Jump to content
ALL SEX SECTION WILL CLOSED IN RAMADAN ×
URDU FUN CLUB

Search the Community

Showing results for tags 'storymaker'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • ...::: U|Fun Announcements Club :::...
    • News & ­Announcements
    • Members Introduction
    • Complains & Suggestions
  • ...::: U|Fun General Knowledge Club :::...
    • General Knowledge
    • Cyber Shot (No Nude)
  • ...::: U|Fun Digital Library Club :::...
    • Own Writers Urdu Novels
    • Social New Writers Club
    • Urdu Poetry Ghazals Poems
  • ...::: U|Fun Buy and Sale Club :::...
    • Buy & Sale Your Products
  • ...::: U|Fun Adult Multimedia Club [Strictly For 18+] :::...
    • Users Chit Chat (18+)
    • Advice with Doctors (18+)
    • Urdu Jokes Poetry (18+)
  • ...::: U|Fun Urdu Inpage & Pic Adult Stories Club Normal Standard :::...
    • Urdu Adult Inpage Stories
    • Roman Urdu / Hindi Adult Stories
    • Picture Stories (By UFC Writers)
    • Incomplete Stories (No Update)
  • ...::: U|Fun Premium Membership Subscribe Club :::...
    • Purchase VIP Membership
  • ...::: U|Fun High Standard Premium Club :::...
    • Pardes Serial Novel VIP Edition
    • Hawas Serial Novel VIP Edition
    • Queen Serial Novel VIP Edition
    • Aahni Grift Serial Novel VIP Edition
    • Kamran and Head Mistress VIP Edition
  • ...::: U|Fun Recycle Bin Club :::...
    • Recycle Bin

Categories

  • Urdu Sex Stories High Standard
  • Urdu Pic Stories High Standard
  • Premium Club Serials Complete
  • Pardes Serial Novel VIP Edition

Product Groups

  • Urdu Sex Stories High Standard
  • Urdu Pics Stories High Standard
  • Pardes Serial Novel VIP Edition
  • Hawas Serial Novel VIP Edition
  • Queen Serial Novel VIP Edition
  • Aahni Grift Serial Novel VIP Edition
  • Kamran and Head Mistress VIP Edition
  • Premium Club Serials Completed

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


Gender


About Me

Found 8 results

  1. لالچی باپ بیٹا اور جنات کی بستی ایک سبق آموز کہانی ماموں یونس چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے انہوں نے میٹرک تک تعلیم حاصل کررکھی تھی باقی بہن بھائی اَن پڑھ تھے گاؤں کے لوگ ماموں کو چوہدری کہتے تھے علاقے میں بھی ان کا کافی اثرور سوخ تھا۔ ناظم سے ان کی دوستی تھی نانا کی چالیس ایکڑاراضی تھی جونانا کی وفات کے بعد انہوں نے پٹواری اور تحصیلدار سے ساز باز کرکے اپنے نام کروائی جب دوسرے بہن بھائیوں کو پتہ چلا تو وہ اپنے حصے کی زمین مانگنے لگے۔ ماموں نے زمین دینے سے انکار کردیا اور کہا۔ ”والد صاحب نے مرنے سے پہلے ہی زمین میرے نام کرادی تھی۔“چاچو گاؤں کے چند بڑوں کو لے کر اس کے پاس گئے انہوں نے ماموں کو بہت سمجھایا۔ ”یہ آپ کے سگے بہن بھائی ہیں آپ کے والد کی زمین میں آپ سب کا برابر کا حصہ بنتاہے اپنے بہن بھائیوں کو ان کے حصے کی زمین دے دو یہ بھی خوش ہو جائیں گے اور اللہ بھی راضی ہو جائے گا۔ “مگر کوشش کے باوجود ماموں نے مانے اپنی ضد پر قائم رہے۔ یہاں سے مایوس ہو کر انہوں نے عدالت کو دروازہ کھٹکھٹا یا اپنے اثرورسوخ کی بنا پر وہ عدالتی جنگ بھی جیت گئے اب وہ چالیس ایکڑزرعی زمین کے تنہا مالک تھے ماموں کا ایک ہی بیٹھا تھا جو شہر میں تعلیم حاصل کررہا تھا ایک منشی رکھا تھاجو ہونے والی آمدنی کا حساب کتاب کرتا تھا۔ زمینوں سے اچھی خاصی آمدنی ہورہی تھی۔چالیس ایکڑ زمین میں دو ایکڑزمین غیر آباد تھی یہاں ایک پرانی قبر تھی لوگوں کا خیال تھا اس قبر میں اللہ کا نیک بندہ دفن ہے یا کوئی غیر مرئی مخلوق رہتی ہے جس وجہ سے چوہدری یونس کی فصل دوسرے لوگوں سے زیادہ اوسط دیتی ہے۔ زندگی صبر اور شکر کی آزمائش ہے جو اس آزمائش میں کامیاب رہتے ہیں زندگی بس ان کی ہے۔جو صبر اور شکر کی اہمیت کو نظر انداز کرتے ہیں وہ اس جہاں میں بھی اور آخرت میں بھی ناکام رہتے ہیں۔لالچ عقل کو اپنا غلام بنا دیتی ہے ماموں کو بھی زیادہ سے زیادہ کی لالچ رہتی تھی اس نے کئی بار سوچا اس غیر آباد زمین کو بھی آباد کیا جائے تاکہ اسے کاشت کے قابل بنایا جا سکے اس طرح آمدنی میں بھی اضافہ ہو گا ایک دن اس نے اپنے منشی لیاقت کو اپنے ارادے سے آگاہ کیا منشی نے کہا۔ ”ٹھیک ہے چوہدری صاحب ہم صبح کام شروع کردیں گے آٹھ دس دن میں یہ زمین ہموار ہو جائے گی دوسرے دن جب قبر والی زمین کو ہموار کرنے کا کام شروع ہونے لگا تو گاؤں کے بزرگ ماموں کے پاس آئے انہوں نے کہا۔ ”اس زمین کو ہموار نہ کریں یہاں کوئی اللہ کا نیک بندہ دفن ہے یا کوئی غیر مرئی مخلوق رہتی ہے ان کو تنگ نہ کرو اللہ نے آپ کو بہت کچھ دیا ہے۔ آپ نے اگر ان کو بے گھر کیا تو یہ آپ کے لیے نقصان دہ ہو گا۔“انہوں نے بڑوں کا کہنا مان کر کام روک دیا۔رات کو ایک نادیدہ قوت ماموں کے پاس آئی جسے دیکھ کر وہ ڈر گئے۔ ”آپ کون ہیں اورکیا چاہتے ہیں۔