Jump to content
URDU FUN CLUB
Please Note ! UFC Site Move to New Hosting Server , Service Maybe disabled Some Days , Will be Back Soon as Possible
Sign in to follow this  
goldfishpk

پرنس سیریز

Recommended Posts


پرنس سیریز کی پہلی کہانی

ناگن

 

 

 

.اس لڑکی کی کہانی جسے پانا میری ضد تھی جسے پانا میر ی زندگی کا مقصد تھا 


موبائل کی بیل نے مجھے اٹھنےپر مجبور کر دیا۔ راجو کے نام پر میں نےیہ بیل محفوظ کی ہوئی تھی ۔

نہیں تو میرے موبائل پر صرف ایک بیپ والی بیل لگی ہوئی تھی۔ جیسے ہی میں نے کال اوکے کی ۔ نیلی آنکھیں باس ۔ راجو نے بغیر تمہید کے مخصوص سگنل دیا ۔ وہ 125 پر ہیں اور بائیک چلانے وال کوئی بازی گر لگتا ہے میں اسے کھو بھی سکتا ہوں ۔ بائیک کا نمبر نوٹ کر لو، میں نے اسے ہدایت دی ۔ نمبر نہیں ہے باس ، اپلائیڈ فار ہے ، آپ آجاؤ ، میرے جسم میں جیسے بجلیاں دوڑ گئ ۔ میں پاجامے کے اوپر ہی ٹی شرٹ پہن کے والٹ ، چابیاں اور موبائل ، موبائل تو میرے کان سے لگا ہے۔ فلیٹ لاک کر کے چار منٹ کے اندر میں گاڑی اسٹارٹ کرچکا تھا۔ اس دوران راجو سے میں اس کی لوکیشن پوچھ چکا تھا ۔ تین سال پہلے میں نے راجو کو ایک مشن دیا تھا ۔ نیلی آنکھوں والی کو ڈھونڈنے کا ۔ تب سے اب تک یہ تلاش جاری تھی ۔ کچھ نیلی آنکھیں ملی پر اس میں وہ نہیں تھی جس کی مجھے تلاش تھی ۔ اس وقت میں بڑی اوور ڈرائیونگ کر رہا تھا ۔ صبح صبح بیشتر سڑکیں خالی تھیں ، راجو سے میرا مسلسل رابطہ تھا ۔ میں ان کی مخالف سمت سے آرہا تھا ۔ کیا خیال ہے راجو کہاں جا رہے ہیں وہ ؟۔ کسی کالج یا یونیورسٹی کے لگتے ہیں ۔ راجو نے بات ختم بھی نہیں کی کہ میں نے دوسرا سوال کر دیا، رستے میں کون کون سے کالج یا یونیو رسٹی آتے ہیں ۔ میں نے ایک سگنل توڑتے ہوئے پوچھا ۔ جیسے ہی راجو کا جواب آیا میں نے تیزی سے فیصلہ کیا اور ایک شارت کٹ سے کینال بینک روڈ کی طرف گاڑی موڑ دی ۔ کار سے زیادہ تیز میرا دماغ چل رہا تھا ۔ باس وہ کینال روڈ کی طرف مڑسکتے ہیں ۔۔۔۔ میں کینال بنک روڈ پر پہنچ چکا ہوں میں نے راجو کی بات ختم ہونے سے پہلے بتا دیا ۔ صبح صبح کینال روڈ پر بڑا رش ہوتا ہے کئی کالج اسی طرف ہیں خاص کر پنجاب یونیورسٹی اور دفتروں کو جانے والے کچھ اس طرف سے ائیر پورٹ جانے والے ۔ میری نظریں بیک مِرر پر تھی ۔ ایک 125 بڑی خطرناک ڈرائیونگ کرتا گاڑیوں کو بائیں طرف سے اوور ٹیک کررہا تھا۔ میں بھی بائیں قطار میں آگیا ۔ جیسے ہی اس نے مجھے کراس کرنا چاہا ۔ میں نے گاڑی تھوڑی نیچے اتار دی ۔ اسے مجبورا بائیک آہستہ کرنی پڑی ۔ گاڑی اس رش میں بائیک کے سامنے کچھ بھی نہیں تھی ۔ اس لیے میں اسے آگے نہیں نکلنے دیا ۔ باس میں نے آپ کی کار دیکھ لی ۔ راجو کی پرجوش آوازآئی ۔ راجو تم آگے نکل جاؤ ۔ اوکے باس ، راجو مجھے دیکھ کے پرجوش ہوگیا تھا ۔اورکچھ لمحوں میں شُوں کر کے میری دائیں طرف سے گاڑیوں کے درمیان سے خطرناک طریقے سے نکل کےبائیں طرف سے کراسنگ کرنے لگ گیا ۔ بائیں طرف اوور ٹیک خطرناک ہوتا ہے پر کامیاب ہوتا ہے

 

میرے اندازے کے مطابق 125 نے بھی راجو کی طرح نکلنا چاہا جب وہ میری کار کے درمیان میں آیا میں نے کار کو ہلکا سا بائیں طرف کیا ۔ وہ پھنس گیا کچھ دیر بعد اسے بائیں قطار میں جانا پڑا ۔ یہی میں چاہتا تھا ۔اس کے آگے پیچھے گاڑیاں تھیں، اس کے انتہائ بائیں طرف فٹ پاتھ تھا اور فٹ پاتھ کے ساتھ نہر تھی ۔ اور ادھر میری گاڑی، وہ بائیں قطار میں پھنس چکے تھے ، نئی بائیک کو اس نے ہوائی جہاز بنایا ہوا تھا۔ اب میں نے لڑکی کی طرف دیکھا ۔ وہ غصے سے میری طرف ہی دیکھ رہی تھی ۔ اف خدایا اس کی گہری نیلی آنکھیں اور ان آنکھوں میں نیلا سمندر اور اس نیلے سمندر کے نیلگوں پانیوں میں دل کرتا تھا ابھی چھلانگ لگا دوں۔ اس نے سفید چادر سے نقاب کیا ہوا تھا ۔ بلکہ پورا جسم پر چادر اس طرح تھی کہ اس کے جسمانی خطوط کا کچھ اندازہ نہیں ہو رہا تھا ۔ میرے اندازے کے مطابق وہ 23 سال کی لگتی تھی ۔ لڑکے نے ہیلمٹ پہنا ہوا تھا ، اس دوران لڑکے نے دو بارکٹ مار کے نکلنا چاہا مگر میں نے اس کی چال ناکام بنا دی ۔ اسے میری بُھونڈی کا اندازہ ہو چکا تھا ۔وہ تو پہلے ہی بڑاغصے میں تھا، اسی کشمکش میں دو تین کالج پیچھے رہ گئے ۔ مجھے ان کی منزل کا اندازہ ہوگیا تو میں نے کار آگے نکالنے میں دیر نہیں لگائی۔ راجو تم باہر ہی رہنا ، کال بند کرنے سے پہلے میں نے اسے ہدایت کی ۔ پھر میں تانیہ کو کال کرنے لگا ۔ بڑے گھر کی بگڑی ہوئی تانیہ اپنا کام بخوبی سمجھتی تھی تانیہ پیڑنہیں گنتی تھی اسے آم کھانے سے مطلب تھا ۔ کچھ ہی دیر میں ، میں تیز رفتاری سے گاڑی پنجاب یونیورسٹی میں لیتا گیا۔ گاڑی پارک کر کے میں کینٹین کی طرف چل پڑ ا۔ 125بائیک والا لڑکا سیدھا جمیعت کے لڑکوں کے پاس گیا وہ انہیں میرے بارے میں ہی بتا رہا ہو گا،۔ مگر جیسے ہی عرفان نے مجھے دیکھا تو جھلاہٹ میں اسے ہی ایک جھانپڑ رسید کر دیا ۔ عرفان پہلے ہی اوپر سے میری وجہ سے جھاڑیں کھا چکا تھا ۔عرفان کی ملتجی آنکھیں مجھے کچھ کہہ رہیں تھیں ،میں نے سر ہلا دیا ۔ میں نے بائیک والے لڑکے کو واپس جاتے ہوئے دیکھا ، لگتا ہے وہ نیلی آنکھوں کو صرف چھوڑنے آیا تھا ، میں اس وقت نیلی آنکھوں مے سحر میں کھویا ہوا تھا اور میرا کسی سے بات کرنے کا بھی موڈ نہیں تھا ۔ اسلیے کینٹین میں جا کے بیٹھ گیا ۔ او شہزادہ ساڈے لاہور دا ۔ ایک خوشامدی آواز نے مجھے خیالوں سے باہر کھنچ لیا ۔ وہ بشیر تھا ۔ میری سرکار بڑے دنوں بعد درشن دیئے ہیں آپ نے۔ اس کی خوشامد جاری تھی ۔ اور بشیر کیسے ہو ۔ مجھے اس سے بات کرنی ہی پڑی ۔ میں ٹھیک جناب ، ایسے کرو دو کولڈ ڈرنک بھیج دو مگرآج پہلے اچھا سا ناشتہ کراؤ ۔ او میرے شہزادے ساری کینٹین ہی تمھاری ہے ، ابھی میں ناشتہ بھیجتا ہوں اپنے شہزادے کیلیے۔ بشیر چلا گیا اور میں پھر خیالوں میں کھو گیا ۔ 4 سال پہلے میرے اندر نیلی آنکھوں کی طلب زیادہ زور مارنے لگی ۔ لیکن صرف نام کے سہارے اسے ڈھونڈنا بھوسے کے ڈھیر میں سوئی ڈھونڈنے کے مترادف تھا۔ میں نے اپنی سی کوشش کی مگر بات نہ بنی ۔ مجھے کوئی ایسا چاہیے تھا جس کا کام ہی آوارہ گردی ہو ، پھر مجھے راجو ملا ۔ آنٹیوں سے اپنے خرچے نکالتا تھا ۔ میں اس سے ملتا رہا اسے پرکھتا رہا ۔ مجھ سے بہت متاثر تھا ۔ ایک دن پوچھنے لگا باس ،کوئی ایسی لڑکی بھی ہو جسے آپ پا نہ سکیں ہوں ۔ ہاں ایک ہے ، کون ہے وہ باس ؟ اس نے حیرانگی سے پوچھا۔ اس کا نام دلآویز ہے ۔ کہاں رہتی ہے وہ ،اس کا تجسس بڑھنے لگا،پتہ نہیں کہاں ہو گی ۔اس نیلی آنکھوں والی کو آخری بار دیکھا تھا تو وہ 13 سال کی تھی اور میں 16 سال کا تھا ۔اب تو وہ 23 سال کی ہوگئی ہوگی ۔اس کا باپ کا نام اور کام ، راجو کے سوال جاری تھے ،سرور خان ، ۔۔۔۔۔۔۔۔ کمپنی میں کام کرتا تھا ۔ کچھ اور اس کے بارے میں جانتے ہیں آپ ، راجو نے پھر سوال کیا ۔ بس یہی کچھ جانتا ہوں ۔ ہاں اس کی ماں کا نام نگینہ تھا ۔ نگینہ کے نام سے ہی میرے منہ کا ذائقہ جیسے کڑوا ہو گیا۔اور کچھ ان کے بارے میں ۔ راجو نے پوچھا ۔ دونوں میاں بیوی پیدائشی لہوری ہیں اور پٹھان خاندان سے ہیں وہ آپ کو کہا ملی تھی ؟۔وہ کرائے کے مکان میں رہتے تھے اس کا پرانا ایڈریس بتا کہ میں راجو کو پر خیال نظروں سے دیکھنے لگا۔ اسی کام کیلیے میں اسے اپنی مصروفیات سے وقت دیتا تھا باس میں لاہور کو اپنے ہاتھ کی لکیروں کی طرح جانتا ہوں ہر گلی سے میں گزرا ہوں ۔ہر گرلز کالج ، ہر یونیورسٹی کا مجھے پتہ ہے ، باس میں اسے ڈھونڈوں گا آپ کیلیے ، راجو مجھے امپریس کرنا چاہتا تھا ۔ اچھا سوچ لو یہ کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ایک سال بھی لگ سکتا ہے ،میں نے سے پکا کیا ۔ دو سال بھی لگ جائیں تو پرواہ نھیں ہے ۔اس نے جوش سے کہا ، میں نے اسے ایک پرانی ہنڈا 70 لے دی ۔ جیب خرچ بھی کبھی کبھار دے دیتا ۔ پھر جب مجھے تسلی ہوگئی کہ وہ سنجیدگی سے تلاش کر رہا ہے تو اس کا جیب خرچ مستقل کر دیا ۔ چھ سو چوراسی میل پر پھیلا ہوا لاہور کئی شہروں جیسا ایک شہر تھا ۔اسوقت دوہزاردس میں اس کی آبادی دس کڑوڑ کے لگ بھگ تھی ۔ بلاشبہ راجو کو ایک مشکل مشن دیا تھا لیکن وہ اس کیلیے موزوں ترین تھا ،ڈھونڈتے ڈھونڈتے دوہزار بارہ آگیا ۔ لیکن راجو کا جوش کم نہیں تھا ۔ میں پرنس جو تھا اس کے جوش کو تیز کرنے کیلیے ۔ دوہزار گیارہ میں راجو نے اپنی توجہ ہائیر سیکنڈری سکولوز ، کالجز اور یونیورسٹیز پر مبذول کردی تھی۔ یہ اس کا پسندیدہ کام بھی تھا ۔ اس تلاش سے اب پھر ایک نیلی آنکھوں والی ملی تھی ۔ کافی دیر ہوگئی تھی تانیہ ابھی تک نہیں آئی تھی ۔ میں اس دوران ناشتہ کر چکا تھا ۔ اِدھر دو کولڈ ڈرنک آئی اُدھر تانیہ آگئی ،میں اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔ بتاتی ہوں پہلے کولڈ ڈرنک تو پینے دو ۔ بڑے دنوں بعد تم ہاتھ آئے ہو وہ بھی صبح صبح ، جناب کی صبح تو ایک دو بجے سے پہلے نہیں ہوتی ۔ تانیہ یہی سمجھ رہی تھی کہ میں عام حالات کی طرح کسی کا پیچھا کرتا ہوا آیا تھا ۔ اچھا اچھا بتاتی ہوں میرے چہرے کہ بدلتے تاثرات طرف دیکھ کہ وہ بے ساختہ بولی۔ اس کا نام دلآویز ہے میرے خون کی گردش یکدم تیز ہوگئی ۔ ایم اے انگلش کے فائنل ایئر میں ہے ۔ پٹھان فیملی سے ہے ۔ باپ کا نام سرور خان ہے ۔ یہ اس کا ایڈریس اور فون نمبر ہے ۔ تانیہ نے نوٹس سے پھاڑا ہوا کاغذ کا ٹکڑا میری طرف بڑھایا ۔ ہر وقت نقاب میں رہتی ہے بلکہ چادر کو ایسے لپیٹتی ہے کہ اسکا کچھ پتا نہیں چلتا ۔ کافی نک چڑھی ہےکچھ لڑکے اس کی طرف بڑھے مگر جب سے اس نے ایک لڑکے کو تھپڑ مارےہیں تب سے کوئی لڑکا اس کی طرف نہیں بڑھتا ۔ پتہ نہیں خود کو کیا سمجھتی ہے ۔ بڑی آئی ملکہ حسن کہیں کی ۔ تانیہ نسوانی جلاپے سے بولی تو میں سمجھ گیا کہ دلآویز کا حسن دیکھنے کی چیز ہو گا ۔ اور ایک خاص بات اپنی مما سے اس کی جان جاتی ہے بہت ڈرتی ہے اس سے۔ اس کی مما کا نام کیا ہے ؟ میں نے بے ساختہ پوچھ لیا ۔ شاید نگینہ بتا رہی تھی اس کی دوست ۔ تو نگینہ میں تم تک پہنچ ہی گیا ،میں نے دل میں کہا ۔ تانیہ میری حالت سے بے خبر اپنی ہی کہی جا رہی تھی، پتہ ہے ابھی وہ اپنی دوستوں سے کیا بات کر ہی تھی ۔ کسی بگڑے ہوئے امیر زادے نے آج اس کا پیچھا کیا اور انہیں بڑا تنگ کیا۔ ہم دونوں مسکرانے لگے۔ آج جس کے ساتھ دلآویز آئی تھی وہ کون تھا اس کے پاس نئی 125 بائیک ہے اور اسے ہوائی جہاز سمجھتا ہے ، شاید تم نے اسے دیکھا ہو ۔ ظاہر ہے پیچھے لڑکی بیٹھی ہو اور بائیک نئی ہو تو ہوا میں ہی اڑنا ہے ۔ ویسے اس کا کوئی کزن ہے ۔ اپنی دوستوں سے یہی باتیں کر رہی تھی کہ آج کزن کے ساتھ آنے کی غلطی کر لی آئیندہ یونیورسٹی کی بس میں ہی آئے گی۔ اس دوران میں راجو کو دلآویز کا ایڈریس میسج کر چکا تھا ساتھ ہی اسے ہدایت کی کہ ہوشیاری سے اس کی پوری معلومات لے کے شام کو فلیٹ پر آجائے ۔ تو اب آپ کا کام ہو گیا اب چلیں فلیٹ پر ، تانیہ نے بڑے ندیدے پن سے کہا ۔ تانیہ کو بلایا تھا تو مجھے اندازہ تھا کہ پیڑ نہیں گنتی پر آم ضرور کھائے گی جب میں اپنی کار میں بیٹھا توتانیہ نے فرنٹ ڈور کھولنے کا اشارہ کیا ۔ کیا بات ہے لے آؤ اپنی کار میں نے شیشہ نیچے کرتے ہوئے کہا ،نہیں نہیں میں تمھارے ساتھ جاؤں گی تمھارا کوئی اعتبار نہیں ہے ملنا تو دور کی بات کال تک ریسیو نہیں کرتے جناب پرنس صاحب ۔ میں تمھیں چھوڑنے نہیں آسکتا ، کوئی بات نہیں میں ٹیکسی سے آجاؤں گی،مجھے اسے بٹھانا ہی پڑا ۔ آخری لمحے بھی تم باز نہیں آئے ۔ تانیہ نے روٹھے انداز میں کہا۔ نہیں یار میں تمھیں فیس دیئے بغیر غائب نہیں ہونا تھا ،میری فیس والی بات پر تانیہ کی ہنسی نکل گئی۔ شکر کرو ندا اور صائمہ کو نہیں بتایا میں نے ۔ نہیں تو فیس تین گنا ہو جانی تھی ۔ باتیں کرتے ہم فلیٹ پر پہنچ گئے ۔


فلیٹ میں داخل ہوتے ہی تانیہ پاگلوں کی طرح مجھ سے لپٹ گئی اور مجھ سے کسنگ کرنے لگی ۔ تانیہ کا انداز ایسا تھا جیسے بھوکے کو کئی دن بعد کھانا ملا ہو۔ او پرنس تم بہت ظالم ہو،کاش تمھیں کسی طرح باندھ سکتی ۔ تانیہ شدت سے پاگل ہورہی تھی ۔ ہماری زبان اور ہونٹ بڑے مصروف تھے ،اور ہاتھوں کو کہیں آرام نہیں تھا ۔ ہم کسنگ کرتے رہے ۔ کسنگ کرتے ہوئے تانیہ نے میری ٹی شرٹ اتار دی تو میں اس کی شرٹ کے بٹن کھولنے لگ گیا۔ میں نے اس کی شرٹ اتاری ہی تھی کہ اسنے میرے پاجامے کی ڈوری پکڑ کے کھولی اور ایک جھٹکے سے پاجامہ نیچے بیٹھ کے اتار دیا ۔ میں اپنا انڈرویئر اتارنے لگ گیا تو تانیہ نے اپنی جینز اتار کر برا بھی کھول دی ۔ تانیہ چوبیس سال کی مست جوانی تھی خوبصورت گولائی نما چہرہ ۔ گوری رنگت، تنے ہوئےممے ۔ اسمارٹ جسم جو اب انگارا بنا ہوا تھا ۔ تانیہ کی سسکاریاں تیز ہونے لگی تھی اسے گرم کرنے کی ضرورت نہں تھی وہ تو بڑی مشکل سے خود کو سنبھالتی آئی تھی ۔ پرنس ڈال دو اندر تانیہ نے شدت سے میرے گلے لگتے ہوئے کہا اس کی چوت میرے عضو کو چومنے لگی ۔ ہم فلیٹ کے دروازے کے ساتھ ہی ابھی تک کھڑے تھے میں نے اسے دیوار کے ساتھ لگا کے اس کی دائیں ٹانگ تھوڑی سی اٹھائی اور اپنا عضو اس کی چوت میں ڈال دیا ۔ تانیہ نے اپنی بانہوں کا ہار میرے گلے میں ڈالا ہوا تھا ۔ میں تانیہ کو چودنے لگ گیا ۔ تیز چودو پرنس تیز۔ تانیہ چیخی ۔ ایسی چیخوں کیلیے ہی تو میرا فلیٹ ساؤنڈ پروف تھا ۔ میرے دھکے کوئی عام دھکے نہیں تھے ۔ میں پوری شدت سے تانیہ کی چدائی کرنے لگا ۔ میرے ہر دھکے پر تانیہ مزے کی شدت سے چیخنے لگی ۔ میرے دھکے اور اس کی چیخیں جیسے موسیقی کی ردھم پر تال میل ملا رہے تھے ۔ مار دو پرنس مجھے چود چود کے مار دو میں تمھاری بانہوں میں چدتے ہوئے مرناچاہتی ہوں ۔ تانیہ مجھے پاگل کر رہی تھی ۔ میں بھی ایسے چدائی کر رہا تھا ۔جیسے اپنے دھکوں سے اس انارکلی کو دیوار میں گاڑ دوں گا ۔ تانیہ نے پانی چھوڑ دیا تھا ، تو بھی میرے دھکوں میں کمی نہ آئی ۔ تانیہ گہرے گہرے سانس لینے لگی ۔ بیڈ پر لے چلو پرنس مجھ سے اب کھڑا نہیں ہوا جاتا ۔ پانی نکلتے ہی وہی دھکے اب درد دینے لگے تھے ۔ میں نے اسے اسی طرح اٹھایا اور بیڈ پر لا پٹخا۔ تانیہ میری عادت سمجھتی تھی وہ کپڑے سے اپنی چوت صاف کرنے لگی ۔ میں نے پھر اس کی چوت پر اپنے ہتھیار سے حملہ کر دیا ۔ اس کی ٹانگیں کھول کے میں ٹھکا ٹھک کھدائی کرنے لگا ۔ پانی نکالنے کیلیے گہری کھدائی کرنی ہی پڑتی ہے ۔ میرا عضو چوت کی گہرائیوں میں گھسنے کےلیے بار بار حملے کرتا رہا ۔ تانیہ کی سسکاریاں پھر شروع ہوچکی تھیں ۔ تانیہ انگلش میں (فک می فک می) کی گردان کر رہی تھی ۔ اس کا شعلہ جسم بھڑک چکا تھا اور اس کی آگ میں ہم جھلس کے دیوانے ہو رہے تھے ۔ تانیہ بڑی بے تاب تھی سو میں نیچے لیٹ گیا اور اسے گھوڑے پر بٹھا کر بے تابی نکالنے کا پورا موقع دیا ۔ ایسے موقع پر میں آرام سے جوانی کی شدت کا مزہ لینا چاہیئے ۔ اب اس کے شعلہ جسم اپنی آگ کو بجھانے لگا ۔ لیکن عجیب بات تھی جتنا بجھانے کی کوشش کر رہی تھی اتنی آگ اور بھڑک رہی تھی ، ایسی شدت ہو تو فراغت کیسے دیر کر سکتی تھی ۔ وہ آگئی اور ہمیں ایسا لگا جیسے ٹانگوں سے جان نکل رہی ہو۔ کچھ دیر تو گہرے سانس لیتے رہے ۔ پھر ایکدوسرے کی طرف دیکھا اور ہماری ہنسی نکل گئی ۔ اچھا تو میری بانہوں میں چدتے ہوئے مرنا چاہتی ہو، کاش تم میری یہ خواہش پوری کر دو ،تانیہ نے حسرت سے کہا تو مجھے اس کے لہجے کی سنجیدگی کی وجہ سے محتاط ہونا پڑا ۔ چلو تمھیں آسمانوں کی سیر کراتی ہوں ۔ تانیہ نے میرا عضو پکڑ کے اپنا منہ اس کے پاس لے جاتے ہوئے کہا ۔ جیسے ہی اس نے میرا عضو کو چوما اور چوسنا شروع کیا ۔ میرے جسم میں کرنٹ سا دوڑنے لگ گیا۔ تانیہ مجھے دوسرے راونڈ کیلیے تیار کرنے لگی تھی ۔ اسے چوسنے میں مہارت تھی ۔ اور مجھے اس کا شوق تھا ،تانیہ میری اس کمزوری سے واقف تھی اس نے مجھے اتنا کرنٹ لگایا کہ ٹرانسفر بنا دیا تا کہ یہی کرنٹ میں اسے چودنے میں لگاؤں ۔۔ لیکن میرے کچھ اور ہی ارادے تھے میں اس کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کیلیے لیٹ گیا اور اسے گھوڑے پر بٹھا دیا پہلے پہل تو وہ جوش سے لگی رہی اور خوب سواری کی پھر وہ آہستہ ہونے لگی لڑکیوں کے لیے یہ کوئی آسان کام نہیں ہے میں نے اسے آرام نہیں کرنے دیے اور اسے جوش دلاتا رہا اور تانیہ سواری کرتی رہی ۔ تانیہ پھر مدہم پڑنے لگی اسکی بس ہورہی تھی ۔اب میں اس کی کمر سے پکڑ کے اسے اوپر نیچے کروانے لگا پہلے وہ تھکی تھی اب نڈھال ہونے لگی اور پھر میرے اوپر گر پڑی ۔ اس کا سانس دھونکنی جیسا چل رہا تھا اسے کچھ مہلت دے کہ پھر میں شروع ہوگیا اور اب کی بار میں نے اس کی تسلی کروا دی ۔ آدھے گھنٹے بعد جسم نارمل ہو گیا تو میں نہانے چلا گیا۔ میں نہا کے نکلا تو تانیہ اٹھی وہ کچھ تھکی تھکی لگ رہی تھی۔ میں نے اسے ایک ٹھنڈی بیئر دی ایک خود پینے لگا ۔اس سے وہ کچھ بہتر محسوس کرنے لگی ۔ اور کپڑے پہن کر چلی گئی۔ جب سے دلآویز کا پتہ چلا تھا میرے دل میں اتھل پتھل ہورہی تھی ۔ اگر تانیہ کی جگہ کوئی اور ہوتی تو میں نے بالکل دھیان نہیں دینا تھا ،لیکن تانیہ میرے بہت کام آتی تھی ۔ یونیورسٹی میں وہ میری آنکھوں کا کام کرتی تھی ۔ سو اسے غذا دینی ضروری تھا۔ 


اب میرے دل میں بہت سے خیالات آنے شروع ہوگئے ۔ ماضی کی یادیں مجھے پوری شدت سے ستانے لگی۔ جو باتیں پہلے دھیمی آنچ پر ستاتی تھیں آج وہ ایکدم شعلہ سی بننے لگی ۔ دل تو یہی کر رہا تھا کہ ابھی جاؤں اور نگینہ کے سامنے اس کی دلآویز کو چیر پھاڑ دوں ۔ میں نے ایک اوربیئر نکالی اور چسکیوں میں پینے لگا ۔ برہم مزاج کو ٹھنڈا کرنے لگا ۔ مگرماضی میرے سامنے کسی فلم کی طرح چلتا رہا ۔ 


یہ لے اماں تیرا پوتا آگیا ،تو پوتا پوتا کرتی تھی نہ اب اسے سنبھال ۔ میرے والد کے دوست سرور خان نے مجھے اپنی ماں کو تھماتے ہوئے کہا ۔ سرور خان کی والدہ جیسے میرے بارے میں سب جانتی تھی ۔ میں اس وقت بارہ سال کا تھا اور غم سے نڈھال تھا ابھی پرسوں ہی تو میرے والد صاحب کی فیکڑی میں کام کرتے ہوئے وفات ہوگئی تھی ،ماں تو میرے پیدا ہوتے ہی اس دنیا سے چلی گئی تھیں ۔ اب اس دنیا کے صحرا میں اکیلا تھا ،مگر نہیں کسی نے میرا ہاتھ تھام لیا۔ خدا نے پلا پلایا بیٹا دے دیا اس کا جتنا شکر کرو کم ہے ۔ سرور خاں کی والدہ نے مجھے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا ۔ لیکن جیسے ہی اس نے مجھے اپنے ساتھ لگایا اسے جیسے جھٹکا لگا ۔ وہ مجھے غور سے دیکھنے لگی ۔ پھر ان کے چہرے پر نورانیت ابھر آئی اور انھوں میں مجھے اپنے ساتھ لگا کے میرا سر چوم لیا۔ مجھے لگا جیسے میں صحرا سے کسی نخلستان میں آگیا ہوں ۔ کوئی قریبی رشتہ دار تو تھا نہیں ، اور دور والے پاس آنا نہیں چاہتے تھے ۔ مکان کرائے کا تھا مالک مکان نے قل خوانی ہوتے ہی سرور خاں سے بات کی اور جو تھوڑا سامان تھا وہ لیا اور یوں میں اس کا بیٹا بن کے اس کے گھر آگیا ۔ یہ بات تو مجھے بعد میں پتہ چلی کہ فیکٹری میں والد صاحب کی حادثاتی وفات کی وجہ سے سرور خان نے فیکڑی مالکان سے مجھےآگے کر کے اچھا خاصا پیسا بٹور لیا تھا۔ ایک بار تو اس نے مجھے اپنے گھر لانا ہی تھا ۔ مجھے سرور خان کی والدہ کی شکل میں دادی مل گئی ۔ دادی نے مجھے اتنا پیار دیا کہ مجھے ماں کی کمی بھی بھول گئی۔ گھر کا ایک اور فرد بھی تھا۔ وہ تھی دلآویز جس کی عمر اس وقت نو سال تھی۔ سرخ وسپید رنگت،نیلی آنکھیں با لکل کسی گڑیا کی طرح تھی میں نے اس کے ساتھ کئی بار کھیلنا چاہا مگر وہ مجھ سے دور رہتی تھی شاید ابھی اس نے مجھے قبول نہیں کیا تھا ، میں نے اس کی ہر چیز جو آدھی بانٹ لی تھی خاص کر دادی تو پوری ہی لے لی تھی ۔ دادی آپ اپنی یہ لاٹھی اب رکھ دیں میں آپ کی لاٹھی ہوں ،میں اکثر دادی سے نہ صرف کہتا بلکہ ہر وقت ان کی خدمت میں حاضر بھی رہتا ،دادی بھی اب ہر کام کیلیے مجھے ہی کہتی تھی ، نگینہ بھی پیار کر لیتی تھی ۔کسی وقت باہر لڑکوں سے بھی کھیل لیا کر سکول سے آتا ہے تو دادی کی جان کو چمٹا رہتا ہے ، ایسی باتیں کر کے نگینہ مجھے گود میں بٹھا لیتی ۔ مجھے چومتی مجھے اپنے ساتھ لپٹا لیتی ، مجھے اتنی تو سمجھ نہیں تھی مگر نگینہ کے پیار میں دادی والی بات نہ تھی۔ یہ تو ویسے ہی تھی جیسے میرے اپنے گھر میں ہماری گلی کی خالہ او رباجیاں مجھے لپٹاتی تھیں چومتی تھیں ۔ ہر کوئی یہی جتاتا تھا کہ بن ماں کے بچے کا بڑا خیال رکھتی ہیں ۔ کوئی میرا نام نہیں لیتا تھا ۔ سب مجھے شہزادہ کہتی تھیں پتا نہیں کیا بات تھی جو کوئی مجھے دیکھتی تھی مجھے اپنے ساتھ لپٹاتی تھی یا کوئی کوئی ایسی بھی تھی جو مجھ سے بدکتی تھی ۔ جیسے پہلی دفعہ دادی مجھ سے بدکی تھیں ۔ یہاں بھی میں سب کیلیے شہزادہ تھا ۔ باہر نکلتا توکوئی آواز آتی ، ادھر آنا شہزادے بات سننا ۔ ہمسائی خالہ نے آواز دی ، وہ مجھے اندر لے گئی کتنا معصوم ہے اس نے مجھے گود میں لے لیا۔بہت ہی پیارا بچہ ہے دوسری نے میرے گال چوم لیا ۔یہ لے یہ کھیر کھا لے۔ بن ماں باپ کا بچہ ہے اسنے مجھے اپنے ساتھ لپٹا کے بھینچ لیا ۔۔ایسا ہی ہوتا تھا۔ وہ بن ماں باپ کے بچے کو پیار کر کے اپنے دل کوسکون دیتی تھیں ۔ دادی نماز روزے کا بہت خیال رکھتی تھیں ۔ ہر وقت ان کی زبان تسبیح کرتی رہتی تھی، ان کے چہرے ہر ایک نورانی ہالہ سا محسوس ہوتا تھا،گلی محلے کی عورتیں ان سے مشورے کرتی تھیں ان کی بڑی عزت کرتی تھیں بلکہ ان کی پوری برادری میں چھوٹے بڑے سب ان کی مانتے تھے ۔ ۔ میرا بیٹا، شہزادہ ادھر تو آ ، دادی کی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ میں ان کے پاس تھا۔ جی دادی ۔ بیٹا تو کھیلتا ہی رہتا ہے ادھر اپنی بوڑھی دادی کے پاس بھی بیٹھ جایا کر ۔ ہمیشہ دادی ایسے ہی کہتی تھیں اور پھر ان کی باتیں شروع ہو جاتیں تھیں ۔پتہ نہیں کہاں کہاں کہ قصے کہانیاں مجھے سناتی رہتیں ۔ دلآویز بھی آکےبیٹھ جاتی لیکن پھر بیزار ہو کے اٹھ جاتی تھی ۔ مجھے نہیں پتہ تھا دادی میری تربیت کر رہی تھیں۔ مجھے اچھائی برائی کا فرق سمجھا رہی ہیں ، رشتوں کا تقدس سمجھا رہی ہیں ، دنیا کی اونچ نیچ سمجھا رہی ہیں ،ان کی بہت سی باتیں میرے شعور میں اور کچھ میرے لاشعور میں محفوظ ہوتی جاتی تھیں ۔ ماں باپ کے بغیر بچوں کے ذہن ویسے بھی جلدی بالغ ہو جاتے ہیں دادی نے مجھے پالش کر کے بہت کچھ وقت سے پہلے ہی سمجھا دیا ۔ دلآویزا۔ او ،۔دلآویزا چل اپنی ماں کے ساتھ کام کروا ۔ جب دیکھو کھیلتی رہتی ہے ۔ جب بھی میں اور دلآویز کھیلتے دادی کی یہی آواز سننے کو ملتی ۔ میں سوچتا کوئی بات ضرور تھی جو دادی کو مجھ میں ناپسند تھی۔ لیکن وہ بات سنبھالنا دادی کی دانش سے باہر تھی۔ تین سال پلک چھپکتے گزر گئے ۔ میں پندرھویں سال میں داخل ہوگیا میٹرک کے پیپر دے ابھی فارغ ہوا تھا ۔ کہ ایک رات دادی سوئی تو پھر نہیں اٹھی ۔ دادی میں تمھارے ساتھ جاؤں گا ، نہیں میری دادی کو نہ لے جاؤ ۔ دادی تم کہاں ہو۔ دادی میں مر جاؤں گا۔ دادی ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ اتنا مجھے اپنے باپ کا دکھ نہیں ہوا تھا جتنا دادی کے جانے کا ہوا تھا۔


