Jump to content
URDU FUN CLUB
Mani1212

سسر اور بہو کی چدکیاں

Recommended Posts

آداب 

دوستو میرا نام مانی ہے اور میرا تعلق پنجاب کے ایک بڑے شہر سے ہے۔ سیکس کہانیوں کا میں پچھلے 20 سال سے خاموش قاری ہوں اور اس دوران میں نے بلامبالغہ ہزاروں کہانیاں مختلف جگہوں پر پڑھی ہوں گی آج ہمت کر کے پہلی مرتبہ ایک کہانی پیش کرنے جا رہا ہوں جس کا پلاٹ میری ایک انڈین سائٹ پر پڑھی کہانی سے ماخوذ ہے۔ امید ہے آپکو پسند آۓ گی۔ آپکے فیڈبیک کا انتظار رہے گا۔اب آتے ہیں کہانی کی طرف:

 

یہ جھنگ کے قریب چھوٹے سے قصبے شورکوٹ کے گاؤں میں مہندی کی تقریب کا منظر تھا۔ شادی کی تیاریاں اچانک روک دی گئیں تھیں۔ وجہ وہی دیہاتوں میں ہونے والے جھگڑے تھے جن کی وجہ صرف انا پرستی، ضد اور جہالت تھی۔ لڑکے کے باپ چوہدری سرور نے اپنے غصے سے آسمان سر پر اٹھایا ہؤا تھا کیونکہ اسکی ہونے والی بہو نے اپنے باپ اور باقی سب لوگوں کے سامنے چوہدری کے اپنے بیٹے کے مستقبل کے بارے میں کئے فیصلے پر اعتراض اٹھایا تھا۔

لیکن اس ساری چدکی کے بعد بات بحث و تکرار سے شروع ہو کر گالی گلوچ تک آ گئی تھی۔ چوہدری نے اپنے حاکموں والے سٹائل میں حکم سنا دیا تھا کہ وہ اپنے وارث کے لئے صرف 9 مہینے انتظار کرے گا۔ یہ حکم نامہ چوہدری نے دولہا اور دولہن دونوں کے خاندان اور سب مہمانوں کے سامنے صادر کیا تھا۔ دولہن رضیہ بھی سامنے ہی موجود تھی جس کو گاؤں کے رواج کے مطابق بولنے کی اجازت نہیں  تھی۔ لیکن رضیہ کے باپ نے اسے بہت نازوں سے پالا تھا اور اپنی زندگی کے فیصلے لینے کی پوری آزادی دی تھی ۔ جب اس دور میں گاؤں کے لڑکے تعلیم کو وقت کا زیاں سمجھتے تھے رضیہ کے باپ نے اسے اچھی تعلیم دلوائی یہاں تک کے وہ گرایجویشن کے لئے سرگودھا ہاسٹل میں بھی رہتی رہی تھی۔  اس وقت وہ اپنے گاؤں کی سب سے تعلیم یافتہ لڑکی تھی۔ 

 

رضیہ نے جب دیکھا کے کیسے اسکا ہونے والا سسر اسکے بارے میں کسی استعمال ہونے والی چیز کی طرح حکم جاری کر رہا ہے تو بے عزتی اور غصے کے احساس سے اسکا گندمی رنگ لال سرخ ہو گیا۔ وہ ایک دم اپنی جگہہ سے اٹھی اور اپنے سسر کی آنکھوں میں جھانکتے ہؤۓ بولی:" شادی کے بعد 5 سال تک میرا ماں بننے کا کوئی ارادہ نہیں۔ میں نوکری کروں گی اور میرا شوہر سجاد بھی۔ ہم اولاد سے پہلے اپنے پیروں پر کھڑے ہوں گے۔ اولاد کے بارے میں ہر فیصلہ میں اور میرا شوہر لیں گے"  ۔ یہ سب کہتے وقت رضیہ کا چہرہ غصے سے لال بھبھوکہ ہو رہا تھا اور اسکی سانسیں تیز تیز چل رہی تھی جس سے اس کے بڑے بڑے ممے اوپر نیچے ہو رہے تھے۔ اپنے دل کی بات سب کے سامنے دھڑلے سے بول کر رضیہ نے جب دیکھا تو سارے مجمعے کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔ 

پورے مجمعے کی نظریں اب چوہدری سرور پر تھی کہ اسکا ردعمل کیا ہوتا ہے۔ "او چھوکری!" تیری ہمت کیسے ہؤئی میرے بیٹے کا نام اپنی زبان سے لینے کی؟ تو ہوتی کون ہے یہ فیصلہ کرنے والی کہ میرے گھر میں کیا ہو گا؟ 