“ ”میں کوئی بھی ہوں آپ کو اس سے کیا غرض آپ کو یہ بتانے آیا ہوں کہ آپ کی غیر آباد اور بنجر زمین ہمارا مسکن ہے آپ نے جواسے ہموار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اسے اپنے ذہن سے نکال دیں اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ کا بہت نقصان ہو گا‘آپ کی زمینوں کی آمدنی بھی ختم ہو سکتی ہے۔ “یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکلا اور فضا میں تحلیل ہوکر ماموں کی نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔صبح ماموں نے منشی کو اپنے پاس بلوایا رات والا واقعہ سنایا اور قبر والی زمین کو ہموار کرنے سے منع کر دیا۔وقت گزرتا رہا ایک دن ماموں کو فالج کا اٹیک ہوا وہ بستر کے ہو کر رہ گئے زمینوں کی دیکھ بھال اب ان کے بس کا کام نہیں تھا لہٰذا ان کا بیٹا حارث تعلیم ادھوری چھوڑ کر واپس گاؤں آگیا اب وہ زمینوں کی نگرانی کرتا اپنے باپ کی طرح حارث نے بھی غیر آباد زمین کو ہموار کرکے اسے قابل کاشت بنانے کا ارادہ کرلیا اس سلسلے میں جب اس نے منشی سے بات کی تو اس نے کہا۔ ”پہلے بڑے چوہدری سے بات کرلیں انہوں نے یہ زمین آباد کرنے سے منع کیا ہے۔“حارث نے اپنے والد صاحب سے بات کی ماموں نے بتایا۔ ”یہاں غیر مرئی مخلوق رہتی ہے اور اپنے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بھی بیان کیا ۔“ ”یہ جن بھوت والی باتیں سب جھوٹی ہوتی ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہم نے اپنی زمین آباد کرنی ہے کسی کی زمین پر قبضہ تو نہیں کررہے جو ہمارا نقصان ہو گا اگر یہاں نادیدہ قوتیں یا جن بھوت وغیرہ رہتے ہیں تو وہ کہیں دوسری جگہ جا کر آباد ہو جائیں گے۔ “حارث کی باتیں سن کر ماموں پریشان ہو گئے ۔انہوں نے اپنے بیٹے کو بہت سمجھایا مگر وہ نہ سمجھا منشی نے بھی اس کا حوصلہ بڑھایا پھر جیسے ہی ٹریکٹروں نے کام شروع کیا مغرب کی طرف سے کالی گھٹا اٹھی دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پورے گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہم طرف گردوغبار اور اندھیرا چھانے لگا اس طوفان سے صرف مسجد محفوظ تھی پھر قبر والی جگہ پر زور دار دھماکہ ہوا کام کرنے والے ٹریکٹر قلا بازیں کھاتے خشک پتوں کی طرح دور جاکر گرے یہی حال ڈرائیوروں اور کام کرنے والے مزدوروں کا تھا۔ ”ہم آج کسی کو نہیں چھوڑیں گے ہم تمہارا نام و نشان مٹادیں گے تم نے ہمارا آرام وسکون برباد کیا ہمارے بچوں کو مارا ہم تمہاری نسل کو مار ڈالیں گے۔“یہ آوازیں اس قدر خوف ناک اور کرخت تھیں کہ ہر ذی روح کو خوف آنے لگا ہر طرف آہ وبکار اور قیامت صغریٰ برپاتھی ایک نادیدہ قوت حارث کو اٹھا کر چھت تک لے گئی اور پھر ایک دم ہی چھوڑ دیا وہ دھڑم سے فرش پر کمر کے بل گرا اس کو کافی چوٹیں آئیں بھلا ہواس موذن کا جس نے اللہ اکبر کہہ کر ظہر کی اذان شروع کی اذان کے کلمات سنتے ہی ہر طرف سکون ہو گیا۔ گاؤں کے لوگ مسجد کی طرف دوڑے۔ مسجد کا صحن زیادہ وسیع نہیں تھاکہ گاؤں کے سارے لوگ اس میں سماجاتے لوگ امام مسجد سے دعا کی اپیل کرنے لگے امام مسجد نے دعا کرائی۔ ”اے مخلوق خدا ان غریب لوگوں کا تو کوئی قصور نہیں یہ چوہدری کے ہاں مزدوری کرکے اپنا اور بچوں کا پیٹ پالتے ہیں آج بھی یہ لوگ وہاں مزدوری کرنے گئے تھے یہ لوگ آپ کی بستی سے بے خبر تھے انجانے میں جو غلطی کربیٹھے ہیں اس غلطی کی معافی چاہتے ہیں ہوسکے تو چوہدری صاحب کو بھی معاف کردیں یہ سب شرمندہ ہیں آئندہ کبھی آپ کو بستی کی طرف نہیں جائیں گے۔ “پھر اچانک سفید لباس پینے ایک بزرگ سامنے آئے۔ ”اے آدم کی اولاد ہم بھی آپ کی طرح خدائے بزرگ وبرتر کی پیداوار ہیں ہم اپنے آپ میں گم رہنے والی مخلوق ہیں ہم بے وجہ کسی کو پریشان نہیں کرتے اور نہ ہی ہم نے کبھی آپ کا برا سو چاہے اگر ہم نے کسی کے ساتھ برا سلوک کیا تو وہ سامنے آئے ہم سزا بھگتنے کو تیار ہیں۔ اپنے گریبانوں میں جھانکوں آپ کا دین اسلام تو امن وشانتی کا درس دیتا ہے بردباری اور تحمل اس کے اصول ہیں صراط مستقیم اس کی راہ ہے اور سچائی اور انصاف جذبہ ایمان ہے چوہدری یونس اور اس کے بیٹے کا کردار سب کے سامنے ہے لالچ کی ہوس نے ان کو انسان سے حیوان بنا دیا ہے۔ جھوٹی شان وشوکت بڑھانے کے لیے انہوں نے اپنوں کا حق مارا ہے۔بہن بھائیوں کی زندگی عذاب بنا دی جاؤ ہم نے تمہیں معاف کیا پھر کبھی بھول کر بھی ہماری بستی کی طرف مت آنا دوبارہ غلطی کی تو ہم معاف نہیں کریں گے ۔یاد رکھو اس وقت ہم خوف خدا سے آپ لوگوں کو معاف کررہے ہیں مگر چوہدری یونس اور اس کے بیٹے کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ ان کو ہم تڑ پا تڑپا کر ماردیں گے ہم ان کو ضرور سبق سکھائیں گے۔انہوں نے اپنوں کے ارمانوں کا خون کیا ہماری بستی کو گرایا یہ معافی کے حقدار نہیں ان کو معافی اسی صورت مل سکتی ہے اگر یہ اپنے بہن بھائیوں کو ان کے حصے کی زمین واپس کردیں اور دوبارہ کبھی ہماری بستی کا رخ نہ کریں۔ “سب لوگ گردنیں جھکائے اُن بزرگ کی باتیں سن رہے تھے اور ان کی دہشت سے ہر کوئی کانپ رہا تھا۔ ”اب میں جارہاہوں اگر چوہدری صاحب نے ہماری بات نہ مانی تو ہم اس کو عبرت کا نشان بنادیں گے۔“وہ بزرگ چند قدم پیچھے کی طرف اور پھر غائب ہو گئے۔ امام مسجد نے لوگوں کو مخاطب کیا۔ ”ہم سے غلطی ہو گئی ہے اس غلطی کے ازالے کے لیے ہمیں دوبارہ اسی مخلوق کی منت سماجت اور قبر والی جگہ پر خیرات کرنا ہو گی ہمیں ہر حال میں اس مخلوق کو راضی کرنا ہو گا اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو پورا گاؤں راکھ کا ڈھیر بن جائے گا۔ “اسی وقت گاؤں کے ہر بندے نے اپنی حیثیت کے مطابق امام مسجد کو پیسے جمع کرائے اور شام کو قبر والی جگہ پر خیرات کی گئی۔ماموں یونس نے اپنے بہن بھائیوں کو وہاں بلوا کر ان کے حصے کی زمین دے دی۔ گاؤں کی رونق پھر سے بحال ہونے لگی لیکن ماموں کی حالت پہلے سے زیادہ خراب ہو چکی تھی۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ ماموں کا آخری وقت قریب آچکا ہے گاؤں کے بڑے عیادت کے لیے آتے تو وہ مشورہ دیتے۔ ”چوہدری صاحب اپنے بہن بھائیوں کو راضی کرلو اُن سے معافی مانگ لو۔“بڑوں کی بات مان کر ماموں نے بہن بھائیوں کو اپنے پاس بلوایا اپنے کیے کی معافی مانگی سب بہن بھائیوں نے اسے معاف کردیا ایک بار پھر جنات کی بستی میں خیرات بانٹی گئی لوگ خیرات کے چاول کھارہے تھے کہ ایک دم ایک لمحے کے لیے سب کچھ روشن ہو گیا۔ امام مسجد نے کہا۔ ”جنوں نے دل سے چوہدری صاحب کو معاف کردیا ہے۔“دوسرے دن حارث نے اپنے والد کو شہر کے ایک ہسپتال میں داخل کروادیا اب وہ آہستہ آہستہ تندرست ہونے لگے ایک ماہ ہسپتال میں رہنے کے بعد وہ گھر آگئے ماموں اب مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے تھے۔ عروج کی طرف جاتے ہوئے راستے میں پھولوں کے بیج پھینکنے چاہیئے زوال کا سفر پر سکون رہے گا اگر کانٹے بچھا کر جائیں گے واپسی پر خار دار جھاڑیاں ملیں گی اور واپسی کا سفر تو ہر صورت طے کرنا ہوتاہے ہماری زندگی میں بے شمار واقعات رونما ہوتے ہیں جن کو لاکھ کوشش کے باوجود ہم بھلا نہیں پاتے ایسا ہی ایک ناقابل فراموش واقعہ آپ قارئین کے لیے بیان کررہا ہوں جو امید ہے آپ کو مدتوں یاد رہے گا ایسے واقعات لکھنے کا مقصد یہ ہوتاہے کہ شاید کوئی نصیحت پکڑے اور لکھنے کا حق ادا ہو جائے۔
  2. یہ رات کے دو بجے کا وقت تھا ۔۔۔ پورے گاوں میں ہر طرف اندھیرا پھیل چکا تھا ۔۔۔ اور اس اندھیرے میں تین دوست گاوں کے کھیتوں میں اپنی محفل لگائے بیٹھے تھے ۔۔۔۔ وہ تینوں لڑکے روشن ، حمزہ ،اور عمران کافی پرانے دوست تھے ۔۔۔ ان تینوں سے محبت تو کوئی نہیں کرتا تھا لیکن نفرت پورا گاوں کرتا تھا۔۔۔ اور اس نفرت کے پیچھے بھی قصور ان تینوں لڑکوں کا تھا ۔۔۔۔ وہ تینوں لوفر آورارہ قسم کے لڑکے تھے ۔۔جو شراب ، سگریٹ اور ہر قسمی نشے کا شکار تھے ۔۔ اب ان سے محبت تو کوئی کر ہی نہیں سکتا تھا یہاں تک کہ ان کے اپنے گھر والے بھی ان سے تنگ تھے ۔۔ اور وہ تینوں بھی کسی کی ۔محبت کے انتظار میں نہیں تھے انہوں نے بھی گاوں سے دور کھیتوں میں اپنی ایک علیحدہ دنیا بنائی ہوئی تھی تا کہ گاوں والے انہیں تنگ نہ کریں اور وہ گاوں والوں کو تنگ نہ کر سکیں۔ ۔۔ رات کو وہ لڑکے گاوں کے کھیتوں میں بیٹھ کر ساری رات نشہ کرتے ۔۔۔ لیکن ایک بار ان کی زندگی میں ایک ایسی عجیب و غریب رات آئی کہ ان کی زندگی ہی بدل گئی ۔۔۔۔۔۔ یہ اس رات کی بات ہے جب وہ تینوں دوست کھیتوں میں بیٹھ کر نشہ کر رہے تھے ۔اور نشے میں گم تھے انہیں کسی کا ہوش نہیں تھا ۔۔ پھر اچانک کھیتوں میں کسی لڑکی کے پازیب کی آواز سنائی دی ۔۔۔ حمزہ نے پازیب کی آواز سن لی اور اپنے دوستوں سے بولا ۔۔۔۔ یار میں نے ابھی ابھی کسی لڑکی کی پازیب کی آواز سنی ہے ۔۔۔ ' روشن نے گھور کر حمزہ کو دیکھا اور لاپرواہی سے کہا ۔۔۔ تیرے کان بج رہے ہیں اتنی رات کو یہاں کون لڑکی ہو سکتی ہے کھیتوں میں ۔۔ ضرور تونے آج نشہ زیادہ کیا ہے ۔ ' حمزہ کی بات پہ روشن اور عمران کسی نے یقین نہیں کیا اور حمزہ بھی دوبارہ سگریٹ پینے میں مصروف ہو گیا یہ سوچ کر شاید واقعی آج اس نے نشہ زیادہ کر لیا ہو اس لئے اسے ایسی آواز سنائی دی ۔۔۔۔۔ وہ سب اس آواز کو نظر انداز کر ایک بار پھر سگریٹ پینے لگے ۔۔۔۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی لیکن ان سب کے جسم جیسے لوہے کے بنے ہوں انہیں کچھ محسوس ہی نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد لڑکی کی پازیب کی آواز پھر سے سنائی دی ۔۔۔ اب کی بار وہ آواز تینوں دوست نے سن لی اور سب کے کان کھڑے ہو گئے ۔سب حیران ہو کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ۔۔۔ ۔۔حمزہ فورا بولا ۔۔ دیکھا ۔۔۔ میں نے کہا تھا ناں یہاں کسی لڑکی کی پازیب بج رہی ہے لیکن میری بات کوئی سنتا ہی نہیں ۔۔۔۔۔ ' عمران نے حیرانگی سے کہا ابے یار یہاں سچ میں کسی پازیب کی آواز آ رہی ہے ۔۔۔ لگتا ہے کوئی لڑکی ہے یہاں پہ ۔۔۔۔۔ ' وہ تینوں دوست نشہ چھوڑ کر کھڑے ہوئے ۔۔۔۔ لیکن اتنی رات کو یہاں لڑکی کون ہو سکتی ہے ۔۔ کسی لڑکی کا رات کے دو بجے ان کھیتوں میں کیا کام ۔۔۔۔۔ ' روشن شیطانی مسکراہٹ سے بولا ۔۔۔۔ یہ تو اس لڑکی کو دیکھ کر ہی پتا چلے گا ۔۔۔ کہ وہ یہاں کیا کر رہی ہے ۔۔۔۔ ' وہ تینوں چلتے جا رہے تھے اور ادھر ادھر اس لڑکی کو ڈھونڈنے لگے ۔۔وہ اپنے نشے کا سامان وہیں چھوڑ کر اب صرف پازیب کی آواز والی کو ڈھونڈ رہے تھے۔۔ رات کا وقت تھا ہر طرف گھپ اندھیرا پھیل چکا تھا ۔۔۔ اور وہ تینوں لڑکے اس پازیب کی آواز کو سنتے ہوئے اس لڑکی کو تلاش کر رہے تھے ۔۔۔۔ پھر اچانک ان تینوں کو ایک درخت کے پیچھے بہت ہی خوبصورت لڑکی نظر آئی ۔۔۔۔ وہ سب حیران ہو کر اس لڑکی کو دیکھنے لگے ۔۔۔ اتنی خوبصورت لڑکی وہ اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھ رہے تھے ۔۔۔ جانے وہ کون تھی اور اتنی رات کو کھیتوں میں کیا کر رہی تھی ۔۔۔ انہوں نے پہلے تو کبھی کھیتوں میں کوئی لڑکی نہیں دیکھی تھی ۔۔۔۔۔ عمران نے اس لڑکی کو دیکھ کر حیرانی سے کہا ۔۔۔ او تیری یہ لڑکی کون ہے اور یہاں کیا کر رہی ہے ۔۔۔ ' حمزہ نے شاطرانہ انداز میں کہا ۔۔۔۔ ابے جو بھی ہے ہمیں اس سے کیا ۔۔۔ چلو اس کے پاس چلتے ہیں اور اس سے بات کرتے ہیں ۔۔۔بہت ہی دھماکہ لڑکی ہے ۔۔۔ ایسی لڑکی تو پوری دنیا میں نہیں ہوگی ۔۔۔۔ ' حمزہ کی بات پہ وہ تینوں اس لڑکی کے پاس جانے لگے ۔۔۔ وہ لڑکی بھی ان تینوں کو دیکھ چکی تھی اور کافی حیران بھی تھی ۔۔۔۔وہ تینوں اس لڑکی کے پاس پہنچ کر بولے ۔۔۔۔۔ کون ہیں آپ اور اتنی رات کو یہاں کھیتوں میں کیا کر رہی ہیں ۔۔۔۔ ' وہ لڑکی اول تو ان تینوں کو وہاں دیکھ کر ہی کافی ڈر رہی تھی اور اب ان کے سوال سے مزید گھبرا گئی ۔۔۔۔ اور گھبراتے ہوئے بولی ۔۔۔۔ میں ۔۔۔ میں چلتی ہوں یہاں سے ۔۔۔ رات بہت ہو گئی ہے ۔۔۔ ' وہ لڑکی ان تینوں کو دیکھ کر وہاں سے جانے لگی جب عمران نے روشن کو کہنی مار کر کہا ۔۔۔ ابے یار اتنی اچھی لڑکی ملی ہے کیا اسے یونہی جانے دو گے ۔۔۔۔ اسے پکڑو آج کی رات ہم تینوں کا دل بہلائے گی ۔۔۔۔ ' حمزہ اور روشن عمران کی بات پر تیزی سے بھاگے اور اس لڑکی کے سامنے جا کر کھڑے ہو گئے ۔۔۔۔۔وہ لڑکی اس طرح اپنا راستہ روکے جانے پر حیران ہوئی ۔۔۔۔۔اور غصے سے بولی ۔۔۔۔ راستہ کیوں روکا ہے تم لوگوں نے میرا چلو ہٹو سامنے سے جانے دو مجھے ۔۔۔۔۔ ' عمران غور سے اس لڑکی کے جسم کا جائزہ لینے لگا پھر آوارگی سے بولا۔۔۔۔۔ ہٹ جائیں گے تمہارے راستے سے بھی اتنی جلدی کیا ہے ۔۔۔ زرا ہمارے ساتھ چلو ہمیں خوش کر دو پھر جانے دیں گے تمہیں ' اس لڑکی نے نظریں اٹھا کر گھورتے ہوئے ان تینوں لڑکوں کو دیکھا اور غصے سے بولی ۔۔۔۔ تم لوگ نہیں جانتے میں کون ہوں ۔۔۔ اگر تم تینوں کو پتا چل جائے میں کون ہوں تو یہاں کھڑے رہنے کی ہمت نہیں کر پاتے ۔۔۔۔ ' اس لڑکی کی بات پر وہ تینوں ہنسنے لگے۔۔۔پھر روشن بولا،چلو اب نخرے نہ کرو اور ہمارے ساتھ چلو آج کی رات ہمارے ساتھ گزارو پھر جہاں جانا ہے چلی جانا۔اب یہ نہ کہنا کہ تم شریف لڑکی ہوکیونکہ کوئی بھی شریف لڑکی اتنی رات کو کھیتوں میں نہیں گھومتی۔۔۔ روشن کی بات سن کر اس لڑکی نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا اور چیخ کر بولی، مرو گے تم سب"جانتے نہیں میرے بارے میں کہ میں کون ہوں میں لڑکی نہیں ہوں میں ایک جن زادی ہوں اس لڑکی کی بات پر تینوں دوست پھر زور زور سے ہنسنے لگے اور اس لڑکی کا مذاق اڑاتے ہوئے عمران بولا۔ اچھا تو تم جن زادی ہو،اچھا طریقہ ہے خود کو بچانے کا لیکن یاد رکھو آج ہم کسی قیمت پر تجھے چھوڑنے والے نہیں ہیں۔۔۔ وہ لڑکی عمران کی بات سن کر مزید غصے میں آ گئی اور اس نے ایک زوردار تھپڑ عمران کے منہ پر مارتے ہوئے کہا،،میں نے کہا نا میں انسان نہیں ہوں،سمجھ نہیں آرہی تم لوگوں کو،جانے دو مجھے دیر ہو رہی ہے، ہٹو میرے سامنے سے۔۔ عمران ایک تھپڑ کھا کر آگ بگولا ہو گیا اور اس نے لڑکی کو ایک دھکا دیا جس سے وہ کھیتوں میں جا گری۔ روشن اور حمزہ نے اس لڑکی کوبازؤں سے پکڑ لیا اور عمران اپنے کپڑے اتارنے لگا۔۔۔وہ لڑکی زور زور سے چیخ رہی تھی لیکن روشن اور حمزہ اسے قابو کیے ہوئے تھے عمران اگے بڑھتا جا رہا تھا شیطانی مسکراہٹ اسکے چہرے پر تھی. جبکہ اس لڑکی کی آنکھوں میں خوف و ہراس پھیل گیا. روشن اور زمان نے مضبوطی سے اس لڑکی کو اپنے قابو میں کیا ہوا تھا اور زمان نے لڑکی کہ منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کا منہ بند کیا تھا کیونکہ لڑکی زور زور سے چلا رہی تھی ہیلپ ہیلپ ہیلپ عمران ڈر بھی رہا تھا کہ کہیں کوئی آ نہ جائے کیونکہ پہلے بھی وہ چند ایسے واقعات میں پکڑا گیا تھا لڑکی اب بھی چیخ رہی تھی وہ کوشش کر رہی تھی کہ کسی نہ کسی طرح ان کے چنگل سے نکل جائے لیکن روشن اور زمان کی گرفت بہت مضبوط تھی اور روشن کا ایک ہاتھ اس کے بالوں پر تھا جس سے وہ آ ہستہ آہستہ مدھم پڑتی جا رہی تھی عمران اب بالکل اس لڑکی کے پاس آ چکا تھا اور اس کے اگلے دونوں ہاتھ لڑکی کے گالوں پر پڑنے والے تھے کہ لڑکی نے لیٹے لیٹے ایک زور کی لات عمران کو ماری جو اس کے اوپر آ رہا تھا، لات عمران کو بہت زور سے لگی اور وہ لڑکی پر آ گیا، درد کی شدت سے عمران لوٹ پوٹ ہونے لگا، ادھر روشن اور زمان اپنے ساتھی کی طرف لپکے اور لڑکی کو چھوڑ دیا جس سے لڑکی کو موقع مل گیا اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن اس میں طاقت نہ ہونے کے برابر تھی،اس کی آنکھوں کہ سامنے اندھیرا چھایا ہوا تھا،،، زمان اور روشن عمران کو سنبھال رہے تھے لیکن اس کی حالت بہت خراب تھی، روشن نے عمران کو سہارا دیا، زمان بولا، یار اس کو گھر لے چلتے ہیں اس کی حالت بہت خراب ہے، لیکن عمران جس کی آنکھوں میں ابھی