Jump to content
URDU FUN CLUB
Last Chance ! Private Cloud Activation Last Date 15-11-2020 After Last Date Not include Previous Purchase in your Private Cloud
Sign in to follow this  
tanu1751

چا چی کا دیوانہ

Recommended Posts

میری انٹرنیٹ پر کسی بھی فورم پہ پہلی تحریر ہے اور اردو میں بھی پہلا تجربہ ہے اسلئے کسی بھی لفظی غلطی کی پیشگی معذرت چاہتا ہوں ایک بات کی گارنٹی دیتا ہوں کہ یہ خالصتا میری اپنی اصلی اور حقیقت پر مبنی کہانی ہے میرا نام کاشف ہے اور میرا تعلق پنجاب کے شہر شیخوپورہ کے نواحی علاقےسے ہے لیکن والد صاحب کی نوکری اسلام آباد میں ہو گئی اور میں اور میری فیملی وہاں شفٹ ہو گئے. یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں بارہویں کے امتحان دے کر فارغ ہوا تھا اور دوستوں کے ساتھ آوارہ گردی اور نیٹ کے استعمال کے علاوہ کوئی اور خاص کام نہیں تھا ایک ایسا کام تھا جو میں بلا ناغہ دسویں کے بعد رات کو سونے سے پہلے کیا کرتا تھا وہ یہ کے پورا ایک گھنٹہ زیتون کے تیل سے اپنے لن کی مالش کیا کرتا تھا اور مالش کی بدولت تقریبا 2 انچ موٹا اور 6 انچ لمبا ہو چکا تھا لیکن بدقستمی سے آج تک اِس کو پھدی کا مزہ نہیں چکھا پایا تھا پِھر ایک دن میری زندگی نے پلٹا کھایا اور مجھے سیکس اور پھدی کی دُنیا سے پہلی دفعہ روشناس کروایا .ہوا کچھ یوں کے میں نے شیخوپورہ اپنےآ با ئی گھر جانے کا پروگرام بنایا جہاں پے اب میری دادی اور دو چچا اور ان کی فیملی کے لوگ رہتے ہیں بڑے چچا کی شادی ہوئی ہے اور سرکاری ملازم تھے اور وہ فوت ہو چکے ہیں ان کے دو بچے ہیں بیٹے کی 16 سال عمر ہے اور بیٹی وہ 14 سال کی ہے اور چھوٹے چچا کی شادی نہیں ہوئی وہ بھی نوکری کرتے ہیں اور وہ بھی سرکاری ملازم ہیں جب میں وہاں شام کو پنچا تو بہت گرمی تھی جون کا مہینہ چل رہا تھا مجھے دیکھ کر وہاں سب خوش ہوئے ہم سب نے مل کے كھانا کھایا اور سونے کی تیاری کرنے لگے گاؤں اور دیہاتوں کا ماحول یہ ہی ہوتا کے لوگ کھلے صحن یا چھت پر سوتے ہیں چھوٹے چچا اور بڑے چچا کا بیٹا نیچے اپنے کمرے میں ہی سوتے تھے ویسے بھی چچا کے بیٹے کو رات کو دیر تک ٹی وی دیکھنے کا شوق تھا چچی نے چھت پر میری بھی چار پائی لگا دی تھی میں سفر کی وجہ سے تھکا ہوا تھا اور چار پائی پے لیٹ گیا اور کچھ دیر میں ہی میری آنکھ لگ گئی رات کو جب سب سوئے ہوئے تھے اچانک مجھے گرمی کی وجہ سے پیاس اور گرمی محسوس ہوئی اور گرمی اور پیاس کی شدت سے میری آنکھ کھل گئی ساتھ چار پائی پر چچی سوئی ہوئی تھی جب وہاں دیکھا تو ان کی چار پائی خالی تھی میں نے سوچا ہو سکتا ہے باتھ روم گئی ہوں یا پیاس لگنے کی وجہ سے پانی پینے کے لیے گئی ہوں میں چار پائی سے اٹھا اور چھت پر بنا ہوا ایک کمرا تھا جس میں پانی کا کولر پڑا ہوا تھا اس کمرے کی طرف چل پڑا جب میں کمرے کے دروازے پے پونچا تو دروازہ بند تھا لیکن دروازے کے نیچے سے ہلکی سی روشنی آ رہی تھی میں تو پہلے حیراں ہوا اگر چچی پانی پینے آئی ہیں تو دروازہ بند کر کے کیوں پانی پی رہی ہیں اور اگر وہ اندر نہیں ہیں تو پِھر یہ روشنی کس چیز کی ہے میں نے دروازے کو ہلکا سا پُش کر کے کھولنے کی کوشش کی تو وہ اندر سے لاک تھا میں ابھی اِس ہی سوچ میں تھا کے مجھے اندر سے کسی کے دروازے کی طرف چل کے آنے کی آواز آئی میں جلدی میں یہاں وہاں دیکھا مجھے کمرے کے ساتھ باہر والی سائڈ پے ایک ڈربہ نظر آیا اس کی بیک سائڈ پے کوئی 2 سے 3 فٹ جگہ خالی تھی میں جلدی میں وہاں جا کےچھپ گیا. کچھ ہی منٹوں کے بعد ہلکا سا دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور کوئی باہر نکلا اور ادھر اُدھر دیکھ کے سیدھا ڈربہ کے ساتھ بنی ہوئی کیاری کی طرف آنے لگا میں نے غور سے دیکھا تو مجھے چچی دکھائی دی جو کے کیاری کی طرف آ رہی تھی اور میں کیاری کے ساتھ بنے ہوئے ڈربہ جو کے 4 سے 5 فٹ اونچا تھا اس كے پیچھے پاؤں کے بل بیٹھا یہ منظر دیکھ رہا تھا لیکن مجھے وہاں کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا لیکن مجھے چاند کی روشنی میں صاف نظر آ رہا تھا جب چچی کیاری کے قریب پنچ گئی تو میں نے دیکھا کے چچی نے شلوار نہیں پہنی ہوئی ہے اور وہ نیچی سے پوری ننگی ہیں. جب وہ کیاری کے پس پنچ گئی تو انہوں نے اپنی قمیض آگے سے جب اُٹھائی تو مجھے جھٹکا سا لگا چچی واقعہ ہی نیچے سے پوری ننگی تھی اور میں نے پہلی دفعہ چچی کی صاف سُتھری بالوں سے صاف چکنی پھدی دیکھی . حیرت کا دوسرا جھٹکا اور لگا کے 2 بچوں کی پیدائش کے بعد بھی ان کی پھدی کسی بُندمٹھی کی طرح تھی جیسے کنواری گوری لڑکیوں کی میں نے موویز میں دیکھی تھی. چچی نے آہستہ آہستہ اپنی پھدی پے ہاتھ پھیرنا شروع کیا اور کچھ ہی دیر میں نے دیکھا کے ان کی پھدی سے پیشاب کی ایک تیز دھا ر سیدھا کیاری کی مٹی پر گرنے لگی اور اس وقعت جو آواز میرے کانوں میں گھونج رہی تھی وہ مجھے مدھوش کر رہی تھی میں یہ نظارہ کوئی ایک منٹ تک دیکھتا رہا جب وہ وہاں سے فارغ ہوئی تو دوبارہ اس ہی کمرے کی طرف واپس چلی گئی . میں ان کے جانے کے کوئی دو منٹ کے بعد چپکے سے وہاں سے نکلا اور کمرے کی طرف گیا اور اب کی بار دروازہ ہکا سا کھلا ہوا تھا لیکن ہلکی سی روشنی پِھر آ رہی تھی میں نے آہستہ سے تھوڑا دروازے کو پُش کیا اور صرف آدھا جسم ہی اندر کر کے جھانکا تو تھوڑا اندھیرا ہونے کے باوجود اندر کا جو منظر دیکھا وہ میرے ہوش ہی اڑا دینے کے لیے کافی تھا اندر چچی لیفٹ سائڈ پے ایک کونے میں چٹآ ئی کے اوپر پوری ننگی گھوری بنی ہوئی تھی اور ان کی پشت دروازے کی طرف اور منہ دوسری طرف تھا اور ان کے ایک ہاتھ میں 7 انچ سکریں والا کیو موبائل تھا .جس میں ایک سیکس فلم چل رہی تھی اور فلم میں لڑکا لڑکی کو گھوری بنا کے ہی چودھ رہا تھا اور چچی کا دوسرا ہاتھ نیچے سے اپنی پھدی پے تھا اور وہ اپنی درمیانی بڑی انگلی پوری اپنی پھدی کے اندر باہر کر رہی تھیں اور آہستہ آہ آہ اوہ اوہ کی آوازیں نکل رہی تھیں . دوسری چیز جو حیران طلب تھی وہ یہ کے چچی کا پورا کا پورا جِسَم مست تھا ان کا قد 5 ’ 3 " انچ تھا اور 2 بچوں کی بعد بھی ان کا جسم بالکل سڈول اور فٹ تھا . . معمولی سا پیٹ نکلا ہوا تھا نا ہونے کے برابر اور ان کے ممے ٹائیٹ اور موٹے موٹے تھے اور سب سے زیادہ ان کے جِسَم کی خاص بات ان کی گانڈ تھی جو کے ان کی کمر اور پیٹ کے لحاظ سے کافی باہر کو نکلی ہوئی تھی .اِس منظر کے دوران میری نظر چٹآ ئی پے گئی تو ایک گاجر دیکھی جو کے سائز میں 4 انچ تک لمبی اور 1 انچ تک چوڑی نظر آ رہی تھی میں یہ ہی سوچ رہا تھا کے میں نے موبائل پے غور سے دیکھا تو فلم میں اب لڑکا لڑکی کی گانڈ میں اپنا لن ڈال رہا تھا اور لڑکی چیلا رہی تھی چچی نے موبائل کی آواز اتنی ہی رکھی تھی کے آواز کمرے سے باہر سنائی نہیں جا سکتی تھی . چچی نے وہ گاجر اُٹھائی پہلے اس کو منہ میں ڈال کے تھوڑا گیلاکیا اور پِھر نیچے سے ہاتھ ڈال کے اس کو اپنی گانڈ کی موری پے رکھ کے ہلکا سا پُش کیا تو میں حیراں ہو گیا کےنصف گاجر آسانی سے اندر چلی گئی .یہ نظارہ دیکھ کے میں ہوش کھو بیٹھا اور اپنی شلوار کا نالہ ڈھیلا کیا اور شلوار میں ہاتھ ڈال کے اپنے لن کی مٹھ مارنے لگا میرا لن اس وقعت لوہے کی را ڈ کی طرح سخت ہو چکا تھا گانڈ کی موری میری سب سے بڑی کمزوری تھی . یہ بات نہیں ہے کے میں کوئی لونڈے باز ہوں اور نا ہی ایسا کوئی شوق رکھتا ہوں . . لیکن لڑکی کے معاملے میں گانڈ کا دیوانہ ہوں. چچی گاجر کو اندر باہر کر رہی تھی اور آہستہ آہستہ کرا ہ رہی تھی فلم میں جب لڑکے نے اپنی رفتار تیز کی تو میں نے دیکھا کے چچی بھی مزید گرم ہوں گئی ہیں اور یکا یک میں نے دیکھا انہوں نے گاجر کو تھوڑا اور پُش کیا تو وہ پوری اندر باہر ہونے لگی اور چچی بھی فل مستی میں آ گئی اور میں نے بھی مٹھ تیز کر دی مستی میں میری آنکھیں بند ہوں گئی میں چچی کی گانڈ کا تصور کر کے مست ہو گیا . . . جب 8 سے10 منٹ کے بعد میری منی کا فوارہ چھو ٹا تو میں تصور ات کی دُنیا سے واپس آ گیا اور جب آنکھیں کھولیں تو میرے پاؤں تلے زمین نکل گئی

 

جب میں نے آنکھیں کھولیں تو دیکھا چچی کا رنگ اڑا ہوا تھا اور ان کی نظر کبھی میرے لن کی طرف اور کبھی میرے چہرے پے تھی اور میں ابھی خوف اور شرمندگی کی ہی سوچ میں تھا کے چچی کی آواز میرے کا نوں تک پہنچی کا شی تم یہاں کیا کر رہے ہو تو میں بغیر چچی کی طرف دیکھے تیزی سے چلتا ہوا سیڑھیاں اترتا ہوا نیچے باتھ روم میں جا کر اندر سے لاک لگا لیا اور خوف اور شرمندگی سے سوچنے لگا کے آب آگے کیا ہو گا میں چچی کا سامنا کیسے کروں گا اگر انہوں نے کسی کو بتا دیا تو ابو کی مار اور خاص کر سب سے چھوٹے چچا کے با رے میں سوچ کر ہی میری پھٹ کے ہاتھ میں آ گئی میرے چھوٹے چچا سخت طبیعت کے مالک تھے اور میں نے بچپن میں ان بہت دفعہ مار کھائی تھی

 


میں وہاں نصف گھنٹے تک بیٹھا رہا اور سوچتا رہا اور پِھر ہمت کر کے اٹھا منہ ہاتھ دھویا اور اپنے لن کی صفائی کی اور دبے پاؤں چلتا ہوا چھت پے آ گیا اور پہلے چچی کی چار پائی دیکھی تو وہ دوسری طرف منہ کر کے لیٹی ہوئی تھی میں چپکے سے آ کر بغیر کوئی آواز کیے ہوئے اپنی چار پائی پے آ کے لیٹ گیا اور صبح کا انتظار کرتے کرتے نا جانے کب آنکھ لگ گئی اور سو گیا . . . صبح کوئی 9 بجے کا وقعت تھا جب چچی کی بیٹی نے مجھے آ کے جگایا کے کا شی بھائی اٹھو دادی اور امی نیچے ناشتےکے لیے بلا رہی ہیں ..


میں آنکھیں ملتا ہوا اٹھا اور سیدھا باتھ روم میں گھس گیا اور نہا دھو کے ناشتے کے لیے سب کے ساتھ بیٹھ گیا دادی اور بچے بھی ناشتہ کر رہے تھے چھوٹے چچا اخبار پڑھ رہے تھے اور ساتھ ساتھ ناشتہ بھی کر رہے تھے اور چچی کچن سے چیزیں لا کر ناشتہ لگا رہی تھیں میں چوری چوری چچی کی طرف ہی دیکھ رہا تھا . . جب ناشتہ لگ گیا تو چچی بھی آ کر ناشتہ کرنے لگیں جب میری اور چچی کی نظریں ملی تو ہم دونوں نے نظریں چرا لی . . ہم دونوں ایک سے نظریں نہیں ملا پا رہے تھے
میں بار بار چچی کی طرف دیکھ رہا تھا اچانک چچی نے مجھے قہر آلود نظر سے دیکھا تو میں دَر گیا اور منہ نیچے کر کے ناشتہ کرنے لگا اور ایک عجیب سا خوف تھا دِل میں کے چچی نے ناشتے کے بعد اگر چچا کو بتا دیا تو میری خیر نہیں ہے آج . . اِس ہی سوچ میں نوالہ حلق سے مشکل سے اُتَر رہا تھا . . . میں ان ہی سوچوں میں گم تھا کے چچا بولے بچو بیگس اٹھا لو سکول جانے کا وقعت ہو گیا ہے . . . اور مجھے کہا کا شی بیٹا شام کو ڈیوٹی کے بعد تم سے باتیں کریں گے میں نے بس اتنا ہی کہا.. جی چچا . . اور وہ چند منٹ کے بعد بچوں کے ساتھ چلے گئے.
دادی اپنے کمرے میں چلی گئی اور چچی نے برتن اٹھا کے کچن میں رکھنے شروع کر دیئے میں بھی چپکے سے اٹھا اور ٹی وی والے کمرے میں بیٹھ کے ٹی وی دیکھنے لگا ٹی وی میں خاص دِل نہیں لگ رہا تھا بار بار ایک ہی بات دماغ میں آ رہی تھی کے ابھی تک چچی نے چچا کو رات والی بات نہیں بتائی ہے . . لیکن وہ چچا کو کسی بھی ٹائم بتا دیں گی تو پِھر کیا ہو گا بس یہ ہی خوف مجھے کھاے جا رہا تھا,
کچن میں سے چچی کے برتن دو هنے کی آواز آ رہی تھی پِھر کچھ دیر بعد میں نے دیکھا کے چچی پورے گھر میں جھاڑو دینے لگی پہلے صحن میں پِھر باقی کمروں میں بھی جب وہ ٹی وی والے کمرے میں آئی اور مجھے تھوڑا رو کھے سے انداز میں بولا کے کا شی باہر جاؤ مجھے کمرہ صاف کرنے دو.. صفائی کے بعد بیٹھ کے ٹی وی دیکھ لینا . . میں خاموشی سے اٹھا اور باہر صحن میں پری ہوئی چار پائی پئے آ کے بیٹھ گیا ، ، اور پِھر کچھ دیر بعد میں نے دیکھا چچی ٹی وی والے کمرے سے صفائی کر کے اپنے کمرے میں چلی گئی .. اور میں پِھر ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا اور ٹی وی لگا لیا لیکن دماغ کہیں اور تھا . . تھوڑی دیر بعد کمرے کی کھڑکی سے دیکھا کے چچی اپنے کمرے سے نکل کر باتھ روم کی طرف جا رہی ہیں اور پِھر اندر داخل ہو کر اندر سےدروازہ لاک ہونے کی آواز آئی 
میرے دماغ میں پِھر شیطان نے دستک دی اور میں رات والے واقعہ کے با رے میں سوچنے لگا اور دماغ میں پِھر چچی کے موٹے موٹے ممے اور ان کی گانڈ کی موری کا سوچ کر ہی میرے لن نے انگڑائی لی اور میرا ہاتھ ایک مرتبہ پِھر شلوار کے اوپر ہی اپنے لن کو مسلنے لگا اور میرے تن بدن میں گرمی بھرنے لگی . . اور میں آہستہ آہستہ چچی کی گانڈ کی موری کا سوچ کا مٹھ مارنے لگا..
اچانک میں وہاں سے اٹھا اور باتھ روم کی طرف چلنے لگا اور باتھ روم کے دروازے کے پاس پہنچ کر میں دروازے کے اندر دیکھنے کی کوشش کرنے لگا لیکن دروازہ لوہے کا بنا ہوا تھا اور اس میں کوئی خاص ایسی جگہ نہیں تھی جس سے اندر دیکھا جا سکتا تھا اور میرے بدن کی گرمی نے مجھے پاگل کر دیا تھا اور میں ساتھ ساتھ اپنا لن مسل رہا تھا اور اندر دیکھنے کے لیے جگہ تلاش کر رہا تھا یکدم مجھے جہاں دروازے کا لاک تھا اس کے بالکل نیچے چھوٹا سا سوراخ نظر آیا میں نے فوراً وہاں آنکھ لگائی اور اندر دیکھا تو اندر کا منظر دیکھ کر حو ش کھو گئےاس وقعت چچی نل کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوئے انداز میں تھوڑی جھکی ہوئی تھی اور ٹانگوں کو تھوڑا سا کھولا ہوا تھا اور ہاتھ کو نیچے سے لا کر صابن کو اپنی گانڈ کی دراڑ میں آہستہ آہستہ رگڑ رہی تھی اور ہلکی ہلکی کرا رہی تھی 
تھوڑی دیر بعد انہوں نے صابن کی بجائے اپنی درمیانی بڑی انگلی اپنی گانڈ کی موری کے اندر اور باہر کرنا شروع کر دی اور پوری انگلی گانڈ کے اندر لیتی رہی کچھ دیر بعد وہ سیدھی ہوئی اور اپنا منہ دروازے کی طرف کر لیا میں دَر کے مارے فوراً ہٹ گیا . . لیکن کچھ دیر بعد ڈرتے ڈرتے میں نے پِھر دیکھا تو اب کی بار ان کی بالوں سے سُتھری پھدی بالکل میرے آنکھوں کے سامنے تھی اور پھدی کے ہونٹ آپس میں بالکل جوڑے ہوئے تھے . . اور پِھر چچی نے اپنی انگلی کو اپنی پھدی کے اندر باہر کرنا شروع کر دیا ، ، میں دیکھ رہا تھا کے چچی کی اور تیز تیز آواز نکل رہی تھی پِھر وہ دو انگلیاں یک مشت اندر باہر کرنے لگیں اور تیز تیر مٹھ مارنے لگیں اور میں یہ نظارہ دیکھ کر شلوار کے اوپر ہی اپنے لن کی مٹھ لگا رہا تھا اور جیسے چچی تیزی سے مٹھ لگا رہی تھی میں باہر لگا ہوا تھا اور چند منٹ کے بعد ہی میں نے دیکھا کے ان کی پھدی سے ڈھیر سارا پانی نکل کر ان کی ٹانگوں کے درمیان بہہ رہا تھا اور پِھر ان کے فارغ ہوتے ہی میں نے بھی شلوار کے اندر ہی منی کا فوارہ چھو ر دیا


میں ابھی اِس نظارے میں مگھن تھا کے چچی نیچے بیٹھ گئی اور ان کا منہ تو پہلے ہی دروازے کی طرف تھا اور مجھے یوں لگا کے انہوں نے مجھے سوراخ سے دیکھتے ہوئے دیکھ لیا ہے وہ اس وقعت بالکل سوراخ کی طرف دیکھ رہی تھی میری تو اس وقعت پھٹ کے ہاتھ میں آ گئی اور میں وہاں سے بھاگتا ہوا دادی کے ساتھ والے کمرے میں جا کر دروازہ بند کر کے بیٹھ گیا اور خوف سے پاگل ہو گیا اور سوچنے لگا كے یہ میں نے پِھر کیا غلطی کر دی ہے آب تو میری خیر نہیں ہے اور چچی آج ضرور چچا کو بتا کر رہیں گی اور میری آج شامت اے گی
میں اِس ہی کشمکش میں بیٹھا ہوا سوچ رہا تھا کے آگے کیا ہو گا میرے ساتھ… تھوڑی ہی دیر بعد مجھے باتھ روم کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور پِھر کسی کے قدموں کی آواز آہستہ آہستہ میرے کانوں میںگونجنے لگی اور وہ آواز جس کمرے میں بیٹھ ہوا تھا اس کے نزدیک آتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی اور میر دِل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی جیسے ہی وہ آواز کمرے کے پاس پہنچی تو میں خوف سےکانپنے لگا لیکن پِھر مجھے ساتھ والے کمرے کے دروازے کے بند ہونے کی آواز آئی اور تھوڑی سی خاموشی ہو گئی ساتھ والا کمرا چچی کا اپنا بیڈروم تھا میں نئے ہمت کی اور آہستہ سے چلتے ہوئے کمرے کے دروازے کا لاک کھولا جس میں بیٹھا ہوا تھا اور تھوڑا سا کھول کے باہر دیکھا تو ساتھ والا کمرا بند تھا میں تھوڑا سا سکون میں آیا اور واپس دروازہ بند کر کے اندر کمرے میں آ کر بیٹھ گیا اور دروازہ لاک نہیں کیا اور چار پائی پے بیٹھ کر سوچنے لگا کے اگر چچی مجھے سے خود بات کرتی ہے تو آگے سے کیا جواب دوں گا اور اگر وہ شام کو چچا کو بتا دے گی تو کیسے بچ سکوں گا..میں ان ہی سوچوں میں گم سم بیٹھا تھا اور کوئی نصف گھنٹے کے بعد یکدم مجھے میرے کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور میں نے منہ اٹھا کے دیکھا تو سامنے دروازے پے چچی تھی اور ان کو دیکھ کر میرا رنگ پیلا ہو گیا اور وہ کمرے میں داخل ہوئی اور دروازہ بند کر دیا اور چلتی ہوئی میں جس چار پائی پر بیٹھ تھا اس کے سامنے والی چار پائی پر آ کر بیٹھ گئی اور تھوڑی دیر کے لیے خاموشی ہو گئی . . . . میں خوف سے ان کے ساتھ آنکھیں نہیں ملا سکتا تھا اِس لیے میں منہ نیچے کر کے بیٹھا ہوا تھا کوئی 5 منٹ کی خاموشی کے بعد چچی کی آواز میرے کانوں میں گونجی . . . انہوں نے کہا کا شی تم آخر ایسا کیوں کر رہے ہو شرم نہیں آتی تم رات کو بھی بغیر اِجازَت کمرے میں آ گئے اور وہاں پے بیہودہ حرکت کر رہے تھے اور آج باتھ روم میں بھی یہ ہی حرکت کی ہے . . . میں تمہاری چچی ہوں تمہاری ماں برابر ہوں اور تم مجھ پر گندی نظر رکھتے ہو..
میں بس ان کی ب باتیں سن رہا تھا لیکن آگے سے جواب دینے کی ہمت مجھ میں نہیں تھی . . انہوں نے پِھر سخت لہجے میں کہا جواب دو آگے سے بولتے کیوں نہیں . . . میں اب ان کو کیا جواب دیتا غلطی میری اپنی تھی . . پِھر چچی بولی آج میں تمھارے چچا کو شام کو بتا یں گی کے تم کتنے گندے دماغ کے ہو… تا کہ وہ تمہار ے دماغ سے گند نکال سکے . . . ان کی بات سن کر میری پھٹ کے ہاتھ میں آ گئی میں فوراً اٹھا اور چچی کے پاؤں میں گر گیا اور ان سے مانگنے لگا اور ان سے معاف کی بھیک مانگنے لگا اور دوبارہ سے ایسی حرکت نا کرنے کی توبہ کرنے لگا اور بار بار ان سے کہنے لگا چچی مجھے معاف کر دے چچا کو نہ بتا ےمیں دوبارہ کبھی بھی نہیں کروں گا..
تھوڑی دیر بعد چچی کو مجھے پے رحم آ گیا . . انہوں نے کہا کہ میں آج تمہیں معاف کر رہی ہوں اور چچا سے بھی بات نہیں کروں گی لیکن آئِنْدَہ ایسی حرکت ہوئی تو یاد رکھنا مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا ، ، ، میری جان میں جان آئی اور میں نے کہا چچی میں وعدہ کرتا ہوں آئِنْدَہ ایسا کبھی نہیں ہو گا اور پِھر وہ اٹھ کر باہر چلی گئی.. میں چار پائی پے لیٹ گیا اور سوچنے لگا چل کا شی بیٹا آج تو بچت ہو گئی آگے سے بہت مہتات رہنا ہو گا.. پِھر اِس طرح ہی کچھ دن گزر گئے ہو میں بھی نارمل ہو گیا اور چچی سے بھی سی بات چیت ہوتی رہی اور چچا اور باقی سب گھر والوں سے بھی اٹھنا بیٹھنا چلتا رہا…
پِھر ایک دن دوپہر کے وقعت دادی اپنے کمرے میں تھی اور چچی بھی گھر کا کام ختم کر کے اپنے کمرے میں آرام کر رہی تھی اور بچے 3 بجے گھر آتے تھے اور چچا 5 بجے آتے تھے . . مجھے خیال آیا سب اپنے کمروں میں ہیں اور ٹائم بھی اچھا ہے اور میں اپنا زیتون کا تیل بھی ساتھ لے کر آیا ہوا تھا میں نے بیگ سے تیل کی شیشی نکالی اور چچی کے ساتھ والا کمرا اس میں ہی دروازہ بند کر کے اپنی چار پائی پر بیٹھ گیا اور اپنی شلوار پوری اُتار دی اور تیل سے اپنے لن کی مالش کرنے لگا میں نے سوچا ابھی کوئی بھی تنگ نہیں کرے گا اور اپنے موبائل پے سیکس ویڈیو لگا لی اور اس کو دیکھ کر اپنے لن کی مالش کرنے لگا لیکن آواز کو اتنا ہی رکھا کے صرف میرے کانوں تک ہی پہنچ سکے اور مالش میں مشغول ہو گیا..
میں اپنے لن کی مالش اور ویڈیو دیکھنے میں اتنا مشغول تھا کہ مجھے کوئی خبر نہیں کہ کب کمرے کا دروازہ کھلا جو کہ مجھے لاک کرنا یاد نہ رہا اور کب سے چچی مجھے مالش کرتی ہوئی دیکھ رہی تھی جیسے ہی میری نظر چچی پر پری تو لن کی مالش کے رفتار اور چچی کا میرے لن کے اوپر نظریں گھا ڑ ے ہوئے اور میرے جذبات بے قابو ہونے سے منی کا فوارہ سیدھا ہوا میں اڑتا ہوا چار پائی سے نیچے گر رہا تھا اور جیسے ہی چچی کی نظر میری نظر سے ملی وہ یکدم دروازہ بند کر کہ اپنے کمرے میں چلی گئی مجھے ان کا کے کمرے کا دروازہ بند ہونے کی آواز آئی اور میں ہوش میں آ گیا …
میں نے جلدی سے شلوار پہنی اور بھاگتا ہوا چچی کے دروازے کو کانپتے ہوئے ہاتھ سے دستک دی تو اندر سے ہلکی سی آواز آئی کون ہے میں نے کہا چچی میں ہوں وہ تھوڑا اونچی آواز میں بولی ابھی تم جاؤ مجھے تم سے ابھی کوئی بات نہیں کرنی . . میں نے دوبارہ الجا ییا لہجے میں کہا چچی بس ایک دفعہ میری بات سن لیں تھوڑی سی خاموشی کے بعد آواز آئی آ جاؤ میں نے ڈرتے ڈرتے دروازہ کھولا اور نظریں جھکائے ہوئے اندر داخل ہوا تو چچی نے کہا دروازہ بند کر دو میں نے دروازہ بند کر دیا تو انہوں نے کہا یہاں آؤ بیڈ پے بیٹھو میں ڈرتے ڈرتے بیڈ کے دوسرے کنارے پے جا کر کھڑا ہو گیا . . وہ پِھر بولی بیٹھ جاؤ میں چُپ کر کے بیٹھ گیا اور خاموش ہو گیا . . . انہوں نے کہا بولو کیا کہنا ہے
میں نے مسكین سی شکل بنا کے اور آہستہ سی آواز میں کہا چچی مجھے معاف کر دیں میری سے غلطی ہو گئی ہے . . . تو وہ آگے سے بولی کا شی مجھے سمجھ نہیں آتی کے تمھارے ساتھ مسئلہ کیا ہے تم جب سے آ ے ہو عجیب سی اور گندی گندی حرکات کر رہے ہو . . بیٹا یہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے اگر تمھارے چچا کو پتہ چل گیا تو تمہاری شامت آ جائے گی . . میں خاموشی سے بیٹھا ان کی باتیں سن رہا تھا . . . دوبارہ انہوں نے کہا کا شی تم یہ سب کیوں کرتے ہو کچھ تو اپنا خیال کرو جو تم حرکت ابھی کر رہے تھے یہ تمہاری صحت کے لیے ٹھیک نہیں ہے تم کیوں نہیں سمجھتے ہو . . . میں نے بہت ہلکی سی آواز میں کہا میں کیا کروں مجھے سے کنٹرول نہیں ہوتا . . . چچی نے فوراً کہا . . کیا کہا تم نے . . . میں مزید دَر گیا . . . . چچی بولی بیٹا یہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے تم سمجھتے کیوں نہیں ہو . . انہوں نے کہا یہ سب چھور دو میں نے کہا چچی میں کوشش کروں گا دوبارہ نا کروں لیکن آپ کسی کو نا بتائیں . . . انہوں نے کہا ٹھیک ہے تم دوبارہ نہیں کرو گے تو میں کسی سے بھی بات نہیں کروں گی . . . میں نے کہا شکریہ تو میں اٹھ کر باہر جانے لگا تو میرا لن تو ویسے بھی مالش اور منی کے نکلنے سے گیلا تھا تو اِس سے میرے شلوار پوری آگے سے گیلی ہوئی تھی چچی نے کہا یہ شلوار اُتار کے مجھے دو میں اِس کو دھو دیتی ہوں ساری شلوار گندی کر دی ہے . . میں نے کہا جی اچھا . . جب باہر جانے لگا تو انہوں نے پِھر پوچھا یہ تیل کون سا ہے اور کہاں سے لے ہو . . میں خاموش ہو گیا تو پِھر وہ بولی بتاؤ بھی میں نے کہا وہ میں اسلام آباد سے لے کر آیا تھا اور یہ زیتون کا تیل ہے . . پِھر انہوں نے پوچھا تیل کے ساتھ کیوں کرتے ہو . . تو میں خاموش ہو گیا اور جواب دینے کی ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی . . پِھر انہوں نے پوچھا بتاؤ بھی . . میں نے آہستہ سے کہا وہ مجھے بتاتے ہوئے شرم آتی ہے . . تو انہوں نے طنزیہ کہا کیوں جب کر رہے تھے تو شرم نہیں آتی اور بتاتے ہوئے شرم آتی ہے . . میں ان کی بات سن کر شرمندہ ہو گیا . بولو تیل کے ساتھ کیوں کرتے ہو . . میں نے پِھر ہمت کر کے کہا کے اِس سے لن لمبا اور مضبوط ہوتا ہے . . انہوں نے کہا یہ سب تم کو کس نے سکھایا ہے . . میں نے کہا کسی نے بھی نہیں بس انٹرنیٹ سے پتہ لگا تھا . . اور میں یہ بتا کے تیزی سے باہر نکل گیا…
اس کے بَعْد میں نے اپنی شلوار بَدَل کر گندی شلوار کو باتھ روم کے اندر واشنگ مشین میں رکھ دیا اور جا کر ٹی وی والے کمرے میں بیٹھ کے ٹی وی دیکھنے لگا اس دن پِھر کچھ خاص بات نا ہوئی چچا کے ساتھ رات باتیں ہوتی رہی وہ پڑھائی کے متعلق پوچھتے رہے اور میں رات کو سونے تک چچی سے کتراتا رہا اور دن گزر گیا . . اگلے دن میں صبح اٹھا اور ناشتہ کیا سب اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے میں ٹی وی والے کمرے میں جا کر ٹی وی لگا کر بیٹھ گیا . . 
میں ٹی وی دیکھ رہا تھا کہ کوئی 2 گھنٹے بَعْد چچی اپنا کام ختم کر کے ٹی وی والے کمرے میں آئی اس وقعت کوئی ساڑھے دس کا ٹائم تھا اور آ کر بولی کا شی بیٹا یہ پیسے لو اور بازار سے جا کر دن کو پکانے کے لیے سبزی لے آؤ اور مجھے پیسے دے کر جانے لگی تو دروازے کے پاس پہنچ کر دوبارہ بولی کے گھر کی چابی کچن کے دروازے کے ساتھ کیل پر لٹکی ہوئی ہے جاتے ہوئے لے جانا ہو سکتا ہے جب تم واپس آؤ میں باتھ روم میں نہا رہی ہوں تو تم دروازہ خود ہی باہر سے کھول کے اندر آ جانا . . میں نے کہا جی ٹھیک ہے اور وہ اپنے کمرے میں چلی گئی . . میں وہاں سے اٹھا چابی لی اور باہر کی طرف نکل گیا . . . یہاں آپ کو بتاتا چلوں کہ بازار ہمارے گھر سے کوئی تقریباً 1 کلو میٹر دور تھا آنے اور جانے اور سبزی خریدنے میں مجھے تقریباً 2 گھنٹے لگنے تھے اور میں پیدل ہی چلنے کا سوچا اور ٹائم بھی گزر جانا تھا اور بازار کی طرف نکل گیا میں گھر سے کوئی تھوڑی دور ہی آیا تھا کے میرے پیچھےسےموٹربائیک آئی اور میرے پاس آ کر رکی میں نے غور کیا تو وہ ہما را ہمسایہ تھا ندیم چچا مجھے دیکھ کر رک گئے تھے اور مجھ سے بولی کا شی بیٹا کہا ں جا رہے ہو میں نے کہا چچا بازار جا رہا ہوں سبزی لنے تو وہ آگے سے بولے آؤ بیٹا بیٹھو میں بھی بازار ہی جا رہا ہوں میڈیکل اسٹور سے دوائی لینی تھی . میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا اور ہم بازار چلے گئے وہاں سے میں نے سبزی لی اور چچا نے بھی دوائی لی اور ہم کوئی تقریباً 30 منٹ میں ہی واپس آ گئے اور انہوں نے مجھے میرے گھر کے سامنے اتارا میں نے ان کا شکریہ ا دا کیا اور وہ اپنے گھر چلے گئے میں اپنے دروازے پے کھڑا اور گھنٹی دینے لگا تو مجھے یاد آیا کے میرے پاس چابی جو ہے اور ویسے بھی چچی باتھ روم میں نہا رہی ہو گی میں نے سبزی کا تھیلہ نیچے رکھا اور جیب سے چابی نکال کے دروازہ کھولا اور سبزی کا تھیلہ اٹھا کے اندر داخل ہو گیا جب میں اندر داخل ہوا تو صحن میں مجھے موٹربائیک کھڑی نظر آئی میں نے غور کیا تو حیران ہوا چچا کی موٹر بائیک تو یہ نہیں ہے اور وہ اِس ٹائم گھر نہیں ہو سکتے وہ تو ڈیوٹی پے گئے ہوئے تھے اور وہ شام کو 5 بجے آتے تھے تو یہ کس کی موٹر بائیک ہے خیر میں نے دروازہ بند کیا اور سبزی والا تھیلہ اٹھا کے کچن میں رکھا اور چابی بھی کیل کے ساتھ دوبارہ لٹکا دہی اور کچن میں رکھی فریج میں سے ٹھنڈا پانی پیا اور پِھر ٹی وی والے کمرے کی طرف چل پڑا جب میں کچن سے نکل کر چچی کےکمرہ جو کے کچن کے ساتھ بنا ہوا تھا وہاں سے گزرا تو مجھے ان کے کمرے دروازے کے پاس سے عجیب سی ہلکی ہلکی آوازیں آ رہی تھی میں چونک گیا اور ایک سائڈ پے ہٹ کر کھڑا ہو کر سوچنے لگا کے یہ کس قسِم کی آوازیں ہیں میں نے دیکھا دروازہ بھی بند ہے میں نے آہستہ سے دروازے کا ہینڈل گھما کر کھول کر دیکھنے کی کوشش کی تو مایوس ہوا دروازہ اندر سے لاک تھا
میں دَر بھی رہا تھا اور سوچ رہا تھا کے اندر کیسے دیکھوں کہ اندر سے کس چیز کی آوازیں آ رہی ہیں . . پِھر میں کمرے کی کھڑکی طرف لپکا کے ہو سکتا ہے کہ وہاں سے اندر دیکھ سکوں جب میں نے کھڑکی کے پاس دیکھا تو مجھے کھڑکی کے دوسرے کونے سے پردہ تھوڑا سا ہٹا ہوا نظر آیا میں نے بہت ہی احتیاط سے اندر دیکھنے کی کوشش کرنے لگا اب کی دفعہ میں کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا جیسے ہی میں نے اس جگہ سے اندر دیکھا تو اندر کا منظر دیکھ کر میں اپنے حواس کھو بیٹھ کیوں اندر کا منظر میرے لیے دِل دِھلا دینے کے لیے کافی تھا اندر میں نے دیکھا سامنے صوفہ پر چچی کا کزن ماموں کا بیٹا شوکت جو کے شیخوپورہ میں سرکاری اسکول کا استاد تھا وہ صوفے پر بالکل ننگا بیٹھا ہوا تھا اور اس کا رخ کھڑکی کی طرف تھا لیکن منہ اوپر چھت کی طرف تھا اور آنکھیں بند تھیں اور چچی اس کے آگے پوری ننگی گھوری بنی ہوئی تھی اور ان کا منہ شوکت انکل کی گود میں اوپر نیچے ہو رہا تھا اور گانڈ کا رخ کھڑکی کی طرف تھا جو کہ یقیناً وہ انکل کے لن کے چو پے لگا رہی تھی اور وہ مسلسل انکل کا لن منہ میں لے کر تیزی کے ساتھ چو پے لگا رہی تھی اور انکل اپنے ہاتھ سے ان کے سر کو اپنے لن کے اوپر نیچے دبا رہے تھے اور ہلکی ہلکی آواز میں آہ ..آہ..اوہ ..او.. کر رہے تھے یہ نظارہ دیکھ کا میرے لن بھی کھڑا ہو گیا اور اور میں شلوار کے اوپر ہی اپنے ہاتھ سے اپنا لن کو مسلنے لگا اور اندر کا نظارہ دیکھنے لگا میں نے غور کیا آنٹی کی گانڈ کی موری بھی کافی کھلی ہوئی تھی اور برائون رنگ کی تھی اور آنٹی کے چو پے لگانے کی وجہ سے ان کی گانڈ کی موری کبھی کھل رہی تھی کبھی بند ہو رہی تھی یہ دیکھا کا میرا لن مزید اکڑ گیا اور میں نے لن اور تیزی سے مسلنا شروع کر دیا..
میں یہ منظر کوئی 10 منٹ تک سے دیکھ رہا تھا پِھر انکل کی آواز آئی بھابی اب بس کرو اور بیڈ پے چلو اب مجھے تمہاری پھدی اور گانڈ کو ڈھیلا کَرنا ہے . . چچی بھی رک گئی اور لن کو منہ سے نکالا اور بہت مدھوش اندازِ میں بولی شوکت آج مجھے فارغ نا کروایا تو تمہاری خیر نہیں ہے . . . انکل بولے جان بے فکر رہو آج میں نے حکیم سے گولی لے کر دودھ کے ساتھ کھائی ہوئی ہے آج میں جلدی فارغ نہیں ہوں گا اور آپ کی پھدی اور گانڈ کی پیاس بُجھا کر جاؤں گا . . چچی یہ سن کر خوش ہو گئی اور اٹھ کر بیڈ پر جا کر سیدھی لیٹ گئی اور انکل بھی بیڈ پر چڑھ گئے میں نے غور سے دیکھا تو انکل کا لن با مشکل سے ساڑھے چا ر انچ تک لگ رہا تھا اور نا ہی اتنا موٹا تھا . . . یہ دیکھ کر میں اندر ہی اندر خوش ہوا چلو میرا لن انکل سے بڑا بھی ہے موٹا بھی ہے . . پِھر انکل چچی کے ٹانگوں کو کھول کر ان کے درمیان بیٹھ گئے اور پِھر اپنا لن ہاتھ میں پکڑ کر چچی کی پھدی پے سیٹ کرنے لگے اور پِھر ان کی چکنی اور نرم ملائم پھدی کے ہونٹ کھول کر اپنا ٹوپا اس پے سیٹ کیا اور ہلکا سا پُش کیا تو ان کا ٹوپا آرام سے اندر چلا گیا اور چچی کے منہ سے ہلکی سی کی آواز نکل گئی اور انہوں نے اپنی ٹانگوں کو انکل کی کمر سے جکر لیا اور پِھر انکل نے ایک زور کا جھٹکا مارا اور پورا کا پورا لن چچی کی پھدی میں اُتار دیا اور انہوں نے بھی نیچے سے گانڈ اٹھا کر ساتھ دینے لگیں اور پِھر دیکھتے دیکھتے انکل نے گھسے مارنے شروع کر دیئے اور چچی بھی ان کا فل ساتھ دینے لگی اور منہ سے مستی بھری آوازیں نکالنے لگی اور ان کے کمرے میں د ھپ د ھپ کی آوازیں آنے لگیں اور چچی بھی باربار کہہ رہی تھی (شوکت ہور زور لا تیز تیز کر اج میری پھدی دی اگ ٹھنڈی کر دے(
اور یہ نظارہ دیکھ کر میرا برا حال تھا اور دماغ میں یہ ہی خیال آ رہا تھا کہ مجھے ہر وقعت گندے کاموں سے باز آنے اور تمیز سکھانے اور چچا کی دھمکی لگا کر مجھے دبانے والی آج اپنے ہی گھر میں اپنے سگے کزن کے ساتھ رنڈی بنی ہوئی ہے مجھے اس وقعت چچی پے یہ سوچ کرغصہ بھی آ رہا تھا اور اندر کا نظارہ دیکھ کر مزہ بھی . . یکدم میرے دماغ میں ایک آئیڈیا آیا اور میں نے فوراً اپنی جیب سے اپنا موبائل نکالا اور اس کا کیمرہ آن کر کے اندر کا جو منظر تھا اس کی ویڈیو بنانے لگا اوردوسرے ہاتھ سے اپنے لن کو بھی مسل رہا تھا چچی اندر بڑے مزے سے سے گانڈ اٹھا اٹھا کر لن اندر لے رہی تھی اور انکل بھی فل جوش میں ان کو چودھ رہے تھے اور چچی بھی مستی بھری آوازیں نکال رہی تھی یہ کام کوئی 15 منٹ تک چلتا رہا اور چچی ایک دفعہ فارغ بھی ہو چکی تھی لیکن انکل ابھی بھی فارغ نہیں ہوئے تھے اور میں تقریباً 8 منٹ کی ویڈیو بنا چکا تھا اور پِھر انکل کی آواز آئی بھابی اب گھوری بن جاؤ مجھے تمہاری گانڈ مارنی ہے . . میں نے یہ سنا تو چچی کے اٹھنے سے پہلے وہاں سے تھوڑا ہٹ گیا تا کہ وہ مجھے دیکھ نا سکے . . کوئی 2 منٹ کے بَعْد میں نے دوبارہ بڑی ہی احتیاط سے آگے ہو کر دیکھا تو چچی گھوری بنی ہوئی تھی اور اس کا اور انکل کا منہ کھڑکی کی طرف ہی تھا لیکن دونوں اپنی آنکھیں بند کر کے چدائی میں مصروف تھے اور انکل دھکے پے دھکے لگا رہے تھے اور چچی مستی میں آوازیں نکال رہی تھی اور کہہ رہی تھی ( شوکت پورا لن اندر پا .. انکل بولے.. بھابی پورے دا پورا اندر اے ایک وی سو تر باہر نہیں اے ) چچی پِھر بولی شوکت تیرا اے لن میرے بُنڈ وچ کج وی نہیں کر دا میری بُنڈ وچ اگ لگی پئی اے ) تو انکل بولے (گشتیے توں وڈے وڈے لن لیندی اے تینوں میرا لن تے کج وی نہیں لگنا . . . چچی پِھر بولی ہاں گشتی دیا تیرے وچ ہوں کج نہیں ریا چل جلدی کر تے تیز تیز اندر باہر کر تے اپنا پانی اندر چھڈھ تے جا . . . نہیں تے کا شی آندہ پیاہو وے گا (. . انکل نے بھی اپنی رفتار تیز تیز کر دی اور میں نے بھی اپنے لن کی مٹھ تیز کر دی اور میرا کچھ دیر بَعْد شلوار میں ہی پانی نکل گیا اور میرے تھوڑی دیر بَعْد ہی انکل کے لن نے اپنا پانی چچی کی گانڈ میں چھوڑ دیا اور اچانک چچی نے آنکھیں کھولیں اور ان کی نظر سیدھی کھڑکی پر پڑ ی اور ان کے چہرے کی ہوائیں اڑ گئیں اور رنگ پیلا زرد پڑ گیا اور منہ سے چیخ نکل گئی اور میں وہاں سے بھاگتا ہوا دروازہ کھول کر گھر سے باہر چلا گیا