چند دن میں ہی گھر کا ماحول بدل گیا ،دادی کی جگہ نگینہ نے لے لی ۔ایک دن میرے کانوں میں آواز پڑی ، نگینہ اب بھگا اس کو اماں کی وجہ سے بہت دن رہ لیا اسنے ۔ خبردار سرورے اگر آئیندہ ایس بات کی تو تیری جان نکال لوں گی ۔ نگینہ ایسے بولی تو مجھے یقین ہو گیا کہ اب نگینہ کی خیر نہیں ہے مگر سانڈ جیسا سرور خان چپ چاپ باہر نکل گیا۔ اب نگینہ میرا خیال رکھنے لگی ۔مجھے چومنا چاٹنا ،خود سے لپٹانا ۔ مجھے اچھا کھانا پینا دینا۔ کیا ہوا گیا ہے تجھے نگینے تو اس کا اتنا خیال کیوں رکھتی ہے ۔سرور یہ سب دیکھتا ہوا چپ نہ رہ سکا۔ رکھوں گی تجھے کیا ہے لڑائی بڑھنے لگی۔ تو نگینہ نے سرور خان کے ایک تھپڑ دے مارا ۔ میں نے کانپنا شروع کر دیا ۔ مگر سرور سانڈ سمندر کے جھاگ کی طرح بیٹھ گیا ۔ میں حیران رہ گیا یہ کیا ہے بھئی ۔ دلآویز سےنگینہ بھی نہیں کھلینے دیتی تھی ۔ اور نہ کسی ہمسائی کو مجھے پیار کرنے دیتی تھی ۔ میں اکثر دادی کی چارپائی پر لیٹا رہتا ، تم کیوں گم سم رہتے ہو شہزادے ۔ نگینہ نے میرے ساتھ لیٹتے ہوئے مجھے خود سے لپٹا لیا ۔ کبھی کبھار میں ایسے دادی سے لپٹ جاتا تھا ۔ ایسے ہی نگینہ میرے دل بہلا رہی تھی ۔ روز بروز اس کا لپٹنا چپٹنا زیادہ ہوتا جا رہا تھا وہ بھی تب جب سرور خاں کام پراور دلآویز سکول گئی ہوتی تھی ۔ نگینہ کے خیال رکھنے میں بہلنے لگا ۔ان دنوں کبھی کبھار باہر نکلتا تھا ایک دن کریانے کی دوکان سے کچھ سودا لینے جا رہا تھا کہ کانوں میں آواز پڑی ۔ ادھر آ شہزادے دوکان پر جا رہا ہے نہ ،مجھے بھی کچھ منگوانا ہے ،نکڑا والی باجی نے مجھے بلایا۔ جی باجی کیا منگوانا ہے میں اس کے پیچھے اندر چلاگیا ۔ باجی نے مجھے خود سے لپٹا لیا ۔ اس کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں اس کے دوپٹے کا کچھ پتا نہیں تھا۔ میرا منہ اس کے سینے میں چھپا ہوا تھا ۔ اس کے ہاتھ میرے پتہ نہیں کہاں کہاں گھوم رہے تھے ۔ کیا کر رہی ہیں باجی ۔ کیا ہوگیا ہے آپ کو،میں اس کی غیر ہوتی حالت سے گھبرانے لگا ۔ کب سمجھے گا تو شہزادے تیری عُمر کے لڑکے تو جانے کیا کچھ کرتے پھرتے ہیں ۔ باجی نے مجھے بے تحاشا چومتے ہوئے کہا ۔آج تجھے سب سکھا دوں گی ۔ مجھے جانے دو باجی ۔ میں بہت زیادہ گھبرا گیا،مجھے کیا پتا تھا باجی گھر میں اکیلی ہے ، جانے دوں گی پر پہلے زندگی کا مزہ تو لینے دے ۔ باجی نے میرے ہاتھ اپنے سینے پر رکھ دیے، دیکھ میرا دل کیسے دھڑک رہا تیرے لیے ، میں باجی سے خود کو چھڑا کے بھاگا ۔ خود تو مر گئی پر تجھے بگاڑ گئی وہ چنڈال۔ پیچھے سے باجی چلائی ۔ دادی کا سوا مہینہ ہو گیا تھا۔ اوردو دن بعد چالیسواں رکھ دیا گیا ۔ دادی کی یاد سے کچھ دل بہلا تھا ۔ اب پھر غم کی لپیٹ میں آگیا، کسی طرح دن گزر گیا ،ذہنی حالت پہلے ہی ابتر تھی اوپر سے سارا دن بھاگ بھاگ کے کام کرنے سے تھکن کے ساتھ بخار ہوگیا۔ اتنےسارے مہمان تھے سب جا رہے تھے دلآویز اپنی نانی اور نانا کے ساتھ جانے کی ضد کرنے لگی ساتھ میں اس کی خالہ بھی تھی اس طرح وہ چار ہوگئے اور ایک موٹرسائکل پر نہیں جاسکتے تھے مجبوری میں سرور سانڈ اپنی موٹرسائیکل نکال کے انہیں چھوڑنے چلا گیا ۔ میں دادی کے کمرے میں جا کے لیٹ گیا۔ نگینہ میرے کمرے میں آگئی کیا ہو گیا ہے میرے شہزادے کو ۔ کچھ نہیں بس تھکن اور بخار ہے ، تم آرام کرو یہ لو پیناڈول کی گولی،مجھے اٹھا کے نگینہ نےمیرا کندھا اپنے سینے پر ٹکایا اور گولی کھلا دی ۔ اپنی گود میں میرا سر رکھ کے دبانے لگی ۔ میرے جسم پر اس نے رضائی ڈال دی ، بخار کی وجہ سے نگینہ آج میرا کچھ زیادہ ہی خیال رکھ رہی تھی ۔ اور میرے اوپر نچھاور ہو رہی تھی ۔ تُو تو شہزادہ ہے میرا، وہ بڑے لاڈ سے میرا سر دبا رہی تھی تھکن کی وجہ سے اس سے بیٹھا نہیں جا رہا تھا میرے اوپر جھکی جا رہی تھی پتہ نہیں کب اس کی گود اور سینے کے گداز میں مجھے نیند آگئی۔ جانے رات کو کس پہر میری آنکھ کھل گئی حلق پیاس سے سوکھ رہا تھا ۔ بخار ابھی بھی تھا ، میں اٹھا اور کچن میں پانی پینے چلا گیا ۔ نگینہ کے کمرے مجھے عجیب سی آوازیں آئی جو میں نے کبھی پہلے نہیں سنی تھی ، میں سمجھا شاید سرور خان واپس آگیا ہےاور نگینہ اس سے لڑ رہی ہے ۔ پرانے دروازے کی درز سے جھانکا تو میرے تن بدن میں آگ لگ گئی ،نگینہ زمین پراونی گدا بچھائے ننگی لیٹی تھی اور ایک لڑکا نگینہ کے اوپر جھکا ہو ا اسے چود رہا تھا ۔ ان کی آوازوں سے میری دماغ کی نسیں پھٹنے لگی ۔ میرے اندر دادی اٹھ کے بیٹھ گئی تھی ۔ میرے دبلے پتلے جسم میں آتش فشاں پھٹ پڑا ۔ میں نے پیچھے ہو کہ پورے زور سے دروازے کو لات ماری ، دھماکے سے دروازہ کھل گیا اس کی کنڈی ٹوٹ گئی۔ اس سے پہلے وہ دونوں کچھ سمجھتے میں تیزی سے لڑکے پر جھپٹا اور اسے کی پسلیوں میں زور سے ٹھڈا مارا لڑکا اڑتا ہوا چارپائی سے ٹکرایا ۔ وہ بھی پٹھان لڑکا تھا مجھ سے پانچ چھ سال تو بڑا ہو گا لیکن جسامت مردوں کی طرح تھی آج اسے مہمانوں میں دیکھا تھا ۔ میں اس پر پھر چھپٹا اور اس کو لاتوں ٹھڈوں سے مارنے لگا ۔ مار دوںگا تجھے کتے۔ مار دوں گا۔ لڑکا میری وحشت سے ڈر گیا تھا۔ اس نے لیٹے لیٹے ایک پلٹنی کھائی اوراپنی شلوار اٹھا کے بھاگا۔ مگر میں نے اسے جانے نہیں دینا تھا ۔میں اس کی طرف لپکا ،،،،اوغ۔۔۔ میں نیچے گرا، نگینہ نے مجھے بھاگتے ہوئے میرے پاؤں سے پکڑ لیا تھا۔ میں نے لیٹے لیٹے اسے ایک ٹھڈا مارا۔اور اٹھ کے پھر بھاگا ۔ اتنی دیر میں لڑکا صحن پار کرکے دروازے کے پاس تھا میں تیزی سے اس کی طرف لپکا ، او لعنت تیری اوقات پہ مادر چود ، کتی کہ بچے نے دروازے کو باہر سے کنڈی لگا دی تھی۔ ایک پل میں نے بےبسی سے اونچی دیواریں اورلوہے کا دروازہ دیکھا دوسرے پل واپس پلٹا اور جنونی انداز میں کمرے میں داخل ہوا ۔ نگینہ ابھی تک میرے ٹھڈے سے نہیں سنبھلی تھی ۔ میں نے اسے دو تین ٹھڈے اور مارے پھر اس کے سینے پر بیٹھ کے اسے مارنے لگا بتا کون تھا وہ کنجر،بتا دے نہیں تو گلا گھونٹ دوں گا تیرا ۔ میں اس کا گلا دبانے لگا ۔ نگینہ چالیس کی تھی صحت مند تھی ۔ مگر اس وقت میری جنونیت اسے ہلنے نہیں دے رہی تھی ،آخراس نے اپنا نچلا دھڑ اٹھا کے دونوں گھٹنے جوڑ کے پوری طاقت سے پیچھے سے میری کمرمیں دے مارے میری گرفت کچھ ڈھیلی پڑی تو اس نے اوپر تلے دوتین گھٹنے جڑ دیئے ۔ میں اس کے اوپر ہی گر پڑا ۔ نگینہ نے میری گردن کو دونوں بازوؤں سے کس لیا ، اور مجھے نیچے کر کے اپنا وزن میرے اوپر ڈال دیا اور اپنی ٹانگوں سے مجھے قینچی ڈال لی ۔ میں نے دو تین دفعہ نکلنے کی کوشش کی لیکن بےبسی سے پھڑپھڑا کے رہ گیا۔ ہوش میں آ شہزاے ہوش میں آ ۔ نگینہ جیسے مجھے سوتے سے جگا رہی تھی ۔ میں اس کی پسلیوں میں مکے مارنے لگا ،تو اس نے اسی حالت میں میں اپنے دونوں بازو میری گردن سے نکال کے میرا گلا دبانے لگی ۔ کچھ سیکنڈ میں میری سانسیں رکنے لگی ۔اگلے پل میری آنکھیں باہر آنے لگی ۔ چند سیکنڈ اور ایسے گزر جاتے تو میں گیا تھا ، لیکن اچانک نگینہ نے میرا گلا چھوڑ دیا ۔ میری آنکھوں میں پانی آگیا اور کھانسی کرنے لگ گیا ۔ پھر لمبے لمبے سانس لینے لگا کچھ دیر بعد میری حالت سنبھلنے لگی لیکن نگینہ نے مجھے چھوڑا نہیں ۔ میری جنونیت اب ختم ہو چکی تھی اور یکدم کمزوری نے حملہ کر دیا تھا ۔ بخار سے جسم تپ رہا تھا ۔ جوش ختم ہوا تو پہلا احساس یہی ہوا کہ نگینہ ابھی تک ننگی ہے ۔ جاؤ اپنے کپڑے پہن لو۔ میں گھبرا کے بولا ۔ کپڑے پہن لیے تو پھر کیا ہو گا ،نگینہ نے عجیب سے لہجے میں کہا۔ کیا مطلب ؟ میں حیران ہوا ۔ تُو آزاد ہو جائے گا اورمجھے مار دے گا ۔ نگینہ ڈری ہوئی تھی ۔ نہیں مارتا تمھیں مہربانی کرو کپڑے پہن لو ۔ تُو نہیں مارے گا تو سرورے کو بتا دے گا ۔ سرور کچھ نہیں کرے گا وہ تیرا حکم کا غلام ہے ۔ جتنا بھی حکم کا غلام ہو لیکن اس معاملے میں مجھے چھوڑے گا نہیں ۔ نگینہ ہر طرف سے محتاط تھی۔ میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گا اگر تم کپڑے پہن لو۔ میں تم پر اعتبار نہیں کر سکتی شہزادے ۔ تیرے اندر کوئی اور بولتا ہے ۔ یہ کیا کر رہی ہو میں اچانک گھبرا گیا۔ نگینہ اپنی چوت میرے عضو پر رگڑنے لگی۔ یہی ایک رستہ بچا ہے ہم دونوں کیلیے ، نگینہ کی فیصلہ کن لہجے میں بولی۔ مت کرو ، یہ نہ کرو یہ غلط ہے ، ایکدم میرا سوچیں جواب دے گئی ۔ تم میری ماں ہو، میں تمہاری ماں نہیں ہوں نہ میں نے تمھیں پیدا کیا ہے اور نہ ہی تم نے میرا دودھ پیا ہے ۔ نگینہ نے ایک ایک لفظ چبا چبا کے ادا کیا ۔ نگینہ اپنا کام کرتی رہی ۔ کمبخت کس مٹی سے بنا ہے تو تیرا کھڑا کیوں نہیں ہوتا ۔ کیا کھڑا نہیں ہوتا ۔ میں بے اختیار پوچھ بیٹھا ۔ تیرا لوڑا ۔اتنا بھولا نہ بنا کر، ایک مہینہ ہو گیا ہے تیرے آگے پیچھے گھومتے ہوئے ، سب سمجھتی ہوں تو کتنا گُھنا ہے ۔ جب بھی تجھے رِجھاتی تھی تو میسنا بن جاتا تھا ، اتنی بچی نہیں ہوں میں جتنا تُو نے سمجھ لیا ہے مجھے ، مجھے پتہ ہے اس چڑیل نے تیرے ذہن کو جوان کر دیا ہے ،وہ تیرے دل میں گھسی بیٹھی ہے ۔ مجھے بخار ہے میری طبعیت ٹھیک نہیں ہے ،ایک بار مجھے ٹھیک ہونے دے پھر جو کہے گی میں کروں گا ،میں نے اس سے جان چھڑائی ، نہ شہزادے نہ اتنی چالاکیاں اچھی نہیں ہوتی ، نگینہ میرے داؤ میں نہیں آئی ۔ سرور خان کسی بھی وقت آسکتا ہے میں نے اسے ڈرایا ، نگینہ ہنسنے لگی وہ حکم کا غلام ہے میں نے اسے کہا تھا اُدھر ہی رہنا اور صبح دلآویز کو ساتھ لے کہ آنا ، اچھا کیوں نہ تمھارے اوپر الزام لگا دوں کہ تم نے میری عزت پر ہاتھ ڈالا ہے ۔ نگینہ نے مجھے رگڑا دیا۔ ٹھیک ہے ایسا ہی کر لے میری جان چھوڑ دے ۔ میں مُصمَم ارادے سے بولا ۔ مجھے پتہ تھا تم اس کیلیے بھی راضی ہوجاؤ گے، پر پتہ ہے اصل مسلہء کیا ہے ۔ پھر تو میرے ہاتھ نہیں آئے گا،میں تم سے مایوس ہوگئی تھی ،اب تو ہاتھ آیا ہے تو یہ موقع جانے نہیں دوں گی ۔ نگینہ میری بے بسی کا لطف لیتے ہوئے کمینگی سے بولی ۔ اچھااااااااااااااااااا ۔ تو کر لو پھر اسے کھڑا ۔ میں نے اسے چیلنچ دیا ۔ یہ ہوئی نہ بات مجھے پتہ تھا تُو سب سمجھتا ہے ۔ دیکھ شہزادے مان لے ساری زندگی عیش کراؤں گی ۔ نگینہ نے تھوڑا سا اٹھ کے میری قمیض اتارتے ہوئے کہا ۔ میں نے مزاہمت کی مگر کچھ نہ کر سکا ، تھوڑی دیر میں جسم کی جتنی توانائی خرچ کی تھی اب اتنی ہی نقاہت اور بخار زیادہ ہو رہا تھا۔ نگینہ تھوڑا پیچھے ہوئی اور اپنے بھاری جسم کیساتھ میری پنڈلیوں پر بیٹھ گئی پنڈلیاں درد کرنے لگی اس دوران نگینہ نےمیرا ناڑا کھول کے پھرتی سے میری شلوار اتنی نیچے کر دی کہ میرا عضو نظر آنے لگا ۔ میں تیزی سے اٹھا مگر اس نے میرے دونوں ہاتھ پکڑ کہ انکار میں اپنا سر ہلایا دیا ، اس کی آنکھوں میں جنونیت تھی، نہ کرو میں نے اس کی مِنت کی تم میری ماں ہو ،


میں تمہاری ماں نہیں ہوں نہ میں نے تمھیں پیدا کیا ہے اور نہ ہی تم نے میرا دودھ پیا ہے ۔ نگینہ نے ایک ایک لفظ چبا چبا کرپھر وہی فقرہ بولا ، میرے دل میں کچھ ٹوٹ سا گیا ۔ 


