Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
Ch azaan

Hony 🌕 moon

Recommended Posts

Helo friends kya hal hain 1 aur storie facebook py Dekhi to socha k wo b yahan post kron agar pasand aye to btaeye ga...

Share this post


Link to post

اردو فن کلب کے پریمیم سیریز اور پریمیم ناولز اردو فن کلب فورم کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جو فورم کے پریمیم رائیٹرز کی محنت ہے اور صرف وقتی تفریح کے لیئے فورم پر آن لائن پڑھنے کے لیئے دستیاب ہیں ۔ ہمارا مقصد اسے صرف اسی ویب سائیٹ تک محدود رکھنا ہے۔ تاکہ یہ گناہ جاریہ نہ بنے ۔ اسے کسی بھی طرح سے کاپی یا ڈاؤن لوڈ کرنے یا کسی دوسرے دوست یا ممبر سے شیئر کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ۔ جو ممبران اسے اپنے دوستوں سے شئیر کر رہے ہیں ۔ ان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے ممبر سے بھی شئیر نہیں کر سکتے ۔ ورنہ ان کا مکمل اکاؤنٹ بین بھی ہو سکتا ہے۔ ڈیٹا شیئر کرنے والہ ممبراس بات کا عملی اقرار کرے گا کہ وہ بروز قیامت فورم انتظامیہ، سٹوری رائیٹر اور فورم ایڈمن کے تمام گناہوں کا اکلوتا وارث ہو گا ۔ اور بروز قیامت اپنی تمام نیکیاں (جو بھی اس کے نامہ اعمال میں ہوئیں ) بروز قیامت مجھے دینے کا پابند ہو گا۔ اگر کوئی ممبر اب بھی ایسا کرتا ہے اور گناہ جاریہ کا سبب بنتا ہے ۔ تو اس شرط کو ایگری کرتے ہوئے شیئر کر سکتا ہے ۔ فورم کو اس ایگری منٹ پر اجازت دینے میں کوئی اعتراض نہیں ۔ ایڈمن اردو فن کلب

#ھنی_مون

#قسط_01

 

‎میرا نام روبینہ ہے. میری عمر پچیس سال ہے. حال ہی میں شادی ہوئی ہے اور میں اپنے خاوند کے ہمراہ ہنی مون پر ہوں. میرا تعلق نسبتاً امیر گھرانے سے ہے اور جہاں میری شادی ہوئی ہے وہ ہم سے بھی زیادہ امیر ہیں. میں بچپن سے اچھے تعلیمی اداروں سے پڑھی ہوں. ہمارے گھر کا ماحول بھی کافی آزادانہ ہے. اس سے میری مراد یہ ہے کہ خیالات اور رہن سہن ایسا ہے جیسا ایلیٹ کلاس کے گھرانوں کا ہوا کرتا ہے. اتنے ماڈرن ہونے کے باوجود شادی کے بعد مجھے اپنی زندگی کا سب سے بڑا سرپرائز ملا. میں لباس میں ہمیشہ جینس اور شرٹ پسند کرتی تھی. کالج اور یونیورسٹی میں بھی میرا لباس یہ ہی تھا. لڑکوں سے دوستی بھی تھی لیکن ایک حد تک. میں نے کبھی کسی کو حد کراس نہیں کرنے دی. ایسا اس لئے کے مجھے معلوم تھا کہ اگر میں نے کوئی ایسا قدم اٹھا لیا تو پھر واپسی ممکن نہیں ہو گی. پارٹیوں میں جانا میرا معمول تھا. ویکینڈز پر ایسی پارٹیاں بھی ہوتی تھیں جہاں شراب نوشی اور دیگر نشہ اور چیزیں عام چلتی تھیں. میں نے بھی کی مرتبہ شراب پی تھی لیکن ہمیشہ اس بات کا خیال رکھا تھا کہ نشے میں آوٹ نا ہو جاؤں. سگریٹ نوشی بھی دوستوں کے ہمراہ چلتی رہتی تھی. یہ تمہید باندھنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ آپ سب کو اچھی طرح سے اندازہ ہو جائے کہ میرا لائف سٹائل کیسا تھا. ایسے بیک گراؤنڈ کی وجہ سے میں یہ سمجھتی تھی کہ مجھ سے زیادہ ماڈرن شاید ہی کوئی ہو اس ملک میں. 

‎میری شادی بھی انتہائی ماڈرن سیٹنگ میں ہوئی تھی اور میں نے اپنے شوہر کے ہمراہ اسٹیج پر ڈانس بھی کیا تھا. مجھے اس بات کی بے حد خوشی تھی کہ میرا شوہر بھی میری طرح آزادانہ خیالات کا ملک ہے اور وہ مجھ پر کسی قسم کی پابندیاں لگانے سے گریز کرے گا. ویسے تو میں رتی برابر پریشان نہیں تھی کیوں کہ مجھے اپنی طبیعت کا بھی پتہ تھا. اگر شوہر مجھ پر پابندیاں لگاتا تو میں نے برداشت ہی نہیں کرنی تھیں. میں ان عورتوں میں سے تو تھی نہیں کہ اپنا گھر بچانے کی خاطر میں سری زندگی شوہر کی فرمانبردار بن کر رہتی. خیر، شادی خوب دھوم دھڑکے سے ہوئی. سب رسمیں ہوئیں. سہاگ رات بھی منا لی. اگلے دن معلوم ہوا کہ میرے شوہر شہریار نے ہنی مون کے لئے جرمنی کی ٹکٹس پہلے ہی خرید رکھی ہیں. میں پاکستان سے باہر کی مرتبہ سفر کر چکی تھی لیکن جرمنی کبھی نہیں گیی تھی. شائد شہریار کو بھی اس بات کا پتہ تھا تب ہی اس نے جرمنی کا انتخاب کیا تھا. میرا ویزہ لگنے میں ایک ہفتہ لگا اور ہم ویزہ لگتے ہی جرمنی روانہ ہو گئے. کراچی سے برلن کا سفر سات گھنٹے سے زیادہ وقت میں طے ہوا. وقت کے فرق کی وجہ سے جب ہم وہاں پہنچے تو صبح صادق کا وقت تھا. برلن کے مغربی حصّے میں ہمارا ہوٹل تھا. شائد میں ان تفصیلی باتوں سے آپ سب کو بور کر رہی ہوں لیکن معذرت چاہتی ہوں کہ میرے لکھنے کا انداز ہی کچھ ایسا ہے. جب تک باریک سے باریک باتیں بیان نہ کر دن مجھے لگتا ہے کہ میری تحریر معیاری نہیں ہے. امید ہے آپ لوگ غصہ نہیں کریں گے.

‎ائیرپورٹ سے ٹیکسی لے کر ہم ہوٹل پہنچے اور کمرے میں پہنچ کر بیڈ پر گر گئے. تھکاوٹ کے باوجود ایک دوسرے سے لپٹنے پر شہوت بھڑک اٹھی اور ہم نے سیکس کیا. ویسے یہ بتاتی چلوں کہ میرا تجربہ ہے کہ سیکس کا اصل مزہ صبح کے وقت آتا ہے جب آپ سو کر اٹھیں. یہ بات نہیں کہ رات کو مزہ نہیں آتا، آتا ہے لیکن اگر صبح کو دس گنا زیادہ مزہ آتا ہے. پتہ نہیں وجہ کیا ہے. ہم دونوں سیکس کر کے ایک دوسرے سے لپٹ کر سو گئے. آنکھ کھلی تو لنچ کا وقت تھا. ہم نے اکٹھے غسل کیا اور اور ہوٹلکی لابی میں لنچ کر کے روانہ ہو گئے. اس وقت مجھے بھی معلوم نہیں تھا کہ ہماری اگلی منزل کہاں ہے. شہریار سے پوچھا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں لیکن اس نے بھی بس یہ ہی کہا کہ تھوڑا صبر کرو. مجھے بے چینی تو تھی لیکن یہ بے چینی جلد ہی شدید حیرانی میں بدل گی جب ہم اپنی منزل پر پہنچے. ہماری منزل سٹرانڈ بینڈ وانسی جھیل تھی. ابھی ہم جھیل کے ساحل تک پہنچے نہیں تھے کیوں کہ ٹیکسی نے ہمیں سرک پر اتارا تھا اور یہاں سے آدھ کلومیٹر پیدل واک تھی. جھیل کے ساحل پر لوگ دھندلے سے نظر آ رہے تھے. یہ گرمیوں کا موسم تھا. شہر یار نے پنٹس کی بجے شارٹس پہنے تھے اور ٹی شرٹ پہنی تھی. میں نے بھی بغیر بازوں والی ٹی شرٹ پہنی تھی لیکن جینز پہنی تھیں جو کے ٹخنوں سے کچھ اپر تک تھی. جیسے جیسے ہم ساحل کے قریب ہوتے گئے ویسے ویسے ہر چیز واضح ہوتی گی. یہ گروبر جھیل کا مشرقی کنارہ تھا. شائد اپ سوچ رہے ہوں کہ جھیل میں ایسی کیا خاص بات ہو سکتی ہے لیکن خاص بات تو تھی اس جھیل میں. میں کراچی کا سمندر ہزاروں بار گھوم چکی تھی اور منوڑا، ہاکس بے، کلفٹن، سی ویو سب جگہیں میری دیکھی بھالی تھیں. وانسی جھیل ان سب جگہوں سے مختلف اور بہتر تھی. جھیل کے کنارے کیبن بنے ہوے تھے. اسی ترتیب میں آگے شاور لگے تھے. ایک سائیڈ پر واشرومز بنے ہوے تھے. کیبن اور واشروم تو ٹھیک لیکن میں کھلے میں شاور دیکھ کر حیران ہوئی لیکن میری اس حیرانگی کی جگہ ایک اور حیرانگی نے لے لی لوں کہ جو نظارہ میری آنکھیں دیکھ رہی تھیں مجھے اس پر یقین ہی نہیں آ رہا تھا. جھیل کے کنارے بے شمار لوگ تھے. تا حد نگاہ لوگ ہی لوگ تھے. ننگے لوگ. بچے، بوڑھے، جوان، مرد، خواتین. سب کے سب ننگے. میں جو اپنے آپ کو اتنی ماڈرن سمجھتی تھی، شرم کے مارے نظریں جھکا کر شہریار سے کہنے لگی کہ واپس چلیں یہ آپ مجھے کہاں لے آے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

#قسط_02

 

 

‎کوئی مانے یا نہ مانے، مشرقی لڑکی جتنی بھی ماڈرن ہو جائے، مغربی لڑکی سے مقابلہ نہیں کر سکتی. مشرقی سے میری مراد پاکستانی، بھارتی، بنگلادیشی لڑکیاں ہیں. میں اپنے آپ کو اتنی ماڈرن سمجھتی تھی. سکن ٹائٹ جینز پہن کر مالز میں گھومنا، اور لڑکوں سے کھلم کھلا ہر قسم کی بات چیت کر کے میں سمجھتی تھی کہ میں نے موڈرنزم کی ہر حد پار کر دی ہے اور لڑکے مجھے دیکھ کر آہیں بھرتے ہیں لیکن شہریار کے ساتھ اس جھیل کے کنارے پہنچ کر میں یہ سوچ رہی تھی کہ جہاں میرا موڈرنزم ختم ہوتا ہیں، ان مغربی خواتین کا موڈرنزم تو اس کے بھی بعد کہیں شروع ہوتا ہے. 

‎شہریار میرے اسرار کے باوجود واپس جانے کی بجاے مجھے سمجھنے لگا کہ وہ پہلے سے ہی یہاں ایک کیبن بک کروا چکا ہے. میری نیی نیی شادی ہوئی تھی اور میں شادی کے شروع کے دنوں میں ہی اپنے شوہر سے لڑائی تو مول نہیں لینا چاہتی تھی. شہریار نے مجھے بتایا کہ یہ لوگ اپنی مرضی سے کپڑے اتار کر نہاتے ہیں اور حکومت کی طرف سے انہیں ایسا کرنے کی اجازت ہے. میں حیرانی سے ان لوگوں کو دیکھ رہی تھی تو شہریار نے مجھے ٹوکا کہ ایسے نہ دکھوں کیوں کہ ایسے گھورنے سے ہو سکتا ہے کوئی برا مان جائے. پاکستان میں تو مجھے ذاتی تجربہ تھا مردوں کی نگاہوں کا مرکز بننے کا اور سچی بات ہے کہ بہت برا لگتا تھا. شہریار کی زبانی مجھے معلوم ہوا کہ یہ ضروری نہیں کہ یہاں ہر ایک کو ننگا ہونا پڑے. یہ ہر ایک کی اپنی مرضی پر منحصر ہے. میں تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ایسا کرنے کا. شہریار اور میں کیبن میں آ گئے. میں کسی حد تک اپنے آپ کو سنبھال چکی تھی اور اب حیرت کم ہو گئی تھی کیوں کہ حیرت کی جگہ تجسس نے لے لی تھی. میں شہریار سے سوال کیے جا رہی تھی اور وہ میرے سوالات کا جواب دے جا رہا تھا. ایک بات میں نے محسوس کی تھی کہ وہاں کپڑوں میں صرف میں ہی تھی. باقی سب کے سب یا تو ننگے تھے یا پھر چند مردوں اور خواتین نے انڈر ویر پہن رکھے تھے. شہریار نے مجھ سے کہا کہ اگر ہم یہاں یں اور بغیر نہاے واپس جایئں تو اس سے بڑی بدقسمتی نہیں ہو سکتی. میں نے پہلے تو صاف انکار کر دیا کہ میں ان ننگے لوگوں کے ساتھ کیسے نہ سکتی ہوں. بیشک میں نے کپڑے پہنے ہیں لیکن وہ سب تو ننگے ہیں نہ. میں خود تو نہانے پر تیار نہ ہوئی لیکن شہریار کو 

نہانے سے روکنا بھی غلط محسوس ہو رہا تھا.۔۔۔۔

‎میں کسی حد تک پریشان تو تھی لیکن شہریار کے حوصلہ دینے اور پھر اپنے آپ کو لوگوں کی نگاہوں کا مرکز نہ پا کر پریشانی کافی حد تک کم ہو گیی تھی. ایسا نہیں کہ کسی نے میری طرف دیکھا ہی نہیں. بہت سے لوگوں نے مجھے دیکھا بلکہ اکثر نے حیرانی سے دیکھا تھا. کراچی میں تو میں جان بوجھ کر ایسی ڈریسنگ کیا کرتی تھی کہ ہر مرد کی نظر مجھ پر پڑے تو دوسری نگاہ ڈالنے پر مجبور ہو جائے. ایسا کرنے کا مجھے تو بہت مزہ آتا تھا. یہاں بھی اپنی طرف سے تو میں نے کافی بولڈ ڈریسنگ کی تھی لیکن مجھے کیا خبر تھی کہ جہاں شہریار لے کے جا رہا ہے وہاں ڈریسنگ کا نام و نشان بھی نہیں ہو گا. ہم نے اپنا سامان کیبن میں رکھا اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر باہر آ گئے. شہریار نے اپنی شرٹ اتار دی اور سمندر کی لہروں میں نہانے لگا. وہ تو اپنے شارٹس بھی اتارنا چاہتا تھا لیکن میں نے اس بات کی اجازت نہیں دی کیوں کہ ماڈرن ہونے کے باوجود مجھ میں کچھ شرم باقی تھی اور میں نہیں چاہتی تھی کہ مرے شوہر کے پرائویٹ حصّوں کو اجنبی لوگ دیکھیں. میں ساحل پر کھڑی دیکھتی رہی اور شہریار نہاتے رہے. اس دن اس کے علاوہ ہم نے کچھ نہیں کیا. شہریار کے نہانے کے بعد ہم لوگ وہاں سے روانہ ہوے اور ایک اچھے سے ریسٹورنٹ میں ڈنر کر کے اپنے ہوٹل میں آ گئے. 

