Jump to content
URDU FUN CLUB

Recommended Posts

Dear Administrator yeh kahani maine facebook py Dekhi to socha k yahan isy post kron.

 

وہ زلفیں لہرائے یا چھاتی کا جوبن دکھائے

تو نظر جو ڈالے گا میاں، بد کردار ٹھہرے گ

 

تحریر نواب زادہ شاھد

 

‏ امریکی ریاست کیلی فورنیا میں ایسا کیا ھوا کہ بھارتی حسینہ پدو ماوتی کو پاکستان بزنس مین شاھد نذیر سے پیار ھو گیا جبکہ اسکا اپنا شوھر شنکر اسکو بہت پیار کرتا تھا پڑھیۓ مختلف ملکوں کے کردارلیکر بنایا گیا ناول

 

کردار#پدو ماوتی شاھد نذیر سدھا رتھ ملہوترا ڈاکٹر پیری سید گلباز گیلانی سیرت کور اور سوزی سوزین

 

پدو ماوتی پچھلے چھے ماہ سے بھارت سے امریکی ر یاست کیلی فورنیا میں اپنے شوھر شنکر اوبراۓ کیساتھ شفٹ ھوئی تھی اور اسکا شوھر ایک پاکستانی باس مسٹر شاھد کے ھاں جاب کرتا تھا پھر ایک دن ڈیلنگ کے دوران شنکر اوبراۓ نے کی ایسی غلطی کہ اسے شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا کمپنی کی جانب سے پھر کیا ھوا پڑھئیے

 

‎چوبیس سالہ مسز پدوماوتی اپنی شادی کے فوراً بعد ہی اپنے شوہر شنکر کے ساتھ انڈیا کے شہر دہلی سے امریکا کے ایک شہر فریمونٹ کیلی فورنیا میں چلی گئی تھی

 

 

‎ ‎پدوماوتی کی شادی کے بعد بھارت کی راویتی ساسوں کی طرح پدوماوتی کی ساس کی بھی یه ہی خواھش تھی کے ماوتی شادی کے پہلے سال ہی بچے کی ماں بن جائے

 

 

‎ مگر شنکر چونکہ اپنی بیوی کی تنگ چوت کا مزہ زیادہ عرصے لینا چاتا تھا . اس لیے شادی ہوتے ہی شنکر نے پدوماوتی کو نہ صرف پرگینیٹ نہ ہونے والی گولیاں کھلانا شروع کر دیں. بلکہ چودائی کے دوران شنکر جب بھی فارغ ہونے لگتا. تو وہ فوراً اپنے لن کو اپنی بیوی کی پھدی سے نکال کر اپنے لن کے پانی کو پدوماوتی کی چوت کے لبوں یا اس کے پیٹ پر ہی خار ج کرتا تھا 

 

 

‎ ‎پدوماوتی اپنی شادی شدہ زندگی اور اپنے شوھر شنکر سے بہت خوش تھی . مگر یه خوشی ایک ہفتہ قبل اس وقت ختم ہو گئی جب ملازمت کے دوران شنکر نے اپنی بھارتی آئی ٹی مشاورتی فرم سدھا ٹیکنالوجی سولیوشن انک ( ایس ٹی ایس) کے سب سے بڑے اور اچھے کلاینٹ کو اپنی غلطی اور بیوقوفی سے کھو دیا تھا

 

 

‎ ‎پدوماوتی جانتی تھی کے اس کا شوہر شنکر آج کل اس وجہ سے بہت ہی پریشان تھا . کیوں کے اس ای ٹی مشاورتی فرم نے ہی شنکر کو اس کی قابلیت کی بنا پر دبئی سے سلیکٹ کر کے ورک ویزا پر امریکا میں نوکری دی تھی

 

 

‎ اس کمپنی کا پاکستانی مالک مسٹر شاھد نذیر کل شام ہی پاکستان سے واپس امریکا آیا تھا. اور آتے ساتھ ہی اس نے فون کر شنکر کو دوسرے دن جاب کے دوران ہی لنچ ٹائم میں اپنے گھر میں ملاقات کے لیے بلا لیا تھا

 

 

‎ اپنی کمپنی کے اونر کی یه کال سنتے ہی شنکر کو اس بات کا پکا یقین ہو گیا تھا. کے شاھد سے ہونے والی یه پہلی ملاقات ہی شنکر کے لیے آخری ملاقات ثابت ہو گئی. اور شنکر کو اپنی غلطی کا خمیازہ نوکری سے چھٹی کی صورت میں بگتنا پڑے گا. یه ہی وجہ تھی کے اگلی صبح جاب پر جاتے ہوئے شنکر کی پریشانی میں بہت زیادہ اضافہ ہو چکا تھا

 

 

‎ ادھر شنکر اپنی پرشانی میں مبتلا تھا. تو دوسری طرف اس کی نہایت خوبصورت اور وفاداربیوی پدوماوتی کی حالت بھی اس سے مختلف نہیں تھی

 

 

‎ اپنے شوہر کے آفس جانے کے بعد ایک سفید سلیولیسس بلاؤوس اور سیاہ کیپری میں ملبوس ھو کر مطالعہ کی میز پر بیٹھی اپنی تھوڑی پر ہاتھ رکھ کر ایک گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی

 

 

‎ "‎شنکر پچھلے کچھ ہفتوں سے بہت خوفزدہ ہے ! وہ سوچتا ہے کے اس بڑے اکاؤنٹ کو کھونے کی پاداش میں کہ مسٹرشاھد اسے آج کل میں نوکری سے ضرور نکال دیں گے " اپنے شوہر کی پریشانی کے بارے میں سوچتے ہوئے ماوتی کے دل میں اس وقت یه خیال چل رہا تھا

 

 

‎ ! مجھے امید ہے کہ ایسا نہیں گا ! "ماوتی نے سوچتے ہوۓ اپنے آپ کو امید دلائی، ہو سکتا ہے کے مسٹر شاھد شنکر کو نوکری سے نکالنے کی بجاۓ صرف ایک وارننگ دے کر ہی چھوڑ دیں، ویسے شنکر کو نوکری سے ہاتھ دھونا پرے تو ان دونوں کو امریکا میں رہنے میں کافی تکلیف ہو گئی. کیوں کے ان کے گرین کارڈ جسے ایس ٹی ایس نے ہی ان کے لیے سپانسر کیا تھا،وه بھی ابھی تک نہیں آیا تھا

 

 

‎ ‎ماوتی اپنی انہی سوچوں میں گم تھی کے اتنے میں اس کی نظر پاس پرے ٹیبل پر پری. جہاں ایک کاغذ پڑا ہوا تھا. جس پر اس کے شوہر شنکر نے کل رات اپنے باس کے گھر کا ایڈریس اور فون نمبر لکھا تھا.

 

 

‎ اس کاغذ پر نظر پڑتے ہی پدوماوتی کو مسٹر شاھد کے متلعق کہی گئی اپنے شوہر شنکر کی بات یاد آئی " کہ سننے میں آیا ہے کے مسٹر شاھد ایک بہت اچھے اورمدد کرنے والے انسان ہیں "

 

 

‎ "اگر واقعی ہی ایسی بات ہے تو کیوں نہ شنکر سے پہلے میں خود شاھد سے مل کر انھیں اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کروں ، کے وہ شنکر کو نوکری سے نکالنے کی بجاے ایک وارننگ دے کر ہی چھوڑ دیں "

 

 

‎ اپنے شوہر کو صبح پریشانی کی حالت میں جاب پر جاتے ہوۓ دیکھ کر ماوتی خود بہت پرشان ہو چکی تھی. اسی لیے شنکر کی کی گئی غلطی کو خود سلجانے کا یه خیال اس کے دل میں اس وقت آنے لگا تھا

 

 

‎ "مگر کہیں یه نہ ہو کے شنکر کی بجاے میرا جانا ، مسٹر شاھب کو اچھا نہ لگے اور اس طرح شنکر کا کام سدھرنے کی بجاے پہلے سے زیادہ خراب ہو جائے " مسٹر شاھد سے ملنے کا خیال دل میں اتے ہی پدوماوتی کے دل میں اس وسوسے نے جنم لیا

 

 

‎ مگر اس کے ساتھ ہی " جو ہو گا دیکھا جائے گا " کا سوچتے ہوے ماوتی نے پاس پرے اس پیپر سے فون نمبر دیکھ کر اپنے شوہر کے باس کو کال ملا دی۔

 

تیرے رخسار سے ہٹتے ہوئے آنچل کی قسم ، 

میں نے ایک چاند کو بادل سے نکلتے دیکھا ہے

 

‎نمبر ڈائل کرنے کے تھوڑی دیر بعد جوں ہی پدوماوتی کو فون کے دوسری طرف سے ایک مرد کی آواز سنائی دی. تو اس نے ایک دم اپنا تعارف کروایا " ہیلو! مسٹر شاھد میرا نام مسز شنکرپدوماوتی ہے ! میرے شوہر شنکر آپ کی کمپنی سدھا ٹیکنالوجی میں کام کرتے ہیں جی وہ شنکر‎ ! "

 

 

‎ "تو نہیں جن کے ساتھ آج دوپہر کو میری میٹنگ ہے ؟" اپنا تعارف کرواتے ہی پدوماوتی کے کانوں میں شاھد صاحب کی آواز گونجی

 

 

‎ مسٹر شاھد کا سوال سن کر پدوماوتی نے فوراً ہی جواب دیا "جی ہاں، وہ وہی شنکر جو آج دوپہرآپ کے ساتھ ملاقات کررہے ہیں!

