Jump to content
URDU FUN CLUB
AMD 4 U

الفا ۔۔ اے ایم ڈی

Recommended Posts

# الفا (۱) پہلا حصّہ .... 

 صدیقی  صاحب غصے سے اگ بگولا تھے ۔۔ جس کی  وجہ سے میٹنگ حال میں ایک مکمل بے نام سی خاموشی کا سایہ چھایا ہوا تھا ۔۔ سب آفیسرز کے سانسیں روکی تھی ۔۔ مجال کسی میں بولنے کی ہمت ہو   

کرنل صدیقی : اتنی ہمت ان بگھروں میں کہ پاکستان آرمی پے اُنگلیاں اٹھائیں گے۔

۔۔ مجھے انہیں انکی اوکات یاد دلانی ہے ۔۔ سمجھ رہے ہیں آپ مسٹر جنید ۔۔ آپ اپنی پوری قابلیت پوری طاقت استعمال کریں جو چاہیں کریں مجھے صرف نتیجہ میرے پاکستان کے حق میں چاہیے ۔۔ پاکستان پر  حملہ تو دور ایسا سوچیں بھی تو کانپ جائیں ۔۔  ہمارے ملک میں آ کر ہمارے ایجنٹس کو شہید کیا ہے انہوں نے ۔۔ نکالو سالوں کو باہر بل سے ۔۔ آپکے پاس ایک مہینہ ہے  جنید صاحب ۔۔ ۔۔ 

جنید : سر آپ بے فکر ہو جائیں٬  اب ہم انکے ساتھ ایسا کریں گۓ کہ یہ پانی تک نہیں مانگیں گۓ ۔۔ موت بھی کانپ جائے گی ان کا حال دیکھ کر ۔۔   

صدیقی صاحب :  ایک مہینہ ہے  آپ کے پاس  ۔۔ اور کمرے سے باہر نکل گئے ۔۔ 

جنید ۔۔ : سوچوں میں کھوئے ہوئے کُرسی پر بیٹھ گئے  ۔ گزشتہ 5 دونوں میں پاکستان آرمی کے 3 ایجنٹس کی پراسرار موت یقیناً پریشان کُن تھی  ۔۔  لاہور ٬ ملتان  ان کا مین ٹارگٹ تھا ۔۔ ۔  جنید نے سیل فون اٹھا کر اپنے پرسنل نمبر سے کال کی ۔۔ 

ہیلو الفا : اٹس کرنل جنید جیلانی  : جتنی جلدی ہو واپس ا کر مجھ سے ملو ۔۔ ۔۔ 

:__________________________________________

الفااگر آپ نے 1800 میٹر سے نشانہ لگا لیا تو آپکو میری طرف سے  ایک تحفہ جو آپ مانگیں ۔۔ 

الفا مسکرایا : محترمہ اسی شرطیں نہ لگایا کریں جو خون کی رفتار 100 گنا زیادہ کر دیتی ہیں ۔۔ بعد میں مکرنے بھی نہیں دیا جائے گا سوچ لیں کیا اب بھی یہی شرط ہے ۔۔ الفا کی آنکھیں حسینوں سے مخاطب ہوتے ہوئے اُنہیں سمجھاتی رہتی تھی ٬ " آنکھیں ملیں گی تو دل ملیں گئے "  

 شائستہ حسی دکھیں گۓ پہلے نشانہ تو لگائیں ۔۔ 

الفا کی آنکھیں شائستہ سے  ہٹنے کی دیر تھی ۔۔  کانوں میں   برت M107 کی  آواز گونجی جو 1200 میٹر پر پڑے شیشے کے دو ٹکڑے کر چکی تھی ۔۔ 

الفا نے شائستہ کی طرف دیکھا ٬٬ وہ ہنس رہی تھی ۔۔ ویسے نشانے باز تُو بہت اچھے ہیں آپ ۔۔ الفا : ہم تو شکاری ہیں محترمہ ٬ چاہے دل ہو یا انسان ... 

شائستہ : مانگیں کیا چاہئے آپکو ؟ 

الفا : کسی لڑکی کی بہکتی جوانی اور آنکھوں کا مفہوم خوب سمجھتا تھا ٬ جو اپنے جیسا صنم ڈھونڈ رہی ہو ۔۔ " شائستہ جی ٬ اک پیاسے کو ٬ دریا کنارے کس جیز کی طلب ہو سکتی ہے ؟ 

شائستہ : .. مسکرائی ٬ تو محترم پیاسے ہیں ۔۔ 

الفا : اس دوران وہ گن کی  میگزین علیحدہ  کر کے اسے اپنے سنائپر بگ میں رکھ چکا تھا ۔ رائفل کو کندھے پر رکھ کر شائستہ کی طرف بڑھا ۔۔  اس دنیا میں ہر کسی کو کسی جیز کی پیاس ہے ٬ کوئی طاقت کا پیاسا ہے تو کوئی پیسے کا پیاسا ہے ٬ اور کوئی محبوب کی نظر شفقت کا پیاسا ہے یقیناً  اس گفتگو  میں الفا کی ماری گئی آنکھ  شائستہ کے جذبات کو اگ دی گئی تھی ۔۔  الفا شائستہ کے قریب اسکے گالوں کو چھوتا اسکے کان تک پُہنچ چکا تھا" میرا ماننا ہے اگر ایسے وقت پر  دل کی سنی جائے تو 

الفا : چلتے ہوئے کار تک پُہنچا ٬ کُچھ دیر بعد کار اسلام آباد کی سڑکوں پر گھوم رہی تھی ٬ الفا کی زبانی ٬.....

گاڑی سینٹرل کمیونیٹی کی پارکنگ میں پارک کر کے شائستہ اور میں لفٹ کی مدد سے روم تک پونچھ چُکے تھے ٬٬٬ ۔ روم کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر شائستہ کو لوکر کارڈ پکڑایا ٬ کہ وہ ایسے خود کھولے . آنکھیں میلی تھی دروازہ بھی کھول دیا گیا تھا ...۔  شائستہ ایک 27 سال کی مکمل لڑکی تھی اسکے جسم کے خدوخال اندھے کو بھی آخری حد کی ہیجانی کیفیت میں ڈال سکتے تھے ۔۔ رنگ گورا جیسے ہاتھ لگائیں گئے تو میلی ہو جائے گی ۔۔ سینے کے ابھار باہر آنے کو ترستے ہوں جیسے ٬ اُسکی کمر اور چال ڈھال ایک حُسن پرست کے جذبات کو اگ دینے کے لیے کافی تھے ۔۔ آواز کی تھوڑی پتلی پیچ  تھی پر مزاج کو بھاتی تھی    مطلب شائستہ اک بند بوتل شراب تھی جو چھلکنے کو بیتاب تھی۔۔  

