Jump to content
URDU FUN CLUB
Last Chance ! Private Cloud Activation Last Date 15-11-2020 After Last Date Not include Previous Purchase in your Private Cloud
Sign in to follow this  
Administrator

حلالہ کے بعد دوبارہ نکاح

Recommended Posts

حلالہ کے بعد دوبارہ نکاح کر کے پھر طلاق دیکر دوسری شادی کرنے پر خاتون شوہر کیخلاف کارروائی کیلئے عدالت آ گئی


لاہور(اُردو فن کلب  اخبار تازہ ترین۔یکم نومبر 2014ء) حلالہ کے بعد دوبارہ نکاح کر کے پھر طلاق دیکر دوسری شادی کرنے پر خاتون شوہر کیخلاف کارروائی کے لئے عدالت آ گئی۔ کاہنہ کی رہائشی نبیلہ نے سیشن عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے مئوقف اختیار کیا کہ اسکے خاوند جاوید نے اسے طلاق دے دی بعد میں وہ اپنے کئے پر پچھتانے لگا اور میرا حلالہ کروا کر دوبارہ مجھ سے شادی کر لی اب جاوید نے دوبارہ اسے طلاق دے دی ہے اور کسی اور خاتون سے شادی کر لی۔ نبیلہ نے عدالت کو بتایا کہ جاوید کا یہ فعل غیر قانونی ہے۔ اسکے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ ایڈیشنل سیشن جج اعظم چودھری نے کاہنہ پولیس سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے فریقین کو اگلے ہفتے طلب کر لیا ہے۔


Share this post


Link to post
Share on other sites

اردو فن کلب کے پریمیم ممبرز کے لیئے ایک لاجواب تصاویری کہانی ۔۔۔۔۔ایک ہینڈسم اور خوبصورت لڑکے کی کہانی۔۔۔۔۔جو کالج کی ہر حسین لڑکی سے اپنی  ہوس  کے لیئے دوستی کرنے میں ماہر تھا  ۔۔۔۔۔کالج گرلز  چاہ کر بھی اس سےنہیں بچ پاتی تھیں۔۔۔۔۔اپنی ہوس کے بعد وہ ان لڑکیوں کی سیکس سٹوری لکھتا اور کالج میں ٖفخریہ پھیلا دیتا ۔۔۔۔کیوں ؟  ۔۔۔۔۔اسی عادت کی وجہ سے سب اس سے دور بھاگتی تھیں۔۔۔۔۔ سینکڑوں صفحات پر مشتمل ڈاکٹر فیصل خان کی اب تک لکھی گئی تمام تصاویری کہانیوں میں سب سے طویل کہانی ۔۔۔۔۔کامران اور ہیڈ مسٹریس۔۔۔اردو فن کلب کے پریمیم کلب میں شامل کر دی گئی ہے۔

ye aurat kay ik khatarnak roop ki kahani hay...

ik esi kahani jisay sun kr aap ke rongtay kharday ho jayen gayn

apki nazron main aurat ki rahi sahi izzat woh bhi khatam ho jaye gi

aur phr ap ye sochnay per majboor ho jayen gayn ke......................

Kya Aisa Bhi HO Sakta Hay?

Share this post


Link to post
Share on other sites

  دلچسپ معاملہ ہے

عورت نے کہا کہ خاوند طلاق دے کر پچھتایا اور اس کا حلالہ کروا کر دوبارہ نکاح کیا

اب حلالہ عورت کی مرضی کے بغیر تو ہونے سے رہا

اور ایسا حلالہ جو جان بوجھ کر کرایا جائے ایسا کرنےوالے اور جس کے لیے کیا گیا ہے  دونوں پر لعنت بھیجی گئی ہے

معلوم نہیں پاکستان کا قانون اس بارے میں کیا کہتا ہے

طلاق دینا تو شاید قانون میں جرم نہیں

البتہ اکٹھی تین طلاقیں دینے والے کو ضرور قرون اولٰی میں کوڑے پڑتے رہے ہیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

میں نے اس موضوع پر کافی سنا اور پڑھا ہے۔

ایک تو حلالہ اسی صورت ہی قابل قبول ہے کہ جب عورت کسی دوسرے کی بیوی بن جائے اور اس کی نیت گھر بسانے کی ہو مگر کسی وجہ سے بس نہ پائے اور طلاق ہو جائے۔