‎شہریار نے مجھے بتایا کہ وہ ایک طویل عرصے سے اس عادت میں مبتلا ہے کہ اسے کپڑے پہننا اچھا نہیں لگتا. میں نے کہا کہ گھر میں نہ پہنا کریں. شہریار کہنے لگا کہ یہ بات نہیں ہے بلکہ اب اسے کپڑوں سے چڑ ہو گیی ہے اور کپڑے پہننے پر اسے اپنے بدن پر خارش اور عجیب سا احساس ہوتا ہے. اس نے مجھے مزید بتایا کہ وہ اب تنہائی میں ہمیشہ ننگا ہی رہنا پسند کرتا ہے اور میرے سامنے بھی ایسے ہی رہا کرے گا. مجھے شہریار کے ننگا رہنے پر کوئی اعتراض نہیں تھا بلکہ جب انہوں نے مجھے بھی ننگی رہنے کا کہا تو میں اس پر بھی مان گیی. ظاہر ہے کہ میں بیوی میں تو کوئی پردہ نہیں ہوتا نہ. بہرحال، باتوں باتوں میں مجھے معلوم ہوا کہ شہریار صرف تنہائی میں ہی ننگا نہیں رہتا بلکہ اس نے اپنے حلقہ احباب میں ایسے لوگ شامل کر رکھے ہیں جو اس کے ہم مزاج ہیں یعنی ننگا رہنا پسند کرتے ہیں. مجھے یہ بات بہت عجیب لگی. میں نے پوچھا کہ آپکو شرم نہیں آتی کیا؟ سب کے سامنے ننگا ہونے میں. شہریار نے جواب میں مجھے پورا لیکچر دے ڈالا. مختصراً یہ کہ اس کے نزدیک شرم ورم صرف انسانوں کی تخلیق کردہ چیزیں ہیں اور جسم کو چھپانا اس بات کی نشانی ہے کہ ہم اپنے جسم یا اس کے کچھ حصّوں پر شرمندہ ہیں حالانکہ اس میں شرمندہ ہونے والی کوئی بات نہیں. یہ اعضاء ہر انسان کے ساتھ لگے ہوتے ہیں اور ان کا بھی ایک مخصوص مقصد ہے بلکل اسی طرح جیسے باقی اعضاء کا مقصد ہوتا ہے. ناک سے سانس لیتے ہیں، منہ سے ہم کھانے پینے کے ساتھ ساتھ باتیں بھی کرتے ہیں اور دیگر کام بھی کرتے ہیں، ہاتھ پاؤں، کان، گردن، دماغ وغیرہ سب کے مقصد طے شدہ ہیں. اگر ہم ان اعضاء کے فنکشنز پر شرمندہ نہیں ہیں تو پھر چند اعضاء مخصوصہ کے فنکشنز پر کیوں شرمندہ ہیں. کیوں ہم ان اعضاء کے متعلق بات کرنے سے بھی گھبراتے ہیں. لنڈ کو لنڈ نہیں کہتے، پھدی کو پھدی نہیں کہتے. آخر کیوں؟

‎میرے پاس اسکی باتوں کا کوئی جواب نہیں تھا. ہم اپنے کمرے میں چلے گئے اور مجھے پتہ بھی نہ چلا کہ شہریار کب سو گیا. میں اس کے پہلو میں لیٹی اسکی باتوں پر غور کرتی رہی. کچھ ایسا غلط بھی نہیں کہا تھا شہریار نے. شائد بہ حیثیت معاشرہ ہمارے یہاں سب کی تربیت ہی ایسی ہوتی تھی کہ بچپن سے یہ ہماری گھٹی میں بیٹھا دیا جاتا ہے کہ ننگا پن ایک بری چیز ہے. بچپن میں کسی کے جسم کا ذرا سا حصّہ دیکھنے پر شیم شیم کے نعرے میرے ذہن میں گونجنے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Share this post


Link to post

#ھنی_مون

#قسط_03

 

 

‎مجھے وہ وقت بھی یاد تھا جب پہلی بار مجھے ماہواری آنی شروع ہوئی تھی. تب بھی میں نے اپنی امی سے یہ کہا تھا کہ امی میری اس جگہ سے خون نکل رہا ہے. امی کے پوچھنے پر بھی کہ کس جگہ سے میں بس یہ ہی کہ پائی تھی کہ جہاں سے سوسو نکلتا ہے. شہریار کے پہلو میں لیٹے ہوے اب میں یہ سوچ رہی تھی کہ آخر ان چیزوں کے نام لینے میں کیا برائی ہے. یہ سب تو قدرتی چیزیں ہیں. میرے پاس اپنے ذہن میں آنے والے سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا. انہی سوچوں میں گم نہ جانے کب میری آنکھ لگ گیی.

‎اگلے دن شہریار کے کسی دوست کے ہاں ہماری دعوت تھی. سارا دن ہم نے تفریح کی اور رات کو ان کے گھر پہنچ گئے. مجھے شہریار نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ اس کے دوست کی فیملی عملی طور پر نیو ڈسٹ ہیں اور کافی عرصے سے یہ تض زندگی اختیار کے ہوے ہیں. انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت بھی اسی طرز پر کی ہے. ساری رات کی سوچ بچار اور شہریار سے کھل کر اس موضوع پر بات چیت سے اب میرا ذہن اس طرز زندگی کی لاجک سے آشنا ہو چکا تھا. اگرچہ میں اب بھی اس بات کے لئے ہر گز تیار نہیں تھی کہ کوئی بھی مجھے مکمل برہنگی کی حالت میں دیکھے لیکن دوسرے لوگوں کو برہنگی کی حالت میں دیکھنا اب اتنا ناگوار محسوس نہیں ہو رہا تھا. دراصل میرے ذہن میں برہنگی کا ایک ہی مقصد تھا یعنی سیکس. آج تک جب بھی برہنہ لوگوں کو دیکھا تھا، انہیں پورن فلموں میں مباشرت کرتے ہی دیکھا تھا. لہٰذہ قدرتی طور پر میرے ذہن کا ننگے پن کو مباشرت سے منسوب کرنا لازمی امر تھا. شہریار نے میری باتوں کو تحمل سے سنا تھا اور سچ تو یہ ہے کہ جب اس نے پہلی بار مجھے یہ بات بتائی کہ ننگے ہونے کا مقصد صرف سیکس ہی نہیں ہوتا تو میں خوب ہنسی تھی اور اسکا مذاق بنایا تھا. شہریار کا تحمل ہی تھا کہ اس نے میری مضحکہ خیز باتوں کو برداشت کیا.

‎بہرحال، رات کو جب ہم شہریار کے دوست مارٹن کے گھر پہنچے تو ڈور بیل دینے پر انجیلا نے دروازہ کھولا. انجیلا مارٹن کی بیوی تھی. انجیلا مکمل ننگی تھی اور اس نے گود میں اپنی بیٹی کو اٹھا رکھا تھا جس کی عمر تقریباً ڈیڑھ سال کے قریب لگتی تھی. وہ بھی مکمل ننگی تھی. اس نے نہایت گرم جوشی سے ہمارا استقبال کیا. جرمن لوگوں کا ملنے کا طریقہ ہمارے یہاں سے مختلف ہے. پاکستان میں تو خواتین صرف خواتین سے ہی ہاتھ ملتی ہیں لیکن جرمنی میں خواتین اور مردوں کی تمیز کے بغیر سب ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہیں. اگر ملنے والے لوگوں کا درمیان بےتکلفی ہو تو ایک دوسرے کے گال پر بوسہ بھی دیتے ہیں. انجیلا نے البتہ صرف ہینڈ شیک پر ہی اکتفا کیا. ہاتھ ملانے کے بعد اس نے مارٹن کو آواز دی. مارٹن بھی ایسے ہی ننگ دھڑنگ ڈرائنگ روم سے باہر آ کر ہم سے ملا. میری نظریں خود بہ خود نیچے کی طرف تھیں. ہاتھ ملاتے وقت تو میں نے انجیلا اور مارٹن کی آنکھوں میں دیکھا تھا لیکن اس کے بعد سے میری نظریں مسلسل زمین میں گڑی تھیں. انہوں نے ہمیں ڈرائنگ روم میں بٹھایا جہاں انکا بڑا بیٹا جوزف ٹیلی ویژن پر کارٹون دیکھ رہا تھا. جوزف کی عمر چار سال تھی. جوزف اور انجیلا ایکصوفے پر بیٹھ گئے جبکہ میں اور شہریار دوسرے صوفے پر. شہریار کو تو وہ لوگ پہلے سے جانتے تھے اسلئے کافی حد تک بے تکلفی سے باتیں ہونے لگیں. میری جھکی نظروں کو البتہ زیادہ دیر تک وہ لوگ نظر انداز نہ کر سکے. شہریار نے میرا طرف کرواتے ہوے انہیں بتا دیا تھا کہ میں سری عمر پاکستان میں ہی رہتی آیی ہوں اس لئے میرے روئے سے اگر انہیں نا گوری کا احساس ہو تو برا نہ مانیں. ننگے تو وہ دونوں تھے لیکن شرم مجھے آ رہی تھی. پہل انجیلا نے کی. اس نے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ روبینہ شائد آپ ہمیں دیکھتے ہوے شرما رہی ہیں. میرے پاس جواب میں کہنے کو کچھ نہیں تھا کیوں کہ سچ تو یہی تھا کہ میں شرما رہی تھی لیکن کب تک. ایسے کسی کے گھر جا کر نظریں جھکا کر بیٹھنا ویسے بھی مروجہ آداب کے خلاف ہے. مجھے بلا آخر اپنی نظریں اٹھا کر ان کی طرف دیکھنا ہی پڑا. میں نے انہیں بتایا کہ میرا تعلق جس جگہ سے ہے وہاں پر لوگ برہنہ پن کو غلط کاموں سے منسوب کرتے ہیں اسلئے میری شرم فطری ہے اور اس پر برا نہ منایا جائے. میں نے اگرچہ انجیلا کی آنکھوں میں دیکھ کر بات کی تھی لیکن نظریں ایک ہی جگہ مرکوز رکھنا مشکل تھا اور نہ چاہتے ہوے بھی میری نظریں ہر اس جگہ پر گئیں جہاں دیکھنے سے میں احتراز برت رہی تھی. جی ہاں، آپ درست سمجھے. انجیلا اور مارٹن دونوں ہی بہت ملنسار لوگ تھے. بجے برا ماننے کے وہ لوگ تو اس وجہ سے فکر مند تھے کہ کہیں ان کے مہمان کو کسی وجہ سے تکلیف نہ پہنچے. میں متاثر ہوے بغیر نا رہ سکی. مارٹن نے بات کو آگے بڑھتے ہوے کہا کہ میری بات درست ہے اور واقعی آغاز میں ننگے پن سے مانوس ہونا ذرا مشکل معلوم ہوتا ہے. مارٹن کی بات کو سپورٹ کرتے ہوے انجیلا نے تجویز پیش کی کہ اگر میں چاہوں تو وہ دونوں کپڑے پہننے کے لئے تیار ہیں. اب میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تھا. یہ لوگ تو مہمان نوازی کی ہر حد کراس کرتے جا رہے تھے. انجیلا نے یہ تجویز اس لئے پیش کی تھی کہ وہ سمجھ رہی تھی کہ میزبانوں اور مہمانوں کے درمیان یہ تناؤ اسلئے بھی ہے کہ میزبانوں نے کچھ بھی نہیں پہنا جبکہ مہمان مکمل لباس میں ملبوس بیٹھے ہیں اور اس تناؤ کو دور کرنے کے لئے یا تو میزبانوں کو کپڑے پہن لینے چاہئیں یا پھر مہمان بھی کپڑے اتار کر ننگے ہو جایئں. اس سے چونکہ دونوں پارٹیاں ایک ہی حالت میں آ جایئں گی تو تناؤ اور شرم قدرتی طور پر ہی اپنے آپ ختم ہو جائے گا. اب ظاہر ہے کہ مہمانوں کو کپڑے اتارنے کی تجویز دینا تو غیر مناسب تھا، خاص طور پر ایسی صورتحال میں کہ مہمان پہلے ہی ننگے پن سے شرم محسوس کر رہی ہو. بہرحال، اسکی تجویز پر میں دل میں بہت شرمندہ ہوئی. یہ سوچ بھی میرے ذہن میں بار بار آ رہی تھی کہ شہریار کو بھی میری وجہ سے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے. ان سب سوچوں کے جنجھٹ سے چھٹکارا پانے کے لئے میں نے وہ فیصلہ کیا کہ جسکی توقع مجھے اپنے آپ سے بھی کبھی نہیں تھی. میں نے انجیلا کی بات کے جواب میں اسے کہا کہ انہیں کپڑے پہننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ کسی مہمان کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی کے گھر جا کر ان کا رہن سہن کا طریقہ تبدیل کرے بلکہ مناسب یہ ہے کہ مہمانوں کو میزبانوں کے رنگ میں ڈھال جانا چاہئے کم از کم جب تک وہ مہمان ہیں تب تک لہٰذہ شہریار اور میں بھی اپنے کپڑے اتار دیتے ہیں تاکہ ہم ایک دوسرے سے کھل کر بات چیت کر سکیں کسی رکاوٹ کے بغیر. میری تجویز پر نہ صرف مارٹن اور انجیلا خوش ہوے بلکہ شہریار کے چہرے کے تاثرات بھی دیدنی تھے. اس نے میری طرف پیار سے دیکھا اور میں نے اس کی نظروں سے بھانپ لیا کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے. ایسا لگتا تھا جیسے وہ آنکھوں سے کہ رہا ہو کہ روبینہ! مجھے تم پر فخر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

 

#ھنی_مون

#قسط_04

 

