر میں نے لن باہر نکال لیا اور فارغ ہوگیا۔ مومل ابھی بھی مجھ سے بات نہیں کر رہی تھی۔ میں نے آواز دی مومل۔۔ وہ بولی۔۔ کیا ہے۔۔ میں نے کہا جان ناراض مت ہو پلیز۔ وہ بولی اچھا نہیں ہوں۔ اب چلیں میں نے کہا ہاں چلو
  21. BV ko Boht Muddat k baad pta chla k uska Shohar Mrdana Kmzori ki Waja se Plastic ka'Lun' use krta hy, Bv: Ap ne aisa Q kia? Shohar: Jany do Bat barh jay gi. Bv: wo Kesy? Shohar: Ma ne Kabhi Tum se pocha k Pinki or Papu Plastic K Lun se kese Paida ho gaye? bivi: o g tussi ta gussa hi kr gaye . "''"
  22. Hi friends Main Baani Lincoln Main Pakistan se hun yah meri pehli kahani hai jo main likh raha hun or main koi writer nahin hun is liye agar koi ghalti ho jaaye toh pls maaf karna or main start karne se pehlay Story.Maker bro ko thanx kehna chaunga jin ki badolat main yeh story start kar raha hun toh chaliye chalte hain story ki tarf yah story thodi scahi or thoda sa mirch masala hai par main poori koshish karoonga k is real banana ki koshish karoon waise isi start se meri zindagi k naye dork a aghaaz howa that oh chahalie story ki tarf Story hai Meri Meri mom ki friends sab se pehlay intro Introduction:- Main: Baani-Lincoln Age: 22 Father: Ashraf Age: 51 Mother: Ayesha Age:39 Brother: Saad Age: 16 Story: Yah aaj se 4 saal pehlay ki baat hai tab main 18 saal ka tha sab kuch acha chal raha tha Main,Mera bhai or maa sab Gujrat main 1 gaon rehaty hain abu kaam ki wajha se Lahore rehtay thay wo 1 Govt Servant thay is liye main us waqat 10 k exams de raha tha kiun k shuru main abu ki postings ki wajha se meray 3 4 saal waste ho gaye or muje classes repeat karni padi jiski wajhase main class main sab se bada tha bachay mera mazaaq udatay thay par maine himat nahin haari or sisak sisak kar matric k exams diye main tab tak sex k baare main kaaafi kuch jan chukka tha k sex kaise hota hai par kabi kia nahin tha bas ladkon se sun rakha tha tab hum ne net b nahin lagwaya tha isi beech meray exams main abi 2 month thay k mera 1 dost mujhe bulanay aa gaya meray ghar main use apne kamre main le gaya usne meri maa k samnay kaha k group study k liye aaya hai kamre main aa kar usne mujhe 1 ghanda magazine apne bags nikal kar dikhya pehlay toh meray hosh ud gaye kiunki main wo pehli baar dekh raha tha us main bohat c aurton ki adnangi tasveerain theen main fat se uth kar kamre ka darwaza band kia or uske pass aa kar wo magazine dekhne lag pada dekhte dekhte mera trouser main akadan hone lagi or mera lun tan gaya rod ki tarha mera dost (Name:Majid) kapdon k upar se he apne lun ko aagay peechay karne lag pada toh maine kaha kia kar raha hai usne kaha muth maar raha hun maine muth k baare main toh suna tha par kabi maarne ki try nahin kit hi usko dekh main b lun par hath maar raha tha k thanda ho ja or wo page palat kar magazine dekhata raha maine us se poocha yah usne kahan se lia toh usne kaha k uske 1 dost ne laya hai us se udhar le kar aaya hai dekhat dekhtay Majid ka toh paani nikal gaya or uski shalwa geeli ho gayee maine use kaha abe yah toh gandy ho gaye toh usne kaha koi nahin maza b toh aaya hai phir wo thodi der beth kar baatain karta raha sex k baare main hamari teahers k boobs etc k baare main or phhir chala gaya uske jaate main fata fat washroom main gus gaya or kapde utar diye mera lun beth chukka tha maine us pet hook lagana shuru ki or usay haath main lekar agay peechay karte un pics k baare main sochne laga bada maza aa raha tha jo yahan bayan nahin ho sakta (Pehla Nasha, Pehli Muth or Pehli Chudai Waqai badi Mazaydar hoti hai).Lekin thokk se lubrication sahi nahin ho rahee thee toh maine saabun lekar lun par lagaya or pics ko yaad kar k lun agay peecha karta raha or 1 dum aisay laga jism se khoon ki phwar phoot padegi badi mushkil se khud ko roka warna awazain bahir jaa sakti theeen or maine zindagi ki pehli mth maari pooray jism main 1 ajeeb c lehar dodth gayee sakoon mil gaya badi mushkil se naha kar bahir nikla or kamre main jaa kar bistar par so gaya. Sham ko utha toh bukhar s mehsoos ho raha tha tea pi kar baahir