تب خاوند اول دوبارہ رجوع کرنے کا حق رکھتا ہے۔

کسی اور صورت میں جان بوجھ کر پلاننگ کر کے حلالہ کرنا مناسب نہیں۔

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک رات بسر کرنا بھی ضروری ہے اور بعض کہتے ہیں کہ اس کی ضرورت نہیں۔

مولوی حضرات کا کہنا ہوتا ہے کہ کسی دور پار کے بندے سے کروایا جائے،ایسے افراد جو گھر کے ہی ہوں یا جن سے ملنا جلنا ہوتا ہو وہاں نہ کیا جائے۔ کیونکہ اس سے قربت اور شرم وحیا ختم ہو جاتی ہے کیونکہ دونوں بطور میاں بیوی مباشرت کر چکے ہوتے ہیں تو دوبارہ ان کے بھٹکنے کے چانس زیادہ ہوتے ہیں۔

 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

آج کل حلالہ ایک دلچسپ موضوع بن گیا ہے  - لوگ اس موضوع کو دلچسپی سے سنتے ہیں اور چسکے لیتے ہیں

پچھلے دنوں تو حلالہ سے ملتے جلتے موضوعات پر کئی ڈرامے بھی آئے ہیں

ایسا محسوس ہوا جیسے حلالہ کو پروموٹ کیا جارہا ہو

میں اس بات پر حیران ہوتا ہوں کہ بہت سے لوگ حلالہ کو جائز سمجھتے ہیں

کئی مولوی حضرات حلالہ کو جائز بتاتے ہوئے حلالہ کرنے کی خدمات مہیا کرنے کے لیے بھی تیار رہتے ہیں

میں نے اس پر بہت تحقیق کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ حلالہ کرنے والوں کی سخت مذمت کی گئی ہے ہمارے مذہب میں۔ کہ جو شخص حلالہ کرتا ہے اور جس کے لیے حلالہ کیا جاتا ہے ، ان دونوں پر خدا کی لعنت۔ دوسرے خلیفۃ راشد ایسے لوگوں کو زانیوں کے برابر سمجھتے تھے۔ اور ان کا فرمان تھا کہ مجھے کوئی ایسا کیس نظر آیا تو میں دونوں کو سنگسار کروا دوں گا - کیونکہ ایسے شخص کا مقصد وہ نہیں ہوتا جو شارع نے نکاح سے مراد لیا ہے

فقہہ کے تمام مذاہب میں بھی سازشی حلالہ کے بارے میں ایسی ہی رائے ہے - مطلقہ سے نکاح کرتے وقت اگر یہ شرط رکھی جائے کہ  مباشرت کے بعد طلاق دیگا تاکہ پہلے خاوند سے نکاح کرلے یہ طریقہ تمام آئمہ کے نزدیک حرام ہے۔البتہ امام شافعی امام مالک امام حنبل کے نزدیک عورت پہلے خاوند کے لیے حلال  ہی نہیں ہوتی جبکہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک عمل حرام ہے لیکن پہلے خاوند سے نکاح کےلیے عورت جائز ہو جاتی ہے 

خیر اس بحث سے قطع نظر میرے نزدیک حلالہ کا مسئلہ اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں لوگوں سمجھتے ہیں کہ طلاقیں جب تک تین نہ دی جائیں صحیح طلاق نہیں ہوتی

میں نے کتنے ہی لوگوں سے گفتگو کی  اور معلوم ہوا کہ سب کے پاس یہی غلط تصور ہے کہ اگر ایک طلاق دی جائے تو مکمل علیحدگی نہیں ہوسکتی اور عورت کسی دوسرے سے تب تک نکاح کرنے کے لیے آزاد نہیں ہوگی جب تک تین طلاقیں نہ دی جائیں -حالانکہ تما م فقہیں اس بات پر متفق ہیں کہ  ایک طلاق دینے کے بعد اگر عورت کے اگلے تین حیض آنے تک اس سے  رجوع نہ کیا جائے تو حقیقی طلاق واقع ہو جاتی ہے اور عورت کسی دوسرے مرد سے نکاح کر سکتی ہے

اور احسن طریقہ طلاق کا یہی ہے کہ صرف ایک طلاق دی جائے

ایک یا دو طلاقوں کے بعد یہ گنجائش رہتی ہے کہ اگرعدت کے اندر رجوع کیا جاسکتا ہے اور اگر عدت گذر  بھی جائے تو دوبارہ نکاح کیا جاسکتا ہے حلالہ کی نوبت نہیں آئے گی --- اور اگر نکاح نہ کرنا چاہیں تو عورت عدت کے بعد آزاد ہوگی کہ کسی اور سے نکاح کرلے

