Jump to content
URDU FUN CLUB
F khan

میجر صاحب

Recommended Posts

قسط نمبر 01

 

دوستوں یہ کہانی کافی پرانی اور رومن اردو میں مختلف ویب سائٹ پر موجود ہے . . . 

 

لیکن اس کہانی میں کچھ مزید اضافہ کر کے اس کو مکمل کر کے آپ کے سامنے نوری اردو میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے . . . . 

 

امید ہے آپ کو یہ کاوش پسند آئے گی اور آپ لطف اندوز ہو سکے گے . . . . . 

 

چلتے ہے کہانی کی طرف . . . . . . 

 

رات کے 10 بج رہے تھے اور صباء اور اس کا شوہر اشرف دونوں اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر اپنے بیڈروم میں بیٹھے ہوئے تھے . . . . 

 

کبھی اشرف اپنے سر کو بیڈ پر رکھے ہو سرہانے کے نیچے گھسا دیتا اور کبھی بے چین ہو کر اٹھ بیٹھتا اور اپنے ہاتھوں کی ایک ایک انگلی اپنے کانوں میں ڈال لیتا یہی حال صباء کا بھی تھا . . . . . 

 

لیکن ان سب کوششوں کے باوجود ان دونوں کو اس چیز سے چھٹکارا نہیں مل پا رہا تھا جس کی وجہ سے ان دنوں کی یہ حالت ہو رہی تھی . . . . 

غصے کے مارے اشرف کا برا حال ہو رہا تھا لیکن وہ بڑی ہی مشکل سے خود پر قابو کر پا رہا تھا . . . . . 

 

ان دونوں نوجوان اور نئے نویلے جوڑے کی پریشانی کی وجہ تھی بہت ہی اونچی اور بری سی میوزک کی آواز جو کے ایک پرانی سے ٹیپ پر چلتی ہوئی کیسٹ سے آ رہی تھی اور یہ ٹیپ ریکارڈر ان کی بالکل ساتھ والے فلیٹ میں رہنے والے ریٹائیرئڈ میجر جوہر کے ہاں چل رہا تھا . . . . . 

 

لیکن میجر صاحب اپنے ہمساے کی پریشانی اور اپنے گھر میں چل رہے ٹیپ ریکارڈر دونوں سے ہی لا علم تھے . . . . 

 اور اس کی وجہ یہ تھی کہ میوزک اور ٹی وی چلتا ہوا چھوڑ کر وہ کب کے سو چکے تھے اور ان کو اب کوئی علم نہیں تھا کے ان کے اردگرد کیا ہو رہا ہے . . . . 

سو گئے ہوئے تھے یا شاید اپنی عادت کے مطابق شراب پیتے ہو بے ہوش ہو گیا تھا . . . . 

 

کچھ پتہ نہیں تھا . . . . 

 

اور ایسا یہ کوئی پہلی بار نہیں ہو رہا تھا بلکہ ہر ہفتے میں دو تِین بار ایسا ضرور ہو جاتا تھا جس کی وجہ سے تمام ہمساے ان سے تنگ آ چکے ہوے تھے . . . . 

 

لیکن میجر جوہر کی غصیلی طبیعت اور انتہائی نا مناسب راویے کی وجہ سے کوئی بھی ان کے سامنے آنے کی جُرات نہیں کرتا تھا . . . . 

 

جب اشرف سے برداشت نہ ہو پایا تو اس نے اپنے سر کے اُوپر رکھا ہوا تکیہ اٹھایا اور زور سے اسے دور پڑے ہو صوفے پر پھینکتا ہوا اٹھا اور بولا ،

اِس بیہودہ گنوار جانور کو آج کچھ سکھا کر ہی آنا پڑے گا . . . . 

 

 اِس کمینے کو تو انسانوں کے بیچ میں رہنے کا کوئی سلیقہ ہی نہیں ہے . . . . 

 

جیسے ہی صباء نے اپنے شوہر کو غصے میں دیکھا تو جلدی سے اٹھی اور اسے روکتی ہوی بولی ، 

نہیں نہیں آپ نہیں جاؤ ، 

آپ غصے میں ہو آپ روکو میں ان کو کہہ کر آتی ہوں . . . . 

 ایسے آپ کے جانے سے بات بڑھ جائے گی . . . . 

 

اپنی بِیوِی کے بار بار کہنے پر اشرف روک گیا وہیں بیڈروم میں ہی اور پِھر صباء نے بیڈ پر پڑا ہوا گاؤن اپنے نائٹ سوٹ پر ڈالا اور اس کی ڈوری باندھتی ہوئی بیڈروم سے باہر نکل آئی . . . . 

 

 اپنے فلیٹ کا مین گیٹ ان لاک کر کے وہ باہر کوڑی ڈور میں نکلی تو پانچویں منزل کا کوڑی ڈور بالکل خالی تھا . . . . 

 

 صباء اپنے فلیٹ کے دروازے سے نکلی اور بالکل ساتھ کے دروازے کی طرف بڑھی . . . . 

 

 اُس کے چہرے پر بھی نہ چاہتے ہوے بھی غصہ اور انتہائی نفرت تھی . . . . 

 

 کیوںکہ وہ بھی اس بیہودہ ریٹائیرئڈ میجر کی طبیعت سے اچھی طرح واقف تھی . . . . 

 

صباء نے میجر جوہر کے دروازے پر جا کر اپنی نازک نازک گوری گوری اور پتلی انگلیوں کو موڑتے ہوے آہستہ آہستہ نوک کیا . . . . . . 

 

ایک بار . . . . . . .

 

 دوسری بار . . . . . . .

 

 تیسری بار . . . . . . . . . .

 

 لیکن ہر بار کی دستک کا نتیجہ تو ایک ہی نکل رہا تھا کے دروازہ نہیں کھولنا تھا نہیں کھلا . . . . 

 

 اور کھلتا بھی تب نہ جب کوئی اندر سن رہا ہوتا تو . . . . 

 

جیسے جیسے صباء نوک کیے جا رہی تھی ویسے ویسے ہی اس کا غصہ بھی بڑھتا جا رہا تھا . . . . 

 

صباء کو اپنی انگلیوں میں تھوڑا درد محسوس ہوا تو اس نے اپنا ہاتھ پُورا کھولا اور اِس بار غصے کے ساتھ پورے ہاتھ کی مدد سے لکڑی کے دروازے کو پیٹنے لگی . . . . 

 

 اتنی زور سے دروازہ پیٹنے کے بعد صباء نے ادھر اُدھر دیکھا کیوںکہ اسے یقین تھا کے وہ کمینہ میجر نکلے یا نہ نکلے لیکن باقی کے چار فلاٹس میں سے کوئی نہ کوئی ضرور نکل آئے گا باہر . . . . 

 

 لیکن خدا کا شکر تھا کہ ابھی تک کوئی نہیں نکلا تھا ویسے کوئی نکل بھی آتا تو بھی اسے کوئی پرواہ نہیں تھی . . . . 

 

جب بہت زور زور سے دو تِین بار دروازہ پیٹا گیا تو اندر شراب پی کر سوتے ہوئے میجر صاحب کو شاید کچھ کچھ ہوش آنے لگا اس نے پہلے اپنے کان کھولے اور جب اسے یقین ہو گیا کہ کوئی باہر ان کا دروازہ توڑنے کے درپے ہے تو بڑی ہی مشکل سے اب انہوں نے اپنی آنكھوں کو کھولا جو کے نشے کی وجہ سے دوبارہ سے بند ہوئی جا رہی تھیں . . . . 

 

 اپنی آنكھوں کو جگانے کے بعد اب باری تھی سب سے مشکل کام کی یعنی اپنے سوئے ہوے وجود کو جگانے کی تاکہ وہ اپنے دروازے تک پہنچ سکیں . . . . 

 

کسی نہ کسی طرح سے خود کو ہوش میں لا کر میجر جوہر اپنے دروازے کی طرف بڑھا لیکن اِس دوران بھی تین بار دروازہ پیٹ دیا گیا تھا . . . . 

 

 جیسے ہی میجر نے دروازہ کھولا تو اپنی آنكھوں کے سامنے اپنی ہمساے کی انتہائی خوبصورت اور جوان گوری چٹی بِیوِی کو دیکھا کر تھوڑا نشہ اور ہوا ہوگیا اور آنکھیں پوری طرح سے کھل گئی . . . 

 

 اور وہ شراب اور نیند کے اثر سے سوراخ ہو رہی اپنی آنکھیں کھول کر اپنے سامنے کھڑی خوبصورت صباء کو دیکھ کر بولا ،

ہاں کیا بات ہے ؟

 کیوں میرے گھر کا دروازہ توڑنے کو آئی کھڑی ہو . . . . 

 

صباء کے چہرے پر اسے انتہائی نفرت اور غصہ تو صاف نظر آرہا تھا لیکن وہ بھلا کسی کے غصے یا نفرت کی پرواہ کیوں کرنے لگا . . . . 

 

صباء :

 کوئی شوق نہیں ہے مجھے یوں آدھی رات کو تمھارے گھر کا دروازہ پیٹنے کا . . . . 

یہ جو شور مچا رکھا ہے تم نے اپنے گھر میں اسی بند کر کے مارو جا کر تاکہ کوئی اور بھی سکون سے سو سکے یہاں پر . . . . 

 

میجر : 

ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا . . . . . . . . . . . . . . . .

 اچھا اچھا کر دیتا ہوں بند اسے بھی . . . . . . .

لگتا ہے اِس شور میں تیرے اس ٹھوکو کا کھڑا نہیں ہوتا جو اس نے تجھے اِس وقت میرے پاس بھیجا ہے اسے بند کروانے . . . . . 

 

صباء کا چہرہ یہ بات سن کر غصے سے سوراخ ہو گیا اور اس کی آنكھوں سے جیسے آگ نکل رہی ہو لیکن وہ صرف اپنے ہاتھوں کی مٹھیان ہی بھینچ کر رہ گئی . . . . 

 اِس خبیث انسان سے ایسی ہی باتوں کی امید تھی اسے لیکن وہ کوئی تماشہ کھڑا نہیں کرنا چاہتی تھی . . . . . 

 

صباء :

 بند کرو اپنی بکواس اور اِس شور کو بھی . . . . 

تم سے زیادہ گھٹیا انسان تو میں نے آج تک نہیں دیکھا جسے خواتین سے بات کرنے کی بھی تمیز نہیں ہے . . . . 

 

یہ کہہ کر صباء اپنے فلیٹ کی طرف مڑ گئی وہ کوئی اور بات نہیں کرنا چاہتی تھی اور نہ سننا چاہتی تھی . . . . . 

 

میجر : 

ہا ہا ہا ہا ہا ہا . . . . . . . . . . . .

 اور میں نے بھی تمھارے شوہر جیسے گھٹیا آدمی نہیں دیکھا کبھی جو آدھی رات کو اپنی بِیوِی کو دوسرے مرد کے گھر بھیجتا ہے . . . . . . . . . . . .

 ہا ہا ہا ہا ہا ہا 

 

اِس بات نے ایک بار پِھر صباء کے تن بدن میں آگ لگا دی تھی اس نے فوراً ہی مڑ کر پیچھے دیکھا تو میجر نے ہنستے ہوے اسے ایک آنکھ ماری اور زور سے اپنا دروازہ بند کر لیا . . . . 

 

صباء کی نظر اپنے فلیٹ کے سامنے والے فلیٹ کی دروازے پر پڑی تو دیکھا کے وہاں پر منصور صاحب کھڑے ہے . . . . 

 وہ بھی بہت ہی بےچارگی والی نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے . . . . 

 

 ادھیڑ عمر کے منصور صاحب انتہائی شریف آدمی تھے اور اپنی فیملی کے ساتھ بالکل سامنے رہتے تھے اور ان کی ساتھ اشرف اور صباء کے اچھے مراسم تھے . . . . 

 

صباء نے منصور صاحب کو دیکھا تو شرمندہ ہو کر اپنی نظریں جھکا لیں . . . . 

 

منصور :

 بیٹی تم اِس گندے انسان کے منہ نہ لگا کرو . . . . 

 کتنی بار تم لوگوں کو منع کیا ہے . . . . 

 

صباء نے شرمندگی سے سر جھکا لیا اور جیسے اس کی آنكھوں سے آنسو نکالنے کو ہی تھے لیکن ساتھ ہی نفرت بھی اندر ہی اندر اور بڑھ گئی تھی . . . . 

لیکن ایک بات تھی کے اپنے گھر کا دروازہ بند کرنے تک اس خوفناک میوزک کی آواز بھی بند ہو چکی تھی . . . . 

 

 اپنے گھر کا دروازہ اندر سے لوک کر کے صباء اپنے بیڈروم کی طرف بڑھی یہ اسے ہی معلوم تھا کے اِس اتنی سے کام کے لیے وہ کس قدر ذلیل ہو کر آئی ہے اس بے شرم بیہودہ انسان کے ہاتھوں . . . . 

 

لیکن اسے پتہ تھا کے اسے یہ بات اپنے شوہر اشرف کو نہیں بتانی ہے بلکہ اس سے چھوپانی ہے . . . . . . . . . . . . . . . . . . 

 

جیسے وہ اب تک چھپاتی آئی ہے . . . . . . . . . . . . . . .

 

 اپنی تزلیل اور بےعزتی کو کیوں کے وہ نہیں چاہتی تھی کے اس کا شوہر اس سے لڑ پاری جا کر اور پِھر وہ کمینہ شخص اُس کے شوہر کو کوئی نقصان پہنچاے . . . . . 

 

اس لیے صباء نے فریج سے ٹھنڈا پانی نکال کر پیا اور پِھر بیڈروم میں جا کر خاموشی سے بیڈ پر اپنے شوہر کے ساتھ لیٹ گئی . . . . . 

 

اشرف : 

کوئی بدتمیزی تو نہیں کر رہا تھا وہ کمینہ ؟ ؟ ؟

 

صباء : 

نہیں معذرت کر رہا تھا کے آنکھ لگ گئی تھی اِس لیے ایسا ہو گیا . . . . 

 

اشرف نے بھی اب کروٹ لی اور سونے لگا . . . . 

 

 صباء بھی کروٹ لے کر اشرف کی پیٹھ سے چپک کر لیٹ گئی اور اس کمینے انسان کی باتوں کو اپنے دماغ سے نکالتے ہوے خود کو نیند کی وادیوں میں لے جانے کی کوشش کرنے لگی . . . . 

 

صباء اور اشرف کی شادی کو ابھی کوئی چھے سات مہینے ہوے تھے . . . . 

 

دونوں اپنی شادی سے بےحد خوش تھے اور اپنی شادی کے ابتدائی دنوں کو خوب خوب انجوئے کر رہے تھے . . . . 

 

اسی لیے اشرف جو کے پہلے اپنے بڑے بھائی کے ساتھ رہتا تھا نے اب اپنے لیے رہنے کا الگ بندوبست کر لیا تھا . . . . 

 

 یہ بندوبست یہی تھا کے اب اشرف نے اِس بِلڈنگ میں ایک فلیٹ لے لیا تھا اور اب ان کو تقریباً ایک مہینہ ہو گیا ہوا تھا یہاں شفٹ ہوئے . . . . . . 

 

 یہ ایک پانچ مانزلا بِلڈنگ تھی جس کی ہر منزل پر چھے فلیٹ تھے . . . . 

 

 ان کو آخری منزل پر ہی جگہ مل سکی تھی . . . . 

 

 اِس سے اُوپر خالی چھت تھی جس کی سیڑھیاں بھی ایک کارنر سے جاتی تھیں . . . 

 

 تمام فلاٹس کے رومز کی سیٹنگ ایک جیسی ہی تھیں . . . . 

 

مین گیٹ سے داخل ہونے کے بعد ایک سیٹنگ روم تھا جو کہ گیسٹ کے بیٹھنے اور ٹی وی لونچ کے لیے استعمال ہوتا تھا . . . . 

 

 اسی سیٹنگ روم کے ایک حصے میں چھوٹا سا کچن تھا . . . . 

 

پِھر ایک بیڈروم تھا جس کی ساتھ ہی اٹیچڈ باتھ روم تھا اندر ہی . . . . 

 

سیٹنگ روم سے ایک کھڑکی باہر کی طرف کھلتی تھی ایک چھوٹی سی بالکونی میں . . . . 

 

یہ بالکونی کپڑے وغیرہ سوکھانے کے لیے اور بیٹھنے کے لیے استعمال ہوتی تھی . . . . 

 

صباء کے فلیٹ کی بالکونی میجر صاحب کے فلیٹ کی بالکونی سے ملی ہوئی تھی درمیان میں ایک چھوٹی سی دیوار تھی جو کے تقریباً چار فٹ تک ہو گی . . . . 

 

میجر جوہر اشرف اور صباء کا نیکسٹ دوڑ نیبر تھا . . . ۔

 

 وہ ایک ایکس ملٹری آفیسر تھا ،

 آفیسر تھا . . . . 

یعنی کے کچھ سال پہلے اسے آرمی سے نکال دیا گیا تھا اُس کے برے برتاؤ اور راویے کی وجہ سے . . . . 

 

اپنے سے نیچلے درجے کے آفیسرز اور عام سپائیوں کے ساتھ اس کا برتاؤ بہت ہی برا تھا جس کی لیے اسے کئی بار وارننگ بھی دی گئی تھی لیکن اس پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا . . . . 

 

 اور آخر کار اسے آرمی سے نکال دیا گیا . . . 

 

 لیکن تب تک بھی وہ میجر کے رینک تک پہنچ ہی چکا تھا . . . . 

 

میجر جوہر اب بالکل فارغ تھا لیکن دوسرے آرمی آفیسرز کی طرح ہی بے حد فٹ اور چست تھا . . . . 

 

سر کے بال کافی حد تک اڑ چکے تھے رنگ بھی سانولا تھا ہائیٹ پانچ فٹ آٹھ انچ تھی . . . . 

 

 چہرہ گول مٹول تھا اور صرف چہرے پر تھوڑی تھوڑی داڑھی رکھی ہوئی تھی انہوں نے جو کے ان کی صفاک چہرے پر اور بھی خوفناک لگتی تھی . . . 

 

روزانہ جوکنگ اور ایکسرسائز اس کی عادت تھی . . . . 

باڈی ابھی بھی کافی مضبوط اور طاقتور تھی . . . . 

اب اس کا گزر ادھر اُدھر انویسٹ کیے ہوے پیسوں پر ہی چل رہا تھا اور کافی اچھا گزر ہو رہا تھا کیوں کے صرف اکیلا ہی تو تھا وہ کھانے والا . . . . 

 اس کی بِیوِی بھی کافی عرصہ پہلے اسے چھوڑ کر چلی گئی تھی جس کی وجہ سے بھی اُس کے مزاج میں بہت زیادہ سختی آ گئی ہوئی تھی . . . 

 

 صبح صبح اٹھ کر جوکنگ اور ایکسرسائز پِھر اپنے گھر میں ہی بیٹھنا یا کبھی کبھار کہیں نا کہیں اپنی انویسٹمنٹ چیک کرنے چلے جانا اور شام کو اکثر گھر پر ہی شراب کی محفل سجاتا تھا جس میں اکثر اکیلا ہی ہوتا اور کبھی کبھار اُس کے دوست بھی اس کے پاس آجاتے تھے اور پِھر وہاں خوب مستی کرتے تھے . . . . . 

 

بات بات پر گالی دینا اور بِلڈنگ والوں سے لڑنا اس کا معمول تھا جس کی وجہ سے اسے کوئی بھی اچھا نہیں سمجھتا تھا اور پوری بِلڈنگ میں کوئی بھی اس کا دوست نہیں تھا . . . . 

 

 ہر کوئی اس سے دور ہی رہنا پسند کرتا تھا . . . . 

 

 بِلڈنگ کے مالک کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات تھے جس کی وجہ سے ان کو آج تک یہاں سے نکالا نہیں گیا تھا . . . . 

 

 ان کی اپنی منزل پر رہنے والے لوگ بھی ان سے کافی ڈر کر رہتے تھے . . . . 

 

ان تمام بری عادت کے باوجود بھی میجر صاحب میں چھچوڑاپن نہیں تھا کے کبھی کسی نے ان کو کسی لڑکی یا بِلڈنگ کی کسی عورت کو ایسے ہی چھیڑتے ہوے دیکھا ہو یا تنگ کیا ہو لیکن اگر کوئی ان سے بات چیت کرتا تو ان کی شاراتوں سے محفوظ نہیں رہ پاتا تھا . . . . 

 

صرف اسی لحاظ سے سب لوگ ان کو برداشت کر رہے تھے کے اگر اِس کو کچھ نہ کہا جائے تو یہ کسی کو تنگ نہیں کرتا اور صرف اپنی ہی دنیا میں مگن رہتا ہے . . . . 

 

اشرف 28 سال کا ایک خوبصورت جوان لڑکا تھا . . . . . 

 

وہ ایک پرائیویٹ فرم میں سپر وائزر کے طور پر کام کرتا تھا . . . . 

 

جہاں اس کی جاب صبح آٹھ بجے سے رات آٹھ بجے تک ہوتی تھی . . . . 

 

کبھی کبھی اگر ڈیوٹی چینج ہوتی تھی تو پِھر اسے نائٹ پر جانا پڑتا تھا جو کے رات آٹھ بجے سے صبح آٹھ بجے تک ہوتی تھی . . . . 

 

لیکن کچھ دور ہونے کی وجہ سے اسے سات بجے نکلنا پڑتا اور پِھر وہ نو بجے صبح ہی وآپس پہنچتا تھا . . . . 

 

اسی طرح رات کو بھی صبح کی ڈیوٹی کر کے وہ نو بجے ہی پہنچتا تھا اور اسی لیے اسے رات کو مکمل سکون کی ضرورت ہوتی تھی تاکہ وہ صبح جاب پر جانے کے لیے مکمل آرام کر سکے . . . . 

 

 اشرف ایک بہت ہی ہنس مکھ اور خوبصورت نوجوان تھا . . . 

 

 صباء اس سے بہت ہی خوش رہتی تھی . . . 

 

وہ بہت ہی محنتی شخص تھا . . . . 

 

 کام پوری ایمانداری اور محنت سے کرتا اور جب گھر پر ہوتا تو اپنی بِیوِی کو مکمل ٹائم دیتا تھا بلکہ اِس قدر اُس کے پیچھے رہتا کے کبھی کبھی تو وہ بھی تنگ ہو جاتی تھی . . . . 

 

گھر میں ہوتے ہوے وہ ہر وقت صباء کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا رہتا تھا . . . . 

 

جس کو دونوں ہی انجوئے کرتے تھے . . . . 

 

گھر کے اندر اشرف بہت آزاد تھا اور خوب انجوئے کرتا تھا . . . . 

 

صباء کی عمر 24 سال تھی . . . 

 

 مگر 24 سال کی عمر میں ہی اس کا جسم بہت خوبصورت اور بھرا ہوا تھا . . . 

 

 پتلی دوبلی لڑکیوں کے جیسے نہیں بلکہ اچھی وزنی لڑکی تھی لیکن اسے موٹی ہرگز نہیں کہا جا سکتا تھا . . . 

 

بہت خوبصورت اور اچھے نین نقش کی لڑکی تھی جس کا رنگ بھی بہت گورا چٹا تھا . . . . 

 

 چھاتیاں بھی اپنی عمر کی لڑکیوں کی نسبت بڑی لیکن خوبصورت تھی . . . . 

 

 اس کے بریزر کا سائز 36بی تھا . . . . 

قد بھی اونچا لمبا تھا . . . . 

 

بس یہ کہہ لیں کے دونوں کی جوڑی انتہائی خوبصورت کہی جا سکتی ہے جسے جو بھی دیکھتا تھا رشک اور حسد کی نظر سے ہی دیکھتا تھا . . . . 

 

صباء بھی اپنے شوہر سے پوری طرح سے خوش تھی اور اپنی میرڈ لائف کا آغاز بہت ہی اچھے طریقے سے ہونے پر وہ بہت خوش تھی . . . 

