Jump to content
URDU FUN CLUB

Recommended Posts

Update 001
ہیلو دوستو
یہ کہانی میری اپنی کہانی ہے
بچپن سے لے کر جوانی تک میں نے جو بھی تجربات کیے ان سب کو ایک کہانی میں سمیٹنے کی کوشش کر رہا ہوں۔
اس کہانی میں جو بھی واقعات ہونگے و سب کچھ مرچ مصالحے کے ساتھ ہیں لیکن ہیں سب سچے۔
اس کہانی میں کرداروں کے نام غلط ہونگے کیونکہ میں نہیں چاہتا اگر کوئی میرا جاننے والا اس کہانی کو پڑھ لیے تو مجھے پہچان جائے۔
سب سے پہلے تو آپ مجھ سے مل لیں۔
میرا نام وقاص ہے۔ شکل سے خوبصورت اور قد کاٹھ درمیانہ ہے۔ میں کراچی کا رہائشی ہوں۔

آگے چل کر کہانی کے دوسرے کرداروں کے بارے میں بھی بتاؤنگا۔
یہ کہانی اس وقت شروع ہوتی ہے جب میں دس سال کا تھا۔
سیکس کے بارے میں مجھے اسکول میں بہت چھوٹی عمر سے ہی پتہ چل گیا تھا۔ وجہ میرے چند دوست تھے۔ ہر انسان کی طرح مجھے بھی سیکس میں بہت دلچسپی تھی۔
اس وقت چائنا کے فونز نہیں آئے تھے۔ تو اگر کسی کو بلیو فلم دیکھنی ہو تو dvd یا cd پلیئر پر دیکھنا پڑتا تھا۔ اور ایسا موقع تبھی ہاتھ لگتا تھا جب گھر میں کوئی نہ ہو۔
میںنے اَپنی زندگی کی بلیو فلم اس وقت دیکھی تھی جب میرے لن سے منی بھی نہیں آتی تھی۔
خیر زندگی اسی طرح گزرتی گئی اور میں نے اپنی جوانی میں قدم رکھا۔
ہماری گلی میں ایک آنٹی ہوا کرتی تھیں۔ جن کا نام کنول تھا ۔
کنول آنٹی ویسے تو شادی شدہ اور بچوں والی عورت تھیں۔لیکن خوبصوتی میں اُن کے آگے جوان لڑکی بھی پھیکی پر جائے۔
آنٹی کا جسم بلکل کسی جوان لڑکی کی طرح کا تھا۔کوئی بھی انکو دیکھے تو دھوکہ کہا جائے کہ یہ عورت شادی شدہ ہے۔
کنول آنٹی کے تین بچے تھے اور تینوں بیٹیاں۔ آنٹی کے شوہر فیکٹری میں ملازم تھے۔ کنول آنٹی کے بہنوئی رحمت بھی ہماری ہی گلی میں رہتے تھے کرائے کے گھر میں۔
آنٹی کا ہمارے گھر اور ہمارا آنٹی کے گھر آنا جانا لگا رہتا تھا۔
مجھے آنٹی اتنی اچھی لگتی تھیں کے میں اپنے گھر سے زیادہ وقت اُن کے گھر میں گزارتا تھا۔
آنٹی بھی مُجھسے بہت پیار کرتی تھیں۔میں آنٹی کے گھر کے چھوٹے موٹے کام جیسے بازار سے سامان لے انا۔ٹینکی کی صفائی کر دینا وغیرہ کر دیا کرتا تھا۔
آنٹی k بہنوئی بھی اپنے بیوی بچوں کو گھر میں چھوڑ کر اکثر آنٹی کے گھر ہے ہوتے تھے۔ کبھی لڈو تو کبھی شطرنج کھیلتے رہتے تھے۔ میں جب جاتا تو میں بھی کھیل میں شامل ہو جاتا۔ رحمت انکل کو میں رحمت بھائی کہتا تھا حالانکہ ہماری عمروں میں اچھا خاصا فرق تھا۔وجہ یہ تھی k رحمت انکل بہت فرینک تھے کسی بھی بات کا بڑا نہیں مانتے تھے اور سیکس کے حوالے سے بھی بات چیت کرتے تھے۔
مجھے آنٹی بہت پسند تھیں اور میں انہیں چودنا چاہتا تھا۔