‎کسی کے سامنے ننگا ہونا بذات خود ایک مشکل عمل ہے لہٰذہ ننگے ہو کر بے تکلفی سے ایک دوسرے سے باتیں کرنا کسی ایسے شخص کے لئے جو ساری زندگی پاکستان جیسے ملک میں رہی ہو جہاں بازو ننگے کرنے پر بھی فساد کھڑا ہو سکتا ہے، کافی مشکل بلکہ تقریباً نا ممکن کام ہے. اس کے باوجود میں ننگی ہو گئی. سب کے سامنے ننگی ہونے کا حوصلہ نہ تھا مجھ میں. انجیلا کے ساتھ علیحدہ کمرے میں جا کر اپنے متوازن جسم کو کپڑوں کی قید سے آزاد کروایا. دل ہی دل میں یہ بھی شکر ادا کیا کہ میرے پیریڈز نہیں چل رہے تھے. میرا جسم اگرچہ انجیلا کے گورے چٹے جسم جیسا نہ سہی لیکن خدو خال کے لحاظ سے اس کے جسم سے کہیں بہتر تھا. میں نے ہمیشہ اپنی خوراک پر توجہ دی تھی تاکہ وزن زیادہ نہ بڑھے. یونیورسٹی لائف میں بھی میں روزانہ ورزش کیا کرتی تھی. انجیلا کے منہ سے اپنے جسم کی تعریف سن کر میرا حوصلہ بڑھا تھا. کپڑوں میں جب میں گھر سے بھر نکلا کرتی تھی تو ہمیشہ مردوں کی نظروں کا مرکز ہوا کرتی تھی. شائد اسکی وجہ میرا چست لباس بھی ہوا کرتا تھا. کوئی مانے یا نہ مانے یہ سچ ہے کہ ایک لڑکی یا خاتون کو اگر کوئی مرد گھورے تو اسے پتا چل جاتا ہے. آپکو میری یہ بات شائد سچ نہ لگے لیکن میں نے خود بار ہا محسوس کیا تھا کہ مردوں کے ٹکٹکی باندھ کر گھورنے پر میرے جسم میں ایک ایسا احساس ہوتا تھا جس کو میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی. یہاں موجود خواتین میری بات سے اتفاق کریں گی. کہنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ اگر کوئی مجھے ہوس ناک نظروں سے گھورے یا ویسے ہی نگاہ ڈالے، مجھے معلوم ہو جاتا تھا. کپڑوں میں ملبوس ہونے کے باوجود نوے فیصد لوگوں کی نظروں میں ہوس ہی ہوتی تھی. کپڑے اتار کر جب شہریار اور مارٹن کے سامنے آی تو قدرتی طور پر ان دونوں کی نظریں میرے ننگے بدن پر پڑیں. اپنے شوہر کا تو مجھے اندازہ تھا اور اسکی نظریں مجھے ہمیشہ اچھی معلوم ہوتی تھیں لیکن مارٹن کا میرے جسم کو دیکھنا ایک نیا ہی احساس تھا. اس کی نظروں میں ہوس نہیں تھی یا کم از کم مجھے تو بلکل بھی محسوس نہ ہوئی. اگر ہوس ہوتی تو کچھ اس کا اثر اس کے لنڈ پر بھی تو پڑتا نا. لنڈ تو اسکا ویسے ہی لٹکا رہا تھا. پہلی بار کسی اجنبی مرد کی نظریں میرے مکمل ننگے بدن پر پڑی تھیں اور میں یہی توقع کر رہی تھی کہ مارٹن بھی انسان ہی ہے اور انسان ہونے کے ناطے میرے سیکسی بدن کو دیکھ کر اس میں جنسی جذبات مشتعل تو ہوں گے ہی. سچی بات ہے کہ مجھے اپنے جسم کے پرفیکٹ ہونے پر اتنا یقین تھا کہ مارٹن کا لٹکا لنڈ اور اس کی ہوس سے خالی نظریں دیکھ کر مجھے کسی قدر مایوسی بھی ہوئی تھی. مارٹن کی نظریں بس ایسی تھیں کہ جیسے وہ میرے جسم کی خوبصورتی پر حیران تو ہے لیکن اس حیرانی کا تعلق میرے جنسی اعضاء سے نہیں بلکے اوور آل جسم سے ہے. میں شہریار کے پہلو میں صوفے پر بیٹھ گئی. صوفے پر اکٹھے بیٹھنے سے ہمارے بازو اور ٹانگیں بھی ایک دوسرے سے مس ہو رہی تھیں. مارٹن نے میرے صوفے پر بیٹھتے ہی انجیلا والے کلمات دہراۓ یعنی تعریف کی. مجھے اس کے منہ سے اپنے جسم کی تعریف سن کر خوشی ہوئی. کمرے سے نکلتے وقت میں کسی حد تک کنفیوز تھی لیکن جب مارٹن کا رویہ دیکھا تو کنفیوزن کافی کم ہو گئی 

تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

‎یہ حقیقت تھی کہ اگر مارٹن اور انجیلا کا رویہ اتنا دوستانہ نہ ہوتا تو شائد میں کبھی بھی ننگی ہونے پر راضی نہ ہوتی کجا یہ کہ خود ننگی ہونے کی پیشکش کی. یہ ان کی مہمان نوازی ہی تو تھی جس کی وجہ سے کچھ ہی دیر میں میں یہ بھول ہی گئی کہ یہاں سب ننگے بیٹھے ہیں. دراصل ان کے بات کرنے کا طریقہ ہی ایسا تھا کہ مخاطب کو مسحور کر کے رکھ دیتے تھے. حتی کہ حساس موضوعات پر بات چیت بھی ایسے انداز میں کی جاتی تھی کہ باتوں میں جنسی عنصر ناپید تھا. میں چونکہ بہت متجسس تھی اور یہاں کھل کے سب باتیں ہو رہی تھیں تو مجھ سے بھی رہا نہ گیا اور میں نے اپنے ذہن میں آنے والے سوالات ان کے سامنے رکھ دیے. اگرچہ شہریار سے میں پہلے ہی ان سوالات کے جوابات لے چکی تھی اور کسی حد تک ان سے مطمئن بھی تھی لیکن پھر بھی میں خود کو روک نہ سکی.

‎سب سے بڑا سوال تو یہ تھا کہ ننگے پن کو سیکس سے علیحدہ کیسے کیا جائے کیوں کہ ہمارے جنسی اعضاء کے مقصد میں سیکس بھی شامل ہے اور یہ قدرتی بات ہے کہ مخالف جنس کے ننگے بدن کو دیکھ کر انسان کے جنسی جذبات بیدار ہوتے ہیں لہٰذہ ان جذبات کو کیسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے. 

‎میرے سوال پر انجیلا اور مارٹن دونوں ہی مسکرا اٹھے. دراصل میری توجہ سامنے بیٹھے میزبانوں کی طرف تھی اور مجھے اس بات کا احساس ہی نہ ہوا تھا کہ شہریار کا بدن میرے بدن سے مس ہو رہا ہے اور اس وجہ سے شائد اس کے جذبات بھڑک اٹھے تھے. اسکا تنا ہوا لنڈ اس بات کا سب سے بڑا گواہ تھا. شہریار تب ہی اپنے ہاتھ لنڈ کے سامنے رکھ کر بیٹھا ہوا تھا تاکہ لنڈ کی سختی کو چھپا سکے. مارٹن اور انجیلا چونکہ بلکل سامنے بیٹھے تھے اسلئے چھپانے کے باوجود شہریار کا لنڈ ان کی نظروں سے مکمل پوشیدہ نہیں تھا. مارٹن نے مزاقاً کہا کہ شائد میں نے یہ سوال پوچھا ہی اس لئے ہے کہ میرے اپنے شوہر کے لئے ہی خود پر قابو پانا مشکل ہو رہا ہے. شہریار بیچارہ اس مزاق پر ہنسا تو تھا لیکن دل ہی دل میں شرمندہ بھی تھا. میں اس کے جذبات اچھی طرح سے بھانپ سکتی تھی. بیشک شادی کو کچھ ہی دن ہوے تھے لیکن واقفیت اس سے پہلے کی تھی. میں یہ بھی سوچ رہی تھی کہ شہریار نے تو مجھے بتایا تھا کہ وہ لمبے عرصے سے ننگے پن کو اپناے ہوے ہے لیکن اگر یہ سچ ہوتا تو کیا وہ اتنی سے دیر میں اپنے لنڈ پر قابو کھو بیٹھتا؟ یا پھر شائد میری موجودگی سے نروس ہو رہا ہے. دوسری وجہ زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتی تھی. اس لئے کہ مجھے ننگی دیکھ کر شہریار کا لنڈ بہت جلدی تن جاتا تھا. یہ بات میں علیحدگی میں کئی مرتبہ محسوس کر چکی تھی.

‎بہرحال، مارٹن نے میرے سوال کا جواب دینے سے پہلے مجھے سمجھایا کہ میں نے سوال میں ایک غلطی کر دی ہے. غلطی یہ تھی کہ میں نے کہا تھا کہ مخالف جنس کے ننگے بدن کو دیکھنے سے جنسی جذبات مشتعل ہوتے ہیں جبکہ حقیقت یہ نہیں تھی. حقیقت تو یہ تھی کہ کئی افراد مخالف جنس کی بجاے اپنی ہی جنس کو دیکھ کر زیادہ جوش محسوس کرتے ہیں. مجھے یہ بات معلوم تو تھی لیکن میں نے ہمیشہ یہی سمجھا تھا کہ یہ کام نیچرل نہیں ہے بلکہ خود ساختہ ہے. اب جب مارٹن نے وضاحت کی تو مجھے معلوم ہوا کہ کئی افراد قدرتی طور پر ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں مخالف جنس میں کوئی کشش محسوس ہی نہیں ہوتی خواہ مخالف جنس ننگی ہی کیوں نہ ہو. اس نے مجھے اپنے دوستوں کی مثالیں دیں جو کہ ہم جنس پرست تھے اور کئی مرتبہ شراب خانوں میں خوبصورت خواتین نے انہیں لائن مارنے کی کوشش کی لیکن ان پر اسکا اثر بالکل نہیں ہوتا تھا. اس کے برعکس کسی خوبصورت مرد کو دیکھ کر ان کے لنڈ بےچین ہو جاتے تھے. اسی طرح خواتین کے ساتھ بھی ہوتا ہے.

‎میرے لئے یہ معلومات نئی تھیں اس لئے میں کافی دلچسپی سے سن رہی تھی. شہریار بھی خوش تھا کہ توجہ میری طرف تھی سب کی کیوں کہ ننگا طرز زندگی اپنانے والوں میں لنڈ کا تناؤ اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا. مارٹن نے اپنی بات جاری رکھتے ہوے یہ بھی بتایا کہ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کو دونوں جنسوں سے کشش محسوس کرتے ہیں، انہیں بائی سیکچول کہا جاتا ہے. مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے بات کاٹ کر پوچھ لیا: میں آپ کی باتیں سمجھ گئی ہوں لیکن اس بات کی اب تک سمجھ نہیں آ رہی کہ آپ لوگوں کو اپنے جسم پر اتنا کنٹرول کیسے ہے؟ کیا آپ کے جذبات خواتین کو ننگی دیکھ کر جوش میں نہیں آتے؟ اگر آتے ہیں تو لنڈ کیوں کھڑا نہیں ہوتا؟ اور اگر نہیں آتے تو کیوں نہیں آتے؟ کیا آپ بس اپنی بیوی کی جانب ہی کشش محسوس کرتے ہیں؟ ایسا کیوں ہے؟

‎میں نے تو سوالات کی بوچھاڑ ہی کر دی تھی لیکن ان دونوں کہ چہروں پر اب بھی سواے مسکراہٹ کے اور کچھ نہ تھا. ایسی مسکراہٹ جو کسی طالب علم کے بے وقوفانہ سوالات پر استاد کے چہرے پر آ جاتی ہے. شہرہے بیچارے کے ساتھ اچھی نہیں ہی. اس سے پہلے کی گفتگو کے دوران اسکا لنڈ سو گیا تھا لیکن جب میں نے اتنے بولڈ سوالات پوچھے تو شائد وہ اپنی بیوی کے منہ سے ایسی گفتگو سن کر پھر سے گرم ہو گیا. لیکن کسی کی بھی توجہ اس پر یا اس کے لنڈ پر نہیں تھی. انجیلا نے بتایا کہ کھانا تیار ہے باقی باتیں کھانے کی میز پر کر لیتے ہیں. بچوں کو اس نے پہلے ہی کھانا کھلا کر اور دودھ پلا کر سلا دیا تھا. ہم سب کھانے کی میز پر جا بیٹھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Share this post


Link to post

#ھنی_مون

قسط- 05

 

‎پتہ نہیں یہ مارٹن کی عادت تھی کہ ہر سوال کے جواب میں تقریر جھاڑ دیتا تھا یا پھر میری وجہ سے ایسا کر رہا تھا لیکن میں نے چپ چاپ اسکی باتیں سننے کو ہی ترجیح دی کیوں کہ میرے لئے ان میں سے نوے فیصد باتیں نئی تھیں. خاص طور پر ہم جنس پرست لوگوں کے بارے میں جو معلومات مارٹن کی زبانی معلوم ہوئیں انکی وجہ سے مجھے اپنی گزشتہ زندگی کے کی واقعات یاد آ گئے. ہو سکتا ہے یہ میرا شبہ ہی ہو لیکن میں نے یونیورسٹی میں یہ بات محسوس کی تھی کہ کئی لڑکیاں اپنی سہیلیوں سے حد سے زیادہ بے تکلف ہیں. سہیلیاں تو میری بھی تھیں اور ہمارے درمیان بھی ہر قسم کے مذاق کا سلسلہ چلتا رہتا تھا لیکن ایک دوسرے کو چھونا بس اس حد تک ہی تھا کہ سلام کے لئے ہاتھ ملانا یا پھر کبھی کبھار گلے ملنا. اب میرے ذہن میں یہ سرے واقعات گھومنے لگے کہ کچھ لڑکیاں واقعی ایسی تھیں جو ایک دوسرے میں اتنی گم تھیں کہ واشروم بھی ایک ساتھ جاتی تھیں. ایک لڑکی نادیہ خاص طور پر مجھے یاد تھی جس کی سہیلی کی شادی ہو گئی تھی تو نادیہ نے رو رو کر اپنا برا حال کر لیا تھا. تب تو میں یہی سمجھی تھی کہ پکی دوستی کی وجہ سے اپنی سہیلی کی جدائی برداشت نہیں کر پا رہی لیکن اب میں اچھی طرح سے سمجھ گئی تھی کہ وہ معاملہ کیا تھا. یقیناً آپ لوگ بھی سمجھ گئے ہوں گے.

‎کھانے میں انجیلا نے جرمنی کی ایک خاص دش بنائی تھی جسے سپٹزل کہتے ہیں. اس میں پاستا سویاں اور انڈے استعمال کئے گئے تھے. کافی لذیذ تھی. اس کے علاوہ ہمارے پاکستانی ہونے کی وجہ سے اس نے بریانی بھی بنا رکھی تھی. اس کے ہاتھ میں کافی ذائقہ تھا. سچی بات ہے میں یہ توقع نہیں ر رہی تھی کہ انجیلا کی بریانی اتنی لذیذ بھی ہو سکتی ہے لیکن میری توقعات غلط ثابت ہوئیں لیکن صرف ایک یہی توقع غلط ثابت نہیں ہوئی تھی. میں نے تو ننگی ہوتے وقت بھی یہ ہی سوچا تھا کہ آج کی رات کافی مشکل ہو گی اور سارا وقت انتہائی اکورڈ انداز میں گزرے گا لیکن مارٹن اور انجیلا کی مہمان نوازی اور دوستانہ روئے نے سب کچھ تبدیل کر کے رکھ دیا تھا اور میری کنفیوزن اب کانفیڈنس میں تبدیل ہو گئی تھی. میری سوچوں کا تانتا مارٹن کی آواز سے ہی ٹوٹا. اسکی مخاطب میں ہی تھی. بچپن سے اب تک میں ایسے اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں پڑھتی آئ تھی جہاں لڑکیاں اور لڑکے اکٹھے پڑھتے تھے اور ایک دوسرے سے باتیں اور دوستی عام تھی. یہ ہی وجہ تھی کہ میں کبھی کسی مرد سے بات کرتے ہوے نہیں گھبراتی تھی بلکہ مرد مجھ سے بات کرتے ہوے گھبراہٹ کا شکار ہو جاتے تھے. میں چونکہ جرنلزم کی طالبہ تھی اس لئے معلومات کی بھی میرے پاس کوئی کمی نہیں تھی. آج پہلا موقع تھا کہ میں خاموشی سے سن رہی تھی اور ایک مرد اپنی معلومات سے مجھے متاثر کئے جا رہا تھا. میں یہ ماننے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی کہ مجھے اس موقع پر شدت سے احساس کمتری ہو رہا تھا. اچھی یا بری، میری یہ خواہش تھی کہ ہمیشہ گفتگو میں میرا پلا بھاری رہے. بہرحال اب کیا کیا جا سکتا تھا. ظاہر ہے کسی موضوع پر معلومات نہ ہوں تو ایسا ہی ہوتا ہے.