khelne nikal gaya raste main majid mila main or wo 1 saath ground ki taraf chalay gaye jahan ladke cricket khel rahe thay aaj khelne k mann nahin than is liye usko kaha k aa side par beth kar baatain karte hain mosam baaarish ka lag raha tha 1 side par beth gaye hum dono (aap ko batata chalun k school main mera dost sirf majid e tha uski age 16 saal thi hum dono best friends ki tarha thay par sex ki batain b 1 hadh main rah kar karte thay abi hum itne pakke nahin tha in kaamon main) toh mainne us baat start ki or use bataya k aaj maine pehli baar muth maari hai toh wo mera mun herani se dekhte howe Majid:Kya tune aaj tak kabi muth nahin maari or has diya Me:main thoda sharminda howa par kuch kaha nahin bas kaha k aaaj e magazine dekh kar maari hai Toh usne kaha Majid: or kia tune kabi kisi larki ya orat ko b nanga nahin dekha kia Me: maine haan main sir hila dia toh wo kareeb aa gaya Majid:kisi ko kia b nahin hoga Kia toh maine b nahin par Me:1 dum chonk kar par kia Majid:karna chahata hun par dar lagta hai Me: mujhe b or phir hum dono saath hans diye Phir maajid batane laga k wo apne ghar ki chath se ssath waale ghar main jo rehta hain unki larki ko ghar k sehn main safai karte howe dekhta hai or uske mammon par muth marta hai phir hum isi tarha idhar udhar ki batain karte rahe or maghrib k waqt main ghar aane laga toh usne kaha Majid:Tu kal subha 8 bajay tak meray ghar aa jaayeen. (humain School se prepration k lie chutian ho gayee theen gaon main aise sab chalta tha) Me:theek hai or ghar aa gaya Aaj bohat thakawat mehsoos ho rahee thee jaise bohat kaam kia ho or badan dard se toot raha ho khana kha kar painkiller le kar so gaya Next day: Aglay din main tayar hokar 8 bajay Majid k ghar ponch gaya wo mujhe dekh kar fat se bhaagta hiwa aa gya muhse ziada toh wo excite ho raha tha pass aatay e Majid:acha kia jo time par aa gaya warna bohat bada chance miss kar deta Me:maine chonk kar us se poocha kya Majid:Bola are yaar uski maan idhar hamaray ghar aayee howee hai baap uska kheton main hoga Bhai bahir awaara gardi par ab chal meray peechay Me: main uske peechay uske ghar ki chath par aa gaya phir hum dono ne uske ghar ki deewaar phlang kar saath walay ghar ki char=th par aa gaye or usne mujhe neechay ho jaane ko kaha or phir hum dono chath k pass jo jangla sa bana tha deewar ka usmain design k liye sorrakh tha wahan se nechay dekhnay lage or phir tabhi wo aaye Majid:iska naam Humaria hai Me:main toh usko dekh kar dang rah gaya wo kaafi khoobsurat thee saaf rang bhara howa jism uske mammay or gaand bohat moti thi jab wo aye toh usne dupatta nahin liya howa tha bas jadu pakda howa tha main or maajid us e dekh rahe tha or wo jadu laga rahee tha kabhi kabhi uske aaday mammay dekhtay toh mera toh saaans ruk jaata maine or Maajid ne apne pane lun kapdon k upar se he haaton main lekar aagay peechay kar rahe thay k tabhi darwaza baja main or majid chonkse gaye Humaira Jadu chodh kar darwaza dekhne gayee meri or majid kin azar b darwazay par he thi par jab darwaza khula toh baahir chacha Bashira Khada tha use dekh kart oh hum dono 1 dosray ko dekhne lagay k yah yahan kia kar raha hai (Chacha Bashira umar 45 saal iske baaray main gaon main mashoor tha k randi baaz is liye koi is ziada milna pasand nahin karta tha ) Chacha Bashira:Tera Abba ghar pe hai Humaira:Nahin Chacha:Teri Maa ya bhai Humaira: nahin Chacha:1 glass paani la da Humaira: theek hai Chacha: uski Gaand ko ghoor kar dekh raha tha Majid or main b neechay ka saara manzar ghoor kar dekh rahe tha Humaira: paani laa kar chachay ko dia Humaira ne abi tak dupatta nahin lia tha Chacha paani peetay howay baar baar uske Mammay ghoor raha tha Glasswapis karte howe chacha ne uska haath pakad lia humaira b kuch na boli Chacha Bola: Ni Humairay teray haath toh bade naram ho gaye hain saare ghar ka kaam teri maa kia teray se leti hai Humaira: haan chacha bohat kaam karati hai khud toh kuch karti nahin Chacha: tu kahe toh teri maa se baat karo Humaira: Kis baare main Chacha: are yah e k tujhse