Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
devilspell

فیضان عرف فیضی ان اُرْدُو

Recommended Posts

یہ کہانی ہماری بھائی
“AMMAD”
نے لکھی تھی لیکن انگلش فانٹس میں
اِس کہانی کو کافی پسند کیا گیا جس کی وجہ سے میں اِس کہانی کو اُرْدُو میں لکھ رہا ہوں

امید کرتا ہوں آپ لوگوں کو میری یہ کوشش پسند آئیگی

Share this post


Link to post

اردو فن کلب کے پریمیم سیریز اور پریمیم ناولز اردو فن کلب فورم کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جو فورم کے پریمیم رائیٹرز کی محنت ہے اور صرف وقتی تفریح کے لیئے فورم پر آن لائن پڑھنے کے لیئے دستیاب ہیں ۔ ہمارا مقصد اسے صرف اسی ویب سائیٹ تک محدود رکھنا ہے۔ تاکہ یہ گناہ جاریہ نہ بنے ۔ اسے کسی بھی طرح سے کاپی یا ڈاؤن لوڈ کرنے یا کسی دوسرے دوست یا ممبر سے شیئر کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ۔ جو ممبران اسے اپنے دوستوں سے شئیر کر رہے ہیں ۔ ان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے ممبر سے بھی شئیر نہیں کر سکتے ۔ ورنہ ان کا مکمل اکاؤنٹ بین بھی ہو سکتا ہے۔ ڈیٹا شیئر کرنے والہ ممبراس بات کا عملی اقرار کرے گا کہ وہ بروز قیامت فورم انتظامیہ، سٹوری رائیٹر اور فورم ایڈمن کے تمام گناہوں کا اکلوتا وارث ہو گا ۔ اور بروز قیامت اپنی تمام نیکیاں (جو بھی اس کے نامہ اعمال میں ہوئیں ) بروز قیامت مجھے دینے کا پابند ہو گا۔ اگر کوئی ممبر اب بھی ایسا کرتا ہے اور گناہ جاریہ کا سبب بنتا ہے ۔ تو اس شرط کو ایگری کرتے ہوئے شیئر کر سکتا ہے ۔ فورم کو اس ایگری منٹ پر اجازت دینے میں کوئی اعتراض نہیں ۔ ایڈمن اردو فن کلب


" مجھے معلوم ہا کے تو نے نہیں مارا میرے ماں باپ
کو . . . لیکن خون تو تو انہی کا ہا نا "
یہ کہہ کے میں نے گن اس کی طرف سیدھی کر دی . . .
=================================================================================


بہت سال پہلے . . .
" یار پیچھے ہٹ نا مجھے دیکھنے دے اب "
میں نے ہاشم عرف حااشو کو پیچھے کیا اور خود درخت کے
پیچھے سے سر نکل کے ہمارے گاؤں سے گزرنے والی چھوٹی سی
نہر کی طرف دیکھا جہاں صغراں کپڑے دونے کے بعد
اپنی قمیض اُتار رئی تھی
اس کے موٹے جِسَم پہ ڈھلکے ہوئے ممے بی اس وقت میرے لیے
بہت پیاری سی چیز تھے
حسشو : چل اب میری بڑی
میں سائڈ پہ ہو گیا اور حااشو نے پوزیشن سنبھل لی
" کیا کر رئی ہا اب وہ ؟ "
میں نے بیتابی سے پوچھا
حااشو : شلوار اُتار رہی ہے
میں : پیچھے ہٹ
میں اسے پیچھے کر کے پِھر آگے ہوا
صغراں نے ادھر اُدھر دیکھا اور کھڑی ہو کے جلدہی سے شلوار
اتاری اور پانی میں اُتَر گئی
میں اس کی بہت بڑی اور پہلی ہوئی گانڈ ہے دیکھ سکا بس
وہ نہر بس اتنی سی گہری تھی کے صغراں کے مموں تک ہے
پانی تھا
نہر میں اُتَر کے وہ اپنے ممے دونے لگی
حااشو : چل مجھے بھی دیکھنے دے نا یار
اس کے کہنے پہ میں سائڈ پہ ہو گیا
ماں اس وقت 7 کلاس میں تھا
میرا نام فیضان ہے اور مجھے فیضی بلاتے ہوں اور ہم
پنجاب کے 1 گاؤں میں رہتے ہوں جو شہر سے بس آدھے
گھنٹے کے فاصلے پہ ہے
کہتے ہیں کے جب میں 3 سال کا تھا اور میرے پیڑینٹس کی 1
ایکسڈینٹ میں ڈیتھ ہوگئے تھی
پِھر مجھے میری پھوپپو نے پالا جن کی اپنی کوئی اولاد نہیں
تھی
ہمارا خاندان کافی پڑا تھا . . . 4 چچا اور 3
پھوپپو . . . کچھ یہاں گاؤں میں ہی رہتے تھے کچھ ساتھ
والے گاؤں میں . . . کچھ ساتھ والے شہر میں اور کچھ
لاہور میں اور سب کے سب ہی خاصے امیر تھے
پھوپپو نے مجھے بہت لاڈ اور پیار سے پالا تھا اور میں
انہیں بوا کہہ کے بلاتا تھا
کریکٹرز کے نام آگے ساتھ ساتھ بتاتا رہوں گا . . .
     " اِس بار بی گرمیوں میں ہم خلا کے گھر جا
رہے ہیں "
حااشو نے مجھے بتایا
میں : مجھے تو بوا اور بابا ( پھوپپا ) کہیں چھورتے ہے نئی
یار . . اک دو دن کے لیے ساتھ ہی لے جاتے ہیں اور ساتھ ہی واپس
اس وقت ہم اسکول جا رہے تھے
حااشو : اوئے وہ دیکھ سمیرہ
ہمارے اسکول کے ساتھ ہے لڑکیوں کا اسکول تھا
سمیرہ میرے محلے کی لڑکی تھی اور 9 میں پڑھتی تھی
وہ روز کی طرح مجھے دیکھ کے مسکرای اور اپنے اسکول
میں داخل ہوگئی
میں : یہ مجھے پاگل لگتی ہا . . ایوین ہنس دیتی ہا مجھے دیکھ کے
جیسے میرے سر پہ سینگھ ہوں
حااشو : ہاں مجھے بی یہی لگتا ہے
" پڑھائی کیسی جا رئی ہا فیضی پتر "
بابا نے مجھ سے پوچھا
میں : اچھی جا رئی ہا بابا
بوا : میرے حمید ( میرے اصل باپ کا نم ) کی طرح لائق ہے
میرا فیضی . . پتہ ہا پتر حمید ہم بہن بھائیوں میں
واحد تھا جو یونیورسٹی تک گیا اور . .
بابا : چل اب رونے نا بیٹھ جانا
بابا نے بوا کو ٹوکا
میں : وہ میں نے میچ کھیلنے جانا ہے
بابا : یہاں اسکول کی گراؤنڈ میں ہی ؟
میں : نہیں ساتھ والے گاؤں میں . . چچا سے بی مل آئوں گا
بابا : چل اکرم کو ساتھ لے جا
میں : اک تو گاؤں سے باہر ہر جگہ آپ کسی نا کسی کو میرے
ساتھ بھیج دیتے ہوں
ماں نے منہ بنایا
بوا : اگر اکرم کو ساتھ نہیں لے کے جانا تو تو بھی نہیں جائے گا
میں : اچھا بھیجیں اسے ساتھ . . سارے اپنی سائیکل یا بائیک پہ جاتے
ہوں اور مجھے آپ گری پہ بھیجیں کے اس اکرم کے ساتھ . . . کتنا
عجیب سا لگتا ہا
بوا اور بابا ہنسنے لگی
بوا : اک تو تیرے بابا تیری فکر کرتی ہوں اور تو ناراض ہوتا ہے
بوا نے مجھے ساتھ لگایا
بابا : تو ہی تو ہے ہمارے پس اور ہے کیا ؟
میچ کھیل کے ماں تایا کی حویلی چلا گیا
تایا بڑے سے کمرے میں لوگوں میں گھرے بیٹھے تھے
ہمیشہ کی طرح اور ساتھ ہے ان کے بیٹے بھی تھے
ماں ان سے مل کے اندر کی طرف ایسے
راحیلہ باجی اور سجیلا باجی تائی کے ساتھ بیٹھی ٹی وی دیکھ رئی تھیں
تایا کی دونوں بیٹی کالج میں پڑھتی تھیں اور سخت پردے
میں آتی جاتی تھیں . . اِس وقت بی گھر میں ہونے کے باوجود
دونوں نے چادر لی ہوئی تھی
تائی : آج تو بڑی بات ہے کے تم اکیلے آگے ہو
میں : نہیں اکرم ہے ساتھ
راحیلہ : چھوٹا بچا ہے نا اسلئے اکیلے نہیں بھیجتے اسے کہیں
وہ دونوں ہنسنے لگی
میں : بس کیا کروں باجی بوا اور بابا مانتی ہے نہیں ہوں
تائی : ہاں کچھ زیادہ ہے ڈرپوک ہوں شاید
مجھے تائی کی یہ بات بالکل بھی اچھی نہیں لگی
میں : میری بوا اور میرے بابا ایسے نئی ہوں . . . پورے گاؤں میں
رُعْب ہا بابا کا
سجیلا : ارے یہ تو برا مان گیا . . . بتاؤ کیا کھاؤ گے
میں : کچھ نئی . . ماں چلتا ہوں بس کافی دیر ہوگئے ہے بوا
پریشان ہو رہی ہوں گی
ماں اٹھا تو تایا اندر آگے
تایا : ابھی بیٹھو كھانا کھا کے جانا
میں : دیر ہوگئے ہے
تایا : نہیں كھانا کھا کے جاؤ
تایا نے اِس بار حکم دیا
تائی كھانا لینے چلی گئیں اور تایا واپس بیتھاک میں
سجیلا : اور ہیرو . . . کیسے ہو
اس نے مجھے اُوپر سے کر نیچے تک دیکھا
راحیلہ اور سجیلا دونوں ہی خوبصورت تھیں مگر راحیلہ
بڑی ہونے کی وجہ سے ذرا کم شوخ تھی سجیلا کی نسبت
میں : باجی ماں کب ہیرو ہوں
راحیلہ : بڑے ہوگئ ہو تم
میں : نئی جی 7 میں ہوں ابی تو
سجیلا : ہاں تو تمھارے بابا نے داخل بی تو 6 سال کی عمر
میں کرایا نا تمہیں
مجھے اِس بحث کا مقصد سمجھ نہیں آ رہا تھا سو میں
چُپ ہو گیا

 

Share this post


Link to post

بوا مجھے ان لوگوں کی باتیں بہت عجیب سی لگتی ہیں
میں بوا کی لیپ میں سر رکھ کے لیٹا ہوا تھا
بوا : کیا باتیں کی انہوں نے ؟
میں : تایا مجھ پہ ایسے حکم چلاتے ہوں جیسے ماں ان کا
نوکر ہوں . . . پِھر افضل بھائی پوچھنے لگی کے کوئی تنگ تو نہیں
کرتا ؟ . . . وہ کہہ رہے تھے کے میں ان کے چچا کی آخری نشانی
ہوں . . بوا میں آخری نشانی ہوں ؟
بوا کا رنگ سفید پر گیا
بوا : ویسی ہو بول رہا ہو گا . . ابھی تو ہم نے تیرے بچوں کو
اپنے سامنے دیکھنا ہے . . تو کیسے آخری نشانی ہو گیا ؟ میں
بتاتی ہوں تیرے بابا کو کے وہ ایسے بول رہا تھا
میں : بوا مجھے چھٹی میں لاہور لے جاؤ نا . . . چھوٹا سا
تھا تب گیا تھا
لاہور میں میری 1 پھوپپو اور 1 چچا رہتے تھے
وہ لوگ بہت کم یہاں آتے تھے اور جب آتے بھی تھے تو زیادہ
دیر تایا کی طرف ہے ہوتے تھے
کہاں جانا ہا فیضی سب نے
بابا آ کے بیٹھ گئے
میں : لاہور . . . چھٹی میں
بابا : چل ٹھیک ہا . . تو اور تیری بوا چلے جانا کچھ دن رہ
انا
میرا دِل کرتا ہے میں اِس سے پوچھ ہے لوں کے کیوں ہنستی ہا مجھے
دیکھ کے

اس دن بھی اسکول سے واپسی پہ سمیرہ میرے پس سے گزرتی
ہوئی مسکرائی تھی
حااشو : ہاں پوچھ لے
میں آگے بڑھا اور سمیرہ کے ساتھ ساتھ چلنے لگا
اس نے میری طرف دیکھا اور میری ساری ہمت ختم ہوگئی
سمیرہ : ہاں بولو
وہ پِھر مسکرائی
میں : وہ میں . . ویسی ہے . . . نہیں وہ . .
سمیرہ : بولو گے کے نہیں کچھ ؟
میں : تم مجھے دیکھ کے مسکراتی کیوں ہو ؟
ماں ہمت کر کے جلدہی سے بولا
سمیرہ : کیوں کے تم مجھے اچھے لگتے ہو
میں : اوہ . . اچھا . . . چلو ٹھیک ہے
یہ کہہ ماں واپس حااشو کے ساتھ چلنے لگا
حااشو : کیا بول رہی تھی
میں : کہتی میں اسے اچھا لگتا ہوں
حااشو : اچھا جی ؟
وہ ہنسا
میں : اِس میں ہنسنے والی کیا بات ہا ؟
حااشو : تو سمجھا نہیں اس کی بات ؟
میں : کیا بات ؟
حااشو : اس سے ملتے رہا کر بتا دے گی خود ہے . . ویسی یار لڑکی
پیاری ہے
میں : ہاں ہے تو سہی . . لیکن ہمیں کیا ؟
میں لاپرواہی سے بولا

بلاخر چھٹی اگائی اور بابا مجھے اور بوا کو لاہور
چھوڑ کے واپس چلے گئے
ماں 3 4 سال بعد یہاں آیا تھا
پھوپپو کی 3 بیتیان تھیں جن میں سے 1 مجھ سے بڑی 1
تقریباً میری ہم عمر اور 1 چھوٹی تھی
دانیا عرف دانی . . . نابیہ عرف بیا . . اور ثانیہ عرف ثانی
ان کے 2 بیٹے تھے دونوں مجھ سے بڑے اور اسلام آباد میں
پڑھتے تھے
پھوپپو کے گھر کا ماحول کچھ زیادہ ہے ماڈرن تھا شاید
بہت زیادہ پیسے کی وجہ سے
دانی مجھے کچھ زیادہ ہے گھور سے دیکھ رئی تھی
شام کا وقت تھا میں لان میں آیا تو دانی وہاں بیٹھی
کوئی میگزین پڑھ رہی تھی
دانی : آؤ فیضی . . بیٹھو
اس نے اس وقت ٹائیٹ سا پجامہ اور ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی
ماں اس کے سامنے چیئر پہ بیٹھ گیا لیکن میری نظر بار بار
اس کی چیسٹ پہ جا رہی تھی
دانی : دِل ایل جی گیا یہاں ؟
میں : جی آج ہے تو آئے ہوں باجی
دانی : مجھے دانی کہو . . آئی ڈونٹ لائک باجی
میں : جی ٹھیک ہا
دانی : گڈ . . ماں تمہاری دوست بن جاتی ہوں . . . ٹھیک ہا ؟
میں اسے وہی بات کہنا چاہ رہا تھا جو ماں نے راحیلہ
اور سجیلا کو کہی تھی کے لڑکے لڑکی کی دوستی کیسے ہو سکتی ہے

 

لیکن میں چُپ رہا کیوں کے میری بات سن کے وہ دونوں

بھی بہت ہنسی تھی مجھ پہ

میں : ٹھیک ہے

دانی : مزہ آئے گا

وہ میری طرف گہری نظروں سے دیکھتی ہوئی آہستہ سے بولی جیسے اپنے آپ سے بات کر رہی ہو


بوا اور پھوپپو سو رہی تھیں اور مجھے علیحدہ روم دیا گیا تھا جہاں ٹی وی بھی تھا

مجھے نیند نہیں آ رہی تھی اور میں ٹی وی ہی دیکھ رہا تھا کے دانی

روم میں اینٹر ہوئی

دانی : تم سوئے نہیں ابھی ؟

میں : نیند نہیں آئی ابھی

دانی : مجھے بھی نہیں آ رئی . . چلو ٹی وی پہ دیکھتے ہوں کچھ وہ اس وقت سلیپنگ شرٹ اور پجامہ میں تھی
وہ بیڈ کی بیک سے تک لگا کے میرے ساتھ بیٹھ گئی اور ریموٹ لے کے چینل چینج کرنی لگی
دانی : کوئی گرل فرینڈ ہے تمہاری ؟

میں : نہیں لڑکے ہی ہوں بس

دانی : کیوں ؟ اتنے کیوٹ اور ہینڈسم اور سمارٹ ہو میرے پس اِس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا
دانی : دیکھو اگر تو ہم دوست ہیں تو ہمیں 1 دوسرے کے ساتھ کھل کے بات کرنی چاہیے میں نے ہاں میں سر ہلا دیا

دانی : اچھا اب بتاؤ کوئی لڑکی اچھی لگتی ہے تمہیں ؟


میں : سمیرہ . . ہمارے محلے میں رہتی ہے اور مجھے دیکھ
کے
مسکراتی ہے . . وہ کہتی ہے میں اسے اچھا لگتا ہوں

دانی : واہ جی وہ ہنسی

دانی اب تھوڑا سا میری طرف ہوئی تو ہماری ہپس ٹچ ہونے لگی
دانی : ارے جتنا کانفیڈینس تم میں ہو گا اتنا کی لوگ تمہیں ٹھیک طریقے سے ٹریٹ کریں گے
اس نے کوئی انگلش ایکشن مووی لگائی تھی اور اس میں 1 کسسنگ کا سین چل رہا تھا
دانی : ایسے کیا ہے کبھی ؟ میں : نہیں
دانی : میں سکحاون ؟

میں : اِس میں سیکھنے والی کیا بات ہے ؟ دانی : اچھا تمہیں عطا ہے تو کر کے دکھاؤ پِھر اس نے میری طرف کروٹ لی

میں : نہیں بس ٹھیک ہے دانی : پلیز نا
اس کی آواز تھوڑی بھری ہوگئے تھی

میں نے ہونٹ اس کے ہونٹوں کے پس کیے تو دانی نے میرا فیس ہاتھوں میں لے کے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پہ رکھ دیئے یہ میری لائف کی پہلی کس تھی اور مجھے ساتویں آسْمان پہ لے گئی تھی
دانی میرے ہونٹ چوس رہی تھی

دانی : تم بھی میرے ہونٹ چوسو اور اپنی زُبان میری زُبان کے ساتھ ٹچ کرو . . میں ہونٹ کھول کے اس کے ہونٹوں کو چُوسنے لگا


اور جیسے ہی میری زُبان اس کی زُبان سے ٹچ ہوئی میں سااتوین سے آتحوین آسْمان پہ پہنچ گیا

دانی میری زُبان اپنے ہونٹوں میں لے کے چُوسنے لگی کچھ سیکنڈز بعد میں پیچھے ہو گیا
صبح صبح ہر مرد کا لنڈ کھڑا ہوتا ہے لیکن اس وقت بھی میرا لنڈ کھڑا ہو چکا تھا

ہم دونوں ہی کے سانس پھولی ہوئے تھے دانی : مزہ آیا ؟
میں نے ہاں میں سر ہلا دیا

دانی : میں اب چلتی ہوں . . اب ہم پکے والے دوست ہیں . . جو ہماری باتیں ہیں کسی کو پتہ نہیں چلنی چاحیین

اس نے میرے چیک پہ کس کی اور جانے کے لیے بلینکٹ اُوپر سے سائڈ پہ کیا
دانی کی نظر میری شلوار میں بنے تامبو پہ پری دانی : ناٹی
وہ ہنستے ہوئے بولی اور روم سے چلی گئی جب کے میں شرمندہ سا وہاں بیٹھا رہا


اگلے دن وہ تینوں بیحنین مجھے گھمانے لے گئی اور میں

نے زندگی میں پہلی بار سنیما میں میں مووی دیکھی

بوا اور بابا میرے لیے اتنے پروتیکتیvی تھے کے مجھے اِس عمر

میں بھی بہت سی باتوں کا نہیں پتہ تھا لیکن انہوں نے میری

ڈریسنگ پہ ہمیشہ بہت توجہ دی تھی

بابا ہمیشہ شہر سے ہی میرے لیے جینس وغیرہ لے کے آتے تھے

Share this post


Link to post

مطلب یہ کے میں پینڈو تھا ضرور لیکن دکھنے میں لگتا نہیں تھا

بیا : فیضی کیسا لگا ہمارا شہر ؟

واپسی پہ بیا نے پوچھا

میں فرنٹ پہ تھا اور دیا ڈرائیونگ کر رہی تھی
میں : بس ٹھیک ہے

میں اپنے گاؤں کو مس کر رہا تھا

ثانی : بس ٹھیک ہے ؟
میں : چلو جی میں ایسے بول دیتا ہوں کے بہت اچھا ہے میں ہنس کے بولا

بیا : کافی بیکورڈ لوگ ہوتے ہوں گاؤں کے وہ اور ثانی ہنسنے لگی
اور مجھے ان کی یہ بات اچھی نہیں لگی دانی : بیا ؟ تمیز کرو وہ سختی سے بولی

بیا : سوری

دانی کا کافی رُعْب تھا ویسی بھی اپنی بہنوں پر

لیکن میں بیا اور ثانی کی بات اور ہنسی بھولنے والا نہیں تھا


رات میں جلدہی سوگیا

" آج اتنی جلدہی سوگئے ؟ "

کسی نے میرا شولڈر پکڑ کے ہلایا تو میری آنکھ کھل گئی یہ دانی تھی جو یہ بات کہہ کے بلینکٹ میں گُھس گئی تھی میرے ساتھ


میں : ہاں بس . .

میں سیدھا ہو کے لیٹ گیا

دانی : میں چلی جاؤں ؟

میں : نہیں نہیں . . میں جاگ تو گیا ہوں

اگلے لمحے ہی اس کے ہونٹ میرے ہونٹوں پہ تھے اور ہم کل کی طرح کسسنگ کر رہی تھے اور میرا لنڈ پِھر کھڑا ہو چکا تھا

دانی : اچھا سنو

میں : ہاں

دانی : یہ تمہاری شلوار میں کیا ہو جاتا ہے ؟

میں : وہ . . پتہ . . . نہیں

مجھے 1 دم شرم سی آنے لگی تھی دانی : لڑکیوں کی طرح شرماؤ نہیں

میں : جب تم کس کرتی ہو تو یہ ایسا ہو جاتا ہے دانی : اور تمہارا دِل نہیں کرتا کے اِس کا کچھ کرو ؟

میں نے صبح کے ٹائم یا نہاتے وقت 2 3 بار تجسس سے اپنے لنڈ کو ہاتھ میں لے کے مسئلہ ضرور تھا اور اِس سے مجھے مزہ بھی آیا تھا لیکن اِس سے آگے کبھی کچھ نہیں ہوا میں : کبھی کبھی میں اسے ہاتھ میں پکڑ لیتا ہوں دانی : اور کیا کرتی ہو ؟

میں : بس یہی

دانی : لگتا ہے یہ بھی مجھے ہی بتانا پرے گا میں : کیا بتانا پرے گا ؟
اس سے آگے جو ہوا وہ میرے لیے کافی شوکنگ تھا

دانی نے بلینکٹ کے نیچے سے اور میری شلوار کے اُوپر سے میرا تنا ہوا لنڈ پکڑ لیا تھا


میرے جِسَم کو جھٹکا لگا

دانی : ریلکس

میرے لنڈ کو مٹھی میں لے کے وہ ہاتھ اُوپر نیچے کر رہی تھی مجھے ایسا مزہ پہلے کبھی نہیں آیا تھا دانی : نالہ کھولو


اس کی سانسیں بھی تیز چل رہی تھیں

ہاتھ بلینکٹ میں لے جا کے میں نے نال کھول دیا اور دانی کا ہاتھ میری شلوار میں چلا گیا میں : آں


جیسے ہی اس کا میرا لنڈ اس کے ہاتھ میں آیا میں نے آنکھیں بند کر لی
اب وہ تیزی سے ہاتھ اُوپر نیچے کر رہی تھی اور کچھ منٹ بعد ہی مجھے ایسے لگا جیسے میرے لنڈ میں سے کچھ نکلنے لگا ہو اور میری ٹینجن اکارنی لگی میں : اُوں


اور میرے لنڈ نے پانی چھوڑ دیا

یہ میری لائف کی پہلی مٹھ تھی

دانی نے ٹشو سے اپنا ہاتھ صف کیا

دانی : جاؤ واش کر کے آؤ

واپس آ کے میں پِھر سے بلینکٹ میں گُھس گیا دانی : مزہ آیا ؟
میں : بہت . . پہلے کبھی اتنا مزہ نہیں آیا دانی : مجھے بھی مزہ دو نا
وہ میرے لپس پہ کس کرتی ہوئے بولی میں : کیسے ؟

دانی : میرے پجامہ میں ہاتھ ڈالو . . ٹانگوں کے بیچ


بلینکٹ کے نیچے سے ہی میں نے ہاتھ اس کے پجامہ میں ڈال دیا اور اس نے اپنی تھیگس کھول دی

میری انگلیاں کسی نرم اور گیلی سی چیز سے ٹچ ہوئی

دانی :
وہ اپنا ہاتھ پجامہ میں لے کے گئی اور میری فنگرز پکڑ

کے اپنی پُھدی کو رب کرنی لگی

دانی ; ایسے . . . کرو

میں اب اس کی پُھدی کو مسل رہا تھا اور دانی آنکھیں بند کی یہ سسکیاں لے رہی تھی

آہستہ آہستہ دانی کی پُھدی زیادہ گیلی ہوتی جا رہی تھی اور

میری فنگرز بھی

دانی : تیز تیز . . . کرو

اور کچھ لمحوں بعد اس کا جِسَم جیسے جھٹکے کھانے لگا اور آکر کے ڈھیلا پر گیا اور اس کی پُھدی نے بہت زیادہ پانی نکالا تھا

میں نے اپنا ہاتھ باہر نکل لیا دانی : میں اب چلتی ہوں
میں نے ہمت کی اور 1 کس اس کے لپس پہ کر دی

دانی مسکرای اور بیڈ سے اُتَر کر روم سے چلی گئی

اگلے دن ہم چچا کی طرف جا رہی تھے دانی : آج واپس آجاؤ گے ؟
میں : نہیں بوا کہہ رہی ہوں کے 2 دن وہاں رہ کے وہاں سے واپس گاؤں

میں اُداسی سے بولا


دانی : واپس آ جانا نا . . مجھے پتہ ہے اب تمہارا دِل نہیں لگی

گا وہاں

میں : کوشش کرو گا

چچا کے گھر کا ماحول بھی تقریباً تایا کے گھر جیسا ہی تھا
ان کے بھی 2 بیٹے اور 3 بیتیان دین . . حنا . . . ردا اور ماہا بیٹے کالج ٹرپس کے ساتھ کہیں گئے ہوئے تھے

لڑکیاں راحیلہ اور سجیلا کی طرح چادر میں لپٹی ہوئی تو نہیں تھیں لیکن دانی لوگوں کی طرح موڑ بھی نہیں ایل جی رہی تھیں چچا مجھے بڑی گرم جوشی سے ملے چچا : تو تو جوان ہو گیا ہے یار

بوا : اِس کا قد ( ہائیٹ ) بالکل حمید جیسی ہے

دوپہر کے کھانے کے بعد جب میں اور بوا اکیلے تھے تو میں نے بوا سے پھوپپو کے گھر جانے کا کہا
بوا : دِل نہیں ایل جی رہا یہاں ؟ میں نے نا میں سر ہلا دیا میرا سارا دھیان دانی کی طرف تھا

