Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
Dracula

سیکس اور اظہار

Recommended Posts

اسلام علیکم  میرا نام ویسے تو کچھ اور ہے لیکن آپ مجھے اس اسٹوری میں اظہار کہ سکتے ہو۔ میں ڈاکٹر صاحب کی اسٹوریز شوق سے پڑھتا ہوں اور انہی اسٹوریزکی وجہ سے مجھے بھی تھوڑا شوق جاگا کے میں بہی کچھ لکہوں ۔ تو آتے ہیں اسٹوری کی طرف  تو بات تب کی ہے جب میں بہت چھوٹا تھا تقریبن 8 سال کا مجھ سے بڑی دو بہنیں ہیں اور امی ابو اور میری دو پوپھوایک چاچا اور دادا دادی ھم سب ساتھ میں رہتے ہیں شادی صرف میرے ابو کی ہوئی ہے۔ میں روزانہ اکیلا اسکول جاتا تھا کیوں کے تب لڑکیوں کو پڑھانے کا رواج نہیں تھا۔ اور میرے چاچا کالیج میں پڑھتے تھے۔ ھمارے گھر میں تین کمرے تھے ایک ھمارا ایک دادا دادی کا اور ایک پوپھو والوں کاایک بنا چھت کے بڑا اسٹور روم اور بڑا صحن تھا۔ ھمارے محلے میں ایک گھر تھا جن کے ساتھ ھمارا اچھا تعلق تھا ان کے گھر میں چار بہنیں اور دو میاں بیوی رھتے تھےاور انکے گھر کی دیوار ھمارے اسٹور روم کی دیوار کے ساتھ ہے ایسا سمجھ لیں کے ھمیں کوئی کام ھوتا تو ہم اس دیوار پے کھڑے ھوکر ان کو کہتے اور دیوار اتنی چھوٹی تھی کے کبھی کبھی ہم ان کے گھر دیوار سے کود کر جاتے تھے اور وہ بھی ایسے کود کر آتے تھ۔ ایک دفعہ کی بات ہے کے گرمیوں کے دن تھے میں اسکول سے واپس آیا تو مجھے میری امی نے کھانا دیا اور سونے چلی گئی ۔ گرمیوں میں سب گھر والے دوپہر کو سوجاتے تھے لیکن میں کوشش کرتا تھا کے چھپ کے گھر سے نکل جاوں اور دوستوں کے ساتھ کھیلوں۔ تو اس دن بھی میں انتظار کر رہا تھا کے سب سو جائیں اور میں بھاگ جاوں ۔ تھوڑی دیر بعد جب میں باھرنکلنے لگا تو مجھے اسٹور روم سے کچھ آوازیں آنے لگی میں ایسے ہی دیکھنے گیا کے کون ہے جب قریب پھنچا تو مجھے میری بڑی پوپھو اور ساتھ والے گھر کی بڑی لڑکی نظر آئے جو میری پوپھو کی عمر کی تھی نام اسکا صبا تھا ۔ وہ دونوں آپس میں باتیں کر رہی تھی میں دیوار کی اوٹ میں چھپ گیا۔

پوپہو۔ رنڈی تونے اکیلے اس سے کروالیا بتایا بہی نہیں۔

صبا۔ کنجری تو اس ٹائم آتی نہیں ہے وہ تو آتا ہے رات کو اور اس ٹائم تیری بنڈ اپنے ابو اور بھائی کی وجہ سے پھٹ جاتی ہے۔

پوپھو۔ کیا کروں یار ڈر بھی بہت لگتا ہے 

صبا۔ تو میری جان ایسے کام کرنے کا سوچ بھی مت ان کاموں میں ڈر تو ھوتا ہے

پوپھو۔ چل چھوڑ نا کنجری دیکھ آج کا کچھ کر نا مجھے بہت طلب لگی ہے۔

صبا۔ پوپھو کی ٹانگوں کے بیچ ھاتھ ڈال کےتھوڑا مسل کے ۔ ارے تیری تو سچ میں بڑا بیگن مانگ رہی ہے۔

میں ان دونوں کی بات سن کے سوچ رہا تھا کے یہ دونوں کس بارے میں بات کر رہی ہیں اور پوپھو کی پیشاب والی جگہ بیگن کیوں مانگ رہی ہے بیگن تو کھانے کی چیز ھوتی ہے۔ 