‎مارٹن نے مجھے سمجھانا شروع کیا تو انجیلا نے میری طرف دیکھ کر ایسے مسکراہٹ دی جیسے وہ اس ساری صورتحال کو انجواے کر رہی ہو. شہریار بھی کھانا کھاتے ہوے مسکراے جا رہا تھا. اس وقت تو مجھے ان کی مسکراہٹ کی وجہ سمجھ نہ آئ لیکن بعد میں مجھے شہریار نے بتایا کہ مارٹن کی عادت ہے کہ ہمیشہ بلا ضرورت بولتا چلا جاتا ہے اور دوسروں کو بور کرتا ہے. ہو سکتا ہے شہریار اور انجیلا بور ہو رہے ہوں کیوں کہ ان کے لئے یہ باتیں نئی نہیں تھیں لیکن میں مارٹن کی باتوں سے لطف اندوز ہو رہی تھی. مارٹن نے جو باتیں کیں میں انہیں لفظ بہ لفظ تو یہاں بیان نہیں کر سکتی مختصر طور پر ہی بتا سکتی ہوں. اس نے مجھے بتایا کہ انسان اپنی تاریخ کے آغاز میں ننگے ہی رہتے تھے اور ایسے رہنے سے ہر گز شرمندہ نہیں ہوتے تھے. جیسے جیسے انسان ترقی کرتا گیا اس کے رہن سہن کے طریقوں میں تبدیلیاں رونما ہونی ہونی شروع ہو گئیں. ان ہی تبدیلیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ انسان نے اپنا جسم ڈھانپنا شروع کر دیا اور اپنے جسم دیکھنے پر شرمندگی محسوس کرنے لگا. صدیوں سے جسم ڈھانپنے کی وجہ سے اب انسان ننگے پن کو ایک غیر قدرتی چیز تصور کرنے لگا ہے اور اس جسم ڈھانپنے کا دوسرا اثر یہ بھی ہوا کہ ننگے پن کو سیکس سے منسوب کر دیا گیا جو کہ سراسر غلط ہے. اب اگر انسان ننگے پن کو اپناتے ہیں تو انہیں ایسے مسائل درپیش ہوتے ہیں جو بلکل قدرتی ہیں مثلا مردوں کے لئے سب سے بڑا مسلہ یہ ہے کہ ان کا لنڈ کھڑا ہو جاتا ہے اور وہ اپنے لنڈ کو قابو نہیں کر پاتے. لنڈ کھڑا ہونے کی وجہ سے اگر کوئی یہ کہے کہ ننگا پن ہی ترک کر دینا چاہیے تو میں تو اسکو بے وقوف ہی کہوں گا کیوں کہ کسی بھی کام میں اگر کوئی مسلہ درپیش ہو تو مسلے کو حل کیا جاتا ہے نہ کہ کام کو ہی ترک کر دیا جائے. 

‎میں مارٹن کے لیکچر سے کسی حد تک بور ہونے لگی تھی. کھانا بھی کھا چکی تھی لیکن وہ مسلسل بولے چلے جا رہا تھا. انجیلا میرے جذبات بھانپ گئی اسی لئے اس نے مارٹن کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا: ڈارلنگ، کیوں نہ اب اپنے مہمانوں کو گھر کا ٹور کروایں.

‎اب تو واقعی میں بھی تنگ آ گئی تھی مارٹن کی باتوں سے. وہ واقعی ہر بات کے جواب میں اتنی غیر ضروری تفصیل بتاتا تھا کہ سننے والا تنگ ہی آ جائے.

‎پھر ہم نے ان کے ساتھ گھر کا ٹور کیا. انہوں نے ہمیں گھر کے کمرے دیکھیے. بیڈروم تو میں پہلے ہی دیکھ چکی تھی. بچوں کے سونے کا کمرہ بھی دیکھا جہاں دونوں ننھے بچے خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے. ننگے سوتے ہوے اتنے پیارے لگ رہے تھے کہ دل کیا ایک ایک بوسہ دونوں کو دوں. ویسے بچے تو ہر حال میں ہی پیارے لگتے ہیں خواہ ننگے ہوں یا نہ ہوں. ہم نے ان کا لان بھی دیکھا جہاں ایک بیڈمنٹن نیٹ لگا ہوا تھا. انجیلا نے کھیلنے کی دعوت دی لیکن میں نے معذرت کر لی. پتہ نہیں کیوں میرا دل اب واپس جانے کا کر رہا تھا. شہریار میری بیزاری سمجھ گیا اور ان سے اجازت لے کر ہم اپنے ہوٹل واپس آ گئے. واپسی سے پہلے مارٹن اور انجیلا نے ہمیں اپنے ساتھ ساحل سمندر پر جانے کی دعوت دے ڈالی جس پر میں نے انکار تو نہیں کیا لیکن حامی بھی نہیں بھری. کپڑے پہن کر ہم واپس ہوٹل آ گئے. کھانا کھایا اور اپنے کمرے میں آ گئے جہاں شہریار مجھے چودنے کی تیاری کئے بیٹھا 

تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

‎شہریار نے مجھے کمرے میں داخل ہوتے ہی پکڑ لیا تھا اور وحشیوں کی طرح چمیاں کرنے لگا تھا. اب جا کر اس کا جھاکا کھلا تھا. اپنی پسند کی شادی ہو یا والدین کی پسند کی شادی ہو، شادی سے پہلے لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں، اگر شادی کی پہلی رات دونوں کا سیکس کا پہلا تجربہ ہے تو یہ بات یقینی ہے کہ شرم حیا ضرور آڑے آتی ہے. اگر لڑکا اور لڑکی دونوں پہلے ہی ایک دوسرے کے ساتھ سیکس کر چکے ہیں تو پھر تو یقیناً سہاگ رات میں بھی کھل کر سیکس کریں گے لیکن میرا اور شہریار کا معاملہ یہ نہیں تھا. میں حد سے زیادہ بولڈ ہونے کے باوجود شادی کی رات تک کنواری تھی اور شہریار نے بھی اپنی ورجنٹی یعنی کنوار پنے کو میرے لئے سنبھال کر رکھا تھا. ویسے مجھے شہریار پر اب فخر محسوس ہو رہا تھا کیوں کہ اب یہ جو معلوم ہو گیا تھا کہ وہ ننگا طرز زندگی اپنا چکا ہے. ظاہر ہے، لوگوں کی موجودگی میں ننگا ہونے پر کسی بھی لڑکی کو دیکھ کر دل تو للچا ہی سکتا ہے. اور ویسے بھی انگریزوں کا کیا اعتبار. یہ لوگ تو شادی سے پہلے بھی سیکس کے قائل ہیں. ایسے میں شہریار کا سیکس سے بچے رہنا واقعی ہمت کا کام تھا. اگرچہ میری اپنی زندگی میں کئی مواقع ایسے آے تھے جب میں تقریباً بہک ہی گئی تھی لیکن پتہ نہیں کیسے سیکس سے خود کو محفوظ رکھ پائی. 

‎یہ بتانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ سہاگ رات پر شہریار اور میں جتنے شرمیلے تھے اور جھجھک جھجھکک کر سیکس کر رہے تھے، اب ہم دونوں اس کے بلکل متضاد تھے اور اپنی پیاس کو بجھانے کے لئے ہر حد تک جانے کو تیار تھے. دراصل سہاگ رات ہر لڑکی کے لئے یادگار ہوتی ہے. لڑکوں کے لئے بھی ہوتی ہو گی لیکن لڑکی ہونے کے ناطے یہ میں یہ وثوق سے کہ سکتی ہوں کہ کنواری لڑکیوں کے لئے یہ رات سری زندگی بھولنا نہ ممکن ہوتا ہے. میری سہاگ رات کچھ اسلئے ہی زیادہ رومانٹک تھی کہ شہریار اور میں نے ساری رات باتیں کیں اور مارے شرم کے شہریار کچھ کر ہی نہیں پا رہا تھا. میں تو دل ہی دل میں یہ سوچ چکی تھی کہ کچھ نہیں ہونے والا لیکن نہ جانے شہریار میں اتنی ہمّت کہاں سے آ گئی کہ اس نے میرا بوسہ لے لیا ہونٹوں پر. میں نے شرم سے آنکھیں بند کر لی تھیں. اس کے بعد ہم نے سیکس کیا جو اپنی جگہ خود ایک مزاحیہ قصّہ ہے. مختصر یہ کہ شہریار نے میری شلوار اتاری لیکن پوری نہیں. گھٹنوں تک اتاری اور جب اپنا لند ڈالنے لگا تو لند کھڑا ہی نہ ہو. بیچارہ اتنا پریشان ہوا تھا. کمرے میں ہلکی روشنی والا بلب جل رہا تھا جس سے مجھے اس کے چہرے کے تاثرات صاف نظر آ رہے تھے. بری مشکل سے اس نے لند کھڑا کیا اور اندر ڈالا. مجھے اتنی تکلیف ہوئی کہ برداشت کرنے کے باوجود منہ سے آہ نکل گئی. آہ نکالنی تھی کہ وہ بیچارہ بھی ڈسچارج ہو گیا. اور ہم دونوں پھر سے لیٹ گئے. یہ رات کے آخری پہر ہوا تھا. نا تو میں سہاگ رات میں اس کا لنڈ دیکھ پائی نہ ہی وہ میرے ممے یا چوت دیکھ پایا. میں شادی سے پہلے یہ ہی سوچتی تھی کہ سہاگ رات پر نہ جانے کیسا سیکس ہو گا. پورن فلموں میں جو کچھ دیکھا تھا، میرا خیال تھا کہ وہی سب کچھ ہو گا کیوں کہ شہریار یورپ کا تعلیم یافتہ لڑکا اور میں بھی اچھی خاصی ماڈرن لڑکی، بھلا ہم دونوں میں کیا چیز آڑے آ سکتی ہے. 

‎سچ تو یہ ہے کہ آج پہلا موقع تھا مارٹن اور انجیلا کے گھر سے واپسی پر جب شہریار نے اپنے کذبات کا اظہار اتنے وحشیانہ انداز میں کیا تھا. اس نے پلک جھپکتے میں مجھے کپڑوں سے آزاد کر دیا اور گود میں اٹھا کر بیڈ پر پٹخ دیا. میں خود تو پہلے ہی گیلی ہو چکی تھی. میرا خیال تھا کہ اب چدائی شروع ہو گی لیکن آج کا دن تو تھا ہی سرپرائز سے بھرپور. شہریار نے اپنا منہ میری چوت پر رکھ دیا اور چاٹنے لگا. اف. میں بتا نہیں سکتی کہ میں لذت کی کن بلندیوں پر تھی. شہریار کی زبان میری چوت کے اندر باہر ہو رہی تھی اور میں پاگل ہو رہی تھی. اتنا مزہ تو لنڈ سے بھی نہیں آیا تھا. میں زیادہ در برداشت نہ کر سکی اور شہریار کا سر پکڑ کر اپنی چوت میں دبانے لگی. شہریار بھی مکمل وحشی بنا ہوا تھا اور چوت کو ایسے چاٹ رہا تھا جسے اس میں سے شہد نکل رہا ہو. بمشکل مجھے دو منٹ لگے ہوں گے کہ میں ڈسچارج ہو گئی. لیکن شہریار تو ابھی شروع ہوا تھا. اس نے میرے ڈسچارج ہونے پر بھی بس نہیں کی بلکہ کھڑے ہو کر اپنا لنڈ میری چوت میں گھسا دیا. ایک مرتبہ تو میری چیخ ہی نکل گئی. اس کا انداز ہی ایسا تھا. جیسے پورن فلموں میں چدائی ہوتی ہے بلکل ویسا ہی. اتنی زور زور سے جھٹکے مار رہا تھا کہ ڈسچارج ہونے کے باوجود میں پھر سے لطف اندوز ہونے لگی تھی. میرے منہ سے بھی مسلسل آہ آہ کی آوازیں نکل رہی تھیں. بلآخر کچھ دیر میں ہم دونوں ایک ساتھ ڈسچارج ہوے اور شہریار میرے اوپر ہی لیٹ گیا. اس رات ہم نے تین مرتبہ سیکس کیا اور اس کے علاوہ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو منہ سے ڈسچارج بھی کروایا. پہلی بار میں نے شہریار کی منی کا ذائقہ چکھا اور مجھے اچھا بھی لگا. شاید ہم دونوں اگر تھکے نا ہوتے تو مزید سیکس بھی کرتے لیکن تھکاوٹ شہوت پر غالب آ گئی اور ایک دوسرے سے لپٹ کر نیند کی وادی میں جا پہنچے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

#ھنی_مون

#قسط_06

 

‎مارٹن، انجیلا اور ان کے دونوں بچوں کے ہمراہ ساحل سمندر کی سر میری زندگی کے چند منفرد ترین واقعات میں سے ایک ہے. اس ایک واقعے نے میری آنے والی زندگی پر بہت گہرے اثرات مرتب کئے. ہر ایک انسان کی زندگی میں ایسے واقعات ہوتے ہیں جن کا ان کی انفرادی زندگیوں پر اثر نہ قابل زائل ہوتا ہے. ایسے واقعات خوشگوار بھی ہوتے ہیں اور نا خوشگوار بھی. میرے لئے تو یہ واقعہ خوشگوار ہی تھا. اس واقعے نے میرے ذہن میں نیوڈ زم سے متعلق تمام شکوک شبھات رفع کر دیے اور میں نے دل و جان سے اپنی بقیہ زندگی نیو ڈزم کے مطابق گزارنے کا تہیہ کر لیا. شائد میرا بیان کرنے کا طریقہ اتنا مسحور کن نہیں ہے یا پھر شائد اس قسم کے واقعات کو بیان کرنا ہے ہی مشکل کیوں کہ میں اپنے جذبات کا مکمل عکس اور بیتے واقعات کا سو فیصد احوال اس تحریر میں نہیں ڈھال پا رہی. اگر باریک سے باریک تفصیل بیان کروں تو آپ لوگ بور ہوتے ہیں، نا کروں تو پھر لکھنے کا مزہ نہیں آتا. بہرحال، کوشش یہی ہے کہ مختصر طور پر ہی کچھ لکھ ڈالوں. ادھوری کہانی نا پڑھنے والوں کو پسند آتی ہے نا ہی لکھاری کو.

