Jump to content
URDU FUN CLUB
rameez

کنٹین والی لڑکی

Recommended Posts

کنٹین والی لڑکی

دوستو یہ اس فورم پر میری پہلی کہانی ہے بلکہ زندگی کی پہلی کہانی ہے ۔ میں اس کہانی کا راوی اس کہانی کے مرکزی کردار سے میری ملاقات کچھ عرصہ قبل ہوی مجھے اس کی زندگی کے واقعات اتنے دلچپسپ لگے کے میں نے انہیں آپ لوگوں کے لیے تحریری شکل دینے کا فیصلہ کیا ۔ اس لیے اگر اس کہانی میں کوی تکنیکی خامی اور کوتاہی ہو تو اس کے لیے معذرت خواہ ہوں ۔ اب کہانی کو اس کے مرکزی کردار  کی زبانی شروع کرتے ہیں ۔

میرا نام صندل ہے اور میری عمر اس وقت چون برس ہے ۔میری کہانی کا آغاز آج سے  تقریبا چالیس برس پہلے ہوا۔ میرے والد اسلام آباد کے ایک سرکاری گرلز اسکول میں مالی تھے ہم پانچ بہن بھاءی تھے تین بہنیں اور دو بھاءی۔ اسلام آباد کے ہر اسکول میں پہلے وسیع قطعہ اراضی بھی ہوتا تھا اور کھلی جگہ ہوتی تھی ۔ اسکول میں پہلے سے دو کوارٹر تھے جن میں ایک چوکیدار چاچا کے پاس تھا اور دوسرا ڈرایور کے پاس تھا۔ ابو نے پرنسپل میڈم سے بات کی تو انہوں نے ترس کھا کر ابو کو کہا کہ تم اسکول کی دیوار کے ساتھ جنگل کی طرف دو کمرے بنالو،ابو نے وہاں جگہ بنالی اور اپنی فیملی یعنی امی اور ہم سب کو بنوں کے ایک گاوں سے اسلام آباد لے آے ۔ پرنسپل بھی پٹھان تھیں اور ابو بھی پٹھان  اس لیے وہ ہمارا بہت خیال کرتی تھیں ۔ جب امی یہاں آییں تو میں اس وقت دس سال کی تھی اور بہن بھاءیوں میں سب سے بڑی تھی ۔ ابو نے مجھے اسی اسکول میں داخل کرادیا ۔ جب میں نے آٹھویں جماعت پاس کی تو میری عمر چودہ برس تھی اسی سال میرے والد کا انتقال ہوگیا ۔ اور ہماری زندگی میں ایک بھونچال آگیا ۔ میری امی بالکل ان پڑھ تھیں انکا کوی بھاءی بہن نہیں تھا ابو کے بھاءی بھی انکے خلاف تھے تو ہمارے گاوں جانے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہو تا تھا ۔ اس موقع پر پرنسپل میڈم سعدیہ خٹک نے میری امی کو  کہا کہ تم لوگ اس کمرے میں رہو اور تم میرے گھر میں کام کرلیا کرو تمہیں مہینے کے پیسے اور راشن دے دیا کروں گی ۔ امی تیار ہو گیءی ۔ابو کی وفتا چونکہ سروس کے دوران ہوی تھی اس لیے ہمیں پچیس ہزار روپے ملے جو اس وقت بہت مناسب رقم تھی امی نے میڈم سعدیہ کے کہنے وہ رقم بنک میں جمع کرادی۔ میرا اب پڑھای میں بالکل دل نہیں لگتا تھا ۔ پرنسپل میڈم نے مجھے اسکول کی کنٹین میں کام دلوادیا۔ امی کو بھی تسلی تھی کہ اسکول کے اندر ہر کام ہے اور اسکول بھی لڑکیوں کا ہے ، میری تنخواہ اس وقت تین سو روپے تھی ۔حیران نہ ہوں انیس سو اسی میں تین سو ایک بڑی رقم تھی جب آٹا ۲روپے کلو تھا ۔ کنٹین کو ایک پینتیس سالہ بیوہ رقیہ باجی چلاتی تھیں ،میں صبح چھ بجے کنٹین پہنچتی ، کنٹین کی صفاءی کرتی تمام برتن ترتیب سے لگاتی اور تلنے والے تمام آیٹم جیسے سموسے اور پکوڑے وغیرہ بھی رقیہ باجی کو دیتی اور ٹیچرز کو اسٹاف روم میں چاے بھی دے کر آتی ۔ مجھے تین ماہ گزر گیے تھے اور رقیہ باجی میرے کام سے بہت خوش تھیں امی بھی خوش تھیں کا میرے لاے ہوے اور میڈم سعدیہ کی طرف سے امی کو ملنے والی تنخواہ سے ہمارا گزارا ہو رہا تھا اور کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کو نوبت نہیں آتی تھی ۔ رقیہ باجی کا تعلق جھنگ سے تھا اور وہ بہت اچھی عادت کی تھیں انکے میاں کا پانچ سال پہلے انتقال ہوچکا تھا ، اگر آپ نے بھارتی اداکارہ نندتا داس دیکیھی ہوءی ہے تو بس سمجھ لیں کہ رقیہ باجی بالکل اس کی کاپی تھیں سانولی اور بہت نمکین ۔ جبکہ میڈم سعدیہ ایک مکمل پٹھانی تھیں سبز آنکھیں گورا رنگ اور بھرا ہوا جسم ۔ میری امی امینہ کا رنگ بھی گورا تھا اور آنکھیں بھوری اور جسم پانچ بچوں کے بعد بھی بے ڈول نہیں ہو ا تھا تاہم بھرا بھرا تھا ۔ میری عمر اس وقت پندرہ برس تھی جب یہ سب کچھ شروع ہوا میرا جسم دبلا تھا، آنکھیں براون تھیں اور بال بھی براون ۔ میرے ممے اسکوایش کی گیند سے ذرا بڑے تھے، میری رنگت بہت گوری تھی جیسی پٹھان لڑکیو ں کی ہوتی ہے ۔ ایک دن مجھے پرنسپل میڈم نے کہا کہ میرے کمرے میں آکر مجھ سے ملو ۔ جمب میں انکے کمرے میں گءی تو انہوں نے کہا کہ صندل تمہاری امی کی خواہش ہے کہ تم پڑھ لکھ کر استانی بنو یہی تمہارے باپ کی بھی خواہش تھی اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ ہے تم کنٹین سے فارغ ہو کر چھٹی کے بعد نویں کلاس کی لڑکیوں کے ساتھ لایبریری میں ہونے والی دو گھنٹے کی ایکسٹرا کلاس میں جایا کرو گی میں تمہارا میٹرک کا پرایوٹ داخلہ بھیج دونگی ۔ پھر بڑی رازداری سے کہنے لگی تم اور تمہاری ماں میرے گھر کے فرد میں تم لوگوں پر مکمل اعتماد کرتی ہوں اس لیے اگر تم اسکول میں کوءی بھی غلط حرکت یا کام دیکھو یا کسی کو میرے خلاف سازش  کرتے دیکھو تو مجھے آکر بتاو اسی طرح کی کافی دیر باتیں کرتی رہیں اور پھر مجھے زبردستی ۱۰روپے بھی دیے۔ میں واپس کنٹین آی تاکہ رقیہ باجی کو بتادوں کہ میں چھٹی کے فوری بعد چلی جایا کرونگی تو میں نے دیکھا کہ کنٹین کا دروازہ بند تھا جو ایک خلاف معمول بات تھی چھٹی کے بعد بھی رقیہ باجی کو درواہ بند کرنے اور تمام کام سمیٹنے میں آدھا گھنٹا لگتا تھا ، میں دروازے کے قریب گءی تو مجھے رقیہ باجی کے باتیں کرنے کی آواز آءی ، میں تجسس میں مبتلا ہوگءی کہ یہ رقیہ باجی اس وقت کس سے بات کر رہی ہیں ، میں دروازے کے بالکل ساتھ لگ کر کھڑی ہوگی لیکن کچھ سناءی نہیں دیا ۔ پھر میں کنٹین کی بیک ساییڈ پر گءی اور وہاں ایک بڑی کھڑکی اس اندر جھانکا اور اندر کا منظر دیکھنے کے بعد میری جان نکل گءی ۔ اندر رقیہ باجی دسویں جماعت کی طالبہ عایزہ کے ساتھ کسنگ کرہی تھی ، عایزہ کا تعلق کشمیر سے  تھا اور بڑی گوری چٹی لڑکی تھی عایزہ ایک بہت خوبصورت لڑکی تھی مگر اس کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا ابھی کچھ دن پہلے رقیہ باجی نے اس تاکید تھی کہ اگر اس نے پانے ادھار پیسے نہ ادا کیے تو وہ پرنسپل میڈم کو اس کی شکایت لگادیں گی  اب وہ ہی عایزہ رقیہ باجی کے ساتھ کنٹین میں اکیلی موجود تھی ۔ رقیہ باجی عایزہ کو چوم رہی تھیں اور انکا ایک ہاتھ عایزہ کی کمر کو سہلا رہا تھا ۔عایزہ نے اس وقت اسکول یونیفارم پہنا ہوا تھا ۔ مجھے یہ سب بہت عجیب لگ رہا تھا ۔ رقیہ باجی نے اب عایزہ کی آنکھوں کو چومنا شروع کردیا اور ہاتھ اس کی قمیض کے اندر ڈال دیا ، رقیہ باجی نے پھر عایزہ کو کہا کہ بے بی قمیض اتار دو عایزہ یہ سن کر ایک دم چونک گءی اور ہلکلاتے ہوے کہنے لگی ، باجی آپ نے تو کہا کہ صرف کسنگ کریں گے اور آپ میرا ادھار معاف کردیں گی ۔ رقیہ باجی مسکراتے ہوے کہنے لگی ہاں صرف کسنگ مگر تمہارے بوبز پر یہ سنتے ہی میری نطر عایزہ کے مموں پر گءی اسکے بوبز بڑے تو نہیں تھے مگر بہت متناسب تھے ۔ عایزہ نے انکار میں سر ہلادیا تو رقیہ باجی نے کہا کہ پریشان نہ ہو صرف پانچ منٹ لگیں گے پھر تم لایبرری والی ایکسٹرا کلاس میں چلی جانا۔ عایزہ نے کہا نہیں مجھے جانے دیں میں آپکے پیسے اتار دوں گی ۔ رقیہ باجی کے چہرے پر غصے کے تاثرات  ابھرے مگر ایک چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہوے کہنے لگیں اچھا بابا جیسی تمہاری مرضی ، پھر وہ اٹھ کر پیسوں کے بکس کی طرف گییں اور وہاں سے دس روپے کا نوٹ نکالا اور پھر عایزہ کے پاس آکر کہنے لگیں چلو تمہارا سب ادھار معاف اور یہ دس روپے بھی تمہارے میں صرف تمہارے مموں پر ۲ منٹ کسنگ کروں گی پھر تم چلی جانا ۔ عایزہ دس روپے کے نوٹ کو دیکھ کر کچھ سوچ رہی تھی تھی کہ رقیہ باجی نے دس کا نوٹ اس کے بیگ میں ڈالا اور عایزہ کو کنٹین میں پرانے صوفے پر بٹھادیا۔ جونہی عایزہ صوفے پر بیٹھی رقیہ باجی نے کوی لمحہ ضایع کیے بغیر اسکی قیمض اتار دی جونہی قمیص اتری توعایزہ کے گورے گورے بازو عریاں ہوگءے ۔ اور اندر سے ایک میلی سفید بنیان نکل آی۔ رقیہ باجی نے بنیان کو ہاتھ لگایا ہی تھا کہ عایزہ پھر بدک گءی اور کہا کہ بیان نہ اتاریں ، رقیہ باجی کے چپرے کو دیکھ کر میں اندازہ کرسکتی تھی کہ انہیں شدید غصہ آرہا ہے مگر وہ ایک پرانی کھلاڑی لگتی تھیں انہوں نے کہ بنیان اتار نہیں رہی پگلی اوپر کر رہی ہوں دیکھو ابھی تک کسنگ ہو بھی جاتی تمہی دیر کر رہی ہو ۔ یہ سن کر عایزہ چپ ہوگءی۔ رقیہ باجی باجی کے بنیان کو اوپر کیا تو عایزہ کے گلابی ممے انکے سامنے آگیے ۔ رقیہ باجی کے ہونٹوں سے ایک بااختیار سیٹی نکل گءی اور انہوں نے عایزہ کے داییں ممے کو منہ میں لیکر چوسنا شروع کردیا ۔ ادھر مجھے بھی اپنی ٹانگوں کے درمیان نمی محسوس ہونی شروع ہوگءی۔ رقیہ باجی کو ممے چوستے ہوءے ابھی کچھ ہی سیکنڈ گزرے تھے کہ عایزہ کی آنکھیں بند ہوگییں ۔ پھر اس کے منہ سے ہلکی ہلکی سسکیاں نکلنی شرو ع ہوگییں ، صاف دکھای دے رہا تھا کہ عایزہ کو بھی مزہ آنا شروع ہوگیا ہے ۔صوفے پر ترتیب کچھ اس طرح تھی کہ صوفے کی ہتھی پر جہاں بیٹھتے ہوءے بازو ٹکایا جاتا ہے وہاں عاٰیزہ نے سر رکھا ہوا تھا اسکی ایک ٹانگ رقیہ باجی کی گود میں تھی اور دوسری صوفے کی پشت کے ساتھ تھی ۔ ابھی رقیہ باجی کو ممی چوستے ہوءے مشکل سے دو منٹ ہی گذررے ہونگے کہ انہوں نے اپنی قمیض اتار دی اور اتنی ہی جلدہ سے اپنے برا کا ہک کھول دیا ۔ جتنی دیر انہوں نے یہ کارواءی کرنے کے لیے عایزہ کے مموں سے اپنا منہ ہٹایا تو عایزہ نے آنکھیں کھول دیں ۔ وہ بھی رقیہ باجی کو نیم برہنہ دیکھ کر دنگ رہ گءی ۔ میں نے بھی پہلی بار رقیہ باجی کو اس حالت میں دیکھا تھا۔ رقیہ باجی کے مموں کا سایز بیالس ہوگا اور وہ بالکل چاکلیٹی رنگ کے تھے انکا اور عایزہ کا بالکل بلیک اینڈ وایٹ کا امتزاج لگ رہا تھا ۔ اس سے پہلے کہ عایزہ کوءی سوال کرتی رقیہ باجی نے پھر اسکے مموں پر کسنگ شروع کردی ، عایزہ کو یقینا مزہ آرہا تھا کیونکہ اب اس نے مزاحمت بالکل ترک کردی تھی اور اب اسکے منہ سے صرف لذت بھری سسکاریاں نکل رہی تھیں ، رقیہ باجی نے اب عایزہ کر پیٹ پر کسنگ شروع کر دی تھی اور صاف لگ رہا تھا کہ عایزہ لذت کی وادیوں میں اتر چکی تھی ۔ رقیہ باجی نے عایزہ کیے پیٹ کو چومتے ہوءے اپنی زبان اسکی ناف میں گاڑ دی تو عایزہ کی ہلکی سی چیخ نکل گءی ۔ اب رقیہ باجی نے ایک خطرناک  کھیل شروع کیا انہوں نے عایزہ کے مموں کو دوبارہ چوسنا شروع کیا اور اپنے ہاتھ سے عایزہ کی چوت کو شلوار کے اوپر سے مسلنا شروع کردیا ، عایزہ کے جسم نے لذت سے جھٹکے لینا شروع کیے تو رقیہ باجی نے اسکا ازار بند ڈھیلا کرنا شروع کردیا اور اتنی جگہ  بنالی کے انکا ہاتھ اندر چلاگیا اب انہوں نے شلوار کو تھوڑا سا نیچے کردیا تو انہیں عایزہ کی پھدی نظر آی جومیں نہیں دیکھ سکتی تھی لیکن میں رقیہ باجی کے ہاتھ کی حرکتیں دیکھ سکتی تھی اب رقیہ باجی نے اپنا ایک مما عایزہ کے منہ کے بالکل قریب  کردیا ۔پہلے تو عایزہ اپنا منہ دور لے جاتی لیکن جب رقیہ باجی نے اسکی چوت پر اپنی انگلی نچای تو اس نے بے خود ہو کر رقیہ باجی کا مما اپنے منہ میں لے کر اسے چوسنا شروع کردیا ۔ شاہد عایزہ کے جوان ہونٹوں کی طاقت تھی  یا مزے کا عالم کہ رقیہ باجی کے منہ سے بھی ہلکی ہلکی سسکیاں نکلنے لگی تھیں ۔ پھردو منٹ بعد  رقیہ باجی  نے اپنے ممے عایزہ کے منی سے نکالے اور اپنے ہونٹ اسکی پھدہی پر رکھ کر وہاں کسن شروع کر دی اب تو عایزہ کو اپنا ہوش ہی نہ رہا ور اس  منہ سے نکنلے والی آوازیں خاصی بلند ہوگییں اور اس نے  رقیہ باجی کا سر زور سے پکڑ کر اپنی ٹانگوں میں بھینچ لیا کچھ ہی منٹ میں عایزہ نے ایک ہلکی سی چیخ ماری اور ڈسچارج ہوگءی۔ مگر صرف عایزہ ہی فارغ نہیں ہوی تھی میں بھی فارغ ہوگی تھی۔ ابھی عایزہ اور رقیہ باجی دونوں ننگی صوفے پر پڑی ہانپ رہی تھیں کہ مجھے اسکول اور کنٹین کے درمیان خالی پلاٹ پر آوزیں سناءی دیں میں نے مڑ کر دیکھا تو پرنسپل میڈم اسلامیات کی ٹیچر کے ساتھ کنٹین کی طرف آرہی تھیں اور تیزی سے کنٹین کے قریب آرہی تھیں مجھے جلدی کوءی فیصلہ کرنا تھا میں نے جلدی سے کنٹین کی کھڑکی سے رقیہ باجی کو آواز دی اور کہا باجی دروازہ جلدی  کھولو خطرہ ۔،۔۔۔۔۔۔