اس دن گھر سے باہر بھاگ جانے کے بعد میں شام تک باہر ہی آوارہ گردی کرتا رہا اور دن کو ہوئےواقعہ کے متعلق سوچتا رہا اور میں نے اپنے دماغ میں ایک پلان تیار کر لیا تھا . اور پِھر شام کو گھر آ گیا اور گھر کے دروازے پے آ کر گھنٹی بجائی اور تھوڑی دیر بعد میرے کزن نے دروازہ کھولا اور میں گھر میں داخل ہوا اور سیدھا باتھ روم میں گھس گیا اور فریش ہو کر چپکے سے ٹی وی والے کمرے میں آ کر ٹی وی لگا کر بیٹھ گیا . مجھے اب چچی کا خوف نہیں تھا میں ان کا سارا کھیل دیکھ چکا تھا اور مجھے پتہ تھا اب چچی بھی میری کوئی بات کسی سے نہیں کرنے والی اِس لیے میں اِس لحاظ سے پورا مطمئن تھاتھوڑی دیر کے بعد میری کزن نے آ کر مجھے بلایا کے آ کر كھانا کھا لو سب انتظارکر رہے ہیں . میں نے ٹی وی بند کیا اور کھانے والے کمرے میں چلا گیا وہاں پے سب لوگ بیٹھے ہوئے تھے چچی بھی بیٹھی ہوئی تھی لیکن ان کی نظریں نیچے ہی تھیںمیں کھانے کے دوران بار بار چچی کو دیکھتا رہا لیکن چچی میرے ساتھ آنکھیں نہیں ملا رہی تھی . . پِھر جیسے ہی كھانا ختم ہوا اور چچی برتن اٹھا کے کچن میں رکھنے لگی اور چچا نے ٹی وی والے کمرے میں جا کر ٹی وی پے خبریں لگا لی اور بچے اپنی پڑھائی کرنے لگے دادی اپنے کمرے میں نماز پڑھنے چلی گئیمیں بھی وہاں سے اٹھا اور ٹی وی والے کمرے میں جا کر چچا کے ساتھ ٹی وی دیکھنے لگا کچھ دیر وہاں چچا سے گپ شپ لگی پِھر وہ اٹھ کر چلے گئے اور میں وہاں ٹی وی دیکھنے لگا تھوڑی دیر بعد میں نے کھڑکی سے دیکھا چچی اوپر چھت کی طرف جا رہی ہیں میں وہاں ٹی وی دیکھنے میں مشغول رہا کچھ دیر بعد چچی نیچے آ گئی اور دوبارہ اپنے کمرے میں چلی گئی جہاں ان کے بچے پڑھائی کر رہے تھے . . میں بھی تھوڑی دیر ٹی وی دیکھتا رہا اور مجھے نیند آنے لگی اور میں ٹی وی بند کر کے چھت پر چلا گیا وہاں پے چچی نے چار پائییاں لگا دی تھی میں وہاں اپنے چار پائی پے لیٹ گیا اور پتہ نہیں کب آنکھ لگ گئی اور میں نیند کی آغوش میں چلا گیا آنکھ تب کھلی جب میرا کزن مجھے صبح ناشتے کے لیے اٹھا رہا تھامیں اٹھا اور نیچے باتھ روم میں جا کر گھس گیا اور نہا دھو کے باہر نکلا اور سیدھا آ کر ناشتے پے بیٹھ گیا سب حسب معمول ناشتہ کر رہے تھے چچی کی طرف دیکھا تو وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی میری نظر ملتے ہی اس نے فوراً نظریں نیچے کر لیں اور ناشتہ کرنے لگی میں دِل میں بہت خوش ہوا کے کا شی بیٹا اب تو تیرا کام ہو کر رہے گا چچا نے ناشتہ ختم کیا اور بچوں سے بولے چلو بچو تیار ہو جاؤ اسکول کے لیے اور چچا اپنے کمرے میں چلے گئے اور دادی بھی اپنے کمرے میں چلی گئی اور چچی برتن اٹھانے لگی میں بھی جلدی سے ناشتہ ختم کیا اور ٹی وی والے کمرے میں ٹی وی لگا کر بیٹھ گیا میں اب سوچ رہا تھا کہ چچی کچن کا کام ختم کر کے گھر کی صفائی کرے گی اور وہ ٹی وی والے کمرے میں بھی اے گی میں اِس کشمکش میں تھا کے چچی سے بات کیسے شروع کی جائے اور ساتھ ہی چچی کے آنے کا انتظار کر رہا تھاتھوڑی دیر بعد میں نے کھڑکی سے دیکھا کے چچی کچن سے نکلی اور صحن میں صفائی کرنے لگی اور پِھر اس نے باقی سب کمروں کی صفائی بھی کر لی آخر میں وہ ٹی وی والے کمرے کی صفائی کرتی تھی میں نے دیکھا چچی نے جب باقی کمروں کی صفائی ختم کر لی تو وہ سیدھی پِھر اپنے کمرے میں چلی گئی میں حیراں ہوا چچی نے ٹی وی والے کمرے کی صفائی کیوں نہیں کی پِھر مجھے خیال آیا چچی ضرور کل والی بات کی وجہ سے مجھے سے سامنہ نہیں کرنا چاہتی ہو اور اس کے دِل میں ایک خوف بھی ہو گا کے کا شی نے اگر کل والی بات کا پوچھ لیا تو کیا جواب دوں گی اور میں اپنی جگہ چچی کی کل والی حرکت دیکھنے کے باوجود ہمت نہیں ہو رہی تھی کے بات کیسے شروع کروںپِھر میں وہاں پے ہی بیٹھ کر ٹی وی دیکھتا رہا اور دن کے11 بج گئے اور میں ٹی وی والے کمرے میں بیٹھ کر اپنا پورا پلان بنا چکا تھا میں نے ہمت کی اور چچی کے کمرے کی طرف چل پڑا اور ان کے دروازے پے جا کر دستک دی لیکن اندر سے کوئی آواز نہیں آئی میں 2 منٹ تک انتظار کرتا رہا لیکن کوئی اندر سے آواز نہیں آئی پِھر میں نے دروازے کو ہلکا سا پُش کیا تو دروازہ کھل گیا میں نے آرام سے دروازہ کھول کے اندر داخل ہوا تو سامنے دیکھا چچی اپنے بیڈ پے بیٹھی ہوئی تھی اور مجھے دیکھتے ہی ان کا رنگ پیلا زرد ہو گیا اور بہت ہی آہستہ اور کانپتی آواز میرے کانوں میں آئی کیا کام ہے میں آرام سے چلتے ہوئے بیڈ کے دوسرے کونے پے بیٹھ گیا اور آہستہ سے کہا کے مجھے آپ سے بات کرنی تھی چچی بیڈ پے ہی بیٹھے بیٹھے آگے کو بڑھی اور میرے بالکل نزدیک آ کر میرے گھٹنے کو ہاتھ لگا کر سسکیاں لینے لگی اور کہنے لگی کا شی مجھے معاف کر دو میرے سے غلطی ہو گئی خدا کے لیے کسی کو نہیں بتانا اگر گھر میں کسی کو پتہ چل گیا تو مجھے گھر سے نکل دیں گے اور میں کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہوں گی میں نے ہمت کر کے آگے سے کہا چچی آپ نے یہ کام کیوں کیا آپ کو اپنے بچوں یا گھر میں کسی کی بھی عزت کا خیال نہیں تھا . . . . وہ اور رونے لگی اور کہنے لگی کا شی بیٹا میں بہک گئی تھی خدا کے لیے مجھے معاف کر دو میں آگے سے دوبارہ یہ کام کبھی نہیں کروں گی.. میں نے پِھر کہا چچی اگر میری جگہ چچا ہوتے اور آپ کو یہ حرکت کرتے دیکھ لیتے تو پِھر آپ کا کیا حال ہونا تھا یہ آپ نے سوچا ہے. چچی نے پِھر گھٹنے پکڑ لیے اور کہا کا شی اب تک ان کو نہیں پتہ اور نہ ہی انہوں نے دیکھا ہے اور خدا کے لیے تم بھی نہ بتاؤ میں وعدہ کرتی ہوں میں تمہاری باتیں راز میں رکھوں گی اور تم میری رکھومیں نے ہمت کی اور چچی کی رانوں پے ہاتھ رکھا اور آہستہ آہستہ ہاتھ پھیرنے لگا اور کہا کے چچی میں نے کون سا غلط کام کیا ہے جو آپ میری باتیں راز میں رکھو گی . چچی نے میرا ہاتھ جھٹک دیا اور بولی کے تم جو یہ اپنے لن کے ساتھ کھیل کھیلتے ہو اور مجھے چپکے سے دیکھتے ہو یہ غلط بات نہیں ہے تو اور کیا ہے چچی دوبارہ اپنی جگہ پے جا کر ٹانگیں لمبی کر ٹیک لگا کر بیٹھ گئی اور میری طرف دیکھنے لگیمیں اپنی جگہ سے اٹھا اور چچی والی سائڈ پے جا کر ان کی ٹانگوں کے پاس جا کر بیٹھ گیا اور پِھر میں میں نے ان کی رانوں پئے ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا اور اِس دفعہ میں نے ان کی پھدی کے بالکل قریب ہاتھ رکھ کر ہاتھ پھیررہا تھا اور بولا چچی میں تو صرف اپنے لن کی مالش کرتا ہوں اور جو ہر جوان لڑکا اپنی عمر میں کرتا ہے اور آپ کو جو میں چپکے سے دیکھتا ہوں اِس بات کا کیا ثبوت آپ کے پاس ہے جو آپ کسی کو میرا بتاؤ گی اور ساتھ ہی میں نے اپنا ہاتھ ان کی پھدی پے رکھ کر مسلنا شروع کر دیا . . چچی میری یہ حرکت دیکھ کر اچھل پری اور میرے منہ پے زور دار تھپڑ مار کر بولی شرم نہیں آتی تم اپنی سگی چچی کے ساتھ یہ بیہودہ حرکت کر رہے ہو اور تمھارے پاس کیا ثبوت ہے کے میں اپنے کزن کے ساتھ غلط کام کر رہی تھی . . . چچی کے تھپڑ مارنے پر میرا دماغ گھوم گیا اور مجھے شدید غصہ آ گیا اور میں وہاں سے اٹھ کر دروازے کی طرف جانے لگا اور دروازے پر پہنچ کر میرے دماغ میں خیال آیا چچی کو ابھی تک یہ پتہ ہی نہیں ہے کے میرا پاس ان کے کالے کرتوت کی ویڈیو بنی پڑی ہے میں کمرے سے باہر نکلا اور ساتھ والے کمرے میں پڑا ہوا میرا موبائل جو کے میں نے چارجنگ پے لگایا ہوا تھا لینے چلا گیا اور اور میرا دماغ بہت تیزی کے ساتھ کام کر رہا تھا مجھے میرے دِل سے آواز آئی کا شی بیٹا غصے سے کام نہیں ہوش سے کام لو نہیں تو اپنے لن کو پھدی کا سوا دکبھی بھی چکھا نہیں پاؤ گے.میں ساتھ والے کمرے میں داخل ہوا اور اپنا موبائل اٹھایا اور دوبارہ چچی کی کمرے میں داخل ہوا اِس دفعہ میں نے کوئی دستک نہیں دی اور اندر آ کر سیدھا ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا وہ تھوڑا ہٹ کا بیٹھ گئی میں نے موبائل پے ویڈیو لگائی اور موبائل کی اسکریں چچی کے منہ کی طرف کر دی چچی کی نظر جب موبائل کی اسکریں پر پری اور اپنے یار سے چدائی کرواتے ہوئے کی ویڈیو دیکھی تو اس کے چہرے کا رنگ پیلا زرد ہو گیا اور وہ ویڈیو بھی دیکھ رہی تھی اور کانپ بھی رہی تھی اس نے فوراً میرے ہاتھ سے موبائل کھینچنے کی کوشش کی جو کے مجھے پہلے ہی علم میں تھا اور میں نے فوراً اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور بیڈ سے اٹھ کر ساتھ پڑی ہوئی کرسی پے بیٹھ گیا اور چچی کا منہ دیکھنے لگا چچی نے کانپتی ہوئی آواز میں پوچھا تم نے یہ ویڈیو کیسے بنائی میں نئے کہا چچی آپ کیا سمجھتی ہو کے میں اس ٹائم ہی آیا تھا جب آپ نے مجھے دیکھ لیا تھا . نہیں میں نے آپ کا مکمل شو دیکھا تھا اور اس ٹائم ہی آپ کی ویڈیو بھی بنائی تھی . اور میں نے کہا اب کیا خیال ہے میری پیاری چچی جان میرے پاس تو آپ کا پکا ثبوت ہے اب بتاؤ کیسا وہ منظر ہو گا جب یہ ویڈیو چچا دیکھیں گے اور پِھر بعد میں آپ کے ساتھ جو ہو گا یہ تو آپ نے مجھے تھپڑ مارتے ہوئے بھی نہیں سوچا تھا . . ہا ہا ہاچچی فوراً بیڈ سے اٹھی اور سیدھی میرے پاؤں میں آ کر بیٹھ گئی اور رونے لگی کا شی مجھے معاف کر دو میں نے تم پے ہاتھ اٹھایا خدا کے لیے یہ ویڈیو کو ختم کر دو خدا کے لیے کسی کو نا دیکھنا میں تمھارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں میں زندگی میں دوبارہ یہ کام نہیں کروں گی خدا کے لیے کا شی میرا گھر برباد ہونے سے بچالو یہ ویڈیو کو اپنے موبائل سے ختم کر دو اگر یہ کسی نے دیکھ لی تو قیامت آ جائے گی اور ساتھ میں پیروں میں ہاتھ رکھ کر روئے جا رہی تھی میں نے آگے سے جواب دیا چچی اِس ویڈیو کی وجہ سے ہی تم میرے پیروں میں بیٹھی معافی مانگ رہی ہو اگر یہ ویڈیو نہ ہوتی تو آج جو تم نے میرے اوپر ہاتھ نہ اٹھایا ہوتا اور مجھے سے ثبوت کا نہ پوچھا ہوتا. چچی بولی کا شی مجھے معاف کر دو میں بہک گئی تھی اور اپنے آپ پر کنٹرول نا رکھ سکی تھی اِس لیے اپنی پیاس بجھانے کے لیے یہ غلط کام کیا . . تم بھی مرد ہو تم بھی تو اپنے جِسَم کی پیاس بجھانے کے لیے اپنے ہاتھ سے تسکین لیتے ہو اور تم نے بھی کسی عورت کے ساتھ اپنے جِسَم کی تسکین دی ہو گی میں نے چچی سے کہا ہاں یہ سچ ہے کے میں اپنے جِسَم کی پیاس بجھانے کے لیے اپنے ہاتھ سے تسکین لیتا ہوں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ آج تک میں نے کسی عورت کے ساتھ یہ کام نہیں کیا ہے .لیکن آپ تو شادی شدہ ہیں اور آپ کے بچے ہیں کل کو یہ بات کسی کو پتہ چلے گی تو آپ کی اپنی اور گھر والوں کی عزت کا کیا ہو گا اور آپ کے بچوں کا کیا بنے گا یہ آپ نے کبھی سوچا ہے اور دوسرا آپ جو یہ کہہ رہی ہیں کے میں بہک گئی تھی یہ غلط کام کرنے کے لیے آپ جب اپنے کزن کے ساتھ یہ کام کر رہی تھی میں نے آپ کی سب باتیں سنی آپ کی باتوں سے صاف پتہ چل رہا تھا کہ آپ یہ کام پہلی دفعہ نہیں کافی ٹائم سے کر رہی ہیں اور کافی لوگوں سے کر چکی ہیں کیا سچ نہیں ہے ؟ … چچی نے رونا بند کر دیا تھا پِھر وہ بولی کا شی تم نے سب کچھ دیکھ بھی لیا ہے اور سن بھی لیا ہے تم کو پتہ ہے میں ابھی جوان ہوں جب تمھارے چچا فوت ہوئے تو میری عمر اس ٹائم 32 سال تھی تمھارے چچا کے فوت ہونے کے2 سال بعد تک میں اکیلی برداشت کرتی رہی اور سہتی رہی لیکن تم خود سوچو میں ایک جوان عورت ہوں میرے بھی جذبات ہیں احساسات ہیں میں نے مجبور ہو کر یہ قدم اٹھایا اور باہر منہ مار کے بدنامی سے بچنے کے لیے اپنے گھر میں ہی اپنے جِسَم کی تسکین کے لیے اپنے کزن کے ساتھ تعلق بنایا تھا. پِھر چچی تھوڑی دیر خاموش رہی اور کوئی 2 منٹ کی خاموشی کے بعد بولی کا شی تم میرا سب کچھ دیکھ بھی چکے ہو اور جان بھی چکے ہو اب تمہاری مرضی ہے کے تم یہ سب کچھ اپنے چچا کو دیکھا کر میری زندگی برباد کر سکتے ہو اور یا ایک اور حَل بھی ہے اور پِھر وہ خاموش ہو گئی . میں تعجب میں تھا کے دوسرا حَل کون سا ہے میں نے خاموشی کو توڑتے ہوئے چچی سے سوالیا نظروں سے پوچھا آپ دوسرے کس حَل کی بات کر رہی ہیں چچی نے چہرہ اٹھا کر میری طرف دیکھ اور پِھر اپنی نظریں نیچے کر کے بولی اگر تم میرا یہ راز کسی کو نہ بتاؤ تو میں تمہاری جسم کی پیاس بجھانے کے لیے تمہاری کافی مدد کر سکتی ہوں مجھے پتہ چل چکا تھا چچی اب کافی حد تک میرے کنٹرول میں آ چکی ہیں لیکن میں پِھر بھی اپنی مردانگی میں رہنا چاہتا تھا اِس لیے میں نے پِھر سوال کیا آپ میری کیسے اور کس طرح مدد کر سکتی ہیں. چچی نے کہا تم اچھی طرح جانتے ہو میں تمہاری کیسے مدد کر سکتی ہوں تم بچے نا بنو . میں نے کہا آپ کو پتہ ہے میں نے آج تک کسی عورت کے ساتھ اِس قسِم کا کوئی تعلق نہیں رکھا ہے اِس لیے آپ سے پوچھ رہا ہوں آپ کیسے میری مدد کر سکتی ہیں . چچی نے لمبی سی سانس لی اور بولی جیسے تم اپنے لن کی مالش کرتے ہو اور میں عورت کے ہاتھ سے تمہاری وہ تسکین پوری کر سکتی ہوں اور تمھارے لن کو عورت کی پھدی کا مزہ بھی چکھا سکتی ہوں اور یہ اس صورت میں ہی ہو سکتا ہے جب تم مجھ سے وعدہ کرو کے تم میرےراز کو راز رکھو گے اور میری ویڈیو بھی کسی کو نہیں دکھاؤ گے. میرا لن چچی کی باتیں سن کے شلوار میں ہی فل ایکشن میں کھڑا ہو چکا تھا اور میری جھولی میں ہی ل تمبو بنا ہوا تھا جو کے چچی نے بھی دیکھا لیا تھا اور وہ یہ دیکھ کر مسکرا رہی تھی. میں نے چچی کا ہاتھ پکڑا اور اپنے لن پے رکھ دیا اور بولا چچی آپ کی آفر بری نہیں ہے لیکن اِس میں مزہ تب ہی ہے جب اِس پے مکمل عمل بھی ہو آپ اِس کو اپنی پھدی کا سیر کروا دو پِھر ہی ثابت ہو گا کے یہ ڈیل پکی ہے یا صرف جان چھو ر وانے کے لیے دانہ پھینکا جا رہا ہےچچی نے میرا لن چھو ر دیا اور اٹھ کر بیڈ پے بیٹھ گئی اور پِھر میری طرف منہ کر کے بولی میں تمہاری سگی چچی ہوں میں تمہارا لن اپنی پھدی میں نہیں لے سکتی ہاں فلحال صرف تمھارے لن کی مالش کر سکتی ہوں اور تمھارے لن کے لیے میری پھدی نہیں کسی اور کی پھدی کا انتظام کر سکتی ہوں بولو کیا منظور ہے کے نہیں.. میں سوچنے لگا کتنی بڑی رنڈی کی بچی ہے اپنے آپ کتنے آرام سے سائڈ پے کروا رہی ہے اور کسی اپنے جیسی دوسری رنڈی کو میرے لیے پیش کر رہی ہے میں نے دِل میں سوچ کا شی بیٹا اِس رنڈی کا پکا ثبوت تو ویسے ہی تیرے پاس موجود ہے اور اِس کی پھدی ایک نہ ایک دن تو مل ہی جائے گی فلحال اِس کی بات بات مان لیجائے اور اِس کے ذریعےدوسری رنڈیوں کا مزہ پہلے لے لیا جائے پِھر اِس رنڈی کا تو آگے اور پیچھےسے اکاؤنٹ بعد میں بھی کھولا جا سکتا ہے. یکدم چچی کی آواز میرے کانوں میں پڑی وہ پوچھ رہی تھی پِھر کیا سوچا ہے منظور ہے یا نہیں . میں کرسی سے اٹھ کر ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا اور دوبارہ ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پر رکھا اور ان کے کان میں میں کہا مجھے منظور ہے وہ آگے سے مسکرائی اور میرے لن کو دبا کر بولی تم کافی سمجھدار ہو لیکن ابھی ایسا کرو ساتھ والے کمرے میں چلو اور اپنے بیگ سے تیل نکل کر کمرے میں بیٹھو میں وہاں آتی ہوں وہاں پے ہی تمہارا کام کروں گی اِس کمرے میں دادی کبھی بھی باتھ روم جانے کے لیے میرے روم میں بھی آ سکتی ہیں میں وہاں سے اٹھا اور ساتھ والے کمرے میں چلا گیا اور وہاں پے میرا بیگ پڑا ہوا تھا میں نے بیگ سے تیل نکالا اور چار پائی کے پس رکھ دیا اور دروازہ بند کر کے اپنے کپڑے اُتَر دیئے اور میں چار پائی کے اوپر چڑھ کر بیٹھ گیا اور چچی کا انتظار کرنے لگا.کوئی منٹ کے بعد دروازہ کھلا اور چچی اندر داخل ہوئی انہوں نے اپنے کپڑے بَدَل لیے تھے کاٹن کی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی جو کے کافی حد تک ٹرانسپیرینٹ تھی چچی اندر داخل ہوئی اور میرے پے نظر پڑھی تو مجھے پورا ننگا دیکھا کر اور پِھر میرے فل کھڑے ہوئے لن کو دیکھ کر دیکھے ہی جا رہی تھی دروازہ اندر سے بند کر کے وہ میری چارپائی پے آ کر بیٹھ گئی اور بدستور میرے لن کو دیکھے جا رہی تھی میں نے چچی سے پوچھا کیا ہوا چچی جان اتنا غور سے کیا دیکھ رہی ہیں . . پِھر وہ مجھے بولی کا شی تیرا لن شلوار کے اوپر سے پکڑا تھا تو اتنا زیادہ محسوس نہیں ہوا تھا لیکن ابھی ننگا لن دیکھ رہی ہوں حیراں ہوں تمہارا اِس عمر میں ہی لن اتنا جاندار ہے لمبائی اور موٹائی بھی اچھی خاصی ہے اور اِس کی ٹوپی بھی کافی بڑی ہے . میں نے کہا چچی یہ سب زیتون کے تیل کا کمال ہے ابھی تو تم نے لن ہاتھ میں پکڑ کر دیکھا ہے تو یہ حال ہے جب اندر لو گی تو ہمیشہ یاد نا رکھا تو کہنا . چچی آگے سے مصنوعی غصے سے بولی کا شی میں تمہاری سگی چچی ہوں اور میں اپنی پھدی تم کو نہیں دے سکتی لیکن اپنی پھدی کے بدلے میں تمھارے لیے کسی اور کی پھدی کا بندوبست ضرور کر کے دوں گی . . میں نے دِل میں سوچا چچی تیری وی ماں دی پھدی تیری بھی لے کر رہوں گا اور تیرےذریعے دوسری پھدیوں کا مزہ چکھاوں بھی گا. میں نے کہا چلو چچی جان آپ کی مان لیتا ہوں لیکن فلحال تو میرے لن کی مالش تو شروع کرو . چچی نے آگے براہ کے میرا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا اور اس کو پہلے اپنے ہاتھ کی مدد سے ناپنا شروع کر دیا اور پِھر بولی کا شی ویسے تیرا لن ہے بڑا کڑ ا کے دا ر .لمبائی بھی ٹھیک ہے اور موٹائی بھی اور پِھر وہ میرے لن کو ہاتھ سے اوپر نیچے کرنے لگی اور آہستہ آہستہ مٹھ لگانے لگی میں نے چار پائی کے نیچے پڑی ہوئی زیتون کی بوتل چچی کو دی اور کہا چچی تیل سے شروع کرو اصل مالش کا مزہ تو زیتون کے تیل سے ہے.انہوں نے تیل اپنے ہاتھ میں ڈالا اور پِھر میرے لن کے چاروں طرف ہاتھ پھرا کر اس کی مالش شروع کر دی چچی کے ہاتھ سے مالش کا اپنا ہی مزہ تھا چچی کسی ماہر رنڈی کی طرح اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر میرے لن کی مالش شروع کر دی اور میری آنکھیں سرور میں بند ہونے لگی چچی کے نرم ملائم ہاتھوں کا احساس اور تیل کی مالش سے میرا لن فل جوبن میں تھا اور میرے لن کی رگیں ان کے مسلسل ہاتھ چلانے کی وجہ سے پھول رہی تھیں پِھر چچی کی آواز میرے کانوں میں گونجی کا شی کیا سچ میں تم نے آج تک کسی عورت کی پھدی نہیں لی ہے یا مجھے سے جھوٹ بول رہے ہو اسلام آباد میں تو اتنی زیادہ ماڈرن اور فیشن والی لڑکیاں ہیں. میں آگے سے کہا آپ کی بات سچ ہے کے اسلام آباد میں فیشن اور ماڈرن لڑکیوں کی ریل پیل ہے لیکن وہاں بھی اتنی جلدی ہاتھ میں نہیں آتی ہیں اور وہاں پر ابو کا ڈر بھی ہر وقعت ساتھ رہتا ہے اِس لیے آج تک نا کوئی چانس ملا نا کبھی ہمت ہوئی ہےاب چچی نے لن کے ساتھ ساتھ میرے ٹٹوں کی بھی مالش شروع کر دی تھی اور پورا ہاتھ نیچے لے جا کر ٹٹوں کو خوب مسل مسل کے مالش کر رہی تھی چچی کوئی 5 منٹ سے میرے لن کی مسلسل مالش کر رہی تھی اور ساتھ ساتھ باتیں بھی کر رہی تھی پِھر بولیں کہ کا شی تمھارے لن کی ٹوپی کافی بڑی ہے اور گول مول ہے یہ جس کس کی بھی گانڈ کی موری میں گھسے گی اس کا مور ا بنا دے گی میں نے کہا چچی اب تو یہ تمہاری ہی ڈیوٹی ہے کے اِس لن کو اگر اپنی پھدی یا گانڈ نہیں دے سکتی ہو تو جلدی سے کسی اور پھدی اور گانڈ کا رستہ دیکھا دوچچی ہاتھ تیزی تیزی سے چلا رہی تھی اور پِھر بولی ہاں کا شی بیٹا فکر نا کر میں جلدی ہی تیرے شیر کے لیے کوئی ٹائیٹ سے پھدی کا بندوبست کروں گی اور ساتھ ساتھ مالش جاری رکھے ہوئے تھی میں نے چچی سے کہا کے ویسے چچی کس کو میرے لیے لاؤ گی تو وہ بولیں جب آئے گی تو خود ہی پتہ چل جائے گا اتنی فکر میں کیوں ہو . میں نے پِھر کہا پِھر بھی چچی جان بتاؤ نا وہ کون ہے جس کی پھدی پہلی دفعہ میرے نصیب میں آئے گی چچی بولی اچھا بتاتی ہوں پہلے یہ تو بتا تم نے کیا ٹائمنگ والی گولی کھائی ہوئی ہے جو تیرا 10 منٹ سے اوپر ٹائم ہو گیا ہے ابھی تک تیرا پانی ہی نہیں نکلا گولی کے بغیر تو مردوں کا زیادہ سے زیادہ 5 سے 7 منٹ میں پانی نکل آتا ہے . میں کھلکھلا کے ہنسا اور چچی سے بولا چچی یہ کمال کسی گولی کا نہیں ہے یہ صرف زیتون کے تیل کا کمال ہے میں 8 سال سے اپنے لن کی اِس ہی تیل سے مالش کر رہا ہوں یہ ٹائمنگ اور لمبائی اور موٹائی سب اِس تیل کا کمال ہے میری لمبائی تو ابھی تقریباً 6 انچ ہے میں نے تو پڑھا ہے کے اِس تیل سے لوگوں نے 9 انچ تک بھی لمبا لن بنایا ہے چچی نے دوبارہ پوچھا کے ویسے تیرا پانی مٹھ مارنے کے کتنی دیر بعد میں نکل آتا ہے میں نے کہا ویسے مٹھ تو میں کم ہی مارتا ہوں کیونکہ اگر مٹھ زیادہ مارتا ہوتا تو آج میرا لن ڈھیلا ہو چکا ہوتا لیکن کبھی کبھی جب شہوت زیادہ چڑھی ہوئی ہو تو مٹھ ماروں تو 15 سے 20 منٹ کے درمیان میں پانی نکل آتا ہے چچی حیراں ہو کر بولی واہ کیا کمال کا تیل ہے ایک میرا کزن ہے اگر گولی کھا کے اے تو گزارا کرتا ہے نہیں تو بغیر گولی کے تو وہ 5 منٹ کے اندر اندر میرے فارغ ہونے سے پہلے ہی فارغ ہو جاتا ہ ہے چچی باتیں بھی کر رہی تھی لیکن ساتھ ساتھ مالش کرنا اس نے جاری رکھا ہوا تھا میں نے چچی سے دوبارہ پوچھا چچی جان بتاؤ نا وہ عورت کون ہے جس کی پھدی مجھے کھلاؤ گی چچی نے کہا پڑوس میں میری ایک دوست ہے اس کی ایک ہی بیٹی ہے 24 سال اس کی عمر ہے اس کی شادی آج سے 3 سال پہلے گجرات میں ہوئی تھی لیکن بدقستمی سے شادی کے 1 سال بعد ہی اس کے میاں کا ایکسڈینٹ ہو گیا اور وہ اس میں ہی فوت ہو گیا تھا اس کے بعد وہ بیچاری 2 سال سے اپنی ماں کے پاس ہی رہ رہی ہے اور جب کبھی ہمارے گھر میں کام زیادہ ہو تو وہ آتی رہتی ہے اور سلائی کا کام بھی مجھے سے سیکھتی رہتی ہے میری بہت اچھی سہیلی بھی ہے اور اپنے سارے دکھ سکھ بھی مجھ سے ہی بانٹتی ہے اس بیچاری نے بھی اپنے میاں کے فوت ہونے کے بعد سے لے کر اب تک بہت صبر کیا ہوا ہے لیکن وہ تو مجھے سے بھی زیادہ جوان ہے اور گرم لڑکی ہے مجھے بہت دفعہ کہہ چکی ہے باجی میری پھدی کی آگ کو بھی ٹھنڈا کرنے کا انتظام کرو لیکن میں اس کو بہت دفعہ ٹال چکی ہوں کہ موقع ملا تو تمھارے لیے کچھ کروں گی وہ بیچاری کافی ٹائم سے میرے اِس لا رے میں ہی بیٹھی ہوئی ہے میں نے چچی سے سوال کیا چچی اس کو میرے لیے رضی کیسے کرو گی نا میں نے اس کو دیکھا ہوا ہے اور نا اس نے مجھے دیکھا ہوا ہے چچی بولی اِس بات کی فکر تم نا کرو وہ اپنی ہوس کی آگ میں بہت گرم ہے اس کو کسی بھی لن کی شدید طلب ہے وہ بس یہ ہی چاہتی ہے کے جو بھی ہو اپنا بندہ ہو جو جب دِل کرے مزہ بھی دے اور باہر کسی کے سامنے بدنام بھی نا کرے سو وہ تم ہی ہو میری نظر میں اور جب میں نے اس کو تمھارے متعلق اعتماد میں کر دینا ہے تو اس نے راضی خوشی دبا کے اپنی پھدی مر وا نی ہے تم سے. چچی کی باتیں سن کے میرے اندر لڈو پھوٹ رہے تھے اور لن نے بھی جھٹکا مارا اور ساتھ میں چچی مالش کم اور مٹھ زیادہ مار رہی تھی اِس دوران ہی میری منی کا ایک بڑا سا قطرہ میری لن کی ٹوپی پے نمودار ہوا چچی نے منی کا قطرہ ٹوپی پے دیکھا تو ان کی آنکھوں میں ایک چمک سی آ گئی اور انہوں نے اپنا منہ آگے کی طرف کیا اور بالکل میرے لن کی ٹوپی کر قریب کر کے اپنی زبان سے قطرے کو چاٹ لیا منی کا قطرہ چاٹنے کے بعد چچی بولی کا شی تمہاری منی کا سوا د بڑا ہی مزے دار اور تھوڑا سا نمکین ہے چچی کی زُبان میرے لن پے لگنے کی دیر تھی میرے جسم کے اندر ایک دلکش لہر دور گئی چچی نے کہا کا شی بیٹا آج مجھے تمہاری منی نکالنی ہے کیا تم تیار ہو میں نے کہا چچی جان آپ کے لیے تو جان بھی حاضر ہے آپ ذرا مٹھ تیز کریں منی خود ہی نکل آئے گی چچی نے اپنا ہاتھ میرے لن پے اور تیز کر دیا مٹھ لگانے لگی چچی نے دوسرے ہاتھ سے اپنی قمیض اوپر کر لی اور اپنے ممّے ننگے کر دیئے انہوں نے نیچے برا نہیں پہنی ہوئی تھی چچی کے ممّے موٹے موٹے اور گورے چیٹے تھے اور ان پے برائون رنگ کے نپل بہت ہی دلکش منظر پیش کر رہے تھے چچی نے کہا کا شی بیٹا جب منی نکلنے لگے تو اپنی ساری منی میرے مموں کے اوپر گرانا میں اٹھ کے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا آب میرا لن بالکل چچی کے مموں کے سامنے آ گیا تھا اور چچی آب مستی میں آنکھیں بند کر کے تیز تیز مٹھ لگا رہی تھی اور ساتھ ساتھ منہ سے مستی بھری آوازیں نکل رہی تھی آہ آہ اوہ اوہ آہ اور دیکھتے ہی دیکھتے کوئی 5 منٹ کے بعد میری منی کا فوارہ چھو ٹا اور سیدھا چچی کے مموں کے اوپر گرنے لگا چچی نے بھی میری گرم گرم منی محسوس کر کے اپنی آنکھیں کھول لیں تھیں پِھر میں نے دیکھا کے چچی نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ساری منی اپنے مموں کے اوپر مل دی اور پِھر میری طرف دیکھتے ہوئے بولی سچ میں تمہارا لن کمال ہے اور نیچے اپنے پھدی والی جگہ مجھے دکھائی اور بولی دیکھو تمہاری مالش سے میں کتنا پانی چھوڑچکی ہوں حقیقت میں ان کی شلوار نیچے سے پوری گیلی ہوئی تھی اور تمہاری گرم گرم منی میں نے اپنے مموں پے مل دی ہے میں نے سنا ہے مرد کی منی سے عورت کا جسم بہت پھلتا پھولتا ہےپِھر چچی نے اپنی قمیض کے پلو کے ساتھ ہی میرا لن کو صاف کیا اور اپنی قمیض ٹھیک کی اور چار پائی سے اٹھ کر باہر جانے لگی جب دروازے تک پہنچی تو میں نے پیچھے سے پوچھا چچی اپنی سہیلی کی پھدی کس دن کھلا رہی ہو وہ پیچھے مڑی اور ذرا سا مسکرائی اور بولی صبر کرو صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے میں نے کہا چچی آپ نے اب پیاس اور بڑھا دی ہے اب صبر کہاں سے کروں تو وہ کھلکھلا کے ہنسی اور پِھر بولی کے بچوں کو اسکول سے آنے دو جب وہ دوپہرکو سو جائیں گے تو میں ان کے گھر جاؤں گی اور کل کا پروگرام پکا کروا دوں گی اب تم بھی اٹھو اور جا کا نہا لو اور میں بھی نہا کے كھانا بنانے لگی ہوں.چچی کے کمرے سے باہر جانے کے بعد میں چار پائی سے اترا اور اپنے کپڑے پہنے اور کمرے سے باہر دیکھا چچی کے اپنے کمرے کے اٹیچ باتھ روم میں پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی میں بھی صحن میں بنے باتھ روم میں گھس گیا اور نہانے لگا اور کوئی آدھے گھنٹے بعد باہر نکلا تو دیکھا چچی کچن میں كھانا پکا رہی تھی میں اس ہی کمرے میں چلا گیا جہاں میرا بیگ رکھا ہوا تھا بیگ میں سے کپڑے نکال کر استری کیے اور پہن کر باہر آیا تو چچی کچن میں ہی تھی میں سیدھا ٹی وی والے کمرے میں آ کر ٹی وی لگا کر ٹی وی پر انڈین مووی دیکھنے لگا اور پتہ ہی نہیں چلا کافی ٹائم گزر گیا اور باہر مرکزی دروازے پے گھنٹی بجی اور میں نے کھڑکی سے دیکھا چچی میں دروازہ کھول رہی تھی اور ان کے بچے اسکول سے آ گئے تھے . بچے اندر داخل ہوئے تو چچی نے ان سے کہا چلو بچو جلدی سے کپڑے بَدَل لو منہ ہاتھ دھو لو كھانا تیار ہے پِھر بچے کپڑے تبدیل کرنے چلے گئے اور پِھر چچی وہاں سے سیدھی ٹی وی والے کمرے میں آئی اور آ کر بولی کا شی بیٹا کچن میں آ کر کھانے والے برتن رکھا دو اور آ کر كھانا بھی کھا لو . میں نے ٹی وی بند کیا اور کچن میں جا کر برتن اٹھا کر دستر خواں پر رکھنے لگا اور کچھ دیر بعد بچے اور دادی بھی اپنے کمرے سے نکل کر وہاں آ گین اور پِھر سب نے مل کر كھانا کھایا کھانے کھا کر میں نے برتن کچن میں رکھ دیئے اور ہاتھ دھو کر دوبارہ ٹی وی والے کمرے میں آ کر ٹی وی لگا کر بیٹھ گیا اور بچے بھی كھانا کھا کر چچی کے ساتھ والے روم میں سونے کے لیے چلے گئے اور دادی بھی اپنے کمرے میں آرام کرنے چلی گئی اور کچھ دیر بعد میں نے دیکھا چچی کچن کا کام ختم کر کے اپنے کمرے کی طرف چلی گئی. اور میں ٹی وی پے فلم دیکھنے میں مشغول ہو گیا کوئی آدھے گھنٹے کے بعد میں نے دیکھا کے چچی اپنے کمرے سے نکل کر ٹی وی والے کمرے میں آئی اور بولی کا شی میں محلے میں پڑوسی کے ہاں جا رہی ہوں تھوڑی دیر بعد آ جاؤں گی تم اندر سے دروازہ بند کر لو اور ساتھ ہی مجھے ایک سیکسی سی سمائل اور آنکھ مار دی. میں نے کہا جی ٹھیک ہے چچی جان اور وہ میرے آگے آگے چلتی ہوئی گھر سے باہر چلی گئی میں نے دروازہ اندر سے بند کر دیا اور دوبارہ ٹی وی والے کمرے میں آ کر ٹی وی دیکھنے لگا لیکن اب فلم پے دِل نہیں لگا رہا تھا یہ ہی بار بار سوچ آ رہی تھی کیا چچی کی سہیلی مان جائے گی اگر وہ مان جائے گی تو میرا تو پہلا تجربہ ہے کیسے کروں گا لیکن اندر اندر ہی لڈو بھی پھوٹ رہے تھے کے زندگی میں پہلی دفعہ میرا لن بھی ایک پھدی کا مزہ چکھے گا. میں ان ہی سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا اور پتہ ہی نہیں چلا ایک گھنٹے سے زیادہ کا ٹائم گزر گیا اور میں نے ٹائم دیکھا تو 5 بجنے میں 10منٹ باقی تھے اور 5 بجے تو چچا بھی گھر آ جاتے ہیں لیکن چچی ابھی تک نہیں آئی تھی یہ سوچ رہا تھا باہر گھنٹی بجی میں فوراً اٹھا اور جا کر دروازہ کھولا تو سامنے چچی ہی تھی وہ جلدی سے اندر آ گئی اور سیدھا اپنے کمرے میں چلی گئی اور میں نے دروازہ بند کیا اور چچی کے کمرے کی طرف چل گیا ابھی میں چچی کی کمرے کے دروازے پے ہی پہنچا تھا کے دوبارہ گھنٹی بجی میں پِھر دروازے کی طرف لپکا اور دروازہ کھولا تو اب کی بار چچا تھے میں نے ان کو دیکھا اور سلام کیا وہ جواب دے کر اپنی موٹر بائیک اندر لے آئے اور صحن میں ایک کون پے شیڈ کے نیچے کھڑی کر دی اور پِھر اپنا آفس بیگ لے کر اپنے کمرے میں چلے گئے میں نے اب چچی کی کمرے کی طرف جانا مناسب نہیں سمجھا اور دوبارہ ٹی وی والے کمرے میں آ کر ٹی وی لگا کا بیٹھ گیا . . کوئی آدھے گھنٹے کے بعد چچا بھی کپڑے بَدَل کر نہا دھو کر ٹی وی والے کمرے میں آ گئے میں نے ریموٹ ان کو دے دیا انہوں نے نیوز والا چینل لگا لیا اور ٹی وی دیکھنے لگے میں نے دوبارہ چچی کی کچن کی طرف جاتے ہوئے دیکھا لیکن میں نے اپنی جگہ پے ہی بیٹھا رہنا بہتر سمجھا اور کچھ دیر بعد چچی چائےکے دو کپ لی کر ٹی وی والے کمرے میں آئی اور چچا کو سلام کیا اور پِھر ہم دونوں کو چائےدے کر باہر چلی گئی. اور پِھر اس دن رات سونے تک میری چچی سے کوئی بات نا ہو سکی اور سب كھانا کھا کر روز مرا ہ کے معمول کی طرح رات کو سو گئے اور میں بھی چھت پے اپنی چار پائی پے سو گیا. اگلی صبح میں کسی کے جگانے سے پہلے ہی اٹھ گیا تھا کیونکہ مجھے پتہ تھا آج میری قسمت کھلنے والی ہے اور میں اٹھ کر سیدھا نیچے باتھ روم کی طرف جانے لگا جب میں صحن میں پہنچا تو چچی سے سامنا ہوا ان کے ساتھ نظر ملی تو وہ مجھے بڑی سیکسی سمائل کے ساتھ دیکھ رہی تھی اور میں سیدھا باتھ روم میں گھس گیا.نہا دھو کر میں باہر نکل آیا تو سب لوگ دستر خواں پے بیٹھے ہوئے تھے میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگا اور ناشتے کے بعد سب اپنے اپنے کاموں پے چل نکلے میں بھی ناشتہ کر کے ٹی وی والے کمرے میں جا کر ٹی وی دیکھنے لگا پاکستان انڈیا کا میچ لگا ہوا تھا وہ دیکھنے لگا اور باہر سب کے جانے کے بعد چچی کچن کا کام ختم کر کے گھر کی صاف صفائی پے لگ گئی تقریباً 11بجے کا ٹائم ہو گیا تھا جب چچی آخر میں ٹی وی والے کمرے میں صفائی کے لیے آئی اور صفائی کرنے لگی . میں کچھ دیر ان کی طرف سے کسی بات کے شروع کرنے کا انتظار کیا لیکن انہوں نے کوئی بات نہیں کی اور اپنے کام میں لگی رہی اور پِھر میں نے ہی خاموشی کو توڑا اور چچی کو کہا چچی جان ہم غریبوں کا کیا سوچا ہے . چچی نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور بڑی ہی سیکسی سمائل دے کر بولی کے ٹھنڈا کر کے كھانا سیکھو اتنی کیا جلدی ہے . . میں نے کہا چچی جان جلدی تو ہو گی آپ نے اپنی سہیلی کی پھدی کی کا بتا کے میرے جذبات کو اور بڑھا دیا ہے اب کیسے قابو کروں ان کو. چچی میری باتیں سنی اور بولی ہو جائے گا بچے ہو جائے گا تھوڑا حوصلہ رکھ . . . اور دوبارہ اپنا کام کرنے لگی اور کچھ دیر بعد اپنا کام ختم کر کے اپنے کمرے کی طرف چلی گئی . میں بس چچی کا جواب سن کر تھوڑا مایوس ہو کر دوبارہ ٹی وی دیکھنے لگا جب تقریباً پونے بارہ کا ٹائم ہوا تو چچی میرے کمرے میں دوبارہ آئی اور آ کر بولی چل بھتیجےتیار ہو جا تھوڑی دیر میں میری سہیلی آ رہی ہے تم ایسا کرو میرے کمرے میں جا کر انتظار کرو میں اس کو لے کر وہاں ہی آؤں گی . میں تو یہ سن کر خوشی سے جھومنے لگا اور ٹی وی بند کر کے سیدھا چچی کی بیڈروم میں جا کر ان کے ڈبل بیڈ پے جا کر بیٹھ گیا اور انتظار کرنے لگا. کوئی10 منٹ کے بعد باہر کی گھنٹی بجی اور مجھے گھنٹی بجنے کے ساتھ ہی باہر کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور کسی لڑکی کی چچی کی ساتھ باتیں سنائی دینے لگی . . پِھر یہ آوازیں نزدیک ہوتی ہوئی محسوس ہوئی اور تھوڑی دیر بعد چچی نے اپنے بیڈروم کا دروازہ کھولا تو سامنے چچی اور وہ لڑکی کھڑی تھی جب میری نظر اس لڑکی پے پڑی تو اس نے فوراً شرما کے اپنا منہ نیچے کر لیا اور پِھر چچی اندر داخل ہوئی اور مجھے سیکسی سی سمائل دی چچی بیڈ کے پاس پہنچ گئی لیکن وہ لڑکی دروازے پے ہی کھڑی تھی چچی نے پیچھے دیکھا تو اس لڑکی سے بولی نورین کیا ہوا اندر آؤ نا شرما کیوں رہی ہے وہ لڑکی پِھر چچی کی آواز پے چلتی ہوئی اندر آئی اور بیڈ کے ساتھ رکھی ہوئی کرسیوں میں سے ایک کرسی پے بیٹھ گئی. پِھر چچی میری طرف دیکھ کر بولی لوبھتیجے تم دونوں کا سکون اور مزے کا بندوبست میں نے کر دیا ہے اب تم دونوں کے پاس تقریباً 2 گھنٹے ہیں دونوں اپنی اپنی آگ کو ٹھنڈا کر لو اور پِھر بولی بھتیجے ذرا خیال رکھنا میری سہیلی کا یہ بہت میری خاص سہیلی ہے اور نرم اور نازک بھی ہے اِس کو مزہ بھی دینا اور زیادہ تکلیف نا دینا. چچی پِھر بولی میں ٹی وی والے کمرے میں ہی ہوں باہر کا خیال میں رکھوں گی تم دونوں بے فکر ہو کر ایک دوسرے سے مزہ لو اور اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو ساتھ والے کمرے میں مجھے آ کر بتا دینا اور پِھر چچی یہ کہہ کر باہر چلی گئی اور دروازہ بند کر دیا . اب میں اور وہ لڑکی ہی دونوں کمرے میں تھے اور لڑکی اتنی شرمیلی تھی کے نیچے ہی دیکھ رہی تھی میں نے کچھ دیر تو اس کے ری ایکشن کا انتظار کیا لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا کیونکہ اس کا کسی غیر مرد کے ساتھ پہلا تجربہ تھا اور میرا بھی لیکن میری تو ساری جھجھک چچی کی باتوں سے ختم ہو چکی تھی. پِھر میں نے ہی ہمت کی اور اس لڑکی سے کہا کے نورین جی یہاں بیڈ پے آ کر آرام سے بیٹھ جائیں وہاں کرسی پے تنگ ہو رہی ہوں گی . میں نے غور سے دیکھا اس کا چہرے کا رنگ میری بات سن کر لال سوراخ ہو گیا تھا اور بدستور نیچے ہی دیکھ رہی تھی . لیکن وہ کرسی پے ہی بیٹھی رہی اور وہاں سے نا ہلی اور دھیمی سی آواز میں بولی جی میں یہاں ٹھیک ہوں . میں نے دِل میں سوچا کا شی بیٹا خود ہی سب کچھ کرنا ہو گا نہیں تو سارا ٹائم اِس ہی چکر میں گزر جائے گا . میں بیڈ سے اٹھا اور جا کر جس جگہ لڑکی بیٹھی تھی اس کے ساتھ والی کرسی پے بیٹھ گیا . اور پِھر میں نے اس کا ایک ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھاما تو اس نے فوراً شرما کے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا . میں نے دوبارہ اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کے کان میں جا کر بولا نورین جی ڈرنےکی ضرورت نہیں ہے میں آپ کو کوئی کھا تو نہیں جاؤں گا . ہم دونوں کو ہی پتہ ہے آج ہم اِس کمرے میں کیوں ہیں تو پِھر شرما کیوں رہی ہیں . میرے پے پورا بھروسہ رکھو آپ کو کوئی میری طرف سے نقصان نہیں ہو گا اور نا ہی کبھی بھی بدنام کروں گا یہ میرا آپ سے وعدہ ہے.اب کی بار اس نے اپنا ہاتھ نہیں کھینچا اور تھوڑا سا آرام سے بیٹھ گئی اور اب وہ بیڈ کی طرف دیکھ رہی تھی . میں نے اس کا ہاتھ سہلایا اور پِھر اس کے کان میں بولا نورین جی کیا موڈ ہے بیڈ پے چلیں اور ایک دوسرے کی پیاس کو ختم کریں تو وہ شرما گئی اور بہت ہی ہلکی سی آواز میں بولی جی جیسے آپ کی مرضی . میں نئے ہاتھ پکڑ کے ہی اس کو کھڑا کیا اور دوسرا ہاتھ نیچے سے اس کی گانڈ میں سے نکال کر اٹھا لیا اور بیڈ پے لے گیا جب میں نے اس کو اٹھایا تو اس کے موٹے موٹے ممے میرے سینے کے ساتھ لگے تو میرا لن نے ایک زور دار جھٹکا مارا اور میں اس کو اٹھا کے بیڈ پے درمیان میں لیٹا دیا اور ساتھ ہی خود اس کے ساتھ لیٹ گیا . میں نے ایک ہاتھ اس کی گردن کے نیچے سے ڈال کر اس کو اپنے ساتھ لگا لیا اور اس کے رسیلے ہونٹوں کو چومنے لگا . تھوڑی ہی دیر میں نورین نے اپنا منہ کھول لیا میں سمجھ گیا کے وہ آب ایک دوسرے کے ہونٹوں کا رس پینا چاہتی ہے . میں نے بھی جواب میں اپنے ہونٹ اس کے ہونٹ کے ساتھ ملا دیئے اور ہم ایک دوسرے کا رس پینے لگے . میں نے محسوس کیا وہ میری زُبان اپنے منہ میں لے کر بڑے ہی سرور کے ساتھ چوس رہی ہے . وہ جیسے جیسے میری زُبان چوس رہی تھی میں مزے کی دنیا میں ڈوبتہ جا رہا تھا . میں نے بھی اس کے ساتھ ساتھ اس کی زُبان کو چوسنا شروع کر دیا اور اپنے ایک ہاتھ کو اس کی قمیض کے اندر ڈال کے اس کے مموں کو سہلانے لگا اور اس کی نپلز کو سہلانے لگا . جب اس کے نپلز کے ساتھ میں نے کھیلنا شروع کیا تو وہ اور مستی میں آ گئی اور مجھے اور زیادہ طاقت کے ساتھ اپنی دونوں بانہوں میں جڑ لیا . اور ہم ایک دوسرے کی زُبان بھی مسلسل چوس رہے تھے میں نے اب اپنا ہاتھ قمیض سے نکالا اور ناف کے پاس لے گیا اور اس کی شلوار میں ڈالنے کی کوشش کرنے لگا مجھے حیرت کا جھٹکا لگا اس نے شلوار میں لاسٹک ڈالا ہوا تھا اور میرا ہاتھ آرام سے اس کی شلوار میں گھس گیا اور سیدھا پھدی کے ہونٹوں سے جا لگا اور حیرت کا دوسرا جھٹکا لگا کے اس کی پھدی کلین شیوڈ اور نرم ملائم تھی اور اس کے پھدی گرم گرم پانی چھوڑ رہی تھی. میں نے اپنی درمیانی انگلی اس کی پھدی کے اندر داخل کی تو اس کی منہ سے ایک دلکش سی خمار بھری آواز نکلی ہا اے میں مر گئی . میں اپنی آدھی انگلی اندر باہر کرنے لگا اور وہ نشیلی آوازیں نکالنے لگی میں نے کچھ دیر کے لیے ہاتھ روک کر اپنے ہاتھ سے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے تانے ہوئے لن پے رکھ دیا اس نے میرے لوں کو مٹھی میں پکڑ کر پِھر آواز نکالی ہا اے میں مر گئی اور وہ اپنے نرم ملائم ہاتھ سے میرے لوں کو آہستہ آہستہ سہلانے لگی اور میں دوبارہ اس کی شلوار میں ہاتھ ڈال کے اپنی انگلی اس کی پھدی کے اندر باہر کرنے لگا یہ مزہ کوئی 5منٹ تک چلتا رہا پِھر میں نے اس کے کان میں کہا جان آب ہم دونوں کو پورا مزہ لینا چاہیے. وہ بولی جو آپ کی مرضی میں بیڈ پے کھڑا ہو گیا اور اپنے کپڑے لگا وہ بھی اٹھ کر اپنے کپڑے لگی اور کچھ ہی دیر میں ہم دونوں پورے ننگے ہو گئے اس نے جب میرے تنے ہوئے لن کو نزدیک سے دیکھا تو شرما گئی . میں نے کہا اتنا کچھ ہونے کے بَعْد بھی شرما رہی ہو . وہ بولی ایسی بات نہیں ہے . پِھر وہ دوبارہ بیڈ پے سیدھی لیٹ گئی میں وہاں سے اس کی ٹانگوں کو کھول کے درمیان میں بیٹھ گیا اور اس کی پھدی کے پاس اپنا منہ لگا کے اس کی پھدی کو چاٹنے لگا جب میں نے اس کی پھدی میں اپنی زُبان ڈالی تو وہ مست ہو کر اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر اور میرے سر اور اپنی پھدی پے دبانے لگی اور منہ سے آوازیں نکالنے لگی آہ آہ آہ اوہ اوہ . . میں کوئی10 منٹ تک اس کی پھدی کی سکنگ کرتا رہا اور وہ میری سکنگ سے ایک دافع فارغ ہو چکی تھی جس کا اندازہ مجھے اس وقعت ہوا جب میں نے اس کی پھدی کا نمکین پانی اپنی زُبان پے محسوس کیا . پِھر وہ بولی کا شی جی اب اور ہمت نہیں ہے آپ بس اندر ڈالو مجھے ٹھنڈا کرو . میں نے کہا نورین جی ٹھنڈا تو میں آپ کو کروں گا ضرور لیکن پہلے میرے لن کا ایک اچھا سا چوپا لگا کے اِس کو آپ کی پھدی میں لینڈنگ کے لیے تیار تو کرو . وہ بولی جی ٹھیک ہے اور پِھر گھوری اسٹائل میں ہو کر میرے لن کو منہ میں لے لیا اور اس کو ٹوپی سے لے کر جہاں تک ہو سکا اپنے منہ میں لیتی اور پِھر اندر باہر کرنے لگی . اندر ہی اندر وہ اپنی زُبان کو گول گھوما کے میرے لن کو چاٹتی تو میرے اندر سرور کی لہر دوڑ جاتی. اس کے ہو شر با چو پوں سے میرا لن فل آکر کر تن گیا اور میں نے اس کو مزید چو پے لگانے سے روک دیا اور اس کو بولا کے وہ سیدھی ٹانگیں کھول کر لیٹ جائے . وہ جب لیٹ گئی اور میں پِھر ایک دفعہ اس کی ٹانگوں کے درمیان آ کر بیٹھ گیا اور اس کی ٹانگوں کو اپنے کندھوں پے رکھ لیا اور اپنا لن اس کی پھدی پے سیٹ کر کے پہلے ٹوپی کو اندر گھسایا اور پِھر باقی لن اندر کرنے لگا وہ نیچے سے تھوڑا کسمسا رہی تھی اس کی پھدی ایسے لگ رہی تھی کے جیسے لوہے کی بھٹی میں اپنا لن ڈال دیا ہو اور اس کی پھدی ٹائیٹ بھی کافی تھی اور جیسے جیسے لن اندر جا رہا تھا وہ میرے لن پے اپنی پھدی کی گرفت اور ٹائیٹ کرتی جا رہی تھی جس سے مجھے ایک الگ ہی سرور مل رہا تھا. جب میرا لن تقریباً 5 انچ تک اندر اُتَر چکا تھا تو نورین نے اپنے ہاتھ میرے سینے پے رکھ دیئے اور بولی بس اب اور اندر نہیں لے سکوں گی اب یہاں تک ہی اندر باہر کرو . میں نے نے کہا جان تقریباً سارا تو اندر جا چکا ہے بس 1 انچ ہی رہ گیا ہے تھوڑا اور برداشت کر لو جب پورا اندر ہو جائے گا تو جب ہم دونوں کا جسم جھٹکے لگنے سے ایک دوسرے سے ملے گا تم ہم دونوں کو بہت زیادہ مزہ آئے گا اور ایک دوسرے کے جسموں کی گرمائش سے اور لطف آئے گا . وہ بولی ٹھیک ہے لیکن آب باقی کا ایک ہی جھٹکے میں اندر کر دو میں ایک ہی دفعہ برداشت کر لوں گی . اور پِھر پورا اندر کر کے تھوڑی دیر بعد جھٹکے مارنا شروع کرنا . میں نے آگے ہو کر اپنے ہونٹ نورین کے ہونٹوں کے ساتھ لاک کر دیئے اور ایک زور دار جھٹکا مارا اور پورا لن اندر اُتَر گیا نورین کی ایک چیخ میرے منہ میں ہی نکل کر اندر ہی رہ گئی اور پِھر میں اس کے اوپر ہی تھوڑی دیر کے لیے لیٹ گیا. اور پِھر میں نے کوئی 3 سے 4 منٹ کے بعد آہستہ آہستہ اپنا لن اندر باہر کرنا شروع کر دیا . میری کوشش یہ ہی تھی کے اس کو درد کم سے کم ہو اِس لیے میں نے پہلے 5 منٹ تک آہستہ آہستہ اندر باہر کرنا شروع کر دیا . . لیکن جیسے ہی نورین نے لن کو اپنے اندر آرام سے اندر باہر ہونا محسوس کیا اس نے کہا آب درد نہیں ہو رہا آپ تھوڑا تیز تیز کریں میں نے اپنی رفتار تیز کر دی اور پورا اندر گھساکر پِھر باہر تک واپس لا کر اندر باہر جھٹکے لگانے لگا جھٹکوں سے دھپ دھپ کی آوازیں آنے لگیں اور نورین بھی مستی میں منہ سے نشیلی اور سیکسی آوازیں نکلنے لگی اور جب نورین نے نیچے سے گانڈ اٹھا اٹھا کے پھدی مروانہ شروع کی تو میں نے بھی طوفانی جھٹکے مارنے شروع کر دیئے . اور پورا کمرا ہماری چدائی کی آوازوں سے گونجتا رہا اور میں مزید اس کو 10منٹ تک چودا اور وہ اِس دوران 2 دفعہ فارغ ہو چکی تھی . میں جب فل چدائی کے بعد فارغ ہونے پے آیا تو میں نے نورین سے پوچھا پانی کہاں نکالوں تو اس نے خمار بھری آواز میں کہا اندر ہی چھوڑ دو میں اپنی پھدی میں تمہارا گرم گرم پانی محسوس کرنا چاہتی ہوں میں نے اس کے بعد اپنا پانی کا گرم گرم لاوا اس کی پھدی کے اندر چھوڑ دیا اور اس کے اوپر لیٹ کر لمبی لمبی سانسیں لینے لگا. جب میری سانسیں بَحال ہوئیں تو میں اس کے پہلو میں لیٹ گیا اور پِھر ہمارے درمیان کوئی 5 منٹ تک خاموشی رہی . . پِھر نورین نے ہی خاموشی توڑی اور بولی کا شی آج مجھے زندگی کا اصل مزہ اور سکھ نصیب ہوا ہے 2 سال سے اپنی ہوس کی آگ میں جل رہی تھی . میں نے کہا تم نے تو اپنے میاں کے ساتھ کچھ مہینے تو رہی ہو تو کیا اس نے کبھی تم کو یہ سکھ نہیں دیا . اس نے کہا میں نے اپنے میاں کے ساتھ کوئی 8 سے10 دفعہ ہی کیا تھا کیونکہ میرے میاں دوسرے شہر میں جاب کرتے تھے اور کام کی تھکن اور زیادہ تر گھر سے باہر رہنے کی وجہ سے میں یہ خوشی حاصل نہیں کر سکی اور آج تم سے بھی کوئی 2 سال بعد کر رہی ہوں . وہ بھی اگر بھابی کو میرا احساس نہیں ہوتا تو میں پتہ نہیں کتنا ٹائم اور برداشت کرتی . میں نے پوچھا ویسے میرے ساتھ یہ کام کر کے کیسا لگا سچ سچ بتانا . تو وہ بولی پہلے پہلے تو ڈر بھی تھا اور شرم بھی لیکن بھابی نے آپ کے متعلق مجھے کل سب بتا دیا تھا اور آج جب آپ نے مجھے کرسی پے بیٹھ کر جو کچھ بھی کہا وہ میرے اعتبار کے لیے کافی تھا . میں نے کہا مزہ اپنے میاں کے ساتھ آیا یا میرے ساتھ آیا . . تو وہ بولی حقیقت میں آپ کے ساتھ سب سے زیادہ مزہ آیا وہ تو زیادہ سے زیادہ 5 منٹ کے اندر فارغ ہو جاتے تھے اور میں زیادہ تر درمیان میں ہی رہ جاتی تھی . آپ کا ٹائم تو ان سے زیادہ ہے . اور آپ کا ان سے لمبا اور موٹا بھی ہے ان کا تو آپ سے میری پوری ایک انگلی چھوٹا تھا . پِھر میں نے کہا اب آگے کا کیا موڈ ہے اگلا رائونڈ لگانا ہے یا موڈ نہیں ہے. وہ آگے سے بولی آپ کا کیا موڈ ہے آپ جو کہو گے وہ ہی میری مرضی ہو گی . میں نے کہا میرا تو موڈ ہے لیکن میرا موڈ کچھ نیا کرنے کا ہے وہ بھی اگر آپ ساتھ دو گی تو نہیں تو نہیں کروں گا . اس نے کہا آپ بتاؤ کیا کرنا ہے . میں پوری کوشش کروں گی وہ کر سکوں . میں نے کہا نورین میرا تمہاری گانڈ مارنے کا موڈ ہے اگر تم راضی ہو تو . وہ میری بات ان کر تھوڑی دیر خاموش ہو گئی . میں نے کچھ دیر بعد خاموشی توڑی اور کہا اگر تم راضی نہیں ہو گی تو میں کبھی بھی نہیں کروں گا . وہ بولی ایسی بات نہیں ہے میں نے آج تک گانڈ میں اندر نہیں لیا ہے . اور بھابی سے مجھے پتہ چلا تھا کے گانڈ میں پہلی دفعہ بہت درد ہوتی ہے . میں نے کہا ہاں یہ تو سچ ہے پہلی دفعہ گانڈ میں کافی درد ہوتی ہے لیکن پہلی دفعہ کے بعد پِھر پھدی جتنا مزہ بھی ملتا ہے . وہ آگے سے بولی ٹھیک ہے میں تیار ہوں لیکن ایک تو آپ کوئی لوشن یا تیل اپنے لن پے بھی لگا لو اور میری گانڈ کی سوراخ پے بھی لگا دو پِھر بہت ہی آرام آرام سے اندر کرنا . دوسرا اگر میری ہمت جواب دے گئی تو آپ روک دینا اور باہر نکل لینا . میں نے کہا ٹھیک ہا مجھے منظور ہے . میں نے کمرے میں رکھی ہوئی چچی کی ڈریسنگ ٹیبل پے نظر ماری تو میں دیکھ کر حیران رہ گیا کے میری زیتون کے تیل کی بوتل ان کے ٹیبل پر پری ہوئی ہے . میں یہ دیکھ کر دِل میں سوچا چچی بڑی رنڈی ہے اس کو پوری تیاری کر کے رہی ہوئی تھی . پِھر میں نے نورین کو کہا تم گھوری بن جاؤ میں تیل لگاتا ہوں میں نے ڈریسنگ ٹیبل سے تیل لیا اور سب سے پہلے نورین کی گانڈ کی موری میں انگلی کو آرام آرام سے اندر ڈال کر تیل سے نرم کر دیا اور کافی تیل اوپر مل دیا . پِھر اپنے لن کو بھی تیل کے ساتھ گیلا کر دیا اور پِھر میں گھٹنوں کے بل کھڑا ہوکر اپنے لن کو نورین کی پھدی پے سیٹ کیا اور پہلے اپنے لن کی ٹوپی کو اندر ڈالنے کی کوشش کرنے لگا میں نے تھوڑا سا پُش کیا تو میری آدھی سے بھی کم ٹوپی اندر گھس گئی لیکن نورین درد کی وجہ سے آگے ہو گئی اور میری ٹوپی پِھر باہر نکل آئی. وہ بولی کا شی آپ کا بہت موٹا ہے یہ اندر نہیں جائے گا مجھے بہت دَرْد ہو گی . میں نے کہا جان تھوڑا سا دَرْد میرے لیے بردست کر لو میں بہت ہی آرام سے اندر کروں گا . تاکہ تم کو کم سے کم دَرْد ہو . وہ بولی چلو ٹھیک ہے کرو . میں نے کہا جان تھوڑا سا برداشت کر لو اب آگے نا ھونا . میں نے آب کی بار آرام سے ٹوپی کو گانڈ کے سوراخ پے رکھا اور ہلکا سا زور دیا تو تقریباً آدھی ٹوپی اندر گھس گئی اِس دفعہ نورین آگے نا ہوئی لیکن اس کے منہ سے دَرْد بھری آواز نکلی ہا اے ا می جی . میں وہاں ہی رک گیا اور تھوڑا انتظار کیا پِھر میں نے دوبارہ ہمت کر کے آرام سے پُش کرنے کی کوشش کی تو آئی دفعہ نورین نے غلطی سے پیچھے کو جھٹکا مار دیا اور میری پوری ٹوپی رنگ تک اس کی گانڈ میں اُتَر گئی اور نورین کے منہ سے خوفناک چیخ نکل گئی میرا اور نورین کا منہ دروازے اور اس کے ساتھ بنی ہوئی کھڑکی کی طرف ہی تھا . نورین کی چیخ کی وجہ سے میں ڈر گیا تھا میں نے کھڑکی کی طرف دیکھا تو وہاں جالی دار پردہ لگا ہوا تھا جس سے اندر آسانی کے ساتھ دیکھا جا سکتا تھا . میں نے وہاں ایک چچی کی ہم عمر عورت کو کھڑے ہوئے دیکھا وہ ہماری کوئی رشتہ دار نہیں تھی لیکن وہ محلے کی ہو سکتی تھی . اس کی نظر میری نظر سے ملی تو وہ فوراً پیچھے ہٹ گئی لیکن یہ بات مجھے نہیں پتہ تھی کے وہ عورت ہمیں کب سے دیکھ رہی تھی بس اِس ہی سوچ میں میں گم تھا اور میں نے بھی جلدی میں بغیر سوچے سمجھے اپنا لن نورین کی گانڈ میں سے باہر کھینچ لیا جس کا اس کو مزید دَرْد اٹھانا پڑا جب نورین سیدھی ہوئی تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کے اس کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو تھے . میرا تو دِل ہی پھٹ گیا اور مجھے افسوس اور غم کا شدید جھٹکا لگا کے یہ میں نے کیا کے میں نے نورین رلا دیا ہے . میں نے فوراً نورین کو اپنی بانہوں میں بھر لیا اور اس کو دیوانہ وار چومنے لگا اور اس کو دلاسہ دینے لگا اور وہ کافی دیر بعد جب بہل کے چُپ کر گئی تو میں نے اس کو کہا نورین مجھے معاف کر دو میرا مقصد تکلیف دینا نہیں تھا یار میرے سے غلطی سے ہو گیا میں نے بہت آرام سے کرنے کی کوشش کی تھی . . مجھے معاف کر دو . وہ تھوڑی دیر بعد بولی کا شی تمہارا قصور نہیں ہے میری غلطی تھی میں غلطی سے پیچھے کو ہو گئی اور یہ تکلیف مجھے ملی . پِھر وہ کافی دیر میری جھولی میںبیٹھی رہی اور پِھر کچھ دیر بعد اٹھ کر باتھ روم جانے لگی تو جب کھڑی ہوئی تو وہ چل نہیں سکتی تھی اِس لیے بیڈ پے دوبارہ بیٹھ گئی میں نے اس کو اپنی بانہوں میں اٹھایا اور باتھ روم لے گیا اور اس نے اپنی صفائی کی پِھر میں اس کو اٹھا کر باہر لے آیا اور بیڈ پے بیٹھا دیا میں نے اس کو کہا نورین تم بیڈ پے اُلٹا لیٹ جاؤ میں تمہاری درد کا حَل نکالتا ہوں میں نے چچی کی ڈریسنگ ٹیبل پے رکھا ہوا لوشن اور موو کریم لی اور بیڈ پے بیٹھ کر پہلے لوشن سے نورین کے گانڈ کا سوراخ کو مساج کر کے نرم کیا اور پِھر موو کریم لگا دی جس سے اس کو کافی حد تک سکون ملا تھا . پِھر اس نے کپڑے پہن لیے اور دروازہ کھول کر باہر چلی گئی اور کچھ دیر بعد میں نے دیکھا باہر کا دروازہ کھلا ہے اور کوئی باہر چلا گیا .