 

 گھر میں تو وہ اپنے شوہر کی فرمائش کے مطابق ہر قسم کے ڈریس پہن لیتی تھی جس میں تیگھتس اور لو اینڈ دیپ نیک شرٹس بھی شامل تھیں لیکن جب بھی اشرف اسے باہر لے کر جاتا تو اسے ایک شریف عورتوں کے مطابق برقعہ اور نقاب ضرور پہناتا تھا جس میں سے صرف اُس کے گورے گورے ہاتھ اور خوبصورت لائٹ گرین کلر کی آنکھیں ہی نظر آتی تھیں . . . . 

 

 اپنے گھر میں تو وہ اشرف کی فرمائش پر شورٹ اسکرٹ تک پہن لیتی تھی شرٹس کے ساتھ اور اسے خود بھی گھر میں اِس قسم کی آزادی کے ساتھ رہنا بہت اچھا لگتا تھا . . . . 

 

صباء اور اشرف کا آمنا سامنا میجر صاحب کے ساتھ پہلے ہی دن ہو گیا تھا جس دن وہ اِس بِلڈنگ میں اپنے فلیٹ میں شفٹ ہوے تھے . . . . 

 

 اس دن جب کے اشرف اپنا سامان نیچے سے لا کر اور کچھ دوسرے مزدوروں کے ساتھ اُوپر لا کر رکھ رہا تھا تو کافی تھکا ہوا تھا . . . 

 

اشرف اور صباء اُوپر اپنے فلیٹ میں کھڑے ہو کر سامان اندر رکھ رہے تھے اور مزدور نیچے سے سامان لا کر ان کے دروازے پر چھوڑ جاتے کوڑی ڈور میں ہی . . . . 

 

 ایک مزدور نے ایک صوفہ لا کر اُوپر رکھا تو وہ میجر صاحب کے فلیٹ کے دروازے کے سامنے رکھ دیا . . . . . 

 

اشرف اندر مصروف تھا اس نے سوچا کے ابھی دوسرا سامان اندر چھوڑ کے پِھر یہ صوفہ بھی اٹھا لیتا ہوں لیکن تبھی میجر صاحب نے اپنے فلیٹ کا دروازہ کھولا اور باہر جانے کے لیے نکلے تو سامنے ہی صوفہ پڑا ہوا تھا . . . .

 

اگرچہ کافی جگہ ان کے گزرنے کے لیے پڑی ہوئی تھی لیکن ظاہر سی بات ہے کے میجر صاحب کو تو موقع چاہیے تھا ہنگامہ کھڑا کرنے کا بس وہ انہوں نے کر دیا . . . . 

 

سیدھا اشرف کے فلیٹ کے دروازے پر گئے اور زور زور سے دروازہ پیٹنے لگے . . . . 

 

 اشرف گھبرا کر جلدی سے باہر نکلا کے پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے اسے میجر صاحب کے بارے میں کچھ بھی علم نہیں تھا . . . . 

 

جیسے ہی اشرف باہر گیا تو میجر صاحب تو شروع ہوگئے . . . . . 

 

میجر :

کوئی تمیز نہیں ہے کیا تم لوگوں کو کسی جگہ پر رہنے کی . . . . 

 کیا کسی جنگل سے اٹھ کر آئے ہو یا پِھر کسی گاؤں سے . . . . . 

 

اشرف :

معافی چاہتا ہوں جناب میں سمجھا نہیں اور آپ کون ہیں جناب . . . . . 

 

میجر : 

چوت مارو معافی کی ابھی یہ اپنا صوفہ تو اٹھا یہاں سے میرے فلیٹ کے دروازے کے آگے سے . . . . 

سارے کا سارا راسته ہی بند کر دیا ہوا ہے . . . . 

 

اشرف تھوڑا غصہ کرتے ہوے : 

اوہ اچھا سوری ویسے ابھی اٹھا ہی لینا تھا میں نے ہم نے کون سا اسے آپ کے دروازی کے آگے ہی سیٹ کر دیا ہے . . . . . 

 

اتنے میں صباء بھی باہر دروازے پر آئی تو اسے دیکھتے ہی میجر صاحب کو جیسے اور بھی غصہ آگیا کیوںکہ عورتوں سے تو ویسے انکا خاص جھگڑا تھا . . . . 

 

نفرت سے صباء کی طرف دیکھتے ہوے بولے ،

 

میجر :

 ابے اسے کہاں سے بھگا کر لایا ہے ،

اب یہاں اِس بِلڈنگ میں یہ کنجر خانہ کھلے گا کیا . . . . 

 

اشرف نے مڑ کر صباء کی طرف دیکھا اور ساتھ ہی اسکا پارا بھی چڑھ گیا ،

 

بھائی صاحب یہ میری بِیوِی ہے ذرا زبان سنبھال کر بات کریں . . . . 

اپنی عمر دیکھیں اور اپنی باتیں کیا ایسے کسی نئے ہمساے کے ساتھ بات کرتے ہیں . . . . 

 

میجر : 

زیادہ لیکچر نہ دے مجھے تو اپنا صوفہ سنبھال میں اپنی زبان خود ہی سنبھال لوں گا . . . . 

 

اشرف کا بھی اب غصے سے برا حال ہو رہا تھا . . . . . 

 

آپ حد سے بڑھ رہے ہیں ایسا نہ ہو کے میں بھی کوئی بدتمیزی کر بیٹھوں مجھے آپ کی عمر کا خیال آرہا ہے ورنہ . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .

 

میجر غصے سے : 

ابے جا بے جا اپنی اِس چکنی بِیوِی کے سامنے نمبر بنانے کی کوشش نہ  کر ورنہ ایسے ہی مفت میں پٹ جائے گا میرے ہاتھوں اور پِھر تیری یہ چکنی بھی تجھے اپنے اُوپر چھڑنے نہیں دے گی . . . . 

ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا . . . . . 

 

یہ سن کر اشرف نے آگے بڑھا کے جا کر میجر کا گریبان پکڑ لیا لیکن پیچھے سے صباء نے اس کا بازو پکڑ لیا . . . . 

 

صباء :

نہیں نہیں اشرف چھوڑو اسی چلو اندر . . . . . . . . . . . . . 

صباء نے نفرت کے ساتھ میجر کو دیکھتے ہوے کہا . . . . . 

 

اشرف بھی چُپ کر کے پیچھے کو مڑ گیا تبھی میجر دوبارہ بولا ،

 

میجر :

چل شاباش بچے چل اندر جا کے دودھ پی تیرے دودھ کا ٹائم ہو گیا ہے . . . . 

 

یہ کہ کر ہنستے ہوے میجر نیچے کی سیڑھیاں اُتَر گیا اور اشرف ڈانٹ پیستا ہوا اندر چلا گیا . . . . 

 

اسی پہلے دن دھوپہر کو انکے سامنے والے فلیٹ سے منصور صاحب اور ان کی بیگم آئے اور اپنے گھر سے کھانا بنا کر لے کر آئے ان کے لیے . . . . 

 

 اشرف اور صباء یہ دیکھ کر بہت خوش ہوے کے یہاں پر کوئی اچھا ہمسایہ بھی موجود ہے . . . 

 

 منصور صاحب کوئی 45 کے قریب عمر کے تھے ان کی بیگم بھی 40 سے اُوپر کی تھیں اور دونوں ہی بہت ہی اچھے لوگ تھے . . . . 

 

 انکا ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھے دونوں کالج میں پڑھتے تھے . . . . 

 

سب نے ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا اور ادھر اُدھر کی اور بِلڈنگ کے دوسرے لوگوں کے بارے میں بات چیت کرتے رہے . . . . 

 

انہوں نے ہی اشرف اور صباء کو میجر کے بارے میں بتایا اور ان کو کہا کے وہ اس شخص سے دور ہی رہیں . . . . . 

 

اِس طرح پہلے دن سے ہی صباء اور اشرف کو میجر صاحب سے نفرت ہو گئی . . . . 

 اور ہمیشہ ہی ان سے دور رہنے کی کوشش کرتے . . . . 

 لیکن اکثر آتے جاتی کبھی نا کبھی اس سے سامنا ضرور ہو جاتا لیکن وہ کوئی بھی بات نہیں کرتے . . . 

 

ایک روز اشرف کے جانے کے بعد صباء نے گھر کے صفائی کی اور پِھر سوچا کے چلو باہر کوڑی ڈور میں بھی اپنے گیٹ کے آگے سے جھاڑو لگا دوں . . . . 

 

جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا تو دیکھا کے اُس کے گیٹ کے آگے کوڑی کا ایک بڑا سا شوپر پڑا ہوا تھا . . . . 

 

 اس نے اس میں دیکھا تو اُس کے اندر شراب کی بوٹلز بھی پڑی ہوئی تھیں ، 

صباء فوراً ہی سمجھ گئی کہ یہ کام میجر صاحب کا ہے . . . . 

 

صباء کو بے حد غصہ آیا اور وہ خود کو نہیں روک سکی اور جا کر میجر جوہر کا دروازہ نوک کر دیا . . . . 

 تھوڑی دیر میں میجر نے دروازہ کھولا ،

 

صباء غصے سے بولی ، :

 یہ کیا بدتمیزی ہے . . . . 

 

میجر بھی غصے سے :

 کون سی بدتمیزی گھر میں میرے تو خود آئی ہے تو میں نے کون سی بدتمیزی کر دی ہے . . . 

 

صباء :

 یہ آپ نے ہمارے دروازے کے آگے کوڑا کیوں پھینک دیا ہے . . . . 

 

میجر نے تھوڑا سا باہر کو نکل کر ان کے دروازے کی طرف دیکھا اور پِھر بولا ،

مجھے کیا پتہ کے کس نے پھینکا ہے . . . . 

 

صباء : 

یہ آپ کا ہی کوڑا ہے . . . . 

 

میجر :

 ارے جا جا کیوں میرا ٹائم خراب کر رہی ہے میں نے باہر رکھا تھا اب پتہ نہیں کس نے تیرے گھر کے آگے پھینک دیا ہے . . . . 

 اب اٹھا کر ایک طرف کر دے کیوں شور مچا رہی ہے ایسے ہی بِلڈنگ میں . . . . 

 

صباء غصے سے لال ہوتے ہوے :

کیوں میں کیوں اٹھاؤں تو خود اٹھا آ کر . . . . 

 

میجر ہنستے ہوے اور اُس کے غصے سے لطف اندوز ہوتے ہوے بولا :

میں تو نہیں اٹھا رہا تیرا دِل کرتا ہے تو اٹھا لے نہیں تو اس گانڈو کو بھیج دے وہ اٹھا لے گا ویسے بھی وہ ہیجڑا ایسے کام ہی کر سکتا ہے . . . . 

 

صباء کا یہ سن کر خون کھولنے لگا ،

کیا بکواس کر رہے ہو . . . . . . . . . .

 کیسے ہیجڑا بول رہے ہو تم . . . . . . . . . . . . .

کچھ شرم کرو . . . . .

 

میجر :

 کیوں بڑی مردانگی پسند آ گئی ہے اس کی تجھے جو اسے ہیجڑا بولنے پر تیری پھدی میں مرچیں لگنی لگی ہیں . . . . . 

 

صباء نے غصے سے اس کی طرف دیکھتے ہوے نیچے فرش پر تھوکا اور وآپسی اپنے فلیٹ کی طرف مڑ گئی . . . . . . . . . . . . .

 جاہل . . . . . . .

 گنوار . . . . . . . . .

 کمینہ . . . .

 دِل ہی دِل میں اسے کہتے ہوے . . . . 

 

اپنے فلیٹ میں آکر اس نے ٹھنڈا پانی نکال کر پیا اور خود کو ریلکس کرنے لگی . . . . 

 

اسے پتہ تھا کہ اسے یہ سب اشرف کو بتا کر اسے پریشان نہیں کرنا . . . . 

 اور رات کو جب اشرف وآپس گھر آیا تو صباء نے ساری پریشانی کو پی لیا . . . . . 

 

جاری ہے . . . . 

Share this post


Link to post

اردو فن کلب کے پریمیم سیریز اور پریمیم ناولز اردو فن کلب فورم کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جو فورم کے پریمیم رائیٹرز کی محنت ہے اور صرف وقتی تفریح کے لیئے فورم پر آن لائن پڑھنے کے لیئے دستیاب ہیں ۔ ہمارا مقصد اسے صرف اسی ویب سائیٹ تک محدود رکھنا ہے۔ تاکہ یہ گناہ جاریہ نہ بنے ۔ اسے کسی بھی طرح سے کاپی یا ڈاؤن لوڈ کرنے یا کسی دوسرے دوست یا ممبر سے شیئر کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ۔ جو ممبران اسے اپنے دوستوں سے شئیر کر رہے ہیں ۔ ان کو مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے ممبر سے بھی شئیر نہیں کر سکتے ۔ ورنہ ان کا مکمل اکاؤنٹ بین بھی ہو سکتا ہے۔ ڈیٹا شیئر کرنے والہ ممبراس بات کا عملی اقرار کرے گا کہ وہ بروز قیامت فورم انتظامیہ، سٹوری رائیٹر اور فورم ایڈمن کے تمام گناہوں کا اکلوتا وارث ہو گا ۔ اور بروز قیامت اپنی تمام نیکیاں (جو بھی اس کے نامہ اعمال میں ہوئیں ) بروز قیامت مجھے دینے کا پابند ہو گا۔ اگر کوئی ممبر اب بھی ایسا کرتا ہے اور گناہ جاریہ کا سبب بنتا ہے ۔ تو اس شرط کو ایگری کرتے ہوئے شیئر کر سکتا ہے ۔ فورم کو اس ایگری منٹ پر اجازت دینے میں کوئی اعتراض نہیں ۔ ایڈمن اردو فن کلب

بہت خوب۔۔۔۔۔۔زبردست آغاز ھے۔۔۔۔ Keep it up..

 

 

 GOOD LUCK

Share this post


Link to post
On 12/27/2020 at 9:39 PM, Sara555 said:

بہت خوب۔۔۔۔۔۔زبردست آغاز ھے۔۔۔۔ Keep it up..

 

 

 GOOD LUCK

Good luck  but update as soon as possible 

 

Share this post


Link to post

قسط نمبر 2

اوراسے کچھ بھی نہ بتایالیکن اس کے اندرمیجر کیلئے نفرت اور بھی بڑھ چکی تھی۔۔۔وہ تو اب اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔رات کو اپنے بیڈ روم میں آ کربستر پر لیٹے تواپنی عادت کے مطابق اشرف نے صبا کو اپنی بانہوں میں کھینچا اوراسے کس کرنے لگا۔۔۔صبا کا آج صبح کے واقعہ کی وجہ سےبالکل بھی موڈ نہیں بن رہا تھاکچھ بھی کرنے کالیکن پھر بھی اس نے اپنے شوہر کی کسنگ کا جواب دیالیکن اشرف کی چھیڑ چھاڑاس کے جسم کے ساتھ بڑھتی ہی جا رہی تھی۔۔۔صبا اسے روکناچاہتی تھی او ر اسی لیےتھوڑی تھوڑی مزاحمت کر رہی تھی اوراسے کچھ نہ کرنے کو بول بھی رہی تھی۔۔۔لیکن اس سب کو وہ اپنی بیوی کی ادائیں ہی سمجھ رہا تھا۔۔ صبا کے خوبصورت مموں کودباتے ہوئےاس نےاپنا ہاتھ صبا کےنائٹ سوٹ کے پجامے میں ڈالااور اس کی پھدی کو سہلانے لگا۔۔۔جیسے ہی اشرف نےاپنی وائف کی چوت کوچھواتوصبا کےجسم میں بھی جیسے بجلی دوڑنے لگی۔۔۔اس کا جسم بھی گرم ہونے لگا۔۔۔صبا کی چوت ہی اس کا ویک پوائنٹ تھی اور یہ اشرف کو بھی پتا لگ چکا تھا اسی لیے صبا کو گرم اورچدائی کیلئے کرنے کیلئے وہ ہمیشہ اس کی پھدی کو چھیڑتا تھااور جیسے ہی اپنی انگلی اس کی چوت میں ڈالتا تھا۔

تو صباتو جیسے بالکل ہی بے بس ہو جاتی تھی اور پھر اپنے تمام ہتھیار ڈال کر خود کواشرف کے سپرد کر دیتی تھی اورآج بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا تھا۔۔۔جیسے ہی اشرف کی انگلی صبا کی چوت کے اندر گئی اور اس نے اسے اندر سے چھیڑنا شروع کیاتو صبا کی آنکھیں بند ہونے لگیں اور اس کے منہ سے سسکاریاں نکلنے لگیں۔۔۔صبا ے اپنا جسم اشرف کے ساتھ چپکا لیااور اب خود بھی اسےکس کرتے ہوئےاس کا ساتھ دینے لگی۔۔۔اشرف بھی صبا کی نائٹ شرٹ کے اوپر سے ہی اس کےمموں کو سہلانے لگاجو کہ برا کے بغیر ہی تھے۔۔۔دھیرے دھیرے اشرف نے صبا کے پجامے کو نیچے کو سرکایا اور اس کی چوت کوننگا کر لیاپھر اپنا لن اپنے پجامے سے نکال کر تھوڑا آگے کوہو کر اپنا لن صبا کی چوت پر رگڑنے لگا۔۔۔صبا نے بھی بے چین ہو کر اپنی ایک ٹانگ اٹھا کر اشرف کے اوپر اکھی اور اپنی چوت کو اور بھی اشرف کےلن پر چڑھا دیاجیسے وہ اسے اپنے اندر لینا چاہتی ہو۔۔۔نیچے کو ہاتھ لے جا کر صبا نے اپنے شوہر کا لن پکڑا اورپھر اسے اپنی چوت کے گیلے سوراخ پررگڑنے لگی۔۔۔ذرا سا جھٹکا لگایااشرف نے تو اس کا تھوڑا سا لن صبا کی چوت میں چلا گیا۔۔۔سس سس س۔۔۔کی سسکیوں کی آوازکے ساتھ ہی صبا پوری طرح سے اشرف کے ساتھ چپک گئی۔۔۔اشرف نے ایک جھٹکا دیااور صبا کو اپنے اوپر کھینچ لیااور جیسے ہی صبا اشرف کے اوپر آئی تو اس نے اشرف کا لن اپنے ہاتھ میں لیااور خوداسے اپنی چوت پرٹِکا کرنیچے کو بیٹھتے ہوئےاس کا لن اپنی چوت کے اندرلے لیااور جھک کر اپنے ہونٹ اپنے شوہر کے ہونٹوں پر رکھ دیے۔۔۔اشرف نے اپنی بیوی کی خوبصورت گانڈ کواپنے ہاتھوں میں لیا

اور اسےآہستہ آہستہ سہلاتے ہوئےاپنی کمر کواوپر کی طرف اچھالتے ہوئےاپنا لن صبا کی چوت کے اندر باہر کرنے لگا۔۔۔صبا کا بھی مزے سے برا حال ہو رہا تھا۔۔۔چند گھسوں کے ساتھ ہی اس کی پھدی نے پانی چھوڑ دیا لیکن وہ اپنے شوہر کا پانی نکلوانے کیلئے لگی رہی۔۔۔صبا زور زور سے اوپر نیچے کو ہو ہی تھی تا کہ اس کے شوہرکے لن کا پانی بھی نکل آئے اور پھر کچھ دیرمیں وہ اپنی کوشش میں کامیاب ہو گئی اور اس کےشوہر کے لن سے پانی نکل کر اس کی پھدی کے اندر ہی گرنے لگا۔۔۔اشرف کے لن کے گرم گرم پانی نے اس کی چوت کےاندر ایسا مزہ دیا کہ اس کی چوت نے ایک بار پھر پانی چھوڑ دیا۔۔۔اور وہ نڈھال ہو کراشرف کے اوپر گر پڑی۔۔۔کچھ ہی دیر میں دونوں کو ہی نہیں پتہ چلاکہ کب ان کی آنکھ لگ گئی۔۔۔

اس دن کے کچھ روز بعد ہی وہ رات کا واقعہ ہوا جس میں صبا کو جا کرمیجر سے اس کی ٹیپ بند کروانی پڑی اور اس نے اس رات بھی اسے خوب ذلیل کیا۔۔۔ویسے تو یہ اکثر ہی میجر کا معمول تھا کہ وہ بہت ہی اونچی آواز میں اپنے کمرےمیں میوزک چلاتا اور دوسروں کو تنگ کرتا تھا۔۔ دو تین بار دن کے وقت بھی صبا یا اشرف نے جا کراس کو کہا تھا میوزک کی آواز ہلکی کرنے کیلئے جب ان سے برداشت نہ ہو پایاتھا تو۔۔۔۔

ایک روز صبا نے اشرف کے جانے کے بعد واشنگ مشین لگا لی اور کپڑے دھونے لگی۔۔۔کچھ کپڑے دھونے کے بعد وہ انہیں لے کر باہر بالکنی میں خشک ہونے کیلئے ڈالنے گئی۔۔۔

صبا اپنے کپڑے تار پر لٹکا ہی رہی تھی کہ اسے میجر کے فلیٹ سے کچھ عجیب عجیب آوازیں سنائی دینے لگیں۔۔۔جیسے ادھر ایک مرد اور ایک عورت موجود ہوں اورچدائی کر رہے ہوں۔۔۔ صبا پہلے تو بہت حیران ہوئی اور پھر اسے تجسس بھی ہوا کہ میجر تو اکیلا ہی رہتا ہےتو پھر یہ عورت کی آواز کہاں سے آ رہی ہے۔۔۔وہیں پر بالکنی میں پڑی ہوئی کرسی صبا نےدیوار کے ساتھ لگائی اور اس کے اوپر چڑھ کر دیوار کی دوسری طرف میجرکے فلیٹ کے اندر جھانکنے لگی۔۔ خوش قسمتی سےاس کی بالکنی کی کھڑکی بھی کھلی ہوئی تھی اور سامنے ہی اس کی نظر میجر اور ایک عورت پر پڑی۔۔۔جیسے ہی ان پر نظر پڑی توایک بار تو صباجھٹکے سے نیچے ہو گئی۔۔۔اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔۔۔دوبارہ سے صبا تھوڑا تھوڑا اوپر کو ہوئی اور پھر اندر دیکھنے لگی تو اب اسے اندر کا منظر صاف نظر آنے لگا۔۔۔اُدھر سیٹنگ روم میں ہی صوفے پر میجر ایک عورت کو چود رہا تھا۔۔۔صبا نے اس عورت کو دیکھا تو اچھل پڑی وہ تو منصور صاحب کے گھر کام کرنے کیلئے آنے والی عورت تھی۔۔۔جو کہ بلڈنگ کے کچھ اور فلیٹس پر بھی کام کرتی تھی۔۔۔

25-26 سال کی سانولی رنگت لیکن سیکسی بدن والی جوان عورت بانوتھی اس کے چہرے کے نقش بھی اچھے تھے اور اٹریکٹوتھے۔۔۔اگر اچھے کپڑے پہنے تو کبھی بھی کام کرنے والی ماسی نہ لگے۔۔۔اس کا شوہر اسی بلدنگ میں چوکیدار کا کام کرتا تھا۔۔۔تقریباً سارا دن ہی اس کی ڈیوٹی ہوتی تھی اور رات کو مین گیٹ لاک کر کے گیٹ کے پاس دیے ہوئے فلیٹ میں ہی اپنی اسی 

بیوی اور ایک چھے ماہ کے بچے کے ساتھ رہتا تھا جو کہ اس وقت میجر صاحب سے چد رہی تھی۔ وہ صوفے پر جھکی ہوئی تھی اور اس کے جسم پر کوئی بھی لباس نہیں تھااور اس کے پیچھے ننگا کھڑا میجراس کی پھدی میں اپنا لن ڈال کر اسے چود رہا تھا۔۔۔

بانو کا شوہر دینو ایک 35 سال کاآدمی تھاجو کہ ایک مضبوط اور طاقتور جسم کا آدمی تھا۔۔۔رنگ اس کا بانو کے مقابلےمیں کافی کالا تھا۔۔۔وہ ہمیشہ ادب کے ساتھ سب سے پیش آتا تھا اور اشرف کی بھی کافی ریسپیکٹ کرتا تھا۔۔۔لیکن کبھی بھی صبا نے اس کے ساتھ بات نہیں کی تھی کیونکہ وہ ہمیشہ اس کے سامنے برقعے اور نقاب میں آئی تھی اور جب بھی اشرف اس سے کچھ بات چیت کیلئے روکتا تو وہ خاموشی سے آگے بڑھ جاتی تھی کیونکہ اسے بھی ایسے ہی کسی پرائے مرد کےسامنے کھڑے ہونے اور بات چیت کرنے کوئی شوق نہیں تھا اور ویسے بھی اشرف اس بات کو برا سمجھتا تھا اسی لیے اسے برقعہ پہنا کر نقاب بھی کرواتا تھا۔۔۔

