Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
چراغ سحر

عشق و عاشقی

Recommended Posts

عذر آنے میں بھی ہے اور بُلاتے بھی نہیں

باعثِ ترکِ مُلاقات بتاتے بھی نہیں

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں

صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

ہوچکا قطعٔ تعلق تو جفائیں کیوں ہوں

جن کو مطلب نہیں رہتا وہ ستاتے بھی نہیں

زیست سے تنگ ہو اے داغؔ تو جیتے کیوں ہو

جان پیاری بھی نہیں، جان سے جاتے بھی نہیں

Share this post


Link to post

اردو فن کلب کے پریمیم سیریز اور پریمیم ناولز اردو فن کلب فورم کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جو فورم کے پریمیم رائیٹرز کی محنت ہے اور صرف وقتی تفریح کے لیئے فورم پر آن لائن پڑھنے کے لیئے دستیاب ہیں ۔ ہمارا مقصد اسے صرف اسی ویب سائیٹ تک محدود رکھنا ہے۔ تاکہ یہ گناہ جاریہ نہ بنے ۔ اسے کسی بھی طرح سے کاپی یا ڈاؤن لوڈ کرنے یا کسی دوسرے دوست یا ممبر سے شیئر کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ۔ جو ممبران اسے اپنے دوستوں سے شئیر کر رہے ہیں ۔ ان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے ممبر سے بھی شئیر نہیں کر سکتے ۔ ورنہ ان کا مکمل اکاؤنٹ بین بھی ہو سکتا ہے۔ ڈیٹا شیئر کرنے والہ ممبراس بات کا عملی اقرار کرے گا کہ وہ بروز قیامت فورم انتظامیہ، سٹوری رائیٹر اور فورم ایڈمن کے تمام گناہوں کا اکلوتا وارث ہو گا ۔ اور بروز قیامت اپنی تمام نیکیاں (جو بھی اس کے نامہ اعمال میں ہوئیں ) بروز قیامت مجھے دینے کا پابند ہو گا۔ اگر کوئی ممبر اب بھی ایسا کرتا ہے اور گناہ جاریہ کا سبب بنتا ہے ۔ تو اس شرط کو ایگری کرتے ہوئے شیئر کر سکتا ہے ۔ فورم کو اس ایگری منٹ پر اجازت دینے میں کوئی اعتراض نہیں ۔ ایڈمن اردو فن کلب

 

اس طرح سے زوال ہے مرشد
غم بھی مجھ میں نڈھال ہے مرشد

دل تڑپ کر تڑپ چکا کب کا
پھر بھی دل میں ملال ہے مرشد

آہ بھر کر جو مسکراتا ہوں
اک یہی تو کمال ہے مرشد

Share this post


Link to post

 

