Jump to content
URDU FUN CLUB

Recommended Posts

میری بہن کی ایک لا پرواہی جس نے مجھے سیکس کی دنیا سے آگاہ کر دیا..

میرا نام ردا ہے اور یہ تب کی بات ہے جب میری عمر دس گیارہ سال ہو گی. میری ایک بڑی بہن ہے جس کا نام کومل ہے وہ مجھ سے پانچ چھ سال بڑی ہیں. میں ایک بہت معصوم اور بھولی بھالی طبیعت کی لڑکی تھی جس کو آس پاس کی دنیا کی کوئی خبر نہیں تھی. زیادہ دوستیاں بھی نہیں تھی اور زیادہ تر وقت گھر میں ہی پڑھائی یا ٹی وی دیکھنے میں گزرتا. مجھے پینٹنگ کرنے کا کافی شوق تھا اس لئے فارغ وقت بھی پینٹنگز میں گزار دیتی.

ہر لڑکی کو ایک عمر کے بعد سیکس کی معلومات کا آہستہ آھستہ پتا چلنا شروع ہو جاتا ہے. میری عمر بھی ابھی اتنی نہیں تھی اور معصوم طبیعت کی وجہ سے میں ابھی اس حوالے سے انجان ہی تھی. لیکن ایک رات کو کچھ ایسا ہوا جس نے نا صرف مجھے سیکس کی دنیا سے آگاہ کیا بلکہ میری معصومیت اور سوچ کو بھی بدل دیا.

دسمبر کی سرد راتیں تھیں اور میں کومل باجی کے ساتھ اپنے کمرے میں ایک ہی رضائی میں سوتی تھی. کیوں کہ مجھے اکیلے سونے میں ڈر بھی لگتا تھا اور سردی بھی.

بشریٰ باجی ہماری پھوپھو کی بیٹی ہیں جو کہ کومل باجی سے ایک دو سال بڑی ہوں گی لیکن دونوں بچپن سے ہی بہت گہری دوست تھی. پھوپھو تقریبآ تین سال کے بعد ہمارے گھر آیی تھی اس لئے دونوں اتنے عرصے کے بعد ایک دوسرے کو مل کر بہت خوش تھی. آج جب میں سونے کے لئے آئ تو بشریٰ باجی اور کومل باجی دونوں رضائی میں لیٹی باتیں کر رہی تھی.

بشریٰ باجی نے کہا یہ بھی ہمارے ساتھ سویے گی ؟ کومل باجی نے کہا ردا تم امی کے ساتھ سو جاؤ.

میں نے کہا: امی نے ہی مجھے یہاں بھیجا ہے کہ جا کر بہنوں کے ساتھ سو جاؤ.

بشریٰ باجی نے منہ بنا کر کومل باجی کی طرف دیکھا تو انہوں نے آنکھوں سے کچھ اشارہ کیا.

میں چپ کر کے کومل باجی کے ساتھ رضائی میں آ کر لیٹ گئی. ہم تینوں ایک ہی رضائی میں تھی. کومل باجی درمیان میں تھی اور میں اور بشریٰ باجی ان کے دائیں بائیں لیٹی ہوئی تھی.

وہ دونوں اپنے اپنے کالج کی باتیں کر رہی تھی. میں تھوڑی دیر سنتی رہی پھر بوریت کی وجہ سے سونے کو ہی ترجیح دی. تھوڑی دیر کے بعد میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گئی.

رات کے کسی پہر میں میری آنکھ کھلی تو کمرے میں بلکل اندھیرا تھا اور کھسر پھسر کی آواز آ رہی تھی. مجھے اندازہ ہوا کہ یہ دونوں ابھی تک جاگ رہی ہیں. لیکن اب دونوں بلکل سرگوشی میں باتیں کر رہی تھی.

میں پھر سے سونے کا سوچ ہی رہی تھی کہ میرے کان میں کچھ ایسے الفاظ ٹکراے کہ میری نیند ہی اڑ گئی.

میں بلکل ساکت لیٹی ہوئی تھی اور کمرے کی خاموشی میں دونوں کی باتیں غور سے سننے کو کوشش کرنے لگی. تھوڑی دیر کی بعد مجھے ان کی سرگوشی میں ہونے والی باتیں لفظ با لفظ صاف سنائی دینے لگی. جیسے جیسے میں باتیں سن رہی تھی میرا جسم گرم ہو رہا تھا اور شدید سردی میں بھی پسینہ آ رہا تھا. مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں ہو رہا تھا کہ ایسا سب بھی ہو سکتا ہے.

جب میری آنکھ کھلی تو ان دونوں کے درمیان یہ باتیں چل رہی تھی.

بشریٰ باجی: اس کا کتنا بڑا ہے؟

کومل باجی:  اب میں نے ناپ کر تو نہیں دیکھا لیکن بڑا ہے.

بشریٰ باجی ہنستے ہوۓ: تین بار چدوانے کے بعد بھی سائز نہیں پتا. 

کومل باجی: یار بتایا نا کہ تینوں بار بس جلدی میں کرایا اور اتنا موقع نہیں ملا کہ غور سے دیکھ سکوں 

بشریٰ باجی: پہلی بار کہاں چدوایا تھا.