رضیہ نے بھی اونچی آواز میں جواب دیا، "پوچھو اپنے بیٹے سے، جب میرے پیچھے پیچھے پورے گاؤں میں دم ہلاتا پھرتا تھا، اسی نے کہا تھا کہ مجھے میرے نام سے بلایا کرو اور شادی کے بعد جو میں چاہوں گی وہی ہو گا" 

رضیہ کے باپ کو انداذہ ہو گیا تھا کہ بات بگڑتی جا رہی ہے اور اگر رضیہ اور چوہدری کو نہ سمجھایا تو معاملہ ہاتھ سے نکل جائے گا اور پورے پنڈ میں وہ کسی کو منہ دکھانے لائق نہیں بچے گا۔ رضیہ کے باپ نے چوہدری کے آگے ہاتھ جوڑے اور بولا،"چوہدری صاحب میری بیٹی ملازمت کرنا چاہتی ہے اور اگر ماں بن گئی تو یہ کیسے ملازمت کر سکے گی۔ لیکن اہک بار جب یہ آپکی بہو بن گئی  تو آپکا حکم ماننا اس پر فرض ہو گا پھر آپ اپنی چلا لینا". چوہدری کو اسکی بات میں چھپے پیغام کی سمجھ آ گئی تھی۔

 

لیکن حاکموں کی ہٹ دھرمی تو مشہور ہے اور چوہدری کے سامنے آج تک کسی نے اونچی آواز میں بات تک نہیں کی تھی۔ چوہدری بولا، "بحث کی کوئی ضرورت نہیں۔ کہیں تمہاری بیٹی میں کوئی نقص تو نہیں جسے تم چھپانے کی کوشش کر رہے ہو۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ ماں بننے کے قابل ہی نہ ہو؟ یا یہ عورت کی جگہ کھسرا ہو؟ 

 

چوہدری کے منہ سے یہ نکلنا تھا ک رضیہ کے برادری والے ایک ساتھ کھڑے ہو گئے اور ان کی آنکھوں سے غصہ صاف جھلکنے لگا۔ اور اس کے بعد وہ گالی گلوچ شروع ہوئی کہ الامان۔۔ یہ سب کنجرخانہ 2 گھنٹے جاری رہا جس کے بعد چوہدری غصے میں بھرا اپنے لوگوں کو لے کر اپنی حویلی چلا گیا اور رضیہ کے گھر والے اپنے گھر چلے گئے۔ 

رات کے 10 بجے تھے گاؤں کی زیادہ تر آبادی سو چکی تھی اور حویلی میں چوہدری اپنے بیٹے سجاد کے اوپر غصہ اتار رہا تھا جس کی عاشقی کہ قصے آج پورے پنڈ کی زبان پر تھے۔ اس زیادہ غصہ اس بات کا تھا کہ رضیہ کو اتنی ہمت اسی وجہ سے ہوئی تھی کیونکہ اسے پتہ تھا کہ سجاد اس کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ادھر رضیہ اپنے گھر کی چھت پر بیٹھی چوہدری کے اس سوال پر آگ بگولہ ہو رہی تھی جو چوہدری نے اسکے عورت ہونے پر اٹھائے تھے۔میں اس آدمی کو سبق سکھا کر رہوں گی رضیہ نے اپنے آپ سے کہا۔ لیکن بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے گا کون، پورے پنڈ میں کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ چوہدری کے سامنے کوئی سر بھی اٹھا سکے۔جو بھی کرنس ہے خود ہی کرنا پڑے گا۔ اور بدلہ تو ایسا ہو کہ چوہدری کو اسی عورت کے آگے سر جھکانا پڑے جس کے عورت ہونے پر اس شک ہؤا تھا۔

