Jump to content
URDU FUN CLUB

Recommended Posts

ڈاکٹر ہما  
قسط نمبر 01 

ڈاکٹر ہما 28سال کی ایک بہت ہی خوبصورت اور جوان لڑکی تھی۔ بے حد گوری رنگت، چکنا جسم، چھوؤ تو ہاتھ پھسلتا ہی جائے جسم پر سے، ایسا لگتا تھا کہ جیسے دودھ اور مکھن سے تراشا ہوا جسم ہو اسکا۔مناسب قد ، لمبے سیاہ بال، ہلکی سی نیلی آنکھیں، بےحد خوش مزاج اور ہنس مکھ لڑکی۔ ویسا ہی شوہر اسے ملا تھا ۔انور بھی اپنے حسن اور وجاہت میں اپنی مثال آپ تھا۔ مناسب قد، گورا رنگ، مضبوط جسم اور پیار کرنے والا۔ دونوں کی جوڑی خوب جچتی تھی۔ جو بھی دیکھتا تو دیکھتا ہی رہ جاتا اور انکی جوڑی کی تعریف کیئے بنا نہ رہ سکتا تھا۔ اگرچہ ڈاکٹری کی ت***م مکمل کر چکی تھی اورشادی کو بھی ڈیڑھ سال ہو چکا تھا مگر دیکھنے میں ابھی بھی ایک کمسن معصوم سی لڑکی ہی لگتی تھی ۔ دل کی بہت اچھی تھی ۔ غرور اور بدمزاجی تو اسکے مزاج میں دور دور تک نہیں تھی ۔ کسی کو تکلیف دینے کاتووہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔ دوسروں پر بہت جلدی اعتبار کر لینے اور انکی باتوں میں آجانے والی نیچر تھی ہما کی۔ تعلق اسکا ایک متوسط گھرانے سے تھا جو کہ انتہائی شریف لوگ تھے۔ والد اسکے ایک سرکاری ملازم تھے۔ اپنی زندگی میں پیسہ سے زیادہ انہوں نے عزت ہی بنا ئی تھی۔ ت***م مکمل ہونے کے بعد جب ہما کی شادی کی بات چلی تو انکے ایک بہت جگری دوست نے اپنے بیٹے کا رشتہ پیش کیا جسے ہما کے والد نے بخوشی قبول کر لیا۔ اپنے والد کے فیصلے کو مانتے ہوئے اس نے ڈاکٹری کی ت***م مکمل کرنے کے بعد اپنے ابو کے دوست کے بیٹے سے شادی کو ہاں کر دی تھی ۔ اسکے ابو کے دوست کا بیٹا انور ایک فرم میں انجینئر تھا۔ اچھی جاب تھی۔ انور کے والد گاؤں میں ہی رہتے تھے اپنی زمینوں کی دیکھ بھال کے لیے اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ۔ کبھی دل کرتا تو شہر میں آجاتے کچھ دن انور کے پاس رہنے کے لیےاور پھر واپس چلے جاتے۔ ساٹھ پینسٹھ سال کی عمر میں بھی چوہدری کرامت مکمل فٹ آدمی تھے۔ بڑا بیٹا عابد بھی پڑھا لکھا تھا مگر اب اپنے باپ کے ساتھ گاؤں میں ہی رہ گیا ہوا تھا اور اپنی زمینوں کی دیکھ بھال کرتا تھا۔ ہما بھی اس خاندان میں آکر بہت ہی خوش تھی۔ ساس اسکی تھی نہیں جس سے کسی بات پر اونچ نیچ ہوتی اور سسر تو تھے ہی بہت اچھے انسان ۔
ہما اپنے شوہر انور کے ساتھ بہت خوش تھی۔ وہ اسکا بہت خیال رکھتا تھا۔دونوں شہر میں ایک بلڈنگ کی چوتھی منزل کے فلیٹ میں رہتے تھے۔ اس سے اوپر کی منزل ابھی زیر تعمیر تھی جس میں بلڈنگ کے سیکورٹی گارڈ رہتے تھے۔ ہما شادی کے ایک سال بعد تک ہما گھر پہ ہی رہی مگر شوہر کے ڈیوٹی پر چلے جانے کے بعد اسکا دل نہیں لگتا تھا  
آخر اس نے جاب کرنے کا فیصلہ کیا۔ انور نے بھی خوشدلی سے اسے اجازت دے دی۔ کیونکہ وہ بھی اپنی خوبصورت بیوی کی خوشی میں ہی خوش تھا۔
اپنی سہولت اور وقت کو دیکھتے ہوے ہما نے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں کام کرنے کا ارادہ کیا۔ اسے شہر کے ایک اچھے پرائیویٹ ہسپتال میں نوکری مل گئی۔ مناسب تنخواہ تھی جس کی دونوں کو ہی کوئی خاص فکر نہیں تھی کیونکہ وہ تو صرف اپنا ٹائم ہی پاس کرنا چاہتے تھے۔ ہسپتال میں ظاہر ہے کہ تینوں شفٹوں میں کام ہوتا ہے تو اسکی ڈیوٹی بھی تبدیل ہونے لگی۔ سوٹ تو انکو صبح کی ڈیوٹی ہی کرتی تھی اور رات کے لیے بھی دونوں نے فیصلہ کیا کے کام چلایا جا سکتا ہے۔ مگر شام کی ڈیوٹی سے ہما نے باہم مشورہ سے انکار کر دیا۔ ہسپتال کی انتظامیہ نے بھی زیادہ زور نہیں دیا اور جیسے وہ ڈیوٹی کرنا چاہتی تھی اسے کرنے کی اجازت دے دی۔ آخر ہسپتا ل بھی ہما جیسی ایک خوبصورت لیڈی ڈاکٹر کو کیسے جاب سے فارغ کر سکتے تھے۔ بس اب اسی طرح کام چلنے لگا کہ ہما ہسپتا ل میں صرف مارننگ اور نائیٹ ڈیوٹی کرتی۔ رات کو انور خود آکر اسے چھوڑ جاتا اور صبح کو آکر واپس لے جاتا۔