اسلام آباد کا موسم انتہای دل نشین تھا ۔۔ سردیوں کی شام اوپر سے سے حسین صنم مطلب ستم بلائے ستم ۔۔ شائستہ چلتے ہوئے سامنے ونڈو کے پاس کھڑی ہو کر باہر حسین موسم سے آنکھیں لڑا رہی تھی ۔۔ میں بے باکی سے چلتا ہوا شائستہ کو پیچھے سے آہستہ سے بانہوں میں لے کر اسکے بالوں کی خوشبو اپنے اندر اُتار رہا تھا ۔۔ اسکے کانوں میں آہستہ سے کہا " 

اج اتنی شدت سے چاہنے کا دل ہے ۔۔ 

تیرا ہر آنگ میری چاہت  کا گواہ ہو۔ 

تیرے ہونٹوں کے تبسم کے صدقے ۔

ان پے ور میرے ہونٹوں کا انتہا ہو ۔۔ 

تیرے دودھیا ابھار جو ترسے ہیں ازل سے ۔ 

 میرے ہونٹوں  کی تپش سے پگھلنے کو ہوں۔

تیری بہکتی جوانی اور ستم یہ سما ۔۔ 

 چل آج آغوش یار میں جنت کی سیر ہو  ۔

 

جاری ھے۔۔۔ 

آپ سب کی محبتوں آور ناراضگیاں  سب سہنے كو تیار ھیں ھم  آپ بس اپنی رائے دے دیجئے گا سب۔۔ 

یار زندہ۔۔

صحبت باقی

Share this post


Link to post

اردو فن کلب کے پریمیم سیریز اور پریمیم ناولز اردو فن کلب فورم کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جو فورم کے پریمیم رائیٹرز کی محنت ہے اور صرف وقتی تفریح کے لیئے فورم پر آن لائن پڑھنے کے لیئے دستیاب ہیں ۔ ہمارا مقصد اسے صرف اسی ویب سائیٹ تک محدود رکھنا ہے۔ تاکہ یہ گناہ جاریہ نہ بنے ۔ اسے کسی بھی طرح سے کاپی یا ڈاؤن لوڈ کرنے یا کسی دوسرے دوست یا ممبر سے شیئر کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ۔ جو ممبران اسے اپنے دوستوں سے شئیر کر رہے ہیں ۔ ان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے ممبر سے بھی شئیر نہیں کر سکتے ۔ ورنہ ان کا مکمل اکاؤنٹ بین بھی ہو سکتا ہے۔ ڈیٹا شیئر کرنے والہ ممبراس بات کا عملی اقرار کرے گا کہ وہ بروز قیامت فورم انتظامیہ، سٹوری رائیٹر اور فورم ایڈمن کے تمام گناہوں کا اکلوتا وارث ہو گا ۔ اور بروز قیامت اپنی تمام نیکیاں (جو بھی اس کے نامہ اعمال میں ہوئیں ) بروز قیامت مجھے دینے کا پابند ہو گا۔ اگر کوئی ممبر اب بھی ایسا کرتا ہے اور گناہ جاریہ کا سبب بنتا ہے ۔ تو اس شرط کو ایگری کرتے ہوئے شیئر کر سکتا ہے ۔ فورم کو اس ایگری منٹ پر اجازت دینے میں کوئی اعتراض نہیں ۔ ایڈمن اردو فن کلب

الفا۔       

شائستہ کا کان کا لوب میرے ہونٹوں میں تھا جیسے میں آہستہ آہستہ چوس  رہا کاٹ رہا تھا ۔۔ میرا عضو شائستہ کے چوتروں کے بیچ  سمہ چکا تھا ۔۔ " "یہ ماحول مجھے میری محت کے قریب لے جاتا ہے ۔۔ میری ماہم  اُسے ونڈو کے پاس کھڑا ہو کر چاند سے باتیں کرنا بہت پسند تھا ۔"۔ خیر اپنے جذبات کو سنبھال کر میں شائستہ کی طرف مکمل متوجہ ہوا ۔۔  