صبا کی طرف میھر کی پیٹھ تھی اس لیے اسے صرف اس کا پیچھے کا جسم کمر اور گانڈ ہی نظر آرہی تھی۔۔۔ننگے جسم سے لگ رہا تھا کہ اس کا جسم ابھی بھی کافی طاقتور اور مضبوط ہے۔۔۔صبا کا دل زورزور سے دھڑک رہا تھا اس کے لیے یہ پہلا موقع تھا کہ وہ کسی دوسرے مرد اور عورت کو اس طرح اپنی آنکھوں کے سامنے سیکس کرتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔۔۔اسے ڈر بھی لگ رہا تھا اور ان پر غصہ بھی آ رہا تھا۔۔۔اچانک سے اس کے دماغ میں ایک خیال آیا اور وہ جلدی 

سے اندر کمرے میں بھاگی اوراپنا ڈیجیٹل موبائل لے کر آئی اور دوبارہ سے کرسی پر چڑھ کر اپنے موبائل کے کیمرے سے ان کی مووی بنانے لگی۔۔۔تھوڑی سی ان کی مووی بنا کر وہ پیچھے ہٹ گئی اور واپس اپنے کمرے میں بیڈ پر آ کر بیٹھ گئی۔۔۔اس کی سانسیں بہت ہی بے ترتیب چل رہی تھیں۔۔۔اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھاکہ وہ کیا کرے۔۔۔ٹھنڈے جوس کا گلاس پیتے ہوئے اس کے دماغ میں ایک خیال آیاکہ کیوں نہ میجر کےاس راز کو اسے ہمیشہ کیلئے چپ کروانے کیلئے استعمال کیا جائے تاکہ وہ آئندہ کوئی بھی بدتمیزی نہ کر سکےان کے ساتھ اور وہ آرام سے اس فلیٹ میں رہ سکیں۔۔۔یہ خیال آتے ہی صبا کے چہرے پر ایک مطمئن مسکراہٹ پھیل گئی اور کچھ ہی دیر کے بعد وہ اٹھی اور اپنے فلیٹ کا دروازہ تھوڑا سا کھول کر باہر دیکھنے لگی کہ کب وہ دونوں باہر آتے ہیں۔۔۔تھوڑی دیر کے بعد میجر کے فلیٹ کا دروازہ کھلااور اس نے باہر نکل کر جھانکا لیکن کسی کو بھی کوری ڈور میں نہ پا کر وہ اندر گیااور پھر اس نے بانو کو اپنے فلیٹ سے باہر نکالا اور جلدی سے دروازہ بند کر لیا۔۔۔جیسے ہی بانو باہر نکلی تو ساتھ ہی صبا نےبھی اپنے فلیٹ کا دروازہ کھول دیا تاکہ وہ بانو کو رنگے ہاتھوں پکڑ سکے۔۔۔ہوا بھی یہی جیسے ہی بانو نے صبا کو دیکھا تو وہ گھبرا گئی اور اس کے چہرے کا رنگ ہی اڑ گیاکہ وہ کیسے باہر آگئی اور اس نے تو اسے اس کے گھرسے نکلتے ہوئے دیکھ لیا ہے۔۔۔صبا نے اس کی طرف دیکھااور معنی خیز نظروں سے مسکرانے لگی۔۔۔بانو خود ہی بول پڑی،

بانو؛ جی جی وہ کچھ کام کیلئےبلایا تھا صاحب نے مجھے۔۔۔

صبا؛ ہممم ۔۔۔تو اچھے سے کام کر آئی ہو نہ میجر صاحب کا۔۔۔؟؟

صبا مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔ بانو گھبرا کر اور شرمندگی سے سر جھکاتےہوئے۔۔۔

جی جی کر دیا ۔۔۔۔

صبا ؛ ارے بانو تم تو ایسے گھبرا رہی ہو جیسے کوئی غلط کام کر کے آ رہی ہو۔۔۔۔گھبراؤ نہیں میں کسی کو نہیں بتاؤں گی کہ تم ان کے گھر کام کرنے گئی تھی۔۔۔اور نہ ہی تمہارے شوہر کو بتاؤں گی۔۔۔

صباء؛ ہنسنے لگی۔۔۔بانو شرمندہ شرمندہ نیچے اتر گئی اور صباء واپس فلیٹ میں آکر دوبارہ کپڑے دھونے لگی اور جلدی سے دھو کر باہر بالکنی میں ڈال دیے اور پھر کھانا بنانے لگی۔۔۔کھانا بنا کر صباء نے فریش ہو کر کھانا کھایا اور پھر بیڈروم میں آکر سو گئی۔۔۔کیونکہ اشرف نے تو ابھی کافی دیر سے آنا تھا۔۔۔صباء سو رہی تھی کہ فلیٹ کے دروازے پر نوک سے اس کی آنکھ کھلی۔۔

اس نے اٹھ کر جلدی سے گھڑی دیکھی تو ابھی 6ہی بجے ہوئے تھے۔۔۔اشرف کے آنے میں تو ابھی کافی وقت تھا۔۔۔صباء جلدی سے اٹھی اور جا کر اپنا دروازہ کھولا تو سامنے میجر کھڑا تھا۔۔۔ صباء اسے دیکھتے ہی حکارت سے بولی،

کیا بات سے کیوں آئے ہو یہاں پر۔۔۔؟؟

میجر زور زور سے ہنسنے لگا اور پھر اپنا پیچھے کو کیا ہوا ہاتھ آگے لایا اور اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی ایک ریڈ کلرکی برا صباء کے سامنے لہراتے ہوئے بولا،

ایسے نہیں آیا یہ تمہاری برامیری بالکنی میں گری پڑی تھی وہ دینے آیا ہوں۔۔۔

صباء کے چہرے کا رنگ ایکدم شرمندگی سے بھر گیا۔۔۔

میجر ؛ اگر میں تمہارے شوہر کے آنے پر دینے آتا یہ برا تو اس نے تو یہی سمجھنا تھا نہ کہ تم میرے فلیٹ پر آکر خود اتار آئی ہو اور آتے ہوئے وہیں بھول آئی ہو۔۔۔کہو تو واپس لے جاؤں اور تمہارے اس ہیجڑے شوہر کے سامنے لا دوں۔۔۔

صباء نے جلدی سے اس کے ہاتھ سے اپنی برا چھیننے کی کوشش کی لیکن اس نے فوراً ہی اسے پیچھے کھینچ لیااور گھناؤنی ہنسی ہنستے ہوئے بولا۔۔۔

ارے اس کا نمبر تو دیکھنے دو مجھے۔۔۔

 پھر میجر نے صباء کی برا پر لگا ہوا ٹیگ پڑھنا شروع کیا اور صباء کے مموں کی طرف دیکھتے ہوئے اونچی آواز میں،

36 B ۔۔۔ ہممم ۔۔۔ تو یہ ہے تمہارے ان مموں کا سائز۔۔۔؟؟ اچھا ہے۔۔۔

صباء گھبرا کر ادھر ادھر دیکھنے لگی کہ کہیں کسی اور نے تو نہیں سنی اس کمینے کی بات لیکن خوش قسمتی سے وہاں پر کوئی بھی نہیں تھا۔۔۔پھر میجر نے وہ برا اپنی مٹھی میں لے کر اپنے چہرے پر پھیرنا شروع کی اور پھر صباءکی برا اس کی طرف اچھالی اور پیچھے مڑ گیا اب صباء سے بھی نہ رہا گیا اور وہ بھی غصے میں پیچھے سے پکاری،

صباء ؛ میں کہے دے رہی ہوں کہ اپنی گندی حرکتوں سے باز آجاؤ ورنہ تمہارے کالے کرتوت سب کو دکھا دوں گی۔۔۔

صباء کی بات سن کر میجر مڑا اور غصے سے بولا۔۔۔

میجر ؛ کیا بکواس کر رہی ہو۔۔۔؟؟

صباء نفرت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔

بکواس نہیں کر رہی سب کچھ دیکھ لیا ہے میں نے جو تم اور بانو کر رہے تھے صبح کو۔۔۔

میجر کا رنگ اڑ گیا اب تھوڑی آہستہ آواز میں بولا۔۔۔

ک ۔۔۔کی۔۔۔کیا۔۔۔ثبوت ہے تمہارے پاس اپنی اس بات کا۔۔۔

صباء نے بھی محسوس کر لیا کہ اس کا تیرٹھیک نشانے پر لگا ہے اور اس کی ترکیب کامیاب ہو رہی ہے،تو نفرت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔

سب کچھ ریکارڈ کر لیا ہے میں نے اپنے موبائل میں۔۔۔

صباء نے یہ کہہ کر اپنا موبائل کھولا اور اس میں ریکارڈ کلپ چلا دیا۔۔۔

جیسے ہی میجر نے وہ کلپ دیکھا تو وہ پریشان ہو گیااور جلدی سے اس سے موبائل چھیننے کی کوشش کی لیکن صباء نےپیچھے چھپا لیا اور بولی۔

خبردار جو میرے پاس آئے تو۔۔۔اور آئندہ اپنی حدود میں رہنا ۔۔۔میرے ساتھ یا میرے شوہرکے ساتھ آئندہ کوئی ایسی ویسی بات کی تو پھر دیکھنا میں تمہارا کیا حشر کرتی ہوں۔۔۔

اس سے پہلے کہ میجر کچھ اور کہتا یا کرتاکہ سامنے کے فلیٹ سے منصور صاحب کی بیگم نکل آئی تو میجر نے تماشہ نہ لگانے کا ٹھیک فیصلہ کرتے ہوئےنیچے کی سیڑھیوں کی طرف اپنے قدم بڑھا دیے۔۔۔صباء بھی مسکراتی ہوئی اندر آگئی اور اپنی برا کو جا کر دوبارہ گندے کپڑوں کی باسکٹ میں ڈال دیادھونے کیلئے۔۔۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ جس شخص سے وہ نفرت کرتی ہےاس کے ہاتھوں سے چھوا ہوا کوئی بھی لباس اپنے جسم پر پہنےاور یہ تو پھراس کی برا تھی جسے اس کے مموں کے اوپر لپٹنا تھا۔۔۔اسے اس بات پر بھی بہت غصہ آرہا تھا کہ کیوں اس کی براہوا سے اڑ 

کر اس کمینے کے فلیٹ میں چلی گئی تھی۔۔۔اب صباء بے حد خوش تھی کیونکہ کافی دن سے میجرنے ان لوگوں کے ساتھ کوئی بھی بد تمیزی نہیں کی تھی۔۔۔ایک روز ایسا ہوا کہ صبح اشرف کو سی آف کہنے کیلئے صباء اپنے فلیٹ کے دروازے پرکھڑی تھی تو ساتھ ہی نیچے سے جوگنگ کر کے میجر واپس آیا تو اس کی نظر جب صباء پر پڑی تو اس نے خاموشی سے چہرہ دوسری طرف کر لیا۔۔۔اشرف نیچے کو نکل گیا اور ابھی صباءگیٹ پر ہی کھڑی تھی تو میجر اپنے فلیٹ کا تالاکھولنے لگا۔۔۔صباء کی طرف اس نے دوبارہ دیکھا تو صباء نے بھی اس کی طرف ایک بے حد حقارت آمیز مسکراہٹ سے دیکھا جیسے اسے اس کی حیثیت جتلا رہی ہو اور پھر اپنے ہاتھ میں موجوداپنے موبائل فون اس کو دکھاتے ہوئے ہلایا اور پھر نیچے فرش پر تھوک کر اندر چلی گئی۔ دل ہی دل میں وہ بہت خوش تھی کہ آخر اس کمینے شخص سے جان چھوٹ گئی ہےان کی۔۔۔ دوسری طرف میجر صاحب بھی کچھ آرام میں نہیں تھے۔۔۔ان کو عورتوں سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی وہ تو بس ایسے ہی ٹائم پاس کرنے کیلئے انہوں نے بانو کے ساتھ تعلقات رکھے ہوئے تھےاور اب یہ تعلقات کی خبر بھی لیک ہونےکے قریب تھی تو وہ چاہتے تھے کہ کسی بھی طرح وہ اس کلپ کو حاصل کر کے ضائع کر دے اور ایک بار پھر خود کو محفوظ کر لے۔۔۔ اسی کیلئے وہ مسلسل پلانگ کر رہا تھا۔۔۔

ایک صبح اشرف کے جانے کے بعد حسب معمول صباء گھر پر اکیلی تھی اور اپنا تھوڑا کام سمیٹ کر 

اپنےلیے چائے بنائی اور اپنے بیڈروم میں آگئی اور ٹی وی دیکھتے ہوئے چائے پینے لگی۔۔۔ تھوڑی ہی دیر گزری کہ اسے باہرسیٹگ روم میں کچھ عجیب سی آواز سنائی دی۔۔۔ صبا نے ٹی وی چلتا ہوا چھوڑا اور دبے قدموں سے باہر کو آئی اور بیڈروم کا دروازہ تھوڑا سا کھول کر باہر جھانکا تو سب کچھ اسے بالکل ٹھیک ٹھاک لگا۔۔۔ صبا کی گھبراہٹ ختم ہوئی اور اپنے کمرے سے باہر نکل آئی۔۔۔اس کی نظر بالکنی کے دروازے کی ظرف گئی جو کہ کھلا ہوا تھا۔۔۔صبا حیران ہوئی کہ یہ کیسے کھلا رہ گیا۔۔۔لگتا ہے کہ کوئی بلی نہ آئی ہو دوسری طرف سے کہیں۔۔۔ یہ دیکھنے کیلئے وہ بالکنی کے دروازے کی طرف بڑھی اور ابھی باہر دیکھ ہی رہی تھی کہ کسی نے پیچھے کی طرف سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور واپس سیٹنگ روم میں کھینچ لیا۔۔۔اس شخص نے پیچھے سے صبا کا منہ پکڑ کر پیچھے کھینچا اور گھسیٹتا ہوا لا کر اسے نیچے کارپٹ پر پھینک دیا اور سیدھا کرکےاس کے پیٹ کے اوپر چڑھ کر بیٹھ گیا۔۔۔اب سیدھی ہونے پرصبا نے اس کا چہرہ دیکھاتو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی خوف کی وجہ سے کیونکہ وہ کوئی اور نہیں بلکہ اس کے پڑوسی میجر صاحب تھےجوکہ دونوں فلائٹس کے درمیان کی دیوار کود کر اس کے فلیٹ میں آگئے تھے۔ میجر نے اپنے مضبوط ہاتھوں میں صبا کا گلا دبایا ہوا تھااور اس کے اوپر چڑھ کر بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ اس کا گلا دباتے ہوئے میجر غصے سے بولا،

میجر ؛ بہت بکواس کرتی تھی نہ کہ میرا پول کھول دے گیسب کے سامنے بتا اب ایک ہی جھٹکے  

میں تیرا گلا دبا کر یہیں ماردوں تم کو۔۔۔

صبا کی تو خوف اور گھبراہٹ سے سیٹی ہی گم ہو گئی تھی،

م م م م م م۔۔۔ی ی ی ی ی۔۔۔ ج ج ج ج ج ج۔۔۔ پلیز ز ز ز ز ز۔۔۔ چھوڑ ڑ ڑ ڑ ڑ ۔۔ دو و و و و۔۔۔ مجھے ے ے ے ے۔۔۔

میجر نے تھوڑا سا اس کا گلا اور دبایا اور اس کے چہرے کے قریب ہو کر بولا،

چھوڑ دوں گا تجھے حرامزادی لیکن پہلے بتا کہ وہ تصویریں کہاں ہیں۔۔۔

صبا ؛ دیتی ی ی ی ی ی۔۔۔ ہوں ں ں ں ں۔۔۔ دیتی ی ی ی ی ی۔۔۔ ہوں ں ں ں ں۔ میرا ا ا ا ا ۔۔۔سانس س س س س س س۔۔۔

صبا کا نازک سا جسم اس میجر کے مظبوط اور بھاری بھرکم جسم کے نیچے دبا ہوا تھا۔۔۔اس نے کسی قسم کی بھی کوئی غلط حرکت نہیں کی تھی اب تک صبا کے ساتھ۔۔۔ نہ کہیں سے اس کے جسم کو چھوا تھا اور نہ کچھ اور کرنے کی کوشش کی تھی۔۔۔یہ بات صبا کیلئےعجیب لیکن خوشی کی تھی کہ اس کی عزت محفوظ ہے۔۔۔میجر نے اس کا گلا چھوڑا اور بولا۔

چل جلدی سے اپنا موبائل نکال کر دے ورنہ یہاں آج تیری لاش پڑی ہو گی تیرے گانڈو شوہر کے آنے تک۔۔۔

یہ کہ کر میجر اس کے اوپر سے اٹھا تو صبا کا سانس بحال ہوا اور وہ لڑ کھڑاتی ہوئی آگے بڑھی اور بیڈ ورم کی طرف بڑھی۔۔۔میجر بھی اس کے پیچھے پیچھے اندر کی طرف آیا۔۔۔اندر بیڈ کے اوپر پڑا ہوا موبائل اس نے اٹھا یا ہی تھاکہ میجر نے اس کے ہاتھ سے اسے جھپٹ لیا اور اسے آن کر کے اس میں سے اپناکلپ تلاش کرنے لگا۔۔۔صبا کو اس نے اب چھوڑ دیا تھا اور صباسہمی ہوئی لیکن غصے سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔میجر اس کا موبائل لے کر اس کے بیڈروم سے نکلااور باہر سیٹنگ روم میں آگیا۔۔۔صبا بھی غصے سے اس کے پیچھے آئی اور بولی۔۔۔

صبا ؛ حرام زادے ، کمینے ، کتے، تم نے ہم لوگوں کی زندگی عذاب کر کے رکھی ہوئی ہے تیری اسی خباثت سے جان چھڑوانے کیلئے یہ سب کیا تھا میں نے۔۔۔ اب ڈلیٹ کر دے اسے لیکن میں پھر بھی پوری بلڈنگ کو بتاؤں گی تیرے کرتوت کہ تو کیا کرتا ہے۔۔۔

میجر نے حقارت سے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔۔۔

میجر ؛ جا جا جو دل میں آئے کر لے۔۔۔ اور کہ دینا اپنے اس ہیجڑے سے ہمت ہے تو آکر بات کر لے میرے سے۔۔۔ اس گانڈو کے تو ٹٹوں میں ہی پانی نہیں ہے جو میرے سامنے کھڑا ہوگا آکر۔۔۔ میں چاہوں تو ابھی کے ابھی تیری پھدی مار کے تیری عزت کو خاک میں ملا دوں لیکن مجھے تیرے چہرے کی خوبصورتی سے اور تیرے جسم کےسیکس سے کچھ نہیں لینا دینا میں تو تھوکتا بھی نہیں ہوں تیرے جیسی رنڈی پر جس کو آگے کر کے اس کا شوہر خود پیچھے چھپ جاتا 

ہو۔۔۔

صبا ؛ کمینے مجھے تونے رنڈی بولا ، رنڈی تو وہ ہے جو تیرے ساتھ تھی۔۔۔اس لیے تیری بیوی بھی تجھے چھوڑ کر چلی گئی نہ کیونکہ تو ہے ہی رنڈیوں کے قابل۔۔۔تو نے مجھے رنڈی بولا ہے نہ دیکھنا میں اب تجھے اور تیری اس رنڈی کوکیسے سب کے سامنے کھولتی ہوں۔۔۔

یہ کہ کر صبا اپنے فلیٹ کے مین گیٹ کی طرف بڑھی تاکہ باہر جا کر لوگوں کو اکٹھا کر سکے لیکن چالاک میجر نےاس کے ارادوں کو بھانپ لیا اور تیزی سے آگے بڑھ کر اسے پیچھے سے پکڑا اور گھسیٹتا ہوا لا کر نیچے فرش پر دوبارہ گرا دیا۔۔۔

میجر ؛ کمینی باہر لوگوں کو بتائے گی تو اچھا بتا زرا جا کے اب۔۔۔تیری یہ گندی زبان بند کرنی ہی پڑے گی۔۔۔پھر میں دیکھتا ہوں کہ کیسے تو باہر جا کر سب کو بتاتی ہے۔۔۔میں نے سوچا تھا کہ تجھے کچھ نہیں کہوں گا لیکن تجھے اپنی عزت پیاری نہیں ہے۔۔۔اب تو تو چدے گی کتیا مجھ سے۔ تو نےبولا ہے نہ کہ میں رنڈیوں کے ہی قابل ہوں تو اب میں تجھےبھی رنڈی بناؤں گا چود کر اور پھر تم اپنا حشر دیکھنا۔۔۔

صبا بری طرح سے مزاحنت کر رہی تھی اور خود کو اس سے چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ لیکن میجر کے طاقتور ہاتھوں نے اس کے دونوں ہاتھوں کو اوپر لے جا کر پکڑ لیا اور نیچے سے اس کی ایلاسٹک والی شلوار کو نیچے کھینچنے لگا۔۔۔صبا ٹانگیں چلاتی ہوئی اور بھر پور مزاحمت کرتی ہوئی،

دفع ہو جاؤ ہٹ جاؤ میرے اوپر سے کمینے دور ہو جاؤچھوڑ دو مجھے کیوں میری زندگی خراب کرنے لگے ہو تم۔۔۔

اب صبا کی کیفیت رونے والی ہو رہی تھی لیکن وہ طاقتور میجر پوری طرح سے اس پر حاوی تھا۔

وہ صبا کو گھسیٹتا اور کھینچتا ہوا سیٹنگ روم میں پڑے ہوئے بڑے صوفے پر لے آیا اور اس پر اسی طرح لیٹ کر اس کا پجامہ نیچے کھینچنے لگا۔۔۔

چلا چلا جتنا چلا سکتی ہے چلا کوئی نہیں آئے گا یہاں پر۔۔۔ آج تیری چوت مار کر ہی رہوں گا۔۔ ہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔

یہ کہتے ہوئے اس نے صبا کے پجامے کو پھاڑ دیا اوراس کی ٹانگوں سے نکال دیا۔۔۔

میجر ؛ آہ ہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔ ہاں ں ں ں ں ں ں۔۔۔ بڑی گوری ہے کتی، رنڈی تو تو و و و و و۔۔۔

یہ کہتے ہوئے میجر نے زور لگاتے ہوئے صبا کی دونوں ٹانگوں کو کھولا اور اپنا ہاتھ سیدھا اس کی ملائم، خوبصورت، گلابی ، بالوں سے پاک پھدی پر رکھ دیا اور اسے اپنی مٹھی میں لے کر دبانے لگا۔۔۔صبا کی پھدی کواپنی مٹھی میں دباتے ہوئے ہی میجر نے اپنی ایک انگلی اس کی پھدی کے اندر ڈال دی اور تیزی کے ساتھ اسے اس کی تنگ پھدی میں گھمانے لگا۔۔۔صبا اس حملے سے تڑپ اٹھی اور خود کو صوفے سے نیچے گرانے کی کوشش کرتی ہوئی اس کا ہاتھ اپنی پھدی پر 

سے ہٹانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔اوپر سے وہ اپنا ہاتھ میجر کے ہاتھوں سے چھڑوانا چاہ رہی تھی لیکن اس میجر نے اپنے کمانڈو ایکشن کے ساتھ اسے بالکل بے بس کر کے رکھ دیا ہوا تھا۔۔ جیسے جیسے میجر کی انگلی اس کی پھدی میں اندر ہی اندر جا رہی تھی تو اسےاپنی پھدی میں جلن محسوس ہو رہی تھی۔۔۔پھر میجر نے اٹھ کر اس کی ٹانگوں کے درمیان میں اپنی پوزیشن بنائی اور اپنا پجامہ نیچے کھینچنے لگا۔۔۔صبا کا خوف کے مارے برا حال تھا اس نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ کبھی اس طرح اس کے ساتھ ذیادتی ہوجائے گی اور اس کا ریپ کر دیا جائے گا اس نے اب اپنے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئےاس سے معافی مانگنا شروع کر دی،

