Jump to content
URDU FUN CLUB
Last Chance ! Private Cloud Activation Last Date 15-11-2020 After Last Date Not include Previous Purchase in your Private Cloud
Sign in to follow this  
Rizy.b

جب غلامی کی زنجیر کو توڑا گیا

Recommended Posts

دوستوں امید ہے کہ سب ٹھیک ہو گئے

یہ کہانی میری کسی بھی فورم پر پہلی کہانی ہے 

اور کہانی پڑھنے سے پہلے آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس کہانی میں سیکس سین آپ کی امید سے کم ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ کہانی آزادی پاکستان کے اوپر لکھی گئی ہے اور کہانی پڑھ کر اگر کسی دوست کی دل آزاری ہو تو میں ایڈوانس میں معافی چاہتا ہوں

شکریہ 

آپ کا نیا دوست 

Rizy

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

اردو فن کلب کے پریمیم ممبرز کے لیئے ایک لاجواب تصاویری کہانی ۔۔۔۔۔ایک ہینڈسم اور خوبصورت لڑکے کی کہانی۔۔۔۔۔جو کالج کی ہر حسین لڑکی سے اپنی  ہوس  کے لیئے دوستی کرنے میں ماہر تھا  ۔۔۔۔۔کالج گرلز  چاہ کر بھی اس سےنہیں بچ پاتی تھیں۔۔۔۔۔اپنی ہوس کے بعد وہ ان لڑکیوں کی سیکس سٹوری لکھتا اور کالج میں ٖفخریہ پھیلا دیتا ۔۔۔۔کیوں ؟  ۔۔۔۔۔اسی عادت کی وجہ سے سب اس سے دور بھاگتی تھیں۔۔۔۔۔ سینکڑوں صفحات پر مشتمل ڈاکٹر فیصل خان کی اب تک لکھی گئی تمام تصاویری کہانیوں میں سب سے طویل کہانی ۔۔۔۔۔کامران اور ہیڈ مسٹریس۔۔۔اردو فن کلب کے پریمیم کلب میں شامل کر دی گئی ہے۔

پیش الفاظ

 

جون 1940

آزادی کی تحریک زوروں پر تھی ۔ انگریزوں کا راج بھی کچھ کم نہیں تھا۔ پنجاب کے ایک دور دراز علاقے جس کا نام نور پور تھا میں ایک زمیندار چوہدری ریاض اپنے ملازموں کے ساتھ رات کو انگریز لارڑ جوزف کو مارنے کی پلاننگ کر رہا تھا ۔

 لارڑ نے کچھ دن سے گاؤں پر نظر رکھی ہوئی تھی آئے دن گاؤں سے کوئی لڑکی غائب ہوتی اور صبح ننگی بے ہوش حالت میں ملتی ۔لڑکی کو دیکھ کر یہ ہی لگتا تھا کہ اس کے ساتھ دس کے قریب لوگوں نے زیادتی کی ہے کچھ لڑکیاں تو ٹھیک ہو گئیں تھیں لیکن زیادہ تر یا تو مر گئی تھیں یا ٹھیک ہونے کے بعد اپنے گھر والوں کی بدنامی کے ڈر سے گاؤں چھوڑ کر چلی گئیں تھیں۔

بات تب زیادہ بڑھی جس رات چوہدری ریاض کی اکلوتی بیٹی کو اٹھایا گیا اور وہ باوجود کوشش کے چار دن کے بعد گاؤں کے باہر ملی اس کی حالت بہت خراب تھی تو چوہدری ریاض نے اسے اپنے بھائی جو کہ لاہور میں وکیل تھا اس کے پاس بھیج دیا تاکہ اس کا علاج ہو سکے ۔

اب چوہدری ریاض لارڑ کو مار دینا چاہتا تھا لیکن اسے یہ نہیں پتہ تھا کہ وہ جن لوگوں کے ساتھ اسے مارنے کی پلاننگ کر رہا ہے ان میں سے ایک آدمی لورڑ کا خاص آدمی ہے جو کہ گاؤں کی ساری خبریں لارڈ تک پہنچاتا ہے ۔ آخر رات دس بجے تک ساری باتیں طہ کر کے سب اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے لیکن ماجو جوکہ لارڈ کا خاص آدمی تھا وہ لارڈ کے پاس لارڈ پیلس گیا اور اسے گاؤں والوں کے ارادوں سے با خبر کیا تو لارڈ نے اسے انعام دیا اور بھیج دیا اس کے جانے کے بعد لارڈ نے ایک بندے کو چوہدری ریاض کو صبح تک مارنے کے احکامات دیئے اور گاؤں سے لائی ہوئی لڑکی کو نوچنے چلا گیا۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

