Jump to content
URDU FUN CLUB
Haider514

ارمان ایک طویل داستان

Recommended Posts

 

ہر وہ چاہت ختم ہو جاتی ہے ،
جس کی ہمیں تمنّا ہوتی ہے . . . 

خواب ہمارے حقیقت كے سامنے دم
توڑ دیتے ہے اور بچتی ہے تو صرف راکھ ،
یادوں کی راکھ ،
جس کے سہارے ہم پھر اپنی باقی کی زندگی
اجڑاتے ہے ،
کبھی کبھی  آپ کے ساتھ ایسا کچھ ہو جاتا ہے جس کی آپ نے کبھی توقعہ تک نہیں کی ہوتی ہے . . . .

" کالج میں جا کر پڑھائی کرنا بے ،
چھانے بازی میں مت رہنا اور نہ ہی اِس چکر میں پڑھنا . . . " 
میرا بھائی مجھے گاؤں سے رخصت کرتے ہوئے نصیحت کر رہا تھا وہ بھی بڑے پیار سے . . .

" جی بھائی . . . "

" شراب ،
 سگریٹ ان سب کو چھوا بھی تو سوچ لینا . . . . "

" جی بھائی . . . "

" اور سن ارمان لڑائی جھگڑے اور تنظیم میں جانے کی ایک بھی خبر گھر پر آئی تو اسی وقت تیری ٹی-سی نکلوا دوںگا سمجھا . . . "

" جی بھائی . . . " 

میرا بھائی مجھے بلکل اس طرح سمجھا رہے تھے ،
جیسے کہ آرمی کا کرنل اپنے سپائیوں کو قانون پر عمل درآمد کرنے كے لیے کہہ رہا ہو . . .

 سرور بھائی مجھے کالج میں چھوڑنے بھی آئے تھے ،
 اور میرے لاکھ منع کرنے كے باوجود میرے رہنے کا انتظام ہاسٹل میں کر دیا تھا اور ابھی رخصت ہوتے وقت مجھے سب بتا كے جا رہے تھے کہ مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے . . . . . 

بھائی كے جانے كے بَعْد میں وآپس ہاسٹل آیا ، 

اِس دوران جو ایک بات میرے ذہن میں کھٹک رہی تھی ،
وہ یہ تھی کہ تنظیم سازی سے کیسے بچا جاۓ، 
کچھ دنوں پہلے ہی اخبار میں پڑھا تھا کہ ایک اسٹوڈنٹ نے تنظیم سازی سے تنگ آ کر اپنی جان دے دی تھی . . . . 

کالج والوں نے ایک اچھا کام کیا تھا اور وہ تھا کہ فرسٹ ایئر کا ہاسٹل ہمارے سینیرز سے
الگ تھا ،
 لیکن شام ہونے تک پورے ہاسٹل میں یہ خبر پھیل چکی تھی کہ آج رات کو دس بجے سینیرز ہاسٹل میں تنظیم سازی کا عمل کرنے  آئینگے ، 
جب سے یہ سنا تھا ، 
دِل بری طرح دھڑک رہا تھا ، 
ہر آدھے گھنٹے میں پانی پینے كے بہانے نکلتا اور دیکھ کر آتا کہ کہی کچھ ہوا تو نہیں ہے ،
 وہ پوری رات میری زندگی کی سب سے خراب رات تھی ، . . .

 پوری رات میں چین سے نہیں سو سکا ،
 اس رات کوئی نہیں آیا اور دوسرے
دن میری آنکھ میرے روم کو کسی نے کھٹکھٹایا تب کھلی . . . .

" گھوڑے بیچھ کر سوتے ہو کیا . . . " 
ایک لڑکا اپنا بیگ لیے روم كے باہر کھڑا تھا ، اور پھر مجھے پکڑ کر باہر کھینچ لیا ،


" یہ ،
 یہ کیا کر رہے ہو. . . "
میں نے چلاتے ہوئے بولا . . .

" چلو میرا سامان اٹھاؤ یار . . . 
بہت بھاری ہے . . . . "
" تم بھی اسی روم میں رہو گے. . . "

" بالکل سہی سمجھے ،
 اور میرا نام ہے اظہر. . . . "

" ارمان . . . " 
میں نے ہاتھ ملاتے ہوئے اسے کہا ،
 اور جب اس کا پورا سامان روم كے اندر آ گیا تو میں نہانے كے لیے چل دیا . . . .

آج اس عادت کو چھوڑے ہوئے تو بہت دن ہو گئے ہے ،
 لیکن اس وقت میری ایک عجیب عادت تھی ، میں جب بھی کسی لڑکے سے ملتا تو سب سے پہلے یہی دیکھتا کہ وہ مجھ سے زیادہ ہینڈسم ہے یا نہیں ، 
اور اظہر کو دیکھ کر میں نے خود سے چیخ چیخ کر یہی کہا تھا کہ "
 میں اس سے زیادہ ہینڈسم ہوں . . . . "

" تم آج کالج نہیں جاو گے کیا . . . "
کالج كے لیے تیار ہوتے ہوئے میں نے اظہر سے پوچھا ، 
اظہر ہائیٹ میں میرے برابر ہی تھا ، 
لیکن اس کا رنگ کچھ سانولا تھا . . . .

" جاؤں گا نہ . . . "

" نو بجے کالج شروع ہوتا ہے  . . . "

" تو . . . . " 
بستر پر پڑے پڑے اس نے کہا . . .

" تو ، 
تیار نہیں ھونا کیا ،
ساڑے آٹھ تو کب كے ہو گئے ہے . . . "

" دیکھو ،
 میں کوئی لڑکی تو ہوں نہیں ، 
جو پورے ایک گھنٹہ تیار ہونے میں ٹائم لگا دوں اور ویسے بھی میں گھر سے نہا کر آیا تھا تو آج نہانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا . . . "


" لگتا اسے باہر کی ہوا لگ گئی ہے . . . "

اس کے بَعْد میں نے اتنا دیکھا کہ ، 
آٹھ بج کر 45 منٹ ہوتے ہی اس نے اپنا بیگ اْٹھایا اور روم میں لگے شیشے میں ایک بار اپنا چہرہ دیکھا اور میرے ساتھ ہاسٹل سے باہر آ گیا . . . .

فرسٹ ایئر کی کلاسز میں تھوڑی تبدیلی کی گئی تھی ،
تنظیموں کے سینیرز لڑکے ہمارا نام اپنی اپنی تنظیموں میں نہ لکھ  سکے ،
اس لئے ہماری کلاس کو ایک گھنٹے پہلے ہی شروع کر دیا تھا اور سینیرز کی کلاس ختم ہونے سے ایک گھنٹے پہلے ہی ہمارا  ڈے اوف ہو جانا تھا . . . . . 

لیکن کچھ سینیرز ایسے بھی ہوتے ہے جن کی گانڈ میں کچھ زیادہ ہی خارش ہوتی ہے اور
وہ ہماری ٹائمنگ میں ہی کالج آ جاتے تھے ، . . .

" یار تیرا سبجیکٹ کون سا ہے . . . "
راستے میں،
 میں نے اسے پوچھا . . .

" مکینیکل . . . " 
کاشف نے جواب دیا ،

" میرا بھی مکینیکل . . . " 
تھوڑا خوش ہوتے ہوئے میں نے کہا " 

مطلب کہ ہم دونوں ایک ہی کلاس میں
بیٹھینگے . . . "


" روک روک . . . " 
مجھے کاشف نے روکا ،
 ہم اس وقت کالج سے تھوڑی سی دوری پر تھے ، 
یا پھر یوں کہہ کہ ہم کالج  تقریباً پہنچ ہی گئے تھے . . .


" کیا ہوا . . . "

" اُدھر دیکھ ،
 کچھ سینیرز کھڑے ہے . . .
 پیچھے کے راستے سے چلتے ہے  . . . "

" تجھے معلوم ہے دوسرا راستہ . . . "

" مجھے سب معلوم ہے ، 
چل آجا . . . "

 ہم دونوں نے وہی سے ٹرن مارا اور کچھ دیر پیچھے چلنے كے بَعْد اس نے مجھے جھاڑیوں میں گھسہ دیا . . . .

" تجھے پکا معلوم ہے راستہ . . . "

" ہاں میرے بھائی کہ کچھ دوست یہاں سے پاس ہوئے ہے ،
انہوں نے ہی مجھے بتایا تھا اِس راستے كے بارے میں . . . . "

جیسے تیسے کر کے ہم دونوں آگے بڑھتے رہے اور پھر مجھے کالج کی دیوار بھی نظر آنے لگی ،
کالج كے اندر جانے کا ایک اور راستہ ہے ،
 یہ مجھے اظہر نے بتایا تھا . . . 

جب ہم دونوں اس جھاڑیوں والے راستے سے نکل کر باہر آئے تو مجھے وہ گیٹ دکھا ،
 جس کے بارے میں اظہر نے کہا تھا ، 
وہ گیٹ کالج میں کام کرنے والے ورکرز كے لیے تھا ، 
جن کا گھر وہی قریب ہی تھا . . . . .


