Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
Sofiya

بانو وہ اور میں

Recommended Posts

اردو فن کلب کے پریمیم سیریز اور پریمیم ناولز اردو فن کلب فورم کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جو فورم کے پریمیم رائیٹرز کی محنت ہے اور صرف وقتی تفریح کے لیئے فورم پر آن لائن پڑھنے کے لیئے دستیاب ہیں ۔ ہمارا مقصد اسے صرف اسی ویب سائیٹ تک محدود رکھنا ہے۔ تاکہ یہ گناہ جاریہ نہ بنے ۔ اسے کسی بھی طرح سے کاپی یا ڈاؤن لوڈ کرنے یا کسی دوسرے دوست یا ممبر سے شیئر کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ۔ جو ممبران اسے اپنے دوستوں سے شئیر کر رہے ہیں ۔ ان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے ممبر سے بھی شئیر نہیں کر سکتے ۔ ورنہ ان کا مکمل اکاؤنٹ بین بھی ہو سکتا ہے۔ ڈیٹا شیئر کرنے والہ ممبراس بات کا عملی اقرار کرے گا کہ وہ بروز قیامت فورم انتظامیہ، سٹوری رائیٹر اور فورم ایڈمن کے تمام گناہوں کا اکلوتا وارث ہو گا ۔ اور بروز قیامت اپنی تمام نیکیاں (جو بھی اس کے نامہ اعمال میں ہوئیں ) بروز قیامت مجھے دینے کا پابند ہو گا۔ اگر کوئی ممبر اب بھی ایسا کرتا ہے اور گناہ جاریہ کا سبب بنتا ہے ۔ تو اس شرط کو ایگری کرتے ہوئے شیئر کر سکتا ہے ۔ فورم کو اس ایگری منٹ پر اجازت دینے میں کوئی اعتراض نہیں ۔ ایڈمن اردو فن کلب

On 3/12/2020 at 3:06 PM, Sofiya said:

 یہ ان دنوں کی بات ہے 

اس سے آگے بھی تو لکھیں.......... 

Share this post


Link to post

 جب میں دسویں میں تھی اس وقت تک میں نے کبھی سیکس کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا اور نہ ہی کسی لڑکے سے کوئی دوستی تھی مگر اس ایک واقعے نے میری زندگی مکمل طور پر بدل دی اور جس کا اثر آج بھی اٹھارہ سال بعد میری شادی شدہ زندگی میں برقرار ہے میں اور بانو دسویں کلاس میں اکٹھے پڑھتی تھیں بانو میری خالہ کی بیٹی تھی اور میرے ساتھ ہمارے گھر میں رہتی تھی اس کا اور میرا اصل گھر گاؤں میں تھا مگر میرے والد جو ایک ڈاکٹر تھے نے ہم بہن بھائیوں کو پڑھانے کے لیے شہر میں گھر خرید لیا تھا اس محلے میں ہمارے اور رشتہ داروں کے گھر بھی تھے بانو تھوڑی سی سانولی مگر بہت پرکشش شخصیت کی مالک تھی جبکہ میں بانو کے مقابلے میں بہت گوری چٹی اور نکھرے رنگ کی لڑکی تھی بانو پڑھائی میں بہت تیز تھی جبکہ میں ایک ایورج طالبہ تھی ہم دونوں بہت اچھی سہیلیاں تھیں بانو جب شروع میں دیہات سے شہر آئی تھی تو وہ بہت شرمیلی طبیعت کی تھی مگر شہر میں کچھ عرصہ رہنے کے بعد اس کا شرمیلا پن بلکل ختم ہو گیا تھا 