‎چھٹی کا دن تھا. انجیلا اور مارٹن نے ہمیں گھر سے پک کیا. ان کے پاس ایس یو وی گاڑی تھی جس میں کار سے زیادہ لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہوتی ہے. میں اور انجیلا پچھلی سیٹ پر جوزف کے ساتھ بیٹھ گئیں. چھوٹی بیٹی کو وہ اپنے ساتھ نہیں لے کر آے تھے بلکہ گھر پر ہی اس کے لئے بے بی سٹر کا انتظام کر دیا تھا. جوزف بہت ہی کیوٹ بچہ تھا. میں نے اس سے ہاتھ ملانے کے لئے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا لیکن وہ تو آگے بڑھ کر مجھ سے لپٹ ہی گیا. یاد رہے کہ ہم سب ننگے ہی تھے. جرمنی میں ننگے ہو کر سڑکوں پر گھومنا تو ممنوع ہے لیکن اپنی گاڑی کے اندر آپ ننگے رہ سکتے ہیں خواہ باہر سے نظر ہی کیوں نا آے. جوزف کی اس جپھی نے میرے پورے جسم میں جنجھناہٹ کی ایک لہر پیدا کر دی تھی لیکن میں نے فورا ہی اپنے آپ کو سنبھالا اور چہرے پر ایسے تاثرات نا آنے دیے جن سے پتہ چلتا کہ بچے سے گلے ملنے پر ہی میں خود پر قابو نا رکھ سکی. میرے نپلز اگرچہ سخت ہو گئے تھے. باتیں کرتے کرتے وقت کا پتہ بھی نا چلا اور ہم پہنچ بھی گئے. پہلی بار مجھے پتہ چلا کہ ساحل سمدر پر پکنک کیسے منائی جاتی ہے. کراچی کے ساحل پر سینکڑوں مرتبہ جانے کے باوجود کبھی پنڈلیوں سے اوپر کے کپڑے گیلے نہیں ہونے دیے تھے. بچپن کی بات الگ تھی. تب تو ہم سب کزنز سمندر کی لہروں کو دیکھتے ہی کپڑے اتار دیتے تھے اور صرف ایک نیکر میں لہروں کے پانی سے خوب کھیلتے تھے. بڑے ہونے پر ایسے اچھل کود تو ختم ہو گئی اور ہماری پکنک بس یہ ہی رہ گئی کہ سمندر کی لہروں کو دیکھ کر اور پاؤں بھگو کر دل کو تسلی دے دیتے. ویسے میرے دل کے کسی نہاں خانے میں یہ خواہش تو تھی کہ کہ بچپن کی طرح پھر سے سمندر کی لہروں سے کھیل سکوں. شائد یہ خواہش پوری ہونے کا وقت آ گیا تھا. ہم نے گاڑی سے ٹینٹ نکل کر لگایا کیوں کہ دھوپ بہت تیز تھی. پھر انجیلا نے سن برن سے بچنے کے لئے کریم دی. اس نے جوزف اور مارٹن کے جسم پر کریم لگائی اور پھر مارٹن نے انجیلا کے پورے جسم پر. میں سب کے سامنے شہریار کے جسم پر کریم لگانے سے ہچکچا رہی تھی. شہریار نے یہ بات بھانپ لی اور کریم میرے ہاتھ سے لے کر میرے جسم پر لگانے لگا. اف. شہریار کے ہاتھوں کا لمس میرے لئے اجنبی نہیں تھا لیکن ایسے سب کے سامنے کریم لگانے سے میں کسی حد تک گرم ہونے لگی تھی. خاص طور پر جب اس نے میرے مموں، پھدی اور کولہوں پر کریم کا مساج کیا تو میں نے بہت مشکل سے اپنے منہ سے نکلنے والی آہ کو روکا تھا. شہریار کے جسم پر میں نے کریم کا مساج کیا لیکن اس کے ساتھ عجیب مسلہ تھا. اس دن مارٹن اور انجیلا کے گھر میں بھی اس کا لنڈ مجھے سب کے سامنے ننگی دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا تھا اور آج بھی وہی ہوا. میں نے جب لنڈ پر کریم لگانے کے لئے ہاتھ لگایا تو لنڈ ایسے تیزی سے کھڑا ہوا کہ میں خود حیران رہ گئی. مارٹن اور انجیلا بھی مسکراے بغیر نا رہ سکے. مسکراہٹ تک تو بات ٹھیک تھی شہریار بیچارہ شرمندہ سا ہو رہا تھا. میں نے جلدی جلدی کریم کا مساج کیااور ہم لوگ وہیں ٹینٹ کے نیچے لیٹ گئے. میں تو سمجھ رہی تھی کہ اب شائد سمندر میں نہایں گے لیکن اگر کریم لگانے کے بعد نہاتے تو کریم لگانے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا تھا. ایسے لیٹنے کا مقصد یہ نہیں تھا کہ لیٹے لیٹے وقت ضایع کیا جائے بلکہ مجھے مارٹن اور انجیلا کی زبانی معلوم ہوا کہ اس طرح لیٹنے کا مقصد یہ ہے کہ جسم کو دھوپ اور موسم سے ہم آہنگ کیا جائے. وہ دونوں تو پہلے سے نیو ڈسٹ تھے لیکن میں چونکہ پہلی بار اس طرح سے دھوپ میں ننگی ہی تھی اس لئے میرے جسم پر دھوپ کے منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ تھا. دراصل جب جسم کو کپڑوں میں ملبوس رکھا جائے اور ایسا سالہاسال تک کیا جائے تو جسم اپنے آپ کو کپڑوں کے مطابق ڈھال لیتا ہے اور ایسے میں اچانک ننگا پن جسم کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور کئی بیماریوں کا سبب بھی بن سکتا ہے. اس لئے احتیاتی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے. خاص طور پر جسم کے وہ حصے جن پر ہم سری زندگی دھوپ لگنے ہی نہیں دیتے، ان حصوں کے لئے یہ ننگا پن زیادہ خطرناک ہے. ایک تو ایسے حصے پہلے ہی اتنے حساس ہوتے ہیں کہ ان کے لئے خصوسی احتیاط برتنی پڑتی ہے، اوپر سے اگر ان حصوں کو مسلسل بند رکھا جائے تو ان کی حساسیت میں اضافہ ہونا نا گزیر ہے. سورج کی شعاؤں میں وٹامن ڈی ہوتا ہے. یہ تو سب کو معلوم ہے لیکن یہ وٹامن ڈی جسم کے تمام حصوں کو یکساں مقدار میں چاہئے ہوتا ہے، یہ سب کو معلوم نہیں ہے. کپڑے پہن کر دھوپ میں لیٹنے سے جسم کی وٹامن ڈی کی ضروریات پوری نہیں ہوتی. میں یہ نہیں کہ رہی کہ سب کو میری طرح ننگی ہو کر سہل سمندر پر جا کر سب کے سامنے ننگی لیٹنے سے ہی یہ ضروریات پوری ہوں گی. کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اپنے جسم کی مناسب دیکھ بال کرنے کے لئے کچھ وقت نکال کر گھر میں ہی ننگے ہو دھوپ سینک لیا کریں. ہم نے جو ٹینٹ لگایا تھا اس کا مقصد بھی یہ ہی تھا کہ دھوپ بارہ راست جسموں پر نا پڑے بلکہ پہلے سایے میں لیٹ کر جسم کو ماحول سے ہم آہنگ کریں اور کچھ دیر بعد سمندر میں نہ کر جسم خشک کر کے ٹینٹ کے بغیر دھوپ سینکی جائے. یہ سب باتیں تو اپنی جگہ درست لیکن میرے لئے یہ بات اب تک حیرت کا سبب تھی کہ ہماری نظروں کے سامنے سینکڑوں نہیں تو بیسیوں مرد عورت ننگے گھوم رہے تھے، نہا رہے تھے لیکن اب تک میں سواے شرجیل کے کسی مرد کو ڈھونڈنے میں ناکام رہی تھی جس کا لنڈ کھڑا ہوا ہو. اپنے جسم پر اتنا اختیار دیکھ کر حیرانی ہوئی. انجیلا اور مارٹن ایک دوسرے سے چپک کر لیٹے تھے لیکن مجال ہے کہ مارٹن کا لنڈ ذرا بھی سخت ہوا ہو. شہریار کی بات البتہ الگ تھی. اس کا لنڈ تو سختی کی بلندیوں کو چھو رہا تھا. اب تو مجھے خود بھی شرمندگی ہونے لگی تھی کیوں کہ قریب سے گزرتے لوگوں کی آنکھوں میں اس نظارے کے لئے ناپسندیدگی واضح تھی. 

 

Share this post


Link to post

#ھنی_مون

#قسط_07

 

 

‎شہریار کا لنڈ اپنے جوبن پر تھا. یہ بتانا مشکل تھا کہ اس کے لنڈ میں اس بے پناہ سختی کی وجہ میرا ننگا جسم تھا یا پھر ہماری نظروں کے سامنے ساحل سمندر پر سیر کرتی، سمندر کی لہروں سے اٹھکھیلیاں کرتی سینکڑوں ننگی حسینائیں اس کی وجہ تھیں. یہ بھی ممکن تھا کہ وہ اپنی مشرقی بیوی کو پہلی بار اس طرح عوام الناس کے درمیان ننگی دیکھ کر بے قابو ہوا جا رہا تھا. وجہ جو بھی رہی ہو، اس وقت مسلہ یہ تھا کہ شہریار کا لنڈ لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کیے جا رہا تھا اور زیادہ تر لوگوں کی نظروں میں اس کے لئے نا پسندیدگی کے تاثرات تھے. میں نے سوچا کہ بیشک یہ لوگ اپنے آپ کو قدرت کے قریب ترین کہتے ہیں اور یہ دعوا کرتے ہیں کہ ننگا پن قدرتی عمل ہے لیکن لنڈ کھڑا ہونے پر تیوری چڑھانا کیا اس بات کی دلیل نہیں تھی کہ ابھی اس طرز زندگی میں کسی حد تک دقیانوسیت موجود ہے. میرا مطلب یہ ہے کہ لنڈ کھڑا ہونا بھی تو ایک قدرتی عمل ہی ہے. اس پر برا کیوں منایا جائے؟ کیا لنڈ کھڑا ہونا اتنا ہی برا عمل ہے؟ اگر ہے تو پھر بعض لوگوں کے نزدیک تو ننگا پن بھی ایک اچھا عمل نہیں ہے.

‎میرے ذہن میں سوالات کی بھرمار کے باوجود پوچھنے کا یہ موقع نہیں تھا. میں شدت سے یہ چاہتی تھی کہ کوئی بھی ہماری طرف نا دیکھے اور سب اپنے کم سے کام رکھیں. میری سمجھ سے باہر تھا کہ ایسی حالت میں کیا کرنا چاہیے. میں تو کچھ نہیں کر پائی لیکن انجیلا اور مارٹن سے مزید صبر نہیں ہوا. انجیلا اپنی جگہ سے اٹھی اور ایک تولیہ اٹھا کر شہریار کے لنڈ پر اس طرح سے رکھ دیا کہ لنڈ اس کے نیچے چھپ گیا. ابھار البتہ اب بھی نظر آ رہا تھا. تولیہ لنڈ پر ڈال کر انجیلا نے میری طرف دیکھا اور آنکھ ماری تھی. اس کا انداز ایسا تھا جیسے مجھے کسی کام کا اشارہ کر رہی ہو. فورا تو میں نہیں سمجھی لیکن تولیہ کے اوپر سے لنڈ کا ابھار دیکھ کر مجھے سمجھ آ گیا کہ انجیلا کا مطلب کیا تھا. دراصل مقصد تو یہ ہی تھا کہ شہریار کے لنڈ کا تناؤ ختم ہو جائے اور ایسا کرنے کے لئے ضروری تھا کہ لنڈ کو ریلیف دیا جائے. لنڈ کو ریلیف دینے کے جتنے بھی طریقے ہیں، ان سب پر تنہائی میں ہی عمل پیرا ہوا جا سکتا ہے لیکن ہاتھوں سے لنڈ کو سہلا کر منی نکال دی جائے تو لنڈ کا تناؤ ختم ہو سکتا ہے. اب میں اچھی طرح سمجھ گی تھی کہ انجیلا نے تولیہ اس لئے لنڈ پر نہیں ڈالا تھا کہ لنڈ سب کی نظروں سے چھپ جائے بلکہ اس کا مقصد مجھے موقع فراہم کرنا تھا کہ میں تولیے کے نیچے سے لنڈ کی سختی ختم کرنے کی کوشش کر سکوں. میں نے ہاتھ بڑھا کر تولیے کے نیچے سے شہریار کا لنڈ پکڑ لیا. اف. فولاد کی طرح سخت تھا. لیکن تھا بلکل خشک. میرا دل کیا منہ میں لے لوں. اگر لے لیتی تو شائد مجھے اور شہریار دونوں کو یہاں سے نکال باہر کیا جاتا کیوں کہ غیر اخلاقی کام کوئی بھی برداشت نہیں کرتا. میں نے ہاتھ پر تھوک لگایا اور لنڈ کو اس ہاتھ سے مسلنے لگی. تھوک کی چکناہٹ سے ہاتھ لنڈ پر پھسلتا جا رہا تھا. شہریار کو تو جو مزہ آ رہا تھا وہ اپنی جگہ لیکن یہاں تو میں خود گرم ہوتی جا رہی تھی. میں نے ہینڈ جاب سے پہلے اس بات کا خاص خیال رکھا تھا کہ اپنی پوزیشن اس طرح سیٹ کی تھی لوگوں کی نظر پڑے بھی تو انہیں یہ پتا نا چلے کہ تولیے کے نیچے کیا ہو رہا ہے. سکچول یعنی جنسی کاموں کو پبلک میں کرنا بیہودگی کے زمرے میں آتا ہے. ویسے یہاں بچے بھی موجود تھے اس لئے زیادہ 

احتیاط کی ضرورت تھی۔۔۔۔۔۔

‎میرا خیال تھا کہ جہاں سب لوگ بنا کپڑوں کے ننگے رہتے ہوں، وہاں صفائی کا اتنا خیال نہیں رکھا جاتا ہو گا کیوں کہ جب سمندر میں سب لوگ ننگے نہا رہے ہوں تو کسی کو کیا پتا کس نے سمندر کے پانی میں اپنے پیشاب کی ملاوٹ کی لیکن مجھے اپنا خیال بدلنا پڑا یہ دیکھ کر کہ بہت سے لوگ پیشاب یا حوائج ضروریہ کی خاطر سمندر سے نکل کر ساحل پر بنے واشروم کا رخ کر رہے تھے. شہریار کا لنڈ میرے ہاتھوں کی مہارت اور تھوک کی چکناہٹ زیادہ دیر برداشت نہ کر سکا. کوئی کچھ ہی کہے کہ انٹرنیٹ پر پورن فلمیں دیکھنے کے بہت نقصانات ہیں لیکن مجھے تو اب تک پورن کا فائدہ ہی ہوا تھا. ہینڈجاب، بلوجاب اور اورل سیکس اور بہت سی چیزیں میں نے پورن سے ہی سیکھی تھیں اور اب شادی کے بعد انہیں اپنی عملی زندگی میں نافذ کر رہی تھی. شہریار کے لنڈ سے منی نکلی تو میں نے فورا اپنا ہاتھ نہیں کھینچا بلکہ مسلسل ایسے ہی مسلتی رہی. کچھ مزید جھٹکوں کے بعد شہریار کا لنڈ اپنی لمبائی کھونے لگا. میں نے تولئے سے لنڈ صاف کیا اور لنڈ پر سے تولیہ ہٹا دیا. اب لمبائی کھو کر بلکل چھوٹا سا ہو کر رہ گیا تھا. ویسے دیکھنے میں بہت کیوٹ لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

