Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
khoobsooratdil

*وبا*

Recommended Posts

*وبا*


پچھلے ایک مہینے سے ڈاکٹر جوزف اپنی زیر زمین لیبارٹری میں ایک خاص محلول تیار کر رہے تھے...
سارہ نامی ایک عیسائی خاتون جو ان کے ساتھ مکمل مدد کر رہی تھی...

آج بھی وہ ڈاکٹر جوزف کی مطلوبہ چیزیں لے کر آئی تھی..
اور پھر ڈاکٹر جوزف کے ساتھ ہی چند کام کروانے لگی گئی تھی،

ڈاکٹر جوزف آج خلاف معمول بہت پُرجوش نظر آتے تھے،

"میں نے کر دکھایا...وہ مجھ سے بہت خوش ہوں گے.."
وہ سرنج میں محلول ڈالتے ہوئے....سارا کو مخاطب کر کے اس کی طرف دیکھے بغیر کہے جا رہے تھے..
"میری سالوں کی محنت آخر آج مکمل ہو گئی..."

 سرنج میں اب ایک پیلا سا محلول موجود تھا...

سارا..جلدی سے "میرے مونکی" کو لے کر آو..!!

سارا نے لیبارٹری کے ہی دوسرے حصے سے جہاں کافی سارے پرندے اور جنگلی جانور موجود تھے..
وہاں سے ایک بندر جو ابھی چھوٹا سا ہی بچہ ہو گا..
اس کو پنجرے سمیت ہی لے آئی...

ڈاکٹر جوزف نے پنجرے کو کھول دیا..اور بندر کے گلے میں پٹہ ڈال کر اس کو لیبارٹری کے دوسرے حصے میں جہاں ہسپتال جیسے آپریشن تھیٹر کی طرح کی تمام مشینین فِٹ تھی..وہاں لا کر لٹا دیا..

 سارا نے مدد کرتے ہوئے..
بندر کے دونوں ہاتھوں اور  لاتوں کو بیڈ کے دائیں بائیں کی رسیوں سے باندھ دیا..
اب بندر مکمل بیڈ پر بندھ چکا تھا..
ڈاکٹر نے مختلف آلات کو اس کے ساتھ جوڑ دیا..

 پھر پیلے محلول کا انجیکشن بندر کی گردن کے بائیں طرف لگا دیا...
اور چند دوسرے انجکشن لاتوں اور بازوؤں میں لگا دیے...
بندر اب تڑپ رہا تھا..
ڈاکٹر جوزف مسلسل بندر کا بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن نوٹ کر رہا تھا..

ابھی تک دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر نارمل ہی تھا...
پھر اچانک ہی بندر کا بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن ایک ساتھ ہی بڑھنا شروع ہو گئے..
ڈاکٹر جوزف نے تیزی سے چلاتے ہوئے کہا :-
"اس کو ہارٹ اٹیک آ رہا ہے"..

ڈاکٹر جوزف نے فورا ہی چند خاص انجیکشن بندر کو لگائے اور پھر سینے پر کرنٹ کے جھٹکے دینا شروع کر دیے..
چند لمحوں تک بندر کی دل کی حرکت نارمل ہو گئی...اب ڈاکٹر جوزف کچھ پریشانی سے ایک طرف بیٹھ کر سارا سے کہنے لگے..کہ میں نے
سرٹیفائڈ فارمولے کی مدد سے محلول تیار کیا تھا..
لیکن مجھے لگتا ہے کہ شاید کچھ غلطی ہو گئی..
پتہ نہیں..مجھ سے کہاں کمی ہوئی..اب اس کا ری ایکشن کیا ہو گا....؟؟"
ڈاکٹر جوزف اپنے گھنگھریالے بالوں کو سختی سے مسلنے لگا..
اچانک لیب میں سائرن بجنے لگے ڈاکٹر جوزف تیزی سے اٹھے شاید کسی نے لیب میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی..
ڈاکٹر جوزف تیزی سے مرکزی حال میں پہنچے... 
سکرین میں مختلف مقامات کے مناظر چل رہے تھے..ایک منظر میں سیڑھیوں کی طرف سے چند نقاب پوش نیچے اتر کر آ رہے تھے..

