Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
Sultan1122

میری داستاں

Recommended Posts

پیارے دوستو میں یہ جو کہانی لکھنے جا رہا ہوں اس کا تھوڑا سا حصّہ میں پہلے ہی کسی دوسرے فورم پر لکھ چکا ہوں کیوں کہ ہمارا یہ فورم پہلے بند ہوچکا تھا اس لیے مجبوری میں مجھے دوسرے فورم پر لکھنا پڑا اب میں باقی اپڈیٹ اسی فورم پر کیا کروں گا شکریہ 

Share this post


Link to post

اردو فن کلب کے پریمیم سیریز اور پریمیم ناولز اردو فن کلب فورم کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جو فورم کے پریمیم رائیٹرز کی محنت ہے اور صرف وقتی تفریح کے لیئے فورم پر آن لائن پڑھنے کے لیئے دستیاب ہیں ۔ ہمارا مقصد اسے صرف اسی ویب سائیٹ تک محدود رکھنا ہے۔ تاکہ یہ گناہ جاریہ نہ بنے ۔ اسے کسی بھی طرح سے کاپی یا ڈاؤن لوڈ کرنے یا کسی دوسرے دوست یا ممبر سے شیئر کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ۔ جو ممبران اسے اپنے دوستوں سے شئیر کر رہے ہیں ۔ ان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے ممبر سے بھی شئیر نہیں کر سکتے ۔ ورنہ ان کا مکمل اکاؤنٹ بین بھی ہو سکتا ہے۔ ڈیٹا شیئر کرنے والہ ممبراس بات کا عملی اقرار کرے گا کہ وہ بروز قیامت فورم انتظامیہ، سٹوری رائیٹر اور فورم ایڈمن کے تمام گناہوں کا اکلوتا وارث ہو گا ۔ اور بروز قیامت اپنی تمام نیکیاں (جو بھی اس کے نامہ اعمال میں ہوئیں ) بروز قیامت مجھے دینے کا پابند ہو گا۔ اگر کوئی ممبر اب بھی ایسا کرتا ہے اور گناہ جاریہ کا سبب بنتا ہے ۔ تو اس شرط کو ایگری کرتے ہوئے شیئر کر سکتا ہے ۔ فورم کو اس ایگری منٹ پر اجازت دینے میں کوئی اعتراض نہیں ۔ ایڈمن اردو فن کلب

 میری داستاں

میرا نام تنویر کالا ہے لوگ مجھے تنی کالے کے نام سے بلاتے ہیں میں نے  پاکستان کے دیہاتی علاقے میں آنکھ کھولی خوش قسمتی سے جس گھرانے میں پیدا ہوا وہ اپنے علاقے کا ایک ذمہ دار گھرانہ تھا اور یہاں پر پیسے کی خوب ریل پیل تھی مگر نرینہ اولاد نہ ہونے کی وجہ سےمیرے پیدا ہونے پر 
خوب جشن منایا گیا اور میری خوب او بھگت کی گئی 
میری پیدائش پر میرے دادا جی نے سو بکروں کی قربانی کی میرے ماں باپ نے تقریبا ۵٠ تولے سے بھی زیادہ کے زیورات خیرات کر دیے 
مگر میں جب پیدا ہوا تو میرا رنگ خاصا کالا تھا اس پر تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جس دائی نے مجھے پیدا کیا نے پیسے لینے سے انکار کر دیا اور میرے دادا جی سے کہا کے سردار صاحب پیسے اور بخشش رہنے دیں قسمت سے تو کوئی بچہ پیدا ہوا ہے اور بختو والا لگتا ہے لمبی چھوڑی ناک اور جسم کے تمام اعضاء بڑے بڑے ہیں مگر رنگ کا ذرا سانولہ ہے تو کیا ہوا لڑکا ہے کس نے دیکھنا ہے میں اس کی ایسی خدمت کروں گی کہ رنگ روپ دنوں میں ہی چمکنے لگ جائگا فالحال آپ میرے ہاتھ دھلوائیں کسی اچھے سے صابن   سے  ۔ 