میرے خیال میں تو حلالہ کو پروموٹ کرنے کی بجائے اس بات کو پروموٹ کرنا چاہیے کہ اگر عورت سے علیحدہ ہی ہونا ہے تو ایک طلاق دے کر علیحدہ ہوا جائے --- تین طلاقیں بیک وقت دینے والے  طریقے کی تو سختی سے حوصلہ شکنی ہونی چاہیے اور حکومت کی طرف سے سزا ملنی چاہیے

Share this post


Link to post
Share on other sites

لندن (رپورٹ، آصف ڈار)

اپنے شوہر کے ہاتھوں بیک وقت طلاق حاصل کرکے ایک خفیہ حلالہ سینٹر پہنچنے والی ایک پاکستانی مسلمان عورت کا کہنا ہے کہ ایک نام نہاد مولوی نے اسے کئی مردوں کے پاس بھیج کر اس کا حلالہ کردیا اور جب وہ تنگ آگئی اس نے مولوی کی بات ماننے سے انکار کردیا اور واپس اپنے شوہر کے پاس چلی گئی

مگر مولوی نے اس کے ذہن پر اس قدر منفی اثرات ڈالے کہ وہ نفسیاتی مریضہ بن گئی۔

پاکستان سے شادی کرکے مڈلینڈز میں سیٹل ہونے والی اس عورت نے اپنی جی پی کو بتایا کہ اس کے شوہر نے غصے میں آکر اسے تین طلاقیں دے دی تھیں۔ چونکہ اس نے پاکستان میں اپنے والدین سے سن رکھا تھا کہ شوہر اگر تین بار طلاق کہہ دے تو طلاق ہوجاتی ہے۔ چنانچہ وہ اپنا شک دور کرنے کے لئے ایک اور پاکستانی عورت کی مدد سے خفیہ حلالہ سینٹر پہنچ گئی جہاں پر بیٹھے ہوئے نام نہاد مولوی نے اس سے کہا کہ اب وہ اپنے شوہر پر حرام ہوچکی ہے اور اسے حلالہ کرنا ہوگا۔ اس نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر کے گھر کو چھوڑ کر اپنی ایک دوست کے ساتھ رہنے لگ پڑی تھی کیونکہ وہ سمجھنے لگی تھی کہ اب اس کا شوہر اس کے لئے غیر مرد بن گیا ہے۔ حالانکہ اس کے شوہر نے اسے بارہا سمجھایا اور ایک فتویٰ بھی لاکر دکھایا کہ ان کی طلاق نہیں ہوئی مگر اس نے اپنے شوہر کی بات نہیں سنی بلکہ مولوی کے کہنے میں آکر اس نے مولوی کے بتائے ہوئے ایک مرد کے ساتھ ایک رات کے لئے حلالہ کرلیا تاہم جب وہ کچھ دن بعد وہ اسی مولوی کے پاس دوبارہ گئی تو اس نے اسے بتایا کہ اس کا حلالہ موثر نہیں ہوا۔ لہٰذا اسے ایک مرتبہ پھر حلالہ کرنا پڑے گا۔

اس عورت کی داستان سننے والی جی پی نے جنگ لندن کو اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ چونکہ یہ سادہ لوح عورت مولوی کے چنگل میں پھنس گئی تھی اس لئے مولوی نے خود بھی اس کے ساتھ ایک رات کے لئے حلالہ کیا اور اس کی عزت کو مذہب کی آڑ میں تار تار کیا گیا۔ اس کے اب یہ عورت سمجھتی ہے کہ اس کی سخت توہین کی گئی ہے۔ اس لئے اس کو ڈپریشن ہوگیا ہے اور وہ دل ہی دل میں یہ سمجھتی ہے کہ اب وہ اپنے شوہر کے ساتھ دھوکہ کررہی ہے جسے اس کے حلالوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے۔