رات کے 12 بجے رضیہ نے چپکے سے گھر کا دروازہ کھولا اور اندھیرے میں چوہدری کی حویلی کی طرف چل پڑی۔ حویلی کے گیٹ پر چوکیداروں نے اسے روکا لیکن شناخت کے بعد پتہ چلنے پر کہ وہ حویلی کی ہونے والی بہو ہے اسے اندر جانے کی اجازت مل گئی۔ حویلی سے اندر آتے ہی بھت بڑا صحن تھا جس کی ایک طرف شیڈ میں 50 کے قریب بھینسیں بندھی تھیں اس سے تھوڑا آگے ایک بہت بڑا باغ تھا  جس میں آم کے ایک درخت کے نیچے چوہدری ایک کرسی پر بیٹھا حقہ پی رہا تھا اور اسکے کمی اور چیلے اینٹوں کے فرش پر نیچے بیٹھے تھے اور ان میں سے ایک چوہدری کی ٹانگیں دبا رہا تھا۔ انہوں نے رضیہ کو آتے دیکھا تو ایک دم سب کو چپ لگ گئی۔ رضیہ خاموشی سے چوہدری کی کرسی کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی اور کھنکھاری۔ کافی دور سے چل کر آنے اور اس ساری صورت حال کی ٹینشن کی وجہ سے رضیہ کا سانس چڑھا ہؤا تھا۔ کھنکھار کی آواز سن کر چوہدری نے اپنی سرخ سرخ آنکھیں کھولیں اور رضیہ کو اس وقت اور اس جگہ دیکھ کر حیران ہو گیا اور آنکھیں پھاڑ کر اسکی طرف دیکھنے لگا۔ مہندی کا پیلا جوڑا اس کے پسینے میں بھیگ کر اس کے جسم سے چپکا ہؤا تھا اور کرسی پر بیٹھے چوہدری کو نیچے سے اس کے تنے ہوئے پستان مغرور پہاڑوں کی طرح لگ رہے تھے۔ اوپر سے بلب کی پیلے رنگ کی روشنی رضیہ کو مزید قیامت بنا رہی تھی۔ اتنے میں چوہدری کو احساس ہوا کہ یہ کوئی عام لڑکی نہیں بلکہ اسکے بیٹے کی پسند اور شاید اسکی ہونے والی بہو ہے۔ چوہدری نے دیکھا کہ اس کے چیلے بھی آنکھیں پھاڑے رضیہ کو ہی دیکھ رہے تھے۔ وہ غرایا،"او مادرچودو دفع ہو جاؤ میری نظروں کے سامنے سے " اسکی غراہٹ سنتے ہی سب اپنے اپنے ٹھکانے کی طرف چل پڑے۔

 

"اب تم یہں کیا لینے آئی ہو" چوہدری نے پوچھا، اسے اندازہ تھا کہ شاید یہ لڑکی اپنی زبان درازی پر معافی مانگنے آئی ہے۔"

میں یہ کہنے آئی ہوں کہ آپ جیسی بڑی بڑی مونچھیں رکھنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپکے خاندان والے بڑے مرد ہیں، آپکو چاہیئے تھا کہ آپ میرے عورت ہونے پر سوال اٹھانے سے پہلے 10 دفعہ سوچتے" رضیہ طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوۓ بولی۔

 

رضیہ کا طنزیہ انداز اور اسکے الفاظ ایسے تھے کہ چوہدری کو لگا کہ اسکے کانوں میں سے دھواں نکلنے لگا ہے۔ بلب کی پیلی روشنی آم کے درخت کے پتوں سے چھن چھن کر رضیہ پر پڑ رہی تھی جس سے وہ کوئی غیرانسانی مخلوق لگ رہی تھی۔ اس پر اسکی آواز اور اسکے الفاظ سے چوہدری کی مردانگی کو شدید ٹھیس لگی تھی۔ چوہدری کے دماغ میں ایک ہی بات چل رہی تھی کہ اس لڑکی کو سبق سکھانا پڑے گا کہ مرد ہوتا کیا ہے۔ 

 

وہ غصے میں بھرا کرسی سے اٹھا اور شیر کی طرح رضیہ کی طرف بڑھا۔اسکے ہاتھ ایسے پھیلے ہوئے تھے جیسے اس کے منہ پر تھپڑ مار کر اس کا منہ توڑ دے گا۔

 

جاری ہے۔

 

 