ہجر کرتے یا کوئی وصل گزارا کرتے
ہم بہرحال بسر خواب تمھارا کرتے

ایک ایسی بھی گھڑی عشق میں آئی تھی کہ ہم
خاک کو ہاتھ لگاتے تو ستارا کرتے

اب تو مل جاؤ ہمیں تم کہ تمھاری خاطر
اتنی دور آ گئے دنیا سے کنارا کرتے

محوِ آرائشِ رُخ ہے وہ قیامت سرِ بام
آنکھ اگر آئینہ ہوتی تو نظارا کرتے

ایک چہرے میں تو ممکن نہیں اتنے چہرے
کس سے کرتے جو کوئی عشق دوبارا کرتے

جب ہے یہ خانہ ء دل آپکی خلوت کے لئے
پھر کوئی آئے یہاں ، کیسے گوارا کرتے

کون رکھتا ہے اندھیرے میں دیا آنکھ میں خواب
تیری جانب ہی ترے لوگ اشارا کرتے

ظرفِ آئینہ کہاں اور ترا حسن کہاں
ہم ترے چہرے سے آئینہ سنوارا کرتے

Share this post


Link to post

!!!!
ﺯﺭﺍ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﮯ ﭼﺎﻝ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ
ﮐﻮﺋﯽ ﺯﺍﺋﭽﮧ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﻗﻠﻨﺪﺭﺳﺎ
ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﺟﻨﺘﺮ ﻣﻨﺘﺮ ﭘﮍﮪ
ﺟﻮ ﮐﺮ ﺩﮮ ﺑﺨﺖ ﺳﮑﻨﺪﺭﺳﺎ
___
ﮐﻮﺋﯽ ﭼﻠﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺎﭦ ﮐﮧ ﭘﮭﺮ
ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺳﮑﯽ ﮐﺎﭦ ﻧﮧ ﮐﺮ ﭘﺎﺋﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﺩﮮ ﺗﻌﻮﯾﺰﻣﺠﮭﮯ
ﻭﮦ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﻋﺎﺷﻖ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ
___
ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺎﻝ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮﺷﻤﮧ ﮔﺮ
ﻣﺮﯼ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻮﻝ ﮔﻼﺏ ﺁﺋﯿﮟ
ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﮭﻮﮎ ﮐﮯ ﺩﮮ ﺍﯾﺴﺎ
ﻭﮦ ﭘﯿﺌﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﻮﺍﺏ ﺁﺋﯿﮟ
___
ﮐﻮﺋﯽ ﻗﺎﺑﻮ ﮐﺮ ﺑﮯ ﻗﺎﺑﻮ ﺟﻦ
ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺎﻧﭗ ﻧﮑﺎﻝ ﭘﭩﺎﺭﯼ ﺳﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﺩﮬﺎﮔﮧ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﭘﺮﺍﻧﺪﮮ ﮐﺎ
ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻨﮑﺎ ﺍِﮐﺸﺎ ﺩﮬﺎﺭﯼ ﺳﮯ
___
ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﻮﻝ ﺳﮑﮭﺎ ﺩﮮ ﻧﺎ
ﻭﮦ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﺧﻮﺵ ﮔﻔﺘﺎﺭﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﺍ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ
ﻭﮦ ﺟﺎﻧﮯ ، ﺟﺎﻥ ﻧﺜﺎﺭ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ
___
ﮐﻮﺋﯽ ﮈﮬﻮﻧﮉﮪ ﮐﮯ ﻭﮦ ﮐﺴﺘﻮﺭﯼ ﻻ
ﺍﺳﮯ ﻟﮕﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﮯ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﻮﮞ
ﺟﻮ ﻣﺮﺿﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﯾﺎﺭ ﮐﯽ ﮨﮯ
ﺍﺳﮯ ﻟﮕﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻭﯾﺴﺎ ﮨﻮﮞ
___
ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﺍﺳﻢ ﺍﻋﻈﻢ ﭘﮍﮪ
ﺟﻮﺍَﺷﮏ ﺑﮩﺎﺩﮮ ﺳﺠﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﺟﯿﺴﮯ ﺗﯿﺮﺍ ﺩﻋﻮﯼ ﮨﮯ
ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮨﻮﻣﯿﺮﮮ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ
___
ﭘﺮ ﻋﺎﻣﻞ ﺭﮎ ، ﺍﮎ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﻮﮞ
ﯾﮧ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﮐﯿﺎ ؟
ﻣﺤﺒﻮﺏ ﺗﻮ ﮨﮯ ﺳﺮ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﭘﺮ
ﻣﺠﮫ ﭘﺘﮭﺮ ﮐﯽ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﮨﮯ ﮐﯿﺎ
___
ﺍﻭﺭ ﻋﺎﻣﻞ ﺳﻦ ﯾﮧ ﮐﺎﻡ ﺑﺪﻝ
ﯾﮧ ﮐﺎﻡ ﺑﮩﺖ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﮐﺎ ﮨﮯ
ﺳﺐ ﺩﮬﺎﮔﮯ ﺍﺳﮑﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ
 ۔ ۔ ۔"" ﺟﻮ ﻣﺎﻟﮏ ﮐﻞ ﺟﮩﺎﻥ ﮐﺎ ﮨﮯ ❤

Share this post


Link to post

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...