Jump to content
URDU FUN CLUB
Wehshat

پشت سے ماری کبھی سیدھا لٹا کر چودا

Recommended Posts

پشت سے ماری کبھی سیدھا لٹا کر چودا
جب بھی چودا ہے اسے ہم نے دبا کر چودا

وہ بدن پھول کی مانند ہے ہلکا پھلکا
اپنی بانہوں میں اسے ہم نے اٹھا کر چودا

دن میں اک بار چداتی ہے پڑوسن ،اس کی
کام پر جاتے ہوئے لی کبھی آ کر چودا

اس کو نفرت تھی مگر ہار نہ مانی ہم نے
ایک دن اس کو محبت سے منا کر چودا

دن میں اک بار چدائی کی کچن میں جا کر
اور پھر رات کو بھی سب کو سلا کر چودا

ایک سیلابِ تلطف نے بہایا مجھ کو
میں نے جب گھوڑی اسے اپنی بنا کر چودا

اس کی آہوں نے کیا لطف دوبالا میرا
جب بھی وحشت میں اسے لن پہ بٹھا کر چودا
وحشت کراچوی

Share this post


Link to post
Share on other sites

اردو فن کلب کے پریمیم ممبرز کے لیئے ایک لاجواب تصاویری کہانی ۔۔۔۔۔ایک ہینڈسم اور خوبصورت لڑکے کی کہانی۔۔۔۔۔جو کالج کی ہر حسین لڑکی سے اپنی  ہوس  کے لیئے دوستی کرنے میں ماہر تھا  ۔۔۔۔۔کالج گرلز  چاہ کر بھی اس سےنہیں بچ پاتی تھیں۔۔۔۔۔اپنی ہوس کے بعد وہ ان لڑکیوں کی سیکس سٹوری لکھتا اور کالج میں ٖفخریہ پھیلا دیتا ۔۔۔۔کیوں ؟  ۔۔۔۔۔اسی عادت کی وجہ سے سب اس سے دور بھاگتی تھیں۔۔۔۔۔ سینکڑوں صفحات پر مشتمل ڈاکٹر فیصل خان کی اب تک لکھی گئی تمام تصاویری کہانیوں میں سب سے طویل کہانی ۔۔۔۔۔کامران اور ہیڈ مسٹریس۔۔۔اردو فن کلب کے پریمیم کلب میں شامل کر دی گئی ہے۔

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×
×
  • Create New...