کومل باجی: تینوں بار اپنے گھر کی چھت پر.

بشریٰ باجی: چھت پر کہاں؟ 

 کومل باجی: دو بار ٹنکی کے ساتھ والی جگہ پر اور تیسری بار سٹور میں چارپائی پر.

بشریٰ باجی: زیادہ مزہ کہاں آیا؟

کومل باجی: سٹور میں چارپائی پر

بشریٰ باجی: وہ کیوں؟

کومل باجی: چارپائی پر لیٹ کر سامنے سے کیا تھا اور پھر تیسری بار تھا تو ٹھیک سے گیا تھا. ٹنکی کے ساتھ پہلی دوسری بار تھا. درد بھی زیادہ ہوا اور پھر کھڑے ہو کر کیا تھا پیچھے سے.

بشریٰ باجی حیرانگی سے: کیا مطلب؟ تم نے گانڈ مروائی ہے اس سے؟

کومل باجی: نہیں نہیں.. میرا مطلب اس نے پیچھے سے ڈالا تھا.

بشریٰ باجی: پیچھے تو گانڈ میں ڈالتے ہیں.

کومل باجی: ارے نہیں، وہاں نیچے زمین گرم تھی نا تو اس لئے اس نے مجھے کھڑے کھڑے جھکا کر پیچھے والی سائیڈ سے آگے ہی ڈالا تھا

بشریٰ باجی: آگے کہاں ؟

کومل باجی: آگے کا مطلب آگے

بشریٰ باجی: کچھ نام بھی ہوتا ہے آگے کا.

کومل باجی: مجھے شرم آتی ہے.

بشریٰ باجی: واہ رے میری شرمیلی.. چدواتے ہوۓ شرم نہیں آ رہی. نام لیتے ہوے آ رہی ہے.

کومل باجی ہنستے ہوے: پھدی میں ڈالا تھا.

بشریٰ باجی بھی ہنسنے لگ گیی.

بشریٰ باجی: گانڈ نہیں مروائی؟

کومل باجی: اس کو تو بڑا شوق ہے. تیسری بار جب سٹور میں کیا تھا تو کافی کہ رہا تھا کہ پیچھے ڈالتا ہوں مزہ آے گا لیکن میں نہیں مانی. میں نے سنا تھا کہ پیچھے بہت درد ہوتا ہے اس لئے مجھے ڈر لگتا ہے. 

بشریٰ باجی: کس نے بتایا تمہیں؟ پہلے پہلے تو پھدی میں بھی درد ہوتا ہے. ایسے ہی گانڈ میں بھی ہوتا ہے لیکن گانڈ کا تو الگ ہی مزہ ہے.

کومل باجی: آپ نے پیچھے کروایا ہوا ہے ؟  

بشریٰ باجی: کافی بار. بلکہ پہلی بار تو ہمارے محلے کے ایک لڑکے نے گانڈ ماری تھی. اس نے بغیر بتایے گانڈ میں ڈال دیا. میں بلکل تیار نہیں تھی تو میں تو اچھل کر کھڑی ہو گئی. پھر میں نے اس کو گانڈ نہیں دی حالانکہ اس کا لن زیادہ بڑا اور موٹا نہیں تھا.

کومل باجی: تو پھر تم کیوں کہ رہی ہو کہ گانڈ مروانے میں مزہ آتا ہے.

بشریٰ باجی: وہ تو ایک بار میرے کالج کے لڑکے نے گانڈ ماری تو بڑا ہی مزہ آیا. حالاں کہ اس کا لن بھی بہت موٹا تھا. وہ کافی بار مجھے کہ چکا تھا لیکن میں نہیں ماں رہی تھی. پھر اس نے مجھے یقین دلایا کہ اگر مزہ نہیں آے گا تو نہیں کروں گا.

بس پھر اگلی بار میں بھی کچھ ذہنی طور پر تیار تھی اور اس نے بھی ایسے طریقے سے گانڈ ماری کہ درد تو ہوا لیکن اس میں بھی مزہ تھا.

کومل باجی: ایسا بھی کیا طریقہ تھا:

بشریٰ باجی ہنستے ہوے: زیادہ سارا تھوک اور تیل لگا کر.

بشریٰ باجی: میری چھوڑو اپنا بتاؤ کہ پہلی بار کیسے کیا تھا؟

کومل باجی: بتایا تو ہے کہ چھت پر ٹنکی کے ساتھ.

بشریٰ باجی تھوڑا غصے میں بولی: یار جیسے میں نے اپنا تفصیل سے بتایا ہے ویسے بتاؤ. ہر بات تفصیل سے بغیر کسی شرم کے.

کومل باجی: اچھا بابا بتاتی ہوں ویسے بہت ٹھرکی ہو گئی ہو تم اب.

بشریٰ باجی: بس یار دو مہینے ہو گئے ہیں لن کی شکل نہیں دیکھی اس لئے ذرا ٹھرک چڑھا ہوا ہے.

چلو اب شرافت سے سناؤ اور ٹھیک سے سنانا شرم اتار کر.