 

 

‎ " اچھا آپ بتائیں كے میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں " پدوماوتی کا جواب سن کر مسٹرشاھد نے انگلش کی بجائے اِس بار پدوماوتی سے اردو میں پوچھا 

 

 

‎ " سب سے پہلے تو میری آپ سے ایک ریکویسٹ ہے . كہ براے مہربانی شنکر کو مت بتائیے گا کہ میں نے آپ کو کال کی ہے ، دوسری بات یہ كے اصل میں شنکر کی آپ سے ملاقات سے پہلے میں آپ سے ملنا چا رہی تھی ، کیوں كے میں آپ سے مل کر صرف اِس بات کی وضاحت کرنا چاہتی ہوں ، كے میرے شوہر شنکر اپنی کی گئی غلطی سے کتنے زیادہ پریشان ہیں . " شاھد صاحب کے جواب میں اِس بار ماوتی نے بھی شاھد صاحب کو اردو میں ہی جواب دیتے ہوئے کہا 

 

 

‎ "اچھا ٹھیک ہے، اگر آپ ایک گھنٹے کے اندر مجھے مل سکتی ہیں تو میں آپ کا انتظار کر سکتا ہوں" پدوماوتی کی بات سن کر فون کی دوسری طرف سے مسٹر شاھد نے جواب دیا

 

 

‎ "جی میں ایک گھنٹے کے اندر اندر آپ کے گھر پہنچ سکتی ہوں" مسٹر شاھد کا جواب سنتے ہی پدوماوتی بولی اور پھر فون بند کرتے ساتھ ہی شاور کی طرف ڈور پری

 

 

‎ اپنے جسم کواچھی طرح شاور دینے کے بعد پدوماوتی نے چوت کو صاف کیا کہ پتہ نہیں کیا ڈیل کرنی پڑ جاۓ پھر باتھ روم سے باھر آئی اور اپنے گیلے

 

‎جسم کو تولیے سے اچھی ترا سے صاف اور خشک کرنے کے بعد وہ ننگی حالت میں ہی صوفے پر بیٹھ کر اپنی لمبی ہیل کو اپنے پاؤں میں پہننے لگی

 

 

‎ اپنی ایری والی جوتی کو اپنے پاؤں میں پہن کر پدوماوتی تیزی کے ساتھ بیڈ کے سامنے

 

‎پرے ہوے شیشے کے سامنے کھڑی ہوئی. اور اسی ننگی حالت میں ہی جلدی جلدی اپنے منہ پر میک اپ کرنے لگی

 

 

‎ میک اپ سے فارغ ہونے کے بعد اس نے الماری سے ایک ویسٹرن سٹائل کا ایک لمبا ڈریس نکال کر پہن لیا

 

 

‎ "میں دیکھنے میں اچھی لگ رہی ہوں نہ " اپنے گداز جسم کو آئینے میں دیکھتے ہوئےپدوماوتی نے اپنے بال کو تھوڑا تھوڑا سا سیٹ کرتے ہوے اپنے آپ سے کہا

 

 

‎ اس کے ساتھ ہی اس نے ٹیبل پر پڑا اپنا سیل فون اٹھا کر گوگل میپ میں مسٹر شاھد کے گھر کا پتہ ڈالا .اور پھر اپنی کار میں بیٹھ کر وہ شاھد کے گھر کی طرف چل پڑی۔

 

 

‎ہاے شنکر کی گئی غلطی کو سدھارتے سدھارتے اپنے شوہر کا کام بگاڑ ہی نہ دوں کہیں" شاھد نذیر کی رھائش گاہ کی طرف اپنی کار دوڑاتے ہوے پدوماوتی کے دل میں یه ہی خوف چھایا رہا

 

‎ مگر اس خوف کے باوجود اس نے اب واپس پلٹنا مناسب نہ سمھجا اور پھر کچھ ہی دیر بعد اس کی کار مسٹر شاھد کے گھر کے سامنے جا رکی

 

شاھد نذیر کے گھر کے سامنے اپنی گاڑی پارک کر کے فوزیہ نے جوں ہی اپنی کار سے باہر نکل کر مسٹر شاھد کے گھر کے مین ڈور کی طرف واک کرنا شروع کیا

 

‎تو ٹھنڈی ہوا کا ایک تازہ جھونکاایک دم سے آ کر اس کے تازہ تازہ نہائے ہوئے بدن سے ٹکرا گیا  

 

‎ "افففففف مسٹر شاھد سے ملنے کی جلدی میں اپنی پینٹی تو پینٹی، میں تو اپنی برا بھی پہننا بھول گئی ہوں آج " تازہ ہوا نے ڈریس کے اندر گھس کر جوں ہی پدوماوتی کی جوان چوت اور اس کی کسی ہوئی گداز چھاتیوں کو چھوا. تو اپنی غلطی کا احساس کرتے ہی پدوماوتی ایک دم بوکھلا اٹھی.

 

‎ "ہاۓ اب مجھے اسی حالت میں ہی مسٹر شاھد سے ملنا پڑے گا ، کیوں کے اب گھر واپس جا کر برا اور پینٹی پہننے کا وقت نہیں ہے میرے پاس" پدوماوتی کو اپنی اس بیوقوفی پر افسوس تو بہت ہوا مگر اب ٹائم کی کمی کی وجہ سے اس کا گھر جا کر واپس آنا

 

‎بہت مشکل کام تھا. اس لیے نہ چاہتے ہوے بھی وہ مسٹر شاھد نذیر کے گھر کے دروازے کی طرف اپنے قدم بڑھاتی رہی

 

‎ مسٹر شاھد کے مین ڈور کے سامنے روک کر پدوماوتی نے اپنی بکھری سانسوں کو سمبھالا. اورپھر ہمت کر کے دوسرے لمحے ہی دروازے پر ڈور بیل دے دی

 

‎ ‎پدوماوتی کی دستک کے جواب میں تھوڑی دیر بعد تیس سال کی عمر کے ایک جوان نے دروازہ کھولا. جو اپنی عمر کے حساب سے کافی فٹ لگ رہا تھا 

 

‎ دروازے پر کھڑے اس آدمی کو دیکھتے ہی پدوما وتی ایک ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ بولی " مسٹرشاھد میں شنکر کی بیوی پدوماوتی ہوں، مجھے ملاقات کے لیے وقت دینے کے لیے آپ کا بہت بہت شکریہ" 

 

‎ "ویل آپ سے مل کر بہت اچھا لگا ، پلیز آپ اندر تشریف لائیں " پدوماوتی کی بات کے جواب میں مسٹر شاھد نے بھی مسکرا کر جواب دیا اور اپنے گھر کا دروازہ کھول کر اسے کو اندر انے کی دعوت دی

 

پدو ماوتی مسٹر شاھد کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی ان کے ڈرائنگ روم میں چلی آئی . اور اتے ساتھ ہی کمرے کی سیٹنگ کا جائزہ لیا 

 

‎ ڈرائنگ روم میں ایک طرف ایک بڑا صوفہ رکھا ہوا تھا . صوفے کے سامنے ایک بہت بڑا شیشے کا ٹیبل پڑا ہوا تھا. جب کے کمرے کی دوسری جانب دو چیرز پڑی ہوئی تھیں . اور ان چیرز کے درمیاں میں ایک سائیڈ ٹیبل تھی جس کی وجہ سے ان دونوں میں تھوڑا فاصلہ تھا  

 

‎ اپنے شوہر کے باس کے لیونگ روم کی سیٹنگ دیکھنے کے بعد پدوماوتی آہستہ آہستہ چلتی ہوئی کمرے میں رکھی چیئر پر بیٹھ گئی

 

‎اور پدوماوتی کے بیٹھتے ہی سائیڈ ٹیبل کی دوسری طرف رکھی چیئر پر شاھد صاحب بھی تشریف فرما ہو گے

 

‎ اپنی چیئر پر بیٹھ کر شاھد صاحب نے پدوماوتی کی طرف دیکھا اور بولے "مجھے خوشی ہے کہ مجھے پہلی بار آپ سے ملنے کا موقع مل رہا ہے ! ویسے مجھے یه کہنے میں کوئی حرج نہیں کے شنکراوبراۓ بہت خوش قسمت انسان ہے، جسے آپ جیسی خوبصورت بیوی ملی ہے ، جوخوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے شوہر کے لیے فکر مند بھی ہے ! اب مجھے بتائیں کے آپ کیوں اتنی پریشان ہیں اور آپ کی پرشانی دور کرنے میں کیسے میں آپ کی ہیلپ کر سکتا ہوں۔

 

Share this post


Link to post

اردو فن کلب کے پریمیم سیریز اور پریمیم ناولز اردو فن کلب فورم کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جو فورم کے پریمیم رائیٹرز کی محنت ہے اور صرف وقتی تفریح کے لیئے فورم پر آن لائن پڑھنے کے لیئے دستیاب ہیں ۔ ہمارا مقصد اسے صرف اسی ویب سائیٹ تک محدود رکھنا ہے۔ تاکہ یہ گناہ جاریہ نہ بنے ۔ اسے کسی بھی طرح سے کاپی یا ڈاؤن لوڈ کرنے یا کسی دوسرے دوست یا ممبر سے شیئر کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ۔ جو ممبران اسے اپنے دوستوں سے شئیر کر رہے ہیں ۔ ان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے ممبر سے بھی شئیر نہیں کر سکتے ۔ ورنہ ان کا مکمل اکاؤنٹ بین بھی ہو سکتا ہے۔ ڈیٹا شیئر کرنے والہ ممبراس بات کا عملی اقرار کرے گا کہ وہ بروز قیامت فورم انتظامیہ، سٹوری رائیٹر اور فورم ایڈمن کے تمام گناہوں کا اکلوتا وارث ہو گا ۔ اور بروز قیامت اپنی تمام نیکیاں (جو بھی اس کے نامہ اعمال میں ہوئیں ) بروز قیامت مجھے دینے کا پابند ہو گا۔ اگر کوئی ممبر اب بھی ایسا کرتا ہے اور گناہ جاریہ کا سبب بنتا ہے ۔ تو اس شرط کو ایگری کرتے ہوئے شیئر کر سکتا ہے ۔ فورم کو اس ایگری منٹ پر اجازت دینے میں کوئی اعتراض نہیں ۔ ایڈمن اردو فن کلب

#پدو ماوتی اور شاھد

Part 2

‎مسٹر شاھد میں اصل میں اپنے شوہر کے متلعق آپ سے بات کرنا چاہ رہی تھی ، میں جانتی ہوں کے میرے شوہر شنکر نے جو غلطی کی ہے اس کا آپ کی کمپنی کو کافی نقصان پہنچا ہے اور ہو سکتا ہے

 

 سزا کے طور پر شنکر کو آپ آج نوکری سے بھی نکال دیں ، مگراس کے باوجود میں آپ کو یه بتانا چاہتی ہوں کے شنکر اپنی اس غلطی پر بہت پرشان اور شرمندہ ہے " 

 

‎ یه بات کرتے ہوے پدوماوتی نے التجائی نظروں سے شاھد صاحب کی طرف دیکھا اور اپنی بات جاری رکھتے ہوے کہا " شنکر نے مجھے آپ کے بارے میں بتایا تھا کے آپ بہت اچھے اور غلطیاں معاف کرنے والے انسان ہیں ،اور اپنے شوہر کی اسی بات پر یقین کر کے میں آپ کے پاس یه ریکویسٹ لے کر آئی ہوں کے اگر ہو سکے تو میرے شوہر کی غلطی کو نظر انداز کرتے ہوے اسے ایک بار معاف کر دیں پلیز" اپنے دل کی بات کرتے ہی پدوماوتی کی آنکھوں میں نہ جانے کیوں اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ پائی. جس کی بنا پر اس کی آنکھوں میں آنسوؤں آ گے اور وہ اپنے ہاتھوں کو اپنی آنکھوں پر رکھ کر وہ ایک دہم سے رونے لگی  

 

‎ ‎پدوماوتی کے اس طرح اچانک رونے کی اصل وجہ دراصل یه تھی کے شنکر اور پدوماوتی نے دو ویک پہلے ہی اپنا گھر خریدنے کے لیے ڈون پیمنٹ کی تھی. اور اگر آج شنکر اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھتا تھا. تو ان کے مالی حالات کافی خراب ہو سکتے تھے 

 

‎ کیوں کے اپنی اب تک کی سیونگ تو وہ لوگ پہلے ہی نیا گھر خریدنے میں خرچ کر چکے تھے . اور اب شنکر کی جاب ختم ہونے کی صورت میں ان دونوں میاں بیوی کے لیے پردیس میں اپنے گھر کا خرچہ چلانا کافی مشکل ہو سکتا تھا   

 