#ھنی_مون

#قسط_08

 

 

‎شرجیل کے لنڈ کو تو جیسے سکون مل گیا ہو. ایسے دبکا تھا کہ لگتا ہی نہیں تھا کہ تھوڑی دیر پہلے یہ لوہے کے راڈ کی طرح سخت تھا. تھوڑی دیر اس طرح سستانے کے بعد ہم سب نے نہانے کا ارادہ کیا اور ساحل کی جانب چلے. ننگے پیروں سے نرم نرم گیلی ریت پر چلنا بہت اچھا لگ رہا تھا لیکن جو احساس پورے جسم پر سمندر کی ٹھنڈی ہواؤں کا ہو رہا تھا وہ نا قابل بیان ہے. اتنی خوش گوار احساس تھا. ایسا لگتا تھا جیسے جسم کے تمام مسام کھل گئے ہوں. پانی کافی ٹھنڈا تھا. میرا تو سمندر میں نہانے کا بچپن کا ہی تجربہ تھا. بعد میں تو زیادہ سے زیادہ پر گیلے کرنے تک ہی نوبت آتی تھی. اسی لئے میں کھل کر نہانے سے گریز کر رہی تھی لیکن وہاں کا ماحول ایسا تھا کہ زیادہ دیر تک گریز کر نہ سکی. شہریار اور میں نے پانی میں خوب اٹھکھیلیاں کیں. ابھی ہم نہ ہی رہے تھے کہ انجیلا ایک گیند اٹھا لی اور بولی چلو واٹر بال کھیلیں. میں اور شہریار ایک طرف ہو گئے اور انجیلا اور مارٹن نے اپنی ٹیم بنا لی. میں پہلی بار کھل رہی تھی اس لئے ہم لوگ مسلسل ہار رہے تھے. میں نے کہا یہ غلط بات ہے. ہم دونوں نہ تجربہ کار ہیں اور اس طرح کھیلنے کا مزہ بھی نہیں آ رہا، پارٹنر بدلو. وہ دونوں فورن ماں گئے. میں اور مارٹن ایک ساتھ ہو گئے اور انجیلا اور شہریار ایک ساتھ. ٹیم بدلنے کا اور کوئی فائدہ ہوا یا نہیں، مجھے مارٹن کو قریب سے دیکھنے اور ابزرو کرنے کا کا موقع ضرور مل گیا. کھیل بہت دلچسپ تھا اور آہستہ آہستہ کھیل میں شدت آتی جا رہی تھی. میرا پہلا تجربہ ضرور تھا لیکن میں کوشش پوری کر رہی تھی. کوشش کا ہی نتیجہ تھا کہ گیند کو دوسری طرف پھینکنے کے چکر میں میں اس بات کا بھی لحاظ نہیں کر رہی تھی گیند مارٹن کے سامنے ہے یا میرے. اسی کا نتیجہ تھا کہ گیند کو ہاتھ مارنے کی کوشش میں اپنا توازن برقرار نہ رکھ پائی اور قریب تھا کہ پانی میں گر جاتی لیکن مارٹن نے ایک لمحہ ضایع کے بغیر مجھے تھام لیا اور اٹھا کر سیدھی کھڑی کر دیا. بمشکل کوئی دس سیکنڈ لگے ہونگے اس تمام کام میں لیکن اس کے ہاتھوں کا لمس اپنے جسم پر محسوس کر کے میرے پورے جسم میں سنسناہٹ دوڑ گئی اور میں بے اختیار دو قدم پیچھے ہٹ گئی. میرا انداز ایسا تھا جیسے شرما گئی ہوں اور سچ بھی یہی تھا. میں مانتی ہوں میں مکمل ننگی تھی لیکن پھر بھی میرے اندر شرم باقی تھی. شائد یہ شرم مرنے پر ہی ختم ہو سکتی ہے ہم مشرقی لڑکیوں کے اندر سے. میری ادا پر مارٹن سمجھ گیا کہ میں ابھی اس حد تک بے تکلف نہیں ہی. ویسے بات بے تکلفی کی تھی بھی نہیں. اس نے بھی کوئی مجھے چھونے کی غرض سے تو ہاتھ نہیں لگایا تھا. اس کا مقصد تو مجھے گرنے سے بچانا تھا جس میں وہ کامیاب بھی رہا تھا. باجود اس کے، مارٹن نے مجھے سوری کہا. میں ابھی تک سکتے کی سی حالت میں تھی. شہریار نے میرے قریب آ کر مجھے اپنے گلے سے لگایا اور میرے جسم پر ہاتھ پھیرا آہستگی سے. تب کہیں جا کر میں نارمل ہوئی اور مجھے احساس ہوا کہ میرا رویہ غیر مناسب تھا اور یہ کہ مجھے مارٹن کو سوری کہنا چاہئے لیکن اپنے اندر اتنی ہمت نہ پیدا کر پائی. اب مزید کھیلنے کا تو کسی کا موڈ نہیں تھا اس لئے ہم نے کھانا کھایا اور دھوپ سینکی. میں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ احساس ندامت میں ڈوبتی چلی جا رہی تھی. باتوں میں بھی میں زیادہ حصہ نہ لے سکی. البتہ شہریار نے ان دونوں کو بور نہیں ہونے دیا اور خوب باتیں کیں. شام ہونے کا پتہ بھی نہ چلا اور ہم نے واپسی کی راہ لی. واپسی پر شہریار نے مارٹن اور انجیلا کو چاۓ کی دعوت دے ڈالی کہ میرے ہاتھ کی چاۓ بہت مزیدار ہوتی ہے. ہم نے ہوٹل میں اپنے کمرے میں چاۓ پی اور انہوں نے واپسی کا ارادہ کیا. جب مارٹن نے مجھ سے مصافحے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو نہ جانے مجھے کیا ہوا کہ میں آگے بڑھ کر اس کے گلے لگ گئی. یہ سب کے لئے غیر متوقعہ تھا. منہ سے ایک لفظ نہیں نکل پا رہا تھا میرے. مارٹن نے آہستگی سے میرے سر اور کمر پر ہاتھ پھیرا اور مجھے اپنے جسم سے علیحدہ کر دیا. وہ لوگ تو اس کے بعد الودا کہ کر اپنے گھر چلے گئے لیکن شہریار کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی. نیند تو مجھے بھی نہیں آ رہی تھی لیکن شہریار کی آنکھوں میں مستی نمایاں تھی. میں سمجھ گئی کہ شوہر نامدار اب 

مجھے چودے بنا نہیں چھوڑیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

‎شہریار اور میری شادی کو آج تین ہفتے مکمل ہو گئے تھے. ان تین ہفتوں میں ہم نے متعدد مرتبہ سیکس کیا تھا لیکن آج مارٹن اور انجیلا کے ہمراہ سمندر کی سیر کے بعد شہریار کا جوش دیدنی تھا. جوش کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے دروازہ بند کیا اور مجھ پر پل پڑا. ایک لمحے کو تو میں گڑبڑا کر ہی رہ گئی تھی. اسکا رویہ ہی ایسا تھا. میں نے تو آج تک اس کو بہت رحم دل اور خیال رکھنے والا ہی پایا تھا. یہ وحشیانہ پن میرے لئے بلکل نئی چیز تھی لحظہ میری حیرانگی قدرتی تھی. میں اکثر سیکس کے دوران منہ سے ایسی آوازیں نکالا کرتی تھی جیسے پورن فلموں میں چدنے والی اداکارائیں نکالتی ہیں. اس سے مجھے بھی دوران سیکس ایسا لگتا تھا کے میں کوئی فلمی اداکارہ ہوں اور آوازیں سن کر شہریار کا جنوں بھی بڑھتا تھا لیکن آج کی بات نرالی تھی. آج کوئی اداکاری میرے روئے میں شامل نہ تھی. سو فیصد قدرتی رد عمل تھا. جب شہریار نے مجھے گود میں اٹھا کر بیڈ پر پٹخا تو میری چیخ نکل گئی. شہریار تو جیسے بھیڑیا بنا ہوا تھا. میں سہم کر بیڈ پر اس کی پہنچ سے دور ہوئی لیکن اس نے آگے بڑھ کر میری ٹانگیں کھینچ کر اپنے قریب کر لیا. میرے منہ سے دبی دبی چیخیں نکل رہی تھیں جو کہ ایک دم بلند ہو گیں جب اس نے میرا بلاوذ اتارنے کے بجاے کھینچ کر پھاڑ ہی دیا. مجھے اچھی طرح سے معلوم ہو گیا تھا کہ بات صرف بلاوز تک ہی محدود نہیں رہے گی بلکے اور بھی بہت کچھ پھٹنے والا ہے. چوت تو میری پہلے ہی پھاڑ چکا تھا. کیا اب میری گانڈ کی باری ہے؟ یہ سوچ کر ہی میرے رونگٹھے کھڑے ہو گئے. کھڑا تو شہریار کا لنڈ بھی تھا جس کا اندازہ پینٹ کے اندر سے ہی ہو رہا تھا. میرا بلاوز پھاڑنے کے بعد زیادہ وقت ضایع کے بغیر اس نے میری پینٹ اتار دی اور خود بھی ننگا ہو گیا. لنڈ کی تنتناہٹ دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی. لنڈ کی ٹوپی ایسے سرخ انگارہ ہو رہی تھی جیسے خون سے بھر گئی ہو. اف. ایک لمحہ ضایع کے بغیر اس نے میری ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھیں اور ایک ہی دھکے میں پورا کا پورا لنڈ میری چوت میں داخل کر دیا اور جھٹکے مارنے لگا. ہر جھٹکے کے ساتھ میری بلند ہوتی چیخوں نے شاید اسکا جنوں کئی گنا بڑھا دیا تھا کیونکہ ہر جھٹکے کی شدت میں اضافہ ہوا چلا جا رہا تھا. شکر تھا کہ یہاں کمرے ساؤنڈ پروف تھے ورنہ تماشا ہی بن جاتا. شہریار نے اس بری طرح مجھے چودا کہ یہ تجربہ میری زندگی کے یادگار ترین تجربوں میں سے ایک بن گیا. آغاز میں میں جس قدر سہمی ہوئی تھی، بعد میں میں نے اتنا ہی انجواے کیا. یہ سچ ہے کہ شروع میں میری چیخوں کی وجہ درد ہی تھا. بیشک میں کنواری نہیں تھی لیکن کہدے کے لئے چوت کا تر ہونا بھی بہت ضروری ہوتا ہے اور جب شہریار نے میری خشک چوت میں اپنا لوہے کے راڈ کی طرح سخت لنڈ پورا کا پورا ایک ہی جھٹکے میں گھسیڑ دیا تو درد تو ہونا ہی تھا نا. بہرحال، جب اتنی شدت سے چدائی ہو تو زیادہ دیر تک نہیں چلتی. وہی ہوا، پانچ منٹ کے اندر ہی شہریار ڈسچارج ہو گیا اور میرے ساتھ ہی بیڈ پر نڈھال ہو کر لیٹ گیا. کمرے میں مکمل خاموشی طاری تھی اور میں شہریار کے اس غصیلے موڈ کی وجہ سوچے چلے جا رہی تھی. کہیں شہریار کو اس بات پر تو غصہ نہیں آیا تھا کہ مارٹن نے مجھے گرنے سے بچانے کے لئے اپنے بازوں کا سہارا دیا تھا اور شہریار بیشک کتنا ہی کھلے ذہن کا مالک کیوں نا ہو، اپنی برہنہ مشرقی بیوی کو ایک برہنہ غیر مرد کی بانہوں میں دیکھ کر حسد میں مبتلا تو ہو سکتا ہے نا. میرے لئے یہ سوچ ہی بہت تکلیف دہ تھی کیوں کہ میں چاہتی تھی کہ ہمارے رشتے کی بنیاد اعتماد ہو اور شک ہم سے کوسوں دور رہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Share this post


Link to post

دوستو یہہ آخری اپڈیٹ ہے امید ھے آپ کو اچھی لگی ہو گی

 

#ھنی_مون

#قسط_09

 

 

 

‎شہریار سے ڈرتے ڈرتے میں نے اس وحشیانہ پن کی وجہ دریافت کی لیکن وہ مجھے بتانے سے جھجھک رہا تھا. میرے بار بار اصرار پر اس نے بتایا کہ جب مارٹن نے مجھے اپنے بازؤں میں تھاما تھا تو اسے برا لگنا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ اس کا الٹا ہی اثر ہوا تھا یعنی مجھے مارٹن کی بانہوں میں دیکھ کر شہریار نے ہارنی فیل کیا تھا. شہریار کے منہ سے یہ سن کر میں حیران رہ گئی. میں نے تو جو بات سوچی تھی حقیقت اس کے بلکل الٹ ہی نکلی. حیرانی اپنی جگہ، لیکن شہریار کی سوچ نے میری ذہن میں خیالات کی نئی جہتیں جگا دی تھیں. اگر مجھے غیر مرد کی بانہوں میں دیکھ کر شہریار کو اچھا لگتا ہے تو یہ سلسلہ آخر کہاں رکے گا؟ ابھی تو مارٹن کے عمل میں کوئی جنسی عنصر نہیں تھا لیکن اگر کوئی مجھے غلط نیت سے چھو ے تو کیا پھر بھی شہریار کو اچھا لگے لگا اور کیا وہ ایسا منظر دیکھ کر لطف اندوز ہو گا؟ ایسے ان گنت سوالات میرے ذہن میں منڈلانے لگے تھے. شہریار کا وحشیانہ پن تو لگتا تھا کہ ڈسچارج ہوتے ہی ختم ہو گیا تھا. میرے چہرے پر گہری سوچ کے آثار دیکھ کر شائد وہ بھانپ گیا کہ میرے ذہن میں یقیناً اسکی بات سے شکوک و شبھات پیدا ہو گئے ہیں جنہیں دور کرنے کی غرض سے اس نے مجھے بتایا کہ یہ اس کی سیکس فنٹسی ہے لیکن وہ کبھی کوئی ایسا کام نہیں کرے گا جس سے میں ان کمفرٹیبل محسوس کروں اور نہ ہی کسی ایسے کام پر مجھے مجبور کرے گا جسے کرنا مجھے نہ پسند ہو.

