Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
Londa

بہترین فوجی جو کبھی نہیں ہارا

Recommended Posts

میں اس فورم پر کافی پرانا ریڈر ہوں لیکن آج تک کوئی کمنٹ نہیں کیا لیکن ڈاکٹر صاحب کی کہانیاں پڑھ کے مجھ میں بھی لکھنے کا شوق بیدار ہوا ھے 

اس لیے تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ کہانی کے دوران اگر مجھ سے کوئی غلطی کوتاہی ہو جائے تو معاف کر دیجئیے گا

Share this post


Link to post

اردو فن کلب کے پریمیم سیریز اور پریمیم ناولز اردو فن کلب فورم کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جو فورم کے پریمیم رائیٹرز کی محنت ہے اور صرف وقتی تفریح کے لیئے فورم پر آن لائن پڑھنے کے لیئے دستیاب ہیں ۔ ہمارا مقصد اسے صرف اسی ویب سائیٹ تک محدود رکھنا ہے۔ تاکہ یہ گناہ جاریہ نہ بنے ۔ اسے کسی بھی طرح سے کاپی یا ڈاؤن لوڈ کرنے یا کسی دوسرے دوست یا ممبر سے شیئر کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ۔ جو ممبران اسے اپنے دوستوں سے شئیر کر رہے ہیں ۔ ان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے ممبر سے بھی شئیر نہیں کر سکتے ۔ ورنہ ان کا مکمل اکاؤنٹ بین بھی ہو سکتا ہے۔ ڈیٹا شیئر کرنے والہ ممبراس بات کا عملی اقرار کرے گا کہ وہ بروز قیامت فورم انتظامیہ، سٹوری رائیٹر اور فورم ایڈمن کے تمام گناہوں کا اکلوتا وارث ہو گا ۔ اور بروز قیامت اپنی تمام نیکیاں (جو بھی اس کے نامہ اعمال میں ہوئیں ) بروز قیامت مجھے دینے کا پابند ہو گا۔ اگر کوئی ممبر اب بھی ایسا کرتا ہے اور گناہ جاریہ کا سبب بنتا ہے ۔ تو اس شرط کو ایگری کرتے ہوئے شیئر کر سکتا ہے ۔ فورم کو اس ایگری منٹ پر اجازت دینے میں کوئی اعتراض نہیں ۔ ایڈمن اردو فن کلب

پارٹ نمبر 1

:تعارف

یہ کہانی ایک ایسے لڑکے کی ہے جو ناقابلِ یقین طور پر ذہانت کا حامل تھا جسے پڑھنے کا بھت شوق تھا لیکن وہ جس معاشرے میں پیدا ہوا اس کا ماحول بالکل ہی اس کے برعکس تھا ۔ وہاں پڑھائی کو فضول اور وقت کا ضیاع سمجھا جاتا تھا جس کی وجہ سے بہت کم ہی لوگ اپنے بچوں کو سکول میں داخلکرواتےتھے

حمیید اب کافی بڑی عمر کا ہوگیا تھا اس کے ماں باپ کو اس ک شادی کی کافی فکر لگی رہتی تھی وہ اسے بار بار شادی کرنے کا کہتے تھے پر وہ ایک ہی ضد پر اڑا ہوا تھا کے وہ شادی کرے گا تو صرف سمینہ سے نہیں تو عمر بھر ایسے ہی گزار دے گا لیکن اس ک والدین اس بات سے قطعاً راضی نہیں تھے وہ چاہتے تھے کہ حمید اپنے خاندان میںں شادی کرے :

حمید۔۔ امی میں تین کنی واری آکھیا میں بلکیس نال شادی نہیں کرنی ھے تو ہم نا لیا میرے آگے تے میں فر کدی گھر وچ پیر نہیں رکھنا 