‎ مسٹر شاھد سے بات کرنے کے دوران جب 

پدو ماوتی اور شاھد کے ذہن میں یه بات آئی . تو اپنی آنے والے مالی مشکلات کا سوچ کر 

 

پدو ماوتی کی آنکھوں سے آنسوؤں خود بہ خود جاری ہو گے اور وہ اپنے ہاتھوں کو اپنے منہ پر رکھ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگ گئی 

 

‎ 

پدو ماوتی اپنے ہاتھوں کو آنکھوں پر رکھ کر ابھی اسی طرح رونے میں مصروف تھی . کہ اسے اپنے کندھےکی نرم جلد پر مسٹر شاھد کے سخت مردانہ ہاتھوں کا احساس ہوا 

 

‎ مسٹر شاھد کے ہاتھ کو اپنے کندھے پر محسوس کرتے ہی پدوماوتی نے ایک دھم اپنا رونا بند کرتے ہوے اپنے ہاتھوں کو اپنی آنکھوں سے ہٹا کر پیچھے کی طرف دیکھا . تو اس کی نظر اپنی چیئر کے پیچھے کھڑے شاھد صاحب پر پڑی

‎ جو پیچھے سے اس کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھ کرمساج کرتے ہوے اسے دلاسا دینے کی کوشش کر رہے تھے 

 

‎ اپنے جسم کے کسی بھی حصے پر ایک اجنبی مرد کے ہاتھوں کا لمس پہلی بار محسوس کرتے ہی شرم کے مارے پدوماوتی کے جسم کو ایک جھرجھری سی محسوس ہوئی. اور اس نے بے اختیاری میں اپنے ہاتھ کو اوپر اٹھاتے ہوے اپنے کندھے پر رکھے ہوے مسٹر شاھدکے ہاتھ کو اپنے جسم سے الگ کر دیا  

 

‎ ‎پدوماوتی کا یوں ان کا ہاتھ کو اپنے کندھے سے جٹکنے والا عمل مسٹر شاھد کو اچھا نہیں لگا تھا 

 

اس نے سوچا گھوڑی شاطر ھے سواری کامزہ آۓ گا‎ اسی لیے مسٹر شاھد نے جسے ہی یه دیکھا کے شاھد نے اب رونا بند کر دیا ہے .تو وہ پدوماوتی کے پیچھے سے ہٹ کر پدو کے سامنے سے ہوتے ہوے دوبارہ اپنی چیئر کی طرف بڑھنے لگے 

 

‎ "لگتا ہے اپنے کندھے سے یوں ان کا ہاتھ کو ہٹانے کا طریقہ شاھد صاحب کو شاید اچھا نہیں لگا ، اس لیے وہ شاید غصے کے عالم میں مجھ سے پڑے ہو رہے ہیں " شاھد صاحب کی باڈی لینگویج کو دیکھتے ہی پدوماوتی کو اپنی غلطی کا احساس ہوا 

 

‎ اس لیے شاھد صاحب پیچھے سے چلتے ہوئے جوں ہی چیئر پر بیٹھی پدو کے عین سامنے آئے .تو پدو کو نجانے کیا سوجھی کے اس نے ایک دہم سے اپنا ہاتھ آگے کرتے ہوے شاھد صاحب کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ کی گرفت میں لے لیا. 

 

‎ " مسٹر شاھدکیا ایسا کوئی طریقہ ہے کے آپ شنکر کو ایک چانس مزید دے دیں پلیز " شاھد صاحب کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں تھامتے ہوے چیئر پر بیٹھی پدو نے اپنے سامنے کھڑے شاھد صاحب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک بار پھر التجا کی   

 

‎ " ہاں ایک چییز ایسی ہے جسے کرنے سے شنکر کی نوکری بچ سکتی ہے " پدو کی بات سن کر مسٹر شاھد نے پدو کے ہاتھ کی گرفت سے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے اب کی بار پدوماوتی کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں تھامتے ہوئے جواب دیا  

 

‎ "او تو پھر جلدی سے بتائیں نہ کے اس کے لیے کیا کرنا ہو گا مجھے " مسٹر شاھد کے منہ سے یه بات سنتے ہی پدوماوتی نے ایک دم بے چینی سے پوچھا  

 

‎ ‎پدوماوتی کی بات سنتے ہی مسٹر شاھد اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوے پدوماوتی کے ہاتھ کو اپنی طرف کھینچتے ہوے دوسرے ہی لمحے اس کے نازک اور ملائم ہاتھ کو پینٹ میں کسے اپنے لوڑے کے عین اوپر رکھ دیا اور بولے " تماری بات کا جواب تماری انگلیوں کے نیچے ہے " 

 

‎ ‎پدوماوتی تو اپنے شوہر شنکر کے منہ سےشاھد صاحب کی شرافت اور اچھائی کے قصے سن کر مدد کی غرض سے یہاں آئی تھی

 

‎ مگربظاھر شریف نظر انے والے اس عمر شخص کی اس شرمناک حرکت کو دیکھتے ہی پدوماوتی پر حیرت کا ایک پہاڑ ٹوٹ پڑا۔اس کو لگا آ ج اس نرم اور نازک چوت کی خیر نہیں ھے اسے کالی ماتا کے سامنے اپنے پتی کیساتھ کیا گیا وعدہ ٹوٹتاھوا نظر آنے لگا ایک دم اسکی چوت سکڑ سی گئ

 

Share this post


Link to post

#پدو ماوتی اور شاھد

Part 3

‎تو وہ آنکھیں پھاڑ کر مسٹر شاھد کی طرف دیکھنے لگی. اور پھر شاھد صاحب کے لن پر جمے اپنے ہاتھ کو ہٹانے کی کوشش کرتے ہوئے ایک دم سے پدوماوتی کے منہ سے نکلا "کیا مطلب ہے آپ کا "   

 

 

‎ " تم کوئی دودھ پیتی بچی نہیں کے میری اس بات کا مطلب نہ سمجھ سکو" پدو کی بات کا جواب دیتے ساتھ ہی شاھد صاحب نے پدو کے ہاتھ کو اپنے لن پر مزید زور سے دبایا . تو پدوماوتی کے نرم ہاتھ کے لمس سے شاھد صاحب کا لن جوش میں آتے ہوئے پینٹ میں تیزی سے پھولنے پھلنے لگا . جس کی بنا پر پدو کو اس بات کا فوراً اندازہ ہو گیا کے شاھد صاحب کا " پاکستانی ہتھیار" شنکر کے ہتھیار کے مقابلے میں کافی بڑا اور سرخی مائل ہے 

 

 

‎ "نہیں نہیں میں یه نہیں کر سکتی ،کیوں کہ میں نے آج تک اپنے ہسبنڈ کے سوا کسی اور کے ساتھ ایسا کوئی کام نہیں کیا " شاھد کی بات کا مطلب اچھی طرح سمجتے ہوئے پدو نے جواب دیا . اور اس کے ساتھ ہی اس نے شاھد صاحب کے لوڑے پر دبے اپنے ہاتھ کو ایک بار ان کے ہاتھ سے چھڑانے کی کوشش کی.

 

 

‎ مگر اس بار بھی شاھد صاحب نے اس کی یه کوشش ناکام بناتے ہوے پدو کے ہاتھ کو اپنے لوڑے پر جماے رکھا اور بولے "کوئی بات نہیں اگر پہلے کبھی نہیں کیا تو آج کر لو، کیوں کے اپنے شوہر کی جاب بچانے کے لیے میرے لن کی مٹھ لگانے کا سودا بُرا نہیں بیگم پدو‎ " 

 

 

شاھد صاحب کے منہ سے نکلنے والے یه گندے الفاظ سن کر پدوماوتی کا پورا وجود شرم کے مارے کانپنے لگا اوروہ ایک دم بولی "نہیں مجھ سے نہیں ہو گا یه سب "    

 

 

‎ اس کے ساتھ ہی پدو نے شاھد صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے ایک بار پھر التجا کی "مجھے جانے دیں پلیز " اوریه کہتے ھوے اس نے چیئر سے اٹھنے کی کوشش بھی کی

 

 

‎ "اتنی بھی کیا جلدی ہےپدو جی...." پدو کو چیئر سے اٹھتے دیکھ کر شاھد صاحب نے اپنے دوسرے ہاتھ سے پدو کے کندھے کو زور سے دباتے ہوئے اسے اٹھنے سے روکنے کے دوران اسے کہا  

 

 

‎ اپنے ساتھ ہونے والا مسٹر شاھد کا برتاؤ اور اس کی ناجائز فرمائش سن کر پدو یه بات اچھی طرح اب سمجھ ہی چکی تھی کے اس کے شوہر باس کوئی اچھا انسان نہیں ہے . مگر اس کے باوجود ایک آخری کوشش کے طور وہ بولی " مسٹر شاھد شنکر کی ہیلپ کریں پلیز "

 

 

‎ یه بات کہتے ہوے پدو کی آواز بھر آئی اور شاھد صاحب کے شکنجے سے نہ نکل پانے کا سوچ کراس کی آنکھوں سے آنسوؤں ایک بار پھر سے پھوٹ پرے 

 

 

‎ " دیکھے بیگم شنکر ، آپ کے ہسبنڈ نے بہت بڑی غلطی کی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف ہماری کمپنی کو کافی نقصان ہوا ہے . بلکہ ہمارا کسٹمر بھی ہم سے کافی ناراض ہو گیا ہے " مسٹر شاھد نے پدوماوتی کو ایک بار پھر یوں روتا دیکھ کر اسے سمجھانے کی کوشش تو کی . لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہی ہو اپنے لن پر پدو کے ہاتھ کا دباؤ بھی بڑھاتا رہا 

 

 

‎ " میں آپ کی اس بات کو سمجھ سکتی ہوں مگر آپ جو کہہ رھے ہیں وہ میرے لیے نا ممکن عمل ہے " شاھد صاحب کی بات کا جواب دیتے ہوۓ پدو نے اپنے ہاتھ کو اس کے لن سے ہٹانے کی ایک اور ناکام کوشش کی . مگرشاھد صاحب کے ہاتھ کی مظبوط گرفت کی وجہ سے اس بار بی وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب نہ ہو سکی 

 

 

‎ " ‎پدو جی آپ کی اطلاع کے لیے آپ کو بتا دون کے ایک سنگل مرد ہونے کا ناطے چونکہ میرے اپنے کوئی بچے نہیں، اسی لیے یہ کمپنی مجھے اپنے بچوں کی طرح عزیز ہے ، میں ایک کاروباری آدمی ہوں، اورجس مقام پر آج میں ہوں ، اس مقام تک میں کوئی بھی چیز فری میں کسی کو دے کر نہیں پہنچا جا سکتا ، جس کام کے لیے آپ میرے پاس آئی ہیں ، میرے لیے یه بھی ایک کاروباری ڈیل ہی ہے ، اپ مجھ سے ایک بڑی چیز مانگ رہی ہو ، بدلے میں آپ سے میں اتنی ہی بڑی چیز کی ڈیمانڈ کر رہا ہوں، آپ چاہیں تو میری آفر کو رد کر سکتی ہیں ، اس صورت میں آپ کو ابھی کے ابھی یہاں سے جانا ہو گا ، کیوں کے میرا وقت بہت قیمتی ہے اس لیے میں اپنا وقت ویسٹ کرنا پسند نہیں کرتا" اس کے ساتھ ہی مسٹر شاھد نے اپنے لن پر پڑے پدو کے ہاتھ کو ہٹا کر اس کی گود میں رکھ دیا. تو پدو کو سکون سا محسوس ہوا اور اس نے رونا بند کر دیا  