itne kaam n alia kare kiun tu kia samjhi Humaira: kuch nahin Chacha: kuch toh tha Phir humairaa ne apna haath chuda lia or chachay ko dekhne lagi or Humaira: aisa kuch nahin ab aap jaayie koi aa jayega Chacha: kiun darti kiun ho Humaira: nahin or mud k jaane lagi Tabhi chachay ne darwaaza band kia or jat se Humaira ko peechay se pakad lia Humaira: 1 dum chonk gayee or chutne ki koshish karne lagi or boli chodiye mujhe koi aa jayega Chacha: aa jaaye jis ne aana hai main kisi se nahin darta or Humaira apne baazon ki ghrifat main kas k pakde rakha or jatke marta raha Upar main or Majid b sab dekh kar excite ho rahe tha k tabhi chacha uske mammay dabanay laga or Humaira uchalnay lagi or chacha mazay main kabi uske mammay or kabi uski chut ko masalta jaye or wo chutne ki koshish karne lagi or haar kar masti main siskian lenay lagi uski yah halat dekh kart oh hamari b siskian nikal jaati par aankhain paadhe hum unhain dekhte rahe Tabhi chache ne use chodh dia shahaid wo farigh ho gaya tha par humaira bohat garam ho gayee the or shahaid farigh b upar majid b apna paani nikal chukka tha par main abi b khada dekh raha tha Wo dono sehn k thaday par beth kar hanpne lage phir chache nu usay kaha k kal wo uske kheton main aa jaye Or phir wo nikal gaya or hmaira darwaza band kar k washroom main ghus gayeee or majid ne mujhe kaha ab chal or haum uske ghar aa gaye or uske kamre main toh wo mera khada lun dekh k bola Majid: abay tera abi tak khada kiun hai Me: are yaar abi tak mani nahin paani nikla Majid:kya Me: mujhekal wala magzin de Majid ne mujhe dia main use dekhne laga or lun ko agay peechay karne laga tab usne kaha nikal baar or jaldi se farigh kar ise Me: pehlay toh mujhe ajeeb laga par jab uski taraf dekha toh wo apne kaode nikal kar washroom ja raha tha or phir wapas aa kar nanga e kursi par beth gaya phir maine b trouser nikal kar lun par thook laga kar muth maarne laga or wo b sex ki baatain karne laga jab main farigh ho gaya toh hum beth kar baatain karne lagay humaira or chachay k baare main toh Majid na kaha Majid: kal tayar rehna meray pass 1 plan hai kal 8 bajay yahan aa jana Toh maine kaha theek hai or phir apne ghar aa gaya or study karne laga sham ko bahir ghoomne nikal gaya wapas aa kar khana khaya or raat ko sone se pehlay main washroom gaya or aaj ke waqae ko soch kar H.P karne laga or muth maar k aa k so gaya Next day: Subha uth kar nashta kar k main jaldi se Majid k pass aa gay wo mera intzar kar raha tha hum kheton ki taraf chal pade toh maine kaha Me: kia chal raha hai teray dimagh main Majid: yaar haath maar maar k meri bas ho gayee hai ab toh chut he marni hai Me: abe wo kaise marega Majid: Yaar 1 plan hai par tu us main mera saath dega Me: pehlay bata Plan kia hai Majid: yaar hum chal k chachay bashiray ko kehtay hain k hum ne kal us dekh lia tha or agar wo 1 baar humain b Humaira p haath saaf karne de nahin toh hum HUmaira ko bata daingay k humain pata hai wo chachay k saath b nahin karegi Me: yaar sochle chacha mana na karde Majid: are wo mana nahin karega use pata hai agar mana karega toh 1 chut haath se chut jayegi Me: par Majid: par war chodh humain 1 chut mil jayegi or maza b ayega Me: chal dekhtay hain Jab hum wahan ponchay toh chacha Bashira humain wahan dekh kar chonka phir apne hwas par kaboo pata huye muskura diya Or bol oh tum log idhar kahan rasta bhool gaye aaj toh majid bola Majid: bas chacha aaj bada mann tha tum se milne ka Chacha:kiun aaj kia khaas hai (Majid ne jo kaha wo maine b nahin socha tha jab maine chachay ko dekhta toh uska b munh ada khula reh gaya.) Majid: aaj Humaira jo aane waali hai (Maine socha nahin tha wo itni jalddi pint ki baat par aa jaye ga) Chacha: khud par kaabu paa kar kon Humaira Majid: wo he Babay Dinnay Ki beti Chacha: haan toh wo yahan kia lenay ayegi Majid: Dekh chacha ziada ban mat humain sab pata kal tune us ke saath kia kiya hai or ab wo idhar aa rahi ahi hai tu uske saath kia karne waala hai Chacha 1 dum bokhlaya howa lag raha tha phir bola Chacha: acha bol tu kia