حلالہ کا شکار ہونے والی عورتوں کے ساتھ کام کرنے والی ایک پاکستان نژاد برطانوی سوشل ورکر نے بتایا کہ ان کے پاس اس قسم کے بہت زیادہ کیس آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اکثر اوقات ان کے پاس ایسے سادہ لوح جینوئین افراد آتے ہیں جو بعض مولویوں کے ہاتھوں لٹ چکے ہوتے ہیں اور ان کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کے لئے مشورہ مانگتے ہیں مگر قانون ان کی اس لئے مدد نہیں کرسکتا کہ چونکہ حلالہ کرانے والی عورت خود اپنی اور اپنے شوہر کی مرضی سے حلالہ مولوی کے ساتھ نکاح کرتی ہے۔ چونکہ اس کو ریپ نہیں کہا جاسکتا اس لئے پولیس اس پر کارروائی نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ ویسے بھی یہ لوگ اپنی عزت کے ڈر سے معاملے کو زیادہ اچھالنا نہیں چاہتے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے پاس ایک ایسی عورت بھی آئی تھی جس کے شوہر نے اسے غصے میں طلاق دے دی مگر بعد میں وہ سخت نادم ہوا اور وہ دونوں ایک مولوی کے پاس گئے۔ مولوی نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ کسی سے حلالہ کرالیں مگر انہوں نے اپنی بدنامی سے بچنے کے لئے مولوی کو حلالہ کرنے کی درخواست دی۔ مولوی نے وعدہ کیا کہ وہ اگلے ہی روز اس عورت کو طلاق دیدے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اگلے روز اس عورت کا سابق شوہر آیا مولوی سے طلاق کا تقاضا کیا تو اس نے صاف انکار کردیا اور کہا کہ وہ اپنی بیوی کو کسی بھی صورت میں طلاق نہیں دے گا۔ اس شخص نے مولوی کی بہت منتیں کیں مگر وہ نہ مانا۔ چنانچہ اس کے شوہر کو اس معاملے میں محلے اور مسجد کے دوسرے لوگوں کو ملوث کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو مولوی کو مارپیٹ کر طلاق پر آمادہ کیا۔

اس سوشل ورکر نے کہا کہ بعض نام نہاد مولوی نو مسلم عورتوں کو سخت پریشان کرتے ہیں اور حلالہ کے نام پر ان کا سخت جنسی استحصال کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نومسلم عورتیں معلومات نہ رکھنے کی وجہ سے ہر چھوٹی موٹی بات پوچھنے مولویوں کے پاس جاتی ہیں مگر ان میں سے بعض مولوی ان کی کم علمی کا فائدہ اٹھا کر انہیں داغ دار کردیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس کئی نومسلم عورتیں آئی ہیں جنہوں نے اپنے ساتھ ہونے والے سلوک پر شکایت کی ہے۔ ان میں سے بعض عورتیں اب اسلامی فلاحی اداروں میں بھی مقیم ہیں۔ جہاں ان کی بحالی کا کام ہورہا ہے۔

لندن سے تعلق رکھنے والے ایک سنگل مدر نے اپنا نام افشاء نہ کرنے کی شرط پر جنگ کو بتایا کہ وہ دو مردوں کے درمیان پنگ پانگ بن گئی تھی جس کے بعد اس نے شادیوں سے توبہ کرلی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزار رہی تھی کہ اس کے اپنے شوہر کے ساتھ اختلافات ہوگئے اور انہوں نے ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرکے طلاق لے لی۔ اس نے بتایا کہ کچھ عرصہ بعد اس نے ایک اور مرد کے ساتھ شادی کرلی مگر ایک دن اس نے غصے میں آکر اسے طلاق دے دی جس کے بعد وہ سخت پریشان بھی ہوا اس نے بتایا کہ وہ اپنے اس شوہر کو نہیں چھوڑنا چاہتی تھی چنانچہ وہ ایک مفتی کے پاس پہنچ گئی جس نے اسے مشورہ دیا کہ اگر وہ اپنے پہلے شوہر کے ساتھ دوبارہ شادی کرکے اس سے طلاق لے لے تو اس کا حلالہ ہوجائے گا اور پھر وہ اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ دوبارہ شادی کرسکتی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے ایسا ہی کیا اور اپنے پہلے شوہر کو دوبارہ شادی اور طلاق دینے پر آمادہ کریں۔ جب وہ طلاق لے کر دوسرے شوہر کے پاس آئی تو اس نے اسے دوبارہ قبول کرنے سے انکار کردیا۔ جب وہ پھر مفتی کے پاس گئی تو اس نے کہا کہ اگر اب وہ اپنے پہلے شوہر کے ساتھ تیسری مرتبہ شادی کرنا چاہتی ہے اسے کسی اور کے ساتھ حلالہ کرنا پڑے گا۔ اس نے بتایا کہ وہ حلالوں سے تنگ آگئی ہے اور اب اس نے کسی سے شادی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ اس کا چھوٹا بیٹا اپنی ماں کو شوہر تبدیل کرتے ہوئے دیکھ کر بڑا نہ ہو۔