بھت عمدہ آغاز۔۔۔۔لیکن یہ کیا شروع ھوتے ھی ختم ۔۔۔۔۔۔ اف۔۔۔۔ کچھ تو زیادہ لکھتے

Share this post


Link to post
Share on other sites

قسط نمبر 1

چوہدری باسط انگلینڈ کی ا یونیورسٹی میں ڈاکٹری کر ر تھا اس کے والد چوہدری ریاض ایک اچھا خاصا زمیندار تھا اور لاہور میں بھی کاروبار تھا جو اس کا بھائی چوہدری ربنواز سنبھالتا تھا ربنواز ایک مشہور وکیل بھی تھا۔ اس لیے چوہدری باسط کو پیسے کی کوئی کمی نہیں تھی وہ ایک محنتی اور اپنے وطن سے محبت کرنے والا شخص تھا اس لئے اس نے کبھی بھی انگلینڈ میں سیٹل ہونے کا نہیں سوچا تھا چوہدری باسط ایک خوبصورت نوجوان تھا جس کا چھ فٹ قد اور چوڑا سینہ کسی بھی لڑکی کا خوب ہوتا ہے ۔ چوہدری باسط کی ایک ہی کمزوری تھی ہو تھی بڑے ممے اور سفید چمڑی اس لئے باسط کی بہت سی گوریوں سے دوستی تھی .

چوہدری باسط اس وقت بھی ایک گوری کے ساتھ بستر میں تھا اور اسے چوم رہا تھا کہ دروازہ کھٹکا تو باسط نے جا کر دروازہ کھولا تو سامنے اس کا دوست عابد پریشان سا چہرہ لے کر کھڑا تھا جس نے باسط کو بھی پریشان کر دیا

باسط: کیا ہوا پریشان کیوں ہو

عابد : میں نے ہوئی جہاز کی ٹکٹ کروا لی ہے ہم فورن گاؤں جا رہیں ہیں

باسط کا تو رنگ ہی اڑ گیا کہ عابد کو اس وقت کیا ہو گیا ہے تو عابد نے باسط کو گلے لگایا اور رونا شروع کر دیا 

باسط : ہوا کیا ہے کچھ تو بتاؤ

عابد : یار ماموں ریاض کو کسی نے قتل کر دیا 

یہ کہہ کر عابد واپس لوٹ گیا اور باسط تو جیسے سکتے میں آ گیا 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 لارڈ جوزف کو چوھدری ریاض کے قتل کی خبر مل چکی تھی لارڈ نے خوشی سے آج جشن کا اعلان کیا سب جانتے تھے کہ جشن میں شراب اور شباب دونوں چلتی ہیں 

لارڈ نے ماجو سے لڑکیوں کا بندوست کرنے کو کہا اور یہ بھی کہا کہ دو چار دن گاؤں سے کوئی لڑکی نہ اٹھائی جائے ورنہ معاملہ خراب ہو سکتا ہے بلکہ وہ لڑکیاں لائیں جائیں جو کہ خود پیسے کے لئے آتی ہے ماجو جو کہ ایک دلال بھی ہے اس نے رات کو لارڈ کے پاس چار لڑکیاں بھیج دیں جن میں اس کی بیوی بھی شامل تھی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ایک رات کے چار روپے ملنے ہیں اور یہ ایک اچھی خاصی رقم تھی 