chahata hai Majid: chachay hum yahan tujhe mana karne nahin aye bas itna chahate hain k tu humain b Humaira par haath saaf karne de Chacha: dekh yaar main mana nahin karoonga par yah sab kaise hoga agar usne tum dono ko yahan dekh lia toh wo mujhe b kuch nahin karne de gi Majid: are chacha jab wo ayegi toh hum chup jaingay or tu apna kaam shuru kar dena phir hum tum dono ko range haath pakadne ki acting kariaingay phir tujhe bahir bulaingay or tu dobara under ja kar us se kehna k wo humain b karne de warna hum sab ko bata daingay Chacha: theek hai phir tum dono chup jao Main or Majid chachay ke deray par 1 kamray main chup kar saath walay kamre ka nazara dekhna k intizaar karne lage kuch dair baad bahir kisi ke aane ki aahat howee Majid nab hair dekha or phir mujhe bola k wo aa gayee hai Phir hum dono kamray ki deewar se banay sorakh main se under ka nazara dekhne lagay Chachay na darwaza band kar dia or usko kiss karne laga or phir jhat se uske kapde nikalne laga or apne b phir uske motay santray jaise mammay haaton main leaky daba raha tha aise kisi ladki ko pehli baar nagna dekh kar main toh pagal sa ho gaya Under chacha uske mammay daba daba kar kabi choos choos kar mazay le raha tha phir chachay ne apna 6 inch tana howa lun uski chut pa rakha toh wo siskian leny lagi or apna dair sara thook uski choot par phenk kar or apne lun par laga kar pehlay jatka mara or Humaira cheekh padi uski cheekh sun kar hum dono 1 dosray chehray dekhnay lagay or phir under Under chacha ab uske hont chuss raha tha or uske mammay kheench kheench kar uska dard kam kar raha tha or phir dosra jatka mara is baar chachay ne apna munh uske honton par he rakha or phir munh hata lia chachay ka poora lun humaira ki chut main tha or ab wo rote howe kah rahi thee nikaalo ise bahir main mar jaongi haye meri maa par chach kahan sune ne wala tha thodi dair baad chachayne apna lun uner bahir karna shuru kar diya or 10 min b nahin howe thay ko chacha us par karata howa gir pada tab he Majid ne mujhe kaha chal hum jab bhair aye toh wahan koi nahin thodi dair baad usne chachay or humair kki chudai walay kamrayy par zor zor se hath marna shuru kar dia chachay n jab darwaza khola toh Majid chachay ko daka de kar uner ko lapka or humaira nanga dekh kar muskrat kar chachay ko bahir le aya bahrir aa kar usne chachay se kaha Majid: dekh chacha tune toh mazay kar lie ab jaa kar usay bol hamaray baaray main Or chacha kamray ki taraf mudd gaya thodi dair baad aa kar Majid ko bola k wo roye ja rahee hai Toh majid ghusay se chachay ko bola k tu yaheen ruk or mujhe lekar under aa gaya Huamira ne kapde pehn liye the Tab Majid bola Majid: ae Humaira meri baat kaam khol k sun le agar tu yah baat na maani toh terat baap or hai ko yah saari baaat bata dounga or pooray gaon main tab teri kia izat rah jayegi Humaira: main dobara nahin karoonga mauje jane do Majid yah sun kar tap gaya or bola Majid: main yah baat dobara nahin kahoonga kal sabha kuch b kar k 10 ya 11 bajay tak yahan aa jana Or mujhe lekar bahir aa gaya Jab hum wapis ja rahe the toh usne kaha kal yah jab aayegi toh hum iski jam kar chudai karaingay Phir wo apne ghar chala gaya or main apne ghar aa kar main fat sa washroom main ja kar Humaira ki chdai ka soch ka muth marne laga Aaj ka din kal jo karna usko sochte guzar gaya Next day: Main subha nashta kar Majid k pass aa gaya or hum Kheton ki taraf chal diye Wahan ponch kar humain chacha b mil gaya or humse baatain karne laga or bola k aaj mujhe b apne saath shaamil kar lo na toh majid bola Majid: Dekha chacha kal tune kia hum beech main aaye aaj tu b hamaray beech na ayeen or kissi ko aane b mat dayeen yahan par ruk kar pehra dayeen Theek 10 : 15 par wo aa gayee Wo bohat dukhi lag rahee thee Usko dukhi dekh kar mujhe waqaei bohat bura laga par main khud b 1 chut haath se nahin jaane dena chahate tha is liye kuch nahin bola phir main or majid usko lekar usi kamray main aa gaye or majid ne wo deewar ka soraakh band kar diya or kundi laganay laga Or jab wapas aaya toh