صبا۔ یار تیرا کچھ کر تو دوں مگر سمجھ نہیں آ رہا کیسے۔

میں گرمی کی وجہ سے جب پیچھے ہونے لگا تو اچانک گر گیا اور میرے گرنے کی آواز سے دونوں نے میری طرف دیکھا۔ میری تو پھٹ کے ھاتھ میں آگئی تھی اوپر سے جب میں نے پوپھو کو دیکھا تو وہ غصے میں لگ رہی تھی ۔ وہ میرے کریب آئی اور مجھے تھپڑ مارا اور کہا حرامی تو ھماری باتیں سن رہا تھا کنجرآنے دے تیرے ابو کو سب بتاتی ہوں میں اسے ۔ میں رونے لگا اور کانپنے لگا ۔ پھر صبا کریب آئی اور پوپھو کو پکڑ کے سائیڈ میں لےگئی اور آہستہ اسے کہا کے چپ کر تیرا کام ھوگیا۔ پوپھو نے اس کی طرف حیرت سے دیکھا تو صبا بولی چپ کر اور میرے پیچھے آو۔ وہ دونو میرے سامنے آئی میں ابھی بھی ڈر کی وجہ سے کانپ رہا تھا اور رو رہا تھا ۔ 

صبا۔ اظہار چپ کر جا کیوں اتنا رو رہا ہے

میں۔ مجھے ماف کردو پوپھو میں آئیندہ ایسا نہیں کرونگا آپ ابو کو شکایت نہ لگاو۔

صبا۔ ٹھیک ہے میں تیری پوپھو کو سمجاونئگی لیکن تب جب تو ھماری بات مانیگا تب۔

میں۔ میں مانوگا بات لیکن ابو کو نہ بتانا ۔ اور میں ان کے پیروں میں گر گیا

صبا۔ چل اٹھ اور میری ایک بات مان تونے پپو دکان والا دیکھا ہے نا؟

پپو دکان والا ھمارے گھر سے دو تین گلیاں چھوڑ کے اسکی دکان ھوتی تھی ہم سب اس سے سامان لیتے تھے۔

میں۔ ہاں دیکھا ہے۔

صبا۔ تو اسکے پاس جا اور بول کے ابہی تھوڑی دیر میں آو تھوڑا کام ہیں تجھ میں۔ اور خبردار کے اسکے بارے میں کسی کو بتایا تو ھم سے برا کوئی نہیں ھوگا۔

پوپھو جو چپ تھی صبا کی بات سن کے اسے کونے میں لی گئی۔

پوپھو۔ کنجری یہ بچہ ہے اگر کسی کو بتا دیا تو مر جاینئگے۔

صبا۔ کچھ نہیں ھوتا یار اسے میں سمجھادونگی۔ تو بس یہ بتا کے کرنا ہے یا نہیں۔

پوپھو۔ تھوڑا سوچ کے۔ یار دیکھ اگر کچھ ہوا تو میں تمہیں چھوڑونگی نہیں۔

صبا۔ ٹھیک ہے تو بس مزے کر۔

اور پھر صبا نے مجہے جانے کا کہا۔

میں چپ چاپ وہاں سے نکل کے پپو کی دکان پے جانے لگا اور سوچ رہا تھا کے ان کا کون سا کام ہے جو اسے بلانے کا بولا ہیں صبا نے مجہے۔ یہئ سوچتے میں پپو کے پاس پہنچ گیا اور اسے کہا کے صبا آپی آپ کو بلا رہی ہے۔ یہ سن کے اس کے چہرے پے مسکان آگئی۔ اس نے کہا تو چل میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں۔

میں واپس آیا تو دونوں ابھی تک وہیں تھی۔ میں نے ان کو کہا کے وہ تھوڑی دیر بعد آ رہا ہے تو پوپھو نے کہا ٹھیک ہے اب تو جا۔

جب میں جانے لگا تو صبا نے کہا رکو اظہار تم یہیں بیٹھو ۔ پوپھو نے جب یے سنا تو اس نے صبا کو کہا کے پاگل ہے کیا اسے جانے دے

صبا۔ پاگل اسے یہیں روک کے رکھ ھماری پہریداری کریگا اور کسی کو بتایئگا بھی نہیں۔ نہیں بتایئگا نہ اظہار؟

میں نے نا میں گردن ہلا دی

پوپھو ۔ اگر کسی کو بتا دیا  یا پھر کچھ دیکھ لیا نہ تو پھر دونوں مارے جائینگے 

صبا۔ تو فکر نہ کر میں اسکے ساتہ یہیں بیٹھونگی تم آرام سے کرنا یے ساتھ ھوگا اور کوئی آ گیا تو اس کے ذریعے پپو کو نکالینگے پاگل