نگینہ نے جُھک کہ میرا عضو منہ میں لے لیا ، اور چوسنے لگی ،کچھ ہی دیر میں میرے جسم میں سنسناہٹ سی ہونے لگی ۔ نگینہ مزے سے عضو کو چوستی رہی ۔ میرے نہ چاہتے ہوئے بھی آخر کار وہ ٹن کر کے کھڑا ہو گیا ۔یہ تو میں نے سوچا بھی نہ تھا کہ وہ عضو کو ایسے کھڑا کر دے گی ، نگینہ پھر بھی نہ رکی ، آہستہ آہستہ پنڈلیوں کا درد ، بخار ، نقاہت سب پس منظر میں چلا گیا۔ مجھے نگینہ کی کمر اور کچھ مُمے نظر آنے لگے ، اس کا صحت مند جسم نظر آنے لگا ، اس کی سرخ سپید رنگت نظر آنے لگی اس کی خوبصورتی محسوس ہونے لگی ، اس کے لمبے بالوں میں انگلیاں پھیرنے کیلیے ہاتھ ہلایا ،تو نگینہ نے ہاتھ نہ چھوڑا ،چہرہ اٹھا کے مجھے دیکھنے لگی ۔ میرے چہرے پر بدلتے رنگ دیکھ کے نگینہ نے مجھے سینے پر دباؤ ڈال کے نیچے بچھے اونی گدے پر لٹا دیا اور خود میرے عضو پر آگئی اپنے ایک ہاتھ سے میرے دونوں ہاتھ پکڑے اور دوسرے ہاتھ سے عضو پکڑ کے اپنی چوت میں ڈال لیا ، پھرمیرے سینے پراپنے ہاتھوں سےمیرے ہاتھ تھوڑا دبا کے رکھ دیے ۔ اور کچھ آگے پیچھے کچھ اوپر نیچے ہونے لگی ۔ اووووو تو واقعی شہزادہ ہے مست ہے تو مست ، نگینہ سرور کی لہروں میں ڈوبتے ہوئے بولی ۔ کیا چیز ہے تو صحیح تڑپتی ہیں تیرے لیے عورتیں ۔ پتہ نہیں کیا جادو ہے تجھ میں ۔ نگینہ آپے سے باہر ہو رہی تھی ۔ جو کرنا تھا نگینہ ہی نے کرنا تھا اور وہ کرتی رہی ۔ کبھی تیز کبھی آہستہ ۔کبھی بیٹھ کے کبھی میرے اوپر لیٹ کے ، نگینہ کو سارے ڈھنگ آتے تھے اس کے جسم میں بہت سے رنگ تھے ۔۔ اس کے جسم کو دیکھ کے لگتا تھا جوانی بہت خاص ہوگی،اب بھی وہ کم نہیں تھی ۔ اس کی خوبصورتی میں اس کےاسمارٹ جسم کا کافی حصہ تھا ۔ مجھے اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی ۔ ٹانگوں کی کیفیت بھی یہی تھی پھر یہ کیفیت عضو سے نکلنے لگی۔ ارے ٹھر تو جا ،میں بھی آنے والی تھی ۔ میں خاموش لیٹا رہا ۔ چلو کو ئی بات نہیں تمھاری چوپا بھی تو زیادہ لگ گیا تھا ۔ اب پھر مزا لیتے ہیں ، نگینہ نے کپڑے سے میرا عضو صاف کیا اور جھک کہ پھر چوپا لگانے لگی ۔ تھوڑی دیر بعد اس نے میرے ہاتھ چھوڑ دیے ۔ میرے جسم میں سرسرایت سی پھر ہونے لگی ، میرا جسم اک نئی تپش سے جلنے لگا ، عضو پھر کھڑا ہو گیا ۔ نگینہ جلدی سے پھر اپنے اندر لے کے اوپر نیچے ہونے لگی۔ ویسے بھی میرا اٹھنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا ، دیکھا شہزادے اس میں کتنا مزہ ہے ۔ نگینہ پھر بے قابو ہونے لگی۔ شہزادے سچی بات تو یہ ہے کہ اتنا مزہ کبھی پوری زندگی میں نہیں آیا ،ہانپتی آواز میں اسے بولنے میں بھی مزہ آرہا تھا ۔ جس کو بھی چودے گا وہ تیری دیوانی بن جائے گی ، پر نہیں تو صرف میرا ہے صرف میرا شہزادہ ۔ نگینہ رک گئی، شہزادددددددے - اس کا جیسم معمولی سے جھٹکے لینے لگا - نگینہ کچھ دیر میری طرف دیکھتی رہی پھر میرے ساتھ لیٹ گئی۔مجھے کچھ بے چینی ہونے لگی ، جیسے پیاس لگی ہو اور پانی پیتے پیتے درمیان سے کوئی گلاس چھین لے ،نگینہ غور سے میری طرف دیکھ رہی تھی ، ابھی تمھارا پانی نہیں نکلا تمھیں بے چینی ہو رہی ہو گی ، میں تو تھک گئی ہوں ،ایسا کر میرے ممے چوس تو میں تیار ہوجاؤں گی اور پھر میں تمھارا پانی نکال دوں گی ،نگینہ میرے ہاتھ اپنے ممے پر رکھ دیا۔ مجھے وہ اچھے لگے ،میں انہیں آہستہ آہستہ دبانے لگا، ایسے نہیں ، انہیں اس طرح سہلاؤ ،نگینہ نے جیسے بتایا میں ویسے کرنے لگا ، تھوڑا چُما بھی لے لے نہ ان کا ،نگینہ نے فرمائش کی،مجھے ممے اچھے لگ رہے تھے میں انہیں چومنے لگا ،ایسے نہیں شہزادے میرے اوپر لیٹ کے چوس ان کو۔ نگینہ نے مجھے بازو سے پکڑ کے اپنے اوپر کھنچا تو میں بے اختیار اس کے اوپر لیٹ گیا، ایک نپل منہ میں لیا تو اچھا لگا میں اسے پکڑا کے چوسنے لگا ،نگینہ نے میرا دوسرا ہاتھ اپنے دوسرے ممے پر رکھ دیا ،اسے بھی دباتا رہ ،اپنی ہاتھ اور انگلیاں سے ،ایسے، ہاں ایسے ، واہ شہزادے تم تو کمال ہو، بہت مزا آرہا ہے ۔ تمھیں اب بھی بے چینی تو ہو گی بلکہ بڑھ گئی ہو گی ،ایسے کر ساتھ ساتھ اپنا لوڑا میری چوت کے اوپر رگڑ، ساتھ ہی میری کمر کو دونوں طرف سے پکڑ کے مجھے اپنی چوت پر کِھسنے لگی، مجھے اس سے سکون بھی آیا اور تیز کرنے کو بھی دل کرنے لگا ، چوت کے اوپر رگڑ ، نگینہ نے بیچ میں ہاتھ گھسا کے عضو صحیح رکھا ۔ اچھا لگ رہا ہے نہ شہزادے ، اندر ڈال کے کرے گا تواصلی مزا آئے گا تمھیں ، چوت نرم ہوتی ہے نہ اس لیئے ۔لا میں ڈال دیتی ہوں ، لے موری کے اوپر رکھ دیا ہےاب تُو تھوڑا تھکا لگا ، میں نے آہست آہستہ اندر کیا تو چوت نے میرے عضو کو گرفت میں لے لیا، آگے پیچھےہو جیسے میں کرتی رہی ہوں ،ہاں یوں ،، شاباش شہزادے اب تم چودائی کرنا سیکھ گئے ہو، چودو مجھے ، تیز کر نہ ، کیا لڑکیوں کی طرح لگا ہوا ہے ، ہاں ایسے ، آہ ۔ اور ،تیز ،اور تیز ، نگینہ کی آوازیں مجھے ایسے ہی بھگانے لگی جیسے چابُک گھوڑے کو بھگاتا ہے ، میں بھی تیز تیز کرتا رہا ،کرتا رہا اور پھر پہلے کی طرح جان نکلتی ہوئی محسوس ہونے لگی ،مجھے رکنا پڑا میں نے نگیہ کو جپھا ڈال لیا، نگینہ نے میری کمر کودونوں ہاتھوں سے پکڑ کے اپنے اوپر کھسنے لگی اس طرح میں آگے پیچھے ہونے لگا ، عضو اندر ہی تھا اورکچھ جان باقی تھی ، نگیینہ کرتی رہی ۔ عضو میں جان ختم ہوگئی پھر بھی کرتی رہی اور پھر اس نے بھی مجھے جپھا ڈال لیا اور اپنی ٹانگوں سے مجھے کس لیا ، شہزادے مجھے تو لگتا ہے جیسے میں مر ہی جاؤں گی آج ، نگینہ نے گھٹی گھٹی آواز میں کہا۔ کچھ دیر ہم ایسے ہی لیٹے رہے ،پھر ایکدوسرے کیطرف منہ کر کے لیٹ گئے، تھوڑی دیر ٹہر جا ، پھر کھیلیں گے،نگینہ کا جی نہیں بھرا تھا،نگینہ میرے جسم پر ہاتھ پھیر رہی تھی۔ میں بہت تھک گیا ہوں ،میری ٹانگوں میں بہت درد ہو رہا ہے ۔ کمزوری تو بہت ہی ہے،نگینہ اٹھی اور نیم گرم دودھ لے آئی،لے پی لے نگینہ نے مجھے اٹھا کے گلاس میرے منہ سے لگا دیا، اونہہ یہ تو گرم ہے مجھے ٹھنڈا چاہیے ، ایسی حالت میں ٹھنڈا نہیں پیتے شہزادے ، اسے پی لے تمھاری حالت بہتر ہو جائے گی ، دودھ پینے کے بعد میں پھر لیٹنے لگا،لیکن نگینہ نے مجھے اٹھا کے چارپائی پر بٹھایا اور اونی گدا ساتھ نیچے سےچٹائی لپیٹ کے رکھ دی ، سرورے کو پتہ ہے ہم یہ کیوں بچھاتے ہیں ، نگینہ بڑبڑائی ، دلآویز انہی کے کمرے میں سوتی تھی ،شاید اسی لیے نیچے یہ طریقہ بنایا ہوا تھا ، پھر نگینہ مجھے اپنے ساتھ لگا کے دادی کے کمرے میں لے آئی، بہت درد ہے میری ٹانگوں میں نگینے ،نگینہ مجھے لٹا کے میری ٹانگوں کو دبانے لگی کافی دیر دباتی رہی ، پتہ نہیں کب میں سو گیا، اگلے دن دوپہر کواٹھا ،تو نگینہ نے میرے لیے کچھڑی بنائی ہوئی تھی،اسی سے ناشتہ کیا،نگینہ نے مجھے بخار کی دوائی دی ۔شاید وہ صبح ہی لے کہ آئی تھی ، طبعیت اب بہتر تھی،سرور سانڈ فیکٹری گیا ہوا تھا ۔اور دلآویز گھر میں ہی تھی ،وہ سکول نہیں گئی تھی کیونکہ وہ نانی کے گھر سے کچھ دیر سے آئے تھے ، مجھے پھر نیند آگئی ،شام کو اٹھا تو طبیعت کافی بہتر تھی، نگینہ نے میرے لیے یخنی بنائی ہوئی تھی ،میں وہ دوپہر کی کچھڑی پہ ڈال کہ کھا گیا، مجھے بھوک لگی ہے روٹی لا کہ دو، روٹی ابھی نہ کھاؤ شہزادے بخار کی وجہ سے معدہ کمزور ہے روٹی ہضم نہیں ہو گی ، اُلٹی آجائے گی، تھوڑا سا بخار ہے ابھی ،نگینہ نے میرے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔ صبح تمھیں تگڑا ناشتہ کرواؤں گی ،نگینہ نے ایک آنکھ دباتے ہوئے کہا، میرا سر تو دبا دو نگینے، کسی کے سامنے مجھے نگینے نہ کہنا ، میرے شہزادے ، نگینہ میرا سر دبانے لگی ، کچھ دیر بعد مجھے دوائی دے کے چلی گئی ،رات کو پھر آئی میری سر اور ٹانگیں دباتی رہی ۔ تو نے تو اسے سگا بیٹا ہی بنا لیا نگینے ،سرور خان یہ سب دیکھ کہ چپ نہ رہ سکا ،نگینہ نے اس کی طرف ایک گُھوری ڈالی تو وہ کھسک گیا، میں پھر سو گیا،صبح اٹھا تو ہشاش بشاش تھا، سرور خان کام پر گیا تھا اور دلآویز سکول گئی تھی وہ ساتویں میں تھی اور میرا میٹرک کا رزلٹ آنے میں ابھی مہینہ تو پڑا تھا ، اٹھ گیا میرا شہزادہ صبح سے کئی بار تمھیں دیکھ چکی ہوں ، نگینہ کا چہرہ سو واٹ کے بلب کیطرح ہو رہا تھا ، میں باتھ ر وم سے ہو کے آیا تو نگینہ میرے لیے ناشتہ لے کہ بیٹھی تھی۔ یخنی میں روٹی ڈال کے اس نے چُوری سی بنا لی تھی،میں یہ نہیں کھاؤں گا ، بس ابھی یہ کھا لے ،دوپہر کو بھنا ہوا گوشت پکا کے دوں گی اپنے شہزادے کو ، نگینہ نے بڑے لاڈ سے کہا ،ناشتہ کروا کے وہ برتن لے جانے لگی، تم ناشتہ ہضم کر لو، اتنی دیر میں میں کچھ کام کر لوں ،نگینہ نے جاتے ہوئے معنی خیز لہجے میں کہا، ایسی باتوں کی اسے بڑی سمجھ تھی، بعد میں بھی نگینہ میری غذا کا خاص خیال رکھتی تھی ۔ ایک گھنٹے بعد نگینہ میرے پاس آکہ بیٹھ گئی میری ٹانگیں دبانے لگی، ٹانگیں تو ایک بہانہ تھا پھر وہی کھیل شروع ہو گیا ،ایک بار ، دو بار ، دل تو میرا اور کر رہا ہے پر ابھی تم آرام کرو نگینہ نے کپڑے پہنتے ہوئے کہا ، جا شہزادے لڑکوں کے ساتھ کھیلا کر شام کو نگینہ نے مجھے نئے کام پر لگا دیا ،دادی ہوتی تھی تو میں انہی کے پاس رہتا تھا، میرے ہم جولیوں کی باتیں مجھے بچکانہ لگتی تھی ، بہرحال کھیلنا اچھا لگتا تھا، ہفتہ گزر گیا ، اب میری نظر بھٹکنے لگی تھی ، لڑکیوں کو غور سے دیکھنے لگا تھا،آس پاس کے گھروں میں جانے لگا تھا، باہر کی لڑکیاں گھورنے لگا تھا تو گھر کی لڑکی کو کیسے نظر انداز کر سکتا تھا ، دلآویز کو دیکھنے والی نظر ہی بدل گئی ،اس کی نیلی آنکھی مجھے بہت اچھی لگتی تھی، میں بہانے بہانے سے اس کے پاس بیٹھنے لگا ،آؤ نگینہ تمھیں سکول کا کام کروا دوں ، کبھی کبھار اسے چھو بھی لیتا تھا ، دوسرا ہفتہ گزر گیا،میرا دھیان دلآویز کی طرف زیادہ ہوگیا ، میں دیکھ رہا تھا نگینہ مجھے روکنا بھی نہیں چاہتی تھی، اوراسے یہ سب اچھا بھی نہیں لگ رہا تھا ،اسی طرح تیسرا ہفتہ گزر گیا ، چودائی سے فارغ ہوئے تو نگینہ میرے ساتھ لیٹ گئی،دو ہفتے ہو گئے تم چوپا نہیں لگایا مجھے مزہ نہیں آ رہا میں روٹھا ہوا بولا ، مجھے یہ اچھا نہیں لگتا شہزادے ، کیا ؟ پہلے اسے چوستی رہی ہو اور اب اچھا نہیں لگتا، اور پتا نہیں سرور کا کب سے چوس رہی ہو، نہیں شہزادے سرور کا تو کبھی نہیں چوسا، زندگی میں تمھارا پہلی بار چوسا ہے وہ بھی تم نے چیلینچ دیا اس لیے مجھے ایسا کرنا پڑا ،تو پھر تم اُس کاچوپا لگاتی ہو گی،میرا اشارہ اُس لڑکے کی طرف تھا جو اس رات نگینہ کی چودائی کر رہا تھا ، میں نے تمھیں پہلے بھی روکا تھا شہزادے کہ آئیندہ اُس کی بات نہ کرنا ، نگینہ غصے سے بولی، میں تو کروں گا،میں ناراض ہوگیا، اچھا تمھارا چوپا لگاتی ہوں مجھ سے ناراض نہ ہوا کر ،نگینہ نے جیسے ہی عضو منہ میں لیا میں وہ موضوع پھر بھول گیا، ان دنوں نگینہ نے مجھے بہت سر چڑھا رکھا تھا دیکھنے والے یہی سمجھتے تھے کہ دادی کے بعد نگینہ نے ماں بن کرمیری ذمہ داری لے لی ہے بلکہ دادی سے بھی بڑھ کے میرا خیال رکھتی ہے ۔ اسلیے مجھے یقین ہو گیا کہ میں دلآویز کو ضرور چود پاؤں گااس خیال سے ہی مجھے سرور آنے لگتا تھا ،نگینہ ہماری کھیلنے کودنے پر خاموش تھی،اور میں اس خامومشی کافائدہ اٹھاتے ہوئے دلآویز کے اور قریب ہو گیا ،چوتھا ہفتہ بھی گزر گیا نگینہ سارا دن پروانے کی طرح میرے ارد گرد رہتی تھی ،ادھر میں اور دلآویز دوست بن گئے تھے ، دلآویز مجھ سے کیسے دور رہ سکتی تھی ، اسے نہیں پتہ تھا وہ میرے پاس کیوں چلی آتی ہے ایک دن کھیلتے ہوئے میں نے دلاویز کو گال پر چوم لیا ،وہ شرما کے سمٹ گئی ۔مگر کچھ کہا نہیں ، دلآویزہ۔ او۔ دلآویزا ۔ ادھرآ، کیا ہر وقت کھیلتی رہتی ہے ،میرے ساتھ کام کروایا کر گھر کے، اب تم بڑی ہوگئی ہو ،یکدم نگینہ کی غصیلی آواز آئی، آخر نگینہ بول ہی پڑی ۔ اگلے دن نگینہ میرے پاس آئی تو میں اس سے ناراض تھا، میرے ساتھ لیٹ کہ میرے عضو کو پکڑ کے مسلنے لگی ۔ میری چمیاں لینے لگی ، پر میں ٹس سے مس نہ ہوا،کیا بات ہے شہزادہ حضور، نصیبِ دشمناں مزاج کیوں برہم ہیں جناب کے،نگینہ نے ایک فلمی ڈائیلاگ بولا ، چھوڑ نگینے تم مجھ سے پیار ہی نہیں کرتی ہو۔ ایسے نہ کہو شہزادے ،جتنا تمھاراخیال رکھتی ہوں نہ، اتنا تو سرورے سوچ بھی نہیں سکتا ۔ نگینہ تو تمھاری دیوانی ہے شہزادے ، اگر ایسی بات ہے تو دلآویز کو میرے ساتھ کھیلنے کیوں نہیں دیتی، ارے وہ بچی ہے اسے گھر کے کام کاج پہ ابھی نہ لگایا تو کل کوگھر کیسے سنبھالے گی، نگینے تم بھی جانتی ہو اور میں بھی جانتا ہوں کہ ہم کیا چھپارہے ہیں اورکیا بتا رہے ہیں ،بات سیدھی کروں گا ،مجھے دلآویز چاہیے ، مجھے یقین تھا کہ وہ میری بات نہیں ٹالے گی ، سارا دن تونگینہ میرے آگے بچھی رہتی تھی ۔ وہ ابھی بچی ہے شہزادے کچھ سال ٹھر جا ،میں بھی تو بچہ ہوں (میں کہنا چاہتا تھا کہ میں بھی بچہ تھا جب تم نے مجھ سے زبردستی کی تھی) ، ضد نہ کر شہزادے ، تم صرف میرے ہو ،میں تمھیں کسی سے نہیں بانٹ سکتی چاہے وہ میری بیٹی ہی کیوں نہ ہو، مجھے نہیں پتہ ، مجھے دلآویز چاہییےنگینے،شہزادے میں بے غیرت نہیں ہوں ،کہ جس لوڑے پہ ماں چڑھتی ہے اسی لوڑے پر بیٹی کو بھی چڑھا دوں ، اس کھیل میں غیرت کا کیا کام نگینے، ادھر ادھر کی باتیں نہ کر، مجھے بس دلآویز چاہیے، ہم میں ایک رسم ہے کہ سہاگ رات کو لڑکی کا خون نکلنا چاہیے خون سے چادر خراب ہونی چاہیے ، اگر ایسا نہیں ہوتا تو اس لڑکی کی ساری زندگی پھر کتوں سے بدتر گزرتی ہے ،نگینہ نے ایک نئی بات شروع کر دی ، اس بات کا ہماری بات سے کیا تعلق ہے میں بےزاری سے بولا، ہم نے دلآویزکی منگنی اس کے بچپن میں کر دی تھی ، اب وہ کسی کی امانت ہے ۔ نگینہ نے اپنی بات مکمل کی ، کیا؟؟؟؟ تم نے نگینہ کی منگنی کب کی؟ مجھے تو اس بات کا نہیں پتا، میں حیران تھا ، یہ تمھارے آنے سے پہلے کی بات ہے ، بعد میں کبھی تمھارے ساتھ اس بات کا ذکر نہیں ہوا ہو گا نگینہ نے وضاحت کی ، اچھا نگینے اب یہ رسمیں کہاں ہوتی ہیں تم توپیدائشی لاہورن ہو ،تمھارے رشتے دار بھی لاہوری ، کہانیاں نہ ڈال ،میں چلایا ، ہمارے کچھ رشتے دار ادھر مستقل آباد ہوگئے ہیں ،لیکن کچھ ابھی بھی فاٹا میں رہتے ہیں یہاں بس کام کاج کرنے آتے ہیں ، دلآویز کی منگنی جن سے کی ہے وہ فاٹا میں رہتے ہیں، تم دلآویز کی شادی مجھ سے کر دینا میں نے آخری بات کر دی ، ضد نہ کر شہزادے ، ہاں یا نہ ؟ میں نے اس کی آنکھوںمیں میں دیکھتے ہوئے پوچھا مجھے یقین تھا وہ میری بات نہیں ٹال سکتی تھی ، نہ شہزادے اپنے پیاروں سے اتنا بڑا امتحان نہیں لیتے نگینہ نے مجھے گلے لگا لیا ، ہاں یا ناں ،میں نگینہ کو پیچھے ہٹا کے پھر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا،مجھے اب بھی یقین تھا کہ نگینہ مجھے انکار نہیں کرسکتی، نہیں شہزادے دلآویز تمھاری کسی طرح نہیں ہو سکتی نگینہ اٹل ارادے سے بولی ، چل پھر اب میرے پاس نہ آنا ،میں نے اسے تھکا دیا، نگینہ چارپائی سے نیچے گر پڑی، وہ اٹھی اور مجھے گھورنے لگی ،سرورے کو تھپڑ مارنے والی رانی آج میرے ہر سلوک خوشدلی سے سہہ رہی تھی، میں بھی ناراض پڑا رہا ، مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ نگینہ مجھے انکار کر آرہی ہے ، شہزادے ضد نہ کر ،نگینہ آپ بڑی ضدی ہے ، ضد تو تم کر رہی ہو نگینے، مجھے پانا ہے تو دلآویز مجھے دے دو، ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے نگینہ کی مرضی کے بغیر یہ نہیں ہوسکتا تھا ۔ جبکہ نگینہ ہربات سمجھتی بھی ہو ، نگینہ غصے سے باہر نکل گئی، ہفتہ اسی کشمکش میں پھر گزر گیا ،اس دوران ہم نے صرف چوتھے دن چودائی کی باقی دن نگینہ کو ترساتا رہا ، لیکن نگینہ میرا خیال پہلے کی طرح رکھتی تھی ، میں اسے عضو کو چوسنا تو کیا ہاتھ بھی نہیں لگانے دیتا تھا ،چودائی سے دوری کی وجہ سے نگینہ کی بری حالت تھی اور مجھے منانے کی کوشش کرتی رہی ، اس کے رویے سے مجھے اب بھی یقین تھا کہ نگینہ کو میری بات ماننا پڑے گی ، لیکن اُس عُمر میں ابھی میں یہ نہیں سمجھا تھا کہ سیکس کی چاہت اور سچےپیار کی چاہت بظاہر ایک جیسی ہوتی ہے،ان کے ہجر وصال کی تڑپ پھڑک ایک جیسی ہوتی ہے ، ان میں فرق صرف نیت کا ہوتا ہے ، اور نیت کا یہ فرق کوئی دیکھ کہ بھی اپنی آنکھیں بند رکھتے ہیں اور کچھ کسی مشکل ترین وقت میں یہ فرق سمجھتے ہیں ،بس آنکھوں والے ان جذبات کا فرق سمجھتے ہیں۔ سرور اور دلآویز کے جانے کے بعد روزانہ کی طرح نگینہ میرے پاس آکہ بیٹھ گئی، نگینے کیا فیصلہ کیا ہے تم نے ،ضد چوڑ دے شہزادے وہ ابھی بچی ہے کچھ سال گزر جانے دے ،پھر اپنی مرضی پوری کر لینا ، نگینہ مجھے فریب دے رہی تھی ، میری ضد جاری رہی ،آج میں نے اسے منانے کیلیے بڑا دباؤ ڈالا ، اس کے جذبات کو بڑا ہی بلیک میل کیا تو نگینہ غصے میں آگئی ، تُو کیا سمجھتا ہے میں تیرے دل کی بات نہیں سمجھتی ، عقل مند ہونا اور بات ہے تجربہ اور چیز ہے ۔تُو نے عقل کی باتیں چار کیا سیکھ لی نگینہ کو ہی بیوقوف بنانے لگے ۔ تجھے ہر لڑکی،عورت اپنا شہزادہ بنانا چاہتی تھی میں تجھے اپنا شہزادہ بنانے میں کامیاب ہوگئی اور اب تو اس کے بدلے میں میری بیٹی کو شہزادی بنانا چاہتے ہو، اپنا بدلہ لینے چاہتے ہو ، نگینہ غصے میں وہ بول گئی جو وہ جان گئی تھی جو میرے دل میں تھا ،تُو نے اس بات کو ضد بنا لیا ہے شہزادے ، تم اپنی ہار سود سمیت لوٹانا چاہتے ہو، لیکن میری بھی ضد ہے یہ نہیں ہونے دوں گی ، ابھی تم بچے ہو اور بچے ہی رہو اماں دادی نہ بنو ، اس کے طنز میں بہت کچھ تھا ، کھیل کُھل گیا تھا ، میں سکون سے لیٹ گیا، کہنی ٹکا کہ اپنے ہاتھ پر سر رکھ کہ اس کی طرف چہرہ کیا اور بہت اعتماد سے بولا ، جس لڑکے سے تم نے اس رات چودائی کی تھی اس کا نام شہروز ہے ،مجھے اس کا نام دوسرے روز ہی یاد آگیا تھا ، میں سرور خان کو اس کا نام بتا دوں یا تم مجھے دلآویز دیتی ہو،ایسی باتیں صرف موقع پر ہی ہوتی ہیں اب سانپ نکل گیا ہے لیکر پیٹنے سے کچھ فائدہ نہیں ہو ، نگینہ بھی بڑے اعتماد میں تھی ۔اور تم اسے کیا بتاؤ گے کہ اتنے دن کیوں چپ رہے ہو ، تم کچھ ثابت نہیں کر سکو گے ،الٹا پھنس جاؤ گے ، بہتر یہی ہے کے اب یہاں رہنا ہے تو مجھے خوش رکھا کر نہیں تو نکل جا یہاں سے نگینہ چلائی ، دراصل نگینے تمھیں پتہ لگ گیا کہ میں نے تمھیں دیکھ لیا ہے تم اور شہروز مجھے دھمکاتے رہے ہو دوسری طرف تم میرا بہت خیال رکھتی رہی ہو مجھے ہر طرح کا لالچ دیتی رہی ہو،جب تم نے دیکھا کہ میرا ضمیر بار بار جاگ اٹھتا ہے تو اپنے آپ کو میرے سامنے کپڑے اتار کے پیش کر دیا تب میں نے تمھارے جسم کا حُلیہ دیکھا کچھ نشانیاں نظر آئی یہ مجھے اس وقت بھی نظر آئی تھی جب میں نے تم دونوں کو چُدتے ہوئے دیکھا اور اس طرح تمھارے جسم کا حلیہ ایک خاص تِل اورنپلزاور کافی کچھ بتاؤں گا ، تو پٹھان کی غیرت کیلیے اتنا بہت ہو گا مسجد میں جا کہ یا تمھارے بھائیوں اور شوہر کے سامنے قسم بھی اٹھانی پڑی تو بھی کوئی مسلہ نہیں ہے ، شہروز کو بھی وہ جانتا ہو گا تمھارا اس سے کوئی رابطے کا زریعہ بھی ہوگا جس سے تم نے اسے اُس رات کی اگلی صبح سب ٹھیک ہونے کی اطلاع دی ہوگی ، باقی ساری کہانی وہ تمھارے حلق میں ہاتھ ڈال کہ خود نکال لے گا ، بتاؤ کیا کہتی ہو ، شہزادے میں دلآویز کی ماں ہوں ،میں اسے یہ سب کرنے کو نہیں کہہ سکتی ۔ نگینہ کا لہجے اور الفاظ میں پھر مٹھاس آگئی ، تم اس کی فکر نہ کرو بس دلآویز کو میرے ساتھ اسی کمرے میں کھیلنے دیا کرو، باقی سب خود بخود ہو جائے گا میں نے اسے ایک آنکھ دبا کے کہا ،یہ بات بھی میں نے نگینے سے ہی سیکھی تھی ، نگینہ نیم رضامند نظر آنے لگی ، ہمارا تعلق بھی دلآویز کے سامنے آجائے گا ، میں اس کی نظروں سے گر جاؤں گی نگینہ نے ایک اور اعتراض کیا ،نہیں کُھلتا ہمارا راز ، نہ تم اسے بتانا نہ میں بتاؤں گا ، مجھے پتہ ہے تم اپنی دل کی بھڑاس نکالنے کیلیے ہم دونوں کو ایکدوسرے کے سامنے چودو گے ، وہ میری ہر چال سے واقف تھی ، میں ایسا نہیں کروں گا ،میں نے اسے فریب دیا ، ٹھیک ہے شہزادے تمھاری ضد کے آگے میں ہار گئی ہوں ، جیسا تم کہو گے ویسا ہی ہو گا ، نگینہ میرے ساتھ لیٹ گئی ،، کھیل شروع ہوگیا ،ایک بار ،دو بار ، تین بار ،نگینے میں تھک گیا ہوں ، چار بار ،نگینے میں ادھر ہی ہوں ،اب بس کر، ایکبار جی بھر کے میری خواہش پوری کر دے شہزادے ، پانچویں بار ۔۔ دروازہ کھٹکنے لگا ،شکر ہے میری جان چُھوٹی ، دلآویز سکول سے آگئی تھی ،نگینہ نے چھ دن کی کسر ایک دن میں نکال لی تھی ، تھکن اور کمزوری نے مجھ پر حملہ کردیا ،میں تھوڑی دیر میں بُھوکا ہی سو گیا، شام کو اٹھا تو طبیعت میں سُستی تھی ،نگینہ نے میرے لیے کھانا لے آئی ،ایسی حالت میں نگینہ مجھے یخنی پلاتی تھی،مگر آج کسی وجہ سے نہیں بنا سکی ، کھانا کھا میں پھر لیٹ گیا ، کچھ دیر مجھے نگینے دباتی رہی ،رات کو پھر دبا دوں گی شہزادے نگینہ نے مجھے ایک آنکھ دبا کے کہا ، میں سمجھ گیا آج رات کو نگینہ اور مزہ لے گی ،اس رات کے بعد ہم رات کو بالکل نہیں ملے تھے ، رات کو کھانا کھلا کے سب کچھ سمیٹ کر نگینہ فارغ ہوئی ۔سوا ،نوہو گئے تھے ، کبھی اپنے بیٹے کا بھی حال چال پوچھ لیا کر ،نگینہ سرور خان کو کمرے میں گھسیٹ لائی ،سرور سانڈ نے مجھے نفرت سے گُھورا اور باہر نکل گیا ، سرورے سونا نہ ،میں اس کا سر دبا کے آتی ہوں ،نگینہ کی آواز میں ممتا کی چاشنی تھی اور سرور کیلیے سگنل تھا ، باہر بارش ہونے لگی ، نگینہ میری رضائی میں آ گئی اور میرا سر دبانے لگی ، نگینہ نے اپنی چادر اتار کے بے پروائی سے پھینک دی ، پھر نگینہ نے اپنے بال کھول دیے ،نگینے بڑی رومانٹک موڈ میں تھی ،اس کا حُسن کمرے کو جگمگ کرنے لگا، بے شک وقت نے اس کا کچھ نہیں بگاڑا تھا ، نگینے تم کمال ہو ،میں اس کے حُسن سے بے خود ہو گیا ، نگینہ نے میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے بیس پچیس منٹ اس نے مجھے بڑی شدت سے پیار کیا ،(الف اج دی رات سہاگ والی ۔۔۔ بھلکے کی جانے کیہڑا رنگ ہوسی) اسے سرورے کا ڈر بھی نہیں تھا ،یا اسے یقین تھاکہ وہ نہیں آئے گا ، کاش شہزادے تم مجھ سے ضد نہ لگاتے تو ساری عُمرتمھیں عیش کراتی ،نگینہ کا موڈ بہت عجیب تھا ، کیا ؟ میں اس طرح موڈ بدلنے پر حیران ہوا، بچاؤ ،بچاؤ نگینہ کُھٹی کُھٹی آواز میں ایسے چیخِی جیسے اس کے منہ پر کسی نے ہاتھ رکھا ہو ، ساتھ ہی اس نے اپنے گریبان پہ ہاتھ ڈالا اور ایک جھٹکے سے پھاڑ ڈالا ،اس کی برا نظر آنے لگی میں سنبھل نہیں پایا تھا کہ اس نے میری رضائی ایک طرف پھینک دی اور اور خود چارپائی سے گر پڑی جیسے جان چھڑا کہ بھاگی ہو اور گر پڑے ۔ دو پل میں یہ سین مکمل ہوا اور سرور خاں کمرے میں داخل ہو گیا، زمین پر گری ہوئی چادر ،بکھرے بال ، پھٹی ہوئی قمیض ،ایں ؟ریشمی قمیض ایکدم کیسے پھٹ گئ ؟ اور اس کی ننگے جسم پر ایک خراش بڑی واضح نظر آرہی تھی جو کہ دوپہر کو نہیں تھی ، ایک پل میں ساری صورت حال میں سمجھ گیا ۔ادھر میری جسمانی حالت اتنی اچھی نہیں تھی ، کہ میں بھاگ سکوں ، نگینہ نے بڑا مکمل حملہ کیا تھا ، سرور خان نے کمرے میں داخل ہوتے ہی نگینہ کو اٹھایا ،سرورے اس نے میری عزت پر حملہ کیا ہے آج یہ بچ کر نہ جائے ، نگینہ نے کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے کہا ،
سرور سانڈ ، طیش میں مجھ پر حملہ آور ہوا، میں صورتِ حال سمجھ کہ اٹھ ہی رہا تھا کہ سرور سانڈ میرے اوپر گر پڑا اور مجھے گالیاں دیتے ہوئے مکے مارنے لگا، نگینہ کے دروازہ بند کرنے کا مطلب تھا اسنے مجھے بھگانا نہیں ہے مروانا ہے ، لمحوں میں یہ سب ہوگیا ، اب سستی کا مطلب موت تھا، سرور خان وحشیوں کی طرح مجھے مار رہا تھا ،میرے جسم میں بجلیاں دوڑ گئی ،موت کے سامنے دیکھ کہ توچڑیا بھی باز سے لڑ پڑتی ہے،میں تو پھر انسان تھا ، میں بھی ہاتھ چلانے لگا ، مگر وہ مجھ پر حاوی تھا ، میرے اندھا دھند ہاتھ چلانے سے بس اتنا ہوا کہ اُس کے مکوں کی رفتار کم ہوگئی ،میری نظر اس کی جنونی آنکھوں پر تھی میں اپنی انگلیاں اس کی آنکھوں میں مارنے لگا ،آخر انگلیاں لگ گئی مگر پوری نہیں لگی تھی لیکن اس نے میرا بازو چھوڑ کر اپنے ہاتھ آنکھوں پر رکھ لیے ، وہ ڈھیلا ہوا تو میں اسے خود پر سے دھکا دے کر چارپائی سے کھڑا ہو گیا،میرا جسم بُری طرح درد کر رہا تھا ، نیچے سے نکلنا میری کامیابی تھی پر موت اب بھی سامنے کھڑی تھی، یعنی سرور سانڈ بھی آنکھیں ملتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا تھا ، میری جسمانی حالت دِگردُوں تھی، نگینہ ابھی تک لڑائی میں شامل نہیں ہوئی تھی وہ دروازے پر کھڑی تھی، کہ میں بھاگ نہ سکوں یا اسے یقین تھا کہ میں سرور کے سامنے کچھ نہیں ہوں ،اور بات بھی سچ تھی، سرور کے اٹھتے ہی میں نے چارپائی کو ٹھوکر ماری جو اسکے گھٹنوں پر لگی تھوڑی چُوک ہوگئی نہیں تو یہی چارپائی اٹھتے ہوئے اس کے منہ پر لگنی تھی،میں نے ادھر ادھر دیکھا تو دادی کی لاٹھی نظر آئی ، میں نے وہ اٹھا لی ، سرور ٹانگ کی تکلیف بھول کہ میری طرف بڑھا ، سرور اندھا دھند میری طرف بڑھا ،میں نے بے دریغ لاٹھی گھما دی، اس نے بے اختیار ہاتھ آگے کردیے لاٹھی ہاتھوں اور بازوؤں پر پڑی اور اس نے فوراً ہاتھ پیچھے کیے ، میں نے اسی پل لاٹھی اسکے سر پر دے ماری ۔ سرور ایک سانڈ تھا ایک بار قسمت سے اس کے ہاتھ سے نکل آیا تھا اب ہاتھ آجاتا تو موت نے ہی مجھے آزادی دلانی تھی ، میں نے سرور کو سنبھلنے نہ دیا میں نےدوتین لاٹھیاں اوپر تلے اس کے سر پہ دے ماری ،سر پر لاٹھیاں پڑنے سے سرور بھی ڈگمگا گیا اور لاٹھی بھی چٹخ گئی، میں نے زور سے لات اس کے پیٹ پر ماری ،وہ گر پڑا ، اسکے سر سے خون نکل رہا تھا ، لاٹھی ہاتھ میں آتے ہی چند سیکنڈ میں پانسہ پلٹ گیا ، آخر دادی ہی کام آئی، میں دراوزے کی طرف بڑھا ،نگینہ پریشان ہو گئ ،اور جلدی سے پرانی طرز کا پیتل کا گلدان ہاتھ میں پکڑا اور آگے بڑھ کے میرا سر پر مارنا چاہا،اب پھرتی میں تو وہ مجھ سے زیادہ نہیں تھی،میں نے ایک طرف ہو کہ نفرت میں پوری طاقت سے اسے لاٹھی دے ماری، لاٹھی اس کے بازو اور کندھوں پر پڑی اور ٹوٹ گئی، اوپر سے میں نے اسے لات دے ماری جو اس کے پیٹ پر لگی نگینہ پیچھے جا گری، نگینہ نے بغیر کسی دیر کے لیٹے لیٹے پھر گلدان اٹھا کہ میری طرف چلایا جو میری پنڈلی کی ہڈی پر لگا پنڈلی کی ہڈی نے تو میری جان ہی نکال دی ۔ مگر موت سامنے تھی میں نے سب نظر انداز کر کے دروازہ کھول لیا،سرورسانڈ اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا اس کاجنون کم ہونے کی بچائے بڑھ چکا تھا میں نے جلدی سے بچی کچھی لاٹھی اس کی طرف چلا دی ،جو سیدھی اس کے چہرے کی طرف گئی، دروازہ بند کر کے باہر سے کنڈی لگا دی، باہر کی طرف لنگڑاتا ہوا بھاگا تو دلآویز اٹھ کے دروازے میں پریشان کھڑی تھی ،میری حالت دیکھ کہ وہ چونکی ، اور پریشانی سے میری طرف بڑھی ، یقیناً ابھی اسے حالات کاپتہ نہیں تھا میں نے اسے زور سے دھکا دیا وہ واپس کمرے میں گر پڑی ، اس دروازے کو بھی باہر سے بند کر دیا ۔ اب دلاویز مجھ سے نفرت کرے گی ، کیونکہ میں نے اس کی ماں کی عزت لوٹنے کی کوشش کی تھی ، نگینہ نے بڑا مکمل وار کیا تھا ، میں تیزی سے صحن پار کر کے باہر والے دروازے کی طرف بڑھا کُنڈی کھول کے دروازہ کھولا اور کچھ سوچ کر تیزی سے لنگڑاتا ہوا سیڑھیوں کی طرف بڑھا ، میں چھت پر آگیا ، بڑی تیز بارش ہو رہی تھی، ہر کوئی کمروں میں دُبکا ہوا تھا ، میں ایک چھت سے دوسری چھت پر چلا گیا، دروازہ اور کنڈی سرور سانڈ کے سامنے کچھ نہیں تھی ، اس کی نفرت بہت زیادہ ہوگئی تھی ،یقیناً اس نے مجھے ڈھونڈنا تھا ، نگینہ نے پہلے بھی گھٹی ہوئی آواز میں بچاؤ کہا تھا اور پھر بعد میں بھی چیخ کے گلی والوں کو اکھٹا نہیں کیا تھا یعنی مجھے مار کے وہیں گاڑنا اس کا واضح مقصد تھا ،ضد میں نگینہ نے انتہائی فیصلہ کر لیا تھا ۔ مجھے کس نے ڈھونڈنا تھا ، ان سے گلی والا کوئی پوچھتا بھی تو کہدیتے کہ میں گھر سے بھاگ گیا ہوں ، تیز بارش ٹھنڈ میں جسم کو سُن کرنے لگی ۔ میں چھتیں پھلانگتا نکڑوالی باجی کی طرف جا رہا تھا، ایک گھر کی چھت اونچی تھی مزید اس پر پردے بھی بننے سے دیوا سی بن گئی تھی ، مجھے اس پر چڑھنے میں مشکل پیش آئی ،اوپر سے بارش نے براحال کر رکھا تھا بہرحال چڑھ ہی گیا ،کلائیاں چِھل گئ ، سوچیں مجھ بھی تیز رفتار تھیں ، نگینہ نے وقت بھی رات کا چُنا تھا اور سرور سانڈ کو جان بوجھ کے میرے کمرے میں لائی تھی کہ بعد میں بتا سکے کہ وہ تو میری خراب طبیعت کی وجہ سے آئی تھی اس نے سرور سانڈ کو جاگنے کا سگنل بھی دیا تھا وہ نہ صرف جاگتا رہا بلکہ اس کا دھیان بھی نگینہ کی طرف تھا اسی لیے وہ نیچی آوز سن کے بھی آگیا ، نکڑ والی باجی کی چھت پر آکے میں چھت کے پردوں سے کمر ٹکا کے بیٹھ گیا پنڈلی کا درد بارش میں سُن ہو رہا تھا ، میری جسمانی حالت بھی نگینہ کی کارستانی تھی اس نے پانچ بار عضو چوس کہ محبت کے ڈھونگ سے چدوا چدوا کے مجھے بے حال کیا ،وہ تو دلآویز آگئی نہیں تو نگینہ نے مجھے ادھ مواء کر دینا تھا ۔ نگینہ نے مجھے دوسری دفعہ شکست دے دی تھی ، اس کا منصوبہ ہر طرح سے مکمل تھا، یقیناً اب وہ میرا پیچھا کروائے گی ، وہ سرور اور اپنے بھائیوں کیساتھ برادری کو بھی اس میں شامل کرے گی عزت لوٹنے والی بات ان اکھڑ لوگوں کیلیے تازیانہ تھی،موت کے سائے میرے آس پاس منڈلانے لگے تھے۔ اس کی مکاری کے سامنے میں ابھی بچہ ہی تھا ، اور اب میری جان خطرے میں تھی مجھے بھاگنے کی بجائے کہیں چھپنے کی ضرورت تھی میں بارش میں ننگے پاؤں اپنے نڈھال جسم اور زخمی پنڈلی کے ساتھ زیادہ بھاگ نہیں سکتا تھا ،نکڑ والی باجی اس وقت مفید ترین تھی، میں نیچے کی سُن گُن لینے لگا،نکڑ والی باجی کا بھائی، بھابی، بچے ،اور باجی کے ماں باپ اپنے کمروں میں رضائیوں میں گُھسے ہوں گے ،سردیوں کے دس بجے ہوں اور بارش ہو رہی ہو تو اس وقت کس نے میرا راستہ روکنا تھا،میرے لیے یہ گھر اجنبی نہیں تھا ، اس لیے سیدھا باجی کے کمرے کی طرف بڑھا ۔ مناسب قد کی، تیکھے نین نقش والی ، گوری چٹی، تیز وطرار، دبلےپتلے جسم والی ، ،اور ہمشہ چست (ٹائیٹ فٹنگ ) کپڑوں میں ممے اور پتلی کمر دکھانے والی چوبیس سال کی باجی سحرش کو میری وجہ سے جوانی بڑی تنگ کرتی تھی ، خوش قسمتی سے دروازہ کھلا تھا میں نے محتاط ہو کے دروازہ سے جھانکا ،باجی کمرے میں رضائی لپیٹ کہ کوئی رسالہ پڑھ رہی تھی ،ساتھ مونگ پھلی اور ریوڑیاں بھی چل رہی تھی ، میں کمرے میں داخل ہو گیا، باجی نے میری طرف دیکھا اور۔۔۔۔۔حیران ہوگئی ،شہزادے تم ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے دروازہ بند کر دیا ،وہ میری حالت دیکھ کے پریشان ہوگئی ، کیا ہوا شہزادے تم اندر کیسے آئے ،باجی اٹھ کہ میرے پاس آگئی، سرورے سے میری لڑائی ہوگئی ،میں بھاگ آیا میرا جواب مختصر تھا،سرورا نگینہ کا غلام ہے اور تُو اس کا شہزادہ ۔ مجھے گولی مت دے سیدھی بات بتا،باجی سحرش میری بات میں نہ آئی ، سرور نے مجھے اور نگینہ کو اکٹھا دیکھ لیا اور مجھے ماررنا چاہا ،مگر مجھے وہاں سے بھاگنے کا موقع مل گیا ، تفصیل سے بتا، باجی سحرش کی تسلی نہ ہوئی ، پوری بات بھی سن لینا ،پہلے میری حالت کا کچھ کر،باجی نے میری حات کا جائزہ لیا ،گیلے کپڑے اتار دے ، باجی نے کھونٹی سے تولیا اتار لیا،لیکن میں ویسے ہی کھڑا رہا ، کپڑے کیوں نہیں اتارتا ، باجی حیران ہوئی ، کوئی کپڑے پہننے کو تو دے ،اور تم بھی ادھر منہ کر لو، زیادہ ڈرامے بازی نہ کر شہزادے ، تیرے سائیز کا کوئی سوٹ نہیں ہے ہمارے گھر میں ،کپڑے اتار کے رضائی میں گُھس جا،اب مجھ سے کیا شرمانا، باجی نے موقع کا فائدہ اٹھانے میں ایک لمحے کی دیر نہیں لگائی ، باجی سحرش خود ہی آگے بڑھ کے میرے کپڑے اتارنے لگی تو میں نے بھی قمیض اور شلوار اتار دی سحرش کی آنکھوں میں چمک آگئی ،وہ پیار سے میرا جسم تولیے سے خشک کرنے لگی ، میرے بال خشک کیے ،جسم خشک کرتے کرتے وہ خود گیلی ہو گئی ہوگی،میں رضائ میں گُھس گیا، تم اندر کیسے آئے ،میں چھت سے آیا ہوں ۔ سحرش نے دروازہ کھول کہ صحن میں دیکھا اور اپنی تسلی کرکے دروزہ بند کر دیا ،بارش جاری تھی،سحرش نے میرے کپڑے نچوڑ کے پھیلا دیے ، میں سردی سے کانپ رہا تھا بلکہ اب ہی تو سردی لگنی شروع ہوئی تھی ،پنڈلی کا درد بے چین کرنے لگا ۔ سحرش نے دروازہ کھولا اور باہر جانے لگی ،کہاں جا رہی ہو،میں نے دھیمی آواز میں پوچھا، کچھ تمھاری سردی کا کرتی ہوں مجھے دیکھ کے سحرش نےگھر اور باہر کے سب خطرے نظر انداز کر دیے تھے ، اسی لیے تو میں سحرش کے پاس آیا تھا ،میں اچھی طرح رضائی لپیٹ کے بیٹھ گیا دس بارہ منٹ بعد سحرش گرم دودھ اور تین دیسی انڈے ابال کے لے آئی، پی لے اس میں شہد بھی ڈالا ہے ،جو سحرش کی سمجھ میں آیا وہ لے آئی ،میرے ہاتھ کانپ رہے تھے ، سحرش انڈوں کا چھلکا اتارنے لگی، دودھ اور انڈے نگلتےہوئے میں نے مناسب سی تفصیل سحرش کو بتا دی کھلا پلا کہ وہ ڈیٹول اور روئی لے آئی ، میری کلائیوں اور ماتھے پر روئی سے صاف کرنے لگی،پھر روئی اچھی طرح ڈیٹول سے بھگو کے میری پنڈلی پر رکھ کے کپڑے سے پٹی باندھ دی ، سحرش اس سب سے فارغ ہو کہ دروازہ بند کر کے میرے ساتھ رضائی میں ہی گھس آئی ، پندرہ بیس منٹ میں میری حالت کچھ نارمل ہو گئی اور سحرش کی حالت خراب ہو گئی ، جس کیلیے وہ اپنے دروازے میں کھڑی انتظار کرتی رہتی تھی ، جس کیلیے سحرش کی منہ زور جوانی بے قابو ہو رہی تھی آج وہ اس ننگے شہزادے سے جڑی بیٹھی تھی ، سحرش نے مستی میں انگڑائی لی تو اس کے ممے اور پتلی کمر نمایاں ہوگئی اس کے چست کپڑوں سے جسم باہر آنے کیلیے پھڑک رہا تھا، ایکدم وہ مدہوشی میں مجھ سے لپٹ گئی اور مجھ پر بوسوں کی بارش کر دی،، اس نے میرےننگے جسم کا کوئی حصہ نہ چھوڑا ، اس کا طوفان بوسوں سے اور بڑھ گیا تو سحرش نے اپنی قمیض اتار دی پھر شلوار اور برا بھی اتار دی، نگینہ جتنی بھی خوبصورت تھی لیکن اس کچی جوانی کے آگے کچھ بھی نہیں تھی، کیسا لگا ہے تمھیں میرا جسم شہزداے،سحرش نے اپنی کمر ہلا ئی، زبردست ، میں نے دل سے کہا، سحرش میرے ساتھ ہی لیٹ گئی ، اور زبردست جپھا ڈال لیا ،ہم کسنگ کرنے لگے ، منہ میں منہ ڈال لیا۔ ہمارے ہاتھ آوارہ ہو گئے ،میں اس کے اَن چھوئے کچے ممے چھونے لگا ، پتلے جسم کی جادوگری تو بہت زیادہ تھی ، سحرش نے ہاتھ بڑھا کے میرا عضو پکڑ لیا، بے شک سحرش بہت ترسی ہوئی تھی، شہزادے اسے ہاتھوں سے نہیں منہ سے پکڑ کے پی ، سحرش نے مجھے اپنے ممے کی طرف کیا ،میں نے ایک نپل منہ میں لے لیا اورچوسنے لگا، یہ میرے پہلے کچے ممے تھے ،مجھے ان کے سواد میں اپنی جسمانی تکلیفیں بھولنے لگی ، جسم گرم ہو گیا ۔جو کہ میرے لیے اچھا تھا ، پہلا پھر دوسرا ،دوسرا اور پھر پہلا،ممے چوسنے سے دل نہیں بھر رہا تھا ، جسم ایک دوسرے میں کبُھے ہوئے تھے ،نگینہ سے سیکھا ہوا سبق پورا کر کے اب میں اندر ڈالنا چاہتا تھا ۔ سحرش کی معلومات سننے تک تھی یا اس نے کچھ دیکھا بھی ہو ، میں کر چکا تھا مگر مجھے نہیں پتہ تھا کہ کنواری چوت کے طریقے کچھ اور ہوتے ہیں ۔ آجا شہزادے سحرش خود بھی لینے کیلیے بےچین تھی ۔ میں نے گھٹنوں پر بیٹھا تو پنڈلی کا درد نے بتایا کہ ابھی میں پوری طرح زندہ ہوں ، مگر اس وقت اس کو بھول جانا ہی ہر لحاظ سے وقت کا تقاضا تھا ،چوت کے اوپر رکھ کے عضو تھوڑا اندر ڈالنا چاہا زور لگایا تو بمشکل ٹوپی چلی گئی ،یہ کیا نگینہ کے اندر تو گھڑاپ کر کے چلا جاتا تھا ،میں نے اور دھکا لگایا تو سحرش کو درد ہوا ، ٹھر جا شہزادے سحرش کو عقل آگئی ، وہ شیمپو کی بوتل الماری سے لے آئی اس میں سرسوں کا تیل تھا، سیانوں کی بات پر عمل کرنا چاہیے ، سحرش نے تیل میرے عضو پر لگاتے ہوئے کہا اور پھر اپنی چوت میں لگایا ، آجا میرے شہزادے ، سحرش نے لیٹتے ہوئے مجھے دعوتِ چدائی دی ،میں اس کی ٹانگٰں کھول کے چوت کے سامنے آیا اور پھر موری پر رکھ کے دھکا لگایا ۔ آہ سکون آگیا ، عضو پھسلتا ہوا اندر چلا گیا مگر چوت اپنی تنگی پوری طرح محسوس کروا رہی تھی، آگے جا کے عضو کسی چیز سے ٹکرا کے پھر رک گیا ، میرے حساب سے اسے اور آگے جانا چاہیے تھا ابھی تو پورا ،اندر ہی نہیں گیا تھا ، شہزادے تھوڑا پیچھے ہو کہ پورے زور سے دھکا لگا، اس دفعہ بھی سحرش ہی کام آئی ، یقیناً اس نے اس کی پوری معلومات لی ہوئی تھی ، نہیں تو انجان کا چودنا چوت کا نقصان والی بات ہو جانی تھی ، میں نےعضو تھوڑا باہر نکالا ،اور پوری طاقت سے اندر ڈالا ، میرا عضو کسی چیز کو توڑتا ہوا اندر جا گھسا ، اور سحرش کے جسم نے جھٹکا لیا ، اس نے اپنے دانت پر دانت جمائے ہوئے تھے ،اس کی رخساروں کی ہڈیاں ابھری ہوئی تھی،بعد میں اس نے بتایا کے اسے درد ہوا تھا اور وہ اپنی چیخ روک رہی تھی ،اندر چلا گیا تھا میں سحرش کی حالت سے بے پرواہ چودائی کرنے لگا ۔ شہزاے اب رکنا نہ،کچھ دیر بعد سحرش نے جذبات میں کہا، اس کے رخسار کی ہڈیاں اب نارمل ہو گئ تھی ، مجھے اب چوت میں تھوڑی روانی محسوس ہوئی ، تھکا تھک ،پھٹا پھٹ ،تیز اور تیز،اس کے بعد وہی سب جو نگینہ کو کرتا تھا ،اب سارا کام میرا تھا، میں نے اپنا کام بخوبی کیا ہم جوش میں تھے جوش میں رفتار خودبخود تیز ہوجاتی ہے ۔ میری رفتار بھی تیز ہوگئی ، سحرش میری طوفانی رفتار سے خوش تھی اسے مزہ آرہا تھا ، شہزادے آج ساری کسریں نکال دے ،آج میری دلی تمنا پوری کر دے ،مجھے اتنا چود کہ میرے اندر جو تمھاری طلب ہے اس کے تقاضےۓ پورے ہوجائیں ۔ چود شہزادے چود ، سحرش کو کافی معلومات تھیں اور وہ ان معلومات کا پورا ستعمال کر رہی تھی مجھے سرپٹ گھوڑے کی طرح دوڑانے کیلیئے سحرش سیکسی باتیں کرتی رہی ،شہزادے اپنی باجی کو تیز چود، شہزادے آج مجھے چود ،چود کے ساری کسریں نکال دے ۔ اتنا چود اپنی باجی کو کہ میرے دل کی دھڑکنیں بس تیرا ہی نام لیں ۔آہ ،آہ کیا مست چودائی ہے میرے شہزادے کی ، میرے شہزادے سحرش تو کب سے تمھاری ہے تم ہی اس سے دور بھاگتے تھے ،میں تمھاری دلہن ہوں شہزادے اور آج ہماری سہاگ رات ہے ۔اس سہاگ رات کو اپنی چودائی سے مرادوں بھری رات کر دے ۔ایسی باتوں سے میرا جوش جنوں میں ڈھلتا گیا اور جنوں گرما گرم چودائی کے بعد پانی بن کر نکلنے والا تھا ،وہی ہوا جو نگینہ کے ساتھ ہوتا تھا۔،جسمانی کیفیت بدلی تو میں نے اور سحرش نے جِن جپھا ڈال لیا ۔ جب جنوں پانی بن کے نکلا تو پھر ہمیں سکون آگیا ، میرے شہزادے تو نے میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش پوری کر دی ،دن رات تیرے سپنے دیکھ کے میں پاگل ہو چکی تھی، آج سےسحرش تمھاری کنیز ہے شہزادے ، سحرش مجھے لپٹائے اپنے دل کی حالت بیان کر رہی تھی ، ہم کچھ دیر لپٹے رہے ، پھر جیسے سحرش کو کچھ یاد آیا ، اس نے اٹھ کے بستر کو دیکھا ، اس کا تو مجھے یاد ہی نہیں رہا ،سحرش بڑبڑائی ، میں نے بھی دیکھا وہاں بڑا سا خون کا نشان تھا خون اونی گدے نے چوس لیا تھا ۔ اس نے خود کو دیکھا اس کی کمر پر خون لگا تھا ،سحرش نے اپنا جسم صاف کیا اپنے کپڑے پہنے ،سحرش نے چادر اور گدا لپیٹا اور باہر نکل گئ، اب بارش ہلکی ہلکی ہو رہی تھی،میں کمرے کا جائزہ لینےلگا ،کمرے کی دیوار پر ایک انڈین اداکاراور اداکارہ کی بڑی سی تصویر لگی تھی ،ڈریسنگ ٹیبل،دو سنگل صوفے اور دو سنگل بیڈ تھے دونوں انگلش لفظ ایل کی الٹی شکل میں دیوار سے لگے تھے ۔دوسرا بیڈ یقیناً سحرش کی بڑی بہن کا تھا جس کی شادی ہوگئی تھی ،ضرور وہ اب بھی ماں باپ کے پاس آکہ اسی کمرے میں ر ہتی ہو گی ، ہو سکتا ہے سحرش نے سیکس کی ساری معلومات اپنی بڑی بہن سے لی ہوں ، بیس پچیس منٹ بعد سحرش آئی تو جہاں خون لگا تھا وہاں سے چادر اور گدا دھلا ہوا تھا ،پھر سحرش استری لے آئی، اور چادر اور گدے کو استری سے خشک کیا، میں رضائی میں لپٹا بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا ، سحرش نے میرے کپڑے بھی استری کر دیے ،پھر اپنے کپڑے اتار کے میرے پاس آگئی،صبح کسی نہ کسی نے یہ دیکھ لینا تھا اور طوفان آجانا تھا ،سحرش میری گود میں بیٹھتے ہوئے کہا ، نگینہ کی مجھے طلب نہیں ہوتی تھی ، لیکن آج سحرش کی مجھے طلب ہو رہی تھی ، میں اس کے کندھے گردن چومنے لگا اس کے ممے چوسنے لگا ،سحرش کو بھی میری طلب تھی،ہم گُتھم گُتھا ہونے لگے، ایکدوسرے سے مزہ کشیدتے ہوئے ہم گرما گرم ہو گئے ،سحرش لیٹ گئی اور میں اس کے اوپر تھا ، میں اند ڈالنے لگا تو سحرش نے عضو پر تیل لگا دیا ،کچھ دن تو لگانا پڑے گا ، اس نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا ،پھر وہی مزےدار مشقت ، پتہ نہیں کیا بات تھی سحرش کی چودائی میں مزہ بہت تھا، یہ تو جیسے ایک نئی دنیا سامنے آگئی تھی ، میں اس کے اوپر لیٹ کے آہستہ آہستہ کرنے لگا اور ساتھ اس کے ممے چوسنے لگا ، سحرش تو جیسے مزے میں ڈوب گئی ،میں لگا رہا ،کبھی آہستہ کبھی تیز ہو جاتا تھا ،شہزادے پھاڑ دے میری چوت تیز اور زور دار دھکے لگا ، جیسے اس نے کہا تھا ویسے میں چودائی کرنے لگا،شاید اس کا وقت قریب تھا ،وقت تو میرا بھی قریب تھا ،ہم زبردست طریقے سے لپٹ گئے ، اور پانی نکالنےلگے۔ جذبات کا دریا کچھ مدہم ہوا تو آگے کی سوچنے لگے ،سحرش کو میری فکر تھی،شہزادے اب تم کہا جاؤ گے ،جب میں گدا دھونے گئی تو گلی میں جھانکا تھا مجھے سرور کے مکان کے سامنے تین چار موٹر سائیکل نظر آئے ۔ مجھے لگتا ہے سرور نے اپنے اور نگینہ کے بھائی بلا لیے ہیں ، وہ لوگ تمھیں ضرور ڈھونڈیں گے ، میں پریشان ہو گیا ،مجھے اس کا اندازہ تھا کہ یہ ہو سکتا ہے ۔ فی الحال تمھارا باہر نکلنا ٹھیک نہیں ہے ، تم ان سے چھپ نہیں سکو گے ،سحرش میرے لیے پریشان تھی،تم اپنے کپڑے پہن لو،سحرش نے کچھ سوچتے ہوئے کہا، میرے کپڑے پہننے کے دروان سحرش مجھے سمجھاتی رہی کہ کیا کرنا ہے ، تھوڑی دیر بعد وہ اپنی امی کو اٹھا کے لے آئی، شہزادے کیا ہوا بیٹا ؟سحرش تمھیں اپنا چھوٹا بھائی سمجھتی ہے بہت پریشان ہے تمھارے لیے ، وہ آنٹی جی آپ کو پتہ ہے کہ میرے والد کے مرنے پر سرور خان نے میرے نام پر فیکٹری سے کافی پیسے لے لیے تھے بلکہ اس نے اپنے کسی بھتیجے کو میری جگہ فیکٹری بھی لگوا دیا ہے ،،(اس بات کا پتا مجھے سحرش سے چلا تھا ) دادی کی وجہ سے سرور مجھے گھر میں رکھنے پر مجبور تھا اب اس نے مجھے چوری کا الزام لگا کے نکال دیا ہے کہ میں نے سرور کے پیسے اور نگینہ کا زیور چرایا ہے یہ مجھے پولیس میں لے جانے والے تھے کہ میں چھت سے بھاگتا ہوا باجی سحرش کے پاس آگیا ،اسی بہانے وہ مجھے پکڑ کے پولیس میں دینا چاہتے ہیں جہاں سے میں شاید بچ سکوں ، تا کہ بعد میں کبھی ان سے اپنا حق نہ مانگ سکوں ، آنٹی اب تو خدا کے بعد آپ ہی میرا سہا را ہیں ، آنٹی نے ٹھنڈی سانس لی ،بیٹا کیا زمانہ آگیا ہے ،دولت کیلیے لوگ کیا کیا کر جاتے ہیں ، یہ تمھارے والد کے پیسے لینے کا توساری گلی کو پتہ ہے اسی پیسے سے اس نے موٹر سائیکل لی تھی اور سنا ہے اس نے باقی پیسے کسی بینک میں رکھوا دیے ہیں ،بہرحال بیٹا یہ تو بڑے اکھڑ لوگ ہیں ہم ان کا مقابلا نہیں کر سکتے ،آنٹی آپ بس کچھ دن مجھے چھپا لیں میں اس سے زیادہ آپ پہ بوجھ نہیں بنوں گا،نہیں بیٹا بوجھ کی کوئی بات نہیں اگر ان لوگوں کا مسلہ نہ ہوتا تو ہم تمھیں اپنے پاس ہی رکھ لیتے، بیٹا ان کو پتا تو نہیں چلا کہ تم چھت سے بھاگے ہو،آنٹی فکرمند تھی ۔ نہیں آنٹی وہ سمجھے کہ میں باہر نکل گیا ہوں ،اچھا چلو میں سحرش کے ابا سے بات کرتی ہوں ،آنٹی باہر چلی گئی تو سحرش مجھ سے لپٹ گئ،امی مان گئی تو سمجھو ابو بھی مان گئے،اچھا تمھیں یقین ہے نہ وہ نگینہ کی عزت پر حملے والی بات کسی سے نہیں کریں گے نہیں یار وہ اس بات میں اپنی بے عزتی محسوس کریں گے اسلیے کوئی اور الزام لگائیں گے ہو سکتا ہے چوری والی بات سچی کر دیں ،قصہ مختصر سحرش اوراس کی امی کیوجہ سے مجھے کچھ دن وہاں رہنے کی اجازت مل گئی ،سحرش بہت فکر مند تھی اپنے چھوٹے بھائی کیلیے، اسلیئے اس نے مجھے اپنے کمرے میں ہی رکھ لیا، اس کےبھائی اور بھابی ،امی اور ابا کے کمرے میں ویسے بھی میں کباب میں ہڈی تھا ،بچوں کو کچھ نہیں بتایا گیا تھا ،اس لیے سارا دن کمرے کا دروازہ بند رہتا تھا ، سحرش کی بڑی بہن کا بیڈ اب میرے قبضے میں تھا، دو دن تک پنڈلی کا درد ٹھیک ہو گیا، سحرش میری مخبر تھی ،نگینہ کے گھر موٹر سائیکلوں پر آنے جانے والے کافی ہوگئے تھے ،کچھ کے پاس اسلحہ بھی دیکھا گیا،انہوں نے یہی مشہور کیا کہ میں ان کی ساری جمع پونجی لے کے بھاگ گیا ہوں ، جب سرور نے مجھے پکڑنے کی کوشش کی تو شہزادے نے اس پر قاتلانہ حملہ کردیا ،اس طرح پولیس میں بھی پرچہ ٹھوک کہ کٹوایا گیا اگر میں ان کے ہاتھ آجاتا تو میری خیر نہیں تھی ۔کالونی میں چہہ مگوئیاں ہورہی تھیں ، سحرش کی امی فکر مند رہتی تھی جب سحرش اور اس کی بھابی گھر کے کام کاج میں لگی ہوتی تھیں تو سحرش کی امی میرے پاس کے آکہ بیٹھ جاتی تھی، مجھے لپٹا لیتی ،سینے سے لگا لیتی، ان کو میری بڑی فکر تھی ،دروازہ بند ہوتا تھا ، میں سب سمجھ کے بھی انجان بن رہا تھا ، رات کو سحرش اور میرا جوڑ پڑتا تھا ،ہم تھک کے گر پڑتے تو سو جاتے،سحرش کی بھابی مجھ سے دور رہنے کی کوشش کرتی تھی ،ہفتہ گزر گیا ، سحرش میری دیوانی تھی لیکن اب میری قربت نے اسے کچھ زیادہ ہی دیوانہ کر دیا تھا ۔سرورے کے خاندان کی تلا ش مدہم پڑنے لگی،بھائی اور ابو کہہ رہیں ہیں کے اب تمھیں یہاں سے چلا جانا چاہیے ،سحرش نے رات کو پریشانی سے مجھے بتایا،میں کچھ کرتی ہوں ، ہم کھیلنے لگےسحرش اب سیکس میں بہت جذباتی ہو جاتی تھی ،اس کاانداز بدلنے لگا تھا ،سحرش کے جذبات مجھے بے چین کرنے لگے ۔اگلے دن سحرش کی ماں موقع دیکھ کے آگئی ، بیٹا سحرش کے ابا اب تمھیں یہاں نہیں دیکھنا چاہتے ، میں بہت مجبور ہوں ،مجھے تمھاری بہت فکر ہے انہوں نے مجھے بیٹا سمجھا کے ساتھ لپٹا لیا،میرا سر ان کے مموں پر تھا ، میں ہفتے سے انجان بن رہا تھا ،بڑے سے ممے ،موٹی گانڈ بڑھا ہوا پیٹ ،چوڑی کمر۔ یہ سب میرے جمالیاتی ذوق پر تازیانہ تھا،مگر اب مطلب کے لیے دل سخت کر لیا ،آنٹی آپ ہی تو میرا سہارا ہیں میں نے ان کے گلے میں سامنے سے اپنی بانہہ ڈال دی ،میرا بازو ان کے مموں پر تھا ،ان کی آنکھوں میں چمک آگئی ،بیٹا میں تو چاہتی ہوں ابھی تم نہ جاؤ ان کی تلاش ابھی مدہم پڑی ہے رکی نہیں ،سحرش کی امی نے مجھے کچھ سمجھایا،جی آنٹی آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں میں نے اپنے بازو سے مموں پر دباؤ ڈالا ، آپ کچھ کریں نہ پلیز ،میں ان سے زور سے لپٹ گیا،شہزادے میں نے بڑی مشکل سے ان کو مزید چند دن کیلیے منایا ہے ،انہوں نے مجھے اپنی گود میں بٹھا لیا،، اور مجھے چومنے لگی ،ماں بننے کا لبادہ ایک منٹ میں اتار کے وہ میری عاشق بن گئی،دس منٹ اس نے مجھ پر اپنی بھڑاس نکالنے کی کوشش کی ،سحرش کسی بھی کمرے میں آسکتی ہے میں نے کسمساتے ہوئے کہا،، بادل ناخواستہ سحرش کی امی کومجھے چھوڑنا پڑا ، ان کو چدائی کیلیے موقع ملنا بہت مشکل تھا ،اسی لیے میں نے دل سخت کر کے اسے چوما چاٹی تک آنے دیا تھا ۔ دن میں سحرش کی امی موقع بنا کے آتی رہتی اور رات کو سحرش سحرش ہوتی رہتی ،سحرش اب میرے نام کی مال جپتی تھی ،ہرپل اسے میرا خیال رہتا تھا ، اسے میری لگن لگ گئی تھی ۔ سحرش کو مجھ سے پیار ہوگیا تھا ۔کچھ دن گزر گئے سرور کے گھر میں برادری کا آنا جانا ختم ہو گیا ۔ سحرش بتا رہی تھی کہ وہ حیران ہیں کہ مجھے زمیں کھا گئی کے آسمان ؟ سحرش اور اس کی امی کے پاس اب مجھے گھر میں رکھنے کا کوئی بہانہ نہیں تھا ، دو دن اسی کشمکش میں گزر گئے ، رات کو سحرش کی امی اور ابا کی لڑائی ہو گئی ، ہم نے اس کا ٹھیکہ نہیں اٹھایا ،اس جیسے ہزاروں پھرتے ہیں کیا ہم سب کو گھر لے آئے،آپ نے جوان بیٹی کے کمرے میں ایک آوارہ کو رکھا ہوا ہے پتہ نہیں آپ کی سمجھ کو کیا ہو گیا ہے امی جان ، یہ سحرش کا بڑا بھائی تھا، باتیں میری کانوں میں پڑ رہی تھیں،میں سمجھ گیا اب سحرش اور اس کی امی کی نہیں چلے گی ، میں اور سحرش کمرے میں بیٹھے تھے،اچھا سحرش اب میں چلتا ہوں ،میں اٹھ کھڑا ہوا ،کہاں ،رکو۔ سحرش بے چینی سے اٹھ پڑی ، سحرش میری جان ، تمھارے گھر میں جھگڑے بڑھ گئے تو اس سے ہو سکتا ہے ہمسائیوں کو کچھ بِھنک پڑ جائے،اس سے بات پھیل جائے گی اور جو بھی ہوآخر مجھے جانا توہے ہی ، سحرش بھی یہ بات سمجھ گئی تھی،میں تمھیں نہیں بھلا سکتی شہزادے ،وعدہ کرو تم مجھے ملو گے ،سحرش میرے گلے لگ چکی تھی ،اس کی حالت ٹھیک نہیں تھی، یہ کچھ پیسے رکھ لو ،کافی سارے پیسے اس نے میری جیب میں ڈال دیا ،پتہ نہیں اس نے کیسے اکٹھے کیے تھے ۔ سحرش پھر میرے گلے لگ گئی، اس کا جسم کانپ رہا تھا ،ہم نے ایک لمبی سی آخری کِس لی، میں نے اس کی دی ہوئی گرم شال لپیٹی ،اس سے منگوایا ہوا چاقو جیب میں ڈالا ، لنڈے کے جوگرز کے تسمے بیڈ پر بیٹھ کر کسے، یہ بھی اسی کے دئیے ہوئے تھے 


میں کمرے سے باہر نکلا ،دو ہزار دو ، شروع ہو گیا تھا ،پچھلی صدی کب کی چلی گئی تھی ۔ماں باپ کا ۔۔۔۔۔۔۔۔ مر گیا اور شہزادہ زندہ ہو گیا تھا ،امی ابو سے نہیں ملو گے ،سحرش نے مجھے باہر کی طرف جاتے ہوئے پوچھا ، سحرش کی امی اور ابو کے لڑنے کی آواز بلند ہو رہی تھی ، نہیں یار تم ہی انھہیں بتا دینا ،میں دروازے کے کے پاس رک گیا،سحرش نے باہر گلی میں دیکھا، کوئی نہیں ہے۔سحرش نے سسکتے ہوئے بتایا۔


مجھے اس پر پیار آگیا ، میں نے اس کی آنکھیں چومی ، ہونٹوں پر کِس لی اور گلی میں نکل گیا ، سحرش روتی رہی، گلی میں اندھیرا تھا ،بلکہ اس دنیا میں ہی اندھیرا تھا ،میں نے ان اندھیروں میں خود کو گم کر لیا ،


(آدمی خود بخود نہیں مرتا ۔۔۔۔۔ دوسرے لوگ مار دیتے ہیں )


جاری ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

اردو فن کلب کے پریمیم ممبرز کے لیئے ایک لاجواب تصاویری کہانی ۔۔۔۔۔ایک ہینڈسم اور خوبصورت لڑکے کی کہانی۔۔۔۔۔جو کالج کی ہر حسین لڑکی سے اپنی  ہوس  کے لیئے دوستی کرنے میں ماہر تھا  ۔۔۔۔۔کالج گرلز  چاہ کر بھی اس سےنہیں بچ پاتی تھیں۔۔۔۔۔اپنی ہوس کے بعد وہ ان لڑکیوں کی سیکس سٹوری لکھتا اور کالج میں ٖفخریہ پھیلا دیتا ۔۔۔۔کیوں ؟  ۔۔۔۔۔اسی عادت کی وجہ سے سب اس سے دور بھاگتی تھیں۔۔۔۔۔ سینکڑوں صفحات پر مشتمل ڈاکٹر فیصل خان کی اب تک لکھی گئی تمام تصاویری کہانیوں میں سب سے طویل کہانی ۔۔۔۔۔کامران اور ہیڈ مسٹریس۔۔۔اردو فن کلب کے پریمیم کلب میں شامل کر دی گئی ہے۔

I did not write this story. I read it in another place. I am just sharing for enjoy for those who did not read it before.