 

 

‎ ‎پدوماوتی کے ہاتھ کو پنیٹ میں تنے اپنے لن سے ہٹاتے ہی مسٹر شاھد ایک لمحے کی خاموشی کے بعد دوبارہ بولے " پدو جی آپ یہاں سے جانے میں اب آزاد تو ہیں ، مگر یہاں سے باہر نکلنے سے پہلے یه بات اچھی طرح جان لیں، کہ آپ کے یہاں سے باہر نکلنے کی صورت میں آپ کے شوہر شنکر کو نوکری کی برخاستگی کا لیٹر شام سے پہلے پہلے ان کے ہاتھ میں دے دیا جائے گا، اور چونکہ آپ کے شوہر کو ان کی غلطی کی بنا پر نوکری سے نکالا جائے گا، اس وجہ سے نہ صرف انھیں اگلی نوکری ملنا بہت مشکل کام ہو گا ،بلکہ اس نوکری سے نکالے جانے کی صورت میں آپ اور اپ کے شوہر کو تیس دن کے اندر اندر امریکا چھوڑ کر واپس بھارت بھی جانا ہو گا "  

 

 

‎ " یه کہہ تو سہی رہا ہے ، کہ اگر شنکر کو اس نوکری سے نکال دیا گیا، تو اسے کوئی اور جاب ملنا بہت ہی مشکل ہو گا، مگر اس کے باوجود مجھے سمجھ نہیں آ رہی کے آخر کروں بھی تو کیا کروں ، کیوں کے اگر اٹھ کر چلی جاتی ہوں ، تو شوہر کو نہ صرف جاب سے نکال دیا جائے گا ، بلکہ ہمیں امریکا بھی چھوڑنا پڑے گا ، اور یہاں سے باہر نہ جانے کا مطلب یه ہو گا 

 

مسٹر شاھد کی بات مانتے ہوئے میں ایک نیک اور شریف بیوی سے ایک گشتی عورت بننا قبول کر لوں" مسٹر شاھد کی ساری بات سن ک

ر پدو ایک دم سے سوچ میں پڑ گئی. اور وہ قید میں نہ ہونے کے باوجود اپنے آپ کو زنجیروں میں جکڑا ہوا محسوس کرنے لگی۔

Share this post


Link to post

#پدو ماوتی اور شاھد

Part 4 & 5

 

‎مسٹر شاھد کی ساری باتوں اور پدوماوتی کے ساتھ شاھد صاحب کے اس برتاؤ سے پدوماوتی یه بات اچھی طرح جان چکی تھی . کہ شنکر کی باتوں کے برعکس شاھد ایک نہایت ہی مضبوط قسم کا انسان تھا جو اپنی بات منوانے کے لیے کسی حد تک بھی جا سکتا تھا

 

‎ ادھر اپنی سوچوں میں گم کرسی پر بیٹھی پدوماوتی اگلا قدم اٹھانے کی الجھن میں جکڑی ہوئی تھی

 

‎تو دوسری طرف پدوماوتی کے سامنے کھڑا مسٹر شاھد شاھد کے چہرے کا جائزہ لیتے ہوئے اس کے ردعمل کو سمجھنے کی کوشش میں مصروف تھا . تا کے اسی کے مطابق وہ بھی اپنا اگلا قدم اٹھا سکے 

 

 

‎اصل میں صورتحال یه تھی کے شنکر کی گئی غلطی کا پتا چلنے کے بعد بھی آج صبح تک شاھد صاحب کا شنکر کو جاب سے نکالنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اسی لیے انھوں نے تو شنکر کو اپنے پاس اصل میں تو ایک وارننگ دینے کی غرض سے ہی طلب کیا تھا

 

 

‎لیکن پدوماوتی کے فون کرنے پر عورتوں کے معاملے میں کافی رنگین مزاج واقعہ ہونے والے شاھد کا لن فون پر پدوماوتی کی مدھر آواز سنتے ہی ایک دم اپنے جوبن پر آ گیا تھا 

 

‎ اور یه ہی وجہ تھی کے پدوماوتی کی ریکویسٹ پر شاھد صاحب نے فوراً ہی اس سے ملاقات کی حامی بھر لی تھی

 

‎پھر جب ٹائٹ ڈریس میں ملبوس پدوماوتی مسٹر شاھد کے سامنے اپنی تمام تر رینایوں کے ساتھ جلوا افروز ہوئی 

 

‎ تو پدوماوتی کے حسین جسم کے نشب و فراز اور لباس کے اندر بنا برازئر کے چھلکتی پدوماوتی کی جوان چھاتیوں کو دیکھتے ہی شاھد صاحب کی پنٹ میں قید ان کا لوڑا جوش میں آ کر اچھلنے لگا

 

‎ اور یه ہی وہ موقعہ تھا جس وقت شاھد صاحب نے فیصلہ کیا کے وہ اپنے پاکستانی سرخ لوڑے کو آج اس جوان ھندوستانی چوت کا مزہ ضرور چکھا کر رہے گا 

 

 

‎ایک بزنس مین ہونے کے ناطے مسٹر شاھد کی زندگی میں اس طرح کے موقعے پہلے بھی کافی آئے تھے جب اس کے کسی ورکر کی بیوی نے اس کے سامنے بیٹھ کر اپنے شوہر کی نوکری بچانے کی ان سے التجا کی تھی اور پھر اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوے شاھد صاحب نے ہمیشہ ہی اس عورت کی پھدی کا مزہ چکھا تھا     

 

‎ اسی لیے اب پدوماوتی کے سامنے کھڑے ہو کر اس کے چہرے کا جائزہ لیتے ہوے ایک ہوشیار اور شاطر شخص ہونے کے ناطے مسٹر شاھد یه بات اچھی طرح جان چکا تھا کے دوسری کئی عورتوں کی طرح پدوماوتی بھی اس کے بچھاے ہوے جال میں پھنس چکی ہے مگر اس کے باوجود مسٹر شاھد یه چاھتا تھا کے جو بھی کام اور حرکت کرے وہ اپنی مرضی سے کرے

 

‎ اس کی وجہ یه تھی کے ایک تو مسٹر شاھد کوئی رپسٹ انسان نہیں تھا جس کی وجہ سے وہ پدوماوتی سے زبردستی چدائی کی کوشش کرتا  

 

‎ اور دوسرا یه کے مسٹر شاھد یه بات بہت اچھی طرح جانتا تھا کے امریکا میں کسی کے ساتھ زبردستی چدائی کا قانون کتنا سخت ہے. اور اپنی کی گئی کسی بھی غلط حرکت پر اسے لینے کے دینے پر سکتے ہیں  

 

‎ اسی لیے وہ اپنا اگلا قدم اٹھانے سے پہلے پدوماوتی کی رضامندی کی پوری طرح تسلی کر لینا چاہتا تھا

 

‎کچھ دیر پدوماوتی کے سامنے ہونہی کھڑے رہنے کے دوران جب مسٹر شاھد نے پدوماوتی کو کرسی سے اٹھ کر گھر سے باہر جاتا نہیں دیکھا تو وہ سمجھ گیا کےزبان سے اقرار نہ کرنے کے باوجود بھی پدوماوتی دلی طور پر اب اس کی ڈیمانڈ منانے پر رضامند ہے 

 

‎ جس کی بنا پر وہ اب اسے نہ تو آگے بڑھنے سے روکے گئی اور نہ ہی وہ اب اس کی کسی بات سے انکار کر پائے گئی

 

‎یه بات سوچتے ہی مسٹر شاھد نے اپنی قیمتی پنٹ کی بیلٹ کھولی

 

‎اور پنٹ کے ساتھ ساتھ اپنے انڈرویر کو نیچے کرتے ہوے پنٹ اور انڈرویر دونوں کو ایک ساتھ ہی اپنے جسم سے الگ کر کے نیچے فرش پر گرا دیا

 

‎مسٹر شاھد کی پنٹ اور انڈرویر اترنے کی دیر تھی کے اس کے ساتھ ہی شاھد صاحب کا کھڑا ہوا  

 

بغیر ماس کے سرخ سپاڑا اور لوڑا چھن سے باہر نکلا اور سانپ کی طرح اپنا پھُن پھلاتے ہوے تن کر ہوا میں کھڑا ہو گیا

 

شاھد صاحب کے لوڑے کو اپنی نظروں کے سامنے یوں عریاں ہوتا دیکھ کر شرم کے مارے نہ صرف پدوماوتی کا چہرہ سرخ ہو گیا ھاۓ بھگوان بلکہ ساتھ ہی حیرت کے مارے اس کی آنکھیں بھی پھٹی کی پھٹی رہ گیں#پدو ماوتی اور شاھد

Part 7

‎.پدوماوتی.کے اس مکس ری ایکشن کی وجہ یه تھی کے چونکہ.پدوماوتی. نے نہ تو شادی سے پہلے اور نہ ہی شادی کے بعد اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور مرد سے کسی قسم کا کوئی جنسی تعلق رکھا تھا اور نہ ہی اپنی زندگی میں ایک کے علاوہ کسی غیر مرد کا لن کو اس سے پہلے دیکھا تھا . اس لیے شوہر کے علاوہ کسی اور مرد کے لن کو یوں اچانک اپنی نظروں سے سامنے ننگا دیکھ کر اسے بہت شرم محسوس ہوئی

 

 

 

‎ مگر ساتھ ہی ساتھ کے لوڑے کے مقابلے میں صاحب کا لن نہ صرف کافی لمبا، موٹا اور چوڑا تھا. بلکہ شنکر کے لوڑے کے برعکس‎.‎شاھد‎.‎ صاحب کا لوڑا آگے سے کٹا ہوا بھی نہیں تھا . اسی لیے اپنے شوہرکے کٹے ھوے لن سے مختلف ایک انکٹ لوڑا دیکھ کر#پدوماوتی ایک دم حیرت زدہ رہ گئی 

 

 

 

#شاھد نذیر‎ ابھی#پدوماوتی گم صم کی حالت میں ہی کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی کے اتنے میں‎د‎.‎ صاحب نے آگے ہوتے ہوئے کی گود میں رکھا ہوئے ہاتھ کو اٹھایا اور اسے لا کر ایک دم سے اپنے تنے ہوے ننگے لن پر رکھ دیا  

 

 

‎#شاھد نذیرصاحب نے جسے اپنے لوڑے پر.پدوماوتی. کا ہاتھ کو رکھا تو شرم اور خوف کے مارے "نہیییییی نہیییییی " چلاتے ہوے#پدوماوتی نے مسٹر #شاھد نذیرکے لن سے اپنا ہاتھ کو ہٹانا چاہا 

 

 