ڈاکٹر نے فورا واپس آپریشن تھیٹر کی طرف دوڑ لگائی..
اور سارا کو جلدی سے ایک انجکشن لانے کا کہا...
"مجھے اس کو زہر دینا ہو گا..
یہ بندر ہمارے لئے خطرناک ہے.."
سارا چند لوگ لیبارٹری میں داخل ہوئے وہ یہاں کیسے آئے..؟؟

"مجھے نہیں پتہ..ڈاکٹر"
سارا نے جلدی ہی زہر والا انجکشن بھر دیا..
جوزف نے انجکشن سارا کے ہاتھ سے جھپٹا اور بیڈ کے طرف بھاگا ہی تھا کہ  نقاب پوش کمرے کے دروازے تک پہنچ گئے.. 
قریب تھا...کہ ڈاکٹر انجکشن لگا دیتا..
ایک نقاب پوش نے فورا ہی ڈاکٹر کی طرف فائر کیا جو ڈاکٹر کی ٹانگ میں لگا..
ڈاکٹر گر گیا..لیکن ڈاکٹر نے ٹیکا نہیں چھوڑا..
ڈاکٹر اٹھنا چاہتا تھا..
مگر درد کی وجہ سے ہمت جواب دے گئی..
"کون ہو تم...؟"
ڈاکٹر جوزف چلایا
نقاب پوش نے جوزف کی طرف دیکھا..اور ہنستے ہوئے کہا..
"میم سارا کے مہمان ہیں"

ڈاکٹر نے بے یقینی کی کیفیت میں سارا کی طرف دیکھا..جو اب آرام سے ڈاکٹر کی طرف چلی آ رہی تھی..
"سوری ڈاکٹر مگر مجھے یہ کرنا پڑا..
یہ بندر ہمارے لئے بہت اہم ہے..
میں بہت عرصے سے اسی لئے تمہارے ساتھ تھی.."
ڈاکٹر کا خون مسلسل بہہ رہا تھا..
سارا ڈاکٹر کے قریب پہنچ گئی اور جیسے ہی ٹیکا لینے لگی ڈاکٹر نے ٹیکا  سارا کے بازو میں گھونپ کر زہر سارا کے جسم میں اتار دیا..

ساتھ ہی نقاب پوش نے ڈاکٹر پر فائر کھول دیا..

ڈاکٹر تڑپ کر مر گیا..

اور ساتھ ہی سارا بھی لمبے سانس لینے لگی..
اس کی آنکھیں لال ہو رہی تھی..
اب اس کے منہ سے جھاگ نکلنے لگ گئی تھی..
نقاب پوش "میڈم میڈم" پکارتے سارا کے پاس پہنچا..
سارا کی بالآخر تکلیف سے تڑپتے ہوئے گردن ایک طرف ڈھلک گئی..

نقاب پوش نے نبض دیکھی..وہ رک چکی تھی..
..
آہ گولی چلانے والے نقاب پوش نے چیخ ماری..

"ڈاکٹر جہنم میں جاو تم.."
آہ میڈم..
"چلو جلدی سے بندر کو کھولو ہم اسے اپنے ساتھ لے کر جا رہے ہیں،
میڈم  نے کہا تھا
جنگل کے قریب لے کر جانا ہے اسے"
 ساتھ آئے تینوں نقاب پوش جلدی سے بندر کی طرف بڑھے اور اس کو رسیوں سے آذاد کیا اور پٹے سے پکڑ لیا..
بندر اب بے ہوش تھا..
ان میں سے ایک نے اسے ایک گتے کے کارٹن میں ڈالا اور اسے ٹیپ لگا دی..
اب وہ جلدی سے باہر کی طرف بھاگ رہے تھے...

خفیہ لیبارٹری جو باہر سے ایک عام گھر کی طرح نظر آتی تھی..
یہ سب اس سے باہر آ کر جلدی سے  اپنی گاڑی کی طرف بڑھے..
کارٹن کو انہوں نے کار کی ڈگی میں ڈال دیا..
ان کا جو باس تھا..وہ سخت پریشانی میں تھا..
اس نے جلدی سے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی بقیہ تینوں بھی جلدی سے بیٹھ گئے...
گاڑی کو تیز رفتاری سے اس نے وہاں سے نکالا..
اب یہ جنگل کی طرف جا رہے تھے..دو گھنٹے کے بعد یہ جنگل میں موجود تھے..
کافی دیر انتظار کرتے رہے مگر کوئی بھی ان سے ملنے نہیں آیا..
اب نقاب پوش سخت غصے میں تھا..
وہ ابھی بھی ڈاکٹر کو برا بھلا کہہ رہا تھا..
"ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن موجود ہے کیا..؟؟"
اس کے ایک ساتھی نے پوچھا..
میڈم نے مجھے صرف یہی بتایا تھا..
شِٹ اب ہم اس بندر کا کیا کریں گے..؟؟
مِشَن فیل ہو گیا..

"نو پرابلم برادر..."
ان میں سے ایک اور بولا..