پوپھو ۔ کچھ سوچ کے چل ٹھیک ہے۔

یار پہلی اسٹوری اور پہلا اپڈیٹ کیسا لگا ۔ باقی کی اسٹوری لکھوں یا نہیں اپنی قیمتی رائے دیجئیے ۔ اور اچھے کہنا ہو یا برا کہنا ہو بنداس کہ دینا مجہے برا نہیں لگیگا 

باقی اگلی اپڈیٹ میں

Share this post


Link to post
Share on other sites

اردو فن کلب کے پریمیم ممبرز کے لیئے ایک لاجواب تصاویری کہانی ۔۔۔۔۔ایک ہینڈسم اور خوبصورت لڑکے کی کہانی۔۔۔۔۔جو کالج کی ہر حسین لڑکی سے اپنی  ہوس  کے لیئے دوستی کرنے میں ماہر تھا  ۔۔۔۔۔کالج گرلز  چاہ کر بھی اس سےنہیں بچ پاتی تھیں۔۔۔۔۔اپنی ہوس کے بعد وہ ان لڑکیوں کی سیکس سٹوری لکھتا اور کالج میں ٖفخریہ پھیلا دیتا ۔۔۔۔کیوں ؟  ۔۔۔۔۔اسی عادت کی وجہ سے سب اس سے دور بھاگتی تھیں۔۔۔۔۔ سینکڑوں صفحات پر مشتمل ڈاکٹر فیصل خان کی اب تک لکھی گئی تمام تصاویری کہانیوں میں سب سے طویل کہانی ۔۔۔۔۔کامران اور ہیڈ مسٹریس۔۔۔اردو فن کلب کے پریمیم کلب میں شامل کر دی گئی ہے۔

Nice start 

Ab 2 ya 3 updates hon tu pata chaly k storie kesi he.

Baqi AP likho 

Is ka feedback zaror positive aye ga.

Share this post


Link to post
Share on other sites

آپ کی خدمت میں دوبارہ یہ غلام حاضر ہے

اب پتا نہیں آپ کو اسٹوری اچھی لگیگی یا بری پھر بھی میں ایک بار اسے لکھنے کی کوشش کرنا چاھونگا۔

اب آتے ہیں اسٹوری کی طرف۔ سب سے پہلے میں آپ کو اپنے گھر کا نقشہ سمجھا دوں۔ ہمارے گھر میں تین کمرے ھیں دو ساتھ میں ہیں ان کے سامنے ایک برامدہ ہے۔ اور اسی برامدے کو آدہ کرکے ایک کمرا بنایا گیا ہے اور بہت بڑا صحن ہے۔ اور برامدے کے ساتھ اسٹور روم ہے جسکی چھت نہیں باکی دیواریں اور دروازہ ہے۔ اور واشروم اسی اسٹور روم کے قریب ہے پھر باھر کا دروازہ ہے۔ اب اسٹوری آگے بڑھاتے ہیں۔

ہم تینوں خاموش کھڑےتھے کےتھوڑی دیر بعد ایک سیٹی کی آواز سنائی دی اسے سن کر صبا آپی جلدی سے اپنے گھر کی دیوار کود کر چلی گئی اور تھوڑی دیر بعد وہ پپو کے ساتھ اسی دیوار کو کود کر ہماری طرف آ گئی۔

پپو نے جب پوپھو کو دیکھا تو صبا آپی کو کہا 

پپو۔ واہ صبو آج تو تونے دل کی مراد پوری کر لی۔ (میں آپ کوپوپھو اور صبا کے جسم کے بارے میں بتا دوں پوپھو پتلی سی ہے اور اسکی چھاتیاں اس ٹائم 34 کی ھوگی اور اس کا رنگ بادامی ہے اور صبا بھی پوپھو جیسی ھے لیکن قد میں تھوڑی چھوٹی اور رنگ تھوڑا سانولا )

پپو کی بات سن کے صبا نے کہا دیکھ میں تیرا کتنا خیال رکھتی ہوں تو ہی خود میرا کوئی کام نہیں کرتا۔ اس دن بولا تھا کے پایل لا کے دے تونے آج تک نہیں دلائی۔

پپو۔ ارے میری جان پایل کیا تم دونوں کو میں کپڑے دلا دونگا۔

صبا۔ سچ میں 

پپو۔ ہاں قسم سے اور حکم کرو

ان دونوں کی باتوں کے دوراں پوپھو اور میں خاموش کھڑے تھے کے تبھی صبا آپی پوپھو کے قریب آئی اور اسے کہا

صبا۔  چل جلدی کر ٹائم کم ہے ہمارے پاس

پوپھو ۔ نہیں پہلے تو کر لے میں بعد میں کرونگی

صبا۔ ارے میری جان میں نے رات کو کر لیا تھا اور اس کو میں صرف تیرے لیئے بلایا ہے جلدی کر۔

