Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
Administrator

خواتین اسٹاف پر مشتمل پہلا ملکی پٹرول پمپ

Recommended Posts

14138029691_event.jpg

خواتین اسٹاف پر مشتمل پہلا ملکی پٹرول پمپ

 

جیسا کہا جاتا ہے کہ یہ مردوں کی دنیا ہے اور پاکستان میں یہ کسی اور ملک کے مقابلے میں زیادہ سچا بیان لگتا ہے، جہاں ہم اس بات پر تو فخر کرتے ہیں کہ مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم ہمارے ملک سے تھی اور متعدد خواتین متعدد شعبوں میں اپنا لوہا منوانے میں کامیاب رہیں مگر کئی بار پرتشدد مخالفت بھی یہاں نظر آتی ہیں اور مجموعی طور پر حقوق نسواں کی صورتحال کچھ زیادہ اچھی نظر نہیں آتی۔اس سب کو ذہن میں رکھے تو لاہور کے ایک پٹرول پمپ اس حوالے سے انتہائی دلچسپ مثال قائم کرتا نظر آتا ہے جہاں ایندھن کو گاڑیوں میں بھرنے کا کام جو روایتی طور پر مردوں کے لیے مخصوص سمجھا جاتا ہے، مکمل طور پر خواتین کرتی ہیں۔

ایم ایم عالم روڈ کے زوم پٹرول اسٹیشن میں یہ بظاہر بے باک مگر دلیرانہ اقدام کیا گیا جہاں خواتین کو اس شعبے میں ملازمتیں دی گئی ہیں جس پر مردوں کی بالادستی سمجھی جاتی ہے، پتلون قمیضوں میں اسمارٹ نظر آنے والی یہ نوجوان لڑکیاں گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کے ٹینکس کو ہوا کے جھونکے کی طرح آسانی اور پیشہ وارانہ مہارت سے بھرتی ہیں جس کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ آخر خواتین کو اس شعبے میں لانے کا فیصلہ اتنی تاخیر سے کیوں ہوا۔

ہم نے حال ہی میں اس پٹرول پمپ میں اس کی منی مارٹ سے ایک پانی کی بوتل خریدی جس کے دوران ہم نے کچھ لڑکیوں کو یونیفارم میں گاڑیوں میں پٹرول بھرتے دیکھا، جس نے ہمیں حیرت زدہ کردیا اور ہم نے اپنی گاڑی میں بیٹھ کر کچھ اس کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔کچھ صارفین کو دیکھ کر تو لگتا تھا کہ انہیں اس کی کوئی پروا نہیں مگر دیگر کے لیے یہ حیرت انگیز اور کچھ تکلیف دہ سا تھا۔

پٹرول اسٹیشن کے منیجر کے مطابق" جب سے ہم اس اعلیٰ طبقے کے علاقے میں منتقل ہوئے ہیں اور مستقل صارفین کی بیس بنانے میں کامیاب ہوچکے ہیں، انتظامیہ کو خواتین ملازمین کو بھرتی کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں"۔

ہم نے وہاں کام کرنے والی ایک لڑکی عائشہ سے پوچھا کہ وہ ایک پٹرول اسٹیشن پر کام کرکے کیسا محسوس کرتی ہے، جس پر اس نے بتایا"مزید خواتین کو پٹرول اسٹیشنز پر ملازمتیں دی جانی چاہئے، کیونکہ مردوں سے کسی بھی طرح کم نہیں، جب کار ڈرائیورز یہاں آتے ہیں تو ہم صارفین کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان سے پوچھتے ہیں کہ ہائی اوکٹین یا پریمئیم میں سے کونسا ایندھن بھروانا پسند کریں گے اور بس، ہم اس سے زیادہ بات چیت نہیں کرتے"۔

خواتین اس پٹرول اسٹیشن میں دو شفٹوں میں کام کرتی ہیں، پہلی شفٹ صبح آٹھ سے شام پانچ بجے تک جبکہ دوسری صبح دس سے شام سات بجے تک ہوتی ہے، انہیں مرد عملے کے مقابلے میں زیادہ معاوضہ دیا جاتا ہے اور انہیں روزانہ اجرت، کنٹریکٹ یا مستقل ملازم کے طور پر بھرتی کیا جاتا ہے، اسی طرح یونیفارم اور دوپہر کا کھانا بھی کمپنی کی جانب سے جہیا کیا جاتا ہے۔

عائشہ نے بتایا کہ کسی بھی مشکل میں مرد عملہ کافی مددگار ثابت ہوتا ہے اور ہم سب ایک ٹیم کی طرح مل کر کام کرتے ہیں۔ (بشکریہ ڈان نیوز)

Share this post


Link to post

اردو فن کلب کے پریمیم سیریز اور پریمیم ناولز اردو فن کلب فورم کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جو فورم کے پریمیم رائیٹرز کی محنت ہے اور صرف وقتی تفریح کے لیئے فورم پر آن لائن پڑھنے کے لیئے دستیاب ہیں ۔ ہمارا مقصد اسے صرف اسی ویب سائیٹ تک محدود رکھنا ہے۔ تاکہ یہ گناہ جاریہ نہ بنے ۔ اسے کسی بھی طرح سے کاپی یا ڈاؤن لوڈ کرنے یا کسی دوسرے دوست یا ممبر سے شیئر کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ۔ جو ممبران اسے اپنے دوستوں سے شئیر کر رہے ہیں ۔ ان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے ممبر سے بھی شئیر نہیں کر سکتے ۔ ورنہ ان کا مکمل اکاؤنٹ بین بھی ہو سکتا ہے۔ ڈیٹا شیئر کرنے والہ ممبراس بات کا عملی اقرار کرے گا کہ وہ بروز قیامت فورم انتظامیہ، سٹوری رائیٹر اور فورم ایڈمن کے تمام گناہوں کا اکلوتا وارث ہو گا ۔ اور بروز قیامت اپنی تمام نیکیاں (جو بھی اس کے نامہ اعمال میں ہوئیں ) بروز قیامت مجھے دینے کا پابند ہو گا۔ اگر کوئی ممبر اب بھی ایسا کرتا ہے اور گناہ جاریہ کا سبب بنتا ہے ۔ تو اس شرط کو ایگری کرتے ہوئے شیئر کر سکتا ہے ۔ فورم کو اس ایگری منٹ پر اجازت دینے میں کوئی اعتراض نہیں ۔ ایڈمن اردو فن کلب

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...