شائستہ کو اپنی طرف کیا ٬ آنکھیں ملی تھی  ۔ شائستہ شرما رہی تھی ٬ میں نے شائستہ کو اپنے سینے سے لگایا اور ہونٹ اسکے اپنے منہ میں لے لیے اور آہستہ آہستہ چوسنے لگا وہ بھی میرا ساتھ دینا شروع ہو چکی تھی ۔۔ شائستہ کے ہونٹوں کو ہلکا ہلکا کاٹ رہا تھا ۔   اُسکی سسکیاں ماحول پر کہر ڈھا رہی تھی ۔۔ میرے ہاتھ اسکے جسم پر کھو پیمائی کر رہے تھے  اسکے چوتڑ میرے ہاتھوں کے مساج سے سکون میں تھے ۔۔   شائستہ کو بانہوں میں اٹھا کر بیڈ کی طرف چومتے  ہوئے  لے جانے لگا ۔۔ شائستہ میری کمر کے گرد اپنی ٹانگیں کیے ہوئے میری بانہوں میں تھی ۔۔شائستہ کو چوتڑوں سے پکڑا ہوا تھا ۔۔ شائستہ کو بیڈ کے کنارے پر اپنی گود میں بیٹھا کر اسکے جسم کو کمبخت کپڑوں سے نجات دلا رہا تھا ۔۔ کُچھ وقت میں شائستہ کا اوپر والا جسم کپڑوں سے آزاد تھا ۔۔ شائستہ کے آنگ آنگ کو چومتا ہوا اسکے جسم پر اپنی  مہر لگ رہا تھا۔۔  شائستہ نے جنونی کیفیت میں میری شرٹ اُتار دی ۔۔ جم کا شوق  اور آرمی کی سخت جان ٹرینگ نے میرے جسم کو فلاد بنا دیا تھا ۔۔  کسرتی بدن آج کل اپر کلاس کی لڑکیوں کی من پسند چیزوں میں سے ایک جیز ہے ۔۔ شائستہ کی آنکھوں میں چمک واضع نظر آ رہی تھی ۔۔ شائستہ نے مجھے چومنا کاٹنا شروع کر دیا دیا تھا وہ ہیجانی کیفیت میں تھی ۔۔ میں مسکرایا ٬ جان میں نازک مزاج ہوں تھوڑا آہستہ ہاتھ رکھیں ۔۔ شائستہ ہسی " آپ اور نازک مزاج " آپکی تو " یہ کہتے ہوئے اُسنے میری گردن پر ایک نشان چھوڑ دیا اپنے دانتوں سے ۔۔ شائستہ میرے اوپر بیٹھ کر من مانیاں کر رہی تھی ۔۔ شائستہ نے میری پینٹ بھی اُتار دی انڈرویئر میں ابھار دیکھ کر رہا جانہ مشکل تھا شاید ٬ اس لیے شائستہ نے ایک جھٹکے میں انڈرویئر اُتار کر سائڈ پر پھینک دیا ۔۔ چدائی کا پہلا اصول یہی ہے " آپکا ساتھی آپکے ساتھ مکمل آزادی سے جو چاہے کر سکے " اور یہ ماحول  بنانا صرف مرد ہی کے ہاتھ میں ہوتا ہے ۔ شائستہ کو گود میں بیٹھایا اور ہونٹ چومنے لگا ۔۔ نیچے سے عضو شائستہ کو پریشان کیے ہوئے تھا ۔۔  ہونٹوں سے ہوتا ہوا نیچے جانے لگا ٬ سینے پر ہونٹ اور دانت اپنا کام کیے جا رہے تھے ۔۔ شائستہ کے بوبز کی نپل پر میری پہلی بائٹ تھی  ٬زبان سے نپل سہلانے لگ٬ ہاتھ میرے چوتڑوں پر تھے ۔۔  دائیں بوب منہ میں لے کر چوسنے لگا ۔۔ شائستہ کی سسکیاں کمرے میں گونجنے لگی تھی ۔۔ کبھی دائیں کبھی بائیں بوب منہ میں لے کر چوستا ۔۔ نیپلز کاٹتا ۔۔ شائستہ کے بوبز سفید سے لال ہونے میں دیر نہیں لگی تھی ۔۔ شائستہ کے پیٹ پر زبان پھیرنے لگا ۔۔ آہستہ آہستہ زبان شائستہ کی ناف میں ڈال کر گھمانے لگا ۔۔ شائستہ کی سسکیاں مجھے اُبھرنے لگی تھی ۔۔ ایسا نہیں مجھے خود پر کنٹرول نہیں تھا پر میں بھی اس وقت بہ جانہ چاہتا تھا ۔۔ شائستہ کا پجاما چومتے ہوئے اُتارنے لگا ۔۔ پاجاما سائڈ پر پھینکا ٬ شائستہ کے اوپر آ گیا ۔۔ ناک کی ناک سے لڑائی کروائی اور ہونٹ منہ میں لے کر چوسنے لگا نیچے عضو شائستہ کی بزِ پر رگڑنے لگا ۔۔۔ شائستہ میرے بال کھینچ رہی تھی ۔۔ الفا پلز ڈالو اور ویٹ نہیں ہوتا جان ۔۔ شائستہ کے دونوں ہاتھ میرے ہاتھوں میں تھے ۔۔ ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا ۔ " کیا ڈالوں جان ؟ شائستہ کی آنکھیں کھلی ۔۔ الفا ا آ ا ا آ ا اآ ا ۔۔۔ 

کیا چاہیے میری جان کو ؟ ایئر لوب بائٹ کرتے ہوئے پوچّھا تو شائستہ ترپ گئی ۔۔ 

عضو شائستہ کی پُھدی پر رکھ کر تھوڑا سا دباؤ دیا تو کیپ اندر اتر گئی ۔۔ شائستہ کی سسکیاں جاری تھی ۔۔ عضو تھوڑا آور اندر کر کے وہیں اندر باہر کرنے لگا شائستہ کے دونوں ہاتھ قابو میں تھے  شائستہ مچلنے لگی تھی ۔۔ بہت آہستہ آہستہ اندر باہر کرتے ہوئے شائستہ سے آنکھیں ملائی وہ حسی الفا پلز نہ ترپاؤ اپنی جان کو ۔۔ شائستہ کو اپنے پے کنٹرول نہیں رہا تھا ۔۔ ہونٹ منہ میں لے کر عضو پورا اندر اک جھٹکے سے اُترا تو شائستہ ہلی ۔۔   جھٹکے ایک ردہم کے ساتھ جاری تھے ۔۔ شائستہ کی سسکیوں کی آواز اک الگ سمہ باندھ رہی رہی تھی ۔۔۔ عضو بہت آہستہ سے نکلتا اور ایک جھٹکے سے اندر جا رہا تھا ۔۔ شائستہ سر مار رہی تھی ۔۔ شائستہ کے دونوں ہاتھ میرے ہاتھوں میں تھے ۔۔  شائستہ ہر جھٹکے پر تھوڑا اوپر کسک جاتی تھی ۔۔  شائستہ کے ہاتھ چھوڑ دیے تھے ۔۔ اُسکی ٹانگیں مکمل کھول کر جھٹکے مارنے لگا ۔۔ رائٹ بوب منہ میں لے کر چوستے ہوئے لفٹ ہاتھ سے چُوت کا دانہ (بزر) کو مسلنے لگا ۔۔ جھٹکے جاری تھے ۔ شائستہ ۔تو بيحال ہو چکی تھی  

اُسکی ٹانگیں مکمل کھول کر جھٹکے مارنے لگا ۔۔ رائٹ بوب منہ میں لے کر چوستے ہوئے لفٹ ہاتھ سے چُوت کا دانہ (بزر) کو مسلنے لگا ۔۔ جھٹکے جاری تھے ۔ شائستہ تو بيحال ہو چکی تھی ۔۔۔ کُچھ دیر بعد شائستہ کا جسم کانپنے لگا تو میرے جھٹکوں کی رفتار اور طاقت تھوڑی زیادہ ہو گئی ۔۔ کُچھ ہی دیر بعد شائستہ اہیں بھرتی ٬ پانی چھوڑنے لگی ۔۔ اسکی سانسیں  بے قابو ہو چکی تھی ۔۔ ۔۔ ٹشو سے اُسکی چُوت صاف کی آور پھر اندر  اک جھٹکے میں ۔۔ شائستہ اہ اہ اہ اہ الفا تم جادوگر ہو ۔۔  وہ جذباتی ہو چکی تھی ابھی محبت کے عہدوں پیمان شروع ہونے والے تھے کہا میں نے دوبارہ کروائی ڈال دی ۔۔ 