لیکن ڈر بھی لگتا تھا کہ اگر آنٹی برا مان گئیں اور میرے گھر میں بتا دیا تو میرے ابو مجھے جان سے مار دینگے۔
ایک دن آنٹی کی چھوٹی بیٹی کے ساتھ کھیل رہا تھا اور اسے گُدگُدی کر رہا تھا کہ وہ بھاگ کر آنٹی کے پاس چھپ گئی میں بھی بھاگ کے آنٹی کے پاس گیا اور اس کی پکڑنے لگا کے میرے ذہن میں ایک آئیڈیا آیا اور میں نے جان بوجھ کے آنٹی کی بیٹی کے ہاتھ کے بجائے اونٹنی کا دایاں تھن پکڑ لیا اور زور سے دبا کے چھوڑ دیا۔ اور ایسا بن گیا کے یہ غلطی سے ہوا ہے۔
آنٹی نے مجھے گھور کر دیکھا تو میں نے نظریں نیچے کر لیں۔ اور پھر گھر آ گیا۔
 ایک دن میں اسکول سے آ کے اپنے معمول k مطابق آنٹی کے گھر پہنچا اور دروازے پر دستک دی تو میں عادت کے مطابق دروازے کی جھرری سے اندر جھانکنے لگا۔اور مجھے یہ دیکھ کر ایک جھٹکا سا لگا کے رحمت اُنکل اپنی شلوار کا ناڑا باندھتے ہوئے دروازہ کھولنے کا رہے تھے۔
پھر انکل نے دروازہ کھولا اور میں اندر گیا تو گھر میں انکل اور آنٹی کے علاوہ کوئی نہیں تھا یعنی آنٹی کی بیٹیاں کہیں گئی ہوئی تھیں۔اب میں اتنا بچہ بھی نہیں تھا جو یہ نہ سمجھ سکوں کہ میرے آنے سے پہلے یہاں کیا چل رہا تھا۔
خیر میں نے یہ بات اپنے تک ہی رکھی اور انکل اور آنٹی پر کچھ بھی ظاہر نہیں ہونے دیا۔
کچھ دیں ایسے ہی گذرے اور رحمت انکل نے اپنا گھر تبدیل کر لیا اور ہمارے علاقے سے دور چلے گئے۔
انکل کو گئے ابھی دو ہی دن ہوئے تھے کے میں اسی طرح آنٹی کے گھر میں بیٹھا آنٹی کے ساتھ لڈو کھیل رہا تھا۔آنٹی کی بیٹیاں میرے گھر پر تھیں۔ 
میں: آنٹی ایک بات کہوں؟
آنٹی: ہاں بول
میں: رہنے دیں آپ برا ماں جائینگی
آنٹی: ارے آج تک تیری کسی بات کا برا مانا ہے میں نے؟
میں: آنٹی آپ رحمت انکل کے ساتھ اکیلے میں کیا کرتی تھیں؟
آنٹی کے چہرے کا رنگ اچانک سے اُڈ گیا۔
آنٹی:کیا مطلب؟
میں: مُجھے سب پتہ ہے آنٹی،آپ فکر نہ کریں میں یہ بات کسی کو نہیں بتاؤنگا۔
آنٹی کچھ دیر کے لیے چپ ہو گئیں۔
آنٹی: وعدہ کر کے کسی کو نہیں بتائیگا۔
میں: پکہ وعدہ آنٹی۔
آنٹی نے میرے گال پر ایک کس کی۔
آنٹی: لیکن تُجھے پتہ کیسے چلا؟
میں نے آنٹی کو چند دیں پہلے کی ساری بات بتا دی۔
آنٹی: یار یہ رحمت بھی چُوتیہ ہے ایک نمبر کا۔
میں: آنٹی ایک اور بات پوچھوں؟
انٹی: ہاں وہ بھی پوچھ لے۔
میں: اونٹنی آپ نے ایسا کام کیوں کیا؟
آنٹی: تُجھے تو پتہ ہے تیرے انکل کا صبح سویرے كام پر جاتے ہے تو رات کو دیر سے آتے ہیں۔ اور تھکن کی وجہ سے آتے ہی سو جاتے ہیں۔
میں: تو آنٹی اب آپ کیا کرینگی؟ اب تو رحمت انکل بھی چلے گئے۔
آنٹی: کرینگے کچھ یہ ایسے ہی رہ لینگے۔
میرا دل کر رہا تھا کہ کاش آنٹی مجھے کہہ دیں کہ اب سے تو مجھے چود لیا کرنا۔لیکن آنٹی نے ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