بوا : برا لگتا ہے بیٹا ایسے جانا . . ایسا کرتی ہوں آج یہاں رہ لیتے ہوں کل اُدھر چلیں گے اور وہاں سے پرسوں تیرے بابا کے ساتھ واپس


" فیضی بھائی ہمارے ساتھ لڈو کھیلو گے ؟ ہمیں 4تھ پارٹنر کی ضرورت ہے "


شام کے وقت ماہا میرے پس آ کے بولی

میں تو ویسی بھی بور ہی ہو رہا تھا اسلئے اٹھ کے ان کے ساتھ جا کے بیٹھ گیا

میری پارٹنر حنا بنی

حنا مجھ سے 1 سال چھوٹی تھی تقریباً

کھیل کے دوران جب بھی میری نظریں اس سے ملتی وہ شرما سی جاتی اور اس کا خوبصورت چہرہ سرخ ہو جاتا
خیر مجھے اس وقت بس دانی ہی نظر آ رہی تھی چچا کے روکنے کے باوجود ہم اگلے دن واپس پھوپپو کے گھر آگے

 

دانی کالج سے واپس آئی تو مجھے دیکھ کے مسکراتے ہوئے آنکھ مار دی
دن ہنستے کھیلتے گزر گیا اور رات دانی پِھر سے میرے روم میں تھی
اس کے ہاتھ میں 1 لفافہ تھا دانی : تمھارے لیے کچھ لائی ہوں

وہ میرے ساتھ لیٹ کے بولی اور لفافہ میں سے 1 میگزین نکل لیا

اور اس میگزین نے تو مجھے 1 نیو دنیا سے معترف کڑوا دیا
سیکس کا ہر پوز تھا اس میں . . . اور سب سے زیادہ حیرانی مجھے پھدی چاٹنے اور لنڈ چُوسنے والی پیس پہ ہوئی
دانی نے مگ سائڈ پہ رکھا اور مجھ سے لپٹ گئی ہم کافی دیر کسسنگ کرتی رہے

دانی : کبھی لڑکی ننگی دیکھی ہے اصل میں ؟


میں نے ہاں میں سر ہلایا اور اسے صغراں کا بتایا . . جب میں نے اسے بتایا کے صغراں کے بچے شاید اس کی یعنی دانی کی ایج کے ہوں گے تو وہ ہنسنے لگی دانی : مجھے دیکھو گے بغےر کپڑوں کے ؟

میں نے اپنے خوش ہونٹوں پہ زُبان پھیری اور ہاں میں سر ہلا دیا

دانی بیڈ سے اُتَر کے کھڑی ہوئی اور پہلے اپنی شرٹ اتاری اس نے برا نہیں پہنی ہوئی تھی
دانی کے درمیانی سائز کے تانے ہوئے ممے اور پنک نپلز دیکھ کے میرے لنڈ نے جھٹکا لیا

کچھ ممے ابھی پیس میں دیکھے تھے اور اس سے پہلے صرف صغراں کے ڈھلکے ہوئے ممے دیکھے تھے
پھر وہ پجامہ پہ ہاتھ رکھ کے جھکی اور اسے اُتَر کے میرے سامنے بالکل ننگی کھڑی ہوگئے
میں ہوس بھری نظروں سے دانی کا ننگا جِسَم دیکھ رہا تھا
وہ مڑی اور اس کی گول مٹول گانڈ میرے سامنے اگائی

دانی : تم بھی اتارو کپڑے

وہ میری طرف رخ کر کے بولی

میں نے بلینکٹ سائڈ پہ کیا اور جھجکتے ہوئے اپنی قمیض اور شلوار اُتَر دی
دانی کچھ لمحے میرے لنڈ کو دیکھتی رہی پِھر میرے ساتھ لیٹ کے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پہ رکھ کے میرے لنڈ کو پکڑ لیا کچھ دیر میرے لنڈ کو مسلنے کے بعد سیدھی ہو کے بیٹھ گئی دانی : تمھارے لنڈ کو منه میں ڈالوں ؟


مجھے کوئی جواب نہیں سوجھا کیوں کے لنڈ کا لفظ آج سے پہلے میں نے صرف مردوں کے منه سے سنا تھا

دانی نے اپنا چہرہ میرے لنڈ پہ جھکایا

میرے لنڈ کو ہاتھ میں پکڑ کے دانی نے اس کی ٹوپی پہ زُبان

پھیری

میں : اُوں

مجھے بے انتہا لذت محسوس ہوئی

پِھر اس نے میرے لنڈ کو منه میں لیا اور ہونٹ بند کر کے سر اُوپر نیچے کرنی لگی

مجھے صاف محسوس ہو رہا تھا کے وہ ساتھ ساتھ میرے لنڈ کو چوس بھی رہی ہے
اور مجھے ایل جی رہا تھا کے میرا لنڈ پہلے سے بھی بڑا ہو گیا ہے

کچھ دیر بعد وہ میرا لنڈ منه سے نکل کے بیٹھ گئی

دانی : تم بھی کرو نا

میں : کیا . . . کرو ؟

اس نے مگ اٹھایا اور کھول کے اس پیج پہ انگلی رکھ دی جس میں لڑکا لڑکی کی پُھدی چاٹ رہا تھا
لنڈ چوسواتے ہوئے مجھے مزہ تو بہت آیا تھا لیکن پُھدی چاٹنا مجھے گندا کم ایل جی رہا تھا میں چُپ رہا


دانی میرے پاؤں کی طرف سر رکھ کے لیٹ گئی اور اپنی تھیگس کھول دی
اس کی پُھدی کے جڑے ہوئے لپس گیلی تھے

دانی : آؤ نا فیضی . . . میں نے بھی تو تمہارا لنڈ چوسہ ہے نا اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں میں اٹھ کے دانی تھیگس میں جھکا


اب میرا چہرہ اس کی پُھدی کے پس تھا دانی : چاٹو نا

میں نے 1 گہری سانس لی اور زُبان باہر نکل کے اس کی پُھدی کو نیچے سے اُوپر تک 1 بار چاتا دانی : سسیی . . . آں

دانی نے اپنی گانڈ اُوپر اٹھائے اور میرے سر پہ ہاتھ رکھ کے اپنی پُھدی پہ دبایا
میں اب دانی کی پُھدی چاٹ رہا تھا

اس کی سسکیاں سن کے مجھے بھی اب مزہ آنے لگا تھا دانی : چاٹو میری پُھدی کو فیضی

میں کچھ دیر اس کی پُھدی پہ زُبان چلاتا رہا

دانی نے اپنی پُھدی میرے فیس سے پیچھے کی اور اپنی پُھدی کے لپس پہ انگلی رکھ دی
دانی : انہیں بھی . . . ہونٹوں میں لے کے . . . چوسو وہ حاامپتی ہوئی بولی
اس کی پُھدی کے لپس کو بڑی بڑی چُوسنے کے بعد میں نے اس کی طرف دیکھا
دانی نے اپنی پُھدی کے لپس اُوپر سے کھولے اور 1 دانے پہ انگلی رخی

دانی : یہ . . دانہ . . اسے چوسو اور چاٹو

میں دانی کی پُھدی کے دانے کو چُوسنے اور چاٹنے لگا تو اس کی سسکیاں بڑھ گئی اور پُھدی بھی زیادہ گیلی ہوگئے
کچھ دیر بعد اس نے میرا سر پیچھے کیا دانی : اندر ڈالو . .


اب تھوڑا بہت تو مجھے حااشو نے بتایا ہی تھا لنڈ کو پُھدی کے اندر ڈال کر چھوٹی ہوں اور ویسی بھی گاؤں میں مختلف جانوروں کو کرتی دیکھا بھی تھا لیکن میں کر پہلی بار رہا تھا

میں دانی کے اُوپر ہوا تو اس نے میرا لنڈ پکڑ کے اپنی

پُھدی کے سوراخ پہ رکھا

دانی : پُش . . . کرو . .

 

میں نے لنڈ اندر کی طرف دبایا تو وہ دانی کی پُھدی میں اترنے لگا

دانی : اِس عمر میں بھی تمہارا لنڈ . . . اتنا . . لمبا وہ اپنی ٹینجن میری کمر کے گرد لپیٹ کے بولی
میں خود با خود ہی اپنا لنڈ اس کی پُھدی سے اندر باہر کرنی لگا
مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میرا لنڈ کسی گرم اور ریشمی چیز میں غصہ ہوا ہو
کچھ منٹ بعد ہی دانی کا جِسَم اکدنی لگا اور اس کی پُھدی نے جیسے میرے لنڈ کو بحینچ لیا ہو
میں سمجھ گیا کے اس کی پُھدی پانی چھوڑ رہی ہے

اور ساتھ ہی میری سانسیں بھی تیز ہوئی اور ٹانگوں میں اکراو اگیا اور میرے لنڈ نے بھی پانی نکل دیا

میں حاامپتا ہوا دانی کے اُوپر گر گیا دانی بھی تیز تیز سانس لے رہی تھی
کچھ دیر بعد اس نے میرا چہرہ پکڑ کے اُوپر کیا اور چیک پہ کس کی
دانی : فیضی . . یہ لنڈ کا پانی صرف اپنی بیوی کے اندر نکلتے ہوں . . . اِس سے بچا ہو جاتا ہے


میں 1 جھٹکے سے پیچھے ہوا

میں : مطلب . . . تم . .

دانی : نہیں نہیں . . . میرے پس پیلس ہوں میں وہ کھا لوں گی تو کچھ بھی نہیں ہو گا . . میں صرف اتنا بتا رہی ہوں کے کسی اور کے ساتھ کرو تو یا تو کنڈم یوز کرنا یا پِھر پانی باہر نکلنا . . . سمجھے میں نے بس ہاں میں سر ہلا دیا

دانی : اور ہاں . . . اپنے بابا کو کہو کے تمہیں موبائل لے کے دیں . . میں تمہیں اپنا نمبر لکھ دو گی ہم میسج اور کال پہ بات کیا کریں گے

 

Share this post


Link to post

گاؤں واپس آ کے 2 3 دن تو میں بہت اُداس رہا اور ساتھ ساتھ موبائل یوز کرنا سیکھتا رہا
میں نے اپنا اور دانی کا وقت یاد کر کے 2 3 بار مٹھ بھی لگائی اب مجھ میں 1 چینج بھی اگائی تھی . . وہ یہ کے میں تقریباً ہر لڑکی کے ممے اور گانڈ نظر بچا کے گھور سے دیکھتا تھا اور یہ سوچتا تھا کے اِس کی پُھدی کیسی ہو گی یا یہ پِھر ننگی کیسی لگی گی

اور اب جب سمیرہ مجھے دیکھ کے مسکراتی تو میں بھی جواب مسکراہٹ سے دیتا


" صغراں کپڑے لے کے جا رہی ہے نہر پہ " حااشو تیز تیز چلتا میرے پس آیا میں : میں نہیں جا رہا . . تو دیکھ لے جا کے


دانی کا جوان اور تنا ہوا جِسَم دیکھنے کے بعد کس کا دِل کرنا تھا صغراں کا دھلکہ اور موٹا جِسَم دیکھنے کو حااشو : لیکن . . . تو تو ہمیشہ . . میں : ہاں بس اب نہیں


’ مجھے بہت دَر لگتا ہے فیضی کے ابّا " بوا کی آواز میرے کان میں پری

بابا : جب تک میں زندہ ہوں کی فیضی کی طرف آنکھ اٹھا کے تو دیکھے بوا : لالچ انسان کو کیسے اندھا کر دیتا ہے بابا : دیکھ لوں گا میں سب کو

بوا : ہوں تو وہ میرے بھائی . . لیکن پِھر بھی . . بابا : تو پریشان نا ہو میرے ہوتے ہوئے

مجھے کچھ پتہ نہیں تھا کے وہ کس بڑے میں بات کر رہی ہوں

سمیرہ ہمارے گھر آئی تھی کچھ لے کے میں بوا کے پس ہی بیٹھا تھا میں : بوا مجھے میتھ کی سمجھ نہیں آتی

بوا : فیضی تو تو سارے مضمون میں اتنا لائق ہے پِھر اب کیا ہوا

میں : بس تھوڑا سا ہی ہے جو سمجھ نہیں آ رہا میں سمیرہ کی طرف دیکھ کے بولا سمیرہ : مجھ سے سمجھ لینا بوا : ہاں یہ ٹھیک ہے

میں : نہیں بوا . .

میں نے ایکٹنگ کی


بوا : بہن خود کہہ رہی ہے . . . سمیرہ یہ آج سے ہی آئے گا پڑھنے تیرے پس


سمیرہ کے گھر پہ اس کی ماں ہی ہوتی تھی زیادہ اور اس کا باپ زیادہ تیر زمینوں پہ ہی ہوتا تھا یا پِھر بابا کے دیرا پہ

" تم بھی مجھے اچھی لگتی ہو "

میں چارپائی پہ بیٹھ کے بولا

سمیرہ : اچھا جی ؟

وہ ہنسی اور تھوڑے فاصلے پہ بیٹھ گئی میں : اتنی دور کیوں بیٹھ گئی ہو ؟ میں کھسک کے اس کے پس ہوا

سمیرہ : امی باہر ہی ہوں

میں : وہ كھانا بنا رہی ہوں

میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کے چوم لیا سمیرہ نے جلدہی سے ہاتھ چھوڑا لیا سمیرہ : کتاب تو نکالو

میں نے کتاب اسے پکرایی جو اس نے کھول کے اپنی تھائی پہ رکھ لی

سمیرہ : کونسا چیپٹر سمجھ نہیں آ رہا میں : بتاتا ہوں
میں اس کے پس ہوا اور بُک کے نیچے سے اس کی تھائی پہ ہاتھ رکھ دیا
سمیرہ تھوڑا سا ہلی

سمیرہ : فیضی ؟


اس نے مجھے گھوڑا لیکن اِس گھورنے میں ناراضگی نہیں تھی میں : مجھے سب عطا ہے . . . یہ تو بہانہ ہے تم سے ملنے کا سمیرہ : توبہ . . دکھنے میں کتنے بھولے لگتی ہو وہ ہنسی

میں : 1 کس دو نا

سمیرہ : کیا ؟ بالکل بھی نہیں

میں : بس 1 کس

سمیرہ : بس 1 کس یہاں لے لو

وہ اپنی چیک پہ انگلی رکھ کے بولی تو میں آگے ہوا اور اس کی چیک پہ کس کر لی

میں پیچھے ہو کے اس کا سرخ چہرہ دیکھنے لگا میں : اب میں چلتا ہوں . . . کل پِھر آئوں گا
اپنی شلوار میں بنے ہوئے لنڈ کے تمبو کو میں نے چھپانے کی کوشش نہیں کی
سمیرہ کی نظر میرے لنڈ پہ پری تو اس کا چہرہ مزید سرخ ہو گیا

 

" کیسے ہے میرا ہیرو ؟ "

دانی کی کال آئی تھی

میں : میں ٹھیک

دانی : مس کرتی ہو مجھے ؟

میں : کرتا ہوں نا

دانی : میں بھی کرتی ہوں . . وہ وقت جو ہم نے گزارا میں : سب کچھ . . میر تو دِل ہی نہیں لگا 3 4 دن یہاں آ کے دانی : اتنی اچھی لگی میں تمہیں ؟


وہ ہنسی

میں : اتنا کچھ تو سکھایا تم نے مجھے

کال پہ میں زیادہ کھل کے بات کر پا رہا تھا دانی : ویسی کافی جلدہی سیکھ لیا تم نے سب میں : سب ہی کہتے ہوں میں بہت ذہین ہوں دانی : اپنی گرل فرینڈ کا سناؤ میں : قابو نہیں آ رئی

مجھے 3 4 دن ہوگئ تھے سمیرہ کی طرف جاتے ہوئے لیکن بات کسسنگ سے آگے نہیں بڑھی تھی

دانی : زبردستی نہیں کرنی . . او کے ؟ میں : نہیں نہیں وہ میں کیوں کرو گا ؟ دانی : اچھا سنو میں : جی سناؤ

دانی : تمہارا لنڈ کیسا ہے ؟

وہ سرگوشی میں بولی

میں : تم لڑکی ہو کے ایسے لفظ . . .

دانی : اوئے چُپ . . بتاؤ مجھے

میں : ٹھیک ہے . .

میں لنڈ پہ ہاتھ پھر کے بولا دانی : کھڑا ہوتا ہے ویسی ہی ؟ میں : ہاں نا . . اور تمہاری وہ کیسی ہے ؟ دانی : وہ کیا ؟ بولو نا میں : تمہاری . . پُھدی دانی : تمھارے لنڈ کو مس کرتی ہے

میں : میرا لنڈ بھی تمہاری پُھدی کو مس کرتا ہے دانی : فون سیکس کا پتہ ہے ؟


میں : وہ کیا ہوتا ہے ؟

دانی : کبھی رات کو بتاون گی

میں : ٹھیک ہے


كوكب اور اس کی ماں ہمارے گھر کم کرنی آتی تھیں كوكب سمیرہ کی ہم عمر تھی اور کافی پیاری اور چلبلی سی لڑکی تھی

اس دن وہ حویلی کے صحن میں جھاڑو لگا رہی تھی اور میں vیراندا میں بوا کے پس بیٹھا ہوا تھا
كوكب جب نیچے جھکی تو میری نظر اس کی قمیض کے گلے پہ پری
کھلے گلے والی قمیض میں اس کے آدھے ممے نظر آ رہی تھے
اس نے میری نظروں کو محسوس کیا تو مسکرا کے رخ دوسری طرف کر لیا
مطلب بات بن سکتی تھی

روم میں آتے ہی میں نے سمیرہ کو بانہوں میں لیا اور اس کے ہونٹوں پہ کس کرنی لگا
میرا لنڈ فوراً ہی تن کے اس کی پُھدی میں دابنی لگا میں اپنے دونوں ہاتھ اس کی گانڈ پہ لےگیا


سمیرہ نے اپنی پُھدی میرے لنڈ سے پیچھے کرنی کی کوشش لیکن میں نے اس کی گانڈ کے ابحارون کو مضبوطی سے پاکری رکھا

سمیرہ : فیضی . . بس کرو نا میں : اپنے ممے دکھاؤ مجھے سمیرہ : حا . . . بالکل نہیں . . . چھوڑو مجھے

میں غصے میں پیچھے ہٹا اور چارپائی سے اپنی کتابیں اٹھا لی
سمیرہ : کہاں جا رہے ہو ؟ ابھی تو آئے ہو میں : جا رہا ہوں میں

میں اس کے پس سے گزرنے لگا تو اس نے میرا بازو پکڑ لیا

سمیرہ : ناراض کیوں ہو رہی ہو ؟
میں نے جواب دیئے بغےر بازو چھڑایا اور وہاں سے نکل آیا


" آج امی کی طبیعت ٹھیک نہیں وہ نہیں آئی آج " كوكب نے بوا کو بتایا
بوا : میری بھی کمر میں درد ہو رہی ہے . . تو صفائی کر کے آجا اور میری مالش کر دے

یہ کہہ کے بوا اپنے کمرے میں چلی گئی

میں اپنے کمرے میں چلا گیا اور تھوڑی دیر بعد كوكب بھی

وہاں اگائی

كوكب : صفائی کرنی ہے

میں : کر لو

میں بیڈ پہ لیٹ کے بولا


كوكب صفائی کرنی لگی اور 1 بار پِھر میری نظریں اس کے گریبان میں تھیں

اور میرا لنڈ بھی کھڑا ہو چکا تھا

میں بہت دنوں سے کنٹرول کر رہا تھا اپنے آپ پہ كوكب کا رخ دوسری طرف ہوا تو میں بیڈ سے اُتَر کے اس کے پیچھے جا کھڑا ہوا

كوكب اپنے دھیان میں فرش سے اٹھی تو میں نے اسے پیچھے

سے بانہوں میں لے لیا

Share this post


Link to post

كوكب : ہاہ . . . یہ کیا

میں : مجھ سے دوستی نہیں کرو گی ؟

میں اپنا تنا ہوا لنڈ اس کی گانڈ کی لکیر میں دباتا

ہوا بولا

كوكب : کوئی آجائے گا

میں : بوا لیٹ گئی ہوں

یہ کہہ کے میں نے اس کی قمیض اُوپر کر دی اور برا کے اُوپر سے اس کے ممے مسلنے لگا كوكب : چھوڑ دیں نا مجھے

وہ اپنا آپ چرانے کی کوشش بھی نہیں کر رہی تھی

میں نے اس کی برا اُوپر کر دی اور اس کے ننگے مموں کو ہاتھوں میں لے لیا

مجھے ایسے لگا جیسے وہ بھی اپنی گانڈ پیچھے کر کے میرے لنڈ کے ساتھ دبا رہی ہے
اپنا 1 ہاتھ میں اس کی شلوار میں لے گیا اور اس کی پُھدی کو ٹچ کیا
كوكب کی پُھدی پہ بال تھے


میں فنگرز سے اس کی پُھدی کو مسلنے لگا اور ساتھ ساتھ ہی دوسرے ہاتھ سے اس کے مموں کو دبا رہا تھا

میں نے ہاتھ اس کی شلوار سے نکل کے اس کی شلوار نیچے کر دی اور پِھر اپنی شلوار نیچے کر کے اپنا تنا ہوا لنڈ اس کی گانڈ کی لکیر میں دے کے دوبارہ اس کی پُھدی رب کرنی لگا میرا لنڈ بھی اس کی گانڈ کی لکیر میں آگے پیچھے ہو رہا تھا

كوكب کی سانسیں تیز ہونے لگی اور ساتھ ہی وہ تیزی سے گانڈ آگے پیچھے کرنی لگی

جیسے ہی اس کی پُھدی نے پانی چھوڑا میرے لنڈ نے بھی پانی اس کی گانڈ کی لکیر میں نکل دیا
میں اسے چھوڑ کے حاامپتا ہوا بیڈ پہ بیٹھ گئے كوكب شلوار اُوپر کر کے میری طرف مڑی میں : اچھا کل پُھدی سے بال صاف کر کے انا كوكب : جی اچھا

وہ مسکرای اور روم سے نکل گئی

كوكب کے ساتھ کافی دن موقع نہیں مل سکا

لیکن اسکول سے واپسی پہ سمیرہ میرے ساتھ چلنے لگی 1 ہفتے سے زیادہ ہو گیا تھا اس سے بات ہوئے سمیرہ : اماں نے تم لوگوں کی طرف جانا ہے . . . جیسے ہی وہ آئیں تم ہماری طرف آ جانا

یہ کہہ کے وہ تیزی سے آگے نکل گئی


سمیرہ چارپائی سے اٹھ کے میرے گلے ایل جی گئی


سمیرہ : ایسے ناراض ہوتے ہوں بھلا کوئی

جیسے ہی اس کی ماں ہمارے گھر آئی میں نکل کے اس کی طرف ایسے تھا

میں : تم نے بات ہی ایسی کی

سمیرہ : بس دیکھو گے نا ؟

میں : ہاں

وہ پیچھے ہوئی اور اپنی قمیض اُوپر کر دی برا اس نے شاید میرے آنے سے پہلے اُتَر دی تھی اس کے ٹینس بال جتنے ممے تانے ہوئے تھے سمیرہ : بس ؟

یہ کہہ کے اس نے قمیض نیچے کر لی

میں : شلوار نیچے کرو

سمیرہ : ہائے نہیں

میں : پُھدی بھی دکھاؤ نا

سمیرہ : فیضی . . .

پِھر اس نے گہرا سانس لیا اور 1 ہاتھ سے قمیض اُوپر کر کے دوسرے ہاتھ سے اپنی شلوار نیچے کر دی
اس کی پُھدی کا اُوپر والا حصہ دیکھ کے ہی پتہ چل رہا تھا کے اس نے بال صاف کیے ہوئے ہوں

اِس سے پہلے کے وہ شلوار اُوپر کرتی میں آگے بڑھا اور

اسے بانہوں میں لے کے چارپائی کے کنارے پہ بٹھا کے پیچھے

لٹا دیا

سمیرہ : فیضی . . . یہ . . .

میں : 2 منٹ بس . . کریب سے دیکھنے دو نا

اِس سب میں اس کی شلوار گھٹنوں تک اگائی تھی


میں نے اس کی شلوار اترے بغےر ہی اس کے ٹینجن بینڈ کر کے اُوپر کی تو اس کی پُھدی میری نظروں کے سامنے اگائی پُھدی چاتواتی ہوئے دانی کی سسکیاں یاد تھیں مجھے سمیرہ : چھوڑ دو نا مجھے

اس نے ٹینجن سیدھی کرنی کی کوشیش کی لیکن مانے اسے

ایسا نا کرنی دیا اور جلدہی سے زُبان اس کی پُھدی کے لپس میں

پھیری

سمیرہ : حاہہح

اس کی کمر اکری اور گانڈ اُوپر کو اٹھی لیکن میں نے اس کی پُھدی کو چاٹنا جاری رکھا

دانی کے مقابلے میں سمیرہ کی پُھدی کافی چھوٹی تھی جیسے ہی میری زُبان اس ککی پُھدی کے دانے سے ٹچ ہوئی اس کی موزاحامت کم ہوگئے لیکن منه سے وہ ابھی بھی مجھے منع کر رہی تھی

سمیرہ : چھوڑ دو . . . فیضی . . . آں

میں اس کی پُھدی کو چاٹنے میں مگن رہا

اچانک ان کا باہر والا دروازہ بجا

سمیرہ : اماں اگائی . .

ہم جلدہی سے اٹھے

سمیرہ : تم یہاں دروازے کے پیچھے رکو . . . اماں آگے چلی جائیں تو جلدہی سے نکل جانا
وہ اپنے کپڑے ٹھیک کرتی ہوئے دروازہ کھولنے چلی گئی جیسے ہی وہ دونوں آگے دوسرے کمرے میں گئی میں چپکے سے نکل کے باہر اگیا


اس دن افضل بھائی ہمارے گھر آئے اور ان کے ساتھ راحیلہ اور سجیلا بھی تھیں

تب پتہ چلا کے اگلے مہینے افضل کی شادی ہو رہی تھی اور وہ لوگ کریبی شہر سے آ رہی تھے کچھ چیزیں لے کے بوا ان کی خاطر مدارت میں لگی ہوئی تھیں

پِھر افضل بابا کے ساتھ دیرا پر چلا گیا

بوا : لڑکیو یہ اتارو چادارین اور آرام سے بیٹھو . . اتنی

گرمی ہے

افضل کے جاتے ہی بوا نے انہیں کہا

دونوں نے چادرےں اُتَر کے سائڈ پہ رخی اور سکون کا سانس لیا
بوا کچن کی طرف چلی گئی

اور میں نے لائف میں پہلی بار راحیلہ اور سجیلا کے جسموں کو گھیر سسے دیکھا
ان دونوں کی سب سے خاص بات ان کے ممے تھے جو کے کافی بڑے تھے
مجھے گھورتا دیکھ کے سجیلا نے راحیلہ کو کہنی ماری تو میں حاربارا کے دوسری طرف دیکھنے لگا اور وہ دونوں ہنسنے لگی

میں : کیا ہوا ؟

سجیلا : کچھ بھی تو نہیں . . . کیوں ؟

میں : آپ لوگ ہنس رہی تھی نا

راحیلہ : وہ تو ہم اپنی بات پہ ہنس رہی تھے میں : اچھا
اِس بار کا جان بوجھ کے ان کے مموں پہ نظریں جاماین کے بولا راحیلہ : فیضی بڑا ہو گیا ہے


سجیلا : یا ہونے کی کوشش کر رہا ہے میں : ہو گیا ہوں میں بڑا . . . باجیو یہ کہہ کے میں اٹھا اور باہر اگیا


بوا اور بابا تایا کے گھر گئے ہوئے تھے

میں بھی باہر جانے ہی والا تھا کے سمیرہ اندر اگائی سمیرہ : خلا کہاں ہوں ؟ میں : تایا کے گھر . . . ساتھ والے گاؤں

میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کے اپنی طرف کھینچا سمیرہ : اس دن تم نے کتنا گندا کم کیا ویسی وہ میری بانہوں میں آ کے بولی

میں : مجھے معلوم ہے تمہیں مزہ بھی آیا تھا

میں ہنسا

سمیرہ : جی نہیں

وہ نظریں نیچے کر کے بولی

 

اس کے ممے پہ ہاتھ رکھ کے میں اس کے ہونٹ چُوسنے لگا سمیرہ : سسی . . . آہستہ نا
میں نے کچھ زیادہ ہی زور سے اس کا مامماین دبا دیا تھا سمیرہ : مجھے جلدہی جانا ہے

میں : اپنی پُھدی پہ پیار کرنی دو اس دن کی طرح . . پِھر جانے دو گا
سمیرہ نے نا میں سر ہلایا

میں نے ہاتھ اس کی شلوار میں ڈال کے اس کی پُھدی کو

ٹچ کیا

سمیرہ : سسی . . .