‎ تو#پدوماوتی کو اپنے لوڑے سے اپنا ہاتھ ہٹانے کی کوشش کرتا دیکھ کر صاحب سے اس کے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوے#پدوماوتی سے ایک بار پھر فرمائش کی. "اووووووو اپنے ہاتھ سے میرے لن کی مٹھ لگا کر میرا پانی نکال دو نہ #پدوماوتی "

 

 

‎ اور پھر جواب کا انتظار کیے بغیر ہی اپنی گانڈ کو آگے پیچھے ہلاتے ہوے اپنے تنے ہوئے سخت لوڑے کو#پدوماوتی کی نرم اور گداز ہتھلی پر آہستہ آہستہ رگڑنا شروع کر دیا   

 

‎ ایک اجنبی مرد کے ننگے لن پر اپنے ہاتھوں کی ماجودگی ذہنی طور پر اس کے لیے بہت ہی قوفت کا باحیث تھی مگر وہ کوشش کے باوجود بھی صاحب کے چنگل سے اپنے آپ کو نہیں بچا پا رہی تھی  

 

 

 

‎#پدوماوتی ابھی اسی کشمکش میں گھری ہوئی تھی کے وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے کے اچانک اس کے دماغ میں ایک بات آئی اور وہ خیالوں ہی خیالوں میں اپنے آپ سے ہمکلام ہوئی کے " 

 

 جب میری کالج کی کافی ساری کلاس فیلوز india میں رہتے ہوے بھی پڑھائی کے دوران ہی بواۓ فرینڈز بنا کر شادی سے پہلے ہی چدوا سکتی ہیں ، تو اپنے شوہر کی جاب بچانےاور اپنے بہتر مستقبل کے لیے پردیس میں اس غیر مرد کی مٹھ لگانے میں مجھے کوئی حرج نہیں ہونا چایئے"

 

 

‎ یه خیال دل میں آتے ہی#پدوماوتی نےاپنے آپ کو اس گندے کام کے لیے امادہ کرنے کی کوشش کی .اور پھر ساتھ بی بوجھل دل کے ساتھ نہ چاہتے ہوے‎.‎شاھد‎.‎صاحب کے#شاھد نذیر چٹان کی طرح سخت اور لوہے کی طرح گرم لوڑے پر اپنے ہاتھ کا دباو بڑھاتے ہوے جلدی سے ان کے لن کی مٹھ لگانا شروع کر دی  

 

 

 

‎ "اففففففففف کیا جادو ہے آپ کے ان نازک ہاتھوں میں فجی#پدوماوتی کے گداز ہاتھوں کو اپنے موٹے سخت لوڑے پر چلتا ہوا محسوس کرتے ہی مزے اور خوشی سے اچھلتے ہوے#شاھد نذیرصاحب ایک دم بول پرے 

 

 

‎ اصل میں مسٹر#شاھد نذیرایک نہایت ہی شاطر قسم کا انسان تھا . جسے کسی عورت سے اس کی مرضی کے خلاف اس طرح کا گندا کام کروا کر ایک عجیب سا جنسی مزہ ملتا تھا  

 

 

‎ یه ہی وجہ تھی کے#پدوماوتی جیسی جوان اور خوبصورت عورت کو اپنے سامنے دیکھ کر مسٹر#شاھد نذیر کوشنکر کی غلطی پر بہت خوشی ہوئی تھی کیوں کے یهbشنکر کی غلطی کی وجہ سے ہی اسےشنکر کی شریف اور خوبصورت بیوی کے ساتھ جنسی مزہ کرنے کا موقع میسر ایا تھا . اور اب#پدوماوتی جیسی جوان شادی شدہ عورت کو اپنی مرضی کے خلاف اس کے لوڑے پر ہاتھ چلاتا دیکھ کر#شاھد نذیر کے اندر کا شیطان اب پورا ترا جاگ چکا تھا

 

 

اور اسی لیے اس کو یوں اپنی بات مانتے دیکھ کر صاحب نے اپنے فرمائشی پروگرام کو آگے بڑھانے کا سوچتےہوے اپنے سامنے بیٹھی#پدوماوتی بیگم کے بالوں میں اپنا ھیرتے ہوے کہا " میرے لن کو اپنے منہ میں بھر لیں#پدوماوتی جی "

 

 

‎ اس شادی شدہ عورت کو اپنی مرضی کے خلاف اس کے لوڑے پر ہاتھ چلاتا دیکھ کر صاحب کے اندر کا شیطان اب پورا طرح جاگ چکا تھا. اور اسی لیے اس کو یوں اپنی بات مانتے دیکھ کر#شاھد نذیر صاحب نے اپنے فرمائشی پروگرام کو آگے بڑھانے کا سوچتے ہوے اپنے سامنے بیٹھی#پدوماوتی کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوے کہا " اپنے ہونٹوں سے میرے لن کو پیار کریں#پدوماوتی جی "

 

 

 

‎ " کیااااااا#شاھد نذیرصاحب کی یه فرمائش سنتے ہی#پدوماوتی نے اپنی آنکھیں اوپر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا اور ساتھ ہی اپنے سر کو#شاھد نذیرصاحب کے ہاتھ کی گرفت سے چھڑانے کی کوشش کی 

 

 

 

‎ مگر اسی دوران شاھد نے کرسی پر بیٹھی کے سر کو اپنے ہاتھوں سے دبوچتے ہوے#پدوماوتی کے منہ کو اپنے تنے ہوے لن کے قریب کیا. اور اپنے لوڑے کو#پدوماوتی کے ہونٹوں کے عین سامنے لہراتے ہوے ایک بارپھر اپنی فرمائش دوہرائی " اپنے ان گلابی ہونٹوں سے ایک بار میرے لوڑے کو چھویں جی "

 آپ یہ کہانی اپنی کہانیاں اور اپنے دوست گروپ سے پڑھ رھے آپ بھی اپنی کہانی لکھ سکتے ھو

 

‎ "نہیں میں نے تو یه کام کبھی شنکر کے ساتھ نہیں کیا، تو آپ کے ساتھ کیسے کر سکتی ہوں#شاھد نذیر صاحب " اپنی آنکھوں کے سامنے تنے ہوے مسٹر#شاھد نذیرکے لوڑے پر نظریں جماے#پدوماوتی ایک دم سے گبھراتے ہوے بولی 

 

 

‎شنکر کے ساتھ آپ نے یه سب کیا ہے یا نہیں ، مجھے اس کی کوئی پروا نہیں ، اگر تو آپ اپنے شوہر کی نوکری واقعی ہی بچانا چاہتی ہیں، تو پھر آپ کو میری ہر بات ماننا پڑے گئی ، ورنہ ابھی بھی وقت ہے آپ یہاں سے جا سکتی ہیں#پدوماوتی جی " کا انکار سنتے ہی مسٹر#شاھد نذیرکو غصہ آیا اور اپنی خواہش پوری نہ ہوتے دیکھ کر وہ سفاکی سے بولا 

 

 

 مسٹر#شاھد نذیر کا یه سفاکانہ لہجہ سنتے ہی#پدوماوتی سمجھ گئی کے اب اس خبیث آدمی کی بات ماننے کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ نہیں بچا تھا  

 

 

‎ اس لیے اپنی بے بسی کا سوچتے ہوے#پدوماوتی کی آنکھوں میں آنسوؤں کا بہاؤ ایک بار پھر سے جاری ہو گے تو اس کے ساتھ ہی اس کی آنکھیں خود با خود بند ہو گیں

 

 

‎‎.‎شاھد‎کو یوں اپنی آنکھیں بند کرتے دیکھ کر مسٹر ار سمجھ گیا کے#پدوماوتی اس کے سامنے ہار مان چکی ہے 

 

 

 

‎ جس کی بنا پر اس کا حوصلہ بڑھا اور پھر اس نے چند قدم آگے بڑھ کر اپنے تنے ہوئے پتھریلے لوڑے کو کرسی پر بٹھی#پدوماوتی کے نرم- و- نازک ہونٹوں کے عین اوپررکھ کر لن کو#پدوماوتی کے لبوں پر ہلکا سے رگڑا . تو#شاھد نذیر کے گرم لورے کی تپش اپنے گداز لبوں پر محسوس کرتے ہی وہ واپسہ نے ایک دم سے اپنی آنکھیں کھول دیں

 

 

‎#شاھد نذیرجی میرا لوڑذ آپ کے ان پنکھڑی جیسے گلابی ہونٹوں کا سواد چکنا چاہتا ہے ، پلیز اس اپنے ہونٹوں کا رس پلا دیں " مسٹر#شاھد نذیر نے اپنے موٹے لوڑے کو#پدوماوتی کے لبوں کے سامنے لہراتے ہوئے فرمائش کی

 

 

‎#شاھد نذیر کی بات سن کر نے نظریں اٹھا کر ان کیطرف دیکھا اور پھر نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے اپنا منہ بڑھایا اور اپنی زبان کو اپنے منہ سے باہر نکال کر مسٹر#شاھد نذیرکے لن کے موٹے ٹوپے کو ہلکا سا چھو لیا۔

Share this post


Link to post

#پدو ماوتی اور شاھد

 

Part 4

 

‏ 

 

‎ہاااااااااے کیا گرم زبان ہے آپ کی پدوماوتی جی ، میرے لن

 

 کو یوں تو نہ ترسائیں ، بلکہ اسے اپنے منہ میں بھر لیں پلیز " ماوتی کی گرم زبان کو یوں پہلی بار اپنے لن سے ٹچ ہوتا محسوس کر کے مزے کے مارے مسٹر شاھد کے منہ سے سسکاری نکلی اور اس کے ساتھ ہی اس نے پدو سے دوبارہ ایک اور فرمائش کر دی 

 

 

‎ مسٹر شاھد کی بات سن کر پدوماوتی نے ایک لمحے کے لیے کچھ سوچا اور پھر اپنا منہ پورا کھولتے ہوے شاھد صاحب کے لن کے ٹوپے کو اپنے منہ میں بھرنے کی کوشش کی مگر شاھد صاحب کا لوڑے کا ٹوپا اتنا موٹا تھا کے وہ اس کے چھوٹے منہ میں داخل نہیں ہو پا رہا تھا 

 

 

‎ ‎اس نے لن کو منہ سے باہر نکالا اور ایک بار پھر ٹرائی کی مگر نتیجہ پہلے جیسا ہی تھا

 

 

 

‎ ‎شاھد صاحب نے جب دیکھا کے کوشش کے باوجود پدوماوتی ان کے موٹے لمبے لوڑے کو اپنے منہ میں نہیں لے پا رہی تو انہوں نہ جانے ایک دم کیا سوجھی کے انہوں نے اس کے سر کو اپنے ہاتھوں میں پکڑتے ہوے اپنی گانڈ کو ایک جٹکا دیا تو ان کا لوڑا پدوماوتی کے لبوں کو چیرتا ہوے اس کے منہ میں آدھا داخل ہو گیا 

 

 

 

‎ "اوووو نہیں " شاھد صاحب کےسخت لوڑے کو اپنے منہ میں محسوس کرتے ہی اس نے اپنے سر کو پیچھے کرتے ہوے مسٹر شاھد کے لن کو اپنے منہ سے نکالنے کی کوشش کی مگر شاھد صاحب بھی اس جنسی کھیل میں ایک منجھے ہوئے کھلاڑی کی حثیت سے پدو ماوتی جیسی ناسمجھ عورت کے ری ایکشن سے اچھی طرح واقف تھے 