Share this post


Link to post

اردو فن کلب کے پریمیم سیریز اور پریمیم ناولز اردو فن کلب فورم کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جو فورم کے پریمیم رائیٹرز کی محنت ہے اور صرف وقتی تفریح کے لیئے فورم پر آن لائن پڑھنے کے لیئے دستیاب ہیں ۔ ہمارا مقصد اسے صرف اسی ویب سائیٹ تک محدود رکھنا ہے۔ تاکہ یہ گناہ جاریہ نہ بنے ۔ اسے کسی بھی طرح سے کاپی یا ڈاؤن لوڈ کرنے یا کسی دوسرے دوست یا ممبر سے شیئر کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ۔ جو ممبران اسے اپنے دوستوں سے شئیر کر رہے ہیں ۔ ان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے ممبر سے بھی شئیر نہیں کر سکتے ۔ ورنہ ان کا مکمل اکاؤنٹ بین بھی ہو سکتا ہے۔ ڈیٹا شیئر کرنے والہ ممبراس بات کا عملی اقرار کرے گا کہ وہ بروز قیامت فورم انتظامیہ، سٹوری رائیٹر اور فورم ایڈمن کے تمام گناہوں کا اکلوتا وارث ہو گا ۔ اور بروز قیامت اپنی تمام نیکیاں (جو بھی اس کے نامہ اعمال میں ہوئیں ) بروز قیامت مجھے دینے کا پابند ہو گا۔ اگر کوئی ممبر اب بھی ایسا کرتا ہے اور گناہ جاریہ کا سبب بنتا ہے ۔ تو اس شرط کو ایگری کرتے ہوئے شیئر کر سکتا ہے ۔ فورم کو اس ایگری منٹ پر اجازت دینے میں کوئی اعتراض نہیں ۔ ایڈمن اردو فن کلب

بہت اچھی کہانی ہے جناب مزہ  آ گیا اگلی اپ ڈیٹ کا انتظار رہے گا  

شکریہ 

Share this post


Link to post

دوستوں یہ میری پہلی کوشش ہے . اِس لیے غلطیوں کے لیے معذرت .

اب سمجھ آیا ہے کے کہانی لکھنا کتنا مشکل کام ہے .
مجھے اُرْدُو میں لکھنے میں کافی مشکل ہوتی ہے لیکن آپ لوگوں کی دلچسپی کے لیے کوشش کر رہا ہوں .
اگر آپکو پسند آئے تو ضرور باتیں تا کے میں اگلی اپ ڈیٹ لکھوں .