Share this post


Link to post
Share on other sites

ماضی کی فلم خیالوں چلتی رہی اور پتہ نہیں میں کب سو گیا تھا ، ویسے بھی صبح جب راجو نے اٹھایا تو مجھے سوتے ہوئے صرف دو گھنٹے ہی ہوئے تھے ،دوپہرکو اٹھا تو نہا دھو کے اپنے ہوٹل چلا گیا ،دو سال پہلے یہ ہوٹل میں نے خریدا تھا ۔ اپر کلاس کا پسندیدہ ہوٹل تھا،اور اسی لیے میں نے اسے خرید لیا تھا ،بہت سی شہزادیاں یہاں آتی جاتی تھیں اور میرے جیسے شہزادوں کے پیار کا کاروبار چلتا رہتا تھا ، منیجر سے کچھ کاروباری معاملات ڈسکس کرنے کے بعد میں وہاں سے نکلا اور کار کو فارم ہاؤس کی طرف موڑ دیا، آٹھ بجے تک میں فلیٹ میں واپس آگیا ، مجھے راجو کا انتطار تھا ، نہیں تو اب فلیٹ میں صبح کے وقت ہی آنا ہونا تھا ، راجو فلیٹ کی سیڑھیوں پر بیٹھا میرا انتظار کر رہا تھا ۔ میں نے کار اپنی جگہ پر پارک کی ، مجھے فون کردیتے راجو ، میں نے فلیٹ کا دروازہ کھولتے ہوئے کہا، باس میں ابھی آیا ہوں میں نے سوچا کچھ انتظار کر لیتا ہوں ،مجھے امید تھی آپ نے ملنے کو کہا ہے تو آپ یہاں ضرور آئیں گے ، فریج سے اپنے لیے کولڈڈرنک یا بیئر جومرضی لے لو،آپ کچھ نہیں پیئں گے باس،راجو نے ایک بیئر لیتے ہو ئے پوچھا ، نہیں میں تھوڑی دیر تک کھانے کے موڈ ہوں ، ہاں تو بلا تمہید شروع ہو جاؤ راجو، باس یہ سرور خان کی تصویر ہے ،راجو نے اپنا موبائل میری طرف بڑھایا ، سرور خان کسی جنرل سٹور پر کھڑا تھا ،جیسے مڈل کلاس میں ہوتے ہیں ، دس سال بعد بھی وہ سانڈ ہی تھا ۔اب مونچھیں نارمل اور بال مہندی سے رنگے ہوئے تھے ، یہ اس کا اپنا جنرل سٹور ہے باس ، اگلی تصویر دیکھیں باس ،میں نے تصویر آگے کی تو دلآویز کے ساتھ ایک عورت پٹھانی برقعے میں نظر آئی ، یہ پنجاب میں ٹوپی والا برقع بھی کہلاتا ہے اس سے اچھا پردہ کسی میں نہیں ہو سکتا،جسم تو دور کی بات ہے، آنکھیں تک نظر نہیں آتی ، میرے اندازے کے مطابق یہ نگینہ تھی ،تصویر سے صاف پتہ چل رہا تھا کہ بازار میں اسے کھینچا گیا ہے ، ایک تصویر اور بھی ہے باس ،وہ تصویر کسی جوان کی تھی مجھ سے پانچ چھ سال بڑا ہو گا،مجھے وہ کچھ جانا پہچانا محسوس ہوا ،میں اس پر غور کرنے لگا کہاں دیکھا ہے اسے،مونچھیں، بال ، رنگت، چہرہ ،ناک ،آنکھیں ، ہونٹوں کی بناوٹ ،اسکی تھوڈی ۔ ٹھوڈی اور رخسار سے سخت گیر، اونچی ناک سے مطلب پرست اندر ہوئی آنکھوں سے ناقابل اعتبار تھا کپڑوں سے آسودہ حال لگتا تھا ۔ کچھ یاد نہیں آیا کہ کون تھا ،شاید ان کی برادری کا ہو میں بس کچھ کو جانتا تھا باقیوں کا چہرہ شناس تھا ،یہ ان کے گھر آیا تھا اسی کے ساتھ ماں بیٹی بازار گئی تھیں ، کام کی چیزیں یہی تصویریں ہی تھی ،راجو نے مزید کچھ معلومات دی، اوکے باس ۔ راجو جانے کیلیے پر تولنے لگا ، 


رضوان عرف راجو تم نے تین سال دن رات ایک کر دیئے اور میری زندگی کی اہم ترین لڑکی تلاش کر دی ، تم نےکمال کر دیا ہے ، تم نے بہت بڑا کام کیا ہے ،زبردست ،میں تم سے بہت خوش ہوں ،میں نے کھل کے راجو کی تعریف کی،شکریہ باس ،میری تعریف سے راجو کی باچھیں کھلی ہوئی تھی ۔ میں چاہتا ہوں تم مستقل میرے ساتھ کرو، تمھیں اچھی تنخواہ،اچھی موٹرسائیکل ، کھانا پینا ، موج مستی ملے گی، آپ کے ساتھ کام کرنا میرے لیے فخر کی بات ہے باس ، راجو نے میری آفر فوراً قبول کرلی،میں اسے پرخیال نظروں سے دیکھنے لگا ۔اگر اسے میرے ساتھ کام کرنا تھا تو اپنا شخصیت کو بدلنا پڑے گا ۔نہیں تو یہ میرے ساتھ نہیں چل سکے گا ، اس کے لائف اسٹائل کوتبدیل کرنا پرے گا ،میں نے سوچتے ہوئے فوراً ایک پلان بنایا ، راجو ،اب بھی آنٹیوں سے دوستی رکھتے ہو یا چھوڑ دی ،ان کے بغیر کیسے زندگی گزر سکتی ہے باس،مجھے آنٹیاں پسند ہیں،باس ان کے بڑے بڑے ممے بڑی بڑی گانڈ ہوتی ہے، بہت مزہ آتا ہے راجومسکرایا ،نہیں تمھیں آنٹیاں پسند نہیں ہیں،میں نے اسے جھنجھوڑا، باس ؟،وہ حیران ہوا ۔


اچھا تمھارے پاس کُھلے پیسے ہوں اور ایک بائیک خریدنی ہو تو نئی لو گے یا پرانی،میں نے اس سے سوال کیا،ظاہر ہے باس نئی ہی لوں گا،اور اگر کپڑے خریدنے ہوں تو ؟ وہ بھی باس نئے اور بہترین لوں گا ،راجو میری بات اب بھی نہیں سمجھا تھا، اچھا اگر بھوک لگی ہو اور جیب میں پیسے ہوں تو باسی کھانا کھا لو گے؟ میں نے اپنا گھیرا اور تنگ کیا،نہیں باس ، باسی کھانا کون کھاتا ہے ،راجو حیران ہوا، یا فروٹ پلپلا ہو زیادہ پکا ہو ا ملے اور تازہ بھی پڑا ہو تو کیا کرو گے،تازہ اور اچھا فروٹ ہی لوں گا باس، راجو نے پھر میرے مطلب کا جواب دیا،

 

تو تم آنٹیاں کیوں پسند کرتےہو ؟ جب زندگی میں سب کچھ تمھیں نیا، تازہ ،بہترین چاہیے؟ میں نے راجو سے اسی سوال کیلیے اتنے سوال کیے تھے،سچی بات تو یہ ہے باس کہ لڑکیاں ہاتھ آتی ہی نہیں،راجو نے میری بات سمجھتے ہوئے حقیقت بیان کی ،تو کیا آنٹیاں ہاتھ آجاتی ہیں ، ؟ میں نے فوراً پوچھا،باس تھوڑا ان کے آگے پیچھے پھرو تو وہ خود ہی پہل کر دیتی ہیں ،یا کوئی واضح سگنل دے دیتی ہیں ،اچھا جب تم کسی بھی آنٹی سے ملتے ہو تو تازہ ،بہترین مال کسے ملتا ہے ؟ تمھیں یا آنٹی کو،سوچ کے جواب دینا،میں نے اسے صحیح جواب تک پہنچنے کیلیے موقع دیا، تازہ اور بہترین مال تو آنٹی کو ملتا ہے ،ہمیں تو باسی کھانا پلپلا فروٹ ملتا ہے راجو نے سوچ کے جواب دیا،اور اس باسی کھانے کی بڑی گانڈ اور بڑے ممے کا مطلب ہے کہ اس کا پیٹ بھی بڑھا ہو گا ، کمر نہیں کمرہ ہو گا ۔ اس کی عمر پینتالیس سے آگے پچاس ساٹھ تک ہو گی، اس طرح اس کی شادی اگر تیس سال میں ہوئی ہو تو پچیس تیس سال اسے سیکس کرتے ہوئے ہو گئے ہیں ،اب اگر وہ پچاس ساٹھ کی ہے تو اسکا شوہر ساٹھ یا پینسٹھ کا ہو گا،یعنی وہ اسے اب سیکس کا وہ مزہ نہیں دے سکتا جو ایک جوان دے سکتا ہے ،اس کا شوہر خود ٹھرکی بابا بن کے جوان لڑکیوں کو تاڑتا ہو گا ،دونوں جوانی کا مزہ چاہتے ہیں ،یہ بتاؤ راجو تم آنٹیوں کو پھنساتے ہو یا آنٹیاں تازہ شکار کی شکاری ہیں ، میں اسے اصل بات پہ لے آیا ،اوہ باس ، یہ تو میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا،اسکا مطلب ہے کہ جب میں انہیں پھنسانے کی ٹرائی کرتا ہوں تو وہ پہلے ہی میرے جیسوں کا انتظار کرتی ہوتی ہیں ، راجو حقیقت تک پہنچ گیا 


یہی بات تمھیں سمجھانا چاہتا ہوں کوئی بھی آنٹیوں کو نہیں پھنساتا ،آنٹیاں ہی اصل شکاری ہیں ، اور اب تم باسی کھانا چھوڑ دو اگر میرے ساتھ کام کرنا ہے ۔ ویسے بھی میڈیکلی (طبی) لحاظ سے بڑی عمر کی عورتیں نوجوانوں کی صحت کیلیے انتہائی نقصان دہ ہیں ،سیدھا سیدھا یہ تمھارا خون چوس رہی ہیں ، لیکن باس بھوک بہت لگتی ہے کیا کروں ،مجھے پتہ ہے تم یہ باسی کھانا بھوک سے مجبور ہو کہ کھاتے ہو، لیکن مجھ سے کوئی امید نہ رکھنا،اپنا شکار خود کرنا پڑے گا تمھیں ،میں بس رستہ بتا سکتا ہوں ،جی باس آپ بتائیں ،وہ سمجھا میں کوئی دھانسو قسم کا طریقہ بتاؤں گا جس سے لڑکیاں اس کی طرف خود بخود کھچی چلی آئیں گی، راہ چلتی لڑکیوں کو چھیڑنا ،آوازیں کسنا،سیٹیاں مارنا،بائیک چلاتے ہوئے پیدل چلتی لڑکی کی گانڈ میں انگلی دینا ،بازاروں میں ان کے ممے پر ہاتھ پھیرنا ،جسم ساتھ لگانا ، کھسا لگانا،کالجوں کے باہر بھونڈی کرنا ،موبائل سے تصویریں ویڈیو بنانا ، بائیک پر پیچھا کرنا ۔تنگ کرنا ،موبائل نمبر مانگنا ،کہیں سے مل جائے تو کالیں کر کے تنگ کرنا ، عجیب عجیب میسجز کرنا ، یہ سب چھوڑ دو اس سے لڑکیاں پھنستی نہیں پیچھے ہٹتی ہیں،ہر لڑکی پر لائین مارنا ، گھٹیا طور طریقے ،ڈرامے بازیاں لڑکیوں کو پسند نہیں ہیں، اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو سڑک چھاپ لفنگوں کے طور طریقے چھوڑ دو ۔ویل مینرز (ادب و آداب)،ویل ڈریس ،(خوش لباسی) یہ دو پہلے گُر ہیں ان کو یاد کر لو گے تو اگلا رستہ کھل جائے گا،میں نے اپنی طرف سے اسے پہلے دو گُر سکھا دیئے ۔ 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites


ٹھیک ہے اب تم ہوٹل جاؤ اور منیجر بشارت سے مل لینا میں نے اسے تمھارا بتا دیا تھا ،، تم ہوٹل میں میری کان اور آنکھ بن کے رہو گے، کسی کو ہمارے خصوصی تعلق کا کچھ پتہ نہیں چلنا چاہیے ،نہ ہی میرا کوئی راز کسی کے پاس جانا چاہیے ،نہیں تو میرا موڈ بہت خراب ہوجائے،بے فکر رہیں باس آپ کو مجھ سے کوئی شکایت نہیں ہوگی ،راجو نے مکمل ارادے سے کہا ، ویل مینرز ، ویل ڈریس اینڈ نو آنٹی ،یہ تین باتیں یاد کرلو ،جیسے آپ کا حکم باس،راجو چلا گیا،دو تین اور ایسی ڈوذ ملیں گی تو اس کا لیول اَپ ہو جائے گا اور ذہن آگے خود ہی چل پڑے گا ، ایک وقت آئے گا اسی راجو کو ہوٹل سنبھالنا تھا ، یہی اِس کا انعام تھا ۔ تین سال اتنے بڑے شہر میں میرے لیے ایک لڑکی کوڈھونڈنے واسطے دن رات ایک کردینا کوئی عام بات نہیں تھی۔ جنوں میرا تھا ،پورا اس نے کیا تھا ۔ ایسے کام کےبندے کو ہاتھ سے کون جانے دے گا۔ 


میں نے وقت دیکھا ابھی بس نو سے کچھ اوپر ٹائم ہوا تھا آج وقت گزر ہی نہیں رہا تھا ۔ مجھے بھوک لگی تھی ۔میں نے اپنے ہوٹل فون کیا کہ مجھے کھانا پہنچا دو، جب سے اٹھا تھا ،دماغ ایک ہی بات پر لگا ہوا تھا دلآویز کو کیسے پھنساؤں ،ہر طرف سے سوچ سوچ کے تھک جاتا تھا اور کوئی راستہ نہیں نظر آرہا تھا ۔یہ بات صرف میں اور نگینہ جانتے تھے کہ اس نے مجھے قتل اس لیے کروانا چاہا تھا کہ میں نے اپنا بدلہ ضرور لینا تھا ۔ نگینہ کا حملہ مکمل تھا لیکن میں خوش قسمتی سے بچ گیا ، پھر بھی نگینہ نے مجھے ڈھونڈنا چاہا اور جب مجھے ڈھونڈنے میں ناکام ہوگئی ہو گی اس نے سب سے پہلے اپنی بیٹی کے دل میں میرے خلاف زہر بھرنا شروع کیا ہو گا،دلآویز مجھ سے نفرت کرتی ہو گی،، ،تانیہ نے یہ بھی بتایا تھا کہ دلآویز اپنی ماں سے بہت ڈرتی ہے،اس کامطلب ہے نگینہ نے اس پر کڑی نگرانی رکھی ہوئی ہے،اس کے آنے جانے اور ہر معمولات پر اس کی نظر ہو گی اس سے ملنا بہت مشکل ہو گا ،اگر کسی طرح اس سے مل بھی لیا ،وہ پہلی نظر میں نہیں پر مجھے پہچان جائے گی اور پھر میری کوئی بات نہیں سنے گی مکار نگینہ دل میں جھانکنے میں ماہر تھی اس نے اپنی بیٹی کو ہر طرح سمجھ کے اس کے اندر اپنے خیالات ڈال دیئے ہوں گے۔ جو لڑکی آپ سے نفرت کرتی ہو دیکھنا بھی گوارہ نہ کرے اسے کیسے پٹایا جا سکتا ہے ،بس ایک ہی رستہ رہ گیا تھا ،اسے بلیک میل کروں یا اس کے ساتھ زبرستی کروں ،مگر یہ میرے مزاج کے خلاف تھا پھر میں پرنس کس بات کا ہوں، میں زبردستی کا قائل نہیں تھا،چاہے وہ نگینہ کی ہی بیٹی کیوں نہ ہو۔ دوپہر سے ذہن بار بار جائزے لیتا تھا اور یہیں آ کر رک جاتا تھا ،کیا ستم ظریفی ہے میری زندگی کی اہم ترین لڑکی ہے اور میں اس پر کوئی ٹرائی نہیں کر سکتا ہوں،


نہ مجھے دلآویز کے مزاج کا پتہ تھا نہ اس کی عادات ،پسند نا پسند کا پتہ تھا ، نہ اس کے گھر کے موجودہ ماحول کا پتہ تھا،نہ اس کی سوچوں کا کچھ اندازہ تھا ۔ یہ تو اندھیرے میں تیر چلانا تھا ،تانیہ یاد آگئی ،میں نے اسے میسج کیا کہ مجھے دلآویز کی تصویر چاہیے ، یا ویڈیو مل جائے تو کیا ہی بات ہے ، مجھے پتہ تھا تانیہ ہر صورت میں یہ کام کرے گی ،تصویر سے مجھے دلآویز کی ذہنیت کا اندازہ ہو جانا تھا، قیافہ شناسی (فیس ریڈنگ ،باڈی لینگویج) میرا پسندیدہ مشغلہ تھا،یہ ایک فن ہے اور کسی نے مجھے بڑی لگن سے باقاعدہ سکھایا تھا ، اگر اس کی برتھ ڈیٹ کا پتہ چل جاتا تو اس کے بُرج سے اس کی بہت سی معلومات مل جانی تھی،اور ہاتھ دیکھ لیتا تو وہ ساری کی ساری میرے سامنے عیاں ہوجاتی،اس کی پیدائشی تاریخ بھی مجھے چاپیے ،تانیہ کو دوبارہ میسج کیا، اوکے اس بار اس کا جواب آگیا،اس کامطلب تھا کہ آج رات تو کچھ نہیں ہو سکتاتھا اب کل تک انتظار کرنا پڑے گا، کھانا پینا کرکے میں بور ہونے لگا ، جب کوئی حل نظر نہ آئے تو ذہن کو سوچ سوچ کے تھکانے کی بجائے اسے فریش کرنا چاہیئے ،ڈاکٹر کنول پر کام چل رہا تھا لیکن ابھی وہ بستر کی زینت بننے والے مرحلے پر نہیں آئی ،دو تین اور کو سوچا،نہیں کسی پرانی دوست کا بلا لیتا ہوں ،کون اس وقت آسکے گی،میں سوچتا رہا، کچھ نیا ہونا چاہیے ،یہ سوچنا ہی تھا کہ میں کمال کی طرف چل پڑا ،


کار چلاتے ہوئے ذہن پھر سوچنے لگا،میں اسے مصروف کر رہا تھا مگر مجھے پتہ تھا کہ اب میرا ذہن ہر وقت اس کا تجزیہ کرتا رہے گا جب تک اس کا کوئی حل نہیں نکل آتا ،اگر میں نگینہ ہوتا تو ؟ پھر شہزادے کے قتل میں ناکامی کے بعد مجھے اس کی واپسی کے اندیشے تو ستاتے ہوں گے،مجھے سو فیصد یقین ہو گا کہ میں شہزادے کو سمجھ چکی ہوں ، تو پھر میں یہ شہر چھوڑ کے کیوں نہیں گئی؟ میں سرورکو اصل بات تو بتا نہیں سکتی تھی ۔اسے مجبور کیا مگر وہ کہتا ہو گا شہزادہ ملے یہی تو میں چاہتا ہوں ، جب نگینہ نے شہر چھوڑنے کی بات کی ہو گی تو حکم کا غلام نہیں مانا ہو گا کیوں کہ یہ بات اس کی غیرت پر کوڑے کی طرح لگی ہو گی ،کہ وہ کیوں شہر چھوڑیں ،بھاگے ان سے شہزادہ ،جیسے پہلے بھاگا تھا ۔ سرور نے نگینہ کے بھائیوں اور باپ کو بتایا ہوگا سب غصے میں ہوں گے کہ سرور یہ شہر چھوڑ کہ کیوں جائے ،یہ نگینہ کی ناکامی ہو گی،پھر اس نے کسی طرح وہ مکان چھوڑ دیا ہو گا ،بلکہ دو تین مکان بدلے ہوں گے ،سرور سے فیکٹری میں کام چھڑوا دیا ہو گا ، ان باتوں کا سرور کو سمجھ نہیں سکا ہو گا ، ساتھ ہی نگینہ نے دلآویز کو ٹارگٹ بنا لیا ہو گا،کیوں کہ حملہ تو دلآویز پہ ہونا تھا ،نگینہ شہزادے کی کشش سے بھی واقف تھی ، اس لیے دلآویز کے دل میں شہزادے کے خلاف زہر بھرنے کیلیے نگینہ اسے مسلسل بتاتی رہتی ہو گی کہ شہزادے نے اس کی ماں کی عزت پر حملہ کیا تھا،دوسری طرف وہ نگینہ کی کڑی نگرانی کرتی ہو گی ،اس کے آنے جانےے پر ،دوستوں پر ،اس کے معمولات پر ،پابندیاں ہی پابندیاں ، پہلے تین سال وہ بہت چوکنی رہی ہو گی،پھر وقت گزرتے نگرانی تو ہوتی رہے گی،پانچویں سال نگینہ کچھ ڈھیلی پڑ جائے گی ۔اور ساتویں آٹھویں سال نگینہ کو میرے آنے کی امید بالکل نہیں رہے گی ۔ اسی لیے تو دلاویز یونیورسٹی میں نظر آئی ہے ،ضرور پہلے وہ غیر معروف سکولز میں پڑھتی ہو پھر ایف ۔بی اے اس کی ماں نے پرائیویٹ کروایا ہو گا ۔اب دلآویز یونیورسٹی میں ہے تو ضرور دلآویز اس کی پابندیوں سے اکتا گئی ہو گی اور یونیورسٹی میں آنے کی ضد کی ہو گی، دو پوائینٹ ملے تھے دلاویز اس کی پابندیوں سے بے زار ہو گی ،اور اسے غلط سمجھتی ہو گی،دوسرا اب نگینہ کو میرے ملنے کی کوئی امید نہیں تھی، سوچتے سوچتے سر درد کرنے لگا، مگرمیں اسے سوچنے سے روک نہیں سکتا تھا میری ٹریننگ ہی ایسے ہوئی تھی، جب تک کوئی حل نہیں مل جاتا میں نے دن رات سوچنا تھا اور ساتھ ساتھ خود کو ریفریش بھی کرتے رہنا تھا ، کمال کا بنگلو آگیا تھا،


اس کے وسیع لان میں پارٹی شروع تھی،لوگ آنے شروع ہوگئے تھے ۔ جیسے جیسے رات گزرے گی پارٹی اپنے عروج پر جائے گی،پھر دو تین بجے تک پتہ نہیں کس نے کس حالت میں کس کے ساتھ جانا تھا،ایسی مادر پدر آزاد پارٹیاں میں بہت کچھ ملتا ہے ،میں نے خود ایسی پارٹیوں کیلیے شہر کے ساتھ ہی فارم ہاؤس لیا تھا،بلکہ اب وہ شہر میں ہی تھا، استقبالیہ پر دونوں میاں بیوی کھڑے تھے ۔ او ساڈا پرنس، کمال بڑے جوش سے میرے گلے لگ گیا، یار تم نے آکے دل خوش کر دیا،پچھلی پارٹی تمھارے بغیر بڑی پھیکی تھی ۔ بڑی زیادتی کی تم نے میرے ساتھ ، کمال گلے شکوے کرنے لگا،یار میں مصروف تھا ،میں اسے نارمل کرنا چاہ،او ہاں ہاں ،میں جانتا ہوں تمھاری مصروفیتیں ، تقریباً اڑتیس سال کا کمال ایک بڑا بزنس میں تھا اور میرا اچھا دوست تھا،بھابی آپ کیسی ہیں ،میں اس کی بیوی سے علیک سلیک کرنے لگا ۔میں تو ٹھیک ہوں آپ بتائیں آپ کہاں ہیں آجکل،اس کی بیوی نے معنی خیز انداز میں کہا تو میں ہنس پڑا ۔


اگرچہ گوشہ گُزیں ہوں میں شاعروں میں میر۔۔۔ 
پہ میرے شور نے روئے زمیں تمام لی ۔۔۔ 


میں نے بے ساختہ شعر پڑھ ڈالا ،یار کیا مشکل مشکل باتیں کر رہے ہو کوئی آسان بات کرو نہ سلیس انگلش میں ، واہ سلیس انگلش پر میں نے اسے داد دی، اچھا تو آپ گوشہ نشین ہیں پر آپ کی شہرت ہر جگہ پہنچ گئی ہے،بھابی نےمشکل شعر کا مطلب بتا کہ مجھے حیران کردیا ۔۔ ارے بھابی جی، بدنام اگر ہوں تو کیا نام نہ ہوگا ۔۔ میرے ساتھ کمال نے میرا پسندیدہ مصرعہ مکمل کیا ، آپ لوگ مہمانوں کا استقبال کریں میں ذرا مل ملا لوں، بدنامی شہرت بن گئی تھی،اسلیے ہر کسی سے ملنا ملانا ہو گیا تھا ۔ ویسے بھی اس حمام میں سب ننگے تھے ،لیکن شرافت کا لبادہ اوڑھ کے پھرتے تھے،لیکن ان میں اور مجھ میں بس یہی فرق تھا ،وہ چھپے رستم تھے اور میں بدنامِ زمانہ پرنس تھا ،کیونکہ یہ سب مل کے بھی اتنے شکار نہیں کر سکے تھے جتنے میں اکیلا کر چکا تھا اپنی تو لائف ہی یہی تھی ،غنیمت یہ تھا کہ کافی مخلص دوست مل گئے تھے جن کی فیملیوں کا میں حصہ تھا ،بس یہ دوست ہی میری فیملی ہیں،کمال بھی انہی میں سے ایک تھا، ہیلو ایوری باڈی میں ملتا ملاتا ایک ٹیبل پہ بیٹھ گیا ، یہاں صرف اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ بیٹھنا الاؤڈ ہے، سمیر نے مزاق کیا ، یار سمیر اس کی کوئی ایک گرل فرینڈ ہو گی تو اس کے ساتھ بیٹھے گا ، رانیہ نے بھی اپنا حصہ ڈالا ، باقی دو نے بھی جو بکنا ہے وہ بھی بک لیں ، میں نےچاروں کو ہی لتاڑتے ہوئے کہا،علوینہ اور احتشام ہنسنے لگے ۔ میں صبح مما کو چھوڑنے ائیرپورٹ جا رہی تھی ، تو پرنس نے پتہ نہیں کس کے ساتھ ریس لگائی ہوئی تھی ،علوینہ شرارت سے میری طرف دیکھنے لگی، پہلے تو یہ بتاؤ کہ تم ڈی ایچ اے میں رنگ روڈ سے ایئرپورٹ جانے کی جانے کی بجائے اتنا چکر کیوں کاٹا ،میں نےبات کا رخ بدل دیا،وہ میں مما کی ایک دوست کو جوہر ٹاؤن فیزٹوسے لینا تھا تو وہاں سے کینال بینک روڈ سے پھر ایئرپورٹ کی طرف چلے گئے ۔اوہ صبح صبح اتنی ڈرائیونگ،میں نے ڈرامہ کیا ، یہ مما کی اچھی بچی ہے نہ ،احتشام بے اختیار بول پڑا ،ضرور احشتام کو تو پتہ ہونا چاہیے میں نے معنی خیز لہجے میں کہا ۔ یاد رکھنا احتشام ڈرائیور کی بجائے صبح اٹھ کے خود گئی ہے ،مما کی اچھی بچیاں بعد میں تنگ بڑی کرتی ہیں میں نے دونوں کو چھیڑا۔ بالکل تمھیں بچیوں کا نہیں پتہ ہو گا تو کسے ہوگا،علوینہ کب پیچھے رہنے والی تھی، آہ ہا ۔۔۔ بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا، چاروں نے میرے ساتھ مصرعہ مکمل کیا،اوکے گایئز انجوئے یور سیلف،(مزے کرو ، دوستو)مجھے ایک پٹاخہ نظر آگیا تھا ، یہ تمھارے ہاتھ نہیں آئے گی ،علوینہ چپ نہ رہ سکی، لگتا تھا علوینہ مجھے ٹائم دے گی ،، میں ایسے ہی تو اس کے پاس جا کہ نہیں بیٹھتا تھا ، جب بھی آئے گی خوش آمدید ، 
کمال کون ہے وہ پٹاخہ ؟ کون سا پٹاخہ کدھر ہے؟کمال نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے پوچھا وہ جو مسز ریحان کے ساتھ بیٹھی ہے،اوہ وہ ،وہ پٹاخہ نہیں ہے ، بم ہے ۔۔۔ بم ہے۔ کمال نے مزہ لیتے ہوئے کہا، تو تمھارے سامنے بم ڈسپوزل کھڑا ہے،اس کا حدود اربعہ بتاؤ، یار وہ ۔۔۔۔۔ تمھارے ہاتھ ۔۔۔۔۔۔ مشکل ہے ، جانے دو،کمال کی بات پر میں بہت حیران ہوا،کیا کہہ رہےہو تم ، ہاں یار کچھ ایسا ہی ہے ، یو ں سمجھ لو کے تم پرنس ہو تو وہ کنگ ہے،یار اب مجھے تجسس سے ہی مار دیتے رہو گے یا کچھ منہ سے پھوٹو گے بھی ۔ کراچی سے اپنے شوہر کے ساتھ آئی ہے وڈیرے ہیں بہت بڑے ،انتہائی مغرور ہے،دولت کا خمار بہت ہی زیادہ ہے،ہم جیسے بڑے کاروباری بھی ان کے سامنے کچھ نہیں ہیں،یہاں کیا کرنے آئے ہیں ؟میں نے تجسس سے پوچھا کچھ مہینے ہوئے ہیں شادی کو ،مسٹر اینڈ مسسز ریحان کے مہمان ہیں ،انہوں نے شادی کا کھانا دیا ہے ،ان کو ٹائم نہیں مل رہا تھا ،اب چھ سات ماہ بعد ٹائم ملا ہے ان کو ،سمجھ لے اب ان کی باری آئی ہے مسٹر اینڈ مسسز ریحان کی،تو بڑی خبریں رکھتا ہے لگتا ہے بھابی کو خبردار کرنا پڑے گا، یار مسسز ریحان ابھی میری مسِسزسے اس کا تعارف کروا رہی تھی ،بڑی شو مار رہی تھی کہ کیسے لوگ ہمارے مہمان ہیں ، ہاں تو ایسی فیملی ان کی مہمان کیسے بن گئ، یار تمھیں پتہ ہے نہ وہ ریحان شکار کا شوقین ہے اور وڈیرے بھی ایسے شوق پالتے ہیں ،تو ہو گئی ہو گی ان کی کوئی واقفیت ۔ اب بھی دونوں شکار پر گئے ہوئے ہیں کمال نے مجھے آنکھ مارتے ہوئے کہا،اوووہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب زارینہ صاحبہ بور ہورہی تھیں تو مسز ریحان اسے یہاں لے آئی،اچھا تو اس بم کا نام زارینہ ہے ،ہاں اب تمھاری تسلی ہوگئی ،اب جاؤ علوینہ پے ڈورے ڈالو ،کمال کی نظریں بڑی تیز تھی،علوینہ خود آئے گی جب بھی آئے گی،ابھی اس بم کی بات کرو،پرنس چھوڑو اسے ،کمال محتاط تھا،تمھارا کیا خیال ہے ان وڈیروں کی بیویوں کو نہیں پتہ ہوتا کہ ان کے شوہر کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں ؟ یہ خود بھی کسی کے انتظار میں ہے،میں اتنی دیر سے مسلسل اس کا تجزیہ کر رہا تھا ۔اوہ نہیں یار ،کیا بات کرتے ہو ابھی کچھ عرصہ ہوا ہے ان کی شادی کو،کمال بے زاری سے بولا۔ جو تم سمجھ رہے ہو وہ سب تو یہ شادی سے پہلے بھی کر چکی ہےمیں کچھ اور کہ رہا ہوں یہ وہ انتطار نہیں ہے جو عام طور پر کیا جاتا ہے ،یہ چاہتی ہے کوئی آئے اور اسے زبردستی اٹھا کے لے جائے ۔ اتنا کہنے کے بعد میں زارینہ کی طرف قدم بڑھا چکا تھا، پرنس ۔۔۔ پرنس پیچھے سے کمال کی متفکر آواز آئی مگر میں اب رکنے والا نہیں تھا،