نسیمہ۔۔۔ پتر تو میری گل کیوں نہیں سمجھدا سیدھے وچ میرا کوئی وس نہیں او اے تیرے پیو دی مرضی ہے نالے میری گل سنے نا پتر سیدھے وچ تیرا بھی بھو فیدا اے تین پتا تا ھے جیہدی بلکیس ہے اوہ بختاور دی کلی دھی اے اودھے نال ویاہ کریسے تا تن بھو جائیداد ملسی فیر بھاویں تو اوہنوں فیصلہ دے کے اپنی اودھا کی نا اے کلموھی دا       ہاں یاد آیا سمینہ فر تو بھاویں تو سمینہ نال شادی کر لویں

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Share this post


Link to post

Administrator sahab me mafi chahta hu agli bar iska khyal rkho ga

Or mujhy doctor sahab ki koi bhi achi or lambi story Jo complete hogyi ho buy krni he rehnmai kre raqam kese bhejo or konsi story khredo

Share this post


Link to post
On 2/28/2020 at 1:46 AM, Londa said:

میں اس فورم پر کافی پرانا ریڈر ہوں لیکن آج تک کوئی کمنٹ نہیں کیا لیکن ڈاکٹر صاحب کی کہانیاں پڑھ کے مجھ میں بھی لکھنے کا شوق بیدار ہوا ھے 

اس لیے تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ کہانی کے دوران اگر مجھ سے کوئی غلطی کوتاہی ہو جائے تو معاف کر دیجئیے گا

Maafi to tab mily gi londa g jab ap kuch likho gay ysr y to story ka baysnia b complete nahe ha to .........

Plz ab 8din guzar choky aur y halat ha phir maafi kisi

Share this post


Link to post
On 2/28/2020 at 2:16 AM, Londa said:

پارٹ نمبر 1

:تعارف

یہ کہانی ایک ایسے لڑکے کی ہے جو ناقابلِ یقین طور پر ذہانت کا حامل تھا جسے پڑھنے کا بھت شوق تھا لیکن وہ جس معاشرے میں پیدا ہوا اس کا ماحول بالکل ہی اس کے برعکس تھا ۔ وہاں پڑھائی کو فضول اور وقت کا ضیاع سمجھا جاتا تھا جس کی وجہ سے بہت کم ہی لوگ اپنے بچوں کو سکول میں داخلکرواتےتھے

حمیید اب کافی بڑی عمر کا ہوگیا تھا اس کے ماں باپ کو اس ک شادی کی کافی فکر لگی رہتی تھی وہ اسے بار بار شادی کرنے کا کہتے تھے پر وہ ایک ہی ضد پر اڑا ہوا تھا کے وہ شادی کرے گا تو صرف سمینہ سے نہیں تو عمر بھر ایسے ہی گزار دے گا لیکن اس ک والدین اس بات سے قطعاً راضی نہیں تھے وہ چاہتے تھے کہ حمید اپنے خاندان میںں شادی کرے :

حمید۔۔ امی میں تین کنی واری آکھیا میں بلکیس نال شادی نہیں کرنی ھے تو ہم نا لیا میرے آگے تے میں فر کدی گھر وچ پیر نہیں رکھنا 

نسیمہ۔۔۔ پتر تو میری گل کیوں نہیں سمجھدا سیدھے وچ میرا کوئی وس نہیں او اے تیرے پیو دی مرضی ہے نالے میری گل سنے نا پتر سیدھے وچ تیرا بھی بھو فیدا اے تین پتا تا ھے جیہدی بلکیس ہے اوہ بختاور دی کلی دھی اے اودھے نال ویاہ کریسے تا تن بھو جائیداد ملسی فیر بھاویں تو اوہنوں فیصلہ دے کے اپنی اودھا کی نا اے کلموھی دا       ہاں یاد آیا سمینہ فر تو بھاویں تو سمینہ نال شادی کر لویں

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سٹوری پنجابی میں لکھنےبکا ارادہ تو نہیں ہے نا؟؟

ویسے سٹارٹ اچھا ہے

لیکن ساتھ اردو ترجمہ بھی کرتے رہیں گے۔تو مناسب رہے گا

Share this post


Link to post

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...