Jump to content
Private Cloud Activation Last Date 01-10-2020 After Last Date Not include Previous Purchase in your Private Cloud ×
URDU FUN CLUB
Private Cloud Activation Last Date 01-10-2020 After Last Date Not include Previous Purchase in your Private Cloud
tanu1751

چا چی کا دیوانہ

Recommended Posts

جب میں اسلام آباد اپنے گھر واپس آ گیا میرا دِل ہی نہیں لگ رہا تھا . کیونکہ مجھے شیخوپورہ میں گزارے ہوئے دن اور نورین عشرت آنٹی ثمینہ چچی سائمہ آنٹی اور بلال والی آنٹی سب یاد آ رہے تھے . لیکن میں کیا کر سکتا تھا مجھے واپس بھی آنا تھا اور آ کر اپنی اگلی پڑھائی کا کچھ کرنا تھا . خیر میں نے مہوش اور آسمہ آنٹی سے پہلے فوزیہ آنٹی اور حنا کے معاملے کو پہلے سیٹ کرنا ہے . میں نے حنا کے ساتھ ملنے کا پلان بنانے لگا . مجھے آئے ہوئے 4 دن ہو گئے تھے آج منگل تھا میں سوچا حنا لاہور سے واپس آ چکی ہو گی اور وہ پنڈی میں اپنی ڈیوٹی پے آ چکی ہو گی . میں صبح کے ٹائم یونیورسٹی کے لیے نکل گیا میں نے 3 یونیورسٹی کی انفارمیشن اکٹھی کر چکا تھا ٹائم دیکھا تو 1 بجنے والا تھا میں سیدھا گھر آ گیا اور آ کر نہا دھو کر كھانا کھایا اور اپنے بیڈروم میں گیا اور تقریباً 3 بجے کے وقعت میں نے اپنے نمبر سے حنا کا ایس ایم ایس کیا کے کیا حال ہے کیسی ہو راولپنڈی چلی گئی ہو . میں ایس ایم ایس بھیج کر جواب کا انتظار کرنے لگا . لیکن کوئی جواب نہیں آیا . میں نے اپنا لیپ ٹاپ لگا لیا اور کچھ سائیٹس دیکھنے لگا . کوئی 20 منٹ بَعْد مجھے ایس ایم ایس آیا میں دیکھا وہ حنا کا ہی تھا اس نے جواب دیا میں ٹھیک ہوں میں راولپنڈی میں ہوں ڈیوٹی پے ہی ہوں تم سناؤ کیسے ہو آج کیسے یاد کر لیا . میں نے جواب دیا آپ کوئی بھولنے والی چیز ہیں . آپ تو ہمیشہ دِل میں ہیں . وہ الگ بات ہے آپ ہی بھول جاتی ہیں . آپ نے کہا تھا میں راولپنڈی جا کر رابطہ کروں گی لیکن آپ نے نہیں کیا میں کل آپ کی کال یا ایس ایم ایس کا انتظار کرتا رہا تھا . آج خود کر دیا . تو آگے سے حنا کا جواب آیا سوری ڈیئر میں کل آ کر کافی مصروف تھی کل شام تک 2 آپْریشَن تھے اس کے لیے مصروف تھی ٹائم ہی نہیں ملا . پِھر میں نے حنا کے ساتھ کچھ یہاں وہاں کی باتیں کرتا رہا باتوں باتوں میں نے اس کے اسپتال کا نام اور کس ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتی ہے کا پوچھ لیا . وہ اسپتال زیادہ دور نہیں تھا . خیر کچھ دیر گپ شپ لگاکر بائے بول دیا اِس طرح ہی میں نے اس سے جمه تک 2 اور مرتبہ ایس ایم ایس پے گپ شپ لگائی . لیکن میں نے اس کو اپنےبارے میں نہیں بتایا کے میں اسلام آباد میں رہتا ہوں . میں اصل میں اس کو سرپرائز دینا چاہتا تھا . اِس لیے ہفتے والے دن شیو وغیرہ کی پینٹ شرٹ پہنی اور موٹر بائیک نکالی اور پنڈی کی طرف نکل آیا . اور پِھر میں حنا کےبتا ے ہوئے اسپتال پہنچ گیا . موٹر بائیک کو پارکنگ میں کھڑا کر کے میں اسپتال کے اندر چلا گیا حنا گا  ئِینی ڈیپارٹمنٹ میں ڈیوٹی دیتی تھی . میں نے رسپشن سے حنا کے ڈیپارٹمنٹ کا پتہ کیا اس نے مجھے رستہ بتا دیا میں تلاش کرتا ہوا حنا کے ڈیپارٹمنٹ کے سامنے کھڑا ہو گیا میرے دِل دھک دھک کر رہا تھا کیوں مجھے یہ ڈر تھا کہیں حنا برا نا مانجائے . لیکن میں نے پِھر ہمت کی اورگیٹ کھول کر اندر چلا گیا اندر داخل ہوا تو دیکھا باہر ویٹنگ میں کافی اور خواتین مریض بیٹھی تھیں. . ان میں زیادہ تر پریگننٹ خواتین تھیں . میں نے یہاں وہاں دیکھا مجھے ایک سائڈ پے رسپشن نظر آیا . میں چلتا ہوا وہاں گیا وہاں ایک لڑکی منہ نیچے کر کے پیپرز پے کچھ لکھ رہی تھی . میں قریب پہنچ کر اس لڑکی سے بولی مجھے حنا سے ملنا ہے . جب اس لڑکی نے سر اٹھایا تو میں حیران رہ گیا وہ حنا تھی منہ نیچے کر بیٹھی کچھ لکھ رہی تھی . اس نے مجھے دیکھا وہ حیران ہو کر ہکا بقا رہ گئی اور حیرت سے میرا منہ دیکھتی رہ گئی . اور پِھر بولی کا شی آپ یہاں کب اور کیسے آئے ہیں . میں نے کہا دیکھ لیں دِل میں چاہت ہو تو بندہ کہیں بھی ہو آ ہی جاتا ہے . بس میں ب بھی آ گیا ہوں . وہ میری بات سن کر مسکرائی . اتنی دیر میں ایک اور نرس آئی وہ بھی کیا کمال کا چیز تھی ایک دم ٹائیٹ مال تھی یا 32 سال کی ایک گوری چیھ اور ایک دم سیکسی آنٹی ٹائپ تھی . ممے بھی کافی اچھے تھے اس کے بھرا ہوا جسم تھا اس کا . میں نے اس کی شرٹ پے لگے بیچ پر نام پڑھ تو شازیہ لکھا ہوا تھا . ابھی میں اس کی طرف ہی دیکھ رہا تھا تو حنا بولی شازیہ تم تھوڑا یہاں دیکھو میں ابھی آتی ہوں میرامہمان آیا ہے . میں تھوڑی دیر تک آتی ہوں . اور مجھے کہا کا شی آؤ باہر چلتےہیں . حنا رسپشن سے نکل کر آگے آگے چل پڑی میں اس کے پیچھے چل پڑا میں نے گیٹ کے قریب پہنچ کر مڑ کر دیکھا شازیہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی میں نے شرارتی سی سمائل پاس کی تو وہ بھی مجھے دیکھ کر مسکرا پڑی اور پِھر منہ نیچے کر لیا . میں پِھر وہاں سے حنا کے ساتھ کیفیٹیریا میں آ گئے حنا نے کچھ آرڈر کیا اور میں اور وہ جہاں اسٹاف کے لوگ بیٹھتے تھے وہاں آ کر بیٹھ گئے . پِھر حنا بولی کا شی تم یہاں کیسے اور کب آئے ہو تو میں نے آنکھ مار کے کہا حنا جی ابھی موٹر بائیک پے آدھا گھنٹہ پہلے آیا ہوں. تو میری بات سن کر حیران ہو ہوئی اور بولی میں سمجھی نہیں تم کیا کہہ رہے ہو . میں نے کہا حنا جی میں نے آپ کو سرپرائز دینا تھا اِس لیے آپ سے چھپا کر رکھا اصل میں میں اسلام آباد میں رہتا ہوں اور پِھر میں نے حنا کو اپنی ساری اسٹوری سنا دی . وہ کافی حیران بھی ہوئی اور خوش بھی ہوئی . میں نے کہا حنا جی اب تو ہم آپ کے دِل کے بہت قریب ہیں اب تو ملنے کا موقع دے ہی دیا کریں گی . تو وہ میری بات پے مسکرا نے لگی اور بولی ابھی بھی تو ملنے ہی آئے ہو . میں نے کہا ہاں یہ تو ہے ، ویسے آپ کو چھٹی کب ہوتی ہے . تو حنا نے کہا میری لگاتار ڈیوٹی ہوتی ہے میں مہینے کے آخر پے لے کر گھر چلی جاتی ہوں . میں نے کہا آپ یہاں کہا ںرہتی ہیں تو حنا نے کہا میرے اسپتال کے بالکل آخر پے اسپتال کا ہاسٹل ہے وہاں ہی رہتی ہوں . میں نے کہا حنا جی آپ کی ڈیوٹی ٹائم یہ ہی ہے تو وہ بولی 3 دن ڈے میں ہوتی ہے 3 دن نائٹ میں . جب نائٹ میں ہوتی ہے تو دن کو ہاسٹل میں سارا دن سوئی رہتی ہوں . جب دن کو ہوتی ہے تو رات کو سوئی رہتی ہوں .   میں نے آنکھ مار کر کہا چپلیں اچھی بات ہے جب نائٹ کی ڈیوٹی ہو گی تو دن کو کبھی کبھی ہمیں بھی اپنی خدمت کا موقع تو دیا کریں گی نہ تو حنا میری بات سن کر شرما گئی اور منہ نیچے کر لیا . پِھر کچھ دیر بَعْد ویٹر چائے اور کچھ کھانے پینے کی چیزیں لے آیا . ہم وہ بھی کھاتے پیتے رہے اور یہاں وہاں کی باتیں کرتے رہے . پِھر میں مزید کچھ دیر گپ شپ لگا کر واپس گھر آ گیا . اب میری حنا سے تقریباً ہر روز بات ہونے لگی اور درمیان میں میں جب وہ کہتی تو اس کو اسپتال میں مل آتا تھا . میں نے اس کے ساتھ کھلا مذاق شروع کر دیا تھا . سیکس کے موضوع پے بھی بات ہونے لگی لیکن میں نے ابھی تک اس کے ساتھ کچھ کرنے کا نہیں کہا تھا . ایک دن میں اس کے ساتھ رات کو ایس ایم ایس پے بات کر رہا تھا تو میں نے پوچھا حنا ایک بات سچ سچ بتاؤ گی تو وہ بولی ہاں پوچھ لو میں کوشش کروں گی . میں نے کہا حنا تم نے کہا تھا کے تم ابھی کنواری ہو اور کسی کے ساتھ چکر بھی نہیں رکھا لیکن پِھر یہ کیا بات ہے کے تمہاری بُنڈ پیچھے سے مست اور موٹی ہے تمہاری کمر کے حساب سے کافی باہر کی نکلی ہوئی ہے

. ایسی بُنڈ تو زیادہ تر شادی شدہ عورت کی ہوتی ہے . حنا میری بات سن کر خاموش ہو گئی تھی . میں نے پوچھا حنا جی اگر سچ نہیں بتانا چاہتی تو جھوٹ ہی بتا دیں . تو وہ بولی کا شی تم بہت تیز اور چالاک لڑکے ہو . میں نے جب ٹرین میں دیکھا تھا مجھے لگا تم ایک پڑھے لکھے لڑکے ہو ڈیٹ وغیرہ یا لڑکیوں سے دوستی کرتے ہو گے . لیکن مجھے نہیں پتہ تھا تم تو پکے کھلاڑی ہو . اور عورت کا پورا ایکسرے اُتار لیتے ہو . میں اس کی بات سن کر ہنسنے لگا اور بولا حنا جی اب ایسا ظلم بھی نہیں کرو . میں اتنا بڑا بھی کھلاڑی نہیں ہوں . آج تک حقیقت میں پھدی کی شکل تک نہیں دیکھی ہے . انٹرنیٹ پے یا موویز وغیرہ میں ہی دیکھی ہے . تو وہ بولی کا شی جی میں انتی بھی سیدھی یا بچی نہیں ہوں جو تم جیسے کھلاڑی کو سمجھ نہیں سکتی . تم پکے شکاری ہو . اور مجھے یقین ہے تم نے نا صرف پھدی کی شکل دیکھی ہے بلکہ تم نے کتنی دفعہ ماری بھی ہوئی ہے اور تم نے کتنی دفعہ گانڈ بھی ماری ہوئی ہے . میں اس کی بات سن کر کھل کھلا کر ہنسا . میں نے کہا حنا جی اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے . ہاں 2 یا 3 دفعہ کیا ضرور ہے لیکن جس طرح آپ میری تعریف کر رہی ہیں . ایسا کچھ بھی نہیں ہے . حنا نے کہا اچھا یہ تو بتاؤ کون ہے وہ جس اب تک 2 یا 3 دفعہ کر چکے ہو . تو میں نے کہا حنا جی یہ باتیں فون پے بتانے والی نہیں ہوتی ہیں . تھوڑا صبر کریں جب آپ سے اکیلے میں ملاقات ہو گی اور پیار محبت کی بات ہو گی تو پِھر میں آپ کو اپنے پیار محبت کی اسٹوری بھی سنا دوں گا . حنا بولی آرام سے جناب ابھی مجھ سے پیار محبت والا کام تھوڑا لیٹ ہے . ابھی تو آپ کے بارے میں کچھ سمجھنا ہے دیکھنا ہے پِھر کچھ سوچوں گی . میں نے کہا حنا جی دِل توڑنرہی ہیں بندہ جھوٹی تسلی ہی دے دیتا ہے . . تو وہ ہنسنے لگی اور بولی میں نے کب دِل توڑا ہے میں نے بس یہ ہی کہا ہے تھوڑا صبر کریں . میں نے کہا چلو ٹھیک ہے حنا جی آپ کے لیے یہ بھی منظور ہے . پِھر میں نے کہا حنا جی آپ تو مجھے سے بھی زیادہ چالاک ہیں میں نے آپ کو کچھ پوچھا تھا آپ نے مجھے میری ہی باتوں میں الجھا کر رکھ دیا ہے . اب زیادہ ظلم نہ کریں اور بتا دیں یہ آپ کی مست اور اتنی سیکسی بُنڈ کا کیا راز ہے . پِھر میں نے یکدم پوچھ حنا جی آپ کے روم میں آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے تو وہ بولی نہیں میں اکیلی ہی ہوں میری روم میٹ کی آج نائٹ ڈیوٹی ہے اِس لیے میں اکیلی ہوں . آپ کیوں پوچھ رہے ہیں . میں نے کہا حنا جی آپ اور میں اتنی پرسنل اور گرم گرم باتیں کر رہے ہیں . کوئی سن نہ لے اِس لیے پوچھ رہا تھا . تو وہ بولی تم نے مجھے اتنا پاگل سمجھ رکھا ہے . کے میں کسی کے بھی سامنے تمھارے ساتھ اتنی کھلی کھلی باتیں کروں گی . میں نے کہا ہاں جی مجھے پتہ ہے آپ کافی سمجھدار ہیں . پِھر میں نے کہا اب بتا بھی دیں کیوں تڑپا رہی ہیں . حنا آگے سے بولی آپ جان کر کیا کریں گے وہ بات تو اب پرانی ہو چکی ہے . میں نے کہا حنا جی بات تو پرانی ہے لیکن اِس بات نے ہی تو آپ کے جسم کو چارچاند لگا دیا ہے آپ کو ایک مست اور سڈول جسم دے دیا ہے اِس لیے تو جاننا چاہتا ہوں آخر اِس مست اور سیکسی جسم کے پیچھے راز کیا ہے . کیونکہ آپ نے تو ابھی شادی بھی نہیں کی ہوئی ہے اور کنواری بھی ہیں پِھر یہ کیسے ممکن ہوا ہے . حنا آگے سے بولی آپ کو میرے جسم میں میری بُنڈ کے علاوہ اور کچھ اچھا نہیں لگا جو میری بُنڈ کے ہی عاشق ہو گئے ہیں . تو میں نے کہا حنا جی آپ کیا بات کر رہی ہیں . آپ تو سر سے لے کر پاؤں تک سراپا حسن ہیں آپ کی ایک ایک چیز بھرپور طریقے سے عیاں ہے . آپ کے ممے آپ کی بُنڈ آپ کا کسا ہوا پیٹ ہر چیز ہی مست ہے . حنا بولی واہ کیا بات ہے آپ کو میں سچ میں ایسی لگتی ہوں یا بس مجھ سے مزہ لینے کے لیے سب تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں اور ویسے بھی آپ نے پورے جسم میں ایک خاص حصے کا تو نام ہی نہیں لیا . میں نے کہا حنا جی سچ کہہ رہا ہوں تعریف کر کے اگر مزہ لینے کے موڈ میں ہوتا تو آج آپ سے بات کرتے ہوئے تقریباً 20 دن سے زیادہ ہو گئے ہیں میں پہلا ہفتہ ہی تعریفوں کے پل باندھ کر آپ سے کچھ نہ کچھ وصول کر چکا ہوتا اور اگر نہ کچھ ہو سکتا تو شاید آج آپ سے بات بھی نہیں کر رہا ہوتا . اِس لیے آپ کے ساتھ مخلص ہوں اور دِل سے عزت اور چاہت رکھتا ہوں تو آپ کی مرضی کے بغیر کچھ بھی نہیں کر رہا آپ جب ملنے کے لیے بلاتی ہیں تو ہی آتا ہوں . اب مجھے نہیں پتہ آپ خود مجھ سے بس اچھے اور یادگار دوست کی حد تک تعلق بنانا چاہتی ہیں یاپكہ شادی کا رشتہ بھی بنانا چاہتی ہیں . اور آپ کے جسم کے خاص حصے کو میں بھلا کیسے بھول سکتا ہوں وہ ہی تو ایک یاد کرنے والی چیز ہے لیکن کیا کروں میں نے ابھی تک اس کا منہ تک نہیں دیکھا پِھر اس کی تعریف کیسے کرتا . یہ سب باتیں بول کر میں خاموش ہو گیا . پِھر حنا بولی کا شی جی ایک بات صاف صاف بتا دینا چاہتی ہوں . کہ شادی والے رشتے کا میں نہیں کر سکتی میری منگنی بہت پہلے ہی میرے کزن کے ساتھ ہو چکی ہے میں اس وقعت میٹرک میں تھی جب ہوئی تھی . میرا منگیتر انگلینڈ میں ہے وہ وہاں پڑھنے کے لیے گیا ہوا ہے . اس کی اگلے سال ڈگری مکمل ہو جائے گی . پِھر آ کر وہ شادی کرے گا . ہاں دوستی کا رشتہ میں آپ سے پکا بنا سکتی ہوں . شادی سے پہلے بھی رکھ سکتی ہوں اور شادی کے بَعْد میں بھی . یہ بات سچ ہے میں نے آپ کو جب ٹرین میں دیکھا تھا تو مجھے آپ پہلی ہی نظر میں پسند آ گئے تھے . اگر میری مجبوری نہ ہوتی شاید میں آپ سے ہی شادی کر لیتی . لیکن میری مجبوری ہے . میرے ابو فوت ہو چکے ہیں اس کے بَعْد گھر میں میں اور میری ا می اور ایک بڑی باجی ہیں جن کی شادی ہو چکی ہے وہ لاہور میں ہی رہتی ہیں اور میرا ایک چھوٹا بھائی ہے جس کی عمر ابھی صرف 12 سال ہے وہ ابھی میں پڑھ رہا ہے . میں اپنے گھر کا سب خرچہ خود چلاتی ہوں . میرا منگیتر میری خالہ کا بیٹا ہے میری خالہ کا ایک ہی بیٹا ہے اور میری ا می کی ایک بہن ہے اور کوئی بہن یا بھائی نہیں ہیں . اِس لیے میری ا می کی بس خواہش ہے کے میں اپنی خالہ کی بہو بنوں . میں اپنی ا می سے بہت پیار کرتی ہوں اِس لیے میں ان کو کبھی بھی نہ نہیں کر سکتی . کیونکہ میری بڑی باجی نے اپنی مرضی سے پھوپھی کے گھر شادی کی تھی لیکن اب وہ بھی اپنے میاں سے خوش نہیں ہے میں آپ کو پِھر کسی وقعت ان کی اسٹوری سنائوں گی اِس لیے اب میں ہی ہوں جس سے وہ اپنی خواہش پوری کر سکتی ہیں . اِس لیے میری مجبوری ہے . میں نے کہا حنا جی میں آپ کی مجبوری کو سمجھ سکتا ہوں اِس لیے میری طرف سے بے فکر ہو جائیں . آپ نے مجھے شادی سے پہلے اور بَعْد میں بھی اپنا دوست بنا لیا ہے تو مجھے یہ ہی بہت خوشی ہے . پِھر میں نے کہا اچھا حنا جی اب تو ہم دوست بن گئے ہیں اب تو وہ بات بتا دیں جو میں نے پہلے پوچھا تھا . تو حنا نے لمبی سی سانس لی اور بولی کہ آپ میری زندگی کے پہلے بدںے ہو جس کو میں اپنا راز اور اپنے دِل کی باتیں بتا رہی ہوں . پِھر اس نے کہا کا شی یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نے میٹرک کے فائنل پیپر دینے تھے . میں دن رات تیاری کر رہی تھی . مجھے تھوڑا کیمسٹری اور میتھ میں مشکل آ رہی تھی . میں نے ا می کو کہا امی مجھے ان دو پیپرز کے لیے 1 مہینہ کے لیے ٹیوشن لینی ہے

تو ا می نے کہا میں دیکھتی ہوں محلے میں کون ایسی لڑکی ہے جو تمہیں پڑھا سکے پِھر ا می نے آگے پیچھے دیکھا تو کوئی لڑکی ٹیچر نہ ملی لڑکے ہی مل رہے تھے اِس لیے ا می کسی بھروسے کے بندے کی علاوہ یقین نہیں کرتی تھی . ا می نے خالہ سے بات کی تو خالہ نے ا می کو کہا کے باہر جانے کی کیا ضرورت ہے . عامر ہے نہ وہ حنا کو پڑھا دے گا . تو ا می خوش ہو گئی کیونکہ ا می کو بھروسہ بھی تھا اور دوسرا ا می نے میرے لیا عامر کو ہی شادی کے لیے چنا ہوا تھا . خالہ اور عامر بھی یہ بات جانتا تھے عامر شروع سے ہی مجھے بہت پسند کرتا تھا لیکن ہماری منگنی نہیں ہوئی تھی خالہ اور ا می نے آپس میں ہی بات پکی کی ہوئی تھی جس کا مجھے بھی اور عامر کو بھی پتہ تھا . عامر نے ایف س سی مکمل کر لی تھی . وہ اپنے رزلٹ کا انتظار کر رہا تھا . اِس لیے خالہ نے عامر کو بول کر مجھے پڑھانے کا بول دیا . وہ فارغ تھا اِس لیے وہ رازی ہو گیا اور اگلے دن ہی 3 بجے کے وقعت ہمارے گھر آ گیا ا می اس کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی اس کی کافی خدمت کی اور وہ مجھے اس دن 5 بجے تک پڑھا کر چلا گیا . ایسی طرح ہی 3 دن گزر گئے اور عامر آ جاتا اور مجھ پڑھاے کر چلا جاتا . ا می اور میرا چھوٹا بھائی تو دو پہر کو سو تھے ابو کام پے ہوتے تھے . اِس لیے عامر روز آ کر مجھے میرے کمرے میں ہی پڑھا کر چلا جاتا تھا . 5 سے 6 دن بَعْد کی بات ہے گھر میں سب سوئے ہوئے تھے میں عامر سے اپنے کمرے میں پڑھ رہی تھی . تو عامر نے مجھے کہا حنا تمہیں پتہ ہے تمہاری اور میری بات پکی ہوئی ہے اور تم سے میری شادی ہو گی . میں تھوڑا سا شرما گئی اور آہستہ آواز میں بولی جی عامر بھائی مجھے پتہ ہے . عامر نے کہا حنا تم پاگل ہو تمہاری اور میری شادی ہو گی اور تم میری بِیوِی بنو گی اور تم مجھے بھائی بلا رہی ہو . تو میں اس کی بات سن کر شرما گئی اور منہ نیچے کر لیا . تو اس نے کہا مجھے آئِنْدَہ سے بھائی نہیں کہنا مجھے بس میرے نام عامر سے بلا لیا کرو . تو میں بولی ا می اور خالہ میرے بارے میں کیا سوچے گی کے میں آپ کو نام سے بلاتی ہوں . تو عامر نے کہا پاگل کوئی بھی کچھ نہیں بولے  گا سب کو پتہ ہے تم سے میری شادی ہو گی اِس لیے کوئی بھی برا نہیں مناے گا بس تم مجھے میرے نام سے پکارا کرو . میں نے کہا اچھا ٹھیک ہے . پِھر وہ مجھے پڑھا کر چلا گیا . اگلے دن پِھر جب میں پڑھ رہی تھی تو عامر نے کہا حنا ایک بات تو بتاؤ میں تمہیں کیسا لگتا ہوں تم مجھے پسند کرتی ہو یا نہیں . تو میں خاموش ہو گئی . اور پِھر عامر نے پوچھا بتاؤ نا حنا . میں نے کہا عامر آپ بہت اچھے ہیں . تو وہ بولا میں تمہیں پسند ہوں یا نہیں تو میں نے کہا آپ کیوں پوچھ رہے ہیں تو اس نے کہا پہلے تم بتاؤ نہ . میں نے کہا جی تو وہ بولا حنا میں بھی تمہیں بہت پسند کرتا ہوں . اور میرا ہاتھ پکڑ لیا میں نے فوراً اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور بولی عامر یہ آپ کیا کر رہے ہیں تو وہ بولا حنا تم کیوں ڈر رہی ہو میں تمھارے ہونے والا میاں ہوں تم میری بِیوِی بنو گی پِھر کیوں مجھ سےڈر رہی ہو . میں اس کی بات سن کر بولی عامر یہ ٹھیک نہیں ہے ابھی شادی ہوئی تو نہیں ہے نہ یہ سب کچھ شادی سے پہلے ٹھیک نہیں ہے . تو وہ خاموش ہو گیا اور مجھے پڑھا کر چلا گیا . اگلے 3 سے 4 دن تک وہ مجھے آ کر پڑھا کر چلا جاتا تھا . مجھے اندازہ ہو گیا تھا عامر مجھے سے ناراض ہے ایک دن میں نے کہا عامر مجھ سے ناراض کیوں ہیں . تو وہ بولا حنا تم مجھے اپنا نہیں سمجھتی ہو اور مجھے پتہ ہے تم مجھے پسند بھی نہیں کرتی ہو . تو میں نے کہا کس نے آپ کو کہا ہے میں آپ کو پسند کرتی ہوں . لیکن عامر شادی سے پہلے اِس طرح کا کوئی بھی کام غلط ہےاگر مجھے کچھ ہو گیا تو امی اور خالہ کیا سوچے گی خاندان میں سب لوگ برا بھلا کہیں گے . بدنامی ہو گی . تو وہ بولا حنا مجھے سب پتہ ہے . لیکن میں تم سے ایسا کوئی غلط کام نہیں کروں گا جس سے تمہیں کوئی برا بھلا کہے یا خاندان کی عزت خراب ہو . لیکن ہم ایک دوسرے کا ہاتھ تو پکڑ سکتے ہیں پیار کی باتیں تو کر سکتے ہیں . میں اس کی بات سن کر شرما گئی اور میرا منہ لال سرخ ہو گیا اور میں نیچے دیکھنے لگی . تو عامر بولا حنا میرا یقین کرو میں کبھی بھی تمہیں کوئی نقصان نہیں دوں گا . میں دوسرا والا کام شادی کے بَعْد ہی کروں گا لیکن ہم ایک دوسرے سے پیار کی باتیں اور کس تو کر سکتے ہیں . میں پِھر شرما گئی اور کچھ نہ بولی . اس نے کہا حنا بتاؤ نہ جواب دو . میں نے آہستہ سے کہا میں سوچ کر جواب دوں گی . پِھر اس دن بھی وہ مجھے پڑھا کر چلا گیا اگلے 2 دن تک میں نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا پِھر 1 دن اس نے تھوڑا سا پڑھا کر مجھے پوچھا حنا تم نے کیا سوچا ہے میں نے کہا عامر اگر ا می نے یا کسی نے دیکھ لیا تو بہت مسئلہ بن جائے گا . تو وہ بولا حنا کچھ بھی نہیں نہیں ہو گا جب میں آتا ہوں سب سوئے ہوتے ہیں کسی کو کچھ بھی نہیں پتہ چلے گا خالہ کو تو پتہ ہے حنا اندر پڑھ رہی ہے اور ہم کون سا دوسرا والا کام کریں گے بس ویسے ہی باتیں کریں گے یا کس وغیرہ . میں اس کی بات سن کر خاموش ہو گئی تووہ بولا بتاؤ پِھر تم راضی ہو تو میں نے آہستہ سا اپنا سر ہاں میں ہلا دیا . پِھر اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور بولا حنا تمہیں پتہ ہے شادی والی رات کو میاں بِیوِی کیا کرتے ہیں . تو میں اس کی بات سن کر شرم سے لال سرخ ہو گئی اور اپنے منہ نیچے کر لیا . اور کچھ نہ بولی . عامر نے دوبارہ پِھر پوچھا بتاؤ بھی اگر نہیں پتہ تو میں بتاؤں . تو میں نے سر ہلا کر کہا ہاں تو اس نے کہا حنا شادی والی رات کو سھاگ رات بولتے ہیں اس رات میاں بِیوِی ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے ہیں اور اس رات کو میا ںاپنی بِیوِی کے ساتھ وہ والاکام بھی کرتا ہے . مجھے اس کی بات سن کر بہت شرم آ رہی تھی . عامر پِھر بولا تم بھی کچھ بولو نہ تو میں نے کہا کیا بولوں تو وہ بولا کچھ بتاؤ اسکول کی سہیلیوں نےکچھ تو بتایا ہو گا . تو میں نے کہا کچھ خاص نہیں بتایا میری ایک ہی پکی سہیلی ہے اس کی باجی کی شادی ہوئی تھی تو اس نے مجھے اپنی باجی کا بتایا تھا کے شادی والی رات کو باجی اور ان کی میاں بہت پیار کرتے رہے ہیں اور سارے کپڑے اُتار کر وہ والاکام بھی کیا تھا . . پِھر میں خاموش ہو گئی . تو وہ بولا حنا تمہیں پتہ ہے پہلی دفعہ بہت درد بھی ہوتا ہے . تو میں نے کہا ہاں سنا تھا میری سہیلی بتا رہی تھی . پِھر عامر نے میرے ہاتھ کو چوم لیا اور بولا میں اب جا رہا ہوں پِھر کل باتیں کریں گے . پِھر اس دن کے بَعْد اکثر وہ میرا ہاتھ پکڑ لیتا اور باتیں کرتا رہتا پِھر درمیان میں وہ میری گالوں پے اور پِھر کچھ دن بَعْد میرے ہونٹوں پے کس کرنے لگا . اب میری بھی شرم کافی حد تک ختم ہو چکی تھی . میں اور وہ ایک دوسرے کو منہ میں منہ ڈال کر کس کرتے تھے .

پِھر ایک دن عامر نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پے رکھ دیا میرے جسم میں کر نٹ دور گیا میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور بولی عامر یہ کیا ہے تو وہ بولا حنا یہ ہی تو ہے جو عورت کی وہ میری پھدی کی طرف اشارہ کر کے بولا اس کے اندر جاتا ہے تو میاں بِیوِی کو مزہ آتا ہے اور پِھر بچہ بھی پیدا ہوتا ہے . عامر نے پِھر میرے ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پے رکھ دیا اس کا لن شلوار کے  اندر تن کر فل کھڑا تھا میں نے تھوڑی دیر کوئی حرکت نہیں کی پِھر عامر نے ہی میرے ہاتھ پے اپنا ہاتھ رکھ کر اوپر نیچے کرنے لگا اور اپنے لن کو میرے ہاتھ سے سہلانے لگا . چند لمحوں بَعْد اس نے ہاتھ اٹھا لیا لیکن میں اپنے ہاتھ کو اوپر نیچے کرتی رہی اور عامر کا لن سہلا تی رہی . کافی دیر میرا سہلانے کی وجہ سے اس نے اپنی شلوار میں اپنی منی چھوڑ دی تھی اس کی شلوار کافی گیلی ہو گئی تھی میں نے پوچھا عامر یہ کیا ہے تو اس نے کہا حنا یہ ہی تو مال ہے جو عورت کی پھدی میں جاتا ہے تو عورت کو مزہ بھی آ تا ہے اور بچہ بھی پیدا ہوتا ہے . پِھر اس دن کے بَعْد وہ روز کچھ دیر پڑھا کر مجھے سے اپنا لن سہلوا تا تھا اس نے مجھے مٹھ مارنا سکھا دی تھی کچھ دن بَعْد تو وہ اپنی شلوار سے لن باہر نکال کر مجھ سے مٹھ مرواتا تھا . اور وہ میرے قمیض کے اوپر سے ہی میرے چھوٹے چھوٹے ممے پڑ  کر دباتا اور سہلاتا رہتا تھا اور میں اس کے لن کی مٹھ لگاتی تھی . کچھ دن تو ایسا ہی چلتا رہا پِھر ایک دن اس نے مجھے کہا حنا اپنی شلوار اُتار کر اپنی پھدی تو دکھاؤ تو میں نے منع کر دیا وہ مجھے بار بار کہتا رہا وہ لگاتار میری 2 دن تک منت سماجت کرتا رہا پِھر آخر کار میں نے ہار مان لی اور اپنی شلوار اُتار کر اس کو اپنی پھدی دیکھا دی میری پھدی ایک دم ٹائیٹ تھی ابھی اس پے اتنے بال بھی نہیں آئے تھے . وہ میری پھدی دیکھ کر پاگل ہو گیا اور آگے کو جھک کر میری پھدی کو کس کر دی . مجھے لذّت کا ایک شدید جھٹکا لگا . پہلی بار کسی نے میری پھدی کو ھواتھا . پِھر وہ آہستہ آہستہ میری پھدی کو اپنے ہاتھ کی انگلی سے سہلاتا رہا اور کچھ دیر بَعْد ہی میری پھدی سے پانی رَسنے لگا مجھے اس کی انگلی کی وجہ سے ایک عجیب مزہ مل رہا تھا میں جنت کی سیر کر رہی تھی . پِھر میں اس کے سامنے کھلتی گئی اور پِھر وہ مجھ روز پہلے آ کر میری پھدی کے ساتھ کھیلتا تھا میری پھدی کو اپنی زُبان کے ساتھ چومتا اور چاٹتا رہتا تھا اور جب میری پھدی اپنا پانی چھوڑ دیتی تھی تو وہ پِھر بَعْد میں اپنے لن کی مجھ سے مٹھ لگوا تا تھا . ہمارا یہ سلسلہ کافی دن تک چلتا رہا . پِھر میرے پیپر بھی ہو گئے تھے اور پیپر بہت اچھے ہوئے تھے تو میں نےامی کو بول کر خالہ کو بولا دیا کے عامر بھائی کو کہے کے وہ مجھے کالج کے لیے شروع سے ہی پڑھاناشروع کر دے کیونکہ کالج کی پڑھائی تیز اور مشکل ہے . امی اور خالہ مان گئی تھیں . مجھے آب عامر سے مزہ لینے کی عادت بن چکی تھی . عامر نے بھی آگے یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے لیا تھا صبح جاتا اور دن کو آ کر مجھے کالج کا تھوڑا پڑھاکر پِھر مجھے پیار اور لذّت کا سبق دیتا تھا . لیکن اس نے مجھے کبھی بھی اندر کروانے کا نہیں کہا اور نہ ہی وہ کرنا چاہتا تھا . بَعْد میں تو میں اور وہ اور زیادہ کھل گئے تھے جب سب سوئے ہوتے تھے میں اور وہ کمرے کا دروازہ لاک کر کے پورے ننگے ہو کر مزہ کرتے تھے . وہ میرا 2 دفعہ پانی نکلوا دیا کرتا تھا ایک دفعہ میری پھدی کو اپنی زُبان سے سک کرتا تھا اور دوسری دفعہ وہ بیڈ پے ننگا بیٹھ جاتا تھا اور مجھے اپنی جھولی میں بیٹھا لیتا تھا اور اپنے لن اور میری بُنڈ کی لکیر میں تیل لگا کر اور کبھی کوئی لوشن لگا کر اپنا لن میری بُنڈ کی لکیر میں پھنسا کر مجھے آگے پیچھے کرتا رہتا اور اپنے دونوں ھاتھوں سے میری نپلز کو پکڑ لیتا تھا نیچے اس کا لن میری بُنڈ کی موری کے اوپر آگے پیچھے رگڑ تا رہتا تھا مجھے اتنا مزہ ملتا تھا کے میں بتا نہیں سکتی اور پِھر وہ ایسے ہی میری بُنڈ کے اوپر ہی اپنی گرم گرم منی چھوڑ دیتا تھا اور ایک دفعہ وہ میری پھدی چاٹتا تھا اور دوسری دفعہ جب مجھے اپنے لن پے بیٹھا کر میری بُنڈ میں لن کو تیل لگا کا رگڑ تا تھا تو میں 2 دفعہ پانی چھوڑ دیتی تھی میرا اِس طرح ہی عامر کے ساتھ 2 سال گزر چکے تھا . پِھر میں جب کے آخری سال میں تھی تو اس کا باہر انگلینڈ میں اسٹڈی ویزا لگ گیا اور وہ چلا گیا میں نے بھی نرسنگ کے3 سال مکمل کیے اور مجھے بَعْد میں سرکاری جاب مل گئی اور میں اس کے بَعْد سے یہاں اِس اسپتال میں تقریباً 2 سال ہو گئے ہیں نوکری کر رہی ہوں . اب اس کو گئے ہوئے 3 سال سے اوپر ہو گئے ہیں وہ اگلے سال واپس آئے گا تو میری اس سے شادی ہو جائے گی . بس اِس طرح ہی عامر سے مزہ لے لے کر میرے ممے اور میری بُنڈ بڑی ہو گئی ہے . میں حنا کی اسٹوری سن کر فل گرم ہو چکا تھا میرا لن ٹرا و زَر کے اندر ہی تن کر کھڑا ہو چکا تھا . پِھر حنا بولی کیا ہوا کا شی کہیں کچھ کام خراب تو نہیں ہو گیا . تو میں بولا ظالم اتنی مست اور سیکسی اسٹوری سنائی ہے وہ سن کر کس کافر کا کام خراب نہیں ہو گا . تو وہ بولی تو پِھر چلے جاؤ نہ اپنی اس والی کے پاس جس کے ساتھ 2 سے 3 دفعہ کر چکے ہو . تو میں نے کہا حنا ضرور چلا جاتا لیکن وہ بہت دور ہے وہ شیخوپورہ میں رہتی ہے. یہاں اسلام آباد میں کوئی نہیں ہے بس اپنے ہاتھ سے ہی گزارا ہے . اِس لیے تو آپ کی خدمت لینا چاہتا ہوں حنا میری بات سن کر ہنسنے لگی اور بولی ابھی تو نا ممکن ہے ہاں تھوڑا صبر کرو شاید بَعْد میں کچھ مل جائے . میں نے کہا ٹھیک ہے حنا جی جیسے آپ کی مرضی اور کچھ دیر مزید باتیں کی تو حنا نے کہا میں سونے لگی ہوں پِھر بات ہو گی . اور پِھر میں بھی سو گیا . اگلے 2 دن دوبارہ میرا حنا کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا . لیکن میں اگلے دن فوزیہ آنٹی کے گھر گیا فیصل سے بات ہوئی اور فوزیہ آنٹی کو جب میں نے دیکھا میرا لن جوش میں آ گیا کیا فوزیہ آنٹی کا غضب کا جسم تھا اور بلا کی خوبصورت بھی اور گوری چیک سمارٹ عورت تھی اس کا بل کھاتا ہوا جسم تھا . مجھے جب چچی کی باتیں یاد آنے لگی تو میں نے دِل میں سوچا فوزیہ آنٹی بھی کیا مال ہے اور یہ بھی کس گانڈو کے ساتھ سیٹ ہے . اگر کبھی میرے ساتھ سیٹ ہوگئی تو اِس کی گانڈ اور پھدی کو ایسا ٹھنڈا کروں گا کہ فیصل کو بھی بھول جائے گی . پِھر میں کچھ دیر فیصل کے ساتھ گپ شپ لگا کر واپس آ گیا مجھے فوزیہ آنٹی کی طرف سے کوئی مشکوک حرکت نظر نہیں آئی . لیکن مجھے پتہ تھا . و جو کچھ بھی کرے گی رات کے اندھیرے میں کرے گی . میں گھر واپس آ گیا . پِھر مزید 2 دن کچھ خاص نہ ہوا . لیکن پِھر ایک دن  دن کے 11بجے میں نے حنا کو ایس ایم ایس کیا کہاںہو کیسی ہو تو اس کا جواب آیا ڈیوٹی پے ہوں تو میں نے کہا لنچ کب کرو گی تو وہ بولی تو 1 سے 2 کے درمیان ہے . میں نے کہا کیا موڈ ہے میرا آج باہر کھانے کا موڈ ہو رہا ہے ساتھ چلو گی تو وہ بولی کہا ں جانا ہے تو میں نے کہاسیورفوڈ چلتے ہیں تو اس نے کہا ٹھیک ہے وہ نزدیک ہے

مجھے واپس بھی آنا ہے . میں نے کہا تم ریڈی رہنا میں 1 بجے تمہیں اسپتال کے گیٹ سے پک کروں گا . اور پِھر میں نہا دھو کر شیو کی کپڑے چینج کر کے 12:30پے گھر سے نکل آیا اور 1 بجے اسپتال کے گیٹ پے پہنچ گیا . 5 منٹ بَعْد حنا مجھے باہر آتی ہوئی نظر آئی وہ مجھے دیکھ کر مسکرا پڑی اور آ کر پیچھے بائیک پے بیٹھ گئی اور میں اس کو لے کرسیور فوڈ کی طرف نکل آیا . رستے میں اس نے اپنا ہاتھ میرے کاندھے پے رکھا تھا . میں نے کہا حنا جی میں آپ کا دوست ہوں بھائی تو نہیں ہوں کم سے کم دوست کی طرح تو بیٹھو . حنا میری بات سمجھ گئی اور اپنا ہاتھ آگے کر کے میرے پیٹ پے رکھ کر پکڑ لیا . میں نے آہستہ سے کہا زیادہ نیچے نہیں کرنا نیچےعلاقہ غیر ہے پِھر مشکل ہو جائے گی . میں نے سائڈ والے شیشےسے دیکھا وہ میری بات سن کر مسکرا رہی تھی . اور آہستہ سا میرے کان کے پاس منہ کر کے بولی کبھی تو علاقہ غیر دیکھنا ہی پڑے گا . مجھے اس کی بات سن کر مستی چڑھ گئی . اور میں خوش ہو گیا پِھر ہم سیورفوڈ پے آ گئے . یہاں ہم نے كھانا کھایا کھانے کے دوران میں نے کہا حنا جی آپ کی روم میٹ وہ ہی لڑکی ہے نہ جو اس دن رسپشن پے کھڑی تھی . شازیہ نام کی تو حنا بولی نہیں وہ نہیں ہے وہ تو پنڈی کی ہے اس کا اپنا گھر ہے شادی شدہ ہے اس کا 6 سال کا بیٹا ہے . میری روم میٹ گجرات کی ہے . اس کا نام فرزانہ ہے وہ اس دن روم میں سوئی ہوئی تھی اس کی نائٹ ڈیوٹی تھی . میں نے آنکھ مارتے ہوئے کہا حنا جی ویسے آپ کی سہیلی شازیہ شادی شدہ تو نہیں لگتی . حنا میری بات سن کر تھوڑا مصنوعی غصہ دیکھا کر بولی اب جناب کا اس پے بھی دِل آ گیا ہے . میں نے کہا نہیں ایسی بات نہیں ہے میں تو ویسے بات کر رہا تھا کے وہ شادی شدہ لگتی نہیں ہے . حنا مسکرا کر اور آہستہ سے بولی اکثر آنکھیں دھوکہ کھا جاتی ہیں . وہ بڑی کمینی اور تیز چیز ہے . میاں کے ہوتے ہوئے بھی گا  ئِینی کے ڈاکٹر سے روز چودا تی ہے . میں حنا کی بات سن کر حیران رہ گیا . میں نے کہا واقعہ ہی آپ سچ کہہ رہی ہو تو حنا بولی ابھی پوری بات نہیں بتا سکتی رات کو فون پے بات کریں گے تو اس کیا کہانی بتاؤں گی . ہم كھانا کھا کر وہاں سے نکلے اور پِھر میں نے حنا کو اسپتال چھوڑ کر گھر واپس آ گیا اور آ کر سو گیا شام کو اٹھ کر نہا دھو کرچائےپی اور اپنا لیپ ٹاپ آن کر کے بیٹھ گیا اور سائیٹس اوپن کر کے دیکھنے لگا مجھے پتہ ہی چلا رات کے 9 بج گئے میرا چھوٹا بھائی میرے روم میں بلانے آیا اور بولا کے بھائی آ کر كھانا کھا لو پِھر میں نے سب کے ساتھ مل کر كھانا کھایا اور کھانے کے کے بعد ابو نے پوچھ بیٹا پِھر کیا سوچا ہے تو میں نے کہا ابو میں 3 یونیورسٹیز کی انفو لی ہے پِھر ابو کے ساتھ اسٹڈی کے معاملے پے باتیں ہوتی رہیں اور پِھر ابو اٹھ کر اپنے کمرے میں چلے گئے میں نے ٹائم دیکھا تو 30:10 ہو گئے تھے میں بھی وہاں سے اٹھ کر دوبارہ اپنے بیڈروم میں آ گیا اور بیڈ پے آ کر لیٹ گیا . تقریباً 11بجے میں نے حنا کو ایس ایم ایس کیا اور پوچھ کے وہ کہاں ہے اور کیا کر رہی ہے . تو اس نے بتایا وہ فارغ ہے اور اپنے روم میں ہے . پِھر میں نے اس کو کال ملا لی اور اس کے ساتھ باتیں کرنے لگا . باتوں ہی باتوں میں میں نے اس سے دن والی بات کا ذکر کیا کے وہ مجھے شازیہ والی بات کے اس کا کیا چکر ہے . حنا نے کہا کا شی جی ویسے آپ بہت ضدی ہو بات کو بھولتے نہیں ہو . میں اس کی بات سن کر ہنسنے لگا اور بولا کے حنا جی بچہ جب تک ضد نہ کرے تو ماں دودھ بھی نہیں دیتی . اور آپ نے دن کو خود کہا تھا کے رات کو فون پے بتاؤں گی . آگے سے حنا نے کہا کا شی جی کبھی ماں کی دودھ کے علاوہ بھی کسی کا دودھ پیا ہے یا نہیں تو میں نے کہا حنا جی دودھ تو خیر نہیں پیا ہاں البتہ دودھ پلانے والی کے ساتھ مزہ کافی کیا ہے . پِھر میں نے پوچھا حنا جی آپ نے بھی کسی کو دودھ پلایا ہے تو بولی ہاں عامر روز پہلے میرے نپلز منہ میں لے کر کتنی کتنی دیر تک چوستا رہتا تھا اورسہلا تا بھی رہتا تھا اِس لیے تو یہ اتنی بڑے اور موٹے ہو گئے ہیں . میں نے کہا حنا جی آپ کی نپلز کیسی ہیں اور کس رنگ کی ہیں . تو حنا نے کہا نپلز کافی بڑی اور گول گول ہو چکی ہیں اور ان کا رنگ پنک ہے . میں نے کہا حنا جی مجھے پنک رنگ کی نپلز بہت پسند ہیں . پِھر میں نے حنا کو یاد دلایا حنا جی آپ مجھے مطلب کی بات بتاتی نہیں ہیں اور مجھے کہیں اور ہی الجھا دیتی ہیں . تو حنا میری بات سن کر ہنسے لگی . پِھر حنا نے کہا کا شی جی جس کی آپ بات کر رہے ہو وہ بہت کمینی اور تیز چیز ہے . اصل میں وہ ہمارے ڈیپارٹمنٹ کی پرانی نرس ہے وہ سب کو جانتی ہے اور سب اس کو جانتے ہیں . مجھے تو بس اپنے ڈیپارٹمنٹ کی ڈاکٹر کا ہی پتہ ہے کیونکہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دونوں کو رنگے  ہاتھوں دیکھاتھا باقی سنا ہے کے اس کے کوئی 2 سے 3 لوگوں کے ساتھ چکر ہیں . ایک دن میری اور اس کی نائٹ ڈیوٹی تھی. میں جب رسپشن پے بیٹھی کام کر رہی تھی تو شازیہ نے کہا کے وہ رائونڈ پے جا رہی ہے . اور مجھے یہ کہہ کر وہ چلی گئی میں تقریباً وہاں آدھا گھنٹہ بیٹھی رہی لیکن وہ واپس نہیں آئی . اور اِس دوران ہی ایک مریض کے ساتھ کوئی اٹینڈڈ میرے پاس آیا اور بولا کے اس کے مریض کو دردہو رہی ہے آپ تھوڑا چیک کریں . میں حیران ہوئی کے شازیہ تو رائونڈ پے ہے پِھر یہ میرے پاس آیا ہے . خیر میں اس کے ساتھ چلی گئی اور جا کر اس کی وائف کو چیک کیا اور پین کلر کا انجیکشن لگا کر واپس آ گئی میں جس وارڈ میں گئی تھی وہ آخری وارڈ تھا اس سے پہلے 3 اور وارڈ بنے ہوئے تھے میں نے آتے ہوئے سارے وارڈ میں نظر ماری مجھے شازیہ نظر نہیں آئی میں حیران تھی وہ کہاںچلی گئی ہے . میں وہاں سے سیدھی رسپشن پے آئی تو وہاں بھی ابھی تک نہیں آئی تھی . میں رسپشن پے بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگی . لیکن اور میرے مزید 15 منٹ انتظار کرنے کے بَعْد بھی نہ آئی . مجھے پیشاب آیا ہوا تھا میں اپنے اسٹاف روم کے باتھ روم میں چلی گئی وہاں پیشاب کر کے جب واپس آ رہی تھی تو اسٹاف روم سے اگلا ڈاکٹر کا روم تھا اس کے روم کی کھڑکی پے جو گلاس لگا تھا اس میں اگر باہر اندھیرا ہو اور اندر تھوڑی سی بھی روشنی ہو تو نظر آ جاتا تھا . میں نے کھڑکی سے آنکھ لگا کر دیکھا تو اندر کا منظر دیکھ کر میرے ہوش اڑ گئے تھے کیونکہ اندر ڈاکٹر اور شازیہ پورے ننگے ہوئے تھے اور ڈاکٹر اپنے صوفےپے بیٹھا تھا اور شازیہ اس کی گودھ میں دونوں طرف ٹانگیں کر کے نیچے سے ڈاکٹر کا لن اندر لے رہی تھی مجھے آواز تو نہیں آ رہی تھی . لیکن میں صرف دیکھ سکتی تھی . شازیہ پورے جسم کو ہوا میں اٹھا کر پِھر نیچے ہوتی تھی اِس سے ڈاکٹر کا پورا لن شازیہ کی پھدی کے اندر باہر ہو رہا تھا . میں یہ دیکھ کر خود گرم ہو گئی تھی میں اندر بھی دیکھ رہی تھی اور اپنے ایک ہاتھ سے اپنی پھدی کو بھی مسل رہی تھی . میں نے وہاں تقریباً آدھا گھنٹہ شازیہ اور ڈاکٹر کی چدائی دیکھی رہی تھی جس میں آخر میں شازیہ نے ڈاکٹر کا لن اپنی گانڈ میں بھی لیا تھا . ان کی چدائی دیکھ کر میں خود کافی گرم ہو گئی تھی اور اپنے ہاتھ سے ہی اپنا بھی ایک دفعہ پانی نکلوا دیا تھا . اور میرے پینٹی نیچے سے پوری گیلی ہو گئی تھی میں وہاں سے دوبارہ اپنے اسٹاف روم والے باتھ روم میں گئی اور اپنی پینٹی اُتار کر اپنے بیگ میں رکھ لی اور اپنی پھدی کو دھو کر دوبارہ رسپشن پے آ گئی اور آ کر دیکھا تو شازیہ میرے سے پہلے آ کر بیٹھی تھی مجھے سے پوچھنے لگا کے تم کہاں گئی تھی میں نے کہا میں رائونڈ پے گئی تھی