Share this post


Link to post
Share on other sites

ہیلو مسز ریحان ، میں ایسے رکا جیسے اچانک اسے دیکھا ہو، پرنس،آپ ۔۔ تم،،اوہ اوہ ،آو بیٹھو نہ ،مسز ریحان نے حسرت سے کہا ، لو جی آج آپ کے پاس بیٹھ جاتے ہیں،کیسی ہیں آپ ؟ میں ٹھیک ہوں ،مجھے یقین نہیں آرہا کے تم میرے پاس بیٹھے ہو۔ آج تو جیسے جو مانگتی مل جاتا ،مسز ریحان نے شوخی سے کہا،اچھا آپ کو پتہ ہوتا کہ آپ آج جو بھی مانگیں گی ملے گا،تو پھر آج آپ کیا مانگتی ۔۔۔۔ سچ بتاؤں،مسز ریحان کسی خوش فہمی میں پڑ گئی تھی ،بلکہ یہاں بیٹھ کے میں نے اسے خوش فہمی میں ڈال دیا تھا ، جی بالکل سچ سچ بتائیں میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا، میں مانگتی کہ پرنس ایک دفعہ ہمیں بھی اپنے فلیٹ پر آنے کی دعوت دے مسز ریحان نے بڑی ہی ذو معنی بات کر دی،۔نہیں مسز ریحان آپ مجھے بنا رہی ہیں ۔ بھلا میں اس قابل کہاں میں تو ایک عام سا بندہ ہوں ،اور یہ عام سا بندہ کچھ لوگوں کا پرنس چارمنگ ہے ، مسز ریحان آپے سے باہرہو رہی تھی ، اور زارینہ کو یکسر نظر انداز کر چکی تھی،یہی میں چاہتا تھا،میں تو اس کی طرف دیکھے بغیر بتا سکتا تھا ، کہ اس کی انا کے غبارے میں ہوا بھرنی شروع ہو چکی ہے ، مسز ریحان میری طرف سے آپ کو آپ کے شوہر کو کھلی دعوت ہے آپ جب چاہیں میرے فلیٹ پر آسکتی ہیں میں مسز ریحان کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا اسے میری بات کی سمجھ آرہی تھی کہ میں اسے کیا کہہ رہا تھا،اوہ ،اوہ پرنس کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہی ، مجھے یقین نہیں آرہا ،مسز ریحان کا بس نہیں چل رہا تھا وہ میرے اوپر گر جانا چاہتی تھی، کمال ہے آپ نے چھوٹی سی سی بات پہ بہت ری ایکٹ کر رہی ہیں،دوست ہی دوستوں کو ملتے ہیں اور ایکدوسرے کے کام آتے ہیں،میں نے اس کی آنکھوں میں مسلسل دیکھ رہا تھا ، اوہ ہاں وہ کچھ سمجھی کچھ نہیں سمجھی،ابھی تک اسے زارینہ کا کوئی خیال نہیں آیا تھا،جب آپ دوسروں کی خوشیوں کا خیال رکھتے ہیں تو آپ کو بھی خوشیاں ملتی ہیں ، میں نے اسے پھر کچھ سمجھایا ، اچھا میں چلتا ہوں ،میں اچانک اٹھنے لگا ، نہیں بیٹھو نہ کچھ دیر اور بیٹھو پرنس ،مسز ریحان نے میری توقع کے مطابق کہا، وہ دراصل مسز کمال کو کوئی کام تھا یا آپ ان سے مل لیں ،آپ سے بہتر ایسی پارٹیوں کے انتظام کو کون جانتا ہے ،میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کچھ سمجھایا ، ٹھیک میں مل لیتی ہوں ،میں ابھی آئی ،وہ اٹھتے ہوئے بولی،اوہ سوری ،،، سوری میں آپ لوگوں کا تعارف کروانا تو یاد ہی نہیں رہا،اگین سوری، یہ مسسز کالپر ہیں، بس یہ سمجھ لو کے کنگ میکر فیملی ہے ان کی،مسزکالپر یہ پرنس ہے بہت ہی سحر انگیز شخصیت کا مالک ہے اور پتہ نہیں کیا کیا ہے،آپ لوگ بیٹھے میں ابھی آئی ،بے چاری مسسز ریحان ایک اور بھوکی آنٹی، مگر اس کے پاس اچھا کھانا بہت تھا بس پرنس نہیں تھا ، نہ پرنس نے اس کے پاس آنا تھا ، نظر انداز کیے جانے پرزارینہ کی انا اور غرور اس وقت ایسے بن گیا تھا جیسے کوئی شیر کی کچھار میں گھس کے اسے شکار کرنا چاہے ، سیاست دان اور بزنس مین اس فیملی سے ملنے کیلیے انتظار کرتے تھے اور یہاں زارینہ کو نظر انداز کیا جا رہا تھا، زارینہ نے اس کا بدلہ یوں لیا کہ مجھے یکسر نظرانداز کر دیا جیسے میں موجود ہی نہیں ہوں،اس کی نخوت کا عالم ایسا تھا جیسے کوئی زمینی خدا ہو،میں اسے غور سے دیکھ رہا تھا اس کے حسن کےلیے بس ایک فقرہ کہوں گا کہ ملکہ حسن کا عالمی اعزاز جیتنا اس کے لیے انتہائ آسان تھا ، عمر کوئی چھبیس سال، اسمارٹ جسم ،جسم پر ملک کا مہنگا ترین لباس،نقوش جیسے اجنتا الورہ کی مورتی ہو، ملکوتی حُسن ،اور ملکوتی حُسن پر بے انتہا دولت کی آسودگی اور آسودگی پر طمانیت جیسے اس ملک کے مالک ہو۔اور اس ملک کی مالک کو میں نے چھیڑ دیا،چلو بھئ پرنس چلتے ہیں نہیں تو لوگ اپنی حسد کی آگ میں جل مریں گے، میں نے اٹھتے ہوئے کہا، کیا تم نے ہم سے کچھ کہا ہے مسٹر پرنس ؟ زارینہ کی آنکھوں میں حیرانی اور غصے کی تپش تھی ، اس کی تپش میں بھی محسوس کر رہا تھا ،ہاں تم سے ہی کہا ہے ،تھوڑی دیر مسسز ریحان نے مجھے توجہ کیا کروا دی تم حسد سے جل مری ہو اور پاس بیٹھےانسان کوبلانا بھی گوارہ نہیں کیا، میں نے اچانک ہی اسے تم کہ دیا ،حاسد اور جل مری کہہ دیا،اس کے چہرے سے ایسے لگنے لگا جیسے میں نے کوئی بہت بڑی گستاخی کر دی ہو ۔ ملکہ عالیہ ے چہرے پر جلال آگیا تھا، تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے شدت غصب سے کچھ بولا نہ گیا، تمھاری یہ جرات ۔۔۔۔۔۔ ہم سے ایسے الفاظ ایسے لہجے میں بات کرو ۔۔ اچھا تو کیا ہو تم خدا ہو یہاں کی، اس سے پہلے وہ کچھ کرتی میں نے اسے چیلنچ کر دیا، ہم مالک ہیں اس ملک کے اورتم جیسے کیڑے مکوڑے ہماری رعایا ہو، تم ٹٹ پونجیے پرنس میری جوتیاں سیدھی کرنے کے بھی قابل نہیں ہو ،اس کا غرور ایسے اچھل رہا تھا،جیسے سمندر کی طوفانی لہریں شہر کوملیا میٹ کر دیتی ہیں، لیکن میں بڑے اطمینان سے بیٹھا تھا ، جیسے وہ میرے لیے جوکر ہو،میرے ہونٹوں پر تمسخرانہ مسکراہٹ تھی جو اس کے غصے کو جلتی پر تیل جیسا کام کر رہی تھی، میں نے تمھاری تقریر نہیں سننی ،میں نے اس کے الفاط اور لہجے کو ایک ہی فقرے سے زیرو کر دیا ، میں نے پوچھا کیا ہو تم ؟ مجھے اس بات کا جواب دو ۔ اسے نہیں پتا تھا یہ شطرنج کی گیم ہے اور وہ میری مرضی کی چالیں چل رہی ہے، ہم مالک ہیں تمھارے ،،،،،، تم نہیں ہو، میں نے اس کی بات درمیان میں ہی کاٹ دی ، وہ تمھارا باپ ہو گا، تم کیا ہو؟ میں نے اسے جھنجھوڑا ۔ ہمارا خاندان۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ میں نے تمھارے خاندان کا نہیں پوچھا ۔۔۔۔۔ میں نے پھر اس کی بات کاٹ دی ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ تم یہ بتاؤ تم کیا ہو۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ میں مسز کالپر ہوں میرے شوہروزیر۔۔۔۔۔ اس نے غرور سے کہنا شروع کیا کہ میں نے پھر اس کی بات کاٹ دی ۔۔۔۔ اونہہ کتنی بدھو ہو تم ،میری بات نہیں سمجھ نہیں رہی ۔ اس کے غصے کی کوئی حد نہیں رہی تھی اب۔ ایسے لہجے ایسے الفاظ اسنے کب سنیں ہو گے ۔۔ تمھارا شوہر تمھاے بھائی ،تمھارا باپ،تمھار خاندان ،اسمبلی،حکوت ، کنگ میکری ، یہ سب بہت بورنگ ہے ،کچھ اپنا بتاؤ ، کیا ہو تم ۔۔۔ وہ چپ ہو گئی تھی اسے اب احساس ہوا تھا کہ میں اس سے کیا پوچھ رہا تھا ، اب تمھیں یہ ٹٹ پونجیا پرنس بتائے کہ تم کیا ہو، تم اپنے ماں پاب کیلیے ایک جائیداد ہو جسے خاندان میں ہی کہیں سنبھال کے رکھنا ہے اور اپنے شوہر کیلیے ایک سیاسی شادی ہو،بس ۔۔۔۔۔۔ میں نے اسے ایکدم خالی کردیا ۔۔۔۔ میں آکسفورڈ میں پڑھی ہوں ۔۔۔ بورنگ ۔۔۔ میں ہنسنے لگا، بہت سی این جی اوز کی چیئرپرسن ہوں ، زارینہ عامیانہ باتیں کرنے لگی ۔۔ بورنگ یار ،اب تم کہیں یہ نہ کہہ دینا کہ اتنی جیولری ہے تمھارے پاس اور اتنا بینک بیلنس ہے ،اتنی جائیداد ہےتمھارے نام، کوئی ڈھنگ کی بات کرو یار ۔۔۔۔ میں نے اس کا مزاق اُڑایا ۔۔۔۔۔۔۔ تم خود کیا ہو زارینہ نے بےبسی سے کہا ۔۔۔ میں اپنی مرضی کا مالک ہوں ۔۔۔ وہ تو میں بھی ہوں زارینہ امید سے بولی ۔۔۔۔۔ نہں تم نہیں ہو ۔۔۔۔ تمھیں پتہ ہے اس وقت تمھارا شوہر کہاں ہے اور کیا کر رہا ہے ۔ میں نے اس پر ایک اور حملہ کیا۔ نہ جانے کب وہ تمھیں شرفِ ملاقت بخشے گا۔۔۔ میں نے اس پر بھر پور طنز کیا ۔۔۔۔۔۔۔ اسے پھرخاموشی لگ گئی ۔۔وہ کہیں شکار کر رہا ہو گا اور تم اس کی وفاداری کا بھرم رکھ رہی ہو یا ہو ہی بے بس ۔۔ بہت بورنگ لڑکی ہو یار تم ۔۔۔۔۔۔ میں اٹھتے ہوئے بولا۔ دو قدم چل کہ میں نے اسے دیکھا ۔۔۔ میرے فلیٹ میں باون انچ کی ایچ ڈی ایل ای ڈی لگی ہوئی ہے ۔۔۔۔۔ اور میرے پاس اچھی فلموں کی زبردست کولیکشن بھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اگر تم اپنی مرضی سے کچھ وقت گزارنا چاہتی ہو تو میرے ساتھ آسکتی ہو ۔۔۔۔ میں نے اسے خود کو ثابت کرنے کا ایک موقع دیا ۔۔۔۔۔ میں باہر کار میں تمھارا انتظار کر رہا ہوں ۔ کمال مجھے ہی دیکھ رہا تھا مجھے ایسے جاتے دیکھ وہ ہنسا جیسے کہہ رہا ہو میں نہ کہتا تھا کہ یہ تمھارے بس سے باہر ہے ۔۔۔۔۔۔۔ مسز ریحان نے مجھےخوب موقع دیا تھا ۔۔۔مجھے پتہ تھا وہ ضرور آئے گی خود کو ثابت کرنے کیلیئے مجھے ہرانے کیلیے ۔۔۔ میں اپنی کار میں انتظار کر رہا تھا کہ وہ چلتی ہوئی نظر آئی۔۔۔۔۔۔۔ اس کی چال بڑی دلربا تھی اور جسم سحر انگیز تھا ،بلاشبہ وہ ایٹم بم تھی ۔۔۔۔۔ زارینہ نے کار کا دروازہ کھولا اور میرے ساتھ بیٹھ گئی ۔( چیک میٹ )۔۔ جس اعتماد سے وہ بیٹھی تھی میں سمجھ گیا اسے شوہر کے علاوہ بھی سیکس کا پتہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے کار فلیٹ کی طرف چلا دی ۔۔۔۔ شطرنج کے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اپنی چالوں سے حملے پرحملہ کرتے جایئں ۔ مخالف کو سوچنے کا موقعہ نہ دیں ۔ پھر وہ دفاع پردفاع کرے گا اورآپ کی مرضی کی پوزیشن پر آجائے گا،جہاں اسے چیک میٹ کرسکیں گے۔۔۔۔۔۔۔ بھلا زارینہ کوکیا ضرورت تھی میرے سامنے خود کو ثابت کرنےکی ۔۔۔ لیکن اس کے غصے نے اسے کچھ سوچنے نہ دیا اور اس کی انا خود کو ثابت کرتی رہی اور ناکام ہوتی رہی ۔ اب اس کے پاس ایک ہی طریقہ رہ گیا تھا خود کو ثابت کرنے کا ۔ خود کو آزاد ثابت کرنے کا کہ وہ میری جھولی میں آگرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم فلیٹ پہنچے راستے میں مکمل خاموشی رہی ۔۔۔۔ کوئی بات کر کے میں اس کا ردھم نہیں توڑنا چاہتا تھا ۔۔۔۔ ہم فلیٹ میں داخل ہوئے ۔۔۔ میں اپنے بیڈروم میں آگیا ،وہ بھی آہستہ آہستہ میرے ساتھ تھی ۔۔ فلم کولیکشن کہاں پڑی ہے ۔۔۔۔ اس نے بڑی ہی نرمی سے پوچھا ۔۔۔۔ میں نے اپنی پینٹ کی زپ نیچے کی انڈرویئر نیچے کیا اور عضو پکڑ کے کہا یہ میری کولیکشن ہے ۔۔۔ بہت بےہودہ انسان ہو تم وہ غصے میں میری طرف لپکی اور میرے سامنے کھڑی ہوگئی ، مجھے دیکھتی رہی اب ایسا بھی نہیں تھا کہ اسے پتہ ہی نہ ہو کہ فلیٹ میں کیا کرنے جا رہی ہے ۔۔۔۔ ہم آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑے رہے ضرور اس کی آنکھوں سے آنکھیں ملا کر بہت سی آنکھیں جھک جاتی تھیں لیکن آج اس کی شکست کا دن تھا میں نے ایسے کھیل بہت کھیلے تھے آخر اسے آنکھیں جُھکانی پڑی اس کی انا ، ابھی بھی مجھے شکشت دینا چاہتی تھی ۔ زارینہ اکڑوں نیچے بیٹھ کے میرے عضو کو پکڑ کے سہلانے لگی۔۔۔۔۔ میں نےاوپری لباس اتار دیا ۔ زارینہ نے عضو سہلاتے ہوئے منہ میں لے لیا ۔ میں بیڈ پر بیٹھ گیا اور اسے نیچے قالین پر بٹھایا ،میں نے پینٹ اور نیچے کر دی اورسرور لینے لگا ۔۔۔ زارینہ بڑی مہارت سے اپنا کام کر رہی تھی ۔ میں سمجھ رہا تھا یہ چھ مہینے کی شادی والی مہارت نہیں تھی ،ضرور اس کا کوئی بوائے فرینڈ ہو گا شاید آکسفورڈ میں ہی ہو ۔ وہاں ملنا اور سیکس کرنا آسان بھی ہو گا ۔ لیکن وہ بوائے فرینڈ اسکے خاندان کا حصہ نہیں بن سکتا ہو گا ۔۔ کیا پتہ اب بھی اس سے ملتی ہو ۔۔۔ زارینہ کو عضو چوستے ہوئے دس منٹ سے اوپر ہوگئے تھے ۔ اب وہ بڑے جوش سے عضو کو چوس رہی تھی ۔اس کی رفتار، پکڑ ، ہونٹ اور زبان کسی کام میں شدید مصروف تھے ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی ۔۔۔ کیا یاد کرو گے تم پرنس ۔ کوئی زارینہ تمھیں ملی تھی ۔۔۔ اس کے چہرے پر جیت کے آثار نظر آنے لگے ایسے جوش اور مہارت سے عضو چوسا جائے تو مزے کی لہروں میں ڈوب جانے کو جی چاہتا ہے ۔۔۔ نازکی اس کے لب کی کیا کہیئے ۔۔۔۔۔۔ پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے ۔۔ اور اتنے نازک ہونٹ مزے سے ماریں گے نہ تواور کیا ہو گا ۔۔۔ بیس منٹ ہونے والے تھے اب اس کے چہرے پر حیرانی تھی اور آنکھوں میں مایوسی تھی ۔۔۔ اس کا جوش مدہم پڑنے لگا تھا ۔۔۔۔ بہت اسڑانگ ہو ابھی تک تو تمھارا پانی نکل جانا چاہیے تھا۔۔۔۔ زارینہ نے مایوس لہجے میں کہا ۔ میں دل ہی دل میں ہنسنے لگا جب میں کارمیں بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا تو میں ٹائمنگ کی آزمودہ گولی کھا لی تھی ۔۔ میں یہ کبھی کبھارکھاتا ہوں کیونکہ ان کا مستقل استعمال نقصان دہ ہوتا ہے لیکن آج یہ بہت ضروری تھا ۔چوس چوس کہ اس نے میرا پانی نکالنے کے بعد یہاں نہیں رکنا تھا ۔۔۔ اس نے مجھے شکست دینے کی آخری کوشش کی تھی ۔۔۔۔ میں نے اس ایٹم بم کو بازووں سے پکڑا اور اپنی گود میں بٹھا لیا ۔۔ اس کی قمیض اور برا اوپر کر کے اس کے ممے چوسنے لگا ۔۔۔۔ زارینہ میرے عضو پر بیٹھی تھی عضو اسے نیچے سے پریشان کرنے لگا ،اور ممے اسے اوپر سے پریشان کرنے لگے۔۔۔ ممے چھیڑنے سے ان کے پیچھے پیٹھ میں اس کا پانی ابلنے لگا ۔۔۔ اب اس کے جسم میں سرور کی لہریں اٹھنے لگی۔۔ زارینہ بےچین ہونے لگی ۔۔میں اسے جسمانی طور پر انتہائی بے چین کرنا چاہتا تھا۔۔ اسے محسوس ہونےلگا کے مدِمقابل کچھ بہت خاص ہے میری ہونٹوں نے ہاتھوں نے اسے بےچینی کی لہروں میں دکھیل دیا ۔ اب زارینہ ایسے ری ایکٹ کر رہی تھی جیسے میں اسے کھینچ کے گہرائی میں لے جا رہا ہوں ۔ ممے فور پلے کا ایک ایسا رستہ ہیں جس سے انسانی جسم ہیجان میں مبتلا ہوجاتا ہے ،ساتھ ساتھ زارینہ کی کمر پر مخصوص انداز میں دائرے بنانے لگا ۔۔ زارینہ کو اب پتہ چلا کہ فور پلے کیا ہوتا ہے ۔ پرنس تم بہت اچھا فورپلے کرتے ہو ۔ تم کافی ماہر ہو زارینہ کو مزے نے اعترف کرنے پر مجبور کر دیا۔۔۔ اب میں اس کی قمیض اور برا اتار سکتا تھا سو میں نے بڑی نرمی سے اس کا اوپری حصہ ننگا کیا ۔۔۔ اسے بیڈ پر لٹا دیا ۔۔۔ اپنا نچلا حصہ پورا ننگا کیا ۔اوراس کی شلوار کھینچ کے اسے بھی ننگا کر دیا ۔۔ بس لگائے اس میں کچھ پل ہی تھے ۔۔ اس کے اوپر لیٹ کے اس کے ممے چوسنے لگا ۔۔۔ اس کی جسم کی شراب پیتے ہوئے میں مدہوش ہونے لگا ۔۔۔ مست ہی مست ہو تم ،میں نے اس کے کان میں سرگوشی کی ۔۔۔ تم بھی کچھ کم نہیں ہو ۔۔ زارینہ اب باتیں کرنے لگی ۔۔ تمھیں دیکھ کے بہت سے شعر یاد آرہے ہیں ۔ مگر تمھارے جسم کے سامنے دوسرے لمحے وہ شعر کمتر لگنے لگتے پیں ۔ اب میں نے دوستی کیلیے ماحول ہموار کرنا شروع کر دیا ۔ میرا عضو ضرور اسے بے چین کر رہا ہو گا ۔ میں نے اسے اسی کام پر لگایا ہوا تھا ،میرے ہاتھ زارینہ کو سمجھا رہے ہوں گے کہ پیار کسے کہتے ہیں ۔ اور میرے ہونٹ اس کے گلاب بدن کی پنکھڑیاں چُننے میں مصروف تھے ۔۔ اچھا میں بھی تو سُنوں کون سے شعر یاد آ رہے ہیں ،زارینہ شکشت کے بعد اپنی تعریف سننا چاہتی تھی ۔۔ یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے ۔۔۔۔۔ وہ بت ہے یا خدا دیکھا نہ جائے (احمد فراز) ۔ایک ہی شعر میں اپنی کیفیت بھی بیان کر دی اور اس کے حُسن کی دل کھول کر تعریف بھی کر دی ۔ پرنس تمھیں گفتگو میں بھی کمال ہے ؟ بات بات پر میری تعریف کا مطلب تھا کہ وہ ذہنی طور پر میرے اثر میں آ چکی ہے ۔ اتنی نرماہٹ سے اتنے پیار سے اتنے احساس سے میں زارینہ کو پیار کر رہا تھا جیسے وہ کانچ کا پیکر اور میری شِدتیں اسے کوئی ٹھیس نہ پہنچا دے ۔۔۔ مجھے اندازہ تھا ایسی چاہت سے اس کا کبھی واسطہ نہیں پڑا ہو گا ۔۔ تمھیں اپنی بانہوں میں پا کہ بھی میری وحشتوں کو سکوں نہیں آرہا ۔۔ جانے کیا ہو تم ۔ زارینہ کے دل میں میری سرگوشیاں ہلچل پیدا کر رہی تھیں تو ہونٹ،ہاتھ اور عضو اس میں میری طلب جگا رہے تھے۔ میں نے پیار کے لمحات طویل تر کر دیئے تھے مجھے کچھ خاص چاہیئے تھا ۔ میرے جذبات میں خود طوفان اٹھا ہوا تھا ۔ مگر میں نے ضبط کا دامن نہیں چھوڑا تھا ۔ میں چاہتا تو اسے چود دیتا ۔ وہ اپنی راہ لیتی میں اپنے راہ چل پڑتا ۔ لیکن میں کچھ اور چاہتا تھا مجھے وہ مفتوح نہیں چاہیئے تھی ۔۔ مجھے وہ اُسی کی دلی مرضی سے چاہیئے تھی ۔ میری حالت اس وقت کچھ اس شعر جیسی تھی ، 
بے قراری سی بے قراری ہے ۔۔۔۔ وصل ہے اور فراق طاری ہے ۔۔۔۔ (جون ایلیا) مجھے پتہ تھا وہ اس وقت میری نہیں تھی ۔ زارینہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پرنس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تمھیں فتح نہیں کرنا چاہتا تمھیں تمھاری مرضی سے پانا چاہتا ہوں ۔۔۔ اگر اجازت ہو تو تمھیں حاصل کر لوں ؟ زارینہ کے جسم میں ارتعاش سا ہوا ۔ اس کا ذہن اور جسم تو پہلے ہی میرا ہوچکا تھا ۔۔ زارینہ نے اپنے بازوؤں کا ہار میرے جسم کے گرد ڈال دیا ۔اور پھر اس ہار کا گھیرا تنگ کردیا ۔۔ پرنس میں اب بھی تمھیں جیتنے آئے تھی ۔ تمھیں اپنے پیچھے لگانے آئی تھی ۔ تمھیں تڑپانے آئی تھی ترسانے آئی تھی، لیکن تم نے مجھے جیت لیا ہے میرے دل کو جیت لیا ہے ۔۔ اب میں دل سے چاہتی ہوں کہ تم مجھے پا لو ۔۔ میں نے اسکی ٹانگیں کھول کے گھٹنوں کے بل مخصوص پوزیشن بنائی اور ۔۔۔۔۔۔ زارینہ نے میرا عضو اپنے ہاتھ سے اپنی چوت پررکھا میں نے بڑی نرمی سے دھکا لگایا اور عضو اس کی چوت میں گھس گیا ۔ چوت ٹھیک تھی ۔ تنگ تھی ۔ ہمیں محسوس ہوا کہ دو جسم ایک جان ہو گئے ہیں ۔ میں آہستہ آہستہ زارینہ کو چودنے لگا۔ زارینہ کی آنکھوں میں بے تحاشا پیار تھا ۔ اور اس کے ہاتھ مجھے اس طرح پکڑے ہوئے تھے جیسے کبھی مجھے کھونا نہیں چاہتی ہو۔ جسم کی ضرورتوں کے مطابق اب میں تیزہونےلگا ۔اس کا جسم میرے دھکوں سے ہلنے لگا ، ممے ارتعاشی حالت میں آگئے۔ چہرہ وصال کی گواہی دینے لگا تھا اور جسم مزے کے سمندر میں ڈوب گیا تھا ۔ جیسے جیسے میں چودتا گیا ویسے ویسے زارینہ کی جذباتیت بڑھتی گئی۔ جسمانی ضرورتوں کے علاوہ ذہنی اور دلی ضرورتیں بھی ہوتی ہیں ،جنہیں اس دوران خوراک دی جا سکتی ہے ، بس فرق آپ کے انداز میں ہوتا ہے ۔ چاہت سے چودنے اور بھوک مٹانے کیلیے چودنے میں بہت فرق ہوتا ہے ۔ میں نے جس کو بھی آج تک چودا ہے وہ اپنی مرضی سے میرے بستر پر آئی ہے ۔ کیونکہ نگینہ اور میری پہلی رات نے پھر کبھی مجھے کسی سے زبردستی نہیں کرنے دی ۔ جو مزا باہم ملنے میں ہے وہ کسی اور طریقے سے نہیں مل سکتا۔اس وقت ہم اسی مزے کے سمندر میں ڈوبے ہوئے تھے۔ پرنس کچھ کرو یہ وقت یہیں رک جائے ۔ ہم تمھارے بازوؤں سے واپس اس دنیا میں نہیں جانا چاہتے ۔زارینہ انتہائی جذباتی ہو رہی تھی ۔ چودائی کے ساتھ ساتھ میں اس کی آنکھوں کو گالوں کو بھی چوم لیتا تھا ۔ سیکس اور پیار کے حسین امتزاج نے زارینہ کو بےحال کر دیا تھا ۔ میں نے جیسے اس کی نبض پر انگلیاں رکھ دی تھی ۔ اور اس کی بیماری کے مطابق دوا دے رہا تھا ۔ اور یہ دوائی زارینہ کے دل پر اثر کر گئی تھی ۔ میں نے ٹائمنگ گولی کا حساب بھی ذہن میں رکھا ہوا تھا ، بیس منٹ تو زارینہ نے چوستے ہوئے گزار دیے تھے ،پھر میں نے پیار کے لمحات بھی طویل کردیئے تھے ۔ جس سے پانی ابلتا رہا تھا اوراب بس باہر نکلنے والا تھا ۔ لگتا یہی تھا ہم اکھٹے مزل پر پہنچے گے ۔۔ یہی میں چاہتا تھا ۔ اب دھکے اضطراری تھے ۔ جسم کہتا تھا کچھ ہونے والا ہے ۔ جب کچھ ہونےوالا ہو تو اپنے آپ دھکوں کی رفتار تیز ہوجاتی ہے ۔ جیسے پانی پہاڑی نالوں سے گرتا ہے ۔ اووو ۔ میں رک گیا ۔جسم کوجھٹکا لگا ۔ مگر میں رکا نہیں زارینہ کو دو جھٹکے اور چاہیئے تھے ۔ اور پھر اس کے اوپر گر گیا ہم نے ایکدوسرے کو جکڑ لیا۔ ہمارے جسم وائبریشن پر تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دو باتیں ہوئی ایک تو پانی بہت نکلا ۔۔ دوسرا زارینہ نے مجھے آئی لو یو(مجھے تم سے محبت ہے) کہا ۔۔ برستے پانی میں خوشبو سی میں نے کی محسوس ۔۔۔۔۔۔ مجھے یقیں ہے کہ وہ بھی انہیں گھٹاؤں میں تھی ۔۔۔ (شاعر ۔ اعجازعبید) ۔


کسی نے کبھی ہم سےاجازت نہیں مانگی ۔ والدین سے لیکر شوہر تک ہر کسی نے ہمیں اپنی مرضی بتائی ہے دنیا کیلیئے ہم ایک پرنسیس کی طرح ہیں لیکن ہم جانتی ہیں کہ ہمارے جیسے خاندانوں میں لڑکیاں کتنی بے بس ہوتی ہیں ۔آج تم نے ایسے طریقے سے ہمیں گھیرا ہے جو ہمارے وہم و گماں میں بھی نہ تھا ،لیکن جب تم نے اجازت مانگی تب ہم تمھاری ساری بات سمجھ گئے ۔ نہ کبھی ایسی چاہت سے کسی نے پیار کیا ہے نہ کبھی ہمیں زندگی میں ایسا مزہ ملا ہے آئی لو یو پرنس ۔۔ تمھارے بوائے فرینڈ کا کیا بنا ، میں نے اسے چونکایا ۔ زارینہ حیرانی سے میری طرف دیکھنے لگی ۔ تمھیں کیسے پتہ چلا ؟ کہیں دور سے اس کی آوز آتی محسوس ہوئی ۔ میں نے بس آئیڈیا لگایا ہے ۔ مجھے شوق ہے لوگوں کو پڑھنے کا ان کے دل کے حال جاننے کا ۔ اگر تم ہمیں بستر تک لا سکتےہو تو بے شک ایسا پرفیکٹ آئیڈیا بھی لگا سکتے ہو ۔ زارینہ تو جیسے میری معتقد ہو گئی تھی۔ شاید تم لوگ آکسفورڈ میں ملے ہوگے وہ بھی پاکستانی ہو گا ۔ اظہار کے بعد جسمانی ملاقات میں اس نے دیر نہیں لگائی ہو گی۔ پھر اسے تمھاری فیملی کا پتہ چلا ہو گا تو پیچھے ہٹ گیا ہو گا وہ بھی اس وقت جب تم یا وہ پاکستان مستقل آگئے ہو ۔ تم نے دل پر پتھر رکھ لیا ہو گا اور والدین کی مرضی کے سامنے سر جھکا دیا ہو گا ۔ جلد ہی تمھاری شادی کر دی گئی ہو گی شاید دو سال کے اندر ۔ لیکن وہ جو کوئی بھی تھا اس نے تمھیں جذباتی بلیک میل کر کے بس تمھارا فائدہ ہی اٹھانا تھا میری بات ختم ہوئی تو زارینہ کی آنکھوں میں آنسو نکل رہے تھے ۔ زارینہ نے مجھے زور سے جکڑ لیا۔ ہاں ایسا ہی ہوا تھا ہمیں بھی اس کی بے وفائی کا اندازہ ہوگیا تھا ۔ پرنس تمھیں چاہنے لگی ہوں ۔ تمھارے ساتھ مستقل دوستی چاہتی ہوں ۔ میں ہمہشہ تمھارے ساتھ ہوں ۔ میں نے اسے اپنے بازوؤں کے گھیرے میں کس لیا۔ یہاں زارینہ نے کمال کا شعرسنا دیا ۔ توملا ہےتو اب یہ غم ہے ۔۔۔ پیار زیادہ ہے زندگی کم ہے ۔


کیا ستم ظریفی ہے ہم نے تمھارے نام اپنی زندگی لکھ دی اور ہمیں تمھارا نام تک نہیں معلوم ؟ زارینہ اب مجھے جاننا چاہتی تھی ، میر ا نام پرنس ہی ہے ۔ اب میرے ساتھ ایسا سلوک کرو گے زارینہ نے خفگی سے کہا ۔ کوئی میرا نام نہیں جاننا چاہتا میں بس شہزادہ ہوں میں نےاس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔ بس وقت نے اتنا فرق ڈالا ہے کسی نے مجھے شہزادے سے پرنس بنا دیا ۔ میرے سرد لہجے نے اسے چپ رہنے پر مجبور کر دیا لیکن زارینہ کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے وہ آسانی سے اس مو ضوع کا پیچھا نہیں چھوڑے گی ۔ زارینہ میرے بارے میں سب کچھ جاننا چاہتی تھی ۔ میری پسند نا پسند ،میرے مشاغل ۔میری عادات ۔مزاج ۔نظریات ۔ میرا کاوربار ۔ میری سوچیں پڑھنا چاتی تھی ۔ میں اسے ایک بار اور کرنا چاہتا تھا لیکن زارینہ کا انداز اتنا دلربائی تھا کہ میں نے زارینہ کو اپنے بارے میں کافی کچھ بتا دیا ۔ ایکطرح سے اچھا ہی ہوا میری آوارگی سے زارینہ واقف ہوگئی نہیں تو کچھ گھنٹوں کی ملاقت میں جس طرح زارینہ میری طرف بڑھی تھی مجھےاس کے جذبات کی شدت سے ڈر لگنے لگا تھا ۔ دو گھنٹےسے اوپر گزر گئے ۔ زارینہ کی باتیں ختم نہ ہوئی، اپنا بتاتی رہی میرا حال سنتی رہی زارینہ گھما پھرا کے میرا ماضی جاننا چاہتی تھی ۔ اور میں اسے گھما پھرا کے ماضی سے حال میں لے آتا تھا ۔ وہ تو اچھا ہوا ، زارینہ کے موبائل پر مسز ریحان کی کال آگئی ۔ مسز کالپر بہتر یہی ہوتا کہ ہم اس وقت گھر ہوتے ۔ مسز ریحان نے زارینہ کو کچھ سمجھایا ۔ آواز میرے کانوں میں بھی پڑ گئی تھی ۔ میں نے وقت دیکھا تو تین بجنے والے تھے ۔میں نے سر ہلا کے اسے مسز ریحان کی بات ماننے کا کہا ۔ پارٹی میں اسوقت واپس جانا مشکوک بننے کے مترادف تھا ۔ یقیناً مسز ریحان ہر بات سے واقف تھی، میں نے موبائل پکڑ لیا ۔ مسز ریحان آپ میرے فلیٹ پر آجائیں ، یہیں سے آپ لوگ گھر چلے جانا ، اوکے پرنس یہی بہتر رہے گا ۔ مسز ریحان نے کال بند کر دی ۔ مسز ریحان تمھارے کنٹرول میں اسے سمجھا دینا ۔زارینہ میرے گلے لگ گئی ۔ جب مسز ریحان آئی تو زارینہ گاڑی میں بیٹھنے چلی گئ اور میں مسز ریحان کو روک لیا ۔ میں نے مسز ریحان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے اسے اپنے قریب کر لیا ، مسز ریحان کا جسم کانپنے لگا ۔ پرنس ،پرنس ۔۔ آئی لو یو پرنس ،وہ مجھ سے لپٹ گئی ۔۔ دیکھئے مسز ریحان یہ لوگ کسی اسکینڈل کو برداشت نہیں کرسکتے ،اسکینڈل مٹانے کیلیے اس سے منسلک ہر انسان مٹانا ان کیلیےکچھ مشکل نہیں ہو گا ۔۔ میری بات سمجھ رہی ہیں آپ ۔ ہاں سمجھ رہی ہوں بلکہ ان لوگوں کو تم سے بہتر جانتی ہوں ، بے فکر رہو یہ راز میرے سینے میں دفن ہو گیا ہے ۔اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے ۔ ٹھیک ہے اب آپ جائیں زارینہ آپ کا انتظار کر رہی ہو گی ۔ اوکے پرنس میں چلتی ہوں لیکن میں اس وقت کے انتظار میں ہوں جب تم مجھے اس فلیٹ میں بلاؤ گے ۔ آپ اپنے ویٹ کیلیے کچھ کریں ۔ جم جوائین کر لیں ۔ میں نے اسے مشور ہ دیا ۔ تمھارا مشورہ میرے لیئے حکم ہے ۔ مسز ریحان میری بات سمجھ گئی۔ کار چل پڑی زارینہ مسلسل میری طرف دیکتی رہی جب تک مجھے دیکھ سکتی تھی ۔ دلآویز کو سوچتے سوچتے اب درمیان میں زارینہ آگئی ،جب میں زارینہ کی طرف بڑھا تھا میں نے یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ یکدم میں اس کی چاہت بن جاؤں گا ، اور صرف ایک اجازت مانگنے سے اس کے جذبات میں ایسی ہلچل آئی کے پھر سالوں کا فاصلہ زارینہ نے لمحوں میں طے کر لیا ۔ زارینہ ، دلاویز ،زارینہ، دلآویز ،انہی خیلالات میں مجھے نیند آگئی۔ 
اگلے دن ایک بجے تک اٹھا ۔ آنکھ کھلی تو سب سے پہلے موبائل چیک کیا ۔ کالز اور میسجز کا ڈھیر جمع ہو گیا تھا ، میں تانیہ کا نمبر ڈھونڈتا رہا ۔ اس کا میسج مل گیا ۔ کوشش کے باوجود دلآویز کی تصویر یا ویڈیو فی الحال نہیں مل سکی ۔ یہ اس کی پیدائش کی تاریخ ہے ۔ میں نے تاریخ دیکھی تو مجھے امید کی کرن نظر آئی، بائیس جون سے بائیس جولائی ، دلآویز کا برج سرطان بنتا تھا جو کہ انگلش میں کینسر کہلاتا ہے ،امید کی کرن اس لیئے نظر آئی کے سرطان افراد کی نمایاں بات یہ ہے کہ یہ بے حد حساس اور جذباتی ہوتے ہیں محبت میں ٹوٹ کر چاہتے ہیں ۔ ماضی کی وابستگیوں اور اپنی خاموشی کے ستائے ہوئے ہوتے ہیں ۔ یہ لوگ اپنے جذبات کے سمندر میں تیرتے ہیں ۔آپ کوئی بھی محبت بھرا گیت سنا کر انہیں رُلا سکتے ہیں ۔برج سرطان کا حاکم سیارہ قمر ہےاور تمام قمری حضرات کی مشترکہ خصوصیت بے حد مضبوط اور جذباتی دماغ ہے ۔ ۔ اب مجھے محسوس ہونے لگا کہ میں دلآویز کا جانتا ہوں اسے سمجھتا ہوں ۔ دو پوائنٹ پہلے تھے کہ دلآویز اپنی ماں کی پابندیوں سے بے زار بلکہ مخالف ہو گی دوسرا اب نگینہ پر بے خبری میں حملہ ہو گا اب ایک پوائینٹ یہ تھا کہ یہ انتہائی جذباتی اور حساس ہوتے ہیں خاص کر محبت کے معاملے میں ان کی جذباتیت کی کوئی حد نہیں ہوتی آہستہ آہستہ میرے ذہن میں ایک منصوبے کے خدوخال واضح ہونے لگے ۔اب آج رات دلآویز سے رابطہ کرنا تھا ۔ ۔۔ رات دو بجے تک رابطہ کرنا چاہیئے دل ابھی سے انتظار کی کیفیت میں مبتلا ہونے لگا۔ یار ایسے تو نہ کرو اس طرح تو رات تک برا حال ہو جائے گا ،میں نے دل کو کہا اور نہانے کیلیے باتھ روم میں چلا گیا ۔ نہا کے ناشتہ وغیرہ کرتے ہوئے کچھ ضروری بیک کالز کیں ، دلآویز دلآویز، دلآویز، دلاویز، دل و دماغ بس ایک ہی نام پکار رہے تھے یار زارینہ نے ابھی تک کوئی رابطہ نہیں کیا ۔ دل فوراً بہل گیا ،میں نے مسز ریحان سے رابطہ کیا ،ہیلو پرنس اچھا ہوا رات کو وقت پر پہنچ گئے ، میں اس کی بات سمجھ گیا کہ زارینہ کا شوہر آ گیا ہو گا ۔اچانک ان کوواپس جاناپڑا۔ مسسز ریحان کی آواز سنائی دی۔ مجھے جھٹکا سا لگا ا بھی تو زارینہ سے ملاقات شروع ہوئی تھی ۔ مجھے یقین تھا زارینہ ضرور رابطہ کرے گی ۔ دیکھو اب کب ملناہوتا ہے آپ اپنا خیال رکھیئے گا مسز ریحان ، میں کال بند کر دی مسز ریحان کو اسمارٹ ہو نے کی گولی دے دی تھی ۔امید تھی کچھ مہینے تو اس سے نکل جائیں گے ، کیوں کہ اب اس کا اسمارٹ ہونا تو ناممکن تھا مسز ریحان اتنی محنت نہیں کر سکتی تھی ۔ ویسے یہ بھی تھا کہ اسنے میری بات کو اپنی ہتک سمجھنے کی بجائے اس پر عمل کرنے کی ٹھان لی تھی ۔ وقت بڑی ظالم چیز ہے کبھی یہ رکنے کا نام نہیں لیتا اور کبھی یہ گزرنے کا نام نہیں لیتا آج بھی وقت گزرنے کا نام ہی نہہیں لے رہا تھا ۔ دلِ ناداں کو سمجھانے کا وقت نہیں تھا ، اسے بہلانے کا وقت تھا ۔ سو میں دوستوں سے ملتا ملاتا ،ہوٹل گیا،ایک دو نئی فرینڈز سے ملا ، بیوٹی پارلر جا کے شبنم سے ملا ۔ رات کا کھانا بھی کھا لیا تھا مگر دو بجنےمیں تو ابھی بھی کافی وقت پڑا تھا سوچ سوچ کے میں تہمینہ کی طرف چلا گیا ۔ تہمینہ اپنی ایڈورٹائیزنگ کی کمپنی چلا تی ہے۔ مجھے امید تھی اس وقت بھی وہ اپنے آفس میں ہو گی ،اس کے سٹوڈیو میں کام چلتا رہتا تھا ۔ تہمینہ اپنے اسٹوڈیو میں ہی تھی اس نے مجھے دیکھ لیا تھا ،میں اس کے آفس میں جا کے بیٹھ گیا ۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