تھوڑی دیر کے بعد میں نے چچی کے باتھ روم میں ہی نہا لیا اور اور جب نہا کر باہر نکلا تو چچی اپنے بیڈ پے بیٹھی ہوئی تھی . . میرے ان سے نظر ملی تو وہ مجھے دیکھ کر بڑے ہی سیکسی انداز میں مسکرا رہی تھی . میں تھوڑا سا شرما گیا تو آگے سے بولی کیوں کیا ہوا بھتیجےپھدی مار کے آب تو بڑی شرم آ رہی ہے . سناؤ تیرے اندر کی گرمی نکلی ہے کے نہیں . کیسی تھی میری سہیلی اور اس کی تنگ پھدی . میں چلتا ہوا کرسی پے بیٹھ گیا اور بولا چچی گرمی بھی نکل گئی اور تمہاری سہیلی ہے بڑی نمکین اور مزے کا مال تھی . چچی بولی بس تو میرے راز کا راز بنا کے رکھ اور مجھے اپنا مزہ لوٹنے دے پِھر دیکھ کیسے عیش کرواتی . میں نے کہا چچی جان آپ اب بے فکر رہو آپ اِس غریب کا خیال رکھو آپ کو کسی قسِم کی ٹینشن نہیں ہو گی . چچی نے مجھے کہا ویسے بھتیجے تم نے میری سہیلی کے ساتھ اچھا نہیں کیا پہلی دفعہ میں ہی اس بیچاری کی بُنڈ میں اپنا لن گھسا دیا تم نے, بندہ تھوڑا ٹھنڈا کر کے کھاتا ہے تم تو ایک ہی باری میں سب کھانے کے چکر میں ہوتے ہو وہ بیچاری بڑی ہی مشکل سے چل کے گھر گئی ہے بندہ تھوڑا سا تو خیال کرتا ہے . چچی کی بات سن کر میں شرمندہ ہو گیا حقیقت میں مجھے نورین کو کچھ ٹائم دینا چائے تھا میں نے چچی سے کہا چچی جان مجھ سے غلطی ہو گئی ہے مجھے خود اِس بات کا بہت دکھ ہوا تھا اس وقعت لیکن اب میں آگے سے پورا پورا خیال رکھوں گا . . بلکہ اپنی استاد اپنی چچی جان سے پوچھ کے ہی کیا کروں گا اور ساتھ ہی چچی کو آنکھ مار دی وہ بھی مجھے دیکھ کر ہنس پری اور آنکھ مار دی. یکدم مجھے اس عورت کا خیال آیا تو میں نے چچی سے پوچھا کے چچی ایک بات بتاؤ میں جب نورین کو چود رہا تھا تو کھڑکی سے ایک عورت اندر دیکھ رہی تھی وہ عورت کون تھی اور کب سے وہ ہمیں دیکھ رہی تھی . چچی بولی جب تم مجھے چودواتے ہوئے دیکھ سکتے ہو تو کیا میں نہیں دیکھ سکتی تھی اِس لیے میں نے کمرے کی کھڑکی کھول دی تھی اور اس کے آگے پردہ کر دیا تھا میں تو بس اتنا ہی دیکھ کر گرم ہو گئی تھی جب نورین تیرے لن کے چو پے لگا رہی تھی پِھر میں وہاں سے چلی گئی تھی اور جو عورت تم نے دیکھی تھی وہ ہمارے اپنے محلے کی عورت تھی اور میں اکثر اس کو اپنے جسم کی مالش کروانے کے لیے وہاں سے بلا لیتی ہوں نورین بھی کافی دفعہ اپنی مالش اس کروا چکی ہے. وہ دوسرے کمرے میں میری مالش کر رہی تھی وہ بھی میری اور نورین کی رازدان ہے اور سب جانتی ہے . وہ نورین کو پہلی دفعہ چودواتے ہوئے دیکھنا چاہتی تھی اِس لیے وہ کافی دیر تک تم لوگوں کو دیکھ رہی تھی . مزے کی بات بتاؤں وہ بھی بہت گرم عورت ہے کبھی ٹائم نکال کے اس کا بھی مزہ کروا دوں گی . پہلے یہ تو بتاؤ پہلی دفعہ کسی عورت کے اندر ڈال کے کیسا محسوس کیا ہے . میں نے کہا چچی حقیقت میں نورین بڑی ہی صاف سُتھری اور نمکین لڑکی ہے اور اس کی پھدی بھی کافی تنگ اور گرم ہےچودکے مزہ آ گیا تھا لیکن ایک حسرت پوری نہیں ہوئی . چچی بولی پہلی بات تو یہ ہے کے نورین کا ابھی تک کوئی بچہ نہیں ہوا ہے اور وہ بیچاری تو اپنے میاں کے بعد تم سےچودوا رہی تھی اِس لیے اس کی پھدی گرم بھی ہے اور تنگ بھی . . دوسرا بات تیری حسرت کی وہ بھی پوری ہو جائے گی فکر نا کر مجھے پتہ ہے بُنڈ میں ڈالنے کا بڑا شوق ہے اور اکثر مرد پھدی سے زیادہ تنگ موری کو زیادہ پسند کرتے ہیں تیری وہ بھی حسرت پوری کر دوں گی. چچی یہ بات آپ کی سچ ہے کے مرد زیادہ تر تنگ موری کو پسند کرتے ہیں لیکن کئی لونڈے بازی کے بھی شوقین ہوتے ہیں . . لیکن میرا حساب اور ہے مجھے لونڈے بازی کا ذرا سی بھی شوق نہیں ہے اور نا ہی کبھی دماغ میں ایسا خیال آیا ہے میرا بس بُنڈ کی موری کا شوق عورت تک ہے وہ بھی اس کی رضامندی سے . . میں نے نورین کے ساتھ کرنے سے پہلے بھی اس کو پوچھ کر اس کی رضامندی سے کیا تھا بے شک آپ اس سے پوچھ لینا . چچی بولی چلو ٹھیک ہے باقی باتیں بعد میں کسی اور ٹائم کریں گے تم ابھی باہر جاؤ اور سبزی والے سے آلو لے آؤ بچے بھی آنے والے ہیں میں نہا کے كھانا بناتی ہوں. میں وہاں سے اٹھا اور باہر کی طرف نکل گیا اور اس دن رات تک سب کچھ معمول کے مطابق چلتا رہا اور اگلے دن بھی سب وہ ہی معمول کے حساب سے اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے اگلے دن میں ٹی وی والے کمرے میں بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا اور چینل بَدَل بَدَل کے دیکھ رہا تھا پِھر ایک جگہ پے) اچ بی و( چینل لگا ہوا تھا اس پے بیسک انسٹنکٹ لگی ہوئی تھی اس میں کافی گرم اور سیکس والے سین بھی تھے جس کو دیکھ کر میرا لن شلوار میں تن کر کھڑا ہو گیا تھا . میں نے وہاں بیٹھے بیٹھے ہی اپنا لن سہلانا شروع کر دیا جب گرمی پورے جسم میں چلنے لگی تو میں نے سوچا اپنے کمرے میں جا کر مٹھ لگائی جائے میں جب ٹی وی والے کمرے سے باہر نکلا تو میری نظر کچن میں پری وہاں چچی شیلف کے پاس کھڑی سبزی کاٹ رہی تھی اور ان کی موتی بُنڈ میری طرف تھی . ان کی بُنڈ دیکھ کر میرا لن تن کے اور لوہے کا راڈ بن گیا اور میں آہستہ سے چلتے ہوئے کچن میں گیا اور چچی کے بالکل پیچھے کھڑا ہو کر اپنا لن ان کی بُنڈ کی دڑ اڑ میں دبا کر پوچھنے لگا چچی جان آج کیا پکا رہی ہیں میں آپ کی مدد کر دوں. چچی نے جب میرے لن اپنی بُنڈ کی لکیر میں محسوس کیا اور اپنا نیچے والا ہونٹ کاٹتے ہوئے بولی بھتیجےاتنی دن بعد چچی کی مدد کا خیال آیا ہے اور اپنی بُنڈ میرے لن پے اور دباتے ہوئے بولی بھتیجےمدد میری نہیں تم اپنی مدد کروانے آے ہو یہاں اور آگے سے ہنسنے لگی . میں نے بھی چچی کے مموں کو آگے سے پکڑ لیا اور اپنا لن اور آگے کو دبا کے چچی کی بُنڈ کی دڑ اڑ میں پھنسا دیا اور بولا کے چچی جان پِھر کر دو نا اپنے بھتیجےکی مدد کیوں تڑپا رہی ہو. چچی کے منہ سے گرم گرم سانسیں نکل رہی تھی اور پِھر انہوں نے اپنی ٹانگوں کو نیچے سے تھوڑا کھولا اور اور نیچے اپنا ہاتھ لے جا کر میرا لن کو پکڑ کر اپنی بُنڈ کی موری پے سیٹ کیا اور دوبارہ اپنی ٹانگوں کو بند کر کے بولی چل آہستہ آہستہ جھٹکے مار اور خود بھی مزہ لے اور مجھے بھی دے فارغ ہو اور جا . میں نے کہا چچی اتنا سب کچھ کر لیا ہے تو شلوار اُتَر کے اندر ڈالنے دو نا . وہ بولی جتنا کہا ہے وہ کر میں نے اس دن بھی سمجھایا تھا کے میں جتنا کر سکتی ہوں کر دیا کروں گی لیکن اندر کبھی نہیں لوں گی اس کے لیے تمہیں اور اچھا چھا مال ضرور کھلا دیا کروں گی. مجھے چچی کی بات پے غصہ تو بہت آیا لیکن چُپ رہنا ہی بہتر سمجھا مجھے پتہ تھا ایک نا ایک دن تو چچی کی ضرور مار کے رہوں گا لیکن اِس سے پہلے اِس کو ناراض کر کے اِس کے ذریعےدوسرا مال کھانے کو ملنا بند ہو جائے گا. میں نے بھی مسکا مارتے ہوئے کہا چلو چچی جان کوئی بات نہیں آپ تو میری جان ہیں مجھے آپ نیا نیا مال کھلا دیا کرو میں خوش ہوں آپ سے . چچی بولی چل پِھر آہستہ آہستہ سے جھٹکے مار اور مزہ لے اور مجھے بھی دے . میں نے چچی کی نرم نرم بُنڈ میں اپنا لن پھنسا کے جھٹکے مارنا شروع کر دیئے اور ساتھ ساتھ چچی کی مموں سے اور نپلز کے ساتھ بھی کرنا شروع کر دی اور چچی بھی شیلف پے ہاتھ رکھ کر تھوڑا سا آگے کو جھک گئی اور اپنے بُنڈ کو بڑ ے ہی سیکسی انداز میں آگے پیچھے کرنے لگی اور سیکسی سیکسی آوازیں نکلنے لگی مجھے ایک عجیب سا مزہ آ رہا تھا درمیان میں چچی کبھی کبھی اپنی بُنڈ کو ڈھیلا چھوڑتی اور پِھر بند کر لیتی جس سے مجھے ایک دلفریب سرور مل رہا تھا اور میں آنکھیں بند کر کے مزے کی دنیا میں ڈوبا ہوا تھا کافی دیر جھٹکے لگانے کے بعد مجھے چچی کی شلوار نیچے سے گیلی ہوئی محسوس ہوئی تو مجھے لگا چچی چھوٹ گئی ہے لیکن پِھر بھی وہ بڑ ے ہی ر دھم کے ساتھ آگے پیچھے ہو رہی تھی چچی کا پانی نکلنے کی وجہ سے نیچے ان کی بُنڈ والی جگہ ساری گیلی ہو گئی تھی جس سے عجیب سی آوازیں نکل رہی تھی جو مجھے مدھوش کر رہی تھی اور کوئی10 سے 12 منٹ کے بعد میرا بھی پانی کا فوارہ چچی کی بُنڈ کی میں نکلنے لگا اور مجھے اپنی ٹانگوں میں جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی لیکن مزہ اتنا آیا تھا کے بیان نہیں کر سکتا . . اور پِھر میں پیچھے کو ہو کر نیچے زمین پے بیٹھ کر سانس لینے لگا چچی سیدھی ہوئی اور بولی سنا بھتیجےکیسی لگی میری بُنڈ . میں نے سانس بَحال کر کے کہا واہ چچی کمال کی بُنڈ ہے آپ نے تو آج دِل خوش کر دیا. چچی نے کہا اب جا کر نہا لو میں بھی نہانے جا رہی ہوں . اور وہ اپنے کمرے میں بنے باتھ روم میں چلی گئی اور میں صحن میں بنے ہوئے باتھ روم میں گھس گیا . میں نہا کے اپنے روم میں جا کرٹرا وزَرپہن لی اور دوبارہ آ کر ٹی وی دیکھنے لگا . چچی بھی نہا کے کچن میں اپنا کام ختم کر رہی تھی سارا کام ختم کر کے وہ اپنے کمرے میں جانے لگی تو ٹی وی والے کمرے میں آئی اور آ کر بولی کا شی بیٹا میرا کمرے میں آؤ کچھ باتیں کرنی ہیں یہاں دادی کا کمرا ساتھ میں ہے آواز چلی جائے گی . یں نے ٹی وی بند کیا اور چچی کے ساتھ ان کے کمرے میں آ کر کرسی پے بیٹھ گیا اور چچی اپنے بیڈ پے بیٹھ گئی . میں نے پوچھا کیا بات کرنی ہے آپ بتائیں . تو کہتی ہیں کے دیکھو کا شی بیٹا جو کچھ بھی تمھارے اور میرے درمیان چل رہا ہے وہ کسی کے آگے بھول کے بھی ذکر نہیں کرنا نہیں تو ہم دونوں کو جو ذلت اٹھانا پرے گی وہ تمہیں بہت اچھی طرح پتہ ہے . میں نے کہا چچی آپ کیوں فکر کرتی ہیں میں کسی کو بھی نہیں بتاؤں گا اور نا کسی کو اپنے اِس تعلق میں شامل کروں گا . آپ کیوں فکرمند ہیں اتنی . وہ بولی دیکھو کا شی بیٹا ابھی تم اتنی بڑے نہیں ہو اِس لیے ڈ ر لگتا ہے کے کہئیں بھی تمہاری زُبان سے یہ بات نکل گئی تو ہم دونوں کی خیر نہیں ہو گی . اِس لیے تمہیں با بار تاکید کر رہی ہوں . میں نے کہا چچی جان آپ بالکل بے فکر ہو جائیں میں اگر اتنا بڑا نہیں ہوں تو اتنا چھوٹا بھی نہیں ہوں اِس لیے آپ اپنے دماغ سے یہ نکال دیں کے میں کسی کو یہ بات بتا کر آپ کو بھی ذلیل کرواؤں گا اور اپنے پیروں پے بھی کلہاڑی ماروں گا . چچی بولی شاباش بیٹا اگر تم اپنے وعدے پے قائم رہے تو دیکھتے جاؤ میں تمہیں کتنی عیش کرواتی ہوں . میں نے کہا چچی آپ تو اندر بھی نہیں کروانے دیتی ہو تو کچھ اور کرو نا آج نورین کوچودے ہوئے بھی 3 دن ہو گئے ہیں. چچی بولی مجھے پتہ ہے کل اتوار ہے اور سب گھر پے ہوں گے اِس لیے کل کا دن نکالو پرسوں دن میں تمہیں ایک اور پھدی اور مست بُنڈ کا کھلا دوں گی. میں نے کہا واہ کیا بات ہے چچی دِل خوش کر دیا ہے لیکن یہ تو بتاؤ کون ہے تمھارے علاوہ جس کی گانڈ اتنی مست ہے . وہ بولی میں بتاؤں گی تو تمہیں یقین نہیں آئے گا . میں نے کہا آپ بتاؤ تو سہی وہ کون ہے کوئی اپنی رشتہ دار ہے کیا ؟ وہ بولی نہیں رشتہ دار نہیں ہے اپنے محلے کی ہی ہے وہ کوئی اور نہیں نورین کی امی ہے . جب چچی کے منہ سے سنا تو میں اچھل پڑا اور حیرت سے چچی کو دیکھنے لگا. چچی آگے سے بولی کے لگا نا حیرت کا جھٹکا . میں نے کہا واقعی چچی آپ سچ کہہ رہی ہیں کے نورین کی امی بھی… اور آپ نے ان کو کیسے راضی کیا اور کیا وہ نورین کا میرے ساتھ والا معاملا بھی جانتی ہیں. چچی بولی آرام سے آرام سے اتنی کیا جلدی ہے اتنے سوال ایک ہی دفعہ میں پوچھ لیے ہیں . میں نے کہا چچی آپ نے بات ہی ایسی سنائی ہے مجھے ابھی تک یقین نہیں ہو رہا ہے . وہ بولی یقین آ جائے گا تھوڑا صبر کرو . اور کہنے لگی کے نورین کی امی کو تمہارا اور نورین کا معاملا بالکل بھی نہیں پتہ ہے اور نا ہی تم نے اس کے ساتھ کسی بھی بات کا ذکر کرنا ہے . اس کو تو میرا اور نورین کا معاملا بھی نہیں پتہ ہے اس کا میرے ساتھ اور حساب ہے اور نورین کے ساتھ اور ہے . تمہیں یہ باتیں تھوڑا عرصے بعد خود ہی سمجھ آ جائیں گی . مجھے یہ بات سمجھ نہیں آ رہی تھی کے چچی کیا پہیلیاں بُجھا رہی ہے . میں نے کہا چچی جان میں ان سے کسی قسِم کا کوئی بھی ذکر نہیں کروں گا آپ بے فکر ہو جاؤ اور لیکن یہ تو بتاؤ کے وہ آپ کے ساتھ کیسے سیٹ ہیں اور وہ اتنی آسانی سے کیسے میرے سےچودوانے میں راضی ہوں گی یہ تو آپ کو بتانا ہی پڑے گا. چچی کہتی ہے ٹھیک ہے بتاتی ہوں لیکن پہلے کمرے کا دروازہ بند کر دو آواز باہر نا جائے
میں نے دروازہ بند کیا اور کرسی کھینچ کے بیڈ کے پاس رکھ کر بیٹھ گیا اور چچی کی طرف دیکھنے لگا . چچی بولی کے نورین کی امی عشرت میری سہیلی بہت پہلے سے تھی جب میں شادی ہو کر کے یہاں آئی تھی اس کے کوئی 3 یا 4 سال بعد وہ میری بڑی پکی سہیلی بن گئی تھی کیونکہ وہ عمر میں مجھے سے 3 سال بڑی تھی اِس لیے میں اپنی ہر بات ہر دکھ سکھ اس کے ساتھ بانٹتی تھی اور آہستہ آہستہ وہ اور میں آپس میں اپنے ہر دکھ سکھ بانٹتے تھے اِس لحاظ سے وہ میری اور میں اس کی زندگی کی سب باتیں جانتے ہیں یوں سمجھ لو وہ میری پہلی اور سب سے پرانی رازدان تھی. عشرت کے میاں سعودیہ میں ملازمت کرتے تھے اور وہ 2 سال بعد ہی 2 یا 3 مہینے کے لیے گھر آتے تھے وہ یہ ہی وہ ٹائم ہوتا تھا جب عشرت خوش رہتی تھی اور اس کی بیٹی بھی خوب باپ کے ساتھ اچھا ٹائم گزرتی تھی . شروع شروع میں تو عشرت کا میاں بھی جوان تھا اور جب سعودیہ سے آتا تھا تو خوب اچھی طرح دن رات عشرت کی پھدی کی گرمی اُتارتا تھا ان دنوں میں عشرت بہت خوش نظر آتی تھی . پِھر آہستہ آہستہ کوئی 10یا 12 سال جب گزر گئے تو وہ زیادہ عشرت کو خوش نہیں رکھ سکتا تھا وہ باہر رہ کر شو گر کا مریض بن گیا تھا اور زیادہ دیر تک عشرت کو خوش نہیں رکھ سکتا تھا عشرت اور اس کے میاں کی عمر میں بھی فرق تھا اس کا میاں عشرت سے 7 سال بڑا تھا اِس لیے عشرت اس کے مقابلے میں زیادہ گرم اور جوان تھی اِس لیے وہ بیچاری دِل پے پتھر رکھ کے ٹائم گزار دیتی تھی. عشرت مجھے اپنا دکھ آ کر بتاتی تھی لیکن میں اس وقعت اس کی کچھ بھی مدد نہیں کر سکتی تھی اس وقعت تمھارے چچا زندہ تھے اور میں ان کے ساتھ بہت اچھا وقعت گزر رہی تھی تمھارے چچا مجھے ہر لحاظ سے خوش رکھتے تھے اس کا لن بھی تمھارے جتنا لمبا تھا لیکن اتنا موٹا نہیں تھا جتنا تمہارا ہے . عشرت کا میاں جب آتا تھا تو اپنی پوری کوشش کرتا تھا کے وہ اپنی بِیوِی کو مطمئن کر سکے لیکن وہ نہیں کر پاتا تھا وہ شو گر کی وجہ سے 3 سے 4 منٹ کے اندر فارغ ہو جاتا تھا بیماری کی وجہ سے اس کی سانس پھول جاتی تھی. اور عشرت بیچاری 2 سال انتظار کرتی رہتی تھی اور جب میاں آتا تھا تو بھی بیچاری اپنی آگ میں سلگتی رہتی تھی . وہ اپنے من کا بوجھ میرے ساتھ اپنا دکھ بانٹ کر پورا کر لیتی تھی . اور میں میں کئی سال تک اس کو دلاسہ دیتی رہتی تھی اور کچھ نہیں کر سکی . اور پِھر عشرت کی زندگی میں ایک ایسا موڑ آیا جس کو وہ آج بھی اپنے دِل میں بسا کر بیٹھی ہے جو صرف میرے یا اس کے علاوہ کسی اور کو نہیں پتہ . ہوا کچھ یوں کے عشرت کے گھر کے ساتھ میں ہمارے ایک اور محلے دار رہتے ہیں ان کا 1 بیٹا اور 2 بیٹیاں ہیں بیٹیاں بڑی ہیں ان کی شادی ہو چکی ہے اور بیٹا اس وقعت چھوٹا تھا لیکن آب وہ بھی شادی شدہ ہو چکا ہے ایک بچے کا باپ ہے اور دبئی میں بینک کا ملازم ہے . عشرت کا ان کے گھر آنا جانا تھا اور اس لڑکے کی ماں عشرت کی ہمسائی اور دوست بھی تھی اِس لیے ان کا بیٹا عشرت لوگوں کے گھر کا کام بھی کر دیا کرتا تھا گھر کے کام کر دیتا تھا بِل جمع کروانا گھر کا سودا سلف لے کر آنا وغیرہ وغیرہ . اس کا عشرت کے گھر آنا جانا عام تھا وہ لڑکا عشرت کو عشرت آنٹی کہہ کر بلاتا تھا . اور اپنے گھر کی طرح ان کے گھر کا بھی خیال رکھتا تھا .
اس لڑکے کی عمر اس وقعت کوئی 22سال تھی اور اچھا صحت مند بھی تھا اس کے باپ کی اچھی خاصی بڑی شیخوپورہمیں اپنی کریانہ کی دکان تھی. جب نورین کی شادی نہیں ہوئی تھی اس وقعت وہ بس اگر کوئی گھر کا کام ہوتا تھا تو عشرت کے گھر آتا جاتا تھا . لیکن جب نورین کی شادی ہو گئی تو وہ عشرت کے گھر زیادہ آتا جاتا تھا اور عشرت سے کہتا تھا کے آنٹی آپ اکیلی ہوتی ہیں اِس لیے میں آپ کا ہاتھ بارنے کے لیے آ جاتا ہوں باجی نورین کے بعد آپ تو اکیلی ہو کر رہ گیں ہیں . عشرت بھی اس کا بڑا خیال رکھتی تھی . وہ اکثر عشرت سے اس کے میاں کے متعلق پوچھتا رہتا تھا کے وہ اتنا زیادہ عرصہ باہر کیوں رہتے ہیں وہ آپ کے ساتھ کیوں نہیں رہتے ان کو آپ کا خیال رکھنا چائے اِس طرح کی باتوں سے وہ عشرت کی دِل جوئی کیا کرتا تھا . عشرت بھی ایک عورت تھی عورت کی کوئی دِل جوئی کرے اس کا خیال رکھے تو عورت اس پے مکمل بھروسہ کر کے اپنا دکھ بانٹ لیتی ہے عشرت نے بھی آہستہ آہستہ ایسا ہی کیا اور وہ اس لڑکے کے ساتھ گُھل مل گئی اور اپنی دکھ اس کے ساتھ بانٹنے لگی. عشرت نے آہستہ آہستہ اس کو اپنا سب کچھ مان کر سب کچھ بتانے لگی اور اس کو اپنی اور اپنے میاں کے ساتھ تعلق کا بھی بتا دیا . عشرت مجھے یہ باتیں بتاتی رہتی تھی میں اس کو بس یہ ہی کہتی تھی عشرت ذرا سنبھل کر یہ بچہ ہے کہیں بدنام نا کر دے تمہاری باتیں باہر لوگوں کو نا بتاتا پھرے . وہ مجھے کہتی تھی فکر نا کر میں اس کو جانتی ہوں وہ ایسا کبھی بھی نہیں کرے گا میں نے بھی زمانہ دیکھا ہے . ایک دن اس لڑکے کے گھر کی موٹر خراب ہو گئی تو وہ عشرت کے گھر آ گیا اور آ کر بولا عشرت آنٹی پانی والی موٹر خراب ہو گئی ہے مجھے نہانا ہے کیا میں آپ کے گھر نہا سکتا ہوں . عشرت نے کہا یہ تمہارا اپنا گھر ہے جو چیز مرضی ہے استعمال کرو اِس میں پوچھنے کی کیا ضرورت ہے . اور وہ شکریہ بول کر نہانے کے لیے باتھ روم میں گھس گیا اور نہانے لگا جب وہ نہا رہا تھا تو بجلی چلی گئی اور عشرت کا گھر گراؤنڈ فلور پے تھا اِس لیے تھوڑا بند بند تھا بجلی جانے سے تھوڑا اندھیرا ہو جاتا تھا اِس لیے باتھ روم میں بھی اندھیرا ہو گیا اور وہ لڑکا ڈر کے مارے اندر سے بولا آنٹی یہاں بہت اندھیرا ہے مجھے ڈر لگ رہا ہے کیا میں دروازہ کھول کے نہا لوں . عشرت اس لڑکے کی بات پے ہنسنے لگی اور بولی بیٹا دروازہ کھول لو اندھیرا تو باہر بھی ہے تم دروازہ کھول کے نہا لو. وہ لڑکا دروازہ کھول کے نہانے لگا اور عشرت باتھ روم کے بالکل سامنے بنے کچن میں ایمرجنسی لائٹ لگا کر ہانڈی بنا رہی تھی. کوئی آدھے گھنٹے کے بعد بجلی آ گئی تو باتھ روم کا دروازہ کھلا ہوا تھا اور اور کچن سامنے ہونے کی وجہ سے جب عشرت کی نظر باتھ روم کے اندر گئی تو وہ وہاں کا منظر دیکھ کر ہکا بقا ہو گئی اور حیرت سے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اندر کا منظر دیکھنے لگی اندر وہ لڑکا عشرت کا انڈرویئر اپنے لن پے چڑہا کے اور شیمپو لگا کے بڑی تیزی سے مٹھ لگا رہا تھا. جب اس لڑکے کی نظر عشرت پے پڑی تو اس کا رنگ لال سرخ ہو گیا اور وہ ڈر کے مارے اس نے جلدی سے دروازہ بند کر دیا عشرت بھی دروازہ بند ہونے کی وجہ سے اپنے حواس میں واپس آ گئی. عشرت چولہا بند کر کے جلدی سے اپنے بیڈروم میں جا کر دروازہ بند کر بیٹھ گئی اور سوچنے لگی یہ میں نے آج کیا دیکھ لیا اور بار بار اس کو اس لڑکے کا لن اور اپنا انڈرویئر اپنی آنکھوں کے سامنے گھوم رہا تھا اور عشرت کے میاں کو بھی چھٹی کاٹ کر باہر گئے ہوئے 1 سال ہو گیا تھا . نا چاہتے ہوئے بھی عشرت کے دِل اور دماغ میں وہ منظر اور اس کا لن چھایا ہوا تھا . آہستہ آہستہ سوچتے ہوئے عشرت نے محسوس کیا کے اس کی پھدی نیچے سے ہلکا ہلکا پانی چھوڑ رہی ہے اور اس کے نپلز سخت ہو گئے ہیں. عشرت کو اپنے اوپر کنٹرول نا رہا اور اس نے اپنی شلوار اُتار دی اور اپنی انگلی کو اپنی پھدی کے اندر باہر کر کے اپنی پھدی کو ٹھنڈا کرنے لگی اور تھوڑی دیر مٹھ لگانے کے بعد اس کی پھدی نے ڈھیر سارا پانی چھوڑ دیا اور وہ سکون میں آ گئی جب اس کو تھوڑا ہوش آیا تو اٹھ کے بیٹھ گئی اور بیڈ پے دیکھا تو اس کا بیڈ کافی زیادہ گیلا ہوا تھا اس کا پانی بہت زیادہ نکلا تھا وہ حیران تھی کے اس کا پہلے کبھی اتنا پانی نہیں نکلا جتنا آج نکلا ہے . اس نے جلدی سے الماری میں سے نئی چادر نکالی اور بیڈ پے ڈال دی اور پرانی چادر کو اٹھا کر اور ہلکا سا دروازہ کھول کے باہر کو دیکھا تھا تو اس کی نظر باتھ روم کے دروازے کی طرف گئی تو وہ کھلا ہوا تھا وہ آہستہ آہستہ سے چلتی ہوئی باتھ روم میں آ کر دیکھا تو اندر کوئی نہیں تھا وہ لڑکا کب کا جا چکا تھا . عشرت نے گندی چادر گندے کپڑوں میں پھینک دی اور باتھ روم میں داخل ہو کر اندر مشین میں سے اپنا انڈرویئر دیکھنے لگی اس کا اور منی سے بھرا انڈرویئر کپڑوں کے نیچے اس کو مل گیا اس نے جب وہ انڈر وئیر اٹھایا تو اس میں سے اس لڑکے کی منی کی ایک عجیب سے بو آ رہی تھی جو عشرت کو پِھر مدھوش کر رہی تھی . لیکن عشرت نے فوراً اپنے آپ کو سنبھالا اور وہ انڈرویئر اور اور سب کپڑے دھونے بیٹھ گئی. عشرت کا اس واقعہ کے بعد اب دِل اور دماغ اس لڑکے کے لن پے ہی کھویا رہتا تھا وہ ڈرتی تھی کے اگر وہ غلط فیصلہ کر کے اس لڑکے کے ساتھ کچھ کر لیتی ہے تو بدنام ہو جائے گی . لیکن دوسری طرف اس کے اندر کی عورت اور آگ اس کو کہتی تھی کے تیرے پاس اپنی جسم کی بھوک اور آگ ٹھنڈی کرنے کا اور کوئی موقع نہیں ہے یہ لڑکا ٹھیک ہے اِس کے ساتھ اپنا تعلق بنا لو اور خود بھی عیش کرو اور اس لڑکے کو بھی کرواؤ وہ بھی پیاسا ہے اور تم بھی پیاسی ہو . اور اگر وہ تمہیں بدنام کرنا چاہتا تو وہ تمہاری زندگی کی سب باتیں جانتا ہے لیکن پِھر بھی بدنام نہیں کیا آج تک . بس ان سوچوں کے بعد عشرت فیصلہ کر چکی تھی کے اس کو اب کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے 3 دن ہو گئے تھے وہ لڑکا عشرت کے گھر دوبارہ نہیں آیا اور عشرت یہاں انتظار میں تھی کے وہ آئے تو کوئی بات آگے چلے لیکن وہ نہیں آیا اور چوتھے روز عشرت خود اس لڑکے کے گھر چلی گئی جب ان کے گھر داخل ہوئی تو وہ صحن میں کھڑی اپنی موٹر بائیک دھو رہا تھا . اس کی نظر عشرت پے پڑی تو ڈرکے مارے اس کا رنگ لال سرخ ہو گیا اور بھاگ کر اندر کمرے میں چلا گیا . عشرت اس کی ماں کے پاس بیٹھ گئی اور یہاں وہاں کی باتیں کرنے لگی اور پِھر تھوڑی دیر بعد اس لڑکے کی ماں سے بولی بہن ذرا اپنے بیٹے کو میرے گھر بھیجنا مجھے تھوڑا سودا سلف منگوانا ہے تو وہ آگے سے بولی کیوں نہیں بہن میں ابھی اس کو کہتی ہوں اس کی ماں نے آواز لگائی بیٹا باہر آؤ وہ جب باہر آیا تو عشرت سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا اور منہ نیچے کر کے ہی اپنی ماں کی باتیں سن رہا تھا اس کی ماں نے کہا بیٹا آنٹی کے گھر چلے جانا ان کو کچھ گھر کا سودا سلف منگوانا ہے . وہ لڑکا بولا جی ٹھیک ہے امی جی میں چلا جاؤں گا اور پِھر اندر چلا گیا اور عشرت تھوڑی یہاں وہاں کی باتیں کر کے وہاں سے گھر آ گئی . اور اس لڑکے کا گھر آنے کا انتظار کرنے لگی . دوپھر کے وقعت وہ لڑکا عشرت کے گھر آیا اور عشرت نے اس کو اندر بلا لیا لیکن اس لڑکے کا چہرہ صاف بتا رہا تھا وہ کافی زیادہ ڈرا ہوا تھا . عشرت نے اس وقعت اس سے بات کرنا مناسب نہیں سمجھا اور اس کو پیسے اور سودا سلف کی رسید دی تا کے وہ لے آئے وہ لڑکا سودا لینے چلا گیا اور کوئی 1 گھنٹہ بعد واپس آیا تو عشرت نے اس کے لیے شربت بنا کے رکھا ہوا تھا اس کو کمرے میں اور دے کر خود سودا سلف رکھنے کچن میں چلی گئی وہ کچن سے فارغ ہو کر دوبارہ کمرے میں گئی تو وہ لڑکا پی چکا تھا اور عشرت کو دیکھ کر اٹھ کر جانے لگا تو عشرت نے اس کو روک لیا اور کہا کے یہاں ہی بیٹھو مجھے تم سے ضروری باتیں کرنی ہے . وہ لڑکا آگے سے بولا آنٹی مجھے کہیں جانا میں پِھر آؤں گا تو عشرت بولی نہیں مجھے ابھی تم سے بات کرنی ہے تم اتنا ڈر کیوں رہے ہو آرام سے بیٹھو میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گی . وہ لڑکا عشرت کی بات سن کے وہاں پے رکھے ہوئے صوفہ پے بیٹھ گیا پِھر عشرت نے اس سے کہا تم اتنے دن میرے گھر کیوں نہیں آئے اور مجھ سے اتنا کیوں ڈررہے ہو وہ آگے سے بولا آنٹی جی میں مصروف تھا اِس لیے نہیں آیا . آنٹی نے کہا آگے تو تم جتنا بھی مصروف ہو پِھر بھی ایک دفعہ ضرور آتے تھے اور بڑا میری مدد کرتے تھے آب ان 3 دن میں کیا ہوا ہے جو نیا ہے . وہ آگے سے چُپ ہو گیا عشرت اس کے خوف اور اندر کے جذبات سمجھ رہی تھی اِس لیے اس نے خود ہی بات شروع کرنے کی پہل کی اور اس لڑکے سے بولی کے تم اس دن والے واقعہ سے دَر کر میرے گھر نہیں آئے تھے نا جو تم باتھ روم میں کر رہے تھےعشرت کی بات سن کر وہ لڑکے کو پسینہ آنے لگا اور خاموش بیٹھ رہا پِھر عشرت نے کہا دیکھو مجھے سے ڈرنے کی نہیں ہے میں کسی کو بھی تمہاری اِس حرکت کا نہیں بتاؤں گی لیکن اِس کے بدلے تم کو مجھے سے کھل کر بات کرنی ہو گی . اس لڑکے کو تھوڑا حوصلہ ملا اور آگے سے بولا جی ٹھیک ہے . 
عشرت نے کہا جب پہلے تم میرے پاس آتے تھے تو میں اپنے سارے دکھ سکھ بانٹتی تھی اور تم کو اپنے اور اپنے میاں کے بھی تعلق کا بتایا تھا . پِھر بھی تم مجھ سے اتنا کیوں شرما یا ڈر رہے ہو میں پہلے کی ہی طرح تمہاری دوست بھی ہوں اور خیر خواہ بھی. وہ لڑکا بولا آنٹی جی ایسی بات نہیں ہے میں بھی آپ کا دوست ہی ہوں لیکن اس دن مجھ سے غلطی ہو گئی تھی میں نے آپ کا انڈرویئر دیکھا تو کنٹرول نا کر سکا اور وہ حرکت کر بیٹھا مجھے آپ اس غلطی کی سزا جو بھی دو گی مجھے منظور ہو گی . عشرت نے کہا غلطی انسان ہی کرتا ہے اور میں اِس کی کوئی بھی سزا تمہیں نہیں دوں گی لیکن مجھے یہ بتاؤ تم اپنے ساتھ یہ ظلم کیوں کرتے ہو تم تو اچھے کالج میں پڑھتے رہے ہو وہاں تو لڑکیاں بھی تھی کیا تمہاری کسی لڑکی سے کوئی دوستی نہیں تھی جس سے تم اپنے اندر کی پیاس بُجھا سکتے . وہ بولا میری لڑکیاں دوست تھیں لیکن اِس کام کے لیے کبھی ہمت ہی نہیں ہو سکی ابو کی سخت طبیعت کی وجہ سے ہمیشہ ڈر لگتا تھا . عشرت نے کہا تو پِھر میرے انڈرویئر کے ساتھ اپنی پیاس بجھانے کی ہمت کیسے آ گئی سچ سچ بتانا تمہاری اندر کی فیلنگ کیا ہیں میں برا نہیں منائوں گی. وہ بولا آنٹی جی سچ یہ ہے کے جب میں آپ سے آپ کے میاں کے بارے میں سوال جواب کرتا تھا تو آگے سے آپ اپنے میاں کی جو باتیں بتاتی تھیں تو مجھے آپ کا دکھ ہوتا تھا اور آپ مجھے پہلے دن سے ہی اچھی لگتی تھی اور میں دِل میں سوچتا تھا کے کاش میں عشرت آنٹی کا میاں ہوتا تو ان کو کبھی بھی اکیلا چھوڑ کر نا جاتا اور ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتا اور آپ کو ہر لحاظ سے خوش رکھتا بس یہ ہی میں سوچتا تھا اور دِل میں خواہش رکھتا تھا . عشرت نے کہا میں تم پے بھروسہ کرتی تھی اِس لیے تمہیں اپنا سب بتایا مجھے پتہ تھا تم مجھے کہیں بھی بدنام نہیں کرو گے اور آج بھی مجھے تم پے بھروسہ ہے لیکن بیٹا میں تم سے عمر میں کافی بڑی ہوں تمہاری اور میری عمر میں 14سال کا فرق ہے اور تم ایک جوان اور صحت مند لڑکے ہو تمہیں تو اِس عمر میں کوئی جوان لڑکی کا ساتھ چاہیے تم اپنے سے اتنی بڑی عورت سے کس طرح گزارا کرو گے وہ لڑکا بولا آنٹی آپ خود کو بڑھاسمجھتی ہیں لیکن آپ ہیں نہیں اور مجھے پتہ ہے آپ کے جذبات اور پیاس کسی بھی جوان لڑکی سے کم نہیں ہیں آپ کا جسم اِس چیز کی گواہی دیتا ہے. عشرت نے کہا تمہیں پتہ ہے نا میری ایک جوان شادی شدہ بیٹی بھی ہے اگر کہیں سے اس کو کسی بات کا پتہ لگ گیا یا کسی اور کو تو میں تو جیتے جی مر جاؤں گی . وہ لڑکا بولا آنٹی جی میں آپ کے گھر میں کتنے سالوں سے آ رہا ہوں اور آپ نے اپنی ہر بات مجھ کو بتائی ہے اور آج تک آپ کی کوئی بات محلے میں کسی کے منہ سے سنی ہو تو بتائیں . عشرت اس کا جواب سن کے خاموش ہو گئی اور پِھر وہاں سے اٹھی اور باہر جانے لگی تو اس لڑکے سے بولی تم بیٹھو میں ابھی آتی ہوں وہ باہر نکلی اور باہر میں دروازہ اندر سے بند کر کے دوبارہ اپنے کمرے میں آ گئی اور اپنا دروازہ بند کر کے اپنے بیڈ پے بیٹھ گئی اور اس لڑکے کو کہا آج تمہاری آنٹی تمہیں تمھارے حوالے کرتی ہے آؤ دونوں مل کے اپنی پیاس بجھا ئیں . اور پِھر اِس طرح اس لڑکے نے پہلے دن عشرت کی 4 گھنٹے تک چودا اور عشرت پِھر لگاتار اس سے ہر دوسرے دن اپنے ہی گھر میں کئی کئی گھنٹےچودوا کر مزہ لیتی تھی اور اس لڑکے کی خواہش پے پہلی دفعہ عشرت نے اس سے اپنی بُنڈ مروائی تھی جو وہ پِھر لگاتار مرواتی تھی کیونکہ عشرت کے میاں نے کبھی بھی اس کی بُنڈ میں نہیں ڈالا تھا اور یوں وہ لڑکا عشرت کو نورین کے بیوہ ہو کر گھر واپس آنے کے بعد بھی چودتاتھا نورین کے ہوتے ہوئے میں عشرت کی مدد کیا کرتی تھی عشرت کو جب بھی اس لڑکے سے ملنا ہوتا تھا میں نورین کو اپنے گھر بلا لیتی تھی یا کبھی اس کو اپنے ساتھ لے کر اپنی امی کے گھر چلی جاتی تھی یوں یہ سلسلہ بھی تقریباً 2 سال تک چلتا رہا اس لڑکے کی شادی بھی ہو گئی تھی لیکن وہ عشرت کے ساتھ اپنا تعلق قائم رکھے ہوئے تھا اور اس کو ہر لحاظ سے خوش رکھتا تھا ابھی کوئی 3 مہینے پہلے وہ لڑکا دبئی چلا گیا ہے لیکن وہ وہاں ہر چوتھے دن عشرت سے فون پے بات کرتا رہتا ہے . . . اِس سارےمعاملے کا نورین کو کچھ بھی نہیں پتہ ہے اس کی ماں اس کی نظر میں ٹھیک ہے اور اب اس کی ماں کو تمھارا اور نورین کا بھی نہیں پتہ ہے. چچی نے کہا جب اپنے گھر پے کوئی مسئلہ ہوتا تھا تو میں اِس کے بدلے میں عشرت کے گھر میں کئی دفعہ اپنے کزن کو بلا کر چودوا چکی ہوں .
چچی کی یہ ساری کہانی سن کے میں حیران تھا کے چچی کتنی بڑی کھلاڑی عورت ہے وہ اپنے چسکےاور مزے کی خاطر کتنے بڑے بڑے کام کر لیتی ہے میں نے کہا چچی یہ تو بتاؤ عشرت آنٹی میرے لیے کیسے مان جائے گی اس کو ابھی تک تو آپ نے میرے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا ہے اور وہ ابھی تک تو اس لڑکے کے پیار میں ہی مبتلا ہے وہ میرے ساتھ کیسے راضی ہو گی . چچی بولی یہ میرا مسئلہ ہے اس کو کیسے راضی کرنا ہے تم فکر نا کرو پرسوں تم کو اس کی پھدی بھی ملے گی اور بُنڈ بھی . ویسے بھی وہ لڑکا چلا گیا ہے اب پتہ نہیں کتنے سال بعد آتا ہے عشرت اس کے انتظار میں تو نہیں بیٹھی رہے گی اور فون پے باتیں کر لینے سے جسم کی گرمی اور پیاس تھوڑی ختم ہوتی ہے . . . رہی بات اس کو تمہارے بارے میں اعتماد میں لینے کی اور یقین دلانے کی وہ میں کر لوں گی تم بے فکر ہو جاؤ میں کل دو پہر میں جاؤں گی اس کی طرف اور اس کو راضی کر کے آؤں گی اور تم پرسوں تک بس انتظار کرو. میں نے کہا ٹھیک ہے چچی جان آپ اِس کام کی ماہر ہیں مجھے یقین ہے . چچی بولی پرسوں تک تم نے دو دو پھدییا ںکھا لینی ہیں ذرا اب یاد رکھنا میں نے بھی تم سے اپنا کام نکلوانا ہے . میں نے کہا چچی آپ کے لیے جان بھی حاضر ہے آپ حکم کرو ابھی آپ کی پھدی کی گرمی دور کر دیتا ہوں . . 
چچی مصنوعی غصے سے بولی میں تم سے چودوا نے کی بات نہیں کر رہی میں کسی اور کی بات کر رہی ہوں تم نے بس میری مدد کرنی ہے . میں نے کہا چچی جان میں حاضر ہوں جب حکم کرو بندہ حاضر ہو گا . چچی بولی ٹھیک ہے ٹھیک ہے دیکھا جائے گا ابھی اٹھو اور کوئی اور کام کرو بچے آنے والے ہیں مجھے بھی روٹیاں بنانی ہیں. چچی اٹھ کر کچن کی طرف چلی گئی اور میں بھی دوبارہ ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا اور ٹی وی دیکھنے لگا شام کو جب چچا گھر آئے تو ان کے ساتھ چچی کی نند سائمہ بھی تھی اس کی چچی کے دوسرے نمبر والے بھائی سے شادی ہوئی تھی اور وہ رشتے میں چچی کی خالہ زاد کزن بھی تھی . اس کا میاں چچی کا بھائی سعودیہ میں ملازمت کرتا تھا . اور ان کی چار سال کی بچی بھی تھی . چچی کے بھائی اور سائمہ کی منگنی بہت پہلے کی ہوئی تھی لیکن شادی منگنی کے کافی عرصے کے بعد جا کر ہوئی تھی مجھے جہاں تک یاد پڑتا ہے. سائمہ آنٹی کی شادی 27 یا 28 سال کی عمر میں جا کر ہوئی تھی کیونکہ چچی کے بھائی کا پاکستان میں کوئی خاص روزگار نہیں تھا وہ کسی پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا تھا . اِس لیے سائمہ آنٹی کے ابو نے اپنی بیٹی کی شادی جب چچی کا بھائی سعودیہ چلا گیا تھا اس کے 3 سال بعد کی تھی تھی سائمہ اور چچی آپس میں سہیلیاں بھی تھی اور سکول اور کالج میں ایک ساتھ پڑھتی تھیں. سائمہ کا میاں تو ملک سے باہر ہوتا تھا تو وہ اکثر چچی کے پاس آ کر ایک یا 2 دن کے لیے رہتی تھی . آج بھی وہ چچا کے ساتھ گھر آئی ہوئی تھی . جب سے میں اور میری فیملی اسلام آباد شفٹ ہو گئے تھے تو بہت کم ہی ملاقات ہوئی تھی اور آج بھی کوئی 1 سال سے زیادہ عرصے کے بعد ملاقات ہوئی تھی . میں نے اس کو سلام کیا تو آگے سے بولی واہ کا شی تم تو آب اسلام آباد میں جا کر اور زیادہ چٹے اور صحت مند ہو گئے ہو . میں نے کہا ایسی بات نہیں ہے آنٹی میں تو اب بھی پہلے جیسا ہی ہوں. سائمہ آنٹی نے آگے ہو کر مجھے اپنے گلے لگایا اور میری فیملی کے بارے میں حال حوال پوچھا اور پِھر سب ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گئے اور چچا نہانے کے لیے چلے گئے . رات کو سب نے مل کر كھانا کھایا اور سائمہ آنٹی اور چچی اور ان کے بچے رات دیر تک باتیں کرتے رہے کیونکہ صبح اتوار تھا چھٹی تھی میں بھی ٹی وی والے کمرے میں ٹی وی دیکھتا رہا چچا بھی وہاں بیٹھ کر اپنے آفس کا کوئی کام کر رہے تھے . چچا کوئی11 بجے اپنے کمرے میں سونے کے لیے چلے گئے میں بھی چھت پر جا کر اپنی چار پائی پے لیٹ گیا لیکن آج اوپر ٹوٹل 3 چار پائی تھیں میں اور دادی اور چچی کا بیٹا اوپر سو گئے اور چچی اور ان کی نند اور ان کی بیٹی نیچے اپنے کمرے میں سو گئے تھے. میں تو لیٹ کر عشرت کے بارے میں سوچتا رہا اور پتہ نہیں کب نیند آ گئی اور سو گیا اور صبح چچی کا بیٹا مجھے ناشتے کے لیے اٹھا رہا تھا . میں وہاں سے اٹھا اور نیچے جا کر باتھ روم میں گھس گیا اور نہانے لگا اور نہا کر دستر خوان پے کر بیٹھ گیا وہاں چچی ناشتہ لگا رہی تھی اور باقی سب بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے . چچی کے بچے سائمہ آنٹی کے ساتھ شگل میلا لگا رہے تھے . پِھر وہاں سب نے ناشتہ کیا اور چچا اور میں ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گئے اور گپ شپ لگانے لگے اور چچی اور سائمہ آنٹی کچن کا کام ختم کرنے میں مصروف ہو گیں. تقریباً 11بجے کے قریب چچی کا بیٹا ٹی وی والے کمرے میں آیا اور آ کر چچا سے بولا کے چچا ہم دونوں بہن بھائی نے آپ کے ساتھ بازار جانا ہے وہاں سے کچھ بکس اور چیزیں لینی ہیں . چچا بولے تم تیار ہو جاؤ میں بھی کپڑے بَدَل کر آتا ہوں اور چچا وہاں سے اٹھا کر اپنے کمرے میں چلے گئے. پِھر تھوڑی دیر بعد چچا بچوں کو موٹر بائیک پے لے کر بازار چلے گئے اور سائمہ آنٹی چچی کے کمرے میں چلی گئی اور چچی گھر کی صفا ئی کرنے لگی لیکن آج چچی نے بس صحن کو صاف کیا کمروں کو نہیں اور وہاں سے فارغ ہو کر وہ بھی اپنے کمرے میں چلی گئی . میں بھی ٹی وی پے انڈین مووی دیکھنے میں مصروف تھا تقریباً 12 بجے کا ٹائم تھا میں سوچ رہا تھا کے آج تو سائمہ آنٹی گھر آئی ہوئی ہے تو چچی کب عشرت کے گھر جائے گی اور کل کا پلان کیسے بنے گا میں بس یہ ہی سوچوں میں گم تھا . پِھر مجھے پیاس لگی تو میں اٹھ کر کچن میں پانی پینے چلا گیا. میں نے کچن سے پانی پیا اور واپس ٹی وی والے کمرے کی طرف آیا تو دروازے پے پہنچا تو چچی کے کمرے کی کھڑکی ساتھ میں ہی تھی اس میں سے آواز میرے کانوں میں آئی سائمہ آنٹی چچی سے کہہ رہی تھی اور کتنا برداشت کروں یہ سب آپ کے بھائی کا قصور ہے . میں نے یہ بات سنی تو میں سوچنے لگا کے سائمہ آنٹی اپنے میاں کی کس بات کی شکایت کر رہی ہے . میں ٹی وی والے کمرے کی بجا ے چچی کی کھڑکی کی ساتھ جا کر کھڑا ہو گیا تو اندر دیکھا تو چچی اور سائمہ آنٹی دونوں بیڈ پے بیٹھی ہوئی ہیں . میں ان کی باتیں غور سے سنے لگا. چچی سائمہ آنٹی سے بولی کے دیکھو سائمہ میں بھی عورت ہوں تمہارے جذبات سمجھ سکتی ہوں . لیکن نعیم ( چچی کا پہلے نمبر والا بھائی ) جو کر رہا ہے وہ غلط ہے اگر گھر میں کسی کو پتہ چل گیا تو بربادی ہو جائے گی اور خاص کر نعیم کی بِیوِی وہ تو موقع کی تلاش میں رہتی ہے اس کو تو اپنے باپ کے پیسوں کا بہت مان ہے وہ تو اپنی ماں کی وجہ سے ہی نعیم کے ساتھ رشتے کے لیے راضی ہوئی تھی نہیں تو وہ تو اِس رشتے پے راضی ہی نہیں تھی اور اگر اس کو یہ بات پتہ چل گئی تو پورے گھر میں بربادی ہو جائے گی. سائمہ آنٹی بولی اِس میں میرا قصور نہیں ہے تمھارے بھائی کا قصور ہے وہ یہ حرکت میرے ساتھ پچھلے 6 مہینے سے کر رہا ہے جب میرا میاں چھٹی کاٹ کر واپس گیا تھا اس کے بَعْد سے نعیم بھائی نے مجھے تنگ کَرنا شروع کر دیا ہے . میں بہت دفعہ ان کو ڈانٹ چکی ہوں لیکن وہ باز نہیں آتے ہیں . شروع شروع میں تو وہ صرف بول کر گندی گندی باتیں کر کے تنگ کرتے تھے پِھر آہستہ آہستہ ان کا حوصلہ بڑھتاگیااور وہ جہاں بھی مجھے اکیلا کچن میں یا گھر میں کسی جگہ دیکھتے تو کبھی میرے مموں کو سہلا دیتے تھے کبھی کچن میں جب کام کر رہی ہوتی تھی تو میری بُنڈ پے ہاتھ پھر کر چلے جاتے تھے جب کبھی دیکھا گھر میں کوئی دور دور تک نہیں ہے اپنے لن کو پورا کھڑا کر کے کچن میں جاتے اور مجھے پیچھے سے پکڑ کر اپنا لن میری بُنڈ کی لکیر میں رگڑ دیتے تھے . میں نئے کئی بار ان کو دھکا دے کر کئی دفعہ ان کو منع کرنے کی کوشش کی لیکن ان پے کچھ اثر ہی نہیں ہوتا اور پچھلے ہفتے تو انہوں نے حد ہی پار کر دی تھی میں رات کو میں اپنے کمرے میں سوئی ہوئی تھی کوئی رات کے 1 بجے سب سو رہے تھے وہ پورا ننگا ہو کر میرے کمرے میں آ گئے اور اندھیرے میں آ کر میرے ساتھ میرے بیڈ پے لیٹ گئے اور میرے ساتھ چمٹ گئے . اور مجھے منہ پے گلے پے کس کرنے لگے پہلے تو میں ڈر گئی یہ کون آدھی رات کو آ گیا ہے میں نے فوراً ٹیبل لیمپ جلایا تو دیکھا تو وہ نعیم بھائی تھے اور انہوں نے میرے منہ پے اپنا ہاتھ رکھ دیا اور میرے کانوں میں بولے سائمہ آرام سے لییً رہو اور مزہ لو شور نہیں کَرنا نہیں تو تم خود بھی بدنام ہو جاؤ گی . اور پِھر تھوڑی دیر بَعْد میرے منہ سے ہاتھ ہٹایا تو میں نے کہا نعیم بھائی آپ کو شرم نہیں آتی میں آپ بھائی کی بِیوِی ہوں آپ کیوں میری زندگی برباد کرنے لگے ہوئے ہیں . وہ بولے سائمہ تیرا میاں 2 سال باہر رہتا ہے اور 2 مہینے گھر مجھے پتہ ہے .تم اس کے بغیر 2 سال نہیں رہ سکتی اِس لیے خود بھی مزہ لو اور مجھے بھی لینے دو . میں نے کہا نعیم بھائی مجھے نہیں مزہ لینا اور میں اپنے میاں کے بغیر اکیلی رہ سکتی ہوں آپ خدا کے لیے یہاں سے چلے جائیں کسی نے دیکھ لیا تو قیامت آ جائے گی . نعیم بھائی آگے سے بولے کے میری بِیوِی بھی ہفتے میں ایک دفعہ مجھے اپنے پاس جانے دیتی ہے ا می نے میرے گلے یہ لڑکی ڈال ڈی ہے اس کا غرور ہی اتنا ہے اور مجھے اپنے آپ کو ہاتھ نہیں لگانے دیتی اور مجھے روز مزہ چاہیے میں جوان ہوں میرے بھی جذبات ہیں سائمہ تم ہی میرا خیال کرو یقین کرو یہ بات تمھارے اور میرے درمیان ہی رہے گی میں تمہیں اتنا خوش کروں گا کے تم مجھے ہمیشہ یاد رکھو گی . اِس لیے مان جاؤ اور ضد نا کرو. میں نے پِھر ان سے کہا نعیم بھائی آپ خدا کے لیے یہاں سے چلے جائیں میری زندگی برباد نا کریں میں اپنی زندگی میں خوش ہوں میں کل بھابھی سے آپ کے لیے بات کروں گی کے وہ آپ کا خیال کرے آپ یہاں سے جائیں . نعیم بھائی بولے سائمہ تم پاگل مت بنو تم میری بِیوِی کو نہیں جانتی اگر اس کے ساتھ میری کوئی بھی بات کرو گی تو کچھ نا کر کے بھی وہ تم کو بدنام کر دے گی . اِس لیے ضد نہیں کرو میں نے کہا نعیم بھائی میں اپنی عزت آپ کو نہیں دے سکتی وہ آپ کے بھائی کی عزت ہے میں یہ کام نہیں کروا سکتی . نعیم بھائی بولے چلو اگر اندر نہیں کروا سکتی تو کچھ تو کرو اور میرا پانی نکلوا دو . پِھر میں تھوڑی دیر خاموش ہو گئی اور سوچنے لگی کے نعیم بھائی کی باتیں تو سچ ہے میں 2 سال اپنے میاں کے بغیر رہتی ہوں اور اپنی انگلی سے ہی اپنی پیاس بُجھا لیتی ہوں مجھے نعیم بھائی کے ساتھ تعلق بنا لینا چاہیے . لیکن پِھر میرے دِل اور دماغ میں اپنے میاں کی عزت اور نعیم بھائی کی بِیوِی کا خیال آیا کے اگر کل کو کسی دن بھی نعیم بھائی کی بِیوِی کو بات پتہ چل گئی تو میری تو پوری زندگی برباد ہو جائے گی کیونکہ وہ ایک شقی مزاج کی عورت تھی اس سے کسی بھلے کی امید نہیں کی جا سکتی تھی . اور نعیم بھائی یہاں سے کچھ کیے بنا بھی نہیں جائیں گے . میں نے سوچا کیوں نا اپنے ہاتھ سے نعیم بھائی کا پانی نکلوا دیتی ہوں اور اپنی جان چھو ر وا لیتی ہوں. میں نے کہا نعیم بھائی میں اپنے ہاتھ سے آپ کی مٹھ لگا دیتی ہوں اور آپ کا پانی نکلوا دیتی ہوں لیکن میری ایک شرط ہے آپ گھر میں مجھے پِھر تنگ نہیں کریں گے اور نا ہی میں آپ سے اِس کے علاوہ کچھ اور کروں گی . نعیم بھائی بولے پِھر میری بھی ایک شرت پے ہو سکتا ہے اگر تم مجھے جب میں کہوں تو میرے لن کا چوپا لگا کے میرا پانی نکلوا دیا کرو تو میں تمہاری سب باتیں مانوں گا نہ تنگ کروں گا اور نہ ہی اِس کے علاوہ کچھ اور مانگوں گا اگر منظور ہے تو بتاؤ . میں نے کہا کے یہ بھی کوئی گھا ٹے کا سودا نہیں ہے باقی چیزوں سے تو بچ جاؤں گی میں نے کہا ٹھیک ہے لیکن یہ کام ہر روز نہیں ہو گا ہفتے میں ایک باریا دو بارہی ہو گا . تو نعیم بھائی بولے ٹھیک ہے مجھے منظور ہے . پِھر میں نے کہا آپ نیچے اُتَر کر کھڑے ہو جائیں . نعیم بھائی پہلے ہی سے ننگے تھے وہ بیڈ سے اُتَر کر نیچے فراش پے کھڑے ہو گئے اور میں بھی اپنے پیر بیڈ سے نیچے لٹکا کر بیٹھ گئی اب نعیم کا لن میرے منہ کے بالکل سامنے تھا میں نے اپنے ہاتھ سے ان کا لن پکڑا اور اس کو آگے پیچھے کر کے سہلانے لگی 2 سے 3 منٹ سہلانے کے بَعْد نعیم بھائی کا لن نیم حالت میں کھڑا ہو گیا پِھر میں نے منہ آگے کر کے پہلے نعیم بھائی کے لن کی ٹوپی منہ میں لی اور اس کو تھوڑی دیر تک چاٹتی رہی اور چاٹنے سے ان کا لن پورا کھڑا ہو چکا تھا آن ان کے منہ سے 
سسکار یاں نکل رہی تھیں پِھر میں نے آہستہ آہستہ لن کو منہ میں لینا شروع کر دیا اور کبھی گول گول اور کبھی آگے پیچھے ہو کر ان
کے چو پے لگانے لگی مجھے کوئی 5 منٹ ہو گئے تھے چو پے لگاتے ہوئے اور نعیم بھائی کا لن تن کر اور سخت ہو گیا تھا اور انہوں نے اپنے ھاتھوں سے میرا چہرہ پکڑ لیا اور اس کو آگے پیچھے کرنے لگے جیسے وہ میرے منہ کو چود رہے ہوں 2 منٹ بَعْد ہی ان کے منہ سے سسکار یاں اور تیز ہوں گئیں تھیں. مجھے یوں لگا وہ آب چھوٹنے والے ہیں میں نے اپنا منہ ہٹانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے میرا چہرہ مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا اور پِھر ان کا گرم پانی کا لاوا میرے منہ میں چھوٹنے لگا ان کی منی کا ذائقہ نمکین اور گرم تھا جب مجھے پیریڈز ہوتے تھے.میر ےمیاں بھی کئی دفعہ میرے منہ چھوٹ جایا کرتے تھے لیکن میں واش روم میں جا کر سارا پانی باہر پھینک دیتی تھی کبھی اندر بھی اندرنہیں کیا پِھر جب نعیم بھائی سارا پانی میرے منہ میں چھوڑ چکے تو میرا چہرہ چھوڑ دیا میں وہاں سے بھاگ کر اپنے اٹیچ باتھ روم میں گھس گئی اور ساری منی باہر پھینک دی اور جب کلی کر کے اور منہ صاف کر کے واپس آئی تو نعیم بھائی جا چکے تھے
سائمہ آنْٹی کی سڑی بات سن کر باہر میرا برا حال ہو چکا تھا اور میرا لن پورے جوش میں کھڑا سلامی دے رہا تھا . سائمہ آنْٹی پِھر بولی کے تمھارے بھائی کو آب تک 2 دفعہ چوپا لگا کر فارغ کروا چکی ہوں اِس کے علاوہ اور کچھ نہیں کرنے دیا لیکن میں بھی عورت ہوں میرے بھی جذبات ہیں مجھے ڈر ہے کے میں کسی دن بھی اپنی پیاس اور جذبات میں آ کر بہک جاؤں گی اِس لیے میں تمہیں یہ بات بتا رہی ہوں کچھ میری ذات کا سوچو اور اپنے بھائی کا بھی سوچو اور مجھے بتاؤ مجھے کیا کَرنا چاہیے . چچی سائمہ آنْٹی سے بولی پہلے تو تمہیں میرے بھائی کو چو پے لگوا نے پے بھی راضی نہیں ہونا چاہیے تھالیکن یہ بھی تم نے ٹھیک کیا کے اس کو تم نے اپنا پورا جسم نہیں دیا اِس لیے تھوڑی ابھی بچت ہی ہے . لیکن میں اپنے بھائی کو جانتی ہوں وہ منہ پھٹ قسِم کا بندہ ہے پیٹ کا بہت ہلکا ہے کل کو اگر تم نے کبھی بھی کسی وجہ سے اس کو کسی بات سے نہ کی تو وہ سب کے سامنے تمہیں ذلیل بھی کروا دے گا . اور دوسرا اس کی بِیوِی ایک نمبر حرامن عورت ہے اس کو شق بھی ہو گیا تو وہ پورے گھر میں قیامت لے آئے گی. 
سائمہ آنْٹی بولی اِس لیے تو تمہیں کہہ رہی ہوں مجھے بتاؤ میں کیا کروں خود تو تم شوکت اور عرفان کے ساتھ اپنا وقعت کتنے مزے سے گزا ر رہی ہو اور اپنی پیاس اور آگ کو ٹھنڈا کر لیتی ہو . لیکن میری سہیلی اور کزن ہو کر بھی آج تک تم نے میرا نہیں سوچا ایک میاں ہے وہ 2 مہینے تو دن رات مزہ دیتا ہے پِھر 2 سال کے لیے تڑپتا ہوا چھوڑ کر چلا جاتا ہے . اور دوسرا تمھارا نعیم بھائی اس پے بھروسہ کر کے تو میں اپنی زندگی برباد نہیں کر سکتی . چچی سائمہ آنْٹی کی بات سن کر بولی ( ہولی بول نی بدمعاشےدیواراں دے وی کن ہوندےنی(میں باہر کھڑا آنٹی سائمہ کی یہ بات سن کر حیران پریشان ہو گیا کےواقعی میں چچی تو ہی بہت بڑی رنڈی اور کھلاڑی عورت ہے . فوراً میرے دماغ میں آیا کے عرفان تو چچی کی ا می کی کزن کا بیٹا ہے وہ لاہور میں پنجاب یونیورسٹی میں پڑھتا تھا مجھے سے 2 سال ہی بڑا تھا ان کا اپنا گھر بھی چچی لوگوں کی ا می کی ہی گلی میں تھا وہ چچی کے امی کے خاندان سے تعلق رکھتا تھا میری اس سے کافی دفعہ شادیوں پے ملاقات ہوئی تھی میری اس سے رشتے دار کی حد تک ہی سلام دعا تھی.اب یا تو وہ ہی تھا یا کوئی اور باہر کا بندہ ہے مجھے شق چچی کی ا می کی کزن کے بیٹے پے ہی ہو رہا تھا جو چچی کا یار بنا ہوا تھا یہ سوال میں نے اپنے دِل اور دماغ میں رکھ لیا تھا کے وقعت آنے پے اِس کا جواب چچی سے لوں گا. چچی بولی دیکھو سائمہ مجھے تمہارے سارے جذبات کا اندازہ ہے تم مجھے کچھ وقعت دو میں سوچ کر تمہیں بتاؤں گی کے آگے کیا کرنا ہے اور تیرے اندر کی آگ کو کیسے ٹھنڈا کرنا ہے اور اپنے بھائی سے کیسے جان چھوڑ وانی ہے . تم ایک کام کرو جب تک میں اِس پے مکمل سوچ نہیں لیتی تم وہ ہی کرو جو میرا بھائی کہتا ہے لیکن بھول کے بھی اس سے اندر نہیں کروانا بس جس کام پے وہ راضی ہے وہ کرتی جاؤ میں بہت جلدی تمہارے لیے کوئی نا کوئی حَل سوچ لوں گی . اور یہ بات اب کسی کے ساتھ بھی شیئر نہیں کرنی ہے تم نے نہیں تو یہ بات باہر نکل گئی تو تم جانتی ہو تم عورت ہو سارا الزام تم پے لگا کر تمہاری ہی زندگی خراب کر دیں گے. پِھر چچی نے سائمہ آنٹی سے کہا اٹھو اپنا منہ ہاتھ دھو لو میں کچن میں كھانا بنانے جا رہی ہوں كھانا کھا لو پِھر میں کا شی کو کہتی ہوں وہ اپنے چچا کی موٹر بائیک پے تمہیں گھر چھوڑ آئے گا . میں چچی کے کمرے سے نکلنے سے پہلے ہی ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا اور تھوڑی دیر بعد چچی وہاں سے گزاری اور مجھےسر سری سی نگاہ سے دیکھا اور آگے کو چلی گئی یکدم وہ کچن کے دروازے سے واپس ٹی وی والے کمرے میں آئی اور مجھ سے آ کر بولی کا شی بیٹا تھوڑی دیر میں چچا اور بچے واپس آ جائیں گے تم كھانا کھا کراپنے چچا کی موٹر بائیک پے سائمہ آنٹی کو ہمارے گھر چھوڑ آنا . میں نے کہا جی ٹھیک ہے چچی جان میں حاضر ہوں آپ بے فکر ہو جائیں اور چچی کی یوں شو کروایا کے مجھے ان کی اور سائمہ آنٹی کے درمیان ہوئی کوئی بات کا علم ہی نہیں ہے. پِھر چچی کچن کی طرف چلی گئی اور اِس کے بعد سائمہ آنٹی کو دیکھا تو وہ بھی چچی کے کمرے سے منہ ہاتھ دھو کر باہر کو نکل کر کچن میں چلی گئی . اور میں ٹی وی دیکھنے لگا کوئی 2 بجے کے ٹائم چچا اور بچے واپس آ گئے اور سب نے پِھر مل کر كھانا کھایا اور كھانا کھا کر چچی نے چچا سے کہا آپ کا شی کو موٹر بائیک کی چا بی دے دیں وہ سائمہ کو گھر چھوڑ آئے گا آپ آرام کر لیں . چچا نے مجھے چا بی دے دی اور تاکید کی بیٹا آرام سے چلا کر لے کر جانا تمھارے ابو سے سنا ہے تم بہت تیز موٹر بائیک چلاتے ہو . میں نے کہا چچا آپ بے فکر ہو جائیں میں آرام سے چلا کر جاؤں گا . پِھر سائمہ آنٹی نے مجھے کہا کا شی بیٹا تیار ہو جاؤ میں بھی باتھ روم سے ہو کر آتی ہوں اور پِھر چلتے ہیں میں نے کہا جی آنٹی ٹھیک ہے . اور میں اپنے کمرے میں چلا گیا اور دروازہ بند کر کے شلوار قمیض پہن لی اور تیار ہو کر باہر آیا اور موٹر بائیک کو گھر سے باہر نکال کر سائمہ آنٹی کا انتظار کرنے لگا اور کوئی 5 منٹ بعد وہ بھی آ گئی اور پیچھے موٹر بائیک پے بیٹھ گئی میں نے موٹر بائیک اسٹارٹ کی اور آگے کو چل پڑا آنٹی نے اپنا ہاتھ میری بازو کے نیچے سے نکال کر میرے پیٹ پے رکھ پکڑ ہوا تھا اور میں آرام آرام سے جا رہا تھا ہمارے علاقےمیں پکی سڑک کم ہی تھی اِس لیے جمپ زیادہ لگ تھے میں پِھر بھی آہستہ آہستہ چلا کر جا رہا تھا لیکن ٹوٹی ہوئی سڑک اور جمپ کی وجہ سے جھٹکے بھی لگ رہے تھے اور اِس دوران میں سائمہ آنٹی کے ممے میری کمر میں بار بار لگ رہے تھے اور ان کے نرم نرم ممے اور ان کی نپلز میری کمر پے جب لگتے تھے میرے جسم میں کر نٹ دوڑجاتا تھا ایک الگ ہی مزہ آ رہا تھا. سائمہ آنٹی پیچھے بار بار اپنے آپ کو سنبھال رہی تھی. سائمہ آنٹی کے مموں کا میرے جسم کے ساتھ ٹچ ہونے سے میں فل مزہ لے رہا تھا میرا لن ان کے مموں کی ٹچ ہونے سے شلوار میں پورا آکڑ کر کھڑا ہوا تھا اور سائمہ آنٹی کا ہاتھ میرے پیٹ پر تھا جب ہم سائمہ آنٹی کے گھر کے نزدیک ہی تھے تو ان کی گلی میں مور کاٹ تے ہوئے ایک جمپ آیا اور ہم دونوں کو جھٹکا لگا اور سائمہ آنٹی کا ہاتھ سلپ ہو کر سیدھا میرے لن پے آ گیا اور ان کا پورا ہاتھ مجھے اپنے لن پے محسوس ہوا اور یہ سب کچھ اچانک ہوا تھا پِھر میں نے ان کے گھر کے باہر بائیک روک دی دو پہر کا وقعت تھا کوئی بھی گلی میں نہیں تھا بالکل سناٹا تھا جب سائمہ آنٹی نیچے اتری تو میری طرف دیکھ کر غصے سے بولی کا شی یہ کیا بیہودگی تھی تمہیں شرم نہیں آتی . میں نے فوراً کہا آنٹی مجھے معاف کر دیں اچانک جمپ آ گیا تھا اِس لیے کنٹرول نہیں کر سکا . اور وہ غصے میں مجھے اتنا بول کر اندر چلی گئی کی اگر اندر آنا ہے تو آ جاؤ نہیں تو جاؤ . میں بائیک پے بیٹھ سوچ رہا تھا کے اندر جاؤں یا نہیں لیکن یکدم مجھے یاد آیا کے آنٹی کا ہاتھ میرے لن پے لگا تھا ہو سکتا ہے وہ میرا ان کے مموں سے مزہ لینے اور لن پے ہاتھ لگنے کو سمجھ گئی ہوں اور میری اِس حرکت پے ان کو غصہ آ گیا ہو گا اِس لیے انہوں نے مجھے ڈانٹ دیا تھا . میں نے وہاں 1 منٹ بھی رکنا خطرے سے کم نا سمجھا اور بائیک اسٹارٹ کی اور گھر کی طرف واپس نکل آیا. گھر واپس آ کے بائیک اندر صحن میں کھڑی کر دی اور چا بی دینے کے لیے چچا کے روم کی طرف گیا دروازہ کھولا تو وہ سوئے ہوئے تھے میں نے چا بی ان کی ٹیبل پے رکھی اور دروازہ بند کر کے چچی کے روم کی طرف چلا گیا ان کو بتا دوں کے میں سائمہ آنٹی کو چھوڑ آیا ہوں جب ان کے روم میں گیا تو ان کے بچے اندر سوئے ہوئے تھے چچی نہیں تھی اور ان کا باتھ روم کا دروازہ بھی کھلا تھا میں ان کے کمرے سے باہر نکل آیا اور ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ کر ٹی وی لگا کر بیٹھ گیا. میں ٹی وی والے کمرے میں بیٹھ کر سوچ رہا تھا کے میری آج والی حرکت اگر سائمہ آنٹی نے چچی کو بتا دی تو پِھر کیا ہو گا . پِھر خیال آیا سائمہ آنٹی کون سا پاکباز ہے اگر کوئی بات کرے گی تو مجھے بھی اس کا بہت راز اب پتہ لگ چکا ہے اِس لیے میں نے دماغ سے یہ بات نکال دی پِھر خیال آیا ہو سکتا ہے چچی عشرت کی طرف گئی ہوں عشرت کا سوچ کر ہی میرے اندر لڈو پھوٹنے لگے. میں پِھر ٹی وی پے کرکٹ کا میچ دیکھنے لگا مجھے واپس آ کر بھی کوئی 1 گھنٹے سے زیادہ ٹائم ہو گیا تھا لیکن چچی ابھی تک واپس نہیں آئی تھی تھوڑی دیر بعد ہی باہر کی گھنٹی بجی میں نے جا کر دروازہ کھولا تو چچی ہی تھی . اندر آ کر مجھے سے پوچھا سناؤ سائمہ کو چھوڑ آئے ہو راستے میں کوئی مسئلہ تو نہیں ہوا میں نے کہا نہیں چچی کوئی مسئلہ نہیں ہوا اور ان کو چھوڑ آیا ہوں . آپ سنائیں کہا گئی ہوئی تھی وہ بڑے ہی قاتلانہ سمائل دے کر بولی جیسے تمہیں نہیں پتہ میں کہا گئی تھی . میں آگے سے ہنسنے لگا اور پوچھا تو بتائیں پِھر کیا ہوا کوئی بات بنی کے نہیں ؟ چچی بولی بھتیجےفکر نا کر اپنے لن کی آج اچھی طرح زیتون کے تیل مالش کر لے کل ایک بڑی ہی منجھی ہوئی پھدی کو تم نے ٹھنڈا کرنا ہے ساری بات ہو گئی ہے پروگرام تیار ہو گیا ہے میں تمہیں کل سب کے چلے جانے کے بعد سمجھا دوں گی کیا کرنا ہے . میں خوشی سے اچھلنے لگا اور اٹھ کر چچی کو گلے لگا لیا چچی نے میرے لن کو پکڑ کر سہلایا اور بولی آب بس تم اپنی تیاری کر لو مجھے چھوڑو کوئی آ جائے گا سب گھر پے ہیں اور وہ اپنے کمرے میں چلی گئی. چچی کے جانے کے بعد میں اندر اندر ہی بہت خوش ہو رہا تھا کے دوسری پھدی تو ملے گی ہی لیکن زندگی میں پہلی دفعہ کسی کی بُنڈ میں اپنا لن ڈالوں گا . یہ سوچ کر ہی میرا لن جوش میں جھٹکے کھانے لگا.
پِھر رات تک سب معمول کے حساب سے چلتا رہا اور سب اپنے اپنے ٹائم پے سو گئے صبح بچوں کو سکول اور چچا کو آفس جانا تھا . اگلے دن میں سو کر اٹھا نہا دھو کر ناشتہ کر کے ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا . جب سب چلے گئے تو تقریباً 9 بجے کے ٹائم چچی ٹی وی والے کمرے میں آئی اور آ کر بولی کا شی تم 11بجے تک تیار ہو جانا میں تمہیں لے کر عشرت کے گھر جاؤں گی وہاں عشرت تمہیں کچھ سودا سلف کے لیے کہے گی تو تم سودا سلف لے کر دوبارہ عشرت کے گھر آ جانا میں تمھارے جانے کے بعد نورین کو کسی کام کا کہہ کر اپنے گھر لے آؤں گی اور جب تم سودا لے کر آؤ گے تو پِھر عشرت اکیلی ہو گی تمھارےپاس 2 گھنٹے ہوں گے اور تم اپنا کام پورا کر کے گھر آ جانا . میں چچی کا پلان سن کر واہ واہ کر اٹھا اور چچی کو بولا آپ بے فکر ہو جاؤ میں ابھی اپنے کمرے میں جا کر 1 گھنٹہ لن کی مالش کر لیتا ہوں اور پِھر 11بجے تک میں تیار ہو جاؤں گا اور پِھر چچی گھر کا کام ختم کرنے کے لیے چلی گئی. میں چچی کے جانے کے بعد اپنے کمرے میں گیا اور وہاں اپنے لن کی اچھی طرح مالش کی اور پِھر اٹھ کر نئی شلوار قمیض اِسْتْری کی اور پِھر نہانے کے لیے باتھ روم میں گھس گیا اور نہا کر باہر نکلا اور ٹائم دیکھا تو ابھی 11بجنے میں 20 منٹ باقی تھے میں آ کر ٹی وی والے کمرے میں بیٹھ گیا اور انتظار کرنے لگا اور تھوڑی دیر بعد چچی بھی اپنا کام ختم کر کے اور باتھ روم سے منہ ہاتھ دھو کر کپڑے بَدَل کر آ گئی اور چچی نے مجھے ایک چا بی دے کر کہا جب واپس آؤ تو خود ہی دروازہ کھول کے آ جانا . اور پِھر ہم عشرت کے گھر چلے گئے عشرت کا گھر ہمارے گھر کے ساتھ 3 گھر چھوڑ کر بنا ہوا تھا . عشرت کے گھر کے دروازے پے جا کر چچی نے دستک دی اور تھوڑی دیر بعد نورین نے دروازہ کھولا چچی کو دیکھ کر سلام کیا اور مجھے دیکھ کر حیران ہو گئی . چچی نے فوراً کہا کا شی اِس لیے آیا ہے کے تمہاری امی نے گھر کا کچھ سودا سلف منگوانا تھا یہ سن کر اس کو تھوڑا حوصلہ ہوا . ور نہ تو اس کا چہرہ بتا رہا تھا وہ تھوڑا پریشان سی ہو گئی تھی . پِھر ہم اندر داخل ہوئے تو نورین نے دروازہ بند کر دیا اور بولی امی اپنے کمرے میں ہی ہیں میں اور چچی عشرت کے کمرے میں آ گئے جب ہم اندر داخل ہوئے تو عشرت بیڈ پے بیٹھی ہوئی تھی میں نے جب دیکھا تو حیران ہو گیا کے عشرت ایک جوان بیٹی کے بعد بھی کتنی ٹائیٹ اور سیکسی عورت ہے اس کے جسم کا انگ انگ سیکسی اور کساہواتھا میں تو دیکھ کر ہی اندر سے خوشی کے مارے پاگل ہو گیا. عشرت کی نظر جب مجھ سے ملی تو ہم دونوں نے شرما کر منہ دوسری طرف کر لیا اور پِھر میں اور چچی وہاں صوفہ پے بیٹھ گئے . عشرت نورین سے بولی بیٹی جاؤ ان کے لیے کچھ کھانے پینے کے لیے لے کر آؤ تو چچی فوراً بولی نہیں عشرت میرا بالکل کسی چیز پے دِل نہیں ہے مجھے تو ضروری کام تھا اِس لیے نورین کو بلانے کے لیے بھی آئی تھی تم ایسا کرو کا شی کو پیسے اور رسید دو .وہ جب تمہارا سودا سلف لے آئے تو اِس کو کھلا پلا دینا . تمہارا مہمان ہے میں تو روز آتی جاتی ہوں اور میں تو نورین کو لے کر جا رہی ہوں . عشرت نے کہا چلو جیسے تمہاری مرضی اور مجھے اپنے پرس سے پیسے اور ایک سودے کی رسید بنا کر دی کے بیٹا یہ لے آؤ میں نے دونوں چیزیں لیں اور ان کے گھر سے باہر نکل آیا اور بازار کی طرف آ گیا . بازار آ کر سودا سلف لیا اور پِھر گھر واپسی کی طرف چل پڑا جب عشرت کے گھر تک واپسی آیا تو تقریباً پونے 1 ہو چکے تھے. گرمی بھی تھی اِس لیے پسینہ بھی آیا ہوا تھا عشرت کے گھر کے دروازے پے دستک دی تو تھوڑی دیر بَعْد عشرت نے دروازہ کھولا مجھے دیکھ کر تھوڑا مسکرائی اور مجھے اندر آنے کا کہا میں سودا سلف کا تھیلہ لے کر اندر داخل ہو گیا اور عشرت بھی دروازہ بند کر کے اندر آ گئی میں نے کہا آنٹی اِس سامان کو کہا رکھوں تو وہ بولی بیٹا اِس کو کچن میں شیلف پے رکھ دو میں نے کچن کی شیلف پے سامان رکھ دیا تو عشرت بولی بیٹا تم اندر کمرے میں آ کر بیٹھو میں تمہارے لیے کچھ ٹھنڈا لے کر آتی ہوں بہت گرمی ہے تمہیں تو پسینہ بھی بہت آیا ہے اور مجھے اپنے کمرے میں بیٹھا دیا اور روم کولر چلا دیا . تھوڑی دیر میں میرا سارا پسینہ خشک ہو گیا اور اور عشرت بھی میرے لیے ٹھنڈا روح افزا بنا کر بھی لے آئی . میں نئے پانی پیا اور صوفہ پے آرام سے بیٹھ گیا اور عشرت بھی اپنے بیڈ پے خاموشی سے بیٹھ گئی ہم دونوں یوں ہی کچھ دیر خاموشی سے بیٹھے رہے ہم دونوں ہی بات شروع کرنے سے شرما رہے تھے . پِھر میں نے ہی ہمت کی اور کہا آنٹی انکل کو کتنا عرصہ ہو گیا ہے واپس گئے ہوئے تو وہ بولی تقریباً 1 سال تو ہو گیا ہے . پِھر میں نے کہا چلو آنٹی آب آپ اکیلی نہیں ہیں نورین باجی بھی تو آپ کے ساتھ ہیں کوئی تو ہے جو آپ کے دکھ سکھ کا ساتھی ہے. لیکن شادی شدہ عورت کی اور بھی ضروریات ہوتی ہیں یہ بات میں نے بہت آہستہ آواز میں کی تھی جو آنٹی نے سن لی تھی اور ان کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا اور پِھر میں نے دیکھا کے ان کی آنکھ سے موٹا سا آنسو کا قطرہ نکلا ہے . میں نے صوفہ سے اٹھ کر ان کے بیڈ پے جا کر بیٹھ گیا اور ان کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا آنٹی آپ رَو کیوں رہی ہیں میں آپ کا دکھ سمجھ سکتا ہوں اگر انکل یہاں نہیں ہیں تو ہم سب یہاں ہیں ناآپ کا خیال رکھنے کے لیے آپ مجھ پے بھی بھروسہ کر سکتی ہیں . کبھی بھی آپ کو دھوکہ نہیں دوں گا. آنٹی نے مجھے اپنے گلے سے لگا لیا اور میرے کاندھے پے سر رکھ کر بولی شکریہ بیٹا اور آہستہ آہستہ آواز میں رونے لگی میں نے آنٹی کو تھوڑا سا اپنے سے الگ کیا اور اور ان کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیا اور اپنے ہونٹ آنٹی کے ہونٹوں پے رکھ دیئے اور ان کو کس کرنے لگا آنٹی نے بھی جب یہ دیکھا تو اپنے منہ کھول لیا اور پِھر ہم ایک دوسرے کو فرینچ کس کرنے لگے اور میں نے ان کو نیچے سے ہاتھ ڈال کر اپنی جھولی میں بیٹھا لیا اور بڑی مہارت سے ان کے ہونٹوں کو چُوسنے لگا میرے چُوسنے سے آنٹی گرم ہو چکی تھی اور انہوں نے بھی مجھے پیچھے گردن میں ہاتھ ڈال کر مجھے جکڑ لیا تھا اور ہم دونوں ایک دوسرے کی زُبان کو چوس رہے تھے . اِس دوران میں میرا لن نیچے لوہے کا راڈ بن چکا تھا اور ہم دونوں اپنی کسسنگ اور سکنگ میں مصروف تھے . کوئی 2 سے 3 منٹ کے بعد آنٹی نے اپنے آپ کو میری جھولی سے تھوڑا سا اوپر اٹھایا اور اپنے ایک ہاتھ کو نیچے لے جا کر میرے لن کو سیدھا کر کر کے تھوڑا سہلایا اور پِھر اپنی بُنڈ کی دراڑ میں پھنسا کر اوپر بیٹھ گئی اور دوبارہ کسسنگ کرنے لگی اور نیچے سے کبھی اپنی بُنڈ کو بند کرتی اور کبھی کھولتی میرا تو مزے سے برا حال ہو گیا تھا میں ہواؤں میں اڑ رہا تھا. اور یہ سلسلہ کوئی10 منٹ تک چلتا رہا پِھر میں نے آنٹی کے کان میں کہا آنٹی کیا خیال ہے اصلی مزے کا کام شروع کیا جائے . تو وہ آگے سے مدھوش آواز میں بولی 
کر و نہ جانی منع کس نے کیا ہے . ہم دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوئے اور اپنے اپنے کپڑے اُتار نے لگے میں نے اپنی شلوار قمیض کو اُتار دیا اور بنیان بھی اُتار کر پورا ننگا ہو گیا جب آنٹی نے میرا پورا تنا ہوا ننگا لن دیکھا تو مدھوش آواز میں بولی واہ کا شی کیا مال رکھا ہے تم نے. میں نے جواباً کہا آگے آگے دیکھو آنٹی ہوتا ہے کیا. پِھر آنٹی نے بھی اپنے اپنے سارے کپڑے اُتار دیئے اور پوری ننگی ہو گئی . آنٹی کا جسم بہت ہی کسا ہوا تھا اور بل کھاتا جسم تھا . آنٹی نے کہا کا شی بیٹا کیا غورسےدیکھ رہے ہو میں نے کہا آنٹی آپ کا جسم بڑا ہی مزے دار ہے بالکل کسا ہوا ہے وہ آگے سے ہنسی اور بولی یہ سارا کمال اس لڑکے کا ہے جو مجھے تقریباً 2 سال تک لگاتار ہر دوسرے دن چود تا تھا جب جسم کی بھوک پوری ہوتی رہے تو جسم ایسا ہی رہتا ہے. آنٹی کی پھدی بالکل بالوں سے صاف تھی لگتا تھا آج ہی انہوں نے شیو کی تھی آنٹی کی پھدی کا منہ تھوڑا سا بڑا تھا لیکن پھدی کے ہونٹ آپس میں جڑے ہوئے تھے . پِھر آنٹی جب پوری ننگی ہو گئی تو مجھ سے بولی اب بتاؤ کا شی بیٹا کیا کرنا ہے میاں نے کہا آپ سیدھی لیٹ کر تھوڑی سی ٹانگیں کھول لیں میں پہلے آپ کی پھدی کو چاٹ کر مزہ دیتا ہوں. پِھر باقی کام بعد میں کریں گے . وہ ٹانگیں کھول کر بیڈ پے لیٹ گئی میں بھی ان کی ٹانگوں کے درمیان منہ رکھ کر ان کی پھدی پے پہلے کسسنگ کی اور پِھر اپنی زُبان سے سکنگ شروع کر دی میں اپنی زُبان پوری اندر پھدی میں لے جاتا اور کبھی باہر کر رہا تھا زُبان سے پھدی کی چود آئی کر رہا تھا اور آنٹی اپنے ہاتھ میرے سر پے رکھ کر اوپر سے دبا رہی رہی تھی اور اپنے منہ سے سیکسی سیکسی آوازیں نکال رہی تھی اوہ اوہ آہ اوہ آہ اور کوئی 3 سے 4 منٹ بعد ہی آنٹی کا جسم جھٹکے مارنے لگا اور آنٹی کی پھدی نے کافی سارا پانی چھوڑ دیا جو میری زُبان پے بھی آ کر لگا اور آنٹی نڈھال ہو کر سانسیں لینی لگی . پِھر میں اٹھ کر ان کے ساتھ ٹانگیں لمبی کر کے بیٹھ گیا آنٹی کی جب سانس بَحال ہوئی تو آنٹی اٹھ کر بیٹھ گئی اور میرے لن کو ہاتھ میں پکڑ لیا اور سہلانے لگی پِھر آگے کو جھک کر میرے لن پے کس کی اور پِھر لن کو منہ میں لے لیا اور اس کی چو پے لگانے لگی آنٹی چو پے لگانے میں ماسٹر تھی میرا پورا لن اندر منہ میں لے لیتی تھی اور بڑے ہی سٹائل کے ساتھ چو پے لگا رہی تھی کبھی لن کو منہ میں لیتی کبھی ٹٹو ں کو منہ میں لے کر چُوستی تھی آنٹی کے چو پوں نے مجھے پاگل کر دیا تھا اور وہ مسلسل چو پے لگا رہی تھی 5 سے 7 منٹ تک چو پے لگانے کے بعد مجھے محسوس ہوا میرا پانی نکلنے والا ہے یکدم میرے دماغ میں خیال آیا 2 گھنٹے میں 3 دفعہ اپنا پانی نکالنا بہت مشکل ہو جائے گا اور گانڈ مارنے کا کام نہیں ہو سکے گا میں نے فوراً اپنا لن آنٹی کے منہ سے نکال لیا آنٹی نے میری آنکھوں میں حیرت سے دیکھا تو میں نے کہا آنٹی جی آپ کی پھدی مارنے کا دِل کر رہا ہے آنٹی سیدھی ہو کر لیٹ گئی میں بھی آنٹی کی ٹانگوں کی درمیان آ کر بیٹھ گیا اور ان کی ٹانگیں اپنے کاندھے پے رکھ کر اپنا لن ان کی پھدی پے سیٹ کیا اور آہستہ آہستہ اندر کرنے لگا آنٹی کی پھدی اندر سے گیلی بھی تھی اور گرم بھی میرا لن آہستہ آہستہ اندر جا رہا تھا اور پِھر میں نے اپنا پورا لن اندر جڑ تک گھسا دیا اور پِھر کچھ سیکنڈ کے لیے رک گیا اور پِھر دوبارہ لن باہر پھدی کے سرے تک لا کر دوبارہ دھکا لگایا تو آنٹی کے منہ سے مزے کی سسکی نکل گئی اور پِھر میں بھی بڑے ردھم میں آنٹی کی پھدی میں لن کو اندر باہر کرنے لگا. جوں جوں میں آنٹی کو چود رہا تھا ویسے ویسے آنٹی کے منہ سے لذّت کی سسکا ریاں نکل رہی تھی گھر میں کوئی بھی نہیں تھا اور آنٹی مزے اور لذّت میں آوازیں نکال رہی تھی. اوہ اوہ آہ اوہ آہ آہ اوہ اور نیچے سے دھپ دھپ کی آوازیں آ رہی تھیں اور آنٹی مجھے کہہ رہی تھی) ہا اے کا شی میرے جانی پورا اندر تک جان دے ہور تیز تیز کر میری پھدی دی آگ نوں آج ٹھنڈا کر دے (آنٹی کی بات سن کر میں آنٹی کو اور دیوانہ وار چود نے لگا اِس دوران ہی آنٹی نے اپنی ٹانگوں سے میری کمر کو پیچھے سے جڑت لیا اور مجھے اپنے جسم کےساتھ اور جوڑ لیا اور نیچے سے اپنی بُنڈ اٹھا اٹھا کے ساتھ دینے لگی اور اونچی اونچی آوازیں نکالنےلگی اوہ اوہ آہ اوہ آہ آہ اوہ… اور پِھر کچھ دیر بعد مجھے پھدی کے اندر اپنے لن پے آنٹی کی منی کا گرم گرم لاوا محسوس ہوا اور پِھر اندر پچ پچ کی آوازیں آنے لگی اور پھدی کے اندر کام کافی سلپری ہو گیا تھا اور مجھے بھی جوش چڑھ گیا تھا میں نےطوفانی دھکے لگانے شروع کر دیئے اور کوئی مزید5 سے 7 منٹ کے بعد میں نےبھی آنٹی کے اندر ہی اپنی منی کا لاوا چھوڑ دیا اور آنٹی کے اوپر ہی لیٹ کر ہانپنے لگا. جب میری سانسیں بَحال ہوگیں تو میں آنٹی کے اوپر سے اٹھا اور ان کے پہلو میں لیٹ گیا . . پِھر ہمارے درمیان 5 منٹ تک کوئی بات نہیں ہوئی پِھر آنٹی بولیں واہ کا شی تمھارے آج ساتھ مزہ آ گیا ہےتم میں اور اس لڑکے میں کوئی فرق نہیں ہے وہ بھی تمہاری طرح ہی تھا اِس طرح ہی چود تا تھا مجھے مکمل فارغ کر کے ہی فارغ ہوتا تھا تم بھی ایسے ہی ہو . پِھر آنٹی بیڈ سے اٹھی اور باہر چلی گئی میں وہاں ہی لیٹا رہا اور پِھر آنٹی تھوڑی دیر بعد کمرے میں دوبارہ آئی اور ان کے ہاتھ میں ٹھنڈا دودھ کا مگ تھا. جس میں
چھو وارے پیس کر ڈالے ہوئے تھے . میں پورا مگ پی گیا اور پی کر مجھے ایک نئی طاقت سی محسوس ہو رہی تھی . آنٹی مجھے دودھ دے کر خود باتھ روم میں چلی گئی تھی پِھر وہاں سے اپنی پھدی کی صفائی کر کے واپس آ کر بیڈ پے میرے ساتھ بیٹھ گئی اور اب تک فل ننگی حالت میں ہی گھر میں گھوم رہی تھی . پِھر میرے ساتھ آ کر بیٹھ کر میرے لن کو کو ہاتھ میں پکڑ کر سہلانے لگی میں نے پوچھا آنٹی میرا لن اور اس لڑکے کا لن ایک جیسا ہی ہے کیا . وہ بولی ہاں تمہاری اور اس لڑکے کے لن کی لمبائی اور موٹا ئی ایک جیسی ہے بس تھوڑا سا فرق یہ ہے کے تمھارے لن کی ٹوپی اس کے لن سے تھوڑی موٹی اور بڑی ہے باقی سب ایک جیسا ہی ہے. پِھر آنٹی نے مجھے سے پوچھا اب آگے کیا موڈہے . میں نے آنٹی کی بُنڈ پے ہاتھ پھیرکر آنکھ مار کر کہاموڈ تو زبردست قسم کا ہے اگر آپ ساتھ دیں تو وہ بڑی ہی قاتلانہ سمائل دے کر بولی مجھے تمہاری چچی نے کل بتایا تھا میرےبھتیجےکو بُنڈ مارنےکا بڑا شوق ہے . تو میں نے کہا تو آنٹی پِھر آپ کا کیا موڈ ہے .تو وہ آگے سے بولی تم نے مجھے آج خوش کر دیا ہے مجھے تمہاری شکل میں ایک اور اچھا ساتھی مل گیا ہے . میرا وہ ہی موڈ ہے جو تمہارا ہے . میں نے کہا آنٹی تو پِھر دیر کس بات کی ہے ذرا میرے لن کی تھوڑا تیار کر دو تا کے وہ تمہاری خوب خدمت کر سکے وہ بولی کیوں نہیں جانی اور وہ میرے لن پے دوبارہ جھک گئی اور میرے لن کے پِھر چو پے لگانے لگی. کوئی 5 منٹ کے اندر ہی آنٹی کے جاندار چو پوں نے میرے لن کو لوہے کے راڈ کی طرح بنا دیا تھا پِھر میں نے آنٹی سے کہا آنٹی آپ گھوڑی بن جائیں تاکے آپ کی سواری کی جا سکے تو وہ بیڈ پے گھوڑی بن گئی اور اپنی بُنڈ میری طرف کر دی آنٹی کی بُنڈ بڑی ہی نرم ملائم تھی اور ان کی موری نا اتنی زیادہ بڑی تھی نا اتنی چھوٹی تھی اور موری کا رنگ ہلکا برائون تھا اور بالوں سے پاک صاف تھی. لگتا تھا آنٹی اپنے پورے جسم کی و یکس کرواتی تھی اور اپنے جسم کو بڑا ہی نرم ملائم بنا کر رکھتی تھی . میں نے کہا آنٹی کوئی تیل یا لوشن ہو گا انہوں نے پوچھا کیوں کس لیے چاہیے تو میں نے کہا آپ کی بُنڈ پے اور اپنے لن پے لگا لوں گا اِس سے آپ کو تکلیف کم ہو گی . آنٹی بولی فکر نہ کرو تم پہلے نہیں ہو جو اِس موری میں ڈال رہے ہو بہت دفعہ اِس موری میں لے چکی ہوں اب عادت ہو گئی ہے تم تھوڑی تھوک اپنے لن پے اور تھوڑی میری بُنڈ پے لگا لو اور اندر ڈال کر شروع کرو . میں نے ایسا ہی کیا اور تھوک لگا کر اپنا لن اندر ڈالنے لگا اپنے لن کی ٹوپی کو آنٹی کی موری پے رکھا اور اندر دبانے لگا اور تھوڑا سا پُش کیا تو میری پوری ٹوپی تھوڑی سی رکاوٹ کے بَعْد رنگ تک اندر چلی گئی اور آنٹی کے منہ سے ایک لمبی سے آہ نکل گئی . میں نے کہا آنٹی درد ہو رہی ہے کیا تو وہ بولی ہاں لیکن اتنی نہیں اور ویسے بھی جب رگڑ لگ کر اور تھوڑا درد محسوس کر کے ہی اصل مزہ ملتا ہے .تم اپنا کام جاری رکھو میں آنٹی کی بات سن کر اور جوش میں آنے کا فیصلہ کر لیا اور پِھر میں نے تھوڑا کھڑا ہو کر اپنے لن کو اندر دبانے لگا اور آہستہ آہستہ اندر کرنے لگا اور پِھر دیکھتے ہی دیکھتے اپنا پورا لن آنٹی کی بُنڈ میں اُتار دیا میرا ٹٹے ان کی گانڈ سے ٹکرا رہے تھے . پورا اندر کر کے پِھر کچھ دیر رک گیا اور پِھر آنٹی کو بولا آنٹی تیار ہو جاؤ اب میں دھکے لگاؤں گا .وہ آگے سے بولی ہاں ہاں شروع کرو اور پِھر میں نے لن باہر موری کے سرے تک کھینچ کر دوبارہ اندر باہر دھکے لگانے شروع کر دیئے اور میرا لن پھنس پھنس کر اندر جا رہا تھا اور مجھے ایک بہت ہی دِلکش مزہ مل رہا تھا اور آنٹی جب میں لن کو باہر کرتا تو بُنڈ بند کر لیتی اور جب پورا اندر کرتا پِھر بھی بُنڈ بند کر لیتی تھی. آنٹی کی اِس حرکت سے میرا لن آنٹی کی بُنڈ کے اندر پھنس کر اور رگڑ کھا کر اندر باہر ہو رہا تھا. میں مزے اور لذّت سے ساتویں آسمان میں اڑ رہا تھا میرا پورا جسم لذّت سر شار سے ہو گیا تھا اور میں گھوڑی والی ہی پوزیشن میں آنٹی کو 5 منٹ تک چودتا رہا اور آنٹی کی آہ آہ آہ کی اونچی اونچی آوازیں پورے کمرے میں گونج رہی تھیں پِھر میں نے پوزیشن بدلنے کا سوچا اور لن کو باہر نکا ل کر آنٹی کو کہا کے وہ بیڈ سے اُتَر کر نیچے کھڑی ہو جائیں اور ایک ٹانگ بیڈ پے رکھ لیں اور دوسری نیچے فرش پر ہی رہنے دیں آنٹی نے ایسا ہی کیا اور میں نے پیچھے سے کھڑا ہو کر لن کو آنٹی کی بُنڈ کی موری پے رکھ کر جھٹکا مارا اور پورا لن ایک ہی جھٹکے میں بُنڈ کے اندر اُتار دیا آنٹی کے منہ سے اونچی آواز نکلی ہا اے میں مر گئی اور پِھر میں نے اِس ہی سٹائل میں آنٹی کو مزید 5 منٹ تک چودا آنٹی پورے مزے سے چودوا رہی تھی پِھر مجھے اپنے لن میں ہلچل محسوس ہوئی میں سمجھ گیا تھا آب پانی نکلنے والا ہے میں نے کہا آنٹی پانی کہا ں نکالوں تو بڑی مدھوش آواز میں بولی اندر ہی چھوڑ دو میں نے اپنی منی کا فوارہ آنٹی کی بُنڈ کے اندر ہی چھوڑ دیا جب میری منی کا آخری قطرہ بھی نکل گیا تو میں نے لن کو باہر نکال لیا اور بیڈ پے لیٹ کر سانسیں لینے لگا. آنٹی بھی میرے ساتھ بیڈ پے اُلٹا منہ گر گئی اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگی . جب ہم دونوں کی سانسیں بَحال ہوئی تو آنٹی بولی واہ کا شی میری جان کتنے مہینے کی پیاس تھی جو تم نے آج بجھا دی ہے آج مجھے بڑے دن بعد سکون کی نیند آئے گی میں نے کہا آنٹی مجھے بھی آپ کے ساتھ بڑا مزہ آیا ہے .اب جب تک یہاں ہوں آپ حکم کرنا میں آپ کی خدمت کرنے آ جاؤں گا آنٹی نے مجھے لمبی سی فرینچ کس کی اور شکریہ بولا پِھر یکدم آنٹی کے گھر کا باہر کا دروازہ بجنے لگا میں تو ڈر ہی گیا اور آنٹی بھی تھوڑا پریشان ہو گئی پِھر آنٹی نے مجھے کہا کا شی بیٹا ہو سکتا ہے نورین واپس آ گئی ہو تم ایسا کرو جلدی سے کپڑے پہنو اور اور چل کر بیٹھک میں بیٹھو میں باہر دیکھتی ہوں میں نے فوراً کپڑے پہنے اور آنٹی نے بھی کپڑے پہنے اور کمرے کی حالت ٹھیک کی اور بیڈ کی چادر بھی ٹھیک کی میں فوراً بیٹھک میں آ کر بڑا ہی شریف بچہ بن کر بیٹھ گیا. آنٹی نے دروازہ کھولا پِھر کوئی عورت اندر آ گئی لیکن اس کی آواز سے لگ رہا تھا وہ نورین نہیں تھی میں بیٹھک سے اٹھ کر باہر آیا تو دیکھا کوئی اور عورت تھی میں اس کو نہیں جانتا تھا اس کی نظر مجھ سے ملی تو پِھر وہ عشرت آنٹی کی طرف دیکھنے لگی عشرت آنٹی اس کا سوال سمجھ گئی آنٹی نے کہا رضیہ یہ کا شی ہے ثمینہ ( میری چچی کا نام ) کا بھتیجا ہے اور اِس کو بلایا تھا گھر میں سودا سلف لے کر آنا تھا وہ یہ لے کر آیا تھا تو اِس کو پانی وغیرہ کے لیے بلا لیا ویسے بھی یہ ہمارا مہمان ہے اسلام آباد سے آیا ہے میں آنٹی کی حاضر جوابی کی دِل میں داد دیئے بنا نہ رہ سکا . پِھر آنٹی مجھ سے بولی کا شی بیٹا یہ رضیہ آنٹی ہیں یہ بھی ہماری محلے دار ہیں میں نے ان کو سلام کیا اور پِھر عشرت آنٹی سے کہا آنٹی میں گھر جا رہا ہوں میں نے پانی پی لیا ہے چچی انتظار کر رہی ہوں گی . آنٹی نے کہا ٹھیک ہے بیٹا تم جاؤ لیکن جب تک یہاں ہو چکر لگاتے رہا کرو یہ بھی تمہارا اپنا گھر ہے . میں نے کہا جی آنٹی ضرور اور اتنا بول کر عشرت آنٹی کے گھر سے باہر نکل آیا. باہر نکل کر سکھ کا سانس لیا چلو اچھا ہی ہوا عشرت آنٹی نے معاملا سنبھل لیا نہیں تو محلے میں نیا ڈرامہ بن جانا تھا . میں وہاں سے گھر آیا اور چا بی تو چچی نے مجھے پہلے ہی دے دی تھی میں نے دروازہ کھول کر اندر آ گیا میں سوچ رہا تھا اتنی دیر ہو گئی نورین اپنے گھر واپس کیوں نہیں آئی کہیں وہ چچی کے ساتھ کسی کے گھر یا بازار نا چلی گئی ہو میں گھر میں اندر داخل ہو کر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا تا کے شلوار قمیض بَدَل کر ٹرا و ز پہن لوں میں نے کپڑے بَدَل کر جوں ہی اپنے کمرے سے باہر نکلنے لگا مجھے چچی کے کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور پِھر مجھے چچی اور نورین کے ہنسنے کی آواز میرے کانوں میں سنائی دی لیکن حیرت کا جھٹکا ایک اور لگا جب ایک اور مردانہ آواز مجھے سنائی دی میں نے دروازے کو کھولنے کے بجا ئے کھڑکی جو صحن کی طرف کھلتی تھی وہاں سے دیکھا تو نورین اور چچی کے ساتھ جو بندہ کھڑا تھا اس کو دیکھ 
کر میرے ہوش اڑ گئے اور میں حیرت زدہ شکل لے کر بس دیکھتا ہی رہ گیا.