کومل باجی ہنستے ہوے: اچھا بابا تو سنو.

وہ تو میں نے تمہیں بتایا ہی تھا کہ وہ میری اکیڈمی میں پڑھتا ہے. وہیں ہماری دوستی ہوئی. کافی عرصے تک تو میں اس سے بس موبائل میسیجز پر بات کرتی تھی یا اکیڈمی میںتھوڑی بہت بات ہو جاتی تھی.

ایک دن اس کا میسج آیا کہ اپنی چھت پر آو تمھارے لئے سرپرائز ہے. گرمیوں کی دوپہر کا وقت تھا اور گرمی بھی اپنے زوروں پر تھی. جب میں چھت پر پہنچی تو اس کو ساتھ والوں کی چھت پر دیکھ کر حیران ہو گیی.

بشریٰ باجی: وہ وہاں کیسے آ گیا؟

کومل باجی: ساتھ والا گھر اس کے دوست کا ہے.  

بشریٰ باجی: اچھا پھر؟

کومل باجی: میں نے اس کو کافی روکا لیکن وہ دیوار پھلانگ کر ہماری چھت پر آ گیا. شکر ہے دوپہر کا وقت تھا تو کسی نے دیکھا نہیں. اس نے آتے ہی مجھے گلے لگا لیا اور گالوں پر کس کیا.

میں اس کے اس طرح اچانک آنے پر گھبرائی ہوئی تھی. میں نے اس کو کہا کہ کوئی دیکھ لے گا تم جاؤ یہاں سے. اس نے ادھر ادھر دیکھا اور بولا سامنے والے کمرے میں چلتے ہیں. لیکن میں نے کہا کہ وہ سٹور روم ہے اور اس کا لوہے کا دروازہ بہت آواز کرتا ہے. اگر کھولا تو نیچے امی کو پتا چل جائے گا.

پھر اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور ٹینکی کے پیچھے والی جگہ لے گیا. وہاں تو تمہیں پتا ہی ہے کہ تنگ سی جگہ ہے لیکن وہاں کہیں سے بھی ڈائریکٹ نظر نہیں آتا. اس نے مجھے دیوار کے ساتھ لگایا اور میرے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا اور بولا جان اتنا مس کر رہا تھا تمہیں اس لیے اس طرح ملنے آ گیا.

میں نے کہا مجھے ڈر لگ رہا ہے کوئی آ جائے گا. تم جو یہاں سے.  اس نے میری بات مکمل ہونے سے پہلے ہی میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے اور چومنا شروع کر دیا

مجھے ڈر لگ رہا تھا اور میں نے اس کو روکنے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں رکا.

یہ پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ ہمیں اتنا موقع ملا تھا ورنہ اکیڈمی میں تو بس چند سیکنڈ کے لئے نظروں سے بچ کر کس کر لی.

کس کرتے کرتے اس میں اپنا ایک ہاتھ میرے بوبز اور دوسرا گانڈ پر رکھ کر دبانے لگا. نیچے سے اس کا لن کبھی میرے پیٹ پر چبھ رہا تھا تو کبھی میری ٹانگوں میں گھس رہا تھا.  میں اتنی گرم ہو رہی تھی کہ اس کو روک ہی نہیں پا رہی تھی. میری آنکھیں بند تھی اور میں بس اس مومنٹ کو اینجوے کر رہی تھی.

تھوڑی دیر کے بعد مجھے اپنی ٹانگوں کے درمیان میں اس کا لن گیلا اور گرم محسوس ہوا. میں نے ہاتھ نیچے کیا تو مجھے پتا چلا کہ میری شلوار تھوڑی سی اتری ہوئی ہے اور اس نے بھی پینٹ کی زپ کھول کے لن نکال کر میری ٹانگوں کے درمیان ڈالا ہوا ہے اور آگے پیچھے کر کے پھدی پر لگا رہا ہے.

بشریٰ باجی: تمہیں پتا ہی نہیں چلا تمہاری شلوار اتارنے کا ؟

کومل باجی: نہیں میں اتنی مست ہو رہی تھی کہ مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ کب اس نے اپنا لن باہر نکالا اور کب میری شلوار نیچے کی.

بشریٰ باجی: پھر؟

کومل باجی: میں نے اس کو جلدی سے پیچھے کیا لیکن اس نے مجھے مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا اور ہونٹوں پر کس کر رہا تھا. میں تھوڑی دیر کوشش کرتی رہی پھر میں بھی اس کے لن کو اپنی ٹانگوں میں دبا کر پھدی پر رب کرنے لگ گئی. میں نے سوچا کہ کونسا اندر ڈال رہا ہے تو ایسے ہی مزے تو لوں. اس دوران اس نے دو تین بار لن پھدی میں ڈالنے کی کوشش کی لیکن ایک تو میں دیوار کا ساتھ لگ کر سیدھی کھڑی ہوئی تھو اور دوسرا میری ٹانگیںبھی زیادہ کھلی ہوئی نہیں تھی. تو بس مجھے اس کا لن اپنی پھدی پر زور سے رب ہوتا محسوس ہوتا اور پھر پھسل جاتا. گرمی بھی بہت تھی اس لئے ہم دونوں پسینے میں ڈوبے ہوے تھے.