Share this post


Link to post

پھر یوں ہوا کہ میں یعنی کہ تنی کالا میری عمر بٹر ھتی گی اور میں اسکول اسکول سے ہائی سکول میں جانے لگا میں پڑھائی میں نارمل درجہ کا سٹوڈنٹ تھا مگر کلاس میں پیچھے پیچھے بیٹھا تھا میری کلاس میں بہت زیادہ نالائق بچے بھی تھے جو میرے ساتھ پچھلی بینچوں پر بیٹھے تھے میں گورنمنٹ کے سکول میں پڑھتا تھا جہاں کے ماحول میں کافی آزادی تھی ایک دن کلاس میں بیٹھے بیٹھے میرے ایک کلاس فیلو جس کا نام شریف یعنی شرفو تھانے مجھ سے ڈیمانڈ کی کے میں اس کو اپنا لنڈ دکھاں۔ 
مجھ کو پہلے پہلے اس کی بات کی بالکل بھی سمجھ نہ آئی مگر جب اس نے مجھے بتایا کہ لن آگے والی چیز کو کہتے ہیں تو مجھ کو شرم آ گئی اس کے بار بار اصرار پر میں نے کلاس میں پچھلی ڈیسک سے چھپتے ہوئے اپنے لان کے اوپر سے شلوار کے اوپر ہاتھ رکھ لیا مگر میری بائی طرح بیٹھا دوسرا کلاس فیلو جس کا نام عاصم تھا اس نے بھی بھرپور اصرار کرنا شروع کر دیا اس پر شریف نے کہا کہ اس کالے کا بہت چھوٹا ہوگا اس وجہ سے یہ ہمیں نہیں دکھا رہا عاصم بھی اسی طرح کی اصرار کرنے لگا اور اس نے کہا کہ میں بتا سکتا ہوں کہ یہ کیوں شرم آ رہا ہے ایسے چھینا جھپٹی میں عاصم اور شریف نے میری شلوار اتار لی کیونکہ میں اس وقت صرف لاسٹ پہنتا تھا اس وجہ سے ان کو اتارنے میں کوئی تکلیف نہ ہوئی مگر جیسے ہی میری شلوار اتری شریف اور عاصم کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی میرے لن کا سائز عام انسان کے لن کے حساب سے کافی بڑا تھا 
اس پر شریف نے کہا کہ بھائی میرے تنی صاحب یہ اپنا لن ہے یا گھوڑےکالن لیے پھرتے ہو
یعنی اس وقت جب میں نویں کلاس میں پڑھتا تھا میرے لن کا سائز 10 انچ کے برابر تھا اور اس کی ٹوپی تین انچ کی ہوگی 
اس پر عاصم نے کہا میرے بھائی میرا تو دل کرتا ہے اس کالے کاکالالن پکڑ کر میں چیک کر لو کے واقعی اصلی ہے یا نقلی ہے اس دوران اس نے جھٹ سے میرا لنڈ پکڑ لیا 
ڈر اور شرم کے مارے میری تو چیخ نکل گئی 
جس پر ماسٹر صاحب فوراً پہنچ گئے اس نے جب مجھ کو اس حالت میں دیکھا تو ہم تینوں کو اس نے بینچ پر کھڑا کر دیا اور ہمارا نام نوٹ کرکے ہمارے والدین کو بلابھیجا 
میرے والد صاحب کی بجائے میرے دادا ابو میری پڑھائی پر بہت زیادہ توجہ دیتے اور میرے ساتھ ہوں کا دوستی والا رشتہ تھا دادا جان کے سکول میں آنے سے ہیڈ ماسٹر نے ان کو طرح طرح کی
طرح طرح کی باتیں سننے کے بعد دادا ابو حساس ہوا کہ اس طرح سرکاری اسکول میں پڑھنے سے ان کی اکلوتی نرینا ضائع ہوجائے گی اور پڑھ نا پائے گی اس لیے انہوں نے مجھ کو نئے سکول میں یعنی پرائیویٹ سکول میں شہر میں پڑھانے کی ٹھان لی۔ 
ان کے ایک نہایت قریبی دوست ماسٹر فضل دین کے کہنے پر مجھے شہر کے بڑے اسکول میں ایڈمیشن کرادیا گیا جہاں پر بڑی فیس کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے لوگ ہو کے بچے ایڈمیشن کرانے آئے ہوئے تھے میرا ٹیسٹ لیا گیا اور مجھے واپس آٹھویں کلاس میں ایڈمیشن دیا گیا کیونکہ میں انگریزی میں بہت زیادہ کمزور تھا میری رہائش کے لئے دادا جان کے شہر میں رہنے والے بہت قریبی دوست اور امیر و کبیر گھرانے کے فرزند ایک سیاسی پارٹی سے جن کا تعلق تھا ان کے گھر میں ایک کمرہ خالی کرکے مجھے رہنے کے لئے کچھ عرصہ کے لیے دیا گیا اور میرے ساتھ میرا نوکر کریم بخش کو بھی ساتھ میرے رکھا گیا۔ اس طرح میں یعنی تنی کالا گاؤں سے شہر پڑھنے کے لیے لاہور آ گیا اور ایک بہت ماڈرن انگلش میڈیم سکول جہاں پر لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے پڑھتےتھے میں داخل ہو گیا