 

 

‎ اس لیے پدوماوتی نے جوں ہی اپنے سر کو پیچھے کر کے شاھد صاحب کے لن کو اپنے منہ سے نکالنے کی کوشش کی 

 

 

 

‎ تو مقابلے میں صاحب نے اس کے سر کو اپنے ہاتھوں سے جکڑتے ہوے کو یه موقعہ نہیں دیا کے وہ ان کے لن کو اپنے منہ سے اب باہر نکال سکے    

 

 

 

‎ "اففففففففففففف اس عورت کا منہ اگر اتنا گرم ہے تو اس کی چوت کتنی گرم ہو گئی " پدو کے منہ میں اپنے لمبے لوڑے کا موٹا ٹوپا داخل کرنے ہی مسٹر شاھد کو اپنی توقع سے زیادہ سرور ملا تو اس کے ذہن میں خیال آیا. اور اس کے ساتھ ہی وہ ایک بار پھربولا " ہاۓ پدوماوتی جی میرے لن کا چوپا تو لگاؤ نہ پلیز "

 

 

‎ اپنے لن کو اپنے سامنے بیٹھی رن کے حلق میں ٹھونستے ہوے مسٹر شاھد نے فرمائش کی اور پھر اس کے جواب کا انتظار کیے بنا ہی اپنی گانڈ کو آگے پیھچے ہلاتے ہوے اپنے لن کے ذریعے پدوماوتی کے منہ کو آہستہ آہستہ چودنا شروع کر دیا 

 

 

‎ " ہاااااااااے اپنی شادی کے بعد شنکر نے کئی بار مجھ سے اپنا لن چوسنے کی فرمائش کی تھی مگر میں نے اپنے شوہر کو ہمیشہ یه کہہ کر خاموش کر دیا تھا کے " یه گندہ کام ہے جان ، مگر آج مسٹر شاھد اپنی بلیک میلنگ کے ذریعے مجھے اب وہ ہی گندہ کام اپنے ساتھ کرنے پر مجبور کر رہا ہے جسے میں آج تک اپنے شوہر کے ساتھ کرنے سے انکاری تھی " اپنے منہ میں آگے پیچھے ہلتے مسٹر شاھد کے لوڑے کی حرکت کو محسوس کرتے ہوے اس کے ذہن میں خیال آیا . 

 

 

‎ ابھی پدو اپنے اسی خیال میں گم تھی کے اتنے میں اس کے سامنے کھڑے مسٹر شاھد نے اپنی گانڈ کو ایک دم آگے کرتے ہوے ایک بار پھر زور کا دھکا مارا تو اس بارشاھد صاحب کا لوڑا مزید تیزی

 

‎کے ساتھ پدو ماوتی کے منہ سے ہوتا ہوا اس کے حلق میں اترتا چلا گیا۔

پد

ماوتی شاھد صاحب کے اس اچانک حملے کے لیے بالکل بی تیار نہیں تھی . اسی لیے جوں ہی شاھد صاحب کا موٹا لمبا لوڑا اس کے حلق میں اترا تو پدوماوتی کو اپنی سانس بند ہوتی ہوئی محسوس ہوئی اور اس کے ساتھ ہی اسے ایک دم سے کھانسی لگ گئی جس کی وجہ سے اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا اور وہ ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگ گئی اور اس کے ساتھ ہی اس کی آنکھوں ایک بار پھر آنسوں سے بھر گئیں.

 

 

 

اس‎‏ نے اپنے سر کو پیچھے کرتے ہوے مسٹر شاھد کے لوڑے کو ایک بار پھر اپنے منہ سے جٹکنے کی کوشش کی مگر شاھد صاحب نے اب کی بار اس کے سر کے کو اپنے دونوں ہاتھوں

 

 

 

 

 

 

 

‎سے دبوچتے ہوئے اس کے سر کو پیچھے کی طرف سے کس کے پکڑا اور اپنا لوڑا تیزی کے ساتھ پدوماوتی کے گرم منہ میں پیلنا شروع کر دیا 

 

 

‎"میرے ساتھ یه انسان جو کچھ بھی کر رہا ہے بیشک وہ کسی بھی لحاظ سے سہی نہیں مگر اب بہتری اسی میں ہے کے اس آدمی سے تعاون کرتے ہوے میں جلدی سے اس کا پانی نکل کر اسے فارغ کروں اور تا کے یہاں سے جلد از جلد نکل سکوں" اپنی مرضی کے خلاف اپنے منہ میں گومتے شاھد صاحب کے لن کے تیکھے سواد کو اپنے زبان سے پہلی بار چکھتے ہوے اس نے سوچا اور پھر اس کے ساتھ اس نے اپنی بہتی آنکھوں کو اپنے ہاتھوں سے صاف کرتے ہوۓ اپنے منہ کو پورا کھولتے ہوے شاھد صاحب کے موٹے لمبے لوڑے کا جیسے تیسے چوپا لگانے لگی 

 

‎"اففففف پدوماوتی جی کیا جادو ہے آپ کی زبان میں" ماوتی کی اناڑی زبان نے جسے ہی منہ سے نکل کرشاھد صاحب کے لوڑے پر گھومنا شروع کیا تو لذت کے مارے مسٹر شاھد کے منہ سے سسکیاں نکل کر کمرے میں گونجھنے لگیں 

 

پدوماوتی کے گرم منہ کے سواد سے بے حال ہوتے ہوے شاھد صاحب نے پدوماوتی کے سر کو اپنے ہاتھوں میں مزید طاقت سے پکڑا اور طوفانی انداز میں اس کے منہ کو چودتے ہوے زور سے چیخے " اففف... آہ سالی ھندو رنڈی..کھول اور کھول اپنا منہ اور میرا پورے کا پورا لوڑا ا پنے منہ میں لے رنڈی" 

 

ماوتی جیسی شریف عورت نے جب پہلی بار کسی مرد کے منہ سے اپنے متلعق ایسے الفاظ سنے تو اس نے نظریں اٹھا کر شاھد صاحب کی طرف دیکھا مگر اپنے بارے میں کہے گے ان گندے الفاظ کو سن کر مسٹر شاھد پر غصہ آنے کی بجاے نہ جانے پدوماوتی کو پہلی بار اپنی چوت ایک دم گیلی محسوس ہونے لگی 

 

‎" افففف یه کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ آج " اپنے جوان جسم کی اس بدلتی حالت کو محسوس کرتے ہی کو یه خیال آیا اور شرم کے مارے وہ اپنی ہی نظروں میں اپنے آپ کو گرا ہوا محسوس کرنے لگی

 

‎اب کمرے میں حالت یه تھی کے ایک طرف مسٹر شاھد بھوکے شیر کی طرح اپنے لن کو اندر باہر کرتے ہوے ماوتی کے لبوں اور منہ سے لطف اندوز ہو رہا تھا 

 

‎جب کے دوسری طرف پدوماوتی اپنے منہ اور زبان کو مسٹر شاھد کے لن پر تیزی سے گھماتے ہوئے جلد از جلد اس مصیبت سے چھٹکارا پانا چا رہی تھی    

 

پدو بیشک لوڑا چوسائی کے معاملے میں اناڑی تھی مگر اس کے باوجود اپنے ساتھ کی جانے والی مسٹر شاھد کی زبردستی کے ہاتھوں ہار مانتے ہوۓ اس نے جوں ہی شاھد صاحب کے لوڑے کو پہلی بار چوسنا شروع کیا.تو پدوماوتی کے کنوارے منہ کی گرمی کے اثر سے مسٹر شاھد جسے تجربہ کار مرد کا لوڑا بھی پگھلنے پر مجبور ہونے لگا تھا اور پھر پدوماوتی کے چوسنے پر سٹارٹ کے چند ہی لمحوں بعد شاھد صاحب کی ہمت جواب دے گئی اور ان کے منہ سے " اہہ ہہ اااااااا۔۔ اوووووو۔۔۔ ھاااااااااا" جیسی آوازیں نکلنا شروع ہو گیں 

 

‎اس کے ساتھ ہی شاھد صاحب کو اپنے ٹٹوں میں ایک طوفان سا اٹھتا ہوا ممحسوس ہوا . اور وہ اپنے لن کو اس کے منہ میں جھڑ تک گھساتے ہوے ایک دم چیخے "اووو افففف میرا پانی نکلنے لگا ہے پدوماوتی جی " 

 

شاھد صاحب کی یه بات سنتے ہی اس نےاپنے سر کو پیچھے کرتے ہوے اپنے منہ میں گھسے شاھس صاحب کے لن کو باہر نکالنے کی کوشش کی

 

 

‎ مگر مسٹر شاھد صاحب کے ہاتھوں میں جھکڑے اس کے سر اور اپنے منہ میں ٹھسے شاھد صاحب کے لن کے ٹوپا نے اس کا منہ کو بند کیا ہوا تھا۔

 

‎ جس کی بنا پرچاہنے کے باوجود اسے ایسا نا کر سکی اور پھر دوسرے ہی لمحے شاھد صاحب کے لن سے تازہ اور گرم منی کی دھار نکل کر پدوماوتی کے منہ کے اندر ہی گرنے لگی آہ علاو الدین نے تو پدما ماوتی کو چودا تھا پر بیج نہیں ڈالا تھا پر 

 

میں پدوماوتی کے اندر اپنا بیج ضرور ڈالوں گا شاھد سوچوں میں گم اگلی جنگ کی تیاری کرنے لگے

Share this post


Link to post

#پدو ماوتی اور شاھد

 

Part 5

 

شاھد صاحب کے ایک اور حملے سے پدوماوتی ایک دم پریشان ہو گئی اور اس نے اپنے وجود کو مسٹر شاھد کی قید سے چھڑانے کی کوشش کرتے ہوے کہا "میں نے اب تک جو کچھ بھی کیا وہ صرف اور صرف اپنے شوہر کی نوکری بچانے کی مجبوری میں کیا، اب اس سے آگے بڑھنا میرے لیے ناممکن ہے شاھد صاحب "  

 

 

‎" ہاااااا#اے پدو ماوتی جی بس ایک بار اپنی اس پیاری چوت کا مزہ لینے دیں مجھے اس کے بعد میں آپ کو تنگ نہیں کروں گا " پدوماوتی کی بات سن کر مسٹر شاھد نے پیار بھرے لہجے میں اسے جواب دیا اور دوسرے ہی لمحے ماوتی کے ڈریس کو اس کے جسم سے علیحدہ کیا تو بنا برازئراور پینٹی کے پدوماوتی کا جوان اور دلکش وجود مسٹر شاھد صاحب کی نظروں کے سامنے عریاں ہو گیا  

 

 

پدوماوتی کی خوبصورت ٹانگیں، گوری گوری اور بھری بھری رانیں، موٹے، سڈول اور فل جوسی چوڑے کولہے اور اوپر سے موٹی بھاری صاف شفاف اور گداز کسی ہوئی جوان چھاتیاں کو دکھتے ہی شاھد صاحب کی تو سیٹی ہی گم ہوگئی اور پدوماوتی کا یہ #قیامت خیزسراپا دیکھتے ہی مسٹر شاھد کے منہ میں پانی آ گیا 