بھی ہوس کی آگ تھی اور تکلیف میں ہونے کے باوجود بھی وہ بولا، نہیں اب میں اس کو بالکل نہیں چھوڑوں گا،اب میں اس کا وہ حال کروں گا کہ اسے اپنے آپ سے بھی نفرت ہو جائیگی، عمران کی اس بات پر زمان اور روشن کی آنکھوں میں بھی شیطانی چمک جاگ اٹھی اور وہ لڑکی کی طرف بڑھنے لگے جدھر انہوں نے لڑکی کو پھینکا تھا،،، لیکن اچانک روشن چیخ کر بولا،،، وہ دیکھو،وہاں تو لڑکی نہیں ہے زمان بولا،کدھر چلی گئی،ڈھونڈو اسے زمان کی بات سن کر روشن ادھر ادھر کھیتوں میں لڑکی کو تلاش کرنے لگا لیکن لڑکی کہیں نظر نہیں آئی جب تھک ہار کر دونوں عمران کے پاس آئے تو ان کو ایک زور دار جھٹکا لگا، عمران کی ادھ کٹی لاش کھیتوں میں پڑی ہوئی تھی سارے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور کٹی ہوئی گردن سے خون بہہ رہا تھا جب ان دونوں نے اپنے ساتھی کی کٹی ہوئی لاش دیکھی تو ان کا دل دہل گیا ان دونوں نے ایک بھیانک چیخ ماری اور گاؤں کی طرف دوڑ لگا دی، صبح ہونے والی تھی،دونوں بہت ڈر چکے تھے،ان کی ہمت جواب دے چکی تھی، اب ان کو یقین ہو رہا تھا کہ جس کے ساتھ ہم نے زیادتی کرنے کی کوشش کی وہ لڑکی نہیں تھی۔بلکہ ایک جن زادی تھی،اب ان دونوں کو اپنی موت یقینی نظر آ رہی تھی،دونوں کی آنکھوں سے نیند اڑ چکی تھی۔ ساری رات انہوں نے جاگ کر گزاری۔بار بار دوست کی موت کا منظر ان کی آنکھوں کے سامنے آ رہا تھا۔ جیسے تیسے رات گزر گئی، ادھر صبح جب گاؤں والوں نے عمران کی لاش دیکھی تو گاؤں میں کہرام مچ گیا، سارے لوگ بھاگے بھاگے کھیتوں کی طرف بھاگے اور عمران کی لاش کو عمران کے گھر لایا گیا،پولیس آئی لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا اور نہ ہی قاتل کا پتہ چلا، عمران کو قبرستان میں دفن کر دیا گیا، بات آئی گئی ہو گئی،لیکن زمان اور روشن کو پتہ تھا کہ ان کی خیر نہیں ہو گی،شام کو زمان نے روشن کو بلایا،زمان کی حالت بہت خراب تھی، ادھر روشن بھی بیمار ہو چکا تھا کیونکہ دونوں نے ساری رات نیند نہیں کی تھی ڈر اور خوف کی وجہ سے۔۔۔ زمان بولا،کیوں نہ ہم ساری سٹوری گھر والوں کو بتا دیں، روشن بولا،پاگل ہو گئے ہو،مروانا چاہتے ہو،؟ تمہیں پتہ ہے کیس پولیس کے پاس پہنچ چکا ہے،شکر ہے کہ ہم بھاگ نکلے عمران کی لاش کو چھوڑ کر، سوچو اگر ہم عمران کی لاش کو گاؤں لے جاتے تو سب کا شک ہم پر آ جاتا اور ہم بے گناہ پھنس جاتے، زمان بولا،ہاں یار یہ بات تو ہے،میں تو پہلے ہی کہ رہا تھا کہ چلو چلیں لیکن عمران نہیں مان رہا تھا، اب دیکھا؟وہ اپنی غلطی میں خود مارا گیا،کیوں نہ ہم ایک کام کریں؟ روشن بولا,کونسا تو زمان بولاکیوں نہ ہم تھانیدار کو ساری سٹوری بتا دیں جو ہمارے ساتھ کل رات پیش آیا، لیکن روشن بولا,کیا تھانیدار ہماری بات مانے گا؟؟؟ تو زمان بولا،کیوں نہیں مانے گا۔بات کرنے میں کیا حرج ہے،بات کر کے دیکھ ہی لیتے ہیں صبح۔ روشن بولا ٹھیک ہے۔ دونوں اپنی راہ ہو لیے یہ اقرار کر کے کہ صبح تھانیدار کو ساری حقیقت بتا دیں گے لیکن ان کو کیا پتہ تھا کہ صبح ایک بھیانک خطرہ ان دونوں کی زندگی کو جہنم بنانے والا ہے۔۔۔ دونوں اپنے گھروں کو چل دیے، شام ہونے کو تھی، زمان گھر میں داخل ہوا تو گھر میں کہرام برپا تھا، زمان کے بھائی کا تین سالہ بیٹا گھر سے غائب تھا سب اسے ڈھونڈنے میں لگے تھے لیکن نہیں مل رہا تھا، آ گئے لوفر کہیں کے، زمان کا بڑا بھائی بولا، اب بچے کو ڈھونڈو میرا منہ کیا دیکھ رہے یو، زمان بچے کو ڈھونڈنے لگ گیا، وہ عشاء تک بچے کو ڈھونڈتے رہے لیکن بے سود، زمان کو اب شک ہونے لگا تھا کہ کچھ گڑ بڑ ہے کیونکہ اتنا چھوٹا بچہ کدھر جا سکتا ہے جو چل بھی نہیں سکتا۔۔۔ اچانک باہر شور شرابہ شروع ہو گیا۔ سب باہر کی طرف بھاگے،باہر نکلے بہت سارے لوگ جمع تھے،،، ایک بندے نے ہاتھ میں چھوٹا بچہ اٹھا رکھا تھا، ارے یہ کیا،یہ کیسے،کدھر ملا او میری جان زمان کا بھائی چیخنے لگا،، سب کے رونگٹے لگ گئے اور گھر کے سارے فرد غم سے نڈھال ہو گئے، ایک بندہ بولا، جی یہ بچے کی لاش ایک گٹر میں تھی،بہت رو رہا تھا لیکن لگتا تھا کسی نے نیچے پاؤوں سے پکڑا ہوا تھا، ہم بھاگے لیکن کسی نے گٹر کے اندر کھینچ لیا اور تھوڑی دیر بعد لاش پھر اوپر آ گئ۔۔۔ سب پر ہو کا عالم تھا سب کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔ بچے کی لاش کو گھر لایا گیا تو اندر بھی قیامت کا منظر تھا، بچے کی ماں یہ دیکھ نہ سکی،ایک چیخ ماری اور وہاں گر گئی، اس کو بے ہوشی کی حالت میں اٹھا یا گیا اور بچے کو بھی گھر لایا گیا،اس کو نہلایا گیا بچے کی ماں کو ہسپتال لایا گیا،لیکن وہاں ایک قیامت کا منظر تھا،،، بچے کی ماں دم چوڑ چکی تھی، ماحول بدل چکا تھا۔جن زادی کی وجہ سے تین لاشیں گر چکی تھیں،تین دوستوں کی غلطی نے ایک ہنستے بنستے گھر میں صف ماتم بچھا دی تھی۔ غلطی جن زادی کی نہیں تھی۔غلطی ہوس کے مارے تین دوستوں کی تھی جن میں ایک عمران اپنے انجام کو پہنچ چکا تھا،دوسرے زمان کے گھر میں آدھی رات کو قیامت کا منظر تھا اور تیسرا روشن گھر میں آرام سے سو رہا تھا، بچے کی ماں کی لاش کو گھر لایا گیا، صبح اس کو بچے کے ساتھ دفن کیا جانا تھا زمان کی بہت بری حالت تھی۔