ایک مریض کو درد تھا چیک کرنے گئی تھی . میں نے اس کو پوچھا وہ کہاں تھی تو اس نے جھوٹ بول کر کہا وہ رائونڈ سے ہو کر باتھ روم میں چلی گئی تھی . خیر وہ دن گزر گیا اگلے دن رات کو تقریباً 1 بجے کا ٹائم ہو گا ہم دونوں رسپشن پے ہی بیٹھی تھیں میں نے اس کو کل دیکھا سارا واقعہ سنا دیا جو کچھ میں نے دیکھا تھا پہلے تو کافی جھوٹ بولنے کی کوشش کی پِھر میری طرف سے اعتماد ہونے کی وجہ سے اپنے ساری سٹوری مجھے سنا دی . اور مجھے یہ بھی کہا کے حنا ڈاکٹر تمہارا بہت دیوانہ ہے کہتا ہے حنا کی لے دو اگر تم راضی ہو تو میں تمہیں بھی مزہ کروا سکتی ہوں . وہ ڈاکٹر تمہارا اور تمہاری روم میٹ کا بہت دیوانہ ہے . باربار مجھے تم دونوں کے لیے کہتا ہے . میں نے شازیہ کی باتیں سن کر کہا مجھے نہیں لینا مزہ ڈاکٹر سے اور نہ مجھے دوبارہ کہنا خود جو مرضی کرو مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے اور میں نہ ہی کسی اور تمہارا بتاؤں گی . پِھر اِس طرح ہی مجھے شازیہ کا پتہ چلا تھا . میں نے کہا حنا جی آپ نے 2 دفعہ ایک دفعہ اپنی فل گرم سٹوری اور دوسری شازیہ کی بتا کر میری آگ کو اور بھڑکا دیا ہے . آج میرا لن پِھر ایک دم ٹائیٹ ہو گیا ہے اِس کا کچھ کر دو . تو حنا نے کہا میں کیا کر سکتی ہوں . ابھی صبر کرو پِھر کبھی سوچوں گی . میں نے کہا حنا جی آپ بے شک آپ اندر ابھی نہیں کرواؤ لیکن اوپر اوپر سے مزہ یا عامر جیسا مزہ مجھے بھی دے دو . تو وہ میری بات سن کر خاموش ہو گئی . میں نے پِھر کہا حنا جی کیا سوچا ہے یقین کرو میں اندر نہیں کروں گا نہ ہی آپ کی مرضی کے بغیر کچھ اور کروں گا لیکن آپ عامر جیسا مزہ مجھے بھی کروا سکتی ہیں اِس میں میرے اور آپ کا دونوں کا فائدہ ہو جائے گا . حنا نے کہا چلو ٹھیک ہے مجھے کل تک سوچنے کا ٹائم دو میں تمہیں کل میسیج کر کے بتا دوں گی کے میں راضی ہو ں یا نہیں لیکن جو میں کہوں گی وہ ہی ہو گا اس سے زیادہ کے لیے مجھے ابھی ٹائم چاہیے میں ابھی اندر نہیں کروا سکتی . میں نے کہا حنا جی مجھے منظور ہے آپ جو کہو گی ویسا ہی ہو گا . پِھر اس نے مجھے کل کا بتا کر بائے بول کر کال کٹ کر دی پِھر میں بھی سو گیا اور اگلے دن میں صبح 12 بجے اٹھا نہا دھو کر ناشتہ کر کے اپنا لیپ ٹاپ لگا کر بیٹھ گیا . تقریباً 1:25 پے مجھے حنا کامیسیج آیا کے کیا کر رہے ہو تو میں نے جواب دیا لیپ ٹاپ پے گانے سن رہا ہوں . تو اس نے کہا کا شی جی کیا یاد کرو گے میں تمہیں عامر جیسا مزہ دینے کے لیے تیار ہوں لیکن میری ایک شرط ہے کے ایک تو میں اندر نہیں کرواؤں گی دوسرا یہ کام میرے ہاسٹل میں میرے روم میں ہو گا . میں نے کہا حنا جی آپ کی سب شرط منظور ہے لیکن میں آپ کے ہاسٹل میں کیسے آؤں گا . وہ تو لیڈیز ہاسٹل ہے . تو حنا نے کہا آج بھی میری نائٹ ڈیوٹی ہے اور کل دن کو میں اپنے روم میں ہوں گی میری روم میٹ بھی ڈیوٹی پے ہو گی . تم کل دن کو تقریباً 1:15 پے میرے ہاسٹل آ جانا اس ٹائم گارڈ كھانا کھانے اپنے روم میں بیٹھ ہوتا ہے تم اس وقعت ہی گیٹ سے اندر آ جانا اور سیدھا پہلا فلور پے روم نمبر21 میں آ جانا دروازہ کھلا ہو گا اس ٹائم دو پہر ہوتی ہے کوئی بھی وہاں نہیں ہوتا . میں نے کہا حنا جی میں سمجھ گیا ہوں میں کل آ جاؤں گا . اور پِھر میں تو ہوا ؤںمیں تھا میرے اندرلڈو پھوٹ رہے تھےکل دن تک ٹائم گزارنا میرے لیے مشکل ہو گیا تھا . خیر وقعت گزر ہی گیا میں اگلے دن 1:15پے حنا کے ہاسٹل کے گیٹ کے نزدیک کھڑا تھا میں نے آگے پیچھے نظر ماری اور دیکھا کوئی بھی نہیں تھا گارڈ بھی وہاں گیٹ پے نہیں تھا . میں آرام سے چلتا ہوا گیٹ سے اندر داخل ہوا اور فرسٹ فلور پے21 نمبر روم کے پاس پہنچ کر ہلکی سی دستک دی اور پِھر دروازہ کھولا تو وہ کھلا ہوا تھا اندر داخل ہو کر دروازہ بند کر کے دیکھا حنا اپنے بیڈ پے بیٹھی تھی مجھے دیکھتے ہی کھڑئی ہو گئی اور مجھے آ کر سلام کیا پِھر میں وہاں دوسرے بیڈ پے بیٹھ گیا وہ اپنے بیڈ پے بیٹھ گئی . دونوں طرف سنگل بیڈ تھا . پِھر حنا نے پوچھ کیا پیو گے میں نے کہا حنا جی ابھی تو آپ کو پینے کا دِل کر رہا ہے وہ میری بات سن کا مسکرا پڑی اور پِھر مجھے ایک جوس دیا اور دوسرا خود کھول کر پینے لگی میں بھی جوس پینے لگا جوس پی کر میں اٹھ کر حنا کے بیڈ پے جا کر اس کے ساتھ بیٹھ گیا اور میں نے کہا جان جی کیا پروگرام ہے تو وہ بولی وہ ہی پروگرام ہے جو تمہارا ہے . میں نے کہا حنا جی ٹائم تھوڑا ہے میرا تو دِل ہے کپڑے اُتار دیتے ہیں اور اپنا مزہ پورا کر لیتے ہیں اس نے کہا ٹھیک ہے اور کھڑی ہو کر اپنے کپڑے اُتار نے لگا اور اس نے اپنے شلوار اور قمیض اُتار دی نیچے سے وہ پوری ننگی تھی اس کا کیا کمال کا مست جسم تھا آج تک چچی یا نورین یا آسمہ آنٹی یا سائمہ آنٹی کسی کا بھی ایسا جسم نہیں تھا جو حنا کا تھا ایک دم کسا ہوا ٹائیٹ جسم تھا موٹے موٹے ممے گول اور باہر کو نکلی ہوئی گانڈ اور مناسب سا پیٹ میں تو اس کا جسم دیکھ کر خوش ہو گیا تھا . میں نے کہا حنا جی کیا مست جسم ہے آپ کا کرو دیکھ کر ہی منہ میں پانی آ گیا ہے اور آپ کی گانڈ اور بالکل مٹھی بند پھدی کیا کام کی چیز آپ نے چھپا رکھی ہے . وہ میری بات سنا کا مسکرا پڑی . پِھر میں نے اپنے کپڑے اُتار دیئے حنا مجھے ہی دیکھ رہی تھی جب میں نے اپنا انڈرویئر اتارا اور میرا لن کسی سپرنگ کی طرح اچھل کر باہر آیا تو میں نے دیکھا میرا لن دیکھ کر حنا کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک اور نشہ سا آ گیا تھا . اور مجھے سے بولی کا شی جی آپ نے بہت ظالم چیز رکھی ہے . میری تو پھدی نے دیکھ کر پانی چھوڑ نا شروع کر دیا ہے آپ کا تو عامر سے موٹا بھی ہے اور لمبا بھی اندر لے کر مزہ آ جائے گا. میں نے کہا حنا جی ایک نا ایک دن اِس کی سیر آپ کو ضرور کرواؤں گا . تو حنا بولی اب تو جلدی ہی اِس کو اندر لینے کے لیے سوچنا پڑے گا . اور حنا نے آ کر میرا لن پکڑ لیا اور بولی یقین کرو کا شی تمہارا لن بہت مزے کا ہے . پِھر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی . اور میرے لن کو کی ٹوپی کو منہ میں لے لیا . اور آہستہ آہستہ اس کا چوپا لگا نے لگی ابھی اس کو میرا لن کی ٹوپی کو منہ میں لیے ہوئے 1 منٹ ہی ہوا تھا کے دھماکہ ہوا اور کمرے کا دروازہ باہر سے کسی نے کھولا اور اندر کا منظر دیکھا تو آنے والا بھی اور ہم دونوں بھی ایک جگہ پے ہی وہاں ہی شیل ہو گئے 


جاری ہے . . . . . . .

دروازہ کھول کر اندر آنے والی حنا کی روم میٹ مسرت تھی اس کی جب نظر میرے اور حنا کے اوپر پری تو وہ ہمیں حیرت سے پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھتی ہی رہ گئی کیونکہ میں اور حنا دونوں ننگے تھے اور حنا گھٹنوں کے بل بیٹھی ہوئی تھی اور اس کے میں منہ میرا لن تھا . پِھر جب حنا نے اپنے منہ سے میرا لن باہر نکالا اور مسرت سے بولی تم یہاں کیا کر رہی ہو . مسرت حنا کی بات سن کر چونک گئی اور بغیر کچھ بولے ہوئے باہر بھاگ گئی . حنا وہاں سے اٹھی اور جا کر دروازہ بند کیا اور دوبارہ آ کر میرے پاس کھڑی ہو کر بولی کا شی فکر نہ کرو یہ میری روم میٹ مسرت ہے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے . اور حنا دوبارہ اپنے کے بل بیٹھ گئی اور میرے لن کو منہ میں لے لیا اور اس کا چوپا لگا نے لگی حنا میرا پورا لن اپنے منہ میں لینے کی کوشش کر رہی تھی لیکن وہ پورا کیا آدھا بھی منہ میں نہیں لے پا رہی تھی . حنا کا چوپا لگا نے کا اسٹائل بہت ہی نرالا تھا وہ اپنے منہ کے اندر ہی اپنی تھوک کو جمع کر کے اس سے لن کے اوپر گول گول زُبان پھیر رہی تھی جس سے مجھے ایک عجیب اور دِلکش مزہ مل رہا تھا . درمیان میں کبھی کبھی حنا میرے لن کی ٹوپی کو اپنے دانتوں میں دبا کر ہلکا سا کاٹ بھی رہی تھی مزے کے ساتھ ساتھ ہلکی سی ٹِیس بھی اٹھتی تھی. پِھر میں بیڈ پے بیٹھ گیا حنا آگے ہو کر میری گود میں سر رکھ کر میرا لن منہ میں لے کر چوپا لگا نے لگی . حنا کے چوپوں نے مجھے پاگل کر دیا تھا کیونکہ وہ 1 سیکنڈ کے لیے بھی لن کو منہ سے باہر نہیں نکالتی تھی عامر نے اس کو اچھا خاصا سکھا دیا تھا حنا کو چوپےلگاتے ہوئے کوئی10 منٹ ہو چکے تھے . میرا لن فل تن کر کھڑا ہو چکا تھا . مجھے اب محسوس ہو رہا تھا کے تھوڑی دیر مزید چوپا لگا نے سے میری منی نکل آئے گی . میں نے حنا کے سر سے پکڑ کر اس کو روک دیا اس نے اپنی آنکھوں کے اشارےسے مجھے پوچھا میں نے کہا کے اور مزید نہیں کرو منی نکل آئے گی . تو وہ اَٹھ کر میرے ساتھ بیٹھ گئی . اور میرے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر چیک کیا اور بولی کا شی تمہارا لن اندر لینے کے لیے اتنا دِل کر رہا ہے کہ میں بتا نہیں سکتی لیکن یہاں میں اندر نہیں لے سکتی کیونکہ یہاں میری چیخوں کی آواز باہر سنی جا سکتی ہے نہیں تو میں آج ہی تمھارے لن کو اپنی پھدی میں اندر لے لیتی . پِھر وہ اٹھی ان نے اپنی الماری سے تیل کی بوتل نکالی اور اس میں سے کچھ تیل نکال کر پہلے میرے لن کو اچھی طرح نرم اور گیلا کیا پِھر تیل مجھے دیا اور بولی کا شی تیل نکال کر میری بُنڈ کی موری اور اس کی دراڑ میں میں اچھی طرح لگا دو . میں نے تیل سے بُنڈ کی دراڑ کو اچھی طرح تیل سے نرم کیا اور گیلا کر دیا پِھر میں نے اپنی دونوں ٹانگیں اوپر بیڈ پے رکھ لی حنا بھی اٹھ کر میری گود میں آکر بیٹھ گئی اور اپنے ایک ہاتھ سے میرے لن کو پکڑ کر اپنی بُنڈ کی دراڑ میں پھنسا لیا اور پِھر اپنی بُنڈ کو آگے پیچھے کرنے لگی حنا کا منہ دوسری طرف تھا میں نے آگے ہاتھ کر کے حنا کے ممے پکڑ لیے حنا کے ممے روئی کی طرح نرم ملائم تھے . حنا جس اسٹائل سے اپنی بُنڈ کو میرے لن کے اوپر رگڑ رہی تھی میرے لن کے اندر کر نٹ دور رہا تھا. میں بُنڈ کی دراڑ میں لن پھنسا کر رگڑ نے کا تجربہ پہلی دفعہ کر رہا تھا . مجھے بہت زیادہ مزہ آ رہا تھا حنا کی موٹی تازی اور نرم نرم بُنڈ اور اس کی بُنڈ کی دراڑ میں میرا لن سلپ ہو کر رگڑ کھا رہا تھا . حنا نے میرے لن کو اپنی بُنڈ کی دراڑ میں اچھی طرح پھنسا لیا تھا اور لن کو سختی سے پکڑا ہوا تھا اور آگے پیچھے ہو رہی تھی اور تیل کی وجہ سے پوچ پوچ کی آوازیں نکل رہیں تھیں. حنا کے منہ سے سسکیاں نکل رہیں تھیں . اور وہ سیکسی اور مدھوش ہوا میں بولی کا شی جی آپ کے لن نے مجھے پاگل کر ہے دِل کرتا ہے ایک جھٹکے میں اپنی بُنڈ میں لے لوں . کا شی جی کہیں اور بندوبست کرو مجھے تمہارا لن جلدی سے جلدی اپنی پھدی اور بُنڈ کے اندر لینا ہے . میں نے کہا حنا جی فکر نہ کرو میں کوئی نہ کوئی حَل نکالتا ہوں حنا کو اپنی بُنڈ میرے لن پے رگڑ تے ہوئے کافی ٹائم ہو چکا تھا اس نے میرا ہاتھ پڑم کر اپنی پھدی کے اوپر رکھ دیا اور بولی کا شی جی اپنی بڑی والی انگلی اِس میں ڈال کر اِس کو تھوڑا سکون دو میں نے اپنی انگلی اس کی پھدی پے رکھ کر ہلکی سی پُش کی میری آدھی انگلی اندر چلی گئی حنا تھوڑا سی کسمسا گئی میں نے کہا حنا جی اتنا کافی ہے تو بولی نہیں جان پوری اندر کرو . میں نے تھوڑا اور زور لگایا اور پوری انگلی اندر کر دی حنا کے منہ سے ہلکی سی آہ نکلی پِھر میں نے 2 منٹ کے وقفے کے بعد انگلی کو اندر باہر کرنے لگا . حنا کو اور زیادہ مدہوشی چڑھ گئی تھی . وہ اور زیادہ سسکیاں لینے لگی تھی . میں اپنی انگلی کو حنا کی پھدی کے اندر باہر کر رہا تھا اور حنا اپنی بُنڈ کو میرے لن کے اوپر تیزی سے رگڑ رہی تھی . نیچے سے مسلسل رگڑ نے کی وجہ سے میرے لن کی رگیں پھولنے لگیں تھیں مجھے محسوس ہو رہا تھا اب میرا پانی نکلنے والا ہے . میں نے اپنی انگلی کو اور تیز ی سے اندر باہر کرنے لگا حنا کو مزید جوش چڑھ گیا اور وہ بھی اپنی بُنڈ کو اور تیزی سے رگڑ نے لگی اور اس کے منہ سے اوہ آہ اوہ اوہ آہ آہ کی آوازیں نکل رہیں تھیں . پِھر کوئی 3 سے 4 منٹ کے اندر پہلے حنا کی پھدی نے اپنا گرم گرم پانی چھوڑا میری پوری انگلی گیلی ہو گئی تھی اور اس کی گرم گرم منی اس کی پھدی سے باہر رس رہی تھی . اور اس کے 1 منٹ بعد ہی میرے لن نے حنا کی بُنڈ میں میں نے اپنی منی کا لاوا چھوڑ دیا . میرا لن حنا کی بُنڈ کی دراڑ میں جھٹکے مار مار کے پانی چھوڑ رہا تھا. جب میں اور حنا مکمل سکون میں ہو گئے تو حنا میری گود سے اٹھ کر اپنے کمرے کے ساتھ اٹیچ باتھ روم میں چلی گئی اور کچھ دیر بعد اپنی صاف صفائی کر کے واپس آئی وہ ابھی بھی ننگی ہی تھی . پِھر میں وہاں سے اٹھا باتھ روم میں جا کر اپنے آپ کو صاف کیا اور پِھر ننگا ہی آ کر حنا کے ساتھ بیڈ پے بیٹھ گیا اور اس کو ایک لمبی سی فرینچ کس کی اور پوچھا جان مزہ آیا کہ نہیں . تو وہ بولی کا شی مزہ تو بہت آیا ہے لیکن اب اندر آگ اور زیادہ لگ چکی ہے اب تمھارے لن کو اندر لینا ہے . میں نے کہا حنا جان فکر نہ کرو میں کوئی اچھی سی سیف جگہ کر بندوبست ضرور کروں گا . پِھر تمہیں اپنے لن کی سیر ضرور کروا وں گا . حنا نے گھڑی پے ٹائم دیکھا 2 بجنے میں10 منٹ باقی تھے . حنا نے کہا کا شی 2 بجے گارڈ پِھر گیٹ پے باہر کھڑا ہو جائے گا تم اس سے پہلے پہلے نکل جاؤ اگر اس نے دیکھ لیا تو میرے لیے مسئلہ ہو جائے گا . میں نے جلدی سے کپڑے پہنے اور حنا کو ایک آخری فرینچ کس دی اور کمرے سے نکل کر نیچے گراؤنڈ فلور سے باہر گیٹ پے آیا ابھی تک گارڈ نہیں آیا تھا میں بغیر آواز کیے آرام سے باہر نکل گیا اور پارکنگ سے اپنی موٹر بائیک نکالی اور گھر واپس آ گیا میں کافی تھک چکا تھا اِس لیے میں گھر آتے ہی اپنے روم میں جا کر سو گیا. تقریباً رات کے 8 بجے تھے جب میرا چھوٹا بھائی مجھے جگا رہا تھا اور بول رہا تھا بھائی اٹھو ابو اور ا می بلا رہے ہیں آ کر كھانا کھا لو . میں فوراً اٹھا واشروم میں گیا منہ ہاتھ دھو کر فریش ہوا اور پِھر باہر جہاں سب لوگ بیٹھے كھانا کھا رہے تھے میں بھی وہاں جا کر سب کے ساتھ كھانا کھانے لگا . ابو نے پوچھا بیٹا کیا بات آج کہاں مصروف تھے اور آ کر اتنی دیر تک سوئے رہے ہو میں نے فوراً بہانہ بنایا ابو میں دوست کی طرف گیا تھا اس کے ساتھ 1 اور یونیورسٹی کی معلومات لی ہے پِھر اِس طرح ہی میں اور ابو باتیں کرتے رہے . پِھر میں تقریباً 9 بجے اٹھ کر دوبارہ اپنے کمرے میں آ گیا اور لیپ ٹاپ لگا کر بیٹھ گیا. تقریباً 10بجے کے قریب مجھے حنا کا ایس ایم ایس آیا کے کیا کر رہے ہو . میں نے حنا کو کال کی اور بتایا میں میں اپنے کمرے بیٹھا ہوں لیپ ٹاپ استعمال کر رہا تھا . تم سناؤ کیا کر رہی ہو . تو وہ بولی میں ڈیوٹی پے ہوں اکیلی بیٹھی تھی سوچا تم سے گھپ شپ لگا لوں . پِھر میں نے کہا سناؤ دن کو مزہ آیا تھا . تو بولی کا شی کچھ نہ پوچھو بہت برا حال ہے نیچے پھدی رو رہی ہے . جب سے اِس نے تمہارا لن دیکھا ہے اِس کی آگ اور بھڑک گئی ہے . میں نے کہا حنا جی دِل تو میرا بھی بہت کر رہا ہے بہت دن ہو گئے ہیں اپنے اِس لن کو کسی پھدی کی سیر نہیں کروائی یہ بھی تنگ کر رہا ہے . آپ تھوڑا صبر کرو میں کچھ نہ کچھ حَل نکالتا ہوں. پِھر میں نے کہا حنا جی آپ کی روم میٹ نے بعد میں آپ سے کیا کہا تھا . کوئی مسئلہ تو نہیں ہوا . تو وہ بولی کوئی مسئلہ نہیں ہوا ہے . وہ میری بڑی پکی سہیلی اور دکھ سکھ کی ساتھی ہے . اس کو بعد میں میں نے سب بتا دیا تھا . ویسے بھی وہ کون سی بچی ہے سب جانتی ہے اور سب کچھ کروا چکی ہے . میں نے کہا حنا جی آپ کیسے جانتی ہیں وہ سب کچھ کروا چکی ہے . تو حنا نے کہا اس نے اور میں نے ایک ہی دن اسپتال میں جوائن کیا تھا اور وہ شروع سے ہی میری روم میٹ ہے اور میری بہت اچھی سہیلی اور راز دان بھی ہے . اس کی ہر بات مجھے پتہ ہے اور میری اس کو پتہ ہے . میں نے اس کو تمہارا پہلے بتایا ہوا تھا لیکن آج والی ملاقات کا نہیں بتایا تھا میں نے سوچا رات کو جب آئے گی تو بتا دوں گی لیکن وہ دن کو ہی کمرے میں آ گئی تھی اصل میں اس کے پیریڈز والے دن تھے وہ روم نے اپنا پیڈ لینے کے لیے آئی تھی. میں نے کہا حنا جی ویسے وہ کس کس سے کروا چکی ہے ہمیں بھی بتاؤ . تو حنا نے کہا کا شی جی وہ کوئی گشتی نہیں ہے جو ہر کسی سے کرواتی ہے . وہ تو اس کا منگیترہے وہ کبھی کبھی مہینے میں ایک دفعہ یا دو دفعہ یہاں چکر لگاتا ہے تو اس کو اپنے ساتھ لے جاتا ہے یہاں ہی کسی ہوٹل میں دونوں رات گزرتے ہیں اور دونوں مزہ لیتے ہیں میں نے کہا ایک سے ہی مزہ لیتی ہے یا کوئی اور بھی ہے . تو حنا نے کہا فل حال تو ایک ہی ہے . لیکن آج اس نے مجھے ایک اور بات کہی ہے .

وہ جب کمرے میں آئی تھی تو اس نے تمہارا لوں دیکھا تھا اس کو بھی تمہارا لن بہت پسند آیا ہے . وہ مجھے کہہ رہی تھی حنا مجھے بھی اپنے دوست سے مزہ کرواؤ نہ اس کا لن بہت موٹا ہے مجھے بڑا پسند آیا ہے . تو میں نے کہا تو حنا جی آپ نے پِھر اس کے بارے میں کیا سوچا ہے . تو حنا نے کہا کا شی جی میں اس کو بھی اور شازیہ کو بھی تمھارے لن کا مزہ ضرور کروا ؤ ں گی لیکن ان دونوں سے پہلے میں نے خود تمہارا لن لینا ہے . اِس پے پہلا حق میرا ہے . جب میں تمھارے لن سے سکون حاصل کر لوں گی پِھر میں اس دونوں کا مزہ آپ کو کروا ؤ ں گی . میں نے کہا حنا جی یہ تو سچ ہے اِس پے پہلا حق آپ کا ہے . مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں ہے . پِھر ہم یوں ہی باتیں کرتے رہے اور رات کے 12 بج گئے میں نے پِھر حنا کو بولا مجھے نیند آ رہی ہے میں سونے لگا ہوں پِھر بات ہو گی اور پِھر حنا کو گڈ بائے بول کر لیٹ گیا اور پتہ ہی نہیں چلا کب نیند آ گئی اور صبح بجے آنکھ کھلی. آج مجھے کوئی خاص کام نہیں تھا آج ہفتے والا دن تھا ہفتے اور اتوار کو فیصل گھر پے ہی ہوتا تھا . میں نے اس کی طرف چکر لگانے کا سوچا . اور تیار ہو کر فیصل کی طرف چلا گیا جب اس کے گھر پہنچ کر گھنٹی بجای تو تھوڑی دیر بعد فیصل کی ا می نے دروازہ کھولا . فیصل کی ا می ایک گوری چیٹی اور قدآور اور بھرے ہوئے جسم کی مالک تھی . ان کی عمر قریبا 45 کے لگ بھاگ تھی لیکن وہ اپنی عمر کے حساب سے کافی جوان نظر آتی تھی . ان کا نام مریم تھا. مریم آنٹی نے مجھے دیکھا اور بولی کا شی بیٹا کیا حال ہے آج بہت دن بعد چکر لگایا ہے . میں نے کہا آنٹی میں ٹھیک ہوں اصل میں آگے ایڈمیشن لینا ہے اس چکر میں تھوڑا مصروف تھا اِس لیے چکر نہیں لگا سکا . پِھر مریم آنٹی نے کہا بیٹا ا می کیسی ہیں . تو میں نے کہا آنٹی جی ا می بھی بالکل ٹھیک ہیں . میں نے کہا آنٹی جی فیصل کہاں ہے . تو آنٹی نے مجھے اندر آنے کے لیے رستہ دیا اور بولی بیٹا وہ تھوڑا مارکیٹ تک کچھ سامان لینے گیا ہے کافی دیر ہو گئی ہے وہ اب آنے والا ہو گا آؤ اندر آؤ اندر آ کر بیٹھو وہ آتا ہی ہو گا میں گھر میں داخل ہو کر ٹی وی لاؤنج میں آ کر بیٹھ گیا اور فیصل کا انتظار کرنے لگا آنٹی نے کہا بیٹا تم بیٹھو میں کچھ ٹھنڈا بنا کر لاتی ہوں اور وہ یہ بول کر کچن میں چلی گئی ان کا کچن ٹی وی لاؤنج کے ساتھ ہی بنا ہوا تھا آنٹی نے گلے میں صرف دوپٹہ ڈالا ہوا تھا . آنٹی مجھے کچن میں سے نظر آ رہیں تھیں میں نے آنكہ بچا کر دیکھا ان کا جسم کیا مست جسم تھا بڑے بڑے موٹے موٹے ممے اور موٹی موٹی رانیں اور باہر کی نکلی ہوئی گانڈ ان کا سر سے پاؤں تک پورا جسم کمال کا تھا . آنٹی کا مست جسم دیکھ کر شلوار کے اندر ہی میرا لن جھٹکے کھا رہا تھا . میں نے اپنے ہاتھ سے اپنے لن کو نیچے دبا کر اپنی ٹانگوں کو جوڑلیا اور دوسری طرف دیکھنے لگا . کچھ ہی دیر میں آنٹی میرے لیے شربت بنا کر لے آئی . جب آنٹی میرے آگے آ کر مجھے تھوڑا سا جھک کر شربت دینے لگی میری نظر جب آنٹی کے کھلے ہوئے گلے میں گئی مجھے حیرت کا جھٹکا لگا کیونکے آنٹی کی قمیض کا گلا کافی کھلا تھا اس میں سے ان کو گورے چٹے موٹے موٹے ممے صاف نظر آ رہے تھے . اور آنٹی نے نیچے برا بھی نہیں پہنی ہوئی تھی . میں ابھی آنٹی کے ممے دیکھنے میں ہی محو تھا کے مجھے آنٹی نے کہا بیٹا گلاس تو پکڑومیں نے آنٹی کی طرف دیکھا تو وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی اور ان کا چہرہ شرم سے لال سرخ ہو چکا تھا میں بھی کافی شرمندہ ہوا . اور آنٹی سے کہا سوری آنٹی اور گلاس پکڑ لیا جیسے ہی میں نے گلاس پکڑ کر صوفے پے پیچھے ہو کر بیٹھنے لگا میری ٹانگیں یکدم تھوڑی سی کھل گئی اور میرا لن سپرنگ کی طرح اُچھل کر شلوار میں تمبو بن گیا . اور آنٹی نے دیکھ لیا تھا اور وہ اور زیادہ شرما کر تیزی کے ساتھ اپنے کمرے میں چلی گئی . مجھے بھی بہت افسوس ہوا کے یہ مجھ سے کیا غلطی ہو گئی ہے . آنٹی میرے بارے میں کیا سوچتی ہو گی . اور اگر انہوں نے میری حرکت کا میری ا می کو بتا دیا تو میری خیر نہیں ہے . میں نے فوراً شربت پیا اور اٹھ کر آنٹی کے کمرے میں گیا . اور اندر داخل ہو کر دیکھا تو آنٹی اندر نہیں تھی شاید وہ اپنے باتھ روم میں تھی . میں وہاں ہی بیڈ پے بیٹھ گیا کوئی 5 منٹ بَعْد آنٹی باہر نکلی اور مجھے دیکھا تو پِھر شرما گئی . اور منہ دوسری طرف کر لیا . میں فوراً اٹھا آنٹی کے پاس جا کر آنٹی کا ہاتھ پکڑ کر کہا آنٹی جی مجھے معاف کر دیں . میرا یہ مطلب نہیں تھا مجھ سے غلطی ہو گئی ہے . مجھے معاف کر دیں . میں کچھ دیر آنٹی کی منتںا کرتا رہا پِھر کچھ دیر بَعْد آنٹی نے کہا کوئی بات نہیں بیٹا . میں تمہیں معاف کیا لیکن بیٹا یہ بات کسی اور سے نہیں کرنا نہیں تو ہم دونوں کی بدنامی ہو گی . میں نے کہا جی آنٹی میں کسی سے بھی نہیں کروں . گا اور پِھر میں دوبارہ آ کر ٹی وی لاؤنج میں بیٹھ گیا اور فیصل کا انتظار کرنے لگا . آنٹی بھی باہر آ کر سامنے صوفے پے بیٹھ گئی . اور ٹی وی لگا دیا میں بھی ٹی وی دیکھنے لگا میں چوری چوری اکھیو ں سے آنٹی کو دیکھ رہا تھا آنٹی فلحال ٹی وی ہی دیکھ رہی تھی . پِھر وہاں ٹیبل پے اخبار رکھی تھی میں وہ اٹھا کر پڑھنے لگا . کچھ دیر بعد یکدم میں نے تھوڑی سی اخبار کے کونے سے دیکھا تو حیران ہو گیا کیونکہ آنٹی کی نظر میری جھولی کی طرف تھی شاید وہ میرا لن دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی ان کی آنکھیں سرخی مائل صاف نظر آ رہی تھی شاید جب سے مریم آنٹی نے میرا لن دیکھا تھا ان کے اندر گرمی پیدا ہو گئی تھی . میں دوبارہ اپنے لن کا دیدار کروانے کے کوشش شروع کر دی . میں نے اپنے منہ کے آگے اخبار کر کے آنٹی مریم کے مموں کو دماغ میں لا کر یاد کرنے لگا اور کوئی 2 سے 3 منٹ کے اندر ہی میرا لن پِھر شلوار میں تمبو بن گیا تھا . میں نے پِھر اخبار کے کونے سے آنٹی کو دیکھا وہ میرے لن کو اب اور زیادہ غور سے دیکھ رہی تھی . اور اپنے ہونٹوں کو اپنے دانتوں سے کاٹ رہی تھی. میں ان اِس حساب سے دیکھ رہا تھا کہ وہ میرا منہ نہیں دیکھ سکتی تھی . میں نے اپنا ہاتھ نیچے کر کے اپنے ہاتھ سے لن کو پکڑ کر اس کو اوپر نیچے خارش کے بہانے کیا اور مریم آنٹی کو لن کا پورا دیدار کروایا . میں ان کو بھی دیکھ رہا تھا میری اِس حرکت سے آنٹی نے اپنے ہونٹوں پے زُبان پھیری دی . یکدم ہی باہر کی گھنٹی بجی تو آنٹی چونک گئی اور بولی کا شی بیٹا شاید فیصل آ گیا ہے . میں نے کہا جی آنٹی میں جا کر دیکھتا ہوں . اور کھڑا ہو گیا میرا لن اب بھی کھڑا تھا . آنٹی نے کہا نہیں نہیں تم نہیں جاؤ میں جا کر دیکھتی ہوں ان کی نظر میرے لن پے ہی تھی اور وہ پِھر میری آنکھوں میں دیکھ کر شرما اور مسکرا کر چلی گئی اور دروازہ کھول نے کے لیے چلی گئی . دروازہ کھول کر آنٹی اپنے روم میں چلی گئی اور فیصل بھی اندر آ گیا اور مجھے دیکھ کر بولا یار کا شی کہاں غائب ہو گیا ہے اتنے دن سے ملا ہی نہیں . میں نے اس کو آنٹی کو جو بتایا تھا وہ اس کو بھی بتا دیا پِھر فیصل بولا چل کا شی میرے کمرے میں چلتے ہیں اور اپنی امی کو بولا امی آپ كھانا تیار کر لیں آج کا شی بھی یہاں ہی كھانا کھائے گا. میں فیصل کے ساتھ اس کے کمرے میں آ گیا اور آ کر گھپ شپ لگا نے لگا . میں نے سے کہا سنا آج کل کیا چل رہا ہے . اور سنا کوئی نیو مووی ڈائون لوڈ کی ہے کوئی نیا مال آیا ہے کے نہیں تو بولا یار مال تو ڈھیر جمع کیا ہے تو جب گاؤں گیا ہوا تھا تو میں نے کافی مال ڈائون لوڈ کیا تھا . اگر آج رات یہاں رک جا تو آج جی بھر کر دیکھ لینا میں نے کہا یار نیا مال ہو اور میں نہ رکوں یہ کیسے ہو سکتا ہے . میں گھر بول دوں گا . اور آج رات سارا نیا مال دیکھوں گا . پِھر میں اور فیصل ہنسنے لگے . میں نے کہا یار فیصل یہ فلم دیکھ دیکھ کر دِل بھر گیا ہے اب تو حقیقت میں کچھ کرنے کا دِل کرتا ہے . فیصل نے کہا ہاں یار یہ بات تو ہے جو خود کرنے کا مزہ ہے وہ فلم میں کہا ں آتا ہے . میں نے کہا یار اپنی تو قسمت ہی خراب ہے . ابھی تک زندگی میں کسی کی پھدی مارنا تو دور کی بات ہے حقیقت میں دیکھی تک نہیں ہے. فیصل میری بات سن کر ہنسنے لگا اور بولا یار کا شی اردگرد تھوڑا مال ہے چود نے کے لیے کسی کو بھی تھوڑا ٹائم دو اور سیٹ کرو اور کام ڈال دو . میں نے کہا یار مجھ سے یہ کام کہاں ہوتا ہے

اور اگر کوئی پھنس بھی گئی تو اس کو کہاں پے لے جا کر کروں گا . فیصل بولا یار باہر کے مال میں تھوڑا مشکل ہوتی ہے . لیکن اپنے ہی خاندان میں ہی کوئی مال دیکھو اور تھوڑا ٹائم دو تو کوئی نہ کوئی بندہ مل ہی جاتا ہے . اور اپنے خاندان کے بندے کو کون سا کسی اور جگہ لے جانا پڑتا ہے بس ایک دفعہ سیٹ ہو گیا اس کو جب ٹائم ملا بندہ چود لیتا ہے . میں نے کہا یار فیصل یہ اتنا بھی آسان نہیں ہے . اگر خاندان میں بندہ تلاش کرے اور کوئی آگے سے منہ توڑ د ے تو پِھر بے عز تی بھی بہت ہوتی ہے . فیصل بولا یار تیری با ت ٹھیک ہے . لیکن بندہ دیکھ کر ہی دانہ ڈالنا چاہیے تھوڑا اس بندے پے نظر رکھنی پڑتی ہے اگر لگے کے وہ بندہ دانہ ڈالنے کے قابل ہے تو ڈال دینا چاہیے اگر نہیں تو چھوڑ دینا چاہیے . میں نے کہا فیصل یار مجھے تو بندہ تلاش کرنے اور سمجھنے میں مشکل لگتی ہے . تو ہی کوئی بندہ بتا دے یا اگر تیری کسی کے ساتھ کوئی سیٹنگ ہے تو میرا کام بھی کروا دے . فیصل بولا یار ہمیشہ اپنا شکار خود کر کے كھانا چاہیے . میں نے بھی اپنا شکار خود کیا ہے . اور جب دِل کرتا ہے مزہ لیتا ہوں . تم بھی خود کوشش کرو تمہیں بھی شکار مل جائے گا . میں نے کہا چلو ٹھیک ہے یار لیکن یہ تو بتاؤ تمہاری کس کے ساتھ سیٹنگ ہے . تو وہ بولا یار تم میرے دوست بھی ہو کزن بھی ہو میری 3 کے ساتھ پکی سیٹنگ ہے لیکن یہ نہیں بتا سکتا وہ کون ہیں . میں فیصل کی بات سے تھوڑا مایوس ہوا . لیکن میں نے ایک اور پتہ پھینکا اور کہا چل یار جیسے تیری مرضی لیکن کسی بھی 1 کا تو بتا دے یقین کر میں کسی سے بھی نہیں بات کروں گا . تو وہ ہنسنے لگا اور بولا یار میں نہیں بتا سکتا لیکن تو اپنا شکار خود کر اگر تیرا شکار بھی وہ ہی نکلا جو میرے والا ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہو گا . پِھر دونوں مل کر مزہ کریں گے . میں تمہیں نہیں بتا سکتا کیونکہ میری سیٹنگ جس کے ساتھ ہے وہ خاندان کے لوگ ہیں اور شادی شدہ ہیں . میں نے ان سے وعدہ کیا ہوا ہے . اور ہاں تمہیں ایک ہنٹ دیتا ہوں کے تم بھی خاندان میں شادی شدہ عورت کا شکار کرو . وہ جلدی راضی ہو جاتی ہے اور اس کا  ڈر بھی نہیں ہوتا . میں نے کہا چل یار ٹھیک ہے جیسے تیری مرضی میں خود کچھ نہ کچھ کرتا ہوں . فیصل بولا اگر کوئی بندہ مل جائے تو مجھے بتا دینا میں تیری اور ہیلپ کر دوں گا ہو سکتا ہے تیرا کوئی اور شکار ہو پِھر تم مجھے اپنا شکار کھلا دینا میں تمہیں اپنا شکار کھلا دوں گا . پِھر ہم باتیں کر رہے تھے تو مریم آنٹی اندر آ گئی اور بولی چلو بیٹا كھانا لگ گیا ہے آ کر دونوں کھا لو پِھر میں نے اور فیصل نے مل کر كھانا کھایا اور دوبارہ آ کر فیصل کے کمرے میں بیٹھ گئے . میں اور وہ یہاں وہاں کی باتیں کرنے لگے تھوڑی دیر بعد میں نے فیصل سے کہا یار میں اوپر جا کر ما موں سے مل لوں نہیں تو وہ ناراض ہو جائیں گے کے آیا ہے اور ملا بھی نہیں تو فیصل بولا کا شی یار انکل تو کراچی گئے ہوئے ہیں وہ تو منگل کو واپس آئیں گے . تو میں نے کہا اچھا چلو میں فوزیہ آنٹی سے مل کر آتا ہوں . اور یہ بول کر اوپر فوزیہ آنٹی کے پاس آ گیا فوزیہ آنٹی نے مجھے دیکھا اور ماتھے پے پیار کیا اور بولی کا شی بیٹا آج کہاں بھول گئے ہو . میں نے کہا آنٹی میں تھوڑا مصروف تھا یونیورسٹی میں ایڈمیشن لینا تھا اس چکر میں بھاگ دور کر رہا تھا . میں ان کے بیڈروم میں ہی بیٹھ گیا اور وہاں ہی فوزیہ آنٹی کی بیٹی بھی آ گئی اور مجھے سلام کیا . پِھر فوزیہ آنٹی نے اپنی بیٹی کو کہا بیٹا جاؤ بھائی کے لیے پیپسی ڈال کر لے کر آؤ . اور وہ چلی گئی میں نے آنٹی سے پوچھا آنٹی انکل کہاں گئے ہیں میری بات سن کر سے بولی بیٹا کہاں جانا ہے کراچی گئے ہوئے ہیں گھر میں تو بس منہ دیکھنے کے لیے آتے ہیں . گھر والوں کی فکر کہاں ہوتی ہے ان کو بس اپنی نوکری کے چکر میں بھاگتے رہتے ہیں . میں نے کہا آنٹی جی آپ لوگوں کے لیے سب کچھ کر رہے ہیں اور رہی بات آپ کی فکر کی تو میں ہوں نہ آپ کی فکر کے لیے . آنٹی نے میری طرف حیرت سے دیکھا تو میں نے کہا آنٹی جی مجھ سے مراد سب لوگ ا می انکل نزیر فیصل بھی تو ہے میں نے فیصل کے نام پے تھوڑا زور دیا تھا . میں نے نوٹ کیا فیصل کے نام سے آنٹی تھوڑا مسکرا پڑی تھی . اور بولی ہاں یہ تو ہے آپ لوگ نہ ہوں تو بندہ گھٹ گھٹ کر مر جائے . پِھر آنٹی کی بیٹی پیپسی گلاس میں ڈال کر لے آئی . میں اس سے گلاس لے کر پینے لگا . میں نے کہا آنٹی جی اگر میرے لائق کوئی خدمت ہو تو مجھے بتا دیا کریں ما موں نہیں ہیں تو میں ہوں میں کر دیا کروں گا . آپ مجھے پے بھروسہ کر سکتی ہیں میں بھی آپ کا بھانجا ہوں کوئی غیر تو نہیں ہوں . آنٹی میری بات سن کر میری طرف دیکھنے لگی اور پِھر منہ نیچے کر کے آہستہ سے بولی اب تم ہر کام تو نہیں کر سکتے ہو . میں نے آنٹی کی بات سن لی تھی . پِھر میں نے کہا آنٹی جی ما موں نے کب واپس انا ہے . تو آنٹی نے کہا منگل کو واپس آنا ہے . میں نے کہا آنٹی جی اگر مجھے اپنا سمجھتی ہیں اور بھروسہ رکھتی ہیں مجھے اپنا ہر قسم کا کام بتا دیا کریں میں کی جگہ کر دیا کروں گا آپ کو مایوس نہیں کروں گا . آنٹی نے میری بات سن کر نظر بھر کر میری طرف دیکھا اور بولی ٹھیک ہے بیٹا اگر کوئی کام ہوا تو میں بتا دوں گی لیکن کچھ کام ایسے ہوتے ہیں وہ اب تم سے تو نہیں کروا سکتی . میں نے کہا آنٹی مجھے یہ تو نہیں پتہ آپ کس کام کا کہہ رہی ہیں لیں اگر پِھر بھی بلائیں گی تو ضرور کرنے کی کوشش کروں گا آپ کو کبھی مایوس نہیں کروں گا . آنٹی نے میری آنکھوں میں دیکھا اور پِھر نظریں کر لیں. پِھر آنٹی نے کہا کا شی بیٹا ایڈمیشن ہو گیا ہے میں نے کہا آنٹی جی بس سمجھ لیں ہو گیا ہے . آنٹی نے کہا چلو اچھی بات ہے اب یونیورسٹی میں جاؤ گے تو کوئی اچھی سی گرل فرینڈ بھی مل جائے گی . میں نے کہا آنٹی ہماری ایسی قسمت کہاں ہے اسکول اور کالج میں تو ملی نہیں . یونیورسٹی میں کہاں سے ملے گی اور ویسے بھی کون لفٹ کروائی گی. ہر کوئی یہ ہی سمجھ لیتی ہے یہ ابھی بچہ ہے . ابکون سمجھائےبچے کو کبھی آزما کر تو دیکھو میں نے یہ بات آہستہ آواز میں کہی تھی لیکن آنٹی نے پِھر بھی سن لی تھی. آنٹی میری بات سن کر مسکرا پری اور بولی دِل چھوٹا نہ کرو بیٹا کوئی نہ کوئی مل جائے گی . پِھر یکدم فیصل اوپر آ گیا اور آ کر صوفے پے بیٹھ گیا . آنٹی نے کہا فیصل ساما ن لے آئے تھے تو فیصل بولا جی پھو پھو لے آیا تھا آنٹی نے کہا جو میں نے کہا تھا وہ بھی لے آئے ہو . اور فیصل کی طرف دیکھ کر ہلکا سا مسکرا نے لگی. فیصل بولا جی وہ بھی لے آیا تھا . پِھر آنٹی نے کہا فیصل رات کو فارغ ہو کر نازیہ کا کمپیوٹر ٹھیک کر دینا وہ بار بار مجھے کہہ کر تھک گئی ہے . تو فیصل بولا پھو پھو آج ضرور کر دوں گا . اور آنٹی نے کہا وہ جو میں نے چیزیں منگوائی ہیں وہ لے آؤ مجھے چیک کرنی ہیں. پِھر میں نے کہا آنٹی جی میں نیچے چلتا ہوں مجھے فیصل کے کمپیوٹر پے کچھ کام کرنا ہے . میں رات کو بھی یہاں ہی ہوں پِھر چکر لگاؤں گا . میں گلاس ٹیبل پے رکھ رہا تھا لیکن میں نے دیکھا آنٹی میری بات سن کر فیصل کی طرف دیکھا تو فیصل نے آگے سے آنٹی کو آنکھ مار دی . میں نے دونوں کو محسوس نہیں ہونے دیا کے میں نے دیکھ لیا ہے اور میں پِھر نیچے آ گیا . اور آ کر فیصل کے لیپ ٹاپ پے موویز دیکھنے لگا اس وقعت شام کے 5 بج چکے تھے میں نے کال کر کے اپنے گھر بتا دیا تھا مجھے فیصل سے کام ہے میں رات یہاں ہی رکوں گا . جب میں موویز دیکھ رہا تھا تو سوچ رہا تھا کے جب میں نے رات کو رکنے کی بات کی تو آنٹی نے فیصل کی طرف کیوں دیکھا اور فیصل نے آگے سے آنکھ کیوں ماری . مجھے ان دونوں کی اِس بات کی سمجھ نہ لگی. میں موویز دیکھ رہا تھا فیصل نے کافی گرم مال ڈائون لوڈ کیا ہوا تھا میرا لن تن کر شلوار میں ہی کھڑا ہو گیا تھا . رات کے تقریبا 8 نج گئے تھے فیصل آیا اور بولا کا شی كھانا تیار ہے آ كھانا کھاتے ہیں پِھر آ کر تسلی سے دیکھ لینا . میں وہاں سے اٹھا باتھ روم گیا منہ ہاتھ دھو کر باہر جا کر كھانا کھایا اور پِھر کچھ دیر وہاں پے انکل نزیر سے بھی ملاقات ہوئی اور کچھ دیر ان سے گھپ شپ لگتی رہی . پِھر وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلے گئے اور آنٹی کچن میں اپنا کام کرتی رہی . میں بھی وہاں سے اٹھ کر دوبارہ فیصل کے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا . اور دوبارہ لیپ ٹاپ آن کر کے موویز دیکھنے لگا فیصل باہر ٹی وی دیکھ رہا تھا