Share this post


Link to post

اردو فن کلب کے پریمیم سیریز اور پریمیم ناولز اردو فن کلب فورم کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جو فورم کے پریمیم رائیٹرز کی محنت ہے اور صرف وقتی تفریح کے لیئے فورم پر آن لائن پڑھنے کے لیئے دستیاب ہیں ۔ ہمارا مقصد اسے صرف اسی ویب سائیٹ تک محدود رکھنا ہے۔ تاکہ یہ گناہ جاریہ نہ بنے ۔ اسے کسی بھی طرح سے کاپی یا ڈاؤن لوڈ کرنے یا کسی دوسرے دوست یا ممبر سے شیئر کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ۔ جو ممبران اسے اپنے دوستوں سے شئیر کر رہے ہیں ۔ ان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے ممبر سے بھی شئیر نہیں کر سکتے ۔ ورنہ ان کا مکمل اکاؤنٹ بین بھی ہو سکتا ہے۔ ڈیٹا شیئر کرنے والہ ممبراس بات کا عملی اقرار کرے گا کہ وہ بروز قیامت فورم انتظامیہ، سٹوری رائیٹر اور فورم ایڈمن کے تمام گناہوں کا اکلوتا وارث ہو گا ۔ اور بروز قیامت اپنی تمام نیکیاں (جو بھی اس کے نامہ اعمال میں ہوئیں ) بروز قیامت مجھے دینے کا پابند ہو گا۔ اگر کوئی ممبر اب بھی ایسا کرتا ہے اور گناہ جاریہ کا سبب بنتا ہے ۔ تو اس شرط کو ایگری کرتے ہوئے شیئر کر سکتا ہے ۔ فورم کو اس ایگری منٹ پر اجازت دینے میں کوئی اعتراض نہیں ۔ ایڈمن اردو فن کلب

On 12/7/2020 at 12:45 PM, ItsAli said:

Start looks Good...

Update

Thanx for appreciation

Share this post


Link to post

چوہدری کے بڑھتے ہوئے ہاتھ کو دیکھ کر پہلی مرتبہ رضیہ کو اس کے دراز قد، موٹے اور طاقتور بازو، چوڑے کندھوں اور اس کے گٹھے ہوئے جسم سے خوف محسوس ہؤا۔ اسے لگا جیسے وہ کسی پہاڑ کے سائے میں کھڑی اسکی چوٹی کی طرف دیکھ رہی ہے۔ اس کا جسم ایک دفعہ تو خوف سے کانپ سا گیا لیکن دوسرے لمحے اسے پھر اپنی بےعزتی یاد آئی اور اس نے سوچا اب تو جو ہو گا دیکھا جائے گا۔ اس نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں ایک مرتبہ پھر چوہدری کی آنکھوں میں گاڑ دیں اور ہموار آواز میں پورے اعتماد کے ساتھ بولی، "اب آپ مجھ پر ہاتھ اٹھا کر اپنی نامردی پر پردہ ڈالیں گے؟' رضیہ کے چہرے پر یہ کہتے ہوئے طنزیہ مسکراہٹ تھی جسے دیکھتے ہی چوہدری شیر کی طرح غرایا اور اس نے اپنے چوڑے چکلے پنجے میں رضیہ کی گردن دبوچ لی اور اسے دھکیلتا ہؤا پیچھے لے گیا یہاں تک کے ایک جھٹکے سے رضیہ کی پیٹھ آم کے پیڑ سے ٹکرائی۔ ادھر چوہدری نے جب رضیہ کی گردن پکڑی تو اسکی جلد کی نرمی اور گرمی نے اس کے اندر سوئی ہوس کو جگا دیا۔ یہ احساس آتے ہی چوہدری کی گرفت کمزور ہو گئی، اب اس نے صرف گلے پر اپنا مضبوط ہاتھ رکھا ہؤا تھا جس سے رضیہ کی کمر ابھی بھی درخت سے لگی تھی۔ چوہدری کی درندوں جیسی طاقت نے رضیہ کے اندر کا موسم بھی تبدیل کر دیا تھا۔ اسے اپنے گلے پر چوہدری کے کھردرے اور سخت ہاتھ سے اسکی مردانہ طاقت کا اچھے سے انداذہ ہو رہا تھا۔ 

 

درخت کے نیچے ملگجا سا اندھیرا تھا اور آم کے پتوں سے چھن چھن کر آتی روشنی بڑا پراسرار ماحول پیدا کر رہی تھی۔ جب دونوں کی آنکھیں اس اندھیرے میں دیکھنے کے قابل ہوئیں تو دونوں کے ہوش اڑ چکے تھے۔ ادھر رضیہ چوہدری کی آنکھوں میں ہوس کے سائے دیکھ کر سمجھ چکی تھی کہ وہ جہاں چوہدری کو لانا چاہ رہی تھی آخر وہ وہاں تک آ ہی گیا ہے۔ چوہدری کو بھی انداذہ ہو گیا تھا کہ وہ کتنی نازک صورت حال میں ہے۔ اسکی گرفت رضیہ کے گلے سے ختم ہو چکی تھی اب وہ اپنی انگلیوں سے بے خیالی میں رضیہ کی ٹھوڑی کو سہلا رہا تھا۔ 

"بول دکھاؤں تجھے اپنی مردانگی؟ اور تو بتا تو کیسے ثابت کرے گی کہ تو پوری عورت ہے" چوہدری دھیمی آواز میں بولا، اسکی آواز میں غصے کے علاوہ سب کچھ تھا۔ 