شائستہ سکون میں تھی ۔۔ میرے جھٹکے اُسے کسی اور جگہ کی سیر کروا رہے تھے ۔۔  شائستہ کو فولڈ کیا جیسے اُسے سردی لگ رہی ہو اور عضو اندر ڈال کر اُسے کور کر لیا ۔۔ چومتے ہوئے چدائی کرنے کا مزا دوبلہ ہو جاتا ہے۔۔ شائستہ کے چوتڑ میری تپکیوں سے لال ہو چُکے تھے ۔۔ مجھے عضو میں حساسیت محسوس ہوئی تو میرے جھٹکے شائستہ کا جی اسپاٹ تلاش کرنے لگے ۔۔ کُچھ جھٹکوں بعد ملا اور وہ میرا فوکس پوائنٹ تھا ۔۔ ایک ٹانگ کندھے پر رکھی عضو اندر کیا اور جھٹکے سٹارٹ ۔۔ شائستہ مزے سے سسکیاں لے رہی تھی ۔۔  آخری جھٹکے بہت پیار سے مارے تھے ۔۔ شائستہ اور میں نے ایک ساتھ فوراہ چھوڑہ ۔۔ شائستہ کی اگ میرے پانی سے بھوج رہی تھی ۔۔ 

 

 ۔۔ ناہا کر روم سرویس سے ڈنر منگوایا اور شائستہ سے باتیں کرنے لگا ۔۔  ڈنر کے بعد شائستہ کو ہسپتال ڈیوٹی اور جانا تھا ۔۔ میں پارکنگ تک اُسے سی آف کرنے ساتھ گیا ۔۔وہ مجھے چوم کر گاڑی میں بیٹھ گئی اور کہا الفا خیال رکھیے گا اپنا ۔۔ میں کل چکر لگاؤں گی ۔۔ 

محترمہ آپ کام چور تُو نہیں تھی کبھی ! 

شائستہ : مطلب ؟ 

مطلب میرا خیال رکھنا  آپکا کام ہے اور آپ اپنا کام مجھے دے رہی ہیں ؟ 

شائستہ ہسی : الفا باز ا جائیں آپ .. اچھا جان ۔ 

میں روم میں واپس آیا ۔ میرا خون 100 کی رفتار سے حرکت کر رہا تھا ۔۔ سلیپر سیلز تک پہنچے کا واحد ذریعہ یہی عورت تھی جس کے پیچھے میں پورے 2 ہفتوں سے لگا ہوں ۔۔ 

 جنید صاحب کو کال ملائی ۔۔ 

مجھے ڈر تھا کہ کہیں میرا سیل فون ٹائپ نہ کیا ہو اس گروپ نے اس لیے دوسرے پرائیویٹ نمبر سے جنید صاحب کو کال کی۔ جنید میرا سینئر ہونے کے ساتھ ساتھ میرا دوست٬  میرا خیر خواہ ،میرا رازداں تھا ۔ 

جنید صاحب اس وقت میٹنگ حال میں انونسمنٹ ٹیبل پر تھے جب میری کال گئی ۔۔  تھوڑا مذاق کرتے ہوئے اُنسے بات شروع کی ۔

" اسلام علیکم : سالہ صاحب کی حال نے توڈے ؟ ویسے باجی توڈی ہونی گئی جائے ملاقات کر کے ۔۔ 

جنید جیلانی : گالی دیتی ہوئے ٬ میری تا بہن کوئی  نئ فر میں تیرا سالہ کیویں بن گیا؟ 

دیکھ جگر میں تینوں پہلے کیا سی میری ہون والی بیوی تیری بہن لگے گی ٬ ہن مینو سالہ کہن دا چاہ لہ لائیں دیں۔۔  مینو روکی نا ۔۔  

جنید جیلانی ۔۔ سر پکڑ کر بیٹھ گیا ..  جلدی لے کے بہن نو گھر آ کام بہت ہوں گے نے ۔۔  

Share this post


Link to post

الفا(دوسرا حصہ) 

جنید سر سے بات کرنے کے بعد میری سوچیں قابو میں نہیں رہی تھی انکی آواز میں عجیب سی بیچینی محسوس کی تھی ۔۔ شائستہ سلیپر سیلز تک پہچنے کا واحد ذریعہ تھی ۔۔   

 میں چدائی کے دوران اُسکی چُوت میں پوائنٹ ملی میٹر بہت چھوٹا سا ٹرانسمیٹر انجیکٹ کر چکا تھا ۔۔ یہ ٹرانسمیٹر سائز میں بہت  چھوٹے ہوتے ہیں اور خفیہ ایجنسیوں خاص کر MI 6 aur MI 4 برٹش خفیہ ایجنسیوں میں بہت استعمال ہوتا ہے ۔۔ برٹش اور امریکن ایجنسیز اک دوسرے کی خفیہ معلومات کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں ۔۔ CiA اور Mi 6   ایک دوسرے کی معلومات کے پجاری ہیں ۔۔   

ایک بات سمجھ سے باہر تھی میرے ۔۔ Raw  اپنی دوغلی کروائی برٹش ایجنٹ کے سر کیوں ٬کیسے کر رہا ہے . سلیپر سیلز کا ہیڈ جوزف سمتھ برٹش اسپیشل فورسز کا بندہ Raw  کے ہتھے کیسے چڑھا ؟ خیر یہ تو اس سے مل کر ہی پتہ چلنے والا تھا ۔۔  شائستہ کو گئے 5 گھنٹے گزار چُکے تھے  دوران اُسکی ہر لوکیشن میرے iPad  پر واضح طور پر نظر ا رہی تھی ۔۔ شائستہ مجھے ایک انشورنس ایجنٹ کے طور پر جانتی تھی اُسے جب بتایا کہ میرا مشغلہ  شکار کرنا ہے تو اُسنے نشانہ بازی کا مظاہرہ دیکھنے کی ضد کی تھی جو میں نے بر حق پوری کی ٬ کیوں کہ مجھے اسکے قریب جانا تھا ۔۔  

شائستہ سیکٹر G 13 سے نکلنے لگی تھی تو میں گاڑی سٹارٹ کر چُکا تھا ۔۔ iPad مسلسل اُسکی لوکیشن کی نشان دہی کر رہا تھا ۔۔ مین روڈ پر آتے ہی میری سپیڈ خطرناک حد تک جا چکی تھی ۔۔ میں اس سلیپر سیلز کا قصہ اج ختم کرنا چاہتا تھا ۔۔  30 منٹس کی ڈرائیو کے بعد میری نظر شائستہ کو ڈھونڈ چکی تھی ۔۔  

وہ ایک بلڈنگ کے لوئر سائڈ پر گاڑی پارک کر کے اندر جانے لگی ۔۔ کوئی آور جگہ تلاش کرنا بے سود  تھی میں شائستہ کے پیچھے کُچھ فاصلے پر چپکے چپکے  چلنے لگا ۔ سلپیر سیلز کے ہیڈ کوارٹر کی سیکیورٹی کو نظر انداز کرنا انتہا درجے کی بیوقوفی تھی اُسکی وقت جو میں کرنے حالات میں نہیں تھا ۔۔ 