mujhe laga k Humaira ko raazi karna chayie warna mazaa nahin aayega or zabardasti main karna nhain chahata that oh Humaira k pass betha or use kaha k dekho zabardasti karne ka humain koi shoq nahin par hum mazay karna chahatay hain or tumhain is baat ki guarantee deta hun k yah baat abi bahir nahin ayegi Phir uska haath pakad kar zor se daba dia or Majid bola Majid:Shuru karain or usne apne kapde utarna shuru kiya Or maine par hum ab soch rahe tha k pehlay shuru kon kare phir hum ne socha chalo toss karte hain or main toss jeet gaya Majid side wali kursi par beth gaya or main Humaira k pass aa kar uske sir ko pakad kar uske hont kiss karne laga main who lums byan nahin kar sakta zindagi ka pehal kiss wo b lipp lock oh ho main uske honton k tezi se chuss raha tha neechay meraa lun ucchal raha tha kisiing karte howe kabi wo mera thook munh main leti or kabi lain uska or saath saath uske mammay zor se dabayi jaa raha or uski kamar par hath phernay laga jo sab maine suna or kal dekha tha bas usi ko appli kiye ja raha tha Phir maine uske charpayee pe leta diya or khud uske upar aa gaya wo farigh ho chuki thee or uski chut par chip chipat mehsoos ho rahyee thee toh main Majid ko 1 kapda lane ka liye kaha or uski chut ko saaf kia kal ki chudai k baavjood uski chut bohat tight lag rahi thee toh maine b chut par thook paine or lun ko thook se geela kar k uski chut main daalne wala tha k majid Bola Majid: ruk Me: kiun Majid apne kapdon ki jaib se tail ki bottle nikal kar pass aya or uski chutt par tail dala or mujhe bottle pakda kar bola lun par laga le or hans diya maine aise e kia or phir uske upar hokar lun chut par rakh kar ragardne kaga wo siskian le rahi thee sss hhhhhhhhhhhhssssssssssssss Haaaaaaaaaaaaaassssssssssssssssssssssss jaldi karo Or maine moqay ko ghaneemat jana or chachay ki tarha chut k sorakh par rakh kar 1 zordar jatka mara or tadapne lagi or cheeekhne k mujhe chodh do uski chut ka sorak bohat tight tha aisay lag raha tha jaise kisi sorakh main phass gaya hai or ab agay rasta nahin hai Main use kiss karne lgaor uske mammay dabaanay laga uske nipples bohat tight ho gaye shahaid jawani ka asr tha ya chudai ka Or jab laga k ab araam hai toh lun bahir nikal kar dosra jatka mara toh usne meri kaa=mar ko nochna shuru kar dia par us time mujhe kuch mehsoos nahin bas sex ka nashi Chadha howa tha or main uski chut main daal kar ruk gaya or kissing start rakhi phir thodi dair baad uski jab wo thodi deli padi toh uski chut main jatkay maarnay laga is beech wo 2 baar fraigh howee uske paani se lubrication main kaafi mazza aa raha tha shahaid chut tight thee is liye or takreeban 10 12 min main main farigh ho ho gaya uske saamne tikna bohat mushkil tha or main us par gir gaya or lambi lambi saansain lenay laga 2 3 min baad Majid bol Majid: ab uth ja yaheen sona hai kia mujhe b kuch karne de Or main uth kar kapde se lun saaf karke kapde pehn kar bahir nikalne laga tab wo kissing main masroof the Bahir aa kar main chachay k pass baith gaya chacha or main 1 dusray ko dekh kar hansne lage 20,25 min baad Majid b aa gaya wo ziada kush nahin tha par maine us se poocha nahin is ke baad main Humaira se kabi nahin mila us se karne ko dil nahin karta tha jo 1 saath itne mardon se karti ho. Is waqae k baad meri zindagi badal gayee or 1 naya dor shuru howa agar aap ko or b kuch janan hai toh apna feedback comments main dijye or main aap ko yaqeen dilate hun agar aap mujhe feedback daingay toh main 1 long incest b likhoonga or use har haal main poora karooonga and once again thanx to Story.Maker Bro Update 2: So friends itne susat feedback k baad 1 baar phir hazir hun new update k saath Humaira ki chudai k baad main apni studies main masroof ho gaya tha kiunk exams sir pet ha lekin main time nikal kar Majid se milne jata raha beech beech main wo thoda upset tha kuch din toh maine us se pooocha nahin par 1 din sham ko main uske pass betha tha toh maine us se pooch he lia Me: oh mejiday tujhe kia howa us Humairaa ki chudai k baad se tu aise chup