تھوڑی دیر کے بعد اس نے میرے ہونٹوں کو چھوڑا اور گالوں سے کس کرتا کرتا میری گردن پر کس کرنا شروع کر دیا. گردن پر کس میرے لئے بلکل نیا تجربہ تھا. میں تو اور زیادہ پاگل اور مدہوش ہو گئی. گردن پر کس کرتے کرتے ہی اس نے مجھے گھمایا اور میرا منہ دیوار کی طرف کر کے میرے پیچھے سے گردن پر کس کرنے لگ گیا. اب میں دیوار کے ساتھ لگی ہوئی تھی اور وہ میرے پیچھے سے چپکا ہوا میری گردن پر بے تحاشا کس کر رہا تھا. اس کا لن جو پہلے آگے سے میری ٹانگوں میں پھدی کو لگ رہا تھا اب پیچھے سے میری ٹانگوں میں گھسا ہوا میری پھدی پر محسوس ہو رہا تھا.

پہلے اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے کر کے مجھے پکڑا ہوا تھا اور میرے بوبز دبا رہا تھا. پھر وہ اپنا ایک ہاتھ نیچے لے کر گیا. اب اس کا لن کبھی میری پھدی پر لگ رہا تھا اور کبھی میری گانڈ پر چبھ رہا تھا. اس نے ایک دو بار لن پھدی میں ڈالنے کی کوشش کی لیکن لن پھدی پر لگ کر پھسل جاتا. میں اس دوران مزے میں مدہوش کھڑی ہوئی تھی.

پھر اس نے مجھے اسی طرح پکڑے پکڑے دو قدم دیوار سے پیچھے کیا اور کندھے سے پکڑ کر آگے کو جھکا دیا. میں دیوار پر دونوں ہاتھ رکھ کر جھک گئی.

بشریٰ باجی: اس نے تمہاری شلوار اتار دی. اپنا لن ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا اور تمہیں سمجھ نہیں آی کہ وہ کیا کرنا چاہ رہا ہے. 

کومل باجی: مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا کرنا چاہ رہا ہے. مجھے پتا تھا میری شلوار اتری ہوئی ہے اور اس کا لن بھی بار بار لگ رہا تھا. لیکن میں پھر بھی اس کو روک نہیں پا رہی تھی. میری تو مدہوشی میں یہ حالت تھی کہ اس کی ہر بات آنکھیں بند کر کے مان رہی تھی.

بشریٰ باجی: اچھا پھر؟

کومل باجی: میں جیسے ہی دیوار پر ہاتھ رکھ کر جھکی تو وہ مجھ سے پیچھے ہٹ گیا اور پیچھے سے میری قمیض اٹھا کر میری کمر پر رکھی اور کمر سے دبا کر تھوڑا اور جھکا دیا. پھر پیچھے سے میری شلوار اور زیادہ نیچے کر دی. اس سے پہلے کہ میں کچھ ہوش میں آتی یا سمجھ پاتی کہ میرے پیچھے کیا چل رہا ہے. مجھے اس کا لن اپنی پھدی کو ٹٹولتا ہوا محسوس ہوا. پھر اس نے لن کو پھدی پر سیٹ کیا اور دونوں ہاتھوں سے میری کمر کو مضبوطی سے پکڑ لیا. کمر کو پکڑتے ساتھ ہی اس نے پیچھے سے لن کو دھکا لگایا اور اس کا لن میری پھدی میں گھس گیا.

میں جو ابھی تک مزے میں مدہوش ڈوبی ہوئی تھی اس دردناک حملے کو برداشت نہیں کر سکی اور ہلکی سے چیخ مار کر کھڑی ہوگئی. اس نے مجھے کمر سے پکڑے رکھا اور دھکیلتے ہوے دیوار کا ساتھ لگا لیا لیکن لن کو پھدی سے نہیں نکلنے دیا.

میں درد سے چلائی: نومی... یہ کیا کر رہے ہو..  باہر نکالو اسے بہت درد ہو رہی ہے

اس نے مجھے اسی طرح مضبوطی سے پکڑے ہوے کہا: بس جان ہو گیا ہے .. بس بس .. تھوڑی سا اور کرنے دو .. تھوڑا جھکو یار.

میں نے کہا: میری جان نکل رہی ہے.... پلیز چھوڑو مجھے..

پھر اس نے مجھے زبردستی جھکا کر تین چار بار پھدی میں لن آگے پیچھے کیا اور لن نکال کر پیچھے ہٹ گیا.

مجھے بہت درد ہو رہا تھا تو میں وہیں اپنا پیٹ پکڑ کر زمین پر بیٹھ کر رونے لگ گئی. میں نے اسے دیکھا تو دوسری طرف منہ کر کے لن ہاتھ میں پکڑ کر ہلا رہا تھا.