" کوئی فائدہ نہیں ہوا ، "
اظہر بولا "
وہ دیکھ کمینی سینیر گرلز کھڑی ہے ،


دُنیا میں 99 % لڑکیاں خوبصورت ہوتی ہے اور جو 1 % باقی بچتی ہے وہ آپ کے کالج میں پڑھتی  ہے ،
ایسا میں نے کہی سنا تھا ،
 لیکن میری آنکھوں كے سامنے ابھی پانچ چھے سینیر لڑکیاں کھڑی تھی ،
جو ایک سے بڑھ کر ایک تھی ،
 ان پانچ چھے سینیر گرلز کو دیکھ کر ہی ایسا لگنے لگا تھا جیسے کے دُنیا کی 99 % خوبصورت لڑکیاں ہمارے کالج میں ہی پڑھتی ہو . . . .


" یار ،
کیا مال ہے . . . "
 میں نے اظہر سے کہا . . .

" چُپ کر اور انہیں دیکھے بنا سیدھے چل ، 
سن  پکڑ لیا تو برا حال کر دینگی . . . "

" یار یہ لڑکیاں ہے ،
اتنا کیوں دَر رہا ہے . . .
 گھوما كے دوں گا ایک ہاتھ سب بھاگ جائینگی  . . . " 
میں نے مردانہ آواز میں بولا ،

" یار تو تو ان کو بھاگا دے گا ،
لیکن جب انہی لڑکیوں كے پیچھے سارے سینیرز آئینگے تب کیا کرے گا . . . . "


" اچھا کرنا کیا ہے ، 
یہ بتا . . . "

" کچھ نہیں کرنا بس چُپ چاپ اندر گھس جانا . . . "

" اوکے . . . "
میں نے ایسے کہا جیسے کوئی بہت بڑا مشن پورا کر لیا ہو .

ہم دونوں ان لڑکیوں کی طرف بنا دیکھے سامنے چلے جا رہے تھے ،
اور جب ہم نے ان لڑکیوں کو کراس کیا
تو اس وقت دِل کی دھڑکنیں بڑھ گئی ،
دل مچل رہا تھا کہ ان کو دیکھوں ،
ان کی چھاتیوں کو دیکھ کر اپنے
اَرْمان پورا کروں . . . 

لیکن میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا اور چُپ چاپ سامنے دیکھ کر چلتا رہا . . . .

" اوئے ماں کے لال . . . "
ہم بس گیٹ سے اندر ہی گھسنے والے تھے کہ ان لڑکیوں نے آواز دی . . . .

" شاید میرے کان بج رہے ہے . . . "

" نہیں بیٹا ،
یہ کان نہیں بج رہے ہے ،
یہ ان گوری گوری حوروں کی آواز ہے . . . "

" تو اب کیا کرے ،
 تیزی سے اندر بھاگ لیتے ہے ،
کالج كے اندر وہ بدمعاشی نہیں کر پائیں گی . . . "

" اس وقت بھاگنے کا مطلب ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

اردو فن کلب کے پریمیم ممبرز کے لیئے ایک لاجواب تصاویری کہانی ۔۔۔۔۔ایک ہینڈسم اور خوبصورت لڑکے کی کہانی۔۔۔۔۔جو کالج کی ہر حسین لڑکی سے اپنی  ہوس  کے لیئے دوستی کرنے میں ماہر تھا  ۔۔۔۔۔کالج گرلز  چاہ کر بھی اس سےنہیں بچ پاتی تھیں۔۔۔۔۔اپنی ہوس کے بعد وہ ان لڑکیوں کی سیکس سٹوری لکھتا اور کالج میں ٖفخریہ پھیلا دیتا ۔۔۔۔کیوں ؟  ۔۔۔۔۔اسی عادت کی وجہ سے سب اس سے دور بھاگتی تھیں۔۔۔۔۔ سینکڑوں صفحات پر مشتمل ڈاکٹر فیصل خان کی اب تک لکھی گئی تمام تصاویری کہانیوں میں سب سے طویل کہانی ۔۔۔۔۔کامران اور ہیڈ مسٹریس۔۔۔اردو فن کلب کے پریمیم کلب میں شامل کر دی گئی ہے۔

 

" اس وقت بھاگنے کا مطلب ہے ان کا دھیان اپنی طرف کرنا،
بَعْد میں یہ اور بھی مسلہ بنا لیں گی . . . "

" جلدی بتا ، 
کرنا کیا ہے . . . "
 میرے قدم وہی روک گئے تھے اور پسینے سے برا حال تھا ،
اس وقت میں نے سوچا تھا کہ شاید اظہر میں تھوڑی ہمت ھوگی ،
 لیکن جیسے ہی اس کو دیکھا ،
 تو جو میرے منہ سے نکلا وہ یہ تھا . . .

" بہن چود یہ تو مجھ سے بھی زیادہ ڈرا ہوا ہے . . . . "

" ماں کے لاڈلو ، 
سنائی نہیں دیتا کیا تم دونوں کو اِدَھر آؤ . . . " 

جن لڑکیوں کو کچھ دیر پہلے میں جنت کی
حوریں سمجھ کر لائن مارنے کی سوچ رہا تھا ، وہ اب دوزخ کی چڑیلیں بن گئی تھی . . .

" جی . . .
 جی . . . 
میم ،
آپ نے ہمیں بلایا . . . "
 اظہر نے ان کے پاس جا کر بولا ، 
میں اس کے پیچھے کھڑا تھا . . .

" تم ہٹو . . . "
اظہر کو زور سے دھکہ دے کر ان چڑیلوں نے میری طرف دیکھا . . .

" اور چکنے کیا حال ہے . . . "

" جی ٹھیک. . . "
 کانپتے ہوئے میں نے کہا ،
 اس وقت میں پورا جسم پسینے سے بھیگ چکا تھا . . .

" سگریٹ پئے گا . . . "
 اُن میں سے ایک لڑکی نے سگریٹ نکالی اور میری طرف بڑھا کر پوچھا . . . .

میں نے ایک دو بار سگریٹ پی تھی ،
 لیکن کسی دودھ پیتے بچے کی طرح ، کش کھینچا اور پھر دھواں باہر پھینک دیا . . . .

 میں یہاں یہ سوچ کر آیا تھا کہ جس طرح میں ہمیشہ سے اسکول میں اچھا سٹوڈنٹ تھا ، اسی طرح یہاں بھی ٹوپ کروں گا ،
 اور سگریٹ ،
 شراب اور لڑکی کو بس دور سے دیکھ کر مزہ
لوں گا . . . .

" چلو سگریٹ جلاو . . . "
 ان چڑیلوں میں سے ایک چڑیل نے سگریٹ میرے منہ میں پھنسا دیا اور اس وقت
میرے ذہن میں میرے بڑے بھائی كے کہی ہوئی  بات آئی . . .

" ارمان سگریٹ اور شراب کو چھوا بھی تو سوچ لینا . . . "

" جی بھائی . . . "

" میں سگریٹ نہیں پیتا سوری . . . "
 ان لڑکیوں نے جو سگریٹ میرے منہ میں پھنسائی تھی اسے ایک جھٹکے سے
میں نے منہ سے نکال کر زمین پر پھینک دیا ، جس سے ان کا غصہ آسمان کو چھو گیا . . .

" کیوں کمینے،
 تو کیا سمجھا کہ پیچھے كے راستے سے آئیگا تو تنظیم سازی سے بچ جائیگا اور تجھ میں اتنی ہمت کہاں سے آئی جو تو نے سگریٹ کو پھینک دیا . . . "

ان کے منہ سے گالی سنی تو مجھے یقین ہی نہیں ہوا کی ایک لڑکی بھی گالی  دے سکتی ہے ، 
میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ كے ان لڑکیوں کو دیکھ رہا تھا . . . .

 تب  اُن میں سے کسی کا فون بجا اور وہ سب چلی گئی لیکن جاتے  جاتے انہوں نے مجھے دھمکی دے ڈالی کہ وہ مجھے اِس کالج سے بھگا کر رہیگی . . . . . . .


" تیری تو گانڈ پھٹ گئی بیٹا . . . . "
 ان کے وہاں سے جانے كے بَعْد اظہر میرے پاس آیا . . .

" اب کلاس چلے . . . "

جب تک ہم کلاس كے اندر نہیں پہنچے اظہر تنظیموں كے بارے میں بتابتا کر ڈراتا رہا ،
لیکن میں ایسے ری ایکٹ کر رہا تھا ،
جیسے کہ مجھے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا ہو ، 

لیکن اصلیت یہ تھی کہ  یہ سب صرف ایک
دکھاوا تھا ،
میں خود بھی اندر سے بہت زیادہ ڈرا ہوا تھا . . . .

" وہ دیکھ اس چشمے والی کو ،
دیسی آم لگ رہی ہے ،
 اک بار کھانے کو مل جائے تو مزہ آ جائے . . . "

شریف تو میں بھی نہیں تھا ،
لیکن اِس طرح  سب کے سامنے ایسی باتیں کرنے سے میں گریز کرتا تھا ،
جسے سب کو اکثر یہی بھرم ہوتا تھا کہ میں بہت بڑا شریف ہوں اور اکثر میرے ایگزام كے رزلٹ اِس بات پر مہر لگا دیتے تھے . . .

 لیکن مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ میرا جتنا بھی اچھا وقت تھا وہ ختم ہو چکا تھا اور میں یہاں اپنی زندگی کی بربادی لینے آیا تھا . . . . .

" فرسٹ کلاس کس کی ہے . . . . "
میں نے اظہر سے پوچھا ، . . .