 

Share this post


Link to post

دادا جان نے خاص طور پر کریم بخش کو ہدایت کی تھی کہ مجھے یعنی تنی کالے کو روپے پیسے کی کوئی کمی نہ ہو اور چھوٹے سردار کا ہر صورت میں سکول میں دل لگنا چاہیے چاہے اس کے لئے کچھ بھی کرنا پڑے کریم بخش ایک نہایت منجھا ہوا وفادار نوکر تھا اس کی بڑی بڑی مونچھیں تھیں اور وہ صحت مند اور تندرست انسان تھا شکل صورت سے بدمعاش نظر آتا تھا لیکن میری جی حضوری کیجئے ہروقت تیار تھا سکول کا پہلا دن بہت عجیب و غریب تھا میں جسے ہر وقت لوگ سر آنکھوں پر بٹھائے رکھتے تھے اور میرے اندر سے سرداری جانے نہیں پاتی تھی آج مجھے احساس ہوا کہ مجھ سے بھی بڑے بڑے سردار اس دنیا میں موجود ہیں اتنے خوبصورت سفید سرخ اور تہزیب یافتہ لوگوں سے میرا سامنا پہلی دفعہ ہوا تھا یہ اسکول جنت سے کم نہیں تھا بڑے بڑے باغیچے لان بڑے بڑے کلاس روم ایئرکنڈیشن روم نہایت پڑھی لکھی حسین خاتون ٹیچرز اور پڑھے لکھے خوبصورت مرد اساتذہ تھے۔ اسکول میں اساتذہ کے ساتھ ساتھ جو بچے تھے وہ بہت نیت امیر کبیر گھرانے کے بچے تھے لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے پڑھتے تھے لڑکیاں نہایت خوبصورت چھوٹی چھوٹی پریاں تھیں۔ سرخ اور سفید رنگ و روپ کی مالک ہونٹ لال اور پھولوں کی پتیوں کی مانند دمکتے تھے صفائی کا خاص انتظام تھا ایسے لگتا تھا جیسے تنی کالا جنت الفردوس میں آگیا ہو اور  اسے

میرے لیے شہر کا یہ اسکول بڑا ہی عجیب و غریب تھا یہاں پر کو ایجوکیشن تھی یعنی کے لڑکے اور لڑکی اکٹھے پڑھتے تھے پہلے دن کلاس میں ہی مجھے عجیب و غریب طریقے سے دیکھنا شروع کر دیا کہ جیسے کوئی عجیب قسم کا جانور ان کے سکول میں داخل ہوگیا ہو۔ یہاں میں ایک بات بتاتا چلوں کہ میرے والد صاحب اگرچہ ذمہ دار گھرانے سے تھے مگر وہ سوڈان اپنے ایک دوست کے پاس گئے جان کا دوست اور ان کی ایک رشتہ دار خاتون رہتی تھی کہا نا جانے کیسے میرے والد صاحب کی میری والدہ جو کہ ایک سیاہ فام تھی سے دوستی ہوگئی اور پھر یہ دوستی بعدازاں ازدواجی رشتے میں بدل گئی میرے والد صاحب نے میری والدہ سے شادی کرلی اور اس کو پاکستان لے آئے پہلے پہل تو پاکستان دادا کان اور کسی اور نے بھی میری والدہ کو قبول کرنے سے انکار کردیا مگر ان کے باء اخلاق رویے اور خدمت داری انہیں قبول کرنے پر مجبور کر دیا۔
کلاس میں مجھے جو جگہ ملی وہاں پر میرے ساتھ میری فیلو سیما تھی اور دوسری سائڈ یعنی بائیں سائیڈ پہ میرے ساتھ ایک لڑکا تبسم نام کا بیٹھا کرتا تھا 
میں کلاس میں جب پہلے دن حاضر ہوا تو میں نے بستہ اٹھایا ہوا تھا اور سر کی پف نکال کے کلاس کے باہر کھڑا تھا
میری ٹیچر نے مجھ کو بلا بھیجا اور مجھ سے انگلش میں مخاطب ہوئیں
Hi come in gentle man 
ادھر آؤ شریف آدمی