وہ بار بار روئے جا رہا تھا،وہ خود پر لعنت کر رہا تھا،اسے لگ رہا تھا چھوٹے بچے کی اور اس کی ماں کی موت اس کی وجہ سے ہوئی ہو، وہ اپنے بھائی کو کیا منہ دکھائے گا۔۔۔ وہ بہت دیر سے رو رہا تھا،اور یوں روتے اسے نیند آ گئی لیکن رات کے کسی پہر اس کی آنکھ کھل گئی۔ اسکو یوں لگا جیسے جن زادی اس کے خواب میں آئی ہو اور بول رہی ہو کہ ایسے کیسے سو گئے، ابھی تو میں نے تجھے تیری ماں کا غم دکھانا ہے، ابھی تو تجھے اپنے والد کا جنازہ اٹھانا ہے، اسکے بعد تجھے تڑپاؤں گی،ابھی تو تیرا دوست بھی باقی ہے جس کو تیری بھیانک موت کی خبر سننی ہے،تم دونوں اتنی جلدی عمران کی موت بھول گئے، یہ سب وسوسے زمان کے ذہن میں آ رہے تھے اور وہ پھر رونے لگ گیا،،، اسے کیا پتہ تھا کہ ان پر قیامت تو اب آئے گی۔۔۔ صبح بچے اور اس کی ماں کو دفن کر دیا گیا،ہر ایک کی آنکھ اشکبار تھی سب رو رہے تھے۔ زمان کو بخار چڑھ چکا تھا،اس نے صبح سے کسی سے بات نہیں کی تھی اور نہ ہی کچھ کھایا پیا تھا،روشن کو صبح فوتگی کا علم ہوا،وہ زمان کے گھر آیا، تعزیت کی اور زمان کے کمرے میں پہنچ گیا،زمان کمرے میں ایک طرف بیٹھا ہوا تھا،روشن اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا،اور دھیمی آواز سے بولا،، یار بہت افسوس ہوا مجھے،یقین مانو جب سے یہ خبر سنی ہے مجھے تک ابھی تک یقین بھی نہیں آ رہا، روشن کی بات زمان نے سن لی تھی لیکن چپ بیٹھا تھا،،، روشن بولا، دیکھ زمان یار،کب تک یوں خود کو تکلیف دو گے،چل اٹھ اور کچھ کھا پی لے، لیکن زمان تھا کہ بولنے کا نام نہیں لے رہا تھا، روشن بہت دیر تک اپنے دوست کے پاس بیٹھا رہا اور اس سے باتیں کرتا رہا لیکن زمان توجیسے صدیوں سے خاموش ہو، آخرکار روشن گھر چلا آیا۔ جیسے تیسے کر کے دن گزر گیا اور رات ہو گئی اور یہ ان دونوں دوستوں کی زندگی کی بھیانک ترین رات ہونے والی تھی،،، روشن رات کو سونے کی تیاری کر رہا تھا کہ اسے ماں نے آ کر اطلاع دی، بیٹا گیٹ پر کوئی آیا ہوا ہے اور تمہیں بلا رہا ہے، اوکے اماں میں دیکھتا ہوں، روشن یہ بول کر گیٹ پر گیا،گیٹ کھولا، باہر ایک بندہ کھڑا تھا،بندہ بولا، تیرے دوست نے اپنی نسیں کاٹ لی ہیں اور اس کی حالت بہت خراب ہے، کیا،؟ روشن چیخ کر بولا، کدھر ہے وہ؟ مجھے لے چلو ادھر، وہ بندہ اسے لیکر ہو لیا،اس کا رخ سیدھا کھیتوں کی طرف تھا، روشن بولا،،یہ کدھر لیکر جا رہے ہو؟ زمان کدھر ہے،؟ وہ شخص بولا،وہ سامنے کھیتوں میں، روشن اس کے پیچھے چلنے لگا، وہ شخص بولا،وہ سامنے پڑی ہے لاش، روشن نے سامنے دیکھا تو زمان کی لاش پڑی تھی جس کا گلا کٹا ہوا تھا،ہاتھ کی نسیں کٹی پڑی تھیں اور سر سے خون بہ رہا تھا، روشن یہ دیکھ کر چیخ پڑا، نہیں،یہ تو نے کیا کر لیا خود کے ساتھ،اور رونے لگ گیا، اس نے نہیں بلکہ میں نے کیا ہے اس کے ساتھ، پیچھے سے آواز آئی، روشن نے پیچھے دیکھا تو وہی جن زادی کھڑی تھی،یہ دیکھ کر روشن کا دل دہل گیا، اچانک روشن کو سب یاد آ گیا،یہ تو وہی جگہ تھی جہاں انہوں نے جن زادی کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی تھی اور جہاں عمران کو جن زادی نے مار ڈالا تھا، جن زادی روشن سے بولی، یاد کرو یہ وہی جگہ ہے،کچھ آیا یاد؟ تم لوگوں نے میرے بال پکڑے تھے میں نے تیرے دوست کا سر توڑ دیا، تیرے دوست نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا میں نے اس کی نسیں کاٹ دیں، تیرے دوست عمران کا میں نے گلا گھونٹا تھا، بچے کو میں نے گٹر میں ڈال کر مارا تھا اور بچے کی ماں کی موت بھی میرے ہاتھوں ہوئی، اب تیری باری ہے، یہ کہ کر جن زادی روشن کی طرف بڑھی،،،، جن زادی اپنا کام کر چکی تھی،اس کا انتقام پورا ہو چکا تھا،،، صبح کو جب روشن اور زمان کی موت کی خبریں ملیں تو زمان کی ماں جو پہلے سے صدمے تھیں اپنے گھر میں تیسری لاش نہ دیکھ سکیں اور کوچ کر گئیں، اسطرح ایک گھر سے دو دنوں میں چار جنازے نکلے، زمان کا باپ پاگل ہو چکا تھا،روشن کی ماں اپنے بیٹے کے غم میں دیوانی ہو گئی،وہ رات کو گھر سے نکلی اور پھر کبھی نہ آئی،،، ادھر عمران کا گھر بھی اجڑ چکا تھا، زمان ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا اور واحد کفیل تھا جس سے ان کے گھر میں فاقے آنے لگے۔۔۔ جن زادی اپنا انتقام پورا کر چکی تھی،لیکن ایک وعدہ جو اس نے زمان سے کیا تھا کہ تو اپنی ماں اور باپ کا جنازہ خود دیکھے گا وہ پورا نہ کر سکی کیونکہ زمان بالکل دیوانہ ہو گیا تھا۔اور وہ یہ صدمہ دیکھنے سے پہلے ہی چلا گیا۔۔۔ اس طرح ایک جن زادی کی وجہ سے تین خاندان برباد ہو گئے،،، غلطی جن زادی کی نہیں تھی بلکہ ان تینوں کی تھی جن کی وجہ سے سزا ان کے گھر والوں کو ملی۔۔۔ ختم شد عائشہ تاج مرتضی
  3. سائیکالوجی کا پریکٹیکل ہو رہا تھا! پروفیسر نے ایک چوہے کے لیے ایک طرف کیک رکھ دیا اور دوسری طرف چوہیا رکھ دی، چوہا فوراً کیک کی طرف لپکا، پروفیسر نے کیک کو بدل کر بریڈ رکھی تو چوہا بریڈ کی طرف لپکا، مختلف کھانے بدل بدل کر دیکھے مگر چوہا ہر دفعہ کھانے کی ہی طرف بھاگا- پروفیسر طلباء کی طرف سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے بولا، بس ثابت ہو گیا کہ بھوک ہی سب سے بڑی کمزوری ہے- ""سر ایک دفعہ چوہیا بھی بدل کر دیکھ لیں، ہو سکتا ہے یہ اس کی بیوی ہو-"" کلاس روم کے آخری بنچ سے آواز آئی????