 

 

‎" افففف کیا شاندار جوانی ہے آپ کی پدو ماوتی جی " پدوماوتی کی کسی ہوئی جوان چھاتیوں اور اس کی لمبی گداز رانوں کے درمیاں سے جانگتی شفاف کلین شیو پنک چوت پر ہوس بھری نظریں 

‎ ڈالتے ہوے شاھد صاحب بولےاف سالی کہاں چھپا رکھا تھا ایسا شباب

 

‎اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے پدو کو دھکا دیا تو وہ ننگی حالت میں پیچھے پڑے بستر پر جا گری   

 

 

‎"افف ج اگر ذرا سا بھی اندازہ ہوتا کے اپنے شوہر کی نوکری بچانے کے لیے مجھے اپنی عزت کا سودا بھی کرنا پرے گا تو میں مسٹر شاھد کے گھر میں کبھی بھی پیر نہ رکھتی " شاھد صاحب کے دئیے گے دھکے کی وجہ سے کمر کے بل بستر پر گرتے ہوے پدوماوتی کے ذہن میں خیال آیا 

 

 

‎بستر پر گرتے ہی پدوماوتی کی ٹانگوں خود با خود ھوا میں اٹھ گئیں تو پدوماوتی کی موٹے لبوں والی جوان پھدی مسٹر شاھد صاحب کے سامنے سورج مکھی کے پھول کی طرح کھلتی چلی گئی 

 

‎" ہاااااااااے پدوماوتی کی شکل کے ساتھ ساتھ اس کی چوت بھی بہت ہی حسین ہے " اسکی کی کھلی ٹانگوں کے بیچ میں سے چھلکتی ہوئی اس کی جوان پھدی کو پہلی بار دیکھتے ہی شاھد صاحب کا کھڑا ہوا لوڑا اکڑ کر ایک دم ان کی ناف کے ساتھ ٹکرانے لگا 

 

 

 

 

‎اس موقعہ سے فائدہ اٹھانے کا سوچتے ہوے شاھد صاحب بستر پر پڑی اس کے جسم پر جھکے اور ایک دم سے پدوماوتی کی کھلی ٹانگوں کے درمیاں آ کر اس کی چوت کے اوپر اپنا موٹا لوڑا رگڑ دیا 

 

 

 

‎جوں ہی صاحب کا سخت لن پدوماوتی کی جوان پھدی کے ساتھ ٹچ ہوا تو پدوماوتی کے منہ سے بے اختیاری سے ایک ہلکی سی آواز نکلی " اووو "  

 

 

‎" آپ کی چوت تو بہت ہی ملائم ہے پدو جی کیا لگاتی ھواس پر" پدوجی کے منہ سے نکلنے والی یه آہ سنتے ہی شاھد صاحب کا جوش مزید بڑھا اور انھوں نے پدو کے چھاتیوں کے ساتھ اپنے بالوں بھرے سینے کو رگڑتے ہوے پدوماوتی کے کان میں سرگوشی کی .اور اس کے ساتھ ہی پدو کے پھدی کے لبوں پر اپنے لوڑے کو تیزی کے ساتھ ایک بار پھر رگڑا 

 

 

 

‎"اس خبیث شخص نے جب میری عزت کو پامال کرنے کا تہیہ کر ہی لیا ہے تومیرے روکنے کے باوجود بھی یه شیطان اب میری چوت میں لن ضرور ڈالے گا ، مگر اس مکارآدمی کے ہاتھوں اپنی عزت لٹوانے کے باوجود میں اس انسان کو یه موقعہ ہرگز نہیں دون گئی کے یه اپنے پانی کو میرے اندر ہی خارج کرے " مسٹر شاھد کے اپنے ساتھ اب تک کیے جانے والے سلوک کو دیکھتے ہوے وہ یه بات اچھی طرح سمجھ چکی تھی کے اس کے پاس شاھد صاحب سے بچنے کا کوئی چارہ نہیں تھا 

 

 

 

‎اس لیے اس نے مزاحمت کی بجاے شاھد صاحب کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوے مسٹر شاھد سے ایک دم کہا " آپ کونڈم کے بغیر نہیں ڈالیں پلیز "

 

‎"اچھا ٹھیک ہے میں بغیر کونڈم کے نہیں ڈالوں گا، مگرشرط یه ہے کے میرے لن پر کونڈم آپ خود لگاؤ گئی جی "ماوتی کی بات سنتے ہی شاھد صاحب کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ پھیلی اور اس نے اس کے اوپر سے ہٹ کر بیڈ کے ساتھ والے دراز کو کھولا اور اس میں سے ایک کونڈم نکل کر پدوماوتی کے ہاتھ میں پکڑا دیا 

 

‎"میں نے تو اپنے شوہر شنکر کے لن پر بھی کبھی خود کونڈم نہیں لگایا مگر پرگینیٹ ہونے سے بچنے کے لیے اب اس خبیث کی یه بات بھی مجبوراً ماننی پڑے گئی مجھے "

 

شاھد صاحب کی یه نئی فرمائش سن کر "مرتا کیا نہ کرتا " والی مثال کی طرح وہ بستر سے اٹھی اور کونڈم کا پیکٹ کھول کرلرزتے ہاتھوں سے اسے مسٹر شاھد کے لن پر چڑھا دیا 

 

 

 

‎بے شک اپنی عزت ایک اجنبی مرد کے ہاتھوں زبردستی پامال ہونے کے خوف کی وجہ سے پدوماوتی کی ذہنی حالت اس وقت بہت پریشان کن تھی اور مگراس کے باوجود شاھد صاحب کے لن پر کونڈم لگاتے وقت پدوماوتی کے ذہن میں خیال آیا۔

Share this post


Link to post

#پدو ماوتی اور شاھد

Part 6

 

‎ہاااااااااے دیکھو تو سہی شنکر کے مقابلے میں شاھد کا لن

 

 زیادہ لمبا اور موٹا ہے "

 

‎اپنے ذہن میں آنے والے اس خیال سے پدوماوتی کو خود سے بھی شرم آئی اور اس کے ساتھ ہی اس نے ہاتھ میں پکڑے خالی پیکٹ کو فرش پر نیچے پھینک دیا 

 

‎پھر جوں ہی پدوماوتی نے شاھد صاحب کے لن پر ‏‎#‎کنڈوم چڑھا کر فارغ ہوئی تواس کے ساتھ ہی شاھد نے اسے پھر سے بستر پر گرایا اور ایک دم سے پدوماوتی کے اوپر آتے ہوئے اس کی پھدی اور‎#‎کونڈم لگا لن ٹکا دیا ‏

 

 

 

 

‎اپنے لن کو پدو ماوتی کی پھدی کے منہ پر رکھتے ساتھ ہی شاھد صاحب نے ایک شارٹ مارا تو ان کے لن کا موٹا ٹوپا پدو کی پھدی کے لبوں کو کھولتا ہوا اس کی چوت کے اندر داخل ہو گیا 

 

 

 

 

‎"ہاااااااااے بھگوان میں مر گی" اپنے شوہرکے لن کے مقابلے میں کئی گنا موٹا اور سخت لوڑا پھدی میں زبردستی گھستے ہوئے محسوس کرتے ہی درد کی شدت سے پدوماتی کی چیخ نکل گئی شاھد نے اتنی تنگ چوت کا پرساد چکھا تھا وہ بھلا کب چھوڑنے والا تھا اس نے پدوماوتی کو اپنے مسلم ٹوپے کی گرمی محسوس کرانے کے لیئے لن باھر نکال کر صاف کیا اور پدوماوتی کی پنک چوت پر اپنا لن رگڑنا شرو ع کر دیا اور چالاکی سے کنڈوم کو آگے سے پھاڑ دیا ظاھر ھے لن کا لمس پاکر پدوماوتی نے بھی گرم تو ھونا ھی تھا اسے اب یاد نہ رھا کہ وہ ایک مسلمان کے نیچے ھے اور اس نے اپنے ھونٹ شاھد کے ھونٹوں کیساتھ ملا دیئے شاھدکو لن پھر سے اندر ڈالنے پر مجبور کر دیا شاھد نے جوش میں آکر ایک زور کا جھٹکا مارا آہ اس بار چوت کی رگڑ لن کو لگی تو شاھد کو بہت مزہ آیا اس نے سپیڈ بڑھا دی اور لن تیزی سے پدو ماوتی کے اندر باھر کرنا شرو ع کر دیا پدو ماوتی کو پتا تھا کہ شاھد کے ھاتھ بہت تنگ چوت لگی ھے اور وہ اسے جم کر #چودے گا پدو ماوتی شاھد کا سارا لن اپنی چوت میں لے چکی تھی اور اب اسکا درد سے برا حال تھا

 

 مگر مسٹرشاھد اس ھندو #چھوری کی تنگ چوت میں اپنا لن پورا اندر باھر کر رھا تھا شاھد کے لبوں پر اب فاتحانہ مسکراھٹ تھی وہ تنگ چوت کا مزہ لینے کے لئیے #کنڈوم کو ٹاپ سے پھاڑ چکا تھا جسکا پدوماوتی کو نہیں معلوم تھا اور شاھد نے ماوتی کو اپنے نیچے دبوچتے ھوۓ اپنا لن تیز دھکوں سے اندر باھر کرنا جاری رکھا اور پدو ماوتی کو بھی مسٹر شاھد کے لن کا#لمس پا کر #شہوت طاری ھو چکی تھی اس نے بھی اپنی ٹانگیں کھول دی تھیں

 

Part 7

پدوماوتی شاھد شنکر تو تھے نہیں کے وہ اپنی وائف کے دکھ یا درد کا کوئی احساس کرتے .