صبا ؛ چھوڑ دو پلیز مجھے چھوڑ دو معاف کر دومیں کسی کو کچھ نہیں کہوں گی۔۔۔پلیز ز ز ز ز ز۔ میری عزت برباد نہ کرو۔۔۔میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گی۔۔۔پلیز ز ز ز نہیں ں ں ں ں۔۔۔

صبا کا جسم تھر تھر کانپنا شروع ہو گیا تھا اور اس کی مزاحمت اب جیسے بے بسی میں ڈھل چکی تھی وہ آخری کوشش کر رہی تھی کہ یہ درندہ اسے چھوڑ دے اور جس حد تک وہ زلیل ہو چکی ہے اس سے آگے بات نہ بڑھے۔۔۔ آج تک کسی نے اس کے جسم کے کسی حصے کو اس کے شوہر کے سوا نہیں دیکھا تھا اور اب یہ کمینہ اور بدمعاش شخص اس کا پجامہ اتارے اس کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھا اس کی پھدی میں انگلی ڈالے ہوئے تھا۔۔۔

میجر ؛ نہیں کمینی میں تجھے اب ایسے نہیں چھوڑوں گاتیری پھدی مار کر تیرا منہ بند کر دوں گاہمیشہ کیلئے پھر دیکھتا ہوں کہ تو کیسے کسی کو بتاتی ہے۔۔۔

میجر نے اپنا پجامہ نیچے کر کے اپنا لن باہر نکال لیاجو کہ اب تک کھڑا ہو چکا تھا۔۔۔ اس نے صبا کی دونوں ٹانگیں اوپر کو کیں اور اپنا موٹا لن جس پر صبا کی نظر بھی نہیں پڑی تھی ابھی تک اسے اس کی پھدی کے سوراخ پر رکھا اور ایک ہی جھٹکے میں اندر ڈال دیا۔۔۔ نہ چاہتے ہوئے بھی میجر کی انگلی سے صبا کی پھدی تھوڑی گیلی ہو چکی تھی۔۔۔ جیسے ہی میجر کا لن صبا کی چوت میں داخل ہوا تو صبا کے منہ سےایک تیز چیخ نکلی۔۔۔

آہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔ نہیں ں ں ں ں ں ں ۔۔۔

اور ساتھ ہی اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔۔۔میجر کا لن اس کی پھدی کے اندر جاتے ہی جیسےصبا کی ساری مزاحمت ختم ہو گئی تھی۔۔۔اس کا جسم ڈھیلا پڑ گیا تھا اب وہ صرف رو وہی تھی اور سسک رہی تھی اسے پتا تھا کہ جو ہونا تھا ہو چکا ہے۔۔۔ وہ میجر کے نیچے پڑی کسی زندہ لاش کی طرح تھی اور صرف سسک رہی تھی۔۔۔ میجر بنا رکے اپنا لن تیزی کے ساتھ صبا کی پھدی میں آگےپیچھے کر رہا تھا۔۔۔ وہ بھلا اسے چین سے کہاں لیٹے رہنے دے سکتا تھا۔۔۔اس نے اب صبا کے خوبصورت اور تنے ہوئے مموں کو اس کی شرٹ کے اوپر سے اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑااور ان کو دبانے لگا۔۔۔ صبا کے مموں کو اپنے ہاتھوں میں دباتے ہوئے ہی 

میجرجھکا اور آگے کو ہو کر اپنے ہونٹ صبا کے گالوں پر رکھ دیے۔۔۔

میجر ؛ کمینی تیری پھدی ہے تو بہت ٹائٹ وہ ہیجڑا تو خوب مزے لے رہا ہے تیری اس پھدی کے۔۔۔ آج تو مزہ آئے گا تجھے چودنے کا۔۔۔

صبا نے غصے سے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔۔۔میجر نے اب صبا کی قمیض کو اوپر کرنا شروع کر دیا اور اگلے ہی لمحے صبا کےوائیٹ بریزر میں چھپے ہوئے ممے برا سمیت اس کی آنکھوں کے سامنے تھے۔۔۔اس ٹائیٹ برا میں اس کے مموں کی درمیانی گہری لکیر بھی بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔صبا نے دوبارہ سے مزاحمت کرتے ہوئے اپنی شرٹ کو نیچے کھینچناچاہا تو اس کے ہاتھوں کوجھٹکتے ہوئے میجر نے اس کی برا کو نیچےکھینچ لیا اور اس کے مموں کو ننگا کر دیا۔۔۔ صبا کے خوبصورت گورے گورے ممے جن کے اوپر گلابی گلابی خوبصورت نپلز تھے بے حد خوبصورت لگ رہے تھے۔۔۔انہیں دیکھ کر تو میجر کی آنکھیں اور بھی چمک اٹھیں اور فوراً ہی اس نے جھک کر اس کے ایک نپل کو اپنے منہ میں لے لیااور اسے چوسنے لگا۔۔۔صبا نے اس کے سر کے اوپر اپنے ہاتھ مارتے ہوئے اسے پیچھے کرنے کی کوشش کی لیکن نیچے سے تو اس کا لن پوری طرح سے اس کی پھدی کے اندر اتر چکا تھا جسے وہ اندر باہر کرتے ہوئے صبا کو چود رہا تھا۔۔۔میجر نے اپنی شرٹ اتار کر نیچے پھینکی اور پھر اپنا لن صبا کی پھدی سے نکال کرصوفے سے نیچے اترا اور اپنا پجامہ اتارنے لگا۔۔۔ صبا نے موقع غنیمت جانتے ہوئےجلدی سے اٹھ کر 

بھاگنا چاہالیکن اتنے میں میجر نے اپنا پجامہ اتار کر اسے اس حالت میں پکڑ لیا کہ وہ اپنے گھٹنوں اور دونوں ہاتھوں کے بل کھڑی تھی۔۔۔میجر نے اس کی کمر سے اسے پکڑا اور ایک زوردار تھپڑ اس کی گوری گوری گانڈ پر مار کر بولا۔۔۔

کتی کی بچی میں نے کہا ہے نہ کہ تو اب مجھ سے بچ کر نہیں نکل سکتی،پھدی تو تیری چود چکا ہوں اب کیا کرے گی مجھ سے بچ کر۔۔۔

اسی حالت میں میجر نے پیچھے کھڑے ہو کر اپنا لن صبا کی پھدی میں ڈال دیا اور ایک ہی جھٹکے میں پورا لن اندر ڈال کر اسےپھر سے چودنا شروع کر دیا۔۔۔ صبا نے پھسل کر نیچے کو ہوتے ہوئے اپنی چوت سےاس کا لن نکالنے کی ناکام کوشش کی لیکن میجر نے اسے اس کی کمر سے پکڑ لیااور دھنا دھن اس کی پھدی میں لوڑا اندر باہر کرنے لگا۔۔۔ میجر نے پیچھے سے اس کی قمیض کو اوپر اٹھایا اور اس کی گوری گوری کمر ننگی کر دی۔۔۔میجر نے جھک کر اس کی گوری گوری کمر کو چومااور پھر اس کی گردن کے پاس سے اس کی شرٹ کو پکڑ کر زور دار جھٹکا دیا اور اس کی قمیض دو حصوں میں نیچے تک پھار دی اور اس کی کمر کو بالکل ننگا کر دیا۔۔۔اب صبا کی کمر پر صرف اس کی سفید برا کی بیلٹ اور سٹرپس تھے۔۔۔میجر نے فوراً ہی اس کی برا کے ہک کو بھی کھول دیااور ہاتھ آگے لے جا کر اس کی برا کے کپس کو ہٹاتے ہوئےاس کے مموں کو پکڑ لیا۔۔ اب میجر نے اس کے مموں کو پکڑ کر دھنا دھن پیچھے سے صبا کی پھدی کو چودنا شروع کر دیا۔۔

صبا جتنی بھی مزاحمت کررہی تھی۔۔۔ رو رہی تھی۔۔۔ چلا رہی تھی۔۔۔ معافی مانگ رہی تھی۔۔۔ لیکن یہ میجر کو بھی پتا لگ رہا تھا کہ پھدی اس کی ضرور گیلی ہونے لگی تھی۔۔۔ میجر نے اس کی پھدی سے لن باہر نکالا اور اسے نیچے فرش پر گھسیٹ لیا اور اس کی کمر کو اپنے سینے سے لگا کر اس کی دونوں ٹانگوں کو کھولا اور اس کی پھدی میں اپنی انگلی ڈالکر بولا۔۔۔

رنڈی کی اولاد اوپر سے ناٹک کر رہی ہے اور نیچے سے تیری پھدی پانی چھوڑ رہی ہے ۔۔۔

یہ کہتے ہوئے میجر نے تیزی کے ساتھ اس کی پھدی میں انگلی اندر باہر کرنی شروع کر دی اس کی پھدی کے اندر ہی صبا کا ویک پوائنٹ تھا اور میجر کی موٹی انگلی بری طرح سے اس کی پھدی کو گرم کر رہی تھی۔۔۔ صبا سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اس کی چوت اس طرح اس کے دماغ کا ساتھ چھوڑ دے گی۔۔۔ صبا کی مزاحمت دم توڑ چکی تھی بس اب سیٹنگ روم میں ٹی وی کی تیز آواز کے علاوہ اس کی سسکیاں اور رونے کی آوازیں ہی گونج رہی تھیں۔۔۔میجر نے صبا کی پھدی کے پانی سے گیلی ہو رہی اپنی انگلی باہر نکالی اور اسے اس کے چہرے کے سامنے کرتے ہوئے بولا۔۔۔

دیکھ تیری پھدی کیسے پانی چھوڑ رہی ہے اور تو نخرے کر رہی ہے۔۔۔ دوسروں کو کہتی ہے لیکن تو خود پکی ایک نمبر کی رنڈی ہے۔۔۔

صبا نے اپنی آنکھیں بند کیں اور اپنے دونوں ہاتھ اپنےچہرے پر رکھ لیے اور اپنا چہرہ چھپا لیا۔۔۔ 

میجر نے نیچے ہی اسے لٹایا اور دوبارہ سے اس کی ٹانگوں کے درمیان آیا اور اس کی دونوں ٹانگوں کو کھول کرایک بار پھر اپنا لن اس کی پھدی میں ڈال دیا۔۔۔ صبا کی دونوں ٹانگیں اوپر کر کےاپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑیں اور اس کی پھدی کو چودنے لگااپنا موٹا لن اس کی چوت میں اندر باہر کرتے ہوئے۔۔۔صبا نے اپنے دونوں ہاتھوں میں اپنا چہرہ چھپایا ہوا تھا اور رو رہی تھی۔۔۔ میجر نے اس کے چہرے پر سے دونوں ہاتھوں کو ہٹایا اور بولا۔۔۔

اپنا منہ نہ چھپا ابھی سے یہ چہرہ تو اب تجھے ہمیشہ ہی چھپانا ہے سب سے۔۔۔لیکن ابھی تو میری آنکھوں میں دیکھ نہ۔۔۔

لیکن صبا نےاپنی آنکھیں نہ کھولیں۔۔۔ میجر نے دوبارہ سے اس کی دونوں رانوں کو پکڑ لیا اور اپنا لن اس کی پھدی میں اندر باہر کرتے ہوئے ہانپنے لگا۔۔۔ 

آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔ ووووووئی ی ی ی ی ی ی۔۔۔ نکل ل ل ل ل ل ل ل۔۔۔ رہا ہے ابھی کے ۔۔۔ ابھی ی ی ی ی ی ی ی۔۔۔ میرا پانی تیری پھدی میں۔۔۔ دیکھ کیسے تیری چوت میں پانی نکال کر تجھے ماں بناتا ہوں اپنے بچے کی۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔ 

میجر کی بات سن کر جیسے صبا دوبارہ سے ہوش میں آگئی۔۔۔فوراً ہی اپنے دونوں ہاتھوں کو میجر کے ننگے سینے پر رکھتے ہوئے تڑپنے لگی۔۔۔

نہیں نہیں ۔۔۔ پلیز ز ز ز نہیں ۔۔۔ اندر نہ کرنا۔۔۔ اندر نہیں ڈالنا ۔۔۔ پلیز ز ز ز ز نہیں۔۔ اندر نہیں ۔۔۔ میں مر جاؤں گی۔۔۔ میں ہاتھ جوڑتی ہوں ۔۔۔ پلیز نہیں ۔۔۔

میجر ؛ ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔ جو میرے دل میں آئے گا وہی کروں گا میں۔۔۔ ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔ 

صبا ؛ میں ہاتھ جوڑتی ہوں اندر نہیں کرنا پلیز ز ز ز۔۔۔ دیکھو تم نے اپنی مرضی کی ۔۔۔ جو چاہا کر لیا۔۔۔ میری عزت بھی خراب کر دی ۔۔۔ پر اب ایسے نہ کرو۔۔۔ 

صبا رونے لگی لیکن وہ میجر تو وحشی جانور تھا۔۔۔ ایک نہ سنی اور اگلے ہی لمحے اپنے لن سے پانی اس کی پھدی میں گرانے لگا۔۔۔ فک یو ۔۔۔

Share this post


Link to post

قسط نمبر 3

جیسے ہی میجر کے لن سے پانی نکلنے لگا ویسے ہی صباکی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی۔۔۔ میجر کا لن صبا کی پھدی میں جھٹکے مارتے ہوئے اپنا پانی نکال رہا تھا۔۔۔ اور صبا رو رہی تھی۔۔۔ لیکن اس کی پھدی۔۔۔میجر کے لن کے گردسکڑ اور پھیل رہی تھی۔۔۔ جیسے اسے نچوڑ رہی ہو اور پھر اس کی پھدی نے بھی پانی چھوڑ دیا۔۔۔روتی ہوئی صبا کی چوت نے اپنا پانی چھوڑ دیا۔۔ میجر اپنا پورا پانی نکال کر پیچھے ہٹا اور اپنا لن اس کی پھدی سے نکالا تو ساتھ ہی اس کی چوت سے منی بھی باہر آنے لگی۔۔۔صبا نڈھال ہو کر روتی ہوئی ویسے ہی ننگی لیٹی رہی۔۔۔اب چھپانے 

اور بچانے کیلئے بچا ہی کیا تھااس کے پاس۔۔۔ میجر نے اس کی چوت کے سامنے ہی بیٹھ کر اس کی ننگی رانوں پرتھوڑی دیر ہاتھ پھیرا اور پھر نیچے پڑی ہوئی اپنی قمیض کی پاکٹ میں سے اپنا موبائل نکالااور ننگی لیٹی صبا کی تصویریں بنانے لگا۔۔۔ صبا میں اب اتنی بھی ہمت نہیں تھی کہ وہ کچھ بھی مزاہمت کر سکے۔۔۔ صبا کی منی نکالتی ہوئی چوت کی تصویریں اور اس کے پورے ننگےجسم کی بہت ساری تصویریں بنا کر پھر میجر نے اس کی ویڈیو بھی بنا لی پوری تفصیل کے ساتھ اس کے جسم کے ایک ایک حصے اور اس کے چہرے کی۔۔۔ صبا نے بہت کوشش کی اپنا چہرہ چھپانے کی لیکن کامیاب نہ ہو سکی۔۔۔ آخر کار میجر نے اپنے موبائل کا کیمرہ آف کیااور اپنے کپڑے پہننے لگا لیکن صبا وہیں صوفے پر ہی پڑی رہی۔۔۔ اپنے کپڑے پہن کر میجر نے قریب کے ٹیبل پر پڑا ہوا صبا کا موبائل اٹھایا اور اس کے قریب آکر اس کے سینے پر دونوں مموں کے درمیان میں رکھتے ہوئے بولا۔۔۔ 

یہ لو اپنا موبائل۔۔۔ اس میں میری وہ کلپ ابھی بھی موجود ہے۔۔۔ ڈلیٹ نہیں کی میں نے اور اب ڈلیٹ بھی نہیں کروں گا۔۔۔ تم اسےرکھو اپنے پاس اور جسے چاہو دکھا دو بلڈنگ میں۔ لیکن اس کے بعد جو میں دکھاؤں گا ان کو وہ تم کو بھی پتہ ہے۔۔۔ اور جو کچھ اس کے بعد ہوگا۔۔ مجھے امید ہے کہ تم کو وہ بھی پتہ ہی ہوگا۔۔۔ 

صبا نے نفرت سے اپنا چہرہ دوسری طرف کر لیا لیکن میجر نے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھ میں 

پکڑااور اپنی طرف موڑ کراس کے چہرے کے اوپر جھکا اور صبا کے ہونٹوں کو چوم لیا۔۔۔ صبا نے نفرت سے اپنا چہرہ چھڑایا اس سے اور اس کے چہرے پر تھوک دیا ایک بار۔۔۔ میجر ہنسااور اپنے چہرے کو نیچے پڑی ہوئی اس کی برا سے صاف کیا اور پھر اس کے منہ کو جبڑے سے پکڑ کر زور سے دبانے لگا جس سے اسکا منہ کھل گیا۔۔۔ میجر نے اس کے کھلے ہوئے ہونٹوں پر اپنے موٹے موٹے ہونٹ رکھے اور ایک زوردار کس کر لی۔۔۔ آئندہ کبھی ایسا نہ کرناسمجھی۔۔۔ ورنہ ۔۔۔میجر مسکرایا اور اٹھ کر جدھر سے آیا تھا اسی راستےاپنے فلیٹ میں واپس چلا گیا۔۔۔ اسے جاتے ہوئے دیکھ کر صبا کے منہ سے بے اختیار نکلا۔۔۔ 

کُتا۔۔۔ کمینہ ۔۔۔ 

صبا نے گھڑی کی طرف دیکھا تو ایک بج رہا تھا۔۔۔ پورے تین گھنٹے وہ اس میجر کی درندگی کا نشانہ بنتی رہی تھی۔۔۔ اور ابھی اس کے جسم میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اٹھ کر خود کو سنبھالے۔ وہ وہیں صوفے پر پڑی ہوئی ہی سسکتی رہی ۔۔۔ روتی رہی۔۔۔ اور خود کو ڈھانپنے کی کوشش بھی نہیں کی۔۔۔ آخر چھپانے کو بچا ہی کیا تھا اس کے پاس ۔۔۔ یہی سوچتے ہوئے وہ نڈھال ہو کر۔۔۔ پتہ نہیں بیہوش ہو گئی۔۔۔ یا پتا نہیں سو گئی۔۔۔ تقریباً دو گھنٹوں کے بعد اسے جیسے ہوش آیاتو وہ جلدی سے اٹھی اور ایک بار پھر اس سارے واقعے کی پوری کی پوری فلم اس کی آنکھوں کے سامنے چلنے لگی۔۔۔ ایک بار پھر سے اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہونے لگے۔۔

صبا نے اچانک ہی پاس پڑا ہوا اپنا موبائل اٹھایا اور جلدی سے اپنے شوہر اشرف کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔۔۔ ابھی بتاتی ہوں اس کمینے کی اس حرکت کے بارے میں اشرف کو۔۔۔ آج اسے زندہ نہیں چھوڑے گا وہ۔۔۔ صبا کی اندر کی آواز ۔۔۔ زندہ نہیں چھوڑے گا اسے۔۔۔ پھر اس کے بعد۔۔۔؟؟؟ اس کے بعد کیا وہ مجھے زندہ چھوڑے گا ۔۔۔ ؟؟؟؟ لیکن میرا تو کوئی قصور نہیں ہے نہ۔۔۔ تو مجھے کیوں کچھ کہے گا۔۔۔ وہ مجھے اچھے سے جانتا ہے۔۔۔ صبا دوبارہ سے اشرف کا نمبر ملاتی ہوئی۔۔۔ مجھے اس نے زندہ چھوڑ بھی دیا تو وہ خود ہی پھانسی چڑھ جائے گانہ اور اس کے بغیرمیں بھلا اکیلی جی کر کیا کروں گی۔۔۔ نہیں نہیں مجھے ابھی اشرف کو اس بارے میں کچھ نہیں بتانا چاہیے۔۔۔ وہ بہت ہی غصے والا ہے ضرور کوئی انتہائی قدم اٹھا بیٹھے گا۔۔۔ میں اس کمینے کو تو اب بدنام کرکے ہی رہوں گی۔۔۔ میری عزت لوٹ لی اس نے اس کمینی کی وجہ سے اب تو میں سب کو ضرور بتاؤں گی اس کے بارے میں۔۔۔ بتاؤ بتاؤ سب کو بتاؤ اور پھر جب تمہاری فوٹوز وہ سب کودکھائے گا تو کیا جواب دوگی اشرف کو اور سب بلڈنگ والوں کو۔۔۔ یہ سب باتیں سوچ سوچ کر صبا پریشان ہو گئی۔۔۔ لیکن ایک فیصلہ اس نے ضرور کر لیا تھا۔۔۔ اور وہ فیصلہ تھا ۔۔۔ ابھی فی الحال چپ رہنے کا۔۔۔ حالات کو دیکھنے کا۔۔۔خود پر قابو پانے کا۔۔ اور پھر سوچ سمجھ کر میجر کے بارے میں کچھ کرنے کا۔۔۔ یہ سوچ کر صبا اٹھی اور اپنے پھٹے ہوئے کپڑے سمیٹ کر اپنے لڑ کھڑاتے ہوئے قدموں سے اپنے کمرے کی طرف بڑھی ۔۔۔ اپنے پھٹے ہوئے کپڑے اس نے ایک سوٹ کیس میں رکھ دیے جہاں اس کے پرانے کپڑے 

پڑے ہوئے تھے۔۔۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کے ان کپڑوں پر اس کے شوہر کی نظر پڑے۔۔ اور وہ اس کی نظروں میں مشکوک ہو جائے۔۔۔ اور اس کی نظروں میں گر جائے۔۔۔ اور اس کی زندگی تباہ ہوجائے۔۔۔ ان کپڑوں کو سمیٹنے کے بعد صبا باتھ روم میں چلی گئی اور شاور چلا کر نہانے لگی۔۔۔ پانی کی بو چھاڑ کے ساتھ ہی اس کی آنکھوں سے بھی پانی ایک بار پھر سے بہنے لگا لیکن اس شاور کی پھوار میں کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا اس کے آنسوؤں کا۔۔۔ اپنی پھدی کو مل مل کر دھونے لگی۔۔۔ اس کے اندر تک صفائی کرنے لگی تاکہ اس کمینے بدمعاش میجر کی منی اس کے اندر سے نکل جائے۔۔۔ اس نے پھدی کے اندر انگلی ڈالی تو اسے درد محسوس ہوا۔۔۔ س س س سس س۔۔۔ کمینے کتے نے چودا بھی تو کس قدر بے رحمی سے ہے نہ۔۔۔ کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ میرے اشرف نے ایسے مجھے چودا ہو۔۔۔ ہمیشہ پیار سے چودتا ہے۔۔۔ صبا سوچ رہی تھی ۔۔۔ اوراس کتے کا موٹا بھی تو بہت تھا نہ۔۔۔ پوری کی پوری اندر تک جلا کر رکھ دی ہے میری۔۔۔ جانور کہیں کا۔۔۔ ان سب باتوں کو سوچتے ہوئے ایک اور بات اس کے ذہن میں آئی جس نے اسے تھوڑا شرمندہ بھی کر دیا۔۔۔ لیکن میری پھدی کیوں گیلی ہو گئی تھی۔۔۔ کیا مجھے بھی اس کے ساتھ مزہ آرہا تھا۔۔۔؟؟؟؟ کیا مجھے اس کا لن اپنی پھدی کے اندر اچھا لگ رہا تھا۔۔۔؟؟؟؟ کہیں میں نے خود بھی تو اپنا ریپ انجوائے نہیں کیا۔۔۔؟؟؟؟؟ ان سب سوالوں نے اسے خود سے شرمندہ کر دیا۔۔۔ اور آخری مہر اس بات نے لگا دی جب اسے یاد آیا کہ اس کی پھدی نے بھی تو اپنا پانی چھوڑ دیا تھا ناآخر میں جب وہ خود بھی اپنی فراغت کو 