میں اپنی ٹیم کو پہلے ہی لائحہ عمل سمجھا چکا تھا ٬ عمران عرف وائرس کمپیوٹر کا کیڑا تھا ۔۔ عمران کو پہلے ہی بلیڈنگ کے بلیو پرنٹ میل کر چکا تھا اب تو بس کروائی ہونی تھی

ساجد میرا رائیٹ ہینڈ تھا ٬  ساجد آرمی اسپیشل برانچ کا ہیڈ کنٹرولر تھا ۔۔ اُسکا بےخوف ہر قسم کی  مصیبت سے سامنا کرنا اسکی نمایاں خوبی تھی ۔۔  ساجد سامنے بلڈنگ پر سنائپر رائفل  ( ڈریگن رائفل) لیے مجھے کور آپ دے رہا تھا ۔۔ لیزر ویژن گلاسز سے اُسنے اندر آدمیوں کی تعداد جان لی تھی ۔۔ ۔ آدمیوں کی لوکیشن بتانے کا سب سے آسان طریقہ کلاک وے ہے ۔۔ 

ساجد: سر  12' o  کلاک  4 مین  وید آرمڈ۔۔ 3'o کلاک 2 مین وید آرمڈ ۔۔  9'o کلاک 3 مین وید آرمڈ ۔۔ 6 o کلاک کلیر ۔۔ 

12 کلاک سامنے ٬ 3 کلاک رائیٹ ٬ 9 کلاک لیفٹ ٬ 6 o کلاک پیچھے ۔۔ 

ساجد مجھے یہ بتاؤ تم کتنوں کو آسانی سے جہنم کی سیر کروا سکتے ہو ؟ 

ساجد حسا:  سر 12 اینڈ 3 او کلاک باقی ہوا اور نشانہ ٹھیک نہیں جگہ کی وجہ سے ۔وہ چکانا ہو جائیں گے ۔۔  ۔اوور ۔

ساجد ٬ عمران شائستہ کو کچھ نہیں ہونا چاہیے سمجھے تم سب ۔۔ 

عمران نے بیلڈنگ کی لائٹس آف نہیں بس ڈیم کر دی تھی ۔۔ میں بلڈنگ میں جانے لگا ۔۔ 

گارڈ نے  مجھے آتے دیکھ کر روکا تو میرا جسم حرکت میں آیا ٬ ایک ہاتھ منہ پر دوسرا گردن پر ہلکا سا جھٹکا  دیا اور گارڈ کچھ دیر کی نیند سو گیا تھا ۔۔ بلڈنگ میں انٹر ہوا ہی تھا کہ ایک فلائنگ کک میرے فیس کے پاس سے گزری میں پیچھے نہ ہوتا تُو میرے جبڑے توڑنے کے لیے  یہ کک کافی تھی ۔۔  اُس انسان کو سبھلنے کا وقت دینا بیوقوفی تھی ۔۔ میں نے ایک لحظے میں آگے بڑھا آور اسکے دل پر میرا مکہ کہر ڈھا گیا تھا ٬ اُسکا ناک اور منہ ہاتھ سے دبا چکا تھا ۔۔ اب سانس لینے کی طلب زیادہ تھی اُسے ٬ کُچھ ہی پل میں وہ میری بانہوں میں جھول رہا تھا ۔۔ اُسے ونہیں پھینکا اور آگے جانے لگا ۔۔ 

ساجد : سر جی سانس بھی لے لو  اتنی کیا دشمنی ان بگروں سے_اوور  ؟ 

ساجد کور اپ دو میں اوپر جا رہا  ہوں ۔۔ جو سامنے اے ماتھے میں روشن دان کھولنا ۔۔ اوور

 ۔آہستہ آہستہ اوپر جانے لگا تو مجھے سسکیوں کی آوازیں آنے لگیں ۔۔ اہ ان کمبخت سسکیوں سے میں بخوبی واقف ہوں ۔۔ شائستہ مریض کو دوائی دے  رہی تھی ۔ شفا تو یقینی تھی ۔۔ 

ساجدجس جگہ بندہ نظر اے مار دو سوچنا نہیں ۔۔  

ساجد : گرجا يس سر ۔۔۔۔ 

دروازہ کھولا تو شائستہ ٹانگیں کھول کر جوزف کو دوائی دینے میں مصروف تھی ۔۔ 

شائستہ کی آنکھیں نشیلی ہوئی پڑی تھی ۔۔ بیڈ کنارے شائستہ نیچے جاٹکوں سے ہل رہی تھی جوزف بے دردی سے چُود رہا تھا ۔۔ میں دروازہ کھول کر اندر گیا " 

میرا ماننا ہے کہ یہ کام دروازہ بند کر کے کریں تو زیادہ بہتر ہے نہیں تو باہر والوں کو اندر بولا لیا جائے ۔۔ 

دونوں میری طرف دیکھا ٬ گھبرا گئے ٬ شائستہ تو ڈر چکی تھی ٬ وہ سمجھ رہی تھی میں اُسکی 

میں اُسکی محبت میں اُسکا پیچھا کرتے اُسے رنگے ہاتھوں پکڑ چکا ہوں ۔۔ پر میری نظر شائستہ کی طرف اٹھی ہی نہیں ۔۔ جوزف ہلنے لگا ہی تھا کہا pig 67 کی کولی اُسکی ٹانگ میں سوراخ کر چکی تھی ۔۔ تو جوزف آپ سے کچھ باتیں کرنی تھی اور کچھ نہیں چاہیے آپ سے ۔ شائستہ کپڑے پہنے آپ جلدی سے ۔۔

جوزف : تم ہو کون ؟ مجھے جانتے بھی ہو کہ نہیں ؟ 

جان پہچان بّھڑھا کر کونسا ہم نے  تج سے رشتہِ جوڑنا ہے ۔۔۔ بس چند  ایک  باتیں اور کچھ نہیں۔  ۔  

جوزف : اپنی ٹانگ کو پکڑ کر چیخنے لگا ۔۔۔ شائستہ اب مریض کو آپکی ضرورت ہے ۔۔مدد کیجیے ۔۔۔ شائستہ زو معنی بات سن کر شرمندہ سا ہو رہی تھی پر میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔۔۔ شائستہ جوزف کی طرف بڑھی اور اُسکی ٹانگ پر مرہم پٹی کرنے لگی ۔۔۔ میں نے  آنکھوں سے بال پیچھے کیے اپنے آور جوزف کو ٹٹولنے لگا ۔۔۔ 

جوزف سمتھ ۔۔ اتنی آسانی سے تو ہاتھ آ جائے گا سوچا نہیں تھا ۔۔ زہریلا کیپسول جو  تیرے دانتوں میں ہے اُسے نگلنے کی سوچنا بھی نہ میں تمہیں مارنے نہیں آیا ۔۔ بس مجھے یہ بتا دو "برٹش ایجنٹ  کی Raw  کے ساتھ کیا تعلق داری ہے ؟ 

میرا پہلا سوال ہی دھماکا تھا ٬ وہ دونوں میری طرف دیکھ کر گھبرا گئے تھے ۔۔ 

جوزف : میں نہیں بتاؤں گا  اگر مار سکتے ہو تو مار دو ۔۔ 

اوہو تو تم بہادر بننے کی کوشش کر رہے ہو 

جوزف:  تمہارا کیا حال ہونے والا ہے تم جان بھی نہیں سکتے مسٹر الفا ... 

