Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
BABA JEEE

نادانی سے جوانی کا سفر

Recommended Posts

¤تعارف¤

    معزز ممبران میرا اس فورم پر باقاعدہ دوسرا دن ہے،میرا تعارف یہ ہے کہ میں ایک رائٹر ہوں مگر میرا فارمیٹ اور ہے اس کا یہاں ذکر کرنا مناسب نہیں ہے،اور شعبہ حکمت سے بھی منسلک ہوں، میں  نے  پہلی سٹوری »دل کا ملن ہے مشکل « کے نام لکھی جو کسی اور فورم پوسٹ کی گئی مگر وہاں کے خراب ماحول کے وجہ سے وہاں میں نے لکھنا چھوڑ دیا ،جو کہ میرے جیسے رائٹر کے لیئے مناسب فورم نہ ہے اور نا تھا اسی وجہ سے میں نے اس سٹوری کو اپنا پرسنل واٹس اپ گروپ تشکیل دے کر سٹوری اس میں پوسٹ کر نی شروع کردی مگر کچھ عناصر جن کی وجہ سے میں وہ فورم چھوڑا وہ ادھر بھی بھیس بدل کر آگئے ، تو ناگزیر وجوہات اور کچھ معاملات کی بنا پر اس گروپ کو پیڈ گروپ میں کنورٹ کر دیا گیااور جو ممبران پیڈ گروپ میں شامل نہیں ہوسکے انکے لیے علیحدہ سے ایک سٹوری فری گروپ میں پوسٹ کرنی شروع کر دی جو ابھی بھی چل رہی ہے،

گذشتہ روز اس فورم کی پہچان محترم ڈاکٹر صاحب سے بات ہوئی تو انہوں نے مجھے یہاں لکھنے کی دعوت دی اور یہ یقین دلایا کہ یہاں آپ کو کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہوگی ،اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے اس فورم پر اپنی دوسری سٹوری شئیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے

امید ہے ،اس فورم کی انتظامیہ ،اور ممبران میری حوصلہ افزائی کریں گے  جیسے جیسے وقت ملتا رہے گا سٹوری کی اپڈیٹ پوسٹ کرتا رہوں ،کیونکہ میری مصروفیات زیادہ ہیں 

شکریہ

فقط

حکیم بابا جی

Share this post


Link to post

اردو فن کلب کے پریمیم سیریز اور پریمیم ناولز اردو فن کلب فورم کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جو فورم کے پریمیم رائیٹرز کی محنت ہے اور صرف وقتی تفریح کے لیئے فورم پر آن لائن پڑھنے کے لیئے دستیاب ہیں ۔ ہمارا مقصد اسے صرف اسی ویب سائیٹ تک محدود رکھنا ہے۔ تاکہ یہ گناہ جاریہ نہ بنے ۔ اسے کسی بھی طرح سے کاپی یا ڈاؤن لوڈ کرنے یا کسی دوسرے دوست یا ممبر سے شیئر کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ۔ جو ممبران اسے اپنے دوستوں سے شئیر کر رہے ہیں ۔ ان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے ممبر سے بھی شئیر نہیں کر سکتے ۔ ورنہ ان کا مکمل اکاؤنٹ بین بھی ہو سکتا ہے۔ ڈیٹا شیئر کرنے والہ ممبراس بات کا عملی اقرار کرے گا کہ وہ بروز قیامت فورم انتظامیہ، سٹوری رائیٹر اور فورم ایڈمن کے تمام گناہوں کا اکلوتا وارث ہو گا ۔ اور بروز قیامت اپنی تمام نیکیاں (جو بھی اس کے نامہ اعمال میں ہوئیں ) بروز قیامت مجھے دینے کا پابند ہو گا۔ اگر کوئی ممبر اب بھی ایسا کرتا ہے اور گناہ جاریہ کا سبب بنتا ہے ۔ تو اس شرط کو ایگری کرتے ہوئے شیئر کر سکتا ہے ۔ فورم کو اس ایگری منٹ پر اجازت دینے میں کوئی اعتراض نہیں ۔ ایڈمن اردو فن کلب