تقریبا 10بجے کے قریب وہ کمرے میں آیا اور بیٹھ گیا اور بولا سنا کا شی کیسا مال ہے میں نے کہا یار فیصل بڑا ہی ظالم اور گرم مال ڈائون لوڈ کیا ہے دِل کرتا ہے ابھی یہاں کوئی پھدی ملے اس کو رگڑ دوں . تو فیصل میری بات سن کر ہنسنے لگا . پِھر میں اور وہ یہاں وہاں کی باتیں کرتے رہے پِھر تقریبا 11بجے فیصل نے کہا یار میں تھوڑی دیر بَعْد آتا ہوں تم مزہ کرو اگر نیند آ رہی ہو تو سو جانا میں پِھر نازیہ کے کمپیوٹر کا بھول گیا تھا صبح پھو پھو نے پِھر مجھے سنا دینی ہیں میں اس کا کمپیوٹر ٹھیک کر آتا ہوں ویسے بھی نازیہ پھو پھو کے کمرے میں سوتی ہے کمپیوٹر نازیہ کے اپنے کمرے میں رکھا ہے میں ٹھیک کر کے آ جاتا ہوں. میں نے کہا ٹھیک ہے . فیصل چلا گیا اور میں مووی دیکھنے میں مشغول ہو گیا . تقریباً رات کے 12 سے اوپر ٹائم ہو چکا تھا فیصل ابھی تک نہیں آیا تھا . مجھے پیاس بھی لگی ہوئی تھی اور کمرے میں پانی بھی نہیں رکھا تھا . میں نے سوچا باہر کچن میں چل کر پانی پی آتا ہوں اور لیپ ٹاپ ایک سائڈ پے رکھا اور کمرے سے باہر نکل آیا باہر بالکل اندھیرا تھا زیرو کا بلب چل رہا تھا . اس کی روشنی بھی کم تھی بندہ غور سے ہی کسی چیز کو دیکھ سکتا تھا میں کمرے سے نکل کر کچن میں آیا اور لائٹ کو آن کیے بغیر ہی فریج میں سے پانی کی بوتل نکالی اور پانی پینے لگا میں میں پانی کی بوتل کمرے میں ساتھ لے کر جانے کا سوچا ابھی میں فریج بند کر کے آگے ہی ہونے لگا تھا کہ کچن کی لائٹ یکدم آن ہو گئی مجھے ایک زور کا جھٹکا لگا کیونکہ سامنے مریم آنٹی پوری ننگی حالت میں شاید فریج میں سے پانی پینے آئی ہوئی تھی . آنٹی کے جسم پے ایک بھی کپڑے کا نام نشان نہیں تھا بالکل ننگی تھی جب میری اور ان کی نظریں ملی تو ہم ایک دوسرے کو دیکھ کر وہاں ہی ساکت ہو گئے . آنٹی اور میں ایک دوسرے کو پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھ رہے تھے . میں زیادہ دیر آنٹی کی آنکھوں میں دیکھا نہ سکا اور نظریں نیچے کر لیں جب میں نے آنٹی کے نیچے والی سائڈ پے دیکھا تو دنگ رہ گیا کیونکہ آنٹی کی پھدی ایک دم صاف شفاف بالوں سے صاف تھی اور ان کی پھدی سے گیلا گیلا پانی رس رہا تھا شاید وہ ابھی ابھی انکل نزیرسے چودا کر آ رہیں تھیں . میں نے آہستہ سے کہا سوری آنٹی جی میں پانی پینے آیا تھا . آنٹی میری آواز سے شاید چونک گئی تھی . اور وہ تیزی کے ساتھ وہاں سے اپنے کمرے میں چلی گئی . مجھے ان کے کمرے کا دروازہ بند ہونے کی اواز آئی . میں بھی وہاں سے دوبارہ کمرے میں آ گیا . مجھے بار بار آنٹی ننگے جسم کا خیال آ رہا تھا ایک دم ٹائیٹ اور کسا ہوا جسم تھا اور پھدی بھی کیا مست پھدی تھی . میرا لن جھٹکے کھانے لگا تھا. میں نے لیپ ٹاپ آف کر دیا اور بیٹھ کر مریم آنٹی کے بارے میں سوچنے لگا کیونکہ بَقَوْل فیصل کے جو دانہ ڈالنے کے قابل ہو اس کو دانہ ڈال دینا چائے میں نے سوچا چلو پِھر اب مریم آنٹی کو دانہ ڈال کر دیکھوں گا . میں ان ہو سوچوں میں گم تھا کے ٹائم دیکھا 1 بجنےوالے تھے فیصل ابھی تک نہیں آیا تھا . مجھے جو شق تھا وہ یقین میں بَدَلنے لگا میں نے سوچا شاید آج فیصل اور فوزیہ آنٹی رنگے ہاتھوں پکڑے جائیں میں دوبارہ پِھر اٹھا اور اپنا موبائل بھی اٹھا لیا میں سوچ رہا تھا اگر آج فیصل اور فوزیہ آنٹی کو ایک ساتھ دیکھ لوں تو ان کی چپکے سے ویڈیو بنا لوں گا جس سے مجھے ثبوت مل جائے گا پِھر میں فوزیہ آنٹی کے لیے اپنا رستہ بنا لوں گا . میں نے کمرے کا دروازہ کھولا اور آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھتا ہوا اوپر چلا گیا اوپر لائٹ آف تھیں لیکن کچن کی لائٹ جل رہی تھی . نازیہ کا کمرہ سیڑھیوں کے ساتھ ہی آگے کر بنا ہوا تھا میں آہستہ آہستہ سے چلتا ہوا جب نازیہ کے کمرے کے پاس گیا تو مجھے پیچھے سے کچن میں کسی کی آہستہ سے آواز آئی میں فوراً ہی چھت والی سیڑھیوں میں چڑھ کر اوپر بیٹھ گیا وہاں اندھیرا تھا کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا. کچھ دیر بعد میں نے دیکھا کچن سے فوزیہ آنٹی نکلی اور سیدھا نازیہ کے کمرے میں چلی گئی لیکن آنٹی کی حالت دیکھ کر مجھے زور کا جھٹکا لگا کیونکہ وہ مکمل ننگی حالت میں تھی . اندھیرے کی وجہ سے میں ان کا جسم زیادہ غور سے نہ دیکھ سکا . مجھے اب یقین ہو گیا تھا کے فیصل بھی اندر ہے اور فیصل اور فوزیہ آنٹی اندر مزہ لے رہے ہیں . آج میرا کام پورا ہونے والا تھا. فوزیہ آنٹی کمرے میں داخل ہو کر دروازہ بند کر دیا مجھے تھوڑی مایوسی ہوئی . میں سیڑھیوں سے نیچے اُتَر کر دوبارہ آہستہ سے چلتا ہوا . کمرے کے پاس آیااور دیکھا دروازہ بند تھا دروازے کے کی ہول سے دیکھنےکوشش کی لیکن مجھے کچھ بھی صاف نظر نہیں آیا . نازیہ کے کمرے کی کھڑکی ٹیر س والی سائڈ پے باہر کو بنی ہوئی تھی آخری وہ ہی جگہ بچی ہوئی تھی جہاں سے کچھ اندر دیکھا جا سکتا تھا میں آرام سے چلتا ہوا کمرے سے آگے والی سائڈ پے جا کر آرام سے کا دروازہ کھولا اور پِھر ٹیر س پے جا کر دروازہ باہر والی سائڈ سے بند کر دیا اور آہستہ سے چلتا ہوا کھڑکی کے پاس پہنچ گیا میرے اندر خوشی سے لڈ و پھوٹنے لگے کیونکہ کھڑکی سے روشنی باہر آ رہی تھی اِس کا مطلب تھا کھڑکی کا کچھ حصہ کھلا ہوا تھا. میں بغیر آواز کیے ہوئے کھڑکی کے پاس جا کر تھوڑا سا آگے ہو کر اندر دیکھا تو میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کیونکہ اندر بیڈ بالکل کھڑکی کے نزدیک رکھا ہوا تھا . اور فوزیہ آنٹی اور فیصل پورے ننگے ہو کر بیڈ پے لیےپ ہوئے تھےپِھر مجھے فوزیہ آنٹی کی آواز سنائی دی فوزیہ آنٹی نے کہا فیصل آج تو کا شی آیا ہوا تھا لیکن کل کو 10بجے تک اوپر آ جانا تا کہ 4 سے 5 گھنٹے فل مزہ کر سکیں . تو فیصل نے کہا جی پھو پھو جان میں کل ٹائم پے آ جاؤں گا . فیصل نے کہا پھو پھو میرے کام کا کیا بنایا ہے . تو فوزیہ آنٹی نے کہا فیصل بیٹا تھوڑا صبر کرو تمہارا کام کروا دوں گی . میں اپنی کوشش کر رہی ہوں جلدی ہی تیرے لن کو نوشین کی کنواری پھدی کا مزہ کروا دوں گی لیکن مجھے کچھ ٹائم دو . میں اس کو آہستہ آہستہ لائن پے لے کر آ رہی ہوں . میں فوزیہ آنٹی کی بات سن کر حیران رہ گیا تھا کیونکہ نوشین فوزیہ آنٹی کی بڑی بہن کی بیٹی تھی . وہ بھی کوئی 22سال کی لڑکی تھی . کافی خوبصورت اور سیکسی جسم کی لڑکی تھی . میں نے اس کو کافی دفعہ فنکشن پے دیکھا تھا. فیصل نے کہا پھو پھو جب سے اس کی پھدی کو اس دن آپ کے باتھ روم میں دیکھا ہے لن پے قابو نہیں ہوتا ہے . فوزیہ آنٹی نے کہا ہاں مجھے پتہ ہے . لیکن تھوڑا مجھے ٹائم دو . میں اس کا کام تم سے ضرور کروا دوں گی . فل حال تم مجھ سے اور اپنی خالہ سے مزہ لو .دو دوپھد یاں گھر میں مل جاتی ہیں پِھر بھی تمہارا دِل نہیں بھرتا ہے . فوزیہ آنٹی کی بات سن کر میرا دماغ گھوم گیا تھا . کیونکہ مجھے آج پتہ چل رہا تھا کے فیصل فوزیہ آنٹی کے علاوہ اپنی خالہ کو بھی چو د چکاہے . فیصل کی خالہ نوشین آنٹی بھی  ایک محلہ چھوڑ کر رہتی تھیں . ان کی عمر 35سال کے قریب تھی . وہ کافی نین نقش اور بھرے ہوئے سیکسی جسم کی مالک تھیں ان کے میاں کا زاتی گھر تھا ان کے میاں فوت ہو چکے تھے اور وہ 4 سال بیوہ تھیں ان کے 2 بچے تھے بڑی بیٹی 8 سال کی اور چھوٹا بیٹا 5 سال کا تھا . ان کے میاں کی اپنی 3 دکانیں تھیں ان سے جو رینٹ اور جوگھر کا ایک پورشن رینٹ پے دیا ہوا تھا اس کے رینٹ سے ان کا گھر چلتا تھا . وہ اپنے بچوں کے ساتھ اکیلی رہتی تھیں. فیصل نے کہا پھو پھو خالہ سے بھی کام آپ نے ہی کروایا تھا تو فوزیہ آنٹی بولی ہیں مجھے یاد ہے . اور نوشین باجی تو ابھی جوان ہیں جذبات رکھتی ہیں . انہوں نے بہت عرصہ برداشت کیا ہے اب وہ کچھ مہینوں سے سکون میں آئی ہیں جب سے تم ان کو چودتے ہو . اب وہ خوش رہتی ہیں . فیصل نے کہا پھو پھو اِس لیے تو آپ کو کہتا ہوں آپ امی سے کہہ کر میری اور نازیہ کی بات پکی کروا دیں . پِھر جب میری نازیہ سے شادی ہو جائے گی تو نازیہ کے ساتھ آپ کو بھی اور خالہ کو تینوں کو خوش رکھا کروں گا . تو فوزیہ آنٹی نے کہا بیٹا میں تو خود یہ ہی چاہتی ہوں میری بیٹی کے علاوہ میرا اور نوشین باجی کا کام بھی چلتا رہے گا . میں تو تمھارے انکل کو بہت دفعہ کہہ چکی ہوں لیکن ان کی سوئی کا شی پے ہی اٹکی ہوئی ہے . کہتے ہیں میں نازیہ کی شادی صرف کا شی سے ہی کروں گا . فیصل بولا پھو پھو کا شی میں ایسی کون سی بات ہے جو مجھے میں نہیں ہے اور انکل اس کے ساتھ نازیہ کی کرنا چاہتے ہیں. فوزیہ آنٹی نے کہا فیصل بیٹا مجھے خود معلوم نہیں ہے . لیکن ایک بات تو بتاؤ تم نے اپنا لیپ ٹاپ کا شی کو کیوں دیا ہے اس میں اگر اس نے وہ والی ساری فلم دیکھ لیں تو پِھر . فیصل نے کہا پھو پھو کا شی بھی وہ والی فلم دیکھنے کا بہت شوقین ہے وہ آج رات رکا ہی صرف ان فلم کو دیکھنے لی لیے ہے . فوزیہ آنٹی حیران ہوتے ہوئے بولی اچھا اِس کا مطلب ہے کا شی بھی جوان ہو گیا ہے . تو فوزیہ آنٹی نے کہا کیا تم نے اس کا لن دیکھا ہے تو فیصل نے کہا نہیں پھو پھو دیکھا تو نہیں ہے . ہاں البتہ وہ جوان کافی ہو گیا ہے . وہ بھی اب پھدی مارنے کے چکر میں رہتا ہے مجھے بھی کہہ رہا تھا کے کوئی مال ہے تو بتاؤ لیکن میں نے نہ کر دیا اور کہا میرے پاس خود کچھ نہیں ہے میں بھی تمہاری طرح تلاش کر رہا ہوں . فوزیہ آنٹی فیصل کی بات سن کر بولی اچھا اِس لیے  کہہ رہا تھا ہر کوئی مجھے بچہ سمجھتا ہے . کوئی لفٹ نہیں کرواتا . فیصل نے کہا آپ کو کب کہا تو آنٹی نے کہا میں نے اس کو آج ویسے ہی تھوڑا چیک کرنے کے لیے کہا تھا کے اب تو یونیورسٹی میں گرل فرینڈ بنا لو گے تو مجھے آگے سے اس نے یہ کہا تھا. پِھر فیصل نے کہا پھو پھو ذرا فٹ سا لن کا چوپا لگا کر کھڑا کرو پِھر مجھے آپ کی گانڈ مار نی ہے . تو فوزیہ آنٹی بولی کیوں نہیں پھو پھو کی جان میری گانڈ میں خود بہت دن سے خارش ہو رہی ہے . آج تمہارا لن لے کر خارش ختم ہو گی . پِھر میں نے تھوڑا سا مزید آگے ہو کر دیکھا تو فوزیہ آنٹی نے کا لن منہ میں لے لیا تھا

اور کسی کنجری کی طرح چوپا لگا رہی تھی . میں نے فوراً اپنی جیب سے موبائل نکالا اور ویڈیو آن کر کے ریکارڈنگ
کرنے لگا . میں نے دیکھا فیصل کا لن لگ بھگ 5 انچ تک لمبا تھا اور اور اتنا زیادہ موٹا بھی نہیں تھا . لن کی ٹوپی بھی لن کی موٹائی کے حساب جتنی موٹی تھی فوزیہ آنٹی مسلسل لن کے چو پے لگا رہی تھی . چو پے لگا نے کی وجہ سے فیصل کے منہ سے سسکیاں نکل رہیں تھیں . کوئی 3 سے 4 منٹ کے اندر ہی فیصل کی ہمت جواب دے گئی اور بولا پھو پھو بس کریں میرا پانی نکل جائے گا اور پِھر میں نے دیکھا فوزیہ آنٹی گھوڑی بن گئی اور فیصل ان کے پیچھے جاکر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور اپنے لن کو فوزیہ آنٹی کی گانڈ کی موری پے سیٹ کیا میں نے دیکھا فوزیہ آنٹی کی گانڈ کی موری نہ اتنی زیادہ چھوٹی تھی نہ زیادہ بڑی تھی درمیانے سائز کی موری تھی اور اس کی موری کا رنگ برائون تھا . فیصل نے اپنے لن پے تھوڑا تھوک لگایا اور پِھر تھوڑا سا فوزیہ آنٹی کی موری پے لگا کر اپنا لن موری پے سیٹ کیا اور جھٹکا مارا تو فیصل کی پوری ٹوپی موری کے اندر چلی گئی . فوزیہ آنٹی کے منہ سے آواز آئی آہ اور پِھر فیصل آہستہ آہستہ لن اندر کر رہا تھا . میں نے دیکھا کچھ دیر میں ہی فیصل نے اپنا پورا لن فوزیہ آنٹی کی گانڈ میں داخل کر دیا فیصل نے کہا پھو پھو جب پورا لن گانڈ میں لے کر آپ گانڈ کو سختی سے بند کر لیتی ہو یقین کرو مزہ آ جاتا ہے دِل کرتا ہے کبھی بھی لن آپ کی گانڈ سے باہر نہ نکالوں . تو فوزیہ آنٹی نے کہا بیٹا تو کس نے کہا باہر نکالنے کو اندر ہی رہنے دو مجھے تو خود سکون ملتا ہے دِل چاہتا ہے کوئی ایسا ہو جو ہر وقعت لن میری پھدی اور گانڈ کے اندر ڈال کر رکھے . پِھر آنٹی نے کہا فیصل میری جان اب جھٹکے لگاؤ میری خارش کو ختم کرو . مجھے سکون دو . پِھر فیصل اپنا لن آنٹی کی گانڈ کے اندر باہر کرنے لگا . اور آنٹی بھی مدہوشی میں آوازیں نکال رہی تھی . آہ آہ اوہ آہ آہ آہ . زور سے کرو بیٹا اور زور سے کرو آج پھاڑ دو اپنی پھو پھو کی گانڈ کو . فوزیہ آنٹی کی باتیں سن کر مجھے خود جوش چڑھ گیا تھا میرا لن لوہے کا راڈ بن گیا تھا میں ایک ہاتھ سے ویڈیو اور دوسرے ہاتھ سے اپنے لن کی مٹھ لگا رہا تھا . اور اندر فیصل فوزیہ آنٹی کی گانڈ مار رہا تھا . پِھر میں نے دیکھا فیصل نے اپنی سپیڈ تیز کر دی تھی اور اس کے ساتھ فوزیہ آنٹی کی سسکیاں بھی کافی تیز ہو گئیں تھیں . پِھر کوئی 5 سے 7 منٹ کے بعد ہی فیصل نے شاید اپنی منی فوزیہ آنٹی کی گانڈ میں نکال دی تھی اور وہ فوزیہ آنٹی کے اوپر ہی گر کر ہانپ رہا تھا. میں نے موبائل دیکھا کافی ویڈیو بن چکی تھی اور اس ویڈیو میں فوزیہ آنٹی اور فیصل کی آواز بھی صاف سنی جا سکتی تھی . پِھر میں نے موبائل سے ویڈیو بنانا بند کر دی اور اندر دیکھا تو فوزیہ آنٹی اور فیصل بیڈ پے آرام کر رہے تھے . فیصل نے کہا پھو پھو میں اب چلتا ہوں کہیں کا شی اوپر ہی نہ آ جائے تو پھو پھو نے کہا رات کے 2 بجنے والے ہیں وہ اب سو چکا ہو گا . ابھی بیٹھو 1 رائونڈ اور لگاتے ہیں . تو فیصل نے کہا پھو پھو اب اور ہمت نہیں ہے 2 دفعہ ہو چکا ہے . کل پِھر کر لیں گے . پھو پھو نے کہا جو آج میں نے تم کو میڈیسن منگوا کر دی ہیں وہ اب روز لیا کرو پِھر کچھ دن بعد دیکھنا تمھارے اندر کیسے جان آتی ہے . اور تمہاری ٹائمنگ بھی اچھی ہو جائے گی تمھارے انکل بھی استعمال کرتے ہیں اِس لیے وہ فٹ رہتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے وہ زیادہ تر گھر سے باہر رہتے ہیں . اور میں گھر میں اکیلی رہتی ہوں . فیصل نے کہا پھو پھو جان میں ہوں نہ آپ کے لیے آپ فکر کیوں کرتی ہیں . اور میں روز وہ والی دوائی لوں گا تھوڑا صبر کریں پِھر دیکھنا میری ٹائمنگ اور اینرجی بھی ٹھیک ہو جائے گی پِھر آپ کو جم کا چودا کروں گابس پھو پھو آپ کسی طرح بھی چکر چلا کر میری شادی نازیہ سے کروا دیں پِھر دیکھنا میں آپ ماں بیٹی کو کیسے دن رات خوش رکھتا . روز آپ کی اور آپ کی بیٹی کو مزہ دیا کروں گا . فوزیہ آنٹی نے کہا ہاں بیٹا میں پوری کوشش کروں گی . پِھر فیصل نے کہا پھو پھو میں چلتا ہوں رات بہت ہو گئی ہے مجھے نیند آ رہی ہے کل میں ٹائم سے اوپر آ جاؤں گا . پِھر مل کر مزہ کریں گے . میں نے دیکھا کہ فیصل جا رہا ہے تو میں فوراً ہی چپکے سے ٹیر س سے اندر آیا دروازہ بند کر کے سیڑھیوں سے اترتا ہوا نیچے کمرے میں چلا گیا لائٹ کو آف کر کے میں آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا تھوڑی دیر بعد فیصل کمرے میں آیا اور پِھر بیڈ پے میرے ساتھ آ کر لیٹ گیا پِھر مجھے بھی پتہ نہیں کب نیند آ گئی اور میں سو گیا اور صبح میری آنکھ10 بجے کھلی وہ بھی مریم آنٹی ہم دونوں کو جگا رہی تھی. میں جلدی سے اٹھ گیا میری نظر جب مریم آنٹی سے ملی تو وہ شرما گئی اور مسکرا کر باہر چلی گئی . میں اٹھا واشروم میں گیا نہا دھو کر باہر نکلا تو فیصل بھی اٹھ چکا تھا . مجھے دیکھتے ہی پوچھا کے رات کو کب سو گئے تھے تو میں نے کہا میں تمھارے جانے کے 1 گھنٹے بعد سو گیا تھا پِھر وہ اٹھ کر واشروم چلا گیا10 منٹ بعد نہا دھو کر باہر آیا پِھر ہم نے ناشتہ کیا . میں جب ناشتہ کر رہا تھا تو میں نے نوٹ کیا مریم آنٹی مجھے چور اکھیو ں سے دیکھ رہی ہیں پِھر جب میری اور ان کی نظر ملتی تو وہ شرما جاتی اور منہ نیچے کر لیتی تھیں . پِھر میں نے ناشتہ کر کے فیصل اور مریم آنٹی سے اِجازَت لے کر اپنے گھر آ گیا اور آ کر سب سے پہلے اپنے موبائل سے فوزیہ آنٹی اور فیصل کی ویڈیو کو اپنے لیپ ٹاپ پے کاپی کر کے سیف کر لیا . اور اب میں مریم آنٹی اور فوزیہ آنٹی دونوں کو ایک ساتھ دانہ ڈالنے کا سوچنے لگا اور اپنے دماغ میں پلان بنانے لگاتقریباً 1 بجے کا وقعت ہو گا جب میرے موبائل پے حنا کا ایس ایم ایس آیا اور پوچھ رہی تھی کے کہاں ہو کیا کر رہے ہو . میں نے حنا کو کال ملا لی اور کہا میں ٹھیک ہوں اور گھر پے ہوں تم کیسی ہو کیا کر رہی ہو . تو حنا نے کہا میں ٹھیک ہوں میں آج ڈیوٹی پے ہوں ابھی لنچ ٹائم تھا كھانا کھا رہی تھی سوچا تم سے بات کرو لوں حنا نے کہا سناؤ کسی جگہ کا بندوبست ہوا ہے یا نہیں مجھ سے اب برداشت نہیں ہوتا ہے . جلدی کچھ کرو مجھے اب کچھ کروانا ہے . تو میں نے کہا حنا جی جگہ کا تو فلحال بندوبست نہیں ہوا میں سوچ رہا ہوں کہاں سے بندوبست کروں کیونکہ میں نے پہلے کبھی نہیں کیا میں شیخوپورہ ہی کیا تھا لیکن وہ رشتہ دار تھی اس کے گھر پے ہی کیا تھا یہاں کبھی موقع نہیں ملا اور نہ کچھ کر سکا ہوحنا نے کہا کسی ہوٹل میں چلے ہیں . تو میں نے کہا مجھے ہوٹل وغیرہ کا کوئی پکا پتہ نہیں ہے کون سا سیف ہے . تو حنا نے کہا میں مسرت سے پوچھ لیتی ہوں وہ اپنے منگیتر کے ساتھ کافی دفعہ یہاں کسی ہوٹل میں رات گزر چکی ہے . اس کو پتہ ہو گا میں اس سے پوچھ لوں گی پِھر تمہیں بتا دوں گی . میں نے کہا ٹھیک ہے آپ اس سے پتہ کر لینا مجھے رات کو بتا دینا پِھر میں کچھ نہ کچھ بندوبست کر لوں گاحنا نے ٹھیک ہے میں مسرت سے پتہ کر کے آپ کو رات کو کال کروں گی . پِھر اس نے کال کٹ کر دی . دن کو كھانا کھا کر میں پِھر لیپ ٹاپ لگا کر بیٹھ گیا اور یونیورسٹیز کی معلومات تلاش کرنے لگاپِھر یوں ہی رات کو كھانا کھا کر میں اپنے بیڈروم میں بیٹھا فوزیہ آنٹی اور مریم آنٹی کے بارے میں سوچ رہا تھا . کے ان دونوں کو دانہ کیسے ڈالا جائے فوزیہ آنٹی تو اب میرے ہاتھ میں تھی اس کا پکا ثبوت ہاتھ لگ چکا تھا لیکن مریم آنٹی کے لیے کچھ اور محنت کرنا تھی . میں یہ ہی سوچ رہا تھا کے مجھے حنا کی مس کال آئی میں نے اس کو کال کی تو وہ آگے سے بہت خوش تھی اور بولی کا شی جی میں نے مسرت سے پتہ کروا لیا ہے پِھر حنا نے مجھے پنڈی کے ایک ہوٹل کا بتایا میں نے وہ ہوٹل دیکھا ہوا تھا کافی سیف جگہ پے ہوٹل تھا . حنا نے کہا مسرت نے بتایا کے ہم جب بھی اس ہوٹل میں جاتے ہیں تو یہ ہی شو کرتے ہیں ہم میاں بِیوِی ہیں اور لاہور سے کسی کام کے سلسلے میں یہاں آئے ہیں ہوٹل والے مسرت کے منگیتر آئی ڈ کارڈ پے کمرے دے دیتے ہیں. میں نے کہا ٹھیک ہے پِھر کب کا موڈ ہے تو حنا نے کہا کل میری نائٹ ڈیوٹی ہے میں سارا دن فارغ ہوں تم صبح مجھے10 بجے پک کر لو پِھر ہم وہاں ہوٹل چلے جائیں گے . ہمارے پاس شام تک ٹائم ہو گا میری ڈیوٹی 8 بجے اسٹارٹ ہو گی تم مجھے 6 بجے تک اسپتال چھوڑ دینا . میں نے کہا ٹھیک ہے . میں کل10 بجے تمہیں پک کر لوں گا . حنا نے کہا میں اب اور بات نہیں کر سکتی مجھے کل کے لیے تیاری کرنی ہے . میں نے کہا کیا تیاری کرنی ہے . تو حنا نے کہا اچھا جی جیسے آپ کو تو پتہ نہیں ہے کے کیا تیاری کرنی ہوتی ہے . میں نے کہا میری بِیوِی تو ہے نہیں اور نہ ہی میں عورت ہوں جو مجھے پتہ ہو گا کہ کیا کیا کیا تیاری کرنی ہوتی ہے . حنا نے کہا آپ کو سب پتہ ہے بس لڑکی کے منہ سے سننا چاہتے ہیں . میں نے کہا تو پِھر بتا دیں نہ جی . تو حنا نے کہا اب آپ لڑکوں کے نخرے ہی بہت ہیں کہتے ہیں پھدی صاف اور نرم وملائم ہونی چائے ایک بھی بال نہیں ہونا چاہیےاب صاف اور نرم اور ملائم پھدی بنانے کے لیے تھوڑی تیاری تو کرنی پڑتی ہے میں نے کہا حنا جی پھدی سک کرنے کا مزہ ہی تب آتا ہے جب وہ صاف شفاف بالوں سے پاک ہو اور نرم وملائم ہو چاٹنے کا مزہ آ جاتا ہے . تو حنا نے کہا اچھا ٹھیک ہے میں ویسے ہی بنا دوں گی لیکن اب مجھے اِجازَت دیں میں تھوڑی تیاری کر لوں. میں نے ٹائم دیکھا تو 11بج رہے تھے میں نے سوچا آج ٹائم سے سو جاتا ہوں پِھر صبح ٹائم پے اٹھ کر چلا جاؤں گا . میں نے لائٹ آف کی اور سو گیا میری آنکھ صبح 9 بجے کھلی جب مجھے حنا کا ایس ایم ایس آیا ہوا تھا کے آپ آ رہے ہو نہ .میں نے جواب دیا بس تیار ہو رہا ہوں آ رہا ہوں . میں بیڈ سے اٹھا اور نہا دھو کر فریش ہوا تھوڑا سا ناشتہ کیا ٹائم دیکھا تو  9:30 ہو رہے تھے میں موٹر بائیک کے بغیر ہی گھر سے نکلا ٹَیکسی لی اور اسپتال کی طرف نکل آیا . اسپتال سے پہلے ہی میں وہاں اُتَر گیا اور اس کو پے کر کے اسپتال کے گیٹ پے جا کر کھڑا ہو گیا تقریباً ابھی 10بجنے میں 5 منٹ باقی تھے مجھے حنا گیٹ کی طرف آتی ہوئی نظرآئی جب میرے پاس آئی میں نے سلام دعا کی تو اس نے سوالیہ نظروں سے پوچھا کے موٹر بائیک کہاں ہے تو میں نے کہا بَعْد میں بتاؤں گا ابھی چلو . میں نے وہاں سے ٹَیکسی لی اس کو ساتھ لیا اور وہاں سے نکل آئے میں نے ہوٹل سے کافی پہلے ہی ٹَیکسی رکوا دی اور اس کو پے کر کے حنا کو ساتھ لیا ہوٹل کے ساتھ بنی مارکیٹ سے کچھ کھانے پینے کی چیزیں لی حنا نے برقع پہن رکھا تھا پِھر ہم کچھ چیزیں لے کر ہوٹل کی طرف آ گئے جب ہم ہوٹل کے پاس پہنچاتو ہوٹل کے باہر ایک بندہ ملا اور بول رہا تھا فیملی روم کے لیے یہاں سے داخل ہوں میں اور حنا وہاں سے داخل ہو کر اندر گئے تو رسپشن پے ایک لڑکی بیٹھی تھی وہ لڑکی پتلی سی نین نقش والی لڑکی تھی 

چودنے والا مال تھا اس نے ہمیں سلام کیا اور پِھر میں نے اس کو بتایا کے ہم میاں بِیوِی ہیں شیخوپورہ سے آئے ہیں . ہمیں ایک دن کے لیے روم چاہیے . تو اس لڑکی نے ہلکی سی مجھے سمائل پاس کی اور مجھے کہا آپ اپنا آئی ڈی کارڈ دیں میں نے آئی ڈ کارڈ شو کیا اس نے نام اور پتہ لکھا میرا پتہ شیخوپورہ کا لکھا ہوا تھا . اِس لیے زیادہ کوئی مسئلہ نہ بنا پِھر اس نے میرا نمبر بھی مانگا اور نوٹ کر لیا اور مجھے 38نمبر روم کی چابی دی . اور بولی آپ دوسرے فلور پے سیدھے ہاتھ میں آخری روم ہے وہ روم نمبر 38ہے . پِھر میں حنا کو لے کر اوپر چلا گیا میں روم کے پاس پہنچ کر دیکھا یہ کافی سیف جگہ پے روم تھا . اور وہاں کوئی خاص بندہ بھی نظر نہیں آ رہا تھا . میں نے دروازہ کھولا اور میں اور حنا اندر چلے گئے. میں نے دروازہ بند کر کے لائٹس آن کی حنا نے بھی اندر داخل ہو کر اپنا بیگ بیڈ پے رکھا اور اپنا برقع اُتار نے لگا . برقع اُتار کر ایک سائڈ پے رکھ دیا اور پِھر بیڈ پر جا کر بیٹھ گئی میرے دماغ میں فوراً ایک خیال آیا میں دوبارہ دروازے کے پاس گیا اور دروازے کو اوپر سے لے کر نیچے تک چیک کیا کہیں کوئی کیمرہ تو نہیں لگا لیکن وہاں کوئی ایسی چیز نہیں تھی پِھر میں نے چھت پے دیکھا آگے پیچھے سب جگہ پے دیکھا جہاں ا ےسی لگا تھا وہاں بھی دیکھا مجھے کچھ نظر نہیں آیا مجھے تھوڑی تسلی ہو گئی حنا میری حرکتوں کو بڑے ہی غور سے دیکھ رہی تھی پِھر میں نے اپنے موبائل کا کیمرہ آن کیا اور روم کی سب لائٹس آف کر دیں اور پورے روم میں چیک کرنے لگا . میں نے ایک جگہ پڑھاتھا کہ اگر آپ روم کی لائٹس آف کر دیں اور اپنے موبائل کے کیمرہ کو آن کر کے آگے پیچھے کر کے چیک کریں تو اگر اس روم میں کوئی کیمرہ لگا ہو تو موبائل پے اس کی ریڈ لائٹ کو شو کر دیتا ہے . میں نے پورے کمرے کو چیک کیا مجھے کوئی کیمرہ نہ ملا اب مجھے مکمل تسلی تھی میں نے لائٹ کو آن کیا تو حنا میرا منہ دیکھ رہی تھی میں نے اس کی طرف دیکھا اور اس کو بولا جان میں تمہاری سب باتوں کا جواب ابھی دے دیتا ہوں . میں نے اپنے جھوتے اُتار کر اور قمیض اُتار کر بیڈ پے حنا کے ساتھ جا کر بیٹھ گیامیں نے حنا کا ہاتھ اپنے ھاتھوں میں پکڑ لیا اور بولا جان میں موٹر بائیک اِس لیے نہیں لے کر آیا کیونکہ جب موٹر بائیک پے ہم ہوٹل میں آئیں گے تو ہوٹل والوں کو شق ہو جانا تھا کے یہ موٹر بائیک پے شیخوپورہ سے آئے ہیں . دوسرا میں نے ہوٹل سے پہلے ہی ٹَیکسی اِس لیے رکوا دی تھی کیونکہ اگر میں ہوٹل کے بالکل قریب آ کر اترتا تو ٹَیکسی والے بہت حرامی ہوتے ہیں یہ سب سمجھتےہیں کے یہ جوڑا ڈیٹ پے ہے اور ہوٹل میں کچھ کرنے کے لیے جا رہے ہیں اِس لیے میں نے اس کو کسی قسِم کا شق نہیں ہونے دیا . اور اب کمرے میں جو میں چیک کر رہا تھا وہ یہ کہ ہوٹل میں یہ کام بہت ہوتے ہیں اکثر ہوٹل والوں نے رومز کے اندر کیمرہ لگایا ہوتا ہے وہ اندر کی کارروائی ریکاڈکر کے بَعْد میں بندےکو بلیک میل کرتے ہیں . اِس لیے میں یہ سب کچھ چیک کر رہا تھا . میری حنا جان ہوٹل میں آ کر یہ کام کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا تم سمجھتی ہو . حنا مجھے حیرت بھری آنکھوں سے دیکھ رہی تھی پِھر آگےبڑھ کر میری گردن میں بازو ڈال کر مجھے لمبی سی فرینچ کس کی اور بولی واہ کا شی جی تم بہت تیز اور ذہین ہو تم تو نے میرا دِل خوش کر دیا ہے مجھے اتنی باتوں کا بالکل بھی نہیں پتہ تھا میں اب مسرت کو بھی یہ سمجھا دوں گی تا کہ وہ بھی آگے سے احتیاط کرے. پِھر میں نے کہا حنا جی میں کوئی تیز نہیں ہوں زمانہ بہت تیز ہے زمانہ بہت کچھ سکھا دیتا ہے اور تیز کر دیتا ہےپِھر حنا بیڈ سے اٹھی اور باتھ روم میں چلی گئی میں وہاں بیڈ پے بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا کوئی15 منٹ کے بعد حنا واپس آئی تو میں حیران رہ گیا اس نے اپنے سارے کپڑے اُتار دیئے تھے اور وہ ایک ٹاول میں باہر آئی تھی اور ٹاول بھی صرف اس کے مموں سے لے کر اس کی پھدی سے کوئی 3 یا 4 انچ تک ہی لمبا تھا باقی اس کی سب کچھ ننگا ہی نظر آ رہا تھاحنا بیڈ پے آ کر میرے ساتھ بیٹھ گئی . اور مجھے دیکھ کر مسکرا نے لگی . میں نے حنا سے کہا حنا جی ایک بات تو بتاؤ ابھی تک آپ کنواری ہو . اور یہ بات عامر بھی جانتا ہے اور آج اگر آپ کی سیل میں توڑ دیتا ہوں تو جب آپ کی شادی عامر سے ہو گی سھاگ رات کو اس کو پتہ چلے گا اس کی بِیوِی کی پہلے ہی کھل چکی ہے . تو پِھر آپ کے لیے مسئلہ نہیں ہو گا . تو حنا میری بات سن کا مسکرا پڑی اور بولی مجھے سب کچھ پتہ ہے . لیکن میں ایک نرس بھی ہوں اور نرس آدھی ڈاکٹر ہوتی ہے . اس کا حَل بھی میرے پاس ہے ہمارے میڈیکل میں بہت سی میڈیسن ایسی ہیں جس سے آپ پھدی کو دوبارہ تنگ بھی کر سکتی ہیں اور کھلا بھی کر سکتی ہیں . اور خون نکلنا کوئی ضروری نہیں ہوتا . میں بھی اس ٹائم میڈیسن سے اپنی پھدی کو تھوڑا تھنگ بنا لوں گی امر جب اندر ڈالے گا اس کو خود محسوس ہو گا کے وہ کسی کنواری پھدی میں اپنا لن ڈال رہا ہے . کافی حَل ہیں . آپ فکر نہ کرو . میں نے کہا چلو ٹھیک ہے . آپ کو بہتر پتہ ہو گا . میں نے کہا حنا جی آپ کو پتہ ہے نہ آج آپ کو پہلی دفعہ درد کافی ہو گا اِس لیے آپ تیار ہو نہ تو حنا نے کہا ہاں مجھے پتہ ہے میں سب جانتی ہوں . میں نے پھدی میں لن لینے سے زیادہ عورت کا بچہ نکلتے ہوئے بہت دفعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا جس میں عورت کی پھدی کافی زیادہ پھٹ جاتی ہے . وہ اِس سے زیادہ تکلیف والا کام ہوتا ہے . ویسے بھی میں پین لیس کریم اور تیل ساتھ لے کر آئی ہوں . میں حنا کی بات سن کر حیران ہو گیا اور بولا حنا جی آپ تو پوری تیاری کے ساتھ آئی ہیں تو حنا ہنسنے لگی اور بولی ہاں یہ تیاری تو کرنی پڑتی ہے . میں نے کہا حنا جی آپ نے اسپتال میں بہت زیادہ پھدیا ں دیکھی ہوں گی اور گانڈ کی موریا ں بھی دیکھی ہوں گی . حنا میری بات سن کر ہنسنے لگی . اور بولی ہاں بہت دفعہ اور بہت سی لڑکیوں کی دیکھی ہیں . اب تو دیکھ دیکھ کر دِل بھر گیا میں نے کہا حنا جی مجھے بڑا شوق ہے دیکھنے کا . تو حنا ہنسنے لگی اور بولی کبھی تمہارا یہ شوق بھی پورا کروا دوں گی . میں نے کہا حنا جی آپ کو کیا لگتا ہے ہر میاں بِیوِی شادی کے بعد گانڈ میں ضرور کرتے ہیں . آپ نے تو لڑکیوں کی کافی موریا ں دیکھی ہوں گی.

حنا نے کہا ہاں میں نے کافی دیکھی ہیں لیکن ان میں زیادہ تر جن کا دوسرا بچہ پیدا ہو رہا ہوتا ہے تو وہ لڑکیاں زیادہ تر گانڈ میں کرواتی ہیں ان کی گانڈ کی موری کا سائز دیکھ کر ہی اندازہ ہو جاتا ہے کے یہ گانڈ میں بھی لن لیتی ہیں . لیکن کئی تو نہیں بھی کرواتی ہیں . لیکن جن کی گانڈ کی موری سیل پیک ہوتی ہے ان کی پھدی کی موری کافی زیادہ کھل چکی ہوتی ہے ویسے بھی جب لڑکی کی شادی ہوتی ہے پہلا سال تو دونوں میاں بِیوِی روز ہی کرتے ہیں اب جو لڑکی روز لن لے گی اس کی پھدی تو کھل ہی جائے گی . میری کافی زیادہ اسلام آباد اور پنڈی کی عورتیں اور لڑکیاں میری دوست ہیں چیک اپ کروانے کے لیے آتی رہتی ہیں کافی کی ڈلیوری بھی میں نے خود کرروائی ہے. کافی کے ساتھ کھلی گھپ شپ بھی لگتی ہے وہ اپنی چدائی کے قصے سناتی رہتی ہیں . کئی ایسی بھی ہیں جو شادی شدہ نہیں ہیں وہ بھی اپنے کسی دوست یا یار سے کرواتی ہیں پِھر منتھلی اپنا چیک اپ وغیرہ کرواتی ہیں . ان میں زیادہ تر پیشہ ور ہیں جو پیسے لے کر کر کرواتی ہیں. اب میں ہر ایک کی اسٹوری تمہیں سنانے لگوں تو سال لگ جائے اور ہمارے پاس ٹائم کم ہے ہمیں خود اپنا مزہ کرنا چاہیے ویسے فون پے میں کبھی کبھی کسی کا قصہ سنا دیا کروں گی . میں نے کہا حنا جی وہ تو ٹھیک ہے قصہ ہی سنایا کریں گی یا کسی کے ساتھ کوئی مزہ بھی کروا یں گی . تو حنا ہنسنے لگی اور بولی . بہت کمینے ہو اچھا ٹھیک ہے مجھے خوش رکھو تمہیں اچھی اچھی ٹائیٹ پھدی کھلا دیا کروں گی . لیکن اس کے لیے مجھے خوش رکھنا اور مطمئن کرنا شرط ہےمیں نے کہا حِنا جی آپ کی ہر شرط سر آنکھوں پر آپ پہلے باقی سب بعدمیں ہیں . پِھر میں نے اپنی شلوار اور بنیان بھی اُتار دی حِنا نے میرا لن دیکھا جو نیم حالَت میں تھا اس کو پکڑ لیا اور اس کو سہلانے لگی اور بولی جب میں رات کو پھدی کی صفای کر رہی تھی تو مسرت نے مجھے پِھر تمہارا کہا تھا میں نے اس کو کہا کے میں کا شی سے تیرا کام کروا دوں گی لیکن کا شی کو گانڈ مار نے کا بہت شوق ہے کیا تم گانڈ میں کروا لو گی . کیونکہ مجھے پہلے پتہ تھا کے مسرت نے پہلے گانڈ میں کبھی نہیں کروایا ہے . تو وہ آگے سے بولی کوئی مسئلہ نہیں ہے ایک دفعہ کا شی میری پھدی کو جم کر رگڑ دے میں گانڈ میں بھی اس کا لن لے لوں گی. میں نے موبائل پے ٹائم دیکھا ہمیں باتیں کرتے کرتے 12 بج گئے تھے . میں نے کہا حنا جی کیا خیال ہے حنا نے کہا میں تو کب سے انتظار کر رہی ہوں تم ہی ہو جو باتیں لے کر بیٹھے ہو . پِھر میں نے کہا اچھا پِھر ایک کام کریں اپنے شیر کا ذرا ٹائیٹ سا چوپا لگایں اور اِس کو آپ کو سلامی دینے کے کیے تیار کریں . حنا نے اپنا ٹاول اُتار دیا اور پوری ننگی ہو کر گھوڑی بن گئی اور میری لن کی ٹوپی کو اپنے منہ میں لے لیا اور اس پے زُبان کو گول گول گھوما کر چاٹنے لگی حنا بڑے ہی جوش کے ساتھ لن کی ٹوپی کو منہ میں لے کر چوپ رہی تھی . اس کی زُبان کی گرفت کافی سخت تھی میرے لن میں آہستہ آہستہ جان آ رہی تھی. پِھر حنا پورا لن منہ میں لے کر چوپا لگا نے کی کوشش کر رہی تھی لیکن لن تھوڑا بڑا اور موٹا ہونے کی وجہ سے اس کے منہ میں پورا اندر نہیں جا رہا تھا اور اپنے منہ کو آگے پیچھے کر کے اور اپنی زُبان کو گھوما گھوما کر لوں کا چوپا لگا رہی تھی حنا انتہائی دل جمعی سے لن چوس رہی تھی. آہستہ آہستہ اس کی چوپوںمیں شدت آ گئی تھی تھی اور میرا لن اس کے منہ میں ہی تن کر کھڑا ہو گیا تھا اور میرا لن کسی لوہے کے را ڈ کی طرح سخت ہو چکا تھا . پِھر حنا نے مزید 2 سے 3 منٹ اور چوپا لگایا اور پِھر اپنی کافی زیادہ تھوک میرے لن پے مل دی اور بولی کا شی تمہار لن اب فل موڈ میں آ چکا ہے میری پھدی کی سکنگ پِھر کر لینا بس اب اِس کو میری پھدی کے اندر کرو . میری پھدی کا نیچے رو رو کر برا حال ہو چکا ہے. میں
نے حنا کو بستر پر لٹا یا میں حنا کے ہونٹوں پر ٹوٹ پڑاوہی ہونٹ جنہوں نے کچھ ہی دیر پہلے میرے لن کی خوب سیوا کی تھی. ان کا خوب رس چوسہ حنا بھی فل گرم ہو چکی تھی اور میری ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے کر چوس رہی تھی اور کبھی کبھی کاٹ بھی رہی تھی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ اب لوہا گرم ہے میں نے حنا کی ٹانگیں کھولیں اور ان کے بیچ آکر بیٹھ آگیا میں پھدی پر جھکا اور اپنی زبان اس کے اندر داخل کردی  اپنی گرم پھدی پر میری زبان محسوس کر کے حنا  نے بے خود ہوکر آنکھیں بند کرلیں  اور میں اپنے  ہاتھ آگے کر کے حنا کے ممے دبانے لگامیں نے اپنی زُبان سے اور اپنی تھوک سے حنا کی پھدی کو کافی زیادہ نرم اور گیلا کر دیا تھا
میں نے حنا کی ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھیں اور اپنے لن کو اس کی نازک پھدی کی موری پر رکھ کر ایک ہلکا سا دھکا لگا یا تو اس کا لن حنا کی پھدی سے پھسل گیا. حنا نے آنکھیں کھولی اور اپنے بیگ سے تیل کی بوتل نکال کر مجھے دی اور بولی کا شی تیل اپنے لن پے بھی اور میری پھدی پے بھی لگا دو مجھے بھی دردتھوڑا کم ہو گا اور تمہارا لن بھی آسانی سے اندر چلا جائے گا. پِھر میں نے تیل لے کر پہلے اپنے لن کو اچھی تارا نرم اور گیلا کیا پِھر حنا پھدی کو بھی کر دیا اور تیل کی بوتل ایک سائڈ پے رکھ کر اپنے لن کی ٹوپی کو حنا کی پھدی کی موری پے سیٹ کیا اور حنا کی پھدی کے لبوں کو کھول کر ایک جھٹکا مارا میرے لن کی پوری ٹوپی حنا کی پھدی کے اندر اُتَر گئی اس کے منہ سے ایک چیخ نکلی اور درد بھری آواز میں بولی ہا اے ا می جی میں مر گئی . میں اس کی آواز سن کر تھوڑا ڈر بھی گیا اور وہاں ہی رک گیا . تقریباً 5 منٹ کے بعد جب حنا کو تھوڑا سکون محسوس ہوا تو وہ بولی کا شی آج تو تم نے مجھے مار ہی دیا ہے . میں نے کہا حنا جی میں نے کہا تھا کے پہلی دفعہ کافی درد ہوتا ہے . حنا نے کہا ہاں مجھے پتہ ہے لیکن تم نے بھی تو ایک جھٹکےمیں اندر کر دیا تھا . میں نے کہا حنا جی میں اگر آہستہ آہستہ کرتا تو اندر بھی نہیں جانا تھا اور آپ کو تکلیف بھی زیادہ محسوس ہونی تھی اِس ایک میں آپ کو ایک دفعہ ہی تکلیف ہوئی ہےمیں نے کہا ابھی تو ٹوپی اندر گئی لن تو پورا باہر ہے تو حنا بولی مجھے پتہ ہے پورا جب اندر ہوتا ہے تو بچہ دانی تک جا کر فٹ ہوتا ہے . لیکن اب آرام آرام سے کرنا ہے پِھر حنا نے کہا آہستہ اندر کرو میں نے آہستہ آہستہ لن کو اندر دبانا شروع کیا حنا نے اپنے ہاتھ بھی میرے سینے پے رکھے ہوئے تھے تا کہ میں زیادہ زور سے جھٹکا نہ مار سکوں اِس لیے میں آہستہ آہستہ اندر کر رہا تھا تقریباً میرا 2 انچ سے زیادہ لن اندر جا چکا تھا لیکن حنا کا منہ لال سرخ ہو چکا تھا آنکھیں اور زیادہ پھیل گئی تھیں . اور درد اس کے چہرے پے عیاں تھاجب میرا آدھا لن اندر گھس چکا تھا تو حنا نے مجھے روک دیا اس کی آنکھوں میں نمی تھی مجھے اس پے بہت پیار آیا میں نے کہا میں اور اندر نہیں کرتا ہوں بس یہاں تک ہی اندر باہر کر لیتا ہوں . تو حنا درد بھری آواز میں بولی نہیں کا شی لن تو پورا اندر لے کر رہوں گی چاہے جتنی مرضی درد ہو لیکن تم تھوڑا رک جاؤ مجھے تھوڑا سا سکون ملنے دو پِھر دوبارہ اندر کرنا . میں پِھر وہاں تھوڑی دیر رک گیا تقریباً 5 منٹ مزید انتظار کے بعد حنا نے کہا کا شی اب اندر کرو لیکن مجھ سے بار بار کا درد برداشت نہیں ہوتا بس باقی کا لن ایک ہی جھٹکے میں اندر کرو . میں نے کہا حنا جی سوچ لو تو اس نے کہا میں نے سوچ لیا اب بس ایک جھٹکے میں اندر کر دو . میں نے آگے ہو کر حنا کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹ میں بھینچ لیا اور پِھر اپنے بازو حنا کی کمر میں ڈال کر ایک زور دار جھٹکا مارا میرا پورا لن حنا کی پھدی کو چیرتا ہوں اندر گہرائی میں اُتَر گیا حنا کا منہ میرے منہ میں ہونے کی وجہ سے اس کی ایک زور دار چیخ میرے منہ میں ہی رہ گئی لیکن اس کی آنکھوں سے پانی کا سیلاب نکل آیا تھا وہ دردسےبلبلا اٹھی تھی اور اس نے مجھے پیچھے سے میری کمر میں ہاتھ ڈال کر جھکڑ لیا تھا اور سختی کے ساتھ اپنے ساتھ چمٹا لیا تھا. میں بھی کافی دیر تک اس کے اوپر ایسے ہی پڑا رہا اور ہلا نہیں تقریباً 10منٹ کے بعد حنا کی درد بھری آواز آئی کا شی آج تو تم نے میری جان نکال دی ہے . میری پھدی کے اندر ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے کوئی لوہےکی گرم سلاخ میری پھدی کوچِیر تی ہوئی اندر گھس گئی ہے . میری پھدی میں بہت سخت جلن ہو رہی ہے. میں نے کہا حنا جان یہ درد پہلی دفعہ ہوتا ہے تھوڑا صبر کرو ابھی یہ درداور جلن کم ہو جائے گی یہ ایک دفعہ ہی ہوتی ہے اِس کی بعد تو مزہ ہی مزہ ہے . پِھر میں مزید 5 منٹ تک کوئی حرکت نہ کی . کچھ دیر بعد حنا نے کہا کا شی آہستہ آہستہ اندر باہر کرو میں نے اپنے جسم کو حرکت دی اور اپنے لن کو آہستہ آہستہ اندر باہر حرکت دینے لگا میں تقریباً 5 سے 7 منٹ تک لن کو آرام سے اندر باہر کر رہا تھا آب لن نے اپنا رستہ بنا لیا تھا اور لن آسانی سے اندر باہر ہو رہا تھا اور حنا کی درد بھری سسکیاں بھی اب لذّت میں بَدَل رہیں تھیں پِھر حنا کو بھی شاید تھوڑی راحت محسوس ہو رہی تھی اس نے اپنی ٹانگوں کو میری کمر کے پیچھے کر کے جڑولیا اور بولی کا شی تھوڑا تیز کرو اب مزہ آ رہا ہے . میں نے اپنی رفتار میں تھوڑی تیزی لے آیا تھا . حنا کے منہ سے ہی سسکیاں نکل رہیں تھیں آہ اوہ آہ آہ آہ اوہ اوہ آہ . پِھر میں نے دیکھا حنا کو مزہ آ رہا ہے میں اور تیز تیز جھٹکے مارنے لگا حنا بھی اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر لن اندر کروا رہی تھی . اور آوازیں نکل رہی تھی کہہ رہی ہا اے کا شی اور زور سے کرو تمھارے لن نے ٹھنڈ ڈال دی ہےمجھے حنا کی پھدی میں لن کو رگڑ تے ہوئے 10سے 12 منٹ ہو چکے تھے اور حنا ایک دفعہ اپنا پانی چھوڑ چکی تھی جس سے پھدی کے اندر کافی گیلا اور گرم کام ہو چکا تھا اور میرا لن باہر ہونے کی وجہ سے پچ پچ کی آوازیں اس کی پھدی سے نکل رہیں تھیں . مجھے بھی اپنے لن کی رگیں پھولتی ہوئی محسوس ہو رہیں تھیں میں نے پِھر اپنے جاندار جھٹکے لگانے شروع کر دیئے اور مزید 3 سے 4 منٹ جاندار جھٹکے مار کر حنا کی پھدی کے اندر ہی فارغ ہو گیا تھا اور حنا بھی میرا ساتھ دوسری دفعہ فارغ ہو چکی تھی اس کی پھدی کے اندر میری منی کا سیلاب نکل آیا تھا میں ہانپتا ہوا اس کے اوپر گر گیا اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگا اور میرے نیچے حنا بھی بری طرح ہانپ رہی تھی. پِھر جب میری منی کا آخری قطرہ بھی نکل گیا تو میں حنا کے اوپر سے ہٹ کر اس کے ساتھ بیڈ کے اوپر لیٹ گیا . میں اور حنا تقریباً آدھا گھنٹے تک یوں ہی لیے  رہے اور کوئی بات نہ کی پِھر حنا ہی میرے ساتھ چپک گئی اور بولی کا شی میری جان کیسی لگی ہے میری کنواری پھدی میں نے کہا حنا جی مزہ آ گیا ہے آج پہلی دفعہ کنواری پھدی کا مزہ چکھ کر میرے لن کو خون کا منہ لگ گیا ہے . اور یہ اور شیر ہو گیا ہے . پِھر میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور میں نے بیڈ کی چادر دیکھی اس پے کافی زیادہ خون لگا ہوا تھا . حنا بھی ہمت کر کے اٹھ کر بیٹھ گئی اور اپنی پھدی کا خون دیکھا اور حیران رہ گئی اور بولی اتنا زیادہ خون کیا میری پھدی سے نکلا ہے . میں نے کہا ہاں جان یہ تمھارے کنوارے پن کا ثبوت ہے. پِھر حنا نے کہا کا شی بھوک لگی ہے لیکن اس سے پہلے مجھے باتھ روم جانا ہے لیکن میری پھدی میں اتنی درد ہے مجھ سے چلا نہیں جا سکتا . تو میں نے کہا جان تم فکر کیوں کرتی ہو میں ہوں نہ میں اپنی جان کو اٹھا کر باتھ روم لے کر جاؤں گا پِھر میں نے حنا کو اٹھا لیا اور باتھ روم میں لے گیا وہاں میں نے گرم پانی کا نل کھولا اور حنا کی پھدی کو اپنے ہاتھ سے صاف کرنے لگا جب میں حنا کی پھدی کو بڑے ہی پیارسےصاف کر رہا تھا وہ میرے بالوں میں اپنی انگلیاں پھیر رہی تھی پِھر میں نے اس کی پھدی کو اچھی طرح صاف کیا تو حنا نے کہا کا شی مجھے پیشاب کرنا ہے تو میں نے کہا جان تو کر لو نہ تو وہ بولی مجھے شرم آتی ہے . میں نے کہا اِس میں شرم آنے والی کیا بات ہے لن لینے کے بعد بھی کوئی شرم باقی رہ جاتی ہے پِھر میں نے حنا کو اپنی گود میں بیٹھا لیا اور کہا جان اب پیشاب کرو وہ شرما کر مجھ سے چپک گئی اور میرے کان میں بولی بہت بے شرم ہو اور پِھر پیشاب کرنے لگی اس کا گرم گرم پیشاب مجھے اپنے لن پے گرتا محسوس ہوا تو میرا لن جوش میں جھٹکے کھانے لگا اور جھٹکے میں نیچے سے حنا کی گانڈ اور پھدی کے ساتھ کھیل رہا تھا مجھے بڑا مزہ آ رہا تھا حنا بھی مزہ لے رہی تھی پِھر جب حنا نے پیشاب کر لیا تو پِھر میں نے اس کی پھدی اور اپنے لن کو اچھی طرح دھو کر اس کو اٹھا کر بیڈ پے لے آیا . اور وہ بیڈ پے لیٹ گئی اور اپنے بیگ سے مجھے ایک کریم دی اور بولی اِس کو میری پھدی کے اوپر اور اندر مساج کر دو اِس سے مجھے سکون مل جائے گا . میں نے اس کریم نے اچھی طرح اس کی پھدی کو مساج کر دیا . پِھر کچھ دیر بعد میں نے شاپر سے پیپسی اور بریانی وغیرہ نکالی اور حنا کے آگے رکھ دی اور وہ اور میں كھانا کھانے لگے. كھانا کھانے کے بعد مجھے تھوڑی نیندآنے لگی میں نے ٹائم دیکھا تو 2 بج چکے تھے میں نے حنا کو کہا حنا تھوڑا آرام کر لیتے ہیں پِھر 4 بجے کے قریب گانڈ والا رائونڈ لگا لیں گے . تو حنا نے کہا ٹھیک ہے اور پِھر میں اور وہ دونوں ننگے ہی ایک دوسرے کی بانہوں میں سو گئے میں نے اپنے موبائل پے 4 بجے کا الارم لگا دیا تھا . 4 بجے جب الارم بجا تو میں اٹھ گیا میں حیران ہوا حنا مجھے سے پہلے ہی جاگی ہوئی تھی اور بڑے ہی پیار سے میری طرف دیکھ رہی تھی . میں بھی اٹھ کر بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور حنا کو کہا جان کیا دیکھ رہی ہو . تو وہ بولی کاش عامر میری میری زندگی میں نہ ہوتا تو میں تمہاری بِیوِی ہوتی اور روز اِس طرح ہی تم سے مزہ لیتی . تو میں نے کہا جان تو کیا ہوا بِیوِی بن کر مزہ نہیں لے سکتی ہو تو گرل فرینڈ بن کر مزہ تو لے ہی سکتی ہو . اور پِھر ہم دونوں ہنسنے لگے. میں نے کہا جان ہمارے پاس ٹائم 2 گھنٹے ہی بچے ہیں . کیا خیال ہے آخری رائونڈ لگا لیں . تو حنا نے کہا ہاں میں تو تیار ہوں اب تو پھدی کی بھی درد کافی حد تک ختم ہو چکی ہے .