 کچھ لمحوں میں کام چھوڑ چھاڑ کےتہمینہ آگئی ۔ جی فرمائیے ؟ تہمینہ نے سنجیدہ لہجے میں انجان بن کے پوچھا ۔ میں مسکراتا رہا اور میٹھی میٹھی نظروں سے تہمینہ کو دیکھتا رہا ۔ مجھے پتہ تھا تہمینہ مجھ سے ناراض ہے ۔ بتیس سالہ تہمینہ میں وہ سب کچھ تھا جوکسی بھی مرد کو پاگل کر سکتا تھا ، کسی وقت میں بھی پاگل تھا ،اور پھر پاگل پن پانی کے ساتھ نکل گیا،ہر بار یہی ہوتا تھا ۔پھر ملنا ملانا کم ہو گیا ۔ آج کافی عرصے بعد تہمینہ کی یاد آئی، میری مسکراہٹ نے اسے پگھلا دیا ۔ بہت ہی ظالم ہو تم ، تہمینہ میرے گلے لگ چکی تھی،۔ ہر بار دل سے عہد لیتی ہوں کہ تم جب ملو تو پتھر ہو جانا مگر پتہ نہیں کیا بات ہے تم میں ، تمھیں دیکھتے ہی دل تم سے لپٹنے کو مچلنے لگتا ہے ۔ تہمینہ کچھ بیٹھی کچھ میرے اوپر گری ہوئی تھی ۔ تہمینہ تمھارا حسن اور تمھاری جسمانی کشش تمھاری ادائیں مجھے اپنے پاس کھینچ کے لے آتی ہیں یقین مانو میں تمھیں چاہتا ہوں تو تمھارے پاس آتا ہوں جب بھی مصروفیت سے فرصت ملتی ہے تو تمھارے پاس آجاتا ہوں ۔۔میں جانتی ہوں تمھاری مصروفیت، تہمینہ نے ناراضگی سے کہا ۔ تو کیوں نہ اب شکووں کی بجائے ہم بھی مصروف ہوجائیں میں نےاسے پیار سے سمجھایا ۔ تہمینہ اٹھی اور اس نے انٹڑ کام سے کال کی، پیک کر دو، باقی کل ۔ کوئی مجھے ڈسٹرب نہ کرے اوکے۔ پھر میری گود میں گھس آئی ۔ ہم کسنگ کرنے لگے ، تہمینہ مجھ سے ایسے ترسی ہوئی تھی جیسے پانی کے بناء مچھلی ترستی ہو ۔ بےصبری سے تہمینہ نے میرے کپڑے اتارے اور پھر خود بھی ننگی ہوگئی ۔ اس کا چاندی کا جسم چمکنے لگا ،اس جسم کی رعنائی نے مجھے پاگل کر دیا تھا ، اب پھر اس کے جسم کا جادو سر پر چڑھ گیا مجھے بہکانے لگا ۔ تہمینہ کی طلب اتنی زیادہ تھی کہ میں نے کچھ کرنے کی بجائے خود کو اس کے حولے کر دیا ۔ صوفہ تھوڑا چوڑا تھا ۔ میں کچھ بیٹھا کچھ لیٹا ہوا تھا۔ تہمینہ مجھے مجنونانہ انداز میں چوم رہی تھی اس کے ہاتھ میں میرا عضو تھا ۔ وہ مجھے چومتی ہوئی چہرے سے سینے پر اور سینے سے پیٹ پر اور پیٹ سے عضو تک کا سفر بے تابی سے طے کرتی ہوئی منزل پر پہنچی اور عضو منہ میں لے کر چوسنے لگی ۔ پتہ نہیں تم اتنے بے رحم کیوں ہو پرنس ،تہمینہ کو سکون نہیں آرہا تھا وہ چوستی بھی تھی اور شکوے بھی کر رہی تھی۔اس کی بے چینی ایسے ہی ہوتی تھی۔ تہمینہ بہت جوشیلی تھی ۔اس کے ساتھ سیکس کرنے میں بہت مزہ آتا تھا اب بھی وہی ہو رہا تھا تہمینہ نے جوش میں مجھ پر چڑھائی کی اپنی پوزیشن درست کی اور عضو کو پکڑ کے چوت پر رکھا،چوت پر اپنا وزن ڈال کہ عضو اند لینے لگی پورا عضو اندر لے کے تہمینہ اپنے جسم اور گھٹنوں کے بل اوپر نیچے ہونے لگی۔ تہینہ کی رفتار سے اس کے جوش کا پتا چل رہا تھا۔ اس کے ممے ایک ردھم سے ہل رہے تھے بلکہ مجھے ہلا رہے تھے ۔اوہ تہمینہ تم کمال ہو ،تم جیسی کوئی نہیں ، تہمینہ پہلے ہی جوشیلی تھی میری تعریف سے ہوائی گھوڑے پر بیٹھ گئی ۔ جسم کے اندر طوفان تھا اور طوفان میں میں لہریں اچھل اچھل کے بندھے بند کو توڑنا چاہتی تھی ۔ جب تک جسم سے یہ طوفانی پانی باہر نہیں نکلنا تھا لہریں اور سے اور منہ زور ہوتی جانی تھیں ۔ تہمینہ اس طوفان سے اکیلی ہی نبزد آزما تھی مجھے اس پر ترس آیا اس کی حالت بہت بری تھی مگر وہ جوشیلے انداز میں چودائی کرتی جا رہی تھی ۔میں نے اسے روکا اور باہر نکالے بغیر اسے صوفے پر لٹایا ،اس کی ایک ٹانگ صوفےسے نیچے لٹکائی ،اور میں نے وہیں سے طوفان اٹھا دیا جہاں سے سلسہ ٹوٹا تھا ۔ تہمینہ کا سرور سے برا حال تھا آہ پرنس یہی تو میں چاہتی ہوں تم مجھے چودو ۔میرے اوپر چڑھو ، میرے مالک بن کے مجھے حاصل کرو ۔ تہمینہ کی باتیں بتا رہی تھیں کہ وہ کب کی ہوش کی دنیا سے آگے جا چکی تھی ۔ میں ایسی باتیں سننے کا عادی تھا اب یہ باتیں مجھ پر کچھ بھی اثر نہیں رکھتی تھیں ۔ آج مجھے اپنے بچے کی ماں بنا ڈالو ۔ سیکس تہمینہ کے دماغ کو چڑھ گیا تھا ۔ چودو، چودو ،اور تیز کرو نہ ۔ تب میں نے فوراً تہمینہ کو گھوڑی بنا کے عضو چوت میں ڈالا ۔ اور اس کی گانڈ پر تھپڑ مارنے لگا ۔تہمینہ کا یہی علاج تھا ۔ کبھی کبھی اسے یہ دورہ پڑتا تھا جب طوفانی چودائی سے اس کا کچھ نہیں بنتا تھا تو تشدد کا سہارا لینا پڑتا تھا ۔


ایک طرح سے یہ نفسیاتی مسلہ بھی ہے گانڈ پر تھپڑ مار مار کے میں نے لال کر دی ۔ ساتھ چودائی بھی جاری رکھی ۔ تہمینہ کی کچھ تسلی ہونے لگی ۔پانی کناروں پر آنے لگا ۔ تھوڑے کنٹرول کے ساتھ میں نے بھی اپنا کام جاری رکھا ۔ پرنس رکنا مت تہمینہ چلائی ۔۔میں کونسا رکنے والا تھا ۔تہمینہ کی کشتی کو طوفانوں سے نکال کر کنارے پر ہی تو لانا تھا ۔ اور تہمینہ کا جسم جھٹکے کھانے لگا ۔ میں سمجھ گیا پانی کی جگہ سیلاب ہی آئے گا،میں بھی اس کے ساتھ ہی کنٹڑول چھوڑ دیا اور چند لمحوں میں تہمینہ کی چوت اپنے پانی سے سیراب کرنے لگا ۔ پانی ہی اس کی آگ بجھا سکتا تھا ۔ ہم ایکدوسرے پر گرے پڑے تھے ۔تہمینہ کو نارمل ہونے میں 10 منٹ تو لگ ہی گئے ۔ہوش میں آتے ہی تہمینہ نے نیا مسلہ چھیڑ دیا۔پرنس پچھلی بار مجھے حمل ہوگیا تھا ۔ایک لیڈی ڈاکٹر کو اچھے خاصے پیسے دے کے ابارشن کروانا پڑا مجھے ۔ کیا میں مجھے تعجب کے ساتھ تہمینہ پر غصہ بھی آنے لگا۔ تم نے مجھے تو بتانا تھا ۔دو گولیاں ، گائنی کوسڈ ، کھا لینی تھی چوبیس گھنٹے میں مینسسز آجانے تھے ۔جناب پرنس صاحب آپ ایک دفعہ غائیب ہوجائیں تو پھر نہ پیچھے مڑ کے دیکھتے ہیں اور نہ ہی کوئی کال ریسیو کرتے ہیں ۔ یار تم مجھے ایک میسج ہی کردیتی ،مجھے خبر تو ہوجاتی ،فلیٹ پر ہی آ جاتی ۔ کسی طرح مجھ تک مسلہ پہنچا دیتی باقی میں خود کرلیتا ۔ میں غصے میں بولا تو تہمینہ کچھ ڈھیلی پڑ گئی ،وہ مجھے بھی غصہ آگیا تھا ۔میں نے تب ہی ارادہ کر لیا تھا کہ تم سے اب بات بھی نہیں کرنی ،مگر تمھیں دیکھتے ہی سب کچھ بھول جاتی ہوں ۔اب کوئی مسلہ بنے تو مجھے بس ایک میسج کر دینا ۔میرے پاس اس کی بڑی میڈیسن پڑی ہیں ۔ابارشن کرنا پڑا تو وہ بھی کر لوں گا ،ایک چھوٹے سے اوزار سے رحم کا منہ کھولنے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے ۔ دوسرے مہنیے ابارشن کروایا تھا تم نے ؟مجھے تسلی نہیں ہو رہی تھی ،ہاں دوسرے مہنیے فوراً پتہ چلتے ہی ابارشن کروا دیا تھا۔ چلو پھر تو کوئی مسلہ نہیں بنا ہو گا ۔زیادہ مسلہ تیسرے مہنیے کے بعد بنتا ہے ۔ اچھا چھوڑو یہ بیکار کی باتیں ،تہمینہ اب موضوع سے جان چھڑانا چاہتی تھی میں سمجھ گیا وہ ابھی اور کھیلنا چاہتی تھی ۔اس بار میں دل سے جم کر اس کی چودائی کی ،اور اس کی کسریں نکال دی ۔ تہمینہ کو حمل کے دوران ذہنی اذیت ہونے سے اب میں اس کا ازالہ کر رہا تھا ۔ کیونکہ ایسے حالات میں کبھی بھی میں نے اپنی گرل فرینڈ کو تنہا نہیں چھوڑتا تھا ۔ اسی طرح دو بجنے والے ہو گئے ۔ ہم باہر نکلے تو سارا اسٹوڈیو خالی تھا ۔ تہمینہ کی کاراسٹارٹ ہی نہیں ہو رہی تھی سو اس کے گھر چھوڑتے ہوئے میں فلیٹ پر آگیا


سوا دو ہونے والے تھے ۔ یہ وقت پرفیکٹ (ہر لحاظ سے بہترین) تھا۔امید تھی اس وقت نگینہ کی آنکھیں دلآویز کی نگرانی نہیں کر رہی ہوں گی، یہ بھی طے تھا نگینہ سرورے کے ساتھ اپنے بیڈ روم میں ہو گی ۔میں جانتا تھا نگینہ کوئی رات خالی نہیں جانے دیتی ہوگی ۔اس وقت دلآویز سے لمبی بات ہو سکتی تھی اگر سب کچھ میرے طے شدہ منصوبے کے مطابق ہوتا ، میں نے دلآویز کا موبائل نمبر ملایا ، میرا دل دھڑک رہا تھا ۔ بیل جانے لگی ،ساتویں بیل پر کال رسیو کر لی گئی ، ہیلو ایک نیند میں ڈوبی ہوئی آواز آئی ،آواز سے لگتا تھا کسی نوجوان لڑکی کی آواز ہے ۔ ہیلو کون ہے بھئ کیا مسلہء ہے اس وقت ، غالباً وقت بھی دیکھا گیا ہو، ہیلو آپ نے مس کال دی تھی تو میں نے آپ کو بیک کال کی ہے ۔ آپ بتائیے ،کیا بات ہے ؟کیوں کال کی آپ نے مجھے ؟ کیا میں نے کال کی ہے ، میں ابھی تمھاری کال سے سوتی اُٹھی ہوں اور تم مجھے کہہ رہے ہو کہ میں نے کال کی ہے ۔ کون ہو تم ؟ دلآویز غصے میں آگئی ۔مجھے آپ کی مس کل آئی تھی اس لیئے جوابًا کال کی ہے ،اور آپ کہہ رہی ہیں کہ آپ نے کال ہی نہیں کی ،عجیب بے ہودہ انسان ہو تم بلاوجہ ہی مان نہ مان میں تمھارا مہمان ،دلآویز غصے میں تھی،میں چاہتا تھا وہ اچھی طرح جاگ جائے ،بات سنیئے اتنے غصے میں نہ آئیے ،کال آپ نے نہیں کی میں نے ہی کی ہے ۔میں بس آج کی رات کا مہمان ہوں اور ادھر ادھر بھٹک کے اپنی قسمت آزما رہا ہوں۔اس وقت اپنی زندگی کی آخری کالز کر رہا ہوں ، ابھی دس بارہ رانگ کالیں کر چکا ہوں لیکن کسی کے پاس میری زندگی کیلیے وقت نہیں ہے ۔دوسروں کی طرح آپ بھی برا مان گئی ہیں ۔ آپ کو سوتے میں اٹھایا ۔ نہایت معذرت خواہ ہوں ،خدا حافظ ۔میں نے کال بند کر دی اگر پانچ منٹ میں دلاویز کی کال آجاتی ہے تو اس کا مطلب تھا کہ مچھلی نے چارہ نگل لیا، نہیں تو کوئی اور حل سوچنا پڑے گا ۔ ایک منٹ ،دو منٹ ،تین منٹ ،چار منٹ ۔میں مایوس ہونے لگا ، موبائل پر ایک بیپ ہوئی ، کال دلآویز کی تھی ۔ ہیلو جی فرمایئے میں نے کال رسیو کی ، آپ زندگی کی آخری کالز کر رہے ہیں کیا مطلب ہے اس بات کا ،دلآویز کی آواز میں بے چینی تھی ۔ آخری کالز کا مطلب ہے کہ میں نے پانچ بجے خود کشی کر لینی ہے کل پانچ بجے میری دوست مر گئی اور آج میں اسی وقت اس کے پاس چلا جاؤں گا ۔ کیا آپ پاگل تو نہیں ہیں ، میرا مطلب ہے کہ آپ کون ہیں ۔ ایسا کیوں کر رہے ہیں ،میرا مطلب ہے کہ آپ ایسا نہ کریں پلیز دلآویز کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کہے ،آپ ایسا مت کریں ،زندگی انمول ہے ۔یہ بار بار نہیں ملتی ،خود کشی حرام ہے ۔ کسی کے ساتھ مرا نہیں جاتا نہیں تو اس کی روح بے چین ہوگی،دلآویز مجھے طرح طرح سے سمجھا رہی تھی ۔ لیکن میں نے کال بند کر دی ، پھر اس کی کال آگئی ،پلیز میری بات سنیئے، کال بند نہ کیجیئے گا ۔ کیا وہ آپ کی محبت تھی ۔ کیا آپ اس لیئے مرنا چاہتے ہیں کہ آپ کو کوئی چاہنے والا نہیں ہے ۔پلیز آپ کچھ تو بولیں ، مجھے صرف اتنا پتہ ہے کہ اب مجھ سے جیا نہیں جاتا اتنا کہہ کر میں نے کال پھر بند کر دی ۔پھر اس کی کال آگئی۔ جونہی میں نے کال ریسیو کی اس کے بے چین آواز آئی ۔ پلیز میں آپ کو روکوں گی نہیں ایک بار میری پوری بات سُن لیں ،ابھی تو آپ کہہ رہے تھے کسی کے پاس آپ کی زندگی کیلیے وقت نہیں ہے اور جب میں آپ کی زندگی میں دلچسپی لے رہی ہوں آپ بات ہی نہیں سُن رہے دلآویزکی دلیل نے مجھے اس کا فون سننے پر مجبور کر دیا ۔ ٹھیک ہے میں آپ کی بات سُن رہا ہوں ۔لیکن مجھے اب افسوس ہے کہ میں نے آپ کو ڈسٹرب کر دیا ۔ اب میں سوچ رہا ہوں مجھے کسی کو کال نہیں کرنی چاہیے تھی ، میرا نام دلآویز ہے آپ کا کیا نام ہے ،دلاویز نےمیری بات ان سنی کرتے ہوئے اپنی بات شروع کر دی ۔ میرا نام ، جو مرضی کہہ لیں مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اچھا چلیں میں آپ کو ،،،،،،،،، ساحل کہہ لیتی ہوں ،ٹھیک ہے ، دلاویز نے پوچھا ،ٹھیک ہے پر یہ ساحل ڈوبنے والا ہے ۔ اس نے نام رکھ کے مجھے امید دی اور میں نے وہ امید ڈبو دی ، دلآویز نے میری بات سنی ان سنی کر دی اور اپنا سوال دہرایا ۔ اچھا آپ یہ بتائیں آپ جس کیلیے حرام موت مرنا چاہتے ہیں ،کیا وہ آپ کی محبت تھی ؟ نہیں وہ میری دوست تھی بس ،شوکت میموریل ہسپتال میں کل وہ میرے سامنے مر گئی ۔ کینسر کی آخری اسٹیج پر تھی ۔مجھ سے اس کی موت کا منظر بھلایا نہیں جا رہا ،اس کا دکھ مجھے تڑپا رہا ہےمیں کیا کروں میں مرنا چاہتا ہوں ، آپ میری ایک بات سنیں گے،دلآویز رندھی ہوئی آواز میں بولی ، آپ رو رہی ہیں،آپ میرے لیے رو رہی ہیں ،میں بے چین ہو گیا ،ہاں میں ایسی ہی ہوں مجھ سے کسی کا دکھ دیکھا نہیں جاتا ۔ اوہ میں بہت برا ہوں میں نے آپ کو دکھ دیا ،میں ایسا نہیں چاہتا تھا بس میں رانگ کالز کر رہا تھا کہ دل بہل جائے اصل میں آج پانچ نہیں بج رہے تھے ،اور اب میں نے آپ کو دکھی کر دیا ۔ ویری سوری ۔ آپ مجھے بھول جائیں ،خدا حافظ ۔ نہ نہ نہ آپ کال بند نہ کریں ،آپ کو آپ کی دوست کی قسم آپ مجھ سے پانچ بجے تک بات کریں ۔ دلآویز نے روتے ہوئے مجھے مجبور کیا ۔اور میں مجبور ہوگیا ، آپ نے مجھے قسم ہی ایسی دی ہے کہ اب آپ کی بات سننی پڑے گی لیکن میرے ہاتھ میں پسٹل ہے اور یہ آج پانچ بجے چل پڑے گا۔ میں نے اسے تنبیہ کی۔ ٹھیک ہے آب ہم پانج بجے تک بات کریں گے ۔اچھا ساحل آپ ایک بات کا جوا ب دیں گے ۔ ضرور پوچھیئے ،اگر آپ کا کوئی بھی دوست آپ کی وجہ سے مرنا چاہے تو آپ اسے روکیں گے یا مرنے دیں گے ؟ دلآویز کے سوال نے مجھے خاموش کر دیا ۔ بتائیں نہ آپ مرنے دیں گے یا نہیں ۔ دلآویز نے اپنا سوال دہرایا ۔ایک دوست اپنے دوست کو کیسے مرنے دے سکتا ہے ،اس کی جگہ میں خود مر جاؤں گا، میں نے صحیح جواب دیا ۔ اچھا تو اگر آپ کی دوست زندہ ہوتی تو کیا وہ آپ کو حرام موت مرنے دیتی ۔ نہیں وہ مجھے نہیں مرنے دیتی ۔ مجھے پھر صحیح جواب دینا پڑا ۔ آپ کو پتہ ہے آپ کی دوست مری نہیں ہے وہ زندہ ہے بس ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوئی ہے اور وہ نہیں چاہتی کہ آپ خود کشی کریں ،وہ آپ کیلیے بے چین ہے ۔اگر آپ نے خود کشی کی تواس کی روح تڑپتی رہے گی ،اگر آپ حرام موت مر گئے تو آپ کی دوست کو کبھی چین نہیں آئے گا ۔ تو اب آپ سوچ کر بتائیں ،کیا آپ اپنی دوست کو دکھی کرنا چاہتے ہیں یا اس کی روح کو سکون دینے کیلیے دعا کرنا چاہتے ہیں ۔ مجھے جیسے خاموشی لگ گئی ۔ مجھے کوئی جواب نہیں آیا ، آپ کی خاموشی بتا رہی ہے کہ آپ میری بات سمجھ گئے ہیں لیکن اقرار نہیں کرنا چاہتے دلآویز نے درست تجزیہ کیا ۔ لیکن مجھ سے اپنی دوست کا دکھ برداشت نہیں ہوتا ، میں پہلے ہی بہت تنہا ہوں ۔ کوئی بھی تنہا نہیں ہوتا ،ہر کسی کے ماں باپ ،بھائی بہن ،دوست احباب ،رشتے دار ہوتے ہیں ،آپ کمرے سے نکلیں اور ان کے ساتھ اپنا دکھ بانٹیں ۔ دلآویز نے مجھے سمجھایا ، میرے پاس ایسا کوئی رشتہ نہیں ہے ، میرے ماں باپ پچھلے سال اتنقال کر گئے تھے ،مطلب پرست رشتہ دار وں سے میں دور رہتا ہوں ۔اور ایک یہی دوست تھی ا سی نے مجھے اس وقت بھی سنبھالا جب میرے والدین کی وفات ہوئی تھی ۔ میں نے سچ کو جھوٹ میں ملا کر بتایا ۔ اوہ تو اب میں آپ کا اصل مسلہ سمجھی ہوں ،آپ تنہا ہیں اور آپ کا کوئی دکھ بانٹنے والا نہیں ہے ۔ ویری سیڈ ۔ دلاویز کی حساسیت عروج پو تھی ۔ اچھا تو ایسا کرتے ہیں آج سے میں آپ کی دوست بن جاتی ہوں ۔اگر آپ خود کشی کا خیال دل سے نکال دیں ،ہا ہا اہا ہاہا ۔ میں کرب سے ہنسنے لگا ، کیا ہوا آپ ہنس کیوں رہے ہیں؟ دلآویز نے حیرانی سے پوچھا ۔ آپ صرف ترس کھا میری دوست بن رہی ہیں ، اور کل کوہو سکتا ہے آپ مجھ سے بات بھی نہ کریں ،نہیں نہیں میں اپنے والدین کی قسم کھاتی ہوں ، میں آپ کی پکی اور سچی دوست بنوں گی ہمیشہ کیلیے ۔۔ آپ نے والدین کی قسم کھائی ہے میں آپ کا اعتبار کر لیتا ہوں اگر آپ نے دوستی سے منہ موڑا تو میں اسی دن تنہائی کے ڈنگ سے مر جاؤں گا ، میں نے آج تک کسی لڑکے سے دوستی نہیں کی اب کر لی ہے تو کبھی پیچھے نہیں ہٹوں گی ، دلآویز کی آواز اس کے دل سے نکلتی ہوئی محسوس ہوئی ۔ ٹھیک ہے تو آج سے ہم دوست ہیں مجھے اب اقرار کرنا پڑا۔اب آپ وعدہ کریں آپ خود کشی نہیں کریں گے،دلآویز آب بھی محتاط تھی ،میں خود کشی نہیں کروں گا اگر آپ ہر رات مجھ سے بات کیا کریں ،بس اور میں اپنی دوست سے کچھ نہیں چاہتا ۔ ہم ہر رات بات کیا کریں گے ساحل ۔ اب آپ ساحل پر آ گئے ہیں اب تو اپنا نام بتا دیں دلاویز مجھے جاننا اور سمجھنا چاہتی تھی ۔میں نے اسے بتایا کہ ۔ آج سے میرا نام ساحل ہی ہے


۔۔ اور دلآویز مجھے جانتی اور سمجھتی رہی ۔اور اپنی ہر بات مجھے بتاتی اور سمجھاتی رہی ۔ دنیا جہاں کی باتیں ہوئیں ۔دو ہفتے میں ہم گہرے دوست بن گئے ۔اب میں نے اس سے خاص باتیں شروع کر دی۔ اس کی زندگی اس کے گھر بار کی باتیں ۔ میں جان بوجھ کے ایسی باتیں کر دیتا جو اکسانے والی ہوتی تھیں اور دلآویز شروع ہو جاتی ۔جیسے میں نے اس سے کہا کہ تمھاری ممّا تو بہت خیال رکھتی ہیں تمھارا ۔ ہاں کچھ زیادہ ہی خیال رکھتی ہیں دلآویز نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا ۔کیا مطلب کُھل کے بات کرو نہ اب دوستوں سے بھی دل کی بات نہ کرو گی تو کس سے کرو گی۔ یار ممّا نہ ، بہت ہی تنگ کرتی ہیں پابندیاں ہی پابندیاں میں ان سے تنگ آ چکی ہوں ۔میری دوستوں تک کو نہیں چھوڑتی۔ہر وقت میرے آنے جانے پر نگرانی،میرے موبائل کو بھی چیک کرتی ہیں مجھے باہر تو نکلنے ہی نہیں دیتی۔ میں نے بھی اب بغاوت کر دی ہے۔اور پچھلےسال یونیورسٹی میں داخلہ لے لیاتھا۔ممّا نے بہت شور کیا مگر ابا نے اُن کی ایک بھی نہ چلنے دی۔ ممّا کی اس عادت سے ابّا بہت تنگ ہیں مگر ممّا کے سامنے بولتے نہیں ۔ اگر تمھارے ابا مّما کے سامنے بولتے نہیں تو تم یونیورسٹی کیسے چلی گئی میں نے اس کی گفتگو میں لقمہ دیا ۔ میرے لیئے ابا ممّا سے ضرور بولتے ہیں۔ دلآویز فخریہ لہجے میں بولی ۔ ہماری باتیں چلتی رہی ۔ایک دن میں نے دوستی اور پیار کی بات چھیڑ دی ۔ ساحل میں یہ بات پسند نہیں کرتی تھی لیکن اب تم میرے دوست ہو ۔مما نے بچپن سے میرے ذہن میں پتہ نہیں کیا کیا ٹھونسا ہوا تھا کہ میں نے زندگی کی ہر خواہش سے خود کو دور کر لیا تھا ۔ تمھاری باتیں مجھے نئی دنیا سے آگاہ کر رہی ہیں ،مجھے مھسوس ہو رہا ہے کہ میں زندگی سے بہت دور تھی ،اب میں زندگی کا مزہ لے رہی ہوں ۔ ساحل تم میری زندگی میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہو ، دلآویز اپنے جذبات مجھے بتاتی رہی ،جب تم سے دوستی ہوئی تو میں صرف فون پر رابظہ رکھنا چاہتی تھی، اور تم نے بھیمجھ سے ملنے کی کبھی خواہش نہیں کی ، تم بہت اچھے اور سچے دوست ثابت ہوئے ہو ساحل ۔ میرے دل میں بہت قدر ہے تمھاری ۔دلآویز جذبات کا اظہار کرتی رہی ۔ نگینہ نے بڑے پہرے بٹھا ئے تھے اپنی بیٹی پر لیکن میں نہ صرف دلآویز تک پہنچ چکا تھا بلکہ دلآویز پر نگینہ کی گرفت کمزور کررہا تھا ۔جس دلآویزکے ذہن میں نگینہ نے پتہ نہیں کیاکیا بچپن سےگاڑا ہوا تھا نا معلوم طریقے سے میں وہ ختم کر رہا تھا لڑکوں سے بے رحم رویہ رکھنے والی دلآویز اب میری دوست تھی ۔نہ صرف دوست تھی بلکہ مجھ سے ہر بات کا تبادلہ خیال کر لیتی تھی اور اپنے راز مجھے دے رہی تھی ۔ نگینہ کے ذہن کو سامنے رکھتے ہوئے میں دلآویز سے نائیٹ کالز کرتا رہا ،جب میں نے دیکھا کہ دلآویز مجھ پر مکمل اعتماد کرنے لگی ہے ۔ اور ہماری دوستی بے تکلفی میں بے تکلفی آگئی ہے تب میں نے اس سے کھلی ڈھلی باتیں شروع کر دی ۔ اس کے لیئے لطیفوں کا سہارا بھی لینے لگا۔میں اسے سیکس کی طرف لانے لگا ۔پھر ایک دن میں نے یتیم بچوں کا زکر چھیڑ دیا ۔کہ ہمارے ایک جاننے والے تھے انہوں نے ایک یتیم بچے کو سہارا دیا اس پر سب اعتماد کرتے رہے ، لیکن وہ گھر کی جمع پونجی لے کہ بھاگ گیا ۔اور بھی ایسے دو چار باتیں کیں جن میں سے ایک بچے نے گھر والوں کو قتل کر کے زیور اور پیسہ لے کر بھاگ گیا۔ایک اور بچے نے گھر والوں کی بڑی بیٹی کی عزت لوٹی اور فرار ہو گیا ۔ ہمارے ساتھ بھی ایسا واقعہ ہو چکا ہے دلآویز نےساختہ کہہ بیٹھی ۔اچھا کیا واقعہ ہوا ہے میں نے تجسس ظاہر کیا ۔چھوڑو دفعہ کرو ، دلآویز نے بے زاری سے کہا ۔یار اب مجھ سے بھی باتیں چھپاؤ گی ۔میں نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ نہیں یا رمیں اسے یاد نہیں کرنا چاہتی اس واقع نے تو ہمارے گھر کا سکون برباد کر دیا ۔پھر تو میں ضرور سنوں گا تمھاری زندگی کے اہم ترین واقعہ کا مجھے پتہ ہی نہیں ۔یہ کیسی دوستی ہے دلآویز ۔اچھا سنو دلآویز نے میری ضد کے آگے ہتھیار ڈال دیئے ۔میرے ابا نے بھی ایک یتیم کو سہارا دیا تھا وہ ابا کے دوست کا بیٹا تھا ۔جب ابا کے دوست کا انتقال ہوگیا اور ان کا کوئی قریبی رشتہ دار تو تھا نہیں اور دور والے قل خوانی کروا کے بھاگ گئے۔ ۔ تو ابا اسے گھر لے آئے میں اس وقت نو سال کی تھی ۔بڑا معصوم تھا میری داد ی کو تو جیسے کھلونا مل گیا ،اس نے مجھ سے میری دادی چھین لی۔مجھے اس پہ بڑا غصہ آتا تھا اور پتہ نہیں کیوں اس کے ساتھ کھیل بھی لیتی تھی پھر دادی وفات پاگئی تو مما نے اسے وہی توجہ دینی شروع کر دی جو اسے دادی دیتی تھی بلکہ دادی سے بھی بڑھ کے پیار دیا مما نے اسے ۔ اس وقت میں تیرہ سال کی تو ہوں گی،مجھے اس سے بڑی جلن ہوتی تھی ۔پر اس کے ساتھ کھیلتی بھی تھی۔اس بےغیرت نے مما کے پیار کا غلط مطلب لیا جس نے اسے بیٹا بنایا ، اسی ماں پر بری نظر رکھنے لگا تھا اور ایک دن مما کی عزت لوٹنے کی کوشش کی ۔ وہ تو شکر ہے ابا اس وقت گھر تھے اور وہ کچھ نہ کر سکا بلکہ اسے منہ چھپا کے بھاگنا پڑا ۔ بس اس واقعہ کے بعد ہماری زندگی بدل گئی ۔مما نے مجھ پر بے جا پابندیاں لگانی شروع کر دی ۔ ہر روز مما مجھےبتاتی کہ شہزادے نے اس کی عزت لوٹنے کی کوشش کی تھی ۔ میرے حساس دل کے لیئے وہ باتیں بڑی تکلیف دہ تھیں مجھے مرد ذات سے نفرت ہوتی گئی اور اپنی عزت کا احساس بڑھتا گیا میرے ذہن میں ساری باتیں بیٹھنے لگی اور میں زندگی سے دور ہوتی گئی ،مجھ پر پابندیوں سے ابا اور مما کی پر روز لڑائی ہوتی تھی ۔ مما اس واقع سے اتنی ڈر گئی تھی کہ انہوں نے ابا سےمکان بدلنے کو کہا ۔انہیں نوکری چھوڑنے کو کہا ۔ ہمارے گھر دن رات لڑائیاں شروع ہوگئی مجبوراً ابا کو مما کی بات ماننی پڑی ۔ تین چار سال میں میری زندگی جہنم بن گئی ۔مما نے چار دفعہ مکان بدلے۔ابا کی نوکریاں چھڑوائی ۔ ہمارے گھر کا سکون برباد ہوگیا ۔کبھی کبھی مجھے مما پر ترس بھی آتا ایک واقعے نے ان کی زندگی تباہ کر دی اور انجانا ڈر ان کے دل میں بیٹھ گیا اور وہ کبھی نہ سنبھل سکیں ۔۔ کیا اس شہزادے نے تھا اور بھگتنا ہمیں پڑا ، خاص کر مجھے تو بہت عذاب بھگتنا پڑا ۔ مما نے شہزادے کا ذکر نہ چھوڑا مجھے اس سے نفرت ہوتی گئی ،مجھے نہیں پتہ میں شہزادے سے کتنی نفرت کرتی ہوں ۔ کبھی کبھی دل کرنے لگتا ہے کہ شہزادہ مجھے ملے تو میں اسے چیڑ پھاڑ دوں دلآویز رونے لگی ۔۔ میں نے خلاف توقع اسے رونے دیا ۔ دل کا غبار نکلنے دیا ۔ پھر اس سے پوچھا اب بھی تمھارے گھر کے حالات ایسے ہی ہیں ؟ نہیں اس واقعہ کو چھ سات سال گزر گئے تو کچھ سکون ہوا ۔ ہم اس مکان میں آگئے ابا نے کافی پیسے جوڑے ہوئے تھے انہوں نے جنرل سٹور کھول لیا ۔لیکن مما کی پابندیوں نے میری جان نہ چھوڑی ان کاڈر میرے دل میں بیٹھ گیا ، میں ضد کر کے یونیورسٹی توچلی گئی لیکن مما نے میری جو شخصیت بنا دی تھی اس سے مجھے زندگی کی کوئی خوشی نہ ملی ۔ساحل اگر تم نہ ملتے تو میں زندگی کے احساس کو کبھی بھی نہیں پا سکتی تھی ۔تم بہت اچھے دوست ہو ۔اب تم سے ملنے کو دل کرنے لگا ہے اب تو اپنا نام بتا دو مجھے۔ دلآویز اس رات میں نے اپنی زندگی کرختم کر لینی تھی اب یہ تمھاری دی ہوئی زندگی ہے اور نام بھی اب ساحل ہی چلے گا ۔ وہ شہزادہ تو کافی عمر کا ہو گا ۔میں نے نئی بات چھیڑ دی ۔نہیں اس وقت صرف پندرہ سال کا تھا وہ بےغیرت ۔ یار ایک پندرہ سال کا لڑکا ایک بڑی عمر کی عورت پر حملہ کیسے کر سکتا ہے ؟ پھر تم نے بتایا کہ تمھار ا باپ بھی اس وقت گھر تھا جس کا اس شہزادے کو یقینًا پتہ ہو گا، میں نے دلآویز کو جھنجھوڑا،تم اسے نہیں جانتے ساحل ،اس کی عمر دیکھو اس کی معصومیت دیکھے تو کوئی یقین نہ کرے ۔ دلآویز کے دل میں مجھ سے نفرت کی جڑیں بڑی گہری تھی ۔نگینہ نے پکا کام کیا تھا ۔دلآویز تو سو گئی ہو گی کیونکہ اسے صبح یونیورسٹی بھی جانا ہوتا ہے۔لیکن مجھے یادوں اور خیالوں کے ہجوم میں چھوڑ گئی تھی،ایسا پہلی بار نہیں ہوا کئی بار ہو چکا تھا،اور اب پھر وہ واقعات آنکھوں کے سامنے آنے لگے،اور میں ان خیالوں میں کھو گیا،مجھے وہ وقت یاد آیا جب نگینہ نے مجھے زبردستی سیکس پر مجبور کیا تھا پھر وہ مجھ پر نچھاور ہوتی گئی،پھر اس کی میری ٹھن گئی اور اس نے مجھ عزت لوٹنے کا الزام لگا کر سرورے کو میرے قتل پر مجبور کردیا ،اور میں وہاں سے نکل بھاگا ۔نگینہ کہ چنگل سے نکلنے کے بعد میں سحرش کے پاس عارضی طور پر پناہ گزیں ہوا تھا،حالات نے کروٹ لی اور کچھ ہی دنوں میں مجھے وہاں سے بھی نکلنا پڑا ،مجھے آج بھی سحرش سے وہ آخری ملاقات یاد ہے ،جب اس نےاپنے گھر سے باہر گلی میں جھانک کرسسکتے ہوئے بتایا تھا کہ باہر کوئی نہیں ہے ،اور میں اسے چوم کے باہر نکل گیا تھا،گلی میں اندھیرا تھا،بلکہ اس دنیا میں ہی اندھیرا تھا اور میں نے ان اندھیروں میں خود کو گم کر لیا تھا،سحرش کے گھر سے نکل کر میں چھپتا چھپاتا پھرتا تھا،پھر سحرش کے دئے پیسے ختم ہونے لگے تو میں کوڑے کے ڈرموں سے پلاسٹک کی بوتلیں وغیرہ ،گتا،اور کانچ اکٹھا کر کے کباڑئے کو بیچنے لگا،کچھ دنوں کی آوارہ گردی میں یہ کام کئی لڑکوں کو کرتے دیکھا تھا جو بھی لڑکے یہ کام کرتے تھے،ان میں سے کچھ میرے دوست بن گئے،ان کیساتھ میں ان کی جھونپڑیوں میں بھی گیا،وہاں مرد چرس پیتے تھے اور سارا دن تاش کھلتے تھے، ان میں سے اکثریت کا پیشہ بھیک مانگنا تھا ،عورتیں سارا دن مانگ کر لاتی تھیں اور مرد وہ کمائی جوئے اور نشے میں اڑا دیتے تھےیا کچھ عورتیں کوڑا چنتی تھیں ،اور کچھ مردوں کی چھیڑ چھاڑ سے جسم بیچنے کے شعبے میں چلی جاتی تھیں ،ایک بار کی چدائی 100 روپے اور بعض اوقات 50 میں بھی کروا لیتی ےتھیں ان کے مردوں کو بس پیسہ چاہیے جیسے مرضی لائیں،کچھ دن ان کے ساتھ میں رہالیکن ان کے ماحول کو دل سے قبول نہ کرسکا اور وہاں سے واپس ہو لیا،میں شہر بھر میں آوارہ گردی کرنے لگا،اس آوارہ گردی میں میرے دل سے سرور خان کا ڈر اترنے لگا ،رات کہیں بھی سو جاتا،میں اس زندگی سے نکلنا چاہتا تھا سو میں چوبرجی چلا جاتا ،وہاں مزدوروں کی لمبی لائنیں لگی ہوتی،ان میں رنگساز بھی تھے،جو اپنے ڈبوں پر برشوں کا ڈھیر لگائے کام کے منتظر رہتے تھے،ان میں سے ایک بھلا مانس آدمی دیکھ کر میں اس کے پاس بیٹھ جاتا ،اس سے باتیں کرتا،اسے استاد کہتا،مسلسل اس سے کہتا رہا کہ مجھے اپنا شاگرد کر لو مجھے اپنے ساتھ کام پر لے جاؤ،آخر کار وہ مان گیا مجھے اپنے ساتھ کام پر لے جانے لگا،جلد ہی میں کام سمجھ گیا،استاد کو اتنا فائدہ ہوا کہ اسے دو آدمیوں کی مزدوری ملنے لگی،مجھے بس وہ جیب خرچ دیتا تھا لیکن میں اتنے سے ہی خوش تھا،استاد کو میں نے اپنی باتوں سے پٹا لیا، اپنی داستان میں مرچ مصالحے لگا کر میں اپنے لیئے اس کے دل میں اپنے لیئے ترس پیدا کیا تھاتو وہ مجھے اپنے گھر لے گیا،میرا تو کوئی تھا نہیں ، اسے مجھ پر ترس آگیا،بلکہ اس کی بیوی بھی اس کی طرح بھلی مانس تھی،مجھے اس نے بیٹا بنا لیا،پہلے ہی اس کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی،ہماری عمروں میں زیادہ فرق نہیں تھا،یہاں میری کشش کام بھی کرتی تھی تو وہ مجھے بیٹا اور بھائی کا پیار دیتے تھے،سارا گھر ہی حلال روزی کی برکت سے نیک اولاد والا اور صبرشکر والا تھا۔ مجھے یہاں سکون آنے لگا،عین ممکن تھا میں اس گھر کے ماحول میں نگینہ کو بھول جاتا اور ایک دن استاد کی بیٹی سے میری شادی ہوجاتی، مگر ،،،،،،ایک دن ہم مزدوری کیلیے بیٹھے کام کا انتظار کر ہے تھے،کہ ایک کار آ کر رکی ۔اس میں ایک طرح داراور رعب دار لڑکی بیٹھی تھی۔عمر کوئی بتیس سال تو ہو گی،نہایت حسین تھی،میں یک ٹک اسے دیکھنے لگا،مزدوروں نے اس کی کار کو گھیرے میں لے لیا،،وہ انہیں جھڑکنے لگی، تو سب تتر بتر ہوگئے،اچانک اس نے میری طرف دیکھا ،شاید اس کی چھٹی حس نے بتایا ہو گا کہ میں اسے دزیدہ نظروں سے گھور رہا ہوں،عورتیں اس بارے بڑی حساس ہوتی ہیں انہیں فوراً پتہ چل جاتاہے ،پہلے تو وہ مجھے گھورتی رہی اور میں آنکھیں چرانے لگا،پھر اس نے اشارے سے استاد کو اپنے پاس بلایا ،میں بھی اس کے ساتھ چلا گیا،وہ بغور مجھے دیکھنے لگی،جیسے اس کی نظریں ایکسرے تھیں اور مجھے اندر باہر سے دیکھ رہی تھیں ،پتہ نہیں اسے مجھ میں کیسی دلچسپی ہوگئی تھی،،وہ کار میں بٹھا کر ہمیں اپنے فلیٹ میں لے آئی،فلیٹ کی لوکیشن ز بردست تھی ۔سب سے الگ اور گنجان آباد علاقے میں تھا، فلیٹ کے اندر جانے کیلیے کچھ سیڑھیاں بنی تھیں،اندر تین کمرے اور ایک ڈرائینگ روم بھی تھا جو کہ یقیناً ٹی وی لاؤنچ بھی تھا،کچن اور باتھ روم تھے،ایک کمرے میں لائبریری تھی، باقی دو کمروں میں بیڈروم تھے ،لائبریری میں نفسیات،تاریخ ،شاعری ،ناولز،علم بروج ، دست شناسی ،قیافہ شناسی،اور سیکس پر کولیکشن موجود تھی ،میں کتابیں دیکھ کر دنگ رہ گیا، کچھ دیر تو میں مسحور ہی رہا، مجھے پڑھنے کا بہت شوق تھا لیکن نگینہ کے گھر سے نکلنے کے بعد ابھی تک پڑھائی کا کوئی سبب نہیں بنا تھا،بلکہ میں نے تو ابھی تک اپنے میٹرک کا رزلٹ بھی معلوم نہیں کیا تھا ،میڈم اپنے کمرے سے نکلی تو میں فوراً جا کر استاد کے ساتھ صفے پر بیٹھ گیا، فلیٹ ہر طرف سے بتا رہا تھا کہ یہ کسی امیر ترین کی ملکیت ہے اس کے اندر محلوں جیسا سامان اور آرائش تھی،یعنی پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا تھا، پورے فلیٹ کے نیچے ایک تہہ خانہ تھا،وہ تہہ خانے کو پینٹ کروانا چاہتی تھی ، یہ ایک جم جیسا لگتا تھا یا جوڈو کراٹے کے ڈوجو جیسا تھا،سامان وغیرہ منگوا کر ہم نے کام شروع کر دیا،استاد بہترین کام کرنا چاہتا تھا ،یہ اس کا مزاج تھا ،کام صاف ستھرا اور لگن سے کرتا تھا،وہ عورت جسے اب ہم میڈم کہنے لگےتھے،وہ کبھی کبھار ہمارا کام دیکھ جاتی تھی اور استاد کو ہدایات بھی دے جاتی تھی ،لیکن اس کی نظریں مجھی پر ٹکی رہتی تھی،جیسے میں مقناطیس ہوں اور وہ لوہے کا بے جان ٹکرا ہے،شہزادے ،،،، جی استاد ۔۔۔لگتا ہے یہ بھی گئی کام سے،، استاد نے شوخی سے کہا،میں چپ رہا ،یار پتہ نہیں تم کیا چیز ہو، ہماری طرف تو کوئی دیکھتا بھی نہیں اور تمھاری طرف دیکھتی ہیں تو نظریں ہٹانا بھول جاتی ہیں ،استاد مجھے چھیڑنے لگا،میں جانتا تھا استاد ایسی باتیں بس چھیڑ چھاڑ میں کرتا ہے ورنہ اپنی بیوی کے سوا ساری دنیا کی عورتیں اس کیلیے ماں بہنیں تھی،ایسی کوئی بات نہیں استاد تم ہیرو ہو،بس ہو اپنی بیگم کے،ایسی عورتیں تمھاری قدر نہیں جانتی،میں بھی استاد کو چھیڑنے لگا،چھوڑ یار ،آجکل بازار میں اچھائی اور وفاداری نہیں بکتی، اچھا یار میڈم تو تم فدا ہوگئی ہے ،کہیں یہ نہ ہو ہمیں یہاں سے بھی کام مکمل کیئے بغیر جانا پڑے،استاد سنجیدہ لہجے میں بولا،نہیں استاد ایسا نہیں ہوگا،میڈم کافی سمجھدار اور اونچے درجے کی چیز لگتی ہے،میں نے اپنے محسوسات کے مطابق جواب دیا،اچھا خدا کرے ایسا ہی ہو،وہ بیگم چوہدری تو تمھیں یاد ہی ہو گی ،استاد نے خوشدلی سے کہا تو میرا منہ کڑوا ہو گیا،میرے اندازے کی مطابق تین چار دن کا کام تھا ،دوپہر کا کھانا ہم وہیں کھاتے تھے،لگتا تھا کہ میڈم اس فلیٹ میں اکیلی رہتی ہے یا اس کے گھر والے کہیں گئے ہوئے تھے،