پوپھو میری طرف دیکھتے ہوئے ۔ لیکن اس کے سامنے؟

صبا۔ تو اسکی فکر نا کر میں اسے لے جاتی ہوں باھر تم دونوں آرام سے کرلو میں خیال رکھونگی اگر کوئی آیاتو میں بتا دونگی تمہیں ۔

پوپھو ۔ ٹھیک ہے جا میں دروازہ بند کردیتی ہوں

صبا ۔ ارے پاگل دروازہ بند کریگی تو کوئی آگیا تو شک ھوگا اسے تو دروازہ بند نا کر ویسے بھی میں باھر کھڑی ھوں کوئی نہیں آئیگا

پوپھو ۔ ٹھیک ہے اب جاو تم اسے لیکر

صبا نے یہ سن کے مجھے ھاتھ سے پکڑا اور باھر لی جانے لگی ۔ میں نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو پوپھو اور پپو ایک دوسرے کے قریب آ رہے تھے۔

ہم باھر آکر واشروم کے سامنے کھڑے ھو گئے اور پھر صبا مجھ سے میری پڑھائی کے بارے میں پوچھ رہی تھی لیکن میرا دھیان اندر تھا کے پوپھو اور پپو اندر کیا کر رہے ہیں ۔ اس ٹائم سیکس کیا ہوتا ہے مجہے خبر نہیں تھی۔

پھر تھوڑی دیر گذری تھی کے اندر سے پوپھو کی ہلکی چیخ سنائی دی۔ میں ڈر گیا کے پوپھو کو کیا ہوا اور میں اندر جانے کے لیئے اٹھا تو صبا نے مجھے پکڑ کے بٹھا دیا اور کہا کیا ہوا۔

میں ۔ وہ اندر پوپھو گر گئی ہے اسے چوٹ لگی ہوگی وہی دیکھنے جا رہا تھا۔

صبا۔ ہاہاہاہاہاہا ارے پاگل تیری پوپھو جس پے گری ہے نا اس سے چوٹ نہیں مزا آتا ہے بدھو۔

میں ۔ مطلب گرنے میں کیسا مزا

صبا۔ تجہے نہیں پتا کے اندر تیری پوپھو کس پے گری ہے؟

میں نے نا میں سر ہلا دیا

صبا۔ دیکھیگا اسے؟

میں نے ہاں میں گردن ہلا دی

صبا۔ کسی کو بتائیگا تو نہیں نہ؟

میں نے نا کردی

صبا ۔ وادہ کر اور اپنی امی کی قسم اٹھا

میں ۔ میں کسی کو نہیں بتاونگا امی کی قسم

صبا۔ اپنی پوپھو کو بھی نہیں

میں نے نا کردی۔ پھر وہ مجھے دروازے کے پاس لیکر گئی پہلے خود اندر دیکھا اور پھر مجھے آگے کرکے میرے پیچھے کھڑی ہوگئ اور اندر دیکھنے لگی۔

جب میں نے اندر دیکھا تو میری سانس روک گئی اندر میری پوپھو کی سلوار اتری ہوئی تھی اور دیوار کے سامنے ہاتھ رکھ کے جھکی ہوئی تھی اور پیچھے پپوکی بھی سلوار اتری ہوئی تھی اور وہ اسکے آگے پیچھے ہو رہا تھا۔ مجے سمجھ نہیں آ رہا تھا کے یے کیا کر رہے ہیں

کے تبہی پپو کی آواز آئی جان اب تھوڑا لیٹ کے کرتے ہیں تو پوپھو نے کھا کے ٹھیک ہے اور وہ پیچھے ہٹنے لگی

پپو بھی پیچھے ہٹا تو میری آنکھیں کھل گئی اس کی للی میرے ہاتھ سے بھی بڑی تھی اور وہ پوری سیدھی کھڑی تھی جیسے ڈنڈا ہوتا ہے ۔ جب پپو پوپھو کے سامنے سے ہٹا تو پوپھو کی سفید گانڈ میرے سامنے تھی میرا تو گلا خشک ہوگیا تھا زندگی میں پہلی بار کسی لڑکی کی گانڈ دیکھ رہا تھا میں۔ کیا مست گانڈ تھی گول گول ابھری ہوئی۔

پھر دونوں پیچھے ہوئے اور پوپھو نے اپنا دوپٹا زمین پے بچھا لیا اور اس پے لیٹ گئی اور ٹانگیں کھول دی