ہما کوڈیوٹی کرتے ہوے تین ماہ ہوے تو ایک لیڈی ڈاکٹر جاب چھوڑ گئی اور اسکی جگہ ایک نوجوان ڈاکٹر نے جوائن کیا۔ ڈاکٹر زمان ایک خوبصورت اور بہت متاثر کن شخصیت کا مالک تھا۔ امیر گھرانے کا تھا اور صرف شوق سے اس ہسپتال میں پرائیویٹ ڈیوٹی کرنے لگا تھا۔ ڈاکٹر ہما سے وہ عمر میں چھوٹا تھا اور ویسے بھی دو سال جونیئر ہی تھا۔ مگر دونوں میں اچھی بننے لگی۔
ڈاکٹر زمان کو پہلے دن ہی ہما بہت اچھی لگی اور اسکے دل کو بھا گئی۔ جب اسکو پتہ چلا کہ وہ شادی شدہ ہے تو بھی اسکو کوئی مایوسی یا پریشانی نہیں ہوئی۔ کیونکہ درحقیقت زمان ایک کھلاڑی نوجوان تھا جسکا مشغلہ ہی نوجوان اور خوبصورت لڑکیوں کو اپنے چنگل میں پھنسا کر اپنی ہوس پوری کرنا تھا۔ اور ہما اپنی خوبصورتی اور معصومیت کی وجہ سے ہر طرح سے اسکے میعار پہ پوری اترتی تھی بلکہ اسکی زندگی میں آنے والی تما م لڑکیوں سے بڑھ کر تھی۔ پہلے دن ہما کو دیکھتے ہی زمان نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ ہما کے خوبصورت جسم کا مزہ لے کر رہے گا۔ جیسے بھی ہو وہ اس حسین بدن کو حاصل کرے گا۔ 
اپنے اس مقصد پر اس نے پہلے دن سے ہی عمل کرنا شروع کر دیا۔ دھیرے دھیرے ہما کے ساتھی دوستی کرنے لگا۔ دونوں ڈکٹرز میں بات چیت یا ہنسی مزاق ہونا کوئی بڑی بات نہیں تھی کیونکہ ایک شفٹ میں وہ دو ہی ڈاکٹرز ہوتے تھے اور باقی کا عملہ الگ ہوتا تھا۔ دونوں کے آفس اگرچہ الگ الگ تھے مگر دونوں اکٹھے بھی بیٹھ سکتے تھےاس پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ ]جب ہما کی نائیٹ ڈیوٹی ہوتی تو وہ بھی اپنی نائیٹ ڈیوٹی ہی لگواتا۔ بس ایک طرح سے ہسپتال میں دو دو ڈاکٹرز کے تین گروپ بنے ہوئے تھے جو کہ ایک ساتھ ہی ڈیوٹی کرتے تھے۔ اسی وجہ سے زمان نے اپنا ساتھی ہما کو بنا لیا تھا۔
پرائیویٹ ہسپتال میں رات کو کام تو اتنا زیادہ نہیں ہوتا تھا بس جیسے ہی وہ اپنے اپنے کام سے یعنی مریض دیکھنے سے فارغ ہوتے اور کسی ایک کے آفس میں بیٹھ کر گپ شپ کرنے لگتے۔ آخر دونوں نے اور کرنا ہی کیا تھا۔ کبھی زمان چائے منگواتا تو کبھی ہما اور کبھی کچھ کھانے پینے کا پروگرام بھی بن جاتا تو وہ بھی چلتا رہتا اور بس ایسے ہی ہنسی کھیل میں ہما کی ڈیوٹی گزرنے لگی۔ وہ اب اپنے فارغ پن سے بھی نجات پا چکی تھی اور زمان کی شکل میں اسے ایک اچھا دوست بھی مل گیا تھا۔
ہما ایک لڑکی تھی تو زمان کی اسکے اندر دلچسپی کو وہ کیسے محسوس نہ کر پاتی۔ اسے بھی احساس ہونے لگا کہ زمان اسکو پسند کرتا ہے اور اسی لیے وہ اسکے اردگرد ہی منڈلاتا رہتا ہے۔ ویسے بھی عورت بھی تو آخر انسان ہی ہوتی ہے نا تو جیسے مرد کا دل باہر نظر آنے والی کسی بھی خوبصورت لڑکی کو دیکھ کر مچل جاتا ہے تو ایسے ہی عورت کا بھی کسی پرائے مرد کو دیکھ کر اس میں دلچسپی لینا بھی کوئی بڑی یا بری بات تو نہیں نا۔ اور یہ اکثر ایسا ہوتا ہے۔ مگر مردوں کے برعکس عورتیں اپنی اس قسم کی پسند کو بڑے سلیقے سے اپنے دل میں ہی چھپا جاتی ہیں۔ کچھ ایسا ہی حال ہما کی بھی تھا۔ اسے بھی زمان اچھا تو لگتا تھا مگر وہ کوئی بھی قدم آگے بڑھانے سے ڈرتی یا جھجکتی تھی۔
ہما لباس کے معاملے میں فیشن کا کافی خیال رکھتی تھی اور جب سے جاب پر آنے لگی تھی زمان کے ساتھ تو اور بھی اپنے پہناوے کا خیال رکھتی تھی۔