اسکے الفاظ میرے کانوں میں پڑنے کی دیر تھی میری گولی نے اُسکی دوسری ٹانگ میں بھی چھوٹا سہ آشیانہ بنانے میں دیر نہیں لگائی ۔ 

جوزف کی چیخیں آسمان سر پہ آٹھا چکی تھی ۔۔۔ شائستہ گھبرائی ہوئی آواز میں مجھ سے بولنے لگی ۔۔ 

الفا دونوں بلٹس ٹانگوں میں ہیں زیادہ دیر  ہوئی تو زہر پھیل سکتا ہے ۔۔ 

ساجد اور عمران آجاؤ اور اسے کُچھ دن ہماری مہمان نوازی دکھاؤ ۔۔۔  

ساجد دھماکے سے دروازہ کھولتے ہوئے اندر آیا ۔۔  جوزف کا حلیہ دیکھ کر پوچھنے لگا  "" سر یہ ہے جوزف سمتھ ۔۔ ؟ 

تمہیں کیا لگتا  ہے بھائی ؟ 

ساجد : سر اسکا کام نہیں ہو سکتا یہ پورا نیٹورک تشکیل دینا ۔۔ 

ہاں یہ جوزف نہیں ہے یہ اُسکا رائیٹ ہینڈ کلارک ہے ۔۔ برٹش ایجنسیز میں  کمال کا کمپیوٹر ہیکر ۔۔ گزشتہ ہفتے سے میرا موبائل ہیک کرنے کی ناکام کوششیں جاری تھی اسکی ۔۔ 

ساجد : رُوم کی تلاشی لے چکا تھا اس دوران ۔۔ 3 سیل فون اور ایک لیپ ٹاپ اُس نے سنبھالا اور جوزف کی طرف آیا ۔۔ 

سر اسکا کیا کرنا ہے ؟ 

اس سے تھوڑی ہیکنگ سیکھیں گئے اور کچھ ہم سکھائیں گئے جس میں ہم ماہر ہیں شائستہ کو آنکھ مارتے ہوئے اٹھا  ۔۔ میری بات سن کر شائستہ کے ہونٹوں پر زو معنی مسکراہٹ ا گئی تھی ۔۔

جوزف کو گاڑی میں بٹھایا اور ساجد اسکے ساتھ بیٹھ گیا آگے شائشہ اور میں  نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی ۔۔ 

شائستہ آپکا پیچھا ضرور کریں گئے یہ لوگ ٬ بہت خطرناک لوگ ہیں ذرا برابر بھی رحم نہیں۔۔ میں آپکو محفوظ جگہ لے جا سکتا ہوں اگر آپ چاہیں تو ۔۔ 

شائستہ جو ان لوگوں کی ساتھی تھی میری مہربانی سے زیادہ ہی متاثر ہو چُکی تھی ۔۔ 

ڈرائیونگ سٹارٹ کرتے ہوئے عمران کو ضروری ہدایات دینے لگا ۔۔ مجھے آرمی ہیڈ کوارٹر میں جلد پُہنچ کے کلارک کی بلٹس نکلوانی تھی ۔۔ 

25 منٹ کی ڈرائیو کے بعد آرمی ہیڈ کوارٹر کے خفیہ سیل برانچ میں کلارک کا ٹریٹ منٹ شروع ہوا ۔۔ شائستہ کو مجھے کلارک سے دور رکھنا تھا اس لیے شائستہ کو لے کر ٬ ملتان آرمی ہیڈ کوارٹر میں جانے کا فیصلہ کیا ۔۔ جنید جیلانی میرے انتظار میں تھے ۔۔ 

اسلام آباد میں میرا کام ختم ہو چکا تھا ٬ جوزف سمتھ سے ملاقات کی آرزو پوری نہیں ہوئی تھی  پر جانتا تھا  جلد ہی اس سے ٹاکرا ہونے والا تھا  ۔

  رات 12 بجے کے قریب ملتان ہیڈ کوارٹر میں داخل ہوا۔ شائستہ سو چکی تھی ۔۔  گاڑی کو پارک کر کے شائستہ کے گالوں پر تپکیاں دی تو اسے ہوش آیا ۔۔ آنکھیں نیند کی شدت سے لال ہو چُکی تھی ۔۔ 

جنید جیلانی ایمرجنسی میٹنگ  بولا چُکے تھے جیسے ہی اُنہیں میرے انے کا پتہ چلا ۔۔ 

ہیڈ کوارٹر میں داخل ہوتے ہی سلیوٹ کا سلسہ جاری ہو چکا تھا ۔۔ حنیف چچا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا " چچا میڈم کو گیسٹ روم میں لے جائیں ٬ اور ان کے کھانے وانے کا کُچھ بندوبست کریں " ۔

چچا حنیف مسکراتے ہوئے شائستہ کو ساتھ لے کر چل پڑے ۔۔ 

میں سیدھا میٹنگ حال میں جا پُہنچا ٬ میٹنگ حال ملک کے نوجوانوں سے بھرا ہوا تھا ۔۔ نہ انکی آنکھیں نیند سے بھوجل تھی نہ ہی کوئی اُکتاہٹ " صرف تھا تو ایک جذبہ اپنے ملک کی حفاظت کی خاطر شہید ہو جانے کا  ۔ 

جنید صاحب سے مل کر سب کو سلام کیا تو جنید جیلانی نے ساری معلومات اور صدیقی صاحب سے ملاقات میں ہونے والی باتیں بتانے لگے ۔۔  

کُچھ سوچنے کے بعد ۔۔ میں فرنٹ ڈیسک پر آیا ۔۔ 

 