اس نے اپنی تھائی تھوڑی سی کھول دی

میں گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھا اور قمیض پیچھے کر کے اس کی

شلوار نیچے کر دی

سمیرہ : مجھے جانے دو

اس نے جانے کی کوشش بھی نہیں کی

میں نے زُبان نکل اور اس کی پُھدی کے لپس میں اُوپر

نیچے کرنی لگا

میں : لیٹ جاؤ نا

سمیرہ لیتی تو میں نے اس کی شلوار اُتَر کے اس کی تھائی کھول دی

اس کی چھوٹی سی پُھدی بالوں سے پاک تھی اور لپس آپس میں جوری ہوئے تھے
سمیرہ کی پُھدی کے اُوپر والے حصے کو ہونٹوں میں لے کے چوستی ہوئے میں اس کے دانے پہ زُبان پھیرنی لگا سمیرہ : سیی . . . حایییی . . . . فایزیی

میں تیزی سے زُبان اس کی گیلی پُھدی پہ چلانے لگا اور اس کی گانڈ اُوپر نیچے ہو رہی تھی
پِھر اس کا جِسَم اکارنی لگا سمیرہ : اییی . . . . وففف . . . آہا

اس کی گانڈ اُوپر کو ہوئی اور اس کی پُھدی نے پانی چھوڑ دیا

وہ کچھ دیر لمبے لمبے سانس لیتی رہی پِھر جلدہی سے اٹھ کے

شلوار پہن ’ نے لگی

سمیرہ : پِھر آئوں گی . . آج جلدہی ہے


" یار یہ فائقہ مجھے بڑی اچھی لگتی ہے "


حااشو اور میں نہر کے کنارے بیٹھے تھے فائقہ حااشو کے چچا کی بیٹی تھی میں : بتا دے اسے

حااشو : میرے ابو کا پتہ ہے نا ؟ اگر اس نے بتا دیا حااشو اکرم کا بیٹا تھا . . . وہی اکرم جسے ابّا ہر جگہ میرے بھیجتے تھے . . . وہ بہت عرسی سے ابّا کے پس کم کر رہا تھا اور اب تو گھر کے فرڈ جیسا تھا . . . ہم میں سے کوئی بھی اسے ملازم نہیں سمجھتا تھا میں : ہاں یار یہ تو ہے

حااشو : تو سنا سمیرہ کے ساتھ کہاں تک پہنچی کہانی ؟ میں : چل رہی ہے ابھی تو کہانی
اس دن کے بعد سمیرہ سے تنہائی میں ملاقات نہیں ہو سکی تھی


آج پِھر كوكب اکیلی ہی کم کرنی آئی تھی اور بوا اپنی کسی سہیلی کے گھر گئی ہوئی تھیں
اس کا ہاتھ پکڑ کے میں اسے اپنے کمرے میں لے گیا

مجھ پر اس وقت جنون سا سوار ہوا ہوا تھا . . شاید سیکس کا

كوكب ذرا بھی نہیں گھبرا رہی تھی

اسے بانہوں میں لیتے ہوئے میں نے کسسنگ اسٹارٹ کی تو وہ مجھ سے بھی زیادہ گرمجوشی سے میرا ساتھ دینے لگی میرے ہاتھ اس کی کمر اور گانڈ پہ پِھر رہی تھے

پِھر نے کپڑوں کے اُوپر سے ہی میرا لنڈ پکڑ لیا میں : ننگی ہو جاؤ

میں نے اسے چھوڑا اور اپنی قمیض شلوار اُتَر دی


كوكب بھی کپڑے اُتَر کے ننگی ہوئی اور بیڈ کے کنارے پہ بیٹھ کے میرے لنڈ کی طرف دیکھنے لگی

میں اس کے سامنے جا کھڑا ہوا میں : منه میں ڈالو میرے لنڈ کو مجھے لگتا تھا وہ انکار کر دے گی

لیکن اس نے فوراً ہی میرا لنڈ پکڑا اور منه میں لے لیا كوكب اپنے ہونٹ بند کر کے میرا لنڈ منه سے اندر باہر کرتی ہوئے چوس رہی تھی

اور وہ یہ کم خاصی مہارت سے کر رہی تھی

پِھر اس نے لنڈ منه سے باہر نکالا اور چاروں طرف سے چاٹنے کے بعد دوبارہ منه میں لے لیا
میں ہاتھ نیچے لے گیا اور اس کے نپلز مسلنے لگا

کچھ دیر بعد وہ میرا لنڈ منه سے نکل کے تھائی کھول کے لیٹ گئی
كوكب : آجاؤ نا اب . . . چودو مجھے

میں نے اس کی پُھدی کو دیکھا جو آج بالوں سے پاک تھی

تھی تو وہ سمیرہ کی عمر کی لیکن اس کی پُھدی سمیرہ کی پُھدی سے بڑی ایل جی رہی تھی
میں اس کی تھائی کے بیچ آیا اور اپنا لنڈ پکڑ کے اس کی پُھدی میں اترنے لگا

كوكب : حایی . . . اُف . . . .

جیسے ہی میرا لنڈ اس کی پُھدی میں پُورا اترا میں تیزی سے اسے اندر باہر کرنی لگا
كوكب : ہائے . . . ہائے . . . آہ . . . آہ . . . آہستہ . . . سسیی میں نے دحاکون کی سپیڈ اور بھی بڑھا دی


یہ میری لائف کی دوسری چدائی تھی اور مجھے کچھ زیادہ ہی جلدہی تھی

كوكب بھی اب گانڈ اٹھا اٹھا کے میرا ساتھ دے رہی تھی کچھ منٹ بعد اس کی پُھدی نے پانی چھوڑ دیا مجھے دانی کی بات یاد تھی

میں نے بھی اپنا لنڈ باہر نکالا اور ہاتھ چلا کے پانی اس کی پُھدی اور پیٹ پہ نکل دیا
اور یہ سین بھی میرے لیے بڑا سیکسی تھا

" یہ سب لوگ اتنے عجیب سے کیوں لگتی ہوں مجھے ؟ "

میں نے بوا سے پوچھا

بوا : کون لوگ ؟

میں : تایا لوگ . . دونوں چچا لوگ . . .

بوا : اب ہر کوئی ہماری طرح تو پیار نہیں کر سکتا نا تجھے میں : وہ بات سہی ہے کے آپ سے زیادہ پیار کوئی نہیں کر سکتا . . لیکن بوا جی مجھے کچھ اور محسوس ہوتا ہے . . . پتہ نہیں کیا ؟

بوا : نا اتنا زور ڈالا کر اپنے دماغ پہ پتر میں : اماں ایکسڈینٹ کے وقت میں بھی ساتھ تھا . . میں کیسے بچ گیا

میں اس وقت 3 سال کا تھا مجھے کیا یاد ہونا تھا ؟ بوا : تو اسلئے بچ گیا کے تو نے میرے پس جو انا تھا . . اپنی بوا کے پس . . چل میں كھانا لے کے آتی ہوں تیرے لیے

" یہ تجھے کیا ہوا ؟ "

حااشو کے چیک پہ نیل پڑا ہوا تھا

ہم اس وقت اپنی پسندیدہ جگہ یعنی نہر کے کنارے پر تھے

حااشو : کچھ نہیں یار گر گیا تھا

میں : کہاں گرا ؟

حااشو : گھر میں ہی

وہ دوسری طرف دیکھتے ہوئے بولا میں : ادھر میری طرف دیکھ

میں نے اس کا چہرہ اپنی طرف موڑا میں : جھوٹ نا بول مجھ سے
حااشو : یار وہ ماجد نہیں ہے ؟ وہ اور اس کے دوست تھے میں : تو چل میرے ساتھ
میں غصے میں اٹھ کھڑا ہوا

حااشو : میں اکیلا تھا اور وہ تِین . . اکیلے اکیلے آتے تو میں دیکھ لیتا انہیں . . خیر دفعہ کر یار میں : تو نا چل میرے ساتھ

اتنے میں ماجد اپنی موٹر سائیکل پہ گزرتا نظر آیا اور

اس کے ساتھ 1 اور لڑکا بھی تھا

میں : تو ادھر ہی ٹھہر

میں ماجد کی بائیک کے آگے کھڑا ہو گیا

وہ بائیک روک کے نیچے اترا ہی تھا کے میں نے کوئی بات کیے بغےر اس کا گریبان پکڑا اور 2 3 پونچھ اس کے فیس پہ دیئے اور دوسرے لڑکے کے ساتھ حااشو بھڑ گیا ماجد مجھ سے تھوڑا بڑا ہی تھا


اس نے بھی ہاتھ پاؤں چلائے اور پونچھ مجھے بھی لگی لیکن اس کا پاؤں کہیں اَٹْکا اور وہ نیچے گر گیا

یہی موقع تھا میرے لیے اور میں نے اِس کا خوب فائدہ اٹھایا
دوسری طرف حااشو نے دوسرے لڑکے کو گرایا ہوا تھا


میرے پھٹے ہوئے کپڑے دیکھ کے بوا تو بے ہوش ہونے والی ہوجاین
میں نے انہیں ساری بات بتائیں بوا : اگر تجھے کچھ ہو جاتا تو ؟

میں : کیا ہونا تھا بوا . . . ایوین بدماشی کرتی ہوں وہ لڑکے سب کے ساتھ . . حااشو کو اتنا مارا تھا انہوں نے
اتنے میں بابا کے دیرا سے 1 بندہ مجھے لینے اگیا بوا نے جلدہی سے میرے کپڑے چینج کیے میں : بابا ڈانٹیں گے مجھے

بوا : نہیں دانت ’ تے . . بس اگر وہ سلاہ کا کہیں تو کر لینا

دیرا پہ ماجد کا باپ فضل حااشو اور اکرم بھی تھے . . اور کچھ اور لوگ بھی تھے ساتھ میں

بابا نے گھور سے مجھے دیکھا . . . شاید یہ دیکھ رہی تھے کے مجھے کوئی چوٹ تو نہیں لگی ؟
" آپ کے بیٹے نے بدمعاشی کی ہے میرے بیٹے کے ساتھ " فضل بولا
بابا : ابھی پتہ چل جاتا ہے . . ہاں فیضی بتاؤ کیا ہوا تھا ؟ میں نے حااشو کی لڑائی والی بات بتا دی


اور پِھر حااشو نے اپنی لڑائی کی سہی وجہ بھی بتا دی ماجد فائقہ کو ٹنگ کر رہا تھا . . حااشو نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تو اس نے اپنے ساتحیون کے ساتھ حااشو پہ حملہ کر دیا تھا

اکرم نے 1 قھر بھری نظر فضل اور ماجد پہ ڈالی لیکن

بابا کی وجہ سے چُپ رہا

بابا : ہاں بول فضل

فضل : یہ لڑکا جھوٹ بول رہا ہے وہ اپنی ہٹ دھرمی پہ قائم تھا

اکرم کا چہرہ غصے کی شدت سے سرخ ہو رہا تھا بابا : ماجد تجھے اپنی غلطی مان لینی چاہیے بیٹا ماجد نے نا میں سر ہلا دیا

بابا : آئندہ ایسا نہیں ہونا چاہیے . . عزت سب کی ساانجحی ہوتی ہے
فضل : آپ کو تو اپنے بچے ہی سچے نظر آئیں گے اکرم : تمیز سے بات کر فضل صاحب سے وہ دھاڑ کے بولا

Share this post


Link to post

فضل : اوئے تو تو ہے ہی چمچہ . . . بابا : فضل سوچ سمجھ کے بات کر بابا نے اسے ٹوکا فضل : دیکھ لوں گا

وہ دھمکی آمیز آواز میں کہتا ہوا نکل گیا گاؤں میں کوئی بھی انہیں پسند نہیں کرتا تھا
اکرم : یہ فیضی کے پیچھے پر جائیں گے اب . . خیر میں جانتا ہوں ایسے لوگوں سے نمٹنا

بابا کسی گہری سوچ میں گم تھے


اور اسی رات فضل کے گھر پر مسلح لوگوں نے حملہ کر دیا لیکن عورتوں کو کچھ نہیں کہا

اور اگلے دن وہ لوگ گاؤں چھوڑ کے چلے گئے

" افضل بھائی کی شادی پہ آ رہی ہو تم لوگ ؟ " دانی سے کال پہ بات ہو رہی تھی
دانی : ہاں سب آئیں گے

میں : تم ہمارے گھر ہی رہنا

دانی : کیوں جی ؟

وہ ہنسی

میں : نہیں تو نا سائی

میں برا مان کے بولا

دانی : اوئے

میں : کیا ہے ؟

دانی : ممموااہح

میں : اتنا دِل کرتا ہے میرا

دانی : کیا دِل کرتا ہے ؟

میں : تمہیں ننگا کر کے . . .

دانی : فیضی . .

اس کی آواز سورجوشی میں بَدَل گئی تھی میں : جی
کچھ لمحے خاموشی رہی

دانی : کیا پہنا ہوا ہے تم نے ؟

میں : صرف شلوار

دانی : اتارو اپنی شلوار


میں : کیوں دانی ؟

اس کی تیز سانسیں سن کے ہی میرا لنڈ کھڑا ہو چکا تھا دانی : کیوں کے میں نے اپنے کپڑے اُتَر دیئے ہوں . . . میں بھی ننگی ہوں یسواقت

یہ سن کے میرے لنڈ کو جھٹکا لگا اور میں نے آنکھیں بند کر

کے دانی کے ننگے جِسَم کو اِمیجن کرتی ہوئے شلوار اُتَر دی

میں : اُتَر دی ہے

دانی : تمہارا لنڈ . .

میں : کھڑا ہے . . . بہت سخت ہو گیا ہے دانی : میں سیدھی لیتی ہوں . . تھائی کھول کے . . ننگی میں : تمہاری پُھدی . .

دانی : گیلی ہو رہی ہے . . مجھے تمہارا لنڈ چاہیے

میں اپنا لنڈ ہاتھ میں پکڑ کے ہاتھ اُوپر نیچے کر رہا تھا
میں : مجھے تمہاری پُھدی . . میرا لنڈ میرے ہاتھ میں ہے . .

دانی ; آں . . . . میں اپنی پُھدی کو رب کر رہی ہوں . . .

دانی کی تیز سانسیں مجھے اپنے اُوپر محسوس ہو رہی تھیں

میں بھی تیزی سے ہاتھ چلانے لگا

دانی : اُوں . . . مجھے تمہارا . . . لنڈ . . پُھدی میں لینا

ہے . . . آں

میں : مجھے بھی . . . تمہیں چھوڑنا . . . ہے . .

دانی . . فک میں . . . . . چھوڑ دو مجھے . . میری میں نے فنگر پُھدی

میں ڈال لی ہے . . آں

میں : میں لنڈ تمہاری پُھدی میں ڈال کے تمھارے ممے . . .

دوسری طرف دانی کی سسکیاں بڑھ گئی تھیں

دانی : آہ . آہ . . . آہ . . میں فنگر اندر باہر کر رہی ہوں . . . . اُوں


میں : میرا لنڈ ہے یہ . . . تمہاری پُھدی میں . . .

دانی : اُف . . . . سیی

ہم دونوں کی سانسیں بہت تیز ہو کے دھیمی ہوگئے

جیسے ہی دانی کی پُھدی نے پانی چھوڑا میرے لنڈ نے بھی پانی نکل دیا تھا

یہ مجھے بعد میں اس نے بتایا کے اسے فون سیکس کہتے ہوں کم والی ساری بز تھیں تو بوا نے مجھے کہا کے سمیرہ کی امی کو کچھ چیزیں دے آئوں

ہمارے تالوقاات ایسے تھے کے دروازہ نوک کرنی کی ضرورت نہیں پرتی تھی

میں سیدھا اندر گیا تو سعدیہ اور سمیرہ صحن میں بیٹھی تھیں
میں : یہ بوا نے بھیجا ہے کچھ

سمیرہ چیزیں لے کے کچن میں چلی گئی

سعدیہ میری طرف دلچسپی سے دیکھ رہی تھی

سعدیہ : بیٹھو

میں : نہیں ذرا جلدہی ہے

میں نے اسے گھور سے دیکھا

سعدیہ سمیرہ کی ہم عمر تھی لیکن بھرے بھرے جِسَم والی

خوبصورت لڑکی تھی

سعدیہ : ملنا ہے سمیرہ سے ؟

میں چونک گیا

سعدیہ : ہم دونوں کوئی بات نہیں چحوپاتی 1 دوسرے سے وہ مسکرای
میں کچن میں چلا گیا تو سمیرہ برتن لے کے باہر آ رہی تھی


برتن اس کے ہاتھ سے لے کے شیلف پہ رکھ کے میں نے اسے بانہوں میں لے لیا

سمیرہ : کیا کر رہی ہو ؟ سعدیہ . . .

میں : تم نے بتا دو دیا ہے اسے ہمارے بڑے میں

میں ہاتھ اس کی کمر سے نیچے لے گیا اور اس کی گانڈ کی لکیر میں انگلی اُوپر نیچے کرنی لگا سمیرہ : فیضی . . . مجھے یہ سب اچھا نہیں لگتا

اس نے اپنے آپ کو چحورانی کی کوشش کی میں : ٹھیک ہے . . آئندہ ٹنگ نہیں کرو گا

میں نے برتن اٹھائے اور وہاں سے نکل آیا

" میں نہیں اب اسے لفٹ کرانے والا "

میں نے حااشو کو سمیرہ کے بڑے میں بتایا

حااشو : تو 1 کم کر

میں : کیا

حااشو : سعدیہ کو پھنسا لے . . . سمیرہ کو جلا ( جیلس کر ) اتنے میں وہ دونوں ہمارے پس سے گزری
سمیرہ نے 1 نظر مجھ پہ ڈالی اور سامنے دیکھنے لگی جب کے سدرہ کافی دیر میری طرف دیکھتی رہی میں : یہی کرنا پرے گا


سمیرہ نے تو ہمارے گھر انا بھی چھوڑ دیا تھا . . کوئی کم ہوتا بھی تو سدرہ ہی آتی تھی اب
اس دن مجھے اس سے تنہائی میں بات کرنی کا موقع مل ہی گیا


وہ واپس جانے لگی تو میں گاتے کے اندر والے حصے میں اس

کا انتظار کر رہا تھا

میں : سنو

سدرہ : ہاں

میں : مجھ سے دوستی کرو گی ؟

سدرہ : کیوں سمیرہ سے لڑائی ہوگئے ہے ؟

میں : ہاں

سدرہ : سلاہ کرا دو ؟

میں : نہیں . . تم اپنا بتاؤ

سدرہ : ٹھیک ہے . . . لیکن سمیرہ کو پتہ نہیں چلنا چاہیے وہ مسکرای
میں نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کے چوم لیا

" بھائی جی آپ تو ویسی ہی ناراض ہو رہی ہوں . . . مجھے کیا پتہ تھا کے ان کا فیضی کے ساتھ جھگڑا ہوا ہے " تایا بابا سے بات کر رہی تھے

تایا اور سجیلا شہر سے واپسی پہ ہماری طرف آئے تھے بابا کو پتہ چلا تھا کے فضل اور ماجد لوگ تایا کے گاؤں میں شفٹ ہوئے تھے اور تایا نے انہیں اپنی زمینوں پہ رہنے کی جگہ بھی دے دی تھی اور کام بھی

بابا : یہاں بھی سارا گاؤں ٹنگ تھا ان سے . . اور پِھر وہ لوگ فیضی کے ساتھ بھی دشمنی بڑھا رہی تھے . . . اسی لیے میں نے نکالا انہیں یہاں سے

تایا : آپ بے فکر رہیں وہ فیضی کے ساتھ کوئی شرارت نہیں کریں گے


تایا ابھی بھی انہیں نکالنے کو تیار نہیں تھے

بابا : ہاں تم نے اپنے بوماشون کی فوج میں اضافہ بھی تو کرنا تھا نا

تایا : کرنا پڑتا ہے بھائی جی . . الیکشن بھی تو لرنا ہے نا اگلا بابا : مرضی ہے تمہاری . . لیکن انہیں 1 حد میں ہی رکھنا بوا ملازماین کے ساتھ چائے وغیرہ لے کے آئی تو وہ لوگ چُپ کر گئے

بوا : بھائی آج سجیلا کو چھوڑ جائیں میرے پس . . . کل ہمارے ساتھ ہی آجائے گی

تایا : وہاں اتنا کم ہے آپکو پتہ تو ہے شادی میں دن ہی کتنے رہ گئے ہوں
بوا : کوئی فرق نہیں پڑتا 1 دن سے . . . کبھی تو بہن کی بات مان لیا کریں
تایا کو اکیلے ہی جانا پڑا

تایا کے جاتے ہی سجیلا نے چادر اُتَر پھینکی اور 1 ڈوپٹہ گلے میں لے لیا
ٹائیٹ فٹنگ والی قمیض میں اس کے ممے اور بھی باہر کو آئے ہوئے تھے

اور میں سوچ رہا تھا کے تایا اگر اسے اِس حولیی میں دیکھ لیں تو جان سے ہی مار دیں
سجیلا : میں نے خود بوا سے کہا تھا کے میں نے رہنا ہے میں : باجی وہ کیوں ؟
سجیلا : کبھی کبھی ہمارا بھی آزادی سے سانس لینے کو دِل کرتا ہے میں : ھم


میں نے سر ہلایا اور اس کے مموں کو 1 بار پِھر دیکھا سجیلا : نا دیکھو اتنے گھور سے

وہ ہنسی تو میں حاربارا گیا میں : میں کیا . . دیکھ رہا ہوں سجیلا : ابھی تم بچے ہو . . . آئی سمجھ ؟

میں : کوئی بچا نہیں ہوں . . . 8تھ میں ہوں . . . اگر مجھے لیٹ داخل نا

کرواتے تو 10تھ میں ہوتا

میں جلدہی سے بولا

سجیلا : اچھا جی ؟

وہ ہنس کے بولی

میں : ہاں جی

میں اس کی آنکھوں میں دیکھ کے بولا

وہ کچھ دیر میری آنکھوں میں دیکھتی رہی اور کچھ بولنے ہی لگی تھی کے بوا کو عطا دیکھ کے چُپ ہوگئے


بوا سجیلا کو اپنی سہیلیوں سے ملنے لے کے گئی ہوئی تھیں میں نے 2 3 چکر سمیرہ کے گھر کے باہر کے لگائے اور کھلے گاتے سے اندر دیکھا

بیلاخیر سعدیہ مجھے نظر آ ہی گئی اور جیسے ہی اس نے مجھے دیکھا وہ گاتے پہ اگائی
میں : آجاؤ میں گھر میں اکیلا ہوں میں ادھر اُدھر دیکھ کے بولا
وہ ہاں میں سر ہلا کے اندر چلی گئی تھوڑی دیر میں وہ میرے پس تھی


اس نے مسکراتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھایا تو میں نے اس کا

ہاتھ کھینچ کر اپنی بانہوں میں لے لیا

سعدیہ : سمیرہ کو بخار ہے تو کاحاچی اسے شہر لے کے

گئی ہوں ڈاکٹر کے پس

میں : چلو اچھا ہوا

میں بیڈ کے کنارے پہ بیٹھ گیا اور سعدیہ کو اپنی لیپ میں بٹھا لیا
میں : سمیرہ نے کیا بتایا میرے بڑے میں

سعدیہ : یہی کے وہ تمہیں اچھی لگتی ہے اور تم اس کے پیچھے پرے ہوئے ہو

وہ بازو میرے گلے میں ڈالتے ہوئے بولی

سعدیہ کی بات سن کے مجھے دھچکا سا تو لگا اور غصہ بھی آیا لیکن میں کچھ بولا نہیں
سمیرہ ہی تھی جس نے پہلے اظہار کیا تھا میں : ایوین پتہ نہیں کیا ساماجتی ہے وہ اپنے آپ کو
یہ کہہ کے میں نے ہونٹ اس کے ہونٹوں پہ رکھیں اور ہاتھ سے اس کے ممے مسلنے لگا
سعدیہ کے ہونٹ چوستی ہوئے میں نے ہاتھ اس کی قمیض کے نیچے سے اس کے پیٹ پہ لے گیا

سعدیہ کی گانڈ کے نیچے میرا تنا ہوا لنڈ پھنسا ہوا تھا میں : تمھارے ممے دیکھ لوں ؟ سعدیہ نے بس ہاں میں سر ہلا دیا

میں نے بےصبری سے اس کی قمیض اُوپر کر دی اور ساتھ ہی سفید برا بھی
اس کے ممے واقای سمیرہ سے بڑے تھے اور ان کے اُوپر لائٹ برائون نپلز


سعدیہ کا مامماین ہاتھ میں لے کے میں نے اس کا نپلز ہونٹوں میں لے لیا اور اس پہ زُبان پھیرنی لگا سعدیہ : سسیی . . .

اب میں اس کے دوسرے ممے کو ہاتھ میں لے کے اس کے نپل کو چوس اور چاٹ رہا تھا

سعدیہ کے چھوٹے سے نپل آکر چکے تھے اور وہ آنکھیں بند کیے سسکیاں لے رہی تھی
میں اپنا ہاتھ اس کی شلوار میں لے گیا

جیسے ہی میری انگلی اس کی پُھدی کے لپس میں گئی اس کے جِسَم نے جھٹکا لیا اور اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا سعدیہ : نہیں کرو نا

میں نے ہاتھ تو باہر نہیں نکالا لیکن درمیان والی انگلی ہی اس کی پُھدی کے لپس میں اُوپر نیچے کرنی لگا
جلد ہی اس کی پُھدی گیلی ہونے لگی اور اس نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے ہٹا لیا
اب وہ خاصی گرم ہوگئے تھی

میں : شلوار اتارو

سعدیہ : تم اُتَر دو

وہ شرم سے آنکھیں بند کرتی ہوئے بولی

میں نے اس کی شلوار نیچے کر دی اور اس نے خود ہی پیروں سے نکل دی
اور نے اس کی قمیض اور برا اترنے میں دیر نا کی اب وہ بالکل ننگی میری لیپ میں بیٹھی ہوئی تھی
سعدیہ کو بیڈ کے کنارے پہ بٹھا کے میں نے بھی اپنی قمیض اور شلوار اُتَر دی

میرا تنا ہوا لنڈ دیکھ کے اس کی آنکھیں اور بھی کھل گئی


میں : یہ تمھارے اندر جائے گا

میں اپنے لنڈ کو ہاتھ میں لے کے بولا سعدیہ : حا . . . نہیں نا وہ سر نیچے کر کے بولی

میں نے اسے پیچھے لٹایا اور اس کی گانڈ بیڈ کے کنارے پہ کر کے پاؤں بھی اُوپر رکھ کے دیئے

سعدیہ کی بالوں سے پاک پُھدی کے پھولی ہوئے لپس میں میں نے

فنگر رخی

سعدیہ : سسیی . . .