Share this post


Link to post

اردو فن کلب کے پریمیم سیریز اور پریمیم ناولز اردو فن کلب فورم کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جو فورم کے پریمیم رائیٹرز کی محنت ہے اور صرف وقتی تفریح کے لیئے فورم پر آن لائن پڑھنے کے لیئے دستیاب ہیں ۔ ہمارا مقصد اسے صرف اسی ویب سائیٹ تک محدود رکھنا ہے۔ تاکہ یہ گناہ جاریہ نہ بنے ۔ اسے کسی بھی طرح سے کاپی یا ڈاؤن لوڈ کرنے یا کسی دوسرے دوست یا ممبر سے شیئر کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ۔ جو ممبران اسے اپنے دوستوں سے شئیر کر رہے ہیں ۔ ان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے ممبر سے بھی شئیر نہیں کر سکتے ۔ ورنہ ان کا مکمل اکاؤنٹ بین بھی ہو سکتا ہے۔ ڈیٹا شیئر کرنے والہ ممبراس بات کا عملی اقرار کرے گا کہ وہ بروز قیامت فورم انتظامیہ، سٹوری رائیٹر اور فورم ایڈمن کے تمام گناہوں کا اکلوتا وارث ہو گا ۔ اور بروز قیامت اپنی تمام نیکیاں (جو بھی اس کے نامہ اعمال میں ہوئیں ) بروز قیامت مجھے دینے کا پابند ہو گا۔ اگر کوئی ممبر اب بھی ایسا کرتا ہے اور گناہ جاریہ کا سبب بنتا ہے ۔ تو اس شرط کو ایگری کرتے ہوئے شیئر کر سکتا ہے ۔ فورم کو اس ایگری منٹ پر اجازت دینے میں کوئی اعتراض نہیں ۔ ایڈمن اردو فن کلب