رضیہ نے چوہدری کی کلائی پکڑی اور اپنے گلے سے ہٹانے کی کوشش کی لیکن چوہدری کا ہاتھ ہٹانا اسکے بس کی بات نہیں تھی۔ رضیہ کے منہ سے جواب نکلا " میرے عورت ہونے کے ثبوت کے چکر میں تم اپنی مردانگی کی پول نہ کھلوا لینا"  یہ کہتے ہی رضیہ کو انداذہ ہو گیا کہ اس سے کتنی بڑی غلطی ہو گئی ہے۔ اتنا سننا تھا کہ چوہدری غصے میں اندھا ہو گیا ۔ اسکے ہاتھ نے رضیہ کے گریبان کی طرف حرکت کی اور ایک ہی جھٹکے میں چوہدری نے اسکا گریبان اسکے پیٹ تک پھاڑ دیا۔ گریبان پھٹتے ہی کالے برا میں قید اس کے خربوزے کے سائز کے ممے ایک جھٹکے سے آزاد ہوۓ۔ چوہدری نے اگلا حملہ اسکے برا پر کیا اور وہ بھی ایک ہی جھٹکے میں ٹوٹ کر چوہدری کے ہاتھ میں آ گیا۔ اس جھٹکے سے اسکے مموں نے اسکے سینے پر ایسے باؤنس لیا جیسے وہ پانی والے غبارے ہوں۔ چوہدری نے برا نیچے پھینک کر اوپر دیکھا تو اس کی نظر رضیہ کے خربوزوں پر پڑی۔ انکا رنگ اسکے  جسم کے گندمی رنگ سے زیادہ صاف تھا اور ان پر کسی بادشاہ کے تاج کے جیسے ہلکے براؤن رنگ کے گھیروں پر مٹر کے دانے کے سائز کے نپل تھے، رضیہ کے غصے کی وجہ سے اسکے کسے ہوئے ممے اوپر نیچے ہو رہے تھے۔ رضیہ نے چوہدری کی نظروں کو محسوس کرتے ہی فورن اپنے ہاتھ اپنے مموں پر رکھ کر انہیں چھپانے کی ناکام کوشش کی۔ چوہدری نے ہاتھ اسکی طرف بڑھاۓ تاکہ اسکے ہاتھوں کو ہٹا کر ان رس سے بھری مسمیوں کا نظارہ کر سکے لیکن اسی وقت رضیہ کا ایک ہاتھ تھپڑ کی صورت میں چوہدری کی طرف بڑھا۔ چوہدری سرور اس عمر میں بھی کسی چیتے کی طرح پھرتیلا تھا اس نے آدھے راستے میں ہی رضیہ کا ہاتھ اپنی مضبوط گرفت میں جکڑ لیا۔ رضیہ کا دوسرا ہاتھ کسی سپرنگ کی طرح اسکے مموں سے ہٹا اور چوہدری کی دھوتی کی طرف آیا اور اس دفعہ اس کے ہاتھ میں چوہدری کا نیم کھڑا لوڑا آ ہی گیا۔ جب سے چوہدری نے رضیہ کو دبوچا تھا اس کا لوڑا اس وقت سے لگاتار کھڑا تھا جیسے اسے کچھ ہونے کا انتظار ہو۔ لن کو گرفت میں لے کر رضیہ کو چوہدری کے مرد ہونے کا ثبوت مل چکا تھا۔ لمحوں میں خون نے چوہدری کے لوڑے کی طرف سفر کرکے اسے بھر کر پورا کھڑا کر دیا۔ بہت عرصے بعد کسی جوان خوبصورت لڑکی کے ہاتھ نے اس طرح چوہدری کے لن کو جکڑا تھا اور اسکے نرم ہاتھوں کی مضبوط گرفت نے چوہدری کو اس مزے کی یاد دلا دی جسے وہ بھول بیٹھا تھا۔

Share this post


Link to post

 