پہنچ گئی تھی۔۔۔ کمینے نے چودا بھی تو اتنی بری طرح سے ہے نا۔۔۔ کس قدر طاقت ہے اس کے جسم میں۔۔۔ کتنا موٹا ہے اس کا وہ۔۔۔ لن۔۔۔ کیسے پھنس پھنس کر جا رہا تھا میرے اندر چوت کے اندر تک۔۔۔ اف ف ف ف ف۔۔۔ اسے اپنی چوت میں پھر سے کچھ ہلچل سی محسوس ہونے لگی۔۔۔ نہیں۔۔۔ نہیں یہ نہیں ہو سکتا وہ تو ایک جانور ہے اور اس نے میری عزت لوٹ لی ہے اور ایسا شخص تو قتل کیے جانے کے قابل ہے۔۔۔ صبا نہا کر نکلی اور دوسرے کپڑے الماری سے نکال کر پہنے اور کچن میں جا کر مصروف ہو گئی۔۔۔ رات کو اشرف آیا تو صبا نے اپنے فیصلے کے مطابق بالکل نارمل برتاؤ کیا وہ اپنے شوہر کے ساتھ ایسے پیش آئی جیسے کہ اس کے ساتھ کچھ بھی نہ ہوا ہو۔۔۔ حالانکہ آج اس کی عزت لٹ گئی تھی۔۔۔ وہ لڑکی جسے اس کے شوہر کے سوا کسی اور نے نہیں دیکھا تھا، جو بازار بھی جاتی تھی تو نقاب کر کے جاتی تھی لیکن آج ایک دوسرے مرد نے اسے بالکل ننگا کر کے اس کے جسم کو دیکھا اور اسے چود کر اس کے جسم اور اس کی عزت کو برباد بھی کر دیا تھا۔۔۔ لیکن وہ بہادر لڑکی اپنے گھر اور اپنے شوہر کو بچانے کیلئے سب کچھ برداشت کر گئی تھی اور بالکل نارمل انداز میں اپنے شوہر کے ساتھ بیٹھی کھانا کھا رہی تھی۔۔۔ کھانا کھانے کے بعد جب دونوں بیڈ پر لیٹے اور حسب معمول اشرف نے صبا کے ساتھ تھوڑی چھیڑ چھاڑ شروع کر دی۔۔۔ لیکن آج صبا کا بالکل بھی موڈ نہیں بن رہا تھا اس کا ساتھ دینے کا کیونکہ اس کا دماغ کہیں اور تھا۔۔۔ کچھ اور ہی سوچ رہا تھا۔۔۔ اسے بار بار اس کا موٹا لن اپنی پھدی کے اندر باہر آتا جاتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ جیسے ہی اسے یہ 

محسوس ہوتا تو اس کی پھدی خود با خود ہی میٹھا میٹھا سا درد محسوس کرنے لگتی۔۔۔ اس وقت بھی وہ آنکھیں بند کیے میجر کے لن کو ہی یاد کر رہی تھی جب اشرف نے اسے چومنا اور کِس کرنا شروع کیا تھا۔۔۔ تھوڑی سی کِسنگ اور مموں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر لینے کے بعد صبا نے آہستہ سےاشرف کو روک دیا کہ پلیز آج کچھ نہیں کرو۔۔۔ آج اسے اشرف کے ہاتھ اپنے جسم پر مزہ نہیں دے رہے تھے۔۔۔ اس کے ہاتھوں کی گرفت اسے کمزور لگ رہی تھی۔۔۔ وہ چاہ رہی تھی کہ اس کے روکنے کے باوجود اشرف زور زور سے اس کے مموں کو مسل ڈالے۔۔۔ اور پھر اس کے روکنے کے باوجود اسے زبردستی نہیں چودا۔۔۔ اس کی مرضی کی پرواہ کیے بغیر ہی۔۔۔ جیسے۔۔۔ جیسے۔۔۔ جیسے صبح میجر نے کیا تھا اس کے ساتھ۔۔۔ لیکن اشرف جو کہ ہمیشہ سے ایک اچھا شوہر ثابت ہوا تھا، جیسے وہ بھی غصے کا تیز تھا لیک اپنی بیوی کی بات ضرور مان لیتا تھا۔ اور اگر اس کا موڈ نہ ہوتا تو اس کے ساتھ سیکس نہیں کرتا۔۔۔ آج بھی اس نے ایسے ہی کیا اور خاموشی سے صباکو اپنی بانہوں میں لے کر سو گیا۔۔۔ لیکن صبا اپنے شوہر کی بانہوں میں سمائی ہوئی کافی دیر تک جاگتی رہی اور میجر کے بارے میں سوچتی رہی۔۔۔ اسے اشرف کا اس طرح سے اس کی بات مان لینا اور اسے سونے کی اجازت دے دینا بھی بالکل اچھا نہیں لگا تھا۔۔۔ اسے مایوسی ہوئی تھی کہ اشرف کیوں رک گیا۔۔۔ کیوں اس نے میری مرضی کے خلاف مجھے سب کچھ کرنے پر مجبور نہیں کیا ۔۔۔ اس کے بازؤوں میں لیٹی ہوئی اس کے جسم کو محسوس کرنے لگی۔۔۔ اشرف کو بھی ایکسر سائز کرنی چاہیے۔۔۔ تاکہ اس کا جسم بھی مضبوط اور طاقتور 

ہو جائے۔۔۔ میجر کی طرح۔۔۔ کیا ہو گیا ہے مجھے کیوں میں میجر کے بارے میں ہی سوچے جا رہی ہوں۔۔۔ مجھے تو نفرت ہے اس سے۔۔۔ میں کیسے یہ چاہ سکتی ہوں کہ اشرف کو اس کی طرح کاہونا پسند کروں۔۔۔ وہ کمینہ تو ہر وقت مجھے گالیاں دیتا ہے۔۔۔ نہیں نہیں۔۔۔ وہ تو بس ایک جانور ہے۔۔۔ جو جسموں کو نوچ ڈالتا ہے۔۔۔ اور جسموں کو نوچنا جانتا ہے۔۔۔ صبا کو ایک بار پھر سے اپنی پھدی گیلی ہوتی ہوئی محسوس ہونے لگی۔۔۔ جانور ہے لیکن جسم تو توڑ کر رکھ دیا ہے نا میرا اس نے۔۔۔ صبا کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔ کتا۔۔۔ کمینہ ۔۔۔ اگلی صبح میجر اپنے گھر پر ہی رکا ہوا تھا اور کسی نہ کسی ہنگامے کے ہونے کا منتظر تھا۔۔۔ وہ اپنے فلیٹ میں ہی ادھر ادھر ٹہل رہا تھا۔۔۔ کچھ دیر میں اسے اشرف کے فلیٹ کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی میجر بھی اپنے دروازے سے لگ کر کھڑا ہو گیا اور باہر کی آواز سننے لگا۔۔۔ اس نے سنا کے صبا اپنے شوہر کو سی آف کر رہی ہے۔۔۔ جیسے ہی اس کے سیڑھیوں پر قدم رکھنے کی آواز آئی تو میجر نے اپنا دروازہ کھول دیا اور باہر کو نکل آیا۔۔۔ وہ مطمئن ہو چکا تھا کہ صبا نے سمجھداری کا ثبوت دیتے ہوئےاپنے شوہر کو کچھ بھی نہیں بتایا اور جیسے اس نے کہا تھا سب کچھ چھپا گئی ہے۔ صبا ابھی بھی اپنے دروازے میں کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔ میجر نے صبا کی طرف دیکھا اور جب دونوں کی نظریں آپس میں ملیں تو میجر کے چہرے پر خود بہ خود ہی ایک فاتحانہ لیکن گھناؤنی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔ میجر کے چہرے پر ایسی گندی مسکراہٹ دیکھ کر صبا کا دل ایک بار پھر نفرت سے بھر گیااور یہ نفرت اس کے چہرے پر بھی چھلکنے لگی۔۔۔ لیکن اسی وقت اس کی 

چدائی کا پورا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے دوڑ گیا اور اس کا چہرہ شرم سے سرخ ہونے لگا۔۔۔ یہ سوچ کر کہ کیسے اس نے اس کا ریپ کر دیا تھا اور یہ سوچ کر وہ مزید پریشان ہو گئی کہ اگر کسی کو پتہ چل گیا تو میری کتنی بدنامی ہو گی۔۔۔ اس نے اپنا چہرہ نیچے جھکا لیا۔۔۔ میجر نے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو کِس کیا اور صبا کی طرف اچھالتے ہوئے اسے کسی لوفر کی طرح سے فلانگ کِس دی اور ساتھ ہی اپنی انگلی سے اسے اپنے فلیٹ میں آنے کا اشارہ کیا۔۔۔ صبا نے غصے سے اس کی طرف دیکھا اور حقارت سے فرش پر تھوک کر بولی۔۔۔ کتا ۔۔۔ کمینہ ۔۔۔ اور زور سے اپنا دروازہ بند کر کے اندر چلی گئی اور اپنی پیٹھ اپنے دروزے کے ساتھ لگا کر کھڑی ہو گئی۔۔۔ رات بھر خود کو ہی لعنت ملامت کرنے کے بعد ہی وہ پھر سے اپنے دل میں میجر کیلئے نفرت کو قائم رکھ پائی تھی۔۔۔ جو بھی ہوا تھا اس کے جسم کا جو بھی ریسپونس تھا اس میجر کیلئے لیکن بہر حال اسکا ریپ ہوا تھا اور یہی چیز اس کیلئے پریشان کن تھی ۔۔۔ شرمناک تھی اور اذیت ناک تھی۔۔۔ اس بات کو وہ کیسے اپنے دل سے نکال سکتی تھی۔۔۔ اس بات سے میجر کی ہمت بڑھ چکی تھی۔۔۔ اس نے جب دیکھا کہ ارد گرد کوئی بھی نہیں ہے تو آگے بڑھ کراس نے صباکے دروازے پر نوک کر دیا۔۔۔ اندر دروازے کے ساتھ چپکی ہوئی صبااس اچانک کی دستک سے اچھل پڑی۔۔۔ اسے میجر کی کمینگی کا توپتہ تھا لیکن یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ سیدھا اس کے دروازے پر دستک دینے کی ہمت بھی کرے گا۔۔۔ لیکن ظاہر ہے کہ صبا نے دروازہ نہیں کھولا اور نہ ہی دوسری بار میجر نے نوک کیااور ہنستا ہوااپنے فلیٹ میں چلا گیا۔۔۔ اندر صبا کا دل بری 

طرح سے دھڑک رہا تھا ۔۔۔ اگر۔۔۔ اگر۔۔۔ میجر اندر آگیا تو۔۔۔ تو۔۔۔ تو وہ پھر سے۔۔۔ پھر سے وہی کچھ کرے گا میرے ساتھ۔۔۔ اپنے موٹے لن کے ساتھ۔۔۔ اف ف ف ف ف نہیں ں ں ں ں ں ں ں ں ں۔۔۔ پھر سے وہی موٹا لن میری نازک سی پھدی میں۔۔۔ آہ ہ نہیں ں ں ں ں ں ں ں۔۔۔ ایسا اب نہیں ں ں ں۔۔۔ ہونے دوں گی میں۔۔۔ صبا نے غصے سےسوچا۔۔۔ لیکن۔۔۔ اس کی سانس بہت پھولنے لگی۔۔۔ ممے اوپر نیچے ہونے لگے۔۔۔ تیزی کے ساتھ۔۔۔ صرف اسی خیال کے ساتھ کہ اگر وہ کسی طرح سے دوبارہ اندر آگیا تو کیا ہو گا۔۔۔ یہ خیال آتے ہی اسے یقین ہو گیا کہ اگر وہ کمینہ اندر آیا تو پھرسے وہی کچھ کرے گا۔۔ جو کل کیا تھا اس نے۔۔۔ اسے پھر سے اپنے نازک جسم پر میجر کے طاقتور جسم کابوجھ محسوس ہونے لگا۔۔۔ اسے اپنی پھدی کے اندر پھر سے اس کا لن۔۔۔ موٹا لن۔۔۔ اپنی چوت کے اندر باہر ہوتا ہوا محسوس ہونے لگا۔۔۔ اسی سوچ کے ساتھ ہی اسے اپنی پھدی میں کچھ گیلا پن بھی محسوس ہونے لگا۔۔۔ لیکن اس احساس کو جھٹک کر وہ اپنے کام کی طرف بڑھ گئی۔۔۔ 

وہ یہ تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں تھی کہ اس میجر کا تصور ہی اسے کمزور کر دیتا ہے۔۔۔ اس دن کے بعدمیجر نے کبھی بھی صبا سے دوبارہ کوئی بات نہیں کی۔۔۔ پتہ نہیں کیوں۔۔۔ اس کو کبھی دیکھ بھی لیتاتو صرف مسکرا کر آگے چلا جاتایا اسے اگنور کر دیتا۔۔۔ اسے اب صبا کی کوئی فکر نہیں تھی۔۔۔ کیونکہ اسے پتہ تھا کہ وہ کچھ بھی نہیں کر سکتی۔۔۔ اور یہ حقیقت بھی تھی۔۔۔

اور شایدیہ بھی حقیقت تھی کہ وہ اب کسی کو بتانا بھی نہیں چاہتی تھی۔۔۔ جب بھی اس کا سامنا میجر سے ہوتا تو خوف کے مارےاس کی ٹانگوں کی جان نکلنے لگتی۔۔۔ جسم ڈھیلا پڑنے لگتا ہاتھ پیر ٹھنڈے پڑنے لگتے۔۔۔ میجر کیلئے اس کی نفرت بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔ ایک بار جب وہ منصور صاحب کے گھر گئے تو اشرف منصور صاحب سے بولا،

اشرف ؛ منصور انکل آپ یہ اس میجر کا کچھ کرتے کیوں نہیں ؟؟ اپارٹمنٹ کے مالک کو ہی شکایت لگا دیں اس کی کچھ بندوں کو لے جا کراپنے ساتھ تاکہ یہ یہاں سے نکلےاور سب کو سکون ملےیہاں رہنے میں۔۔۔ 

منصور ؛ بیٹا اس خبیث کا ایک ہی حل ہےکہ اسے منہ ہی نہ لگایا جائے۔۔۔ ویسے میں دیکھتا ہوں کیا کر سکتا ہوں میں۔۔۔ 

یہ بات سن کر صبا کا دل زور سے دھڑک اٹھا۔۔۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اشرف کا دوبارہ سے میجر کے ساتھ کوئی پنگا ہو اور کہیں بہت زیادہ غصے میں آکر وہ اشرف کو اس کے بارے میں وہ بات بتا دے جس سے اس کی شادی شدہ زندگی خطرے میں پڑ جائے۔۔۔ وہ بول پڑی۔۔۔ 

صبا ؛ اشرف چھوڑیں آپ بھی۔۔۔ کیوں اس کو اپنے دماغ پرسوار کیا ہوا ہے۔۔۔ بس اسے آپ منہ ہی نہ لگائیں ۔۔۔ ایسے بندے سے دشمنی لینے کا کیا فائیدہ۔۔۔ بس خاموشی سے رہتے ہیں اپنے گھر میں۔۔۔ 

منصور ؛ کہتی تو صبا بیٹی بھی ٹھیک ہے لیکن پھربھی میں دیکھتا ہوں کچھ کرتا ہوں اگر کچھ ہو سکا تو کسی نہ کسی کو اپنے ساتھ ملاتا ہوں پھر ہی جاؤں گا مالک کے پاس۔۔۔ 

منصور صاحب ایک بہت ہی اچھےاور نیک اورمذہبی شخص تھے۔۔۔ چہرے پر بڑی سی بھاری بھرکم داڑھی تھی جو کہ سفید ہو چکی تھی لیکن وہ اسے ہمیشہ لال رنگ میں رنگ کر رکھتے تھے بلڈنگ کےبالکل ساتھ ہی ایک مسجد میں امام تھے اور نماز پڑھاتے تھے۔۔۔ کچھ تھوڑا بہت بزنز بھی تھاجس سے ان کا اچھا گزر اوقات ہو جاتاتھا۔۔۔ ہمیشہ سفید شلوار قمیض ، سر پرسفید ٹوپی اور ہاتھ میں تسبیح پکڑے منصور صاحب بہت ہی معزز اور مذہبی شخصیت لگتے تھے۔۔۔ بھاری بھرکم جسم، توند نکلی ہوئی، بھاری چہرہ اور صاف ستھرا ایک پاک کردار ہی تھا جس کی وجہ سے علاقہ میں اوربلڈنگ میں ان کا اچھا روب تھا اور ان کی بات سنی بھی جاتی تھی ۔۔۔ بالکل ایک عام مولوی کی طرح موٹا اور بھاری جسم تھا توند جیسے کہ عام طور پر اکثر مولوی ہوتے ہیں ۔۔۔ میجر صاحب بھی ان سے کافی حد تک دبتے تھے لیکن دونوں ہی ایک دوسرے سے زیادہ بات چیت نہیں کرتے تھے۔۔۔ منصور صاحب کے دو بچے تھے دونوں کالج میں پڑھ رہے تھے۔۔۔ بڑی بیٹی فرح صبا سے دو ، تین سال ہی چھوٹی تھی اس لیے دونوں کی جلد ہی دوستی ہو گئی تھی۔۔۔ اس سے چھوٹا بیٹا تھا اسد اور وہ بھی کالج کا سٹوڈنٹ تھا۔۔۔ 

کافی دن مزید گزرنے کے باوجود بھی جب کچھ نہ ہوا اور میجر صاحب کی خاموشی صبا کیلئے حیران 

کن تھی۔۔۔ میجر کی خاموشی سے صبا کی ہمت بڑھنے لگی اسے پھر سے اپنی ویڈیو اور فوٹوز کو واپس لینے اور ہمیشہ کیلئےخود کو محفوظ کر لینے کا خیال آنے لگا۔۔۔ جیسے جیسے اس کی ہمت بڑھتی جا رہی تھی ویسے ویسے ہی اس کا خوف بھی کم ہوتا جا رہا تھااور اس کے ساتھ ہی اس کی نفرت بھی بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔ لیکن ایک بات اور تھی جو اس کے من میں بار بار کھٹک رہی تھی وہ یہ کہ۔۔۔ کئی بار اس دوران اشرف نے اسے اپنی بانہوں میں لیا۔۔۔ اسے چودا۔۔۔ لیکن جب بھی وہ اسے اپنی بانہوں میں لیتا تو اسے ان بانہوں میں کمزوری اور نرمی محسوس ہوتی۔۔ وہ چودتا تو وہ چلاتی ۔۔۔ اور زور سے۔۔۔ اور طاقت سے۔۔۔ پلیز ز ز ز ز۔۔۔ اس کی بند آنکھوں کے آگے میجر کا چہرہ آجاتا۔۔۔ اور وہ اشرف کے جسم پر ہاتھ پھیرتے ہوئے میجر کے مظبوط جسم کو محسوس کرنا چاہتی لیکن۔۔۔ لیکن ۔۔۔ وہ تو اشرف تھا اس کا جسم اس مضبوط پہاڑ جیسے میجر کی طرح کیسے ہو سکتا تھا۔۔۔ اشرف آخر میجر کی طرح کیسے چود سکتا تھا۔۔۔ اور کیسے اس کے جسم کی پیاس اس جانور کی طرح بجھا سکتا تھا۔۔۔ جس نے ریپ کر کے بھی اس کے دماغ پر اپنا اثر چھوڑ دیا تھا۔۔۔ اتنا کہ وہ اب بھی اس کے بارے میں سوچتی تھی۔۔۔ اتنی نفرت کرنے کے باوجود بھی۔۔۔ کافی دن تک سوچنے کے بعداس نے فیصلہ کر لیا کہ ایک بار وہ میجر سے ضرور ملے گی اور اس سے ریکوسٹ کرے گی کہ وہ اسے اس کی ویڈیو واپس کر دے۔۔ ہو سکتا ہے کہ اتنے دن گزر جانے کے بعد اس کا دل کچھ نرم پڑ چکا ہواور اب اسے ہمیشہ کیلئے آزاد کر دے۔۔۔ لیکن پھر ایک خوف اس کے سامنے آ جاتا کہ اگر میجر نے دوبارہ سے اس کے 

ساتھ درندگی کا مظاہرہ کیا اور پھر سے اس کے ساتھ۔۔۔ نہیں نہیں۔۔۔ اب ایسا نہیں ہو گا۔۔ ضروری تو نہیں کہ اس بار بھی وہ اس کے ساتھ وہی حرکت کرے۔۔۔ جو بھی ہو لیکن بہر حال ایک بار تو جانا ہی پڑے گا۔۔۔ اس کے پاس اس ارادے کو کئے ہوئے بھی اسے دو چار دن مزید گزر گئے لیکن اسے میجر کاسامنا کرنے اور اس سے بات کرنے کی کوئی ہمت نہ ہو سکی۔۔۔ ایک دن دوپہر میں جب کہ اشرف اپنی ڈیوٹی پر تھا تو صبا نے ہمت کر ہی لی میجر کے پاس جا کر اس سے بات کرنے کی۔۔۔ اسے میجر کے فلیٹ پر جانے میں ڈر بھی محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ یہ خوف بھی تھا کہ اگر اشرف نے اسے میجر کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے دیکھ لیا یا اس کے فلیٹ پر تو پھر تو اس کی زندگی اور شادی کی کوئی بھی ضمانت نہیں رہے گی۔۔۔ لیکن جو بھی ہو اسے ایک بار تو یہ رسک لینا ہی تھا۔۔۔ جیسے جیسے وہ خود کو تیار کر رہی تھی۔۔۔ اس کے دل کی دھڑکن بھی تیز ہوتی جا رہی تھی۔۔۔ ہر خوف کے اور خطرے کے باوجود اپنی زندگی اور اپنی شادی کو خطرے میں ڈالتے ہوئے بھی وہ میجر کے پاس جانا چاہتی تھی۔۔۔ اپنی ویڈیو اور فوٹوز حاصل کرنے۔۔۔ یہ فیصلہ وہ نہیں کر پا رہی تھی ۔۔۔کیونکہ دل کےکسی کونے میں اس کے یہ ڈر بھی موجود تھا کہ اگر وہی کچھ ہوگیا تو۔۔۔ ہوا تو دیکھا جائے گا پھر ۔۔۔ آخر اس نے فیصلہ کر ہی لیا۔۔۔ صبا نے ایک دوپٹہ اپنے سر پر اچھے سے لیا اور دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ اپنے فلیٹ کا دروازہ کھولا اور باہر دیکھا۔۔۔ گرمیوں کی دوپہر تھی تو باہر کوئی بھی نہیں تھا سب لوگ اپنے اپنے کام پر تھے یا گھروں میں آرام کر رہے تھے۔۔۔ صبا نے اپنے فلیٹ کے گیٹ سے باہر 

پیر رکھااور اپنے فلیٹ کو لاک کر کے اپنی بے چینی کو کنٹرول کرتے ہوئے قدم بڑھائے اور میجر کے دروازے کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی۔۔۔ یہاں تک تو وہ آچکی تھی لیکن اب اس کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ کیسے نوک کرے دروازے پر۔۔۔ اس کی سانس بہت پھول رہی تھی۔۔۔ اور دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی۔۔۔ ایک طرف اسے میجر کےپاس جانے کا خوف تھا تو دوسری طرف یہ بھی ڈر تھا کہ کوئی دیکھ نہ لے اسے۔۔۔ جب اس کی ہمت نہ ہوئی تو واپس پلٹ آئی۔۔۔ لیکن دوقدم بڑھا کر ہی پھر پلٹی اور ایک بار پھر میجر کے دروازے پر تھی ۔۔۔ اس بار کانپتے ہوئے ہاتھ اٹھے اور اس نے بیل دبا ہی دی۔۔۔ بیل کے دبانے کے بعد چند لمحے گھنٹوں کی طرح گزرنے لگے۔۔۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے پتہ نہیں کتنی دیر ہو گئی ہےاسے بیل دبائے ہوئے اور کوئی کھول ہی نہیں رہادروازہ۔۔۔ دوبارہ بیل دینے کی اس میں ہمت نہیں تھی۔۔۔ ابھی وہ واپس پلٹنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ دروازہ کھل گیا اور اس کے سامنے میجر صاحب کا جوان اور طاقتور جسم کھڑا نظر آنے لگا۔۔۔ اور جیسے ہی صبا کی نظر میجر کے اوپری ننگے جسم پر پڑی تو اس کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔۔۔ اس کی نظر اب صرف اس کے جسم پر ہی تھی۔۔۔ سانولا رنگ لیکن بہت ہی مظبوط جسم۔۔۔ وہ بس اس کے جسم کو تکے جا رہی تھی۔۔۔ جیسے ہی میجر صاحب نے صبا کو اپنے دروازے پر اور پھر اپنے ننگے جسم کو گھورتے ہوئے دیکھا تو خود با خود ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔ 