اپنی پوری زُبان باہر نکل کے میں نے اس کی پُھدی کے سوراخ سے لے کر اُوپر تک پھیری تو اس کی گانڈ اُوپر کو وچحلی سعدیہ : حاییی . . . یہ کیا . . . کیا . . .

اس نے سر اُوپر کر کے میری طرف دیکھا تو میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے جھکا اور اس کی پُھدی کو چاٹنے لگا سعدیہ : اہہح . . . . اُوں . . . . وففف میں : اب اچھا ایل جی رہا ہے نا ؟

سعدیہ : ہاں . . . اور . . . کرو

اس کی گانڈ اب جیسے خود ہی اُوپر نیچے ہو رہی تھی

اب میں اس کی پُھدی کے دانے کو چوس اور چاٹ رہا تھا جس سے اس کی پُھدی بہت زیادہ پانی چھوڑ رہی تھی

سعدیہ کو بیڈ کے اُوپر کرتی ہوئے میں اس کی ٹانگوں کے بیچ آیا اور لنڈ اس کی پُھدی کے سوراخ پہ رکھا
وہ کچھ سہمی ہوئی نظروں سے میری دیکھ رہی تھی میں : کیا ہوا ؟
میں اپنا لنڈ اس کی پُھدی کے سوراخ پہ دباتا ہوا بولا سعدیہ : آہستہ . . کرنا . . میں نے پہلے کبھی نہیں کیا . . .


جیسے جیسے میرا لنڈ سعدیہ کی ٹائیٹ پُھدی میں جا رہا تھا میرے جنون میں اضافہ ہو رہا تھا سعدیہ : ہائے . . . ہائے . . . ہائے . .

اور پِھر مجھے اپنے لنڈ کے رستے میں رکاوٹ محسوس ہوئی میں نے نیچے دیکھا تو ابھی میرا آدھا لنڈ ہی اندر گیا تھا 1 زور دار ڈھکے سے سے میں نے لنڈ کو آگے پُش کیا تو مجھے لگتا جیسے وہ کسی چیز کو چیرتا ہوا آگے گیا ہے اور سعدیہ کے منه سے ہلکی سی چیخ نکلی تھی سعدیہ : ہائے میں میر جایی . . .

لیکن میں اب کچھ سمجھنے کی پوزیشن میں نہیں تھا میں تیزی سے اپنا لنڈ اندر باہر کرنی لگا
سعدیہ کے چہرے پہ تکلیف کے آسار بھی میں نے نظر انداز کر دیئے
کچھ دیر بعد جیسے ہی میرا لنڈ پانی چھوڑنے لگا تو میں نے لنڈ باہر نکالا اور دیکھ کے دَر گیا
سعدیہ کی پُھدی پہ خون لگا ہوا تھا میں : یہ کیا ہوا ؟
سعدیہ : تمہیں نہیں پتہ کیا ہوا ؟

وہ آنسو صاف کرتی ہوئے بولی اور بیڈ سے اُتَر کے کپڑے پہن ’ نے لگی

سعدیہ : جونجلیی ہو تم تو بالکل

" بدھو ہو تم تو بالکل "

دانی ہنسی

میرے پس اور کوئی تھا نہیں جس سے میں ایسا مشورہ کرتا


میں : وہ کیوں ؟

دانی : ارے یار وہ کنواری تھی . . . اس کی پُھدی کی سییل کھلی نہیں تھی ابھی . . . اُوپر سے تم نے اتنے زور سے کیا . . وہ ہنسے جا رہی تھی

میں : تمہارا اور كوكب کا خون تو نہیں نکلا دانی : کیوں کے ہم دونوں کی سییل کھل چکی تھی پہلے ہی میں : مطلب . .

دانی : ضروری نہیں کے سییل لنڈ لینے سے ہی کھلے . . . لڑکیاں جب گرم

ہوتی ہوں تو اپنی پُھدی میں کچھ نا کچھ ڈالتی ہوں جس سے

ان کی سییل کھل جاتی ہے . . . آئندہ جب کوئی ایسی لڑکی ملے تو آرام

سے کرنا تا کے اسے زیادہ درد نا ہو . . تھوڑی دیر میں اسے بھی

مزہ آنے لگی گا

میں : ٹھیک ہے

دانی : اور ذرا پیار سے کیا کرو یار . . . سیکس تو جانور بھی کرتی

ہوں . . . انسان اور جانور کے کرنی میں فرق تو ہونا چاہیے نا اِس کے بعد اس نے مجھے اور بھی کافی باتیں سامجحاین


رات لائٹ چلی گئی اور جنریٹر میں پیٹرول ختم ہو گیا

بابا 1 بندے کو پیٹرول لینے بھیج کے دیرا پہ چلے گئے اور بوا نے مجھے دکان سے کینڈل لینے بھیج دیا
بوا : جا کے کچن میں لگا دے سجیلا اندھیرے میں کھڑی ہے . . پتہ نہیں کب آئے گا پیٹرول دکان سے واپس آیا تو بوا نے کہا


اندھیرے میں مجھے پتہ نہیں چلا اور میں سجیلا کی بیک

سے ٹکرایا

سجیلا : دیکھ کے فیضی

میں جلدہی سے پیچھے تو ہو گیا لیکن اس کی گُداز گانڈ میں جب میرا لنڈ لگا تو اسے کھڑے ہونے میں دیر نہیں لگی

سجیلا نے کینڈل چولحی کے ساتھ شیلف پہ رکھ دی اور مجھ پہ شیطان آ چکا تھا
میں سجیلا کے پیچھے کھڑا ہوا اور کینڈل سہی کرنی کے بہانے اپنا جسم اس کے ساتھ ٹچ کیا اور میرا تنا ہوا لنڈ اس کی گانڈ کی لکیر میں دب گیا میں : یہاں ٹھیک ہے

Share this post


Link to post

یہ کہہ کے میں پیچھے ہٹ گیا

سجیلا تو جیسے سااقیت ہوگئے تھی کچھ لمحوں کے لیے

اس نے مڑ کے مجھے گھوڑا اور میری جان ہی نکل گئی

سجیلا : ہو گیا کم ؟

میں : جی باجی

یہ کہہ کے میں جلدہی سے باہر اگیا


بوا کے کی کچھ طبیعت ٹھیک نہیں تھی جس کی وجہ سے سجیلا باجی کو 1 دن اور رکنا پڑا

اور میں شکر کر رہا تھا کے اس نے بوا کو میری شکایت نہیں لگاییتحی . . لیکن وہ میری طرف دیکھ گھور سے رہی تھی
میں بوا کے روم میں گیا تو بوا سو رہی تھیں اور باتھ روم سے

پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی

شیطان مجھ پہ آیا تو ہوا ہی تھا


میں جلدہی سے باہر والی سائڈ پہ بوا کے روم کی پچھلی سائڈ پہ آیا جہاں 1 تھوڑی سی خالی جگہ پہ کٹھ قبر پڑا ہوا تھا میں 1 ٹوٹی ہوئی چیئر پہ پاؤں رکھ کے چڑھا اور باتھ روم کی دیوار میں موجود 1 چھوٹے سے روشاندان کے 1 کارنر سے اندر جھانکا

سجیلا کی گول مٹول گانڈ میری طرف تھی اور وہ ٹاول سے اپنا جِسَم خشک کر رہی تھی
پِھر وہ مڑی اور اس کے ممے میرے سامنے آگے سجیلا کے ممے بہت بڑے نہیں تھے لیکن دانی جو اس کی تقریباً ہم عمر تھی اس سے بڑے ہی تھے اور ان پہ پنک نپلز . . اور ہم سب خاندان والوں کی طرح اس کا رنگ بھی گورا ہی تھا

اِس سے پہلے کے میں اس کی پُھدی پہ نظر ڈالتا سجیلا کو

جیسے کوئی شک گزرا اور اس روشاندان کی طرف دیکھا

میں 1 جھٹکے سے پیچھے ہوا اور اپنے آپ کو سنبھل نا سکا

اور نیچے گر گیا

میں جلدہی سے کپڑے جحارتی ہوئے اٹھا اور اپنے روم میں اگیا سجیلا نے مجھے دیکھ لیا تھا شاید اور میرا دِل ڈھک ڈھک کر رہا تھا

اپنے آپ کو اور اپنے تانے ہوئے لنڈ کو کوسٹا ہوا میں لیٹ گیا

تھوڑی دیر بعد قدموں کی آواز آئی تو میں آنکھیں بند کر کے

ایسے بن گیا جیسے سو رہا ہوں اور اپنا اکڑا ہوا لنڈ

چھپانے کے لیے کروٹ لے لی

" فیضی "

سجیلا کی آواز میرے بیڈ کے کریب سے آئی میں سویا بنا رہا


سجیلا : مجھے پتہ ہے تم جاگ رہی ہو اس نے میرا کندھا ہلایا مجھے آنکھیں کھولنا ہی پری

میں : کیا باجی . . سونے دو نا

سجیلا : ابھی 10 منٹ پہلے تو تم ناشتہ کر رہی تھے اتنی جلدہی سو بھی گئے

میں : وہ آج اسکول سے چھٹی ہے نا

اس کے چہرے پہ ناراضگی کے آسار نا دیکھ کے مجھے حوصلہ ہوا اور میں اٹھ کے بیٹھ گیا

سجیلا : مجھ سے چولھا نہیں جل رہا . . . بوا کے لیے چائے بنانی ہے
میں : کم والی کو کہہ دو نا

سجیلا : اٹھو گے یا نہیں ؟

میں : آپ چلو میں عطا ہوں

اگر میں کھڑا ہو جاتا تو میری شلوار میں بنا ہوا

تامبو سامنے آ جانا تھا

سجیلا : تم ایسے نہیں مانو گے

یہ کہہ کے اس نے میرا ہاتھ پکڑ کے کھینچا اور مجھے کھڑا ہونا پڑا

سب سے پہلے سجیلا کی نظر شلوار میں بنے تامبو پہ ہی پری تھی اور کچھ لمحے وہیں پہ رہی
مجھے صاف لگا جیسے اس نے چہرہ سائڈ پہ کر کے مسکراہٹ

چحوپای ہے

میں : چلیں بھی اب

کچن جاتے ہوئے میں سجیلا کی مٹکتی ہوئی گانڈ کو دیکھتا رہا


میں چولھا جلا کے جانے کے لیے مڑا

سجیلا : رکو

میں : جی باجی

سجیلا : چائے پیو گے ؟

میں : ہاں جی دے دیں

سجیلا : تم کمرے میں چلو میں لاتی ہوں وہ 1 نظر میرے لنڈ کو دیکھ کے بولی
کمرے میں آ کے سوچ رہا تھا کے نہا لوں اور مٹھ بھی لگا ہی ان کیوں کے یہ کمبخت تو سو ہی نہیں رہا

میں باتھ روم میں اگیا اور کپڑے اُتَر کے شاور کے نیچے کھڑا ہو گیا
اپنا لنڈ ہاتھ میں لے کے میں نے آنکھیں بند کی اور سجیلا کے ننگے جِسَم کو ذہن میں لگا کے ہاتھ چلانے لگا
2 بار مجھے ایسا لگا جیسے کسی نے مجھے آواز دی ہو لیکن میں تو کسی اور ہی دنیا میں تھا
پِھر دروازہ تھوڑا سا کھلا تو مجھے پتہ لگا کے میں اندر سے بند کرنا بھول گیا تھا اور وہ صحن کی طرف سے آنے والی ہوا سے کھل گیا تھا

میں نے لنڈ کو چھوڑا اور میرے دروازے تک پوحنچتی ہوئے تھوڑا س اور کھل گیا
سائڈ پہ بیڈ کے پس سجیلا کھڑی تھی اور کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھے
اور جیسے ہی میں باتھ روم کے دروازے کے پس پونچھا اس کی نظر میری طرف پری
لمحے کے لیے اس کی نظر مجھ پر پری اور میں نے جلدہی سے دروازہ بند کر دیا


سجیلا نے مجھے ننگا دیکھ لیا تھا اور اب مجھے یہ تنسن تھی کے کہیں وہ یہ نا سمجھے کے ایسا میں نے جان بوجھ کے کیا ہے

میرا لنڈ اب ویسی ہی بیٹھ گیا تھا سو میں نہا کے باہر آیا تو سجیلا چائے رکھ کے جا چکی تھی

چائے پی کے میں نے باہر نکلنے میں ہی بہتری سمجھی

میں اپنے گاتے سے باہر نکلا تو سامنے سے سعدیہ گزر رہی تھی

اس دن کے بعد سے اس سے ملاقات نہیں ہوئی تھی میں : کیسی ہو ؟
میں اس سے تھوڑے فاصلے پہ چلنے لگا

اس نے 1 ناراض سی نظر مجھ پہ ڈالی اور خاموش رہی میں : دیکھو وہ . . . میں بھی اس دن پہلی بار ہی کر رہا تھا . . ورنہ میں تمہیں تکلیف دے ہی نہیں سکتا

پتہ نہیں یہ ڈائیلوگ مجھے کہاں سے آگے تھے . . شاید

حااشو کی بیتھاک میں چھپ کے موویز دیکھنے سے

سعدیہ : اچھا

میں : مان جاؤ نا

سعدیہ : سوچوں گی

وہ ہلکا سا مسکرای

میں : کل بوا لوگوں نے تایا کے جانا ہے . . آؤ گی نا ؟

وہ کوئی جواب دیئے بغےر اپنے گھر گھس گئی


" بس 10 منٹ لگےں گے "

حااشو نے منت بھرے انداز میں کہا

وہ فائقہ سے تنہائی میں ملنا چاہتا تھا اور مجھے پہرہ دینا تھا
بابا لوگ ششیر گئے ہوئے تھے اور دیرا ہمارے قابزی میں تھا یسواقت

میں : اگر کوئی اگیا تو ؟

میں بس اسے ٹنگ کر رہا تھا

حااشو : وہ دیکھ وہ آ رہی ہے . . تجھے دیکھ کے بھاگ نا جائے میں سائڈ پہ چھپ گیا اور حااشو فائقہ کو لے کے اندر چلا گیا

اور باہر بیٹھ کے سوچنے لگا کے گھر جا کے کیا بنے گا ؟ سجیلا کے سامنے بار بار مجھے شرمندگی ہی ہو رہی تھی اور مجھ سے اپنے آپ پہ کونترولی ہی نہیں رکھا جا رہا تھا فائقہ کے جانے کے بعد میں اندر چلا گیا

حااشو : کچھ کرنی نہیں دیتی یار . . چل كوكب تو ہے ہی وہ ہنسا
كوكب کا نم سن کے مجھے کوئی حیرت نہیں ہوئی اور نا ہی مجھے

کوئی اعتراض تھا

میں : اچھا جی ؟

حااشو : ہر وقت تیار رہتی ہے . . اور مزہ بھی سہی کراتی ہے . . تیرے تو گھر کم بھی کرنی آتی ہے . . ٹرائی کر
میں : ہاں دیکھتا ہوں . . ویسی گھر میں موقع ہی کہاں ملتا ہے
حااشو : یہاں لے آئیں گے

میں : چل دیکھتے ہوں

دوپہر کو میں گھر گیا تو سناٹا ہی تھا " لگتا ہے سب سو رہی ہوں "

یہ سوچتا ہوئے میں نے کچن سے كھانا لیا اور اپنے کمرے میں اگیا

ابھی میں كھانا کھا کے لیٹا ہی تھا سجیلا اگائی سجیلا : مجھے بتا دیتے میں دے دیتی كھانا وہ چیئر گھسیٹ کے بیڈ کے پس بیٹھ گئی میں : میں سمجھا آپ سو رہی ہوں

سجیلا : یہ ویسی تم کیا کرتی پِھر رہی ہو ؟

میں نے چونک کے اس کی طرف دیکھا لیکن وہاں مجھے کوئی ناراضگی یا غصہ نظر نہیں آیا
میں : میں سمجھا نہیں سجیلا : اتنے معصوم نا بنو میں : پتہ نہیں باجی آپ کیا بات کر رہی ہوں

سجیلا : چلو مان لیتی ہوں کے مجھے ہی غلط فہمی ہوئی ہے وہ ہلکا سا مسکرای اور اٹھ کے چلی گئی اور اس کی مسکراہٹ مجھے ذرا حوصلہ دے گئی


رات میری پیاس سے آنکھ کھلی اور میں پانی پینے باہر آیا تو دیکھا کے بوا اور سجیلا صحن میں سو رہی تھیں
جب کبھی باہر موسم اچھا ہوتا تھا تو بوا صحن میں ہی سوتی تھیں بجایی اے سی کے . . اور بابا تو ہوتے ہی دیرا پر تھے بوا دوسری طرف کروٹ لے کے سوئی ہوئی تھیں اور سجیلا اپنی چارپای پہ دوسری طرف


ہلکی سی روشنی میں میں اس کے پس کھڑا ہو گیا

میں نے ہلکا سا ہاتھ اس کے ممے پہ پھیرا اور جلدہی سے کچن کی طرف چل پڑا

اس نے برا اتاری ہوئی تھی شاید گرمی کی وجہ سے پانی پی کے واپس آیا تو سجیلا ویسی ہی لیتی ہوئی تھی

میں تھوڑا آگے گیا تو اس کی چارپار پہ حرکت کی آواز آئی میں نے مڑ کے دیکھا تو وہ سیدھی ہو چکی تھی اور 1 تنگ اس نے فولڈ کر کے نیچے ہی رخی تھی

کمرے میں آ کے بھی میرا دھیان اُدھر ہی تھا

کچھ دیر بعد میں دوبارہ باہر آیا اور بوا کی طرف دیکھا جو ویسی ہی سوئی ہوئی تھیں اور سجیلا بھی سیدھی ہی تنگ فولڈ کر کے

میرا اکڑا ہوا لنڈ مجھے چین نہیں لینے دے رہا تھا سجیلا کی سانسوں کے ساتھ اس کے ممے اُوپر نیچے ہو رہی تھے

میں نے آہستہ سے اس کے دونوں مموں پہ ہاتھ پھیرا اور اس کے نپل اپنی ہتھیلی پہ محسوس کیے
سجیلا نے کوئی حرکت نہیں کی میری بھی ہمت بڑھی اور میں دوبارہ آہستہ سے اس کے مموں پر ہاتھ پھیرنی لگا اب پتہ نہیں یہ میرا وہم تھا یا حیقییقات کے مجھے محسوس ہوا کے سجیلا کے نپلز آکر گئے ہوں

سجیلا کی 1 تنگ فولڈ ہونے کی وجہ سے اس کی تھائی کھلی ہوئی تھیں
دھڑکتی دِل کے ساتھ میں نے شلوار کے اُوپر سے اس کی پُھدی کو ٹچ کیا اور فوراً ہی ہاتھ پیچھے کر لیا . . اِس بار بھی اس کے جِسَم میں کوئی حرکت نہیں ہوئی


اب میں آہستہ آہستہ اس کی پُھدی کو اُوپر سے نیچے رب کرنی لگا

اور کچھ ہی دیر میں پُھدی والی جگہ سے اس کی شلوار گیلی ہوگئے تھی
مجھے آئیڈیا تھا کے شاید وہ جاگ تو گئی ہے لیکن سونے کا دراماین کر رہی ہے

میں نے سجیلا کی شلوار ناچے کی تو وہ بالکل ہلکا سا کاماسای
میں اس کی شلوار اُتَر تو نہیں سکتا تھا کیوں کے اِس کے لیے اسے گانڈ اُوپر کرنا پرتی جو اس نے کرنی نہیں تھی . . یلساٹک ہی شلوار میں سو میں نے اسے ہی نیچے کھنچا اور کریب ہو کے اس کی پُھدی کو دیکھنے کی کوشش کی لیکن اتنی روشنی تھی نہیں

میں نے سر اٹھا کے 1 نظر بوا کی طرف دیکھا اور دوبارہ جھک کے اپنے فیس اس کی گانڈ کے پس کھڑے کھڑے ہی اس کی تھائی کے بیچ لے گیا

جیسے ہی میری زُبان سجیلا کی پُھدی سے ٹچ ہوئی اس نے 1 تیز سانس لی لیکن ہلی نہیں
اتنی سی جگہ میں میری زُبان جہاں تک جا رہی تھی میں سجیلا کی پُھدی چاٹ رہا تھا

اس کی پُھدی بہت پانی چھوڑ رہی تھی اور میں سارا پانی چاٹ رہا تھا
کچھ دیر بعد اس نے 1 2 اور تیز سانسیں لی اور اس کی پُھدی نے پانی چھوڑ دیا
اور میں اس کی ہمت کی داد دے رہا تھا کے اس نے اپنے جِسَم کو حرکت نہیں کرنی دی


میں چپکے سے اپنے کمرے میں آ کے سوگیا

اگلی صبح ہم دونوں ہی یہ ظاہر کر رہی تھے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں

میں : باہر موسم اچھا تھا رات کو ویسی . . . کیوں باجی مزہ آیا ؟

ناشتہ کرتی ہوئے میں نے سجیلا کی طرف دیکھا سجیلا : ہاں اچھا تھا . . . موسم
اس نے میری طرف دیکھ کے لفظ موسم پہ زور دیا

بوا بھی ہمارے ساتھ ہی ناشتہ کر رہی تھیں اسلئے میں نے اور کوئی بات نا کی

بابا نے ڈرائیور گری کے ساتھ بھیج دیا تو وہ جانے کو تیار ہوئے

میں : باجی پِھر کب آؤ گی ؟

سجیلا : پتہ نہیں

میں : میں بڑا ہو گیا ہوں آپ بھی ہو جاؤ میں اس کے پس ہو کے آہستہ سے بولا

سجیلا کا چہرہ سرخ ہو گیا اور وہ جلدہی سے گری میں بیٹھ گئی


" یار مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کے سب لوگ مجھ سے کچھ چھپا رہی ہوں "
میں اور حااشو ہالف ٹائم میں سموسے کھا رہی تھے حااشو : کیا مطلب ؟
میں : میرے ماں باپ کے بڑے میں . . .

حااشو : کیا مطلب ؟

میں : ان کی موت ( ڈیتھ ) کے بڑے میں


حااشو : اچھا ؟

میں : اور مجھے ہمیشہ ایسا لگتا ہے جیسے بابا اور بوا میری کسی خطرے سے حفاظت کر رہی ہوں . . مجھے بچا رہی ہوں کسی چیز سے . . .

حااشو : بہت پیار کرتی ہوں یار وہ تجھ سے

میں : پتہ ہے حااشو کے میرے لیے تو میرے ماں باپ وہی ہوں . . جو چلے گئے انہوں نے مجھے پیدا ضرور کیا . . لیکن بابا اور بوا ہی میرے ماں باپ ہوں . . . حااشو : ہاں تو ایسا ہی ہے نا

پِھر اچانک ہی میرا دماغ دوسری طرف گیا میں : ہاں یاد آیا . . . مجھے 1 کم ہے تجھ سے حااشو : ہاں بول

میں : یار وہ سعدیہ نے آج مجھے ملنے انا ہے . . . اور فائقہ کی دوستی ہے سمیرہ کے ساتھ . . .
حااشو : اور میں فائقہ سے کہہ دو کے سمیرہ کو اپنے گھر بلا لے
حااشو میری بات کاٹ کے ہنسا میں : ہاں یار


" سمیرہ کہہ رہی تھی کے وہ جلدہی واپس آ جائے گی اور چچی سو رہی ہوں "
سعدیہ اندر آتے ہی بولی

میں : اندر تو چلو

میں اسے اپنے کمرے میں لے آیا سعدیہ : ہم صرف باتیں کریں گے


میں : ٹھیک ہے

میں مایوس سا ہو گیا اور بیڈ پہ لیٹ گیا سعدیہ : اور سناؤ ٹھیک ہو ؟

وہ بیڈ کے کنارے پہ بیٹھ کے بولی میں : ٹھیک ہوں . . گلے بھی نہیں ملی مجھ سے تم

سعدیہ : لو اب مل لیتی ہوں . . . لیکن اِس سے زیادہ نہیں . . اٹھو

وہ ہنسی اور میں نے اٹھنے کی بجایی اسے کھینچ کے اپنے اُوپر کر لیا
میں : ایسے بھی مل سکتی ہوں گلے

میں اس کی نیک پہ کس کرتا ہوا بولا سعدیہ : جونجلیی
میں : 1 بار ہوئی غلطی دوبارہ نہیں ہو گی

یہ کہہ کے میں نے ہونٹ اس کے ہونٹوں پہ رکھ دیئے

اس کے ہونٹ چوستی ہوئے میں اس کی کمر پہ ہاتھ پھر رہا تھا
میں نے اسے اپنے اُوپر سے کھینچ کے اپنے ساتھ لٹا لیا میں : ایسے ناراض نہیں ہوتے
میں اپنا تنا ہوا لنڈ اس کی تھائی پہ دباتا ہوا بولا اور اس کے مموں کو مسلتا ہوا پِھر سے کسسنگ کرنی لگا . . . اب وہ بھی کسسنگ میں میرا ساتھ دے رہی تھی سعدیہ : مجھے اتنی درد ہوتی رئی . . .

میں : اب نہیں ہو گی

میں نے سعدیہ کو بٹھایا اور اس کی قمیض اور برا اُتَر دی وہ چہرہ ہاتھوں کے پیچھے چھپا کے لیٹ گئی میں : ارے ابھی بھی شارماین رہی ہو ؟

میں ہنسا اور اس کی شلوار بھی نیچے کر کے پاؤں سے نکل دی


میں نے گرمی کی وجہ سے صرف شلوار ہی پہنی ہوئی تھی اور وہ بھی میں نے جلدہی سے اُتَر دی

میں نے اپنا لنڈ ہاتھ میں پکڑ لیا

سعدیہ : گنڈے . .

میں : پکڑو اسے

سعدیہ : نہیں

اس نے نا میں سر ہلایا

میں اس کی ٹانگوں کی طرف آیا اور اس کے گھٹنے پکڑ کے اس کی

تھائی کھول دی

سعدیہ : فیضی . . .

میں فیس اس کی پُھدی کے پس لے آیا اور ہونٹ کھول کے اس کی پُھدی کو اندر لے کے چھوستی ہوئے سر پیچھے کر لیا سعدیہ : وففف . . . . سی . . . فایزیییی . . .

اس کی گانڈ اُوپر ہو کے نیچے ہوئی میں : کیوں مزہ نہیں آ رہا ؟ سعدیہ : آ رہا ہے نا . . اور کرو

میں اس کی پُھدی کے لپس چھوٹے ہوئے ہاتھ اُوپر لے جا کے اس کے ممے مسلنے لگا
سعدیہ : آں . . . . . سیی . . . .

سعدیہ کی پُھدی کے لپس کھول کے میں اس کی پُھدی کے دانے کو چاٹنے لگا
وہ اب گانڈ اُوپر نیچے کر کے اپنے ہاتھوں سے میرے فیس کو اپنی پُھدی پہ دبا رہی تھی
میں سعدیہ کے نپلز کو مسلتے ہوئے اس کی پُھدی چاٹ اور چوس رہا تھا

پِھر میں اس کی پُھدی سے ہٹ کے اس کے ساتھ لیٹ گیا


سعدیہ : فیضی ؟

میں : میرے لنڈ کو منه میں لے کے چوسو سعدیہ : یہ گندا کم ہے

میں : میں نے بھی تو تمہاری پُھدی کو چاتا . . وہ گندا کم نہیں ہے ؟ . . . آؤ نا سعدیہ

سعدیہ کچھ دیر ایسے ہی لیتی رہی پِھر اٹھ کے میرے لنڈ کے پس بیٹھ کے اسے ہاتھ میں لے لیا
اس نے 1 نظر میری طرف دیکھا اور اپنا منه کھول کے میرا

لنڈ اپنے منه میں لے لیا

میں : آں . . . سعدیہ

سعدیہ بس لنڈ اپنے منه میں ڈال کے سر اُوپر نیچے کر رہی تھی
میں : اپنے ہونٹ سختی سے بند کر کے اسے چھوسو بھی نا . . . سعدیہ فوراً ہی سہی طریقے سے میرے لنڈ کو چُوسنے لگی میں لذت کی 1 دنیا میں تھا اس وقت سعدیہ : بس کرو نا فیضی

کچھ منٹ میرے لنڈ کو چُوسنے کے بعد وہ بولی

سعدیہ کو لٹا کے اور اس کی تھائی کھول کے میں اس کے اُوپر آیا سعدیہ : آج آرام سے کرنا

میں نے لنڈ سعدیہ کی پُھدی کے سوراخ پہ رکھا اور آہستہ سے

اندر کرنی لگا

سعدیہ : ہائے . . . اُف . . .