حلالہ کے حوالے سے مختلف مکاتب فکر کا نکتہ نظر ایک ہی ہے کہ حلالہ محض اس لئے نہیں کیا جاسکتا کہ اس عورت کی اپنے شوہر کے پاس جانے کی خواہش ہوتی ہے اور وہ اس سے دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہے۔ بلکہ تمام علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ طلاق کے بعد اگر کوئی عورت حلالہ کے ارادے کے بغیر کسی دوسرے مرد کے ساتھ شادی کرلے اور کچھ عرصے بعد ان دونوں میں طلاق ہوجائے تو وہ دوبارہ شادی کرسکتے ہیں۔ تاہم حلالہ کے نام پر شادی کرنے کی اسلام میں اجازت نہیں دی گئی۔

اس بارے میں برطانیہ کے مقتدر علماء کرام کا کہنا ہے کہ بعض نام نہاد مولویوں اور مفاد پرستوں نے مذہب کے نام پر دوکانیں لگا رکھی ہیں اور لوگوں کی بھاری اکثریت ان کے چنگل میں پھنس جاتی ہے۔ ان علماء نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ انہیں نکاح، شادی، طلاق، خلع وغیرہ کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ صرف مستند اداروں میں ہی جائیں اور ایسے لوگوں کے ہتھے نہ چڑھیں جو عورتوں کا جنسی استحصال کرتے ہیں۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

اس موضوع پر مطالعے سے جو بات میں سمجھ پایا وہ یہ کہ اگر طلاق اس طرح دی جائے جس طرح ہدایت کی گئی ہے تو حلالہ کا مسئلہ ہی نہیں پیدا ہو سکتا

مزیدار بات یہ ہے کہ طلاق دینے کے صحیح طریقہ پر سبھی مسالک متفق ہیں

اور وہ طریقہ یہ ہے کہ

اگر یہ فیصلہ کرہی لیا ہے کہ گھر نہیں بس سکتا، اور علیحدہ ہونا ہی ہے تو

۔ طلاق ایک ہی دی جائے اور اس کے بعد عورت کے تین حیض (پیریڈز) آنے تک عدت پوری ہونے کا انتظار کیا جائے -عدت تک اگر رجوع نہیں کیا تو طلاق واقع ہوجائے گی (حاملہ کی عدت حمل ختم ہونے تک ہوتی ہے)۔

۔ طلاق غصّہ کی حالت میں نہ دی جائے بلکہ غصّہ اترنے کے بعد ٹھنڈے دل سے یہ سوچا جائے کہ کیا مصالحت اور گذارا ہو سکتا ہے یا نہیں ۔۔۔ اگر مصالحت کی صورت نظر نہیں آتی اور طلاق کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے تو

۔ طلاق  حیض کی حالت میں ہرگز نہ دی جائے بلکہ جب عورت غسل کر کے پاک ہوجا ئے تب دی جائے یا اگر وہ پہلے ہی پاکیزگی (طہر) کی حالت میں ہے تو

۔ جس پاکیزگی کے دورانیے میں مباشرت کی گئی ہے اس میں طلاق نہ دی جائے بلکہ اگلے پیڑیڈ کے بعد پاکیزہ ہونے کا انتظار کیا جائے اور طلاق دینی ہے تو اس طہر میں مباشرت سے گریز کیا جائے 

۔ طلاق دینے کے بعد عورت کو تین حیض تک عدت شوہر کے گھر میں ہی گذارنی ہے اس دوران شوہر اگر اپنے فیصلے کو واپس لینا چاہے تو رجوع کرسکتا ہے لیکن اگر طلاق کے فیصلے پر قائم ہے تو اسے جسمانی تعلق سے پرھیز کرنا ہے اور بستر الگ رکھنا ہے - البتہ عورت کے لیے ہدایت ہے کہ اگر وہ بسے رہنا چاہتی ہے تو اس دوران خوب بناؤ سنگھار کر کے مرد کو لبھائے تاکہ رجوع ہو جائے

۔ عدت ختم ہونے تک اگر رجوع نہیں کیا تو تیسرے حیض کے شروع ہوتے ہی طلاق واقع ہو جائے گی