رات کو نو بجے کے بعد لارڈ اور اس کے ساتھی شراب پی کر ٹن ہو چکے تھے تو لڑکیاں لارڈ کے کمرے میں لائی گئیں تو سب مرد جن کی تعداد دس تھی نے اپنے اپنے لن پینٹس سے باہر نکال لئے لڑکیوں کو پتہ تھا کہ کیا کرنا ہے کیونکہ وہ پہلے بھی یہاں آ چکیں تھیں ۔لڑکیاں درمیان میں بیٹھ گئیں اور لارڈ جوزف کے علاؤہ باقی تمام لوگ دائرے کی شکل میں کھڑے ہو گئے اور لڑکیاں باری باری سب کے لن چوس رہیں تھیں لارڈ نے سب کچھ دیکھا اور اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چل پڑا جہاں اس کا انتظار رشماں کر رہی تھی ریشماں کئی مہینوں سے لارڈ کے ساتھ تھی کیا کمال کی خوبصورت لڑکی تھی عمر بیس سال اور جسم ایسا کہ جو دیکھے تو بس دیکھتا ہی رہ جائے لارڈ نے اسے لاہور سے ایک پارٹی پر بلایا تھا اور پھر اسے اپنے پاس ہی رکھ لیا ریشماں بہت چالاک تھی اپنا جسم دے کر لارڈ سے کوئی بھی کام کروا سکتی تھی خاص کر یہ راہول جو کہ چوہدری ریاض کا دشمن نمبر ایک تھا کی خاص تھی اور چوہدری ریاض کے گاؤں کی لڑکیوں کی طرف بھی لارڈ کا دھیان بھی اسی نے لگایا تھا ۔ 

لارڈ کمرے میں داخل ہوا تو ایک کونے میں پڑی کرسی سے ریشماں اٹھی اور اک ادا سے چلتی ہوئی لارڈ  کے پاس آئی اور لارڈ نے ریشماں کو باہوں میں لے کر اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیئے اور اس کی نائیٹی کا بھی بیلٹ کھول دیا اور اس کے مموں پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا کافی دیر دونوں ہونٹوں سے ہونٹ جوڑے کھڑے رہے پھر لارڈ نے اس کے سر کو نیچے کو دبایا تو ریشماں نیچے بیٹھتی چلے گئی اور لارڈ کی پینٹ کا بیلٹ کھولا اور پینٹ اتار دی اور لارڈ کا مرجھایا ہوا لن پکڑ کر منہ میں لے لیا کچھ ہی دیر بعد لن میں سختی آ گئی چار انچ کا ڈھیلا سا لن تھا جو ریشماں پوری توجہ سے چوس رہی تھی جب لارڈ کو لگا کہ اس کا لن پوری طرح کھڑا ہو گیا ہے تو اس نے ریشماں کو بیڈ پر گھوڑی بنایا اور لن اس کی پھودی میں ڈال دیا جو کہ بڑی مشکل سے اندر گیا اور جھٹکے مارنا شروع کردیے لیکن چار پانچ جھٹکوں کے بعد ہی اس کی پھودی میں چھوٹ گیا اور ہانپتا ہوا لیٹ گیا اور شراب نوشی کی وجہ سے اسے ہوش تو تھی نہیں اس لیے کچھ ہی دیر میں سو گیا لیکن ریشماں کے اندر تو آگ جلا گیا تھا رشماں باہر نکلی تو دیکھا کہ دس انگریز بلکل ننگے چار لڑکیوں سے مزے کر رہے تھے کسی نے لڑکی کی پھودی میں ڈالا ہوا تھا تو کسی نے منہ میں تو کسی نے گانڈ میں سب مگن تھے تو ریشماں باہر کی طرف نکل گئی اس نے باہر گیٹ پر موجود سپاہی سے دوستی لگائی ہوئی تھی جب بھی لارڈ اسے درمیان میں چھوڑ دیتا تو یہ اس سپاہی سے آ کر چدوا لیتی سپاہی سے چدوانے کا مقصد یہ بھی تھا کہ وہ ایک گاؤں کا غریب لڑکا تھا جو جیسے ریشماں کہتی وہ ویسے ہی کرتا اس لئے ریشماں نے گیٹ پر جا کر فضلو کو اندر سرونٹ کوارٹر میں آنے کا کہا اور خود سرونٹ کوارٹر میں چلے گئی کوارٹر میں جاتے ہی ریشماں نے نائیٹی اتار کر پھینک دی اور کرسی پر ٹانگیں کھول کر بیٹھ گئی فضلو نے بھی آتے ہی کپڑے اتار دیئے اور جا کر ریشماں کی پھودی چاٹنے لگا دس منٹ کے بعد ریشماں کی ٹانگیں اکڑ گئیں اور اس نے دونوں ہاتھوں سے فضلو کا سر اپنی پھودی پر دبایا اور ایک سسکی کے ساتھ ہی فارغ ہو گئی تو اس نے فضلو کو پیچھے کر دیا فضلو پیچھے ہو کر بیٹھ گیا اور اپنے لن کی مٹھ مارنے لگا فضلو کا سات انچ کا لن موٹا تازہ ریشماں کو بہت زیادہ پسند تھا اور آج تک اس نے اس سے بڑا اور موٹا لن نہ دیکھا تھا اور نہ ہی لیا تھا ریشماں نے فضلو کو اشارہ کیا اور خود جا کر چارپائی پر لیٹ گئی فضلو نے چارپائی پر جا کر ریشماں کی ٹانگیں کھول کر کندھوں پر رکھیں اور اور لن کی ٹوپی ریشماں کی پھودی پر اور آرام سے لن پھودی میں اتار دیا ریشماں نے ایک مزے کی سسکی لی ااااااہاااااا افففففف فضلو ایسے ہی چودتا رہا اور کچھ دیر کے بعد ریشماں کے آہ کی ہو چھوٹ گئی اس کے کوئی ایک منٹ کے بعد فضلو نے لن باہر نکالا اور مٹھ مارتے ہوئے کمرے کے کونے میں فارغ ہو گیا اور کپڑے پہن کر چلا گیا ریشماں نے بھی نائٹی پہنی اور اپنے کمرے میں جا کر سو گئی۔ 