" یار ، 
میرا بھی آج پہلا دن ہے . . .
 اور ابھی سے دماغ مت کھا . . . "

فرسٹ ایئر میں سبھی سبجیکٹ والوں کا کورس سیم ہوتا ہے ،
اس لئے دو دو سبجیکٹ والوں کو ایک ساتھ ارینج کیا گیا تھا ،
 میرا اور اظہر کا سبجیکٹ مکینیکل تھا ،
لیکن ہمارے ساتھ مائننگ سبجیکٹ كے بھی اسٹوڈنٹ تھے ،
اور مجھے جو ایک بات پتہ چلی وہ یہ تھی کہ ،
 مجھے صرف اپنے سبجیکٹ كے سینیرز سے بچنا تھا اور میں ہاسٹل میں رہتا ہوں تو اس لئے میری تنظیم سازی صرف ہاسٹل كے سینیرز ہی کر سکتے ہے ،
جو لوکل ہے یا پھر شہر میں رہتے ہے ، 
وہ لوکل تمہاری تنظیم سازی کر لے تو تم انہیں کچھ کہہ نہیں سکتے ہو اور شہر والے کوئی تنظیم سازی کرے تو ہاسٹل والے ساتھ دیتے ہے ،
 ایسا قانون یہاں چلتا تھا . . . . .

" کچھ بھی بول یار تنویر ،
 لیکن کالج اچھا ہے ،
 یہاں کی لڑکیاں بھی اچھی ہے . . . "
 پیچھے والے بینچ پر اپنے دونوں ہاتھ تھپ تھپا کر اظہر بولا ،
 اتنے دیر میں شاید وہ میرا نام بھول گیا تھا . . . .
" ارمان ، 
ناٹ تنویر . . . "

" اچھا نہ یار اب دماغ کھا مت . . . "

" پتہ نہیں کس سے پالا پڑا ہے . . . "
 میں بڑبڑایا  اور پھر آگے دیکھنے لگا . . . .


" گڈ مارننگ اسٹوڈنٹ . . . "
 اپنے سینے سے ایک بُک چپکا کر ایک میڈم  اندر آئی ،
 میڈم کیا وہ تو پوری حسن کی دیوی تھی ،
 5 ’ 8 " لگ بھگ قد،
 ماڈلز والی کمر ، 
گورا رنگ . . . .

 اسے کلاس كے اندر آتا دیکھ کر سبھی کھڑے ہو گئے اور کچھ لڑکوں کا بھی کھڑا ہو گیا ،

" بہن چود یہ کالج ہے یا ہیرا منڈی،
جدھر نظر گھماؤ ایک سے بڑھ کر ایک دکھتی ہے . . . "
 اظہر اپنے ٹھرکی انداز میں دھیرے سے بولا . . . .

اس کے بَعْد کچھ دیر تک انٹرودکشن چلا ،
جس میں ہمیں اس میڈم کا نام معلوم چلا ، . . .

 اس 5 ’ 8 " ہائیٹ والی میڈم کا نام سحرش تھا ،
اور وہ ہمیں کمپیوٹر سائنس پڑھانے آئی تھی ، 

بہن چود جتنی زیادہ گوری تھی اتنا ہی کالا اس کا دِل تھا ،
کلاس میں آتے ہی اس نے ایک ساتھ  دس  اسائنمنٹ دے دیئے اور بولا کہ ہر تین دن
میں وہ ایک اسائنمنٹ چیک کریگی اور تو اور نیکسٹ منڈے کو ٹیسٹ کا بول کر اس نے سب کی پھاڑ كر رکھ دی . . . . .


" یہ میڈم  کون ہے ،
اس کی ماں کی . . . "
اظہر رونے والی اسٹائل میں بولا "
باہر ملے گانڈ مار لوں گا اسکی . . . "

"حوصلہ کر بھائی . . . " 
اس کے کاندھے کو سہلا کر اسے دلاسہ دیتے ہوئے میں نے بولا . . . . .


" میرا لنڈ حوصلہ کر ،
اسے تو حویلی میں لے جا کر چودوں گا ، . . . "

" حویلی . . . . "
" تو بچہ ہے ابھی ،
 منٹو کو پڑھ ، 
یہ سب بڑے لوگ کرتے ہے . . . "

اظہر کیا کہنا چاہتا تھا ،
یہ تو میرے سَر كے اوپر سے نکل گیا ،
 
سحرش میڈم نے آتے ہی سب کی پھاڑ کر رکھ دی تھی ،
 یہ تو سچ تھا ،
 لیکن سچ یہ بھی تھا کہ اس ایک کلاس میں ہی آدھے سے زیادہ لڑکے ایک دوسرے کو
بولنے لگے تھے کہ"
 سحرش میڈم تیری بھابی ہے . . . . "

سحرش میڈم كے گھنے لمبے لمبے بال تھے ، . . . . 
سَر كے ،
اور اس کے بال اکثر اس کے چہرے پر آ جاتے ،
جنہیں کسی فلمی ہیروئن کی طرح اپنے سامنے آئے بالوں کو وہ پیچھے کرتی ،

اس پیریڈ میں ہماری کلاس کی لڑکیوں کی  شکلیں بنی ہوتی تھی ،
یوں تو پورا کالج حوروں سے بھرا پڑا تھا ،
 لیکن ہمارے سبجیکٹ کی لڑکیاں کومیڈی سرکس کی جوگر لگتی تھی ،
 سوائے ایک دو کو چھوڑ کر ،
انہیں کوئی نہیں دیکھنے والا تھا ،
کیونکہ جب ہیرا سامنے ہو تو کوئلے کی خوائش کون کرے گا . . . .


" تمہارا نام کیا ہے . . . . " 
" سنائی نہیں دیتا کیا . . . "

" یار تجھے بول رہی ہے ، 
کھڑے ہو . . . "
 اپنی کہنی کو اظہر نے میرے پیٹ میں دے مارا اور میں جیسے اپنے خیالوں سے باہر آیا . . . 

اِس طرح مجھے کھڑا کرنے سے میں تھوڑا ہڑبڑا  گیا تھا ، 
جس کی وجہ سے کچھ اسٹوڈنٹ ہنس بھی رہے تھے . . . . .

" یس میم . . . " 
میں اٹھ کھڑا ہوا ،
 میری حالت اس وقت بلکل ویسی تھی ، جیسے ایک بکرے کی حالت قصائی کو
دیکھ کر ہوتی ہے ،

" پہلے ہی دن ،
 پہلے ہی کلاس میں بے عزتی . . . "

 سچ بتاؤں ،
تو میری اس وقت پوری طرح پھٹی ہوئی تھی ، نا جانے وہ کیا بول دے . . . .

" تم اپنا رجسٹر لے کر اِدَھر آؤ . . . "
 سحرش میم نے مجھے سامنے بلایا . 

Share this post


Link to post
Share on other sites

 


" تُم اپنا رجسٹر لیکر ادھر آؤ . . . "
 سحرش میم  نے مجھے سامنے بلایا . . . .

دِل کی دھڑکنیں بڑھنے لگی اور یہی خیال آتا رہا کہ سحرش میم  کہی کچھ پُوچھ نہ لے ، 
کیوںکہ ابھی تک نہ تو میں نے کچھ لکھا تھا اور نہ ہی کچھ پڑھا تھا ،
 ابھی تک میرا دھیان صرف اور صرف اس کی جوانی پر تھا . . . .
 
" یہاں میں مذاق کر رہی ہوں کیا . . . . "

" نو میم . . . "
 اپنا سَر جھکائے میں کسی بچے کی طرح سامنے کھڑا تھا ،
 اور اس وقت کا انتظار کر رہا تھا ، 
جب وہ غصے سے چلاتے ہوے میرا رجسٹر پھینک دے اور میں پھر اپنا رجسٹر اُٹھا کر واپس اپنی جگہ پر بیٹھ جاؤں . . . . .

" نام کیا ہے تمہارا . . . "

" ارمان . . . . "

" کیا ارمان ہے تمھارے ، . . . 

ذرا سب کو بتاؤ . . . "

" سوری میم ،
 دوبارہ کچھ نہیں کروں گا . . . . " 
یہ تو میں نے میم سے کہا ، 
لیکن میں اسے کچھ اور بھی بول
سکتا تھا اور وہ یہ تھا " کہ 
میرے ارمان یہ ہے کہ تجھے پٹخ پٹخ کر چودوں ،
کبھی آگے سے تو کبھی
پیچھے سے . . . . "

" سٹ ڈاؤن ،
اور دوبارہ میری کلاس میں کوئی حرکت کرنے سے پہلے سوچ لینا . . . "

اپنا منہ لٹکاے ،
میں وآپس اپنی جگہ پر آیا ،
جہاں اظہر بیٹھا مزے لے رہا تھا . . . .

" اب چُپ ہو جا . . . "
 غصے میں میں نے کہا اور میری آواز ذرا تیز ہو گئی ، 
جسے وہ 5 ’ 8 " ہائیٹ والی پھر غصہ ہوگئی اور مجھے ایک بار پھر سے کھڑا کیا . . . .

" وہ میم اس سے میں کچھ پُوچھ رہا تھا . . . " 

سحرش میم ،
میرا گلا دباتی اس سے پہلے ہی میں نے بول
دیا . . . .

" تُم بھی کھڑے ہو . . . "
 اب کے بار اشارہ اظہر کی طرف تھا ،
اور جب میم نے اسے کھڑے ہونے كے لیے کہا تو
اس کے چہرے کا رنگ بھی بَدَل گیا ، . . .