جب پوپھو نے ٹانگیں کھولی تو میں دیکھتا ہی رہ گیا کیوں کے میں نے کبھی کسی لڑکی کی چوت نہیں دیکھی تو آج پہلی بار دیکھ رہا تھا ۔ اسکی ٹانگوں کے بیچ ایک لکیر بنی ہوئی تھی اور اسکے اوپر ایک مٹر جتنا دانہ تھا ۔

میں یے سب پہلی بار دیکھ رہا تھا اور مجھے عجیب فیلنگ ہو رہی تھی۔ فر پپو آگے ہوا اور اس نے پوپھو کی ٹانگیں اٹھا لی اور پھر اپنی للی پوپھو کی لکیر کے اوپر رکھ لی تبھی پوپھو نے نیچے سے اسے کہا۔

پوپھو ۔ اس بار آہستہ ڈالنا بہت درد ہوتا ہے۔

پپو ۔ ہاں میری جان آہستہ ڈالونگا 

پپو نے اپنے للی کے سر کو پوپھو کی لکیر کے بیچ رکھا اور آہستہ آہستہ اسے اندر کرنے لگا۔ میں یے سب غور سے دیکھ رہا تھا کے تبہی مجھے میرے ہاتھ پے صبا آپی کا ہاتھ محسوس ہوا۔ میں نے جب صبا آپی کی طرف دیکھا تو وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔ پھر انہوں نے میرا ہاتھ اپنی چھاتی پے رکھ دیا اور میری طرف دیکھ کے مسکرانے لگی ۔

صبا۔ اظہار کیا پہلے کبھی تونے یے سب دیکھا ہے۔

میں ۔ نہیں آپی یے کیا کر رہے ہیں ننگے ہو کر۔

صبا۔ ارے یے وہ کام کر رہے ہیں جسے کرنے کے لیئے ساری دنیا پاگل ہوتی ہے۔ اور پھر وہ آہستہ آہستہ میرے ہاتھ کو اپنے سینے پے دبانے لگی

میں نے اندر دیکھا تو پپو اب دوبارہ سپیڈ سے اوپر نیچے ہو رہا تھا اور اس کی للی پوپھو کی لکیر کے اندر باھر ہو رہی تھی۔ 

پوپھو ۔اوہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ سسسسسسسسیییی آہستہ میرے راجا پورا اندر گھسنے کا ارادہ ہے کیا۔ 

پپو ۔ ہانپتے ہوئے ۔ آہ ہ ہ ہ ہ ہاں میری جان پورا اندر جانے کا دل کر رہا ہے آج تو۔

پوپھو ۔ آہ آہ آہ آرا۔۔۔۔۔۔۔ممممم سسسسسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج تو بڑی طاقت آگئی ہے تجھ میں۔

پپو۔  پوپھو کے مموں کے اوپر اپنا موں رکھتے ہوے ۔۔آج بہت دنوں بعد جو تجھے چودنے کو ملا ہے۔ آج میرے دل کی ایک بات پوری کردے۔

پوپھو ۔مجھے پتاہے  کیا ہے تیرے دل کی بات میں جانتی ہوں لیکن نہیں مجہے پیچھے درد ہوتا ہے فر کبہی آج صرف آگے مزا دے مجھے۔

ادھر صبا آپی میرے ھاتھوں کو زور زور سے اپنے مموں پے دبانے لگی ۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا میرا دل کر رہا تھا کے بھاگ جاوں یہاں سے۔

صبا بار بار میرا ہاتھ اپنے مموں پے دبا رہی تھی کے اچانک پتا نہیں اسے کیا ہوا اسنے جلدی سے میرا ہاتھ نیچے کیا اور اپنی شلوار میں ڈال دیا اور اپنی ٹانگوں کو بند کر دیا  میرا ہاتھ کسی گیلی جگہ سے جا ٹکرایا اور ہلکے ہلکے بالوں کا احساس ہوا۔ میں بہت ڈر گیا اور میں نے اپنا چہرا اوپر اٹھایا تو دیکھا صبا آپی کی آنکھیں بند تھی اور وہ میرے ہاتھ کو زور سے اوپر نیچے کر رہی تھی کے تبھی میرے ہاتھ پے بہت زیادہ گرم پانی فیل ہوا اور میں چلا اٹھا ۔ آپی آپ نے میرے ہاتھ پے پشاب کیوں کیا۔۔

میری آواز اتنی زیادہ تھی کے اندر پوپھو والوں نے بھی سن لی۔ پوپھو نے جب ہمیں دیکھا تو جلدی سے اٹھی شلوار اوپر کی اور بڑے غصے سے ہماری طرف آنے لگی۔۔۔

 

باقی کا اگلی اپڈیٹ میں شکریہ

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...