میں : پین ہو رہی ہے ؟

میں رک حیا

سعدیہ : نہیں تم اندر ڈالو بس


میں نے سلولی اپنا لنڈ سعدیہ کی پُھدی میں اُتار دیا اور رک گیا

سعدیہ : سسیی . . . رک کیوں گئے . . . کرو نا . .

میں نے اپنا لنڈ سعدیہ کی ٹائیٹ پُھدی سے اندر باہر کرنا شروع کر دیا

سعدیہ : آہ . . . آہ . . . ووہح . . . سسییی میں : آج . . مزہ . . آ رہا ہے ؟ میں نیحامپتی ہوئے پوچھا

سعدیہ : ہاں نا . . . کرو فیضی . . . .

کچھ دیر اسے آہستہ چودنے کے بعد میں نے سپیڈ بڑھا دی سعدیہ : اُوں . . . . اہہح . . آں . .
سعدیہ اب گانڈ اُوپر نیچے کر کے میرا ساتھ دے رہی تھی میں : بولو . . .
سعدیہ : کیا . . . . آں

میں : کے فیضی چودو مجھے . . .

Share this post


Link to post

سعدیہ : ہاں . . . . فیضی . . . . چودو . . . مجھے

سیکس کرتی ہوئے لفظ مجھے اور بھی ہوٹ کرتی ہوں

میں سعدیہ کو اور بھی تیزی سے چودنے لگا اور ساتھ ہی اس کے تانے ہوئے مموں کے اکری ہوئے نپلز کو مسلنے لگا سعدیہ : حاییی . . . . اُف . . . . اییی . . . . سیی . . . فایزیییییی . . .

اس کا جِسَم اکارنی لگا اور جھٹکے کھاتے ہوئے اس کی پُھدی نے پانی چھوڑ دیا اور میں نے بھی اپنا لنڈ باہر نکل کے پانی اس کے پیٹ پہ نکل دیا اور اس کے ساتھ لیٹ گیا میں : آج تو پین نہیں ہوئی نا ؟

سانس بحال ہونے کے بیید میں نے اس سے پوچھا سعدیہ : نہیں


وہ مجھ سے لپٹ گئی

میں : اگر سمیرہ کو پتہ چل گیا تو ؟

سعدیہ : نہیں پتہ چلے گا . . . ویسی بھی میرے گھر والے بھی یہاں ہی شفٹ ہو رہی ہوں
میں : تم یقین نہیں کرو گی کے تمہاری سمیرہ نے ہی مجھے پہلے کہا تھا کے میں اسے اچھا لگتا ہوں سعدیہ : کر لیا یقین

وہ ہنسی

افضل بھائی کی شادی اگائی تھی اور ہماری حویلی میں بھی چہیل پہل تھی کافی
لاہور سے چچا اور پھوپپو کی فیمیلیز پہلے ہماری طرف ہی آئے تھے
دانی کو میں کافی ماحینون بعد دیکھ رہا تھا

میں اپنے کمرے میں لوچ لینے آیا تو دانی میرے پیچھے ہی اگائی
دانی : بڑے بے مروت ہو . . صبح سے ہم آئے ہوں اور اب شام ہوگئے ہے

میں : رش دیکھ رہی ہو کتنا ہے ؟ ابھی بھی سارے باہر صحن میں بیٹھے ہوں
میں اسے بانہوں میں لے کے بولا

دانی نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پہ رکھ دیئے دانی : اپنی زُبان دو . .
میں نے زُبان اس کے ہونٹوں میں دے دی اور وہ اسے چُوسنے لگی


کچھ دیر بعد وہ شلوار کے اُوپر سے میرا لنڈ پکڑ کے پیچھے ہوئی

دانی : تمہارا لنڈ بڑا ہوججیا ہے پہلے سے

میں : دیکھ لینا

دانی : موقع ملنے دو ذرا

پِھر ہم باہر آگے

میں نے کافی بار حنا ( لاہور والے چچا کی بیٹی ) کو اپنی طرف دیکھتے پایا . . حنا 1 پیاری اور چحوی موی سی لڑکی تھی لیکن میرا دھیان دانی کی طرف تھا " کیسے ہو پینڈو "

میرے دائیں بائیں دانی کی بیحنین بیا اور ثانی آ کے کھڑی ہوجاین اور یہ کہنے والی بیا تھی میں : ٹھیک ہوں


مجھے ان کا مذاق اڑانے والا انداز اچھا نہیں لگتا تھا

باجی یہ اپنا فیضی تو جوان ہو گیا ہے . . . ہائیٹ دیکھی ہے اِس کی ؟ "
چچا میری طرف دیکھ کے بولے بوا : نظر نا لگا دینا میرے بیٹے کو چچا : پڑھائی میں اچھا ہے . . اسے لاہور بھیج دیں میرے پس


بوا : چل وی . . میں کیوں اسے اپنے سے دور جانے دو ؟ " ہائے معصوم سا بچا "
ثانی آہستہ سے بولی

میں : کبھی ازماین لینا . . . پتہ چل جائے گا کے میں کتنا معصوم اور کتنا بچا ہوں
یہ کہہ کے میں وہاں سے ہٹ گیا


اگلے دن وہ سب لوگ تایا کے گاؤں جا رہی تھے . . . سوائے دانی کے " میری طبیعت ٹھیک نہیں . . . میں بوا کے پس ہی رہوں گی کل ان کے ساتھ ہی اجاون گی "

دانی نے اپنی امی کو بتایا " میرا بھی دِل نہیں کر رہا جانے کو "

اپنے بل کریب سے مجھے حنا کی آواز آئی میں : تو نا جاؤ

حنا : تم چاہتے ہو میں نا جاؤں ؟

میں : مرضی ہے تمہاری

میں لاپرواہی سے بولا

حنا : اچھا

وہ دوسری طرف چلی گئی

سب کے جانے کے بعد میں اندر آیا تو دانی نے مجھے دیکھ کے ڈانٹ نکالے
میں : لیکن تمہاری تو طبیعت ٹھیک نہیں تھی

دانی : اب ٹھیک ہوں . . ویسی بھی گھٹن ہوتی ہے مجھے

وہاں . . ویسی یہ حنا کا کیا چکر ہے ؟

میں : کوئی چکر نہیں ہے

دانی : جھوٹ

میں : تم سے بھلا کوئی بات چھپاتا ہوں میں دانی : ہاں یہ تو ہے . . . فیضی میں : ہاں جی


دانی : آج رات خیر نہیں تمہاری میں : بوا کے ساتھ سونا ہے تم نے


دانی : بوا جانتی ہوں کے مجھے اکیلے ہی نیند آتی ہے . . . اسلیے کل رات بھی مجھے علیحدہ کمرا دیا انہوں نے میں : پِھر ٹھیک ہے

دانی : ہائے فیضی اتنی بڑی حویلی ہے تمہاری . . . کاش میں یہاں

کی مہرانی بن جاؤں

وہ ہنسی

میں : بول تو ایسے رہی ہو جیسے پہلی بار آئی ہو

دانی : لیکن اِس بار تو کافی صالون بعد آئی ہوں نا

میں : تایا کے حویلی بھی بہت بڑی ہے . . اکرم سے کر لو شادی

میں نے اسے چھایرا

دانی : دفعہ

اس نے مجھے گھوڑا

" میرے والے روم میں آجاؤ "

رات دانی کا میسج آتے ہی میں اٹھا اور دبی پاؤں چلتا ہوا اس کے روم میں داخل ہو گیا
وہ آ چادر اُوپر لے کے الٹی لیتی ہوئی تھی دانی : پہلے چادر ہٹاؤ

میں نے چادر کھینچی تو میرے لنڈ کو جھٹکا لگا چادر کے نیچے دانی بالکل ننگی تھی
اس کی سفید اور بےداغ گانڈ روشنی میں جیسے چمک رہی تھی
اپنی شلوار قمیض اُتَر کے میں اس کے ساتھ لیٹا اور اس کی گانڈ کے ابحارون پہ ہاتھ پھیرنی لگا پِھر وہ سیدھی ہوگئے


دانی کا مموں کو دباتے ہوئے میں اس کے ہونٹ اور زُبان چُوسنے لگا

دانی اپنا ہاتھ نیچے لے کے گئی اور میرا لنڈ پکڑ کے مسلنے لگی
دانی : تمہارا لنڈ . . . واقای پہلے سے بڑا ہو گیا ہے

میں نے چہرہ جھکایا اور اس کے نپل کو ہونٹوں میں لے کے چوسہ
دانی : اُوں . . اپنا لنڈ میرے منه کے پس لے کے آؤ فیضی

میں گھٹنوں کے بل اس کے چہرے کے پس بیٹھا اور لنڈ ہاتھ میں پکڑ کے اس کے ہونٹوں کے پس لے گیا

دانی نے میرا لنڈ ہاتھ میں لیا اور ہونٹ کھول کے اسے منه

میں لے لیا

میں : آں . .

مجھے لذت کا جھٹکا لگا

دانی سر آگے پیچھے کر کے میرا لنڈ چُوسنے لگی اور میں اپنا لنڈ اس کے منه سے اندر باہر ہوتا دیکھ رہا تھا
پِھر اس نے میرا لنڈ منه سے نکل کے ٹوپی کو چاروں طرف سے چاتا
اب وہ صرف میرے لنڈ کی ٹوپی کو منه میں لے کے چوس رہی تھی اور باقی لنڈ پہ مٹھی اُوپر نیچے کر رہی تھی میں : اوھ . . . مجھے اپنی . . . پُھدی . . . چاٹنے دو . .

دانی نے میرا لنڈ منه سے نکالا دانی : لیٹ جاؤ
میں لیٹ گیا اور دانی اپنے گھٹنے میرے فیس کے دائیں بائیں کر کے اپنی پُھدی میرے لپس کے پس لے آئی دانی مجھے کمال کے اسٹائلس سکھاتی تھی سیکس کے


دانی : چاٹو میری پُھدی کو فیضی

اس کی گانڈ پکڑ کے میں نے اس کی پُھدی اپنے ہونٹوں کے اور بھی کریب کی اور اپنی زُبان نکل کے اس کی پُھدی چاٹنے لگا دانی کی پُھدی کے لپس کو ہونٹوں میں لے کے چوستی ہوئے میں 1 انگلی اس کی گانڈ کی لکیر میں اُوپر نیچے کر رہا تھا دانی : اُف . . . . اہہح . . . . ووہہح

وہ اپنی پُھدی میری زُبان اور ہونٹوں پہ رب کرنی کی کوشش کر رہی تھی اپنی گانڈ آگے پیچھے اور اُوپر نیچے کر کے

میں نے اپنے ہونٹ دانی کی پُھدی کے اُوپر والے حصے پہ جاماین لیے اور اس کے دانے کو چوستی ہوئے اس پہ زُبان پھیرنی لگا

دانی : سسی . . . ہائے فایزیییی . . . . اُف . . . . آں

کچھ دیر بعد وہ پیچھے ہٹی اور اپنی پُھدی میرے لنڈ کے اُوپر لے آئی
میرے لنڈ کو ہاتھ میں پکڑ کے دانی نے اپنی پُھدی کے سوراخ پہ رکھا اور نیچے ہونے لگی
اور میرا لنڈ آہستہ آہستہ دانی کی پُھدی میں غائب ہو رہا تھا

میرا پُورا لنڈ اندر لینے کے بعد دانی اُوپر نیچے ہو کے میرا لنڈ اپنی پُھدی سے اندر باہر کر رہی تھی دانی : فک . . . فک . . . ووہہح

وہ آنکھیں بند کیے اپنے ممے مسلتی میرے لنڈ سے اُوپر نیچے ہو رہی تھی
اور میرے لیے یہ نظارہ بہت ہی خوسبسورات تھا


کچھ دیر بعد وہ آگے کو گر سی پری اور صرف اس کی گانڈ ہی میرے لنڈ پہ اوپر نیچے ہو رہی تھی

دانی کے ممے میرے سینے میں دبی ہوئے تھے اور اس کی سانسیں میں اپنی نیک پہ فیل کر رہا تھا
میں ہاتھ پیچھے لے کے گیا اور اس کی گانڈ کے ابحارون کو مسلنے لگا

پِھر دانی کی سانسیں اور بھی تیز ہونے لگی

اس نے اپنا چہرہ اٹھایا اور اپنی زُبان میرے منه میں دے کے گانڈ اور بھی تیزی سے اُوپر نیچے کرنی لگی

کچھ دیر بعد اس کی پُھدی نے پانی چھوڑ دیا اور ساتھ ہی میرے لنڈ نے بھی اس کی پُھدی کے اندر ہی پانی نکل دیا کافی دیر ہمپتی ہوئی وہ میرے اُوپر ہی پری رہی دانی : ہائے فیضی . . .

بیلاخیر وہ میرے ساتھ لیٹ گئی

میں : کیا ہوا ؟

دانی : لاہور آجاؤ نا

وہ میری طرف دیکھ کے مسکرای میں : مجھے 1 بات بتاؤ
میرے ذہن میں 1 خیال آیا

دانی : ہاں پوچھو

میں : یوح . . تمھارے خون کیوں نہیں نکلا تھا جب ہم نے پہلی بار کیا
دانی : میرا 1 بف تھا . . پِھر میں نے اسے چھوڑ دیا کیوں کے وہ لالچی تھا
میں : اوہ اچھا . . . . پھوپپو کہہ رہی تھیں کے تم لوگ شادی کے فوراً

بعد وہیں سے چلے جاؤ گے


دانی : ہاں . . . میرے ایگزام نا ہوتے تو میں کچھ دن اور رہتی . . اور اٹھو گنڈے بچے واشروم چلیں


" میں کیسی ایل جی رہی ہوں ؟ "

افضل بھائی کی مہندی کا فنکشن تھا اور حنا میرے پس آ کے پوچھا

سجی سانوری وہ واقای بہت پیاری ایل جی رہی تھی

میں : اچھی ایل جی رہی ہو

حنا : بس اچھی ؟

میں : بہت اچھی

میں مسکرایا

وہ ہنستی ہوئی دوسری طرف چلی گئی

ہر طرف جیحماین گہمی تھی لیکن میں بور ہو رہا تھا

اور یہ ہمیشہ سے ہی تھا کے میں فنکشنس کبھی بھی انجوئے نہیں کر پتہ تھا
جتنے زیادہ لوگ ہوتے تھے اتنا ہی میں اوازار ہوتا تھا میرے ہم عمر کیزنس ( میلز ) سے بھی میری بس سلام دعا ہی تھی اور کچھ وجہ شاید میرا دیہاتی بیک گڑاؤنڈ بھی تھا کے انہوں نے میرے کلوز ہونے کی کوشش بھی نہیں کی تھی کبھی

میں بوا کے پس چلا گیا میں : بوا میں گھر جاؤں ؟ بوا : نہیں پتر اچھا نہیں لگی گا

میں : تو میں کیا کرو پِھر ؟ بور ہو رہا ہوں یہاں

میں چیر کے بولا اور میری نظر بیا اور ثانی پہ پری جو کے کافی تیار ہوئی تھیں اور ایل جی بھی پیاری رہی تھیں


اب میں نے اپنی فریسٹیشن تو نکالنی ہی تھی تو میں ان کی طرف چلا گیا

میں : کتنی عجیب سی ایل جی رہی ہو تم دونوں اتنا تیار ہو کے بیا : مطلب ؟
میں : یہاں ہماری اور بھی اتنی کیزنس ہوں . . . دیکھو کتنی ڈیسینٹ اور پیاری ایل جی رہی ہوں تیاری کر کے بھی . . اور 1 تم دونوں . . . وہ دونوں آنکھیں پھاری میری طرف دیکھ رہی تھیں

میرا کم ہو گیا تھا سو میں وہاں سے جانے کے لیے مڑا تو

حنا میرے سامنے کھڑی تھی

میں : وائو . . آج تو کمال ایل جی رہی ہو

میرا یہ سب کہنے کو بالکل بھی دِل نہیں کر رہا تھا لیکن 1 تو

ٹائم پاس کرنا تھا اور دوسرے بیا اور ثانی بھی پس ہی کھڑی

تھیں

حنا : تھنیک یو

وہ 1 شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ بولی اور میں آگے بڑھ

گیا

" کمینے "

1 ہنستی ہوئی آواز میرے دائیں طرف سے آئی یہ دانی تھی

میں : کیوں میں نے کیا کیا ؟

دانی : اپنی بوریت کا بدلا میری بہنوں سے لے رہی ہو ؟ وہ ہنسے جا رہی تھی
میں : ہاں تو تمہیں نہیں پتہ کے وہ مجھے کیا کیا کہتی ہوں ؟ دانی : ہاں پتہ ہے . . . اچھا بات سنو
وہ میرا بازو پکڑ کے سائڈ پہ لے گئی میں : خیریت ؟


دانی : مجھے کچھ گڑبڑ محسوس ہو رہی ہے میں : مطلب ؟

دانی : آج جمال کچھ زیادہ ہی فری ہو رہا تھا مجھ سے . . . کچھ ایسی باتیں کر رہا تھا جن سے مجھے شک ہے کے ہمارے بڑے میرا اور اس کا رشتہ کرنی جا رہی ہوں میں : نا کرو یار

مجھے یہی جواب سوجھا

دانی : فٹے منه تمہارا

میں : میرا مطلب ہے کے . . . یعنی کے . . . میں اور کیا کہوں مجھے

سمجھ نہیں آ رہا . . تم بڑی ہو مجھ سے نہیں تو میں ہی کر لیتا

شادی تم سے

میں جلدہی جلدہی بولا

جمال افضل کا چھوٹا بھائی تھا اور افضل سے بھی زیادہ برا آدمی
دانی : پتہ نہیں کیا بنے گا . . اتنے لالچی لوگ ہوں یہ

وہ رونے والی ہو رہی تھی

میں : میں کچھ کرتا ہوں

دانی : تم کیا کرو گے ؟

میں : کچھ نا کچھ تو کرو گا ہی

میں کچھ سوچ رہا تھا اور اندر اندر سے دَر بھی رہا تھا

جمال کو ڈھونڈتے میں مجھے کوئی مشکل نہیں ہوئی وہ اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا شراب پی رہا تھا " اوئے جمال . . . اٹھ جا کے دیکھ کے کھانے میں کتنی دیر ہے "


تایا کی آواز سن کے وہ جلدہی سے باہر آیا اور اس ٹینٹ کی طرف چل پڑا جہاں كھانا پک رہا تھا میں : سلام جمال بھائی

میں اس کے ساتھ چلتا ہوا بولا جمال : آ شاحزادی . . . کیسا ہے تو ؟

میں : میں چلتا ہوں . . میں تو بس ایوین گزر رہا تھا سوچا آپ کو سلام کر لوں
جمال : یار ابّا نے رنگ میں بھنگ ڈال دی . . چل کھانے کا

پتہ کر کے آئیں کے کتنی دیر ہے

میں : چلیں

وہاں جا کے وہ کچھ دیر كھانا پکانے والوں کو دانت ’ تا رہا پِھر 1 چیئر پہ بیٹھ گیا
میں : آپ کی اور افضل بھائی کی شادی اکاتحی ہو جاتی تو مزہ ہی آ

جاتا

جمال : اچھا جی ؟

میں : ہاں نا

جمال : چل اگلے سال کر لیتے ہوں ہم بھی شادی . . تیری بھابھی کی پڑھائی تھوڑی سی ہی رہ گئی ہے
وہ ہنسا اور شاید یہی میرے مطلب کی بات تھی میں : کون ہے میری بھابھی

جمال : وہ اپنی دانی نہیں ہے ؟ وہی میں : اچھا وہ . . ھم
مجھے مایوسی کی ایکٹنگ نہیں کرنی پری جمال : کیا ہوا اوئے ؟
میں : کچھ نہیں اکرم بھائی اکرم : نہیں کچھ تو ہے . . بتا مجھے


میں : وہ میں نے کچھ باتیں سنی تھیں بوا اور پھوپپو کی جمال : کیا باتیں ؟

میں : وہ پھوپپا کا کاروبار نقصان میں جا رہا ہے جمال : ہیں ؟ واقای ؟
میں : اب آپ میرا نم نا لے دینا جمال : نہیں نہیں تو تنسن نا لے

میں : پھوپپا نے قرضہ لیا ہوا ہے بینک سے کافی . . . یہی باتیں کر رہی تھے وہ لوگ
جمال : لیکن کڑی تو سوہنی ہے ویسی

اب میرے ہاتھ پاؤں پھول گئے کے اب کیا کرو ؟ میں : ہاں جی یہ تو ہے . . . لیکن . . جمال : لیکن ؟

میں اپنا ذہن تیزی سے ادھر اُدھر دورا رہا تھا میں : کچھ نہیں
جمال : دیکھ فیضی میری بات سن . . . . تو تو میرا بھائی ہے نا

چھوٹا . . . اگر تو نہیں بتائے گا تو کون بتائے گا مجھے اندر کی بات ؟
میں : کہاں آپ اور کہاں دانی باجی . .

جمال : کیا مطلب ؟

میں : وہ ان کے کالج میں لڑکے بھی ہوں نا تو . . . . میرا مطلب

ہے کے . .

میں اب آگے کی کہانی سوچ رہا تھا جمال : بول بھی
میں : بابا کہتے ہوں کے بندہ شادی کری تو کسی کنواری لڑکی سے کری . . . پتہ نہیں اور کیا کیا باتیں ہو رہی تھیں دانی باجی کے بڑے میں . . . میں چلتا ہوں


میں نے جلدہی سے اپنی بات مکمل کی اور تیزی سے وہاں سے نکل آیا

اور جمال بھائی مجھے آوازیں ہی دیتے رہ گئے بعد میں کافی دیر میری ٹینجن کامپتی رہی


افضل کی مہندی سے میں واپس گھر اگیا تھا اور اِس کے لیے مجھے بوا اور بابا سے بہت ضد کرنی پری تھی . . . رات کا وقت تھا اسلئے اکرم مجھے چھوڑ کے گیا تھا " اٹھ بھی جا اب "


حااشو اپنے گھر سے ناشتہ لے کے آیا تھا میں : تو اندر کیسے آیا ؟
حااشو : تو نے گاتے اندر سے بند نہیں کیا تھا

میں : و تیری . . . بابا بوا کو پتہ چلے کے میں گھر میں اکیلا تھا اور گاتے بند نہیں تھا تو بس . .
میں ہنسا اور فریش ہونے چلا گیا ناشتہ کے بعد ہم ٹی وی دیکھنے لگی

ہمارے گاؤں میں کیبل تو تھی نہیں اسلئے میں نے بابا سے کہہ کے ڈش انٹینا لگوایا ہوا تھا

گاتے کی بیل ہوئی تو حااشو دیکھنے گیا اور جب واپس آیا تو

اس کے ڈانٹ نکلے ہوئے تھے

حااشو : كوكب ہے . . صفائی کرنی آئی ہے

میں : اس کی ماں بھی ساتھ ہی ہو گی

حااشو : نہیں آج اس کے ساتھ اس کی خلا کی بیٹی ہے

میں : اُوپر کسی روم میں لے جا

حااشو : اوئے تو ببلی کو دیکھ تو سائی


ببلی شاید كوكب کی خلا کی بیٹی کا نم تھا

میں : تو لے جا نا كوكب کو اُوپر . . میں میچ دیکھ رہا ہوں اتنے میں كوكب اور ببلی اندر آگئیں

ببلی عمر میں كوكب سے چھوٹی تھی لیکن خوبصورت بہت تھی

كوكب : ہم پہلے صحن کی صفائی کر لیتی ہوں

اس کی اچھی بات یہ تھی کے اس نے مجھے اور حااشو دونوں کو 1 اپنے ساتھ سیکس کا نہیں بتایا تھا
حااشو نے خود ہی اپنا اور اس کا مجھے بتا دیا تھا

حااشو : تم میرے ساتھ اُوپر چلو اور وہاں صفائی کرو

كوكب : بچی کا بھی خیال کرنا

وہ جاتے جاتے مڑ کے بولی

ببلی خاموشی سے میرے پیچھے میرے کمرے میں اگائی میں : پہلے یہاں کر لو صفائی
وہ میرے پس سے گزرنے لگی تو میں نے اس کی گانڈ پہ ہاتھ پھر دیا
وہ تھوڑا سا وچحلی اور میری طرف دیکھ کے 1 شرمیلی سی سمائل دی
میں سمجھ گیا کے کم بن گیا ہے میں : کیا کیا کم عطا ہے تمہیں ؟ ببلی : كوكب باجی نے سکھایا ہوا ہے سب میں : کیا کیا سکھایا ہے ؟

میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کے اپنی طرف کھینچا تو وہ میری بانہوں میں اگائی
ببلی : كوكب باجی مجھے آپ سے میلاوانی لائی تھی آج . . میں تو گھروں میں کم ہی نہیں کرتی


میں نے اپنا تنا ہوا لنڈ اس کے پیٹ میں دبایا اور اس کا نیچلا ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لے کے چُوسنے لگا

ببلی کسسنگ میں اناڑی تھی لیکن تھوڑی دیر میں کافی سیکھ گئی اور اب اپنی زُبان میری زُبان کے ساتھ ٹچ کر رہی تھی پیچھے سے اس کی قمیض ہٹا کے میں نے ہاتھ اس کی شلوار میں ڈال دیا اور اس کی گانڈ مسلتے ہوئے فنگر گانڈ کی لکیر میں دابایی

میں نے اپنی قمیض اور پِھر شلوار بھی اُتَر دی اور بیڈ کے کنارے پر بیٹھ گیا

ببلی کی نظریں میرے لنڈ پہ جمی ہوئی تھیں میں : کپڑے اتارو نا تم بھی
تھوڑی دیر میں وہ ننگی میرے سامنے کھڑی تھی ببلی واقای بہت کم عمر تھی
اس کے ممے ٹینس بال سے بھی تھوڑے چھوٹے ہی تھے میں : یہاں آؤ
وہ میرے سامنے آ کے کھڑی ہوگئے

میں نے دونوں ہاتھوں میں اس کے ممے لے لیے اور میرے ہاتھوں کے نیچے ببلی کے ممے چھپ گئے تھے
کچھ دیر اس کے مموں کو مسلنے کے بعد میں نے اسے کانچھ کے اپنی ٹانگوں کے بیچ کھڑا کیا اور اس کے مموں کو چاٹنے لگا

اس کے چھوٹے سے نپلز پہ زُبان پھیری تو اس نے پہلی آواز

نکالی

ببلی : سسیی . .

اور اس کی سانسیں بھی تیز ہو رہی تھیں میں : میرا لنڈ منه میں لو


ببلی کے کندھوں پہ ہاتھ رکھ کے میں نے اسے نیچے پُش کیا وہ گھٹنوں کے بل نیچے کارپیٹ پہ بیٹھ گئی اور میرے لنڈ کو ہاتھ میں لے کے میری طرف دیکھا میں : كوكب نے یہ بھی سکھایا ہے نا ؟

ببلی نے مسکرا کے ہاں میں سر ہلایا اور پُورا منه کھول کے میرا لنڈ اندر لے لیا

میرا آدھا لنڈ ہی وہ منه میں لے سکی اور اتنا ہی سر اُوپر نیچے کر کے چوس رہی تھی
اور میرا لنڈ وہ دِل لگا کے بڑے مزے سے چوس رہی تھی اور ساتھ ساتھ میرے لنڈ پہ ہاتھ پہ اُوپر نیچے کر رہی تھی کچھ دیر بعد میں نے اسے اٹھایا اور بیڈ پہ لٹا کے اس کی تھائی کھول دی

ببلی کی بالوں سے پاک چھوٹی سی پُھدی دیکھ کے مجھے لگا کے میرا لنڈ اندر نہیں جا پائے گا میں : اِس کے اندر کبھی کچھ لیا ہے ؟

میں نے اس کی پُھدی کے لپس میں انگلی پھیرتا ہوئے پوچھا

ببلی : حونحمم . . . . ہاں جی . . .