    میں ہمت کر کے اٹھی اپنی شلوار اوپر کی اور کپڑے ٹھیک کر کے مڑی تو وہ اپنی پینٹ کی زپ بند کر رہا تھا. میں بس اس کو یہ کہ کر سیڑھیوں کی طرف آ گئی کہ تم جاؤ یہاں سے جلدی.

میں پسینے سے شرابور ہو چکی تھی اور عجیب سے بدبو بھی آ رہی تھی. میں نیچے آتے ہی سب سے پہلے غسل خانے میں گھسی اور بیٹھ کر رونے لگ گئی. مجھے ایک تو اس پر غصہ تھا اور دوسرا درد کی وجہ سے بھی رونا آ رہا تھا. پھر میں آ کر سو گئی اور شام کو ہی اٹھی

 

جاری ہے ...

Share this post


Link to post
Share on other sites

اردو فن کلب کے پریمیم ممبرز کے لیئے ایک لاجواب تصاویری کہانی ۔۔۔۔۔ایک ہینڈسم اور خوبصورت لڑکے کی کہانی۔۔۔۔۔جو کالج کی ہر حسین لڑکی سے اپنی  ہوس  کے لیئے دوستی کرنے میں ماہر تھا  ۔۔۔۔۔کالج گرلز  چاہ کر بھی اس سےنہیں بچ پاتی تھیں۔۔۔۔۔اپنی ہوس کے بعد وہ ان لڑکیوں کی سیکس سٹوری لکھتا اور کالج میں ٖفخریہ پھیلا دیتا ۔۔۔۔کیوں ؟  ۔۔۔۔۔اسی عادت کی وجہ سے سب اس سے دور بھاگتی تھیں۔۔۔۔۔ سینکڑوں صفحات پر مشتمل ڈاکٹر فیصل خان کی اب تک لکھی گئی تمام تصاویری کہانیوں میں سب سے طویل کہانی ۔۔۔۔۔کامران اور ہیڈ مسٹریس۔۔۔اردو فن کلب کے پریمیم کلب میں شامل کر دی گئی ہے۔

میں نے یہ کہانی ایک ہفتہ پہلے پوسٹ کی تھی لیکن ابھی تک شائع نہیں ہوئی.. کوئی خاص وجہ ؟؟

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 3/17/2020 at 2:40 PM, HIdden Lover said:

میں نے یہ کہانی ایک ہفتہ پہلے پوسٹ کی تھی لیکن ابھی تک شائع نہیں ہوئی.. کوئی خاص وجہ ؟؟

وجہ یہی کہ یہ آگے جا کر انسسٹ نہ ہو. یہاں انسسٹ کی اجازت نہیں ہے 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Jo b new story start hoti bohat achy se hoti aur khob achi hoti ha. Lekan phir koi comments ni milty esliye chor dyta koi kehta mery pass time ni ha. Bhai logg story start ni kia karo agar karlo tau phir ussy bina kisi satayash k update karty raha karo. 

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 3/20/2020 at 8:48 AM, Administrator said:

وجہ یہی کہ یہ آگے جا کر انسسٹ نہ ہو. یہاں انسسٹ کی اجازت نہیں ہے 

میں خود انسیسٹ کا بہت مخالف ہوں.. اس میں انسیسٹ کا کوئی پہلو نہیں آے گا..  

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

 

کومل باجی: اس وقت تو غصہ ہی بہت تھا اس پر اور درد بھی تھی اس لئے اور کچھ نہیں سوچ رہی تھی.   

 

بشریٰ باجی: لو اس بیچارے پر کس بات کا غصہ تھا تم نے خود اپنی مرضی سے سب کروایا تھا.

 

کومل باجی: میں تو بس اس کو چھت پر روکنے گئی تھی کہ واپس چلا جائے ایسے ملنا ٹھیک نہیں ہے. میرے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ سب ہو جائے گا.

 

بشریٰ باجی: اس کا بعد اس کی کوئی کال یا میسج نہیں آیا؟

 

کومل باجی: جب میں سو کر اٹھی تو دیکھا اس کی کافی مس کال اور میسج آے ہوۓ تھے. اور سب میں اس نے معافی مانگی ہوئی تھی کہ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن پتا نہیں یہ سب کیسے ہو گیا.

 

بشریٰ باجی: ایسے ہی ارادہ نہیں تھا. مجھے تو لگتا ہے کہ وہ پورا پلان کر کے آیا تھا.

 

کومل باجی: ہاں مجھے بھی یہی لگ رہا تھا اس لئے میں نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا. اس کے بار بار میسج آ رہے تھے لیکن میں کوئی جواب نہیں دے رہی تھی. رات کو سوتے وقت میں نے اس سب کے بارے میں سوچا تو مجھے عجیب سا مزہ آنے لگ گیا. ایسے لگا جیسے اس وقت ہونے والے سارے واقع کو سوچ کر نیچے میری پھدی گیلی ہو رہی ہے. لیکن پھر بھی میں نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا.

 

اگلے دو تین دن تک وہ مسلسل میسج کرتا رہا اور کال بھی لیکن میں نے کوئی جواب نہیں دیا.