kiun hai Majid: oh yaar kuch nahin Me: kuch toh hai sach sach bata kia baat hai Majid: thoda soch kar yaar us din uski chudai karte waqt main bohat jaldi farigh ho gaya tha or wo saali randi mujh pe hans rahi thii Me: toh yah baat hai Majid: haan yaar koi rasta bata Me: yaar tu ziada muth na mara kar yah sab usi ki wajhase ho raha hai Majid: haan yaar shahaid tu theek kah raha hai Me: muth k saath saath apni seht par b dihan de Majid: theek hai yaar main is aadat par qaabu paane ki koshish karoonga Me: chal sahi hai main chalta hun exams ki tayari b karni hai tu b kuch pardh le ja kar aba ji ne is baar kaha hai agar main exams pass kar gaya toh jo kahoonga lekar denge Majid: toh kya le ga exmas k baad Me: abi kuch socha nahin yaar Majid: yaar computer mang le Me: abe uska hum kia karainge Majid: are yaar tu toh bilkul anadi hai Me: ab kia hai jo mujhe nahin pata Majid: are yaar suna hai aaj kal blufilms bohat aa rahee hain samhaj raha hai na Me: kuch kuch Majid: bas tu computer e le tujhe bluefilms la kar dena meray zimay Me: chal sahi hai ab main chalta hun Ghar aa kar daily routine start kardi subha nashtay k baad study karta dophar main aram or sham ko phir study karta Isi beech exams sir par aa gaye Exams ki tension main sex or muth ka soch nahin saka Exams k end k baad main Majid k pas gaya to usne kaha k wo apni Mausi/Maasi k ghar ja raha hai Yah sun kar mera mood off ho gaya Or main ghar aa gaya ghar aya toh Maa: are beta Baani tu aa gaya acha kal subha teray abba aa rahe hain hain unke subha ja kar le aana Pehlay b mood ioff the ab or ho gaya Abu k ghar hotay howe main bhair awara gardi nahin kar sakta tha darr lagta hai Main jakar kamre main late kar guzray howe din soch kar excite hota raha or lund ko masalta raha Raat khane k baad sone se washroom main chala gaya or Humaira ki chudai ko 1 baar phir soch kar itne dinon ki gharmi nikali par aaj pata nahin itne dinon baad paani ki miqdaar ziada hi or main thak kar zameen par beth kar saans lenay laga poora wajood halka halka lagne laga jaise bohat bada bohj utar gaya ho or phir naha kar kamre aate he so gaya pata he nahin chala subha bhai ne uthaya Saad: Bhai utho late ho jayo ge abu ko kar le aao Me: mera uthne ka dil nahin tha par abu ka naam sunte fat se uth kar haath munh dohaya or chacha k ghar chala gaya Meray chacha b isi gaon main rehtay hain wo kheti bari karte hain ziada pardhe likhe nahin hai hamari zameen b wo kaasht karte hain mujhe unse bike leni thee kiun k hamaray pass bike nahin thi kiun k abu ne mana kar dia tha lenay k liye k wo ghaaar par nahin hote is liye chacha se he zaroorat padhen par maang lia karoon Main chacha k ghar gia toh Chacha family: Chacha: Age 45 Chachi: Age toh pata nahin par chudakd lagti hai sahi baarhde barhde chutadh or tarbooz jaise mammay 2 betiyan 1st Beti: Rabia thodi sanwli bar attractive hai wo is waqt 17 ki thi Par 20 ki lagti thee 2nd Beti: Marium age 15 kad 5 feet par khoobsurat hai Chacha ka koi beta nahin tha in dono k hone k baad chacha ka 1 accident howa tha uske baad se chacha ki koi aulad nahin howee Main gaya toh chacha chichi bohat kush howe maine unhai salam kia or abu k aane ka bataya or bike maangi tab tak Rabia or MArium b aa gayeen or salam kia Main nikalne laga toh chichi ne kaha k aaj sham ka khana hamara un ki taraf hai Abu jab b aate the toh chacha hamara khana/dawat karte the (is dawat ka b 1 maqsad hota tha jo aage chal kar aap ko bataonga) Main bike lekar nikal gaya or gujraat shehr aa kar shaheen chowk par bas ka wait karne laga 30 min baad bus aa gayee or abu utray toh rasmi salam dua k baad hum chalne lage toh abu ne kaha bike wo chalaian ga unhain meri driving pasand nahin the 30 40 min baad hum ghar ponche toh saad bohat kush tha uske exams ho chuke the or usne abu se apne liye poetry books mangwayee theeen use poetry ka bohat showq hai Salam dua k baad hum sab ne subha k nashta kia toh hum sehn main bethay the jab aba ji ne guftagu main meri study ka poochna shuru kar dia Abu: haan barkhudar tumharay