Share this post


Link to post

میں سیدھا میٹنگ حال میں جا پُہنچا ٬ میٹنگ حال ملک کے نوجوانوں سے بھرا ہوا تھا ۔۔ نہ انکی آنکھیں نیند سے بھوجل تھی نہ ہی کوئی اُکتاہٹ " صرف تھا تو ایک جذبہ اپنے ملک کی حفاظت کی خاطر شہید ہو جانے کا  ۔ 

جنید صاحب سے مل کر سب کو سلام کیا تو جنید جیلانی نے ساری معلومات اور صدیقی صاحب سے ملاقات میں ہونے والی باتیں بتانے لگے ۔۔  

کُچھ سوچنے کے بعد ۔۔ میں فرنٹ ڈیسک پر آیا ۔۔ 

میرے بھائیو "آپ کو گزشتہ حالات کا با خوبی علم ہوگا انہیں حالات کی سنگینی کو مد نظر رکھتے ہوئے جنید صاحب ایک خفیہ سیل تشکیل دینا چاہتے ہیں ۔۔ جنید کی گردن جھٹکے سے میری طرف موڑی اور مجھے گھورنے لگا ۔۔ 

دکھیں میرے محترم آفیسرز IsI پاکستان کی حفاظت میں نمایاں خدمات سر انجام دے چکی ہے ۔۔ پر جنید صاحب ایک سیکریٹ خفیہ ایجنسی ایگل ای (egal eye ) بنانا چاہتے ہیں جو پاکستان ان ورڈ سیکیورٹی پے فوکس کریں گی ۔۔  وہ ایک سینٹرل پوائنٹ ہو گا جو پاک آرمی اور IsI  سے خُفیہ طور پر  منسلک ہوگا ۔۔ ایگل ای کی معلومات یقیناً پاکستان کے حفاظت کے لیے کافی مفید ثابت ہوں گی ۔۔۔  ایگل ای مکمل طور پر خفیہ کام کرے گی ۔۔ اسکا نام اور کام  پروفیشنل پوائنٹ پر نہیں انا چاہئے ۔۔۔ یہ صرف آپ جانتے ہیں آپکے گھر میں بھی کوئی جاننے نہ پائے ۔۔ مطلب ایک ہاتھ کا کیا دوسرا ہاتھ نہ جان سکے ۔۔۔  

میٹنگ ختم ہوتے ہی میں جنید کے ساتھ اکسری جھیل کے ساتھ MacDonald  پر پیٹ پوجا کرنے گئے  ۔  مجھے ملتان سے محبت اس وجہ سے تھی کہ ۔مجھے جو بنایا اسی شہر نے یا  شہر کے کچھ حسین لوگوں  نے بنایا ۔۔ جنید سے باتیں ہوتی رہی اُسکی وہی باتیں " الفا دنیا میں اپنا کُچھ حصہ تو ڈال شادی کر لے اب دیکھ  یار وطن کی محبت پر تو میری ہر سانس قربان پر زندگی میں کچھ اور بہت اہم چیزیں ہوتی ہیں ۔۔ شادی ٬ بچے ٬ ماہم جا چکی ہے ٬ 8 سال ہو چکے اُسے پر تو وہیں کا وہیں ہے ابھی بھی ۔۔۔ 

میں سگریٹ کے کش لیتا ہوا  سوچنے لگا " کتنی آسانی سے ماہم کا نام لے لیا جنید نے اسکے سینے میں ماہم نام سے درد نہیں ہوتا   بہت خوش قسمت انسان ہے " پر میں اُسکی باتیں سنی ان سنی کر رہا تھا ۔۔ اُسکا مجھے سمجھانا معمول کی بات تھی ۔۔ 

میں نے بات بات بدلی " بھابی کیسی ہیں؟ اور میری شہزادی عروج؟  بولنے لگی کہ نہیں ؟ ۔

ایک باپ کے لیے اپنی فیملی کی باتیں سننا اور کرنا بہت اچھا اور مزے والا کام لگتا ہے جنید بھی کرنے لگا ۔۔  کُچھ دیر بعد جنید کو گھر چھوڑا اور  گاڑی سنسان سڑک پر فراٹے بھرنے لگی ۔۔ فورٹ کالونی سے نکلنے کے بعد میرا پوائنٹ کینٹ تھا ۔۔ ہاتھوں میں سیگریٹ تھی سوچیں بےقابو تھی ٬  

کینٹ میں پہنچ کر کُچھ لوگوں سے ملا ٬ عمر  جیسے سلیپر سیلز نے گولی سے شہید کیا تھا ٬ اسکے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے لگا ۔۔ جو معلومات ملی تھی اُن سے یہی پتہ چلتا تھا کہ سلیپر سیلز اپنے پروفیشنل لوگ استعمال نہیں کر رہا ۔۔ وہ پاکستانی لوگوں کی نفسیات سے کھیل رہا ہے ۔۔ منہ مانگے پیسے دے کر بس ٹریگر دبانا تھا ۔۔  یہ معاملہ جتنا پیچیدہ تھا اُس سے زیادہ خطرناک تھا ۔۔ ذرا سی غلطی کسی بے گناہ کی جان لے سکتی تھی ۔۔۔ 

گاڑی سٹارٹ کی اور سڑک پر پُہنچ کر مجھے محسوس ہوا کہ کوئی  میرا پیچھا کر رہا ہے ۔۔  برٹش  اور امریکن ایجنسیز  کی سیٹلائٹ میں  اتنی طاقت ور ٹیلیسکوپ ایڈجسٹ ہیں کہ وہ  دنیا کے کسی کونے میں بیٹھ کر اپنے چھوٹے سے آفس میں سے  آپکے سر میں موجود سفید بالوں کی گنتی کر کے بتا سکتے ہیں ۔۔ 3 سیٹلائٹ پوری دنیا کو کور کر سکتے ہیں ۔۔ 

کینٹ سے نکل کر میں نشتر روڈ سے غلغشت جا رہا تھا ۔۔ اچانک پیچھے سے گولیاں چلنا سٹارٹ ہو گئی تھی ۔۔ میں نے جنید کو کل ملائی  ٬ ہیلو !  جنید نمبر ٹریس کرو ۔  اور دھیان سے سارے  ملتانی   غنڈے پیسے کے ٹٹو ہیں ۔۔ اوور 