‎اتنی محبت بھری باتیں سن کر میرا دل بھر آیا اور مجھے خوشی بھی ہی کہ میرا شوہر اتنا پیار کرنے والا ہے ورنہ پاکستانی مردوں کا حال تو میں دیکھ ہی چکی تھی. بہرحال، شوہر اتنا اچھا ہو تو پھر بیوی کے دل میں بھی محبت پیدا ہو ہی جاتی ہے خواہ مرضی کی شادی ہو یا نہیں. میری تو ویسے بھی پسند کی ہی شادی تھی. میں شہریار کی محبت کے سامنے پگھلی جا رہی تھی. لاکھ کوشش کی کہ خود پر قابو پا سکوں لیکن آنکھوں سے آنسو نکل ہی آے اور میں بے اختیار شہریار کے گلے لگ کر رونے لگی. شہریار مجھے تسلیاں دیے جا رہا تھا کیوں کہ اس کا خیال تھا کہ میں اسکے گزشتہ روئے سے دلبرداشتہ ہوں جبکہ میں نے دل میں یہ تہیہ کر لیا تھا کہ میں شہریار کی ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کروں گی خواہ اسے پورا کرنے کے لئے مجھے کسی حد تک بھی کیوں نہ 

جانا پڑے۔۔۔۔۔۔۔۔

 

‎ہمیں جرمنی میں آے ہوے تین ہفتے ہونے کو آ رہے تھے اور واپسی میں بس ٨ دن باقی تھے. ہم نے اس دوران زندگی کا خوب لطف اٹھایا. بازاروں، شاپنگ مالز کی سیر کی. پارکس کی سیر کی. تاریخی مقامات دیکھے اور بہترین ریسٹورنٹ سے کھانے کھاے. ان سب چیزوں کے باوجود مجھے سب سے زیادہ مزہ مارٹن انجیلا اور شہریار کے ہمراہ ساحل سمندر کی سیر کرنے پر آیا تھا. بنا کپڑوں کے سمندر کے پانی میں نہانا. دھوپ میں لیٹنا اور کسی کی نظروں کا مرکز نہ ہونا. سب لوگوں کا ایسے برتاؤ کرنا جیسے ننگا پن بلکل قدرتی چیز ہے. ان سب باتوں نے میرے نظریات بدل کر رکھ دیے تھے اور میں یہ محسوس کرنے لگی تھی کہ اب مجھے کپڑوں میں ایک عجیب سی الجھن ہوتی ہے. ایک احساس سا رہتا ہے بے چینی کا جب تک کپڑے اتار کر ننگی نہ ہو جاؤں. سچی بات تو یہ ہے کہ اگرچہ شہریار مجھ سے پہلے سے یہ طرز زندگی اپنا چکا تھا لیکن میں اس طرز زندگی سے ایسی مانوس ہوئی تھی کہ معلوم ہوتا تھا کہ میں ہمیشہ سے ہی ننگی رہتی چلی آ رہی ہوں اور شہریار اس میں نیا نیا داخل ہوا ہے. 

‎بہرحال، ہم نے یہ آٹھ دن بھی گھومنے پھرنے میں گزار دیے. روانگی سے پہلے آج ہماری آخری رات تھی جرمنی میں. میں نے شہریار سے کہا کیوں نہ ہم جانے سے پہلے ایک بار مارٹن اور انجیلا سے ملتے چلیں. اس نے بھی میری بات کی تائد کی. وہ اطلاع دینا چاہتا تھا لیکن میں نے منع کر دیا اور تجویز دی کہ سرپرائز دیتے ہیں. شہریار فورن مان گیا. 

‎ہم دونوں اوبر کروا کر ان کے گھر پہنچے. راستے سے ایک شراب کی بوتل لینا نہیں بھولے تھے. یہ کسی کے گھر جانے کے آداب میں شامل تھا کہ کچھ نہ کچھ لے کر جایا جائے. پاکستان میں جس طرح مٹھائی لے کر جاتے ہیں. یہاں تو مٹھائی کا رواج نہیں. شراب البتہ خوب پسند کی جاتی ہے. رات کے گیارہ بجے کا وقت تھا. گلی میں سناٹا تھا. معلومات کی غرض سے صرف اتنا بتاتی چلوں کہ وہاں رہائشی علاقے کمرشل علاقوں سے علیحدہ ہوتے ہیں اور کمرشل علاقوں میں جہاں زندگی ساری رات رواں دواں رہتی ہے، وہیں رہائشی علاقوں میں رات کے ٩ بجے تک ہی مکمل خاموشی چھا جاتی ہے. 

‎شہریار بیل بجانے ہی لگا تھا کہ میں نے اسکا ہاتھ تھام لیا. وہ حیرانی سے میری طرف دیکھنے لگا. میں نے اسکے کان میں کہا کہ بیل بجانے سے پہلے کپڑے اتار لیں تو میزبانوں کو ایک اور خوشگوار سرپرائز دے سکتے ہیں. شہریار میری بیباکی پر یقیناً فخر محسوس کر رہا ہو گا. ہم دونوں نے وہیں کھڑے کھڑے کپڑے اتارے جو میں نے اپنے پرس میں رکھ لئے. شہریار نے ایک ہاتھ میں شراب کی بوتل تھام رکھی تھی اس لئے دوسرے ہاتھ سے گھنٹی بجائی. دروازے کے باہر انٹرکام پر کنفرمیشن کے بعد ہی مارٹن نے دروازہ کھولا تھا اور دروازہ کھولنے پر اس کے چہرے کے تاثرات دیدنی تھے. ہمارے آنے کی خوشی اس کے چہرے سے عیاں تھی. خوشی ہی تھی کہ اس نے بجاے مصافحے کہ آگے بڑھ کر شہریار کو گلے لگا لیا. اس سے گلے ملنے کے بعد مارٹن نے بس نہیں کی بلکہ مجھ سے بھی بغل گیر ہو گیا. میں اس سے ہاتھ تو ملا چکی تھی پہلے بھی اور ساحل پر اس نے بازوں کا سہارا بھی دیا تھا مجھے لیکن تب بھی میرے اور اس کے جسم میں کسی قدر فاصلہ برقرار تھا اور صرف گنتی کے چند اعضاء ہی ایک دوسرے سے چھو پاے تھے. اب جب مارٹن نے مجھے گلے لگایا تو میرے پورے جسم میں سنسناہٹ دوڑ گئی. اگرچہ یہ صرف چار پانچ سیکنڈز کی بات ہی تھی لیکن ان چار پانچ سیکنڈز میں میرا جسم مارٹن کے جسم سے مکمل چھو گیا تھا. میں نے تو آج تک کسی مرد سے کپڑے پہن کر گلے نہیں ملی تھی، اب جب ننگی ہو کر گلے ملی تو جسم میں آگ لگ گیی. میرا منہ اس کے کندھے پر ٹچ ہوا تھا. پستان اس کے سینے سے اور لنڈ میرے پیٹ پر ناف کی جگہ سے ٹچ ہوا تھا اسکا قد مجھ سے لمبا تھا اس لئے. میں نے بڑی مشکل سے اپنے آپ کو کنٹرول کیا تھا. گلے ملنے پر مارٹن نے میری کمر پر ہاتھ رکھے تھے اور میں نے اسکی کمر پر. ابھی مارٹن مجھ سے گلے مل کر پیچھے ہٹا ہی تھا کہ انجیلا بھی آ گئی اور ہمیں خوش آمدید کہنے کے بعد ہم دونوں سے باری باری گلے ملی. سچ کہوں تو پہلی بار دونوں جنس کے لوگوں سے برھنہ حالت میں گلے ملنا بھی ایک منفرد تجربہ تھا. مارٹن اور انجیلا کے تاثرات تو ایسے تھے کہ جیسے یہ روٹین کی بات ہے لیکن میرے جنسی جذبات مکمل بیدار ہو گئے تھے. انہوں نے شراب کی بوتل پر شکریہ ادا کیا اور ہم لوگ ڈرائنگ روم میں جا کر بیٹھے. بچے سو چکے تھے. 

‎کچھ دیر ہم نے گپیں لگائیں. انجیلا شراب کی بوتل اور گلاس اٹھا لائی تھی. شائد اس لمحے ہم سب ہی جذبات میں اتنا آگے نکل گئے تھے کہ سب کچھ بھول گئے تھے. نہ تو انجیلا کو اس بات کا ہوش تھا کہ ہم شراب نہیں پیتے اور نہ ہی ہم نے منع کیا جب اس نے ہمارے سامنے گلاس لا کر رکھے. وہ دونوں تو شراب پینے کے عادی تھے اور شہریار بھی میرے سامنے اعتراف کر چکا تھا کہ وہ بھی کبھی کبھار ایک آدھ گلاس شراب پی ہی لیتا ہے مہینے بھر میں لیکن میں نے آج تک شراب نہیں پی تھی. یہ بات نہیں کہ میں کوئی بہت شریف لڑکی تھی. جس قسم کی پارٹیوں میں میں جاتی رہی تھی ان میں شراب کا آزادانہ استعمال ہوتا تھا لیکن ماڈرن ہونے کے باوجود میں نے شراب سے اس لئے احتراز برتا تھا کہ شراب کے نشے میں کہیں کوئی ایسی حرکت نہ کر بیٹھوں جس سے میرے والدین کی عزت پر کوئی حرف آے. پہلی بار شراب کی چسکی لی. زائقہ عجیب لگا لیکن میں آہستہ آہستہ چسکیاں لیتی رہی. باتوں باتوں میں پتہ بھی نہ چلا اور میں پورا گلاس پی گئی. عجیب سا احساس تھا.میں نے چرس کا نشہ کر رکھا تھا پہلے کئی بار لیکن یہ اس سے مختلف تھا. تھوڑی ہی دیر میں مجھے ایسا محسوس ہونے لگا جیسے میں آسمان پر اڑ رہی ہوں. اب میں باتوں میں حصہ تو لے رہی تھی لیکن باقی لوگوں کی باتوں پر فوکس نہیں کر پا رہی تھی زیادہ دیر تک. ایسا لگتا تھا جیسے شارٹ ٹرم میموری پر شراب کا اثر زیادہ ہوا تھا. مجھے شراب کے اثرات محسوس تو ہو رہے تھے لیکن میں نے بظاھر کسی کو یہ پتہ نہیں لگنے دیا تھا کہ میں کچھ کچھ بہکنے لگی ہوں. تھوڑی دیر باتیں کرنے کے بعد انجیلا نے ایک گیم کی تجویز دی جس میں شراب کی خالی بوتل میز پر لٹا کر گھمانی ہوتی تھی اور گھومتے ہوے بوتل جب رکتی تھی تو جس کی طرف اسکا رخ ہوتا تھا اسے گھمانے والے کی مرضی کا کوئی نہ کوئی کام کرنا پڑتا تھا. مزے کی بات یہ تھی کہ کوئی حد نہیں تھی اس میں یعنی کوئی بھی کام کہا جا سکتا تھا. میں نے اس گیم کو فلموں میں تو دیکھا تھا لیکن حقیقی زندگی میں پہلی بار کھیلنے لگی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

 

#ھنی_مون

#قسط_10_آخری

 

 

 

‎گیم کا نام تھا سپن دی باٹل. بؤتل کو درمیان میں میز پر رکھ کر گھمایا جاتا تھا اور کھیلنے والے میز کے گرد بیٹھ جاتے تھے. میں نے فلموں میں جب جب یہ گیم دیکھی تھی ان میں مختلف اصول تھے. ایک اصول یہ تھا کہ جو بؤتل کو گھماۓ گا وہ اس شخص کو بوسہ دے گا جس کی طرف بؤتل کا رخ ہو گا رکنے پر. ایک دوسرا ورژن بھی اس گیم کا تھا جس میں گھمانے والے سے قطع نظر بؤتل کے رکنے پر دیکھا جائے گا کہ بؤتل کا منہ اور پچھلا حصہ کن دو افراد کی جانب ہیں. ان دونوں افراد کو بوسہ کرنا ہو گا سب کے سامنے. دراصل اس گیم کے کوئی لکھے پڑھے اصول تھے ہی نہیں جس کا جو دل کرتا تھا، گیم کو اپنی پسند کے مطابق موڑ لیا جاتا تھا. جب انجیلا نے تجویز پیش کی تو میرے ذہن میں یہ تھا یا تو بؤتل کا منہ جس کی طرف ہو گا اسے اپنی زندگی کا کوئی نہ کوئی واقعے سنانا ہو گا جس پر اسے شرمندگی ہو یا پھر باقی لوگ اسے کوئی ایسا کام کہیں گے جو خطرناک ہو سکتا ہے مصلاً بنا کپڑوں کے باہر کا چکر لگانا یا دکان سے کچھ لے کر آنا. میرے ذہن میں کنفیوژن تھی مگر جب مارٹن نے گیم کا آغاز کیا اور بوتل کا رخ انجیلا کی جانب آیا تو میری کنفیوژن دور ہو گئی کیوں کہ ان دونوں نے فورن ایک دوسرے کو بوسہ دیا ہونٹوں پر. اب مجھے سمجھ آنے لگی تھی کہ اس کھیل کے اصول کیا ہیں لیکن میں نے پھر بھی اپنے آپ کو مطمئن کرنے کے لئے ان سے پوچھ لیا کہ اگر میری جانب بوتل کا رخ آیا اور میں بوسہ نہ دینا چاہوں سب کے سامنے تو کیا ہو گا؟ جواب ملا کہ پھر صورتحال سنگین ہوتی چلی جائے گی. یہ تو بنیادی اصول ہے اس کھیل کا کہ دس سیکنڈز کے اندر اندر بوسہ لینا ہوتا ہے. اگر دس سیکنڈز میں بوسہ نہ لے سکیں تو دونوں کو اگلے دس سیکنڈز کے اندر فرنچ کس کرنی پڑے گی. وہ بھی نہ کی تو پھر کھیل میں شریک باقی لوگ فیصلہ کریں گے کہ ان دونوں کو کیا کام کرنے پر مجبور کرنا ہے اب. 