میجر ؛ ہاں کیا بات ہے۔۔۔؟؟ کیا کرنے آئی ہے۔۔۔؟؟ ابھی تو میں نے ٹیپ چلائی بھی نہیں ہے۔۔۔ پھر کیوں آگئی ہے۔۔۔؟؟؟ اب کس کام سے بھیج دیا ہے تجھے اس بھڑوے نے۔۔؟ صبا ؛ پلیز میجر صاحب۔۔۔ ایسا نہ کہیں۔۔۔ و و و۔۔۔ وہ۔۔۔ مجھے ے ے ے ے۔۔۔ ہی ی ی ی ی۔۔۔ آپ سے کچھ بات کرنی تھی۔۔۔ 

صبا جیسے ہوش میں آتے ہوئے بولی۔۔۔

میجر ؛ ہاں کرو جلدی میری نیند خراب نہ کرو۔۔۔ 

میجر نے دوپٹے میں لپٹے ہوئے صبا کے خوبصورت اور گداز جسم کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔ صبا بڑی ہی بے چینی کے ساتھ اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کر رہی تھی اور کھول رہی تھی۔۔۔ اور اپنے فلیٹ کی چابیوں کے گچھے کو مظبوطی سے پکڑے ہوئے تھی۔۔۔ صبا نے ادھر ادھر دیکھا اور بولی۔۔۔ 

نہیں وہ یہاں نہیں۔۔۔ کوئی دیکھ لے گا۔۔۔ 

میجر ؛ یہاں نہیں تو پھر کیا مجھے کسی ہوٹل میں یا پارک میں ملنے کا کہنے آئی ہے۔۔۔ یہ رنڈیوں والے کام کب سے شروع کر دیے تو نے۔۔۔ تجھے تو تیرے اس شوہر نے بڑی کوئی شریف بنا کر پیش کیا ہوا ہے سب کے سامنے۔۔۔ 

صبا ؛ پلیز میجر صاحب ۔۔۔ ایسا مت بولیں۔۔۔ اندر جا کر بات ہو سکتی ہے کیا آپ سے صرف چند منٹ ۔۔۔ 

صبا کو بہت بے عزتی محسوس ہو رہی تھی لیکن اسے پتا تھا میجر اسے ذلیل کیے بنا نہیں رہ سکتا۔۔ میجر کی باتوں سے ذلیل ہونے پر وہ خود کو بہت ہی بے بس محسوس کر رہی تھی۔۔۔ اسے خیال آرہا تھا کہ وہ آخر کیوں دوبارہ اس کے سامنے آگئی ہے۔۔۔ 

میجر ؛ لیکن اگر تیرے شوہر نے تجھے میرے فلیٹ میں دیکھ لیا تو۔۔۔ ؟؟؟

خلافِ توقع اس بار میجر نے کچھ نرمی سے بولا تھا۔۔۔

صبا گھبرا کر ؛ نہیں پلیز بس تھوڑی دیر بات کرنی ہے آپ سے۔۔۔ 

صبا نے منت سماجت کی اس کی۔۔۔ میجر نے بھی اِدھر اُدھر دیکھا اور مسکرا دیا اور پھر تھوڑا سا راستہ دیتے ہوئے بولا۔۔۔

ٹھیک ہے تو پھر آجاؤ اندر۔۔۔ اندر آکر بات کر لو۔۔۔ لیکن جلدی کرنا۔۔۔ میرے پاس ٹائم نہیں ہے۔۔۔ 

صبا نے ایک نظر پھر سے کوریڈور میں ڈالی اور بہت ہی تیز دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ میجر کے فلیٹ میں قدم رکھ دیا۔۔۔ میجر دروازے میں ہی کھڑا رہااور صبا کوگزرنے کا تھوڑا سا راستہ

دیا۔۔۔ ایک لمحے کیلئے تو صبا کو میجر کی یہ ات بھی بہت بری لگی لیکن پھر وقت کی نزاکت کودیکھتے ہوئےوہ آگے بڑھ گئی۔۔۔ جو وہ حاصل کرنے آئی تھی اس کیلئے اسے کچھ تو برداشت کرنا ہی تھا نا۔۔۔ اور پھر وہی ہوا جو میجر چاہتا تھا۔۔۔ صبا کا جسم اس کے جسم سےچھو کر آگے گیا اس کے اندر آنے کے بعدمیجر نے بھی اپنا دروازہ بند کر لیا۔۔۔ صبا آگے آگے چل رہی تھی اور میجر اس کےپیچھے پیچھے آتا ہوااس کی پتلی کمر اورخوبصورت موٹے موٹے چوتڑوں کو دیکھ رہا تھا۔ صبا کو یہی خوف دل میں آرہا تھا کہ۔۔۔ ابھی یہ وہشی جانورمجھے پیچھے سے دبوچ لے گا اورایک بار پھر سےوہی کھیل شروع کر دے گا۔۔۔ صبا کسی بھی لمحے اس کے ہاتھوں کا لمس اپنے جسم اور گانڈ پرمحسوس کرنے کیلئےخود کو تیار کر چکی تھی۔۔۔ لیکن میجر نے ایسی کوئی حرکت نہ کی جس سے صبا کو تھوڑا حوصلہ ہوااور لگا کہ شاید بات بن جائے۔۔۔ کیا مست گانڈ ہے۔۔۔ میجر نے سوچا۔۔۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ اس کے فلیٹ میں آئی ہے۔۔۔ چاہے بات کرنے کیلئے ہی آئی ہو۔ سیٹنگ روم میں آکر میجر نےسوئچ بورڈ سے پنکھے کا بٹن دبایا اور ایک دو بٹن اور بھی آن کر دیے۔ لیکن اس بات کاعلم صبا کو نہیں ہوا کیونکہ وہ آگے آگے چل رہی تھی۔۔۔ میجر کے فلیٹ کےسیٹنگ روم میں پہنچی تو دیکھا کہ بہت ہی بے ترتیب سا کمرہ ہےہر طرف کپڑے اور سامان بکھرا پڑا ہے۔ ۔۔ فرش پر اِدھر اُدھر سگرٹ کے ٹکڑے اور ماچس کی تیلیاں بکھری پڑی ہوئی تھیں۔۔۔ ایک کونے میں بالکنی کی کھڑکی کے پاس ہی میجر نےاپنا ایکسرسائز کا سامان رکھا ہوا تھا۔۔۔ کچن کا بھی برا حال لگ رہا رتھا۔۔۔ ایک طرف ایک کوچ پڑا ہوا تھا۔۔  

جس پر ایک گول تکیہ رکھا ہوا تھا میجر کے بیٹھنے کیلئے۔۔۔ فلیٹ میں اسے سگرٹ اور شراب کی بدبو بھی آرہی تھی۔۔۔ ملی جلی ہوئی۔۔۔ میجر کے ہاتھ میں اس وقت بھی سگرٹ موجود تھی ایک طرف ایک صوفہ بھی پڑا ہوا تھا۔۔۔ میجر سیدھا جا کراس کوچ پر بیٹھ گیالیکن اس نے صبا کو بیٹھنے کیلئے نہیں بولااورصبا بھی خاموشی سے سامنے کھڑی رہی اس نے بھی صوفے پر بیٹھنا پسند نہیں کیا۔۔۔ صبا دیکھ رہی تھی کہ میجرنے اس وقت ایک برمودہ پہنا ہوا تھا کاٹن کاجو کہ اس کے گھٹنوں سے بس نیچے ختم ہو رہا تھا۔۔۔ اس کا اوپری جسم بالکل ننگا تھا۔۔۔ اس کے سینے اور پیٹ کےمسلز بہت اچھی شیپ میں تھے۔۔۔ اس کے بازوؤں کےڈولے بھی اچھے خاصے پھولے ہوئے تھے۔۔۔ نیچے اس کی ٹانگیں بھی کافی مظبوط اورتگڑی لگ رہی تھیں۔۔۔ سانولا سا رنگ تھا میجر کےجسم کا جسے گندمی بھی نہیں کہا جا سکتا۔۔۔ باڈی بلدر کی طرح میجر کا سینہ بھی بالوں سے بالکل پاک تھا۔۔۔ اس کے سینے گردن اور جسم پرپسینا بالکل صاف بہتا ہوا نظر آ رہا تھا۔۔۔ جیسے ابھی ابھی وہ ورزش کرتے ہوئے چھوڑ کر گیٹ کھولنے آیا ہو۔۔۔ صبا کی نظروں میں اس کے جسم کےپورے اتار چڑھاؤ صاف تھے اوراس کے جسم کی طاقت کا اندازہ اسے ہو رہا تھا۔۔۔ اس کے جسم کا فوراً ہی صبا نے مقابلہ اشرف کے جسم کے ساتھ کیا تو اسے احساس ہوا کہ اشرف تو اس سے کافی کمزور ہےاور وہ اس سے ہرگزبھی لڑائی نہیں کر سکتا۔۔۔ میجر کا جسم اسےکافی طاقتور لگ رہا تھا میجر کے سینے اور کندھوں پراسے لمبے لمبے باریک سے بالکل پتلی لکیروں کی طرح کے زخموں کے نشان نظر آرہے تھے۔۔۔ صبا فوراً ہی سمجھ گئی کہ 

یہ اس کےناخنوں کے نشان ہیں جو کہ اس دن اس نے میجر کے جسم پرڈالے تھے خود کو بچاتے ہوئے۔۔۔ یہ بات یاد آتے ہی اس دن کا واقعہ دوبارہ کسیریکارڈنگ کی طرح سے اس کے دماغ میں چلنے لگا جب میجر کا یہی مظبوط طاقتور جسم صبا کے نازک گورے جسم کے اوپر تھااور وہ اسے بہت ہی بری طرح سے رگڑ رہا تھا۔۔۔ اس دن کے ہوئے اپنےریپ اور بہت ہی وہشیانہ انداز کی چدائی کو یاد کر کےصبا کے دل کی دھڑکن بھی بے ترتیب ہونے لگی۔۔۔اور اسے اپنی ٹانگیں کمزور پڑتی ہوئی محسوس ہونے لگیں۔۔۔ جیسے اس کی ٹانگوں سے جان نکل رہی ہو۔۔۔ ابھی وہ میجر کے جسم کودیکھتے ہوئے اس دن کی باتوں کو ہی یاد کر رہی تھی کہ میجر کی آواز نے اسے چونکا دیا۔۔۔ 

میجر ؛ ہاں جلدی بول اب کیا بات کرنی ہے تجھے میرے ساتھ۔۔۔ 

میجر نے سگرٹ کا دھواں اڑاتے ہوئے کہا۔۔۔ 

صبا ؛ وہ ۔۔۔ میں اس لیے آئی تھی کے ۔۔۔ آپ۔۔۔ پلیز۔۔۔ میری وہ ویڈیو۔۔۔ 

میجر ؛ ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا ۔۔۔ اچھا اچھااپنی ننگی مووی دیکھنے کیلئے آئی ہے تو۔۔۔ لے ابھی دکھا دیتا ہوں۔۔۔ 

صباجلدی سےبولی؛نہیں نہیں ۔۔۔ میرا یہ مطلب نہیں تھا۔۔۔ میں یہ کہنا چاہتی تھی۔۔۔ 

کہ آپ۔۔۔ وہ ویڈیو۔۔۔ ڈلیٹ کر دیں۔۔۔ 

میجر ؛ ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔ ڈلیٹ کر دوں۔۔۔؟؟؟؟؟ کیوں کر دوں بھلا ۔۔۔ارے اس ویڈیو میں تیرے ننگےجسم کو دیکھ دیکھ کے تو میں مٹھ مارتا ہوں ہر روز۔۔۔ اور تو کہتی ہے کہ میں اسے ڈلیٹ کر دوں۔۔۔ پاگل ہو گئی ہے کیا۔۔۔ 

صبا کا میجر کی بات سن کر چہرہ شرم سے سرخ ہو گیا۔۔۔ اسے یہ امید نہیں تھی کہ میجرایسی گری ہوئی بات بھی کر سکتا ہے اس سے۔۔۔ اس نے آج تک ایسی زبان میں کسی سے بات نہیں سنی تھی اور کبھی اشرف نے بھی اس سے کوئی غلط قسم کی گفتگو نہیں کی تھی۔۔۔ جو بھی بات میجر کرتا تھا وہ صبا کیلئے نئی ہی ہوتی تھی۔۔۔ وہ جس ماحول میں بڑی ہوئی تھی۔۔۔جس فیملی بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھتی تھی وہاں پر ایسی سب باتوں کو برا سمجھا جاتا تھا۔۔۔اور آگے بھی اب وہ جس فیملی میں بیاہ کر آئی تھی۔۔۔اشرف کے ساتھ وہ فیملی بھی کافی مذہبی اور شریف تھی۔۔۔ وہاں بھی اسے ہمیشہ پردے اور شرم کا ہی ماحول ملا تھا۔۔۔میجر جیسے غلیط ذہن کے شخص سے کچھ بھی امید کی جا سکتی تھی۔۔۔اسے میجر پر غصہ بھی آیا لیکن وہ اپناغصہ اپنے چہرے پر لائے بنا اندر ہی پی گئی۔۔۔ پتہ نہیں کیوں اسےاپنی یہ بے عزتی اور میجر کی گندی باتیں بہت زیادہ عجہب یا بری نہیں لگ رہی تھیں۔۔۔ شاید اس لیے کہ اسے پتا تھا کہ یہ شخص ایسے ہی بولتا ہے۔۔۔ 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

Share this post


Link to post
13 hours ago, Sara555 said:

Superb.....!!!!! Bhot zabardast update hy.

بہت بہت شکریہ، آپ کے یہ الفاظ ہی سب کچھ ہیں ہمارے لیے

Share this post


Link to post

قسط نمبر 4

لیکن تھوڑا عجیب یہ تھا کہ ایسی گندی باتیں پہلی بار سن کر اس کے جسم میں عجیب سی سنسناہٹ ہونے لگی تھی۔۔۔ جیسے کہ وہ ایک کنواری لڑکی ہواور اس کی کسی دوست نے اس سے سیکس کے بارے میں کوئی بات پہلی پہلی بار کی ہو۔۔۔ اس پہلے پہلے موقعے پرہر لڑکی کو اپنی سہیلی کی وہ باتیں گندی اور بری بھی لگ رہی ہوتی ہیں اور اس کے ساتھ ہی لڑکی کے جسم میں ایک عجیب سا نشہ بھی پیدا کر دیتی ہیں ۔۔۔ اور وہ یہ فیصلہ کرنے کےقابل نہیں رہتی کہ اس کی دوست نے جو بات کی ہے وہ اس کیلئے ٹھیک بھی ہے یا نہیں۔۔ اس وقت اس کی وہی کیفیت تھی۔۔۔ 

میجر ؛ اس وقت توتیری گانڈ بہت ہی اچھل رہی تھی کہ تو میری ویڈیو سب کو دکھا کے مجھے ذلیل کرے گی تو اب جاتی کیوں نہیں ہودکھانے کیلئے۔۔۔ 

صبا ؛ میجر صاحب وہ میری غلطی تھی میں آپ سے معافی مانگتی ہوں، میں آپ کی ویڈیو آپ کو دے دوں گی لیکن۔۔۔ پلیز آپ وہ ویڈیو مجھے دے دیں۔۔۔ اگر وہ کسی نے دیکھ لی تو میری شادی شدہ زندگی تباہ ہو جائے گی۔۔۔ پلیز ز ز ز ز ز ز ز۔۔۔ 

میجر ؛ اری رنڈی اگر میں نے وہ ویڈیو تجھے دے دی اور پھر وہ تیرے اس ٹھوکو نے دیکھ لی تو پھر تومیری موت پکی۔۔۔ یا پھر وہ تجھے گھر سے نکال دے گا۔۔۔ اور گھر سے نکال دیا تجھے تو کیا کرے گی پھر۔۔۔ سوائے اس کے کہ توایک رنڈی بن جائے۔۔۔ اسی لیے کہتا ہوں کہ وہ ویڈیو میرے پاس حفاظت سے پڑی رہنے دے۔۔۔ اس میں ہم دونوں کی بھلائی ہے۔۔۔ 

چل شاباش اب نکل یہاں سے اور اپنے گھر جا۔۔۔ میرا ٹائم کھوٹی نہ کر۔۔۔ 

صبا نے کچھ دیر اور میجر کی منت سماجت کی لیکن میجر اسی طرح سے اس کا مذاق اڑاتا رہا اسے ذلیل کرتا رہا۔۔۔ صبا پہلے تو برداشت کرتی رہی لیکن آہستہ آہستہ اس کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہونے لگا اس کے اندر غصہ انتہا کو پہنچ رہا تھا۔۔۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کسی چیز سے اس کمینے پرحملہ کر دے۔۔۔ اس وقت اب اس کے دماغ میں سوائے اپنی ذلت کے کچھ نہیں تھا وہ اپنی آواز کو تھوڑا اونچا کرتی ہوئی غصے سے بولی۔۔۔ 

صبا ؛ میجر صاحب میرے صبر کا امتحان نہ لیں۔۔۔تم کو تو کوئی تمیز نہیں ہے۔۔۔ کمینے آدمی ہو تم۔۔۔سیدھی طرح سے وہ ویڈیو مجھے دے دو۔۔۔ 

میجر تکیے کے ساتھ ٹیک لگا کر ہنستے ہوئے۔۔۔ 

کیا کر لے گی تو میرا۔۔۔ اتنے دن ہو گئے ہیں تجھے چودے ہوئے اگر تیرے میں کوئی غیرت ہوتی تو یاتیرے اس دلے شوہر میں کچھ غیرت اور ہمت ہوتی تو میرا گلا گھونٹ دیتے آکے۔۔ لیکن تو تو ہے ہی رنڈی۔۔۔ اور وہ تیرا شوہر تیرا دلال ہے۔۔۔ اسی لیے اس دن سے دونوں   

چپ ہو۔۔۔

صبا سے اب برداشت کرنا مشکل ہو گیا تھا اس نے غصے سے اِدھر اُدھر دیکھا تو اس کی نظرٹیبل پر پڑے ہوئے پانی کے جگ پر پڑی۔۔۔ صبا نے اسے اٹھایا اور زور سے میجر کو دے مارا اور بولی۔ کمینے تو ہے ہی گھٹیا اور ذلیل۔۔۔ اج تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گی۔۔۔ 

اب جو بھی چیز صبا کے ہاتھ میں آتی وہ اسے اٹھاتی اور میجر پر کھینچ مارتی۔۔۔ ایک طرف سے میجر کی ہی پڑی ہوئی آرمی والی پتلی سٹک پڑی نظر آئی۔۔۔ صبا نے لپک کر اسے اٹھایا اور غصے سےبپھری ہوئی میجر پر ٹوٹ پڑی۔۔۔ وہ بھول چکی تھی کہ وہ ایک عورت ہے اور میجر ایک مظبوط مرد۔۔۔ اس کا نازک جسم اس کا کوئی بھی مقابلہ نہیں کرسکتا لیکن غصے سے وہ پاگل ہو رہی تھی۔۔۔ دوسری طرف۔۔۔ ابھی بھی میجر زور زور سے ہنس رہا تھا۔۔۔ اسے صبا کی ان حرکتوں سے جیسے مزہ آرہا ہو۔۔۔ جیسے وہ صبا کی بے بسی پر ہنس رہا ہو۔۔۔ اس کی یہی گھناؤنی ہنسی ہی توصبا کا غصہ اور بڑھا رہی تھی۔۔۔ جیسے ہی صبا سٹِک لے کر میجر کی طرف بڑھی تو میجر بھی کووچ پر سے اٹھ گیا اور خود کوصبا کے زور دار وار سے بچانے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔ میجر نے کووچ سےاٹھ کر صبا کودبوچنا چاہا اور اپنی طرف بڑھے ہوئے صبا کےہاتھ کویکدم سے پکڑ لیا اور ہاتھ مروڑنے لگا لیکن یکدم سےہی صبا اس کی اس حرکت کے مطلب کو سمجھ گئی اور اچانک سے اپنا ہاتھ چھڑوایااور دروازے کی طرف بھاگی۔۔۔ ابھی مین گیٹ پر پہنچ کر وہ 

دروازے کو کھول بھی نہیں پائی تھی کہ میجر جو اس کےپیچھے ہی لپکا تھا اس نے صبا کی کمر میں ہاتھ ڈال کراسے پیچھے ہی پکڑ لیا اور زور سے پیچھے کی طرف کھینچنے لگا۔۔۔

صبا ؛ نہیں نہیں ۔۔۔ آج پھر سے نہیں۔۔۔ ایسا نہیں ہونے دونگی میں۔۔۔ نہیں ں ں ں ں ں ں ں ں ں۔۔۔ پلیز نہیں۔۔۔ جانے دو مجھے۔۔۔ 

بات چیت کرنے تک کی بات تو ٹھیک تھی لیکن میجر پر حملہ کر کے صبا نے بہت بڑی غلطی کر لی تھی۔۔۔ اور میجر کو جیسے غصہ دلا دیا تھا۔۔۔ اور صبا کا اس وہشی کے ہاتھوں بچ پانا آسان نہیں لگ رہا تھا۔۔۔اور صبا کے اندر کا خوف پوری طرح سے سامنے آچکا ہوا تھا اور اسے پتا لگ گیا تھا کہ وہ ایک بار پھر سے میجر کی گرفت میں ہے وہ بری طرح سے تڑپ رہی تھی۔۔۔ ہاتھ پیر مار رہی تھی لیکن میجر کی مظبوط گرفت اسے کہاں نکلنے دینے والی تھی۔۔۔ صبا کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا کہ اس نے اس کے فلیٹ میں آکر غلطی کی ہے۔۔۔ بہت بڑی غلطی۔۔۔ جس کا جرمانہ اسے پتا نہیں کتنابھرنا پڑے گا۔۔۔ کسی گڑیا کی طرح سے میجر نے صبا کے مچلتے اور مزاہمت کرتے ہوئے جسم کو اپنے مظبوط بازووں میں اٹھا لیا اورواپس کووچ کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔ صبا نے اپنے ہاتھوں کےتیز ناخنوں سےمیجر کے جسم کو زخمی کرنا چاہا۔۔۔ لیکن اس کا میجر کےلوہے جیسے جسم پر کیا اثر ہونا تھا۔۔۔ جاتے جاتے صبا نے میجر کے کاندھے پر اپنا منہ رکھا اوراپنے دانت اس کے کاندھے میں گاڑھ دیے۔۔۔ میجر کے جسم سےنکل رہا ہوا اس کا پسینہ صبا 

کے منہ میں نمکین سا ذائقہ چھوڑنے لگا۔۔۔ لیکن اس وقت صبا کوکچھ پرواہ نہیں تھی۔۔۔ سوائے اس بات کے۔۔۔ کہ وہ خود کو اور اپنی عزت کواس بارمیجر کے ہاتھوں لٹنے سے بچا لے لیکن۔۔۔ فی الحال تو میجر کا ہی پلا بھاری تھا۔۔۔ اس نے لا کر کووچ پر پٹخ دیا۔۔۔