میں : کیا لیا ہے ؟

ببلی : وہ . . كوكب کبھی اپنی انگلی . . . کبھی چھوٹی گاجر ( کیروٹ ) . . . كوكب اور ببلی کو یہ سب کرتی ہوئے سوچ کے میرا لنڈ پھٹنے والا ہو گیا تھا

ببلی کی ٹانگوں کو بینڈ کر کے اس کی تھائی کو پُورا کھولتے ہوئے میں جھکا اور اس کی پُھدی پہ زُبان پھیری ببلی : ہائے . . . سیی

اس کے جِسَم نے جھٹکا لیا

میں : كوكب یہ بھی کرتی ہے ؟


ببلی : نہیں . . . وہ مجھ سے . . ایسے کرواتی ہے . . .

میں پِھر سے ببلی کی چھوٹی سی پُھدی کو چاٹنے لگا ببلی کی سسکیاں میرا جوش اور بھی بڑھا رہی تھیں

اپنی زُبان کی نوک میں نے ببلی کی پُھدی کے سوراخ پہ رخی

اور اندر باہر کرنی لگا

ببلی : آں . . . . حاییی . . . . . .

کچھ دیر اور اس کی پُھدی کو چاٹنے کے بعد میں سیدھا ہوا اور 1 تکیہ ببلی کی گانڈ کے نیچے رکھا
اپنے لنڈ کو ہاتھ میں پکڑ کے میں نے ببلی کی پُھدی کے سوراخ پہ رکھا اور اندر کو دبایا ببلی : ایی . . .


میں رک گیا

ببلی : ڈالو . . . اندر . .

میں آہستہ آہستہ لنڈ اس کی ٹائیٹ پُھدی میں اترنے لگا اور مجھے ایسے ایل جی رہا تھا جیسے میرا لنڈ کسی نے مٹھی میں بحینچ رکھا ہو

كوكب نے مختلف چیزوں سے ببلی کی سییل پہلے ہی کھول دی تھی
پِھر بھی میرا پُورا لنڈ اس کی پُھدی میں نا جا سکا بلکہ آدھے سے تھوڑا زیادہ ہی گیا

میں لنڈ ببلی کی پُھدی سے اندر باہر کرنی لگا ببلی : ہائے . . . ہائے . . . وففف میں : درد ہو رہی ہے ؟

ببلی : نہیں . . . مزہ . . .

میں ببلی کو سلولی ہی چھوڑ رہا تھا اور وہ آنکھیں بند کیے سسکیاں لے رہی تھی


کچھ منٹ بعد میں نے لنڈ اندر باہر کرنی کی سپیڈ تھوڑی بڑھا دی اور ببلی کا جِسَم اکارنی لگا اور 1 ہلکی سے چیخ کے ساتھ اس کی پُھدی نے پانی چھوڑ دیا

میں نے اپنا لنڈ باہر نکالا اور اس کی گیلی پُھدی کے لپس میں اُوپر نیچے رب کرتی ہوئے وہیں پانی نکل دیا " تمہاری پُھدی میں میرا پُورا لنڈ تو گیا ہی نہیں " کچھ دیر بعد میں بولا

ببلی : میری چھوٹی سی پُھدی اور آپ کا اتنا بڑا لنڈ وہ ہنس کے بولی

آج افضل بھائی کی برات تھی

ان کے ساتھ والے گاؤں کے خاصے بڑے زامیندار تھے وہ لوگ بھی " اوئے ہوئے . . . آج تو بڑے سمارٹ ایل جی رہی ہو " دانی مجھے سوٹ میں دیکھ کے بولی

بوا اور بابا کو ہمیشہ یہی فکر رہتی تھی کے کہیں میں اپنے آپ کو اپنے شہر والے کیزنس سے کمتر نا محسوس کرو یا وہ مجھے کمتر محسوس نا کریں اسلئے میرے پس جینس سوٹس سب کچھ تھا . . . یہ علیحدہ بات ہے کے گاؤں میں میں شلوار قمیض میں ہی رہتا تھا اور کمفرٹیبل بھی اسی میں رہتا تھا

میں : جمال بھائی تو آج تم پہ فدا ہی ہوجائیں گے میں ہنستے ہوئے بولا
دانی : کیا کیا تم نے کل ؟ اب تو وہ میری طرف دیکھ بھی نہیں رہا


میں : میں نے ؟ کچھ بھی نہیں

دانی : جھوٹ بولو گے مجھ سے ؟

میں نے اسے بس یہی بتایا جو جھوٹ میں نے پھوپپا کے کاروبار میں لوس کے بڑے میں بولا تھا اور جو بات میں نے دانی کے بڑے میں کی تھی وہ میں گول ہی کر گیا میں : بس اتنی سی بات تھی

دانی : کاش میں یسواقت تمہاری چومی لے سکتی . . میرے خیال میں وہ اب خود ہی منع کر دے گا اِس رشتے سے بیا اور ثانی دور دور سے ہی مجھے غور رہی تھیں

ویسی میری اور بھی کافی کیزنس تھیں جنہیں میں آگے اسٹوری کے ساتھ ساتھ انٹرڈیوس کرواتا جاؤں گا
دانی کو کسی نے آواز دی اور اس کے جانے کے بعد میری نظر سجیلا پہ پری اور میں اس کی طرف چلا گیا میں : باجی کیسی ہوں ؟

خوبصورت تو وہ تھی ہی لیکن آج تیاری میں وہ بھی کسی سے کم نہیں ایل جی رہی تھی
سجیلا : باجی کے بچے . . کل سے کہاں غائب تھے ؟

میں : میں یہیں تھا آپ ہی بز تھیں . . ویسی آج پیاری ایل جی رہی ہوں آپ بہت

سجیلا : کیوں پہلے نہیں لگتی ؟ میں : پہلے بھی لگتی ہوں پیاری . . اسلیے تو . . سجیلا : آگے بولو ؟

میں : پِھر بتاون گا . . ویسی آپکو پتہ تو ہے یہ کہہ کے میں جلدہی سے باہر اگیا
جمال برات کی تیاریاں کڑوا رہا تھا مجھے دیکھ کے اس نے اشارہ کر کے اپنی طرف بلایا


جمال : تو نے تو میری آنکھیں کھول دی فیضی وہ اس وقت بھی نشے میں ہی تھا میں : آپ اتنے اچھے ہو جمال بھائی

جمال : میں نے تو کل سے دانی کو منه ہی نہیں لگایا . . حالان کے میرے پیچھے پیچھے پھرتی ہے

میں نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی روکی میں : اچھا کیا آپ نے


برات نے کافی ل ; آتے واپس انا تھا اور میں حسب عادت بور ہی ہو رہا تھا
میں 1 کارنر میں بیٹھا تھا کے بابا لوگوں کے جھنڈ میں سے اٹھ کے میرے ساتھ آ کے بیٹھ گئے بابا : بور ہو رہا ہے نا ؟

وہ مسکرائے

میں : اور کیا

بابا : پتر لوگوں سے جھولا ملا کر میں : میرا نہیں دِل کرتا
بابا : سب کے ساتھ نا سہی لیکن . . .

میں : بوا نے آپ کو کبھی بتایا نہیں کے میں کیا محسوس کرتا ہوں ان لوگوں کے بڑے میں ؟
بابا : اچھا یہ جمیل سے کیا کھسر پھسر ہو رہی تھی کل بھی اور آج بھی ؟
اب مجھے بابا کا اپنے پس آنے کا مقصد سمجھ اگیا تھا

میں : کچھ نہیں . . . بس ایسے ہی


بابا : وہ اچھا بندہ نہیں ہے . . ایوین تجھے بھی غلط عادتیں نا ڈال دے

میں : خود ہی انہوں نے مجھے بلا لیا تھا . . . آئندہ احتیاط کرو

گا . . . اور بابا ؟

بابا : ہاں پتر ؟

میں : مجھے گھر جانا ہے . . میں کل اجاون گا

بابا : چل میں اکرم کو کہتا ہوں تجھے چھوڑ عطا ہے

اگلے دن صبح حااشو مجھے صرف یہ بتانے آیا کے وہ اپنی امی کے ساتھ شہر جا رہا ہے شام تک ہی آئے گا آج پِھر كوكب کے ساتھ ببلی ہی آئی تھی

كوكب ببلی کو کم میں لگا کے میرے کمرے میں اگائی میں : تم 2 ہو اور میں اکیلا
میں نے اسے کھینچ کے اپنے اُوپر لٹا لیا كوكب : پہلے میری بڑی ہے وہ ہنسی


میں : ویسی کافی ٹرینڈ کیا ہوا ہے تم نے اسے

كوكب : اِس کی شادی میرے بھائی کے ساتھ اور میری اِس کے بھائی کے ساتھ ہونی ہے
میں : واہ جی . . موجیں ہوں پِھر تو

كوكب : بچی ہے ابھی لیکن کم بڑے بڑے کرتی ہے . . آپکو تو پتہ چل ہی گیا ہو گا
میں : میرے سامنے کرو نا اس کے ساتھ وہی سب كوكب : حا . . . ایسے بھی کوئی کرتا ہے ؟


میں : ہاں کرتی ہوں . . . تم بلاؤ تو سہی اسے كوكب اٹھی اور ببلی کو لے آئی

ببلی شرمائی سی كوكب کے ساتھ کھڑی تھی میں : کپڑے اتارو . . تم دونوں ببلی نے نا میں سر ہلا دیا

ببلی : مجھے شرم آئے گی

كوكب : شرم کیسی . . . ہم دونوں نے کونسا تجھے ننگا دیکھا نہیں ہوا
یہ کہہ کے كوكب اپنے کپڑے اُتَر کے ننگی ہوگئے اور پِھر ببلی کے کپڑے اترنے لگی

ببلی کچھ زیادہ ہی شارماین رہی تھی

میں نے صرف شلوار ہی پہنی ہوئی تھی جو میں نے کھڑے ہو کے اُتَر دی اور ببلی کے پیچھے جا کے اسے ہگ کر لیا میں : شرماؤ نہیں

كوكب نے اب اس کی قمیض پکڑی تو اس نے بازو اُوپر کر دیئے
وہ ابھی شاید برا پہن ’ تی ہی نہیں تھی

ببلی کے مموں کو ہاتھوں میں لیتے ہوئے میں نے اس کی نیک پہ کس کی

كوكب نے ببلی کی شلوار نیچے کر کے اس کے پاؤں سے نکل دی میرا لنڈ یہ سوچ کے ہی پھٹنے والا ہو گیا تھا کے آگے کیا ہونے والا ہے

ببلی کو بیڈ پہ لٹا کے میں كوكب کی طرف ہوا

میں : تم آج ببلی کی پُھدی چاٹو گی . . . جیسے وہ تمہاری پُھدی چھت ’ تی ہے

یہ کہہ کا ببلی کے ساتھ لیٹا اور اس کے ممے چاٹنے لگا


كوكب ببلی کی تھائی کے بیچ آئی اور اس کی پُھدی چاٹنے لگی

کچھ ہی دیر میں ببلی ساری شرم بھول چکی تھی

میں نے اٹھ کے كوكب پہ نظر ڈالی تو وہ ببلی کی پُھدی کے لپس کھول کے اندر سے چاٹ رہی تھی

اپنا لنڈ ہاتھ میں پکڑ کے میں ببلی کے ہونٹوں کے پس لایا اور اس نے منه کھول دیا
اب ببلی میرا لنڈ چوس رہی تھی اور اور كوكب اس کی پُھدی چاٹ رہی تھی

كوكب : مجھے بھی آپ کا لنڈ چوسنا ہے

میں سیدھا لیٹ گیا اور كوكب میرے لنڈ پہ جھکی اور میرا

لنڈ ہاتھ میں لے لیا

كوكب : ببلی یہاں آ نا

وہ اپنی گانڈ کی طرف اشارہ کرتی ہوئے بولی

ببلی اس کے پیچھے گئی اور پیچھے سے ہی كوكب کی پُھدی چاٹنے لگی
اور كوكب میرے لنڈ پہ سر اُوپر نیچے کر کے خوب زور سے چوس رہی تھی
2 ننگی لڑکیاں میرے پس تھیں جو کے نا صرف آپس میں بلکہ میرے ساتھ بھی مزہ کر رہی تھیں

كوكب نے چھوس اور چاٹ کے میرا سارا لنڈ گیلا کر دیا تھا پِھر وہ جلدہی سے اٹھی اور اپنی پُھدی کے سوراخ پہ میرا لنڈ رکھ کے نیچے ہونے لگی

كوكب : اہہہ . . . . اُف . . . . .

ببلی پس بیٹھی یہ سب دیکھ رہی تھی

میں نے اس کی تھائی کھولی اور اس کی پُھدی کو رب کرنی لگا


كوكب میرے لنڈ پہ اُوپر نیچے ہو رہی تھی اور میں ببلی کی

پُھدی میں انگلی اندر باہر کر رہا تھا

كوكب : اب . . . ببلی . . . کو

وہ میرے لنڈ سے اُتَر گئی

میں ببلی کی تھائی کے بیچ آیا اور كوكب نے میرا لنڈ پکڑ کے اس کی پُھدی کے سوراخ پہ دبایا ببلی : حایی . . . . سسیی

میرا لنڈ اندر جانا شروع ہوا تو ببلی کی سسکیاں بڑھ گئی

كوكب : میری جان ببلی . . . گاجر بھی تو لیتی ہے نا اپنی پُھدی میں ؟
كوكب ببلی کے مموں کو مسلتے ہوئے بولی ببلی : وہ تو . . . چھوٹی ہوتی . . ہے . . كوكب : پُورا لنڈ لے گی نا آج ؟

ببلی نے ہاں میں سر ہلایا تو كوكب نے مسکرا کے میری طرف دیکھا
میں نے باقی لنڈ بھی آ ڈھکے سے ببلی کی پُھدی میں اتارا تو اس نے شاید چیخنے کے لیے منه کھولا
كوكب نے جلدہی سے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پہ رکھ دیئے

میں اپنا لنڈ ببلی کی پُھدی سے اندر باہر کرنی لگا اور كوكب اب ببلی کے ہونٹ چوستی ہوئے اس کے ممے مسل رہی تھی

کچھ دیر میں میرا لنڈ اب ذرا کم پھنس پھنس کے ببلی کی پُھدی سے اندر باہر ہو رہا تھا
كوكب اٹھی اور اپنے گھٹنے ببلی کے فیس کے آس پاس رکھ کے اپنی پُھدی اس کے فیس پہ لے آئی


ببلی فوراً ہی كوكب کی پُھدی چاٹنے لگی

کمرے میں میری تیز سانسیں اور كوكب اور ببلی کی سسکیاں گونج رہی تھیں

کچھ منٹ بعد سب سے پہلے كوكب کی پُھدی نے پانی چھوڑا

وہ ہمپتی ہوئی سائڈ پہ لیٹ گئی ببلی : اییی . . . . سی . . . . کوکابببببب
اس کا جِسَم اکڑا اور اس کی پُھدی نے بھی پانی چھوڑ دیا

میں نے بھی اپنا لنڈ باہر نکل کے ہاتھ چلاتے ہوئے پانی ببلی کے پیٹ پہ نکالا اور اس کے ساتھ لیٹ گیا

والییماین کا فنکشن برات سے بھی بڑا تھا

دانی لوگوں نے وہیں سے واپس جانا تھا اور چچا لوگوں نے 1 رات ہمارے گھر ٹھہر کے اگلے دن جانا تھا واپس شام کے وقت ہم اپنے گھر پہنچ گئے

بابا اور چچا دیرا پر چلے گئے اور باقی لوگ ریسٹ کر رہی تھے

میں بھی اپنے کمرے میں آ کے لیٹ گیا اور تھوڑی دیر بعد حنا اگائی
حنا : میں نے کہا تم سے گپ شپ لگا لوں میں : آؤ بیٹھو
میں ابھی حااشو کے پس جانے کا سوچ ہی رہا تھا حنا : تم تو شادی میں غائب ہی رہے ہو وہ چیئر پہ بیٹھ ’ تی ہوئی بولی


میں : ہاں بس . . . . تم نے تو انجوئے کیا نا

حنا : مجھے گاؤں انا ویسی ہی پسند ہے بہت میں : اسی لیے اتنے سال بعد آئی ہو حنا : اب آتی جاتی رہوں گی نا

وہ مسکرای

میں : کیوں جی اب کیا خاص بات ہے ؟

حنا : خلا اور خالو اتنے اچھے ہوں . . . اور تم بھی . . ویسی تم کونسا لاہور آتے رہتے ہو ؟
میں : بابا اور بوا کی مرضی جب چاہیں بھیج دیں حنا : اگلی بار آؤ تو ہمارے گھر رہنا نا میں : ٹھیک ہے جی

حنا : اچھا مجھ سے موبائل پہ تو بات کیا کرو گے نا ؟

میں : ہاں کر لیا کرو گا اِس میں کیا ہے ؟ حنا : میں تو رات میں ہی فری ہوتی ہوں میں : تو میں کونسا رات کو نوکری کرتا ہوں ؟ میں ہنسا

حنا : مجھے اتنا غصہ عطا ہے جب بیا اور ثانی تمہیں پینڈو کہتی ہوں
میں : مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا حنا : مجھے تو پڑتا ہے نا میں : کیوں تمہیں کیوں پڑتا ہے فرق ؟ حنا : اتنا بھی نہیں پتہ تمہیں ؟ میں : نہیں تو

حنا : پِھر کبھی بتاون گی

میں : جب دِل کری بتا دینا


پیپرز ہو چکے تھے اور اب ہمارے پس ادھر اُدھر پھرنے کے علاوہ کوئی کم نہیں تھا

یسواقت بھی ہم نہر کے کنارے بیٹھے تھے میں : سعدیہ تو غائب ہی ہوگئے ہے یار حااشو : اسکول جو بند ہوں میں : ھم


ہم وہاں سے اٹھ کے گاؤں آجیی " اوئے یہ کون ہے ؟ "
1 بہت ہی خوبصورت سی لڑکی کو دیکھ کے میں رک گیا

حااشو : تجھے نہیں پتہ ؟ یہ نائلہ کا . . . سعدیہ اور سمیرہ کی

کزن . . سعدیہ لوگوں کے ساتھ ہی شفٹ ہوئی ہے ان کی فیملی

یہاں

میں : اچھا

حااشو : میں نے ٹرائی کی تھی . . اتنی ڈانٹ پری

میں : کس سے ؟

حااشو : اسی سے

میں : چل دفعہ کر پِھر . . . ایوین شکایت ہی نا لگا دے کہیں

حااشو : ڈرپوک

وہ ہنسنے لگا

میں : نہیں اب ایسی بھی بات نہیں ہے . . اور مجھے پمپ نا کر حااشو : بڑے نخرے والی ہے یار یہ میں : ہو گی . . . ہمیں کیا

یہ کہہ کے میں آگے بڑھ گیا


آج تایا لوگوں کی دعوت تھی


شادی میں تو میں نے گھور نہیں کیا تھا لیکن بوا کو کہتے ضرور سنا تھا کے افضل کی بیوی اس کے سامنے بچی لگتی ہے اور آج دیکھ بھی لیا تھا

راحیلہ اور سجیلا افضل سے چھوٹی تھیں اور بھابھی ان دونوں سے بھی چھوٹی عمر کی تھیں

" نظر لگانی ہے ہماری بھابھی کو ؟ "

راحیلہ نے مجھے کہنی ماری اور میں حاربارا گیا تو وہ ہنسنے لگی
میں : باجی آپ کو تو نظر لگی نہیں کبھی میری راحیلہ : ہیں ؟ مطلب

میں : میرا مطلب آپ بھی تو اتنی پیاری ہو . . میں تو آپ کو بھی گھور سے دیکھتا ہوں
گھبرا کے میں الٹی سیدھی باتیں ہی کر رہا تھا راحیلہ : اچھا جی ؟ تو شادی کر لو مجھ سے
اس کی ہنسی ہی نہیں رک رہی تھی اور وہ مجھے مسلسل چھائی رہی تھی
میں : میں تو ابھی بچا ہوں باجی

راحیلہ : خود ہی تو کہتے ہو کے تم بچے نہیں ہو میں : چلیں . . . کرتی ہوں کچھ

میں ان کے مموں پہ نظر جاماین کے بولا اور یہ میں نے بدلے کے طور پہ کیا تھا
ٹائیٹ قمیض میں باہر کو نکلے ہوئے اس کے ممے قیامت

ڈھا رہی تھے

راحیلہ : توبہ . .

وہ ڈوپٹہ اپنے سینے پہ پھیلاتے ہوئے بولی اور مجھے گھوڑا


میں : کیا ہوا باجی ؟

" کیا باتیں ہو رہی ہوں "

سجیلا بھی آ کے ہمارے پس بیٹھ گئی اور ساتھ ہی ان کی بھابھی یعنی توبہ تھی
میں : باجی کہہ رہی ہوں کے ابھی میں بچا ہی ہوں . . . کیوں بھابھی ؟ توبہ : نہیں تو . . کہیں سے بھی بچے نہیں ایل جی رہی تم تو راحیلہ : بہت شیطان ہو گیا ہے فیضی تو

اسی طرح ہنسی مذاق کرتی ہوئے وقت گزر گیا

افضل اور اکرم نے وہیں سے لاہور جانا تھا کسی کم سے " بچیون کو میرے پس چھوڑ جاؤ " بوا نے تائی سے کہا


تائی : کل توبہ کے گھر والوں نے انا ہے تو اتنا کم ہو گا گھر میں
بوا : کسی 1 کو تو چھوڑ جاؤ . . میں نے بازار جانا ہے کل شہر . . . میجمانون نے تو شام کو انا ہو گا نا تائی : چلو راحیلہ کو چھوڑ جاتی ہوں

میرا دِل کر رہا تھا کے سجیلا رہے اور جب میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہاں مجھے مایوسی نظر آئی اور وہ منه بنا کے دوسری طرف دیکھنے لگی جب کے راحیلہ کافی خوش نظر آ رہی تھی


حااشو کی طرف جاتے ہوئے مجھے سعدیہ نظر آ ہی گئی وہ سمیرہ کے گھر سے نکل کے آ رہی تھی میں : مجھے بھول گئی تم

میں نے ڈائیلوگ بولا


سعدیہ : نہیں تو

وہ مسکرای

میں : 2 مہینے ہونے والے ہوں تم سے ملے ہوئے

سعدیہ : وہ میرے چچا لوگ یہاں شفٹ ہوئے نا تو جب تک ان کا گھر نہیں بنا وہ ہماری طرف رہے . . اسلئے نکل نہیں سکی میں : موبائل لے لو

سعدیہ : کہہ تو رہی ہوں ابو کو

میں : مجھ سے ملو گی کب ؟

سعدیہ : موقع دیکھ کے

وہ ہنسی

اسکول کی گراؤنڈ میں کرکٹ کھیل کے گھر آیا تو شام ہو چکی تھی
" گھر میں مہمان آئے ہوں اور لوگوں کی آوارہ جاردیان ہی ختم نہیں ہوتی "
راحیلہ نے مجھے دیکھتے ہی کہا وہ اکیلی بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی میں : باجی میچ تھا آج . . بوا کہاں ہوں ؟ راحیلہ : ٹھک گئے تھیں آرام کر رہی ہوں

میں : بوا کو بھی تو شوق ہے نا کے کم والیوں کے ہوتے ہوئے بھی لگی رہتی ہوں
راحیلہ : اور کیا . . اچھا میں چائے بنین لگی ہوں پیو گے ؟ میں : ہاں جی
میں نہانے چلا گیا اور جب واپس آیا تو راحیلہ چائے کے ساتھ و8 کر رہی تھی


راحیلہ : اپنے گھر میں تو ہم کھل کے سانس بھی نہیں لے سکتی کچھ ایسی ہی بات سجیلا نے بھی کی تھی

میں : کچھ زیادہ ہی سخت ہوں تایا اور آپ کے بھائی راحیلہ : خود سب کچھ کرتی پھرتے ہوں میں : تو آپ یہیں رہ لو

راحیلہ : لیکن اِس کے لیے تو تمہیں مجھ سے شادی کرنی پرے گی

وہ ہنس کے بولی اور مجھے پتہ تھا کے وہ مذاق میں یہ

بات کیہتی ہے

میں : ہاں تو کر لیتے ہوں

میں نے 1 نظر ان کے مموں پہ ڈالی اور اب مجھے پتہ

چلا کے ان کی قمیض کے گلے میں بٹن تھے جو وہاں

ختم ہوتے تھے جہاں سے ممے شروع ہوتے تھے

راحیلہ نے میری نظریں ہمیشہ کی طرح محسوس کر لی اور

ڈوپٹہ آگے کرنی لگی تھی کے اس نے ہاتھ روک لیا

راحیلہ : پکا ؟

میں : پکا . . مجھے پتہ ہے کیا ہوتا ہے شادی کے بعد

میرے منه سے یہ الفاظ اچانک ہی نکل گئے تھے اور اب میں راحیلہ کی ڈانٹ کا و8 کر رہا تھا . . . كوكب اور ببلی کے ساتھ وہ سب افضل کی شادی کے موقع پر کیا تھا اور اس بات کو بھی مہینے سے زیادہ ہو گیا تھا راحیلہ : اچھا جی ؟ کیا ہوتا ہے ؟

میں : آپ کو نہیں پتہ ؟

راحیلہ : تم بتاؤ نا

میں : میں نے سنا ہے پیار ہوتا ہے . . بس مجھے یہی پتہ ہے مجھے واقای شرم سی آ رہی تھی یہ بات کرتی ہوئے کے وہ کیا سوچیں گی کے اسے اتنا کچھ کیسے پتہ ہے ؟


راحیلہ : میں ذرا برتن رکھ آئوں کچن میں پِھر بات کرتی ہوں

وہ چائے کے برتن رکھ کے واپس آئی اور پِھر سے میرے سامنے بیٹھ گئی
اور جب میری نظر ان کے سینے پہ پری تو مجھے اور میرے لنڈ دونوں کو جھٹکا لگا

راحیلہ کے قمیض کے سارے بٹن کھلے ہوئے تھے

مطلب کچن آتے جاتے اس نے یہ بٹن کھولے تھے

راحیلہ کے ممے جہاں سے شروع ہوتے تھے وہ لکیر مجھے

صاف نظر آ رہی تھی

راحیلہ : اب بتاؤ

میں : جی ؟

میں نے بڑی مشکل سے نظریں اس کے مموں سے حاتای اور ان کی آنکھوں میں دیکھا تو وہ سرخ ہو رہی تھیں راحیلہ : ہاں تو کیا ہوتا ہے شادی کے بعد ؟

میں : بتایا تو ہے پیار کرتی ہوں وہ دونوں

راحیلہ : کیسے ؟

میں : ساتھ لیٹ کے

میں نے اپنا تنا ہوا لنڈ جلدہی سے ٹانگوں میں دبایا اور یہ حرکت راحیلہ نے بڑے گھور سے دیکھی

راحیلہ بڑی ہونے کی وجہ سے زیادہ تیر رزرو ہی رہتی تھی . . لیکن آج . .
راحیلہ : تم نے کبھی کیا ہے وہ سب ؟

میں : وہ میں . . . میں نے وہ والی موویز دیکھی ہوئی ہوں راحیلہ : پِھر ساتھ لیٹ کے کیا ہوتا ہے ؟ میں : کپڑے اُترتے ہوں . .