لیکن باس نے اس کی بات کاٹتے ہوئے غصہ سے کہا:-
"ہم نے سیکیورٹی رسک لیا، ہم نے ایک خفیہ لیبارٹری پر حملہ کیا..!!
ہمارا کام صرف بندر کو اغواء کرنا تھا..!!!
اب وہاں دو قتل ہو چکے ہیں..
ہم بہت خطرے میں ہیں...
اب جلدی سے کارٹن اٹھاؤ، جنگل میں چلتے ہیں رات ہم یہی رکیں گے...''
..
چاروں نے گاڑی وہی چھوڑی...اور بندر کا کارٹن نکال کر جنگل کی طرف چل دیے....
کافی دیر چلنے کے بعد جنگل میں ایک جگہ...

ان کو ایک چھوٹا سا ریسٹورنٹ نظر آیا جو جنگل میں آنے والے شکاریوں کے لئے بنایا گیا تھا..
یہاں کوئی بھی نہیں تھا..
رات انہوں نے یہاں ہی گزارنے کا فیصلہ کیا..
ان میں سے ایک نے کارٹن کھولا..ٹیپ اتاری،
بندر اب بھی بے ہوش ہی تھا..
دروازے کے ساتھ انہوں نے بندر ،کی رسی کو باندھ دیا..اب وہ نقاب اتارنے لگے..
ان میں سے باس چھوٹی آنکھوں اور پھینی ناک والا تھا..بقیہ تینوں لمبے بالوں والے تھے..جو باس سے بالکل مختلف تھے..
ہم صبح تک دیکھیں گے شاید میڈم کی ٹیم آ جائے  ہم ان کو یہ بندر دے دیں گے...
صبح بھی بندر اسی طرح بے ہوش تھا..
ایک نے جب اس کو ہاتھ لگایا تو..بندر کا جسم سخت ہو چکا تھا..
"اوہ باس یہ تو مردہ..ہے.."
یہ چلایا...

باس ساتھ والے کمرے میں پہلے ہی جاگ کر نکلنے کی تیاری کر رہا تھا..
جیسے ہی اسے چیخنے کی آواز آئی اس نے دوڑ لگائی..
"باس وہ مر چکا"

"اوہ شِٹ...اب ہم کیا جواب دیں گے..
شِٹ شِٹ شِٹ"
باس اب چیخ رہا تھا..
اب ہم واپس جا رہے ہیں..
تم اب اپنے ٹھکانوں کو چلے جاو..کچھ دنوں تک ہم ایک دوسرے سے ملیں گے نہیں،
ہاں اس بندر کو بھی جنگل میں کہی پھینک دو..جلدی..،
ان میں سے ایک نے بندر کو واپس کارٹن میں ڈالا.
.
اور پھر وہ سب جلدی جلدی وہاں سے نکلے..
ایک جگہ پر گڑھے میں بندر کو پھینک دیا....
جنگل سے باہر آ کر انہوں نے گاڑی سٹارٹ کی، اب سب نے نقاب اتار دیا تھا..
باس نے بقیہ تینوں کو شہر میں مخلتف جگہ ڈراپ کیا..اور پھر خود اپنے فلیٹ کی طرف آ گیا..
ایک دو ہفتوں کے بعد اسے ایک پارٹنر کی کال آئی..
وہ بتا رہا تھا..کہ میں سخت تکلیف میں ہوں..
یہ اس سے ملنے گیا..اس کا سانس مشکل سے آ رہا تھا..
یہ اس کو ہسپتال لے کر گیا..
ڈاکٹر نے ٹریٹمنٹ شروع کی مگر رات کو سانس کے اکھڑنے سے وہ مر گیا...

"یہ مہینہ ہی منحوس ہے.."
باس ابھی بھی غصہ میں تھا..
جب اس نے بقیہ دو پارٹنرز سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو ان سے رابطہ نہ ہو سکا..
اس نے ان کو ڈھونڈنا چاہا..
مگر وہ مل نہ سکے...
..
دو تین دن بعد اس نے واپس اپنے ملک جانے کا فیصلہ کیا..
...
بارہ گھنٹے کے فلائیٹ کے بعد یہ اپنے ملک پہنچ چکا تھا...
اپنے ملک کی آب و ہوا کا اثر تھا.. یا پتہ نہیں کیا تھا..
کہ اس کو ہلکا ہلکا نزلہ اور چھینکیں..تھی..

یہ چھ مہینوں بعد اپنی بیوی سے مل رہا تھا..
..
آج اس کو آئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا..
اس کی کھانسی شدید ہو چکی تھی....
اس نے ہسپتال جانے کا فیصلہ کیا..
اب اس کو سانس لینے میں بھی مشکل پیش آ رہی تھی..
ڈاکٹرز نے اس کو ہسپتال میں ایڈمٹ کر لیا..