ہم نے کردار کی عظمت کو گرنے نہیں دیا😇
دھوکے تو بہت کھائے مگر دھوکہ نہیں دیا🤗

ڈاکٹر ہما 
قسط نمبر 02 

آپ سب کہانی پر دل کھول کر لاہک اور کمنٹ کریں ہم دل کھول کر آپ تک کہانیاں پہنچاے گے 
اب چلتے ہیں کہانی کی طرف 
جب سے جاب پر آنے لگی تھی زمان کے ساتھ تو اور بھی اپنے پہناوے کا خیال رکھتی تھی۔۔ فیشن کے مطابق ہی کپڑے پہننے کا شوق تھا اسکو۔۔ ہر طرح کے کپڑے پہننے کی اجازت تھی اسکو اپنے شوہر کی طرف سے۔۔ وہ اکثر قمیض، شلوار یا ٹائٹس، لیگی یا جینز پہنتی تھی۔ ہر لباس ہی اسکے کھلتے ہوئے خوبصورت جسم پر جچتا تھا۔۔ جب بھی ٹائٹس پہنتی تو اسکے جسم کے نشیب و فراز دلوں پر بجلیاں ہی گراتے تھے۔ اور ایسی ہی بجلیاں ڈاکٹر زمان کہ گھائل کر چکی ہوئی تھیں۔
ڈیوٹی پر موجود ایک نرس زیب سے ہما کی اچھی دوستی تھی وہ بھی ہما کو چھیڑتی کہ زمان اسکو پسند کرنے لگا ہے ۔
زیب نے اُس وقت یہ بات کی جب زمان ایک مریض کو دیکھنے گیا ہوا تھا۔ اسکی بات سن کر ہما کے گورے گورے چہرے پہ ایک ہلکا سا سرخ رنگ لہرا کر گزر گیا اور وہ دھیرے سے مسکرا کر بولی۔[
تو میں کیا کروں۔
زیب: ڈاکٹر صاحبہ کرنا تو آپکو وہی پڑے گا جو ڈاکٹر زمان چاہیں گے۔
ہما ہنس پڑی اور زیب کی طرف مصنوعی غصے سے دیکھتی ہوئی بولی۔۔ کیا مطلب ہے تمھارا۔۔۔ تم خود کرلو جو کرنا ہے اسکے ساتھ ۔۔ یا جو وہ کہتا ہے۔ ۔زیب مسکرائی۔۔ ہائےےےےے۔۔۔ میں تو فوراََ تیار ہوجاؤں اگر زمان صاحب مجھے ایک بار بھی اشارہ کر دیں۔ ۔
ہما بھی اسکی بات پر ہنسنے لگی ۔۔۔ اور تھوڑی شرماتی ہوئی بولی ۔۔تم تو ایسے کر رہی جیسے تمھارے اندر کوئی بہت ہی زیادہ آگ لگی ہوئی ہو۔ ۔ لگتا ہے کہ تمھارا دل ڈاکٹر زمان پہ آگیا ہے۔۔
زیب ہنسی۔۔۔ کیا کرؤں ڈاکٹر زمان ہیں ہی اتنے ہینڈسم اور سمارٹ کہ ان پہ دل آجانا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔۔۔
ہما۔۔۔ پھر تمھارے اس عاشق کا کیا جو اکثر تمکو ملنے آتا ہے ۔۔۔۔۔ راشد۔۔
زیب۔۔ ہو تو ہے ہی ۔۔۔۔۔۔ پر اس دل کا کیا کرؤں ۔۔۔ زیب اپنے بائیں ممے پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی ۔۔
ہما بھی اس سب بات چیت کو حسبِ معمول انجوائے کر رہی تھی۔۔ تو پھر کہہ کیوں نہیں دیتی ان سے اپنا حالِ دل۔۔
زیب۔۔ کیا فائدہ کہنے کا ڈاکٹر ہما۔۔ زیب اپنے چہرے پر تھوڑی شرارت اور تھوڑی مایوسی لاتی ہوئی بولی۔
ہما ۔۔ کیوں ۔۔ فائدہ کیوں نہیں۔۔
زیب ہما کو آنکھ مارتی ہوئی بولی۔۔۔ کیونکہ ڈاکٹر زمان کا دل تو آپ پر آیا ہواہے۔۔
ہما بھی شرما کر ہنسنے لگی۔۔ اور بولی۔۔ جی نہیں میں ایک شادی شدہ لڑکی ہوں۔۔ مجھ سے کیا مطلب اسکو۔[
زیب۔۔ ارے ہما جی۔۔۔ زمان صاحب کو جو مطلب ہے وہ تو ایک شادی شدہ لڑکی بھی پورا کر سکتی ہے۔۔