اب عورت آزاد ہے اور اس شخص کی بیوی نہیں رہی اور کسی دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے ( اگر عورت آزاد ہونا چاہے تو اس طریقہ سے کم سے کم مدت میں عدت پوری ہوتی ہے جو غالباََ دو ماہ بھی ہو سکتے ہیں)۔

لیکن چونکہ ایک طلاق کے بعد عدت پوری کی گئی ہے اسلیے اگر شوہر اور بیوی بعد میں پچھتائیں تو اب ان کو دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا اور نیا حق مہر ہوگا

لیکن ہمارے ہاں سب یہی سمجھتے ہیں کہ جب تک تین طلاقیں نہ دی جائیں مستقل علیحدگی ہوتی ہی نہیں

میرے سامنے آج تک ایک بھی ایسی مثال نہیں ہے جس میں صحیح طریقے سے طلاق دی گئی ہو جیسے کہا گیا ہے

اگر طلاق صحیح ہدایات کے مطابق دی جائے تو ایسی صورت میں حلالہ کرنے کی نوبت تقریباََ ناممکن ہے اوراگر ہے تو وہ یہ ہوسکتی ہے کہ

ایک شخص نے بیوی کو طلاق دی - تین حیض گذرنے کے بعد طلاق واقع ہو گئی اور دونوں علیحدہ ہوگئے --- بعد میں پچھتائے اور دوبارہ نکاح کرلیا ---- پھر کچھ عرصہ بعد جھگڑا ہوا اور نوبت دوبارہ طلاق تک پہنچی --- تین مہینے گذرنے کے بعد طلاق واقع ہوئی اور علیحدگی ہو گئی --- پھر دوبارہ فیصلہ کرلیا کہ غلطی کی اور ایک بار اور نکاح کرلیا --- لیکن  چونکہ دو بار طلاقیں ہو چکی ہیں -- اب اگر تیسری بار طلاق ہو گئی تو عورت مکمل حرام ہو جائے گی ۔۔۔ اور حلالے کے بغیر اس سے اب نکاح ممکن نہ رہے گا

اگر اس طریقہ کو اختیار کیا جائے تو کبھی حلالے کی نوبت آہی نہیں سکتی

میں نے کہیں یہ بھی نہیں سنا کہ لوگ جو طریقہ بتایا گیا ہے اس طریقے سے طلاق دیتے ہوں

اگر آپ کے سامنے ایسی کوئی مثال ہو تو مجھے کم از کم ضرور آگاہ کیجیے گا

مگر ہو کیا رہا ہے --- غصّے میں سوچے سمجھے بغیر ایک ساتھ تین طلاقیں دے دی جاتی ہیں --- یہ بھی نہیں دیکھا جاتا کہ عورت کہیں حیض کی حالت میں تو نہیں ، کہیں حاملہ تو نہیں ۔ بس غصّے میں آؤٹ ہوئے اور طلاق دی ۔۔۔ پھر بچوں کی وجہ سے پچھتائے کہ بچوں کی ماں کہاں سے لائیں --- مولوی کے پاس گئے اور حلالہ کے لیے شکار تلاش کیا

اور بھائی غصے میں آپ نے طلاق دی ہے --- بیوی کا کیا قصور ہے جو اسے دوسروں سے چدوا رہے ہو ۔ نہایت ہی توہین آمیز بات ہے یہ عورت کے لیے

Share this post


Link to post
Share on other sites

Meri ilam ke mutabik halala shaid hi kabhi aplicable hoota ho . halala ki zaroorat jab ap teen dafa talaq hassan se talaq de dain ( 3 talaq ka means 1 talaq ) agar ap teen dafa talaq de b dain tu

aurat ke tessre ayam se qabil rajhoo jaiz hai aur agar tesree ayyam se qabil rajho na ho tu fir nia naka nia haqmar ke sath usi aurat se jaiz hai

is tara 2nd time aur agar third time aisa ho jaye fir halala karna parta hai ...

mere zaati hail main itni dafa talaq yan kisi aurat ke nikal kar fir rajoo yan nia nika ke baad lakhon main koi 1 case ho ga jo dobara rajoo karna chahe ga

For reffernce kindly

 

surah baqra       aiyat # 228 to 240
surah talaq        aiyat  1 to 7
surah nisa         aiyat   35
surah baqra       aiyat  232 for concept of halala
ibne abbas         sahi muslim jild  # 2 hadith # 3491

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...