میں نے کہا جان اب پہلے میں تمہاری پھدی کو سک کرتا ہوں اور تم میرے لن کا چوپا لگاؤ . ہم دونوں 69 اسٹائل میں کرتے ہیں تو وہ میرے اوپر آ گئی اور میرے لن کو اپنے منہ میں لے لیا اور ادھر میں نے اس کی پھدی کو اپنے منہ میں لے کر چاٹنے لگا پہلے میں اوپر اوپر سے ہی چاٹ رہا تھا پِھر میں نے پھدی کی موری سے لے کر گانڈ کی موری تک زُبان پھیرنا شروع کر دی حنا کو جب اپنی گانڈ کی موری پے میری زُبان محسوس ہوئی وہ اور گرم ہو گئی اس نے میرا لن کو اور سختی سے منہ میں پکڑ کر چوپا لگا نے لگی . میں بھی کچھ دیر تک اس کی پھدی اور گانڈ کی موری کے اوپر اپنی زُبان پھیرتا رہا پِھر میں نے اپنی 2 انگلیوں سے اس کی پھدی کے لبوں کو کھولا اور اپنی زُبان اندر داخل کر دی حنا کا جسم کانپ اٹھا اس نے اپنی پھدی کو میرے منہ پے اور زور سے دبا دیا میں نے اپنی زُبان کو حنا کی پھدی کے اندر باہر کرنے لگا پہلے تو آہستہ آہستہ کرتا رہا جب مجھے محسوس ہوا حنا کی پھدی رِسْنا شروع ہو گئی ہے میں نے اپنی زُبان کو اور تیز تیز حنا کی پھدی کے اندر باہر کرنے لگا اور اپنی زُبان سے اس کی پھدی کو چودنے لگ میں نے نے محسوس کیا حنا کا جسم اکڑ نے لگا ہے شاید وہ اب اپنا پانی چھوڑ نے والا تھی اس نے میرا لن بھی چوپا لگا کر فل ٹائیٹ کر دیا تھا اور جب اس کی پھدی نے منی چھوڑ دی اس نے میرا لن اپنے منہ سے نکال دیا اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگی . پِھر وہ جب مکمل طور پے فارغ ہو گئی وہ میرے اوپر سے ہٹ گئی میں اٹھ کر باتھ روم میں گیا اور اپنے منہ دھویا اور کلی کر کے واپس بیڈ پے آ کر اس کے ساتھ بیٹھ گیا حنا نے بوتل سے تیل نکالا اور میرے لن کی مالش شروع کر دی اور لن کو کافی گیلا کر دیا پِھر اپنی گانڈ کی موری پے بھی تیل لگا لیا اور موری کے اندر بھی تیل سے نرم کر دیا . تو میں نے کہا جان گانڈ میں بھی کافی دردہو گا . تو اس نے کہا مجھے پتہ ہے ایک دفعہ عامر نے میری گانڈ میں اپنی ٹوپی ڈالی تھی اِس لیے مجھے کچھ اندازہ ہے . لیکن تم بھی آہستہ آہستہ سے کرو . اور پِھر اٹھ کر گھوڑی بن گئی میں اٹھ کر گھٹنوں کے بل اس کے پیچھے کھڑا ہو گیا حنا نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنی گانڈ کے پٹ کو کھولا اور بولی کا شی موری پے لن سیٹ کرو اور آہستہ آہستہ اندر کرو . میں نے لن کو حنا کی گانڈ کی موری پے سیٹ کیا ہلکا سا پُش کیا تو میری آدھی ٹوپی اندر چلی گئی . حنا کے منہ سے آواز نکلی آہ . پِھر میں نے دوبارہ تھوڑا زیادہ زور کا جھٹکا مارا میری پوری ٹوپی حنا کی گانڈ میں گھس گئی حنا کے منہ سے آواز آئی ہا اے ا می جی میں مر گئی. حنا نے پیچھے مڑ کر مجھے دیکھا اور بولی کا شی تم بہت ظالم ہو ہر دفعہ جھٹکا مار کے ہی اندر کرتے ہو . میں نے کہا جان اب نہیں کرتا ویسے بھی میرے لن کی ٹوپی ہی کافی موٹی ہے وہ اب اندر چلی گئی اب لن آرام سے اندر چلا جائے گا . تو حنا بولی آرام سے کہاں چلا جائے گا گھوڑے جتنا لن رکھا ہے اور کہتے ہو آرام سے اندر چلا جائے گامیں نے کہا اب جان کا جو حکم ہو گا ویسے ہی ہو گا . حنا نے کہا آہستہ آہستہ اندر کرو . اور تھوڑا تیل میری موری کے اوپر اور ڈال دو میں نے تیل اور ڈال دیا اور اپنے لن پے زور دینے لگا میں آہستہ آہستہ لن اندر کر رہا تھا . حنا نیچے سے درد بھری آوازیں نکال رہی تھی . جب میرا تقریباً 2 انچ تک لن باہر رہ گیا تو حنا نے کہا کا شی اب اور نہیں کرنا میں مر جاؤں گی مجھے بہت درد ہو رہی ہے . میں نے دیکھا اس کی آنکھوں میں آنسو تھے . میں پِھر وہاں ہی ر ک گیا کافی دیر میں اپنا لن وہاں ہی پھنسا کر بیٹھا رہا تقریباً 10منٹ کے بَعْد حنا نے کہا اب اور اندر نہیں کرو یہاں تک ہی اندر باہر کرو میں نے پِھر اپنے لن کو آہستہ آہستہ اندر باہر کرنے لگا تقریباً 5 منٹ تک میں بہت ہی آرام آرام سے اندر باہر کر رہا تھا حنا کو شدید درد ہو رہی تھی وہ نیچے سے کرا رہ ہی تھی . لیکن وہ مجھے اندر باہر کرنے سے روک نہیں رہی تھی . پِھر مزید 5 منٹ کے بَعْد حنا نے کہا آب کچھ بہتر محسوس ہو رہا ہے اب تھوڑا تیز تیز اندر باہر کرو . میں نے اپنی رفتار کو تیز کر دیا اب حنا بھی تھوڑا حرکت کر کے آگے پیچھے ہو رہی ہی اور آوازیں نکال رہی تھی . آہ آہ اوہ اوہ آہ آہ اوہ . پِھر میں نے دیکھ اس کی سسکیاں لذّت میں بَدَل چکی تھیں وہ لذّت بھری سسکیاں لے رہی تھی مجھے بھی تھوڑا جوش آ گیا میں نے جھٹکے تیز کر دیا اور پِھر میں نے ایک ہی جھٹکے میں پورا لن جڑ تک اُتار دیا . حنا کے چیخ نکلی میں مر گئی ا می جی . اور میں نے ا ب رکنا مناسب نہ سمجھا اور جھٹکے لگاتا رہا حنا شروع میں تو روتی رہی لیکن پِھر بَعْد میں نارمل ہو گئی اور میں جھٹکے لگاتا رہا اب لن گانڈ میں کافی حد تک رواں ہو چکا تھا پِھر میں اپنے پیروں پے کھڑا ہو گیا اور اپنے ہاتھ آگے کر کے حنا کی ممے پکڑ لیے اور جاندار جھٹکے مار نے لگا . حنا بھی آب فل میرا ساتھ دے رہی تھی . اور نیچے سے اپنی پھدی میں انگلی ڈال کا تیزی سے اندر باہر کر رہی تھی . پِھر مجھے محسوس ہوا اب پانی نکلنے والا ہے میں آخری 2 منٹ پوری طاقت سے جھٹکے لگا ے اور حنا کی گانڈ میں ہی اپنی منی کا لاوا چھوڑا دیا حنا بھی نیچے منہ کے بل گر گئی اور میں بھی اس کے ساتھ گرگیا میرا لن بدستور حنا کی گانڈ کے تھا. جب میری ساری منی نکل گئی میں نے لن کو باہر نکالا تو دیکھا میرا لن پے خون لگا ہوا تھا اور حنا کی گانڈ کی موری میں بھی خون لگا ہوا تھا . میں اور حنا وہاں کچھ دیر آرام کرتے رہے پِھر میں حنا کو اٹھا کر باتھ روم میں لے گیا اور اس نے اور میں نے ایک ساتھ شاور لیا اور فریش ہو کر صاف صفائی کر کے میں اس کو دوبارہ اٹھا کر بیڈ پے لے آیا . میں نے کریم سے دوبارہ اس کی گانڈ کی موری کے اندر مساج کر دیا اور وہ لیٹ گئی . اور میں بھی اس کے ساتھ لیٹ گیا . کوئی 15 سے 20 منٹ بعد دروازے پے دستک ہوئی میں چونک گیا اور حنا بھی چونک گئی میں نے اشارے سے حنا کو خاموش رہنے کا کہا اور خود ٹاول باندھ کر دروازے کے پاس گیا . دروازے پے باہر دیکھنے والا چھوٹا سا مرر لگا ہوا تھا میں نے اس میں سے دیکھا تو وہ رسپشن والی لڑکی کھڑی تھی فوراً میرے دِل میں ایک خیال آیا اور میں نے حنا کو آنکھ ماری اور اپنا ٹاول نکال کر بیڈ پے پھینک دیا اور دروازہ کھول دیا . باہر جب لڑکی نے مجھے دیکھا تو مجھے ننگا دیکھ کر شرما گئی اور منہ نیچے کر لیا اور بولی سر آپ کھانے میں کیا کھایں گے اور وہ نظریں نیچے کر کے میرے لن کو دیکھ رہی تھی . اور اپنے ہونٹ کاٹ رہی تھی . میں نے کہا کھانے کا دِل تو نہیں ہے لیکن آپ چائے پلا دیں اگر خالص دودھ ہے تو وہ میری بات سن کر شرما گئی اور بولی جی ٹھیک ہے . میں بھیج دیتی ہوں . اور جب وہ مڑ کر جانے لگی تو دوبارہ میرے لن کو دیکھا اور پِھر میری آنکھوں میں دیکھا اور مجھے آنکھ مار کر چلی گئی . میں سمجھ گیا تھا یہ شکار بھی تیار ہے میں نے دروازہ بند کر دیا اور حنا کے پاس آ گیا حنا نے کہا لگتا ہے اِس بیچاری کو بھی لن کی شدید طلب ہے . میں نے کہا ہاں جان اِس کی طلب میں پوری کر دوں گا اور یہ ہم دونوں کی طلب پوری کروا دیا کرے گی . حنا میری بات سمجھ گئی اور بولی یہ تو ہے . پِھر میں نے کہا حنا آب آگے کیا موڈ ہے تو حنا نے کہا ٹائم کیا ہوا ہے میں نے کہا 5 ہو گئے ہیں تو حنا نے کہا 6 بجے نکلتے ہیں تم مجھے اسپتال چھوڑ دینا . میں نے کہا ٹھیک ہے اور میں نے کہا جان اب تو آپ نے اپنا حق لے لیا ہے اب مسرت کا حق کب دو گی . حنا نے کہا فکر نہ کرو اب تمہیں بہت سی اچھی اچھی گرم پھدی کھلایا کروں گی بہت ہیں میرے پاس جو لن کے لیے ترس رہی ہیں لیکن صبر رکھو صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے . میں جلدی ہی مسرت کا کام تم سے کروا دوں گی . پِھر میں اور حنا یہاں وہاں کی باتیں کرتے رہے پِھر ہم تیار ہو ہو کر کمرے سے نکل کر نیچے رسپشن پے آ گئے وہ لڑکی وہاں ہی بیٹھی تھی مجھے دیکھا اور شرما کر ھلکی سی سمائل پاس کی میں نے اس کو پیسے پے کیے اور شکریہ بولا اس لڑکی نے اپنے ہوٹل کا کارڈ دیا اور بولی سر یہ ہمارا کارڈ ہے یہ رکھ لیں جب دوبارہ پنڈی آئیں تو ہمارے مہمان ہی بنیں اگلی دفعہ آپ کی اور بھی خاص سیوا کریں گے اور مجھے آنکھ مار دی حنا نے بھی دیکھا لیا تھا حنا نے اور میں نے دونوں نے اس کو سمائل پاس کی اور ہم وہاں سے نکل کر ٹَیکسی لی اور میں نے حنا کو اسپتال چھوڑا اور خود گھر آ گیا .

جاری ہے . . . . . . . . .

حنا کی پھدی مار کر میرے لن کو خون منہ لگ گیا تھا کیونکہ زندگی میں پہلی دفعہ کنواری پھدی چودنے کا موقع ملا تھا . اور حقیقت میں مجھے حنا کے جسم نے پاگل سا کر دیا تھا پِھر کچھ دن بعد ہی میرا یونیورسٹی میں ایڈمیشن ہو گیا . اور اِس دوران میری حنا کے ساتھ فون پر بات ہوتی رہی . میری کلاسز کا ٹائم شام کے ٹائم میں تھا مجھے دن کو 3 بجے یونیورسٹی جانا ہوتا تھا اور ہفتے میں 5 دن کلاسز تھیں . میں اب اپنی اگلی پڑھائی پر بھی دھیان دے رہا تھا . میری جب بھی حنا سے فون پر بات ہوتی میں اس کو اس کی روم میٹ مسرت کا پوچھتا رہا کے اس کے ساتھ کب ملاقات کراؤ گی . وہ مجھے جلد ہی ملوا نے کا ہر بار کہہ دیتی تھی . پِھر ایک ہفتے والے دن میں دوبارہ فیصل کے گھر چلا گیا اگلے دن چھٹی تھی اِس لیے میں اس کے پاس چلا گیا اس کے گھر جا کر جب دستک دی تو فیصل کی امی نے دروازہ کھولا اور مجھے دیکھ کر ان کے چہرے پر ایک عجیب سی چمک آ گئی میں نے پوچھا آنٹی فیصل کہاں ہے تو انہوں نے کہا بیٹا وہ تو اپنی خالہ کی طرف گیا ہے تھوڑی دیر تک آ جائے گا آؤ تم اندر آؤ باہر کیوں کھڑے ہو تو میں آنٹی کی بات سن کر اندر چلا گیا اور آ کر ان کے ٹی وی لاؤنج میں بیٹھ گیا تھوڑی دیر بعد آنٹی بھی آ گئیں اور میرے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیں میں آنٹی سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا کیونکہ اس رات میں نے آنٹی کو مکمل ننگی حالت میں دیکھ لیا تھا . آنٹی نے مجھ سے پوچھا کا شی بیٹا امی کیسی ہیں اور گھر میں سب کیسے ہیں تو میں نے کہا آنٹی امی اور سب گھر والے ٹھیک ہیں آپ کو سلام دے رہے تھے . پِھر آنٹی نے کہا بیٹا تم بیٹھو میں تمھارے لیے کچھ ٹھنڈا لے کر آتی ہوں . اور جب وہ اٹھ کر کچن کی طرف جا رہیں تھیں میں نے ان کی طرف دیکھا تو میں حیران ہو گیا آنٹی نے جو آج لباس پہنا ہوا تھا اس میں سے آنٹی کا جسم کپڑے پھاڑ کر باہر نکلنے کی کوشش کر رہا تھا . آنٹی نے ایک تنگ سی سرخ رنگ کی قمیض اور اس کے نیچے سفید رنگ کا کاٹن کا بہت ہی ٹائیٹ سا پجامہ پہنا ہوا تھا یوں لگتا تھا آنٹی نے کوئی جینز کی پینٹ پہنی ہوئی تھی اس میں سے آنٹی کی سڈول رانوں اور ان کی گانڈ کے اُبھار صاف نظر آ رہے تھے. پِھر کچھ دیر بعد جب آنٹی گلاس میں کولڈ ڈرنک ڈال کر لے آئی تو ایک گلاس مجھے اور ایک خود لے کر دوبارہ پِھر سامنے رکھے ہوئے صوفے پر بیٹھ گئی اور ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ کے اوپر چڑھا کر رکھ لیا اور اپنے جسم کو ذرا سا موڑ لیا جس سے آنٹی کی گانڈ کا ایک پٹ ٹائیٹ پجامہ میں بالکل عیاں ہو گیا اس کاٹن کے پجامہ میں آنٹی کی سفید ران اور ان کی گول مٹول موٹی تازی گانڈ کا پٹ صاف نظر آ رہا تھا یہ دیکھ کر میری حالت خراب ہونے شروع ہو گئی اور آج میں نے پینٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی اور پینٹ میں ہی میرا لن سر اٹھانے لگا تھا . اور میں اپنی ٹانگوں کو ادھر اُدھر کر کے اپنے لن کو پینٹ میں ہی ایڈجسٹ کر رہا تھا آنٹی میری حالت دیکھ کر سمجھ گئی تھی اور ایک عجیب سی مسکان دے رہی تھیں. اور میں پہلے ہی آنٹی سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا . آنٹی نے کہا کا شی بیٹا کیا ہوا خیر تو ہے کیوں تنگ ہو رہے ہو میں نے کہا نہیں آنٹی ایسی کوئی بات نہیں ہے آنٹی نے کہا بیٹا اِس عمر میں ایسا ہوتا ہے میں سب سمجھ سکتی ہوں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے . میں نے آنٹی کے منہ سے یہ بات سن کر تھوڑا سا حوصلہ ہوا اور میں نے آہستہ سے کہا آنٹی میں اس رات والی بات پر بھی آپ سے شرمندہ ہوں اور معافی چاہتا ہوں تو آنٹی نے کہا بیٹا کا شی بات نہیں ہے اس رات تو میری غلطی تھی مجھے خیال کرنا چاہیے تھا میں خود ہی بغیر کپڑوں کے کمرے سے باہر آ گئی تھی . اور پِھر جب میری نظر اچانک اوپر اٹھی تو میری سانس ہی جیسے رک گئی ہو کیونکہ آنٹی نے اپنی ایک ٹانگ کو فولڈ کر کے صوفے کے اوپر رکھا ہوا تھا جس سے ان کی پھدی والی جگہ سامنے نظر آ رہی تھی اور ان کی پھدی والی جگہ پر آنٹی کی تھوڑی سی شلوار پھٹی ہوئی تھی جس میں آنٹی کی کلین شیوڈ پھدی کی ہونٹ نظر آ رہے تھے . اور یہ دیکھ کر میرا لن پینٹ میں جھٹکے کھانے لگا تھا . میں نے پینٹ کے اوپر ہی اپنی لن پر ہاتھ رکھ کر نیچے دبانے لگا اور جب میں نے آنٹی کی طرف دیکھا تو وہ مجھے ہی دیکھ رہیں تھیں اور میری حالت دیکھ کر ان کے چہرے پر ایک ایک دِل فریب سمائل تھی میں آنٹی کے چہرے پر سمائل دیکھ کر حیران ہو گیا تھا . پِھر آنٹی نے کہا بیٹا میں کچن میں كھانا بنا لیتی ہوں تھوڑی دیر تک فیصل بھی آ جائے گا پِھر مل کر كھانا کھا لیں گے . اور وہ اٹھ کر باتھ روم میں جانے لگی تو میں نے آنٹی کو پیچھے سے دیکھا تو ان کی قمیض پیچھے سے اٹھی ہوئی تھی اور شلوار ان کی گانڈ کی دراڑ میں پھنسی ہوئی تھی اور ان کی گانڈ اوپر نیچے ہو کر مٹک رہی تھی اور یہ نظارہ دیکھ کر میرا لن مزید جھٹکے کھانے لگا تھا . جب آنٹی کچن میں چلی گئی تو انہوں نے اپنا دوپٹہ ایک طرف رکھ دیا اور کچن میں کام کرنے لگی اور مجھے کچن میں سے ہی آواز دے کر بولی کے کا شی بیٹا ٹی وی لگا لو میں نے ٹی وی لگا لیا اور ٹی وی پر اس وقعت عمران ہاشمی کی مووی مرڈر لگی ہوئی تھی کچن سے ٹی وی نظر نہیں آتا تھا اِس لیے میں بے فکر ہو کر دیکھنے لگا تقریباً 20 منٹ بعد جب مرڈر فلم کا وہ سین آیا جس میں عمران ہاشمی ملیکا شراوت کو پیار کر رہا ہوتا ہے . اس ٹائم ہی اچانک آنٹی خالی گلاس اٹھا نے کے لیے کچن سے نکل کر ٹی وی لاؤنج میں آ گئیں اور جب ان کی نظر سامنے ٹی وی پر پ لن ی تو میں فوراً ریموٹ اٹھا کر چنیل بدلنے کی کوشش کرنے لگا لیکن دیر ہو چکی آنٹی سب کچھ دیکھ چکی تھی آنٹی میری پینٹ میں بےی ہوئے اُبھار کو بھی دیکھ چکی تھی اور اِس دفعہ انہوں نے اپنی زُبان ہونٹوں پر پھیری اور ایک سیکسی سی سمائل دے کر دوبارہ کچن میں چلی گئی . میں آب آنٹی کی حرکت اور طلب کو کچھ کچھ سمجھنے لگا تھاجب آنٹی کچن میں چلی گئی تو میں مووی دیکھنے لگا اور سیکس سین دیکھ کر میرا لن جھٹکے کھانے لگا تھا میں کچھ دیر ٹی وی دیکھا اور پِھر ٹی وی بند کر کے کچن میں آنٹی کے پاس چلا گیا اور ان کے پاس کھڑا ہو کر پوچھنے لگا آنٹی اگر آپ کو میری مدد کی ضرورت ہے تو میں حاضر ہوں آنٹی نے مجھے اپنے پاس دیکھا تو مسکرا کر بولی بیٹا یہاں بہت گرمی ہے تم جاؤ میں كھانا بنا لوں گی تو میں نے دیکھا آنٹی کے ماتھے سے پسینہ بہہ کر ان کے نرم ملائم گالوں پر بہہ رہا تھا اور میں نے کہا آنٹی جی کوئی مسئلہ نہیں ہے اگر کوئی کام کرنا ہے تو مجھے بتا دیں میں مدد کر دیتا ہوں . تو آنٹی نے کہا بیٹا تم سلاد اور رائتہ بنا لو میں چنج پلاؤ پکا رہی ہوں . میں نے سلاد کا سامان لیا اور شیلف پر رکھ کر سلاد بنانے لگاجب میں سلاد بنا رہا تھا تو آنٹی کو سنک پر کچھ کام کرنا تھا اور سنک میرے ساتھ آگے کر کے بنا ہوا تھا آنٹی نے کہا بیٹا تھوڑا رستہ دینا مجھے سنک استعمال کرنا ہے تو میں تھوڑا پیچھے ہٹ گیا میری پینٹ میں ابھی تک اُبھار بنا ہوا تھا اور لن پینٹ کے اندر ہی تن کر کھڑا تھا . جب آنٹی میرے آگے سے گزری تو ان کی نرم اور موٹی تازی گانڈ میرے لن کے اُبھار کے ساتھ اچھی طرح ٹچ ہو گئی آنٹی کی گانڈ روئی کی طرح نرم تھی . میرے لن پر آنٹی کی گانڈ لگنے سے اور زیادہ جوش آ گیا تھا . آنٹی نے بھی اپنی گانڈ پر میرے لن کو محسوس کر لیا تھا اِس لیے پیچھے مڑ کر دیکھ کر مجھے ایک سیکسی سی سمائل دی . پِھر کچھ دیر سنک استعمال کر کے جب دوبارہ آنٹی میرے آگے سے گزری تو اِس دفعہ اپنی گانڈ کو مزید میری طرف کر کے کچھ سیکنڈ کے کیے میرے لن کے اُبھار پر رگڑ دیا جس سے میرے پورے جسم میں ایک کر نٹ دو ڑ گیا اور آنٹی کے منہ سے بھی ایک آہ سی نکل گئی

مجھے اب یقین ہو گیا تھا کے لوہا گرم ہے اور آنٹی کا بھی اپنا فل موڈ ہے . میں نے اپنے دماغ میں آنٹی کے ساتھ مزہ کرنے کے لیے پلان بنانا شروع کر دیا اور ساتھ ساتھ سلاد بنا رہا تھا پِھر میں نے آنٹی سے پوچھا کے انکل شام کو کتنے بجے آتے ہیں تو آنٹی نے کہا عام طور پر وہ 6 بجے گھر آجاتے ہیں لیکن آج تھوڑا لیٹ آئیں گے ان کے آفس میں آج میٹنگ ہے وہ آج کہہ کر گئے تھے کے آج لیٹ آؤں گا 10 بجے آئیں گےمیں نے سلاد بنا دی تھی اب رائتہ بنا نے لگا جب میں نے رائتہ بھی بنا دیا تو میرے کام ختم ہو گیا اور میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی اور کوئی کام ہے بتاؤ تو آنٹی نے کہا بیٹا بہت ہو گیا ہے اب تم جاؤ یہاں گرمی ہے تو میں نے کہا آنٹی جی آپ میری فکر نہیں کرو میں نے کہا آنٹی جی میں نے آج تک پلاؤنہیں بنایا ہے آپ مجھے بھی سکھا دیں کے اِس میں کیا کیا کرنا پڑتا ہے اور میں یہ بول کر آنٹی کے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا آنٹی نے مسکرا کر مجھے دیکھا اور بولی بیٹا اِس میں کیا مشکل ہے ابھی سکھا دیتی ہوں جب آنٹی نے یہ کہا تو میں تھوڑا آگے ہو گیا اب میرے اور آنٹی کے جسم میں بس 1 انچ کا فرق باقی رہ گیا تھا . میں نے کہا جی آنٹی آب بتاؤ پِھر آنٹی مجھے بتانے لگی کےپلاؤ  کیسے بناتے ہیں جب آنٹی نے کہا کے اتنا پانی اِس میں ڈالا جاتا ہے دیکھ لو تو میں آگے ہو کر اپنے جسم کو آنٹی کی گانڈ کے ساتھ ٹچ کر دیا اور آگے ہو کر دیکھنے لگا آنٹی نے جب اپنی گانڈ پر میرے لن کے اُبھار کو محسوس کیا تو تو ان کے منہ سے ایک ہلکی سی سسکی نکل گئی . اور انہوں نے بھی اپنی گانڈ کو تھوڑا پیچھے کی طرف دبا دیا اور میرے لن پر آہستہ آہستہ رگڑ نے لگی مجھے آنٹی کی گانڈ کو اپنے لن پر محسوس کر کے ایک نشہ سا چڑھ گیا تھاجب آنٹی اپنی گانڈ کو میرے لن پر رگڑ رہی تھی ان کے منہ سے گرم گرم سانسیں چل رہیں تھیں . میں نے بھی یہ دیکھا کر مزید آگے ہو کر اپنے لن کو تھوڑا اور آنٹی کی گانڈ کی دراڑ میں پھنسا دیا اور میں بھی اپنے جسم کو آہستہ آہستہ آگے پیچھے حرکت دینے لگا . اب شاید آنٹی کو زیادہ مزہ آنے لگا تھا ان کے منہ سے سسکیاں نکل رہیں تھیں میں نے اپنا ایک بازو آگے کر کے آنٹی کے پیٹ کے اوپر رکھ کر ان کے پیٹ پر ہاتھ پھیر نے لگا اور پیچھے سے اپنا لن ان کی گانڈ پر بھی رگڑ نے لگا . میں ایک الگ ہی دنیا میں چلا گیا تھا . اب تو آنٹی نے بھی اپنی گانڈ کو میرے لن پر اور زور سے دبانا شروع کر دیا تھا میں نے اب پہلے والا ہاتھ اوپر لا کر آنٹی کے ممے کو پکڑ لیا اور دوسرا ہاتھ بھی آگے کر کے آنٹی کی پھدی کے پاس رکھ کر قمیض کے اوپر ہی مسلنے لگا میری اِس حرکت سے آنٹی کے جسم کو ایک جھٹکا سا لگا انہوں نے لذّت بھری آواز میں بولا کا شی بیٹا یہ کیا کر رہے ہو بیٹا تو میں نے بھی جوش میں کہا آنٹی جی میں اپنی پیاری آنٹی کو وہ ہی مزہ دے رہا ہوں جس کے لیے وہ ترس رہی ہیں . تو آنٹی میری بات سن کر اور زیادہ سسکیاں لینے لگی . پِھر کچھ دیر بعد ہی آنٹی نے اپنا ایک ہاتھ پیچھے کر کے میری پینٹ کی ذپ پر رکھا اور میری پینٹ کی ذپ کو کھول کر اپنا ہاتھ اندر ڈال دیا اور میرے لن کو پکڑ لیا اندر میرا لن تن کر کھڑا تھا انڈرویئر میں نے پہنا ہی نہیں ہوا تھا اور میرا لن پینٹ کے اندر ہی قید تھا اور آنٹی کا ہاتھ لگنے کی وجہ سے اور زیادہ جھٹکے کھانے لگا تھا . آنٹی نے کچھ دیر میرے لن کو اپنے ہاتھ سے سہلایا اور پِھر مستی بھری آواز میں بولی کا شی بیٹا اِس کو کیوں قید کر کے رکھا ہے اِس بے چارے کو آزاد کرو . اِس کے ساتھ ہی خود ہی میرے لن کو نکال کر پینٹ سے باہر کر دیا . اور آنٹی نے اپنی گانڈ کے آگے سے اپنی قمیض کو ہٹا کر میرے لن کو اپنی شلوار کے اوپر ہی اپنی گانڈ کی دراڑ میں پھنسا دیا اور آگے پیچھے ہونے لگی . اب میرے لن اب گانڈ میں فل پھنسا ہوا تھا اور میں مزے کی ایک اور دنیا میں چلا گیا تھا . میں نے اپنے ہاتھ سے آنٹی کے قمیض کے نیچے سے ڈال کر ان کے ممے کو پکڑ لیا اور دوسرے ہاتھ سے قمیض کو آگے سے ہٹا کر آنٹی کی پھدی والی جگہ پر رکھ دیا میرے ہاتھ وہاں چلا گیا جہاں آنٹی کی شلوار پھٹی ہوئی تھی میں نے پھٹی ہوئی شلوار میں نے اپنی لمبی والی انگلی کو اندر ڈال کر آنٹی کی پھدی کے ہونٹوں پر پھیر نے لگا آنٹی کی سسکیاں اب اور تیز ہو کر کچن میں گونجنے لگیں تھیں کچھ دیر اپنی انگلی کو پھدی کے ہونٹوں پر پھیر کر میں نے اپنی انگلی کو آنٹی کی پھدی کے اندر کرنے لگا آنٹی کی پھدی اندر سے پوری طرح گیلی اور گرم تھی اور میں نے آہستہ آہستہ اپنی پوری انگلی آنٹی کی پھدی کے اندر کر دی اور آنٹی کے منہ سے ایک آواز آئی آہ اور میں دوسری طرف اپنے لن کو بھی آنٹی کے گانڈ کی دراڑ میں پھنسا کر آگے پیچھے ہو رہا تھا اور اپنی انگلی کو بھی آنٹی کی پھدی کے اندر باہر کر رہا تھا . میں تقریباً 5 منٹ تک اپنی انگلی کو آنٹی کی پھدی کے اندر باہر کرتا رہا اور ان کے سسکیاں کچن میں گونج رہیں تھیں اور پِھر آخر میں آنٹی کی پھدی نے اپنی گرم گرمی منی چھوڑ دی اور آنٹی کا جسم جھٹکے کھا رہا تھا اور آنٹی آہ آہ اُوں آہ کی آوازیں نکال رہی تھی . جب آنٹی نے اپنا سارا پانی نکال دیا تو پیچھے مڑ کر میرے آنکھوں میں دیکھا اور بولی کا شی بیٹا مزہ آ گیا ہے تمہاری انگلی میں جادو ہے . اور پوچھا کے کیا تمہارا پانی نکل گیا تو میں نے نہ میں سر ہلا دیا تو آنٹی نے کہا کوئی بات نہیں بیٹا میں ابھی اپنے بیٹے کو پیار دیتی ہوں اور آگے سے مڑ کر میرے طرف سیدھی ہو کر کھڑی ہو گئی اور پِھر اپنے پاؤں کے بل بیٹھ کر میری پینٹ کی بیلٹ کو کھولا اور پِھر میری پینٹ کو میرے گھٹنوں تک نیچے کر دیا میرا لن پورا تن کر سپرنگ کی طرح باہر آیا تو آنٹی پھٹی پھٹی نظروں سے میرے لن کو دیکھنے لگی اور پِھر بولی کا شی بیٹا تمہارا لن تو کافی بڑا اور موٹا بھی ہے تمہاری عمر کے حساب سے لگتا نہیں تھا کے تمہارا لن اتنا جاندار موٹا اور لمبا ہو گا . اور میرے لن کو ہاتھ میں پکڑ لیا اور کچھ دیر تک اس کو ہاتھ میں ہی سہلا تی رہی اور پِھر تھوڑا آگے ہو کر پہلے میرے لن کی ٹوپی پر ایک کس دی پِھر لن پر کس کی اور پِھر کچھ کس کرنے کے بعد اپنا منہ کھول کر لن کو ٹوپی پر اپنی زُبان کو پھیر دی ور پِھر میرے لن کی ٹوپی کو منہ میں لے کر آئس کریم کی طرح چُوسنے لگی . ابھی آنٹی میرے لن کی ٹوپی کو منہ میں لے کر چوس رہی تھی کے باہر دروازے پر گھنٹی بجی اور میں اور آنٹی دونوں ہی چونک گئے اور آنٹی فوراً کھڑی ہوئی اور بولی کا شی بیٹا اپنی پینٹ پہن لو اور ٹی وی لاؤنج میں جا کر بیٹھو میں دروازہ کھولتی ہوں شاید فیصل آ گیا ہے . اور مجھے ہونٹوں پر ایک کس دی اور میرے کان میں کہا کا شی بیٹا فکر نہیں کرنا میں تمہیں کسی نہ کسی دن پِھر موقع دوں گی اور دِل بھر کر دونوں مزہ کریں گے . میں نے آنٹی کو سمائل دی اور اپنی پینٹ پہن کر ٹی وی لاؤنج میں جا کر ٹی وی لگا کر بیٹھ گیا . آنٹی باہر دروازہ کھولنے چلی گئی باہر فیصل ہی تھا اندر آ کر مجھ سے ملا اور پوچھنے لگا کے اتنے دن سے کہاں تھے میں نے بتایا میں مصروف تھا یونیورسٹی شروع ہو گئی ہے . پِھر میں نے اور آنٹی نے اور فیصل نے مل کر كھانا کھایا اور میں شام کو اپنے گھر آ گیا . میں اندر سے بہت خوش تھا کے اب تو ایک اور مست پھدی کا انتظام ہو گیا ہے اور جلدی ہی آنٹی کی پھدی میں لن ڈال دوں گا . اور یہ ہی سوچ سوچ کر میرے اندر لڈو پھوٹ رہے تھے. پِھر کچھ دن یوں ہی گزر گئے میری فون پر حنا کے ساتھ بات چل رہی تھی اور اس کو کافی دفعہ میں مسرت کے ساتھ مزہ کروانے کا کہہ چکا تھا وہ ہر دفعہ یہ ہی کہتی تھی کے جلدی کوئی نہ کوئی موقع مل جائے گا . دوسری طرف میں فوزیہ آنٹی کے متعلق بھی سوچ رہا تھا کے ان کا بھی مزہ لینا ہے .

میں آج فیصل کے ساتھ اگلے ہفتے والے دن رات کو رہنے کا پلان بنا کر آیا تھا فیصل نے مجھے بتایا تھا کہ اس نے انٹرنیٹ سے کافی مال ڈائون لوڈ کر رکھا ہے میں نے اس کے ساتھ اگلے ہفتے کا پروگرام سیٹ کر لیا اور میں نے سوچ رکھا تھا اس دن ہی فوزیہ آنٹی کے ساتھ کوئی نہ کوئی بات آگے چلا لوں گا اور اگر موقع ملا تو فیصل کی امی کا بھی مزہ لے لوں گا . سوموار کو میں یونیورسٹی گیا ہوا تھا کے مجھے حنا کا ایس ایم ایس آیا کے اگر فری ہو تو مجھے کال کرو میں نے اس کو بتایا میں ابھی یونیورسٹی میں ہوں میں رات کو 9 بجے تک تمہیں کال کروں گا . اور میں یونیورسٹی سے چھٹی کر کے گھر آیا كھانا وغیرہ کھا کر تقریباً جب 9 بجے کا ٹائم تھا میں نے حنا کو کال کی اور پوچھا کے کیا بات ہے تو حنا نے کہا کے تمھارے لیے خوش خبری ہے . میں نے فوراً پوچھا کیا خوش خبری ہے . تو اس نے کہا ہفتے والے دن پورے ملک میں سرکاری چھٹی ہے اور اتوار کو ویسے چھٹی ہوتی ہے اِس لیے ہمارے ہاسٹل کی زیادہ تر لڑکیاں اپنے اپنے گھر کو جا رہی ہیں لیکن میں نے اور مسرت نے یہاں ہی رکنے کا فیصلہ کیا ہے اور میرا موڈ ہے تم ہفتے والے دن رات کو کسی طرح بھی خاموشی سے ہمارے ہاسٹل میں آ جاؤ اور رات وہاں ہی رہو پِھر تم اور میں اور مسرت مل کر مزہ کریں گے میں نے مسرت کو بھی پوچھا ہے وہ بھی راضی ہے . اب تم بتاؤ کیا موڈ ہے . میں تو حنا کی بات سن کر پاگل ہو گیا تھا ایک ساتھ دو پھدیاں مل رہیں تھیں موڈ تو پکا ہی پکا تھامیں نے فوراً کہا کے میرا موڈ پکا ہے مجھے منظور ہے لیکن میں ہاسٹل میں کیسے آؤں گا وہاں تھمارے ہاسٹل کا گارڈ کھڑا ہوتا ہے تو حنا نے کہا جیسے وہ دن کو كھانا کھانے کے لیے اپنے کمرے میں ہوتا ہے اس طرح رات کو بھی 8 بجے کے قریب وہ گیٹ کے ساتھ ہی اپنے کمرے میں بیٹھ کر كھانا کھاتا ہے تم کسی طرح بھی خاموشی سے اندر داخل ہو جاؤ اب یہ تم پر ہے کے مزہ لینے کے لیے کیا کر سکتے ہو اور ہنسنے لگی میں نے کہا حنا جی اب تو کچھ بھی ہو جائے مزہ لینے کے لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑے گا آپ بے فکر ہو جاؤ آپ اور مسرت تیار رہنا میں 8 بجے آپ کے کمرے میں  پہنچ  جاؤں گا. اور پِھر میں نے حنا سے کہا حنا جی ایک بات تو بتاؤ مسرت گانڈ میں بھی کرواتی ہے تو حنا آگے سے ہنسنے لگی اور بولی کا شی جی سچ کہہ رہی ہوں آپ پنجابی نہیں ہو آپ مجھے پٹھان لگتے ہو جو پھدی سے زیادہ گانڈ کے دیوانے لگتے ہو . میں بھی اس کی بات سن کر ہنس پڑا اور بولا نہیں حنا جی ایسی بات نہیں ہے ہاں مجھے گانڈ مار نے کا شوق ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کے میں پٹھان نہیں پنجابی ہی ہوں کیونکہ مجھے صرف لڑکیوں کی گانڈ کا شوق ہے پٹھان کو تو صرف لڑکوں کی گانڈ کا شوق ہوتا ہے اور نہ ہی میں نے آج تک کسی لڑکے سے کیا ہے اور نہ ہی اِس چیز کو پسند کرتا ہوں . حنا نے کہا یہ تو بہت اچھی بات ہے لیکن مسرت کا مجھے پکا پتہ نہیں ہے کے وہ گانڈ میں کرواتی ہے یا نہیں لیکن کا شی جی فکر نہ کرو اگر اس نے گانڈ میں نہیں کرنے دیا تو آپ اس کی پھدی میں کر لینا اور میری گانڈ میں کر لینا . آپ کا بھی مزہ پورا ہو جائے گا . میں نے کہا حنا جی آپ کی یہ ہی محبت اور ادا میری جان نکال لیتی ہےپِھر میں کچھ دیر اور حنا کے ساتھ گھپ شپ لگاتا رہا اور پِھر تقریباً 11 بجے تک پِھر فون بند کر کے سو گیا . اس دن کے بعد میری حنا سے جمه والے دن رات کو بات ہوئی جس میں اس کو اپنا پکا آنے کا پلان بتا دیا اور پِھر یوں ہفتے والا دن بھی آ گیا اور اس دن میں نے اپنی انڈر شیو کی اور اپنی پوری تیاری کر کے شام کو ریڈی ہو کر حنا کے ہاسٹل کی طرف چلا گیا آج چھٹی تھی ٹریفک بھی نہیں تھی میں جلدی ہی اسپتال کی پارکنگ میں پہنچ گیا اور اپنی موٹر بائیک کو وہاں پارکنگ میں پارک کر دیا اور اپنے موبائل سے حنا کو ایس ایم ایس کر دیا کے میں پارکنگ میں کھڑا ہوں پارکنگ سے ہاسٹل کا رستہ 5 منٹ کا تھا حنا نے کہا جب گارڈ كھانا کھانے کمرے میں جائے گا وہ مجھے مس کال دے گی پِھر تم آ جانا اس وقعت 8 بجنے میں 15 منٹ باقی تھے میں پارکنگ میں کچھ دیر کھڑا ہو گیا تقریباً 10 منٹ بعد ہی مجھے حنا کی مس کال آئی میں سمجھ گیا تھا میں پارکنگ سے تیزی کے ساتھ چلتا ہوا ہاسٹل کے گیٹ پر پہنچ گیاگیٹ کے ایک طرف کھڑا ہو کر دیکھا تو گارڈ وہاں موجود نہیں تھا میں آگے ہو کر گیٹ کے چھوٹے دروازے پر گیا جو کھلا ہوا تھا . میں نے خاموشی سے اندر داخل ہوا اور گارڈ کے کمرے کی مخالف سمت جو دیوار کے ساتھ رستہ بنا ہوا تھا اس طرف سے خاموشی سے چلتا ہوا ہاسٹل کی بِلڈنگ کے پاس پہنچ گیا . بِلڈنگ کے اندر داخل ہو کر گراؤنڈ فلور پر میں لوبی میں ایک لائٹ جل رہی تھی اور گراؤنڈ فلور پر میں نے اندازہ لگایا کے صرف 1 کمرے کی کھڑکی سے لائٹ جلتی ہوئی نظر آ رہی تھی باقی سب کے آگے اندھیرا تھا میں بغیر آواز کیے ہوئے فرسٹ فلور پر آ گیا یہاں پر ہی حنا کا بھی روم تھا میں جیسے ہی فرسٹ فلور پر پہنچا تو پہلے کمرے کی کھڑکی سے لائٹ آتی ہوئی نظر آ رہی تھی . اور اس لائن میں جو آخری کمرہ تھا اس میں سے لائٹ جلتی ہوئی نظر آ رہی تھی باقی ہر جگہ اندھیرا تھا لوبی کی صرف 1 ہی لائٹ جل رہی تھی . جس آخری کمرے میں سے لائٹ آ رہی تھی وہ حنا کا تھا میں اب کافی حد تک خوش تھا کے اِس کا مطلب ہے اِس فلور پر زیادہ لوگ نہیں ہیں اور حنا کے کمرے کے ساتھ بنے ہوئے 4 کمرے بھی آج خالی ہیں شاید وہ لڑکیاں گھر چلی گئیں ہیں میں پِھر بغیر آواز کیے ہوئے چلتا ہوا بالکل حنا کے کمرے کے دروازے پر جا کر کھڑا ہو گیا اور اپنے موبائل سے حنا کے نمبر پر مس کال دی 5 سیکنڈ بعد ہی حنا نے بغیر کوئی آواز کیے ہوئے دروازہ کھول دیا مجھے سامنے دیکھ کر اچھل پڑی اور آگے ہو کر میرے گلے لگ گئی اور میرے ہونٹ چومنے لگی پِھر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اندر لے گئی اور پِھر اندر سے دروازہ بند کر دیا میں جب اندر داخل ہوا تو حنا اکیلی تھی مسرت نہیں تھی میں تھوڑا حیران ہوا لیکن فلحال خاموش ہی رہا اور پِھر میں حنا والے بیڈ پر جا کر بیٹھ گیا حنا مسرت والے بیڈ پر بیٹھ گئی اور مجھے دیکھ کر مسکرا نے لگی اور کہنے لگی واہ کا شی جی آپ نے آج دِل خوش کر دیا ہے میں سمجھ رہی تھی آب شاید ڈر جاؤ گے اور نہیں آؤ گے آپ نے آج کمال کر دیا

میں نے کہا حنا جی آپ بلاؤ تو میں نہ آؤں یہ کیسے ہو سکتا ہے . اب تو آپ سے دِل لگی سی ہو گئی ہے حنا پِھر اٹھ کر گلاس میں کولڈ ڈرنک ڈالنے لگی اور اور پِھر مجھے ایک گلاس دیا دوسرا خود لے لیا اور مسرت والے بیڈ پر بیٹھ گئی تو میں نے کہا حنا جی آپ کی سہیلی نظر نہیں آ رہی کیا اس کا موڈ نہیں بن سکا تو حنا نے کہا نہیں ایسی بات نہیں ہے اس کا موڈ تو میرے سے زیادہ ہے جب سے تمہاری اور اپنی ہوٹل والی اسٹوری سنائی ہے وہ مجھے خود کافی دفعہ کہہ چکی ہے کے میری بھی کا شی سے ملاقات کروا دو لیکن مجھے ہی کوئی مناسب موقع نہیں مل رہا تھا اور آج ملا ہے تو تمہیں بلا لیا ہے اور مسرت بھی اندر باتھ روم میں ہے تمھارے لیے اِسْپیشَل تیاری کر رہی ہے . اور مجھے آنکھ مار دی . میں اس کی بات سن کر ہنسنے لگا. پِھر کوئی 10 منٹ بعد ہی مسرت باتھ روم سے باہر نکل آئی مجھے سے جب نظر ملی تو شرما سی گئی مسرت ایک سانولے رنگ کی کشش والی اور نین نقش والی لڑکی تھی . اس نے دوپٹہ اتارا ہوا تھا اس کا جسم کافی بھرا ہوا اور سڈول جسم تھا ممے بھی 36 کے لگ رہے تھے اور گانڈ اور رانںے کافی بھری ہوئی تھیں . حنا شاید میری آنکھوں کی طرف ہی دیکھ رہی تھی فوراً بولی کا شی تم تو ایسے دیکھ رہے ہو جیسے مسرت کو ابھی کھا ہی جاؤ گے . میں حنا کی بات سن کر مسکرا پڑا اور بولا ایسی بات نہیں ہے حنا جی بس دیکھ رہا تھا آپ کی دوست بھی کافی پیاری اور سیکسی ہیں میری بات سن کر مسرت کا چہرہ لال سرخ ہو گیا . اور وہ کمرے میں لگے شیشے کے پاس جا کر اپنے بال بنانے لگی. پِھر حنا بھی اٹھی اور کمرے کے ساتھ ایک چھوٹا سا اسٹور نما کمرا بنا ہوا تھا اس میں چلی گئی اور تھوڑی دیر بعد 3 پلیٹس میں پلاؤ ڈال کے لے آئی اور مسرت نے بھی اپنے بال بنا لیے تھے وہ بھی ہمارے ساتھ ہی نیچے کارپٹ پر بیٹھ کر کر كھانا کھانے لگی كھانا وغیرہ کھا کر حنا نے مجھے کولڈ ڈرنک دی اور ایک گلاس میں مسرت کو خود بھی اپنے گلاس میں ڈال کر دونوں مسرت والے بیڈ پر بیٹھ گیں اور میں حنا والے بیڈ پر بیٹھ گیا . میں نے حنا سے کہا حنا جی آپ کی دوست بہت خاموش طبیعت ہیں کوئی بات وغیرہ نہیں کر رہی ہیں تو حنا نے کہا بہت باتیں کرتی ہے بس تمھارے سامنے پہلی دفعہ ہے نہ اِس لیے شرما رہی ہے جب تمہارا پورا لن اندر لے گی تو ساری شرم اِس کی ختم ہو جائے گی مسرت نے شرما کر حنا کی کمر میں مکا مارا تو حنا بولی مجھے کیوں مار رہی ہو خود ہی تو اتنے دنوں سے میرے پیچھے پڑ ی ہوئی تھی کے کب کا شی سے ملاقات کراؤ گی اب وہ آ گیا ہے تو شرما کیوں رہی ہو.مسرت نے بھی حنا کو کہا تم بھی تو صبح سے اچھل رہی ہو بار بار ٹائم کا پوچھ رہی تھی کے کب رات کو 8 ہوں گے تو حنا نے کہا ہاں میں پوچھ رہی تھی کا شی تو میرا یار ہے مجھے تو اِس سے پیار ہے جتنا مزہ مجھے کا شی کے ساتھ آیا تھا تمہیں بتا نہیں سکتی میں تو خوش ہوں . میں نے کہا یار آپ دونوں کیوں لڑ رہی ہو میں تم دونوں کے لیے ہی آیا ہوں . آج کی رات آپ دونوں کے نام اور پِھر حنا اٹھ کر میرے والے بیڈ پر آ گئی اور میرے ساتھ چپک کر بیٹھ گئی اور ایک ہاتھ سے کولڈ ڈرنک پی رہی تھی اور دوسرا ہاتھ میری ران پر پھیر رہی تھی. پِھر کچھ دیر میں ہی حنا نے اپنی کولڈ ڈرنک ختم کر کے گلاس کو ایک سائڈ پر رکھ دیا اور دوبارہ پِھر میرے ساتھ چپک گئی اب ایک ہاتھ میرے سینے پر دوسرا ہاتھ میری ران پر پھیر رہی تھی . حنا نے کہا مسرت کیا دیکھ رہی ہو اب شرم وغیرہ کو چھوڑو اور آ جاؤ مزہ لیں مسرت نے کہا حنا بڑی والی لائٹ کو آ ف کر دو چھوٹی والی لائٹ آن کر دو پِھر میں بھی آتی ہوں . حنا نے اپنے بیڈ کے ساتھ لگے سوئچ سے بڑی لائٹ آ ف کر دی اور زیرو کا بلب آن کر دیا زیرو کے بلب سے بھی کافی روشنی کمرے میں پھیلی ہوئی تھی. پِھر حنا نے خود ہی آگے ہو کر میری شرٹ کی بٹن کو کھولنا شروع کر دیا اور پِھر شرٹ کو میرے بازو سے باہر نکال کر ایک سائڈ پر رکھ دیا اور پِھر میرے بنیان بھی اُتار دی اب میں اوپر سے پورا ننگا تھا . اور مسرت بھی اٹھ کر حنا والے بیڈ پر آ گئی میری لیفٹ سائڈ پر حنا اور رائٹ سائڈ پر مسرت آ کر بیٹھ گئی اور وہ بھی میرے ساتھ چپک گئی حنا اور مسرت نے پہلے ہی اپنا اپنا دوپٹہ اُتار کر رکھا ہوا تھا. حنا اور نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیئے اور مسرت نے اپنی انگلیاں میرے سینے کے بالوں میں پھیر نی شروع کر دیں اور دوسرے ہاتھ سے وہ میرے لن کے پاس ہی ہاتھ رکھ کر میری ران کو دبا رہی تھی . میرے لن پہلے ہی نیم کھڑی حالت میں پینٹ میں تھا . اور اوپر سے حنا میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے کر بدستور چوس رہی تھی اور مسرت میرے سینے کے بالوں سے کھیل رہی تھی . مسرت میرے ننگے کاندھے پر ہلکی ہلکی کس بھی کر رہی تھی . میرے اور حنا اور مسرت کے درمیان یہ کھیل کوئی 5 منٹ سے چل رہا تھا. مسرت میرے لن کے نزدیک ہی میری ران کو مسل اور دبا رہی تھی میں خود ہی اپنے ہاتھ سے مسرت کا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن کے اوپر رکھ دیا اور میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا تو اس کی آنکھوں میں ایک چمک اور نشہ تھا پِھر کچھ ہی دیر میں مسرت نے میرے لن پر اپنے ہاتھ کو دبانا شروع کر دیا وہ بہت پیار سے لن کو دبا رہی تھی اور ساتھ ساتھ میرے کاندھے پر کس کر رہی تھی . حنا اور میں ایک دوسرے کے ہونٹوں کو چُوسنے میں لگے ہوئے تھے . پِھر جب حنا کافی دیر میرے ہونٹ چُوسنے کے بعد اس نے اپنے آپ کو مجھے سے الگ کیا اور مسرت کو بولی اب تمہاری باری ہے . میں نے مسرت کی طرف منہ کیا تو مسرت نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیئے اس کی نرم ملائم اور گرم ہونٹ تھے میں نے جب اپنی زُبان اس کے منہ میں دی تو اس نے بہت ہی آرام آرام سے میری زُبان کو چوسنا شروع کر دیا مسرت کی گرم گرم سانسیں مجھے محسوس ہو رہیں تھیں .دوسری طرف حنا نے میری پینٹ کی بیلٹ کھولی پِھر پینٹ کا ہُک کھول کر ذپ بھی کھول دی اور میرے پاؤں کی طرف جا کر میرے پینٹ کو آہستہ آہستہ کھینچنے لگی میں نے اپنی گانڈ کو تھوڑا سا اٹھا کر اس کو پینٹ اُتار نے میں مدد کی اور پِھر اس نے میری پینٹ اُتار کر ایک سائڈ پر رکھ دی آج میں پینٹ کے نیچے انڈرویئر نہیں پہن کر آیا تھا کیونکہ مجھے پتہ تھا آج مزہ کرنے کا دن ہے حنا نے جب میرے نیم کھڑی ہوئی حالت میں لن کو دیکھا تو بولی یہ ہے میرا اصل دوست جس نے مجھے اپنے دیوانہ کر دیا ہے مسرت جو میرے ہونٹوں کو اور میری زُبان کو چوس رہی تھی اس نے منہ ہٹا کر دیکھا تو اس کی آنکھوں میں بھی ایک عجیب سی چمک آ گئی حنا بولی مسرت دیکھو اب بتاؤ کا شی کا بڑا ہے یا تمھارے منگیتر کا بڑا ہے . تو مسرت نے آگے ہو کر اپنے نرم ہاتھوں سے میرے لن کو پکڑا اور حنا کو کہا یہ تو ابھی فل کھڑا بھی نہیں ہے تو اتنا بڑا لگ رہا ہے یہ تو حقیقت میں میرے منگیتر کے لن سے بڑا ہے . حنا نے کہا تو پِھر بتاؤ آج پورا لو گی اندر تو مسرت نے میرے لن کو سہلا کر بولا حنا مزہ ہی پورا لینے میں ہے میرے منگیتر کا اِس سے چھوٹا ہے یہ کافی بڑا اور موٹا ہے مجھے درد تو ہو گی میں نے کبھی اتنا بڑا نہیں لیا ہے صرف اپنے منگیتر کا ہی لیا ہے اس کا 4 انچ جتنا ہے لیکن پِھر بھی میں یہ پورا اندر لوں گی .مسرت نے دوبارہ میرے ساتھ کسسنگ کرنا شروع کر دی اور حنا نے میرے لن کی ٹوپی کو اپنے منہ میں لے لیا اور اس کو چُوسنے لگی تقریباً 2 منٹ مزید کسسنگ کے بعد مسرت بھی الگ ہو گئی اس کو اب میرے لن کی زیادہ طلب تھی . وہ بھی آگے ہو کر کر میرے لن کے اوپر جھک گئی حنا میرے لن کی ٹوپی کو چوس رہی تھی مسرت نے بھی اپنی جگہ بنا کر میرے ٹودں کو اپنے منہ میں لے لیا وہ میرے ٹویں کو چوس رہی تھی . حنا کچھ دیر میرے لن کی ٹوپی کو چوس کر پِھر وہ آہستہ آہستہ پورے لن کو منہ میں لے کر چوپا لگانے لگی . حنا نے آدھے سے بھی زیادہ لن منہ میں بھر لیا تھا اور اس پر اپنی زُبان کو گھما گھما کر وہ میرے لن کے چو پے لگا رہی تھی . کچھ دیر بعد حنا نے میرے لن کا چوپا لگا کر مسرت کو کہا مسرت اب تم بھی تھوڑا آئس کریم کا مزہ لے لو تو مسرت نے میرے لن کو منہ میں لے لیا مسرت کی زُبان میں ایک جادو تھا اس کا منہ اور زُبان کافی گرم تھی وہ اپنی زُبان اور گول گول گھما کر میرے لن کا اپنے منہ کے اندر ہی مساج کر رہی تھی . مجھے ایسا مزہ پہلے کبھی نہیں آیا تھا . اِس طرح کو کا چوپا مسرت پہلی تھی جو لگا رہی تھی . مسرت جس طرح مساج کر کے میرے لن کا چوپا لگا رہی تھی دل کرتا تھا کے لن کو اس کے منہ کے اندر ہی رکھوں اور کچھ نہ کروں