اس وقعت جو میری آنکھوں نے دیکھا مجھے اس پے یقین نہیں ہو رہا تھا کیونکہ کھڑکی میں سے جس بندے کو میں نے دیکھا تھا وہ چچی کی بڑی بہن کا میاں عرفان تھا . جس کا میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا اور میرے دِل اور دماغ میں پہلے عرفان انکل کا نام و نشان بھی نہیں تھا . وہ چچی سے پورے 8 سال بڑ ے تھے . اور ان کے اپنے بچے جوان تھے ان کی 2 بیٹیاں اور 1 بیٹا تھا بڑی بیٹی کو عمر تقریباً 20 سال تھی وہ بھی میری طرح ہی ایف س سی کا امتحان دے کر فارغ ہوئی تھی . باقی بیٹا اور بیٹی چھوٹے تھے وہ بھی ابھی اسکول میں پڑھ رہے تھے عرفان انکل 18سال باہر سعودیہ میں رہے تھے اور وہ اچھے صحت مند اور کافی اچھے جسم و جان کے مالک تھے . اور اب لاہور میں ان کا اپنا چاول کا ہو ل سیل کا کاروبار تھا .اور میں حیران تھا ان کی بِیوِی چچی کی بڑی بہن خود خوبصورت اور ایک سیکسی جسم کی مالک تھی پِھر انکل نے کیسے چچی کو پھنسا لیا میرے دماغ میں بہت سے سوال چل رہے تھے. جن کے جواب صرف چچی کے پاس ہی تھے . لیکن پِھر میں نے سوچا مرد ایک گھوڑا ہے اپنا لوڑا اس کے لیے ہتھوڑا ہے آج تک اس نے کسی کو نہیں چھوڑا ہے. میں وہاں کمرے میں ہی چار پای پے لیٹ گیا اور جو آج دیکھا اس کے بارے میں سوچنے لگا اور سوچتے سوچتے میں نے اپنے دِل اور دماغ میں ایک پلان بنا لیا تھا جو کے خطرناک بھی ہو سکتا تھا لیکن میں نے اپنے پلان کوپكہ بنا لیا تھا . ان ہی سوچوں میں پتہ ہی نا چلا مجھے نیند آگئی اور میں وہاں ہی سو گیا مجھے ہوش تب آیا جب شام کو چچا جان مجھے جگا رہے تھے میں ان کی آواز پے فوراً اٹھ گیا انہوں نے پوچھا) کا شی پترخیر تے ہے نا (آج کیوں دن میں ہی سویا ہوا ہے میں نے کہا چچا جان آج ہمسا ےمیں آنٹی کا سامان بازار سے لے کر آیا تھا اور وہاں سے تھکا ہوا آیا تھا اور چار پای پے آکر لیٹ گیا پتہ ہی نہیں چلا اور سو گیا . چچا جان بولے چل اٹھ جا کے منہ ہاتھ دھو چائے بن گئی ہے آکر پی لواور خود باہر چلے گئے. میں وہاں سے اٹھا اور باہر نکل کر باتھ روم میں گھس گیا اور نہانے لگا ویسے بھی عشرت آنٹی کو چودکر ابھی تک میں نہا یا نہیں تھا اِس لیے نہا کر باہر نکل آیا اور جب میں ٹی وی والے کمرے میں جانے لگا میں نے کچن میں دیکھا چچی وہاں کچھ کام کر رہی تھی میں نے سر سری سی نظر مار کے ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا وہاں چچا پہلے ہی ٹی وی پے نیوز دیکھ رہے تھے . پِھر تھوڑی دیر بَعْد چچی نے مجھے چائے کا کپ لا کر دیا میں نے ان کو پہلے جیسا ہی نارمل موڈ شو کروایا اور وہ چائے دے کر باہر چلی گئی پِھر وہ دن رات تک معمول کی طرح گزر گیا اگلے دن صبح ناشتہ کر کے سب لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف اور میں بھی وہ ہی روٹین کی طرح ٹی وی والے کمرے میں ٹی وی دیکھنے لگا . تقریباً ساڑے 11بجے چچی سب کام نمٹا کر اپنے کمرے میں چلی گئی اور پِھر آدھے گھنٹے بَعْد میرے نمبر پے چچی کا ایس ایم ایس آیا میرے کمرے میں آؤ تم سے بات کرنی ہے میں تو پہلے ہی انتظار میں تھا . میں نے ٹی وی بند کیا اور چچی کے کمرے میں چلا گیا کمرے میں داخل ہو کر کمرے کا دروازہ بند کیا اور چچی کے بیڈ کے پاس رکھی کرسی پے جا کر بیٹھ گیا . چچی نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا پِھر مجھے سے پوچھا کا شی جی سناؤ کیا بنا کل کو کوئی مزہ بھی آیا کے نہیں . میں تھوڑا سا مسکرا کر جواب دیا چچی جان آپ جیسی کھلاڑی عورت نے بندوبست کیا ہو تو بندہ مزے کے بغیر رہ سکتا ہے . وہ آگے سے بولی پِھر دبا کر عشرت کی پھدی ماری ہے نا اور اس کو اپنا دیوانہ بنا لیا ہے کے نہیں ، میں نے کہا چچی جی پھدی بھی دبا کر ماری ہے اور بُنڈ بھی اچھی طرح دِل کھول کر بجای ہے اور اس کو اپنا مرید بھی بنا لیا ہے . پِھر چچی تھوڑا اکڑ کر بولی دیکھا نہ بھتیجےمیرے ساتھ رہو گے تو عیش کرو گے . میں نے دِل میں سوچا )چچی ہون تے تیری وی بہن نوں لن نہ دتا تے فیر آکھی(میں فیصلہ کر چکا تھا کے اب چچی کے ساتھ کھل کر کھیلنا ہے اِس لیے میں نے کھل کر بات کرنے کا سوچا . چچی مجھے یوں چُپ بیٹھ کر بولی کیوں بھتیجےکیا سوچ رہا ہے. میں نے کہا چچی مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے تو چچی آگے سے بولی ہاں بولو کیا بات ہے . میں نے ہمت کر کے کہا چچی آپ نے خود کہا ہے کے میرے ساتھ رہو گے تو عیش کرو گے اِس لیے میں سوچ رہا ہوں کے آپ کو بھی کھل کر عیش کر وآؤں اور خود بھی کروں اِس لیے اب کوئی نیا مال بھی چیک کرواؤ نہ . چچی نے مجھے گھور کر اور سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا اور بولی تمہارا کیا مطلب ہے نورین اور عشرت دونوں کو تم چیک کر کر چکے ہو اور جب چاہو ان کو دوبارہ چود سکتے ہو پِھر نیا مال کون سا تمھارے لیے میں لے کر آؤں. میں نے کہا چچی آپ ایک کھلاڑی عورت ہیں مجھے لگتا ہے آپ اور بھی اچھا اچھا مال مجھے چیک کروا سکتی ہیں اِس کے بدلے میں آپ کو میری طرف سےآپ کے لیے جو خدمت ہو گی میں دِل وجان سے کرنے کو تیار ہوں. چچی تھوڑا سا سیدھا ہو کر بیٹھ گئی اور بولی کا شی تمہارا کہنے کا مطلب کیا ہے تم کہنا کیا چاہتے ہو ذرا کھل کر بات کرو مجھے تمہاری سمجھ نہیں آ رہی تم کیا بکواس کر رہے ہو ان کے لہجے میں تھوڑا اب غصہ بھی تھا. میں نے بھی ہمت کرنے کا فیصلہ کیا اور چچی کو کہا چچی مجھے آپ کی بھابی سائمہ آنٹی کو چودنا ہے اور پِھر میں اپنا پتہ پھینک کر خاموش ہو کر بیٹھ گیا اور چچی کی طرف دیکھنے لگا. چچی نے نہ آؤ دیکھا نہ تا ؤ دیکھا اور ایک زور دار تھپڑ میرے منہ پر دے مارا اور فل غصے میں بولی شرم سے ڈوب مرنا چاہیے تمہیں ایسی گھٹیہ بات مجھے سے کرتے ہوئے تم کتنے بدتمیز اور گھٹیہ انسان ہو میں نے تمھارے اوپر بھروسہ کیا اور تمھارے لیے اتنا کچھ کروا کے دیا اور تم میرے ہی گھر کی عزت پے نظر رکھ کر بیٹھے ہو. میرے اندر چچی کا تھپڑ کھا کر آگ لگ گئی تھی میں کھڑا ہو گیا اور اونچی آواز میں بولا تیری بہن نوں لن رنڈی گشتی مجھے پے ہاتھ اٹھا کر تم نے اچھا نہیں کیا میں نے کہا گشتی تمہاری اوقات کیا ہے میں تمھارے بارے میں سب کچھ جان چکا ہوں اور تم گھر کی عزت یا اپنی بھابی کی بات کر رہی ہو جو بہن چودکی بچی اپنے ہی دیور کے لن کے چو پے لگاتی ہے اور تم جو اپنے آپ کو آج تک بڑی پاک باز دکھاتی آئی ہو تمہاری اوقات کیا ہے تم نے تو اپنے کزن کے ساتھ ساتھ اپنے بہنوئی کو بھی نہیں چھوڑا اور پتہ نہیں کن کن کے لن لے چکی ہو اور مجھے بول رہی ہو گھٹیہ انسان آج آنے دو چچا کو تم نے مجھے سمجھ کیا رکھا ہے تمھارے تو شوکت کے ساتھ پکے ثبوت میرے پاس موجود ہیں اب جو بات ہو گی چچا کے سامنے ہو گی . میری باتیں سن کر چچی کے چہرے کا رنگ لال سرخ ہو چکا تھا جان نکل چکی تھی ان کی اور میں یہ بول کر دروازے کی طرف لپکا میں ابھی دروازہ کھولنے ہی لگا تھا چچی بھاگ کر میرے پاؤں میں آ کر گر گئی اور رونے لگی اور معافیاں مانگنے لگی اور میرے پاؤں پکڑ لیے. کا شی بیٹا مجھے معاف کر دو بیٹا مجھ سے غلطی ہو گئی میں نے تم پے ہاتھ اٹھایا خدا کیے مجھے معاف کر دو تم میرے پاس بیٹھو ہم بیٹھ کر بات کرتے ہیں لیکن خدا کے لیے اپنے چچا سے بات نہ کرنا میں جیتے جی مر جاؤں گی میں کسی کو منہ دیکھا نے کے قابل نہیں رہوں گی . میں نے صاف الفاظ میں چچی کو بول دیا چچی ا ب اگر تم چاہتی ہو کے میں یہ بات چچا یا کسی اور نا بتاؤں تو یہ آخری دفعہ ہی ہو گا اور اب کی بار وہ ہی ہو گا جو میں کہوں گا اگر آپ پورا پورا ساتھ دو گی تو ٹھیک ہے میں بیٹھ کر بات کرنے کو تیار ہوں اگر میری یہ بات منظور نہیں ہے تو مجھے جانے دو پِھر میرے رکنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ا ب میں تمہاری کسی بھی قسم کی باتوں میں نہیں آؤں گا. چچی آگے سے بولی ٹھیک ہے کا شی بیٹا میں تمہاری ہر بات ماننے کو تیار ہوں لیکن آؤ بیٹھ کر بات کرتے ہیں. میں دوبارہ کرسی کھینچ کر بیڈ کے ساتھ لگا کر بیٹھ گیا اور چچی بھی بیڈ پے آ کر بیٹھ گئی اور پِھر میں نے کہا ہاں چچی اب بتاؤ کیا سوچا ہے . چچی نے پوچھا تمہیں یہ سا ر ی باتیں کہاں سے پتہ چلی ہیں کیا تمہیں عشرت نے بتائی ہیں . میں نے کہا چچی مجھے کسی نے بھی نہیں بتائی پِھر میں نے جو کچھ دیکھا اور سنا سب چچی کو بتا دیا . چچی اب میری باتیں سن کر سمجھ گئی تھی کے مجھے اب ہر بات کا پتہ لگ چکا ہے اِس لیے اب جان چھڑ وانا بہت مشکل ہے. چچی بولی دیکھو کا شی بیٹا جو تم نے دیکھا اور سنا وہ سب کچھ سچ ہے لیکن شوکت اور عرفان بھائی کے علاوہ میرا کسی کے ساتھ کوئی چکر نہیں ہے اور نہیں ہی میں نے ان کے علاوہ کوئی اور مرد سے کروایا ہے اِس لیے ان دونوں کے علاوہ تم اپنے دماغ میں کسی اور کا شق نہ رکھو . رہی بات سائمہ کی وہ میں اپنی پوری کوشش کروں گی کے اس کو تمھارے لیے منا سکوں لیکن وعدہ نہیں کر سکتی . میں نے کہا چچی جان میں آپ کو بھی اچھی طرح جانتا ہوں آپ کتنی بڑی کھلاڑی عورت ہو اور آپ کی بھابی کو بھی جو آپ کو کتنے عرصے سے کسی لن کے لیے کہہ رہی ہے اِس لیے آپ یہ نا کہو کے میں کچھ نہیں کر سکتی آپ کر بھی سکتی ہیں اور آپ کی بھابی بھی کروا سکتی ہے اِس لیے زیادہ ڈرامہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ویسے بھی آپ نے اس کی پھدی کو ٹھنڈا کرنے کا وعدہ اس سے کیا ہے تو وہ آپ میرے لیے اس کو راضی کر لیں اور مجھے یہ بھی پتہ ہے آپ اس کو بہت آسانی سے منا بھی لیں گی. فی الحال میں نے چچی کو چودنے کا نہ کہاکیونکہ مجھے پتہ تھا پہلے اِس کے ذریعےدوسرا مال کھاؤں گا پِھر اِس کی پھدی اور بُنڈ کی بینڈ بجا ؤں گا. چچی نے کہا ویسے کا شی تم ہو بڑے کمینے میں تمہیں بچہ سمجھتی تھی لیکن تم تو شوکت اور عرفان بھائی سے بڑے کھلاڑی ہو اب ویسے بھی تم سے کوئی بات چھپی ہوئی نہیں ہے اب تو تم میرے سب سے زیادہ راز دان بن گئے ہو آب مزہ آئے گا . دیکھو کا شی عیش تو میں اب تمہیں کھل کر کراؤں گی لیکن میرا ایک کام بھی پکا کروا نا پڑے گا بولو کرواؤ گے . میں نے کہا چچی جان میں نے پہلے بھی کہا تھا آپ کا ہر کام مجھے منظور ہے آپ حکم کرو میں ضرور پورا کروں گا . لیکن آپ نے ابھی تک بتایا ہی نہیں آپ کا کون سا کام ہے جو ابھی تک مجھے نہیں بتا رہی چچی بولی یہ کام کسی کو بھی نہیں پتہ نا عشرت کو نا نورین کو نا سائمہ کو نا ہی کسی اور کو یہ پہلی دفعہ تمہیں بتا رہی ہوں . میں نے کہا آپ بتاؤ میں سن رہا ہوں چچی نے کہا پوری بات پِھر کسی دن بتاؤں گی لیکن فلحال کام یہ ہے کے تمہیں میں سائمہ کے علاوہ اور بھی بہت اچھا مال کھلاؤں گی جو تم نے زندگی میں سوچابھی نہیں ہو گا لیکن بدلے میں تمہیں میرے لیے ایک بندہ ہے اس کو راضی کرنا ہو گا اس کو پورا اعتماد میں لے کر میرا لیے تیار کرنا ہو گا جس سے میں اپنی پھدی کو ٹھنڈا کروا سکوں. میں نے چچی کو کہا چچی میں نے کہا تھا نا تم ایک بہت بڑی گشتی اور کھلاڑی عورت ہو دیکھ لو تمہارا دو دو لن سے گزارا نہیں ہوتا اب تم اور لن کی طرف دیکھ رہی ہو اور مجھے 2 پھد یاں کھلا کر کہتی ہو اور کچھ نہیں کر سکتی . چچی بولی اچھا اچھا ٹھیک ہے کچھ دو اور کچھ لو اگر منظور ہے تو . میں نے کہا مجھے منظور ہے پہلے یہ تو بتاؤ وہ بندہ کون ہے جس کو راضی کرنا ہے . چچی بولی فکر نہ کرو وہ بھی اپنا رشتے دَار ہے اور تم اس کو جانتے ہو اور مجھے امید ہے تم اس کو آسانی سے منا لو گے. میں نے کہا چلو ٹھیک ہے مجھے منظور ہے لیکن پہلے میرا کام کرواؤ آج ہی سے سائمہ آنٹی کے پلان پے کام شروع کرو . چچی بولی حوصلہ رکھو اتنی جلدی بھی کیا ہے گرم گرم کھانے سے منہ جل جاتا ہے . میں نے کہا چچی مجھے پتہ ہے لیکن میرا پاس اب وقعت بہت کم ہے مجھے یہاں آئے ہوئے تقریباً 20 دن ہو گئے ہیں اور کچھ دن اور بعد مجھے ابو کی کال آ جائے گی کے واپس آؤ اور آ کر اگلی پڑھائی کی بھاگ دور شروع کرو اور یہ نا ہو کے آپ کا کام بھی درمیان میں رہ جائے اور میرے بھی اور میں نے دِل میں سوچا چچی تمہاری بھی لے کر جاؤں گا وہ پروگرام تو بڑا ہی زبردست میں نے سوچ رکھا ہے. چچی بولی اچھا ٹھیک ہے ابھی میرے موبائل میں بیلنس بھی نہیں ہے پیکج بھی نہیں لگ سکتا کل دن میں اس کو کال کروں گی اور پلان بنا لوں گی . میں نے کہا چچی سائمہ آنٹی کا نمبر کس نیٹ ورک کا ہے تو انہوں نے کہا جیز کا ہے میں نے کہا میرا جیز کا نمبر ہے اور بھی پورے مہینے والا پیکج لگا ہوا ہے آپ میرے موبائل سے کال کرو ابھی تو بچے آنے میں بھی کافی ٹائم باقی ہے میں ٹی وی والے کمرے سے اپنا موبائل لے کر آتا ہوں چچی نے کہا اچھا بابا ٹھیک ہے سائمہ تو تمھارے دماغ پے سوار ہو گئی ہے میں وہاں سے ٹی وی والے کمرے میں آیا اور اپنا موبائل اٹھایا یکدم میرے دماغ میں ایک پلان آیا میں نے اپنے موبائل پے کال ریکارڈنگ
کو ایکٹیو کر دیا تا کہ چچی اور سائمہ آنٹی کی جو بات ہو وہ ریکارڈ ہو سکے اور پِھر میں ان کے درمیان ہوئی ساری باتیں سن سکوں گا. میں دوبارہ چچی کے کمرے میں آیا اور موبائل کھول کر چچی کو دے دیا چچی نے اپنے موبائل سے اس کا نمبر نکال کر میرے موبائل سے ڈائل کر دیا میں نے کہا چچی آپ آرام سے بیٹھ کر باتیں کرو اور اس کو راضی کرو میں ٹی وی والے کمرے میں ٹی وی دیکھتا ہوں جب بات ہو جائے تو مجھے بتا دینا اور دوسری طرف کسی نے فون اٹھا لیا تھا چچی نے بولا ہیلو سائمہ میں ثمینہ بول رہی ہوں اور مجھے آنکھوں کے اشارے سے بولا تم جاؤ میں پِھر وہاں سے نکل آیا اور ٹی وی پے کر بیٹھ گیا. کوئی سوا ایک بجے کی قریب چچی ٹی وی والے کمرے میں آئی اور آ کر مجھے میرے موبائل دیا اور میں نے سوالیہ نظروں سے چچی کی طرف دیکھا تو چچی نے کہا میں نے اس سے بات کی ہے وہ ابھی پوری طرح راضی نہیں ہوئی ہے اس کو تمہاری طرف سے کافی ڈر ہے اس نے کہا میں سوچ کر جواب دوں گی لہذا تم بھی ابھی انتظار کرو میں کل دن میں پِھر اس سے بات کروں گی. اور چچی موبائل دے کر کچن میں چلی گئی میں نے سوچا چچی نے تقریباً آدھا گھنٹہ بات کی ہے اور اِس میں 2 باتیں تو نہیں ہوئی ہوں گی اِس لیے میں نے سوچا میں ریکارڈنگ سن کر ساری بات پتہ لگا لوں گا ان دونوں کے درمیان کیا بات ہوئی ہے . پِھر میں نے جب بچے اور چچی دو پہر کو آرام کر رہے ہوتے ہیں اس ٹائم اپنے کمرے میں ہیڈ فون لگا کر سن لوں گا . پِھر تھوڑی دیر بعد بچے بھی آ گئے اور سب نے مل کر كھانا کھایا اور میں اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گیا اور بچے اور چچی اپنے کمرے میں چلے گئے میں نے موبائل میں ہیڈ فون لگا کر ریکارڈنگ کو سننے لگا. سائمہ آنٹی نے پوچھا یہ نمبر کس کا ہے تو چچی نے بتایا یہ کا شی کا نمبر ہے تو سائمہ آنٹی نے کہا اور سناؤ خیریت سے فون کیا ہے . چچی نے کہا ہاں خیریت سے ہی کیا ہے تم سناؤ کیا کر رہی تھی آنٹی نے کہا کچھ نہیں آج سارے کپڑے دھوئے ہیں تھک گئی تھی اپنے کمرے میں بیٹھی آرام کر رہی تھی چچی نے کہا اور سناؤ نعیم بھائی نے اس کے بعد تو گھر میں آگے پیچھے تنگ تو نہیں کیا ؟ آنٹی نے کہا نہیں اب گھر میں تنگ نہیں کرتے ہیں اب تھوڑا سکون ہے لیکن جس دن میں تمھارے گھر سے واپس آئی تھی تو اس دن شام کو میں کچن میں اکیلی تھی تو وہاں آ گئے اور آ کر کہا سائمہ آج رات کو چو پا لگا دو 5 دن ہو گئے ہیں تم نے دوبارہ چو پا نہیں لگایا آج بڑا دِل کر رہا ہے تو میں نے کہا نعیم بھائی آج نہیں کل رات کو میرے کمرے میں آ جانا میں کر دوں گی بس پِھر وہ چلے گئے اور آج رات کو وہ میرے کمرے میں آئیں گے . چچی نے مذاق میں کہا اچھا تو آج میری بنو رانی لن کا چو پا لگا ے گی آنٹی نے کہا ہاں اور کیا کروں مروں نا تو اور کیا کروں میرے نصیب میں صرف منہ میں ہی لینا لکھا ہے پھدی کی آگ تو مجھے اپنی انگلی یا گاجر سے ٹھنڈی کرنی پڑتی ہے. ا ب میری قسمت تیری طرح تو نہیں ہے نہ کے جب دِل کرتا ہے لن آگے پیچھے سے اندر لیتی ہے اور آج تک اپنی سہیلی کا سوچا تک نہیں ہے . چچی نے کہا ناراض کیوں ہوتی ہے تیرا بھی کچھ نا کچھ ہو جائے گا . چچی نے کہا ایک بات بتا نعیم بھائی سے تم کروا نہیں سکتی وہ تو بہت بڑا رسک ہیں اور گھر کے باہر کسی کے ساتھ تم چل نہیں سکتی وہ بدنام بھی کر سکتا ہے پِھر گھوم پِھر کے جو بھی بندہ ہو گا وہ اپنا ہی گھر کا یا رشتے دار ہی ہو گا . آنٹی نے کہا ثمینہ جو بھی ہو پکا بندہ ہو راز دار بندہ ہو جو مزہ دے بھی اور لے بھی اور بدنام بھی نا کرے. چچی نے کہا دیکھ سائمہ شوکت اور عرفان بھائی کے ساتھ بھی تمہارا کام نہیں کروا سکتی ان دونوں کو میں آج تک خود اکیلی ہی بھگھت رہی ہوں اور دونوں کو ایک دوسرے کا کچھ نہیں پتہ اور اگر میں شوکت یا عرفان بھائی میں سے کسی کے ساتھ بھی کرنے کا کہوں تو وہ تو فوراً تیار ہو جائیں گے لیکن پِھر وہ مجھے بلیک میل کر کے خاندان میں اور بھی لوگوں کو کروانے کا کہیں گے اب تک تو ان دونوں کی نظر میں ہی خراب ہوں باقی تو بچے ہوئے ہیں اِس لیے ان دونوں کے علاوہ کوئی اور نیا بندہ تیرے لیے دیکھنا ہو گا.سائمہ آنٹی نے کہا ثمینہ کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو لیکن نیا بندہ اور کون ہو گا تیری نظر میں جو پکا بندہ ہو اور بدنام بھی نہ کرے چچی نے کہا ایک بندہ ہے تو لیکن تمہیں یقین نہیں آئے گا اور ہو سکتا ہے تم اس کے لیے راضی بھی نا ہو . آنٹی نے کہا کون ہے وہ تم پہلے بتاؤ تو سہی . چچی نے کہا اور کوئی نہیں ہے میری نظر میں اپنا کا شی ہی ہے سائمہ آنٹی نے جب یہ سنا تو حیرت سے بولی کیا کہہ رہی ہو ثمینہ تمہارا دماغ تو نہیں چل گیا ہے یہ تم کیا بات کر رہی ہو سائمہ آنٹی نے کہا اس کی عمر اور ہماری عمر میں کتنا فرق ہے وہ رشتے میں ہمارابھتیجالگتا ہے. چچی نے کہا میں ٹھیک کہہ رہی ہوں وہ ہی پکا بندہ ہے اور وہ بدنام بھی نہیں کرے گا . آنٹی نے آگے سے کہا ثمینہ مجھے تولگتاہے تم تو پکی گشتی بن گئی ہو اور اپنےبھتیجے کو بھی نہیں چھوڑا اور اس کے نیچے بھی لیٹ گئی ہو. چچی نے کہا بد ماشے میری بات تو پہلے سن لو پِھر اپنی بکواس بھی کر لیناچچی نے کہا سائمہ اب جو میں بات بتانے لگی ہوں وہ غور سے سنو پِھر مجھے اپنا فیصلہ بتا دینا پِھر چچی نے اس کو اپنی اور انکل شوکت کی چدائی کا واقعہ اور میرے پاس اس کا ویڈیو ثبوت کا بتایا پِھر جو چچی اور سائمہ آنٹی کے درمیان جو اس دن باتیں ہوئی وہ والا واقعہ سنا دیا اور اس میں سے نورین یا عشرت آنٹی کا واقعہ گول کر گئی وہ اس کو نہیں بتای.چچی نے کہا سائمہ وہ تمھارے اور نعیم کے درمیان جو ہوا اس نے اس دن باہر سب سن لیا تھا اور میرا شوکت کے ساتھ تو اس کے پاس ویڈیو ہے اور اب وہ اس دن سے میرے پیچھے لگا ہوا ہے کے مجھ سے بھی چدائی کرواؤ لیکن میں ابھی تک صرف اس کے لن کی مٹھ ماری ہے یا کپڑوں کے اوپر ہی اس کو مزہ دیا ہے لیکن ابھی تک اور کچھ نہیں کروایا اور اب وہ تمہاری باتیں بھی سن چکا ہے اِس لیے مجھے کہتا ہے چچی آپ سائمہ آنٹی کے لیے جو بندہ تلاش کر رہی ہو وہ مجھے ہی آگے کرو اور میرا سائمہ آنٹی کے ساتھ مزہ کرواؤ اور کہتا ہے آپ دونوں مجھے خوش کرو میں آپ دونوں کو ہمیشہ خوش رکھوں گا اور کبھی بھی بدنام نہیں کروں گا اور ویسے بھی مجھے سائمہ آنٹی بہت اچھی لگتی ہے اور کہتا ہے آپ میرا خیال رکھو میں آپ دونوں کا خیال رکھوں گا اور جب آپ کہو گے آپ کی خدمت کیا کروں گا . اب تم بتاؤ سائمہ اب آگے تمہارا کیا فیصلہ ہے. سائمہ آنٹی نے کہا میری تو پوری بات سن کر جان نکل گئی ہے اور تم فیصلہ پوچھ رہی ہو . چچی نے کہا دیکھو سائمہ اگر کا شی کچہ بندہ ہوتا تو اتنے دن ہونے کے باوجود اس نے وہ ویڈیو اپنے چچا کو دیکھا دینی تھی اور تمہاری باتیں بھی لیکن اس نے ابھی تک کسی کو نہیں بتائی ہیں اور اب جوان لڑکا ہے اور گھر کا بندہ ہے مجھے تو یقین ہو گیا ہے وہ بدنام نہیں کرے گا تم بھی مان جاؤ دونوں مل کر ایک اور جوان لن سے مزہ لیں گے . ویسے بھی میں نے اس کی مٹھ لگائی ہے اس کا لن کافی جان دار اور موٹا اور لمبا بھی ہے . آنٹی سائمہ نے کہا اگر اتنا ہی پسند ہے تو ابھی تک خود کیوں نہیں لیا اس کا لن مجھے کیوں کہہ رہی ہے . چچی نے کہا دیکھو میرا اس کے ساتھ ڈائریکٹ چچی بھتیجےکا رشتہ ہے تمہارا نہیں ہے میں اِس لیے کہہ رہی ہوں پہلے تمہارا کام کروا رہی ہوں کے تم دونوں کو دیکھ کر مجھے بھی تھوڑا حوصلہ مل جائے گا . ویسے تو وہ مجھے چودے گا ہی چودے گا کیونکہ اس کے پاس میری ویڈیو جو ہے. سائمہ آنٹی نے کہا ہاں مجھے پتہ ہے وہ جوان ہے اور اس کا لن بھی کافی جان دار ہے . چچی نے حیرت سے پوچھا تمہیں کیسے پتہ ہے تو آنٹی سائمہ نے اس دن والا واقعہ سنا دیا جو موٹر بائیک پے ان کی گلی میں پیش آیا آنٹی نے کہا رستے میں اتنے جمپ تھے پوری سڑک خراب تھی اور میرے ممے اس کی کمر پے لگ رہے تھے میں بار بار اپنے آپ کو سمبھال رہی تھی لیکن پِھر بھی میرے ممے اس کے ساتھ ٹچ ہو رہے تھے پِھر گلی میں جو جمپ لگا اس نے تو میرے چودا طبق روشن کر دیئے تھے چچی نے کہا پِھر تم نے اس کو کیا کہا آنٹی نے کہا مجھے اس وقعت غصہ آ گیا تھا میں نے اس کو کافی ڈانٹ دیا تھا اور سیدھے منہ اندر آنے کا بھی نہیں بولا اور اندر چلی گئی اور وہ باہر سے واپس چلا گیا. چچی نے کہا بد ماشے لن کو بھی محسوس کر لیا اور اوپر سے میرے ہیرے جیسے بھتیجےکو ڈانٹ بھی دیا کتنی سنگدل ہو تم . آنٹی نے کہا میرے ساتھ تو پہلی دفعہ ہوا تھا غصہ تو آنا ہی تھا اور میں تو اس کو بھتیجاہی سمجھتی تھی مجھے کیا پتہ تھا وہ تو کیا کیا گل کھلا رہا ہے . چچی نے کہا اس بچارے نے تو ابھی کچھ کیا ہی نہیں ہے گل تو ہم دونوں کھلا رہی ہیں . چچی نے کہا سائمہ پِھر کیا سوچا ہے مجھے بتاؤ سائمہ آنٹی نے کہا ثمینہ یقین کرو ایک تو وہ ہم سے کافی چھوٹا ہے اور اوپر سے بھتیجابھی ہے مجھے تو سوچ کر ہی بہت شرم آ رہی ہے اور ڈر بھی لگ رہا ہے کے ہے تو وہ بچہ ہی نا اگر غلطی سے بھی کسی کے سامنے کچھ بول دیا تو تمھارے ساتھ ساتھ میری زندگی بھی برباد ہو جائے گی. چچی نے کہا ثمینہ جب سے وہ آیا ہے اس کو بہت دفعہ آزما چکی ہوں اور مجھے یقین ہو گیا ہے وہ کچا بندہ نہیں ہے اور کبھی کچھ نہیں بولے گا بدنام بھی نہیں کرے گا اور یقین کرو پورا پورا مزہ دے گا بھی اور لے گا بھی میں نے اس کی مٹھ بھی بہت دن سوچ سمجھ کر اور آزما کر لگائی تھی اور مزے کی بات بتاؤں اس کی ٹائمنگ بھی کافی اچھی ہے 1 سے 2 بار کسی بھی عورت کا کا پانی نکلوا کر ہی خود فارغ ہوتا ہے . میں نے جب اس کی مٹھ لگائی تھی تو تقریباً اس نے لگ بھگ 15 منٹ بعد پانی چھوڑا تھا . چچی نے کہا تم اچھی طرح سوچ لو اس کی پکا بندہ ہونے کی گارنٹی میں دیتی ہوں باقی تمہارا اپنا فیصلہ ہے میں کل دن کو پِھر کال کروں گی تم کل تک اچھی طرح سوچ لو . سائمہ آنٹی نے کہا ٹھیک ہے میں سوچتی ہوں کل تک تمہیں سوچ کر بتا دوں گی . ویسے ثمینہ ہم کریں گے کہاں . تو چچی نے کہا اس کی فکر نا کرو میرے گھر میں میرے بیڈروم میں آرام سکون سے کر لینا دن کو میں اور کا شی اور دادی ہی ہوتے ہیں تمہیں تو پتہ دادی اپنے کمرے میں ہی ہر وقعت رہتی ہیں بیمار ہیں اِس لیے اگر تمہارا پروگرام بن گیا تو میں تمہیں یہاں بلا لوں گی تم دونوں اندر مزہ کَرنا میں باہر پہرہ بھی دوں گی . آنٹی نے کہا چلو ٹھیک ہے میں کل تک سوچ کر بتاؤں گی . پِھر چچی نے کہا ایک بات تو بتاؤ سائمہ . آنٹی نے کہا ہاں پوچھو چچی نے کہا اپنے میاں سے کبھی بُنڈ میں کروایا ہے ؟ تو آنٹی نے کہا نہیں ثمینہ بُنڈ میں کبھی نہیں لیا تمھارے بھائی نے بھی نے بہت کوشش کی لیکن میں کبھی راضی نہیں ہوئی بڑی درد ہوتی ہے آنٹی نے کہا تم کیوں پوچھ رہی ہو چچی نے کہا کا شی کو لڑکیوں کی بُنڈ میں ڈالنے کا بہت شوق ہے اِس لیے پوچھا تھا . آنٹی نے کہا نہ بابا نہ میرے میاں کا لن کا شی سے تھوڑا چھوٹا ہے وہ اندر نہیں لے سکتی تو کا شی کا تو لن موٹا بھی ہے میرے میا ں سے تھوڑا بڑا بھی ہے وہ تو میری کنواری بُنڈ کو پھاڑ کر رکھ دے گا بُنڈ میں نہیں کروا سکتی . چچی نے کہا چلو جیسے تمہاری مرضی میں فون بند کرنے لگی ہوں میں کل پِھر دن کو کال کروں گی تم سوچ لینا اور کل اپنے فیصلہ بتا دینا . آنٹی نے کہا ٹھیک ہے اور پِھر فون کٹ گیا اور یہاں دونوں کی باتیں سن کر میرے لن فل جوش میں کھڑا سلامی دے رہا تھا میں اپنے کمرے کا دروازہ بند کیا اور زیتون کے تیل کے ساتھ مالش شروع کر دی . 1 گھنٹہ مالش کرنے کے بَعْد کمرے سے نکل کر باتھ روم میں گھس گیا اور نہانے لگا نہا کر دوبارہ آ کر ٹی وی والے کمرے میں ٹی وی لگا کر بیٹھ گیا اور پِھر وہ دن بھی معمول کی طرح گزر گیا اور خاص نئی بات نہیں ہوئی . اگلے دن وہ ہی روٹین کی طرح ٹی وی دیکھنے بیٹھ گیا چچی اپنے معمول کے کاموں میں مصروف تھی اور پِھر اپنے کام نمٹا اپنے کمرے میں چلی گئی اس وقعت 12 بج چکے تھے . میں نے خود ہی ٹی وی بند کیا اور چچی کے کمرے میں چلا گیا اندر داخل ہوا تو چچی کمرے میں نہیں تھی وہ باتھ روم میں نہا رہی تھی میں کرسی پے جا کر بیٹھ گیا اور ان کا باہر نکلنے کا انتظار کرنے لگا کوئی منٹ بَعْد چچی باتھ روم سے نکل آئی مجھے کرسی پے بیٹھے دیکھا تو پوچھا کیوں خیر ہے نا . میں نے کہا خیر ہی خیر ہے آج آپ نے سائمہ آنٹی کو دوبارہ کال کرنی تھی اِس لیے آپ کے پاس آیا تھا چچی نے کہا بڑی گرمی چڑی ہوئی ہے سائمہ کی جو اس کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے . میں نے کہا چچی جان آج 3 دن ہو گئے ہیں عشرت کو چودے ہوئے اور ویسے بھی میرے پاس وقعت کم ہے واپس بھی جانا ہے اس سے پہلے اپنا اور آپ کا کام تو کروا کے ہی جاؤں گا . چچی نے کہا ٹھیک ہے تم بیٹھو میں بال بنا لوں پِھر کال کرتی ہوں پِھر چچی ڈریسنگ ٹیبل کے آگے بیٹھ کر بال بنانا لگی اور 5 منٹ میں ہی فارغ ہو گئی . پِھر مجھے کہا اپنے نمبر سے اس کا نمبر ملا دو میں بات کرتی ہوں . میں نے نمبر ڈ ا ئل کر دیا جب بیل جانے لگی تو فون چچی کو دے دیا اور خود اٹھ کر باہر آ گیا اور دوبارہ ٹی وی لگا کر بیٹھ گیا آج بھی میں نے ریکارڈنگ ایکٹیو کی ہوئی تھی کوئی 15 سے 20 منٹ بَعْد ہی چچی ٹی وی والے کمرے میں آ گئی اور مجھے اپنے کمرے میں بلا کر لے گئی میں ٹی وی بند کر کے ان کے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا اور سوالیہ نظروں سے چچی کی طرف دیکھنے لگا چچی نے میرا موبائل مجھے واپس کیا اور بولی دیکھو کا شی سائمہ ما ن تو گئی ہے لیکن اس کو تمہاری طرف سے کچھ دِل میں ڈر بیٹھ ہوا ہے وہ تمہیں ابھی بھی بچہ ہی سمجھ رہی ہے اور ڈر رہی ہے کے تم کسی کو بتا نا دو نہیں تو اس کی زندگی خراب ہو جائے گی . اِس لیے میں نے پرسوں اس کو اپنے گھر بلا لیا ہے وہ جب آئے گی میں تم دونوں کو موقع دوں گی تم کمرے میں جا کر اس کو اعتماد میں لینا اور پِھر جب اس کو پورا یقین ہو جائے تو پِھر دونوں شروع ہو جانا . میں نے چچی سے کہا چچی جان آپ بے فکر ہو جاؤ اس کو آنے دو اس کو یقین اور اعتماد میں لینا میرا کام ہے . چچی نے کہا تم سمجھدار ہو مجھے پتہ ہے تم کر لو گے . میں نے پِھر کہا چچی آپ کے بد ےکا کام کب کَرنا ہے اس کی کوئی ڈیٹیل بتاؤ تو وہ بولی تم پرسوں پہلے سائمہ والا کام پورا کر لو اس کے بَعْد میں نے اپنا ہی کام کروا ہے تم سے میں تمہیں اس دن سب بتا دوں گی . میں نے کہا ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی پِھر میں نے کہا چچی پرسوں تو ابھی دور ہے آج کا آدھا دن کل کا پورا دن ہے آج تھوڑی مہربانی کریں اور ایک ٹائیٹ سا چو پا لگا دیں . چچی نے کہا ابھی تو مشکل ہے جب بچے اسکول سے آئیں گے كھانا کھا کر سو جائیں گے میں تمھارے کمرے میں آؤں گی اس وقعت اپنے بھتیجےکو ٹائیٹ کا چو پا لگا دوں گی اب خوش میں نے کہا خوش ہی خوش چچی جان . اور پِھر اٹھ کر پِھر ٹی وی والے کمرے میں آ کر ٹی وی دیکھنے لگا اور ہیڈ فون لگا کر ریکارڈنگ سننے لگا آج کی ریکارڈنگ میں خاص بات کوئی نہیں تھی جو باتیں چچی نے کہی تھی وہ ہی تھی پِھر میں ٹی وی دیکھنے میں مشغول ہو گیا . کچھ دیر بَعْد بچے بھی آ گئے اور ہم نے كھانا کھایا میں كھانا کھا کر اپنے کمرے میں آ کر چارپائی پے لیٹ گیا اور چچی کا انتظار کرنے لگا . کوئی آدھے گھنٹے بَعْد چچی میرے کمرے میں داخل ہوئی اور پِھر دروازہ لاک لگا کر چارپائی پے آ کر بیٹھ گئی . میں چارپائی پے اٹھ کر بیٹھ گیا چچی نے کہا مجھے بھی آج بڑے دن ہو گئے ہیں اپنا پانی نکالے ہوئے آج میرابھی پانی نکلوا دو . میں نے کہا کیوں نہیں چچی جان آپ حکم کرو کیا کَرنا ہے . چچی نے کہا تم اپنے سارے کپڑے اُتار دو میں بھی اُتار تی ہوں اور میں اپنی پھدی تمھارے منہ پے رکھ کر اپنا منہ تمھارے لن پے رکھ کر چو پے لگا تی ہوں تم میری پھدی کی سکنگ کرو میں تمہارے لن کے چو پے لگا تی ہوں . چچی کا مطلب 69 سٹائل تھا میں سمجھ گیا تھا اِس لیے میں نیچے ٹانگیں سیدھی کر کے لیٹ گیا تھا اور چچی وہ ہی اسٹائل میں میرے اوپر آ کر لیٹ گئی چچی کی پھدی بالکل شیوڈ تھی اور ہلکا ہلکا پانی چھوڑ رہی تھی میں نے چچی کی پھدی کی چاٹنا شروع کر دیا اور چچی نے میرے لن کی ٹوپی کو منہ میں لے کر چاٹ رہی تھی گول گول زبان گھوما رہی تھی اور درمیان میں ٹوپی کے ہیڈ پے بنی موری پے اپنی زُبان رگڑ دیتی تھی جس سے میرے جسم میں کر نٹ دوڑ جاتا تھا اور دوسری طرف میں اب چچی کی پھدی کو ھاتھوں سے کھول کر زُبان اندر باہر کر رہا تھا جس سے چچی کو مزہ آ رہا تھا اور چچی اپنی پھدی کو میرے منہ پے دبا رہی تھی . نیچے چچی نے میرے ٹٹوں کو منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا میں تو آسمان میں اڑ رہا تھا . اور یہاں میں چچی کو اپنی زُبان سے چود رہا تھا اور چچی پھدی کو آگے پیچھے کر کے مزہ لے رہی تھی پِھر میں نے اپنی زُبان اور تیزی کے ساتھ اندر باہر کرنے لگا اور ساتھ میں اپنی ایک انگلی چچی کی بُنڈ کے سراخ میں گھسا دی تھی جس کی وجہ سے چچی اور جوش میں آ گئی تھی اور پِھر مزید 3 سے 4 منٹ کے بعد چچی نے اپنے گرم گرم اور نمکین پانی میرے منہ پے چھوڑ دیا . چچی نے اپنا پانی نکلنے کے بعد میرے لن کو جتنا ہو سکتا تھا منہ میں لے کر چو پا لگانے لگی اور لن کو منہ کے اندر ہی اپنی زُبان کو میرے لن پے گو گول گھوما رہی تھی اور کبھی زُبان سے دباتی اور کبھی چھوڑتی جیسے وہ زُبان سے مٹھ لگا رہی ہو. اور میں چچی کے جاندار چو پوں کی وجہ سے لذّت اور سرور کی دنیا میں ڈوبا ہوا تھا . پِھر میں نے دوبارہ چچی کی بُنڈ کے سوراخ کے اوپر اپنی زُبان پھیری تو چچی کا پورا جسم کانپ گیا اور ان کے منہ سے لمبی سی سسکی نکالیام م م م …..پِھر میں پِھر اپنی بڑی والی انگلی چچی کی بُنڈ کے سوراخ میں ڈال کر اندر باہر کرنے لگا اور ساتھ ساتھ زُبان سے پھدی چُوسنے لگا . جس سے چچی پِھر مزہ لینے لگی اور اپنی بُنڈ کو اٹھا اٹھا کر میری پوری انگلی اندر باہر کروانے لگی اور دوسری طرف وہ مسلسل میرے لن کو پورا منہ میں لے کر بڑی گرمجوشی سے چو پے لگا رہی تھی ہم دونوں کے درمیان یہ سلسلہ کوئی مزید 8 سے 10منٹ چلا اور چچی کی پھدی نے اپنا گرم گرم لاوا میرے منہ پے چھوڑ دیا اور وہاں میں نے اپنی منی کا پورا لاوا چچی کے منہ میں چھوڑ دیا تھا جب میرے لن سے مال گرنا بند ہو گیا تو چچی نے میرے لن اپنے منہ سے باہر نکال لیا اور میں نے دیکھا چچی میرا پورا مال پی چکی تھی میں حیران بھی ہوا اور خوش بھی کے چچی نے تو آج کمال کر دیا ہے. پِھر چچی سیدھی ہو کر میرے ساتھ چارپائی پے لیٹ گئی ہم دونوں تھوڑی دیر تک اپنی سانسیں بَحال کرتے رہے پِھر چچی بولی واہ کا شی میری جان آج تو مزہ آ گیا 2 دفعہ پانی نکلا ہے میرا اور تیری منی بھی بڑی مزے دار اور گرم گرم تھی . میں نے کہا چچی اِس لیے تو کہا تھا خدمت کا موقع دیتی رہا کرو پِھر دیکھو کیسے تمہیں خوش کرتا ہوں . چچی بولی کیوں نہیں کیوں نہیں اب تو یہ مزہ چلتا رہے گا. پِھر تھوڑی دیر بعد چچی اٹھ کر بیٹھ گئی اور بولی تھوڑی دیر بعد بچے اٹھ جائیں گے اور تمھارے چچا بھی آنے والے ہیں میں اپنے باتھ روم میں نہانے جا رہی ہوں پِھر میں نے چائے بھی بنانی ہے تم بھی جا کر نہا لو پِھر وہ اٹھی اپنی شلوار قمیض پہنی اور دروازہ کھول کر باہر چلی گئی . میں نے بھی اپنے شلوار پہنی اور بنیان پہن کر باتھ روم میں نہانے کے لیے گھس گیا . نہا دھو کر باہر نکلا ٹرا و زیر اور شرٹ پہن کر ٹی وی والے کمرے میں آ کر ٹی وی لگا کر بیٹھ گیا اور پِھر تھوڑی دیر بعد چچی بھی اپنے کمرے میں سے نکل کر کچن میں چلی گئی اور کوئی 1 گھنٹے بعد ہی چچا بھی گھر آ گئے اور پِھر وہ باقی کا دن بھی معمول کی طرح گزر گیا اور اگلے دن صبح ناشتےپے چچی نے چچا کو کہا آپ آج واپسی پے سائمہ کو ساتھ لے آئیں میں نے کل اس کے ساتھ دن کو بازار جانا ہے اس نے کچھ اپنی چیزیں لینی ہیں اور میں نے اپنی بھی لینی ہیں . چچا نے کہا ٹھیک ہے میں شام کو واپسی پے اس کو ساتھ لے آؤں گا . اب مجھے تسلی ہو گئی تھی کے اب سائمہ آنٹی تو آئے گی ہی آئے گی. میں روٹین کی طرح ٹی وی دیکھ رہا تھا کے یکدم میرے موبائل کی گھنٹی بجی میں نے موبائل چارجنگ پے لگایا ہوا تھا وہاں سے موبائل اٹھا کر دیکھا تو ابو کی کال تھی . مجھے شق ہو گیا تھا کے واپسی کا بلاوا
آ گیا ہے میں نے کال پک کی اور ابو کو سلام کیا اور ان کا اور باقی سب گھر والوں کا حال حوال پوچھا ابو نے مجھے سے پوچھا کیوں میاں وہاں جا کر اپنے ماں باپ بہن بھائی کو بھول ہی گئے ہو نہ کوئی فون نا بات خیر تو ہے نہ میں نے کہا خیر ہی ہے ابو بس ویسے ہی یہاں آ کر دِل لگ گیا تھا سب کے ساتھ اِس لیے کال نہیں کر سکا پِھر ابو نے کہا میاں واپسی کا کیا پروگرام ہے آگے کوئی پڑھائی وغیرہ کرنی ہے یا ایسے ہی زندگی گزارنی ہے . میں نے کہا ابو آگے پڑھنا ہی ہے اور کیا کرنا ہے فارغ تو ٹائم نہیں گزرتا . ابو نے کہا پِھر آگے کیا پروگرام ہے کب واپس آنا ہے . میں نے کہا ابو تھوڑے دن تک رزلٹ آنے والا ہے اور پِھر ایڈمیشن لینا ہے میں اگلے ہفتے میں واپس آ جاؤں گا آپ بے فکر ہو جائیں . ابو نے کہا ٹھیک ہے بیٹا اپنا خیال رکھنا اور گھر میں سب کو ماں جی اور اپنے چچا کو سب کو سلام دینا میں نے کہا جی ابو میں دے دوں گا اور پِھر سلام کر کے کال کٹ گئی. میں نے دوبارہ فون چارجنگ پے لگایا اور باہر دیکھا چچی کچن میں اپنا کام کر رہی تھی میں نے سوچا چچی جب اپنا کام ختم کر کے اپنے کمرے میں جائے گی تو میں پِھر ان کے کمرے میں جا کر بات کروں گا اور میں یہ ہی سوچ کر دوبارہ ٹی وی دیکھنے لگا اور پتہ ہی نہیں چلا سارے بج گئے تھے میں نے باہر دیکھا تو چچی اپنا کام ختم کر کے اپنے کمرے میں جا چکی تھی میں نے ٹی وی بند کیا اور چچی کی کمرے میں چلا گیا اندر داخل ہوا تو چچی کسی سے فون پے بات کر رہی تھی میں نے آنکھوں کے اشارے سے پوچھا تو انہوں نے مجھے کرسی پے بیٹھنے کا اشارہ کیا میں کرسی پے بیٹھ گیا چچی اپنی آ می سے فون پے بات کر رہی تھی پِھر 5 منٹ کے بعد چچی نے بات کر کے کال کٹ کر دی . میں نے چچی سے پوچھا خیریت تھی تو چچی نے کہا خیریت ہی ہے میں نے سائمہ کو کال کی تھی کے آج تمہیں لینے آئیں گے اور پِھر اس کے ہی فون پے ا می کا حال حوال پوچھ لیے . تم سناؤ خیریت ہے . میں نے بھی کہا خیر ہی ہے لیکن چچی اب میرے پاس دن کم ہیں مجھے کچھ دیر پہلے ابو کی کال آئی ہوئی تھی انہوں نے واپسی کا پوچھا ہے میں نے ان کو یہ ہی کہا ہے میں اگلے ہفتے واپس آ جاؤں گا. چچی میرے پاس ہفتہ ہی باقی بچا ہے آپ کوئی ایسا کام کرو کے یہ ہفتہ روز ہی کوئی نا کوئی پھدی ملے تا کے جاتے جاتے گرمی تو نکال کر جاؤں پِھر پتہ نہیں کتنے مہینے بعد چکر لگتا ہے . چچی میری بات سن کر ہنسنے لگی اور پِھر بولی تیری گرمی ہے کے آتَش فشاں ہے جو ختم ہی نہیں ہوتا . میں نے کہا چچی جان جوانی کا خون ہے اور ویسے بھی لن کو جب پھدی کا منہ لگ جاتا ہے تو اِس کو ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی موری کی تلاش رہتی ہے . چچی نے کہا ہاں یہ تو ہے جب میں بھی نئی نئی شادی ہو کر آئی تھی تو جوان اور گرم تھی اور تمھارے چچا اور میں تقریباً ہر دوسرے دن ہی خوب دبا کر چودا ئی کرتے تھے جو تمھارے چچا کے ساتھ 11سال نکالے وہ بڑے ہی شاندار اور مزے کی دن تھے کوئی فکر نہیں ہوتی تھی . پِھر ان کی موت کے بعد یہ سلسلہ کافی سال تک بند رہا اور پِھر شوکت اور عرفان بھائی کے ساتھ سلسلہ کوئی 3 سال پہلے شروع ہوا تھا جو آج تک ہے لیکن وہ مزہ نہیں ہے جو تمھارے چچا کا تھا شوکت بھی مہینے میں 2 یا 3 دفعہ آتا ہے اور عرفان بھائی مہینے میں 5 سے 6 دفعہ چکر لگاتے ہیں اور اِس طرح کچھ گزارا ہو جاتا ہےمیں نے کہا چچی یہ نورین کب سے عرفان انکل سے چودو رہی ہے چچی بولی نہیں وہ جس دن تم نے دیکھا تھا اس دن پہلی دفعہ نورین نے عرفان بھائی سے کروایا تھا. میں نے کہا آپ نے نورین کے لیے بھی دوسرے لن کا بندوبست کر دیا ہے تو چچی بولی کا شی نورین بیچاری بہت مجبور ہے اس کی عمر دیکھو خود سوچو وہ کس طرح اپنے جذبات کنٹرول کرے عشرت تو پِھر بھی اپنے میاں یا اس لڑکے سے کروا کروا کے اپنا وقعت گزار چکی ہے اور نورین بیچاری تو ابھی بچی ہے اور جوان ہے . بس اِس لیے ہی میں نے اس کو عرفان بھائی کے ساتھ ملایا ہے نہیں تو میں نے آج تک عرفان بھائی اور شوکت کبھی باہر یا خاندان کی کسی عورت کو دیکھنے بھی نہیں دیا کئی دفعہ شوکت نے نورین کو میرے گھر دیکھا ہے اس نے کئی دفعہ مجھے نورین کے لیے کہا ہے لیکن میں نے کبھی بھی اس کی بات کو سنا تک نہیں ہے شوکت پے بھروسہ کسی عورت کے لیے نہیں کر سکتی او وہ کنوارہ ہے ہر کوئی شق کر سکتا ہے اور عرفان بھائی شادی شدہ ہیں بچے ہیں گھر میں یہاں وہاں ان پے کوئی شق بھی نہیں کر سکتا اِس لیے پہلی دفعہ عرفان بھائی کو نورین سے ملایا ہے. میں نے کہا چچی یہ تو آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں میں بھی یہاں نہیں رہتا جو نورین کو ہر دوسرے دن چود لیتا اور اس کی گرمی نکال دیتا چلو عرفان بھائی تو نزدیک ہی ہیں آتے جاتے رہتے ہیں آپ کا اور نورین کا کام تو چلتا رہے گا . چچی نے کہا کا شی تم بھی کیا یاد کرو گے تمہیں اگر اسلام آباد میں بھی کسی پھدی کا انتظام کر دوں تو مانوگے . میں حیرت اور سوالیہ نظروں سے چچی کا منہ دیکھنے لگا چچی میرا منہ دیکھ کر مسکرائی اور بولی بتاؤ پِھر انتظام کر دوں وہاں بھی تمہارا میں نے چچی سے کہا نیکی اور پوچھ پوچھ چچی اگر ایسا کام ہو جائے تو میں آپ کو اپنا گرو مان لوں گا . چچی نے کہا جس پھدی کا میں تمہیں بتاؤں گی تمھارے منہ میں پانی آ جائے گا اور تو اور تمہیں جھٹکا ضرور لگے گا . اب تو میرا تجسس اور بڑھ گیا تھا . میں نے کہا چچی کیوں جان لے رہی ہو بتاؤ نہ چچی نے کہا حوصلہ رکھ حوصلہ رکھ بتاتی ہوں ابھی پِھر چچی نے کہا تمھارے اور فوزیہ کے گھر کا فاصلہ کتنا ہے وہاں میں نے کہا 2 گلیاں چھوڑ کر ان کا گھر ہے . چچی نے کہا روز آتے جاتے ہو ان کے گھر میں نے کہا روز تو نہیں لیکن ان کے گھر آنا جانا کوئی مشکل نہیں ہے عام سی بات ہے چاہوں تو روز جا سکتا ہوں چاہوں تو کبھی کبھی اور کئی دفعہ ان کے گھر بھی رات کو سویا ہوں آپ بات بتاؤ کرنا کیا ہے. فوزیہ آنٹی کا بتا دوں وہ میرے اسلم ماموں کی وائف ہیں اور ان کا دو اسٹوری گھر ہے اوپر اسلم ماموں اور نیچے فوزیہ آنٹی کے بھائی نزیر انکل رہتے ہیں اسلم ماموں ڈاکٹر ہیں اور نزیر انکل کسی پرائیویٹ کمپنی میں ملازم ہیں فوزیہ آنٹی کا بھانجا فیصل نزیر انکل کا بیٹا میرے سے 2 سال بڑا تھا یونیورسٹی میں پڑھتا تھا اور چھوٹا بیٹا کامی10 سال کا تھا وہ اسکول میں پڑھتا تھا.فوزیہ آنٹی ہمارے خاندان کی نہیں ہیں اسلم ماموں نے آؤٹ آف خاندان مرضی سے شادی کی ہوئی تھی اور فوزیہ آنٹی ہمارے خاندان کی بہت ہی خوبصورت اور سیکسی عورت تھی جس کسی بھی خاندان کے موقع پے جاتی تھی تو ہر مرد کی نظر ان پے ہوتی تھی لیکن وہ کسی کو بھی گھاس نہیں ڈالتی تھی تھوڑی مغرور ٹائپ کی عورت تھی لیکن اتنی زیادہ بھی نہیں تھی. میری ان کے ساتھ بھی اچھی گپ شپ تھی لیکن اِس طرح کی نہیں تھی . فوزیہ آنٹی کی ایک ہی بیٹی تھی نازیہ جو مجھ سے 4 سال چھوٹی تھی وہ میٹرک کے رزلٹ کا انتظار کر رہی تھی. میں نے پِھر پوچھا چچی آپ مجھے پہیلی نا بجھاؤ آپ سیدھی اور اندر کی بات بتاؤ. چچی نے کہا وہ جو فوزیہ کا بھانجا ہے فیصل وہ تمہاری فوزیہ آنٹی کا یار ہے اور تمہاری فوزیہ آنٹی اپنے بھانجےسے پچھلے 2 سے 3 سال سے چودوا رہی ہے. چچی کی بات سن کر مجھے واقعہ ہی حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا کیونکہ میں فوزیہ آنٹی کو بہت اچھی طرح جانتا تھا وہ بلا کی خوبصورت اور ایک حَسِین عورت تھی خاندان میں اور بھی بہت اچھے اور جوان ہینڈسم مرد تھے فوزیہ آنٹی نے ان کو تو کبھی گھاس نہیں ڈالی اور فیصل بھی بس ٹھیک ہی تھا مجھے اب تک چچی کی کہی ہوئی بات کا یقین نہیں آ رہا تھا میں نے چچی سے کہا چچی آپ واقعہ ہی سچ بول رہی ہیں. اور آپ کو یہ بات کیسے پتہ چلی ہے. چچی نے کہا یہ بات بالکل سچ ہے اور مجھے یہ بات فوزیہ کی جو کزن ہے فرح جس کی میری 
خالہ کے بیٹے سے شادی ہوئی ہے وہ بھی میری بہت اچھی سہیلی ہے لیکن وہ ایسی عورت نہیں ہے وہ تمہاری فوزیہ آنٹی کی کلاس فیلو اور کزن کے ساتھ ساتھ بہت اچھی دوست بھی ہے اس نے مجھے یہ بات بتائی تھی . چچی بالکل ٹھیک کہہ رہی تھی فوزیہ آنٹی کی کزن فرح کا رشتہ بھی فوزیہ آنٹی کے ہمارے خاندان میں شادی ہونے کے بَعْد ہی ہوا تھا . چچی کی خالہ شادی ہو کر لاہور میں رہتی ہیں . ان کا بیٹا راشد نادرہ میں اچھی پوسٹ پے آفیسر ہے . 
پِھر میں نے چچی سے پوچھا کے چچی فرح آنٹی کو فوزیہ آنٹی کی یہ بات کیسے اور کب پتہ چلی تو چچی نے کہا شادی سے پہلے فرح اسلام آباد میں ہی اپنے ماں باپ کے گھر رہتی تھی اور جب تمھارے اسلم ماموں باہر کسی ملک میں ٹریننگ وغیرہ یا کسی اپنے دفتر کے کام سے جاتے تھے تو فوزیہ فرح کو اپنے ہاں بلا لیتی تھی اور فرح اس کے ہاں جا کر رہا کرتی تھی بس یوں ہی ایک دن فرح نے بتایا وہ اور فوزیہ اور اس کی بیٹی ایک ہی کمرے میں سو جایا کرتے تھے تو ایک دن رات کو وہ پانی پینے کے لیے اٹھی جب باہر کچن میں پانی پی کر واپس جانے لگی تو فرح کہتی ہے میں نے سوچا اٹھ تو گئی ہوں تو باتھ روم جا کر پیشاب بھی کر کے سو جاتی ہوں وہ کہتی ہے جب میں باتھ روم کی طرف گئی تو باتھ روم سے پہلے جو کمرا تھا وہ فوزیہ کی بیٹی کا تھا جب اس کا باپ نہیں ہوتا تھا وہ اپنی ماں کے کمرے میں سو جایا کرتی تھی فرح کہتی ہے جب میں اس کمرے کے آگے سے گزری تو دروازے کے پاس ہی مجھے عجیب عجیب سی گھٹی گھٹی آوازیں آ رہی تھیں تو فرح کہتی ہے میں وہاں ہی رک گئی اور سوچنے لگی اتنی رات کو اِس کمرے میں کون ہے اور میںڈر بھی گئی تھی پِھر کہتی ہے میں نے دروازے کے نیچے دیکھا ہلکی ہلکی روشنی آ رہی تھی پِھر فرح نے یہاں وہاں دیکھا کھڑکی تو بند تھی اور اس کے آگے پردے آئے ہوئے تھے تو فرح نے دروازے کے کی ہو ل سے دیکھنے لگی پہلے تو اس کو کچھ خاص نظر نا آیا باہر اندھیرا تھا پِھر فرح نے ایک آنکھ بند کر کے دوسری آنکھ سے اندر دیکھا تو جو اس نے اندر دیکھا تو اس کو شدید جھٹکا لگا کیونکہ اندر فوزیہ پوری ننگی ہو کر اُلٹا لیتی ہوئی تھی اور اوپر فوزیہ کا بھانجا فیصل پورا ننگا ہو کر پیچھے اس کی پھدی میں لن کو اندر باہر کر رہا تھا اور فوزیہ کے منہ سے گھٹی گھٹی سی سیکس آوازیں نکل رہی تھیں جو فرح کہتی ہے میں باہر تک سن رہی تھی . 
چچی کہتی ہے فرح نے وہاں پے وہ سارا شو دیکھا اور پِھر اس کو پتہ چلا تھا اور پِھر فرح اور فوزیہ کی بہت اچھی دوستی تھی اگلے دن ہی فرح نے فوزیہ کو رات والی بات بتائی اور اس سے پوچھنے لگی كے یہ کیا ڈرامہ ہے . فرح کہتی ہے پہلے تو فوزیہ نے بات کو چھپا نے کی کوشش کی لیکن بَعْد میں اس نے فرح کو ساری بات بتا دی تھی اور پِھر کئی دفعہ فرح اس کے گھر میں ہی رات کو فوزیہ کے لیے پہرہ دیا کرتی تھی . مجھے چچی کی بات سن کر اب مکمل یقین ہو گیا تھا . میں نے کہا چچی فرح آنٹی نے کبھی فوزیہ آنٹی کو یا فوزیہ نے فرح آنٹی کو اس کام میں شامل ہونے کا نہیں کہا چچی میری طرف گھور ا دیکھا پِھر بولی لگتا ہے تمہیں اب فرح پے بھی دِل آ گیا ہے . میں نے کہا ایسی بات نہیں ہے میں ویسے ہی پوچھ رہا تھا و ہ بھی عورت ہے جب کسی کو پتہ ہو اندر کیا ہو رہا ہے یا و ہ دیکھ بھی رہی ہو تو بندے کا دِل تو کرتا ہے نا تو چچی نے کہا ویسے فرح نے فوزیہ کے ساتھ مل کا کچھ نہیں کیا اور نا ہی فیصل کے ساتھ اس نے کچھ کیا ہے ویسے میں کچھ کہہ نہیں سکتی اور اب تو شادی کے بَعْد وہ بڑی خوش ہے اس کا میاں اچھا خاصا ہے روز چودتا ہو گا جب روز لن مل رہا ہو تو پِھر باہر منہ مارنے کی کیا ضرورت ہے . چچی نے کہا اب تمہیں سمجھ آ گئی ہے نا تمہیں کیا کَرنا ہے . میں نے کہا چچی آپ بے فکر ہو جاؤ اب میں جانو ں اور میرا کام اب تو فوزیہ کو چود کر ہی چھوڑوں گا . چچی نے کہا جب فوزیہ کو مرید بنا لو گے ہو سکتا ہے اس کےذریعےکوئی اور مال بھی وہاں مل جائے یا ہو سکتا ہے فرح ہی مل جائے اب یہ تو فوزیہ پے ہی ہے وہ کیا کرتی ہے . میں نے کہا چچی کل تو سائمہ آنٹی کا اکاؤنٹ کھولنا ہے لیکن میں جب واپس جاؤں گا اس سے ایک دن پہلے آپ کو نورین کو ایک ساتھ اِس ہی بیڈ پے چود کر جاؤں گا اب یاد رکھنا میری بات کو ، چچی نے کہا ہاں اب تو ہر چیز تمھارے ساتھ کھل گئی ہے فکر نہ کرو تمہاری یہ بھی حسرت پوری کر دوں گی . 
ویسے چچی آپ میری گرو ہیں آپ نے اسلام آباد میں ہی پکی پکی پھدی کا بندوبست کر دیا ہے اور یہاں پے بھی اب جب آؤ آپ کے ساتھ وہاں ہو تو فوزیہ آنٹی کے ساتھ مزہ آ گیا ہے . میں نے کہا چچی اب بتاؤ کس بندے کو تمھارے لیے راضی کَرنا ہے چچی بولی تمہیں کوئی بات پتہ چل جائے تو پیچھا نہیں چھوڑتے ہو . میں نے کہا اب تو اتنا کچھ بتا چکی ہو یہ بتانے میں کیا حرج ہے . چچی نے کہا میری چھوٹی بہن کا جو ایک ہی دیور ہے نا بلال اس کو میرے لیے راضی کَرنا ہے . میں چچی کا منہ حیرت سے دیکھنے لگا اور چچی سے پوچھا اس پے آپ کی نظر کیسے آ گئی ہے بلال نے میٹرک کی ہوئی تھی اور چچی کی امی کے محلے میں ہی اپنے باپ کی دکان چلاتا تھا باپ اس کا فوت ہو گیا تھا . وہ میرا ہی ہم عمر تھا لیکن صحت میں مجھ سے تھوڑا اچھا تھا . میں اس کو جانتا تھا اس کے ساتھ میری گپ شپ تھی . میں نے کہا چچی اس پے نظر کیسے آ گئی ہے یا اس میں کون سی خاص با ت ہے . تو چچی نے کہا 2 باتیں ہیں ایک تو یہ کے وہ یہاں نزدیک ہی رہتا ہے اور میری امی کے گھر اور ہمارے گھر آتا جاتا رہتا ہے . اور اس سے میں ہفتے میں 3 یا 4 دفعہ ملاقات کر سکتی ہوں کبھی اپنے گھر کبھی امی کے گھر میں ایک تو یہ فائدہ ہے . دوسرا فائدہ یہ ہے کے اس کا لن بڑا ہی موٹا تازہ اور جاندار ہے . میں نے کہا چچی تم نے جب اس کا لن لیا ہی نہیں ہے تو تمہیں کیسے پتہ ہے کے اس کا لن ایسا ہے یا ویسا ہے . چچی نے کہا وہ مجھے اِس لیے پتہ ہے کیونکہ جب میری چھوٹی بہن کی شادی تھی تو وہ ہمارے گھر مہندی پے آیا ہوا تھا اور اس رات کافی ہلہ گلا اور رش بھی تھا تو رات کو جب سب مہندی لگا رہے تھے تو دلہن کے پاس کافی رش تھا میں دلہن کی کرسی کے پیچھے کھڑی تھی تو یہ بھی وہاں کھڑا تھا تو اِس نے اتنے رش میں بھی جگہ بنا کر اور بڑی احتیاط سے میری بُنڈ میں اپنا موٹا تازہ لن پھنسا کر پورا مزہ لیا تھا اور میں نے وہاں اِس کے لن کو محسوس کیا تھا. تو اِس کے لن کا پتہ چلا تھا. میں نے کہا چچی جب وہ آپ کو پورا مزہ دے رہا تھا اور آپ کو بھی مزہ مل رہا تھا تو اس ٹائم ہی اس کو اپنے ساتھ سیٹ کر لینا تھا آج مجھے کیوں کہہ رہی ہیں . چچی نے کہا کا شی تم بھی پاگل ہو اس کے بھائی کی میری بہن کے ساتھ شادی ہو رہی تھی نیا نیا رشتہ بن رہا تھا اگر وہاں میں اپنا گل کھلا دیتی اور کوئی اور دیکھ لیتا تو کیا عزت رہ جانی تھی . اِس لیے میں نے اس لڑکے کو اپنے کوئی بھی موڈ شو نہیں کروایا اور وہ جب وہاں سے چلا گیا تو گھر میں اکیلے میں اس کو پکڑ کر تھوڑا ڈانٹ دیا اور ڈرا دھمکا دیا کے تمہیں شرم نہیں آتی اپنی ماں بیٹی پے گندی نظر رکھتے ہوئے میں تمہاری امی سے بات کروں گی وہ بے چارہ ڈر گیا اور میرے پاؤں پڑ گیا مجھے معاف کر دیں آئندہ کبھی نہیں کروں گا اور پِھر میں نے اس کو معاف کر دیا لیکن اس کے بَعْد آج تک وہ ہمارے گھر ضرور 
آتا ہے لیکن میرے سے ڈرا ڈرا ہی رہتا ہے اور بھاگتا رہتا ہے اور اِس بات کو 6 مہینے ہونے والے ہیں لیکن اب سوچتی ہوں غلط ہی کیا اپنے ہی فائدہ خراب کر دیا کیونکہ اس کی خاندان میں کم ہی آنا جانا ہے اور دوسرا آوارہ گرد ٹائپ کا بندہ نہیں ہے دکان سے گھر اور گھر سے دکان باہر بھی کوئی خاص دوست یار نہیں ہے ایسا بندہ ٹھیک رہتا ہے بدنام نہیں کر سکتا اِس لیے اب تمہیں کہہ رہی ہوں تم اس کو میرے لیے راضی کرو . وہ تو پہلے ہی میرے ساتھ تعلق بنانا چاہتا تھا لیکن میں نے ہی غلطی کر دی تھی . لیکن تم اس کے ہم عمر ہو پہلے اس کو اعتماد میں لو پِھر گپ شپ میں ہی اندر کی بات پوچھ لینا اور پِھر میں نے چچی کے منہ پے ہاتھ رکھ دیا اور کہا آپ بے فکر ہو جاؤ آپ کا کام ہو جائے گا جانے سے پہلے ہی آپ کی اور اس کی ملاقات کروا کر جاؤں گا آپ بے فکر ہو جاؤ. چچی نے کہا اب اٹھو اور جا کر کوئی اور کام کرو میں نے كھانا پکانا ہے بچے آنے والے ہیں . میں وہاں سے اٹھا باتھ روم میں جا کر نہانے لگا اور نہا کر دوبارہ آ کر ٹی وی دیکھنے لگا چچی کچن میں کام کر رہی تھی . پِھر شام تک کچھ نا ہوا اور شام کو جب چچا گھر آئے تو ان کے ساتھ سائمہ آنٹی بھی تھی میں نے ان کو سلام کیا تو انہوں نے بڑی آہستہ آواز میں جواب دیا لیکن وہ مجھ سے نظریں چرا رہی تھیں پِھر رات کو سب نے مل کر كھانا کھایا اور سب اپنی اپنی جگہ پے جا کر سو گئے صبح میں خود ہی اٹھ گیا آج مجھے دن ہونے کا بے صبری سے انتظار تھا آج مجھے سائمہ آنٹی کو چودنا تھا میں صبح نہا دھو کر ناشتہ کر کے ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیاسب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے تھے لیکن میں ٹی وی والے کمرے میں بیٹھ کر بےچین تھا ٹائم گزر ہی نہیں رہا تھا پِھر ایسے کر ٹائم گزر گیا جب دن کے 12 بجے تو چچی ٹی وی والے کمرے میں آئی اور آ کر مجھے بولا ہاں بھی بھتیجےتیار ہو نا میں نے کہا تیار تو ہوں تھوڑا ڈر بھی لگ رہا ہے کے سائمہ آنٹی کا رو یہ کیسا ہو گا.
چچی نے کہا ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے اس کا اپنا دِل ہے تو یہاں تک چل کر آئی ہے تم جاؤ اور اپنا کام شروع کرو . میں چچی کی بات پے غور کیا تو سمجھ آئی چچی کہہ تو بالکل ٹھیک رہی ہے . میں بھی وہاں سے اٹھا اور سیدھا چچی کے کمرے میں جا کر دروازہ اندر سے بند کیا اور جا کر کرسی پے بیٹھ گیا سائمہ آنٹی بیڈ پے بیٹھی ہوئی تھی اس کی نظر اپنی جھولی کی طرف تھی میری طرف نہیں دیکھ رہی تھی . میں اور وہ دونوں خاموشی سے بیٹھے تھے میں سائمہ آنٹی کی طرف سے بات شروع ہونے کا انتظار کر رہا تھا اور وہ شاید میرا انتظار کر رہی تھی. پِھر میں نے ہی ہمت کرنے کا سوچا اور آہستہ آواز میں کہا آنٹی آپ کا کیا حال ہے کیا آپ مجھ سے ناراض ہیں ، آنٹی نے شرما کر تھوڑا سا منہ اوپر کیا اور آہستہ آواز میں بولی میں ٹھیک ہوں تم سے ناراض کس لیے ہوں گی . میں نے کہا آنٹی پِھر آپ بات کیوں نہیں کر رہی ہیں تو وہ بولی جواب دے تو رہی ہوں . پِھر میری نظر کھڑکی پے گئی تو وہاں سے تھوڑا سا پردہ ہٹا ہوا تھا میں کرسی سے اٹھا اور کھڑکی کو پہلے بند کیا اور پِھر پردے کو آگے کر دیا ا ب کمرے میں کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا . پِھر دوبارہ آ کر سائمہ آنٹی کے ساتھ بیڈ پے آ کر بیٹھ گیا . اور میں نے کہا آنٹی مجھے پتہ ہے آپ کے اندر ایک خوف یا ڈر بیٹھا ہوا ہے کے میں کوئی کچہ بندہ ہوں آپ کے ساتھ تعلق بنا کر باہر لوگوں کو بتا دوں گا اور آپ کو بدنام کر دوں گا . آنٹی نے منہ اوپر اٹھا کر میری آنکھوں میں دیکھا اور پِھر دوبارہ منہ نیچے کر لیا . میں نے ہمت کر کے آنٹی کا ایک ہاتھ پکڑ لیا تو آنٹی نے فوراً پیچھے کھینچ لیا . میں نے دوبارہ پِھر ہمت کی اور ہاتھ پکڑ لیا اور بولا آنٹی آپ میرے اوپر پورا یقین اور کر سکتی ہیں میں کبھی بھی آپ کی بدنام نہیں کروں گا . اور آپ نے یہ کیسے سوچ لیا کے میں آپ کی یا چچی کی یا کوئی بھی اپنے خاندان کی عورت کی عزت کو باہر لوگوں میں اچھالتا پھروں گا.
آپ مکمل یقین رکھیں اگر آپ میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں بھی بنائیں گی تو بھی باہر کسی کو نہیں بتاؤں گا گھر کی بات کسی باہر والے سے کروں گا تو اپنی ہی عزت خراب کروں گا . لہذا آپ میری طرف سے بے فکر ہو جائیں . اگر آپ کو میری بات سن کر بھی بھروسہ نہیں ہے تو آپ دروازہ کھول کر باہر چلی جائیں میں آپ کو نہیں روکوں گا میں ابھی باتھ روم میں جا رہا ہوں اگر میرے واپس آنے تک آپ نے جانا ہے تو آپ چلی جائیں اگر مجھ پر بھروسہ ہے تو آپ پِھر بیٹھی رہیں اور میرا ساتھ دیں . میں بیڈ سے اٹھ کر چچی کے باتھ روم میں گھس گیا اور اندر واش بیسن پے کھڑا ہو کر سوچنے لگا پتہ نہیں سائمہ آنٹی کیا فیصلہ کرتی ہے . میں نے اپنی قمیض اُتار کر اندر باتھ روم میں لٹکا ڈی اور بنیان اور شلوار میں ہی باتھ روم کا دروازہ کھولا تو سامنے دیکھا تو سائمہ آنٹی بیٹھی ہوئی تھی انہوں نے اپنے منہ اٹھا کر مجھے دیکھا اور تھوڑا سا مسکرا کر دوبارہ منہ نیچے کر لیا میں سائمہ آنٹی کا اشارہ سمجھ گیا تھا . میں دوبارہ بیڈ پے جا کر ان کے ساتھ بیٹھ گیا اور اِس دفعہ میں نے اپنا ایک بازو ان کی گردن میں ڈال کر ان کے کاندھے پے رکھ دیا اور باتیں کرنے لگا . میں نے کہا آنٹی آپ کو ایک بات کہوں تو آنٹی نے کہا ہاں بولو میں نے کہا آنٹی مجھے آپ بہت اچھی لگتی ہیں آنٹی نے کہا میرے میں ایسی کون سی خاص بات جو کسی اور میں نہیں ہے . میں نے کہا آنٹی آپ کے اندر بہت سی خاص باتیں ہیں آنٹی نے کہا کون کون سی میں نے کہا پہلی بات تو یہ آپ جب غصہ کرتی ہیں تو آپ بہت اچھی لگتی ہیں آپ کے غصے میں بھی اَپْنایَت سی ہوتی ہے آنٹی نے میری طرف دیکھا اور کہا اچھا اور کون سی بات اچھی لگتی ہے . میں نے کہا آپ کی سب سے اچھی بات یہ ہا کے آپ کی سمائل بہت اچھی ہے جب آپ سمائل دیتی ہیں آپ کے دونوں طرف ڈمپل پڑ جاتے ہیں . اور آپ کی آنکھیں بہت ہی نشیلی اور گہری ہیں بندہ اِس میں دیکھتا دیکھتا ڈوب جاتا ہے اور ساتھ ہی میں نے اپنے ہاتھ کو تھوڑا حرکت دی اور کاندھے سے آگے کرتا ہوا نیچے ان کا رائٹ سائڈ والامما پکڑ لیا اور آہستہ سا سہلا دیا میری یکدم حرکت نے آنٹی کو جھٹکا دیا لیکن انہوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا اور خاموش بیٹھی رہی . جب میں نے اپنی حرکت میں کوئی رکاوٹ محسوس نہ کی تو میں نے آنٹی کا رائٹ سائڈ والا ممے کو آہستہ آہستہ سہلانے لگا اور میرے منہ آنٹی کے منہ کے قریب ہی تھا میں آنٹی کی منہ سے گرم گرم سانسیں محسوس کر رہا تھا . آنٹی نے خمار بھری آواز میں پِھر پوچھا اور کون سی بات میں نے کہا آپ کے یہ ہونٹ بہت ہی کمال کے ہیں دِل کرتا ہے ان کوساری زندگی چوستا ہی رہوں . اور ساتھ ہی میں نے آنٹی کا چہرہ اپنے دوسرے ہاتھ سے اپنی طرف کیا اور ان کے ہونٹوں پے ہونٹ رکھ ایک لمبی سی فرینچ کس کر دی . آنٹی میرے ممے سہلانے اور فرینچ کس سے گرم ہو چکی تھی میں ویسے بیڈ پے ٹانگیں فولڈ کر کے بیٹھ تھا اور آنٹی بھی اِس ہی اسٹائل میں بیٹھی تھی . پِھر آنٹی نے اپنے جسم کو تھوڑا سا اٹھا کر اور اپنی رائٹ سائڈ والی ٹانگ گھوما کر میری دوسری طرف کر کے میری جھولی میں بیٹھ گئی جیسے بندہ بیٹھی ہوئی پوزیشن میں چودتا ہے سیم وہ ہی پوزیشن تھی ہم دونوں کی اور چچی نے بیٹھ کر اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پے رکھ کر کس کرنے لگی اور میں بھی آنٹی کا پورا پورا ساتھ دینے لگا . میں نے اپنا منہ کھول دیا تا کہ ہم دونوں ایک دوسرے کی زُبان کی بھی سکنگ کر سکیں اور آنٹی نے بھی ویسے ہی کیا پِھر ہم دیوانا وار ایک دوسرے کی زُبان اور ہونٹوں کی سکنگ کر رہے تھے . کوئی 8 سے 10منٹ کے بَعْد میں نے اگلا قدم اٹھانے کا سوچااور آنٹی کے کان میں کہا سائمہ میری جان آپ کا حکم ہو تو اصلی مزے کا کام شروع کریں . تو آنٹی بڑی ہی مدھوش آواز میں بولی میں تو کب سے تڑپ رہی ہوں اصلی مزے کے لیے تم ہی دیر کر رہے ہو . میں نے جب یہ سنا تو آنٹی کو گود میں سے اٹھایا اور ان کو بولا چلو آنٹی پِھر ننگی ہو جاؤ اگر اصلی مزہ لینا ہے تو میں بھی اپنی بنیان اور شلواراُتار نے لگا اور آنٹی بھی اپنی شلوار قمیض اُتار نے لگی انہوں نے قمیض اُتار ی اور پِھر اپنی بر ا بھی اُتار کر بیڈ پے ہی پھینک ڈی آنٹی کے ممے کمال کے تھے بالکل سفید اور اس پر موٹے موٹے پنک رنگ کے نپلز تھے آنٹی کی 4 سال کی بچی بھی تھی اِس لیے فیڈنگ کی وجہ سے ان کے نپلز کافی موٹے موٹے تھے اور آنٹی کے ممے بھی کھڑے کھڑے تھے پِھر آنٹی نے جب اپنی شلوار اُتار ی تو نیچے انڈرویئر نہیں پہنا ہوا تھا اور آنٹی نے شلوار اُتار کر بھی بیڈ پے ہی پھینک دی اور پوری ننگی ہو گئی جب آنٹی سیدھی ہوئی تو ان کی پھدی بھی کیا کمال کی تھی بالکل بالوں سے صاف شیوڈ تھی اور آنٹی کی پھدی بھی نورین کی پھدی کی طرح ہی تھی لیکن آنٹی کی پھدی کا منہ بچی پیدا ہونے کی وجہ سے تھوڑا بڑا ہو گیا تھا لیکن ان کی پھدی کے ہونٹ بالکل کنواری لڑکیوں کی طرح اندر والی سائڈ تھے . 
آنٹی کا جسم بچی ہونے کے بَعْد بھی کافی سمارٹ تھا اور سڈول جسم تھا . میں نے آنٹی سے پوچھا آنٹی میرے لیے کیا حکم ہے تو آنٹی نے کہا پہلے تم میری پھدی کی سکنگ کرو لیکن میں جس اسٹائل میں کہوں گی اس ہی پوزیشن میں ہی کرنی ہے . اس کے بَعْد میں تمہاری غلام جو تم کہو گے وہ ہی ہو گا . میں نے کہا مجھے کوئی پرابلم نہیں ہے آپ بتائیں مجھے کس پوزیشن میں ھونا ہے تو آنٹی نے کہا تم بیڈ پے سیدھا لیٹ جاؤ میں اپنی پھدی تمھارے منہ پے رکھوں گی اور تمہیں نیچے سے سکنگ کرنی ہے جب تک میرا پانی نہیں نکل آتا . میں نے کہا ٹھیک ہے مجھے منظور ہے اور میں بیڈ پے لیٹ گیا اور آنٹی اوپر آ کر میرے منہ پے اپنی پھدی کو تھوڑا سا اٹھا کر رکھا اور مجھے سے بولی کا شی میری جان چلو شروع کرو میں نے پہلے آنٹی کی پھدی پے کس کی پِھر تھوڑی دیر باہر والی سائڈ کو چاٹآا ر ہا پِھر اپنے ھاتھوں سے آنٹی کی پھدی کو کھول کر اپنی زُبان اندر باہر کرنے لگا جب میں زُبان اندر باہر کر رہا تھا تو آنٹی اوپر نیچے ہو کر زُبان اندر باہر کروا رہی تھی اور اپنے منہ سے سیکسی سیکسی آوازیں نکال رہی تھی اور میں نیچے ان کو پھدی کی سکنگ کر رہا تھا پِھر میں اپنی زُبان کو آنٹی کی بُنڈ کے سوراخ سے لے کر پھدی تک چاٹ رہا تھا جب میری زُبان آنٹی کی بُنڈ کے سوراخ پے لگتی تھی ان کا پورا جسم کانپ جاتا تھا اور وہ لمبی سسکیاں لیتی تھی . مجھے سکنگ کرتے ہوئے کوئی 7 سے 8 منٹ ہو گئے تھے لیکن ابھی تک آنٹی کا پانی نہیں نکلا تھا مجھے لگتا تھا آنٹی کا سٹیمنا کافی اچھا ہے میں دوبارہ پِھر آنٹی کی پھدی میں اپنی زُبان سے چدائی کرنے لگا اور اِس دفعہ اپنی سپیڈ تیز کر دی اور کوئی 3 سے 4 منٹ کے اندر ہی آنٹی اونچی اونچی آوازیں نکال رہی تھی اور پِھر انہوں نے اپنا پانی چھوڑ دیا ان کا پانی کافی گرم تھا اور زیادہ نمکین بھی نہیں تھا پِھر آنٹی اوپر سے ہٹ گئی اور بیڈ پے لیٹ کر لمبی لمبی سانسیں لینے لگی اور میں وہاں سے اٹھ کر باتھ روم گیا اپنا منہ دھویا اور کلی کر کے واپس بیڈ پے آ کر لیٹ گیا . 
جب میں آنٹی کے ساتھ بیڈ پے آ کر لیٹ گیا تو آنٹی نے کہا کا شی آج مزہ آ گیا تم تو کمال کی پھدی کی سکنگ کر تے ہو اور جو تم نے میری بُنڈ کے سوراخ پے زُبان پھیری ہے اس نے تو مجھے پاگل کر دیا تھا میرے میاں سے مجھے اتنا مزہ کبھی نہیں آیا جتنا تمھارے ساتھ آیا ہے وہ پھدی کی سکنگ کے زیادہ شوقین نہیں ہے. میں نے کہا آنٹی آپ بھی بڑی کمال کی چیز ہو مجھے بھی آپ کے ساتھ مزہ آیا ہے اور آپ کی بُنڈ بھی بڑی نرم نرم ہے . آنٹی نے کہا مجھے ثمینہ نے بتایا تھا کے تمہیں بُنڈ میں ڈالنے کا بہت شوق ہے .کا شی ایسی کیا بات بُنڈ میں ہے. میں نے کہا آنٹی بُنڈ کا اپنا ہی مزہ ہے ایک تو بُنڈ کا سوراخ تھوڑا تنگ ہوتا ہے اور دوسرا اس میں لن پھنس پھنس کر جاتا ہے اور تنگ موری میں لن کو جب رگڑ لگتی ہے تو مزہ آ جاتا ہے . آنٹی نے کہا پہلے کس کی بُنڈ میں ڈالا ہے . میں نے سوچا چچی نے سائمہ آنٹی کو نورین اور عشرت آنٹی کا نہیں بتایا ہے اِس لیے مجھے بھی ان کو ابھی نہیں بتانا چاہیے. میں جب سوچ رہا تھا تو آنٹی نے کہا کیا سوچ رہے ہو میں نے کہا آنٹی جی میری قسمت اتنی اچھی کہاں ہے جو میں کسی کی بُنڈ یا پھدی مارتا میں نے تو ابھی تک چچی کی بھی پھدی یا بُنڈ نہیں ماری بس ان سے مٹھ ہی ماورائی ہے . میں تو پہلی دفعہ عورت کے ساتھ بھی آپ کے ساتھ ہی کر رہا ہوں . آنٹی نے کہا پِھر تمہیں بُنڈ میں ڈالنا اور پھدی کی سکنگ کا کیسا پتہ ہے . میں نے کہا آنٹی یہ کام تو میں نے سیکس والی فلم دیکھ دیکھ کر سیکھا ہے انٹرنیٹ پے بہت موویز ہیں وہاں سے دیکھ کر ہی یہ سب کچھ پتہ چلا ہے . آنٹی نے کہا واقعہ ہی تم میرے ساتھ پہلی دفعہ کر رہے ہو . میں نے کہا جی آنٹی جی بالکل پہلی دفعہ کر رہا ہوں آپ پہلی عورت ہو میری زندگی کی چچی نے تو مٹھ بھی بہت مشکل سے ماری تھی جب میں نے ان کو چودنے کا کہا تو منع کر دیا اور پِھر آپ کے لیے بھی بہت مشکل سے راضی ہوئی تھی وہ بھی اگر آپ کا راز یا ان کو میں نے شوکت انکل کے ساتھ نا دیکھا ہوتا . آنٹی کو میری بنائی ہوئی فلم پے یقین آ گیا تھا . آنٹی نے کہا ثمینہ بڑی کنجری ہے وہ اتنی آسانی سے کسی کے نیچے نہیں لیٹ جاتی پوری حرامن ہے . تمھارے نیچے بھی سوچ سمجھ کر ہی لییٹے گی . میں نے بھی کہا ہاں نا آنٹی مجھے پتہ ہے وہ آپ کے ساتھ کام کروا کے خود نہیں دے گی اور مجھے آپ کے ساتھ کروا کے بلیک میل کیا کرے گی . اور آپ تو بس پھدی میں ہی لے سکتی ہیں بُنڈ والی حسرت تو میری زندگی میں رہ ہی جائے گی . آنٹی نے میری طرف دیکھا اور پِھر کچھ دیر خاموشی سے سوچتی رہی پِھر کچھ دیر بَعْد بولی کا شی باہر آواز تو نہیں جاتی ہے . میں نے کہا آنٹی میں نے کھڑکی بند کر دی تھی .اب آواز باہر نہیں جا سکتی ہے . آنٹی نے کہا کا شی میں تمہاری بُنڈ والی حسرت پوری کر سکتی ہوں اگر تم کسی کو بھی نا بتاؤ اور نا ہی ثمینہ کو یہ بات پتہ چلے اگر یہ بات تمھارے اور میرے درمیان رہ سکتی ہے تو میں تمہاری بُنڈ والی حسرت پوری کروا سکتی ہوں . میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور آنٹی کا ہاتھ پکڑ کر کہا آنٹی آپ مجھ پر مکمل بھروسہ کر سکتی ہیں اِس کمرے میں جو بات ہو گی وہ یہاں ہی دفن ہو جائے گی آپ سے وعدہ کرتا ہوں آپ میری حسرت پورا کریں یہ بات کسی کی بھی پتہ نہیں چلے گی . 
آنٹی نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا پکا وعدہ ہے نا تمہارا . میں نے آنٹی کے ہاتھ پے کس کر کے کہا پکا وعدہ ہے . پِھر آنٹی نے کہا یہ تو تمہیں پتہ ہے میں تو بُنڈ میں نہیں لے سکتی لیکن تمہاری یہ حسرت پوری کروا سکتی ہوں . میں نے فوراً کہا کسی سے کروا سکتی ہیں . آنٹی نے کہا آرام سے آرام سے پِھر آنٹی میرے اور قریب بیٹھ گئی اور بولی کے تم میری بڑی بہن کو جانتے ہو نا . میں نے کہا آنٹی کیوں مذاق کر رہی ہیں میں آپ کے پورے خاندان کو جانتا ہوں وہ تو پِھر آپ کی بڑی بہن آسمہ آنٹی ہیں . لیکن آپ یہ کیوں پوچھ رہی ہیں . آنٹی نے کہا تمہیں تو پتہ ہے میری باجی کو آج سے 8 سال پہلے طلاق ہو چکی ہے اور وہ اس وقعت سے ہی اپنی بیٹی کے ساتھ اپنے گھر مطلب امی کے گھر میں ہی رہتی ہیں . میں نے کہا ہاں آنٹی مجھے آسمہ آنٹی کی طلاق کا بھی پتہ ہے اور ان کی بیٹی نازیہ کا بھی پتہ ہے. اور یہ بھی پتہ ہے کے آسمہ آنٹی طلاق کے بَعْد سے اب تک آپ کی امی کے پاس ہی رہ رہی ہیں . آنٹی نے کہا بس تو پِھر میں باجی سے تمہارا کام اور تمھاری ملاقات کروا دوں گی . تم اپنی حسرت بھی ان سے پوری کر لینا اور باجی کا بھی کام ہو جائے گا . میں آنٹی کی بات سن کا ہکا بقا ہو گیا تھا . آنٹی بھی میرا منہ دیکھ رہی تھی میں نے آنٹی سے کہا آنٹی یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں آپ ہوش میں تو ہیں . آنٹی نے نیچے ہاتھ کر کے میرا لن پکڑ لیا اور اس کو آہستہ آہستہ سہلانے لگی اور بولی ہاں کا شی میں ہوش میں ہی ہوں اور ٹھیک کہہ رہی ہوں . میں نے آنٹی سے کہا آنٹی آپ اپنی باجی کو کیسے راضی کریں گی اور کیا وہ میرے ساتھ کرنے کے لیے راضی ہو جائیں گی میری اور ان کی عمر میں کم سے کم 16 سے 17‬ سال کا فرق ہے . ان کی بیٹی کی عمر میرے خیال میں 21 یا22 سال ہے وہ مجھے سے 2 یا 3 سال چھوٹی ہے . میں ایک قسم کا آنٹی آسمہ کی بیٹی عمر کا ہوں. بھلا وہ میرے ساتھ کیسے راضی ہو جائے گی اور آپ کیسے اپنی باجی سے بات کریں گی وہ تو آپ کا بھی منہ توڑ کر رکھ دیں گی . میری بات سن کا آنٹی تھوڑا مسکرائی اور کہنے لگی کا شی یہ تمہاری پرا بلم نہیں ہے یہ میری ہے . تم کیوں فکر کر رہے ہو . میں سارا بندوبست کر کے ہی تمہیں وہاں لے کر جاؤں گی . میں نے کہا پِھر بھی آنٹی مجھے کچھ تو سمجھاؤ . آنٹی نے کہا دیکھو کا شی باجی اور میری عمر میں زیادہ فرق نہیں ہے م میری عمر 32 سال ہے اور ان کی 40 سال ہے اور میرے اور باجی کے آپس میں بہن کا رشتہ تو ہے ہی ہے لیکن ہم آپس میں بہت اچھی دوست بھی ہیں ہماری ایک دوسرے کی کوئی بھی عام اور خاص بات چھپی ہوئی نہیں ہے . ہم دونوں اپنا دکھ سکھ آپس میں شیئر کرتی رہتی ہیں . اور مجھے ان کی ساری باتیں اور ان کی ضروریات اور میری ساری باتیں اور ضروریات پتہ ہیں یہاں تک کے دونوں کی ازدواجی ضروریات کا بھی پتہ ہے . اِس لیے میری ان سے کھلی گپ شپ ہے اور میری شادی سے پہلے انہوں نے ہی مجھے اپنے میاں کو کیسے راضی اور خوش رکھنا ہے سب کچھ بتایا اور سکھایا بھی تھا . اور مجھے اپنی باجی کی طلاق سے پہلے بھی ان کے میاں کے ساتھ ساری عام اور خاص باتیں پتہ تھی اور باجی کو میری پتہ تھی . اور طلاق کے بَعْد سے باجی جب سے گھر واپس آ گئی ہیں بیچاری گھٹ گھٹ کر ہی زندگی گزر رہی ہیں . مرد کے بغیر عورت کا جینا بہت مشکل ہوتا ہے یہ باتیں تم نہیں سمجھ سکتے اور میں تو پِھر بھی شادی کے بَعْد سے اب تک اپنے میاں سے ہر سکھ اور مزہ لے رہی ہوں لیکن وہ تو بیچاری 8 سال سے اکیلی اپنے جذبات اور آگ کو اندر ہی اندر برداشت کر رہی ہے اور میں ان کے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی . کیونکہ میں نے ان کے لیے بہت دفعہ کوئی بھروسے والا اور پکا بندہ تلاش کرتی رہتی تھی خاندان میں بھی اور باہر بھی لیکن مجھے کوئی بھی خاص بھروسے والا اور پکا بندہ آج تک نہیں ملا اِس لیے میں ان کے لیے کچھ نا کر سکی لیکن اب تمہیں دیکھ کر اور آزما کر مجھے خوشی ہے کے میں اپنی باجی کے لیے بھی کچھ نا کچھ کر سکوں گی . اِس لیے تمہاری ان سےملاقات کراوںگی .تا کہ تم بھی اپنی حسرت پوری کر سکو اور ان کو بھی تھوڑا سا کچھ دن کا مزہ تو مل جائے گا . ا ب تم بتاؤ تم کیا کہتے ہو موڈ ہے . میں نے کہا آنٹی موڈ نہ بھی ہو لیکن اب آپ کے پیچھے اور آنٹی آسمہ کو خوش کرنے کے لیے ضرور کروں گا . لیکن یہ کام کب ہو گا اور کیسے ہو گا . کیونکہ آپ کی ا می کا گھر تو جہلم میں ہے یا وہ یہاں آپ کے سسرال میں کیسے آئیں گی اور میرے پاس صرف 1 ہفتہ باقی ہے میں نے اگلے ہفتہ کو واپس اسلام آباد جانا ہے . آنٹی نے کہا باجی یہاں نہیں آ سکتی ہیں اور نہ ہی یہاں آسانی سے یہ کام ہو سکتا ہے اِس کام کے لیے تمہیں میرے ساتھ جہلم چلنا ہو گا . اور 1 ہفتہ بہت ہے اگر تم تیار ہو تو ہم کل یا پرسو ں چلے جائیں گے اور وہاں 2 یا 3 دن رہ کر واپس آ جائیں گے اور ان 2 یا 3 دن میں تم باجی کے ساتھ کھل کر مزہ کر لینا اور میں بھی اور مزہ لے لوں گی . آنٹی کا پلان ہے بڑا زبردست تھا کیونکہ ان کے گھر میں بہت آسانی سے یہ کام ہو سکتا تھا کیونکہ ان کا ڈبل اسٹوری مکان تھا نیچے آنٹی کی امی اور ابو اور اوپر آنٹی آسمہ رہتی تھیں . اور آنٹی سائمہ کے ابو ریلوئے میں تھے اور ہفتہ میں زیادہ دن باہر ہی رہتے تھے کبھی لاہور کبھی کراچی کبھی پنڈی وغیرہ وغیرہ . کیونکہ وہ سپر وائزر تھے اور ٹرین کے ساتھ ساتھ جاتے تھے. آنٹی نے کہا کیا سوچ رہے ہو میں نے کہا آنٹی لیکن میں آپ کے ساتھ جاؤں گا کیسے وہ تو سمجھاؤ . تو آنٹی نے کہا میں آج گھر چلی جاؤں گی اور کل دن کو ثمینہ کو کال کروں گی کے مجھے اپنی ا می کے گھر سے کال آئی ہے کے ا می بیمار ہیں اِس لیے مجھے ان کا پتہ کرنے کے لیے جانا ہے اور گھر میں میرے ساتھ کوئی جانے والا نہیں ہے تم کا شی کو میرے ساتھ 2 یا 3 دن کے لیے بھیج دو . اور ثمینہ کو میں منا لوں گی اور کل ہی میں فون کر کے اپنی باجی سے بھی بات پکی کر لوں گی اور ان کو تمھارے لیے راضی کر لوں گی پِھر تم میری طرف آ جانا اور پِھر ہم یہاں سے ٹرین میں بیٹھ کر چلے جائیں گے . میں آنٹی کا پلان سن کا خوش ہو گیا اور ان کے مموں کو پکڑ کر سہلانے لگا اور بولا آنٹی جی مزہ آ گیا آپ کا پلان زبردست ہے میں تیار ہوں . پِھر آنٹی بھی خوش ہو گئی اور بولی اب تمہارا کام تو ہو گیا ہے .اور اپنی پھدی کی طرف اشارہ کر کے بولی یہ نیچے سے بار بار رَو رہی ہے اب اِس کا کچھ کرو . میں نے کہا کیوں نہیں آنٹی جی میں تو آپ کی خدمت کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے میرے لن کو تو آپ کی پھدی میں لینڈنگ کرنے کے لیے تیار کریں . تو آنٹی نے کہا بتاؤ مجھے کیا کَرنا ہے میں نے کہا آنٹی جی آپ میری ٹانگوں کے درمیان آ کر بیٹھ جاؤ اور میرے لن کو منہ میں ڈال کر تیار کرو پِھر میں نے بیڈ پے ہی اپنی ٹانگیں کھول دی اور آنٹی میری ٹانگوں کے درمیان آ کر گھوڑی والے سٹائل میں بیٹھ گئی اور پہلے میرے لن کی ٹوپی پے کس کرنے لگی پِھر کبھی لن پے اور کبھی ٹٹوں پے کرنے لگی اور کچھ دیر بَعْد ہی انہوں نے میری ٹوپی کو منہ میں لے لیا اور اس کو چاٹنے لگی کبھی ٹوپی کی موری پے زُبان کبھی پوری ٹوپی کے اوپر گول گول زُبان پھیر رہی تھیں . پِھر انہوں نے وہاں سے منہ ہٹایا اور میرے ٹٹوں کو منہ میں لے کر ان کا چوپا لگانے لگی اور کچھ دیر تک یہ ہی کرتی رہی پِھر انہوں نے دوبارہ میرے لن کو منہ مین لے لیا اور پورا لن منہ میں لے کر چوپا لگانے لگی آنٹی کے چوپے بڑے ہی جاندار تھے اور درمیان میں منہ کو آگے پیچھے بھی کر رہی تھی جیسے اپنے منہ کی چدائی کروا رہی ہوں . یہ سلسلہ کوئی 10منٹ تک چلتا رہا جب میرے لن پورا تن گیا اور لوہے کا راڈ بن گیا تو میں نے آنٹی کو روک دیا اور ان کو بیڈ پے سیدھا لیٹ جانے کا کہا اور خود ان کی ٹانگوں میں آ کر بیٹھ گیا اور ان کی دونوں ٹانگوں کو اپنے کاندھے پے رکھ لیا اور پہلے لن کی ٹوپی پھدی کے منہ پے رکھ کر ہلکا سا پُش کیا تو آنٹی کی منہ سے ایک لمبی سی سسکی نکل گئی . پِھر میں نے کچھ دیر رک کر آہستہ آہستہ اپنا لن اندر کرنے لگا اور جب آدھا لن اندر چلا گیا تو پِھر رک گیا اور اب کی بار میں نے ایک ہی جھٹکا مار کے پورا لن آنٹی کی پھدی میں گھسا دیا اور آنٹی کے منہ سے زوردار آواز آئی 