            نادانی سے جوانی کا سفر 

سلسلہ نمبر 1
خرم کا تعلق وسطی پنجاب کے ایک غریب گھر سے تھا اس کی عمر بارہ سال تھی ،تب اس کا باپ اچانک بیمار ہوکر مر گیا اس وقت  اسکی بڑی بہن جس نام کا زری ہے اسکی عمر پندرہ سال تھی
وہ دونوں بہن بھائی اپنی ماں جس کا نسیم تھا  جو اس وقت تقریبا پینتس سال کی جوان عورت تھی گندمی رنگت کی تیکھے نین نقش والی اور لچکدار جسم کی مالک، اس کے ساتھ اپنے علاقے کے زمیندار چوہدری جمال کے رعایا کے طور پر ایک چھوٹے سے کچے دوکمروں کے مکان میں رہتے تھے،
نسیم چوہدری کے گھر کام کاج کرتی ہے اور اسکا شوہر بھی چوہدری کا ملازم تھا اس کے فوت ہونے پر چوہدری نے انکی کافی مدد کی سارے اخراجات خود کئے ،نسیم کے سسرال میں ایک سسر جو اب بزرگ ہوگیا تھا جو کہ بیٹے کے مرنے کے بعد اپنی شادی شدہ بیٹی کے پاس چلا گیا تھا رہنے کے لیے کبھی کبھار چکر لگا جاتا ،خرم اور زری سے مل کر چلا جاتا ،زری بھی ماں کی طرح تھی اس پر نئی جوانی آ رہی تھی اس کا جسم بھی بھر رہا تھا 
نسیم سارا دن چوہدری کے گھر کام کاج میں مصروف رہتی تھی خرم سرکاری سکول میں پانچویں کلاس میں پڑھتا تھا  ،زری کو نسیم نے پانچ تک پڑھانے کے بعد سکول سے ہٹا لیا تھا
چوہدری جمال ،علاقے کا اچھا خاصا زمیندار تھا اس کے گاؤں میں اس سے چھوٹے زمیندار تھے مگر اسکا رعب دبدبہ تھا وہ ایک سخت مزاج مگر غریبوں کا دھیان رکھنے والا شخص تھا، چوہدری کا ایک چھوٹا بھائی تھا جوکہ جوانی میں لاہور پڑھنے گیا تھا
وہاں ایک امیر اور کاروباری خاندان کی لڑکی سے عشق کر بیٹھا اور وہی کا ہوکر رہ گیا اس نے وہی شادی کر لی اور لاہور ہی شفٹ ہوگیا اسے لاہور میں رہتے ہوئے دس سال ہوگئے تھے وہ بس کبھی کبھار ملنے گاؤں آجاتا تھا 
چوہدری جمال کی بیوی دو سال پہلے فوت ہوگئی تھی چوہدری کا ایک بیٹا تھا جس کا نام چوہدری کمال تھا وہ ایک سترہ سال کا لڑکا تھا
اور چوہدری کی دو بیٹیاں تھیں بڑی کا نام نیلم چوہدری تھا جو کہ بیس سال کی تھی دوسری کا نام حنا چوہدری تھا وہ انیس سال کی تھی دونوں بہنیں اور بھائی قریبی شہر میں پڑھنے جاتے تھے روزانہ ڈرائیور گاڑی میں لے جاتا اور لاتا تھا
انکے علاوہ چوہدری جمال کی ایک بہن تھی  اسکا نام شبنم ہے اسکی شادی ہوئی تھی مگر شوہر سے بنی نہیں اور خاندانی جھگڑوں کی وجہ سے طلاق ہوگئی تھی اس کی عمر تقریبا اس وقت تیس کے قریب ہوگی وہ غصے کی بہت تیز تھی اور بھائی کے لاڈ پیار کی وجہ سے بہت بگڑی ہوئی تھی اس وقت گھر کے معاملات میں اسکی سرداری تھی بھابھی جب تک زندہ تھی تب وہ پھر بھی کنٹرول میں رہتی تھی کیونکہ وہ بھی چوہدرائن تھی لیکن اس کے مرنے کے بعد اسے پوچھنے والا کوئی نہیں تھا چوہدری جمال سارا دن ڈیرے پر حقہ پیتا اور علاقے کی پنچائت وغیرہ نپٹاتا یا پھر زمینوں پر چکر لگانے چلا جاتا وہ عموما شام کو ہی گھر واپس آتا تو گھر کے سارے معاملات اخراجات وہی دیکھتی تھی
شبنم سوائے خرم کی ماں نسیم کے ہر ملازم یا ملازمہ سے حقارت سے پیش آتی تھی بس نسیم سے نرمی سے پیش آتی تھی دو سال پہلے جب خرم کا باپ فرید زندہ تھا
ایک دن روزی ماں کے ساتھ چوہدری کی حویلی گئی  اور ایک طرف فرش پر بیٹھ  کر  گولیاں کھیلنے لگ گئی اچانک اس کی۔ناف کے نیچے درد سا محسوس ہوا وہ اٹھی اور ماں کو ڈھونڈتے ہوئے حویلی کی پچھلی طرف آگئی جدھر چھوٹی چوہدرائن شبنم کی رہائش تھی وہ کمرے کی کھڑکی کے پاس سے گزری تو اندر سے عجیب آوازیں آ رہی تھیں زری کی نظر کھڑکی کے تھوڑے سے کھلے ہوئے پٹ سے اندر گئی تو  وہ اندر کا منظر دیکھ کر اپنے درد کو بھول گئی اندر شبنم کا اوپری جسم ننگا اس کا گورا جسم بڑے بڑے ممے پتلی کمر دوہری ہوچکی تھی وہ بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی  اس کے اوپر اور کوئی نہیں زری کا باپ فرید تھا جو کہ ایک صاف رنگت کا نوجوان مرد تھا  وہ بے دردی سے شبنم کے ممے چوس رہا تھا شبنم کے لذت سے آہیں نکل رہی تھیں وہ بھی بولی بس کرو فرید میری آگ بجھا دو بڑے دنوں بعد آئے ہو کدھر رہ جاتے ہو فرید پیچھے ہٹا اس نے شبنم کی شلوار پکڑ کر ایک جھٹکے میں اتار دی وہ بس بی بی جی چوہدری صاحب کے کاموں فرصت ملے تو ادھر آؤں شبنم بولی کتنی بار کہا ہے جب اکیلے ہو اس وقت مجھے بی بی جی نہ کہاکرو بس مجھے شبنم کہا کرو فرید بولا کیا کرو جی عادت پڑ گئی ہے شبنم بولی اچھا اب باتیں نا کرو جلدی سے اندر ڈالو جب تک یہ اندر نہیں جائے گا مجھے سکون نہیں آئے گا فرید نے اپنی دھوتی کا پلو سائیڈ پر کیا اپنا اکڑا ہوا تگڑا لن شبنم کی نرم و ملائم پھدی پر سیٹ کیا ایک جھٹکا مارا شبنم کی زور دار آہ نکل گئی
اسی وقت زری کے کندھے پر کسی نے پیچھے سے  ہاتھ رکھا اس سے پہلے کہ ڈر کے مارے زری کے منہ سے چیخ نکلتی ایک ہاتھ زری کے منہ پر آگیا زری کی نکلتی ہوئی چیخ ہاتھ کے نیچے دب گئی
جاری ہے ،،،،،،،،،،،