میں خاصا پریشان اور کنفیوز ہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگا جیییییییی
میںمینننننن
Yes you my dear
میرے استانی نے کہا ہاں تم 
میں گھبرایا ہوا کلاس میں داخل ہوا ٹیچر نے مجھے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور میں وہ بیٹھ گیا پہلا دن تعارف کا تھا جہاں پر میں نے اپنا تعارف بڑے گھبرا گھبرا کر پیش کیا اور سب لوگ مجھ پر ہنسنے لگے 
میر ے کالے رنگ افریقی اور پاکستانی لہجے نے میرے کلاس فیلوز پر میرا کوئی اچھا اثر نہ ڈالا مگر میرے ساتھ بیٹھی میری کلاس فیلو مجھے غور سے دیکھ رہی تھی 
کلاس میں بریک کے دوران اس لڑکی نے ہاتھ میری طرح بڑھایا اور کہا ہائے ایم سیما 
میں نے اس کے ہاتھوں میں ہاتھ ملاتے کر کہا
جی می تنویر 
میری نظر اس کے اور میرے اپنے ہاتھوں پر پڑی 
میرے کالے کالے اور سیاہ ہاتھ ہونے سیما کے سفید اور گلابی ہاتھ کو اپنی گرفت میں لیا ہوا تھا مجھے پہلے تو کبھی کسی قسم کی کوئی کبھی پریشانی نہ ہوئی تھی مگر اس مرتبہ زندگی میں

Share this post


Link to post
4 hours ago, Sultan1122 said:

فالحال آپ میرے ہاتھ دھلوائیں کسی اچھے سے صابن   سے

ہاہاہا۔۔۔۔ آغاز سے تو لگ رہا ہے آگے کچھ دلچسپ پڑھنے کو ملے گا- دیکھتے ہیں کالا شہر میں کیا اودھم مچاتا ہے

Share this post


Link to post

زندگی میں پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ کسی خوبرو دوشیزہ کا ہاتھ میرے ہاتھوں میں تھا مجھے اپنے جسم کے اندر بہت منفرد سی کیفیت محسوس ہونے لگی بلوغت کی سٹیج پر تو میں پہنچ چکا تھا مگر کسی لڑکی کا ہاتھ میرے ہاتھوں میں پہلی دفعہ تھا مجھے ہلکا ہلکا اپنی شلوار کے اندر بھی اپنا ہتھیار کھڑا ہوتا ہوا محسوس ہونے لگا تھا مگر میں میں نے جلدی سے اس کو اپنی ٹانگوں کے درمیان میں چھپا لیا تاکہ کسی کو محسوس نہ ہو میرے کالے کالے ہونٹوں پر سے تھوک نکلنے لگی میں جلدی سے کرسی پر برجمان ہوگیا ایسے میں میری ٹیچر انم آگئی ٹیچر ان ہم ایک خوبصورت ٹیچر تھی ان کے حاوند بیرون ملک ہوتے تھے وہ شوقیہ طور پر ہمارے اسکول میں پڑھانے کے لئے آتی تھی ان کا ایک بچہ بھی تھا لیکن کسی کو پتہ نہیں لگتا تھا کہ وہ بچے کی ماں ہیں مگر ان کا سینہ اور ان کا ڈھیلا سا بدن یہ ضرور بتاتا تھا کہ وہ سیکس کروا چکی ہے ٹیچر انم کے سینے پر نگاہ پڑتے ہی میرا راڈ کھڑا ہو جاتا تھا جو مجھے مشکل سے چڈو میں چھپانا پڑتا تھا میرے ساتھ بیٹھی میری کلاس فیلو سیما اور تبسم میری اس کیفیت کو محسوس کرنے لگے