ہا اے امی جی میں مر گئی . پِھر میں پورا لن اندر کر کے ان کے اوپر لیٹ گیا آنٹی بولی کا شی تم کتنے ظالم ہو ایک ہی دفعہ میں اندر گھسا دیا ہے آرام سے نہیں کر سکتے تھے . میں نے کہا آنٹی جی معاف کر دو آئندہ ایسا نہیں کروں گا اور آنٹی کو آنکھ مار دی اور کہا آنٹی جی چدائی میں جب تھوڑا درد نا ملے تو مزہ نہیں آتا ہے . آنٹی بھی میری بات سن کر مسکرا دی . پِھر میں نے دوبارہ لن کو آہستہ آہستہ حرکت دی اور اندر باہر کرنے لگا شروع میں تو آہستہ آہستہ اندر باہر کر رہا تھا لیکن جب لن رواں ہو گیا تو پِھر تھوڑی سپیڈ تیز کر دی اور آنٹی بھی نیچے سے مستی میں آوازیں نکالرہی تھی . اوہ اوہ آہ آہ اوہ آہ . جب آنٹی کو بھی مزہ آنے لگا تو انہوں نے اپنی بُنڈ نیچے سے اٹھا اٹھا کر ساتھ دینا شروع کر دیا اور اپنی دونوں ٹانگوں کو میری کمر کے ارد گرد لپیٹ لیا میں بھی جوش میں آ گیا اور سپیڈ کو مزید تیز کر دیا اور دھکے پے دھکے لگانے لگا میں آنٹی کو مسلسل 5 سے 7 منٹ سے چود رہا تھا . پِھر اِس ہی پوزیشن میں میں تھوڑا تھک گیا تھا میں نے پوزیشن بدلنے کا سوچا اور آنٹی کو کہا آنٹی جی آپ گھوڑی بن جاؤ میں آپ کو پیچھے سے کرتا ہوں آنٹی میری بات سن کر میرا منہ دیکھنے لگی میں ان کا ری ایکشن دیکھ کر ہنس پڑا اور کہا آنٹی جی آپ کیوں ڈر رہی ہیں میں پیچھے بُنڈ میں نہیں ڈالوں گا گھوڑی سٹائل میں آپ کی پھدی ہی ماروں گا اور آپ کی مرضی کے بغیر میں کبھی بھی آپ کی بُنڈ کو نہیں ماروں گا . آنٹی کو میری بات سن کر حوصلہ ہوا اور وہ بیڈ پے ہی گھوڑی بن گئی اور میں پیچھے آ کرگھٹنوں کے بل ہو کر اپنا لن ان کی پھدی میں گھسا دیا اور دھکے پے دھکے لگانے لگا کمرے میں کی آوازیں گونج رہی تھیں اور آنٹی بھی منہ سے مستی بھری آوازیں نکال رہی تھیں . مجھے آنٹی کو چودتے ہوئے کوئی 10منٹ سے زیادہ ٹائم ہو گیا تھا لیکن ابھی تک آنٹی کا پانی نہیں نکلا تھا . میں نے سوچا میرا پانی بھی لگ بھاگ 15 منٹ تک نکل ہی آتا ہے اور اگر اس سے پہلے آنٹی کا پانی نا نکلا تو بڑی شرمندگی والی بات ہے میں آب بیڈ پے کھڑا ہو گیا اور کھڑا ہو کر جھک کر آنٹی کی پھدی میں لن ڈال دیا اور طوفانی جھٹکے لگانے لگا میری اِس پوزیشن سے لن سیدھا آنٹی کی بچہ دانی کو چھو رہا تھا اور ا ب آنٹی بھی نیچے سے اور گرم ہو چکی تھی اور لذّت اور گرمی میں سیکسی سیکسی آوازیں نکال رہی تھی). کا شی میرے جان ہولی کر میری پھدی وچ درد شروع ہو گیا اے( لیکن میں آنٹی کی کہاں سن رہا تھا میں تو دھکے پے دھکے ٹھوک رہا تھا اور مزید 3 سے 4 منٹ کے کے بَعْد آنٹی کی پھدی نے اندر سے ہی میرے لن کو جکڑنا شروع کر دیا تھا میں سمجھ گیا تھا آب آنٹی کا پانی نکلنے والا ہے میں نے بھی اپنی سپیڈ کم نا کی اورتیزی سے دھکے لگاتا رہا اور پِھر یکدم مجھے آنٹی کی آواز کانوں میں آئی ہا اے امی جی میں مر گئی اور اندر آنٹی نے میرے لن پے اپنا پانی چھوڑ دیا تھا . آنٹی کی گرم گرم منی نکلنے سے اندر کا کام بہت کیچ کیچ پچ پچ ہو گیا تھا. اور میں نے بھی اِس حالت میں اپنی منی کا لاوا آنٹی کی پھدی میں چھوڑ دیا اور آنٹی کے اوپر ہی گر گیا جب میری منی کا آخری قطرہ بھی نکل گیا تو اپنا لن باہر نکال کر آنٹی کے پہلو میں منہ کے بل ہی لیٹ گیا اور آنٹی بھی وہاں ہی منہ کے بل لیٹ گئی اور ہم اپنی اپنی سانسیں بَحال کرنے لگے جب ہماری سانسیں بَحال ہو گئی تو آنٹی بولی واہ کا شی میرے جانی آج تو تمھارے ساتھ سواد آ گیا ہے. حقیقت میں تمہاری چدائی میں عورت کا پانی نکل کر ہی رہتا ہے . میں نے کہا آنٹی جی بس آپ اِس طرح ہی ساتھ دو تو آپ کو ہمیشہ ایسے ہی خوش رکھوں گا . آنٹی نے کہا کیوں نہیں میری جان جب دِل کرے گا مزہ لوں گی بھی اور دوں گی بھی اب تو یہ چلتا ہی رہے گا. پِھر آنٹی نے کہا میں ثمینہ والے باتھ روم میں نہانے لگی ہوں اور تم بھی باہر جا کر دوسرے باتھ روم میں نہا لو اور ہمارے درمیان ہوئی کسی بات کا بھی ذکر سائمہ سے نہیں کَرنا . میں نے کہا آنٹی آپ بے فکر ہو جائیں اور پِھر آنٹی باتھ روم میں چلی گئی اور میں نے اپنی شلوار اور بنیان پہنی اور دروازہ کھول کر باہر نکلا جب باہر نکلا تو کچن کی طرف دیکھا تو چچی وہاں کچھ پکا رہی تھی . میں پِھر وہاں سے سیدھا باتھ روم میں جا کر گھس گیا اور نہانے لگا . جب نہا کر باہر نکلا اور دوبارہ اپنے کمرے میں جا کر ٹرا و زَر پہن لیا اور آ کر ٹی وی والے کمرے میں بیٹھ گیا لیکن آنٹی سائمہ ابھی بھی چچی کے کمرے میں ہی تھی تھوڑی دیر بَعْد چچی ٹی وی والے کمرے میں آ گئی اور آ کر میرے ساتھ بیٹھ گئی اور پوچھنے لگی سناؤ کا شی کیا حال ہے مزہ آیا کے نہیں ، میں نے نے کہا چچی جان یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے مزہ ایسا ویسا آیا کے بتا نہیں سکتا سچ میں آنٹی سائمہ بہت کمال کی چیز ہے . چچی نے کہا اور سناؤ زیادہ مسئلہ تو نہیں ہوا اس کو منانے میں ، میں نے نے کہا چچی تھوڑا ہوا تھا میں نے ان کومنالیا تھا اوراپنامرید بھی بنا لیا ہے اب آگے کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے . چچی نے کہا چلو اچھا ہوا تمہیں بھی نیا مال مل گیا اور سائمہ کی آگ بھی ٹھنڈی ہو گئی ہے . پِھر چچی نے کہا میں روٹیاں بنانے جا رہی ہوں تم اور سائمہ پہلے كھانا کھا لو پِھر تمہیں سائمہ کو اس کے گھر پے چھوڑنا ہے تم اس کو رکشے پے چھوڑ آنا اور اس پے ہی واپس آ جانا تمھارے چچا تو شام کو لیٹ آتے ہیں پِھر دیر ہو جائے گی . میں نے کہا کوئی مسئلہ نہیں ہے چچی میں چھوڑ آتا ہوں . اور پِھر چچی اٹھ کر چلی گئی. پِھر تھوڑی دیر بَعْد میں نے اور سائمہ آنٹی نے كھانا کھایا اور پِھر کھانے کے بَعْد ہم دونوں گھر سے نکل آئے راستے میں رکشہ لیا اور آنٹی سائمہ کے گھر کی طرف چلے گئے راستے میں آنٹی سائمہ نے کوئی بات نہیں کی جب ہم سائمہ آنٹی کے گھر پاس پہنچے تو میں نے کہا آنٹی جی میں اِس رکشے میں واپس چلا جاؤں گا تو آنٹی نے کہا اندر آؤ نا چائے نہیں پیو گے . میں نے کہا آنٹی پِھر کبھی پی لوں گا اب دیر ہو جائے گی . آنٹی نے کہا ٹھیک ہے لیکن تم اپنی تیاری رکھنا میں کل ثمینہ کو کال کروں گی . میں نے کہا آنٹی بے فکر ہو جائیں میں تیار ہی تیار ہوں اور پِھر میں اس ہی رکشے میں گھر واپس آ گیا . گھر آیا تو بچے آئے ہوئے تھے چچی نے پوچھا چھوڑ آئے ہو میں نے کہا جی چھوڑ آیا ہوں پِھر چچی اپنے کمرے میں چلی گئی میں ٹی وی والے کمرے میں آ کر صوفہ پے لیٹ گیا . پِھر وہ دن بھی معمول کے مطابق گزر گیا اور اگلی صبح میں اٹھ کر اپنی روٹین کے مطابق ٹی وی والے کمرے میں بیٹھ گیا لیکن آج مجھے انتظار تھا چچی کا کے ان کو سائمہ آنٹی کا فون آئے گا اور وہ پِھر مجھ سے بات کریں گی . انتظار بندے کو بے چین کر دیتا ہے کچھ یہ ہی حال میرا تھا ٹائم گزر ہی نہیں رہا تھا . لیکن پِھر تقریباً 12 بجے کا ٹائم ہو گا جب چچی کے کمرے میں رکھا ہوا ان کا موبائل پے کال آ گئی اور بیل بجنے لگی چچی کچن میں تھی جب انہوں نے اپنے موبائل کی گھنٹی کی آواز سنی تو کچن سے اپنے کمرے میں چلی گئی میں ٹی وی والے کمرے میں بیٹھ بس یہ ہی انتظار کر رہا تھا کے کب چچی آئے گی اور مجھ سے بات کرے گی . کوئی 15 سے 20 منٹ کے بَعْد چچی اپنے کمرے سے نکلی اور ٹی وی والے کمرے کے سامنے سے گزر کر کچن میں چلی گئی میں تھوڑا حیران ہو گیا چچی بات کرنے کے لیے میری طرف کیوں نہیں آئی مجھے غصہ بھی بہت آیا لیکن پِھر میں نے سوچا ہو سکتا ہے سائمہ آنٹی کی کال ہی نا ہو کسی اور نے کال کی ہو اور میں ایسے ہی فکر مند ہو رہا ہوں. تقریباً 1 بجے کا ٹائم ہو گا جب چچی کچن کا سارا کام ختم کر کے ٹی وی والے کمرے میں آگئی اور آ کر میرے ساتھ صوفہ پے بیٹھ گئی . اور پوچھنے لگی سناؤ کا شی کیا چل رہا ہے . میں نے کہا کچھ نہیں چچی بس ٹی وی دیکھ رہا ہوں . پِھر چچی نے کہا کا شی تم سے ایک کام تھا اگر تمہیں کوئی مسئلہ نہ ہو . میں نے کہا چچی آپ حکم کرو کیا کام ہے . چچی نے کہا ابھی تھوڑی دیر پہلے سائمہ کا فون آیا تھا وہ بتا رہی تھی اس کی ا می کافی بیمار ہیں اور وہ ان کا پتہ کرنے کے لیے اپنے گھر جانا چاہتی ہے لیکن وہ اکیلی تو جا نہیں سکتی اور گھر میں ایسا کوئی بندہ نہیں ہے جو اس کے ساتھ چلا جائے اور پِھر 2 یا 3 دن بَعْد اس کو لے کر واپس آ جائے . میں نے کہا چچی مجھے اِس میں کیا کام کَرنا ہے . تو چچی بولی دیکھو کا شی تم تو فارغ ہی ہو اور کوئی خاص کام بھی نہیں ہے اگر تم اس کے ساتھ چلے جاؤ اور 2 یا 3 دن میں واپس آ جانا سائمہ اپنی ا می سے بھی مل آئے گی نہیں تو اس کو لے کر جانے والا کوئی نہیں ہے . میں اندر سے تو بہت خوش تھا لیکن میں چچی کی شق نہیں ہونے دینا چاہتا تھا اِس لیے میں نے کہا لیکن چچی میں نے تو اگلے ہفتہ کو واپس جانا ہے . چچی نے کہا اگلے ہفتہ کو ابھی پورے 7 دن باقی ہیں اور تم نے تو صرف 2 یا 3 دن کے لیے جانا ہے . میں نے پِھر کہا چلو ٹھیک ہے آنٹی اگر 2 یا 3 دن کی بات ہے تو میں چلا جاتا ہوں لیکن جانا کب اور کیسے ہے . تو چچی بولی کل صبح ہی 7 بجے والی ٹرین میں جانا ہے تم صبح جلدی اٹھ کر میری ا می کے گھر چلے جانا اور پِھر سائمہ کو لے کر اسٹیشن پے ٹکٹس تو سائمہ کے ابو نے پہلے ہی بُک کروا دی ہیں اِس لیے کوئی مسئلہ نہیں ہو گا . میں نے کہا چچی ٹھیک ہے آپ سائمہ آنٹی کو بول دیں میں تیار ہوں میں کل 6 بجے ان کے گھر تیار ہو کرآجاؤں گا . چچی بھی میری بات سن کر خوش ہو گئی اور میرا شکریہ ادا کرنے لگی اور پِھر اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی . جب چچی چلی گئی میں اندر ہی اندر بہت خوش تھا مجھے ایک اور نئی پھدی اور بُنڈ مل رہی تھی . میں کافی عرصہ پہلے سائمہ آنٹی کے گھر جہلم گیا تھا اور میں سوچ رہا تھا پتہ نہیں اب آنٹی آسمہ کیسی ہوں گی اور میں کیسے ان کے ساتھ یہ کام کر پاؤں گا . پِھر وہ دن بھی رات تک معمول کے مطابق گزر گیا لیکن رات میں جلدی سو گیا کیونکہ مجھے صبح جلدی اٹھ کر تیار ہو کر سائمہ آنٹی کے گھر جانا تھا اور وہاں سے جہلم کے لیے نکلنا تھا میں صبح 5 بجے کا الارم موبائل پے لگا کر سویا تھا . صبح جب 5 بجے الارم بجا تو میں فوراً اٹھ گیا جب میں اٹھا تو ساتھ والی چار پائی دیکھی وہ خالی تھی چچی نہیں تھی خیر میں وہاں سے سیدھا نیچے آ کر باتھ روم میں گھس گیا اور نہانے لگا اور نہا کر اپنے کمرے میں آ گیا اور آ کر اپنے کپڑے بدلنے لگا کمرے میں میری ایک شلوار قمیض پہلے سے اِسْتْری ہوئی تھی میں حیران تھا یہ کس نے کر دی ہے خیر میں نے وہ پہنی اور ایک شلوار قمیض شاپر میں رکھ لی ساتھ لے کر جانے کے لیے . اور تیار ہو کر کمرے سے باہر نکلا تو چچی کچن میں میرے لیے ناشتہ لے کر ٹی وی والے کمرے میں رکھ رہی تھی میں ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا اور چچی بھی وہاں ہی ساتھ بیٹھ گئی اور میں ناشتہ کرنے لگا چچی نے کہا تم جلدی سو گئے تھے اپنے کپڑے بھی اِسْتْری نہیں کیے اِس لیے میں نے رات کو کر دیئے تھے میں نے چچی کا شکریہ ادا کیا پِھر ناشتہ کر کے اپنے موبائل پے دیکھا تو 6 بجنے میں 15 منٹ باقی تھے میں نے چچی کو کہا چچی میں جا رہا ہوں آپ اندر سے دروازہ بند کر لیں اور میں چچا کو رات کو بتا نہیں سکا اِس لیے آپ بتا دیں . چچی نے کہا ٹھیک ہے میں بتا دوں گی . پِھر میں گھر سے نکلا اور باہر آ کر رکشہ پکڑا اور سیدھا آنٹی سائمہ کے گھر کی نکل آیا میں 6 بج کر 15 منٹ پے آنٹی سائمہ کے گھر تھا آنٹی سائمہ بھی پہلے سے تیار تھی اور ان کی بچی بھی تیار تھی . پِھر میں اور آنٹی سائمہ اور ان کی بچی باہر نکل کر دوبارہ رکشہ کروایا اور اسٹیشن کی طرف نکل آئے. سٹیشن پہنچ کر سائمہ آنٹی نے کہا کا شی وہ سامنے ٹکٹس گھر میں رفیق چچا ہوں گے ان کو بتانا میں یاسین صاحب کے گھر سے آیا ہوں مجھے ٹکٹس دے دیں . میں وہاں بیگ رکھ کر ٹکٹس گھر کی طرف گیا اور وہاں جا کر پوچھا رفیق چچا کون ہیں ایک لگ بھاگ 55سال کا بندہ بولا میں ہی رفیق ہوں کیا کام ہے . میں نے کہا میں یاسین صاحب کے گھر سے آیا ہوں ٹکٹس چاہیے وہ بندہ فوراً اٹھ کر باہر آ گیا اور مجھے 2 ٹکٹس دیئے اور بولا بیٹا یاسین صاحب کی بیٹی کہاں ہیں میں نے کہا چچا وہ سامنے کھڑی ہیں وہ بندہ میرے ساتھ چل کر آنٹی سائمہ کے پاس آ گیا اور آ کر سلام کیا اور آنٹی کے سر پے ہاتھ پھیرا اور بولا بیٹی سناؤ کیسی ہو اِس دفعہ تو بہت عرصے کے بعد گھر جا رہی ہو . آنٹی نے کہا بس چچا یہ بھی اپنا گھر ہے گھر کی ذمہ داری اور بہت کام ہوتے ہیں اِس لیے ٹائم نہیں نکلتا . پِھر وہ بندہ ہمیں خود ٹرین میں بیٹھا کر اور تسلی کر کے پِھر سلام دعا کے بعد چلا گیا. ہم جب ٹرین میں اپنا سامان رکھ کر بیٹھ گئے تو میں نے آنٹی سائمہ سے پوچھا واہ آنٹی جی کیا بات ہے بڑا پرٹوکول ہے آپ کا تو آنٹی آگے سے ہنسنے لگی اور بولی بس کا شی یہ سب ابو کی مہربانی اور بدولت ہے . پِھر کچھ دیر بعد ٹرین بھی آہستہ آہستہ چل پڑی اور کچھ ہی دیر بعد ٹرین نے سپیڈ پکڑ لی آنٹی کی بچی آنٹی کی گود میں ہی سو رہی تھی اور آنٹی اس کو سلا رہی تھی میں کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا جب آنٹی کی بچی مکمل سو گئی تو آنٹی اس کو اٹھا کر اپنی لیفٹ سائڈ پے سیٹ کے اوپر لیٹا دیا اور پِھر رائٹ سائڈ پے کھڑکی میں دیکھنے لگی . میں نے کہا آنٹی جی ویسے کتنی دیر کا سفر جہلم کا ہے یہاں سے تو آنٹی نے کہا اگر ٹرین میں مسئلہ نہ ہو تو ہم تقریباً ساڑےگیا رہ بجے جہلم ہوں گے اور گھر تقریباً 12 بجے ہوں گے ٹوٹل تقریباً 5 گھنٹے لگ جاتے ہیں . مجھے پیشاب کی حاجت ہوئی میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی میں باتھ روم سے ہو کر آتا ہوں آنٹی نے کہا ٹھیک ہے. میں باتھ روم سے ہو کر دوبارہ اپنی سیٹ پے بیٹھ گیا اور جب واپس آیا تو آنٹی اپنی سیٹ پے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر کے آرام کر رہی تھی . میں نے بھی ان کو تنگ کَرنا مناسب نا سمجھا اور اپنے موبائل میں گانے لگا کر اور ہیڈ فون لگا کر سننے لگا آنٹی شاید سو گئی تھی اور میں بھی گانے سننے میں مشغول تھا اور ٹائم کا پتہ ہی نا چلا اور تقریباً10 بج چکے تھے اور ٹرین راستے میں 3 سے 4 جگہ پے رکی بھی تھی پِھر میں نے دیکھا تو آنٹی نے حرکت کی اور اپنی آنکھیں کھول لیں اور آنکھیں کھول کر مجھے دیکھا اور پوچھا ٹائم کیا ہو گیا ہے میں نے کہا آنٹی جی10 بج گئے ہیں . آنٹی نے کہا کافی ٹائم ہو گیا ہے مجھے پتہ ہی نہیں چلا میں نے آنٹی سے پوچھا آنٹی جی خیریت ہے لگتا ہے آپ رات کو سوئی نہیں ہیں . آنٹی نے میری طرف دیکھا اور پِھر تھوڑا شرما کر اور مسکرا کر باہر کھڑکی کی طرف دیکھنے لگی . میں حیران ہوا آنٹی میری بات پے شرما اور مسکرا کیوں رہی ہیں . ہماری والی بر تھ میں کوئی اور بندہ نہیں تھا وہ خالی تھی . میں آنٹی کے اور قریب ہوا اور ان سے پوچھا آنٹی خیر ہے نا آپ میری بات پے شرما اور مسکرا کیوں رہی ہیں . آنٹی نے میری طرف دیکھا اور بولی کچھ نہیں اور پِھر شرما گئی . مجھے شق ہو گیا تھا ضرور کوئی بات ہے میں نے کہا آنٹی جی اب ہم اتنے پرائے ہو گئے ہیں کے ایک دن میں آپ سے بات بھی نہیں بتا رہی ہیں . تو آنٹی نے کہا نہیں کا شی میری جان ایسی بات نہیں ہے . اصل میں میں رات کو ٹھیک طرح سے سو نہیں سکی مجھے نیند بھی 2 بجے کے بَعْد آئی اور صبح 5 بجے اٹھ گئی اور تیاری کرنے لگی . میں نے کہا آنٹی جی اِس میں شرمانے کیا بات ہے یہ تو عام سی بات ہے . تو آنٹی نے کہا اصل میں کا شی رات کو میں 12 بجے تک اپنا اور چھوٹی کا بیگ تیار کر کے اپنے کمرے میں لیٹ گئی تھی لیکن پِھر وہ ہی ہوا جس کا ڈ ر تھا نعیم بھائی میرے کمرے میں آ گئے اور مجھے تنگ کرنے لگے اور کہنے لگے سائمہ تم تو جا رہی ہو میرا کیا بنے گا میں اتنے دن کیسے تمھارے بنا رہوں گا . بس پِھر انہوں نے مجھے 1 گھنٹہ تنگ کیا اور 2 دفعہ اپنے لن کا چوپا لگوایا اور 2 دفعہ پانی چھوڑ کر چلے گئے اِس لیے مجھے اِس کام کی وجہ سے 2 بج گئے اور میں لیٹ سوئی تھی. میں نے کہا اچھا تو یہ بات تھی . پِھر میں نے کہا آنٹی جی پتہ نہیں کیوں نعیم انکل آپ کے پیچھے کیوں پڑے ہیں ان کی اپنی اتنی مست اور سیکسی بِیوِی ہے اور اگر ان کی بِیوِی ان کو گھاس نہیں ڈالتی تو یہ ان کی ناکامی ہے کیونکہ مرد کو اپنی بِیوِی کی خود کنٹرول میں رکھنا چاہیےانکل تو بہت ہی ڈرپوک ہیں اور دوسرے کے مال پے شیر بن جاتے ہیں . آنٹی میری بات سن کر ہنسنے لگی اور بولی ٹھیک کہہ رہے ہو تم کا شی نعیم بھائی بالکل ایسے ہی ہیں . چھوڑو ان کو اپنی کوئی بات کرتے ہیں . میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی اگلا پروگرام کیا ہے آپ نے آنٹی آسمہ سے بات کر لی ہے نا . آنٹی نے کہا پروگرام فٹ ہے میں نے کل ثمینہ کو کال کرنے سے پہلے اپنی باجی کو کال کی تھی پورے 2 گھنٹے ان سے بات ہوئی ہے ان کو میں نے پوری کہانی اپنی تمہاری اور ثمینہ کی سنا دی ہے اور ان کو تمھارے لیے اعتماد میں لینے کی پوری کوشش کی ہے تم فکر نہ کرو کام ہو جائے گا . میں آنٹی کی بات سن کر حیران ہو گیا کے ہم جہلم پہنچنے والے ہیں اور ابھی تک آنٹی نے اپنی باجی کو مکمل تیار نہیں کیا ہے . میں نے کہا آنٹی جی آپ کا کیا مطلب ہے ابھی تک آپ نے ان کے ساتھ پکا کوئی پروگرام نہیں بنا یا ہے . آنٹی نے کہا کا شی میرے جانی تم کیوں فکر کر رہے ہو میں ہوں نا جب یہاں تک لے آئی ہوں تو تمہارا اگلا کام بھی کروا کے دوں گی تمہیں مجھ پے بھروسہ نہیں ہے ہے کیا ؟ میں آنٹی کی بات سن کر خاموش ہو گیا اور پِھر تھوڑی دیر بَعْد بولا ٹھیک ہے آنٹی جی کوئی بات نہیں مجھے آپ پے پورا بھروسہ ہے. اور پِھر یوں ہی ادھر اُدھر کی باتوں میں ٹائم گزر گیا اور ہم آنٹی کی ا می کے شہر جہلم میں داخل ہو گئے . اور پِھر تقریباً 11بج کر 40 منٹ پے ہم جہلم پہنچ گئے اور وہاں پہنچ کر میں نے آنٹی کا بیگ اٹھا لیا اور آنٹی نے اپنی بچی کو اٹھا لیا اسٹیشن سے نکل کر ہم نے رکشے میں بیٹھ کر آنٹی کی ا می کے گھر کی طرف نکل آئے . ہم تقریباً آدھے گھنٹے میں آنٹی سائمہ کی ا می کی گلی میں ان کے گھر کے دروازے پے کھڑے تھے میں نے رکشہ والے کو پیسے دیئے اور پِھر آنٹی نے اپنی ا می کے گھر کی گھنٹی بجائی تو کچھ دیر بَعْد دروازہ کھل گیا اور جس نے دروازہ کھولا اس کو دیکھ کر میرے ہوش ہی اڑ گئے کیونکہ وہ آسمہ آنٹی کی بیٹی نازیہ تھی وہ ایک خوبصورت کلی بن چکی تھی اس کا جسم بھی کافی بل کھاتا ہوں اور سیکسی ہو گیا تھا . اس نے سائمہ آنٹی کو دیکھا تو خوشی سے بولی سلام خالہ جان اور ان کے گلے لگ کر پیار کرنے لگی پِھر میری طرف نظر پڑی تو مجھے تھوڑا سا شرما کر سلام کیا میں نے بھی سلام کا جواب دیا اور پِھر ہم گھر کے اندر داخل ہو گئے . ہم اندر داخل ہو کر ٹی وی لاؤنج میں آ گئے وہاں پے سامان رکھا اور آنٹی نے اپنی بچی کی نازیہ کو پکڑا دیا اور اور میں اور آنٹی ان کی امی کے بیڈروم میں آ گے وہاں ان کی ا می بیڈ پے ٹیک لگا کر بیٹھی ہوئی تھیں آنٹی نے آگے ہو کر اپنی ا می کو سلام کیا اور گلے لگا لیا اور ان کو منہ پے ماتھے پے پیار کرنے لگی ان کی امی بھی ان کو پیار کر رہی تھی . پِھر میرے پے نظر پڑی تو میں نے آگے ہو کر ان کو سلام کیا اور تھوڑا سا آگے جھک گیا انہوں نے میرے سر پے ہاتھ پھیرا اور مجھے خوشی سے دعا دی . پِھر ہم وہاں ہی بیٹھ گئے تھوڑی دیر بَعْد نازیہ ہمارے لیے ٹھنڈا شربت بنا کر لے آئی . ہم نے شربت پیا اور پِھر آنٹی اپنی امی سے باتیں کرنے لگی آنٹی کی امی نے مجھ سے میرے گھر میں سب کا حال حوال پوچھا اور پِھر ہمیں باتیں کرتے ہوئے کافی دیر ہو گئی تھی لیکن ابھی تک آنٹی آسمہ نظر نہیں آ رہی تھیں . آنٹی سائمہ نے نازیہ سے پوچھا نازی بیٹا باجی کہاں ہیں وہ نظر نہیں آ رہی تو نازیہ نے کہا خالہ جان آپ کو تو پتہ ہے ان کی عادت کا وہ اسکول گئی ہوئی ہیں. 2 بجے تک واپس آ جائیں گی آج کہہ رہی تھیں کے سائمہ آ رہی ہے میں 3 دن کی چھٹی لے لوں گی. آسمہ آنٹی سرکاری ملازم تھیں وہ پنجاب گورنمنٹ ہائی اسکول کی ٹیچر تھیں . میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی مجھے واش روم جانا ہے تو آنٹی نے نازیہ کو کہا کے نازی بیٹا کا شی کو واش روم دیکھا دو. نازیہ نے کہا جی خالہ جان اور مجھے اپنے ساتھ آنے کا کہا اور میں اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا جب میں اس کے پیچھے جا رہا تھا میں نے اس کی گانڈ پے غور کیا وہ بڑے ہی مست انداز میں گول گول مٹک رہی تھی جیسے کسی شادی شدہ عورت کی ہوتی ہے میرا دیکھا کر لن کھڑا ہونے لگا میں نے فوراً اپنے آپ پر قابو کیا اور پِھر اس نے مجھے واش روم دکھایا اور وہ پِھر چلی گئی میں واش روم میں گھس گیا اور کپڑے نکال کر نہانے لگا. اچھی طرح نہا دھو کر کپڑے پہن کر باہر نکل آیا اور آ کر ٹی وی لاؤنج میں صوفہ پے بیٹھ گیا کچھ دیر بَعْد آنٹی اور نازیہ بھی وہاں آ گئی آنٹی نے پوچھا نازی بیٹا کھانے کا کیا پروگرام ہے نازیہ نے کہا خالہ جان چکن تو پك گیا ہے چاول چولھے کے اوپر پك رہے ہیں تھوڑی دیر بَعْد وہ بھی تیار ہو جائیں گے اور ا می بھی اسکول سے آ جائیں گی پِھر سب مل کر كھانا کھاتے ہیں . آنٹی نے کہا چلو کچن میں چلتے ہیں سلاد رائتہ وغیرہ تیار کرتے ہیں پِھر كھانا لگا دیں گے اور وہ دونوں کچن میں چلی گیں. اور میں نے ریموٹ سے ٹی وی آن کر دیا اور ٹی وی دیکھنے لگا . تقریبا آدھے گھنٹے بَعْد باہر دروازے پے گھنٹی بجی میں نے دیکھا نازیہ کچن سے نکل کر باہر دروازے کی طرف چلی گئی اور آنٹی بھی کچن سے باہر آ گئی اور کچھ دیر بَعْد آنٹی آسمہ ٹی وی لاؤنج میں آ گئی سائمہ آنٹی ان کو دیکھ کر سلام کیا اور ان کے گلے لگ گئی دونوں بہن بڑی خوش دلی کے ساتھ ایک دوسرے کو ملیں . لیکن میں صوفہ پے بیٹھا حیرت کا مجسمہ بنا ہوا تھا کیونکہ میں آسمہ آنٹی کو دیکھ کر دنگ رہ گیا تھا وہ بہت زیادہ بَدَل چکی تھیں میں ان کو تقریبا 5 یا 6 سال بَعْد دیکھ رہا تھا . وہ کافی نکھر چکی تھیں اور ان کا جسم ایک دم کسا ہوا اور بل کھاتا جسم تھا اور ان کے ممے اور گانڈ ان کی کمر کی حساب سے کافی باہر کو نکلے ہوئے تھے . آپ یوں سمجھ لیں ان کا پورے کا پوراجسم سٹیج اَداکارَہ سائمہ خان کی طرح تھا. میں حیرت سے تب باہر نکلا جب سائمہ آنٹی اور آسمہ آنٹی سامنے صوفہ پے آ کر بیٹھی اور سائمہ آنٹی کی آواز میرے کانوں میں آئی کا شی میں چونک گیا تو سائمہ آنٹی نے پوچھا کیا ہوا کا شی بیٹا . میں تھوڑا شرمندہ ہو گیا اور آسمہ آنٹی کو سلام کیا تو انہوں نے مجھے اچھے طریقے سے جواب دیا لیکن میں ان سے مکمل نظریں نہ ملا سکا اور ان کا بھی یہ ہی حال تھا . پِھر دونوں بہن مل کر باتیں کرنے لگی اور کچھ دیر بعد ہی آسمہ آنٹی نے کہا نازی چلو بیٹا كھانا لگاؤ سب کو بھوک لگی ہو گی . نازیہ نے کہا جی ا می سب کچھ تیار ہے میں ابھی لگا دیتی ہوں اور وہ کچن میں چلی گئی. پِھر کچھ دیر بَعْد كھانا لگ گیا آنٹی کی ا می نیچے نہیں بیٹھ سکتی تھیں اِس لیے ان کو بیڈ پے ہی كھانا دے دیا اور باقی سب نیچے بیٹھ کر كھانا کھانے لگے . كھانا کھا کر میں دوبارہ اٹھ کر ٹی وی لاؤنج میں بیٹھ گیا اور نازیہ اور سائمہ آنٹی برتن اٹھانے لگے . تھوڑی دیر بَعْد سائمہ آنٹی ٹی وی لاؤنج میں آ گئی تو میں ان سے کہا آنٹی میں تھوڑا تھک گیا ہوں سفر کی وجہ سے تھوڑا آرام کَرنا چاہتا ہوں . تو آنٹی سائمہ نے اپنی باجی کو آواز دی جو کے اپنی ا می کے کمرے میں بیٹھی تھیں وہ بھی اٹھ کر ٹی وی لاؤنج میں آ گئی اور سائمہ آنٹی سے پوچھا کیا بات ہے . سائمہ آنٹی نے کہا باجی کا شی سفر کی وجہ سے تھوڑا تھک گیا ہے آرام کَرنا چاہتا ہے اِس کو ایک ہی دفعہ کوئی کمرہ دے دو تا کہ جب تک ہم یہاں ہیں وہ وہاں سو جایا کرے گا . تو آسمہ آنٹی نے کہا سائمہ اِس کو اوپر والی اسٹوری پے ڈرائنگ روم کے ساتھ والا کمرے میں لے جاؤ وہاں ہی سو جایا کرے گا کیونکہ جب سے ا می کی طبیعت خراب رہنے لگی ہےزیادہ تر نازی نیچے ہی امی کے کمرے میں سوتی ہے . اِس لیے اس کا اوپر کمرہ خالی رہتا ہے وہ کا شی کو دے دو . سائمہ آنٹی نے کہا ٹھیک ہے باجی . اور مجھے لے کر اوپر چلی گئی اور مجھے کمرہ دیکھا دیا وہ کمرہ بہت اچھا سیٹ ہوا تھا سنگل بیڈ لگا ہوا تھا اور اس میں ایک کمپیوٹر ٹیبل اور اس پے کمپیوٹر پڑا ہوا تھا مجھے لگتا تھا شاید وہ نازیہ استعمال کرتی تھی . پِھر آنٹی نے کہا کا شی تم یہاں ہی 2 یا 3 دن رہو گے کمرہ ٹھیک ہے نہ میں نے کہا جی آنٹی جی ٹھیک ہے پِھر وہ چلی گئی . نیچے کی سٹوری میں ایک بیڈروم تھا کیونکہ وہاں ڈرائنگ روم اور بیڈروم کے درمیان میں ٹی وی لاؤنج بنا ہوا تھا لیکن اوپر 2 بیڈ روم بنے ہوئے تھے ڈرائنگ روم کے ساتھ ٹی وی لاؤنج نہیں بلکہ نازیہ کا بیڈروم بنا تھا اور اس کے ساتھ شاید آسمہ آنٹی کا اپنا بیڈروم تھا. میں پِھر بیڈ پے لیٹ گیا اور پتہ ہی نہیں چلا تھکن کی وجہ سے نیند آ گئی اور سو گیا کوئی 5 بجے ٹائم تھا جب مجھے کوئی جگارہا تھا میں کروٹ لے کر اٹھا تو دیکھا نازیہ مجھے اٹھا رہی تھی میں جب اٹھ گیا تو اس نے کہا آپ نیچے آ جائیں چائے تیار ہیں سب آپ کا انتظار کر رہے ہیں . میں نے کہا ٹھیک ہے میں منہ ہاتھ دھو کر آتا ہوں. اس نے کہا ڈرائنگ روم کے ساتھ بھی اٹیچ باتھ روم ہے اورامی کے بیڈ کے ساتھ بھی ہے جس میں مرضی ہے چلے جائیں . اور یہ کہہ کر وہ چلی گئی . میں بیڈ سے اٹھا اور کمرے سے باہر نکلا اور آنٹی کے بیڈروم کے اندر چلا گیا آسمہ آنٹی کا بیڈروم بھی کافی زبردست بنا ہوا تھا ڈبل بیڈ لگا ہوا تھا ڈریسنگ ٹیبل اور ساتھ میں صوفہ بھی لگا ہوا تھا . میں ان کے بیڈروم کے اٹیچ باتھ روم میں گھس گیا اور نہانے لگا آسمہ آنٹی کا باتھ روم بھی صاف اور کافی بڑا بنا ہوا تھا . میں نہا کر باہر نکل آیا اور نیچے ٹی وی لاؤنج میں چلا گیا سب وہاں بیٹھے چائے پی رہے تھے میں بھی چائے پینے لگا اور ساتھ ٹی وی دیکھنے لگا اور سائمہ آنٹی اپنی باجی سے باتیں کر رہی تھی اور نازیہ سائمہ آنٹی کی بچی کے ساتھ کھیل رہی تھی . جب میں ٹی وی دیکھ رہا تھا تو یکدم میری نظر آسمہ آنٹی کے نیچے پڑی میں دھنگ رہ گیا انہوں نےصوفے پے بیٹھ کر ایک ٹانگ کو اٹھا کر دوسری ٹانگ پے رکھ کر زَرا سا اپنا جسم موڑ کر سائمہ آنٹی سے بات کر رہی تھی لیکن نیچے جو سین بنا ہوا تھا وہ بڑا ہی دلکش تھا ان کی موٹی تازی باہر کو نکلی ہوئی گانڈ کا ایک حصہ صاف عیاں تھا اور یہ دیکھ کر میر ے منہ میں پانی آ گیا تھا اور لن نیچے شلوار کے اندر جھٹکے کھا رہا تھا میں نے اپنی ٹانگوں کو جوڑ کر اپنے لن کو نیچے دبانے لگا مجھے پتہ ہی نہ چلا سائمہ آنٹی مجھے کب سے دیکھ رہی تھی میری جب اس سے نظر ملی تو مجھے بڑی ہی قاتلا نہ مسکان دی میں بھی آگے سے مسکرا دیا. پِھر وہاں پے بیٹھے بیٹھے کافی دیر ہو گئی تھی درمیان میں آسماں آنٹی نے مجھ سے میری پڑھائی اور میرے گھر کے سب لوگوں کے بارے میں بھی پوچھا میں ان کو نارمل جواب دیتا رہا . پِھر وہاں بیٹھے بیٹھے ہی 7 بج چکے تھے . پِھر آسمہ آنٹی نے نازیہ سے کہا نازی بیٹا رات کے کھانے کی تیاری کرو اور سائمہ آنٹی سے بولی سائمہ میں ذرا اوپر جا رہی ہوں مجھے سکول کا کچھ کام باقی رہ گیا تھا وہ ختم کرنا ہے ہے پِھر میں 3 دن فارغ ہوں اس کے بَعْد مل بیٹھ کر کھلی گپ شپ لگائیں گے . سائمہ آنٹی نے کہا ٹھیک ہے باجی آپ اپنا کام کر لو میں نازی کے ساتھ کچن میں اس کی کچھ مدد کر دوں اور پِھر آسمہ آنٹی اٹھ کر اوپر چلی گئی اور سائمہ آنٹی اور نازیہ کچن میں چلی گئی جاتے ہوئے سائمہ آنٹی نے کہا کا شی بیٹا تم ذرا چھوٹی کے ساتھ کھیلو میں تھوڑا کچن کا کام کروا کے آتی ہوں . میں نے کہا ٹھیک آنٹی جی آپ جائیں کوئی مسئلہ نہیں ہے . اور پِھر میں آنٹی کی بیٹی کے ساتھ کھیلنے لگا کھیلتے کھیلتے پتہ ہی نہ چلا 1 گھنٹہ گزر گیا اور سائمہ آنٹی دوبارہ ٹی وی لاؤنج میں آئی اور مجھے سے چھوٹی کو لے لیا .اور صوفے پے میرے ساتھ بیٹھ گئی نازیہ ابھی بھی کچن میں تھی . آنٹی نے آہستہ آواز میں مجھے کہا کیوں کا شی میرے جانی تمہارا تو باجی کو دیکھ کر یہ حال ہے تو آگے کیا ہو گا . میں نے بھی آہستہ آواز میں کہا آنٹی جی یقین کرو آپ کی باجی بہت کی کمال کی چیز ہیں میں نے ان کو جب سے دیکھا ہے تو نہ پوچھو نیچے لن کا کیا حال ہے . میں نے کہا آنٹی جی کچھ بھی کر کے جلدی سے آسمہ آنٹی کو منا لو مجھ سے اب کنٹرول نہیں ہوتا ہے . آنٹی میری طرف دیکھ کر اور بولی آرام سے بیٹا آرام سے گرم گرم کھانے سے منہ جل جاتا ہے ٹھنڈا کر کے کھاؤ گے تو خوب مزہ لو گے . اور فکر نہ کرو آج رات کو میں نے باجی کو منا لینا ہے اور ہو سکتا ہے آج رات کو ہی تمہارا کام کروا دو ںگی یا کل تو لازمی کروا دوں گی .پِھر نازیہ بھی ٹی وی لاؤنج میں آ گئی اور آ کر صوفے پے بیٹھ گئی آنٹی سائمہ اب خاموش ہو گئی تھی نازیہ نے سائمہ آنٹی سے کہا خالہ جان میں نے ا می کو بہت دفعہ کہا ہے اب کچن میں ا ےسی لگوا دیں اتنی گرمی میں کام نہیں ہوتا ہے لیکن ا می سنتی ہی نہیں ہیں . سائمہ آنٹی نازیہ کی بات سن کر ہنسنے لگی اور بولی نازی بیٹا گرمی کی عادت اچھی رہتی ہے کیا پتہ تمہاری جہاں شادی ہو کر جائے وہاں وہ ا ےسی نہ لگوا سکتے ہوں پِھر کیا کرو گی . نازیہ آنٹی کی بات سن کر چیڑگئی اور بولی خالہ جان آپ بھی ا می کی طرح شروع ہو گئی ہیں . اور سائمہ آنٹی بھی کھل کھلا کر ہنسنے لگی میں بھی سن کر مسکرا نے لگا مجھے دیکھ کر نازیہ شرما گئی اور غصے سے اٹھ کر اپنی نانی کی کمرے میں چلی گئی. مجھے لگا شاید میرا مسکرانا اس کو اچھا نہیں لگا وہ زیادہ غصہ کر گئی ہے . مجھے تھوڑا دکھ بھی ہوا کیونکہ میری اس پے بھی نیت خراب ہو چکی تھی وہ جسم کے لحاظ سے اپنی ا می کی کاپی تھی .اس کے جسم نے بھی مجھے سوچنے پے مجبور کر دیا تھا لیکن میں نازیہ سے پہلے زیادہ اس کی ا می کا اکاؤنٹ کھولنے میں دلچسپی لے رہا تھا . یوں خاموش بیٹھ کر سوچتے ہوئے سائمہ آنٹی نے میری طرف دیکھا تو پوچھا کا شی خیر ہے نا کیا سوچ رہے ہو . میں نے کہا کچھ نہیں آنٹی جی کچھ نہیں سوچ رہا . پِھر میں ٹی وی دیکھنے لگا تقریباً 9 بجے کے قریب سائمہ آنٹی نے نازیہ کو آواز دی نازی بیٹا ذرا یہاں آؤ نازیہ اپنی نانی کے کمرے سے ٹی وی لاؤنج میں آئی تو آنٹی سائمہ نے کہا نازی بیٹا میں مذاق کر رہی تھی مجھے معاف کر دو . نازیہ نے فوراً سائمہ آنٹی کے گلے میں ہاتھ ڈال کر ان کا ماتھا چُوما اور بولی خالہ جان آپ کیسی بات کر رہی ہیں مجھے پتہ ہے ا می بھی اور آپ مجھ تنگ کرنے کے لیے مذاق کرتی ہیں . مجھے کبھی بھی برا نہیں لگا . پِھر آنٹی نے کہا بیٹا جاؤ اندر جا کر چولھا بند کر دو اور اوپر جا کر اپنی امی کو بلا لاؤ پِھر خانہ کھاتے ہیں . نازیہ نے کہا ٹھیک ہے خالہ جان اور اٹھ کر پہلے کچن میں گئی اور پِھر اوپر اپنی امی کوبلانے چلی گئی . تھوڑی دیر بعد نیچے آئی اور بولی خالہ جان
ا می آ رہی ہیں میں كھانا لگاتی ہوں پِھر سائمہ آنٹی بھی اٹھ کر کچن میں چلی گئی اور انہوں نے كھانا لگا دیا اور اوپر سے آسمہ آنٹی بھی نیچے آ گئی اور سب مل کر كھانا کھانے لگے. كھانا کھانے کے بَعْد میں واش روم میں چلا گیا وہاں سے فارغ ہو کر ٹی وی لاؤنج میں آ کر ٹی وی دیکھنے لگا نازیہ اور سائمہ آنٹی برتن کچن میں رکھ چکی تھیں نازیہ کچن میں برتن دھو رہی تھی اور نازیہ آنٹی اور سائمہ آنٹی اپنی ا می کے کمرے میں ہی بیٹھ کر آپس میں باتیں کر رہی تھیں . میں باہر ٹی وی دیکھ رہا تھا تھوڑی دیر بَعْد سائمہ آنٹی اور ان کی بہن کمرے کی لائٹ آف کر کے باہر آ گئے اور آنٹی سائمہ اور ان کی بہن وہاں میں آپس میں باتیں کر رہی تھیں نازیہ بھی وہاں آ کر چھوٹی کے ساتھ کھیل رہی تھی میں ٹی وی دیکھنے میں ہی مشغول تھا پِھر میری نظر گھڑی پے گئی تو11 بج چکے تھے اور سائمہ آنٹی کی بیٹی نازیہ کی گود میں سو چکی تھی اور نازیہ اپنے موبائل پے شاید کوئی گیم یا کچھ اور کر رہی تھی . اور سائمہ آنٹی اور ان کی بہن باتیں کر رہی تھیں . مجھے نیند بھی آ رہی تھی پِھر سائمہ آنٹی نے کہا باجی رات کافی ہو گئی ہے آؤ اوپر چلتے ہیں آپ کے کمرے میں باقی باتیں کر لیں گے کا شی بھی تھک گیا ہو گا یہ بھی سو جائے گا . سائمہ آنٹی نے نازیہ سے کہا نازی بیٹا چھوٹی کو مجھے دے دو . پِھر آسمہ آنٹی نے کہا نازی بیٹا تم چھوٹی کو خالہ کو دے دو اور ہم بھی اوپر اپنے کمرے میں جا رہے ہیں تم بھی جا کر سو جاؤ . نازیہ نے کہا جی ا می ٹھیک ہے اور چھوٹی کو آنٹی سائمہ کو دے دیا اور خود اپنی نانی کے کمرے میں چلی گئی میں نے ٹی وی بند کیا اور اوپر اس کمرے میں آ گیا تھوڑی دیر بَعْد سائمہ آنٹی اور ان کی بہن بھی اوپر آ گئی . مجھے ان کا دروازہ بند ہونے کی آواز آئی . میں بیڈ پے لیٹ گیا اور سوچنے لگا ہو سکتا ہے اب سائمہ آنٹی اکیلے میں آسمہ آنٹی سے بات کرے گی اور اگر ان کو منا لیا تو شاید آج ہی کام ہو جائے نہیں تو کل ہی ہو گا میں بس ان ہی سوچوں میں گم تھاکے مجھے نیند آ گئی اور میں سو گیا . رات کا تقریباً 1 بجے کا ٹائم ہو گا جب میری پیاس کی وجہ سے آنکھ کھل گئی اور میں بیڈ پے اٹھ کر بیٹھ گیا یہاں وہاں دیکھا پانی کا جگ نہیں تھا میں بیڈ سے اٹھا اور کمرے کا دروازہ کھول کر باہر لیفٹ سائڈ پے جو آسمہ آنٹی کا بیڈروم تھا اس کے سامنے چھوٹا سا کچن بنا ہوا تھا اس میں پانی کا کولر پڑا ہوا تھا میں وہاں کچن میں گیا لائٹ آن کر کے گلاس میں پانی پیا اور لائٹ آف کر کے واپس اپنے کمرے میں جانے لگا تو مجھے آسمہ آنٹی کے کمرے کے دروازے کے نیچے ہلکی ہلکی روشنی آتی ہوئی نظر آئی . میں تھوڑا حیران ہوا یہ لوگ ابھی تک جاگ رہے ہیں . پِھر یکدم میرے دماغ میں خیال آیا ہو سکتا ہے سائمہ آنٹی آسمہ آنٹی کو میرے لیے راضی کر رہی ہوں . بس یہ ہی سوچتے ہوئے میں آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا دروازے کے پاس آیا دروازے کے بالکل نزدیک ہو کر اندر کی کوئی حرکت سنے لگا ہونے نزدیک سے میرا شق ٹھیک نکلا کیونکہ مجھے آنٹی آسمہ اور سائمہ آنٹی کی باتیں کرنے کی آواز سنائی دے رہی تھی . سائمہ آنٹی آسمہ آنٹی سے کہہ رہی تھی باجی مجھے سمجھ نہیں لگتی آپ کو ڈرکس بات کا ہے . آسمہ آنٹی نے کہا دیکھو سائمہ میں مانتی ہوں کے کا شی گھر کا بندہ ہے اور اس پے بھروسہ بھی کیا جا سکتا ہے اور وہ بدنام بھی نہیں کرے گا . لیکن مجھے ڈر جس بات کا ہے وہ صرف یہ کے اگر کل کو کہیں سے بھی یہ بات کا نازیہ کو پتہ چلتا ہے میں تو مر جاؤں گی . میری بیٹی میرے بارےمیں کیا سوچے گی دنیا کیا کہے گی کے جوان بیٹی کی ماں اپنی بیٹی کی عمر کے لڑکے کو یار بنا یا ہوا ہے تم سمجھتی کیوں نہیں ہو اِس بات کو سائمہ . کچھ دیر تک اندر خاموشی ہو گئی . پِھر سائمہ آنٹی بولی دیکھو باجی میری بات غور سے سنو . پہلی تو بات یہ ہے کے جو کے آپ بھی مانتی ہیں کے کا شی گھر کا بندہ ہے او بھروسے کا بندہ ہے اور بدنام نہیں کرے گا . آسمہ آنٹی نے کہا ہاں ٹھیک ہے تو پِھر سائمہ آنٹی نے کہا مثال کے طور پر اگر آپ کا شی کے ساتھ اپنا تعلق بنا لیتی ہیں اور آپ دونوں کے تعلق کے بارے میں نازی کو پتہ چل بھی جاتا تو کچھ بھی نہیں ہو گا آپ خود سوچو اگر نازی کو بات پتہ چل بھی جاتی ہے تو کیا وہ باہر لوگوں کو کو جا کر یہ بتا ئے گی کے میری ماں کا ایک یار ہے وہ اس سے مزے لیتی ہے . کیا وہ اپنے گھر کی عزت یا اپنی ماں کی عزت یوں لوگوں میں اُچھالتی پھرے گی . اگر اس کو پتہ چل جاتا ہے تو زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا وہ آپ کے ساتھ یا میرے ساتھ بات کرے گی ہم دونوں سے ناراض ہو گی اور تو اور وہ ا می تک کو نہیں بتا ئے گی آپ بے شک مجھ سے یہ لکھوا کر رکھ لو . اور اگر وہ مجھ سے بات کرے گی یا آپ سے کرے گی تو میرے پاس اس کا بھی حَل ہے میں اس کو ایک دوست بن کر اعتماد میں لوں گی آپ کی اندر کی گھٹی گھٹی زندگی کے بارے میں جب اس کو بتاؤں گی تو وہ سمجھ جائے گی کیونکہ وہ بھی ایک عورت ہے . اس نے بھی شادی ہو کر کسی کے ساتھ جانا ہے اس نے بھی یہ سب معاملات آگے چل کر دیکھنے ہیں . پِھر کچھ دیر کے لیے خاموشی ہو گئی اور دوبارہ پِھر سائمہ آنٹی بولی باجی 3 دن میں تو نازی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا اور ان 3 دن میں ہی میں نازی کو اپنی ایک اچھی دوست بھی بنا لوں گی . اور 3 دن میں اگر آپ کے کا شی کے ساتھ کھل کر مزہ کر لو تو آپ کے اگلے کچھ دن سکون رہے گا . پِھر آنٹی آسمہ کی آواز آئی اس نے کہا سائمہ ایک اور بات ہے . سائمہ آنٹی نے کہا کیا بات ہے . سائمہ میری ترقی ہو گئی ہے اور ساتھ ہی ٹرانسفر بھی ہو گئی ہے اور اگلے مہینے سے مجھے راولپنڈی کے ایک سکول میں جوائن کرنا ہے اور پِھر تو مجھے وہاں ہی مکان بھی لینا ہو گا اور نازی بھی وہاں ساتھ چلی جائے گی میں نے ابو کو بھی 2 دن پہلے بتا دیا تھا انہوں نے کہا بیٹا تمہاری تو مجبوری ہے جانا ہی جانا ہے میری ریٹائرمنٹ اگلے سال کو ہو رہی ہے چند مہینے ہی رہ گئے ہیں میں ایسا کرتا ہوں کے اب ہی ریٹائرمنٹ لے لیتا ہوں میں تمہاری ماں کو خود سنبھال لوں گا کبھی کبھی تمھارے پاس آ کر بھی میں اور تمہاری ا می رہ لیا کریں گے . سائمہ آنٹی نے کہا تو باجی اِس میں پریشانی کی کیا بات ہے . آسمہ آنٹی بولی جب میں راولپنڈی شفٹ ہو جاؤں گی تو کا شی کو بھی پتہ ہو گا اور وہ جب دِل کرے گا آ جایا کرے گا اور کسی نا کسی دن تو وہاں نازی کو پتہ چل جائے گا پِھر کیا ہو گا . یہ اصل پریشانی ہے. سائمہ آنٹی نے کہا باجی آپ یہ بتاؤ کے اگر نازی کا مسئلہ حَل ہو جائے تو آپ کا شی کے ساتھ کرنے کو تیار ہیں . آسمہ آنٹی کی طرف سے خاموشی تھی پِھر آنٹی سائمہ نے کہا بتاؤ نا باجی آپ تیار ہیں تو آسمہ آنٹی نے کہا لیکن سائمہ تم کرو گی کیا اور کیسے. تو سائمہ آنٹی نے کہا باجی یہ میرا مسئلہ ہے میں جو بھی کروں گی اس میں آپ نازی کے آگے کبھی شرمندہ نہیں ہوں گی اور نہ ہی نازی آپ کو کچھ کہے گی میں یہ کام خالہ بن کر نہیں دوست بن کر کروں گی . اور آپ بے فکر ہو جائیں اگر آپ پنڈی شفٹ ہو جائیں گی اور وہاں نازی کو پتہ چل بھی گیا تو نازی کچھ بھی آپ کو نہیں کہے گی اور نہ ہی ناراض ہو گی . بس آپ یہ بتاؤ آپ کا شی کے ساتھ کرنے کو تیار ہو . پِھر شاید آنٹی آسمہ کو سائمہ آنٹی کی باتوں پے یقین آ گیا تھا انہوں نے کہا میں تیار ہوں اگر نازی کی طرف سے کوئی مسئلہ نہ ہو تو . سائمہ آنٹی نے کہا آپ بے فکر ہو جائیں نازی کو میں ان 3 دن میں سیٹ کر دوں گی آپ نازی کی فکر اپنے دماغ سے نکا ل دیں . پِھر آسمہ آنٹی نے کہا ٹھیک ہے مجھے منظور ہے . باہر یہ سن کر میں خوشی سے پاگل ہو گیا تھا . لیکن یہ سوال میرے دماغ میں بھی تھا کے سائمہ آنٹی نازی کو کیسے سیٹ کرے گی ہو نہ ہو ہے تو سائمہ آنٹی اس کی خالہ لیکن پِھر دماغ کے ایک کونے میں سے آواز آئی شاید عورت ہی عورت کو سمجھ سکتی ہے. پِھر سائمہ آنٹی نے کہا باجی کیا موڈ ہے کا شی کو بلا لوں یہاں ہی ابھی ہی سے شروع کر لیتے ہیں . آسمہ آنٹی فوراً بولی سائمہ بڑی تو بے شرم ہے تمہیں تو مجھ سے بھی زیادہ جلدی ہے اور اتنی رات کو کہاں اس بے چارے کو تنگ کر کے اٹھائے گی . سائمہ آنٹی نے کہا مجھے جلدی نہیں ہے جلدی اس بے چارے کو ہے جو بس کسی نہ کسی طرح آپ کی پھدی اور بُنڈ مارنا چاہتا ہے . آسمہ آنٹی نے کہا سائمہ یہ تم کیا کہہ رہی ہو . سائمہ آنٹی نے کہا ہاں باجی ٹھیک کہہ رہی ہوں آج جب آپ اور میں ٹی وی لاؤنج میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے تو آپ جس اسٹائل میں بیٹھی ہوئی تھیں اس وقعت میں کا شی کو ہی دیکھ رہی تھی وہ آپ کی بُنڈ کو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے ابھی اٹھ کر کھا جائے گا اور وہ بار بار اپنے لن کو اپنی ٹانگوں کے درمیان دبا کر چھپا رہا تھا . آسمہ آنٹی نے کہا کیا تم سچ میں ٹھیک کہہ رہی ہو . تو سائمہ آنٹی نے کہا ہاں باجی بالکل سچ کہہ رہی ہوں اور بعد میں میں نے اس پوچھا تھا کے وہ کیا دیکھ رہا تھا تو اس نے بتایا آنٹی جی آپ کی بہن کمال کی چیز ہے جب سے آیا ہوں آپ کی باجی نے میرا برا حال کر دیا ہے آپ جلدی کر کے ان کو منا لو میرا بڑا برا حال ہے. آسمہ آنٹی آگے سے بولی سائمہ میں تو اس کو بچہ سمجھ رہی تھی لیکن وہ تو پورا کھلاڑی ہے . تو سائمہ آنٹی نے کہا باجی کیا بتاؤں کھلاڑی کتنا جاندار ہے قسم سے رگڑ رگڑ کر چودتا ہے میں نے ثمینہ کے گھر اس سے 2 دفعہ اپنا پانی نکلوا یا تھا ایک دفعہ اس نے میری پھدی کی سکنگ کر کے اور دوسری دفعہ میری پھدی کو چود کر دونوں دفعہ میں میرا پانی نکلوا کر ہی اپنا پانی چھوڑا تھا. مزہ آ جاتا ہے اور باجی اس کی عمر کے حساب سے دیکھا جائے تو اس کا لن بھی ٹھیک ٹھا ک ہے میرا میاں اور اور آپ کے میاں سے تو کافی حد بہتر ہے. آسمہ آنٹی نے کہا سائمہ بس کر تیری باتیں سن کر ہی نیچے میری پھدی پانی چھوڑ نے لگی ہے . سائمہ آنٹی نے کہا باجی دیکھا باتیں سن کر یہ حال ہے تو سوچو جب اندر لو گی تو کیا حالت ہو گی اِس لیے کہہ رہی ہوں میں اس کو بلا لاتی ہوں اور پِھر دِل بھر کر رات پوری مزہ لو میں بچی کو لے کر اس کے کمرے میں چلی جاؤں گی آپ اکیلے میں جتنا چاہے مزہ لے لینا. آسمہ آنٹی نے کہا نہیں سائمہ ابھی نہیں ابھی رہنے دو وہ بھی بیچارا سویا ہو گا اس کو اٹھا کر تنگ کرنا اچھا نہیں ہے کل کو دوپہر کو تم امی کے کمرے میں ہی سو جانا اور تمہیں دیکھ کر نازی بھی سو جائے گی اور پِھر شام کو ہی اٹھے گی میرے پاس 2 سے 3 گھنٹے ہوں گے تم کا شی کو میرے کمرے میں بھیج دینا . اور ویسے بھی میں کل صبح اٹھ کر اپنی نیچے سے بھی اچھی طرح صفائی کر لوں گی . سائمہ آنٹی نے کہا ٹھیک ہے باجی جیسے آپ کی مرضی کل ہی کر لینا . پِھر سائمہ آنٹی نے کہا باجی ایک اور بات آپ کو بتانی تھی کہ کا شی بُنڈ کا بہت شوقین ہے آپ نے اپنے میاں کے ساتھ کافی دفعہ ٹرائی کی ہوئی ہے کا شی کو بھی اپنی بُنڈ کا مزہ کروا دینا . آسمہ آنٹی بولی سائمہ بُنڈ میں تو میں نے کافی دفعہ لیا ہے لیکن ابھی تو کتنے سال ہو گئے ہیں ایک پینسل تک اندر نہیں لی ہے اور تم یہ بھی کہہ رہی ہو کے اس کا لن میرے میاں سے بھی کافی بہتر ہے . اتنے عرصے بعد پتہ نہیں اس کا لے سکوں گی بھی یا نہیں . سائمہ آنٹی نے کہا باجی یہ تو سچ ہے کے اس کا لن آپ کے اور میرے میاں سے بھی لمبا بھی ہے اور موٹا بھی ہے لیکن آپ نے تو پِھر بھی اندر کافی دفعہ لیا ہوا ہے تھوڑی بہت تو شاید مشکل ہو گی لیکن زیادہ نہیں ہو گی اگر ہوئی بھی تو آپ تھوڑا آئل یا لوشن وغیرہ اپنی بُنڈ میں اور اس کے لن پے لگا لینا پِھر آسانی سے اندر چلا جائے گا. آسمہ آنٹی نے کہا اچھا ٹھیک ہے میں پوری کوشش کروں گی . پِھر آسمہ آنٹی نے کہا سائمہ میرے اور کا شی کا جو تعلق ہے اس کا ثمینہ کو تو نہیں پتہ ہے نہ . کیونکہ اس کو پتہ چلنے کے بعد میں اس کے سامنے بھی گندی ہو جاؤں گی . تو سائمہ آنٹی نے کہا باجی آپ بالکل بے فکر ہو جائیں ثمینہ کو کچھ بھی نہیں پتہ ہے یہ بات آپ کو مجھے اور کا شی کی علاوہ ابھی تک کسی اور کو پتہ نہیں . میں اتنی پاگل نہیں ہوں کے اپنی باجی کی ہی بات کسی اور یا ثمینہ کو بتاؤں گی اور اپنے گھر کی عزت کو خراب کروں گی . اور میں نے کا شی کو بھی بتا دیا تھا وہ کسی سے بھی بات نہیں کرے گا اس نے مجھ سے پکا وعدہ کیا ہوا ہے. پِھر آسمہ آنٹی نے کہا چلو سائمہ اب سوتے ہیں بہت دیر ہو چکی ہے باتیں کرتے کرتے 3 بجنے والے ہیں ٹائم کا پتہ ہی نہیں چلا تم لائٹ کو آف کر دو . اب مجھے پکا یقین ہو چکا تھا کے کل میرا لن آسمہ آنٹی کی بُنڈ میں ہو گا اور میں وہاں سے اٹھا اور اپنے کمرے میں آ کر بیڈ پے لیٹ گیا اور پتہ ہی نہیں کب آنکھ لگ گئی اور سو گیا . صبح میری آنکھ اس وقعت کھلی جب نازیہ مجھے ہلا ہلا کر اٹھا رہی تھی میں اس کے زور سے ہلانے پے یکدم اَٹھ گیا وہ بھی ڈر گئی اور نیچے بھاگ گئی میں نے اپنے موبائل پے ٹائم دیکھا تو صبح کے11 بج چکے تھے میں وہاں سے اٹھا اور سیدھا آسمہ آنٹی کے بیڈروم والے باتھ روم میں گیا وہاں گیا تو مجھے اندر پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی میں فوراً وہاں سے نکلا اور ڈرائنگ روم کے ساتھ بنے ہوئے باتھ روم میں گھس گیا اور کپڑے اُتار کر نہانے لگا میری آنکھیں ہی نہیں کھل رہی تھیں کیونکہ رات کو 3 بجے تک رات والی فلم دیکھتا رہا تھا میں دیر تک شاور کے نیچے کھڑا رہا پِھر اچھی طرح فریش ہو کر ہی باہر نکلا کمرے میں آ کر اپنے موبائل اٹھایا اور نیچے جا کر ٹی وی لاؤنج میں بیٹھ گیا وہاں نازیہ بیٹھی سائمہ آنٹی کی بیٹی کے ساتھ کھیل رہی تھی اور سائمہ آنٹی اپنی امی کے پاس بیٹھی باتیں کر رہی تھی پِھر کچھ دیر بَعْد سائمہ آنٹی باہر آئی اور مجھے دیکھا تو کہنے لگی کا شی خیریت ہے نا طبیعت ٹھیک ہے تمہاری اتنی دیر تک سوئے ہوئے تھے . میں نے کہا آنٹی جی طبیعت ٹھیک ہے بس کل کے سفر کی وجہ سے تھوڑی تھکن زیادہ ہی تھی اِس لیے اتنا سویا ہوں . پِھر سائمہ آنٹی نے نازیہ سے کہا نازی بیٹا امی کہا ں ہیں تو نازیہ نے کہا خالہ جان وہ اوپر اپنے باتھ روم میں نہا رہی ہیں . تو سائمہ آنٹی نے کہا بیٹا تم کا شی کو ناشتہ دو میں اوپر باجی کے پاس سے ہو کر آتی ہوں . پِھر سائمہ آنٹی اوپر چلی گئی اور کچھ دیر بَعْد نازیہ نے مجھے ناشتہ دیا میں اکیلا ہی ناشتہ کر رہا تھا کیونکہ باقی سب لوگ صبح 8 بجے کے اٹھے ہوئے تھے وہ ناشتہ کر چکے تھے. پِھر میں ناشتے سے فارغ ہو گیا تو باتھ روم میں جا کر ہاتھ دھو کر واپس آ کر ٹی وی لگا کر بیٹھ گیا میری واپسی سے پہلے نازیہ نے برتن اٹھا لیے تھے . میں ٹی وی میں ہی مشغول کافی دیر ہو گئی تھی لیکن سائمہ آنٹی واپس نہیں آئی تھی اور نہ ہی آسماں آنٹی آئی تھی پِھر مزید کچھ دیر بعد سائمہ آنٹی اور آسمہ آنٹی نیچے آ گئی اور آ کر ٹی وی لاؤنج میں بیٹھ گئی آج آنٹی آسمہ نے کالے رنگ کا کا ٹن کا سوٹ پہنا تھا اور اس کا پجامہ بڑا ہی تنگ تھا اس میں وہ بہت ہی سیکسی لگ رہی تھی . لیکن وہ آج مجھے سے نظریں چرا رہی تھی جب بھی ہماری آپس میں ملتی وہ شرما کر آنکھیں چرا لیتی تھی. پِھر سامنے والے صوفے پے بیٹھ کر وہ دونوں بہن آپس میں باتیں کر رہی تھیں اور میں ٹی وی دیکھ رہا تھا کچھ دیر بَعْد آسمہ آنٹی نے کہا نازی بیٹا دن کے کھانے کا کیا بندوبست کیا ہے . تو نازیہ نے کہا ا می سبزی چولھے پے رکھی ہوئی ہے سبزی کے بَعْد روٹیاں بنانی ہیں اور سلاد رائتہ بنا لوں گی اس وقعت 1 بجنے میں 20 منٹ باقی تھے . میں نے سائمہ آنٹی کو کہا آنٹی جی میرا موڈ کھانے کا نہیں ہے میں نے تو ناشتہ بہت لیٹ کیا ہے اِس لیے میرے لیے روتی نا بنائیں . سائمہ آنٹی نے کہا ٹھیک ہے کا شی بیٹا پِھر میں وہاں کوئی آدھا گھنٹہ مزید بیٹھا رہا اور جب آنٹی لوگ كھانا کھانے لگے تو میں اس سے پہلے ہی اَٹھ کر اوپر اپنے کمرے میں آ گیا اور آ کر لیٹ گیا اور اپنے موبائل پے گیمز کھیلنے لگا . کوئی آدھے گھنٹے بَعْد سائمہ آنٹی میرے کمرے میں آئی اور آ کر دروازہ بند کر کے میرے بیڈ پے آ کر بیٹھ گئی اور میرا لن جو نیم حالت میں تھا اس کو پکڑ لیا اور بولی کا شی میرے جانی تیرا کام ہو گیا ہے باجی راضی ہو گئی ہیں آج ہی کچھ دیر بَعْد تمہیں میں بتاؤں گی تم ان کے کمرے میں چلے جانا اور شام تک تمھارے پاس 2 سے 3 گھنٹے ہوں گے اس میں باجی کے ساتھ فل مزہ کر لینا . میں اٹھ کر سائمہ آنٹی کو گلے لگا لیے اور پِھر ان کے ہونٹوں پے ایک لمبی سے فرینچ کس کی اور کہا آنٹی آپ نے کمال کر دیا ہے پِھر آنٹی تھوڑا سا مجھ سے الگ ہوئی اور اَٹھ کر کھڑی ہو گئی اور مجھے کہا کے میں جب تمھارے نمبر پر ایس ایم ایس کروں گی تم اس وقعت خاموشی سے باجی کے بیڈروم میں چلے جانا ان کا بیڈروم کا دروازہ کھلا ہو گا اندر جا کر دروازہ اندر سے بند کر لینا اور اپنے کام پورا کر کے تقریباً 5 بجے سے پہلے پہلے دوبارہ اِس ہی کمرے میں آ کر لیٹ جانا . میں نے کہا ٹھیک ہے آنٹی میں آپ کی بات سمجھ گیا ہوں آپ بے فکر ہو جائیں.
تقریباً ڈھائی بجے کا ٹائم ہو گا جب مجھے سائمہ آنٹی کا ایس ایم ایس آیا کے کا شی تم ٹھیک 5 منٹ کے بعد باجی کے کمرے میں چلے جاؤ جب آنٹی کا ایس ایم ایس آیا ایک دفعہ تو میرا دِل دھک دھک کر اٹھا پِھر میں نے اپنے آپ کو تھوڑا کنٹرول کیا اور پِھر بیڈ سے اٹھا اور دروازہ کھول کر آسمہ آنٹی کے دروازے پے جا کر دستک دی اور پِھر خود ہی دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا اندر آسمہ آنٹی اپنے صوفے پے بیٹھی ہوئی تھی لیکن وہ شرم سے میرے ساتھ نظر نہیں ملا پا رہی تھی . میں نے دروازہ بند کر کے اندر سے لوک کر دیا اور آہستہ آہستہ سے چلتا ہوا صوفے پے جا کر آنٹی کے ساتھ بیٹھ گیا میرے اور آنٹی کے درمیان صرف چند انچ کا ہی فاصلہ رہ گیا تھا. پِھر میں وہاں کچھ دیر خاموشی سے بیٹھا رہا سچ میں میری اپنی ہمت بات شروع کرنے کی نہیں ہو رہی تھی سمجھ نہیں آ رہی تھی بات کہاں سے شروع کروں . پِھر یکدم میرے دماغ میں ایک بات آئی اور میں نے آسمہ آنٹی سے کہا آنٹی جی مجھے بڑی خوشی ہوئی ہے کے آپ ہمارے شہر میں اب آنے والی ہیں آپ بے فکر ہو جائیں آپ کو وہ پرایا شہر نہیں لگے گا . آسمہ آنٹی نے فوراً منہ اٹھا کر حیرت بھری نظروں سے میری طرف دیکھا اور میں بھی سمجھ گیا تھا کے میں نے غلطی کر دی ہے کیونکہ یہ باتیں تو سائمہ آنٹی اور آسمہ آنٹی کے درمیان ہوئی تھیں مجھے کیسے پتہ چلی . آسمہ آنٹی کے چہرے پے یہ ہی حیرت تھی. لیکن میں نے موقع کی نزاکت کو سمجھا اور پِھر سچ بتانے کا ہی فیصلہ کیا اور پِھر میں نے آنٹی کو ساری بات بتا دی جو میں نے کل رات کو سنی تھی . مجھے بڑی خوشی ہوئی کے آسمہ آنٹی پوری بات سن کر اطمینان میں تھی . اب تک ہم دونوں کے درمیان کافی حد تک شرم اور پرایا پن کم ہو چکا تھا . پِھر میں نے ہی آگے بھڑنے کا سوچااور ہمت کر کے آسمہ آنٹی کا ہاتھ پکڑ لیا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے سہلا نے لگا جس کا آنٹی نے کوئی برا نہیں منایا. پِھر میں آنٹی کے ساتھ بالکل جڑ کر بیٹھ گیا ہمارا جسم ایک دوسرے کے ساتھ چپک گیا تھا . میں نے ایک ہاتھ گردن میں ڈال کر آنٹی کا منہ اپنی طرف کر کے اپنے ہونٹ ان کے ہونٹوں پے رکھ دیئے اور فرینچ کس کرنے لگا آنٹی نے کچھ دیر تو کوئی ریسپونس نہ دیا لیکن پِھر خود ہی میرا ساتھ دینے لگی اور فرینچ کس کرنے لگی . میں ان کو مزی10د منٹ تک فرینچ کس کرتا رہا اور وہ میری اور میں ان کی زُبان منہ میں لے کر سک کرتے رہے جب میں نے تھوڑا مزید اگلا قدم اٹھانے کا سوچا اور اپنے منہ الگ کیا تو آنٹی کی آنکھوں میں دیکھا تو آنٹی کی آنکھیں لال سرخ ہوئی تھیں اور ان کی آنكھوں سے صاف پتہ چل رہا تھا وہ مکمل نشے میں آ گئی ہیں. میں صوفے سے اٹھا اور پِھر ایک ہاتھ آنٹی کی گردن میں ڈالا اور دوسرا ہاتھ آنٹی کی گانڈ کی نیچے سے ڈال کر اٹھا لیا اور ان کو اٹھا کر بیڈ پے لے آیا . اور پِھر میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی آپ اپنے کپڑے اُتار دیں میں بھی اُتار رہا ہوں پِھر آپ کو ایک مزے کی دنیا کی سیر کرواتا ہوں . میں اپنے کپڑے اُتار نے لگا میں نے اپنی قمیض پِھر اپنی بنیان اور پِھر آخر میں اپنی شلوار بھی اُتار دی نیچے میرا لن لوہے کی را ڈ کی طرح بالکل سیدھا کھڑا ہوا آنٹی کو سلامی دے رہا تھا . آنٹی کی نظر میرے لن پے گئی تو دیکھ کر آنٹی کی آنکھیں اور کھل گئی اور انہوں نے اپنی زُبان باہر نکال کر اپنے ہونٹوں پے پھیری . پِھر آنٹی بھی اپنے کپڑے اُتار نے لگی آنٹی نے اپنی قمیض اُتاری تو نیچے برا نہیں پہنی ہوئی تھی یکدم ان کو موٹے موٹے گورے ممے سامنے آ گئے آنٹی کے ممے اب تک کی سب عورتںر جن کو میں چود چکا تھا ان سے بڑے تھے اور ان کے نپلز بھی گول گول اور برائون رنگ کے تھے . انہوں جب نے اپنی شلوار ُتاری تو انہوں نے نیچے انڈرویئر بھی نہیں پہنا ہوا تھا. اور ان کی پھدی کو دیکھ کر میں د نگ رہ گیا کیونکہ نیچے ان کا پورا جسم کسی22 سال کی لڑکی سے کم نا تھا میں حیران تھا آنٹی نے تو ایک بچی کو بھی پیدا کیا ہے پِھر یہ کیسے ممکن ہے ان کا جسم اتنا کسا ہوا اور نرم وملائم اور چکنی پھدی ہے بالکل بالوں سے صاف شفاف اور درمیانے سائز کا پھدی کا منہ اور وہ بھی آپس میں جڑا ہوا تھا. آنٹی نے پوچھا کا شی بیٹا کیا دیکھ رہے ہو . میں نے کہا آنٹی آپ کا پورے کا پورا جسم کمال کا ہے . لگتا ہے آج مزہ آ جائے گا . آنٹی میری بات سن کر مسکرا نے لگی . پِھر میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی آپ سیدھی لیٹ جاؤ میں آپ کی پھدی کی سکنگ کرتا ہوں . آنٹی میری بات سن کر سیدھی لیٹ گئی اور میں ان کی ٹانگوں میں آ کر ان کو کھولا اور منہ کے بل لیٹ گیا میرا منہ آنٹی کی پھدی پے تھا . پِھر میں نے پہلے اس پے آگے پیچھے کس کرنے لگا آنٹی سیکسی سیکسی سسکیاں لینے لگی . پِھر میں زُبان نکا ل کر آنٹی کی پھدی کو چاٹنا شروع کر دیا آنٹی کو بھی مزہ آ رہا تھا وہ میرے سر پے ہاتھ رکھ رکھ میرے بالوں میں اپنی انگلیاں پھر رہی تھی . کچھ دیر یہ مزہ کروا کے میں نے دونوں ہاتھ سے آنٹی کی پھدی کے لبوں کو کھولا اور اپنی زُبان اندر باہر کرنے لگا شاید آنٹی کو یہ حرکت نے زیادہ ہی گرم کر دیا تھا ان کا پورا جسم ایک دفعہ جھٹکا کھا گیا پہلے تو میں آہستہ آہستہ زُبان اندر باہر کر رہا تھا پِھر میں نے آنٹی کو تڑپانے کے لیے اپنی سپیڈ کو اور تیز کر دیا زُبان اور اندر باہر کرنے لگا اپنی زُبان سے آنٹی کی پھدی کی چدائی کرنے لگا. آنٹی کے منہ سے لذّت اور خماری میں تیز تیز سیکسی سیکسی سسکیاں نکل رہی تھی اور وہ نیچے سے بُنڈ اٹھا کر زُبان اندر باہر کروا رہی تھی اور اوپر سے میرا سر پھدی پے بھی دبا رہی تھی میں نے ان کو 5 سے 7 منٹ تک اِس طرح ہی زُبان سے چودا اور پِھر آخر میں انہوں نے ایک جھٹکا مار کے اپنا گرم گرم پانی میرے منہ پے ہی چھوڑ دیا اور ہانپنے لگی میں بھی سائڈ پے ہو کر لیٹ گیا پِھر اٹھ کر باتھ روم میں چلا گیا وہاں سے منہ دھویا کلی کی اور واپس آ کر آنٹی کے پہلو میں آ کر لیٹ گیا. میں جب واپس آ کر بیڈ پے لیٹا تو آنٹی کی حالت نارمل ہو چکی تھی پِھر وہ مجھ سے بولی کا شی بیٹا آج تو تم نے کمال کر دیا مجھے ایک نئی چیز سے روشناس کروایا ہے . میں نے کہا آنٹی اِس میں نیا کیا ہے آپ نے پہلے اپنے میاں کے ساتھ نہیں کیا . تو آنٹی بولی میرے میاں زُبان سے سکنگ تو دور کی بات ہے انہوں نے کبھی پھدی پے کس تک نہیں کی تھی 2 یا 3 دفعہ بس کس کی تھی وہ بھی میں نے ان کو بار بار کہہ کر تب جا کر انہوں نے کس کی تھی . آج والا مزہ تو تم سے پہلی دفعہ مجھے زندگی میں ملا ہے . پِھر میں آنٹی کو کہا آنٹی جی پِھر آگے کیا موڈ ہے اِس خادم کو آگے چل کر موقع دیا کریں گی جب آپ راولپنڈی شفٹ ہو جائیں گی . تو آنٹی نے کہا کا شی بیٹا تم نے اپنا بنا لیا ہے اب تو میں تمہاری ہوں جب تمہارا دِل کرے آ جایا کرنا اور اپنی بھی اور اِس پیاسی آنٹی کی بھی پیاس بُجھا دیا کرنا. آنٹی جی میں تو آپ کی خدمت دِل وجان سے کرنے کے لیے تیار ہوں آپ بے فکر ہو جاؤ جب آپ وہاں شفٹ ہو جائیں گی میں آپ کی اتنی خدمت کروں گا کے آپ کسی اور کو بھول جائیں گی . آنٹی میری بات سن کر مجھے گلے لگا لیا اور ایک لمبی سی فرینچ کس کرنے لگی . اور نیچے سے میرا لن پکڑ کر سہلا نے لگی اور پِھر آنٹی اَٹھ کر بیٹھ گئی اور میری ٹانگوں کے پاس اپنا منہ لے گئی اور میرے لن کو منہ میں لے لیا اور اس کے
چو پے لگانے لگی آنٹی کے چو پے اتنی ٹائیٹ تھے کے میرا لن 2 سے 3 منٹ کے اندر ہی فل جوش میں کھڑا ہو گیا میں نے آنٹی کے منہ سے اپنا لن نکال لیا اور آنٹی کو بولا آنٹی جی لیٹ جاؤ ابھی آپ کی اور خدمت کرنی ہے آنٹی سیدھا لیٹ گئی میں ٹانگوں کے درمیان آ کر بیٹھ گیا اور ٹانگیں اٹھا کر کندھے پے رکھ لی اور اپنے لن کو آنٹی کی پھدی کی موری پے سیٹ کیا اور پہلا جھٹکا مارا تو پوری ٹوپی اندر چلی گئی آنٹی کی منہ سے ہلکی سی آہ نکل گئی . پِھر میں کچھ دیر رک گیا اور آگے کو ہو کر آنٹی کے منہ میں اپنی زُبان دے دی اور ان کی زُبان کو بھی سک کرنے لگا اور پِھر ایک زوردار جھٹکا مارا اور پورے کا پورا لن جڑ تک ان کی پھدی میں اُتار دیا ان کے منہ سے ایک تکلیف بھری کرا ہ نکلی جو میرے منہ میں ہی رہ گئی اور میں پِھر وہاں ہی کچھ دیر کے لیے لیٹ گیا اور کوئی حرکت نا کی اور آنٹی کی آنکھیں بند تھی . کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد میں نے آہستہ آہستہ اپنے ل لن کو حرکت دی اور اس کو اندر باہر کرنے لگا جب 5 منٹ تک آہستہ آہستہ اندر باہر کرتا رہا تو پھدی بھی اپنی جگہ سیٹ ہو گئی تھی اور لن آسانی سے اندر باہر ہو رہا تھا اور آنٹی نے بھی آنکھیں کھول لی تھیں اور اپنے ہاتھوں سے میری کمر کے پیچھے سے پکڑ لیا تھا میں نے تھوڑی سپیڈ تیز کر دی آب آنٹی کو بھی مزہ آ رہا تھا اور ان کے منہ سے لذّت بھری آوازیں نکل رہی تھی آہ آہ اوہ آہ آہ اوہ آہ . . جب آنٹی کو مزہ زیادہ آنے لگا اور وہ ان کی آوازیں بھی اونچی ہو گیں تھیں انہوں نے اپنی ٹانگوں کو بھی پیچھے سے میری کمر میں ڈال کر جڑن لیا تھا میں بھی آنٹی کا اشارہ سمجھ گیا تھا میں نے اپنی سپیڈ فل تیز کر دی اور دھکے پے دھکےلگانے لگا کمرے میں آنٹی کی اونچی اونچی سیکسی سیکسی سسکا ریاں اورمیرےدھکے پے دھکےمارنے کی وجہ سے جو دھپ دھپ کی آواز نکل رہی تھی وہ سب آوازیں پورے کمرے میں گونج رہیں تھیں. میرے طوفانی جھٹکوں کے درمیان ہی آنٹی نے میرے لن پے اپنی منی کا گرم گرم لاوا چھوڑ دیا اور اب تو کام اور زیادہ اندر گھیلا ہو چکا تھا اِس لیے آنٹی کی منی چھوڑنے کی کوئی 3 سے 4 منٹ بعد ہی میں نے اپنی ساری منی کا لاوا آنٹی کی پھدی کے اندر ہی چھوڑ دیا. اور میں نڈھال ہو کر آنٹی کے اوپر ہی گر گیا اور ہانپنے لگا .میری جب کچھ سانسیں بَحال ہوئی تو میں آنٹی کے اوپر سے اٹھ کر ان کے ساتھ لیٹ گیا آنکھیں بند کر لیں پِھر ہم دونوں کوئی 10منٹ تک خاموشی سے لیٹے رہے. پِھر آنٹی نے ہی بات شروع کی کا شی بیٹا آج تو مزہ ہی آ گیا ہے سائمہ ٹھیک کہہ رہی تھی تم عورت کا پانی نکلوا کے ہی چھوڑ تے ہو . آج کتنے سال بعد مجھے دوبارہ مکمل جسمانی سکون ملا ہے.
میں نے آگے سے کہا بس آنٹی جی آپ اِس طرح ہی خدمت کا موقع دیتی رہیں تو میں آپ کے سکون کا بندوبست کرتا رہوں گا ویسے بھی میں تو اسلام آباد میں رہتا ہوں کبھی کبھی شیخوپورہ جاتا ہوں اِس لیے اسلام آباد میں کوئی نہیں ہے جس کے ساتھ میں کوئی مزہ کر سکوں اِس لیے اگر آپ وہاں راولپنڈی شفٹ ہو جائیں گی تو آپ کے سکون کا بھی بندوبست ہو جائے گا اور میرا بھی بھلا ہو جائے گا . آنٹی نے کہا کیوں نہیں کا شی بیٹا میں تو اب تمہاری غلام ہوں جب دِل کرے آ جایا کرنا لیکن ایک بات کا خاص خیال رکھناکے تمہارا اور میرے تعلق کا کسی کو بھی پتہ نہیں چلنا چائے نہیں تو تمہیں پتہ ہے نا میں ایک جواں بیٹی کی ماں بھی ہوں میری اور میری بیٹی کی پوری زندگی خراب ہو جائے گی . میں نے کہا آنٹی جی آپ میری طرف سے مکمل اطمینان رکھیں اور بے فکر ہو جائیں آپ کو کبھی بھی شکایت کا موقع نہیں ملے گا یہ میرا آپ سے وعدہ ہے. پِھر ہم کافی دیر یہاں وہاں کی باتیں کرتے رہے اور ٹائم دیکھا تو 4 بج گئے تھے میں نے سوچا سائمہ آنٹی نے کہا تھا 5 سے پہلے پہلے کام پورا کر کے اپنے کمرے میں چلے جانا . میں نے سوچا اب آنٹی کے ساتھ آخری رائونڈ بُنڈ میں لگا کر اپنے کمرے میں چلے جانا چاہیے . میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی آب آپ کیا کیا موڈ ہے آگے کچھ نیا کرنا کا دِل ہے یا نہیں . تو آنٹی شاید میری بات سمجھ گئی تھی اور بولی کا شی بیٹا موڈ اور دِل تمھارے ساتھ ہی ہے لیکن سوچ رہی ہوں اتنے عرصے بعد بُنڈ میں اندر لے سکوں گی بھی نہیں . میں نے کہا آنٹی جی آپ کا اگر موڈ ہے اور دِل سے راضی ہیں تو میں بہت ہی آرام سے اپنا کام کروں گا اور کوشش کروں گا کے آپ کو کم سے کم تکلیف ہو . اور اگر آپ کا دِل نہیں مان رہا تو بھی کوئی بات نہیں ہے مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے میں آپ کی رضامندی کے بغیر نہیں کروں گا. آنٹی نے کہا ٹھیک ہے کا شی بیٹا میں بالکل تیار ہوں بتاؤ مجھے کیا کرنا ہے میں نے کہا آنٹی جی آپ صوفے پے اپنے بازو صوفے کی ٹیک کے اوپر رکھ کر گھوڑی اسٹائل میں جھک جائیں اور میں پیچھے سے کھڑا ہو کر آرام آرام سے اندر ڈ الوں گا لیکن اس سے پہلے مجھے آپ کوئی تیل یا لوشن دے دیں . تو آنٹی نے کہا تیل تو کمرے میں موجود نہیں ہے لیکن لوشن ہے وہ ڈریسنگ ٹیبل پے رکھا ہوا ہے لے لو. میں نے کہا ٹھیک ہے آنٹی جی آپ جا کر وہ پوزیشن بنا لیں میں لوشن لے کر آتا ہوں میں نے ڈریسنگ ٹیبل سے لوشن اٹھا یا اور صوفے کے پاس آ گیا وہاں آنٹی میری بتائی ہوئی پوزیشن میں ہی تھی ان کی بُنڈ کی موری پیچھے بالکل عیاں تھی موری کا رنگ برائون تھا اور موری زیادہ بڑی بھی نہیں تھی اور نہ ہی اتنی چھوٹی تھی . اور بالکل صاف تھی . میں نے ہاتھ پے لوشن نکالا اور پِھر اپنی ایک انگلی پے لگا کر آنٹی کی بُنڈ کے اوپر اور پِھر اندر باہر اچھی طرح اس کو نرم کر دیا اور پِھر میں نے لوشن کو اپنے لن پے اچھی طرح لگا دیا اور اس کو گھیلا کر دیا پِھر میں نے لوشن کی بوتل سائڈ پے پے رکھ کر اپنے لن کو ہاتھ میں پکڑا اور اس کی ٹوپی کو آنٹی کی موری پے سیٹ کیا اور پِھر ہلکا سا پُش کیا لیکن وہ لوشن کی وجہ سے سلپ ہو گیا اور اندر نہیں گیا . میں نے پِھر لن کو موری پے سیٹ کیا اور اِس دفعہ پہلے کی نسبت تھوڑا زیادہ پُش کیا تو میری ٹوپی تقریباً آنٹی کی بُنڈ میں گھس گئی میں نے اس ہی ٹائم پے اور زور لگا کے پوری ٹوپی کو اندر رنگ تک گھسا دیا آنٹی کے منہ سے ایک لمبی سی آہ نکل گئی اور انہوں سے اپنے ہاتھ کو پیچھے کر کے میرے پیٹ پے رکھ کر اشارہ دیا کے ابھی اور زیادہ اندر نہیں کرنا. میں وہاں ہی رک گیا کچھ دیر بعد آنٹی نے اپنا ہاتھ ہٹا کر دوبارہ صوفے کی ٹیک پے رکھ لیا میں سمجھ گیا تھا اب حرکت کر سکتا ہوں . اِس لیے میں نے لن کو آہستہ آہستہ اندر کرنا شروع کر دیا میں نے آنٹی کی موری کے اندر کافی زیادہ لوشن لگایا تھا اِس لیے لن زیادہ تنگ ہو کر اندر نہیں جا رہا تھا پِھر تقریباً جب ایک انچ یا اس سے کچھ زیادہ باقی باہر رہ گیا تو میں رک گیا اور رکنے کے کچھ ہی لمحوں کے بعد میں نے زور کا جھٹکا مارا اور پورا لن جڑ تک آنٹی کی موری میں گھسا دیا اور آنٹی کے منہ سے یکدم آواز نکلی ہا اے آ می جی میں مر گئ. میں پِھر وہاں ہی رک گیا اور کوئی 2 منٹ تک کوئی مزید حرکت نہ کی پِھر جب میں نے دیکھا اب کچھ سکون ہو گیا ہو گا میں نے پِھر آہستہ آہستہ لن کو اندر باہر کرنے لگا اور میں 5 منٹ تک آہستہ آہستہ ہی اندر باہر کرتا رہا جس سے اب لن اندر موری میں رواں ہو گیا تھا اور میں نے محسوس کیا اب آنٹی بھی آگے پیچھے کو ہو رہی ہیں اور ساتھ دے رہی ہیں پِھر میں نے نیچے سے ہاتھ ڈال کر ان کے ممے پکڑ لیے اور اور اپنی دھکے تیز کر دیئے اور دوسری طرف اب آنٹی کو بھی نشہ چڑ گیا تھا وہ بھی اس ہی سپیڈ سے آگے پیچھے ہو کر لن اندر باہر لے رہی تھی اور ان کے منہ سے سسکا ریاں نکل رہی تھیں اور کمرے میں دھپ دھپ کی آواز گونج رہی تھی. آنٹی کی سیکسی آوازوں نے مجھے اور زیادہ گرم کر دیا تھا میں نے طوفانی جھٹکے لگانے شروع کر دیئے اور پِھر یکدم آنٹی کا جسم جھٹکے کھانے لگا میں سمجھ گیا تھا آنٹی کی پھدی نے پانی چھوڑ دیا ہے میں نے بھی اپنی رفتار کو جاری رکھا اور پِھر کو 5 سے 7 منٹ کے اندر ہی میں نے بھی اپنی منی کا فوارہ آنٹی کی بُنڈ کے اندر چھوڑ دیا اور ہانپنے لگا جب میرے لن سے منی کا آخری قطرہ بھی نکل گیا تو میں نے لن کو باہر نکال لیا اور صوفے پے ہی گر گیا اور آنٹی بھی صوفے پے ہی لیٹ کر لمبی لمبی سانسیں لینے لگی. کافی دیر بعد جب ہم دونوں کی سانسیں بَحال ہوئیں تو میں نے کہا واہ آنٹی جی کمال کر دیا ہے آپ نے آپ کی بُنڈ مار کر میری روح خوش ہو گئی ہے قسم لے لو ایسا مزہ پہلے نہیں آیا . آنٹی نے کہا مزہ مجھے بھی بہت آیا ہے تم نے بہت اچھے طریقے سے کیا ہے میں ڈ ر رہی تھی اتنے عرصے بعد پتہ نہیں اندر لے سکوں گی بھی نہیں اور تمھارا لن بھی لمبا اور موٹا تھا ایک ٹائم پر تم نے مجھے کافی درد دیا تھا. لیکن تمھارے لیے وہ بھی میں نے برداشت کر لیا ہے . میں نے کہا جی مجھے پتہ ہے میں نے آخر میں جھٹکا زور سے مارا تھا آپ کو تکلیف ہوئی ہو گی . اس کے لیے آپ سے معافی چاہتا ہوں بس بندہ نشے میں ہو تو پتہ نہیں چلتا ہے . آنٹی نے کہا کوئی بات نہیں ہے کا شی بیٹا مزہ لینے کے لیے اتنا درد تو برداشت کرنا پڑتا ہے. پِھر آنٹی کو میں نے اپنا نمبر دے دیا اور ان کا بھی نمبر لے لیا اور ان کو کہا جب آپ راولپنڈی آئیں گی تو مجھے پہلے کال کر دینا میں آپ کے لیے وہاں اچھا سے گھر بھی تلاش کر دوں گا اور آپ کا سامن بھی گھر میں سیٹ کروا دوں گا . آنٹی نے مجھے لمبی سی فرینچ کس کی اور کہا شکریہ بیٹا میں آنے سے پہلے تمہیں ضرور کال کروں گی اب میرا اس شہر میں تمہاری فیملی اور تمھارے سوا اور کون ہو گا . پِھر میں نے ٹائم دیکھا تو 4 بج کر35 منٹ ہو چکے تھے میں وہاں سے اٹھنے لگا تو آنٹی نے کہا کا شی بیٹا میرے باتھ روم میں ہی نہا لو . میں نے کہا آنٹی ضرور نہا لیتا لیکن ٹائم ایسا ہے کے نازیہ کبھی بھی اوپر آ سکتی ہے اور پِھر کوئی بھی مسئلہ بن سکتا ہے اِس لیے میں ڈرائنگ روم کے ساتھ والے باتھ روم میں نہا لیتا ہوں آپ اپنے باتھ روم میں نہا لو . آنٹی میری بات سن کر خوش ہو گئی تھی . پِھر میں وہاں سے نکلا اور دوسرے باتھ روم میں جا کر گھس گیا اور اچھی طرح نہا دھو کر اپنے کمرے میں آیا کپڑے تبدیل کیے اور ٹائم دیکھا تو 5 سے اوپر ٹائم ہو گیا تھا . میں کمرے سے نکلا اور نیچے ٹی وی لاؤنج میں چلا گیا وہاں پے سائمہ آنٹی اور آسمہ آنٹی بیٹھی باتیں کر رہی تھی اور نازیہ بھی وہاں بیٹھی کوئی دال صاف کر رہی تھی میں جا کر دوسرے صوفہ پے بیٹھ گیا اور ٹی وی لگا لیا میں نے تھوڑی دیر بعد جب آسمہ آنٹی کو دیکھا وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی اور مسکرا رہی تھی میں نے بھی مسکرا کر جواب دیا پِھر میری نظر سائمہ پے گئی وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی انہوں نے مجھے آنکھوں کے اشارے سے پوچھا آب کیا حال ہے میں نے بھی آنکھوں کے اشارے سے جواب دے دیا کے سب کچھ بہت ہی زبردست ہوا ہے. پِھر رات تک میں وہاں ہی بیٹھا رہا اور رات کو كھانا کھا کر ہی اوپر اپنے کمرے میں گیا اور رات کو تقریباً 1 بجے سائمہ آنٹی میرے کمرے میں آ گئی تھی اور میں نے اس کو پورا ایک گھنٹہ لگا کر اس کو چودا اور 2 دفعہ ان کا پانی نکلوایا پِھر وہ مطمن ہو کر اپنے کمرے میں چلی گئی.
اِس ہی طرح میں نے اگلے دن رات کو آسمہ آنٹی کو ان کے کمرے میں 1 بجے سے لے کر صبح 4 تک چودتا رہا اور ان کو بھی 3 دفعہ پھدی اور گانڈ میں فارغ کروایا اور خود بھی ہوا سائمہ آنٹی اس وقعت میرے والے کمرے میں اپنی بیٹی کے ساتھ سوئی ہوئی تھی . اس سے اگلا دن ہمارا آخری تھا کیونکہ وہ دن گزار کر اگلی صبح کو مجھے اور سائمہ آنٹی کو واپس شیخوپورہ جانا تھا. لہذا آخری دن میں نے دو پہر کو سائمہ آنٹی کو اپنے کمرے میں ایک دفعہ چودا اور آسماں آنٹی کو رات کے وقعت میں نے اپنے کمرے مطلب نازیہ کے کمرے میں بلا لیا تھا . لیکن رات کو جب میں آسمہ آنٹی کو چودرہا تھا تو ایک دھماکہ ہو گیا تھا . کیونکہ میں نے بیڈ کا گدا زمین پے بچھادیا تھا اور اس کے اوپر ہی آسمہ آنٹی کوچودرہا تھا اور یہ والا کمرہ سیڑھیوں کے بالکل نزدیک بنا ہوا تھا اور اس ہی طرف کمرے کی چھوٹی سی کھڑکی بھی تھی جس سے رات کے سناٹے میں آواز نیچے ٹی وی لاؤنج تک سنی جا سکتی تھی . ہوا یوں میں اِشرَت آنٹی کی طرح ہی آسمہ آنٹی کو گھوڑی بنا کر پیچھے اپنی ٹانگوں پے کھڑا ہو کر تھوڑا جھک کر آنٹی کے بُنڈ مار رہا تھا اِس پوزیشن میں لن پورا اندر تک جا کر جڑ تک ٹکراتا ہے تو عورت کو زیادہ مزا بھی اور تکلیف بھی محسوس ہوتی ہے کیونکہ مرد اِس پوزیشن میں پوری طاقت آسانی سے استعمال کر رہا ہوتا ہے . بس میں بھی کچھ یہ ہی کر رہا تھا اور میں نے یہ ہی سوچا تھا کے رات کا ٹائم ہے اور سائمہ آنٹی آسمہ آنٹی کے کمرے میں سوئی ہوئی ہے اور نیچے سے کس نے اوپر انا ہے سب سوئے ہوئے ہوں گے اِس لیے میں نے وہ چھوٹی کھڑکی کا پردہ اور اس کو بند کَرنا ضروری نہیں سمجھا حالاں کہ کھڑکی کی ایک سائڈ پوری بند تھی اور دوسری بھی تھوڑی سی ہی کھلی ہوئی تھی تا کہ کمرے میں حبس نا بن جائے. لیکن جو ہو کر رہتا ہے وہ ہو کر ہی رہتا ہے . کیونکہ نیچے شاید نازیہ پانی پینے یا باتھ روم جانے کے لیے اٹھی ہوئی تھی اور اس نے اگر کچن میں یا باتھ روم میں جانا تھا تو ٹی وی لاؤنج میں سے گزر کر ہی جانا تھا اِس لیے دونوں صورتوں میں اس کو آواز تو آنی ہی آنی تھی . اور یہ ہی ہوا اس نے آسمہ آنٹی کی سسکا ریاں شاید نازیہ نے سن لی تھی اور وہ اوپر آ گئی تھی اور وہ اوپر آ کر کھڑکی کے پاس پتہ نہیں کب سے کھڑی ہم دونوں کو دیکھ رہی تھی . حالاں کہ میں نے کمرے میں زیرو کا بلب لگایا ہوا تھا لیکن اس میں بھی باہر کا بندہ آسانی سے دیکھ سکتا تھا اب آسمہ آنٹی تو گھوڑی بنی ہوئی تھی اور اس کا منہ نیچے زمین پے تھا اور وہ تو دیکھ نہ سکی لیکن میری یکدم نظر کھڑکی پے پڑنے کی وجہ سے میرے پیروں تلے زمین نکل گئی تھی کیونکہ نازیہ سب کچھ صاف صاف دیکھ چکی تھی وہ وہاں میرے اس کو دیکھنے کا بَعْد شاید چند لمحے ہی ٹھہری تھی لیکن اس کا چہرہ صاف بتا رہا تھا وہ ایک دم لال سرخ ہوا تھا اور غصہ اور بے یقینی کی کیفیت اس کے چہرے پے صاف عیاں تھی اور پِھر وہ کچھ ہی لمحوں میں وہاں سے غائب ہو گئی تھی . میری تو ا ب ہمت ہی جواب دے گئی تھی اور اِس کیفیت میں ہی میں نے نا جانے کب آنٹی کی بُنڈ میں اپنی منی چھوڑ دی تھی مجھے اِس بات کا بالکل بھی اندازہ نہ تھا اور پِھر میں فوراً گدےہی پے منہ کے بل گرگیا تھا اور اپنی آنکھیں بند کر لیں تھیں . کچھ دیر بَعْد ہی آنٹی نارمل ہو کر بولی سناؤ کا شی بیٹا مزہ آیا . لیکن میں تو شاید پتہ نہیں کن سوچوں میں تھا میرا دماغ کام کَرنا چھوڑ گیا تھا آنٹی شاید بولتی رہی تھی لیکن میں کوئی بھی جواب نہیں دے رہا تھا اور میری آنکھیں بند تھی اور مجھے پتہ ہی نہیں چلا وہ کب وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی تھی . ان کو کچھ بھی نہیں پتہ تھا کے کیا دھماکہ ہو چکا ہے اور میں اِس دھماکے کی وجہ سے بہت زیادہ ہل گیا تھا اور پتہ ہی نہیں چلا مجھے کب نیند آ گئی اور میں سو گیا میری آنکھ اس ٹائم کھلی جب سائمہ آنٹی مجھے صبح کے 6 بجے زور زور سے ہلا کر اٹھا رہی تھی میں ان کے زور سے ہلانے کی وجہ سے فوراً اٹھ کر بیٹھ گیا تو سائمہ آنٹی نے کہا کا شی ٹرین نکل جائے گی جلدی سے منہ ہاتھ دھو لو ہم کو اسٹیشن جانا ہے . میں فوراً اٹھا نہایا بھی نہیں اور جلدی سے منہ ہاتھ دھو کر باہر آ کر اپنا بیگ اٹھایا اور نیچے چلا گیا نیچے آسمہ آنٹی نے بریڈ اور چائے گرم کی ہوئی تھی میں نے بس آدھا کپ چائے پی اور ایک آدھی سی بریڈ لی کیونکہ میں وہاں اب رکنا نہیں چاہتا تھا یہ شکر تھا نازیہ ابھی تک سوئی ہوئی تھی میں اس کا سامنہ نہیں کر سکتا تھا میں نے اور آنٹی سائمہ نے بھی آسمہ آنٹی کو سلام دعا کی ان کی ا می بھی جاگ رہی تھیں ان کو بھی سلام دعا کی پِھر ہم دونوں گھر سے نکل کر اسٹیشن کی طرف آ گئے