exmas kaise howe acha result ana chahaiye Me: g umeed toh hai 1st div main pass ho jaonga Abu: good agar 1st div main pass howe toh jo mango ga milega Me: mujhe computer chahaiye Abu: sirf 1st div ki urat main Me: ok Or main apne kamre main aa kar araam karne laga or sochne laga k jab computer aa jayega toh bluefilms dekhunga kabi dekhi jo nahin theeee (Abu k ghar rehtaymain bhair nahin jaata tha koi kaam na keh dain or main ghar pen a howa tph bohat dant padegi mujhe abu kid ant se bohat dar lagta hai bade sakht mazbhi kisam k aadmi 5 waqt k namaazi unke ghar pe hote mujhe b 5 waqt k pabadni karni padhti) Or sham ko hum sab chacha k ghar khaane pe chalne k liye tyar hone lage sab ko pata tha aaj ki dawat ka. Update No 3: Hum sab log tyar ho kar chacha g k ghar chal pade aage abu or ami or peechay main or mera bhai unko follow karte howe bhai mujhe apni books k baare main batata raha or main 1 kaan se suntan 2sre se bahir nikaal deta Chacha g k ghar par chach g ki family ne hamara welcome kia or ham unke sehn main beth gaye Chichi ne specially aaj mujhe gale b lagay kuch samhaj nahin aa rahi thee kia chal raha hai or Rabia b nazar nahin aayeee or upar se itni ao baght kuch khatka toh howa par zehn nahin maana Aaj khana b kuch special he lag raaha tha khanay par chacha ne mujhe aone pass bitha lia or stody ka poochne lage or ab aage kia karna hai etc…………………. Jab hum nikle toh chichi chichi bohat pur umeed nazron ko mujhe dekh rahe the Ghar aa kar hum sehn main beth gaye or thodi dair baad jab ami or bhai chala gaya toh main b uth kar Janay laga toh abu ne rok liya Abu: Baani ruko mujhe tumse zaroori baat karni hai Me: thoda pareshaan ho gaya pata nahin ab kia ghalti kardi maine jo inki daant sunni padegi Abu: Maine,tumhari Maa ne or chacha,chache ne tumhara rishta Rabia k saath paka kar dia hai Me: abba rock beta shocked Abu: 1 baaat kaan khol k sun lo aga is rishtay se inkar kia toh main tumhain jaidad se aaq kar doonga Me: par par…………. Abu: koi par war nahin yah akhri faisla hai Kuch dair khamoshi k baad Abu: dekho yah faisla ghaatay ka sodha nahin hai Me: ankhain phaad kar abu ko dekhne laga Abu: dekho tumhare chacha ki koi aulaad nahin hai or Rabia ki tumse shaadi k baad wo tumhain aadi jaidad daingae Rabia k hisay ki is tarha jaidad b ghar main he rah jayegi ME: chup chaap betha in sochon main k maine toh kabi use(RAbia) ko aisi nazar se nahin dekha Abu: dekhi mana k wo thodi sanwali hai par tum jaante dolat hone se jo marzi kar sakte ho Mujhe is se koi farq nahin parhdta k tum ghar se bahir kia karo par is ghar main sirf Rabia ayegi Or wo uth kar chae gaye or main abi tak sochon main ghum tha k tabhi kisi ne mujhe kandhe se hilaya Dekha toh ami khadi theen Ami: dekh beta mujhe pata hai teray aba ne tujhse jo baat ki hai dil toh mera b nahin hai par itni jaidad hum ghar se bahir nahin jane de sakte Abu ki baatain sunkar toh ehlay he shocked tha ab ami b uff maine apna sir pakad lia Ami: kisi ladki wadki ka toh chakar nahin hai Me: nahin Ami: Phir tu aise mat soch bas acha soch or ja kar araam kar kal teri phupo b aa rahe hain teri mangni jo karni hai. Or ami chali gayeen Main sochte sochte uth betha or kamre main aa gaya mujhe khud par abu ami par bohat ghusa tha k main is faislay k khilaaf kuch kar nahin sakta tha phir maine b soch lia agar yah aisa kar rahe hain toh main b ab inki nahin suno ga (Matlab bhair randi baazi karoonga faisla toh manana he padega warna aba ghar se nikal deta or iski b 1 wajha hai kiunke meri dono phupon ko abu or chachu ne bohat mehnat se cith stufy k liye bheja tha par unhon ne wahan ameer ladke phansa kar apni man maani kar k shaadi kar li unke is faislay ki wajha se chacha toh unse baat kar letay the par abu ne unke taraaf jaana band kar dia tha or agar kabi wo aati toh chaca k ghar rehti abu unse baat karna b pasand nahin karte theis liye main koi risk nahin lena chahata tha) Suha bhai ne mujhe uthaya wo hans raha tha uski hansi dekhte mera ghsua phir se jag utha or maine use bhaga diya