یہ کہہ کے میں نے اپنے لنڈ کو تناجین کھول کے آزاد کر دیا اور وہاں سے میری شلوار میں 1 جھٹکے سے تامبو سا بن گیا راحیلہ : پِھر ؟

اب اس کی نظریں میرے لنڈ پر اور میری اس کے مموں پر تھیں

میں : آپ بھی بتائیں نا کچھ

میرا دِل کر رہا تھا کے میں سامنے سے اس کی قمیض پھاڑ کے

ممے باہر نکل لوں . .

راحیلہ : کسسنگ بھی تو کرتی ہوں نا

وہ تھوڑا آگے جھکی اور قمیض کے گلے میں سے آدھے ممے اور بلیک برا نظر آنے لگی میں : جی . . . ہر جگہ کس کرتی ہوں . .

راحیلہ : کہاں کہاں ؟

اب اس کا چہرہ بھی سرخ ہو رہا تھا میں : ہر جگہ . . . وہاں بھی . . .
میں نے اس کے مموں کی طرف اشارہ کر کے کہا

راحیلہ نے 1 لمبی سانس لی

راحیلہ : فیضی . . .

میں : جی . .

راحیلہ : یہ جو ہے . . . .

وہ میرے لنڈ کی طرف اشارہ کر کے چُپ ہوگئے میں : جی . . یہ لڑکی کے اندر جاتا ہے راحیلہ : ہاہ . . . درد ہوتی ہو گی میں : میں نے سنا ہے مزہ عطا ہے . . .

اب میں بات کو کسی طرف لے جانا چاہتا تھا میں : راحیلہ باجی


راحیلہ : ہاں فیضی

میں : مجھے آپ کے یہ بہت اچھے لگتی ہوں

میرا اشارہ اس کے مموں کی طرف تھا

راحیلہ : یہ کیا ؟

میں : آپ کے ممے . .

راحیلہ : فیضی . .

میں : مجھے دکھا دیں نا . . پلیز

راحیلہ : فیضی اگر کسی کو پتہ چل گیا تو ہم دونوں کو جان سے مار دیں گے

میں : ہم میں سے کوئی بتائے گا تو ماریں گے نا راحیلہ : مجھے بھی کچھ دیکھنا ہے
میں نے جواب دیئے بغےر شلوار کا نالا کھول اور قمیض

پیچھے کر کے لنڈ باہر نکل لیا

راحیلہ : حونحمم . . .

وہ ہوس بھری نظروں سے میرے لنڈ کی طرف دیکھ رہی تھی میں : آپ بھی دکھائے نا اب
راحیلہ نے نظریں میرے تانے ہوئے لنڈ سے حاتاین اور 1 گہری سانس لے کے سیدھی ہوئی اور اپنی قمیض اُوپر کر دی
بلیک برا میں سے اس کے ممے باہر آنے کو بیتاب تھے میں : برا بھی اُوپر کریں

راحیلہ نے برا اُوپر کر دی اور اس کے تانے ہوئے ممے جن کے اُوپر لائٹ برائون نپل تھے میرے سامنے آگے
سجیلا کا رنگ بہت سفید اور راحیلہ کا سانولا سا تھا لیکن خوبصورت وہ بھی اتنی ہی تھی
راحیلہ کی تیز سانسوں کی وجہ سے اس کے ممے اُوپر نیچے ہو رہی تھے


میں : میرا دِل کر رہا ہے کے . . .

راحیلہ : کیا دِل کر رہا ہے ؟

میں : کے میں آپ کے کپڑے اُتَر کے آپ کو پیار کرو

اتنے میں بوا کے کاحنسنی کی آواز آئی اور ہم دونوں نے جلدہی سے اپنے کپڑے ٹھیک کر لیے

Share this post


Link to post

" تو اگیا پتر ؟ . . . راحیلہ بیچاری بور ہو رہی تھی " بوا نے آتے ہی مجھے کہا
میں : نہیں بوا میں تو کافی دیر سے آیا ہوا ہوں میں ماتھے سے پسینہ صف کر کے بولا راحیلہ : بوا آپ آرام کریں میں پکاتی ہوں کچھ

راحیلہ کچن میں چلی گئی اور بوا وہیں بیٹھ گئی مجھ سے رہا نا گیا تو کچھ دیر بعد میں بھی کچن میں چلا گیا

" یہاں بھی مجھے ٹنگ کرنی آگے ہو "

راحیلہ مجھے دیکھتے ہی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی میں : مجھے بھی تو ٹنگ کیا آپ نے
راحیلہ : فیضی 1 بات کہوں . . . جو ہوا سو ہوا . . کسی کو پتہ نہیں چلنا چاہیے
میں : میرا دماغ خراب ہے جو میں کسی کو بتاون گا ؟ میں تھوڑی ناراضگی سے بولا

راحیلہ : پتہ نہیں مجھے کیا ہو گیا تھا . . آئندہ نہیں ہو گا میں : آپ ایوین پریشان ہو رہی ہوں
میں مایوسی سے بولا اور بوا کے پس آ کے ٹی وی دیکھنے لگا


" بوا میں تو صحن میں ہی سو جاؤں گی " رات کے وقت راحیلہ نے بوا کو بتایا


اور بوا طبیعت ٹھیک نا ہونے کی وجہ سے اندر ہی سونا چاہتی تھیں

بوا : چل پِھر میں بھی باہر ہی سو جاتی ہوں . . اکیلے دَر نا لگی تجھے راحیلہ : ارے بوا مجھے دَر کیوں لگی گا ؟ آپ ہوں فیضی ہے . . ویسی بھی میں اپنے گھر بھی صحن میں ہی سوتی ہوں وہ ہنسی

بوا : فیضی پتر آج تو بھی باہر ہی سو جا پِھر باجی کے ساتھ میں : جی بوا ٹھیک ہے
مجھے ویسی بھی باہر جانے کی جلدہی تھی

" یار میرا دِل کر رہا ہے ششیر میں داخلہ لیں اگلے سال " حااشو اور میں ہماری بیتھاک کے باہر بیٹھے تھے حااشو : ہاں یار . . مزے آجائیں گے

میں : کرتا ہوں بابا سے بات حااشو : مجھے نہیں لگتا وہ مانیں گے

میں : یار انہیں شوق ہے مجھے پڑھانے کا . . اب یہاں گاؤں میں تو 10تھ ہی ہو سکتی ہے نا . . کالج کے لیے تو ششیر یا پِھر لاہور جانا پرے گا نا

حااشو : 1 تو ہم 2 سال ویسی ہی پیچھے ہوں

میں : اچھی بھلی 10 ہوجانی تھیں ہم آرام سے شہر پڑھنے جاتے
حااشو : 1 سال کی تو بات ہے بس اب میں : ھم


میں گھر واپس آیا تو راحیلہ صحن میں سو رہی تھی یا پِھر ایل جی ایسے ہی رہا تھا

میری چارپائی اس سے تھوڑے فاصلے پہ تھی اور راحیلہ دوسری طرف رخ کر کے سو رہی تھی
میں لیٹا تو شام والی باتیں میرا پیچھا نہیں چھوڑ رہی تھیں

اور میرا لنڈ مجھے سونے نہیں دے رہا تھا سو میں کافی دیر تک

ادھر اُدھر کروٹیں لیتا رہا اور میری چارپائی سے

آوازیں بھی آ رہی تھیں

" آرام سے سو جاؤ فیضی "

اچانک راحیلہ نے کروٹ لے کے رخ میری طرف کیا

میں : نیند نہیں آ رئی

راحیلہ : مجھے بھی جگہ دیا

میں اٹھا اور اپنی چارپای کھینچ کے بل کل اس کے پس کر لی اور اب اس میں اور مجھ میں 1 فٹ کا فاصلہ تھا بس میں : باتیں کریں نا میرے ساتھ

راحیلہ : اچھا کرو

میں : پیار کی باتیں

راحیلہ : ھم

میں نے اب کھل کے کھیلنے کا فیصلہ کر لیا تھا میں : بٹن کھول دیں نا . . . قمیض کے راحیلہ : فیضی میں نے کہا تھا نا کے دوبارہ نہیں ہم 1 دوسرے کی طرف کروٹ لے کے لیتے ہوئے تھے میں : کسی کو نہیں پتہ چلے گا

راحیلہ کچھ لمحے چُپ رہی اور پِھر اُوپر ہو کے اپنی قمیض اُوپر کر لی

سجیلا کی طرح وہ بھی برا اُتَر کے سوتی تھی


ہلکی روشنی میں مجھے اس کے ممے ٹھیک سے نظر نہیں آ رہی تھے

میں نے نالا کھول کے شلوار نیچے کی اور اپنا لنڈ باہر نکل لیا
راحیلہ : یہ ابھی بھی ویسی ہی ہے

میں نے موبائل کی لائٹ آن کی اور پہلے اس کے مموں پہ

ماری پِھر اپنے لنڈ پہ

میں : میں انہیں پکڑ لوں ؟

میں اس کے ننگے مموں کی طرف ہاتھ براحا کے بولا راحیلہ چُپ رہی

میں نے اس کا مموں کو ہاتھ میں لے کے بڑی بڑی دبایا راحیلہ کے نپلز پہلے سے ہی اکری ہوئے تھے میں : آپ بھی . . پکڑ لیں . . .

راحیلہ : کیا

میں : میرا لنڈ . .

راحیلہ نے ہاتھ آگے کیا اور میرے لنڈ کو ہاتھ میں لے لیا اور مجھے لذت کا 1 جھٹکا لگا
اب وہ میرا لنڈ مسل رہی تھی اور میں اس کے ممے

میں : میں . . آپ کے پس اجاون ؟

راحیلہ : اگر بوا جاگ گئی تو ؟

میں : نہیں جاگتی

میں اٹھا اور راحیلہ کے ساتھ لیٹ گیا . . لیکن اس کی چارپیی پہ جانے سے پہلے میں نے شلوار پیروں سے نکل دی تھی . . اور قمیض میں نے پیلی ہی نہیں پہنی ہوئی تھی

میرا چہرہ راحیلہ کے مموں میں دبا ہوا تھا اور میرا لنڈ اس کی پُھدی میں


اب میں رکنے والا نہیں تھا

میں تھوڑا سا پیچھے ہوا اور اس کا مامماین پکڑ کے نپلز

کو چاٹنے لگا

راحیلہ : سسی . . . فیضی . . .

پِھر مجھے کچھ یاد آیا

میں نے اپنے ہونٹ راحیلہ کے ہونٹوں پہ رکھ دیئے اور اس کے لپس چُوسنے لگا
راحیلہ نے تھوڑے سے ہونٹ کھولے تو میں نے اپنی زُبان اندر کر کے اس کی زُبان سے ٹچ کی

کچھ لمحوں میں وہ بھی اپنی زُبان میری زُبان سے ٹچ کر رہی تھی
میں دوبارہ نیچے ہوا اور اس کے دوسرے نپل کو ہونٹوں میں لے کے چوستی ہوئے اس پہ زُبان پھیرتا ہوئے ہاتھ پیچھے اس کی گانڈ پہ لے گیا

راحیلہ کی سانسیں تو تیز تھیں لیکن وہ شاید دَر کی وجہ سے کوئی آواز نہیں نکل رہی تھی
میں 4 انگلیاں اس کی گانڈ کی لکیر میں دے کے اس کی گانڈ شلوار کے اُوپر سے مسل رہا تھا
پِھر میں ہاتھ آگے لایا اور اس راحیلہ کی شلوار کے اندر ڈال دیا

جیسے ہی میرا ہاتھ اس کی پُھدی سے ٹچ ہوا اس کے جِسَم نے جھٹکا لیا اور اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا راحیلہ : بس فیضی . . .

لیکن میں اب سن ’ نے والا نہیں تھا


میں نے اسے سیدھا کیا تو اس نے ٹینجن بینڈ کر لی جس سے میں اب نا اس کی پُھدی کو ٹچ کر سکتا تھا نا ہی اس کی گانڈ کو

میں : پیار کرنی دو مجھے . .

اس نے نا میں سر ہلا دیا

میں اٹھ کے راحیلہ کی ٹانگوں کے پس ہوا اور اس کے شلوار کے

فرنٹ نیفی کو دونوں ہاتھوں سے پکڑا تو اس نے شلوار کو

دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا

راحیلہ : فیضی بس نا . . پلیز . . اور نہیں

راحیلہ نے ابھی بھی ٹینجن بینڈ کر کے بند کی ہوئی تھیں

میں ہاتھ نیچے لے کے گیا اور اس کی شلوار پکڑ کے اس کی گانڈ سے نیچے کی طرف کھینچی
اس کی شلوار گانڈ سے نیچے ہوگئے تو میں نے اس کے گھٹنوں کو ہاتھ میں لے کے اس کے پیٹ کی طرف پُش کیا راحیلہ : فایزیی

اسی کشمکش میں میں اس کی شلوار اس کی گند سے نیچے اور تھائی کے پچھلے حصے تک لے آیا تھا
میں نیچے ہوا اور مجھے نظر تو کچھ نہیں آیا لیکن میں اپنا چہرہ اس کی تھائی کے بیچ لے آیا اور زُبان باہر نکل لی

اور میری زُبان راحیلہ کی پُھدی سے ٹچ ہوگئے

اس کی ٹانگوں کو مضبوطی سے پاکری ہوئے میں زُبان اس کی پُھدی کے لپس میں اُوپر نیچے کرنی لگا راحیلہ : یہ کیا کر رہی ہو فیضی . . . وففف . . . گنڈے . .

سنی ان سنی کر کے میں راحیلہ کی پُھدی کے دانے تک اپنی زُبان لے ہی گیا


راحیلہ : آں . . . سسیی

راحیلہ دبی دبی سسکیاں لے رہی تھی

اور پِھر آہستہ آہستہ راحیلہ کی موزاحامت کم ہونے لگی کیوں کے اب اس نے اپنی تھائی ڈھیلی چھوڑ کے تھوڑی سی کھول دی تھیں جس سے میں اب آسانی سے اس کی پُھدی چاٹ رہا تھا راحیلہ کی پُھدی اب بہت پانی چھوڑ رہی تھی

میں نے چہرہ اس کی پُھدی سے پیچھے کیا تو وہ سر اٹھا کے میری طرف دیکھنے لگی لیکن بولی کچھ نہیں
اور جب میں نے اس کی شلوار اس کے پاؤں سے نکل کے سائڈ پہ رخی وہ تب بھی کچھ نہیں بولی

راحیلہ کی تھائی میں نے پوری کھول دی تب اس کی آواز نکلی

راحیلہ : فیضی . . بس کر دو نا . .

میں : ابھی نہیں

میں نے اپنے انجوتحون سے اس کی پُھدی کے لپس کا اُوپر والا حصہ کھولا اور اس کے دانے کو ہونٹوں میں لے کے چھوستی ہوئے زاوبان بھی پھیرنی لگا راحیلہ : آہہح . . . اُوں . . . سیی . . . فایزیییی اب اس کی گانڈ مسلسل اُوپر نیچے ہو رہی تھی

میں راحیلہ کی پُھدی کو کچھ منٹ اور چھت ’ تا رہا پِھر اٹھا اور اپنا لنڈ اس کی پُھدی کے سوراخ پہ رکھا میں : اب مجھے نہیں روکنا

میں اپنا لنڈ راحیلہ کی پُھدی میں اترنے لگا

راحیلہ کی پُھدی بہت ٹائیٹ تھی اور میرا لنڈ اس کی سییل سے

ٹکرایا تو میں رک گیا

راحیلہ : وففف . . . رک کیوں گئے . . .


ببلی اور كوكب تو راحیلہ سے کافی چھوٹی تھیں پِھر بھی ان کی سییل پہلے سے کھلی ہوئی تھی . . اور دانی جو کے راحیلہ سے 1 سال چھوٹی تھی اس کی بھی

میں راحیلہ کے اُوپر جھکا اور اس کے ہونٹوں کو چوستی ہوئے 1 دھکہ مارا اور میرا لنڈ اس کی سییل کو حاتاتا ہوا آگے نکل گیا

اب میں پِھر سے سیدھا ہو کے اپنا لنڈ راحیلہ کی پُھدی سے

اندر باہر کرنی لگا

میں : درد . . تو نہیں . . . ہو رئی

میں نے ہمپتی ہوئے 2 3 منٹ بعد پوچھا راحیلہ : تھوڑی . . لیکن . . مزہ . . . بھی
اور کچھ منٹ بعد وہ بھی اپنی گانڈ اُوپر نیچے کرنی لگی راحیلہ : ہاں . . . . ہاں . . . . ووہہ . . . .
میں اور بھی تیزی سے لنڈ اس کی پُھدی سے اندر باہر کرنی لگا اور جھک کے اس کے نپلز بھی چوس رہا تھا
راحییلی نے اپنی ٹینجن میری کمر کے گرد لپیٹ لی تھیں

8 منٹ بعد راحیلہ نے کس کے مجھے ہگ کر لیا اور میں تیزی سے اسے چودنے لگا
پِھر اس کا جِسَم اکارنی لگا

راحیل : آہ . . . آہ . . . . آہ . . اہہہہہہہہہہح

اس کی پُھدی نے پانی چھوڑ دیا اور میں نے بھی لنڈ باہر نکل کے پانی اس کی پُھدی کے لپس میں گرا دیا
مجھے سائڈ پہ کر کے اس نے کپڑے اٹھائے اور صحن میں بنے واشروم چلی گئی
اس کے بعد میں بھی جا کے واپس آیا اور اپنی چارپائی پہ لیٹ گیا راحیلہ : کہاں سے سیکھا یہ سب ؟


وہ میری طرف کروٹ لے کے بولی

میں : بتایا تو تھا موویز سے . . مزہ آیا نا ؟ راحیلہ : مجھے نہیں پتہ تھا کے تم وہ بھی کرو گے میں : کیا

راحیلہ : وہی جو نیچے کیا . . زُبان سے میں : مطلب جو میں نے آپ کی پُھدی . . راحیلہ : فایزیی

میں : مجھے پتہ ہے آپ کو اس میں بھی مزہ آیا راحیلہ : ہاں

میں : اگلی بار اور بھی مزہ آئے گا

راحیلہ : اگلی بار آئے گی تو ہی مزہ آئے گا نا میں : ٹھیک ہے جی
اور مجھے پتہ تھا کے جب بھی موقع ملا یہ ہو گا

" اوئے . . . تم لوگ یہاں کیا کر رہی ہو ؟ "

میں اور حااشو نہر پہ بیٹھے تھے اور وہ 4 بندے تھے 2 بیکیس پر
اور چاروں نے کپڑے سے اپنے چہرے چھپائے ہوئے تھے حااشو : بیٹھے ہوں اور کیا کر رہی ہوں " تو بات کیسے کر رہا ہے ؟ "

میں : مسئلہ کیا ہے تم لوگوں کو ؟ اور ذرا چہرے تو دکھاؤ اپنے
درنی والے تو ہم بھی نہیں تھے لیکن اگلے ہی لمحے ان میں سے 2 نے گنس نکل لی

میں نے اور حااشو نے 1 دوسرے کی طرف دیکھا


" نکل گئی ہوا ؟ "

میں : جان سے مارو گے ؟ جانتے ہو ہم کون ہوں ؟

میں ان کی طرف بڑھا اور میری نظر دور سے آتی گری پر پری
بابا اکرم کے ساتھ شہر سے واپس آ رہی تھے

جیسے ہی ان لوگوں نے گری دیکھی وہ اپنی بیکیس پہ بیٹھے اور تیزی سے نکل گئے
بابا اور اکرم پس پہنچی تو حااشو نے اشارہ سے انہیں

روکا اور ساری بات بتائیں

بابا : کون تھے وہ لوگ ؟

ان کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا تھا

میں : چہرے چھپائے ہوئے تھے

اکرم : تم لوگوں نے بائیک کا نمبر دیکھا ؟

اِس بات کا ہمیں خیال ہی نہیں رہا تھا اور نا ہی ہم نے دیکھا
اکرم : کس طرف گئے ہوں وہ ؟

حااشو : جس طرف سے آپ آئے ہوں . . آپ کے پس سے تو گزر کے گئے وہ لوگ
بابا : چل اکرم گری مور . . . اور تم لوگ گھر چلو ہم گھر آگے اور بابا اور اکرم کو وہ لوگ نہیں ملے ’ اب وہ لوگ فیضی کے پیچھے پر گئے ہوں "

بوا کے بات سن کے میں کمرے سے باہر ہی رک گیا بابا : ضروری تو نہیں کے وہی لوگ ہوں
بوا : میں کچھ نہیں جانتی . . آپ بات کریں ان لوگوں سے بابا : ہمارے پس کوئی ثبوت تو نہیں ہے نا . . اس بات کا بھی اور اِس بات کا بھی کے وہی ہوں ان دونوں باتوں کے پیچھے


بوا : لیکن . .

بابا : میں پتہ کر رہا ہوں نا . . . ڈھونڈ لوں گا . . وہ لوگ جو بھی تھے صرف دارانے آئے ترحی فایزی کو . . نقصان پھنچانا ہوتا تو . . بوا : ماجد اور اس کا باپ . .

بابا : میں نے پوچھا ہے ان سے بھی اور فیضی کے تایا نے بھی کافی سختی سے پوچھا ان سے . . . وہ کاسمین کھا رہی ہوں کے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے اِس معاملے سے

بوا : آپ فیضی سے کہیں باہر نا جایا کری

بابا : ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟ وہ نہیں رکے گا . . میرا پتر ہے ڈرپوک نہیں ہے . . کل کو میں نا رہا تو اتنا مضبوط تو ہو نا کے اپنے مکھالیفون کا سامنا کر سكے

بوا : اگر فیضی کو کچھ ہوا تو میں آپ کو بھی جان سے مر دو گی بابا : ہاں ہاں ٹھیک ہے . . میں دیرا پہ جا رہا ہوں بابا ہنسنے لگی

میں جلدہی سے اپنے کمرے میں اگیا بہت سے سوال تھے میرے ذہن میں بوا " وہ لوگ " کن لوگوں کو کہہ رہی تھیں ؟

1 بات تو اس دن والی تھی . . دوسری بات کون سی تھی جس کا بابا ذکر کر رہی تھے ؟

مجھے پہلے سے اندازہ تھا کے بابا اور بوا مجھ سے بہت کچھ چھپاتے ہوں
وہ مجھے کس سے بچانا چاہتے ہوں ؟


اسکول کھل چکا تھا اور اب وہی پرانی روٹین تھی


سمیرہ اب شہر والے کالج جاتی تھی اور اب سعدیہ کے ساتھ نائلہ آتی جاتی تھی

نائلہ سے گاؤں میں سامنا ہوتا تھا لیکن جو بیستی حااشو کی اس نے کی تھی اس کے بعد میری ہمت نہیں پر رہی تھی کے اس سے بات کرو

" كوكب ان کی محالیدار ہے "

حااشو نے مجھے بتایا

میں : تو ؟

حااشو : اوئے اسے بول کے لائن سیٹ كرائے تیری یہ بات تو میرے ذہن میں آئی ہی نہیں تھی

میں نے سوچا تھا کے سعدیہ سے بولوں گا لیکن اِس میں سعدیہ بھی ہاتھ سے جا سکتی تھی
سعدیہ سے جب بھی ملاقات ہوتی تھی بس 2 3 منٹ کے لیے اور میں کسسنگ اور تھوڑی بہت ٹچِنگ کے علاوہ کچھ نہیں ہو پتہ تھا

میں تو اسے بیتھاک میں بھی بلا سکتا تھا لیکن اس کا انا مشکل تھا
اتنے میں بوا کی کال اگائی

اس واقایی کو 2 مہینے ہو چکے تھے لیکن بوا کا دَر نہیں گیا تھا اور وہ تو میرے اسکول آنے پہ بھی بڑی مشکل سے مانی تھی

اِس کا ہل بابا نے یہ نکالا تھا کے بوا کو موبائل لے دیا تھا اور مجھے کافی ٹائم لگا بوا کو اس کا استعمال سکھانے میں اور اب وہ کال کر کے 1 ہی بات ہوچھتی تھیں " پتر تو ٹھیک ہے نا ؟ "

بوا سے بات کر کے میں حااشو کی طرف ہوا


میں : بوا مجھے ہمیشہ بچا ہی سماجحتی ہوں حااشو : انہیں کیا پتہ تو کتنا بڑا ہو گیا ہے حااشو ہنسنے لگا

گھر پہنچا تو كوكب باہر نکل رہی تھی " بات سن "

میں نے اسے گاتے کے اندر ہی سائڈ پہ کیا كوكب : چلیں آپ کے کمرے میں ؟ وہ ہنس کے بولی

میں : بوا ہوں گھر . . اچھا مجھے تجھ سے کم ہے 1

كوكب : حکم کریں

میں : وہ نائلہ ہے نا . .