 

جاری ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

اردو فن کلب کے پریمیم ممبرز کے لیئے ایک لاجواب تصاویری کہانی ۔۔۔۔۔ایک ہینڈسم اور خوبصورت لڑکے کی کہانی۔۔۔۔۔جو کالج کی ہر حسین لڑکی سے اپنی  ہوس  کے لیئے دوستی کرنے میں ماہر تھا  ۔۔۔۔۔کالج گرلز  چاہ کر بھی اس سےنہیں بچ پاتی تھیں۔۔۔۔۔اپنی ہوس کے بعد وہ ان لڑکیوں کی سیکس سٹوری لکھتا اور کالج میں ٖفخریہ پھیلا دیتا ۔۔۔۔کیوں ؟  ۔۔۔۔۔اسی عادت کی وجہ سے سب اس سے دور بھاگتی تھیں۔۔۔۔۔ سینکڑوں صفحات پر مشتمل ڈاکٹر فیصل خان کی اب تک لکھی گئی تمام تصاویری کہانیوں میں سب سے طویل کہانی ۔۔۔۔۔کامران اور ہیڈ مسٹریس۔۔۔اردو فن کلب کے پریمیم کلب میں شامل کر دی گئی ہے۔

گھر سے لے کر اسٹیشن تک میں بالکل خاموش بیٹھا رہا میرا دماغ کہیں اور ہی لگا ہوا تھا . اسٹیشن پہنچ کر ہم نے تھوڑی دیر ہی انتظار کیا اور پِھر ٹرین آ کر اسٹیشن پے رکی ہم اپنی برتھ میں آ کر بیٹھ گئے . ہماری آنے اور جانے کی ٹکٹس تو پہلے ہی نزیر چچا نے بُک کروائی ہوئی تھیں اور ہمارے پاس آنے جانے کی دونوں سائڈ کی ٹکٹس پہلے سے موجود تھیں لہذا ہم برتھ میں آ کر بیٹھ گئے . آنٹی کی بیٹی تو گھر سے لے کر اب تک سوئی ہوئی تھی . ٹرین اپنے وقعت پے چل پڑی لیکن میں بدستور خاموش تھا اور کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا . ہمیں ٹرین میں سفر کرتے ہوئے تقریباً 1 گھنٹہ ہو چکا تھا لیکن ابھی تک ہم دونوں کے درمیان کوئی بات شروع نہیں ہوئی تھی . لیکن سائمہ آنٹی بار بار میری طرف دیکھ رہی تھی لیکن بات کوئی نہیں کر رہی تھی . پِھر آنٹی نے ہی بات شروع کی اور مجھے پوچھا کا شی کہاں کھوئے ہوئے ہو خیر ہے نہ اتنے خاموش کیوں ہو صبح سے لے کر ابھی تک خاموش بیٹھے ہو کچھ بول کیوں نہیں رہے ہو . تم نے تو 3 دن دِل بھر کا مزہ کیا ہے پِھر منہ کیوں لٹکا ے بیٹھے ہو . میں آنٹی کی بات سن کر ان کی طرف دیکھا اور پِھر دوبارہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا لیکن آنٹی کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا . آنٹی کی بیٹی ابھی تک ان کی جھولی میں ہی سوئی تھی . آنٹی نے اپنی بیٹی کو سیٹ کے اوپر لیٹا دیا اور پِھر میری طرف دیکھ کر بولی کیا بات ہے کا شی کیا مسئلہ ہے تم مجھے کچھ پریشان لگ رہے ہو . مجھے سائمہ آنٹی کو کوئی بھی بات بتانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی . لیکن پِھر سائمہ آنٹی نے کہا کیا مسئلہ ہے مجھے بتاؤ تم اتنے پریشان کیوں ہو اتنا کچھ ہمارے درمیان ہونے کے باوجود تمہیں مجھ پے اعتماد نہیں ہے. میں نے سائمہ آنٹی سے کہا ایسی بات نہیں ہے آنٹی جی بس تھوڑی پریشانی بنی ہوئی تھی اِس لیے خاموش بیٹھا تھا اور آپ کو بتانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی

آنٹی میری بات سن کر اپنی سیٹ سے اٹھ کر میری والی سیٹ پے آ کر بیٹھ گئی اور میرے کاندھے پے ہاتھ رکھ کر بولی کا شی بیٹا مجھے بتاؤ کیا مسئلہ ہے . میں نے پِھر ہمت کی اور رات کو جو دھماکہ ہوا تھا اس کی پوری ڈیٹیل سائمہ آنٹی کو بتا دی . میری پوری بات سن کر آنٹی کا منہ لال سوراخ ہو چکا تھا اور ان کے ماتھے پے پسینہ صاف نظر آ رہا تھا . وہ میری بات سن کر پہلے تو کچھ دیر منہ نیچے کر کے بیٹھی رہی . پِھر یکدم میرے کاندھے سے پکڑ کر مجھے زور سے ہلایا اور بولی کا شی اتنی بڑی بات ہو گئی تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں . میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی یہ سب رات کا واقعہ ہے اس ٹائم سب سوئے ہوئے تھے میں اس ٹائم کس کو جا کر بتاتا اور صبح کو ہم واپسی کے لیے نکل آئے ہیں . آسمہ آنٹی کو میں بتا نہیں سکتا تھا اور آپ کی ا می بھی جاگ رہیں تھیں . اگر میں بتاتا تو کس کو بتاتا اور کب بتاتا . اور اگر آسمہ آنٹی کو بتا دیتا تو ان کا تو رات کو ہی ہارٹ فیل ہو جانا تھا . آنٹی میری بات سن کر پِھر خاموش ہو گئی اور پِھر جلدی سے اٹھی اور اپنی سیٹ پے جا کر اپنے بیگ سے موبائل نکالا اور ٹائم دیکھنے لگی ابھی تقریباً8.30ہوئے تھے. پِھر میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی آپ نے تو آسمہ آنٹی کو پورا یقین کروایا تھا کے آپ نازیہ کو سمجھا دیں گی اور اس کو اعتماد میں کر لیں گی . کیا آپ نے نازیہ سے بات نہیں کی تھی . آنٹی نے کہا کا شی میں نے نازیہ سے اِس لیے بات نہیں کی تھی کے ابھی تو تم صرف 3 دن کے لیے آئے ہو اور 3 دن میں کون سا نازیہ کو پتہ چل جائے گا اور جب باجی راولپنڈی چلی جائیں گی تو وہاں پے میں خود باجی کے پاس کچھ دن کے لیے چلی جاؤں گی اور وہاں ہی نازیہ کو ایک دوست بن کر اعتماد میں لے لوں گی اور سب کچھ سمجھا دوں گی . لیکن مجھے کیا پتہ تھا کے اس کو اتنی جلدی بات پتہ چل جائے گی 

Share this post


Link to post
Share on other sites


سائمہ آنٹی کی بات سن کر میری پھٹ کے ہاتھ میں آ گئی . میں نے کہا آنٹی جی اِس کا مطلب ہے کے آپ نے ابھی تک نازیہ سے کوئی بھی کسی قسِم کی بات نہیں کی ہے . تو آنٹی نے کہا ہاں کا شی ایسا ہی ہے . میں نے کہا آنٹی یہ تو کام بہت خراب ہو جائے گا اور آسمہ آنٹی کا کیا بنے گا وہ تو پہلے ہی بہت ڈری ہوئی تھی . آنٹی کا اپنے چہرہ بتا رہا تھا ان کو مجھ سے زیادہ پریشانی لگ گئی تھی. آنٹی بار بار موبائل پے ٹائم دیکھ رہی تھی میں نے آنٹی سے کہا آنٹی آپ نے اب کیا سوچا ہے . تو آنٹی نے کہا مجھے باجی کو بات پتہ لگنے سے پہلے نازیہ سے بات کرنا ہو گی اس کا منہ بند کروانا ہو گا . میں نے کہا تو آنٹی جی یہ اب کیسے ہو گا . تو آنٹی نے کہا باجی اِس ٹائم اسکول ہو گی اور وہ 2 بجے واپس آئے گی . مجھے اس سے پہلے نازیہ سے بات کرنی ہے اور نازیہ صبح 9 بجے تک اَٹھ جاتی ہے مجھے اس کے اٹھنے کا انتظار ہے پِھر میں اس سے فون پے بات کروں گی . میں نے اپنے موبائل میں دیکھا 9 بجنے میں ابھی 15 منٹ باقی تھے . پِھر ہم دونوں خاموش ہو کر بیٹھ گئے . سائمہ آنٹی کا چہرہ دیکھا تو وہ کسی گہری سوچ میں تھیں . اور میں بھی 9 بجنے کا انتظار کر رہا تھا . یکدم ہی آنٹی نے کہا کا شی مجھے موبائل پے بیلنس چاہیے کیونکہ نازیہ کا نیٹ ورک اور ہے اس پے میرا پیکج نہیں چل سکتا . میں نے کہا آنٹی جی اس کا نیٹ ورک کون سا ہے آنٹی نے کہا یو فون کا ہے میں نے کہا آنٹی جی میرا نمبر تو جیز کا ہے اگر آپ اس سے کریں گی تو پیکج کے بغیر 20 سے 25 منٹ بات ہو سکتی ہے ، آنٹی نے کہا کا شی یہ مسئلہ ایسا ہے اِس میں کافی ٹائم لگ سکتا ہے مجھے زیادہ بیلنس چاہیے 


میں نے کہا آنٹی جی پِھر تو تھوڑی دیر میں اگلا اسٹیشن آنے والا ہے میں وہاں سے آپ کو 500 کا بیلنس ڈلوا دیتا ہوں آپ آرام سے کھل کر بات کر لینا . تو آنٹی نے کہا ٹھیک ہے . جب اسٹیشن پے گاڑی رکے تو فوراً جا کر بیلنس ڈال دو مجھے جلد سے جلد نازیہ سے بات کرنی ہے . میں نے کہا آنٹی جی آپ فکر نہ کریں . کوئی.15 9 کا ٹائم ہو گا جب ٹرین نے اپنا ہارن بجایا تو میں سمجھ گیا اگلا اسٹیشن آ گیا ہے میں وہاں سے فوراً اٹھا اور ٹرین کے دروازے پے چلا گیا اور کوئی 5 منٹ بَعْد ہی ٹرین اسٹیشن پے جا کر رکی میں فوراً اونچے اترا اور جا کر اسٹیشن پے ایک شاپ بنی تھی وہاں سے دکاندار کو کہا بھائی موبائل کارڈ چاہیے تو اس نے کہا کارڈز نہیں ہیں ایزی لوڈ ہے . میں نے کہا اچھا ٹھیک ہے آپ کو میں نمبر لکھواتا ہوں مجھے اس پے 500 کا بیلنس ڈال دیں اس نے فوراً نمبر پے بیلنس ٹرانسفر کر دیا میں نے اس کو 500 دیئے اور کچھ کھانے پینےکی اور چیزیں لیں اور کچھ دیر بَعْد اپنی برتھ میں آ گیا . جب میں برتھ میں اندر داخل ہوا تو سائمہ آنٹی نے شاید نازیہ کو کال ملائی ہوئی تھی مجھے دیکھ کر سائمہ آنٹی نے اشارہ کیا کے خاموشی سے بیٹھ جاؤ . میں وہاں سیٹ پے ہی چیزیں رکھ دیں آنٹی پہلے تو اس کے ساتھ نارمل یہاں وہاں کی باتیں کر رہی تھی پِھر میں نے سوچا آنٹی کو آرام سے بات کرنی چاہیے میں اٹھ کر برتھ سے باہر نکل آیا اور دروازے کے پاس کھڑا ہو کر باہر دیکھنے لگا ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا لگ رہی تھی میں وہاں ہی دروازے میں بیٹھ گیا. مجھے وہاں بیٹھے بیٹھے پتہ ہی نہیں چلا کافی ٹائم ہو گیا تھا میں نے موبائل پے ٹائم دیکھا تو مجھے وہاں بیٹھے بیٹھے تقریباً 1 گھنٹہ گزر چکا تھا 


میں وہاں سے اٹھا اور اپنی برتھ کی طرف چلا گیا جب برتھ کے پاس پہنچا تو دیکھا آنٹی فون پے بات کر رہی تھی . میں یہ دیکھ کر حیراں بھی ہوا . میں نے برتھ کی بجاے وہاں سے سیدھا باتھ روم میں چلا گیا اور پِھر باتھ روم سے فارغ ہو کر باہر نکلا تو باتھ روم کے دروازے پے ایک بڑی ہی سیکسی سی کوئی لگ بھاگ 23یا24 سال کی لڑکی کھڑی باتھ روم خالی ہونے کا انتظار کر رہی تھی . جب ہم دونوں کی نظر آپس میں ملی تو میں اس کو دیکھ کر سمائل پاس کی اس نے بھی مجھے ہلکی سی سمائل پاس کی اور فوراً باتھ روم میں گھس کر دروازہ بند کر لیا میں وہاں ہی ساتھ میں ٹرین کے دروازے پے کھڑا ہو گیا اور باہر کی ٹھنڈی ہوا لینے لگا . کوئی 5 منٹ بَعْد ہی باتھ روم کا دروازہ کھلا اور وہ لڑکی باہر نکلی اور دوبارہ پِھر ہماری نظر ملی تو وہ اب تھوڑا شرما گئی اور سمائل دے کر اپنی برتھ کی طرف چلی گئی . جب وہ اپنی برتھ کی طرف جا رہی تھی تو اس کا پیچھے سے جسم دیکھا تو لن کو ایک زور کا جھٹکا لگا کیونکہ اس کی گانڈ اس کی کمر کے حساب سے کافی بڑی اور باہر کو نکلی ہوئی تھی اور چلتے ہوئے اوپر نیچے مٹک رہی تھی میں ابھی اس کی بُنڈ کا نظارہ ہی لے رہا تھا کے یکدم وہ لڑکی اپنی برتھ کے پاس پہنچ کر میری طرف دیکھا تو میں ڈر گیا اس نے شاید مجھے اپنی گانڈ کو گھور تے ہوئے دیکھ لیا تھا . اس نے مجھے مصنوعی سا غصہ دکھایا اور پِھر ہلکی سی سمائل دے کر اور شرما کر اپنی برتھ میں چلی گئی . میں اس لڑکی کو سمجھ گیا تھا کے اِس کو دانہ ڈالا جا سکتا ہے . میں وہاں دروازے پے ہی کھڑا ہو کر اس کے بارے میں سوچنے لگا کے شاید کوئی بات بن جائے . پِھر یکدم میرے دماغ میں ایک خیال آیا . میں نے یہاں وہاں دیکھا اور بوگی کے دوسرے کون پے ایک بندہ کھڑا سگریٹ پی رہا تھا میں چلتا ہوا وہاں گیا اور اس کو کہا بھائی صاحب آپ کے پاس کوئی پین ہے . تو اس نے اپنی فرنٹ جیب میں لگی پین مجھے دی میں نے اس کو اپنی جیب میں رکھی جو ٹکٹ تھی اس کو پھاڑ کر اس پے اپنا نمبر لکھا اور پین واپس اس بندے کو دے کر دوبارہ اس ہی دروازے کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا اور انتظار کرنے لگا شاید وہ لڑکی دوبارہ آئے تو کوئی دانہ ڈالوں گا


اور پِھر میرا شق ٹھیک ثابت ہوا کوئی 15 منٹ بعد دوبارہ وہ اپنی برتھ سے باہر نکلی اور دوبارہ باتھ روم کی طرف آنے لگی جب وہ رستے میں آ رہی تھی تو مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی . میں نے دوسرے بندے کی نظر سے بچ کر جلدی سے وہ نمبر والا کاغذ باتھ روم کے بالکل سامنے بنی ہوئی کھڑکی میں پھنسا دیا اور اس لڑکی کو اشارے سے سمجھا دیا اور دوبارہ دروازے سے باہر دیکھنے لگا جب وہ لڑکی باتھ روم میں چلی گئی میں فوراً وہاں سے چلتا ہوا اپنی برتھ میں آ گیا اور آ کر اپنی سیٹ پے بیٹھ گیا. جب میں سیٹ پے آ کر بیٹھا تو دیکھا اس ٹائم سائمہ آنٹی اپنا موبائل اپنے بیگ میں رکھ رہی تھی . لگتا تھا ابھی شاید کال بند ہوئی ہے . پِھر میں نے آنٹی سائمہ کی طرف دیکھا تو ان کے چہرے پے ایک اطمینان تھا . میں نے آنٹی سے پوچھا آنٹی کیا ہوا کچھ مجھے بھی بتاؤ نازیہ نے کیا کہا ہے . آنٹی نے ایک لمبی سی سانس لی اور مجھے کہا کے کا شی بے فکر ہو جاؤ اب کوئی خطرے کی بات نہیں ہے میں نے نازیہ سے پوری بات کر لی ہے اور اس کو مکمل اعتماد میں لے لیا ہے اور وہ اب اپنی امی سے کسی بھی قسم کی بات نہیں کرے گی . میں نے کہا آنٹی پِھر بھی آپ بتاؤ تو آپ نے کیسے اس کو منایا ہے . تو آنٹی نے کہا یہ لمبی اسٹوری ہے میں پِھر کسی وقعت تمہیں بتاؤں گی ابھی ٹائم تھوڑا رہ گیا ہے شیخوپورہ آنے میں تھوڑا ٹائم باقی رہ گیا ہے . میں پِھر کسی دن تمہیں ڈیٹیل میں بتاؤں گی . ابھی تو میں نے نازیہ کو سمجھا دیا ہے اور مکمل اپنے اعتماد میں لے لیا ہے اب مجھے گھر پہنچ کر باجی سے بات کرنی ہے اور ان کو مکمل یقین کروانا ہے اور باقی رہی تمہاری بات میں آج باجی کے سکول سے چھٹی کرنے سے پہلے پہلے بات کر لوں گی