مسرت اور حنا کے چو پوں نے میرے لن کے اندر ایک جان ڈال دی تھی میں میرا لن لوہے کے راڈ کی طرح کھڑا تھا میں نے حنا سے پوچھا حنا جی کس نے اب آگے آنا ہے تو حنا نے کہا مسرت کی پھدی کو ٹھنڈا کرو یہ بہت دنوں سے میرے پیچھے لگی ہوئی تھی میں تو اپنی جان کو آج پہلے اپنی گانڈ دوں گی پِھر پھدی میں کروا لوں گی . میں نے مسرت کی طرف دیکھا تو اس نے کہا میں تیار ہو آپ بتاؤ کس پوزیشن میں کرنا ہے تو میں نے کہا آپ بتاؤ آپ کو کس پوزیشن میں اچھا لگا ہے تو مسرت نے کہا مجھے تو سیدھا لیٹ کر مزہ زیادہ آتا ہے جب ٹانگیں کاندھے پر رکھی ہوں تو لن پورا اندر تک جاتا ہے تو میں نے کہا ٹھیک ہے آپ سیدھی لیٹ جاؤ میں ویسے ہی کر لیتا ہوں. مسرت اور حنا نے اپنے کپڑے اُتار دیئے تھے اور وہ بھی پوری طرح ننگی ہوں گیں تھیں مسرت اپنی ٹانگوں کو چوڑا کر کے میرے آگے سیدھی لیٹ گئی اس کی پھدی پر ایک بال تک نہیں تھی کلین شیوڈ پھدی تھا اس کی پھدی کے ہونٹ آپس میں جڑے ہوئے تھے اس کی پھدی کا منہ چھوٹا سا تھا. میں نے حنا کو کہا جان تھوڑا لن کو گیلا کر دو تو حنا نے اپنے منہ میں لے کر تھوک سے کافی حد تک گیلا کر دیا پِھر خود ہی میرے لن کو پکڑ کر مسرت کی پھدی کے منہ پر سیٹ کیا اور مجھے بولا کا شی دھکا لگاؤ میں نے ایک دھکا لگایا میرے لن کی ٹوپی مسرت کی پھدی کے اندر جا گھسی حنا کے منہ سے ایک آواز آئی آہ حنا شرم کرو اتنا بھی ظلم نہیں کرو مجھ پر حنا نے کہا لن لینے کی مستی چڑی تھی اب لو لن کو ابھی تو صرف ٹوپی گئی ہے تو بول رہی ہو ابھی تو پورا لن باقی ہے مسرت نے کہا کا شی جی تھوڑا آرام سے کرو آپ کا لن کافی بڑا اور موٹا ہے . میں نے پِھر اپنے لن کو آہستہ آہستہ اس کی پھدی کے اندر کرنا شروع کر دیا مسرت کی پھدی کافی تنگ تھی میرے لن کو اس کی پھدی نے کافی ٹائیٹ کیا ہوا تھا . لیکن میں پِھر بھی لن کو اندر کر رہا تھا میرا آدھے سے زیادہ لن اندر چلا گیا تھا یکدم ہی حنا نے مجھے پیچھے سے دھکا دیا اور میرا پورا لن ایک جھٹکے میں مسرت کی پھدی کی جڑ تک اُتَر گیا مسرت کی ایک کافی اونچی درد بھری آواز نکلی ہا اے میں مر گئی کمینی کتی حنا میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی تم بہت ظالم ہو حنا نے آنکھ مار کے کہا ہاں کر لینا جو کرنا ہے لن لینا ہو تو درد کو سہنا پڑتا ہے . درد کے بغیر چدائی کا مزہ ہی بیکار ہے. میرا پورا لن مسرت کی پھدی کے اندر تھا میں وہاں ہی رک گیا اور اپنے جسم کو کسی قسِم کی حرکت نہیں دے رہا تھا . ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کے اب اپنے لن کو آہستہ آہستہ اندر باہر کرنا شروع کرتا ہوں تو اس وقعت ہی حنا کا موبائل بجنے لگا . حنا جو میرے پاس ہی بیٹھی تھی اس نے ٹیبل سے اپنا موبائل اٹھایا اور کال کو دیکھ کر غصے میں بولی اِس کتی کو اتنی رات کو کیا مسئلہ ہو گیا ہے . حنا نے کال پک کی تھوڑی دیر بات کر کے کال ختم ہو گئی تو میں نے دیکھا حنا کا منہ اترا ہوا تھا اور غصہ بھی کافی تھا . میں نے پوچھا حنا خیر ہے تو حنا بولی خیر ہی تو نہیں ہے . جب کبھی کوئی اپنی لائف انجوئے کرنے کا موقع ملتا ہے کوئی نہ کوئی مصیبت آ جاتی ہےمیں نے کہا کیا بات ہے تو حنا نے کہا وہ ہماری ایک ڈیوٹی نرس کا فون تھا اس نے مجھے ایمرجنسی میں بلایا ہے ایک ایمرجنسی ڈلیوری کیس آیا ہے اور کوئی نرس یہاں ہے نہیں ہے تو کسی نے میرا بتا دیا ہے کے میں گھر نہیں گئی یہاں ہی ہوں اِس لیے اس نے مجھے بلا لیا ہے . مسرت جو نیچے لیی  ہوئی تھی اور میرا لن اس کی پھدی کے اندر تھا اور اب وہ کافی حد تک سکون میں تھی اس نے حنا کو کہا حنا تم کا شی کے ساتھ مزہ کرو میں تمہاری جگہ چلی جاتی ہوں . تو حنا نے کہا نہیں مسرت کوئی بات نہیں ہے میں تو پہلے بھی مزہ لے چکی ہوں دوبارہ کبھی بھی کا شی کے ساتھ ہوٹل میں بھی جا کر مزہ لے لوں گی تم آج رات کھل کر مزہ کرو میں تیار ہو کر اسپتال جا رہی ہوں کوشش کر کے جلدی واپس آ جاؤں گی اور شاید 1 رائونڈ میں بھی لگوا لوں لیکن اگر لیٹ ہو گئی تو تم دونوں مزہ کر لینا اور حنا نے کہا کا شی تم صبح جلدی ہی ہاسٹل سے نکل جانا صبح کے وقعت کسی نے دیکھ لیا تو مشکل ہو سکتی ہے . تو میں نے کہا ٹھیک ہے میں صبح ہی نکل جاؤں گا . پِھر حنا اٹھ کر باتھ روم چلی گئی اور 10 منٹ بعد ہی تیار ہو کر کمرے سے نکل گئی میرا لن مسرت کی پھدی میں تھا میں اٹھ نہ سکا اور حنا بس دروازہ بند کر کے چلی گئی . میں نے پِھر اپنے لن کو آہستہ آہستہ اندر باہر کرنا شروع کر دیا پہلے تو میں نے اپنی سپیڈ نارمل ہی رکھی اور آہستہ آہستہ مسرت کی پھدی میں دھکے لگا رہا تھا . کچھ دیر میں مسرت کو بھی مزہ آنے لگا تھا اس نے نیچے سے اپنے جسم کو حرکت دے کر ساتھ دینا شروع کر دیا تھا . مسرت کی ٹانگیں میرے کاندھے پر رکھی ہوئی تھیں . جب مسرت کو مزہ آ رہا تھا اس نے اپنی ٹانگوں کو میری کمر کی پیچھے سےجرر لیا تھا. اور اپنی گانڈ کو اٹھا کر لن پھدی کے اندر کروا رہی تھی . مجھے مسرت کو چود تے ہوئے 5 سے 7 منٹ گزر چکے تھے اب میرے جھٹکوں میں بھی کافی حد تک تیزی آ چکی تھی . اور مسرت کی لذّت بھری سسکیاں کمرے میں گونج رہیں تھیں . . . آہ آہ اوہ اوہ آہ آہ اوہ کا شی جی اور زور لگا کر پھدی مارو مجھے بہت مزہ آ رہا ہے . مسرت کی باتیں سن کر مجھے بھی جوش چڑھ گیا تھا میں یکایک اپنے پوری طاقت سے مسرت کی پھدی مار نے لگا تھا میرے اور اس کے جسم سے دھپ دھپ کی آوازیں نکل رہیں تھیں . اور مسرت کی اپنی سسکیاں بھی پورے کمرے میں گونج رہیں تھیں . میرے جاندار جھٹکوں نے مسرت کی پھدی کو ڈھیلا کر دیا اور اس کی پھدی نے گرم گرم منی کا لاوا چھوڑنا شروع کر دیا . مسرت کا پورا جسم جھٹکے کھا رہا تھا اور کانپ رہا تھا . مسرت کی پھدی کا گرم پانی جب میرے لن کے اوپر گرا تو مجھے اور زیادہ شہوت سی چڑھ گئی میں نے طوفانی انداز اپنا لیا اور اپنی فل طاقت سے مسرت کی پھدی کو چودنے لگا اور تقریباً 3 سے 4 منٹ کی مزید چدائی کے بعد میں نے بھی اپنی منی کا لاوا مسرت کی پھدی میں چھوڑنا شروع کر دیا . اور تھک کر ہانپ رہا تھا اور مسرت کے اوپر ہی گر گیا اور دوسری طرف میرے لن بدستور مسرت کی پھدی میں منی چھوڑ رہا تھا . جب میرے لن نے اپنی منی کا آخری قطرہ بھی نکال دیا تو میں مسرت کے اوپر سے ہٹ کر ایک سائڈ پر ہو کر اس کے ساتھ ہی لیٹ گیا . مسرت بھی لمبی لمبی سانسیں لے رہی تھی پِھر کچھ بعد وہ اٹھ کر باتھ روم چلی گئی اور 10 منٹ بعد باتھ روم سے فریش ہو کر دوبارہ ننگی ہی میرے ساتھ آ کر لیٹ گئی پِھر اس کے بعد میں باتھ روم گیا اور فریش ہو کر دوبارہ مسرت کے ساتھ آ کر لیٹ گیا . میں نے اس کو کہا کے مزہ آیا کے نہیں تو اس نے کہا بہت مزہ آیا ہے تمہارا لن بہت ہی مزے کا ہے . بچہ دانی تک جا کر لگتا ہے اور تمھارے جھٹکے تو پھدی کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں . آج پہلی بار زندگی میں کسی لن نے میری پھدی کو اچھی طرح ٹھنڈا کیا ہے . میرا منگیتر  بھی کرتا ہے لیکن اس کی ٹائمنگ بہت تھوڑی ہے . وہ 4 یا 5 منٹ سے زیادہ نہیں کر سکتا لیکن تم تو عورت کا پانی نکلوا کر بھی اس کے بعد جا کر اپنا پانی چھورتے ہو . مزہ آ جاتا ہے. میں نے کہا مسرت جی ایک بات پوچھوں تو مسرت نے کہا ہاں پوچھو تو میں نے کہا کبھی گانڈ میں کروایا ہے تو وہ میری بات سن کر مسکرا پڑی اور بولی مجھے آج ہی حنا بھی پوچھ رہی تھی . اور بتا رہی تھی تم گانڈ کے بھی بہت شوق رکھتے ہو . لیکن سچ یہ ہے کے میں نے ابھی تک گانڈ میں نہیں کروایا ہے . لیکن تمھارے لیے یہ بھی درد برداشت کر لوں گی لیکن آج نہیں گانڈ میں کروانے کے لیے یہ جگہ ٹھیک نہیں ہے ہوٹل میں ہو سکتا ہے ہوٹل میں پروگرام بنا لیں گے وہاں کر لینا یہاں میری چیخوں کو سن کر ہر کوئی بھاگ کر آ جائے گا کیونکہ مجھے پتہ ہے تمہارا لن گانڈ میں لے کر مجھے بہت زیادہ تکلیف اٹھانا پڑے گی . تو میں نے کہا ٹھیک ہے کوئی بات نہیں ہوٹل میں ہی کسی دن پروگرام بنا لیں گے . پِھر اس رات میں نے مسرت کو مزید ایک دفعہ جم کر چودا اور صبح 6 بجے تک حنا واپس نہیں آئی اور میں 6 بجے ابھی کچھ کچھ اندھیرا تھا میں خاموشی سے گیٹ کھول کر باہر نکلا صبح کا ٹائم تھا کوئی خاص لوگ نہیں تھے میں پارکنگ میں آ گیا اور وہاں سے اپنی موٹر بائیک نکال کر اپنے گھر آ گیا .

مسرت کے ساتھ مزہ کرنے کے بعد مجھے اب اس کی گانڈ مارنے کا شوق پیدا ہو گیا تھا . میں اب چاہتا تھا کے کوئی نہ کوئی موقع بن سکے تو میں مسرت کے ساتھ کسی ہوٹل میں پلان بنا کر اس کی گانڈ کا مزہ بھی چکھ سکوں اور دِل میں اِس بات کی بھی خوشی تھی کے مسرت گانڈ کے لحاظ سے ابھی کنواری تھی . لیکن مسرت کے ساتھ دوبارہ مزہ کرنے کا پلان ابھی دور تھا اِس لیے اس دن کے بعد میں ایک بار پِھر اپنی پڑھائی پر دھیان دینے لگا 2 دن بعد ایک دن رات کو میری حنا کے ساتھ فون پر گھپ شپ لگ رہی تھی تو اس نے مجھے بتایا کے مسرت تو تمھارے لن کی دیوانی ہو گئی ہے مجھے کہتی ہے دِل کرتا ہے کاش کا شی میرا میاں ہوتا تو میں روز اس کا لن لیتی . میں حنا کی بات سن کر ہنس پڑا اور اس کو کہا حنا جی اس کو کہو کے ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے اگر میاں نہیں ہوں دوست تو ہوں وہ جب بھی کہے گی تو میں حاضر ہو جاؤں گا اور اپنے لن کی سیر کروا دیا کروں گا . اس دن کافی دیر تک میں حنا کے ساتھ گھپ شپ لگاتا رہا پِھر اس نے مجھے بتایا کے میں 2 دن بعد لاہور گھر جا رہی ہوں اور اگلے سوموار کو دوبارہ ڈیوٹی پر آؤں گی . اور پِھر اس دن رات میری اس سے آخری فون پر بات ہوئی . جب جمه کو میری کلاسز ختم ہو گئیں تو میں کافی پر سکون تھا . مجھے اِس ہفتے کو فیصل کی طرف بھی جانا تھا اور رات اس کی طرف ہی رکنا تھا . اور ہفتے والے دن میں شام کو فیصل کی طرف چلا گیا اس کی گھر پہنچ کر دروازے پر دستک دی تو تھوڑی دیر بعد فیصل کی امی نے دروازہ کھولا مجھے دیکھا تو ان کے چہرے پر ایک عجیب سی نشیلی سی مسکان آ گئی اور مجھے سے بولیں کا شی بیٹا کیا حال ہے کہاں تھے اتنے دن تو میں نے کہا آنٹی میں تو یہاں ہی تھا بس پڑھائی میں مصروف تھا اِس لیے چکر نہیں لگا سکا آنٹی نے مجھے اندر جانے کا رستہ دیا میں اندر داخل ہو کر سیدھا ٹی وی لاؤنج میں آ گیا وہاں فیصل کی ابو پہلے ہی بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے میں نے ان کو سلام کیا اور صوفے پر بیٹھ گیا انکل نے پوچھا اور کا شی بیٹا سناؤ کیا حال ہے گھر میں سب کیسے ہیں ابو کیسے ہیں تو میں نے کہا انکل سب ٹھیک ہے ابو بھی ٹھیک ہیں انکل نے کہا بیٹا آج کافی دن بعد نظر آئے ہو کہاں آج کل ہوتے ہو تو میں نے کہا نہیں انکل ایسی بات نہیں ہے اصل میں جب سے یونیورسٹی شروع کی ہے اِس لیے زیادہ مصروف ہو گیا ہوں پڑھائی بھی تھوڑی مشکل ہو گئی ہے بس اِس لیے ہی چکر نہیں لگ سکا . آنٹی میرے لیے کولڈ ڈرنک ڈال کر لے آئی اور مجھے پیش کی اور پِھر انکل والے صوفے پر ہی بیٹھ گئیں اور میں نے تھوڑی سی کولڈ ڈرنک پی اور آنٹی سے پوچھا آنٹی فیصل کہاں ہے وہ نظر نہیں آ رہا تو آنٹی نے کہا بیٹا وہ اپنی فوزیہ آنٹی کے ساتھ مارکیٹ گیا ہوا ہے تمھاری فوزیہ آنٹی نے کچھ چیزیں خرید نی تھیں اِس لیے فیصل اس کے ساتھ گیا ہوا ہے کافی دیر ہو گئی ہے گئے ہوئے بس تھوڑی دیر تک واپس آ جائیں گے . میں آنٹی کی بات سن کر کولڈ ڈرنک پینے لگا اور کولڈ ڈرنک کو پی کر گلاس کو ٹیبل پر رکھ دیا آنٹی نے گلاس لیا اور کچن کی طرف چلی گئیں اور جاتے ہوئے بولیں کے کا شی بیٹا تم ٹی وی دیکھو اور اپنے انکل کے ساتھ باتیں کرو فیصل بھی آتا ہی ہو گا میں ذرا کچن میں رات کا كھانا بنانے لگی ہوں . اور پِھر وہ کچن کی طرف چلی گئیں .ٹی وی پر کرکٹ میچ لگا ہوا تھا میں اور انکل میچ دیکھنے لگے تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد دروازے پر دستک ہوئی تو میں نے انکل کو کہا انکل آپ بیٹھو میں باہر دیکھتا ہوں میں نے دروازہ کھولا تو سامنے فیصل اور فوزیہ آنٹی تھے فیصل نے مجھے دیکھا تو پوچھا کا شی یار سنا تم کب آئے میں نے کہا یار میں ابھی تھوڑی دیر پہلےآیا ہوں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا . فیصل نے مجھے آنکھ ماری اور بولا ہاں مجھے پتہ ہے تم میرا کیوں انتظار کر رہے تھے . فیصل بھی شاید سمجھ گیا تھا میں بس اس کی بات سن کر مسکرا پڑا اور کچھ نہ بول سکا میں نے فوزیہ آنٹی کو سلام کیا تو آنٹی نے سلام کا جواب دیا اور کہا کیوں کا شی بیٹا کون سی ایسی خاص با ت ہے جس کے لیے تم فیصل کا انتظار کر رہے تھے مجھے بھی تو پتہ چلے میں فوزیہ آنٹی کی بات سن کا تھوڑا بوکھلہ سا گیا اور بولا نہیں نہیں آنٹی ایسی بات نہیں ہے فیصل تو بس مذاق کر رہا ہے . پِھر وہ دونوں اندر آ گئے فوزیہ آنٹی جب اوپر جانے لگی تو مجھے کہا کا شی بیٹا فارغ ہو کر میری طرف بھی چکر لگا لینا تو میں نے کہا جی آنٹی ضرور میں آؤں گا اور فیصل نیچے اپنے ٹی وی لاؤنج میں آ گیا میں بھی ٹی وی لاؤنج میں آ کر اس کے ساتھ بیٹھ گیا پِھر ہم دونوں گھپ شپ لگانے لگے . اس وقعت رات کے 8 بج رہے تھے تقریباً کوئی 1 گھنٹے بعد فیصل کی امی ٹی وی لاؤنج میں آئی اور کہا آپ سب ہاتھ منہ دھو لو كھانا تیار ہے . انکل اٹھ کر اپنے روم میں چلے گئے اور میں اور فیصل نے واشروم سے ہاتھ دھو کر واپس آ کر جہاں كھانا لگا تھا وہاں آ کر بیٹھ گئے انکل بھی کچھ دیر میں آ گئے اور پِھر ہم سب نے مل کر كھانا کھایا كھانا کھا کر انکل اپنے کمرے میں دوبارہ واپس چلے گئے آنٹی کھانے والے برتن اٹھا کر کچن میں چلی گیں اور میں اور فیصل دونوں اٹھ کر فیصل کے کمرے میں آ گئے جب میں فیصل کے کمرے میں آیا تو میں نے اس سے کہا یار تم نے تو آج مروا دینا تھا فوزیہ آنٹی کو شق میں ڈال دیا تھا . تو فیصل میری بات سن کر ہنس پڑا اور بولا کچھ نہیں ہوتا یار آنٹی تمہیں کھا تھوڑا جائے گی ویسے بھی اب ہم جوان ہیں ڈر ڈر کے رہنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے . پِھر فیصل نے اپنا پی سی آن کر دیا اور بولا یار کا شی میں نے اِس ہفتے کافی مال ڈائون لوڈ کیا ہے ایک انڈین پورن مووی بھی ڈائون لوڈ کی ہے وہ بڑی مزے کی مووی ہے تم دیکھو گے تو ضرور مٹھ مارو گے اصل میں مجھے لیپ ٹاپ پر کچھ یونیورسٹی کا کام کرنا ہے اِس لیے وہ میں استعمال کروں گا آج میں نے مال اِس پی سی پر ڈال دیا ہے تم اِس پر دیکھ لو . میں نے اس کو کہا ٹھیک ہے پِھر میں اور وہ کچھ دیر یہاں وہاں کی گھپ شپ لگاتے رہے تقریباً جب 10 : 30 کا ٹائم ہوا تو فیصل نے کہا کا شی میں ٹی وی لاؤنج میں جا کر اپنا یونیورسٹی کا کام کر لیتا ہوں اِس لیے تم تسلی سے اور آرام سے کمرے میں بیٹھ کر مزہ کرو ہو سکتا ہے مجھے کام ختم کرتے دیر ہو جائے تو میں وہاں صوفے پر ہی سو جاؤں گاتم اپنا مزہ پورا کر کے سو جانا میں نے کہا ٹھیک ہے یار کوئی مسئلہ نہیں ہے . پِھر کچھ دیر بعد فیصل اپنا لیپ ٹاپ لے کر کر کمرے سے باہر چلا گیا اور میں نے پی سی پر جس فولڈر میں فیصل نے مال جمع کیا تھا اس کو اوپن کیا تو اس میں کافی مال تھا میں ایک ایک کر کے دیکھنے لگا فیصل نے واقعہ ہی بہت گرم اور مزے کا مال ڈائون لوڈ کر رکھا تھا یہ مال دیکھ کر میرا لن شلوار کے اندر ہی تن کر کھڑا ہو چکا تھا . میں 2 گھنٹے میں تقریباً پورا فولڈر دیکھ چکا تھا اِس میں زیادہ تر شارٹ کلپ تھے 5 سے 10 منٹ والے اور اِس فولڈر میں ہی ایک اور فولڈر بنا تھا اس پر خاص لکھاتھا. میں نے وہ اوپن کیا تو اس میں ایک ویڈیو رکھی تھی میں نے سوچا فیصل جس انڈین پورن مووی کی بات کر رہا تھا شاید یہ وہ والی ہی ویڈیو ہے کیونکہ میں نے فولڈر کے اندر ابھی تک جو ویڈیو دیکھی تھیں اس میں ابھی تک ایسی کوئی انڈین پورن مووی نہیں تھی . میں نے اس ویڈیو کو آن کرنے سے پہل ٹائم دیکھا تو رات کے 12 بج رہے تھے مجھے اتنا گرم مال دیکھ کر گرمی سی چڑھ گئی تھی اور مجھے پیاس بھی لگی ہوئی تھی میں کمرے سے نکل کر کر کچن میں آیا اور فریزر سے ٹھنڈا پانی پیا جب میں واپس کچن سے کمرے کی طرف جانے لگا تو ٹی وی لاؤنج میں نظر ماری تو مجھے کوئی بندہ نظر نہیں آیا نہ ہی صوفے پر کوئی لیٹا ہوا نظر آیا میں تھوڑا حیران ہوا کے فیصل کہاں گیا ہے وہ تو کہہ رہا تھا کے اس نے یونیورسٹی کا کچھ کام کرنا ہے لیکن وہ تو یہاں نہیں ہے میرا دماغ پِھر چلنے لگا اور یکدم مجھے خیال آیا ہو نہ ہو اِس دفعہ بھی فیصل نے مجھے سے ڈرامہ کیا ہے وہ اصل میں اوپر گیا ہے اور فوزیہ آنٹی کے ساتھ مزہ کر رہا ہو گا میں نے آگے ہو کر پورے ٹی وی لاؤنج میں نظر ماری واقعی ہی وہاں کوئی بھی نہیں تھا اب مجھے یقین ہو چلا تھا کے فیصل اوپر فوزیہ آنٹی کے ساتھ ہی ہے . پِھر میں اس کو اگنور کر کے دوبارہ فیصل والے کمرے میں آ گیا کیونکہ میں فیصل اور فوزیہ آنٹی کا ننگا کھیل پہلے بھی دیکھ چکا تھا اِس لیے مجھے اب بھی پتہ تھا کے ضرور فوزیہ آنٹی اوپر فیصل سے چودوا رہی ہے . خیر میں کمرے میں آ کر دوبارہ پی سی پر بیٹھ گیا اور اب میں نے وہ ہی انڈین پورن مووی لگا لی شروع میں یہ مووی سوےریکل تھی لیکن واقعہ میں ہی یہ ایک زبردست مووی تھی یہ ہندی زُبان میں تھی اِس میں ڈائیلاگ سب ہندی میں تھے جس سے مووی کا اور زیادہ مزہ آ رہا تھا . مووی دیکھ کر ایک دفعہ پِھر میرے لن پِھر لوہے کا راڈ بن گیا تھا میں اپنی شلوار کا ناڑ ہ کھولا اور اپنی شلوار اُتار کر بیڈ پر پھینک دی اور قمیض تو میں نے پہلے ہی اُ تاری ہوئی تھی میری رات کو قمیض اُتار کر سونے کی عادت تھی اِس لیے اب میں صرف اپنی بنیان میں تھا کمرے کا دروازہ بند تھا اِس لیے میں بے فکر تھا کے اتنی رات کو کون آئے گا اِس لیے فل مزہ لینے کے لیے اپنی شلوار بھی اُتار دی . اور ایک ٹانگ کو زمین پر رکھ کر اور دوسری ٹانگ کو کمپیوٹر ٹیبل پر رکھ کر ایک ہاتھ سے اپنے لن کو پکڑ لیا اور اس کی ہلکی ہلکی مٹھ مارنے لگا اور ساتھ ساتھ مووی دیکھ رہا تھا . کمرے میں ٹیبل لیمپ جل رہا تھا اور ٹیبل لیمپ کی بھی کافی روشنی تھی جس سے کمرے میں ہر چیز آسانی سے دیکھی جا سکتی تھی . میں نے اپنے کان میں ہینڈ فری لگا کر مووی دیکھا رہا تھا اور ساتھ ساتھ اپنے لن کی مٹھ لگا رہا میں اتنا مگن تھا کے یکدم دروازہ کھلا اور فیصل کی امی کمرے میں آ گئیں اور جب ان کی نظر مجھ پر پڑ ی تو مجھے دیکھ کر حیران رہ گئیں اور ان کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا لیکن ان کی آنکھوں میں میرے لن کو دیکھ کر ایک نشہ بھی تھا آنٹی کمرے کا دروازہ بند کر کے فیصل کے بیڈ پر جا کر بیٹھ گئیں میں جلدی سے سیدھا ہوا اور بیڈ پر رکھی اپنی شلوار کو 1 منٹ سے بھی پہلے پہن لیا اور آنٹی کو کہا سوری آنٹی ، تو آنٹی نے کہا کا شی بیٹا سوری تو مجھے کرنا چاہیے

کیونکہ مجھے یوں اِس طرح کمرے میں نہیں آنا چاہیے تھا دستک دینی چاہیے تھی . میں نے کہا نہیں آنٹی ایسی کوئی بات نہیں ہے یہ آپ کا اپنا گھر ہے آپ جب چاہو جیسے چاہو آ جا سکتی ہیں . اصل میں مجھے ہی خیال کرنا چاہیے تھا مجھے اِس طرح نہیں بیٹھنا چاہیے تھا میں باتوں باتوں میں بھول گیا تھا کمپیوٹر پر ابھی تک وہ انڈین سیکس فلم چل رہی تھی جس کو آنٹی بھی بہت غور سے دیکھ رہی تھی . میں نے فوراً اٹھ کر مووی بند کی اور کمپیوٹر کو آف کر دیا تو آنٹی نے کہا کا شی بیٹا ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے تم جوان ہو جذبات رکھتے ہو مجھے پتہ ہے اِس عمر میں جوان لڑکے کی بھی کچھ ضرورت ہوتی ہے اِس لیے شرمانے کی ضرورت نہیں ہے . کمرے میں سے روشنی آ رہی تھی تو میں دیکھنے آئی تھی کے کہیں تم لوگ سو گئے ہو گے اور لائٹ آف نہیں کی ہو گی اِس لیے بند کرنے آئی تھی . پِھر آنٹی نے کہا کا شی بیٹا ایک بات پوچھوں تو برا تو مانو گے تو میں نے کہا جی آنٹی پوچھ لیں میں بھلا کیوں برا مانوں گا تو آنٹی نے کہا بیٹا تم جو دیکھ رہے تھے میں تمہیں منع نہیں کر رہی تم بے شک دیکھو تم جوان ہو جوانی میں ہر مرد کی طلب ہوتی ہے لیکن بیٹا جوتم اپنے ساتھ کر رہے تھے وہ ٹھیک نہیں ہے وہ تمہاری صحت کے لیے بھی ٹھیک نہیں ہے میں آنٹی کی بات سمجھ گیا تھا . میں نے آہستہ سے کہا جی آنٹی میں آپ کی بات سمجھ سکتا ہوں لیکن جب میں مووی دیکھ رہا تھا تو اپنے جذبات پر کنٹرول نہیں کر سکا اِس لیے کر رہا تھا . آنٹی نے کہا کا شی بیٹا تمہاری کوئی گرل فرینڈ نہیں ہے میرا مطلب ہے کسی لڑکی سے دوستی وغیرہ نہیں ہے تو میں نے کہا نہیں آنٹی میری کوئی بھی گرل فرینڈ نہیں ہے اِس لیے تو اپنے ہاتھ پر ہی گزارا کر رہا ہوں . آنٹی اپنی ٹانگیں بیڈ پر سیدھی کر کے بیٹھ گئی میں بھی بیڈ پر دوسری سائڈ پر بیٹھا ہوا تھا . آنٹی نے کہا کا شی بیٹا ایک بات کہوں میں نے کہا جی آنٹی آنٹی نے کہا کا شی بیٹا میرا بھی تمہاری طرح کی ہی  کچھ حال ہے . میں نے کہا کیوں آنٹی آپ کو کیا مسئلہ ہے آپ تو شادی شدہ ہیں انکل ہیں وہ آپ کا خیال تو رکھتے ہوں گے . تو آنٹی نے ایک آہ بھری اور تھوڑا دُکھی لہجے میں کہا بیٹا تم سچ کہتے ہو لیکن حقیقت تھوڑی اور ہے . ہاں میں شادی شدہ ضرور ہوں لیکن جسمانی مزے سے دور ہوں . اصل میں بیٹا تمھارے انکل شو گر کے مریض ہیں اور دوسرا وہ زیادہ تر اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں اِس لیے وہ میرے لیے ٹائم نہیں نکال پاتے . اور یہ کہتے ہوئے آنٹی کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے میں آگے ہوکر آنٹی کے ساتھ بیٹھ گیا ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا اور بولا سوری آنٹی مجھے نہیں پتہ تھا آپ اندر کتنا دُکھی ہیں . تو آنٹی نے کہا کا شی بیٹا میں یہ سب کچھ 7 سال سے بحگھت رہی ہوں . اپنے جذبات اور جسم کے پیاس میں جل رہی ہوں . بیٹا اس دن بھی کچن میں بھی میں اپنے جذبات سے مجبور ہو کر بہک گئی تھی اِس لیے میں تھوڑا شرمندہ بھی تھی . میں نے آنٹی کے ہاتھ کو پکڑ کر سہلایا اور کہا نہیں آنٹی آپ دُکھی نہ ہو میری دِل میں ایسی کوئی بات نہیں ہے . آپ کی عزت میرے دِل میں ویسے ہی ہے جو پہلے تھی . آنٹی نے خوشی سے میرے گالوں کو چوم لیا اور بولی بیٹا تم بہت اچھے بیٹے اور انسان ہو تم کسی کا بھی دکھ آسانی سے سمجھ لیتے ہو . میں نے کہا آنٹی میری کوئی گرل فرینڈ نہیں ہے اِس لیے میں تو مجبور ہو کر یہ کام کرتا ہوں اگر کوئی عورت میری زندگی میں ہوتی تو میں اپنے ہاتھ سے گزارا نہیں کرتا . آنٹی میں تو کافی عرصے سے کوئی قابل اعتماد پارٹنر کی تلاش میں ہوں جس کے ساتھ مزہ کر سکوں لیکن ابھی تک اِس میں کامیابی نہیں ہوئی ہے . لیکن اگر اور پِھر میں چُپ ہو گیا آنٹی نے میری طرف دیکھا اور بولی بیٹا بولو نہ چُپ کیوں ہو گئے ہو . میں نے کہا آنٹی آپ ناراض تو نہیں ہوں گی تو آنٹی نے کہا نہیں بیٹا میں ناراض نہیں ہوں گی . تو میں نے کہا آنٹی اگر آپ مجھ پر اعتماد کرتی ہیں تو میں آپ کے جذبات کی قدر کر سکتا ہوں آپ سے رشتہ قائم کر سکتا ہوں لیکن اگر آپ دِل سے راضی ہوں تو نہیں تو اگر آپ راضی نہیں ہیں تو پِھر بھی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ میں بھی کوئی اعتماد والا پارٹنر تلاش کر رہا ہوں . اور آپ کو بھی کسی کی ضرورت ہے . تو آنٹی نے میری طرف دیکھا پِھر دوبارہ منہ نیچے کر لیا اور کچھ دیر سوچتی رہی پِھر میری طرف دیکھا اور پِھر آگے ہو کر اپنے گرم اور نرم ملائم ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیئے اور مجھے فرینچ کس کرنے لگی . ایک لمبی سی فرینچ کس کر کر کے آنٹی نے اپنے آپ کو مجھے سے الگ کیا اور میری گردن میں بانہوں کو ڈال دیا اور بولی کا شی بیٹا مجھے پتہ ہے تمھارے اور میرا رشتہ اِس بات کی اِجازَت نہیں دیتا ہے . لیکن میں پِھر بھی اپنے دِل سے تمھارے ساتھ دینے کو تیار ہوں اب مجھے سے اور زیادہ اکیلا پن برداشت نہیں ہوتا . میں نے آنٹی کی طرف سے رضامندی دیکھی تو آنٹی کو اپنی طرف کھینچ لیا اور ان کو بیڈ پر لیٹا کر ان کے اوپر ہو کر ان کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے کر چُوسنے لگا . آنٹی نے جب یہ دیکھا تو انہوں نے بھی کھل کر میرا ساتھ دینا شروع کر دیا . آنٹی کا کس کرنے کا اسٹائل بہت ہی دبنگ قسِم کا تھا ان کے ہونٹوں کی گرمی بتا رہی تھی کے آنٹی کے اندر آگ بھری ہوئی ہے . میں بھی مسلسل آنٹی کے ہونٹوں کو چوس رہا تھا اور آنٹی بھی جواب میں بھرپور ساتھ دے رہی تھی . میرے اور آنٹی کے درمیان ایک دوسرے کو چُوسنے اور چومنے کا سلسلہ تقریباً 5 سے 7 منٹ تک چلتا رہا . پِھر میں خود ہی آنٹی سے الگ ہو گیا . جب آنٹی کی آنکھوں میں دیکھا تو ایک نشہ اور سرخی تھی . میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی اصل مزہ لینا ہے تو آنٹی تھوڑا اٹھ کر بیٹھ گئی اور بولی کا شی مزہ تو لینا ہے لیکن ایک بات کا دَر ہے . تمھارے انکل دوسرے کمرے میں سو رہے ہیں اور یہاں یہ کام ہو نہیں سکتا ہے کیونکہ فیصل کسی بھی وقعت اوپر سے آ سکتا ہے . مجھے پتہ ہے وہ سگریٹ پیتا ہے وہ چھت پر جا سگریٹ پی رہا ہو گا اور تھوڑی دیر میں آ جائے گا اِس لیے یہ کام تھوڑا آج مشکل لگ رہا ہے . میں تو فیصل کا جانتا تھا کے وہ کہاں پر ہے اور کیا کر رہا ہے اور کب تک واپس آئے گا اِس لیے میں نے کہا آنٹی جی آپ فیصل کی فکر نہیں کرو اس کے آنے سے پہلے ہم اپنا پورا پورا مزہ کر لیں گے بس آپ تیار ہو یا نہیں تو آنٹی نےحیرت سے میری طرف دیکھا اور پوچھا تمہیں کیسے پتہ کے لیٹ آئے گا تو میں نے کہا میں پِھر کسی وقعت آپ کو بتا دوں گا . لیکن ابھی ہمارے پاس ٹائم ہے اگر آپ نے مزہ لیام ہے توبتائیں تو آنٹی نے کہا ٹھیک ہے اگر تمہیں اتنا ہی یقین ہے تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے تو میں نے کہا آنٹی جی آپ اپنے کپڑے اُتار دیں میں بھی اُتار دیتا ہوں پِھر جم کر مزہ لیتے ہیں تو آنٹی نے وہاں بیٹھے بیٹھے ہی اپنی قمیض اُتار دی آنٹی نے نیچے برا نہیں پہنی تھی ان کی موٹے موٹے گول مٹول گورے گورے ممے اچھل کر باہر آ گئے ان کی مموں پر برائون رنگ کی موٹے موٹے نپلز تھے . پِھر آنٹی نے اپنی شلوار جس میں لاسٹک ڈالا ہوا تھا وہ بھی ایک جھٹکے میں ہی اُتار دی اور شلوار کی نیچے بھی انہوں نے کچھ نہیں پہنا تھا انہوں نے اپنے کپڑے اُتار کر نیچے بیڈ کے پھینک دیئے اور اپنی ٹانگوں کو چوڑا کر کے بیڈ پر لیٹ گئی ان کی پھدی ڈبل رو ٹی کی طرح پھولی ہوئی تھی پھدی کا منہ درمیانے سائز کا تھا اور ان کی پھدی کلین شیوڈ تھی . میں نے اپنی شلوار اُتار دی میرا لن تو پہلے ہی مووی دیکھا کر کافی حد تک اکڑ کر کھڑا تھاآنٹی کی نظر جب میرے لن پر پڑی تو ان کی آنکھوں میں ایک چمک سی آ گئی انہوں نے ہاتھ آگے کر کے میرے لن پکڑ لیا اور اس کو اپنے نرم نرم ہاتھوں سے سہلانا شروع کر دیا اور اپنے ہونٹوں کو کاٹ کر بولیں کا شی تمھارا لن ہے بہت جاندار تمھارے انکل سے بھی بڑا اور موٹا ہے جو بھی تمہاری بِیوِی بنے گی وہ تو دن رات عیش کرے گی . میں آنٹی کی بات سن کر مسکرا پڑا اور بولا آنٹی جی آپ بھی تو ابھی عیش کرو گی . تو آنٹی بھی مسکرا پڑی اور پِھر بولی کا شی تم میرے اوپر آ جاؤ میں تمھارے لن کا چوپا لگا دیتی ہوں تم تھوڑا میری پھدی کو اپنی زُبان سے ٹھنڈا کر دو . میں آنٹی کی بات سن کر آنٹی کے اوپر آ گیا ہم دونوں 69 پوزیشن میں آ گئے تھے میں نے آنٹی کی پھدی کے پاس منہ کر کے سونگا تو مجھے ایک بھینی  بھینی  سی خوشبو آ رہی تھی جو میرے نتھنوں میں چڑھ کر مجھے ایک نشہ سا چڑھا رہی تھی . پِھر میں نے سب سے پہلے آنٹی کی پھدی کے ہونٹوں پر کس کی پِھر آنٹی کی پھدی کی ارد گرد کس کرنے لگا میرے کس کرنے سے آنٹی کا جسم آہستہ آہستہ لرز رہا تھا . دوسری طرف آنٹی نے میرے لن کی ٹوپی کو اپنے منہ میں لے لیا اور ٹوپی کے سوراخ پر اور باقی حصوں پر اپنی زُبان رگڑ نے لگی . کچھ دیر تک میرے لن کی ٹوپی کو اپنی زُبان کا جادو دیکھا کر پِھر آنٹی نے آہستہ آہستہ لن کو اپنے منہ کے اندر بھرنا شروع کر دیا آنٹی کا منہ بہت گرم تھا مجھے اپنے لن پر آنٹی کے منہ کی تپش محسوس ہو رہی تھی . اور دیکھتے ہی دیکھتے آنٹی نے تقریباً آدھے سے بھی زیادہ میرا لن اپنے منہ کے اندر لے لیا تھا .

اور اب اس پر اپنی زُبان کی گرفت مضبوط کر دی تھی . اور اپنی زُبان کو لن کے اوپر گول گول گھما کر اپنی زُبان سے لن کی مالش کر رہی تھی . آنٹی کا یہ اسٹائل میرے لیے بہت ہی مزے والا تھا . اور پِھر یہاں میں نے بھی اپنی زُبان سے آنٹی کی پھدی کو چاٹنا شروع کر دیا تھا پہلے تو زُبان سے پِھر پھدی کے ہونٹوں کو کھول کر زُبان کو پھدی کے اندر گھما گھما کر میں آنٹی کی پھدی کی چاٹ رہا تھا . آنٹی کا جسم بری طرح کانپ رہا تھا . اور آنٹی نے اپنی پھدی کا مزہ دیکھ کر میرے لن پر اپنے چو پے کو اور تیز کر دیا تھا اور جاندار چو پے لگا رہی تھی . پِھر یکدم ہی آنٹی کی پھدی نے جھٹکا لینا شروع کر دیا میں سمجھ گیا تھا اب آنٹی اپنے انجام کو پہنچنے والی ہے اور میری مزید 2 منٹ کی پھدی کی سکنگ نے آنٹی کی پھدی کو ڈھیلا کر دیا اور آنٹی نے اپنی گرم گرم منی کا لاوا چھوڑنا شروع کر دیا . دوسری طرف میرے لن بھی کافی زیادہ تن گیا تھا اور لوہے کا راڈ بن گیا تھا میں آنٹی کے اوپر سے اٹھا اور بیڈ پر بیٹھ گیا . آنٹی کو کافی سانس چڑھا ہوا تھا کچھ دیر سانس بَحال ہونے کے بعد وہ بیڈسےاٹھی اور کمرے کے ساتھ اٹیچ باتھ روم میں چلی گئی اور اپنی پھدی کی صفائی کر کے واپس کمرے میں آئی اور دوبارہ اپنی ٹانگوں کو کھول کر لیٹ گئی میں آنٹی کا اشارہ سمجھ گیا تھا اِس لیے میں بھی اٹھا اور آنٹی کی ٹانگوں کے درمیان آ کر بیٹھ گیا . اپنے لن کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر آنٹی کی پھدی کے منہ پر رکھا تو آنٹی نے کہا کا شی بیٹا تھوڑا آرام سے کرنا تمہارا کافی بڑا اور موٹا ہے میں نے 1 مہینے سے کچھ اندر نہیں لیا ہے . میں نے کہا آنٹی آپ بے فکر ہو جائیں لیکن تھوڑا بہت درد تو سہنا پڑے گا آنٹی میری بات سن کر مسکرا پڑی اور بولی ٹھیک ہے بیٹا جیسے تمہاری مرضی پِھر میں نے لن کو پھدی کے منہ پر سیٹ کیا تو آنٹی نے خود ہی اپنی ٹانگوں کو اٹھا کر میرے کندھوں پر رکھ دیا میں نے تھوڑا آگے ہو کر لن کو پھدی کے اندر دبایا تو میرے لن کو آنٹی کی پھدی کا نرم ملائم لمس محسوس ہو کر جھٹکا لگا آنٹی کا پورا جسم روئی کی طرح نرم ملائم تھا . پِھر میں نے لن کو موری پر سیٹ کیا تھوڑا زور سے پُش کیا تو ایک پچ کی آواز نکلی اور میرے لن کی ٹوپی آنٹی کی پھدی کے اندر چلی گئی آنٹی کے منہ سے لمبی سی آہ کی آواز آئی اور بولی بیٹا آرام سے کرو کیوں اپنی آنٹی کو مارنا چاہتے ہو . پِھر میں نے اپنے لن پر آہستہ آہستہ زور دینا شروع کر دیا آنٹی کی پھدی کی اندرونی دیواروں میں میرا لن پھنسا ہوا تھا آنٹی کی پھدی واقعہ میں ہی اچھی خاصی ٹائیٹ تھی اور گرم بھی کافی تھی . میں اپنے لن کو پھدی کے اندر دبا رہا تھا میرے لن کو اندر دبانے سے آنٹی کا چہرہ بتا رہا تھا کے ان کو مزہ بھی اور تکلیف بھی ہو رہی تھی . جب میرا آدھا لن آنٹی کی پھدی کے اندر گھس گیا تو میں تھوڑی دیر کے لیے رک گیا آنٹی لمبی لمبی سانس لے رہی تھی . پِھر 1 منت کے بعد میں نے پِھر لن کو اندر کرنا شروع کر دیا آنٹی کی پھدی کی گرپ بہت ٹائیٹ ہو چکی تھی جب میرا 1 انچ یا کچھ زیادہ لن باقی رہ گیا تو مجھے محسوس ہوا جیسے آنٹی کی پھدی ہی ختم ہو گئی ہو اور مزید لن اندر نہیں جا رہا تھا میں کافی دیر کوشش کرتا رہا لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا پِھر میں نے آگے ہو کر آنٹی کے منہ کو اپنے منہ میں لے لیا اور ان کے ہونٹوں کا رس چُوسنے لگا اور یکدم ایک زور کا جھٹکا مارا اور اپنا باقی لن آنٹی کی پھدی کے اندر اُتار دیا . آنٹی کے منہ سے ایک چیخ نکلی لیکن میں نے پہلے ہی ان کے منہ کو اپنے منہ میں لیا ہوا تھا اِس لیے ان کی چیخ کی آواز میرے منہ کے اندر ہی رہ گئی پِھر کچھ دیر بعد میں نے آنٹی کا منہ چھوڑا تو ان کا چہرہ دیکھا تو وہ لال سرخ ہوا تھا اور ان کو کافی تکلیف بھی محسوس ہو رہی تھی کچھ دیر بعد آنٹی بولی کا شی بیٹا تم نے تو آج مجھے مار دیا ہے . تمھارے آخری جھٹکے نے تو میری جان نکال دی تھی . تمہارا لن کافی بڑا اور موٹا ہے میری پھدی نے آج پہلی دفعہ اتنا موٹا اور بڑا لن اپنے اندر لیا ہے اِس لیے کافی تکلیف برداشت کرنا پڑ رہی ہے . میں نے کہا آنٹی جی کوئی بات نہیں ہے بس ایک دفعہ لن پورا اندر لے لیا ہے اب آگے کوئی مسئلہ نہیں ہو گا آپ کی پھدی نے میرے لن کی جگہ بنا لی ہے اب آگے سے یہ آپ کو اصلی مزہ دیا کرے گا . پِھر کچھ دیر رکنے کے بعد میں نے اپنے لن کو آنٹی کی پھدی کے اندر باہر کرنا شروع کر دیا ابھی میں آہستہ آہستہ لن کو اندر باہر کر رہا تھا کیونکہ مجھے اندازہ تھا کے آنٹی کی تکلیف ابھی کم نہیں ہوئی ہے میں تقریباً 5 منٹ تک آرام آرام سے لن کو پھدی کے اندر باہر کرتا رہا جب کچھ دیر بعد آنٹی کی لذّت بھری سسکیاں میرے کان میں پڑی تو میں سمجھ گیا تھا کے اب آنٹی کو مزہ آ رہا ہے اور پِھر میں نے بھی اپنی سپیڈ تیز کر دی تھی رات کا ٹائم تھا ہر طرف خاموشی تھی میں جب آنٹی کی پھدی میں جھٹکے مار رہا تھا تو میرے اور آنٹی کے جسم آپس میں ٹکرانے کی وجہ سے دھپ دھپ کی آوازیں گونج رہیں تھیں . میرے دھکوں میں بھی تیزی آ گئی تھی کیونکہ آنٹی کی سسکیوں آہ آہ آہ آہ اوہ اوہ آہ اوہ آہ اوہ نے میرا جوش اور بڑھا دیا تھا . آنٹی نے اپنی ٹانگیں میرے کاندھے پر رکھی ہوئی تھیں لیکن جب میں اپنی سپیڈ سے ان کی پھدی میں دھکے لگا رہا تھا توانہوں نے اپنی ٹانگوں کو میری کمر کے پیچھے کر کے جڑے لیا تھا اور وہ سسکیاں لے رہی تھی آہ آہ کا شی بیٹا اور زور سے کرو بیٹا آج پھاڑ دو اپنی آنٹی کی پھدی کو بیٹا بہت عرصے بعد اصلی لن کا مزہ ملا ہے آہ آہ اوہ آہ  … آنٹی کی سسکیوں نے میرا جوش اور زیادہ بڑھا دیا تھا میں نے اپنی فل سپیڈ کے ساتھ جھٹکے لگانے شروع کر دیئے تھے . میرے مزید طوفانی جھٹکوں نے آنٹی کی پھدی کو ڈھیلا کر دیا اور آنٹی کا جسم ا کڑ نے لگا اور کچھ ہی سیکنڈ میں آنٹی کی پھدی نے اپنا گرم گرم پانی چھوڑ دیا جو مجھے اپنے لن پر بھی گرتا ہوا محسوس ہو رہا تھا . آنٹی کی پھدی کا پانی کافی زیادہ گرم تھا جس نے میرے لن میں بھی حرارت پیدا کر دی تھی اور میرے لن میں بھی ہلچل شروع ہو گئی تھی میں نے پِھر آخری 2 سے 3 منٹ مزید اپنی پوری طاقت سے آنٹی کی پھدی میں دھکے پر دھکے لگائے اور پِھر آخری جھٹکے میں اپنی منی کا فوارہ آنٹی کی پھدی کے اندر ہی چھوڑنا شروع کر دیا 10 سے15منٹ کی چدائی سے میں تھک چکا تھا اور میں اب آنٹی کے اوپر ہی گر کر بری طرح ہانپ رہا تھا . میرا لن آنٹی کی پھدی میں ہی مسلسل پانی چھوڑ رہا تھا جب میرے لن نے منی کا آخری قطرہ بھی نکال دیا تو میں پِھر آنٹی کے اوپر سے ہٹ کر ایک سائڈ پر لیٹ گیا اور اپنی سانسیں بَحال کرتا رہا آنٹی بھی کافی زیادہ تھک چکی تھیں وہ بھی لمبی لمبی سانسیں لے رہی تھی . 5 منٹ بعد آنٹی ننگی ہی بیڈ سے اٹھ کر باتھ روم میں چلی گئی . اور باتھ روم میں کچھ دیر بعد فریش ہو کر باہر آ کر ننگی ہی بیڈ پر لیٹ گئی پِھر ان کے بعد میں باتھ روم میں چلا گیا اور اپنے لن کو اچھی طرح دھو کر اور اپنا منہ ہاتھ دھو کر دوبارہ آ کر آنٹی کے ساتھ لیٹ گیا . آنٹی نے کہا کا شی تم واقعہ ہی کمال کی چدائی کرتے ہو آج مجھے زندگی میں اصلی مزہ ملا ہے میری پھدی کو سہی رگڑ کر چودا ہے تم نے اور مجھے خوشی ہے کے مجھے جم کر چودنے والا پارٹنر مل گیا ہے لیکن کا شی بیٹا مجھ سے وعدہ کرو تم مجھے یوں ہی مزہ دو گے اور خوش رکھو گے تو میں نے کہا آنٹی جی آپ کیوں فکر کرتی ہیں میں آپ کو جب آپ کا دِل کر گا خوش کر دیا کروں گا . پِھر آنٹی نے کہا کا شی بیٹا مجھے اب چلنا چاہیے کافی دیر ہو چکی ہے فیصل آتا ہی ہو گا . اس کو بہت سی گندی عادت پر گئی ہے سگریٹ پینے کی اور پِھر آنٹی خاموش ہو گئی میں نے کہا آنٹی آپ چُپ کیوں ہو گئی ہیں اور کیا ؟ تو آنٹی نے کہا کا شی بیٹا میں تمہیں ایک بات بتا دیتی ہوں لیکن وعدہ کرو تم یہ بات اپنے تک رکھو گے کسی سے بھی اِس بات کا ذکر نہیں کرو گے نہیں تو ہماری بہت بدنامی ہو گی . میں نے کہا آنٹی جی آپ لوگوں کی بدنامی میری بدنامی ہے آپ بے فکر ہو جائیں آپ کھل کر بتائیں کیا مسئلہ ہے تو آنٹی نے کہا کا شی بیٹا فیصل کوایک دفعہ میں نے بہت حیران کن کام کرتے دیکھا تھا اس دن سے میں فیصل کی وجہ سے پریشان رہتی ہوں . میں نے کہا آنٹی جی آپ کھل کر بتائیں آپ نے کیا دیکھا ہے تو آنٹی نے کہا بیٹا آج سے تقریباً 1 سال پہلے دن کے وقعت میں گھر سے باہر مارکیٹ کچھ چیزیں خریدنے کے لیے گئی ہوئی تھی تو جب میں مارکیٹ سے کوئی 1 گھنٹے بعد واپس گھر آئی تو میرے پاس اپنے گھر کی چابی ہوتی ہے میں خود ہی دروازہ کھول کر گھر کے اندر آ گئی اور مارکیٹ سے لائی ہوئی چیزوں کو کچن میں رکھ دیا میں مارکیٹ سے جو چیزیں لے کر آئی تھی اس میں چاول میں دکان پر ہی بھول آئی تھی میں نے سوچا میں فیصل کو بھیج کر منگوا لیتی ہو اِس لیے ہی میں کچن سے نکل کر فیصل کے کمرے کی طرف چلی گئی جب میں فیصل کے کمرے کے دروازے پر آئی تو مجھے دروازے کے پاس ہی ایک زور کا جھٹکا لگا کیونکہ کمرے کے اندر سے مجھے عجیب عجیب سی آوازیں آ رہی تھیں اور یہ آوازیں کسی عورت کی محسوس ہو رہیں تھیں . میں ایک دم چونک گئی کے فیصل کے کمرے میں یہ عورت کون ہے اور یہ آوازیں کیسی ہیں اب میں شادی شدہ عورت ہوں اِس لیے میں ان آوازوں کو فوراً پہچان گئی اور میرے دِل کی دھڑکن تیز ہو گئی مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کے فیصل اندر کسی عورت کے ساتھ کیا کر رہا ہے اور یہ عورت کون ہے . میں نے سوچا کے میں دروازہ کھول کر دیکھتی ہوں جب میں نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی تو دروازہ اندر سے بند تھا . مجھے غصہ بھی بہت آیا لیکن پِھر میں نے سوچا کے اندر کیسے دیکھوں یکدم میرے دماغ میں آیا کے باہر والی سائڈ پر جو فیصل کے کمرے کی کھڑکی ہے اس کا شیشہ کچھ دن پہلے بال لگنے کی وجہ سے تھوڑا ٹوٹ گیا تھا شاید وہاں سے ہی کچھ اندر دیکھ سکوں میں یہ ہی سوچتے ہوئے کھڑکی کی طرف چلی گئی جب میں کھڑکی کے پاس آئی تو دیکھا شیشے میں سے تو دیکھا جا سکتا ہے لیکن شیشے کے آگے پردہ آیا ہوا ہے . میں نے یہاں وہاں دیکھا اور مجھے باہر صحن میں لکڑی کی ایک چھوٹی سی چھڑی یاد آئی میں فوراً صحن میں گئی وہ چھڑی اٹھا کر دوبارہ کھڑکی کے پاس آئی اور کھڑکی کے ایک سائڈ پر ہو کر میں نے جہاں سے شیشہ ٹوٹا ہوا تھا اس میں سے چھڑی کو تھوڑا اندر کر کے پردے کو چھڑی کی مدد سے تھوڑا سا ہٹا کر اندر کی طرف آنکھ لگا کر دیکھا تو اندر کا جو منظر میری آنکھوں نے دیکھا وہ میرا دِل دھہلا دینے کے لیے کافی تھا میں حیرت بھری آنکھوں سے اندر کا سارا منظر دیکھ رہی تھی اور میرا سانس رکنے لگا تھا اور میں اندر کا منظر 2 منٹ سے زیادہ نہ دیکھ سکی اور آہستہ سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آ کر دروازہ بند کر کے اپنے بیڈ پر لیٹ گئی