" کیا پُوچھ رہا تھا یہ تم سے . . . "

" وہ میم ،
بائنری کو کنورٹ کرنے کا میتھڈ ، 
پُوچھ رہا تھا . . . "
 جھوٹ بولتے ہوئے اظہر نے میری
طرف دیکھا اور ساری کلاس نے ہم دونوں کی طرف نگاہیں ڈالی . . .

" گیٹ آؤٹ . . . . "

" کیا . . . "

" میری کلاس سے باہر جاؤ اور آج کی تمہارا حاضری کٹ ،
اور اگلی کلاس میں آؤ ،
تو ذرا خیال سے ،
کیونکہ نیکسٹ کلاس میں تم نے کوئی حرکت کی تو اسائنمنٹ ڈبل ہو جائیگا . . . . . 

اِس آس میں کہ میم کا دِل تھوڑا نرم ہو جاۓ اور وہ مجھے وآپس بیٹھا دے ،
اس لئے میں تھوڑی دیر اپنی جگہ پر کھڑا
رہا ، . . .

 لیکن وہ اِس دوران ہزاروں بار مجھے باہر جانے كے لیے بول چکی تھی ،
اور پھر اس نے آخری بار  پرنسپل كے پاس لے جانے کی دھمکی دی . . .


 پوری کلاس كے سامنے میری عزت میں چار چاند لگ چکے تھے ،

لیکن جب سحرش میم نے پرنسپل کا نام لیا تو میں کسی بھیگی بلی کی طرح کلاس سے باہر آ گیا . . . . . . .

مجھے اب بھی یاد ہے اس دن میں پورے چالیس منٹ کلاس كے باہر کھڑے رہا ، 
اور پھر جب سحرش میڈم کا پیریڈ ختم ہوا اور وہ باہر نکلی . . . 

لیکن میری طرف غصے سے اپنی ناک چڑاتی ہوئی وہاں سے آگے چلی گئی ،
اور جب میں کلاس میں گیا تو تب سبھی کی نظریں مُجھ پر ہی ٹکی ہوئی تھی . . . . .

" آؤ بیٹا ارمان ،
کیا پورے ہوئے آپ کے دِل كے ارمان . . . "

" چُپ ہوجا کمینے ،
ورنہ یہی مار دونگا ، 
دماغ مت خراب کر . . . "


" او تیری ،
 سوری یار . . .
  تجھے برا لگا ہو تو . . . "
اظہر بولا . . .

اس دن اس کلاس میں دو لوگ ایسے تھے ، جنہیں میں چاہ کر بھی نہیں بھلا سکتا ہوں ، ایک تو میرا خاص دوست بنا اور ایک لڑکا ایسا تھا، 
جسے دیکھ کر ہی میرے منہ سے گالیوں  کی لمبی دھار نکلنے لگتی تھی . . . .

" شوکت . . . "
 اس نے پہلے اظہر کی طرف ہاتھ بڑھایا اور پھر میری طرف . . . .

شوکت مائننگ سبجیکٹ کا تھا ،
 اور وہ بھی تھوڑا سانولا تھا ، 
شوکت  کو دیکھ کر ایک بار  پھر میں نے خود
سے کہا کہ "
میں تو اس سے زیادہ ہینڈسم ہوں . . . . "

" بھائی ،
 اگلی کلاس میں تھوڑا سنبھل کر . . . " 

مجھے نصیحت دینے لگا وہ .
دوسری کلاس تو شروع ہو چکی تھی ،
 لیکن ٹیچر ابھی تک نہیں آیا تھا ، 
لڑکے ہو یا لڑکیاں سبھی سبزی منڈی کی طرح چیخ رہے تھے ،
 اور اسی دوران ایک لڑکی سامنے آئی اور ہم سب کو خاموش رہنے كے لیے کہا . . . .

 لیکن حالت پہلے جیسے ہی رہے . . .

  وہ لڑکی سامنے والے بینچ پر بیٹھے لڑکوں سے کچھ بولی ،
اور سامنے بینچ پر بیٹھے لڑکیوں میں سب کو خاموش رہنے كے لیے کہا ،
کچھ دیر لگا سب کو خاموش کرنے
میں . . . .

" گڈ مارننگ فرینڈ . . . 
مائی نیم اِس صائمہ . . . . "

" تو کیا چوسنا ہے سب کا . . . " 
اظہر نے ایک پل بنا گنوائیں جواب میں بولا ، 

سن تو سب نے لیا تھا ،
لیکن سب ری ایکشن ایسے کر رہے تھے ، جیسے کانوں  میں روئی ڈال كے آئے ہو ، 
سامنے کھڑی اس لڑکی نے بھی سن لیا تھا ،
لیکن وہ بھی ایسے ری ایکٹ کر رہی تھی ، جیسے اس نے سنا نہ ہو . . . . .

" یہ تو چودے گی ، 
کمینی چپ . . . "

" گانڈ پر  لات مار کر بٹھاؤ  اس کو . . . "
پہلے اظہر اور پھر اس کے سر کے ساتھ سر ملاتا ہوا شوکت بولا ،

میں بھی جوش میں آ گیا اور بولا
" اِس انٹرودکشن دینے والی لڑکی کو ننگا کرکے پورے کالج میں بھگانا چاہیے . . . . "


اُدھر صائمہ كے بَعْد باقی لڑکیوں نے بھی اپنا انٹرودکشن دیا ،
 یہ سلسلہ اور بھی آگے چلتا لیکن اگر 
بی ایم آئی كے سَر وہاں نہ آئے ہوتے تو . . . .

اصل میں ہمارا سبجیکٹ تھا ، 
بیسک مکینیکل انجینیئرنگ ، 
( بی ایم آئی ) ، 
لیکن جو سر ہمیں پڑھانے آئے تھے ،
ان کا خود کا بی ایم آئی کلیئر نہیں تھا ،
 پوری کلاس كے دوران اس نے کیا پڑھایا کچھ سمجھ نہیں آیا ، 
پیریڈ بوا بھی کس لینگویج میں تھا ،
یہ بھی سمجھ میں نہیں آیا . . . .

 پڑھائی کی طرف سے میں تھوڑا سنجیدہ تھا ،
اور اپنا پورا دماغ بی ایم آئی كے پیریڈ میں لگانے كے باوجود بھی جب ،
 کچھ سمجھ نہیں آیا تو ،
 ایک دَر دِل میں اٹھنے لگا کہ ایگزام میں کیا ھوگا . . . .

" کیا ہوا ، . . . "

" یار کچھ سمجھ نہیں آ رہا . . . "

" تو ٹینشن کس بات کی یہ ٹاپک ہی چھوڑ دے . . . 
کون سا تجھے ٹاپ مرنا ہے "

" مجھے ٹاپ ہی مرنا ہے . . . "
 اس وَقت تو اظہر سے میں نے یہ کہہ دیا ،
 لیکن یہ جنون میرے سَر سے بہت
جلد اترنے والا تھا ، 
یہ میں نہیں جانتا تھا 


جاری ہے . . . .

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

اس کو دیکھ ،
خود کو حور  سمجھ رہی ہے . . . " 
اظہر  نے اسی لڑکی کی طرف اشارہ کیا ،
 جو کچھ دیر پہلے سامنے آکر انٹرودکشن دے رہی تھی . . . .

" میرا بس چلے تو اس کا ٹی۔سی  ہی اس کے ہاتھ میں دے دوں . . . " 
صائمہ کی طرف دیکھتے ہوئے میں نے کہا ، 

کچھ دیر پہلے جب وہ سامنے آکر بول رہی تھی تو اس کی آواز نیچرل نہیں تھی ،
وہ اپنی الگ ہی ٹون میں بات کر رہی تھی ،
 جو کی اکثر لڑکیاں کرتی ہے . . . . .

شوکت  اس وقت اسٹڈی میں لگا ہوا تھا ، 
اور میں اور اظہر اس لڑکی کو دیکھ کر دِل ہی دِل میں برا بھلا کہہ رہے تھے ، . . . 

تبھی اس کی نظر ہم پر پڑی ،
اور میں نے جلدی اپنی نظریں اس کی طرف سے ہٹا کر اپنے رجسٹر کی طرف کر لی . . . . .

" کہی یہ نہ سوچ لے کہ ہم دونوں اسے لائن مار رہے ہے . . . "
 میں نے پین پکڑا اور ٹیچر جو لکھا رہا تھا
اسے لکھتے ہوئے بولا . . . .

"میرا لنڈ لائن ،
اتنے بڑے کالج میں یہ ایک ہی ہے کیا ،
جو اسے لائن ماریں گے . . .
 اسے دیکھ کر تو سحرش میڈم كی کلاس میں کھڑا لنڈ بھی بیٹھ جاتا ہے . . . . "

ہمارے ٹیچر کہ پریڈ ختم ہوگیا تھا

" بھوک لگی ہے یار ، 
چل کینٹین سے آتے ہے . . . 

" اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوے میں نے بولا . . .

" چل آجا ،
کینٹین اُدھر ہے . . . "

ویسے تو سینیرز کی کلاس لگی ہوئی تھی اس وقت ،
لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہے ،
 جو کلاس بند کرکے کینٹین آ جاتے ہیں ،
جب ہم کینٹین كے اندر گئے تو وہاں لڑکیاں تو تھی ،
لیکن ساتھ میں ہمارے سینیرز بھی
تھے اور وہ ایسے بیٹھے ہوئے تھے جیسے کالج ان کے باپ کا ہو . . . .