ہما شرماتی ہوئی۔۔ جی نہیں مجھے کسی کا کوئی مطلب پورا نہیں کرنا۔۔ میں اپنے میاں جی کے ساتھی ہی خوش ہوں
زیب ہنسی۔۔ ڈاکٹر ہما آپکی شرماہٹ بتا رہی ہے کہ آپکے دل میں بھی کچھ کچھ ہوتا ضرور ہے زمان صاحب کو لے کر۔۔ اور ہوتا بھی ہے تو کیا ہوا۔۔ ان شادی شدہ مردوں کی طرح ایک شادی شدہ لڑکی کو بھی پوری اجازت ہے اور حق ہے کہ وہ بھی اپنے من پسند مرد سے انجوائے کر سکے ۔۔
ہما ہنسنے لگی ۔تو مجھے گھر سے نکلوائے گی زیب ۔۔ زیب بھی اس بات پر ہنسنے لگی ۔
زیب۔۔ ڈاکٹر ہما ۔۔ ایک بات کہوں ۔۔ ویسے آپ ہو بہت لکی۔
ہما مسکرائی۔۔ وہ کیسے۔
زیب۔۔ وہ ایسے کہ آپکو شوہر ملا تو بہت خوبصورت اور اسکے بعد عاشق ملا تو وہ شوہر سے بھی بڑھ کر۔۔
ہما اسکی بات پر شرما گئی اور ہنسنے لگی۔۔۔ دونوں ہنس رہی تھیں کہ زمان آفس میں داخل ہوا اور دونوں کو ہنستے ہوئے دیکھ کر بولا ۔۔ کیا بات ہے ۔۔ آپ لوگ کس بات پر ہنس رہے ہو جی۔۔ما اور زیب دونوں ایکدوسری کو دیکھ کر مسکرانے لگیں۔۔
ہما۔۔ نہیں کوئی خاص بات نہیں تھی ڈاکٹر زمان آپ آئیں بیٹھیں۔۔
زمان ایک صوفے پر بیٹھ گیا تو زیب اپنی جگہ سے اُٹھی اور آفس سے باہر جاتی ہوئی بولی ۔۔ آپ لوگ گپ شپ کرئیں میں روم 7 کے مریض کو دیکھ کر آتی ہوں۔
باہر کو جاتے ہوئے زیب نے ہما کو دیکھ کر آنکھ ماری شرارت سے مسکرائی اور آفس سے باہر نکل کر دروازہ بھی بند کر گئی۔۔[
ہما فوراََ بولی۔۔ ارے زیب دروازہ تو کھلا رہنے دہ۔ مگر زیب دروازہ بند کر کے جاچکی تھی۔۔
زمان مسکرایا ۔۔ ارے ڈاکٹر ہما ۔۔ کیوں گھبرا رہی ہیں دروازہ صرف بند ہوا ہے لاک تو نہیں ہوا نہ۔۔ ویسے بھی آپکو میرے سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔میں آپکو کاٹنے تو نہیں لگا نا۔۔ 
ہما اسکی بات پہ مسکرا دی اور تھوڑا شرما بھی گئی۔۔ لیکن ایسے اچھا تو نہیں لگتا نا کہ ہم آفس بند کر کے بیٹھے ہوں کوئی دیکھے تو کیا سوچے گا نا۔۔
زمان۔۔ ارے ڈاکٹر ہما رات کے ساڑھے بارہ بج رہے ہیں اس وقت سارے مریض سو چکے ہوئے ہیں آپ انکی فکر نہیں کریں۔۔ کوئی ہمیں یہاں نہیں دیکھے گا ایک ساتھ بیٹھے ہوئے۔
ہما مسکرائی ۔۔ ڈاکٹر زمان آپ دن بہ دن ناٹی نہیں ہوتےجا رہے؟
زمان ۔۔ اور آپ بھی تو دن بہ دن خوبصورت ہوتی جارہی ہیں۔۔
ہما۔۔ زمان میں ماروں گی آپکو۔۔
زمان۔۔ مار لیں آپ پھر اسکے بعد میں بھی ماروں گا ۔۔ زمان نے ہما کو آنکھ ماری۔۔
ہما شرمائی۔۔ بہت بدتمیز ہو تم نا۔۔
زمان ایک لمبی آہ بھرتے ہوئے بولا ۔۔ بس آپ کے حسن اور بے نیازی نے بدتمیز بننے پر مجبور کر دیاہے۔
ہما ہنسی ۔۔۔ زمان یار کیا تم کسی تھرڈ کلاس عاشق کی طرح بی ہیو کر رہے ہو۔۔
زمان مسکرا کہ اپنی جگہ سے اُٹھا اور ہما کے قریب ہی صوفے پر آتا ہوا بولا۔۔ چلو آج آپ نے ہمیں اپنا عاشق تو تسلیم کیا نا