چوہدری نے ایک مرتبہ اپنے اردگرد نظر دوڑائی ، صحن میں کوئی نہیں تھا اور جس طرح وہ درخت کے سائے میں کھڑے تھے انکی طرف کوئی غور سے دیکھتا تو ہی اسکی نظر ان پر پڑتی۔ گھوم پھر کر چوہدری کی نظر واپس آ کر رضیہ کے بھرے بھرے مموں پر جم گئی جو رضیہ کے سانسوں کے ساتھ اوپر نیچے ہو رہے تھے۔ رضیہ کی گرفت چوہدری کے لن پر کمزور ہوئی تو اسے لگا جیسے چوہدری کا لن جھٹکا کھا کر مزید بڑا ہو گیا ہے یہ محسوس کرتے ہی اس نے غیرارادی طور پر چوہدری کے لن کو دوبارہ دبایا جس سے چوہدری کے منہ سے مزے کی وجہ سے سسکی نکل گئی اور اس نے اپنی گانڈ کو آگے کی طرف حرکت دی۔ لڑکی نے اپنے ہاتھ کی طرف دیکھا جس میں اس نے چوہدری کا لن پکڑا ہوا تھا۔ اسکے ہاتھ میں چوہدری کی دھوتی کا کپڑا تھا جس سے چوہدری کا جناتی لوڑا باہر آنے کے لئے مچل رہا تھا۔ اس ساری صورت حال سے اس کی چھوٹی سی چوت نے بھی رس بہانا شروع کر دیا تھا۔ رضیہ نے گھبرا کر لن کو چھوڑا اور دونوں ہاتھ اپنے پیچھے درخت کے تنے پر رکھ کر نظریں جھکا لیں۔ اسکے ہاتھ پیچھے رکھ کر کھڑے ہونے سے اس کے ممے اور اکڑ کر اسکے سینے پر کھڑے ہو گئے جس سے چوہدری کا حلق خشک ہو گیا اور اسکے پورے جسم میں چیونٹیاں سی دوڑنے لگیں۔ 

 

رضیہ نے اپنی نظر اٹھا کر چوہدری کی طرف دیکھا جس کی شہوت سے بھری نظریں رضیہ کی آنکھوں میں ہی دیکھ رہی تھیں۔ پھر چوہدری نے اپنی نظر ایک مرتبہ پھر  اسکے مموں کی طرف دوڑائی۔ چوہدری کی آنکھوں میں اسے چودنے کی خواہش اتنی واضح تھی کے اسکی آنکھیں شرم سے جھک گئی اور اسکا حلق خشک ہو گیا۔ 

چوہدری کا ہاتھ نرمی سے اسکے دائیں ممے پر جم گیا اور اس نے نیچے ہاتھ لے جا کر اسکا دایاں مما ایسے اٹھایا جیسے اسکا وزن کر رہا ہو۔ رضیہ کے ہونٹ چوہدری کے مردانہ ہاتھوں کا لمس اپنے مموں پر محسوس کر کے اپنے آپ کھل گئے تھے اور اسکا جسم دھیرے دھیرے کانپ رہا تھا۔ اس نے مزید طاقت سے درخت کے تنے کو پکڑ لیا جس سے اسکی ننگی چھاتیاں اور باہر کو ابھر آئیں۔ اور اسے انداذہ ہوگیا کہ اب صورت حال ہاتھ سے نکل چکی ہے۔ 

 

چوہدری نے سخت اور کھردرے ہاتھوں سے رضیہ کے مموں کو دبایا اور اپنے انگوٹھے سے اسکے نپل کو مسلتے ہوئے سرگوشی میں بولا،" تو ہی ہے وہ لڑکی جس سے میرا بیٹا شادی کرنا چاہتا ہے؟" رضیہ نے ہاں میں اپنے سر کو اوپر نیچے ہلایا۔ رضیہ کو احساس ہوا کہ شاید اسکا ہونے والا سسر اس سارے معاملے کو آگے لے جانا چاہتا ہے تو اسکے ہاتھ دوبارہ چوہدری کی دھوتی کی طرف بڑھے۔ اس دفعہ رضیہ نے دھوتی کے کھلے حصے سے اپنا ہاتھ چوہدری کی  بائیں ران پر رکھا اور آہستگی سے اوپر کی طرف حرکت دیتے وقت چوہدری کا لوڑا پکڑ لیا۔ جس طرح وہ کھڑی تھی چوہدری کا لن صحیح طرح اسکے ہاتھ میں نہیں آ رہا تھا تو اس نے اپنی کلائی کی پوزیشن تبدیل کی اور ہتھیلی کا رخ اوپر کی طرف کر کے چوہدری کے لن کو ایسے گرفت میں لیا جیسے کرکٹ کھیلتے وقت بیٹسمین بیٹ کو پکڑتا ہے۔ اسکی انگلیاں چوہدری کے ٹٹوں کو چھو رہی تھیں، ہتھیلی میں لن تھا جس کا ٹوپا اس کی کلائی تک آ رہا تھا۔ "تو اسے تم اپنے خاندان کی مردانگی کا ثبوت کہہ رہے تھے؟" رضیہ نے سرگوشی میں جواب دیا۔ اس نے اپنا انگوٹھا ٹٹوں سے ہٹا کر لوڑے کی لمبائی پر پھیرا اور اسے لن کی پوری لمبائی پر رگڑتی ہوئی ٹوپے پر لے آئی جو مزی کے قطروں سے گیلا ہو رہا تھا، ایک دفعہ تو چوہدری کانپ سا گیا۔ غیر ارادی طور پر اسکی گرفت رضیہ کے مموں پر اور سخت ہوئی اور اس نے زور سے انہیں دبایا اور اسکے اکڑے ہوئے نپل کو مسل دیا جس سے درد کی وجہ سے رضیہ کراہی لیکن اس درد میں ایک عجیب طرح کا مزا بھی شامل تھا۔ رضیہ نے اپنے ہاتھ چوہدری کے لن پر ایسے چلائے جیسے مٹھ لگا رہی ہو۔ چوہدری نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اسکے ممے دبائے اور پھر اپنے ہاتھ اسکی موٹی گانڈ کی طرف لے گیا، اس نے اسکی گوشت سے بھرپور گانڈ کو دبایا اور اپنی ایک انگلی کو اسکی گانڈ کی دراڑ میں پھنسا دیا۔ رضیہ اپنا وزن کبھی ایک ٹانگ پر ڈال رہی تھی اور کبھی دوسری ٹانگ پر اور اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کرے۔ 