 

پھر تین دن کے بعد دوپہر کے وقت ہی اس کا میسج آیا کہ میں تمھارے گھر کی چھت پر ہوں اور جب تک تم نہیں آؤ گی میں واپس نہیں جاؤں گا.

 

میں گھبرا گئی. میں نے اسے میسج کیا کہ میں نے تم سے کوئی بات نہیں کرنی تم واپس چلے جاؤ. لیکن اس کا میسج آیا کہ ایک بار پلیز اوپر آ کر مجھے معاف کر دو تو میں واپس چلا جاؤں گا.

 

میں نے چیک کیا تو امی اور ردا سو رہی تھی. میں چپکے سے چھت پر آ گیی. وہ ساتھ والوں کی چھت پر تھا. میرے روکنے کا باوجود وہ دیوار پھلانگ کر ہماری چھت پر آ گیا. وہ مجھے دوبارہ وہی ٹنکی کے ساتھ والی جگہ پر لے گیا کیوں کہ اس طرح چھت پر کھڑے ہوۓ کوئی بھی دیکھ سکتا تھا.

 

بشریٰ باجی: تم دوبارہ کیوں چلی گیی جب تمہیں اس سے بات ہی نہیں کرنی تھی تو.

کومل باجی: میں تو اس کو روکنے گئی تھی کہ ایسے چھت سے چلا جائے کسی نے دیکھ لیا تو اچھا نہیں ہو گا.  

 

بشریٰ باجی: اچھا پھر؟

 

وہاں پہنچ کر اس نے مجھے گلے لگا لیا اور مجھ سے معافیاں مانگنے لگا کہ آی ام سوری مجھے پتا نہیں چلا کہ سب کیسے ہو گیا.. میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا.. تم اتنی پیاری لگ رہی تھی کہ میں خود کو بھی نہیں روک سکا.

 

میں نے خود کو چھڑایا اور کہا: چھوڑو مجھے اور یہاں سے دفع ہو جاؤ. مجھے سب پتا ہے تم اس دن سب سوچ کر آے تھے.

وہ بولا جان تمہاری قسم میں صرف تمہیں دیکھنے کے ارادے سے آیا تھا لیکن جب چھت پر تمہیں دیکھا تو خود کو روک نہیں پایا. چمکتی دھوپ میں تم اور بھی خوبصورت لگ رہی تھی.     

 

اس نے پھر مجھے گلے لگا لیا اور روتے ہوے کہنے لگا آی ام سوری پلیز مجھے معاف کر دو. بس اس وقت تمھارے حسن نے مجھے پاگل کر دیا تھا اور مجھے کچھ پتا نہیں چلا اور سب کچھ خود ہی ہوتا چلا گیا.

 

بشریٰ باجی: لڑکی کے حسن کی تعریف تو لڑکوں کا سب سے بڑا ہتھیار ہے.  

 

 کومل باجی: مجھے بھی اس کا ایسے گلے لگانا اچھا لگ رہا تھا لیکن میں خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی اور اس کو کہ رہی تھی کہ مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی.. لیکن وہ مسلسل مجھے گلے لگاے ہوے کبھی مجھے آئ لو یو اور کبھی مجھے آئ ام سوری بول رہا تھا اور مجھے کہ رہا تھا کہ میں تمہیں کبھی چھوڑ کر نہیں جاؤں گا. پلیز مجھے معاف کر دو. آیندہ تمہاری مرضی کے بنا تمہیں ٹچ بھی نہیں کروں گا.. پلیز پلیز پلیز ....

 

اس کی کافی منت سماجت کے بعد آخر میں نے کہا اچھا مجھے چھوڑو تو سہی میں نے تمہیں معاف کیا..

 

اس نے مجھے چھوڑا اور تھینک یو بول کر میرے ہونٹوں پر کس کرنا شروع کر دی. میں نے اس کو روکنا چاہا لیکن وہ نہیں رکا. میں بھی آہستہ آہستہ گرم ہو رہی تھی تو اس کا ساتھ دینے لگی.

 

تھوڑی دیر کے بعد مجھے اس کا ہاتھ اپنے بوبز پر اور لن ٹانگوں میں محسوس ہوا جو مجھے اور زیادہ گرم کر رہا تھا. پھر اس نے مجھے گھمایا اور دیوار کے ساتھ لگا کر پیچھے سے گردن پر کس کرنا شروع کر دیا. میں آنکھیں بند کئے دیوار کے ساتھ لگی گردن پر اس کے ہونٹوں اور سانسوں کی گرمی اور نیچے گانڈ پر اس کے لن کی چبھن اینجوے کر رہی تھی.

 

 

شائد مجھ سے زیادہ اس کو اس بات کا پتا چل گیا تھا کہ یہ میری کمزوری ہے اور اس طرح سے میں اتنی گرم ہو جاتی ہوں کہ کوئی بھی بات ماننے کو تیار ہو جاتی ہوں. وہ گردن پر کس کرتے کرتے میرے گالوں اور کان پر کس کرنے لگا.. کان پر کس کرتے ہوۓ بولا: جان نیچے سے شلوار اتار کر لگا لوں. اوپر اوپر ہی کروں گا.