  4. *دَردِ کی تحریر* بابا بابا! تِین دِن رہ گئے ہیں قربانی والی عید میں۔ ہمیں بھی گوشت ملے گا نا؟ بابا، ہاں ہاں کیوں نہی بِالکُل ملے گا۔۔ لیکن بابا پچھلی عید پر تو کسی نے بھی ہمیں گوشت نہیں دیا تھا، اب تو پورا سال ہو گیا ہے گوشت دیکھے ہوئے بھی، نہیں شازیہ، اللہ نے ہمیں بھوکا تو نہیں رکھا، میری پیاری بیٹی، ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیۓ حاجی صاحب قربانی کے لئے بڑا جانور لے کر آئے ہیں، اور مولوی صاحب بھی تو بکرا لے کر آئے ہیں، ہم غریبوں کے لیے ہی تو قربانی کا گوشت ہوتا ہے، امیر لوگ تو سارا سال گوشت ہی کھاتے ہیں، آج عیدالضحٰی پے مولوی صاحب بیان فرما رہے ہیں کہ قربانی میں غریب مسکین لوگوں کو نہیں بھولنا چاہئے۔۔ ان کے بہت حقوق ہوتے ہیں۔۔ خیر شازیہ کا باپ بھی نماز ادا کر کے گھر پھنچ گیا، گھنٹہ بھر انتظار کرنے کے بعد شازیہ بولی۔۔ بابا ابھی تک گوشت نہیں آیا، بڑی بہن رافیہ بولی۔۔ چپ ہو جاٶ شازی بابا کو تنگ نہ کرو۔ وہ چپ چاپ دونوں کی باتیں سنتا رہا اور نظرانداز کرتا رہا۔۔ کافی دیر کے بعد بھی جب کہیں سے گوشت نہیں آیا تو شازیہ کی ماں بولی۔ سنیۓ میں نے تو پیاز ٹماٹر بھی کاٹ دیۓ ہیں۔ لیکن کہیں سے بھی گوشت نہیں آیا، کہیں بھول تو نہیں گۓ ہماری طرف گوشت بجھوانا۔ آپ خود جا کر مانگ لائیں، شازیہ کی ماں تمہیں تو پتہ ھے آج تک ہم نےکبھی کسی سے مانگانہیں ، اللہ کوئ نہ کوئ سبب پیدا کرے گا۔۔ دوپہر گزرنے کے بعد شازیہ کے اسرار پر پہلے حاجی صاحب کے گھر گئے، اور بولے حاجی صاحب۔ میں آپ کا پڑوسی ہوں کیا قربانی کا گوشت مل سکتا ہے؟ یہ سننا تھا کہ حاجی صاحب کا رنگ لال پیلا ہونے لگا، اور حقارت سے بولے پتہ نہیں کہاں کہاں سے آ جاتے ہیں گوشت مانگنے، تڑاخ سے دروازہ بند کر دیا ۔۔ توہین کے احساس سے اسکی آنکھوں میں آنسو گۓ۔۔ اور بھوجل قدموں سے چل پڑا راستے میں مولوی صاحب کے گھر کی طرف قدم اٹھے اور وہاں بھی وہی دست سوال۔ مولوی صاحب نے گوشت کا سن کر عجیب سی نظروں سے دیکھا اور چلے گۓ۔ تھوڑی دیر بعدد باہر آۓ تو شاپر دے کر جلدی سے اندر چلۓ گۓ۔ جیسے اس نے گوشت مانگ کر گناہ کر دیا ہو۔۔ گھر پہنچ کر دیکھا تو صرف ہڈیاں اور چربی۔۔ خاموشی سے اٹھ کرکمرے میں چلے گئے اور خاموشی سے رونے لگ گئے۔ بیوی آئ اور بولی کوئی بات نہیں۔۔ آپ غمگین نہ ہوں۔ میں چٹنی بنا لیتی ہوں۔۔ تھوڑی دیر بعد شازیہ کمرے میں آئ۔ اور بولی بابا، ہمیں گوشت نہںں کھانا ۔ میرے پیٹ میں درد ہو رہا ہے ویسے بھی، یہ سننا تھا کہ آنکھوں سے آنسو گرنے لگے اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے لیکن رونے والے وہ اکیلے نہیں تھے۔۔ دونوں بچیاں اور بیوی بھی آنسو بہا رہے تھے۔۔ اتنے میں پڑوس والے اکرم کی آواز آئ۔۔ جو سبزی کی ریڑھی لگاتا تھا۔۔ انور بھائی، دروازہ کھولو، دروازہ کھولا تو اکرم نے تین چار کلو گوشت کا شاپر پکڑا دیا، اور بولا ، گاٶں سے چھوٹا بھائ لایا ہے۔ اتنا ہم اکیلے نہیں کھا سکتے۔ یہ تم بھی کھا لینا خوشی اورتشکر کے احساس سے آنکھوں میں آنسو آ گۓ ۔ اور اکرم کے لیۓ دل سے دعا نکلنے لگی۔ گوشت کھا کر ابھی فارغ ھوۓ ہی تھے کہ بہت زور کا طوفان آیا ۔ بارش شروع ہو گئ۔ اسکے ساتھ ہی بجلی چلی گئی۔ دوسرے دن بھی بجلی نہی آئی۔ پتہ کیا تو معلوم ہوا ٹرانسفارمر جل گیا۔ تیسرے دن شازیہ کو لے کرباہر آئے تو دیکھا کہ، مولوی صاحب اور حاجی صاحب بہت سا گوشت باہر پھینک رہے تھے ۔ جو بجلی نہ ہونےکی وجہ سے خراب ہو چکا تھا۔ اور اس پر کُتے جھپٹ رہے تھے۔ شازیہ بولی، بابا۔ کیا کُتوں کے لیۓ قربانی کی تھی؟ وہ شازیہ کا چہرہ دیکھتے رہ گیے ۔ اور مولوی اور حاجی صاحب نے یہ سُن کر گردن جھکا لی۔ خدرا احساس کریں غریب اور مسکین لوگوں کا۔ یہ صِرف تحریر ھی نہیں، اپنے آس پاس خود دار مساکین کی ضرورتوں سے ہمہ وقت آگاہ رھنے کی درخواست بھی ھے۔