 

سلسلہ نمبر 2
زری کے چیخ دب گئی تھی  جس نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا ہواتھا اس نے اسے کھنچ کر کھڑکی کے پاس سے ہٹا لیا اور پیچھے کی طرف لے گیا جب زری نے مڑ کر دیکھا تو  وہ اس کی ماں نسیم تھی اس نے اسے کمر پر تھپڑ مارا منحوس تو ادھر کیا کرنے آئی تھی 
زری نے روتے ہوئے جواب دیا اماں میں تجھے ڈھونڈنے آئی تھی میرے پیٹ کے نیچے درد ہو رہا ہے نسیم پوچھا کہاں درد ہو رہا ہے تو زری نے ناف سے نیچے اور پیشاب والی جگہ سے تھوڑا اوپر ہاتھ رکھ کر بتایا تو نسیم اس کو علحیدہ سائیڈ پر لے گئی اور اس کی قمیض کا دامن اوپر کرکے لاسٹک والی شلوار نیچے کر کے اس کی چھوٹی سی اندام نہانی کی طرف دیکھا تو سرخ مادہ ہلکا سا لگا ہوا تھا نسیم نے شلوار اوپر کر دی اور بیٹی کا بازو پکڑ کےاسے لیکر کر حویلی کے اگلی طرف آگئی اور بڑی چوہدرائن یعنی چوہدری جمال کی بیوی مسرت بیگم اس وقت زندہ تھی ،کے پاس آگئی اور اسے کہا کہ زری کی طبیعت خراب ہے میں اسے گھر چھوڑ کر آتی ہوں مسرت بیگم نے پوچھا کیا ہوا ہے نسیم نے بتایا کہ بی بی جی زری جوان ہوگئ ہے مسرت بیگم سمجھ گئی اس نے کہا ٹھیک ہے جاؤ گھر چھوڑ آو  ،
نسیم زری کو لیکر اپنے گھر آگئی اور اپنے کچے کمرے میں آگئی اس نے دروازہ بند کر دیا اور زری کو چارپائی پر لیٹا کر اس کی شلوار اتار دی اور اپنے ٹرنک سے دیسی ململ کا سفید کپڑا لیکر اس کی چھوٹی سی اندام نہانی پر لگا ہوا خون صاف کیا اس کی ٹانگوں پر لگا ہوا خون صاف کیا پھر اس نے ایک کپڑے کا پیس لیکر تہہ کرکے اندام نہانی کے اوپر سیٹ کرکے ٹرنک سے زری کے سائز کا انڈرویئر نکال کر پہنادیا اور اسے سمجھا دیا کہ اب کسی کے گھر نہیں جانا  ،جب یہ ختم ہوجائے پھر جانا اور اسے ساری بات سمجھا کر واپس  حویلی آگئی 
نسیم کو اس بات کا پتا تھا کہ چھوٹی چوہدرائن شبنم  اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے اس کے شوہر فرید کو استعمال کرتی ہے کیونکہ  وہ ایک گبھرو جوان تھا اور شبنم شادی کے کچھ عرصے بعد طلاق لیکر کر گھر بیٹھ گئی تھی اسکے بڑے بھائی چوہدری جمال نے کئی بار اپنی بیوی مسرت بیگم کو کہا کہ شبنم سے پوچھو اگر مانتی ہے تو اس کی خاندان میں کوئی لڑکا دیکھ کر شادی کر دیتے ہیں وہ مان بھی گئی تھی مگر خاندان والے شبنم کی عادات اور تیزی طراری سے ڈرتے تھے لہذا خاندان میں اس کے لیے دوسری مرتبہ جوڑ نا بن سکا ،شبنم چونکہ ایک چھوٹے قد و قامت کی لڑکی تھی اس کا سینہ تقریبا 34سائز کا تھا مگر اس کے چوتڑ  شادی شدہ ہونے کے بعد سےزیادہ بھاری ہوگئے تھے گورے رنگت کی لڑکی تھی جیسے مزاج کی گرم تھی ویسے 
ہی سکیس کے حوالے سے بھی گرم مزاج تھی ،
نسیم سب کچھ جاننے کے باوجود چپ رہتی تھی کیونکہ اسے پتا تھا کہ چوہدری انکی ہر ضرورت پوری کرتے ہیں اور شبنم بھی گاہے بگاہے اپنے کپڑے اسے دیتی رہتی ہے اور اس کے ساتھ خوش مزاجی سے پیش آتی ہے یہ سب کچھ فرید سے تعلقات کا کرشمہ تھا مگر وہ بہت نک چڑھی تھی اگر وہ  فرید  کے اور شبنم کے تعلقات پر اعتراض کرتی تو شبنم اسکا اس کے بچوں کا جینا دوبھر کر دیتی 
فرید اور نسیم کی شادی آپس میں پسند سے ہوئی تھی اس کے باوجود وہ صبر کرتی تھی اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا ،