وہ کہتے ہیں نا آنکھوں کی بھی عجب کشش ہوتی ہے میرے بار بار دیکھنے محسوس کرنے پارٹی چرا نام کو بھی محسوس ہونے لگا کے یہ کالا لڑکا اس کے پیچھے دیوانہ ہو گیا ہے اور وہ مجھے گندی نظروں سے دیکھنے لگتی۔ ان کے سفید سفید دودھ یعنی انکی چھاتیاں قمیض یا شرٹ کے جھروکے میں سے نظر آتی تو میرا کھمبہ بھی سگنل پکڑنے لگ جاتا تھا اسی طرح دو ہفتے گزر گئے 
ایک دن میں کلاس میں بیٹھا انگلش کے ٹینسز پڑھ رہا تھا اور ٹیچر عنہم نے مجھے بلا لیا اور کہا کہ جتنا تم نے کر لیا ہے اپنی نوٹ بک لے کر فورا میرے پاس آ جاؤ میں ٹیچر انعم کے پاس جا کر کھڑا ہوگا ٹیچر ان میری نوٹ بک کو اور سے دیکھتی جا رہی تھی میں ٹیچر انم کے دائیں کندھے کے ساتھ کھڑا ہوگیا اور میری نظر ان کی چھاتیوں پر جا ٹکی انہوں نے ریڈ کلر کا برا بنا ہوا تھا جس میں ان کی چھاتیاں ہیرے جیسی لگ رہی تھی ایسے میں میری زبان میرے منہ سے بے سخت طور پر نکل کر میرے ہونٹوں پر آگئی اور میری ساری کیفیت میرے کلاس فیلو بھی دیکھنے لگے۔ میں سارے جہان سے بیگانہ ہوکر ٹیچر انم کی جنت بھری دودھ کی وادیوں میں گم تھا کہ ایسے میں آیا آگی اور اس نے ٹیچر انم کو کہا کہ صداقت صاحب آپ کو یاد کر رہے صداقت صاحب ہمارے اسکول کے پرنسپل تھے اور نہایت سنجیدہ اور باوقار شخصیت کے مالک تھے سکول میں اس قسم کی کوئی حرکت یا واقعے پر وہ ٹیچر اور بچوں کو نکال دیا کرتے تھے ٹیچر انعم فورن کھڑی ہوگئی اور صداقت صاحب کے آجاتے جاتے ٹیچر نام نے یہ کہا س میں چلی گئ جاتے جاتے ٹیچر نے یہ کہا کہ جب تک میں نہ کہوں آپ نے نہیں جانا بے شک اب چھٹی سے10سے 15منٹ رہتے ہیں لیکن آپ نے مجھے مکمل ٹینسز چیک کروا کر جانے ہیں میں ابھی آتی ہوں

Share this post


Link to post

 