مجھے ٹھنڈے پسینے آ رہے تھے . میں نے جو دیکھا مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا . کیونکہ اندر فیصل اور میری سگی بہن مطلب فیصل اور اس کی خالہ دونوں ننگے بیڈ پر تھے اور فیصل اپنی خالہ نوشین کو گھوڑی بنا کر چو د رہا تھا اور جو آوازیں باہر آ رہیں تھیں وہ میری بہن نوشین کی تھیں . میں یہاں آنٹی کی بات سن کر خود حیران ہوا کے آنٹی کو فیصل اور نوشین آنٹی کا پتہ ہے لیکن آنٹی کو فوزیہ آنٹی کا شاید پتہ نہیں ہے . پِھر آنٹی نے کہا میں اس دن سوچتے سوچتے سو گئی شام کو میں جب جاگی تو باہر ٹی وی لاؤنج میں آئی تو سامنے نوشین بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی مجھے دیکھا تو بولی باجی آپ اٹھ گئی ہیں میں بھی دن کو آئی تھی جب آپ مارکیٹ گئی ہوئی تھیں . مجھے غصہ تو بہت تھا لیکن میں نے اس کو محسوس نہیں ہونے دیا اور بولی کے ہاں میں واپس آ کر تھک گئی تھی اِس لیے سو گئی تم سناؤ کیا حال ہے بچے کیسے ہیں . بس کا شی مجھے پتہ ہے فیصل نوشین کے ساتھ کرتا ہے اس کے گھر جا کر بھی کر لیتا ہے لیکن مجھے آج تک نہ ہی اپنی بہن سے بات کرنے کی ہمت ہوئی ہے نہ ہی فیصل سے . میں نے کہا آنٹی آپ کو بات کرنے کی کیا ضرورت ہے آپ ان دونوں کو مزہ کرنے دو . آنٹی نے کہا بیٹا تم کیا کہہ رہے ہو یہ گناہ ہے تو میں نے کہا آنٹی جی میں نے اور آپ نے جو کیا یہ گناہ نہیں ہے کیا تو آنٹی میری بات سن کر سوچنے لگی . میں نے کہا آنٹی میری بات غور سے سنیں اگر آپ کا بیٹا فیصل باہر کسی غلط جگہ منہ مارتا اور پکڑا جاتا تو بدنامی کس کی ہونی تھی اور اگر آپ کی بہن باہر کہیں منہ مارتی تو پِھر بدنامی کس کی ہونی تھی دونوں حالت میں آپ کی ہی بدنامی ہونی تھی آپ کا بیٹا بھی جوان ہے اس کے نیچے بھی لن لگا ہوا ہے اس کو بھی طلب ہے آپ کی بہن بھی ایک قسم کی جوان بیوہ عورت ہے اس کے بھی جذبات ہیں اگر گھر میں ہی وہ آپس میں ایک دوسرے کو مزہ دے رہے ہیں تو کون سی غلط بات ہے . گھر کی بات گھر میں ہی رہ جائے گی . بدنامی کا دَر بھی نہیں ہو گا اور دونوں کو مزہ بھی پورا ہوتا رہے گا اب آپ اپنی مثال ہی لے لیں اگر آپ اپنے جذبات سے تنگ آ کر باہر کوئی غلط قدم اٹھا لیتی تو نقصان یا بدنامی آپ کو ہی ہونی تھی باہر کا بندہ تو بلیک میل بھی کر سکتا ہے . اب وہ ہی مزہ میں آپ کو دے رہا ہوں آپ کو دَر نہیں ہے نہ میں تو آپ کا اپنا ہوں میں تو آپ کی بات کسی کی نہیں بتاؤں گا کیونکہ گھر کی بات لوگوں کو بتا دوں گاتو میری اپنی بدنامی ہے . آنٹی میری پوری بات کو سمجھ چکی تھیں پِھر کچھ دیر بعد بولیں کا شی بیٹا تم واقعی ہی ٹھیک کہہ رہے ہو میں نے کبھی بھی اِس حساب سے نہیں سوچا تھا . پِھر آنٹی نے کہا لیکن کا شی بیٹا تم کہہ رہے تھے وہ اتنی جلدی واپس نہیں آئے گا تمہیں کیسے پتہ ہے وہ تو بس سگریٹ پینے کے لیے اوپر آخری چھت پر جاتا ہے پِھر کوئی آدھے گھنٹے بعد آ جاتا ہے . تو میں نے کہا آنٹی جی آپ بھی کمال کرتی ہیں آپ کو یہ تو پتہ ہے فیصل نوشین آنٹی کے ساتھ مزہ کرتا ہے لیکن آپ کو آج تک یہ ہی پتہ نہیں چل سکا کے آپ کے اِس ہی گھر میں آپ کا بیٹا کسی اور کے ساتھ بھی مزہ کرتا ہے . آنٹی حیرت بھری آنکھوں سے مجھے دیکھنے لگی اور کچھ دیر بعد بولی کا شی بیٹا تم کہنا کیا چاہتے ہو . تو میں نے کہا آنٹی جی میں آپ کو یہاں ہی کچھ اپنے موبائل میں بھی دیکھا سکتا ہوں لیکن شاید آپ کو یقین یا مزہ نہ آئے اِس لیے میں آپ کودیکھانا چاہتا ہوں اگر آپ دیکھنا چاہتی ہیں تو بتائیں تو آنٹی نے کہا کیا مطلب ہے میں اٹھ کر اپنی شلوار پہنی اور آنٹی کو بولا آپ اپنے کپڑے پہنو میں آپ کو دکھاتا ہوں آنٹی نے اپنی شلوار پہنی اور پِھر قمیض برا اور انڈرویئر تو انہوں نے پہلے ہی نہیں پہنا ہوا تھا میں ان کو لے کر کمرے سے نکلا اور ان کو خاموشی سے کہا آپ میری پیچھے پیچھے بغیر آواز کیے ہوئے آؤ میں آگے ہو کر سیڑھیاں چڑھتا ہوا اوپر آ گیا آنٹی بھی میرے پیچھے تھی . اور میرا یقین بالکل سچ ثابت ہوا جس کمرے میں فیصل اور آنٹی فوزیہ پہلے چدائی کرتے تھے اس کمرے سے ابھی بھی روشنی آتی ہوئی نظر آ رہی تھی . آنٹی میرے پیچھے پیچھے اوپر آ گئی آنٹی نے اشارے سے پوچھا کیا کر رہے ہو میں نے اشارے سے کہا آپ بس میرے پیچھے آتی جاؤ میں نے ٹیر س والی سائڈ کا دروازہ بہت ہی آہستہ سے کھول دیا اور آنٹی کو اشارے کیا کے وہ ٹیر س  پر آ جائے جب میں اور آنٹی ٹیر س  پر آ گئے تو میں نے دروازہ ٹیر س  والی سائڈ سے بند کر دیا تا کہ کوئی شق پیدا نہیں ہو میں ٹیر س  پر جا کر کمرے کی اس کھڑکی پاس چلا گیا جو ٹیر س  کی طرف بنی ہوئی تھی . آنٹی بھی خاموشی سے میرے پیچھے چلتی ہوئی آ گئی اور میرے بالکل قریب آ کر کھڑی ہو گئی اور میرے کان میں آہستہ سے بولی کا شی بیٹا یہاں کیا کر رہے ہو کیا دیاھطنا ہے مجھے تو میں نے کہا آنٹی جی اپنی آنکھوں کو کھول لو ابھی آپ جو دیکھو گی آپ کو ایک جھٹکا لگنے والا ہے پِھر میں نے آگے ہو کر کھڑکی کے پاس ہو کر اندر کی طرف دیکھا قسمت اچھی تھی اس دن کی طرح آج بھی پردہ کھڑکی سے ہٹا ہوا تھا میں نے اندر دیکھا تو پہلے تو میرے اپنے لن کو ایک جھٹکا سا لگا کیونکہ اندر کا سین ہی کچھ ایسا تھا فوزیہ آنٹی گھوڑی بنی ہوئی تھی ان کا منہ کھڑکی کی مخالف سمت میں تھا پر فیصل پیچھے سے اپنی زُبان کے ساتھ ان کی گانڈ کی موری کو چاٹ رہا تھا . میرا لن تو جھٹکے کھانے لگا تھا پِھر مجھے ہوش آیا میں تھوڑا سا پیچھے ہٹا اور پِھر آنٹی کو رستہ دے کر آگے کیا اور ان کے کان میں کہا آنٹی جی کھڑکی کی سائڈ سے اندر دیکھو زیادہ آگے نہیں جانا نہیں تو وہ آپ کو دیکھ لیں گے آنٹی آگے ہوئی اور کھڑکی کے پاس جا کر تھوڑا سا آگے ہو کر اندر دیکھنے لگی میں اب آنٹی کے پیچھے کھڑا تھا آنٹی نے کوئی 1 منٹ اندر کا سین دیکھا اور پِھر یکدم پیچھے ہو گئی ان کا سانس پھولا ہوا تھا.و ہ لمبی لمبی سانسیں لے رہی تھی . تقریباً 2 سے 3 منٹ بعد جب ان کی سانس کچھ بہتر ہوئی تو میں نے اپنے منہ کو ان کے کان کے پاس لے جا کر کہا کیوں آنٹی کیسا لگا اپنےبیٹےاور اس کی پھو پھو کا جھٹکا آنٹی نے میری طرف دیکھا پِھر کچھ دیر خاموش رہی پِھر کچھ دیر بعد خود ہی بولی کا شی بیٹا یہ کیا  میں حقیقت میں دیکھ رہی ہوں یا خواب ہے تو میں نے کہا آنٹی جی یہ حقیقت ہے . آنٹی نے کہا تم یہ سب کب سے جانتے ہو پِھر میں نے ان کو آخری دفعہ والی پوری اسٹوری سنا دی . پِھر کچھ دیر بعد آنٹی نے پِھر اندر دیکھنا شروع کر دیا میں پیچھے پیچھے تھا لیکن مجھے نہیں پتہ تھا اب اندر کون سا سین چل رہا ہے لیکن میں اندازہ لگا سکتا تھا کے فیصل فوزیہ آنٹی کی گانڈ مار رہا ہو گا . اب کی بار آنٹی لگن کے ساتھ اندر دیکھ رہی تھی یکدم میری نظر آنٹی پر پڑی تو میں حیران ہوا کیونکہ آنٹی نیچے سے اپنی شلوار میں ہاتھ ڈال کر اپنی پھدی کو بھی مسل رہی تھی . پِھر مجھے بھی جوش آ گیا میرا لن تو پہلے ہی فوزیہ آنٹی کی گانڈ کو دیکھ کر کھڑا ہو چکا تھا . میں نے اپنے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر آنٹی کے پیچھے کھڑا ہو کر آنٹی کی گانڈ کی دراڑ میں پھنسا دیا اور ہلکا ہلکا آگے پیچھے ہونے لگا آنٹی نے پیچھے مڑ کر مجھے دیکھا اور ایک نشیلی سی سمائل دی اور پِھر آگے دیکھنے لگی اور اپنی گانڈ کو بھی ہلکی ہلکی میرے لن پر دبانے لگی . پِھر کچھ ہی دیر میں میرا لن آنٹی کی گانڈ کی گرمی کی وجہ سے بہت زیادہ جوش میں آ گیا تھا اور مجھے کافی دن ہو گئے تھے کسی لڑکی کی گانڈ مارے ہوئے آخری دفعہ حنا کی گانڈ ہوٹل میں ماری تھی . میں نے آنٹی کے کان میں کہا آنٹی جی اگر آپ برا نہ مانو تو جیسے فیصل فوزیہ آنٹی کی گانڈ مار رہا ہے کیا میں بھی یہاں آپ کی گانڈ میں لن ڈال سکتا  ہوں تو آنٹی نے پیچھے مڑ کر مجھے دیکھا اور پِھر بولی کا شی یہاں میری آواز اندر بھی جا سکتی ہے تو میں نے کہا جب فوزیہ آنٹی اپنی آوازیں نکالنا شروع کرے گی آپ بھی نکلتی رہنا ان کو سمجھ نہیں آئے گی تو آنٹی نے کہا ٹھیک ہے لیکن پہلے مجھے تمھارے لن کو تھوڑا گھییلا کرنے دو یہ بہت موٹا ہے میری گانڈ پھاڑ کر رکھ دے گا میں نے کہا ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی پِھر آنٹی نیچے ہو کر بیٹھ گئی میری شلوار کا ناڑہ کھولا اور میرے لن کو اپنے منہ میں لے لیا اور تقریباً 2 سے 3 منٹ چوپا لگا کر اس پر اپنے منہ کا کافی زیادہ تھوک بھی مل دیا پِھر وہ کھڑی ہو گئی اور اپنی لاسٹک والی شلوار اُتار کر گھٹنوں تک کر دی اور تھوڑا سا اپنے جسم کو آگے جھکا کر گھوڑی اسٹائل میں ہو گئی اور پیچھے مڑ کر مجھے اشارے کیا کے اب اندر ڈالو اور خود اندر کا نظارہ دیکھنے لگی . میں نے اپنے منہ سے تھوک نکال کر آنٹی کی قمیض کو پیچھے سے گانڈ سے اٹھا کر ان کی گانڈ کی موری پر لگا دیا پِھر تھوڑا اور تھوک نکال کر انگلی سے آنٹی کی گانڈ میں بھی لگا دیا آنٹی کی گانڈ کافی نرم تھی . پِھر میں نے اپنے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر آنٹی کی گانڈ کی موری پر سیٹ کیا اور ہلکا سا زور لگا کر پُش کیا تو ایک پچ کی آواز سے میرے لن کی ٹوپی گانڈ میں چلی گئی . آنٹی کی گانڈ نہ اتنی ٹائیٹ تھی نہ اتنی کھلی تھی . اِس لیے میری ٹوپی جب اندر گئی تو آنٹی کو شاید زیادہ تکلیف محسوس نہ ہوئی یا شاید ان کو تکلیف ہوئی ہو گی لیکن وہ آواز نہ کوئی سن لے اِس لیے برداشت کر گئی ہیں . پِھر میں نے آہستہ آہستہ لن کو آنٹی کی گانڈ کے اندر کرنا شروع کر دیا جب میرا آدھا لن آنٹی کی گانڈ میں چلا گیا تو آنٹی نے اپنا ہاتھ پیچھے کر کے میرے پیٹ پر رکھ کر مجھے رکنے کا اشارہ کیا میں وہاں ہی رک گیا پِھر آنٹی نے نیچے ہاتھ کر کے میرے لن پر رکھ کر چیک کیا شاید وہ یہ چیک کر رہی تھیں کے کتنا باقی رہ گیا ہے . پِھر انہوں نے ہاتھ اٹھا لیا اور مجھے آہستہ آواز میں کہا کا شی بیٹا اتنا ہی اندر باہر کر لو تمہارا کافی موٹا اور بڑا ہے یہ میری گانڈ کو پھاڑ دے گا تو میں نے کہا آنٹی جی سیکس میں جب تک تھوڑی بہت تکلیف نہ ہو تو مزہ ہی نہیں آتا ہے پلیز تھوڑا سا اور برداشت کر لو میں بہت آہستہ آہستہ اندر کر رہا ہوں پِھر آنٹی نے اپنے دو دو پےن کا پوک اپنے دانتوں میں دے دیا میں سمجھ گیا کے اب آنٹی تیار ہے میں نے بھی پِھر لن کو آہستہ آہستہ نادر کرنا شروع کر دیا آنٹی کی گانڈ اب مجھے اپنے لن پر کافی ٹائیٹ ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی . لیکن میں پِھر بھی اپنے لن کو گانڈ کے اندر دبا رہا تھا جب میرا لن کا کچھ حصہ باقی رہ گیا تو مجھے لگا اب شاید کوئی زو ر لگایا تو آنٹی کی برداشت سے بات باہر نہ ہو جائے اِس لیے میں نے مزید آگے کرنا مناسب نہیں سمجھا اور 1 منٹ کے بعد ہی لن کو وہاں تک ہی اندر باہر کرنے لگا میں بہت ہی آہستہ آہستہ لن کو اندر باہر کر رہا تھا میرا لنڈپھنس پھنس کر اندر باہر ہو رہا تھا آنٹی بدستور اندر ہی دیکھ رہی تھی میں تقریباً 5 منٹ تک آہستہ آہستہ لن کو گانڈ کے اندر باہر کرتا رہا جب کافی دیر بعد میرے لن نے گانڈ کے اندر اپنا رستہ بنا لیا تو پِھر میں نے اپنی رفتار کو تھوڑا تیز کر دیا آنٹی کو بھی شاید اب کچھ راحت محسوس ہو گئی تھی انہوں نے بھی اپنی گانڈ کو حرکت دینا شروع کر دی اور میرے دھکوں کے ساتھ اپنی گانڈ کو آگے پیچھے کرنے لگی . پِھر میں نے جب دیکھا آنٹی کو بھی کافی مزہ آ رہا ہے میں نے اپنا ایک ہاتھ آنٹی کے منہ پر رکھا اور ایک زور کا جھٹکا مارا اور اِس دفعہ میرا پورا لن جڑ تک آنٹی کی گانڈ میں اُتار دیا مجھے پتہ تھا آنٹی کو شدید درد ہوا ہو گا اور ان کی چیخ بھی نکلی ہو گئی لیکن میرا ہاتھ منہ پر ہونے کی وجہ سے آواز باہر نہ نکل سکی اور پِھر میں لن کو ایسے ہی اندر باہر کرتا رہا پِھر کچھ دیر بعد آنٹی کے منہ سے ہاتھ ہٹا دیا آنٹی نے پیچھے مڑ کر مجھے ناراض نظروں سے دیکھا اور پِھر ایک سمائل بھی دے دی میں خوش ہو گیا اور پِھر لن کو گانڈ کے اندر باہر کرنے لگا میں نے آگے ہو کر آنٹی کو کہا آنٹی جی اندر کا سین کیا ہے تو آنٹی نے کہا فیصل فوزیہ کی گانڈ میں لن اندر باہر کر رہا ہے پِھر میں یہ سن کر اور جوش میں آ کر لن کو آنٹی کی گانڈ کے اندر باہر کرنے لگا مجھے آنٹی کی گانڈ مارتے ہوئے تقریباً 10 منٹ کا ٹائم ہو چکا تھا اور کھڑا ہو کر چودنے میں میری ٹانگوں میں ہمت جواب دے رہی تھی پِھر میں نے بھی اپنی پوری طاقت سے لن کو کو گانڈ کے اندر باہر کرنا شروع کر دیا اور مزید 2 منٹ کے دھکوں کے بعد میں نے آنٹی کی گانڈ میں ہی اپنا گرم گرم پانی چھوڑا دیا . اور آنٹی کی کمر پر سر رکھ کر ہانپنے لگا جب آنٹی کی گانڈ نے میری منی کا آخری قطرہ بھی نچوڑ لیا تو میں پیچھے ہو کر اپنا لن نکال لیا آنٹی بھی سیدھی ہو گئی اور اپنی شلوار پہن لی اور میرے کان میں کہا وہ دونوں بھی اندر جلدی فارغ ہونے والے ہیں ان سے پہلے پہلے یہاں سے نکل جانا چاہیے پِھر میں اور آنٹی خاموشی سے دروازہ بند کر کے نیچے آ گئے میں فیصل والے کمرے میں آ کر سو گیا

اور آنٹی اپنے کمرے میں چلی گئی میں فیصل والے کمرے میں آ کر تھک کر بیڈ پر لیٹ گیا اور پتہ ہی نہیں چلا سو گیا صبح آنٹی نے ہی آ کر جگایا اور کہا کا شی بیٹا اٹھ جاؤ ناشتہ تیار ہے اور میں اٹھ کر نہا دھو کر فریش ہوا اور ناشتہ کیا فیصل ابھی بھی ٹی وی لاؤنج کے صوفے پر سویا ہوا تھا میں ناشتہ کر کے آنٹی سے اِجازَت لے کر اپنے گھر آ گیا . آنٹی کی پھدی اور گانڈ مار کر میں کافی سکون میں ہو گیا تھا اور مجھے اندر ہی اندر یہ بھی خوشی تھی کے جب کوئی اور جگاڑ نہیں ہو گاتو آنٹی کے ساتھ مزہ کر کے ٹائم پاس کیا جا سکتا تھا اور سب سے بڑا فائدہ یہ کے مجھے فوزیہ آنٹی کی تک پہنچنے تک آنٹی کی مدد بھی حاصل ہو جائے گی . اگلا دن سوموار تھا اور میں اپنی روٹین کے مطابق اپنی پڑھائی میں مصروف ہو گیا تھا اور سوموار سے لے کر بدھ تک میں یونیورسٹی میں ہی مصروف تھا  بدھ  والے دن میں یونیورسٹی میں لیکچر لے رہا تھا . اچانک مجھے کسی اجنبی نمبر سے کال آئی میں لیکچر کے دوران اپنا موبائل زیادہ تر وائیبریشن پر ہی رکھتا تھا اِس لیے جب میرا موبائل وائیبریٹ ہوا تو میں نے موبائل چیک کیا تو کوئی اجنبی نمبر تھا اور میں لیکچر کے دوران کال بھی پک نہیں کر سکتا تھا اِس لیے اس اجنبی نمبر سے مجھے دو دفعہ کال آئی لیکن مجبوری کی وجہ سے میں پک نہ کر سکا پِھر کوئی 5 منٹ بعد اس اجنبی نمبر سے مجھے میسیج آیا کے میں حنا کی دوست مسرت ہوں یہ میرا نمبر ہے آپ میری کال کیوں نہیں پک کر رہے ہیں تو میں نے فوراً جوابی میسیج بھیجا کے میں معافی چاہتا ہوں ایک تو میں یونیورسٹی میں ہوں اور لیکچر لے رہا ہوں کال پک نہیں کر سکتا دوسرا مجھے نہیں پتہ تھا یہ آپ کا نمبر ہے . پِھر میں نے ایک اور میسیج بھیجا کے آپ کو میرا نمبر کہاں سے ملا ہے تو کچھ دیر بعد مسرت کا میسیج آیا میں نے آپ کا نمبر حنا کے موبائل سے لیا ہے اس کو نہیں پتہ ہے آپ بھی اس کو نہیں بتانا تو میں نے کہا مسرت جی کوئی بات نہیں ہے آپ فکر نہ کریں میں حنا کو نہیں بتاؤں گا . میں نے مسرت سے پوچھا کے آپ نے آج ہمیں کیسے یاد کر لیا ہے تو مسرت کا میسیج آیا کے آپ تو مجھے بھولے ہی نہیں ہیں جب سے آپ سے اس رات مزہ لیا ہے میرا تو سکون ہی آپ نے چھین لیا ہے . میں نے کہا مسرت جی آپ بھی کوئی کم مزہ نہیں دیتی ہیں مجھے بھی آپ کے ساتھ اس رات بہت مزہ آیا تھا . پِھر کچھ دیر مسرت کا کوئی میسیج نہیں آیا میرا لیکچر بھی ختم ہونے والا تھا پِھر 1 گھنٹے وقفہ تھا پِھر ایک اور لیکچر تھا جیسے ہی لیکچر ختم ہوا تو میں یونیورسٹی کے پارک میں آ گیا اور مسرت کے نمبر پر کال ملا دی 2 یا 4 بیل کے بعد ہی اس نے کال پک کی اور مجھے کہا میں 2 منٹ بعد آپ کو مس کال کرتی ہوں پِھر آپ کال کرنا میں نے کہا ٹھیک ہے . کوئی 5 منٹ کے انتظار کے بعد مسرت کی مس کال آئی اور پِھر میں نے کال ملا دی 2 بیل کے بعد ہی اس نے کال پک کی اور بولی اصل میں نیچے ہاسٹل کی شاپ پر کھڑی تھی ابھی اپنے کمرے میں آئی ہوں اب کھل کر بات کر سکتی ہوں . پِھر میں نے کچھ دیر یہاں وہاں کی باتیں کی اور پِھر میں نے مسرت سے پوچھا خیر سے کال کی تھی تو اس نے کہا کیا واقعہ میں ہی آپ کو میرے ساتھ مزہ آیا تھا تومیں نے کہا ہاں مسرت جی بہت مزہ آیا تھا آپ کا جسم کافی اچھا اور سیکسی ہے مجھے بہت مزہ آیا تھاتومسرت نے کہا تو پِھر اِس جسم کا اور مزہ لینے کا موڈ ہے ؟ تو میں نے کہا کیوں نہیں مسرت جی کس کافر کو انکار ہو گاتو وہ بولی مجھے بھی بس اب آپ سے ملنے کے بعد آپ کی اور زیادہ طلب ہو گئی ہے اِس لیے میرا موڈ تھا میں اور آپ ایک اور ایک ساتھ ملاقات کریں . تو میں نے کہا کیوں نہیں مسرت جی مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے میں تو تیار ہی تیار ہوں . تو مسرت نے کہا اصل میں آپ کو کال بھی اِس لیے ہی کی تھی کے میری اِس پورےہفتے میں نائٹ ڈیوٹی ہے اور حنا کی ڈے ٹائم ڈیوٹی ہے اِس لیے میں سوچ رہی تھی کے کل جمعرات ہے اگر آپ کو کوئی مسئلہ نہیں ہو تو میں اور آپ کل دن کا پلان بنا کر ہوٹل میں چلتے ہیں اور وہاں کھل کا مزہ لے لیں گے اور وہاں آپ کی ایک اور خواہش پوری کر دوں گی آپ کو گانڈ مارنے کا شوق ہے نہ تو میں آپ کو اپنی کنواری گانڈ گفٹ میں دوں گی . میں مسرت کی بات سن کر ایک دم کھل اٹھا مسرت کی گانڈ حقیقت میں ہی کمال کی گول اور موٹی تازی پتلی کمر کے ساتھ بنی ہوئی تھی . میں نے کہا میں تیار ہوں آپ بتاؤ کب اور کیسے چلنا ہے تو اس نے کہا آپ کل یونیورسٹی جاؤ گے تو میں نے کہا میرے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے میں کل چھیک لے لوں گا تو مسرت نے کہا تو پِھر ٹھیک ہے میں آج نائٹ ڈیوٹی کر کے تقریباً صبح 5 بجے چھیئ کروں گی اور 12 بجے تک میں اپنی نیند پوری کر لوں گی آپ مجھے 1 بجے اسپتال کے باہر میں آپ کا انتظار کروں گی وہاں مجھے پک کر لینا اور پِھر ہم دونوں ہوٹل چلے جائیں گے وہاں اپنا مزہ پورا کر کے آپ مجھے 5 بجے سے پہلے پہلے اسپتال چھوڑ دینا کیونکہ میری 8 بجے ڈیوٹی ہو گی اور 5 بجے حنا چھٹی کر کے کمرے میں آ جائے گی میں اس کے آنے سے پہلے کمرے میں ہوں گی تو اس کو کسی قسِم کا شق نہیں ہو گا آپ بھی اس سے اِس بات کا ذکر نہیں کرنا نہیں تو وہ مجھے سے ناراض ہو جائے گی تو میں نے کہا مسرت جی آپ فکر کیوں کرتی ہیں . جیسا آپ کہیں گی ویسا ہی ہو گاتو مسرت نے کہا تو پِھر میری طرف سے پروگرام پکا ہے تو میں نے کہا ٹھیک ہے میری طرف سے بھی پکا ہے میں کل 1 بجے آپ کو اسپتال کے باہر پک کر لوں گا اور پِھر کچھ دیر مزید یہاں وہاں کی باتیں کر کے کال ختم ہو گئی اور میں بھی کافی خوش تھا کے کل ایک کنواری گانڈ ملے گی . پِھر میں یونیورسٹی سے فارغ ہو کر گھر واپس آ گیا تقریباً رات كے 7 بجے تھے میں اپنے بیڈروم میں لیپ ٹاپ لگا کر بیٹھا تھا یکدم میرے دماغ میں ایک خیال آیا میں نے فوراً اپنے وولٹ سے کارڈ نکالا جو مجھے اس رسپشن والی لڑکی نے دیا تھا جب میں اور حنا ہوٹل میں گئے تھے . میں نے کارڈ کی بیک سائڈ پر ایک نمبر لکھا تھا اس نمبر پر کال کی کوئی 2 سے 3 بیل کے بعد لڑکی نے کال پک اس کی آواز سے میں سمجھ گیا تھا یہ وہ ہی رسپشن والی لڑکی ہے میں سلام کے بعد اس کو اپنا بتایا تو وہ فوراً مجھے پہچان گئی اور مجھ سے شکوہ کرنے لگی آپ پِھر دوبارہ آئے ہی نہیں تو میں نے کہا اصل میں تھوڑا مصروف تھا پِھر اس کو میں نے کہا آپ اِس وقعت ہوٹل میں ہیں تو کہنے لگی نہیں میں اپنے گھر ہوں میری ڈیوٹی 6 بجے ختم ہو جاتی ہے تو میں نے کہا اصل میں مجھے کل پِھر اپنے پارٹنر کے ساتھ آپ کے ہوٹل میں آنا ہے کیا آپ کوئی اچھا سا کمرہ میرے لیے کل صرف 2 یا 3 گھنٹے کے لیے ارینج کروا سکتی ہیں تو وہ بولی کیوں نہیں آپ جب کہو آپ کو اچھا سا کمرہ مل جائے گا میں نے کہا اگر آپ وہ ہی کمرہ جو اس دن مجھے دیا تھا.و ہ ہی دے دیں تو بہت اچھا ہو گا تو اس نے کہا کوئی مسئلہ نہیں ہے میں کل صبح کی وہ کمرہ ریڈی کروا دوں گی آپ بے فکر ہو کر آ جاؤ . پِھر اس نے ایسی بات کی میں خود حیران ہو گیا اس نے کہا آپ کبھی ہمیں بھی اپنی خدمت کا موقع دیں آپ کو فل مزہ دوں گی . اور ساتھ ہی بولی ویسے میں ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں لیکن اس دن آپ کو دیکھا تھا آپ پر دِل آ گیا تھا اِس لیے آپ کو آفر دے رہی ہوں تو میں نے کہا آپ کا نام کیا ہے تو اس نے کہا میرا نام سعدیہ ہے تو میں نے کہا سعدیہ جی آپ سے میرا وعدہ رہا آپ کو خدمت کو موقع ضرور دوں گا آپ  بس کل کا میرا کام پورا کروا دیں بہت جلدی آپ کی خدمت کے لیے یہ نا چیز آپ کو ضرور خدمت کا موقع دے گا سعدیہ میری بات سن کر خوش ہو گئی اور اس نے کہا آپ بے فکر ہو جائیں آپ سمجھو آپ کا کام ہو گیا ہے . پِھر کچھ دیر مزید باتیں کر کے کال ختم ہو گئی . میں نے اپنی اچھی انڈر شیو کی اور پِھر رات کو ہی اپنی تیاری کر لی اور رات کو سو گیا صبح میری آنکھ 10 بجے کھلی میں اٹھ کر ناشتہ کیا پِھر کپڑے وغیرہ تیار کیے اور 12 بجے تک میں تیار تھا پِھر میں12:30 پر بائیک لے کر گھر سے نکل آیا اور تقریباً 1:05 پر میں اسپتال کے باہر پہنچ گیا ٹائم کے مطابق مسرت مجھے اسپتال کے باہر مل گئی میں نے اس کو بائیک پر ساتھ بیٹھا لیا اس نےبرقع پہنا تھا یہ اس نے اچھا کیا تھا میرے لیے بھی سیف تھا پِھر تقریباً آدھے گھنٹے بعد ہی ہم اس ہوٹل میں تھے رسپشن پر اس لڑکی نے ہم دونوں کو ویلکم کیا اور پِھر وہ لڑکی ہم دونوں کو لے کر اس ہی روم میں آ گئی جب ہم اس کے ساتھ جا رہے تھے تو جب ہم لوگ سیڑھیاں چڑھ رہے تھے تو سعدیہ آگے تھی میں نے پیچھے سے اس کو دیکھا تو میں اس وقعت شلوار قمیض میں تھا میرےلن کو ایک جھٹکا لگا کیونکہ سعدیہ کی گانڈ کافی زیادہ موٹی اور اوپر نیچے ہو رہی تھی اور مجھے پکا شق ہو گیا تھا کے سعدیہ نے کھل کر اپنی گانڈ ماورائی ہوئی ہے خیر اصل بات تو اس کے ساتھ ملاقات کے بعد ہی پتہ چل سکتی تھی پِھر ہم وہ ہی کمرے میں آ گئے سعدیہ ہم دونوں کو کمرے میں چھوڑ کر چلی گئی جب جانے لگی تو مجھے ایک سیکسی سی سمائل دے کر بولی سر کچھ چاہیےتو بتا دیں تو میں نے مسرت کی طرف دیکھا تو اس نے کہا میں كھانا کھا کر آئی ہوں اپنے لیے منگوا لو تو میں نے سعدیہ کو کہا مجھے بھی زیادہ بھوک نہیں ہے بس کچھ کولڈ ڈرنک اور چپس وغیرہ بھیج دیں وہ پِھر سیکسی سمائل دے کر جی سر بول کر چلی گئی . میں نے اٹھ کر کمرے کا دروازہ بند کر دیا اور آ کر بیڈ پر بیٹھ گیا مسرت نے اپنا برقع اتارا تو میں دنگ رہ گیا وہ بلیک برقع کے اندر مکمل طور پر ننگی تھی . میں نے حیرت سے مسرت کو دیکھا تو مجھے آنکھ مار کر بولی کا شی جی جب مزہ لینا ہو تو یہ کپڑے پِھر کس کام کے اور ہنس پڑی میں بھی اس کی بات سن کر ہنس پڑا پِھر وہ واشروم کا بول کر واشروم چلی گئی کوئی 10 منٹ بعد ہی دروازے پر دستک ہوئی اور میں نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک بندہ کولڈ ڈرنک اور چپس وغیرہ اور برگر وغیرہ تھے میں نے اس کو کہا میں نے تو برگر نہیں کہے تھے تو اس نے کہا سر مجھے تو نہیں پتہ جی نیچے میڈم نے جو آرڈر دیا تھاو ہ میں لے آیا پِھر میں اس کی بات سن کر سمجھ گیا اور مسکرا پڑا میں نے وہ چیزیں لے لیں اور پِھر وہ بندہ چلا گیا میں نے دروازہ بندہ کر دیا اور چیزیں اندر ٹیبل پر رکھ دیں کوئی 5 منٹ بعد مسرت واشروم سے باہر نکل آئی وہ مکمل طور پر ننگی تھی . مسرت کا جسم ایک دم مست تھا اس کے جسم کی ایک خاص بات یہ تھی کے اس کا جسم مچھلی کی طرح تھا جو بھی اس کے اوپر ہوتا وہ پھسل جاتا تھا . مسرت آ کر بیڈ پر بیٹھ گئی میں نے گلاس میں کولڈ ڈرنک ڈال کر دی اور برگر بھی دیا . پِھر میں نے بھی اپنے گلاس میں کولڈ ڈرنک ڈال کر اس کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گیا اور پینے لگا تو مسرت نے کہا کا شی جی یہ تو اچھی بات نہیں ہے میں نے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا کیوں کیا ہوا تو کہنے لگی میں کپڑے اُتار کر بیٹھی ہوں اور ابھی تک کپڑوں میں ہی ہیں . میں اس کی بات سن کر ہنس پڑا اور بولا مسرت جی آپ حکم کرو ابھی اُتار دیتا ہوں آپ تو آج ہاسٹل سے ہی کپڑے اُتار کر آئی ہیں میں میں پِھر کولڈ ڈرنک کو ایک سائڈ پر رکھ کر اپنے کپڑے اُتار نے لگا مسرت نے کہا ہاں میں نے اوپر فل برقع لیا ہوا تھا مجھے کیسے کسی نے دیکھنا تھا . پِھر میں نے بھی اپنے کپڑے اُتار کر پورا ننگا ہو کر ٹانگیں سیدھی کر کے بیڈ پر مسرت کے ساتھ ہی بیٹھ گیا جب میں بیٹھا تو مسرت ایک ہاتھ سے کولڈ برگر کھا رہی تھی اس نے دوسرا ہاتھ آگے کر کے میرا لن ہاتھ میں پکڑ لیا اور اس کو بڑے ہی پیار سے سہلانے لگی اور بولی کا شی جی اِس نے تو میری دن رات کی نیند چرا لی ہے جب سے اِس کو اندر لیا ہے میری پھدی اِس کی عاشق ہو گئی ہے . میں مسرت کی بات سن کر ہنس پڑا اور بولا چلو کوئی بات نہیں آب آپ کی گانڈ بھی اِس کی عاشق ہو جائے گی .

مسرت نے کہا ہاں آج میں پوری تیاری کے ساتھ آئی ہوں آج میں نے آپ کو سب سے پہلے اپنی گانڈ کا تحفہ دینا ہے پِھر بعد میں پھدی میں لے لوں گی اور اپنی کنواری گانڈ کے لیے میں ایک لوشن لے کر آئی ہوں اس سے مجھے تھوڑی کم تکلیف ہو گی اور ساتھ میں پین لیس کریم بھی لائی ہوں کیونکہ مجھے پتہ تھا گانڈ مروا نے کے بعد مجھے درد زیادہ ہو گا اِس لیے پین لیس کریم سے میں اپنے آپ کو ایڈجسٹ کر لوں گی . وہ ساتھ ہی ساتھ میں اپنے کومل اور نرم ملائم ہاتھوں سے میرے لن کو بھی سہلا رہی تھی اس کے لن سہلانے سے میرا لن نیم حالت میں کھڑا ہو چکا تھا. میں اپنی کولڈ ڈرنک ختم کر چکا تھا میں نے گلاس کو ایک سائڈ پر رکھا اور اپنے ہاتھ کو آگے کر كے مسرت کی پھدی کے لبوں پر رکھا تو مسرت کے منہ سے ایک سسکی آہ نکل گئی . مسرت نے اپنا برگر ختم کر لیا تھا اب وہ کولڈ ڈرنک پی رہی تھی . مسرت نے کہا کا شی جی میرے دماغ میں آپ کے لیے ایک سوال گھوم رہا ہے تو میں نے کہا جی پوچھو جی کیا پوچھنا ہے تو اس نے کہا میں 4 سال سے اپنے منگیترسے کروا رہی ہوں اس کا لن بھی ٹھیک ہے لیکن آپ جتنا لمبا اور موٹا نہیں ہے کیا وجہ ہے آپ کا لن اِس عمر میں ہی کافی جاندار ہے تو میں نے کہا کوئی خاص وجہ نہیں ہے اصل میں میں جب میٹرک میں تھا تو میری ایک عادت تھی جو کئی سالوں سے جاری ہے میں اپنے لن کی ہر روز رات کو زیتون کے تیل کے ساتھ پورا ایک گھنٹہ بہت ہی سلو موشن میں مساج کرتا ہوں جس سے آج میرے لن کی لمبائی اور موٹائی کافی اچھی ہو گئی ہے . تو مسرت نے کہا آپ نے آج بہت کام کی بات بتائی ہے میں اپنےمنگیترکو بھی یہ ہی بتا دوں گی تا کہ وہ زیتون کے تیل سے اپنے لن کو آپ جیسا مضبوط اور موٹا بنا لے تا کہ شادی کے بعد ذرا اور زیادہ مزے سے میں اس سے چُدوایا کروں گیاور ساتھ ہی مجھے آنکھ بھی مار دی پِھر مسرت نے خود ہی کہا کا شی جی 2 بج چکے ہیں مجھے 5 بجے سے پہلے واپس بھی جانا ہے کیا موڈ ہے تو میں نے کہا میں تو تیار ہوں مسرت نے کہا میں واشروم سے 2 منٹ میں ہو کر آتی ہوں وہ واشروم میں چلی گئی تھوڑی دیر بعد آئی تو میں نے کہا آپ کے پاس ٹائم بھی کم ہے اگر آپ کہو تو پہلے 69 پوزیشن ٹرائی کر لیں آپ ذرا میرے لن کو تیار کر دو میں آپ کی پھدی کو تھوڑا مساج کر دیتا ہوں مسرت نے کہا میرے منہ کی بات چھین لی ہے اور پِھر میں بیڈ پر لیٹ گیا وہ میرے اوپر 69 پوزیشن میں آ گئی میں نے پہلے اس کی پھدی کی ارد گرد چومنا شروع کر دیا کچھ دیر چومنے کے بعد میں نے اپنی زُبان نکال کر پہلے مسرت کی گانڈ کی موری پر پھیری تو اس کا جسم کانپ سا گیا اور اس کا منہ جو میرے لن کی ٹوپی کو منہ میں لے کر چوس رہا تھا وہ ایک دم کھل گیا اور لمبی سی آہ کی سسکی نکل گئی پِھر دوبارہ مسرت نے میرے لن کو منہ میں لے کر اس کا چوپا لگانا شروع کر دیا مسرت کی ایک بات تھی کے وہ چوپا لگانے کی ماہر تھی وہ چو پے کے ساتھ ساتھ لن کو اپنی تھوک کے ساتھ مساج بھی کرتی تھی اور زُبان کو بہت ہی مختلف اسٹائل میں استعمال کرتی تھی جس سے اچھے بھلے ٹائمنگ والے بندے کی بھی جان نکل جاتی تھی . آج بھی وہ اِس ہی دِل کشی اسٹائل میں جاندار چو پے لگا رہی تھی . میں اس کے منہ کی گرمی اور گرم تھوک کا مساج اپنے لن پر وازیا محسوس کر سکتا تھامیں بھی اب پھدی سے لے کر گانڈ کی موری پر زُبان پھیر کر مساج کر رہا تھا . مسرت کا جسم ہلکا ہلکا کانپ رہا تھا اور دوسری طرف وہ مسلسل میرے لن کے چو پے لگا رہی تھی . پِھر میں نے اس کی پھدی کے لبوں کو کھولا اور پِھر اپنی زُبان کو پھدی کے اندر پھیرا تو مسرت کے جسم کو ایک جھٹکا سا لگا مجھے پتہ تھا مسرت کو مزہ آ رہا تھا پِھر میں نے اس کو مزہ دینے کا سوچا اور اپنی زُبان کو اس کی پھدی کے اندر باہر کرنے لگا میں درمیان میں اپنی زُبان کی نوک کو اس کے دانے پر بھی پھیر دیتا تھا جس سے اس کے جسم کو جھٹکا لگتا تھا . اب اس کا جسم زیادہ کانپ رہا تھا میں نے بھی اپنی سپیڈ کو تیز کر دی ور زُبان کو مسرت کی پھدی کے اندر باہر کرنے لگا میری 2 منٹ مزید زُبان کی چدائی سے مسرت کا جسم تیز تیز جھٹکے کھانے لگا اور اس نے اپنا پانی چھوڑنا شروع کر دیا اس کی پھدی کا گرم گرم پانی مجھے اپنی زُبان پر منہ پر بھی محسوس ہوا . مسرت نے کافی زیادہ اپنی جوانی کا رس چھوڑا تھا . دوسری طرف مسرت کے چو پوں نے میرے لن کو لوہے کا راڈ بنا دیا تھا . پِھر مسرت میرے اوپر سے اٹھ کر واشروم میں چلی گئی اور 5 منٹ بعد فریش ہو کر آئی پِھر میں اٹھ کر باتھ روم میں گیا اور اپنا منہ ہاتھ دھو کر فریش ہوا اور دوبارہ اندر آ کر بیڈ پر بیٹھ گیا . مسرت نے کہا کا شی تمہاری زُبان میں ایک نشہ ہے جب تم نے میری گانڈ کی موری پر زُبان پھیری تھی میری تو جان ہی نکل گئی تھی ایسا مزہ مجھے پہلی دفعہ ملا ہے . میں نے کہا ابھی تو آگے آگے اور مزہ آئے گا . میں نے کہا کیا موڈ ہے مجھے تحفہ دینے کا تو مسرت نے کہا جان تحفہ تو حاضر ہے اور بیڈ پر چڑھ کر گھوڑی بن کر اپنی گانڈ کو میری طرف کر دیا اور بولی آپ کا تحفہ حاضر ہے اس نے پیچھے سے اپنی ٹانگوں کو بھی کھول لیا تھا مسرت کی گانڈ کا سوراخ چھوٹا سا تھا برائون رنگ کا تھا . میں نے کہا مسرت جی لوشن تو دو نہیں تو آپ نے چیخ چیخ کر برا حال کر لینا ہے . تو مسرت نے کہا میرا بیگ مجھے دو میں نے بیگ دیا تو اس نے لوشن نکال کر مجھے دیا میں نے لوشن نکال کر اس کو اپنے ہاتھ میں ڈال کر پہلے اس کو مسرت کی گانڈ پر لگانے لگا کچھ اس کی گانڈ کی دراڑ میں لگا دیا کچھ موری پر لگا دیا پِھر کچھ لوشن انگلی پر لگا کر ایک انگلی اس کی گانڈ میں اندر کر کے لوشن لگا دیا . لوشن نے گانڈ کی موری کو کافی نرم اور فلیکسبل بنا دیا تھا میری انگلی آسانی سے گانڈ کی موری کے اندر چلی گئی تھی . پِھر میں نے کچھ لوشن اپنے لنڈ پر لگا کر اچھی طرح اس کو گیلا کر دیا اور پِھر لوشن کو ایک سائڈ پر رکھ دیا مسرت تو پہلے ہی میرے سامنے گھوڑی بنی ہوئی تھی میں نے اس کی ٹانگوں میں گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اپنے لن کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر پہلے مسرت کی گانڈ کی موری پر سیٹ کیا پِھر میں نے اپنی دونوں ہاتھوں سے اس کی گانڈ کے پٹ کو کھولا تو اس کی موری بھی کچھ کھل گئی اور پِھر میں نے اپنے لنڈ کی ٹوپی کو موری پر رکھ کر ہلکا سا دھکا مارا لیکن میرا لنڈ پھسل گیا پِھر میں نے مسرت کو کہا کے تم ایک ہاتھ سے اپنی گانڈ کا پٹ کھولو ایک سے میں کھولتا ہوں اور دوسرے ہاتھ سے لن کو پکڑ کر موری کے اندر کرتا ہوں تو مسرت نے ایسا ہی کیا اور اپنی گانڈ کے پٹ کو کھولا تو میں نے بھی لن کو پکڑ کر موری پر سیٹ کر کے اِس دفعہ جھٹکا نہیں بلکہ لن کو زور سے اندر دبا دیا پچ کی آواز سے میری ٹوپی پھسل کر مسرت کی گانڈ میں اندر چلی گئی مسرت کے منہ سے درد بھری آواز آئی ہا اے نی میری ماں میں مر گئی . میں خود ہی وہاں رک گیا کیونکہ مجھے پتہ تھا ٹوپی پوری اندر جانے سے مسرت کو کافی تکلیف تھی .میں 5 منٹ تک اپنی ٹوپی کو مسرت کی گانڈ میں پھنسا کر وہاں ہی رکا رہا جب کچھ دیر بعد مسرت کو تکلیف کم ہوئی تو بولی کا شی تھوڑا آہستہ آہستہ کرو تمہارا لن بہت موٹا ہے میری پھاڑ دے گا . میں نے پِھر آہستہ آہستہ اپنے جسم کو حرکت دینا شروع کی میں آرام آرام سے لن کو گانڈ میں دبا رہا تھا مسرت کے منہ سے آہ آہ آہ آئی آئی  کی آوازیں نکل رہی تھیں . مزید 5 منٹ میں میں نے اپنا آدھے سے بھی زیادہ لن اس کی گانڈ کے اندر کر دیا تھا . مسرت مجھے بار بار کہہ رہی آرام سے آرام سے جب میرا تقریباً 2 انچ لن باہر رہ گیا تو مسرت نے کہا کا شی میں اور زیادہ برداشت نہیں کر سکتی تم اب مزید اندر نہیں کرو یہاں سے ہی اندر باہر کرنا شروع کرو میں نے کہا تھوڑا سا اور برداشت کر لو اور اس کے ساتھ ہی میں نے ایک زور کا دھکا مارا اور اپنا پورے کا پورا لن مسرت کی گانڈ میں اُتار دیا مسرت کے منہ سے ایک زور دَر چیخ نکلی ہا اے نی ماری ماں میں مر گئی ہا اے میری گانڈ پھٹ گئی . اور میں نے محسوس کیا وہ شاید رو رہی تھی . مجھے یہ سن کر بہت اپنے اوپر غصہ بھی آیا اور مسرت کا دکھ لگا کے اس نے اپنی کنواری گانڈ صرف مجھے دی اور میں نے ہوس میں آ کر اس پر ظلم کر دیا ہے . میں اپنا پورا لن پھنسا کر وہاں ہی رک گیا میں آگے سے نہ کوئی حرکت کر رہا تھا اور نہ ہی کچھ بول رہا تھا مسرت نیچے سے سبک رہی تھی . میں 10 منٹ تک لن پھنسا کر اس ہی پوزیشن میں بیٹھا رہا جب کافی دیر بعد مسرت کو کچھ راحت محسوس ہوئی اور وہ اب رو بھی نہیں رہی تھی . پِھر وہ خود ہی بولی کا شی تم کتنے ظالم ہو ذرا بھی احساس نہیں تھا میرا میں بار بار کہہ رہی تھی آرام آرام سے کرو یکدم تمہیں کیا ہوا جو اتنی تکلیف مجھے دے دی میں اس کی بات سن کر کافی شرمندہ تھا میں خاموش ہی رہا پِھر اس نے ہی کہا کچھ بولو بھی تو میں نے کہا مسرت جی مجھے معاف کر دو غلطی ہو گئی میں اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکا مسرت نے کہا تمہیں پتہ بھی تھا میری گانڈ کنواری ہے اور پِھر یکدم ہی مسرت کا موبائل بجنے لگا مسرت نے مڑ کر مجھے دیکھا اس کا چہرہ لال سرخ تھا لیکن اب غصہ نہیں تھا اور بولی میرا موبائل تو بیگ سے نکال دو بیگ میرے نزدیک ہی تھا میں نے بیگ میں سے موبائل نکال کر دیا تو سامنے حنا کی کال تھی میں نے کہا یہ تو حنا کال کر رہی ہے مسرت بھی پریشان ہو گئی اور پِھر موبائل میرے ہاتھ سے لے کر کال پک کی اور کچھ دیر بات کرنے کے بعد کال ختم ہو گئی تو مسرت نے موبائل ایک سائڈ پر رکھا اور کہا حنا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس نے مجھے اپنی جگہ ڈیوٹی کے لیے بلایا ہے وہ ہاسٹل میں آ کر آرام کرنا چاہتی ہے اس کے پیٹ میں درد ہے . تو میں نے مسرت سے پوچھا کیا موڈ ہے تو کہنے لگی اب تو گانڈ بھی پھر وا لی ہے اب تم مزہ پورا کرو پِھر ہم چلتے ہیں میں نے کہا ٹھیک ہے اور میں نے پِھر اپنے لن کو آہستہ آہستہ اندر باہر کرنا شروع کیا میں اب کی بار بہت آرام آرام سے کر رہا تھا لیکن تکلیف ابھی بھی اس کو ہو رہی تھی اس کا چہرہ بتا رہا تھا میرا اپنا لن خود کافی زیادہ گانڈ میں ٹائیٹ ہوا تھا اور گانڈ کی دیواروں کو رگڑ رگڑ کر اندر باہر ہو رہا تھا5 منٹ بعد ہی میرا لنڈ کافی حد تک مسرت کی گانڈ میں رواں ہو چکا تھا کیونکہ اب مسرت کے منہ سے لذّت بھری آوازیں نکلنا شروع ہو گائیں تھیں آہ آہ اوہ آہ اوہ آہ آہ اور اس نے اپنی گانڈ کو آگے پیچھے کرنا شروع کر دیا تھا . میں نے یہ دیکھا کر اپنی سپیڈ تیز کر دی کیونکہ اب مجھے بھی کافی مزہ آ رہا تھا مسرت کی کنواری گانڈ نے میرے لن کو جڑش کر رکھا ہوا تھا بہت الگ سا مزہ مل رہا تھا . میں نے مسرت کو کیا اب تیز تیز دھکے لگا سکتا ہوں تو اس نے پیچھے مڑ کر مجھے دیکھا اور ایک نشیلی سی سمائل دی اور آنکھ مار دی میں اس کا اشارہ سمجھ گیا میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہو گیا کیونکہ مسرت کی ٹائیٹ گانڈ نے میرے لن کا برا حال کر دیا تھا اور میں زیادہ دیر تک چود نہیں سکتا تھا اِس لیے میں نے سوچا فل مزہ لے کر اِس کو گانڈ ماروں اور میں نے کھڑے ہو کر فل سپیڈ کے ساتھ دھکے پر دھکے لگانے شروع کر دیئے مسرت کو اب فل مزہ آ رہا تھا اِس لیے اس نے میرا جوش دیکھ کر کھل کر میرا ساتھ دینا شروع کر دیا اور اس کی اونچی اونچی سسکیاں آہ آہ آہ ہا اے کا شی میری جان اور تیز کرو آہ آہ آہ اوہ اوہ حنا دیکھ لو میں نے تمھارے یار کو اپنا یار بنا لیا ہے آہ آہ اوہ آہ آہ اس کی سسکیاں پورے کمرے میں گونج رہیں تھیں کمرے میں ہماری چدائی کی آواز بھی دھپ دھپ بھی نکل رہی تھی . پورے کمرے میں ایک عجیب سا جوش نشہ سا ہم دونوں کو چڑھا ہوا تھا میں بھی بول رہا تھ ہاں حنا دیکھ لو آج تمھارے بغیر ہی تمہاری سہیلی کی گانڈ مار دی ہے اور میں طوفانی دھکے لگا رہا تھا . پِھر شاید مسرت کی پھدی نے نیچے سے پِھر پانی چھوڑ دیا تھا جس سے اس نے زور لگا کر اپنی گانڈ کو بھی دبا لیا جس سے میرے لن کو اور زیادہ جڑولیا تھا لیکن میں دھکے پر دھکے لگا رہا تھا اور مزید 2 منٹ بعد میرے لن نے بھی مسرت کی گانڈ کے اندر جھٹکے کھانے شروع کر دیئے اور میں نے اپنی منی کا سیلاب مسرت کی گانڈ میں ہی چھوڑ دیا اور اِس ہی پوزیشن میں لن اندر ہی تھا میں مسرت کے اوپر گر کر ہانپنے لگا مسرت میرا وزن نا سہہ سکی وہ بھی نیچے گر گئی اور میں اس کے اوپر ہم دونوں ہی ہانپ رہے تھے . جب میری منی کا آخری قطرہ بھی نکل گیا تو میں نے اپنے لن کو باہر نکل لیا جب لن دیکھا تو اس پر مسرت کی گانڈ کا کافی خون بھی لگا تھا جو اِس بات کی نشانی تھی کے وہ کنواری تھی . پِھر کچھ دیر بعد مسرت نے کہا کا شی مجھے سے ابھی چلا نہیں جا رہا مجھے باتھ روم لے چلو مجھے صفائی کرنی ہے میں اس کو اٹھا کر باتھ روم میں لے گیا جہاں اس نے گرم پانی سے خود ہی پہلے اپنی پھدی اور گانڈ کی صفائی کی پھور میرے لن کو بھی اچھی طرح دھو کر صاف کر دیا . پِھر میں مسرت کو اٹھا کر دوبارہ بیڈ پر لے آیا میں نے کہا مجھے پین لیس کریم دو میں لگا دیتا ہوں اس سے کافی بہتر ہو جائے گا پِھر آپ کپڑے پہن لو میں آپ کو اسپتال چھوڑ آتا ہوں . مسرت نے مجھے کریم دی میں نے کی گانڈ اور موری پر کریم لگا دی اور ہم 15 منٹ مزید لیٹ کر یہاں وہاں کی باتیں کرتے رہے پِھر شاید کریم نے کافی اثر کیا مسرت نے خود ہی اٹھ کر کپڑے پہن لیے اور میں بھی اٹھا کپڑے پہن کر تیار ہو گیا پِھر ہم دونوں ہوٹل کا کلیئر کر کے باہر نکل آئے وہ رسپشن والی لڑکی واپسی پر موجود نہیں تھی . میں نے بائیک پر مسرت کو اسپتال چھوڑ اور خود گھر کی طرف آ گیا