***************************************

لارڈ جوزف جو کہ پچاس سال کا بوڑھا آدمی تھا اس کے برعکس اس کی بیوی انجلینا پینتیس سالہ خوبصورت عورت تھی جس کے بڑے بڑے ممے اور باہر کو نکلی گانڈ تو کمال کی تھی۔ سیکس اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا ۔ اس نے پیسے کی خاطر لارڈ جوزف سے شادی کی تھی شادی کو آٹھ سال ہو چکے تھے لیکن وہ صرف چھ ماہ ہی صرف لارڈ سے چدواتی رہی اس کے بعد لارڈ کو ہندوستان بھیج دیا گیا یہاں آ کر لارڈ جوان جوان لڑکیوں کو چودتا اور اس کے پاس تو بس مہینے میں ایک دفع ہی آتا اور لارڈ کے چھوٹے اور مرجھائے ہوئے لن سے اب اسے کوئی مزہ بھی نہیں آتا تھا ۔ انجلینا ہر کسی پر اعتبار بھی نہیں کر سکتی تھی کیونکہ وہ لارڈ کی بیوی تھی۔ انجلینا اتنی گرم عورت تھی کہ اسے دل میں دو دفع لن تو ضرور چاہے ہوتا ہے اس لیے اس نے اس کا مستقل حل کیا ہوا تھا اس کو برطانوی حکومت نے دو ملازم دئیے ہوئے تھے جو دونوں بھائی تھے ایک کا نام رام چن اسے سب چن کہتے تھے اور دوسرے کا نام رام گوپال اسے سب گوپی کہتے تھے یہ دونوں سات سال سے لیڈی انجلینا کے ساتھ تھے بڑا گوپی تھا اس کی عمر اب اکیس سال تھی جبکہ چند کی عمر اٹھارہ سال تھی جب انجلینا ہندوستان آئی اور اسے چند اور گوپی ملازمین کی صورت میں دئے گئے تو دو مہینے تو وہ کوشش کرتی رہی کہ اسے کوئی لن مل جائے لیکن کوئی اسے کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا تھا کیونکہ لوگ لارڈ سے ڈرتے تھے اک دن انجلینا نے گوپی کو نہاتے ہوئے دیکھ لیا اس کا لن دیکھ کر تو اینجلینا اچھل پڑی سات انچ کا موٹا لن اس کے منہ میں تو پانی آ گیا اسے اندازہ نہیں تھا کہ چوداں سال کے لڑکے کا لن بھی اتنا بڑا ہو سکتا ہے انجلینا اپنے کمرے میں چلے گئی اور جاتے ہوئے چند کو جو کہ صحن میں کھیل رہا تھا کو کہہ گئی کہ گوپی آئے تو اسے میرے کمرے میں بھیج دینا کمرے میں جاتے ہی انجلینا نے کپڑے اتار دئے اور چادر لے کر لیٹ گئی تھوڑی دیر بعد گوپی کمرے میں داخل ہوا تو انجلینا نے کہا کہ تم نے آج میرے کمرے میں سونا ہے کیونکہ مجھ ڈر لگ رہا ہے تو گوپی اپنا بستر لینے چلا گیا اور چند کو بھی سونے کا کہہ کر واپس لیڈی کے کمرے میں چلا گیا اور جا کر فرش پر بستر بچھا کر لیٹ گیا کچھ دیر بعد انجلینا نے ڈرنے کی اداکاری کی اور گوپی کو کہا کہ اور بیڈ پر اس کے ساتھ سوئے کیونکہ اسے ڈر لگ رہا ہے ۔