Share this post


Link to post

ہم شہر کے جس سکول میں پڑھتی تھیں وہاں لڑکے اور لڑکیاں ساتھ پڑھتے تھے ہمارے کچھ کزن بھی اور میرے بھائی بہن بھی اسی سکول میں پڑھتے تھے جو کہ بارھویں تک تھا ان کزنز میں سے ایک وہ تھا ہمارا کزن جس کا نام عامر تھا عامر پیدا شہر میں ہوا اور زیادہ تر وہیں رہتا تھا اس کا اور میرا گاؤں ایک تھا البتہ بانو کا گاؤں دوسرا تھا گاؤں سے شہر آنے سے پہلے میری اور عامر کی کوئی خاص دوستی نہ تھی اور نہ ہی بانو کی اس کے ساتھ دوستی تھی ہم بس ایک دوسرے کے رشتہ دار تھے اور یہی تعلق تھا عامر کے والد محکمہ زراعت میں آفیسر تھے اور شروع سے ہی شہر میں رہ رہے تھے انہوں نے ہی ہمیں اور دوسرے رشتہ داروں کو اسی محلہ میں گھر لے کر دیئے تھے ہمارا اور عامر کا گھر ایک ہی گلی میں تھا اس لیے ہمارا عامر کے گھر آنا جانا شروع ہو گیا عامر انگریزی اور ریاضی میں بہت زبردست تھا اور بانو اور میری ان دونوں مضامین سے جان جاتی تھی اس لیے امی کے کہنے پر کبھی ہم دونوں پڑھنے کے لیے عامر کے پاس اس کے گھر اور کبھی وہ ہمارے گھر ہمیں پڑھانے آ جاتا تھا عامر بہت ہی ہنس مکھ طبیعت کا تھا اور ہمیں بہت توجہ سے پڑھاتا تھا میری بانو اور عامر کی آہستہ آہستہ دوستی ہو گئی اور اب ہم ایک دوسرے سے کافی گپ شپ کرتے تھے اسی دوران بانو اور عامر ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے اور اس پسند میں بانو کا ہاتھ زیادہ تھا وہ جان بوجھ کر پڑھائی کے دوران اس کے ساتھ بیٹھتی اور وہ دونوں بہانے بہانے سے ایک دوسرے کو چھو بھی لیتے تھے بانو اور میں جب اکیلے ہوتے تو وہ مجھ سے کہتی کہ تم دعا کرو کہ عامر مجھے پسند کر لے اور ہم دونوں کی شادی ہو جائے میں اس کی بات سن کر ہنس پڑتی اور مذاق میں اس سے کہتی کہ عامر مجھے پسند کرتا ہے مگر میں کیونکہ زیادہ تر چپ چاپ رہتی ہوں اور تم اس سے زیادہ باتیں کرتی ہو اور اس کے قریب بیٹھتی ہو اس لیے تمھیں لگتا ہے کہ وہ تمھیں پسند کرتا ہے اصل میں مجھے عامر کی آنکھوں میں اپنے لیے پسندیدگی نظر آتی تھی کیونکہ میں بانو سے زیادہ پیاری تھی مگر جب بھی عامر میری طرف دیکھا کرتا تو میں آنکھیں جھکا لیا کرتی تھی اور کیوں کہ بانو اس سے زیادہ فری ہو گئی تھی اس لیے وہ اس کی طرف زیادہ مائل ہو گیا تھا اور اس عمر میں ظاہری سی بات ہے لڑکے جس لڑکی سے لفٹ زیادہ ملے اس کی طرف مائل ہو جاتے ہیں ایک دن میں پڑھائی کے دوران جب عامر ہمارے گھر آ کر ہمیں پڑھا رہا تھا میں امی کے بلانے پر کچن میں کام سے چلی گئی اور عامر اور بانو اکیلے رہ گئے جب میں تھوڑی دیر بعد واپس آئی تو جیسے ہی میں نے کمرے میں داخل ہو کر دیکھا تو عامر بانو کو گال پر کس کر رہا تھا اور میری آہٹ پرجلدی سے کتاب پکڑ کر دونوں پڑھنے لگ گئے جیسے کچھ ہوا بھی نہ ہو اور میں نے بھی ایسے ظاہر کیا کہ میں نے کچھ بھی نہیں دیکھا مگر اس دن سے میرا دل بھی عامر کے لیے دھڑکنے لگا اور پتہ نہیں کیوں میرا دل کرنے لگا کہ عامر مجھے بھی ایسے چھوۓ اور گال پر چوم لے مگر شاید میرا شرمیلا پن میرے اور عامر کے آڑے آ رہا تھا 

 

Share this post


Link to post

پڑھائی کا یہ سلسلہ یونہی 6 7 ماہ چلتا رہا اور اس دوران بس بانو اور عامر ایک دوسرے کو آنے بہانے سے چھو لیتے تھے مگر اس سے زیادہ بات بڑھ نہ سکی ان دونوں کو لگتا تھا کہ جب وہ چھپ کر ایک دوسرے کو چھوتے ہیں تو مجھے پتہ نہیں لگتا جب کہ میں سب جانتے ہوئے بھی انجان بنی رہتی تھی مگر دل ہی دل میں بانو سے جلنے لگی کہ وہ عامر سے دور ہو جائے 