" چُپ چاپ ، 
ایک کرسی پکڑ لے 
، ورنہ مسلہ ہو جائیگا . . . "

میں اس وقت کچھ نہیں بولا ،
 اور ہم دونوں نے سائڈ کی کرسی پکڑ لی . . . .

" اس کو دیکھ . . . "
اظہر کا اشارہ کینٹین میں ایک طرف بیٹھے ہوئے سیئنر لڑکے کی طرف تھا ، 
جو کہ کچھ اسٹوڈنٹ كے ساتھ بیٹھا باتیں کر رہا تھا . . . .

" کیا ہوا . . . " 
میں نے بھی اسی طرف دیکھا . . .

" اسکا نام کاشف ہے ،
 کمینہ سات سال سے اِس کالج میں پڑھ رہا ہے ، لیکن آج تک فورتھ ایئر میں ہی لٹکا ہوا
ہے . . . "

جب اظہر نے مجھ سے کہا تب میں نے اس کی طرف غور سے دیکھا ،
وہ اپنے ساتھ بیٹھے اسٹوڈنٹ میں سے زیادہ
عمر کا لگ رہا تھا ،
اور اپنے پیر سے ٹیبل كے نیچے سے دوسری طرف بیٹھی ہوئی لڑکی كے پیر کو سہلا رہا
تھا . . . .

" یہ لڑکیاں بھی نا جانے کیسے کیسے لڑکوں سے سیٹ ہوجاتی ہے . . . "
 اس لڑکی كے لیے جھوٹی اپنایت دکھاتے ہوئے میں نے اظہر سے پوچھا "
 یہ سات سال والا ہے کس برانچ کا . . . "

" اپنی ہی برانچ کا ہے کمینہ اور کچھ لوگ کہتے ہے کہ یہ بہت ٹائٹ تنظیم سازی کرتا ہے . . . "

تنظیم سازی کا سن کر گلا خشک ہو گیا ، 
اس وقت یہی ایک چیز تھی جو مجھ پر حاوی تھی ،
جب سے میں کالج کیمپس كے اندر داخل ہوا تھا ،
 یہی چیز مجھے ڈرا رہی تھی . . . .

" بہن چود ، 
یہ تنظیم سازی بند کر دینا چاہئے . . . "
 پانی پیتے ہوئے میں نے بولا ،
 پانی كے پورا ایک گلاس خالی کرنے كے
بَعْد تھوڑا سکون آیا ،

" بند ہے میری جان ،
تنظیم سازی تو سالوں سے بند ہے لیکن یہ لوگ کر ہی لیتے ہے . . . "

" یہ بہن چود کینٹین والا کہا مر گیا ہے. . . "
ہائپر ہوتے ہوئے میں نے بولا اور میری آواز پوری کینٹین میں گونج اٹھی ، 
میرا اتنا کہنا تھا کہ سب کی نظر ایک بار پھر میری طرف ہوئی ،
 مجھے دیکھ کر کچھ اپنے کام میں لگ گئے ،
 کچھ ایسے بھی تھے ،
 جو میری طرف ہی دیکھ رہے تھے ،
 ان کی شکل سے لگ رہا تھا کہ ،
وہ مجھے دل ہی دل میں گلیاں دے رہے ہے . . . . . 

تبھی وہ سات سال سے کالج میں پڑھنے والا اُٹھ کر ہماری طرف آیا ، 
اس کے ساتھ کچھ لڑکے بھی تھے اور وہ لڑکی بھی ،
جو اس کے سامنے بیٹھی تھی . . . . .

" کس سبجیکٹ کا ہے . . . "
 میرے سامنے والی کرسی کو دھکیل کر کاشف نے مجھ سے پوچھا . . . 

دِل کیا کہ اس کرسی کو ایک لات مارکر دور کر دو ،
لیکن پھر اس کے بَعْد ہونے والے اپنے حال کا اندازہ لگا کر میں روک گیا . . . .

" مکینیکل ، 
فرسٹ ایئر . . . "
 وہ میرے سامنے والی کرسی پر پورا کا پورا سماں گیا تھا ،

" مجھے جانتا ہے . . . "

" ہ. . ہ . . ہاں . . " 
گلا ایک بار  پھر خشک ہونے لگا اور جیسے ہی میں نے پانی والے گلاس کی طرف ہاتھ بڑھایا اس  نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور زور سے دبانے لگا ، دَرْد تو کر رہا تھا ، 
لیکن میں نے اپنے منہ سے ایک آواز تک نہیں نکالی اور نہ ہی اسے بولا کہ میرا ہاتھ چھوڑ دے ، ، . .

" پانی بَعْد میں پینا ،
پہلے میرے سوالوں کا جواب دے . . . "
 وہ میرے ہاتھوں کو اب بھی پکڑے ہوئے تھا اور اپنا پورا زور لگا کر دبائے جا رہا تھا . . .

" ابے بول ،
چھوڑ میرے ہاتھ کو ورنہ یہی پٹخ پٹخ کر گانڈ ماروں گا . . . . "
 اس کی آنکھوں میں آنکھ ڈالتے ہوئے میں نے صرف آنکھوں سے کہا. . . .

" آنکھیں نیچے کر . . . "
 کاشف كے ساتھ جو لڑکے آئے تھے ،
 اُن میں سے ایک نے میرے سَر پکڑا اور نیچے
جھکا دیا . . 
گیم شروع ہو چکا تھا ،
 اور مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ اب کچھ نہ کچھ برا ہی ھوگا . . . .

میرے الٹے ہاتھ کی ہڈیوں کا کچومبر بنا کر اس نے میرا ہاتھ چھوڑا اور پھر میرے گریبان کو پکڑ
کر بولا "
 بیٹا ،
 اوقات میں رہنا سیکھو اور سینیرز کو ریسپیکٹ دو . . . "

کاشف کی بچی نے اپنے ٹیبل سے ایک سموسہ اُٹھا کر لائی اور اس کا آدھا ٹکڑا کھا کر باقی میرے چہرے پر تھوپ دیا ،
اس وقت شاید میں بہت غصے میں تھا ،
 دِل کر رہا تھا ،
کہ اس لڑکی کو کھینچ کر ایسا
ٹھپر  ماروں کہ اس کا سَر ہی دھڑ سے الگ ہو جائے ،
 لیکن غصے کو پینا پڑا ،
 میں انہیں دیکھنے كے سوا اور
کچھ نہیں کر سکا . . . . .
 وہ سبھی مجھ پر کچھ دیر ہنسے اور چلے گئے . . .

 تبھی کاشف كے ساتھ والی لڑکی ،
جس نے میرے چہرے کی یہ حالت کی تھی ، میری نظر اس کے گانڈ پر پڑی اور میں نے دل ہی دل میں یہ ارادہ کر لیا کہ ،
" اس کو تو ایسا چودوں گا کہ اس کے چوت اور گانڈ كے ساتھ ساتھ منہ سے بھی خون نکل جائے . . . . "


اپنا نام میری بیتی زندگی میں سن کر میرے خاص دوست کاشف نے مجھے میری کالج لائف سے باہر نکالا . . . .

" یار ،
یہ سات سال سے لگاتار فیل ہونے والے لڑکے کا نام کاشف کیسے ہے . . . "

" اب تو یہ اس کے باپ سے پُوچھ ،
کہ اس نے اس کا نام کاشف کیوں رکھا . . . "

" لے یار ایک اور گلاس بنا . . . "
 اظہر نے اپنا خالی گلاس میری طرف بڑھایا ، اور میں نے کاشف کی طرف . . . .

" رات ہو گئی کیا . . . "
 میں نے اٹھنے کی کوشش کی ، 
لیکن سَر گھوم رہا تھا ،
 اس لئے وآپس بیٹھ گیا . . .

"  ابھی دن ہے . . .
 دوپہر كے 12 بج رہے ہے . . . "
 کاشف نے پیگ بنا کر گلاس میری طرف بڑھایا اور بولا 
" آگے بتا ، کینٹین كے بَعْد کیا ہوا . . . "

" کینٹین كے بَعْد . . . "


جاری ہے . . . . . 

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

مجھ سے  اس وقت کوئی کچھ اور پوچھتا تو شاید میں نہیں بتا پتہ ،
لیکن میرے کالج میں بیتے لمحات  مجھے اِس طرح یاد تھے کہ رات بارہ بجے بھی کوئی اٹھا كے پوچھے تو میں اسے بتا دوں . . . . 


اس دن کینٹین کی حرکت نے مجھے جھنجھوڑ  کر رکھ دیا ، 
اظہر بھی چُپ بیٹھا ہوا تھا ،
میں بری طرح غصے میں تھا ،
 اور جب کینٹین والا ہمارا آرڈر لیکر آیا تو میں نے بولا . . .
" اب تو ہی کھا اسے . . . "

میں وہاں سے غصے میں اٹھا اور کینٹین سے باہر آ گیا ،
 اظہر بھی پیچھے پیچھے تھا . . .