حویلی کے اگلے حصے میں شبنم۔اسے ڈھونڈتی ہوئی آگئی نسیمی کدھر ہے تو نسیم نے کچن سے نکل کر کہا جی شبنم بی بی 
شبنم نے پوچھا کیا کر رہی ہے تو نسیم نے جواب دیا کہ بڑی بی بی کے لیے چائے بنا رہی ہوں شبنم نے کہا اچھا چائے بنا کر میری بات سنو نسیم چائے بنا کر دے کر وہ شبنم کے کمرے میں آگئی شبنم بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی نسیم کو اس نے موڑھے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود اٹھ کر الماری  کھول کر کھڑی ہو گئی اس میں سے ایک شاپر نکال کر نسیم کو دے دیا اس میں کچھ کپڑے ہیں زری کو سیٹ کرکے پہنا دینا وہ اور کچھ پیسے الماری سے اٹھا  کر دیئے یہ لو اپنے اور خرم کے کپڑے بنا لینا اور یہ شاپر بڑی چوہدرائن اور باقی لوگوں سے چھپا کر لیکر جانا بلکہ جب جانا ہو پچھلے دروازے سے جانا نسیم نے کہا ٹھیک ہے جی پھر وہ شاپر وہی کمرے میں چھپا کر رکھ کر باہر چلی گئی ،
خرم باہر سے حویلی کے اندر  تیز تیز آیا اور نسیم کے پاس آیا بولا اماں مجھے بھوک لگی ہے نسیم نے اسے برآمدے میں بٹھا کر کھانا دیا 
اسی وقت چوہدری کی دونوں بیٹیاں سکول سے واپس آئیں انکا بھائی چوہدری کمال نہیں آیا تھا شاید ابھی تک باہر تھا اتنی دیر میں وہ بھی بیگ اٹھائے اندر آگیا خرم اسوقت تقریبا دس سال کا تھا مگر گاؤں کی آب و ہوا اور خوراک کی وجہ سے اپنی عمر سے تقریبا دو سال زیادہ لگتا تھا ،نیلم چوہدری کی عمر اس وقت اٹھارہ سال تھی وہ بلا کی خوبصورت اور جوانی جیسے اس پر ٹوٹ کر برسی تھی دراز قد لڑکی تھی سینہ اسکا ایک بھرپور جوان لڑکی کی اٹھان میں تھا سفید یونیفارم میں اس کے تنے ہوئے چھتیس سائز کے ممے چلتے ہوئے ہلتے کمال لگتے تھے 

 

 