Share this post


Link to post

ڈاکٹر ہما 
قسط نمبر 03 

ہما تھوڑا گھبرائی، تھوڑا شرمائی اور تھوڑا اپنی جگہ پہ سمٹی۔۔ زمان۔۔ تم سمجھتے کیوں نہیں ہو یار۔۔ میں ایک شادی شدہ لڑکی ہوں ہمارے درمیاں یہ دوستی والا سلسلہ نہیں چل سکتا نا۔۔
زمان ہما کے تھوڑا اور قریب سرکا ۔۔ دھیرے سے ہما کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور بولا ۔۔ مجھے بھی پتہ ہے کہ آپ شادی شدہ ہیں ۔۔ مگر ہم دوستی تو کر سکتے ہیں نا ۔۔ اور اس میں کوئی بھی حرج نہیں ہے ۔۔ میں بھی بس آپ سے دوستی ہی چاہتا ہوں نا کوئی آپکو اپنے شوہر سے الگ ہونے کو تو نہیں کہہ رہا نا۔۔
ہما دھیرے سے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرتی ہوئی بولی ۔۔ لیکن یہ سب ٹھیک نہیں ہے نا۔۔ اگر میرے شوہر کو پتہ چل گیا تو۔۔ 
زمان نے ہما کا ہاتھ اوپر اٹھایا ۔۔ اور اسکے گورے گورے ہاتھ کو چوم لیا۔ ہما نے فوراََ اپنا ہاتھ پیچھے کرنا چاہا مگر زمان نے اسکا ہاتھ نہیں چھوڑا بلکہ اسکے ہاتھ کو آہستہ سے جھٹکا دے کر اپنی طرف کھینچا ۔۔ تو ہما زمان کے اور قریب آگئی۔۔ دونوں کے چہرے ایکدوسرے کے بلکل قریب آگئے۔ دونوں کی نظریں ملی ہوئی تھیں ۔۔ ہما کی سانسیں تیز ہونے لگیں۔۔ اسکے ہونٹ پھڑپھڑانے لگے۔۔ دھیرے دھیرے ہونٹ کھلنے لگے۔۔ زمان جیسے خوبصورت اور ہینڈسم مرد کو اپنے اتنے قریب پا کر اسکی اپنی حالت بھی بے قابو ہونے لگی تھی۔۔آنکھوں میں عجیب سا نشہ سا اترنے لگا تھا۔۔ ۔ زمان کی گرم گرم سانسیں اسے اپنے چہرے پر محسوس ہورہی تھیں۔۔۔ 
آخر زمان نے درمیانی فاصلہ طے کرتے ہوئے اپنے ہونٹ بہت ہی آہستگی کے ساتھ ہما کے ہونٹوں پر رکھ دیئے اور اسکے گلاب کی پنکھڑیوں جیسے ہونٹوں کو چوم لیا۔۔۔ ہما کا تو پورا جسم ہی تھرا اٹھا۔۔۔ کانپ کر رہ گئی۔۔ مگر اپنے ہونٹوں کو زمان کے ہونٹوں سے جدا کرنے کا خیال اسکے دل میں آیا اور نہ ہی ہو پیچھے ہٹ سکی۔۔ زمان نے بھی اب آہستہ آہستہ ہما کے ہونٹوں کو بار بار چومنا شروع کر دیا ۔۔ پھر اسکے نچلے ہونٹ کو اپنے ہونٹوں میں لیا اور اسے چوسنے لگا ۔۔۔ اسکے دونوں ہاتھ اب ہما کے دونوں بازؤں پر تھے۔۔ جو کے اسکی ہاف سلیو شرٹ میں سے باہر تھے۔ ۔ وہ آہستہ آہستہ ہما کے گورے گورے ننگے بازؤں کو سہلانے لگا۔ ہما کے ملائم چکنے جسم پر اسکے ہاتھ پھسل رہے تھے اور اوپر سے اسکے ہونٹ ہما کے ہونٹوں کا رس پی رہے تھے۔۔ آج اسکی بہت دنوں کی خواہش پوری ہو رہی تھی اور اسے ہما کے اتنے قریب آنے ، اسکے جسم کو چھونے اور اسکو کس کرنے کا موقع مل گیا تھا۔۔۔ وہ تو خود کہ ہواؤں میں اڑتا ہوا محسوس کر رہا تھا ۔۔۔ ہواؤں میں اڑتا ہوا تو ہما بھی محسوس کر رہی تھی۔۔۔ اور اب بنا کسی مزاحمت اور روک ٹوک کے زمان کو اپنے ہونٹ چومنے اور چوسنے دے رہی تھی۔۔۔۔