بہر حال میڈم کی باتوں سے پتہ لگا کہ وہ کسی یونیورسٹی کی پروفیسر ہیں ،استاد کا کہنا تھا کہ یہ شہر کی مشہور پروفیسر ہیں ،سارے شہر میں ان کی بڑی عزت ہے، ایسی عزت اور مقبولیت کم ہی پروفیسرز کو ملتی ہے،تیسرے دن ہم کام پر گئے تو میڈم اپنی کار میں کچھ کارٹون رکھ رہی تھی ان میں کتابیں تھیں،ذرا میری مدد کرنا،میڈم ہمیں دیکھ کر بولی،ہم نے فوراً اس کیساتھ ڈبے رکھوا دیئے ،استاد اپنے شاگرد کو میرے ساتھ یونیورسٹی تک بھیج دو ،وہاں یہ ڈبے رکھنے ہیں ،تھوڑی دیر میں ہم واپس آجائیں گے،میڈم نے کہا تو استاد اسے نہ نہیں کر سکا،اور مجھے میڈم کیساتھ جانا پڑا،پچھلی سیٹ پر ڈبےپڑے تھے،میں اگلی سیٹ پر بیٹھ گیا،کار چلتے ہی میڈم بھی شروع ہوگئی،شہزادے تمھارا نام کیا ہے،یہی میرا نام ہے میں نے تلخی سے کہا ،نہیں شہزادے یہ تمھارا اصل نام نہیں ہے، تم نے یہ نام انتقاماً رکھا ہوا ہے،تم اس دنیا میں اکیلیے ہو،استاد تمھارا باپ نہیں ہے، میرے اندازے کے مطابق تمھارے ماں باپ مر چکے ہیں ،اور تم تنہا دنیا کی ٹھوکروں پر ہو،حال ہی میں تمھیں کوئی دکھ ملا ہے جس کے نقش اب بھی تمھارے چہرے پر دیکھے جا سکتے ہیں،لگتا ہے دنیا نے تمھارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا،تم بھٹک رہے ہو،کسی نے تمھیں پالش کیا ہے اپنی دانش تمھیں دی ہے،لیکن بس بنیادی باتیں سمجھائی ہیں کیونکہ یہ دنیا تمھیں پالش کرنے والے کی سمجھ سے بہت آگے ہے،بہت کمینی ہے یہ دنیا،میں حیران نظروں سے میڈم کی طرف دیکھنے لگا،حیران نہ ہو میں دو دن سے تمھاری سٹڈی کر رہی ہوں،قیافہ شناسی کی میں ماہر ہوں،اور میں نے ہاورڈ یونیورسٹی سے نفسیات میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے ،یہی میں پڑھاتی ہوں ،انسانوں کو اندر جھانکنا میرا شوق ہے،بے شمار پیسہ میرے پاس ہے،میرے پاس وسیع جائیداد ہے،عزت ہے شہرت ہے،لیکن سکون نہیں ہے،تمھاری طرح میں بھی دنیا میں تنہا ہوں،میرے والد امریکی تھے انہیں پہاڑوں کو سر کرنے کا شوق تھاوہ یہاں نانگا پربت کی چوٹیوں کو فتح کرنے آئے تھے ،شاید تمھیں پتہ ہو کی نانگا پربت دنیا کی خطرناک چوٹیوں میں سے ایک ہے ،یہاں انہوں نے اپنا شوق پورا کیا اور نانگا پربت کو فتح تو کر لیا لیکن وہیں میری مما ان سے ملیں اور انہوں پاپاکو فتح کرلیا،مما جب لاہور گھر آئی تو وہ شادی شدہ تھیں ان کے ماں باپ نے بالآخر ان کی شادہی کو قبول کر لیا۔ لیکن پاپا نے ان کا زیادہ ساتھ نہ دیا میں ابھی مما کے پیٹ میں ہی تھی کہ پاپا مما کو پاکستان میں ہی چھوڑ کر امریکہ چلے گئے،میری پیدائش کے بعد مما مشکلوں میں پڑ گئی ،اور انہیں اخراجات کیلیے نوکری کرنی پڑی ،پاپا کی وجہ سے بھی مما کو بڑی باتیں سننی پڑی ،بھائی بہنوں نے تو پہلے ہی منہ موڑ لیا تھا ،میرے نانا اور نانی کے جانے کے بعد مما اور میں بالکل تنہا رہ گئی، مما نے کئی بار پاپا سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ،لیکن انہوں نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا،،جیسے جیسے میں بڑھتی گئی مما تنہائی سے تنگ زندگی سے منہ موڑتی گئی، قسمت خدا کی جب میں جوان ہوئی تو پپا کو ہماری یاد آئی اور ہمیں امریکہ بلوا لیا وہاں جا کر پتہ چلا کہ پاپا بہت بیمار ہیں اور اپنی اولاد سے ملنے کیلیے تڑپ رہے ہیں یعنی مجھ سے ، کیونکہ ان کی ایک بیٹا اور بیٹی ایک ایسیڈنٹ میں فوت ہو گئے تھے ،شاید یہ بھی قدرت کے ہونے کا کوئی ثبوت تھا کہ جو باپ ہمیں تنہاچھوڑ گیا تھا ب ہمیں بلانے ر مجبور ہو گیا تھا،لیکن مجھے ان سے کوئی لگاؤ نہیں تھا۔بہرحال پاپا نے ساری زندگی کے دکھوں کا مداوا اسطرح کیا کہ جاتے جاتے اپنی جائداد میرے نام کر گئے امریکی قوانین نے ہمارا ساتھ دیا اور ساری جائیداد مجھے مل گئی میں سب کچھ بیچ باچ کر پاکستان آگئی کیونکہ مما اپنی سرزمیں پر مرنا چاہتی تھی،یہاں ہم نے اس پیسے سے وسیع عریض جائیداد بنا لی،اب زندگی میں کچھ سکھ ملا تو مما کا وقت پورا ہوچکا تھا میں نے ان کو وصیت کے مطابق نانا اور نانی کے پہلو میں دفن کر دیا۔ان کے جانے کے بعد میرے رشتہ دار میرے پاس آنے لگے،مجھے ان سب سے نفرت تھی،لیکن سموئیل نے مجھے ایسی ہمدردی دی کہ وہ چاہت میں بدل گئی اور میں نے جذبات میں اس سے شادی کر لی ،کچھ ہی عرصے میں مجھ پر واضح ہوگیا کہ سموئیل کی محبت مجھ سے نہیں بلکہ میری دولت سے ہے تو میں نے اس سے جھٹکارا پا لیا،اور تمام مطلبی رشتہ داروں سے کنارا کر لیا،رشتہ داروں سے دور میں نے یہ فلیٹ اپنے سکون کیلیے بنوایا ہے،بڑی حویلیوں اور بنگلوں میں میرا دم گھٹتا ہے،شہزادے مجھے سکون چاہیئے میں تم سے کچھ نہیں چھپاؤں گی،میں نے اس سکون کیلیے کئی دوستیاں کی،مگر دنیا کا کوئی مرد مجھے وہ نہ دے سکا،جو میں چاہتی ہوں،شہزادے وہ سکون مجھے بس تمھی دے سکتے ہو،میں دے سکتا ہوں ؟ میں شدید حیران تھا،ہاں تم ہی دے سکتے ہو کیونکہ تمھارے پاس وہ ہے جو دنیا میں کسی کسی کے پاس ہوتا ہے،تمھارے پاس سیکس کی جادوئی کشش ہے،یعنی بے پناہ سیکس اپیل ہے تم میں ،جو تم سے دور ہے وہ تمھارے پاس آنا چاہے گی اور جو پاس آجائے گی وہ ہمیشہ کیلیے تمھاری ہو جائے گی، اور تمھارے چوڑے ماتھے سےتمھاری خوش قسمتی کا پتہ لگتا ہے، تم بڑے با صلاحیت ہو،دنیا تمھارے قدموں میں جھک سکتی ہے،میں میڈم کی بات پر طنزیہ انداز میں ہنسنے لگا،اس طرح مت ہنسو،کیونکہ خوش قسمتی تمھارے دروازے پر کھڑی ہے، تمھار ا کیا خیال ہے میں تمھیں اپنے بارے میں سب کچھ کھل کے کیوں بتا رہی ہوں ، کیونکہ میں تمھیں ایک بہت بڑی آفر کرنے لگی ہوں، تمھارے مزاج کے عین مطابق تمھاری مرضی سے ،بغیر کسی زبردستی یا چھل فریب کے ،تم مجھے کتنا جانتی ہو؟میں نے الٹا اس سے سوال کر دیا،تم اپنی مرضی کے مالک ہو اپنی مرضی سے جینا چاہتے ہو،سب ہی ایساچاہتے ہیں مگر تمھارے پاس اپنی مرضی پوری کرنے کیلیے قدرت نے تمھیں صلاحیتیں بھی دی ہیں،میں چاہوں تو تم میرے اشاروں پر ناچو ،لیکن جلد ہی تم میرا کھیل سمجھ جاؤ گے اور پھر میری طرف پلٹو گے مجھے نقصان پہنچاؤ گے،جب تک تمھارا بس چلا،یہ ہو تم ،وہ سچ کہہ رہی تھی اسے نہیں پتہ تھا وہ میری اور نگینہ کی کہانی مجھے ہی سنا رہی تھی،شاید تم ایسا کوئی تجربہ جھیل بھی چکے ہو،مجھے سوچتا دیکھ کر میڈم نے ایک اور اندازہ لگایا،بہت خطرناک تھی یہ میڈم ،انسان اس کے سامنے کھلی کتاب کی طرح تھا،چہرے سے مزاج،عادات ،خیالات ،کردار تک جان لیتی تھی،ماضی پڑھ لیتی تھی،بعد میں مجھے سمجھ آئی کے قیافہ شناسی ایک زبردست علم ہے،اگر اس کے ساتھ علمِ بروج اور دست شناسی مل جائے تو انسان کا کچھ بھی چھپا نہیں رہتا، سِرّی علوم پر یورپ اور امریکہ میں تو آکلٹ سائنس کے نام سے ایک علیحدہ شعبہ بن چکا ہے ،اور اس پر بہت تحقیقات ہو رہی ہیں،ہپناٹزم اور ٹیلی پیتھی اب کوئی خواب کی بات نہیں رہی ۔تمھاری آفر کیا ہے ،میں ایک نتیجے پر پہنچ چکا تھا،میں چاہتی ہوں تم ہمیشہ کیلیے مجھ سے دوستی کر لو،میرے ساتھ رہو ساری زندگی،اور مجھے اپنی گرل فرینڈ بنا لو صرف میں اور تم ،اس کے بدلے میرا سب کچھ تمھارا ہو گا،میری دولت، میرا علم،میری جائیداد ، اور میں سب کچھ تمھارا ہوگا،میڈم آپ بہت بڑی آفر کر رہی ہیں لیکن آپ کی آفر کی بنیاد یہ ہے کہ میں آپ کو بذریعہ سیکس میں وہ خوشی دے سکتا ہوں جو دنیا کا کوئی اور مرد نہیں دے سکتا،کیونکہ بقول آپ کہ میری پاس نیچرلی وہ ہے جو دنیا میں کسی کسی کے پاس ہوتا ہے،تو ہوسکتا ہے آپ کا اندازہ غلط ہو یا یہ چیز مجھ میں ہو تو کل کو ختم ہو جائے،پھر کیا ہو گا ؟ کار ایک سائیڈ میں رک چکی تھی،میڈم بہت ہی سنجیدہ ہو چکی تھی،شہزادے یا تم جو بھی ہو میرا ندازہ کبھی غلط نہیں ہو سکتا ،میں نے جنسیات میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے،لیکن یہ بات کم لوگوں کو معلوم ہے،میں ایک سیکس اسپیشلٹ ہوں،تم چاہو تو میں تمھیں کتابوں میں دکھا سکتی ہوں کہ تم میں جو ہے وہ کیا ہے اور کتنا نایاب ہے اور یہ کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے،یہ تمھارے ساتھ ایسے ہی ہے جیسے تمھاری اندر تمھاری دوسری صلاحیتیں ہیں،یہ تمھاری سانسوں کیساتھ ہی ختم ہوں گی،اور یہ کوئی ڈیل نہیں ہے میں زندگی بھر کیلیے تمھاری طرف ہاتھ بڑھا رہی ہوں ،اس کیلیے اگر تم کہو تو میں اپنی ساری جائیداد تمھارے نام لکھ کر دے سکتی ہوں،میڈم نے بہت بڑی آفر کر دی،تم مجھے وہ بناؤ گی جو میں بننا چاہتا ہوں؟ میں نے جیسے شرط رکھ دی

Share this post


Link to post
Share on other sites

تم بہت علم حاصل کرنا چاہتے ہو،میں نے اپنی لائیبریری میں جاتےہوئے تمھیں دیکھا ہے ،اسوقت تمھاری آنکھوں میں حریصانہ چمک تھی، تم مارشل آرٹ سیکھنا چاہتے ہو،جدید ٹریننگ لینا چاہتے ہو،تم لڑکیوں کو عورتوں کو فتح کرنے کیلیے وہ سب سیکھنا چاہتے ہو جو اس کیلیے ضروری ہے،مائنڈڈ گیم میں تم ماسٹر بننا چاہتے ہو،تم لوگوں کو پڑھنا چاہتے ہو،تا کہ تم ان سے کھیل سکو وہ نہ تم سے کھیل سکیں،بس بس میڈم ،اتنا ہی بہت ہے، پتہ نہیں کیسے وہ میرے دل کی ہر بات جان لیتی تھی، بلکہ ہر کسی کی جان لیتی تھی ،میرا نام میڈم نہیں ،جوسلین ہے،(جوسلین پاکستانی کرسچن تھی) جوسلین نے میری طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا، اور میرا نام ۔۔۔۔۔۔۔ ہے میں نے اس سے ہاتھ ملا لیا،


یاد رکھنا تم اپنی مرضی سے میرے پاس آئے ہو اسلیے کبھی مجھے چھوڑنے سے پہلے سوچ لینا کہ اسوقت بھی تمھارے پاس واپسی کا رستہ موجود تھا ۔استاد سے تم ہی بات کر لینا اس کی بات کے جواب میں ،میں نے استاد کی ذمہ داری اس پر ڈال دی،میں ہی بات کروں گی تمھاری بات کرنا بنتا بھی نہیں ہے،ویسے اتنی عمر میں تم نے ڈبل پی ایچ ڈی کیسے کر لی،میرے ذہن میں کافی دیر سے ایک تجسس تھا،کار چل پڑی تھی ،تمھارے خیال میں میری کتنی عمر ہے،جوسلین نے الٹا مجھ سے سوال کر دیا،تیس یا بتیس کی لگتی ہو تم،میں نے اسے اپنا اندازہ بتایا،جوسلین ہنسنے لگی،


میں چالیس سال کی ہوں،اور ڈبل پی ایچ دی میری صلاحیتوں کا ایک نمونہ ہے،لیکن تم اتنی کم عمر کیسے لگتی ہو،میں بہت حیران ہوا،تمھیں بھی سکھا دوں گی،یہ سب مخصوص غذاؤں اور یوگاسے ممکن ہے کچھ مخصوص ورزشیں بھی اس کیلیے ضروری ہیں،شام تک کام ختم ہو گیا،جوسلین نے استاد سے پتہ نہیں کیا کہا ،کہ وہ مجھے دعائیں دے کر چلے گئے ،جوسلین نے اسے پیسہ بھی دیا تھا،میں وہیں رہ گیا، جوسلین نے تین کمروں میں سے مجھے ایک کمرہ دے دیا تھا،میرا خیال تھا کہ ہم آج رات ہی چدائی کریں گے مگر نازیہ اور میں رات گئے تک باتیں کرتے رہے،ایکدوسرے کا ماضی کھنگالتے رہے،ایکدوسرے کو بارے میں جانتے رہے،باتیں کر کر کے ہم تھک گئے تو سو گئے،اگلی صبح ہم کچھ دیر سے اٹھے،جوسلین نے ناشتہ بنایا ،ناشتہ کر کے جوسلین نے مجھے بازار چلنے کو کہا،جوسلین بہت ہی اوپری درجے ( ہائی اسٹینڈرڈ )کی زندگی گزارتی تھی،بازار وہ میرے لیئے شاپنک کرنے لگی،میرے لیے مہنگے ترین کپڑے خریدنے لگی،اور پتہ نہیں اس نے کیا کچھ خرید ڈالا۔ اس نے دلہن کا ایک لہنگا بھی خریدا جو میری سمجھ سے باہر تھا،جوسلین نے لہنگا انہی کے ٹیلر کے پاس سینے کے دے دیا،اور شام کو یہ لہنگا اسے ملنا تھاہم نے ایک رسٹورینٹ میں دوپہر کا کھنا چار بجے کھایا،


پھر باقی کی خریداری کرنے کے بعد ہم واپس ہو لیئے،اس دوران اس نے عجیب فرمائش کر دی ،کہ میں اس کیلیے کوئی تحفہ خریدوں ،میں نے ایک جگہ اس کیلیے سونے کی چین پسند کی اس میں ڈائمنڈ لگا ہوا تھا ۔ظاہر ہے اس کے پیسے بھی اسی نے ادا کرنے تھے ،رستے میں ایک جگہ اس نے پھولوں کا آڈر دیا،تقریباً شام کو ہی ہم گھر پہنچے ،ایک دن میں اس نے لاکھوں پانی کی طرح بہا دیا تھا ۔ سامان وہیں رکھ دیا کچھ سامان لیکر جوسلین اپنے کمرے میں چلی گئی تو میں بھی اپنے کمرے میں جا کہ لیٹ گیا ۔مجھے تو ہلکی سی جھپکی آگئی ،آنکھ کھلی تو یہ ہلکی سی جھپکی بھی کافی ہو گئی تھی رات کے نو بج رہے تھے،کمرہ دیکھ کر اندازہ ہوا کہ نازیہ یہاں آئی تھی اور جو کچھ لائی تھی اس کی سیٹنگ کر گئی تھی وارڈروب کھول کہ دیکھا تو اس میں سارے کپڑے جڑے ہوئے تھے ،


جوسلین نے کھانا باہر سے منگوایا تھا،کھانا وغیرہ کھاتے باتیں کرتے دس بج گئے،چلو شہزادے تیار ہو جاؤ تمھارا ایک سوٹ میں نے نکال دیا ہے تمھارے کمرے میں ہی پڑا ہے وہ پہن لو اور اچھی طرح تیار ہو جاؤ،نازیہ نے مجھے کہا تو اس کے لہجے میں کچھ خاص تھا لیکن میں سمجھ نہ سکا،کیا ہم کہیں جا رہے ہیں ؟ میں پوچھے بناء نہ رہ سکا ،ہاں تم تیار ہو جاؤ، میں کمرے میں جا کر کپڑے بدلنے لگا،کمال ہے وہاں ایک شیروانی بھی پڑی تھی میں نے پہن لی بالکل میرے سائیز کی تھی، سلیم شاہی جوتے پہن کے تیار ہو کے میں نےخود کو آئینے میں دیکھا ،کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا،بلکہ اسوقت مجھے دولہا بھی کہا جا سکتا تھا، مجھے نظر بھی لگ سکتی تھی سو میں نے آئینے سے نظریں ہٹا لیں ،جوسلین نے کہا تھا کہ تیار ہو کہ وہیں ٹھہرو میں تمھیں بلا لوں گی۔میں اس کا انتظار کرنے لگا،آدھا گھنٹا ہو گیا ،پتہ نہیں یہ عورتیں تیار ہونے کیلیئے اتنی دیر کیوں لگاتی ہیں ،خیر انٹر کام کی بیل ہوئی تو میں لپک کہ ریسیور اٹھا لیا،تیار ہوگئے شہزادے ؟ جوسلین نے پوچھا،میں تو پونے گھنٹے سے تیار ہوں آپ کب تک تیار ہوجائیں گی میں نے شوخی سے پوچھا،میں بھی تیار ہوں ،تم میرے کمرے میں آجاؤ اور میرا تحفہ لانا نہ بھولنا ،ریسیور رکھ کر میں جوسلین کے کمرے کی طرف چل پڑا،اس کے کمرے کا دروازہ بھڑا ہوا تھا میں نے ہاتھ کا دباؤ ڈالا تو دروازہ کھلتا گیا،اور میرے قدم وہیں ٹھہر گئے،


کمرے کے فرش پر پھولوں کی پتیوں سے راہداری بنی ہوئی تھی،جو کہ بیڈ تک جا رہی تھی ،بیڈ پر بھی پتیاں ہی پتیاں تھی ۔اور اس بیڈ پر جوسلین لہنگا اور کرتی پہنے دلہن بنی بیٹھی تھی ،اس کے ارد گرد لہنگا پھیا ہوا تھا ۔لہنگا گلابی رنگت کا تھا ،جو کہ میرا پسندیدہ رنگ تھا،جب یہ لہنگا میں نے دن کو دیکھا تھا تو شاید میری آنکھوں یا چہرے سے جوسلین نے میری پسندیدگی کا اندازہ لگا لیا ہو گا،یہ سب ایک زبردست سرپرائیز تھا ،اور میں ابھی تک کمرے کی دہلیز پر کھڑا تھا ،اندر آجاؤ میرے پرنس(پہلی بار مجھے پرنس کہا گیا)جوسلین پیار بھری آواز نے میرے کانوں میں رس کھولا ،اور میں مسحور انداز میں اس کی طرف چل پڑا،ایک ہاتھ سے میں نے دروازہ واپس پش کر دیا،جو کہ ٹھک سے بند ہو گیا،میں بیڈ کہ پاس جا کہ پھر رک گیا میں یک ٹک جوسلین کو دیکھ رہا تھا، گویا اجنتا الورہ کی کوئی دیوی میرے سامنے آ کہ بیٹھ گئی تھی،،2 دن سے میں اسے دیکھ دیکھ کے تڑپ رہا تھا ، جوسلین کا بے پناہ حُسن میرے دل و دماغ پر چھا چکا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا حُسن ایک ایسا مقناطیس تھا جس کے سامنے ہر مرد خود کو ایک بے جان لوہے کا ذرّہ محسوس کرتا تھا۔بیٹھ جاؤ میرے پرنس جوسلین میری بے خودی محسوس کر چکی تھی،میں اس کے سامنے بیٹھ گیا،


مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کہوں اور کیا کروں ،میرے پرنس میں نے برسوں چاہا تھا کہ وہ مرد جس کا میں ذکرمیں نے بس سنا ہے ،وہ مرد مجھے مل جائے،پھر میں سوچتی تھی ایسی (سیکس اپیل)جنسی کشش والا دنیا میں ہو گا بھی کہ نہیں ،پھر میں سوچتی کہ ایسے مرد ہو گیں تو ضرور لیکن میری قسمت میں شاید ہی ہو،آج تمھیں اپنے سامنے پا کہ بھی مجھے یقین نہیں آ رہا ،جوسلین جذباتی ہو رہی تھی،مجھے موضوع بدلنا پڑا،یہ سب کیا ہے جوسلین- میں نے اس کے دلہن بننے کی طرف اشارہ کیا،میرے پرنس تم سے ملاقات کا اس سے بہتر آئیڈیا نہیں تھا،میں چاہتی ہوں ہماری پہلی رات زندگی کی یاد گار رات ہو،بڑی بڑی آنکھیں ،لمبی پلکیں ،ستواں ناک،تیکھا چہرہ،خوشنما گال،رسیلے ہونٹ ،لمبے گھنے بال،اسمارٹ جسم ،اور جھانکتے ہوئے دل فریب ممے،گوری رنگت جس میں سرخی شامل ہو،بار بار میں اس کے حُسن میں گویا نئے سرے سے کھو جاتا تھا،
کیا یہ کوئی خواب تو نہیں میں ہاتھ بڑھا کہ اسے چھوا،جوسلین بے تابی سے میرے سینے پر آلگی،میں نے اس کی آنکھوں کو چوم لیا پھر اس کے گالوں سے چوما، پھر اس کے ہونٹوں پر اپنے لب رکھ دیا،جیسے کوئی آبِ حیات کے پیالے کو منہ لگاتا ہے،اور پھر میں اس کے ہونٹوں کی شراب کو دھیرے دھیرے پینے لگا،میرے ہاتھوں میں ایک انمول جینئس عورت تھی،سیکس کے بارے میں اس کی مہارت استاد کے درجے سے آگے رہنما تک چلی گئی تھی،اس کی گردن میرے ایک بازو پر تھی اور اس کا چہرہ میری طرف تھا اس کی گردن کیطرف دیکھتے ہوئے مجھے سمجھ آئی کہ اس نے اپنے لیے تحفہ کیوں لینے کو کہا تھا،
وہ آج کی رات کو یاد گار بنانا چاہتی تھی،میں نے شیروانی کی جیب سے چین نکالی تو جوسلین کی آنکھوں میں چمک آگئی،اس کے گال لال رنگ کے ہونے لگے،مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ شرما رہی ہے،بعد میں ایک کتاب میں پڑھا کہ طوائف بھی ایسے مرد کے پاس آ کہ شرما جاتی ہے جسے دل سے اپنا مرد اپنا محبوب مانتی ہے،میں نے ایک ہاتھ سے ہی چین اس کے گلے میں ڈال دی،اور ڈائمنڈ آگے کر دیا،وہ چھوٹے سے دل کی شکل میں تھا،شکریہ میرے پرنس ،میں ہمیشہ اس تحفے کو اپنے دل سے لگا کر رکھوں گی،اب میں بھی اپنےپرنس کو تحفہ دینا چاہتی ہوں ،لیکن سوچ سوچ کے دماغ تھک گیا ہے اور سمجھ پھر بھی نہیں آیا کہ میں اپنے پرنس کے لائق کیا تحفہ دوں ،بڑا سوچا تو ایک تحفہ سمجھ میں آیا،اگر تم قبول کر لو تو میں سمجھوں گی کہ میری زندگی کی ہر مراد پوری ہوگئی،میں سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگا،اپنا ہاتھ آگے کرو ،جوسلین نے کہا تو میں نے ہاتھ آگے کر دیا،جوسلین نے میری آنکھوں میں دیکھا اور اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دیا،


آج سے میں مکمل رضا مندی سے اپنا آپ اپنے پرنس کو سونپتی ہوں ، میں اس کے الفاظ اور لہجے کی تاثیر میں کھو گیا،جوسلین نے لہنگے کا اوپری حصہ اتار دیا ،جیسے گفٹ کا ریپر اتارا جاتا ہے،اس کا چاندی جیسا جسم تھا یا دودھیا بدن تھا ، یا شہد کا ذائقہ کھلا ہواتھا یا اس کا جسم ریشم جیسا تھا سلکی بدن ،بلکہ نہیں جسمانی تعریف میرے لیئے تو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے اور کیفیات بیان کرنے کیلیے تو الفاظ کی کم مائیگی کا شدید احساس ہوتا ہے بس جو بھی تھا بےحد تھا بے پناہ تھا میں نے اس کی کمر اپنے سینے سے لگا لی اور اور اس کا بریزیر اتارنے لگا،ہُک کھول کے میں نے ہاتھ پیچھے سے اس کی برا میں جانے دیئے اور ریشمی ممے پکڑ لیا،دونوں ہاتھوں سے مموں کو آہستہ آہستہ مسلنے لگا،اور ساتھ میں اس کے کندھے اور گردن کو چومنے لگا،تھوڑی دیر بعد جوسلین نے اپنا چہرہ میری طرف کر لیا،اور میر شیروانی کے بٹن کھولنے لگی،شیروانی اتار کے اس نے میرا کرتا اور بنیان بھی اتار دی،اور ساتھ ہی میرے ناڑے پر ہاتھ ڈال دیا،پاجامہ اتار کہ ہم ساتھ ساتھ لیٹ گئے،اور میں اس کا چہرہ چومنے لگا،چہرہ چومتے ہوئے میں اس کے گردن چو متا ہوا اس کے کندھے اور سینہ چومنے لگا،میرے ہاتھ مسلسل اس کےممے کو سہلا رہے تھے،اسی طرح میں اس حسین وادی کے پگڈنڈیوں پر ادھر ادھر پھرتا ہوا اس کے پیٹ کو چومتا ہوا اس کا لہنگا اتارنے لگا،لیکن جوسلین نے میرا ہاتھ پکڑ لیا،آہ میرے پرنس بہت اچھا کر رے ہو ،پر جو بھی کرنا ہے اس لہنگے کے ساتھ ہی کرنا ہے تا کہ اس کی قیمت وصول ہو جائے ،


میں نے آہستگی سے اس کا لہنگا اوپر اٹھا دیا،نیچے ۔۔۔۔ اس نے کچھ نہیں پہنا ہوا تھا،میں براہ ِ راست اس کی انہدامِ دانی (چوت)کو دیکھنے لگا،بے شک کپڑے اتار کے اس کا حُسن دُگناتِگنا ہو گیا تھا ،میں اس کی ٹانگیں چومتا ہوا واپس مموں پر آگیا اور ممے چوسنے لگا،اسوقت میں اتنا ماہر نہیں تھا،پھر مجھ پر جوسلین کی شخصیت کا بھی رعب تھا،کیونکہ ایک تو وہ حسین بہت تھی اوپر سے سیکس میں استاد سے بھی آگے تھی،میں اسے سیکس میں کیا مزہ دے سکتا تھا،نازیہ نے میری جھجک محسوس کر لی،میرے پرنس،سیکس کے بارے میں دنیا کا سار علم بھی کسی کو آجائے تو پھر بھی چودائی کیلیے نہ کوئی نیا سوراخ نکل آنا ہے اور نہ کوئی چودنے کو عضو کےساتھ کچھ اور نکل آنا ہے یہ موری ہے اور یہ عضو ہے اور اسی طرح چوما چاٹی کیا جاتا ہے،ویسے بھی تمھیں کسی مہارت کی ضرورت نہیں ہے ، جو کچھ تمھارے پاس ہے ،اسے کسی مہارت کی ضرورت نہیں ،تم ہاتھ ہی لگا دو تو جسم میں مزے کی لہریں اٹھنے لگتی ہیں،اسلیے کھل کے پیار کرو اپنی جوسلین کو،جوسلین کے الفاظ سے مجھ میں بے باکی آگئی اور میں عضو اس کی چوت پر رگڑتے ہوئے ممے چوسنے لگا،جو مجھے آتا تھا میں وہی کر رہا تھا اور جوسلین کے تاثرات بتا رہے تھے وہ ایک ایک پل سے محظوظ ہو رہی ہے،یہ سیکس کے اثرات نہیں تھے بلکہ چہرے پر جوش تھا جیسے کوئی انمول خزانہ پانے کے تاثرات تھے،آہستہ آہستہ ہم پر سیکس غالب آنے لگا،میں کیا کر رہا تھا میں اس کے جسم کو اوپر سے نیچے چوم رہا تھا ،اس کے ممے چوس رہا تھا ،


اس کے جسم سے میرا جسم رگڑ کھا رہا تھا ،اس سے اسپارکنگ ہو رہی تھی ،اور اس اسپارکنگ سے جسم ہیجان میں مبتلا ہو رہے تھے،بعد میں جوسلین نے مجھے بتایا کہ اسے فورپلے کہتے ہیں ،ہمارے دیسی ماحول ماحول میں اسے گرم کرنا کہتے ہیں ،لیکن گرم کرنے اور فور پلے کی تھیوری اور پریکٹیکلی میں بہت فرق ہے،گرمی تو چوت کے پہلے حساس ترین مقام 
(المعروف چوت کا دانہ لیکن اس کا اردو میں صحیح نام بظرہے یہ مرغی کی کلغی یا مٹر کے دانے جیسا ہوتا ہے اور 1/5 یا 1/4 انچ ہوتا ہے یہ چوت کے لبوں کے اندر سوراخ سے ڈیڑھ انچ اوپر ہوتا ہے مگر کچھ عورتیں چوت کے سوراخ والی جگہ سے زیادہ گرم ہو جاتی ہیں بظر کو چودائی کے دوران عضو چھو نہیں سکتا اسے انگلیاں سے ہی چھیڑا جا سکتا ہے یا عضو ہاتھ میں پکڑ کر اس کے ہیڈ کو اس پر رگڑا جا سکتا ہے )
کو چھیڑنے سے بھی چڑھ جاتی ہے ،سچی بات تو یہ کہ 
جوسلین کے جسم سے میرا دل نہیں بھر رہا تھا،اورجوسلین اب چودائی کیلیے اُتاولی ہو رہی تھی ،میرے لیے یہ بڑی بات تھی کہ جوسلین جیسی سیکس جینئس کو میں سیکس کے ہیجان میں مبتلا کرچکاتھا۔آہ میرے پرنس تمھارا جادو سر پر چڑھ گیا ہے،آج تک مجھے چودائی کیلیے کوئی بھی اتنا بے تاب نہیں کر سکا،یہ سب تمھاری جنسی کشش کا کمال ہے،اب اندر ڈال دو اور ہمیشہ کیلیے مجھے اپنا بنا لو،بے شک تم وہی ہو جس کی صرف آرزو کی جاسکتی تھی،جوسلین کا حُکم سرآنکھوں پر مگر میرا دل اس کے جسم کی رعنائیوں سے نہیں بھرا تھا،پھر بھی میں نے اس کی ٹانگیں کھول کے مخصوص پوزیشن بنائی ،جوسلین مجھے گہری نظروں سے دیکھ رہی تھی ،لہنگے کے پیچھے والا حصہ اس کی گانڈ اور ٹانگوں کے نیچے پڑا تھا ۔میں اسے اوپر کرنا چاہا تو اس نے سر ہلا کہ مجھے منع کر دیا ،گویا اس وقت بولنے کی بھی حالت نہیں تھی،بہر حال میں نے اس کی ٹانگوں کو موڑا اور گھٹنے اوپر کی طرف ہو گئے اور میں آگے ہوا ،میرے گھٹنے لہنگے کے اوپر آگئے،اچھے بھلے لہنگے کا ستیاناس ہونے لگا تھا 
کیونکہ ا سکا کپڑا بڑا ہی نازک تھا لہنگا تقریباً ڈیڑھ لاکھ کا توتھا ہی ۔شایدجوسلین اس کا ستنیا ناس ہی چاہتی تھی،میں تھوڑا آگے ہوا اور عضو اوپر رکھنے لگا تو جوسلین نے اپنا ہاتھ بڑھا کے میرا عضو پکڑ لیا اس کے لیے اسے تھوڑا اوپر ہونا پڑا ،میرا عضو اپنی چوت پر صحیح رکھ کہ جوسلین نے میری طرف دیکھاتو میں نے اندر ڈالنا شروع کر دیا ،جوسلین کی آنکھیں اس منظر پر ایسے چپکی ہوئی تھیں جیسے وہ اس لمحے کو اپنی آنکھوں میں ہمیشہ کیلیے محفوظ کرلینا چاہتی ہو، عضو اندر جاتا ہوا کچھ حیران تھا کیونکہ چوت کی دیواروں نے اسے گرم جوشی میں لپٹ کر خوش آمدید کہا ،جیسا 
جوسلین نے اپنے بارے میں بتایا تھا،ایسے تو چوت کھلی نہیں تو نارمل ہی ہونی چاہیئے تھی،لیکن یہ تو تنگ تھی،شاید کم عمر نظر آنے کی طرح ا سمیں بھی جوسلین کا کوئی کمال تھا ،

Share this post


Link to post
Share on other sites

(تھوڑی سے پھٹکری چوت پر ملنے سے وہ سوج جاتی ہے کیونکہ چوت حساس ہوتی ہے اور پھٹکری تیز ہوتی ہے اوراس سوجن سے چوت ٹائیٹ ہو جاتی ہے اس طرح کچھ کال گرلز یا شوقین لڑکیاں مزہ دینے کیلیئے یا کنورا پن محسوس کروانے کیلیے اور بھی کئی ٹوٹکےاستعمال کرتی ہیں ،لیکن جوسلین کی چوت اوریجنل ٹائیٹ تھی) میں بہت چُن کر سیکس پارٹنر بناتی ہوں ،اور شادی صرف ڈیڑھ سال چلی تھی شایدجوسلین نے میری حیرانگی محسوس کر لی تھی اور بات کو سمجھ گئی تھی، چودو پرنس اس لمحے کے میں نے برسوں خواب دیکھے ہیں،تمھیں پتہ ہونا چاہیئے خواب صرف خوش قسمت لوگوں کے پورے ہوتے ہیں اور تم سے ملنے کے بعد مجھے یقین ہوگیا ہے کہ میں خوش قسمت ہوں،میں حسبِ عادت آہستہ آہستہ چودنے لگا ،جوسلین نے اپنی آنکھیں بند کر لی،وہ مزے کے سمندر میں گہرا غوطہ لگانے کے لیئے تیار تھی۔