پھر ایک دن آخر میرے دل کی سنی گئی ہوا یوں کہ بانو اپنے ماں باپ سے ملنے گاؤں گئی ہوئی تھی اور میں ریاضی کے کچھ سوال سمجھنے کے لیے عامر کے گھر گئی عامر کا گھر دو منزلہ تھا اور جب میں عامر کے گھر پہنچی تو وہ نیچے والی منزل میں تھا اور جیسے ہی میں اس کے گھر میں داخل ہوئی تو اس نے مجھے دیکھ لیا اور میں اس کے ساتھ نیچے والے پورشن کےکمرے میں بیٹھ گئی اس وقت عامر کے گھر والے سارے اوپر والی منزل پر تھے میں اور عامر پہلی دفعہ ساتھ اور اکیلے بیٹھ کر پڑھ رہے تھے دل ہی دل میں میں بہت خوش تھی اور دل کر رہا تھا کہ وہ جیسے بہانےسے بانو کو چھوتا ہے مجھے بھی چھوئے عامر نےپڑھانے کے دوران تین چار دفعہ میری آنکھوں میں دیکھا مگر میں ہر بار آنکھیں جھکا لیتی یا دوسری جانب دیکھنے لگتی اس لیے شاید وہ مجھے چھونے سے ڈر رہا تھا ہم تقریباً آدھہ گھنٹہ یونہی پڑھتے رہے پھر اچانک وہ ہوا جو نہیں ہونا چاہیئے تھا عامر نےپڑھاتے پڑھاتے اچانک آرام سے اپنا ہاتھ میری ران سے غیر محسوس طریقے سے چھونا شروع کر دیا وہ ہلکے ہلکے سے اپنا ہاتھ میری ران پر لگاتا اور پھر ہٹا لیتا اس دوران وہ ساتھ ساتھ مجھے پڑھا بھی رہا تھا میرے جسم میں مزے سے جھرجھری ہونے لگی اور میں بھی خاموشی سے بیٹھی پڑھتی رہی میری طرف سے کوئی مزاحمت نہ دیکھ کر عامر نے اپنا ہاتھ میری ران پر ہی رکھ لیا میں چپ چاپ اس کے ہاتھ کو محسوس کرنے لگی اور میرے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونے لگی اب میں بظاہر تو پڑھ رہی تھی مگر میرا دماغ پتہ نہیں کہاں چلا گیا تھا میری طرف سے جب بلکل کی کوئی ریکشن نہ ہوا تو عامر نے آہستہ سے میری ران سے ہاتھ اوپر کرکے میرے پیٹ پر پھیرنا شروع کر دیا 

Share this post


Link to post

عامر کےمیرے پیٹ پر ہاتھ پھیرنے سے میری سانسیں تیز ہو گئیں اور میرے بوبز اوپر نیچے ہونے لگا اور مجھے بہت مزا آنے لگا عامر نے مزید آگے بڑھتے ہوئے اب اپنے ہاتھ سے میرے بوبز کو چھونا شروع کر دیا اور کپڑوں کے اوپر سے ہی میرے بوبز کو دبانا شروع کر دیا میں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور خاموشی سے بیٹھی رہی جس پر عامر نے مزید آگے بڑھتے ہوئے مجھے اپنی بانہوں میں لے لیا اور میرے گال پر کس کرنے لگا میں نے آنکھیں بند کر کے ہی اسے کہا کہ مجھے چھوڑ دو کوئی آ جاۓ گا مگر اس نے یہ کہہ کر کہ کوئی نہیں آتا مجھے کس کر اپنی بازوؤں میں لے لیا اور میرے گالوں کو دیوانوں کی طرح چومنے لگا میرے بوبز اس کے سینے سے کس کے لگے ہوئے تھے اور وہ میری کمر پر اپنے دونوں ہاتھ اوپر نیچے کرنے لگا مجھے اتنا مزہ آیا کہ میں ریلیز ہوگئی مگر عامر کو بار بار چھوڑنے کا بھی کہتی رہی 

Share this post


Link to post

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...