سکول سے چھٹی ہوگی آہستہ آہستہ کر کے سارے بچے بھی چلے گئے مگر میں اپنے ٹیچر انم کے انتظار میں کلاس میں ہی بیٹھا رہا کریم بخش باہر جب مجھے لینے آیا تو میں نے پی این سے کہا کہ آپ اس کو بھیج دیں میرا تھوڑا سکول کا کام رہتا ہے میں وہ کرکے آجاؤں گا 
انتظار سے تھک ہار کر میں آہستہ آہستہ کر کے پرنسپل صاحب کے روم کی طرف چل دیا تاکہ اگر ٹیچر نہ مل جائیں تو ان کو بتا دو کہ میں جا رہا ہوں پرنسپل صاحب نے نہیں لیاقت صاحب ریٹائر آرمی آفیسر تھے اور قد میں چھوٹے تھے مگر خوب روب دبدبا رکھتے تھے بچے ان کے آفس میں جانے سے کتراتے تھے جیسے کیسے کرکے میں ان کے آفس پہنچ گیا دروازے پر ان کا خاص اردلی عثمان ٹھہرا ہوا تھا جس نے مجھے وہاں پر روک دیا اور مجھے کہا کہ تمام ٹیچر وغیرہ تو چلے گئے ہیں میں دروازے کے بعد ٹھہراؤ اور پھر جانے کے لیے تیار ہی ہوا تھا کہہ حافظ کی بیالوجی اور عثمان دوڑتا ہوا لیاقت صاحب کے دفتر میں داخل ہونے لگا جیسے ہی دروازہ آسمان میں کھولا تو مجھے سامنے تھی ٹیچر انم نظر آئی میں فورا ایک سائیڈ پر ہو گیا پرنسپل کا صاحب کا روم ایک کشادہ کمرے پر محیط تھا اور بہت ڈیکوریٹ نظر آرہا تھا سکول میں کوئی نہ ہونے کی وجہ سے میں ساتھ ملحق کا کچن میں گھس گیا جیسے ہی میں کچن میں گیا تو وہاں پر شمار چائے کے برتن رکھے ہوئے تھے سامنے مجھے اگزاسٹ نظر آیا اور میں شیلف کے اوپر چڑھ کر اس ایگزاسٹ سے دیکھنے لگا ایگزاسٹ بلکل اس جگہ پر تھا جہاں پر ٹیچر انم بیٹھی ہوئی تھی اور مجھے کمرہ بالکل صاف واضح نظر آنے لگا صداقت صاحب اپنے کمرے میں اپنی چیر کے اوپر بیٹھے تھے جبکہ درمیان میں میز تھی اور ٹیچر انم صوفے کے اوپر بیٹھی تھی عثمان ابھی تک اسی روم میں کھڑا تھا اور روم کی چابیاں سنبھال رہا تھا تھوڑی دیر بعد عثمان بھی اس کمرے سے چلا گیا میں اندھیرے میں تھا اور میرا رنگ بھی بہت کالا تھا جس کی وجہ سے باہر سے کسی کو کچھ نہ آتا تھا عثمان کے جاتے ہیں ٹیچر انعم بےتکلفی ہوگی اور سر لیاقت سے کہنے لگی 
رہنے دیں سر میں اب بہت تھک چکی ہوں میری مانیں کسی اچھے سے حکیم کو دکھائیں اگر میرے ساتھ یاری لگائی ہے تو اپنے آپ کو یاری نبھانے کے قابل بھی بنائیں

 

آپ کے پرزے کا سائز چھوٹا تھا اس پر مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن اب آپ کی ٹائمنگ بھی آہستہ آہستہ کم ہوتی جا رہی ہے 
پرنسپل صاحب نے اپنے گنجے سر کو کھجانا شروع کر دیا اور بولے میری جان کہاں وہہہہہہہہہ ابھی بس تین دن کے بات ہے میں نے خاص دوائیں شروع کر دی ہیں اور ٹائمنگ بھی بڑھ جائے گی یہ کہتے ہوئے وہ اپنی کرسی سے اٹھے اور صوفے کی جانب بڑھے جہاں ٹیچر انم تھی
ٹیچر انم کے ساتھ بیٹھتے ہیں انہوں نے اپنا ہاتھ ٹیچر انم کی تھائی کے اوپر رکھ دیا ٹیچر انم تھوڑی سی ہچکچائیں اور دور ہوئی اور بولی بس بہت ہوگیا میں تھک گئ ہوں آپ ہاتھ لگاتے ہی چھوٹ جائیں گے اور میں پریشان رہوں گی 
یار میں رکھا ہے اور وبال رکھا ہے مہربانی کرکے میرا کوئی بندوبست کریں یا اپنا کوئی علاج کریں لیاقت ہار نئے ہاتھ ٹیچر انم کے سینے کی طرف بڑھائے اور کہا دیکھو میری جان مجھے تھوڑا سا ہاتھ تو لگانے دو یہ کہتے ہوئے انہوں نے ٹیچر انعم کے موٹے موٹے تھنوں کو پکڑ لیا اور دبانے لگے ٹیچر انم کا ہاتھ پہ ساختہ طور پر سر کی پینٹ کی زیب کے اوپر جاگرا ٹیچر انم نے ابھی دو تین دفعہ سر کے للے کو دبایا ہوگا کے سر کے منہ سے جھاگ نکلنے لگی سر کی آنکھیں الٹی ہوگئی گی اور سرنے فورا اپنی ٹانگیں بھینچ لیں اور یقینی طور پر سر اس وقت فورا ہی چھوٹ چکے تھے ادھر میرا بس سینے سے برا حال تھا اور میری حالت غیر ہونے لگی میرا لوڑا پھولے نہیں سما رہا تھا ایسے میں اچانک کچن کا دروازہ کھلا 

 

Share this post


Link to post

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...