جاری ہے

 

Canteen wali larki 2.inp

Share this post


Link to post
Share on other sites

اردو فن کلب کے پریمیم ممبرز کے لیئے ایک لاجواب تصاویری کہانی ۔۔۔۔۔ایک ہینڈسم اور خوبصورت لڑکے کی کہانی۔۔۔۔۔جو کالج کی ہر حسین لڑکی سے اپنی  ہوس  کے لیئے دوستی کرنے میں ماہر تھا  ۔۔۔۔۔کالج گرلز  چاہ کر بھی اس سےنہیں بچ پاتی تھیں۔۔۔۔۔اپنی ہوس کے بعد وہ ان لڑکیوں کی سیکس سٹوری لکھتا اور کالج میں ٖفخریہ پھیلا دیتا ۔۔۔۔کیوں ؟  ۔۔۔۔۔اسی عادت کی وجہ سے سب اس سے دور بھاگتی تھیں۔۔۔۔۔ سینکڑوں صفحات پر مشتمل ڈاکٹر فیصل خان کی اب تک لکھی گئی تمام تصاویری کہانیوں میں سب سے طویل کہانی ۔۔۔۔۔کامران اور ہیڈ مسٹریس۔۔۔اردو فن کلب کے پریمیم کلب میں شامل کر دی گئی ہے۔

کیا آپ لوگوں نے دوسری قسط پڑھ لی ہے 

Share this post


Link to post
Share on other sites
16 minutes ago, rameez said:

کیا آپ لوگوں نے دوسری قسط پڑھ لی ہے 

دوسری قسط انپیج فارمیٹ میں ہے اسے فورم پر پوسٹ کریں

Share this post


Link to post
Share on other sites
34 minutes ago, rameez said:

کیا آپ لوگوں نے دوسری قسط پڑھ لی ہے 

Bhai abhi to pehle qist he parhi hay 2nd aye ge to parhen ge 

Share this post


Link to post
Share on other sites
Just now, Administrator said:

دوسری قسط انپیج فارمیٹ میں ہے اسے فورم پر پوسٹ کریں

ok sir please remove the story please. because i can write a story but these technical  problems i cant handle 

Share this post


Link to post
Share on other sites
20 hours ago, Administrator said:

دوسری قسط انپیج فارمیٹ میں ہے اسے فورم پر پوسٹ کریں

کینٹین والی لڑکی  قسط 2
رمیز حیدر 
میری آواز سنتے ہی رقیہ باجی اپنے کپڑے ٹھیک کرے ہوئے کھڑکی کی طرف آیئیں اور مجھے کنہے لگیں کیا ہو ا، میں نے کہا کہ پرنسپل صاحبہ آرہی ہیں یہ سن کر رقیہ باجی کا رنگ ایک دم زرد پڑگیا اس نے اپنے تمام کپڑے ٹھیک کرتے ہوئے دروازہ کھول دیا اور جلد ہی ایک تولیا گیلا کرے کے اپنے منہ پر پھیرا اور اسی تولیے سے جلدی عائزہ کا منہ بھی صاف کرنے لگیں۔ابھی رقیہ باجی نے تولیہ رکھا ہی تھا کہ پرنسپل میڈم اور ا سلامیات والی میڈم عفیفہ کنٹین کے اندر داخل ہوگئیں۔ پرنسپل میڈم سعدیہ کو دیکھتے ہی ہم تینوں نے سلام کیا۔ میڈم سعدیہ  نے ہمارے سلام کا جواب دیا اور بڑی حیرانی سے عائزہ کو دیکھتے ہوئے کہنے لگیں تم یہاں کیا کر رہی ہو، عائزہ ابھی جواب سوچ ہی رہی تھی کہ رقیہ باجی نے کہا کہ میڈم یہ اپنا کھانا گرم کراوانے آئی تھی۔ میڈم سعدیہ  نے کہا رقیہ تمہیں معلوم نہیں کنٹین کے اندر لڑکیوں کا داخلہ سختی سے منع ہے۔ رقیہ باجی نے نظریں جھکا کر کر کہا  میڈم میں معافی چاہتی ہوں، آئیندہ ایسا نہیں ہوگا۔ جب میڈم سعدیہ  اور رقیہ باجی کے درمیان یہ بات ہو رہی تھی تو میں نے دیکھا کہ میڈم عفیفہ بڑی گہری نظروں سے عائزہ کا جائزہ لے رہی تھیں اور انکی تمام توجہ عایزہ کے یونیفارم پر آئی شکنوں پر تھی۔ عائزہ نے بھی انکی نظریں محسوس کرلیں تھیں یہی وجہ تھی کہ وہ میڈم عفیفہ سے آنکھیں چرا رہی تھی۔ ہ میڈم عفیفہ کی عمر 45سال کے لگ بھگ تھی انکا جسم صحت مند تھا اور گندمی رنگت کی حامل تھیں وہ میڈم سعدیہ کے بہت قریب تھیں اور ہر مشورے میں شامل ہوتی تھیں کئی لڑکیوں کو سزا یا سخت ڈانٹ کے لیے میڈم سعدیہ میڈم عفیفہ کے حوالے کردیتی تھیں   ۔ میڈم سعدیہ اوررقیہ باجی کی گفتگو کا رخ اب دیگر معاملات کی طرف مڑ گیا تھا وہ کنٹین کی صفائی اور کھانے پینے کی اشیاء کے معیار پر بات کر رہی تھیں۔ میڈم سعدیہ واپس جانے کے لیے مڑیں اور عائزہ سے پوچھا تم نے کھانا کھالیا عائزہ نے ہکلاتے ہوئے جواب دیا ج جی میڈم۔ میڈم سعدیہ نے اس کہا کہ تم اپنی کلاس میں جاو اور آئیندہ کھان کنٹین کے باہر سے دیا کرو عائزہ ہاں میں سر ہلاکہ اوکے میم کہتی ہوئی فوراًباہر چلی گئی۔ پھر میڈم سعدیہ  نے میری امی کا پوچھا اور کہا کہ وہ آج بیماری کی وجہ سے کام پر نہیں آئی اس کی ٹانگ کا درد کیسا ہے میں نے کہا جی بہتر ہے پھر دونوں کنٹین سے باہر نکل کر لیب کی طرف مڑگئیں۔ انکے جاتے ہی رقیہ باجی نے کہا آج تو نے بڑے ٹائم پر آواز لگائی، لیکن ایک منٹ رک، یہ تونے خطرہ خطرہ کیوں کہا، میں خاموش کھڑی رہی۔ رقیہ باجی یہی واسل درشتگی سے  دوبارہ پوچھا تو میں نے کہا کہ میں آدھے گھنٹے سے کھڑکی میں کھڑی تھی، یہ سن کر رقیہ باجی کا رنگ پیلا پڑگیا اور وہ دھم سے صوفے پر بیٹھ گئی، 2منٹ تک مکمل سناٹا رہا۔ پھر رقیہ باجی نے مجھے پاس بلا کر صوفے پر بٹھایا اور میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر رونے لگی اور بار بار کہہ  رہی تھی صندل مجھے معاف کردو میں بہک گئی تھی۔ میں نے انکے آنسو پوچھے اور کہا کوئی بات نہیں، پھر رقیہ باجی کہنے لگیں میرے میاں ے انتقال کو کتنے برس بیت گئے بعض اوقات خود پر قابو نہیں رہتا لیکن تو یہ بات ابھی نہیں سمجھے گی جب تیری شادی ہوگی تو تجھے ان معاملات  کا پتہ چلے گا انکی یہ بات سن کر میں شرما گئی اور میر ا چہرہ بالکل سرخ ہو گیا۔ رقیہ باجی نے میرا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیکر میری آنکھوں کو چوم لیا اور کہنے لگی میری بنو شرماتی ہوئی کتنی خوبصورت لگتی ہے،  میں اور شرماگئی، رقیہ باجی نے ایک دم مجھے گلے سے لگا لیا اور کہا میری جان وعدہ کر یہ میرا راز کبھی کسی کے آگے نہیں کھولے گی۔  سچی بات تھی کہ رقیہ باجی کا رویہ پہلے دن سے میرے ساتھ بہت اچھا تھا اور مجھے اس نوکری کی وجہ سے بڑی سہولت تھی میں نے کہا کہ میں وعدہ کرتی ہوں باجی کسی کو نہیں بتاونگی۔ یہ سن کر رقیہ باجی نے ایک بار پھر میری آنکھوں کو چوم لیا اور میرا ہاتھ زور سے دبایا۔ اور مجھے اپنے سینے کے ساتھ بھینچ لیا۔۔۔ اْس کے اس طرح گلے لگانے سے میرے سینے کے ساتھ اس کے موٹے ممے میری چھاتیوں کے ساتھ پریس ہو گئے۔ اسے سینے سے سینہ لگانے سے  مجھے ایک نئی ایک نئی چیز محسوس ہوئی۔ ابھی ہم بات کر رہے تھے کہ ہمارے اسکول کی جمعدارنی مارتھاکنٹین کی صفائی کرنے آگئی، میں اس سے جھاڑو مر وا کر فارغ ہوئی تھی کہ 3بج گئے میں نے رقیہ باجی سے کہا کہ میں اب جاوں امی انتظار کر رہی ہوں گی ویسے بھی انکی طبعیت خراب ہے۔ رقیہ باجی نے کہا اوکے۔ جب میں رات کو سنے کے لیے لیٹی تو پھر سارا منظر میری آنکھوں میں پھرنے لگا اور مجھے لگا کہ میں دوبارہ ڈسچارج ہو رہی ہوں پھر بڑے مزے کی نیند آئی۔  اگلے دن جمعرات تھی جلدی چھٹی ہوگئی۔ جمعے کو چھٹی کے دن میں نے  بہن کے ساتھ مل کر کپڑے دھوئے امی کو دوائی دی۔ ہفتے کے دن جب میں کام پر پہنچی تو   رقیہ باجی کی آنکھوں میں ایک خاص چمک تھی اور خوش لگ رہی تھیں میں نے تھوڑی دیر بعد پو چھا باجی کیا بات ہے آج بڑی خوش لگ رہی ہیں کہیں عائزہ تو نہیں آرہی آج دو بارہ، تو رقیہ باجی چپ کر ایسی کوئی بات نہیں تو کیا اب بلیک میل کرے گی کیا، میں نے کہا کہ نہیں باجی میں تو مزاق کر رہی تھی۔ چھٹی کے بعد جب ہم کام سمیٹ رہے تھے تو میں نے نوٹ کیا کہ رقیہ باجی میرے بالکل ساتھ ساتھ چپک کر کام کر رہی تھیں اور بہانے بہانے سے میرے جسم بالخصوص میرے چوتڑوں کو ہاتھ لگا رہی تھیں، کچھ دیر تک تو میں نے برداشت کیا پھر میں نے کہا رقیہ باجی یہ آج آپ کیا کر رہی ہو تو انہوں نے  ایک دم کام سے ہاتھ روک دئے اور میرے کندھوں پہ ہاتھ رکھ کر کہنے لگیں صندل جان اب مجھ سے برداشت نہیں ہوتا تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو، میں نے کہا کہ پہلے تو کبھی آپ نے یہ بات نہیں کی اب کیا ہوا ہے آپ کو، رقیہ باجی کہنے لگیں پہلے میں تم سے اس موضوع پر بات کرنے سے جھجکتی رہی لیکن اس دن تم نے مجھے اور عائزہ کو دیکھ  لیا تھا اب ہمارے درمیان پہلے والا تکلف نہیں رہا۔ ابھی میں کوئی جواب سوچ ہی رہی تھی کہ رقیہ باجی نے دروازہ بند کرد یا اور مجھے اپنی بانہوں میں جکڑ لیا۔ باجی  نے  اپنے مموں کو بڑی زور سے میرے ساتھ پریس کیا اور پھر اپنی بڑی سی چھاتیوں کو میری چھاتیوں پر رگڑنے لگی۔۔ اس کے اس طرح چھاتی رگڑنے سے میرے اندر ایک انجانی سا کرنٹ دوڑنے لگیا۔ اور میں مزے سے بے حال ہو کر تیزی سے سانس لینے لگی۔۔ میری یہ حالت دیکھ کرباجی  نے اپنی چھاتیوں کو میری چھاتیوں کے ساتھ رگڑتے ہوئے کہا صندل جان  تمہیں   مزہ آ رہا ہے، میری آنکھیں بند ہو چکی تھیں اور میرے منہ سے ہلکی سی جی نکلی۔ اسے  سن کر باجی نے  میرے ایک گال کو چوما۔۔۔ اور کہنے لگی صندل۔۔ اس طرح چھاتیاں رگڑنے سیمجھے تمہارے چھوٹے چھوٹے ممیبھی بڑا مزہ دے رہے ہیں۔ تو میں نے ویسے ہی مستی سے اس سے پوچھا وہ کیسے؟ تو وہ کہنے لگی وہ ایسیمیری جان میری کیوٹ چھوٹی پر ی  کہ میرے بڑے بڑے اور تمھارے چھوٹے چھوٹے ممے آپس میں ٹکرا کر ہم دونوں کے جسموں میں آگ لگا رہے ہیں، پھر باجی رقیہ نے  اپنی قمیض اتار کر کرسی پہ رکھ دی۔۔اور میری طرف دیکھا۔میں  بڑے غور سیان کی  ننگی چھاتیوں کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ اور میں نے  ابھی تک اپنی قمیض کو نہ اتارا تھا،  مھے  یوں کھڑے دیکھ کر انہوں نے مجھے غصے سے کہا  کہ تم بھی اتارو نہ قمیض، میں انکی آواز سے  ایک دم سے چونک پڑی باجی میری  طرف دیکھ کر بولی سچ کہہ رہی ہوں صندل جانو۔۔۔۔ تمہارے سینے پر لگی یہ چھوٹی چھوٹی چھاتیں دیکھنے کا بڑا دل کر رہا ہے  اور اس کے ساتھ ہی وہ آگے بڑھی۔۔۔۔اور اس نے میری قمیض اتار کر کنٹین میں لگی کھونیٹوں پر ٹانگ دی۔میں برا نہیں پہنتی تھی لیکن بنیان لازمی پہنتی تھی رقیہ باجی نے فوراً بنیان بھی اتار دی اور میری   ننگی چھاتیوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیا۔۔۔ اور انہیں ہولے ہولے دبانے لگی۔۔۔ مجھے اپنی چھاتیوں پر اس کے ہاتھوں کا لمس بہت ہی اچھا رہا تھا اور مزے کے مارے بے اختیار میرے منہ سے۔۔۔ہائے۔۔ہائے کی آوازیں نکل رہیں تھیں جسے سن کر وہ بھی مست ہو گئی۔۔اور میری چھوٹی چھوٹی چھاتیوں کو دباتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔۔ مزہ آ رہا ہے  تو میں نے ایک گرم آہ بھرتے ہوئے  کہا جی باجی بہت زیادہ۔  میری بات سن کر وہ کہنے لگیں جان  تمہاری چھاتیوں کو پکڑنے سے مجھے بھی بڑا مزہ آ رہا ہے آج تک ان کو دور سے ہی دیکھا تھا،اور پھر بڑی مستی سے میری چھاتیں کو دبانے لگی،  کچھ دیر تک وہ میری چھاتیوں کو دباتی رہی،  پھر اچانک ہی مجھ پر شہوت نے اتنا غلبہپالیا کہ  میں نے  شرم کو بالئے طاق رکھ ہاتھ بڑھا کر انکے   مموں کو پکڑ لیا اور دبانے لگی چونکہ یہ مری پہلی بار تھی تو  میں نیان کے مموں کو کچھ زیادہ ہی زور سے دبا دیا تھا۔۔تبھی میں نے رقیہ باجی  کی ہلکی سی  چیخ سنی اور وہ  کہنے لگی آرام سے میری جان  لیکن چونکہ اس وقت مجھ پر پوری طرح سے شہوت سوار تھی اس لیئے میں نے اس کی بات سنی ان سنی کر دیاور انکے سانولے فل سائز مموں  کو اپنی مْٹھی میں پکڑ کر مسلسل دباتی رہی۔۔۔ کچھ دیر تک تو وہ مجھے آرام سے دبانے کو  کہتی رہیں۔ پھرانکو  زیادہ مزہ آنے لگا کیونکہ وہ پرانی کھلاڑی تھیں اور اس دفعہ جب میں نے ان کی  چھاتیوں کو دبایا  تو وہ  میرے ساتھ چمٹ گئیں اور مجھے  ہیجان انگیز آواز میں کہنے لگیں ظالم مادیا ہے تو تو بڑی گرم نکلی میری گوری محبوبہ۔ واقعی جب میں نے دیکھا تو میر جسم بالکل گورا تھا اور باجی کا گیرا سانولہ تو بڑا دلفریب امتزاج لگ رتھا بڑا جان لیوا۔ باجی نے اپنی بات کہتے ہی  اپنے نچلے دھڑ کو میرے ساتھ جوڑ لیا اور میری ران کے ساتھ اپنی پھدی کو جوڑ کر رگڑنے لگی۔۔ اْف اس وقت ان کی  چوت   بہت گرم ہو رہی تھی اور اس کی چوت کا میری ران کے ساتھ جْڑنا تھا کہ۔۔ خود میرے اپنے اندر۔۔۔ خاص طور پر میری چوت میں بھی ایک ہلچل مچنا شروع ہو گئی۔اور مجھے ایسا لگا کہ جیسے کسی نے میری دونوں رانوں کے بیچ والے حصے میں آگ لگا دی ہو میں نے اس مزے سے مجبور ہوکر  کر باجی کا ہاتھ پکڑا اور شلوار کے اوپر سے ہی اپنی پھدی پر رکھ دیا۔۔۔باجی  نے اپنے ہاتھ پہ جیسے ہی میری چوت کو محسوس کیا تو اس نے ایک دم سے میری چوت کو اپنی مْٹھی میں۔پکڑا اور اسے دبانے لگیں۔۔۔۔ اس کے یوں دبانے سے میرے منہ سے  ہلکی ہلکی  چیخں  نکلنے لگیں۔ا ور میں نے ایک ہاتھ اپنے منہ پہ رکھ لیا۔ باجی  اپنی چوت کو میری ران پر رگڑتے ہوئے کہنے لگیں صندل جان آئی لو یو مجھے اس کا جواب تو نہیں آیا فوری طور پر مگر میں نے باجی کی آنکھوں کو چوم لیا، اس سارے عمل کے کیساتھ ساتھ  کی  باجی  پھدی کو میری پھدی کے ساتھ جوڑ دیا اور  اوپر نیچے ہونا شروع ہوگئی سسکیاں  اور ہلکی چیخیں باجی کی بھی نکل رہی تھیں  پھر باجی کو خود سیدھی لیٹ گئیں اور مجھے اپنے اوپر لٹالیا باجی نے اپنے ممے بالکل میرے منہ کے آگے کردئے میں انکا اشارہ نہ سمجھی تو انہوں نے میرا منہ پکڑ کر اپنے ایک ممے پر رکھ دیا  میں نے بباکی سے ان کا سانولا بڑا سا مما چوسنا شروع کر دیا  تو انے جسم نے لذت کے مارے ایک جھر جھری لی اور مجھے اور زور سے چمٹا لیا اور ساتھ ہی ہی میری شلوار کے اندر ہاتھ ڈال کر میرے چوتڑوں پر پیھرنے لگی تھوڑی دیر میں میرا ازاربند ڈھیلا ہو گیا اور باجی کا ہاتھ زیادہ اندر گھس گیا ۔۔ تھوڑے ہی وقت میں دوسری باجی  میری  ننگی پھدی کو اپنی مْٹھی میں لیئے مسلسل بھینچ رہی تھی اور میں باجی کے ممے چوسنے کے ساتھ ساتھ انکی پھدی کو زور سے کجارہی تھی  کہ باجی نے اپنی ایک انگلی میری گیلی چوت پر پھرنا شروع کردی اف میرا تو لذت سے برا حال ہوگیا۔ ابھی  ہم دونوں دیوانہ وار اپنے اس جنسی عمل میں مشغول تھیں کہ کچھ ہی دیر بعد ہم دونوں کے سانس چڑھنے لگے۔۔۔۔اورمیرے  منہ سے بے ربط قسم کی باتیں نکلنے لگیں۔۔۔۔سس۔۔سس۔۔۔۔اوئی۔۔۔۔۔۔۔ اْف۔ف۔ف۔ف۔۔۔۔۔اوہ۔۔اوہ ہ ہ۔ اور پھر جلد ہی میری  چوت میں لگی آگ سرد ہونا شروع ہو گئی۔۔۔ اور پھر ہم دونوں کی پھدیوں میں پانی آتے ہی باجی  نے میری چوت اور میں نیانکی چوت سے ہاتھ اٹھالیے۔  اور جھٹکے مارتے ہوئے اپنی اپنی پھدیوں سے پانی چھوڑنے لگیں۔۔۔۔۔۔ اور۔۔ پھر جب ہماری پھدیوں سے پانی نکلنا رْک گیا۔۔۔ تو باجی مجھ سے الگ ہو گئی۔۔اور صوفے پر  بیٹھ کر لمبے لمبے سانس لینے لگی۔۔ جبکہ  میری حالت بھی ان سے  الگ نہ تھی۔
 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×
×
  • Create New...