Share this post


Link to post
Share on other sites

اردو فن کلب کے پریمیم ممبرز کے لیئے ایک لاجواب تصاویری کہانی ۔۔۔۔۔ایک ہینڈسم اور خوبصورت لڑکے کی کہانی۔۔۔۔۔جو کالج کی ہر حسین لڑکی سے اپنی  ہوس  کے لیئے دوستی کرنے میں ماہر تھا  ۔۔۔۔۔کالج گرلز  چاہ کر بھی اس سےنہیں بچ پاتی تھیں۔۔۔۔۔اپنی ہوس کے بعد وہ ان لڑکیوں کی سیکس سٹوری لکھتا اور کالج میں ٖفخریہ پھیلا دیتا ۔۔۔۔کیوں ؟  ۔۔۔۔۔اسی عادت کی وجہ سے سب اس سے دور بھاگتی تھیں۔۔۔۔۔ سینکڑوں صفحات پر مشتمل ڈاکٹر فیصل خان کی اب تک لکھی گئی تمام تصاویری کہانیوں میں سب سے طویل کہانی ۔۔۔۔۔کامران اور ہیڈ مسٹریس۔۔۔اردو فن کلب کے پریمیم کلب میں شامل کر دی گئی ہے۔

مسرت کے ساتھ مزہ کرنے کے بعد 2 ہفتے گزر چکے تھے لیکن دوبارہ نہ تو حنا کے ساتھ اور نہ ہی مسرت کے ساتھ کوئی موقع بن سکا میں اپنی پڑھائی میں زیادہ تر مصروف تھا فیصل کے امتحان ہو رہے تھے اِس لیے اس کے گھر بھی کوئی چکر نہ لگ سکا ایک دن مجھے فیصل کی امی کی کال آئی کے وہ کسی دن دن کے وقعت گھر چکر لگائی فیصل اور اس کے ابو گھر پر نہیں ہوں گے تو دونوں مل کر مزہ لے سکیں گے. لیکن میں نے مصروف ہونے کا بہانہ لگا کر تال دیا کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کے میرے اور آنٹی کے چکر کا فوزیہ آنٹی کو پتہ چلے کیونکہ فیصل اور اس کے ابو گھر میں نہیں ہوں گے اور میں جب نیچے آنٹی کے ساتھ مزہ کر رہا ہوں گا تو فوزیہ آنٹی کو شاق ہو جائے گا کے کا شی اوپر کیوں نہیں آیا اِس لیے میں یہ رسک نہیں لینا چاہتا تھا . لیکن میرے دماغ میں ایک خیال آیا اور میں نے فیصل کی امی سے ملنے کے بجائے میں نے فوزیہ آنٹی سے ملنے اور ان کو دانہ ڈالنے کا سوچا اور جمرات کو میں پلان کے مطابق میں نے یونیورسٹی سے چھوٹی کی اور تقریباً صبح 11 بجے کے قریب میں فوزیہ آنٹی کے چلا گیا اِس دفعہ میں نے اوپر کی بیل دی تھوڑی دیر بعد فوزیہ آنٹی نے ہی دروازہ کھولا مجھ پر نظر پری تو تھوڑا حیران ہوئی اور پوچھا کا شی بیٹا تم آج میری طرف خیر تو ہے میں نے کہا کچھ خاص نہیں آنٹی بس مجھے ماں منہ سے کام تھا میں تو جھوٹ بول رہا تھا کیونکہ میں تو آیا ہی فوزیہ آنٹی کے لیے تھا آنٹی نے کہا بیٹا وہ تو کراچی گئے ہوئے ہیں انہوں نے ہفتے والے دن واپس انا ہے . میں نے کہا اوہ اچھا آنٹی میں پِھر چلتا ہوں میں پِھر آ جاؤں گا تو آنٹی نے کہا رکو کا شی بیٹا کہاں جا رہے ہو کبھی اپنی آنٹی کے پاس بھی آ جایا کرو میں بھی تمہاری ماں می ہوں کوئی غیر تھوڑی ہوں میں نے کہا آنٹی میں نے کب کہا آپ غیر ہیں تو آنٹی نے کہا پِھر اوپر آؤ بیٹھو تھوڑی دیر پِھر چلے جانا ویسے بھی میں گھر اکیلی ہوں مریم باجی ( فیصل کی امی ) اور نازیہ ( آنٹی فوزیہ کی بیٹی ) دونوں مارکیٹ گئے ہیں میں گھر میں اکیلی ہوں تھوڑی دیر آ جاؤ پِھر جب وہ آئیں تو چلے جانا پِھر فوزیہ آنٹی نے مجھے اندر جانے کا رستہ دیا میں اندر داخل ہو کر اوپر آنٹی فوزیہ کے بیڈ روم میں آ کر صوفے پر بیٹھ گیا آنٹی بھی کچھ دیر میں آ گائیں اور وہ کچن میں چلی گائیں اور تھوڑی دیر بعد 2 کپ چھ لے کر بیڈروم میں آئیں اور ایک کپ مجھے دے دیا اور ایک خود لے کر اپنے بیڈ پر بیٹھ گائیں . چھ کا سپ لینے کے بعد بولیں کا شی بیٹا پڑھائی کیسی چل رہی ہے تو میں نے کہا آنٹی جی اچھی چل رہی ہے میں نے کہا آنٹی نازیہ نے ایڈمیشن لے لیا ہے تو آنٹی نے کہا ہاں بیٹا اس کا ایڈمیشن ہو گیا ہے وہ اب سوموار والے دن سے کالج جانا شروع کرے گی . پِھر آنٹی نے کہا کا شی بیٹا تم تو نیچے ہی فیصل کے پاس آتے ہو یہاں آ کر بھی اوپر چکر نہیں لگاتے ہو کیا بات ہے ناراض ہو ہم سے تو میں نے کہا نہیں آنٹی ایسی بات نہیں ہے بس ویسے ہی اوپر نہیں آیا تو آنٹی نے ایک عجیب سی مسکان کے ساتھ کہا کا شی بیٹا سچ سچ بتاؤ فیصل کے پاس کون سی ایسی چیز ہے جس کے لیے تم رات بھر اس کے ساتھ رہنے آ جاتے ہو لیکن کچھ دیر کے لیے اپنی آنٹی کے لیے اوپر نہیں آتےمیں فوزیہ آنٹی کی بات کو اچھی طرح سمجھ چکا تھا اِس لیے آج میں نے بھی تھوڑا کھل کر بات کرنے کا سوچا میں نے کہا نہیں آنٹی ایسی بھی کوئی خاص بات نہیں ہے اصل میں میں اور فیصل ہم عمر ہیں گھپ شپ لگانی ہو یا موج مستی کرنی ہو تو میں کبھی کبھی آ جاتا ہوں اب میری ماں می ہیں میں آپ کے ساتھ تو کھل کر گھپ شپ یا موج مستی تو کر نہیں سکتا ہوں تو آنٹی میری بات سن کر مسکرا پری اور بولیں ہاں مجھے پتہ ہے تم دونوں کی کیا موج مستی ہے اب تم دونوں جوان ہو گئے ہو تم دونوں کے موج مستی کے دن آ گئے ہیں ویسے اب یونیورسٹی میں کوئی گرل فرینڈ بنائی ہے یا نہیں تو میں نے کہا آنٹی جی ابھی تو 1 مہینہ ہوا ہے ابھی کہاں بنی ہے ویسے بھی مجھے کس نے لفٹ کروا نی ہے آنٹی نے کہا کیوں نہیں کروا نی ہے میرا بھانجا اتنا بھی برا نہیں ہے گورا چا  ہینڈسم ہے کیا کمی ہے تم میں جو کوئی تمہیں ریجکٹ کرے گی تو میں نے کہا آنٹی اب میں کیا کہہ سکتا ہوں مجھے کیا پتہ کیا کمی ہے میں تو ہر طرح سے فٹ ہوں اور ہنسنے لگا آنٹی بھی میری بات سن کر ہنسنے لگی میں نے کہا آنٹی سچی بات ہے مجھے ینگ لڑکیاں زیادہ اٹریکٹ نہیں کرتی ہیں شاید اِس لیے ابھی تک کوئی گرل فرینڈ نہیں بن سکی آنٹی میری بات سن کر ایک عجیب سی سمائل دی اور بولی اچھا کیوں تم تو ابھی جوان ہو جوان لڑکوں کو جوان لڑکیاں ہی اچھی لگتی ہیں تمہیں کیوں نہیں لگتی ہیں میں نے کہا آنٹی جی بس اپنی اپنی نیچر ہوتی ہے کچھ لڑکے جلدی میچور ہو جاتے ہیں اِس لیے وہ میچور لوگوں کو پسند کرتے ہیں آنٹی میری بات سن کر بولیں ویسے یہ اچھی بات ہے مجھے تمہاری یہ عادت بہت اچھی لگی ہے. فوزیہ آنٹی نے کہا اچھا یہ تو بتاؤ فیصل کے پاس کون سی خاص چیز ہے جو رات پوری بیٹھ کر دیکھتے ہو میں فوزیہ آنٹی کی بات سن کر ایک دم بوکھلہ سا گیا لیکن میں نے ظاہر نہ ہونے دیا اور آنٹی کو کہا آنٹی ایسی کوئی بات نہیں ہے اصل میں فیصل کے پاس کافی اچھی اچھی موویز کی کلیکشن ہوتی ہیں جب کبھی میرے پاس فارغ ٹائم ہوتا ہے تو میں آ جاتا ہوں اور دونوں مل کر دیکھ لیتے ہیں وہ انٹرنیٹ سے موویز کو ڈائون لوڈ کرتا رہتا ہے . آنٹی نے سیکسی سی سمائل دے کا کہا اچھا تو یہ با تھے پِھر کبھی مجھے بھی کوئی اچھی سی مووی دیکھا دیا کرو میں بھی گھر بیٹھ باتْھ کر بور ہو جاتی ہوں . میں نے کہا آنٹی جی فیصل تو یہاں ہو ہوتا ہے آپ اس کو بول کر دیکھ لیا کریں کس نے منع کیا ہے تو آنٹی نے کہا کا شی بیٹا اصل میں وہ میرا بھتیجا ہے تھوڑا رشتہ ایسا ہے کے میں اس کو نہیں بول سکتی پتہ نہیں اس کے پاس کس قسِم کی موویز ہیں مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ تم کس طرح کی موویز دیکھتے ہو میں آنٹی کی باتوں کو آہستہ آہستہ سمجھ رہا تھا اِس لیے میں نے کہا آنٹی اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے انگلش موویز ہوتی ہیں اس میں تھوڑا بہت رومینس اور کس وغیرہ تو ہوتا ہی ہے آپ شادی شدہ ہیں آپ اِس چیز کو بہتر سمجھتی ہیں . آنٹی نے کہا ہاں یہ تو ہے کیبل پر بھی انڈین مووی میں اب تھوڑا بہت رومینس اور کس وغیرہ چلتا رہتا ہے . نازیہ بھی گھر ہوتی ہے اِس لیے ٹی وی پر تو اس کے سامنے تو نہیں دیکھ سکتی ہاں اگر موبائل میں ہو تو میں الگ سے دیکھ سکتی ہوں تمھارے پاس ہے موبائل میں اچھی اچھی موویز تو میرے موبائل میں ڈال دو میں بھی فارغ ٹائم میں دیکھ لیا کروں گی اور کوئی اچھے اچھے سونگز ہوں تو وہ بھی ڈال دو فارغ ٹائم میں سن لیا کروں گی تو میں نے کہا آنٹی جی مووی تو فل حال ابھی نہیں ہیں لیکن سونگز اچھے اچھے ہیں وہ ڈال دیتا ہوں موویز کسی اور دن لے آؤں گا پِھر آپ کے موبائل میں ڈال دوں گا . تو آنٹی نے کہا چلو ٹھیک ہے سونگس ڈال دو اور اپنا موبائل مجھے دے دیا میں ان کے موبائل میں اچھے اچھے سونگز ڈالنے لگا آنٹی بیڈ پر ہی بیٹھی تھیں یکدم میرے دماغ میں ایک زبردست پلان آیا اور میں نے پہلے سونگز موبائل میں کاپی کر کے پِھر لاسٹ میں ایک فولڈر اِسْپیشَل کے نام سے بنا دیا اور اس میں فوزیہ آنٹی اور فیصل کی چدائی کی ویڈیو کاپی کر دی اور پِھر موبائل آنٹی کو دے دیا اور بولا آنٹی میں چلتا ہوں اصل میں مجھے ایک دوست سے کچھ نوٹ لینے جانا ہے میں پِھر چکر لگاؤں گات یو موویز بھی لے آؤں گا آنٹی نے کہا ٹھیک ہے اور میں نیچے آ آ گیا آنٹی بھی میرے پیچھے آ گئی اور جب میں گھر سے باہر نکلا تو آنٹی دروازے پر ہی کھڑی تھی میں نے جاتے جاتے آنٹی کو کہا آنٹی جی میں نے اچھے اچھے سونگز سب کاپی کر دیئے ہیں اور اچھے سونگز میں نے اِسْپیشَل والے فولڈر میں ڈال دیئے ہیں وہ بھی سن لیا کرنا آپ کو میری کلیکشن بہت پسند آئے گی تو آنٹی نے کہا ہاں کا شی بیٹا ضرور ضرور میں دیکھ لوں گی . اور پِھر میں وہاں سے سیدھا گھر آ گیا مجھے اب پتہ تھا کے میں نے اپنا پتہ کھیل دیا ہے اب فوزیہ آنٹی کا ری ایکشن دیکھا ہے . اب آگے سے اصل کھیل شروع ہونے والا تھا جس کا مجھے شدت سے انتظار تھا . فوزیہ آنٹی کے گھر سے واپس آنے کے بعد سے میں پِھر سے اپنی پڑھائی میں مصروف ہو گیا تھا لیکن میں فوزیہ آنٹی کے ری ایکشن کا انتظار کر رہا تھا مجھے فوزیہ آنٹی کے گھر سے واپس آ کر 2 دن گزر چکے تھے لیکن ابھی تک کسی قسِم کا کوئی ری ایکشن نہیں آیا تھا پِھر اس سے اگلے ہفتے میں جب میں بدھ والے دن یونیورسٹی سے گھر واپس آ کر اپنے کمرے میں لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا تو مجھے فوزیہ آنٹی کے نمبر سے کال آ گئی میں ساری بات سمجھ چکا تھا مجھے پتہ تھا فوزیہ آنٹی کی کال کیوں آئی ہے اِس لیے میں نے آنٹی کی کال کو پک نہیں کیا آنٹی نے ایک دفعہ کال کر کے دوبارہ 10 منٹ بعد کال کی اِس دفعہ میں نے پِھر کال پک نہیں کی پِھر اس کے بعد انہوں نے کال نہیں کی میں رات کا كھانا کھا کر جب اپنے کمرے میں رات کو 10 بجے سو نے کی تیاری کر رہا تھا تو ایک دفعہ پِھر فوزیہ آنٹی کی کال آ گئی اِس دفعہ بھی میں نے کال پک نہیں کی کیونکہ میرے دماغ میں ایک مکمل پلان چل رہا تھا کے پہلے میں فوزیہ آنٹی کو اپنی اہمیت کا احساس دلوں گا پِھر جب آنٹی کو مکمل احساس ہو جائے جی کے کا شی کو ساری بات کا پتہ بھی ہے اور وہ میرے ساتھ بات نہیں کر رہا تو دَر ان کے دِل میں خود ہی بیٹھ جائے گا جب آنٹی کے آگے میرے دَر بن جائے گا تو پِھر میں اپنا اگلا پتہ کھیلوں گا . پِھر اس کے بعد دوبارہ کال نہیں آئی اگلے 2 دن آنٹی فوزیہ کی کال بھی نہیں آئی اور میں اپنی یونیورسٹی میں ہی مصروف رہا جمه والے دن جب میں یونیورسٹی سے فارغ ہو کر بائیک پر واپس گھر آ رہا تھا تو میرے موبائل بجنے لگا میں نے پہلے تو کال کو اگنور کیا یہ ہی سوچا ہو سکتا ہے فوزیہ آنٹی کی کال ہو لیکن 5 منٹ بعد پِھر کال آ گئی میں نے بائیک کو ایک سائڈ پر پارک کیا اور اپنی پینٹ کی جیب سے موبائل نکال کر کے چیک کیا تو یہ فوزیہ آنٹی نہیں بک کے یہ شیخوپورہ سے وہ والی ہی آنٹی کی کال تھی جس سے مجھے بلال نے میلوایا تھا میں ایک دم حیران ہوا کیونکہ مجھے شیخوپورہ سے آئے ہوئے 3 مہینے گزر چکے تھے اور میں یہاں آ کر حنا اور مسرت اور مریم آنٹی اور اپنی یونیورسٹی کے چکر میں ان سب کو بھول چکا تھا لیکن آج اس آنٹی کی کال کو دیکھا کر ایک دفعہ پِھر پرانی یاد آ گئی اور میں نے کال پک کی آگے سے آنٹی کے ساتھ سلام دعا ہوئی تو آنٹی نے کہا کا شی جی تم تو واپس جا کر ہمیں بھول ہی گئے ہو کیا کوئی نیا مال مل گیا ہے تو میں آنٹی کی بات سن ہنسنے لگا اور پِھر ان کو جھوٹ بول دیا کے میں واپس آ کر اپنی پڑھائی میں زیادہ مصروف ہو گیا تھا اِس لیے آپ سے رابطہ کرنا یاد نہیں رہا پِھر کچھ دیر یہاں وہاں کی باتیں کرنے کے بعد آنٹی نے کہا میں نے اِس لیے فون کیا تھا کے میں نے تمہیں اپنی نند مہوش کا بتایا تھا نہ میں نے کہا جی مجھے یاد ہے تو آنٹی نے کہا وہ اسلام آباد چلی گئی

 

ہے اس کو 1 مہینے ہونے والا ہے وہ اسلام آباد ہی ہے تمہیں اس کا نمبر دے رہی ہوں اب وہ وہاں سیٹ ہو چکی ہے اس نے مجھے سے تمہارا نمبر مانگا تھا میں نے دے دیا ہے اور تمہیں اس کا نمبر بھیج رہی ہوں وہ تم سے 1 یا 2 دن تک رابطہ کرے گی پِھر تم اس کے ساتھ بھی رابطہ کر لینا اور سب کچھ دیکھ کر اپنا معاملا سیٹ کر لینا اور پِھر جب کبھی موقع ملے چلے جایا کرنا اور مزہ کر لیا کرنا اور میری نند کو مزہ دیا کرنا خیال سے کرنا وہ بہت نازک سی ہے تمہارا تو اس کے شوہر سے بھی بڑا اور موٹا ہے اس کو اتنے بڑے کی عادت نہیں ہے اِس لیے پہلے پہلے تھوڑا آرام سے کرنا جب 1 یا 2 دفعہ وہ تمہارا لے گی تو خود ہی اس کو بھی عادت ہو جائے گی پِھر بے شک جیسے دِل کرے کر لیا کرنا اور ہاں اس کو میں نے سب کچھ سمجھا دیا ہے وہ تمھارے ساتھ مکمل تیار ہے بس تم کچھ دن اس کے ساتھ فون پر ہی گھپ شپ لگا لینا پِھر کسی دن ٹائم سیٹ کر چلے جانا اور اپنا اور اس کا کام پورا کر لینا اور ہاں میں نے اس کو کہا ہے کے تمہیں گانڈ مار نے کا بھی شوق ہے وہ کہتی ہے اگر وہ میرا ساتھ مکمل اور پیار سے دے گا تو میں اپنی گانڈ بھی کسی نہ کسی دن دے دوں گی . میں آنٹی کی بات سن کر خوش ہو گیا اور ان کو بولا آنٹی آپ بے فکر ہو جائیں آپ اور مہوش جیسا کہو گی ویسا ہی ہو گا پِھر آنٹی نے کہا شیخوپورہ کب چکر لگاؤ گے تمھارے ساتھ تو بلال سے بھی زیادہ مزہ آیا تھا میں نے کہا تھوڑا سا انتظار اور کر لیں میں ضرور چکر لگاؤں گا پِھر کچھ دیر مزید باتیں کر کے آنٹی کی کال ختم ہو گئی کال ختم ہونے کے 1 منٹ بعد ہی آنٹی کا مجھے میسیج آ گیا اس میں مہوش کا نمبر لکھا ہوا تھا میں نے وہ نمبر سیو کر لیا اور دوبارہ بائیک اسٹارٹ کی اور گھر کی طرف چل پڑا. میں جب گھر پہنچ کر جب گھر کے اندر داخل ہوا تو ڈرائنگ روم میں فوزیہ آنٹی آ کر بیٹھی تھی اور میری امی کے ساتھ باتیں کر رہی تھی . جب فوزیہ آنٹی کی نظر مجھ سے ملی تو ایک دفعہ تو ان کا رنگ پیلا پر گیا لیکن پِھر موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنے آپ کو سنبھال لیا پِھر میری امی کی آواز میری کان میں گونجی کے کا شی بیٹا کتنی دیر لگا ڈی تم نے فوزیہ آنٹی تمہارا کب کا انتظار کر رہی ہیں ان کو کہیں جانا تھا اِس لیے تمہیں ساتھ لے کر جانا چاہتی ہیں اور کب سے تمہارا انتظار کر رہی ہیں میں نے کہا امی میں 10 منٹ میں تیار ہو کر آٹا ہوں پِھر آنٹی کو جہاں جانا ہے میں ساتھ چلا جاتا ہوں اور میں یہ بول کر تیزی سے اپنے کمرے میں آ گیا اور اپنا بیگ ایک سائڈ پر رکھا اور الماری سے اپنی پینٹ شرٹ نکال کر واشروم میں گھس گیا جب میں نے واشروم کے اندر اپنے کپڑے اُتار دیئے تو میرے لن نے جھٹکا مارنا شروع کر دیا اور میں اپنے لن کی مستی کو سمجھ گیا تھا کیونکہ میں جانتا تھا لن کو پتہ چل چکا ہے اب فوزیہ آنٹی جیسی حَسِین اور خوبصورت عورت کی پھدی اور گانڈ اِس کو ملنے والی ہے اور سب سے زیادہ میں خود خوش تھا میری اتنی پرانی خواہش پوری ہونے والی تھی میں جب بھی فوزیہ آنٹی کو کسی شادی یا کسی اور موقع پر دیکھتا دیٹ یو میرے دِل ان کو دیکھ کر مچل سا جاتا تھا اور فوزیہ آنٹی ہمارے خاندان کی حَسِین عورت تو ہے تھی لیکن وہ غرور بھی بہت رکھتی تھی خاندان میں کسی کو گھاس بھی نہیں ڈالتی تھی . پتہ نہیں کیسے فیصل جو کوئی اتنا خاص بھی نہیں تھا اس کے ساتھ کیسے سیٹ ہو گئی تھی. خیر میرے پاس ٹائم کم تھا مجھے فوزیہ آنٹی کے ساتھ جانا تھا اِس لیے میں فریش ہو کر کپڑے بَدَل کر واشروم سے نکل آیا اور دوبارہ پِھر ڈرائنگ روم میں آ گیا اور فوزیہ آنٹی کو بولا آنٹی میں تیار ہوں آئیں چلتے ہیں پِھر فوزیہ آنٹی نے امی سے اِجازَت لی اور پِھر میں فوزیہ آنٹی کو اپنی موٹر بائیک پر لے کر گھر سے نکل آیا جب میں گھر سے تھوڑا آگے نکل آیا تو میں نے آنٹی سے کہا آنٹی کہاں جانا ہے تو آنٹی نے اپنے نرم و ملائم ممے میری کمر کے ساتھ لگا کر کا شی بیٹا جہاں دِل ہے لے چلو میں آنٹی کی بات پر تھوڑا حیران ہوا لیکن فوراً سمجھ گیا کے آنٹی کوئی کام نہیں ہے وہ مجھے سے ہی ملنے آئی ہیں اور باہر اکیلے میں مجھے سے بات کرنے کے لیے امی کے سامنے کسی کام کا بہانہ بنا دیا تھا . میں نے کہا آنٹی جی پِھر بھی آپ بتا دیں کہاں چلنا ہے میں لے چلتا ہوں آنٹی نے مجھے اسلام آباد میں ہی پیر سوحاوا کی طرف چلنے کا کہا پیر سوحاوا میرے گھر سے تقریباً 30 سے 35 منٹ کا رستہ تھا . اور شام کے ٹائم وہاں کافی رونق ہوتی ہے میں نے بھی آگے سے کچھ بولی بغیر اپنی موٹر بائیک کو پیر سوحاوا کی طرف موڑ دیا جب ہم رستے میں جا رہے تھے تو آنٹی بار بار اپنے نرم ملائم ممے میری کمر میں ٹچ کر رہی تھی آنٹی کے ممے میں دیکھ چکا تھا ان کا سائز تقریباً 38 تھا آنٹی کا مکمل جسم ایک دم ٹائیٹ اور کسا ہوا تھا آنٹی کی اپنے جسم کی مکمل دیکھ بھال کرتی تھی ان کا جسم ایک متناسب جسم تھا کمر کے حساب سے ان کے ممے اور گانڈ باہر کو نکلے ہوئے تھے اگر آپ آنٹی کا موازنا کریں تو آنٹی میں اور پاکستانی ڈرامہ ایکٹریس جویریہ عباسی کو دیکھ لیں اور فوزیہ آنٹی میں شکل میں بھی تھوڑا بہت فرق ہے لیکن فوزیہ آنٹی اور جویریہ عباسی کے جسم میں کوئی فرق نہیں ہے . آنٹی نے پہلے اپنا ہاتھ میرے کاندھے پر رکھا ہوا تھا جو کے اب آگے ہو کر میرے پیٹ پر آ گیا تھا اور آنٹی اپنے جسم کو مضبوطی سے میرے ساتھ جوڑ رہی تھی . آنٹی کی جسم کی ایک اور اچھی چیز ان کی نپلز تھے جو کے ان کے مموں کے حساب سے کافی گول اور موٹے تھے اور میں حیران اِس بات پر تھا کے آنٹی کے نپلز کا رنگ ابھی تک پنک تھا کیونکہ میرے ماں منہ اور فیصل کے نپلز چُوسنے کے بَعْد بھی ان کے نپلز کا رنگ نہیں بدلہ تھا . میں پیر سوحاواکی طرف رواں دواں تھا آنٹی کے ممے اور نپلز میری کمر پر لگنے کی وجہ سے پینٹ کے اندر میرے لن کافی حد تک ٹائیٹ ہو چکا تھا اور جھٹکے بھی مار رہا تھا . راستے میں ایک جگہ پر یکدم بریک مار نے کی وجہ سے مجھے بھی اور آنٹی کو جھٹکا لگا آنٹی کا پورا جسم میرے ساتھ آ کر لگا اور آنٹی کا ہاتھ میرے پیٹ سے پھسل کر سیدھا میرے لن پر چلا گیا جو کے پہلے ہی ٹائیٹ ہوا پڑا تھا اور آنٹی کا ہاتھ مجھے اپنے لن پر اچھا بھلا محسوس ہوا تھا اور آنٹی نے بھی شاید میرے لن کو کافی اچھی طرح محسوس کیا ہو گا . لیکن حیرانگی کی بات یہ تھی آنٹی نے دوبارہ اپنا ہاتھ میرے لن کے اوپر سے نہیں اٹھایا میں اب مکمل طور پر سمجھ چکا تھا کے آنٹی نے اپنی اور فیصل والی ویڈیو دیکھ لی ہے اور آنٹی اب اپنے آپ کو بچا نے  کے لیے میرے ساتھ کھل کر بات کرنے آئی ہے . اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کے میرے ما موں ایک سخت مزاج انسین تھے ان کا اپنا ایک اسٹیٹس تھا اور پڑھے لکھے اور قابل ڈاکٹر تھے اور فوزیہ آنٹی کے گھر والوں نے بہت کوشش کے بَعْد میرے ماموں کو رشتے کے لیے راضی کیا تھا کیونکہ فوزیہ آنٹی بھی ماموں کو کافی پسند کرتی تھیں

 اور اب ان کو اِس بات کا درت ہا کے اگر فیصل اور ان کی یہ ویڈیو ماموں کو مل گئی یا دیکھ لی تو قیامت آ جائے گی فوزیہ آنٹی کو پکی تلاق اور فیصل کی تو ما موں نے گانڈ پھاڑ دینی تھی اور بدنامی الگ سے ہونی تھی . فوزیہ آنٹی کا غرور اور عزت سب کے سامنے خاک میں مل جانی تھی کیونکہ ان کو پورے خاندان میں اپنے حسن پر ناز تھاوہ اچھے بھلے شکل صورت والے کو بھی کم ہی گھاس ڈالتی تھیں اور پِھر جب لوگوں کو یہ پتہ لگنا تھا کے فوزیہ آنٹی اپنے سگے بحتیجے کے ساتھ ہی گل کھلا رہی ہے تو بہت زیادہ بدنامی ان کے خاندان کے لیے ہو گی . اور یہاں میں اپنی جگہ دِل میں خوش تھا کے اب فوزیہ آنٹی کی پھدی اور گانڈ میرے لنڈ سے زیادہ دور نہیں ہے اور سب سے بڑی بات فوزیہ آنٹی کی بیٹی نازیہ جس کو میں بہت پسند کرتا تھا اور میں اپنی دِل سے اس کے ساتھ شادی کرنے کے لیے تیار تھا وہ ایک پر کشش اور آئیڈیل لڑکی تھی اور جب سے مجھے پتہ چلا تھا کے فیصل بھی اس کو پسند کرتا ہے اور اس کے ساتھ شادی کا خواہش مند ہے تو مجھے اور زیادہ تکلیف تھی کے ایک تو اکیلے اکیلے فوزیہ آنٹی کے ساتھ مزہ کرتا ہے اور دوسرا جس کو میں پسند کرتا ہوں وہ بھی اس کے آگے آ رہا ہے تو مجھے بہت تکلیف تھی اور اب مجھے خوشی تھی کے فوزیہ آنٹی کو پہلے اپنے لن کی سیر کروا کے اپنا مرید بنالوں گا پِھر آہستہ آہستہ نازیہ کے ساتھ شادی کے لیے آنٹی کوپكہ تیار کروں گا اور ما موں تو پہلے ہی میرے حق میں راضی تھے . اور میں نے کئی بار نوٹ کیا تھا نازیہ فیصل کے ساتھ اتنا بات کرنا بھی پسند نہیں کرتی تھی . لیکن نازیہ کے دِل کی بات میں بھی ٹھیک طرح سے نہیں جانتا تھا . آنٹی تو اپنا ہاتھ میرے لن پر رکھ کر بھول ہی گئی تھی اور درمیان میں کبھی کبھی اپنا ہاتھ کو دبا کر میرے لن کو محسوس کر رہی تھی . خیر تقریباً 40 منٹ کے بَعْد ہم لوگ پیر سوحاوا پہنچ گئے وہاں کافی رش تھا میں اور آنٹی ہوٹل میں ایک جگہ ایک کونے میں جا کر بیٹھ گئے ویٹر آیا اور میں نے کچھ سینڈوچ اور کولڈ ڈرنک اور چپس وغیرہ کا آرڈر دے دیا جب وہ چلا گیا تو میں نے کہا جی آنٹی اب بتا بھی دیں آپ آج یہاں کیوں آئی ہیں کوئی خاص بات ہے . آنٹی نے کہا کوئی خاص بات نہیں ہے کا شی بیٹا کیا میں تمھارے ساتھ باہر نہیں آ سکتی میں نے کہا کیوں نہیں آ سکتی ہیں لیکن یوں ہوٹل میں آج آنے کی سمجھ نہیں آئی ہے تو آنٹی میری بات سن کر تھوڑی دیر خاموش ہو گئی پِھر بولی کے کا شی بیٹا تم نے وہ والی ویڈیو کسی کو دکھائی تو نہیں ہے . آنٹی کا یوں ڈائریکٹ ویڈیو والا سوال پوچھنے پر ایک دفعہ میں خود اچھل پڑا لیکن فوراً اپنے آپ کو سنبھالا اور آنٹی کے ساتھ کھل کر بات کرنے کا سوچا میں نے کہا نہیں آنٹی جی میں نے ابھی تک وہ والی ویڈیو کسی کو بھی نہیں دکھائی ہے . میرے بات سن کر آنٹی کے چہرے پر کچھ سکون محسوس ہوا آنٹی کچھ اور پوچھنے لگی تو ویٹر کھانے پینے کی چیزیں لے کر آ گیا اور ہمارے سامنے رکھ کر چلا گیا اس کے جانے کے بَعْد آنٹی نے کہا کا شی بیٹا سچ سچ بتانا تمہیں وہ ویڈیو کس نے دی اور کس نے بنائی ہے . میں ریلکس اور کرسی پر بیٹھ گئی اور ایک لمبی سی سانس لے کر آگے پیچھے دیکھا کوئی اور اتنا ہمارے نزدیک نہیں تھا پِھر میں نے جس دن یہ ویڈیو بنائی تھی اس رات کی پوری اسٹوری لفط با لفط آنٹی کو سنا دی جس کو سن کر شاید آنٹی کی اندر سے پھٹ چکی تھی . اور میں نے یہ محسوس کر لیا تھا کے اب آنٹی کو بھی یقین ہو چکا یہ کے اب وہ مکمل طور پر پھنس چکی ہیں . وہ اب خاموش اور کر بیٹھ گیں میں تو کولڈ ڈرنک اور سینڈوچ کھا رہا تھا لیکن آنٹی کچھ نہیں کھا رہی تھیں میں ان کا نہ کھانے کا سمجھ سکتا تھا لیکن پِھر بھی میں نے آگے ہو کر آنٹی کا ہاتھ پکڑ کر تھوڑا سا دبا دیا اور بولا آنٹی جی ہم اِس کے متعلق یہاں سے باہر نکل کر بات کرتے ہیں آپ پریشان نہ ہوں ہم کچھ نہ کچھ اِس مسلے کا حَل نکال لیں گے لیکن آپ پہلے کچھ کھا لیں پِھر بَعْد میں ہم بات کر لیتے ہیں . میرے بار بار اصرار پر آنٹی نے مشکل سے اچھی کولڈ ڈرنک اور کچھ چپس کھائی اور خاموش ہو کر بیٹھ گائیں . میں نے خود ہی باقی کی چیزیں ختم کیں اور پِھر میں نے آنٹی کو کہا آنٹی جی باہر چلتے ہیں اور میں نے بِل کیا تو آنٹی نے کہا کا شی بیٹا تم رہنے دو میں بِل دوں گی . میں نے کہا آنٹی جی رہنے دیں میں پے کر دیتا ہوں آپ سے پِھر کسی اور دن کچھ اچھا سا وصول کر لیں گے میری ڈبل میننگ بات کو آنٹی سمجھ گئی تھیں اور ان کا چہرہ لال سرخ ہو گیا تھا . پِھر میں اور آنٹی وہاں سے نکل کر باہر آ گئے اور سائڈ پر بانی ہوئے بینچ پر جا کر دونوں بیٹھ گئے آنٹی بدستور خاموش تھیں . پِھر میں نے ہی کہا آنٹی جی یہ تو سچ ہے کے مجھے سب کچھ پتہ چل چکا ہے لیکن ایک سوال ہے کے آپ اور فیصل یہ بات مجھے سمجھ نہیں آ سکی اور دوسرا یہ کے کیا ما موں آپ کو خوش نہیں رکھتے جو آپ کو اتنا بڑا قدم اٹھانا پڑا آنٹی نے میرے طرف دیکھا اور بولیں کا شی بیٹا ایسی بات نہیں ہے یہ سچ ہے کے تمھارے ماں منہ میرے بہت خیال رکھتے ہیں اور میں بھی ان کو بہت پیار کرتی ہوں لیکن میں اِس کام پر مجبور اس وقعت ہوئی تھی جب تمھارے ما موں اکثر ایک ایک مہینہ اپنی جاب کے سلسلہ میں ملک سے باہر چلے جاتے تھے میں اپنے جذبات پر کنٹرول نہ رکھ سکی اور ایک دن فیصل کے ساتھ بہک گئی فیصل مجھے کافی دفعہ ٹرائی کر چکا تھا لیکن میں اس کو پہلے پہلے ڈانٹ دیتی تھی لیکن پِھر آہستہ آہستہ میں خود ہی ڈھیلی پر گئی اور دوسری طرف فیصل کی مستی براہ گئی اور ایک دن میں بھی مجبور ہو کر بہک گئی اور میں نے فیصل کی حرکت کے آگے کچھ نہ کہا اور بس وہ وہاں ہی شیر ہو گیا اور اس دن میرے اور فیصل کے درمیان جسمانی تعلق بن گیا اس کے بَعْد بھی میں نے کئی دفعہ اپنے آپ کو فیصل سے الگ کرنے کی بہت کوشش کی لیکن میں ناکام رہی اور آہستہ آہستہ اِس لذّت کی عادی ہو گئی اور پِھر آج تک یہ ہی چلتا رہا ہمارے تعلق کا آج تک کسی کو پتہ نہیں چل سکا یہاں تک کے مریم باجی کو بھی نہیں پتہ چل سکا لیکن تمہیں پتہ چل گیا . میں آنٹی کی بات سن کر دِل میں سوچا فوزیہ آنٹی کو کیا پتہ کے مریم آنٹی کو تو پتہ ہے بلکے وہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہیں . میری اکثر عادت رہی تھی میں نے اپنی زندگی میں جس سے تعلق بنایا میں نے اس کو اپنی کسی اور تعلق کا کبھی پتہ لگنے نہیں دیا اور نہ ہی کبھی ذکر کیا کرتا تھا . میری یہ ہی عادت شاید میری کامیابی تھی جو میرے سب تعلق ابھی تک طرح چل رہے تھے . آنٹی نے کہا کا شی بیٹا پِھر تم نے کیا سوچا ہے . میں نے لمبی سی آہ بھری اور بولا آنٹی جی میں آپ کے اِس راز کو مکمل راز رکھنے کو تیار ہوں لیکن اِس کے بدلے میں کچھ تو آپ کو بھی چکانا پرے گا . تو آنٹی نے کہا کا شی بیٹا میں تمہاری بات کو بہت اچھی طرح سمجھ سکتی ہوں لیکن میں تمہاری ما می ہوں میرے ساتھ اِس طرح کا کچھ بھی کیسے سوچ سکتے ہو تو میں نے کہا آنٹی جی فیصل بھی آپ کا بھتیجا ہے میں آپ کا بھانجا وہ تو سب کچھ کر سکتا ہے لیکن میں سوچ بھی نہیں سکتا یہ آپ نے اچھا جوک مارا ہے . آنٹی میری بات سن کر ہکا بقا رہ گئی اور شرم سے اپنا سر نیچے جھکا لیا کیونکہ وہ جانتی تھیں کے وہ اب مکمل طور پر پھنس چکی ہیں وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتی ہیں . لیکن ان کو میرے ساتھ تعلق بنا نے کے لیے بہت کچھ سوچنا پر رہا تھا . کیونکہ ان کا پورے خاندان میں ایک رعب اور غرور تھا . جو کے اب میری وجہ سے خاص کر کے میرے آگے اور میرے گھر والوں کے آگے ختم ہو چکا تھا . آنٹی وہاں کافی دیر خاموش رہی پِھر کچھ دیر بَعْد خود ہی بولیں کے کا شی بیٹا اگر میں تمہارا کام کسی اور سے کروا دوں اور ساتھ میں تمہیں جب دِل کرے مجھے سے جتنے پیسے چاہیے ہوں تو میں دوں گی اگر تم میرے راز کو راز رکھو . میں آنٹی کی بات سن کر مسکرا پڑا اور بولا آنٹی جی میں آپ کو بس اتنا ہی کہوں گا دوسرے لوگوں کی طرح آپ مجھے بھی اٹریکٹ کرتی ہیں اور رہی بات کسی اور سے یا پیسے کی تو وہ آپ سے زیادہ میرے لیے گھا ٹے کا سودا ہے . باقی آپ خود سمجھدار ہیں اور ہاں فیصل کو تو آزما لیا لیکن کبھی مجھے بھی آزما لیں آپ فیصل سے زیادہ مجھے یاد رکھیں گی باقی آپ کی مرضی اور اگر آپ نہ بھی راضی ہو تو کوئی بات نہیں میں آپ کی بات پِھر بھی راز ہی رکھوں گا . اور پِھر میں نے کہا چلیں گھر چلتے ہیں دیر ہو رہی ہے آپ سوچ کر مجھے جوا ب دے دینا آنٹی وہاں سے اٹھی اور میرے ساتھ چل پری پورا رستہ میرے اور آنٹی کے درمیان کوئی بات نہ ہوئی اور نہ اِس اِس دفعہ آنٹی نے اپنے ممے میری کمر میں زیادہ ٹچ نہیں کیے بس اس وقعت ہی ٹچ ہو سکے جب کبھی میں بریک لگاتا تھا . اور پِھر میں نے آنٹی کو پہلے ان کے گھر چھوڑا آنٹی چُپ چاپ اندر چلی گئیں اور میں وہاں سے گھر واپس آ گیا . گھر واپس آ کر مجھے اِس بات کی تسلی تھی کے اب فوزیہ آنٹی میرے ہاتھ میں ہے اور بہت جلدی میرے خواہش پوری ہو جائے گی فوزیہ آنٹی بھی میرے لیے اپنے آپ کو تیار کر لے گی لیکن تھوڑا ٹائم ضرور لگائے گی اور پِھر میں یہ سوچ کر كھانا کھا کر اپنے کمرے میں آ کر یونیورسٹی کا کام ختم کر کے سو گیا اور روٹین کے مطابق میں اگلے دن یونیورسٹی چلا گیا آج میرا ایک لیکچر تھا پِھر 2 گھنٹے کی وقفہ تھا اور پِھر آخری ایک لیکچر تھا میں جب اپنا پہلا لیکچر لے کر یونیورسٹی کے گراؤنڈ میں آ کر بیٹھ گیا اور مجھے آج مہوش کو کال کرنی تھی کیونکہ میرے حساب سے مہوش کو دن کے ٹائم کال کرنا ہی مناسب تھا اس وقعت اس کا شوہر اپنی جاب پر ہو گا . اور پِھر میں نے اپنے موبائل سے مہوش کا نمبر ڈائل کر دیا کافی دیر بیل جاتی رہی لیکن آگے سے کسی نے پک نہیں کیا میں تھوڑا حیران بھی ہوا لیکن مجھے خیال آیا وہ شاید اجنبی نمبر دیکھ کر کال پک نہیں کر رہی ہو گی . اِس لیے میں نے اپنے موبائل سے اس کو پہلے ایس ایم ایس کیا اور لیکا کے میرا نام کا شیح وائے اور مجھے آپ کی شیخوپورہ والی بھابی نے نمبر دیا ہے . اور پِھر ایس ایم ایس کر نے کے 5 منٹ بَعْد میں نے دوبارہ کال ملا ڈی اب کی بار 3 ہی بیل کے بَعْد آگے سے کال پک ہوئی میں نے سلام کیا تو آگے سے بہت ہی آہستہ اور سہمی ہوئی آواز میں سلام کا جواب آیا میں سمجھ گیا تھا یہ مہوش ہی ہے اور اس کی سہمی ہوئی آواز میں سمجھ سکتا تھا کیونکہ ایک شادی شدہ عورت جو کے یہ بھی جانتی ہو کے میرے اس کے ساتھ ایک خاص تعلق بننے والا ہے وہ پہلے سے ہی خوف میں ہو گی . میں نے پِھر بہت ہی پیار سے اور دھیان سے بات کرنے کا سوچا میں نے اس سے اس کا اور اس کے شوہر کا حال حوال پوچھا جو اس نے خیر خیریت ہی بتایا پِھر نارمل  رسمی باتیں ہوتی رہیں ہمارے درمیان تقریباً 10 منٹ سے کال چل رہی تھی اور اب مہوش کی آواز کافی حد تک اونچی اور نارمل ہو چکی تھی . اور پہلے کی نسبت وہ شارٹ جواب کے بَعْد لمبا جواب دے رہی تھی . میں 10 منٹ میں اس سے اس کے شوہر کی جاب اس کے گھر بار اور مہوش کے اپنے گھر بار کے بارے میں کافی کچھ جان چکا تھا . مہوش کا ایک ہی بھائی تھا جو کے شیخوپورہ والا آنٹی کا شوہر تھا اور فوت ہو چکا تھا . مہوش کی ایک اور بڑی بہن تھی جو شادی ہو کر اپنے شوہر کے ساتھ انگلینڈ چلی گئی تھی . اس دن تو میں تقریباً 20 منٹ تک مہوش سے نارمل باتیں کرتا رہا اس سے میں نے اس کی شوہر کی جاب ٹائمنگ اور کس دن چھوٹی کرتا ہے سب کچھ پوچھا لیا اور اس دن اور کچھ خاص نہیں ہوا . میں نے اس کو بتا دیا کے جب وہ فری ہوا کرے مجھے مس کال کر دیا کرے میں خود اس کو کال کر لیا کروں گا میں نے بھی اپنا فری ٹائم اور یونیورسٹی میں فری ٹائم کا بتا دیا تاکے اس کو بھی میرے ٹائم اور اپنے ٹائم کو دیکھ کر مجھے مس کال کر دیا کرے پِھر میں اس کو کال کر لیا کروں گا . اس دن کے 2 دن بَعْد دوپہرکے ٹائم مجھے مہوش کی مس کال آئی اس دن یونیورسٹی کی لائبریری میں بیٹھ ہوا تھا میں وہاں سے نکل کر گراؤنڈ میں آ گیا اور پِھر مہوش کو کال ملا دی 2 بیل کے بَعْد ہی اس نے پک کی اب کی بار اس نے نارمل اندازِ میں مجھے پہلے سلام کیا میں نے سلام کا جواب دیا اور پِھر وہ مجھ سے پوچھنے لگی کے کہیں آپ مصروف تو نہیں تھے تو میں نے کہا نہیں لیکچر تو نہیں تھا میں لائبریری میں تھا اور پِھر میں نے کہا آپ سناؤ آپ کا کیا حال ہے ہمارے شہر میں آ کر آپ کا دِل بھی لگا ہے یا نہیں تو آگے سے اس نے کہا ابھی تو مجھے 2 مہینے سے بھی کم ٹائم ہوا ہے اتنی جلدی جان پہچان نہیں بنی ہے فلحال تو گھر کے کچھ کام کر کے گھر میں یا ٹی وی دیکھ کر ٹائم پاس کرتی ہوں یا ویسے ہی اکیلی بور ہوتی ہوں  .