گوپی ڈرتا ہوا بیڈ کے کونے پر لیٹ گیا لیکن جلد ہی انجلینا نے اسے بازوؤں میں بھر لیا جیسے ہی انجلینا کے ننگے ممے گوپی کے ساتھ لگے گوپی کھبرا گیا اور مارے کھبراہٹ کے تھر تھر کانپنے لگا انجلینا کو بھی اندازہ ہو گیا کہ بچہ ڈر گیا ہے تو اس نے پیار سے گوپی کا ماتھا چوم لیا اور کافی دیر ایسے ہی لیٹے رہے پھر انجلینا نے تھوڑا اور آگے بڑھنے کا سوچا اور اس کے لن کے ساتھ اپنا نیچے والا جسم بھی جوڑ دیا گوپی کا تو رنگ ہی اڑ گیا آہستہ آہستہ انجلینا اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیر رہی تھی کچھ ہی دیر میں گوپی کچھ سنبھل گیا تو انجلینا نے اپنا ہاتھ گوپی کی شلوار میں ڈالا اور اس کا لن پکڑ لیا جوکہ بہت سخت ہوا تھا اور اس کے ساتھ ہی انجلینا نے گوپی کے کالے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیئے اور اپنی زبان گوپی کے منہ میں ڈال دی تو گوپی کو بھی مزہ آنے لگا تو اس نے انجلینا کی زبان چوسنا شروع کر دی کافی دیر دونوں ایسے ہی لیٹے رہے تو انجلینا نے پڑے آرام سے گوپی کو کپڑے اتارنے کا کہہ تو گوپی نے بھی کپڑے اتار دیئے اس کا کالا موٹا لن دیکھ کر انجلینا سے رہا نہ گیا تو اس نے گوپی کا لن ہاتھ میں پکڑ لیا اور مٹھ مارنی شروع کر دی جبکہ گوپی نادیدوں کی طرح انجلینا کے ننگے مموں کو دیکھ رہا تھا تو انجلینا کو بھی اس پر ترس آ گیا تو اس نے ہنستے ہوئے گوپی کا ہاتھ پکڑا اور اپنے مموں پر رکھ دیا گوپی کو چودئی کے بارے میں سب پتا تھا کیونکہ جس گورے کے پاس وہ پہلے تھا وہ اس کے سامنے ہی لڑکیوں کو چودتا تھا ایک دفع وہ بھی ایک لڑکی کو چود چکا تھا اس لیے اس نے مزے لینے کا فیصلہ کیا اور انجلینا کے ممے دبانے لگا کچھ دیر بعد انجلینا لیٹ گئی اور اس نے دونوں ٹانگیں کھول دیں اور گوپی کا لن اپنی پھودی پر پھیرنے لگی گوپی سے اب صبر نہیں ہو رہا تھا تو اس نے انجلینا کے ہاتھ سے لن چھوڑیا اور پھودی کے سوراخ پر رکھ کر فل زور سے جھٹکا دیا تو لن آدھا اندر گھس گیا انجلینا کسی بکری کی طرح تڑپی اور چیخی لیکن گوپی کے سر پر اس وقت پھودی سوار ہو چکی تھی تو اس نے ایک اور جھٹکا دیا اور پورا لن اندر ڈال دیا اور پھر انجلینا کے ننگے ممے منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا کافی دیربعد انجلینا کچھ نارمل ہوئی تو گوپی نے آہستہ آہستہ جھٹکے مارنے شروع کر دیے کچھ دیر بعد سپیڈ تیز کر دی اب انجلینا کو بھی مزہ آنے لگا تو وہ مزے میں ااااااہاااااا افففففف  فک می ہارڈ یسسسسسس افففففف کی آوازیں نکال رہی تھی کچھ دیر بعد ہی انجلینا نے پانی چھوڑ دیا  