سلسلہ نمبر 3
چھوٹی حنا چوہدری شکل و صورت میں اپنی پھوپھی کی طرح تھی مگر قد  اس کا اپنی بہن  کی طرح تھا ممے بھی بڑے تھے  اور جسم اس کا فربہی مائل تھا مگر بے ڈھنگا نہیں تھا
دونوں اپنے کمروں میں چلی گئی تھیں اس نے کھانا ختم کر لیا نسیم نے آکر برتن اٹھا لیے اور خرم سے کہا کہ بجلی چلی گئی ہے اور کچن کی ٹینکی میں پانی نہیں ہے  مجھے نلکے سے پانی لا دے بالٹی میں پھر کھلینے جانا ،حویلی میں پچھلی طرف ایک غسل خانہ اور ایک ٹوئلٹ بنا ہوا تھا سامنے ایک نلکا لگا ہوا تھا خرم ہاتھ میں بالٹی پکڑ کر پانی بھرنے کے لیے آہستہ آہستہ جا رہا تھا پیچھے سے کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ مارا خرم نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو  نیلم چوہدری تھی اس کے ہاتھ کپڑے میں تھے وہ شاید کپڑے بدلنے یا نہانے جا رہی تھی نیلم نے پوچھا  کیسے ہو خرم ؟،،
خرم ٹھیک ہوں بی بی جی  نیلم نے پوچھاکیا کرنے جا رہے ہو خرم نے بتایا کہ پانی بھرنے جا رہا ہوں ،،،نیلم نے اچھا کہا اور غسل خانے میں چلی گئی غسل خانہ اور ٹوئلٹ دونوں اونچے بنے ہوئے تھے دو سٹپ سیڑھیوں کے بنے ہوئے تھے تیسرے سٹپ میں غسل خانے کا  فرش آجاتا ہے  نلکا پہلے کا پرانا لگا ہوا تھا جو غسل خانے سے نیچے ہوگیا تھا غسل خانے اور ٹوئلٹ کا دروازہ نیچے سے تقریبا چھ انچ اونچا تھا 
خرم نلکے پر آگیا جو بلکل غسل خانے کے سامنے تھا  نلکے پر کھڑے ہو نے والے کا رخ غسل خانے کے دروازے کی طرف ہوتا ہے 
خرم نلکے کۓ آگے بالٹی رکھ کر پانی بھرنا شروع کر دیتا ہے غسل خانے کا فرش اونچا ہونے کی وجہ سے اندر سے نیلم کے پاؤں اور ننگی پنڈلیاں صاف نظر آ رہی تھیں ،خرم  گاؤں کا لڑکا تھا جہاں بچے جلدی ہی مرد عورت کا فرق سمجھنے لگ جاتے ہیں اور لڑکے آپس میں گندی باتیں اور حرکات کرکے جلدی شعور کی منزلیں طے کر جاتے ہیں خرم کی دلچسپی اب غسل خانے کی طرف بڑھ گئی تھی ،وہ نلکا کم چلا رہا تھا اور غسل خانے کی طرف زیادہ دیکھ رہا تھا  نیلم نے پلاسٹک کی چوکی گھسیٹ کر ٹوٹنی کے آگے کی اور اس پر  بیٹھ گئی جب نیچے بیٹھی تو خرم کو نیلم کی گورے چٹی اور گول مٹول چوتڑ نظر آ گئے وہ پہلی بار کسی لڑکی کی چوتڑ یوں ننگے دیکھ رہا تھا اسے ڈر بھی لگ رہا تھا کہ کوئی دیکھ نہ لے کہ خرم کا دھیان کدھر ہے اور اسے مزہ بھی آ رہا تھا اندر نیلم نے بال کھول لیے وہ اس کے چتڑوں سے تھوڑا اوپر تک تھے اس نے جسم پر پانی ڈالنا شروع کردیا خرم کی بالٹی بھر گئی تھی مگر مزے کی وجہ سے اس کا وہاں سے ہٹنے کو دل۔نہیں کر رہا تھا اچانک نیلم نے رخ بدلا تو اس کی چیخ نکل گئی 
خرم ڈر گیا اس نے  جلدی سے بالٹی اٹھائی ،،،،،،،،
جاری ہے ،،،،،،،،،،

 