کچھ دیر تک ایسے ہی ایک دوسرے کو چومنے کے بعد ہما کو تھوڑا ہوش آیا تو اس نے جلدی سے خود کو زمان سے الگ کیا ۔۔۔ زمان پلیز ۔۔ ایسا نہیں کرو۔۔ یہ سب ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔ اگر کوئی اندر آگیا نا تو بہت برا ہو گا۔۔۔ 
زمان ۔۔ ارے ہما کیوں ڈرتی ہو ۔۔ کوئی بھی اندر نہیں آئے گا ۔۔ صرف سٹاف زیب ہی تو جاگ رہی ہے ۔۔ اور وہ بھی اپنے عاشق کے ساتھ فون پر لگی ہو گی ۔تم کوئی فکر نہیں کرو کسی کی ۔۔ بس انجوائے کرو آج کا دن۔ ۔ اپنی بات پوری کرتے ہی زمان نے اس بار ہما کو اپنی طرف کھینچ کر اپنی باہوں میں بھر لیا۔۔ اور اپنے سینے سے بھینچ لیا۔۔ ہما اسکے سینے کے ساتھ لگ کر مست سی ہونے لگی۔۔ عجیب سی کیفیت ہونے لگی۔۔ عجیب سا مزہ آنے لگا۔۔ 
زمان کے ہاتھ ہما کی کمر پر تھے۔۔ اوپر نیچے کو پھسل رہے تھے۔۔ اسکی کمر کو سہلا رہا تھا۔۔ ہما کی بریزیر کے سٹریپس اور ہک اپنے ہاتھوں سے محسوس کر رہا تھا ۔۔۔ اور ایسے ہی دوبارہ سے اسکے ہونٹوں کو چومنے لگا۔۔۔ ہما کے سڈول اور سالڈ ممے زمان کے سینے سے لگے ہوئے تھے۔۔ اور وہ انکی سختی کو آسانی سے محسوس کر پا رہا تھا۔۔ ہما کے ہونٹوں کہ چومتے ہوئے۔۔ چوستے ہوئے۔۔ اسکے ہونٹوں کی لپ اسٹک چراتا جا رہا تھا۔۔
دونوں نئے نئے لوورز ایک دوسرے میں کھوئے ہوئے تھے کہ اچانک دروازہ کھلا اور سٹاف زیب اندر داخل ہوئی ۔۔ مگر اندر کا منظر دیکھ کرفوراََ ہی رک گئی ۔۔ اسے دیکھتے ہی دونوں جلدی سے ایکدوسرے سے الگ ہوگئے۔۔ 
زیب۔۔ اوہ۔۔ سوری۔۔ سوری۔۔ مجھے ناک کرکے آنا چاہیے تھا ۔۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ آپ لوگ۔۔ آئی ایم سوری ۔۔۔ وہ دراصل۔ روم 4 والی مریضہ بلوا رہی تھی ڈاکٹر ہما کو۔۔ یہ کہہ کر زیب کمرے سے باہر نکل گئی۔۔
ہما غصے سے زمان کو دیکھنے لگی۔۔ بس ہو گیا نا سب کچھ غلط۔۔ میں نے کہا بھی تھا کہ یہ سب نہیں کرو۔۔ اب پتہ نہیں زیب کیا کیا باتیں بنائے گی۔۔ 
زمان۔۔ آئی ایم سوری ڈاکٹر ہما ۔۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ وہ ایسے ہی منہ اٹھا کر اندر آجائے گی۔۔
ہما اپنی جگہ سے اٹھی ۔۔ اس وقت میں روک تو رہی تھی تم کو مگر تم کسی کی سنتے بھی ہو۔۔ 
زمان بھی اٹھا اور دوبارہ ہما کو پکڑتے ہوئے بولا۔۔ بس کیا کروں تم کو اپنی باہوں میں پا کر ہوش ہی نہیں رہا
ہما۔۔ چھوڑو مجھے اب ۔۔ جانے دو اسے دیکھنے کے لئے۔
زمان۔۔ پہلے وعدہ کرو کہ واپس آؤ گی۔۔
ہما ہنسی۔۔ واپس ہی آنا ہے نا میں نے کونسا اس مریض کے پاس ہی بیٹھے رہنا ہے۔۔ یا پھر گھر بھاگ جانا ہے 
آدھی رات کو۔ 
زمان نے ہما کو ایک بار پھر سے بھینچا اور اسکے گال کو چوم کر چھوڑ دیا۔ ہما نے زمان کے چوڑے سینے پر ایک مکہ مارا اور کمرے سے باہر نکل گئی مسکراتی ہوئی۔
باہر کاؤنٹر پر سٹاف زیب کھڑی تھی جو ہما کو اپنی طرف آتا ہو دیکھ کر مسکرانے لگی اور ہما شرمیلی سی مسکراہٹ کے ساتھ اپنی نظروں کو جھکا کر کاؤنٹر کے آگے سے گزرنے لگی تو زیب نے آواز دی۔