میجر ؛ پکی رنڈی ہے۔۔۔ اس دن جو سبق تجھے پڑھایا تھا وہ سمجھ نہیں آیا تجھے۔۔۔کہا بھی تھا کہ میرے ساتھ پنگا نہیں لینے کا۔۔۔ لیکن نہیں آئی باز۔۔۔ رانڈ ہے تو پوری کی پوری ۔۔۔ اتنے دن چپ رہا ہوں تیری عزت نہیں کھولی سب کے سامنے تو ،تونے مجھے کمزور ہی سمجھ لیا کیا۔۔۔ آج پھر اپنی چوت چدوانے چلی آئی ہے میرے سے۔۔۔ لے آج پھر تجھے وہ مزہ دیتا ہوں۔۔۔  

میجر نے جیسے ہی صبا کو کووچ پر پٹخا تھا توساتھ ہی اس کے اوپر سوار ہو گیا اور اس کے دونوں بازو اوپر کر کے پکڑ لیے۔۔۔ پھر ایک ہاتھ سے اس کے بوبز کو دبانے لگا۔۔۔

صبا ؛ نہیں ں ں ں ں ں ں ں ۔۔۔ پلیز ز ز ز ز ز ز ز۔۔۔ مجھے جانے دوووووووووووو۔۔۔ میری زندگی تباہ نہ کرو۔۔۔ پلیز ز زززززززززز۔۔۔۔

لیکن میجر نے اس کے بوبز کو اس کی شرٹ کے اوپر سے ہی زور زور سے اپنی مٹھی میں لے کر دبانا شروع کر دیا۔۔۔

سسسس سسسس سسسس سسسس سسسس سسس ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہہا صبا کے منہ سے درد کے مارے سسکاریاں نکلنے لگیں اور آنکھوں سے آنسو جاری ہونے لگے۔۔۔اتنے زور سے میجر نے صبا کے بوبز کو دبایا کہ صبا کی چیخ ہی نکل گئی۔۔۔ اس کے بوبز دکھنے لگے۔۔۔ اسے یقین ہو گیا کہ اندر اس کے نازک بوبز کی گوری گوری سکن پر ضرور میجر کی انگلیوں کے نشان پڑ گئے ہوں گے۔۔۔ اپنے بوبز میں اٹھنے والی تکلیف کی طرف دیہان لگا تو وہ ٹانگیں مارنا ہی بھول گئی۔۔۔ جیسے ہی صبا کا جسم ڈھیلا پڑا تو میجر نے جلدی سے اس کا پجامہ نیچے کھینچ دیا جس میں الاسٹک تھی۔۔۔ اس کا پجامہ نیچے کھینچ کر اس کے پیروں سے نکال دیا۔۔۔ صبا کی گوری گوری ٹانگیں اور رانیں اور ملائم چوت ایک بار پھر سے میجر کی آنکھوں کے سامنے ننگی تھیں۔۔ میجر کی آنکھیں چمک پڑیں ۔۔۔ جیسے ہی صبا کی شلوار اتری تو صبا کوجیسے ہوش آگیا۔۔۔ وہ پھر چیخی اور میجر کو پیچھے کرنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔ وہ بیحد پریشان ہو رہی تھی کہ آج پھر سے وہی کچھ ہونے جا رہا تھا۔۔۔ ایک بار پھر سے اس کا جسم میجر نے ننگا کر دیا تھا۔۔۔ اور پھر سے وہی گھناؤنا کھیل کھیلنے جا رہا تھا وہ۔۔۔ 

صبا ؛ پلیز زززززززز چھوڑ دو مجھے ۔۔۔ ایسا نہیں کرو۔۔۔ جانے دو مجھے۔۔۔ آئیندہ میں کبھی 

آپکوکچھ نہیں کہوں گی۔۔۔ پلیززززززز میری عزت تباہ نہ کرو۔۔۔ 

صبا اس کے سامنے گڑگڑا رہی تھی ۔۔۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے۔۔۔ لیکن۔۔۔ لیکن تب تک میجر کی موٹی انگلی ایک بار پھر سے صبا کی چوت کے اندر داخل ہو چکی ہوئی تھی۔ تھوڑی سی دیر کیلئے مچلتے ہوئے جسم کو قابو کرتےہوئے اس کی چوت کے اندر میجر نے اپنی انگلی اندر باہر کرنا شروع کر دی۔۔۔ صبا کی چوت یکدم سے جیسے مچلنے لگی ۔۔۔ اس کیلئے یہ اچانک کا حملہ بہت زیادہ تھا۔۔۔ برداشت سے باہر تھا۔۔۔ اس نے اپنے نچلے جسم کو اِدھر اُدھر ہلانا شروع کر دیا۔۔۔ لیکن یہ ہلانا اس کیلئے اور بھی کام کو خراب کر رہا تھا۔۔۔ جتنا وہ ہلتی میجر کی انگلی اور بھی اس کی چوت میں مستی پیدا کرتی جاتی۔۔۔ اور پھر اچانک سے ۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ خود کر چھڑانے میں کامیاب ہوتی ۔۔۔ ایک بار پھر سے میجر نے اپنا برمودہ نیچے کیا اور اپنا لن باہر نکال کر یکدم سے صبا کی چوت کے اندر ڈال دیا۔۔۔

صبا ؛ آآآآآآآآآآآآآآآآآآآآہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔ نوووووووووووووووووووو۔۔۔ صبا کے منہ سے تکلیف سے آہ نکل گئی۔۔۔ میجر کا وہی موٹا لن جو پہلے بھی اس کی چوت میں جا چکا تھا۔۔۔ ایک بار پھر سے اس کی چوت کی گہرائیوں میں اتر چکا تھا۔۔۔ اس کی ساری مزاحمت اس کا سارا غصہ ۔۔۔ اس کی ساری ہمت ختم ہو رہی تھی۔۔۔ تھی تو بس اب بے بسی ۔۔۔ اور سرنڈر۔۔۔ یہی تو تھا وہی لن جس کے بارے میں اس کے دل میں خیال آتا تھا۔۔۔ جب وہ 

اشرف سےچدوا رہی ہوتی تھی۔۔۔ اس کی تنگ اور ٹائٹ چوت میں پھنسا ہوا لن۔۔۔ اس کی چوت کی دیواروں کوچھیل رہا تھا۔۔۔ صبا کی آنکھیں بند ہو گئی تھیں۔۔۔ جسم ڈھیلا ہو گیا تھا۔ ساری مزاحمت ختم ہو گئی تھی۔۔۔ بس وہ اپنی چوت میں اندر باہر ہوتے ہوئےلن کو محسوس کر رہی تھی۔۔۔ کیا آج پھر وہی ہوگا۔۔۔؟کیا آج بھی میرا جسم میرے اپنے ساتھ ہی بیوفائی کر جائے گا؟اور خود کو آج بھی میجر کے سپرد کر دے گا۔۔۔؟ نہیں ں ں ں ں ں ں ں ں۔۔۔ پتا نہیں ں ں ں ں ں ں ں ں ں ں۔۔۔ لیکن ایک بات ضرور تھی کہ چند ہی لمحوں میں اسے اپنی چوت میں میجر کے لن کے ساتھ ساتھ تھوڑا گیلا پانی بھی محسوس ہونے لگا تھا۔۔۔ کیا میجر فارغ ہو رہا ہے۔۔۔؟ اتنی جلدی۔۔۔؟یا یہ میری اپنی چوت کا پانی ہے۔۔۔ اس خیال نے اس کے دل کو زور سے دھڑکادیا۔۔۔ اس کے جسم کی ۔۔۔ اس کی چوت کی۔۔۔ اس سے بیوفائی شروع ہو چکی تھی۔۔۔ 

میجر کا موٹا لن اس دن کے بعد آج پھر اس کی چوت میں داخل ہو چکا تھا۔۔۔ اس دن کے اورگزم کو یاد کر کے صباکا جسم ڈھیلا ہونے لگا۔۔۔ اس کی مزاحمت ختم ہونے لگی تھی۔۔۔ لیکن آج اس کی مزاحمت کچھ بھی زیادہ دیرنہیں چلی تھی۔۔۔ میجر کے جسم کی طاقت۔۔۔ یا ۔۔۔ اپنے ہی جسم کی بیوفائی کے ہاتھوں۔۔۔ مجبور ہو کر وہ ہاتھ پیر چھوڑ رہی تھی۔۔۔ اپنی ہی شکست کی وجہ بھی وہ خود ہی اپنے آپ کو دے رہی تھی۔۔۔ خود کو یہ سمجھانے کی کوشش کر 

رہی تھی۔۔۔ کہ۔۔۔ میں کیسے اس وحشی جانور کی طاقت کا مقابلہ کر سکتی ہوں۔۔۔ وہ اتنا طاقتور ہے اور میں۔۔۔ ایک نازک سی عورت ہوں۔۔۔ وہ میرا ریپ کر رہا ہے۔۔۔ وہی ناپسندیدہ کام جو پہلے اس نے کیا تھا۔۔۔ یہ سب باتیں وہ اپنے دماغ کی تسلی کیلئے سوچ رہی تھی لیکن اسے یہ نہیں احساس تھاکہ آج تو اس نےاپنی شکست تسلیم کرنے اور خود کومیجر کے آگے سرنڈر کرنے میں کوئی بہت زیادہ دیر بھی نہیں لگائی تھی۔۔۔ 

جیسے ہی میجر نے اپنا موٹا لن صبا کی چوت میں اندر باہر کرنا شروع کیا تو صبا کی آنکھیں بند ہو گیں۔۔۔ اس کے چہرے پر درد اورتکلیف کا احساس تھا۔۔۔ اسی درد کے تجربے میں ہی کچھ لذت کے نشانات بھی چہرے پر ظاہر ہو رہے تھے۔۔۔ آہستہ آہستہ ۔۔۔ میجر کے لن نے اس کے دماغ کو سلا دیا تھا۔۔۔ بس اب اس کا جسم صرف اور صرف اس کے اپنے دل کے کنٹرول میں تھا۔۔۔ 

میجر نے صبا کے دونوں بازو اوپر کیے اور اس کے سر کے اوپر لے جا کر جکڑ پکڑ کر خود صبا کے چہرے پر جھک گیا۔۔۔ مجھے مار رہی تھی نہ تو۔۔۔ میری جان لینا چاہتی تھی نہ۔۔۔ دیکھ اب میں کیسے تیری مار رہا ہوں۔۔۔ اور دیکھنا کیسے تجھے چود چود کر تیری چوت کی جان نکالتا ہوں۔۔ صبا نے آنکھیں کھولیں تو میجر نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے زور زور سے گھسے مارنے شروع کر دیے۔۔۔ میجر کا لن صبا کی چوت میں اندر باہر ہو رہا تھا۔۔۔ اور۔۔۔ صبا کی چوت 

بھی گیلی ہوتی جا رہی تھی۔۔۔ اور۔۔۔ اس بات کا بہت اچھے سے میجر کو پتا چل رہا تھا۔۔۔ صبا اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔۔۔ اس کی آنکھوں میں نفرت ہی نفرت تھی۔۔۔ لیکن اس کی چوت میجر کے لن سے جیسے لپٹی جا رہی تھی۔۔۔ گیلی ہوتی جا رہی تھی۔۔۔ پانی چھوڑے جا رہی تھی۔۔۔ 

میجر ؛ پوری کی پوری رنڈی ہے تو ۔۔۔ دیکھ کتنی جلدی سےتیری چوت گیلی ہو گئی ہے۔۔۔ حرامزادی ۔۔۔ تو آئی ہی مجھ سے چدوانے کیلئے تھی۔۔۔ بس ناٹک کر رہی تھی۔۔۔ مجھے غصہ دلانے کا۔۔۔ کہ میں غصے میں آکرآج پھر تیرا ریپ کر دوں۔۔۔ 

جس ارادے سے وہ آئی تھی اور اس کی ساری کی ساری کوشش کو غلط نام دے کرمیجر نے ایک بار پھر سے اسے ذلیل کر دیا تھا۔۔۔ اسے بہت زیادہ شرم آرہی تھی میجر کی باتیں سن کر۔۔۔ اپنی ذلالت پر ۔۔۔ اب اس کی ان باتوں پر غصہ کرنے کا کیا فائیدہ۔۔۔ اب اس سے زیادہ میری تذلیل کیا ہو سکتی ہےکہ یہ میری چوت چود رہا ہے میری عزت لوٹ رہا ہے۔۔۔ اور۔۔۔ اور سب سے غلط بات یہ ہے کہ میرا جسم اس کا ساتھ دے رہا ہے۔۔۔ صبا نے سوچا۔۔۔ 

صبا کی چوت میں اپنا لن ڈالے ڈالے ہی میجر نے اس کے ہاتھ چھوڑے اور پھر صبا کی شرٹ کو اوپر کو اٹھانے لگا اور اگلے ہی لمحے صبا کی وائیٹ بریزر میں لپتی ہوئی چھاتیاں میجر کی آنکھوں کے سامنے تھیں۔۔۔ میجر نے اس کی قمیض پھاڑے بنا ہی اس کے گلے سے نکالنا چاہی تو اس بار 

صبا نے کوئی بھی مزاحمت نہیں کی۔۔۔ پتا نہیں کیوں۔۔۔ میجر نے اس کی شرٹ اتار دی ۔۔۔ اور اب صبا کے بوبزسفید بریزر میں لپٹے ہوئے ۔۔۔ چھپے ہوئے۔۔۔ درمیان میں سے جھانکتے ہوئے ۔۔۔ اورخوبصورت سا کلیوج بناتے ہوئے بوبز ۔۔۔ میجر کی نظروں کے سامنے تھے۔۔۔ صبا اب بلکل مزاحمت نہیں کر رہی تھی۔۔۔ اس کی آنکھیں بند تھیں ۔۔۔ اور اس کے چہرے پر کسی بھی پریشانی کی بجائے لذت آمیز سکون تھا۔۔۔ عجیب بات تھی یہ۔۔۔ صبا کیلئے ہی نہیں ۔۔۔ بلکہ میجر کیلئے بھی۔۔۔ میجر نے اب صبا کی براکی سٹرپس کو اس کے کندھوں سے نیچے کھینچا اور صبا کے بوبز کو ننگا کر لیا۔۔۔ صبا کے گورے گورے ۔۔۔خوب ابھرے ہوئے ۔۔ سخت۔۔۔ گلابی نپلز ۔۔۔ اور بلکل ہی چھوٹے سے دائرے کے ساتھ۔۔۔ خوبصورت بوبز ۔۔ میجر کی آنکھوں کے سامنے تھے۔۔۔ 

میجر نے جھک کر صبا کے بوبز کے درمیان میں کِس کیا اور پھر ہاتھ نیچے اس کی کمر کے پیچھے ڈال کر اس کی برا کا ہک کھول کر اس کی برا بھی اتار کر نیچے پھینک دی ۔۔۔ اب صبا کا جسم بلکل ننگا تھا گورا گورا ۔۔۔ دودھ کی طرح سفید۔۔۔ مکھن کی طرح نرم۔۔۔ریشم کی طرح ملائم۔۔۔ ہیرے کی طرح چمکتا ہوا جسم۔۔۔ صبا کا جسم۔۔۔ میجر کی آنکھوں کے سامنےننگا تھا۔۔۔ کپڑے کے ایک بھی ٹکڑے کے بغیر ۔۔۔ جیسے اس دن وہ ننگی کر دی گئی تھی جس دن پہلی بار اس کا ریپ ہوا تھا۔۔۔ اور آج بھی اسے ننگا کر دیا تھا میجر نے۔۔۔ اس کا جسم۔۔۔ میجر کے 

کھردرے موٹے۔۔۔ سخت ہاتھوں کی گرفت میں تھا۔۔۔ بلکل نڈھال پڑا تھا۔۔۔ کسی بھی مزاحمت کے بغیر۔۔۔ جیسے پورے پورے تاوؤن اور رضامندی پر امادہ ۔۔۔ جیسے ہی میجر نے صبا کے جسم سے پورے کپڑے اتارپھینکے اور اسے بلکل ننگی کر دیا تو پھر اپنا لن اس کی چوت سےنکالا اور اس کی دونوں ٹانگوں کے بیچ میں اس کی چوت پر جھک گیا۔۔۔ 

میجر ؛ ااااااااف ف ف ف ف ف ف کیا غضب کی چوت ہے تیری۔۔۔ کیا ظالم جسم ہے تیرا اس رنڈی۔۔۔ پینو کا جسم تو تیرے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔ قیامت ہے تو ،تو قیامت۔۔۔

میجر صبا کے خوبصورت جسم کو اس گٹیا اور نیچ کام کرنے والی لڑکی کے جام سے مقابلہ کروا رہا تھا صبا کو بہت برا لگا۔۔۔ لیکن اندر ہی اندر اسے خوشی بھی ہوئی۔۔۔ وہی عورت کی پرانی اور ہر عورت کی خاص کمزوری۔۔۔ کہ اپنے حسن اور اپنے جسم کی تعریف اسے اچھی لگتی ہے۔۔۔ اسے خوشی ہوئی کہ میجر کو اس کا جسم اس پینو کے جسم سے زیادہ پسند آیا ہے۔۔۔ یہ میں کیا سوچ رہی ہوں۔۔۔ یہ میرا ریپ کر رہا ہے اور میں اس کی بات سن کر خوش ہو رہی ہوں۔۔ اس کمینی کی حیثیت ہی کیا ہے میرے مقابلے میں جس سے یہ مجھے کمپیر کر رہا ہے۔۔۔ صبا کے دماغ نے اس کو تھوڑا ملامت کیالیکن اس کا دل اور جسم اس کے دماغ کا ساتھ دینے کوبلکل بھی تیار نہیں تھے۔۔۔ اچانک سے اپنے ہی منہ سے نکلنے والی ایک تیز سسس سسسس سسسس سس

آآآآآآآآآآ ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا کے ساتھ صبا اپنے خیالوں سے باہر آئی کیوں کہ نیچے میجر نے اپنے ہونٹ صبا کی چوت پر رکھ دیے تھے۔۔۔ اور میجر کی اس حرکت سے ۔۔۔ صبا کا پورا جسم لرزاٹھا۔۔۔ نفرت اور حقارت یا غصے سے نہیں۔۔۔ لذت اور مزے کے مارے۔۔۔ کیونکہ آج تک کسی نے بھی۔۔۔ اس کی چوت پر اپنا منہ نہیں رکھا تھا۔۔۔ اس کی چوت کو کسی نے نہیں چوما تھا۔۔۔ اشرف نے بھی نہیں۔۔۔ اور وہ اس لذت اور مزے سے نا آشنا تھی۔۔۔ لیکن اس مزے اور لذت کی طرف اسے یہ۔۔۔ میجر ۔۔۔ اس کا دشمن اور ریپسٹ میجر لے جا رہاتھا۔۔۔ کیا سچ میں میرا ریپ ہو رہا ہے۔۔۔ ایک لمحے کیلئے صبا نے پھر سوچا۔۔۔ یا۔۔۔ سب کچھ میری مرضی سے ہو رہا ہے۔۔۔ پتا نہیں۔۔۔ صبا نے یہ کہہ کر اپنے دماغ کو جھٹکا دیا۔۔۔ پھر میجر نے اس کی گانڈ کے دونوں حصوں پر اپنے ہاتھ رکھے اور دونوں ہپس کو کھول دیا۔۔۔ بلکل گلابی ۔۔۔ بلکل تنگ ۔۔۔ بالوں سے بلکل پاک۔۔۔ صبا کی گانڈ کا سوراخ میجر کی آنکھوں کے سامنے تھا۔۔۔ میجر سے رہا نہیں گیاتو وہ جھکا اورجھک کر اپنے ہونٹ صبا کی گانڈ کے اس کنوارے گلابی سوراخ پر رکھے اور ایک زوردار کِس کر لیا۔۔۔ 

جیسے ہی میجر کے ہونٹ صبا کی اس نازک سی جگہ پر ٹچ ہوئے تو صبا تو جیسے تڑپ ہی اٹھی۔۔۔ اس کے جسم اور گانڈ نے ایک زور کی جھر جھری لی ۔۔۔ لیکن میجر کے ہاتھوں کی گرفت سے نہ نکل سکی۔۔۔ 

میجر ؛ کتنا ٹائٹ ہے تیری گانڈ کا سوراخ۔۔۔ لگتا ہے اس گانڈو نے ایک بار بھی تیری گانڈ نہیں ماری۔۔۔ وہ سالہ کیا مارے گاتیری گانڈوہ تو خود پتا نہیں کِس کِس سے اپنی گانڈ مرواتا ہو گا۔۔۔ میجر بار بار اس کے شوہر کی تذلیل کرتا تھااسے گالیاں دیتا تھا اور صبا کو اس کی یہ بات بھی بہت بری لگتی تھی۔۔۔ لیکن پتا نہیں کیوں آہستہ آہستہ اب وہ اس بات کی عادی ہوتی جا رہی تھی کہ اسے میجر کا اس کے شوہر کو گالیاں دینا اب پہلے جتنا برا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔ 

میجر جھکا اوراب اپنی زبان کی نوک کو اس کی گانڈ کے سوراخ پر پھیرنے لگا۔۔۔ جیسے ہی میجر کی زبان اس کی گانڈ کے سوراخ سے ٹچ ہوئی تو۔۔۔ اسے اس کی گانڈ کا سوراخ سکڑتا ہوا محسوس ہوا تھوڑا کھلتا اور تھوڑا بند ہوتا ہوا۔۔۔ میجر کے ہونٹوں پرگھناؤنی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔ میجر نے اپنی زبان کی نوک کو صبا کےسکڑتے ہوئے گانڈ کے سوراخ پر رکھا اور تھوڑا سا اندر کو پش کیا تو اسے ایسا لگاکہ جیسے اس کی گانڈ کے سوراخ نے اس کی زبان کی نوک کوجکڑ لیا ہو۔۔۔ اور آہستہ آہستہ اسے چوس رہا ہو۔۔۔ میجر کو عجیب سا مزہ آیا اس میں۔۔۔ اب اس نے آہستہ آہستہ صبا کی گانڈ کے سوراخ کو اپنی زبان سے چاٹنا شروع کر دیا۔۔۔ اپنے ہاتھوں سے اس نے صبا کی گانڈ کے سوراخ پر اپنا تھوک گرا دیا۔۔۔ سفید اور گاڑھا تھوک۔۔۔ اور پھر اپنی زبان سے اسے اس کے سوراخ پر پھیلاتے ہوئے چاٹ لیا۔۔۔ صبا کو اس کی ایسی گندی حرکتوں پر بہت ہی حیرانی ہو رہی تھی کہ کیا کوئی ایسا بھی کر سکتا ہے۔۔۔ لیکن اسی حیرت کے ساتھ ساتھ اسے 

مزہ بھی آرہا تھا۔۔۔ پھر میجر نے اپنے ہاتھ کی موٹی انگلی صبا کی کنواری گانڈ کے سوراخ کے اندر داخل کرنے کی کوشش کی۔۔۔ لیکن بہت مشکل سے صرف اگلا حصہ انگلی کا ہی اندر گیا تھا کہ صبا چیخ اٹھی۔۔۔ اور آگے کو گرتے ہوئے اس کی انگلی کو اپنی گانڈ سے نکلوا لیا۔۔۔ 

میجر ہنسا اور پھر دھیرے دھیرے وہ نیچے کو آنے لگا اور صبا کی چوت کے دونوں لبوں کو کھول کر نیچے سے اوپر تک ایک بار چاٹا تو صبا اچھل ہی تو پڑی ۔۔۔ میجر نے اب اپنی زبان صبا کی چوت کے اندر ڈال دی اوراس کی اندر کی دیواروں کو اپنی زبان سے چاٹنے لگا ۔۔۔ صبا کا مزے سے برا حال ہو رہا تھا۔۔۔ میجر کی زبان صبا کی چوت میں اندر باہر ہو رہی تھی اورصبا اپنی منزل کو پہنچنے کے قریب ہی تھی۔۔۔ اس کی آنکھیں بند تھیں اور سانسیں تیز ہو رہی تھیں۔۔۔ اس کی چوت کے مسلز سکڑنا اور پھیلنا شروع ہو چکے تھے۔۔۔ اور پھر ایک تیز سسکاری کے ساتھ صبا کی چوت نے پانی چھوڑنے کی تیاری شروع کر دی۔۔۔ میجر کو بھی احساس ہو چکا ہوا تھااس لیے۔ پتا نہیں کیا سوچ کر ۔۔۔ فوراً ہی میجر نے اس کی چوت سے اپنا منہ ہٹا لیااور پیچھے ہو کر صبا کی چوت کو دیکھنے لگا۔۔۔ 