سلسلہ نمبر 4
خرم جلدی سے بالٹی اٹھا کر واپس آگیا وہ پسینے سے شرابور تھا سوچ رہا تھا کہ لگتا ہے نیلم چوہدری نے اسے تانک جھانک کرتے ہوئے دیکھ لیا ہے اس نے پانی کی بالٹی کچن کے باہر رکھی اور ماں کو  آواز لگائی کہ پانی رکھ دیا ہے اور میں باہر جا رہا ہوں ،پیچھے سے نسیم نے آواز دی کہ ایک اور بالٹی بھر کے دے جاؤ مگر وہ ان سنی کر کے باہر نکل گیا کیونکہ اسے ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں نیلم اس کی حرکت کے بارے میں کسی کو بتا نا دے تو اسے بہت مار پیٹے گی  ،سیدھا کھیتوں میں باپ کے پاس پہنچ گیا وہاں ٹیوب ویل چل رہا تھا گاؤں کے کافی سارے بچے نہا رہے تھے اور عورتیں ٹیوب ویل کے پانی کے نکاس کے لیے بنے ہوئے پول کی دیواروں پر اور نیچے والے تھڑے پر بیٹھیں کپڑے دھو رہیں تھیں خرم بھی بچوں کے ساتھ وہاں نہانے لگ گیا مگر آج اس کی نظریں بدل چکی تھیں وہ چور نظروں سے کپڑے دھوتی لڑکیوں اور عورتوں کے جسموں کو گھور رہا تھا کپڑے دھونے اور بچوں کی شرارتوں کی وجہ سے پانی کے چھنٹوں سے تقریبا سب عورتیں کے  بدن بھیگ چکے تھے  ،
سب سے زیادہ وہ عذرا ماچھن کو دیکھ رہا تھا وہ ایک جوان الہڑ مٹیار تھی اس کی شادی ہوچکی تھی وہ تقریبا چوبیس پچیس سال کی گوری رنگت کی لڑکی تھی اس کا شوہر  بالو  لوگوں کی شادی بیاہوں پر کام کاج کرکے کماتا تھا وہ بھی شوہر کا ساتھ دیتی تھی اس کے علاوہ وہ گاؤں میں تندور پر روٹیاں لگا تی تھی، جس سے گھر کا نظام چلتا تھا  اس کا شوہر اس سے عمر میں دس سال بڑا تھا ٹھگنا سا تھا بے جوڑ شادی تھی  اکثر دیہاتوں میں ایسے بے جوڑ جوڑے دیکھنے میں آتے ہیں
 تندور کے  لیے جنگلات سے لکڑیاں لانا اور تندور جلا کر دینا اس کی ذمہ داری تھی 
عذرا بہت  خوبصورت عورت تھی گوری رنگت آگ پر کام کرنے کے باوجود چکمتی ہوئی رنگت تھی اس کی ،اونچا قد ،پتلی کمر موٹے موٹے کم از کم چالیس سائز کے ممے جیسے اس کے جسم پر الگ لگے ہوئے ہوں  جب چلتی اس کے تنے ہوئے ممے ہلتے تھے گاؤں کے مردوں کی جان نکا ل دیتے تھے وہ کسی کو منہ نہیں لگاتی تھی بڑی منہ پھٹ قسم کی تھی ایک دو مردوں کی اس نے عزت افزائی کی تھی اس کے بعد مرد اسے دیکھ کر آہیں تو بھرتے تھے مگر اس کو کچھ کہنے سے ڈرتے تھے اس کے پیچھے سے باہر کو نکلے بھاری چوتڑ  مگر کسے ہوئے تھے چلتی تو اوپر نیچے کی طرف حرکت کرتے اس کے سڈول پٹ جب روٹیاں لگانے گھٹنے پیچھے موڑ کر بیٹھتی ہے تو اس وقت اسکے  پٹ اور چوتڑ مزید واضح ہوجاتے ہیں مگر اس کی کمر پتلی اور لچکیلی تھی جب اس کو پسینہ آتا تو اس کی قمیض اس کے پیٹ سے چمٹ جاتی تھی کافی نو عمر لڑکے جو ویسے تو کم چور تھے  مگر روٹیاں لگوانے ضرور آتے صرف  عذرا کے جسم کو دیکھنے اور آنکھیں سینکنے کو آتے تھے خرم کو ان باتوں کا پتا تھا اکثر وہ لڑکوں کے منہ سے اس کا ذکر سنتا تھا 
آج خرم خود اس کے جسم کو گھور رہا تھا  وہ کپڑے دھو رہی تھی اور ساتھ میں بیٹھی عورتوں سے باتیں بھی کر رہی تھی اس کا لباس بھیگ چکا تھا اس کی پتلی قمیض اس کے پیٹ سے چپکی ہوئی تھی جس سے اس کی گول ناف صاف نظر آ رہی تھی  اس کے سینے پر دوپٹہ نہیں کیونکہ بچے نہا رہے تھے ان میں سب سے بڑا اس وقت خرم تھا مگر گاؤں کی عورتوں کے لئے وہ بھی بچہ ہی تھا 
سینے پر دوپٹہ نا ہونے کی وجہ سے اس کے ممے سامنے سے نظر آ رہے تھے جو کہ کالے رنگ کے بریزیر میں قید تھے مگر اوپری سارا حصہ نظر آ رہا تھا اس نظارے سے خرم کی کنپٹیاں گرم ہو رہی تھی نیچے سے اس کی للی میں سنسناٹی پیدا ہو رہی تھی ، عذرا کپڑے دھو چکی تھی ساتھ بیٹھی ادھیڑ عمر عورت سے بولی ماسی میں نے کپڑے دھو لیے ہیں آپ کے کتنے رہتے ہیں اس ماسی کو لوگ ماسی برکت کہتے ہیں وہ بھی چوہدری صاحب کے گھر کام کرتی ہے اس کا خاوند مر چکا ہے اس کی عمر تقریبا چالیس سال کی وہ گندمی رنگت کی عورت ہے اور بڑی  چپ رہنے والی عورت ہے 
ماسی برکت بولی عذرا بس میرا بریزیر رہ گیا دھلنے والا وہ میں دھو لو چلتے ہیں خرم کے کان انکی طرف ہی تھے عذرا کہاں ماسی کپڑوں میں تو بریزیر نہیں تھا آپکے  ماسی برکت بولی  یہی جو پہنا ہوا ہے اسے اتار کر دھونا ہے  تو بھی دھو لے
عذرا ہاں ماسی دھلنے والا تو مگر گھر جا کر نلکے پر دھو لونگی اب یہاں کیسے دھوؤں اتارنا مسلہ ہے بچے نا ہوتے تو اتار لیتی 
ماسی بولی یہ کونسی بات ہے اس نے ٹیوب ویل والے کمرے کی طرف اشارہ کیا کہ وہاں جا کر اتار لے اور پھر قمیض پہن اور بریزیر دھو لے  عذرا ہاں ماسی کہتی تو ٹھیک ہے چلو ایسا ہی کرتی ہوں خرم انکی ساری باتیں سن رہا  تھااس نے انکی  طرف کمر کی ہوئی تھی مگر کان انہی کی طرف تھے 
عذرا چلو ماسی میں تو اتار کر آتی ہوں ماسی برکت بولی تو اتار کے آجا اتنے میں میری ایک چادر رہتی ہے میں وہ دھو لو عذرا کہتی ہے ٹھیک ہے ماسی وہ اٹھ کر کمرے کی طرف چل پڑی پیچھے  سے