لیکن گوپی لگا رہا کچھ دیر بعد گوپی نے انجلینا کو گھوڑی بنایا اور لن اس کی پھودی میں ڈال کر کھسوں کی مشین چلا دی کچھ ہی دیر کے بعد انجلینا نے پھر پانی چھوڑ دیا تو گوپی نے لن باہر نکالا لیکن انجلینا نے لن پکڑ کر اپنی گانڈ کی موری پر رکھ دیا ادھر سے گوپی نے جھٹکا مارا ادھر سے انجلینا نے اپنی گانڈ پیچھے کو کی تو لن غڑپ سے گانڈ میں گھس گیا اور انجلینا کی ایک درد ناک چیخ نکلی لیکن گوپی نے کسی چیز کی پروا کئے بغیر جھٹکے دینا شروع کر دیے اور دس منٹ کے بعد انجلینا کی گانڈ میں ہی فارغ ہو گیا انجلینا آگے کو لیٹ گئی اور گوپی بھی اس کے اوپر ہی لیٹ گیا کچھ دیر بعد آٹھ کر اپنے کپڑے پہنے اور نیچے بستر پر لیٹ گیا جبکہ انجلینا اٹھی اور واشروم میں جا کر گانڈ سے منی نکال کر اسے دھو کر واپس آ کر لیٹ گئی کئی ماہ بعد کی چودای نے اسے بہت سکون دیا تھا اسے پتہ ہی نہ لگا کہ وہ سو گئی اس دن کے بعد روز رات کو انجلینا کی چودای ہوتی کبھی دن کو بھی اگر دل کرتا تو دن کو بھی ہو جاتی کچھ عرصہ کے بعد گوپی کی فرمائش پر انہوں نے چند کو بھی اس چدائی والے کھیل میں شامل کر لیا سات سال سے یہ دونوں بھائی انجلینا کی ٹھکائی کر رہے تھے اور اب تو اک چودائی صبح ہوتی اور اک رات کو انجلینا ان دو لنوں سے بہت خوش تھی جب کوئی گھر میں نہ ہوتا تو سب اپنے کپڑے اتار دیتے اور انجلینا نے باقی دوسرے کاموں کے لئے دو نوکر اور رکھ لیں تھے جبکہ گوپی اور چند کا کام صرف اور صرف چودائی کرنا تھا مہینے میں ایک دفع لارڈ آتا تو صرف اس دن انجلینا کو مزہ نہیں آتا لیکن وہ باتیں کر سکتی تھی اس سے کیونکہ یہاں کسی کو بھی انگریزی نہیں آتی تھی اس لیے انجلینا نے اگر کسی کو کوئی کام کہنا ہوتا تو یا تو اشاروں سے سمجھاتی یا پھر ان سات سالوں میں جو اس نے ٹوٹی پھوٹی اردو سیکھی تھی اس میں سمجھانے کی کوشش کرتی ۔ باقی سب ٹھیک چل رہا تھا لیکن انجلینا کو کوئی باتیں کرنے کے لیے چاہیے تھا لیکن وہ اس کے پاس نہیں تھا جب وہ اکیلی بور ہوتی تو یا تو گوبی اور چند کو بلوا لیتی یا پھر خود ہی باتیں کرنا شروع کر دیتی ۔اب تو تمام ملازمین بھی اسے پاگل سمجھنے لگ گئے تھے ۔ اس کے یوں باتیں کرنے سے گوپی اور چند بھی اس سے ڈرنے لگے تھے لیکن وہ مجبور تھے کچھ کر نہیں سکتے تھے سال پہلے جب ان کا بھی دل کرتا تھا تو وہ بغیر اجازت کے جا کر انجلینا پر چڑھ جاتے تھے لیکن اب جب بھی انجلینا بولاتی صرف تب ہی جاتے ۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

نائس۔۔۔۔ زرا لمببببببی اپڈیٹ دیو یار

Share this post


Link to post
Share on other sites

کہانی کو پسند کرنے کا شکریہ جلد ہی اپڈیٹ آ جائے گئی ۔

شکریہ 

Rizy.b

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

دوستوں 3100 ویوز ہونے کے باوجود صرف چار کی کمنٹ بڑے افسوس کی بات ہے۔یہ ٹھیک ہے کہانی پڑھو مٹھ مارو اور سو جاؤ جو بندہ محنت سے لکھ رہا ہے وہ وجے لن تے 

شاباش

Rizy.b

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...