صبا کی چوت کا منہ کھل اور بندہو رہا تھا۔۔۔ اور صبا کا پورا جسم جھٹکے کھا رہا تھا۔۔۔ تڑپ رہا تھا۔۔ دوبارہ سے میجر کے ہونٹوں اور اس کی انگلی کو اپنی چوت میں لینا چاہ رہا تھا۔۔۔ تاکہ ۔۔۔ وہ اپنی منزل کو پہنچ سکے۔۔۔ لیکن۔۔۔ میجر۔۔۔ میجر تو ہنس رہا تھا۔۔۔

میجر ؛ دیکھو رنڈی کی چوت کتنی بے شرمی سے مزے لے رہی ہے۔۔۔ یہ ہے ہماری بلڈنگ کی ایک شریف زادی۔۔۔ کتیا برقے اور نقاب کے اندر ایک پوری رنڈی چھپی ہے۔۔۔ تیرے لیے تو پوری بلڈنگ کے لن بھی کافی نہیں ہیں۔۔۔ کمینی۔۔۔ حرامزادی۔۔۔ جتنی تو گرم کتیا ہے تجھے تو۔۔۔ کتوں سے چدوانا چاہیے۔۔۔ پھر شاید تیری پیاس ۔۔۔ تیری چوت کی پیاس ختم ہو۔۔۔ 

صبا کیلئے یہ تذلیل اور بے عزتی انتہائی شرمندگی کی بات تھی لیکن۔۔۔ اس پر یہ کہ وہ پھر بھی اپنی چوت میں ہو رہے آرگزم کو کنٹرول نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔ روک نہیں سکی تھی۔۔۔ اور سچ میں کسی رنڈی کی طرح سے میجر کے آگے ننگی جھکی ہوئی۔۔۔ کتیا بنی ہوئی۔۔۔ کسی گرم کتیا کی طرح سے ہی۔۔۔ اپنی چوت کا گرم گرم پانی نکالنے کیلئے بے چین ہو رہی تھی۔۔۔ اس کا دماغ بلکل سن ہو رہا تھا۔۔۔ اسے میجر کی کسی بات کی فکر نہیں تھی۔۔۔ وہ کہاں ہے۔۔۔ اس کی بھی فکر نہیں تھی۔۔۔ کس کے ساتھ ہے۔۔۔ اس کی بھی فکر نہیں تھی۔۔۔ کس حالت میں ہے۔۔۔ اس کی بھی فکر نہیں تھی۔۔۔ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اس کی بھی فکر نہیں تھی۔۔۔ فکر تھی تو بس اس بات کی کہ کسی بھی طرح سے ۔۔۔ اس کا آرگزم پورا ہو جائے۔ اس کی چوت کا پانی نکل آئے۔۔۔ اسی مقصد کیلئے اس نے فوراً سے ہاتھ پیچھے لے جا کر ۔۔۔ بڑی بے شرمی کے ساتھ۔۔۔ اپنی ہی انگلی اپنی ہی چوت میں ڈال لی۔۔۔ اور کسی رنڈی کی 

طرح تیزی سے آگے پیچھے کرنے لگی۔۔۔ اندر باہر کرنے لگی۔۔۔ 

صبا کی حالت دیکھ کر میجر ہنسنے لگا۔۔۔ کتنی تڑپ رہی ہے تیری چوت سالی۔۔۔ لیکن صبا اس کی باتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی انگلی سے اپنی چوت کی پیاس بجھانے میں لگی ہوئی تھی۔۔۔ لیکن میجر۔۔۔ میجر بھی تو میجر تھا نہ۔۔۔ ایک نمبر کا کمینہ اور ذلیل شخص۔۔۔ اتنی آسانی کیسے پیدا کر سکتا تھا اس کیلئے۔۔۔ اس نے ہاتھ بڑھایا اور صبا کے اس ہاتھ کو پکڑ لیا جو کہ اپنی چوت میں انگلی کر رہا تھا۔۔۔ اورایک جھٹکے سے اس کا ہاتھ اس کی چوت سے ہٹا لیا۔۔۔صبا تڑپ اٹھی نہیں ں ں ں ں ں ں ںں ں۔۔۔پلیززززززززززززز۔۔۔ نہیں ں ں ں ں ں ںں ں ں

آآآآآآآآآآآآآآآآہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔ آآآآگہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔ چھوڑ دو وووووووو میرا ہاتھ ھ ھ ھ ھ ھ ھ ھ ززززززز سسس سسس سسس سسس ۔۔۔

لیکن میجر ہنسے جا رہا تھا۔۔۔ اس کے ہاتھوں میں صبا کے دونوں بازو تھے جن کو اس نے پیچھے کو کھینچ لیا ہوا تھا۔۔۔ اور کسی گھوڑے کی لگام کی طرح۔۔۔ بلکہ کسی گھوڑی کی لگام کی طرح ۔۔۔ پیچھے کو پکڑا ہوا تھا۔۔۔ صبا اس کے سامنےتڑپ رہی تھی۔۔۔ اس کی چوت مچل رہی تھی۔۔۔ اس کی گانڈ ہوا میں ادھر ادھر ۔۔۔ آگے پیچھے کو لہرا رہی تھی۔۔۔ اور میجر یہ سب دیکھ رہا تھا۔۔ اور ہنس رہا تھا۔۔۔ آخر اسے ترس آگیا۔۔۔ صبا کی حالت پر۔۔۔ صبا کی پیاس پر۔۔۔ صبا کی چوت پر۔۔۔ اس نے تھوڑا سا آگے ہو کر اپنا اکڑا ہوا۔۔۔ موٹا ۔۔۔ کالا۔۔۔ مضبوط لن صبا کی چوت 

کے سوراخ پر ٹکایا اور ایک ہی جھٹکے میں اندر کر دیا۔۔۔ آآآآآآآآآآآآآآآہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا اسسس سسس سسس سسس صبا کے منہ سے جیسے سکون کی سسکاری نکلی۔۔۔ اور پورے جسم میں سکون کی لہر پھیل گئی۔۔۔ اس کی چوت سےشروع ہو کر دماغ تک۔۔۔ 

میجر گھوڑی کی طرح اسے چود رہا تھاپیچھے سے۔۔۔ پھر اس نے اپنی سٹک اٹھا لی جو کہ پاس ہی پڑی تھی۔۔۔ وہی سٹک جس سے صبا نے میجر کو مارنا چاہا تھا۔۔۔ یہ میجر کی آرمی والی سٹک تھی۔۔۔ جسے آج بھی وہ اپنے ہاتھ میں رکھتا تھا۔۔۔ دوفٹ کی چھڑی۔۔۔ کالے رنگ کی۔۔ پتلی سی۔۔۔ لیکن مضبوط۔۔۔ اس کے ایک سرے پر ایک چھے انچ کالیدر کا ٹکڑا لگا ہوا تھا جو کہ دو انچ چوڑا اور چھے انچ لمبا تھا۔۔۔ کسی چھوٹے سے فلیپر کی طرح کا۔۔۔ بلکل چمکتا ہوا لیدر۔۔ بلکل کالا۔۔۔ شاید اس سٹک کو پکڑنے کیلئے تھا۔۔۔ اور یا پھر کسی اور کام کیلئے۔۔۔ 

میجر وہ سٹک صبا کی کمر پر پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔ اسی سے مارناچاہتی تھی نہ مجھے۔۔۔ یہ کہہ کر اس نے صبا کے ہپس پر اس دو انچ چوڑے فلیپ کے ساتھ زور سے مارا۔۔۔ آآآآآآآآؤؤؤؤؤؤؤؤچ چ چ چ چ چ چ چ چ صبا کی چیخ نکل گئی۔۔۔ اس کی نازک سی گوری گوری گانڈ پر اتنے زور سے کسی نے کچھ نہیں مارا تھا کبھی بھی۔۔۔ اور اب یہ میجر نے ۔۔۔ لیکن اتنی دیر میں ایک اور لگا ۔۔۔پھر اور۔۔۔ پھر اور۔۔۔ جیسے ہی وہ لیدر فلیپر صبا کی گانڈ پر لگا تو صبا تڑپ اٹھی تھی اس کی گانڈ اچھل پڑی تھی۔۔۔ اس کی گانڈ جلنے لگی تھی جیسے۔۔۔ جیسے اس 

میں سے گرمی کی لہریں اٹھ رہی ہوں۔۔۔ لیکن جیسے ہی تھوڑا سا وقت گزر رہا تھاتو اسے اپنی گانڈ پر تکلیف کی بجائے کچھ عجیب سا مزہ محسوس ہونے لگا۔۔۔ اسی میٹھےمیٹھے سے درد کے مارے صبا کی چوت اور بھی گیلی ہونے لگی۔۔۔ اسے اپنی چوت میجر کے لن کے گرد اور بھی ٹائٹ ہوتی ہوئی محسوس ہونے لگی۔۔۔ اسکی چوت اپنے ریپسٹ کے لن کو چوسنے لگی۔۔۔ دبانے لگی کہ کہیں اس کا لن اس کی چوت سے نکل ہی نہ جائے۔۔۔ اسکی گانڈ اور پورے جسم میں لذت کی لہریں پھیل رہی تھیں۔۔۔ اور اسے میجر کی چھڑی کی مار اچھی لگنے لگی۔۔۔ دل چاہنے لگا کہ وہ اسے اور مارے ۔۔۔ سرخ کر دے اسکی گانڈ کو۔۔۔ 

میجر ؛ سالی تیری تو گانڈ ہی لال کر دونگا میں مار مار کے۔۔۔ آئندہ تونے کبھی میرے پر ہاتھ اٹھایا نا تو تیرے ہاتھ ہی توڑ دونگا۔۔۔ صبا کو اپنی گانڈ جلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ اسکی گانڈ سے ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔۔۔ میجر کا ہاتھ رک چکا تھا لیکن اسکے لیدر فلیپر کی تکلیف ابھی بھی موجود تھی۔۔۔ 

جیسے ہی میجر کا ہاتھ رکا تو صبا نے چونک کر پیچھے دیکھا جیسے پتا نہیں کونسی لذت سے اسے محروم کر دیا ہو میجر نے اس نے اپنی سرخ ہوتی ہوئی گانڈ کو دیکھا اور پھر نفرت اور غصے سے میجر کی طرف دیکھ کر پھنکاری۔۔۔ 

صبا ؛ رک کیوں گیا ہے کمینے۔۔۔ مار اور مار۔۔۔ جتنا دل کرتا ہے مار مجھے ۔۔۔ لیکن میں تجھ 

asسے مدلہ ضرور لونگی۔۔۔ کتے۔۔۔ مارمجھے ۔۔۔ مار اپنی اس چھڑی سے۔۔۔ 

میجر نے صبا کی بیقراری اور تڑپ دیکھی تو سمجھ گیا کہ اس رنڈی کو تو اس چھڑی کی مار میں بھی لذت مل رہی ہے۔۔۔میجر نے اسی حالت میں صبا کو چودنا شروع کر دیا ۔۔۔ اسکی چوت میں اپنا لن اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔۔ لیکن صبا کو تو وہ لن صرف ایک لمحے کیلئےہی چاہیے تھا نا۔ جیسے ہی وہ گرم گرم لن کچھ دیر کیلئے صبا کی چوت میں گیا تو اسکی چوت نے پانی چھوڑنا شروع کر دیا۔۔۔ اسکی خواہش پوری ہو گئی۔۔۔ اسکی چوت نے پانی چھوڑ دیا۔۔۔ جب سے وہ آئی تھی ۔ اس فلیٹ میں۔۔۔ میجر کے فلیٹ میں۔۔۔ تب سے شاید تیسری بار۔۔۔ دماغ بند تھا لیکن صرف جسم جاگ رہا تھا۔۔۔ جسے میجراپنے لن سے شانت کر رہا تھا۔۔۔ صبا کی چوت میجر کےموٹے لن کو بھینچ رہی تھی۔۔۔ دبا رہی تھی۔۔۔ اور میجرکو اسکی ٹائٹ چوت اور بھی ٹائٹ لگ رہی تھی۔۔۔ اور بھی مزہ دے رہی تھی۔۔۔ صبا اب شانت ہو چکی تھی۔۔۔ اسکی چوت بھی شانت ہو چکی تھی۔۔۔ دماغ بھی جاگنے لگا تھا۔۔۔ 

میجر ؛ سالی کیا چوت ہے تیری۔۔۔ اس کمینی پینو سے بھی ٹائٹ ہے۔۔۔ اسکی چوت تو اس کے کھسم نے چود چود کر ڈھیلی کر دی ہوئی ہے۔۔۔ لیکن بہن چود تیرا شوہر تو جیسے صرف دیکھتا ہی ہے تیری چوت کو چودتا نہیں ہے کیا۔۔۔؟ لگتا ہے اس ہیجڑے کا لن پینو کے کھسم سے بھی چھوٹا ہے۔۔۔ دھت۔۔۔ سالا ۔۔۔ ہیجڑا۔۔۔ عورت لے آیا ہے اور چودنے کا پتا نہیں ہے۔

 کمینہ ۔۔۔ بار بار کی اپنے سوہر کی تذلیل صبا کو تھوڑی بری بھی لگ رہی تھی۔۔۔ کیونکہ وہ ہر لحاظ سے خوش تھی اپنے اشرف سے۔۔۔ میجر کے ریپ کرنے سے پہلے۔۔۔ وہ اشرف سے بلکل مطمعین تھی۔۔۔ لیکن پھر بھی میجر ہر وقت اسکی مردانگی پر تیر چلاتا رہتا تھا۔۔۔ اور ذلیل صبا کو کرتا رہتا تھا۔۔۔ صبا نے سوچا ۔۔۔ ٹھیک ہے کہ میجر کا ۔۔۔ وہ۔۔۔ زیادہ موٹا۔۔۔ زیادہ لمبا۔۔۔ زیادہ سٹیمنا ہے اسکا۔۔۔ زیادہ طاقت کے ساتھ چودتا ہے۔۔۔ لیکن اشرف بھی تو ٹھیک ہی ہے نا۔۔۔ اور یہ کیا اب۔۔۔ اب اس کمینے میجر نے اشرف کر اس دینوں سے بھی کمپیر کرنا شروع کر دیا ہے۔۔۔ جیسے مجھے پینو سے کرتا ہے۔۔۔ کیا سچ میں میری چوت ابھی بھی بہت ٹائٹ ہے۔۔۔؟ کیا پینو کی چوت سچ میں مجھ سے زیادہ کھلی ہو چکی ہوئی ہے۔۔۔؟ کیا سچ میں پینو کے شوہر کالن بہت موٹا ہے۔۔۔؟ کیا سچ میں دینوں کا لن اشرف کے لن سے موٹا اور لمبا ہے۔۔۔؟ کیا میجر ٹھیک کہہ رہا ہے۔۔۔؟ خود با خود ہی صبا کا ذہن اب دینوں کے لن کی طرف جا رہا تھا۔۔۔ اسکی آنکھوں کے سامنے بلڈنگ کے گیٹ پر کھڑا ہٹا کٹا دینوں آگیا تھا اسکی نظریں خیالوں ہی خیالوں میں اسکی پینٹ کے ابھار پر چلی گئی تھیں۔۔۔ اسکا ذہن اسکے لن کی طرف جا رہا تھا۔۔۔ ایک نیچ سے لوور کلاس کے گارڈ کے لن کی طرف۔۔۔ نہیں جانا چاہیے تھا۔۔۔ غلط بات تھی۔۔۔ عجیب بات تھی۔۔۔ لیکن۔۔۔ ہو رہی تھی۔۔۔ اور شاید صرف اور صرف میجر کی وجہ سے۔۔۔ اسنے خود کو تسلی دینے کیلئے اس بات کا الزام بھی میجر پر تھوپ دیا تھا۔۔۔ 

میجر نے پیچھے سے ایک زوردار دھکا لگاکر اپنے لن کو صبا کی چوت کے اندر ڈالا تو ایک بار پھر سے صبا کو خیال آگیا کہ وہ میجر سے چد رہی ہے۔۔۔ میرا ریپ ہو رہا ہے۔۔۔ ایسا ریپ جس میں میری اپنی چوت کئی بار پانی چھوڑ چکی ہوئی ہے۔۔۔ لیکن پھر بھی اس بات کو نا مانتے ہوئے صبا رونے لگی۔۔۔ اسکی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے۔۔۔ پانی کے موتی ۔۔۔ پانی کے قطرے۔۔ اور دوسری طرف اسکی چوت میں بھی پانی کے قطرے نکلنے لگے تھے ۔۔۔ سفید سفید موتیوں کی طرح کے ۔۔۔ جو کہ میجر کے لن سے نکل رہے تھے۔۔۔ ہاں۔۔۔ ایک بار پھر سے میجر نے اپنے لن کی منی صبا کی چوت میں ڈال دی تھی۔۔۔ اپنا پورا لن اندر گساتے ہوئے۔۔۔ جڑ تک۔ اس کی بچہ دانی کے منہ تک لے جاتے ہوئے۔۔۔ اپنی پوری منی اسکی چوت میں چھوڑ دی تھی اور پھر نڈھال ہو کر پیچھے کو ہٹ کے گر پڑا۔۔۔ صبا بھی وہیں ڈھیر ہو گئی۔۔۔ 

وہیں کووچ پر دونوں کے ننگے جسم ایک دوسرے سے تھوڑے فاصلے پر پڑے ہوئے تھے۔۔۔ صبا آنکھیں بند کیے ہوئے لمبے لمبے سانس لے رہی تھی۔۔۔ اسکے پورے جسم میں سکون ہی سکون تھا۔۔۔ چوت میں شانتی ہی شانتی تھی۔۔۔ چہرے پر اطمینان ہی اطمینان تھا۔۔۔ اسکے جسم کی۔۔۔ اسکی چوت کی پیاس بجھ چکی تھی۔۔۔ لیکن اسکے دماغ میں پھر سے ایک طوفان اٹھا ہوا تھا۔۔۔تذلیل اور پچھتاوے کا طوفان۔۔۔ کچھ دیر کے بعد میجر اٹھا اورنیچے گرے ہوئےصبا کے کپڑے اٹھا کراسکے ننگے جسم پر پھینکے اور بولا۔۔۔ چل اٹھ کے پہن اپنے کپڑے اور دفعہ ہو 

اپنے فلیٹ میں۔۔۔ یا پھر سے چوت مروانے کا ارادہ ہے۔۔۔ پھر اپنا برمودا پہن کر صوفے پر جا کر بیٹھ گیا۔۔۔ اور ایک سگرٹ نکال کر سلگا لیا۔۔۔ 

اسکی حقارت آمیز باتیں سن کرصبا۔۔۔ لڑکھڑاتی ہوئی ۔۔۔ آنسو بہاتی ہوئی۔۔۔ اٹھی اور اپنا برا اٹھا کر پہن لیا اور پیچھے ہاتھ لے جا کے ہک بندکرنے لگی۔۔۔ لیکن اسکے ہات کانپ رہے تھے نہ بند کر سکی اپنی برا کا ہک تو اسے ایسے ہی چھوڑ کر اپنی شرٹ اٹھائی اور اسے پہننے لگی۔۔۔ پھر اپنا پجامہ بھی اٹھا کر پہن لیا۔۔۔ پجامہ پہنتے ہوئے اسکا ہاتھ اپنی گانڈ کو چھووا تو ایک بار پھر درد کا احساس ہوا اور جلن دوبارہ سے شروع ہو گئی۔۔۔ 

ابھی اسنے باہر کے دروازے کی طرف قدم بڑھایا ہی تھا کہ میجر بولا۔۔۔ ’’رک زرا ایک چیز تو دیکھتی جا ۔۔۔ صبا نے روتی ہوئی آنکھوں سے ۔۔۔ مڑ کر میجر کی طرف دیکھا تو اس نے ٹی وی کے ریمونٹ سے ٹی وی آن کر دیا۔۔۔ اور جو منظر ٹی وی پر صبا کو نظر آیا تو۔۔۔ اسکے تو جیسے پیروں کے نیچے سے زمین ہی نکل گئی۔۔۔ اسکا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔۔۔ جس سے اسکی سانسیں اٹکنے لگیں۔۔۔ ابھی ابھی اسے میجر نے جو چودا تھا۔۔۔ اسی چدائی کی ویڈیو ٹی وی پر چل رہی تھی۔۔۔ اس کمینے نے آج پھر ریکارڈنگ کر لی تھی۔۔۔ اور آج تو مکمل سین کی ریکارڈنگ تھی۔۔۔ صبا نے اپنی آنکھیں جھکا لیں اور آگے بڑھنے لگی ۔۔۔ باہر کی طرف۔۔۔ 

وہ اسوقت میجر کو کچھ بھی کہنے کے یا اس سے جھگڑا کرنے کے قابل نہیں تھی۔۔۔ 

میجر ؛ وہ ٹیبل پر میرا موبائل پڑا ہے اس میں اپنا سیل نمبر اور نام فیڈ کر کے جا۔۔۔ 

صبا سمجھ چکی تھی کہ اسکے فلیٹ میں آکرتو پہلے سے بھی بری طرح سے پھنس چکی ہے اب اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کے اس کمینے کی تمام باتیں مانی جائیں یہی سوچتے ہوئے۔۔۔ اس نے ٹیبل پر پڑے ہوئے موبائل کی طرف دیکھا اور اسے اٹھا لیا کیونکہ اور کوئی اوپشن بھی تو نہیں تھا نا۔۔۔ موبائل اٹھا کر اس میں اپنا نمبر لکھنے لگی۔۔۔ 

میجر ؛ اور ہاں اسی موبائل میں تیری وہ پہلے والی کلپ اور فوٹو بھی ہیں ۔۔۔ ڈلیٹ کرنے ہیں تو کر لے۔۔۔ 

یہ خیال صبا نے دماغ میں پہلے بھی آیا تھا موبائل اٹھاتے ہی۔۔۔ لیکن اس نے اس خیال کو جھٹک دیا تھا۔۔۔ کیونکہ اب تو اس ایک کلپ اور فوٹوز سے بات بہت آگے بڑھ چکی تھی۔۔۔ اور صرف ان فوٹوز کو ختم کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔۔۔ صبا نے خاموشی سے موبائل ر کھ دیا میجر ؛ میرے موبائل سے اپنے سیل پر بیل دے اور میرا نمبر بھی فیڈ کر لینا ۔۔۔ جس مرضی نام سے۔۔۔ دل کرے تو کتالکھ دینا۔۔۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔ لیکن جب بھی فون کروں جواب ضرور دیناورنہ بہت بری طرح سے پیش آؤنگا میں تیرے ساتھ۔۔۔ اگر کبھی جواب نہ دیا نہ تو اسی وقت تیرے گھر میں آجاؤنگا اور تیرے اس بہن چود کے سامنے ہی چود دونگا تجھے۔۔۔ سمجھی۔۔۔؟

صبا نے میجر کے موبائل سے اپنا نمبر ڈائل کیا تو موبائل کی سکرین پر نام آنے لگا۔۔۔ صبا کے سیل پر بیل جا رہی تھی جو کہ اسکے اپنے بیڈروم میں پڑا ہوا تھا۔۔۔ آخر سیل رکھ کر باہر دروازے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔ 

مین ڈور کے قریب ہی اسے اپنے فلیٹ کی چابی کا گچھا مل گیا اسے اٹھایا اور اسکی نظر پاس ہی لگے ہوئے آئینے پرپڑی۔۔۔ اسکے بال بکھرے ہوئے تھے۔۔۔ چہرے کا رنگ سرخ ہو رہا تھا۔۔۔ کپڑے بے ترتیب ہو رہے تھے۔۔۔ مسلے ہوئے۔۔۔ صاف لگ رہا تھا کہ کسی نے اسے بری طرح سے مسل کر چودا ہے۔۔۔ اپنی یہ حالت دیکھ کر صبا کے چہرے پر شرمندگی پھیل گئی۔۔۔ پیچھے مڑ کر اس نے میجر کی طرف دیکھااور خود با خود ہی الفاظ اسکے ہونٹوں سے پھسل گئے۔۔۔ کتا۔۔۔

کمینہ۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Share this post


Link to post

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×
×
  • Create New...