 

 

سلسلہ نمبر 5
اس کے گیلے لباس میں اس کے چوتڑ ادھم مچا رہے تھے خرم بڑے غیر محسوس انداز میں ٹیوب ویل کے پول سے نکلا اور کمرے کے پیچھے بنے ہوئے گنے کےکھتیوں کی طرف چل پڑا اگر کوئی دیکھے تو یہی سمجھے کہ رفع حاجت کے لیے جا رہا ہے کھیت میں داخل ہو کر جلدی سے ٹیوب ویل والے کمرے کی پچھلی طرف آگیا اس طرف ایک کھڑکی تھی اس کھڑکی کے پٹوں میں ڈھیر سارے سوراخ تھے  وہ جلدی سے نیچے بیٹھ کر سوراخ میں دیکھنے لگا کہ اگر  عذرا پیچھے دیکھۓ بھی تو اسے نظر نا آئے 
اندر کا منظر دیکھ کر خرم کے چودہ طبق روشن ہوگئے عذرا کی قمیض اتری ہوئی تھی اس کا رخ بھی کھڑکی کی طرف تھا اس کے گورے چٹے بدن پر کالے رنگ کا بریزیر تھا کیا کمال نظارہ پیش کر رہا تھا اس کی گول ناف کی موری اتنی بھلی لگ رہی تھی کہ خرم کا دل کر رہا تھا کہ اس کی ناف کو جا کر چومنے لگ جائے عذرا نے ہاتھ پیچھے کرکے بریزیر اتارا اس کے تنے ہوئے گورے ممے پوری اٹھان کے ساتھ تنے ہوئے تھے ایسا لگ رہا تھا کہ ابھی تک انہیں کسی مرد نے چھوا تک نہیں مگر ایسا نہیں اس کی شادی کو تین سال ہوچکے تھے بچہ ہوا نہیں ویسے کے ویسے ٹائٹ ممے تھےاس پر ہلکے براؤن نپل تھے اور نپلوں کے گرد ہلکے چھوٹے سے بال تھے جو کہ نظر آ رہے تھے  عذرا نے بریزیر اتارنے کے بعد 
اپنے مموں کو ایک بار اچھی طرح سے مالش کے انداز میں مسل کر پھر قمیض پہن لی اب خرم کے دیکھنے کو کچھ نہیں بچہ تھا مگر وہ وہاں سے ہٹا نہیں عذرا کمرے سے باہر نکل گئی  خرم وہاں سے تھوڑی دیر بعد واپس آیا  تاکہ سب یہی سمجھیں کہ رفع حاجت سے فارغ ہو کر آیا ہے  پھر اس نے چلتے ہوئے پانی سے ہاتھ دھو ئے پھر  ٹیوب ویل کے پول میں آگیا جہاں عذرا اور ماسی برکت کپڑے دھو رہی تھیں وہی نہانے لگ گیا
اس نے عذرا کی طرف دیکھا وہ بریزر دھو رہی تھی اس کے ننگے ممے پتلی اور گیلی  قمیض سے صاف نظر آ رہے تھے اور وہ بریزر کو صابن لگا رہی تھی اس کا پورا جسم ہل تھا لیکن اس کے ممے اور  چوتڑ باقی جسم  سےزیادہ ہل رہے تھے خرم کا دل نہیں بھر رہا تھا اس نظارے سے تھوڑی دیر بعد عذرا نے اپنے دھلے ہوئے کپڑے اکٹھے کرنے شروع کیے تو خرم بھی پول سے باہر نکل آیا اور قمیض ڈھونڈ کر پہننے لگ گیا حالانکہ اور بھی لڑکیاں اور عورتیں وہاں کپڑے دھو رہی تھیں مگر وہ نکل آیا  آہستہ آہستہ سے گھر کے راستے پر چل پڑا پیچھے سے اسے عذرا نے آواز دی خرم بات سن 
وہ رک کر پیچھے دیکھنے لگ گیا اتنے میں عذرا اس کے پاس آگیا اس نے کہا کہ خرم مجھے گھر تو چھوڑ کپڑے ذیادہ ہیں مجھ سے اٹھائے نہیں جا رہے ورنہ مجھے دو چکر کرنے پڑیں گے خرم بولا کوئی بات نہیں ماسی لا کچھ سامان مجھے پکڑا دیں اس طرح عذرا نے تھوڑے کپڑے خرم کو بھی دے دیے ان میں اسکا بریزیر بھی تھا راستے میں عذرا اس باتیں کرتی ہوئی گھر پہنچ گئی اس نے کپڑے گھر لگی ہوئی الگنی پر ڈال دیے اور پھر خرم سے کپڑے پکڑ کر سب سے اوپر رکھا ہوا بریزر اٹھایا اور الگنی پرڈال دیا خرم یہ سب دیکھ رہا تھا 
خرم نے کہا اچھا ماسی میں چلتا ہوں 
عذرا بولی ٹھہر جا ٹھنڈی لسی پلاتی ہوں تجھے وہ پی کر جانا بڑی گرمی ہے خرم شاید نا رکتا مگر عذرا کا حلیہ اسے جانے سے روک رہا تھا خرم عذرا کے کچے کمرے میں چارپائی پر بیٹھ گیا تھوڑی دیر بعد عذرا ٹھنڈی لسی گلاس میں لیکر آئی اس نے دوپٹہ اتارا ہوا تھا اس کے تنے ممے اور نپل واضع نظر آ رہے تھے لسی پینے کے بعد وہ اپنے گھر آگیا وہاں اس کی بہن زری اکیلی سور ہی تھی اسکا دل نہیں لگا وہ باہر گلی کی نکڑ  پر آگیا  ساتھ والی گلی میں عذرا کا گھر اور تندور تھا دوپہر کے چار بج رہے تھے گرمی کا موسم تھا  اس وقت گاؤں کے لوگ یا درختوں کے نیچے یا پھر کمرے میں لیٹے ہوئے تھے مگر خرم جیسے بے آرام بچے یا لڑکے کہیں نا کہیں کسی نا کسی کھیل کود میں مصروف تھے گلی کی نکڑ پر لڑکے گولیوں( بنٹے)  کے ساتھ کھیل رہے تھے 
خرم انکے ساتھ کھیلنےلگ گیا اسی وقت چوہدری  کمال تیز  قدم اٹھاتا ہوا انکے پاس سے گزرا اس نے خرم پر غور نہیں کیا وہ یہی سمجھا کہ دوسرے بچے کھیل رہے ہیں مگر خرم اس کو دوپہر کے وقت  اور وہ بھی تیزی سے چلتے ہوئے گزرنے پر حیران ہوا کیونکہ یہ تو دوپہر کو باہر نکلتا نہیں تھا اسے اگر کوئی کام بھی ہو تو نوکر چاکر کرینگے یہ کدھر جا رہا ہے تپتی دوپہر میں چوہدری کمال  عذرا کے گھر والی گلی میں مڑ گیا  خرم بڑے غیر محسوس انداز میں خرم کے پیچھے چل پڑا ،چوہدری کمال اپنی دھن میں جا رہا  خرم گلی میں اس کے پیچھے نہیں گیا عذرا کا گھر گاؤں کے آخری سائیڈ پر تھا آگے کھیت شروع ہوجاتے چوہدری جمال کے، خرم بھاگ کر اپنے گھر والی گلی میں آگیا ادھر سے کھیتوں میں سے گزر کر عذرا کے گھر کی گلی کی آخری سائیڈ پر آگیا بھاگ کر آنے کی وجہ سے خرم کا سانس پھول چکا تھا خرم نے گلی کی آخری نکڑ سے عذرا کے گھر بیرونی دیوار کے ساتھ لگ کر گلی کی اندر دیکھا تو چوہدری کمال گلی میں عذرا کے گھر سے چند قدم پیچھے تھا اس پوری گلی میں تقریبا دس گیارہ کے لگ بھگ گھر تھے 