لیکن تم نے باجی کے ساتھ فلحال نہ ہی فون پے کوئی بھی رابطہ نہیں کرنا ہے اور نا ہی جب وہ راولپنڈی میں ہوں گی تو . جب باجی تمہیں خود راولپنڈی میں سیٹ ہو کر حالات سیٹ ہو جائیں گے تو وہ خود تم سے رابطہ کریں گی میں بھی ان کوسمجھا دوں گی . لیکن اس سے پہلے ان سے رابطہ نہ کرنا کیونکہ میں نازیہ کو پورا اعتماد اور موقع دینا چاہتی ہوں تا کہ بَعْد میں بھی کوئی مسئلہ نہ ہو . میں نے کہا ٹھیک ہے آنٹی جیسے آپ کی مرضی . اور پِھر میں نے آنٹی کو کھانے پینے کی چیزیں دی اور پِھر ہم یہاں وہاں کی باتیں کرنے لگے . اور میں یہ بھی سوچ رہا تھا کے شاید اس لڑکی نے وہ کاغذ وہاں سے اٹھایا بھی ہے کے نہیں . اور اگر اٹھا بھی لیا تو پتہ نہیں فون کرے گی بھی یا نہیں . تقریباً پونے بارہ بجے ہم شیخوپورہ اسٹیشن پے پہنچ گئے. پِھر اسٹیشن سے رکشہ کروایا اور سیدھا سائمہ آنٹی کے گھر آ گئے میں نے ان کو وہاں ان کے گھر چھوڑا اور اپنے گھر کی طرف آ گیا مجھے چچی کی امی نے بہت روکا کے كھانا کھا کر چلے جانا لیکن میں نے کہا مجھے بھوک نہیں ہے اور وہاں سے نکل کر اپنے گھر آ گیا اور جب گھر آیا چچی گھر پے ہی تھیں انہوں نے دروازہ کھولا پِھر مجھ سے سب کے بارے میں حال احوال پوچھا اور میں پِھر گرمی کی وجہ سے تنگ ہو گیا تھا میں نہانے کے لیے باتھ روم میں گھس گیا اور نہانے لگا. پِھر وہ دن بھی یوں ہی عام دن کے طرح گزر گیا اور میں اپنی روٹین کے مطابق ٹی وی دیکھ رہا تھا کے یکدم مجھے چچی کا وہ کام یاد آ گیا جو انہوں نے مجھے کہا تھا کے بلال جو کے ان کی چھوٹی بہن کا دیور ہے اس کو چچی کے لیے تیار کرنا ہے . میں تو یہ بھول ہی گیا تھا اور سوچنے لگا چچی نے میرے اتنے کام کرواےہیں اور میں نے اب تک ان کا ایک بھی کام نہیں کیا . میرے پاس اب دن بھی تھوڑے رہ گئے تھے آج جمعرات تھی اور اتوار والے دن مجھے واپس بھی جانا تھا . پِھر میں نے سوچا مجھے بلال والا کام آج سے ہی شروع کر دینا چاہیے اور اگر زیادہ کوئی مسئلہ ہوا تھا 2 یا 3 دن اور رہ لوں گا اور بلال والا کام کر کے ہی واپس اسلام آباد جاؤں گا . بس یہ ہی خیال آتے ہی میں نے ٹی وی بند کیا اور باہر آیا تو چچی کچن کا کام کر رہی تھی اور ابھی صبح کے10 ہی بجے تھے


میں نے چچی سے کہا چچی میں باہر جا رہا ہوں مجھے تھوڑی دیر ہو جائے گی آپ دروازہ بند کر لیں . تو چچی نے کہا کا شی بیٹا آج یکدم کہاں کا پروگرام بنا لیا ہے. میں نے کہا چچی جان ٹائم تھوڑا ہے اور آپ کا کام بھی تو کرنا ہے میں تو بھول گیا تھا اب یاد آیا ہے اِس لیے اس کام کے لیے جا رہا ہوں . میری بات سن کر چچی کے چہرے پے ایک رونق سی آ گئی . پِھر وہاں سے نکلا رکشہ کروایا اور سیدھا چچی کی امی کے محلے میں آ گیا جہاں پے بلال کی دکان تھی . جب میں بلال کی دکان پے پہنچا تو مجھے دیکھا کر حیران ہو گیا اور دکان سے باہر آ کر مجھے گلے لگا کر ملا اور بولا. ) واہ کا شی یار آج چن کیتھوں نکل آیا اے (میں نے کہا نہیں یار ایسی بات نہیں ہے . اور پِھر ہم دونوں گپ لگاتے ہوئے اندر دکان میں آ کر بیٹھ گئے بلال نے اپنی دکان سے ہی ٹھنڈی پیپسی کی بوتل کھول کر مجھے پیش کی جو میں گرمی ہونے کی وجہ سے بنا دیر کیے پی گیا .
بلال مجھ سے پوچھنے لگا یار کا شی تم اتنے دن سے یہاں آئے ہوئے ہو میری طرف آنے کا آج ٹائم ملا ہے. میں نے کہا نہیں یار ایسی بات نہیں ہے میں ذرا گھر کے کاموں میں مصروف تھا اِس لیے ٹائم نہیں مل سکا . میں نے کہا تم سناؤ کام دھندہ کیسا چل رہا ہے اور گھر میں سب کیسے ہیں . تو کہنے لگا گھر میں سب ٹھیک ہے کام بھی اچھا چل رہا ہے دال روٹی نکل آتی ہے . پِھر ہم یوں ہی یہاں وہاں کی باتیں کرنے لگے . باتوں ہی باتوں میں نے اس سے پوچھا یار شادی کب کر رہا ہے اب تو تم ہی گھر میں اکیلے رہ گئے ہو . تو وہ آگے سے بولا یار میری کس کو فکر ہے ہے یہاں جب بھی گھر والوں کو کہتا ہوں آگے سے کہتے ہیں ابھی دو یا چار سال صبر کرو . یار کا شی خود ہی بتا بندہ کتنا انتظار کرے اب تو دکان کو چلا تا ہوں پورا پورا خرچہ گھر میں دیتا ہوں


لیکن پِھر بھی میرے لیے کوئی ابھی راضی نہیں ہوتا بندہ ا ب کیا کرے کیسے گھر والوں کو کہے کے ا ب اکیلا گزارا نہیں ہوتا ہے . میں نے بلال کی کمر پے ہاتھ رکھ کر کہا یار حوصلہ رکھ ہو جائے گا . پِھر میں نے ویسے ہی گول مول کر کے کہا یار شادی نہیں ہوئی تو تم کون سا ویسے ہی بیٹھے ہو گے کسی نہ کسی کے ساتھ تو اپنا چکر لگایا ہی ہو گا . وہ میری بات سن کر ہنسنے لگا اور بولا کا شی یار یہ شہر نہیں ہے کے یہاں اتنا آسانی سے بندہ چکر چلا لیتا ہے . یہاں پے گلی محلے میں ہر بندے کی دوسرے بندے پے نظر ہوتی ہے . میں نے کہا یار اب ایسی بھی بات نہیں ہے کے تیرے جیسا بندہ چُپ کر کے بیٹھا ہو اور کچھ بھی نہ کیا ہو . بلال میری طرف دیکھنے لگا پِھر اٹھ کر دکان کے دونوں طرف دیکھا پِھر کرسی پے بیٹھ گیا اور بولا یار ایسی بات نہیں ہے کا شی یار ایک آدھا بندہ تو رکھنا ہی پڑتا ہے لیکن یار اس کا بھی ڈر ہی لگا رہتا ہے محلے داری ہے اور سب لوگ یہاں جانتے ہیں . اِس لیے آج تک اس سے زیادہ مزہ نہیں مل پایا. میں نے کہا یار ہاں یہ تو ہے لیکن چلو یہ تو ہے کے تیرا ہفتے میں ایک دفعہ پانی تو نکلوا ہی دیتی ہو گی . تو بلال نے کہا ہاں یار ایک دفعہ تو ہو ہی جاتا ہے لیکن کبھی نہیں بھی ہوتا وہ بھی ڈرتی رہتی ہے اور مجھے بھی ڈر ہی لگا رہتا ہے . میں نے کہا یار بلال وہ خوش نصیب کون ہے جس کا تیرے ساتھ چکر ہے کوئی اپنی رشتہ دار ہے یا باہر گلی محلے کی ہے . تو بلال نے کہا کا شی یار اپنی کوئی رشتہ دار ہوتی تو کیا ہی بات تھی رشتہ دار سے تو بندے کو ڈر نہیں ہوتا ہے بندہ اپنے رشتہ داروں کے گھر تو آتا جاتا رہتا ہے اِس لیے زیادہ مسئلہ نہیں بنتا . یہ والی تو گلی کی ہے شادی شدہ ہے اِس کی دو ہی بیٹیاں ہیں میاں اس کا فوت ہو چکا ہے . میری دکان سے سودا سلف لینی آتی جاتی رہتی ہے بس ایسے ہی اس کے ساتھ بات سیٹ ہو گئی تھی اور پِھر آہستہ آہستہ اس کو لائن پے لے آیا تھا اب کبھی کبھی موقع ملتا ہے تو اپنا مزہ لے لیتا ہوں . لیکن یار ہر وقعت دِل میں ڈر ہی لگا رہتا ہے کے کسی نہ کسی کو پتہ چل گیا تو بڑی ہی بدنامی ہو گی . میں نے کہا یار یہ بات تو ہے لیکن پِھر تو کسی رشتہ داروں میں ہی کیوں نہیں کسی سے چکر چلا لیتا تم تو یہاں ہی رہتے ہو تھوڑی سی ہمت کرو آگے پیچھے دیکھو کوئی نہ کوئی مل جائے گی . تو فوراً بولا یار کا شی دیکھنا کیا ہے بندے تو 2 ہیں جن کا پکا پتہ ہے وہ پہلے بھی کسی کے ساتھ سیٹ ہیں بس میری ہی ہمت نہیں ہوتی . یہ بات کر کے بلال ایک دم خاموش ہو گیا شاید وہ یہ بات نہیں بتانا چاہتا تھا . وہ اب مجھ سے نظر چرا رہا تھا 

میں نے کہا یار بلال کیا ہوا چُپ کیوں ہو گئے ہو تو وہ آگے سے کچھ نا بولا میں اس کے اندر کا خوف سمجھ چکا تھا . میں اپنی کرسی اس کی کرسی کے نزدیک کی اور کہا یار بلال تو میرا یار ہے اور ہم آپس میں رشتہ دار بھی ہیں اور تیری میری اتنی کھلی گپ شپ ہے پِھر تم کیوں ڈر گئے ہو . میں تمہاری کوئی بھی بات کسی کو نہیں بتاؤں گا . تم کھل کر بتاؤ مجھے کون ہے اپنے رشتہ داروں میں جس کا تمہیں پتہ ہے . بلال تھوڑی دیر خاموش رہا پِھر بولا دیکھ یار کا شی اگر میں تمہیں اگر بتا بھی دوں گا تم غصہ کرو گے اور ہماری رشتہ داری خراب ہو جائے گی . میں نے کہا یار بلال میرے اوپر پورا بھروسہ رکھ نہ ہی میں تم سے ناراض ہوں گا اور نہ ہی غصہ کروں گا . بلال بولا سوچ لو کا شی اگر تمہیں بات پتہ چلی تو پِھر مجھے نہیں پتہ تمہارا آگے سے کیا ری ایکشن ہو گا . میں نے کہا یار تو فکر نہ کر یار تم نے تو پِھر یہاں پے کوئی نہ کوئی پھدی کا مزہ لے لیا ہے لیکن میں نے آج تک پھدی کی شکل تک نہیں دیکھی ہے . بلال ہکا بقا ہو کر میرا منہ دیکھنے لگا اور بولا یار کا شی آب جانے دے یار اسلام آباد جیسے شہر میں رہ کر تم نے آج تک پھدی نہیں دیکھی ہو گی . یہ بات مجھے حزم نہیں ہو رہی ہے . میں نے کہا یار بلال میرے سے قسم لے لو جو آج تک کسی پھدی کی شکل تک دیکھی ہو . یار یہ بات سچ ہے کے شہر میں یہ سب ہوتا ہے لیکن یار میں آج تک نہیں کر سکا کوئی لڑکی نہیں ملی اگر مل بھی جاتی تو اس کو کہاں لے کر جاتا اور مزہ کرتا اور تمہیں تو میرے ابو کا پتہ ہے ان کو شق بھی ہوا تو میری چمڑی اُتار دیں گے . بلال بولا ہاں یار یہ تو بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے تیرے ابو والی بات تو مجھے پتہ ہے . میں نے کہا یار بلال تم تو بڑے شکاری ہو یار مجھے بھی کوئی مزہ کروا دو . میری بات سن کر بلال ہنسنے لگا اور بولا اچھا یار تو بھی کیا یار کرے گا میں تیرے لیے کچھ نہ کچھ کرتا ہوں . پِھر میں نے کہا یار بلال بتا نہ اپنے رشتہ داروں میں کون ہے تو بلال پِھر کھڑا ہوا دکان کے دونوں طرف دیکھا اور پِھر اپنی کرسی پے بیٹھ کر لمبی سی سانس لی اور میرے نزدیک ہو کر بولا یار کا شی بندے تو دو ہیں. جن کا مجھے پکا پتہ ہے وہ دو جگہ پے مزہ لے رہے ہیں . ایک تو باجی ثوبیہ ہے جو نعیم بھائی کی سالی ہے اس کی شادی اپنی خا لہ کے بیٹے سے ہوئی ہے اس کا میاں کراچی میں کسی کمپنی میں کام کرتا ہے اور 2 مہینے بَعْد ہی گھر آ تا جاتا ہے . اور باجی ثوبیہ نے اپنے ہی دیور کے ساتھ چکر چلا یا ہوا ہے اس کے دیور کو تم جانتے ہی ہو . میں نے کہا ہاں جانتا ہوں خالد کو بڑی اچھی طرح جانتا ہوں وہ تو ہمارا ہی ہم عمر ہے لیکن یار باجی خالد سے تو کافی بڑی ہیں کم سے کم بھی 6 یا 7 سال کا فرق ہے . تو یہ کیسے ممکن ہے كے وہ خالد سے ہی مزہ لے رہی ہے . بلال نے کہا یار کا شی عورت کو بس تگھڑے لن کی ضرورت ہوتی ہے اور کچھ نہیں . اور ویسے بھی خالد سے میری بڑی گپ شپ ہے وہ بہت بڑا رنڈی بازہے اس نے کافی مال رکھا ہوا ہے . لیکن اس بہن چودنے آج تک دوست ہوتے ہوئے بھی مجھے کبھی کوئی مال ٹیسٹ نہیں کروایا . 
میں نے کہا جب تمہیں یہ پتہ ہے تو تم نے باجی کو ڈائریکٹ ہی دانہ ڈال دینا تھا . تو بلال بولا یار دانہ تو کب کا ہی ڈال دینا تھا لیکن تھوڑا مشکل تھا کیونکہ خالد ہر ٹائم گھر میں ہوتا ہے . اب خالد لاہور جار ہا ہے اب وہ وہاں ہاسٹل میں ہی رہے گا اور ہفتے کے ہفتے ہی گھر آیا کرے گا اِس لیے میں اب اپنا دانہ باجی کو ڈالوں گا


میں نے کہا اچھا تو دوسرا بندہ کون ہے . ابھی میں نے یہ سوال پوچھا ہی تھا کے یکدم دکان پے ایک عورت آ کر کھڑی ہوئی اور آ کر بولی بلال یہ یہ چیزیں دے دو . بلال اس عورت کو دیکھ کرمسکرا رہا تھا لیکن اس عورت نے اپنے چہرے پے کوئی بھی بات عیاں نہ ہونے دی . میں تھوڑی دیر کے لیے اٹھ کر دکان سے باہر آ گیا تا کہ بلال آرام سے اس عورت کو فارغ کر سکے میں جب باہر آیا تو پِھر اس عورت پے غور کیا وہ ایک درمیانےقد کی تھی اور اس کا جسم بھرا ہوا تھا لیکن وہ موٹی نہیں تھی اس کی گانڈ بھی کافی باہر کی نکلی ہوئی تھی اور ممے بھی موٹے موٹے تھے اس کا رنگ سانولا تھا . 
وہ عورت کوئی 10منٹ تک وہاں کھڑی چیزیں لیتی رہی اس کے ساتھ ایک 8 یا 9 سال کی بچی بھی تھی شاید اس کی بیٹی تھی . پِھر وہ عورت اپنا سامان لے کر چلی گئی میں دوبارہ دکان کے اندر آ کر کرسی پے بیٹھ گیا . میں نے بلال سے پوچھا یار یہ عورت کون تھی جس کو دیکھ کر تم بڑا مسکرا رہے تھے . تو بلال میری بات سن کر ہنسنے لگا اور بولا یار کا شی یہ ہی تو وہ ہے جس کے ساتھ تیرے بھائی کا چکر ہے یہ ہی تو آج کل میری جان بنی ہوئی ہے اور میں اِس سے پورا پورا مزہ لے رہا ہوں . میں نے کہا یار بلال مال تو بڑا فٹ تم نے رکھا ہوا ہے . بلال نے کہا ہاں یار بڑی ہی گرم چیز ہے فل مزہ دیتی ہے . لیکن تو فکر نہ کر تیرا کام اِس سے کروا دوں گا . میں نے کہا واہ بلال یار میرے منہ کی بات لے لی ہے . بلال نے کہا مجھے 2 یا 3 دن دے دو میں تیرے لیے اِس کو رازی کر لوں گا . پِھر میں نے کہا یار ٹائم ہی ٹائم ہے یار . میں نے کہا یار بلال اب بتا بھی دو اپنے رشتہ داروں میں دوسرا بندہ کون ہے. تو بلال نے کہا دیکھ کا شی جس کا میں ابھی بتانے لگا ہوں اس کا سن کر تم نے غصہ نہیں کرنا ہے لیکن میں یہ بات پکی بتا رہا ہوں کے یہ بات سچ ہے . میں نے کہا یار تو بے فکر ہو جا مجھے بتاؤ کون ہے وہ . تو بلال نے کہا وہ کوئی اور نہیں تمہاری چچی ثمینہ ہے . میں نے ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا کیا.. تو بلال فوراً بولا میں نے کہا تھا نہ تم غصہ کر جاؤ گے اِس لیے میں نہیں بتا رہا تھا . میں نے کہا نہیں یار ایسی بات نہیں ہے مجھے غصہ نہیں آ رہا ہے اصل میں مجھے یقین نہیں آ رہا ہے . بلال نے کہا کا شی یار یہ سچ ہے ثمینہ باجی کا بہت عرصے سے چکر چل رہا ہے وہ اس کے ساتھ پورا پورا مزہ لیتی ہے میں نے کہا کون ہے تو بلال نے کہا اس کا اپنا کزن شوکت ہے جس سے وہ بہت عرصہ پہلے سے مزہ لے رہی ہے اور مجھے بھی بہت پہلے کا پتہ ہے . میں نے کہا جب تمہیں پتہ تھا تم نے پِھر ثمینہ چچی کو کیوں نہیں دانہ ڈَا لا . تو پِھر اس نے مجھے وہ والا واقعہ سنایا جو مجھے چچی نے بھی اپنی بہن کی شادی کا سنایا تھا . بلال نے کہا اس کے بَعْد میں نے دوبارہ کوشش نہیں کی لیکن ثمینہ باجی ابھی بھی شوکت سے مزہ لیتی ہے . پِھر میں نے بلال کو کہا یار تم نے مجھے بہت بڑی بات بتائی ہے مجھے تو یقین نہیں ہو رہا ہے . بلال نے کہا یار یقین آ جائے گا . بلال نے کہا جب سے تم آئے ہو ثمینہ باجی اپنے گھر میں ہی شوکت کو مل چکی ہے تمہیں پتہ نہیں ہے . میں نے کہا یار تم کیا بات کر رہے ہو تو وہ بولا میں ٹھیک کہہ رہا ہوں جب شوکت ثمینہ باجی کے گھر گیا تھا تو میں اس کا پیچھا کرتے کرتے ثمینہ باجی کے گھر تک گیا تھا وہ اندر تمھارے گھر گیا تھا . میں نے کہا یار یہ کس دن کی با ت ہے تو بلال نے مجھے دن یاد کروایا تو میں نے فوراً کہا ہاں یار مجھے یاد آیا اس دن چچی نے مجھے کچھ سامان لینے کے لیے بازار بھیجا تھا ہو سکتا ہے اس ٹائم میں وہ آیا ہو گا . تو بلال نے کہا ہاں یار یہ ہی ہوا ہو گا . پِھر بلال نے کہا کا شی اگر تم یہاں کچھ اور دن رہو گے تو میں تمہیں تمہاری آنکھوں سے دیکھا دوں گا جب شوکت ثمینہ باجی کے گھر جائے گا . تو میں نے کہا یار کوئی بات نہیں ہے میں کچھ دن اور رک جاؤں گا میں یہ کھیل دیکھ کر ہی جاؤں گا . مجھے بلال کی دکان پے بیٹھے بیٹھے بہت ٹائم گزر چکا تھا جب ٹائم دیکھا تو 3 بجنے والے تھے میں نے بلال سے کہا یار بہت ٹائم ہو گیا ہے میں اب گھر چلتا ہوں کل پِھر دوبارہ چکر لگاؤں گا پِھر بیٹھ کر باتیں کریں گے . تو بلال نے کہا یار میں بھی دکان بند کر کے گھر جاؤں گا كھانا کھانے کے لیے تم بھی چلو كھانا کھا کر ہی جانا میں نے کہا نہیں یار چچی انتظار کر رہی ہوں گی . میں پِھر کسی دن کھا لوں گا . تو بلال نے کہا چلو ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی اور میں وہاں سے نکل کر رکشہ کروایا اور واپس گھر آ گیا میں جب گھر واپس آیا تو بچے اپنے کمرے میں آرام کر رہے تھے اور چچی بھی دروازہ کھول کر خود اپنے کمرے میں چلی گئی میں باتھ روم میں گھس گیا اور نہانے لگا نہا کر ٹی وی والے کمرے میں آ گیا تھوڑی دیر بَعْد چچی نے مجھے كھانا دیا


اور میں كھانا کھانے لگا میرے كھانا کھانے کے بَعْد چچی نے برتن اٹھا لیے اور کچن میں چلی گئی میں وہاں بیٹھا ٹی وی دیکھنے لگا چچی کچن سے فارغ ہو کر اپنے کمرے میں چلی گئی اور تقریباً کوئی 15 منٹ بَعْد ٹی وی والے کمرے میں آئی اور آ کر میرے ساتھ بیٹھ گئی اور مجھے سے بلا ل کے بارے میں پوچھا تو میں نے ان کو گلی والی عورت کے علاوہ پوری بات بتا دی جو میرے اور بلال کے درمیان ہوئی تھی جس کو سن کر چچی کو کافی اطمینان ہو گیا تھا . پِھر انہوں نے پوچھا کا شی نعیم بھائی کی سالی تو بہت بڑی کھلاڑی نکلی ہے میں تو جب بھی اس کو کسی رشتہ دار کے گھر میں دیکھا ہے وہ بہت ہی معصوم سی اور بھولی بھالی نظر آتی ہے مجھے یہ نہیں پتہ تھا کے وہ تو ہر روز لن لے کر سوتی ہے . اب میں اپنی بھابی کو بھی سیدھا کر دوں گی اس نے ہمارے گھر میں سب کو تنگ کر کے رکھا ہوا ہے اب مجھے جو بات پتہ چلی ہے میں تو اب اس کا منہ توڑدوں گی . پِھر چچی نے کہا خیر یہ باتیں چھوڑو یہ بتاؤ اب آگے کیا سوچا ہے بلال کو کیسے تیار کرنا ہے . میں نے کہا چچی جان آپ بے فکر ہو جاؤ . میں آپ کا مسئلہ حَل کر کے ہی جاؤں گا . چچی میری بات سن کر خوش ہو گئی . اتنی دیر میں ہی چچی کی بیٹی ٹی وی والے کمرے میں آئی اور بولی ا می دیکھو نا بھائی مجھے میری گیم نہیں دے رہا ہے وہ مجھے مار رہا ہے . چچی اپنی بیٹی کی بات سن کر اس کے ساتھ اپنے کمرے میں چلی گئی. پِھر رات تک کوئی خاص بات نہ ہوئی اور وہ دن بھی یوں ہی گزر گیا اگلے دن میں جان بوجھ کر بلال کی دکان پے نہیں گیا . اور چچی بھی یہ دیکھ کر حیرا ن ہوئی لیکن مجھے سے کوئی بات نہ کی اور وہ دن بھی ایسے ہی گزر گیا . اگلے دن میں نے دوبارہ چچی کو بلال کا بولا اور اس کی دکان پے چلا گیا . وہ مجھے دیکھ کر خوش ہو گیا اور پوچھنے لگا یار کا شی کل کیوں نہیں آیا . میں نے کہا یار چچا کا ایک ضروری کام تھا اِس لیے وہاں چلا گیا اور تمہاری طرف نہیں آ سکا.
پِھر میں نے پوچھا اور سنا کیا نئی تازی ہے . تو وہ بولا یار کل تم نہیں آئے تھے میں کل اپنی محلے والی کے پاس گیا تھا اور جم کر اس کو چودا ہے اگر تم یہاں کل آ جاتے تو میں تمہیں دکان پے بیٹھا کر خود چلا جاتا لیکن تم نہیں آئے اِس لیے میں دکان بند کر کے ہی چلا گیا تھا . لیکن تیرے لیے ایک خوش خبری ہے کا شی میرے یار . میں نے فوراً کہا کیا خوش خبری ہے یار جلدی بتا . تو وہ بولا میں کل گیا تھا اپنی محلے والی کے پاس تو میں نے وہاں اپنا مزہ لے کر تیری بات اس سے کی تھی . پہلے تو وہ سن کر ناراض ہو گئی اور میری بات ہی نہیں مان رہی تھی . پِھر میں نے اس کو آخر میں دھمکی لگائی کے اگر تم میرے کزن کو خوش نہیں کرو گی تو میرے ساتھ تمہارا تعلق ختم اور میں دوبارہ تمھارے پاس نہیں آیا کروں گا . میں نے کہا تو پِھر اس نے کیا کہا تو وہ آگے سے بولا بولنا کیا تھا میری دھمکی کام کر گئی تھی اس کو بھی میرے علاوہ کس نے محلے میں پوچھنا تھا کیونکہ وہ بہت ڈرتی ہے اور میرے ساتھ بھی کوئی 1 سال بَعْد جا کر راضی ہوئی تھی . اِس لیے وہ مجھے نہیں چھوڑ سکتی اور ویسے بھی تیرا بھائی کا ہتھیار جو عورت لے لیتی ہے وہ دیوانی ہو جاتی ہے . میں نے کہا یار بلال پِھر کب مجھے بھی مزہ کروا رہا ہے . تو وہ بولا یار ہو جائے گا جلدی ہو جائے گا اس کی بڑی بیٹی کی عمر 16 سال ہے وہ بڑی ہے سب سمجھتی ہے وہ ہر اتوار کو اپنی دادی کے گھر جاتی ہے اس دن ہی میں اپنی پوری کوشش کروں گا تیرا کام ہو جائے . میں نے کہا یار بلال اگر تم میرا یہ کام کروا دو تو میں بھی تمہاری ایک مدد کر سکتا ہوں . وہ چونک کر میری طرف دیکھنے لگا اور بولا کیسی مدد کا شی یار . میں نے کہا دیکھ بلال تم نے مجھے اس دن بتایا تھا کے ثمینہ چچی کا شوکت کے ساتھ چکر ہے 


اگر تم بھی چچی کا مزہ لینا ہو تو میں کچھ مدد کر سکتا ہوں . وہ حیران ہو کر میری طرف دیکھنے لگا اور کرسی میرے نزدیک کر کے مجھ سے بولا یار کا شی تو کیا پہیلیاں بجھا رہا ہے پوری بات بتا نہ . میں نے کہا یار میں تمہیں چچی کی ڈائریکٹ تو پھدی لے کر دے نہیں سکتا ہاں تمہیں اس کی پھدی تک پہنچنے تک کا راستہ بتا سکتا ہوں بلال نے کہا
کا شی یار میں ثمینہ باجی کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں بس تم مجھے بتاؤ کرنا کیا ہے . میں نے کہا ہو گا یہ کے جس دن شوکت اب چچی کو ملنے آئے گا اس دن چچی لازمی مجھے باہر کسی کام کے لیے بھیج دے گی اس دن میں جب بازار جاؤں گا تو تم ہمارے گھر کے نزدیک ہی مجھے ملنا میں تمہیں گھر کی چابی دے دوں گا میں بازار چلا جاؤں گا تم ہمارے گھر چلے جانا اور آرام سے دروازہ کھول کر اندر چچی کے کمرے کے پاس چلے جانا اور میں کوشش کروں گا ان کے کمرے کی کھڑکی کھلی رکھوں تم وہاں سے ان کو خود دیکھ لینا اور پِھر اپنے موبائل پے ان کے شو کی چھوٹی سی ویڈیو بنا لینا اور وہاں سے نکل آنا اور پِھر تمھارے پاس پکا ثبوت ہو گا تم چچی کو بلیک میل کر کے ان کو چو د سکتے ہو . بلال میری بات سن کر خوش ہو گیا اور مجھے گلے لگا لیا . پِھر میں نے کہا بلال یار میں تو چچی کے ساتھ مزہ لے نہیں سکتا کیونکہ وہ میری سگی چچی ہے میرا ان کا رشتہ بھی ایسا ہے کے میں کچھ نہیں کر سکتا . لیکن تم جو بھی کرو گے . اس میں ایک بات کا خیال رکھنا کے اگر تمہارا چچی کے ساتھ کام بن جاتا ہے تو کسی کو بھی نہیں بتانا نہیں تو تمہیں پتہ ہے نہ بدنامی کتنی ہو گی . جیسے تم نے مجھے گلی والی عورت کا بتایا ہے بھول کر بھی کسی اور کو اپنا اور چچی کا نہیں بتانا . نہیں تو رشتہ داری بھی خراب ہو جائے گی اور بدنامی بھی بہت ہو گی . بلال بات سن کر بولا کا شی یار تم نے مجھے اتنا پاگل یا کم عقل سمجھا ہوا ہے . کے میں اپنے ہی رشتہ دار کی بات کسی اور کو بتاؤں گا مجھے ثمینہ باجی کی بات 2 سال سے پتہ ہے لیکن آج تک کسی کو نہیں بتائی تمہیں بھی ڈر کے ہی بتائی ہے اور تم رشتہ دار بھی ہو میرے یار بھی ہو اور رہی بات اس گلی والی عورت کی وہ کون سا ہماری رشتہ دار ہے اور ویسے بھی تم پہلے بندے ہو جس کے ساتھ وہ میرے علاوہ کرے گی وہ بھی میری اِجازَت کے ساتھ نہیں تو وہ میرے علاوہ کسی کو گھاس بھی نہیں ڈالتی ہے . اور ثمینہ چچی کا بتا کر میں اپنے پاؤں پے خود کلہاڑی نہیں ماروں گا . تم میری طرف سے بے فکر ہو جاؤ یہ بات مرتے دم تک میرے دِل میں ہی رہے گی . بلال کی باتیں سن کر اطمینان ہو گیا تھا اور اب میں سکون میں تھا. میں نے کہا بلال یار میں پِھر اتوار والے دن کا پروگرام پکا سمجھوں 


تو بلال نے کہا ہاں یار پکا ہی پکا ہے اب تو ہر حال میں اتوار والے دن تیرا کام کروا دوں گا . تم کل کو دن 11بجے تک آ جانا جب دوپہرکا ٹائم ہو گا میں دکان بند کر کے تمہیں اس کے گھر لے جاؤں گا اور خود كھانا کھانے گھر چلا جاؤں گا تمھارے پاس تقریباً 1 گھنٹے سے زیادہ کا ٹائم ہو گا تم آرام سے مزہ لے لینا اور مجھے پِھر مس کال کر دینا میں تمہیں آ کر لے جاؤں گا . میں نے کہا یہ ٹھیک پروگرام ہے میں ضرور کل 11 بجے تک پہنچ جاؤں گا . میں نے بلال کو کہا یار تمہیں کیا لگتا ہے اب شوکت آئے گا دوبارہ چچی کی ملنے تو بلال بولا یار کا شی وہ تو ہر ہفتے میں ایک چکر ضرور لگاتا ہے یہ تم آئے ہوئے ہو اِس لیے وہ ڈ ر کے مارے نہیں آ رہا . ویسے بھی اس کو اب چکر لگا ئے ہوئے ہفتہ ہونے والا ہے وہ اِس ہفتے میں ضرور آئے گا . پِھر میں نے پوچھا یار بلال ایک بات تو بتا یہ گلی والی آنٹی بُنڈ میں بھی لیتی ہے یا نہیں تو بلال ہنسنے لگا اور بولا یار سچی بات ہے مجھے تو آج تک اس نے بُنڈ میں کرنے نہیں دیا ہو سکتا ہے تمہیں کرنے دے لیکن پکا کچھ کہہ نہیں سکتا . ویسے کا شی یار بُنڈ کا تو مجھے بھی بڑا شوق ہے یار تنگ موری کس کو نہیں اچھی لگتی . اور یار ایک بات بتاؤں وہ ثویبہ باجی بُنڈ میں بھی لیتی ہے . اس کے ساتھ اگر میرا چکر چل گیا تو اس کی بُنڈ میں ضرور ڈ الوں گا. میں نے بلال سے پوچھا ویسے یار تم کو پہلی دفعہ خالد اور ثوبیہ باجی کا کیسے پتہ چلا تھا . تو بلال نے کہا یار تمہیں تو پتہ ہے ہمارا گھر اور خالد لوگوں کا گھر ساتھ ساتھ ہیں بس ایسے ہی ایک دن میں دوپہرکو گھر كھانا کھانے گیا ہوا تھا تو میں نے نہا کر کپڑے بھی بدلنے تھے اِس لیے میری ا می نے سارے کپڑے دھو کر چھت پے ڈالے ہوئے تھے میں اپنے کپڑے لینے کے لیے جب چھت پے گیا تو خالد لوگوں کی دوسری سٹوری ہماری چھت سے صاف نظر آتی ہے اور ان کا کچن بھی باہر والی سائڈ پے صحن میں بنا ہوا ہے اور شادی کے بعد سے لے کر ثوبیہ باجی اوپر والی اسٹوری پے ہی رہتی ہیں . میں جب اوپر چھت پے گیا تھا میری نظر ان کے صحن میں بنے ہوئے کچن میں گئی تو میں نے وہاں خالد کو ثوبیہ باجی کو چودتےہوئے دیکھا تھا . ثوبیہ باجی کچن کے شیلف پے بازو رکھ کر جھکی ہوئی تھی اور ان کی شلوار نیچے پاؤں میں پڑی تھی اور قمیض کمر تک اوپر اُٹھی ہوئی تھی اور پیچھے سے خالد نےسرف بنیان پہنی ہوئی تھی اور شلوار اس کی بھی پاؤں میں پڑی ہوئی تھی اور وہ ثوبیہ باجی کی بُنڈ میں لن اندر باہر کر رہا تھا . بس وہاں پے ہی ان کا پورا شو دیکھا تھا اور پِھر جب خالد دکان پے آتا تھا تو میں نے اس کو پوچھا تھا جو بعد میں اس نے اپنے اور ثوبیہ باجی کے تعلق کا مجھے پورا بتایا تھا . بلال کی باتیں سن کر میرا لن پورے جوش میں کھڑا ہو گیا تھا کیونکہ میں چچی کی بھابی کی بھی جانتا تھا اور اس کی بہن ثوبیہ کو بھی دونوں بہن بم تھیں دونوں بہن کا مست قسِم کا جسم تھا

دونوں بہن کا مست قسِم کا جسم تھا. پِھر میں نے کہا یار بلال تو ثوبیہ باجی کو دانہ ڈال اور پہلے اپنے کام سیدھا کر میں جب اگلی دفعہ آؤں گا تو پِھر مجھے بھی مزہ کروا دینا ابھی تو میرے پاس زیادہ دن نہیں ہیں اِس لیے گلی والے مال سے ہی مزہ لے لیتا ہوں . بلال نے کہا ٹھیک ہے کا شی یار اب جب تم اگلی دفعہ آؤ گے تو تمہیں ثوبیہ باجی کا مزہ کروا دوں . گا . ہو سکتا ہے کوئی اور مال بھی تمہیں چیک کروا دوں . میں حیران ہو کر بلال کی طرف دیکھنے لگا کے اور مال کون سا ہے جس کی بات کر رہا ہے . بلال میرا ری ایکشن دیکھ کر ہنسنے لگا اور بولا یار کا شی بے فکر رہو یار میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کے جب ثوبیہ باجی کو اپنے ساتھ سیٹ کر لوں گا تو ہو سکتا ہے ثوبیہ باجی کی مدد سے کوئی اور مال بھی رشتہ دار وںمیں کھانے کو مل جائے تم یہ عورتوں کو نہیں جانتے یہ بڑی چالاک ہوتی ہیں ان کو اندر خانہ سب کی خبر ہوتی ہے . میں بلال کی بات سن کر سوچنے لگا کے یار بلال کہہ تو ٹھیک رہا ہے . چلو اگلی دفعہ آؤں گا تو دیکھتے ہیں ثوبیہ باجی کے علاوہ اور کون سا مال کھانے کو ملے گا . پِھر میں اور بلال یہاں وہاں کی باتیں کرنے لگے اور میں پِھر وہاں سے گھر آ گیا اور آ کر چچی کو اپنے پروگرام کی علاوہ سب بتا دیا اور میں نے کہا چچی 
آپ منگل کو شوکت کو بلا لو اور اس سے مزہ بھی لے لو اور بلال والا کام بھی اس دن پورا ہو جائے گا پِھر اس کو میں آپ کا نمبر دے جاؤں گا وہ آپ کو خود کال کرے گا اور بس پِھر تھوڑا سا غصہ اور نخرا دکھا کر مان جانا اور گھر بلا کر مزہ لے لینا پِھر ایک دفعہ راسته کھل گیا تو پِھر آگے کوئی مسئلہ باقی نہیں رہے گا. چچی میرا پلان سن کر ایک دم خوش ہو گئی اور آگے ہو کر مجھے ایک لمبی سی فرینچ کس دی . پِھر میں نے چچی کو کہا چچی جی آپ عشرت آنٹی سے بات کر لینا میں بدھ کو ان کی طرف جاؤں گا اور مزہ لوں گا اور جمعرات کو میں نے آپ کو نورین کو دونوں کو ایک ساتھ چودنا ہے میرا وعدہ یاد ہے نہ آپ کو اور پِھر جمه کو صبح میں نے اسلام آباد واپس جانا ہے . چچی میری بات سن کر بولی ہاں کا شی میری جان مجھے اپنا وعدہ یاد ہے تم بے فکر ہو جاؤ میں عشرت کو بول دوں گی اور بدھ کو اس کی طرف چلے جانا اور جمعرات کو میرے اور نورین کے ساتھ بھی کر لینا اب خوش ہو . میں نے کہا چچی جان خوش ہی خوش ہوں

 

Share this post


Link to post
Share on other sites


میں نے کہا چچی جان خوش ہی خوش ہوں . پِھر چچی کچھ دیر بعد اٹھ کر چلی گئی اور وہ دن بھی گزر گیا اگلا دن اتوار تھا میں صبح ہی اٹھ گیا اور سب کے اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہونے کے بعد اپنے کمرے میں جا کر زیتون کے تیل لیا اور باتھ روم میں گھس گیا اور کوئی 1 گھنٹہ دبا کر لن کی مالش کی اور پِھر نہا دھو کر گھر میں چچی کو بتا کر بلال کی طرف نکل آیا .تقریباً 11.30ہو گئے تھے جب میں اس کی دکان پے پہنچ گیا تھا. بلال مجھے دیکھ کر بولا یار میں سمجھا تھا تو شاید بھول گیا ہے اِس لیے دیر سے آیا ہے . میں نے کہا نہیں یار زندگی میں پہلی دفعہ پھدی مل رہی ہے اور وہ بھی بھول جاتا یہ کیسے ممکن ہے میں ذرا رات کو لیٹ سویا تھا آج اتوار تھا سب گھر پے ہی ہیں سب رات کو لیٹ سوئے تھے اِس لیے میں بھی لیٹ سویا اور آنکھ بھی لیٹ ہی کھلی ہے . بلال نے کہا گھر چچا کو کیا بتا کر آئے ہو . تو میں نے کہا یہ بتایا ہے كے میں بلال کی طرف جا رہا ہوں تھوڑی دیر بعد آ جاؤں گا . اور پِھر تمہاری طرف آ گیا ہوں اب تم بتاؤ اگلا پروگرام کیا ہے . بلال نے کہا پروگرام پکا ہے بے فکر ہو جاؤ بات ہو گئی ہے اس کی بیٹی صبح ہی دادی کے گھر چلی گئی ہے . میں تقریباً 1 بجے دکان بند کروں گا اس ٹائم گلی سنسان ہوتی ہے اور کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا میں تمہیں اس کے گھر چھوڑ آؤں گا تم اپنا کام کر کے مجھے مس کال دے دینا میں آ کر تمہیں لے جاؤں گا . اور کوشش کرنا 3 بجے سے پہلے پہلے کام پورا کر کے مجھے مس کال کر دینا . زیادہ دیر اچھی نہیں ہوتی محلے داری بھی دیکھنی پڑتی ہے . میں نے بلال کو کہا یار تو بے فکر ہو جا جیسا تم کہہ رہے ہو میں ویسا ہی کروں گا . پِھر میں اور بلال یہاں وہاں کی باتیں کرتے رہے اور تقریباً پونے ایک بجے بلال نے کہا کا شی تیاری پکڑ لے ابھی ہم ان کے گھر ہی جائیں گے . میں نے کہا یار میں تو تیار ہی تیار ہوں . پِھر بلال دکان کے باہر پڑی چیزیں اندر رکھنے لگا اور اور ساری چیزیں اندر رکھ کر مجھے دکان سے باہر آنے کا کہا اور پِھر ہم دکان بند کر کے اس عورت کے گھر کی طرف چلے گئے . اس عورت کا گھر بلال کی دکان سے زیادہ دور نہیں تھا اس گلی کے آخر میں ایک ڈبل اسٹوری گھر تھا جس اوپر والی اسٹوری پے وہ عورت رہتی تھی دو پہر کا ٹائم تھا گلی سنسان تھی پِھر ہم جب اس عورت کے دروازے کے پاس پہنچےتو بلال نے اپنے موبائل سے کوئی نمبرملایااور کوئی 1 منٹ بعد ہی چھوٹا والا دروازہ کھلا یہ دروازہ اوپر والی اسٹوری پے جا رہا تھا علیحدہ رستہ بنا ہوا تھا. پِھر بلال آگے آگے اور میں پیچھے اس کے چلتا ہوا اوپر چلے گئے وہ عورت اوپر اپنے کچن کے پاس کھڑی تھی . پِھر بلال نے کہا باجی یہ آپ کا مہمان ہے اِس کا اچھا سا خیال رکھنا ہے . وہ عورت بلال کی بات سن کر آہستہ سے بولی اچھا ٹھیک ہے . اور پِھر بلال یہ بول کر چلا گیا وہ عورت مجھےسےبولی آپ اندر کمرے میں بیٹھو میں آتی ہوں . وہ مجھے اپنے بیڈروم میں بیٹھا کر خود باہر چلی گئی


مجھے تھوڑی دیر بَعْد نیچے کا دروازہ بند ہونے کی آواز آئی اور پِھر تھوڑی دیر بَعْد ہی وہ عورت میرے لیے ٹھنڈی پیپسی گلاس میں ڈال کر لے آئی . اور مجھے گلاس دے کر پِھر باہر چلی گئی . میں نے گلاس کو ایک منٹ کے اندر ہی خالی کر دیا . اور گلاس کو پاس میں رکھی ٹیبل میں رکھ دیا . اور میں اس عورت کا انتظار کرنے لگا کوئی10 منٹ کے بَعْد وہ عورت دوبارہ کمرے میں آئی اور آ کر کمرے میں رکھی ہوئی کرسی پے بیٹھ گئی اور میں اس کے بیڈ پے بیٹھا تھا . کچھ دیر بَعْد عورت بولی آپ كھاناكھا ئیں گے . میں نے کہا نہیں آنٹی مجھے بھوک نہیں ہے . تو وہ عورت خاموش ہو گئی . میں نے ہمت کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ میرے پاس ٹائم کم تھا . میں نے کہا آنٹی جی آپ کے میاں کب فوت ہوئے تھے . تو وہ بولی وہ آج سے 4 سال پہلے ہارٹ اٹیک کی وجہ سے فوت ہوئے تھے . پِھر میں نے پوچھا آپ کی بیٹی کس کلاس میں پڑھتی ہے . تو وہ بولی اس نے ابھی میٹرک کا امتحان دیا ہے وہ اپنے رزلٹ کا انتظار کر رہی ہے. میں نے اب ڈائریکٹ بات شروع کرنے کا سوچا اور بولا آنٹی جی آپ کو تو پتہ ہے میں یہاں کس لیے آیا ہوں . اِس لیے میں آپ ڈائریکٹ ہی پوچھ رہا ہوں کے آپ کا کیا دِل ہے اگر آپ ہنسی خوشی راضی ہیں تو مجھے بہت خوشی ہو گی اور میرا مکمل یقین رکھیں کے میں آپ کو کسی قسم کا نقصان نہیں دوں گا اور نہ ہی آپ کی عزت کو باہر کسی کے آگے خراب کروں گا اور نہ ہی کبھی آپ کو بلیک میل کروں گا . یہ میرا آپ سے وعدہ ہے اور ویسے بھی میں یہاں تو رہتا نہیں ہوں میں تو اسلام آباد میں رہتا ہوں یہاں اپنی دادی کے گھر ہی آتا ہوں . اور پِھر دوبارہ واپس چلا جاؤں گا اور کبھی کبھی یہاں آنے ہوتا ہے . اِس لیے آپ کو مجھ سے کوئی بھی پریشانی نہیں ہو گی . باقی آپ کی اپنی مرضی ہے اگر آپ دِل سے راضی نہیں ہیں تو کوئی بات نہیں میں ابھی آپ کے گھر سے چلا جاتا ہوں. وہ عورت میری بات سن کر خاموش بیٹھی رہی اور پِھر تھوڑی دیر بعد اٹھ کر کمرے سے باہر چلی گئی . اور کچھ دیر بعد دوبارہ کمرے میں آئی اور آ کر اندر سے دروازہ بند کر دیا اور باقی لائٹس آف کر کے زیرو کا بلب آن کر کے بیڈ پے آ کر میرے ساتھ بیٹھ گئی . مجھے آنٹی کا اشارہ سمجھ لگ گیا تھا. میں نے بھی اور ہمت کی اور آنٹی کی گردن سے ہاتھ ڈال کر اپنے اور نزدیک کر لیا اور اپنے ہونٹ ان کے ہونٹوں پے رکھ دیئے اور فرینچ کس کرنے لگا . آنٹی بھی کافی گرم عورت تھی جلد ہی اس نے اپنے بازو میری گردن میں ڈال کر میرا فل ساتھ دینے لگی . اور ہم نے کوئی 5منٹ تک اسٹائل میں ایک دوسرے کو فرینچ کس کی میں لگاتار آنٹی کی زُبان اپنے منہ میں لے کر سک کر رہا تھا اور آنٹی بھی ایسے ہی میرا ساتھ دے رہی تھی


پِھر میں نے آنٹی کو بیڈ کے اوپر ہی لیٹا دیا تھا اور ان کے اوپر چڑھ کر ان کو پورے جوش سے کسسنگ اور سکنگ کر رہا تھا آنٹی کی منہ سے بڑی ہی سیکسی آوازیں نکل رہی تھیں . میں تقریباً 10سے 15 منٹ تک آنٹی کے ساتھ سکنگ اور کسسنگ کرتا رہا پِھر میں نے اور مزہ لینے کا سوچا اور آنٹی کے کان میں کہا آنٹی جی کپڑے اُتار دیتے ہیں پِھر میں آپ کو اور مزہ دیتا ہوں وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور بولی کا شی تم خود ہی میرے کپڑے اُتار دو . میں حیران ہوا میرا نام آنٹی کو کس نے بتایا ہے پِھر مجھے یادآیا بلال نے ہی بتایا ہو گا اور میں نے آنٹی کے کپڑے اُتار دیئے آنٹی نے برا پہنی ہوئی تھی وہ بھی اُتار دی آنٹی کے ممے کافی بڑے بڑے اور موٹے تھے ان پے برائون رنگ کی گول گول نپلز بنے ہوئے تھے. جب آنٹی کی شلوار اُتار ی تو نیچے انڈرویئر نہیں پہنا ہوا تھا اور ان کی پھدی بھی کمال کی تھی لگتا تھا آج ہی شیو کی ہے. پھدی کا منہ تھوڑا کھلا تھا لیکن پھدی کے ہونٹ اندر کی طرف ہی تھے یونکہ 2 بچے ہونے کی وجہ سے اتنا فرق تو پڑنا ہی تھا. پِھر میں نے اپنے کپڑے اُتار دیئے اور جب میں پورا ننگا ہو گیا تو آنٹی نے میرا لن دیکھنے لگی . میں نے کہا آنٹی جی کیسا لگا میرا ہتھیار تو آنٹی بولی اچھا ہے لیکن بلال کا تم سے تھوڑا بڑا ہے لیکن تمہاری ٹوپی بلال کے لن سے تھوڑی بڑی ہے. پِھر آنٹی کو میں نے کہا آپ لیٹ جاؤ میں آپ کو مزہ دیتا ہوں جب آنٹی لیٹ گئی تو میں ان کی ٹانگوں کے درمیان آ کر منہ کے بل لیٹ گیا آنٹی حیران ہو کر مجھے دیکھ رہی تھی . شاید اس کو نہیں پتہ تھا میں کیا کرنے لگا ہوں . لیکن جب میں نے اپنی زُبان نکل کر آنٹی پھدی پے پھیری تو آنٹی کے منہ سے ایک لذّت بھری سسکی نکل گئی . اور بولی کا شی یہ کیسا مزہ ہے مجھے آج پہلی دفعہ ایسا مزہ ملا ہے یہ تم نے کہاں سے سیکھا ہے . میں نے کہا آنٹی یہ تو عام سی بات ہے یہ تو تقریباً ہر مرد کرتا ہے . تو آنٹی نے کہا یقین کرو کا شی بیٹا نہ آج تک میرے میا ں نے ایسا کیا اور اور نہ ہی بلال نے تم پہلے ہو جو یہ مزہ دے رہے ہو . میں نے کہا آنٹی جی پِھر آپ دیکھتی جاؤ میں آج آپ کو کیسا مزہ دیتا ہوں . پِھر میں نے آنٹی کی پھدی چاٹنی شروع کر دی میں اپنی زُبان آنٹی کی بُنڈ کی موری سے لے کر پھدی کی موری تک اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر پھیر رہا تھا اور آنٹی کے منہ سے اونچی اونچی لذّت بھری آوازیں نکل رہی تھیں . . ہا ہا اوہ اوہ آہ آہ آہ اوہ آہ.. میں کوئی 5 منٹ تک آنٹی کی پھدی اور بُنڈ کی موری کو سک کرتا رہا پِھر میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے آنٹی کی پھدی کا منہ کھولا اور اپنی زُبان کو پورا اندر باہر کرنے لگا میری اِس حرکت نے آنٹی کو پاگل کر دیا تھا اور وہ نیچے سے بُنڈ اٹھا کر میری زُبان اپنی پھدی میں لے رہی تھی

میں نے کچھ دیر تو آہستہ آہستہ کیا پِھر میں نے آنٹی کو فل مزہ دینے کے لیے اپنی سپیڈ تیز کر دی جس سے آنٹی اور زیادہ مست ہو گئی تھی اور میرے سر پے ہاتھ رکھ دیئے تھے اور اپنے ہاتھوں سے مجھے اوپر سے دبا رہی تھی اور نیچے سے اپنی بُنڈ اٹھا کر زُبان سے چود وا رہی تھی اور اس کو لمبی لمبی سسکیاں اور لذّت بھری آوازیں پورے کمرے میں گونج رہی تھیں. اور کچھ دیر بعد ہی آنٹی کا جسم اکڑ نے لگا اور انہوں نے اپنے ہاتھوں سے میرے سر کو اپنی پھدی پے دبا دیا اور نیچے سے اپنی بُنڈ بھی اٹھا لی تھی . اور کچھ ہی لمحوں کے بعد مجھے آنٹی کا گرم گرم لاوا اپنے منہ اور زُبان پے محسوس ہوا اور آنٹی نے کافی زیادہ اپنا پانی میرے منہ پے چھوڑا . آنٹی اپنا پانی چھوڑ کر لمبی لمبی سانسیں لینے لگی اور ہانپ رہی تھی. میں اٹھ کر آنٹی کے ساتھ ہی بیڈ پے ان کے پہلو میں لیٹ گیا . کچھ دیر بعد جب آنٹی کی سانسیں بہال ہوئی تو آنٹی بولی واہ کا شی بیٹا آج تو مزہ ہی آ گیا ایسا مزہ مجھے زندگی میں کبھی نہیں ملا آج میں نے سب سے زیادہ پانی چھوڑا ہے . تم نے میری آج گرمی نکال دی ہے. پِھر میں نے کہا آنٹی جی آپ کا باتھ روم کہاں پے ہے مجھے اپنا منہ دھونا ہے . آنٹی فوراً اٹھی اور لائٹ آن کی جب میں نے فل لائٹ میں ان کی گانڈ کو پیچھے سے دیکھا تو میرا لن نیچے سے سلامی دینے لگا آنٹی کی بُنڈ بڑی ہی مزے کی تھی ان کا جسم کافی سڈول تھا اور بُنڈ کی دونوں سائڈ کافی باہر کو نکلی ہوئی تھی . میں نے سوچا باتھ روم سے واپس آ کر آنٹی سے بُنڈ مروا نے کا پوچھوں گا . آنٹی نے دروازہ کھولا اور مجھے بولی بیٹا وہ سامنے باتھ روم ہے وہاں چلے جاؤ میں بیڈ سے اٹھ کر باتھ روم چلا گیا . جب منہ دھو کر اور کلی کر کے کمرے میں آیا تو آنٹی بیڈ پے ہی ننگی لیی ہوئی تھی . میں بھی ابھی تک ننگا ہی تھا میں بیڈ پے جا کر ان کے ساتھ لیٹ گیا . پِھر میں نے آنٹی سے کہا آنٹی جی میں آپ سے ایک بات کرنی تھی اگر آپ برا نہ مانو تو وہ بولی پوچھو پوچھو میں برا نہیں مانو ں گی . میں نے کہا آنٹی جی مجھے بُنڈ مارنے کا بہت شوق ہے کیا آپ نے کبھی بُنڈ میں لیا ہے . آنٹی میری بات سن کر میری طرف دیکھا اور بولی کا شی بیٹا مجھے پتہ ہے جوان لڑکوں کو تنگ موری کا بہت شوق ہوتا ہے بلال بھی مجھے کئی دفعہ کہہ چکا ہے لیکن بیٹا میں نے آج تک کبھی بُنڈ میں نہیں لیااور نہ ہی میں لے سکتی ہوں . یہ لن پھدی میں ہی اتنا تنگ اور درد دیتے ہیں تو بُنڈ میں تو سوچ کر ہی ڈ ر لگ جاتا ہے. میں آنٹی کی بات سن کر تھوڑا مایوس بھی ہوا اور خاموش ہو گیا . آنٹی نے کہا کا شی تمہیں میری بات اچھی نہیں لگی . میں نے کہا نہیں آنٹی جی ایسی بات نہیں ہے میں آپ کی اِجازَت کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا اِس لیے آپ سے پہلے پوچھ لیا تھا . آنٹی تھوڑی دیر خاموش ہو گئی پِھر بولی کا شی ایک بات کہوں تم کسی کو بتاؤ گے تو نہیں میں نے کہا آنٹی جی آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں میں کوئی بچہ ہوں یا پاگل ہوں جو اپنے ہی پاؤں پے کلہاڑی ماروں گا . آپ بتاؤ کیا بتانا ہے . آنٹی نے کہا کا شی تم نے آج جو مجھے مزہ دیا ہے یقین کرو زندگی میں کسی نے نہیں دیا مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ تھا کے مرد زُبان سے بھی ایسا مزہ دے سکتا ہے . اور آج تم نے مجھے خوش کر دیا ہے . اِس لیے میں تمہیں ناراض نہیں کر سکتی میں تمہیں اپنی بُنڈ تو نہیں دے سکتی لیکن تمھارے لیے ایک بہت ہی ٹائیٹ پھدی کا انتظام کروا سکتی ہوں اور اگر تمہاری اس سے بات بن جائے تو تم اس کو بُنڈ کے لیے بھی راضی کر سکتے ہو . لیکن ایک شرت یہ ہے کے یہ بات بلال کو بھی نہیں پتہ چلنی چاہیے . میں نے کہا آنٹی جی آپ مجھ پے مکمل یقین رکھیں میں یہ بات آخر دم تک کسی کو نہیں بتاؤں گا

۰
آپ بتاؤ وہ کون ہے . آنٹی نے کہا وہ میرے میاں کی بہن ہے . اس کی شادی کو ابھی 1 سال ہی ہوا ہے وہ لاہور میں رہتے ہیں . لیکن اب اس کے میاں کی ٹرانسفر تمھارے شہر میں ہو گئی ہے وہ شادی کے بَعْد سے تقریباً 6 مہینے سے وہاں اسلام آباد میں ہی رہتا ہے . وہ لاہور میں کسی پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا تھا لیکن پِھر اس کی کمپنی کو اسلام آباد میں کام ملا تھا تو وہاں چلا گیا ہے ابھی تو وہ وہاں اکیلا رہتا ہے . لیکن میں کچھ دن پہلے لاہور گئی تھی تو میرے میاں کی بہن نے بتایا کے اس کے میاں کا وہاں کام لمبا عرصے کا ہے اِس لیے وہ چاہتا ہے کے اپنی بِیوِی کو بھی ساتھ وہاں لے جائے گا اور وہاں کرا یہ کے گھر لے کر رہے گا. میں نے کہا آنٹی جی ان کی ابھی نئی شادی ہوئی ہے اور ان کا میاں بھی ان کے ساتھ ہے اور وہ تو ان کو کبھی بھی لن کی کمی محسوس نہیں ہونے دے گا . پِھر اِس میں میرا حساب کیسے فٹ ہو گا. آنٹی بولی حوصلہ رکھو میں پوری بات بتا رہی ہوں نہ پہلے پوری بات سن لو پِھر اپنا فیصلہ کر لینا . میں نے کہا ٹھیک ہے آنٹی جی آپ بولو جو بھی بولنا ہے . پِھر آنٹی نے کہا ایک تو یہ ہے شاید میرے میاں کی بہن اگلے ایک مہینے تک وہاں چلی جائے گی . دوسرا یہ ہے کے میرے میاں کی بہن میری بہت اچھی سہیلی بھی ہے جب میرے میاں زندہ تھے تو وہ یہاں کئی کئی مہینے میرے پاس آ کر رہتی تھی . میری اس کے ساتھ کھلی گپ شپ تھی وہ اپنی ہر بات مجھے سے ہی شیئر کرتی تھی . اور یہ بھی بتا دوں وہ ایک بڑی گرم لڑکی تھی . وہ جوان بھی ہے اور جذبات بھی رکھتی ہے . جوانی میں تو ہر عورت کا خواب ہوتا ہے کے اس کو ایسا مرد ملے جو اس کو دِل وجان سے جسمانی اور دنیاوی لحاظ سے ہر وقعت خوش رکھے . اور جب اس کی شادی ہو گئی تھی تو بھی وہ مجھے سے یہاں ملنے آتی رہتی تھی . اس نے مجھے بتایا تھا اس کا میاں اچھا بندہ ہے لیکن مسئلہ یہ ہے وہ جسمانی لحاظ سے زیادہ خوش نہیں رکھ سکتا . وہ میرے ساتھ تقریباً ہفتے میں 2 یا 3 دفعہ کرتا ضرور ہے لیکن وہ اپنا پانی چھوڑ کر پیچھے ہو جاتا ہے اور مجھے رستے میں ہی چھوڑ دیتا ہے . اور میں اکیلے ہی کبھی اپنی انگلی سے کبھی کچھ اور کر کے اپنے جسم کو تسکین دے کر ٹائم گزر دیتی ہوں


اس کو میرے اور بلال کے تعلق کا بھی پتہ ہے . اس نے ایک دفعہ بہت تنگ ہو کر مجھے کہا بھی تھا بھابی مجھے بھی ایک دفعہ بلال سے کروا دو . لیکن میں نے منع کر دیا تھا . کیونکہ اگر میں بلال سے ایک دفعہ اس کا کام کروا دیتی تو تو بلال کا بس نہیں چلتا اس کو ہر روز ہی پھدی چاہیے وہ پھدی کے معاملے میں بہت ٹھرکی ہے اور جب ایک دفعہ اس کا کام ہو جانا تھا تو اس نے پھدی کے چکر میں میرے میاں کی بہن مہوش کے پیچھے لاہور تک چلے جانا تھا اور وہاں پے مسئلہ بن جانا تھا. کیونکہ مہوش کا سسرال جوائنٹ فیملی سسٹم ہے اور اس کا دیور وکیل بھی ہے اور بڑا سخت مزاج کا بندہ ہے . کسی نہ کسی دن اگر بلال وہاں پکڑا جاتا تو مہوش کی زندگی برباد ہو جانی تھی . بس اِس ڈ ر سے ہی آج تک میں نے مہوش کا کام نہیں کروایا اور نہ ہی بلال کو کبھی مہوش کا پتہ لگنے دیا ہے . میں نے کہا آنٹی جی میں آپ کی پوری بات سمجھ گیا ہوں لیکن میرا ایک سوال ہے کے جب مہوش اسلام آباد چلی جائے گی تو میرا اس کے گھر آنا جانا کیسے ہو گا اور دوسرا اس کے میاں کا کیا ہو گا اگر اس کو پتہ چل گیا تو پِھر کیا ہو گا . آنٹی نے کہا دیکھو کا شی تم خود اسلام آباد میں رہتے ہو تمہیں تو وہاں کا ماحول زیادہ پتہ ہے وہاں شہر کا ماحول اتنا بے حس ہے کے ساتھ والے کا نہیں پتہ ہوتا . اِس لیے تمھارے لیے یہ تو مسئلہ نہیں ہو گا کے تم مہوش کے کیا لگتے ہو . دوسرا اس کا میاں وہ کون سا ہر ٹائم گھر پے ہوتا ہے وہ تو صبح گھر سے جاتا ہے اور رات کو گھر واپس آتا ہے اور ہفتے میں ایک دن ہی اس کو چھٹی ہوتی ہے . اور رہی بات مہوش کی اس کو میں تمھارے بارے میں سب کچھ بتا دوں گی پِھر جب وہ اسلام آباد چلی جائے گی میں تمہیں اس کا موبائل نمبر دے دوں گی تم پہلے فون پے ہی اس کے ساتھ کچھ عرصہ گپ شپ لگا لیا کرنا جب دیکھو وہ مکمل راضی ہو گئی ہے تو بس پِھر وہ خود ہی تمہیں ملنے کا بھی بتا دے گی . اور ویسے بھی مجھے پتہ ہے تمہیں اس کو راضی کرنے میں 1 مہینہ بھی نہیں لگے گا کیونکہ میں بھی اس کو تمھارے بارے میں مکمل اعتماد میں کر لوں گی کچھ تم خود کر لینا بس پِھر سمجھو ایک گرم اور ٹائیٹ پھدی اپنے ہی شہر میں مل جائے گی اور ہو سکتا ہے بُنڈ بھی مل جائے . میں آنٹی کی بات سن کر خوش ہو گیا میرے اندر کی کیفیت یہ تھی کے اندر ہی اندر دِل میں لڈو پھوٹ رہے تھے

کیونکہ میرے لیے اسلام آباد میں ہی 3 پھد یوں کا بندوبست ہو گیا تھا اب میرا اپنےہی شہر میں کام بن گیا تھا. میں نے آنٹی کو کہا واہ آنٹی جی کمال کا بندوبست کیا ہے آپ نے دِل خوش ہو گیا ہے . آنٹی نے کہا بس ایک بات کا خیال رکھنا یہ بات بلال کو پتہ نا چلے اور دوسرا مہوش کے ساتھ بھی پورے دھیان سے ہی ملتے رہنا . میں نے کہا آنٹی جی آپ بے فکر ہو جائیں . پِھر میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی آگے کا کیا موڈ ہے آنٹی نے کہا تم بتاؤ کیا کرنا ہے میں نے کہا آنٹی جی پہلے تو میرے ہتھیار کو کھڑا کریں پِھر ہی میں اگلا کچھ کرتا ہوں . تو آنٹی نے کہا تم لیٹ جاؤ میں ابھی اِس کے اندر جان ڈالتی ہوں . میں ٹانگیں سیدھی کر کے لیٹ گیا . اور آنٹی گھوڑی اسٹائل میں میرے سیدھے ہاتھ والی سائڈ میں آ گئی اور میرے لن کی ٹوپی کو پہلے کس کیا پِھر اس کو اپنے منہ میں لے لیا اور آہستہ آہستہ اس کو چوپنے لگی . آنٹی بڑے ہی آرام آرام سے چوپا لگا رہی تھی . آہستہ آہستہ میرے لن میں جان واپس آ رہی تھی . اور پِھر جب میرا لن نیم حالت میں کھڑا ہو گیا تو پِھر اپنے ہاتھ پے تھوک لگا کر اس کی آہستہ آہستہ مٹھ لگانے لگی جب میرا لن کافی حد تک کھڑا ہو گیا تو دوبارہ اپنے منہ میں لے لیا پہلے تو لن کی ٹوپی پے ہی گول گول زُبان گھوما رہی تھی پِھر آہستہ آہستہ پورے لن کو منہ میں لے کر اس پے گول گول زُبان گھوما کر چوپا لگا رہی تھی درمیان میں وہ اپنی زُبان سے میرے لن کو جڑہ لیتی تھی جس سے میرے لن کو عجیب سا جھٹکا اور مزہ ملتا تھا. پِھر آنٹی نے اپنا منہ اوپر نیچے کرنا شروع کر دیا اور لن پے منہ کو تیزی کے ساتھ اوپر نیچے کر رہی تھی جیسے ان کے منہ کی چدائی ہو رہی ہو . پہلے تو آنٹی آہستہ آہستہ کر رہی تھی لیکن پِھر اپنی سپیڈ کافی تیز کر رہی تھی میرے منہ سے لذّت بھری آوازیں نکل رہی تھیں آنٹی کو چوپے لگاتے ہوئے کوئی 5 سے 7 منٹ ہو گئے تھے . میرے مزے کے مارے برا حال تھا پِھر آنٹی کے چوپوں نے طوفانی شکل اختیار کر لی . اور مجھے بھی اپنے لن لی اندر کے حرکت محسوس ہوئی میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی میرا پانی نکلنے والا ہے تو آنٹی نے ہاتھ کے اشارے سے کہا کے منہ میں ہی نکال دو اور پِھر مزید 2 سے 3 منٹ کے اندر جیسے میرے لن کی جان نکل گئی تھی میری منی کا فوارہ آنٹی کے منہ کے اندر ہی چھوٹنے لگا 

جب میری منی کا آخری قطرہ بھی نکل گیا تو آنٹی نے اپنا منہ میرے لن سے ہٹایا اور میری آنکھوں میں دیکھا اور آنکھ مار کے میری ساری منی ایک ہی سانس میں گھٹک گئی میں حیران منہ سے ان کو دیکھتا رہ گیا
پِھر آنٹی نے منہ کے بل ہی بیڈ پے لیٹ گئی . اور میں بھی اپنی آنکھیں بند کر کے کچھ دیر لیٹا رہا . کوئی 5 منٹ بَعْد ہی آنٹی نے کہا کا شی بیٹا کیسا لگا اپنی آنٹی کا چوپا تو میں نے کہا آنٹی جی آج تو مزہ آ گیا ہے . پِھر آنٹی وہاں سے ننگی اٹھی اور اپنے کچن میں چلی گئی اور تھوڑی دیر بَعْد اس نے 2 گلاس دودھ کے پکڑے ہوئے تھے اور دودھ میں شہد بھی ڈَالا ہوا تھا . ایک مجھے دیا اور ایک خود لے کر بیڈ پے ہی بیٹھ کر پینے لگی میں بھی اپنا گلاس لے کر دودھ پینے لگا . میں نے کمرے میں لگی گھڑی پے نظر ماری تو.10 2 کا ٹائم ہو چکا تھا . اور مجھے بلال کی بات یاد آئی کے 3 سے پہلے پہلے کام نمٹا کر یہاں سے نکلنا ہے . میں نے جلدی سے اپنا گلاس خالی کیا اور آنٹی بھی اپنا گلاس خالی کر چکی تھی انہوں نے میرے سے گلاس لیا اور باہر کچن میں چلی گئی . تھوڑی دیر بَعْد آنٹی آ کر دوبارہ میرے ساتھ ننگی ہی لیٹ گئی . اور پوچھنے لگی ویسے کا شی سچ میں تم نے آج تک کسی عورت کو نہیں چودا ہے تمھارے یہ سب ایکشن سے لگتا تو نہیں ہے کے تم نے کسی کو ابھی تک چودا نہ ہو . تو میں نے کہا آنٹی جی سچ میں یہ میرا پہلی دفعہ ہے اور رہی بات مجھے یہ سب پتہ ہونے کی آج کل کیبل اور نیٹ کا دور ہے ہر چیز عام ہے بچے بچے کو پتہ ہے . آنٹی نے کہا ہاں یہ بات تو تم ٹھیک کہہ رہے ہو . میں ایسا ایک تجربہ دیکھ چکی ہوں . میں نے کہا وہ کیسے آنٹی جی تو آنٹی نے کہا میرے گھر میں بھی کیبل لگی ہوئی ہے تمہیں تو پتہ ہے کیبل پے کتنے گندے گندے چینل لگے ہوئے ہیں اور میری ایک جوان بیٹی بھی ہے . وہ آج کل فارغ ہی ہے اور اپنے رزلٹ کا انتظار کر رہی ہے . اِس لیے ایک رات کو میں سو گئی تھی لیکن وہ ٹی وی دیکھ رہی تھی وہ بھی یہاں ہی میرے ساتھ سوتی ہے . رات کو اچانک میری پیاس کی وجہ سے آنکھ کھلی تو دیکھا میری بڑی بیٹی ٹی وی دیکھ رہی تھی ٹی وی پے کوئی انگلش فلم لگی تھی اس میں کوئی گوری کسی گورے مرد کی جھولی میں بیٹھی ہوئی تھی مرد نے صرف انڈرویئر پہنا ہوا تھا اور لڑکی بھی صرف انڈرویئر اور برا میں ہی تھی اور وہ مرد لڑکی کے منہ میں منہ ڈال کر چوس رہا تھا میں تو دیکھ کر ہی پاگل ہو گئی اور غصہ بھی آیا اور اپنی بیٹی کو ڈانٹ دیا کے ٹی وی بند کرو اتنی رات تک لگایا ہوا ہے . بس وہ بھی ڈر کر 
ٹی وی بند کر کے سو گئی


میں نے کہا آنٹی جی خیال رکھا کریں آپ کی بیٹی جوان ہے اور سب کچھ دیکھتی اور سمجھتی بھی ہے اور اِس عمر میں تو اسکول سے بھی لڑکیوں کو اپنی سہیلیوں سے کافی کچھ پتہ چل جاتا ہے . اِس لیے تھوڑا پیار سے محبت سے اپنی بیٹی کو ماں نہیں دوست بن کر سمجھاؤ . اور کوشش کر کے اس کی ہر خواہش پوری کر دیا کرو . مجھے امید ہے وہ سب کچھ سمجھ جائے گی . آنٹی نے کہا ہاں کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو لیکن وہ جوان ہے میں اس کی یہ والی خواہش تو پوری نہیں کروا سکتی یہ تو شادی کے بَعْد ہی پوری ہو سکتی ہے باقی میں اس کو خوش رکھ سکتی ہوں میں دوست بن کر ہی اس کو سمجھا دیا کروں گی . لیکن ڈر لگتا ہے جوانی کا خون ہے کہیں محلے میں یا اور کہیں غلط حرکت نا کر بیٹھے اور شادی سے پہلے ہی بدنام ہو جائے . میں نے کہا آنٹی جی میں آپ کی بات سمجھ سکتا ہوں لیکن اگر وہ کوئی غلط نہ کر بیٹھے. لیکن اس سے بہتر ہے کے آپ اس کی ماں نہیں دوست بن جاؤ وہ آپ سے اپنی ہر بات شیئر کرے گی . اس کو اچھے اور برے کی تمیز بھی بتا دو. آنٹی جی بیٹی کی سب سے بڑی رازدان اور خیر خواہ ایک ماں ہی ہو سکتی ہے اِس لیے مجھے جو ٹھیک لگا آپ کو بتا دیا باقی آپ کی مرضی.. آنٹی نے کہا کا شی بیٹا کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو میں اِس کے بارے میں سوچوں گی پِھر خود ہی کوئی حَل نکال لوں گی . میں نے کہا آنٹی جی ٹائم تھوڑا ہے.30 2 ہو گئے ہیں میرا دِل ہے جلدی سے ایک رائونڈ لگا لینا چاہیے اور آپ کی پھدی کو بھی لن کی سیر کروا دینی چاہیے آپ کا کیا خیال ہے. آنٹی نے ٹائم دیکھا اور بولی تم ٹھیک کہہ رہے ہو میں نے کہا آنٹی جی اپنا موبائل نمبر دے دو تا کہ آپ سے رابطہ کر سکوں پِھر بلال آ جائے گا . آنٹی نے مجھے اپنا موبائل نمبر دے دیا میں اپنے موبائل سیف کیا اور پِھر بیڈ پے لیٹ گیا اور آنٹی نے میرے لن کے ایک بار پِھر چوپے لگانے شروع کر دیئے اور کوئی 5 منٹ میں ہی میرا لن دوبارہ ا کڑ کر کھڑا ہو گیا پِھر میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی آپ گھو ڑ ی اسٹائل بنا لو میں پیچھے سے آپ کی پھدی ماروں گا . آنٹی فوراً گھوڑی بن گئی اور میں پیچھے جا کر آنٹی کی پھدی میں ٹوپی کو گھسایا اور پِھر آہستہ آہستہ لن ڈالنے لگا جب آدھا لن اندر کر دیا تو باقی کا لن ایک ہی جھٹکے میں پھدی کے اندر کر دیا آنٹی کے منہ سے ایک آہ نکل گئی پہلے تو آہستہ آہستہ لن کو اندر باہر کرتا رہا پِھر میں نے اپنے جھٹکے تیز کر دیئے اور لن کو آنٹی کی پھدی کی گہرائی تک اندر باہر کر رہا تھا . آنٹی بھی مزے میں آوازیں نکال رہی تھیں آہ اوہ آہ اوہ اوہ. مجھے آنٹی کو چودتےہوئے کوئی 5 سے 7 منٹ ہو گئے تھے پِھر میں اِس پوزیشن میں خود بھی تھک گیا تھا 