" ارمان 
، رک نہ یار ، . . . "
اظہر بھاگ کر میرے سامنے کھڑا ہو گیا اور مجھے روک کر بولا 
" بھول جا . . . "

" اس لڑکی کا کیا نام ہے ، 
بتا کمینی کو چود كر آتا ہوں . . . "

" اس کا نام تو مجھے بھی نہیں معلوم . . . "
یہ بولتے بولتے اظہر نے مجھے گلے لگا لیا ،
پتہ نہیں کمینے میں کیا جادو تھا کہ میرا غصہ ٹھنڈہ ہونے لگا . . . .

" دور ہٹ ،
میں لونڈے باز نہیں ہوں . . . " 
جب میرا غصہ پوری طرح ٹھنڈا ہوگیا تو میں نے کہا . . .

" ایک بات بتا 
، تجھے کاشف كے ساتھ والی لڑکی اچھی لگی نہ  . . . " 
مجھ سے الگ ہوتے ہوئے اظہر نے مجھ سے
پوچھا . . .

" اچھی تو ہے ،
 اس لیے تو اس کا نام پوچھا "

" تو بھائی ،
 اسے بھول جا ،
 ورنہ کاشف ننگا کرکے بھگائے گا. . . "

" وہ اتنی بھی خوبصورت نہیں ہے کہ میں اس کے لیے پورے کالج میں ننگا  بھاگوں. . .
 ابھی صرف سحرش میڈم کی طرف اپنی توجہ دینی ہے "

اس کے بَعْد ہم دونوں اپنی کلاس کی طرف آئے ، 
فرسٹ ایئر کی ساری کلاسس آس پاس ہی تھی ،
 اس لئے بریک ٹائم میں ہر سبجیکٹ کی لڑکیوں کو لائن مارا جا سکتا تھا . . . .

 ہم دونوں اپنی کلاس كے باہر کھڑے اسٹوڈنٹ كے پاس جا کر کھڑے ہو گئے ، 
جہاں گروپ بنا کر کچھ لڑکے باتیں کر رہے تھے اور جیسا کہ میں نے سوچا تھا ٹاپک لڑکیوں
پر ہی تھا . . . . .

" کہاں گئے تھے یار . . . "
شوکت نے ہم دونوں سے ہاتھ ملایا اور پوچھا . . .

" کینٹین . . . "
اظہر نے جواب دیا . . .

" کینٹین "

اس کی آنکھیں نا جانے کتنی بڑی ہوگئی یہ جان کر جب اس نے سنا کہ ہم دونوں
کینٹین سے ہو کر آئے ہے . . . .

" کیا ہوا . . . "
اس کی بڑی بڑی  آنکھوں کو دیکھ کر میں نے پوچھا . . .

" تنظیم سازی ہوئی ، 
تم دونوں کی . . . "

تنظیم سازی . . . . 
یہ سن کر میں اور اظہر ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھاکنے لگے اور سوچنے لگے کہ  اسے کیا بولا جائے . . .

" نہیں . . . 
کسی نے تنظیم سازی نہیں کی . . . "

" آج تو بچ گئے ،
 لیکن کل سے اُدھر مت جانا ، 
سینیرز ڈیرہ ڈال كے رہتے ہے اُدھر . . . . "

" تو کیا ہوا ، 
پھٹتی ہے کیا . . . " 
یہ لفظ میں نے ایسے کہا ،
 جیسے کچھ دیر پہلے کاشف کی اس بچی نے نہیں بلکہ میں نے اس کے چہرے پر سموسہ ڈَلا ہو . . . . .

" دیکھو بھائی ،
 مشورہ دینا میرا کام تھا . . . "
 شوکت بولا

" ویسے اور کہاں کہاں یہ سینیرز  ڈھوندتے ہے ہمیں . . . "

" تِین جگہ پکی ہے ،
 پہلی کینٹین ،
 دوسری بس اسٹاپ  
اور تیسرا ہاسٹل . . . . "

ہم اِس مسئلے پر کچھ دیر اور بھی بات کرتے لیکن اس سے پہلے ہی وہاں کھڑے لڑکوں میں سے کسی ایک نے ٹاپک کو چینج کرکے ،
اپنے کالج کی حسیناؤں پر ٹاپک شروع کر دیا . . . . .

 اور اِس معاملے میں سب سے پہلا نام جو
آیا وہ تھا سحرش میڈم ، . . . 

سب یہی چاہ رہے تھے کہ سحرش میڈم ان سے سیٹ ہو جائے ،
 کچھ ٹھرکیوں نے تو یہ تک بول دیا تھا کہ. . .

" آج کالج سے جانے كے بَعْد سحرش میڈم کی نام کی مٹھ بھی ماریں گیں "


تو بھی بول لے کچھ . . . "
 کاشف نے مجھے کونی ماری . . . .

" میں تو اس وقت کاشف کی بچی کو چودونگا ،
 وہ بھی گھوڑی بنا کر . . . "

" کاشف. . . "
 یہ نام سن کر سب چُپ ہوکر میری طرف دیکھنے لگے ، . .
 وہ سب مجھے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے
کہ میں نے کسی کا قتل کرنے کا سرعام اعلان کر دیا ہو . . . .

" میں نے تو ایسے ہی بول دیا . . . "
 میں نے بات وہی ختم کرنی چاہی . . .

" یار ، 
ایسے مت بولا کر ،
 کہی سے کاشف کو پتا چل گیا تو پھر پنگا ہو جائیگا . . . "

شوکت کی باتیں سن کر میں نے چاروں طرف دیکھا اور جب کنفرم ہو گیا کہ ، 
ہمارے گپ شپ کو کسی نے نہیں سنا تو میں نے بولا . . .

" ڈرتا ہوں کیا ، "

" دیکھ ، 
زیادہ شیر مت بن،
 ورنہ پول کھل جاے گا . . . " 
اظہر نے میرے کان میں سرگوشی کی. . . .

کچھ دیر اور کالج کی لڑکیوں كے بارے میں باتیں کرتے ہوئے ، 
ہم نے اپنا وقت برباد کیا اور اسی دوران مجھے اور بھی بہت ساری باتیں معلوم ہوئی جو کہ  ہمارے کالج میں برسوں سے چلی  آ رہی  تھی . . . .

1 . جب تم فرسٹ ایئر میں ہو ،
 تب ہی کوئی بچی پٹا لو ، 
ورنہ پورے چار سال خالی ہاتھ سے کام
چلانا پڑیگا اور ہونٹ پر لڑکی كے ہونٹ کی جگہ  ٹیپ سولیشن لگا کر رہنا پڑیگا . . . . "

2 . ہمارا کالج گورنمنٹ تھا ،
 اس لئے کالج كے پِرِنْسِپل اور ٹیچرز کو بھلے ہی ریسپیکٹ نہ دو ، 
لیکن وہاں کام کرنے والے ورکر اور پوئن کو سر کہہ کر بُلانا پڑیگا ، 
تاکہ وقت آنے پر وہ ہمیں لمبی لائن سے بچا سکے . . . .

اس دن ایک اور ضروری بات جو پتا چلی وہ یہ تھی کہ . . . . .

 جب بھی کوئی لڑکی پٹاؤ تو اسے جلدی چود دو ،
 ہمارے کالج میں پڑھنے والوں کو منع تھا کہ
گرل فرینڈ کو چودنے كے بَعْد لڑکیاں ،
لڑکوں سے کسی لمبے عرصے کے لئے باندھ جاتی ہے ویسے ہرگز نہیں کرنا . . . .

اس دن اور بھی کچھ پتا چلتا لیکن میتھ میٹکس والی میم نہ آتی تو . . . .

" کتنی باتیں کرتے ہو تم لوگ ، 
پورے ہال میں تم لوگوں کی آوازیں آ رہی ہے . . . "
سامنے والی بینچ پر اپنا بیگ رکھ کر میتھس والی میم نے بولا. . . .

میتھس والی میم کا نام راحیلہ تھا ،
جو بَعْد میں ہمارے یہاں
 " راحیلہ رانی "
 كے نام سے مشہور ہوئی

کالج کا پہلا دن کسی بھی حساب سے میرے لیے ٹھیک نہیں رہا ، 
پہلے پہل تو سی ایس والی سحرش میڈم نے مجھے باہر بھاگا دیا اور بَعْد میں کینٹین والا مسلہ . . . . . 

کالج كے پورے پیریڈز اٹینڈ کرنے كے بَعْد ایسا
لگ رہا تھا ، 
جیسے کسی نے ساری طاقت چوس لی ہو ، . . .

" تھک گیا یار . . . "
 روم میں گھوستے ہی میں نے اپنا بیگ ایک طرف پھیکا اور بستر پر لیٹ گیا ،

" چل گراؤنڈ چلتے ہے ،
 شام كے وقت ہاسٹل میں رہنے والی گرلز آتی ہے اُدھر  . . . . . 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Aj story ki 4 updates ek sath parhi. Maza aya. Kahani bohat achi ja rahi ha ap کی kahani umda izafah ha aur achi b ha.... Umeed ha khob tarakki kary gi aisy hi updates dyty rahy..... 

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

" گانڈ مروائے لڑکیاں . . .
 مجھے تو نیند آ رہی ہے . . . "

" ٹھیک ہے تو سو ، 
میں آتا ہوں . . . "

میں زیادہ تھکا ہوا تھا ،
اس لئے جلدی نیند آ گئی ،
اور جب میری آنکھ کھلی تو اظہر مجھے اٹھا رہا تھا . . . .