میں بھی تیز ہونے لگا،میری تیزی میں جوسلین کا جسم کا بڑا دخل تھا ،اس وقت میں جسم کے مرکز پر تھا اور وہاں پر سارے جسم کا نچوڑ تھا،اس نچوڑ سے میں میں اپنے لیئے مزہ نچوڑ رہا تھا،دھیرے دھیرے میری رفتار اور تیز ہونے لگی،جوسلین کا جسم ہلنے لگا،اگر میں نے جوسلین پر سحر کر دیا تھا اور اسے ہیجان میں مبتلا کر دیا تھا تو اس کے جسمانی حُسن نے مجھے بھی پاگل کر دیا تھا،اور اس پاگل پن میں میری رفتار اور دھکوں میں شدت آگئی تھی،اتنی شدت کے بیڈ بھی چوں چوں کرنے لگا تھا،جوسلین سسکاریاں بھرنے لگی،کبھی کبھی اس کی آواز تیز ہوجاتی ،جو کہ رات کے سناٹے میں دور تک جا سکتی تھی ،میں کچھ آہستہ ہوا ،چودو مجھے چودو ،پورا فلیٹ ساؤنڈ پروف ہے،جوسلین ہر بار کی طرح میری الجھن سمجھ گئی،ایک پل کیلیے میں آہستہ ہوا تھا اور دوسرے پل ہی میں وہیں سے چودائی شروع کر دی،شکر ہے چودائی کا ردھم ٹوٹا نہیں بلکہ ماحول اور زیادہ جم گیا،کیونکہ میں اب اور کھل گیا تھا اب میری بے معنی آوازیں نکل رہی تھیں ،جوسلین مسلسل مجھے بڑھاوا دیئے جا رہی تھی،خود اس کا بھی برا حال تھا ماحول ہی کچھ ایسا بن گیا تھا کہ ہم اپناکنٹرول کھو بیٹھے تھے،اور پتہ نہیں ایکدوسرے کو کیا کیا کہہ رہے تھے، جوسلین کا جسم میرے دھکوں سے تیز ہوا میں سوکھے پتوں کی طرح اڑ رہا تھا۔اتنی شدت سے میں نے نہ نگینہ کو اور نہ ہی پھر سحرش کو چودسکا تھا۔


یہ سارا کمال جوسلین کا تھا ،اور یہ جس کی طلب تھی اسے ہی ملنا تھا،جوش میں تھکن کا احساس تو کیا ہونا ،بس میں بھرپور دھکے لگانے کیلیے کچھ رفتا ر کم کر بیٹھا ،اور جوسلین اٹھ کے بیٹھ گئی مجھے اس نے کمر سے بانہوں کے گھیرے میں لے لیا ،اور اسی حالت میں مجھے پیچھے کیا تو میں بیڈ کی دوسری طرف سیدھا لیٹ گیا اور جوسلین میرے اوپر بیٹھ گئی ،ابھی تک عضو اس کے اندر ہی تھا،س نے لہنگا سائیڈوں پر پھیلا لیا،اور اوپر نیچے ہونے لگی، یقناًجوسلین چودائی کے جوش میں اوپر آگئی تھی اور اسی جوشیلے انداز میں اب چودائی کر رہی تھی،اب مجھے احساس ہو رہا تھا کہ سیکس میں استادی کسے کہتے ہیں ،اس اسٹائل میں نگینہ نے بھی چودائی کی تھی مگر اب سمجھ آرہا تھا کہ وہ تو بس اندر ڈالا اور دھکم پیل شروع کر دی ،اصل چودائی تو یہ تھی،اسوقت سے یہ میرا پسندیدہ اسٹائل بن گیا۔


یہ دوسرا آسان ترین اور چودائی کیلیے بہترین اسٹائل ہے اس میں عورت فاعلی کردار ادا کرتی ہے اس میں رفتار اور دھکے کچھ نہیں کرتے سب کچھ عورت یا لڑکی کا وزن کرتا ہے،عورت نے جوش سے بس اوپر جانا ہے اور پھر نیچے آتے ہوئے اس کا جسمانی وزن عضو پر ایسی چڑھائی کرتا ہے ایسا لپیٹتا ہے کہ بس کچھ نہ پوچھو کتنا مزہ آتا ہے ،لگے ہاتھوں پہلے مفید ترین اسٹائل کی بات بھی ہو جائے اور وہ یہ ہے کہ عورت نیچے لیٹی ہو اور مرد اوپر لیٹ کر یا بیٹھ کر یا کچھ بیٹھا کچھ لیٹا ،چودائی کرے،یہ دنیا کا سب سے بہترین ، آسان ترین اور مقبول ترین اسٹائل ہے، چوت کی ساخت کے اعتبار سے، اور پیار کو سامنے رکھتے ہوئے،ممے اور چہرہ بلکہ پورا جسم سا منے اور پہنچ میں ہوتا ہے،انکھوں سے چودائی کو دیکھتے ہوئے مزہ دوگنا ہوجاتا ہے تیسرا مقبول ترین اور بہترین اسٹائل گھوڑی بنانا ہے اسے عام طور پر ڈوگی اسٹائل کہتے ہیں یعنی کہ لڑکی کو ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل کُتّی بنا کر چودنا لیکن میں اسے گھوڑی اسٹائل کہنا زیادہ مناسب سمجھتا ہو ں،اس میں مرد اگر اپنے پاؤں پر کھڑا ہو تو زیادہ بہتر ہوتا ہے،جی اسپاٹ یعنی دوسرے حساس ترین جگہ کو اس اسٹائل میں بڑی اچھی طرح عضو سے چھوا جاسکتا ہے جس سے لڑکی جلدی انتہا پر پہنچ جاتی ہے،اس اسٹائل میں کچھ اور طریقے بھی ہیں جیسے لڑکی ہاتھ دیوار سے ٹکا کر ،یا ہاتھ کسی ٹیبل پر ٹکا کر یا کار کے دروازے کو پکڑ کر یا ائیر پلین میں سیٹ کا سہارا لیکر یا کسی شپ میں کسی بھی چیز کا سہارا لیکر گانڈ پیچھے نمایا ں کرے اسوقت لڑکی کو تھو ڑا جھکا کہ یا کھڑے کر کے چوت میں چدائی کی جا سکتی ہےمیرے تجربے کیے مطابق یہ تین اسٹائل سیکس کا نچوڑ ہیں۔


جوسلین کی ہر حرکت بتا رہی تھی کہ مزہ اس طرح لیا اور دیا جاتا ہے،جوسلین میری جان ،بہت مزہ آ رہا ہے میں بے اختیار بول پڑا،جوسلین چودائی کرتی کرتی میرے اوپر لیٹ گئی اور میرے چہرے کے سامنے اپنا چہرہ کر کے کہنے لگی،ایکبار پھر کہنا ،کیا کہا مجھے ؟ بہت مزہ آرہا ہے،میں نے اس کی فرمائش پوری کی،نہیں جو اس سے پہلے کہا تھا وہ مجھے کہو،جوسلین تھوڑا آگے پیچھے بھی ہورہی تھی جس سے چدائی کا مزہ بھی آرہا تھا میں نے کہا جوسلین میری جان میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پھر کہا، بہت اچھا لگا مجھے ،سن کر دلی خوشی ہوئی،اور جوسلین پھر بیٹھ کر چدائی کرنے لگی،جوسلین میری جان ،جوسلین میری جان میں اونچی اونچی چلانے لگا،جوسلین کھلکھلا کر ہنسنے لگی،اس کے انگ انگ سے خوشی پھوٹ رہی تھی اور اس خوشی میں ،جوسلین کی چدائی کا فن کھل کے سامنے آ رہا تھا ،گو کہ میں اس وقت میں سیکس کے باے میں کچھ نہیں جانتا تھا لیکن محسوس ہو رہا تھا کہ کہ وہ جو بھی کر رہی ہے بہترین کر رہی ہے،ابھی اس نے کہا تھا کہ سیکس ایکسپرٹ ہونے سے چدائی تو پھر بھی ویسے ہی ہونی ہے جیسے ہوتی ہے ۔


مگر حقیقت یہ تھا کہ ایک ہی کام کو عام فرد کے کرنے سے اور استاد کے کرنے میں بہت فرق ہے،میرے پرنس کیسا لگا تمھیں یہ اسٹائل ،جوسلین نے مخصوص انداز میں چودائی کرتے ہوئے مجھے مخاطب کیا، میں تو اس وقت ہواؤں میں اڑ رہا تھا ،ہر بات بوجھ لینے وا لی جوسلین مجھ سے کچھ خاص سننا چاہتی تھی ،زبردست اسٹائل ہے،مزہ آگیا،میرا پہلے بھی اتفاق ہوچکا ہے مگر جو آج ہو رہا ہے اِس میں اور اُس میں زمیں اور آسماں کا فرق ہے،زبردست جوسلین میری جان،میری بات سے جوسلین پھر کھلکھلا کر ہنسنے لگی،چلو اوپر آجاؤ اب تمھاری باری ہے ،جوسلین میرے اوپر لیٹ گئی ،مگر یاد رکھنا باہر نہ نکلے ،میں نے بیٹھ کر جوسلین کو پیچھے کیا وہ بازوؤں کے سہارے پیچھے لیٹ گئی اور پھر جوسلین میرے نیچے آگئی اور میں اس کے اوپر آگیا،عجیب بات تھی اس نے اس دوران لہنگا پھر نیچے لے لیا تھا۔میں اس کی چودائی کرنے لگا تھا پہلے ہم بہت تیز تھے پھر دھکوں میں شدت آتی گئی،پھر اس ہیجانی حرکات بھی آئیں جب ہم خود پر کنٹرول نہ رکھ سکے ،اور پھر جوسلین کے اوپر آنے سے ماحول بدل گیا ۔


میں اس کی چدائی کے سرُور میں ڈوب گیا،اور اب میں طاقت سے دھکے لگا رہا تھا مگر رفتار نارمل تھی،میں سوچنے لگا میری تو اتنی ٹائمنگ نہیں ہے ،میں تو حد پندرہ منٹ میں فارغ ہو جاتا ہوں،بلکہ ہر انسان کی پانچ سے لیکر پندر ہ منٹ تک ہی ٹائمنگ بنتی ہے ،اس سے کم اور اس سے زیادہ یا تو میڈیسن سے ممکن ہے یا پھر اس انسان کے ساتھ کوئی مسلہ ہے،جیسے پانچ منٹ سے کم والے وہ ہوں گے جو سگریٹ پیتے ہوں گے یا ہینڈپریکٹس کرتے ہوں گے اور بھی کئی وجوہات ہیں جیسے کبھی کبھی ہیجان میں مبتلا ہوں جائیں یا عرصے بعد سیکس کر رہے ہوں تو پانچ منٹ سے پہلے بھی فارغ ہو جاتے ہیں ،اور زیادہ منٹ والے وہ ہوں گے جو چرس ،افیم وغیرہ کے عادی ہوتے ہیں،یا میڈیسن استعمال کرتے ہیں ۔یا کچھ اور مسلہ ہو ،اگر کوئی کہے کہ اس وقت آدھا یا پونا گھنٹا قدرتی ہے تو پھر جھوٹ ہی ہو گا۔ یا کوئی سپر مین ہو شاید ،زیادہ تفصیل کی اسوقت گنجائش نہیں ہے۔


میں جوسلین سے پوچھنا چاہتا تھا کہ ہم ابھی تک فارغ کیوں نہیں ہوئے،مگر میں لگا رہا ایسی باتوں کو سمجھنے کیلیے بڑا وقت پڑا تھا۔ میں اسی بارے میں سوچ رہا تھا کہ جوسلین بول پڑی ،میرے پرنس ہم آنے والے ہیں ،جوسلین نے مجھے کچھ سمجھایا شاید اسے وقت کا کچھ اندازہ تھا اسی لیئے وہ نیچے آئی تھی ،نیچے آنے اور لہنگے میں ضرور کوئی تعلق تھا،اب میں بھی جوسلین کی طرح اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا تھا اور میں پھر جوش میں پہلے والے موڈ میں آگیا تھا اور دھکا دھک چودائی رہا تھا ،چودائی سےجوسلین کے ممے دلفریب انداز میں حرکت کر رہے تھے ،اور مجھے ان کو چھونے کی طلب ہو رہی تھی،،میں اپنے گھٹنوں کے بل اس کے اوپر لیٹ گیا ،تا کہ اس پر میرا وزن نہ پڑے اور اس کے ممے پکڑ کے چودائی کرنے لگا،میرے پرنس تم جو بھی کرو جسم میں مدّو جزر کی طرح اُتھل پتھل ہو جاتی ہے ۔میں سمجھتی تھی سیکس میں مہارت سے چودائی کا مزہ زیادہ سے زیادہ لیا جاسکتا ہے مگر میرے اندازے کے مطابق تمھیں اس کی ضرورت نہیں ہے اور اگر تم سیکس ایکسپرٹ بن بھی گئے تو دو آتشہ ہو جاؤ گے،تھوڑی دیر میں ہی ہماری حالت بدلنےلگی مجھے محسوس ہوا وقت قریب آ رہا ہے ،جوسلین بھی ایسے ہی لگ رہی تھی ،میرے پرنس سارا پانی اندر ڈال دینا ،میری چوت تمھارے پانی کا ذائقہ چکھنا چاہتی ہے،اس پانی کی مہک میں اپنے جسم میں سمونا چاہتی ہوں،اس پانی سے میں اپنی چوت کی پیاس بجھانا چاہتی ہوں ،میں نے سر ہلا دیا اس وقت میں بولنا نہیں چاہتا تھا نہیں تو اسے بتاتا کہ میں نے نگینہ اور سحرش کے اندر ہی پانی ڈالتا تھا ،نگینہ تجربے کار تھی اسے حمل کا کوئی ڈر نہیں تھا اور سحرش کے ساتھ اس کی بہن یا کوئی دوست تھی جو اس کوسیکس ٹریننگ دے چکی تھی ۔


آہ ہ ہ ہ ہ ،میرے پرنس،جسم میں جان کھچ رہی ہے،میری بھی حالت ایسے ہی تھی،منزل قریب ہی تھی،میں نے اضطراری انداز میں چدائی کرتے ہوئے کچھ دھکے اور پورے اندر جا کہ گہرائی میں مارے،اور میں اور جوسلین سسکے،ہم نے ایکدوسرے کو بانہوں میں جکڑ لیا،بلکہ میں نے تو اپنی ٹانگوں سے اس کے جسم کو کس لیا،جوسلین مجھے چمٹ چکی تھی،ہمارے جسم چھوٹے چھوٹے جھٹکے لیتے رہے،میرے پرنس میرا کبھی اتنا پانی نہیں نکلا،میرا بھی، میں نے اسے کہا،پھر میں علیحدہ ہونے لگا تو جوسلین نے مجھے بانہوں سے جکڑے رکھا،نہیں ابھی نہیں میرے پرنس ،فوراً علیحد ہ نہیں ہوتے،کچھ دیر اسی حالت میں پڑے رہتے ہیں،اور ہوسکے تو ایکدوسرے کو چوم کر پیار بھی کرتے ہیں ،جوسلین نے مسکراتے ہوئے مجھے پہلی بار سیکس نالج دیتے ہوئے کہا،کبھی کبھی یہیں سے دوبارہ موڈ بن جاتا ہے کیونکہ اندر رکھنے سے عضو جلدی سست نہیں ہوتا،ٹھیک ہے جوسلین میری جان میں نے مسکراتے ہوئے کہا،اور ہم نے لبوں کو لبوں سے جوڑ دیا،کچھ وقت ہم نے ایسے گزارا اور پھر میں عضو نکال کر جوسلین کے پہلو میں لیٹ گیا،جوسلین اٹھ کے بیٹھ گئی اور ہاتھ سے کچھ کرنے لگی،میں نے دیکھا تو ہمارا پانی لہنگے پر گرا ہوا تھا اور جوسلین چوت والا پانی لہنگے پر گرا رہی تھی،لہنگے کا ستیاناس ہو چکا تھا،جوسلین نے لہنگا اتار کہ ایک سائیڈ میں احتیاط سے رکھ دیا،اور میرے ساتھ لیٹ گئی،اس نے ایک بازو میرے اوپر رکھ لیا اور میری گردن سے نیچے سے گزار کر مجھے نزدیک کر لیاہمارے چہرے ایکدوسے کے سامنے تھے،میرےپرنس یہ لہنگا پہلی ملاقات کی یادگار کے طور پر ہمیشہ بغیر دھوئے اسی حالت میں سنبھال کر رکھوں گی۔یہ ہمیں پہلی ملاقات کی یاد دلاتا رہے گا۔


ہم ایکدوسرے سے لپٹے ہوئے پڑے تھے ،جوسلین کا جسم مجھے پھر بلا رہا تھا میں اسے دوبارہ چودنا چاہتا تھا۔جوسلین میرے عضو کو ہاتھ میں پکڑ کر سہلا رہی تھی،دل اس کا بھی کر رہا تھا،میرے پرنس چلو تمھیں جنت کی سیر کرواؤں،جوسلین نے اٹھ کر میرے عضو پر جھکتے ہوئے کہا،میں گہری نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا،جوسلین عضو کو منہ میں لیتے لیتے رک گئی ،کیا بات ہے میرے پرنس، اس نے میرے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،جوسلین میری جان اس میدان میں تم اکیلی ہو گی ،میں ادھر نہیں آؤں گا،تم بے شک پیچھے ہٹ سکتی ہو،میں نے اسے واضح طور پر سمجھا دیا ،اور وہ سمجھ گئی تمھیں میری چوت نہیں چاٹنی تو نہ صحیح ،لیکن میں اس عضو کو چوسے بغیر نہیں رہ سکتی ،جوسلین نے جھک کر میرا عضو پہلا چوما پھر اس کو قلفی کی طرح نیچے سے اوپر چاٹا اور پھر اسے منہ میں لے لیا،جوسلین نے سچ کہا تھا کچھ ہی دیر میں مزے کی جنت میں پہنچ گیا ،بلاشبہ جوسلین اورل سیکس میں ماہر تھی،اور اس نے مجھے اس سے بہت مزے دیئے،اس رات ہم نے کئی باربھرپور چودائی کی،اور صبح سو گئے۔


میرے پرنس اب اٹھ بھی جاؤ بہت بھوک لگی ہےناشتہ تیار ہے جناب،جوسلین کی پیار بھری آوز مجھے نیند کی وادیوں سے باہر لے آئی،میں نے وقت دیکھا توسہہ پہر ہو رہی تھی،جوسلین نے پہلی رات کو یادگار بنا دیا تھا مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے میں خواب میں تھا لیکن اب جوسلین کی موجودگی بتا رہی تھی کہ گزری رات ایک حقیقت تھی میں نے جوسلین کوخودسے لپٹا لیا اور اس کے ہونٹوں سے ہونٹ جوڑ دئے ،کچھ دیر ہم کسنگ کرتے رہے۔پھر جوسلین نے مجھے اٹھا لیا اور بڑے لاڈ سے کھنچتے ہوئے باتھ روم میں دھکا دیا اور باہر سے چٹخنی لگا دی ،جلدی سے نہا لو میرے پرنس،پھر مل کر ناشتہ کریں گے میں نہا کر نکلااور کچن میں ہی سیدھا چلا گیا،وہاں جوسلین میرے انتظار میں بیٹھی تھی،مجھے دیکھتے ہی جوسلین نے ایک ڈبیہ سے کچھ نکالا اسے ایک معجون کے ساتھ ایک کپ میں ڈ الا اور اسے پانی میں ڈال کر مکس کیا ،لو پرنس اسے پی جاؤ ،میں اسے پی گیا( یہ کشتہ مروارید تھااور اسے خمیرہ گاؤ زبان میں ڈال کر مکس کیا تھا اگلے پانچ سال تک میں اسے ہر روز نہار منہ لیتا رہا، شروع شروع میں جوسلین خود دیتی رہی پھر مجھے اس کی عادت ہوتی گئی کبھی کبھار خمیرہ گاؤزبان چھوڑ کر عرقِ گلاب میں بھی لیتا رہتا کبھی صبح نہ لے سکا تو دوپہر کو لے لیا کیونکہ اس وقت بھی کھانا کھانے سے پہلے معدہ خالی ہوتا ہے،صرف ایک ماچس کی تیلی کی نوک پر جتنا آ تا ا تنا ہی کشتہ مروارید میں استعمال کرتا) پھر ہم ناشتہ کرنے لگے،یہ ناشتہ اور دوپہر کا کھانا تھاکیونکہ اب سہہ پہر ہو رہی تھی ۔بڑا زبردست کھانا ہے یار ،کیا ذائقہ ہے تمھارے ہاتھ میں ،میں نے جوسلین کی کھل کے تعریف کی،جوسلین دھیما دھیما مسکرانے لگی،میں نے بڑے عرصے بعد اتنے اہتمام سے کھانا بنایا ہے،پرنس مجھے کھانا بناناکچھ خاص نہیں آتا تھا ،اور میری مما کہتی تھی جوسلین جب تم دل سے کسی کیلیے کھانا بناؤ گی تو کھانا زبردست بن ہی جائے گا اور اس دن تمھیں کھانے میں ذائقہ ڈالنا آجائے گا،تو آج پرنس مجھے تمھاری بدولت کھانا بنانا بھی آگیا،میں ہنسنے لگا،بات بے بات ہنسنے کودل چاہ رہا تھا،جوسلین کا چہرا بھی ایسا تھا جیسے قمقمہ جل اٹھا ہو،ہم ڈرائنگ روم میں آکر کافی پینے لگے،پھر وہاں باتیں کرتے رہے ،اور پھر ہم بیڈروم میں آگئے،میں نے جوسلین کو بانہوں میں لے کر ہونٹوں سے ہونٹ جوڑ دئے ،پھر وقت بیتنے کا پتہ ہی نہیں چلا ۔


اسی سر شاری میں ایک ہفتہ گزر گیا،ہمیں کسی چیز کا ہوش نہیں تھا،بس ہم تھے اور ہماری مستیاں تھیں،اس دوران کچن ،باتھ روم، ڈرائنگ روم،لابریری ،بیسمنٹ ہرجگہ ہم نے سیکس کیا ،گویا یہ ہمارا ہنی مون کا پیریڈ تھا،لیکن ہم نے فلیٹ سے اک لمحے کیلیے بھی قدم باہر نہیں نکالا،جوسلین نے یونیورسٹی سے ایک ہفتے کی چھٹیا ں لی ہوئی تھیں،اب کل سے اس نے یونیورسٹی جانا تھا،پرنس تم نے میٹرک کیاتھاتو اس کا رزلٹ کیسا نکلا،میں نے رزلٹ کا پتہ ہی نہیں کیا،بلکہ سچ کہوں تو جوسلین میرا اس طرف دھیان ہی نہیں گیا،ٹھیک ہے تم اپنا رولنمبر بتاؤ اگر تمھیں یاد ہے تومیں رزلٹ کا پتہ کرواتی ہوں،میں نے اپنا رولنمبر بتا دیا،اگلے دن جوسلین یونیورسٹی چلی گئی ،اور میں فلیٹ میں تنہا رہ گیا،اور کچھ نہیں تو میں بائیک لے کراستاد کی طرف نکل گیااور گھر والوں کیلیے کچھ چیزیں بھی لے گیا،وہاں استاد کی بیوی بڑی چاہت سے ملی،کیوں رے بڑا بے مرّوت نکلا تو،ایک لمحے کیلیے ماں سے ملنے بھی نہ آیا،معافی چاہتا ہوں امّاں جی،فوری نہ آسکا،لیکن آپ لوگوں کی یاد مجھے بھی آتی تھی،استاد کے گھر والے میرے ساتھ بہت خوش تھے وہ دن بڑی تیزی سے نکل گیا،اور مجھے اداس بھی کر گیا،دوپہر کا کھانا کھائے بناء امّاں نے آنے نہ دیا،پھر ان سے اجازت لیکر میں فلیٹ میں پہنچ گیا،جوسلین آچکی تھی میں وہاں ایک چٹ لکھ کر گیا تھا اس لیئے وہ میرا ہی انتظار کر ہی تھی ،اسے بڑی بھوک لگی تھی ،جس بے تابی اور محبت سے جوسلین میرا نتظار کر رہی تھی ،میں اسے یہ نہ کہہ سکا کہ میں کھانا کھا کر آیا ہوں ،اور اس کے ساتھ کھانے میں شامل ہوگیا،،کچھ زیادہ ہی کھانے میری حالت میں بے زاری سی آگئی ،لیکن جیسے ہی جوسلین کی بنائی کافی پی تو حالت بہتر ہونے لگی،پرنس تم میٹر ک میں اچھے نمبروں سے پاس ہوگئے ہو،اب کیا ارادے ہیں تمھارے ؟ جوسلین جانتے بوجھتے میرے ارادے پوچھنے لگی،جوسلین تم جانتی ہو کہ میں آگے پڑھنا چاہتا ہوں،ٹھیک ہے تو پھر داخلہ کافی لیٹ ہونے کے باوجود میں نے تمھیں ایچی سن میں داخل کروا دیا ہے ،مجھے اس کیلیے کچھ اثرورسوخ استعمال کرنا پڑا ،اور اب میں چاہتی ہوں کہ کم وقت ہونے کے باوجود تم فرسٹ ائیر میں کوئی پوزیشن لے کر دکھاؤ،کل سے تم کالج جاؤ گے اور شام کو تمھیں ایک ٹیچر بھی پڑھانے آیا کرے گی،جوسلین سب کچھ طے کر چکی تھی اور اسی طرح ہوا اگلے دن میں کالج اور جوسلین یونیورسٹی چلی گئی،کالج کے بعد ہم آگے پیچھے ہی فلیٹ واپس ہوئے ،کھانے اور کچھ دیر کے آرام کے بعد سہہ پہر کو ہی ایک ٹیچر مجھے پڑھانے آگئی، میں حیران ہوا وہ ایک جوان لڑکی تھی۔
شاید اس کی عمر 26 سال ہو،بعد میں اندازہ ہوا وہ جوسلین کی اسٹوڈنٹ رہ چکی تھی،اور اب کوچنگ سنٹرمیں پڑھاتی تھی،اسے کم وقت میں تیاری کروانے میں مہارت تھی،،مجھے اسپیشل جوسلین کی وجہ سے فلیٹ پر ہی وقت دینے پر رضامند ہوگئی تھی،پڑھانے بیٹھی تو پتہ چلا کہ اپنے شعبے میں بڑی ماہر ہے،،اچھی بھلی خوبصورت لڑکی تھی،بڑی ہی دلکش اور حسین تھی،اسے دیکھ کہ مجھے خماری چڑھنے لگی۔وہ گئی تو شام کو ایک اور استاد آگئے یہ میرے مارشل آرٹ کے استاد تھے ۔شاید جوسلین ایک ہی بار میں میری ہر خوہش پوری کردینا چاہتی تھی، رات کو ہم اکھٹے کھانا کھاتے اور اس کے بعد دیر تک باتیں کرتے جب کھانا اچھی طرح ہضم ہوجاتا تو ہم بیڈ روم میں چلے جاتے اور ہماری مستیاں شروع ہو جاتی،،دھیے دھیرے وقت گزرنے لگا،اور میں معمولات کا پابند ہوتا گیا،ٹیوشن ٹیچر بڑی لے دے کہ رہتی تھی،شاید اس کی وجہ یہ ہوگی کہ جوسلین پڑھائی کے دوران اپنا آپ محسوس کرواتی رہتی تھی،گو کہ ہم لائبریری میں پڑھتے تھے،لیکن مجھے محسوس ہوا کہ جوسلین ہمیں اکیلا چھوڑنے کو بالکل تیار نہیں تھی،میں سمجھ گیا کہ جوسلین کبھی بھی مجھے کسی کے ساتھ بانٹے گی نہیں ،بلکہ اپنے حقِ ملکیت جتاتے ہوئے کسی کو میرے پاس بھی نہیں آنے دے گی،،بہر حال یہ ضرور تھا کہ ٹیچر پر میری شخصیت اثر انداز ہونے لگی تھی ،بھلا وہ اس سے کیسے بچ سکتی تھی۔۔ معمولات چلتے رہے اور جلد ہی جوسلین نے مجھے ناولز پڑھنے کیلیے دینے لگی ،پھر اس کے بار ے میں پوچھتی کے پڑھا کہ نہیں ،اگر میں کہتا پڑھا ہے تو وہ اس کے بارے میں بحث کرتی ،آہستہ آہستہ مجھے ناولز پڑھنے کی عادت ہوگئی،شروع میں ہی جوسلین نے مجھے ممتاز مفتی کا علی پور کا یلی پڑھنے کو دیا،میں اس کی تحریر میں کھو سا گیا،کیا کشش تھی ممتاز مفتی کی تحریر میں ،ایسے لکھاری کم ہی ہوتے ہیں جو لفظوں سے سحرطاری کرد یتے ہیں اس میں ممتازمفتی کے اینکر اینڈی ماباؤ نے مجھے کافی محظوظ کیا،آخر میں نے اس طویل ترین ناول کوختم کر کے ہی دم لیا،اس طرح ابنِ صفی/مظہر کلیم ایم اے ،نسیم حجازی ،قمر اجنالوی ،اے حمید ،طارق اسماعیل ساگر کے دلچسپ ترین ناول پڑھنے لگا،اور مجھے ان کی لت لگ گئی ،اس وقت مجھے نہیں پتہ تھا کہ جوسلین مجھے کتابوں کے مطالعہ کیلیے بک ریڈنگ کی عادت ڈال رہی ہے ،ٹیچر سے میری آنکھ مچولی چلتی رہی ،وہ ظاہر کرتی رہی کہ اسے مجھ میں کوئی دلچسپی نہیں تھی،لیکن میں سمجھ رہا تھ اکہ اس کے دل میں پرنس کی شبیہ آچکی تھی،میرے سامنے بیٹھتے ہی اس کی آنکھیں بولنے لگتی،لیکن وہ جوسلین سے بہت محتاط تھی بلکہ ڈرتی تھی ،میں یہ سب محسوس کر رہا تھا اور میں بس کسی موقع کے انتظار میں تھا،ایک طرح سے میں جوسلین کی کڑی نگرانی میں تھا،ساتھ ہی ساتھ جوسلین نے مجھے سیکس کی تھیوری سمجھانی شروع کر دی،پریکٹیکل تو ہم ہر رات کرتے تھے۔


سب سے پہلا سبق جو جوسلین نے مجھے دیا وہ تھا کہ سیکس کیا ہے ،کیوں ہے ،اور اس کی کتنی قسمیں ہیں ،پرنس آج کی میری بات یاد رکھنا ،چودائی کی بھوک ہر انسان میں ایسے ہی قدرتی طور پر ہے جیسے پیٹ کو کھانا کھانے کی بھوک لگتی ہے ،سیکس کے حوالے سےنفسیات کے بابا آدم سگمنڈفرائڈ کہتا ہے کہ ہر انسان کی افزائش نسل کے ساتھ ساتھ سیکس کی بھوک پروان چڑھتی ہے،فرائڈ اسے لبیڈو کا نام دیتا ہے چودائی کی بھوک قدرت نے اس لیئے انسان میں ڈالی ہے کہ اس سے انسان کی نسل بڑھتی رہے ،اور اس میں بے مثال مزہ ڈال دیا ہے کہ انسان اپنی بھوک مٹانے کیلیے یہ کام کرتا رہے اور نسلِ انسانی بڑھتی رہے ،ظاہر سی بات ہے کہ اگر انسانیت کی بڑھوتری کا کوئی سامان نہیں ہوتا تو انسان کب کا ختم ہو جانا تھا اس کیلیے تمام مذاہب شادی کرنے کو کہتے ہیں،لیکن کیونکہ یہ مذہبی بحث ہے اور ہم آزاد سوسائٹی کے افراد ہیں ،تو ہمیں اپنی بھوک مٹانے کیلیے جہاں موقع ملتا ہے ،ہم اپنی بھوک کی تسکین کرنے لگتے ہیں ،اس کی کچھ قسمیں بھی ہیں ،
نمبر 1۔لڑکے کا لڑکی سے سیکس ۔
نمبر 2 ،لڑکے کا لڑکے سے سیکس ۔
نمبر 3 ،لڑکی کا لڑکی سے سیکس ۔
نمبر 4، سیلف سیکس ، یعنی مشت زنی ۔
نمبر5،جانوروں سے سیکس 
بنیادی طور پر یہی سیکس ہیں ،ان میں جنس کو جنس سے تقابل کیا گیا ہے ،لیکن کچھ باتیں ایسی بھی سامنے آئی ہیں جو سیکس میں نئی روایات ڈال رہی ہیں ان میں جنس سے جنس کا تقابل تو نہیں ہے ،لیکن نئی جدت نے سرگھما کہ رکھ دیا ہے، یہ ہے انسیسٹ سیکس ۔
نمبر 6خونی رشتوں کا آپس میں سیکس ۔
نمبر 7 ، وائف سویپنگ یعنی بیویوں کی ادلا بدلی 
خونی رشتوں کا سیکس ہمارے ہاں دیور بھابی اور سالی ،بہنوئی ،اور سسر اور بہو کی شکل میں موجود تھا لیکن اب یورپی وبا سے بہن بھائی اور ماں بیٹے میں بھی شروع ہو گیاہے،اس کی بنیاد تاریخ میں تو بہت پرانی ہے،جیسے عظیم ایمپائیر یونان میں کیلی گولا اور نیرو کا دور میں یہ ہوتا تھا تھا،مغرب نے سیکس کی تمام روایات یونان لی ہیں،یہ سب یونانی ایمپائیر کے معاشرےسے آئی ہیں،آگ پرست طبقہ جو کہ پارسی کہلاتا ہے اور ایران ان کا مسکن رہا ہے ، یہ لوگ مزہبی احکامات کے تحت بہنوں اور بیٹیوں سے شادی کر لیتے تھے،ایک اور مثال سندھ کے راجہ داہر کی ہے اس نے اپنی بہن سے شادی کر لی،،کچھ کہتے ہیں اس نے سیکس نہیں کیا تھا ،لیکن جب شادی ہوگئی اور کوئی روکنے والا بھی نہیں تو پٹرول اور آگ ایک دوسرے سے دور کیسے رہ سکتے ہیں، 


( پانچ اکتوبر 2014 کو پاکستان اخبار میں تازہ نیوز آئی ہے جرمن حکومت کی کونسل برائے اخلاقیات نے ایک تجویز دے دی ہےکو نسل کا کہنا ہے کہ جرمن معاشرے میں بہن اور بھائی کے آپس میں جنسی تعلق کو قانونی اجازت ہونی چاہیے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ یہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے کہ وہ کس کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ اس وقت کونسل پیٹرک سٹیوبنگ کا مقدمہ سن رہی تھی، پیٹرک نے اپنی سگی بہن سوسین کیرول سے شادی کررکھی تھی اور دونوں کے چار بچے بھی تھے۔جرمن حکومت کی اس تجویز پر دیگر یورپی ممالک میں شدید تنقید بھی کی جارہی ہے۔) 


مرد کا مرد سے سیکس ہمارے معاشرے میں بہت پرانا ہے مغل بادشاہوں نے تو خاص طور پر اس میں بڑا حصہ ڈالا ہے،عورت سے عورت کا سیکس بھی ہمارے معاشرے میں پہلے سے موجود تھا ، اس راز سے پردہ عصمت چغتائی اپنے مشہور افسانے لحاف میں کافی پہلے اٹھا چکی ہے جانوروں سے سیکس گو کہ ٹرپل ایکس موویز کے ذریعے سامنے آیا ہے وہاں پیٹس (پالتو جانور کتا بلی وغیرہ ) کا رواج ہے اور ان کے معاشرے میں فرد کی تنہائی بھی مو جود ہے لیکن ہمارے ہاں بھی یہ موجود ہے ،اس انداز سے نہیں لیکن ہے ضرورر جیسے پالتو جانور گائے بھینس وغیرہ کو باڑے میں ہی جنسی تلذذ کیلیے چودنا ،اب رہ گیا سیلف سیکس یعنی اپنے ہاتھ سے خود کے ساتھ چودائی کا مزہ لینا ،جس میں لڑکا اپنے ہاتھ سے چوت بنا کے اسے چودتا ہے اور لڑکی اپنے انگلی کو عضو بنا کے خود کو چودتی ہے ،یورپ میں تو اس کے لیئے کھلونے بھی ملتے ہیں ،اور نرماہٹ کیلیے آئل یا کریمیں بھی ملتی ہیں، وہاں یہ سیکس کا ایک حصہ ہے اور اس پر کسی کو شرمندگی نہیں ہے ،لیکن ہمارے ہاں یہ ایک بیماری سمجھا جاتا ہے ،ہمارے ڈاکٹروں اور حکیموں نے اسے جنسی طاقت کا خاتمہ کہاہے اور سارے پاکستان کی دیواریں اور ہفتہ وار میگزین مردانہ کمزوری کے علاض سے بھرے ہوتے ہیں ۔


لہذا ،ان نفسیاتی الجھنوں سے پاکستان میں سیلف سیکس کرنے والے لڑکے جلد منی نکل جانا یعنی سرعتِ انزال اور منی پتلی اور عضو کا ٹیڑھا پن اور جریان وغیرہ کا شکار ہوجاتے ہیں ،اور کثرت کے ساتھ ہینڈ پریکٹس کرنے سے جسم میں خون کی کمی بھی ہو جاتی ہے ساتھ ہی ساتھ طبیعت میں شرمیلا پن اور تنہائی پسندی بڑھ جاتی ہے ،تم اسے احساس کمتری بھی کہہ سکتے ہو ۔اصل میں نفسیاتی الجھنوں سے بچا جائے تو اس سے کسی لڑکے کو طبیّ لحاظ سے کو ئی نقصان نہیں ہو سکتا ایک طرف ایک انسان دھڑا دھڑ چدائی کرتا ہے اور ان مسائل سے بچا رہتا ہے اور دوسری طرف ایک انسان مشت زنی کرتا ہے تو کئی مسائل کا شکار ہوجاتا ہے یہ نفسیاتی الجھنوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔


ایک انگریزی کہاوت ہے کہ٪ 95 انسان مشت زنی کرتے ہیں اور جو باقی 5 ٪ ہیں وہ جھوٹ بولتے ہیں لیکن لڑکیوں کو یہ نہیں کرنا چاہیئے یہ حقیقت ہے کہ میڈیکلی یہ ان کیلیے کافی نقصان دہ ہے اور معاشرتی طور پر تو بہت ہی خطرناک ہے کیونکہ پاکستانی مرد خود جو مرضی کرتا پھرے لیکن اپنی عورتوں کے ساتھ ایسی کوئی بات منسوب ہوتے ہی اس کی غیرت ابھر آتی ہےلیکن دوسرے کی بیٹیوں پر اس کی رال ٹپکتی ہے،تو ایسے دوغلے معاشرے میں پاکستانی لڑکیوں کو بے حد محتاط زندگی بسر کرنی چاہیئے ، (یاد رہے جوسلین کرسچن ہے )اور پرنس یہ جو بتایا جاتا ہے کہ یہ ہارڈ کور ہے یہ فیٹش ہے ،اینل سیکس ہے ، گروپ سیکس وغیرہ یہ سب سیکس کی قسمیں نہیں ،بلکہ چودائی کے انداز /طریقے ہیں اور اوپر بیٹھ کر کرنا،نیچے لیٹ کر کرنا ،کھڑے ہو کرنا ،بیٹھ کر کرنا یہ سب سیکس کہ مختلف آسن ہیں اسٹائل ہیں ہے یہ بنیادی باتیں ہیں اور تمھیں وقتاً فوقتاً مزید معلومات ملتی رہیں گی،جوسلین رسانیت سے بات کرتے ہوئے اپنی بات ختم کر دی ۔


اسی طرح وقت گزرتا جا رہا تھا،ایک دن جوسلین تھکی ہوئی تھی اور اپنے کمرے میں لیٹی تھی ادھر ٹیچر آگئی،ہم پڑھتے رہے جوسلین نے بس ایک چکر لگایااور پھر لیٹ گئی جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کہ وہ ہمارے پاس لائبریری میں نہیں آتی تھی بلکہ اپنے ہونے کا احساس دلاتی رہتی تھی، میں نے موقع غنیمت جان کر ٹیچر کا ہاتھ پکڑ لیا،مجھے یقین تھا ٹیچر میری کشش میں پھنس چکی ہے ،جیسے ہی میں نے ہاتھ پکڑا اس کی نظریں سب سے پہلے دروازے کی طرف اٹھی،لیکن وہاں کسی کو نہ دیکھ کر وہ خاموشی سے اپنا ہاتھ چھڑانے لگی،،میرے لیئے اتنا ہی بہت تھا کہ نہ تو اس نے شور مچایا تھا اور نہ ہی مجھ سے کسی قسم کہ غصے کا اظہار کیا تھا،آخر میں نے اس کا ہاتھ پشت سے چوم کر چھوڑ دیا،ٹیچر میری طرف شاکی نظروں سے دیکھنے لگی،کچھ لمحیں بیتے ہوں گے کہ جوسلین دروازہ کے سامنے سے گزری،ہم پڑھ رہے تھے،جوسلین جیسی جیئنس کہ ہوتے ہوئے ایک نیا کھیل شروع ہو گیا تھا،جس کی ابھی اسے خبر نہیں تھی،سال پورا ہونے والا تھا میرے پیپرز آگئے تھے اس دوران میں دو سو کہ لگ بھگ ناول پڑھ چکا تھا اور میری پڑھنے کی رفتار کافی تیز ہو گئی تھی،مارشل آرٹ میں بھی میں بھی چل نکلا تھا ،میں اچھے نمبروں سے پاس ہوگیا لیکن جوسلین اس سے خوش نہیں تھی وہ چاہتی تھی میں کوئی پوزیشن لوں،اس پر جوسلین ٹیچر سے غصے بھی ہوئی،لیکن غنیمت تھا کہ اسے نکالا نہیں ۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...