 

میں آنکھیں بند کئے ہوے ایسی گرم ہو رہی تھی کہ اس کو کسی بات سے نہیں روک پا رہی تھی. میں نے بس یہ کہا: ہمم..

بشریٰ باجی: لو جی یہ تم اس کو روکنے گئی تھی یا پھر سے چدنے؟

 

کومل باجی: میں گئی تو اس کو روکنے ہی تھی لیکن پھر حالات ایسے ہو گئے کہ میں کمزور ہوتی گیی. لیکن اس دن شائد کہیں میری چھٹی مجھے کہ رہی تھی کہ آج بھی یہ کچھ کیے بغیر نہیں جائے گا.  

 

اس نے مجھے کس کرنا ایک سیکنڈ کے لئے بھی نہیں روکا بس اپنا ایک ہاتھ میرے بوبز سے ہٹا کر نیچے لے کر گیا. مجھے تب پتا چل کہ میری شلوار اتر چکی ہے جب مجھے گرم لن اپنی ننگی ٹانگوں کے درمیان میں محسوس ہوا.. مزے سے میرے منہ سے سسکاری نکلی. وہ بھی بڑے پیار سے لن کو میری ٹانگوں کے درمیان پھنسا کر میری پھدی پر رگڑ رہا تھا. میری پھدی پہلے ہی گیلی ہو رہی تھی اور گرمی اور پسینے کی وجہ سے ٹانگوں میں اور بھی چکناہٹ پیدا ہو گئی تھی. ایسے میں وہ اپنا لن میری ٹانگوں میں سے نکالتا اور پھر جب آہستہ سے ٹانگوں میں سے گھسا دیتا تو لن میری پھدی کو رگڑتا ہوا ٹانگوں میں گھس جاتا.

 

اسی طرح ایک دو منٹ کرنے کے بعد اس نے پھر میرے کان پر کس کرتے ہوۓ کہا: جان اندر ڈالوں ؟؟ آرام سے کروں گا...

 

مجھے پچھلی دفع والا درد یاد تھا لیکن اس وقت میں جتنی گرم ہو چکی تھی میں کچھ بھی برداشت کرنے کو تیار تھی..اور اگر وہ خود کچھ دیر نہ کہتا تو شائد میں خود ہی اس کو اندر ڈالنے کا کہ دیتی. میں نے سسکاری لیتے ہوے بس اتنا ہی کہا: سی...ہمم...ڈال لو..                                   

 

اس نے مجھے تین چار قدم پیچھے کیا اور میری کمر کو پکڑ کر آگے جھکا دیا. میں دونوں ہاتھ دیوار پر رکھ کر جھک گئی. وہ میرے پیچھے کھڑا ہوا تھا. پھر اس نے میری گانڈ کھولی اور پہلے گانڈ اور پھر پھدی کو انگلی لگا کر چیک کیا. پھر مجھے تھوکنے کی آواز آیی جیسے اس نے کسی چیز پر تھوک پھینکا ہو. مجھے پتا تھا کہ تھوڑی دیر میں لن میری پھدی میں جانے والا ہے اور پچھلی بار  درد بھی مجھے یاد تھا لیکن اس وقت میں سب برداشت کرنے کو تیار تھی.

 

اس نے اپنا لن میری گانڈ اور پھدی پر تین چار بار پھیرا اور پھر پھدی پر رکھ کر جھٹکا دیا تو اس کا لن پھسل کر میری ٹانگوں میں چلا گیا. اس نے میرا ایک ہاتھ پکڑ پیچھے کر میری گانڈ پر رکھا اور بولا اسے تھوڑا کھولو. میں نے ایک ہاتھ سے اپنی گانڈ کھولی اور اس نے ایک ہاتھ سے دوسری سائیڈ سے  میری گانڈ کھولی. پھر اپنے دوسرے ہاتھ میں لن پکڑ کر میری پھدی پر سیٹ کر کے ہلکا سا دھکا لگایا تو لن میری پھدی پر اتر گیا.. میں درد کی وجہ سے دبی سی آواز میں چیخی اور ایک قدم آگے ہوی لیکن اس نے مجھے مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا اور ساتھ ہی ایک اور دھکا لگایا اور پورا لن میرے اندر اتار دیا. میری ایک اور ہلکی سی چیخ نکلی اور میں کھڑی ہو گیی لیکن وہ لن اندر ڈال کر مجھے مضبوطی سے پکڑ کر کھڑا رہا.

 

میں نے کہا: نومی درد ہو رہا ہے پلیز آرام سے کرو

 

تو اس نے کہا: جان آرام سے ہی کر رہا ہوں بس تھوڑا سا درد برداشت کر لو. اور پھر مجھے جھکا دیا.

جب میں جھک گیی تو اس نے تھوڑا سا لن نکالا اور پھر اندر ڈال دیا.. وہ اسی طرح لن کو آرام آرام سے آگے پیچھے کرنے لگ گیا.

جب لن اندر جاتا تو مجھے تھوڑا درد ہوتا اور میری سسکاری نکل جاتا. درد تو ہو رہا تھا لیکن اس میں بھی اتنا مزہ آ رہا تھا کہ میں نے اس کو ایک بار بھی نکالنے کا نہیں کہا.