" کیا ہوا بے . . . "

" یار رات كے آٹھ بج گئے . . . "

" تو . . . " 
میں نے سوچا کچھ کام ھوگا .

" تو کیا . . . . . 
رات كے آٹھ بجے کوئی سوتا ہے کیا . . . "

" اب تو یہ فیصلہ کرے گا کہ مجھے کتنے بجے کیا کرنا ہے . . . "

" ٹائم پاس نہیں ہو رہا تھا ،
 تو سوچا تجھے اُٹھا کر گپ شپ مار لوں . . . ."

" ٹائم پاس نہیں ہو رہا ہے تو جا کر مٹھ مار لے . . . "
اور میں پھر سے چادر اورھے گہری نیند میں چلا گیا . . . . .


پرانی عادت اتنی جلدی نہیں بدلتی ،
جب میں اسکول میں تھا تب اکثر صبح چار بجے اُٹھ کر پڑھائی شروع کر دیتا تھا ،
اور اسی کی بدولت مجھے بہت ہی اچھا کالج ملا تھا . . . 

اس دن بھی میں نے چار بجے کا آلارم سیٹ کیا اور جیسا کہ پہلے ہوتا تھا ،
 دوسرے دن میری آنکھ آلارم کی وجہ سے
صبح چار بجے کھل گئی ،
 لائٹ آن کی اور کاشف کی طرف دیکھا . . . 

کاشف آدھا بستر پر تھا اور آدھا بستر كے
باہر ہی جھول رہا تھا . . . .

" کیا خاک پڑھوں . . . 
کل تو سب سَر كے اوپر سے گزر گیا تھا . . . " 

بکس اور نوٹ بک کھول کر میں نے ڈھیر ساری  گالیاں دی . . . .

کچھ دیر تک ٹرائی کرنے كے بَعْد بھی جب کوئی فائدہ نہیں ہوا تو ، 
میں نے لائٹس اوف کی اور چادر اوڑھ کر لیٹ
گیا . . . .

 میری پرانی عادت كے بدولت نیند تو آنے سے رہی ،
 اس لئے میں کچھ سوچنے لگا . . .

 جیسے کہ کس ٹائم پر کس سبجیکٹ کو پڑھنا ہے تاکہ دماغ میں سہی طرح سے بیٹھ جاۓ ، 
پھر جیسے ہی میرے دماغ میں سی ایس سبجیکٹ کا خیال آیا تو سب سے پہلے میری بند آنکھوں كے سامنے سحرش میڈم کا حَسِین چہرہ اور اس کا حَسِین جسم لہرا گیا . . . . 

وہ میرے سامنے نہیں تھی ،
لیکن میں انہیں پورا دیکھ سکتا تھا ، . . .

 اور اِسی خیالات میں ڈوبتے  ہوئے میرا ہاتھ میرے پینٹ کی طرف بڑھا اور پینٹ کی زپ کھول کر میرا ہاتھ نہ چاہتے ہوے بھی میرے کھڑے لنڈ پر چلنا شروع ہوگیا صبح صبح ہی کام ہو گیا ،
اس کے بَعْد جو آنکھ لگی تو وہ سیدھے صبح كےآٹھ بجے کھلی . . . .


آج كے دن کالج میں کوئی ایسی آنے والی تھی ، جسے نہیں آنا چاہئے تھا ،
 اس دن بھی میں اور اظہر کالج
كے پیچھے والے گیٹ سے اندر گئے اور سیدھے اپنی کلاس كے اندر دستک دی . . . .

 شوکت پہلے سے ہی آ چکا تھا . . .

" چل باہر سے آتے ہے . . . "
میں اپنی سیٹ پر بیٹھا ہی تھا کہ شوکت نے اپنے بیگ میں کچھ ڈھونڈتے ہوئے
مجھ سے بولا . . . .

" کیوں . . . . 
کیا ہوا ؟ "

" لگتا ہے ،
 بائیک کی چابی بائیک میں ہی لگی رہ گئی ہے . . . "
اس نے گھبراہٹ میں جواب دیا . . .

میں نے سوچا ،
 اظہر کو اس کے ساتھ بھیج دوں،
 لیکن اظہر تو پیچھے کسی سے جان پہچان بنا رہا تھا اس لئے مجھے ہی اس کے ساتھ جانا پڑا . . . .

" بائیک میں لگی ہے چابی . . . "
 بائیک میں چابی لگی دیکھ کر شوکت نے سکھ کا سانس لیا. . .

ہم دونوں ابھی بائیک اسٹینڈ پر ہی کھڑے تھے کہ تیز رفتاری  سے آتی ہوئی ایک کار نے وہاں کھڑے سبھی لوگوں کا دھیان اپنی طرف متوجہ کیا. . . .

 کار دیکھ کر ہی اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ اندر بیٹھا ہوا شخص کی حیثیت کتنی
زیادہ ہے . . . .

" کوئی وڈیرے کا لڑکا ھوگا. . . "
میں نے سوچا ،
لیکن میری سوچ مجھے تب دھوکہ دے گئی ، جب اس چم چماتی کار سے لڑکے کی جگہ ایک لڑکی باہر آئی ، . . .
 لڑکی کیا پوری ماڈرن قسم کی ہیروئن تھی وہ ،
 سر سے لیکر اس کے سینڈل تک اس کی دولت اور اس کی ماڈرن زمانے كے رنگ میں رنگی اس کی شخصیت کی پہچان کرا رہی تھی . . . .

 پہلے تو میں نے اس لڑکی کو پورا اوپر سے لیکر نیچے تک دیکھا اور بَعْد میں میرے نظر اپنے
آپ اس جگہ پر اٹک سی گئی ، 
جو ایک لڑکی میں مجھے سب سے زیادہ پسند تھا ، . . . 

اور ایسی حَرْکَت کرنے والا میں وہاں اکیلا نہیں تھا ،
وہاں کھڑے تقریباً سبھی لڑکوں کا یہی حال تھا ،
 سب اپنی پسندیدہ جگہ دیکھ کر لالچا رہے تھے . . . . .

" یہ کون ہے . . . "
میں نے شوکت سے پوچھا تو اس نے جواب میں کاندھے اچکا کر نہ کر دیا . . . .

ویسے تو اس کالج میں بہت ساری خوبصورت لڑکیاں تھی ،
لیکن وہ لڑکی جو ابھی ابھی کار سے باہر آئی تھی ،
 وہ اُن میں سے سب سے الگ لگی مجھے . . . 

ایسا مجھے کیوں لگا اس کا وجہ آج تک میں نہیں جان پایا . . . . . . 

اسے دیکھ کر میں اور شوکت وہی کھڑے رہ گئے ،
ہمارے قدم زمین پر اور آنکھیں اس لڑکی پر ہی
جمی ہوئی تھی . . . .

اس کے ساتھ کار سے ایک اور بھی لڑکی باہر نکلی ،
جو اس کی قریبی فرینڈ ھوگی ،
ایسا میں نے سوچا . . . .

" سارہ. . . . "
اس لڑکی کی فرینڈ نے پہلی بار 
 اس ماڈرن لڑکی کا نام پکارا . . . . .

" سارہ . . . . "
میں نے بھی دِل ہی دِل میں یہ نام لیا ،
اور بہت خوش بھی ہوا اور میرے ارمان اسے دیکھ کر باہر آئے

" اس کو تو پٹانا پڑیگا . . . "

" کیا . . . ؟ " 
شوکت بولا . . .

" کچھ نہیں ،
چل کلاس شروع ہوگئی ھوگی . . . "

برسوں سے کچھ لفظ ، 
کچھ الفاظ بڑی مشکل اور شدت سے لکھ رکھے تھے میں نے کسی كے لیے ، 
جو میرے لیے خاص ہو اور آج سارہ کو دیکھ کر وہ الفاظ میرے دِل سے باہر آنے كے لیے مچل رہے تھے . . . . . .

"میں اکثر کبھی اپنی آنکھیں بند کرتا ہوں ،
بہت سے چہرے مجھے دکھائی دیتے ہے لیکن ایک چہرہ ہمیشہ میری آنکھوں کے سامنے رہتا ہے ،
میرے دل میں رہتا ہے. . . . . . "
وہ چہرہ میری محبّت ہے  . . . . . . . .


جاری ہے . . . . 

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

" باہر . . . 
باہر ، 
بلکل باہر . . . "

 راحیلہ میڈم نے مجھ سے کہا ، 
جب میں نے ان سے اندر آنے کی اجازت
مانگی تو 

" یہ کیا تمہارا گھر ہے . . . "

" سوری میم . . . "
نظریں جھکا کر معصوم بننے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے میں نے بولا . . .

لیکن میری اس معصومیت کا راحیلہ رانی پر کوئی اثر نہیں ہوا ،
اور اوپر سے اس نے دھمکی بھی دے دی کہ  میں نے اسے بحث کی تو وہ آنے والے تین دن تک حاضری  نہیں لگاۓ گی . . . 

کل سے یہ سب کچھ میرے ساتھ پہلی بار ہو رہا تھا ،
 پہلے کبھی بھی کسی نے کلاس سے باہر نہیں بھیجا تھا ،
اس لئے مجھے معلوم تک نہیں تھا کہ ، ٹائم پاس کیسے کروں ، اس وقت کالج میں گھوم بھی نہیں سکتا تھا ،
کیا پتہ کوئی سینیر پکڑ کر تنظیم سازی نہ کر لے . . . .