Share this post


Link to post

Update 002
میں بھجی دِل کا ساتھ اپنے گھر واپس آ گیا .
لیکن میرے ذہن میں بس یہی چل رہا تھا کے کیسے آنٹی کو اپنے ساتھ سیکس کے لیے رضی کروں .
اگلے دن پِھر میں آنٹی کے گھر لڈو کھیل رہا تھا کے آنٹی جیت گئیں اور مجھے کہنے لگیں .
آنٹی : تو مجھ سے کبھی نہیں جیت سکتا ، تو ابھی بچہ ہے .
میں : آپ شرط لگائیں پِھر دیکھیں کے آپکو کیسے ہراتا ہوں .
آنٹی : تو پِھر بھی نہیں جیت سکتا
میں : تو پِھر لگا لیں شرط
آنٹی : ٹھیک ہے لیکن شرط کس چیز کی ؟
میں : ( کچھ سوچتے ہوئے ) ابھی تو کچھ ذہن میں نہیں آ رہا ، ایسا کرتے ہیں کے جیتنے والا ہارنے والے سے کوئی بھی بات منوا سکتا ہے
آنٹی نے مجھے عجیب سی نظروں سے دیکھا اور کچھ سوچتے ہوئے بولیں کے ٹھیک ہے .
اس کے بعد ہمارا گیم شروع ہوا اور میں نے اپنی پوری گانڈ کا زور لگا دیا جیتنے کے لیے اور بالآخر جیت ہی گیا .
جیتنے کا بعد میں نے آنٹی کو کہا کے اب میری شرط پوری کریں میں جیت گیا ہوں .
آنٹی : ہاں بول کیا بات منوانی ہے تجھے .
پہلے تو میں نے سوچا کے سیدھا بول دوں کے چوت چاہیے آپکی لیکن تھا تو میں بچہ ہی گانڈ میں اتنا دو نہیں تھا اس وقت .
اِس لیے سوچا کے پہلے چیک کروں کے لائن کلیئر ہے کے نہیں
کسی ماہان آدمی نے کہا ہے کے شروعات ہمیشہ چھوٹی کرو اور خواب بڑے رکھو
میں نے یہی سوچتے ہوئے اک فیصلہ کیا اور آنٹی کو کہا
میں : آنٹی مجھے آپ سے اک کس چائیے
اور سیدھا آنٹی کے چہرے کو دیکھا تو نا مجھے آنٹی کے چہرے پر حیرانی نظر آئی اور نا ہی غصہ بلکہ آنٹی نے اک شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ میرے گال پر ہلکا تھپڑ لگایا اور کہا کے
آنٹی : بہت شیطان ہو گیا ہے تو ، اب مذاق چھوڑ اور بتا کیا چاہیے
میں : ( ڈرتے ہوئے ) آنٹی ابھی تو بتایا ، میں مذاق نہیں کر رہا
آنٹی : چل نکل یہاں سے میں کوئی کس نہیں دونگی تجھے
آنٹی کے چہرے پر ذرا بھی غصہ نہیں تھا جس سے میری ہمت اور بڑھ رہی تھی
میں : لیکن آنٹی یہ غلط بات ہے آپ شرط ہاری ہیں
آنٹی : اچھا ٹھیک ہے لیکن گال پر
میں نے سوچا کے اگر ابھی ہمت نہیں کی تو کبھی نہیں کر پاؤنگا .
میں : نہیں مجھے آپ کے ہونٹوں پر کس چاہیے
آنٹی نے 2 سیکنڈ کے لیے مجھے دیکھا اور کہا
آنٹی : اچھا اپنی آنکھیں بند کر
میرا تو دِل خوشی سے ناچنے لگا کے آنٹی کس کے لیے مان گئیں
میں نے جلدی سے آنکھیں بند کر لین .
کچھ دیر کے انتظار کے بعد مجھے اپنے ہونٹوں پر کچھ محسوس ہوا اور فوراً ہی واپس ہٹ گیا .