محلے میں بھی ابھی تک کسی سے کوئی خاص جان پہچان نہیں بنا سکی ہے آہستہ آہستہ بن جائے گی تو شاید پِھر دِل لگ جائے گا . میں نے یہ سب سن کر ہوا میں ایک تیر پھینکا جو کچھ نہ کچھ نشانے پر لگا . میں نے کہا مہوش اگر آپ کا دِل نہیں لگا تو ہم کس مرض کی دوا ہیں ویسے بھی آپ کی بھابی نے کہا تھا میری نند کو پریشان نہیں ہونے دینا آپ ہمیں حکم کریں جب آپ بور ہوں مجھے کال کر لیا کریں آپ کو اچھی اچھی باتیں سنا دیا کروں گا مجھے بھی آپ جیسی خوبصورت لڑکی کی خوبصورت آواز سنے کو مل جایا کرے گی . مہوش میری بات سن کر خاموش ہو گئی میں نے کہا مہوش جی کیا ہوا کیا آپ کو میری بات بری لگ گئی ہے تو آگے سے اس کی آواز آئی نہیں ایسی بات نہیں ہے میں سوچ رہی تھی آپ نے مجھے دیکھا بھی نہیں ہے اور پِھر بھی آپ کو کیسے یقین ہے کے میں خوبصورت ہوں یا نہیں میں اس کی بات سن کر ہنس پڑا اور بولا مہوش جی دِل کو دِل سے راہ ہوتی ہے . آپ کو دیکھا نہیں ہے لیکن آپ کی آواز سن کر محسوس کر سکتا ہوں کے آپ کی سریلی اور خوبصورت آواز کی طرح آپ بھی خوبصورت ہیں ، باقی بندہ دِل کا خوبصورت ہونا چاہیے چہرہ ضروری نہیں ہوتا . آگے سے اس نے کہا جی آپ ٹھیک کہتے ہیں . ویسے آپ کو میری بھابی کیسے مل گئیں تھیں . میں نے کہا آپ کو آپ کی بھابی نے کچھ نہیں بتایا تو اس نے کہا بتایا تھا لیکن زیادہ تفصیل میں نہیں بتایا . تو میں نے اس کو ساری سٹوری سنا دی . پِھر میں نے کہا مہوش آپ سے ایک بات پوچھوں تو کہنے لگی جی پوچھ لیں تو میں نے کہا کیا واقعہ آپ کے شوہر آپ کو اس لحاظ سے خوش نہیں کرتے مہوش پِھر خاموش ہو گئی میں نے کہا اگر میں نے غلط سوال پوچھ لیا تو میں معافی مانگتا ہوں مہوش نے کہا نہیں ایسی بات نہیں ہے . میری شادی کو 2 سال ہونے والے ہیں پہلے میں لاہور ہوتی تھی تو وہ مہینے میں 4 یا 5 دن کے لیے آتے تھے تو اس وقعت روز کرتے تھے یہ تقریباً یہاں آنے سے پہلے چلتا رہا اس میں وہ تو اپنا کام کر کے فارغ ہو جاتے تھے لیکن کبھی انہوں نے میری ضرورت کو کبھی سمجھا ہی نہیں اور ویسے بھی میری ارینج میرج تھی . میں اپنے کسی اور کزن کو پسند کرتی تھی . لیکن وہ بیروزگار تھا اِس لیے میرے گھر والوں کو میرے شوہر کا رشتہ ہی بہتر لگا یہ بھی ہمارے رشتے دار ہیں اور ان کی بھی اچھی جاب ہے اچھا کما لیتے ہیں بس میرے گھر والوں کو یہ ہی مناسب لگا اور میرے شادی ان کے ساتھ ہو گئی میرے شوہر باقی تو تقریباً ہر لحاظ سے خوش رکھتے ہیں لیکن جسمانی لحاظ سے مجھے ابھی تک خوشی حاصل نہیں ہو سکی اور میں اپنے دِل کی ہر بات بھابی کو بتا دیتی تھی کیونکہ وہ بھی بھائی کے فوت ہونے کے بعد میرے جیسی کفیت میں سے گزر رہیں تھیں میں عورت ہوں عورت کا دکھ سمجھ سکتی ہوں اِس لیے مجھے بلال اور بھابی کے تعلق کا پتہ ہے اور مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے . اور بھابی میرے دکھ کو بھی سمجھتی ہیں اِس لیے انہوں نے مجھے بلال سے تو نہیں لیکن ہاں آپ کے لیے مجھے کہا تھا میں نے اِس بات کے لیے بہت سوچا اور پِھر میں نے بھابی کو کہا میں پہلے فون پر ہی آپ سے بات کروں گی . جب مجھے آپ کی طرف سے یقین آ جائے گا تو پِھر میں آپ کے ساتھ تعلق بنا نے کا فیصلہ کروں گی . میں نے کہا مہوش آپ کو پورا پورا حق کے آپ جو بی کریں سوچ سمجھ کر اور اپنا فائدہ دیکھ کر فیصلہ کریں باقی میری طرف سے آپ بالکل بے فکر ہو جائیں میرے ساتھ تعلق ہو یا نہ ہو لیکن آپ کی عزت پر حرف نہیں آنے دوں گا . میری بات سن کر مہوش نے شکریہ کہا پِھر مہوش نے کہا مجھے گھر کا کچھ کام کرنا ہے کل میرے شوہر کی چھیا ہے وہ گھر پر ہوں گے میں آپ سے سوموار کو بات کروں گی . میں نے کہا ٹھیک ہے اور پِھر میں وہاں سے اٹھا اور اپنا لیکچر لینے کے لیے چلا گیا . اگلے دن اتوار تھا میں صبح لیٹ اٹھا اور ناشتہ وغیرہ کر کے اپنے کمرے میں بیٹھ کر لیپ ٹاپ پر موویز دیکھنے لگا میں سوچ رہا تھا آج 3 دن ہو گئے ہیں لیکن ابھی تک فوزیہ آنٹی کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا شاید وہ ابھی تک سوچ رہی ہیں اور اپنے آپ کو میرے لیے تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہوں گی . میں نے بھی اتنی جلدی فوزیہ آنٹی سے رابطہ نہ کرنے کا سوچا میں ان کو مکمل ٹائم دینا چاہتا تھا . اتوار والا دن بھی روٹین کے مطابق گزر گیا اگلے دن میں روٹین کی طرح یونیورسٹی آ گیا آج میرے پہلے لگاتار 2 لیکچر تھے پِھر وقفہ تھا اور پِھر 1 لیکچر تھا مجھے پتہ تھا آج مہوش بات کرے گی . میں نے اس کو ایس ایم ایس کر کے فری ٹائم کا بتا دیا اور پِھر اپنے لیکچر میں مصروف ہو گیا . لیکچر سے فارغ ہو کر میں گراؤنڈ میں جا کر مہوش کو کال ملا دی وہ بھی شاید انتظار میں تھی . رسمی باتوں کے بعد مہوش سے سوال کیا مہوش جی کل تو آپ کے شوہر گھر پر تھے کل تو پورا دن آپ کو پیار ملا ہو گا اور ہنسنے لگا میری بات سن کر مہوش بھی ہنسنے لگی اور بولی ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے دن کو تو کچھ نہیں کیا لیکن ہفتے والی رات کو 2 دفعہ کیا تھا پِھر 1 دفعہ صبح میں کیا اتوار کو ہم لیٹ اٹھے تھے پِھر باقی کا دن نارمل گزر گیا اور ویسے بھی وہ چاہے 2 دفعہ کریں یا 3 دفعہ ان کو تو فائدہ ہو جاتا ہے لیکن مجھے کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور تھوڑا سا افسردہ ہو گئی . میں نے کہا مہوش جی آپ فکر نہ کریں آپ پہلے میری طرف سے مطمین ہو جائیں پِھر میری طرف سے آپ کو کافی فائدہ ہو گا یہ میرا آپ سے وعدہ ہے . میں نے کہا مہوش جی کیا میں آپ کو دیکھ سکتا ہوں تو اس نے کہا میرے پاس کیمرہ والا موبائل نہیں ہے تو میں نے کہا کوئی بات نہیں پِھر کبھی سہی کبھی نہ کبھی آپ کو دیکھ ہی لوں گا آ تو وہ بولی ایک کام ہو سکتا ہے میں نے شام کو اپنے شوہر کے ساتھ اپنے گھر کے پاس مارکیٹ سے گھر کا کچھ سودا سلف لے کر آنا ہے اگر آپ وہاں آ سکتے ہو تو آ جاؤ لیکن آپ مجھے دور سے ہی دیکھ سکتے ہو . میں نے کہا مجھے منظور ہے آپ مجھے اپنی مارکیٹ میں کسی ایک جگہ یا دکان کا بتا دو میں وہاں آ جاؤں گا تو اس نے کہا ہماری مارکیٹ میں ایک بیکری ہے وہاں سے کچھ چیزیں بھی لینی ہیں اِس لیے اس نے اس بیکری کا نام بھی بتایا اور کہا وہاں آ جانا اور بتایا کے اس نے سرخ رنگ کے کپڑے پہنے ہوں گے میرے ساتھ عینک والے میرے شوہر ہوں گے آپ مجھے دور سے دیکھ لینا . میں نے کہا ٹھیک ہے میں آ جاؤں گا مہوش نے کہا آپ تو مجھے دیکھ لیں گے میں آپ کو کیسے دیکھوں گی مجھے بھی آپ کو دیکھنا ہے تو میں نے کہا کوئی مسئلہ نہیں ہے میں ایسا کروں گا اس ہی بیکری سے میں آپ کے نزدیک کھڑا ہو کر انڈے کا ریٹ پوچھوں گا آپ سمجھ جانا وہ میں ہی ہوں گا . مہوش نے کہا ہاں یہ ٹھیک رہے گا اور پِھر اس نے کہا تو پِھر ٹھیک ہے شام کو ملتے ہیں اور پِھر کال ختم ہو گئی . میں کال ختم ہونے کے بَعْد سوچنے لگا پتہ نہیں مہوش کیسی ہو گی کس طرح کی ہو گی . پِھر میرے آخری لیکچر کا ٹائم ہو گیا میں نے وہ لیا اور گھر آ کر نہا دھو کر فریش ہوا اور تیار ہو کر موٹر بائیک لی اور مہوش کی بتائی ہوئی مارکیٹ میں پہنچ گیا اِس مارکیٹ کا فاصلہ میرے گھر سے آدھا گھنٹے کا تھا . میں مہوش کے بتائے ہوئے ٹائم سے پہلے ہی پہنچ گیا . جب ٹائم نزدیک آنے لگا تو میں نے موٹر بائیک کو ایک طرف کھڑا کر کے پیدل ہی مارکیٹ میں گھوم کر مہوش کی بتائی ہوئی بیکری تلاش کرنے لگا وہ بیکری مجھے جلدی ہی مل گئی مارکیٹ کے درمیان میں بنی ہوئی تھی میں بیکری سے تھوڑا ہٹ کر کھڑا ہو گیا جب 7 بج گئے تو میں نے سوچا اب مہوش اور اس کا شوہر آتے ہوں گے . تقریباً 7:20 پر ایک کار آ کر رکی اس میں سے ڈرائیور والی سائڈ سے عینک والا بندہ نکلا میں سمجھ گیا ہو نہ ہو یہ ہی مہوش کا شوہر ہے پِھر کچھ ہی دیر میں دوسری طرف سے ایک سرخ رنگ کے کپڑے پہنے ایک لڑکی نکلی اس کا منہ دوسری طرف تھا جب وہ دروازہ بند کر کے گھوم کر بیکری کے اندر جانے لگی تو میں نے اس کو ایک سائڈ سے دیکھ تو دیکھتا ہی رہ گیا مہوش میری سوچ سے بھی زیادہ خوبصورت اور آئیڈیل جسم کی مالک تھی .

. وہ اپنے شوہر کے ساتھ بیکری کے اندر چلی گئی اس کا شوہر بھی پڑھا لکھا لگ رہا تھا . میں دِل میں ہی بہت خوش ہوا مہوش جیسی خوبصورت لڑکی میرے نصیب میں آنے والی ہے . ان کے اندر جانے کے 2 سے 3 منٹ بَعْد میں بیکری کے اندر چلا گیا بیکری کافی بڑی تھی وہ دونوں ایک سائڈ پر کھڑے کچھ خرید رہے تھے میں نے پہلے تو اندر جا کر ایک سائڈ پر کھڑا ہو کر دِل بھر کر مہوش کو دیکھا وہ واقعہ میں ہی ایک آئیڈیل لڑکی تھی . اس کا سڈول جسم مناسب کمر کے ساتھ دِلکش ممے اور باہر کو نکلی ہوئی گانڈ تھی . اس کا رنگ گندمی تھا اس کے رنگ میں ایک کشش تھی . مجھے زندگی میں ابھی تک 2 ہی لڑکیوں نے متاثر کیا تھا ایک فوزیہ آنٹی کی بیٹی نازیہ اور دوسری اب مہوش تھی . مجھے اس کو دیکھتے ہوئے 5 منٹ سے اوپر ٹائم ہو چکا تھا پِھر انہوں نے کچھ چیزیں خرید کر کاؤنٹر پر پے کرنے کے لیے آئے تو میں جہاں مہوش کا شوہر کھڑا تھا اس کے ساتھ ہی مہوش کھڑی تھی میں اس کے شوہر کے ساتھ جا کر کھڑا ہو کر کاؤنٹر پر بیٹھے بند ے کو بولا انکل انڈے کا کیا ریٹ ہے جب میری آواز مہوش کے کان میں پڑی تو اس نے فوراً میری طرف منہ کر کے دیکھ جب ہم دونوں کی نظر ملی تو میں اس کو دیکھ کر ہلکا سا مسکرا دیا مہوش بھی مسکرا کر نیچے دیکھنے لگی دکان دَار نے ریٹ بتایا تو میں نے کہا 1 داجن دے دیں اور میں نے نوٹ کیا مہوش مجھے کن اکھیوں سے دیکھ رہی تھی . اس کا شوہر دوکاندار سے ہی بات کر رہا تھا پِھر میں وہاں سے انڈے لے کر نکل آیا میرے پیچھے پیچھے مہوش اور اس کا شوہر بھی نکل آئے باہر آ کر مہوش سے پِھر میری نظر ملی تو میں نے ایک بھرپور سمائل پاس کی مہوش نے بھی ایک دِلکش سمائل دی اور پِھر وہ گاڑی میں بیٹھ گئی اور وہ لوگ چلے گئے میں بھی وہاں سے اپنی موٹر بائیک کے پاس آیا اور پِھر وہاں سے گھر آ گیا . اگلے دن مجھے مہوش کی مس کال آئی اور میں نے کال کی تو اس نے بہت ہی گرمجوشی میں مجھے سلام کیا میں نے ویسے ہی جواب دیا اور کہا مہوش جی کیا با ت لگتا ہے آج آپ بہت خوش ہیں تو کہنے لگی آپ کو رات کو دیکھ کر میں آج بہت سکون میں ہوں میرے دِل میں آپ کے لیے کچھ اور تھا میں سمجھتی تھی پتہ نہیں آپ کیسے دکھتے ہوں گے لیکن آپ تو واقعہ ہی ہینڈسم اور پڑھے لکھ لگتے ہو اب میرے دِل سے وہم ختم ہو گیا ہے . میں نے کہا مہوش جی یہ آپ کی نظر کا دھوکہ ہے میں اتنا بھی ہینڈسم نہیں ہوں بس عام لڑکوں کی طرح ہوں . میں نے کہا آپ کے شوہر بھی پڑھے لکھے ہیں مہوش نے کہا ہاں وہ ایک بہت اچھی کسی کنسٹرکشن کمپنی میں سول انجینئر ہیں . پِھر میں نے کہا اب آپ کا میرے بارے میں کیا فیصلہ ہے کب مل رہی ہیں . تو مہوش نے کہا مجھے بہت دَر بھی لگ رہا ہے سمجھ نہیں آتی آپ سے کہاں ملوں یہ شہر بھی نیا ہے اور مجھے باہر کسی جگہ پر دَر بھی بہت لگتا ہے میں نے کہا اگر آپ کو باہر یا کسی ہوٹل میں ملنے سے دَر لگتا ہے تو پِھر تو آپ کے گھر ہی میں کچھ ہو سکتا ہے . تو مہوش نے کہا محلے والوں نے دیکھ لیا تو میں نے کہا آپ کے شوہر صبح 8 بجے جاتے ہیں اور شام کو 6 بجے تک واپس آتے ہیں . باقی آپ کے محلے والوں کی خیر ہے محلے میں آپ کو کوئی خاص اتنا جانتا نہیں ہے اگر کسی نے مجھے آپ کے گھر جاتے دیکھ بھی لیا تو کیا مسئلہ ہے آپ سے اگر کسی نے پوچھا تو بتا دینا میرا بھائی ہے لاہور سے آیا تھا ملنے کے لیے کیونکہ اگر آپ کسی کزن کا کہو گی تو وہ شک کریں گے لیکن اگر آپ کہو گی میرا بھائی تھا تو کوئی بھی شک نہیں کرے گا اور محلے والوں کو تھوڑا پتہ ہے کے میں آپ کا سگا بھائی ہوں یا کوئی اور ہوں .
مہوش نے کہا یہ تو آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں لیکن میں آپ کا بھائی تو نہیں بتا سکتی کیونکہ آپ خود سوچو لوگوں کو بھائی بول کے آپ کے ساتھ وہ کام کروں کتنی شرم کی بات ہے میں اس کی بات سن کر ہنسنے لگا اور بولا مہوش جی آپ بھی بہت صدی ہیں لوگوں کو میرے بھائی بنا دینے سے میں آپ کا کوئی سگا بھائی تو نہیں بن سکتا نہ ان کو تو آپ نے جھوٹ ہی بولنا ہے . اور مجھے لگتا ہے کے آپ کو یہ جھوٹ بولنے کی ضرورت ہی نہیں پرے گی کیونکہ جب میں آؤں گا کسی کو خبر تک نہیں ہو گی آپ کے شوہر 8 بجے چلے جائیں گے میں 9 بجے آؤں گا اور 2 یا 3 گھنٹے آپ کے ساتھ گزر کر چلا جاؤں گا یہ اسلام آباد ہے میں آپ سے زیادہ یہاں کے لوگوں سے واقف ہوں یہاں کے لوگوں میں جو صبح اپنے اپنے کام پر اور بچے اپنے اسکول کالج چلے جاتی ہیں اس کے بَعْد باقی لوگ دن 12 بجے تک سوئے رہتے ہیں اِس لیے میں 9 بجے آ کر 12 بجے تک چلا جایا کروں گا کسی کو خبر تک نہیں ہو گی . مہوش میری بات سن کر بولی آپ کہہ تو ٹھیک رہے ہیں لیکن میں نے کہا مہوش جی لیکن کو چھوڑو آپ ٹینشن نہ لو سب کچھ آپ مجھ پر چھوڑ دو ایک دفعہ ٹرائی کر کے دیکھ لو اگر کچھ بھی نہ ہوا تو یہ ہی کرتے رہیں گے اگر کوئی مسئلہ ہوا تو کچھ اور سوچ لیں گے . مہوش نے کہا چلو ٹھیک ہے میں کچھ سوچ کر آپ کو بتا دوں گی . میں نے کہا ٹھیک ہے جب آپ کو مناسب لگے مجھے بتا دینا پِھر میں نے کہا مہوش جی آپ کو ایک بات بتانی ہے میں نے جب آپ کو کل دیکھا تو آپ کو دیکھ کر میرے دِل خوش ہو گیا تھا آپ واقعہ ہی بہت خوبصورت ہیں آپ جسمانی لحاظ سے بھی بہترین ہیں تو مہوش نے کہا آپ نے اتنی دیر میں میرے جسم کو بھی اچھی طرح دیکھ لیا تھا . میں نے کہا ایسی بات بھی نہیں ہے آپ کے اصل جسم کو تو ابھی تک نہیں دیکھا وہ تو آپ جب موقع دیں گی تو شاید دیکھ ہی لوں لیکن آپ کا جسم آپ کے کپڑوں کے اندر بھی کمال کا ہے آپ سڈول اور ٹائیٹ جسم کی مالک ہیں آپ کا جسم کافی اچھی طرح مینٹین ہے . مہوش نے کہا اچھا جی مجھے بھی تو بتا دیں کے میرے جسم میں کون سی چیز آپ کو اچھی لگی ہے . تو میں نے کہا آپ کا پورا جسم ہی کمال کا تھا لیکن آپ کا فرنٹ اور بیک کافی عیاں تھے جو کے کسی بھی عورت کے جسم کو چار چاند لگا دیتے ہیں مہوش نے کہا مجھے بھابی نے بتایا تھا کے آپ کو بیک انٹری بھی بہت پسند ہے تو میں نے کہا ہاں ٹھیک کہا ہے انہوں نے لیکن میں زبردستی کا قائل نہیں ہوں میں یہ کام مکمل رضامندی سے کرتا ہوں اور اپنے پارٹنر کے ساتھ اچھی طرح کم سے کم درددیئے ہوئے کرتا ہوں . مہوش نے کہا ویسے میں نے آج تک وہاں سے نہیں کیا ہے لیکن آپ کو مل کر کچھ اور ٹرائی کر لوں پِھر بَعْد میں شاید آپ کو آپ کی پسند کی چیز کا موقع بھی دے دوں . میں نے کہا کوئی بات نہیں ہے جیسے آپ کی مرضی جس طرح آپ کہو گی ویسا ہی ہو گا میں نے کہا پِھر کب ملنے کا موڈ ہے تو مہوش نے کہا ابھی تھوڑا انتظار کریں مجھے کچھ سوچنے دیں میں آپ کو 1 یا 2 دن تک بتا دوں گی . پِھر کچھ دیر مزید باتوں کے بات کال ختم ہو گئی . میں یونیورسٹی سے فارغ ہو کر شام کو گھر آ گیا وہ دن نارمل روٹین کے مطابق گزر گیا اگلے دن میں یونیورسٹی میں بیٹھا ہوا لیکچر لے رہا تھا تو مجھے فوزیہ آنٹی کا ایس ایم ایس آیا کے فری ہو کر مجھے کال کرنا میں نے او کے کر کے ایس ایم ایس کر دیا . لیکچر ختم ہوتے ہی میں گراؤنڈ میں آ کر آنٹی کو کال کی تو آنٹی نے کال پک کر کے سلام کر کے حال حوال پوچھا میں نے سب خیریت کا کہا تو آنٹی نے کہا کا شی بیٹا کل تم 10 بجے صبح میری طرف چکر لگاؤ مجھے تم سے بات کرنی ہے . میں نے کہا ٹھیک ہے آنٹی میں کل آپ کی طرف چکر لگا لوں گا اور پِھر کال ختم ہو گئی میں اس دن یونیورسٹی سے فارغ  ہو کر گھر جا رہا تھا اور سوچ رہا تھا آنٹی کو اب کون سی بات کرنی ہے اگر وہ میرے لیے تیار ہو گئی ہیں تو ان کو مجھے اب ڈائریکٹ بات کرنی چاہیے تھی . لیکن پِھر میں نے سوچا شاید آنٹی نے کوئی بات یا میرے منہ بند کروا نے کے لیے کچھ اور سوچا ہو میں نے سوچا چلو کل جا کر دیکھ لیتا ہوں آنٹی کیا کہنا چاہتی ہیں . میں گھر آ کر كھانا وغیرہ کھا کر اپنی یونیورسٹی کا تھوڑا کام تھا

مکمل کر کے سو گیا صبح 9 بجے اٹھا اور تیار ہو کر فوزیہ آنٹی کی طرف چلا گیا میں فوزیہ آنٹی کے گھر پہنچ کر اوپر والے پورشن کے بیل د ی تو تھوڑی دیر بَعْد آنٹی نے ہی دروازہ کھولا اور مجھے کہا خاموشی سے اوپر آ جاؤ میں اوپر چلا گیا گھر میں اور کوئی نہیں تھا تھوڑی دیر بَعْد آنٹی بھی آ گئیں اور پہلے کچن میں گیںو وہاں سے چائے کے 2 کپ اٹھا کر لے آئی اور ایک مجھے دیا اور ایک خود لے کر اپنے بیڈ پر بیٹھ کر پینے لگی میں سامنے صوفے پر بیٹھ تھا پِھر آنٹی نے کہا کا شی بیٹا میں نے تمہاری بات پر کافی سوچا ہے لیکن میرا دِل اور دماغ مجھے تمھارے ساتھ یہ کام کرتے ہوئے اِجازَت نہیں دے رہا ہے میں پہلے ہی فیصل کے ساتھ کر کے غلطی کر چکی ہوں اِس لیے اب تمھارے ساتھ مطلب اپنے بھانجے کے ساتھ مجھے تو سوچ کر بھی شرم آ رہی ہے . لیکن بیٹا میں تمھارے لیے کسی اور کا بندوبست کر سکتی ہوں . میں نے کہا آنٹی جی آپ کی سب باتیں اپنی جگہ لیکن مجھے کسی اور کے ساتھ کچھ نہیں کرنا ہے میں نے اپنے دِل کی بات آپ کو اس دن بتا دی تھی جہاں آپ ہو وہاں کوئی اور نہیں ہے . مجھے آپ کے ساتھ کرنا ہے اگر آپ کا دِل نہیں ہے تو کوئی بات نہیں میں پِھر بھی آپ کا راز اپنے دِل میں رکھنے کو تیار ہوں لیکن اگر مجھے آپ نے اپنے راز کے بدلے میں کچھ دینا ہے تو وہ آپ خود کو مجھے دیں میں کسی اور سے نہ کچھ کروں گا نہ ہی میرا دِل ہے باقی آپ کی مرضی ہے . آنٹی میری بات سن کر تھوڑی دیر خاموش ہو گئی پِھر کچھ دیر بَعْد بولیں کا شی بیٹا مجھے میں ایسی کون سی با ت ہے جوتم میرے اتنے دیوانے ہو تو میں نے کہا آنٹی جی یہ تو مجھے بھی نہیں پتہ ہے لیکن میں نے جب آپ کو پورا ننگا فیصل کے ساتھ دیکھا تھا تو میں اس دن سے آپ کا دیوانہ ہو گیا تھا . باقی آپ کی مرضی ہے میں نے آپ کو کہا تھا کے آپ مجھے ایک دفعہ موقع دو آپ فیصل کو بھول جاؤ گی . آنٹی نے کہا اگر میں تمھارے ساتھ تعلق بنا بھی لیتی ہوں تو پِھر کل تم مجھے پِھر کسی اور کا بھی کہہ سکتے ہو جیسے فیصل اب مجھے بلیک میل کر کے دوسروں کا کہتا ہے . میں نے کہا آنٹی جی وہ فیصل ہے یہ کا شی ہے آپ خود اپنی مرضی سے مجھے کسی کے ساتھ مزہ کروانا چاہتی ہیں تو میں کر لوں گا لیکن میں آپ کو کسی اور کے لیے بلیک میل نہیں کروں گا مجھے پتہ ہے وہ اپنی خالہ کو چود چکا ہے اور اب آپ کی بڑی بہن کی بیٹی کے لیے بھی آپ کو بار بار تنگ کر رہا ہے لیکن میری طرف سے بے فکر ہو جائیں میں آپ کو کم سے کم بلیک میل نہیں کروں گا . آنٹی نے کہا کا شی بیٹا تم ایک سمجھدار لڑکے ہو . ٹھیک ہے میں تمھارے ساتھ کرنے کو تیار ہوں لیکن جب میں کہوں گی تب تم مجھے ملنے آیا کرو گے مجھے بار بار تنگ نہیں کرو گے . میں نے کہا آنٹی جی جب آپ کا دِل کرے گا میں آیا کروں گا ویسے بھی آپ ایک دفعہ خدمت کا موقع دیں مجھے یقین ہے آپ پہلی دفعہ کے بَعْد خود ٹائم بنا کر مجھے بلایا کرو گی . آنٹی نے کہا آج تو مشکل ہے آج مریم باجی نے کپڑے دھو نے والی مشین اوپر چھت پر لگانی ہے اِس لیے بہت مشکل ہے کل تم صبح 9 بجے آ جانا آج تمھارے ماموں شام کو کراچی جا رہے ہیں نازیہ اور فیصل 8 بجے چلے جاتے ہیں مریم باجی عام دنوں میں تھوڑا لیٹ اٹھتی ہیں فیصل 12 بجے تک گھر واپس آ جاتا ہے تم 9 بجے آ جانا 12 بجے تک ہمارے پاس کافی ٹائم ہو گا . میں نے کہا ٹھیک ہے آنٹی جی میں کل 9 بجے آ جاؤں گا لیکن اب کی بار میں خالی ہاتھ نہیں جاؤں گا تو آنٹی میری بات سن کر ہنس پڑی اور بولی کتنی جلدی ہے اپنی ما می کو چودنے کی میں نے کہا آنٹی جی جب اتنا عرصہ آپ کو دیکھ کر آہ بھری ہو اور پِھر جب وہ پاس ہو کر بھی دور ہو تو جلدی تو ہوتی ہے . پِھر آنٹی نے مجھے اپنے مین دروازے کی ایک چابی دے دی اور بولی کے کل صبح لاک کھول کر خود ہی اوپر آ جانا بیل نہیں بجانا ہو سکتا ہے تمہاری بیل دینے سے مریم باجی نہ اٹھ جائیں اور پِھر میں کچھ دیر وہاں بیٹھ کر گھر آ گیا اور اور گھر سے پِھر اپنی روٹین کے مطابق یونیورسٹی چلا گیا اور وہ دن بھی معمول کے مطابق گزر گیا اگلی صبح میں جلدی اٹھ گیا اچھی طرح اپنی انڈر شیو کی اور نہا دھو کر فریش ہو کر گھر میں یونیورسٹی میں کسی ضروری کام کا بتا کر اپنا بیگ لے کر موٹر بائیک پر گھر سے نکل آیا اور میں تقریباً 9:15 پر فوزیہ آنٹی کے گھر پہنچ گیا میں نے چابی سے آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا اور بغیر کوئی آواز کیے ہوئے دروازہ بند کر اوپر چلا گیا اوپر فوزیہ آنٹی کچن میں تھیں مجھے دیکھ کر ایک سمائل دی اور آہستہ آواز میں بولی کا شی بیٹا تم اندر بیڈروم میں بیٹھو میں تھوڑی دیر میں کافی بنا کر آتی ہوں اور میں پِھر آنٹی کے کمرے میں آ کر آرام سے آنٹی کے بیڈ پر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا تقریباً 5 منٹ بَعْد آنٹی 2 کپ میں کافی بنا كے لے آئی ایک کپ مجھے دیا اور ایک خود لے کر بیڈ کے دوسری طرف سے ہو کر اوپر بیڈ پر آ کر بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی اب میرے اور فوزیہ آنٹی کے درمیان کوئی 6 انچ کا ہی فاصلہ تھا . میں اور آنٹی کافی پینے لگے کافی کے 2 سے 3 سپ لگا کر آنٹی بولی کا شی بیٹا پِھر تم نے پکا سوچ لیا ہے کے اپنی ما می کو چودکر ہی رہو گے . میں آنٹی کی بات سن کر ہنس پڑا اور بولا آنٹی جی میں زبردستی کا قائل نہیں ہوں میں پیار سے اور عزت سے رلیشن میں رہ کر کام کرتا ہوں آپ آج آزما لو گی تو مجھے امید ہے آپ مجھے سے خود دوبارہ ملنے کا کہو گی آنٹی میری بات سن کر مسکرا پڑی اور پِھر کچھ دیر کے بَعْد ہم دونوں نے کافی ختم کر لی آنٹی نے مجھ سے کپ لیا اور باہر کچن میں چلی گئی 2 منٹ بَعْد دوبارہ واپس آئی اور سیدھا باتْرروم میں چلی گئی . میں نے اپنی شرٹ اُتار دی تھی اب میں پینٹ اور بنیان میں تھا . تقریباً 2 سے 3 منٹ کے بَعْد جب آنٹی باتھ روم سے باہر نکلی تو میں آنٹی کے روپ کو دیکھ کر ہکا بقا رہ گیا کیونکہ آنٹی نے اپنے کپڑے اُتار دیئے تھے وہ صرف اپنی برا اور انڈرویئر میں تھی اور برا اور انڈرویئر ٹرانسپیرینٹ تھیں جس میں آنٹی کی پھدی اور نپلز صاف عیاں تھے . اور آنٹی کا جسم واقعہ میں ہی ایک سیکسی سڈول اور گُداز جسم تھا ان کا جسم دیکھ کر میرے منہ میں خود پانی آ گیا تھا آنٹی آ کر بیڈ پر بیٹھ گئی اور مجھے بولی کا شی  ابھی تک کپڑوں میں ہو میں نے یہ سنا تو اپنی پینٹ کو فوراً اُتار دیا اب میں صرف انڈرویئر اور بنیان میں تھا انڈرویئر میں لنڈ نیم حالت میں کھڑا ہو چکا تھا جس کو آنٹی نے بھی دیکھ لیا تھا اور ان کی آنکھوں میں بھی چمک سی آ گئی تھی . پِھر آنٹی میرے ساتھ آ کر بیڈ گئی میں بیڈ پر ٹیک لگا کر ٹانگیں سیدھی کر کے بیٹھ گیا

آنٹی اٹھ کے میری گود میں بیٹھ گئی اور میرے منہ کے آگے اپنا منہ کر کے اپنی زُبان نکال لی میں سمجھ گیا اور آنٹی کی گردن میں اپنی بانہوں کو ڈال کر ان کی زُبان کو منہ میں لے لیا اور چُوسنے لگا آنٹی کی زُبان کا ایک انوکھا ہی مزہ تھا آنٹی کے منہ سے ایک دِل کاش مہک بھی آ رہی تھی جس کو میں محسوس کر نشہ سا آ ہو گیا تھا آنٹی نے بھی اپنی بانہوں کو میری گردن میں ڈال کر اپنے جسم کو میرے ساتھ جوڑ لیا تھا . آنٹی اپنی زُبان کو اپنے منہ کے رس سے بھگو کر میرے منہ کے اندر باہر کر رہی تھی یہ مزہ مجھے زندگی میں مل رہا تھا . میں نے آنٹی کی زُبان کے ساتھ ساتھ ان کے ہونٹوں کا رس بھی چوسنا شروع کر دیا تھا آنٹی کے گلابی ہونٹ کا ایک الگ ہی رس تھا آنٹی کی زُبان چُوسنے کے ساتھ ساتھ مجھے کسی فلیور کا ذائقہ محسوس ہو رہا تھا جو میرے لیے نیا تجربہ تھا . آنٹی نے بھی میرے ہونٹوں کو ایک الگ ہی اسٹائل میں چوس رہی تھی ان کے نرم ملائم ہونٹ مجھے پھول سے بھی زیادہ نرم محسوس ہو رہے تھے واقعہ آنٹی کے جسم کے انگ انگ میں نشہ تھا میں آنٹی کی زُبان کا اور ہونٹوں کا رس کافی دیر تک پیتا رہا آنٹی کی سانسیں تیز ہو گئی تھیں پِھر آنٹی نے خود ہی اپنی زُبان اور ہونٹوں کو مجھ سے آزاد کروایا اور تھوڑا پیچھے ہو گئی میں نے ان کو دیکھا تو ان کی آنکھوں میں سرخی اور خمار صاف نظر آ رہا تھا . پِھر آنٹی وہاں سے اٹھی اور پہلے اپنی برا کو اُتار کو اپنے گول موٹے موٹے پنک نپلز والے مموں کو آزاد کر دیا آنٹی کے ممے ایک دم کیسے ہوئے اور اور ان کی نپلز ایک دم کڑک ہو کر کھڑی تھیں . پِھر آنٹی نے اپنی پینتی کو بھی اُتار دیا آنٹی کی پھدی کو دیکھ کر میں حیران رہ گیا آنٹی کی پھدی کسی 14 سال کی لڑکی کی سیل پیک پھدی کی طرح تھی . ایسا محسوس ہوتا تھا کے شاید آنٹی ایک ورجن لڑکی ہے میں آنٹی کی پھدی کو دیکھ کر دنگ رہ گیا تھا . آنٹی نے بھی میری آنکھوں کی حیرانگی تو دیکھ لیا تھا اور مسکرا کر بولیں کا شی بیٹا کہاں کھو گئے اب تمھارے باری ہے جلدی سے اپنا انڈر وئیر ا تارو میں نے بھی تھوڑا اوپر ہو کر اپنا انڈر وئیر اُتار دیا میرا لن تو پہلے ہی آنٹی کی پھدی کو دیکھ کر ایک دم ٹائیٹ ہو چکا تھا اور جھٹکے مار رہا تھا آنٹی کی نظر جب میرے لن پر پڑی تو ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک سی آ گئی اور وہ بولیں کا شی بیٹا واہ کیا با ت ہے تمھارا ہتھیار تو کافی جاندار ہے اب آگے دیکھتے ہیں اِس کا رزلٹ کیا ہے . میں آنٹی کی بات سن کر مسکرا پڑا اب میں اور آنٹی مکمل طور پر ننگے ہو چکے تھے آنٹی نے کہا کا شی بیٹا کچھ لیکنگ یا سکنگ کا پتہ ہے تو میں انجان بن گیا آنٹی نے کہا کبھی پھدی کو چوسہ یا چا ٹا ہے تو میں نے کہا آنٹی جی کبھی کیا تو نہیں ہے لیکن آپ کے لیے ٹرائی کر لیتا ہوں آنٹی نے کہا تو پِھر ٹھیک ہے تم سیدھا لیٹ جاؤ میں اپنی پھدی کو تمھارے منہ کے پاس رکھوں گی تم اِس کو چاٹو تو میں ان کی بات سن کر سیدھا لیٹ گیا آنٹی اپنی ٹانگوں کو پھیلا کر اپنی پھدی کو تھوڑا ہوا میں رکھ کر میرے منہ کے پاس لے آئی اب میرے منہ اور آنٹی کی پھدی کے درمیان 1 انچ کا ہی فاصلہ تھا میں نے پہلے تو آنٹی کی پھدی پر کس کرنا شروع کر دیا پہلے پھدی کی ہونٹوں پر کس کی پھر  گانڈ کی سوراخ کے درمیان میں کس کی پِھر آنٹی کی گانڈ کی موری پر بھی کس کی جب آنٹی کی گانڈ کی موری پر کس کی آنٹی کی تو منہ سے ایک سسکی نکل گئی میں کچھ دیر تو تو گانڈ کی موری سے لے کر پھدی کے ہونٹوں تک بس کس ہی کرتا رہا جس سے آنٹی کے منہ سے ہلکی ہلکی سسکیاں نکل رہی تھیں پِھر میں نے اپنی زُبان کو نکال کر پہلے آنٹی کی پھدی کی لیکنگ کرنا شروع کیا آنٹی کی پھدی پر جب میری زُبان لگی تو ان کے جسم نے ایک جھٹکا سے کھایا لیکن میں آنٹی کی اپنی زُبان سے لیکنگ کر رہا تھا کچھ دیر پھدی کو چاٹنے کے بَعْد میں نے آنٹی کی گانڈ کی موری پر اپنی زُبان کو لگا دیا اور ان کی گانڈ کی موری کو چاٹنے لگا میری زُبان لگتے ہی آنٹی کا جسم جھٹکے کھانے لگا اور وہ کبھی اپنی گانڈ کی موری کو کھول رہی تھی کبھی بند کر رہی تھی . اور ان کے منہ سے آہ آہ آہ کی آوازیں نکل رہیں تھیں . میں نے اپنی زُبان کو آنٹی کی موری کے اندر بھی پھیر کر مزہ دینا شروع کر دیا جس سے آنٹی نے میرے سر کو پکڑ کر اپنی گانڈ کے نیچے دبانے لگی میں کافی دیر آنٹی کی گانڈ کے سوراخ کو اپنی زُبان سے چاتتا رہا پِھر میں نے اپنے ہاتھ سے آنٹی کی پھدی کے ہونٹوں کو کھولا اور اس میں اپنی زُبان کو گاا دیا آنٹی کے جسم نے ایک کافی تیز جھٹکا مارا اور ان کے منہ سے ایک لمبی سے لذّت بھری آواز نکالی م م م م آہ اور یہ دیکھتے ہی دیکھتے میں نے اپنی زُبان کو پھدی کے اندر باہر کرنا شروع کر دیا میں اپنی زُبان کو پھدی کے کافی اندر تک لے کر جا رہا تھا جس سے آنٹی کی سسکیاں پورے کمرے میں گونج راہیں تھیں آہ آہ اوہ آہ اوہ اوہ آہ ممممم آہ آہ کا شی میرے جانی اور تیز کرو آج اپنی آنٹی کی پھدی کو کھا جاؤ بہت ذلیل کیا ہوا ہے اِس حرامزادی نے آہ آہ ممممم آہ اوہ آہ میں اپنی زُبان کو اب کافی تیزی کے ساتھ آنٹی کی پھدی کے اندر باہر کر رہا تھا میرے کافی دیر سے آنٹی کی پھدی کو چاٹنے سے ان کی ہمت جواب دے رہی تھی انہوں نے اپنی پھدی کو میرے منہ پر رکھ دیا اور اپنی پھدی کو میرے زُبان کے اوپر رگڑ نے لگی اور میرے سر کو اپنے ھاتھوں سے پکڑ کر اپنی پھدی پر زور زور سے رگڑ نے لگی میں بھی اپنی زُبان کو جتنا ہو سکا اندر باہر کر رہا تھا تقریباً مزید 2 منٹ کے بَعْد آنٹی کا پورا جسم کانپ رہا تھا اور آنٹی کی پھدی جھٹکے مار مار اپنا گرم گرم لاوا میرے منہ کے اوپر چھوڑ رہی تھی . آنٹی کے منہ سے ممممم آہ آہ اوہ آہ کی آواز نکل رہی تھی . آنٹی کی پھدی نے کافی زیادہ مال نکالا تھا پِھر آنٹی کچھ دیر بَعْد میرے اوپر سے ہٹ کر میرے ساتھ ہی بیڈ پر لیٹ گئی اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگی پہلے میں اٹھ کر باتھ روم گیا اور اپنا منہ ہاتھ دھو کر دوبار بیڈ پر آ کر آنٹی کے ساتھ ہی لیٹ گیا کچھ دیر بَعْد آنٹی اٹھ کر باتھ روم میں چلی گئی اور اپنی صاف صفائی کر کے واپس بیڈ پر آ کر میرے ساتھ لیٹ گئی آنٹی نے کہا کا شی بیٹا تم تو چھپے رستم نے ا ہو تمہیں تو سب پتہ ہے آج تک کسی نے میرے پھدی کو اتنا مزہ نہیں دیا ہے جتنا مزہ تم نے دیا ہے اور تمہارا گانڈ کے اندر زُبان پھیر نا تو مجھے پاگل کر رہا تھا ایسا مزہ نہ فیصل نے دیا تھا نہ تمھارے ما مو ں نے دیا تھا . پِھر میں اور آنٹی کافی دیر باتیں باتیں کرتے رہے پِھر آنٹی نے کہا کا شی بیٹا ٹائم کافی ہو چکا ہے ابھی ہم کو اصلی مزہ کرنا چاہیے میں نے کہا آنٹی جی میں تو تیار ہوں آنٹی نے میرے لن کو پکڑ لیا اور بولی پہلے میں اِس چھوٹے شیر کو تیار کروں گی پِھر اپنی پھدی کی سیر کرواتی ہوں میں نے کہا جیسے آپ کی مرضی آنٹی نے آگے ہو کر بیڈ کے ساتھ دراز میں رکھی ہوئی کریم ٹائپ چیز نکالی لیکن اس پر کچھ فروٹس کی شکل بنی ہوئی تھی مجھے خود سمجھ نہ آئی یہ کیا چیز ہے آنٹی نے اس میں سے جیلی ٹائپ کی چیز نکال کر میرے لن پر مل دی پِھر کریم کو ایک سائڈ پر رکھ کر پہلے میرے لن کی ٹوپی پر اپنی زُبان کو پھیرا اور وہ جیلی کو چاٹا اور پِھر میرے طرف دیکھ کر مجھے آنکھ مار دی پِھر آنٹی نے آہستہ آہستہ میرے پورے لن کو اپنے منہ میں لے لیا اور اس کے ارد گرد اپنی زُبان پھیر نے لگی آنٹی کی زُبان کی گرفت میرے لن پر کافی مضبوط تھی وہ ساتھ ساتھ اس جیلی کو کھا رہی تھی اور ساتھ ساتھ لن کی بھی چوس رہی تھی میرے لیے یہ بھی نیا تجربہ تھا آنٹی نے تقریباً ساری جیلی صاف کر دی تھی لیکن وہ میرے لن کو اپنے منہ کے اندر باہر کر بہت ہی گرم جوشی کے ساتھ چوس رہی تھی آنٹی کے منہ کی تشا میں اپنے لن پر اچھی طرح محسوس کر سکتا تھا ان کا میرے لن پر زُبان کو گول گول گھوما کر چوپا لگانا میرے لن کے اندر ایک نشہ سا بھر رہا تھا . آنٹی کے 5 منٹ کے چو پوں نے میرے لن کو لوہے کی طرح ٹائیٹ کر دیا تھا پِھر آنٹی نے خود ہی میرے لن کو آزاد کر دیا اور مجھے آنکھ مار کر بولیں کا شی میرے جانی اب یہ میرے پھدی کی سیر کے لیے بالکل تیار ہے اور آنٹی میرے سامنے گھوری اسٹائل میں ہو گئی اور بولی کا شی بیٹا مجھے اِس اسٹائل میں پھدی مروانہ بہت اچھا لگاتا ہے اِس اسٹائل میں لن پورا جڑ تک محسوس ہوتاہے میں آنٹی کی بات سن کر آنٹی کے پیچھے آ گیا آنٹی نے ہاتھ پیچھے کر کے میرے لن کو ہاتھ میں پکڑ لیا اور پِھر اپنی پھدی کے منہ پر رکھ کر بولی کا شی بیٹا اِس کو اندر دھکا دو لیکن پورا ایک ساتھ اندر نہیں کرنا تمہارا لمبا اور موٹا ہے میری پہلی دفعہ میں ہی پھاڑ دے گا . میں نے لن کو ایک جھٹکا مارا جو زیادہ زور کر نہیں تھا جس سے میرے لن کا ٹوپا رنگ تک آنٹی کی پھدی کے اندر گھس گیا آنٹی کے منہ سے ایک ہلکی سی چیخ نکالی ہا اے اور میری طرف دیکھ کر بولی اتنا زور کا جھٹکا نہ مارو پلیز میں نے آگے سے آنکھ مار دی پِھر میں نے کچھ دیر رک کر اپنے لن کو آہستہ آہستہ اندر کرنا شروع کر دیا آنٹی اپنی پھدی کو کبھی ٹائیٹ کر رہی تھی کبھی ڈھیلا کر رہی تھی میرا تقریباً آدھا لن آنٹی کی پھدی کے اندر جا چکا تھا پِھر میں وہاں تک رک گیا اور کچھ دیر رکنے کے بَعْد میں نے  آنٹی کو کمر سے پکڑ کر ایک فل زور سے جھٹکا مارا اور اپنا پورا 6 انچ سے بڑا لن آنٹی کی پھدی کے اندر جڑ تک اُتار دیا مجھے آخر میں کسی چیز کے ساتھ میرے لن نے جا کر تکڑ ماری تھی . میرا یہ جھٹکا بہت زور کا تھا جس کو آنٹی برداشت نہ کر سکی اور ان کو منہ سے ایک زور دَر چیخ نکلی ہا اے نی میری ماں میں مر گئی آنٹی کو واقعہ ہی بہت تکلیف ہوئی تھی کیونکہ آنٹی کے آخری حصے تک جا کر میرے لن نے تکڑ ماری تھی . تکلیف تو ہونی ہی تھی میں پورا لن اندر اُتار کر کافی دیر تک کچھ نہ کیا اور پِھر جب آنٹی نے بھی کافی دیر کے بَعْد اپنی پھدی کو ڈھیلا چھوڑا تو میں سمجھ گیا اب شاید آنٹی کی تکلیف بہتر ہوئی ہے . میں نے آہستہ آہستہ اپنے لن کو آنٹی کی پھدی کے اندر باہر کرنا شروع کر دیا آنٹی کی پھدی کی اندرونی دیواروں نے میرے لن کو کافی جڑک کر رکھا ہوا تھا مجھے پتہ تھا ابھی آہستہ آہستہ کرنا ہی بہتر ہے اور میں آرام آرام سے لن کو اندر باہر کر رہا تھا . میں تقریباً 5 منٹ تک آرام آرام سے کر رہا تھا پِھر کچھ دیر بَعْد میں نے دیکھا آنٹی اپنی گانڈ کو حرکت دے کر آگے پیچھے کر رہی ہے تو میں نے اب سمجھ گیا تھا کے اب آنٹی کو مزہ آنے لگ پڑا ہے اور پِھر میں نے بھی اپنی سپیڈ کو تیز کر دیا میں اپنے لن کو تیز تیز اندر باہر کرنے لگا آنٹی بھی گانڈ کو بہت مزے سے آگے پیچھے کر رہی تھی کچھ دیر میں ہی آنٹی نے اپنی سپیڈ کو خود ہی تیز کر دیا اور میری سپیڈ کے حساب سے گانڈ کو آگے پیچھے کر کے لن کو اندر باہر لینے لگی اور آنٹی کے منہ سے لذّت بھری آوازیں نکلنا شروع ہو گئیں تھیں ممممم آہ آہ اوہ آہ آہ اوہ آہ اوہ کا شی میری جان میرے بھانجے اپنی ما می کو اور زور سے چودو نہ جان اور تیز تیز کرو نہ آہ آہ آہ اوہ آہ ممممماح آہ اوہ آنٹی کی سسکیاں کمرے میں اونچی اونچی گونج رہی تھیں میں تیز تیز دھکے لگا رہا تھا میں ساتھ ساتھ آنٹی کے گانڈ پر تھپڑ بھی مار رہا تھا جس سے آنٹی کی سسکیاں بھی تیز ہو جاتی تھیں اور آنٹی اپنی پھدی کو بھی ٹائیٹ کر لیتی تھی مزید کچھ دیر میں آنٹی کا جسم پِھر کانپنے  لگا اور جھٹکے مارنے لگا میں سمجھ گیا تھا کے آنٹی کی پھدی نے اپنا رس نکالنا شروع کر دیا اور پِھر کچھ ہی دیر میں مجھے آنٹی کا گرم گرم لاوا اپنے لن پر گرتا ہوا صاف محسوس ہو رہا تھا . آنٹی کا جسم بدستور جھٹکے مار رہا تھا اور آنٹی کے منہ سے عجیب عجیب سی آوازیں گھوں گھوں کی آوازیں نکل رہی تھیں . آنٹی کا مال نکلنے کی وجہ سے پھدی کے اندر کا کام بہت زیادہ گرم اور گھییلا پن بن چکا تھا اور میرا لن پچ پچ کی آواز کے ساتھ اندیرباہر ہو رہا تھا میں پہلے گھٹنوں کے بل ہو کر آنٹی کو چودڑرہا تھا پِھر میں نے اپنے آپ کو پاؤں کے بل کھڑا  کیا اور اپنی پوری طاقت سے آنٹی کی پھدی کے اندر جھٹکے مارنے شروع کر دیئے اور میں نے مزید 2 سے 3 منٹ کے طوفانی جھٹکوں کے بَعْد اپنے لن کا مال آنٹی کی پھدی کے اندر چھوڑ دیا میرا آج ڈھیر سارا مال نکلا تھا میں کافی دیر تک اپنی منی چھوڑ ٹا رہا پِھر جب میں لن نے آخری قطرہ بھی نکال دیا تو میں نے لن کو پھدی سے باہر نکال کر آنٹی کے ایک سائڈ پر ہو کر لیٹ کر حانپنے لگا آنٹی بھی الٹے منہ لیٹ کر لمبی لمبی سانسیں لینے لگی کافی دیر بَعْد جب ہماری سانسیں بَحال ہوئی تو آنٹی نے کہا کا شی بیٹا آج تو تم نے میری بس کرا دی ہے میں سوچ رہی تھی آج تم سے پھدی اور گانڈ دونوں میں لن ڈلوا لوں گی لیکن تم نے تو میری پھدی میں ہی میری بس کروا دی ہے اِس لیے آج میں تھک گئی ہوں پِھر کسی دن تمہیں اپنی گانڈ کا مزہ دوں گی میں نے کہا ٹھیک ہے آنٹی جیسے آپ کی مرضی پِھر میں پہلے اٹھا اور باتھ روم میں جا کر نہا لیا اور فریش ہو کر باہر نکلا اور تیار ہو کر آنٹی سے اِجازَت لے کر میں یونیورسٹی کے لیے نکل آیا کیونکہ فیصل کے آنے کا بھی ٹائم ہو گیا تھا اِس لیے میں اس کے آنے سے پہلے ہی وہاں سے نکل کر یونیورسٹی چلا گیا .

 

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 9/15/2017 at 11:08 PM, ovii said:

next ???

یہ کہانی یہیں تک رائٹر نے پوسٹ کی تھی۔

اس کے بعد کی کہانی مجھے ابھی تک نہیں مل سکی۔

جس کی وجہ سے یہ کہانی نامکمل رہی۔

اسی بنیاد پر اس کہانی کو نامکمل کہانیوں کے سیکشن میں موو کردیا جائے گا۔

شکریہ

Share this post


Link to post
Share on other sites

Budy please complete that story for any cost, it's lovely to be read more. That's my first reply on all of that which I reac before from several years....... please complete it... :babycry:

Share this post


Link to post
Share on other sites

ایڈمن صاحبان اگر اجازت ہو تو میں چاچی کا دیوانہ کہانی کو مکمل کر سکتا ہوں 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×
×
  • Create New...