 

"بابا" وہ بہت دھیمی آواز میں بولی جیسے اس نے چوہدری کی مردانگی کے آگے ہار مان لی ہو۔ یہ پہلی دفعہ تھا کہ اس نے اپنے ہونے والے سسر کو "بابا" کہہ کے پکارا تھا۔ چوہدری اسکے اوپر جھکا ہؤا تھا اور اپنی گانڈ ہلا کر مٹھ لگانے میں اسکا ساتھ دے رہا تھا۔ اس نے رضیہ کی شلوار نیچے کر دی تھی اور اس کی بےداغ موٹی گانڈ پر اپنے سخت کھردرے ہاتھ پھیر رہا تھا، ہاتھ پھیرتے پھیرتے اس نے رضیہ کی گانڈ کی دونوں پھاڑیوں کو اپنی مٹھیوں میں دبوچا اور اسے ایسے اوپر اٹھایا جیسے یہ دیکھ رہا ہو کہ وہ اسے اٹھا سکتا ہے یا نہیں۔ چوہدری کہ اسے ایسے اٹھانے سے اسکی سانسوں کے غبارے چوہدری کے سینے کے ساتھ لگ کر پچک سے گئے تھے۔

Share this post


Link to post
3 hours ago, gafzali said:

Bahtareen Update. Keep It Up Mani1212 Boss

شکریہ بھائی۔ 

Share this post


Link to post

 