یہ کس شاید دُنیا کی سب سے چھوٹی کس تھی جو اک سیکنڈ کے ہزار حصوں میں سے کسی اک حصے میں ہوئی تھی
آنٹی : اب خوش ؟
میں : آپ اسے کس کہتی ہیں ؟
آنٹی : تو ؟
میں : اپنے شوہر کو بھی ایسی ہی کس کرتی ہیں کیا ؟
آنٹی : بس اب . . تجھے کس چاہیے تھی میں نے دے دی

میں : یہ کس نہیں تھی یہ تو کس کے نام پر دھبہ تھا
آنٹی میری بات سن کر ہنسنے لگیں .
مجھ میں پتہ نہیں کہاں سے ہمت آئی اور میں نے آنٹی کو ہنستے ہوئے دیکھا تو لائن کلیئر سمجھ کر آنٹی کے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے پکڑا اور ان کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ ڈائی .
آنٹی کو میرے اِس حملے پر ذرا بھی بچنے کا موقع نہیں ملا اور جب تک ان کو سمجھ آیا کے کیا ہوا ہے میں آنٹی کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی گرفت میں لے چکا تھا
آنٹی نے اپنے دونوں ہاتھ میرے سینے پر رکھے اور مجھے خود سے دور کرنے لگیں
میں نے پِھر پورا زور لگا کے آنٹی کے سر کو پکڑ کے رکھا اور کس جاری رکھی . آنٹی کا نیچے والا ہونٹ میرے ہونٹوں میں تھا اور میں مستقل اپنی زبان کو آنٹی کے منہ میں ڈال نے کی کوشش کر رہا تھا لیکن آنٹی نے اپنے دانتوں کو مضبوطی سے بند کیا ہوا تھا .
کچھ دیر تک یہی کھیل جاری رہی رہا .
آنٹی مجھ سے الگ ہونے کی کوشش میں لگی رہیں اور میں آنٹی کے نیچے والے ہونٹ کو چوسنے میں لگا رہا
اور پِھر جب آنٹی نے دیکھا کے اب کوئی رستہ نہیں تو انہوں نے بھی میرا ساتھ دینا شروع کر دیا اور اپنا منہ کھول کے میری زبان کو اندر جانے کا موقع دے دیا
اب ہماری کس زور و شور سے جاری تھی
کچھ دیر ایسی ہی کس کے بعد ہم دونوں کی سانس پھولنے لگی اور ہم سانس لینے کے لیے الگ ہو گئے
میں نے آنٹی کی چیریی کو دیکھا تو شرم سے سرخ ہو رہا تھا
جب مجھے اپنی سانس بحال ہوتی محسوس ہوئی تو میں نے پِھر سے آنٹی کو پکڑا پِھر سے کس شروع کر دی اور کس شروع کرتے ہی اپنی زبان اپنی کے منہ میں ڈال دی
اِس بار آنٹی نے کسی قسم کی مخالفت نہیں کی اور اپنی زبان کو میری زبان سے گھیسنے لگیں
میں نے لوہا گرم دیکھتے ہوئے اپنا سیدھا ہاتھ آنٹی کے اک ممے پر رکھ دیا
اور قمیض اور بریزر کے اوپر سی ہی دبانے لگا
آنٹی نے پِھر کوئی مخالفت نہیں کی
یہ دیکھتے ہوئے میں نے کچھ کے بعد اپنا اُلٹا ہاتھ آنٹی کی قمیض اور شلوار کے اوپر سے انکی گند پر رکھ دیا
آنٹی نے پِھر کسی بات پر دھیان نا دیتے ہوئے کس جاری رکھی اور میں نے اب آنٹی کی گانڈ کو دھیرے دھیرے دبانا شروع کر دیا