اور آنٹی بھی کافی تھک گئی تھی میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی آپ اِس ہی پوزیشن میں نیچے لیٹ جائیں اور اپنی ٹانگیں تھوڑی کھول لیں . آنٹی نے وہ ہی پوزیشن بنا لی جو میں نے کہی تھی میں اب گھٹنوں کے بل بیٹھ کر پہلے لن کو آنٹی کی پھدی پے سیٹ کیا اور اِس دفعہ ایک ہی جھٹکے میں لن پورا اندر اُتار دیا . اور آنٹی کے منہ سے آواز نکلی ہا اے امی جی. میں لن پورا اندر کر کے آنٹی کے اوپر ہی منہ کے بل لیٹ گیا آنٹی کے نرم نرم بُنڈ کا احساس مجھے پاگل کر رہا تھا پِھر میں نے اپنے جسم کو حرکت دی اور آہستہ آہستہ اپنے لن کو پھدی کے اندر باہر کرنے لگا تھوڑی ہی دیر میں لن پھدی کے اندر رواں ہو گیا اور آنٹی کے منہ سے بھی خمار بھری آوازیں نکل رہی تھیں پِھر میں نے اپنی رفتار کو مزید تیز کر دیا آنٹی کو بھی فل مزہ آ رہا تھا آنٹی بھی جوش میں آ کر اپنی بُنڈ پیچھے کو اٹھا رہی تھی اور ہمارے جسم کے ٹکرانے سے دھپ دھپ کی آواز نکل رہی تھی . میں اِس پوزیشن میں آنٹی کو تقریباً 5 منٹ تک اور چود تا رہا پِھر آنٹی نے اپنی پھدی کو میرے لن پے کسنا شروع کر دیا اور اپنی سپیڈ نیچے سے اور تیز کر دی تھی مجھے سمجھ آ گئی تھی کے آنٹی کا لاوا چھوٹنے والا ہے اور وہ ہی ہوا آنٹی نے ایک زوردار منہ سے آہ کی آواز نکالی اور اپنی منی کا فوارہ میرے لن پے ہی اندر چھوڑنا شروع کر دیا اب اندر کام کافی گرم اور گیلا ہو چکا تھا میں نے بھی طوفانی جھٹکے لگانے شروع کر دیئے اور مزید 2 سے 3 منٹ کے بعد اپنی منی کا فوارہ آنٹی کی پھدی میں چھوڑ دیا اور ان کے اوپر ہی گر کر ہانپنے لگا. جب میرے لن کا آخری قطرہ بھی آنٹی کی پھدی میں نکل گیا تو میں ان کے اوپر سے ہٹ کر ان کے ساتھ بیڈ پے ہی لیٹ گیا . جب ہم دونوں کی سانسیں بَحال ہوئی تو میں نے کہا آنٹی جی پہلی دفعہ زندگی میں پھدی مار کر مزہ آ گیا ہے . آنٹی نے کہا مجھے بھی بہت مزہ آیا ہے تمہاری ٹائمنگ اچھی ہے بلال کی ٹائمنگ سے کافی بہتر ہے اس کا لن تم سے بڑا ہے لیکن اس کی ٹائمنگ بھی تم سے کم ہے اور اس کے لن کی ٹوپی بھی تم سے چھوٹی ہے . ابھی تو تم کو میرے پھدی مار کر مزہ آیا ہے جب مہوش کی مارو گے تو مجھے یاد کرو گے اس کے پھدی بہت تنگ ہو گی . اس نے آج تک اپنے میاں کے علاوہ کسی سے بھی نہیں کروایا اس اس کے میاں کا لن بھی 4 انچ کا ہے تمہارا لے گی تو دنیا بھول جائے گی اور تم اس کی لو گے تو مجھے بھول جاؤ گے


میں نے کہا آنٹی جی کیسی بات کرتی ہیں آپ تو پہلے ہیں مہوش بعد میں ہے اگر آپ مہوش کا رستہ نہ بتاتی تو مجھے کوئی اس کا مزہ مل سکتا تھا اور ویسے بھی مہوش تو وہاں کے لیے ہے یہاں کے لیے تو آپ ہی ہو . اب جب بھی یہاں آیا کروں گا ڈائریکٹ آپ سے ہی رابطہ کروں گا. پِھر میں نے گھڑی کی طرف دیکھا تو 3 بجنے میں10 منٹ رہ گئے تھے میں نے فوراً بلال کے نمبر پے مس کال دی پِھر میں نے اور آنٹی نے اپنے اپنے کپڑے پہن لیے اور آنٹی اپنے بیڈ کی حالت ٹھیک کرنے لگی کوئی 5 منٹ بعد ہی گھر کی گھنٹی بجی میں سمجھ گیا بلال آ گیا ہے . میں نے کہا آنٹی جی میں چلتا ہوں بلال نیچے آ گیا ہے . آنٹی کو لمبی سے فرینچ کس کی اور آنٹی کے گھر سے باہر نکل آیا اور بلال کے ساتھ اس کی دکان پے آ گیا گلی میں کوئی بھی نہیں تھا . پِھر دکان پے آ کر میں نے بلال کو پوری سٹوری سنا دی اس میں مہوش والی بات گول کر دی اور پِھر کچھ دیر بلال کے ساتھ بیٹھ کر اپنے گھر واپس آ گیا. گھر واپس آ کر میں نے نہایا اور پِھر ٹرا و زَر شرٹ پہن کر ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا تھوڑی دیر بعد چچا بھی آ گئے اور پوچھنے لگے کیوں کا شی بیٹا آج کہا غائب تھے . میں نے کہا کہیں نہیں چچا جان میں ذرا بلال کو ملنے گیا تھا جب سے آیا تھا اس کو ملا نہیں اور آج سوچا اس کو مل آؤں اِس لیے وہاں گیا ہوا تھا . چچا نے کہا اچھی بات ہے اور بھابی بتا رہیں تھیں کے تم جمه والے دن واپس جا رہے ہو . میں نے کہا جی چچا جان ابو کی کال آئی تھی انہوں نے واپس بلا لیا ہے اور کہا ہے واپس آ کر آگے کی پڑھائی کا کچھ کروں تو چچا نے کہا ہاں بیٹا پڑھائی تو ضروری ہے بھائی جان کو تمہاری فکر زیادہ رہتی ہے ان کی ساری امید تم سے ہے . تم اچھا پڑھ لکھ جاؤ گے تو کسی مقام تک پہنچوگے.میں نے کہا جی چچا جان میں جانتا ہوں اِس لیے واپس جا رہا ہوں اور جا کر کسی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لوں گا . چچا نے کہا بیٹا بہت اچھی بات ہے مجھے تم سے یہ ہی امید تھی پِھر میں اور چچا یہاں وہاں کی باتیں کرتے رہے اور یوں ہی رات ہو گئی چچا اور بچے جلدی سو گئے صبح ان کو جانا تھا اور میں بھی 11بجے تھک کر اوپر پے جا کر سو گیا

اگلے دن صبح اٹھ کر نہا دھو کر سب کے ساتھ ناشتہ کیا اور چچا اپنے کام پے اور بچے اسکول چلے گئے . میں ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا اور ٹی وی دیکھنے لگا تقریباً 12بجے کے قریب میں ٹی وی والے کمرے سے نکلا تو دیکھا چچی شاید آج اپنا کام جلدی ختم کر کے اپنے کمرے میں چلی گئی . میں ان کے کمرے میں چلا گیا لیکن وہ کمرے میں نہیں بلکہ وہ اپنے باتھ روم میں نہا رہی تھی . اور ان کے باتھ روم کا دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا تھا . میں باتھ روم میں جا کر دروازہ کھول دیا چچی اندر بیٹھی نہا رہی تھی مجھے دیکھا اور مصنوعی سا غصہ کر کے بولی شرم نہیں آتی نہاتے ہوئے بھی پیچھا نہیں چھوڑو گے . میں ان کی بات سن کر ہنسنے لگا اور بولا کیا کروں چچی جان آپ چیز ہی ایسی ہو پیچھا چھوڑنے کو دِل ہی نہیں کرتا . پِھر چچی بھی ہنسنے لگی اور بولی ایک کام کرو میری کمر پے صابن رگڑ کر مل دو . میں تھوڑا اندر ہو کر بیٹھ گیا اور صابن لے کر آنٹی کی کمر کو اچھی طرح سے رگڑ نے لگا اور پِھر چچی بولی بس ٹھیک ہے تم کمرے میں بیٹھو میں نہا کر آتی ہوں . میں ان کے کمرے میں کرسی پے بیٹھ گیا تھوڑی دیر بعد ہی چچی نہا کر باہر آ گئی اور ڈریسنگ ٹیبل پے بیٹھ کر اپنے بال سکھانے لگی. جب وہ اپنے بال سوکھا کر فارغ ہو گئی تو میری طرف منہ کر کے بولی سناؤ کا شی کیا رپورٹ ہے بلال والا کام پکا ہو گیا ہے . میں نے کہا جی آنٹی جی پکا ہو گیا ہے . آنٹی نے کہا میں نے شوکت کو میسیج کر دیا ہے وہ بھی کل 11بجے تک آ جائے گا . اور آج بچے واپس آ جائیں تو میں عشرت کی طرف جاؤں گی اس کو بدھ والے دن کا پروگرام بنا کر آ جاؤں گی . میں نے کہا بس چچی جان ٹھیک ہے مجھے منظور ہے . چچی نے کہا کا شی ویسے بلال مجھے کب کال کرے گا تمھارے ہوتے ہوئے ہی کرے گا یا تمھارے جانے کے بعد کرے گا . میں نے کہا چچی جان وہ میرے بعد ہی کرے گا میں جمه کو جا رہا ہوں وہ آپ کو ہفتے والے دن کال کرے گا میں اس کو سمجھا دوں گا اور آپ 2 یا 3 دن اس کو تھوڑا نخرا دیکھا دینا پِھر اگلی منگل یا بدھ کو بلا لینا اور مزہ لے لینا اس کے بعد تو آپ کی جب مرضی ہو گی بلا لیا کرنا. آنٹی نے کہا کا شی تم نے میرے پکا بندوبست کر دیا ہے میں بہت خوش ہوں . میں نے کہا چچی جان ایک بات تو بتاؤ کیا آپ نورین اور عشرت اور سائمہ آنٹی کو بھی بلال سے چدواؤ گی . تو چچی بولی نہیں کا شی نورین اور سائمہ کو میں کبھی بھی بلال سے نہیں ملواؤںگی لیکن عشرت کا شاید میں کچھ کروا دوں لیکن وہ بھی ابھی میں نے پکا سوچا نہیں ہے میں سوچ کرفیصلہ کروں گی. میں نے کہا چچی جان آپ نورین اور سائمہ آنٹی کا کیوں نہیں کرو گی کوئی خاص بات ہے . تو چچی نے کہا خاص بات کوئی نہیں ہے نورین میری سہیلی ہے اور وہ ابھی جوان ہے اور کچھ عرصہ بعد اس کی دوبارہ شادی بھی شاید ہو جائے گی 

Share this post


Link to post
Share on other sites

اِس لیے میں اس کو اتنے لوگوں سے خراب نہیں کروانا چاہتی وہ بس تمھارے ساتھ کبھی کبھی جب تم یہاں آؤ گے یا عرفان بھائی کے ساتھ ہی ٹھیک ہے بلال کے لیے نہیں کر سکتی . اور رہی بات سائمہ کی وہ میری بھابی ہے تمھارے ساتھ بھی اس کاکام مجبور ہو کر کروایا تھا . اگر بلال کو سائمہ کا بھی پتہ لگ گیا تو خاندان میں بات نکلتے ہوئے دیر نہیں لگے گی اور ویسے بھی بلال میری چھوٹی بہن کا دیور ہے اس کو اِس بات کا پتہ بھی نہیں چلنا چاہیے. میں نے کہا چچی جان میں آپ کی بات اچھی طرح سمجھ گیا ہوں . پِھر میں اور چچی یہاں وہاں کی باتیں کرتے رہے اور تقریباً 1 بج گیا تھا پِھر چچی نے کہا تم بیٹھو میں کچن میں جا رہی ہوں كھانا بھی تیار کرنا ہے. چچی کے جانے کے بعد میں بھی اٹھ کر ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا اور ٹی وی دیکھنے لگا . پِھر وہ باقی دن بھی معمول کی طرح ہی گزر گیا . اگلی صبح میں ناشتہ کر کے ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا اور انتظار کرنے لگا میں نے میسیج کر کے بلال کو سارا پروگرام سمجھا دیا تھا اور اس کو11 بجے سے پہلے ہی ایک جگہ کا بتا دیا جہاں سے ہم دونوں کو کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا پِھر تقریباً 10.15 پے میں نے چچی کو ساری بات بتائی اور ان سے چابی لے کر گھر سے باہر آ گیا اور وہاں جا کر انتظار کرنے لگا جہاں میں نے بلال کو ٹائم دیا ہوا تھا . تقریباً 10.35 پے بلال اس جگہ پے آ گیا جہاں میں نے اس کو بلایا تھا ہم وہاں ایک سائڈ پے ہو کر بیٹھ گئے اور میں نے بلال کو کہا یار بلال مجھے لگتا ہے آج شوکت آئے گا کیونکہ مجھے چچی نے آج بازار سامان لینے کے لیے بھیج دیا ہے. بلال میری بات سن کر اچھلنے لگا اور بولا یار کا شی آج میں خوشی سے پاگل ہو جاؤں گا . آج میں ثمینہ باجی کو شوکت کے ساتھ دیکھوں گا اور پِھر بعد میں ثمینہ باجی کی میں بھی ماروں گا یہ سوچ کر ہی میں خوشی سے پاگل ہو رہا ہوں . میں نے کہا اچھا یار ٹھیک ہے لیکن اتنا پاگل نا بن جانا سارا کام ہی خراب کر دو یہ سارا کام بڑا ہی دھیان سے کرنا نہیں تو مشکل ہو جائے گی میں نے تو واپس چلا جانا ہے تم نے پیچھے سے سنبھالنا ہے . بلال سریس ہو گیا اور بولا کا شی میرے یار تو بے فکر ہو جا . میں نے اس کو گھر کی چابی دی اور موبائل پے ٹائم دیکھا 11بج چکے تھے . میں نے کہا میں بازار جا رہا ہوں تم کوئی 15 سے 20 منٹ کے بعد گھر چلے جانا اور زیادہ شور نہیں کرنا اور آرام سے اندر داخل ہو کر اور اپنا کام پورا کر کے اِس جگہ ہی آ جانا میں تمھارا یہاں ہی انتظار کروں گا . شوکت کو اور چچی کو تمھارے گھر میں داخل ہونے اور باہر نکلنے کی آواز بھی نہیں آنی چاہیے . بلال بولا کا شی یار تو بے فکر ہو جا کسی کو کانو کان خبر نہیں ہو گی . پِھر میں اس کو چابی دے کر بازار کی طرف نکل آیا. میں بازار میں گھوم رہا تھا تقریباً12.20 ٹائم ہو گا جب مجھے بلال کی کال آ گئی . اور وہ مجھے بولا کا شی تم کہاں ہو میں اس جگہ ہی تمہارا انتظار کر رہا ہوں . میں نے کہا تم 15 سے 20 منٹ میرا وہاں ہی انتظار کرو میں آ رہا ہوں . میں بازار سے سیدھا نکلا اور تقریباً12.40 پے بلال کے پاس پہنچ گیا اور بلال نے مجھے ویڈیو دکھائی اس نے کوئی 6 منٹ کی ویڈیو بنائی ہوئی تھی اس میں شوکت چچی کی لیٹا کر پھدی مار رہا تھا. میں نے ویڈیو دیکھ کر جان بوجھ کر ایکٹنگ کی اور بولا یار بلال تم واقعہ ہی ٹھیک کہہ رہے تھے یہ تو سچ میں شوکت چچی کو چودتا ہے . بلال نے کہا دیکھا کا شی میں نے کہا تھا نہ . اب یقین آ گیا ہے . میں نے کہا سچ میں یار تم بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے


میں نے کہا بلال آب تم کیسے کرو گے . تو بلال نے کہا کا شی تم مجھے ثمینہ باجی کا موبائل نمبر دے دو . ویسے تو میں اپنی بھابی ثمینہ کی بہن سے بھی لے سکتا ہوں لیکن میں اس کو کسی شق میں نہیں ڈالنا چاہتا . اِس لیے تم مجھے نمبر دے دو پِھر دیکھو میں ثمینہ باجی کو کیسے دانہ ڈالتا ہوں
میں نے کہا ٹھیک ہے بلال یار میں تمہیں نمبر دے دیتا ہوں لیکن میں 1 شرط ہے . تو بلال بولا کا شی یار تیری 2 شرط مجھے منظور ہے تو بتا کیا کرنا ہے . میں نے کہا ایک تو تم نے چچی کو کال میرے جانے کے بعد کرنی ہے میں جمه کو واپس جا رہا ہوں تم بے شک ہفتے والے دن کال کر لینا لیکن چچی کو پیار محبت سے راضی کرنا . جلد بازی نہیں کرنا یہ نہ ہو کام خراب ہو جائے . تو بلال بولا کا شی یار تو میری طرف سے بے فکر ہو جا یار مجھے پتہ ہے اِس کام میں رشتہ داری بھی جا سکتی ہے اور بدنامی بھی ہو سکتی ہے اِس لیے میں پیار محبت سے راضی کروں گا . پِھر میں نے کہا دوسری شرط یہ ہے کے جب میں دوبارہ واپس آؤں گا تو مجھے ثوبیہ باجی کی پھدی کا چانس لے کر دے گا . میری بات سن کر بلال ہنسنے لگا اور بولا کا شی میرے یار یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے تو بے فکر ہو جا جب تم دوبارہ آؤ گے تو ثوبیہ باجی کی پھدی اور بُنڈ تمہیں گفٹ دوں گا اور ہو سکتا ہے کسی اور رشتہ دار کی پھدی بھی مل جائے . میں اس کی بات سن کر ہنسنے لگا اور پِھر بلال نے مجھے چابی دی اور کہا میں دکان پے جا رہا ہوں . تم کل میری طرف چکر لگا لینا میں نے کہا کل تو مشکل ہے میں پرسوں ضرور چاکر لگا لوں گا تو بلال نے کہا ٹھیک ہے جیسے تیری مرضی اور وہ وہاں سے چلا گیا . میں وہاں کافی دیر اکیلا بیٹھا رہا پِھر کافی دیر انتظار کرنے کے بعد میں نے ٹائم دیکھا تو 1.10 ہو چکے تھے میں نے سوچا اب تو شوکت چلا گیا ہو گا . کیونکہ چچی نے کہا تھا کے تم 1 بجے واپس آ جانا . میں وہاں سے اٹھا اور گھر کی طرف آ گیا اور آ کر دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا اور سامنے دیکھا چچی کے دروازے کی ایک سائڈ کھلی ہوئی تھی میں سمجھ گیا کے شوکت چلا گیا ہے . میں دروازہ بند کر کے چچی کے کمرے میں چلا گیا چچی باتھ روم میں نہا رہی تھی اِس دفعہ دروازہ بند تھا . میں وہاں ہی کرسی پے بیٹھ کر چچی کا انتظار کرنے لگا. 10منٹ کے بعد چچی نہا کر باہر نکلی اور مجھے سامنے دیکھا تو دیکھا مسکرا نے لگی میں بھی جواب میں مسکرا نے لگا . 


چچی اپنی ڈریسنگ ٹیبل پے بیٹھ گئی اور بال سکھانے لگی. پِھر چچی نے کہا سناؤ
کا شی کیا بنا . میں نے کہا چچی جی میرا کام ختم ہو گیا ہے اور آپ کا کام بھی مکمل ہو گیا ہے میرا رول جہاں تک تھا وہ پورا ہو چکا ہے . اب آگے آپ کا اور بلال کا رول ہے . چچی میری بات سن کر خوش ہو گئی اور اطمینان ان کے چہرے پے عیاں تھا. میں نے کہا چچی آپ کل عشرت آنٹی کی طرف کیوں نہیں گیں تھیں . تو چچی نے کہا میں نے جانا تھا لیکن میری آنکھ لگ گئی تھی جب آنکھ کھلی تو 5 بجنے میں تھوڑا ٹائم ہی باقی رہ گیا تھا پِھر تمھارے چچا نے آ جانا تھا تو میں نہیں نکل سکتی تھی . لیکن تم بے فکر رہو میں آج ضرور جاؤں گی بچوں کو آنے دو كھانا دے کر میں عشرت کی طرف ضرور جاؤں گی . میں نے کہا چلو ٹھیک ہے چچی جیسے آپ کی مرضی میں نہانے جا رہا ہوں آج بہت گرمی تھی اور میں کمرے سے نکل کر باتھ روم میں گھس گیا اور نہانے لگا. میں نہا کر ٹی وی والے کمرے میں آ کر ٹی وی لگا کر بیٹھ گیا اور پِھر بچے بھی اسکول سے آ گئے اور چچی نے مجھے بھی كھانا دیا اور اپنے بچوں کو بھی كھانا دیا . كھانا کھا کر چچی نے برتن کچن میں رکھ کر کچن کا کام مکمل کر کے اپنے کمرے میں چلی گئی اور تقریباً10 منٹ بعد میں نے دیکھا چچی تیار ہو کر گھر سے باہر چلی گئی . میں سمجھ گیا تھا کے چچی اب عشرت آنٹی کی طرف گئی ہیں . اور میں ٹی وی دیکھنے لگا . کافی دیر بعد چچی واپس آ گئی میں نے دروازہ کھولا وہ گھر میں اندر آ کر اپنے کمرے میں چلی گئی . میں دوبارہ پِھر ٹی وی والے کمرے میں آ کر ٹی وی دیکھنے لگا . اس دن میری چچی سے دوبارہ کوئی بات نہ ہوئی اور نہ ہی چچی نے عشرت کے گھر سے واپس آنے کے بعد بھی مجھے کچھ بتایا . اور باقی کا دن بھی ایسے ہی گزر گیا. اگلے دن صبح جب سب اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے اور میں بھی ٹی وی والے کمرے میں بیٹھ کر ٹی وی دیکھ رہا تھا تو تقریباً 10بجے کے قریب چچی ٹی وی والے کمرے میں آئی اور بولی کے ابھی تقریباً 11بجے تک نورین آ جائے گی تو تم کوئی بہانہ بنا کر گھر سے باہر چلے جانا اور پِھر عشرت کے گھر چلے جانا وہ تمہارا انتظار کر رہی ہو گی . اور 1 بجے تک اپنا کام پورا کر کے واپس آ جانا. میں چچی کی بات سن کر خوش ہو گیا اور آگے سے بولا ٹھیک ہے میں سمجھ گیا . اور پِھر چچی دوبارہ کچن میں چلی گئی . میں ٹی وی دیکھنے لگا . تقریباً 11بجے باہر گھنٹی بجی میں نے جا کر دروازہ کھولا تو سامنے نورین کھڑی تھی مجھے دیکھ کر شرما گئی . اور اندر آ گئی . میں دروازہ بند کر کے واپس ٹی وی والے کمرے میں آیا تو نورین کچن کے دروازے کے پاس کھڑی ہو کر مجھے ہی دیکھ رہی تھی

میں نے اس کو فلائنگ کس کر دی وہ شرما گئی اور مسکرا کر اندر کچن میں دیکھنے لگی. میں ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا اور10 منٹ تک بیٹھا رہا پِھر ٹی وی بند کیا اور باہر نکل کر چچی کو کہا چچی جان میں ذرا بلال کی طرف جا رہا ہوں . تھوڑی دیر تک واپس آ جاؤں گا . نورین نے مڑ کر مجھے دیکھا جب میں نے اس کا چہرہ دیکھا تو تھوڑا سا اداس تھی مجھے اس پے بڑا پیار آیا . میں نے اس کو دوبارہ فلائنگ کس کی تو وہ خوش ہو گئی. میں گھر سے نکل کر سیدھا عشرت آنٹی کے دروازے پے جا کر دستک دی کوئی 1 منٹ بعد ہی عشرت آنٹی نے دروازہ کھولا مجھے دیکھا کر تھوڑا شرما گئی پِھر مجھے کہا آؤ بیٹا اندر آ جاؤ . میں اندر داخل ہو کر سیدھا آنٹی کے بیڈروم میں آ گیا آنٹی نے دروازہ بند کیا اور شاید وہ کچن میں چلی گئی تھی . میں نے جلدی سے اپنے سارے کپڑے اُتار دیئے اور پورا ننگا ہو کر بیڈ پے لیٹ گیا . کوئی 5 منٹ بعد ہی عشرت آنٹی شربت بنا کر کمرے میں داخل ہوئی تو مجھے اپنے بیڈ پے ننگا دیکھا کر شرما گئی اور نظر نیچے کر لی اور چلتی ہوئی شربت کی ٹرے کو ڈریسنگ ٹیبل پے رکھنے لگی میں فوراً سے اٹھا ان کو ٹرے رکھنے کے بعد ان کو پیچھے سے پکڑ لیا وہ اور زیادہ شرما گئی اور اپنے منہ پے ہاتھ رکھ لیے. میں نے ہاتھ آگے کر کے ان کی قمیض میں ہاتھ ڈال کر ان کے ممے پکڑ لیے اور ان کی مموں کو مسلنے لگا خوشی بھی ہوئی انہوں نے قمیض کے نیچے کچھ بھی نہیں پہنا تھا میں نے ان کے کان میں کہا جانے من چھوڑو اِس شربت کو آؤ مل کر ایک دوسرے کا شربت پیتے ہیں میرے ہاتھ ان کے مموں پے لگتے ہی وہ گرم ہو گئی اور پیچھے کو مڑ کر میری گرد میں بازو ڈال لیے اور مجھے ہونٹوں پے کس کرنے لگی. پِھر میں نے جھٹ پٹ میں ان کو پورا ننگا کر دیا اور اٹھا کر بیڈ پے لے آیا اور پِھر میں نے تقریباً ان کو دو سے ڈھائی گھنٹے میں جم کر ان کی پھدی اور بُنڈ کو بجایا کے مزہ آ گیا اور عشرت آنٹی کو 3 دفعہ فارغ کروایا اور خود 2 دفعہ ہوا. آخر میں جب ہم دونوں مکمل طور پے مطمئن ہو گئے 

 

تو عشرت آنٹی نے کہا کا شی ثمینہ بتا رہی تھی تم جمه کو واپس جا رہے ہو . دوبارہ پِھر کب آؤ گے . میں نے کہا آنٹی جی جلدی تو چکر نہیں لگے گا لیکن امید ہے جب دسمبر میں آخری دنوں کی10 سے 15 چھٹیاں ہوں گی تب ہی کوئی چکر لگے گا. تو عشرت آنٹی تھوڑا اداس ہو گئی اور بولی اِس کا مطلب ہے اب دسمبر تک انتظار کرنا پڑے گا . میں نے کہا آنٹی جی یہ تو ہے . لیکن آپ فکر نہ کریں میں چچی کو بولوں گا وہ آپ کا خیال ضرور کریں گی . آپ کو تو پتہ ہے نہ ان کے پاس کوئی نا کوئی جگاڑ ضرور ہوتا ہے . میں بھی آپ کے لیے ان کو بول دوں گا. عشرت آنٹی نے نیچے سے میرا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ کر مجھے ایک لمبی سی فرینچ کس کی اور بولی
کا شی تم ضرور ثمینہ سے میری بات کر کے جانا . وہ میری بات سے زیادہ تمہاری بات زیادہ سنتی ہے . ورنہ دسمبر تک میرا کیا ہو گا. میں نے عشرت آنٹی کی بُنڈ کی موری میں انگلی ڈال کر بولا جانے من بے فکر ہو جاؤ میں آپ کی بات کر کے جاؤں گا اور ان کو بول جاؤں گا کے عشرت آنٹی کا دسمبر تک خیال لازمی رکھے . عشرت میری بات سن خوش ہو گئی . پِھر میں نے اور عشرت آنٹی نے مل کر نہایا وہاں بھی خوب مزہ لیا اور پِھر میں عشرت آنٹی کو آخری لمبی کس کر کے اپنے گھر آ گیا. جب میں گھر واپس آ کر دروازے پے گھنٹی دی تو تھوڑی دیر بعد نورین نے ہی دروازہ کھولا مجھے دیکھ کر اس کے چہرہ کھل اٹھا . میں نے پِھر فلائنگ کس کی تو اِس دفعہ اس نے کیچ کر کے اپنے ہونٹوں پے لگا لی . میں اس کی یہ ادا دیکھ کر خوش ہو گیا . پِھر وہ اندر چچی کی کمرے میں چلی گئی میں نے خود دروازہ بند کیا اور سیدھا چچی کے کمرے میں چلا گیا چچی بیڈ پے بیٹھی ہوئی تھی اور نورین بیڈ کے پاس رکھی کرسی پے بیٹھی تھی . میں بھی نورین کی ساتھ والی کرسی پے بیٹھ گیا . چچی نے پوچھا کا شی آ گئے ہو سناؤ بلال کیسا ہے کیا تم ان کے گھر بھی گئے تھے میری چھوٹی بہن سے ملاقات ہوئی ہے . میں نے کہا چچی جان بلال ٹھیک ہے میں ان کے گھر نہیں گیا بس دکان پے ہی بیٹھ کر گپ شپ لگا لی تھی پِھر وہاں سے گھر آ گیا ہوں. چچی نے کہا اچھا ٹھیک ہے اور پِھر بیڈ سے اٹھ کر بولی میں تھوڑا کچن میں کام کر لوں ابھی آتی ہوں 

چچی یہ بول کر کمرے سے چلی گئی اور اب میں اور نورین اکیلے تھے. چچی کے باہر جاتے ہی نورین اٹھ کر بیڈ پے بیٹھ گئی میں بھی اٹھ کر بیڈ پے بیٹھ گیا اور نورین کی گردن میں ایک ہاتھ ڈال کر اور دوسرا ہاتھ اس کی بُنڈ کے نیچے سے ڈال کر اٹھا کر اپنی جھولی میں بیٹھا لیا اور اپنے دوں ہاتھ اس کے قمیض کے اندر ڈال کر اس کی نپلز کو پکڑ لیا اور آہستہ آہستہ مسلنے لگا . نورین نے آنکھیں بند کر لیں تھیں اور اپنا سر پیچھے میرے کاندھے پے رکھ کر منہ سے گرم گرم لمبی لمبی سانسیں لینے لگی . میں نے اس کے کان میں کہا نورین میری جان کیا حال ہے . وہ منہ سے کچھ نہیں بول رہی تھی . بس سر ہلا کر کہا ٹھیک ہوں . پِھر میں نے کہا جان آج اتنے دن بعد اپنی زیارت نصیب کروائی ہے . تو پِھر بھی کچھ نہ بولی اور لمبی لمبی سانسیں لے رہی تھی دوسری طرف میں مسلسل اس کی نپلز کو مسئلہ رہا تھا . پِھر میں نے اس کے کان میں کہا نورین میری جان کل کا کیا پروگرام ہے کل پِھر مزہ کروا رہی ہو کے نہیں . تو اِس دفعہ آہستہ سی آواز میں بولی جی میں تو روز تیار ہوں آپ ہی ٹائم نہیں دیتے ہیں. میں نے اپنا منہ آگے کر کے اس کے ہونٹوں کو اپنے منہ میں لے کر چُوسنے لگا اور پِھر کچھ دیر بَعْد بولا جان آپ کے لیے تو ٹائم ہی ٹائم ہے کہو تو ابھی شروع کریں . تو وہ فوراً بولی نہیں ابھی نہیں ابھی مجھے گھر جانا ہے بہت دیر ہو گئی ہےامی انتظار کر رہی ہوں گی . میں نے کہا ٹھیک ہے جان کل ہی کر لیں گے . پِھر وہ آہستہ سے بولی آپ سے ایک بات پوچھنی تھی . میں نے کہا ہاں جان ضرور پوچھو کیا پوچھنا ہے . تو وہ بولی باجی ثمینہ بتا رہیں تھیں کہ اور پِھر وہ خاموش ہو گئی . میں نے کہا کیا کہا چچی نے تو وہ بولی وہ کہہ رہیں تھیں کے آپ باجی ثمینہ اور مجھے دونوں کو ایک ساتھ کرنا چاھتے ہیں . میں نے کہا ہاں جان میں نے ہی کہا ہے کیوں کیا بات ہے تمہیں کوئی مسئلہ ہے . تو وہ بولی مسئلہ تو کوئی نہیں ہے لیکن شرم بہت آئے گی باجی ثمینہ کے سامنے ہی میں کیسے کر سکتی ہوں . میں نے ایک لمبی فرینچ کس کی اور کہا نورین میری جان اِس میں شرم کی کون سی بات ہے ان کو تمہارا سب کچھ پتہ ہے تمہیں ان کا سب کچھ پتہ ہے . اور تو اور تم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ سکنگ اور کسسنگ کر کے بھی تو مزہ لیتی ہو . پِھر میرے ساتھ میں کیا مسئلہ ہے . میری بات سن کر اس کا چہرہ لال سرخ ہو گیا اور خاموش ہو گئی . پِھر میں نے کہا اچھا جان اگر تمہارا دِل نہیں کرتا تو رہنے دو میں بھی نہیں کروں گا . وہ بولی جی نہیں ایسی بات نہیں ہے آپ کے لیے تو کچھ بھی کر سکتی ہوں . بس تھوڑی سی شرم آ رہی تھی 


لیکن کوئی مسئلہ نہیں ہے میں کر لوں گی . میں نے کہا سوچ لو اگر تمہارا دِل نہیں ہے تو بتا دو میں تمہیں زبردستی نہیں کروں گا . کیونکہ تم تو میری جان ہو . وہ میری بات سن کر شرما گئی اور بولی نہیں نہیں مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے میں دِل سے خوش ہوں . میں کل آ جاؤں گی پِھر مل کر کریں گے . میں ابھی تک اس کی نپلز کو مسئل رہا تھا پِھر یکدم چچی کمرے میں آ گئی اور جب نورین کو میری جھولی میں دیکھا اور میرے ہاتھ نورین کی نپلز پے دیکھے تو مجھے دیکھا کر مسکرا نے لگی لیکن نورین نے اپنے ہاتھ اپنے منہ پے رکھ لیے تھے وہ شرما رہی تھی . چچی چلتی ہوئی ہمارے نزدیک آئی اور پہلے نورین کے منہ سے اس کے ہاتھ ہٹا ے اور پِھر اپنا منہ آگے کر کے نورین کو ایک لمبی سی فرینچ کس کی پِھر میرے منہ کے پاس کر کے مجھے کی اور نورین کو بولا نورین اپنی باجی سے کیا شرمانا تم مجھے اور میں تمہیں کتنی دفعہ ننگی دیکھ چکی ہیں اور مزہ بھی لے چکی ہیں . نورین چچی کی بات سن کر مسکرا نے لگی پِھر وہ کچھ دیر ایسے ہی بیٹھی رہی پِھر وہاں سے اٹھی اور اپنے کپڑے ٹھیک کیے اور بولی میں گھر جا رہی ہوں میں کل صبح آج والے ٹائم پے ہی آ جاؤں گی . اور وہ پِھر اپنے گھر چلی گئی.
نورین کے چلے جانے کے بعد چچی بھی دوبارہ کچن میں چلی گئی . میں بھی چچی کے کمرے میں سے اٹھا اور ٹی وی والے کمرے میں چلا گیا میں جب عشرت آنٹی کے گھر گیا تھا تو اپنا موبائل ٹی وی والے کمرے میں ہی چارجنگ پے لگا کر گیا تھا . میں نے جا کر موبائل چارجنگ سے ہٹایا اور دیکھا تو اس پے 4 مس کال ان نون نمبر سے آئی ہوئی تھیں . یہ نمبر میرے لیے انجان تھا اور مس کال کے ساتھ ایک ایس ایم ایس بھی آیا ہوا تھا . میں نے ایس ایم ایس کو اوپن کیا اور اس میں لکھا تھا آپ کا کیا حال ہے . آپ تو ہم کو بھول ہی گئے ہیں اور اب کال بھی نہیں اٹھاتے . میں حیران تھا یہ کون ہے جو مجھے جانتا ہے اور میں نہیں جانتا . میں ٹی وی والے کمرے میں ہی بیٹھ کر کافی دیر تک سوچتا رہا آخر یہ کون ہے . پِھر میں نے اٹھ کر باہر دیکھا تو چچی کچن میں کام کر رہی تھی میں ٹی وی والے کمرے میں سے نکلا اور اپنے کمرے میں چلا گیا وہاں جا کر دروازہ بند کر کے میں نے اس ہی ان نون نمبر پے کال ملا دی . تھوڑی دیر بعد رنگ جانا شروع ہو گئی . کافی دیر تک رنگ بجتی رہی لیکن آگے سے کسی نے کال پک نہیں کی . میں تقریباً 5 منٹ انتظار کر کے دوبارہ پِھر کال کی لیکن پِھر کسی نے کال پک نہیں کی . آخر کار میں نے ایس ایم ایس اس نمبر پے بھیج دیا اور پوچھا کے آپ کون ہیں اور آپ مجھے کیسے جانتے ہیں اور میرے نمبر کہاں سے ملا ہے . پِھر میں اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر دوبارہ ٹی وی والے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا. میں کافی دیر تک ایس ایم ایس کے جواب کا انتظار کرتا رہا لیکن کوئی جواب نہیں آیا پِھر بچے بھی گھر آ گئے تھے چچی نے ہم سب کو كھانا دیا جب میں كھانا کھا رہا تھا میرے موبائل پے ایس ایم ایس آیا میں جلدی سے كھانا ختم کیا اور جا کر ٹی وی والے کمرے میں بیٹھ گیا اور اپنے موبائل میں ایس ایم ایس کو اوپن کیا تو اس میں لکھا تھا کے واہ جی واہ جناب تو اتنی جلدی ہی ہمیں بھول گئے ہیں

میں جواب دیا میں بھولا نہیں ہوں جی بس یاد نہیں آ رہا آپ مہربانی کر کے یاد کروا دیں . پِھر آگے سے جواب آیا اچھا جی آپ تو ٹرین میں ایسے مسکرا رہے تھے اور گھور رہے تھے جیسے میرے ساتھ آپ کا کوئی پرانا رشتہ ہو . میں اس کا آخری ایس ایم ایس پڑ ھ کر حیرت کا جھٹکا لگا کے یہ تو وہ ہی ٹرین والی لڑکی ہے جس کو میں نے کاغذ پائے نمبر لکھ کر چھوڑ آیا تھا . میں نے فوراً اس لڑکی کو جواب دیا میں معافی چاہتا ہوں مجھے پتہ نہیں چلا کے یہ آپ ہیں . پِھر اس لڑکی کا ایس ایم ایس آیا شکر ہے آپ نے مجھے پہچان لیے نہیں تو میں سمجھی تھی ٹرین میں صرف اتفاق ہی ہو سکتا ہے حقیقت نہیں ہو سکتا. میں نے ایس ایم ایس کیا کے مجھے یقین نہیں تھا آپ وہاں کھڑکی سے میرا نمبر اٹھاؤ گی . لیکن آج یقین ہو گیا ہے ویسے آپ چیز ہی ایسی ہیں آپ کو کوئی بھول سکتا ہے . . . آگے سے اس لڑکی کا ایس ایم ایس آیا جس میں بس اِموشن شو کیا تھا م م م م م…پِھر میں نے اس لڑکی کو کہا اتنی دیر ہو گئی ہے یہ تو بتا دیں میں کس دلربہ سے بات کر رہا ہوں کوئی نام تو ہو گا آپ کا . آگے سے اس کا ایس ایم ایس آیا میں حنا ہوں اور بطورنرس جاب کرتی ہوں اور لاہور کی رہنے والی ہوں . آپ کی تعریف کیا ہے. میں نے اس کو اپنا نام ٹھیک بتایا اور کہا میں ابھی پڑ ھ رہا ہوں . لیکن اس کو یہ بتایا کے میرا تعلق شیخوپورہ سے ہے یہ نہیں بتایا کے میں اسلام آباد میں رہتا ہوں. میں نے پِھر اس سے پوچھا کے آپ ٹرین میں کہاں سے آ رہی تھیں . تو حنا کا جواب آیا کے میں راولپنڈی میں سرکاری اسپتال میں بطور نرس کام کرتی ہوں میں اس دن اپنی مہینہ وار چھٹیوں پے راولپنڈی سے اپنے گھر لاہور آ رہی تھی. جب مجھے پتہ چلا حنا راولپنڈی میں میں کام کرتی ہے تو میں خوشی سے پاگل ہو گیا تھا میرا دِل قابو میں نہیں رہا تھا . میں نے اپنے دِل میں سوچا واہ کیا حَسِین اتفاق ہے کے اب اپنے ہی شہر میں دو دو کنواری پھد یوں کا مزہ ملے گا میرا یہ سوچ کر دِل میں لڈ و پھوٹ رہے تھے. میں نے دِل میں فیصلہ کر لیا میں جب واپس جاؤں گا تو سب سے پہلے حنا کو اسپتال میں مل کر سرپرائز دوں گا ابھی اس کو نہیں بتاؤں گا کہ میں بھی آپ کے نزدیک اسلام آباد میں رہتا ہوں. پِھر میں نے ایس ایم ایس کیا کے آپ کتنے دن کی چھوٹی پے گھر آتی ہو تو اس نے جواب دیا مجھے ہر مہینے 6 چھٹیاں ملتی ہیں . میں آب سوموار کو واپس ڈیوٹی جوائن کروں گی. پِھر میں نے ایس ایم ایس کیا حنا جی پِھر کیا سوچا ہے

اِس ناچیز سے دوستی کرنا پسند کریں گی . تو اس کا جواب آیا آپ ناچیز کہاں ہیں آپ تو ہر چیز کو بڑے ہی پرکھ سے دیکھتے ہیں. میں حنا کی بات سمجھ گیا تھا وہ مجھے اپنی گانڈ کو گور نے کا اشارہ دے رہی تھی . میں نے آگے سے اِموشن ایس ایم ایس کیا پِھر میں نے کہا حنا جی میں نے آپ کو اپنی گڈ بُک میں رکھ لیا ہے آپ بھی مجھے اپنی گڈ بُک میں سیو کر لیں اب تو ملاقات ہوتی رہے گی . آگے سے اس کا ایس ایم ایس آیا جی ٹھیک ہے لیکن آپ تو شیخوپورہ میں رہتے ہیں میں لاہور میں بس چھٹیوں میں ہی آتی ہوں پِھر ملاقات کہاں ہو گی. میں نے جواب دیا کے حنا جی دِل میں جگہ ہونی چاہیے ملاقات بھی ہو جائے گی آپ کیوں فکر کرتی ہیں لاہور ہو یا راولپنڈی دونوں ہی پاکستان میں ہیں کون سا پاکستان سے باہر ہیں جو ملاقات نہیں ہو سکے گی. میں نے پوچھا ویسے حنا جی آپ کی شادی ہوئی ہے یا ابھی کنواری ہی ہیں . تو آگے سے جواب آیا شادی تو ابھی نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی ابھی تک کسی کو چھونے دیا ہے لیکن میں بھی جوان ہوں جذبات رکھتی ہوں کبھی کبھی خود ہی اپنے سے مزہ کر لیتی ہوں اتنا تو حق ہے نہ مجھے میں نے جواب دیا کیوں نہیں حنا جی . کیا ہمیں بھی اپنی زیارت کا کبھی موقع دیں گی یا ہم اپنا منہ بند ہی رکھیں . تو آگے سے حنا کا جواب آیا ابھی تو شروعات ہے آگے آگے دیکھیں شاید کچھ آپ کو فائدہ ہو ہی جائے امید پے دنیا قائم ہے. میں حنا کا جواب سن کر خوش ہو گیا اور مجھے سمجھ لگ گئی تھی کے یہ لڑکی لمبے عرصے تک ساتھ چلنے والی ہے . پِھر حنا کا ایس ایم ایس آیا کے ابھی جب تک میں یہاں لاہور اپنے گھر پے ہوں آپ مجھے کال نہ کریں اور نہ ہی خود ایس ایم ایس کریں میں خود آپ سے رابطہ کروں گی میں جب واپس ڈیوٹی پے جاؤں گی تو آپ کو کال کر کے بتا دوں گی پِھر کال پے ہی گپ شپ لگا لیا کریں گے. میں نے حنا کو کہا حنا جی آپ کا حکم سر آنکھوں پے آپ جیسا کہیں گی ویسا ہی ہو گا. پِھر حنا کی طرف سے آخری ایس ایم ایس آیا ابھی مجھے کچھ گھر کا کام ہے میں پِھر ٹائم نکال کر بات کروں گی 

یا واپس راولپنڈی جا کر ہی لمبی بات کریں گے . میں نے بھی جواب میں او کے لکھ کر ساتھ میں کسسنگ والے سمائلی اِموشن بھیج دیئے. پِھر میں وہاں بیٹھ کر کافی دیر تک حنا کے بارے میں سوچتا رہا اور کئی پلان بناتا رہا مجھے پتہ ہی نہیں چلا شام کے 5 بجنے والے تھے چچا کے آنے کا ٹائم ہو گیا تھا. پِھر وہ باقی کا دن بھی گزر گیا اور اگلا دن جمعرات تھی میرا یہاں آخری دن تھا لیکن یادگار دن تھا . کیونکہ آج کے دن ہی میں نے نورین کو اور چچی کو اکٹھا چود نا تھا. میں ناشتہ کر کے کچھ دیر تک ٹی وی دیکھتا رہا اور پِھر تقریباً 10بجے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا وہاں میں نے زیتون کے تیل سے 1 گھنٹہ لگا کر لن کی مالش کی اور پِھر اٹھ کر باہر باتھ روم میں گھس گیا اور نہانے لگا جب میں نہا کر باہر نکلا تو دیکھا نورین آئی ہوئی تھی اور چچی کے کمرے میں ہی بیٹھی تھی آج اس نے کالے رنگ کا لان کا سوٹ پہنا تھا وہ اس میں قیامت لگ رہی تھی. چچی نے مجھے باتھ روم سے باہر نکلتے دیکھا اور اشارہ کیا کے میں ان کے کمرے میں بیٹھوںوہ کچن کا کام ختم کر کے آتی ہیں . میں پہلے اپنے کمرے میں گیا وہاں سے بس ٹر او زَر اور اوپر بنیان پہنی اور پِھر کمرے سے نکل کر چچی کے کمرے میں چلا گیا نورین بیڈ پے لیٹی ہوئی تھی مجھے دیکھ کر اٹھ کر بیٹھ گئی. میں نے نورین کو کہا اٹھ کیوں گئی ہو لیٹی رہو اور آنکھ مار کر بولا آج تو سارا لیٹ کر ہی کام ہونا ہے . وہ میری بات سن کر شرما گئی اور اپنا منہ اپنے ہاتھوں میں چھپا لیا . پِھر میں بھی جا کر بیڈ پے اس کے ساتھ لیٹ گیا اور اس کو بھی لیٹا لیا . اور اس کا منہ اپنی طرف کر کے اس کے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لے لیے اور ان کو سک کرنے لگا. ہم دونوں ابھی کسسنگ ہی کر رہے تھے تو چچی بھی آ گیں اور بولی صبر کرو یار مجھے بھی تو ساتھ میں شامل کرو اور پِھر چچی نے اپنے کمرے کا دروازہ اندر سے بند کر دیا کھڑکی بھی بند کر کے پردہ بھی آگے کر دیا . پِھر بیڈ پے آ گئی . اور اب چچی میرے ایک طرف اور نورین میرے دوسرے طرف لیٹی ہوئی تھیں پہلے میں نے نورین کو کس کرتا رہا اور چچی مجھے میری گردن پے اور میرے کان پے کس کر رہی تھی اور ساتھ میں ہی نیچے سے ٹر او زَر کے اندر ہاتھ ڈال کر میرے لن کو بھی آہستہ آہستہ سہلا رہی تھی پِھر کچھ دیر بعد میں نے نورین کو چھوڑ کر چچی کو کس کرنے لگا چچی نورین کے مقابلے میں تھوڑا زیادہ تجربہ رکھتی تھی اِس لیے ان کی سکنگ اور کسسنگ کافی جاندار تھی جب میں چچی کے ساتھ کس کر رہا تھا تو نورین میرے گالوں پے پر میری گردن پے کسسنگ کر رہی تھی چچی نے اپنے ہاتھ میرے ٹر او زَر سے نکالا اور نورین کر ہاتھ پکڑ کر میرے ٹر او زَر میں گسادیا اور میرے لن اس کے ہاتھ میں دیا نورین کا ہاتھ لگتے ہی مجھے عجیب سا مزہ ملا نورین کا جسم کافی نرم تھا اس کے ہاتھ بھی کافی سوفٹ اور نرم تھے. میں اِس طرح ہی کافی دیر تک چچی کے ساتھ مزہ کرتا رہا پِھر چچی اٹھ کر بیٹھ گئی

اور نورین سے بولی نورین چلو اپنے کپڑے اُتار دو اور خود بھی کپڑے اُتار نے لگی میں نے بھی ان کے دیکھا دیکھی اپنے کپڑے اُتار دیئے اور چند لمحوں بعد ہی میں نورین اور چچی پورے ننگے ہو گئے تھے چچی نے بھی تازہ تازہ شیو کی تھی ان کی پھدی بھی چمک رہی تھی . اور نورین کی تو پھدی ہے ہی بڑی سوفٹ تھی اور اس کا منہ بھی چھوٹا سا تھا . پِھر چچی نے کہا کا شی نورین نیچے لیٹ جائے گی تم اِس کی ٹانگوں میں لیٹ کر اِس کی پھدی کو مزہ دو میں نورین کے منہ میں اپنی پھدی رکھ کر مزہ لیتی ہوں . ویسے بھی نورین کہتی ہے میں نے کا شی سے ہی اپنی پھدی چسوا نی ہے. میں نے کہا کیوں نہیں چچی جان نورین کا حکم ہے تو ضرور کروں گا . اور پِھر نورین اپنی ٹانگوں کو کھول کر لیٹ گئی اور میں بھی اس کی ٹانگوں میں منہ کے بل لیٹ گیا اور اس کو پھدی سے لے کر بُنڈ کے سوراخ تک پہلے کس کرتا رہا پِھر آہستہ آہستہ اپنی زُبان سے اس کو چاٹنے لگا. جب میں نے پہلی دفعہ اپنی زُبان نورین کی پھدی سے لے کر بُنڈ کی موری تک پھیری تو اس کے جسم نے ایک جھٹکا کھایا اور اس کے پورا جسم آہستہ آہستہ کانپنے لگا. اور دوسری طرف چچی اپنے اپنی دونوں ٹانگیں پھیلا کر نورین کے منہ پر گھٹنوں کے بل بیٹھی ہوئی تھی اور نیچے سے نورین اپنی زُبان سے چچی کی پھدی چاٹ رہی تھی. چچی کے منہ سے لذّت بھری آوازیں نکل رہیں تھیں . پِھر میں نے یہاں نورین کی پھدی پے اپنی رفتار تھوڑی تیر کر دی تھی اور اس کو پھدی اور بُنڈ کی موری کو اچھی طرح سک کر رہا تھا . یہ سلسلہ کوئی 5 سے 7 منٹ تک چلتا رہا میں نے اب نورین کو اور مزہ دینے کا سوچا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے پہلے اس کی پھدی کو کھولا پِھر اپنی زُبان کو آہستہ آہستہ اندر باہر کرنے لگا میری اِس حرکت سے اب نورین کا جسم اور زیادہ کانپنے لگا تھا لیکن میں نے اپنا کام جاری رکھا اور پِھر کوئی 5 منٹ بعد ہی میں نے اپنی رفتار تیز کر دی اور اپنی زُبان کو اندر باہر کر کے نورین کی پھدی کو زُبان سے ہی چودنے لگا اب نورین بھی جوش میں آ گئی تھی

 

اور وہ اپنی بُنڈ نیچے سے اٹھا اٹھا کر زُبان اندر لینے لگی اور دوسری طرف چچی کی منہ سے سیکسی سیکسی آوازیں پورے کمرے میں گونج رہیں تھیں اب وہ کہہ رہی تھی ہا اے نی نورین آج اپنی پا بھی دی پھدی نوں کچہ کھا جا نی . اور اونچی اونچی آہ آہ اوہ اوہ آہ کی آوازیں نکال رہی تھی آوازیں تو شاید نورین کی بھی میری زُبان کی چدائی کی وجہ سے نکل رہی تھیں لیکن نورین کے منہ پے چچی کی پھدی ہونے کی وجہ سے آواز زیادہ نہیں نکل رہی تھی. پِھر میں نے بھی اپنی سپیڈ تیز کر دی اور زُبان کو پھدی کے اندر باہر کرنے لگا کچھ دیر بعد مجھے نورین کا جسم اکڑتا ہوا محسوس ہوا میں سمجھ گیا اب نورین اپنی پیک پے ہے وہ اب چند ہی لمحوں میں اپنا پانی چھوڑ دے گی اور وہ ہی ہوا اگلے 2 منٹ میں دونوں نورین نے اور چچی نے ایک ساتھ اپنا پانی چھوڑا دیا چچی اور نورین دونوں بیڈ پے گر گیں تھیں اور دونوں ہانپ رہیں تھیں. پِھر میں وہاں سے اٹھا اور سیدھا باتھ روم میں گھس گیا اور اپنا منہ دھویا اور کلی کی اور پِھر دوبارہ آ کر بیڈ پے لیٹ گیا . کچھ دیر بعد چچی اور نورین کی سانسیں بَحال ہو چکی تھیں . پِھر چچی نے کہا کا شی کیسا لگا مزہ آیا کے نہیں . میں نے کہا چچی جی مجھے تو بہت مزہ آیا ہے اب بس اپنے لن کو آپ دونوں کا مزہ کروانا ہے اِس دفعہ نورین نے میرا لن ہاتھ میں پکڑ کر بولی کا شی جی اِس کا بھی بندوبست کر دیتے ہیں آپ فکر کیوں کرتے ہیں . میں نے نورین کو فرینچ کس کی ہنسنے لگا . پِھر ہم کچھ دیر باتیں کرتے رہے . پِھر میں نے پوچھا چچی جی اب آگے کا کیا موڈ ہے تو چچی نے کہا تم بتاؤ آج تمہاری مرضی چلے گی . میں نے نورین کی طرف دیکھا اور پوچھا نورین تم کیا کہتی ہو تو نورین نے کہا آپ جو کہیں گے مجھے منظور ہو گا . میں نے کہا چچی بات یہ ہے کے نورین تو گانڈ میں لے گی نہیں اِس لیے میرا دِل ہے پہلے نورین کی پھدی مار لی جائے پِھر بعد میں دوسرا رائونڈ آپ کے ساتھ آپ کی گانڈ میں لگا لیں گے آپ کیا کہتی ہیں. چچی اور نورین دونوں بولی ہمیں منظور ہے . میں نے پِھر نورین کو کہا نورین پِھر سیدھا لیٹ کر اپنی تھوڑی ٹانگیں کھول لو


نورین نے ایسے ہی کیا اور لیٹ گئی میں اس کی ٹانگوں کے درمیان میں بیٹھ گیا اس کو دونوں ٹانگوں کو اپنے کندھوں پے رکھ چچی دوسری طرف آ کر لیٹ گئی اور اپنی سائڈ نورین کی طرف کر لی پِھر میرا لن ہاتھ میں پکڑ کر نورین کی پھدی پے سیٹ کیا اور مجھے بولا کا شی آرام سے کرنا یہ میری شہزادی ہے اِس کو درد نہیں ہونا چاہیے. میں نے کہا چچی جی آپ بے فکر ہو جائیں نورین میری جان ہے میں آرام سے ہی کروں گا . اور پِھر چچی نے لن کو موری پے سیٹ کروایا اور بولی ٹوپی کو آہستہ آہستہ اندر کرو میں نے اپنے لن کو حرکت دی اور ہلکا سا پُش کیا میری آدھی ٹوپی نورین کی پھدی میں چلی گئی جس کو نورین آرام سے برداشت کر گئی . پِھر میں نے دوسری دفعہ پِھر زور لگایا اور پُش کیا اِس دفعہ پوری ٹوپی رنگ تک پھدی میں چلی گئی . اور نورین کے منہ سے ہلکی سی آہ نکل گئی . چچی فوراً بولی کا شی آرام سے کرو میری شہزادی کو درد ہو رہا ہے . میں نے کہا جی چچی جان .نورین کی آنکھیں بند تھیں . پِھر میں تھوڑی دیر کے لیے رک گیا چچی نے آگے ہو کر میرا لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑا اور شاید وہ ناپ رہی تھی پِھر میری آنکھوں میں دیکھا اور مجھے مسکرا کر اشارہ کیا کے باقی کا لن ایک ہی جھٹکے میں اندر کر دو . میں چچی کی طرف حیران ہو کر دیکھا لیکن چچی نے کہا جانے دو . میں نے بھی جوش میں آ کر ایک زوردار جھٹکا مارا اور اپنا پورا کا پورا لن نورین کی پھدی میں جڑ تک اُتار دیا پِھر نورین کے منہ سے اونچی سی آواز نکلی ہا اے ثمینہ باجی میں میں مر گئی. چچی نے فوراً اپنا منہ نورین کے منہ پے رکھ دیا اور اس کو پیار سے کس کرنے لگی اور کہنے لگی کچھ نہیں ہوا نورین میری جان مزہ لینے کے لیے اتنا دردتو سہنا پڑتا ہے . پِھر کچھ دیر بعد نورین کو راحت محسوس ہوئی اس نے آنکھیں کھولیں اور چچی کو کہا باجی آپ بڑی ظالم ہیں جب آپ کا شی کو اشارہ کر رہیں تھیں میں نے دیکھ لیا تھا . چچی ہنسنے لگی اور بولی میری بنو جب تک درد نہ ہو تو مزہ نہیں ملتا . اب جو ہونا تھا ہو گیا اب مزہ ہی مزہ ہے . پِھر چچی نے اپنا ایک ممہ پکڑ کر اس کی نپل نورین کے منہ میں دے دی اور مجھے کہا کا شی بیٹا اب تم اپنا کام شروع کرو. میں نے پِھر آہستہ آہستہ اپنا لن نورین کی پھدی میں اندر باہر کرنے لگا جب میرا لن رواں ہو گیا تو میں نے اپنی سپیڈ تھوڑی تیز کر دی آب شاید نورین کو بھی مزہ آ رہا تھا وہ بھی اپنے منہ سے سیکسی سیکسی آوازیں نکال رہی تھی 

 


میں اس کو 5 سے 7 منٹ تک چودتا رہا . پِھر میں نے اپنے آخری ایکشن کا سوچا اور اپنی سپیڈ کو مزید تیز کر دیا جس سے نورین کو بھی جوش مل گیا تھا وہ بھی نیچے سے بُنڈ اٹھا اٹھا کر لن اندر کروا رہی تھی . پِھر میں نے نورین کی ٹانگوں کو نیچے رکھا اور آگے کو جھک کر اپنے طوفانی جھٹکے لگانے لگا نورین نے اب اپنی ٹانگیں میری کمر کے پیچھے کر کے مجھے جڑ. لیا تھا اور وہ بھی بُنڈ فل ہوا میں اٹھا کا ساتھ دے تھی . میرے 3 سے 4 منٹ کے جھٹکوں نے نورین کی پھدی کو ڈھیلا کر دیا تھا اِس لیے اس نے اپنی منی کا فوارہ اندر چھوڑ دیا تھا جو كے مجھے اپنے لن پے بھی محسوس ہو رہا تھا . مجھ سے اب اور زیادہ برداشت کرنا مشکل ہو گیا تھا میں نے کوئی 2 منٹ ہی اور جھٹکے لگا کر میں بھی نورین کی پھدی کے اندر ہی فارغ ہو گیا اور اس کے اوپر ہی منہ کے بل گر گیا اور ہانپنے لگا. پِھر کچھ دیر بعد میں اٹھ کر نورین کے ساتھ بیڈ پے لیٹ گیا . کافی دیر بعد چچی نے نورین کو پوچھا سناؤ میری بنو کیسا لگا مزہ آیا کے نہیں . تو تھوڑی بعد نورین بولی باجی مزہ تو آتا ہی کا شی سے ہے . عرفان بھائی كے لن میں وہ بات نہیں ہے جو کا شی میں ہے . چچی نے کہا ہاں میری بنو یہ بات تو ہے لیکن یہ بھی دیکھو کا شی اور عرفان بھائی کی عمر میں کتنا فرق ہے کا شی ابھی جوان ہے تازہ خون ہے . عرفان بھائی اِس عمر میں اب کا شی کا مقابلہ تو نہیں کر سکتے . لیکن یہ بھی تو سوچو جب کا شی چلا جائے گا تو نہ ہونے سے بہتر ہے عرفان بھائی سے اپنا ٹائم پاس کر سکتے ہیں . تو نورین بولی جی باجی آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں . پِھر چچی شلوار قمیض پہن کر باہر جانے لگی تو نورین نے پوچھا باجی آپ کہاں جا رہی ہیں تو چچی نے کہا میں کچن سے کچھ طاقت والی چیز لے کر آتی ہوں میری بنو اور میرا بھتیجا تھک گئے ہوں گے . نورین چچی کی بات سن کر خوش ہو گئی. پِھر تھوڑی دیر بعد چچی 2 گلاس میں دودھ ڈال کر لے آئی دودھ میں چچی نے چھو ارے پیس کر ڈالے ہوئے تھے

میں نے اور نورین نے دودھ پی لیا دودھ پی کر مجھے کافی اچھا محسوس ہو رہا تھا توانائی بَحال ہو گئی تھی. پِھر میں اور نورین اور چچی کافی دیر تک آپس میں باتیں کرتے رہے چچی نے گھڑی پے ٹائم دیکھا تو 1 بجنے والا تھا چچی نے کہا کا شی کیا موڈ ہے آخری رائونڈ لگا لیں پِھر نورین کو بھی گھر جانا ہے اور بچے بھی آ جائیں گے . میں نے کہا ٹھیک ہے چچی جان تھوڑا ساتھ دو اور لن کو تیار کرو تا کہ وہ آپ کی خدمت کر سکے . تو نورین فوراً بولی باجی میں تیار کر دوں . تو چچی نے کہا چلو میری بنو کر دو پِھر نورین نے میرے لن کو ہاتھ میں پکڑا اور پہلے اس کو ہاتھ سے کچھ دیر سہلایا جب لن نیم حالت میں ہو گیا تو پِھر نورین نے اس کو منہ میں لے لیا اور اس کے چو پے لگانے لگی نورین کی زُبان میرے لن پے عجیب ہی مزہ چھوڑ رہی تھی ، نورین نے 5 منٹ کے اندر ہی میرے لن میں فل جان ڈال دی اور میرے لن لوہے کی راڈ کی طرح کھڑا ہو گیا. میں نے چچی کو کہا چچی جان آپ بیڈ سے اُتَر کر نیچے کھڑی ہو جائیں اور اپنی ایک ٹانگ آگے کر کے بیڈ پے رکھ لیں اور دوسری ٹانگ زمین پے ہی رہنے دیں اور گھوڑی سٹائل میں جھک جائیں میں پیچھے سے کھڑا ہو کر لن ڈالوں گا. چچی نے میری بتائی ہوئی پوزیشن بنا لی میں بیڈ سے اٹھ کر نیچے کھڑا ہو گیا اب چچی کی گانڈ کی موری بالکل میرے لن کے سامنے تھی میں نے اپنا لن ان کی موری پے فٹ کیا تو نورین میرے ساتھ آ کر کھڑی ہو گئی میرے لن کو پکڑ کر بولی کا شی جی آرام سے کرنا میری دفعہ بھی آپ نے بہت ظلم کیا تھا یہ بُنڈ کی موری ہے اِس میں دردہوتا ہے باجی کو تکلیف ہو گی . میں نے کہا نورین جانی بے فکر رہو مجھے پتہ ہے یہ بُنڈ کی موری ہے . میں نے لن کو موری پے فٹ کر کے ہلکا سا جھٹکا مارا تو میری ٹوپی چچی کی بُنڈ میں آدھی اندر چلی گئی . لیکن چچی نے کوئی خاص ری ایکشن نہیں دیا تھا . مجھے پتہ تھا چچی کافی دفعہ کروا چکی ہیں ان کو خاص فرق نئی پڑ ے گا . پِھر میں نے اِس دفعہ تھوڑا زور کا جھٹکا مارا میری پوری ٹوپی اندر موری میں گھس گئی چچی کا جسم نیچے سے تھوڑا کسمسا گیا. مجھے پتہ تھا میرے لن کی ٹوپی تھوڑی زیادہ بڑی ہے اِس لیے چچی کی اب کافی محسوس ہوئی ہے . پِھر میں وہاں ہی رک گیا اور تھوڑی دیر انتظار کرنے لگا پِھر چند لمحوں بعد میں نے ایک زور کا جھٹکا مارا اور اپنا پورا لن چچی کی گانڈ میں اُتار دیا چچی کو میرا یہ جھٹکا کافی محسوس ہوا وہ اِس جھٹکے سے آگے کو مزید جھک گئی اور منہ سے آواز نکلی ہا اے. نورین یہ دیکھ کر فوراً بولی کا شی جی آپ کتنے ظالم ہیں میری باجی کو کتنی تکلیف دے رہے ہیں . میں نے کہا نورین جان یہ تکلیف تو تم نے بھی سہی ہے اس ٹائم تو چچی نے ہی کہا تھا کے پورا اندر ڈال دو

 

تو نورین بولی میری بات اور ہے لیکن ثمینہ باجی کو تو آپ بہت تکلیف دے رہے ہیں . پِھر کچھ دیر بعد چچی کو جب کچھ راحت محسوس ہوئی تو انہوں نے کہا نورین میری بنو یہ مزہ ایسا ہے کے اِس میں درد نہ ہو تو مزہ نہیں آتا اِس لیے تم میری فکر نہیں کرو اور مجھ سے کہا کا شی بیٹا تم اب اندر باہر کرو . میں نے آہستہ آہستہ اپنے لن کو اندر باہر باہر کرنا شروع کر دیا کوئی 2 سے 3 منٹ کے اندر ہی میرے لن کافی حد تک رواں ہو چکا تھا میں نے اب اپنی سپیڈ تھوڑی تیز کر دی تھی اور اب چچی بھی آگے پیچھے ہو کر ساتھ دے رہی تھی چچی کے منہ سے لذّت بھری آوازیں نکل رہی تھیں آہ آہ اوہ آہ اوہ آہ اوہ. میں اِس پوزیشن میں چچی کو لگاتار 7 سے 8 منٹ تک چودتا رہا میں خود اب تھوڑا تھک چکا تھا میں نے چچی کو کہا چچی جان آپ بیڈ پے گھوڑی بن جاؤ میں اب وہاں آپ کو چودتا ہوں . چچی بھی شاید اِس پوزیشن میں تھک چکی تھی اِس لیے وہ فوراً بیڈ کے اوپر جا کر گھوڑی بن گئی میں نے پیچھے جا کر کھڑا ہو کر تھوڑا جھک کر لن دوبارہ اندر ڈال دیا اِس دفعہ میں نے 2 سے 3 جھٹکوں میں لن اندر کیا اور پِھر میں نے کچھ دیر آہستہ آہستہ لن کو اندر باہر کیا پِھر اپنی سپیڈ تیز کر دی اِس پوزیشن میں لن اندر گہرائی تک جا کر محسوس ہوتا ہے عورت کو مزہ بھی اور تکلیف بھی ہوتی ہے . میں جھٹکے پے جھٹکے لگا رہا تھا . اور ہمارے جسم آپس میں ٹکرانے کی وجہ سےدھپ دھپ کی آوازیں کمرے میں گونج رہیں تھیں اور چچی بھی اونچی آواز میں آہ آہ اوہ آہ اوہ آہ کر رہی تھی . نورین پاس میں بیٹھی لن کو اندر باہر ہوتے ہوئے بڑے ہی غورسے دیکھ رہی تھی . پِھر میں نے اپنا لن چچی کی پھدی سے نکالا اور نورین کو بولا نورین جانی اِس کو اپنے منہ میں لے کر تھوڑا گیلا کرو پِھر تمہاری باجی کو درد شاید کم ہو گا . اس نے پہلے اپنی پاس رکھی قمیض سے میرے لن کو صاف کیا اور پِھر اپنے منہ میں لے کر چوپا لگانے لگی 2 منٹ بَعْد میرا لن کافی گیلا ہو چکا تھا نورین نے اپنے منہ کا کافی تھوک بھی میرے لن پے مل دیا تھا . میں نے دوبارہ لن چچی کی پھدی میں گسا دیا اور جھٹکے مارے لگا اِس دفعہ نورین نے نیچے سے ہاتھ ڈال کر اپنی دو انگلیاں چچی کی پھدی میں گسا دیں اور اندر باہر کرنے لگی اب چچی کو دونوں طرف سے مزہ مل رہا تھا. میں نے بھی اوپر سے اپنے جھٹکے مزید تیز کر دیئے تھے چچی کے منہ سے غوں غوں کی آوازیں نکل رہی تھیں

مجھے اِس پوزیشن میں چچی کی گانڈ مارتے ہوئے 5 سے 7 منٹ ہو گئے تھے مجھے اب اپنی ٹانگوں میں تھکن صاف محسوس ہو رہی تھی . مجھے پتہ تھا اب میں اپنا پانی چھوڑ دوں گا اِس لیے میں نے اپنے آخری طاقت سے جھٹکے لگانے لگا اور کوئی مزید 2 سے 3 منٹ کے اندر ہی میرے لن نے منی کا لاوا چچی کی بُنڈ کے اندر ہی چھوڑ دیا تھا اور شاید چچی بھی نیچے سے نورین کی انگللیوں کی وجہ سے اپنا پانی چھوڑ چکی تھی . چچی ویسے ہی منہ کے بل لیٹ گئی اور میں بھی ان کے اوپر منہ کے بل لیٹ گیا میرا لن ابھی تک چچی کی بُنڈ کے اندر تھا . جب میری منی کا آخری قطرہ بھی نکل گیا تومیں نے اپنا لن باہر نکال کر چچی کے پہلو میں ہی لیٹ گیا . پِھر میں اور چچی کافی دیر تک ایسے ہی لیٹے رہے . کوئی 10منٹ بعد جب ہماری سانسیں بَحال ہوئیں تو چچی نے کہا واہ کا شی میری جان آج تو چس آ گئی ہے . بُنڈ میں لن تھا اور نیچے سے نورین کی انگلیاں تھیں یقین کرو مزہ آ گیا ہے پِھر چچی نے گھڑی پے ٹائم دیکھ کر کہا کا شی 1.40ہو گئے ہیں نورین کو بھی گھر سے آئے ہوئے بہت ٹائم ہو گیا ہے بچے بھی آنے والے ہیں میں نے روٹی بھی بنانی ہے . اب ہم کو اٹھنا چاہیے پِھر میں نے اور نورین نے اور چچی نے اپنے اپنے کپڑے پہن لیے اور چچی اور نورین نے کمرے کی حالت بھی ٹھیک کر دی پِھر میں نے دروازہ کھول دیا نورین بولی باجی میں جا رہی ہوں . وہ جب جانے لگی تو میں نے اس کو آخری لمبی سی فرینچ کس دی اور پِھر وہ اپنے گھر چلی گئی اور میں وہاں سے سیدھا باتھ روم میں نہانے کے لیے گھس گیا اور چچی کچن میں چلی گئی . پِھر باقی کا دن بھی گزر گیا رات کو چچا سے کافی دیر باتیں ہوتی رہیں دادی کے ساتھ بھی کچھ ٹائم گزارا پِھر سب سو گئے . لیکن رات کے تقریباً 2 بجے مجھے چچی نے آرام سے اٹھا دیا اور چھت پے ہی بنے ہوئے کمرے میں بلا کر لے گئی وہاں پے میں نے چچی کو 1 دفعہ مزید چودا لیکن اِس دفعہ چچی کی پھدی کو بجایا اور اپنا اور چچی کا ایک دفعہ پانی نکلوایا. پِھر میں اور چچی سو گئے صبح میں اپنے ٹائم پے ہی اٹھ گیا کیونکہ مجھے آج واپس جانا تھا میں نیچے جا کر نہا دھو کر سب کے ساتھ ناشتہ کیا اور پِھر چچا اور بچے مجھ سے مل کر چلے گئے میں نے 9 بجے گاڑی میں بیٹھنا تھا 

 

پِھر میں نے آخری دفعہ چچی کو کچن میں پکڑ کر 2 سے 3 دفعہ لمبی فرینچ کس کی اور پِھر دادی کے کمرے میں جا کر ان کو سلام دعا کر کے گھر سے نکل آیا اور باہر آ کر رکشہ لیا اور شیخوپورہ آ گیا اور 9 بجے اسلام آباد والی گاڑی میں بیٹھ گیا اپنے گھر اسلام آباد واپس آ گیا .


دوستو آج میری کہانی کا پہلا حصہ ختم ہو گیا ہے اب میں اپنی کہانی کے اگلے حصے کو جلد لکھنا شروع کروں گا . . . اور آپ سب کے لیے پِھر دوبارہ اگلے حصے کے ساتھ حاضر ہوں گا . . . لیکن آپ لوگوں کی پذیرائی دیکھ کر ہی اگلاحصہ آپ کی خدمت میں پیش کروں گا . . . اگر آپ کو میری کہانی کا پہلا حصہ پسند نہیں آیا ہو گا تو شاید میں پِھر دوبارہ دوسرا حصہ نہ لکھ سکوں …………کہانی کے بارے میں آپ کی قیمتی آرا کا منتظر رہوں گا . . . . . . شکریہ

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...