زیب۔۔ ڈاکٹر صاحبہ۔۔ ذرا رکیئے تو۔۔
ہما رک گئی اور زیب کی طرف دیکھنے لگی۔۔ 
زیب ۔۔ ڈاکٹر صاحبہ مریض کو دیکھنے جانے سے پہلے تھوڑا اپنا حلیہ درست کر لیں ۔۔ یہ بکھری بکھری زلفیں، یہ گالوں کی لالی اور ہونٹوں پہ پھیلی پھیلی لپ اسٹک صاف صاف بتا رہی ہے کہ آپ کسی کی باہوں میں سے نکل کر آرہی ہیں ۔۔
ہما شرما گئی۔اور کاؤنٹر کے پیچھے دیوار پر لگے ہوئے واش بیسن کے آئینے میں خود کو دیکھنے لگی۔۔ اپنے بال جلدی جلدی ٹھیک کیئے اور پھر اپنے لبوں پر لپ اسٹک کو درست کیا اور زیب پر ایک شرمیلی سی نظر ڈالتی ہوئی مریض کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
ہما مریض کو دیکھ کر واپس آئی تو زیب کے پاس ہی کاؤنٹر پر رک گئی اور کچھ ہدایات دینے لگی۔ اسکی نظر بار بار آفس کے بند دروازے کی طرف جا رہی تھی۔ زیب نے بھی نوٹ کیا تھا مسکرا کر بولی۔ ڈاکٹر ہما اُدھر آفس میں کوئی نہیں ہے۔ ڈاکٹر زمان اوپر سیکنڈ فلور پر آپکا انتظار کررہے ہیں۔
ہما۔۔ سیکنڈ فلور؟؟ لیکن سیکنڈ فلور پر تو کوئی بھی مریض نہیں ہے۔
زیب مسکرائی۔۔ اسی لیے تو اوپر گئے ہیں تاکہ کوئی بھی ڈسٹرب نہ کر سکے ۔ آپ بھی جائیں اوپر میں نیچے کا دھیان رکھوں گئی کوئی پریشان نہیں کرے گا آپکا۔ زیب نے ہما کو آنکھ ماری۔
ہما تھوڑا شرمائی۔۔ نہیں نہیں ۔۔ مجھے نہیں جانا اوپر۔۔ یہ سب ٹھیک نہیں ہے یار
زیب۔۔ ارے کیوں گھبرا رہی ہیں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔۔ آپکی زندگی ہے اسے اچھے سے انجوائے کریں۔۔ 
ہما۔۔ لیکن یار۔۔ وہ میرے ہسبنڈ۔۔۔
زیب ہما کو لفٹ کی طرف دھکیلتی ہوئی بولی۔۔ کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا۔۔ آپ جاؤ مزے کرو۔۔ 
زیب نے لفٹ کھولی اور ہما کو اندر دھکیل کر باہر ہی رہی اور سیکنڈ فلور کا بٹن دباتی ہوئی بولی۔۔ جا سمرن ۔۔ جی لے اپنی زندگی۔۔
اسکی اس بات پر ہما ہنسی۔۔ اور دروازہ بند ہوتے بولی۔۔ زیب تم مرواؤ گی مجھ ساتھ ہی لفٹ کا دروازہ بند ہوا اور لفٹ ہما کو لے کر سیکنڈ فلور کی طرف چڑھنے لگی جہاں ڈاکٹر زمان ہما کا انتظار کر رہا تھا۔0

Share this post


Link to post

بہت عرصے سے یہ کہانی ادھوری ہے . اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں اس کہانی کو آگے بڑھا سکتی ہوں اور باقاعدگی سے اقساط پوسٹ کر سکتی ہوں . آپ کی رائے کی منتظر 

شازی 

Share this post


Link to post
17 minutes ago, Ezii Crazy said:

یہ کہانی ہر فورم پر ادھوری ہی ہے۔

میں نے عرض کی ہے جناب کہ میں اس کو مکمّل کر سکتی ہوں. کیوں آپ کو یقین نہیں آتا؟ ہی ہی ہی 

اتنی مایوسی بھی اچھی نہیں جناب 

Share this post


Link to post

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...