Fresh hokar Nashta kia toh aba ji kadak awaz main poocha Abu: Haan barkhodaar kia faisla kia hai Me: kadwa paani k ghunt bharta huwa jaisa aap ko theek lage thodi der mujhe dekhte rahe phir nashta karne lage Uske baad abu jaate howe mujhe kuch kehne lage Abu: kal hum ne tumhari manni rakhi haisirf kuch khaas logon ko he bulaya or Ami ko ishara kia or chale gaye main khana khane laga toh ami boli Ami: aaj tumhari phupho dopehr main aa rhaee hain unko jaa kar le aana aaj ka din wo idhar he guzaar rain gi or raat chacha ki taraf oor sham tak tumhari khala b aa jayaingi apne bachon k saath Or main bahir nikal gaya awara gardi karta or yah sab sochte jo 1 dum se ho raha tha Phir ghar aya toh aba g ne carry dabba mangwa lia tha or mujhe kaha iske saath jaao or ghar ka saamaan le ao or phupo logon ko b (or munh ghuma kar chale gaye) Main van k driver k saath city aya zaruuri saaman shop se liya or busstand par aa kar phupo logon k aane ka wait karne laga 1 hour k baad unki bus aa gaye or wo sub utray unke saath unke husbands nahin aaye tha wo bussy rehtay thay corporate lawer thay Phupho Family: 1st phupho: Rubina: age 40 k kareeb mid fatty like chubbies 2 bachay par chotay hain Husband: Criminal Lawyer 2nd Phupho: Qudsia 37 saal body like porn star Margo Sullivan 1 beti abi 9 saal ki hai Husband: Corporate Lawer (Yah dono 1 he college main inter kar rahee theen jahan inhon ne law college k 2 friends ko pata liya or Abu or Chacha k khiaal ja kar unse shaadi ki) Dono baari baari gale mileen or tabeeyat etc poocha phir hum van main beth kar ghar ki taraf chal pade Vand Discussion: Rubina: are Baani kia zaroorat the uski kaali(Rabia) se shaadi ki Me: unka yah kehna mujhe acha nahin laga kiun k Rabia se mujhe koi problem nahin thee wo 1 achi arki thee par maine sirf itna kaha jaisa abu kahenagay waisa he hoga Qudsia: Are baani tu 1 baar mana karde baaqi hum sambhal lenghi Me; (Haan jaise apni baar kia tha) nahin phupho iski zaroorat nahin Or isi tarha ida=har udhar ki batain karte ghar ponch gaye aba g toh dikhe nahin par thodi der baad ami g nahin order kar dia ja kar bazar se shalwar qameez le aon raat k function klie Sham ko ham sab tyar hokar chacha k ghar ponche toh wahan sab bohat kush the specially chachi g Sab bohat kush khas kar abba g 8 bajay mangni ki rasam howee aaj Rabia waqi achi lag rahee the usko dekh kar main sara ghussa bhool gaya tha par maine socha liya tha aba g baat karoonga k main shaadi Gradution complete kar k he karoonga 12 bajay hum unke ghar se wapas aa gaye jab ghar ponche toh ami ne mujhe kaha k Phophu Rubin aka bag idhar rah gaya hai ja kar waapis kar aa toh main wo lekar denay chala gaya Jab main chacha k ghar gaya toh wo sone ki tayarian kar rahe the maine phophu ka poocha toh uno ne kamre k bataya main kamre ki taraf chala gay raste main mujhe Rabia kitchen main shahid chai bana rahi thee main waheen par ruka phir awaz sun kar agay chala gaya under kamre main phophu nahin shahid kamre se attach bathroom main theem main unka bag rakh k mudne laga tha k mujhe bed par unke aaj ke pehnay kapde dikhay jin main mujhe unka bra upar pada dika toh maine 1 baar bahir dekha or 1 baaar dobaara us bra ko or bina kuch sochay samhajy us brak utha kar jaib main daal lia or bag rakh kar nikalne waali ki wahan unki panty b dekhi jis ko haath lagne se he jism main karan dodhne laga Main b jald c bhaagta ghar aaa gaya or sone chala gaya kamre main aate he maine wo bra nikaala or saare kapde b utaar diya bra ko sungna shuru kardia mujhe us main ajeeb sa nashi mil raha tha or lun khada ho raha tha phir kya foran se thook laga kar bra ko songhte soonghte muth maarta raha or un k mammon k khayal karta raha (Bra abi nahin thee us par 42 ka no tha) 20 min tak main yah he karta raha or 1 lawa phut pada Phir lun ko kapde se saaf kiya or trouser pehn kar son gaya.
  23. 42 % premi sex kyun nahi kar paate? ? 1)Girlfriend nahi manti? ? 2)Seriousness? ? 3)SexuaL disorder? ? Nahi , Q K Kamino ko ROOM hi nahi milta..
×
×
  • Create New...