"بابا" وہ بہت دھیمی آواز میں بولی جیسے اس نے چوہدری کی مردانگی کے آگے ہار مان لی ہو۔ یہ پہلی دفعہ تھا کہ اس نے اپنے ہونے والے سسر کو "بابا" کہہ کے پکارا تھا۔ چوہدری اسکے اوپر جھکا ہؤا تھا اور اپنی گانڈ ہلا کر مٹھ لگانے میں اسکا ساتھ دے رہا تھا۔ اس نے رضیہ کی شلوار نیچے کر دی تھی اور اس کی بےداغ موٹی گانڈ پر اپنے سخت کھردرے ہاتھ پھیر رہا تھا، ہاتھ پھیرتے پھیرتے اس نے رضیہ کی گانڈ کی دونوں پھاڑیوں کو اپنی مٹھیوں میں دبوچا اور اسے ایسے اوپر اٹھایا جیسے یہ دیکھ رہا ہو کہ وہ اسے اٹھا سکتا ہے یا نہیں۔ چوہدری کہ اسے ایسے اٹھانے سے اسکی سانسوں کے غبارے چوہدری کے سینے کے ساتھ لگ کر پچک سے گئے تھے، چوہدری نے اسے تھوڑا مزید اٹھایا جس کی وجہ سے اب چوہدری کا اپنی ہی مزی سے گیلا لوڑا رضیہ کی رس ٹپکاتی پھدی سے رگڑ کھانے لگا۔ دوسری طرف رضیہ نے اپنی نازک بانہیں چوہدری کی گردن میں ڈالیں اور اس سے پوری طاقت سے چمٹ گئی۔ چوہدری آہستہ آہستہ اپنا لوڑا رضیہ کی رسیلی پھدی پر رگڑ رہا تھا۔ ادھر رضیہ کو ڈر بھی لگ رہا تھا کہ اگر چوہدری نے اپنا جن اسکی نازک چوت میں ڈال دیا تو اس پھدا بنا کے ہی نکلے گا۔ وہ سسکی اور کراہی اور اس کے ساتھ ہی اس نے اپنی ٹانگیں اور کھول دیں ۔ چوہدری نے اسے سختی سے اپنی گود میں جکڑ کر اٹھایا ہؤا تھا اور اس کی ان چھوئی چوت پر اپنا لوڑا رگڑ رہا تھا۔ اس نے اچانک رضیہ کو پکڑ کر جھنجھوڑا جس سے ٹوپے کے بہت معمولی سے حصے نے جیسے چوت کے اندر گھسے بغیر کھدائی کی ہو، چوہدری اندر ڈالتے ہؤۓ ہچکچا بھی رہا تھا کیونکہ یہ لڑکی اسکی بہو بننے جا رہی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کرے اور اگر وہ رضیہ کو چودتا ہے تو رضیہ کا ردعمل کیا ہو گا کہیں وہ اسکی برسوں میں بنائی عزت کو برباد نہ کر دے۔ ادھر رضیہ کو مزہ تو آ رہا تھا لیکن وہ بھی اپنے ہونے والے سسر سے اپنی چوت پھڑواتے ہوئے شش و پنج کا شکار تھی۔ کہیں اسکا سسر اسے چودنے کے بعد چدکڑ سمجھ کر شادی سے انکار نہ کر دے۔ اس لئے اگر وہ چود دے تو اور بات لیکن اسے یہ پتا نہیں لگنا چاہیے کہ وہ اپنے سسر کا لن لینے کے لئے کتنی بے چین ہو رہی ہے۔

 

"بابا؟" رضیہ دھیمی آواز میں بولی۔ 

 

"اب ھم کیا کریں بیٹی؟" چوہدری نے ایسے پکارا جیسے ایک سسر کو اپنی بہو کو پکارنا چاہئے۔

 

"مجھے چھوڑ دیں بابا" رضیہ اپنے بازؤوں کے بل پر مزید اوپر ہؤئی اور چوہدری کے کان میں بولی۔ 

 

"اور تیرا ہماری مردانگی کو لے کر جو سوال تھا اسکا کیا؟" چوہدری نے پوچھا۔

 

"مجھے جواب مل گیا ہے کہ آپ کتنے مرد ہیں اور میرے خیال میں آپکو بھی میرے عورت ہونے کے بارے میں کئے سوال کا جواب مل گیا ہو گا"

 

"اس سچویشن میں کس طرح ایک مرد اور عورت اپنے آپ کو کنٹرول کر سکتے ہیں" چوہدری اپنے ہونٹوں سے رضیہ کے نپل چھو کر بولا۔ اس نے اپنی مونچھوں سے رضیہ کے گول مٹول مموں کی سفید جلد کو رگڑا اور اپنے ہونٹوں سے اسکے مٹر کے دانے کو چھیڑا۔ 

 

" جس طرح ایک سسر اور بہو کو کنٹرول کرنا چاہئیے بابا" رضیہ نے چوہدری کے کھڑے لن کو اپنی موٹی رانوں کے بیچ دبا کر جواب دیا۔ 

 

"کیا مجھے اپنے بیٹے کی شادی تم سے ہونے دینی چاہئیے؟" چوہدری اس کے خربوزوں پر زبان پھیرتا ہوا بولا۔ اسکی زبان اب رضیہ کے دونوں مموں اور دونوں نپلز کو لگاتار نشانہ بنا رہی تھی اور چوہدری کے تھوک سے بلب کی پیلی روشنی میں اسکے ممے چمک رہے تھے۔ چوہدری کو ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ پوری طرح پکے ہوئے اور شہد کی طرح میٹھے آم چوس رہا ہے۔

 

رضیہ کی نظر اپنے ممے چوستے چوہدری پر پڑی تو اسے لگا جیسے اسکے نپلز سے کرنٹ نکل کر اسکی رس چھوڑتی چوت کی طرف جا رہا ہے۔ لیکن ابھی بھی چوہدری کے سوال کا جواب باقی تھا۔ رضیہ نے ایک لمحہ سوچ کر جواب اپنی چوت سے دینے کا فیصلہ کیا۔ 

Share this post


Link to post

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×
×
  • Create New...