كوكب : توبہ جی وہ تو بڑے نخرے والی ہے . . سوہنی جو اتنی ہے . . لیکن کم تو آپ بھی نہیں ہو میں : کچھ کری گی یا نہیں ؟

كوكب : لیکن مجھے کیا ملے گا ؟

میں نے پاکٹ سے کچھ پیسے اسے نکل کے دیئے كوكب : میں پہلے ہی کہہ رہی ہوں کے میں کوشش کرو گی . . اور تھوڑا ٹائم لگی تو پریشان نا ہونا یہ کہہ کے وہ چلی گئی


" کنیز . . تو کتنی بڑی ہوگئے ہے "

اس دن میں گھر میں داخل ہوا تو بوا کے پس وہ لڑکی کھڑی تھی
اس کی بیک میری طرف تھی

" جی خلا . . . اچھا میں چلتی ہوں "


وہ مڑی لیکن مڑنے سے پہلے اس نے اپنا چہرہ دوپاتتی سے دحامپ لیا تھا

لیکن اس کے باوجود اس کے گورے ہاتھ اور نیلی آنکھیں مجھ سے چھپی نا رہ سکی
اور اس نے جاتے جاتے 1 نظر مجھ پہ بھی ڈالی تھی اس کے جانے کے بعد میں نے بوا کی طرف دیکھا بوا : سامنے والے ملک سب کی بیٹی ہے

تب مجھے یاد آیا کے ان کے گھر میں پردے کی بہت پابندی تھی اور ان دونوں بہنوں کا چہرہ شاید ہی کسی مرد نے دیکھا ہو

بوا : كوكب تو چلی گئی . . . تو یہ چاول سمیرہ کے گھر دے آ
میں : کیا بوا . . ضروری ہے کیا یہ ؟

میں چیر گیا

بوا : جلدہی سے دے کے آ

بوا نے مجھے گھوڑا اور 1 ڈش پکڑا دی

ہمیشہ کی طرح میں سیدھا اندر ہی چلا گیا اور وہاں مجھے کوئی نظر نہیں آیا
صحن سے گزر کے میں کمروں کی طرف گیا 1 کمرے سے مجھے جیسے سسکی کی آواز آئی

یہ سمیرہ کا کمرا تھا جس کی 1 ونڈو صحن کی طرف تھی اور تھوڑی سی کھلی ہوئی تھی
میں نے ڈش 1 چارپای پہ رخی اور بس تجسس کے ہاتھوں ونڈو کے ساتھ آنکھ لگا دی
اور جو میں نے دیکھا اس سے میرا منه کھلا کا کھلا رہ گیا


سمیرہ اور سعدیہ 1 ہی چارپائی پہ لیتی ہوئی تھیں

وہ دونوں سیدھی لیتی ہوئی تھیں اور ان کے ہاتھ 1 دوسرے کی شلوار میں تھے

سمیرہ اور سعدیہ 1 دوسرے کے ہونٹ چوستی ہوئے 1 دوسرے کی

پُھدی کو رب کر رہی تھیں

" کپڑے نہیں اترنے آج ؟ "

یہ سمیرہ کی آواز تھی

سعدیہ : تم ہی تو کہہ رہی تھی کے چچی نے جلدہی آ جانا ہے " سمیرہ : تمہاری پُھدی پہ پیار کرنی کا اتنا دِل کر رہا ہے آج میرا

پِھر ان دونوں کے ہاتھوں کی حرکت تیز ہوگئے اور ان کی سسکیاں بھی
میں نے ڈش اٹھائے اور خاموشی سے باہر اگیا اور گاتے پہ نوک کیا
تھوڑی دیر بعد سمیرہ باہر آئی

میں : بوا نے بھیجے ہوں چاول

میں نے ڈش اسے پاکرای

سمیرہ ڈش لے کے جانے لگی

میں : سنو

سمیرہ : ہاں

میں : وہ سعدیہ نہیں نظر آئی کافی دن سے سمیرہ : تمہیں کیا کم ہے اس سے ؟
میں : ویسی ہی پوچھ رہا تھا . . دیکھا جو نہیں کافی دن سے میں مسکرایا اور وہاں سے اگیا


" نا کر یار "

حااشو کو تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا میں : میں کیا جھوٹ بول رہا ہوں ؟

حااشو : نہیں نہیں . . میں نے یہ کب کہا ؟ اسی لیے ان دونوں نے تجھے اپنے سے دور کیا . . کے وہ آپس میں

میں : سعدیہ تو ہمیشہ بہانہ ہی بنا دیتی ہے اکیلے ملنے کا جب بھی میں نے کہا
حااشو : اگلی بار دیکھنے جائے تو مجھے بھی لے جانا میں : وہاں ٹکٹ نہیں لگی ہوتی

اسکول سے واپسی پر سعدیہ اس دن اکیلی ہی تھی اور میں اس کے ساتھ چلنے لگا
سعدیہ : تم نے سمیرہ سے میرا کیوں پوچھا اس دن ؟

میں : تو کیا ہوا ؟

سعدیہ : اسے شک ہوجائے گا . . . بلکہ ہو گیا ہے کے میرا تمھارے ساتھ چکر ہے کوئی میں : تم اس سے ڈرتی کیوں ہو اتنا ؟

سعدیہ : میری سب سے پیاری دوست ہے لیکن وہ جیلس بڑی جلدہی ہو جاتی ہے
میں : اچھا یہ بتاؤ آج بیتھاک میں آ رہی ہو مجھ سے ملنے ؟

سعدیہ : کاش آ سکتی

میں : چلو مرضی تمہاری

اور اسی دن جب میں میچ کھیل کے گھر پہنچا تو سمیرہ

بوا کے پس بیٹھی تھی

" کیسے ہو فیضی "


اس نے مجھ سے پوچھا

میں : ٹھیک

سمیرہ : پڑھائی کیسی جا رہی ہے ؟ کوئی مسئلہ تو نہیں ؟

میں : ہاں وہ آج والا میتھ کے چیپٹر نہیں سمجھ آیا

میں نے جھوٹ بولا

بوا : کرا دے نا بچی اسے

سمیرہ : جی خلا

میں کتاب لے کے اس کے پس بیٹھا تو بوا کچن میں چلی گئی

سمیرہ : سعدیہ مجھ سے زیادہ پیاری ہے ؟

میں : نہیں تو

سمیرہ : پِھر اس کا کیوں پوچھ رہی تھے ؟ میں : دوستی کرنی ہے اس سے میں نے سمیرہ : میرے ہوتے ہوئے ؟

میں : تم نے تو ختم کر دی تھی دوستی

سمیرہ : ایسی بات نہیں ہے . . تم بس سعدیہ سے دوستی نہیں کر رہی وہ جلدہی سے بولی
سعدیہ سہی کہہ رہی تھی کے سمیرہ جیلس طبیعت کی ہے

یا شاید وہ ہم دونوں کو علیحدہ علیحدہ اپنے ساتھ رکھنا چاہ رہی تھی

پِھر وہ اچانک آگے ہوئی اور میرے چیک پہ کس کر دی جاتے ہوئے وہ اپنا موبائل نمبر بھی دے گئی


آج چھٹی تھی اور میں بوا کو تایا کی طرف لے کے آیا ہوا تھا راحیلہ مجھے دیکھ کے بار بار مسکرا رہی تھی


میں : کیسی ہوں باجی

راحیلہ : باجی کے بچے . . باجی کے ساتھ وہ سب کرتی ہوں ؟

میں : کیسی ہو راحیلہ ؟

راحیلہ : ہاں یہ ٹھیک ہے . . لیکن سب کے سامنے باجی وہ ہنسنے لگی

میں : 2 مہینے ہوگئ ہوں تم دوبارہ آئی نہیں راحیلہ : تمہیں پتہ تو ہوں یہاں کے قانون میں : سجیلا باجی نہیں نظر آ رئی

راحیلہ : اس کی طبیعت ٹھیک نہیں اپنے کمرے میں ہے

" کیسے ہو فیضی "

بھابھی توبہ بھی اگائی

میں : آپ سوناین

بھابھی : میں ٹھیک تھک

بھابھی کافی زندہ دِل لڑکی تھی

بھابھی : راحیلہ تمھارے سب کیزنس میں سے فیضی ہی سب سے اچھا ہے . . . ذرا نخرا نہیں . . ہے نا ؟
راحیلہ : ہاں بھابھی . . اسی لیے تو اِس کے ساتھ ہم فرینک ہوں . . ویسی

ہے یہ بھی پُورا شیطان

بھابھی : ہیں زین ؟ واقای ؟

میں : باجی مذاق کر رہی ہوں

وہ دونوں ہنسنے لگی

بھابھی بوا اور تائی کے پس جا کے بیٹھ گئی میں : کب آؤ گی ؟
راحیلہ : موقع لگنے کی بات ہے

میں : وہ بہت ٹنگ کر رہا ہے

راحیلہ : وہ کیا


میں : وہی لنڈ

راحیلہ : توبہ کتنی گندی باتیں کرتی ہو وہ ہنس کے بولی

میں : آپکی وہ نہیں ٹنگ کرتی ؟ . . پُھدی راحیلہ : اُف . . . فیضی اس نے مجھے گھوڑا

میں : بولو نا

راحیلہ : کیا بولوں ؟

میں : پُھدی

راحیلہ : پُھدی

اتنے میں ہی اس کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا

میں : ہم لڑکے تو ہاتھ سے گزارا کر لیتے ہوں . . . سنا ہے آپ لڑکیاں بھی انگلیوں سے کرتی ہوں کچھ راحیلہ : فیضی انسان بن جا

میں : مجھے پتہ ہے آپ بھی کرتی ہوں

راحیلہ : جی نہیں

میں : جھوٹ

راحیلہ : ہاں کرتی ہوں . . پِھر ؟

میں : بس یہی پوچھنا تھا

میں ہنسنے لگا

راحیلہ : بہت کمینے ہو تم

میں : جیسا بھی ہوں آپ کا دوست ہوں

راحیلہ : ہاں یہ تو ہے


" آجاؤ نا "


میں سمیرہ سے میسج پہ بات کر رہا تھا

دوپہر کا ٹائم تھا اور بوا اپنے کمرے میں سو رہی تھیں سمیرہ : کہاں آئوں ؟

میں : خلا کو میں نے جاتے دیکھا ہے کہیں سمیرہ : تم آجاؤ

اور 5 منٹ بعد میں اس کے گھر تھا

سمیرہ کے کمرے میں جاتے ہی میں نے اسے پیچھے سے ہگ کر لیا اور ہاتھ اس مموں پہ رکھ دیئے
1 سال سے زیادہ وقت جوزرنی کے بعد وہ میرے قابو آئی تھی اِس عرسی میں یمری ہائیٹ بھی بڑھ گئی تھی اور سمیرہ کا جِسَم بھی پہلے سے خوبصورت ہو گیا تھا سمیرہ : فیضی . .


میں : ہاں

میں اس کے مموں کو مسلتے ہوئے اس کی نیک پہ کس کر رہا تھا
شلوار میں میرا تنا ہوا لنڈ سمیرہ کی گانڈ کی لکیر میں دبا ہوا تھا
میں نے اپنی گرفت ڈھیلی کی تو وہ میری طرف مڑی اور اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پہ رکھ دیئے

اب وہ کسسنگ میں کافی ٹرینڈ ہو چکی تھی

وہ اپنا ہاتھ نیچے لے کے آئی اور میرے لنڈ کو ہاتھ میں لے لیا
سمیرہ : یہ . . بڑا ہو گیا ہے پہلے سے . . .

میں نے اس کی قمیض اُتَر دی اور برا اس نے خود سمیرہ : تم بھی سب کچھ اتارو


میں پیچھے ہوا اور جلدہی سے اپنی شلوار قمیض اُتَر کے سائڈ پہ رکھ دی

سمیرہ اتنی دیر میں اپنی شلوار اُتَر چکی تھی اب ہم دونوں ننگے امن سامنے کھڑے تھے
وہ 1 قدم آگے ہوی اور میرا تنا ہوا لنڈ ہاتھ میں لے لیا

سمیرہ : بڑا تو یہ پہلے ہی تھا . . . اب تو اور بھی . .

پِھر اس نے مجھے حیران کر دیا

وہ گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھی اور منه کھول کے میرا لنڈ

اندر لے لیا

میں : اوھ . . . سمیرہ . .

مجھے لذت کا جھٹکا لگا

سمیرہ میرا لنڈ اپنے منه میں لے کے سر آگے پیچھے کر کے اسے چوس رہی تھی
وہ میرے لنڈ کے آخر تک اپنے منه میں لینے کی کوشش کر رہی تھی
اس نے میرا لنڈ منه سے نکل کے اُوپر میرے پیٹ کی طرف کیا اور نیچے والے حصے پہ زُبان اُوپر نیچے پھیرنی لگی لنڈ چوسوانی میں اتنا مزہ کبھی نہیں آیا تھا

اب وہ اپنی زُبان میرے لنڈ کی ٹوپی کے چاروں طرف دورہ کے اسے چاٹ رہی تھی
نا جانے اس نے ایسی مہارت کہاں سے لے لی تھی ؟

سمیرہ کچھ دیر میرے لنڈ کی ٹوپی کو چُوستی رہی پِھر وہ اٹھی اور اپنی چارپائی پہ جا کے لیٹ گئی
سمیرہ : آؤ نا فیضی . . چودو مجھے . . . اپنا لنڈ ڈالو میری پُھدی میں


اس کے الفاظ نے میرا جوش اور بھی بڑھا دیا

میں جلدہی سے چارپائی پہ چڑھ کے اس کی تھائی کے بیچ آیا

اپنے لنڈ اس کی پُھدی کے سوراخ پہ رکھ کے 1 ہی ڈھکے میں

اس کی پھیدی میں اُتَر دیا

سمیرہ : آاہہح . . . . اُف . . . . . . ووہہ

میں پوری طاقت سے لنڈ سمیرہ کی پُھدی سے اندر باہر کر

رہا تھا

سمیرہ : ہاں . . . آں . . . ہاں . . . تیز . . . تیز . . . اُوں

وہ ہر ڈھکے کے ساتھ اپنی گانڈ اُوپر اٹھا رہی تھی سمیرہ کی پُھدی کافی ٹائیٹ تھی

اور میں نے تب گھور کیا کے اس کے نپلز بھی پہلے سے بڑے ہوگئ ہوں
لنڈ اندر باہر کرتی ہوئے میں اس کے نپلز کو مسلنے لگا سمیرہ : سسیی . . . تمہارا لنڈ . . . چودو . . مجھے . . . میری پُھدی . . .
میں 1 لمحے کے لیے رکا اور اس کی ٹینجن اپنے کندھوں پہ رکھ کے اس کے اُوپر جھکا جس سے اس کا جِسَم تقریباً دوہرا ہو گیا

اب میں اور بھی زوردار دحاکون سے سایماین کو چھوڑ رہا تھا کمرے میں اس کی سسکیاں . . . چارپائی کی آوازیں اور دحاکون کی ٹھپ ٹھپ گونج رہی تھی

کچھ منٹ بعد اس کا جِسَم اکارنی لگا سمیرہ : اییییی . . . . آاہہہہہہہ اور اس کی پُھدی نے پانی چھوڑ دیا

میں نے بھی اپنا لنڈ باہر نکالا تو پانی کی پیچکاریان اس کے پیٹ تک گئی


اور کے ساتھ لیٹ کے حاامپتا ہوا میں سوچ رہا تھا کے اِس سے پوچھو گا ضرور کے یہ اتنی چینج کیسے ہوگئے ہے اتنا تجربہ کہاں سے آیا ؟


" بوا آپ لوگ بہت کچھ چھپاتے ہوں مجھ سے "

میں بوا کی لیپ میں سر رکھ کے لیٹا ہوا تھا اور بابا سامنے

بیٹھے تھے

بوا : کیا مطلب ؟

میں : کوئی تو ہے جس سے آپ کو خطرہ ہے کے مجھے نقصان پہنچائے گا
بوا : تجھے کس نے کہا یہ ؟ میں : میں بچا نہیں ہوں بوا بابا : ہمارے لیے تو بچا ہی ہے نا میں : آپ لوگ بتائیں مجھے بابا : ایسی کوئی بات ہی نہیں ہے

بوا : تو ہمارا اکیلا اکیلا پتر ہے تو تیری فکر ہمیں زیادہ ہی ہو گی
بابا : جب تک میں زندہ ہوں کوئی تیری طرف میلی آنکھ سے دیکھے تو سہی

میں : آپ ہر وقت تو میرے ساتھ نہیں ہوتے بابا . . میں صرف اسلئے

کہہ رہا ہوں کے مجھے پتہ ہونا چاہیے تا کے میں بھی ان لوگوں

سے ہوشیار رہوں

بابا اٹھ کھڑے ہوئے


بابا : جب تک میرے پس ثبوت نہیں ہوتا میں کسی کا نم نہیں لیتا چاہے کوئی بھی معاملا ہو . . صرف شک کی بنا پر میں کچھ نہیں کرتا

بابا کی آواز میں سختی تھی بہت

میں : اِس کا مطلب کے کوئی ہے جس سے مجھے خطرہ ہے بابا : کوئی نہیں ہے

یہ کہہ کے بابا دیرا پر چلے گئے بوا : نا بے حس کیا کر اپنے بابا کے ساتھ میں : میں نے کب کی بے حس ؟ 1 بات پوچھی تھی بس

بوا : کچھ باتیں وقت خود ہی ظاہر کر دیتا ہے پتر . . ہم تجھ سے اتنا پیار کرتی ہوں کے ہمیں تو ہر کوئی تیرا دشمن لگتا ہے

بوا ہنستے ہوئے بولی

" خلا "

میں نے آواز کی سمت دیکھا تو یہ کنیز تھی

مجھے وہاں دیکھ کے وہ اپنے دوپاتتی سے چہرہ چھپا چکی تھی
میں اٹھ کے باہر اگیا

گلی میں اس وقت کوئی نہیں تھا

کافی دیر بعد وہ باہر نکلی تو میں نے اسے پکارا میں : سنو
وہ ٹھٹھک کے رک گئی اور میری طرف دیکھا میں : مجھ سے دوستی کرو گی ؟
وہ کچھ لمحے اپنی نیلی آنکھوں سے مجھے دیکھتی رہی پِھر سر جھکا کے چلی گئی


اور میں اپنے آپ کو گلیاں دیتا اندر اگیا کے کہیں وہ شکایت ہی نا لگا دے


" کچھ کرو گی بھی یا نہیں ؟ اتنے دن ہوگئ ہوں "

میں نے كوكب سے نائلہ کا پوچھا

كوكب : جی کر رہی ہوں

میں : کیا کر رہی ہو ؟

كوكب : آپ کی باتیں کرتی ہوں جی بہانے بہانے میں : مجھے نمبر لا کے دے اس کا موبائل

كوكب : اچھا جی لے دیتی ہوں . . ویسی جی پہلے وہ اتنی دلچسپی

نہیں لیتی تھی آپ کی باتوں میں اب لینے لگی ہے . . . آج جلد بازی میں

کم خراب نا کر لینا

میں : اچھا ٹھیک ہے

میں نے اسے کچھ اور پیسے دے دیئے

" خلا کہاں ہوں ؟ "

کنیز کی آواز پہ میں نے سر اتاہ کے دیکھا اور حسب معمول اس کا چہرہ چھپا ہوا تھا میں : بوا سو رہی ہوں

میں ٹی وی پہ سونگس دیکھ رہا تھا

اس کی 1 نظر ٹی وی پر جا کے دوسری نظر مجھ پہ آ رہی تھی میں : تم نے میری بات کا جواب نہیں دیا کنیز : کونسی بات


میں : دوستی والی

کنیز : خلا کب اٹھیں گی ؟

میں : جب وہ اٹھیں گی تب جواب دو گی ؟

کنیز : تم کیوں ٹنگ کرتی ہو مجھے ؟

مجھے اس کی آواز میں تھوڑے غصہ محسوس ہو رہا تھا میں : میں نے صرف 1 بات پوچھی ہے . . . دوستی کرو گی یا نہیں . . . کرنی ہے تو بتا دو . . نہیں بھی کرنی تب بھی بتا دو میں تمہیں بعد میں کبھی ٹنگ نہیں کرو گے یہ میرا وعدہ ہے

جواب میں وہ خاموشی سے مڑی اور باہر چلی گئی " نہیں تو نا سائی "

میں نے دِل میں کہا اور ٹی وی دیکھنے لگا

" پتر تو ابھی بھی نہر پہ جاتا ہے روز " بابا نے مجھے دیرا پہ بلایا تھا میں : جی بابا

بابا : تھوڑا مہتات رہا کر

میں : بابا اس بات کو اتنے مہینے ہوگئ ہوں . . دوبارہ وہ نہیں آئے

بابا : پِھر بھی پتر

میں : آج مجھے 1 گن لے دیں . . پِھر میں دیکھتا ہوں کے . . .

بابا : فیضی

بابا کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا تھا میں : وہ . . میرا مطلب ہے . . .

مجھے آج سے پہلے بابا سے دَر نہیں لگا تھا


بابا : تو افضل اور اکرم جیسا بن ’ نا چاہتا ہے ؟ میں تجھے

اسلئے پڑھا لکھا رہا ہوں ؟

میں : نہیں بابا وہ . .

مجھ سے بات بھی نہیں ہو رہی تھی اور آنکھوں میں آنسو آگے تھے

اور میرے آنسو دیکھ کے بابا فوراً اٹھے بابا : دیکھ پتر . . .
لیکن میں نے ان کی بات نا پوری ہونے دی اور تیز تیز وہاں سے نکل آیا

گھر آ کے میں بوا کی لیپ میں سر رکھ کے لیٹ گیا بوا : کیا ہوا فیضی ؟
وہ بھی میرے آنسو دیکھ کے پریشان ہوگئے تھیں

میں : بابا بَدَل گئے ہوں

بوا : ہیں ؟

میں : آج سے پہلے انہوں نے کبھی مجھے ایسے نہیں دانتا . . . مجھے ایل جی رہا تھا کے مجھے ماریں گے بھی
آخری بات میں نے اپنے پس سے لگا لی تھی بوا : میں نہیں مانتی یہ بات
میں 1 جھٹکے سے اٹھا اور بوا کے بیڈ سے نیچے اُتَر گیا میں : جی بوا میں ہی جھوٹا ہوں

یہ کہہ کے میں اپنے کمرے میں اگیا

کچھ منٹ بعد ہی بابا اور بوا میرے کمرے میں تھے بابا : ناراض ہو گیا میرا پتر ؟ میں : نہیں


بابا : مجھے ایوین غصہ اگیا تھا پتر


وہ بازو میرے گرد لپیٹ کے مجھے ساتھ لگا کے بولے تو میرا غصہ بھی فوراً ٹھنڈا ہو گیا

بوا : تیرے بھلے کے لیے کہتے ہوں فیضی پتر . . . ویسی تیرا باپ

بھی . . .

میں : بوا

میں نے بوا کی بات کاٹی

میں : آپ ہوں میرے ماں باپ . . . کوئی اور نہیں . . میں آپ کا بیٹا ہوں بوا : ماں صدقے
میں : اور بابا میں آپ بیٹا ہوں اسلیے ڈرپوک نہیں ہوں بابا . . . میں افضل اور اکرم جیسا نہیں بن ’ نا چاہتا . . آپ کی خواہش ہے تو پڑھ رہا ہوں اور ہر سال اچھے نومبرون سے پس بھی ہوتا ہوں

بابا : ہاں میرا پتر سب سے لائق ہے بابا مسکرای
میں : اور آپ آئندہ مجھے دانتوں گے نہیں یہ بھی وعدہ کرو بابا : پکا وعدہ

حنا سے کال پہ کبھی کبر بات ہو جاتی تھی

حنا : کیسے ہو ؟

میں : ٹھیک . . تم ؟

حنا : لاہور کب آؤ گے ؟

میں : چحوتتیان ہونے والی ہوں . . بابا سے بات کرتا ہوں حنا : میں تمہیں بہت مس کرتی ہوں میں : میں بھی کرتا ہوں


اور یہ بھی جھوٹ ہے تھا تقریباً

پِھر میں نے اسے ٹنگ کرنی کا سوچا

میں : اچھا سنو

حنا : ہاں جی بولو

میں : جب میں مس کرتا ہوں نا تو میرا دِل کرتا ہے تم میرے پس

ہو اور . .

حنا : اور

میں : اور یہ میں تمہیں ڈھیر سارے کس کرو حنا : ہیں واقای ؟

میں اب کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گیا کیوں کے میں یہ ایکسپیکٹ نہیں کر رہا تھا کے وہ اتنی خوش ہوجائے گی
میں : ہاں نا . . اور میں نے صرف کس تھوڑی کرنی تھے

حنا : پِھر ؟

میں : سب کچھ

حنا : کاش میں تمھارے پس ہوتی فیضی . .

میں : اچھا ابھی میں کہیں جا رہا ہوں بعد میں بات کرتا ہوں حنا : اتنی جلدہی
میں : بوا بلا رہی ہوں میں بعد میں بات کرتا ہوں یہ کہہ کے میں نے کال کاٹ دی

اور کچھ دیر بعد میں دانی سے بات کر رہا تھا اور اسے

حنا والی ساری بات بتائیں

دانی : اچھا ؟

وہ ہنستے ہوئے بولی

میں : ہاں نا

دانی : تو کر لیتے فون سیکس

میں : تم سے کرو گا نا . . ابھی


دانی : پیریڈز

میں : یاار

دانی : اچھا نا . . لاہور کب آ رہی ہو ؟

اس نے بھی حنا والا سوال ہی پوچھا اور میں نے وہی جواب دیا جو حنا کو دیا تھا


میں گھر سے نکل رہا تھا اور کنیز اندر آ رہی تھی میں اسے اگنور کر کے پس سے گزر گیا " سنو "


میں اس کی آواز سن کے رک گیا اور مڑ کے اس کی طرف دیکھا کنیز : مجھے تمہاری دوستی قبول ہے
مجھے لگا کے نقاب کے پیچھے وہ مسکرا رہی ہے میں : اب اپنا چہرہ تو دکھا دو
اس نے ادھر اُدھر دیکھا اور گلی میں سے کوئی گزر رہا تھا
کنیز : کل سہی

وہ گاتے کے اندر چلی گئی

اور اس کی کل کافی دن بعد آئی

" تم آ رہی ہو یا نہیں ؟ "

میں نے سعدیہ سے پوچھا

سعدیہ : مشکل ہے آج تو

میں : ٹھیک ہے میں سمیرہ کو کال کرتا ہوں


سعدیہ : مطلب ؟

میں : میری سلاہ ہوگئے ہے اس سے . . تمھارے تو نخرے . . سعدیہ : کیا ؟ کب ؟

میں : یہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے

سعدیہ : تم بیتھاک کا دروازہ کھولو میں آتی ہوں 5 منٹ میں اور 5 منٹ بعد وہ بیتھاک میں میرے پس تھی سعدیہ : تم نے مجھ سے جھوٹ تو نہیں بولا نا میں : اعتبار نہیں ہے تو جاؤ


سعدیہ نے جواب میں مجھے ہگ کر لیا

میں اس کے چہرے کو ہاتھوں میں لے کے اس کے ہونٹ اور زُبان چُوسنے لگا
1 ہاتھ نیچے لے جا کے میں نے اس کے ممے کو دبایا میں : تمھارے ممے بڑے ہوگئ ہوں پہلے سے سعدیہ : دیکھ لو نا

اس نے بازو اُوپر کر دیئے اور میں نے اس کی قمیض اُتَر دی اور پِھر برا بھی
میں نے اسے نیچے کارپیٹ پہ ہی لٹا لیا اور اس کے ساتھ لیٹ کے

اس کے ممے مسلنے لگا

سعدیہ : سسیی . . .

پِھر اس کے نپل کو ہونٹوں میں لیتے ہوئے میں ہاتھ اس کی شلوار میں لے گیا
میری انگلیاں اس کی پُھدی کو ٹچ ہوئی تو اس نے اپنی تھائی کھول دی
سعدیہ کے نپلز کو بڑی بڑی چوستی ہوئے میں اس کی پُھدی

کو رب کر رہا تھا

سعدیہ : اُوں . . سسیی


میں نے اس کی شلوار گھٹنوں سے نیچے کر دی اور سعدیہ نے باقی خود ہی پاؤں سے نکل دی

پِھر میں سیدھا ہوا اور اپنے کپڑے بھی اُتَر دیئے اپنا لنڈ ہاتھ میں لے کے میں اس کے فیس کے پس لے گیا میں : منه کھولو

سعدیہ نے ہونٹ کھولے اور میں نے لنڈ اس کے منه میں ڈال دیا وہ سر آگے پیچھے کر کے میرے لنڈ کو چُوسنے لگی
میں اپنا فیس اس کی تھائی کے بیچ لے گیا اور زُبان اس کی پُھدی پہ پھیرنی لگا

سعدیہ کے جِسَم نے جھٹکا لیا اور وہ اور بھی جوش سے میرا لنڈ چُوسنے لگی
میں نے سعدیہ کی پُھدی کے لپس کو ہونٹوں میں لے کے چوستی

ہوئے باہر نکالا تو وہ تڑپنے ہی لگی

سعدیہ : اُف . . . . . اہہح . . . فیضی . . . ڈال دو اندر . . . اب . . . رہا نہیں جا

رہا

سعدیہ کو گھٹنوں کے بل کر کے اسے آگے جھکا کے میں اس کے

پیچھے آیا

سعدیہ : پیچھے ڈالو گے ؟

میں : نہیں

اپنا لنڈ ہاتھ میں پکڑ کے میں نے اس کی پُھدی کے سوراخ پہ

رکھ کے اندر کو دبایا

سعدیہ : ہائے . . . سیی . . .

جیسے جیسے میرا لنڈ اس کی پُھدی میں اترتا جا رہا تھا ویسی ویسی اس کی سسکیاں بڑھتی جا رہی تھیں
سعدیہ کی گانڈ کے ابحارون کو ہاتھوں میں بحینچتی ہوئے میں اپنا لنڈ اس کی پُھدی سے اندر باہر کرنی لگا


سعدیہ : آں . . . . اُوں . . .

سعدیہ کی پُھدی ابھی بھی ٹائیٹ ہی تھی . . . لگتا تھا کے پچھلے دیرح صالون میں وہ سمیرہ کے ساتھ ہی سب کرتی رہی ہے کبھی چدایا نہیں تھا اس نے

میں نے دحاکون میں تیزی کی اور بیتھاک میں ٹھپ ٹھپ کی

آوازیں جونجنی لگی

سعدیہ : آہ . . آہ . . . ہائے . . . اُف

سعدیہ کی گانڈ کے ابحرون کو کھولا تو میری نظر اس کے سوراخ پر پری

Share this post


Link to post

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...