دِل کر رہا تھا کہ راحیلہ میم کے بال پکڑوں اور
گھسیٹ کر اسے کلاس سے باہر کر دوں. . . .

" اندر آ جاؤ ،
 اور اگلی بار وقت کا خیال رکھنا . . . 

" راحیلہ رانی نے میری طرف دیکھا ،
شاید میری جھوٹی معصومیت اور بھولے پن  کو انہوں نے اصلی سمجھ لیا تھا . . . .

 جب کلاس كے اندر آیا تو ایک بار
پھر پوری کلاس مجھے گھور رہی تھی ،
 کچھ مجھ پر ہنس بھی رہے تھے اور کلیجہ تب جل گیا تب دیکھا کہ اظہر بھی ہنس رہا ہے . . . .

" اور بیٹا ، 
کہاں گھوم رہا تھے تم دونوں . . . "
 میں اظہر كے لیفٹ سائڈ میں بیٹھا اور شوکت رائٹ سائڈ میں بیٹھ گیا . . .

" کہی نہیں یار ،
بائیک اسٹینڈ تک گئے تھے . . . "
 شوکت بولا

 " ٹائم سے واپس بھی آ جاتے اگر وہ لڑکی نہیں دکھی ہوتی تو . . . . "

" کون سی لڑکی ، 
جلدی بتا . . . "


میم کو شک نہ ہو اس لئے ہم تینوں اپنے رجسٹر میں سامنے بورڈ پر لکھا ہوا سب کچھ چھاپ رہے تھے ،
اور دھیمی آواز میں گپیں بھی لڑا رہے تھے . . . . .

" پتا نہیں کون ہے ، 
لیکن ہے ایکدم پٹاخہ . . . . 
اس کے سامنے تو سحرش میڈم بھی کچھ نہیں ہے . . . " 
سامنے بورڈ کی طرف دیکھ کر میں نے بولا ، . . .

ایک دو بار راحیلہ رانی سے میری نظر بھی ملی ،
 تب میں نے اپنا سَر اوپر نیچے کرکے اسے احساس کروایا کہ مجھے سب کچھ سمجھ آ رہا ہے ،
جب کہ  ایسا کچھ بھی نہیں تھا ،
 میں تو اس وقت صرف اور صرف سارہ كے
بارے میں سوچ رہا تھا ،
اس وقت میں صرف اور صرف سارہ كے بارے میں بات کرنا چاہتا تھا . . . .

" کتنا اچھا ہوتا ، 
یار اِس راحیلہ کی جگہ وہ سارہ ہمیں میتھس پڑھاتی . . . . " 
دِل كے ارمانوں نے اک بار پھر گھنٹیاں بجانا شروع کر دی ،
اور ان گھنٹیوں کو کسی نے بہت زور  سے بجایا . . . .

" میم . . . "
کلاس كے دروازے کی طرف سے کسی کی آواز آئی . . . . 
اور جب نظریں اس طرف گھومائی تو بس وہی جم کر رہ گئی ، 
دروازے پر سارہ کھڑی تھی . . .

" یس . . . "
میتھ والی میم نے سارہ سے کہا . . .

" یہ بھی اسی کلاس میں پڑھے گی ، "
خوش تو بہت ہوا تھا ، 
بینچ پر کود کود کر ڈانس کرنا چاہتا تھا ،
 اظہر اور شوکت  سے کہنا چاہتا تھا کہ " 
تم لوگ یہاں سے اَٹھ جاؤ کمینوں ،
وہ یہاں بیٹھے گی . . . "

لیکن افسوس تب ہوا جب وہ بولی کہ . . . .
" میم سی ایس سبجیکٹ کی کلاس کون سی ہے . . . "


کوری ڈور میں سب سے پہلی کلاس ہماری ہی تھی ،
اس لئے وہ شاید ہمارے کلاس میں اپنی کلاس پوچھنے آئی تھی ،
 سوچا کے رَو رَو کر اسے اِس بات کا احساس ڈالاؤں کہ میں کتنا دُکھی ہوں ،
 اس کے یوں جانے سے ، 
اظہر میرے اندر کی بے چینی کو سمجھ گیا اور بولا . . .
" اوئے ،
 یہ ڈرامہ بند کر ، 
اور اپنی توجہ کا مرکز صرف سحرش میڈم کو بنا  "


سارہ تو اپنی کلاس میں چلی گئی ،
لیکن اس کا عکس میرے دِل پر رہ گیا تھا ،
اور سارہ کا عکس صرف مجھ پر ہی نہیں پڑا تھا ،
اور بہت سے لوگ تھے ،
 جن کا دِل سارہ كے اِس طرح سے جانے كی وجہ سے اُداس تھا . . . .
 اظہر اور شوکت بھی اسی لسٹ میں تھے . . . . .

" وہ میری بچی ہے ، 
اس کو دیکھنا بھی مت . . . "
 سارہ  كے جانے كے بَعْد میں نے پھر سے بورڈ پر نظریں گاڑ دی اور جو کچھ بھی راحیلہ رانی لکھ رہی تھی ، 
میں اسے اپنی نوٹ بک میں چھاپتے ہوئے ان دونوں سے بولا . . . .

" سیٹ تو مجھ سے ہی ھوگی . . . "
 شوکت نے کہا . . .

" گانڈ مروا لو سب لڑکیوں سے ، 
سحرش کو دیکھو گے تب بھی یہی بولو گے کہ  یہ میری بچی ہے ، 
سارہ کو دیکھو گے تب بھی یہی بولو گے کہ یہ میری بچی ہے ،
کسی اور لڑکی کو بھی دیکھو گے تو وہ بھی تم دونوں کی ہی بچی ہوگی ،
میں یہاں صرف ہلانے آیا ہوں ہے نہ "

میں اور شوکت ہنس پڑے ،
 اور ایک بار  پھر راحیلہ میم نے اپنی ظالمانہ نظروں سے ہم دونوں کو گھورنے لگی ، 
راحیلہ میم كے اِس طرح سے دیکھنے كی وجہ سے میں اور شوکت چُپ ہو گئے اور ایکدم سریس اسٹوڈنٹ بن کر سامنے ڈیسک پر رکھی بکس كے صفحات الٹنے لگے . . . . .

" چل آجا کینٹین سے آتے ہے . . . "
 بریک میں اظہر نے مجھ سے کینٹین چلنے كے لیے کہا ،
اور میری آنکھوں كے سامنے وہ نظارہ چاہ گیا جب کاشف کی بچی نے میرے چہرے سے پیار کر رہی تھی . . . .

 میں نے اظہر کو صاف منع کر دیا کہ میں کینٹین کی طرف نہیں جاؤنگا ،
 اور پھر میں اپنے ہی کلاس كے سامنے آ کر کھڑا
ہو گیا ،
جہاں کچھ لڑکے کھڑے ہوکر بات کر رہے تھے ، میں کھڑا تو اپنے کلاس میں تھا لیکن آنکھیں
سی ایس سبجیکٹ کی کلاس کی طرف ٹکی ہوئی تھی ، . . .

 میں اس وقت وہاں کھڑا اس وقت کا انتظار کر رہا تھا کہ کب وہ خوبصورت سارہ اپنی کلاس سے باہر نکل کر آئے اور میری آنکھوں کو سکون ملے . . . . 

خدا نے جیسے میری دل کی بات سن لی ہو ،
سارہ  اپنے اسی فرینڈ كے ساتھ کلاس سے باہر نکلی اور باہر کھڑے سب لوگ مچل اٹھے ، سب لوگ سارہ  کو دیکھ رہے تھے . . . . . 

ہماری کلاسز فرسٹ فلور پہ تھی اور کوری ڈور كے دونوں طرف سے نیچے جانے كے لیے سیڑھیاں بنی ہوئی تھی . . . .

 سارہ اپنے فرینڈ كے ساتھ ہماری طرف آنے
لگی ، . . .
 میں یہ جانتا تھا کہ وہ میرے لیے تو اِس طرف نہیں آ رہی ہے ، 
لیکن پھر بھی دھڑکنیں تیز ہو گئی ،
اور وہ جب میرے سامنے سے گزری تو میری زبان لڑکھڑائی
" آئی . . . . . " 

بس اتنا ہی بول سکا میں سارہ کو دیکھ کر ، اور آواز بھی اتنی دھیمی تھی کہ میرے ساتھ کھڑے میری کلاس والے بھی اس آواز کا نہ سن سکے . . . .


میں پہلے بھی حیران ہوا کرتا تھا اور اب بھی حیران ہوا کرتا ہوں ،
 کہ اظہر کیسے جان جاتا ہے کہ
دوسرا شخص کیا سوچ رہا ہے . . . .

" مطلب . . . . "
زمین پر لیٹے کاشف نے سگریٹ كا دھواں اڑاتے ہوئے مجھ سے پوچھا . . .

" مطلب کہ. . "
 میں نے اظہر کی طرف دیکھا ، 
کمینہ شراب کی بوتل لیے باتھ روم سے باہر آ رہا تھا "

اظہر کی ایک خاصیت ہے ،
وہ کسی کی بھی شکل دیکھ کر یہ بتا دیتا ہے کہ اس کے اندر کیا چل رہا ہے ،
وہ شخص کس سوچ میں ڈوبا ہوا ہے . . . . "

" ایسا ہے کیا . . . "

جاری ہے . . . . . 
 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×
×
  • Create New...