دوائی وغیرہ اس کو دی گئی..
ایک دو دن بعد یہ ٹھیک ہو گیا..
مگر ٹھیک دو ہفتوں بعد اس کی بیوی کو ایسی ہی تکلیف ہوئی..مگر وہ بچ نہ سکی..کچھ دنوں بعد جس ملک سے یہ آیا تھا..وہاں  بھی ایسے ہی بے شمار کیسز آ چکے تھے..لوگ مرنا شروع ہو گئے تھے..
اب یہاں بھی اس کی بیوی کے مرنے کے بعد،
مختلف کیسز ہسپتال میں ری پورٹ ہو رہے تھے..
دونوں ملک ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہے تھے...

ایجنسیز نے اس کو پکڑ کر پوچھ گچھ شروع کر دی تھی..کیوں کہ یہ اس بیماری کا پہلا مریض تھا...
اس نے اپنی سفر کی ہسٹری بتائی...
لیکن حالات اب قابو سے باہر ہو چکے تھے..یہ مرض اب پورے ملک میں پھیل چکا تھا..
ایک فیسٹیول کی وجہ سے،جس میں اس نے اپنی بیوی سمیت شرکت کی تھی،
اب دوسرے ممالک میں بھی ایسے ہی کیس رپورٹ ہو رہے تھے...

ایک وبا تھی،جو پھیل چکی تھی..
جو دھڑا دھڑ جانیں لے رہی تھی..
لیکن اس کو روکنے والا کوئی نہیں تھا....!!
..
اُس کو ایجنسیز نے مسلسل تحویل میں لے رکھا تھا..
وہاں لیبارٹری میں ڈاکٹر جوزف اور سارا دونوں کی لاش سڑ گل گئی تھی...
خفیہ لیبارٹریز کا یہی نقصان ہے جب تک اندر والا نہ چاہے کوئی اندر نہیں آ سکتا..

اب ان کی لاشوں میں ہزاروں سوالوں کے جواب موجود ہیں..
کاش وہاں جا کر کوئی معلوم کر لے...
وہ پیلا سا محلول کیا تھا..؟؟
وہ کس نے تیار کروایا تھا...؟؟
سارا نے اغواء کیوں کرنا چاہا..؟؟
یہودی ڈاکٹر کس کے لئے کام کر رہا تھا... ؟؟
عیسائی لڑکی کس کے اشاروں پر چل رہی تھی..؟؟
شاید ان کے آقاؤں کو بھی نہیں پتہ اِن سے کیا غلطی ہو چکی..

شاید وہ آقا بھی اس معاملے میں اتنے ہی بے بس ہیں..
جتنا وہ "اغواء کار" جو ایجنسیز کے تحویل میں ہے...
کاش کوئی تو منہ کھولے...!!!

 

Share this post


Link to post

اردو فن کلب کے پریمیم سیریز اور پریمیم ناولز اردو فن کلب فورم کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جو فورم کے پریمیم رائیٹرز کی محنت ہے اور صرف وقتی تفریح کے لیئے فورم پر آن لائن پڑھنے کے لیئے دستیاب ہیں ۔ ہمارا مقصد اسے صرف اسی ویب سائیٹ تک محدود رکھنا ہے۔ تاکہ یہ گناہ جاریہ نہ بنے ۔ اسے کسی بھی طرح سے کاپی یا ڈاؤن لوڈ کرنے یا کسی دوسرے دوست یا ممبر سے شیئر کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ۔ جو ممبران اسے اپنے دوستوں سے شئیر کر رہے ہیں ۔ ان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے ممبر سے بھی شئیر نہیں کر سکتے ۔ ورنہ ان کا مکمل اکاؤنٹ بین بھی ہو سکتا ہے۔ ڈیٹا شیئر کرنے والہ ممبراس بات کا عملی اقرار کرے گا کہ وہ بروز قیامت فورم انتظامیہ، سٹوری رائیٹر اور فورم ایڈمن کے تمام گناہوں کا اکلوتا وارث ہو گا ۔ اور بروز قیامت اپنی تمام نیکیاں (جو بھی اس کے نامہ اعمال میں ہوئیں ) بروز قیامت مجھے دینے کا پابند ہو گا۔ اگر کوئی ممبر اب بھی ایسا کرتا ہے اور گناہ جاریہ کا سبب بنتا ہے ۔ تو اس شرط کو ایگری کرتے ہوئے شیئر کر سکتا ہے ۔ فورم کو اس ایگری منٹ پر اجازت دینے میں کوئی اعتراض نہیں ۔ ایڈمن اردو فن کلب

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...