 

 

Share this post


Link to post


Update 003
یہ میرا پہلا سیکس ایکسپیرینس تھا
اِس لیے اب مجھ سے اور زیادہ صبر نہیں ہو رہا تھا
اور آگے بڑھتے ہوئے دَر بھی لگ رہا تھا کے کہیں سارا کام ہی نا بگڑ جائے
میرا لنڈ کسی روڈ کی طرح کھڑا تھا
اور آنٹی کی ٹانگوں کے بیچ پھنسا ہوا تھا
میں نے اب اپنے لنڈ کو آنٹی کی ٹانگوں کے بیچ سے آگے پیچھے کرنا شروع کر دیا
آنٹی اب اپنی ٹانگوں کو کبھی ڈھیلا چھوڑ دیتیں اور کبھی ٹائیٹ کر لیتین
اب بار میرے برداشت سے باہر ہو گئی تھی
لنڈ کی حالت ایسی تھی کے اگر مجھے کوئی دیوار ملتی تو اس میں بھی سوراخ کر دیتا
میں نے اپنے ہاتھ آنٹی کے مموں اور گند سے ھٹائے اور آنٹی کی قمیض کے اندر ڈال دیئے
اور آنٹی کے پیٹ پر تھوڑی دیر ہاتھ پھیرنے کے بعد اک ہاتھ مموں پر لے گیا جہاں آنٹی کے برا میں قید ممے میرے ہاتھوں کا انتظار کر رہے تھے اور اک آنٹی کی لاسٹک والی شلوار کے اندر ڈال دیا اور دھیرے دھیرے نیچے کرنے لگا
شلوار میں ہاتھ ڈالتے ہی میری انگلیاں آنٹی کے چھوٹے چھوٹے بالوں سے ٹکرائیں
میں نے کچھ دیر بالوں پر ہاتھ پھیرنے کے بعد ہاتھوں کو مزید نیچے آنٹی کی چوت کے پاس لے گیا
جب میں نے آنٹی کی چوت پر ہاتھ رکھا تو کچھ گیلا محسوس ہوا
مجھے اس وقت یہ نہیں پتہ تھا کے لڑکی جب گرم ہوتی ہے تو اس کی چوت سے پانی نکلتا ہے
اِس لیے مجھے لگا کے آنٹی کا شاید پیشاب نکل گیا ہے
خیر میں نے اِس بات پر زیادہ دھیان نہیں دیا اور تھوڑی دیر آنٹی کی چوت کو نرم ہاتھوں سے مساج کرنے کے بعد آنٹی کی شلوار نیچے کر دی
آنٹی کی لاسٹک والی شلوار ان کے گھٹنوں تک آ گئی
آنٹی نے اِس بار بھی کوئی مزاحمت نہیں کی
بلکہ اُلٹا اپنے ہاتھوں سے میری شلوار کا زارباند کھول نے لگیں
آنٹی کی اِس حرکت کو دیکھ کر اب میرا سارا دَر ختم ہو گیا تھا
میں نے آنٹی کی قمیض کو اتارنے کے لیے اوپر کیا تو آنٹی نے بھی ہاتھ اوپر اٹھا ڈائی
ابھی میں آنٹی کی قمیض اوپر کر ہی رہا تھا کے آنٹی کے گھر کے دروازے پر کسی نے دستک دی
آنٹی نے فوراً اپنے ہاتھ نیچے کیے اور اپنی شلوار کھینچ کر اوپر کر لی
میں نے بھی فوراً اپنے کپڑے ٹھیک کیے اور اپنی قسمت کو گلیاں دیتا ہوا دروازے کے پاس چلا گیا
جب دروازہ کھولا تو آنٹی کی بڑی بیٹی تھی جو میرے گھر سے اپنے گھر آئی تھی
جب وہ اندر آ گئی تو میں اس کے ساتھ اندر جانے کے بجائے سیدھا اپنے گھر چلا
لنڈ تو میرا پہلے ہی مُرجھا چکا تھا لیکن چین اب بھی کسی کروٹ نہیں مل رہا تھا
میں نے گھر جاتے ہی باتھ روم میں جا کر مٹھ ماری
مٹھ مرنے کے بعد کچھ سکون ہوا تو میں آج کی ادھوری چدائی کے بڑے میں سوچنے لگا اور کل کے بارے میں پلان بنانے لگا
اب مجھے کل ہر حال میں آنٹی کو چھوڑنا تھا
میں سونے کے لیا لیتا لیکن نیند آنے کا نام ہی کہاں لے
بار بار ذہن میں آنٹی کو کس اور ان کے ساتھ ہوئی ادھوری چدائی کے خیالات ذہن آ رہے تھے
خیر کسی طرح سے رات کٹی
اور اب اگلے دن میرا پِھر سے آنٹی کے گھر جانے کا وقت آ ہی گیا
کل کی نسبت آج میری زیادہ گند پھٹ رہی تھی کے آنٹی پتہ نہیں کیا بولیں کل جو ہوا اس کا بارے میں
اک طرف سے یہ تسلّی بھی تھی کے آنٹی کل خود بھی تو میرا ساتھ دے رہی تھیں
لیکن جب دِل میں چور ہو تو دَر تو لگتا ہی ہے
میں ان ہی سوچوں کے ساتھ آنٹی کے گھر پوحچا اور دروازے پر دستک دی
آنٹی نے فوراً ہی دروازہ کھول دیا
اور مجھے دیکھ کر دروازہ کھلا چھوڑ کر اندر چلی گئیں
آنٹی کے چہرے پر ہمیشہ اک پیاری سی مسکراہٹ رہتی تھی جو آج غائب تھی
میں بھی اندر چلا گیا اور جاتے وقت دروازہ بند کر دیا
جب آنٹی کے کمرے میں پہنچا تو آنٹی اپنے بیڈ پر لیتی ہوئی تھیں
میں بیڈ پر آنٹی کے پاس ہی بیٹھ گیا
اور سوچنے لگا کے کیا بولوں
ابھی میں کچھ بولنے ہی والا تھا کے آنٹی اچانک سے اٹھیں اور اپنے دونوں ہاتھوں سے میرے سَر کو پکڑ کر اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ ڈائی