 

ایک دو منٹ کے بعد اچانک سے اس کی سپیڈ تھوڑی تیز ہو گئی اور پانچ چھ جھٹکے لگا کر اس نے لن نکال لیا اور پیچھے ہٹ گیا.

میں نے کھڑی ہو کر شلوار اوپر کی اور کپڑے ٹھیک کر کے مڑی تو وہ اپنا لن ہاتھ میں پکڑ کر دبا رہا تھا

 

بشریٰ باجی: تب تم نے لن نہیں دیکھا ؟

 

کومل باجی: میری طرف اس کی بیک تھی اس لئے مجھے ٹھیک سے نظر نہیں آیا.

 

میں نے اس کو کہا: اب جلدی سے چلے جاؤ. کافی دیر ہو گئی ہے. اس نے اپنا ٹراؤزر اوپر کیا اور مجھے آئ لو یو بول کر چلا گیا.

میں بھی دبے قدموں نیچے آئ اور غسل خانے میں گھس گئی.

 

پسینے کے ساتھ ساتھ میری شلوار سے عجیب سی بو آ رہی تھی. نیچے درد بھی ہو رہا تھا لیکن آج مجھے رونا نہیں آ رہا تھا.. تھوڑی دیر بیٹھی کچھ دیر پہلے ہونے والے واقع پر سوچتی رہی اور پھر نہا کر سو گئی..  

 

بشریٰ باجی: تو دوسری بار کیسا لگا؟

کومل باجی: دوسری بار پہلے سے زیادہ مزہ آیا. درد تو ہوا لیکن اس نے بڑے آرام سے اور پیار سے کیا تو شائد اس لئے زیادہ اچھا لگا.

 

بشریٰ باجی: اچھا اس کے بعد اس سے فون اور میسیجز پر کیا باتیں ہوئی؟

 

کومل باجی نے موبائل آن کر کے ٹائم دیکھا اور بولی صبح کے پانچ بج رہے ہیں. کچھ باتیں کل کے لئے بھی چھوڑ دیں.. ابھی نیند بھی بہت آ رہی ہے اور صبح امی نے پھر جلدی جگا دینا ہے.

 

بشریٰ باجی ہنستے ہوے بولی: تمہاری چدائی کی داستانیں سن کر سونے کو بلکل دل نہیں کر رہا.

 

کومل باجی: مزید چٹ پٹی داستانیں کل رات کو.. ابھی شاباش سو جاؤ.

 

اس کا تھوڑی دیر کے بعد کمرے میں بالکل خاموشی ہو گیی اور شائد دونوں سو گیی لیکن میری آنکھوں سے تو جیسے نیند ہی اڑ گئی تھی. میرا جسم پسینے سے بھیگ چکا تھا اور مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے بہت تیز بخار ہو نیچے ٹانگوں کر درمیان عجیب سا گیلا پن محسوس ہو رہا تھا. بار بار مجھے بشریٰ باجی اور کومل باجی کی باتیں اور اس میں استعمال ہونے والے الفاظ یاد آ ..رہے تھے. جسم کے ان حصوں کا جن کے بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں تھا، اس کا ایسے کھلم کھلا اور ایسے ناموں سے تذکرہ سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے

 

جاری ہے...

Share this post


Link to post
Share on other sites

Bohat umda ja rahi ha story kya bat ha janab آپکی. Tagra sa sex scene daly esme.... Jisy پڑھ k sawad hi a jaye aur update ka wait rahy ga... Salamti ki dhero duayein 

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 3/22/2020 at 1:21 AM, Saqlan said:

Jo b new story start hoti bohat achy se hoti aur khob achi hoti ha. Lekan phir koi comments ni milty esliye chor dyta koi kehta mery pass time ni ha. Bhai logg story start ni kia karo agar karlo tau phir ussy bina kisi satayash k update karty raha karo. 

آپکی بات ٹھیک ہے لیکن ہر رایٹر کو تھوڑی پذیرائی چاہیے ہوتی ہے.. 
یہ ایک فری فورم ہے جہاں پر ہر رایٹر بغیر کسی معاوضے کے صرف ریڈرز کا فیڈبیک لینے کے لئے لکھتا ہے.. چھوٹی کہانیاں لکھنا زیادہ مشکل نہیں ہوتا کیوں کہ رایٹر ایک یا دو پارٹ میں کہانی لکھ دیتا ہے.. لیکن لمبی کہانیاں لکھنے کے لئے وقت کے ساتھ ساتھ ریڈرز کا انٹرسٹ بھی بہت ضروری ہوتا ہے.. ریڈرز کے انٹرسٹ کا ان کے کمنٹس یا لایکس سے پتا چلتا ہے اور اگر کسی کہانی پر کمنٹس کم ہوں تو پھر رایٹر مزید لکھنے سے پہلے سوچتا ہے کہ شائد کسی کو اس میں انٹرسٹ نہیں ہے اس لئے اس پر مزید وقت دینا مناسب نہیں..         

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×
×
  • Create New...