 گاڑی کی سپیڈ انتہائی خطرناک ہو چکی تھی ۔۔  ۔نائٹ ویژن گلاسز لگا کر صاف نظر آنے لگا تھا ۔۔گولیوں کی تھرتھراہٹ سے سما گونج اٹھا تھا ۔    پچھلی گاڑی سے نکل کر ایک بندہ فائرنگ کرنے ہی لگا تھا کہا میری گاڑی گھوم کر سامنے ڈرفٹ سے روکی اور میری گلاک نینٹین ( ۱۹ ) نے گولیاں اُگلانی شروع کر دی تھی ۔۔  9mm  کی گولی زیادہ مہلت نہیں دیتی ۔۔ گاڑی کلا بازیاں کھانے لگ چُکی تھی ۔۔ باقی کا پتہ نہیں پر فرنٹ سیٹ پر بیٹھے لوگوں کو پتا ہی نہیں  چلا کہ ہمارے ساتھ ہو کیا گیا تھا ۔۔ 

میں نے گاڑی سٹارٹ کی اور ایکسلیٹر پیڈل فل دبا دیا گاڑی ہواؤں سے باتیں کرنے لگی ۔۔ 

سامنے ٹریفک بند تھی مجبوراً روکنا پڑا ۔۔   میرے دماغ میں لہر اٹھی ٬ جوزف یہ سنگل نظر انداز کیسے کر سکتا ہے ۔۔  میں نے گاڑی دوسری سڑک پر نکالی ہی تھی فرنٹ بولٹ پر اک بلٹ دھماکے سے ا کر لگی ۔۔ اگر وہیں روکتا تو آپکو کہانی سنانے کے لئے زندہ نا ہوتا ۔۔ میرا دماغ میں روشن دان کھل چُکا ہوتا ۔۔ وہ ایک سنائپر رائفل سے نشانہ داغ تھا

سب چیزیں اسکے حق میں تھی سوائے قسمت کے ۔۔ میں اسکی لوکیشن جانے کی کوشش میں تھا کہ میرے کندھے کو اسکی دوسری   گولی چوم کر گزار  چُکی تھی ۔۔ درد کی ایک لہر اٹھی تھی جو برداشت سے باہر تھی , اُسکا نشانہ میری گردن تھی پر گاڑی چلنے کی وجہ سے چوک گیا ۔۔ سنائپر رائفل سے حرکت کرتے ہوئے ہدف کو نشانہ بننا کافی مشکل کام ہے ۔۔ 

میں   نے گاڑی رفتار تیز کر دی ٬ کُچھ دور جا کے میں نے گاڑی ایک پمپ پر روکی اور لاک کر کے   زکریا ٹاؤن میں داخل ہو چکا تھا ۔

چلتے چلتے کافی دور ا چُکا تھا اور خون بھی  کافی به چکا تھا ۔۔ شرٹ اُتار کے کندھے پر باندھی کر پھر چلنے لگا اور اوپر سے یہ دسمبر کی سرد رات بس دھند نہیں تھی باقی کسر پوری تھی ۔۔ اک گھر کی لائٹ آن دکھائی دی تو دروازہ بجایا ۔۔ دروازہ کے پیچھے سے ایک نسوانی  آواز ای "کون؟

محترمہ آپکی مدد چاہیے تھی ۔۔ ہمیں گولی لگی ہے .. 

دروازہ کھول دیا گیا تھا پر میری آنکھیں بند ہو رہی تھی ۔۔ رہی سہی کسر سامنے آنے والے نے اُتار دی ۔۔ میں بہت مشکلیں سہ چکا تھا پر کسی بھی موڑ پر میرا دل اتنا باغی نہیں ہوا تھا وہ میرے اختیار میں نا رہے ۔۔ پر یہ تقدیر اُسے پھر سامنے لے آئی تھی ۔۔ میں اسے دکھتے ہی بیہوش چکا تھا ۔۔  مجھے ماہم کی بانہوں نے سنبھالا تھا  ورنہ زمین پر بری طرح گِرنا تھا ۔۔  آگلی صبح  میں جھٹکے سے بیڈ سے اُٹھا ۔۔ میری گولی نکال دی گئی تھی ۔ ماہم کا سامنا کرنے کی سوچ سے دل بے قابو ہی ہو گیا تھا  ۔۔ مجھے اپر فلور پر ماہم لائ کیسے ہو گی ۔۔ خیر میں نیچے  اترنے لگا ۔۔ تو ماہم ناشتہ بنا رہی تھی ۔۔  آنکھیں ملی تھی ۔۔ دونوں کُچھ نہ کہتے ہوئے بہت کچھ کہ رہے تھے ۔۔ ۔ماہم کی آنکھیں لال تھی وہ تقدیر کے اس کھیل پر ساری رات روتی رہی تھی ۔۔  

محترمہ ہم کتنے دن سے یہاں ہیں ؟ میری آواز میں گیلا پن صاف ظاہر کر رہا تھا کہ میں اپنے آپ پر ضبط کر رہا ہوں 

ماہم : میری طرف دیکھنے لگی اُسے اس اجنبی رویے کی توقع نہیں تھی ۔۔۔   

ماہم: آپکا سیل فون 2 دِن سے لگاتار بج رہا ہے تھا  ۔۔ آپکے کُچھ دوست آئے تھے جنہوں نے آپکو فرسٹ ایڈ دیا ۔۔ وہ آپکو لے جانا چاہتے تھے سات میں  پر کوئی آفیسر تھے جنہوں نے منع کر دیا ۔۔۔ اور میں جانتا تھا جنید مجھے ساتھ کیوں نہیں لے کر گیا ۔۔ خیر ماہم سے مخاطب ہوا ۔۔  

ہم بہت شرمندہ ہیں 2 دِن سے آپکو آزمائش میں ڈالا ہوا ہے ۔۔ آپکے گھر والے سارے پریشان هوں گئے۔۔؟ ۔

جنید کو کال کر کے تسلی دی اور کُچھ ضروری ہدایات دے کر کال کاٹ دی ۔ 

آپکے گھر میں کوئی نظر نہیں آ رہا ؟ کہا گئے ہیں سب؟ 

ماہم : ہم تو اکیلے ہیں ازل سے  ہمارے ساتھ نبھا کرنا آسان نہیں نہ اس لیے سب چھوڑ جاتے ہیں ۔ 

وہ میرا عشق تھی پر تقدیر کا کھیل تھا کہ اجنبی بن کر اس سے باتیں کر رہا تھا ۔۔ 

Share this post


Link to post

اب آگے بھی بڑھو پلیز اپڈیٹ دے دو

پتہ نہیں رائٹر حضرات اتنی اچھی کہانیاں لکھتے کیوں ہیں ہمیں چسکا لگا کے پھر بھول جاتے ہیں 

بقول 

سانو نہر والے پل تے بلا کے چن ماہی کتھے رہ گیا 

سانو کہانی دا چسکا لا کے رایٹر ماہی کتھے رہ گیا 

Share this post


Link to post

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×
×
  • Create New...