  5. بلیو وہیل گیم کے بارے آپ لوگ آج کل کافی کچھ پڑھ رہے ہوں گے۔۔یہ دارصل ہے کیا چیز اور کیسے کام کرتی ہے۔۔اس کے بارے میں نے وکی پیڈیا پر جو کچھ پڑھا اس پر مختصر لکھتا ہوں۔۔ کہا جاتا ہے کہ بلیو وہیل کا آغاز دو ہزار تیرہ میں روس سے ہوا۔۔فلپ بوڈکن نامی نوجوان کو یونیورسٹی سے بے دخل کر دیا گیا تھا اس نے اس گیم کی بنیاد رکھی۔۔اس گیم میں دو پارٹیاں حصہ لیتی ہیں۔۔ایک ایڈمنسٹریٹر اور ایک ٹارگٹ۔۔یہ گیم پچاس دنوں پر مشتمل ہوتی ہے جس میں ایڈمنسٹریٹر ٹارگٹ کو چلینج دیتا ہے۔۔یہ چلینج چھوٹے چھوٹے چلینجز سے شروع ہوتے ہیں اور آخری چلینج خود کشی کا ہوتا ہے۔۔۔یہ چلینجز سوشل میڈیا کے ذریعے دیے جاتے ہیں وہ واٹس ایپ بھی ہو سکتا ہے اور فیس بک پر بھی۔۔شروع میں آسان آسان چلینج دیے جاتے ہیں جیسا کہ صبح چار بج کر بیس منٹس پر اٹھنا، کرین سے جمپ لگانا،اپنے بازو پر پین سے کچھ لکھنا،اپنے بازو یا ٹانگ میں کچھ چھبونا جیسا کہ سوئی۔۔اس کے بعد تھوڑے سے زیادہ خطرناک چلینجز دیے جاتے ہیں جیسا کہ بلیڈ سے اپنے بازو یا ٹانگ پر یس لکھنا، دس فٹ اونچی دیوار سے جمپ مارنا۔۔اونچی عمارت تا پل کے کنارے پر کھڑے ہونا وغیرہ۔۔۔ پچاس دنوں میں پچاس چلینجز دیے جاتے ہیں ان میں سے کچھ اسی دن دیے جاتے ہیں جس دن چلینج مکمل کروانا ہو اور کچھ ایڈوانس دے دیے جاتے ہیں۔۔آخری چلینج ٹارگٹ کو اس کی مرضی سے یا ڈرا دھمکا کر اس کو بلیک میل کر کے اسے خود کشی کی طرف راغب کرنا ہوتا ہے۔۔ اس گیم کی وجہ سے ارجنٹائن، برازیل،بلغاریہ، چلی،چائنہ، کولمبیا، جارجیا،انٖڈیا، سعودی عرب،اٹلی، کینیا، پیراگوائے،پرتگال،روس، سربیا، امریکہ، اسپین، یوراگوائے اور وینرویلا سمیت بیشتر ممالک میں بیسوں ٹین ایجز لڑکے لڑکیاں خود کشیاں کر چکے ہیں اور بہت سے ابھی بھی نازک حالت میں ہسپتال میں داخل ہیں۔۔ اب سنا ہے کہ اس گیم نے پاکستان کا رخ کر لیا ہے۔۔والدین اسے التماس ہے کہ اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں،۔۔ان کے موبائل فونز خاص کر سوشل میڈیا ایکٹویٹی پر کڑی نظر رکھیں اس سے پہلے کہ کوئی بڑے نقصان سے دوچار ہونا پڑے۔۔۔
  6. گزشتہ سال ہمارے حال پررحم کھاکرایک کرم فرمانے ایک تجربہ کارخانساماں بھیجا۔ جو ہرعلاقے کے کھانے پکانا جانتا تھا۔ ہم نے ”بھئی اورتوسب ٹھیک ہے مگرتم سات مہینے میں دس ملازمتیں چھوڑچکے ہو۔یہ کیابات ہے؟“ کہنے لگے”صاب! آج کل وفادارمالک کہاں ملتاہے؟“ . مشتاق احمد یوسفی
  7. ایک طالب علم نے اپنی معلمہ سے درخواست کی کہ وہ ان سے کلاس کے بعد کچھ بات کرنا چاہتا ہے تو معلمہ نے اس کے لئے کلاس کے بعد ملاقات کا ایک وقت مقرردیا۔ ان دونوں کے درمیان اس طرح سے سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا۔ معلمہ : - "آپ کیا بات کرنا چاہتے ہیں؟" طالب علم:- " مجھے لگتا ہےکہ میں کافی ذہین ہوں اور مجھے اس سے بڑی کلاس میں ہونا چاہئے۔ کیا آپ مجھے اس سے بڑی کلاس میں بھیج سکتی ہیں؟" معلمہ نے اس کی اس درخواست کو اسکول کے ڈائریکٹر تک پہنچا دیا اور ڈائریکٹر نے طالب علم کی صلاحیت کا اندازہ کرنے کے لئے ایک انٹرویو لیا ۔ ڈائریکٹر : - "3 ضرب 4 کتنا ہوتا ہے؟" طالب علم:- " 12 ". ڈائریکٹر : - " ٹھیک ہے، 6 ضرب 6 کتنا ہوتا ہے؟" طالب علم:- "36". ڈائریکٹر : - "جاپان کی راجدھانی کہاں ہے۔ ؟" طالب علم: - "ٹوکیو" ڈائریکٹر نے تقریبا آدھا گھنٹہ سوال جواب کیا اور طالب علم نے ایک بار بھی جواب دینے میں کوئی غلطی نہ کی۔ پھر انہوں نے معلمہ سے کہا کہ اگر آپ کچھ پوچھنا چاہتی ہیں تو پوچھ سکتی ہیں۔ معلمہ :- " ٹھیک ہے، تو بتائیے کہ وہ کونسی چیز ہے جو گائے کہ پاس چار ہیں اور میرے پاس دو ہیں؟" (ڈائریکٹر نے بڑے تعجب سے معلمہ کو دیکھا)۔ طالب علم:- " ٹانگیں استاد محترم!" معلمہ :- " بالکل صحیح، اب یہ بتائیے کہ وہ کونسی چیز ہے جو تمہاری پتلون میں ہے اور میری پتلون میں نہیں ہے؟ " (ڈائریکٹ بڑا حیران ہو اور بڑا شرمندہ ہوا)۔ طالب علم : - "جیب" معلمہ : - "عورتوں کے گھنگھریالے بال کہاں ہوتے ہیں؟ " (ڈائریکٹر حیران و پریشان ہو گیا)۔ طالب علم: -"افریقا میں" معلمہ :- " وہ نرم سی چیز کیا ہے جو عورتوں کے ہاتھ میں سخت ہو جاتی ہے؟ " (ڈائریکٹر کے دل کی دھڑکنیں بند ہو گئیں)۔ طالب علم:- " نیل پالش". معلمہ : - "عورتوں اور مردوں کی ٹانگوں کے درمیان میں کیا ہوتا ہے؟" (ڈائریکٹر کی تو آوازبند ہو گئی)۔ طالب علم: - "گھٹنے " معلمہ : - " بہت خوب! اب یہ بتائیے کہ وہ کون سی چیز ہے جو شادی شدہ عورت کے پاس کنواری عورت سے بڑی ہوتی ہے؟" (ڈائریکٹر کا تو بدن ہی شل ہو گیا)۔ طالب علم:- " چار پائی". معلمہ :- "میرے جسم میں وہ کون سی جگہ ہے جہان پر رطوبت سب سے زیادہ ہوتی ہے؟" (ڈائریکٹر نے آسمان کی طرف دیکھا اور اللہ سے مددمانگنے لگا)۔ طالب علم : - "زبان ۔ اے استاد محترم!" یہ سب سننے کے بعد ڈائریکٹرنے کہا: - "میں اپنی سوچ پر لعنت بھیجتا ہوں۔ تم یونیورسیٹی جاؤ اور میں پرائمری اسکول جاتا ہوں۔" منقول
×
×
  • Create New...