اور میرے نیچلے ہونٹ کو چوسنا شروع کر دیا
مجھے بھی اب سمجھ آ گیا تھا کے لائن کلیئر ہے اور میں کل کی طرح دیر نہیں کرنا چاہتا تھا اِس لیے میں نے فوراً آنٹی کی شلوار میں ہاتھ ڈالا اور آنٹی کی چوت کو زور زور سے اپنی انگلیوں سے مسلنے لگا
آنٹی کی چوت آج بھی پانی چور رہی تھی اور میں آج بھی یہی سمجھ رہا تھا کے آنٹی کا پیشاب نکل گیا ہے
میں نے اب دیر نا کرتے ہوئے آنٹی کی شلوار نیچے کر دی اور آنٹی نے اپنی ٹانگوں کو اٹھتے ہوئے اک اک کر کے اپنے دونوں پاؤں شلوار سے نکل ڈائی میں نے آنٹی کی قمیض کو اٹھایا تو آنٹی نے ہاتھ اوپر اٹھا ڈائی اور میں نے آنٹی کی قمیض بھی ان کا جسم سے الگ کر دی
اب آنٹی صرف برا میں میرے سامنے کھڑی تھیں
کل کی نسبت آج آنٹی کی چوت پر اک بھی بال نہیں تھا
میں نے آنٹی کے مموں کو آنٹی کے اسکن کلر کے برا کے اوپر سے کچھ دیر دبایا
اور پِھر برا بھی اُتَر دیا
آنٹی کے بارے بارے ممے بالکل ننگی حالت میں میرے سامنے تھے
جس عورت کو میں صرف خیالوں میں سوچ کر مٹھ مارا کرتا تھا آج میرے سامنے ننگی کھڑی تھی
آنٹی کے مموں پر لائٹ برائون کلر کے نپلز دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے فوراً آنٹی کا اک نپل منہ میں لیا اور دوسرا اک ہاتھ سے دابانے لگا
آنٹی پیار سے میرے سَر کے بالوں میں انگلیاں پھر رہی تھیں
آنٹی کے دونوں مموں سے انصاف کرنے کے بعد میں نے اپنے کپڑے اترے اور آنٹی کو بیڈ پر لٹا کر انکی ٹانگوں کے بیچ بیٹھ گیا
اور اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے آنٹی کو چوت کے ہونٹوں کو کھول کر دیکھنے لگا
آنٹی آنکھیں بند کیے لیتی رہیں
میں نے چوت کے اندر دیکھا تو انکی ملائم سفید بے داغ چوت کے اندر لال رنگی کی اک جھلی نظر آئی اس کے اوپر اک دانہ جیسا کچھ تھا
میں نے دیر نا کرتے ہوئے اپنے لنڈ کو آنٹی کی چوت پر سیٹ کیا اور پوری جان سے دھکہ لگا دیا
آنٹی کے منہ سے اک زوردار آہ نکلی اور میں مزے کی انتہا تک پھنچ گیا
آنٹی کی چوت کافی گیلی تھی جس کی وجہ سے میرا پورا لنڈ اک ہی بار میں آنٹی کی چوت میں گھاس گیا تھا
اِس کے بعد میں نے بغیر رکے زور زور سے آنٹی کی چوت مارنی شروع کر دی اور اور آنٹی نے آہیں بھرنا شروع کر دن
مجھے اپنا لنڈ کسی گرم بھٹی میں محسوس ہو رہا تھا
میں بنا رکے آنٹی کی چوت مرتا رہا
لیکن تھوڑی دیر بعد مجھے اپنی رانوں میں درد ہوتا محسوس ہوا
مستقل اک ہی پوزیشن سے چودتے ہوئے میری رانوں میں درد ہو گیا تھا
میں رک گیا تو آنٹی نے آنکھیں کھول کے میری طرف دیکھا اور سمجھ گئیں کے میں کیوں رکا ہواں
آنٹی فوراً اٹھیں اور میرے سامنے گھوڑی بن گئیں
میں نے بھی دیر نا کرتے ہوئے فوراً اپنا لنڈ آنٹی کی چوت میں ڈال دیا
اور چھوڑنا شروع کر دیا
اِس اسٹائل میں مجھے کچھ زیادہ ہی مزہ آ رہا تھا کیوں کے آنٹی کی چوت پہلے سے زیادہ ٹائیٹ لگ رہی تھی اور انکی گند کا سوراخ بھی میرے آنکھوں کے سامنے تھا
میں زیادہ دیر تک خود کو روک نہیں پایا اور آنٹی کے چوت میں فارغ ہو گیا
فارغ ہوتا ہی میں بیڈ پر لیٹ گیا اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگا
ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے جسم کا سارا خون نچوڑ لیا ہو
آنٹی کی حالت بھی مجھ سے مختلف نہیں تھی
کچھ دیر یوں ہی لیتا رہنے کے بعد میں اپنے کپڑے پہن کر اپنے گھر چلا گیا
میں نے آنٹی کو چود دیا تھا اور اِس چُدائی کی دوران ہم دونوں نے کوئی بات نہیں کی تھی

Share this post


Link to post

بالکل آگے بڑھے گی
یہ کہانی ابھی کافی لمبی چلیں گی
لیکن آپ لوگوں کے سپورٹ کی ضرورت ہے .

Share this post


Link to post

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×
×
  • Create New...