 

Share this post


Link to post

Wah baba jee great 

Mujha umeed h ap pahly se bhi zayada acha likhan gy

AP k likha na ka andaz boht acha h r umeed karta hun ase hi boht acha likhan gy

AP ki hiqmat bhi boht achi h  

AP na boht acha forum select kiya h  

AP ka apna dost talha from faisalabad 

Share this post


Link to post

Baba gee Kia AP ki story "Dil ka Milan h mushikal" kisi tarah parhi ja skti h? AP ka ihsan hoga plz

Share this post


Link to post

Baba g apki story bohat hi achi laggi umeed ha k bohat lambi aur mazedar chaly gi. Aur bohat strong b hogi bina kisi jhool k. Jaldi update dijiye گا.... 

Share this post


Link to post

بابا جی سب سے پہلے تو فورم پہ خوش آمدید، آپ کے آنے سے فورم کی رونق بھی بڑھے گی اور ڈاکٹر خان کو بھی کچھ ریلیف ملے گا- کہانی جو آپ نے شروع کی ہے اس کا آغاز بہت ہی جاندار اور فطری ہے- خرم کی نادانیاں  پڑھ کے اپنی بچپن کی نادانیاں یاد آ گئیں- دیکھتے ہیں خرم جوانی تک اور کتنی نادانیاں کرتا ہے اور گاؤں کے کتنے لوگوں کے راز کھلتے ہیں

Share this post


Link to post

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...