 

 اسی لیے انھوں نے#پدوماوتی کے اس طرح چیخنے کی پروا نہ کرتے ہوا اپنا کام جاری رکھا اور اپنا لن تھوڑا سا باہر نکل کر دوبارہ ایک اور جھٹکا دیا جس کی وجہ سے اس بار ان کا آدھے سے زیادہ لن#پدوماوتی کی تنگ پھدی کے اندر چلا گیا

 

‎"افففففف ہاااااااااے اوووو ". شاھد صاحب کے اس وحشیانہ حملے نے#پدوماوتی جیسی معصوم لڑکی کو ہلا کر رکھ دیا اور درد کے مارے وہ دوبارہ بلبلا اٹھی 

 

 

 

‎" چدائی کے دوران مجھے روتی ہوئی عورتیں اچھی نہیں لگتیں ،اسی لیے میرے لن سے ہونے والی تکلیف کے باوجود مجھے تم سے ایسا ری ایکشن چائیے کے جسے تمھیں میری چدائی سے مزہ مل رہا ہے#پدوماوتی کو یوں درد سے کرہاتے دیکھ کرشاھد صاحب غصے سے بولے اور پھر اپنے ہونٹ#پدوماوتی کے ہونٹوں پر رکھ کراس کے ہونٹوں کو چوستے ہوئے ساتھ ہی ساتھ نیچے سے#پدوماوتی کی پھدی کو بھی آہستہ آہستہ چودنے میں مصروف ہو گے

 

‎#پدوماوتی نے جب چدائی کے ساتھ شاھد صاحب کو اس طرح غصے میں آتا دیکھا تو وہ ایک دم سے سہم گئی اوراب کی بارشاھد صاحب کے لمبے لن کا درد چوت میں محسوس کرنے کے باوجود#پدوماوتی شاھد صاحب صاحب کے جسم کے نیچے لیٹ کر چپ چاپ ان سے چدتی رہی 

 

 

 

‎کمرے میں ہونے والی اس چدائی کے دوران اپنی پھدی میں پڑنے والے شاھد صاحب کے گھسوں کو پدوماوتی اس وقت مجبوری کی حالت میں برداشت کر رہی تھی جب کے اپنے لن کو پھنس پھنس #پدوماوتی کی کی جوان چکنی چوت میں جاتے ہوئے محسوس کر کےشاھد صاحب اپنے ہر گھسے کو انجوئے کرتے ہوے یه سوچ رہے تھے کے "اففف شادی شدہ ہونے کے باوجود#پدوماوتی کی پھدی کتنی تنگ اور اندر سے کتنی گرم ہے"

 

‎پھر تھوڑی دیر#پدوماوتی کی پھدی کو اپنے لن سے آہستہ آہستہ چودنے کے بعدشاھد صاحب کو نجانے کیا سوجھی کے انھوں نے#پدوماوتی کی پھدی سے اپنے لن کو پورا باہر نکالا اور پھر بستر سے اترکر فرش پرکھڑے ہو گے .اور پدو کی ٹانگوں کے درمیان فرش پر کھڑے کھڑےشاھد صاحب نے لن پر لگے اپنے #کنڈوم کو ہاتھ سے کھیچ کر اسے اپنے لن سے اتار کر نیچے پھینک دیا

 

 

 

‎شاھد صاحب کو یوں اس کے اوپر سے اٹھ کر فرش پر کھڑے ہوتے اور پھر لن سے اپنا کنڈوم اتار کرفرش پر پھینکتا ھوا دیکھ کر سکون کا سانس لیا کے شایدشاھد صاحب نے اس کی چدائی ختم کر دی ہے . مگر اس سے پہلے کے #پدوماوتی بستر سے اٹھ کر اپنا ڈریس پہننے کا سوچتی کہ اتنے میںشاھد صاحب ایک بار پھر اس کی طرف بڑھے

‎بستر پر ٹانگیں کھول کر ننگی لیٹی#پدوماوتی نے جب شاھد صاحب کو کنڈوم کے بغیر بیڈ کی طرف آتے دیکھا تووہ ایک دم چیخ پڑی. "میں نےشاھد صاحب آپ سے کہا تھا کے کونڈم کےبغیراندر نہیں کریں مگر آپ نے پھر وعدہ خلافی کی چوت کے ہونٹوں پر انگلی پھیری۔۔۔ "

 

 

‎"وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو جائے میری جان، ویسے بھی شاھد صاحب تمہاری جیسی تنگ اور گرم پھدی کو چودنے کا اصل مزہ کنڈم کے بغیر ہی ملتا ہے سویٹی"

 

‎یه کہتے ہوےشاھد صاحب نے فرش پر کھڑے کھڑے ہی شاھد صاحب #پدوماوتی کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنی گرفت میں جکڑا اورپھر اپنے لن کا ٹوپا#پدوماوتی کی پھدی کے دھانے پر رکھنا چاہا توشاھد صاحب کا لوڑا سلپ ہو کر#پدوماوتی کی کنواری گانڈ کے سوراخ سے جا ٹکرایا

 

‎" اف لگتا ہے تمارے شوہر نے ابھی تک تماری اس بھاری گانڈ کا سوراخ نہیں کھولا ، تو چلو آج میں تماری اس کنواری گانڈ کی سیل اپنے لن سے کھولے دیتا ہوں شاھد صاحب کا لوڑا انجانے میں جوں#پدوماوتی کی کنواری گانڈ کے تنگ سوراخ پر لگا تو#پدوماوتی کی گانڈ کی موری کی سختی کو محسوس کرتے ہوے انھوں نے کہا  

 

 

‎" نہیں نہیں اس جگہ نہیں پلیزشاھد صاحب کی بات سنتے ہی ان کے موٹے لمبے لن کی دہشت سے خوف زدہ ہو کر پدوماوتی نے نیچے سے اپنی گانڈ کے سوراخ کو زور سے سکیڑتے ہوے ایک دم چلا کر جواب دیا 

 

‎" اچھا اگر گانڈ میں نہیں تو پھربول کر بتاؤ کے کہاں ڈالوں میں اپنا لن#پدوماوتی کو یوں اپنی ٹائٹ گانڈ کا سوراخ یوں ایک دم مزید ٹائٹ کرتے ہوےشاھد صاحب نے پوچھا 

 

 

 

شاھد صاحب میں آپ سے التجا کرتی ہوں چوت کے لیے بغر کنڈوم کے نہ ڈالیں اندر". شاھد صاحب کی بات کو نظر انداز کرتے ہوے#پدوماوتی نے ایک بار پھر اپنی پرانی بات دھرائی

 

 

 

‎"سنو ھندو رنڈی میں آخری بار تم سے کہ رہا ہوں کے مجھے بول کر بتاؤ کے میں لن تماری چوت میں ڈالوں یا گانڈ میں، اور اگر اب کی بار تم نے اپنی زبان سے بول کر مجھے نہیں بتایا تو میں تماری اس کنواری گانڈ میں اپنا لن ڈال کر اس کا کچومر بنانے میں ذرا دیر نہیں کروں گاشاھد صاحب کو جب#پدوماوتی سے پوچھے گے سوال کا سہی جواب نہیں ملا تو وہ ایک دم غصے سے بولے

 

 

 

‎اور ساتھ ہی اپنے لوڑے کو اوپر نیچے کرتے ہوئے لن کے موٹے ٹوپے ایک بار پھر#پدوماوتی کی گانڈ کے سوراخ پر ہلکا سا رگڑا

 

‎شاھد صاحب کی یہ دھمکی سنتے ہی کانپتے ہونٹوں اور لزرتی آواز میں#پدوماوتی چلائی " گا گا گا گانڈ میں نہیں ، چو چو چوت میں ڈ ڈ ڈال دیں"

 

پدوماوتی کے منہ سے یہ الفاظ سنتے ہی شاھد صاحب کچہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ پھیلی اور اس نے#پدوماوتی کی پھدی کے سوراخ پر اپنے لوڑا رکھتے ہوے ایک جھٹکا مارا

 

‎تو ان کا لوڑا#پدوماوتی کی پھدی میں دوبارہ جڑ تک گھس کر ایک ہی بار میں اس کی بچہ دانی سے جا ٹکرایا 

 

 

 

‎شاھد صاحب کے اس زور دار گھسے سے پدو کے منہ سے درد اور لذت کی ملی جلی آواز نکلی " آآآآآآآآآآآآہہہہہہ"

 

‎درد کے مارے کانپتے ہوے#پدوماوتی نے اپنے آپ کوشاھد صاحب کی گرفت سے آزاد کرانے کی کوشش کی مگر وہ اس میں ناکام رہی 

 

 

 

 

‎ نے اپنے لن کو#پدوماوتی کی پھدی میں ڈالتے ساتھ ایک شاھد شاھد صاحب جانور کی طرح اپنے لن کو تیزی کے ساتھ شاھد صاحب کی پھدی کے اندر باہر کرنا شروع کر دیا اس طر ح پدوماوتی بھی شارٹ انجواۓ کرنے لگی تھی پہلی بار کوئی اسکو اتنی بے رحمی سے چود رھا تھا 

 

‎#پدوماوتی کی گرم جوان اور تنگ چوت نےشاھد صاحب کو وہ لطف اور مزہ دیا تھا جو مزہ انہیں آج تک کسی پھدی نے نہیں دیا تھا 

 

 

‎یه ہی وجہ تھی کے#پدوماوتی کی چدائی کے دوران شاھد اپنے لوڑے کو اس کی چوت میں پیلتے ہوے وہ مزے سے چلا اٹھے " اف دیکھ تو سہی رنڈی کیسے میرا لن تمہاری تنگ پھدی میں جا رہا ہے ، دیکھ کیسے میرا لوڑا تمہاری چوت کو پھاڑ رہا ہے گشتی " یه کہتے ہوے شاھد صاحب مزید جوش اور طاقت سے#پدوماوتی کی چدائی میں مصروف ہو گے

 

‎#پدوماوتی کی پھدی تو اس کےشنکر کے آہستہ اور ہلکے جھٹکوں کی عادی تھی جب کہ شنکر کے مقابلے میں چدائی کے دوران شاھد کے جٹکے اتنے شدید تھے کےشاھد صاحب کے ہر جھٹکے کے #پدوماوتی کو اپنی پھدی جلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی #پدوماوتی‎اورشاھد صاحب کے تیز رفتار جھٹکوں کی وجہ سے#پدوماوتی کے جوان ممے زور زور سے اس کی چھاتی پر اوپر نیچے ہو رہے تھے

پدوماوتی کی چوت کو چودنے کے دور رکھے۔

 

شاھد اپنے منہ کو اگے بڑھا کر پدو ماوتی کی کسی ہوئی جوان چھاتیوں پر بھی ٹوٹ پڑے

 

‎اور#پدوماوتی کی جوان چھاتیوں کو اپنے منہ میں بھر کر چومنے اور چاٹنے لگے 

 

‎اب نیچے سےشاھد صاحب کا موٹا ہتھیار#پدوماوتی کی معصوم چوت کی دھجیاں بکھیر رہا تھا جب کے اب پدوماوتی کو یقین سا ھو گیا تھا کہ مسٹر شاھد اسکو چودے بغیر نہیں چھوڑینگے بلکہ ایک ھندو کوکھ میں مسلمان مرد کا بیج بھی بو دینگے پدو ماوتی اور علاؤالدین والا سو سال پرانا قصہ تو پدو ماوتی نے سن رکھا تھا تب سے پدو ماوتی کو مسلمانوں سے اتنی نفرت تھی

 

 مگر اس کو آج یقین نہیں ھورھا تھا کہ اسکی ظالم چوت نے کیسے ایک مسلمان کے لوڑے کے لئیے اپنے لب کھول دئیے تھے اور مسٹر شاھد کا مادہ تو لید اپنی بچہ دانی میں سما لیا تھا پدو ماوتی ان سوچوں میں گم تھی اور مسٹر شاھد نے اسکی چوت کے تیز تیز بجانا شرو ع کر دیا تھا پدو ماوتی کے چوت اب شاھد کے لن پر تنگ ھونے لگی تھی اسکی آنکھیں اس #لذت کے ‎مارے بند تھیں

 

 اس نے ہار مانتے ھوۓ جی جان سے چدوانے کا فیصلہ کر لیا تھا اور اپنی ٹانگیں مسٹر شاھد کی کمر کے گرد لپیٹ لیں تھیں مسٹر شاھد کے دھکے اب تیز ھو گئے تھے

Share this post


Link to post

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×
×
  • Create New...