‎کچھ شراب کا نشہ تھا اور کچھ میں پہلے ان دونوں سے گلے ملنے کی وجہ سے ہارنی تھی. جب مارٹن اور انجیلا نے ہمارے سامنے ایک دوسرے کو بوسہ دیا تو میرے جنسی جذبات مزید مشتعل ہو گئے. نپلز بھی کھڑے تھے. شراب کے نشے کا یہ اثر بھی تھا کہ میں معمول سے زیادہ بولے چلے جا رہی تھی. کھیل میں خوب حصّہ لے رہی تھی. اگلی باری انجیلا کی تھی. اس نے بوتل گھمائی تو رخ شہریار کی طرف آیا. میں سمجھی تھی کہ شہریار جھجھکے گا لیکن میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب شہریار اور انجیلا دونوں ہی فٹا فٹ ایک دوسرے کو بوسہ دینے کے لئے لپکے. انجیلا میرے بائیں جانب بیٹھی تھی اور شہریار میرے دائیں جانب. جب انہوں نے ایک دوسرے کو میز کے اوپر سے لپک کر ہونٹوں پر بوسہ دیا تو وہ میرے بلکل سامنے تھے اور میرے چہرے سے بہت قریب. میری نظروں کے اتنے قریب میرے شوہر کے ہونٹ انجیلا کے گلابی ہونٹوں سے ٹکراے. دونوں نے ہی پچ کی آواز نکالی جیسے چومتے وقت نکالتے ہیں. اب شہریار کی باری تھی گھمانے کی. اس نے بوتل گھمائی اور شو مئی قسمت کہ بوتل کا رخ پھر سے انجیلا کی طرف آ گیا. اف. پھر سے وہی سین چلا. مجھے غصہ بھی آ رہا تھا کہ میری طرف کیوں نہیں آ رہا بوتل کا منہ. غصے میں میں نے گلاس اٹھا کر منہ سے لگا لیا اور گلاس کے پیندے میں جو تھوڑی سی شراب بچی تھی وہ بھی اپنے حلق میں انڈیل لی. انجیلا کی باری تھی. اس نے گھمائی تو رخ پھر شہریار کی جانب. تیسری بار مسلسل انہوں نے بوسہ لیا. سچی بات ہے کہ مجھے اب برا محسوس ہونے لگا تھا. اتنی آزاد خیال ہونے کے باوجود مجھے اب حسد محسوس ہو رہا تھا. میرے شوہر کو مسلسل ہونٹوں پر بوسہ دے جا رہی تھی اور وہ بھی میرے سامنے. جب چوتھی بار بھی بوتل کا رخ انجیلا کی جانب آیا اور شہریار اور انجیلا نے میرے سامنے چوتھی بار ایک دوسرے کا ہونٹوں پر بوسہ لیا تو میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔

 

‎نہ جانے یہ نشے کا اثر تھا یا حسد کے جذبات کا کیا دھرا، جب مسلسل شہریار اور انجیلا میرے چہرے کے بلکل سامنے چوتھی بار بوسہ لینے کے لئے آگے بڑھے تو مجھ سے برداشت نہ ہوا. میں نے اپنے ہاتھ آگے بڑھا کر ان دونوں کو قریب نہ آنے دیا. ابھی وہ لوگ میرے اس عمل کو پرکھ ہی رہے تھے کہ میری اگلی حرکت نے سب کے ہوش اڑا کر رکھ دیے. حرکت ہی ایسی تھی. میں نے میز کے اوپر سے ہی آگے بڑھ کر مارٹن کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام کر اس کے لبوں پر اپنے لب رکھ دیے اور اتنی شدت سے چوسنے لگی کہ فرنچ لوگ خود بھی ایسی فرنچ کس نہ کرتے ہوں گے. اگرچہ میں تو پہلے ہی نشے میں مدہوش تھی لیکن پھر بھی شہریار اور انجیلا کے چہرے کے تاثرات بھانپ سکتی تھی جن پر یقینن انتہائی حیرانگی ہی ہو گی. حیرانگی تو مارٹن کو بھی ہی ہو گی لیکن میں نے اسے حیران ہونے کا موقع ہی نہیں دیا. میں اتنے شدید قسم کے جذبات میں تھی کہ مجھے اپنے جسم کا بھی کچھ ہوش نہ تھا. میز کے اوپر سے ہوتی ہوئی مارٹن کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے آنکھیں بند کیے میں اس کے اوپر ہی لیٹ گئی تھی. بیشک آغاز میں میری اس حرکت کا موجب حسد کے جذبات ہی تھے لیکن فرنچ کس نے میرے نشے کو دو آتشہ کر دیا تھا. شہریار کے ساتھ بھی کئی بار فرنچ کس کی تھی لیکن مارٹن کی زبان پر اپنی زبان ٹچ کر کے جو لذت حاصل ہوئی تھی وہ یونیک تھی. مجھے نہیں پتا تھا کہ شہریار اور انجیلا کیا کر رہے تھے. مجھے اس لمحے کسی بھی چیز کا ہوش نہ تھا. مارٹن نے پہلے پہل میرا چہرہ تھام کر مجھے اپنے سے دور کرنے کی کوشش ضرور کی تھی لیکن یا تو وہ میری حیوانگی سے دب گیا تھا یا پھر اسے خود بھی میری زبان اور ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے چھونے اور چوسنے میں مزہ آنے لگا تھا. دوسری بات زیادہ قرین قیاس تھی کیوں کہ وہ خود بھی فرنچ کس میں میرا بھرپور ساتھ دینے لگا تھا. شراب کے نشے نے میرے جنسی جذبات پہلے ہی کسی حد تک بھڑکا رکھے تھے اور میری یہ حرکت تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی. فرنچ کس کرتے کرتے میں ہاتھ مارٹن کے جسم پر بھی پھیر رہی تھی. چونکہ مارٹن نیچے قالین پر چت لیتا تھا اور میں اس کے پیٹ کے اوپر چڑھ کر بیٹھی تھی اس لئے اس کی کمر پر تو ہاتھ نہیں پھیر پائی لیکن سینے پر ہاتھ پھیرتے پھیرتے ایک ہاتھ نیچے لے جا کر اس کے لنڈ کو ضرور پکڑ لیا تھا. اف. اس کا لنڈ مکمل تنا ہوا تھا. میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، لنڈ کو اپنی چوت کے دہانے پر ایڈجسٹ کر کے دباؤ ڈالنے لگی. مجھے نہیں معلوم کہ فرنچ کس کا دورانیہ کتنا تھا. بس مجھے یہ معلوم ہے کے جب مارٹن کا لنڈ میری چوت میں گیا تھا تب ہی میں نے اس کے منہ سے اپنا منہ علیحدہ کیا تھا. مارٹن کے سنہری بالوں سے بھرے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے میں مسلسل اوپر نیچے ہو رہی تھی اور اس کا لنڈ میری چوت میں اندر باہر اندر باہر ہو رہا تھا. میری آنکھیں فرط لذت سے بند تھیں. ایسا لگتا تھا کہ ہواؤں میں اڑ رہی ہوں. مارٹن کے ہاتھ مجھے اپنے سینے پر محسوس ہو رہے تھے. ہم دونوں کے منہ سے ایسی آوازیں نکل رہی تھیں جیسے زندگی میں پہلی بار سیکس کا لطف اٹھا رہے ہوں حالانکہ دونوں ہی خاصے تجربہ کار تھے. مارٹن تو یقینن تھا کیوں کہ وہ بڑی مہارت سے میری آوازوں اور جسم کی حرکت سے بھانپ گیا تھا کہ میں اب ڈسچارج ہونے والی ہوں. نہ جانے اس کے پاس کونسا طریقہ تھا لیکن میں ڈسچارج ہوئی تو ساتھ ہی وہ بھی ڈسچارج ہو گیا. ڈسچارج ہوتے ہی ایسا محسوس ہوا جیسے ٹانگوں سے جان نکل گئی ہو. چوت میں مارٹن کی منی لئے میں مارٹن کے پہلو میں ہی نڈھال ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

‎مارٹن کے ساتھ جم کر چدائی کا نتیجہ تھا کہ سانس درست ہونے میں دو سے تین منٹ لگ گئے. ہوش سنبھلنے پر احساس ہوا کہ یہ میں نے کیا کر دیا. مارٹن اٹھ کر واشروم جا چکا تھا. ڈرائنگ روم میں صرف میں اکیلی ہی لیٹی رہ گئی. میرے سارے جذبات بشمول حسد کے ہوا ہو چکے تھے اور اب رہ رہ کر یہی خیال آ رہا تھا کہ مجھ سے بہت سنگین غلطی ہو گئی ہے. میں حسد اور جنسی جذبات کی رو میں اس قدر شدت سے بہہ گئی تھی کہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی جیسے ختم ہو کر رہ گئی ہو. سونے پر سہاگہ یہ کہ شراب کے دو گلاس بھی چڑھا چکی تھی. میرا احساس ندامت اپنی جگہ لیکن شہریار اور انجیلا کی غیر موجودگی بھی مجھے کھٹک رہی تھی. کیا شہریار نے میرے اس عمل کا بدلہ انجیلا کو چود کر لیا ہے؟ یہ سوال بھی میرے ذہن میں گونجنے لگا. بے اختیار میری آنکھوں میں آنسو آ گئے کیوں کہ شہریار کسی اور سے سیکس کرے، یہ برداشت کرنا میرے لئے نا ممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور تھا. مجھ سے تو اس کی انجیلا کو کس تک پسند نہیں آیی تھی اور بھڑک کر مارٹن سے سیکس کر بیٹھی تھی. کہیں میں نے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی تو نہیں مار لی. شہریار اور انجیلا کی کس کا بدلہ مارٹن سے سیکس کر کے لینا سراسر نا انصافی ہی ہے اور اگر میرے اس عمل کا جواب شہریار نے انجیلا کو چود کر دیا تو میں اپنے آپ کو کبھی معاف نہیں کر پاؤں گی. اس قسم کی سوچوں نے میرا احساس ندامت کئی گنا بڑھا دیا تھا اور میں بے اختیار رونے لگی. آنسو تو پہلے سے ہی جاری تھے آنکھوں سے اب آواز بھی نکلنے لگی ہچکیوں کی صورت میں. مارٹن واشروم سے نکلا تو مجھے دیکھ کر ٹھٹھک گیا. میرے رونے کو نظر انداز نا کر پایا اور بے اختیار میرے پاس آ کر میری دلجوئی کرنے لگا بغیر وجہ جانے. میرے ہاتھ کو پکڑ کر سہلایا. میں ابھی تک لیٹی ہوئی تھی. مارٹن نے اپنے بازو کا سہارا دے کر مجھے اٹھنے میں مدد دی. پتا نہیں یہ صرف میرے ساتھ مسلہ ہے یا پھر اور لوگوں کے ساتھ بھی کہ اگر روتے ہوے کوئی دلجوئی کرے تو اور زور سے رونا آتا ہے. مارٹن کی دلجوئی کا مجھ پر یہی اثر ہوا. میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی. مارٹن نے مجھے اپنے سینے سے لگا لیا. میں بھی خوب زور سے لپٹ گئی. وہ میرے بالوں پر اور کمر پر ہاتھ پھیرتا جاتا تھا اور ساتھ ساتھ مجھ سے پوچھتا بھی جاتا تھا کہ آخر ہوا کیا ہے؟ 

‎میں اسے بتانے ہی لگی تھی روتے ہوے کہ شہریار اور انجیلا کمرے میں داخل ہوے. میری حیرت کی انتہا نا رہی جب ان دونوں نے ہی گزشتہ واقعات کی جانب کسی قسم کا کوئی اشارہ تک نا کیا بلکہ الٹا میرے رونے پر پریشان ہو کر مجھ سے پوچھنے لگے کہ کیا ہوا، کیوں رو رہی ہو؟ مجھے اندازہ تو ہو گیا تھا کہ شہریار اور انجیلا کے درمیان جنسی تعلق قائم نہیں ہوا. میں شہریار اور انجیلا کی چال اور ان کے آپس کے تعلق اور بول چال کے انداز سے یہ بھانپ گئی تھی کہ انہوں نے سیکس نہیں کیا. اس سے میرے دل کی کسی قدر تسلی بھی ہوئی لیکن احساس ندامت نے مجھے مجبور کر دیا کہ میں شہریار سے اپنے کے کی معافی مانگوں. میں نے مارٹن کو چھوڑ کر شہریار کا ہاتھ تھام لیا اور نظریں جھکا کر اسے کہا آئ ایم سوری لیکن شہریار کا ری ایکشن کچھ اور ہی تھا.اس نے میرے ہاتھ تھام کر چوم لئے اس بات کی پرواہ کیۓ بغیر کے میں نے مارٹن سے چدنے کے بعد ابھی تک غسل خانے کا رخ نہیں کیا تھا اور دوران چدائی ہاتھوں سے مارٹن کے لنڈ کو چھوا تھا جس سے ہاتھوں پر لیس دار مادہ لگ گیا تھا. خیر، شہریار نے بغیر کسی جھجھک کے مارٹن اور انجیلا کی موجودگی میں ہی مجھے ہونٹوں پر کس کی اور مجھے سمجھنے لگا کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا جس پر شرمندگی ہو. ابھی شہریار کی بات جاری تھی کہ بیل بج اٹھی. انجیلا نے دروازے پر جا کر پیزا وصول کیا جسکا آرڈر شائد اس نے تب دیا تھا جب میں مارٹن کے ساتھ مصروف تھی. ہم نے وہیں میز کے ارد گرد بیٹھ کر پیزا کھایا اور کھانے کے دوران مجھے انجیلا، مارٹن، شہریار کے خیالات سے مزید واقفیت حاصل ہوئی. انجیلا کے چہرے پر تو ایک لمحے کے لئے بھی ایسا تاثر نہیں آیا تھا کہ مارٹن نے مجھے چود کر اس کے ساتھ بے وفائی کی ہے. بلکل یہی حال شہریار کا بھی تھا. میں نے انجیلا سے پوچھا کہ کیا تمھیں اس بات پر کوئی حسد محسوس نہیں ہوتا کہ تمہارا شوہر تمہارے علاوہ کسی اور لڑکی کو چودے اور وہ بھی تمہارے سامنے. کہنے لگی کہ یہ کوئی ایسی بات نہیں جس پر برا منایا جائے. سیکس ایک ایسا جذبہ ہے جو ہر بالغ انسان میں ہوتا ہے اور یہ بلکل قدرتی ہے کہ انسان اپنے لائف پارٹنر کے علاوہ کسی اور کو دیکھ کر جنسی طور پر مشتعل ہو جائے. ایسے میں اگر وہ انسان اپنے جذبات چھپاۓ تو نا صرف اس کی اپنی سیکس لائف ڈسٹرب ہو گی بلکہ میں بیوی کا آپس کا تعلق بھی خراب ہونے کا اندیشہ ہے کیوں کہ پھر ان کے درمیان سیکس میں وہ گرم جوشی نا رہے گی جو پہلے تھی. انجیلا کی باتیں مجھے معقول لگیں لیکن تشنگی ابھی باقی تھی اس لئے مزید سوالات بھی کرنے پڑے. میں نے پوچھا کہ اگر ایسی بات ہے تو پھر شادی کا کیا فائدہ. شادی کے بغیر ہی یہ کام کرتے رہو. انجیلا نے بتایا کہ وہ خود بھی شادی کو اتنا اہم نہیں سمجھتی بلکہ شادی صرف ایک معاشرتی ضرورت کو نبھانے کے لئے کی ہے. انجیلا کی اس بات پر میں حیران ہی ہو گئی کہ اس کے بچوں میں سے بھی ایک بچہ مارٹن کا نہیں تھا بلکہ وہ انجیلا کے کسی اور سے سیکس کا نتیجہ تھا. 

‎اف. میں نے سوچا کہ اگر مارٹن سے سیکس کے نتیجے میں میں حاملہ ہو گئی تو کیا ہو گا. دل میں سوچا کہ کاش ایسا نا ہی ہو. 

‎اسی طرح ننگے بیٹھے گپیں مارتے وقت کا پتہ بھی نا چلا اور صبح ہو گئی. ہم نے اجازت چاہی اور اپنے ہوٹل لوٹ آے. جہاں سامان پیک تھے پہلے سے ہی. ہوٹل میں کچھ دیر سونے کے بعد ہم ایئر پورٹ کی جانب روانہ ہو گئے جہاں سے وطن واپسی کا سفر شروع کرنا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Share this post


Link to post

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...